Sūra 20 · 135v
Chapter 20135 verses

Ta-Ha

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
طه
طٰہٰ

سوره طه

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۳۵ آیات ہیں

سُورہ طٰہٰ کی فضیلت

منابع اِسلامی میں اس سورہ کی عظمت اور اہمیت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ خدا نے سورہ طٰہٰ اور یٰس کو خلقت آدم سے دو ہزار سال پہلے فرشتوں کے سامنے بیان کیا جس وقت فرشتوں نے قرآن کا یہ حصّہ سنُا تو انہوں نے کہا: طوبی لامة ینزل ھذا علیھا، طوبیٰ لاجواف تحمل ھذا، و طوبی لالسن تکلم بھذا کیا کہنا اس اُمت کا کہ جن پر یہ آیتیں نازل ہوں گی،کیا کہنا اِن دلوں کا جو اِن آیات کے کو قبول کریں گے اور کیا کہنا اُن زبانوں کا کہ جن پر یہ آیات جاری ہوں گی۔ (بحوالہ: مجمع البیان،جلد ۷، ص۱)۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: لاتدعوا قرائة سورة طٰہٰ، فان اللہ یحبھا و یحب من قراھا، و من ادمن قرائتھا اعطاہ اللہ یوم القیامة کتابہ بیمینہ، و لم یحاسبہ بما عمل فی الاسلام، واعطی فی الاٰخرة من الاجر حتٰی یرضی۔ سُورہ طٰہٰ کی تلاوت ترک نہ کرو کیونکہ خدا اس کی تلاوت کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ جو شخص ہمیشہ اس کی تلاوت کرتا رہے خدا قیامت کے دن اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گا اور آخرت میں اسے اتنا اَجر ملے گا کہ وہ راضی ہو جائے گا ۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۶۷)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے منقو ل ہے: من قرأھا اعطی یوم القیامة ثواب المھاجرین و الانصار جو شخص اسے پڑھے گا اُسے روزِ قیامت مہاجرین و انصار کے برابر ثواب ملے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۷ ،ص ۱)۔ ہم پھر یہ بات ضروری سمجھتے ہیں کہ اس حقیقت کو دہرائیں کہ تمام ایسے عظیم ثواب جو پیغمبرؐ اور آئمہؑ سے ان سوروں کی تلاوت کے بارے میں ہم تک پہنچے ہیں،ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف تلاوت کرنے سے انسان کو یہ سب تنائج حاصل ہو جائیں گے بلکہ اس سے مراد وہ تلاوت ہے جو غور و فکر کا مقدمہ بنے، ایسا غور و فکر کہ جس کے آثار انسان کے تمام اعمال و گفتار سے ظاہر ہوں اور اگر ہم اس سے سورہ کے اجمال مطالب پر نظر کریں گے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ مذکورہ بالا روایات اس سورہ کے مطالب کے ساتھ کامل مناسبت رکھتی ہیں۔

اِس سُورہ کے مضامین

تمام مفسرین کے قول کے مطابق سورہ طٰہٰ مکّہ میں نازل ہوئی ہے۔ اِس کے مضامین بھی باقی تمام مکی سورتوں کی مانند ہیں جو زیادہ تر "مبدا " و "معاد" کے بارے میں ہیں اور توحید کے تنائج اور شرک کی بدبختیوں کو ایک ایک کر کے بیان کرتی ہیں۔ پہلے حصّہ میں عظمتِ قرآن اور پروردگار کی کچھ صفاتِ جلال و جمال کی طرف مختصر سا اشارہ ہے۔ دُوسرے حصّہ میں کہ جو اسّی (۸۰) آیات پر مشتمل ہے، موسٰی (علیه السلام) کی داستان بیان ہوئی ہے۔ یہ اس زمانے کی داستان ہے جب موسٰی (علیه السلام) نبوت پر مبعوث ہوئے اور اس کے بعد جابر فرعون کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ (علیه السلام) نے فرعونیوں کے ہاتھوں بہت سے مصائب جھیلے۔جادوگروں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ وہ ایمان لے آئے۔ اس کے بعد خدا نے معجزانہ طریقہ سے فرعون اور اس کے حواریوں کو دریا میں غرق کر دیا اور موسٰی (علیه السلام) اور مومنین کو رہائی بخشی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی بچھڑے کو پوجنے کی داستان بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہارون (علیه السلام) و موسی (علیه السلام) کو کس طرح سے ان سے بھی الجھنا پڑا۔ تیسرے حصّہ میں کچھ معاد کے بارے میں بیان ہے اور کچھ قیامت کی خصوصیات کا ذکر ہے۔ چوتھے حصّہ میں قرآن اور اس کی عظمت کا بیان ہے۔ پانچویں حصّہ میں جنت میں آدمؑ و حوا ؑکی سرگذشت بیان کی گئی ہے۔ ابلیس کی وسوسہ انگیزی کا ماجرا بیان کیا گیا ہے اور انجام کار ان کے زمین پر اترنے کا تذکرہ ہے۔ آخری حصّہ میں مومنین کے لیے بیدار کن پند و نصائح ہیں، کہ جن میں سے اکثر کا رُوئے سخن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے۔

1
20:1
طه
طہٰ

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
20:2
مَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لِتَشۡقَىٰٓ
ہم نے قرآن کو تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تو خود کو مشقت میں ڈالدے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
20:3
إِلَّا تَذۡكِرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰ
اسے تو صرف ان لوگوں کی یاد آوری اور تذکرہ کیلئے نازل کیا ہے کہ جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
20:4
تَنزِيلٗا مِّمَّنۡ خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ وَٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلۡعُلَى
یہ قرآن اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جو زمین اور بلند آسمانوں کا خالق ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
20:5
ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ
وہ خدائے رحمن ہے کہ جو عرش پر مسلط ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
20:6
لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَمَا تَحۡتَ ٱلثَّرَىٰ
جو کچھ آسمانوں میں، زمین میں، ان دونوں کے درمیان اور زمین کی گہرائیوں میں موجود ہے سب اسی کا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
20:7
وَإِن تَجۡهَرۡ بِٱلۡقَوۡلِ فَإِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخۡفَى
اگر تم اونچی آواز سے بات کرو گے (یا پوشیدہ طور پر) تو وہ تمام چھپی ہوئی اور خفیہ ترین باتوں کو بلکہ خفیہ ترین باتوں کو جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
20:8
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ
وہی خدا ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اسکے اچھے اچھے نام ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مذکورہ بالا پہلی آیات کی شان نزول میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں کہ جن سے مجموعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن کے نازل ہونے کے بعد بہت ہی زیادہ عبادت کرنے لگے تھے، خاص طور پر کھڑے کھڑے عبادت میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں میں ورم آ گئے تھے۔ کبھی اِس غرض سے کہ عبادت جاری رکھ سیکں، اپنے جسم کا سارا بوجھ ایک پاؤ ں پر ڈال دیتے اور کبھی دوسرے پاؤں پر، پاؤں کے ایڑھیوں پر کھڑے ہو جاتے اور کبھی پاؤں کی انگلیوں پر۔ (تشریحی نوٹ: ان روایات سے آگاہی کے لیے تفسیر نورالثقلین اور تفسیر درالمنثور میں سورہ طٰہٰ کی ابتداء سے رجوع کریں)۔ تو مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور آپ کو حکم دیا گیا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ ڈالیں۔

تفسیر خود کو اتنا مشقت میں نہ ڈالو:

اِس سورہ کے آغاز میں ہمیں حروف مقطعہ کا سامنا ہے جو انسان کے احساس جستجو کو اُبھارتے ہیں۔(طٰہٰ)۔ البتہ ہم نے قرآن کے حروفِ مقطعہ کی تفسیر کے بارے میں تین سورتوں کے آغاز میں کافی بحث کی ہے۔ (بحوالہ: سورہ بقرہ، جلد اول۔ آل عمران، جلد دوم ۔اور اعراف،جلد چہارم (تفسیر نمونہ))۔ لیکن اِس مقام پر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مطلب کا اضافہ کریں کہ ممکن ہے کہ تمام ہی یا کم از کم ان حروفِ مقطعہ میں سے کچھ ایک خاص معنی و مفہوم رکھتے ہوں۔ٹھیک ایک لفظ کی مانند جس کا کوئی نہ کوئی معنی و مفہوم ہوتا ہے۔ اتفاقاً ہمیں بہت سی روایات نیز اس سورہ اور سورہ یٰسنٓ کے آغاز میں، مفسرین کے کلمات سے اس مطلب کا ثبوت ملتا ہے کہ " طٰہٰ" یا رجل (اے مرد) کے معنی میں ہے۔کچھ عربی اشعار بھی ایسے ملتے ہیں جن میں "طٰہٰ"، "یارجل" یا اس کے نزدیک کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے بعض اشعار ممکن ہے آغاز اسلام یا قبل از اسلام کے زمانے سے تعلق رکھتے ہوں۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان زیربحث آیہ کے ذیل میں)۔ اور جیسا کہ ایک باخبر شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض مغربی دانشوروں نے جو اسلامی مسائل کے سلسلے میں مطالعہ کرتے ہیں،اس مطلب کوقرآن کے تمام حروف مقطہ کے لیے عام سمجھا ہے اور ان کا نظریہ ہے کہ حروف مقطعہ ہر سورہ کی ابتدا میں ایک مستقل لفظ ہے،اس کا ایک خاص معنی ہے ان میں سے بعض زمانہ گزر جانے سے متروک ہو گئے ہیں اور بعض ہم تک پہنچ گئے ہیں، ورنہ یہ بات بعید نظر آتی کہ مشرکین عرب حروف مقطعہ کو سنیں اور وہ اس کا کوئی مفہوم نہ سمجھیں پھر بھی اس کا مذاق اڑائیں حالانکہ کسی تاریخ میں یہ بات نظر نہیں آتی کہ ان بد دماغ بہانہ بازوں نے حروفِ مقطعہ کو مذاق اڑانے کے لئے عنوان بنایا ہو۔ البتہ اس نظریہ کو بطور کلی اور تمام حروف مقطعہ کے بارے میں قبول کرنا مشکل ہے لیکن بعض کے بارے میں قابل قبول ہے اور اسلامی منابع میں بھی اس کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ "طٰہٰ" پیغمبر اکرمؐ کا ایک نام اور اس کا معنی ہے: یا طالب الحق، الھادی الیہ اے وہ شخص کہ جو حق کا طالب اور اس کی ہدایت کرنے والا ہے۔ اِس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ "طٰہٰ" دو رمزی حروف کا مرکب ہے۔ " طا"، "طالب الحق" کی طرف اشارہ ہے اور "ھا" "ھادی الیہ" کی طرف۔ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں بھی اور موجودہ زمانہ میں بھی رمزی حروف ( code words) اور مختصر علامات سے استفادہ ہوتا رہا ہے۔خاص طور پر ہمارے زمانہ میں تو اس سے بہت ہی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ لفظ "طٰہٰ" نے لفظ یسٰن ٓ کی طرح زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ تدریجاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم خاص کی صورت اختیار کر لی ہے۔یہاں تک کہ آل پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو "اٰل طٰہٰ" کہا جاتا ہے اور حضرت مہدی علیہ السلام کو دعائے ندبہ میں "یابن طٰہٰ" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ا س کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ہم نے قرآن تجھ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دے (ما انزلنا علیک القرآن لتشقیٰ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ پروردگار کی عبادت اور اس کے قرب کی جستجو اس کی پرستش کے ذریعہ بہترین کام ہے لیکن ہر کام ایک حساب سے ہوتا ہے۔عبادت بھی ایک حساب سے کی جاتی ہے تم خود پر اتنا بوجھ نہ ڈالو کہ تمہاے پاؤں متورم ہو جائیں اور تبلیغ و جہاد کے لیے تمہای قوت میں کمی آ جائے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "تشقیٰ" مادہ " شقاوت" سے "سعادت" کی ضد ہے لیکن جیسا کہ "راغب" مفردات میں لکھتا ہے کہ بعض اوقات یہ مادہ تکلیف اور دکھ کے معنی میں بھی آتا ہے اور مذکورہ بالا آیت میں یہی معنی مراد ہیں، جیسا کہ شان نزول میں بھی یہی مطلب بیان ہوا ہے۔ بعد والی آیت میں قرآن کے نازل کرنے کا مقصد اس طرح بیان کیا گیا ہے: ہم نے تو قرآن کو صرف ان لوگوں کی یاد آوری اور تذکر کے لیے نازل کیا ہے کہ جو (خدا سے) ڈرتے ہیں (الا تذکرة لمن یخشیٰ)۔ " تذکرة " سے تعبیر ایک طرف اور "من یخشیٰ" دوسری طرف ایک ناقابل انکار واقعیت کی طرف اشارہ ہے تذکرہ اور یاددہانی اس بات کی نشاندہی ہے کہ تمام خدائی تعلیمات کا خمیرانسان کی رُوح اور اس کی فطرت میں موجود ہوتا ہے اور انبیاء کی تعلیمات اُسے بارآور بناتی ہیں،اس طرح سے کہ گویا وہ کسی مطلب کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ انسان تمام علوم کو پہلے ہی سے جانتا تھا اور اب انہیں بھول گیا ہے اور اس دنیا میں تعلیم کا مقصد یاد دہانی ہے۔ (جیسا کہ افلاطون کا نظریہ بیان کیا جاتا ہے) بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا اصلی خمیر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے،(غورکیجئے گا ) "من یخشی" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب تک انسان میں ایک قسم کا احساس ذمہ داری و جواب دہی نہ ہو جس کا نام قرآن نے "خشیت و خوف" رکھا ہے، اس وقت تک وہ حقائق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا کیونکہ قبول کرنے والی صلاحیت ہر سچ کے بارآور ہونے میں بھی شرط ہے اور درحقیقت یہ تعبیر اس چیز کے مشابہ ہے کہ جو سورہ بقرہ کی ابتداء میں بیان ہوئی ہے: ھدًی للمتقین قرآن متقین کی ہدایت کا سبب ہے۔ اس کے بعد اس خدا کا تعارف کرواتا ہے کہ جو قرآن کو نازل کرنے والا ہے تاکہ اس کی معرفت کے ذریعے قرآن کی عظمت آشکار ہو۔ لہذا ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن اس کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ جو زمین اور بلند آسمان کا خالق ہے (تنزیلا ممن خلق الارض والسمٰوٰ ت العلیٰ) (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "تنزیلا" کا اعراب کے لحاظ سے کیا موقع و محل ہے،مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ البتہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ ایک محذوف فعل مجہول کا مفعول مطلق ہے اور یہ فقرہ یوں تھا: نزل تنزیلا ممن خلق الارض… )۔ حقیقت میں یہ توصیف نزول قرآن کی ابتداء اور انتہا کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اس کی انتہا زمین ہے اور ابتداء آسمان ہیں، یہ اس لفظ کے معنی کی وسعت کے لحاظ سے ہے اور اگر اس مقام پر۔۔قرآ ن کی دوسری آیات کے مانند۔۔لفظ "ما بینھما" کاا ضافہ نہیں ہوا تو شاید اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس سے اصل مقصد ابتداء و انتہا کا بیان کرنا تھا۔ بہرحال، وہ خدا کہ جس کی قدرت و تدبیر اور حکمت، آسمان و زمین کی وسعت پر محیط ہے، ظاہر ہے کہ اگر وہ کوئی کتاب نازل کرے گا تو وہ کس قدر فصیح و پُرمعنی ہو گی۔ پھرقرآن کے نازل کرنے والے پروردگار کا تعارف جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ خدا رحمن ہے کہ جس کی رحمت کا فیض ہر جگہ پر محیط ہے اور وہ عرش پر مسلط ہے (الرحمن علی العرش استوٰی )۔ ہم نے سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ "عرش" لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی چھت ہو، اور کبھی خود چھت کو یا بلندپایوں والے تخت کو یا بادشاہوں کے تخت کو عرش کہتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیه السلام) کے واقعے میں بیان ہوا ہے: ایّکم یاتینی بعرشھا تم میں سے کون اُس (بلقیس ) کے تخت کو میرے پاس لا سکتا ہے۔(نمل۔۳۸) واضح ہے کہ خدا کا نہ تو کوئی تخت ہے اور نہ ہی نوع بشرکے حکمرانوں کی طرح حکومت، بلکہ "عرش خدا " سے مراد مجموعتا ً عالم ہستی ہے کہ جو اس کی حکومت کا تخت شمار ہوتا ہے۔ اس بنا ء پر"استوٰی علی العرش" پروردگار کے جہان ہستی پر تسلّط اور مکمل احاطہ اور سارے عالم میں اس کی تدبیر و فرمان کے نفوذ کی طرف اشارہ ہے۔ اصولی طور پرلغتِ عرب میں "عرش " اور فارسی( اور اردو زبان) میں "تخت" زیادہ تر قدرت و اقتدار کے معنی میں بولا جاتا ہے، مثلاً ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے فلاں شخص کو تخت سے اتار دیا یعنی اس کی قدرت و اختیار اور حکومت کو ختم کر دیا یا عربی زبان میں کہتے ہیں (شل عرشہ) اس کاتخت گر گیا۔ (بحوالہ: تفسیرنمونہ، کی جلد ٤، ص۱۳۳۔ (اُردو ترجمہ) ______ پر بھی اس بارے میں بحث کی گئی ہے)۔ بہرحال، اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس تعبیر سے خدا کے لیے جسم ہونے کا تصور کرے تو یہ انتہائی بچگانہ بات ہو گی۔ عالمِ ہستی پر خدا کی "حاکمیت" کا ذکر کرنے کے بعد اس کی "مالکیت" کے بارے میں بیان کیا گیا ہے: جو کچھ آسمان میں، زمین میں، ان دونوں کے درمیان اور زمین کی گہرائیوں میں موجود ہے، سب اسی کی ملکیت ہے (لہ ما فی السمٰوٰت و ما فی الارض و مابینھما و ماتحت الثریٰ)۔ " ثریٰ " اصل میں مرطوب مٹی کے معنی میں ہے اور چونکہ زمین کا صرف اوپر والا حصّہ سورج کی تپش اور ہوا کے چلنے سے خشک ہوتا ہے لیکن اس کا نچلا طبقہ زیادہ تر مرطوب اور تر ہوتا ہے اس لیے طبقہ کو "ثریٰ" کہتے ہیں اور اس طرح "ما تحت الثریٰ " زمین کی گہرائیوں اور اس کے اندر والے حصّہ کے معنی میں ہے جو سب کا سب مالک الملک اور عالم ہستی کے خالق کی ملکیت ہے۔ یہاں تک صفات پروردگار کے ارکان میں سے تین رُکن بیان ہوئے تھے۔پہلا رُکن خالقیت، دوسرا رُکن حاکمیت اور تیسرا رُکن اس کی مالکیت ہے۔ بعد والی آیت میں اس کے چوتھے رکن یعنی اس کی عالمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ اس قدر علمی احاط رکھتا ہے کہ اگر تو آشکاررا بات کرے تو بھی وہ جانتا ہے اور پوشیدہ اور آہستہ طور پر بات کرے تب بھی وہ جانتا ہے یہاں تک کہ وہ مخفی تر بات سے بھی آگاہ ہے۔ (وان تجھر بالقول فانہ یعلم السر واخفیٰ)۔ اس بارے میں کہ "اخفی" (سر اور بھید سے زیادہ مخفی) سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے کہاہے کہ "سر" یہ ہے کہ جسے انسان دوسرے سے پہناں اور مخفی طور پر بیان کرے اور "اخفٰی" سے مراد یہ ہے کہ جسے انسان دل میں چھپائے رکھتا ہے اور کسی سے بیان نہیں کرتا۔ بعض نے کہا ہے کہ "سر" وہ ہے کہ جو انسان دل میں رکھتا ہو اور اخفی وہ ہے کہ جو کسی کے ذہن میں بھی نہیں آیا لیکن خدا اُسے بھی جانتا ہے۔ بعض نے کہاہے کہ "سر" وہ عمل ہے کہ جسے انسان چھپ کر انجام دیتا ہے اور "اخفی " وہ نیت ہے کہ جو وہ دل میں رکھتا ہے۔ بعض نے کہا ہے " سر" لوگوں کے اسرار کے معنی میں ہے اور "اخفی" وہ اسرار ہیں کہ جو خدا کی پاک ذات میں ہیں۔ ایک حدیث میں امام باقرعلیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "سر" تو وہ ہے کہ جسے تو نے دل میں چُھپا رکھا ہے، اور "اخفی" وہ بات ہے کہ جو تیرے دل میں پیدا ہوئی لیکن تو نے اُسے بھلا دیا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ممکن ہے کہ یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ انسان جس چیز کو یاد رکھتا ہے وہ حافظ کے خزانہ کے سپرد ہو جاتی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا اس مخزن کے کسی گوشے سے رابط منقطع ہو جاتا ہے اور اس پر نسیان کی حالت طاری ہو جاتی ہے لہذا اگر کسی ذریعہ سے یاد دہانی ہو جائے تو وہ اسے بالکل ایک جانی پہچانی بات سمجھتا ہے اس بناء پر جس بات کو انسان بھول چکا ہے وہ اس کے سب سے زیادہ مخفی اسرار میں سے ہے جو حافظہ کے کسی گوشہ میں پہناں ہو گیا ہے اور وقتی طور پر ہمیشہ کے لیے اس کا رابطہ اس سے منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن بہرحال، اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ وہ تمام تفسیریں جو اوپر بیان کی گئی ہیں "سر" اور "اخفٰی" کے وسیع معنی میں موجود ہوں۔ اس طرح سے پروردگار کے بےپایاں علم کی ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے اور مذکورہ بالا تمام آیات سے قرآ ن کے نازل ہونے والے کے بارے میں چار صفات یعنی "خلقت "، " حکمت " " مالکیت" اور علم سے متعلق اجمالی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے: وہی اللہ وہ خدا ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اس کے لیے اچھے اچھے نام اور صفات ہیں (اللہ لا الہٰ الا ھو لہ الاسمآء الحسٰنی)۔ جیسا کہ ہم نے (سورہ اعرف کی آیہ ۱۸۰) کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ "اسماء حسنٰی"کی تعبیر قرآن کی آیات میں بھی اور حدیث کی کتابوں میں بھی بارہا آئی ہے۔یہ تعبیر دراصل اچھے ناموں کے معنی میں ہے۔یہ بات محتاج ثبوت نہیں کہ خدا کے سب ہی نام اچھے ہیں لیکن خدا کے اسماء و صفات میں سے بعض نام کیونکہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لہذا وہ اسماء حسنٰی کہلاتے ہیں۔ بہت سی روایات میں ہے کہ جو پیغمبراکرمؐ اور آئمہ (علیهم السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں یہ منقول ہے کہ: خدا کے ننانوے ۹۹ نام ہیں جو شخص اسے ان ناموں کے ساتھ پکارے گا اس کی دعا قبول ہو گی اور جو شخص (ازروئے معرفت) ان کا احصاء کر لے وہ اہل بہشت میں سے ہے۔ یہ مضمون اہل سنت کی حدیث کی معروف کتابوں میں بھی موجود ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں کے احصاء اور شمار کرنے سے مراد ان صفات کا "تخلق" یعنی انہیں اپنانا ہے نہ کہ صرف الفاظ کا ذکر کرنا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص صفت عالم وقار دریا رحیم و غفور وغیرہ سے "تخلق" پیدا کرے یعنی ان صفات کو اپنالے اور ان عظیم خدائی صفات کی شعاعیں اس کے وجود میں چمکنے لگیں تو وہ بہشتی بھی ہے اوراس کی دعا بھی قبول ہو گی (مزید وضاحت کے لیے اس تفسیر کی جلد٤، ص۳٤٤ (اُردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔

9
20:9
وَهَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
اور کیا موسیٰ کی خبر تم تک پہنچی ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

10
20:10
إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى
جب اسے(دور سے) آگ دکھائی دی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: کہ تم(تھوڑی دیر کیلئے) رک جاؤ، میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے لئے اس میں سے ایک چنگاری لے آؤں یا اس آگ کے ذریعے راستہ معلوم کر لوں۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

11
20:11
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ يَٰمُوسَىٰٓ
جس وقت وہ آگ کے پاس آیا تو اسے ندا دی گئی : اے موسیٰ!

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

12
20:12
إِنِّيٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ إِنَّكَ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوٗى
میں تیرا پروردگار ہوں۔ اپنے جوتے اتار دے،کیونکہ تو مقدس سر زمین ’’طوی‘‘میں ہے ْْ

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

13
20:13
وَأَنَا ٱخۡتَرۡتُكَ فَٱسۡتَمِعۡ لِمَا يُوحَىٰٓ
اور میں نے تجھے (مقام رسالت کیلئے)منتخب کر لیا ہے۔اب جو کچھ بھی تیری طرف وحی کی جائے اسے غور سے سن۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
20:14
إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدۡنِي وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ
میں اللہ ہوں میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کیلئے نماز قائم کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
20:15
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ
قیامت (حتماً) آئے گی میں اسے اس لئے چھپا کر رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص اپنی سعی و کوشش کے بدلے اپنی جزا دیکھ لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
20:16
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ
اور جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے،تجھے ہرگز اس سے باز نہ رکھیں ورنہ تو ہلاک ہو جائیگا۔

تفسیر بیابان میں آگ کا شعلہ:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہاں سے خدا کے عظیم پیغمبر حضرت موسٰی ؑ کی داستان شروع ہوتی ہے۔اسّی( ۸۰ )سے زیادہ آیات میں ان پر گزرنے والے واقعات کے اہم حصّوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تاکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کے لیے جو ان دنو ں مکّہ میں دشمنوں کی طرف سے سخت دباؤ میں تھے، یہ داستان تسلّی اور دلاسے کا کا م دے۔ تاکہ وہ یہ جان لیں کہ شیطانی طاقتیں خدا کی قدرت کے مقابلے میں ٹھہر نے کی تاب نہیں رکھتیں اور ان کی یہ سب سازشیں نقش برآب ہیں۔ تاکہ اس داستان سے، جو بہت سے سبق آموز مطالب سے معمور ہے، توحید و خدا پرستی کی جد و جہد میں اپنی منزل کو پا لیں۔ زمانے کے فرعونوں اور جادوگروں کے خلاف معرکہ جاری رکھیں اور اسی طرح داخلی انحرفات اور انحرافی میلانات کے خلاف پیکار میں اپنی منزل مقصود کو پا لیں۔ یہ ایسے درس ہیں کہ جو ان کے لیے انقلاب اسلامی کے سارے دور میں راہ نما اور راہ کشا ہو سکتے ہیں۔ موسیٰ ؑ و بنی اسرائیل اور آل فرعون کے واقعات پر مشتمل ان آیات کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصّہ میں____ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی نبوت و بعثت کے آغاز اور وحی کی پہلی شعاعوں کا بیان ہے۔یہ وہ دَور ہے جس کی مدت کم ہے اور مطالب زیادہ ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جو حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس "وادی مقدس" میں،اس بیابان تاریک میں اور خلوت میں گزارے۔ دُوسرے حصّہ میں____ حضرت موسٰی (علیه السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیه السلام) کی طرف سے فرعون اور اس کے حواریوں کو توحید پرستی کے دین کی دعوت دینے کا ذکر ہے اور اس کے بعد دشمن کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرے حصّہ میں____ موسٰی (علیه السلام) اور بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے اور فرعون اور اس کے حواریوں کے چنگل سے ان کے نجات پانے کی کیفیت اور دشمنوں کے غرق ہونے کا تذکرہ ہے۔ چوتھے حصّہ میں____ بنی اسرائیل کے، دین توحید سے شرک کی طرف بڑی تیزی سے انحراف کرنے، اور سامری کے وسوسوں کو قبول کرنے کا ذکر ہے۔ نیز اس انحراف پر حضرت موسٰی (علیه السلام) کے قاطع اور شدید ردعمل کا ذکر ہے۔ اب ہم زیر بحث آیات کی طرف کہ جو پہلے حصّے کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ آیات ایک جاذب و لطیف تعبیر کے ساتھ کہتی ہیں: کیا تمہیں موسٰی کی خبر پہنچی ہے (وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى)۔ یہ بات محتاج ثبوت نہیں کہ یہ استفہام حصول خبر کے لیے نہیں ہے کیونکہ خدا تو تمام اسرار سے آگاہ ہے، بلکہ مشہور تعبیر کے مطابق یہ استفہام تقریری یا دوسرے لفظوں میں ایک ایسا استفہام ہے کہ جو ایک اہم خبر بیان کرنے کے لیے تمہید اور مقدمہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔جیسا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زبان میں بھی ایک اہم خبر کو شروع کرتے وقت کہتے ہیں: کیا تم نے یہ خبر سنی ہے کہ…؟ اِس کے بعد فرمایا گیا ہے: جب اُسے (دُور سے) آگ دکھائی دی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تم تھوڑی دیر کے لیے رک جاؤ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ میں اس کی طرف جاتا ہوں،شاید میں اس میں سے تمہارے لیے ایک چنگاری لے آوں، یا اس آگ کے ذریعے راستہ معلوم کر لو (إِذْ رَأَى نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى)۔ "قبس" (بروزن "قفس") تھوڑی سی آگ کے معنی میں ہے کہ جسے کچھ زیادہ آگ سے الگ کر لیتے ہیں۔ بیابانوں میں آگ کا دکھائی دینا عام طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ لوگ اس کے گرد جمع ہیں یا یہ بلندی پر آگ کا شعلہ اس لیے روشن کیا جاتا ہے تاکہ قافلے والے رات کے وقت بھٹک نہ جائیں ۔ "امکثو"، "مکث" کے مادہ سے مختصر توقف کے معنی میں ہے۔ اِن تمام تعبیرات سے مجموعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنے بیوی اوربچے کے ساتھ اندھیری رات میں بیابان سے گزر رہے تھے۔را ت ایسی سرد اور تاریک تھی کہ وہ راستہ کھو بیٹھے تھے انہیں دُور سے آگ کا ایک شعلہ دکھائی دی یہ شعلہ دیکھتے ہی حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا: تھوڑی سی دیر کے لیے ٹھہرو، میں نے آگ دیکھی ہے، میں جا کر اس میں سے تھوڑی سی آگ تمہارے لیے لے آؤں یا آگ کے ذریعے یا اُن لوگوں کے وسیلے سے جو وہاں ہیں راستہ معلوم کر لوں۔ تواریخ میں بھی ہے کہ جب موسٰی (علیه السلام) کی شعیب (علیه السلام) کے ساتھ معاہدہ کی مدت مدین میں پُوری ہو گئی تو وہ اپنے بیوی بچے اور اپنی بھیڑوں کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ بھول گئے، رات ایسی تاریک اور اندھیری تھی کہ بھیڑیں بیابان میں بکھر گئیں۔ انہوں نے چاہا کہ آگ روشن کریں تاکہ اس سرد رات میں وہ خود اور ان کے بچے گرم ہوں، لیکن آگ جلانے والی چیز سے آگ روشن نہ ہوئی، اِسی عرصے میں ان کی حاملہ بیوی کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہو گئی۔ گویا مصائب کا ایک طوفان تھا جس نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ یہ وقت تھا جبکہ انہیں دُور سے ایک شعلہ نظر آیا۔ لیکن یہ آگ نہیں تھی بلکہ خدائی نور تھا۔موسٰی (علیه السلام) اس گمان میں کہ وہ آگ ہے، راستہ معلوم کرنے یاآگ لینے کے لیے اس آگ کی طرف چل پڑے (بحوالہ : مجمع البیان زیر بحث آیہ کے ذیل میں)۔ اَب اس سرگذشت کا آخری حصّہ قرآن کی زبان سے سنتے ہیں: جب موسٰی (علیه السلام) آگ کے پاس آئے تو ایک آواز سُنی جو انہیں مخاطب کر کے کہہ رہی تھی۔ اے موسٰی (علیه السلام) (فَلَمَّا أَتَاهَانودِي يَا مُوسَى)۔ میں تیراپروردگار ہوں، اپنے جوتے اتار دے کیونکہ تو مقدّس سر زمین طوی میں ہے (إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى)۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موسٰی نے یہ ندا اُس درخت کی طرف سے جو وہاں تھا سُنی تھی: نودی من شاطئی الوادی الایمن فی البقعة المبارکة من الشجرة ان یا موسٰی انی انا اللہ ربّ العالمین مجموعی طور پر ان دونوں تعبیروں سے معلوم ہوتا ہے کہ موسٰیؑ جس وقت قریب گئے تو آگ کو درخت کے اندر دیکھا (جو مفسرین کے قول مطابق عناب کا درخت تھا) اور یہ خود ایک واضح و روشن قرینہ تھا، اس بات کا یہ آگ کوئی عام آگ نہیں ہے، بلکہ یہ خدائی نور ہے، کہ جو نہ صرف یہ کہ درخت کو نہیں جلاتا بلکہ اس کے ساتھ یکجان و آشناہے، یہ نُورِ حیات ہے۔ موسٰی (علیه السلام) نے یہ آواز سنی کہ "میں تیرا پروردگار ہوں" تو حیران رہ گئے اور ایک ناقابل بیان پُرکیف حالت اُن پر طاری ہو گئی، یہ کون ہے؟ جو مجھ سے باتیں کر رہاہے؟ یہ میرا پروردگار، کہ جس نے لفظ "ربک " کے ساتھ مجھے افتخار بخشا ہے تاکہ یہ میرے لیے اس بات کی نشاندہی کرے کہ میں نے آغاز بچپن سے لے کر اب تک اس کی آغوش رحمت میں پرروش پائی ہے اور ایک عظیم رسالت کے لیے تیار کیا گیا ہوں۔ حکم ملا کہ پاؤں سے اپنا جوتا اُتار دو،کیونکہ تو نے مقدس سر زمین میں قدم رکھا ہے سر زمین کہ جس میں نورالٰہی جلوہ گر ہے، وہاں خدا کا پیغام سننا ہے اور رسالت کی ذمّہ داری کو قبول کرنا ہے، لہذا انتہائی خضوع اور انکساری کے ساتھ اس سرزمین میں قدم رکھو۔ یہ ہے دلیل پاؤں سے جوتا اُتارنے کی۔ اِس بناء پر بعض مفسرین نے جوتا اُتارنے کے سلسلے میں بحث کی ہے۔ اُنہوں نے بعض چند در چند دوسروں کے اقوال نقل کیے ہیں جو بہت زیادہ ہیں۔ ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت بعید معلوم ہوتی ہیں۔ البتہ جو روایات اس آیت کی تاویل کے سلسلے میں نقل ہوئی ہیں،ہم نکات کے ذکر کے موقع پر ان کے بارے میں بحث کریں گے۔ "طوی" کی تعبیر یا تو اس بناء پر ہے کہ اس سرزمین کا نام طوی تھا، جیسا کہ اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے اور یا یہ بات ہے کہ "طوی" جو کہ اصل میں لپیٹنے کے معنی میں ہے، یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سرزمین کو معنوی برکات نے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا۔ اِسی بناء پر سورہ قصص کی آیہ ۳۰ میں اسے "البقةالمبارکة " سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اُسی کہنے والے سے یہ بات بھی سُنی: اور میں نے تجھے مقامِ رسالت کے لیے چُن لیا ہے، اب جو بھی وحی تیری طرف ہوتی ہے اُسے غور سے سنو(وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى)۔ اور اس کے بعد موسٰی ؑ نے وحی کا پہلا جملہ اِس صُورت میں حاصل کیا ہے: میں اللہ ہوں، میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے (إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا)۔ اب جبکہ یہ بات ہے تو صرف میری ہی عبادت کر، ایسی عبادت کہ جوہرقسم کے شرک سے پاک ہو۔ (فَاعْبُدْنِي)اورنماز قائم کر تاکہ ہمیشہ میری یاد میں رہے (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي)۔ اِس آیت میں انبیاء کی دعوت کی اہم ترین بنیاد یعنی مسئلہ توحید کو بیان کرنے کے بعد خدائے یگانہ کی عبادت کا موضوع،ایمان و توحید کے درخت کے ایک ثمر کے عنوان سے بیان ہوا ہے اور اس کے بعد عظیم ترین عبادت اور خلق کا خالق کے ساتھ اہم ترین تعلق اور اس کی ذات پاک کو فراموش نہ کرنے کی مؤثر ترین راہ یعنی نماز کا حکم دیا گیا ہے۔ فرمانِ رسالت کے ساتھ، جو اس سے پہلی آیت میں آیاہے، ان تینوں احکام کا بیان اور مسئلہ معاد کا بیان جو اس سے بعد والی آیت میں، اصول و فروع دین کے ایک کامل اور مختصر مجموعہ کو بیان کرتا ہے اور استقامت کے حکم کے ساتھ جو زیر بحث آیات کی آخری آیت میں آئے گا ہر لحاظ سے اس سلسلئہ کلام کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اور چونکہ "توحید" اور اس کی فروعات کے ذکر کے بعد دوسرا بنیادی مسئلہ معاد ہے لہذا بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے قیامت یقیناآئے گی،میں چاہتا ہوں کہ اسے مخفی رکھوں تاکہ ہر شخص اپنی سعی و کوشش کے مطابق جزاء پائے (إِنَّ السَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى)۔ اِس جملہ میں دو نکات ہیں کہ جن کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے: پہلا نکتہ:یہ ہے کہ (اکاد اخفیھا ) کے جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ "نزدیک" ہے کہ مَیں قیام قیامت کی تاریخ کو مخفی رکھوں اور اس تعبیر کے لیے یہ بات لازم آتی ہے کہ میں نے (ابھی تک ) مخفی نہیں رکھا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآ ن کی بہت سی صریح اور واضح آیات کے مطابق کوئی شخص بھی تاریخ قیامت سے آگاہ نہیں ہے جیسا کہ سورہ اعراف کی آیہ۱۸۷ میں بیان ہوا ہے : یسئلونک عن الساعة ایان مرسٰھاقل علمھاعندربی لوگ قیامت بارے میں تجھ سے سوال کرتے ہیں تم کہہ دو کہ اس کا علم تو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ مفسرین نے اس سوال کے جواب میں بہت سی باتیں کی ہیں۔بہت سے مفسرین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ایک تعبیر ایک قسم کا مبالغہ ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے شروع ہونے کی تاریخ اس قدر مخفی اور پہناں ہے کہ نزدیک ہے کہ میں خود اپنے آپ تک سے بھی اسے پنہاں رکھوں۔ اس بارے میں ایک روایت بھی وارد ہوئی ہے اور احتمال یہی ہے کہ مفسرین کی اس جماعت نے اپنا مطلب اسی روایت سے اخذ کیا ہے۔ دوسری تفسیریہ ہے "کاد" کے مشتقات ہمیشہ نزدیک ہونے کے معنی میں نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات تاکید کے معنی میں آتے ہیں اور اس میں نزدیک ہونے کے معنی نہیں ہوتے۔ لہذا بعض مفسرین نے "اکاد" کو "ارید" (مَیں چاہتا ہوں) کے معنی کے ساتھ تفسیر کیا ہے۔ اور متونِ لغت میں یہ معنی صراحت کے ساتھ آئے ہیں (تشریحی نوٹ: قاموس اللغت میں "کاد " کے مادہ میں آیاہے: وتکون بمعنی ارادا کاد اخفیھا ارید (کاد کا معنی ہے میں چاہتا ہوں)۔ دُوسرا نکتہ یہ ہے: کہ زیر بحث آیت کے مطابق قیامت کو مخفی رکھنے کی علّت و سبب یہ ہے کہ "خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کے مطابق جزاء دے"دوسرے لفظوں میں اس کے مخفی رہنے سے سب کے لیے ایک قسم کی آزادی عمل پیدا ہو گی اور دوسری طرف چونکہ اس کا کوئی خاص وقت معلوم نہیں اور ہر زمانہ میں اس کا احتمال ہے لہذا اس کا نتیجہ ہمیشہ آمادہ رہنے کی حالت یا تربیتی پروگراموں کو جلدی قبول کرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔جیسا کہ "شب قدر" کے پوشیدہ رکھنے کے فلسفہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سال کی تمام راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی تمام راتوں کا احترم کریں اور خدا کی درگاہ میں حاضری دیں۔ آخری زیر بحث آیت میں ایک اساسی مسئلے کی طرف کہ جو تمام مذکورہ عقیدتی اور تربیتی پروگرموں کے اجراء کا ضامن ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور انہوں نےاپنی خواہشات کی پیروی کی ہے تجھے ہرگز اس سے باز نہ رکھیں ورنہ تو ہلاک ہو جائے گا (فَلاَ يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَى)۔ تم بےایمان لوگوں، ان کے وسوسوں اور کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ۔ نہ تو ان کی کثرت سے وحشت زدہ ہو، نہ ان کی سازشوں سے کسی قسم کا خوف کرو اور نہ ہی ان کی اس ہاؤ ہُو اور شور و غل سے اپنی دعوت کی حقانیت اور اپنے مکتب کی اصالت میں کسی قسم کا شک و شبہ کرو۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہاں پر"لایومن" صیغہ مضارع کی صورت میں اور "واتبع ھواہ" صیغہ ماضی کی صورت میں ہے۔ یہ درحقیقت اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے منکرین کا ایمان نہ لانا ہوائے نفس کی پیروی کی وجہ سے ہے۔گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ آزاد رہیں اور جو کچھ ان کا دل چاہے کریں، لہذا اس سے بہتر اور کیا ہے کہ قیامت کا ہی انکار کر دیں تاکہ ان کی ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی کی آزاد ی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

چند اہم نکات ۱۔ "فاخلع نعلیک" سے کیا مراد ہے؟

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ موسٰیؑ کو اُس مقدس سرزمین کے احترام کا حکم دیا گیا کہ اپنے پاؤں سے جُوتے اُتار دے اور اس وادی میں نہایت عجز و انکساری کے ساتھ قدم رکھے، حق کو سُنے اور فرمانِ رسالت حاصل کرے لیکن بعض مفسرین کچھ روایات کی پیروی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ: یہ حکم اس وجہ سے دیا گیا تھا چونکہ اس جوتے کا چمڑا مردہ جانور کا تھا۔ یہ بات خود اپنے طور پربعید نظر آتی ہے۔کیونکہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ موسٰی (علیه السلام) اس قسم کے آلودہ چمڑے اور جوتے سے استفادہ کرتے۔ بعض دُوسری روایات میں اس کا انکار بھی پایا جاتا ہے۔ایک روایت وہ ہے جو امام زمانہ ( ارواحنالہ الفداء) کے ناحیہ مقدس سے نقل ہوئی ہے کہ جو اس تفسیر کی شّدت کے ساتھ نفی کرتی ہے (بحوالہ: نورالثقلین،جلد ۳، ص ۳۷۳)۔ موجودہ تو رات کے سفر خروج فصل سوم میں بھی یہی تعبیر کہ جو قر آ ن میں ہے، نظر آتی ہے۔ بعض دوسری روایات جن میں آیت کی تاویل اور اس کے بطون کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ: فاخلع نعلیک ای خوفیک: خوفک من ضیاع اھلک و خوفک من فرعون "فاخلع نعلیک" سے مراد یہ ہے کہ اپنے سے دو خوف و خطر دُور کر دے۔ ایک اپنے گھر والوں کے اس بیابان میں تباہ ہو جانے کا خوف اور دُوسرا فرعون کا خوف ( بحوالہ: نورالثقلین،جلد ۳، ص ۳۷۴)۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے اس واقعہ سے متعلق ایک عمدہ مطلب نقل ہوا ہے، آپ فرماتے ہیں: کن لما لاترجوا ارجی منک لما ترجوا، فان موسٰی بن عمران خرج لیقبس لاھلہ نارا فرجع الیھم و ھو رسول نبی! جن چیزوں کی تمہیں امید نہیں ہے ان کی ان چیزوں سے بھی زیادہ اُمید رکھو کہ جن کی تمہیں اُمید ہے کیونکہ موسٰی بن عمران ایک چنگاری لینے گئے تھے لیکن عہدہ نبوت و رسالت کے ساتھ واپس پلٹے (بحوالہ: نورا لثقلین،جلد ۳، ۳۷۴)۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے انسان کسی چیز کی اُمید رکھتا ہے مگر وہ اسے حاصل نہیں ہوتی ہے لیکن بہت سی اہم ترین چیزیں جن کی اُسے کوئی اُمید نہیں ہوتی لطف پروردگار سے اسے مل جاتی ہیں۔ یہی معنی امیرالمومنین علی علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے (بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۱، ص ۵۱۳)۔

۲۔ ایک سوال کا جواب

بعض مفسرین نے یہاں ایک سوال اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ موسٰی (علیه السلام) نے کہا ں سے اور کیسے یہ جان لیا کہ یہ آواز جو وہ سُن رہے ہیں خدا کی طرف سے ہے اور یہ یقین کیسے پیدا ہوا کہ پروردگار انہیں(رسالت پر ) مامور کر رہا ہے ؟ یہ سوال تمام انبیاء کے بارے میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ دو طریقے سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ پہلا جواب یہ ہے کہ: اس حالت میں ایک قسم کا مکاشفہ باطنی اور اندرونی احساس، جو انسان کو یقین کامل تک پہنچا دیتا ہے اور ہر قسم کا شک و شبہ زائل کر دیتا ہے، تمام پیغمبروں کو حاصل ہو جاتا ہے۔ دُوسرا جواب یہ ہے کہ: ممکن ہے کہ وحی کاآغاز معجزاتی طور پر ایسے کام سے کیا جاتا ہو کہ پروردگار کی قدرت کے سوا ممکن نہ ہو۔ جیسا کہ موسٰی علیہ السلام نے سبز درخت کے اندر آگ دیکھی،اور اسی سے سمجھ گئے کہ یہ ایک خدائی اور اعجاز آمیز مسئلہ ہے۔ اِس بات کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ خدا کا کلام سننا اور وہ بھی بغیرکسی واسطے کے اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ خدا حنجرہ اور آواز رکھتا ہے بلکہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے فضا میں آواز کی لہریں پیدا کر دیتا ہے اور لہروں کے ذریعہ اپنے پیغبروں سے کلام کرتا ہے،اور چونکہ حضرت موسٰی علیه السلام کی نبوت کاآغاز اسی طرح ہوا تھا اسی لیے انہیں"کلیم اللہ" کہا جاتا ہے۔

۳۔ نماز یادِ خدا کا بہترین ذریعہ ہے

زیر بحث آیات میں نماز کے ایک اہم فلسفہ کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ وہ یہ ہے کہ انسان اس جہان کی زندگی میں غافل کرنے والے عوامل کو مدّنظر رکھتے ہوئے یاد دہانی کا محتاج ہے، ایسے وسیلے کے ذریعے، جو مختلف زمانی فاصلوں میں، خدا، قیامت،پیغمبروں کی دعوت اور مقصد خلقت کو اسے یاد دلائے اور اسے غفلت اور جہالت کے گرداب میں غرق ہونے سے بچائے، نماز اس اہم ذمہ داری کو پورا کرتی ہے۔ انسان صبح سویرے نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ وہ نیند کہ جس نے اسے اس جہان کی ہر چیز سے ہیگانہ کر دیا تھا، زندگی کے پروگرام کو نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا ہے، ہر چیز سے پہلے نماز میں مشغول ہوتا ہے۔ اپنے دل و جان کو خدا کی یاد کے ساتھ جلا بخشتا ہے، اس سے قوت و مدد حاصل کرتا ہے۔ اور پاکیز گی و صداقت کے ساتھ سعی و کوشش کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ پھر جس وقت وہ روزانہ کے کاموں میں مشغول ہوتا ہے، اور چند گھنٹے گزر جاتے ہیں اور اکثر اس کے اور خدا کی یاد کے درمیان جدائی ہو جاتی ہے، اچانک ظہر کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ مؤذن کی آواز سنتا ہے "اللہ اکبر۔ ۔ ۔ ۔ حیّ علی الصلٰوة!: "خدا ہر چیز سے برتر ہے کہ اس کی تعریف و توصیف کی جا سکے۔ ۔ ۔ نماز کے لیے آؤ " تو نماز کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے معبود کے سامنے راز و نیاز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، اور اگر کسی قسم کی غفلت کا گرد و غبار اس پر بیٹھ گیا ہوتا ہے تو وہ اسے دھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا وحی کے آغاز میں ابتدائی احکامات میں حضرت موسٰی (علیه السلام) سے کہتا ہے: نماز قائم کرو تاکہ میری یاد میں رہو۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ آیت کہتی ہے کہ نماز قائم کر تاکہ تو میری یاد میں رہے لیکن سورہ رعد کی آیہ ۲۸ میں ہے : الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ذکر خدا اطمینان اور سکون قلب کا سبب ہے۔ اور سورہ فجر آیہ ۲۷ تا ۳۰ میں فرماتا ہے: یا ایتھا النفس المطمئنة ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتّی اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ،جبکہ تو بھی اس سے خوش ہے اور وہ بھی تجھ سے خوش ہے، تو میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنّت میں چلا آ۔ اِن تینوں آیات کو ایک دوسرے کہ ساتھ ملا کر ہم اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں کہ نماز انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے، خدا کی یاد اس کے نفسوں کو مطمئن بناتی ہے اور نفس مطمئن اسے مخصوص بندوں اور بہشت جاوداں میں پہنچا دیتا ہے۔

17
20:17
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ
اے موسیٰ! یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
20:18
قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ
کہا: یہ میرا عصا ہے میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اس سے اپنی بھیڑوں کے لئے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور اس سے اپنی دوسری ضروریات کو بھی پورا کرتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
20:19
قَالَ أَلۡقِهَا يَٰمُوسَىٰ
(اللہ نے)کہا: اے موسیٰ اپنے عصا کو نیچے پھینک دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
20:20
فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ
پس (موسیٰ نے)اسے پھینکا تو وہ اچانک ایک بہت بڑا اژدہا بن گیا۔اور دوڑنے لگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
20:21
قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلۡأُولَىٰ
فرمایا: اسے پکڑ لے اور ڈر نہیں۔ ہم اسے اس کی پہلی صورت پر پلٹا دیں گے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
20:22
وَٱضۡمُمۡ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخۡرَىٰ
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر لے جاتو وہ بے عیب سفید اور چمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
20:23
لِنُرِيَكَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا ٱلۡكُبۡرَى
ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بڑی بڑی نشانیاں تجھے دکھائیں۔

تفسیر موسٰی کا عصا اور ید بیضا:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اِس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کو اپنا خدا کے ساتھ رابطہ ثابت کرنے کے لیے معجزے کی ضرورت ہے، ورنہ ہرشخص پیغمبری کا دعوٰی کر سکتا ہے۔ اِس بناء پر سچے انبیاء کا جھوٹوں سے امتیاز معجزے کے علاوہ نہیں ہو سکتا ہے، یہ معجزہ خود پیغمبر کی دعوت کے مطالب اور آسمانی کتاب کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور حسّی اور جسمانی قسم کے معجزات دوسرے امور میں بھی ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، معجزہ خود پیغمبر کی رُوح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور وہ اسے قوّت قلب، قدرت ایمان اور استقامت بخشتا ہے۔ بہرحال، حضرت موسٰی (علیه السلام) کو فرمان نبّوت ملنے کے بعد اس کی سند بھی ملنی چاہیئے، لہذا اسی پُر خطررات جناب موسٰی (علیه السلام) نے دو عظیم معجزے خدا سے حاصل کیے۔ قرآن اس ماجرے کو اس طرح بیان کرتا ہے: خدا نے موسٰی سے سوال کیا: " اے موسٰی (علیه السلام) یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے " (وما تلک بیمینک یا موسٰی)۔ اِس سادہ سے سوال ___ میں لُطف و محبت کی چاشنی تھی___ فطرتاًموسٰی (علیه السلام) ___ کی رُوح میں اُس وقت طوفانی لہریں موجزن تھیں ایسے میں یہ سوال اطمینان قلب کے لیے بھی تھا اور ایک عظیم حقیقت کو بیان کرنے کی تمہید بھی تھا۔ موسٰی نے جواب میں کہا: یہ لکڑی میرا عصا ہے (قال ھی عصای)۔ اور چونکہ محبوب نے ان کے سامنے پہلی مرتبہ یوں اپنا دروازہ کھولا تھا لہذا وہ اپنے محبوب سے باتیں جاری رکھنا اور انہیں طول دینا چاہتے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ شاید وہ یہ سوچ رہے تھے کہ میرا صر ف یہ کہناکہ یہ میرا عصا ہے، کافی نہ ہو بلکہ اس سوال کا مقصد اس عصا کے آثار و فوائد کو بیان کرنا ہوا لہذا مزید کہا: میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں (اتوکوء علیھا)۔ اور اس سے اپنی بھیڑوں کے لیے درختوں سے پتّے جھاڑتا ہوں (واھش بھا علیٰ غنمی) (تشریحی نوٹ: "اھش" "ھش"(ھاء کی فتح کے ساتھ) کے مادہ سے درختوں کے پتوں پر مارنے اور انہیں جھاڑنے کے معنی میں ہے)۔ اس کے علاوہ میں اس سے دوسرے کام بھی لیتاہوں۔ (و لی فیھا ماٰرب اخرٰی)۔ (تشریحی نوٹ: "ماٰرب" جمع ہے "ماء ربة " کی جو حاجت،نیاز اور مقصد کے معنی میں ہے) ۔ البتہ یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ عصا رکھنے والے سے کون کون سے کام لیتے ہیں۔ کبھی اس سے موذی جانور وں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دفاعی ہتھیار کے طور پر کام لیتے ہیں کبھی اس کے ذریعے بیابان میں سائبان بنا لیتے ہیں، کبھی اس کے ساتھ برتن باندھ کر گہری نہر سے پانی نکالتے ہیں۔ بہرحال، حضرت موسٰی (علیه السلام) ایک گہرے تعجب میں تھے کہ اس عظیم بارگاہ سے یہ کس قسم کا سوال ہے اور میرے پاس اس کا کیا جواب ہے۔ پہلے جو فرمان دیئے گئے تھے وہ کیاتھے، اوریہ پرسش کس لیے ہے ؟ اچانک انہیں حکم دیا گیا اے موسٰی! اپنا عصا پھینک دے (قال القھا یا موسٰی)۔ موسٰی نے اس فوراً اسی وقت عصا پھینک دیا، وہ اچانک ایک بہت بڑا سانپ بن گیا، اور وہ چلنے پھرنے لگا۔(فالقاھا فاذا ھی حیة تسعٰی)۔ "تسعیٰ"، "سعی" کے مادہ سے تیزی کے ساتھ راہ چلنے کے معنی میں ہے جودوڑنے کی حد تک نہ ہو۔ اِس موقع پر موسٰی کو حکم دیا گیا اسے پکڑ لے اور ڈر نہیں، ہم اسے اس کی اُسی پہلی صورت میں پلٹا دیں گے (قال خذھا ولاتخف سنعیدھا سیرتھا الاولیٰ) (تشریحی نوٹ :۔"سیرة " جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، باطنی حالت کے معنی میں ہے، چاہے وہ حالت غریزی ہو یا اکتسابی۔ بعض نے یہاں ہیئت و صورت کے معنی کیے ہیں)۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۱ میں ہے : ولی مدبراً ولم یعقب یا موسٰی اقبل ولاتخف موسٰی اس عظیم سانپ کو دیکھ کر ڈر گئے اور پیچھے ہٹے۔ خدا نے دوبارہ ان سے کہا:اے موسٰی! پلٹ آ ؤ اور ڈرو نہیں۔ اگرچہ یہاں موسٰیؑ کے ڈرنے کا مسئلہ بہت سے مفسرین کے لیے سوال کا باعث بن گیا ہے کہ یہ حالت اس شجاعت کے ساتھ، جو حضرت موسٰی (علیه السلام) کے بارے میں ہمیں معلوم ہے میل نہیں کھاتی۔ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے ساری عمر فرعونیوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے گزار دی اور اپنی شجاعت کا عملی طور پر ثبوت دیا،جبکہ یہ بات انبیاء کی شرائط کلی میں سے بھی ہے۔ تو پھر یہاں یہ صورت کس طرح درست ہو سکتی ہے؟ لیکن ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس کا جواب واضح ہو جاتا ہے،کیونکہ یہ بات ہر انسان کے لیے فطری ہے۔چاہے وہ کتنا ہی شجاع اور نڈر ہو___ کہ اگر وہ یہ دیکھ لے کہ لکڑی ایک ٹکڑا اچانک ایک بہت بڑے سانپ میں بدل گیا ہے، اور وہ تیزی کے ساتھ چلنے لگا ہے تو وہ وقتی طور پر وحشت زدہ ہو گا۔ اور خود کو اُس سے بچائے گا، سوائے اس صورت کے کہ اس منظر کو اس کے سامنے بار بار دہرایا جائے۔ اِس فطری اثر کا موسٰی پرکسی طرح بھی اعتراض نہیں ہو سکتا، اور سورہ احزاب کی آیہ ۳۹ میں جو یہ بیان ہواہے کہ : الذین یبلغون رسالات اللہ ویخشونہ ولا یخشون احداً الّاا للہ " جو لو گ اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کرتے ہیں وہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ۔ اس کے منافی نہیں، چونکہ یہ ایک فطری زُودگزر اور وقتی وحشت ہے جو ایک ایسے حادثہ سے ہوئی ہے جس سے پہلے کبھی واسطہ نہیں پڑا اور جو خلاف معمول ہے۔ اس کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) کے دوسرے معجزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے : اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں لے جا تاکہ سفید چمکدار اور روشن ہو کر باہر آئے اور اس میں کوئی عیب و نقص نہ ہو گا اور یہ تمہارے لیے ایک دوسرامعجزہ ہے (واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء اٰیة اخریٰ) (تشریحی نوٹ: "اٰیة"منصوب ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا اسم ہے جو حال کی جگہ آیا ہے، اس ضمیر کا حال ہے کہ جو "تخرج" میں مستتر ہے)۔ اگرچہ (واضمم یدک الی جناحک) کے جملہ کی تفسیر میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں۔ لیکن سورہ قصص کی آیہ ۳۶ کی طرف توجہ کرنے سے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے : اسلک یدک فی جیبک اور سورہ نمل کی آیہ ۱۲ جس میں یہ بیان ہوا ہے : وادخل یدک فی جیبک بخوبی معلوم ہوتا جاتا ہے کہ جناب موسٰی (علیه السلام) کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا وہ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیں اور اسے بغل یا پہلو کے نیچے تک لے جائیں(کیونکہ جناح اصل میں پرندوں کے پروں کے معنی میں ہے اور یہاں ہو سکتا ہے کہ زیر بغل کے لیے کنایہ ہو)۔ "بیضا" سفید کے معنی میں ہے، اور "من غیرسوء" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تیرے ہاتھ کی سفیدی، برص یا اسی جیسی کسی بیماری کے اثر سے نہ ہو گی،کیونکہ اس میں ایک خاص قسم کی چمک اور روشنی ہو گی، وہ ایک لمحہ کے لیے ظاہرہو گی اور دوسرے ہی لمحہ میں غائب ہو جائے گی۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ میں انتہائی زیادہ نورانیت پیدا ہوجاتی تھی اگر ایسا تھا تو پھر ہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ (من غیر سوء) کا مفہوم اس کے علاوہ بھی ہے کہ جو ہم نے اُوپر بیان کیا ہے یعنی اس میں ایک ایسی بےعیب نورانیت تھی، جو نہ آنکھ کو تکلیف دیتی تھی نہ اس کے درمیان کوئی سیاہ دھبہ دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی کوئی اور ایسی چیز تھی۔ پہلی آیات میں جو کچھ بیان کیا گیا اس سے نتیجہ نکالتے ہوئے آخری زیر بحث آیت میں فرمایاگیاہے : ہم نے ان کو تیرے اختیار میں دے دیا ہے تاکہ ہم تجھے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں (لنریک من اٰیاتنا الکبرٰی)۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ " آیات کبریٰ" سے مراد وہی دو اہم معجزے ہیں کہ جن کا اوپر ذکر آیا ہے، اور یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ دوسرے معجزات کی طرف اشارہ ہے جو خدا نے جناب موسٰی (علیه السلام) کو بعد میں عطا فرمائے،یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ دو عظیم معجزے:

اس میں شک نہیں کہ موسٰی (علیه السلام) کے عصا کے ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو جانے کے بارے میں زیر نظر آیات میں جو کچھ کہا گیا ہے یہاں تک کہ سورہ اعراف کی آیات ۱۰۷ میں اُسے" ثعبان" (اژدھا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور اِسی طرح ایک مختصر سے لمحہ کے لیے ہاتھ میں ایک خاص قسم کی چمک پیدا ہونا اور پھر اس کا پہلی حالت کی طرف پلٹ جانا، یہ ایک معمولی یا نادر و کمیاب امر نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں خلاف معمول اور معجزہ شمار ہوتے ہیں جو ایک مافوق بشر قوت کے سہارے اور مدد کے سوا یعنی خدائے عظیم کی قدرت کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے علم و قدرت کو بےپایاں سمجھتے ہیں وہ اِن اُمور کا ہرگز انکار نہیں کر سکتے، اور نہ ہی مادہ پردستوں کی طرح اسے خرافات کہہ سکتے ہیں۔ معجزہ میں جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ عقلی طور پر محال نہ ہو اور یہ بات اس مقام پر پورے طور سے صادق آتی ہے،کیونکہ کوئی عقلی دلیل عصا کے بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہونے کے امکان کی نفی پر دلالت نہیں کرتی۔ کیا عصا اور بڑا سانپ دونوں ماضی بعید میں مٹی سے ہی پیدا نہیں ہوئے؟ یقینی طور پر شاید لاکھوں یا کروڑوں سال گزر گئے ہوں کہ جب اس قسم کی موجودات وجود میں آئی ہوں (اور اس مسئلہ میں کوئی فرق نہیں ہے خواہ ہم انواع کے ثبوت کو مانیں یا اس کے ارتقا کے قائل ہوں،کیونکہ ہرحال میں درختوں کی لکڑی بھی مٹی سے ہی پیدا ہوئی ہے اور حیوانات بھی)۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ کام معجزانہ طور پر انجام پایا ہے کیونکہ وہ مراحل جو ہزاروں سالوں میں طے ہونے چاہیئں تھے وہ ایک لمحے اور ایک انتہائی کم اور مختصر مدّت میں انجام پا گئے ہیں۔ کیا ایسا کام محال نظر آتا ہے؟ ممکن ہے کہ میں تو ایک ضخیم کتاب کو ہاتھ سے ایک سال میں لکھوں، اب اگر کوئی ایسا شخص پیدا ہو جائے کہ وہ اعجاز کے سہارے اتنی تیزی کے ساتھ لکھے کہ وہ ایک گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت میں لکھی جائے،تو یہ محال عقلی نہیں ہے،یہ خلا ف معمول ہے (غور کیجئے گا)۔ بہرحال، معجزات کے بارے میں عاجلانہ فیصلے اور خدا نخوستہ ان کو خرافات کہنا منطق اور عقل سے دُور ہے، محض ایک چیز جو کبھی کبھی ایسے افکار کو جنم دیتی ہے یہ ہے کہ ہم معمول کی علت و معلول کے خوگر ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان کو ایک ضرورت قرار دینے لگ گئے ہیں اور جو کچھ اس کے خلاف ہوا سے مخالف ضرورت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ ان طبعی اور عادی معلول کی شکل ہرگز بھی ضرورت کا پہلو نہیں رکھتی، اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ مافوق طبیعت عامل ان میں تبدیلیاں پیدا کر دے (تشریحی نوٹ:اس کے بارے میں ہم نے جلد ۶ / ب پر بھی بات کی ہے)۔

۲۔ چیزوں کی فوق الفادت استعداد:

مسلمہ طور پر جس دن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے چرواہوں والی وہ لاٹھی اپنے لیے منتخب کی تھی وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ سادہ سا وجود خدا کے حکم سے اتنا عظیم کام کرے گا۔اس طرح سے کہ فرعون کی قدرت کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا لیکن خدا نے اسے دکھایا کہ اسی سادہ سے وسیلے کے ذریعہ ایسی خارق العادت قوت پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ دراصل تمام انسانوں کے لیے ایک درس ہے کہ وہ اس دنیامیں کسی چیز کومعمو لی نہ سمجھیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جن چیزوں یا افراد کو ہم حقارت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، ان کے اندر ایک عظیم طاقت پنہاں ہوتی ہے کہ جس سے ہم بےخبر ہوتے ہیں۔

۳۔ تورات اِس بارے میں کیا کہتی ہے:

زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے کہ موسٰی نے جس وقت اپنے ہاتھ کو گریبان سے باہر نکالا تو وہ بلا کسی عیب کے سفید اور روشن تھا۔ ممکن ہے یہ جملہ اس تعبیر کی نفی کے لیے ہو جو توریت میں تحریف شدہ دکھائی دیتا ہے چونکہ اس موجودہ تورات میں اس طرح لکھا ہے : اور خدا نے پھر اس سے کہا: اب تو اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے لے، توموسٰی نے اپنے ہاتھ کو بغل میں دے لیا، اور پھر اس کو باہر نکالا، تو اس کا ہاتھ برف کی مانند مبروص تھا۔ (بحوالہ : توارت سفر خروج فصل: ۴،جلد :۶) ۔ کلمہ "مبروص" "برص" کے مادہ سے کوڑھ کے معنی میں ہے جو ایک قسم کی بیماری ہے، اور مسلمہ طور پر اس تعبیر کا اس موقع پر استعمال غلط اور ناجائز ہے۔

24
20:24
ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
فرعون کے پاس جا کہ وہ سر کش ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
20:25
قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي
عرض کیا: پروردگارا ! میرے سینہ کو کشادہ کر دے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
20:26
وَيَسِّرۡ لِيٓ أَمۡرِي
میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
20:27
وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةٗ مِّن لِّسَانِي
اورمیری زبان کی گرہ کو کھول دے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
20:28
يَفۡقَهُواْ قَوۡلِي
تاکہ وہ میری باتوں کو سمجھیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
20:29
وَٱجۡعَل لِّي وَزِيرٗا مِّنۡ أَهۡلِي
میرے خاندان میں سے میرا ایک وزیر قرار دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
20:30
هَٰرُونَ أَخِي
میرے بھائی ہارون کو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
20:31
ٱشۡدُدۡ بِهِۦٓ أَزۡرِي
اس کے ذریعے میری کمر کو مضبوط کر دے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
20:32
وَأَشۡرِكۡهُ فِيٓ أَمۡرِي
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
20:33
كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيرٗا
تاکہ ہم تیری بہت بہت تسبیح کریں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
20:34
وَنَذۡكُرَكَ كَثِيرًا
اور تجھے بہت بہت یاد کریں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
20:35
إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرٗا
کیونکہ تو ہمیشہ ہماری حالت سے آگاہ رہا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
20:36
قَالَ قَدۡ أُوتِيتَ سُؤۡلَكَ يَٰمُوسَىٰ
فرمایا :اے موسیٰ تو نے جتنی درخواستیں کیں وہ سب کی سب تجھے عطا کر دی گئیں

تفسیر موسٰی (علیه السلام) کے جچے تلے تقاضے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اب حضرت موسٰی (علیه السلام) مرتبہ نبوت پر فائز ہو چکے ہیں اور انہوں نے اہم معجزات حاصل کر لیے ہیں، لیکن اس کے بعد ان کے نام فرمان رسالت صادر ہوتا ہے، ایسی رسالت کہ جو بہت ہی عظیم اور سنگین ہے، ایسی رسالت جو علاقے کے طاقتور ترین اور خطرناک ترین لوگوں کو فرمان الہٰی پہنچانے سے شروع ہوتی ہے۔اللہ فرماتا ہے: فرعون کی طرف جا کہ وہ سرکش ہو گیا ہے (اذھب الی فرعون انہ طغٰی)۔ ہاں ایک فاسد اور خراب شدہ ماحول کی اصلاح اور ہر جہت سے ایک انقلاب برپا کرنے کے لیے فساد کے سرغنوں اور کفر کے سربراہوں سے کام شروع کرنا چاہیئے، ایسے لوگوں سے کہ جو معاشرے کے تمام لوگوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور وہ خود یا ان کے افکار و نظریات یا ان کے اعوان و انصار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں،ایسے لوگ کہ جنہوں نے تمام تبلیغی، نشریاتی اقتصادی اور سیاسی اداروں کو اپنے قبضہ میں لیا ہوا ہے۔ اگر ان کی اصلاح ہو جائے یا اصلاح نہ ہونے کی صورت میں وہ جڑ سے اکھاڑ پھنیکے جائیں تو معاشرے کی نجات کی امید کی جا سکتی ہے، ورنہ جس قسم کی بھی اصلاح ہو گی، وہ وقتی، سطحی اور ناپائیدار ہو گی۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ: فرعون سے شروع کرنے کے لازم ہونے کی دلیل، ایک مختصر جملہ "انہ طغٰی" (اس نے طغیان کیا ہے) میں بیان ہوئی ہے کہ اس کلمہ "طغیان" میں سب کچھ جمع ہے، ہاں طغیان و سرکشی بھی اور زندگی کے تمام شعبوں میں حد سے تجاوز بھی، اور اسی بناء پر اس قسم کے افراد کو "طاغوت "کہا جاتا ہے کہ جو اسی مادہ سے لیا گیا ہے۔ موسٰی (علیه السلام) ___ اس قسم کی سنگین ماموریت پر نہ صرف گھبرائے نہیں، بلکہ معمولی سی تخفیف کے لیے بھی خدا سے درخواست نہ کی اور کھلے دل سے اس کا استقبال کیا۔ زیادہ سے زیادہ اس ماموریت کے سلسلے میں کامیابی کے وسائل کی خدا سے درخواست کی۔ اور چونکہ کامیابی کا پہلا ذریعہ عظیم روح، فکر بلند اور عقل توانا ہے، اور دوسرے لفظوں میں سینہ کی کشادگی و شرح صدر ہے لہذا: عرض کیا میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ کر دے (وقال رب ّ اشرح لی صدری)۔ ہاں! ایک رہبر انقلاب کا سب سے اولین سرمایہ، کشادہ دلی، فراواں حوصلہ، استقامت و بردباری اور مشکلات کے بوجھ کو اٹھانا ہے، اس بناء پر امیرالمومنین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے : اٰ لة الریاسة سعة الصدر سینہ کی کشادگی رہبری و قیادت کا وسیلہ ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار حکمت ۱۷۶)۔ (شرح صدر اور اس کے مفہوم کے بارے میں ہم اس تفسیر کی جلد ۵ میں سورہ انعام کی آیہ ۲۵ کے ذیل میں بھی بحث کر چکے ہیں)۔ اور چونکہ اس راستہ میں بےشمار مشکلات ہیں، جو خدا کے لطف و کرم کے بغیر حل نہیں ہوتیں، لہذا خدا سے دوسرا سوال یہ کیا کہ میرے کاموں کو مجھ پر آسان کردے اور مشکلات کو راستے سے ہٹا دے۔آپ نے عرض کیا: کہ میرے کام کو آسان کر دے (ویسرلی امر ی)۔ اِس کے بعد جناب موسٰی (علیه السلام) نے زیادہ سے زیادہ قوّت بیان کا تقاضا کیا۔ کہنے لگے،میری زبان کی گرہ کھول دے۔(واحلل عقدة من لسانی)۔ یہ ٹھیک ہے کہ شرح صدر کا ہونا بہت اہم بات ہے، لیکن یہ سرمایہ اسی صورت میں کام دے سکتا ہے، جب اس کو ظاہر کرنے کی قدرت بھی کامل طور پر موجود ہو۔اسی بناء پر جناب موسٰی (علیه السلام) نے شرح صدر اور رکادٹوں کے دُور ہونے کی درخواستوں کے بعد یہ تقاضا کیا کہ خدا ان کی زبان کی گرہ کھول دے۔ اور خصوصیت کے ساتھ اس کی علّت یہ بیان کی: تاکہ وہ میری باتوں کو سمجھیں (یفقھوا قولی)۔ یہ جملہ حقیقت میں پہلی آیت کی تفسیر کر رہا ہے اور اس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ زبان کی گرہ کے کھلنے سے مراد یہ نہ تھی کہ موسٰی ؑ کی زبان میں بچپنے میں جل جانے کی وجہ سے کوئی لکنت آ گئی تھی۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ بلکہ اس سے گفتگو میں ایسی رکاوٹ ہے جو سننے والے کے لیے سمجھنے میں مانع ہوتی ہے،یعنی میں ایسی فصیح و بلیغ اور ذہن میں بیٹھ جانے والی گفتگو کروں کہ ہر سننے والا میرا مقصد اچھی طرح سے سمجھ لے۔ سورہ قصص کی آیہ ۳۴ اس تفسیر کی شاہد ہے : واخی ھارون ھو افصح منی لسانا میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے،کہ "افصح " "فصیح"کے مادہ سے دراصل کسی چیز کے زائد باتوں سے پاک ہونے کے معنی میں ہے۔ بعد میں اسی گفتگو، کے لیے استعمال ہونے لگا جو فہمیدہ، رسا، منہ بولتی اور ہر غیر ضروری چیز سے پاک ہو۔ بہرحال، ایک کامیاب رہبر و رہنما وہ ہوتا ہے کہ جو سعیء فکر اور قدرت روح کے علاوہ ایسی فصیح و بلیغ گفتگو کر سکے کہ جو ہر قسم کے ابہام اور نارسائی سے پاک ہو۔ نیز اِس بار سنگین کے لیے۔یعنی رسالت الٰہی، رہبری بشر اور طاغوتوں اور جابروں کے ساتھ مقابلے کے لیے یار و مددگار کی ضرورت ہے اور یہ کام تنہا سرانجام دینا ممکن نہیں ہے لہذا حضرت موسٰی (علیه السلام) نے پروردگار سے جو چوتھی درخواست کی وہ یہ تھی: خدا وندا ! میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر اور مدد گار قرار دے (واجعل لی وزیرامن اھلی)۔ "وزیر"، "وزر"کے مادہ سے دراصل سنگین بوجھ کے معنی میں ہے اور چونکہ وزیر نظام مملکت میں بہت بوجھ اٹھاتا ہیں لہذا یہ لفظ ان کے لیے بولا جانے لگا ہے نیز لفظ "وزیر" کا معاون اور یار و مدد گار پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) تقاضا کر رہے ہیں کہ یہ وزیر ان ہی کے خاندان میں سے ہو،اس کی دلیل واضح ہے چونکہ اس کے بارے میں معرفت اور شناخت بھی زیادہ ہو گی اور اس کی ہمدردیاں بھی دوسرں کے نسبت زیادہ ہوں گی کتنی اچھی بات ہے کہ انسان کسی ایسے کے شخص کو اپنا شریک ِ کار بنائے کہ جو روحانی اور جسمانی رشتوں کے حوالے سے اس سے مربوط ہو۔ اِس کے بعد خصوصی طور پر اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا: یہ ذمّہ داری میرے بھائی ہارون کے سپرد کر دے۔ (ھارون اخی) ہارون (علیه السلام) بعض مفسرین کے قول کے مطابق حضرت موسٰی (علیه السلام) کے بڑے بھائی اور ان سے تین سال بڑے تھے بلند قامت فصیح البیان اور اعلیٰ علمی قابلیت کے مالک تھے انہوں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی وفات سے تین سال پہلے رحلت فرمائی (بحوالہ: مجمع البیان، زیرآیت کے ذیل می) وہ پیغمبرمرسل تھے جیسا کہ سورہ مومنون کے آیہ ۴۵ میں بیان ہوا ہے: ثم ارسلنا موسٰی واخاہ ھارون باٰیاتنا و سلطان مبین اور وہ نور اور باطنی روشنی کے بھی حامل تھے، اور حق و باطل میں خوب تمیز بھی رکھتے تھے۔ جیسا کہ سورہ انبیاء کی آیہ ۴۸ میں بیان ہوا ہے: ولقد اٰتینا موسٰی و ھارون الفرقان وضیاء آخری بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پیغمبر تھے جنہیں خدا نے اپنی رحمت سے موسٰی کو بخشا تھا: ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھارون نبیا(مریم۔۵۳)۔ وہ اس بھاری ذمّہ داری کی انجام دہی میں اپنے بھائی موسٰی کے دوش بدوش مصروف کار رہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی نے اس اندھیری رات میں، اس وادیء مقدّس کے اندر، جب خدا سے فرمان ِ رسالت ملنے کے وقت یہ تقاضا کیا، تو وہ اس وقت دس سال سے بھی زیادہ اپنے وطن سے دور گزار کرآرہے تھے،لیکن اصولی طور پر اس عرصہ میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ ان کا رابطہ کامل طور پر منقطع نہ ہوا اسی لیے اس صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان کے بارے میں بات کر رہے ہیں، اور خدا کی درگا ہ سے اس عظیم مشن میں اس کی شرکت کے لیے تقاضا کر رہے ہیں۔ اِس کے بعد جناب موسٰی (علیه السلام) ہارون (علیه السلام) کو وزارت و معاونت پر متعین کرنے کے لیے اپنے مقصد کو اس طرح بیان کرتے ہیں: خدا وندا! میری پشت اس کے ذریعے مضبوط کر دے۔(اشدد بہ ازری)۔ "ازد" دراصل "ازار" کے مادہ سے لباس کے معنی میں لیا گیا ہے،خاص طور پر اس لباس کو کہا جاتا ہے جس کے بند کی کمرمیں گرہ لگائی جاتی ہے۔اسی سبب سے کبھی یہ لفظ "کمر" پریا"قوت " و " قدرت " کے معنی میں بھی آتاہے۔ اِس مقصد کی تکمیل کے لیے یہ تقاضا کرتے ہیں: اسے میرے کام میں شریک کر دے۔ ( واشرکہ فی امری)۔ وہ مرتبہ رسالت میں بھی شریک ہو اور اس عظیم کام کو روبہ عمل لانے میں بھی شرکت کرے۔ البتہ حضرت ہارون ہر حال میں تمام پروگراموں میں جناب موسٰی (علیه السلام) کے پیرو تھے اور موسٰی (علیه السلام) ان کے امام اور پیشوا کی حیثیت رکھتے تھے۔ آخر میں اپنی تمام درخواستوں کا نتیجہ اس طرح بیان کرتے ہیں: تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کریں(کی نسبحک کثیرا) اور تجھے بہت بہت یاد کریں (ونذکرک کثیرا)۔ کیونکہ تُو ہمیشہ ہی ہمارے حالات سے آگاہ ہے (انک کنت بنا بصیرا)۔ تو ہماری ضروریات و حاجات کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس راستے کی مشکلات سے ہر کسی کی نسبت زیادہ آگاہ ہے ہم تجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے فرمان کی اطاعت کی قدرت عطا فرما دے اور ہمارے فرئض، ذمّہ داریوں،اور فرائض کے انجام دینے کے لیے ہمیں توفیق اور کامیابی عطا فرما۔ چونکہ جناب موسٰی (علیه السلام) کا اپنے مخلصانہ تقاضوں میں سوائے زیادہ سے زیادہ کامل تر خدمت کے اور کچھ مقصد نہیں تھا، لہذا خدا نے ان کے تقاضوں کو اسی وقت قبول کیا:" اس نے کہا: اے موسٰی (علیه السلام)! تمہاری تمام درخواستیں قبول ہیں" (قا ل قد اوتیت سوء لک یا موسٰی)۔ حقیقت میں ان حسّاس اور تقدیر ساز لمحات میں چونکہ موسٰی (علیه السلام) پہلی مرتبہ خدائے عظیم کی بساط ِ مہمانی پر قدم رکھ رہے تھے، لہذا جس جس چیز کی انہیں ضرورت تھی ان کا خدا سے اکھٹا ہی تقاضا کر لیا، اور اس نے بھی مہمان کا انتہائی احترم کیا، اور اس کی تمام درخواستوں اور تقاضوں کو ایک مختصر سے جملے میں حیات بخش ندا کے ساتھ قبول کر لیا، اور اس میں کسی قسم کی قید و شرط عائد نہ کی اور موسٰی (علیه السلام) کا نام مکرر لا کر،ہر قسم کے ابہام کو دُورکرتے ہوئے اس کی تکمیل کر دی، یہ بات کس قدر شوق انگیز اور افتخار آفرین ہے کہ بندے کا نام مولا کی زبان پر بار بار آئے۔

چند اہم نکات ۱۔ انقلاب کی رہبری کی شرائط:

اس میں شک نہیں کہ انسانی معاشروں میں بنیادی تبدیلیاں، اور مادی اور شرک آلود قدروں کی معنوی اور انسان قدروں میں تبدیلی، خاص طور پر ایسے مقام پر کہ جس کا راستہ فرعون اور خود سر لوگوں کی قلمرو سے ہو کر گزرتا ہو، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسا کام روحانی و جسمانی آمادگی، قدرت ِ فکر اور قوتِ بیان، راستے سے آگاہہی، خدائی امداد نیز قابل اطمینان اور بہادر یارو مدد گار کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ وہی امور ہیں جن کا حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس عظیم رسالت کے آغاز میں ہی خدا سے تقاضا کیا۔ یہ امور خود یہ بات واضح کرتے ہیں کہ موسٰی(علیه السلام) نبوّت سے پہلے بھی بیدار اور آمادہ رُوح رکھتے تھے اور یہ امور اس حقیقت کو بھی واضح کر رہے ہیں کہ وہ اپنی ذمّہ داریوں سے ہر جہت سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ جانتے تھے کہ ان حالات میں کن ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آنا چاہیئے تاکہ فرعونی نظام کے ساتھ مقابلہ کے طاقت موجود ہو۔

۲۔ سرکشوں کے خلاف جنگ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ فرعون میں بہت سی انحرافی باتیں موجود تھیں۔ وہ کافر تھا، بت پرست تھا، ظالم اور بیدادگر تھا وغیرہ لیکن قرآن نے ان تمام انحرافات میں سے صرف اس کے"طغیان" کا ذکر کیا ہے: (انہ طغٰی) کیونکہ خدا کے فرمان سے طغیان اور سرکشی کی رُوح ان تمام انحرافات کا نچوڑ اور ان سب باتوں کی جامع ہے۔ ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے مرحلے میں انبیاء کا ہدف و مقصد طاغوتوں اور مستکبرین سے مقابلہ ہوتا ہے اور مارکسسٹ مذہب کا جو تجزیہ کرتے ہیں یہ بات اس کے سراسر خلاف ہے ۔کیونکہ وہ مذہب کوطغیان گروں اور استعمار پیشہ لوگوں کا خدمت گار سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی یہ باتیں خود ساختہ غیر معقول مذاہب کے بارے میں صحیح ہو ں لیکن سچے ابنیاء کی تاریخ، مذاہب آسمانی کے بارے میں ان کے بےہودہ خیالات کی پوری صراحت کے ساتھ سو فیصد نفی کرتی ہے۔اس سلسلے میں موسٰی بن عمران کا قیام خاص طور پر ایک شاہد ناطق ہے۔

۳۔ ہر کام کے لیے پروگرام اور وسائل کی ضرورت ہے:

حضرت موسٰی(علیه السلام) کی زندگی کا یہ حصّہ ہمیں جو دوسرا سبق دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء و مرسلین تک بھی اپنے کاموں کی پیش رفت کے لیے اتنے معجزات رکھنے کے باوجود عام وسائل سے مدد لیتے تھے مؤ ثر اور بیان رسا کے ذریعہ بھی اور معاونین کی فکری و جسمانی قوت و طاقت سے بھی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم زندگی میں ہمیشہ معجزات میں رہیں بلکہ پروگرام اور وسائل کو تیار کرنا چاہیئے اور طبیعی طریقوں سے پیش رفت کو جاری رکھنا چاہیئے اور جہاں کاموں میں رکاوٹ پڑ جائے تو وہاں خدائی لطف و کرم کا انتظار کرنا چاہیئے۔

۴۔ تسبیح اور ذکر:

جیسا کہ زیر نظر آیات میں ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنی درخواستوں کا اصلی مقصد یہ قرار دیتے ہیں کہ: تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح کریں اور تجھے بہت بہت یاد کریں۔ یہ بات واضح ہے کہ "تسبیح" کے معنی خدا کو "شرک اور امکانی نقائص" کی تہمت سے منزّہ و مبرا قرار دینا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جناب موسٰی (علیه السلام) کی مراد یہ نہ تھی کہ " سبحان اللہ" کے جملے کی مسلسل تکرار کرتے رہیں بلکہ اصل مقصد اس زمانے کے آلودہ معاشرے میں اس کی حقیقت کو روبہ عمل لانا یعنی بتوں کو ختم کرنا، بت خانوں کو ویران کرنا، ذہنوں کو شرک آلودہ افکار سے پاک کرنا اور مادّی و معنوی نقائص کو دورکرنا۔ یہ تھی ان کے نزدیک تسبیح اور یہ تھا ان کے قرین ذکر الہٰی۔ اس راستے سے گزر کر وہ ذکر خدا، اس کی یاد اور اس کی صفات کی یاد دلوں میں زندہ کرنا چاہتے تھے اور صفات ِ خدا وندی کو معاشرے، پر سایہ فگن کرنا چاہتے تھے۔ لفظ "کثیرا" کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ وہ اسے عمومی شکل دینا چاہتے تھے اور ایک محدود دائرے میں مخصوص رہنے سے نکالنا چاہتے تھے۔

۵۔پیغمبر اسلام بھی موسٰی (علیه السلام) کے تقاضوں کی تکرار کرتے ہیں:

ان روایات سے کہ جو علمائے اہلسنت کی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں اور شیعہ علماء کی کتابوں میں بھی وارد ہوئی ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام ؐنے بھی انہی وسائل کی، جو حضرت موسٰی(علیه السلام) نے اپنے مقاصد کی پیش رفت کے لیے خدا سے چاہے تھے، تمنا کی تھی۔ فرق صرف یہ تھا آپ (علیه السلام) نے ہارون ؑکے نام کی جگہ علی علیہ السلام کا نام لیا اور اس طرح عرض کیا: "اللھم انی اسألک بما سألک اخی موسٰی ان تشرح لی صدری، وان تیسرلی امری، و ان تحل عقدة من لسانی، یفقھوا قولی، و اجعل لی وزیرا من اھلی، علیا اخی، اشددبہ ازری، واشرکہ فی امری، کی نسبحک کثیراً و نذکرک کثیراً انّک کنت بنا بصیراً پروردگارا!مَیں بھی تجھ سے وہی سوال کرتا ہوں جس کا میرے بھائی موسٰی نے تجھ سے تقاضا کیا تھا،میں تجھ سے یہ چاہتا ہوں کہ تو میرے سینے کو کشادہ رکھ، کاموں کو مجھ پر آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ وہ میری باتوں کو سمجھیں، میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر قرار دے، میرے بھائی علی (علیہ اسلام ) کو، خدا وندا میری پُشت کو اِس کے ذریعے مضبوط کر دے اور اسے میرے کام میں شریک کر دے تاکہ ہم تیری بہت بہت تسبیح کریں اور تجھے بہت بہت یاد کریں کیونکہ تو ہمارے حال سے اچھی طرح آگاہ ہے"۔ اِس حدیث کو سیوطی نے تفسیر درالمنثور میں اور مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور بہت سے دوسرے سنی و شیعہ بزرگ علماء نے کچھ تفاوت کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اسی حدیث سے مشابہ حدیث منزلت ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا: "الا ترضی ان تکون منی بمنزلة ھارون من موسٰی الا انہ لانبی بعدی" کیا تم اِس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جوہارون کو موسٰی سے تھی،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ یہ حدیث جو اہل سنّت کی پہلے درجے کی کتب میں بیان ہوئی ہے اور (تفسیر المیزان کے مطابق) محدّث بحرانی نے اپنی کتاب "غایت المرام" میں اہل سنّت کے طرق سے سو(۱۰۰) طریقوں سے نقل کیا ہے، اس قدر معتبر ہے کہ اس میں کسی قسم کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ہم نے حدیث منزلت کے بارے میں تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۴۲ کے ذیل میں کافی بحث کی ہے۔ لیکن جس بات کا ذکر کرنا ہم یہاں ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے(جیسا کہ آلوسی نے روح المعانی میں) اصل روایت کو قبول کرنے کے ساتھ اس کی دلالت میں اعتراض کیا ہے اور یہ کہا ہے جملہ (واشرکہ فی امری) اس کو میرے کام میں شریک کر دے، لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینے اور ہدایت کرنے کے کاموں میں شرکت کرنے کے سوا اور کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا۔ لیکن یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ مسئلہ ہدایت و ارشاد میں شرکت، اور دوسرے لفظوں میں امربالمعروف، نہی عن المنکر اور حق کی دعوت کو پھیلانا ہر مسلمان کا فرداً فرداً فریضہ ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، علی علیہ السلام کے متعلق مانگتے، یہ تو ایک توضیح واضح ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کی ہرگز یہ تفسیر نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سے امرِ نبوّت میں شرکت بھی مراد نہیں تھی۔ بناء بریں ہم اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ نبوت کے علاوہ اور ارشاد و ہدایت کے عمومی فریضہ کے سوا کوئی اور خاص مقام و منصب تھا تو کیا یہ ولایت خاصہ کے مسئلہ کے سوا کوئی اور چیز ہو سکتی ہے؟ کیا یہ وہی خلافت (ایک خاص مفہوم میں جس کے شیعہ قائل ہیں) نہیں ہے؟ اور لفظ "وزیرا" بھی اسی کی تائید اور تقویت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کچھ ذمّہ داریاں ایسی ہیں کہ جو تمام لوگوں کا کام نہیں ہے اور وہ دینِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہر قسم کی تحریف و انحراف سے بچانا اور اس کی حفاظت کرنا اور دین کے مفاہیم کے بارے میں ہر قسم کے ابہام کی جو بعض کو لاحق ہو جاتا ہے،تفسیر کرنا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غیبت میں اور ان کے بعد اُمّت کی رہبری کرنا پیغمبر اکرمؐ کے، مقاصد کی پیش رفت کے لیے انتہائی مؤثر طریقہ سے کمک اور مدد کرنا ہے۔ یہ سب کی سب وہی چیزیں ہیں کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے "اشرکہ فی امری" کا جملہ کہہ کر خدا سے علی(علیه السلام) کے بارے میں مانگی تھیں۔ اور اس سے یہ بات واضح و روشن ہو جاتی ہے کہ ہارون(علیه السلام) کاموسٰی (علیه السلام) سے پہلے وفات پا جانا اس بحث میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا کیونکہ خلافت و جانشین کبھی تو رہبر کی غیبت کے زمانے میں ہوتی ہے جیسا کہ ہارون(علیه السلام) موسٰی (علیه السلام) کی غیبت میں ان کے خلیفہ و جانشین تھے اور کبھی رہبر کی وفات کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ علی علیہ السلام پیغمبر ﷺکی وفات کے بعد جانشین ہوئے دونوں ایک ہی قدر مشترک اور ایک ہی قدر جامع رکھتے ہیں اگرچہ ان کے مصداق مختلف ہیں (غور کیجئے کا)۔

37
20:37
وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰٓ
اور ایک مرتبہ اور بھی ہم نے تم پر احسان کیا تھا،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
20:38
إِذۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ
اس وقت جب ہم نے تیری ماں کو وہ وحی کی تھی جس کی اسے ؁ ضرورت تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
20:39
أَنِ ٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلتَّابُوتِ فَٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ ٱلۡيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأۡخُذۡهُ عَدُوّٞ لِّي وَعَدُوّٞ لَّهُۥۚ وَأَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةٗ مِّنِّي وَلِتُصۡنَعَ عَلَىٰ عَيۡنِيٓ
کہ تم اسے (موسی کو) صندوق میں ڈال دو اور اس صندوق کو دریا میں بہا دو، تو دریا اسے کنارے پر جا لگائے گا۔ (وہاں سے) میرا دشمن اور اس کا دشمن ٍاسے اٹھا لے گا اور میں نے اپنی طرف سے اس کے دل میں محبت ڈال دی تھی تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش کئے جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
20:40
إِذۡ تَمۡشِيٓ أُخۡتُكَ فَتَقُولُ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ مَن يَكۡفُلُهُۥۖ فَرَجَعۡنَٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَۚ وَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا فَنَجَّيۡنَٰكَ مِنَ ٱلۡغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونٗاۚ فَلَبِثۡتَ سِنِينَ فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ ثُمَّ جِئۡتَ عَلَىٰ قَدَرٖ يَٰمُوسَىٰ
اس وقت جبکہ تیری بہن (فرعون کے محل کے پاس) چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی: کیا میں تمہیں ایک ایسے گھر کی نشاندہی کروں جو اس نومولود بچہ کی کفالت کرے(اور وہاں اس کیلئے ایک اچھی دایہ ہے)۔ تو پھر ہم نے تجھے تیری ما ں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں تجھ سے ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو اور تو نے (فرعونیوں میں سے) ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم و اندوہ سے نجات دی اور تجھے ہر طرح سے آزمایا۔ اسکے بعد تو کئی سال مدین کے لوگوں کے درمیان رہا۔پھر ایک معین وقت پر(فرمان رسالت کے حصول کیلئے)تو اس جگہ آیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
20:41
وَٱصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِي
اور میں نے تیری اپنے لئے پرورش کی۔

تفسیر کتنا مہربان خدا ہے!

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں خدا، حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے ایک حصّے کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو ان کے پچپن کے دور اور فرعونیوں کے غیض و غضب سے معجزانہ طور پر نجات پانے سے متعلق ہے۔ اگرچہ تاریخی تسلسل کے لحاظ سے یہ حصّہ زندگی، رسالت و نبوّت کے زمانے سے پہلے تھا لیکن چونکہ موسٰی (علیه السلام) پر خدا کی نعمتوں کا، موسٰی (علیه السلام) کی آغاز عمر سے بیان ہو رہا تھا۔ لہذا اہمیت کے اعتبار سے اسے موضوعِ رسالت سے دوسرے درجہ پر رکھا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے موسٰی! ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ پہلے بھی احسان کیا تھا اور تجھ کو اپنی نعمتوں سے نوازا تھا (ولقد مننا علیک مرة اخرٰی) (تشریحی نوٹ: جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے لفظ "منت" اصل میں "من" سے لیا گیا ہے۔ اور یہ بڑے بڑے پتھروں کے معنی میں ہے کہ جن کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ہر گراں بہا نعمت بخشنے کو منت کہتے ہیں، اور زیر بحث آیت میں یہی معنی مراد ہے اور اس کا مفہوم ایک پسندیدہ اور عمدہ مفہوم ہے لیکن اگر کوئی اپنے چھوٹے کام کو باتوں سے بڑا بنائے اور وہ دوسرے پر احسان جتلائے تو یہ برا کام ہے اور "منت" کا قابل مذمت مصداق ہے) اس اجمال کے ذکر کے بعد اس کی تفصیل شروع کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو وہ وحی کی تھی جس وحی کی اس وقت ضرورت تھی: (اذ اوحینا الیٰ امک مایوحیٰ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس روز، موسٰی کے فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے کے لیے جس قدر رہنمائی کی ضرورت تھی وہ سب ہم نے موسٰی کی ماں کو تعلیم کر دی تھی۔ کیونکہ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو بڑی سختی کے ساتھ دبایا تھا۔ خاص طور پر اس نے حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دو اور لڑکیوں کو کنیزی کے لیے باقی رکھو۔ اس نے یہ حکم بنی اسرائیل کی قوت اور ان کی شورش کے احتمال سے بچنے کے لیے دے رکھا تھا یا موّرخین اور مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق اس بچے کو وجود میں آنے سے روکنے کے لیے کہ جس کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی ہوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل سے اٹھے گا، اور فرعون کا تخت حکومت الٹ کے رکھ دے گا۔ فرعون کے جاسوس بنی اسرائیل کے محلوں اور گھروں کی سختی کے ساتھ نگرانی کیا کرتے تھے اور لڑکوں کی پیدائش کی اطلاع دارالحکومت کو دیا کرتے تھے اور وہ بہت جلد انہیں ہلاک کر دیا کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ایک طرف تو فرعون یہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی قوت کو ختم کر کے رکھ دے اور دوسری طرف ان کی نسل کے کلی طور پر خاتمہ پر بھی آماد ہ نہیں تھا کیونکہ وہ اس کے لیے مہیا غلاموں کا کام دیتے تھے، لہذا اس نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ ایک سال کے پیدا ہونے والے بچوں کو زندہ رکھیں اور دوسرے سال کے لڑکوں کو تہ تیغ کر دیں۔ اتفاق سے موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جو لڑکوں کے قتل عام کا سال تھا۔ بہرحال ماں نے محسوس کیا کہ اس کے نومولود بچے کی جان خطرے میں ہے اور اسے وقتی طور پر مخفی رکھنے سے بھی مشکل حل نہیں ہو گی۔ ایسے وقت میں اُس خدا نے کہ جس نے اس بچے کو ایک عظیم قیام کے لیے نامزو کیا ہوا ہے، اس ماں کے دل میں الہام کیا کہ اسے اب ہمارے حوالے کر دو اور دیکھتی رہو کہ ہم اس کی کس طرح حفاظت کریں گے اور اسے تیری طرف واپس لوٹا دیں گے۔ موسٰی (علیه السلام) کی ماں کے دل پر یہ الہام ہوا: "تم اسے ایک صندوق میں ڈال دو اور صندوق کو دریا میں ڈال دو": (ان اقذفیہ فی التابوت فاقذفیہ فی الیم)۔ "یم" یہاں پر عظیم دریائے نیل کے معنی میں ہے کہ جس کی وسعت اور بہت زیادہ پانی کی وجہ سے کبھی اس پر سمندر کا اطلاق ہوتا ہے۔ "اقذ فیہ فی التابوت" (اس کو تابوت میں ڈال دو) کی تعبیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی قسم کے خوف اور وہم کے بغیر دل کو مطمئن رکھو اور پوری جرات و استقامت سے اسے صندوق میں رکھ دو اور کسی قسم کی پروا کیے بغیر اسے دریائے نیل میں پھنک دو اور کسی قسم کا خوف نہ کھاؤ۔ لفظ "تابوت" لکڑی کے صندوق کے معنی میں ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ ہمیشہ اس صندوق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جس میں مردوں کو رکھا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ جو بعض اوقات دوسرے صندوقوں پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ طالوت و جالوت کے واقعہ میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۸ کے ذیل میں بیان ہو چکا ہے (بحوالہ: تفسیر نمونہ کی دوسر ی جلد، ص ۱۳۹، (اردو ترجمہ)۔ کی طرف رجوع کریں) اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: دریا اس بات پر مامور ہے کہ اس کو ساحل پر ڈال دے تاکہ آخرکار میرا دشمن بھی اور اس کا دشمن بھی اسے اٹھا لے (اور اپنے دامن میں اس کی پرورش کرے)۔ (فلیلقہ الیم بالساحل یاء خذ ہ عد ولی وعدو لہ)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس مقام پر لفظ "عدو" مکرر آیا ہے اور یہ درحقیقت فرعون کی خدا کے بارے میں بھی اور موسٰی اور بنی اسرائیل کے بارے میں بھی دشمنی پر ایک تاکید ہے، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص دشمنی اور عداوت میں اس حد تک پہنچا ہوا تھا اسی نے موسٰی کی خدمت اور پرورش اپنے ذمّہ لے لی تاکہ خاکی بشر اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ نہ صرف یہ کہ وہ فرمان خدا کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی قدرت نہیں رکھتا، بلکہ خدا اس کے دشمن کی اسی ہاتھوں سے اور اسی کے دامن میں پرورش کروا سکتا ہے۔ اور جس وقت خدا ظالم سرکشوں کی نابودی کا ارادہ کرے، تو انہیں اُنہیں کے ہاتھوں سے نابود کر دے اور جو آگ انہوں نے خود جلائی ہے اسی کے ذریعے ان کو جلا کر رکھ دے، کیسی عجیب قدرت کا مالک ہے وہ! موسٰی کو اس نشیب و فراز سے پرُ راستے میں ایک ڈھال کی ضرورت تھی لہذا خدا نے اپنی محبت کا سایہ ان پر ڈال دیا۔ اس طرح کہ جو بھی انہیں دیکھے ان کا فریفتہ اور گرویدہ ہو جائے، نہ صرف یہ کہ ان کے قتل کیے جانے پر راضی نہ ہو بلکہ وہ اس بات پر بھی راضی نہ ہو کہ ان کا کوئی بال بھی بیکا ہو جائے، جیسا کہ قرآن ان آیات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: میں نے اپنی طرف سے تیرے اوپر محبت ڈال دی ہے (والقیت علیک محبة منی)۔ کتنی عجیب و غریب ڈھال ہے کہ جو بالکل دکھائی نہیں دیتی، لیکن فولاد اور لوہے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ کہتے ہیں کہ موسٰی (علیه السلام) کی دایہ آل فرعون میں سے تھی، اور اس کا یہ پکا ارادہ تھا کہ اس کی ولادت کی خبر جابر فرعون کے دربار میں جا کر دے، لیکن جب اس کی نگاہیں پہلی مرتبہ نومولود کی آنکھوں پر پڑیں، تو اسے ایسے لگا جیسے اس کی آنکھوں میں ایک بجلی کوند گئی ہو جس نے دایہ کے دل کو روشن و منور کر دیا اور وہ موسٰی (علیه السلام) کی فریفتہ ہو گئی اور ہر قسم کا برُا ارادہ اس کے دماغ سے نکل گیا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: جب موسٰی پیدا ہوئے اور ان کی والدہ نے دیکھا کہ یہ نومولود لڑکا ہے تو ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، اس پر دایہ نے پوچھا کہ تیرا رنگ اس طرح کیوں زرد ہو گیا تو: انہوں نے کہا مجھے اس بات کا خوف ہے کہ میرے بیٹے کا سر قلم کر دیا جائے گا، لیکن دایہ نے کہا تم ہرگز اس قسم کا خوف نہ کرو۔ وکان موسٰی لایراہ احد الا احبّہ موسٰی کی حالت یہ تھی کہ جو شخص بھی انہیں دیکھتا تھا ان سے محبت کرنے لگ جاتا تھا (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۷۸) اور یہی محبت کی وہ ڈھال تھی کہ جس نے ان کی فرعون کے دربار میں بھی پوری طرح حفاظت کی۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس سے مقصد یہ تھا کہ تو میرے حضور میں اور میرے ہی (علم کی) نگاہوں کے سامنے پرورش پائے (ولتصنع علیٰ عینی)۔ اس میں شک نہیں کہ آسمان و زمین کا کوئی بھی ذرّہ خدا کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے اور سب اس کی بارگاہ میں حاضر ہیں لیکن یہ تعبیر اس جگہ ایک خاص عنایت کی طرف اشارہ ہے کہ جو خدا نے حضرت موسٰی (علیه السلام) پر ان کی پرورش کے سلسلے میں کی۔ اگرچہ بعض مفسرین نے "ولتصنع علی عینی" کو حضرت موسٰی (علیه السلام) کی شیر خواری وغیرہ کے زمانے تک محدود سمجھا ہے لیکن یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ یہ جملہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس میں ہر قسم کی پرورش و تربیت اور موسٰی کا پروردگار کی خاص عنایت سے پرچم رسالت اٹھانے کے لائق اور اہل بننا تک شامل ہے۔ ان آیات اور قرآن مجید کی ان ہی جیسی دوسری آیات میں موجود قرائن سے روایات و تواریخ میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اس سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ موسٰی (علیه السلام) کی ماں نے آخرکار وحشت و پریشانی کے ساتھ اس صندوق کو کہ جس میں موسٰی (علیه السلام) کو رکھا گیا تھا، دریائے نیل میں ڈال دیا اور نیل کی موجوں نے اسے اپنے کندھو ں پر اٹھا لیا، ماں جو اس منظر کو دیکھ رہی تھی، وہ غم اور حسرت سے دیکھتی رہ گئی۔ لیکن خدا نے اس کے دل میں الہام کیا، کہ تم اپنے دل میں کسی قسم کا غم نہ کرو، ہم بالاآخر اسے صحیح و سالم تیری طرف لوٹا دیں گے۔ فرعون کا محل دریائے نیل کے ایک کنارے پر بنا ہوا تھا۔ ایک احتمال یہ ہے کہ اس عظیم دریا کی ایک شاخ اس کے محل کے اندر سے گزرتی تھی پانی کی موجیں موسٰی (علیه السلام) کی نجات کے صندوق کو اپنے ساتھ اس شاخ کی طرف کھینچ لائیں۔ اس وقت فرعون اور اس کی بیوی پانی کے کنارے دریا کی لہروں کا نظارہ کر رہے تھے۔ اچانک اس پر اسرار صندوق نے ان کی توجہ کو اپنی طرف موڑ لیا۔ فرعون نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ صندوق کو پانی میں سے نکال لائیں۔ جب صندوق کو کھولا گیا تو انہوں نے انتہائی تعجب کے ساتھ اس میں ایک خوبصورت نومولود بچے کو دیکھا۔ اور یہ ایسی چیز تھی کہ جس کا انہیں گمان تک بھی نہ تھا۔ فرعون کو خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ نومولود بچہ ضروری طور پر بنی اسرائیل میں سے ہے جو مامورین دربار کے خوف سے اس قسم کے انجام سے دوچار ہوا ہے، لہذا اس نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن اس کی بیوی جو بانجھ تھی وہ بچےّ کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور ایک ایسی پر اسرار شعاع اس نولود بچّہ کی آنکھ سے نکلی جو اس عورت کے دل کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئی اور اسے اپنا گرویدہ اور فریفتہ بنا لیا۔ اس نے فرعون کا دامن پکڑ لیا وہ کہہ رہی تھی یہ بچّہ تو آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ اس نے تقاضا کیا کہ وہ اس بچّے کے قتل سے باز آئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس نے درخواست کی کہ ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں اور اسے اپنے مستقبل کی امیدوں کے سرمایہ کے طور پر اپنے دامن میں پروان چڑھائیں۔ آخرکار وہ بڑے اصرار سے اپنی بات کو بادشاہ کے دل میں بٹھانے میں کامیاب ہو گئی۔ دوسری طرف بچّے کو بھوک لگ گئی۔ وہ دودھ کے لیے بےچین تھا، رو رہا ہے، آنسو بہا رہا ہے۔ فرعون کی بیوی سے اس کے آنسو دیکھے نہ گئے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا کہ ملازمین دربار میں جتنا جلدی ہو سکے دایہ کی تلاش میں نکلیں لیکن وہ جس دایہ کو بھی لے کر آئے نومولود نے اس کا دودھ پینے سے انکار کر دیا کیونکہ خدا نے یہ مقدر کر دیا تھا، کہ وہ اپنی ماں کے پاس لوٹ کر جائے۔ ملازمین دربار، پھر تلاش کے لیے نکلے، اور کسی اور دایہ کو لانے کے لیے دربدر مارے مارے پھرنے لگے۔ اب ہم باقی داستان آیات کی زبانی بیان کرتے ہیں۔ ہاں! اے موسٰی ہم نے یہ مقدر کر دیا تھا کہ تم ہماری (علم کی) نگاہوں کے سامنے پرورش پاؤ، "اس وقت جب کہ تمہاری بہن (فرعون کے محل کے پاس سے) چلی جا رہی تھی اور ماں کے حکم کے مطابق تیرے حالات کی نگرانی کر رہی تھی" (اذتمشی اختک)۔ وہ فرعون کے مامورین سے کہنے لگی: کیا میں تمہیں ایک ایسی عورت کا تعارف کراؤں، جو اس نومولود کی سرپرستی کر سکے (فتقول ھل ادلکم علیٰ من یکفلہ)۔ اور شاید اس نے یہ بھی کہا کہ اس عورت کا دودھ پاک و پاکیزہ ہے اور مجھے اطمینان ہے کہ یہ بچہّ اس کا دودھ پی لے گا۔ مامورین دربار اس پر بہت خوش ہوئے اور اس امید پر کہ شاید جس کی انہیں تلاش ہے، اس طریقے سے وہ مل جائے، اس کے ساتھ چل پڑے موسٰی (علیه السلام) کی بہن جو خود کو ایک اجنبی ظاہر کر رہی تھی اس نے ماں کو ساری سرگذشت سے آگاہ کیا، ماں بھی اپنے ہوش و حواس کو قائم رکھتے ہوئے، محبت اور امید کا ایک طوفان دل میں لیے فرعون کے دربار میں آ پہنچی۔ انہوں نے بچہ اس کی آغوش میں ڈال دیا بچے نے ماں کی خوشبو سونگھی۔ آشنا خوشبو۔ اچانک اس کے پستان کو جان شیریں کی طرح پکڑ لیا اور انتہائی شوق اور رغبت کے ساتھ دودھ پینے میں مشغول ہو گیا۔ حاضرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور فرعون کی بیوی کی آنکھیں بھی خوشی اور شوق سے چمک اٹھیں۔ بعض کہتے ہیں کہ فرعون کو اس واقعے پر تعجب ہوا اور اس سے پوچھا کہ تو کون ہے کہ اس نومولود بچے نے تیرا دودھ قبول کر لیا ہے، جب کہ دوسری تمام عورتوں کو اس نے رد کر دیا تھا؟ ماں نے جواب دیا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جس میں پاکیزہ خوشبو ہے اور میرا دودھ بہت اچھا ہے اور کوئی بچہ میرا دودھ رد نہیں کرتا۔ بہرحال فرعون نے بچے کو اس کے سپرد کر دیا اور اس کی بیوی نے اس کی حفاظت و نگرانی کی بہت زیادہ تاکید کی اور اسے حکم دیا کہ وہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بچہ اسے دکھانے کے لیے لایا کرے۔ اس مقام پر قرآن کہتا ہے: ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھیں تیری وجہ سے ٹھنڈی رہیں اور اس کے دل میں کوئی غم نہ آنے پائے: (فرجعناک الی امک کی تقر عینھا ولاتحزن)۔ اور پوری دلجمعی اور آل فرعون کی طرف سے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہ کرتے ہوئے، اطمینان کے ساتھ بچے کی پرورش کر سکے۔ مذکورہ بالا جملے سے یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ فرعون نے بچےّ کو ماں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اسے اپنے گھر لے جائے لیکن فطری طور پر ایسا بچّہ جو فرعون کا منہ بولا بیٹا بن گیا ہو اور اس کی بیوی اسے بہت ہی زیادہ چاہتی ہو اس کا تھوڑے تھوڑے وقفہ سے انہیں دکھانے کے لیے لانا ضروری تھا۔ سالہا سال گزر گئے اور موسٰی (علیه السلام) نے خدا کے لطف و محبت کے سائے اور امن کے ماحول میں پرورش پائی اور رفتہ رفتہ وہ جوان ہونے لگے۔ ایک دن موسیٰ ایک راستے سے گزر رہے تھے کہ دو آدمیوں کو اپنے سامنے لڑتے جھگڑتے دیکھا۔ ان میں سے ایک بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا قبطیوں (مصریوں اور فرعون کے ہوا خواہوں) میں سے بنی اسرائیل ہمیشہ ہی ظالم قبطیوں کے دباؤ اور تشدد کا شکار رہے تھے۔ ان میں سے بھی مظلوم بنی اسرائیل میں س تھا۔ حضرت موسیٰ اس کی مدد کے لئے لپکے اور اُس کا دفاع کرتے ہوئے ایک زور دار مکا قبطی کو رسید کیا لیکن مظلوم کے دفاع میں یہ (مُکا) کسی نازک جگہ پر جا لگا، اور اس ایک مُکّے سے قبطی کا کام تمام ہو گیا۔ موسیٰؑ اس واقعے سے پریشان ہو گئے۔ چونکہ بالآخر فرعون کے مامورین کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ یہ قتل کس کے ہاتھوں ہوا ہے۔ لہذا وہ بڑی شدت کے ساتھ آپ کے تعاقب میں نکل پڑے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ اپنے بعض دوستوں کی نصیحت کے مطابق، پوشیدہ طور پر مصر سے باہر نکل گئے اور مدین کی طرف چل پڑے۔ وہاں حضرت شیعبؑ پیغمبر کے پاس امن وامان کا ماحول مل گیا_____جس کی تفصیل انشاء اللہ سورہ قصص کی تفسیر میں آئے گی۔ اس مقام پر قرآن کہتا ہے: تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور غم و اندوہ میں ڈوب گیا، لیکن ہم نے تجھے اس غم و اندوہ سے نجات بخشی (وقتلت نفساً فنجیناک من الغم)۔ اس کے بعد ہم نے تجھے حادثات کے ذریعہ یکے بعد دیگرے آزمایا۔" (وفتناک فتوناً) پھر تو سالہا سال مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا: (فلبثت سنین فی اھل مدین)۔ یہ طولانی راستہ طے کرنے اور روُحانی و جسمانی طور پر آمادہ ہونے اور حادثات کے طوفانوں سے کامیابی و کامرانی کے ساتھ باہر نکلنے کے بعد تو اس زمانہ میں کہ جو فرمان رسالت لینے کے لئے مقدر تھا یہاں آیا (ثُمَّ جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى)۔ لفظ "قدر" بہت سے مفسرین کے قاول کے مطابق اس زمانے کے معنی میں ہے کہ جس میں حضرت موسی ؑ کے لئے یہ مقدر کیا گیا تھا کہ و رسالت پر مبعوث کئے جائیں، لیکن بعض دوسرے مفسرین نے اسے "مقدار" کے معنی میں لیا ہے جیسا کہ بعض قرآن آیات میں بھی یہ لٖط اسی معنی میں آیا ہے (مثلاً حجر۔۲۱) اس تفسیر کے مطابق جملے کا معنی اس طرح ہوگا: اے موسیٰ! تو____بہت سے نشیب و فراز اور طرح طرح کے امتحانات کے بعد اور شعیب جیسے عظیم پیغمبر کے جوار میں طویل مدت گزار کر پرورش پانے کے بعد آخر کار اس قدر و مقام اور شخصیت کا مالک بن گیا کہ وحی کے قبول کرنے کے لائق ہو گیا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: میں نے تجھے اپنے پرورش کیا اور بنایا سنوارا ہے: (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي)۔ میں نے تیری پرورش وحی حاصل کرنے کی سنگین ذمہ داری کے لئے، رسالت قبول کرنے کے لئے اور اپنے بندوں کی ہدایت ورہبری کے لئے کی ہے اور میں نے تجھے حادثات کی کٹھالیوں میں آزمایا ہے، تجھے قوت و طاقت عطا کی ہے اور اب جبکہ یہ عظیم ذمہ داری تیرے کندھے پر ڈالی جا رہی ہے تو تو ہر طرح سے تیار ہو چکا ہے، اور بنایا سنوارا جا چکا ہے۔ "اصطناع" "صنع" کے مادہ سے کسی چیز کی اصلاح کے لئے پُرتاکید اقدام کے معنی میں ہے (جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے) یعنی میں نے تیری ہر طرح سے اصلاح کر دی ہے، گویا میں تجھے اپنے لیے چاہتا ہوں، اور یہ انتہائی محبت آمیز بات ہے کہ جو خدا نے اس عظیم پیغمبر کے حق میں کہی ہے، اور بعض کے قول کے مطابق یہ اُس بات کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے کہ جو حکماء نے کہی ہے کہ: "ان اللہ تعالیٰ اذا احب عبداً تفقدہ کما یتفقد الصدیق صدیقہ" خدا جب کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو اس طرح سے اس کی دیکھ بھال کرتا ہے جیسا کہ کوئی مہربان دوست اپنے دوست کی کرتا ہے۔

42
20:42
ٱذۡهَبۡ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكۡرِي
تواور تیرا بھائی(دونوں ) میری آیات کے سا تھ فرعون کے پاس جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

43
20:43
ٱذۡهَبَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سر کش ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
20:44
فَقُولَا لَهُۥ قَوۡلٗا لَّيِّنٗا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوۡ يَخۡشَىٰ
لیکن اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ متوجہ ہو یا (خدا سے)ڈرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
20:45
قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفۡرُطَ عَلَيۡنَآ أَوۡ أَن يَطۡغَىٰ
(موسیٰ و ہارون) دونوں نے کہا: پروردگارا ! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا سر کشی کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
20:46
قَالَ لَا تَخَافَآۖ إِنَّنِي مَعَكُمَآ أَسۡمَعُ وَأَرَىٰ
فرمایا :ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، میں (ہر چیز کو) سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
20:47
فَأۡتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبۡهُمۡۖ قَدۡ جِئۡنَٰكَ بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكَۖ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلۡهُدَىٰٓ
تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم تیرے (پروردگار کے) بھیجے ہوئے (رسول) ہیں۔ پس بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور ان پر تشدد و آزار نہ کر۔ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے تیرے لئے واضح نشانی لے کر آئے ہیں اور سلام و درود ہو اس پر کہ جو ہدایت کی پیروی کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
20:48
إِنَّا قَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡنَآ أَنَّ ٱلۡعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
(اس سے کہو) کہ ہماری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ اس شخص پر عذاب ہو گا کہ جو (آیات الٰہی) کو جھٹلائے گا اور روگردانی کرے گا۔

تفسیر جابر فرعون کے ساتھ پہلی ٹکّر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اب جب کہ تمام چیزیں مہیا ہو چکی ہیں اور تمام ضروری وسائل حضرت موسٰی (علیه السلام) کو حاصل ہو چکے ہیں تو انہیں اور ان کے بھائی ہارونؑ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تُو اور تیرا بھائی دونوں جو آیات میں نے تمہیں دی ہیں ان کے ساتھ اب نکل پڑو (اذھب انت واخوک باٰیاتی)۔ وہ آیات جن میں موسٰی (علیه السلام) کے یہ دو عظیم معجزے بھی اور پروردگار کی وہ تمام نشانیاں، تعلیمات اور سارے پروگرام بھی شامل ہیں کہ جو خود بھی اس کی دعوت کی حقانیت بیان کرتے ہیں خصوصاً جبکہ ان پر مغز تعلیمات کا ایسے شخص کے ذریعے اظہار ہو رہا ہے کہ جس نے ظاہراً اپنی عمر کا اہم حصّہ بھیڑ بکریاں چرانے میں گزارا ہے۔ اور ان کی روحانی تقویت کے لیے زیادہ سے زیادہ سعی و کوشش کی تاکید کرنے کی خاطر مزید فرمایا: میرے ذکر اور میری یاد سے اور میرے احکام کے اجراء میں سستی نہ کرنا (ولاتنیا فی ذکری)۔ کیونکہ سستی اور قاطعیت کو ترک کرنا، تمہاری ساری زحمتوں کو برباد کر دے گا لہذا مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور کسی بھی حادثہ سے ہراساں نہ ہو، اور کسی بھی طاقت کے مقابلہ میں سستی اور کمزوری نہ دکھاؤ۔ اس کے بعد ان کے بھیجنے کا اصل مقصد اور وہ خاص بات کہ جس کی طرف انہیں توجہ رکھنا ہے، بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ (اذھبا الیٰ فرعون انہ طغیٰ)۔ اس وسیع و عریض سر زمین کی عام بدبختیوں کا عامل اور اصل سبب وہی ہے اور جب تک اس کی اصلاح نہ ہو گی کوئی کام نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی قوم کی پیش رفت یا پسماندگی اور خوش بختی یا بدبختی کا اصل عامل ہر چیز سے زیادہ اس قوم کے رہنما اور سردار ہی ہوا کرتے ہیں، لہذا سب سے پہلے تمہارا ہدف انہی کو ہونا چاہیئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہارون (علیه السلام) اس وقت تک اس بیابان میں موجود نہیں تھے اور جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے کہ خدا نے انہیں اس ماجرے سے آگاہ کیا اور وہ اس ذمّہ داری کی ادائیگی کے لیے اپنے بھائی موسٰی (علیه السلام) کے استقبال کی خاطر مصر سے باہر آئے۔ لیکن بہرحال اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ مخاطب تو دو افراد ہوں جبکہ اس وقت صرف ایک حاضر ہوا اور فارسی روز مرہ میں بھی (اور اردو میں بھی) ایسے نمونے عام ہیں، مثلاً ہم کہتے ہیں: تم اور تمہارا بھائی جو کل سفر سے واپس آئے گا دونوں میرے پاس آنا۔ اس کے بعد آغاز کار میں فرعو ن سے ملاقات کے موثر طریقے کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔ اس غرض سے کہ تم اس پر اثر انداز ہو سکو، "نرم انداز سے اس سے گفتگو کرنا" شاید وہ متوجہ ہو یا خدا سے ڈرے (فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشٰی)۔ یہاں "یتذکر" اور "یخشی" کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر تم نرم اور ملائم انداز میں بات کرو اور مطالب بھی صراحت اور قاطعیت کے ساتھ بیان کرو تو ایک احتمال تو یہ ہے کہ وہ تمہارے منطقی دلائل کو دل سے قبول کرے اور ایمان لے آئے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ کم از کم دنیا یا آخرت میں خدا کے عذاب کے خوف سے اور اپنی طاقت کے برباد ہو جانے کے ڈر سے سر تسلیم خم کرے اور تمہاری مخالفت نہ کرے۔ البتہ ایک تیسرا احتمال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ وہ متوجہ ہو اور نہ خدا سے ڈرے بلکہ مخالفت اور مقابلہ کا راستہ اختیار کرے۔ "لعل" (شاید) کی تعبیر سے اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ تو اس صورت میں اس کے لیے تمام حجّت ہو جائے گی یعنی اس انداز پر عمل کرنا کسی حال میں بھی بےفائدہ نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کو علم تھا کہ اس کا انجام کار کیا ہو گا لیکن مذکورہ تعبیرات میں موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اور راہ خدا کے تمام رہبروں کے لیے ایک درس ہے۔ (تشریحی نوٹ: "لعل" کے معنی کے بارے میں اور یہ قرآن میں کس معنی میں آیا ہے، ہم نے تفسیر نمونہ، جلد۲ میں سورئہ نسآء کے آیہ ۸۴ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے)۔ لیکن اس کے باوجود موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اس بات پر پریشان تھے کہ کہیں یہ سرکش و زورمند اور متکبر شخص جس کی سخت گیری اور سخت مزاجی کا ہر جگہ چرچہ ہے، اس سے پہلے کہ موسٰی (علیه السلام) و ہارون (علیه السلام) اسے دعوت دیں وہ پیش قدم کرتے ہوئے انہیں ختم ہی نہ کر دے لہذا "عرض کی: پروردگارا! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہماری بات سننے سے پہلے ہی ہمیں سزا دینے کا حکم صادر نہ کر دے اور تیرا پیغام اس کے اور اس کے مصاحبین کے کانوں تک پہنچنے ہی نہ پائے یا سننے کے بعد سرکشی کرنے لگے" (قالا ربنا اننا نخاف ا ن یفرط علینا او ان یطغٰی)۔ "یفرط" "فرط" (بروزن "شرط") کے مادہ سے آگے بڑھنے کے معنی میں ہے۔ اسی پر اس شخص کو کہ جو سب سے پہلے پانی کے گھاٹ پر پہنچے "فارط" کہتے ہیں علی علیہ سلام کے کلمات، جو آپ نے دروازہ کوفہ کے پیچھے قبروں کے سامنے کھڑے ہو کر فرمائے تھے، میں ہے کہ: انتم لنا فرط سابق تم اس قافلے سے آگے بڑھ جانے والے ہو اور ہم سے پہلے دیارِ آخرت کی طرف روانہ کئے گئے ہو۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار،شمار۔ ۱۳۰)۔ بہرحال موسٰی (علیه السلام) اور ان کے بھائی ہارون کو دو باتوں کا ڈر تھا پہلی بات یہ کہ فرعون ان کی باتیں سننے سے پہلے ہی کہیں سختی پر نہ اتر آئے اور یا سنتے ہی بلافاصلہ اور بلاتائل اس قسم کا اقدام کر بیٹھے اور دونوں صورتوں میں ان کا کام خطرے میں پڑ جائے گا اور نامکمل رہ جائے گا۔ لیکن خدا نے قطعی انداز میں ان سے فرمایا: تم بالکل نہ ڈرو، میں خود تمہارے ساتھ ہوں، سنتا ہوں اور دیکھتا بھی ہوں: (قال لاتخافا اننی معکما اسمع وارٰی)۔ اس بناء پر ایسے خدائے توانا کے ہوتے ہوئے کہ جو ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے اور اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر بات کو سنتا ہے، ہر چیز کو دیکھتا ہے اور تمہارا حامی و مددگار ہے، ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس کے بعد اپنی دعوت کو فرعون کے سامنے پیش کرنے کی کیفیت انتہائی باریکی کے ساتھ پانچ مختصر، قاطع اور پر معنی و مطالب جملوں میں بیان فرماتا ہے۔ ان سب میں ایک اصل ماموریت کے ساتھ مربوط ہے، دوسرے میں ماموریت کا معنی و مفہوم اور مطلب بتلایا گیا ہے، تیسرے میں دلیل و سند کا بیان ہے، چوتھے میں قبول کرنے والوں کو شوق دلایا گیا ہے اور پانچویں اور آخری جملہ میں مخالفت کرنے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ پہلے کہتا ہے: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں: (فاتیاہ فقولا انا رسولا ربک)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ہمارا پروردگار کی بجائے تیرا پروردگار کہا گیا ہے تاکہ فرعون کے ذہن کو اس نکتے کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اس کا ایک پروردگار ہے اور یہ اس پروردگار کے نمائندے ہیں اور ضمنی طور پر اشاروں ہی اشاروں میں اسے یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں ہے اور یہ صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرے یہ کہ: بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں اذیّت و تکلیف نہ پہنچا (فارسل معنا بنی اسرائیل ولاتعذبھم)۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی (علیه السلام) کی دعوت صرف بنی اسرائیل کو آل فرعون کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے نہیں تھی بلکہ قرآن کی دوسری آیات کی گواہی کے مطابق، خود فرعون اور اس کے حواریوں کو شرک و بت پرستی کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے بھی تھی لیکن اس امر کی اہمیت اور اس کے موسٰی (علیه السلام) کے ساتھ منطقی تعلق کی وجہ سے آپ نے یہ مسئلہ خاص طور پر پیش کیا۔ چونکہ بنی اسرائیل سے خدمات لینا اور ان کو اتنی تکلیف اور عذاب کے ساتھ اپنا غلام بنائے رکھنا، ایسا کام نہیں تھا کہ جس کی توجہیہ کی جا سکے۔ پھر اپنی دلیل اور ثبوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا کہتا ہے کہ اس سے کہو: ہم تیرے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی (اور دلیل) لے کر آئے ہیں: (قدجئناک باٰیة من ربک)۔ ہم بیہودہ اور فضول بات نہیں کرتے اور بغیر دلیل کے ہم کوئی گفتگو نہیں کرتے۔ لہذا عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ کم سے کم ہماری باتوں پر غور تو کرئے اور اگر ٹھیک ہو تو انہیں قبول کرے۔ اس کے بعد مومنین میں شوق پیدا کرنے کے لیے مزید ارشاد ہوتا ہے: جو ہدایت کی پیروی کرتے ہیں ان پر سلام ہے: (والسلام علی من اتبع الھدٰی)۔ یہ جملہ ممکن ہے کہ ایک دوسرے معنی کی طرف بھی اشارہ ہو اور وہ یہ کہ اس جہاں میں بھی اور دوسرے جہاں میں بھی تکلیف، رنج، خدا کے دردناک عذاب اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی مشکلات سے سلامتی صرف انہیں لوگوں کے لیے ہے جو خدائی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور درحقیقت یہ موسٰی (علیه السلام) کی دعوت کا آخری نتیجہ ہے۔ انہیں حکم دیا گیا کہ آخر میں اس دعوت سے روگردانی کا برا انجام بھی اسے سمجھا دیں اور اس سے کہیں کہ: "ہماری طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب الہٰی ان لوگوں کے دامن گیر ہو گا کہ جو اس کی آیات کو جھٹلائیں گے اور اس کے فرمان سے روگردانی کریں گے" (انا قد اوحی الینا ان العذاب علٰی من کذّب وتولیٰ)۔ ممکن ہے کسی کو یہ گمان ہو کہ اس جملہ کا ذکر اس نرم گفتار کے مطابق نہیں ہے جس پر وہ مامور تھے لیکن یہ اشتباہ ہے کہ کیونکہ اس بات میں کیا امر مانع ہے کہ ایک ہمدرد طبیب نرم لہجے میں اپنے مریض سے کہے کہ جو شخص اس دوا کو استعمال کرے گا وہ نجات پائے گا یعنی شفایاب ہو جائے گا اور جو نہ کرے گا وہ لقمہ اجل بن جائے گا۔ اس بیان میں کوئی شدّت عمل والی بات نہیں بلکہ اس کے طرز عمل کے پیش نظریہ ایک حقیقت ہے جو اس کے سامنے واشگاف الفا ظ میں بیان کی جا رہی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ خدا کی عجیب قدرت نمائی:

تاریخ میں بہت سے واقعات ایسے گزرے ہیں کہ خودسر اور طاقتور افراد قدرت خدا کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن خدا نے کسی موقعے پر بھی زمین و آسمان کے کوئی خاص لشکر ان کی سرکوبی کے لیے جمع نہیں کیے بلکہ ایسے سادہ اور آسان طریقہ سے انہیں مغلوب کیا جس کا کسی شخص کو تصّور بھی نہیں تھا۔ خصوصیت کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُنہیں کو اپنی موت کے ذرائع کی طرف بھیج دیتا ہے اور ان کی نابودی خود انہیں کے سپرد کر دیتا ہے۔ فرعون کی یہی داستان گواہ ہے کہ اس کے اصلی دُشمن یعنی موسٰی کو خُود اسی کے دامن میں پرورش کرائی اور اللہ نے انہیں خود اسی کی حفاظت میں رکھا۔ سب سے بڑھ کر قابل توجہ بات یہ ہے کہ تاریخ کے مطابق موسٰی (علیه السلام) کی دایہ بھی قبطیوں میں سے تھی۔ وہ بڑھئی کہ جس نے ان کی نجات کا صندوق بنایا تھا وہ بھی ایک قبطی ہی تھا۔ صندوق کو پانی سے نکالنے والے فرعون کے ملازمین تھے۔ صندوق کو کھولنے والی خود اس کی بیوی تھی۔ فرعون کے دربار کی طرف سے ہی موسٰی (علیه السلام) کی ماں کو دودھ پلانے والی کی حیثیت سے دعوت دی گئی اور قبطی کے قتل کے واقعے کے بعد فرعونی سپاہیوں کی طرف سے تعاقب آپ (علیه السلام) کی مدین کی طرف ہجرت اور شعیب (علیه السلام) جیسے پیغمبر کے مکتب میں مکمل تعلیم و تربیت کا ایک دور گزارنے کا سبب بنا۔ ہاں! جب خدا چاہتا ہے کہ اپنے قدرت کو ظاہر کرے تو وہ اسی طرح سے کیا کرتا ہے کہ سارے کے سارے سرکش جان لیں کہ ان کی حیثیت اس سے کہیں کمتر و حقیر ہے کہ اس کے ارادہ اور مشیت کے مقابل میں ان کی کچھ پیش جا سکے۔

۲۔ دشمنوں کے ساتھ مدارات:

لوگوں کے دلوں میں اثر و نفوذ پیدا کرنے کے لیے (چاہے وہ کتنے ہی گمراہ اور گنہگار کیوں نہ ہو) قرآن کا سب سے پہلا دستور یہ ہے کہ اُن سے ملائمیت اور مہر و محبت کے ساتھ ملاقات کی جائے۔ خشونت اور سختی بعد کے مراحل سے تعلق رکھتی ہے اور اس وقت ہے دوستانہ طریقے سے ملاقات کرنے کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں ان کی طرف کھنچیں، نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں۔ یا اپنے بُرے کام کے انجام سے ڈریں: (لعلہ یتذکر او یخشی)۔ ہر مکتب کے لئے ضروری ہے کہ اس میں جذب و کشش ہو اور بلاوجہ لوگوں کو اپنے سے دور نہ بھگائے۔ انبیاء اور آئمہ بدیٰ علیہم اسلام کے حالات زندگی اسی طرح اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی اس طرز عمل سے انحراف نہیں کیا۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی محبت آمیز طرز عمل بھی بعض لوگوں کے ساتھ دل پر اثر انداز نہ ہو اور خشونت اور سختی کے سوا اور کوئی چارہ گار ہی نہ ہو۔ تو یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن ایک اصل کلی اور ابتدءِ کار میں نہیں۔ پہلا قرینہ محبت اور ملائمت ہی ہے اور یہ وہی درس ہے جو زیر نظر آیات ہمیں واضح طور پر دے رہی ہیں۔ یہ بات جو بعض روایات میں منقول ہوئی ہے قابل توجہ ہے: موسٰی کو یہ تک حکم تھا کہ فرعون کو اس کے بہترین نام کے ساتھ پکاریں۔ شاید اس کے تاریک دل پر یہ بات اثر کر جائے۔

۳۔ کیا انبیاء کے علاوہ کسی اور پر وحی ہو سکتی ہے:

اِس میں شک نہیں کہ قرآن میں وحی کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ کبھی یہ آہستہ آواز کے معنی میں یا کسی بات کو آہستہ سے کہنے کے معنی میں آیا ہے۔ (یہ عربی زبان میں اس کا اصلی معنی ہے)۔ کبھی کسی رمزیہ اشارہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے مثلاً: فاوحٰی الیھم ان سبحوا بکرة و عشیاً زکریا نے جو اُس وقت بولنے سے قاصر تھے، بنی اسرائیل سے اشارہ کے ساتھ کہا کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کرو۔ (مریم۔۱۱) کبھی فطری الہام کے معنی میں بیان ہوا ہے، مثلاً: اوحٰی ربک الی النحل تیرے ربّ نے شہد کی مکھّی کو فطری الہام کی۔ (نحل۔ ۶۸) کبھی حکم تکوینی کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی وہ فرمان جو خلقت و آفرینش کی زبان سے دیا جاتا ہے، مثلاً: یومنذ تحدث اخبارھا بان ربّک اوحٰی لھا قیامت کے دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی کیونکہ تیرے ربّ نے اسے وحی کی ہے۔ (زلزال۔۵)۔ اور کبھی الہام کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایسا الہام جو صاحبِ ایمان لوگوں کے دل پر ہوتا ہے، چاہے وہ پیغمبر اور امام نہ بھی ہوں۔ مثلاً: اذ اوحینا الی امک مایوحیٰ اے موسٰی ہم نے تیری ماں کی طرف جس وحی کی ضرورت تھی وہ اُسے کی۔ (طٰہٰ۔٣۸)۔ لیکن اس کا ایک اہم ترین مقام قرآن مجید میں خدا کے وہ پیغامات ہیں کہ جو پیغمبروں کے ساتھ ہی مخصوص ہیں، مثلاً: (انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوح والنبین من بعدہ)۔ ہم نے تیری طرف اسی طرح سے وحی بھیجی ہے جس طرح سے کہ نوح اور اس کے بعد والے انبیاء کی طرف وحی بھیجی تھی۔ (نسآء۔۱۶۳)۔ اِس بناء پر لفظ وحی ایک وسیع اور جامع مفہوم رکھتا ہے کہ جو ان تمام مواقع پر استعمال ہے۔ اس طرح ہمیں اس بات پر کوئی تعجب نہیں کرنا چاہیئے کہ اگر زیر بحث آیات میں موسٰی (علیه السلام) کی ماں کے بارے میں وحی کا لفظ استعمال ہو گیا ہے۔

۴۔ ایک سوال کا جواب:

ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں اُوپر والی آیات کے مطالعہ سے یہ سوال پیدا ہو کہ موسٰی (علیه السلام) ان خدائی وعدوں کے باوجود پریشانی، شک اور تشویش سے کیوں دوچار ہوئے۔ یہاں تک کہ خدا نے انہیں صراحت کے ساتھ کہا کہ جاؤ میں ہر جگہ تمہارے ساتھ ہوں، تمام باتوں کو سُنتا ہوں اور تمام چیزوں کو دیکھتا ہوں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ اِس سوال کا جواب اِس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ماموریت حقیقت میں بہت ہی سنگین تھی۔ موسٰی (علیه السلام) بظاہر ایک چرواہے تھے۔ اب انہیں صرف اپنے بھائی کو ساتھ لے کر ایک خودسر طاقتور اور سرکش آدمی سے جنگ کرنے کے لیے جانا تھا کہ جس کے قبضہ میں اس زمانے کے عظیم ترین طاقتور وسائل جمع تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ حکم انہیں یہ ملا کہ پہلی دعوت خود فرعون سے شروع کریں۔ نہ یہ کہ پہلے دوسروں کے پاس جائیں اور لشکر اور یار و مددگار فراہم کریں بلکہ پہلا وار ہی فرعون کے دل پر کریں۔ یہ ماموریت واقعاً ایک بہت ہی پیچیدہ اور انتہائی زیادہ مشکل تھی۔ علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ علم و آگاہی کے مراتب و مدارج ہونے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک بات کو یقینی طور پر جانتا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ علم الیقین اور عینی اطمینان کے مرحلے میں پہنچ جائے، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے معاد پر قطعی ایمان ہونے کے باوجود خدا سے یہ درخوست کی کہ اسی دنیا میں مردوں کے زندہ ہونے کا منظر میری آنکھوں کو دکھا تاکہ زیادہ سے زیادہ اطمینان قلب پیدا ہو۔

49
20:49
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَٰمُوسَىٰ
(فرعون نے) کہا: اے موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
20:50
قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِيٓ أَعۡطَىٰ كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ
(موسیٰ نے) کہا :ہمارا پروردگار تو وہ ہے جس نے ہر موجود کو وہ کچھ دیا جو اس کی خلقت کیلئے لازم تھا پھر اس کو ہدایت کی۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

51
20:51
قَالَ فَمَا بَالُ ٱلۡقُرُونِ ٱلۡأُولَىٰ
اس نے کہا :پھر ہم سے پہلے لوگوں کا حال کیا ہوگا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
20:52
قَالَ عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَٰبٖۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى
موسیٰ نے کہا: ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ثبت ہے۔ میرا پروردگار نہ تو گمراہ ہوتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
20:53
ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مَهۡدٗا وَسَلَكَ لَكُمۡ فِيهَا سُبُلٗا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّن نَّبَاتٖ شَتَّىٰ
وہ خدا وہی تو ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لئے آرام و آسائش کی جگہ قرار دیا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا کہ جس کے ذریعے ہم نے انواع و اقسام کے نباتات (اندھیری خاک سے) نکالے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
20:54
كُلُواْ وَٱرۡعَوۡاْ أَنۡعَٰمَكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلنُّهَىٰ
تم خود اس میں سے کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو بھی چراؤ بیشک اس میں صاحبان عقل کیلئے واضح نشانیاں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
20:55
۞مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ
ہم نے تمہیں اسی (خاک)سے پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تم کو پھر لوٹا دینگے اور اس سے تمہیں دوبارہ نکال کھڑا کریں گے۔

تفسیر تمہارا پروردگار کون ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہاں قرآن مجید نے اپنے طریقے کے مطابق ان مطالب کو حذف کر دیا ہے جو اس داستان میں آیندہ آنے والی بحثوں میں سمجھے جا سکتے ہیں۔ اور موسٰی (علیه السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی فرعون کے ساتھ گفتگو کو براہِ راست بیان کرنا شروع کر دیا ہے۔ درحقیقت معاملہ یہ ہے کہ: موسٰی (علیه السلام) فرمان حاصل کرنے اور فرعون کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بارے میں ایک ہمہ گیر عمل اور جامع دستور لینے کے بعد اس مقدّس سرزمین سے چل پڑتے ہیں اور مورخین کے قول کے مطابق مصر کے قریب اپنے بھائی ہارون (علیه السلام) کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ دونوں مل کر، فرعون کے پاس جانے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ بہت سی مشکلات کے بعد فرعون کے افسانوی محل کے اندر کہ جس میں بہت ہی کم لوگ آ جا سکتے تھے پہنچ جاتے ہیں۔ جس وقت موسٰی (علیه السلام) فرعون کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے، تو وہی مؤثر اور جچے تلے جملے جو خدا نے فرمانِ رسالت دیتے وقت انہیں تعلیم کیے تھے، بیان کرنا شروع کر دیئے: ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں آزار نہ دے۔ ہم تیرے پروردگار کے پاس سے دلیل اور واضح معجزہ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ جو شخص ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہے۔ اور تو یہ بات بھی جان لے کہ ہمیں یہ وحی ہوئی ہے کہ عذاب خدا ان لوگوں کی انتظار میں ہے کہ جو تکذیب کریں اور فرمانِ خدا سے رُوگردانی کریں۔ جس وقت فرعون نے یہ باتیں سنیں تو اس کا پہلا ردّعمل یہ تھا کہ اس نے کہا: اے موسٰی! بتاؤ تمہارا پروردگار کون ہے (قال فمن ربکما یا موسٰی)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مغرور اور خودسر فرعون یہ تک کہنے کے لیے تیار نہ ہوا کہ میرا پروردگار کہ جس کے تم مدعی ہو کون ہے؟ بلکہ یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے؟ موسٰی نے فوراً ہی پروردگار کا بہت جامع اور انتہائی مختصر تعارف کروایا: "کہا، ہمارا پروردگار تو وہی ہے جس نے ہر موجود کو وہ کچھ عطا کیا جو اس کی خلقت کا لازمہ تھا اور اس کے بعد مختلف مراحل ہستی میں اس کی رہبری اور ہدایت کی": (قال ربنا الذی اعطٰی کل شئی خلقہ ثم ھدٰی) اِس مختصر سی گفتگو میں حضرت موسٰی (علیه السلام) آفرینش اور عالم ہستی کے دو بنیادی اور اساسی اصولوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک معرفت پروردگار کے لیے ایک واضح اور مستقل دلیل ہے۔ پہلی بات یہ کہ ہر موجود کو جس چیز کی اُسے ضرورت و احتیاج تھی اُسے دی ہے۔ یہ وہی مطلب ہے کہ جس کے بارے میں کتابوں کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں بلکہ لوگوں نے بےشمار کتابیں لکھی ہیں۔ اگر ہم نباتات اور ان جانداروں کے بارے میں کہ جو مختلف علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ خواہ وہ پرند ہوں یا چرند، دریائی ہو یا حشرات الارض، یا زمین پر رینگنے والے جانور۔ تھوڑا سا بھی غور کریں، تو ہم دیکھیں گے ان میں سے ہر ایک اپنے محیط اور ماحول کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے اور جس جس چیز کی اُسے ضرورت ہے وہ اسے حاصل ہے۔ پرندوں کی ساخت ایسی بنائی گئی ہے کہ جو انہیں شکل، وزن اور مختلف حواس کے لحاظ سے پرواز کے لیے درکار ہے۔ سمندروں کی گہرائیوں میں رہنے والے جانوروں کی ساخت بھی ان کے مطابق رکھی گئی ہے۔ ظاہر ہے اُن سب کے بارے میں بحث کرنے کی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے۔ دوسرا مسئلہ: موجودات کی ہدایت و رہبری کا ہے جسے قرآن نے "ثم" کے لفظ سے ان کی ضروریات و حاجات کو پورا کرنے کے بعد والے درجہ میں قرار دیا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص یا چیز زندگی کے وسائل سے مالا مال تو ہو لیکن ان سے استفادہ کرنے کی طریقوں سے واقفیت نہ ہو۔ لہذا سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ان سے کام لینے کے طریقوں سے آشنا ہو اور یہ وہی چیز ہے جو مختلف موجودات میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی زندگی کا سفر جاری رکھنے کے لیے کیسے بہترین طریقے پر اپنی قوتوں کو استعمال کرتا ہے۔ جانور کس طرح سے اپنا ٹھکانا بناتے ہیں، کیسے اولاد پیدا کرتے ہیں، کیسے اپنے بچّوں کی پروش و تربیت کرتے ہیں، کس طرح دشمنوں کی دسترس سے مخفی رہتے ہیں اور دشمن سے مقابلہ کے لیے کیسے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انسان بھی اِس ہدایت تکوینی کا حامل ہے لیکن چونکہ انسان ایک ایسا موجود ہے کہ جو عقل و شعور رکھتا ہے لہذا خدا نے اس کی ہدایت تکوینی کو اس کی ہدایت تشریعی کے ساتھ کہ جو انبیاء کے ذریعہ کی جاتی ہے ملا دیا ہے اور اگر وہ اس راستے سے منحرف نہ ہو تو یقیناً مقصد کو پا لے۔ دوسرے لفظوں میں انسان عقل و شعور اور ارادہ اختیار رکھنے کی وجہ سے کچھ فرائض اور ذمّہ داریاں رکھتا ہے اور ان کی تکمیل کے لیے کچھ ارتقائی پروگراموں کا حامل ہے جو حیوانات نہیں رکھتے۔ اسی بناء پر انسان تکوینی ہدایت کے ساتھ ساتھ تشریعی ہدایت کی احتیاج بھی رکھتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ موسٰی (علیه السلام) فرعون کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ عالم ہستی نہ تو تجھ میں منحصر ہے اور نہ ہی زمین مصر میں، نہ آج کے زمانے کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ ہی گزشتہ زمانہ سے۔ اِس وسیع عالم کا گزشتہ زمانہ بھی تھا اور آئندہ بھی ہو گا۔ گزشتہ زمانے میں نہ میں تھا اور نہ تو اور اس عالم کے دو بنیادی مسائل ہیں ایک ضروریات کو مہیا کرنا اور دوسرے موجودات کی پیش رفت کے لیے قوت اور وسائل کو بروئے کار لانا۔ یہ دونوں چیزیں تجھے ہمارے پروردگار سے اچھی طرح سے آشنا کر سکتی ہیں اور سلسلے میں تو جتنا زیادہ غور و فکر کرے گا اس کی عظمت و قدرت کے بیشمار دلائل تجھے ملتے چلے جائیں گے۔ فرعون نے یہ جامع اور عمدہ جواب سن کر ایک اور سوال پیش کیا: "اس نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر ہم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی ذمّہ داری کیا ہو گی" (قال فما بال القرون الاولیٰ)۔ اب یہ بات کہ فرعون کی اس جملے سے کیا مراد تھی، مفسرین نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں: ۱۔ بعض نے کہا کہ چونکہ موسیٰ (علیه السلام) نے اپنے آخری جملے میں توحید کے سب مخالفین کے لیے عذاب الہٰی کا ذکر کیا تھا۔ لہذا فرعون نے سوال کیا کہ پھر وہ تمام قومیں کہ جو گزشتہ زمانے میں تھیں" اِس قسم کے عذاب میں کیوں مبتلا نہیں ہوئیں"؟ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ چونکہ موسٰی (علیه السلام) نے خدا وند عالم کا سب کے لیے پروردگار اور معبود ہونے کا تعارف کرایا تھا، لہذا فرعون نے سوال کیا کہ پھر ہمارے بڑے اور سب گزشتہ قومیں کیوں مشرک تھیں؟ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ شرک اور بت پرستی کوئی غلط کام نہیں ہے۔ ۳۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ موسٰی (علیه السلام) کی گفتگو کا مفہوم یہ تھا کہ آخرکار سب کے سب اپنے اعمال کے نتیجے کو پہنچیں گے اور جنہوں نے خدا کے فرمان سے رُوگردانی کی ہے انہیں عذاب و سزا ہو گی۔ تو فرعون نے پوچھا کہ پھر ان کی ذمّہ داری کیا ہو گی کہ جو فنا ہو گئے ہیں اور دوبارہ اس زندگی کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے؟ بہرحال موسٰی (علیه السلام) نے جواب دیا "کہ گزشتہ اقوام کے تمام امور میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ثبت میں، میرا پروردگار کبھی بھی انہیں سنبھال رکھنے میں گمراہ نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے" (قال علمھا عند ربی فی کتاب لایضل ربیّ ولاینسی)۔ (تشریحی نوٹ: یہاں لفظ "کتاب" نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے جو کہ اس کتاب کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جس میں بندوں کے اعمال ثبت ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں آیا ہے: لایغادر صغیرة ولاکبیرة الا احصاھا - کوئی چھوٹا یا بڑا عمل نہیں ہے مگر یہ کہ اس کتاب میں اس کا حساب موجود ہے۔ (کہف۔۴۹))۔

چند اہم نکات: ۱۔ لفظ "مھد" و "مھاد" کا مفہوم:

دونوں ایسی جگہ کے معنی میں ہیں کہ جو بیٹھنے، سونے اور آرام کرنے کے لیے تیار کی گئی ہو اور اصل میں لفظ "مھد" اس جگہ کو کہا جاتا ہے کہ جس میں بچہ کو سلاتے ہیں (گہوارہ یا اسی قسم کی کوئی چیز)۔ گویا انسان ایک ایسا بچہ ہے کہ جسے زمین کے گہوارے کے سپرد کیا گیا ہے اور اس گہوارے میں غذا اور اس کی زندگی تمام وسائل موجود ہیں۔

۲۔ لفظ "ازواجاً" کا مطلب:

یہ "زوج" کے مادہ سے لیا گیا ہے یہ نباتات سے مختلف اصناف کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور عالم نباتات میں مسئلہ زوجیت (نر اور مادہ ہونے) کی طرف بھی سربستہ اشارہ ہو سکتا ہے۔ جس کے بارے میں ہم انشااللہ متعلقہً آیات کے ذیل میں گفتگو کریں گے۔

۳۔ "اولوا النھٰی" کی تفسیر:

اِس سلسلے میں اصول کافی میں پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ: ان خیارکم اولوا النھٰی، قیل یارسول اللہ و من اولوا النھٰی؟ قال ھم اولوا الاخلاق الحسنة والاحلام الرزینة وصلة الارحام والبررہ بالامھات والاباء والمتعاھدین للفقراء والجیران والیتامٰی و یطعمون الطعام ویفشون السلام فی العالم، ویصلون والناس نیام غافلون: "تم میں سے سب سے بہترین اولواالنھٰی (صاحبانِ فکر و اندیشہ مسول) ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہؐ! اولواالنھٰی کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ کہ جو اخلاق حسنہ اور عقل سلیم کے مالک ہیں اور صلہ رحمی کرنے والے، ماں باپ سے نیکی کرنے والے، فقیروں، ضرورتمندوں، ہمسایوں اور یتیموں کی مدد کرنے والے ہیں اور وہ لوگ جو بھوکوں کو سیر کرتے ہیں۔ عالم میں صلح و آشتی پھیلاتے ہیں اور جب لوگ غافل سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں (بحوالہ: اصول کافی،جلد ۲ باب:" المومن و علامتہ وصفا تہ" ص ۳۲)۔ ایک اور حدیث میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ: ایک شخص نے ان بزرگوار سے نماز کی ہر رکعت میں دو سجدہ کرنے کا مطلب پوچھا تو امام نے فرمایا: "پہلے سجدہ کا مطلب" جب تو زمین پر سر رکھتا ہے یہ ہے کہ پروردگارا! میں ابتداء میں اسی مٹی سے تھا اور جس وقت تو سر اٹھاتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ تو نے مجھے اسی مٹی سے باہر بھیجا ہے اور وہ دوسرے سجدہ کا مفہوم یہ ہے کہ تو مجھے اسی مٹی کی طرف پلٹائے گا اور جس وقت تو دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ دوبارہ مجھے اسی مٹی سے (زندہ کر کے) اٹھا کھڑا کرے گا (بحوالہ: بحارالاانوار، چاپ جدید، ج ۸۵، ص ۱۳۲)

56
20:56
وَلَقَدۡ أَرَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ
ہم نے اپنی ساری نشانیاں اسے دکھائیں لیکن اس نے تکذیب کی اور انکار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
20:57
قَالَ أَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ أَرۡضِنَا بِسِحۡرِكَ يَٰمُوسَىٰ
اس نے کہا: اے موسیٰ ! کیا تو اس لے آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین سے اپنے اس جادو کے ذریعہ نکال باہر کرے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
20:58
فَلَنَأۡتِيَنَّكَ بِسِحۡرٖ مِّثۡلِهِۦ فَٱجۡعَلۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكَ مَوۡعِدٗا لَّا نُخۡلِفُهُۥ نَحۡنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانٗا سُوٗى
ہم بھی یقینی طور پر اسی جیسا جادو تیرے لئے لے آئیں گے۔ ابھی سے (اس کی تاریخ معین کر لے اور)ہمارے اور اپنے درمیان مدت مقرر کر لے کہ ہم اور تم دونوں جس کی خلاف ورزی نہ کریں،ایسی جگہ طے کر و جو سب کیلئے یکساں ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
20:59
قَالَ مَوۡعِدُكُمۡ يَوۡمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحۡشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحٗى
(موسیٰ نے) کہا: ہمارا تمہارا وعدہ زینت کے دن (روز عید) کا ہوا شرط یہ ہے کہ سب کے سب لوگ دن چڑھتے ہی جمع ہو جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
20:60
فَتَوَلَّىٰ فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ
پس فرعون اس مجلس سے اٹھا اور اس نے اپنے تمام مکر و فریب جمع کئے اور پھر (مقرر ہ دن) ان سب کو لے آیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
20:61
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا فَيُسۡحِتَكُم بِعَذَابٖۖ وَقَدۡ خَابَ مَنِ ٱفۡتَرَىٰ
موسیٰ نے ان سے کہا: تم پروائے ہو! خدا پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں اپنے عذاب کے ساتھ نابود کر دے گا،اور ناامیدی (و شکست)اس شخص کے لئے ہے کہ جو(خدا پر) افتراء باندھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
20:62
فَتَنَٰزَعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَىٰ
پھر ان کے کام کے سلسلہ میں نزاع پیدا ہو گیا اور وہ آپس میں سر گوشی کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

63
20:63
قَالُوٓاْ إِنۡ هَٰذَٰنِ لَسَٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخۡرِجَاكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِمَا وَيَذۡهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلۡمُثۡلَىٰ
انہوں نے کہا کہ مسلمہ طور پر یہ دونوں کے دونوں جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنے جادو کے ذریعے تمہاری سر زمین سے نکال دیں اور تمہارے بلند مرتبہ دین کو ختم کر دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
20:64
فَأَجۡمِعُواْ كَيۡدَكُمۡ ثُمَّ ٱئۡتُواْ صَفّٗاۚ وَقَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡيَوۡمَ مَنِ ٱسۡتَعۡلَىٰ
(اب جبکہ یہ بات ہے تو) اپنی تمام قوت و تدبیر جمع کر لو (اور مقابلے کے میدان میں ) صف باندھ کر کھڑے ہو جاؤ اور کامیابی تو آج اسی کی ہے کہ جو اپنی برتری ثابت کر دے۔

تفسیر آخری مقابلے کے لیے فرعون کی تیاری:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

آیات کے اس حصّے میں موسٰی (علیه السلام) اور فرعون کے مقابلہ کے ایک اور مرحلے کا بیان ہو رہا ہے۔ قرآن مجید اس حصّے کو اس جملے کے ساتھ شروع کرتا ہے: ہم نے اپنی سبھی نشانیاں فرعون کو دکھائیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کے سیاہ دل پر اثر نہ کر سکی۔ اُس نے سب کی تکذیب کی اور انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا (ولقد اریناہ اٰیاتناک لھا فکذب وابیٰ)۔ یقینی بات ہے کہ ان آیات سے یہاں وہ تمام معجزات مراد نہیں ہیں جو حضرت موسٰی (علیه السلام) کی پوری زندگی میں، مصر میں ان سے ظاہر ہوئے، بلکہ یہ ان معجزات کے ساتھ مربوط ہے جو انہوں نے ابتداء دعوت میں فرعون کو دکھائے تھے یعنی "معجزہ عصا"، " ید بضیا" اور "ان کی آسمانی دعوت کے مطالب" کو کہ خود ان کی حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے۔ اِسی لیے اس واقعے کے بعد جادوگروں کے ساتھ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے مقابلہ اور ان کے نئے معجزات کا ذکر ہے۔ اَب آئیے، دیکھتے ہیں کہ سرکش،مستکبر اور ہٹ دھرم فرعون نے حضرت موسٰی (علیه السلام) اور ان کے معجزات کے جواب میں کیا کہا؟ تمام جھوٹے صاحبان اقتدار کی طرح انہیں کس طرح______ متہم کیا؟ قرآن کہتا ہے: اس نے کہا: اے موسٰی! کیا تو (اس لیے) آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین اور وطن سے اپنے جادو کے ذریعے باہر نکال دے: (قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یا موسٰی)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: ہم جانتے ہیں کہ دعویٰ نبوّت، دعوتِ توحید اور یہ معجزہ نمائی، سب حکومت پر قبضے اور ہمیں اور قبطیوں کو ہمارے آباؤ اجداد کی زمین سے نکالنے کے لیے ایک سازش ہے۔ تیرا مقصد دعوت توحید ہے اور نہ بنی اسرئیل کی نجات۔ تیرا مقصد صرف حکومت حاصل کرنا، اس سر زمین پر تسلّط جمانا اور مخالفین کو باہر نکال دینا ہے۔ یہ تہمت بالکل وہی حربہ ہے جو پوری تاریخ میں، سب صاحبان اقتدار اور استعمارگر استعمال کرتے رہے ہیں۔ جس وقت وہ اپنے آپ کو خطرہ میں پاتے ہیں تو اپنے بچاؤ اور مفاد کے لیے، لوگوں کو تحریک کرنے کے لیے "ملک خطرے میں ہے" کا ہوّا کھڑا کر دیتے، ملک! یعنی ان صاحبان اقتدار کی حکومت اور اس مملکت کی بقا؟ یعنی خود ان کی اپنی بقا۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اصل میں بنی اسرائیل کو مصر لانے اور ان کی اس سر زمین میں نگہداشت صرف ان سے غلاموں کی شکل میں ان کی کام کی طاقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے تھے، کہ بنی اسرائیل جو کہ ایک طاقتور قوم تھے، طاقت پیدا کر کے کہیں خطرے کا سبب نہ بن جائیں اسی طرح ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم بھی، صرف موسٰی (علیه السلام) کے پیدا ہونے کے خوف سے نہیں تھا بلکہ وہ بھی ان کی طاقت و قوّت کو ختم کرنے کے لیے تھا اور یہ وہ کام ہے کہ جسے تمام خود سر انجام دیتے ہیں اس بنا پر___ موسٰی کی خواہش کے مطابق ___ باہر جانے کا مطلب، اس ملّت کا طاقت حاصل کرنا تھا۔ اس صورت میں فراعنہ کا تاج و تخت خطرے میں پڑ جاتا تھا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس مختصر سی عبارت میں فرعون نے موسٰی (علیه السلام) کو جادو کی تہمت بھی دی، وہی تہمت جو تمام انبیاء پر، ان کے واضح معجزات کے جواب میں لگائی گئی۔ جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیہ ۵۲ اور ۵۳ میں بیان ہوا ہے: کذالک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون اتواصوا بہ بل ھم قوم طاغون۔ کوئی پیغمبر ان سے پہلے نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے کیا وہ اس (تہمت و افتراء) کی ایک دوسرے کو وصیت کر جایا کرتے تھے (کہ وہ سب اس میں ہم آواز تھے) بلکہ وہ ایک سرکش قوم ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایسے موقعوں پر حب الوطنی کے احساسات و جذبات کا دامن تھامنا، بڑی سوچی سمجھی بات تھی، کیونکہ اکثر لوگ وطن کی سر زمین اپنی جان کی طرح عزیز رکھتے ہیں۔ اِسی لیے قرآن کچھ آیات میں یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بیان ہوئی ہیں: و لو انا کتبناعلیھم ان اقتلوا انفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم اگر ہم نے ان پر یہ واجب کر دیا ہوتا کہ وہ آپ کو قتل ہونے کے لیے پیش کریں، یا اپنے وطن اور گھر سے باہر نکل جائیں، تو صرف تھوڑے سے افراد ہی اس پر عمل کرتے (نساء ۔۶۶)۔ فرعون نے اس کے بعد مزید کہا: تم یہ گمان نہ کر لینا، کہ ان جادوؤں کی مانند (جادو) پیش کرنا ہمارے بس میں نہیں "یقیناً جان لو کہ ہم عنقریب تیرے جواب میں اسی قسم کا جادو لے آئیں گے" (فلناتینک بسحر مثلہ)۔ اور اِس غرض سے کہ زیادہ سے زیادہ قاطعیت کا اظہار کرے، اس نے کہا: ابھی اسی وقت اس کی تاریخ مقرر کر، ہمارے اور تیرے درمیان وعدہ ہونا چاہیئے کہ جس سے نہ ہم اِدھر اْدھر ہوں اور نہ تو، وہ ہو بھی ایسی جگہ کہ جو ہم سب کے لیے برابر ہو: (فاجعل بیننا و بینک موعداً لانخلفہ نحن ولاانت مکاناً سوًی)۔ "مکاناً سوی" کی تفسیر میں بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ تھا کہ اس جگہ کا فاصلہ تجھ سے اور ہم سے برابر کا ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا فاصلہ شہر کے تمام لوگوں کے لیے یکساں ہوں یعنی ایسی جگہ جو ٹھیک شہر کے مرکز میں ہو، اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ایک ہموار زمین ہے کہ جس پر تمام لوگ آ سکیں اور بلندوپست اس میں یکساں ہوں۔ ہم کہتے ہیں ان تمام معانی کو مجموعی طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اِس نکتے کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے کہ طاقتور برسرِ اقتدار لوگ اس غرض سے کہ وہ اپنے حریف کو میدان سے باہر نکال پھنکیں، اور پنے مصاحبین اور حواریوں میں جو بعض اوقات متاثر ہو گئے ہوتے ہیں (اور موسٰی کا واقعہ اور ان کے معجزات سے وہ حتمی طور پر متاثر ہو گئے تھے) طاقت و قوت اور جذبہ پیدا کریں۔ ظاہراً بڑے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور بہت زیادہ شور و غل کرتے ہیں۔ لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے تحمل اور بردباری کا دامن نہ چھوڑا اور فرعون کے شور و غل پر ہرگز نہ گھبرائے اور پوری صراحت اور قاطبیعت کے ساتھ کہا: میں بھی تیار ہوں! ابھی اسی وقت، دن اور وقت کا تعین کیے دیتا ہوں۔ "ہمارا اور تمہارا وعدہ زینت کے دن (روز عید) کا ہوا۔ شرط یہ ہے کہ تمام لوگ دن چڑھے تک اس جگہ جمع ہو جائیں": (قال موعدکم یوم الزینة وان یحشر الناس ضحیٰ)۔ (تشریحی نوٹ: "ضحیٰ" لغت میں سورج کے پھیلاؤ کے معنی میں ہے، یا سورج کا اوپر آنا ہے، "وان یحشر النّاس ضحیٰ" میں "واؤ" معیت کی دلیل ہے) "یوم الزینة" (زینت کا دن) کی تعبیر مسلمہ طور پر کسی عید کے دن کی طرف اشارہ ہے۔ جسے ہم مخصوص طور پر معین نہیں کر سکتے لیکن اہم بات یہ ہے کہ لوگ اس دن اپنے کاروبار کی چھٹی کیا کرتے تھے لہذا اس قسم کے پرورگرام میں شرکت کے لیے وہ طبعی طور پر تیار تھے۔ بہرحال فرعون نے موسٰی کے حیرت انگیز معجزات اور اپنے حواریوں میں ان کے معجزات کے نفسیاتی اثر دیکھے تو پختہ ارادہ کر لیا کہ وہ جادوگروں کی مدد سے ان کا مقابلہ کرے گا، لہذا اس نے موسٰی کے ساتھ معاہدہ کیا اور "اس مجلس سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے تمام مکر و فریب سمیٹ کر سب کو مقررہ روز لے کر پہنچ گیا": (فتولّٰی فرعون فجمع کیدہ ثم اتی)۔ اس مختصر سے جملے میں وہ تمام حالات و واقعات، جو سورہ اعراف میں مفصل اور مبسوط طور پر بیان کیے گئے، بطور خلاصہ بیان ہوئے ہیں۔ چونکہ فرعون نے اس مجلس سے اٹھنے اور موسٰی و ہارون سے جدا ہونے کے بعد، اپنے مخصوص مشیروں اور مستکبر حامیوں کے ساتھ مختلف مٹینگیں کیں۔ اس کے بعد اس نے سارے ملک مصر میں جادوگروں کو دارالحکومت میں آنے کی دعوت دی۔ اُس نے بہت شوق انگیز ذرائع سے انہیں اِس تقدیر ساز مقابلے کی دعوت دی۔ ان کے علاوہ اور باتیں بھی ہیں جن کی بحث کے لیے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ البتہ قرآن نے ان تمام باتوں کو، ان تین جملوں جمع کر دیا ہے: (فرعون موسٰی سے جدا ہوا، اپنے تمام مکروں کو جمع کیا، اور پھر تیار ہو کے آ گیا)۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ "تولی" یہاں پر موسٰی سے جدا ہونے یا اس مجلس سے اٹھنے کے معنی میں تفسیر ہوا ہے لیکن ممکن ہے کہ اس کی لغت کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرعون کے موسٰی پر اعترض کرنے، ناراض ہونے اور اس کی معاندانہ نکتہ چینی کے لیے بھی استعمال ہوا ہو)۔ آخر کار مقرر دن آ پہنچا۔ حضرت موسٰی لوگوں کے اس عظیم اجتماع کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ مدّمقابل گروہ میں سے کچھ لوگ جادوگر تھے۔ ان کی تعداد بعض مفسرین کے قول کے مطابق ۷۲، افراد تھی، بعض کے مطابق چار سو افراد تک تھی، اور بعض دوسروں نے اس سے بہت زیادہ تعداد بھی بیان کی ہے۔ ان میں سے کچھ افراد فرعون اور اس کے مصاحبین اور اطرافیوں پر مشتمل تھے۔ باقی اکثریت تماشائی عوام تھے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس موقع پر جادوگروں کی طرف، یا فرعونیوں اور جادوگروں کی طرف رخ کیا، اور اُن سے کہا: وائے ہو تم پر، تم خدا پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ وہ تمہیں اپنے عذاب سے تباہ و برباد کر دے گا" (قال موسٰی ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذباً فیسحتکم بعذاب)۔ "اور شکست و ناامیدی اور خسارہ اس کے لیے ہے کہ جو خدا پر افترا باندھتا ہے، اور اس کی طرف باطل کی نسبت دیتا ہے": (وقد خاب من افترٰی)۔ یہ بات واضح ہے کہ موسٰی کی خدا پر افترا سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو یا کسی چیز کو اس کا شریک قرار دینا، خدا کے بھیجے ہوئے معجزات کو جادو سے تفسیر کرنا اور فرعون کو اپنا معبود اور الٰہ خیال کرنا تھا۔ یقیناً جو شخص خدا پر اس قسم کے افتراد باندھے گا اور پوری قوّت کے ساتھ نور حق کو بجھانے کی کوشش کرے گا۔ خدا اسے بغیر سزا دیئے نہ چھوڑے گا۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی یہ دو ٹوک باتیں، جو جادوگروں کی باتوں کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتی تھی۔ بلکہ اس کا طریقہ تمام سچے پیغمبروں والا تھا____ اور موسٰی (علیه السلام) کے پاکیزہ دل سے نکلی ہوئی تھیں، بعض کے دلوں پر اثر کر گئیں، اور اس پر ان لوگوں میں اختلاف پڑ گیا۔ بعض شدّت عمل کے طرفدار تھے بعض شک و شبہ میں پڑ گئے، اور کہنے لگے ہو سکتا ہے موسٰی خدا کے عظیم پیغمبر ہوں اور اگر ایسا ہوا تو ان کی تہدید اور دھمکیاں موثر ہو کر رہیں گی۔ خاص طور پر ان کا اور ان کے بھائی ہارون کا وہی چرواہوں والا سادہ لباس تھا۔ ان کے چہرے پر عزم راسخ کی جھلک تھی۔ تنہا ہونے کے باجود ان میں کوئی کمزوری اور کسی قسم کا تغیر نظر نہیں آ رہا تھا۔ ان کی گفتگو، ان کی سچائی کی ایک اور دلیل تھی لہذا قرآن کہتا ہے: وہ آپس میں اپنے کاموں کے بارے میں نزاع میں پڑ گئے اور ایک سرے کے ساتھ سرگوشیاں کرنے لگے: (فتنازعوا امرھم بینھم واسروا النجوٰی)۔ ممکن ہے کہ یہ سرگوشی اور پوشیدہ باتیں موسٰی کے سامنے ہو رہی ہوں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ باتیں فرعون کے سامنے ہوں اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس منظر سے متاثر ہونے والوں نے مخفی طور پر عوام سے اس قسم کی سرگوشی اور نزاع شروع کر دیا ہو۔ لیکن بہرحال مقابلہ جاری رکھنے اور شدّت عمل کے طرفدار کامیاب ہو گئے انہوں نے گفتگو کا سلسلہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مختلف طریقوں سے، موسٰی کے ساتھ مقابلہ کرنے والوں کو تحریک کرنے لگے پہلے، "انہوں نے کہا: یہ دونوں جادوگر ہیں ۔" (قالوا ان ھٰذان لساحران)۔ (تشریحی نوٹ: یہ جملہ اعراب کے لحاظ اس طرح سے ہے کہ "ان" "انّ" کا مخف ہے، اور اسی وجہ سے اس نے اپنے مابعد پر عمل نہیں کیا۔ علاوہ ازیں"انّ" کے اسم کا رفع لغتِ عرب میں کامیاب نہیں ہے)۔ اس بناء پر ان کے مقابلہ میں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ تم اس وسیع و عریض ملک میں جادوگروں کے سردار اور بزرگ ہو اور تمہاری قوّت و طاقت ان سے زیادہ ہے۔ دوسرے یہ کہ: "وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سر زمین سے جادو کے ذریعہ باہر نکال دیں" وہ سر زمین کہ جو تمہیں جان کی طرح عزیز ہے اور تم اس سے تعلق رکھتے ہو اور وہ تم سے تعلق رکھتی ہے (یریدان ان یخرجاکم من ار ضکم بسحرھما)۔ علاوہ ازیں وہ صرف تمہیں تمہارے وطن سے نکال دینے پر ہی قانع نہیں ہیں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمہارے مقدسات کا بھی مذاق اڑیائیں "اور تمہارے بلند مرتبہ دین اور سچّے مذہب ہی کو ختم کر دیں" (ویذھبا بطریقتکم المثلیٰ)۔ (تشریحی نوٹ: "طریقة " روش کے معنی میں ہے اور یہاں مذہب مراد ہے اور "مثلی" مثل کے مادہ سے یہاں عالی اور افضل کے معنی میں ہے (ای الاشبہ بالفضیلة))۔ اَب جب کہ یہ بات ہے تو شک کو کسی طرح بھی اپنے قریب نہ بھٹکنے دو "اور اپنی تمام طاقت، منصوبہ، مہارت و قوّت جمع کرو، اور کام میں لاؤ" (فاجمعوا کیدکم)۔ "اس کے بعد سب کے سب متحد ہو کر ایک ہی صف میں، میدانِ مقابلہ میں قدم رکھو (ثم ائتوا صفاً)۔ کیونکہ اس تقدیر ساز مقابلے میں وحدت و اتحاد ہی، تمہاری کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔ اور آخر میں، "کامیابی تو آج اسی کے لیے ہو گی جو اپنی برتری اپنے حریف پر ثابت کر دے گا" :(و قد افلح الیوم من استعلیٰ)۔

65
20:65
قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَلۡقَىٰ
(جادوگروں نے) کہا: اے موسیٰ ! کیا تو پہلے(اپنے عصا کو)پھینکے گا یا پہلے ہم پھینکیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
20:66
قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ
(موسیٰ نے) کہا پہلے تم پھینکو۔ پس فوراًہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے اسے ایسی نظر آنے لگیں جیسے وہ حرکت کر رہی ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
20:67
فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ
مو سیٰ !اس وقت اپنے دل میں کچھ ڈرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
20:68
قُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰ
ہم نے کہا: ڈرو نہیں۔یقیناً کامیاب تو تم ہی ہو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
20:69
وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ
اور جو چیز تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے (اس کو زمین پر) ڈال دو۔ یہ ان تمام چیزوں کو جنہیں انہوں نے بنایا ہے نگل جائیگی کیونکہ وہ تو صرف جادوگر کا مکروفریب ہی ہیں اور جادوگر جہاں کہیں بھی جائے گا فلاح نہیں پائے گا۔

تفسیر موسٰی بھی میدان میں آ جاتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جادوگر ظاہراً متحد ہو گئے اور انہوں نے عزم بالجبرم کر لیا کہ موسٰی کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ جس وقت میدان میں قدم رکھا تو انہوں نے کہا: "اے موسٰی! کیا تو پہلے جادو کے آلات پھینکے گا یا ہم پہلے پھنیکیں (قالوا یاموسٰی اما ان تلقی واما ان نکون اوّل من القٰی)۔ بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ جادوگروں کی یہ تحویز کہ موسٰی پہلے اقدام کریں یا وہ پہل کریں، ان کی طرف سے یہ موسٰی کا ایک قسم کا احترم تھا۔ اور شاید یہی چیز تھی، کہ جس نے اس قصّہ کے بعد انہیں ایمان لانے کی توفیق فراہم کی۔ لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کیونکہ وہ پُوری قوّت کے ساتھ یہ کوشش کر رہے تھے کہ موسٰی (علیه السلام) اور ان کے معجزے کو درہم برہم کر دیں بنا بریں یہ تعبیر اس لیے ہو کہ وہ عوام پر اپنی خود اعتمادی ظاہر کریں۔ لیکن موسٰی (علیه السلام) نے جلد بازی نہ کی کیونکہ انہیں اپنی کامیابی کا پُورا اطمینان تھا اور اس سے قطع نظر، اس قسم کے مقابلوں میں عموماً وہ بازی لے جاتا ہے کہ جو پیش قدمی نہ کرے____ انہوں نے ان سے کہا "تم پہلے پھینکو" (قال بل القوا)۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی طرف سے ان کو یہ دعوتِ مقابلہ، حق کے آشکار ہونے کی تمہید تھی اور جناب موسٰیؑ کی نظر میں یہ کام نہ صرف یہ کہ کوئی امر قبیح نہیں تھا بلکہ ایک امر واجب کا مقدمہ تھا۔ جادوگروں نے بھی اس بات کو قبول کر لیا اور جتنی لاٹھیاں اور رسیاں وہ جادو کرنے کے لیے اپنے ہمراہ لائے تھے، ان سب کو ایک ہی بار میدان میں ڈال دیا، اور اگر ہم اس روایت کو کہ جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ: وہ ہزاروں آدمی تھے، قبول کر لیں، تو اس کا مفہوم یہ ہو گا، کہ انہوں نے ہزاروں لاٹھیاں اور رسیاں کہ جن کے اندر ایک خاص قسم کا مواد بھرا ہوا تھا ایک لمحہ کے اندر میدان میں پھینک دیں۔ "اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے اس طرح نظر آئیں جیسے وہ حرکت کر رہی ہوں، (فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ من سحرھما انھا تسعٰی)۔ ہاں! چھوٹے بڑے، رنگ برنگے مختلف شکلوں کے سانپ اچھلنے کودنے لگے۔ قرآن کی دوسری آیات میں اس سلسلے میں ہے: سحروا اعین النّاس واسترھبوھم وجآءو بسحر عظیم (اعراف،۱۱۶)۔ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انہیں وحشت و گھبراہٹ میں ڈال دیا۔ اور یہ ان کا بہت ہی بڑا جادو تھا۔ اور سورہ شعراء کی آیہ ۴۴ کی تعبیر کے مطابق: جادوگروں نے پکار کر کہا: وقالوا بعزة فرعون انا لنحن الغالبون فرعون کی عزّت کی قسم ہم کامیاب ہیں۔ بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ انہوں نے بہت سا ایسا مواد جیسے "پارہ" ان رسیوں اور لاٹھیوں کے اندر بھرا ہوا تھا، کہ جس سے سورج کی دھوپ میں اس مادہ کے گرم ہو جانے کی وجہ سے، غیر معمولی دوڑ بھاگ، اور مختلف قسم کی تیز حرکتیں ان میں شروع ہو گئیں۔ یقیناً یہ حرکتیں چلنے پھرنے کی نہیں تھیں، لیکن وہ بات جو جادوگروں نے لوگوں کو پہلے سے سمجھائی ہوئی تھی، اس کے ساتھ یہ خاص منظر جو وہاں وجود میں آیا اس سے لوگوں کو یوں لگا جیسے ان موجودات میں جان آ گئی ہے۔ اور وہ چل پھر رہے ہیں "سحروااعین لناس" کی تعبیر یعنی "لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا" بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح "یخیل الیہ" یعنی موسٰی کو یوں لگا بھی ہو سکتا ہے کہ اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال بہت ہی عجیب منظر تھا، جادوگر کہ جن کی تعداد بھی زیادہ تھی اور اس فن سے ان کی آگاہی بھی کمال درجہ کی تھی اور وہ اجسام کے طبعیاتی و کیمیائی خواص سے استفادہ کرنے کے طریقوں سے بھی اچھی طرح واقف تھے، لہذا وہ حاضرین پر اس طرح اثر انداز ہونے کے قابل ہو گئے کہ انہیں یہ یقین دلا دیں کہ یہ تمام بےجان چیزیں، جاندار بن گئی ہیں۔ خوشی کا ایک شور فرعونیوں کی طرف سے بلند ہوا کچھ لوگ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے چیخنے لگے اور پیچھے کی طرف ہٹ گئے۔ "اس موقع پر موسٰی نے ایک خفیف سا خوف اپنے دل میں محسوس کیا": (فاوجس فی نفسہ خیفةً موسٰی)۔ "اوجس"، "ایجاس” کے مادہ سے اصل میں"وجس" (بروزن "حبس") سے ہے جو ایک پوشیدہ آواز کے معنی میں سے لیا گیا ہے، اس بنا پر "ایجاس" ایک پوشیدہ اور اندرونی احساس کے معنی میں ہے، اور یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسٰی کا یہ اندرونی خوف، بالکل معمولی اور خفیف سا تھا، اور وہ بھی اس وجہ سے نہیں تھا، کہ وہ جادوگروں کے جادو کے اثر سے، جو رعب انگیز منظر وجود میں آیا تھا اس کی کسی اہمیت کے قائل ہو گئے تھے بلکہ انہیں خوف اس بات کا تھا کہ کہیں لوگ اس منظر سے متاثر نہ ہو جائیں اس طرح سے کہ انہیں واپس لوٹانا آسان نہ رہے۔ یا یہ کہ اس سے پہلے کہ موسٰی کو اپنا معجزہ دکھانے کی مہلت ملے، کچھ لوگ اس میدان سے ہی چلے جائیں، یا انہیں یہاں سے باہر نکال دیا جائے اور حق واضح نہ ہو سکے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ کے چھٹے خطبے میں ہے: لم یوجس موسٰی (ع) خیفة علی نفسہ بل اشفق من غلبة الجھال و دول الضلال موسٰی نے ہرگز اپنے دل میں اپنے لیے خوف محسوس نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس بات سے ڈرے کہ جاہل غالب آ جائیں اور گمراہ حکومت کامیاب ہو جائے (تشریحی نوٹ: حضرت علی علیہ اسلام نے یہ بات اس وقت فرمائی ہے جبکہ وہ لوگوں کے انحراف سے پریشان تھے وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ میری پریشانی بھی اس بناء پر نہیں ہے کہ مجھے حق کے متعلق کچھ شک و شبہ ہے کیونکہ میں نے تو جس دن حق کو دیکھا ہے ذرّہ بھر بھی مجھے شک اس میں نہیں ہوا، بلکہ میں لوگوں کے انحراف کی وجہ سے پریشان ہوں)۔ جو کچھ بیان ہو چکا ہے، اب اس کے بعد، حضرت موسٰی (علیه السلام) کے خوف کے بارے میں جو دوسرے جوابات ذکر ہوئے ہیں، ہم ان کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ بہرحال اس موقع پر خدا کی مدد اور نصرت موسٰی (علیه السلام) کے پاس آ پہنچی اور وحی کے فرمان نے ان کی ذمّہ داری واضح کر دی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے اس سے کہا: خوف کو اپنے قریب بھی نہ آنے دو یقیناً تم ہی غالب رہو گے: (قلنا لاتخف انک انت الاعلیٰ)۔ یہ جملہ پوری قاطیعت کے ساتھ موسٰیؑ کو اس کی کامیابی کے بارے میں دلی اطمینان دلا رہا ہے، (لفظ "ان" اور ضمیر کا تکرار دونوں اس معنی میں پر ایک مستقل تاکید ہیں، اور اسی طرح اس جملے کا جملئہ اسمیہ ہونا بھی) اور اس طرح سے موسٰی نے اپنی قوّت قلب کو جو لمحہ بھر کے لیے متزلزل ہوئی تھی، پھر سے مجتمع کیا۔ پھر اِن سے فرمایا گیا جو کچھ تیرے دائیں ہاتھ میں ہے اسے نیچے ڈال دے جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ ان سب کو نگل جائے گا (والق مافی یمینک تلقف ما صنعوا)۔ چونکہ ان کا کام تو صرف جادوگر کا مکر و فریب ہے۔ (انما صنعوا کید ساحر)۔ اور جادوگر جہاں کہیں بھی جائے گا کامیاب نہ ہو گا۔ (ولایفلح الساحر حیث اثی)۔ "تلقف" "لقف" کے مادہ سے (جو "وقف" کے وزن پر ہے) نگلنے کے معنی میں ہے لیکن راغب مفردات میں یہ کہتا ہے، کہ یہ لفظ اصل میں کسی چیز کو مہارت کے ساتھ پکڑنے کے معنی میں ہے، منہ کے ساتھ ہو یا ہاتھ کے ساتھ اور بعض ارباب لغت نے اسے "تیزی کے ساتھ پکڑنے" کے معنی میں سمجھا ہے جیسے فارسی میں اس جگہ "ربودن" استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اردو میں اسے "اچک لینا" کہتے ہیں)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہِ ہے کہ: یہ نہیں فرمایا کہ "اپنا عصا پھینکو" بلکہ فرمایا: "جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اسے پھینکوں۔" یہ تعبیر شاید عصا سے بےاعتنائی کے عنوان سے ہو اور اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ عصا کی کوئی اہمیت نہیں ہے جو بات اہم ہے وہ خدا کا ارادہ اور اس حکم ہے اگر اس کا ارادہ ہو تو عصا تو آسان ہے، اس سے چھوٹی اور حقیر چیز بھی اس قسم کی قدرت نمائی کر سکتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ زیر بحث آیت، میں لفظ "سحر" پہلی مرتبہ نکرہ کی شکل میں اور بعد میں اسم معرفہ کی صورت میں الف لام جنس کے ساتھ آیا ہے۔ یہ فرق شاید اس بناء پر ہو کہ پہلی مرتبہ تو مقصد یہ ہے کہ ان جادوگروں کے کام سے بےاعتنائی برتی جائے اور جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو کام انہوں نے کیا ہے وہ کسی جادوگر کے مکر سے زیادہ کچھ نہیں ہے لیکن دوسری مرتبہ اس حقیقت کو سمجھانا چاہتا ہے کہ نہ صرف یہ جادو گر بلکہ ہر جادوگر، جس زمانے، اور جس جگہ پیدا ہو، وہ کامیاب اور فلاح یافتہ نہیں ہو گا۔

۱۔ جادو کی حقیقت کیا ہے؟

اگرچہ ہم اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ اس سلسلے میں بحث کر چکے ہیں، لیکن ہم اس مقام پر بھی، مختصر وضاحت کے طور پر، چند جملے بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔" سحر" دراصل ہر اس چیز اور پر اُس کام کے معنی میں ہے کہ جس کا ماخذ مخفی اور پہناں ہو لیکن روزمرہ کی زبان میں ایسے غیر معمولی کاموں کو کہا جاتا ہے جو مختلف وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے انجام پاتے ہیں۔ کبھی تو اس میں مخض چالاکی، دھوکہ، فریب نظر اور ہاتھ کی صفائی ہوتی ہے۔ کبھی بعض اجسام و مواد کے طبیعاتی و کیمیائی غیر معلوم خواص سے استفادہ کرتا ہے اور کبھی شیاطین سے مدد لی جاتی ہے۔ اور یہ سب مفہوم اس جامع لغوی مفہوم میں داخل ہیں۔ تاریخ میں ہمیں جادو اور جادوگروں کے بارے میں بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ اور آج بھی ہمارے اس زمانے میں، ایسے اشخاص کہ جو اس قسم کے کاموں میں مشغول ہیں کم نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ موجودات کے بہت سے خواص جو گزشتہ زمانے میں عام لوگوں سے مخفی تھے۔ ہمارے زمانے میں واضح اور آشکار ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ مختلف موجودات کے تعجبّ انگیز آثار کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لہذا جادوگروں کے جادو کا بہت سا حصّہ ان کے ہاتھ سے چھن گیا ہے۔ مثلاً آج ہم علم کیمیا کے ذریعے بہت سے ایسے اجسام کو جانتے ہیں کہ جن کا وزن ہوا سے بھی زیادہ ہلکا ہے اور اگر انہیں کسی جسم کے اندر رکھا جائے تو ممکن ہے کہ اس جسم میں حرکت پیدا ہو جائے اور کسی کو اس سے تعجب بھی نہ ہو گا یہاں تک کہ موجودہ زمانے کے بچّوں کے بہت سے کھلونے شاید گزشتہ زمانے میں جادو کی کوئی قسم معلوم ہوتے ہوں۔ آج کل سرکسوں میں ایسی نمائشیں دکھائی جاتی ہیں، کہ جو گزشتہ زمانے کے جادوگروں کے جادو کے مشابہ ہیں، آئینے، طبیعاتی اور کیمیائی اجسام کے خواص، روشنی کی چمک سے، کئی طرح سے استفادہ کرتے ہوئے عجیب و غریب منظر پیش کیے جاتے ہیں، کہ جنہیں دیکھ کر بعض اوقات دیکھنے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔ البتہ ریاضت کرنے والوں کے غیر معمولی اعمال انپے مقام پر خود ایک علیحدہ داستان ہیں جو بہت ہی حیرت انگیز اور تعجب خیز ہیں۔ بہرحال جادو اور سحر کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا انکار کیا جائے یا اسے خرافات اور فضول باتوں سے نسبت دی جائے، چاہے گزشتہ زمانے میں ہو یا موجودہ زمانہ میں۔ قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ جادو اسلام میں ممنوع اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ کیونکہ بہت سے موقعوں میں، لوگوں کے گمراہ ہو جانے، حقائق کی تحریف کرنے اور سادہ لوح افراد کے عقائد کی بنیاد کو متنرلزل کرنے کا باعث ہو جاتا ہے۔ البتہ اس اسلامی حکم میں، بہت سے دوسرے احکام کی مانند، استثنائی صورتیں بھی ہیں۔ منجملہ ان کے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کے دعوےٰ کو باطل کرنے کے لیے یا جادو کے اثر کو ان لوگوں سے دور کرنے کے لیے کہ جو اس سے تکلیف اٹھا رہے ہوں، جادو کا سیکھنا مستثنیٰ ہے۔ سورة بقرہ کی آیت ۱۰۲، ۱۰۳ کے ذیل میں بھی، اس تفسیر کی پہلی جلد میں، ہم اس بارے میں تفصیل کے ساتھ بات کر چکے ہیں۔

۲۔ جادوگر، کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا؟

بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر جادوگر خارق عادت کام۔ جو معجزہ سے مشابہ ہیں۔ انجام دے سکتے ہیں ___ تو پھر ان کے کاموں اور معجزہ میں کس طرح فرق کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جادوگر کا کام ایک محدود انسانی قوّت کے سہارے سے ہوتا ہے اور معجزہ خدا کی بے پایاں اور لازوال قدرت سے معرضِ وجود میں آتا ہے۔ لہذا جادوگر کچھ محدود کام ہی سر انجام دے سکتا ہے اور اگر وہ ان کے علاوہ کچھ اور کرنا چاہے تو عاجز ہو جاتا ہے۔ وہ صرف انہی کاموں کو انجام دے سکتا ہے جن کی اُس نے پہلے سے مشق کی ہو اور ان کا ماہر ہو اور ان کے پیچ و خم سے آگاہ ہو لیکن ان کے علاوہ دوسرے کاموں میں وہ بالکل عاجز و لاچار ہو گا جبکہ انبیاء و رسل چونکہ خدا کی لازوال قدرت سے مدد لیا کرتے تھے، وہ زمین و آسمان میں ہر طرح اور ہر قسم کا خارقِ عادت کام انجام دینے پر قادر تھے۔ جادوگر لوگوں کی فرمائش کے مطابق خارق عادت کام انجام نہیں دے سکتا، مگر یہ کہ اتفاقیہ طور پر اس کے کام کے مطابق ہو جائے (اگرچہ وہ بعض اوقات اپنے ایسے دوستوں کو جنہیں لوگ پہچانتے نہیں ہیں یہ بات سکھا دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کے درمیان میں سے اٹھ کھڑے ہوں، اور وہ فرمائشیں کریں جو پہلے سے معین شدہ ہیں)۔ لیکن انبیاء بارہا اور کسی اہم معجزات کہ جو حق کے متلاشی لوگ ان سے سند نبوّت کے طور پر طلب کیا کرتے تھے انجام دیتے رہے ہیں جیسا کہ ہم حضرت موسٰی (علیه السلام) کی اسی سرگذشت میں مشاہدہ کریں گے۔ اس کے علاوہ جادو چونکہ ایک انحرافی کام ہے اور ایک قسم کا دھوکا اور فریب ہے۔ لہذا فطری طور پر ایسی طبیعتیں چاہتا ہے کہ جو اُس سے ہم آہنگ ہوں اور جادوگر بلااستثناء دھوکا باز مکار اور فریبی قسم کے لوگ ہوتے ہیں، جنہیں ان کے مزاج اور اعمال و کردار کے مطالعے اور تحقیق سے، بہت جلد پہچانا جا سکتا ہے۔ جبکہ انبیاء کا اخلاص و پاکیزگی اور پاکبازی ایک ایسی سند ہے کہ جو ان کے اعجاز کے ساتھ مل کر اس کے اثر کو کئی گنا کر دیتی ہے، (غور کیجئے گا)۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ زیر نظر آیت کہتی ہے: ولایفلح الساحر حیث اتیٰ جادوگر کہیں بھی ہو، اور جن حالات اور جس زمانہ میں ہو فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ بقول معروف بہت جلد اس کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے، کیونکہ اس کی قوّت محدود ہوتی ہے اور اس کے افکار و صفات انحرافی ہوتے ہیں۔ یہ بات صرف انہی جادوگروں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ جو انبیاء کے مقابلے میں آتے تھے، بلکہ تمام جادوگروں پر پوری طرح صادق آتی ہے کہ وہ جلدی ہی پہچان لیے جاتے ہیں اور کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

70
20:70
فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ
(پس موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ اسے نگل گیا تو جادوگر) سجدے میں گر پڑے اور انہوں نے کہا :ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
20:71
قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ فِي جُذُوعِ ٱلنَّخۡلِ وَلَتَعۡلَمُنَّ أَيُّنَآ أَشَدُّ عَذَابٗا وَأَبۡقَىٰ
(فرعون نے) کہا: کیا میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان لے آئے ہو؟ یقیناً وہ تمہارا بڑا ہے کہ جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے پس یقیناً میں تمہارے ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں کے اوپر تمہیں سولی چڑھا دوں گا اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کی سزا زیادہ دردناک اور زیادہ پائیدار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
20:72
قَالُواْ لَن نُّؤۡثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلَّذِي فَطَرَنَاۖ فَٱقۡضِ مَآ أَنتَ قَاضٍۖ إِنَّمَا تَقۡضِي هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَآ
انہوں نے کہا :اس خدا کی قسم کہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، ہم واضح و روشن دلائل پر، جو ہم تک پہنچے ہیں تجھے ہرگز مقدم نہ رکھیں گے جو حکم تو کرنا چاہے کر، کیونکہ توتو صرف اس دنیا کی زندگی میں حکم چلا سکتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
20:73
إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطَٰيَٰنَا وَمَآ أَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ ٱلسِّحۡرِۗ وَٱللَّهُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ
ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو اور تو نے ہمیں جو جادو کرنے پر کیا، اسے بخش دے۔اور خدا بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
20:74
إِنَّهُۥ مَن يَأۡتِ رَبَّهُۥ مُجۡرِمٗا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ
یقیناً جو شخص مجرم ہو کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا اس کیلئے جہنم کی آگ ہے، جس میں نہ تو وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
20:75
وَمَن يَأۡتِهِۦ مُؤۡمِنٗا قَدۡ عَمِلَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلدَّرَجَٰتُ ٱلۡعُلَىٰ
اور جو شخص مومن ہو اور اس نے نیک عمل انجام دیئے ہوں (جب وہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہو گا) تو اس کیلئے عالی درجات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
20:76
جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ مَن تَزَكَّىٰ
جنت کے دائمی باغات کہ جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں۔وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے کہ جو اپنے آپ کو پاک کرے۔

تفسیر موسٰی علیہ السلام کی عظیم کامیابی:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ موسٰی کو یہ حکم دیا گیا، کہ وہ اپنا عصا پھنیکیں، تاکہ جادوگروں کی کارروائیوں کا خاتمہ کر دیں۔ زیربحث آیات میں بھی اسی مسئلہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ البتہ جو جملے واضح تھے وہ حذف کر دیئے گئے ہیں (یعنی موسٰی نے اپنا عصا پھینکا، عصا ایک عظیم سانپ میں بدل گیا اور جادوگروں کے جادو کے تمام اسباب و آلات نگل گیا، تمام لوگوں میں ایک شور و غل بلند ہوا (فرعون سخت پریشان ہوا اور اس کے مصاحبین کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے)۔ جادوگر، جنہوں نے آج تک بھی اس قسم کا منظر نہیں دیکھا تھا اور جو جادو اور دوسری باتوں کا فرق اچھی طرح پہچانتے تھے، انہوں نے یقین کر لیا کہ یہ کام خدا کے معجزے کے سوا کچھ اور نہیں ہے اور یہ شخص خدا کا بھیجا ہوا ہے کہ جو اُنہیں ان کے پروردگار کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ان کے دلوں میں ایک طوفان اٹھا اور ایک عظیم انقلاب ان کی روح میں پھوٹ پڑا۔ اَب اِس بات کا آخری حصّہ آیات کی زبان سے سنتے ہیں: "سب کے سب جادوگر سجدے میں گر پڑے اور انہوں نے کہا کہ: "ہم موسٰی و ہارون کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں" (فالقی السحرة سجداً قالوا اٰمنا برب ھارون و موسٰی)۔ "القٰی" کی تعبیر (فعل مجہول سے استفادہ کرتے ہوئے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ، وہ موسٰی کی طرف ایسے کھنچے اور ان کے معجزہ سے ایسا متاثر ہوئے کہ گویا بےاختیار سجدے میں جا پڑے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انہوں نے صرف ایمان لانے پر ہی قناعت نہیں کی بلکہ انہوں نے اس بات کو اپنی ذمّہ داری سمجھا، کہ وہ موسٰی و ہارون کے پروردگار پر اِس ایمان لانے کا ایک واضح اور روشن صورت میں اور ایسے جملوں کے ساتھ کہ جن میں کوئی کسی قسم کا ابہام نہ ہو یعنی پوری تاکید کے ساتھ اظہار کریں تاکہ اگر کچھ لوگ ان کے اس کام سے متاثر ہو کر گمراہ ہو گئے ہوں تو وہ پلٹ آئیں اور اس لحاظ سے کسی قسم کی جواب دہی ان کے ذمّہ باقی نہ رہے۔ یہ بات واضح اور بدیہی ہے کہ جادوگروں کے اس عمل نے فرعون کے پیکر اور اس کی جابر، خود سر اور ظالم حکومت پر ایک ضرب کاری لگائی اور اس کے تمام ارکان کو ہلا کے رکھ دیا۔ سارے ملک مصر میں اس مسئلے کے بارے میں مدّتوں پروپیگنڈا ہوتا رہا تھا، اور جادوگروں کو ہر گوشہ و کنار سے اکھٹا کیا گیا تھا۔ اور ان کے لیے کامیابی کی صورت میں طرح طرح کے انعامات اور اعزازات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اب وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ جو لوگ مقابلہ کے لیے صف اوّل میں کھڑے تھے وہی ایک دم دشمن کے آگے جھک گئے اور نہ صرف یہ کہ وہ سر تسلیم خم کر چکے ہیں بلکہ وہ تو بڑی سختی کے ساتھ اس کا دفاع کرنے لگے اور یہ ایک ایسا مسئلہ تھا کہ جس کے بارے میں فرعون سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور بلاشک و شبہ لوگوں میں سے بھی ایک گروہ جادوگروں کی پیروی کرتے ہوئے موسٰی اور ان کے دین سے وابستہ ہو گیا تھا۔ لہذا فرعون کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا کہ شور و غل اور سخت اور غلیظ قسم کی دھمکیوں کے ساتھ، اپنی رہی سہی حیثیت کو بچائے۔ جادوگروں کی طرف رخ کرتے ہوئے اس نے کہا: کیا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ہو۔ (قال امنتم لہ قبل ان اٰذان لکم)۔ یہ جابر و مستکبر، نہ صرف اس بات کا مدعی تھا: کہ اس کی لوگوں کے جسم و جان پر حکومت ہے بلکہ وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ تمہارے دل بھی میرے ہی قبضہ و اختیار میں ہیں اور مجھ ہی سے تعلق رکھتے ہیں لہذا تمہارے دل کا ارادہ بھی میری اجازت کے ماتحت ہونا چاہیئے۔ یہ وہی کام ہے جو ہر زمانے میں اور ہر عصر کے فرعون اپناتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو فرعون مصر کی طرح، پریشانی کے وقت کھلم کھلا، اپنی زبان سے کہہ دیتے ہیں اور بعض پر اسرار طریقے سے ذرائع ابلاغ اور ربط اجتماعی سے استفادہ کر کے اور مختلف قسم کے سنسر لگا کر، عملی طو رپر اپنے لیے اس حق کے قائل ہیں، اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ لوگوں کو آزادانہ طور پر سوچنے کی اجازت نہیں دینا چاہیئے، بلکہ کبھی کبھی تو آزادی فکر کے نام تک سے، لوگوں کی آزادی کو سلب کر لینا چاہیئے۔ بہرحال فرعون نے اسی بات پر قناعت نہ کی، بلکہ فوراً جادوگروں پر ایک فقرہ جست کیا، اور ان پر اتہام لگاتے ہوئے کہا کہ: "یہ تمہارا بڑا ہے، اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے اور یہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ایک سازش ہے": (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر)۔ بلاشک فرعون کو معلوم تھا اور اُسے اس بات کا یقین تھا کہ جو بات وہ کہہ رہا ہے جُھوٹ ہے اور بنیادی طور پر اس قسم کی سازش کہ جو مصر کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور اس کے جاسوسوں اور خفیہ کارندوں کو خبر ہی نہ ہو ممکن نہیں ہے۔ اصولی طور پر موسٰی کو فرعون نے اپنی آغوش میں پالا تھا اور اسے یہ بھی علم تھا کہ وہ مصر سے غائب رہے ہیں۔ اگر وہ مصر کے جادوگروں سے بڑے ہوتے تو ہر جگہ اِس عنوان سے مشہور ہو جاتے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے چھپایا جا سکتا۔ لیکن ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جس وقت بےلگام اور خود سر لوگ اپنی نامشروع حیثیت کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو وہ کسی قسم کے جھوٹ اور تہمت لگانے سے باک نہیں کرتے۔ پھر اِس بات پر ہی بس نہ کی بلکہ جادوگروں کو نہایت سخت لہجے میں موت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا: "میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمہارے ایک طرف ہاتھوں کو اور دوسری طرف کے پاؤں کو قطع کر دوں گا اور بلند کھجور کے تنے پر تمہیں سولی چڑھا دوں گا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا عذاب زیادہ دردناک اور زیادہ پائیدار ہے یا موسٰی و ہارون کے خدا کا عذاب" (فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ولاصلبّنکم فی جذوع النخل و لتعلمن ایّنا اشد عذاباً وابقٰی)۔ (تشریحی نوٹ: مشہور یہ ہے کہ "ولاصلبنکم فی جذوع النخل" میں "فی" کا لفظ "علی" کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کھجور کے درخت پر سولی لٹکاؤں گا لیکن فخر رازی کا یہ نظریہ ہے کہ "فی" یہاں پر اپنا ہی معنی دیتا ہے کیونکہ "فی" ظرفیت کے لیے ہوتا ہے اور ہر چیز کی ظرفیت اس سے مناسبت رکھتی ہے اور جانتے ہیں کہ سولی کی لکڑی اس شخص کیلئے بطور ظرف استعمال ہوتی ہے کہ جسے سولی چڑھایا جائے (لیکن یہ توجہیہ کچھ صحیح نظر نہیں آتی)۔ درحقیقت "اینا اشد عذاباً" کا جملہ اس تہدید کی طرف اشارہ ہے کہ جو موسٰی نے پہلے کی تھی اور اِس قصّے سے پہلے ہی خصوصیّت کے ساتھ جادوگروں کو سنا دی تھی کہ اگر تم خدا پر جھوٹ باندھو گے تو وہ تمہیں اپنے عذاب سے نیست و نابود کر دے گا۔ "من خلاف" کی تعبیر (تمہارے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کے خلاف کاٹوں گا) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے ساتھ بایاں پاؤں یا اس کے برعکس___ شاید جادوگروں کے لیے اس قسم کی سزا کا انتخاب اس لیے تھا کیونکہ اس طرح سے انسان زیادہ دیر میں مرتا ہے، یعنی خونریزی زیادہ سست ہو گی اور تکلیف بیشتر ہو گی۔ علاوہ ازیں گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں تمہارے بدن کو دونوں طرف سے ناقص کر دوں گا۔ باقی رہی یہ دھمکی کہ تمہیں کھجور کے درخت پر سُولی دوں گا، تو یہ شاید اس بناء پر ہو کہ یہ درخت زیادہ اونچے اور بلند ہوتے ہیں اور نزدیک و دور سے سب لوگ اس شخص کو دیکھ لیتے ہیں جو اس پر لٹکایا گیا ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ اس زمانے میں اس طرح سے سولی نہیں چڑھایا جاتا تھا جس طرح سے ہمارے زمانے میں سولی دیا جاتا ہے وہ سولی کی رسّی کو اس شخص کی گردن میں، جسے سولی دینا مطلوب ہوتا تھا، نہیں ڈالتے تھے بلکہ ہاتھوں یا شانوں سے باندھ دیتے تھے، تاکہ وہ تکلیف اٹھاتا رہے۔ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ فرعون کی ان شدید دھمکیوں کے جواب میں جادوگروں نے کیا ردّعمل دکھایا؟ وہ نہ صرف یہ کہ مرعوب نہیں ہوئے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلے اور میدان سے باہر نہ نکلے بلکہ وہ میدان میں مضبوطی سے ڈٹے رہے اور کہا: "اس خدا کی قسم کہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، ہمیں جو واضح دلائل میسر آئے ہیں ہم ان پر ہرگز تجھے مقدم نہ رکھیں گے" (قالوا لن نؤثرک علی ماجائنا من البینات والذی فطرنا)۔ "تو جو فیصلہ کرنا چاہے کر لے": (فاقض ما انت قاض)۔ "لیکن یہ جان لے کہ تُو تو صرف اس دنیاوی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے: (مگر آخرت میں ہم کامیاب ہوں گے اور تو شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا) (انما تقضی ھذہ الحیاة الدنیا)۔ اس طرح سے انہوں نے تین، دو ٹوک جملے فرعون سے کہے۔ پہلا یہ کہ تم جان لو کہ، ہم نے جو ہدایت پالی ہے، اسے کسی چیز سے نہیں بدلیں گے۔ دوسرے یہ کہ ہم تیری دھمکی سے کبھی بھی ہراساں نہ ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ تیری حکومت و فعالیت یہی چار روزہ ہے۔ پھر انہوں نے مزید کہا: "اگر تو یہ دیکھ رہا ہے کہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں، تو یہ اس لیے ہے کہ تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے۔" (ہم جادو اور جادوگری کی وجہ سے بہت سے گناہوں کے مرتکب ہو چکے ہیں): (انا اٰمنا بربنا لیغفر لنا خطایانا)۔ اور اسی طرح "وہ بڑا گناہ (یعنی رسولِ خدا کے مقابلہ میں جادو کا مظاہرہ) جس کے کرنے پر تو نے مجبور کیا تھا، اللہ ہمیں معاف کرتے ہوئے اپنی رحمت میں شامل کرے اور خدا ہر چیز سے بہتر اور باقی رہنے والا ہے" (وما اکرھتنا علیہ من السحرواللہ خیروابقٰی)۔ مختصر یہ کہ ہمارا مقصد گزشتہ گناہوں سے پاک ہونا ہے۔ اُن میں سے (ایک گناہ) خدا کے سچے پیغمبر کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ہے ہم اس طرح یہ چاہتے ہیں کہ سعادتِ ابدی حاصل کر لیں لیکن تو ہمیں اس دنیا کی موت سے ڈرا رہا ہے۔ یہ تھوڑا سا ضرر اُس عظیم بھلائی کے مقابلہ میں ہمیں قبول ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ جادوگروں نے ظاہراً خوشی سے اس میدان میں قدم رکھا تھا___ اگرچہ فرعون نے ان سے بہت سے وعدے کیے تھے___ تو پھر زیربحث آیت میں "اکراہ" (مجبور کرنا) کیوں آ رہا ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ کوئی دلیل ایسی نظر نہیں آتی کہ جادوگر شروع سے ہی اس دعوت کو قبول کرنے پر مجبور نہیں تھے بلکہ "یاتوک بکل ساحر علیم" (مامورین جا کر ہر ماہر جادوگر کو لے آئیں) (اعراف ۱۱۲) کے جملے کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ ہر جادوگر کے لیے اس دعوت کو قبول کرنا لازمی و ضروری تھا۔ یقیناً فرعون کی خود سر اور استبددی حکومت میں یہ کام بالکل طبعی نظر آتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور ارادوں کی تکمیل کے لیے لوگوں کو مجبور کرتے تھے۔ باقی رہا ان میں شوق پیدا کرنے کے لیے انعام و اکرام مقرر کرنا تو یہ اِس بات کے منافی نہیں ہے کیونکہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بےلگام ستمگر حکومتیں زور اور طاقت سے کام لینے کے ساتھ ساتھ مادی لالچ سے بھی استفادہ کرتی ہیں۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ جادوگر جونہی حضرت موسٰی (علیه السلام) کے سامنے آئے کچھ قرائن سے اِن پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ موسٰی (علیه السلام) حق پر ہیں یا کم از کم وہ شک و شبہ میں پڑ گئے تھے اور اسی بناء پر ان میں گومگوکی حالت پیدا ہو گئی تھی جیسا کہ ہم نے اسی سورہ کی آیہ۶۲ میں پڑھا ہے: "فتنازعوا امرھم بینھم" فرعون اور اس کے درباری اس صورت حال سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے انہیں مقابلہ جاری رکھنے پر مجبور کیا۔ جادوگروں نے اس کے بعد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایمان لے آئے ہیں تو اس کی دلیل واضح و روشن ہے: "کیونکہ جو شخص بےایمان اور گنہگار قیامت میں خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، اس کے لیے دوزخ کی جلانے والی آگ ہے": (انہ من یات ربہ مجرماً فان لہ جھنم)۔ اور دوزخ میں سب سے بڑی مصیبت اس کے لیے یہ ہے کہ: "اس میں نہ تو وہ مرے گا اور نہ زندہ ہو گا" (لایموت فیھاولایحییٰ)۔ بلکہ وہ ہمیشہ موت اور زندگی کی کشمکش میں رہے گا ایسی زندگی کہ جو موت سے زیادہ تلخ اور تکلیف دہ ہو گی۔ "اور جو شخص اِس عظیم بارگاہ میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ پہنچے گا، وہ عالی درجوں پر فائز ہو گا": (ومن یاتہ مومنا قد عمل الصالحات فاولٰئک لھم الدرجات العلیٰ)۔ "ہمیشہ باقی رہنے والی جنّتیں کہ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے": (جنات عدن تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا)۔ "اور یہ اُس شخص کی جزا ہے کہ جو ایمان اور اطاعت پروردگار کے ساتھ اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ کرے" (وذالک جزاء من تزکیٰ)۔ آخر کی تین آیات جادوگروں کی اس گفتگو کا حصّہ ہیں جو انہوں نے فرعون کے سامنے کی تھی یا خداکی طرف سے مستقل جملے ہیں کہ جو یہاں اُن کی گفتگو کی تکمیل کے لیے فرمائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض انہیں جادوگروں کی گفتگوں کا آخری حصّہ سمجھتے ہیں اور شاید "انہ" سے شروع ہونا کہ جو واقعا علّت کے بیان کرنے کے لیے آتا ہے، اِس نظریہ کی تائید کرتا ہے۔ لیکن وہ تفصیل جو ان تینوں آیات میں، صالح مومنین اور مجرم کافروں کے مستقبل کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اور "ذٰلک جزٰء من تزکیٰ" (یہ اس کی جزا ہے جو پاکیزگی اختیار کرے) کے جملہ پر ختم ہوتی ہے اور وہ اوصاف بھی کہ جو جنّت اور دوذخ کے بارے میں اس میں بیان ہوئے ہیں، دوسرے نظریہ کی تائید کرتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ کیونکہ جادوگر ایسی بات جبھی کر سکتے تھے کہ انہوں نے اس مختصر سی مدّت میں معرفت و علوم الہٰی کا وافر حصّہ حاصل کر لیا ہو، کہ جس بناء پر وہ جنّت و دوزخ اور مومنین و مجرمین کے انجام کے بارے میں اس قسم کا دو ٹوک اور آگاہانہ فیصلہ کر سکیں۔ مگر یہ کہ ہم کہیں کہ خدا نے ان کے ایمان کی وجہ سے یہ پُرمعنی باتیں ان کی زبان پرجاری کر دی تھیں اگرچہ یہ بات خدائی تربیت اور نتیجہ کے لحاظ سے ہمارے لیے کوئی فرق نہیں ڈالتی کہ خدا نے خود فرمایا ہو یا خداکی طرف سے تعلیم یافتہ مومنین نے خاص طور پر جبکہ قرآن اسے تائید کے لہجے میں بیان کر رہا ہے۔س

چند اہم نکات ۱۔ علم، ایمان و انقلاب کا سرچشمہ ہے:

سب سے اہم مسئلہ کہ جو زیر بحث آیات میں نظر آتا ہے، وہ موسٰی (علیه السلام) کے مقابلہ میں آنے پر جادوگروں میں پیدا ہونے والی گہری اور فوری تبدیلی ہے۔ وہ جس وقت حضرت موسٰی (علیه السلام) سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، تو ان کے انتہائی سخت دشمن تھے لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) کا پہلا ہی معجزہ دیکھ کر اس طرح سے ہل گئے، اور بیدار ہو گئے اور انہوں نے اپنے راستے کو بدل لیا کہ سب لوگ حیران و ششدر رہ گئے۔ کفر سے ایمان کی طرف، انحراف سے دوستی و استقامت کی طرف، کجی سے راستی کی طرف اور ظلمت سے نور کی طرف، اس فوری اور تیزی کے ساتھ راستے کی تبدیلی نے سب کو ایسی بوکھلاہٹ میں ڈالا کہ شاید فرعون کو بھی اس بات پر یقین نہیں آتا تھا۔ لہذا اس نے کوشش کی کہ اسے ایک پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ اور سازش قرار دے حالانکہ وہ خود جانتا تھا کہ اس کی یہ بات جھوٹی ہے۔ کون سا عامل اس گہرے اور سریع انقلابِ ذہنی کا سبب بنا اور کونسے عامل نے نور ایمان اس قوت سے ان کے دل میں چمکایا کہ وہ اپنے وجود اور ہستی تک کو اس کام کی خاطر داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہو گئے_____ یہاں تک کے تاریخ کہتی ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا اور انہیں اس وحشیانہ طریقے سے شہید کر دیا۔ کیا علم و آگاہی کے سوا کوئی اور عامل یہاں دکھائی دیتا ہے؟ وہ چونکہ فنون اور رموز سے آشنا تھے، اور انہوں نے صاف طور پر جان لیا تھا کہ موسٰی (علیه السلام) کا کام جادو نہیں ہے۔ بلکہ خدائی معجزہ ہے۔ لہذا انہوں نے بڑی جرات سے اور قاطع انداز میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ اس سے ہمیں یہ اچھی طرح معلوم ہو جاتا کہ افراد یا معاشرے میں تبدیلی لانے اور ایک تیز اور سچا انقلاب پیدا کرنے کے لیے ہر چیز سے پہلے انہیں علم و آگاہی دینے کی ضرورت ہے (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں ہم۔ سورہ اعراف کی آیہ ۱۲۳ تا ۱۲۶ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں دیکھئے، جلد ۴، ص ۲۵۹ (اردو ترجمہ)۔

۲۔ ہم تجھے "بیّنات" پر مقدم نہیں کرتے:

یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ انہوں نے بے منطق و دلیل فرعون کے مقابلے میں منطقی ترین تعبیر کو اختیار کیا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ ہم نے موسٰی کی حقانیت اور اس کی خدائی دعوت پر روشن اور وضح دلائل پائے ہیں اور ہم کسی بھی چیز کو ان روشن اور واضح دلائل پر مقدم نہیں کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے "والذی فطرنا" (قسم ہے اس کی جس نے ہمیں خلق فرمایا) کہہ کر اس مطلب کی تاکید کی کلمہ "نظرنا" ان کی فطرتِ توحیدی کی طرف گویا ایک بادشاہ ہے یعنی ہم اپنی روح کے اندر بھی توحید کی جھلک دیکھ رہے ہیں اور دلیل عقل سے بھی سمجھ رہے ہیں۔ تو ان واضح و آشکار دلائل کے ہوتے ہوئے، ہم اس سیدھی راہ کو چھوڑ کر تیرے ٹیڑھے راستوں پر کیسے چل سکتے ہیں؟ اِس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے "والذی فطرنا" کو قسم کے معنی میں نہیں لیا ہے بلکہ اسے "ماجائنا من البینات" کے معنی پر عطف جانا ہے۔ اس بنا پر پورے جملے کا معنی اس طرح ہو گا: "ہم تجھے ان واضح و روشن دلائل اور اس خدا پر کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے ہرگز مقدم نہ کریں گے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان دونوں کا ایک دوسرے پر عطف مناسب نہیں ہے (غور کیجئے گا)۔

۳۔ مجرم سے کون مراد ہے؟

زیر بحث آیات میں ہے: "جو شخص بھی محشر میں مجرم (کی حیثت سے) وارد ہو گا، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔" اس کا ظاہری معنی ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر مجرم کا انجام یہی ہے؟ لیکن اِس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ بعد والی آیات میں کہ جو اس کے فریق مقابلہ کو بیان کرتی ہیں، لفظ "مومن" آیا ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں"مجرم" سے مراد کافر ہے۔ علاوہ ازیں اس لفظ کا کافر کے معنی میں استعمال قرآن کی اور بھی آیات میں دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً، قوم لوط کے بارے میں جو ہرگز اپنے پیغمبر پر ایمان نہیں لائی، یہ بیان ہوا ہے کہ: وامطرنا علیھم مطرًا فانظر کیف کان عاقبة المجرمین ہم نے اُن پر پتھر کی بارش کی، پس دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا؟ (سورہ اعراف ۔۸۴) اور سورہ فرقان کی آیہ۳۱ میں ہے: وکذالک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے کچھ دشمن قرار دئیے ہیں۔

۴۔ ماحول کی مجبوری ایک بہانہ ہے:

زیر نظر آیات میں جادوگروں کی سرگذشت نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ماحول کی مجبوری کا مسئلہ ایک جھوٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ انسان فاعل مختار ہے اور ارادے کی آزادی کا مالک ہے۔ جس وقت بھی وہ مصمم ارادہ کرے اسے اسی وقت باطل کی طرف سے حق کی جانب اپنے راستے کو بدل سکتا ہے، چاہے اس کے ماحول کے تمام لوگ گناہ میں غرق اور منحرف ہی ہوں۔ وہ جادوگر جو سالہا سال سے اسی شرک آلود ماحول میں نہایت شرک آمیز اعمال کے خود مرتکب ہو رہے تھے، جس وقت انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ حق کو قبول کریں اور اس کے راستہ میں عاشقانہ انداز میں ڈٹ جائیں تو وہ کسی دھمکی سے نہ ڈرے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی کے قول کے مطابق: "کانوا اوّل النھار کفاراً سحرة و اٰخر النھار شھداءً بررة" وہ صبح کے وقت تو کافر اور جادوگر تھے اور شام کے وقت راہ حق کے نیکوکار شہید بن گئے (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، ج ۴، ص ۴۶۴ (آیہ ۱۲۶ سورہ اعراف کے ذیل میں))۔ اِس سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ مذہب کی پیدائش کے بارے میں مادئین خصوصاً مارکسسٹوں کے افسانے کِس قدر کمزور اور بےبنیاد ہیں، وہ ہر تحریک کا عامل اور سبب اقتصادی مسائل ہی کو سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہاں معاملہ بالکل برعکس تھا کیونکہ جادوگر شروع میں ایک طرف تو فرعون کے غلبہ و اقتدار کے دباؤ سے اور دوسری طرف اس کے اقتصادی لالچ میں آ کر حق کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آئے تھے لیکن اللہ پر ایمان نے ان سب چیزوں کو ختم کر دیا۔ انہوں نے مال و مقام کہ جس کا فرعون نے ان سے وعدہ کیا تھا ایمان کے قدموں میں ڈال دیا اور اپنی عزیز جان بھی اس عشق میں قربان کر دی۔

77
20:77
وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو (مصر سے) اپنے ساتھ لے جا اور ان کیلئے دریا میں سے خشک راستہ بنا دے،تاکہ نہ تو (فرعونیوں کے) تعاقب سے تجھے خوف ہو اور نہ دریا میں غرق ہونے کا ڈر ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
20:78
فَأَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلۡيَمِّ مَا غَشِيَهُمۡ
(اس طرح)سے فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور دریانے انہیں (اپنی پر خروش موجوں کے درمیان)پوری طرح چھپا لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
20:79
وَأَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر دیا اور ہرگز ہدایت نہ کی۔

تفسیر بنی اسرائیل کی نجات اور فرعونیوں کا غرق ہونا:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جب حضرت موسیٰؑ نے جادوگروں پر دوٹوک اور نمایاں کامیابی حاصل کر لی اور کثیر تعداد میں موجود یہ جادوگر آپ پر ایمان لے آئے تو آپ کا دین باقاعدہ طور پر مصر کے لوگوں کے افکار و اذاہان میں داخل ہو گیا۔ اگرچہ قبطیوں کی اکثریت نے اُسے قبول نہیں کیا لیکن یہ ان کے لیے ہمیشہ ایک مسئلہ بنا رہا۔ مصر میں بنی اسرائیل اقلیت میں تھا تاہم حضرت موسیٰؑ کی رہبری میں ہمیشہ کے لیے آلِ فرعون کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی شروع ہو گئی۔ کئی سال اِسی طرح سے گزر گئے اور کسی تلخ و شیریں حادثات پیش آئے جن کے بعض حصے قرآن نے سورۃ اعراف کی آیہ ۱۲۷ کے بعد بیان کیے ہیں۔ زیر بحث آیات میں واقعات کا آخری حصہ یعنی بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات مصر سے باہر نکال کر لے جا (ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی)۔ بنی اسرائیل، معینہ علاقے (فلسطین) کی طرف چلنے کے لیے تیار ہو گئے لیکن جس وقت وہ دریائے نیل کے کنارے پر پہنچے تو فرعونیوں کو خبر ہو گئی۔ فرعون نے ایک لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ بنی اسرائیل نے آپ کو دریا اور دشمن کے محاصرہ میں پایا۔ ایک طرف عظیم دریائے نیل اور دوسری طرف غیض و غضب میں ڈوبا ہوا طاقتور اور خونخوار دشمن۔ لیکن خدا تو یہ چاہتا تھا کہ اِس صاحبِ ایمان، محروم کو ظالموں کے چنگل سے نجات بخشے اور ستمگروں کو ہلاک و نابود کر دے۔ اُس نے موسیٰ کو حکم دیا: "ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دے" (فاضرب لھم طریقاً فی البحر یبساً)۔ (لا تخاف درکاً ولا تخشیٰ)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نہ صرف راستہ بن گیا بلکہ یہ راستہ، خدا کے حکم سے ایک خشک راستہ تھا۔ حالانکہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اگر دریا یا سمندر کا پانی ہٹ بھی جائے تو پھر بھی اس کی نشیبی جگیں مدتوں قابلِ عبور نہیں ہوتیں۔ "راعب" "مفردات" میں کہتا ہے کہ دَرک" (بروزن "مرگ") سمندر کی گہرائی کے سب سے نچلے حصہّ کے معنی میں ہے اور اُس رسّی کو بھی "درک" (بروزن" محک") کہا جاتا ہے جسے دوسری رسی کے ساتھ اس لیے جوڑتے ہیں تاکہ وہ پانی تک پہنچ جائے۔ اسی طرح وہ خسارے، جو انسان کو اُٹھانے پڑتے ہیں انہیں بھی: درک" کہتے ہیں۔ "درکات نار" "درجات جنّت" کے، مقابلہ میں، دوزخ کے نچلے مراحل کے معنی میں ہے۔ لیکن سورۃ شعراء کی آیت ۶۱ کے مطابق___ جب بنی اسرائیل فرعون کے لشکر کی آمد سے باخبر ہوئے تو انہوں نے موسیٰ سے کہا، "انا لمدرکون" "ہم تو فرعون کے چنگل میں پھنس گئے۔" اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت، میں "درک" سے مراد یہ ہے کہ تمہیں اس طرح سے گرفتار بھی نہیں کیا جائے گا، اور "لاتخشی" کا مطلب یہ ہے کہ دریا کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ اِس طرح موسیٰ اور بنی اسرائیل اِن راستوں میں داخل ہو گئے کہ جو دریا میں پانی کے ہٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے۔ اس موقع پر فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریا کے کنارے پر پہنچ گیا اور اس نے یہ غیر متوقع اور حیرت انگیز منظر دیکھا "اور فرعون نے اپنے لشکر کو بنی اسرائیل کے پیچھے لگا دیا۔ اور خود بھی اسی راستہ پر چلنے لگا" (فاتبعھم فرعون بجنودہ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ "با" بجنودہٖ" میں "مع" کے معنی میں ہے اور اس جملہ کا یہ معنی ہے: فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کیا "اگرچہ ان دونوں تفسیروں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ہے)۔ مسلمہ طور پر فرعون کا لشکر شروع میں اِس بات کو پسند نہیں کرتا تھا کہ اس خطرناک ناشناختہ جگہ میں قدم رکھے اور بنی اسرائیل کا پیچھا کرے۔ کم از کم ایسے عجیب و غریب معجزے کا مشاہدہ اُنہیں اِس راستے پر چلنے سے روکنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن فرعون_____ جس کے دماغ میں غرور و نخوت کی ہوا بھری ہوئی تھی_____ ہٹ دھرمی اور سرکشی پر تلا ہوتا تھا، وہ ایک ایسے عظیم معجزے کے پاس سے بےاعتنائی کے ساتھ گزر گیا اور اپنے لشکر کو ان انجانے دریائی راستوں میں داخل ہونے کے لئے اُبھارا۔ اِدھر فرعون کے لشکر کا پہلا آدمی دریا میں اُترا اور اُدھر بنی اسرائیل کا آخری شخص دریا سے باہر نکل گیا۔ اُس وقت پانی کی موجود کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر پلٹ آئیں، موجیں اُس فرسودہ عمارت کی مانند کہ جس کی بنیادیں نکال دی جائیں، ایک دم ان کے اُوپر آ پڑیں: "اور وہ پوری طرح دریا کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجود کے نیچے چُھپ گئے (فغشیھم من الیم ماغشیھم)۔ (تشریحی نوٹ: "یم" سمندر کے معنی میں ہے اور عظیم دریا کے معنی بھی دیتا ہے۔ بعض محققین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک قدیم مصری لغت کا لفظ ہے نہ کہ عربی۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد۴، ص۲٣٥ (اُردو ترجمہ) کے حاشیہ کی طرف رجوع کریں)۔ اور اس طرح سے ایک جابر و ستمگر اپنے طاقتور اور زبردست لشکر کے ساتھ پانی کی موجود میں غوطے کھانے لگا۔ اور اُس کے لشکری دریا کی مچھلیوں کا لقمہ بن گئے۔ ہاں "فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا ور ہرگز انہیں ہدایت نہ کی" (واضل فرعون قومہ و ماھدٰی)۔ یہ ٹھیک ہے کہ "اضل" اور "ماھدٰی" کے جملے تقریباً ایک ہی مفہوم دیتے ہیں اور شاید اِسی بناء پر بعض مفسرین نے اِسے تاکید سمجھا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں آپس میں فرق رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ "اضل" تو گمراہ کرنے کی طرف اشارہ ہے اور "ماھدٰی" گمراہی کے واضح اور روشن ہونے کے بعد ہدایت نہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ، ایک رہبر سے بعض اوقات اشتباہ بھی ہو جاتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو غلط اور انحرافی راستہ پر چلانے لگتا ہے لیکن جب وہ متوجہ ہو تو فوراً انہیں صحیح راستہ کی طرف پلٹا کر لے جاتا ہے لیکن فرعون اس قدر ہٹ دھرم تھا کہ گمراہی کا مشاہد کرنے کے بعد اس نے اپنی قوم سے حقیقت کو بیان نہیں کیا اور انہیں اس طرح سے بےراہ روی کی طرف کھینچتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اور اس کی قوم سب نابود ہو گئے۔ بہرحال یہ جملہ درحقیقت فرعون کی اُس بات کی کہ جو سورہ مومن کی آیہ ۲٩ میں بیان ہوئی ہے نفی کرتا ہے: وما اھدیکم الاسبیل الرشاد۔ میں تمہیں سیدھی راہ کی ہی ہدایت کرتا ہوں۔ واقعات نے نشاندہی کر دی ہے کہ اس کا یہ جملہ______ اس کے دوسرے جھوٹوں کی طرح____ ایک بہت بڑا جھوٹ تھا۔

80
20:80
يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ قَدۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰ
اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن (کے چنگل) سے نجات دی،اور کوہ طور کی دائیں طرف کیلئے تمہارے ساتھ وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
20:81
كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَلَا تَطۡغَوۡاْ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبِيۖ وَمَن يَحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِي فَقَدۡ هَوَىٰ
وہ پاکیزہ رزق کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھاؤ لیکن اس میں سر کشی نہ کرو، (ورنہ) میرا غضب تم پر آئے گا۔اور جس پر میرا غضب آیا وہ تباہ ہو گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
20:82
وَإِنِّي لَغَفَّارٞ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا ثُمَّ ٱهۡتَدَىٰ
میں ان لوگوں کو بخش دوں گا کہ جو توبہ کر لیں،ایمان لے آئیں اور عمل صالح انجام دیں اور اس کے بعد ہدایت پر رہیں۔

تفسہر نجات کی واحد راہ:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی آل فرعون کے چنگل سے نجات کا بیان ایک عظیم معجزہ کی صورت میں کیا گیا تھا___ اب زیر نظر تینوں آیات میں بنی اسرائیل سے عمومی اعتبار سے گفتگو ہو رہی ہے اور انہیں وہ عظیم نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں جو خدا نے انہیں بخشی ہیں اور انہیں راہِ نجات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن کے چنگل سے رہائی بخشی (یا بنی اسرائیل قد انجيناكم من عدوكم)۔ یہ بات واضح ہے کہ ہر مثبت فعالیت کی بنیاد دُوسروں کے تسلط اور غلبہ سے نجات پانا اور استقلال و آزادی کا حصول ہے۔ اِسی بناء پر سب سے پہلے اسی چیز کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اِس کے بعد ایک اہم معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے تمہیں ایک مقدس وعده گاه کی طرف دعوت دی، کوہ طور کے دائیں طرف، جو وحی الٰہی کا مرکز ہے: (وواعدناكم جانب الطور الايمن)۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے ساتھ طور کی وعدہ گاہ کی طرف جانے کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اسی وعدہ گاہ میں خدا نے موسٰیؑ پر تورات کی الواح نازل کیں اور اُن سے باتیں کیں اور پروردگار کے جلوہ خاص کا سب نے مشاہده کیا۔ (تشریحی نوٹ: اِس واقعہ کی تفصیل چوتھی جلد سوره اعراف کی آیت ۱٥٥، ۱٥۶ کے ذیل میں مطالعہ فرمائیں)۔ اس کے بعد ایک اہم مادی نعمت ــــــ کہ جو بنی اسرائیل کے لیے خدا کا ایک لُطفِ خاص تھا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تم پر "من" و "سلویٰ" نازل کیا: (و نزلنا عليكم المن والسلوی)۔ جب تم اُس بیابان میں سرگردان تھے۔ پاس کوئی مناسب غذا نہیں تھی، تو لطف خاص تمہاری مدد کے لیے آگے بڑھا۔ لذیز اور خوش مزہ کھانا اتنی مقدار میں کہ جتنی تمہیں ضرورت تھی، تمہیں مہیا کیا۔ تم اُس سے استفادہ کرتے رہے۔ اِس بارے میں کہ "من و سلوی" سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے بہت بحث کی ہے، جسے ہم نے اِسی تفسیر کی پہلی جلد میں (سورہ بقرہ کی آیہ ٥۷ کے ذیل میں) بیان کیا ہے اور مفسرین کے اقوال نقل کرنے کے بعد ہم نے لکھا ہے کہ، بعید نہیں ہے کہ "من" ایک قسم کا طبیعی شہد ہو کہ جو اِس بیابان کے قریب کے پہاڑوں میں پایا جاتا تھا، یا یہ ایک مخصوص قسم کا قوت بخش نباتی شیرہ ہو، جو اس بیابان کے اطراف میں اُگے ہوئے درختوں سے نکلتا تھا اور "سلوٰی" ایک قسم کا حلال گوشت کبوتر کے مشابہ ہی پرندہ تھا (مزید وضاحت کے لیے جلد اول میں مذکورہ آیت کے ذیل میں رجوع کریں)۔ بعد والی آیت میں ان تینوں بیش بہا نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن انہیں اس طرح سے خطاب کرتا ہے: ہم نے جو پاکیزہ روزی تمهیں دی ہے اس میں سے کھاؤ، لیکن اس میں سرکشی نہ کرنا (كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فیہ)۔ نعمتوں میں طغیان یہ ہے کہ انسان ان سے خدا کی اطاعت اور اپنی سعادت کے لیے استفادہ کرنے کی بجائے، ان کو گناہ، ناشکری، کفرانِ نعمت، سرکشی اور اِدھر اُدھر کے افکار کا اسیر بننے کا ذریعہ بنا لے جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا۔ ان کو یہ تمام خدائی نعمتیں حاصل تھیں اور پھر بھی کفر و طغیان و گناه کی راہ پر چل پڑے۔ اس کے بعد انہیں خبردار کیا گیا ہے: اگر تم طغیان و سرکشی کرو گےتو میرا غضب تمہیں دامن گیر ہو جائے گا (فيحل عليکم غضبي)۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے: (ومن يحلل عليه غضبي فقد ھوی)۔ "ھوی" دراصل بلندی سے گرنے کے معنی میں ہے، کہ جس کا نتیجہ عام طور پر نابود ہونا ہے۔ علاوہ ازیں یہاں پر مرتبہ و مقام سے گرنا، اور قربِ پروردگار سے دوری اور اس کی جناب سے راندہ درگاہ ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے۔ چونکہ یہ بات ہمیشہ ضروری ہے کہ تنبیہ و تهدید کے ساتھ ساتھ تشویق و بشارت بھی ہو تاکہ اُمید و بیم کی قوت کو ـــــ کہ جو ارتقاء تکامل کے لیے بنیادی عامل ہے____ یکساں طور پر اُبھارے اور توبہ کرنے والوں کے لیے واپسی کے دروازوں کو کھُلا رکھے۔ لہذا بعد والی آیت کہتی ہے: مَیں اُن لوگوں کو بخش دوں گا کہ جو توبہ کر لیں، ایمان لے آئیں، نیک عمل انجام دیں۔ اور اس کے بعد ہدایت پر بھی قائم رہیں: (وَاِنِّـىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُـمَّ اهْتَدٰى)۔ اِس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "غفار" مبالغہ کا صیغہ ہے، یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا اس قسم کے لوگوں کو نہ صرف ایک دفعہ بلکہ بار بار اپنی بخشش اور مغفرت سے نوازتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ توبہ کی پہلی شرط گناہ کا ترک کرنا ہے اور جب اِنسان کی رُوح سے گناہوں کی آلودگی برطرف ہو جائے تو اِس کے بعد دوسری شرط یہ ہے کہ خدا پر ایمان اور توحید کا نور اِس میں جلوہ گر ہو۔ اور تیسرے مرحلے میں ایمان و توحید کے شگوفے ـــــــ جو کہ اعمال صالح اور پسندیدہ کام میں وجودِ انسان کی شاخوں پر پھُوٹنے چاہئیں۔ لیکن قرآن کی دوسری تمام آیات کے برخلاف___ کہ جو صرف توبہ، ایمان اور عمل صالح کی بات کرتی ہیں___ یہاں پر چوتھی شرط کا "ثم اھتدی" کے عنوان کے تحت اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے معنی کے بارے میں مفسرین نے بہت بحث کی ہے۔ اِس ضمن میں مفسرین کی مختلف تعبیروں میں دو زیادہ جاذبِ نظر معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی تفسیر: تو یہ ہے کہ یہ راہِ ایمان و تقوی اور عمل صالح کو دوام بخشنے اور جاری رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی توبہ گزشتہ گناہوں کو تو دھو ڈالتی ہے اور باعثِ نجات بنتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ توبہ کرنے والا شخص اور پھر اُسی شرک و گناہ کے گڑھے میں نہ گر جائے۔ اور وہ ہمیشہ اِس بات پر نظر رکھے کہ شیطانی وسوسے اور اس کا نفس اُسے سابقہ راستے پر ہی نہ لے جائیں۔ دوسری تفسیر: یہ ہے کہ یہ جملہ خدائی رہبروں کی رہبری کو قبول کرنے اور ان کی ولایت کو تسلیم کرنے کے وجوب کی طرف اشارہ ہے یعنی توبہ و ایمان و عمل صالح اسی وقت باعث نجات ہو سکتے ہیں کہ جب یہ خدائی رہبروں کی ہدایت کے زیر سایہ انجام پذیر ہوں۔ وہ ایک زمانے میں موسٰیؑ تھے، دوسرے زمانہ میں پیغمبر اسلامؐ تھے۔ ان کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام تھے اور آج حضرت مهدی (سلام اللہ علیہ ) ہیں۔ کیونکہ ارکان دین میں سے ایک پیغمبر کی دعوت اور ان کی رہبری کو قبول کرنا ہے اور ان کے بعد ان کے جانشینوں کی رہبری کو قبول کرنا ہے۔ مرحوم طبرسی اس آیت کے ذیل میں امام باقرؑ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: "ثم اھتدیٰ" کے جملہ سے مراد ہے اہل بیت کی ولایت کی ہدایت ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: فوالله لو ان رجلا عبد الله عمره مابين الركن والمقام ثم مات ولمیجیء بولايتنا لاكبه الله في النار على وجهه خدا کی قسم اگر کوئی شخص تمام عمر) خانہ کعبہ کے پاس (رکن و مقام کے درمیان عبادت کرے اور پھر دُنیا سے اِس حالت میں جائے کہ ہماری ولایت کو اُس نے قبول نہ کیا ہو، تو خدا اُسے منہ کے بل جہنم کی آگ میں پھینکے گا۔ اِس روایت کو اہل سنت کے مشہور محدث "ابو القاسم حاکم حسکانی" نے بھی نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، آیہ زیر بحث کے ذیل میں)۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اصل کو ترک کرنا، کسی حد تک موجب ہلاکت و تباہی ہے، بعد کی آیات میں غور و فکر کرنا ہی کافی ہے۔ کہ بنی اسرائیل موسٰیؑ اور ان کے جانشین ہارون کی ولایت کے دامن کو چھوڑنے اور ان کی ہدایت کی پیروی سے باہر نکل جانے کے سبب کس طرح سے گوسالہ پرستی اور شرک و کفر میں گرفتار ہو گئے۔ آلوسی نے تفسیر رُوح المعانی میں اِن روایات میں سے کچھ کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اہل بیتؑ کی محبت واجب ہونے میں تو ہمارے نزدیک بھی تردید کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کا بنی اسرائیل اور موسٰیؑ کے زمانے سے کوئی ربط و تعلق نہیں ہے _____ ہماری مندرجہ بالا گفتگو سے واضح ہو جاتا ہے کہ آلوسی کا یہ اشکال بےبنیاد ہے۔ چونکہ اول تو بحث محبت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ بات رہبری کو قبول کرنے سے متعلق ہے اور دوسرے اہل بیت میں رہبری کو منحصر کرنا مراد نہیں ہے بلکہ موسٰیؑ کے زمانے میں وہ اور ان کے بھائی ہارون رہبر تھے، اور ان کی ولایت کو قبول کرنا واجب تھا اور پیغمبر اسلام صلی علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں آنحضرتؐ کی ولایت اور آئمہ اہل بیتؑ کے زمانے میں اُن کی ولایت کو قبول کرنا واجب تھا۔ یہ بات بھی بالکل واضح و روشن ہے کہ اس آیت کے مخاطب اگرچہ بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ بات اُنہیں میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ جو بھی شخص یا گروہ اِن چاروں مراحل کو طے کرے گا، خدا کی مغفرت اور بخشش اس کے شاملِ حال ہو گی۔

83
20:83
۞وَمَآ أَعۡجَلَكَ عَن قَوۡمِكَ يَٰمُوسَىٰ
اے موسیٰ ! کیا سبب ہوا کہ تو (کوہ طور پر آنے کیلئے) اپنی قوم سے جلدی کرکے آگے پہنچ گیا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
20:84
قَالَ هُمۡ أُوْلَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِي وَعَجِلۡتُ إِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضَىٰ
عرض کیا :پروردگارا ! وہ تو میرے پیچھے پیچھے (آ رہے) ہیں،اور میں نے تیری طرف(آنے کی اسلئے) جلدی کی تاکہ تو مجھ سے راضی ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
20:85
قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ
فرمایا: ہم نے تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈالدیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
20:86
فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًاۚ أَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡعَهۡدُ أَمۡ أَرَدتُّمۡ أَن يَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُم مَّوۡعِدِي
موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے اور افسوس کرتے ہوئے پلٹے،(اور ان سے)کہا :اے میری قوم ! کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا تم سے میری جدائی کی مدت زیادہ ہو گئی تھی یا تم یہ چاہتے تھے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غصب ٹوٹ پڑے کہ تم نے میرے وعدے کی مخالفت کی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
20:87
قَالُواْ مَآ أَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلۡنَآ أَوۡزَارٗا مِّن زِينَةِ ٱلۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلۡقَى ٱلسَّامِرِيُّ
انہوں نے کہا :ہم نے اپنے ارادہ و اختیار سے تو تیرے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ (ہوا یہ کہ)ہم (فرعون کی) قوم کے کچھ زیورات اٹھا لائے تھے۔ ہم نے ان کو(آگ میں )ڈال دیا اور سامری نے بھی اسی طرح (زیور آگ میں ) ڈال دیئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
20:88
فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
پھر اس نے(انہی پگھلے ہوئے زیورات سے) ان کیلئے ایک بچھڑا بنا ڈالا۔وہ ایک ایسی صو رت تھی جس میں سے گائے کی سی آواز آتی تھی اور لوگوں سے کہا کہ یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا خدا بھی یہی ہے۔ (مگر) اس (سامری) نے اپنا عہد فراموش کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
20:89
أَفَلَا يَرَوۡنَ أَلَّا يَرۡجِعُ إِلَيۡهِمۡ قَوۡلٗا وَلَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا
کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کا جواب تک نہیں دیتا اور نہ وہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نفع؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
20:90
وَلَقَدۡ قَالَ لَهُمۡ هَٰرُونُ مِن قَبۡلُ يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوٓاْ أَمۡرِي
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اے (میری) قوم ! تمہاری اس بچھڑے کے ذریعے سے آزمائش کی گئی ہے، اور بلاشبہ تمہارا پروردگار تو خدائے رحمن ہی ہے۔پس تم میری پیروی کرو اور میرے فرمان کی اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
20:91
قَالُواْ لَن نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عَٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرۡجِعَ إِلَيۡنَا مُوسَىٰ
اس پر انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم تو(عبادت کیلئے) اسی کے گرد گھومتے رہیں گے جبتک کہ موسیٰ خود پلٹ کر ہمارے پاس نہ آئے۔

تفسیر سامری کا شور و غوغا

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اِن آیات میں موسٰیؑ اور بنی اسرائیل کی زندگی کا ایک اور اہم حصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ حضرت موسٰیؑ سے بنی اسرائل کے نمائندوں کے ساتھ کوہ طور کی وعده گاہ پر جانے اور پھر ان کی غیبت کے زمانے میں بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی سے متعلق ہے۔ پروگرام یہ تھا کہ حضرت موسٰیؑ تورات کے احکام حاصل کرنے کے لئے کوہ طور جائیں اور بنی اسرائیل کے کچھ افراد بھی اس سفر میں ان کے ساتھ رہیں تاکہ اس سفرمیں خدا شناسی اور وحی کے بارے میں نئے حقائق ان کے لیے آشکار ہوں۔ پروردگار سے مناجات کا شوق اور وحی کی آواز سننے کا اشتیاق حضرت موسٰیؑ کے دل میں موجزن تھا۔ اس طرح سے کہ گویا آپ کو اپنی خبر نہ تھی، اور یہاں تک کہ روایات میں ہے کہ آپ کو کھانے پینے اور آرام کا ہوش نہ تھا۔ لہذا انہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ یہ راستہ طے کیا اور دوسروں سے پہلے اکیلے ہی پروردگار کی وعدہ گاہ میں پہنچ گئے۔ یہاں آپ پر وحی نازل ہوئی: اے موسٰیؑ! کیا سبب ہوا کہ اپنی قوم سے پہلے ہی آ پہنچا اور اس قدر جلدی کی (وما اعجلك عن قومك يا موسٰی)۔ موسٰیؑ فورًا عرض کیا، پروردگارا! وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں اور میں نے تیری میعادگاه اور محضر وحی تک پہنچنے کے لیے اس لیے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے راضی اور خوشنود ہو (قال ھم اولاء على اثری وعجلت اليك رب لترضی)۔ نہ صرف تیری مناجات اور تیری بات سننے کے عشق نے مجھے بےقرار کیا ہوا تھا بلکہ میں مشتاق تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے تیرے قوانین و احکام حاصل کروں اور تیرے بندوں تک انہیں پہنچاؤں اور اس طرح خوب تیری رضا حاصل کروں۔ ہاں! میں تیری رضا کا عاشق ہوں اور تیرا فرمان سننے کا مشتاق ہوں۔ لیکن آخر میں، پروردگار کے معنوی جلوؤں کے دیدار کی مدت تیس راتوں سے بڑھ کر چالیس راتیں کر دی گئی اس طرح مختلف قسم کے اسباب جو پہلے سے ہی بنی اسرائیل میں انحراف کے لیے موجود تھے، اپنا کام کر گئے۔ سامری جیسا ہوشیار اور منحرف آدمی استاد بن گیا۔ اس نے کچھ چیزوں سے کام لے کر ایک بچھڑا بنایا اور قوم کو اس کی پرستش کرنے کی دعوت دی۔ ان چیزوں کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔ اس میں شک نہیں کہ چند ایسی باتیں رونما ہوئیں کہ جو مل کر توحید سے کفر کی طرف ان کے عظیم انحراف کا سبب بنیں جیسے مصریوں کی گوسالہ پرستی یاد ریائے نیل کو عبور کرنے کے بعد بت پرستی (گاؤ پرستی) کا منظر دیکھنا اور ان کا انہیں کی مانند بت بنانے کی خواہش کرنا اور اسی طرح موسٰیؑ کی طور پر ٹھہرنے کی مدت بڑھ جانا اور منافقین کی طرف سے ان کی موت کی خبر اڑانا اور آخرکار اس قوم کی جہالت و نادانی نے اثر دکھایا کیونکہ اجتماعی واقعات و حادثات عام طور پر کسی تمہید کے بغیر پیش نہیں آتے۔ زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے کہ کبھی تو یہ مقدمات آشکار اور واضح ہوتے ہیں اور کبھی چھپے ہوئے۔ بہرحال شرک اپنی بدترین صورت میں بنی اسرائیل کو دامن گیر ہو گیا۔ خاص طور پر جبکہ قوم کے بزرگ بھی حضرت موسٰیؑ کے ساتھ میعادگاہ میں موجود تھے اور اس قوم کے رہبر صرف اور صرف ہارونؑ ہی تھے اور ان کا کوئی موثر حامی و مددگار بھی موجود نہیں تھا۔ آخرکار یہی موقع تھا کہ خدا نے ان کو اسی میعادگاہ میں فرمایا: ہم نے تمہاری قوم کی تمہارے بعد آزمائش کی ہے لیکن وہ اس امتحان میں پورے نہیں اترے اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے: (قال فأنا قد فتنا قومك من بعدك واضلھم السامري)۔ حضرت موسٰیؑ یہ بات سنتے ہی ایسے پریشان ہو گئے گویا ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ شاید وہ دل ہی دل میں کہتے ہوں گے، میں نے سالہا سال تک خون جگر پیا، زحمتیں اٹھائیں، ہر قسم کے خطرے کا سامنا کیا تب جا کر کہیں اس قوم کو توحید سے آشنا کیا لیکن افسوس صد افسوس میری چند روزه غیبت میں میری محنتیں برباد ہو گئیں۔ لہذا فوری طور پر "موسٰیؑ غصے میں بھرے ہوئے اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف پلٹے" (فرجع موسٰی الی قومه غضبان اسفًا)۔ جس وقت ان کی نگاہ، گوساله پرستی کے اس تکلیف دہ منظر پر پڑی تو وہ چیخ اٹھے، اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ اچھا وعدہ نہیں کیا تھا: (قال يا قوم الم يعد كم ربكم وعدًاحسنًا)۔ یہ اچھا وعده تھا تو وہ وعدہ تھا کہ جو بنی اسرائیل سے تورات کے نزول اور اس میں آسمانی احکام کے بیان کے سلسلے میں کیا گیا تھا یا یہ نجات پانے اور آل فرعون پر کامیابی حاصل کرنے اور زمین کی حکومت کا وارث بن جانے کا وعدہ تھا یا یہ ان لوگوں کے لیے جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور عمل صالح بجا لائیں، مغفرت اور بخشش کا وعدہ تھا یا ان تمام امور سے متعلق وعدہ تھا۔ اس کے بعد مزید کہا: "کیا تم سے میری جدائی کی مدت زیادہ ہو گئی ہے" (افطال عليكم العھد)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: میں نے مانا کہ میری واپسی کی مدت تیس دن سے بڑھ کر چالیس دن ہو گئی تھی مگر یہ کوئی ایسا زیادہ طولانی زمانہ نہیں ہے۔ کیا تمہیں خود ہی نہیں چاہیئے تھا کہ اس مختصر سی مدت میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے۔ یہاں تک کہ اگر میں سالہا سال بھی تم سے دور رہتا تو بھی خدا کا دین کہ جس کی میں نے تمہیں تعلیم دی ہے اور وہ معجزات کہ جن کا تم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے ـــــــ تمہارے پیش نظر ہونے چاہیں تھے اور تمہیں میری تعلیمات کی پیروی کرنا چاہیے تھی۔ یا تم اپنے اس قبیح عمل کے ذریعے یہ چاہتے تھے کہ تمہارے پروردگار کا غضب تم پر نازل ہو، جبھی تو تم نے مجھ سے باندھے ہوئے عہد کی مخالفت کی ہے (ام اردتم ان يحل عليكم غضب من ربكم فا خلفتم موعدی)۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی شخص کا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے لیے پروردگار کا غضب خریدے لہذا اِس عبارت سے مراد یہ ہے کہ تمہارا عمل اِس قسم کا ہے کہ گویا تم نے خود اپنے لیے اِس قسم کا ارادہ کر لیا ہے)۔ میں نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم عقيدة توحید اور پروردگار کی خالص اطاعت کی راہ پر قائم رہو گے اور اس سے معمولی سا انحراف بھی نہیں کرو گے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے میری عدم موجودگی میں میری ان ساری باتوں کو بھلا دیا اور میرے بھائی ہارون کا حکم ماننے سے بھی تم نے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ موسٰی (علیہ السلام) ان پر سخت غصے میں ہیں اور اس بات پر متوجہ ہوئے کہ واقعًا انہوں نے بہت ہی برُا کام انجام دیا ہے تو عذر تراشی پر اتر آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنے اختیار کے ساتھ تو تیرے عہد کی خلاف ورزی نہیں کی" (قالوا ما اخلفنا موعدك بملكنا) (تشریحی نوٹ: "ملک" (بروزن "درک") اور "ملک" (بروزن "پلک") دونوں کسی چیز کے مالک ہونے کے معنی میں ہیں اور بنی اسرائیل کی اس سے مراد یہ تھی کہ ہم اس کام کے کرنے میں صاحبِ اختیار اور مالک نہیں تھے بلکہ ہم اس سے ایسے متاثر ہوئے کہ دین و دل ہاتھ سے جاتا رہا۔ بعض مفسیرین نے اِس جملہ کہ بنی اسرائیل کی ایک اقلیت سے متعلق سمجھا ہے کہ جنہوں نے گؤلہ سالہ کی پرستش نہیں کی تھی۔ (کہتے ہیں کہ اُن میں سے چھ لاکھ افراد گؤسالہ پرستی کرنے لگ گئے تھے۔ صرف بارہ ہزار افراد توحید باقی رہے) لیکن جو تفسیر ہم نے اُوپر بیان کی ہے وہ زیادہ صحیح نظر آتی ہے)۔ دراصل ہم خود اپنے ارادے سے گؤسالہ پرستی کی طرف مائل نہیں ہوئے تھے۔ "فرعونیوں کے قیمتی زیورات ہمارے ساتھ تھے کہ جنہیں ہم نے اپنے سے دور پھینک دیا اور سامری نے بھی انہیں پھینک دیا" (ولكنا حملنا أوزارًا من زينة القوم فقذ فناها فكذالك القى السامری)۔ اِس بارے میں کہ بنی اسرائیل نے کیا کیا اور سامری نے کیا کیا اور اوپر والی آیات کے جملوں کا حقیقتاً کیا معنی ہے؟ اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں کہ جن میں شیعہ کے لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نظر نہیں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ " فقذفناھا" یعنی ہم نے ان زیورات کو جہنیں مصر سے چلنے سے پہلے فرعونیوں سے لیا تھا، آگ میں پھینک دیا۔ سامری کے پاس بھی جو کچھ تھا، اُس نے بھی آگ میں پھینک دیا۔ یہاں تک کہ وہ پگھل گئے تو اُس نے ان سے گؤسالہ بنا لیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ ہم نے زیورات کو اپنے سے دُور پھینک دیا اور سامری نے انہیں اُٹھا کر آگ میں ڈال دیا تاکہ اس سے گؤسالہ بنائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "فكذالك القى السامری" ان سارے منصوبوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو سامری نے جاری کئے تھے۔ بہرحال یہ عام معمول ہے کہ جس وقت کوئی بزرگ اپنے سے چھوٹوں کو اس گناہ کے بارے میں کہ جب کے وہ مرتکب ہوئے ہیں ملامت کرتا ہے، تو وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی طرف سے گناہ کی تردید کریں اور کسی دوسرے کی گردن پر ڈال دیں۔ بنی اسرائیل کے گوسالہ پرستی کرنے والوں نے بھی، جو اپنے ارادہ اور رغبت کے ساتھ توحید سے شرک طرف مائل ہوۓ تھے، یہی چاہا کہ سارا گناہ سامری کی گردن پر ڈال دیں۔ بہرحال سامری نے فرعونیوں کے آلاتِ زینت سے کہ جو فرعونیوں نے ظلم و ستم کے ذریعے حاصل کیے ہوئے تھے اور جن کا اس کے علاوہ اور کوئی مصرف نہیں تھا کہ وہ اس کے فعل حرام پر خرچ ہوں، "ان کے لیے ایک بچھڑے کا مجسمہ بنایا جو ایک ایسی مورت تھی، جس میں سے گائے کی سی آواز آتی تھی" (فاخرج لهم عجلًا جسدًا له خوار)۔ (تشریحی نوٹ: "خوار" گائے اور گؤسالہ کی آواز کے معنی ہے اور کبھی اونٹ کی آواز پر بولا جاتا ہے)۔ بنی اسرائیل نے جب یہ منظر دیکھا تو اچانک حضرت موسٰیؑ کی تمام توحیدی تعلیمات کو بھُول گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: "یہ ہے تمہارا خدا اور موسٰی کا خدا۔" (فقالوا هذا الھكم واله موسٰی)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ بات کہنے والے سامری، اس کے یار و مددگار اور اس کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے۔ "اور اسی طرح سامری نے موسٰیؑ کے ساتھ، بلکہ موسٰیؑ کے خدا کے ساتھ کیا ہوا اپنا عہد و پیمان بھلا دیا اور لوگوں کو گمراہی میں دھکیل دیا۔ (فنسی)۔ بعض مفسرین نے یہاں "نسیان" کی گمراہی اور بےراہ روی کے معنی میں تفسیر کی ہے، یا نسیان کا فاعل موسٰیؑ کو جانا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ جملہ سامری کا کلام ہے، وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ: موسٰیؑ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ یہی بچھڑا تمہارا خدا ہے لیکن یہ تمام تفسیریں آیت سے ظاہر کے مخالفت ہیں کہ سامری نے موسٰیؑ اور موسٰیؑ کے خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو بھلا دیا اور بت پرستی کا راستہ اختیار کر لیا۔ یہاں خدا ان بت پرستوں کو تو بیخ و سرزنش کے عنوان سے کہتا ہے: کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کا یہ بچھڑا ان کا جواب تک نہیں دیتا۔ نہ تو اُن سے کسی قسم کے ضرر کو دُور کر سکتا ہے، اور نہ ہی انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے: (افلا يرون الا يرجع اليھم قولاولايملك لهم ضرا ولانفعًا)۔ ایک حقیقی معبود کو کم از کم اپنے بندوں کے سوالات کے جواب تو دینے چاہئیں۔ کیا صرف اس مجسمہ طلائی سے آواز کا سنائی دينا ___ ایسی آواز کہ جس میں کسی اراده و اختیار کا احساس نہیں ہے ــــ پرستش کرنے کی دلیل بن سکتا ہے؟ اور فرض کریں کہ ان کی باتوں کا جواب دے بھی دے، تو زیادہ سے زیادہ وہ ایک ایسا وجود ہو گا، جیسا کہ ایک ناتواں انسان ہے کہ جو نہ کسی دوسرے کے نفع و نقصان پر قادر ہے اور نہ ہی خود اپنے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ کیا کوئی اس صورت میں بھی معبود ہو سکتا ہے؟ کونسی عقل اس بات کی اجازت دی ہے کہ انسان ایک بےجان مجسمہ کی کہ جس سے کبھی کبھی بےمعنی آواز نکلتی ہو، پرستش کرے اور اس کے سامنے سر تعظیم جھکائے؟ اِس میں شک نہیں کہ اس شور و غوغا میں حضرت موسٰی کے جانشین اور خدا کے بزرگ پیغمبر ہارونؑ نے اپنی رسالت کے فرائض کو پورے طور پر انجام دیا __ اور انحراف و فساد سے مقابلہ کرنے کا فریضہ جتنا ان کے لیے ممکن تھا ادا کرتے رہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا: "ہارون نے موسٰی کے میعادگاہ سے واپس آنے سے پہلے بنی اسرائیل سے یہ بات کہی تھی کہ تم سخت آزمائش میں ڈال دیئے گئے ہو۔ لہذا تم دھوکا نہ کھاؤ اور راہِ خدا (توحید) سے منحرف نہ ہو، (ولقد قال لھم هارون من قبل یا قوم انما فتنتم به)۔ اس کے بعد مزید کہا: "تمہارا پروردگار مسلمًا وہی بخشنے والا خدا ہے کہ جس نے یہ سب نعمتیں تمهیں مرحمت فرمائی ہیں" (وان ربكم الرحمن)۔ تم غلام تھے، اس نے تمہیں آزادی دی۔ تم اسیر تھے، اس نے تمہیں رہائی بخشی۔ تم گمراہ تھے، اُس نے تمہیں ہدایت کی۔ تم پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے، اُس نے تمہیں ایک الٰہی انسان کی رہبری کے زیر سایہ جمع اور متحد کیا۔ تم جاہل اور بھٹکے ہوئے تھے، اُس نے تمہیں علم کے نور سے اُجالا بخشا اور توحید کے صراطِ مستقیم کی طرف تمہاری ہدایت کی۔ "ا ب جبکہ معاملہ اس طرح ہے تو تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو: (فاتبعونی واطيعوا امری)۔ کیا تم یہ بات بھُول گئے ہو کہ میرے بھائی موسیٰ نے مجھے اپنا جانشین بنایا ہے اور میری اطاعت تم پر فرض اور واجب قرار دی ہے۔ پھر تم عہد شکنی کیوں کر رہے ہو اور کس لیے خود کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں گرا رہے ہو؟ لیکن بنی اسرائیل اس طرح ہٹ دھرمی کے ساتھ اس بچھڑے سے لپٹے ہوئے تھے کہ اس مردِ خُدا اور ہمدرد رہبر کی یہ قوی منطق اور روشن دلائل ان کے اُوپر اثر انداز نہ ہوئے۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ حضرت ہارونؑ کی مخالفت کا اعلان کیا اور "کہا" ہم تو اسی طرح اس گوسالہ کی پرستش کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ خود موسٰیؑ ہمارے پاس پلٹ کر آئیں" (قالوا لن نبرح عليه عاكفين حتٰى يرجع الينا موسٰی)۔ (تشریحی نوٹ: "نبرح" "برح" کے مادہ سے زائل ہونے کے معنی میں ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ "برح الخفاء" کا جملہ آشکار واضح ہونے کے معنی میں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خفا کا زائل ہونا، ظہور کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے اور چونکہ "لن" کا معنی نفی ہے تو "لن نبرح" کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلسل یہ کام کرتے رہیں گے)۔ خلاصہ یہ کہ انہوں نے ہٹ دھرمی نہ چھوڑی اور کہنے لگے کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چلے گا کہ گوسالہ پرستی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ موسٰیؑ لوٹ آئیں اور اُن سے اس بات کا فیصلہ کرائیں۔ ہو سکتا ہے وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر گؤسالہ کے سامنے سجدہ کریں۔ لہذا تم خود کو زیادہ ہلکان نہ کرو اور ہمارا پیچھا چھوڑو۔ اِس طرح انہوں نے عقل کے مسلمہ حکم بھی پاؤں تلے روند ڈالا اور اپنے رہبر کے جانشین کے فرمان کی بھی پرواہ نہ کی۔ لیکن جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے ___ اور قاعدہ بھی یہی ہے ـــــــ کہ اِن حالات میں جب ہارون نے اپنی رسالت کو انجام دیا اور اکثریت نے اُسے قبول نہ کیا تو آپ اِس گنی چنی اقلیت کے ساتھ کہ جو ان کی تابع تھی اُن سے الگ ہو گئے اور اُن سے دُوری اختيار کر لی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے ساتھ میل جول ان کے انحرافی طرز عمل کی تصدیق کی دلیل بن جائے۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیہ سے ذیل میں)۔ سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں انحرافی تبدیلیاں صرف گنتی کے چند دنوں کے اندر اندر واقع ہو گئیں۔ جب موسٰی کو میعاد گاہ کی طرف گئے ہوئے ۳۵ دن گزر گئے تو سامری نے اپنا کام شروع کر دیا اور بنی اسرائیل سے مطالبہ کیا وہ تمام زیورات جو اُنہوں نے فرعونیوں سے عاریتًا لیے تھے اور ان کے غرق ہو جانے کے بعد وہ انہیں کے پاس رہ گئے تھے اِنہیں جمع کریں۔ چھتیسویں پنتیسویں اڑتیسویں دن انہیں ایک کٹھائی میں ڈالا اور پگلا کر اُس سے گؤسالہ کا مجسمہ بنا دیا اور اُنتالیسویں دن انہیں اس کی پرستش کی دعوت دی اور ایک بہت بڑی تعداد (کچھ روایات کی بناء پر چھ لاکھ افراد) نے اسے قبول کر لیا اور ایک روز بعد یعنی چالیسں روز گزرنے پر موسٰیؑ واپس آ گئے۔ لیکن بہرحال ہارونؑ تقریبًا بارہ ہزار ثابت قدم مومنین کی اقلیت کے ساتھ اس قوم سے الگ ہو گئے جبکہ جاہل اور ہٹ دھرم اکثریت اس بات پر آمادہ ہو چکی تھی کہ انہیں قتل کر دے۔

چند اہم نکات ۱- شوقِ دیدار

جو لوگ عشق خدا کے جذبے سے بےخبر ہیں انہیں موسٰیؑ کی وہ گفتگو جو انہوں نے پروردگار کے اِس سوال ــــــ کہ تم میعادگاہ کی طرف اتنی تیزی اور جلدی سے کیوں چلے آئے ___ کے جواب میں کی، ممکن ہے عجیب معلوم ہوتی ہو، کیونکہ وہ یہ جواب دیتے ہیں: وعجلت اليك رب لترضٰی پروردگارا! میں نے تیری طرف (آنے کے لیے اس لئے) جلدی کی تاکہ تیری رضا حاصل کروں۔ وعدہ وصل چوں شود نزدیک آتش عش تیز تر گردد جب وعدہ وصل کا وقت نزدیک آ جاتا ہے تو عشق کی آگ اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کونسی پرُاسرار قوت موسٰی کو "اللہ" کی میعادگاہ کی طرف کھینچ کر لے جا رہی تھی اور وہ اتنی تیزی کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ ان افراد کو بھی کہ جو ان کے ساتھ تھے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ موسٰیؑ نے اس سے پہلے بھی دوست کے وصال کی حلاوت اور پروردگار کے ساتھ مناجات کا مزہ چکھا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ پوری دنیا بھی اس مناجات کے ایک لمحہ کے برابر نہیں ہو سکتی۔ ہاں، ان لوگوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ــــ جوعشق مجازی سے گزر کر، عشقِ حقیقی اور عشقِ معبودِ جاودانی کے مرحلے میں قدم رکھ چکے ہیں____ اس خدا کا عشق کہ جس کی ذات پاک میں فنا کی گنجائش ہی نہیں ہے اور وه کمال مطلق ہے اور بےحد و انتها خوبی کا مالک ہے۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند او تنہا وارد بلکہ سب میں جو الگ الگ خوبیاں پائی جاتی ہیں وہ اس کی جادواں خوبی کا ایک معمولی سا پر تو ہے۔ اے عظیم پروردگار! اِس مقدس عشق کا ایک ذرہ ہمیں بھی چکھا دے۔ ایک روایت کے مطابق امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "المشتاق لايشتهي طعامًا، ولا يلتذ شرابًا، ولا يستطيب رقادًا، ولا يانس حمیمًا، ولا يأوي دارا . . . ویعبد الله ليلًا ونهارًا راجيًا بان يصل الٰى مايشتاق اليه ... كما أخبر الله عن موسی بن عمران في ميعاد ربه بقوله و عجلت اليك رب لترضي۔ عاشقِ بےقرار کو نہ تو کھانے کا ہوش ہوتا ہے، نہ اسے خوشگوار شربت کی طلب ہوتی ہے نہ اُسے چین کی نیند آتی ہے نہ اس کا کسی دوست سے جی لگتا ہے۔ اور نہ ہی کسی گھر میں اُسے آرام آتا ہے۔۔۔ بلکہ وہ خدا کی رات دن بندگی کرتا ہے۔ اِس امید پر کہ اپنے محبوب (اللہ تک پہنچ جائے۔۔۔ جس طرح سے کہ خدا موسٰیؑ بن عمران کے بارے میں اس کے پروردگار کی میعادگاه (میں پہنچنے) کے سلسلے میں بیان فرماتا ہے، کہ "عجلت اليك رب لترضٰی۔" (بحوالہ: تفسير نورالثقلين، جلد ٣ ص ٣۸۸)۔

۲- انبیاء کے انقلاب کی مخالف تحریکیں:

عام طور پر ہر انقلاب کے مقابلے میں ایک انقلاب دشمن تحریک وجود میں آ جاتی ہے جو یہ کوشش کرتی ہے کہ انقلاب نے جو کچھ پیش کیا ہے اُسے درہم برہم کر دیا جائے اور معاشرے کو انقلاب سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹا دیا جائے۔ اِس تاریخ کو سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ ایک انقلاب کے برپا ہونے سے تمام گزشتہ فاسد عناصر یک دم نابود اور ختم نہیں ہو جاتے بلکہ عام طور پر کچھ نہ کچھ تلچھٹ اس کی باقی رہ جاتی ہے۔ وہ لوگ اپنے وجود کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حالات سے اُتار چڑھاؤ کے مطابق کھلم کھلا یا خفیہ طریقے سے انقلاب دشمن کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی آزادی اور توحید و استقلال کی طرف موسٰیؑ بن عمران کی انقلابی تحریک میں سامری اس رجعت پسند تحریک کا سربراہ تھا۔ وہ جو کہ____ تمام رجعت پسند تحرکیوں کے لیڈروں کی طرح____ اپنی قوم کے کمزور پہلوؤں سے اچھی طرح باخبر تھا اور جانتا تھا کہ ان کمزوریوں سے استفادہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی فتنہ کھڑا کیا جا سکتا ہے، اس نے کوشش کی کہ ان زیورات اور طلائی چیزوں سے کہ جو دنیا پرستوں کا معبود ہے اور عوام الناس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے، گؤسالہ بنائے اور اسے ایک خاص طریقے سے ہوا کے چلنے کے رُخ پر کھڑا کر دے (یا کسی اور طریقے سے کام لے) تاکہ اس سے کی آواز نکلے____ موسٰیؑ کی چند روزه غیبت کو اُس نے غنیمت جانا یہ بات اُس کی نظر میں تھی کہ بنی اسرائیل نے دریا سے نجات پانے کے بعد اور ایک بت پرست قوم کے قریب سے گزرتے ہوئے موسٰیؑ سے اپنے لیے ایک بت بنانے کا تقاضا کیا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اس نے تمام نفسیاتی کمزوریوں اور زمان و مکانی مناسب وقتوں سے استفادہ کرتے ہوئے، اپنے مخالفِ توحید منصوبے کا آغاز کر دیا اور اس کے مواد کو اس طرح سے ماہرانہ انداز میں منظم کیا کہ تھوڑی سی مدت میں بنی اسرائیل کی ایک بڑی اکثریت کو راہِ توحید سے منحرف کر کے شرک کی راہ کی طرف کھینچ لے گیا۔ یہ سازش اگرچہ موسٰیؑ کے واپس آتے ہی ان کی قدرت ایمانی اور نور وحی کے پر تو میں ان کی منطق سے ناکام ہو گئی لیکن ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر موسٰیؑ واپس نہ آتے تو کیا ہوتا؟ یقینًا یا تو وہ ان کے بھائی ہارون کو قتل کر دیتے یا وہ انہیں اس طرح سے گوشہ نشین کر دیتے کہ اُن کی آواز بھی کسی کے کانوں تک نہ پہنچتی۔ ہاں! ہر انقلاب کے آغاز میں اسی طرح کی مخالف تحریکیں ہوتی ہیں اور (ان سے) پورے طور پر خبردار رہنا چاہیئے اور رجعت پسندوں کی معمولی سے معمولی شرک آلود حرکتوں کو نظر میں رکھنا چاہیئے اور دشمن کی سازشوں کو شروع میں ہی کچل دینا چاہیئے۔ ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ بہت سے سچے انقلابات، مختلف دلائل و وجوہ کی بناء پر آغاز میں کسی فرد یا کچھ مخصوص افراد کے سہارے برپا ہوتے ہیں اگر وہ بیچ میں نہ رہیں تو انقلاب کے اُلٹ جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اِسی وجہ سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جتنا بھی جلدی ہو سکے، إنقلابی معیاروں کو معاشرے کی گہرائی میں اُتار دیں اور لوگوں کی تربیت کی جائے کہ انقلاب کے مخالف تمام طوفان انہیں کسی طرح بھی اپنے مقام سے نہ ہلا سکیں اور وہ پہاڑ کی مانند ہر رجعت پسند قدامت پرست تحریک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ سچے رہبروں کی ایک ذمہ داری ہے کہ وہ معیاروں کو ـــــ اپنے معاشرے کی طرف منتقل کریں، اس شک نہیں کہ اس اہم کام کے لیے کچھ مدت چاہیئے لیکن کوشش کرنا چاہیے کہ یہ زمانہ جتنا ممکن ہو ــــ کم سے کم ہو۔ اس بارے میں کہ سامری کون تھا اور اس کا انجام کیا ہوا، انشاء اللہ ہم بعد والی آیات میں گفتگو کریں گے۔

٣- رہبری کے مراحل:

اِس میں شک نہیں کہ حضرت ہارونؑ نے حضرت موسٰیؑ کی غیبت کے زمانے میں اپنی رسالت کے انجام دینے پر معمولی سے معمولی سستی بھی نہیں کی لیکن ایک طرف سے تو لوگوں کی جہالت نے اور دوسری طرف سے مصر میں غلامی اور بُت پرستی کے دَور کی رسُومات نے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ مذکورہ بالا آیات کے مطابق انہوں نے اپنی ذمہ داری کو چار مرحلوں میں پورا کیا: پہلا مرحلہ: یہ کہ ان پر ظاہر کیا کہ یہ واقعہ ایک انحرافی راستہ اور تم سب کے لیے ایک خطرناک آزمائش کا میدان ہے تاکہ سوئے ہوئے دماغ بیدار ہوں اور لوگ بیٹھ کر سوچیں اور اہم چیز یہی تھی (یا قوم انما فتنتم به)۔ دوسرا مرحلہ: یہ تھا کہ خدا کی وہ قِسم قِسم کی نعمتیں، جو موسٰیؑ کے قیام کی ابتداء سے لے کر فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے زمانے تک، بنی اسرائیل کے شامل حال ہوئی تھیں، وہ انہیں یاد دلائیں اور خصوصیت کے ساتھ خدا کی عمومی صفت رحمت کے ساتھ اس کی توصیف کی تاکہ اس کا زیادہ گہرا اثر ہو اور انہیں اس بہت بڑی خطا کی بخشش کی بھی امید دلائی جا سکے (وان ربکم الرحمن)۔ تیسرا مرحلہ: یہ تھا کہ انہیں اپنے مقام نبوت اور اپنے بھائی موسٰی کی جانشینی کی طرف متوجہ کیا ((فاتبعونی)۔ چوتھا مرحلہ: یہ تھا کہ انہیں ان کی الٰہی ذمہ داریوں سے باخبر کیا (واطيعوا امری)۔

۴- ایک اعتراض کا جواب:

مشهور مفسر فخرالدین رازی نے یہاں ایک اعتراض پیش کیا ہے۔ وہ کہتا ہے: شیعہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث: انت منی بمنزلة هارون من موسٰی: "تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسٰی کے ہارون سے تھی، سے ولایت علی کے لئے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ ہارون نے بُت پرستوں کے عظیم انبوہ کے مقابلہ میں ہرگز تقیہ اختیار نہیں کیا تھا اور صراحت کے ساتھ لوگوں کو اپنی پیروی اور دوسروں کی متابعت ترک کرنے کی دعوت دی تھی۔ اگر واقعًا اُمّتِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی رحلت کے بعد خطا کی راہ اختیار کر لی تھی، تو علی (علیہ السلام) پر یہ واجب تھا کہ وہ بھی ہارون کا سا طرز عمل اپناتے۔ منبر پر جاتے اور کسی قسم کا خوف اور تقیہ کیے بغیر "فاتبعونی واطيعوا امری" کہتے۔ چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ امت کا طریقہ کار اس زمانے میں حق اور درست تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فخرالدین رازی نے اس بارے میں دو بنیادی نکات سے غفلت کی ہے۔ ۱۔ یہ جو اُنہوں نے کہا ہے کہ علی علیہ السلام نے اپنی خلافت بلا فصل کے متعلق کسی بات کا اظہار نہیں کیا، اشتباه ہے اور غلط ہے کیونکہ ہمارے پاس بےشمار حوالے ایسے موجود ہیں کہ امامؑ نے مختلف مواقع پر اس امر کو بیان فرمایا ہے۔ کبھی صریح اور کھلم کھلا طور پر اور بھی در پردہ طریقے سے۔ کتاب نهج البلاغہ میں آپ کے کلام کے مختلف حصے نظر آتے ہیں، مثلا خطبہ شقشقیہ، خطبہ سوئم، خطبہ۸۷، خطبہ ٩۷، خطبہ ۱٥۴ اور خطبہ ۱۴۷ کہ جو سب کے سب اس سلسلے میں بیان ہوئے ہیں۔ تفسیر نمونہ کی تیسری جلد میں سورہ مائدہ کی آیہ ۶۷ کے ذیل میں واقعہ غدیر کے بیان کرنے کے بعد ہم نے متعدد روایات نقل کی ہیں کہ خود حضرت علیؑ نے بارہا اپنی حیثیت اور خلافت بلا فصل ثابت کرنے کے لیے حدیث غدیر سے استناد کیا ہے (مزید وضاحت کے لیے جلد ٣، ص ٣۸ کے بعد کے صفحات کی طرف رجوع کریں)۔ پیغمبر صلى الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد مخصوص حالات تھے۔ وہ منافق کہ جو وفات پیغمبر کے انتظار میں دن گن رہے تھے انہوں نے خود کو ازسرنو اسلام پر آخری ضرب لگانے لیے تیار لیا تھا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب الرده (اسلامی انقلاب کے مخالف گروہ) نے فورًا ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں قیام کیا۔ اگر مسلمانوں کی وحدت، اجتماعیت ۔اور ہوشیاری نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ اسلام پر ناقابل تلافی ضربیں لگاتے۔ علیؑ نے اِس امر کی خاطر بھی خاموشی اختیار کی کہ دشمن غلط فائدہ نہ اٹھائے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ حضرت ہارونؑ نے بھی– باوجود اس کے کہ موسٰیؑ زندہ تھے۔ بھائی کی سرزنش کے جواب میں کہ تو نے کوتاہی کیوں کی صریحًا یہی کہا کہ: اني خشيت أن تقول فرقت بين بني إسرائيل میں اِس بات سے ڈرا کہ تو مجھ سے یہ کہے کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تقرقہ ڈال دیا۔ (طٰہٰ۔٩۴) اور یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ علیؑ نے بھی اختلاف کے خوف سے ایک حد تک خاموشی اختیار کی۔

92
20:92
قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذۡ رَأَيۡتَهُمۡ ضَلُّوٓاْ
(موسیٰ نے)کہا: اے ہارون ! جس وقت تو نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے کس چیز نے روکا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
20:93
أَلَّا تَتَّبِعَنِۖ أَفَعَصَيۡتَ أَمۡرِي
کہ تو نے میری پیروی نہ کی؟کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
20:94
قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي
(ہارون نے) کہا: اے میرے ماں جائے ! میری داڑھی اور سر نہ پکڑو۔ میں تو اس بات سے ڈرا کہ تو یہ کہنے لگے کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا اور میری نصیحت پر عمل نہ کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
20:95
قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يَٰسَٰمِرِيُّ
(پھر موســــــــــی نے سامری کی طرف رخ کیا اور) کہا: :اے سامری ! تو نے یہ کام کیوں کیا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
20:96
قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَةٗ مِّنۡ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِي نَفۡسِي
(سامری نے) کہا :میں نے ایسی چیز دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی میں نے (خدا کے بھیجے ہوئے) رسول کے آثار میں سے کچھ حصہ اٹھا لیا۔ا سکے بعد میں نے اس کو ڈالدیا اور میرے نفس نے اس مطلب کو اسی طرح خوشنما بنایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
20:97
قَالَ فَٱذۡهَبۡ فَإِنَّ لَكَ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَۖ وَإِنَّ لَكَ مَوۡعِدٗا لَّن تُخۡلَفَهُۥۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِي ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفٗاۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِي ٱلۡيَمِّ نَسۡفًا
(موسیٰ نے) کہا تو(لوگوں کے درمیان سے) نکل جا۔ تیرا دنیا کی زندگی میں حصہ (صرف) یہ ہے کہ (جو شخص تیرے نزدیک ہو گا) تو (اس سے) کہیگا مجھے مت چھونا،اور بیشک تیرے لئے (عذاب کا) ایک وقت مقرر ہے کہ ہرگز اس کے خلاف نہیں ہو گا۔ (اب) تو اپنے معبود کی طرف دیکھ جس کی تو مسلسل پرستش کرتا رہا ہے اور دیکھ پہلے تو ہم اسے جلائیں گے اور پھر اس کے ذرات کو دریا میں بکھیر دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
20:98
إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَسِعَ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمٗا
تمہارا معبود تو صرف وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تفسیر سامری کا عبرت ناک انجام:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس بحث کے بعد جو موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کی گوّسالہ پرستی کی شدید مذمتّ کے بارے میں کی تھی اور جو اس سے پہلی آیات میں بیان ہو چکی ہے، زیر بحث ایات میں پہلے موسیٰ کی اپنے بھائی ہارون کے ساتھ گفتگو اور اس کے بعد سامری کے ساتھ جو باتیں ہوئیں، کو بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اپنے بھائی ہارونؑ کی طرف رُخ کر کے "کہا: اے ہارون! جس وقت تُو نے یہ دیکھا کہ یہ قوم گمراہ ہو گئی ہے تو تو نے میری پیروی کیوں نہ کی" (قال یا ھارون ما منعک اذ راَیتھم ضلوا الاتتبعن)۔ کیا میں نے اُس وقت جبکہ میں میعاد گاہ کی طرف جانا چاہتا تھا، یہ نہیں کہا تھا کہ تُو میرا جانشین ہے اور اس گروہ کے درمیان اصلاح کرنا اور مفسدین کے راستے کو اختیار نہ کرنا۔ [اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ (اعراف۱۴۲] تو ان بت پرستوں کے ساتھ مقابلے کے لیے کیوں اُٹھ کھڑا نہ ہوا؟ اِس بناء پر "الا تتبعن" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ بُت پرستی کے بارے میں میری شدّتِ عمل کی رَوِش کی۔ تو نے پیروی کیوں نہ کی۔ لیکن یہ بات، جو بعض نے بیان کی ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ تواُس اقلیت کے ساتھ کہ جو توحید پر باقی رہ گئی تھی، میرے پیچھے پیچھے کوہِ طور پر کیوں نہ آیا، بہت ہی بعید نظر آتی ہے اور یہ اُس جواب کے ساتھ کہ کو ہارونؑ نے بعد کی آیات میں دیا ہے، کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ اس کے بعد موسیٰ نے مزید کہا: کیا تو نے میرے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے: (افعصیت امری)۔ موسیٰؑ انتہائی شدّت اور سخت غصہ کی حالت میں، یہ باتیں اپنے بھائی سے کر رہے تھے اور ان کے سامنے چیخ رہے تھے جبکہ ان کی داڑھی اور سر کو پکڑا ہوا تھا، اور کھینچ رہے تھے۔ ہارونؑ نے جب اپنے بھائی کو شدید پریشان دیکھا تو اس لیے کہ انہیں لطف و مہربانی کی طرف لائیں اور ان کی نےقراری اور بےچینی میں کمی کریں اور ضمنی طور پر اِس واقعے کے سلسلے میں اپنا عذر پیش کریں کہا: اے میرے ماں جائے! میری داڑھی اور سر کو نہ پکڑ، میں نے تو یہ سوچا کہ اگر میں مقابلے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کی گرفت کرتا ہوں، تو بنی اسرائیل میں ایک شدید تفرقہ پڑ جائے گا اور میں اس بات ڈرا کہ کہیں تو واپسی پر کہنے لگے کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ کیوں ڈالا اور میری غیبت کے زمانے میں میری نصیحت کا خیال نہیں کہا: (قال یابن ام لا تاخذ بلحیتی ولا براسی انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرائیل ولم ترقب قولی) درحقیقت حضرت ہارونؑ کی نظر اسی بات کی طرف ہے کہ جو حضرت موسٰیؑ نے میعاد گاہ کی طرف جانے سے پہلے کہی تھی کہ جس کا معنی و مفہوم اصلاح کی طرف دعوت دینا ہے۔ (اعراف۔۱۴۲) وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر میں اُن پر سختی اور گرفت کرتا، تو وہ تیرے حکم کے برخلاف ہوتا اور پھر تجھے یہ حق پہنچتا کہ مجھ سے مواخذہ کرے۔ اس طرح حضرت ہارونؑ نے اپنی نے گناہی کو ثابت کر دیا۔ خصوصاً ایک اور جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ کو سورۃ اعراف کی آیہ۱٥ میں آیا ہے: ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی اس نادان قوم نے مجھے ضعیف کر دیا اور ہم لوگ تھوڑے رہ گئے اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل ہی کر دیں، میں بےگناہ ہوں، بےگناہ۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ موسٰیؑ و ہارونؑ دونوں، بلاشک و شبہ پیغمبر اور معصوم تھے تو پھر موسٰیؑ کی طرف سے ایسی کھینچا تانی، بحث اور شدید عتاب و خطاب اور وہ دفاع کہ کو اپنا ہارونؑ کر رہے ہیں، کس طرح قابلِ توجہیہ ہے؟ اِس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موسٰیؑ کو یقین تھا کہ ان کا بھائی بےگناہ ہے لیکن وہ اِس طریقے سے دو باتیں ثابت کرنا چاہتے تھے: پہلی یہ کہ وہ بنی اسرائیل کو یہ سمجھا دیں کہ وہ بہت ہی عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایسا گناہ کہ کو موسٰیؑ کے بھائی تک کو بھی کہ جو خود ایک عالی قدر پیغمبر تھے۔ مواخذے کے لئے عدالت کی طرف کھینچ کر لے گیا اور وہ بھی اتنا شدّتِ عمل کے ساتھ یعنی یہ مسئلہ اِتنا سادہ نہیں ہے کہ جتنا بعض بنی اسرائیل نے سمجھ لیا ہے۔ توحید سے انحراف اور شرک کی طرف بازگشت، وہ بھی اِن تمام____________ تعیمات اور ان تمام معجزات اور عطمتِ حق کے آثار دیکھنے کے بعد۔ یہ بات یقین کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لہذا جتنا زیادہ سے زیادہ قاطیعت کے ساتھ ہو سکے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی عظیم حادثہ واقع ہو جاتا ہے تو اِنسان ہاتھ بڑھا کر اپنا ہی گریبان چاک کر لیتا ہے اور اپنا ہی سر پیٹ لیتا ہے، تو اپنے بھائی کو موردِ عتاب و خطاب قرار دینے کی تو بات ہی کچھ نہیں اور اس میں شک نہیں کہ ہدف اور مقصد کی حفاظت اور افراد منحرف میں نفسیاتی اثر پیدا کرنے کے لئے اور ان پر گناہ کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے، اس قسم کا طرزِ عمل بہت مؤثر ہوتا ہے اور ہارون بھی اِس طریقے میں بالکل راضی تھے۔ دوسرا یہ کہ ہارونؑ کی بےگناہی ان توضیحات کے ساتھ کہ جو وہ دے رہے تھے۔ سب پر ثابت ہو جائے اور بعد میں انہیں اپنی رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے کا اتہام نہ لگائیں۔ اپنے بھائی سے گفتگو کرنے اور ان کے بری الذمہ ثابت ہونے کے بعد، سامری سے باز پُرس شروع کی اور کہا: "یہ کام تھا کہ جو تُو نے انجام دیا ہے اور اے سامری! تجھے کس چیز نے اِس بات پر آمادہ کیا" (قال فما خطبک یا سامری)۔ اس نے جواب میں کہا: "میں کچھ ایسے مطالب سے آگاہ ہوا جو انہوں نے نہیں دیکھے اور وہ اس سے آگاہ نہیں ہوئے" (قال بصرت بمالم یبصروا بہ)۔ " میں نے ایک چیز خدا کے بھیجے ہوئے رسول کے آثار میں سے لی اور پھر میں نے اسے دُور پھینک دیا اور میرے نفس نے اس بات کو اسی طرح مجھے خوش نما کر کے دکھایا" (فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا و کذالک سولت لی نفسی)۔ اِس بارے میں کہ اِس گفتگو سے سامری کی مراد تھی، مفسرین کے درمیان دو تفسیریں مشہور ہیں: پہلی یہ کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کے لشکر کے دریائے نیل کے پاس آنے کے موقع پر میں جبرائیل کو ایک سواری پر سوار دیکھا کہ وہ لشکر کو دریا کے خشک شدہ راستوں پر دردد کے لیے تشویق دینے کی خاطر ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ میں نے کچھ مٹی ان کے پاؤں کے نیچے سے یا ان کی سواری کے پاؤں کے نیچے سے اُٹھا لی اور اسے سنبھال رکھا اور اسے سونے کے بچھڑے کے اندر ڈالا اور یہ صدا اسی کی برکت سے پیدا ہوئی ہے۔ دُوسری تفسیر یہ ہے کہ میں ابتداء میں خدا کے اس رسول (موسٰیؑ) کے کچھ آثار پر ایمان لے آیا۔ اس کے بعد مجھے اس میں کچھ شک اور تردہ ہوا۔ لہذا میں نے اُسے دُور پھینک دیا اور بُت پرستی کے دین کی طرف مائل ہو گیا اور یہ میری نظر میں زیادہ پسندیدہ اور زیبا ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق "رسول" جبرئیلؑ کے معنی میں ہے جبکہ دُوسری تفسیر کے مطابق "رسول" موسٰیؑ کے معنی میں ہے۔ لفظ "اثر" پہلی تفسیر کی رُو سے "پاؤں کے نیچے کی مٹی" کے معنی میں ہے، اور دوسری تفسیر میں "تعلیمات کا کچھ حصہ" کے معنی میں ہے۔ "نبذتھا" کا لفظ پہلی تفسیر میں مٹی کو گوّسالہ میں ڈالنے کے معنی میں ہے اور دوسری تفسیر میں تعلیمات موسٰیؑ کو دُور پھینکنے اور چھوڑ دینے کے معنی میں ہے اور آخر میں "بصرت بما لم یبصروا بہ" پہلی تفسیر میں جبرئیلؑ کو دیکھنے کی طرف اشارہ ہے کہ جو ایک گھڑ سوار کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے (شاید کچھ اور لوگوں نے بھی انہیں دیکھا لیکن پہچانا نہیں) لیکن دوسری تفسیر میں موسٰی کے بارے میں کچھ خاص معلومات کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال ان دونوں تفاسیر میں سے ہر ایک کے طرفدار ہیں اور ان میں کچھ روشن یا مہم نکات موجود ہیں لیکن دوسری تفسیر کئی جہات سے بہتر نظر آتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ کتاب "احتجاج طبرسی" میں ایک حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب امیر المومنین علی علیہ السلام نے بصرہ کو فتح کر لیا تو لوگ آپؑ کے گرد جمع ہو گئے۔ ان میں "حسن بصری" بھی تھا اور وہ اپنے ساتھ کچھ تختیاں لے کر آیا تھا کہ امیر المومنینؑ جو بات کرتے وہ اُسے فوراً یاد داشت کے طور پر لکھ لیتا۔ امامؑ نے بلند آواز کے ساتھ ان لوگوں میں سے اسے مخاطب کر کے فرمایا: تو کیا کر رہا ہے، تو اُس نے عرض کیا کہ میں آپ کے آثار اور ارشادات کو لکھ رہا ہوں تاکہ لوگوں کے لیے انہیں بیان کروں، امیر المومنینؑ نے فرمایا: اما ان لکل قوم سامریا، وھذا سامری ھذہ الامۃ، انہ لا یقول لا مساس و لکنہ یقول لا قتال: یہ بات ذہین نشین کر لو کہ ہر قوم اور ہر گروہ میں کوئی نہ کوئی سامری ہوتا ہے اور یہ (حسن بصری) اس اُمت کا سامری ہے۔ اس کا موسیٰ کے زمانے کے سامری سے صرف اتنا فرق ہے کہ جو شخص اُس سامری کے قریب ہوتا تھا وہ کہتا تھا "لامساس" (کوئی مجھے نہ چُھوئے) لیکن یہ لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ "لاقتال" (یعنی کسی سے جنگ نہیں کرنا چاہیے، حتیٰ کہ منحرفین سے بھی۔ یہ اُس پروپگینڈہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو حسن بصری جنگ جمل کے خلاف کرتا تھا)۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد٣، ص٣٩٢)۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سامری بھی ایک منافق آدمی تھا کہ جس نے حق کے کچھ مطالب سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ معنی دوسری تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اِس حدیث سے کوئی خاص تائید دوسری تفسیر کی نہیں ہوتی اور آیت کا ظاہر پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم (مترجم))۔ یہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے کہ موسٰیؑ کے سوال کے جواب میں سامری کی بات کسی طرح قابلِ قبول نہیں تھی لہذا حضرت موسٰیؑ نے اس کے مجرم ہونے کا فرمان اسی عدالت میں صادر کر دیا اور اُسے اور اس کے گوسالہ کے بارے میں تین حکم دئیے: پہلا حکم یہ کہ اس سے کہا: تو لوگوں کے درمیان سے نکل جا اور کسی کے ساتھ میل ملاپ نہ کر اور تیری باقی زندگی میں تیرا حصہ صرف اتنا ہے کہ جو شخص بھی تیرے قریب آئے گا تو اُس سے کہے گا کہ "مجھ سے مس نہ ہو" (قال فاذھب فان لک فی الحیٰوۃ ان تقول لا مساس)۔ اس طرح ایک قاطع اور دوٹوک فرمان کے ذریعے سامری کو معاشرے سے باہر نکال پھینکا اور اُسے مطلق گوشہ نشینی میں ڈال دیا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "لامساس" کا جملہ شریعت موسٰیؑ کے ایک فوجداری قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جو بعض ایسے افراد کے بارے میں کہ جو سنگین جرم کے مرتکب ہوتے تھے صادر ہوتا تھا۔ وہ شخص ایک ایسے موجود کی حیثیت سے کہ پلید و نجس و ناپاک ہو، قرار پا جاتا تھا۔ کوئی اِس سے ملاپ نہ کرتا اور نہ اُسے یہ حق ہوتا تھا کہ وہ کسی سے میل ملاپ رکھے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال، جلد٥، ص۴۹۴)۔ سامری اِس واقعے کے بعد مجبور ہو گیا کہ وہ بنی اسرائیل اور ان کے شہر و دیار سے باہر نکل جائے اور بیابانوں میں جا رہے اور یہ اُس جاہ طلب انسان کی سزا ہے کہ جو اپنی بدعتوں کے ذریعے چاہتا تھا کہ بڑے بڑے گروہوں کو منحرف کر کے اپنے گرد جمع کرے اسے ناکام ہی ہونا چاہیے یہاں تک کہ ایک بھی شخص اس سے میل ملاپ نہ رکھے۔ اور اس قسم کے انسان کے لیے یہ مکمل بائیکاٹ موت اور قتل ہونے سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ وہ ایک پلید اور آلودہ وجود کی صُورت میں ہر جگہ سے راندہ اور دھتکارا ہوا ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ سامری کا بڑا جرم ثابت ہو جانے کے بعد حضرت موسٰیؑ نے اس کے بارے میں نفرین کی اور خدا نے اُسے پُراسرار بیماری میں مبتلا کر دیا کہ جب تک وہ زندہ رہا کوئی شخص اُسے چُھو نہیں سکتا تھا اور اگر کوئی اُسے چُھو لیتا تو وہ بھی بیماری میں گرفتار ہو جاتا۔ یا یہ کہ سامری ایک قسم کی نفسیاتی بیماری میں جو ہر شخص سے وسواس شدید اور وحشت کی صورت میں تھی گرفتار ہو گیا۔ اس طرح سے کہ کو شخص بھی اس کے نزدیک ہوتا وہ چلاتا کہ "لامساس" (مجھے مَت چُھونا۔) (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد۶، ص۴٢۸۱)۔ سامری کے لیے دوسری کے لیے سزا یہ تھی کہ حضرت موسٰیؑ نے اسے قیامت میں ہونے والے عذاب کی بھی خبر دی۔ اور کہا: تیرے آگے ایک وعدہ گاہ ہے۔ خدائی دردناک عذاب کا وعدہ_______ کہ جس سے ہرگز نہیں بچ سکے گا (وان لک موعدًا لن تخلفہ)۔ (تشریحی نوٹ: "لن تخلفہ" ایک فعل مجہول ہے کہ جس کا نائب فاعل یہاں سامری ہے اور اس کی خبر دوسرا مفعول ہے اور اس کا فاعل اصل میں خدا ہے اور سارے جملے کا معنی اس طرح ہے: تیرے لئے ایک وعدہ گاہ کہ جس سے خدا تیرے بارے میں تخلف نہیں کرے گا)۔ تیسرا کام یہ تھا کہ جو موسٰیؑ نے سامری سے کہا: "اپنے اس معبود کو کہ جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا تھا ذرا دیکھ اور نگاہ کر۔ ہم اس کو جلا رہے ہیں اور پھر اس کے ذرات کو دریا میں بکھر دیں گے" (وانظر الیٰ الٰھک الذی ظلت علیہ عاکفا لنغرقنہ ثم لننسفنہ فی الیم نسفا)۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ "لنحرقنہ" (ہم اس کو یقیناً جلائیں گے)، اِس بات دلیل ہے کہ گؤسالہ ایک جلانے کے قابل جسم تھا اور یہ چیز ان لوگوں کے نظریہ کی کہ جو یہ کہتے ہیں کہ گؤسالہ طلائی نہیں تھا، بلکہ جبرئیل کے پاؤں کی خاک کی وجہ سے ایک زندہ وجود میں تبدیل ہو گیا تھا، تائید کرتا ہے۔ ہم اِس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ "جسدا لا خوار" کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ گؤسالہ ایک بےجان مجسمہ تھا، کہ جس سے گؤسالہ کی آواز کے مشابہہ آواز ( جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے) نکلتی تھی۔ باقی رہا جلانے کا مسئلہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ دو اسباب میں سے کسی ایک سبب سے ہو: ایک تو یہ کہ یہ مجسمہ صرف سونے کا نہیں تھا بلکہ احتمال یہ ہے کہ اس میں لکڑی بھی استعمال ہوئی تھی اور سونا صرف اس کے سر پوش کے طور پر اس پر چڑھا تھا۔ دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ وہ سارا سونا ہی تھا، تب بھی اس کا جلانا، اس کی تحقیر و توہین اور اس کی شکل و صورت کو ختم کرنے کے لیے تھا۔ جیسا کہ یہ عمل ہمارے زمانے کے جابر بادشاہوں کے دھات کے مجسموں کے بارے میں دہرایا گیا ہے۔ اِس بناء پر اسے جلانے کے بعد بعض ذرائع سے ریزہ ریزہ کر کے پھر اس کے ذرات کو دریا میں پھینک دیا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اِس سارے سونے کو دریا میں پھینکنا جائز تھا اور اسراف شمار نہیں ہوتا تھا۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک اہم اور عالی مقصد کی خاطر مثلاً: بُت پرستی کے عقیدہ کی سر کوبی کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ بُت کے ساتھ اِس قسم کا سلوک کیا جائے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فساد کا مادہ لوگوں کے درمیان باقی رہ جائے اور پھر بعض لوگوں کے لیے وسوسہ کا سبب بن جائے۔ زیادہ واضح عبارت میں، اگر موسٰیؑ اس سونے کو جو گؤسالہ کے بنانے میں استعمال ہوا تھا، باقی رہنے دیتے یا اُسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے تو پھر یہ ممکن تھا کہ کسی دن جاہل اور نادان لوگ اُسے ہی مقدس سمجھنے لگ جاتے اور گؤسالہ پرستی کی رُوح نئے سرے سے ان میں زندہ ہو جاتی۔ یہاں پر ضروری تھا کہ اِس گراں قیمت مادہ کو لوگوں کے اعتقاد کی حفاظت پر قربان کر دیا جائے اور اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا اور حضرت موسٰیؑ نے سامری کے بارے میں بھی اور اس کے گؤسالہ کے بارے میں بھی انتہائی قاطع اور سخت روش اختیار کی تھی تو گؤسالہ پرستی کے فتنہ کو ختم کرنے پر قادر ہوئے اور اس کے نفسیاتی اثرات لوگوں کے ذہنوں سے پاک کیے۔ بعد میں بھی ہم دیکھیں گے کہ آپ نے گوسالہ پرستوں کے ساتھ جس دوٹوک طریقہ سے ٹکر لی اُس نے بنی اسرائیل کے دماغوں میں ایسا نفوذ کیا کہ وہ آ گے چل کو کبھی بھی ان انحرافی راستوں پر نہ چلے۔ (تشریحی نوٹ: اس دوٹوک ٹکر کی ایک نظیر انحرافی افکار کی بیخ کنی کے لئے مسجد ضرار کے بارے میں قرآن میں اشارے کے طور پر اور تاریخ و حدیث میں تفصیلی طور پر بیان ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے حکم دیا کہ مسجد ضرار کو پہلے جلا دیں اور جو کچھ باقری رہ جائے اس کو ویران کر دیں اور اس کی جگہ کو مدینہ کے لوگوں کے لئے کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ قرار دیں (مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۴ سورہ توبہ کی آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰کے ذیل میں ملاحظہ کریں)۔ آخری جملہ میں حضرت موسٰیؑ نے مسئلہ توحید پر بہت زیادہ تاکید کرتے ہوئے "اللہ" کی حاکمیت کو واضح کیا اور اس طرح کہا: "تمہارا معبود صرف اللہ ہے، وہی اللہ کہ جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، وہی کہ جس کے علم نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے"۔ (انما الٰھکم اللہ الذی لا الٰہ الا ھو وسع کل شیء علماً)۔ وہ گھڑے ہوئے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ جو کسی بات کو سنتے ہیں، نہ کوئی جواب دیتے ہیں، نہ کوئی مشکل حل کرتے ہیں اور نہ کسی نقصان کو دُور کرتے ہیں۔ واقع میں "وسع کل شیء علماً" اِس توصیف کے مدِمقابل آیا ہے کہ جو قبل کی چند آیات میں گؤسالہ اور اس کی نادانی اور ناتوانی کے بارے میں بیان ہوئی تھی۔

چند اہم نکات ۱- مشکلات کے مقابل ڈٹ جانا چاہیئے:

بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کے مقابلے میں حضرت موسٰیؑ کی روش سخت اور پیچیده انحرافات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر زمان و مکاں کے لیے ایک قابل تقلید روش ہے۔ اگر حضرت موسٰیؑ یہ چاہتے کہ صرف پند و نصیحت اور کچھ وعظ و استدلال کے لیے لاکھوں گؤسالہ پرستوں کے سامنے کھڑے ہوں تو مسلمہ طور پر اس کام کو آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔ انہیں یہی چاہیے تاکہ وہ اس موقع پر تین امور کے لیے قاطعانہ اور جراتمندانہ طور پر کھڑے ہو جائیں۔ اپنے بھائی کے سامنے، سامری کے سامنے اور گؤسالہ پرستوں کے سامنے۔ پہلے انہوں نے اپنے بھائی سے کام شروع کیا۔ ان کی ریش مبارک پکڑ لی اسے اپنی طرف کھینچا اور چیخنے اور چلانے لگے اور حقیقت میں ان کے لیے یہ ایک عدالت قائم کی، (اگرچہ آخرکار ہارونؑ کی بیگناہی لوگوں پر ثابت ہو گئی) تاکہ دوسرے اپنا حساب خود سوچ لیں۔ اِس کے بعد اس سازش کے اصلی عامل یعنی سامری کی طرف گئے اور اسے ایسی سزا دی کہ جو قتل کرنے سے بھی بدتر تھی۔ اسے معاشرے سے باہر نکال دیا، اس کو گوشہ نشین کر دیا اور اسے ایک نجس اور آلودہ وجود قرار دیا کہ جس سے سب کا دُوری اختیار کرنا ضروری ہو گیا اور اس کے لیے پروردگار کی طرف سے دردناک عذاب کی تہدید کی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے گؤسالہ پرستوں کی طرف آئے اور انہیں سمجھایا کہ تمھارا یہ گناه اس قدر بڑا ہے کہ جس سے توبہ کرنے کے لئے اس کے سوا اور کئی راستہ نہیں ہے کہ اپنے درمیان تلوار رکھ دو اور ایک گروہ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہو اور یہ گنده خون معاشرے کے جسم سے نکال دیا جائے اور اس طرح گنہگاروں کی ایک جماعت کے لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے مارے جائیں تاکہ یہ انحرافی فکر ہمیشہ کے لیے ان کے دماغ سے نکل جائے۔ اس واقعہ کی تفصیل ہم جلد اول سورہ بقرہ کی آیه ٥۱ تا ٥۴ کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ تو اس طرح سب سے پہلے جمعیت کے رہبر کی جواب طلبی ہونی چاہیے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ اُس نے اپنے کام میں کوتاہی کی ہے یا نہیں اور اس کی بےگناہی ثابت ہونے کے بعد عامل فساد کا پیچھا کیا جائے اور اُس کے بعد فساد کے طرفداروں اور ہوا خواہوں کا پیچھا کیا جانا چاہیئے۔

٢- سامری کون ہے؟

اصل لفظ "سامری، عبرانی زبان میں "شمری" ہے اور چونکہ یہ معمول ہے کہ جب عبرانی زبان کے لفظ عربی زبان میں آتے ہیں تو "شین" کا لفظ "سین " سے بدل جاتا ہے، جیسا کہ "موشی" "موسٰیؑ" سے اور "یشوع" "يسوع" سے تبدیل ہو جاتا ہے۔ اِس بناء پر سامری بھی "شمرون" کی طرف منسوب تھا، اور "شمرون" "یشاکر" کا بیٹا تھا، جو یعقوب کی چوتھی نسل ہے۔ اِسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائیوں کا قرآن پر یہ اعتراض بالکل بےبنیاد ہے کہ قرآن نے ایک ایسے شخص کو کہ جو موسٰیؑ کے زمانہ میں رہتا تھا اور وہ گؤسالہ پرستی کا سرپرست بنا تھا، شهر سامرہ سے منسوب "سامری" کے طور پر متعارف کرایا ہے، جبکہ شہر سامرہ اس زمانے میں بالکل موجود ہی نہیں تھا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ "سامري" شمرون کی طرف منسوب ہے نہ کہ سامره شهر کی طرف۔ (بحوالہ: اعلام قرآن، ص ٣٥۹)۔ بہرحال، سامری ایک خود خواہ اور منحرف شخص ہونے کے باوجود بڑا ہوشیار تھا۔ وہ بڑی جرات اور مہارت کے ساتھ بنی اسرائیل کے ضعف نکات اور کمزوری کے پہلوؤں سے استفادہ کرتے ہوئے اس قسم کا عظیم فتنہ کھڑا کرنے پر قادر ہو گیا کہ جو ایک قطعی اکثریت کے بت پرستی کی طرف مائل ہونے کا سبب بنے اور جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنی اس خود خواہی اور فتنہ انگیزی کی سزا بھی اسی دنیا میں دیکھ لی۔

99
20:99
كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَۚ وَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكۡرٗا
ہم اسی طرح سے تمہارے لئے گزری ہوئی خبروں کو بیان کرتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے تجھے ذکر (قرآن) عطا فرمایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
20:100
مَّنۡ أَعۡرَضَ عَنۡهُ فَإِنَّهُۥ يَحۡمِلُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وِزۡرًا
جو شخص اس سے منہ پھیر لے وہ قیامت کے دن (گناہ اور جوابدہی کا)سنگین بوجھ (اپنے کندھے پر) اٹھائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
20:101
خَٰلِدِينَ فِيهِۖ وَسَآءَ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ حِمۡلٗا
وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور قیامت کے دن ان کے اٹھانے کیلئے بہت ہی برا بوجھ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
20:102
يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ وَنَحۡشُرُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ يَوۡمَئِذٖ زُرۡقٗا
وہ دن جس میں صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہم مجرمین کو نیلے بدنوں کے ساتھ جمع کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
20:103
يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا
وہ آپس میں آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے ہوں گے (بعض کہیں گے) تم نے صرف دس شبانہ روز قیام کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
20:104
نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذۡ يَقُولُ أَمۡثَلُهُمۡ طَرِيقَةً إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا يَوۡمٗا
وہ جو کچھ کہیں گے ہم اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں جبکہ وہ شخص جس کی روش ان میں سب سے بہتر ہے کہیگا کہ تم تو صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو۔

تفسیر ان کے کندھوں پر بدترین بوجھ:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات اگرچہ موسٰیؑ، بنی اسرائیل، سامری اور فرعونیوں کی تاریخ کے بارے میں تھیں۔ اس کے باوجود ان آیات کے متن کی مناسبت سے طرح طرح کی بحثیں ہو چکی ہیں۔ اِن مباحث کے اختتام پر قرآن ایک کلی نتیجہ بھی پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: ہم اسی طرح سے گُزری ہوئی خبروں کو یکے بعد دیگرے تیرے لیے بیان کرتے ہیں (كذالك نقص عليك من انباء ما قد سبق)۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: ہم نے اپنی طرف سے تجھے قرآن دیا (وقد اتيناك من لدنا ذكرًا)۔ وہ قرآن، کہ جو دروس عبرت، دلائل عقلی، گزشتہ قوموں کی سبق آموز خبروں اور آئندہ آنے والے لوگوں کو بیدار کرنے والے مسائل سے معمور ہے۔ اصولی طور پر قرآن مجید کا اہم حصہ گزشتہ لوگوں کی سرگذشت کا بیان ہے۔ قرآن ایک انسان ساز کتاب ہے ــــــــ اس میں گزرے ہوئے لوگوں کی تمام تاریخ بلاوجہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ ان کی تاریخ کے مختلف پہلوں، کامیابی شکست کے عوامل اور سعادت و بدبختی کے اسباب سے اور ان کی تاریخ کے صفحات میں چھپے ہوئے فراواں تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔ کلی طور علوم میں سے سب سے زیادہ قابل اطمینان تجرباتی علوم ہیں کہ جو تجربہ گاہوں میں تجربے سے گزارے جاتے ہیں اور ان کے عینی نتائج کا مشاہدہ کیا جاتاہے۔ تاریخ، انسانوں کی زندگی کی عظیم تجربہ گاہ ہے اور اس تجرہ گاہ میں، اقوام کی سر بلندی و شکست، کامیابی و ناکامی خوش بختی و بدبختی سب کی سب تجربے کے لیے رکھی گئی ہیں۔ ان کے عینی نتائج ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں، اور ہم زندگی کے مسائل کے سلسلہ میں اپنے علوم و دانش کے زیادہ قابل اطمینان حصہ کہ ان سے سیکھ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسان کی زندگی کا حاصل___ ایک لحاظ سے ــــــ تجربہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اور تاریخ ___ میں کسی قسم کی تحریف نہ کی گئی ہو تو انسانوں کے ہزاروں سال کی زندگی کا نچوڑ ہوتی ہے اور یہ سب کچھ مطالعہ کرنے والوں کو ایک ہی جگہ سے مل جاتا ہے۔ اسی بنا پر امیرالمومنین علی علیہ اسلام اپنے فرزند امام حسن مجتبٰی علیه السلام کو اپنے حکیمانہ پند و نصائح میں خصوصًا اسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ای بنی انی وان لم اكن عمرت عمر من كان قبلی، فقد نظرت في أعمالهم و فكرت في اخبارهم، وسرت في اثارهم حتٰی عدت كاحدهم بل کانی بما انتهی الیٰ من امورهم قد عمرت مع اولهم الى أخرهم، فعرفت صفو ذالك من کدره ونفعه من ضرره فاستخلصت لك من كل أمر نخيله: اے بیٹا! یہ ٹھیک ہے کہ میں نے ان تمام لوگوں جتنی، کہ جو مجھ سے پہلے گزرے ہیں، زندگی نہیں گزاری لیکن میں نے ان کے کردار پر نظر ڈالی اور ان کی خبروں میں غور و فکر کیا اور ان کے آثار میں سیر و سیاحت کی۔ یہاں تک کہ میں ان میں سے ایک کی طرح ہو گیا ہوں، بلکہ چونکہ ان کی تاریخ مجھ تک پہنچتی ہے تو گویا میں ان سب کے ساتھ اول دنیا سے لے کر آج کے دن تک رہا ہوں۔ میں نے ان کی زندگی کے صاف و شفاف حصہ کو گدلے اور تاریک حصہ سے الگ کر کے پہچان لیا ہے۔ ان کے نفع و نقصان کو جان لیا ہے اور ان تمام میں سے تیرے لیے اہم اور منتخب حصوں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کا خط ٣۱ (خطوط کا حصہ)۔ اِس بناء پر تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جو گزشتہ زمانہ کو عیاں کرتا ہے اور ایک ایسا حلقہ ہے کہ جو آج کو کل کے ساتھ متصل کر دیتا ہے۔ تاریخ انسان کی عمر کو اس کے اندازے سے بڑا بنا دیتی ہے۔ تاریخ ایک ایسا معلم ہے کہ جو امتوں کی عزت اور ذلت کے بھیدوں کو کھول کر رکھ دتیا ہے۔ تاریخ ستمگروں کو پہلے زمانے کے ظالموں کے بُرے انجام سے آگاہ کرتی ہے۔ وہ ظالم جو ان سے زیادہ طاقتور تھے۔ تاریخ مردان حق کو بشارت دیتی ہے اور استقامت اور پامردی کی دعوت دیتی ہے اور انہیں اپنے سفر کے لیے گرماتی ہے۔ تاریخ ایک ایسا چراغ ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کے راستوں کو روشن کرتا ہے اور موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے راہیں کھولتا اور ہموار کرتا ہے۔ تاریخ آج کے انسانوں کی تربیت کرتی ہے اور آج کے انسان کل کی تاریخ بناتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ خدا کی ہدایت کے اسباب میں سے ایک تاریخ ہے۔ لیکن اِس بارے میں کوئی اشتباہ اور غلط فہمی نہ ہونے پائے کہ ایک سچی تاریخ کا بیان جس قدر تعمیری اور تربیتی ہے اسی قدر جعلی اور تحریف شده تاریخیں گمراہی کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر جن لوگوں کے دل بیمار ہیں انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ تاریخ میں تحریف کر کے انسانوں کو دھوکا دیں اور خدا کے راستے سے روکیں۔ ہمیشہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخ میں بہت زیادہ تحریف ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے تاریخ اور اس کی اہمیت کے بارے میں سورہ یوسف کی ابتدا اور آخر میں جلد ٥ ص ۴٢۸ اُردو ترجمہ اور جلد٥ ص ۶۰۷ اُردو ترجمہ اور اسی طرح سوره ہود جلد٥ ص ۴۱٣ اردو ترجمہ میں بحث کی ہے)۔ اِس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ لفظ "ذكر" یہاں اور قرآن کی بہت سی دوسری آیات میں خود قرآن کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس کی آیات انسانوں کی بیداری اور ہوشمندی کے لیے تذکر اور یاد آوری کا موجب ہوتی ہیں۔ اسی بناء پر بعد والی آیت ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے کہ جو قرآن کے حقائق اور تاریخ کے عبرت انگیر سبق کو بھول جاتے ہیں "جو قرآن سے منہ پھیرے لے گا وہ قیامت میں گناہ اور جوابدہی کا سنگین بوجھ کندھے پر اٹھائے ہوئے ہو گا ": (من اعرض عنه فانه يحمل يوم القيا مة وزرًا)- ہاں! پروردگار سے روگردانی، انسان کو اس طرح سے بے راہ روی کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے کہ قسم قسم کے گناہوں اور فکری و عقیدتی انحراف کا سنگین بوجھ اس کے کندھے پر رکھ دیتی ہے (اصولی طور پر لفظ "وزر" خود سنگین بوجھ کے معنی میں ہے اور اسے نکرہ کی شکل میں پیش کرنا، اس بارے میں مزید تاکید ہے)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : وہ اپنے ان عمال کے بوجھ تلے ہمیشہ ہمیشہ دبے رہیں گے :(خالدين فيه)۔ " اور گناہ کا یہ سنگین بوجھ، ان کے لیے قیامت کے دن بہت ہی برا بوجھ ہے" (وساء لهم يوم القيامة حملاً)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ "فيه" کی ضمیر اس آیت میں "وزر" کی طرف لوٹتی ہے یعنی وہ اسی" وزر" جواب دہی اور اپنے سنگین بوجھ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (ہمارے پاس اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم یہاں پر کسی چیز کو مقدر مانیں اور یہ کہیں کہ وہ عذاب میں یا جہنم میں ہمیشہ رہیں گے) نیز یہ آیت خود تجسم اعمال کے مسئلہ کی طرف ایک اشارہ ہے اور یہ کہ انسان انہی اعمال اور کاموں کی وجہ سے ہے جو اس نے اس جہان میں انجام دیئے ہیں قیامت میں اچھی جزا یا بُری سزا دیکھے گا۔ اس کے بعد قیامت کے دن کی توصیف اور اس کے آغاز کے بیان کو شروع کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے، وہی دن کہ جس میں صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو نیلے اور سیاہ بالوں کے ساتھ، اس دن جمع کریں گے (يوم ينفع والصور و نحشر الجرمين يومئذ زرقًا)۔ جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے۔ آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا اختتام اور دوسرے جہان کا آغاز، دو انقلابی اور ناگہانی جنبشوں کے ساتھ صورت پذیر ہو گا کہ جن میں سے ہر ایک کو" نفخ صور" (صور پھونکنے) سے تعبیر کیا گیا ہے اس کی تشریح ہم انشاء الله سوره زمر کی آیہ ۶۸ کے ذیل میں کریں گے۔ لفظ "زرق" "ازرق" کی جمع ہے جو عام طور پر نیلی آنکھ والے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کبھی اس شخص پر بھی کہ جس کا بدن درد اور تکلیف کی شدت کی وجہ سے سیاہ اور نیلا ہو چکا ہو، بولا جاتا ہے کیونکہ بدن درد اور تکلیف کے وقت نحیف اور کمزور ہو کر اپنی طراوت اور رطوبت کو کھو بیٹھتا ہے اور نیلا نیلا سا نظر آتا ہے۔ بعض نے اس لفظ کی "نابینا" کے معنی سے بھی تفسیر کی ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیلی آنکھ والے افراد کی بینائی بہت کمزور ہوتی ہے اور عام طور پر ان کے بدن کے بال بھی کمزور ہوتے ہیں لیکن جو کچھ ہم نے اوپر کی تفسیر میں بیان کیا ہے، شاید وہ سب سے بہتر ہو۔ اس حالت میں مجرمین آپس میں عالم برزخ میں اپنے توقف کی مقدار کے بارے میں آہستہ آہستہ گفتگو کریں گے۔ بعض کہیں گے کہ تم تو صرف دس راتیں (یا دس رات دن) عالم برزخ میں رہے ہو۔ (یتخافتون بينهم ان لبثتم الاعشرًا)۔ (تشریحی نوٹ: عربى ادب کے لحاظ سے چونکہ "عشرا" یہاں مذکر کی شکل میں آیا ہے لہذا یقینًا اس کا مضاف الیہ "لیال" ہونا چاہیے جو کہ مونث ہے. اور اگر اس کا مضاف اليہ "ايام" ہوتا تو "عشرۃ" كہا جاتا - لیکن بعض عرب ادباء کہتے ہیں کہ جس وقت عدو تنہا شکل میں ظاہر ہو اور کی تمیز محذوف ہو تو پھرسابقہ قاعده جاری نہیں ہوتا۔ لہذا "عشر" یہاں دس دنوں کی طرف اشارہ ہے)۔ اِس میں شک نہیں کہ عالم برزخ میں ان کے توقف کی مدت بہت طولانی تھی لیکن قیامت کی عمر کے مقابلہ میں بہت ہی مختصر نظر آتی ہے۔ ان کا آہستہ آہستہ کہنا یا تو اس شدید وحشت اور رعب کی وجہ سے ہو گا کہ جو قیامتت کا منظر دیکھ کر انہیں لاحق ہو گا یا ضعف و ناتوانی کے اثر سے ہو گا۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ دنیا میں ان کے توقف کی طرف اشارہ ہے کہ جو آخرت اور اس کے وحشت ناک حوادث کے مقابلہ میں چند مختصر دن ہی معلوم ہو گا۔ اِس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم اُس سے کہ جو وہ کہتے ہیں مکمل طور پر آگاہ ہیں: (نحن اعلم بما یقولون)۔ چاہے وہ آہستہ سے کہیں یا بلند آواز سے۔ "اور اس موقع پر وہ شخص کہ جو سب سے بہتر راه دروش اور عقل و شعور رکھتا ہے، یہ کہے گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو" (اذ يقول امثلھم طريقۃ ان لبثتم الا يومًا)۔ مسلمہ طور پر تو دس دن کی طولانی مدت ہے اور نہ ہی ایک دن کی لیکن ان میں یہ فرق ہے کہ ایک دن تو اکائیوں میں سے سب سے کمتر عدد کی طرف اشارہ ہے اور دس دن دھائیوں میں سے کم عدو کی طرف۔ لہذا پہلا زیادہ کم مدت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اسی لیے قرآن نے اس کے کہنے والے کے بارے میں "امثالهم طريقة" (جس کی روش اور طریقہ بہتر ہے) فرمایا ہے۔ کیونکہ عمر دنیا کی کوتاہی یا برزخ کا چھوٹا ہونا، آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں اور اسی طرح ان کی کیفیت کا ناچیز ہونا اس کی کیفیت کے مقابلے میں، کم سے کم عدد کے ساتھ ہی مناسبت رکھتا ہے۔ (غورکیجئے گا)۔

105
20:105
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡجِبَالِ فَقُلۡ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسۡفٗا
اورتجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میرا پرور دگار انہیں (ریزہ ریزہ کر کے) تباہ کردے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
20:106
فَيَذَرُهَا قَاعٗا صَفۡصَفٗا
پھر زمین کو صاف ہموار اور بے آب و گیا ہ چھوڑ دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
20:107
لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجٗا وَلَآ أَمۡتٗا
(اس طرح کہ) تو اس میں کسی قسم کی پستی اور بلندی نہیں دیکھے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
20:108
يَوۡمَئِذٖ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُۥۖ وَخَشَعَتِ ٱلۡأَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمَٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ إِلَّا هَمۡسٗا
اس دن سب کے سب خدائی دعوت دینے والے کی پیر وی کریں گے اور تمام آوازیں عظمت خدا کے سامنے خاضع ہوں گی اور سوائے آہستہ آواز کے تو کچھ نہیں سنے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
20:109
يَوۡمَئِذٖ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُۥ قَوۡلٗا
اس دن (کسی شخص کی)شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس شخص کے کہ جسے خدائے رحمٰن نے اجازت دی ہوگی اور وہ اس کی گفتگو سے راضی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
20:110
يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلۡمٗا
جوکچھ ان(مجرموں نے) آگے بھیجا ہے اور جو کچھ انہوں نے (دنیامیں ) پیچھے چھوڑا ہے وہ (خدا) اسے جانتا ہے،لیکن وہ اللہ کے بارے احاطہ علمی نہیں رکھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
20:111
۞وَعَنَتِ ٱلۡوُجُوهُ لِلۡحَيِّ ٱلۡقَيُّومِۖ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمٗا
اور اس دن تمہارے چہرے خدائے حی و قیوم کے سامنے خاضع ہوں گے اور مایوس(اور زیاں کار)وہ لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے ظلم کابوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھارکھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
20:112
وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا يَخَافُ ظُلۡمٗا وَلَا هَضۡمٗا
(لیکن)وہ شخص جو مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل انجام دے گا، نہ تو اسے کسی ظلم کاخوف ہو گا اور نہ ہی اپنے حق کے نقصان کا۔

تفسیر قیامت کا ہولناک منظر:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

چونکہ گزشتہ آیات میں اختتام دنیا اور آغاز قیامت کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیت میں وہی مسئلہ جاری ہے۔ پہلی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے پیغمبر اسلامؐ سے، دنیا کے اختتام کے موقع پر پہاڑوں کے انجام کے بارے میں سوال کیا ہو گا۔ شاید اس بناء پر کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا کہ اس قسم کے موجودات کہ جن کی جڑیں زمین کی گہرائی میں گئی ہوئی ہیں اور سر آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں اور اگر یہ بات ہو کہ انہیں جڑ سے ہی اکھاڑ دیا جائے گا، تو وہ کون سا طوفان اور آندھی ایسی ہے کہ جو ایسا کر سکے گی۔ لہذا قرآن کہتا ہے، تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں (ویسئلونك عن الجبال)۔ جواب میں اُن سے "کہہ دو کہ میرا پروردگار انہیں بکھیر کر سنگریزوں میں تبدیل کر دے گا اور پھر انہیں تباہ و برباد کر دے گا": (فقل ينسفها ربي نسفًا)۔ (تشریحی نوٹ: "نسف" کا مادہ لغت میں غذائی دانوں کو چھلنی میں ڈال کر ہلانے اور پھیکنے کے معنی میں ہے تاکہ چھلکے والوں سے علیحدہ ہو جائیں اور یہاں پہاڑوں کے بکھرنے، خراب ہونے اور اس کے بعد تباہ و برباد ہو جانے کی طرف اشارہ ہو جانے کی طرف اشارہ ہے)۔ پہاڑوں کے انجام کے بارے میں قرآن کی تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ میدان قیامت میں مختلف مراحل طے کریں گے۔ پہلے تو وہ لرزہ براندام ہوں گے: يوم ترجف الارض والجبال (مزمل۔۱۴)۔ پھر وہ چلنے لگ جائیں گے: وتسير الجبال سيرًا (طور۔ ۱۰)۔ اور تیسرے مرحلے میں وہ بکھر کر سنگریزوں کی شکل اختیار کر لیں گے: وكانت الجبال كثيبًا مھيلاً (مزمل۔۱٢) اور آخری مرحلے میں طوفان اور آندھیاں انہیں اپنی جگہ سے اٹھا کر فضا میں بھکیر دیں گی کہ وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح نظر آئیں گے۔ وتكون الجبال کالعھن المنفوش (قارعہ۔ ٥) بعد والی آیت کہتی ہے کہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور ان کے ذرات کے بکھر جانے کے ساتھ "خدا صفحۃ زمین کو ایک صاف اور ہموار بے آب و گیاہ چٹیل میدان کی طرح کر دے گا: (فيذرها قاعًا صفصفًا)۔ (تشریحی نو ٹ: قاع" صاف و ہموار زمین کو کہتے ہیں۔ بعض نے اس کو ایک ایسی جگہ کہ جس میں پانی جمع ہو سے تفسیر کیا ہے. رہا "صفصف" تو یہ کبھی تو ایسی زمین کے معنی میں آتا ہے کہ جو ہرقسم کی گھاس سے خالی ہو اور کبھی صاف زمین کے معنی ہیں۔ ان دونوں صفات کے مجموعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دن پہاڑ اور گھاس وغیرہ سب کچھ زمین سے ختم ہو جائیں گے اور صاف اور ساده زمین باقی رہ جاۓ گی)۔ "اس طرح سے کہ تم اس میں کسی طرح کا ٹیڑھا پن اور پستی و بلندی نہ دیکھو گے" (لاتری فيها عوجًا ولا امتًا)۔ (تشریحی نوٹ: "عوج" کجی اور گڑھے کے معنی میں ہے اور امت اونچی زمین اور ٹیلے کے معنی ہے اس بناء پر آیت مجموعی طور پر یہ معنی دے گی کہ اس دن کسی قسم کی پستی و بلندی زمین میں نظر نہیں آئے گی)۔ "اس وقت خدا کی طرف سے دعوت کرنے والا، زندہ ہو کر محشر میں جمع ہونے اور حساب کتاب کی دعوت دے گا اور بےکم و کاست، سب کے سب اس کی دعوت پر لبیک کہیں گے۔ اور اس کی پیروی کریں گے": (يومئذ يتبعون الداعي لاعوج له)۔ کیا یہ دعوت کرنے اور پکارنے والا "اسرافیل" ہو گا یا خدا کے بزرگ فرشتوں میں سے کوئی اور عظیم فرشتہ ہو گا؟ قرآن سے واضح نہیں ہوتا۔ لیکن جو کوئی بھی ہو، اس کا حکم اس طرح سے نافذ ہو گا کہ کسی شخص میں اس کی خلاف ورزی کرنے کی طاقت نہ ہو گی۔ "الاعوج لہ" (کسی قسم کا انحراف اور کجی نہیں رکھتا) ممکن ہے کہ اس دعوت کرنے والے کی دعوت کا وصف ہو یا جن کو دعوت دی جائے گی ان کی توصیف ہو یا یہ دونوں کے لیے ہو۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جس طرح سطح زمین اسی طرح صاف اور ہموار ہو جائے گی کہ اس غیر معمولی سا ٹیڑھا پن بھی باقی نہ رہے گا، اسی طرح خدا کا فرمان اور اس کی صاف دعوت دینے والا بھی ویسا ہی صاف و مستقیم ہو گا اور اس کی پیروی بھی ایسی صاف ستھری ہو گی کہ اس میں کسی قسم کجی اور انحراف نظر نہیں آئے گا۔ اِس موقع پر پروردگار ان کی عظمت کے سامنے تمام کی تمام آوازیں خاضع ہو جائیں گی اور آہستہ آہستہ سی آوازوں کے سوا تمهیں کوئی چیز سنائی نہ دے گی" (وخشعت الأصوات للرحمن فلاتسمع الا ھمسا)۔ (تشریحی نوٹ: همس (بروزن "لمس") جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے۔ آہستہ اور پنہاں آواز کے معنی ہے بعض اس کو پاؤں کی آہستہ چاپ (ننگے پاؤں سے چلنے کی آواز) کے معنی میں تفسیر کرتے ہیں اور بعض لبوں کی حرکت سے، بغیر اس کے کہ ان کی آواز سنی جائے۔ ان تمام میں کوئی خاص فرق نہیں ہے)۔ آوازوں کی یہ خاموشی یا تو عرصہ محشر میں عظمت الٰہی کے رعب کی وجہ سے ہو گی کہ جس کے سامنے سب کے سب خضوع کریں گے یا حساب و کتاب اور نتیجہ اعمال کے خوف سے اور یا دونوں وجوہ سے۔ چونکہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس اشتباه میں گرفتار ہو جائیں کہ گناہوں میں غرق ہونے کے باوجود کچھ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کے ذریعہ بچنا ممکن ہو جائے گا تو فورًا فرمایا گیا ہے: اُس دن کسی کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی، سوائے ان لوگوں کی شفاعت کے کہ جنہیں خدائے رحمٰن شفاعت کی اجازت دے دے گا اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو سے راضی ہو گا (يومئذ لاتنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمن و رضی له قولا)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہاں شفاعت بےحساب نہیں ہو گی بلکہ شفاعت کا پروگرام، شفاعت کرنے والوں کے بارے میں بھی اور جن کی شفاعت ہو سکے گی، اُن کے بارے میں بھی ایک دقیق پروگرام ہے اور جب تک لوگوں میں اس بات کی لیاقت اور استحقاق نہ ہو گا کہ ان کی شفاعت کی جائے، شفاعت بےمعنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ شفاعت کے بارے میں غلط خیالات رکھتے ہیں اور اسے بلا تشبیہ دنیا کی پارٹی بازیوں کی طرح سمجھتے ہیں حالانکہ شفاعت اسلام کی منطق کے لحاظ سے تربیت کا ایک اعلی درجہ ہے اور ان لوگوں کے لیے کہ جو راہ حق میں جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں ایک درس ہے۔ لیکن وہ بھی کبھی اعمال کی کمی اور لغزشوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ممکن ہے کہ یہ لغزشیں مایوسی اور ناامیدی میں گرفتار کر دیں۔ اس مقام پر شفاعت ایک قوی محرک کے طور پر ان کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ مایوس نہ ہو اور راہ حق پر اسی طرح چلتے رہو اور اس راہ میں سعی و کوشش سے دستبردار نہ ہو اور اگر تم سے کوئی لغزش ہو گئی ہے تو ایسے شفاعت کرنے والے موجود ہیں کہ جو خدا نے رحمٰن کی اجازت ــــــ کہ جس کی عمومی رحمت نے ان سب کو گھیر رکھا ہے___ تمھاری شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت سستی اور کاہلی یا مسئولیت و جواب دہی سے فرار، یا ارتکاب گناہ کے لیے سبز باغ نہیں ہے۔ بلکہ شفاعت راہ حق میں استقامت اور جہاں تک ممکن ہو سکے، گناہوں کو کم سے کم کرنے کی دعوت ہے۔ اگرچہ ہم شفاعت کی بحث جلد اول سورہ بقرہ کی آیہ ۴۷- ۴۸ کے ذیل میں اور جلد اول سوره بقره آیه ٢٥٥ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ کر چکے ہیں، البتہ کوئی حرج نہیں ہے کہ یہاں بھی ایک عمده داستان کا اضافہ کریں اور وہ یہ ہے کہ عالم ربانی مرحوم یا سری کہ جو علمائے تہران میں سے تھے، اسی طرح نقل کرتے ہیں کہ ایک شاعر جس کا نام حاجب تھا، مسئلہ شفاعت میں عامیانہ اشتباهات میں گرفتار تھا، اس نے اس مضمون کا ایک شعر کہا: حاجب اگر معاملہ حشر! با عليؑ است من ضامنم کہ ہرچہ بخواہی گناه کن اے حاجب! اگر حشر کا معاملہ علیؑ کے ہاتھ میں ہے، تو میں ضامن ہوں تو جتنے چاہو گناہ کرو۔ وہ رات کے وقت عالم خواب میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو دیکھتا ہے کہ وہ جناب انتہائی غصہ اور غضب کی حالت میں ہیں، اور فرما رہے ہیں، کہ (اے حاجب) تو نے شعر ٹھیک نہیں کہا ہے۔ وہ عرض کرتا ہے کہ پھر کیا کہوں؟ تو آپؑ فرماتے ہیں کہ تو اپنے شعر کی اس طرح اصلاح کر: حاجب اگر معاملہ حشر با علیؑ است شرم از رخ علیؑ کن و کمتر گناہ کن اے حاجب! اگر حشر کا معاملہ علی کے ہاتھ میں ہے، تو علیؑ کے چہرے سے شرم کر اور گناہوں کو چھوڑ دے۔ اور چونکہ لوگوں کا قیامت کے میدان میں حساب اور جزا کے لیے حاضر ہونا، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدا ان کے اعمال و کردار سے آگاہ ہے۔ لہذا بعد والی آیت میں اس طرح اضافہ کیا گیا ہے: خدا ان تمام باتوں کو جو انہوں نے آگے بھیجی ہیں اور جنہیں وہ دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں، جانتا ہے اور ان کے تمام افعال اورا قوال اور نیات سے جو وہ پہلے رکھتے تھے اور اس جزا و سزا سے کہ جو آئندہ پیش آنے والی ہے سب سے باخبر ہے لیکن وہ پروردگار کے بارے میں احاطہ علمی نہیں رکھتے۔ (یعلم مابين ايديهم وما خلفھم ولا يحيطون به علمًا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ پہلے جملے میں جمع کی ضمیریں شفاعت کرنے والوں کی طرف لوٹتی ہیں اور بعض نے یہ بھی احتمال ذکر کیا ہے کہ "بہ" کی ضمیر مجرمین کے اعمال اور ان کے نتائج کی طرف لوٹتی ہے لیکن جو کچھ ہم نے اوپر کہا ہے وہ زیادہ صحیح نظر آتا ہے (غورکیجئے گا))۔ اِس طرح سے خدا کا علمی احاطہ ان کے اعمال کے بارے میں بھی ہے اور ان کی جزا کے سلسلہ میں بھی اور یہ دونوں حقیقت میں کامل اور عادلانه قضاوت کے دو رکن ہیں کہ قاضی ان حادثات سے بھی کہ جو رونما ہوتے ہیں کامل طور پر باخبر ہو اور ان کے فیصلہ اور جزا سے بھی آگاہ ہو۔ "اور اس دن تمام لوگ خدائے حتی و قیوم کے سائے مکمل طور پر خاضع ہوں گے: (وعنت الوجوه للحي القيوم)۔ "عنت" "عنوة" کے مادہ سے خضوع اور ذلت کے معنی میں ہے۔ لہذا قیدی کو "عانی" کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ قید کرنے والے کے ہاتھ میں خاضع اور ذلیل ہوتا ہے۔ اور اگر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پر خضوع کی "وجوه" (چہروں) کی طرف نسبت دی گئی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام نفسیاتی" اظہارات ــــ کہ جن میں سے ایک خضوع بھی ہے___ سب سے پہلے اس کے آثار چہروں پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "وجوہ" یہاں پر روسا اور امراء اور صاحبان اقتدار کے معنٰی میں ہے کہ اُس دن وہ سب کے سب بارگاہ میں ذلیل و خاضع ہوں گے (لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے)۔ اس مقام پر خدا کی تمام صفات میں سے "حی و قیوم" کا انتخاب اس وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں صفات قیامت کے مسئلہ کے ساتھ کہ جو سب کی زندگی اور قیام کا دن ہے، مناسبت رکھتی ہے۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے، خدائی ثواب سے مایوس اور ناامید وه لوگ ہیں کہ جنہوں نے ظلم و ستم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے (وقدخاب من حمل ظلمًا)۔ گویا ظلم و ستم ایک ایسے عظیم بوجھ کی طرح ہے کہ جو انسان کے کندھوں پر وزن ڈالتا ہے اور اس کو خدا کی دائمی نعمتوں کی طرف بڑھنے سے روکتا ہے۔ ظالم و ستمگر چاہے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہو، یا دوسروں پر ناامید ہو کر ان کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں گے اس لیے کہ اس دن اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ہلکے بوجھ والے جنت کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن وہ ظلم کے سنگین بوجھ میں دبے ہوئے جہنم کے قریب گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں۔ چونکہ قرآن کی روش عام طور مسائل میں مطابقت کو بیان کرنا ہے لہذا اس دن ظالموں اور مجرموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد مومنین کی حالت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے، باقی رہے وہ لوگ کہ جو اعمال صالح بجا لائیں اور وہ مومن بھی ہوں، تو وہ نہ تو کسی ظلم و ستم سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی اپنے حق کا نقصان ہو جانے سے (ومن يعمل من الصالحات وهو مؤمن فلايخاف ظلمًا ولاهضمًا)۔ (تشریحی نوٹ: "ہضم" لغت "نقص" اور کمی کے معنی میں ہے اور اگر بدن میں غذا کے جذب ہونے کو ہضم کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غذا ظاہرا کم ہو جاتی ہے اور اس کی تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے)۔ "من الصالحات" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ تمام نیک اعمال کو انجام نہیں دے سکتے، تو کم از کم ان میں سے کچھ تو بجا لائیں کیونکہ ایمان عمل صالح کے بغیر ایک ایسا درخت ہے کہ جس پر پھل نہ لگتے ہوں۔ جیسا کہ عمل صالح ایمان کے بغیر ایسا درخت ہے کہ جس کی جڑیں نہ ہوں، جو ممکن ہے کچھ دن کھڑا رہے، لیکن آخرکار خشک ہو جائے گا۔ اسی بناء پر عمل صالح کے ذکر کے بعد زیر نظر آیت: میں "وهو مؤمن" شرط کا ذکر ہے۔ اصولی طور پر عمل صالح ایمان کے بغیر وجود میں آ ہی نہیں سکتا اور اگر کبھی بےایمان لوگ کوئی نیک کام انجام دیں تو بلاشک شبہ وہ محدود و کمزور اور استثنائی ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں اس غرض سے کہ عمل صالح مسلسل، پائیدار اور گہرا انجام پائے، اسے پاک اور صحیح عقیدے سے سیراب ہونا چاہیے۔

چند نکات ۱- "ظلم" اور "ہضم" میں فرق:

زیر بحث آیات کے آخری جملہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صالح مومنین اس دن نہ تو "ظلم" سے ڈریں گے اور نہ ہی "ہضم" سے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "ظلم" تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اس دادگاه عدل میں ہرگز اس بات کا خوف نہیں ہو گا کہ ان پر کوئی ظلم و ستم ہو گا اور کسی ایسے گناہ پر ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا جسے انہوں نے انجام نہیں دیا۔ اور "ہضم" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اپنے ثواب میں کمی کے بارے میں بھی کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی جزا پوری پوری بے کم و کاست انہیں دی جائے گی۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ پہلا لفظ تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو اپنی تمام نیکیوں کے برباد ہو جانے کا خوف نہیں ہو گا۔ اور دوسرا لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اس میں تھوڑی سی کمی ہو جانے کے بارے میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی کیونکہ خدائی حساب دقیق ہو گا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان صالح مومنیں سے کچھ لغزشیں بھی سرزد ہو گئی تھیں۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان لغزشوں کو اس سے زیادہ جتنی یہ ہیں، ان کے لیے نہیں لکھا جائے گا اور ان کے اعمال صالح کے ثواب میں بھی کسی چیز کی کمی نہیں کی جائے گی۔ مذکورہ بالا تفاسیر کیونکہ ایک دوسرے کے منافی نہیں لہذا ہو سکتا ہے کہ زیربحث جملہ ان تمام معانی کی طرف اشارہ ہو۔

٢- قیامت کے مرحلے:

زیر بحث آیات میں حوادث کے ایک سلسلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو دَورِ قیامت شروع ہونے سے پہلے اور اس کے بعد ظاہر ہوں گے: ۱۔ مردے نئی زندگی کی طرف پلٹیں گے (یوم ینفخ فی الصور)۔ ٢۔ گنہگار مجتع اور محشور ہوں گے (نحشر المجرمين)۔ ٣- زمین کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ادھر ادھر بکھر جائیں گے اور سطح زمین بالکل صاف ہموار ہو جائے گی (ینسفهاربی نسفًا)۔ ۴۔ سب کے سب خدا کی طرف سے پکارنے والے کے فرمان پر کان دھرے ہوئے ہوں گے۔ اور تمام آوازیں خاموش اور دھیمی ہو جائیں گی (یومئذ يتبعون الداعی ...) – ٥- اس دن اذن خدا کے بغیر شفاعت موثر نہیں ہو گی (يومئذ لا تنفع الشفاعة .. .) ۶- خدا اپنے بےانتہا علم کے ساتھ تمام کو حساب و کتاب کے لیے حاضر کرے گا (یعلم ما بين ايديهم)۔ ۷- سب کے سب اس کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کریں گے (وعنت الوجوه للحي القيوم)- ۸- ظالم و ستمگر مایوس ہو جائیں گے (وقد خاب من حمل ظلمًا)۔ ۹- اور مومن لطیف پروردگار کے امیدوار ہوں گے (ومن يعمل من الصالحات وهو مؤمن --)۔

113
20:113
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا وَصَرَّفۡنَا فِيهِ مِنَ ٱلۡوَعِيدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ أَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرٗا
اوراسی طرح ہم نے اس قرآن کو (فصیح وبلیغ زبان) عربی میں اتارا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے خوف دلا یا ہے کہ شاید وہ تقویٰ اختیار کرلیں یا یہ ان کے لئے (نصیحت اور) یادہانی کا سبب بنے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 114 کے تحت ملاحظہ کریں۔

114
20:114
فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا
پس بلند مرتبہ ہے اللہ جو مالک برحق ہے اورتم قرآن پڑھنے میں، اس سے پہلے کہ اس کی وحی تجھ پر پوری ہو، جلدی نہ کیا کرو اور یہ کہا کروکہ اے میرے پروردگارمیرے علم کو اور زیادہ فر ماد ے۔

تفسیر پروردگارا! میرے علم کو اور زیادہ کر دے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں قیامت اور وعده و وعید سے مربوط تربیتی مسائل کے بارے میں جو کچھ آیا ہے، تو درحقیقیت ان آیات میں اس کی طرف مجموعی اعتبار سے اشارہ ہے۔ فرمایا گیا ہے: اسی طرح سے ہم نے اسے عربی (فصیح و بلیغ زبان میں) قرآن کی صورت اتارا ہے اور ہم اس میں مختلف بیانات و عبارات کے ذریعے ڈرایا ہے کہ شاید وہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ یا کم سے کم ان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو (وكذالك انزلناه قرآنا عربيًا وصرفنا فيہ من الوعيد لعلهم يتقون او يحدث لهم ذكرًا)۔ "كذالك" کی تعبیر حقیقت میں ان مطالب کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس آیت سے پہلے بیان ہوئے ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی انسان کسی دوسرے کے لیے بیدار کن اور عبرت انگیز مطالب بیان کرے اور اس کے بعد کہے کہ یوں پند و نصیحت کرنا چاہیے___ اِس بناء پر ہمیں دوسری تفسیروں کی ضرورت نہیں رہتی جو بعض مفسرین نے اس مقام پر بیان کی ہیں۔ اور وہ آیت کے معنی کے ساتھ کوئی مطابقت بھی نہیں رکھتیں)۔ لفظ "عربي" اگرچہ عربی زبان کے معنی میں ہے لیکن دو لحاظ سے یہاں قران کی فصاحت و بلاغت اور اس کے مفاہیم کے رسا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا یہ کہ اصولی طور پر عربی زبان ـــــ دنیا بھر کے زبان شناسوں کی تصدیق کے مطابق ــــــ ایک رسا ترین زبان ہے اور اس کا ادب قوی ترین ادب ہے۔ دوسرا یہ کبھی "صرفنا" مختلف قسم کے بیانات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن ایک حقیقت بیان کرنے میں اختیار کرتا ہے مثلا وعید اور مجرموں کی سزا کبھی گزشتہ أمتوں کی سرگذشت کے لباس میں کبھی حاضرین سے خطاب کی صورت میں کبھی میدان قیامت میں ان کے حالات کی تصویر کشی کی صورت میں اور کبھی کسی دوسرا پیراۓ میں بیان کرتا ہے۔ "لعلهم يتقون" کا "يحدث لهم ذكرًا" سے فرق ممکن ہے کہ اِس لحاظ سے ہو کہ پہلے جملے میں تو وه یہ کہتا ہے کہ مقصد، تقویٰ کا کامل صورت میں پیدا ہوتا ہے اور دوسرے جملہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر مکمل طور پر تقویٰ پیدا نہیں ہوتا تو کم از کم بیداری و آگاہی تو ہونا چاہیے تاکہ اس وقت کا تو کچھ حدود میں اسے محدود کر دے اور آئندہ کے لیے مثبت حرکت کا سرچشمہ بن جائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا جملہ تو غیر پرہیزگاروں کے لیے پرہیزگاری اور تقویٰ اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہو اور دوسرا جملہ پرہیزگاروں کے لیے نصیحت اور یادوہانی کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ سورہ انفال کی آیہ۲ بیان ہوا ہے: اذا تليت علیهم اياته زادتهم ایمانًا جس وقت قرآن کی آیات مومنین کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دراصل زیربحث آیت میں تعلیم و تربیت کے دو موثر اصولوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، اول بیان کی صراحت اور عبارات کے رسا ہونے اور ان کے روشن و دلنشین ہونے کا مسئلہ ہے اور دوسرے مطالب کو طرح طرح کے لباسوں میں بیان کرنا ہے تاکہ تکرار کا موجب نہ ہو اور دلوں میں اتر جانے کا باعث ہو۔ بعد والی آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے، بلند مرتبہ ہے وہ خدا جو بادشاہ برحق ہے (فتعالی الله الملك الحق)۔ ممکن ہے لفظ "حق" ان کا ذکر لفظ "ملک" کے بعد اس بناء پر ہو کہ لوگ عام طور ہر لفظ "ملک" (بادشاہ) سے بڑا مفہوم لیتے ہیں اور اس سے ان کے ذہن میں ظلم و ستم اور خود سری کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے، خدا بادشاہ برحق ہے۔ بعض اوقات پیغمبر اکرمؐ اور آیات قرآن حاصل کرنے سے اشتیاق اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے حفظ کرنے کی خاطر نزول وحی کے وقت جلدی فرمایا کرتے تھے اور جبرئیلؑ کو پورے طور پر اس بات کی مہلت نہ دیتے تھے کہ وہ اپنی بات کو تمام کر لیں۔ اِس آیت کے آخر میں انہیں نصیحت کی جا رہی ہے: قرآن کے لیے جلدی نہ کیا کرو، اس سے پہلے کہ اس کی وحی پوری ہو: (ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضٰي اليك وحيه). "اور یہ کہا کرو کہ اے پروردگارا میرے علم میں زیادتی فرما" (وقل رب زدني علمًا)۔ قرآن کی بعض دوسری آیات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر میں نزول وحی کے وقت ایک خاص کیفیت پیدا ہو جایا کرتی تھی کہ جو اس بات کا سبب بنتي تھی کہ وہ حصول وحی میں جلدی کریں۔ مثلًا: لاتحرك به لسانک لتعجل به ان علينا جمعه وقرانه فاذا قرأناه فا تبع قرانه اپنی زبان کو جلدی کی خاطر وحی حاصل کرتے وقت حرکت نہ دیا کرو۔ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے تاکہ تو اُسے تلاوت کر سکے۔ پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو پھر تو اس کی تلاوت کی پیروی کر۔ (بحوالہ: سورہ قیامت ۱٥ تا ۱۷)

چند نکات ۱- حصولِ وحی تک میں عجلت نہ کرو:

ان جملوں میں چند تربیتی سبق موجود ہیں۔ ان میں سے ایک حصول وحی کے وقت عجلت کرنے سے نہی ہے۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ کسی بات کہنے والے کی بات سنتے وقت ابھی اس کا مطلب ختم ہونے نہیں پاتا کہ اسے دہرانے یا پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کام کی بنیاد کبھی تو بےصبری ہوتی ہے اور کسی غرور و خود نمائی۔ البتہ بعض اوقات مطلب حاصل کرنے اور ماموریت کی انجام دہی کے لیے اشتیاق اور لگاؤ بھی انسان کو اس کام کے لیے آمادہ کر دیتا ہے۔ اس صورت میں عجلت پر ابھارنے والا جذبہ تو مقدس ہوتا ہے لیکن نفس عمل یعنی عجلت کرنا عام طور پر مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے زیر بحث آیات میں اس کام سے منع کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ صحیح مقصد کے لیے ہی ہو - اصولی طور پر وہ کام جو جلد بازی میں انجام پاتے ہیں، عیب و نقص سے خالی نہیں ہوتے۔ یقینی طور پر پیغمبر اکرمؐ کا کام مقام عصمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطا و اشتباه سے محفوظ تھا لیکن چونکہ انہیں ہر چیز میں لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہونا چاہیے تاکہ لوگ اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ جہاں وحی کو حاصل کرنے میں جلد بازی کرنا مناسب نہیں ہے تو پھر باقی کاموں کا معاملہ تو بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ البته عجلت کا سرعت کے ساتھ اشتباہ نہیں کرنا چاہیے۔ سرعت تو اس کو کہتے ہیں کہ پروگرام مکمل طور پر منظم ہو چکا ہے اور تمام مسائل کی جانچ پڑتال کر لی گئی ہے، اس کے بعد وقت ضائع کیے بغیر بلا تاخیر اس پروگرام پر عمل شروع کر دیا جائے۔ لیکن عجلت اس کو کہتے ہیں کہ ابھی پروگرام اچھی طرح بنا نہیں ہے اور اس کے لیے ابھی تکمیل اور غور و خوض کی ضرورت ہے اور کام شروع کر دیا جائے۔ اِسی بنا پر "سرعت" ایک پسندیدہ عمل ہے اور "عجلت" اور جلد بازی کرنا ناپسندیدہ کام ہے۔ البتہ اس عمل کی تفسیر میں بعض دوسرے احتمالات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک احتمال یہ ہے کہ بعض اوقات وحی کے آنے میں دیر ہو جانے کی وجہ سے پیغمبر اکرم بے تاب ہو جایا کرتے تھے۔ یہ آیات آپ کو تعلیم دے رہی ہے کہ بےتاب نہ ہوں، ہم برمحل جو کچھ ضروری ہوا آپ پر وحی کریں گے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید کی آیات چونکہ مجموعی صورت میں ایک ہی مرتبہ شب قدر میں قلب پیغمبر پر نازل ہوئی تھیں اور دوسری مرتبہ بتدریج ۲۳ سال کی مدت میں نازل ہوئیں، لہذا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تدیریجی طور پر نازل ہوتے وقت کبھی کبھی جبرئیل سے پہلے ہی پڑھنے لگ جایا کرتے تھے۔ قرآن حکم دیتا کہ تم اِس کام میں عجلت مت کرو اور نزول تدریجی کو اِس کے موقع اور محل پر انجام پانے دو. لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

۲- علم میں اضافے کے طلبگار رہو:

إس سبب سے کہ وحی حاصل کرتے وقت جلد بازی سے ممانعت ممکن ہے یہ وہم پیدا کرے کہ یہاں زیادہ علم حاصل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا ساتھ میں فرمایا گیا ہے: یہ کہا کرو کہ اے پروردگار! میرے علم میں اضافہ فرما (قل رب زدني علماً) اِس جملے سے مذکورہ خیال رد کیا گیا ہے۔ یعنی عجلت اور جلدبازی درست نہیں ہے۔ لیکن علم میں اضافے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے جملے میں نبی کریمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ آیات کے تمام پہلوؤں کو دوسری آیات میں وضاحت سے پہلے سمجھنے میں جلدی نہ کیا کرو اور دوسرے جملے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا سے قرآن کی آیات کے مختلف مفاہیم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی طلب کرو۔ بہرحال جہاں رسول اللهؐ اس علم سے سرشار اور آگہی سے معمور روح کے باوجود اِس بات پر مامور ہوں کہ آخری عمر تک خدا سے علم میں اضافے کی دعا کرتے رہیں تو دوسروں کی ذمہ داری کامل طور پر واضح اور روشن ہو جاتی ہے۔ درحقیقت اسلام کی نظر میں علم کی کوئی حد یا سرحد نہیں ہوتی۔ بہت سے امور میں زیادتی اور اضافہ کا مطالبہ مذموم ہے لیکن علم میں ممدوح ہے۔ افراط بُری چیز ہے لیکن علم میں افراط کا کوئی معنی نہیں ہے۔ علم کی کوئی مکانی سرحد نہیں ہے۔ چین اور ثریا تک بھی اس کی طلب میں دوڑنا چاہیئے۔ علم کوئی زمانی سرحد بھی نہیں رکھتا۔ گہوارے سے لے کر قبر تک جاری ہے۔ اسلام معلم اور استاد کے لحاظ سے بھی کوئی سرحد نہیں بناتا کیونکہ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے جس شخص کے پاس سے اسے ملے، اس سے حاصل کر لے اور اگر کوئی موتی کسی ناپاک منہ سے گرے تو اسے اٹھا لے۔ تلاش و کوشش کی نظر سے بھی اس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ سمندروں کی گہرائیوں میں جائے اور علم حاصل کرے۔ یہاں تک کہ اس کو حاصل کرنے کےلئے اپنی عزیز جان بھی دے دے۔ اِس طرح سے منطق اسلام میں لفظ "فارغ التحصیل" ایک بےمعنی لفظ ہے۔ ایک سچے مسلمان کی تحصیل علم ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ ہی علم کا متلاشی اور طالب علم رہتا ہے۔ چاہے وہ بہترین استاد ہی کیوں نہ ہو جائے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ہم ہر شب جمعہ ایک خاص سرور اور خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اُس نے عرض کیا: خدا اس خوشی میں اور زیادتی کرے، یہ کونسی خوشی ہے۔ تو آپؑ نے فرمایا: اذا كان ليلة الجمعة وافی رسول الله (ص) العرش ووافی الأئمة (عليهم السلام) ووافینا معھم فلاترد ارواحنا بابداننا الا bعلم مستفاد ولولا ذالك لانفدنا۔ جب شب جمعہ ہوتی ہے تو رسول اللہ (ص) کی روح پاک اور ائمه (علیهم السلام) کی ارواح اور ہم ان کے ساتھ عرش خدا کی طرف جاتے ہیں اور ہماری روحیں بدنوں کی طرف نہیں لوٹتیں مگر نئے علم کے ساتھ اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارے علوم ختم ہو جائیں۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلين، جلد ٣، ص ٣۹۷)۔ یہ مضمون متعدد روایات میں مختلف عبارات کے ساتھ بیان ہوا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ کے علم میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے اور رہتی دنیا تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک اور روایت میں پیغمبر بزرگوار اسلامؐ سے منقول ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اذا اتي على يوم لا ازداد فيه علمًا يقربني الي الله فلا بارك الله لي في طلوع شمسه۔ جو دن مجھ پر ایسا آئے کہ اُس میں کسی علم کا مجھ میں اضافہ نہ ہو کہ جو مجھے اللہ کے قریب کرے، اس دن کا طلوع آفتاب مجھ پر مبارک نہ ہو۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان و نورالثقلين و صافی، زیر بحث آیات کے ذیل میں) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے: اعلم الناس من جمع علم الناس الى علمه، وأكثر الناس قيمة اكثرهم علمًا واقل الناس قيمة اقلهم علمًا۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ صاحب علم وہ ہے کہ جو لوگوں کے علم کا اپنے علم میں اضافہ کرے۔ تمام لوگوں میں سے زیادہ گراں قدر وہ شخص ہے جس کا علم زیادہ ہو اور سب سے کم قدر و قیمت والا وہ شخص ہے کہ جس کا علم سب سے کم اور تھوڑا ہو۔ (بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۲، ص ۲۱۹ (ماده علم) یہ ہے علم کی قدر و قیمت اسلام کی نظر میں۔

115
20:115
وَلَقَدۡ عَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبۡلُ فَنَسِيَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهُۥ عَزۡمٗا
ہم نے آدم سے پہلے پہل عہد لیا تھا لیکن وہ اسے بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم و استقامت نہ پائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

116
20:116
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ
اورجس وقت ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم- کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا (اور سجدہ نہ کیا)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
20:117
فَقُلۡنَا يَـٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوّٞ لَّكَ وَلِزَوۡجِكَ فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلۡجَنَّةِ فَتَشۡقَىٰٓ
ہم نے کہا: اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے باہر نکال دے کیونکہ اس طرح تو تم زحمت اور مشقت میں پڑجاؤگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

118
20:118
إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعۡرَىٰ
(جبکہ بہشت میں تم راحت وآرام سے ہو) اس میں تمہیں نہ تو بھوک لگے گی اور نہ ہی تم بر ہنہ ہوگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
20:119
وَأَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُاْ فِيهَا وَلَا تَضۡحَىٰ
اور اسمیں نہ تمہیں پیاس لگے گی نہ سورج کی دھوپ تمہیں تکلیف پہنچائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

120
20:120
فَوَسۡوَسَ إِلَيۡهِ ٱلشَّيۡطَٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلۡ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلۡخُلۡدِ وَمُلۡكٖ لَّا يَبۡلَىٰ
لیکن شیطان نے اسے وسو سہ میں ڈال دیا اورکہا: اے آدم! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں تیری عمر جاوداں کے درخت اورلافانی ملک کی طرف رہنمائی کروں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

121
20:121
فَأَكَلَا مِنۡهَا فَبَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفَانِ عَلَيۡهِمَا مِن وَرَقِ ٱلۡجَنَّةِۚ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ
آخرکار (آدم و حوا) دونوں نے اسمیں سے کھالیا (ان کابہشتی لباس اتر گیا) اور ان کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہو گئیں اور وہ دونوں بہشت کے درختوں کے پتوں کواپنے اوپر لپیٹنے لگے اور(آخرکار) آدم نے اپنے پر وردگار کی نافرمانی کی اور(اسکے انعامات سے)محروم ہو گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

122
20:122
ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ
اسکے بعد اسکے پروردگارنے اس کو برگزیدہ بنا دیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت کی۔

تفسیر شیطان کی فریب کاری:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اِس سورہ کا ایک اہم حصہ موسٰی و بنی اسرائیل کی سرگذشت اور فرعون اور اس کے حواریوں کے ساتھ ان کے مقابلے کے ذکر پر مشتمل تھا لیکن زیر بحث آیات آدم و حوا کی داستان اور ابلیس کی اُن سے دشمنی اور مقابلہ کرنے کے بارے میں ہیں۔ شاید یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حق و باطل کی جنگ آج اور کل اور موسٰیؑ و فرعون میں منحصر نہیں ہے۔ یہ ابتدائے آفرنیش آدم سے جاری ہے اور اسی طرح سے جاری رہے گی۔ اگرچہ آدم و ابلیس کی سرگذشت بارہا قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے لیکن ہر موقع پر کچھ نئے نکات بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں پر پہلے آدم کے خدا سے عہد و پیمان کی بات ہو رہی ہے۔ فرمایا گیا ہے: ہم نے آدم سے پہلے عہد و پیمان لے لیا تھا لیکن وہ اُسے بُھول گیا اور اپنےعهد و پیمان کا پابند نہ رہا (ولقد عھدنا الٰى ادم من قبل فنسی ولم نجد له عزمًا)۔ اِس بارے میں کہ اس عہد سے کون سا عہد مراد ہے، بعض نے تو یہ کہا ہے یہ ممنوعہ درخت کے نزدیک نہ جانے کا خدا کا فرمان ہے۔ متعدد روایات بھی اِس تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے دوسرے احتمالات بھی ذکر کیے ہیں۔ انہیں بھی اس معنی کے شاخ و برگ شمار کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً خدا کا آدم کو اِس خطرے کی خبر دینا کہ شیطان تمهارا سخت دشمن ہے، تم اس کی پیروی نہ کرنا۔ باقی رہا "نسیان" تو مسلمہ طور پر وہ مطلق فراموشی اور بھول جانے کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ مطلق فراموشی میں عتاب اور ملامت نہیں ہو سکتی بلکہ یا تو ترک کرنے کے معنی میں ہے جیسا کہ ہم روز مرہ کی گفتگو میں اُس شخص سے کہ جس نے اپنے عہد کی وفا نہ کی ہو کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے تو اپنے عہد کو بھول گیا ہے۔ یعنی تجھے یاد ہونا بھی فراموش کرنے والے کی طرح ہے یا ان فراموش کاریوں کے معنی میں ہے کہ جو توجہ کی کمی اور اصطلاح کے مطابق "ترک تحفظ" کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں "عزم" سے مراد مصمم اور محکم ارادہ ہے کہ جب انسان کی شیطان کے قولی وسوسوں کے مقابلے میں حفاظت کرتا ہے۔ بہرحال اس میں شک نہیں کہ آدمؑ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ ان سے صرف "ترک اولٰی" سرزرد ہوا یا دوسرے لفظوں میں آدمؑ کی جنت میں سکونت کا دور، تکلیف (یا ذمہ داری یا مسئولیت) کا دور نہیں تھا۔ بلکہ یہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے تیار ہونے اور ذمہ داریوں کی جواب وہی کو قبول کرنے کا ایک تجرباتی دور تھا۔ خاص طور پر یہ بات کہ اس مقام پر خدا کی ممانعت اخلاقی پہلو کی حامل تھی کیونکہ اس سے فرما دیا تھا کہ اگر ممنوعہ درخت سے کھاؤ گے تو حتمًا بہت سی زحمت و تکلیف میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ (ان سب باتوں کی تفصیلات اور اسی طرح یہ بات کہ شجرہ ممنوعہ کیا مراد تھی اور اس قسم کے دیگر مباحث چوتھی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۹ تا ۲۲ سے ذیل میں ہم تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں)۔ اس کے بعد اسی قصہ کے ایک دوسرے حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، ان سب نے تو سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا، اُس نے انکار کر دیا (و اذ قلنا للملائکة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی)۔ اِس سے آدم کا باعظمت مقام اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ وہ آدم کہ جو مسجودِ ملائکہ تھا اور پروردگار کی اس عظیم مخلوق کے لیے لائق احترام تھا ضمنی طور پر ان سے ابلیس کی دشمنی پہلے ہی قدم پر ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس نے عظمت آدم کے سامنے ہرگز سر تعظیم نہ جھکایا۔ اِس میں شک نہیں کہ سجدہ، پرستش و عبادت کے معنی میں خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور خدا کے سوا کوئی شخص اور کوئی چیز بھی معبود نہیں ہو سکتی ہے۔ اِس بناء پر فرشتوں کا یہ سجدہ خدا کے لیے تھا، زیادہ سے زیادہ اس باعظمت وجود کی آفرنیش کی خاطر سے کہ: شائستہ ستائش آں آفرید گاری است کارود چنیں دل آویز نقشی زماء وطينی! وہ خالق ہی لائق تعریف ہے کہ جس نے پانی اور مٹی سے ایسا دل آویز نقش بنایا۔ یایہاں سجدہ خضوع اور انکساری کے معنی میں ہے۔ بہرحال ہم نے اس موقع پر آدم کو خطرے سے آگاہ کر دیا تھا اور "ہم نے کہا اے آدم! اِس طرز عمل سے یہ تصدیق ہو گئی کہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ اس کا خیال رکھنا کہ کہیں تمهیں جنت، سے باہر نہ نکال دے۔ جس سے تو رنج و تکلیف میں مبتلا ہو جائے گا (فقلنا يا ادم ان هذا عدوّ لك ولزوجك فلایخرجنکما من الجنة فتشقي)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہاں "جنت" دار آخرت کی بہشت جاوداں کے معنی میں نہیں ہے کہ جو ایک نقطہ تکامل و ارتقا ہے اور اس سے باہر نكلنا اور وہاں سے بازگشت ممکن نہیں ہے۔ یہ جنت کا یہاں ذکر ہے ایک باغ تھا کہ جس میں اس دنیا کے باغوں کی سب چیزیں موجود تھیں اور پروردگار کے لطف و کرم سے اس میں کوئی تکلیف اور زحمت نہیں تھی۔ لہذا خدا آدم کو اس خطرے سے خبردار کرتا ہے کہ اگر اس امن و امان کی جگہ سے تم باہر نکل گئے تو رنج و مشکل میں مبتلا ہو جاؤ گے "تشقيٰ" شقاوت کے مادہ سے ہے اور شقاوت کے معانی میں سے ایک درد و رنج بھی ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا روئے سخن پہلے دونوں یعنی آدم و حوا کی طرف کیوں کیا ہے اور فرمایا ہے کہ: فلا يخرجنكما من الجنة شیطان تم دونوں کو جنت سے نکال دے۔ لیکن باہر آنے کا نتیجہ مفرد کی صُورت میں آدم کے بارے میں بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے: فتشقیٰ اے آدم! تو درد و رنج میں جا پڑے گا۔ تعبیر کا یہ اختلاف ممکن اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ پہلے درجے میں درد و رنج آدم ہی کے حصہ میں آئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ انہی کی ذمہ داری تھی کہ اپنی بیوی کی مشکلات بھی اپنے کندھے پر اُٹھائیں اور مردوں کی تو ذمہ داری شروع دن سے اسی طرح سے چلی آ رہی ہے۔ یا یہ بات ہے، کہ چونکہ شروع میں آدم سے ہی عہد و پیمان لیا گیا تھا، لہذا آخر میں بھی انہی سے خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کے بعد خدا، بہشت کے راحت و آرام اور اس سے باہر کے ماحول کے درد و رنج کی آدم کے لیے اس طرح تشریح کرتا ہے: تو یہاں پر نہ تو بھوکا رہے گا۔ اور نہ ہی برہنہ ہو گا: (أن لك الا تجوع فيها ولا تعریٰ)۔ " نہ تو اس میں پیاسا رہے گا اور نہ ہی سورج کی تپتی ہوئى دھوپ تجھے تکلیف پہنچائے گی" (وانک لاتظموا فيها ولاتضحٰی)۔ یہاں مفسرین کے لیے ایک سوال سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ پیاس کا حرارت آفتاب کے ساتھ اور بھوک کا برہنگی کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ عام طور پر پیاس کا ذکر بھوک کے ساتھ کرتے ہیں۔ اِس سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ پیاس اور سورج کی دھوپ میں تعلق ناقابل انکار ہے۔ "تضحی" "ضحى" مادہ سے سورج کا بادل وغیرہ کے ساۓ کے بغیر چمکنا ہے۔ باقی رہا بھوک کا برہنگی کے ساتھ جمع ہونا، تو ممکن ہے، یہ اس وجہ سے ہو کہ بھوک بھی، غذا سے اندرونی برہنگی کی ایک قسم ہے (بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جاۓ کہ دونوں برہنگی اور گرسنگی__ (عریانی اور بھوک) فقر و فاقہ کی دو خاص نشانیاں ہیں کہ جو عام طور پر ایک ہی ساتھ بیان کی جاتی ہیں: (بھوکے، ننگے) بہرحال ان دونوں آیات میں انسان کی چار اصلی اور ابتدائی ضروریات یعنی کھانا، پانی، لباس اور مکان (سورج سے بچاؤ کے لیے سائے) کی ضرورت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان ضروریات کا جنت میں حاصل، نعمت کی فراوانی کی وجہ سے تھا درحقیقت ان امور کا ذکر ان باتوں کی ایک وضاحت ہے کہ جن کا بیان "فتشقي" (تو زحمت اور مشقت میں پڑ جائے گا) کے جملے میں ہوا ہے۔ لیکن اِن تمام باتوں کے باوجود شیطان نے آدم کے خلاف عداوت اور دشمنی پر کمر باندھ لی۔ اسی وجہ سے وہ آرام سے نہ بیٹھا۔ اُس نے آدم کو وسوسہ ڈالنا شروع کر دیا اور کہا: اے آدم! کیا میں تجھے عمر جادوانی کے درخت کا پتہ نہ دوں کہ جو شخص اس کا پھل کھا لے گا ہمیشہ زندہ رہے گا، کیا تو ہمیشہ کی حکومت و سلطنت تک پہنچنے کی راہ جاننا چاہتا ہے: (فوسوس إليه الشيطان قال يا ادم هل أدلك على شجرة الخلد وملك لايبلی)۔ "وسوسه" دراصل بہت ہی آہستہ اور دھیمی آواز کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں ذہن میں بُرے مطالب اور بےبنیاد افکار پیدا ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ (بُرے مطالب) انسان کے اندر سے خود بخود پیدا ہوں یا باہر سے کوئی ان کا عامل اور سبب بنے۔ حقیقت میں شیطان نے یہ اندازہ لگا لیا کہ آدم کا میلان کسی چیز کی طرف ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ زندگی جادواں اور بےزوال قدرت و اقتدار تک پہنچنے کا خواہشمند ہے لہذا اس نے انہیں پروردگار کی مخالفت کی طرف کھینچنے کے لیے انہی دونوں عوامل سے استفادہ کیا۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح سے خدا نے آدم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم شیطان کو اپنے سے دُور رکھو گئے تو ہمیشہ کے لئے اپنے رب کی نعمتوں سے بہرہ مند رہو گے، شیطان نے بھی اپنے وسوسوں میں اسی نکتے کو ملحوظ رکھا۔ ہاں شیاطین اپنے منصوبوں کی ابتداء انہی راستوں سے کرتے ہیں کہ جن سے راہ حق کے رہبر کرتے ہیں لیکن کچھ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ اسے انحراف کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں اور راہ حق کی کشش کو گمراہیوں تک پہنچنے کے لیے ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ آخرکار جو نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ ہو گیا۔ آدم و حوا دونوں نے ممنوعہ درخت سے کھا لیا اور اس کے ساتھ ہی بہشتی لباس ان کے بدنوں سے گر پڑے اور ان کے اعضاء آشکار ہو گئے: (فاكلا منها فبدت لهما سواتهما)۔ (تشریحی نوٹ: "سوات" جمع ہے "سوئة" (بروزن "عورة") کی یہ اصل میں اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو ناپسند ہو۔ لہذا کبھی مردہ جسم پر اور کبھی شرم گاہ کے معنی میں بولا جاتا ہے اور یہاں یہی آخری معنی مراد ہے)۔ جب آدم و حوا نے یہ کیفیت دیکھی تو فوراً "جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے جسم کو ڈھانپنے لگے (وطفقا يخصفان علیهما من ورق الجنة)۔ (تشریحی نوٹ: "يخصفان" "خصف" کے مادہ سے یہاں لباس سینے کے معنی میں ہے)۔ ہاں! آخرکار "آدم نے اپنے پروردگار کی حکم عدولی کی اور اس کی جزا اور انعام سے محروم ہو گیا" (وعصى ادم ربه فغوٰی)۔ "غوى" "غی" کے مادہ سے لیا گیا ہے، جو ایسے جاہلانہ کام کے معنی میں ہے کہ جس کا سرچشمہ عقیدہ ہو اور چونکہ حضرت آدم نے یہاں شیطانی وسوسے سے پیدا ہونے والے وسوسے کی بناء پر عدم آگاہی سے اس شجرة ممنوعہ سے کھا لیا تھا۔ لہذا اس کو "غوی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے "غوی" کو اس جہل و نادانی کے معنی میں لیا ہے کہ جو دولت سے پیدا ہو، بعض نے محرومیت کے معنی ہیں اور بعض نے زندگی میں فساد پیدا ہونے کے معنی میں لیا ہے۔ بہرحال "غی" "رشد" کا نقطۂ مقابل ہے۔ رشد یہ ہے کہ انسان کسی ایسے راستے سے جائے کہ اپنے مقصد تک پہنچ جائے لیکن "غی" یہ ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچنے سے رہ جاۓ اور محروم رہ جائے۔ لیکن چونکہ آدم ذاتًا پاک اور مومن تھے اور رضائے خدا کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے اور یہ غلطی جو شیطانی وسوسے کی وجہ ہو گئی۔ ایک استثنائی پہلو رکھتی تھی۔ لہذا خدانے انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے دُور نہیں کیا بلکہ "اِس واقعہ کے بعد اس کے پروردگار نے اسے برگزیدہ بنا لیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت کی" (ثم اجتباه ربه فتاب علیہ وهدیٰ)۔

کیا آدم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے؟

اگرچہ لفظ "عصیان" آج کے عرف میں گناہ کے معنی میں ہی بولا جاتا ہے لیکن لغت میں اطاعت و فرمان سے باہر ہو جانے کے معنی میں ہے (چاہے فرمان و جوبی ہو یا استحبابي) لہذا لفظ عصیان سے لازمی طور پر ترک واجب یا ارتکاب عوام کا معنی مراد نہیں ہے۔ بلکہ ایک مستحب کا ترک یا مکروہ کا ارتکاب بھی ہو سکتا ہے۔ اِس سے قطع نظر کرتے ہوئے "امرونہی" کبھی ارشادی پہلو بھی رکھتے ہیں، مثلاً ڈاکٹر کے اوامر و نواہی، جو بیمار کو حکم دیا ہے کہ فلاں دوا کھاؤ اور فلاں غیر مناسب غذا سے پرہیز کرو۔ اس میں شک نہیں کہ اگر بیمار طبیب کے حکم کی مخالفت کرے گا تو صرف خود کو ہی نقصان پہنچاۓ گا۔ کیونکہ اُس نے طبیب کے ارشاد اور روایات کی پرواہ نہیں کی۔ خدا نے بھی آدم سے فرمایا تھا کہ ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا کیونکہ اگر تم اُسے کھاؤ گے تو جنت سے باہر نکلنا پڑے گا اور زمین میں بےحد رنج و تکلیف میں جا کر گرفتار ہو جاؤ گے۔ اُنہوں نے اس امر ارشادی کی مخالفت کی اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا۔ یہ بات اِس چیز کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ آدم کے جنت میں ٹھہرنے کا زمانہ تو تجرباتی تھا، تکلیف اور ذمہ داری کا زمانہ نہیں تھا۔ اِس سے قطع نظر عصیان و گناہ بھی مطلق پہلو رکھتے ہیں، یعنی سب کے لیے بغیر کسی استثناء کے گناہ ہوتے ہیں مثلاً جھوٹ بولنا، ظلم کرنا، حرام مال کھانا اور بھی وہ نسبتی پہلو رکھتے ہیں یعنی یہ ایسا کام ہوتا ہے کہ اگر ایک انسان سے سرزد ہو جائے تو نہ صرف یہ کہ کوئی گناہ نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس کی نسبت سے وہ ایک مطلوب اور شائستہ عمل ہوتا ہے لیکن اگر وہی کام کسی دوسرے سے سرزد ہو جائے تو اس کے مرتبہ و مقام کا لحاظ کرتے ہوئے وہ غیرمناسب ہوتا ہے۔ مثلاً ایک ہسپتال بنانے کے لیے لوگوں سے امداد کی اپیل کی جاتی ہے۔ ایک کاریگر آدمی اپنی ایک دن کی مزدوری کہ وہ بھی چند روپے سے زیادہ نہیں ہوتی دے دیتا ہے۔ یہ عمل اس کی نسبت سے ایثار اور اچھا عمل ہے، کامل طور پر مطلوب و پسندیدہ ہے لیکن اگر ایک دولت مند آدمی بھی اتنی ہی مقدار میں مدد کرے تو نہ صرف یہ کہ یہ عمل اس کی طرف سے ناپسندیدہ ہے بلکہ ملامت و مذمت کے لائق ہے حالانکہ اصولی طور پر نہ صرف یہ کہ اس نے کوئی حرام کام نہیں کیا ہے بلکہ ظاہراً ایک کارخیر میں مدد بھی کی ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ جسے ہم یوں کہتے ہیں: حسنات الابرار سيئات المقربين نیک لوگوں کی اچھائیاں مقربین کے لیے گناه ہیں۔ نیز یہ وہی چیز ہے کہ جو ترکِ اولی کے عنوان سے مشہور ہوئی ہے اور ہم اِسے گناہِ نسبتی سے یاد کرتے ہیں کہ وہ نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی مقام عصمت کے خلاف ہے۔ اِسلامی احادیث میں بھی کبھی کبھی مستحبات کی مخالفت پر معصیت کا اطلاق ہوا ہے۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول کہ آپ نے روزانہ کی نافلہ نمازوں کے بارے میں فرمایا: یہ سب مستحب ہیں واجب نہیں ہیں ... اور جو شخص ان کو ترک کرے اُس نے معصیّت کی کیونکہ مستحب ہے کہ جب انسان کسی نیک کام کو انجام دیتا ہے تو اس کام کو جاری رکھنا چاہیئے۔ اِس موضوع اور حضرت آدم سے مربوط دوسرے مسائل اور ان کے جنت سے باہر نکلنے کے بارے میں چوتھی جلد سوره اعراف کی آیہ ۱۹ سے بعد اور جلد اوّل سوره بقرہ کی آیہ ٣۰ تا ٣۸ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں، یہاں تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔

123
20:123
قَالَ ٱهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيعَۢاۖ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدٗى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ
(خدا نے) فرمایا!تم دونوں (اور اسی طرح شیا طین) اس باغ سے نیچے اتر جاؤ، اس حالت میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، لیکن جس وقت میری ہدایت تمہارے پاس آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ تو وہ گمراہ ہوگا اور نہ ہی رنج و تکلیف میں مبتلا ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

124
20:124
وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ
اور جو شخص میری یاد سے روگردانی کرے گا، وہ تنگ زندگی گزارے گا اور قیامت کے دن ہم اسے نابینا محشورکریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

125
20:125
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيٓ أَعۡمَىٰ وَقَدۡ كُنتُ بَصِيرٗا
وہ کہے گا: پرور دگار!: تو نے مجھے نابینا کیوں محشور کیا؟ میں تو بینا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

126
20:126
قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتۡكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَاۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمَ تُنسَىٰ
(خدا)فرمائیگا: یہ اس بنا پر ہے کہ میری آیات تیرے پاس پہنچیں اور تونے انہیں بھلادیا۔ اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
20:127
وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي مَنۡ أَسۡرَفَ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦۚ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبۡقَىٰٓ
اور جو شخص اسراف کرے گا اور اپنے پر وردگار کی آیات پر ایمان نہیں لائے گاہم اسے اسی قسم کی جزادیں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ شدید اور زیادہ پائدار ہے۔

تفسیر تنگ زندگی:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

آدمؑ کی توبہ اگرچہ قبول ہو گئی تھی مگر انہوں نے ایسا کام کیا تھا کہ اب پہلی ہی حالت کی طرف لوٹنا ممکن نہیں تھا، لہذا خدا نے "انہیں اور حوا کو حکم دیا کہ تم دونوں، اور اسی طرح شیطان بھی تمہارے ساتھ، جنت سے زمین پر اتر جاؤ" (قال اهبطا منهاجميعا)۔ "در آنحالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے" (بعضکم لبعض عدو)۔ لیکن میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ راہ سعادت اور نجات تمہارے سامنے کھلی ہوئی ہے۔ "پس جس وقت میری ہدایت تمہارے پاس آئے تو تم میں سے جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہو گا اور نہ ہی بدبخت" (فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًىۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى)۔ اور اس غرض سے کہ جو لوگ حق تعالٰی کے فرمان کو بھلا دیتے ہیں، ان کی پریشانی کا نتیجہ بھی واضح ہو جائے، مزید فرمایا گیا ہے: اور جو شخص میری یاد سے روگردانی کرے گا وہ تنگ اور سخت زندگی بسر کرے گا: (ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنکًا)۔ "اور قیامت کے دن ہم اسے نابینا محشور کریں گے" (ونحشره يوم القيامة أعمى)۔ وہاں وہ یہ عرض کرے گا کہ پروردگارا! تم نے مجھے نابینا کیوں محشور کیا ہے جب کہ پہلے تو میں بینا تھا" (قال رب لم حشرتني اعمى وقد كنت بصيرًا)۔ خدا کی طرف سے اسے فورًا یہ جواب دیا جائے گا: یہ اس بناء پر ہے کہ ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں تو نے انہیں فراموش کر دیا اور انہیں ملحوظِ نظر نہ رکھا۔ لہذا آج کے دن تو بھی فراموش کر دیا جائے گا۔ (قَالَ كَذٰلِكَ اَتَـتْكَ اٰيَاتُنَا فَـنَسِيْتَـهَاۖ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى)۔ اور تیری آنکھیں پروردگار کی نعمتوں اور اس کے مقام قرب کو نہ دیکھ پائیں گی۔ اور آخر میں مجموعی نتیجہ نکالتے ہوئے آخری زیر بحث آیت میں فرمایا گیا ہے، اور جو لوگ اسراف کریں گے اور اپنے پروردگار کی آیات پر ایمان نہیں لائیں گے ہم انہیں اسی قسم کی جزا دیں گے: (وكذالك نجزی من اسرف ولم يؤمن بایات ربہ)۔ "اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی زیادہ شدید اور زیادہ پائیدار ہے۔" (ولعذاب الأخرة اشد وابقٰی)۔

چند اہم نکات ۱۔ یادِ خدا سے غفلت اور اس کے نتائج:

کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے سامنے زندگی کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اُسے بند دروازں کا سامنا ہوتا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس۔ وہ جدھر بھی جاتا ہے ہر طرف اپنے لیے دروازں کو کُھلا ہوا پاتا ہے، ہر کام کے لیے حالات سازگار ہوتے ہیں اور کوئی بندش___ اور کسی قسم کی گروہ اس کے سامنے نہیں ہوتی یا اس حالت کو دسعت زندگی کہتے ہیں جب کہ پہلی حالت کو "ضیق" اور زندگی کی تنگی سے تعبیر کیا جاتا______ "معیشت ضنک" کی تعبیر کہ جو اُوپر آیت میں آئی ہے، اُس سے بھی یہی مراد ہے۔ (تشریحی نوٹ: "ضنک" سختی اور تنگی کے معنی میں ہے، یہ لفظ ہمیشہ مفرد کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا تثنیہ، جمع اور مونث نہیں ہے)۔ کبھی معیشت کی تنگی اِس بناء پر نہیں ہوتی کہ اس کی آمدنی کم ہے، بسا اوقات اس کی آمدنی میں ریل پیل ہوتی ہے لیکن بُخل، حرِص اور لالچ زندگی کو اس پرتنگ کر دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ایسا شخص اِس بات پر مائل نہیں ہوتا کہ اس کے گھر کا دروازہ کُھلا ہو اور دوسرے اس کی زندگی سے فائدہ اُٹھائیں، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے بھی اسے کُھلا نہیں رکھنا چاہتا۔ علی علیہ اسلام کے ارشاد کے مطابق: "وہ اپنی زندگی تو فقیروں کی طرح سے بسر کرتا ہے لیکن اُس کا حساب سرمایہ داروں کا سا ہو گا۔" واقعاً انسان ان تنگیوں اور سختیوں میں کیوں گرفتار ہو جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اس کا اصلی عامل یاد خدا سے رُدگردانی ہے۔ یادِ خدا رُوح کے لیے آرام و سکون اور تقویٰ و شہامت کا باعث ہے اور اس کو بُھلا دینا اضطراب، خوف اور پریشانی کا سبب ہے۔ جس وقت انسان خدا کو بُھلا دینے کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کو بھُلا دے تو وہ شہوات، خواہشات، حرص اور طمع میں غرق ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے حصہ میں تنگ زندگی ہی ہو گی۔ نہ اس میں کچھ قناعت ہو گی کہ جو اس کی رُوح کی تسکین کا موجب ہو نہ اُس کی معنویت کی طرف توجہ ہو گی کہ کو اُسے روحانی غنا اور تونگری عطا کر دے اور نہ ہی اس کا وہ اخلاق ہو گا کہ جو اُسے طغیانِ شہوات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکے۔ اصولاً زندگی کی یہ تنگی زیادہ تر معنویات کی کمی اور رُدحانی استغنا کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مستقبل کے بارے میں مطمئن نہ ہونا، موجودہ امکانات و وسائل کے نابود ہو جانے کا خوف اور مادی دُنیا کے ساتھ انتہائی وابستگی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ اور وہ شخص کہ جو خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اُس نے اس کی پاک ذات کے ساتھ دل لگایا ہے، وہ ان تمام پریشانیوں سے امان میں ہوتا ہے۔ البتہ یہاں تک تو بات ایک فرد سے متعلق تھی لیکن جب ہم ایسے معاشرے میں جائیں کہ جو یادِ خدا سے منہ پھیرے ہوئے ہو تو پھر مسئلہ اس سے بھی زیادہ وحشت ناک ہو جائے گا۔ وہ معاشرے کہ جو تعجب خیز اور حیرت انگیز صنعتی ترقی کے باوجود اور زندگی کے تمام وسائل فراہم ہونے کے باوجود اور زندگی کے تمام وسائل فراہم ہونے کے باوجود شدید اضطراب اور پریشانی کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں، وہ عجیب و غریب تنگی اور سختی میں گرفتار ہیں اور وہ اپنے آپ کو محسوس اور قیدی سمجھتے ہیں۔ سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں۔ کوئی شخص کسی دوسرے پر اعتماد نہیں کرتا۔ تمام روابط اور تعلقات ذاتی مفادات کے محور پر گردش کرتے ہیں۔ جنگ کے خوف سے اسلحہ سازی کا بھاری بوجھ ان کے زیادہ تر اقتصادی وسائل کو نگل گیا ہے اور ان کی کمریں اس بھاری بوجھ کے نیچے ختم ہو گئی ہیں۔ قید خانے مجرموں سے بھرے پڑے ہیں ان کے اپنے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر گھڑی اور ہر منٹ میں کئی ہولناک جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے نشہ آور چیزوں اور فحاشی نے انہیں اپنا غلام اور قیدی بنا رکھا ہے۔ ان کے گھروں کے ماحول میں نہ نورِ محبت ہے اور نہ ہی نشاط بخش پیار کا رشتہ۔ ہاں! یہ ہے ان کی سخت زندگی اور "معیشت ضنک" امریکہ (شیطانِ اعظم کے ایک سابق صدر نکسن نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ہم اپنے گردا گرد ایسی زندگیاں دیکھ رہے ہیں کہ جو اندر سے خالی ہیں۔ ہم خود کو خوش رکھنے کی آرزو رکھتے ہیں، لیکن ہم ہرگز خوش نہیں ہوتے۔ انہی کے ایک اور مشہور آدمی نے کہ جس کا منصوبہ تھا معاشرے میں____ سب کے لیے خوشی پیدا کی جائے، یہ کہا ہے کہ: میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ انسانیت ایک تاریک کوچے میں دوڑ رہی ہے کہ جس کے آخر میں سوائے مطلق پریشانی کے اور کچھ نہیں ہے۔ (بحوالہ: معمائے ہستی، ص٥۰، و ص٥۱)۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے لوگوں نے پوچھا کہ آیہ "من اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃً ضنگا" سے کیا مراد ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: اِس سے مراد ولایت امیرالمومنین علیہ السلام سے احراض کرنا ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد٣، ص۴۰٥)۔ ہاں علی علیہ السلام وہ عظیم انسان تھے کہ جن کی نظر میں تمام دنیا درخت کے ایک پتےّ سے بھی کم قیمت ہے جو شخص اُن کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دے اور اس طرح سے خدا کے ساتھ دل لگالے کہ سارا جہان اس کی نظر میں حقیر ہو جائے۔ وہ کوئی بھی ہو اس کی زندگی کُشادہ اور وسیع ہو گی۔ لیکن جو لوگ اِن نمونوں کو بھُلا دیں وہ بہرحال تنگی حیات میں گرفتار ہوں گے۔ بہت سی روایات میں زیربحث آیت میں حق تعالیٰ کی یاد سے اعراض ____ ان لوگوں کے لیے کہ جو حج کرنے پر قادر ہیں_____ "ترک حج" سے تفسیر ہوا ہے، اور یہ اس بناء پر ہے کہ حج کے ہلا کر رکھ دینے والے مراسم، انسان کے خدا کے ساتھ نئے روابط اور تعلق پیدا کر دیتے ہیں اور یہی ارتباط اور تعلق اس کی زندگی کی راہوں کو کھولنے والا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس مادیات سے زیادہ سے زیادہ دلبستگی تنگی حیات کا سرچشمہ ہے۔

۲- اندرونی اور بیرونی نابينائي:

اُن لوگوں کے لیے کہ جو خدا کی یاد سے روگردانی کرتے ہیں، زیر بحث آیات میں دو سزائیں معین کی گئی ہیں۔ ایک اس جہان کی تنگی حیات کہ جس کی طرف گزشتہ نکتے میں اشارہ ہوا ہے اور دوسری دوسرے جہان میں نابینائی اور اندھا پن۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ عالم آخرت عالم دنیا کی ایک پھیلی ہوئی اور وسیع مجسم صورت ہے اور اس دنیا کے تمام حقائق وہاں پر ایک متناسب شکل وصورت میں مجسم ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ کہ جن کی روحانی آنکھیں (چشم بصیرت) اس عالم میں حقائق کو دیکھنے سے نابینا ہیں، اس جہان میں ان کے جسم کی آنکھیں بھی نابینا ہو جائیں گی۔ لہذا جس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہم تو پہلے بینا تھے۔ اب نابینا کیوں محشور ہوئے ہیں تو انہیں جواب ملے گا کہ یہ اس بنا پر ہے کہ تم نے خدا کی آیات کو بھلا دیا تھا (اور یہ حالت اس حالت کا عکس العمل ہے)۔ یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی بعض آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ قیامت میں تمام لوگ "بینا" ہوں گے اور ان سے یہ کہا جائے گا کہ اپنا نامہ عمل پڑھو: اقرأ كتابك - -۔۔اسراء۔۱۴)۔ یا یہ کہ گنہگار جہنم کی آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے: ورأى المجرمون النار۔۔۔۔ (.کہف ۔٥٣)۔ یہ تعبیرات کچھ لوگوں کے نابینا ہونے کے ساتھ کس طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ بعض بزرگ مفسرین نے تو یہ کہا ہے کہ اس جہان کی وضع و کیفیت اُس جہان سے مختلف ہے۔ کتنے ہی ایسے افراد ہیں کہ جو بعض امور کو تو دیکھ سکتے ہیں اور بعض دوسرے امور کے لیے نابینا ہیں۔ مرحوم طبرسی نے بعض مفسرین سے نقل کیا ہے: "انهم اعمى عن جهات الخير لايهتدي لشيئ منها" وہ ان چیزوں کے لیے کہ جو خیر و سعادت اور نعمت ہیں، نابینا ہوں گے اور ان چیزوں کے لیے کہ جو عذاب شر اور حسرت و بدبختی کا سبب ہیں بینا ہوں گے۔ کیونکہ اُس جہان کا نظام اس جہان کے نظام سے مختلف ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ بعض منازل و موافقت میں تو نابینا ہوں گے اور بعض میں بینا ہو جائیں گے۔ ضمنی طور پر زمین کا دوسرے جہان میں فراموش کیا جانا ہی نہیں ہے کہ خدا انہیں بھول جائے گا بلکہ یہ بات واضح ہے کہ اس سے مراد ان کے ساتھ فراموشی والا معاملہ کرنا ہے۔ جیسا کہ ہماری روزمرہ کی زبان میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے___سے بے اعتنائی کرے تو وہ کہتا ہے کہ ہمیں کیوں بھلا دیا ہے؟

٣- گناہ میں اسراف:

یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ زیرنظر آیات میں یہ دردناک سزائیں اور عذاب ایسے افراد کے لیے ذکر ہوئے ہیں کہ جو اسراف کرتے ہیں اور خدا کی آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ یہاں "اسراف" کے ساتھ تعبیر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ انہوں نے خدا کی دی ہوئی نعمتوں مثلا آنکھ، کان اور عقل کو غلط راستوں پر ڈال دیا ہے اور اسراف اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ انسان نعمت کو فضول اور بیہودہ طور پر برباد کرے۔ اور یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گنہگاروں کے دو گروہ ہیں، ایک گروہ کے تو کچھ محدود گناه ہیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف بھی ہے لیکن انہوں نے اپنے پروردگار سے اپنا رابطہ بالکل منقطع نہیں کر لیا۔ اگر فرض کریں ایک شخص کوئی ظلم و ستم کرتا ہے مگر کسی یتیم و بےسہارا پر نہیں اور خود کو قصور وار بھی سمجھتا ہے اور بارگاہِ خدا میں اپنے آپ کو روسیاه جانتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا آدمی بھی گنہگار ہے اور سزا کا مستحق ہے لیکن یہ ایسے شخص سے بہت مختلف ہے کہ جو بےحساب گناہ کرتا ہے، جو گناہ کے لیے کسی حد اور شرط کا قائل نہیں ہے اور بعض اوقات گناه انجام دینے پر فخر کرتا ہے یا گناہ کو چھوٹا سمجھتا ہے کیونکہ پہلا گروہ ممکن ہے کہ آخر کار توبہ اور تلافی کے لیے تیار ہو جائے لیکن جو لوگ گناہ کرنے میں اسراف کرتے ہیں وہ اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے۔

۴- "هبوط" کیا ہے؟

"ھبوط" لغت میں قہرًا نیچے کی طرف آنے کے معنی میں ہے، مثلًا پتھر کا بلندی سے گرنا۔ جس وقت یہ لفظ انسان کے بارے میں استعمال ہو تو سزا کے طور پر تنزل کی طرف راندہ درگاہ ہونے کے معنی دیتا ہے۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آدم زمین پر ہی زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے اور وہ جنت بھی اسی جہاں کا سرسبزو پر نعمت کوئی علاقہ تھا لہذا آدم کا ھبوط و نزول یہاں نزول مقامی کے معنی میں ہے نہ کہ نزول مکانی کے معنی میں۔ یعنی خدا نے ان کے مرتبہ و مقام کو ترک اُولیٰ کی وجہ سے تنزل کیا اور اُن سب جنتی نعمتوں سے محروم کر دیا اور اس جہاں کے رنج و بلا میں گرفتار کر دیا۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں مخاطب کرنے کے لیے تثنیہ کا صیغہ استعال ہوا ہے "اھبطا" یعنی تم دونوں نیچے اتر جاؤ۔ ممکن ہے اس سے مراد آدم و حوا ہوں اور اگر بعض دوسری آیات میں"اھبطوا" جمع کی صورت میں ذکر ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان بھی اس خطاب میں شریک تھا کیونکہ وہ بھی بہشت سے راندہ گیا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مخاطب آدم اور شیطان ہوں کیونکہ اس کے بعد کے جملے میں قرآن کہتا ہے: "بعضكم لبعض عدو" (تم میں سے بعض دوسرے بعض کے دشمن ہو گے)۔ بعض مفسرین، یہ بھی کہا ہے کہ "بعضكم لبعض عدو" سے مراد جو کہ جمع کی صورت میں خطاب ہے یہ ہے کہ ایک طرف سے آدم و حوا اور دوسری طرف سے شیطان کے درمیان عداوت پیدا ہو گئی یا ایک طرف سے آدم اور ان کی اولاد اور دوسری طرف سے شیطان اور اس کی ذریت کے درمیان دشمنی پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن بہرحال "اما يأتينكم منی هدى" (جس وقت میری ہدایت تمھارے پاس آۓ) کے جملہ میں حتمًا آدم و حوا کی اولاد ہی مخاطب ہے کیونکہ خدا کی ہدایت انہیں کے ساتھ مخصوص ہے۔ باقی رہا شیطان اور اس کی ذریت تو چونکہ انہوں نے اپنا حساب کتاب خدائی ہدایت سے جدا کر لیا ہے. لہذا وہ اس خطاب میں شامل نہیں ہیں۔

128
20:128
أَفَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلنُّهَىٰ
کیا ان کی ہدایت کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے بہت سے گذشتہ لوگوں کو (جنہوں نے سرکشی اور فساد کیا تھا) ہلاک کر دیا اور یہ ان کے (ویران شدہ)مکانوں میں آتے جاتے ہیں ؟ ان میں صاحبان عقل کے لئے واضح دلائل موجود ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 130 کے تحت ملاحظہ کریں۔

129
20:129
وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامٗا وَأَجَلٞ مُّسَمّٗى
اور اگر تیرے پر ور دگار کی سنت و تقدیر اور مقررہ زمانے کا لحاظ نہ ہوتا تو عذاب الٰہی بہت جلد انہیں دامن گیر ہو جاتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 130 کے تحت ملاحظہ کریں۔

130
20:130
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ
اس بناء پر جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کرو اور طلوع آفتاب سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور اسی طرح اثنائے شب میں اور دن کے اطراف میں پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاؤ، تاکہ تم خوش رہو۔

تفسیر گزشتگان کی تاریخ سے عبرت حاصل کرو:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

چونکہ گزشتہ آیات میں مجرمین کے بارے میں بہت بحث ہو چکی ہے. لہذا پہلی زیر بحث آیت میں بیداری کے ایک بہترین اور موثر ترین طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعه. ارشاد ہوتا ہے: کیا اُن کی ہدایت کے لیے یہی بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے بہت سی گزشتہ اقوام کو کہ جو گزشتہ زمانوں میں زندگی بسر کرتی تھیں ہلاک کر دیا۔ (افلم یهد لھم کم اھلكنا قبلهم من القرون)۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ"قرون" کی جو ایسے لوگوں کے معنی میں ہے جو ایک ہی زمانہ میں زندگی بسر کریں اور کبھی خود زمانہ کو بھی قرن کہا جاتا ہے ("مقاربة" کے مادہ سے))۔ وہی لوگ کہ جو خدا کے درد ناک عذاب میں گرفتار ہوئے اور"یہ ان کے ویران شدید گھروں میں آتے جاتے ہیں: (يمشون في مساكنهم)۔ یہ اپنی آمد و رفت کے راستے میں (یمن کے سفر میں) قوم عاد کے گھروں سے (شام کے سفر میں) قوم ثمود کے مساکن سے اور (فلسطین کے سفر میں) قوم لوط کے زیر و زبر مکانوں سے گزرتے ہیں اور ان کے آثار دیکھتے ہیں لیکن درس عبرت نهیں لیتے۔ وہ ویرانیاں کہ جو اپنی زبان بے زبانی سے گزشتہ لوگوں کے درد ناک قصے بیان کر رہی ہیں اور آج کے لوگوں اور آنے والے لوگوں کو ان ہلاکت میں پڑنے والی نافرمان قوموں کی پیروی سے روکتی ہیں اور ان کو خبردار کر رہی ہیں ـــــ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں اور ظلم و کفر و فساد کے انجام کو بیان کر رہی ہیں۔ ہاں، ہاں! "ان میں صاحبانِ عقل کے لیے واضح دلائل اور بےشمار نشانیاں موجود ہیں" (ان فی ذلك لٰايات لاولى النھي)۔ (تشریحی نوٹ: "نهى" مادہ "نهی" سے یہاں عقل کے معنی میں ہے کیونکہ عقل انسان کو برائیوں اور بدیوں سے منع کرتی ہے)۔ گزشتہ لوگوں کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا موضوع ان مسائل میں سے ایک سے، جو قرآن اور اسلامی احادیث میں بار بار آیا ہے اور حق بات یہ ہے کہ یہ ایک بیدار کرنے والا معلم ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جو کسی بھی وعظ و نصیحت کی بات سے پند و نصیحت حاصل نہیں کرتے لیکن گزشتہ لوگوں کے آثار عبرت کے مناظر کا دیکھنا انہیں ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اکثر ان کی زندگی کے راستوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ سے ایک حدیث میں منقول ہے: "اغفل الناس من لم یتعظ بتغير الدنيا من حال الى حال۔" لوگوں میں سے سب سے زیادہ غافل وہ شخص ہے کہ جو دنیا کے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے اور متغیر ہونے سے نصیحت حاصل نہیں کرتا اور رات اور دن کے بدلنے میں غور و فکر نہیں کرتا۔ (بحوالہ: سفینتہ البحار (مادہ عبر) جلد۲، ص۱۴۶) بعد والی آیت درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے کہ جو یہاں پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پروگرام کو جو خدا نے گزشتہ زمانہ کے مجرمین کے لیے تربیت دیا تھا، اس گروہ کے لیے کیوں ترتیب نہیں دیتا۔ قرآن کہتا ہے: اگر تیرے پروردگار کی سنت اور تقدیر اور مقرر زمانہ نہ ہوتا، تو عذاب الٰہی جلد ہی انہیں دامن گیر ہو جاتا: (ولولاكلمة سبقت من ربك فكان لزاما واجل مسمًی)۔ سنت الٰہی کہ جسے قرآن میں متعدد مواقع پر کلمہ کہا گیا ہے، یہ انسانوں کی آزادی کے بارے میں حکم فطرت اور فرمان آفرنیش کی طرف ایک اشارہ ہے۔ کیونکہ اگر ہر مجرم کو فورًا ہی اور بغیر کسی قسم کی مہلت دیئے سزا دے دی جائے، تو ایمان اور عمل صالح، تقریبًا یا اضطراری اور اجباری پہلو اختیار کر لیں گے اور زیادہ تر خوف اور سزا کی وحشت سے فوری طور پر انجام پا جائیں گے۔ اِس بنا پر وہ حصول کمال اور ارتقاء کا ذریعہ ـــــ کہ جو ان کا اصل مقصد ہے ـــــ نہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں اگر تمام مجرموں کو فوری سزا دیئے جانے کا حکم ہو جائے تو پھر تو کوئی بھی روئے زمین پر زندہ نہ بچے گا: ولو يؤاخذ الله الناس بظلمهم ما ترك عليها من دابۃ (نحل۔۶۱)۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ کچھ مہلت ہو تاکہ گنہگار سوچ بچار کر لیں اور اصلاح کی راہ اختیار کریں اور راہ حق کے تمام راہیوں کو خودسازی کے لیے کچھ مہلت بھی دے دی جائے۔ "اجل مسی" کی تھی جیسا کہ قرآن کی کچھ آیات سے معلوم ہوتا ہے، انسان کی زندگی کے ختم ہونے کے حتمی اور یقینی وقت کی طرف اشارہ ہے (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے پانچویں جلد سورہ انعام کی آیہ۱،۲ کی تفسیر کی طرف رجوع کریں۔ ترکیب نحوی کے لحاظ سے "اجل مسی" "کلمۃ" پر عطف ہے) بہرحال بے ایمان ستمگروں اور جسارت کرنے والے مجرموں کو عذاب الٰہی کی تاخیر سے مغرور نہیں ہونا چاہیے اور اس حقیقت کو بےپرواہی کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہیئے کیونکہ یہ لطف خدا، یہ سنت الٰہی اور قانون تکامل و ارتقا ہے کہ جس نے میدان کو ان کے لیے کھلا رکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد رُوئے سُخن پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے ہوۓ قرآن کہتا ہے، اب جب کہ یہ بنا نہیں ہے اس کے ان بدکاروں کو فوری طور پر سزا دی جائے۔ تو تم ان کی باتوں پر جو وہ تمہیں کہتے ہیں صبر سے کام لو: (فاصبر على ما يقولون)۔ پیغمبراکرمؐ کو رُوحانی طور پر تقویت پہنچانے اور ان کے دل کو تسلی دینے کے لیے انہیں خدا کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کرنے اور نماز و تسبیح کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور اسی طرح رات کے درمیان اور دن کے اطراف میں اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاؤ تاکہ تم راضی اور خوشنود رہو اور تمہارا دل ان کی دکھ پہنچانے والی باتوں سے پریشان نہ ہو: (وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن أناء الليل فسبح واطراف النهار لعلك ترضي)۔ اس میں شک نہیں کہ مشرکین کی بدگوئیوں اور ناروا باتوں پر صبر کرتے ہوئے یہ حمد و تسبیح شرک و بت پرستی کے خلاف ایک مظاہرہ ہے۔ لیکن اِس بارے میں کہ اس سے مطلق حمد و تسبیح ہے یا یہ روزانہ کی مخصوص پنجگانہ نماز کی طرف اشارہ ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کا نظریہ تو یہ ہے کہ ظاهر عبادت کو اس سے اسی وسیع معنی میں رہنے دیا جائے اور اس سے مطلق تسبیح و حمد کا استفادہ کرنا چاہیئے جبکہ دوسرا گروہ اس سے نماز پنجگانہ کی طرف اشارہ سمجھتا ہے، اس ترتیب سے کہ: "قبل طلوع الشمس" نماز صبح کی طرف اشارہ ہے۔ اور "قبل غروبها" نماز عصر کی طرف اشاره ہے (یا نماز ظہر و عصر کی طرف کہ جن کا وقت غروب تک باقی رہتا ہے)۔ "من أناء الليل" نماز مغرب و عشا کی طرف اشارہ ہے (اور اسی طرح نماز شب کی طرف بھی) لیکن "اطراف النهار" کی تعبیر نماز ظہر کی طرف اشارہ ہے کیونکہ "اطراف" "طرف" کی جمع ہے کہ جو جانب کے معنی میں ہے، اگر دن کو دو نصف حصوں میں تقسیم کریں: تو نماز ظہر دوسرے نصف کی ایک جانب یا طرف قرار پاتی ہے. بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ "اطراف النهار" مستحبی نمازوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں انسان دن کے مختلف اوقات میں انجام دے سکتا ہے کیونکہ "اطراف النهار" یہاں "آناء الليل" کے مقابلہ میں ہے اور دن کے تمام اوقات کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے (خصوصًا اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اطراف جمع کی شکل میں آیا ہے جب کہ دن میں دو سے زیادہ طرفیں نہیں ہوتیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ "اطراف" ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں ان کی مختلف ساعتیں شامل ہیں)۔ تیسرا احتمال بھی آیت کی تفسیر میں موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ کچھ خاص اذکار کی طرف اشارہ ہے کہ جو اسلامی روایات میں مخصوص اوقات کے لیے وارد ہوئے ہیں مثلا: اوپر والی آیت کی تفسیر میں امام صادق علیه السلام سے ایک حدیث منقول کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہر مسلمان پر لازم ہے کر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس دس مرتبہ یہ ذکر پڑھے: لا اله الا الله وحده لاشريك له، له الملك وله الحمد یحیی ويميت وهو حي لايموت بيده الخير وهو على كل شئ قدير۔ لیکن بہرحال یہ تفسیریں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں، اور ممکن ہے کہ یہاں تسبیحات کی طرف بھی اشارہ ہو اورشب و روز کی واجب و مستحب نمازوں کی طرف بھی اشارہ ہو اور اس طرح سے وہ تضاد جو اس سلسلے میں روایات میں پایا جاتا ہے وہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ بعض روایات میں مخصوص اذکار کے ساتھ اور بعض میں نماز کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے۔ اِس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ "لعلك ترضى" کا جملہ حقیقت میں پروردگار کی حمد و تسبیح نیز ان کی باتوں پر صبر و شکیبائی کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ حمد و تسبیح اور شب و روز کی نمازیں انسان سے خدا کے ساتھ رشتہ اور تعلق کو اسی طرح ختم کر دیتے ہیں کہ وہ اس کے علاوہ کسی چیز کی فکر اور خیال نہیں کرتا، سخت حادثات سے ہراساں نہیں ہوتا اور ایسی مضبوط پناہ گاہ کے ہوتے ہوئے دشمنوں سے خوف نہیں کھاتا اور اس طرح سے آرام و سکون اور اطمینان اس کی روح پر چھا جاتے ہیں. اور "لعل" "شاید" کی تعبیر ممکن ہے کہ اُسی مطلب کی طرف اشارہ ہو کہ جو ہم پہلے بھی اس لفظ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ "لعل" عام طور پر ایسے حالات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ جو نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں مثلاً: نماز اور ذکر خدا ایسی شرائط اور حالات میں اس قسم کے سکون و آرام کا سبب بنتا ہے کہ جو حضور قلب اور کامل آداب کے ساتھ انجام پائے۔ ضمنًا اگرچہ اس آیت میں مخاطب پیغمبر اسلام صلى الله علیہ و آلہ وسلم ہیں لیکن قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ حکم عمومی پہلو رکھتا ہے۔

131
20:131
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ
وہ مادی نعمتیں جو ہم نے کفار کے مختلف گرو ہوں کو دے رکھی ہیں، تم ہرگز ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو۔ یہ دنیوی زندگی کے شگوفے ہیں اور یہ اسلئے ہے کہ ہم ان کے ذریعہ ان کی آزمائش کریں اور تیرے پروردگار کی روزی ہی بہتر اور سب سے زیادہ پائید ار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

132
20:132
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور تم بھی اس کی انجام دہی کے پابند رہو۔ ہم تم سے روزی نہیں چاہتے بلکہ ہم ہی تمہیں روزی عطا فرماتے ہیں اور اچھا انجام تو تقویٰ ہی کے لئے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

133
20:133
وَقَالُواْ لَوۡلَا يَأۡتِينَا بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّهِۦٓۚ أَوَلَمۡ تَأۡتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ
(اور انہوں نے یہ) کہا کہ پیغمبر ہمارے لئے اپنے پروردگار کا کوئی معجزہ یا نشانی لے کر کیوں نہیں آتا؟(تم ان سے یہ کہہ دو کہ)کیا گزشتہ اقوام کی واضح خبریں جو گزشتہ آسمانی کتابوں میں تھیں، ان کے لئے نہیں آئیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

134
20:134
وَلَوۡ أَنَّآ أَهۡلَكۡنَٰهُم بِعَذَابٖ مِّن قَبۡلِهِۦ لَقَالُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ مِن قَبۡلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخۡزَىٰ
اگر ہم انہیں اس (قرآن کے نزول) سے پہلے عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیتے تو(قیامت میں ) کہتے: پروردگار! تو نے ہمارے لئے کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی تیری آیات کی پیروی کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

135
20:135
قُلۡ كُلّٞ مُّتَرَبِّصٞ فَتَرَبَّصُواْۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ أَصۡحَٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِيِّ وَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ
تم کہہ دو(ہم اور تم) سب ہی انتظار میں ہیں۔ جب یہ بات ہے تو انتظار کر و لیکن تم جلدی ہی جان لوگے کے صراط مستقیم پر کون ہے، اور کون ہدایت یافتہ ہے۔

صبر و شکیبائی کی بحث کی تکمیل

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اِن آیات میں پیغمبر اکرمؐ کو کئی احکام دیئے گئے ہیں کہ جن سے حقیقت میں عام مسلمان مراد ہیں اور یہ اُس بحث کی تکمیل ہے۔ کہ جو صبر و شکبیائی کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں شروع ہوئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ مادی نعمتیں جو ہم نے کفار و مخالفین کے مختلف گروہوں کو دے رکھی ہیں، تم ہرگز ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا. (ولا تمدن عینیک الى مامتعنا به أزواجًا منهم)۔ ہاں "یہ ناپائیدار نعمتیں دنیاوی زندگی کے شگوفے ہیں" (زهرة الحيوة الدنيا)۔ ایسے شگوفے (اور پھول) کہ جو جلدی کھل جاتے ہیں اور (پھر) مرجھا جاتے ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر گر جاتے ہیں اور چند دنوں سے زیادہ پائیدار نہیں ہوتے۔ اِس کے باوجود "یہ سب اس لیے ہیں تاکہ ہم انہیں ان کے ذریعہ آزمائیں" (لنفتنهم فيہ)۔ اور بہرحال "جو کچھ تیرے پروردگار نے تجھے روزی دے رکھی ہے وہ زیادہ بہتر اور پائیدار ہے": (ورزق ربك خير و ابقی)۔ خدا نے تجھے انواع و اقسام کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ ایمان و اسلام، قرآن و آیات الٰہی، حلال و پاکیزہ روزی اور آخر میں آخرت کی جاوداں اور دائمی نعمتیں۔ یہ پائیدار اور جادوانی رزق ہے۔ بعد والی آیت میں پیغمبراکرمؐ کی روح کو خوش کرنے اور ان کے دل کو تقویت پہنچانے کے لیے فرمایا گیا ہے: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کے انجام دینے کے لیے پابندی کرو (وامر اهلك بالصلوة واصطبر عليها)- کیونکہ یہ نماز تیرے لیے اور تیرے خاندان کے لیے دل کی پاکیزگی اور صفائی اور روح کی تقویت اور یاد خدا کے دوام کا سبب ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ لفظ "اهل" کا ظاہر میں پیغمبر اکرمؐ کا بطور کلی خاندان ہے لیکن چونکہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے، لہذا اس وقت اهل کا مصداق خدیجہ اور علی علیہ السلام ہی تھے اور ممکن ہے کہ پیغمبراکرمؐ کے کچھ اور نزدیکیوں کے بارے میں بھی ہو، لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ خاندان پیغمبرؐ کا دامن بھی وسیع ہو گیا۔ اِس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ اگر نماز کا حکم تجھے اور تیرے خاندان کو دیا گیا ہے تو اس کے فائدے اور برکات بھی صرف تمہارے ہی لیے ہوں گے "ہم تجھ سے روزی نہیں چاہتے بلکہ ہم ہی تجھے روزی دیتے ہیں" (لانسئلك رزقا نحن نرزقك)۔ یہ نماز پروردگار کی عظمت میں کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ تم انسانوں کے لیے سرمایہ تکامل و ارتقا اور تربیت کا اعلی درجہ ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں خدا بادشاہوں اور امراء کی طرح نہیں ہے کہ جو اپنی قوم اور رعایا سے باج و خراج لیا کرتے تھے اور اپنی اور اپنے مصاحبین کی زندگی کا نظام چلاتے تھے۔ خدا سب سے بےنیاز ہے اور سب اُسی کے نیاز مند اور محتاج ہیں۔ درحقیقت یہ تعبیر اُسی چیز کے مشابہ ہے کہ جو سوره ذاریات کی آیہ ٥۶ تا ٥۸ میں بیان ہوئی ہے: وماخلقت الجن والانس الا ليعبدون وما اريد منهم من رزق وما ارید ان يطعمون أن الله هو الرزاق ذو القوة المتين. میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں، میں ان سے روزی کا طلب گار نہیں ہوں اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ خدا ہی سب کو روزی دینے والا ہے اور مستحکم قدرت کا مالک ہے۔ اور اس طرح سے عبادت کا نتیجہ اور فائدہ براہ راست عبادت کرنے والوں کو ہی پہنچ جاتا ہے اور آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: عاقبت اور نیک انجام تو تقویٰ اور پرہیزگاری کے لیے ہی ہے (والعاقبة للتقوی)۔ جو چیز باقی رہنے والی ہے اور جس کا انجام مفید، تعمیری اور حیات بخش ہے، وہ تقوٰی اور پرہیزگاری ہی ہے۔ پرہیزگار ہی آخر کار کامیاب ہوں گے اور غیر متقی لوگ شکست کھائیں گے۔ اِس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا مقصد عبادات میں روح تقوی اور اخلاص کے لیے تاکید کرنا ہو۔ کیونکہ عبادات کی بنیاد یہی ہے۔ سورہ حج کی آیه ٣۷ میں بیان ہوا ہے: لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم قربانی کے جانوروں کے گوشت اور خون خدا نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔ تمہارے اعمال میں سے جو کچھ اس کے مقام قرب میں جا پہنچتا ہے وہ ان کا چمڑا اور ظاہری وجود بھی نہیں ہے بلکہ وہ اخلاص و رُوح اور سوچ کہ جو اس میں کار فرما ہے، وہی اس کے مقام قرب تک پہنچتے ہیں۔ بعد والی آیت میں کفار کی ایک بہانہ جوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انہوں نے کہا: پیغمبر! اپنے پروردگار کے پاس سے ہماری من پسند کا کوئی معجزہ کیوں نہیں لاتا: (وقالوا لولا يأتينا بايۃ من ربه)۔ فوراً ہی انہیں جواب دیا گیا ہے: کیا گزشتہ اقوام کی واضح خبریں کہ جو گزشتہ آسمانی کتابوں میں آئی تھیں، ان کے لیے نہیں آئیں (کہ جو پے در پے معجزات پیش کرنے کے لیے تقاضے اور عذر تراشیاں کرتے تھے اور معجزات دیکھنے کے بعد بھی اپنے کفر و انکار پر باقی رہتے تھے اور خدا کا شدید عذاب انہیں آ پکڑتا تھا۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اگر یہ بھی اسی راہ پر چلیں گے تو ان کا انجام بھی وہی ہو گا)۔ (او لم تأتهم بينة ما في الصحف الاولٰی)۔ اِس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ "بینة" سے مراد خود قرآن ہے کہ جو گزشتہ آسمانی کتابوں کے حقائق کو اعلٰی ترین معیار کے مطابق بیان کرنے والا ہے۔ زیر بحث آیت کہتی ہے، یہ معجزہ کیوں طلب کرتے ہیں اور بہانہ سازی کیوں کر رہے ہیں۔ کیا یہی قرآن، ان عظیم امتیازات اور خصوصیات کے ساتھ کہ جو گزشتہ آسمانی کتابوں کے حقائق کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، ان کے لیے کافی نہیں ہے۔ اِس آیت کی ایک اور تفسیر بھی بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے باوجود اس کے کہ کسی سے درس نہیں پڑھا تھا۔ ایسی واضع، روشن اور آشکار کتاب لے کر آئے کہ آسمانی کتابوں کے متون میں جو کچھ تھا اس کے ہم آہنگ ہے اور یہ بات خود اس کے اعجاز کی ایک نشانی ہے۔ اس کے علاوہ رسول اللہؐ کی صفات اور ان کی کتاب، ان نشانیوں کے ساتھ کہ جو پہلی آسمانی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں کامل طور پر مطابقت رکھتی ہے اور اس کی حقانیت کی دلیل ہے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر "مجمع البیان" میں اور دُوسری تفسیر "فی ظلال" میں تیسری تفسیر فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں بیان کی ہے۔ یہ تفاسیر اگرچہ مختلف ہیں، تاہم ان میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، خصوصاً دوسری اور تیسری تفسیر میں)۔ بہرحال یہ بہانہ سازی کرنے والے، حق طلب لوگ نہیں ہیں بلکہ یہ ہمیشہ نئی سے نئی بہانہ تراشی میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ "اگر ہم اس قرآن کے نزول اور پیغمبر اسلامؐ کے آنے سے پہلے، انہیں سزا دے کر ہلاک کر دیتے اور وہ یہ کہتے کہ پروردگارا! تُو نے ہمارے لیے کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہو جائیں"؟: (ولو انّا اهلکناهم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الينا رسولاً فنتبع أياتك من قبل ان نزل ونخزی)۔ لیکن اب جبکہ یہ عظیم پیغمبر ایسی باعظمت کتاب لے کر ان کے پاس آیا ہے تو ہر روز نئی سے نئی بات کرتے ہیں اور حق سے فرار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تراشتے رہتے ہیں۔ انہیں خبردار کر دو اور یہ "کہہ دو کہ ہم اور تم سب کے سب انتظار کر رہے ہیں: (قل كل متربص)۔ ہم تو تمہارے بارے میں خدائی وعدوں کے انتظار میں ہیں اور تم بھی اِس انتظار میں ہو کہ مشکلات و مصائب تمہیں دامن گیر ہوں۔ "اب جب کہ یہ بات ہے تو انتظار کرو" (فتربصوا)۔ "لیکن تم بہت جلد جان لو گے کہ راہِ مستقیم اور دینِ حق پر کون لوگ ہیں اور حق کی منزل اور خدا کی جادواں نعمت کی طرف ہدایت پانے والے کون ہیں": (فستعلمون من اصحاب الصراط السوي ومن اهتدی)۔ اور اس قاطع اور پرمعنی جملے کے ساتھ قرآن ہٹ دھرم اور بہانہ ساز منکرین سے اپنی گفتگو کو ختم کر دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ چونکہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور اس زمانے میں پیغمبراکرمؐ اور مسلمان دشمنوں کی طرف سے سخت دباؤ میں تھے، خدا اس سورہ کے آخر میں ان کی دلجوئی کرتا ہے: کبھی کہتا ہے کہ ان کا مال و دولت اس جلدی گزر جانے والی دنیا کا سرمایا ہے اور ان کی آزمائش اور امتحان کے لیے ہے، یہ تمہاری آنکھوں کو اپنی طرف ـــــــ متوجہ نہ کرے۔ اور کبھی نماز اور صبر و استقامت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ان کی معنوی قوت کو دشمنوں کی کثرت کے مقابلے میں تقویت دے۔ اور آخر میں مسلمانوں کو بشارت دی گئی ہے کہ اگر یہ گروه ایمان نہ لائیں گے تو ان کا انجام بہت تاریک ہو گا کہ جس کے انتظار میں انہیں رہنا چاہیئے۔ پروردگارا! ہمیں ہدایت یافتہ اور صراط مستقیم پر چلنے والوں میں سے قرار دے۔ خدا وندا! ہمیں وہ قدرت اور رعب عطا فرما کہ (جس سے) نہ تو ہم دُشمنوں کی کثرت سے ڈریں اور نہ ہی سخت حوادث اور مشکلات سے ہراساں ہوں، ہٹ دھری اور بہانہ بازی کو ہم سے دور رکھ اور ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔

end of chapter