Quraysh
سُورہ قریش
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴ آیات ہیں۔
سُورہٴ "قریش" کے مطالب اور اس کی فضیلت
یہ سُورہ حقیقت میں سُورہ فیل کی تکمیل کرنے والی سمجھی جاتی ہے اور اس کی آیات اس مطلب پر واضح دلیل ہیں۔ اِس سُورہ کا مضمون قریش پر خدا کی نعمت اور ان کے بارے میں اس کے الطاف اور محبتوں کا بیان ہے، تاکہ ان میں شکر گزاری کا احساس پیدا ہو اور اس عظیم گھر کے پروردگار کی عبادت کے لیے--- جس سے ان کا سارا شرف اور افتخار ہے--- تیار ہو جائیں۔ جیسا کہ ہم نے سُورہٴ "والضحیٰ" کے آغاز میں بیان کیا تھا کہ یہ سُورہ اور سُورہ الم نشرح حقیقت میں ایک شمار ہوتی ہے، اسی طرح سُورہٴ "فیل" اور سُورہٴ "قریش" بھی ایک ہی شمار ہوتی ہیں کیونکہ اگر ہم ٹھیک طرح سے ان دونوں کے مطالب پر غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ ان دونوں کے مطالب ایک دوسرے کے ساتھ اتنے ملتے جلتے ہیں کہ وہ دونوں کے ایک ہونے کی دلیل بن سکتے ہیں۔ اسی بناء پر نماز کی ہر رکعت میں ایک مکمل سُورت پڑھنے کے لیے اگر کوئی شخص اُوپر والی سورتوں کا انتخاب کرے تو ضروری ہے کہ وہ دونوں کو اکٹھا پڑھے۔ اِس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے فقہی کتابوں (کتاب صلوٰة بحث قرت) کی طرف رجوع کیا جائے۔ (بحوالہ: مرحوم شیخ "حر عاملی" نے کتاب "وسائل" میں اس مطلب سے مربوط روایات جلد ۴ ص۷۴۳ (باب ۱۰ از ابواب قرت نماز) میں نقل کی ہیں)۔ اِس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قراٴھا اعطی من الاجر عشر حسنات، بعدد من طاف بالکعبة، واعتکف بھا:" "جو شخص اس کو پڑھے تو اُسے ان لوگوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں دی جائے گی، جنہوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ہے، یا وہاں اعتکاف کیا ہے" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۴۳)۔ مسلّمہ طور پر اس قسم کی فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو اس خدا کی بارگاہ میں، جو کعبہ کا پروردگار ہے، سر تعظیم جھکائے، اس کی عبادت کرے، اس گھر کے احترام کو مدّنظر رکھے، اس کا پیام دل کے کان سے سنے اور اس کی پابندی کرے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنی چاہیئے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 16چونکہ گزشتہ سورہ (سورئہ فیل) میں اصحاب فیل اور ابرھہ کے لشکر کی نابودی کی تفصیل بیان ہوئی تھی، جو خانہ کعبہ کو نابود کرنے اور اس خدائی مرکز مقدس کو ویران کرنے کے ارادہ سے آیا تھا، لہٰذا اس سُورہ کی پہلی آیت میں، جو حقیقت میں سُورہ فیل کا ایک (تکمیل بیان) ہے، فرماتا ہے: "ہم نے ہاتھیوں کے لشکر کو نابود کر کے انہیں کھائے ہوئے بھوسہ کے مانند ریزہ ریزہ کر دیا، "تاکہ قریش اس مقدّس سر زمین سے الفت پیدا کریں" اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ظہور کے مقدمات فراہم ہوں۔‘( لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ)۔ "ایلاف" مصدر ہے، اور الفت بخشنے کے معنی میں ہے اور "الفت" انس و محبت اور گھل مل جانے کے ساتھ اجتماع کے معنی میں ہے، اور یہ بعض نے "ایلاف" کی مؤالفت اور "عہد و پیمان" کے ساتھ تفسیر کی ہے، تو وُہ نہ تو اس لفظ کے ساتھ مناسب ہے جو باب افعال کا مصدر ہے، اور نہ ہی اس سُورہ کی آیات کے مضمون سے۔ بہرحال، اس سے مُراد قریش اور سر زمین مکہ اور خانہ کعبہ کے درمیان الفت پیدا کرنا ہے کیونکہ قریش اور تمام اہل مکہ اس سر زمین کی مرکزیت اور امنیت کی بناء پر ہی وہاں رہائش پذیر تھے۔ حجاز کے بہت سے لوگ ہر سال وہاں آتے تھے اور مراسم حج بجا لاتے تھے، اقتصادی اور ادبی مبادلات رکھتے تھے اور اس سر زمین کی مختلف برکات سے استفادہ کرتے تھے۔ یہ سب کچھ اس کی مخصوص سلامتی کی وجہ سے تھا۔ اگر ابرھہ یا کسی اور لشکر کشی سے اس کی سلامتی اور امنیت مخدوش ہو جاتی، یا خانہ کعبہ ویران ہو جاتا، تو پھر کسی کو اس سر زمین سے الفت و محبت نہ رہتی۔ "قریش" کا لفظ جیسا کہ بہت سے مفسرین اور ارباب لغت نے کہا ہے اصل میں سمندر کے عظیم جانوروں کی ایک نوع کے معنی میں ہے، جو ہر جانور کو آسانی کے ساتھ کھا لیتی ہے۔ یہ عبارت "ابن عباس" سے مشہور ہے کہ جب ان سے سوال ہوا کہ قریش کو "قریش" کیوں کہتے ہیں؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا: "لدابة تکون فی البحر من اعظم دوابہ یقال لھا القریش، لاتمر بشیء من الغث والسمین الّا اکلتہ،!: "یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ سمندر کے ایک بہت بڑے جانور کا نام ہے، وہ جس دبلے یا موٹے جانور کے پاس سے گزرتا ہے اُسے کھا جاتا ہے۔" اس کے بعد وہ اپنی بات کے ثبوت میں اشعار عرب سے شہادت پیش کرتے ہیں۔ اس بناء پر اس قبیلہ کے لیے اس نام کا انتخاب، اس قبیلہ کی قدرت و قوت اور اس قدرت سے غلط فائدہ اٹھانے کی وجہ سے ہوا۔ لیکن بعض نے اسے "قریش" (بروزن فرش) کے مادّہ سے اکتساب کے معنی میں لیا ہے، کیونکہ عام طور پر یہ قبیلہ تجارت اور کسب میں مشغول رہتا تھا۔ بعض اس مادّہ کو خبر گیری اور دیکھ بھال کرنے کے معنی میں جانتے ہیں اور چونکہ قریش حاجیوں کے حالات کی خبر گیری کرتے تھے، اور بعض اوقات ان کی مدد کرتے تھے، اس لیے یہ لفظ ان کے لیے منتخب ہوا۔ "قریش" لغت میں اجتماع کے معنی میں آیا ہے کیونکہ یہ قبیلہ ایک خاص قسم کی تنظیم اور اجتماع رکھتا تھا، اس لیے یہ نام ان کے لیے انتخاب ہوا۔ لیکن بہرحال، موجودہ زمانہ میں قریش کسی اچھے مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا، اور باوجود اس کے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا قبیلہ تھا، اسلام کا سخت ترین دشمن شمار ہوتا تھا جو کسی قسم کی عہد شکنی، عداوت اور دشمنی سے نہیں چوکتا تھا۔ یہاں تک کہ جب ان کی قدرت و طاقت اسلام کی کامیابی کی وجہ سے دم توڑ گئی تو پھر بھی انہوں نے مخفی سازشوں کو جاری رکھا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی رحلت کے بعد بھی انہوں نے ایسے درد ناک حوادث پیدا کیے جنہیں تاریخ اسلام کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ "بنی امیہ" اور"بنی عباس" جو طاغوتی حکومت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے، قریش میں سے ہی اٹھے تھے۔ قرائن بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ عربوں کے زمانہ جاہلیت میں بھی لوگوں کے استشمار و استعمار کی کوشش میں لگے رہتے تھے اور اسی وجہ سے جب آزادی بخش اسلام نے طلوع کیا اور ان کے ناجائز منافع خطرے میں پڑ گئے تو وہ پوری طاقت کے ساتھ مبارزہ کے لیے کھڑے ہو گئے۔ لیکن اسلام کی عظیم قدرت نے انہیں درہم و برہم کر دیا۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "ہدف اور مقصد یہ تھا کہ خدا قریش کو سردیوں اور گرمیوں کے سفروں سے الفت بخشے۔" (إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ)۔ ۱۔ (تشریحی نوٹ: "ایلافھم" اس "ایلاف" کا بدل ہے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے، اور "ھم" کی ضمیر پہلا مفعول ہے۔ اور "رحلةا لشتاء" دوسرا مفعول ہے اور بعض کے نظریے کے مطابق ظرفیت کے معنی میں ہے۔ اور ممکن ہے کہ وہ "منصوب بنذع خافض" ہو، اور تقدیر میں اس طرح ہو "ایلافھم من رحلة الشتاء والصیف" (دوسرا اور تیسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے))۔ ۲۔ (تشریحی نوٹ: "رحلة" دراصل "رحل" (بر وزن شہر) سے، اس پردہ کے معنی میں ہے جو سوار ہونے کے لیے ڈالتے ہیں۔ اسی مناسبت سے، خود اونٹ پر یا ان مسافرتوں پر جو اُونٹ یا دوسرے ذرائع سے ہوتی ہیں، پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے)۔ ممکن ہے کہ اس سر زمین مقدس سے قریش کو الفت بخشنا مراد ہو، تاکہ وہ گرمیوں اور سردیوں کے طویل سفروں میں اس مقدس مرکز سے اپنا تعلق اور لگاؤ دل سے نہ بھلائیں اور اس کی سلامتی کی وجہ سے اس کی طرف لوٹ آئیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سر زمین یمن اور شام کی زندگی کی آسائشوں سے متاثر ہو کر مکہ کو خالی چھوڑ دیں۔ یا اس سے ان دو عظیم سفروں میں قریش اور دوسرے لوگوں کے درمیان الفت پیدا کرنا مراد ہے، کیونکہ ابرھہ کی داستان کے بعد لوگ انہیں دوسری نظر سے دیکھتے تھے اور قریش کے قافلہ کے احترام و اہمیت کے قائل تھے۔ قریش کو اس طویل سفر میں بھی امن کی ضرورت تھی اور سر زمین مکہ کے لیے بھی، اور خدا نے ابرھہ کے لشکر کی شکست کے نتیجہ میں یہ دونوں سلامتیاں انہیں بخش دی تھیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ "مکہ" کی زمین میں نہ تو کوئی باغ تھا اور نہ ہی کوئی کھیتی باڑی ہوتی تھی۔ جانوروں کی دیکھ بھال بھی ان کی محدود تھی، ان کی درآمد زیادہ تر انہیں تجارتی قافلوں کے ذریعے پوری ہوتی تھی۔ وہ سردی کے موسم میں جنوب یعنی سر زمین یمن کی طرف۔ جس کا موسم نسبتا گرم ہوتا ہے۔ رُخ کرتے تھے اور گرمی کے موسم میں شمال اور سر زمین کی طرف۔ جس کی ہوا اور موسم خوشگوار ہوتا تھا۔ اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ سر زمین یمن بھی اور سر زمین شام بھی، اس زمانہ میں اہم تجارتی مراکز تھے۔ اور مکہ اور مدینہ ان دونوں کے درمیان حلقئہ اتصالی شمار ہوتے تھے۔ البتہ قریش ان غلط کاریوں کی وجہ سے، جو وہ انجام دیتے تھے، خدا کے ان الطاف و محبت کے مستحق تو نہ تھے۔ لیکن چونکہ یہ مقدر ہو چکا تھا کہ اس قبیلہ اور اس سر زمین مقدس سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا طلوع ہو، لہٰذا خدا نے ان پر یہ لطف فرمایا۔ بعد والی آیت میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قریش کو ان سب خدائی نعمتوں کی وجہ سے جو انہیں کعبہ کی برکت سے حاصل ہوئی تھیں "اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنا چاہیئے نہ کہ بُتوں کی۔" (فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ)۔ "وہی خدا جس نے انہیں بھوک سے نجات بخشی اور کھانا دیا، اور بےامنی سے رہائی بخشی اور امن دیا۔" (الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ)۔ ایک طرف تو انہیں تجارت میں فروغ عطا کیا اور انہیں فائدہ پہنچایا اور دوسری طرف بدامنی کو ان سے دُور کر دیا اور دفع ضرر کیا۔ اور یہ سب کچھ ابرھہ کے لشکر کی شکست سے فراہم ہوا اور حقیقت میں یہ کعبہ کے بانی ابراہیم علیہ اسلام کی دُعا کی قبولیت تھی۔ لیکن انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ اس مقدس گھر کو ایک بت خانہ میں تبدیل کر دیا، بتوں کی عبادت کو اس گھر کے خدا کی عبادت پر ترجیح دی اور انجام کار ان تمام ناشکریوں کا انجام بد دیکھا۔ خداوندا! ہمیں عبادت و بندگی اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اس عظیم گھر کی حفاظت، پاسداری اور احترام کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگارا! اس عظیم اسلامی مرکز کو روز بروز زیادہ پُرشکوہ، اور دنیا جہان کے مسلمانوں کے لیے حلقئہ اتصال قرار دے۔ بارالٰہا! سارے خونخوار دشمنوں اور ان لوگوں کے جو اس عظیم مرکز سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، ہاتھ کاٹ دے۔ آمین یا ربّ العالمین