Sūra 107 · 7v
Chapter 1077 verses

Al-Ma'un

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الماعون
الماعون

سُورہ الماعون

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۷ آیات ہیں۔

سُورہ ماعون کے مطالب اور اس کی فضیلت

یہ سُورہ بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق مکی سورتوں میں سے ہے۔ اس کی آیات کا لب و لہجہ، جو مختصر اور چُبھنے والے مقاطع میں قیامت اور اس کے منکرین کے اعمال کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، اس مطلب کی ناطق گواہ ہیں۔ مجموعی طور پر اس سُورہ میں منکرین قیامت کی صفات و اعمال کو پانچ مرحلوں میں بیان کیا گیا ہے، کہ وہ اس عظیم دن کی تکذیب کی وجہ سے راہ خدا میں "اتفاق" کرنے اور "یتیموں" اور "مسکینوں" کی مدد کرنے سے کس طرح رُوگردانی کرتے ہیں اور وہ "نماز" کے بارے میں کیسے غافل اور ریاکار ہیں، اور "حاجت مندوں" کی مدد کرنے سے کس طرح رُوگردانی کرتے ہیں؟ اِس سُورہ کی شان نزول کے بارے میں بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوا ہے جو روزانہ دو بڑے بڑے اونٹ نحر کیا کرتا تھا اور وہ خود اس کے یار دوست انہیں کھاتے تھے۔ لیکن ایک دن ایک یتیم آیا اور اس نے ان سے کچھ مانگا تو اس نے اپنے عصا سے اسے مارا، اور اُسے دور کر دیا۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا کہ یہ "ولید بن مغیرہ" یا "عاص بن وائل" کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اِس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "من قراٴ اٴرءیت الّذی یکذّب بالدّین فی فرائضہ و نوافلہ قبل اللہ صلاتہ و صیامہ، ولم یحاسبہ بما کان منہ فی الحیاة الدنیا": "جو شخص اس سُورہ کو اپنی فریضہ نمازوں میں پڑھے گا تو اس کے نماز و روزہ کو قبول کرے گا اور ان کاموں کے مقابلہ میں جو اس سے دنیا میں سرزد ہوئے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں لے گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۴۶)۔

1
107:1
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
کیا تو نے اس شخص کو دیکھا ہے، جو ہمیشہ ہی روز جزا کا انکار کرتا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
107:2
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ
وہی تو ہے، جو یتیم کو سختی کے ساتھ دھکے دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
107:3
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ
اور دوسروں کو مسکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
107:4
فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ
پس ان نماز گزاروں پر افسوس ہے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
107:5
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ
جواپنی نمازوں کو بھول جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
107:6
ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ
وہی جو ریاکاری کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
107:7
وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ
اور دوسروں کو ضروریات زندگی سے باز رکھتے ہیں۔

تفسیر معاد کے انکار کے بُر اثرات

Tafsīr Nemūna · Vol. 16

اس سُورہ میں پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مخاطب کرتے ہوئے منکرین کے اعمال میں روز جزا کے انکار کے اثراتِ بد کو بیان کرتا ہے:۔ "کیا تُو نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ہمیشہ روز جزا کا انکار کرتا ہے" (أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ)۔ اس کے بعد اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر مزید فرماتا ہے،: "وہی تو ہے جو یتیم کو سختی کے ساتھ دھکے دیتا ہے۔" (فذالک الذی یدعّ الیتیم)۔ "دین" سے مُراد یہاں "جزا" یا "روز جزا" ہے۔ اور اس کی عظیم داد گاہ کے انکار سے انسان کے عمل میں ایک وسیع ردِّعمل پیدا ہوتا ہے۔ جس کے پانچ حصوں کی طرف اس سُورہ میں اشارہ ہوا ہے، منجملہ: یتیموں کو سختی کے ساتھ دھتکارنا اور دوسرے لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کا شوق دلانا۔ یعنی نہ تو خُود ہی انفاق کرنا اور نہ ہی دوسروں کو اس کام کی دعوت دینا۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں "دین" سے مُراد قرآن یا تمام آئین و دین اسلام ہے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے، اور اس کی نظیر سورہ انفطار کی آیہ ۹ "كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ" اور سُورہ "تین" آیہ ۷ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ میں بھی آئی ہے، جہاں ان سورتوں کی دوسری آیات کے قرینہ سے دین سے مراد روز جزا ہے۔ "یدعّ"، "دعّ" (بروزن حدّ) کے مادہ سے، سختی کے ساتھ دُور کرنے اور غصہ کے ساتھ دھتکارنے کے معنی میں ہے اور "یحضّ"، "حَضّ" کے مادّہ سے کسی چیز کے لیے دوسروں کو تحریص و ترغیب دینے کے معنی میں ہے، "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے، "حصّ" چلنے اور سیر کرنے کے لیے شوق دلانا ہے، لیکن "حضَّ" اس طرح نہیں۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات" مادّہ "حض")۔ چونکہ "یحضّ" اور "یدعّ" فعل مضارع کی صورت میں آئے ہیں، لہٰذا یہ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یتیموں اور مسکینوں کے بارے میں ان کا یہ کام دائمی طور پر تھا۔ یہ نکتہ بھی یہاں پر قابل توجہ ہے کہ یتموں کے بارے میں انسانی حقیقت اور مہربانی کرنے کا مسئلہ کھانا کھلانے اور سیر کرنے کی نسبت زیادہ عُمدہ ہے۔ کیونکہ یتیم سب سے زیادہ رنج اور دکھ شفقت و مہربانی کے مرکز اور غذائے رُوحی کے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے، اور جسمانی غذا کا مرحلہ بعد میں آتا ہے۔ پھر ان آیات میں ہمارے سامنے مسکینوں کو کھانا کھلانے کا مسئلہ آتا ہے، جو اہم ترین کار ہائے خیر میں سے ہے۔ یہاں تک کہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی قدرت نہیں رکھتا، تو دوسروں کو اس بات کی ترغیب دے اور شوق دلائے۔ "فذالک" کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہاں "فا" سببیت کا معنی دیتا ہے) اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ معاد پر ایمان کا نہ ہونا ان غلط کاریوں کا سبب بنتا ہے، اور واقعاً ایسا ہی ہے وہ شخص جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس عظیم دن اور اس دادگاہ عدل، اور اس حساب و کتاب اور جزا و سزا پر یقین رکھتا ہو، اس کے تمام اعمال میں اس کے مثبت آثار ظاہر ہوں گے، لیکن جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تو گناہ کرنے اور انواع و اقسام کے جرائم کرنے پر ان کی جراٴت کرنے میں اس کے اثرات کامل طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اِس گروہ کی تیسری صفت کے بارے میں فرماتا ہے: پس ان نماز گزاروں پر وائے ہے۔" (فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ)۔ "وہی نمازی جو اپنی نماز کو بھول جاتے ہیں۔" (الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ)۔ وہ اس کے لیے نہ تو کسی قدر و قیمت کے قائل ہیں اور نہ ہی اس کے اوقات کو کوئی اہمیت دیتے ہیں، اور نہ ہی اس کے ارکان و شرائط اور آداب کی رعایت کرتے ہیں۔ "ساھون"، "سھو" کے مادّہ سے اصل میں اس خطا کے معنی میں ہے جو غفلت کی بناء پر سرزد ہو چاہے اس کے مقدمات کے فراہم کرنے میں مقصر ہو یا نہ ہو۔ البتہ پہلی صورت میں معذور نہیں ہے، اور دوسری صورت میں معذور ہے لیکن یہاں وہ سہو مراد ہے جو تقصیر کے ساتھ تواٴم ہو۔ اس بات کی توجہ رکھنی چاہئیے کہ یہ نہیں فرماتا کہ: "وہ اپنی نماز میں سہو کرتے ہیں۔" چونکہ نماز میں سہو تو بہرحال، ہر شخص سے ہو جاتا ہے، "وہ اصل نماز سے ہی سہو کرتے ہیں، اور کل کی کل نماز کو ہی بھول جاتے ہیں۔" یہ بات واضح ہے کہ اگر اس مطلب کا ایک یا چند مرتبہ اتفاق ہو تو ممکن ہے کہ کوتاہی کی وجہ سے ہو۔ لیکن جو شخص نماز کو ہمیشہ کے لیے ہی بھولے ہوئے ہو، اور اسے بالکل ہی بھلا چکا ہو، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے، یا اصلاً اس پر ایمان نہیں رکھتا، اور اگر وہ کبھی کبھار نماز پڑھ لیتا ہے تو لوگوں کی زبان یا اسی طرح کی باتوں سے ڈر کر پڑھتا ہے۔ اِس بارے میں کہ یہاں "ساھون" سے مُراد کیا ہے؟ جو کچھ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے اس کے علاوہ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس سے مُراد وقت فضیلت سے تاخیر کرنا ہے۔ یا اس سے مُراد ان منافقین کی طرف اشارہ کرنا ہے جو نہ نماز کے ثواب کا اعتقاد رکھتے ہیں، اور نہ ہی اس کے ترک کے عذاب کا۔ یا اس سے مُراد وہ لوگ ہیں جو نماز میں ریا کاری کرتے ہیں۔ (جب کہ یہ معنی بعد والی آیت میں آ رہا ہے)۔ البتہ ان معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے اگرچہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال، جب نماز کو بھول جانے والے ویل اور ہلاکت کے مستحق ہیں، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو کُلی طور پر نماز کو چھوڑے ہوئے ہیں اور تارک الصلاة ہیں۔ چوتھے مرحلہ میں ان کے ایک اور بدترین عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ رہا کاری کرتے ہیں۔" (الَّذِينَ هُمْ يُرَاؤُونَ)۔ اور آخری مرحلہ میں مزید فرماتا ہے: "وہ دوسروں کو ضروریات زندگی سے منع کرتے ہیں۔" (وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ)۔ مسلّمہ طور پر اس تظاہر اور ریا کاری کے سرچشمے روز قیامت پر ایمان کا نہ ہونا، اور خدائی جزاؤں کی طرف توجہ کرنا ہے، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خدائی جزاؤں کو تو چھوڑ دے، اور مخلوق کو خوش کرنے کی طرف توجہ رکھے۔ "ماعون"، "معن" (بروزن شٲن) کے مادّہ سے، کم اور تھوڑی سی چیز کے معنی میں ہے اور بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں اس سے مُراد جزئی اور معمولی قسم کی چیزیں ہیں، جو لوگ، خصوصاً ہمسائے، ایک دوسرے سے رعایتاً لے لیتے ہیں، مثلاً کچھ نمک، پانی، آگ (ماچس) برتن وغیرہ۔ واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی چیزیں بھی دوسروں کو دیتا، وہ انتہائی پست اور بےایمان آدمی ہوتا ہے، ایسے افراد اس قدر بخیل ہوتے ہیں کہ اس قسم کی معمولی چیزوں کے دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی معمولی معمولی چیزیں بعض اوقات بڑی بڑی احتیاجات کو پورا کرتی ہیں اور ان کے روک لینے سے لوگوں کی زندگی میں بڑی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایک گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ "ماعون" سے مُراد زکوٰة ہے۔ کیونکہ اصل مال سے عام طور پر بہت ہی کم ہوتی ہے۔ کبھی سو میں سے دس، کبھی سو میں سے پانچ اور کبھی سو میں سے اڑھائی۔ یقینا "زکوٰة کا نہ دینا" بھی بدترین کاموں میں سے ایک ہے، کیونکہ زکوٰة معاشرے کی بہت سی اقتصادی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے ماعون کی تفسیر میں فرمایا: "ھو القرض یقرضہ، و المتاع یعیرہ، و المعروف یصنعہ: "ماعون وہ قرض ہے جو انسان دوسرے کو دیتا ہے۔ اور وہ وسائل زندگی ہیں جو وہ ادھار کے طور پر دوسرں کو دیتا ہے۔ اور وہ امدادیں اور کارہائے خیر ہیں جنہیں انسان انجام دیتا ہے۔ (بحوالہ: "کافی" مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، ص ۶۷۹)۔ ایک اور روایت میں انہیں حضرت سے یہی معنی نقل ہوا ہے، اور اس کے ذیل میں آیا ہے کہ راوی نے کہا: ہمارے ہمسائے ایسے ہیں کہ جب ہم کچھ وسائل زندگی ان کو دیتے ہیں تو وہ انہیں توڑ دیتے ہیں اور خراب کر دیتے ہیں، تو کیا انہیں نہ دینا بھی گناہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا اس صُورت میں کوئی مانع نہیں ہے۔ "ماعون" کے معنی کے بارے میں دوسرے احتمالات بھی دئے گئے، یہاں تک کہ تفسیر قرطبی میں بارہ سے زیادہ قول اس سلسلے میں نقل ہوئے ہیں جن میں سے بہت سوں کو ایک دوسرے میں ملایا جا سکتا ہے، البتہ زیادہ اہم وہی جو ہم نے اُوپر نقل کیے ہیں۔ ان دونوں کاموں کو ایک دوسرے کے بعد ذکر کرنا (ریا کاری و منع ماعون) گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو بات خدا کے لیے ہے اسے وہ مخلوق کی نیت سے بجا لاتے ہیں، اور جو مخلوق کے لیے ہے وہ ان کے لیے نہیں کرتے اور اس طرح سے وہ کوئی بھی حق اس کے حق دار تک نہیں پہچاتے۔ ہم اس گفتگو کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: "من منع الماعون جارہ منعہ اللہ خیرہ یوم القیامة، و وکّلہ الیٰ نفسہ، ومن وکلہ الیٰ نفسہ فما اسوء حالہ ؟!: جو شخص ضروری اور معمولی چیزوں کو اپنے ہماسایہ سے روکتا ہے، خدا اُسے قیامت کے دن اپنی خیر سے روک دے گا، اور جسے خدا اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دے اس کا بہت ہی بُرا حال ہو گا۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۶۷۹، حدیث ۲۰)۔

چند نکات ۱۔ سُورہٴ ماعون کے مباحث کی جمع بندی

اِس مختصر سُورہ میں صفاتِ رذیلہ کا ایک ایسا مجموعہ آیا ہے کہ وہ جس شخص میں بھی ہو اس کی بےایمانی، پستی اور حقارت کی ایک نشانی ہے۔ اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان سب کو تکذیبِ دین یعنی جزاء یا روزِ جزا کی فرع قرار دیا ہے۔ یتیموں کو حقیر جاننا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، نماز سے غفت برتنا، ریاکاری کرنا اور لوگوں سے موافقت نہ کرنا، یہاں تک کہ زندگی کے معمولی وسائل دینے میں یہ ہے کہ ان (صفات رذیلہ) کا مجموعہ۔ اور اس طرح سے ان بخیل، خود خواہ اور ریا کار افراد کو ظاہر کرتا ہے، جن کا نہ تو "مخلوقِ خدا" ہی کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی "خالق" کے ساتھ کوئی رابط۔ ایسے افراد جن کے وجود میں نور ایمان اور احساسِ مسؤلیت نہیں ہوتا، نہ تو وہ خدائی اجر و ثواب میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

۲۔ تظاہر و ریا ایک بہت بڑی اجتماعی مُصیبت ہے۔

ہر عمل کی قدر و قیمت اس کے سبب کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے، یا دوسرے لفظوں میں اسلام کی نگاہ میں ہر عمل کی بنیاد اس کی "نیت" پر ہوتی ہے، وہ بھی "خالص نیت" اِسلام ہر چیز سے پہلے نیّت کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، لہٰذا ایک مشہور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "انما الاعمال بالنیات و لکل امرء مانوی" "ہر عمل نیّت کے ساتھ وابستہ ہے اور ہر شخص کا عمل میں حصہ، اس کی اس نیت کے مطابق ہو گا، جو وہ عمل میں رکھتا تھا۔" اور اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے: "جو شخص خدا کے لیے جہاد کرے اس کا اجر خدائے بزرگ و برتر ہے۔ اور جو شخص مالِ دنیا کے لیے جنگ کرے، یہاں تک کہ ایک عقال وہ چھوٹی سی رسّی جس سے اونٹ کے پاؤں کو باندھتے ہیں) لینے کے لیے کرے اس کا حصہ بس وہی ہے۔ (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد اول، ص ۳۵ (ابواب مقدمہٴ العبادات باب ۵، حدیث ۱۰))۔ یہ سب اس بناء پر ہے کہ "نیت سے ہی عمل وجود میں آتا ہے۔ وہ شخص جو خدا کے لیے کوئی کام انجام دیتا ہے، تو وہ اس کی بنیاد کو محکم کرتا ہے، اور اس کی تمام کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔ لیکن جو شخص تظاہر اور ریا کاری کے لیے کسی عمل کو انجام دیتا ہے وہ صرف اس کے ظاہر اور زرق و برق پر نظر رکھتا ہے، اور وہ اس کی گہرائی و بنیاد اور حاجت مندوں کے استفادے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ معاشرہ جو ریا کاری کا عادی ہو جاتا ہے وہ نہ صرف خدا، اخلاقِ حسنہ اور ملکاتِ فاضلہ سے دُور کر دیا جاتا ہے، بلکہ اس کے تمام اجتماعی پروگرام مفہوم و مطلب سے خالی ہو جاتے ہیں، اور وہ مُٹھی بھر بےمعنی ظواہر کا خالص رہ جاتے ہیں، اور ایسے انسان اور اس قسم کے معاشرے کی سرنوشت کتنی دردناک ہے؟! "ریا" کی مذمّت میں بہت زیادہ روایات آئی ہیں، یہاں تک کہ اس کو شرک کی ایک نوع کہا گیا ہے، اور ہم یہاں تین ہلا دینے والی روایات پر قناعت کرتے ہیں۔ ۱۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "سیاٴتی علی الناس زمان تخبث فیہ سرائرھم۔ وتحن فیہ علانیتھم، طمعاً فی الدنیا لایریدون بہ ما عند ربھم، یکون دینھم ریاء لا یخالطھم خوف، یعمعھم اللہ بعقاب فیدعونہ دعاء الغریق فلا یستجیب لھم!: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب ان کے باطن قبیح، گندے اور آلودہ ہو جائیں، اور ان کے ظاہر زیبا اور خوبصورت ہوں گے۔ ُدنیا میں طمع کی خاطر وہ اس سے اپنے پروردگار کی جزاؤں کے طلب گار نہیں ہوں گے۔ ان کا دین ریا ہو جائے گا، خوفِ خدا ان کے دل میں باقی نہ رہے گا، خدا ان سب کو ایک سخت عذاب میں گرفتار کرے گا، اور وہ جتنا بھی ایک ڈوبنے والے کی طرح خدا کو پکاریں گے، ہرگز ان کی دُعا قبول نہ ہو گی۔" (بحوالہ: "اصول کافی" جلد ۲، باب الریاء، حدیث ۱۴)۔ ۲۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؐ نے اپنے ایک صحابی "زرارہ" سے فرمایا: "من عمل للناس کان ثوابہ علی النّاس یا زرارہ! کل ریاء شرک!"۔ "جو شخص لوگوں کے لیے عمل کرے گا اس کا اجر و ثواب لوگوں پر ہی ہو گا۔ اے زرارہ! ہر ریا شرک ہے۔ (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد اول، ص ۴۹، (حدیث ۱۱ کے ذیل میں))۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے آیا ہے: "ان المرائی یدعی یوم القیامة باربعة اسماء: یا کافر! یا فاجر! یا غادر! یا خاسر! حبط عملک، و بطل اجرک، فلا خلاص لک الیوم، فالتمس اجرک ممن کنت تعمل لہ!: "ریاکار شخص کو قیامت کے دن چار ناموں سے پکارا جائے گا: اے کافر! اے فاجر! اے حیلہ گر! اے خاسر و زیاں کار! تیرا عمل نابُود ہو گیا ہے، تیرا اجر و ثواب باطل ہو چکا ہے۔ آج تیرے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے، لہٰذا تو اپنا اجر و ثواب اس سے طلب کر جس کے لیے تو عمل کرتا تھا۔ (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد اول، ص ۵۱ (حدیث ۱۶ کے ذیل میں)۔ خداوندا! خلوص نیت سخت مشکل کام ہے، تو خود اس راہ میں ہماری مدد فرما۔ پروردگارا! ہمیں ایسا ایمان مرحمت فرما کہ ہم تیرے ثواب و عقاب کے علاوہ اور کچھ نہ سوچیں، اور مخلوق کی رضا و خشنودی اور غصہ و غضب تیری راہ میں ہمارے لیے یکساں ہو۔ بارلہٰا! اس راہ میں جو خطا اور غلطی اب تک ہم نے کی ہے وہ ہمیں بخش دے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

end of chapter
Al-Ma'un (107) — Tafseer e Namoona