Abasa
سورة عبس
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۲ آیات ہیں۔
سورة عبس کے مضامین
سورہ عبس مختصر ہونے کے باوجود مختلف اور اہم مسائل پر بحث کرتی ہے اور مسئلہ معاد کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ اس کے مضامین کا پانچ موضوعات کے ماتحت خلاصہ کیا جا سکتا ہے: ۱- خدا کا شدید عتاب اس شخص پر جس نے ایک حقیقت کے متلاشی نابینا سے مناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔ ۲- قرآن مجید کی قدر و قیمت اور اہمیت۔ ۳- خدا کی نعمتوں کے سلسلہ میں انسان کی ناشکری۔ ۴- انسان اور حیوانات کی غذا کے سلسلہ میں انسان کے احساس شکر گزاری کو بیدار کرنے کے لیے خدا کی نعمتوں کے ایک حصّہ کا بیان۔ ٥- حوادثِ قیامت کے کچھ لرزہ براندام کر دینے والے حصوں کی طرف اشارہ اور اس عظیم دن مومنین و کفار کا احوال۔
اس سورہ کا نام اس کی مناسبت سے اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے: "من قرأ سورة عبس" جاء يوم القيامة ووجهه ضاحك مستبشر: جو شخص سورہ عبس کی تلاوت کرے وہ بروز محشر اس حالت میں وارد ہو گا کہ اس کا چہرہ خنداں اور وہ شخص ہشاش بشاش ہو گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۳٥)-
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 12یہ آیات اجمالی طور پر بتاتی ہیں کہ ان میں خدا نے کسی کو سرزنش کی ہے اور اس پر عتاب کیا ہے اس لیے کہ اس نے ایک یا کئی غنی افراد کو حق طلب نابینا پر ترجیح دی ہے۔ باقی رہا یہ کہ موردِ عتاب و سرزنش کون شخص ہے اس میں اختلاف ہے۔ عام اور خاص دونوں طرح کے مفسرین کے درمیان یہ مشہور ہے کہ قریش کے سرداروں کا ایک گروہ جن میں عقبہ بن ربیعہ، ابو جہل، عباس ابن عبدالمطلب وغیرہ اور ان کے علاوہ کچھ اور لوگ خدمتِ پیغمبرؐ میں حاضر تھے اور پیغمبرؐ انہیں دعوتِ اسلام دینے میں مصروف تھے اور اس بات کی امید کر رہے تھے کہ یہ باتیں ان کے دلوں پر اثر انداز ہوں گی (یقینی بات تھی کہ اگر اس قسم کے افراد اسلام قبول کر لیتے تو دوسری قسم کے لوگوں کو بھی اسلام کی طرف کھینچ لاتے اور ان کی مخالفانہ کاروائیاں بھی ختم ہو جاتیں۔ لہذا دونوں حیثیتوں سے یہ صورتِ حال اسلام کے لیے مفید تھی)۔ اس دوران عبداللہ ابن مکتوم، جو نابینا اور مفلس تھے، مجلس میں وارد ہوئے اور انہوں نے پیغمبرؐ سے استدعا کی کہ وہ کچھ آیتیں قرآن کی انہیں سنائیں اور انہیں ان کی تعلیم دیں۔ وہ اس بات پر مسلسل اصرار کیے جا رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے اس لیے کہ انہیں صحیح طور پر معلوم ہی نہیں تھا کہ پیغمبرِ اسلامؐ کن لوگوں سے مصروفِ گفتگو ہیں۔ انہوں نے کلامِ پیغمبرؐ کو اس قدر قطع کیا کہ پیغمبر اسلامؐ کے چہرہ اقدس پر ناگواری کے آثار ظاہر ہو گئے۔ آپؐ نے اپنے دل میں کہا کہ یہ عرب کے سردار کیا سوچیں گے کہ محمدؐ کے پیروکار نابینا اور غلام ہیں۔ لہذا آپؐ نے عبداللہ کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا اور گروہِ قریش کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی، تو اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ (اور اس سلسلہ میں پیغمبرؐ کو موردِ عتاب قرار دیا)۔ رسول کریمؐ اس واقعہ کے بعد عبداللہ کا ہمیشہ احترام کرتے اور جس وقت ان کو دیکھتے تو فرماتے: (مرحبا بمن عاتبنی فیہ ربی) "مرحبا اے وہ شخص جس کی وجہ سے میرے پروردگار نے مجھے موردِ عتاب قرار دیا"۔ اس کے بعد ان سے کہتے "کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے جسے میں بہم پہنچاؤں" اور پیغمبرِ اسلامؐ نے ان کو دو مرتبہ غزواتِ اسلامی کے سلسلہ میں مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۳۷)۔
دوسری شانِ نزول
جو کچھ مندرجہ آیات کے سلسلہ میں نقل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آیات بنی امیہ میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جو پیغمبرؐ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ ابنِ مکتوم وارد ہوئے۔ جب اُس کی نگاہ عبداللہ پر پڑی تو اس نے اپنا دامن سمیٹا اس خیال سے کہ وہ کہیں میلا نہ ہو اور اپنے چہرے پر ناگوار اثرات ظاہر کیے اور منہ پھیر لیا، تو خدا نے مندرجہ بالا آیات میں اس کے عمل کو نقل کرکے اسے موردِ عتاب قرار دیا۔ یہ شانِ نزول ایک حدیث میں امام جعفرؑصادق سے منقول ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۳۷)۔ محقق بزرگ شیعہ مرحوم سید مرتضےٰ نے اسی شانِ نزول کو قبول کیا ہے، البتہ آیت میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو صراحت کے ساتھ دلالت کرے کہ اس سے مراد خود پیغمبرؐ ہیں جو چیز اس امر پر قرینہ بن سکتی ہے وہ صرف باتیں ہیں جو آیت ۱٠ تک کہی گئی ہیں۔ مثلاً جو شخص خدا کی آیتوں کو سننے کے لیے تیزی سے تیرے پیچھے آتا ہے اور خدا سے ڈرتا ہے تُو اس سے غافل ہوتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہر شخص سے زیادہ پیغمبرؐ پر صادق آتی ہے، لیکن مرحوم سید مرتضےٰ کے بقول ان آیات میں کئی قرائن بتاتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبرؐ نیہں ہیں۔ پھر یہ کہ عبوس "ترشروئی اختیار کرنا" صفاتِ انبیاء میں سے نہیں ہے، خصوصاً پیغمبرِ اسلامؐ، آپؐ تو اپنے دشمنوں سے بھی کشادہ روئی سے بات کرتے تھے چہ جائیکہ ایک ایسے مومن سے ترشروئی اختیار کریں جو حقیقت کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے یہ کہ اغنیاء کی طرف متوجہ ہونا اور حق طلب مفلس سے غافل ہونا آنحضرتؐ کے ان اخلاق کے ساتھ جن کی طرف سورہ (قلم) کی آیت ۴ میں اشارہ ہوا ہے (وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ) "تُو عظیم اخلاق پر فائز ہے" ہرگز مطابقت نہیں رکھتا، خصوصاً جبکہ مشہور یہ ہے کہ سورہ (قلم) سورہ عبس سے پہلے نازل ہوا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۳۷)۔
تفسیر حق طلب نابینا سے بےاعتنائی برتنے پر شدید عتاب
جو کچھ شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اب ہم اس کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "اِس نے ترشروئی اختیار کی اور منہ پھیرا، (عَبَسَ وَتَوَلَّى)۔ "اس وجہ سے کہ نابینا اس کے پاس آیا تھا، (أَن جَاءَهُ الْأَعْمَى) ۔"تُو کیا جانتا ہے شاید وہ ایمان، پاکیزگی اور تقوٰی کی جستجو میں ہو" (وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى)۔ "یا حق کی باتیں سننے سے ذکر یافتہ ہو جائے اور یہ تذکر اس کے لیے مفید هو" (أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَى)۔ اور اگر سو فیصد پاک نہ بھی ہو اور تقوٰی اختیار نہ کرے تو اس ذکر سے کم از کم نصحیت حاصل کرے اور بیدار ہو اور یہ بیداری اجمالی طور پر اس پر اثر انداز ہو۔ (تشریحی نوٹ: اس وجہ سے اس آیت میں اور گزشتہ آیت میں فرق یہ ہے کہ وہاں گفتگو کامل پاکیزگی اور تقوٰی کے بارے میں ہے اور یہاں تذکر کی اجمالی تاثیر کے بارے میں بات ہو رہی ہے چاہے کامل تقوٰی کے مقام تک نہ پہنچے۔ نتیجتا وہ حق طلب نابنیا تذکر سے فائدہ اٹھائے گا چاہے مکمل فائدہ ہو چاہے مختصر۔ بعض مفسرین سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی آیت گنابوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری کسب اطاعات و پیروي فرمان خدا کی طرف، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے)۔ اس کے بعد اس عتاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: "باقی رہا وہ جو اپنے آپ کو غنی اور بےنیاز سمجھتا ہے۔" (أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى)۔ "تُو اس کی طرف رخ کرتا ہے اور توجہ کرتا ہے۔" (فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّى) اور اس کی ہدایت پر اصرار کرتا ہے حالانکہ وہ غرور، ثروت و خود خواہی میں مبتلا ہے۔ وہ غرور جو طغیان و سرکشی کا منشاء ہے جیسا کہ سورہ علق کی آیت ۶، ۷ میں آیا ہے (ان الانسان ليطغٰي ان رآه استغنٰی) انسان طغیان و سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے غنی، استغنی و تغنی اور تغانی کے ایک ہی معنی ہیں پھر اس کے بقول تصدی "صدی (بروزن فتی) اصل میں اس آواز کے معنی میں ہے جو پہاڑ سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ اس کے بعد لفظ تصدی کسی چیز کے روبرو قرار پانے کے معنی میں ہے اور مکمل طور پر اسی کی طرف توجہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)۔ حالانکہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو تیری کوئی ذمہ داری نہیں۔ (وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى)۔ تیری ذمہ داری صرف تبلیغ رسالت ہے (خواہ ازاں پند گیرند یا ملال) چاہے وہ نصیحت حاصل کریں چاہے انہیں ملال ہو۔ اس لیے ہر قسم کے افراد کے واسطے حق طلب نابینا سے لا پرواہی نہیں برتنی چاہیئے اور اسے آزردہ نہیں کرنا چاہیے، خواہ تیرا مقصد یہ بھی ہو کہ یہ اکڑنے والے لوگ ہدایت حاصل کر لیں۔ تاکید و عتاب کو نئے سرے سے شروع کرتا ہے اور خطاب کی صورت میں فرماتا ہے: "باقی رہا وہ شخص جو تیرے پاس آتا ہے اور ہدایت و پاکیزگی کے لیے کوشش کرتا ہے" (وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَى)۔ "اور خدا سے ڈرتا ہے" (وَهُوَ يَخْشَى)۔ (تشریحی نوٹ: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں خشیت سے مراد خوف خدا ہے، ایسا خوف جو انسان کو زیادہ سے زیادہ تحقیق پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کے مشابہ جو متکلمین نے دفع ضرر متحمل کا استثناء کرتے ہوئے وجوبِ معرفتِ خدا کے سلسلہ میں کہا ہے۔ اور یہ جو فخر رازی نے احتمال پیش کیا ہے کہ مراد کفار کا خوف ہے، یا نابینا ہونے کی وجہ سے گر پڑنے کا خوف مقصود ہے، بہت بعید ہے)۔ اسی خوفِ خدا نے اسے تیرے پیچھے بھیجا ہے تاکہ وہ زیادہ حقائق سنے اور ان پر کاربند ہو اور اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ کرے "تُو اس سے غفلت کرتا ہے اور دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے" (فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّى)۔ (تشریحی نوٹ: "تلھٰی" لھوکے مادہ سے سرگرم کر دینے والے کام کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے غفلت برتنے اور دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے معنی میں ہے اور حقیقت میں تصدی کا نقطه مقابل ہے)۔ "انت" تُو کی تعبیر حقیقت میں اس طرف اشارہ ہے کہ تجھ جیسے انسان کے لیے یہ سزاوار نہیں ہے کہ اس قسم کے حق طلب انسان سے ایک لمحے کے لیے کبھی غافل ہو اور دوسرے کی طرف متوجہ ہو اور تیرے دوسروں کی طرف متوجہ ہونے کا مقصد بھی یہ ہو کہ ان کو ہدایت حاصل ہو۔ اس لیے ترجیح اس کمزور اور پاک دل گروہ ہی کو ہے۔ بہرحال یہ عتاب و خطاب اس اہم حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اسلام اور قرآن راہِ حق کو طے کرنے والے کمزور افراد کے لیے خاص قسم کی اہمیت و احترام کا قائل ہے اور اس کے برعکس حالت پر تیز اور سخت تنقید کرتا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں جو نعمتِ الٰہی کی فراواني کي وجہ سے مغرور ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ خدا راضی نہیں ہوتا کہ تُو ان کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اس حق طلب کمزور طبقہ میں کم سے کم رنجش بھی پیدا کرے۔ اس کی وجہ اس سے بھی واضح ہے کہ یہ لوگ ہمیشه اسلام کے مخلص سہارا بننے والے، مشکلات کے وقت دین کے عظیم پیشواؤں کی آواز پر لبیک کہنے والے، میدان جنگ میں قربانی پیش کرنے والے اور شہید ہونے والے تھے۔ جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علیؑ اپنے مشہور مالک اشتر والے فرمان میں فرماتے ہیں: وانما عماد الدين و جماع المسلمين والعدة للاعداء العامة من الأمة، فليكن صغوك لهم و ميلك معهم۔ دین کا ستون اور مسلمانوں کے اجتماع کا سرمایہ اور دشمنوں کے مقابلے میں قوت و طاقت کا ذخیرہ امت کے صرف عامۃ الناس ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کی بات کان دھر کے سننا اور ان کی طرف اپنی خاص توجہ رکھنا چاہیے۔ (بحوالہ: نہج البلاغه جز خطوط خط ٥۳)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر صرف پاک لوگوں کا ہاتھ قرآن کے دامن تک پہنچتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 12گزشتہ آیات کے بعد جن میں گفتگو اس شخص کی سرزنش کے بارے میں تھی جس نے ایک حق طلب نابینا کی طرف توجہ کم کی تھی، ان آیات میں قرآن مجید کی اہمیت، اس کے پاک مبداء اور اس کی نفوس میں تاثیر کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہرگز اس کام کی تکرار نہ کر اور اس کو ہمیشہ کے لیے بھول جا۔" كَلَّا۔ "یہ آیات چونکہ خلقِ خدا کے تذکرو یاد آوری کا وسیلہ ہیں" (إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "انها" کی ضمیر جو مونث ہے آیات قرآن کی طرف لوٹتی ہے)۔ اس چیز کی ضرورت نہیں کہ پاک دل مستضعفین سے غافل ہو کر اثر و رسوخ رکھنے والے مغرور افراد پر توجہ دے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ" کا جملہ مشرکین اور دشمنان اسلام کی ان تمام تہمتوں کا جواب ہو جو قرآن کے بارے میں تھیں۔ کبھی اسے شعر کہتے تھے، کبھی جادو کبھی اس قسم کی کہانت. قرآن کہتا ہے ان تہمتوں میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ آیات بیداری ، آگاہی، یاد آوری اور ایمان کا وسیلہ ہیں اور اس کی دلیل خود انہی میں پوشیدہ ہے، اس لیے کہ جو شخص بھی اس کے نزدیک ہوتا ہے، سوائے معاندین، کج بحث اور ہٹ دھرم افراد کے، وہ یہ اثر اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہنا ہے: "جو شخص چاہے اس سے پند و نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔" (فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "ذكرة" کی ضمیر اسی چیز کی طرف لوٹتی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں مراد آیات ہیں لٰہذا ضمیر مؤنث ہے اور یہاں خود قرآن کی طرف اشارہ ہے اور مذکر لفظی ہے)۔ یہ تعبیر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جبر و اکراہ درمیان میں نہیں ہے اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ انسان اپنے ارادے میں آزاد ہے۔ جب تک وہ نہ چاہے اور قبول ہدایت کا مصمم ارادہ نہ کرے۔ آیاتِ قرآنی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "خدا کے یہ عظیم کلمات بیش قیمت صحائف میں ثبت ہیں۔" (الواح و اوراق میں) (فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ)۔ "صحف" صحیفہ کی جمع ہے جو لوح، تختی، ورقہ یا کوئی اور چیز ہے جس پر کسی مفہوم کو لکھتے ہیں۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ آیاتِ قرآن پیغمبر اکرمؐ پر نزول سے پہلے کچھ الواح پر بھی لکھی ہوئی تھیں اور وحی کے فرشتے انہیں اپنے ساتھ لے کرآتے تھے۔ بہت ہی گراں قدر اور بیش قیمت الواح تھیں۔ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ صحف سے مراد گزشتہ انبیاء کی کتب ہیں، غالبًا یہ قبل و بعد کی آیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح ہے یہ جو کہا گیاہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے وہ بھی مناسب نظر نہیں آتا کیونکہ لفظ صحف صیغۂ جمع کی شکل میں لوح محفوظ کے بارے میں استعمال نہیں ہوا۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "یہ صحائف والواح بیش قیمت اور پاکیزہ ہیں "۔ (مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ)۔ یہ اس سے بالاتر ہیں کہ نا اہلوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھیں یا ان میں تحریف کرنے کی ان میں طاقت ہو۔ اور یہ اس سے زیادہ پاک ہیں کہ ناپاک لوگوں کے ہاتھ انہیں آلودہ کریں۔ نیز ہر قسم کے تناقص، تضاد اور شک و شبہ سے پاک ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ آیاتِ الٰہی سفیروں کے ہاتھ میں ہیں۔ (بِأَيْدِي سَفَرَةٍ)۔ "بلند مقام مطیع و فرماں بردار اور نیکو کار سفیر (كِرَامٍ بَرَرَةٍ)۔ "سفرة" (بر وزن طلبہ) سفر کے مادہ سے سافر کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں کسی چیز کے رُخ سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ اسی لیے وہ مختلف اقوام کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں اور ان کی مشکلات دیکھتے ہیں اور مبہم باتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں انہیں سفیر کہا جاتا ہے لکھنے والے شخص کو بھی مسافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی مطلب کے رخ سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسی بنا پر یہاں سفرہ سے مراد الٰہی فرشتے ہیں جو وحی کے سفیر ہیں یا خدا کی آیات لکھتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ سفرہ سے مراد یہاں قرآن کے حافظ، قاری اور کاتب اور علماء و دانشمند ہیں جو آیاتِ الٰہی کو ہر زمانے میں شیاطین کی دسترس سے محفوظ رکھتے ہیں۔لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے اس لیے کہ ان آیات میں گفتگو زمانۂ نزول وحی یعنی عصر پیغمبر سے ہے نہ کہ آئندہ سے۔ ایک حدیث ہمیں امام جعفر صادقؑ کی ملتی ہے آپ نے فرمایا: الحافظ للقران العامل به مع السفرة الكرام البرة:- جو شخص قرآن کا حافظ ہو اور اس پر عمل کرے تو وہ خدا کے عظیم فرمانبرداروں کے ساتھ ہو گا۔ یہ تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ قرآن کے حافظ، مفسر اور اس پر عمل کرنے والے ان سفرہ کے ہمراہ ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۳۸)۔ نہ یہ کہ یہ خود وہ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس وقت یہ علماء اور حافظين قران فرشتوں سے ملتا جلتا کوئی کام انجام دیں تو ان کے برابر قرار پائیں گے۔ بہرحال اس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام وہ لوگ جو حفظِ قرآن اور احیائے مطالب قرآن کی کوشش کرتے ہیں وہ (كِرَامٍ بَرَرَةٍ) کی طرح بلند منزلت کے حامل ہیں۔ "کرام" کریم کی جمع ہے جو عزیز و عظیم کے معنی میں ہے اور بارگاہِ خدا میں وحی کے فرشتوں کی عظمت اور ان کے مقام کی رفعت کی طرف اشارہ ہے۔ کبھی کہا گیا ہے کہ تعبیران کی ہر قسم کے گناہوں سے پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورہ انبیاء کی آیت ۲۶، ۲۷ میں فرشتوں کی تعریف میں آیا ہے (بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَoلَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ)۔ "وہ خدا کے باعزت گرامی قدر بندے ہیں جو بات کرنے میں کبھی اس سے سبقت نہیں کرتے اور ہمیشہ اس کے اوامر کا اجراء کرتے ہیں۔" "بررة" بار کی جمع ہے (مثل طالب وطلبه) یہ "بر" کے مادہ سے ہے جس کے معنی وسعت کے ہیں۔ اسی لیے وسیع صحرا کو بَر کہتے ہیں اور چونکہ نیکوکار افراد کا وجود وسیع ہے اور اس کی برکتیں دوسروں تک پہنچتی ہیں لہذا انہیں "بار" کہا گیا ہے۔ البته زیرِ بحث آیت میں نیکوکاری سے مراد امرِ الٰہی کی اطاعت اور گناہوں سے پاک ہونا ہے۔ اسی طرح خدا نے فرشتوں کی تین صفتوں کے حوالے سے توصیف کی ہے۔ پہلی یہ کہ وہ وحی کے سفیر اور حامل ہیں۔ دوسری یہ کہ ذاتی طور پر عزت دار اور گراں قدر ہیں۔ ان کی تیسری صفت اعمال کی پاکیزگی، عبادت گزاری، تسلیم اور نیکوکاری ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: ہدایتِ الٰہی سے متعلق ان تمام اسباب کے باوجود جو صحف مکرمہ میں مقرب خدا فرشتوں کے ذریعہ انواع و اقسام کے تذکروں کے ساتھ نازل ہوتے ہیں پھر بھی یہ سرکش اور ناشکر گزار انسان پروردگار کے سامنے سرتِسلیم خم نہیں کرتا۔ "قتل ہو جائے یہ انسان کس قدر کافر و ناشکرا ہے۔" (قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "قتل الانسان" کی تعبیر ایک قسم کی بد دعا ہے اور زمخشری کے بقول (کشاف میں) یہ بدترین قسم کی نفرین ہے اور"ما اکفرہ" میں لفظ "ما" تعجب کے اظہار کے لیے ہے۔ اس پر تعجب ہے کہ تمام اسباب ہدایت رکھتا ہے اور خدا کی نعمتیں بھی اسے حاصل ہیں پھر بھی کفر کی راہ اختیار کرنا ہے)۔ کفر یہاں ممکن ہے کہ عدم ایمان کے معنی میں، یا ناشکر گزاری اور کفران نعمت کے معنوں میں یا حق پر ہر قسم کا پردہ ڈالنے کے معنی میں ہو اور مناسب یہی جامع معنی ہیں کیونکہ گزشتہ آیات میں اسباب ایمان و ہدایت کی گفتگو تھی۔ بعد والی آیت میں پروردگار کی انواع و اقسام کی نعمتوں کی بات ہے۔ بہرحال "ان افراد پر موت" کی تعبیر سے مراد اس کے وہ معنی ہیں جو بطور کنایہ حاصل ہوتے ہیں یعنی به شدت غضب و تنفر كا اظہار ہے ان افراد کے بارے میں جو کافر اور ناشکر گزار ہیں۔ چونکہ عام طور پر سرکشی کا سرچشمہ غرور ہوتا ہے لہذا اس غرور کو ختم کرنے کے لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "خدا نے اس انسان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔" (مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ)۔ "اسے ناچیز و حقیر بےقیمت نطفہ سے پید کیا ہے، پھر اسے موزوں بنایا اور تمام مرحلوں میں اس کا حساب رکھا" (مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ)- یہ انسان اپنی حقیقی خلقت کے بارے میں کیوں غور نہیں کرتا اور اپنے بنیادی سرچشمہ کی بےقیمتی کو فراموش کیوں کیے ہوئے ہے اور پھر اس نطفہ ناچیز سے اس نادر وجود کی تخلیق کے سلسلہ میں خدا کی قدرت پر غور کیوں نہیں کرتا۔ اس لیے کہ نطفہ سے انسان کی تخلیق میں وقت اور اس کی تمام وجودی جہتوں کا حساب، اس کے پیکر کے اعضاء، اس کی استعدادیں اور اس کی ضرورتیں یہ سب معرفت خدا کے لیے بہترین دلیلیں ہیں۔ "قدرہ" کا جملہ تقدیر کے مادّہ سے ناپ تول اور موزوں بنانے کے معنی میں ہے۔ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ وجودِ انسانی کی ساخت میں بیس سے زیادہ دھاتیں اور دھات سے ملتی جلتی چیزیں استعمال ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک مقدار اور کیفیت کے لحاظ سے معین و مقرر اندازه رکھتی ہے۔ اگر اس میں کمی و بیشی واقع ہو تو انسانی وجود کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اس سے قطع نظر اعضائے بدن کی ساخت کی کیفیت اور ان کا ایک دوسرے سے تناسب و ارتباط دقیق اندازہ پر مشتمل ہے۔ نیز وہ استعدادیں اور میلانات جو انسان میں انفرادی طور پر ہیں اور مجموعه جہانِ بشریت میں چھپے ہوئے ہیں، ضروری ہے کہ خاص حساب کے مطابق ہوں تاکہ سعادت انسان کی تکمیل کریں۔ خدا وہ ہے جس نے یہ تمام حساب اس حقیر نطفہ میں انجام دیا۔ وہ نطفہ جو اس قدر چھوٹا ہے کہ اگر تمام انسانی افراد کی تعداد کے مطابق زندگی کے اصلی سیل (CELL) جو نطفہ کے پانی میں تیر رہے ہیں ایک جگہ جمع کر دیئے جائیں تو انگلی کی ایک پور کو پُر نہیں کر سکتے۔ جی ہاں! اس قسم کے چھوٹے سے وجود میں خدا نے ان سب بدائع اور نقوش کی تصویر کشی کی ہے اور انہیں اس میں ودیعت کیا ہے۔ بعض مفسرین نے تقدیر کے معنی آمادہ کرنا تجویز کیے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ تقدیر سے مراد اس ناچیز نطفہ میں ایجاد قدرت ہے۔ وہ خدا کتنا عظیم ہے جس نے اس معمولی سے وجود کو یہ سب قدرت و توانائی بخشی ہے جو آسمان و زمین اور سمندروں کی گہرائیوں کو اپنی جولاں گاہ بنا سکتا ہے اور اپنے گردو پیش کی تمام توانائیوں کو زیرِ تسلط لا سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے مفردات میں کہا ہے "قدره بالتشديد: اعطاه القدرة يقال قدرني الله على كذا و قوانی علیہ" اس بنا پر تقدیر کا مادہ عطائے قدرت و قوت کے معنی میں بھی آیا ہے)۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان جمع ممکن ہے. اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "پھر راستے کو اس کے لیے آسان کر دیا" (ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ)۔ شکم مادر میں جنین کی پرورش اس کے تکامل و ارتقاء اور اس کے بعد اس دنیا کی طرف اس کے منتقل کرنے کو سہل و آسان بنا ديا۔ انسان کی پیدائش کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ پیدا ہونے کے لمحات سے پہلے وہ شکم مادر میں اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سر اوپر کی طرف ہوتا ہے اور اس کا چہرہ ماں کی پشت کی جانب اور اس کے پاؤں رحم کے نیچے حصه میں ہوتے ہیں لیکن جب تولد کا فرمان صادر ہوتا ہے تو وہ اچانک الٹا ہو جاتا ہے اس کا سر نیچے کی طرف ہو جاتا ہے اور یہی صورت حال اس کی پیدائش کو اس کے اور اس کی ماں کے لیے آسان بنا دیتی ہے۔ البتہ بعض اوقات ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو سر کی بجائے پاؤں کی طرف سے متولد ہوتے ہیں اور ماں کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ پیدائش کے بعد بھی بچپن کے دَور میں جسم کی نشوونما پھر رشد و بلوغ و عرائز کی نشوونما کو اس کے لیے آسان بنا دیا ہے اس کے بعد بدایت معنوی اور حصول ایمان کو عقل اور دعوت انبیاء کے ذریعہ سہل کر دیا۔ کیسا جامع اور جاذب توجہ جملہ ہے جو مختصر ہونے کے باوجود ان تمام معاملات کی طرف اشارہ کرتا ہے "ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ" یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ فرماتا ہے: "راہ کو انسان کے لئے آسان کیا" یہ نہیں فرماتا کہ اس کو اس راستے کے طے کرنے پر مجبور کیا۔ یہ انسان کے ارادہ کی آزادی اور اختیار کے بارے میں دوسری تاکید ہے۔ پھر اس طولانی راہ کو طے کرنے کے بعد انسان کی عمر کے اختتام کے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے۔ فرماتا ہے: "پھر اس کو مارتا ہے اور قبر میں پنہاں کرتا ہے۔" (ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ)- یقینًا (اماته) مارنا خدا کا کام ہے لیکن قبر میں پنہاں کرنے کا کام ظاہرًا انسان سے متعلق ہے لیکن چونکہ اس کام کے لیے عقل و ہوش اور اسی طرح دوسرے وسائل کو خدا نے فراہم کیا ہے لہذا اس کام کی خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کام کے خدا کی طرف نسبت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے انسان کے لیے قبر کو خلق کیا ہے اور وہ مٹی کے اندر کا حصہ ہے اور بعض نے اس کی میتوں کے دفن کرنے کے سلسلہ میں حکم تشریعی اور دستور الہی کے معنوں میں لیا ہے۔ بہرحال نوع بشر کے بارے میں الٰہی احترام میں سے ایک یہی چیز ہے، یعنی ان کے اجسام کو دفن کرنا، اس لیے کہ اگر دفن کرنے کا کوئی سلسلہ نہ ہوتا، یا اس کے بارے میں کوئی حکم صادر نہ ہوتا اور بدنِ انسانی زمین پر رہ جاتا اور بدبودار ہو جاتا اور اس کے بعد درند و پرند کا لقمہ بنتا تو کیسی عجیب قسم کی ذلت و خواری تھی۔ اس بنا پر نہ صرف اس دنیا میں انسان کے حال پر اللہ کا کرم ہے بلکہ موت کے بعد بھی اس کا کرم اس کے شامل حال ہے۔ اس سے قطع نطر مردوں کے دفن کرنے کا حکم (غسل و کفن و نماز کے بعد) ایک الہام بخش دستور ہے۔ اس کی رو سے انسان کے مردوں کو ہر طرح سے پاک و محترم ہونا چاہیے. زندہ تو بہرحال ان سے بہتر ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں موت کو اللہ کی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اگر دقت نظر سے کام لیا جائے تو صورت حال اسی قسم کی ہے، اس لیے کہ اول تو موت اس دنیا کی تکالیف سے رہائی کی تمهید ہے۔ اس کے بعد انسان ایک دوسری دنیا میں منتقل ہو جاتا ہے جو بہت زیادہ وسیع ہے۔ دوسرے یہ کہ موجودہ نسل کی موت آنے والی نسلوں کے لیے جگہ کے وسیع ہونے کا سبب بنتی ہے اور نوع انسانی کے تکامل حاصل کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ اگر یہ صورت حال نہ بو تو دنیا انسانوں کے لیے اس قدر تنگ ہو جاتی کہ روئے زمین پر زندگی گزارنا غیر ممکن ہو جاتا۔ جاذب توجہ ہی بات ہے کہ ایک لطیف اشارہ کے ضمن میں سورہ رحمن کی آیت ۲۶ سے لے کر ۲۸ تک فرماتا ہے: (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍOوَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِoفَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ "تمام وہ لوگ جو روئے زمین پر زندگی بسر کرتے ہیں مر جائیں گے صرف تیرے پروردگار کی ذات گرامی و پُرجلال باقی رہ جائے گی پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔" ان تینوں آیتوں کے مطابق موت خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جی ہاں! دنیا اپنی تمام نعمتوں کے باوجود مومن کے لیے ایک زندان ہے اور اس دنیا سے نکلنا اس زندان سے آزاد ہونا ہے۔ اس سے قطع نظر خدا کی عطا کی ہوئی بہت زیادہ نعمتیں بعض اوقات کسی گروہ کے لیے غفلت کا سبب بن جاتی ہیں اور موت کی یاد غفلت کے پردے ہٹا دیتی ہے۔ لٰہذا موت اس لحاظ سے بھی تنبیہ کرنے والی اور خبردار کرنے والی نعمت ہے۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر دنیاوی زندگی اگر جاری رہے تو وہ یقینًا انسان کو تھکا دینے والی ہے۔ برخلاف زندگی اخروی کے کہ وہ سراپا نشاط و خوشدل ہے۔ (تشریحی نوٹ: شاعر کہتا ہے: من از دو روزہِ عمر آمدم یہ جاں اےخضر چہ می کنی تو کہ یک عمر جاوداں داری اے خضر! مَیں دو دن کی زندگی سے تنگ آ گیا ہوں، آپ کا کیا حال ہو گا جنہیں عمر جاودانی ملی ہے)۔ اس کے بعد انسانوں کے قبر سے اٹھنے کے مرحلہ کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "اس کے بعد جب چاہے گا اسے زندہ کر کے حساب اور جزا و سزا کے لیے محشور کرے گا" (ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ)۔ "أَنشَرَهُ" انشار کے مادہ سے جمع کرنے کے بعد پھیلانے کے معنی میں ہے۔ یہ بڑی عمدہ تعبیر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ موت کے بعد انسانوں کی زندگی کلی طور پر جمع ہو جائے گی اور قیامت میں زیادہ عظیم اور بہتر ماحول میں ہو گی۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ مرنے اور قبر میں پنہاں ہونے کے مسئلہ میں مشیتِ الہی کی تعبیر سے کام لیا گیا ہے، لیکن یہاں کہتا ہے: "جس وقت خدا چاہے گا اُسے زندہ کرے گا" تعبیر کا یہ فرق ہو سکتا ہے کہ اس بنا پر ہو کہ کوئی فرد اس عظیم حادثہ (قیامت) کی تاریخ سے باخبر نہیں ہے۔ صرف خدا ہی جانتا ہے۔ لیکن موت کے بارے میں اجمالی طور پر معلوم ہے کہ انسان عمر طبعی کا ایک حصہ طے کرنے کے بعد، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے، اسے ضرور موت آئے گی۔ آخری زیرِ بحث آیت میں فرماتا ہے انسان نے ان تمام نعمتوں کے باوجود اسی دن سے لے کر جس دن یہ بےقیمت نطفہ کی شکل میں تھا اس دن تک جب اس دنیا میں قدم رکھا اور اپنی راہ کمال طے کی پھر اس دنیا سے وہ چلا گیا اور قبر میں پنہاں ہو گیا اور اس نے اپنی صحیح راہ اختیار نہیں کی۔ "اس طرح نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتا ہے اس نے ابھی تک فرمانِ الٰہی کو انجام نہیں دیا۔" (كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے یہاں کلّا کی تفسیر حقا کی ہے لیکن ظاہر یہی ہے کہ یہ اپنے مشهور و معروف معنی لیے ہوئے ہے اور "ردع" کے معنی میں ہے اس لیے کہ بہت سے کوتاہ ہیں افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا کے معاملہ میں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں انجام دے دی ہیں۔ آیت کہتی ہے ایسا نہیں ہے جیسا وہ سوچتے ہیں۔ انھوں نے ابھی تک اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ "لما" کی تعبیر جو عام طور پر انتظار اور نفی کے پہلو کو لیے ہوئے ہوتی ہے اُس سے اِس طرف اشارہ ہے کہ تمام الہی نعمتوں کی موجودگی سے اور بیداری کے اُن تمام وسائل کے ہوتے ہوئے جو انسان کے اختیار میں ہیں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ امرِ الہی کی اطاعت میں بہت زیادہ کوشاں ہوا لیکن تعجب کی بات ہے کہ اس نے ابھی تک اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔ یہ بات کہ انسان سے مراد یہاں کون سے افراد ہیں، اس کے بارے میں دو تفسیریں ہیں پہلی یہ کہ اس سے مراد وہ انسان ہیں جو کفر، نفاق، انکارِ حق اور ظلم و عصیاں کی راہ پر گامزن ہیں، سورہ ابراہیم کی آیت ۳۴ کے قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے جس میں فرماتا ہے: (إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ) "انسان بہت ہی ظالم، کافر اور ناشکرگزار ہے۔" دوسری تفسیر یہ ہےکہ اس میں بہت انسان شامل ہیں، اس لیےکہ کسی شخص نے بھی، عام اس سے کہ مومن ہو یا کافر حق عبودیت و بندگی کو اس طرح ادا نہیں کیا جس کی عظمتِ خدا مستحق ہے جیسا کہ کہتے ہیں: بندہ ہماں بہہ کہ زتفصیر خویش عذر بہ درگاہِ خدا آورد ورنہ سزا وار خداوندیش کس نتواند کہ بجا آورد وہی بندہ اچھا ہے جو بارگاہِ خداوندی میں اپنی کوتاہی کا عذر پیش کرے ورنہ اس کی بارگاہ کے لائق کوئی شخص بھی بندگی کا فرض ادا نہیں کر سکتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر انسان کو چاہیے که وہ اپنی غذا کی طرف دیکھے
Tafsīr Nemūna · Vol. 12چونکہ گزشتہ آیات کا موضوع مسئلہ معاد تھا اور یہ آیات بھی کافی زیادہ صراحت کے ساتھ اسی مسئلہ کی بات کرتی ہیں تو ایسا نظر آتا ہے کہ زیرِ بحث آیات، نظریۂ معاد کی دلیل کے طور پر ہیں۔ پروردگارِ عالم ان آیتوں میں ہر چیز پر خدا کی قدرت کو بیان کر کے، اور اسی طرح مُردہ زمینوں کی بارش کے نزول کے ذریعہ زندگی سے جو عالم گیاہ و نباتات میں ایک قسم کا معاد ہے، اس کا ذکر کر کے امکان قیامت کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ یہ آیات انواع و اقسام کی ان غذاؤں کے بارے میں ہیں جو خدا نے انسانوں اور چوپاؤں کے اختیار میں دی ہیں اور ان کی گفتگو کر رہی ہیں لہذا پروردگار عالم انسان کی حِسّ شکر گزاری کو انگیخت دیتا ہے اور اس کو اپنے منعم کی معرفت کی دعوت دیتا ہے۔ پہلے فرماتا: "انسان کو چاہیئے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے کس طرح خدا نے اُسے پیدا کیا ہے" (فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَى طَعَامِهِ)۔ (تشریحی نوٹ: ممکن ہے "فلینظر" کا جملہ شرط مقدر کی جزا ہو اور تقدیر میں اس طرح ہے "ان كان الانسان في شك من ربه ومن البعث فلينظر الٰى طعامه")۔ خارجی اشیاء میں انسان کے سب سے زیادہ قریب اس کی غذا ہے جو کچھ تبدیلی کے بعد انسان کے بدن کا جزو بن جاتی ہے۔ اگر اس کا وہ غذا نہ پہنچے تو یہ بہت جلد فنا ہو جائے۔ اسی لیے قرآن نے تمام موجودات میں سے صرف ایسے غذائی مواد پر انحصار کیا ہے جو گیاہ و نباتات و اشجار سے حاصل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ دیکھنے سے مراد محض ظاہری طور پر دیکھنا نہیں ہے، بلکہ اس موادِ غذائی کی ساخت اور بناوٹ کے بارے میں اور اس کے حیات بخش اجزاء کے بارے میں اور عجیب و غریب اثرات پر جو وہ وجود انسانی پر مرتب کرتی ہیں، غور و فکر کرنا ہے۔ اور یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد ظاہری طور پر نگاہ کرنا ہی ہے، وہ نگاہ کرنا لعابِ دہن کے غدودوں کی تحریک کا باعث ہوتا ہے، وہ غلط ہے، اس لیے کہ قبل و بعد کی آیات کے قرینے سے اس قسم کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ ہاں بعض غذا شناس جو قرآن کو صرف اپنے ذاتی اور محدود وسائل کے زاویہ سے دیکھتے ہیں، ان کے لیے ممکن ہے کہ وہ مذکورہ آیات کے ذیل میں یہ خیال رکھتے ہوں۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ بھی ہے کہ موادِ غذائی کی طرف دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ انسان جب دستر خوان پر بیٹھتا ہے تو اس وقت نگاہِ تدبر و تفکر سے دیکھے کہ اس میں موادِ غذائی کو اس نے کن ذرائع سے فراہم کیا ہے، حلال ذرائع سے یا حرام ذرائع سے، مشروع ذرائع سے یا غیر مشروع سے۔ اس طرح وہ اخلاقی اور تشریعی پہلوؤں کو موردِ توجہ قرار دے۔ بعض روایات میں، جو معصومین سے منقول ہیں، آیا ہے کہ یہاں طعام سے مراد علم و دانش ہے جو روح انسانی کی غذا ہے۔ اسے دیکھنا چاہیئے کہ اسے کس سے حاصل کیا ہے۔ منجملہ دیگر باتوں کے، امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: (علمہ الذی یأخذہ عمن یأخذہ)۔ (غذا سے مراد)جو علم حاصل کر رہا ہے، وہ کس سے حاصل کر رہا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴۲۹)۔ اسی طرح کا ایک قول امام جعفر صادقؑ سے بھی منقول ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴۲۹)۔ اس میں شک نہیں کہ آیت کے ظاہری معنی جسمانی غذائیں ہی ہیں جو بعد والی آیات میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں لیکن غذائے روحانی کو بھی اولویت کی بناء پر معلوم کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ انسان روح و جسم سے مرکب ہے اور جس طرح اس کا جسم مادی غذا کی احتیاج رکھتا ہے اسی طرح اس کی روح روحانی غذا کی محتاج ہے۔ انسان کو چاہیئے کہ جہاں اپنی جسمانی غذا کے بارے میں تفکر کرے وہاں بعد والی آیت کے مطابق اس غذا کے سرچشمے یعنی بارانِ رحمت کے بارے میں بھی سوچے جو حیات بخش ہے۔ اور اسے اپنی روحانی غذا کے بارے میں بھی غور و فکر کرنا چاہئیے جو بارانِ وحی کے ذریعہ سے پیغمبرؐ کے قلب پاک کی سرزمین پر نازل ہوتی ہے، معصومین کے سینے میں اس کا ذخیرہ ہوتا ہے اور جوش مارنے والے چشموں کی طرح وہ ان کے دینی قلوب پر جاری ہوتی ہے اور انواع و اقسام کے لذت بخش پھلوں یعنی ایمان و تقویٰ اور اخلاقی فضائل کی پرورش کرتی ہے۔ جی ہاں! انسان کو اچھی طرح دیکھنا چاہیئے کہ اس کے علم و دانش کا سرچشمہ کہاں ہے۔ یہ اس کی روحانی غذا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہیں کسی چشمہء آلودہ سے غذائے روحانی حاصل کر رہا ہو اگر ایسا ہے تو وہ اس کے جسم و روح کو بیمار کر دے گا اور اسے ہلاکت میں ڈال دے گا۔ اور اولویّت کے مفہوم کے پیشِ نظر، حلال و حرام اور مشروع و غیر مشروع کے مسئلہ کو بھی دلالت کے ذریعہ اس آیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ بہ احتمال بھی ہے کہ اس آیہ شریفہ میں طعام کے معنی وسیع ہیں اور نگاہ کرنے اور دیکھنے کے معنی بھی وسیع ہیں۔ اس بناء پر مندرجہ بالا تینوں تفسیریں اس میں جمع ہو سکتی ہیں۔ یہ کہ یہاں انسان سے مراد کون شخص ہے، کہے بغیر واضح ہے کہ تمام انسان اس میں شامل ہیں۔ عام اس سے کہ مومن ہوں یا کافر سب کو چاہیے کہ اپنے موادِ غذائی، ان کے عجائبات اور ان میں پوشیدہ اسرار و رموز پر غور کریں تاکہ بے ایمان افراد کو حق کا راستہ ملے اور مومن افراد کی ایمان کی قوت میں اضافہ ہو۔ واقعی موادِ غذائی، پھل، غذائی اجناس اور سبزیوں میں سے ہر ایک چشمِ بصیرت کے لیے ایک ایسی تعجب خیز دنیا رکھتے ہیں جس کا مدتوں مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور ان سے درس حاصل کیے جا سکتے ہیں جو تمام عمر ہمیں روشنيِ دانش دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد اس غذائی مواد اور اس کے منابع کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے آسمان سے بہت زیادہ پانی پھینکا" (أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا)۔ "صب" اوپر سے پانی پھینکنے کے معنوں میں ہے۔ یہاں اس سے مراد پانی کا بارش کی صورت میں برسنا ہے۔ آیت کے آخر میں "صبا" کی تعبیر تاکید کے لیے ہے اور اس پانی کی فراوانی پر دلالت کرتی ہے۔ جی ہاں! وہ پانی جو اہم ترین سببِ حیات ہے۔ ہمیشہ بہت زیادہ مقدار میں پروردگار کے لطف و کرم سے آسمان سے نازل ہوتا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ تمام نہریں اور چشمے اور پانی کے کنویں اپنے پانی کے ذخائر بارش ہی سے حاصل کرتے ہیں اور سب کا اصل سبب بارش ہی ہے کہ:؎ اگر باراں بہ کوہستان نبارد بہ سالے دجلہ گردد خشک رودے اگر پہاڑوں پر بارش نہ ہو تو ایک ہی سال میں دجلہ خشک نالے میں تبدیل ہو جائے۔ اس لیے موادِ غذائی کے مطالعہ کے وقت ہر چیز سے پہلے انسان بارش کے نظام کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ کس طرح سورج ہمیشہ دریاؤں کی سطح پر چمکتا ہے اور وہاں سے بادل اٹھتے ہیں، ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور پھر سطح زمین سے دور ہونے کے باعث اور سرد فضا کے علاقہ میں پہنچ جانے کی وجہ سے دوبارہ پانی میں تبدیل ہو کر برستے ہیں۔ آب مصفی، جو ہر قسم کی مضر اور نمکین آلودگیوں سے پاک ہوتا ہے، وہ چھوٹے چھوٹے قطروں کی شکل میں یا برف کے ان نرم گالوں کی صورت میں جو آہستہ سے زمین کی طرف آتے ہیں اور گھاس اور درختوں میں جذب ہو جاتے ہیں، زمین پر نازل ہوتا ہے۔ پانی کا ذکر کرنے کے بعد جو نبات کے روئیدہ ہونے کا ایک اہم سبب ہے، ایک اور رکن یعنی زمین کا رُخ کرتا ہے اور مزید فرماتا ہے: "پھر زمین کو ہم نے شگافتہ کیا" (ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا)۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ شگافتہ کرنا کونپلوں کے ذریعہ زمین کے چیرنے کی طرف اشارہ ہے۔ واقعی یہ بہت ہی عجیب و غریب چیز ہے کہ کونپل اس نرمی اور لطافت کے باوجود سخت قسم کی مٹی کو چیر کر اور کبھی پہاڑی پتھروں کے اندر سے اپنا سر باہر نکالتی ہیں۔ خالق عظیم نے اس لطیف و کونپل میں کیا عظیم قدرت ودیعت کی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ انسانوں کے ہل چلانے کے ذریعہ زمین کو شگافتہ کرنا مراد ہے، حتٰی کہ ان کیڑوں کے ذریعہ جو دوسرے حیاتی عوامل کے ہمراه ایک قسم کا ہل چلانے کا عمل انجام دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہل چلانا انسان کا کام ہے لیکن چونکہ اس کے تمام وسائل خدا نے اس کے اختیار میں رکھے ہیں لہذا اس کو خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ تیسری تفسیر جو اس تعبیر کے لیے نظر آتی ہے اور کئی پہلوؤں سے قابل ترجیح ہے، یہ ہے کے زمین کے شگافتہ ہونے سے مراد اس کی سطح کے پردوں کا ریزہ ریزہ ہونا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ ابتدا میں سطح زمین کو قشر عظیم اور بہت بڑے طبقہ نے پوشیدہ کر رکھا تھا۔ پے در پے شدید بارشیں ہوئیں۔ انہوں نے پتھروں کو شگافتہ کیا، اس کے ذروں کو جدا کیا اور زمین کے کچھ حصّوں میں اور اس کے کچھ گڑھوں میں وسعت پیدا ہوئی اور اس طرح مٹی کے قابل زراعت تودے تشکیل پائے اور اب بھی سیلاب اس کے کچھ حصّوں کو تحلیل کر کے دریا میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن نئی مٹی جو برف اور بارش کی وجہ سے ازسر نوتشکیل پاتی ہے اس کی جگہ لے لیتی ہے ورنہ زراعتی مٹی کمیاب ہو جاتی۔ اس طرح یہ آیت قرآن کے ایک علمی معجزے کی طرف اشارہ کر کے بتاتی ہے کہ پہلے بارشیں ہوتی ہیں، پھر زمینیں شگافتہ ہوتی ہیں اور زراعت کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ابتدائی دنوں میں یہ عمل صورت پذیر ہوا تھا بلکہ آج بھی جاری ہے۔ یہ تفسیر، اس وجہ سے کہ بعد والی آیت میں گیاه و نباتات کے اگنے کے مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے، زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ تینوں تفسیروں کا اجتماع بھی کوئی تضاد یا قباحت نہیں رکھتا۔ ان دو بنیادی ارکان یعنی پانی اور مٹی کے ذکر کے بعد آٹھ قسم کی اگنے والی چیزوں کی طرف، جو انسان اور حیوان کی غذا کے بنیادی ارکان ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس کے بعد ہم نے زمین میں بہت سے اجناس اُگائے" (فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا)۔ غذائی اناج جو انسان اور مختلف حیوانات کی غذا کا اصلی ذریعہ و سبب ہیں، وہ اگر خشک سالی کی بنا پر ایک سال نہ ملیں تو قحط پڑ جائے اور بھوک تمام جہان کو گھیرلے اور تمام انسانوں پر مصیبت پڑ جائے۔ "حبًا" کی تعبیر نکرہ کی شکل میں بیان عظمت یا ان اجناس کے مختلف الاقسام ہونے کی دلیل ہے اور یہ جو بعض مفسرین نے اس کی تفسیر گندم اور جو سے کی ہے، اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔ اس لیے کہ اس تفسیر میں تمام اناج شامل ہیں۔ بعد کے مرحلے میں مزید کہتا ہے: "اسی طرح انگور اور بہت سی سبزیاں" (وَعِنَبًا وَقَضْبًا)۔ "عنب" تمام پھلوں میں سے انگور کا ذکر غذائی مواد کی فراوانی کی بنا پر ہے جو اس پھل میں پوشیدہ ہے اور اسے ایک مکمل غذا کی شکل میں لے آیا ہے (توجہ فرمائیں کہ عنب انگور کو بھی کہا جاتا ہے اور یہ انگور کی بیل کو بھی اور آیاتِ قرانی میں اس کا دونوں پر اطلاق ہوا ہے۔ لیکن یہاں مناسب انگور ہی ہے)۔ "قضب" (بروزن جذب) اصل میں ان سبزیوں کے معنی میں ہے جنہیں مختلف موقعوں پر توڑتے ہیں۔ یہاں مختلف قسم کی کھائی جانے والی سبزیوں کے معنی میں ہے اور انگور کے بعد اس کا ذکر اس غذائی مواد کی اہمیت کی دلیل ہے جس پر موجودہ غذا شناسی کے علم میں حد سے زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ کھبی قضب قطع کرنے اور توڑنے کے معنی میں آتا ہے اور لفظ قضيب درخت کی شاخ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور "سیف قاضب" شمشیر قاطع کے معنوں میں ہے۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ قضب سے یہاں مراد "رطب" تر و تازہ کھجوریں ہیں جنہیں درخت سے توڑتے ہیں۔ لیکن یہ تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے، اس لیے کہ بعد والی آیت میں رطب کی طرف علٰیحدہ اشاره ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی پیشں کیا ہے کہ قضب بوئے جانے والے پھلوں کے معنی میں ہے۔ (کھیرا، تربوز وغيره)، یا گیاه و نبات کی جڑوں کے معنی میں ہے۔ لیکن بعید نہیں ہے کہ یہاں قضب کے معنی وسیع ہوں جس میں کھائی جانے والی سبزیاں بھی شامل ہوں، بوئے جانے والے پھل بھی اور غذائی جڑیں بھی (جو جڑ کی صورت میں ہوتی ہیں) (آلو، پیاز وغیرہ) اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور زیتون اور بہت سے کھجوروں کے درخت۔" (وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا)۔ ان دو پھلوں پر انحصار کی دلیل بھی واضح ہے، اس لیے کہ موجودہ زمانے میں ثابت ہو چکا ہے کہ زیتون اور کھجوریں اہم ترین، طاقت بخش، مفید اور صحت آفریں موادِ غذائی ہیں۔ اس کے بعد کے مرحلے میں کہتا ہے: "اور پُر درخت باغات" (انواع و اقسام کے پھلوں کے ساتھ)۔ (وَحَدَائِقَ غُلْبًا)- "حدائق" حدیقہ کی جمع ہے، ایسے باغ کے معنوں میں جس کے اطراف میں دیوار ہو اور وہ محفوظ ہو۔ یہ اصل میں زمین کے اس ٹکڑے کے معنی میں ہے جس میں پانی ہو۔ یہ لفظ حدقہ چشم (آنکھ کے ڈھیلے) سے لیا گیا ہے جس میں ہمیشہ پانی رہتا ہے۔ چونکہ اس قسم کے باغات عام طور پر پھلدار ہوتے ہیں لہذا ہو سکتا ہے کہ جنّت کے انواع و اقسام کے پھلوں کی طرف اشارہ ہو۔ "غلب" (بروزن قفل) اغلب اور غلبا کی جمع ہے جس کے معنی موٹی گردن والے کے ہیں۔ یہ اصل میں غلبہ کے مادہ سے لیا گیا ہے اور یہاں بلند اور گھنے درختوں کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "پھل اور چراگاہ" (وَفَاكِهَةً وَأَبًّا)۔ "ابّ" (ب کی تشدید کے ساتھ) خود رو گھاس اور اس چراگاہ کے معنوں میں ہے جو جانوروں کے چرانے کے لیے ہو۔ یہ اصل میں آمادگی کے معنی دیتا ہے اور چونکہ اس قسم کی چراگاہیں استفادہ کی غرض سے تیار ہوتی ہیں، لہذا انہیں ابّ کہا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ابّ سے مراد ایسا خشک میوہ ہے جو سردی کے موسم کے لیے خشک کیا جا سکے اور اس کا ذخیرہ کیا جا سکے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ فائده پہنچانے کے لیے مستعد ہوتا ہے۔ بہت سے اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ ایک دن حضرت عمر منبر پر تھے انہوں نے ان آیتوں کی تلاوت کی۔ اس کے بعد کہا ان سب کو تو میں جانتا ہوں، لیکن ابّ کیا چیز ہے؟ اس کو مَیں نہیں جانتا۔ اس کے بعد وہ عصا جو ان کے ہاتھ میں تھا۔ اس کو ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا خدا کی قسم! یہ ایک طرح کا تکلف ہے۔ کیسی مشکل ہے کہ تو ابّ کے معنی نہیں جانتا۔ (لوگوں کو مخاطب کر کے کہا) تم ان چیزوں کی پیروی کرو جو تمہارے لیے بیان کی گئی ہے اور ان ہی پر عمل کرو۔ جس بات کو تم نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے اسے اپنے پروردگار کے سپرد کر دو۔ (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، قرطبی، فی ظلال القران، در المنثور اور المیزان زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وہ لفظ اب کے مفہوم کو پیچیدہ سمجھتے تھے، حالانکہ لغتوں کے متن کی طرف توجہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا کوئی پیچیدہ مفہوم نہیں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ در المنثور میں آیا ہے کہ یہی سوال حضرت ابوبکر سے بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر کتابِ خدا کے بارے میں ایسی بات کہوں جسے مَیں نہیں جانتا تو کونسا آسمان مجھ پر سایہ ڈالے اور کونسی زمین ہو گی جو مجھے قبول کرے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہت سے اہلِ سنت علماء نے ان دو روایتوں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کوئی شخص ایسے مسائل کے بارے میں جنہیں وہ نہ جانتا ہو خصوصًا کتاب اللہ کے بارے میں اگر نہ جانتا ہو تو کوئی بات نہ کرے۔ پھر بھی اس سوال کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ وہ شخص جو خلیفۃ الرسول اور خلیفة المسلمین کی حیثیت سے حکومت کرنا چاہتا ہو وہ اس لفظ کے معنی سے آگاه نہ جو متن قرآن مجید میں ہے اور جو معانی کے اعتبار سے کوئی خاص پیچیدگی نہیں رکھتا۔ یہ اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک خدائی رہبر لوگوں کے درمیان ہو جو شریعت کے تمام مسائل سے آگاہ ہو اور ہر خطا و اشتباہ سے مصون و معصوم ہو۔ اسی لیے اس حدیث کے ذیل میں جو مرحوم مفید نے ارشاد میں نقل کی ہے، ہم پڑھتے ہیں کہ جس وقت یہ ماجرا امیر المؤمنین حضرت علیؑ سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا: (سبحان الله اما علم ان الاب هوالكلاء والمرعى وان قوله تعالٰى " وفاكهة وابًا" اعتداد من الله بانعامه على خلقه فيما غذاهم به و خلقه لهم ولانعامهم مما تحیی به انفسهم وتقوم به اجسادهم) "عجیب بات ہے کیا وہ نہیں جانتا کہ ابّ خود رو گھاس اور چراگاہ کے معنی میں ہے اور یہ ہے کہ "وفاكهة وابّا" کا جملہ خدا کی اپنے بندوں پر عنایت ہے اس اعتبار سے کہ اُس نے انہیں غذائی مواد دیئے ہیں اور انہیں ان کے لیے اور ان کے چوپایوں کے لیے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جو ان کی زندگی کا سبب اور ان کے جسم کی بنیادی ضرورت ہیں۔ (بحوالہ: ارشاد مفید مطابق نقل المیزان، جلد ٢٠، ص ۳١٩)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ گزشتہ آیات میں جس میں بعض پھل خصوصیت کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور یہاں بطور کلّی پھل پیش کیا گیا ہے اور اس سے قطع نظر گزشتہ آیت میں جس میں باغوں کی بات تھی بظاہر باغوں کے پھل پیشِ نظر تھے، تو پھر یہاں میوے اور پھل کو کس لیے پیشں کیا گیا ہے؟۔ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ بعض پھلوں کا خصوصیت کے ساتھ بیان ہوا ہے مثلاً انگور، زیتون اور خرما وغیرہ کا (درخت نخل کے قرینہ کے پیشِ نظر) تو یہ ذکر ان پھلوں کی، حد سے زیادہ اہمیت کی بنا پر ہوا ہے۔ (بحوالہ: ارشاد مفید مطابق نقل المیزان، جلد ٢٠، ص ۳١٩)۔ اب رہی یہ بات کہ "فاكهة" (پھل) ان کا "حدائق" (باغات) سے الگ کیوں ذکر ہوا ہے تو یہ ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ باغات پھلوں کے علاوہ دوسرے منافع بھی رکھتے ہیں اور ان کے خوبصورت منظر ہوتے ہیں، خوشگوار ہوا ان میں ہوتی ہے اور اس قسم کی دوسری چیزیں۔ اس سے بھی قطع نظر بعض خود رو درخت کچھ بجائے خود اور کچھ کی جڑیں اور چھلکے غذا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں (مثلاً چائے، زنجبیل، دارچینی وغیرہ) اس کے علاوہ بہت سے درختوں کے پتے حیوانوں کے لیے مناسب خوراک کا کام دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ گزشتہ آیات میں آیا ہے اس میں انسان کی خوراک بھی شامل ہے اور حیوانات کی بھی۔ اسی لیے بعد والی آیت میں جو آخری زیرِ بحث آیت ہے مزید کہتا ہے: "تاکہ تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہوں" (مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ)۔ متاع ہر وہ چیز ہے جس سے انسان متمتع ہو اور فائدہ اٹھائے۔
ایک نکتہ صحیح و سالم موادِ غذائی
جو کچھ گزشتہ آیات میں انسانوں اور چوپایوں کے لیے آیا تھا وہ آٹھ قسم کے موادِ غذائی تھے اور جاذب توجہ یہ ہے کہ وہ سب نباتات سے تعلق رکھنے والی غذائیں ہیں۔ یہ اس اہمیت کی بنا پر ہے جو انسانی غذا کے سلسلے میں ان اجناس، میووں اور پھلوں سے وابستہ ہیں- غور سے دیکھا جائے تو انسان کی حقیقی غذا یہی چیزیں ہیں۔ حیوانی غذائیں تو دوسرے درجہ پر ہیں اور بہت کم مقدار میں ہیں۔ یہاں جو کچھ اس قابل ہے کہ اس پر توجہ کی جائے وہ یہ ہے کہ اس زمانے کا غذا شناسی کا علم، جو ایک وسیع اور اہم علم ہے، وہ حقیقت جس چیز کی تفصیل و تشریح کرتا ہے وہ وہی چیز ہے جو ان آیات میں آئی ہے۔ اس طرح وہ علم عظمت قرآن کو پیش کرتا ہے۔ خصوصًا وہ غذائی مواد جن کا اوپر والی آیات میں تذکرہ ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک غذا شناسی کی رُو سے بہت ہی اہم اور قیمتی ہے۔ بہرحال ان امور پر غور و خوض انسان کو اس کے خالق کی عظمت اور نوعِ بشر پر اس کی مہربانیوں سے بہت زیادہ آشنا کرتی ہے۔ جی ہاں! غذائے جسمانی کے بارے میں غور و فکر اور اسی طرح روح کی غذا کے بارے میں دائرۂِ علم کے لحاظ سے بھی اور اکتساب کے طریقوں کے اعتبار سے بھی جو غور و فکر ہے وہ انسان کو معرفتِ خدا، تعمیرِ ذات اور تہذیبِ نفس کی راہ میں بہت آگے لے جاتا ہے۔ جی ہاں! آدمی کو چاہیئے کہ وہ اپنی غذا کے بارے میں بہت زیادہ غور و فکر کرے۔ یہ مختصر سا جملہ کس قدر پُر معنی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر صيحه قیامت
Tafsīr Nemūna · Vol. 12الٰہی برکتوں اور دنیاوی نعمتوں کے تذکرے کے بعد، یہاں قرآن، قیامت اور اس کے حوادث سے ایک گوشہ اور مؤمنین و کفار کی حالت کو بیان کرتا ہے تاکہ، ایک طرف تو یہ اعلان کرے کہ یہ نعمتیں اور مال و متاع جو کچھ بھی ہے جلد گزر جانے والا ہے اور اس کا ایک خاتمہ ہے اور دوسری طرف یہ بتائے کہ ان سب کا وجود خدا کے وجود اور قیامت پر بجائے خود ایک دلیل ہے۔ فرماتا ہے: "جس وقت وہ مہیب اور کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آئے گی تو کفار و مجرمین گہرے غم و اندوہ اور ندامت میں غرق ہو جائیں گے" (فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ کہ اس جملہ شرطیہ میں جزا کیا ہے؟ کئی احتمال ہیں، پہلا یہ کہ جزا محذوف ہے اور بعد والی آیتوں سے اس کا پتہ چلتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ فما اعظم أسف الكافرين) حب وہ مہیب صدا آئی تو کفار کو کس قدر افسوس اور ندامت ہو گی (تفسير مراغي) بعض مفسرین نے کہا ہے (لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ) کا جملہ جزا ہے (مجمع البیان)- یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کر جزا کا استفادہ (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ) سے ہوتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ) (روح المعانی) جب مہیب صدا آئی تو انسان اپنے بھائی سے فرار کر گیا)۔ "صاخة"، "صخ" کے مادہ سے اصل میں صوت شدید و سخت اور مہیب آواز کے معنی میں ہے، یعنی بہت ممکن ہے کہ اس سے کان بہرے ہو جائیں یا جو سچ مچ کانوں کو بہرہ کر دیتی ہے۔ یہاں اس سے صور کے دوسرے نفخے کی طرف اشارہ ہے۔ وہی صیحہ عظیم جو بیداری اور زندگی کا صیحہ ہے۔ جو سب کو زندہ کر کے عرصۂ محشر کی طرف بلائے گا۔ جی ہاں! یہ اتنا عظیم اور دل ہلا دینے والا ہے جو انسان کو سوائے اس کی ذات، اس کے اعمال اور اس کی سرنوشت کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے گا۔ اسی لیے اس کے بعد بلافاصلہ مزید فرماتا ہے: "وہ دن جس دن انسان اپنے بھائی سے دور بھاگے گا" (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ)۔ وہی بهائی جو جان کے برابر تھا اور جسے ہر جگہ یاد کرتا تھا اور اس کے بارے میں متفکر رہتا تھا آج کلی طور پر اس سے گریزاں ہو گا، "اور اسی طرح اپنے ماں باپ سے" (وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ)۔ "اور اپنی بیوی اور اولاد سے" (وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ)۔ اسی طرح انسان اپنے نزدیک ترین عزیزوں کو یعنی بھائی، ماں باپ اور اولاد کو نہ صرف فراموش کر دے گا بلکہ ان سے فرار کرے گا۔ یہ بات بتاتی ہے کہ قیامت کا ہول اس قدر زیادہ ہو گا کہ انسان کو تمام تعلقات سے بیگانہ کر دے گا۔ وہ ماں جو اس سے بےحد محبت کرتی تھی، وہ ماں باپ جن کا وہ بہت زیادہ احترام کرتا تھا، وہ بیوی جس سے اُسے شدید محبت تھی، وہ اولاد جو اس کے دل کا سرور اور آنکھوں کا نور شمار ہوتی تھی، وہ اس وقت ان سب سے بےتعلق ہو جائے گا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ انسان اپنے ان بھائیوں، ماں باپ، بیوی اور اولاد سے فرار کرے گا جنہوں نے ایمان و تقویٰ اور اطاعت خدا کی راہ نہیں طے کی۔ وہ ان سے اس لیے فرار کرے گا کہ کہیں ان کا حال اس کو اپنے نرغہ میں نہ لے لے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ فرار اسی بنا پر ہے کہ مبادا ان کے کچھ حقوق اس کی گردن پر ہوں اور وہ اس سے ان کا مطالبہ کریں اور وہ خود ان کے ادا کرنے سے اس وقت عاجز ہو۔ ان تینوں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ نیز ان تینوں کے جمع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ بات کہ پہلے بھائی، اس کے بعد ماں باپ اس کے بعد بیوی اور آخری مرحلہ میں اولاد کے بارے میں کیوں گفتگو ہوئی ہے؟ اس بارے میں، بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ ان تمام میں، سب سے نیچے کے مرحلہ سے بالاتر مرحلہ کی طرف بات ہوئی ہے کہ پہلے وہ اپنے بھائی سے گریز کرے گا، پھر اپنے ماں باپ سے اور اس کے بعد بیوی اور اولاد سے، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سب لوگ ان پانچ افراد سے تعلق کے بارے میں یکساں نہیں ہوتے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں بھائی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ لٰہذا اس سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے اور کبھی بیوی اور کبھی اولاد۔ لٰہذا یہاں کوئی قاعدہ کلیّہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ البته ان پانچ افراد میں سے ہر ایک کے ساتھ انسان کے رشتہ کی اہمیت سے متعلق بہت سے مطالب بیان کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس طرح نہیں ہے کہ مطلق طور پر ایک کو دوسرے پر تمام جہتوں سے ترجیح دی جا سکے، خصوصًا اس شکل میں جس شکل میں آیت میں آیا ہے۔ اس بنا پر مندرجہ بالا ترتیب اہمیت کی بنا پر نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں اس فرار کی دلیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: "ایک دن ان میں سے ہر ایک ایسی حالت میں ہو گا کہ جو اسے مکمل طور پر اپنی ذات سے متعلق مصروف رکھے گی"۔ (لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ)۔ "يغنيه" (اس کو بے نیاز کر دے گی) اس حقیقت کی طرف ایک معنی خیز کنایہ ہے کہ اس دن انسان اپنی ذات سے متعلق اس قدر مصروف ہو گا کہ دوسرے کی طرف توجہ نہیں کرے گا اور حادثات اس قدر شدید ہوں گے کہ اس کی ساری فکر کو مشغول رکھنے کے لیے کافی ہوں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرتؐ سے آپ کے خاندان کے کسی فرد نے سوال کیا کہ قیامت میں انسان، کیا اپنے عزیز و اقارب کو یاد کرے گا؟ تو آپؐ نے فرمایا: ثلاثة مواطن لا يذكر (فیها) احد احدًا، عند الميزان حتى ينظر أيثقل ميزانه ام يخف؟ و عند الصراط حتى ينظر أیجوزہ ام لا؟ وعند الصحف حتي ينظر بيمينه ياخذ الصحف ام بشماله؟ فهذه ثلاثة مواطن لا يذكر فيها احد حميمه ولا حبيبه ولا قريبه ولاصديقه ولا بنيه ولا والديه وذالك قول الله تعالى: لكل امرئ منهم يومئذٍ شأن يغنيه۔ "تین موقف ایسے ہیں جن میں کوئی شخص کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ پہلا میزان جہان اعمال تولے جائیں گے، وہاں جب تک یہ نہ دیکھے کہ اس کا پلڑا بھاری ہے یا نہیں۔ پھر پُل صراط، جب تک نہ دیکھ لے کہ وہ اس پر سے گزر سکے گا یا نہیں۔ پھر اس وقت جب نامہ اعمال انسانوں کے ہاتھ میں دیں گے، جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیتے ہیں یا بائیں ہاتھ میں۔ یہ تین موقف ہیں جہاں کوئی انسان کسی دوسرے کو یاد نہیں کرے گا۔ نہ قریبی دوست، نه یار مهربان، نه اعزہ، نہ مخلص ساتھی، نہ اولاد اور نہ ماں باپ۔ یہ وہی چیز ہے کہ خداوند عالم فرماتا ہے: "اس دن انسان اپنے آپ میں بہت زیادہ مشغول ہو گا"۔ (بحوالہ: تفسير برہان، جلد۴، ص۴٢٩)۔ اس کے بعد اس دن جو مومنین و کفار کی حالت ہو گی اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس دن کچھ چہرے خوشگوار اور نورانی ہوں گے۔" (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ)۔ "خندان و مسرور" (ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ)- "اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے"۔ (وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ)۔ "تاریک دھوئیں نے انہیں ڈھانپ رکھا ہو گا" (تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ)۔ "وہی کافر و فاجر ہیں۔" (أُوْلَئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ)۔ "مسفرة" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے "اسفار" کے مادہ سے آشکار ہونے اور چمکنے کے معنی میں ہے، شب تاریک کی طرح، جس کے آخر میں سپیدہ سحری ہوتا ہے۔ "غبرة " (بروزن غلبہ) "غبار" کے مادہ سے، اس باقی ماندہ خاک کے معنی میں ہے جو زمین سے اٹھے اور کسی چیز پر پڑ جائے۔ "قترة" اصل میں "قتاد" (بروزن غبار) کے مادہ سے اس دھوئیں کے معنی میں ہے جو جلتی ہوئی لکڑی یا کسی دوسری چیز سے اٹھتا ہے۔ بعض اربابِ لغت نے اس کی غبار کے معنی میں تفسیر کی ہے لیکن اوپر والی آیت میں ان دونوں تفسیروں کو جمع کرنا یہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں الفاط دو مختلف معانی رکھتے ہیں۔ "كفرة" اور "فجرة" اسی وزن پر کافر و فاجر کی جمع ہیں جن میں سے پہلا فاسد العقیدہ افراد کی طرف اور دوسرا فاسد العمل لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ صیحۂ قیامت کے وقت انسانوں کے بُرے عقائد اور اعمال کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوں گے۔ "وجوہ" چہرہ کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ چہرہ کا رنگ ہر چیز سے زیادہ انسان کی اندرونی حالت کو بیان کرتا ہے، فکری و روحانی پریشانیوں کو بھی اور جسم سے متعلق دکھ درد کو بھی۔ بہرحال ایک گروہ وہاں مسرور ہو گا۔ ان کے چہرے شگفتہ اور نورانی ہوں گے۔ ایمان کی روشنی اور عمل کی پاکیزگی ان کے چہروں پر موجزن ہو گی۔ رنگ رخسارہ انھا خبر از سرّدروں می دهد ان کے رخسارے کا رنگ ان کے اندر کے راز کی خبر دیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ وہ ہے کہ کفر کی تاریکی اور ان کے اعمال کی برائی ان کے چہروں سے نمایاں ہو گی۔ گویا سیاہ گرد و غبار ان کے چہرہ پر پڑا ہوا ہے اور دھویں کا ہالہ اس کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ آثارِ و غم و رنج و اندوہ و تکلیف و درد ان کے چہروں سے ہویدا ہیں اور، اصولی طور پر، جیسا کہ سورہ رحمٰن کی آیت ۴۱ میں آیا ہے: (يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ) گنہگار اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے۔ اس دن چہروں کا رنگ انسانوں کی پہچان کے لیے کافی ہو گا۔
ایک نکتہ تعمیرِ ذات کی راہ
جو تعبیریں اس سورہ کی مختصر اور پُرجلال آیات میں آئی ہیں، وہ تعمیر ذات کے لیے ایک جامع پروگرام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ١- ایک طرف انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ کبر و غرور کو توڑنے کے لیے وہ اپنی خلقت کی ابتدا پر توجہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح انسان ایک بے قیمت نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعمیرِ ذات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی تکبر و غرور ہے۔ ٢- دوسری طرف قرآن الٰہی ہدایات کا تعارف یہ کہہ کر کراتا ہے کہ یہ اس سلسلہ میں بہترین زادِ راہ ہے۔ عام اس سے کہ وہ ہدایات جن کا سرچشمہ وحی ہو اور انبیاء و اولیاء کی طرف سے کی گئی رہنمائی ہو، یا وہ بدایات جو عالم تکوین کے مطالعہ سے اور اس کے قوانین و نظام پر غور و فکر کرنے سے حاصل ہوں۔ ۳- اس کے بعد انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی جسمانی غذا پر گہری نظر ڈالے اور سوچے کہ خالق رحیم و مہربان نے کس طرح انواع و اقسام کے غذائی مواد، دانے، میوے اس سیاہ مٹی سے اس کے لیے پیدا کیے ہیں۔ پھر اس ربوبیت کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور نہ صرف اس مواد غذائی کی تکوینی ساخت کی طرف دیکھے، بلکہ اس کے حاصل کرنے کی کیفیت کو بھی مرکز توجہ قرار دے، اس لیے کہ پاک و حلال غذا تعمییر ذات کی ایک اہم بنیاد ہے۔ ۴- پھر اپنی روحانی غذا کی طرف زیادہ گہری نظر سے دیکھے اور غور و فکر سے کام لے کہ وہ غذا کون سے سرچشمے سے حاصل ہو رہی ہے۔ پاک سرچشمے سے یا آلودہ سے۔ اس لیے کہ ناقص تعلیمات اور گمراہ کن تبلیغات مسموم اور زہریلی غذا کی طرح ہیں جو انسان کی معنوی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ کچھ لوگ جسم کی غذا کے بارے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں لیکن اپنی روحانی غذا کے بارے میں بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ ہر فاسد و مفسد کتاب پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہر قسم کی گمراہ کن تعلیمات پر کان دھرتے ہیں اور اپنی روح کی غذا کے لیے کسی قسم کی قید و شرط کے قائل نہیں ہیں۔ ايک حدیث میں حضرت علی سے منقول ہے کہ (مالی ارى الناس اذا قرب اليهم الطعام ليلا تكلفوا انارة المصابيح ليبصروا ما يدخلوا بطونهم ولا يهتمون بغذاء النفس بان ينيروا مصابيع البابهم بالعلم ليسلموا من لوا حق الجهالة والذنوب في اعتقاداتهم واعمالهم)۔ کیا وجہ ہے کہ مَیں کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ جب رات کو کھانا ان کے پاس لاتے ہیں تو چراغ روشن کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ وہ کونسی غذا اپنے شکم میں داخل کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنی روح کی غذا کو اہمیت نہیں دیتے اور علم کے ذریعہ چراغ عقل کو روشن نہیں کرتے تاکہ عوارضِ جہالت و گناہ سے بچیں اور عقیدے اور اعمال صحت مند رہیں۔ (بحوالہ: "سفینۃ البحار" جلد ٢، ص ۸۴، مادہ طعم)۔ اسی قسم کی حدیث آپ کے فرزند ارجمند امام حسن مجتبٰےؑ سے بھی منقول ہے: (عجبت لمن يتفكر في ماکوله کیف لايتفكر في معقوله فيجنب بطنه ما يؤذيه ويودع صدره ما یردیه) مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو جسم کی غذا کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے لیکن روح کی غذا کے سلسلہ میں بالکل نہیں سوچتا۔ نقصان دہ غذا کو تو اپنے شکم سے دور رکھتا ہے لیکن دل کو مہلک مطالب سے بھرتا رہتا ہے۔ (بحوالہ: "سفینۃ البحار" جلد ٢، ص ۸۴، مادہ طعم)۔ ۵۔ اس کے بعد سوچ لے کہ محشر کے لیے دلخراش صیحہ سب کو موت کی نیند سے بیدار کر دے گا اور انسان کے اعمال اس کے روبرو کردے گا اور اوضاع محشر اتنے ہولناک ہیں کہ انسان اپنے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی فراموش کر دے گا۔ اس لیے اسے غور و فکر کرنا چاہیے کہ کیا وہ آج ایسا کام کر رہا ہے جس سے اس دن اس کا چہرہ خنداں اور نورانی ہو گا۔ ایسا تو نہیں ہے کہ اس روز اس کا چہره ترش و تاریک ہو- اس کو چاہئے کہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو اس دن کے لیے تیار کرے۔ خداوندا! ہمیں اصلاحِ نفس کی توفیق عطا فرما۔ پروردگارا! ہمیں روحانی جاں پرور غذا سے محروم نہ فرما۔ بارالٰہا! صيحہءِ محشر سے پہلے ہمیں خواب گراں سے بیدار کر دے۔