Ibrahim
سُورۃ ابرٰھیم
یہ سوره مکہ میں نازل ہوئی (البتہ بہت سے مفسرین کے بقول آیات ۲۸ اور ۲۹ مدنی ہیں جو جنگ بدر میں مارے جانے والے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں) اس میں ۵۲ آیات ہیں۔
اِس سُورہ کے مضامین
جیسا کہ اس سورہ کے نام سے ظاہر ہے اس کا ایک حصہ توحید کے بت شکن ہیرو ابراہیمؑ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ اس میں ان کی دعائیں شامل ہیں۔ اس کے دوسرے حصے میں گزشتہ انبیاء، حضرت نوحؑ اور حضرت موسیٰؑ کا ذکر ہے۔ قوم عاد و ثمود کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں پوشیدہ عبرت آموزورسوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ دروس اس سورہ میں وعظ و نصیحت اور بشارت و انداز کے مباحث کی تکمیل کرتے ہیں۔ زیادہ تر مکی سورتوں کی طرح اس کا ایک اہم حصہ مبداء و معاد کے بارے میں بحث کرتا ہے کیونکہ مبداء و معاد پر ایمان راسخ ہو جائے تو انسان کی روح میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے جس کا اثر اس کی گفتار اور کردار پر ہوتا ہے اور انسان راہ حق اور صراط الہٰی پر گامزن ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ۔۔۔۔ یہ سورت اعتقادات، پند و نصائح اور گزشتہ اقوام کی عبرت انگیز سرگوشتوں کا مجموعہ ہے اور اس میں انبیاء کی رسالت اور آسمانی کتب کے نزول کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اس سورہ کی فضیلت
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: من قرع سورۃ ابراہھیم و الحجر اعطی من الایحرعشر حسنات بعد ومن عبدالاصنام و یعدو من لم یعبدھا۔ جو شخص سورہ ابراہیم اور سورہ حجر پڑھے گا خداوند تعالیٰ اسے ان کی تعداد کے برابر کہ جوبتوں کی پوجا کرتے تھے اور جو پوجا نہں کرتے تھے۔ دس حسنات دے گا۔ (بحوالہ مجمع البیان و نور الثقلین: اس سورہ کی تفسیر کے آغاز میں)۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی سورتیں پڑھنے کے سلسلے میں جس اجر و ثواب کا ذکر ہے وہ اس تلاوت کے لے ہے جو غور و فکر و سوچ بچار اور پھر عمل کے ساتھ ہو اور چونکہ اس سورہ میں نیز سورہ حجر میں توحید و شرک اور اس کی فروعات کے بارے میں بحث کی گئی ہے تو مسلماً ان کے مضامین کی طرف توجہ اور عمل سے ایسی فضیلت بھی حاصل ہو گی یعنی یہ توجہ اور عمل انسان کو اپنے رنگ میں رنگ لے گا اور اسے ایسے مقام کا اہل بنا دے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ظلمتوں سے نور کی طرف
Tafsīr Nemūna · Vol. 2یہ سورہ بھی قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی طرح حروف مقطعہ (آلرٰ) سے شروع ہوئی ہے۔ ان حروف کی تفسیر ہم سورہ بقرہ آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں بیان کر چکے ہیں۔ یہاں جس نکلتے کا ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ وہ مقامات پر قرآن کی سوتوں کا آغاز حروف مقطعہ سے ہوا ہے۔ ان میں سے ۲۳ مقامات ایسے ہیں جن میں بلافاصلہ قرآن مجید کے بارے میں گفتگو آئی ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن اور حروف مقطعہ کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے اور ہو سکتا ہے یہ وہی تعلق ہو جس کا ذکر ہم سورہ بقرہ کی ابتداء میں کر چکے۔ وہ یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ اس سے واضح کرے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب اپنے باعظمت معانی و مفاہیم کہ جن کی بناء پر وہ تمام انسانوں کی ہدایت اپنے ذمہ لیے ہوئے ہے کے باوجود اسی سادہ سے تمام مال (الف، باء) سے تشکیل پائی ہےاور یہ اس اعجاز کی اہمیت کی نشانی ہے کہ وہ سادہ ترین چیز سے افضل ترین چیز کو وجود بخشتا ہے۔ بہرحال، الف، لام، را۔۔۔۔ کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ وہ کتاب ہے کہ جو ہم نے تجھ پر اس لئے نازل کی کہ تو لوگوں کو گمراہیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے (کتاب انزلنا والیک لتخرج الناس من الظلٰمٰت الی النور)۔ درحقیقت، نزول قرآن کے تمام تربیتی انسانی، روحانی اور مادی مقاصد اسی ایک جملے میں جمع ہیں "ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جانا۔" ظلم جہالت سے نور علم کی طرف، ظلمت کفر سے نور ایمان کی طرف، ظلمت ظلم سے نور عدالت کی طرف ظلمت فساد سے نور صلاح کی طرف ظلمت گناہ سے نوری تقویٰ کی طرف اور ظلمت افتراق سے نور وحدت کی طرف۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں "ظلمات" بعض دیگر قرآنی سوتوں کی طرح جمع کی شکل میں آیا ہے اور "نور" واحد کی صورت میں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمام نیکیاں، پاکیزگیاں، ایمان و تقویٰ اور فضیلت نور توحید کے سائے میں اپنے آپ میں اپنے آپ میں وحدت و یگانگی کی حالت میں ہیں اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور متحد ہیں اور ان سے ایک متحد واحد معاشرہ ہو۔ ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ کپڑے کی مانند ہو تیار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ظلمت ہر مقام پر پراگندگی اور صفوں میں تفرقہ کا سبب ہے۔ ستم گر، بدکار، آلودہٴ گناہ اور منحرف لوگ عموماً اپنی انحرافی راہوں میں بھی وحدت نہیں رکھتے اور آپس میں حالتِ جنگ میں ہوتے ہیں۔ تمام نیکیوں کا سرچشمہ چونکہ خدا کی ذاتِ پاک اور ادراکِ توحید کی بنیادی شرط اسی حقیقت کی طرف توجہ ہے لہٰذا بلافاصلہ مزید فرمایا گیا ہے: یہ سب کچھ ان (لوگوں) کے پروردگار کے اذن و حکم سے ہے (بِإِذْنِ رَبِّھِمْ)۔ اس نور کے بارے میں مزید توضیح کے لئے فرمایا گیا ہے: عزیز و حمید خدا کی راہ کی طرف (إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ)۔ (تشریحی نوٹ: الی صراط۔۔۔۔۔ درحقیقت "الی النور" کا بدل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نور کی طرف ہدایت سے مراد "عزیز و حمیدہ کی راہ کی طرف ہدایت ہے۔ ضمناً "کتاب انزلناہ" مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور اصل میں "ھذا کتاب انزلناہ" تھا)۔ وہ خدا کہ جس کی عزت اس کی قدرت کی دلیل ہے کیونکہ کسی کے بس میں نہیں کہ اُس پر غلبہ حاصل کر سکے اور اُس کا حمید ہونا اس کی بےپایاں نعمات کی نشانی ہے کیونکہ حمد و ستائش ہمیشہ نعمتوں، عنائتوں اور زیبائیوں پر ہوتی ہے۔ اگلی آیت میں معرفتِ خدا کے لئے ایک درسِ توحید دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہی خدا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اسی کا ہے (اللهِ الَّذِی لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ)۔ (تشریحی نوٹ: زیر کے ساتھ لفظ "اللہ" "عزیزحمید" کا بدل ہے کہ جو گزشتہ آیت میں آیا ہے)۔ تمام چیزیں اس کی ہیں کیونکہ وہی موجودات کاخالق ہے۔ اسی بناء پر وہ قادر و عزیز بھی ہے۔ تمام نعمتیں بخشنے والا اور حمید بھی۔ ذکر مبداء کے بعد آیت کے آخر میں مسئلہ معاد کی جانب توجہ دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وائے ہو کفار پر قیامت کے شدید عذاب سے (وَوَیْلٌ لِلْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیدٍ)۔ اگلی آیت میں بلا فاصلہ کفار کا تعارف کروایا گیا ہے۔ ان کی صفات کے تین حصوں کا ذکر کر کے ان کی کیفیت کو پوری طرح مشخص کر دیا گیا ہے اس طرح سے کہ ہر شخص ان کا سامنا کرتے ہیں انہیں پہچان لے فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو اس جہان کی پست زندگی کو آخرت کی زندگی پر مقدم شمار کرتے ہیں (الَّذِینَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا عَلَی الْآخِرَةِ)۔ (تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "استحب الکفر علی الایمان" کا معنی یہ ہے کہ کفر کو ایمان پر مقدم شمار کریں اور استحباب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی چیز کی محبت میں کوشش کرے اور جب یہ لفظ "علٰی" کے ساتھ متعدی ہو تو مقدم رکھنے کا معنی دیتا ہے مثلاً: اما ثمود فھدیناھم فاستحبوا العمی علی الھدٰی۔ فصلّت۔ ۱۷) اسی وجہ سے وہ ایمان، حق، عدالت، شرفِ آزادگی اور سربلندی کہ جو آخرت سے لگاوٴ رکھنے والوں کی خصوصیات میں سے ہیں اپنے گھٹیا مفادات، شہوات اور ہوا و ہوس پر قربان کر دیتے ہیں اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ایسے لوگ اسی ہر بس نہیں بلکہ خود ہی میں پڑنے کے بعد دوسروں کو بھی بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ”وہ لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں“۔ (وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ درحقیقت وہ اللہ کی راہ کہ جو راہِ فطرت ہے اور انسان خود سے چل کر اسے عبور کر سکتا ہے اس میں طرح طرح کی دیوار اٹھاتے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ اپنی ہوا و ہوس اور خواہشات کو بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں، لوگوں کو گناہ کا شوق دلاتے ہیں اور راستی و پاکیزگی کے راستے سے خوف زدہ کرتے ہیں۔ ان کا کام فقط اللہ کے راستے میں رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ”کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسے بگاڑ کر پیش کریں“(وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا)۔ دراصل وہ پوری توانائیوں سے کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگ لیں اور اپنا ہم مسلک بنا لیں لہٰذا ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اللہ کے سیدھے کو ٹیڑھا کر کے دکھائیں۔ اس لئے وہ اس میں طرح طرح کی خرافات اور بے ہودگیاں پیدا کرتے ہیں، مختلف تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ قبیح بدعتوں کو رواج دیتے ہیں اور کثیف طور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ واضح ہے کہ ”ان صفات و اعمال کے حامل ہونے کی وجہ سے ایسے افراد بہت دور کی گمراہی میں ہیں“ (اُوْلَئِکَ فِی ضَلَالٍ بَعِیدٍ)۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ راہِ حق سے زیادہ دور ہونے کی بناء پر جن کا راہِ حق کی طرف لوٹ آنا آسانی سے ممکن نہیں لیکن یہ سب کچھ خود انہی کے اعمال کا نتیجہ ہے۔
چند اہم نکات
۱۔ ایمان اور راہِ خدا کو نور سے تشبیہ دینا: اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”نور“ عالم مادہ کا لطیف ترین موجود ہے۔ اس کی رفتار نہایت تیز ہے اور جہانِ مادہ میں اس کے آثار و برکات ہر چیز سے زیادہ ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام مادی نعمات و برکات کا سرچشمہ نور ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایمان اور راہِ خدا میں قدم رکھنے کو نور سے تشبیہ دینا کس قدر پُرمعنی ہے۔ نور اتحاد کا سبب ہے اور ظلمت انتشار کا عامل ہے۔ نور زندگی کی علامت ہے اور ظلمت موت کی نشانی ہے۔ اسی بناء پر قرآنِ مجید میں بہت سے قیمتی امور کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک عمل صالح ہے۔ یوم تری المؤمنین و الموٴمنات یسعیٰ نورھم بین ایدیھم و بایمانھم وہ دن کہ جب تو صاحبِ ایمان مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے اور دائیں جانب رواں دواں ہو گا۔ (حدید۔۱۲)۔ ایمان و توحید کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ مثلاً: اللہ ولی الذین اٰمنوا یخرجھم من الظلمات الیٰ النور اللہ ان لوگوں کا ولی و سرپرست ہے جو ایمان لائے ہیں کہ جنہیں وہ ظلمتوں سے نور کی ہدایت کرتا ہے۔ (بقرہ۔ ۲۵۷) قرآن کو بھی نور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: فالذین اٰمنوا بہ و عزروہ و نصروہ و اتبعوا النور الذی انزل معہ اولٰئک ھم المفلحون اور جو پیغمبر پر ایمان لائے ہیں، اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں، اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں کہ جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ وہ فلاح پانے والے ہیں۔ (اعراف۔۱۵۷) نیز خدا کے آئین و دین کو اس پر برکت وجود سے تشبیہ دی گئی ہے: یریدون ان یطفوٴا نور اللہ بافواھھم وہ چاہتے ہیں کہ پھونکوں سے نور خدا کا خاموش کر دیں۔ (توبہ۔۳۲) اور سب سے بڑھ کر خدا کی ذات پاک کہ جو افضل ترین وجود ہے بلکہ سب کی ہستی جس کے وجود مقدس کا پر تو ہے کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ نور السمٰوٰت و الارض اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (نو۔ ۳۵) یہ تمام امور ایک ہی حقیقت کی طرف پلٹتے ہیں کیونکہ یہ سب اللہ، اس پر ایمان، اس کی گفتگو اور اس کی راہ کے پر تو ہیں۔ لہٰذا یہ لفظ ان مواقع پر مفرد کی شکل میں آیا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس ”ظلمات“ چونکہ ہر جگہ انتشار و تفرقہ کا عامل ہے لہٰذا جمع کی صورت میں تعدد و تکثر کی علامت کے طور پر ذکر ہوا ہے اور خدا پر ایمان لانا، اس کی راہ میں قدم رکھنا چونکہ حرکت اور بیداری کا سبب ہے۔ اجتماعیت و وحدت کا عامل ہے اور ارتقاء و پیش رفت کا ذریعہ ہے لہٰذا یہ تشبیہ ہر لحاظ سے رسا، بامعنی اور باعث تربیت ہے۔ ۲۔ ”لتخرج“ کا مفہوم: پہلی آیت میں ”لتخرج“ کی تعبیر درحقیقت دو نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے: پہلا یہ کہ قرآن مجید اگرچہ انسان کے لئے ہدایت و نجات کی کتاب ہے تاہم اسے اجراء و نفاذ کرنے والے اور علمی صورت بخشنے والے کی احتیاج ہے لہٰذا پیغمبر جسے راہبر کی ضرورت ہے جو اس کے ذریعے راہ حقیقت سے بھٹکے ہوؤں کی بدبختی کی ظلمات سے نورِ سعادت کی طرف ہدایت کرے۔ لہٰذا قرآن بھی اپنی اس قدر عظمت کے باوجود رہبر، راہنما، مجری اور نافذ کرنے والے کے بغیر تمام مشکلات حل نہیں کر سکتا۔ دوسرا یہ کہ خارج کرنے کی تعبیر درحقیقت تغیر و تبدل کے ساتھ حرکت دینے اور چلانے کی دلیل ہے۔ گویا بےایمان لوگ ایک تنگ و تاریک فضا میں ہوتے ہیں اور پیغمبر و رہبران کا ہاتھ پکڑ کر انہیں وسیع اور روشن فضا میں لے جاتے ہیں۔ ۳۔ سورة کے آغاز و اختتام پر ایک نظر: یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اس سورة کا آغاز لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف ہدایت سے ہوا ہے اوراس کا اختتام بھی لوگوں کو ابلاغ و انذار پر ہوا ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بہرحال اصلی ہدف خود لوگ، ان کی سرنوشت اور ان کی ہدایت ہے اور درحقیقت انبیاء و مرسلین کا بھیجنا اور آسمانی کتب کا نزول سب اسی کو پانے کے لئے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر زندگی کے حساس دن
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیات میں قرآن مجید اور اس کے حیات بخش اثرات کے متعلق گفتگو تھی۔ زیر بحث پہلی آیت میں بھی ایک خاص پہلو سے اس موضوع کے بارے میں بات کی گئی ہے اور وہ ہے انبیاء اور آسمانی کتب کی زبان کا اس پہلی قوم کی زبان سے ہم ہنگ ہونا جس کی طرف وہ مبعوث ہوئے۔ فرمایا گیا ہے: ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ)۔ کیونکہ ___ پہلے پہل تو کسی پیغمبر کا تعلق اسی قوم سے پیدا ہوتا ہے جس میں وہ قیام کرتے ہیں، انبیاء کے ذریعے پہلی وحی کی شعاع اسی پر پڑتی ہے اور ان کے اولین اصحاب و انصار اسی میں سے ہوتے ہیں لہٰذا پیغمبر کو انہی کی زبان میں گفتگو کرنا چاہئیے ”تاکہ وہ ان کے لئے حقائق کو واضح طور پر پیش کر سکے“ (لِیُبَیِّنَ لَھُم) اس جملے میں درحقیقت اس کے نکتے کی طرف بی اشارہ ہے کہ عام طور پر انبیاء کی دعوت ان کے پیروکاروں پر کسی انجانے اور غیر مانوس طریقے سے منعکس نہیں ہوتے تھی بلکہ واضح و روشن طور پر عام مروجہ زبان میں وہ تعلیم و تربیت کرتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان کے سانے سامنے دعوتِ الہٰی کی وضاحت کے بعد ”خدا جس شخص کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے“ (فَیُضِلُّ اللهُ مَنْ یَشَاءُ وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آخرکار کسی کا ہدایت یافتہ ہونا یا گمراہ ہونا انبیاء کا کام تو تبلیغ اور تبیین ہے۔ بندوں کی حقیقی ہدایت و رہنمائی تو خدا ہی کے ہاتھ ہے۔ اس بناء پر کہیں یہ تصور نہ ہو کہ اس کا مطلب جبر، لازمی طور پر ہونا اور انسان کی آزادی کا سلب ہونا ہے۔ بلافاصلہ مزید ارشاد فرمایا گیا ہے: وہ عزیز حکیم ہے (وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیم)۔ اپنی عزت و قدرت کی وجہ سے وہ ہر چیز پر قادر و توانا ہے اور کوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق وہ کسی شخص کو بلا سبب ہدایت نہیں کرتا اور نہ کسی کو بلاوجہ گمراہ کرتا ہے بلکہ بندے اپنے ارادے کی انتہائی آزادی کے ساتھ ”سیر الیٰ اللہ“ کے لئے قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے دل پر نور ہدایت اور فیضِ حق کی کرنیں پڑتی ہیں۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ میں ہے: والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا جو لوگ ہماری راہ میں جہاد اور جدوجہد کرتے ہیں ہم یقینی طور پر انہیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ اسی طرح جن لوگوں نے تعصب، ہٹ دھرمی، حق دشمنی، شہوات میں غوطہ زنی اور ظلم میں آلودگی کے باعث ہدایت کے لئے اپنی قابلیت گنوا دی ہے وہ فیضِ ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں اور ضلالت و گمراہی کی وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: کذٰلک یضل اللہ من ھومسرف مرتاب اسی طرح خدا ہر اسراف کرنے والے اور آلودہ ٴ شک شخص کو گمراہ کرتا ہے۔ (مومن۔ ۳۴) یہ بھی فرمایا گیا ہے: وما یضل بہ الا الفاسقین اس کے ذریعے خدا صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے (بقرہ۔ ۲۶) نیز یہ بھی ارشاد ہوتا ہے: ویضل اللہ الظالمین خدا ستمگروں کو گمراہ کرتا ہے۔ (ابراہیم۔ ۲۷) گویا ہدایت اور گمراہی کا سرچشمہ خود ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگلی آیت میں اپنے ہم عصر طاغوتوں کے مقابلے میں انبیاء کے قیام کا ایک نمومہ ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ ظلمتوں سے نکال کر وادیٴ نور میں لے جانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات (مختلف معجزات) کے ساتھ بھبیجا اور ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نور کی طرف ہدایت کرو (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ) (تشریحی نوٹ: حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے ظاہر ہونے والے معجزات کی طرف زیرنظر آیت میں لفظ ”آیات“ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۱ کے مطابق وہ تو اہم معجزات تھے جن کی تفصیل اس آیت کے ضمن میں آئے گی (انشاء اللہ)۔ جیسا کہ ہم نے اس سورہ کی پہلی آیت میں پڑھا ہے پیغمبر اسلامؐ کے پروگرام کا خلاصہ بھی لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکال لے جانا تھا۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سب خدا کے انبیاء و رسل ہیں بلکہ سب کے سب انسانوں کے معنوی اور روحانی راہنما ہیں۔ کیا برائیاں، گمراہیاں، کجرویاں، ظلم و ستم، استثمار، ذلتیں، زبوں حالیاں، فتنہ و فساد اور گناہ ظلمت و تاریکی کے علاوہ کچھ اور ہیں۔ اور کیا ایمان و توحید، تقویٰ و پاکیزگی، آزادی و استقلال اور سربلندی و عزت نور و ضیا کے سوا کچھ اور ہے۔ اس بناء پر تمام رہبروں کی دعوت کے درمیان بالکل یہی قدر مشترک اور قدر جامع ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک عظیم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تیری ذمہ داری ہے کہ تو اپنی قوم کو ”ایام اللہ“ یاد دلائے (وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللهِ)۔ مسلم ہے کہ تمام دن ایام الٰہی ہیں جیسے تمام جگہیں اور مقامات خدا سے تعلق رکھتے ہیں اب اگر کسی خاص مقام کو ”بیت اللہ“ سے موسوم کیا جائے تو یہ اس کی خصوصیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح مسلم ہے کہ ”ایام اللہ“ کا عنوان مخصوص دنوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو بہت زیادہ امتیاز و درخشندگی رکھتے ہیں۔ اسی بناء پر مفسرین نے اس کی تفسیر میں مختلف احتمالات پیش کئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ گزشتہ انبیاء اور ان کی سچی اور اچھی امتوں کی کامیابی کے دنوں کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح وہ ایام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جن میں انہیں ان کی اہلیت کی بناء پر انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ان دنوں کی طرف اشارہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں کو عذاب زنجیر میں جکڑا اور طاغوت و سرکش افراد کو ایک ہی فرمان سے تباہ و برباد کر دیا۔ بعض نے ان دونوں حصوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن اصولی طور پر اس گویا، عمدہ اور رسا تعبیر کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تمام دن ”ایام اللہ“ ہیں کہ جو نوعِ بشر کی زندگی کی تاریخ میں حاملِ عظمت ہیں۔ ہر وہ دن کہ جس میں کوئی فرمانِ الہٰی اس طرح درخشندہ ہوا کہ باقی امور کو اپنے تحت الشعاع لے آیا وہ ایام اللہ میں سے ہے۔ جس روز انسانوں کی زندگی میں سے نیا باب کھلا، انہیں درسِ عبرت دیا گیا، ان میں کسی پیغمبر نے ظہور یا قیام فرمایا یا جس دن کوئی منکر، طاغوت اور فرعون ظلمت کے گڑھے میں پھینکا گیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ دن کہ جس میں حق و عدالت برپا ہوئی اور ظلم و بدعت خاموش ہوئی وہ ایام اللہ میں سے ہے جیسا کہ ہم دیکھیں گے آئمہ معصومین علیہم السلام کی اس تفسیر کے ذیل میں منقول روایات میں بھی حساس دنوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: اس گفتگو میں اور تمام ایام اللہ میں ہر صابر و بااستقامت اور شکر گزار انسان کے لئے نشانیاں ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ)۔ ”صبار“ اور ”شکور“ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ان میں سے ایک صبر و استقامت زیادہ ہونے اور دوسرا نعمت و احسان پر شکر گزاری زیادہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صاحبِ ایمان افراد نہ تو سختیوں اور مشکلوں کے دنوں میں حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں اور اپنے آپ کو حوالہ ٴ حوادث کر دیتے ہیں اور نہ ہی کامیابی اور نعمت کے دنوں میں غرور و غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں اور ”ایام اللہ“ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ان دونوں کا تذکرہ گویا اسی مقصد کی نشاندہی کر رہا ہے۔ بعد والی آیت میں تاریخ بنی اسرائیل میں ایام اللہ اور درخشاں و پر بار دنوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کا ذکر مسلمانوں کے لئے بھی تذکرہ تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اس نعمتِ خدا کا تذکرہ کرو کہ جب اس نے تمہیں آلِ فرعون سے نجات بخشی (وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ اَنجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ)۔ وہی فرعونی کہ جنہوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو خدمت اور کنیزی کے لئے زندہ رکھتے تھے (یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ اَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ)۔ اور یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی (وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ)۔ اس دن سے زیادہ بابرکت کونسا دن ہو گا کہ جس دن تمہارے سروں سے خود غرض، سنگدل اوراستعمار گر لوگوں کو دور کیا گیا۔ وہی لوگ کہ جو تمہارے ساتھ ایک بہت بڑا ستم روا رکھے ہوئے تھے۔ اس ظلم سے بڑھ کر کیا ہو سکتا تھا کہ وہ تمہارے بیٹوں کے سر جانوروں کی طرح کاٹ دیتے تھے (توجہ رہے کہ قرآن نے ذبح کہا ہے قتل نہیں) اور اسے بڑھ کر یہ کہ تمہاری عزت و ناموس بے شرم دشمن کے چنگل میں کنیزوں کی طرح گرفتار تھی۔ نہ صر ف بنی اسرائیل کے لئے بلکہ اقوام و ملل کے لئے آزادی و استقلا ل کے حصول اور طاغوت کی دست برد سے نجات کا دن ایام اللہ میں سے ہے کہ جسے انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے۔ ایسی یاد کہ جس کے سبب وہ گزشتہ حالت کی طرف لوٹنے سے محفوظ ہیں۔ ”یسومونکم“ سوم (بروزن ”صوم“) کے مادہ سے ہے۔ دراصل یہ کسی چیز کے پیچھے جانے اور اس کی جستجو کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ کسی پر کسی کام کو زبردستی ٹھونسنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ (بحوالہ: مفردات راغب، تفسیر المنار (جلد۱ ص ۳۰۸ اور تفسیر ابوالفتوح رازی کی جلد ۷ ص ۷ کی طرف رجوع کریں)۔ لہذا ”یسومونکم سوء العذاب“ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تم پر بدترین سختیاں اور عذاب مسلط کرتے تھے۔ کیا یہ کم مصیبت ہے کہ ایک گروہ کی فعال قوت کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اس کی عورتوں کو کسی سرپرست کے بغیر چند ظالموں کے چنگل میں کنیزوں کی طرح باقی رہنے دیا جائے۔ ضمناً ”یسومون“ کا فعل مضارع کی صورت میں ہونا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کام مدتوں جاری رہا۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس آیت کی نظیر سورہ بقرہ کی آیت۴۹ میں بھی ہے)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بیٹوں کا سر کاٹنے اور عورتوں کی کنیزی کے ذکر کے بعد ان کا واوٴ کے ذریعے ”سوء العذاب“ پر عطف کیا گیا ہے حالانکہ یہ خود ”سوء العذاب“ کا مصداق ہیں۔ ایسا ان دونوں عذابوں کی اہمیت کی بناء پر ہوا ہے۔ نیز یہ نشاندہی کرتا ہے کہ فرعون کی جابر اور ستم گر قوم بنی اسرائیل پر اور مظالم بھی روا رکھتی تھی لیکن ان میں سے یہ دو ظلم بہت شدید اور نہایت سخت تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ بات بھی یاد رکھو کہ تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر میری نعمتوں کا شکر بجا لاوٴ تو یقینا میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا اور اگر کفران کرو تو میرا عذاب اور سزا شدید ہے (وَإِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ) (تشریحی نوٹ: تاٴذن باب تفعل سے ہے اور تاکید سے اعلان کرنے کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے افعال کا مادہ ”ایذان“ اعلان کے معنی میں ہے اور جب تفعل کے معنی میں آئے تو اس سے اضافہ اور تاکید کا استفادہ ہوتا ہے)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا تسلسل ہو۔ آپ (علیه السلام) نے انہیں اس نجات، کامیابی اور نعماتِ فراواں پر شکر گزاری کی دعوت دی اور ان سے نعمت میں اضافے کا وعدہ کیا اور کفران کی صورت میں عذاب کی تہدید کی اور یہ ممکن ہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہو اور مسلمانوں سے خطاب ہو لیکن بہرحال نتیجے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر بن اسرائیل کو خطاب ہو پھر بھی قرآن مجید میں ہمارے لئے ایک اصلاحی درس کے طور پر آیا ہے۔ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ شکر کے بارے میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے ”لا زید نکم“ (یقینا میں اپنی نعمت تم پر زیادہ کر دوں گا)۔ جب کہ کفران نعمت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تمہیں عذاب کروں گا بلکہ ارشاد ہوتا ہے: ”میرا عذاب شدید ہے“ تعبیر کا یہ فرق پروردگار کا انتہائی لطف و کرم ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ ایام اللہ کی یاد آوری
جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ”اللہ“ کی طرف ”ایام“ کی اضافت انسانوں کی زندگی کے اہم اور تقدیر ساز دنوں کی طرف اشارہ ہے اور ان دنوں کی عظمت کی بناء پر انہیں خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ نیز اس بناء پر کہ اگر ایک عظیم نعمت الہٰی کسی لائق قوم کے شامل حال ہو۔ یا عظیم عذابِ الٰہی کسی سرکش و طغیان گر قوم کو دامن گیر ہو تو دونوں صورتوں میں تذکر و یاد آوری کے لائق ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقوم روایات میں ”ایام اللہ“ کی تفسیر مختلف دنوں سے کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ایام اللہ، یوم یقوم القائم (علیه السلام) و یوم الکرّة و یوم القیامة ایام اللہ مہدی موعود (علیه السلام) کے قیام کا دن، روز رجعت اور قیامت ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٢، ص٥٢۶)۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں ہے: ”ایام اللہ“ تین دن ہیں قیام مہدی (علیه السلام) کا دن، موت کا دن اور قیامت کا دن۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٢، ص٥٢۶)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے: ایام اللہ نعمائہ وبلائہ و ببلائہ سبحانہ ایام اللہ اس کی نعمتوں اور اس کی طرف مصائب کے ذریعے آزمائشوں کے دن ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٢، ص٥٢۶)۔ جیسا کہ ہم نے با رہا کہا ہے کہ اس قسم کی احادیث کبھی بھی اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ مفہوم انہی میں منحصر ہے بلکہ ان میں بعض مصادیق کے بعض حصوں کا بیان ہے۔ بہرحال، عظیم دنوں کی یاد آوری (چاہے وہ کامیابی کے دن ہو یا سختی کے) ملتوں کی بیداری اور ہوشیاری میں بہت موٴثر ہوتی ہے۔ اسی آسمانی پیام سے ہدایت لیتے ہوئے ہم تاریخ اسلام کے عظیم دنوں کی یاد زندہ و جاوداں رکھتے ہیں اور ان یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ہر سال ہم نے کچھ دنوں کو مخصوص کیا ہوا ہے۔ ان دنوں میں ہم اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس سے ہم درس لیتے ہیں، ایسے درس کہ جو ہمارے آج کے لئے بہت زیادہ موٴثر ہیں۔ نیز ہماری موجودہ تاریخ خصوصاً انقلابِ اسلامی ایران کی پُر شکوہ تاریخ میں بہت دن ایسے ہیں جو ”ایام اللہ“ کے مصادیق ہیں۔ ہر سال ہمیں ان کی یاد زندہ رکھنا چاہئیے ایسی یاد کہ جس میں شہیدوں، غازیوں، مجاہدوں اور عظیم دلاوروں کی یاد ررچی بسی ہو اور پھر ان سے ہدایت لینا چاہیئے اور ان کی عظیم میراث کی پاسداری کرنا چاہیے۔ لہٰذا ان عظیم دنوں کا ذکر ہمارے مدارس کی درسی کتب میں ہونا چاہئیے اور ان کی یاد ہماری اولاد کی تعلیم و تربیت کا حصہ ہونا چاہئے اور ہمیں آئندہ نسلوں کے بارے میں ”ذکرھم“ (انہیں یاد دلاوٴ) کی ذمہ داری پوری کرنا چاہئیے۔ قرآن مجید میں بھی بارہا ”ایام اللہ“ کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بھی اور مسلمانوں کے بارے میں بھی نعمتوں اور سختیوں کے دنوں کو یاد رکھا گیا ہے۔
۲۔ جابروں کے طور طریقے
ہم نے بارہا قرآنی آیات میں پڑھا ہے کہ فرعونی بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کر دیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ یہ کام صرف فرعون اور فرعونی نہیں کرتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر استعمار گر کا یہی شیوہ اور طریقہ تھا کہ وہ فعال جنگجو اور پرعزم قوتوں کا ایک حصہ نابود کر دیتے اور دوسرے کو کمزور کر کے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے استعماری اور استثماری کام جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ لیکن اہم بات یہ کہ سمجھیں کہ ایسی قوتیں کبھی تو فرعونیوں کی طرح لڑکوں کو نابود ہی کر دیتی ہیں اور کبھی منشیات، شراب اور بدکاری جیسی بری عادتوں میں غرق کر کے فعال قوتوں کو ناکارہ بنا دیتی ہیں اور انہیں زندہ نما مردہ بنا دیتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے کہ جس پر مسلمانوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان کی نسلِ نو ایسے کاموں پر پڑ گئی اور اپنی ایمانی جسمانی قوت گنوا بیٹھی تو پھر انہی جان لینا چاہئیے کہ ان کے لئے غلامی یقینی ہے۔
۳۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے
یہ امر جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ”ایام اللہ“ کے ذکر کے بعد صرف ایک دن کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ دن کہ جو فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کی نجات کا دن ہے (اذانجٰکم من اٰل فرعون) حالانکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اور بھی بہت سے عظیم دن تھے کہ جن میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی ہدایت کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم نعمتیں بخشی تھیں لیکن زیر بحث آیات میں ”یوم نجات“ کا ذکر قوموں کی سرنوشت میں آزادی اور استقلال کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے۔ جی ہاں! جب تک کوئی قوم وابستگی سے نجات حاصل نہ کرے، غلامی اور استعمار کے چنگل سے آزاد ہو اس کی صلاحتیں استعداد اور کمال ظاہر نہیں ہو سکتا اور وہ اللہ کی راہ میں قدم نہیں رکھ سکتی وہ راہ کہ شرک، ظلم اور بیدار کے خلاف قیام کا راستہ ہے۔ اسی بناء پر عظیم الہٰی رہبرو ں کا پہلا کام یہی تھا کہ وہ قوموں کو فکری، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی غلامی سے آزاد کروائیں اور اس کے بعد کوئی اور کام کریں اور توحید و انسانیت کے پروگراموں کو عملی شکل دیں۔
۴۔ شکر نعمت اور کفرانِ نعمت کا نتیجہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتوں پر ہمارے تشکر کا محتاج نہیں اور اگر وہ شکر گزاری کا حکم دیتا ہے تو وہ بھی ہم پر ایک اور نعمت کا موجب ہے اور ایک اعلیٰ درجے کا تربیتی انداز ہے۔ اہم یہ بات ہے کہ ہم دیکھیں کہ شکر کی حقیقت کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اس کا نعمت کی زیادتی سے کیا تعلق ہے اور کس طرح وہ خود ایک عاملِ تربیت ہو سکتا ہے۔ شکر کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبانی شکر کیا جائے یا ”الحمد للہ“ وغیرہ کہا جائے بلکہ شکر کے تین مراحل ہیں: پہلا مرحلہ یہ ہے کہ سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ نعمت عطا کرنے والا کون ہے۔ یہ توجہ، ایمان اور آگاہی شکر کا پہلا ستون ہے۔ دوسرا مرحلہ اس سے آگے زبان کا مرحلہ ہے۔ لیکن تیسرا مرحلہ اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ عمل کا مرحلہ ہے یعنی عملی شکر یہ ہے یعنی ہم پوری طرح سے غور کریں کہ ہر نعمت ہمیں کس مقصد کے لئے دی گئی ہے اور اسے ہم اس کے اپنے مقام پر صرف کریں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ہم نے کفران نعمت کیا۔ جیسا کہ بزرگوں نے فرمایا ہے: الشکر صرف العبد جمیع ما انعمہ اللہ تعالیٰ فیماخلق لاجلہ شکر یہ ہے کہ بندہ ہر نعمت کو اس کے مصرف ہی میں صرف کرے۔ واقعاً خدا نے ہمیں آنکھیں دی ہیں، اس نے ہمیں دیکھنے اور سننے کی نعمت کیوں بخشی ہے۔ کیا اس کے علاوہ کوئی مقصد تھا کہ ہم جہاں میں اس کی عظمت کو دیکھیں، راہ حیات کو پہچانیں اور ان وسائل کے ذریعے تکامل و ارتقاء کی طرف قدم بڑھائیں، ادراک، حق کریں، حمایتِ حق کریں، اس کا دفاع کریں اور باطل کے خلاف جنگ کریں۔ اگر خدا کی ان عظیم نعمتوں کو ہم نے ان کے راستے میں صرف کیا تو ان کا عملی شکر ہے اور اگر یہ نعمتیں طغیان، خود پرستی، غرور، غفلت اور خدا سے دوری کا ذریعہ بن گئیں تو یہ عین کفران ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ادنی الشکر روٴیة النعمة من اللہ من غیر علة یتعلق القلب بھا دون اللہ، و الرضا بما اعطاہ، وان لا تعصیہ بنعمة و تخالفہ بشیء من امرہ و نھیہ بسبب من نعمتہ کمترین شکر یہ ہے کہ تو نعمت کو خدا کی طرف سے سمجھے بغیر اس کے کہ تیرا اس نعمت میں مشغول رہے اور تو خدا کو بھول جائے اور (شکر) اس کی عطا پر راضی ہونا ہے اور یہ کہ تو اس کی نعمت کو اس کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنائے اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرنے کے باوجود تو اس کے اوامر و نواہی کو روند نہ ڈالے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۱ ص۷۱٠)۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ طاقت، علم، قوتِ فکر و نظر، معاشرتی حیثیت، مال و ثروت اور تندرستی و سلامتی میں سے ہر ایک کے شکر کا راستہ کیا ہے اور کفران کی راہ کونسی ہے۔ تفسیر نور الثقلین میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث بھی اس تفسیر کے لئے ایک واضح دلیل ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: شکر نعمة اجتناب المحارم شکرانِ نعمت گناہوں سے بچنے کا نام ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۲ ص۵۲۹)۔ یہیں سے شکر اور نعمت میں اضافے کے درمیان تعلق واضح ہو جاتا ہے کیونکہ جب بھی انسانوں نے نعمت الٰہی کو بالکل مقاصدِ نعمت کے تحت صرف کیا تو انہوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ وہ اہل ہیں اور یہ اہل بیت سے زیادہ سے زیادہ فیض اور فزوں تر نعمت کا سبب بنی۔ اصولی طور پر شکر دو طرح کا ہے: ۱۔ شکر تکوینی اور ۲۔ شکرِ تشریعی شکر تکوینی یہ ہے کہ ایک موجود خود کو حاصل نعمات کو اپنے رشد و نمو کے لئے استعمال کرے۔ مثلاً باغیاں دیکھتا ہے کہ باغ کے فلاں حصے میں درخت خوب پھل پھول رہے ہیں اور ان کی جتنی زیادہ خدمت کی جائے اتنے ہی زیادہ شگوفے پھوٹتے ہیں۔ یہی امر سبب بنتا ہے کہ باغبان باغ کے درختوں کے اس حصے کی خدمت پر زیادہ توجہ دیتا ہے اور اپنے کارکنوں کو ان کی نگہبانی کی نصیحت کرتا ہے کیونکہ درخت زبانِ حال سے پکار رہے ہوتے ہیں کہ اے باغبان! ہم اس بات کے اہل ہیں کہ تو اپنی نعمت و احسان ہم پر زیادہ کرے۔ وہ بھی اس پکار کا مثبت جواب دیتا ہے۔ بسوزند چوب درختان بی بر سزا خود ہمین است مر، بی بری را بےثمر درختوں کی لکڑیاں جلائی جاتی ہیں؛ کیونکہ بےثمری کی یہی سزا ہے۔ جہانِ شکر کی بھی یہی حالت ہے۔ فرق یہ ہے کہ درخت میں خود اختیاری نہیں ہے اور وہ فقط تکوینی قوانین کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں لیکن انسان اپنے ارادہ و اختیار کی طاقت سے اور تشریعی تعلیم و تربیت سے استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر آگاہی سے قدم رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا وہ شخص کہ جو طاقت کی نعمت کو ظلم و سرکشی کا وسیلہ بنایا ہے گویا زبان حال سے پکار رہا ہوتا ہے کہ خدا وند! میں اس نعمت کے لائق نہیں اور جو شخص اپنی صلاحیت کو حق و عدالت کی راہ میں کام میں لاتا ہے وہ گویا زبانِ حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ پروردگارا: میں اس لائق ہوں، لہٰذا اضافہ فرما۔ یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ جس وقت ہم شکر الہٰی بجا لاتے ہیں، چاہے وہ فکر و نظر سے ہو، چاہے زبان سے اور چاہے عمل سے، شکر کی یہ توانائی خود ہر مرحلے میں ایک نئی نعمت ہے اور اس طرح سے شکر کرنا ہمیں اس کی نئی نعمتوں کا مرہون منت قرار دیتا ہے اور یوں یہ ہرگز ہمارے بس میں نہیں کہ اس کے شکر کا حق ادا کر سکیں۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام کی پندر مناجاتوں میں سے مناجاتِ شاکرین میں ہے: کیف لی بتحصیل الشکر و شکرک ایاک یفتقر الیٰ شکر، فکلما قلت لک الحمد و جب علی لذلک ان اقول لک الحمد میں تیرے شکر کا حق کیسے ادا کر سکتا ہوں کہ جب یہ شکر ایک اور شکر کا محتاج ہے اور جب میں ” لک الحمد“ کہتا ہوں تو مجھ پر لازم ہے کہ اس شکر گزاری کی توفیق پر کہوں: ” لک الحمد“ لہٰذا انسان کے لئے مرحلہ شکر کا افضل ترین مقام یہ ہو سکتا ہے کہ اس کی نعمتوں پر شکر سے عاجزی کا اظہار کرے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: فیما اوحی اللہ عزوجل الیٰ موسیٰ اشکرنی حق شکری فقال یا رب و کیف اشکرک حق شکرک و لیس من شکر اشکرک بہ الا و انت انعمت بہ علی قال یا موسی الان شکرتنی حین علمت ان ذٰلک منی۔ خدا نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرا حق شکر ادا کرو تو انہوں نے عرض کیا: پروردگارا میں تیرا حقِ شکر کس طرح ادا کروں جب کہ میں جب بھی تیرا شکر بجا لاتا ہوں تو یہ توفیق بھی خود میرے لئے ایک نعمت ہو گی۔ اللہ نے فرمایا: اب تو نے میرا حق شکر ادا کیا جب کہ تو نے جانا کہ حتی یہ توفیق بھی میری طرف سے ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۴ ص۸۰۔(باب الشکر))۔ بندہ ہمان نہ کہ ز تقصیر خویش عذر بہ درگاہ خدا آورد ورنہ سزاوار خداوندیش کس نتواند کہ بجا آورد اچھا بندہ وہی ہے کہ جو اپنی کوتاہیوں کا عذر بارگاہ الٰہی میں پیش کر دے ورنہ اس کی خدا وندی کا حق کوئی بجا نہیں لا سکتا ہے۔
شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات
حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں اپنے حکمت آمیز کلمات میں فرماتے ہیں: اذا وصلت الیکم اطراف النعم فلا تنفروا و اقصاھا بقلّة الشکر جس وقت نعماتِ الہٰی کا پہلا حصہ تم تک پہنچ جائے تو کوشش کرو کہ شکر کے ذریعے باقی حصے کو بھی اپنی طرف جذب کرو نہ یہ کہ شکر گزاری میں کمی کر کے اسے اپنے آپ سے دور بھگا دو۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات اقتصار شمارہ۱٣)۔ ۲۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے نعمتوں پر صرف خدا کی سپاس گزاری اور تشکر کافی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ جو اس نعمت کا ذریعہ بنے ہیں اور ان کی زحمات و مشقات کا حق بھی اس طریقے سے ادا کرنا چاہئیے اور اس طرح انہیں اس راہ میں خدمات کی تشویق دلانا چاہئیے۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: جب روز قیامت ہو گا تو اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا: کیا تم نے فلاں شخص کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تو وہ عرض کرے گا: پروردگارا: میں نے تیرا شکریہ ادا کیا ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: چونکہ تو اس کا شکر بجا نہیں لایا تو گویا تو نے میرا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ پھر امام (علیه السلام) نے فرمایا: اشکرکم اللہ اشکرکم للناس تم میں سے خدا کا زیادہ شکر کرنے والے وہ ہیں جو لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد۲ صفحہ۸۱ حدیث٣۰)۔ ۳۔ خدا کی نعمتوں کی افزائش کہ جس کا شکر گزاروں سے وعدہ کیا گیا ہے صرف اس لئے نہیں ہے کہ انہیں نئی نئی مادی نعمتیں بخشی جائیں بلکہ خود شکر گزاری کہ جو خدا کی طرف خاص توجہ اور ا س کی ساحتِ مقدس سے نئے عشق کے ساتھ ہو ایک عظیم روحانی نعمت ہے کہ جو انسانی نفوس کی تربیت اور انہیں فرامین الہٰی کی اطاعت کی طرف رغبت دلانے کے لئے بہت موٴثر ہے۔ بلکہ شکر ذاتی طور پر زیادہ سے زیادہ معرفت الہٰی کا ذریعہ ہے۔ اسی بناء پر علماء عقائد علم کلام میں ”وجوب معرفت الٰہی“ کو ثابت کرنے کے لئے ”وجوب شکرِٓ منعم“ کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ ۴۔ معاشرے میں تحریک پیدا کرنے اور پیش رفت کے لئے روح شکر گزاری کا احیاء بہت اہم کردار کرتا ہے۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے علم و دانش سے یا فدا کاری اور شہادت سے یا کسی دوسرے طریقے سے اجتماعی اہداف کی پیش رفت کے لئے خدمت کی، ان کی قدر دانی اور ان کا تشکر معاشرے کو آگے بڑھانے کا بہت اہل عامل ہے۔ جس معاشرے میں تشکر اور قدر دانی کی روح مردہ ہو اس میں خدمت کے لئے لگاوٴ اور گرم جوشی بہت کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جس معاشرے میں لوگوں کی زحمتوں اور خدمتوں کی زیادہ قدر دانی کی جاتی ہو وہاں نشاط و مسرت زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے اور ایسی قومیں زیادہ ترقی کرتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف توجہ کے سبب ہمارے ہاں گزشتہ بزرگوں کی زحمتوں کی قدر دانی کے اظہا ر کے لئے ان کے سوسالہ، ہزار سالہ روز ولادت وغیرہ کے موقع پر اور دیگر مناسب مواقع پر پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور ان کی خدمات کے تشکر اور سپاس گزاری سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً ہمارے ملک میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کو جو اڑھائی ہزار سالہ تاریک دور کا اختتام ہے اور ایک دورِ نو کا آغاز ہے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال اور ہر ماہ بلکہ ہر روز شہدائے انقلاب کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ انہیں ہدیہٴ عقیدت و سلام پیش کیا جاتا ہے۔ ان تمام لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے جو ان کی طرف منسوب ہے اور ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے تو یہ امر سبب بنتا ہے کہ دوسروں میں فدا کاری اور قربانی کا عشق پیدا ہو اور لوگوں میں فدا کاری کا سطح بلند تر ہو اور قرآن کی تعبیر کے مطابق اس نعمت کا تشکر اس میں اضافے کا باعث ہو اور ایک شہید کے خون سے ہزاروں شہداء پیدا ہو اور ”لازیدنکم“ کا زندہ مصداق بن جائیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کیا خدا کے بارے میں شک ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 2زیر نظر پہلی آیت شکر گزاری اور کفران نعمت کی بحث کی تائید و تکمیل ہے اور یہ آیت حضرت موسیٰ بن عمران کی زبانی گفتگو کے ضن میں نقل ہوئی۔ فرمایا گیا ہے: موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یاد دہانی کروائی کہ اگر تم روئے زمین کے تمام لوگ کافر ہو جائیں (اور خدا کی نعمت کا کفران کریں) تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ بےنیاز اور لائق ستائش ہے۔ (وَقَالَ مُوسَی إِنْ تَکْفُرُوا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا فَإِنَّ اللهَ لَغَنِیٌّ حَمِیدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: واضح ہے کہ ”ان تکفروا“ جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزاء محذوف ہے اور ”ان اللہ لغنی حمید“ اس پر دلالت کرتا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: ان تکفروا۔۔۔۔لا تضروا للہ شیئا۔۔۔۔)۔ درحقیقت، شکر نعمت اور خدا پر ایمان تمہارے لئے نعمت میں اضافے، تمہارے تکامل و ارتقاء اور تمہاری عزت و افتخار کا سبب ہے۔ ورنہ خدا تو ایسا بےنیاز ہے کہ اگر پوری کائنات کافر ہو جائے تو اس کے دامنِ کبریائی پر کوئی گرد نہیں پڑ سکتی کیونکہ وہ سب بےنیاز ہے۔ یہاں تک کہ وہ تشکر و ستائش کا محتاج بھی نہیں کیونکہ وہ ذاتی طور پر لائق حمد ہے (حمید)۔ اگر اس کی ذات پاک میں نیاز و احتیاج ہوتی تو وہ واجب الوجوب نہ ہوتا۔ لہٰذا اس کے غنی ہونے کا مدہوم یہ ہے کہ تمام کمالات اس میں جمع ہیں جو ایسا ہے وہ ذاتی طور پر تعریف کے لائق ہے کیونکہ ”حمید“ کا معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ لائق حمد ہے۔ اس کے بعد چند آیات میں بعض گزشتہ اقوام کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ وہی اقوام کہ جنہوں نے نعماتِ الٰہی پر کفرانِ نعمت کا راستہ اختیار کیا اور ہادیانِ الہٰی کی دعوت پر ان کی مخالفت کی اور کفر کی راہ اپنائی۔ ان آیات میں ان کی منطق اور ان کے انجام کی تشریح کی گئی ہے تاکہ گزشتہ آیت کے مضمون پر تاکید ہو جائے ارشاد ہوتا ہے: کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی ہے کہ جو تم سے پہلے تھے (اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَاُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُم)۔ ہو سکتا ہے کہ جملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا آخری حصہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن کی طرف سے مسلمانوں کو خطاب کی صورت میں ایک مستقل بیان ہو۔ بہرحال نتیجے کے لحاظ سے دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: قوم نوح، عاد اور ثمود جیسی قومیں اور وہ کہ جو ان کے بعد تھیں (قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِینَ مِنْ بَعْدِھم)۔ وہی کہ جنہیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں پہچانتا اور اس کے علاوہ کوئی ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہے (لاَیَعْلَمُھُمْ إِلاَّ الله)۔ (تشریحی نوٹ: جملہ ”لایعلم الا اللہ“ ممکن ہے پہلے جملے پر معطوف ہو اور واوٴ حذف ہو گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے جملے کے لئے جملہ و صفیہ کی شبیہ ہو)۔ اس میں شک نہیں کہ قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قوموں کے کچھ حالات ہم تک پہنچے ہیں لیکن مسلم ہے کہ بیشتر حصہ ہم تک نہیں پہنچا کہ جس سے صرف خدا ہی آگاہ ہے۔ گزشتہ اقوام کی تاریخ میں اس قدر اسرار، خصوصیات اور جزئیات تھیں کہ شاید وہ کچھ کہ جو ہم تک پہنچا ہے اس کے مقابلے میں جو نہیں پہنچا بہت ہی کم اور ناچیز ہے۔ اس کے بعد کی سرگذشت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ ان کی طرف آئے لیکن انہوں نے تعجب و انکار کی بناء پر اپنے منہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ جن چیزوں کے لئے تم بھیجے گئے ہو ہم ان سے کفر کرتے ہیں (جَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرَدُّوا اَیْدِیَھُمْ فِی اَفْوَاھِھِمْ وَقَالُوا إِنَّا کَفَرْنَا بِمَا اُرْسِلْتُمْ بِہِ)۔ کیونکہ ”ہم ہر اس چیز کے بارے میں شک رکھتے ہیں کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہو“ اور اس شک کے ہوتے ہوئے کس طرح ممکن ہے کہ ہم تمہاری دعوت قبول کر لیں (وَإِنَّا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَیْہِ مُرِیبٍ)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انہوں نے پہلے انبیاء کے بارے میں کفر اور بےایمانی کا اظہار کیا لیکن اس کے بعد انہوں نے کہا ہمیں شک ہے اور لفظ ”مریب“ کے ساتھ اپنی بات مکمل کی، تو یہ دونوں چیزیں آپس میں کیا مناسبت رکھتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تردد و شک کا اظہار درحقیقت عدم ایمان کی علت ہے کیونکہ ایمان کے لئے یقین کی ضرورت ہے اور شک اس میں رکاوٹ ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ مشرکین اور کفار نے شک کو بنیاد قرار دیتے ہوئے عدم ایمان کا اظہار کیا لہٰذا بعد والی آیت میں بلافاصلہ مختصر سی عبارت میں واضح دلیل پیش کر کے ان کے شک کی نفی کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ کیا اس خدا کے وجود میں شک کرتے ہو کہ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (قَالَتْ رُسُلُھُمْ اَفِی اللهِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ ”فاطر“ دراصل شگاف کرنے والے کے معنی میں ہے لیکن یہاں پیدا کرنے والے کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ جو ایک حساب شدہ پروگرام کے تحت کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور پھر اس کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ اس کے وجود کی برکت اور نور ہستی سے ظلمتِ عدم چھٹ جاتی ہے اور شگافتہ ہو جاتی ہے جیسے سپیدہٴ سحر ظلمتِ شب کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور جیسے کھجور کا خوشہ اپنے غلاف کو شگافتہ کر دیتا ہے اسی لئے عرب اسے ”فط“ (بروزِ ”شتر“) کہتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”فاطر“ جہان کے ابتدائی مادہ کے ٹکڑے میں شگاف کرنے کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ جدید سائنس کہتی ہے کہ مادہٴ عالم مجموعی طور پر باہم پیوستہ چیز تھی کہ جو بعد میں شگافتہ ہو کر مختلف کرّوں کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ بہرحال، قرآن دیگر اکثر مواقع کی طرح خدا کے وجود اور صفات کو ثابت کرنے کے لئے یہاں نظامِ عالمِ ہستی اور آسمانوں اور زمین کی خلقت کا ذکر کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا شناسی کے مسئلے میں اس سے زیادہ زندہ اور زیادہ روشن کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ اس عجیب و غریب نظام کا ہر گوشہ اسرار سے معمور ہے کہ جو زبانِ حال سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ سوائے ایک قادرِ حکیم اور عالمِ مطلق کے کوئی بھی ایسی قدرت پیش نہیں کر سکتا۔ اسی بناء پر جس قدر انسانی علم ترقی کر رہا ہے اتنے ہی اس نظام کے دلائل آشکار ہو رہے ہیں اور یہ امر ہمیں ہر لمحہ خدا سے نزدیک کرتا ہے۔ واقعاً قرآن کسی قدر عجائب و غرائب کا حامل ہے کہ جس خدا شناسی اور توحید کی بحث کو اسی ایک جملے میں استفہامِ انکاری کی صورت میں ذکر کیا ہے___ ”افی اللہ شک فاطر السٰموٰت و الارض“ وہ جملہ کہ جس کے لئے تجزیہ و تحلیل اور وسیع بحث کے لئے ہزارہا کتابیں بھی کافی نہیں ہیں۔ اس کے بعد منکرین کے لئے دوسرے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ اعتراض پیغمبرانِ الہٰی کی رسالت کے بارے میں ہے (کیونکہ انہیں توحید کے بارے میں بھی شک تھا اور دعوتِ پیغمبر کے بارے میں بھی)۔ یہ مسلم ہے کہ دانا و حکیم پروردگار اپنے بندوں کو ہرگز رہبر کے بغیر نہیں رہنے دیتا بلکہ ”وہ انبیاء بھیج کر تمہیں دعوت دیتا ہے تاکہ تہیں گناہوں اور آلوگیوں سے پاک کرے اور تمہارے گناہ بخش دے“ (یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِنْ ذُنُوبِکُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ ”لیغفرلکم من ذنوبکم“ میں ”من“ کا کیا مفہوم ہے۔ مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے تبعیض کے معنی میں لیتے ہیں یعنی ”تمہارے بعض گناہوں کو بخش دے گا“۔ لیکن اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے کہ ایمان لانا تمام گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ تو یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ (”الاسلام یجب عما قبلہ“ اسلام ماقبل کے گناہ ساقط کر دیتا ہے) بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ”من“ بدلیت کے معنی میں ہے۔ اس کے مطابق اس جملے کا معنی یہ ہو گا: ”خدا تمہیں دعوت دیتا ہے کہ ایمان لانے کے بدلے تمہاے گناہ بخش دے“۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ”من“ زائدہ ہے اور تاکید کے لئے آیا ہے یعنی ”خدا تمہیں ایمان کی طرف دعوت دیتا ہے تاکہ تمہارے تمام گناہ بخش دے۔ یہ آخری تفسیر تمام تفاسیر سے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے)۔ اور اس کے علاوہ ”تمہیں معین زمانے تک باقی رکھے“ تاکہ تم اپنے کمال اور ارتقاء کی راہ طے کر سکو اور اس زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکو (وَیُؤَخِّرَکُمْ إِلَی اَجَلٍ مُسَمًّی)۔ درحقیقت دعوت انبیاء کے دو اہداف تھے۔ ایک گناہوں کی بخشش یعنی انسان کے جسم و روح اور زندگی کی پاکیزگی اور دوسرا مقررہ مدت تک زندگی کہی بقا۔ اور یہ دونوں دراصل ایک دوسرے کی علت و معلوم ہیں کیونکہ وہی معاشرہ باقی رہ سکتا ہے جو گناہ و ظلم سے پاک ہو۔ تاریخ میں بہت سے ایسے معاشرے تھے جو ظلم و ستم، ہوس بازی اور طرح طرح کے گناہوں کی بناء پر ”جواں مرگ“ کا شکار ہو گئے اور قرآن اصطلاح میں وہ ”اجل مسمی“ تک نہ پہنچ سکے۔ امام صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک جامع اور جاذبِ نظر حدیث منقول ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: من یموت بالذنوب اکثر مما یموت بالاجال، ومن یعیش بالاحسان اکثر ممن یعیش بالاعمال جو لوگ گناہوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں ان کی تعداد طبعی موت مرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے اور جو نیکی کے باعث زندہ رہتے ہیں (اور طویل عمر پاتے ہیں) ان کی تعداد عام عمر کے ساتھ زندہ رہنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ (بحوالہ: سفینة البحار جلد۱ ص۴۸۸)۔ امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے: ان الرجل یذنب الذنب فیحرم صلٰوة اللیل و ان العمل السیء اسرع فی صاحبہ من السکین فی اللحم۔ بعض اوقات انسان گناہ کرتا ہے اور نیک اعمال سے مثلاً نماز تہجد سے محروم ہو جاتا ہے۔ (جان لو کہ) بُرا کام انسان کی تباہی و بربادی میں گوشت کے لئے چھری سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ (بحوالہ: سفینة البحار جلد۱ ص۴۸۸)۔ ضمناً اس آیت میں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کے پروگراموں پر عمل کرنا ”اجل معلق“ کو روکتا ہے اور حیاتِ انسانی کو ”اجل مسمی“ تک جاری و ساری رکھتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی ایک دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ انسان اپنے بدن کی توانائی کے مطابق اختتامِ عمر تک پہنچے اور دوسری ’’اجل معلق“ ہے مختلف عوامل یا رکاوٹوں کی وجہ سے انسانی عمر کا راستے ہی میں ختم ہو جانا اور ایسا عام طور پر خود اس کے بغیر سوچے سمجھے کئے گئے اعمال کی وجہ سے اور طرح طرح کے گناہوں کے باعث ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں ہم سورہ انعام کی آیہ ۲ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم کفار نے اس حیات بخش دعوت کو قبول نہ کیا کہ جس میں واضح طور پر منطبقِ توحید موجود تھی۔ اور اپنے انبیاء کو ایسا جواب دیا کہ جس سے ان کی ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے آثار جھلکتے تھے۔ کہنے لگے-: تم تو ہم جیسے بشر ہو، اس کے علاوہ کچھ نہیں (قَالُوا إِنْ اَنْتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنَا)۔ علاوہ ازیں ”تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روکو کہ جس کی ہمارے آباؤ اجداد پوجا کرتے تھے (تُرِیدُونَ اَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا)۔ بہرحال ان سب امور سے قطع نظر ”تم ہمارے لئے کوئی واضح دلیل لاو“ (فَاْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ)۔ لیکن ہم نے بارہا کہا ہے (اور قرآن نے بھی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے) کہ انبیاء و رسل کا بشر ہونا نہ صرف ان کی نبوت میں مانع نہیں بلکہ ان کی نبوت کی تکمیل کرنے والا امر ہے اور جو لوگ اس امر کی و انبیاء کی نبوت کے انکار کی دلیل سمجھتے تھے ان کا مقصد زیادہ تر بہانہ سازی تھا۔ اسی طرح اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ عام طور پر آنے والی نسل کا علم گذشتگان سے زیادہ ہوتا ہے ان کا آباوٴ اجداد کی راہ و رسم کا سہارا لینا ایک اندھے تعصب، بےوقعت بےہودگی اور خرافات کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ تقاضا کہ کوئی واضح دلیل پیش کریں، اس بناء پر نہ تھا کہ انبیاء کے پاس کوئی واضح دلیل نہ تھی بلکہ ہم بارہا آیاتِ قرآنی میں پڑھتے ہیں کہ بہانہ جو لوگ واضح دلائل اور ”سلطان مبین“ کا انکار کرتے تھے اور ہر وقت نئی دلیل اور کسی نئے معجزے کی فرمائش کرتے رہتے تھے تاکہ اپنے لئے فرار کی راہ پیدا کر سکیں۔ بہرحال آئندہ آیات میں ہم پڑھیں گے کہ انبیاء ان کا جواب کس طرح دیتے تھے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
صرف اللہ پر توکل کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 2ان دو آیات میں انبیاء کے ہٹ دھرم دشمنوں کی بہانہ سازیوں کا جواب دیا گیا ہے کہ جن کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا۔ وہ کہ جو کہتے تھے کہ تم نوعِ بشر میں سے کیوں ہو، ان کے جواب میں پیغمبرانِ گرامی نے کہا یقیناً ہم تمہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور اسے نعمت عطا کرتا ہے (قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ)۔ یعنی یہ امر فراموش نہ کرو کہ اگر بشر کی بجائے فرشتے کا انتکاب ہوتا تو اس کے پاس بھی اپنی طرف سے کچھ نہ ہوتا۔ تمام نعمات کہ جن میں سے ایک رسالت و رہبری کی ہے۔ خدا کی طرف سے ہیں۔ تو جو ایسا مقام فرشتے کو دے سکتا ہے وہ انسان کو بھی دے سکتا ہے۔ واضح ہے کہ اللہ کی طرف سے ایسی نعمت کی عطا بلاوجہ نہیں ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ خدا کی مشیت اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہے یعنی ہم جہاں بھی پڑھیں کہ ”خدا جسے چاہتا ہے“ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”خدا جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے“ یہ ٹھیک ہے کہ مقام رسالت بالآخر خدائی نعمت ہے لیکن اہلبیت (علیه السلام) بھی ذات پیغمبر میں حتماً موجود ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے تیسرے سوال کا جواب دیا گیا ہے گویا آباوٴ اجداد کی سنت کو بطور دلیل پیش کرنا اس قدر کمزور اور بےبنیاد تھا کہ ہر عاقل انسان تھوڑے سے غور و فکر سے اس کی کمزوری کو جان لیتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کی دیگر آیات میں اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ بہرحال تیسرے سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے: معجزات لانا ہمارا کام نہیں۔ ہم کوئی جادوگر نہیں کہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور جو شخص بھی من پسند کے معجزے کی فرمائش کرے اسے پیش کرتے رہیں اور معجزہ بے ارزش کھیل کود ہو کر رہ جائے بلکہ ”ہم کوئی معجزہ حکم الہٰی کے بغیر نہیں لا سکتے“ (وَمَا کَانَ لَنَا اَنْ نَاْتِیَکُمْ بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ)۔ علاوہ ازیں، ہر پیغمبر لوگوں کے تقاضا کے بغیر بھی اس قدر معجزہ پیش کر دیتا ہے جو کافی ہوتا کہ وہ ایک کی حقانیت کے اثبات کی سند ہو۔ اگرچہ ان کے دعوت کے مضامین اور ان کا مکتب خود تنہا عظیم ترین معجزہ ہے لیکن بہانہ تراش عام طور پر ان باتوں پر کان نہیں دھرتے اور ہر روز ایک نئی فرمائش کرتے ہیں اور پیغمبر اسے قبول نہ کریں تو شور و غوغا برپا کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ ان کی دھمکیوں کا بھی قاطع جواب دیا جائے انبیاء اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہتے: ”تمام باایمان افراد کو صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہئیے“ وہی خدا کہ جس کی قدرت کے مقابلے میں تمام قدرتیں ناچیز اور حقیر ہیں (وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ)۔ پھر اسی مسئلہ توکل کو ایک واضح استدلال کے ساتھ بیان کرتے: ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں اور تمام مشکلات میں اس کی پناہ کیوں نہ لیں، ہم ناچیز طاقتوں اور دھمکیوں سے کیوں ڈریں جب کہ اس نے ہماری ہدایت سعادت کی راہوں کی طرف کی ہے (وَمَا لَنَا اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللهِ وَقَدْ ھَدَانَا سُبُلَنَا)۔ اُس نے جب کہ ہمیں سعادت کی راہوں کی طرف ہدایت، کی افضل ترین نعمت عطا کی ہے تو یقینا وہ ہر قسم کی جارحیت، کارشکنی اور مشکل میں ہمیں اپنی حمایت کے زیر سایہ رکھے گا۔پھر وہ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتے: اب جب کہ ہمارا سہارا خدا ہے ایسا سہارا کہ جو ناقابلِ شکست ہے اور سب سے بلند ہے تو ”ہم یقینی طور پر تمہاری سب اذیتوں کے مقابلے میں پامردی اور صبر و شکیبائی دکھائیں گے“ (وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَی مَا آذَیْتُمُونَا)۔ اور وہ اپنی بات یوں ختم کرتے: تمام توکل کرنے والوں کو صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیئے (وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ)۔
چند اہم نکات ۱۔ مومنین اور متوکلین
زیر بحث پہلی آیت میں ہے کہ مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیئے اور دوسری آیت میں ہے کہ متوکلین کو اللہ پر توکل کرنا چاہئیے۔ گویا دوسرا جملہ پہلے کی نسبت زیادہ وسعت کا حامل ہے یعنی مومنین کے لئے تو آسان ہے کیونکہ خدا پر ایمان ہو تو یہ ایمان اس کی قدرت، حمایت اور اس پر توکل کے ایمان سے جدا نہیں ہو سکتا حتی کہ غیر مومنین اور سب لوگوں کے پاس خدا کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔ کیونکہ جس کی طرف بھی نگاہ کریں اس کے پاس خود اپنی طرف سے تو کچھ بھی نہیں تمام نعمتیں، طاقتیں اور عنایتیں اس کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہیں پس انہیں بھی اس کے آستان پر سر جھکانا چاہیئے اور اس سے طلب کرنا چاہیئے۔ کیونکہ یہ توکل انہیں اللہ پر ایمان کی دعوت بھی دے گا۔
۲۔ انبیاء اور معجزات
زیر بحث آیات ایسے لوگوں کے لئے واضح جواب ہیں کہ جو انبیاء سے معجزہ کی نفی کرتے ہیں یا قرآن حکیم کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے معجزات کا انکار کرتے ہیں۔ یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انبیاء یہ ہرگز نہیں کہتے تھے کہ ہم معجزہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم حکم خدا اور اذن الہٰی کے بغیر یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ معجزہ اس کا کام ہے۔ اس کے اختیار میں ہے اور جب وہ قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ہمیں معجزہ دیتا ہے۔
۳۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ
”توکل“ دراصل ”وکالت“ کے مادہ سے وکیل انتخاب کرنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا وکیل وہی ہے کو کم از کم چار صفات کا حامل ہو: ۱۔ کافی علم و آگاہی ۲۔ امانت داری ۳۔ طاقت و قدرت ۴۔ ہمدردی شاید یہ امر بھی یا دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ مضتلد کاموں کے لئے ایک مدافع کا انتخاب اس موقع پر ہوتا ہے کہاں انسان ذاتی طور پر دفاع پر قادر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس موقع پر دوسری قوت سے استفادہ کرتا ہے اور اس کی طاقت و صلاحیت سے اپنی مشکل حل کرتا ہے۔ لہٰذا خدا پر توکل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ انسان زندگی کی مشکلات و حوادث، مخالفین کی دشمنیوں اور سختیوں، پیچیدگیوں اور کبھی اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں میں جب خود انہیں دور کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے اپنا وکیل قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے اور خود بھی ہمت و کوشش سے باز نہ رہے بلکہ جہاں کسی کام کو خود انجام دینے کی طاقت رکھتا ہو وہاں بھی موٴثر حقیقی خدا ہی کو جانے کیونکہ ایک موحد کی چشم بصیرت کے دریچے سے دیکھا جائے تو تمام قدرتوں اور قوتوں کا سرچشمہ وہی ہے۔ ”توکل علی اللہ“ کا نقطہ مقابل یہ ہے کہ اس کے غیر پر بھروسہ کیا جائے۔ یعنی کسی غیر پر تکیہ کر کے جینا، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپنی ذات میں استقلال و اعتماد سے عاری ہونا۔ علماء اخلاق کہتے ہیں کہ خدا کی توحید افعالی کا ثمرہٴ مستقیم توکل ہے کیونکہ جیسے ہم نے کہا ہے کہ ایک موحد کی نظر میں ہر حرکت، ہو کوشش، ہر جنبش اور عالم میں صورت پذیر ہونے والی ہر چیز آخرکار اس جہان کی پہلی علت یعنی ذاتِ پاک خدا سے ارتباط رکھتی ہے۔ لہٰذا ایک موٴحد کی نگاہ میں تمام طاقتیں اور کامیابیاں اسی کی طرف سے ہیں۔
توکل کا فلسفہ
جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ: اولاً: توکل علی اللہ ___ زندگی کے سخت حوادث و مشکلات میں اس ناقابلِ فنا منبعٴ قدرت پر توکل انسان کی استقامت و مقاومت کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں نے میدانِ احد میں سخت ضرب لگائی اور دشمن میدان چھوڑنے کے بعد راستے میں سے پلٹ آئے تاکہ مسلمانوں پر آخری ضرب لگائیں اور یہ خبر مسلمانوں کو پہنچی تو قرآن کہتا ہے کہ صاحب ایمان افراد اس خطرناک لمحے میں وحشت زدہ ہوئے جب کہ وہ اپنی فعال قوت کا ایک اہم حصہ کھو چکے تھے بلکہ ”توکل“ اور قوتِ ایمانی نے ان کی استقامت کے نمونے متعدد آیات میں نظر آتے ہیں۔ ان میں سے آلِ عمران کی آیت ۱۲۲ میں قرآن کہتا ہے: توکل علی اللہ نے مجاہدین کے دو گروہوں کو میدانِ جہاد میں سستی سے بچایا۔ سورہ ابراہیم کی آیہ ۱۲ میں دشمن کے حملوں اور نقصانات کے مقابلے میں توکل اور صبر کا باہم ذکر ہوا ہے۔ آلِ عمران کی آیہ ۱۵۹ میں اہم کاموں کی اانجام دہی کے لئے پہلے مشورے کا، پھر پختہ ارادے کا اور پھر توکل علی اللہ کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے: انہ لیس لہ سلطان علی الذین اٰمنوا وعلی ربھم یتوکلون شیطانی وسوسوں کا صرف وہ لوگ مقابلہ کر سکتے ہیں اور اس کے نفوذ سے بچ سکتے ہیں کہ جو ایمان اور توکل کے حامل ہوں۔ (نحل۔۹۹) ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شدید مشکلات میں انسان ضعف اور کمزوری محسوص نہ کرے بلکہ اللہ کی بےپایاں قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو کامیاب اور فاتح سمجھے۔ گویا توکل امید آفرین، قوت بخش، تقویت پہنچانے والا اور استقامت میں اضافے کا سبب ہے۔ توک کا مفہوم اگر گوشہ نشینی اختیار کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا ہوتا تو مجاہدین اور اس قسم کے لوگوں میں تحرک پیدا کرنے کا باعث نہ بنتا۔ اگر کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عالم اسباب اور طبیعی عوامل کی طرف توجہ روحِ توکل سے مناسبت نہیں رکھتی تو وہ انتہائی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ طبیعی عوامل کے اثرات کو ارادہٴ الہٰی سے جدا کرنا ایک طرح کا شرک ہے۔ کیا ایسا نہیں کہ عوامل طبیعی کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کاہے اور سب کچھ اسی کے ارادے اور فرمان کے تحت ہے۔ البتہ اگر عوامل کو ایک مستقل طاقت سمجھا جائے اور انہیں اس کے ارادے کے مدمقابل قرار دیا جائے تو یہ وہ مقام ہے جو روحِ توکل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کیسے ممکن ہے کہ توکل کی ایسی تفسیر کی جائے حالانکہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو متوکلین کے سید و سردار ہیں اپنے اہداف کی پیش رفت کے لئے کسی موقع، صحیح منصوبہ، مثبت تکنیک اور مختلف ظاہری وسائل سے غفلت نہیں برتتے تھے۔ یہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ توکل کا وہ منفی مفہوم نہیں ہے۔ ثانیاً: توکل علی اللہ انسان کو ان وابسگتیوں سے نجات دیتا ہے کہ جو ذلت و غلامی کا سرچشمہ ہیں اور اسے آزادی اور خود اعتمادی بخشتا ہے۔ ”توکل“ اور ”قناعت“ ہم ریشہ ہیں اور فطرتاًان دونوں کا فلسفہ بھی کئی پہلووٴں سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ان میں فرق بھی ہے۔ یہاں ہم چند ایک اسلامی روایات پیش کرتے ہیں جن سے توکل کا حقیقی مفہوم اور اصلی بنیاد واضح ہو سکے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الغنی و العز یجولان فاذا ظفرا بمواضع التوکل اوطنا بےنیازی اور عزت محوِ جستجو رہتی ہیں جہاں توکل کو پا لیتی ہیں وہیں ڈیرے ڈال دیتی ہیں اور اسی مقام کو اپنا وطن بنا لیتی ہیں۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد۲، باب، حدیث ۳)۔ اس حدیث میں بےنیازی اور عزت کا اصلی وطن ” توکل“ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: میں نے وحی الہٰی کے قاصد جبرئیل سے پوچھا کہ توکل کیا ہے تو اس نے کہا: العلم بان المخلوق لایضر ولاینفع، ولا یعطی ولایمنع، واستحمال الیاس من الخلق فاذا کان العبد کذٰلک لم یعمل لاحد سوی اللہ فھٰذا ھو التوکل۔ جب بندہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے کہ مخلوق نقصان پہنچا سکتی ہے نہ فائدہ اور عطا کر سکتی ہے نہ روک سکتی ہے اور وہ مخلوق کے ہاتھ سے آنکھ اٹھا لیتا ہے تو پھر وہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے کام نہیں کرتا اور اس کے سوا کسی سے امید نہیں باندھتا تو یہ ہے حقیقتِ توکل۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۱۵، حصہ۲ ص ۱۴، چاپ قدیم) کسی نے حضرت امام علی ابن موسیی رضا علیہ السلام سے پوچھا: ما حدّ التوکل؟ توکل کی حد کیا ہے؟ تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ان لاتخاف مع اللہ احداً (بحوالہ: سفینةالبحار، جلد ۲ ص۶۸۲)۔ یہ کہ تو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی سے نہ ڈرے۔ (تشریحی نوٹ: توکل کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب "انگیزہٴ پیدائشِ مذہب" کی طرف رجوع کریں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر منحرف جابروں کا طرز عمل اور ان کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 2بےمنطق افراد کا طریقہ ہے کہ جب وہ اپنی بات اور عقیدے میں کمزوری پر آگاہ ہوتے ہیں تو پھر دلیل کا راستہ چھوڑ کر طاقت اور ظلم کا سہارا لیتے ہیں۔ اس جگہ پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہٹ دھرم اور بہانہ ساز کافر قوموں نے جب انبیاء کی متین ورسا منطق کہ جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔ سنی تو انہوں نے اپنے انبیاء سے کہا: ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تمہیں اپنی سر زمین سے نکال دیں گے مگر یہ کہ ہمارے دین (بت پرستی) کی طرف پلٹ آوٴ(وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ اَرْضِنَا اَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا)۔ یہ جاہل مغرور گویا ساری زمین کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور اپنے انبیاء کو ایک شہری کے حقوق ملنے کے بھی قائل نہیں تھے۔ اسی لئے کہتے تھے ”ارضنا“ (ہماری زمین) حالانکہ خدا نے زمین اور اس کی تمام نعمتیں صالح اور نیک لوگوں کے لئے پیدا کی ہیں اور یہ خود سر، جابر اور متکبر درحقیقت اس میں کوئی حق نہیں رکھتے چہ جائیکہ سب کچھ اپنا سمجھیں۔ ہو سکتا ہے ”لتعودنّ فی ملتنا“ (ہمارے دین کی طرف لوٹ آوٴ) سے غلط فہمی پیدا ہو کہ انبیاء قبلِ رسالت بت پرستی کے مذہب پر تھے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ قطع نظر اس کے کہ وہ معصوم تھے اور قبل رسالت بھی تھے ان کی عقل و درایت اس سے کہیں زیادہ تھی وہ ایسا احمقانہ کام کرتے پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کرتے۔ ہو سکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ اعلانِ نبوت سے قبل انبیاء پر تبلیغ کی ذمہ داری نہ تھی شاید ان کی خاموشی کے سبب یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ وہ مشرکین کے ہم عقیدہ تھے۔ اس سے قطع نظر اگرچہ خطاب خود انبیاء کو ہے لیکن درحقیقت ان کے پیروکاروں پر بھی محیط ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان کے پیروکار پہلے مشرکین کے مذہب پر تھے اور مشرکین کی نظر صرف انہی پر ہے۔ نیز اصطلاح کے مطابق ” لتعودنّ“ عمومی تعبیر ہے اور بابِ تغلیب میں سے ہے (یعنی حکم اکثریت کو عمومیت پر محمول کرنا)۔ (تشریحی نوٹ: اس غلط فہمی کا ایک اور جواب بھی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ”عود“ کا مادہ اگر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہو تو بازگشت اور لوٹنے کے معنی میں ہے اور اگر ”فی“ کے ساتھ متعدی ہو تو حالت کی تبدیلی کے معنی میں ہے اور بازگشت کا معنی نہیں دیتا۔ لہٰذا ”لتعودن فی ملتنا“ کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی حالت کو بدل دو اور اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین کو قبول کر لو۔ لیکن دیگر آیات مثلاً: کلما ارادوا ان یخرجوا منھااعید وا فیھا (سجدہ :۲۰) اور بعض دوسری قرآنی آیات کی طرف رجوع کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ لفظ ”عود“ جب“ ”فی“ کے ساتھ ہو تو بھی بازگشت کا معنی دیتا ہے۔ غور کیجئے گا)۔ قرآن مزید کہتا ہے کہ خدا وند عالم ایسے مواقع پر پیغمبروں کی دلجوئی کرتا اور انہیں اطمینان دلاتا” اور ان کی طرف وحی کرتا کہ میں یقیناً ظالموں کو ہلاک کروں گا“ (فَاَوْحَی إِلَیْھِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظَّالِمِینَ)۔ لہٰذا ان دھمکیوں سے ہرگز نہ ڈرو اور تمہارے آہنی ارادے کی راہ میں ذرہ بھر سستی بھی حائل نہیں ہونا چاہیئے۔ ظالم منکرین چونکہ انبیاء کو اپنے علاقے سے جلاوطن کر دینے کی دھمکی دیتے تھے تو خداوند تعالیٰ اس کے مقابلے میں ان سے وعدہ کرتا ہے کہ ”ہم تمہیں اس علاقے میں ان کی نابودی اور تباہی کے بعد سکونت بخشیں گے“ (وَلَنُسْکِنَنَّکُمْ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِھِمْ)۔ لیکن یہ توفیق و کامیابی سب کو نصیب نہیں ہوتی ”یہ ان کے لئے ہے جو میرے مقام سے ڈریں اور احساسِ ذمہ داری کریں اور اسی طرح انحراف، ظلم اور گناہ پر ہونے والی تہدیدِعذاب سے ڈریں اور اسے سنجید گی سے لیں “(ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِی وَخَافَ وَعِیدِ)۔ لہٰذا عنایت اور نعمت اور لطف و کرم نہ حساب کتاب کے بغیر ہے اور نہ بلاوجہ بلکہ ایسے افراد کے ساتھ مخصوص ہے کہ جو احساسِ ذمہ داری کے ساتھ پروردگار کے مقامِ عدل کے مقابلے میں نہ ظلم و ستم کرتے ہیں اور نہ دعوتِ حق کے جواب میں دشمنی کرتے ہیں۔ اور ایسے موقع پر کہ جب انتہا ہو گئی تھی اور وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی ذمہ داری انجام دے چکے تھے، جنہیں ایمان لانا تھا لا چکے تھے اور باقی اپنے کفر پر ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل انبیاء و رسل کو دھمکیاں دے رہے تھے ”تو انہوں نے خدا سے فتح و کامرانی کا تقاضا کیا“ (وَاسْتَفْتَحُوا)۔ تو خدا نے بھی ان سچے مجاہدوں کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اس طرح سے کہ ”منحرف جابر نا امید، زیاں کار اور نابود ہو گئے “(وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ)۔ خاب ”خیبة“ (بر وزن”غیبة“) کے مادہ سے مطلوب ہاتھ سے نکل جانے کے معنی میں ہے کہ جو تقریبا ناامیدی کا مفہوم دیتا ہے۔ ”جبار“ یہاں متکبر اور سرکش کے معنی میں ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کوئی حکم دیا۔ اس نے نافرمانی کی اور فرمانِ پیغمبر پر عمل نہیں کیا تو آپ نے فرمایا: دعوھا فانھا جبارة اسے چھوڑو یہ سرکش عورت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، مذکورہ آیت کے ذیل میں)۔ لیکن لفظ ”جبار“ کبھی کبھی خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جس کا ایک اور معنی ہے اور وہ ہے ”محتاجِ اصلاح موجود کی اصلاح کرنے والا “یا” وہ کہ جو ہر چیز پر مسلط ہے“۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۵۹ (اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں)۔ لفظ ”عنید“ دراصل ”عند“ (بر وزن ”رند“) سے سمت کے معنی میں ہے۔ یہاں انحراف اور راہِ حق کے علاوہ کی طرف جھکاوٴ کے معنی میں ہے۔ اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: کل جبار عنید من ابی ان یقول لا الہ الا اللہ جبارِ عنید وہ ہے کہ جو لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کرے۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ص۵۳۲)۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: العنید المعرض عن الحق عنید وہ ہے جو حق سے روگردانی کرے۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ص۵۳۲)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ”جبار“ صفتِ انسانی یعنی روحِ سرکشی کی طرف اشارہ ہے اور ”عنید“ افعالِ انسانی میں اس صفت کے اثر کی طرف اشارہ ہے کہ جو اسے حق سے منحرف کر دیتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے جہان میں ان جبارانِ عنید کے نتیجہٴ عمل پر انہیں ملنے والی سزاوٴں کے بارے میں دو آیات میں پانچ چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ پانچ چیزیں یہ ہیں: ۱) اس ناامیدی اور خسران کے پیچھے یا ایسے شخص کے پیچھے جہنم اور جلانے والی آگ ہو گی (مِنْ وَرَائِہِ جَھَنَّمُ)۔ لفظ ”وراء“ اگرچہ پس پشت کے معنی میں (لفظ ”امام“ کے مقابلے میں) ہے لیکن ایسے مواقع پر نتیجہ اور انجام کار کے معنی میں ہے جیسا کہ فارسی میں بھی اس معنی میں یہ لفظ بہت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اگر فلاں غذا کھاوٴ تو اس کے پیچھے بیماری ہے یا اگر فلاں شخص سے دوستی کرو تو اس کے پیچھے بدبختی اور پشیمانی ہے یعنی اس کا نتیجہ اور معلول اسی طرح ہے۔ ۲) اس جلانے والی آگ میں جب وہ پیاسا ہو گا تو ہم اسے آبِٓ ”صدید“ پلائیں گے (وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ)۔ جیسا کہ علماء لغت نے کہا ہے کہ ”صدید“ ایک طرح کی میل کچیل کو کہتے ہیں کہ جو چمڑے اور گوشت کے درمیان جمع ہو جاتی ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ میل اور خون کی طرح بدبودار متعفن اور بد رنگ پانی اسے پلایا جائے گا۔ ۳) یہ گنہگار، مجرم اور جبارِ عنید جب دیکھے گا کہ اسے پینے کے لئے ایسا پانی ملا ہے تو بڑی تکلیف کر کے مشکل سے اسے گھونٹ گھونٹ پئے گا اگرچہ ہرگز اسے پینا نہیں چاہے گا ”بلکہ ہم اس کے حلق میں یہ پانی ڈالیں گے“ (یَتَجَرَّعُہُ وَلاَیَکَادُ یُسِیغُہُ)۔ (تشریحی نوٹ: ”یسیغہ“، ”اساغة“ کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے ” پینے کی چیز حلق میں ڈالنا“)۔ ۴) اسے اس قدر عذاب، تکلیف اور ناراحتی کا سامنا ہو گا کہ ”ہر طرف سے موت اس کی طرف آئے گی لیکن اس کے باوجود وہ مرے گا نہیں“ تاکہ اپنے اعمال کا انجام بھگتے گا (وَیَاْتِیہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا ھُوَ بِمَیِّتٍ)۔ اگرچہ ظاہراً یوں لگتا ہے کہ جو کچھ عذاب بیان کیا گیا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ہو گا لیکن قرآن مزید کہتا ہے: اس کے پیچھے عذابِ شدید ہے (وَمِنْ وَرَائِہِ عَذَابٌ غَلِیظٌ)۔ اس طرح جس قدر شدید عذاب اور بُرا انجام فکر انسانی میں آ سکتا ہے حتیٰ کہ جو کچھ نہیں آ سکتا وہ ان خود غرض ظالموں اور بے ایمان و گنہگاروں جابروں کے انتظار میں ہے۔ ان کا بستر آگ ہے۔ ان کے پینے کے لئے متعفن اور نفرت آور پانی ہے اور ان کے لئے طرح طرح کا عذاب ہے اور اس کے باوجود وہ مریں گے نہیں بلکہ زندہ رہیں گے اور اس کا مزہ چکھیں گے۔ یہ ہرگز تصور نہیں کرنا چاہئیے کہ اس قسم کی سزائیں غیر عادلانہ ہیں کیونکہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ سب کچھ انسانوں کے اعمال کا نتیجہ اور طبیعی اثر ہے بلکہ ان کے کام اس طرح دوسرے گھر میں مجسم ہوتے ہیں کہ جہاں عمل اپنی مناسب شکل میں مجسم ہو گا۔ اگر ہم اپنے زمانے کے بعض ظالموں کے اعمال اور جرائم پر نظر کریں کہ جن کا ہم نے مشاہدہ کیا ہے یا ایسے گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا صحیح طور پر مطالعہ کریں تو بعض اوقات ہم سوچتے ہیں کہ یہ سزائیں بھی ان کے لئے بہت کم ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اسی تباہ کن جنگ ہی کو لیجئے کہ جس کا سامنا ہمیں اس وقت یہ بحث کرتے ہوئے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا ماحصل ایک ستم گر حکمران کی خود خواہی یا زیادہ صحیح الفاظ میں ایک پاگل جبارِ عنید کی خود سری کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کے لئے کسی عاقلانہ مقصد کا تصور نہیں ہو سکتا۔ اس میں کیسے کیسے مظالم کئے گئے ہیں کہ جن کے ذکر سے زبان و قلم عاجز ہیں۔ ہم نے خود ملک کے مغربی اسپتالوں میں مجرد عینِ جنگ کو دیکھا ہے۔ معصوم بچوں سے لے کر بوڑھوں اور عورتوں تک زخی حالت میں دیکھا ہے ان میں سے بہت سے اپنی آنکھیں اور ہاتھ پاوٴں کھو بیٹھتے ہیں اور واقعاً ان کی ایسی حالت ہے کہ ان پر ایک نظر کی جائے تو انسان ہل کر رہ جائے۔ تو غور کیجئے کہ جس وقت ایک ظالم اور ستم گر لاکھوں انسانوں کو مصائب میں اس طرح تڑپائے تو اس کے لئے کیسی سزا اور عذاب ہونا چاہئیے۔)
چند اہم نکات ۱۔ مقامِ پروردگار سے کیا مراد ہے؟
مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ظالموں پر کامیابی اور ان کی نابودی کے بعد زمین پر حکومت ان افراد کا حصہ ہے کہ جو ”مقامِ الہٰی“ سے ڈریں۔ یہاں لفظ ”مقام“ سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کئے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تمام احتمالات صحیح ہوں آیت سے سب مراد ہوں: (ا): اس سے مراد محاسبہ کرتے وقت پروردگار کی حیثیت ہے۔ جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی آیا ہے۔ مثلاً و اما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی۔۔۔۔ مگر جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے ڈرتا رہا اور جی کو ناجائز خواہشوں سے روکتا رہا۔ (نازعات۔ ۴۰)۔ اور ولمن خاف مقام ربہ جنتان اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لئے دو باغ ہیں (رحمن۔ ۴۶)۔ (ب): ”مقام“ ”قیام“ کے معنی میں ہے اور ”قیام“ ”نظارت و نگرانی“ کے معنی میں ہے یعنی جو اللہ کی طرف سے اپنے اعمال کی شدید نظارت سے ڈرتا ہے اور احساسِ مسئولیت کرتا ہے۔ (ج): ”مقام“ اجرائے عدالت اور احقاق، حق کے لئے قیام کرنے کے معنی میں ہے یعنی جو پروردگار کی اس حیثیت سے ڈرتے ہیں۔ بہرحال جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں یہ سب معانی جمع ہوں۔ یعنی وہ لوگ کہ جو خدا کو اپنے اوپر ناظر و نگران سمجھتے ہیں اور اس کے حساب اور اجزائے عدالت سے ڈرتے ہیں اور ان کا یہ خوف اصلاحی ہے کہ جو انہیں ہر کام میں احساس ذمہ داری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں ہر قسم کی ناانصافی، ظلم اور گناہ سے روکتا ہے۔ کامیابی اور روئے زمین پر حکومت آخرکار انہی کا حصہ ہے۔
۲۔ ”استفتحوا“ کا مفہوم
اس لفظ کی تفسیر کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے فتح و کامرانی کے تقاضا کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس اس کا شاہد سورہ انفال کی آیہ ۱۹ میں ہے: ان تستفتحوا فقد جائکم الفتح اے مومنین! اگر تم فتح و کامرانی کا تقاضا کرتے ہوئے تو یہ فتح و کامرانی تمہارے پاس آ گئی ہے۔ بعض قضاوت کا تقاضا کرنے کا معنی لیتے ہیں۔ یعنی انبیاء نے خدا سے تقاضا کیا کہ ان کے اور کافروں کے درمیان فیصلہ کرے۔ اس کا شاہد سورہ اعراف کی آیہ ۸۹ ہے: ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین خدا وند! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ کر اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
۳۔ ایک جابر حکمران اور قرآن کی یہ آیت
تواریخ اور تفسیر میں آیا ہے کہ ایک دن جابر حکمراں ولید بن یزید عبدالملک اموی نے اپنے مستقبل کے لئے قرآن سے فال نکالی۔ اتفاقاً ابتدائے صفحہ میں یہ آیت اس کے سامنے آ گئی: ”واستفتحوا وخاب کل جبار عنید“۔ وہ بہت زیادہ پریشان ہوا۔ اسے سخت غصہ آیا۔ یہاں تک کہ اس لعین نے وہ قرآن جو اس کے ہاتھ میں تھا پارہ پارہ کر دیا پھر یہ اشعار پڑھے: اتوعد کل جبار عنید؟ فھا انا ذاک جبار عنید! اذا ماجئت ربک یوم حشر فقل یا رب مزقنی الولید کیا تو ہے کہ جو ہر جبار عنید کو دھمکاتا ہے؟ تو یہ لے میں وہی جبار عنید ہوں جب روز حشر اپنے پروردگار سے ملنا تو کہہ دینا خدا وندا! مجھے ولید نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا زیادہ وقت نہ گزارا کہ یہ لعین اپنے دشمنوں کے ہاتھوں بدترین طریقے سے مارا گیا۔ انہوں نے اس کا سر کاٹ کر اسی کے محل کی چھت پر لٹکا دیا اور پھر وہاں سے ہٹا کر شہر کے دروازے پر لٹکا دیا۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی ص ۳۵۷۹)۔
تیز آندھی اور خاکستر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2اس آیت میں بےایمان افراد کے اعمال کے لئے بہت رسا اور نہایت عمدہ مثال بیان کی گئی ہے یہ آیت کفار کے انجام کے بارے میں گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال اس خاکستر کی مانند ہیں جسے ایک طوفانی روز تیز آندھی کا سامنا کرنا پڑے (مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِف)۔ جیسے ایک طوفانی روز تیز آندھی کے سامنے راکھ اس طرح بکھر جاتی ہے کہ کوئی شخص اسے جمع نہیں کر سکتا اسی طرح منکرینِ حق کے بس میں نہیں کہ جو اعمال وہ انجام دے چکے ہیں انہیں اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ وہ سب تباہ و برباد ہو جائیں گے اور ان کے ہاتھ خالی رہ جائیں گے (لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْءٍ)۔ اور یہ بہت دور کی گمراہی ہے (ذَلِکَ ھُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ)۔
چند اہم نکات ۱۔ بکھر جانے والی راکھ
اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان کے اعمال گرد و غبار کی مانند کوئی مفید نہیں ہیں انہیں خاکستر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی باقی ماندہ تھوڑی سی آگ ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے ان کے اعمال کا ظاہر ہو اور اندر سے کچھ نہ ہو۔ ایک چھوٹے سے برتن میں مٹی ہو تو ہو سکتا ہے اس میں ایک خوبصورت پھول اُگے لیکن اگر بہت ساری خاکستر ہو تو وہ اس قدر فضول ہے کہ اس میں سے فضول قسم کی گھاس تک نہیں اُگتی۔
۲۔ کافروں کے اعمال خاکستر کی مانند ہیں
کفار کے اعمال کو خاکستر کے ذرات میں کوئی پیوند یا جوڑ نہیں ہوتا یہاں تک کہ پانی کی مدد سے بھی انہیں ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جا سکتا اور اس کا ہر ذرہ دوسرے سے تیزی سے الگ ہو جاتا ہے۔ گویا یہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ مومنین کے اعمال باہم متصل اور پیوستہ ہوتے ہیں، ان کا ہر عمل دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور توحید و وحدت کی روح نہ صرف مومنین کے درمیان موجود ہے بلکہ ایک صاحبِ ایمان فرد کے اعمال کے درمیان بھی موجود ہے لیکن بےایمان افرد کے کاموں میں ایسا کوئی بہاوٴ اور اتصال نہیں ہوتا۔
۳۔ ایک طوفانی دن اور آندھی
تیز آندھی چلے تو راکھ بکھر جاتی ہے لیکن ”فی یوم عاصف“ (ایک طوفانی دن) کہہ کر مزید تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے چلنے والی تیز ہوا راکھ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر پھینک دے کہ جو زیادہ دور نہ ہو۔ لیکن اگر دن طوفانی ہو صبح سے شام تک آندھیاں چلیں اور ہر طرف سے طوفان ہو تو ظاہر ہے اس قسم کی راکھ اس طرح سے منتشر ہو گی کہ اس کا ہر ذرہ کہیں بہت دور جا پڑے گا۔ اس طرح سے کہ کسی کے بس میں نہ ہو گا کہ اسے جمع کر سکے۔
۴۔ پتوں اور راکھ کے بکھر جانے میں فرق ہے
اگر آندھی گھاس پھوس کے ڈھیر یا پتوں پر چلے اور انہیں مختلف جگہوں اور دُور دراز کے مقامات پر بکھیر دے تو پھر بھی ایک اندازہ ہو سکتا ہے لیکن اگر راکھ کے چھوٹے چھوٹے ذرے بکھر جائیں تو وہ آنکھوں سے اس طرح محو ہوں گے کہ گویا بالکل نابود ہو گئے ہیں۔
۵۔ تیز آندھی کے اثرات
نظامِ آفرینش میں ہوا بلکہ تیز آندھی کے بہت سے اصلاحی آثار ہیں اس کے تخریبی آثار استثنائی پہلو رکھتے ہیں۔ بہرحال اس کے مندرجہ ذیل آثار قابلِ توجہ ہیں: الف: ہوا آندھی مختلف نباتات کے بیج مختلف جگہوں پر پھیلا دیتی ہے اور ایک باغبان اور کسان کی طرح سارے کرہٴ ارض پر بیج بکھیر دیتی ہے۔ ب: پودوں کی تلقیح کرتی ہے اور نر کے بیج نباتات کے مادہ حصوں پر چھڑکتی ہے۔ ج: بادلوں کو سمندروں کی سطح سے ہانک کر خشک زمینوں کی طرف لے جاتی ہے۔ د: بلند پہاڑوں کو آہستہ آہستہ رگڑ کر نرم اور بار آور کر دیتی ہے۔ ر: قبطی منطقوں کا موسم منطقہٴ استواء کی طرف اور خطِ استواء کا موسم سرد علاقوں کی طرف منتقل کرتی ہے اور کرہٴ زمین میں حرارت کو اعتدال پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ س: سمندر کے پانی میں موجیں پیدا کرتی ہے اور اسے زیر و زبر کرتی ہے اس طرح اس میں ہوا پہنچتی ہے جب کہ سمندر کا پانی کھڑا اور جامد رہے تو متعفن ہو جائے۔ اس طرح نباتات اور تمام زندہ موجودات ہوا کے چلنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ لیکن خاکستر کم وزن، کھوکھلی اور سیاہ رو ہوتی ہے۔ اس میں کوئی زندہ موجود نہیں رہ سکتا، یہ سرسبز اور بار آور نہیں ہوتی۔ اس کے ذرات ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب یہ خاکستر ہوا کا سامنا کرتی ہے تو فوراً ہی منتشر ہو جاتی ہے اور اس کا بے خاصیت ظاہر بھی نظروں سے محو ہو جاتا ہے۔
۶۔ ان کے اعمال کیوں کھوکھلے ہیں
یہ امر قابل غور ہے کہ بےایمان افراد کے اعمال بےوقعت کیوں ہیں وہ اپنے اعمال سے کچھ حاصل کیوں نہیں کر پاتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر توحیدی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس کے معیاروں کے مطابق تحقیق کی جائے تو یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ چیز کہ جو عمل سے شکل پذیر ہوتی ہے وہ نیت، ہدف اور طرز عمل ہے۔ اگر پروگرام، ہدف اور مقصد صحیح ہو تو عمل بھی ایسا ہی ہو گا اور اگر کوئی اچھا عمل غلط مقصد اور بے وقعت ہدف کے لئے انجام دیا جائے تو وہ لا یعنی اور بے مفہوم ہو کر رہ جائے گا اور اس کی حیثیت تیز آندھی کے سامنے خاکستر کی سی ہو گی۔ غلط نہ ہو گا کہ اگر اس بحث کو ہم ایک زندہ مثال کے ذریعے واضح کریں۔ اس وقت حقوقِ انسانی کے نام پر مغربی دنیا میں اور بڑی طاقتوں کی طرف سے بعض کام کئے جاتے ہیں۔ انبیاء بھی حقوقِ انسانی کے تحفظ کا پروگرام لے کر آئے تھے لیکن دونوں کے ماحصل اور ثمرہ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ جہاں خوار طاقتیں جب حقوقِ انسانی کا دم بھرتی ہیں تو یقیناً ان کا مقصد انسانی اور اخلاقی نہیں ہوتا۔ ان کا مقصد اپنے جرائم اور استعماری طور طریقوں پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے کچھ جاسوس کہیں قابو آ جائیں تو وہ حقوق انسانی کے نام پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن جب انہی کے ہاتھوں لاکھوں دیت نامی خاک و خوں میں غلطیاں ہوں یا ہمارے اسلامی ممالک میں وہ اپنے جرائم اور قباحتوں میں مصروف ہوں تو حقوقِ انسانی کو فراموش کر دیتے ہیں بلکہ انہوں نے تو حقوقِ انسانی جھوٹے اور ظالم حکمرانوں سے تعاون کی نذر کر رکھے ہیں۔ لیکن ایک سچے پیغمبر یا علی (علیه السلام) جیسے وصیٴ پیغمبرؐ کے نزدیک حقوق انسانی انسانوں کی حقیقی آزادی کا نام ہے۔ وہ انسانوں کی غلامی کے طوق اور زنجیر توڑنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ جب وہ کسی مظلوم انسان کو دیکھتے ہیں تو تڑپ اٹھتے ہیں اور اس کی نجات کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ گویا جہاں خوار طاقتوں کا عمل خاکستر کی ماندد ہے جسے تیز آندھی کا سامنا ہے اور انبیاء و اوصیاء کا عمل بابرکت زمین کی طرح ہے جس سے طرح طرح کی پاکیزہ نباتات پیدا ہوتی ہیں اور پھل پھول اُگتے ہیں۔ یہیں سے مفسرین کی ایک بحث واضح ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ زیر نظر آیت میں اعمال سے کون سے اعمال مراد ہیں۔ کہنا چاہئیے کہ ان کے سارے اعمال ہیں حتی کہ ان کے وہ اعمال بھی جو ظاہراً اچھے لیکن باطناً شرک و بت پرستی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
۷۔ مسئلہ احباط
جیسے ہم سورہٴ بقرہ کی آیہ ۲۱۷ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں حبطِ اعمال یعنی بُرے اعمال یا کفر و بےایمانی کی وجہ سے اچھے اعمال ختم ہو جانے کا مسئلہ علماء اسلام کے درمیان اختلافی ہے لیکن حق یہ ہے کہ بےایمانی اور کفر پر اصرار اور ہٹ دھرمی نیز بعض اعمال مثلاً حسد، غیبت اور قتلِ نفس کی ایسی بُری تاثیر ہے جو نیک اعمال اور حسنات کو برباد کر دیتی ہے۔ زیر نظر آیت بھی حبطِ اعمال کے امکان پر ایک اور دلیل ہے۔ (بحوالہ: جلد ۱ تفسیر نمونہ صفحہ ٥٠۶)۔
۸۔ کیا ایجادات و انکشافات کرنے والوں کے لئے بھی جزاء ہے؟
مندرجہ بالا مباحث کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ اہم سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ علوم اور ایجادات و انکشافات کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے سائنسدانوں نے طاقت فرسازحمتیں جھیلی ہیں اور بہ محرومیوں کو برداشت کیا ہے تاکہ ایجاد اور انکشاف کر سکیں تاکہ اپنے ہم نوع لوگوں کے دوش سے بھاری بوجھ اتار سکیں مثلاً بجلی ایجاد کرنے والے اڈیسون نے اس قیمتی ایجاد کے لئے کیسی جانکاہ زحمتیں جھیلی ہیں۔ شاید اُس نے اس راہ میں اپنی جان بھی گنوا دی ہے لیکن اس نے ساری دنیا کو روشن کر دیا ہے اور کارخانے چلا دیئے ہیں۔ اس ایجاد کی برکت سے سرسبز کھیتیوں کو ٹیوب ویل سے پانی ملا ہے۔ درخت سرسبز ہوئے ہیں اور کھیت آباد ہوئے خلاصہ یہ کہ دنیا کا چہرہ ہی بدل گیا ہے۔ اسی طرح پاسُور ہے کہ جس نے جراثیم کو دریافت کر کے لاکھوں انسانوں کو موت کے خطرے سے نجات دلا دی ہے۔ کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایسے سب افراد اس فرض کی بناء پر قعرِ جہنم میں گرائے جائیں کہ وہ ایمان نہیں رکھتے تھے لیکن وہ افراد جنہوں نے عمر بھر انسانوں کی خدمت کا کوئی کام نہیں کیا ان کا مقام بہشت ہو۔ اس کا جواب یہ کہ: اسلام کے معاشرتی اصولوں کے لحاظ سے فقط اسلام کے معاشرتی اصولوں کے لحاظ سے فقط عمل کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ عمل کی قدر و قیمت اس کے محرک، سبب اور مقصد کے ساتھ بنتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ ہسپتال، سکول یا کوئی اور مفید عمارت تعمیر کرتے ہیں اور اظہار بھی یہ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد اس معاشرے کی انسانی خدمت ہے جس کے وہ مرہونِ منت ہیں حالانکہ اس پردے کے پیچھے کوئی اور مطلب چھپا ہوتا ہے۔ ان کا مقصد مقام و منصب یا مال و ثروت کا حصول ہوتا ہے یا وہ اپنے بچاوٴ کے لئے ایسا کرتے ہیں یا وہ عوامل کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مادی مفادات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں یا پھر وہ دوسروں کی نظروں سے بچ کر خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ممکن ہے کوئی شخص پورے خلوص سے یا سو فی صد انسانی اور روحانی جذبہ سے کوئی چھوٹا سا کام انجام دے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ”عظیم لوگوں“ کے عمل اور کردار کے محرک کی بھی تحقیق کی جائے۔ اگر تحقیق کی جائے تو ان کا عمل یقینا چند اشکال سے خارج نہیں ہے۔ ا: کبھی کسی ایجاد کا حقیقی مقصد تخریب ہوتا ہے (جیسے اٹامک انرجی کی دریافت پہلے پہل ایٹم بم بنانے کے لئے ہوئی)۔ پھر اس کے ساتھ نوعِ انسان کو کچھ فائدے بھی حاصل ہو جاتے ہیں کہ جو دریافت یا ایجاد کرنے والوں کو حقیقی مقصد نہیں ہوتا یا پھر اسے ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے ایجادات کرنے والوں کی ذمہ داری پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ ب: کبھی ایجاد و انکشاف کرنے والے کا مقصد مادی فوائد یا نام و نمود اور شہرت کا حصول ہوتا ہے۔ ایسا شخص درحقیقت ایک تاجر کی طرح ہے کہ جو زیادہ آمدنی کے لئے زیادہ نفع بخش چیزیں بناتا ہے۔ اس کی بنائی ہوئی چیزیں کچھ لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں اور ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ اس کا مقصد سوائے آمدنی کے کچھ بھی نہیں ہوتا اور اگر کسی اور کام میں زیادہ آمدنی ہو تو وہ اسے شروع کر دیتا ہے۔ البتہ ایسی تجارت یا پیداوار اگر شرعی قوانین کے مطابق ہو تو غلط اور حرام کام نہیں ہو گا لیکن کوئی مقدس عمل بھی شمار نہیں ہو گا۔ ایسی ایجادیں اور دریافتیں تاریخ میں کم نہیں ہیں کہ جو اس قسم کے طرز فکر کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر یہ لوگ دیکھیں کہ ایسے کسی کام کی نسبت دوسرے راستے میں آمدنی زیادہ ہے اگرچہ وہ معاشرے کے لئے مضر ہو (مثلاً دوا سازی کی صنعت میں ۲۰ ۰/۰ منافع ہے اور ہیروئن سازی میں ۵۰ ۰/۰) تو یہ دوسرے کو ترجیح دیں گے۔ ایسے لوگ نہ خد اسے کوئی مطالبہ رکھتے ہیں نہ اپنے ہم نوع انسانوں سے۔ ان کا اجر وہی فائدہ اور شہرت ہے جو وہ چاہتے ہیں اور جو انہوں نے پا لیا ہے۔ ج: ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس کے محرکات اور اسباب یقینا انسانی نہیں یا اگر وہ اللہ کے معتقد ہیں تو ان کے اہداف اور محرکات الہٰی ہیں۔ یہ لوگ کبھی کبھی سالہا سال تجربہ گاہوں کے گوشے میں غربت و محرومی سے گزار دیتے ہیں۔ اس امید پر کہ اپنی نوع کی کچھ خدمت کر سکیں اور جہانِ انسانیت کو کوئی ہدیہ اور سوغات پیش کر سکیں، کسی تکلیف زدہ کے پاوٴں کی زنجیر کھول سکیں اور کسی رنجیدہ خاطر کے چہرے پر پریشانی کی پر چھائیاں دور کر سکیں۔ ایسے افراد اگر ایمان اور الہٰی محرم رکھتے ہوں تو پھر ان کے بارے میں کوئی بحث نہیں اور اگر وہ ایمان اور الہٰی محرک نہ رکھتے ہوں لیکن ان کا محرم انسانی اور لوگوں کی خدمت ہو تو اس میں شک نہیں کہ انہیں خد اوندِ عالم کی طرف مناسب اجر اور جزا ملے گی۔ ہو سکتا ہے انہیں یہ جزا دنیا میں ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے جہان میں ملے یقینا خدا وند عالم و عادل انہیں محروم نہیں کرے گا۔ لیکن کسی طرح اور کس طرز پر، اس کی تفصیلات ہم پر واضح نہیں۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”خدا اس قسم کے نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا“ (البتہ اگر وہ ایمان قبول نہ کرنے میں جاہل قاصر ہو تو پھر مسئلہ بہت واضح ہے)۔ اس مسئلہ دلیل حکم عقلی کے علاوہ وہ اشارات ہیں جو آیات یا روایات میں آئے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ ”ان اللہ یضیع اجر المحسنین“( بحوالہ: یوسف۔ ۹۰ اور بعض دیگر سورتیں) کے مفہوم میں ایسے افراد شامل نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں لفظ ”محسنین“ کا اطلاق صرف ”مومنین“ نہیں ہوا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جب ان کے پاس آئے تو انہیں پہچانے بغیر عزیز مصر سمجھتے ہوئے کہنے لگے: انا نراک من المحسنین ہم تجھے نیکوں کاروں میں سے سمجھتے ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ بھی فرمانِ الہٰی ہے: فمن یعمل مثقال ذرة خیراً ومن یعمل مثقال ذرة شرّاً یرہ جو شخص بھی ذرہ بھر اچھا کام کرے گا اسے دیکھے گا اور جو کوئی ذرہ بھر بُرا کام کرے گا اسے دیکھے گا۔ (سورہ زلزلہ۔۷۔۸) ایک حدیث میں علی بن یقطین کی وساطت سے امام کاظم علیہ السلام سے مروی ہے: بنی اسرائیل میں ایک صاحبِ ایمان تھا۔ اس کا ہمسایہ کافر تھا۔ کافر اپنے صاحبِ ایمان ہمسائے اچھا سلوک کرتا تھا۔ جب وہ دنیا سے گیا تو خدا نے اس کے لئے ایک گھر بنایا تاکہ جہنم کی آگ کی تپش سے رکاوٹ ہو اور اس سے کہا گیا کہ یہ اپنے مومن ہمسائے سے تیرے نیک کے سلوک کے سبب سے ہے (بحوالہ بحار الانوار جلد ٣ ص ۳۷۷ چاپ کمپانی)۔ عبداللہ بن جدعان زمانہ جاہلیت کے مشہور مشرکین اور قریش کے سرداروں میں سے تھا۔ اس کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: اہل جہنم میں کمترین عذاب ابنِ جدعان کو ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ! کیوں آپؐ نے فرمایا: انہ کان یطعم الطعام کیونکہ وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ (بحوالہ بحار الانوار جلد٣ ص ٣۸۲ چاپ کمپانی)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے حاتم طائی کے بیٹے عدی سے فرمایا: دفع عن ابیک العذاب لشدید بسخاء نفسہ خدا نے تیرے باپ سے شدید عذاب اس کے جو دوسخا کی بناء پر اٹھا لیا ہے۔ (بحوالہ۔سفینة البحار جلد ۲ ص۶۰۷)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: یمن سے کچھ لوگ رسول اللہؐ سے بحث و تمحیص کے لئے آپؐ کی خدمت میں آئے۔ ان میں سے ایک شخص تھا جو زیادہ باتیں کرتا تھا اور آپ سے بڑی سختی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا تھا۔ آنحضرتؐ کو اتنا بُرا لگا کہ ناپسندیدگی کے آثارآپ کے چہرہ مبارک پر پوری طرح ظاہر ہوئے۔ اس وقت جبرائیل آئے اور یہ پیام الہٰی آپ تک پہنچایا کہ خدا فرماتا ہے: یہ شخص سخی ہے۔ یہ بات سنتے ہیں رسول اللہ کا غصہ ختم ہو گیا۔ اس کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا کہ پروردگار نے مجھے اس قسم کا پیغام دیا ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں تجھ پر اس قسم کی سختی کرتا کہ تو دوسروں کے لئے عبرت بن جاتا۔ اس شخص نے پوچھا: کیا آپ کے پروردگار کو سخاوت پسند ہے؟ فرمایا: ہاں۔ تو اُس نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول اور فرستادہ ہیں اور اسی خدا کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے آج تک میں نے کسی شخص کو اپنے ہاں سے محروم نہیں پلٹایا۔ (بحوالہ۔سفینة البحار جلد ۲ ص۶۰۷)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بعض آیات اور بہت سے روایات سے معلم ہوتا ہے کہ ایمان یا یہاں تک کہ ولایت قبولِ اعمال یا جنت میں داخلے کی شرط ہے لہٰذا اگر بےایمان افراد سے بہترین اعمال سرزد ہوں تو وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوں گے۔ لیکن اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ ”قبولیت اعمال“ کا ایک مفہوم ہے اور مناسب اجر ملنا دوسرا مسئلہ ہے لہٰذ علماء اسلام کے درمیان مشہور ہے کہ مثلاً حضور قلب کے بغیر یا بعض گناہوں مثلاً غیبت سے نماز مقبولِ بارگاہ خدا نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی نماز شرعاً صحیح ہے۔ فرمان الہٰی کی اطاعت ہے اور اسے ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے اور مسلم ہے کہ فرمانِ الہٰی کی اطاعت اجر و جزا کے بغیر نہیں ہو گی۔ لہٰذا عمل کی قبولیت دراصل عمل کا عالی مرتبہ ہوتا ہے۔ زیر بحث مسئلے میں بھی ہم یہی بات کہتے ہیں کہ اگر انسانوں اور عوام کی خدمات ایمان کے ساتھ ہوں تو ان کا مفہوم عالی ہو گا لیکن ایسا نہ ہو تو بھی بالکل بے معنی اور بغیر اجر کے نہیں ہوں گی۔ جنت میں داخلے کے بارے میں بھی یہی جواب دیں گے کہ عمل کا اجر ضروری نہیں کہ جنت میں داخلے پر منحصر ہو۔ (بحث کا نچوڑ اور تفصیلی بحث مناسب ہے کہ اس مسئلے کی فقہی مباحث میں ہو)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خلقت حق کی اساس پر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیت میں باطل کا ذکر ہے۔ وہ باطل کہ خاکستر کی طرح ہے۔ وہ خاکستر کہ جو پراگندہ ہے اور آندھی سے اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے۔ زیر نظر پہلی آیت میں حق کے بارے میں گفتگو ہے۔ یہ حق کے استقرار سے متعلق ہے۔ روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف کرتے دنیا کے تمام طالبان حق کے لئے نمونے کے طور پر فرمایا گیا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے (اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقّ)۔ ”حق“ جیسا کہ مفردات میں راغب نے کہا ہے دراصل ”مطابقت“ اور ”ہم آہنگی“ کے معنی میں ہے لیکن کے اس کے استعمال کے مواقع مختلف ہیں۔ بعض اوقات حق ایسے کام کو کہا جاتا ہے جو حکمت کے موافق اور نظم و نسق کے مطابق کیا گیا ہو جیسا کہ قرآن میں ہے: ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا۔۔۔ ماخلق اللہ ذٰلک الّا بالحق وہ وہی ہے کہ جس نے خورشید کو روشنی اور چاند کو نور افشانی کا ذریعہ قرار دیا ہے اس نے یہ کام حکمت اور حساب و کتاب کے بغیر انجام نہیں دیا۔ (یونس۔ ۵) کبھی اُس ذات کو حق کہا جاتا ہے جو اس قسم کا کام انجام دے۔ جیسے اللہ کے لئے اسی لفظ کا اطلاق ہوا ہے: فذٰلکم اللہ ربکم الحق تمہارا یہ خدا تمہارا پروردگار ہے۔ (یونس۔۳۲) کبھی ایسے اعتقاد کو حق کہا جاتا ہے جو حقیقت کے مطابق ہو۔ مثلاً فھدی اللہ الذی اٰمنوا لما اختلفوا فیہ من الحق جن اعتقادات میں اختلاف کرتے ہیں خدا نے ایمان والوں کو ان میں حق کی ہدایت کی ہے۔ (بقرہ۔ ۲۱۳) کبھی ایسی گفتگو اور عمل کو حق کہا جاتا ہے کہ جو ضروری مقدار کے مطابق ہو اور اس وقت انجام دئے جب ضروری ہو۔ مثلاً حق القول منی لاملئن جھنم مجھ سے یہ قول حق صادر ہوا ہے کہ میں جہنم کو (گنہگاروں سے) بھر دوں گا۔ (سجدہ۔۱۳) بہرحال، ”حق“ کے مقابل باطل ”ضلال“۔ ”لعب“ بیہودہ اور اس قسم کے دیگر کام ہیں لیکن زیر بحث آیت میں بلاشبہ اس پہلے معنی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عالم آفرینش کے عمارت اور آسمان و زمین سب نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی خلقت میں نظم و نسق، حساب و کتاب اور حکمت و ہدف ہے۔ خدا کو انہیں خلق کرنے کی احتیاج تھی نہ اسے تنہائی سے وحشت ہوتی تھی اور نہ ان سے وہ اپنی ذات کی کسی کمی کو دور کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے بلکہ یہ وسیع و عریض جہان مخلوقات کی پر ورش اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکامل و ارتقاء بخشنے کی منزل ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس بات کی دلیل ہے کہ اسے تمہاری اور تمہارے ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہے کہ ”اگر وہ ارادے کرے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق لے آئے“ ایسی مخلوق کہ جو ساری کی ساری ایمان رکھتی ہو اور تمہارے غلط کاموں میں سے کسی کو انجام نہ دے (إِنْ یَشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیدٍ)۔ اور یہ کام خدا کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے (وَمَا ذَلِکَ عَلَی اللهِ بِعَزِیزٍ)۔ اس گفتگو کی شاہد سورہ نساء کی یہ آیت ہے: و ان تکفروا فان للہ ما فی السمٰوات و الارض و کان اللہ غنیاً حمیدا۔۔۔۔۔۔ان یشاء یذھبکم ایھا الناس و یات باٰخرین و کان اللہ علیٰ ذٰلک قدیرا۔ اگر تم کافر ہو جاوٴ اس سے خدا کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہے اور خدا بےنیاز اور لائقِ حمد ہے۔۔۔۔اے لوگو! وہ جب چاہے تمہیں لے جائے اور دوسرا گروہ لے آئے اور یہ کام خدا کے لئے آسان ہے۔ (نساء ۱۳۱۔تا۔ ۱۳۳) مذکورہ بالا آیت کے متعلق یہ تفسیر ابن عباس سے بھی نقل ہوئی ہے۔ ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے یعنی خدا کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کہ سب انسانوں کو لے جائے اور دوسری مخلوق پیدا کرنے تو کیا اس قدرت کے باوجود مسئلہ معاد دوسرے جہان کی طرف تمہاری بازگشت میں تمہیں شک ہو سکتا ہے؟
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شیطان اور اس کے پیروکاروں کی صریح گفتگو
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ چند آیات میں ہٹ دھرم اور بےایمان منحرفین کے لئے دردناک عذاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ زیربحث آیات اسی مفہوم کا تسلسل ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: روز قیامت تمام جابر، ظالم اور کافر بارگاہ خدا وندی میں پیش ہوں گے چاہے وہ تابع ہوں یا متبوع اور پیرو ہوں یا پیشوا (وَبَرَزُوا لِلَّہِ جَمِیعًا)۔ (تشریحی نوٹ توجہ ہے کہ" برروا" فعل ماضی ہے لیکن یہاں آئندہ کے مفہوم میں آیا ہے کیونکہ قیامت سے مروبط مسائل قطعی اور ناقابل تغیر ہیں لہذا بہت سے قرآنی آیات میں ان کا ذکر ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہوا ہے۔ جیسے ایک ایسے بیمار شخص کے لے کہ جس کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ وہ مر جائے گا ہم کہتے ہیں وہ تو دنیا سے چل بسا)۔ اس وقت ضعفاء یعنی نادان پیروکار کہ جو اندھی تقلید کی وجہ سے اپنے آپ داویٴ ضلالت میں سرگرداں کر چکے تھے مستکبرین سے کہ جو ان کی گمراہی کے شامل تھے، کہیں گے: ہم تمہارے پیرو تھے۔ اب جب کہ ہم تمہاری رہبری کے باعث ان کے سب عذابوں اور بلاوٴں میں گرفتار ہوئے ہیں، کیا ممکن ہے کہ تم بھی ان عذابوں کا کچھ حصہ قبول کر لو تاکہ ہمیں تخفیف مل جائے (فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ)۔ لیکن وہ کہیں گے: اس کیفر کردار اور عذاب سے اگر خدا ہماری ہدایت نجات کی طرف کرتا تو ہم بھی تمہاری راہنمائی کرتے (قَالُوا لَوْ ھَدَانَا اللهُ لَھَدَیْنَاکُمْ)۔ لیکن افسوس کہ معاملہ اس سے آگے نکل چکا ہے "چاہے ہم بےقرار ہوں اور جزع و فزع کریں چاہے صبر کریں ہمارے کوئی راہ، نجات نہیں ہے" (سَوَاءٌ عَلَیْنَا اَجَزِعْنَا اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیصٍ)۔
چند اہم نکات ۱۔ ایک اشکال کی وضاحت
اس آیت کے سلسلے میں جو پہلا سوال سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کیا لوگ اس جہان میں علم، خدا کے سامنے ظاہر نہیں ہیں کہ جو مذکورہ بالا آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت میں سب کے سب بارگاہ خدا میں ظاہر ہوں گے؟ اس سوال کے جواب میں بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں لوگوں کو احساس نہیں ہے کہ وہ خود اور ان کے سب اعمال بارگاہِ خدا میں ظاہر ہیں لیکن قیامت میں یہ ظہور سب محسوس کریں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں مراد قبروں سے نکلنا اور حساب و کتاب کے لئے عدلِ الٰہی کی عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ دونوں تفسیریں خوب ہیں اور کوئی مانع نہیں کہ دونوں ہی آیت کے مفہوم میں داخل ہوں۔
۲۔ "لو ھدانا اللہ لھدیناکم" کا مفہوم
بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد اس جہان میں عذاب الہٰی سے نجات کے طریقے کی ہدایت ہے کیونکہ یہ با ت مستکبرین اپنے پیروکاروں کے جواب میں کہیں گے کہ جب پیرو ان سے عذاب کا کچھ حصہ قبول کرنے کا تقاضا کریں گے سوال و جواب کا تقاضا ہے کہ مراد عذاب سے رہائی کے طریقے کی ہدایت ہو۔ اتفاق سے یہی تعبیر (ہدایت) نعماتِ بہشت تک پہنچنے کے بارے میں بھی نظر آتی ہے۔ اہل جنت کی زبانی ہے: وقالوا الحمد للہ الذی ھدانا لھذا و ماکنا لنھتدی لولا ان ھدنا اللہ وہ کہیں گے: شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں ان نعمتوں کی طرف ہدایت کی ہے اور اگر اس کی توقیق و ہدایت نہ ہوتی تو ہمیں ان کی راہ نہ ملتی۔ (اعراف۔۴۳) یہ احتمال بھی ہے کہ رہبران ضلالت سے جب ان کے پیروکار تقاضا کریں گے تو اپنے تئیں گناہ سے بری کرنے کے لئے گمراہی کے تمام علمبرداروں کی طرح کہ جو اپنی خراب کاری دوسروں کے سر تھونپ دیتے ہیں، وہ بڑی ڈھٹائی سے کہیں گے: ہم کیا کریں اگر خدا ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت کرتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت کرتے یعنی ہم تو مجبور تھے اور ہمارا اپنا تو کوئی ارادہ ہی نہ تھا۔ یہی شیطان کی منطق ہے کہ جس نے اپنے آپ کو بری قرار دینے کے لئے خدائے عادل کی طرف جبر کی نسبت دیتے ہوئے کہا: فبما اغوینی لاقعدن لھم صراطک المستقیم اب جب کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیرے سیدھے راستے میں بیٹھا ان کی تاک میں رہوں گا (اور انہیں منحرف کروں گا) (اعراف۔ ۱۶)۔ لیکن توجہ رہے کہ مستکبریں چاہیں نہ چاہیں صریح آیاتِ قرآن اور واضح روایات کی رو سے اپنے پیروکاروں کے گناہ کی ذمہ داری کوبوجھ بہرحال انہیں اپنے کندھوں پر اٹھانا ہو گا کیونکہ وہ انحراف کی بانی اور گمراہی کے عامل تھے البتہ پیروکاروں کی ذمہ داری اور عذاب و سزا میں بھی کچھ کمی نہ ہو گی۔
۳۔ اندھی تقلید کی مذمت
مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ: اولا۔ وہ لوگ جو آنکھ کان بند کر کے اس کے اور اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں کہ گویا ہر شخص کے ہاتھ اپنی باگ دوڑ تھما دیتے ہیں وہ بےوقعت اور بےحیثیت لوگ ہیں قرآن ان کے لئے "ضعفاء" کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ ثانیا۔ ان کا اور ان کے پیشواوٴں کا انجام ایک ہی ہے اور وہ بےچارے سخت ترین حالات میں بھی اپنے گمراہ رہبروں کا تعاون حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے رہبروں کی سزا اور عذاب میں ذرہ بھر تخفیف نہیں کروا سکیں بلکہ شاید تمسخر سے انہیں جواب دیں گے کہ بےکار واویلا کرو کیونکہ بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
۴۔ "برزو" اور "محیص" کا مفہوم
"برزوا" دراصل "بروز" کے مادہ سے ظاہر ہونے اور پردے سے باہر آنے کے معنی میں ہے۔ نیز اس کا معنی میدانِ جنگ میں صف سے باہر نکل کر حریف کے مقابلے میں آ کھڑے ہونا بھی ہے۔ اصطلاح یہ لفظ مبارزہ کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "محیص" "محص" کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے عیب یا تکلیف سے نجات پانا۔ اس کے بعد جابروں، گنہگاروں اور شیطان کے پیروکاروں کی روز قیامت روحانی اور نفسیاتی عذا اور سزا کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اور جب صالح اور غیر صالح بندوں کا حساب کتاب ختم ہو جائے گا اور ہر ایک اپنے قطعی انجام کا پہنچ جائے گا تو شیطان اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ خدا نے تم سے حق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا (جیسا کہ تم خود جانتے ہو وہ فضول اور بےقیمت وعدہ تھا) پھر میں نے اپنے وعدے کے خلاف کیا (وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ إِنَّ اللهَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ)۔ گویا اس طرح شیطان بھی دیگر راہِ ضلالت کے ہبر مستکبرین کا ہم آواز ہوتا ہے اور اپنے ان بدبخت پیروکاروں پر ملامت و سرزنش کے تیر چلاتا ہے پھر مزید کہتا ہے: میں تم پر کوئی جبری طور پر مسلط نہ تھا۔ بات صرف یہ تھی کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اپنی مرضی سے اسے قبول کیا (وَمَا کَانَ لِی عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلاَّ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِی)۔ "لہٰذا مجھے سرزنش نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو" کہ تم نے میری شیطنت آمیز اور ظاہر الفساد دعوت کو کیوں قبول کیا (فَلاَتَلُومُونِی وَلُومُوا اَنْفُسَکُمْ)۔ تم نے خود یہ کام کیا ہے لہٰذا لعنت تم پر ہو۔ بہرحال "پروردگار کے قطعی حکم اور عذاب کے سامنے نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو" (مَا اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَا اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ)۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ تمہاری طرف سے مجھے شریک قرار دینے اور میری اطاعت کو اطاعتِ الٰہی کے ہم پلہ قرار دینے سے بیزار ہوں اور میں اس کا انکار کرتا ہوں (إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا اَشْرَکْتُمُونِی مِنْ قَبْل)۔ اب میں سمجھا ہوں کہ "اسی اطاعت میں شرک کرنے نے" مجھے بھی بدبخت کیا ہے اور تمہیں بھی، وہی بدبختی اور بےچارگی کہ جس کی تلافی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔ جان لوکہ "ظالموں کے لئے یقیناً ادر دردناک عذاب ہے"۔ (إِنَّ الظَّالِمِینَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔
چند اہم نکات ۱۔ شیطان کا اپنے پیروکاروں کو سخت جواب
"شیطان" کا مفہوم اگرچہ وسیع ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں میں سے تمام طاغوتی اور وسوسہ گر شامل ہیں لیکن اس آیت اور گزشتہ آیت میں جو قرائن موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یقیناً مراد شخصی طور پر ابلیس ہے کہ جو تمام شیطانوں کا گرو شمار ہوتا ہے۔ اسی لئے تمام مفسرین نے اسی تفسیر کا انتخاب کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "شیطان" کے معنی کے سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد اول ص۱۶۴ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی وسوسے انسان کے اختیار و ارادہ کو ہرگز سلب نہیں کرتے۔ بلکہ ان کی حیثیت ایک دعوت دینے والے سے زیادہ نہیں اور یہ انسان ہے جو اپنے ارادے سے شیطان کی دعوت قبول کرتا ہے۔ البتہ ممکن ہے شیطانی کاموں کے لئے طبیعت ہموار ہو جانے اور انسانی مقاصد کے خلاف مسلسل کام کرنے سے انسان ایسے مقام تک جا پہنچے جس سے وسوسوں کے مقابل ایک طرح کی سلبِ اختیار کی حالت پیدا ہو جائے جیسے ہم بعض منشیات کے عادی لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا اصل سبب اختیاری ہے لہٰذا نتیجہ کچھ ہو اختیاری ہی شمار ہو گا۔ سورہ نحل کی آیہ۱۰۰ میں ہے: انما سلطانہ علی الذین یتولونہ و الذین ھم مشرکون شیطان کا تسلط صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے لئے اس کی سرپرستی قبول کر لی ہے اور جنہوں نے اطاعت میں اسے خدا کا شریک قرار دیا ہے۔ ضمناً شیطان ان لوگوں کو دندان شکن جواب دیتا ہے جو اپنے گناہ اس کی گردن پر ڈال دیتے ہیں، اپنے انحرافات کا عامل اسے شمار کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ شیطان بعض گنہگاروں کی اس عامیانہ منطق سے برات کا اظہار کرتا ہے۔ دراصل انسان پر حقیقی تسلط اس کے ارادے اور عمل کا ہے نہ کہ کسی اور چیز کا۔
۲۔ روز حشر شیطان کا اپنے پیروکاروں سے رابطہ
اس عظیم محضر میں شیطان کس طرح اپنے تمام پیروکاروں سے رابطہ قائم کر سکے گا اور کس طرح انہیں ملامت کرے گا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یقیناً خدا سے یہ طاقت دے گا۔ دراصل شیطان کے پیروکاروں کے لئے یہ ایک طرح کا روحانی اور نفیاتی عذاب ہے۔ یہ اس جہان میں اس راستے پر چلنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کہ وہ ابھی سے اپنا اور اپنے رہبر کا انجام دیکھ لیں۔ بہرحال خدا کسی طرح سے شیطان اور اس کے پیروں کے درمیان یہ ارتباط فراہم کرے گا۔
۳۔ گمراہی کے دیگر پیشواؤں کا طرز عمل
یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ روز قیامت ایسی ملاقات صرف شیطان اور اس کے پیروکاروں کے درمیان نہ ہو گی بلکہ ضلالت و گمراہی کے تمام پیشوا اس جہاں میں ایسا ہی کریں گے۔ وہ اپنے پیروکاروں کا ہاتھ (خود ان کی مرضی سے) پکڑیں گے۔ انہیں بلاوٴں اور بدبختیوں کی موجوں کی طرف کھینچ لے جائیں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ حالات برے ہیں تو انہیں چھوڑ کر چلتے بنیں گے۔ یہاں تک کہ ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور انہیں ملامت کریں گے۔ بزبان اصطلاح انہیں دنیا و آخرت کے خسارے میں گرفتار کریں گے۔
۴۔ "مصرخ" کا مطلب
"مصرخ" "اصراخ" کے مادہ سے اصل میں "صرخ" مدد کے لئے پکارنے اور فریاد کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس بناء پر "مصرخ" فریاد رس کے معنی میں ہے اور "مستصرخ" اس شخص کے معنی میں ہے جو فرد رسی چاہے۔
۵۔ شیطان کو شریک قرا ردینے سے مراد
شیطان کو شریک قرار دینے سے مراد شرکِ اطاعت ہے نہ کہ شرکِ عبادت۔
۶۔ "ان الظالمین لھم عذاب الیم" کس کا جملہ ہے
یہ جملہ شیطان کی باتوں کا آخری حصہ ہے یا پروردگار کی طرف سے مستقل جملہ ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ لیکن زیادہ تر یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے مستقل جملہ ہے کہ جو شیطان کی اپنے پیروکاروں سے گفتگو کے بعد ایک اصلاحی و تربیتی درس کے طور پر آیا ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں سرکش و بےایمان جابر افراد کی حالت اور ان کا دردناک انجام بیان کرنے کے بعد مومنین کی حالت اور ان کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئے وہ باغاتِ بہشت میں داخل ہوں گے، وہ باغات کے جن کے درختوں کے نیچے پانی نہریں جاری ہیں (وَاُدْخِلَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ)۔ وہ اپنے پروردگار کے اذن سے ہمیشہ ان باغات میں رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ تَحِیَّتُھُمْ فِیہَا سَلَامٌ)۔ "تحیت" دراصل "حیات" کے مادہ سے لیا گیا ہے بعد ازاں یہ لفظ افراد کی سلامتی اور حیات کی دعا کے لئے استعمال ہونے لگا۔ ہر قسم کی سلام و دعا کہ جو ابتدائے ملاقات میں کہی جاتی ہے۔ اس پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں "تحیت" وہ خوش آمدید اور درود و سلام جو اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان پر بھیجا ہے اور انہیں اپنی نعمتِ سلامتی کا ہم آغوش قرار دیتا ہے۔ سلامتی ہر قسم کی ناراحتی اور درد و غم سے سلامتی سلامتی ہر قسم کی جنگ و نزع سے سلامتی اس مفہوم کی بناء پر "تحیتھم" کی اضافت کی طرف ہے اور اس کا فاعل خداوند تعالیٰ ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں مراد وہ تحیہ و سلام ہے جو مومنین ایک دوسرے سے کہیں گے یا فرشتے ان سے کہیں گے۔ بہرحال لفظ "سلام" جو بطور مطلق آیا ہے۔ اس کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کی سلامتی پر محیط ہے اور ہر قسم کی ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی پر مشتمل ہے چاہے روحانی ہو یا جسمانی۔ (تشریحی نوٹ: سلام و تحیت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۲،سورہ نساء آیت ۸۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر "شجرہ طیبہ" اور "شجرہ خبیثہ"
Tafsīr Nemūna · Vol. 2یہاں حق و باطل، ایمان و کفر اور طیب و خبیث کو ایک نہایت عمیق اور پر معنی مثال کے ذریعے مجسم کر کے بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیات اس سلسلے کی گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خدا نے کس طرح پاکیزہ کلام کے لئے مثال دی ہے اور اسے طیب و پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے (اَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ)۔ پھر اس شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ و بابرکت درخت کی خصوصیات بیان کی گئی ہے اور مختصر عبارت میں اس کے تمام پہلووٴں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم قرآن میں موجود اس شجرہ کی خصوصیات کا مطالعہ کریں "ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ "کلمہ طیبہ" سے مراد کیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کو کلمہ ٴ توحید اور جملہ "لا الہ الّا اللہ" سے تفسیر کی ہے جب کہ بعض دوسرے اسے اوامر و فرمین الٰہی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ بعض اسے ایمان سمجھتے ہیں کہ جو لا الہ الّا اللہ کا معنی و مفہوم ہے۔ بعض دوسروں سے اس کی "موٴمن" سے تفسیر کی ہے اور بعض نے اس کا مفہوم اصلاحی و تربیتی روش اور لائحہ عمل بیان کیا ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان، قرطبی، فی ظلال اور تفسیر کبیر از فخر رازی کی طرف رجوع کریں)۔ لیکن "کلمہٴ طیبہ" کے مفہوم و معنی کی وسعت کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس میں یہ تمام تفاسیر شامل ہیں کیونکہ لفظ "کلمہ" کے وسیع معنی میں تمام موجودات شامل ہیں۔ اسی بناء پر مخلوقات کو "کلمة اللہ" کہا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "کلمہ" اور اس کے مفہوم کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد٣ میں سورہ انعام کی آیہ ۱۱٥ کے ذیل میں ہم بحث کر چکے ہیں (دیکھئیے)۔ نیز"طیب" ہر قسم کی پاک و پاکیزہ چیز کو کہتے ہیں۔ نتیجہ کلام یہ ہے کہ اس مثال کے مفہوم میں ہو پاک سنت، حکم، پروگرام، روش، عمل، انسان شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ ہر پاک و بابرکت موجود کلمہ طیبہ ہے اور یہ سب ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہیں کہ جس کی یہ خصوصیات ہیں: ۱۔ وہ موجود کہ جو نشوونما کا حامل ہے کہ بے روح، جاندار اور بے حرکت ہے۔ بڑھنے اور پھلنے پھولنے والا ہے۔ دوسروں کی اور اپنی پرورش و اصلاح کرنے والا ہے۔ لفظ "شجرہ" اس حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ ۲۔ یہ درخت پاک اور طیب سے لیکن کس لحاظ سے، اس سلسلے میں کسی خاص پہلو کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ لہذا اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ہر پہلو سے پاکیزہ ہے۔ اس کا پھل پاکیزہ ہے۔ اس کے شگوفے اور پھول پاکیزہ ہیں، اس کا سایہ پاکیزہ ہے اور اس سے خارج ہونے والی گیس پاکیزہ ہے۔ ۳۔ یہ درخت ایک منظم نظام کا حامل ہے۔ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں میں سے ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اصولی طور پر اس میں جڑ اور شاخ کا وجود اس میں موجود منظم نظام کی دلیل ہے۔ ۴۔ اس کی جڑ اور ریشہ ثابت و مستحکم ہے۔ اس طرح سے کہ طوفان اور تند و تیز آندھیاں اسے اس کی جگہ سے اکھاڑ نہیں سکتیں۔ اس میں ایسی توانائی ہے کہ اس کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی شاخیں سورج کی کرنوں کے نیچے اور آزاد ہوا میں محفوظ ہیں کیونکہ جو شاخ جتنی اونچی ہو اسے اتنی ہی قومی تر جڑ کی ضرورت ہے۔ (أَصْلُهَا ثَابِتٌ)۔ ۵۔ اس شجرہ طیبہ کی شاخیں کسی پست اور محدود ماحول میں نہیں ہیں بلکہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہیں۔ یہ شاخیں ہوا کا سیہ چیر کر بلندی پر جا پہنچی ہیں۔ "جی ہاں" اس کی شاخیں آسمان میں ہیں ـ (وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ) واضح ہے کہ شاخیں جس قدر بلند ہوں گی، زمین کے گرد و غبار سے اتنی ہی دُور ہوں گی اور ان کے پھل اتنے ہی زیادہ پاکیزہ ہوں گے۔ اور ایسی شاخیں سورج کی کرنوں اور پاکیزہ ہوا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور اس کا اثر طیب پھلوں پر بہتر ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: ایسی تاثیر خصوصاً ایک درخت کے پھلوں پر خوب واضح ہے۔ وہ کہ جو درخت کی اوپر کی شاخوں پر لگتے ہیں نیچے کی شاخوں پر لگنے والوں پھلوں کی نسبت بہتر اور خوب پکے ہوئے ہوتے ہیں اور زیادہ عمدہ ہوتے ہیں)۔ ۶۔ یہ شجرہ طیبہ۔۔ پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ یہ ان درختوں کی مانند نہیں کہ جو بےثمر ہوتے ہیں "یہ درخت اپنا پھل دیتا ہے" (تُؤْتِي أُكُلَهَا)۔ ۷۔ اور یہ ایسا درخت ہے جو ایک یا دو فصلوں میں پھل نہیں دیتا بلکہ ہر موسم میں اس پر پھل لدے ہوتے ہیں تو جب بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھائے محروم نہیں لوٹے گا (كُلَّ حِينٍ)۔ ۸۔ اس کا یہ پھل کسی پروگرام کے بغیر نہیں بلکہ قوانین فطرت کے مطابق سنتِ الہٰی کے تحت اور "اپنے پروردگار کے اذن سے" ہے اور سب کے لئے عام ہے (بِإِذْنِ رَبِّهَا)۔ اس "شجرہ طیبہ" کی یہ خصوصیات آپ کے سامنے ہیں اب غور کیجئے کہ یہ برکات کس درخت کو حاصل ہیں۔ یقیناً یہ خوبیاں اور برکتیں کلمہ توحید اور اس کے معنی میں موجود ہیں، ایک موحد اور صاحب معرفت انسان کو حاصل ہیں اور ایک اصلاحی اور پاکیزہ لائحہ عمل میں موجود ہیں اور یہ سب مفاہیم محکم و ثابت جڑوں کے حامل ہیں، سب میں ایسی فراواں شاخیں ہیں جو آسمان سے باتیں کرنے والی ہیں اور مادی آلودگیوں اور کثافتوں سے دور ہیں۔ سب ثمر آور، نور افشاں اور فیض بخش ہیں۔ جو شخص جس وقت بھی ان کے پاس آئے اور ہاتھ ان کے شاخسار وجود کی طرف پھیلائے ان کے لذیر و معطر اور قوت بخش پھلوں سے اپنا دامن مراد بھرلے گا۔ حوادث کی تیز آندھیاں اور سخت طوفان انہیں ان کی جگہ سے ہٹا نہیں سکتے اور ان کا افق فکر چھوٹی سی دنیا میں محدود نہیں ہے وہ زمان و مکاں کے جواب چاک کر کے ابدیت کی طرف آگے بڑھتے ہیں۔ ان کا پروگرام ہوا و ہوس کے تابع نہیں بلکہ سب کے سب اذن پروردگار سے اس کے فرمان کے مطابق آگے بڑھتے اور حرکت کرتے ہیں اور یہی ان کے ثمر بخش ہونے کا سرچشمہ ہے۔ پروردگار کے ان کلمات طیبہ۔ عظیم و بایمان جوانمردوں۔ کی زندگی برکت کا باعث ہے اور ان کی موت حرکت کا سبب ہے۔ ان کے آثار، ان کے کلمات، ان کی باتیں، ان کے شاگرد، ان کی کتابیں، ان کی پر افتخار تاریخ حتی کہ ان کی خاموش قبریں سب کی سب الہام بخش، سرچشمہ ہدایت، انسان ساز اور تربیت کنندہ ہیں۔ جی ہاں! "خدا اس طرح سے لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ سمجھ جائیں" (وَيَضْرِبُ اللّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ)۔ یہاں مفسرین کے درمیان ایک سوال پیدا ہوا اور وہ یہ کہ کیا کوئی درخت مذکورہ بالا صفات کا وجودِ خارجی رکھتا ہے کہ جس سے کلمہ طیبہ کو تشبیہ دی گئی ہے (ایسا درخت کہ جو سال بھر سرسبز رہے اور پھلوں سے لدا رہے)۔ بعض کا خیال ہے کہ ایسا درخت موجود ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجبوراً "کل حین" کی تفسیر" چھ ماہ بیان کی ہے۔ لیکن کسی وجہ سے بھی ضروری نہیں کہ ہم اس قسم کے درخت کے وجود پر اصرار کریں بلکہ مختلف زبانوں میں ایسی بہت سی تشبہیں موجود ہیں جو بالکل وجود خارجی نہیں رکھتیں مثلاً ہم کہتے ہیں کہ قرآن ایسے آفتاب کی مانند ہے جو کبھی غروب نہیں ہوتا (حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آفتاب ہمیشہ غروب کرتا ہے) یا کہا جاتا ہے کہ میرا ہجر ایسی رات کی طرح ہے جو ختم ہونے کو نہیں آتی (حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر شب ختم ہو جاتی ہے)۔ بہرحال، تشبیہ کا مقصد چونکہ حقائق کو مجسم کرنا ہے اور عقلی مسائل کو محسوس کے قالب میں ڈھالنا ہے لہذا ایسی تشبہیات میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ پوری طرح دلنشیں، مؤثر اور جاذب ہیں۔ اس کے باوجود دنیا میں ایسے درخت موجود ہیں جن کی شاخوں پر سے سارا سال پھل ختم نہیںج ہوتے یہاں تک کہ ہم نے خود گرم علاقوں میں بعض ایسے درخت دیکھے ہیں کہ ان پر پھل بھی موجود تھا اور تازہ پھول بھی آگے ہوئے تھے اور نئے پھل کے آثار بھی موجود تھے جب کہ موسم سردیوں کا تھا۔ مسائل سمجھنے اور افہام و تفہیم کا بہترین طریقہ چونکہ موازنہ کرتا ہے لہذا شجرہ طیبہ کے ذکر کے بعد بلافاصلہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: رہی مثال کلمہ خبیثہ کی، تو وہ خبیث، ناپاک اور بے ریشہ درخت کی مانند ہے کہ جو زمین سے اکھڑ چکا ہے اور طوفان آتے ہیں تو روزانہ کسی اور کونے میں جا گرتا ہے اور اسے قرار و ثبات میسر نہیں (وَمَثلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ)۔ "کلمہ خبیثہ" وہی کفر و شرک کا کلمہ ہے۔ گھٹیا، قبیح اور بری گفتار ہے۔ گمراہ کن اور غلط پروگرام ہے اور ناپاک و آلودہ انسان ہیں خلاصہ یہ " کہ ہر خبیث اور ناپاک چیز کلمہ خبیثہ ہے۔ واضح ہے کہ ہر ناکارہ اور قبیح و منحوس درخت کہ جس کی جڑیں اکھڑ گئی ہوں اس میں نہ نشوونما ہو گی، نہ ترقی و تکامل، نہ پھل پھول، نہ سایہ و منظر اور نہ ثبات و قرار۔ وہ تو ایک لکڑی ہے جو سوائے جلانے اور آگ لگانے کے کسی کام کی نہیں بلکہ راستے کی رکاوٹ ہے۔ اسیا درخت کبھی گزند پہنچاتا اور مجروح کرتا ہے یا لوگوں کے لئے تکلیف و آزار کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ شجرہ طیبہ کی تعریف میں قرآن تفصیل سے بات کرتا ہے لیکن جب شجرہ خبیثہ کے ذکر کا موقع آتا ہے تو ایک مختصر سا جملہ کہہ کر گزر جاتا ہے۔ صرف اتنا کہتا ہے۔ اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار یہ زمین سے اکھڑا ہوا ہے اور اسے ثبات و قرار نہیں ہے۔ کیونکہ جس وقت یہ ثابت ہو گیا کہ یہ درخت جڑ کے بغیر ہے تو پھر شاخ و برگ اور پھل بھول کے ذکر کی ضرورت نہیں رہتی۔ علاوہ ازیں یہ ایک طرح کی و لطافتِ بیاں ہے کہ انسان محبوب کا ذکر کرتا ہے تو اس کی تمام خصوصیات بیان کرتا ہے لیکن جب "مبغوض" کے ذکر کا موقع آتا ہے تو بس ایک نفرت انگیز جملہ کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہاں پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین اس درخت کے متعلق کہ جو مشبہ بہ کے طور پر آیا ہے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ کونسا درخت ہے بعض نے اسے حطل سمجھتا ہے کہ جس کا پھل بہت تلغ اور برُا ہوتا ہے۔ بعض نے اسے "کشوت" (بروزن "سقوط") کہا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سا پودا ہے۔ جو بیابانوں میں خار دار بوٹؤں سے لپٹ کر اوپر چلا جاتا ہے۔ نہ اس کی جڑ ہوتی ہے نہ پتے (توجہ رہے کہ "شجر" لغت میں درخت کو بھی کہا جاتا ہے اور پودے کو بھی)۔ لیکن جیسا کہ ہم نے "شجرہ طیبہ" کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر تشبیہ میں "مشبہبہ" ان تمام صفات کے ساتھ وجود خارجی رکھتا ہو بلکہ یہاں مقصد کلمہ شرک، انحرانی طرز عمل اور خبیث لوگوں کے حقیقی چہرہ کو مجسم طور پر پیش کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ ان درختوں کی طرح ہیں جن کی ہر چیز خبیثت اور ناپاک ہے اور ان کا ثمر سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ راستے میں مزاعم ہوتے ہیں اور دردِ سر کا باعث بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے ناپاک درخت کم نہیں کہ جو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گئے ہوں اور بیابان میں طوفان اور تیز آندھی کی زد پر ہوں۔ مذکورہ بالا آیات میں دو ناطق مثالوں کے ذریعے ایمان و کفر، مومن و کافر اور کلی طور پر ہر پاک و ناپاک وجود کو مسجم شکل میں ذکر کیا گیا ہے لہذا آخری زیر نظر آیت میں نتیجہ کار اور ان کا انجام آخر ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے۔ ایمان لانے والوں کو خدا ان کی ثابت و پائیدار گفتار و اعتقاد کے سبب ثابت قدم رکھتا ہے۔ اس جہاں میں بھی اور اس جہاں میں بھی (يُثَبِّتُ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ)۔ کیونکہ ان کا ایمان سطحی اور متزلزل نیہں ہوتا نہ ان کی شخصیت کھوکھلی اور متلون ہوتی ہے بلکہ وہ ایک شجرہ طیبہ ہیں کہ جس کی جڑیں ثابت و پائیدار ہیں اور جس کی شاخیں آسمان کی طرح بلند ہیں اور چونکہ کوئی شخص لطفِ خدا سے بےنیاز نہیں، دوسروں لفظوں میں ہر نعمت بالآخر اس کی ذاتِ پاک کی طرف لوٹتی ہے لہذا یہ سچے ثابت قدم مومنین لطفِ خدا کے بھروسہ پر ہر حادثے کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح استقامت دکھاتے ہیں۔ لغزش کی جس سے زندگی میں بچا نہیں جا سکتا ان کے راستے میں آتی ہے تو خدا ان کی حفاظت کرتا ہے۔ شیاطین ہر طرف سے انہیں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دنیا کی زرق برق چیزوں کے ذریعے انہیں پھسلانے کی سعی کرتے ہیں مگر ان کا خدا انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ جہنمی طاقتیں اور سنگدل ظالم انہیں طرح طرح کی دھمکیوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انہیں ثباتِ قدم عطا کرتا ہے کیونکہ ان کی جڑ اور بنیاد ثابت و مستحکم ہوتی ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ یہ خدائی حفاظت و ثبات ان کی ساری زندگی پر محیط ہے۔ اس جہاں کی زندگی پر بھی اور اُس جہاں کی زندگی پر بھی۔ یہاں وہ ایمان و پاکیزگی پر باقی رہتے ہیں اور ان کا دامن آلودگیوں کے عارونگ سے پاک ہوتا ہے اور وہاں وہ خدا تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر ان کی مقابل افراد کے بارے میں فرمایا گیا ہے: اور خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو کچھ چاہتا ہے انجام دیتا ہے (وَيُضِلُّ اللّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاءُ)۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ جہاں جہاں بھی ہدایت و ضلالت کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے اس کے لئے پہلے انسان خود قدم اٹھاتا ہے۔ خدا کا کام تو تاثیر پیدا کرتا ہے جو اس نے ہر عمل میں کی ہے نیز خدا کا کام نعمتیں عطا کرنا اور انہیں سلب کرنا ہے اور ایسا وہ اہل بیت اور عدم اہل بیت کی بنا پر کرتا ہے(غور کیجئے گا)۔ وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاءُ "وَيُضِلُّ اللّهُ" کے بعد "الظَّالِمِينَ" کی تعیبر اس امر کے لئے بہترین قرینہ ہے یعنی جب تک کوئی شخص ظلم و ستم سے آلودہ نہ ہو اس سے نعمت ہدایت سلب نہیں ہو گی لیکن جب کوئی ظلم و ستم سے آلودہ ہو جاتا ہے تو گناہ کی تاریکی اس کے وجود پر چھا جاتی ہے اور ہدایت الہٰی کا نور اس کے دل سے نکل جاتا ہے اور یہ بالکل ارادہ و اختیار کی آزادی ہے۔ ایسا شخص اگر فوری طور پر اپنی سمت درست کر لے تو نجات کا راستہ اس کے سامنے کھلا ہوا ہے لیکن گناہ میں مستحکم ہو جانے کے بعد پلٹنا بہت ہی مشکل ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ کیا آخرت سے مراد قبر ہے؟
بہت سی روایات میں ہے کہ جب انسان قبر میں پہنچتا ہے اور فرشتے اس سے اس کی حقیقت کے متعلق سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کے راستے پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اس کا یہی معنی ہے: یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ان میں سے بعض روایات میں صراحت کے ساتھ لفظ "قبر" آیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۵۴۰ و ۵۴۱)۔ جبکہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ شیطان موت کے وقت صاحبِ ایمان کے پاس آتا ہے اور کبھی داہنی طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اسے گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن خدا اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ مومن کو گمراہ کرے ”یثبت اللہ الذین اٰمنو کا یہی مفہوم ہے۔ امام صادق علیہ السلام کی اس روایت کا بھی یہ مفہوم ہے: ان الشیطان لیاتی الرجل من اولیائناعند موتہ عن یمینہ و عن شمالہ لیضلہ عما ھو علیہ فیابی اللہ عزوجل لہ ذٰلک قول اللہ عزوجل یثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوة الدنیا و فی الآخرة۔ (بحوالہ نور الثقلین، جلد ۲ ص۵۳۵)۔ مفسر عظیم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اکثر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دارِ آخر نہ لغزش کی جگہ ہے اور نہ عمل کی بلکہ صرف نتائج اعمال کا سامنا کرنے کا مقام ہے لیکن وہ لمحہ کہ جب موت آ پہنچے اور حتی کہ عالم برزخ (وہ جہان کہ جو اس عالم اور عالمِ آخرت کے درمیان ہے) میں تھوڑا بہت لغزش کا امکان ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں لطفِ الہٰی انسا ن کی مدد کو آ پہنچتا ہے۔ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔
۲۔ ثبات و استقامت کا اثر
شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی تمام صفات میں سے کہ جو مندرجہ بالا آیات میں ذکر ہوئی ہیں سب سے زیادہ ثبات و عدم ثبات کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں تک کہ شجرہ طیبہ کے ثمر کے طور پر آخری زیر بحث آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا صاحبِ ایمان افراد کو اپنے ثابت قدم و مستحکم عقیدے کی بناء پر دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اس سے ثبات اور اس کی تاثیر کے مسئلے کی انتہائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ عظیم لوگوں کی کامیابی کے عوامل کے بارے میں بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن ان تمام میں سے استقامت و پامردی کا درجہ پہلا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھ بوجھ اور استعداد کے لحاظ سے درمیانے درجے کے ہوتے ہیں یاعمل میں پیش قدمی کے لحاظ سے اوسط درجے کے ہوتے ہیں لیکن انہیں زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں ان کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ثبات و استقامت کے سوا اور کچھ نہیں۔ اجتماعی لحاظ سے ہر موثر پروگرام کی پیش و رفت صرف ثبات و استقامت کے سائے میں ممکن ہے یہی وجہ ہے کہ تخریب کارواں کی تمام تر کوشش، ثبات و استقامت کو ختم کرنے پر صرف ہوتی ہے۔ اصولی طور پر حقیقی مومنین کو زندگی کے سخت حوادث اور طوفان کے مقابلے میں ان کے ثبات و استقامت کے حوالے سے پہچاننا چاہئیے۔
۳۔ روایاتِ اسلامی میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ "طیبہ" اور "خبیثہ" کہ جنہیں دو درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے ایک وسیع مفہوم رکتھے ہیں اور یہ ہر طرح کے شخص، پروگرام، مکتب، فکر و نظر، سوچ بچار اور گفتار و عمل پر محیط ہے لیکن بعض اسلامی روایات میں اس کی خاص حوالوں سے تفسیر کی گئی ہے۔ واضح ہے کہ مفہومِ آیت ان میں منحصر نہیں ہے۔ ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے آپ "اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اللہ اصلھا و امیر المومنین فرعھا، والائمۃ من ذریتھما اغصانھا، و علم الائمہ ثمرھا، و شیعتھم الموٴمنون ورقھا، ھل فیھا فضل؟ قال: قلت لا واللہ، قال و اللہ ان المومن لیولد فتورق ورقة فیھا و ان الموٴمن لیموت فتسقط ورقة منھا۔ رسول اللہؐ اس درخت کی جڑ ہیں۔ امیرالمومنین علی (علیه السلام) اس کا تنا ہیں اور وہ امام جو ان دونوں کی ذریت میں سے ہیں اس کی ٹہنیاں ہیں اور آئمہ کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان کے صاحبِ ایمان شیعہ اس کے پتے ہیں۔ پھر امام نے فرمایا کیا کوئی اور چیز باقی رہ جاتی ہے؟ راوی کہتا ہے: میں نے کہا نہیں، خدا کی قسم۔ فرمایا: واللہ جس وقت ایک صاحبِ ایمان پیدا ہوتا ہے تو اس درخت پر ایک پتے کا اضافہ ہو جاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مر جاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مر جاتا ہے تو اس درخت کا ایک پتہ گر جاتا ہے۔ (بحوال نور الثقلین، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸)۔ ایک روایت میں یہی مضمون امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ اس میں ہے: راوی نے سوال کیا: "توٴتی اکلھا کل حین باذن ربھا" کا کیا مفہوم ہے۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: آئمہ کے علم کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر سال اور ہر علاقے میں تم تک آ پہنچتا ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸)۔ ایک اور روایت میں ہے: "شجرہ طیبہ" رسول اللہؐ، علیؑ، حسنؑ اور حسینؑ اور ان کے فرزندانِ گرامی ہیں اور "شجرہ خبیثہ" بنی امیہ ہیں۔ (بحوالہ نور الثقلین، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸)۔ نیز بعض روایات میں یہ بھی شرط ہے کہ "شجرہ طیبہ" کھجور کا درخت ہے اور "شجرہ خبیثہ" حنظل ( تُمّہ) کا درخت ہے۔ (بحوالہ المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں، بحوالہ تفسیر درمنثور)۔ بہرحال، ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے۔ جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے اور جو کچھ ہم نے آیہ کے عمومی معنی میں ذکر کیا ہے اس میں ہم آہنگی موجود ہے کیونکہ یہ تو اس عمومی مفہوم کے مصادیق میں سے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کفرانِ نعمت کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 2ان آیات میں روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے ہے۔ دراصل ان میں شجرہٴ خبثہ کے ایک موقع کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے نعمتِ الہٰی میں تبدیل کر دیا ہے (اَلَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ کُفْرًا)۔ اور بالآخر انہوں نے اپنی قوم کو دارالبوار اور ہلاکت کے گڑھے کی طرف دھکیل دیا (وَاَحَلُّوا قَوْمَھُمْ دَارَ الْبَوَارِ)۔ یہ وہی شجرہ خبیثہ کی جڑیں اور کفر و انحراف کے رہبر ہیں جن کے دامن میں نعمتیں تھیں مثلاً وجود، پیغمبر کی سی نعمت کہ جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہ تھی۔ چاہے تویہ تھا کہ وہ ان سے استفادہ کرتے اور شب بھر میں سو سال کی مسافت طے کر لیتے لیکن اندھے تعصب، ہٹ دھرمی، خود غرضی اور خود پسندی کے سبب وہ اس عظیم ترین نعمت سے استفادہ نہ کر سکے۔ وہ نہ فقط خود کفرانِ نعمت کے مرتکب ہوئے بلکہ اپنی قوم کو بھی وسوسہ میں مبتلا کیا اور ہلاکت و بدبختی کی انہیں سوغات دی۔ بزرگ مفسرین نے منابعِ اسلامی میں آنے والی روایات کے پیش نظر کبھی اس نعمت کو وجودِ پیغمبر کہا ہے۔ کبھی آئمہ اہل بیت (علیه السلام) اور کفرانِ نعمت کرنے والے کبھی بنوامیہ قرار دئیے ہیں۔ کبھی بنی مغیرہ اور کبھی زمانہٴ پیغمبرؐ کے سب کفار لیکن آیت کا مفہوم یقیناً وسیع ہے اور یہ کسی معین گروہ کے لئے مختص نہیں ہے اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خدا کی کسی نعمت کا کفران کریں۔ ضمناً مندرجہ بالا آیت سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ خدائی نعمتوں خصوصاً عظیم ہادیوں اور رہبری کی نعمت کہ جو اہم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ سے استفادہ کرنا خود انسان کے فائدے میں ہے۔ اب ان نعمتوں کا کفران اور آخری رہبری سے منہ پھیرنا سوائے ہلاکت اور دارالبوار میں گرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد قرآن "دار البوار" کی تفسیر کرتا ہے: یہ جہنم ہے کہ وہ جس کے جلا ڈالنے والے شعلوں میں جا گریں گے اور یہ بدترین ٹھکانا ہے (جَھَنَّمَ یَصْلَوْنَھَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ)۔ (تشریحی نوٹ "یصلون" "صلی" مادہ سے آگ جلانے، آگ میں جلنے، آگ میں مبتلا ہونے اور آگ میں جل کر کباب ہونے کے معنی میں ہے)۔ اگلی آیت میں کفرانِ نعمت کی ایک بدترین قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہ جس کے وہ مرتکب ہوتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: انہوں نے خدا کے لیے شریک قرار دیئے تاکہ اس طریقے سے لوگوں کو اس کی راہ سے گمراہ کریں (وجعلوا للہ انداداً لیضلوا عن سبیلہ) شرک و کفر اختیار کر کے اور لوگوں کو دین و طریق حق سے منحرف کر کے وہ لوگوں پر چند روزہ مادی اقتدار کوئی حاصل کرتے ہیں۔ اے رسول! ان سے کہو: اس ناپائیدار اور بےوقعت مادی زندگی سے فائدہ اٹھا لو لیکن یہ جان لو کہ تمہارا انجامِ کار آگ ہے (وَجَعَلُوا لِلَّہِ اَندَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِیرَکُمْ إِلَی النَّارِ)۔ نہ تمہاری یہ زندگی ہے بلکہ بدبختی ہے اور نہ تمہارا یہ اقتدار کوئی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تباہ کاری مصیبت ہے لیکن اس کے باوجود اپنے انجام کے بدلے تم اس سے فائدہ اٹھا لو۔ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے: قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحابِ النار کہہ دو: اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے آخرکار تو اصحابِ نار میں سے ہے۔ (زمر۔ ۸)
چند اہم نکات ۱۔ نعمت کو کفر میں بدل دیا
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نعمتِ الہٰی کا کفران کیا لیکن زیر بحث آیت میں ہے: انہوں نے نعمتِ خدا کو کفر میں تبدیل کیا اور کفران کیا"۔ ہو سکتا ہے یہ خاص تعبیر دو میں ایک وجہ کی بناء پر ہو: الف: مراد ہے "شکر نعمت" کو "کفران" میں تبدیل کرنا یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ پروردگار کی نعمتوں پر شکر گزار ہوں لیکن انہوں نے اس شکر کو کفران میں تبدیل کر دیا۔ حقیقت میں لفظ شکر مقدر ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا۔ الذین بدلوا شکر نعمتہ اللہ کفراً ب: مراد یہ ہے کہ انہوں نے خود نعمت کو کفر میں تبدیل کر دیا۔ درحقیقت خدائی نعمتیں وسیلہ ہیں۔ ان سے استفادہ کا طریقہ خود انسان کے ارادہ سے وابستہ ہے۔ جیسا کہ ممکن ہے نعمتوں سے ایمان، خوش بختی اور نیکی کی راہ میں فائدہ اٹھایا جائے اسی طرح انہیں کفر، ظلم اور برائی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یہ نعمتیں خام مال کی طرح ہیں جن میں سے مختلف قسم کی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں اگر اصل میں یہ خیر و سعادت کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔
۲۔ نعمت سے سوئے استفادہ کفرانِ نعمت ہے
کفرانِ نعمت صرف یہ نہیں کہ انسان خدا کی ناشکری کرے بلکہ نعمت سے ہر طرح کا انحرافی فائدہ حاصل کرنا اور سوئے استفادہ کفرانِ نعمت ہے۔ اصولی طور پر کفرانِ نعمت کی حقیقت یہی ہے۔ ناشکری اور شکر ادا نہ کرنا تو دوسرے مرحلے کی بات ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ نعمت کو اس مقصد کے مطابق صرف نہ کرنا جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے کفرانِ نعمت ہے اور زبانی شکر گزاری ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ ہزار مرتبہ زبان سے "الحمد للہ" کہیں لیکن عملی طو رپر نعمت سے سوء ٴ استفادہ کریں تو کفرانِ نعمت اور کیا ہے۔ دورِ حاضر میں نعمت کو کفران میں تبدیل کرنے کے انتہائی واضح نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ فطرت کی بہت سے قوتیں انسان کی خدا داد بصیرت اور پیش قدمی کی وجہ سے انسان کے ہاتھ لگی ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرنا اب انسان کی دسترس میں ہے۔ سائنسی انکشاف اور صنعتی ایجادات نے پوری دنیا کا رخ ہی بدل کر دکھ دیا ہے۔ ان انکشافات و ایجادات نے انسان کے کندھوں بہت بھاری بوجھ اتار کر کارخانوں کے پہیوں پر ڈال دیا ہے۔ آج نعماتِ الہٰی ہر دور سے زیادہ ہیں۔ آج انسان اپنے افکار اور عالم کو پوری دنیا میں پھیلا سکتا ہے۔ ساری دنیا کی خبروں سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ اب چاہیئے تو یہ تھا کہ اس دور میں لوگ ہر زمانے سے زیادہ خوشحال ہوتے، مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔ آج خد انے ان عظیم نعمتوں کو کفر میں تبدیل کرنے کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ مادے کے عجیب و غریب توانائیوں کو ظلم و طغیان کی راہ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انکشافات و ایجادات کو برائی اور تخریبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہر نیا صنعتی شاہکار پہلے تکریبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کی تعمیری پہلو کی نوبت بعد کی بات ہو جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ عظیم ناشکری ہے جو انبیاء الہٰی کی اصلاحی اور تربیتی تعلیما ت سے دور رہنے کا نتیجہ ہے اور ایسا کرنے والے اپنی قوم کو نعماتِ الہٰی کا کفران کر کے اسے دارالبوار کی طرف کھینچے لے جا رہے ہیں۔
۳۔ "انداد" کا مفہوم
"انداد" جمع ہے "ند" کی۔ اس کا معنی ہے "مثل" لیکن جیسا کہ راغب نے مفردات میں اور زبیدی نے تاج العروس میں (بعض اہل لغت سے) نقل کیا ہے "ند" اس چیز کو کہا جاتا ہے جو دوسری چیز سے شاہت جوہری رکھتی ہو لیکن "مثل" کا اطلاق ہر قسم کی شباہت پر ہوتا ہے۔ لہٰذا "ند" کا استعمال "مثل" کی نسبت زیادہ عمیق، رسا اور عمدہ ہے۔ اس معنی کے مطابق زیر نظر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ کفر کی کوشش تھی کہ خدا کے کچھ ایسے شریک بنائیں کہ جنہیں جوہرِ ذات میں خدا کا شبیہ قرار دیں تاکہ مخلوق کو خدا کی پرستش سے روک سکیں اور اس طرح اپنے منحوس مقاصد پورے کر سکیں۔ بعض اوقات وہ قربانیوں کا کچھ حصہ ان کے لئے قرار دیتے اور کبھی نعمات الہٰی کا کچھ حصہ (جیسے بعض جانور) بتوں کے لئے مخصوص کر دیتے اور کبھی پرستش و عبادت کے ذریعے انہیں خدا کا ہم پلہ خیال کرتے۔ سب سے بڑھ کر و قبیح یہ بات تھی کہ زمانہٴ جاہلیت میں مراسم حج میں کہ جو دینِ ابراہیمی کے مطابق تھا اس میں انہوں نے بہت سی خرافات شامل کر دی تھیں یہاں تک کہ "لبیک" کہتے ہوئے یوں کہتے تھے: لبیک لاشریک لک، الا شریک ھو لک، تملکہ و ما ملک، میں تیری دعوت کو قبول کرتا ہوں، اے خد اکہ جس کا کوئی شریک نہیں۔ سوائے اس شریک کے کہ جو تیرا شریک ہے۔ اس کا بھی تو مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی۔ (بحوالہ تفسیر فخرالدین رازی، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قرآن کی نگاہ میں انسان کی عظمت
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان لوگوں کے طرز عمل کے بارے میں گفتگو تھی کہ جنہوں نے نعماتِ الٰہی کا کفران کیا اور آخرکار دار البوار کی طرف کھینچے گئے۔ زیر نظر آیات میں خدا کے سچے بندوں کا ذکر ہے اور اللہ کی بندوں پر نازل ہونے والی غیر متناہی نعمات کے بارے میں با ت کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے پنہاں و آشکار خرچ کریں (قُلْ لِعِبَادِی الَّذِینَ آمَنُوا یُقِیمُوا الصَّلَاةَ وَیُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً)۔ اس کے پہلے کہ وہ دن آ جائے کہ جس میں نہ خرید و فروخت ہے کہ اس طرح عذاب سے نجات کے لئے راہ سعادت خرید سکیں اور نہ وہاں کسی کی دوستی کام آئے گی (مِنْ قَبْلِ اَنْ یَاْتِیَ یَوْمٌ لاَبَیْعٌ فِیہِ وَلاَخِلَالٌ)۔ اس کے بعد معرفتِ خدا کے لئے اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایسی معرفت کہ جس سے دلوں میں اس کا عشق زندہ ہو جائے نیز انسان کو اس کی عظمت اور اس کے لطف کے حوالے سے اس تعظیم پر ابھارا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مدد اور لطف و رحمت کرنے والے سے انسان کے دل میں لگاوٴ اور محبت ہیدا ہوتی ہے۔ یہی بات چند ایک آیات میں یہاں اس طرح بیان کی گئی ہے:۔ خدا وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْض)۔ اور اس نے آسمان سے پانی نازل کیا جس کے ذریعے تمہاری روزی کے لئے مختلف ثمرات پیدا ہوتے ہیں (وَاَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاَخْرَجَ بِہِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ)۔ "اور اس نے تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا" اس کے ساخت کے مواد کے لحاظ سے بھی کہ جسے طبیعتِ مادہ سے پیدا کیا اور سمندروں پرمنظم ہواوٴں کی صورت میں اس کی وقتِ محرکہ لحاظ سے بھی (وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ)۔ "تاکہ یہ کشتیاں اس کے حکم سے سطح سمندر پر چلیں" اور پانی پر سینہ چیر کر ساحلِ مقصود کی طرف بڑھیں اور انسانوں اور ان کے وسائل ایک سے دوسری جگہ کی طرف آسانی سے اٹھالے جائیں (لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہِ)۔ اسی طر ح "نہریں بھی تمہارے لئے مسخر کر دی گئیں "(وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاَنھَارَ)۔ تاکہ ان کے حیات بخش پانی سے تم اپنی فصلوں کی آبیاری کرو اور تم خود اور تمہارے مویشی اس سے سیراب ہوں۔ نیز اکثر اوقات کے لئے سطح آب کو ہموار رکھا گیا ہے تاکہ چھوٹی بڑی کشتیاں اس میں آمد و رفت کر سکیں۔ نیز نہریں مسخر کی گئی ہیں تاکہ تم ان کی مچھلیوں بلکہ یہاں تک کہ ان کی گہرائیوں میں موجود اصداف سے استفادہ کر سکو۔ نہ صرف زمینی موجودات کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے بلکہ سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مصروفِ کار ہیں انہیں تمہارے فرمان کے زیر گردش قرار دے دیا ہے (وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ)۔ (تشریحی نوٹ: "دائبین" "دؤب" کے مادہ سے ایک عادت کے مطابق یا محکم سنت کے مطابق کام جاری رکھنے کے معنی میں ہے۔ سورج اور چاند چونکہ لاکھوں سال سے ایک معین و مستحکم طریقے سے نور افشانی کرنے، زندہ موجودات کی پرورش کرنے، سمندروں میں مدو جز پیدا کرنے اور کئی دوسری خدمات میں مصروف ہیں لہٰذ ان کے لئے "دائبین" سے بہتر تعبیر کا تصور نہیں ہو سکتا)۔ نہ صرف اس جہان کے موجودات کو تمہارے زیر فرمان کر دیا گیا ہے بلکہ ان کے عارضی حالات کو بھی تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے جیسا کہ "رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا ہے "(سَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ)۔ اور تم نے جس چیز کا اس سے تقاضا کیا اور فرد اور معاشرے کی روح اور بدن کے لئے تمہیں جس چیز کی احتیاج ہوئی یا اپنی سعادت کے لئے تمہیں جس چیز کی ضرورت پڑی وہ سب کچھ اس نے تمہارے اختیار میں دے دیا (وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوہُ) اور اس طرح سے "اگر تم خدائی کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہ کر سکو گے" (وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوھَا)۔ کیونکہ پروردگار کی مادی اور معنوی نعمتوں نے تمہارے وجود اور محیطِ زندگی کو اس طرح سے گھیر رکھا ہے ان کا شمار ممکن نہیں اور جن خدائی نعمتوں کو تم جانتے ہو وہ ان کے مقابلے میں جنہیں تم نہیں جاتنے دریا کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہیں لیکن خدا کے اس تمام لطف و رحمت کے باجود یہ انسان ظالم ہے اور کفرانِ نعمت کرنے والا ہے (إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ)۔ انسان کو ایسی نعمتیں عطا کی گئیں ہیں کہ اگر وہ ان سے صحیح استفادہ کرتا تو سارے جہاں کو گلستان بنا دیتا اور "مدینہ فاضلہ" کی تشکیل کا خواب پورا ہو جاتا لیکن سوئے استفادہ، ظلم و ستم اور کفرانِ نعمت کے سبب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اس کی اس زندگی کا افق تاریک ہو گیا، شہدِ حیات اس کے دہن میں جاں گداز زہر بن چکا ہے اور طاقت فرسا مشکلات نے طوق و زنجیر مشکلات نے طوق و زنجیر کے اسے جکڑ رکھا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ خالق اور مخلوق سے رشتہ
ان آیات میں ایک مرتبہ پھر سچے مومنین کے لائحہ عمل میں سے "نماز" اور "انفاق" کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے تمام عملی پروگراموں میں سے یہاں صرف دو کا تذکرہ کیوں کیا گیا ہے۔ اس کی علت یہ ہے کہ اسلام کی مختلف جہتیں ہیں۔ ان کا خلاصہ تین میں پیش کیا جا سکتا ہے: ۱ ) انسان کا خدا سے رابطہ۔ ۲) انسان کا مخلوق سے رابطہ۔ ۳) انسان کا اپنی ذات سے رابطہ۔ درحقیقت تیسرا حصہ پہلے حصے اور دوسرے حصے کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ دو پروگرام (نماز اور انفاق) دراصل انہی دو حصوں میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ ہیں۔ نماز اللہ سے ہر قسم کے رابطے کا مظہر ہے کیونکہ نماز کے دوران یہ رابطہ دوسرے عمل کی نسبت زیادہ واضح ہوتا ہے۔ جب کہ انفاق مخلوقِ خدا سے رشتے کی طرف اشارہ ہے اور ا س کے لئے ضروری ہے کہ ہر نعمتِ رزق میں سے انفاق کا وسیع مفہوم پیشِ نظر رکھا جائے جس میں ہر طرح کی مادی و روحانی نعمت شامل ہے۔ البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس سورہ کی بحث جاری ہے وہ مکی ہے اور اس کے نزول کے وقت ابھی زکوٰة کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس انفاق کو زکوٰة سے مربوط نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں نزولِ حکم کے بعد زکوٰة بھی شامل ہے۔
۲۔ انفاق، پنہاں اور آشکار کیوں؟
ہم بارہا قرآنی آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ سچے مومنین پنہاں بھی انفاق اور صدقہ کرتے ہیں اور آشکار بھی۔ اس طرح سے انفاق کا وسیع معنی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کیفیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ بعض اوقات مخفی انفاق زیادہ موٴثر اور زیادہ آبرومنددانہ ہوتا ہے اوربعض اوقات آشکار ہو تو دوسروں کی تشویق کا باعث بنتا ہے۔ اسلامی طرزِ عمل کے لئے نمونہ مہیا کرتا ہے اور شعائر دین کی تعظیم و تکریم شمار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ جسے کچھ دیا جا رہا ہو وہ لینے سے ناراحت ہوتا ہے۔ اس وقت جب کہ ہم خونخوار دشمن سے جنگ میں مصروف ہیں (یا کسی مسلمان قوم کو ایسی حالت کا سامنا ہو) تو اہل ایمان ہر روز جنگ زدگان یا مجروحین یا خود جنگجویان کی امداد کے لئے مختلف قسم کا بہت زیادہ وہ سامان لے کر سرحدوں اور جنگی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور ان کی خبریں ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتی ہیں ایک تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ملت جنگ کرنے والوں کی پشت پر ہے اور دوسرا ان لوگوں کے لئے باعثِ تشویق ہوتا ہے جو اس قافلے سے پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ جتنا جلدی ہو سکے وہ قافلے سے آ ملیں۔ واضح ہے کہ ایسے مواقع پر اعلانیہ انفاق زیادہ موٴثر ہے۔ ان دونوں میں فرق کے سلسلے میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اعلانیہ انفاق واجبات کے ساتھ مربوط ہے کہ جس عام طور پر ظاہر کا پہلو نہیں ہوتا کیونکہ ذمہ داری کی ادائیگی سب پر لازم ہے اور اس میں کوئی پنہاں معاملہ نہیں لیکن مستحب انفاق چونکہ واجب سے زائد چیز ہے لہٰذا ہو سکتا ہے اس میں تظاہر یا ریا کا معاملہ بہتر ہے کہ اسے مخفی طور پر انجام دیا جائے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ تفسیر کلی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ درحقیقت پہلی تفسیر کی ایک شاخ ہے۔
۳۔ اس دن ”بیع“ اور “خلال“ نہیں ہے
ہم جانتے ہیں کہ روز قیامت کی ماہیت و حقیقت یہ ہے کہ ہم اعمال کے نتائج اور ردعمل کا سامنا کریں گے۔ لہٰذا کوئی شخص وہاں عذاب سے نجات کے لئے کوئی فدیہ نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ اگر بالفرض روئے زمین کی ساری دولت اس کے قبضے میں ہو اور وہ اسے چرخ کر کے ذرہ بھر اپنے اعمال کی سزا کم کروانا چاہیئے تو ممکن نہیں کیونکہ دار العمل تو یہی دنیا ہے اور یہاں سے اس کا روزنامچہ مکمل ہو کر لپیٹا جا چکا ہے اور وہاں دارالحساب ہے۔ وہ محاسبہ کا گھر ہے۔ اسی طرح مادی دوسری کا رشتہ جس شخص سے جس صورت میں بھی ہو وہاں نجات بخش نہیں ہو سکتا۔ (توجہ رہے کہ "خلال" اور "دوستی" کے معنی میں ہے)۔ آسان لفظوں میں لوگ اس دنیاوی زندگی میں سزا سے بچنے کے لئے عام طور پر پیسے کا سہارا لیتے ہیں یا پارٹی اور دوستی کا ذریعہ استعمال کرتے ہیں یعنی رشوتوں اور رشتوں کے ذریعے سزا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ سمجھیں کہ وہاں بھی اسی طرح کوئی صورت نکل آئے تو یہ ممکن نہیں۔ یہ ان کی بےخبری اور انتہائی نادانی کی دلیل ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں جس طرح کی دوستی کی نفی کی گئی ہے وہ عالمِ قیامت میں مومنین کی باہمی دوستی کے منافی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں بعض آیات میں تصریح کی گئی ہے کیونکہ یہ تو ایمان کے زیر سایہ ایک معنوی دوستی موٴدت ہے۔ باقی رہا مسئلہ شفاعت تو جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ اس کا مادی مفہوم نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں وارد ہونے والی صریح آیات کے پیشِ نظر یہ صرف، منعوی اور روحانی رشتوں کے زیر سایہ بعض اعمال خیر کی وجہ سے حاصل ہونے والی اہلیت کے باعث میسر آتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم سورہ ٴ بقرہ کی آیہ ۲۵۴ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۸۳۔ اور تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۵۹۵ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔
۴۔ اے انسان! تمام موجودات تیرے فرمان پر سر تسلیم خم ہیں
ان آیات میں دوبارہ زمین و آسمان کی مختلف موجودات کے انسان کے لئے تسخیر ہونے کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اس گفتگو کے چھ حصے ہیں۔ ۱) کشتیوں کی تسخیر ۲) نہروں اور دریاوٴں کی تسخیر ۳) سورج کی تسخیر ۴) چاند کی تسخیر ۵) رات کی تسخیر ۶) دن کی تسخیر ان میں سے بعض کا تعلق آسمان سے ہے اور بعض (رات و دن) کا دونوں سے۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور پھر یاد دہانی ضروری ہے کہ انسان قرآن کی نگاہ میں اس قدر باعظمت ہے کہ اللہ کے حکم سے تمام موجودات اس کے لئے مسخر ہیں یعنی یا اس کے اختیار میں ہیں اور ان کہ مہاراس کے ہاتھ میں ہے یا ان کی حرکت انسان کی خدمت کے لئے اور اس انسان کو ہر حالت میں اس قدر عظمت حاصل ہے کہ تمام آفرینش کا یہ ایک ہدف عالی بن گیا ہے۔ سورج اس کے لئے نور افشانی کرتا ہے۔ اس کا بستر حیات گرم کرتا ہے۔ اس کے لئے طرح طرح کی نباتات اور پودے اُگاتا ہے۔ اس کی زندگی کے ماحول کو ضرر رساں جراثیم سے پاک کرتا ہے۔ اسے مسرت و شادمانی کا پیغام دیتا ہے اور اسے راہِ حیات کی نشاندہی کرتا ہے۔ چاند انسان کی تاریک راتوں کا چراغ ہے یہ طبیعی، فطری اور جاوداں تقویم ہے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا جوار باٹا انسان کی بہت سی مشکلات حل کرتا ہے۔ سمندروں اور دریاوٴں سے جاری نہروں کا پانی اوپر آ جاتا ہے۔ یہ بہت سے درختوں کی آبیاری کرتا ہے۔ خاموش، ساکن اور رکے ہوئے سمندروں کو حرکت میں لے آتا ہے اور اسے گندا اور متعفن ہونے بچاتا ہے۔ اور موجوں کے اٹھنے سے دریاوٴں اور سمندوں کے زندہ موجودات کے لئے ضروری آکسیجن میسر آ جاتی ہے۔ ہوائیں بحری جہاز اور کشتیاں سمندر کے سینے پر چلاتی ہیں۔ وسیع ترین شاہراہ انہیں سمندروں میں میسر ہے اور عظیم ترین سواری بھی یہی جہاز ہیں۔ یہاں تک کہ بعض بحری جہاز ایک چھوٹے شہر کی مانند ہیں اور چھوٹے شہر ہی کی آبادی کو لیے سمندروں میں رواں دواں ہوتے ہیں۔ دریا اور نہریں انسان کی خدمت گزار ہیں۔ یہ زراعت کی آبیاری، جانوروں کی سیرابی اور ماحولِ زندگی کو ترو تازہ رکھنے کے لئے ہیں یہاں تک کہ خود ان میں انسان کے لئے مچھلیوں کی صورت میں غذائی مواد پل رہا ہوتا ہے۔ تاریکی شب انسان کو لباس کی طرح ڈھانپ دیتی ہے۔ اسے سکون و راحت پہنچاتی ہے اور سورج کی جلانے والی حرارت سے اس طرح بچاتی ہے جیسے سائے میں پنکھے کی ہوا، رات انسان کو حیات تازہ بخشتی ہے۔ اسی طرح دن کی روشنی۔۔۔ انسان کو اٹھ کھڑا ہونے اور سعی و کوشش کی دعوت دیتی ہے اور اس کے اندر گرمی اور حرارت پیدا کرتی ہے اور ہر مقام پر جنبش و حرکت پیدا کرتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ تمام چیزیں انسان کی فرمانبردار ہیں۔ ان تمام نعتموں کا بیان اور ان کی وضاحت انسان میں ایک نئی روح پھوکنے کے علاوہ اسے اس کی عظمت سے آگاہ کرتی ہے اور اس میں احساس تشکر ابھارتی ہے۔ اس گفتگو سے ضمنی طور پر یہ نتیجہ ہے کہ قرآنی لغت میں تسخیر دو معانی کے لئے آتا ہے۔ ایک انسان کے مفادات اور مصالح کے لئے مصروفِ خدمت ہونے (جیسے سورج اور چاند کی تسخیر) اور دوسرا انسانی اختیار ہونے (مثلاً کشتیوں اور دریاوٴں کی تسخیر کے معنی میں آیا ہے۔ اور یہ جو بعض کا خیال ہے کہ یہ آیات موجودہ زمانے میں تسخیر کے اصطلاحی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں (جیسے خلائی سفر کے ذریعے تسخیر ماہتاب)، یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ بعض قرآنی آیات میں ہے۔ و سخر لکم ما فی السمٰوٰت ومافی الارض جمیعاً منہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے۔ (جاثیہ۔ ۱۳) یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ تمام چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور تمام چیزیں زمین میں ہیں انسان کے لئے مسخر ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ فضا نوردوں کا تمام آسمانی کرات میں پہنچنا قطعاً محال ہے۔ قرآن میں بعض دوسری آیات ہیں کہ جو ممکن ہے اس قسم کی تسخیر کی طرف اشارہ ہوں۔ اس کے بارے میں ہم انشاء اللہ سورہ رحمن کی تفسیر میں بحث کریں گے۔ (موجودات کے انسان کے سامنے مسخر ہونے کے بارے میں سورہ رعد کی آیہ ۲ کے ذیل میں بھی بحث کی جائے گی)۔
۵۔ دائبین
ہم کہہ چکے ہیں کہ "دائب" مادہ "دؤب" سے ہے اس کا معنی ہے ایک عادت یا محکم سنت کے مطابق کا جاری رکھنا۔ البتہ سورج زمین کے گرد حرکت نہیں کرتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ سورج ہمارے گرد گھومتا ہے لیکن "دائب" کے معنی جگہ میں حرکت کرنے کا مفہوم نہیں ہے بلکہ کسی کام کو مسلسل جاری رکھنے کا مفہوم اس میں مضمر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سورج اور چاند نور افشانی کرتے ہیں اور نشوونما کا ذریعہ ہیں۔ کرہٴ زمین اور انسانوں کے لئے ان کا یہ پروگرام مسلسل پوری طرح منظم ہے (اور اس بات کو فراموش نہ کیجئے گا کہ "داب" کا ایک معنی عادت بھی ہے)۔ (تشریحی نوٹ: البتہ موجودہ زمانے کے ماہرین سورج کی دوسری قسم کی گردش کے قائل ہیں۔ مثلاً وہ اپنے مدار کے گرد گھومتا ہے اور جس نظامِ شمسی سے اس کا تعلق ہے اس کے ساتھ اس کہکشاں کے اندر حرکت کرتا ہے جس میں وہ موجود ہے)۔
۶۔ جو کچھ ہم خدا سے چاہتے ہیں کیا وہ دیتا ہے؟
زیر بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ: خدا نے تم پر لطف کیا اور جو کچھ تم نے اس سے طلب کیا اس کا کچھ حصہ تمہیں دیا۔ (توجہ رہے کہ "من کل ماسالتموہ" میں "من" تبعیضیہ ہے)۔ یہ اس بناء پر ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان خدا سے کوئی چیز چاہتا ہے کہ جس میں یقینی طور پر اس کا نقصان بلکہ بعض اوقات ہلاکت پنہاں ہوتی ہے لیکن وہ اس سے بےخبر ہوتا ہے لیکن عالم، حکیم اور رحیم خدا ہرگز اس قسم کا تقاضا پورا نہیں کرتا اور ا س کی بجائے شاید بہت سے مواقع پر انسان اپنی زبان سے خدا سے کوئی چیز طلب نہیں کرتا لیکن زبان حال سے اور اپنی فطرت سے اس کی تمنا کرتا ہے اور خدا اسے دے دیتا ہے اور کوئی مانع نہیں کہ "ما سالتموہ" میں زبان قال کا تقاضا بھی شامل ہو اور زبانِ حال کی آرزو بھی۔
۷۔ اس کی نعمتیں کیوں قابلِ شمار نہیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا وجود سرتاپا اس کی نعمتوں میں مستغرق ہے۔ اگر مختلف طبیعی علوم، علمِ عمرانیات، علم نفسانیات اور علم نباتات وغیرہ کی کتب کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان نعمتوں کا دامن کسی قدر وسیع ہے۔ اصولی طور پر ایک عظیم ادیب کے بقول ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں اور ہر نعمت پر شکر واجب ہے۔ اس سے قطع نظر ہم جانتے ہیں کہ ایک انسان کے بدن میں اوسطاً دس ملین ارب زندہ خیلے موجود ہیں ان میں سے ہر ایک ہمارے فعال بدن کا حصے۔ یہ عدد اس قدر بڑا ہے کہ اگر ہم ان خلیوں کو گننا چاہیں تو سینکڑوں سال درکار ہیں اور پھر یہ تو ہم پر خدائی نعمتوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ لہٰذا اگر ہم واقعاً اس کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو یہ ہمارے بس کی بات نہیں (و ان تعدوا نعمت اللہ لاتحصوھا)۔ انسان کے خون میں دو قسم کے گلوبل ہیں (Globules) (تشریحی نوٹ: چھوٹے چھوٹے زندہ موجودات جو خون میں تیرتے ہیں اور زندگی کے بارے میں بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے)۔ ہوتے ہیں۔ سرخ گلوبل کئی ملین ہیں اور اسی طرح سفید گلوبل بھی۔ سرخ گلوبل بدن کے خلیوں کی سوخت و ساز کے لئے آکسیجن پہنچاتے ہیں اور سفید گلوبل انسان کی صحت و سلامتی کی حفاظت کرتے ہیں اور جب جراثیم جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بغیر کسی استراحت اور آرام کے ہمیشہ خدمتِ انسان کے لئے کمربستہ رہتے ہیں۔
۸۔ افسوس کہ انسان ”ظلوم“ اور ”کفار“ ہے
گزشتہ مباحث سے ہم اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ خدا نے تمام موجودات کو حکم انسان کے سامنے مسخر کر دیا ہے اور اس قدر نعمتیں اسے عطا کر دی ہیں کہ اب کسی پہلو سے اس کے لئے کوئی کمی نہیں۔ لیکن یہ انسان نورِ ایمان سے اور تربیت سے دور رہنے کی بناء پر طغیان اور ظلم و ستم کے راستے پر قدم رکھتا ہے اور کفرانِ نعمت میں مشغول ہو جاتا ہے۔ خود غرض افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ خدا کی وسیع و عریض نعمتوں کو اپنے لئے منحصر کر لیں اور زمین کے وسائلِ حیات پر اپنا قبضہ جمالیں وہ خود تو تھوڑی سی مقدار کے علاوہ صرف نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود دوسروں کو ان تک پہنچنے سے محرو م رکھتے ہیں۔ یہ مظالم جو خود غرضی، استعمار اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اس کی زندگی کے پُرسکون ماحول کو طوفانوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ان کے باعث جنگیں برپا ہوتی ہیں، خون بہتا ہے اور اموال و نفوس کی ہلاکت کا سامنا پڑتا ہے۔ درحقیقت قرآن کہتا ہے: اسے انسان! تر یےدستِ اختیار میں تمام چیزیں اس قدر ہیں جو کافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ تو "ظلوم" اور "کفار" نہ بنے، اپنے حق پر قناعت کرے، دوسروں کے حقوق پر تجاوز نہ کرے اور کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ابراہیمؑ بت شکن کی اصلاحی دعائیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیت میں سچے مومنین اور نعمات الہی کا شکر ادا کرنے والوں کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر بحث آیت میں راہ خدا میں استقامت دکھانے والے اور اس کے عبد شاکر ابراہیم (علیه السلام) کی کچھ دعائیں بیان کی گئی ہیں تاکہ گزشتہ تمام بحثوں کی تکمیل ہو جائے اور یہ امر خدائی نعمتوں سے بہترین فائدہ اٹھانے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے نمونہ بن جائے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیه السلام) نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا: پروردگارا! اس شہر (مکہ) کو سر زمین امن و امان قرار دے (وَ إِذْ قالَ إِبْراھیمُ رَبِّ اجْعَلْ ھَذَا الْبَلَدَ آمِناً) اور مجھ پر میرے بیٹے پر اپنا لطف و عنایت فرما اور بتوں کی پرستش سے دور رکھ (وَ اجْنُبْنی وَ بَنِیَّ اَنْ نَعْبُدَ الْاَصْنامَ)۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بت پرستی کتنی بڑی مصیبت اور گھروں کو ویران کرنے والی ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے اس راستے میں برباد ہونے والوں کو دیکھا ہے۔ پروردگارا! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے (رَبِّ إِنھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثیراً مِنَ النَّاسِ)۔ گمراہ بھی کیسی خطرناک کہ جس میں وہ اپنی عقل و خرد تک گنوا بیٹھتے ہیں۔ میرے اللہ میں تیری توحید کی دعوت دیتا ہوں اور سب کو تیری طرف پکارتا اور بلاتا ہوں۔ "جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے اگر وہ قابل ہدایت اور بخشش ہے تو اس کے بارے میں محبت و احسان فرما کیونکہ تو بخشنے والا مہربان ہے" (فَمَنْ تَبِعَنی فَإِنّہ مِنِّی وَ مَنْ عَصانی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحیمٌ)۔ دراصل ان الفاظ میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) بارگاہ خدا وندی میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر میری اولاد بی راہ توحید سے منحرف ہو جائے اور بت پرستی کی طرف متوجہ ہو جائے تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور اگر غیر اس راستے پر گامزن ہو جائیں تو وہ میرے بیٹوں اور بائیوں اور بھائیوں کی مانند ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی یہ موٴدبانہ اور انتہائی محبت آمیز تعبیر اس لحاظ سے بھی قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہتے کہ جو شخص میری نافرمانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے اور اسے اس طرح یا اس طرح سزا دے بلکہ کہتے ہیں-: جو شخص میری نافرمانی کرے تو تو بخشنے والا اور مہربان ہے۔ پھر اپنی دعا اور درخواست جاری رکھتے ہیں: پروردگارا! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے گھر کے پاس کہ جو تیرا حرم ہے بے آب و گیاہ سر زمین میں ٹھہرایا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں (رَبَّنا إِنِّی اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتی بِوادٍ غَیْرِ ذی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنا لِیُقیمُوا الصَّلاةَ)۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب خدا نے انھیں ان کی کنیز ہاجرہ سے فرزند عطا کیا۔ جس کا نام انہوں نے اسماعیلؑ رکھا۔ اس پر ان کی پہلی بیوی سارہ کے دل میں حسد پیدا ہو گیا۔ وہ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کی موجودگی برداشت نہ کر سکی۔ اس نے ابراہیم (علیه السلام) سے تقاضا کیا کہ اس ماں بیٹے کو کہیں اور لے جائیں۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے فرمان خدا پر یہ بات مان لی اور اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر سرزمین مکہ میں چلے آئے۔ ان دنوں یہ علاقہ بالکل خشک بنجر اور ویران تھا۔ آپؑ نے انہیں وہاں ٹھہرایا اور خدا حافظ کہہ کر چلے آئے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس گرم اور تپتی ہوئی زمین پر ماں اور بیٹے کو پیاس لگی۔ ہاجرہ نے اپنے ننھے سے بچے کی جان بچانے کی بہت کوشش کی۔ دوسری طرف خدا کا ارادہ تھا کہ یہ سرزمین ایک عظیم مرکز عبادت بنے اس موقع پر زمزم کا چشمہ جاری ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ صحرا نورد قبیلہ "جرہم" وہاں سے گزارا۔ اسے سارے ماجرے کا پتہ چلا۔ اس نے وہیں پڑاو ڈال لیا اور مکہ آہستہ آہستہ ایک آبادی کی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی دعاء کو اس طرح سے جاری رکھا: اب جبکہ وہ تیرے عظیم گھر کے احترام میں اس جلا ڈالنے والے بیابان میں سکونت پذیر ہو گئے ہیں تو تو کچھ لوگوں کا دل ان کر طرف موڑ دے اور ان کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے (فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَھْوی إِلَیْھِمْ) اور انہیں طرح طرح کی (مادی و معنوی) ثمرات سے بہرہ مند کر دے، شاید وہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرے (وَ ارْزُقْھُمْ مِنَ الثَّمَراتِ لَعَلّھُمْ یَشْکُرُونَ)۔ ایک موحد اور آگاہ انسان جانتا ہے کہ علم الہی کے مقابلے میں اس کا علم محدود ہے اور اس کے مصالح کو صرف خدا جانتا ہے۔ اکثر وہ خدا سے ایسی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے جو اس کے لئے قرین مصلحت نہیں ہوتیں اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ جن میں اس کی مصلحت ہے لیکن وہ ان کے لئے درخواست نہیں کرتا اور کبھی اس کے دل کی آرزوئیں ہوتی ہیں کہ جن سب کو وہ زبان پر نہیں لا سکتا لہذا مذکورہ دعاوٴں اور تقاضوں کے بعد حضرت ابرہیم (علیه السلام) یوں عرض کرتے ہیں پروردگارا! تو ان سب چیزوں سے اچھی طرح آگاہ ہے جنہیں ہم چھپاتے ہیں یا آشکار کرتے ہیں (رَبَّنا إِنَّکَ تَعْلَمُ ما نُخْفی وَ ما نُعْلِن) اور زمین و آسمان میں کوئی چیز خدا سے مخفی نہیں ہے (وَ ما یَخْفی عَلَی اللَّہِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لا فِی السَّماء)۔ اگر میں اپنے بیٹے اور بیوی کے فراق میں غمگین ہوں تو تو جانتا ہے اور اگر آشکار بھی میری آنکھ سے آنسو چھلکتے ہیں تو تو انہیں دیکھتا ہے۔ اور اگر غم فراق میرے دل پر چھایا ہوا ہے تو بھی تو جانتا ہے اور تیرے حکم کی اطاعت سے میرا دل ساتھ ساتھ مطمئن بھی ہے تو بھی تجھے خبر ہے۔ اور اگر وقت جدائی میری بیوی مجھ سے کہتی ہے: الی من تکلنی؟ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہو؟ تو اس سے بھی تُو آگاہ ہے۔ تو ان سب چیزوں سے آگاہ ہے۔ اس سر زمین اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے مضبوطی سے بندھا ہوا ہے۔ یہ سب تیری بارگاہ علم میں روشن ہے۔ اس کے بعد نعمات پروردگار کے شکر کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں سے اہم ترین یہ تھی کہ پروردگار نے عالم پیری میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو دو آبرومند بیٹے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے تھے بارگاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں: حمد و سپاس ہے اس اللہ کے لئے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق بخشے (الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذی وَھَبَ لی عَلَی الْکِبَرِ إِسْماعیلَ وَ إِسْحاقَ) (تشریحی نوٹ: جب حضرت اسماعیل (علیه السلام) اور حضرت اسحاق (علیه السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر کیا تھی۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) ۹۹ سال کے تھے کہ پہلے فرزند اسماعیل (علیه السلام) پیدا ہوئے اور ۱۱۲ سال کے تھے جب اسحاق (علیه السلام) نے آنکھ کھولی۔ بعض نے اس سے کم اور بعض نے زیادہ عمر لکھی ہے تاہم یہ مسلم ہے کہ اس وقت آپ کی عمر اتنی تھی کہ معمولاً اس عمر میں بچے کی پیدائش بہت بعید معلوم ہوتی تھی۔) جی ہاں! یقینا میرا خدا دعاوٴں کو سنتا ہے (إِنَّ رَبِّی لَسَمیعُ الدُّعاء)۔ پھر بھی درخواست اور دعا جاری رکھتے ہیں اور عرض کرتے ہیں پروردگارا! مجھے نماز قائم کرنے والا قرار دے اور اے میرے خدا! میری اولاد میں سے بھی اسی طرح قرار دے (رَبِّ اجْعَلْنی مُقیمَ الصَّلاةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتی)۔ پروردگارا! میری دعاء قبول کر لے (رَبَّنا وَ تَقَبَّلْ دُعاء)۔ اور آخری تقاضا ابراہیم (علیه السلام) نے یہ کیا: پروردگارا! مجھے، میرے ماں باپ کو سب مومنین کو اس روز بخش دینا جس دن حساب قائم ہو (رَبَّنَا اغْفِرْ لی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ)۔
چند اہم نکات ۱۔ کیا مکہ اس وقت شہر تھا؟
زیر نظر آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ ابراھیم (علیه السلام) اچانک عرض کرتے ہیں کہ خدا وندا! میں اپنے بیٹے کو ایک ایسی سرزمین میں چھوڑ رہا ہوں جہاں پانی ہے نہ آبادی اور نہ زراعت۔ یقینا یہ سرزمین مکہ میں ورود کا آغاز ہے کہ جب پانی تھا نہ آبادی، نہ مکان تھا نہ مکین۔ صرف خانہ خدا کے باقی ماندہ آثار تھے جو وہاں دکھائی دیتے تھے اور کچھ خشک اور بےآب و گیاہ پہاڑ تھے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اس علاقہ کا یہی ایک سفر نہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھی آپ نے اس سرزمین مقدس پر بارہا قدم رکھا جبکہ تدریجاً مکہ شہر کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ قبیلہ "جرہم" وہاں سکونت اختیار کر چکا تھا۔ چشمہ زمزم پیدا ہونے پر علاقہ رہائش کے قابل ہو چکا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی یہ دعائیں ان کے کسی بعد کے سفر سے تعلق رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کہتے ہیں: خدا وندا! اس شہر کو جاء امن و امان قرار دے۔ اور یہ جو وادی "غیر ذی زرع" کہا ہے تو یہ یا گزشتہ زمانے کی بات کر رہے ہیں اور اپنے پہلے سفر کی یاد تازہ کر رہے ہیں اور یا اس طرف اشارہ ہے کہ سرزمین مکہ ایک شہر بن جانے کے بعد بھی ناقابل زراعت ہے لہذا اس کی ضروریات باہر سے آنا چاہئیں کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ خشک پہاڑوں پر مشتمل ہے جہاں پانی بہت کم ہے۔
۲۔ مکہ سرزمین امن
یہ بات جاذب نظر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سرزمین میں جو سب سے پہلی دعا کی وہ (امن) کے لئے تھی۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ امن کی نعمت انسانی زندگی کے لئے، کسی جگہ قیام کرنے کے لئے اور ہر قسم کی تعمیرِ آبادی اور ترقی کے لئے پہلی شرط ہے اور ہے بھی ایسا ہی۔ اگر کسی جگہ امن و امان نہ ہو تو وہ رہنے کے قابل نہیں اگرچہ دنیا کی تمام نعمتیں وہاں موجود ہوں۔ اصولی طور پر وہ شہر، آبادی اور ملک کہ جو امن کی نعمت سے محروم ہو گویا وہ تمام نعمتیں کھو بیٹھا ہے۔ یہاں اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی دعا کو دو طرح سے قبول کیا ہے۔ اسے امنیت تکوینی بھی دی کیونکہ یہ ایسا شہر ہو گیا کہ جس نے پوری تاریخ میں امن کے لئے تباہ کن حوادث بہت کم دیکھے ہیں اور اسے امنیت تکوینی بھی دی۔ یعنی خدا نے حکم دیا ہے کہ تمام انسان بلکہ جانور تک اس زمین میں امن و امان میں رہیں۔ یہاں کے جانوروں کا شکار کرنا ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ جو مجرم اس حرم اور خانہ خدا میں پناہ لیں ان کا تعاقب بھی جائز نہیں۔ ایسے مجرمین کا صرف پانی بند کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ باہر نکل آئیں اور سرتسلیم خم کر دیں۔) یہاں تک کہ جو مجرم اس حرم اور خانہ خدا میں پناہ لیں ان کا تعاقب بھی جائز نہیں۔ ایسے مجرمین کا صرف کھانا پانی بند کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ باہر نکل آئیں اور سر تسلیم خم کر دیں۔ (تشریحی نوٹ: اس وقت جبکہ ہم تفسیر کے اس حصہ کو مرتب کر رہے ہیں امت اسلامی پر ایک نہایت اندوہناک سانحہ گزرا ہے۔ سرزمین حرم پر اطراف خانہ خدا میں سعودی پولیس نے وحشت و درندگی کی انتہا کر دی۔ اس نے ایرانی حاجیوں پر گولی چلائی۔ سیکڑوں عورتیں بچے بوڑھے شہید ہو گئے۔ ایک انتہائی منظم پرامن اور باوقار جلوس پر یہ ظلم صرف اس "جرم" پر ہوا کہ وہ عالمی طاغوتی طاقتوں امریکہ، روس اور اسرائیل کے خلاف اظہار نفرت کر رہے تھے۔ یہ واقعہ ان دنوں میں ہوا جب خلیج فارس میں امریکہ نے کھلم کھلا فوجی مداخلت شروع کر دی ہے تاکہ ایران کے اسلامی انقلاب سے اپنی رسوائی سے بدلا لے سکے۔ ایسے میں جبکہ مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط استعماری ایجنٹوں، فوجی آمروں اور بادشاہوں نے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف ایکا کر لیا ہے اور سب امریکہ سے تعاون پر کمربستہ ہیں۔ سعودیوں نے نہ فقط سرزمین کعبہ کو اسلام کے صریح احکام کے خلاف زائرین حرم کے خون سے لالہ زار بنایا بلکہ ایسا پوری دنیا میں ان مظلوموں کے خلاف پراپیکنڈہ کیا۔ صہیونیت اور استعماری قوتوں کے تمام نشریات ادارے ان مظلوموں کے خلاف استعمال ہوئے۔ قاتلوں کو امن کا محافظ اور مشرکین اور دشمنان اسلام کے خلاف فریاد کرنے والوں کو امن کا دشمن قرار دیا گیا۔) سعودی ایسا کیوں نہ کرتے کیوں کہ یہ اسی یزید اور حجاج کے افکار کے وارث ہیں جنہوں نے خانہ خدا کی حرمت پامال کی تھی (ثاقب) (اگست ۱۹۸۷ء)۔
۳۔ ابراہیم (علیه السلام) بت پرستی سے دوری کی دعا کیوں کرتے ہیں؟
اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) معصوم نبی تھے اور ان کے بلاواسطہ بیٹے جو آیت کے لفظ ”بنی“ کے یقینی مصداق ہیں یعنی اسماعیل (علیه السلام) اور اسحاق (علیه السلام) بھی معصوم پیغمبر تھے اس کے باوجود وہ تقاضا کرتے ہیں: خدایا مجھے اور انھیں بتوں کی پوجا سے دور رکھ! یہ بات بت پرستی کے خلاف جہاد کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے دلیل ہے۔ یہاں تک کہ معصوم نبی اور بت شکن بھی اس سلسلہ میں خدا سے دعا کرتے ہیں۔ یہ بعینہ پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنی وصیتوں میں حضرت علی (علیه السلام) یا دوسرے آئمہ کو جو ان کے جانشین تھے انہیں نماز کی تاکید کرنے کے مشابہ ہے جبکہ ان کے بارے میں ترک نماز کا احتمال کا ہرگز کوئی مفہوم نہیں بلکہ اصولی طور پر نماز ان کی سعی و کوشش سے برپا ہوئی ہے۔ تو اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے کس طرح سے کہا کہ پروردگارا! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے حالانکہ وہ پتھر اور لکڑی کے سوا کچھ نہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ: اولاً۔۔۔۔ بت ہمیشہ پتھر اور لکڑی کے نہیں ہوتے تھے بلکہ کبھی کبھی فرعون اور نمرود جیسے افراد لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو ”رب اعلیٰ“ ”زندہ کرنے والا“ اور ”مارنے والا“ کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے۔ ثانیاً۔۔۔۔ بعض اوقات پتھر اور لکڑی کے بتوں کو ان کے متولی اور کارندے اس طرح سے آراستہ و پیراستہ کرتے اور ان کے لئے ایسے احترامات بجا لاتے کہ وہ واقعاً سادہ لوح عوام کے لئے گمراہ کن ہو جاتے تھے۔
۴۔ ابراہیم (علیه السلام) کے تابع کون ہیں؟
زیر بحث آیات میں ہے کہ ابراہیم کہتے ہیں: خدا وندا! وہ لوگ جو میری پیروی اور اتباع کرتے ہیں۔ یہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار صرف وہ لوگ تھے جو ان کے زمانے میں تھے یا ان کے بعد ان کے دین پر تھے یا ساری دنیا کے توحید پرست اور خدا پرست اس میں شامل ہیں کیونکہ ابراہیم (علیه السلام) توحید اور بت شکنی کی علامت اور نمونہ ہیں۔ قرآنی آیات میں ملت اسلامیہ اور دین اسلام کو ملت و دین ابراہیمی کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا ہے۔ (بحوالہ حج۔۷۸)۔ اس سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کی دعاء تمام توحید پرستوں اور راہِ توحید میں جدوجہد کرنے والوں کے لئے ہے۔ آئمہ اھلبیت (علیه السلام) سے مروی روایات میں بھی اس تفسیر کی تاکید کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے۔ آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں: من احبنا فھو منا اھل البیت قلت: جعلت فداک منکم قال: منا واللہ اما سمعت قول ابراہیم! ”من تبعنی فانہ منی“ جو شخص ہم سے محبت رکھے (اور اہل بیت کی سیرت پر چلے) وہ ہم میں سے ہے۔ راوی نے پوچھا: میں آپ پر قربان، واقعاً آپ میں سے ہے؟ فرمایا: واللہ ہم میں سے ہے۔ کیا تم نے ابراہیم کی گفتگو نہیں سنی جو کہتے ہیں من تبعنی فانہ منی (جو شخص میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے) (بحوالہ تفسیر نور الثقلین، جلد ۲ ص۵۴۸)۔ یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ کسی مکتب کی پیروی اور اس کے پروگرام میں سے تعلق کسی خاندان سے روحانی طور پر تعلق ہونے کے مترادف ہے۔ ایک اور حدیث میں امام امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: نحن اٰل ابراہیم افترغبون عن ملة ابراہیم و قد قال اللہ تعالیٰ فمن تبعنی فانہ منی ہم آل ابراہیم ہیں۔ تو کیا ابراہیم کی ملت اور دین سے منہ موڑتے ہو؟ حالانکہ خدا وند عالم (ابراہیم کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتا: جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے۔
۵۔ وادی ”غیر ذی زرع“ اور خدا کا پُرامن حرم
جو لوگ مکہ گئے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خانہٴ خدا مسجد حرام اور پورا مکہ مکرمہ چند خشک اور بےآب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ گویا پتھروں کو پہلے ایک چلتے ہوئے تنور میں بھونا گیا ہے اور پھر انھیں ان کی جگہ پر نصب کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ خشک اور جلا دینے والی زمین عبادت کا عظیم ترین مرکز اور روئے زمین پر توحید کا اولین مرکز ہے علاوہ ازیں خدا کا حرم امن ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے امنیت تکوینی کا بھی حامل ہے اور امنیت تشریعی کا بھی۔ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ایسا مرکز ایسی سرزمین پر کیوں۔ اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ قاصعہ میں نہایت خوبصورت اور عمدہ الفاظ میں اس کا فلسفہ بیان فرمایا ہے:۔ وضعہ باوعر بقاع الارض حجراً و اقل نتائق الدنیا مدراً۰۰۰ ۰۰۰۰بین جبال خشنتہ ورمال دھشتہ۔۔۔۔۔ولو اراد سبحانہ ان یضع بیتہ الحرام و مشاعرہ العظام بین جنات و انھار و سھل وقرار جم الاشجار، دانی الثمار، ملتف البنی، متصل القری، بین برۃ سمراء و روضة خضراء، و اریاف محدقہ، و عراص مغدقة و ریاض ناظرة و طرق عامرہ لکان قد صغر قدر الجزاء علی حسب ضعف البلاء، ولو کان الاساس محمول علیھاو الاحجار المرفوع بھا، بین زمردة خضراء و یاقوتة حمراء، ونور و ضیاء، لخفف ذالک مصارعة الشک فی الصدور، و لوضع مجاھدة ابلیس عن القلوب، ولنفی معتلج الریب من الناس، و لٰکن اللہ یختبر عبادہ بانواع الشدائد، و یتعبدھم بانواع المجاھد ویبتلیھم بضروب المکارة، اخراجا للتکبر من قلوبھم، و اسکاناً للتذلل فی نفوسھم، و لیجعل ذٰلک ابواباً فتحاً الیٰ فضلہ، و اسباباً ذللا لعفوہ۔ خدا نے اپنا گھر سنگلاخ ترین علاقے، نہایت بے آب و گیاہ زمین، سخت پہاڑوں اور ریگستانی علاقے میں قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنا گھر اور احرام اور حج جیسی عظیم عبادت کا مقام کسی ایسے علاقے میں بنا سکتا تھا کہ جہاں باغات ہوتے، نہریں بہہ رہی ہوتیں، زمین ہموار ہوتی، ہر طرف درخت ہوتے، جہاں پھلوں پھولوں کی فراوانی ہوتی، ارد گرد محلات اور آبادیاں ہوتیں گندم کے کھیت ہوتے سبزہ ہی سبزہ ہوتا، خوبصورت کیاریاں ہوتیں، پانی سے سیراب چمن ہوتے، شاداب گلستان ہوتے اور آباد شاہراہیں ہوتیں۔ لیکن عظیم حج اور عبادت کی آزمائش جس قدر سہل اور آرام دہ ہوتی اجر و جزا بھی اسی قدر کم ہوتی۔ نیز اگر خدا چاہتا تو کعبہ کے ستون اور اس کی عمارت کے پتھر سبز زمرد اور سرخ یاقوت کے ہوتے جن سے روشنی پھوٹتی لیکن یہ چیز سینوں سے شک و شبہات کا ٹکراوٴ کم کر دیتی اور دلوں سے شیطان کی دوڑ دھوپ کا اثر زایل کر دیتی اور لوگوں سے شکوک کے خلجان دور کر دیتی مگر اللہ اپنے بندوں کو گوناگوں سختیوں سے آزماتا ہے اور ان سے ایسی عبادت کا خواہاں ہے جو طرح طرح کی مشقتوں سے بجا گئی ہو اور انھیں قسم قسم کی نا گواریوں سے جانچتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے غرور تکبر کو نکال باہر کرے اور ان کے نفوس میں عجز و فروتنی کو جگہ دے اور یہ کہ اس آزمایش کی راہ سے اپنے فضل و امتنان کے کھلے ہوئے دروازوں تک انھیں پہنچائے اور اُسے اپنی معافی اور بخشش کا آسان وسیلہ قرار دے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ، خطبہ ۱۹۲)۔
۶۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں
زیر نظر آیات میں توحید و دعا کے ہیرو اور بتوں، بت پرستی اور ظالموں کے خلاف قیام کرنے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی بارگاہ خدا میں سات دعائیں مذکورہیں۔ پہلی دعاء: توحیدی معاشرے کے عظیم مرکز شہر مکہ کی امنیت کے بارے میں ہے اور یہ دعاء نہایت معنی خیز ہے۔ دوسری دعاء: بتوں کی پرشتش سے دور رہنے کے بارے میں ہے کہ جو تمام دینی عقائد اور پروگراموں کی اساس ہے۔ تیسری دعاء: ان کی اولاد اور ان کے مکتب کے پیروکاروں کی طرف تمام لوگوں اور خدا پرستوں کے قلبی میلان اور فکری رجحان کے بارے میں ہے کہ جو معاشرے میں کسی انسان کا عظیم ترین سرمایہ ہو سکتا ہے۔ چوتھی دعاء: شکر گزاری کے مقدمہ کے طور پر اور خالق نعمات کی طرف مزید توجہ کے جزبہ سے انواع و اقسام کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کے بارے میں ہے۔ پانچویں دعاء: قیام نماز کی توفیق کے متعلق ہے اور یہ انسان کے خدا کے ساتھ عظیم ترین رشتہ کی علامت ہے اور یہ دعا حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی کرتے ہیں۔ چھٹی دعاء: قبولیت دعاء کے بارے میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وہ دعا قبول کرتا ہے کہ جو پاک دل اور بے آلائش روح سے نکلے۔ یہ دعاء درحقیقت ضمنا قلب و روح کی پاکیزگی کی توفیق کے لئے ہے۔ ساتویں دعاء: اور حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا آخری تقاضا اس بارے میں ہے کہ اگر ان سے کوئی لغزش سر زد ہوئی ہے تو بخشنے والا اور مہربان خدا انہیں اپنے لطف و بخشش سے نوازے اور اسی طرح روز قیامت ان کے ماں باپ اور تمام مومنین کو اپنے لطف و رحمت سے بہرہ ور کرے۔ اس طرح حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں امنیت سے شروع ہوتی ہیں اور مغفرت و بخشش پر تمام ہوتی ہیں۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ ان دعاوٴں میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے تقاضا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے لئے بھی طلب کرتے ہیں کیونکہ مردانِ خدا کبھی بھی صرف اپنے لئے نہیں سوچتے۔
۷۔ کیا ابراہیم (علیه السلام) اپنے باپ کے لئے دعاء کر رہے ہیں؟
اس میں شک نہیں کہ آزر بت پرست تھا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ اس کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم کی کوششیں موثر ثابت نہ ہو سکیں اور اگر ہم یہ مان لیں کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو یہ سوال سامنے آئے گا کہ ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) اس کی بخشش کی دعاء کیوں کر رہے ہیں حالانکہ قرآن صراحت سے مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے روکتا ہے۔ (توبہ۔۱۱۳)۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ آزر کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ جو علماء نے کہا ہے کہ لفظ "اب عربی زبان میں کبھی چچا کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ زیر بحث آیات کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو یہ بات پوری طرح قابل و قبول معلوم ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ "اب" اور "والد" میں فرق ہے۔ لفظ "والد" کہ جو زیر بحث آیات میں بھی استعمال ہوا ہے صرف باپ کے معنی میں ہے لیکن لفظ "اب" کہ جو آزر کے متعلق آیا ہے چچا کے معنی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ مندرجہ بالا آیات اور سورہ توبہ کی آیات کہ جن میں مشرکین کے استغفار کی ممانعت کی گئی ہے کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو ہم نہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آزر یقینا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۵ ص ۲۴۸۔ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جس روز آنکھیں پتھرا جائیں گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیات میں یوم حساب کے بارے میں گفتگو تھی۔ اسی مناسبت سے زیر نظر آیات میں ظالموں اور ستم گروں کی کیفیت مجسم کی گئی ہے اور ان کے انجام کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی ہے۔ ضمناً مسائل معاد کے اس حصہ کے ذکر سے گزشتہ مباحث توحید کی تکمیل بھی ہوتی ہے۔ پہلے ظالموں اور ستم گروں کو تہدید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبر! کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں اور ستم گروں کے کام سے غافل ہے۔ (و لا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ غافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ)۔ یہ بات درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے کہ جو کہتے ہیں کہ اگر اس عالم کا کوئی عادل خدا ہے تو پھر اس نے ظالموں کو کیوں ان کی حالت پر چھوڑ رکھا ہے۔ کیا وہ ان کی حالت سے غافل ہے یا پھر کیا وہ جانتا تو ہے لیکن انہیں روکنے کی قدرت نہیں رکھتا؟ اس سوال کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ خدا ہرگز غافل نہیں ہے۔ اگر وہ انہیں فوراً سزا نہیں دیتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جہان میدان عمل ہے اور یہ انسان کی آزمائش و پرورش کا مقام ہے اور یہ مقصد آزادی عمل کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ لیکن آخر کا ان کا یوم حساب آ کے رہے گا۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: خدا ان کی سزا اور عذاب ایسے دن پر اٹھا رکھا ہے جس میں خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پتھرا جائیں گی اور ایک نقطہ پر لگی بےحس و حرکت ہو کر رہ جائیں گی (إِنَّما یُؤَخِّرُھمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فیہِ الْاَبْصارُ)۔ اس روز کی سزا اور عذاب اس قدر وحشت ناک ہو گا کہ شدت خوف کے باعث یہ ستمگر اپنی گردنیں اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ ان کی پلکیں بھی حرکت نہ کریں گی اور شدت اضطراب سے ان کے دل ویران ہو جائیں گے (مُھْطِعینَ مُقْنِعی رُؤُسِھِمْ لا یَرْتَدُّ إِلَیْھِمْ طَرْفھُمْ وَ اَفْئِدَتُھُمْ ھَواء)۔ تشخص "شخوص" کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے آنکھوں کا بےحرکت ہو کر ایک ہی نقطہ پر جم کر رہ جانا۔ ”مھطعین“ ”اھطاء“ کے مادہ سے گردن اونچی کرنے کے معنی میں ہے۔ بعض نے اسے تیز ہونے کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ذلت و عجز کے ساتھ دیکھنے کے معنی میں ہے لیکن آیت کے دیگر حصوں کی طرف توجہ کرنے سے پہلا معنی ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ "مقنعی" "اقناع" کے مادہ سے آسمان کی طرف سر بلند کرنے کے معنی میں ہے۔ "لا یَرْتَدُّ إِلَیْھِمْ طَرْفھُمْ" کا مفہوم یہ ہے کہ وحشت کے مارے ان کی پلکیں ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتیں گویا مردوں کی آنکھوں کی طرح بےکار ہو چکی ہیں۔ "وَ اَفْئِدَتُھُمْ ھَواء" ان کے دلوں کے ویران ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے وحشت ناک خبر سنائی تو اچانک میرا دل بیٹھ گیا اور ویران ہو گیا۔ گویا وہ یوں حواس کھو دیں گے کہ انہیں کسی چیز کی ہوش نہ رہے گی یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی بےخبر ہو جائیں گے گویا ان میں نہ دل ہے نہ جان، کوئی چیز انہیں یاد نہیں۔ یہاں ان کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں:۔ آنکھوں کا خیرہ ہونا، گردنوں کا اونچا ہونا، سر کا بلند ہونا، پلکیں نہ جھپک سکنا اور سب کچھ بھول جانا۔ یہ اضطراب و وحشت کے عالم کی انتہائی عمدہ اور بولتی ہوئی تصویر کھینچی گئی ہے۔ اس روز ظالموں کی یہ حالت ہو گی۔ وہ ظالم کہ جو غرور تکبر میں ہر چیز کا مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے تھے۔ اس دن ان کی بےچارگی کا یہ عالم ہو گا کہ پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گے۔ ان ہولناک مناظر سے آنکھیں چرانے کے لئے آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوں گے کیونکہ وہ جدھر بھی دیکھیں گے وحشت ناک مناظر ان کے سامنے ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے تھے اور دوسروں کو بےعقل تصور کرتے تھے۔ اس روز عقل و ہوش گنواں بیٹھے گے اور دیوانے معلوم ہوں گے بلکہ ان کی آنکھیں مردوں کی آنکھوں کی طرح ویران اور بےحرکت ہوں گی۔ واقعاً جب قرآن کسی منظر کی تصویر کشی کرتا ہے تو نہایت مختصر عبارت میں کامل ترین تصویر پیش کر دیتا ہے۔ زیر نظر آیت بھی اس کا نمونہ ہے۔ اس کے بعد اس لئے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ خدائی عذاب کسی خاص گروہ سے مربوط ہے خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایک عمومی حکم دیتا ہے: تمام لوگوں کو اس دن سے ڈرو جس دن پروردگار کا درد ناک عذاب بدکاروں کا رخ کرے گا، جس وقت ظالم اپنے اعمال کے وحشت ناک نتائج دیکھیں گے تو پریشان ہوں گے اور ان کی تلافی کے لئے سوچیں گے اور عرض کریں گے: پروردگارا! ہمیں کچھ دیر کی مہلت دے دے (وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتیھِمُ الْعَذابُ فَیَقُولُ الَّذینَ ظَلَمُوا رَبَّنا اَخِّرْنا إِلی اَجَلٍ قَریب)۔ تاکہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے "ہم تیری دعوت قبول کریں اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں“ (نُجِبْ دَعْوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ)۔ لیکن فوراً ان کی بات مسترد کر دی جائے گی اور انہیں ہولناک پیغام دیا جائے گا کہ ایسا ہونا اب محال ہے۔ عمل کا دور ختم ہو چکا ہے "کیا تم ہی نہ تھے جو قسم کھایا کرتے تھے کہ تمہاری طاقت زوال پذیر نہیں ہے“ (اَ وَ لَمْ تَکُونُوا اَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَکُمْ مِنْ زَوالٍ)۔ تم وہی نہیں جو ان کے گھروں اور محلات میں رہتے تھے جنہوں نے ظلم کیا تھا (وَ سَکَنْتُمْ فی مَساکِنِ الَّذینَ ظَلَمُوا اَنْفُسَھُمْ)۔ جبکہ تم پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا (وَ تَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنا بِھمْ)۔ اور ہم نے تم سے گزشتہ امتوں کی ہلا دینے والی مثالیں بیان کیں (وَ ضَرَبْنا لَکُمُ الْاَمْثال)۔ لیکن ان عبرت انگیز درسوں میں سے کوئی بھی تم پر اثر انداز نہ ہو اور تم نے اسی طرح اپنے شرمناک اعمال اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا اور اب جبکہ تم الہی کیفر کردار کو پہنچے ہو تو مہلت دئے جانے کا تقاضا کر رہے ہو۔ کیسی مہلت؟ اب موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ پیغمبر اکرمؐ سے خطاب کیوں ہے؟
اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کبھی تصور بھی نہیں کرتے کہ خدا ظالموں کے کام سے غافل ہے لیکن اس کے باوجود زیر نظر آیات میں رسول اللہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔ یہ درحقیقت بالواسطہ طور پر دوسروں کو پیغام دیا گیا ہے اور یہ بھی فصاحت کا ایک فن ہے کہ کبھی کسی ایک شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے لیکن مراد دوسرا شخص یا دیگر اشخاص ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تعبیر دراصل تہدید کے لئے کنایہ ہے۔ مثلاً کبھی ہم کسی قصور وار سے کہتے ہیں: "فکر نہ کرو ہم تیری تقصیریں بھول چکے ہیں "یعنی موقع پر ہم تیرا حساب چکائیں گے۔ بہرحال اس دنیا کی اساس اس پر ہے کہ تمام افراد کو کافی حد تک مہلت دی جائے تاکہ جو کچھ ان کے اندر ہے ظاہر ہو جائے اور آزمایش اور تکامل کا میدان وسیع ہو۔ یہ اس لئے ہے کہ کسی کے لئے عذر و بہانہ باقی نہ رہے اور سب کو باز گشت، اصلاح اور تلافی کا موقع دیا جائے۔ اسی لئے گنہگاروں کو مہلت دی جاتی ہے۔
۲۔ ”یوم یاتیھم العذاب“ سے کون سا دن مراد ہے؟
زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ رسولؐ اللہ کو اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیں جس دن عذاب ان کی طرف آئے گا۔ اس دن سے کونسا دن مراد ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے تین احتمالات ذکر کئے ہیں: پہلا۔ یہ کہ یہ قیامت کا دن ہے۔ دوسرا۔یہ کہ یہ موت آنے کا دن ہے کہ جس دن عذاب الہی کا مقدمہ ظالموں کا رخ کرے گا۔ تیسرا۔یہ کہ کچھ دنیاوی سزاوٴں کے نزول کا دن ہے۔ مثلاً جس روز قوم لوط، قوم عاد و ثمود، قوم نوح اور فرعونیوں پر عذاب ہوا۔ یہ لوگ دریا کی دھاڑتی ہوئی موجوں کا شکار ہوئے، یا غرقِ طوفان ہوئے یا زلزلوں سے تباہ ہوئے، یا شدید ویران گر آندھیوں سے برباد ہوئے۔ اگرچہ بہت سے مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لیکن بعد میں آنے والے جملے واضح طور پر تیسرے احتمال کو تقویت دیتے ہیں اور نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد دنیاوی نوبود کرنے والے عذاب ہیں۔ اور ان کا شکار ہونے والے کہتے ہیں کہ پروردگارا! ہمیں تلافی کے لئے تھوڑی سی مہلت دے دے۔ "اخرنا" (ہمیں تاخیر میں ڈال دے)۔ یہ تعبیر دنیاوی زندگی جاری رکھنے کی درخواست کے لئے واضح قرینہ ہے۔ اگر وہ یہ بات روز قیامت آثار عذاب دیکھ کر کہتے تو انہیں کہنا چاہیے تھا: خدا وندا: ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دے، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۲۷ میں ہے: وَ لَوْ تَری إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنین۔ اگر تو انہیں اس عالم میں دیکھے کہ جب وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو تو دیکھے گا کہ وہ کہتے ہیں: کاش! ہم دنیا کی طرف پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور ہم مومنین میں سے ہو جاتے (تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہو گا)۔ کیونکہ فوراً بعد والی آیت میں ان کا جواب اس طرح دیا گیا ہے: وَ لَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُہُوا عَنْہُ وَ إِنَّہُمْ لَکاذِبُونَ۔ یہ جھوٹ کہتے ہیں اگر لوٹ بھی جائیں تو انہیں اعمال میں مشغول ہو جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر یہ آیت عذاب دنیا سے ڈرانے کے لئے ہے جبکہ اس سے پہلی آیت ”ولا تحسبن اللہ غافلاً --“ میں تو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے تو یہ امر ایک دوسرے سے کس طرح سے مناسبت رکھتا ہے؟ نیز لفظ "انما" اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں صرف قیامت میں سزا دی جائے گی اور وہاں ان پر عذاب ہو گا نہ کہ اس دنیا میں۔ لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ سے جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ سزا اور عذاب کہ جس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہے عذاب قیامت ہے جو سب ظالموں کو لاحق ہو گا لیکن دنیاوی سزائیں ایک تو عمومیت نہیں رکھتیں اور دوسرا بازگشت کے بھی قابل ہیں۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تباہ کن دنیاوی عذاب۔۔۔ مثلاً وہ المناک عذاب جو قوم نوح یا آل فرعون اور ان جیسے لوگوں کو دامن گیر ہوا۔ ایسا عذاب شروع ہو جائے تو توبہ کے دروازہ بند ہو جاتے ہیں اور لوٹ آنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب گنہگار لوگ ایسی سزاوٴں کا سامنا کرتے ہیں تو اظہار پشیمانی کرتے ہیں لیکن یہ درحقیقت ایک اضطراری ندامت ہوتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں۔ لہذا ایسا عذاب شروع ہونے سے پہلے تلافی کے درپے ہونا چاہیے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم سورہ نساء آیہ ۱۸۔ کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں)۔
۳۔ مہلت کا تقاضا کیوں قبول نہیں کیا جاتا؟
قرآن مجید کی مختلف آیات میں ہے کہ بُرے عمل کرنے والے اور ظالم مختلف مواقع پر تقاضا کریں گے کہ انہیں اپنے گزشتہ کی تلافی کے لئے پھر سے دنیاوی زندگی مل جائے۔ ان میں سے بعض آیات روز قیامت سے مربوط ہیں مثلاً سورہ انعام کی آیہ ۲۸ - جس کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے۔ بعض دیگر آیات وقت موت آ پہنچنے سے مربوط ہیں مثلاً سورہ مومنون کی آیہ ۹۹۔ اس میں فرمایا گیا ہے: حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت یہی حالت رہتی ہے یہاں تک کہ جب کہ کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے: خدا وندا! مجھے پلٹا دے۔ شاید میں اپنے کئے کی تلافی کر سکوں اور عمل صالح انجام دوں۔ کچھ آیات تباہ کن عذاب کے موقع سے مربوط ہیں۔ مثلاً زیر بحث آیات میں ہے کہ نزول عذاب کے وقت ظالم مہلت کا تقاضا کریں گے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ ان تمام مواقع پر جواب نفی میں ہے۔ اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ ان میں سے کوئی تقاضا بھی حقیقی نہیں ہے یہ سب اس اضطراری حالت اور انتہائی پریشانی کا رد عمل ہےجو ان بت ترین افراد کو لاحق ہو گی۔ ان کے یہ تقاضے کسی داخلی انقلاب اور زندگی میں تغیر کے لئے عزم حقیقی کی دلیل نہیں ہیں۔ یہ تو بالکل ان مشرکین کی سی حالت ہے جو دریاوٴں کے ہولناک گردابوں میں پھنس جائیں تو بڑے خلوص سے خدا کو پکارتے ہیں لیکن طوفان رکتے ہی اور ساحل نجات تک پہنچتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ اسی لئے قرآن مذکورہ آیات میں صراحت سے کہتا ہے: ولو ردو العادوا لما نھو عنہ اگر یہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو پھر وہی طرز عمل جاری رکھیں گے ان کی روش میں تبدیلی پیدا نہ ہو گی۔ یعنی۔ وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وسواب بھی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 2تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ظالموں کی کمزور سازشیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 2گزشتہ آیات میں ظالموں کی کچھ سزاوٴں کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ ان آیات میں بھی پہلے ان کے بعض کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پھر ان کے لئے بعض سخت اور دردناک سزاوٴں کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ہے: انہوں نے مکر کیا اور جس قدر ان سے بن پڑتا تھا سازش اور شیطنت کی (وَ قَدْ مَکَرُوا مَکْرَھُمْ)۔ خلاصہ یہ کہ تیرے دشمنوں نے اسلام کو مٹانے اور نابود کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔ ڈرانے دھمکانے سے لے کر اذیت و آزار اور قتل کی سازش کی۔ نیز وہ پراپگینڈا کرتے رہے اور طرح طرح کی تہمتیں لگاتے رہے۔ لیکن ان سب کے باوجود اللہ ان کی تمام سازشوں سے آگاہ ہے اور ان کے تمام کام اس کے رکارڈ میں ہیں (وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ)۔ بہرحال پریشان نہ ہو۔ یہ نیرنگیاں، منصوبے اور سازشیں تجھ پر اثر نہیں ڈالیں گی "اگر وہ اپنے مکر سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں" (وَ إِنْ کانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُولَ مِنْہُ الْجِبالُ)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں "مکر" ہر قسم کی چارہ جوئی اور چارہ اندیشی کے معنی میں ہے۔ یہ کام کبھی برائی کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی اس کے بغیر۔ اگرچہ موجودہ فارسی زبان میں یہ لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن عربی ادب کے لحاظ سے اس کا معنی عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی یہ لفظ خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ) کے بارے میں دو احتمال ذکر کئے ہیں۔ بعض مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے االمیزان میں کہا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا ان کے تمام منصوبوں چالبازیوں اور سازشوں پر پورا احاطہ رکھتا ہے۔ بعض دیگر مثلاً مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان کے مکر کی سزا خدا کے ہاں ثابت ہے لہذا یہ جملہ ”وَ عِنْدَ اللَّہِ مَکْر ھُمْ“ کی تقدیر میں ہے اور "لفظ جزاء" جو مضاف ہے محذوف ہے۔ البتہ پہلا معنی بلاشبہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ اور کسی قسم کے حذف و تقدیر کا بھی محتاج نہیں ہے۔ پہلا جملہ کہ جس میں ہے۔ "اگرچہ ان کا مکر پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے" یہ بھی اسی تفسیر کو تقویت دیتا ہے۔ یعنی اگرچہ وہ منصوبہ بندی اور سازشوں میں بڑے طاق ہوں، خدا ان سے زیادہ آگاہ اور زیادہ قدرت والا ہے اور ان کی سازشوں کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ دوبارہ روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے اور ظالموں اور بدکاروں کو دھمکی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تم یہ گمان نہ کرنا کہ خدا نے انبیاء سے جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرے گا (فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّہَ مُخْلِفَ وَعْدِہِ رُسُلَہُ)۔ کیونکہ وعدہ خلافی تو وہ کرتا ہے جو قادر و توانا نہ ہو یا سزا و انتقام اس کی لغت میں نہ ہو لیکن "خدا تو توانا بھی ہے اور صاحب انتقام بھی (إِنَّ اللَّہَ عَزیزٌ ذُو انتِقامٍ)۔ یہ آیت درحقیقت ایک گزشتہ آیت "ولا تحسبن اللہ غافلاً عما یعمل الظالمون" کی تکمیل کرتی ہے۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہو کہ ظالموں کو مہلت ملی ہوئی ہے تو وہ اس لئے نہیں ہے کہ پروردگار ان کے اعمال سے غافل ہے اور نہ اس لئے کہ وہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا بلکہ ان کے تمام حساب ایک ہی دن چکا دے گا اور انہی عادلانہ طور پر سزا دے گا۔ لفظ "انتقام" موجودہ فارسی میں تلافی کرنا، کینہ نکالنا اور معاف نہ کرنے کا مفہوم بھی لئے ہوئے ہے۔ دراصل اس کا یہ معنی نہیں۔ بلکہ "انتقام" کا مفہوم سزا دینا اور عذاب کرنا ہی ہے۔ ایسی سزا کہ جو خدا استحقاق اور عدالت کی بنا پر دے گا بلکہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر خدا کی طرف سے ایسا انتقام نہ ہو تو یہ اس کی حکمت و عدالت کے خلاف ہو گا۔ مزید فرمایا گیا ہے: یہ سزا ایسے دن دی جائے گی جبکہ یہ زمین دوسری زمین میں تبدیل ہو جائے گی اور یہ آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہو جائے گا (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّماواتُ)۔ اس روز ہر چیز تباہی کے بعد پھر سے صورت پذیر ہو گی اور انسان نئے حالات کے ساتھ نئے عالم میں قدم رکھے گا۔ ایسا عالم کہ جس کی تمام چیزیں اس عالم سے مختلف ہوں گی "اس کی وسعت، اس کی نعمتیں اور اس کی سزائیں سب مختلف ہوں گی" اور اس روز جو کچھ بھی کسی کے پاس ہے وہ سب پوری طرح واحد و قہار خدا کے سامنے ظاہر ہو جائے گا (وَ بَرَزُوا لِلَّہِ الْواحِدِ الْقَھَّار)۔ "برزو" اصل میں "براز" (بر وزن "فراز") کے مادہ سے فضا اور وسیع جگہ کے معنی میں لیا گیا ہے۔ "برزو" کا معنی ایسی فضا اور وسیع علاقہ میں ہونا ہے کہ جس کا لازمی نتیجہ ظاہر اور آشکار ہونا ہے۔ اسی وجہ سے "برزو عام طور پر "ظہور" کے معنی میں آتاہے (غور کیجئے گا)۔ روز قیامت انسان کے خدا کے سامنے ظاہر ہونے کا کیا معنی ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں۔ بہت سوں نے اسے قبروں سے باہر نکلنے کے معنی میں لیا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بروز کا مطلب انسان کے اندر اور باہر کا سب کچھ ظاہر ہو جانا ہو جیسا کہ سورہ مومن کی آیہ ۱۶۔ میں فرمایا گیا ہے: یوم ھم بارزون لا یخفی علیٰ اللہ منھم شیء وہ دن کہ جب ان کا سب کچھ آشکار ہو جائے گا اور ان کی کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔ نیز سورہ طارق کی آیہ ۹۔ میں ہے: یوم تبلی السرائر وہ دن کہ جب ہر شخص کے اندرونی اسرار آشکار ہو جائیں گے۔ بہرحال اس حالت میں خدا کی قہاریت کا ذکر ہر چیز پر اس کے تسلط اور سب کے اندر اور باہر پر اس کے غلبے کی دلیل ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دنیا میں کوئی چیز خدا پر مخفی ہے کہ جو وہاں آشکار ہو جائے گی؟۔ کیا خدا قبروں میں مردوں کے وجود سے بے خبر ہے؟ یا کیا وہ یہاں انسان کے اندرونی اسرار کو نہیں جانتا؟ ایک نکتے کی طرف توجہ سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اس جہاں میں ایک ہمارا ظاہر ہے اور ایک باطن۔ بعض اوقات ہمارے علم کے محدود ہونے کی بناء پر یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ خدا ہمارے باطن کو نہیں جانتا لیکن دوسرے جہان میں ہر چیز اس طرح آشکار ہو جائے گی کہ ظاہر و باطن کا فرق نہیں ہو گا۔ سب کچھ آشکار ہو گا۔ یہاں تک کہ کسی کے دل میں یہ احتمال بھی پیدا نہیں ہو گا کہ ہو سکتا ہے کوئی چیز خدا سے مخفی رہ گئی ہے۔ دوسرے لفظوں بروز و ظہور ہماری فکر و نظر کے اعتبار سے ہے کہ علم خدا کے اعتبار سے۔ اگلی آیت میں مجرمین کی حالت ایک اور پہلو سے تصویر کشی کی گئی ہے: اس روز تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوں گے۔ ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے سے بھی بندھے ہوں گے (وَ تَرَی الْمُجْرِمینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنینَ فِی الْاَصْفادِ)۔ "اصفاد" جمع ہے "صفد" (بر وزن "نمد") کی اور "صفاد" (بروزن"معاد") طوق کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ "صفاد" خاص طور پر اس طوق و زنجیر کو کہتے ہیں جو ہاتھ اور گردن کو ایک دوسرے سے باندھ دے۔ "مقرنین" "قرن" اور "اقتران" کے مادہ سے اسی معنی میں ہے۔ البتہ جب اسے باب تفعیل میں منتقل کیا جائے تو اس سے "تکثیر" کا مفہوم حاصل ہوتا ہے۔ لہذا "مقرنین" کا معنی ہے: "وہ لوگ جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں"۔ اس لفظ سے زیر نظر آیت میں کون لوگ مراد ہیں۔ اس سلسلے میں مفسرین نے تین تفسیریں بیان کی ہیں۔ پہلی:۔ یہ کہ اس روز مجرمین کو طوق زنجیر کے ایک لمبے سلسلے میں ایک دوسرے سے باندھا جائے گا وہ لوگ اسی حالت میں میدان حشر میں پیش ہوں گے۔ طوق و زنجیر کا یہ سلسلہ اب گنہگاروں کے عملی فکری رشتے اور تعلق کا مظہر ہے۔ اس تعلق کی بناء پر وہ اس جہان میں باہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور ظلم و فساد کی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے۔ ان کا یہ باہمی ربط وہاں طوق و زنجیر کے اس سلسلے میں مجسم ہو گا۔ دوسری:۔ تفسیر یہ ہے کہ اس روز مجرم زنجیروں کے ذریعے شیطانوں کے ساتھی ہو جائیں گے اور اس دنیا میں ان کا باطنی تعلق اس جہان میں ایک زنجیر کے ذریعے آشکار ہو جائے گا۔ تیسری:۔ تفسیر یہ ہے کہ زنجیروں کے ذریعے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردن کا قرین بنا دیا جائے گا۔ کوئی مضائقہ نہیں کہ مجرموں کے بارے میں یہ معانی صحیح ہوں اگرچہ آیت ظاہری مفہوم زیادہ تر پہلے معنی کی تائید کرتا ہے۔ اس کے بعد ان کے لباس کے بارے میں بتایا گیا ہے اور یہ بھی ان کے لئے ایک عذاب عظیم ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان کے لباس قطران کے مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ کے شعلے ڈھانپ لیں گے (سَرابیلُھمْ مِنْ قَطِرانٍ وَ تَغْشی وُجُوھھُمُ النَّارُ)۔ "سرابیل" "سربال" (بروزن "مثقال") کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے "قمض" چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنی ہو۔ نیز بعض نے کہا ہے کہ یہ ہر قسم کے لباس کے معنی میں ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مشہور ہے۔ "قطران" لغت میں کبھی قاف پر زبر اور طاء پر سکون اور کبھی قاف کے نیچے زیر اور طاء پر سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا مادہ جو ابہل نامی درخت سے لیا جاتا ہے تاکہ اس بیماری کے باعث ہونے والی سوزش کو ختم کیا جا سکے اور اس کے مادہ کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ بہرحال یہ ایک ایسا بدبودار سیاہ رنگ مادہ ہے جو شعلہ ور ہو سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر کبیر، فخر رازی، جلد۱٩، ص۱۴۸؛ فریدوجدی دائرۃ المعارف میں قطران کےمادہ میں کہتا ہے: یہ ایسا مائع ہے جو پتھر کے کوئلہ کی تقطیر کے وقت ہاتھ آتا ہے۔ جب کہ ایک خاص گیس حاصل کرنے کے لئے عمل تقطیر کہا جاتا ہے اور نباتی قطران بعض درختوں سے لیا جاتا ہے)۔ بہرکیف "سرابیلھم من قطران" کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے بدن لباس کی بجائے ایک طرح کے سیاہ رنگ بدبودار جل اٹھنے والے مادہ سے ڈھانپے جائیں گے۔ یہ ایسا لباس ہو گا جو ویسے بھی برا ہو گا اور دیکھنے میں بھی بہت قبیح ہو گا۔ بدبو بھی دے گا اور خود بخود جل اٹھنے والا بھی ہو گا۔ جب لباس میں یہ چار عیب ہوں گے تو گویا وہ بدترین لباس ہو گا۔ کیونکہ لباس زینت کے لئے بھی ہوتا ہے اور گرمی سردی سے بچنے کے لئے بھی جبکہ یہ لباس برا اور قبیح صورت بھی ہو گا اور جلانے والا بھی۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لباس گناہ پہن کی مجرم اس جہان میں بارگاہ الہی میں بھی اپنے تئیں رو سیاہ کرتے ہیں اور ان کے گناہ کا تعفن اس معاشرے کو بھی آلودہ کرتا ہے۔ نیز ان کے اعمال اس معاشرے میں فساد و گناہ کی آگ بھڑکنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ "قطران" کہ جس کا لباس انہیں اس جہان میں پہنایا جائے گا گویا ان کے اس جہان اعمال کی تجسیم ہے۔ یہ جو آیت میں ہے کہ آگ کے شعلے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس حصہ پر "قطران" نہیں ہو گا وہ اس کے شعلوں میں جلے گا۔ یہ اس لئے ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہر شخص اس کے کئے کے مطابق سزا دے (لِیَجْزِیَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ "انہیں ان کے اعمال کی سزا دے گا" بلکہ کہتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے۔ انہیں جزا کے طور پر دے گا۔ دوسرے لفظوں میں ان کی جزا ان کے اعمال مجسم ہونا ہے۔ اس خاص تعبیر کے باعث یہ آیت تجسیم اعمال کی ایک اور دلیل ہے۔ آخر میں فرمایا گیا ہے: اللہ سریع الحساب ہے۔ (ان اللہ سریع الحساب)۔ بالکل واضح ہے کہ جب انسان کے اعمال ختم نہ ہوں اور چہرہ بدل کر انسان کے پاس آ جائیں تو اس سے زیادہ جلدی حساب اور کیا ہوگا اور دراصل انسان کا حساب اس کے ساتھ ساتھ ہی ہے۔ بعض روایات میں ہے۔ ان اللہ تعالیٰ یحساب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر اللہ تعالیٰ چشم زدن میں تمام مخلوقات کا حساب کر لے گا۔ اصولی طور پر پروردگار کی طرف سے محاسبہ مدت کا محتاج نہیں۔ مذکورہ بالا روایت نے دراصل مختصر ترین زمانے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۱ ص ۴۸۵۔ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔ یہ سورہ اور تمام قرآن چونکہ لوگوں کو دعوت توحید دیتا ہے۔ احکام الہی کی تبلیغ کرتا ہے اور احکام الہی کی خلاف ورزیوں سے ڈراتا ہے لہذا اس سورہ کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: قرآن کا ابلاغ سب لوگوں کے لئے عمومی ہے (ھذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ)۔ اور انہیں ڈرانے والا ہے (وَ لِیُنْذَرُوا بِہِ)۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ ان کا معبود بس وہی ایک ہے (وَ لِیَعْلَمُوا اَنَّما ھُوَ إِلہٌ واحِدٌ)۔ نیز ہدف یہ ہے کہ صاحبان عقل و فکر متوجہ ہوں (وَ لِیَذَّکَّرَ اٴُولُوا الْاَلْبابِ)۔
چند اہم نکات ۱۔ زمین اور آسمان بدل جائیں گے
زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ قیامت میں یہ زمین کسی دوسری زمین میں اور اسی طرح آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ کیا اس تبدیلی سے مراد ذاتی وجود کی تبدیلی ہے یعنی کیا یہ زمین بالکل نابود ہو جائے گی اور کوئی دوسری زمین خلق کر دی جائے گی اور قیامت اس زمین میں برپا ہو گی یا مراد صفات کی تبدیلی ہے یعنی یہ کرہ خاکی اور یہ آسمان ویران ہو جائیں گے اور ان کے ویرانوں پر نئے زمین و آسمان پیدا ہوں گے جو اس زمین و آسمان کی نسبت تکامل و ارتقاء میں زیادہ ہوں گے؟ قرآن مجید کی بہت سی آیات کا ظاہری مفہوم دوسرے معنی کی تائید کرتا ہے:۔ سورہ فجر کی آیہ ۲۱۔ میں ہے: کلا اذا دکت الارض دکاً دکاً ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب زمین درہم برہم ہو جائے گی۔ سورہٴ زلزال میں اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اذا زلزلت الارض زلزالھا و اخرجت الارض اثقالھا جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنے مخفی بوجھ اگل دے گی۔ سورہٴ حاقہ کی آیہ ۱۴ اور ۱۵ میں ہے: و حملت الارض والجبال فدکتا دکة واحدة فیومئذوقعت الواقعة زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا لئے جائیں گے اور وہ درہم برہم ہو جائیں گے اور اس روز وہ عظیم واقعہ رونما ہو گا۔ سورہٴ طٰہٰ کی آیات ۱۰۵ تا ۱۰۸میں ہے: وَ یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْجِبالِ فَقُلْ یَنْسِفُھا رَبِّی نَسْفاً o فَیَذَرُھا قاعاً صَفْصَفاًo لا تَری فیھا عِوَجاً وَ لا اَمْتاًoیَوْمَئِذٍ یَتَّبِعُونَ الدَّاعِیَ لا عِوَجَ لَہُ وَ خَشَعَتِ الْاَصْواتُ لِلرَّحْمنِ فَلا تَسْمَعُ إِلاَّھَمْساًo تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو: میرا پرودگار انہیں سرگرداں اور ریزہ ریزہ کر دے گا اور پھر انہیں ہموار زمین کی صورت دے گا اس طرح کہ تجھے اس میں ٹیڑھ پن اور پستی و بلندی نظر نہیں آئے گی۔ اس روز لوگ اس پکارنے والے کی پیروی کریں گے جس سے انحراف نہیں ہو سکے گا اور مہربان خدا کے سامنے آوازیں جھکی ہوں گی اور تجھے دھیمی دھیمی آواز کے سوا کچھ سنائی نہ دے گا۔ سورہ ٴ تکویر کی ابتداء میں چراغ آفتاب گل ہو جانے، ستاروں کے تاریک ہو جانے اور پہاڑوں کے چلنے کا تذکرہ ہے۔ نیز سورہٴ انفطار کے آغاز میں بھی آسمانوں کے پھٹ جانے، ستاروں کے بکھر جانے اور مردوں کے قبروں سے اٹھنے (غور کیجئے گا) کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ یہ آیات اورایسی بہت سی آیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے اور اسی طرح انسان کے قبروں سے اٹھنے (بحوالہ یٰٓس۔۵۱، قمر۔۷، معارج۔ ۴۳، حج۔ ۷ وغیرہ) کے متعلق آیات کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا موجودہ نظام اس صورت میں باقی نہیں رہے گا لیکن یہ باکل نابود نہیں ہو گا بلکہ زمین درہم برہم ہو کر ہموار اور صاف ہو جائے گی اور لوگ گویا ایک نئی زمین پر قدم رکھیں گے۔ البتہ واضح ہے کہ وہ زمین کامل تر اور عالی تر ہو گی کیونکہ اس عالم کی تمام چیزیں اس جہان کی نسبت زیادہ وسیع اور زیادہ کامل ہوں گی۔ فطری امر ہے کہ ہمارا آج کا جہان قیامت کے مناظر قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتا اور قیامت اور دوسرے جہان میں ہماری زندگی کے لئے تنگ اور محدود ہے اور جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے شاید اس جہان کی نسبت اس جہان سے اسی طرح ہے جیسے رحم مادر کی نسبت ہماری اس زندگی سے۔ بعض آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن اس دنیا کے دنوں کی نسبت بہت طویل ہوں گے (بحوالہ معارج۔ ۴) یہ امر بھی اس حقیقت پر ایک اچھا شاہد ہے۔ البتہ ہم اس جہان کی تفصیلات کی تصویر کشی اس جہان میں نہیں کر سکتے جیسے شکم مادر میں بچہ سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہو تو بھی باہر کی دنیا کی خصوصیات نہیں سمجھ سکتا۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں اس جہان ایک عظیم تغیر ہو گا۔ یہ جہان بالکل ویران ہو کر بالکل ایک نئے جہان میں بدل جائے گا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مصادر اسلامی میں موجود متعدد روایات میں ہے کہ اس وقت زمین اور عرصہٴ محشر طیب و پاک اور سفید روٹی میں بدل جائے گا کہ انسان جسے کھا سکیں گے تاکہ ان کا حساب واضح ہو جائے اور ہر کوئی اپنے انجام کی طرف چل پڑے۔ تفسیر نور الثقلین میں یہ روایات مختلف حوالوں سے درج کی گئی ہیں۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص۵۵۵ تا ص ۵۷۷) اہل سنت کے بعض مفسرین مثلاً قرطبی نے بھی اسی آیت کے ذیل میں ایسی روایات کی نشاندہی کی ہے۔ (بحوالہ تفسیر قرطبی جلد۵ ص ۳۶۱۳)۔ بعید نہیں کہ ان روایات سے مراد یہ ہو کہ اس جہان میں زمین بجائے اس کے کہ مٹی نے اسے ڈھانپ رکھا ہو ایک ایسا غذائی مادہ اس پر محیط ہو کہ جو بدن انسانی کا حصہ بن سکتا ہو۔ کیونکہ مٹی ایسی چیز نہیں جو بدن انسانی کا حصہ بن سکے بلکہ اس میں موجود غذائی مواد نباتات کے ذریعے باہر نکلتا ہے تاکہ بدن انسانی کا حصہ بننے کے قابل ہو سکے لیکن اس روز سطح زمین پر مٹی کی بجائے ایسا مادہ محیط ہو گا جو آسانی سے جزو بدن بن سکے۔ اسے روٹی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ انسان کی غذا کا زیادہ حصہ روٹی پر ہہی مشتمل ہوتا ہے (غور کیجئے گا)۔
۲۔ سورہ ابراہیم کا آغاز اور اختتام
جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے سورہ ابراہیم قرآن کے ایک حساس موضوع سے شروع ہوتی ہے اور یہ موضوع ہے انسان کو جہالت اور شرک کے اندھیروں سے علم و توحید کی طرف نکال لے جانا۔ اس سورت کا اختتام تمام لوگوں کو جہالت و شرک کے نتائج سے ڈرانے، تعلیم توحید اور اولواالالباب کو متوجہ کرنے پر ہوتا ہے۔ اس ابتداء اور انتہاء سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی ہم چاہتے ہیں وہ اسی قرآن میں موجود ہے۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: فیہ ربیع القلب و ینابیع العلم دلوں کی بہار اور علوم و دانش کے سوتے اسی قرآن سے پھوٹتے ہیں (بحوالہ نہج البلاغہ)۔ اسی طرح تمام فکری، اخلاقی اجتماعی اور سیاسی بیماریوں کا علاج اسی قرآن میں تلاش کرنا چاہئے۔ بقول امیر المومنین: فاستشفوہ من ادوائکم اسی قرآن سے اپنی بیماریوں کی دوا حاصل کرو۔ (بحوالہ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶)۔ یہ بیان اس امر کی دلیل ہے کہ آج کے مسلمان جو سمجھتے ہیں کہ قرآن صرف ایک ایسی مقدس کتاب ہے جو پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اس کے برعکس یہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسانوں کی ساری زندگی کے دستور العمل کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ یہ آگہی عطا کرنے والی اور بیدار کرنے والی کتاب ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ ایسی کتاب ہے جو عالم اور دانشور کو متوجہ کرتی ہے اور عامة الناس اس سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ چاہیے کہ یہ کتاب مسلمانوں کی زندگی میں جگہ پائے اور ان کی زندگی کا آئین بن جائے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر عمل کرنے کے لئے تحقیق، مطالعہ اور غور و خوض کا موضوع بنی رہے۔ مسلمانوں کے زوال اور پس ماندگی کا موثر عامل اور سبب یہ ہے کہ انہوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فراموش کر دیا اور مشرق و مغرب کے انحرافی مکاتب فکر کی رخ کر لیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے کیا عمدہ فرمایا ہے: واعلموا انہ لیس علی احد بعد القرآن من فاقة ولا لاحد قبل القرآن من غنی۔ یقین جانیے کہ آپ میں سے کوئی شخص بھی حامل قرآن ہو جائے تو اسے ذرہ بھر فقر و احتیاج نہیں رہے گی اور حامل قرآن ہونے سے پہلے بےنیازی اور تونگری ممکن نہیں۔ (بحوالہ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶)۔ کس قدر درد ناک ہے۔۔۔ قرآن سے ہماری بیگانگی اور بیگانوں کی قرآن سے آشنائی۔ کس قدر تکلیف دہ ہے۔۔۔ کہ بہترین وسیلہٴ سعادت ہمارے گھر میں موجود ہے اور ہم اس سعادت کے لئے دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کس قدر اندوہناک ہے۔۔۔ کہ آب حیات کا چشمہ ہمارے پاس ہو اور ہم تشنہ کام جان دے دیں یا تپتے ہوئے بےآب بیابانوں میں سیراب کے پیچھے بھاگتے رہیں۔ خدا وندا! ہمیں وہ عقل و ایمان عطا فرما جس کے ذریعے ہم سعادت کا یہ عظیم وسیلہ کھو نہ بیٹھیں جو تیری راہ کے شہداء نے ہم تک پہنچایا ہے۔ اور ہمیں وہ شعور مرحمت فرما کہ ہم جان لیں کہ ہماری گمشدہ متاعیں اسی عظیم کتاب میں ہیں۔ تاکہ ہم کبھی اس کے سامنے اور کبھی اس کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے پھریں۔
۳۔ اوّل و آخر۔ توحید
زیر نظر آیات کا ایک پہلو توحید پر تاکید ہے۔ یہاں آخری ذکر بھی توحید کا ہے اور اسی کی طرف اولواالالباب کو متوجہ کیا گیا ہے۔ جی ہاں۔ توحید اسلام کی عمیق بنیاد۔ عقیدہ توحید اسلام کا وہ شجر ہے جس کی جڑیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلامی تعلیم و تربیت کے سب راستے اسی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ اسلام کی ابتداء بھی توحید ہے اور انتہاء بھی۔ اسلام کا تانا بانا توحید ہی سے بنا گیا ہے۔ توحید کا تعلق فقط معبود اور اللہ کے عقیدہ ہی سے نہیں بلکہ اس کے ہر نظریے، عقیدہ اور پروگرام کا ہدف بھی توحید ہے۔ ہر ایک کی بنیاد توحید پر ہے۔ آج مسلمانوں کی عظیم ابتلا کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے توحید کو عملی طور پر اسلام سے حذف کر دیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک کہ جہاں اسلام پروان چڑھا۔ آج شرک آلود نعروں کے پیچھے لگے ہوئے۔ آج وہ نسل پرستی، عرب تفاخر، احیاء عربیت اور عظمت عرب کے بھنور میں گرفتار ہیں۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں سے بھی ہر کسی نے اپنے لئے اسی قسم کا کوئی بت تراش لیا ہے۔ انہوں نے اسلامی توحید کو اپنے سے باکل الگ کر دیا ہے کہ جس نے کسی وقت مشرق و مغرب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا تھا۔ اس طرح یہ سب ممالک اپنے آپ میں ڈوب کر خود اپنے آپ سے بیگانہ ہو گئے ہیں۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کی آپس میں جنگ خون کے پیاسے دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بات کتنی شرمناک ہے کہ ہم سنیں کہ عرب ممالک کی باہیمی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد اسرائیلی یہودیوں کے مقابلے میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت جب کہ ان کا ایک مشترک خطرناک دشمن ہے تو ان کے انتشار کا یہ عالم ہے اگر ایسا دشمن نہ ہوتا تو ان کی کیا حالت ہوتی۔ اس وقت جبکہ ہم تفسیر کا یہ حصہ لکھ رہے ہیں حکومت عراق نے بڑی بےرحمی سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا ہے اور بہانہ بھی اس کے پاس سرحد کا معمولی سا تنازعہ ہے جو یقینا مذاکرات سے حل ہو سکتا تھا۔ یہ وہی حکومت عراق ہے کہ جس نے اسرائیلی سپاہیوں پر آج تک ایک بھی گولی نہیں چلائی۔ آج اس نے اس سفاکی سے حملہ کیا ہے کہ جیسے دو قوموں کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہ ہو۔ جیسے یہ نہ آپس میں ہمسایہ ہیں، نہ ان میں تہذیب و ثقافت کا کوئی رشتہ ہے اور نہ گہرا دینی تعلق ہے۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مشترک دشمن یہودی خوش ہو کر کہتا ہے: اس سے بہتر منصوبہ کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ عراق ایران پر حملہ کر دے اور دونوں میں شدید تباہ کن طولانی جنگ شروع ہو جائے اور ہمیں ایک مدت کے لئے آسودگی مل جائے۔ یہ وہ مقام ہے کہ ایک موحد، متعہتد اور صاحب ایمان مسلمان پر لازم ہے کہ ان طاغوتوں کا شر ختم کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ایسے شرک آلود، نفاق ڈالنے والوں، تباہیاں پھیلانے والوں اور دشمن کو خوش کرنے والوں کو قعر جہنم میں پہنچائے۔ سورہ ابراہیم کی تفسیر اختتام کو پہنچی۔
بت شکن پیغمبر
ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر
حضرت ا براہیمؑ
یہی وہ سورت ہے جو قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے اگرچہ ان کے حالات زندگی صرف اسی سورت میں نہیں ہیں بلکہ مختلف مناسبتوں سے دیگر سورتوں میں بھی خدا کے اس عظیم پیغمبر کا ذکر موجود ہے۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ مکتب توحید کے اس ہیرو کی پرافتخار زندگی کے مختصر حالات زندگی اس سورہ کے آخر میں پیش کر دیں تاکہ اس سلسلہ میں آنے والی مختلف آیات کی تفسیر میں قارئین محترم کے لئے مددگار ثابت ہو سکیں کیونکہ ان میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی زندگی کے مختلف پہلووٴں پر تفصیل کی ضرورت پیش آئے گی۔
زندگی کے تین دور
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کو واضح طور پر تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱۔ قبل بعثت کا دور۔ ۲۔ دور نبوت اور بابل کے بت پرستوں سے مقابلہ۔ ۳۔ بابل سے ہجرت اور مصر، فلسطین اور مکہ میں مساعی کا دور۔
بچپن
حضرت ابراہیمؑ بابل میں پیدا ہوئے۔ یہ دنیا کا حیرت انگیز اور عمدہ خطہ تھا۔ اس پر ایک ظالم و جابر اور طاقتور حکومت مسلط تھی (تشریحی نوٹ: بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ ملک بابل کے شہر آور میں پیدا ہوئے۔) حضرت ابراہیمؑ نے آنکھ کھولی تو بابل پر نمرود جیسا جابر و ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ وہ اپنے آپ کو بابل کا بڑا خدا سمجھتا تھا۔ البتہ بابل کے لوگوں کے لئے یہی ایک بت نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں مختلف مواد کے بنے ہوئے مختلف شکلوں کے کئی ایک بت تھے۔ وہ ان کے سامنے جھکتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ حکومت وقت سادہ لوح افراد کو بیوقوف بنانے اور انہیں افیون زدہ رکھنے کے لئے بت پرستی کو ایک موثر ذریعہ سمجھتی تھی لہذا وہ بت پرستی کی سخت حامی تھی۔ وہ کسی بت کی اہانت کو بہت بڑا ناقابل معافی جرم قرار دیتی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ کی ولادت کے بارے میں مورخین نے عجیب و غریب داستان نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے: بابل کے نجومیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہو گا جو نمرود کی غیر متنازعہ طاقت سے مقابلہ کرے گا۔ لہذا اس نے اپنی تمام قوتیں اس بات پر صرف کر دیں کہ ایسا بچہ پیدا نہ ہو اس کی کوشش تھی کہ ایسا بچہ پیدا ہو بھی جائے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی اور یہ بچہ آخرکار پیدا ہو گیا۔ اس بچہ کی جائے ولادت کے قریب ہی ایک غار تھی۔ اس کی ماں اس کی حفاظت کے لئے اسے اس میں لے گئی اور اس کی پرورش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ اس کی عمر کے تیرہ برس وہیں گزر گئے۔ اب بچہ نمرود کے جاسوسوں سے بچ بچا کر نوجوانی میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس عالم تنہائی کو چھوڑ دیا جائے اور لوگوں تک وہ درس توحید پہنچائے جو اس نے باطنی الہام اور فکری مطالعہ سے حاصل کیا تھا۔
بت پرستوں سے مقابلہ
بابل کے لوگ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کے علاوہ سورج، چاند اور ستارے جیسے آسمانی موجودات کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ نے عزم صمیم کر لیا کہ واضح منطق اور استدلال کے ذریعہ ان کے خوابیدہ وجدان کو پیدا کیا جائے اور ان کی پاک فطرت کے چہرے سے غلط تعلیمات کے تاریک پردے ہٹا دئے جائیں تاکہ نور فطرت چمک اٹھے اور وہ توحید پرستی کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔ انہوں نے مدتوں آسمان و زمین کی خلقت پر غور کیا تھا۔ ان پر حکمران قدرت کا مطالعہ کیا تھا اور آسمان و زمین کے شگفت انگیز اور تعجب خیز نظام کے بارے میں فکر کی تھی۔ نور یقین ان کے دل میں چمک رہا تھا (انعام۔۷۵)۔
منطق و استدلال کے سہارے
پہلے انہیں ستارہ پرستوں کا سامنا کرنا پڑا۔”زہرہ“ ستارہ کہ جو غروب آفتاب کے ساتھ ہی افق مغرب پر چمک اٹھتا ہے۔ یہ لوگ اس کی پرستش و تعظیم میں مشغول تھے۔ حضرت ابراہیمؑ نے استفہام انکاری کے طور پر یا ان کے نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہم آہنگی کے اظہار کے طور پر پہلے کہا: یہ میرا خدا ہے۔ لیکن جس وقت وہ غروب ہو گیا تو کہا: مجھے غروب ہونے والے اچھے نہیں لگتے۔ جس وقت چاند افق کا سینہ چاک کر کے ابھرا اور چاند کی پرستش کرنے والوں نے مراسم عبادت شروع کیے تو ان کے ساتھ ہم صدا ہو کر کہنے لگے: یہ میرا خدا ہے۔ اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا: اگر میرا پروردگار میری راہنمائی کرے تو میں تو گمراہوں میں سے ہو جاوں۔ آفتاب نے شب تیرہ کا پردہ ہٹایا اور کوہ صحرا پر اپنی طلائی شعائیں چھڑکیں تو سورج پرست عبادت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس پر ابراہیم (علیه السلام) نے کہا: یہ میرا خدا ہے۔ یہ تو ان سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو گویا ہوئے: اے قوم! میں ان شریکوں سے بیزار ہوں کہ جو تم نے خدا کے لئے بنا رکھے ہیں۔ یہ تو سب غروب ہو جاتے ہیں۔ یہ تو سب خوبصورت تغیر و تبدل کا شکار اور قوانین آفرینش کے اسیر ہیں۔ ان کے تو اپنے بس میں کوئی ارادہ و اختیار نہیں چہ جائیکہ یہ خود اس جہان کے خالق اور اسے گردش دینے والے ہوں۔ میں تو اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس کے لئے میں اپنے ایمان میں خالص اور ثابت قدم ہوں اور میں ہرگز مشرکین میں شامل نہیں ہوں گا (انعام۔ ۷۵ تا ۷۹)۔ ابراہیمؑ نے بت پرستوں سے مقابلہ نہایت خوبصورتی سے جیت لیا۔ کچھ لوگ بیدار ہو گئے اور باقی کم از کم اپنے عقائد کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ گئے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ علاقے میں اس بات کی دھوم ہو گئی۔ ہر کوئی سوچتا کہ یہ جوان کون ہے۔ اس کی باتیں کتنی منطقی ہیں، اس کا پیغام کتنا دل نشین ہے۔ اس کی آواز تو لوگوں کے دلوں میں اترتی جاتی ہے۔
آزر سے گفتگو
ایک اور مرحلہ آیا۔ ابراہیمؑ کی اپنے چچا آزر سے بحث ہونے لگی۔ کبھی بہت مضبوط انداز سے، محبت کے سلیقے سے اور کبھی تنبیہ و سرزنش کے لہجے میں، آپ نے اسے بت پرستی کے بارے میں خبردار کیا اور اس سے کہا: تو ایسی چیز کی پرستش کیوں کرتا ہے جو نہ سن سکتی ہے۔ نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی تیری کوئی مشکل حل کر سکتی ہے؟ آپ (علیه السلام) نے چچا سے کہا: اگر تو میری پیروی کے تو میں تجھے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کروں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تو شیطان کی پیروی کرتا ہے تو کہیں تجھے عذاب الہی دامن گیر نہ ہو جائے۔ یہاں تک کہ ان کا چچا ان نصیحتوں کے جواب میں انہیں سنگسار کرنے کی دھمکی دیتا۔ آپ (علیه السلام) "سلام علیک" کہتے ہوئے اسے جواب دیتے ہیں: میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ اس طرح آپ کوشش کرتے کہ اس سنگ دل کے دل میں کوئی گنجائش نکل آئے۔ (مریم۔ ۴۷)
دورِ نبوت
حضرت ابراہیمؑ کب مبعوث نبوت ہوئے، اس سلسلے میں ہمارے پاس کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ البتہ سورہ مریم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے اپنے چچا آزر سے بحث چھڑی تو آپ مقام نبوت پر فائز ہو چکے تھے کیونکہ سورہ کہتی ہے: و اذکر فی الکتاب ابراھیم انہ کا صدیقاً نبیا ً اذ قال لابیہ یا ابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئاً۔ (مریم۔۴۱۔۴۲) ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ بت پرستوں کے ساتھ شدید معرکہ آرائی اور آپ کو آگ میں ڈالے جانے سے پہلے کا ہے۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے کے وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر ۱۶۔ سال تھی۔ ہم اس کے ساتھ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہ عظیم کارِ رسالت آغاز نوجوانی ہی میں آپ کے دوش پر آن پڑا تھا۔
عملی مقابلے کا آغاز
بہرحال بت پرستوں کے ساتھ حضرت ابراہیمؑ کی معرکہ آرائی روز بروز شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئ۔ یہاں تک کہ ایک روز موقعہ پا کر آپ نے بابل کے بت خانے کے بڑے بت کے علاوہ تمام بت توڑ دئے۔ یہاں سے زبانی محاذ آرائی عملی مقابلے کی شکل اختیار کر گئی۔
سلطان جابر کے سامنے
حضرت ابراہیم (علیه السلام)کی مخالفت اور محاذ آرائی کا ماجرا آخرکار نمرود کے کان تک پہنچ گیا۔ آپ (علیه السلام) کو دربار میں حاضر کیا گیا تاکہ وہ بزعم خویش پند و نصیحت کے ذریعے، یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے یا پھر دھمکی سے کام لے کر انہیں خاموش کر دے۔ نمرود بہت چالاک تھا۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) سے پوچھا: اگر تو ان بتوں کی پوجا نہیں کرتا تو پھر تیرا پروردگار کون ہے؟ آپؑ نے کہا: وہی جس کے قبضہ میں موت و حیات ہے۔ وہ چلا کر کہنے لگا: اے بےخبر! یہ تو میرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ جس مجرم کو قتل کی سزا ملی ہو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں اور ایسے قیدی کو جسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، میں چاہوں تو اسے قتل کر دیتا ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) دندان شکن جواب میں بہت مشہور تھے۔ نبوت کی طاقت سے مدد لیتے ہوئے آپ نے اس سے کہا: خدا کے ہاتھ میں صرف موت و حیا ہی نہیں بلکہ تمام عالم ہستی اس کے تابع فرمان ہے۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ ہر صبح سورج اس کے حکم سے افق مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور وقت شام اس کے حکم سے مغرب میں ڈوب جاتا ہے۔ اگر تو عالم ہستی کی اس وسعت کا فرماں روا ہے تو کل معاملہ اس کے برعکس کر دے تو کہ سورج مغرب سے نکلے اور مشرق میں ڈوب جائے۔ نمرود مبہوت ہو گیا۔ ایسا چکرایا کہ اس کی زبان میں جواب کی سکت نہ رہی (بقرہ۔ ۲۵۸) اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) خوب جانتے تھے کہ موت و حیات پر قدرت کے بارے میں نمرود کا دعویٰ بس چکر بازی اور تیز طراری ہے لیکن استدلال پر آپ کی مہارت اجازت نہ دیتی تھی کہ اس موضوع پر بات کرتے رہیں کہ جسے مکار دشمن نے دیتاویز بنا لیا ہے لہذا اسے چھوڑ کر فوراً ایسے موضوع پر بات شروع کی کہ جس پر وہ ہاتھ پاؤں مارنے کی طاقت بھی نہ رکھتا تھا۔
هجرت
آخرکار نمرود کی ظالم حکومت کی مشیزی کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ جوان آہستہ آہستہ حکومت کے لئے خطرے کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی زبان گویا، فکر توانا اور منطق رسا کہیں پسے ہوئے محروم عوام کی بیداری اور آگاہی کا باعث نہ بن جائے کہیں لوگ استعمار کی زنجیر توڑ کی ان کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں لہذا حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ بت پرستوں کے جاہلانہ تعصب کا سہارا لے کر ابراہیمؑ کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ انہیں ایک خاص انداز اور حالات پیدا کر کے لوگوں کے سامنے آگ کے دریا میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سورہ انبیا میں اس واقعہ کی تفصیل آئیں گی۔ یہ آگ درحقیقت لوگوں کی جہالت اور حکمران نظام کے ظلم کے ایندھن سے جلائی گئی تھی۔ حکومت اس طرح اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے آسودہ فکر کرنا چاہتی تھی۔ لیکن جب آگ حکم خدا سے خاموش ہو گئی اور ابراہیم ؑاس سے صحیح و سالم نکل آئے تو نمرود کے نظام حکومت میں لرزہ پیدا ہو گیا۔ اب ابراہیم ایک اور حیثیت سے سامنے آئے۔ وہ ایک عام تفرقہ پرواز انسان نہ تھے کہ جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو ایک خدائی رہبر تھے وہ ایک ایسے بہادر ہیرو تھے جو تن تنہا خالی ہاتھ طاقتور ظالم حکمرانوں پر حملہ کر سکتے تھے۔ لہذا عوام کا خون چوسنے والے نمرود اس کے درباریوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پوری قوت سے ابراہیمؑ کا مقابلہ کریں گے اور جب تک انہیں ختم نہ کر لیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ دوسری طرف ابراہیمؑ یہاں اپنا کردار ادا کر چکے تھے۔ آمادہ دل لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ مؤمنین اور اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر بابل سے نکل جائیں اور اپنی دعوت حق کو دور دور تک پھیلانے کے لئے شام، فلسطین اور فرعون کی سر زمین مصر کی طرف روانہ ہوں۔ آپ نے ان علاقوں میں حقیقت توحید کی تبلیغ کی اور بہت سے لوگ خدائے واحد پر ایمان لائے۔
رسالت کا آخری مرحلہ
حضرت ابراہیمؑ نے تمام عمر ہر طرح کی بت پرستی خصوصاً انسان پرستی کے خلاف جہاد کرتے گزاری۔ آپ نے آمادہ دلوں کو نور توحید سے روشن کیا۔ آپ نے انسانی جسموں میں نئی روح پھونک دی اور بہت سے لوگوں کو خود غرضوں اور خود سروں کی قید سے رہائی دلائی۔ اب ضروری تھا کہ آپ بندگیٴ خدا کے آخری مرحلے میں قدم رکھیں اور اپنی متاع حیات کو طبق اخلاص میں رکھ کر بارگاہ الٰہی میں پیش کر دیں تاکہ خدا کی عظیم آزمائشوں سے گزر کر ایک عظیم روحانی انقلاب کے ذریعے انسانوں کی امامت کے مرحلے میں داخل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب انہیں خانہٴ توحید یعنی خانہ ٴ کعبہ کی بنیادوں کو بھی بلند کرنا تھا اور اسی خدا پرستی کے ایک بےنظیر مرکز میں تبدیل کرنا تھا اور تمام آمادہ دل مؤمنین کو اس عظیم مرکز توحید کے پاس ایک عظیم کانفرنس کی دعوت دینا تھا۔ آپؑ نے اپنی کنیز ہاجرہ کو اپنی بیوی بنا لیا تھا۔ اس سے انہیں اسمٰاعیلؑ جیسا بیٹا نصیب ہوا۔ آپ کی پہلی بیوی سارہ نے ان سے حسد کیا۔ یہی حسد سبب بنا کہ آپ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچہ کو حکم خدا سے فلسطین سے لے کر مکہ کی جلتی ہوئی سنگلاخ پہاڑوں کی سر زمین میں لے گئے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں پانی کی ایک بوند بھی دستیاب نہ تھی آپ حکم خدا سے ایک عظیم امتحان سے گزرتے ہوئے انہیں وہاں چھوڑ کر واپس فلسطین آ گئے۔ وہاں چشمہٴ زمزم پیدا ہوا۔ اس اثناء میں جرہم قبیلہ ادھر سے گزرا۔ اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت چاہی۔ گویا واقعات کا ایک طولانی سلسلہ ہے کہ جو اس علاقہ کی آبادی کا باعث بنا۔ حضرت ابراہیمؑ نے خدا سے دعا کی تھی کہ اس جگہ کو آباد اور پربرکت شہر بنا دے اور لوگوں کے دل میری اولاد کی طرف مائل کر دے۔ ان کی اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگی تھی۔ (بحوالہ کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۱۰۳) یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض مورخین نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل کو مکہ میں چھوڑ کر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فریاد کی: اے ابراہیمؑ آپ کو کس نے حکم دیا ہے کہ ہمیں ایسی جگہ پر چھوڑ جائیں کہ جہاں نہ کوئی سبزہ ہے۔ نہ دودھ دینے والا کوئی جانور، یہاں تک کہ جہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں ہے۔ آپ پھر بھی ہمیں بغیر زاد و توشہ اور مونس و مددگار کے چھوڑے جا رہے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے مختصر سا جواب دیا: میرے پروردگار نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ ہاجرہ نے یہ سنا تو کہنے لگی: اگر ایسا ہے تو پھر خدا ہرگز ہمیں یوں ہی نہیں چھوڑے گا۔ (بحوالہ سورہ صٰفٰت ۱۰۴ تا ۱۰۷) حضرت ابراہیمؑ بارہا فلسطین سے اسماعیلؑ کو ملنے کے لئے مکہ آئے۔ ایک سفر کے موقعہ پر آپ مراسم حج بجا لائے اور حکم خدا سے اپنے آبرو مند اور نہایت پاکیزہ صاحب ایمان نوجوان بیٹے اسماعیل ؑکو لے کر قربان گاہ میں آئے۔ اسماعیلؑ آپ کی زندگی کا بہترین ثمر تھے۔ آپ بالکل تیار تھے کہ انہیں راہ خدا میں قربان کر دیں۔ اس اہم ترین آزمائش سے جب آپ نہایت عالی طریقہ سے عہدہ برآ ہو چکے اور آخری مرحلے تک اپنی آمادگی کا مظاہرہ کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول کر لیا اور اسماعیلؑ کو بچا لیا اور قربانی کے لئے ایک دنبہ کو بھیج دیا۔ (بحوالہ بقرہ۔ ۱۲۴) حضرت ابراہیمؑ ان سب امتحانات سے کامیابی سے گزر چکے اور آزمائشوں کی اس کٹھالی سے کامیاب نکل آئے تو آپ کو ایک ایسا مقام حاصل ہوا جو وہ بلند ترین مقام ہے جو ایک انسان ترقی کر کے حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: اللہ نے کچھ کلمات کے ذریعے ابراہیمؑ کاا متحان لیا۔ وہ ان سب سے کامیاب گزرے تو اس پر اللہ نے ان سے کہا: میں تجھے لوگوں کا امام اور پیشوا قرار دیتا ہوں۔ (ابراہیمؑ اس خوش خبری پر وجد میں آ گئے) کہنے لگے: یہ مقام میرے کچھ اولاد کو بھی عطا کر دے۔ (ان کی دعا قبول ہو گئی لیکن ایک شرط کے ساتھ) اللہ نے کہا: یہ مقام ہرگز کسی ایسے شخص کو نصیب نہ ہو گا جس سے ظلم و ستم اور انحراف سرزد ہوا ہو۔ (بحوالہ سفینة البحار جلد ۱۔ ص ۷۴)۔
قرآن اور ابراہیمؑ کا مقام بلند
آیات قرآن مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو بہت بلند مقام عطا فرمایا تھا۔ ایسا بلند مقام اللہ تعالیٰ نے کسی اور گزشتہ نبی کو عطا نہیں فرمایا۔ اس پیغمبر خدا کی عظمت ان تعبیرات سے واضح طور پر معلوم کی جا سکتی ہے: ۱۔ خدا نے ابراہیم کی ایک "امت" قرار دیا ہے اور ان کی شخصیت کو ایک امت کی مانند گردانا ہے (نحل۔ ۱۲۰)۔ ۲۔ اللہ نے آپ کو خلیل اللہ کا مرتبہ عطا فرمایا ہے: واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا (نساء۔ ۱۲۵)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ بعض روایات میں ہے: یہ مقام انہیں اس بناء پر حاصل ہوا کہ ابراہیمؑ نے خود کبھی کسی چیز کے لئے کسی کے سامنے دست دراز بلند نہ کیا اور کبھی کسی سائل کو محروم نہیں لوٹایا۔(بحوالہ سفینۃ البحار، جلد۱، ص۷۴۴) ۳۔ قرآن کے مطابق وہ نیک (بحوالہ ص ۴۷) صالح (بحوالہ نحل۔ ۱۲۲) قانتین میں سے، (بحوالہ نحل ۱۲۰) صدیقین میں سے، (بحوالہ مریم۔ ۴۱) صابرین میں سے (بحوالہ توبہ ۱۱۴) اور ایفائے عہد کرنے والوں میں سے تھے۔ (بحوالہ نجم۔ ۳۷)۔ ۷۔ ذاریات ۲۴ تا ۲۷ یہاں تک کہ بعض روایات میں انہیں ابواضیاف (مہمانوں کا باپ یا مہمانوں کا ساتھی) کا لقب دیا گیا ہے۔ (بحوالہ سفینة البحار جلد ۱ ص ۷۴)۔ جب ہت دھرم قوم آپ کو آگ کے سمندر میں پھینک رہی تھی۔ فرشتوں نے خواہش کی تھی کہ ہم آپ کو بچا لیں۔ ابراہیمؑ نے ان کے اس تقاضے کو قبول نہ کیا۔ تاریخ میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے۔ آپ (علیه السلام) نے کہا: میں سرتاپا نیاز و احتیاج ہوں لیکن مخلوق سے نہیں صرف خالق سے، (بحوالہ ص۴۷) ۶۔ شجاعت و بہادری میں بےمثال تھے۔ بت پرستوں کے دہاڑتے ہوئے سیلاب کے سامنے تنہا کھڑے ہو گئے، ان کا دل لمحہ بھر کے لئے ان سے وحشت زدہ نہ ہوا۔ آپ نے ان کے بتوں کا مذاق اڑایا اور ان کے بت کدے کو ڈھا کر پتھروں کا ڈھیر بنا دیا نیز نمرود اور اس کے جلادوں کے بڑی جرات سے بات کی جو قرآنی آیات میں موجود ہے۔ ۷۔ ابراہیم بڑی منطق سے بات کرتے تھے۔ آپ نے گمراہوں کو بہت مختصر، محکم، دندان شکن استدلال سے جواب دئے اور اپنے مطقی استدلال سے مخالفین کو رسواکر دیا۔ آپ کبھی سختی و خشونت سے پیش نہیں آتے تھے بلکہ بڑے اطمینان سے بات کرتے۔ آپ کا یہ انداز آپ کی عظیم روحانی قوت کا ترجمان تھا۔ آپ نے گفتار و کردار سے مخالفین کو شکست دی۔ نمرود کے سامنے آپ کی بات چیت اور اپنے چچا آزر سے آپ کی گفتگو بابل کے قاضیوں سے مناظرہ بڑی وضاحت سے مرقوم ہے۔ بابل کے قاضی آپ کو خدا پرستی اور بت شکنی کے جرم میں سزا دینا چاہتے تھے آپ نے بڑے اعتماد اور اطمینان سے مدلل جواب دئے۔ اس سلسلے میں سورہ انبیاء کی مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑھنا چاہیے: قاضیوں نے آپ سے پوچھا: کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداؤں کے سر پر یہ مصیبت ڈھائی ہے اور ان سب چھوٹے بڑے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ قالو ا اانت فعلت ھٰذا بالٰھتنا یاابراھیم (کہنے لگے: اے براہیم کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداوٴں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے )؟۔ (انبیا۔ 62) آپ نے انہیں ایسا جواب دیا کہ ان کےلئے بچ نہ نکلنے کی کوئی راہ نہ رہی۔قرآن کے الفاظ میں: قال بل فعلہ کبیرھم ھٰذا فاسئلوھم ان کانوا ینطقون بولے :ہو سکتا ہے کہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہو اگر یہ بات کر سکتے ہیں تو انہیں سے پوچھو۔ (انبیاء۔63) اس ایک ہی جملہ سے آپ نے اپنے دشمنوں کے لئے تمام راستے بند کردئے۔ اب اگر وہ کہیں کہ بت گونگے ہیں، لب پستہ ہیں اوربا ت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، تو ان کے گونگے اور بے عزت خداوٴں کی کتنی رسوائی ہے اورا گر کہیں کہ یہ با ت کر سکتے ہیں تو پھر ان کے پوچھنا پڑتا اورانہیں جواب دینا پڑتا۔ اس پر ان کا کوابیدہ وجدان جاگ اٹھا۔ ان کے اندر آواز آئی : تم ظالم اور خود پرست ہو، نہ اپنے اوپر رحم کرتے ہو اور نہ اپنے معاشرے پر۔ قرآن الفاظ میں: فارجعوا الیٰ انفسھم فقالوا انھم انتم الظالمون بہرحال جواب تو انہیں دینا ہی تھا۔ (انبیاء۔ ٦۴) ثم نکثو ا علی رؤسھم لقد علمت ما ھووٴلاء ِ ینطقون بڑی بےدلی سے سر شکستہ ہو کر کہنے لگے: تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بات نہیں کر سکتے۔ (انبیاء۔ ٦۵)۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی بات ان کے سر پر بجلی بن کر گری۔ آپؑ نے پکار کر کہا: اف لکم و لما تعبدون من دون اللہ افلا تعقلون حیف ہے تم پر اور ان پر کہ خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو۔ کیا ہو گیا ہے تمہاری عقلوں کو؟۔ (انبیاء۔ ٦٦)۔ آخرکار جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ابراہیم (علیه السلام) قوی منطق کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے تو انہوں پھر تمام جھوٹے سرکشوں کی طرح طاقت کا سہارا لیا اور کہنے لگے: تمہیں چاہئیے کہ اسے جلا دو۔ اس کام کے لئے انہوں بت پرستوں کے جاہلانہ تعصبات سے مدد لی اور پکار کر کہا: اگر تم میں طاقت ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کے لئے تیار ہو جاؤ۔ "قالوا حرقوہ و انصروا الٰھتکم ان کنتم فاعلین" (بحوالہ انبیاء ۶۳ تا ۶۷)۔ (انبیا۔ ٦۷) یہ ابراہیم (علیه السلام) کی رسا، استدالالی اور قاطع منطق کا ایک نمونہ تھا۔ ۸۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ایک اعزاز یہ شمار کرتا ہے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں (بحوالہ ملة ابیکم ابراھیم حج ۷۸) اور قرآن کہتا ہے کہ ان ہی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ (بحوالہ ممتحنة۔۴) یہاں تک کہ مسلمانوں کو شوق دلانے کے لئے ان کے چند کے احکام پر عمل درآمد کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہیں ابراہیم اور ان کے انصار کی اقتدا کرنا چاہئیے۔ (بحوالہ سورہ حج ۲۷)۔ ۹۔ اس عظمت و شکوہ سے مراسم حج کی بنیاد حکم الٰہی سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مراسم حج میں ابراہیمؑ کا نام، ان کے کی یاد اور ان کا ذکر موجود ہے۔ (بحوالہ آل عمران ٦۷) ۱۰۔ ابراہیم (علیه السلام) کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ ہر گروہ کی کوشش تھی کہ انہیں اپنے میں سے قرار دیں۔ یہودی اور عیسائی ابراہیم (علیه السلام) کے ساتھ اپنے تعلق پر بہت زور دیتے تھے یہاں تک کہ قرآن ان کے جواب میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ وہ ایک مسلمان اور سچے موحد تھے یعنی وہ ہر امر میں حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم تھے، اس کے علاوہ انہیں کوئی سوچ نہ تھی اور بس اسی کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے۔ (بحوالہ آل عمران٦۷)