Sūra 15 · 99v
Chapter 1599 verses

Al-Hijr

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الحجر
الحجر

سورہ حجر

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۹۹ آیات ہیں

سورہ حجر کے مضامین

مفسرین میں مشہور قول کی بناء پر سورہ حجر مکی سورتوں میں سے ہے۔ تاریخ القران میں فہرست ابن ندیم سے منقول ہے کہ یہ پیغمبر اکرمؑ پر مکہ میں نازل ہونے والی باون ویں (٥۲ویں) سورت ہے۔ تمام مفسرین کا اتفاق ہے اس کی ٩٩ آیات ہیں:۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت سے بالکل وہی پہلی سورتوں والا آہنگ و روش اور لب و لہجہ مغکس ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہم کہہ چکے ہیں مکی سورتیں زیادہ تر معارف اسلام میں سے بالخصوص توحید، معاد اور مشرکوں، گنہ گاروں اور ظالموں کو ڈرانے جیسے موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں اور ان کے لئے تاریخ کے عبرت آمیز دروس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس سورہ کے مضامین کو ان سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔ ۱۔ وہ آیات جو مبداء عالم ہستی کے بارے میں ہیں اور اسرار فطرت کے مطالعہ کے ذریعے اس پر ایمان لانے سے مربوط ہیں۔ ۲۔ وہ آیات کہ جن میں معاد و قیامت کا تذکر ہے اور جو بدکاروں کے لئے عذاب و سزا سے مربوطہ ہیں۔ ٣۔ وہ آیات جو قرآن کی اہمیت اور اس آسمانی کتاب کی عظمت کے بارے میں ہیں۔ ۴۔ وہ آیات کہ جو آدم کی پیدائش، شیطان کی سرکشی اور اس کے نام میں ہیں۔ تمام انسانوں کے لئے ایک تنبیہ اور صدائے بیدار باش کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ٥۔ وہ آیات کہ جو اس مذکورہ تنبیہ کی تکمیل کے لئے حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ قوموں کی سرگذشت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ۶۔ وہ آیات کہ جن میں امذار و بشارت ہے۔ موثر پند و نصائح ہیں، سرکوب کر دینے والی تہدیدیں ہیں، اور جاذب نظر تشویقیں ہیں۔ ۷۔ وہ آیات کہ جن میں پیغمبر اسلامؐ کو قیام و مقابلہ کے لئے کہا گیا ہے۔ مخالفین کی شدید کے مقابلے میں ان کی دل جوئی کی گئی ہے۔ خصوصا جبکہ یہ سازشیں ماحول مکہ میں بہت زیادہ اور خطرناک تھیں۔ _________________ اس سورہ کا نام اس کی آیت نمبر ۸٠ سے لیا گیا ہے کہ جو اصحاب حجر (قوم صالح) کے بارے میں ہے کیونکہ اس میں پانچ آیات اصحاب حجر کے بارے میں ہیں اور یہی وہ سورت ہے کہ جو قوم صالح کا تعارف "اصحاب حجر" کے عنوان سے کرواتی ہے۔ اس کی تشریح انشاءاللہ آیات ۸٠ تا ۸۴ میں آئے گی۔

1
15:1
الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ وَقُرۡءَانٖ مُّبِينٖ
الر۔ یہ (آسمانی) کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
15:2
رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ كَانُواْ مُسۡلِمِينَ
(جس وقت) کافر (اپنے اعمال کے برے آثار دیکھیں گے)کس قدر آزرو کریں گے کہ وہ مسلمان ہوتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
15:3
ذَرۡهُمۡ يَأۡكُلُواْ وَيَتَمَتَّعُواْ وَيُلۡهِهِمُ ٱلۡأَمَلُۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
چھوڑو انہیں وہ کھالیں ‘ فائدہ اٹھالیں اور آرزوئیں انہیں غافل کردیں لیکن وہ بہت جلد سمجھ جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
15:4
وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٞ مَّعۡلُومٞ
ہم نے کسی شہر و دیار (کے باسیوں )کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اجل معین(اور تغیر ناپذیر زمانہ) رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
15:5
مَّا تَسۡبِقُ مِنۡ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ
نہ کوئی امت اپنی اجل سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔

تفسیر بےبنیاد آرزوئیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس سورہ کی ا بتداء میں ہمیں پھر حروف مقطعات (الف۔ لام۔ راء) کا سامنا ہے۔ یہ حروف واضح کرتے ہیں کہ آسمانی کتاب کہ جو ساری نوع انسانی کے لئے سعادت کا راستہ کھولنے والی انہی سادہ سے حروف الف، باء سے ترتیب پائی ہے اس کا خام مال وہی ہے جو تمام افراد بشر یہاں تک کہ دو تین سالہ بچے کے اختیار میں بھی ہے یہ انتہائی اعجاز ہے کہ ایسے مصالحہ سے اس قسم کا بےنظیر محصول بنایا جائے۔ لہٰذا بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: یہ آسمانی کتاب اور واضح کی آیات ہیں (الر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِین)۔ ہم جانتے ہیں کہ "تلک" دور کا اسم اشارہ ہے حالانکہ قاعدتاً یہاں ھٰذہ ہونا چاہئیے تھا (کہ جو نزدیک کے لئے اسم اشارہ ہے) لیکن جیسا ہم کہہ چکے ہیں کہ عربی ادب میں (بلکہ فارسی ادب میں بھی) بعض اوقات کسی کی عظمت بیان کرنے کے لئے دور کے اسم اشارہ سے استفادہ کیا جاتا ہے یعنی اس کی وہ عظمت ہے کہ گویا ہم سے بہت دور آسمانوں کے فاصلے پر ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بعض اوقات ایک بزرگ شخص کی موجودگی میں ہم کہتے ہیں کہ اگرآنجناب اجازت دیں تو ہم فلاں اقدام کریں یہاں "آں" (وہ) کا لفظ اس کے مقام کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے جیسا کہ "نکرہ" کی صورت میں قرآن کا ذکر بھی بیانِ عظمت کے لئے ہے۔ بہرحال "کتاب" کے بعد لفط "قرآن" کا آنا درحقیقت تاکید کے عنوان سے ہے اور لفظ "مبین" کے ذریعے اس کی توصیف اس لئے کی گئی ہے کیونکہ حقائق کو بیان کرنے والا اور حق کو باطل سے جدا کر کے واضح طور پر پیش کرنے والا ہے۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ لفظ "کتاب" یہاں تورات اور انجیل کی طرف اشارہ ہے۔ بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جو ان واضح خدائی آیات کے بارے میں ہٹ دھرمی اور مخالفت میں اصرار کرتے ہیں۔ فرمایا گیا ہے: ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ لوگ اپنے منحوس کفر، اندھے تعصب اور ہٹ دھرمی پرپشیمان ہوں گے اور "کبھی یہ کافر آرزو کریں گے کہ اے کاش ہم مسلمان ہوتے" (رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ کَانُوا مُسْلِمِینَ)۔ جیسا کہ تفسیر المیزان میں ہے؛ "یود" (دوست رکھتا ہے) سے مراد پسند کرنا، تمنا کرنا اور آرزو کرنا ہے اور لفظ "لو" کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام کی آرزو ایسے زمانے میں کریں گے جب وہ اس کی طرف نہیں آ سکتے ہوں گے اور یہ خود اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اس کی تمنا اور آرزو دوسرے جہان میں اپنے اعمال کے نتائج دیکھنے کے بعد کریں گے۔ حضرت صادق علیہ السلام سے اس سلسلہ میں منقول حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ینادی مناد یوم القیامة یسمع الخلائق انہ لا ید خل الجنة الا مسلم فثم یود سائر الخلائق انھم کانوا مسلمین جب قیامت کا دن ہو گا تو کوئی اس طرح پکارے گا کہ تمام مخلوق اس کی آواز سنے گی، وہ کہے گا: (آج) جنت میں ان لوگوں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا کہ جو اسلام لا چکے ہیں اس وقت سب لوگ آرزو اور تمنا کریں گے کہ اے کاش ہم مسلمان ہوتے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان اور نور الثقلین میں یہ روایت محل بحث آیت کے ذیل میں عیاشی کے حوالے سے درج کی گئی ہے)۔ نیز عظیم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: جس وقت دوزخی جہنم میں جمع ہوں گے اور مسلمانوں کے ایک گنہ گار گروہ کو ان کے ساتھ رکھا جائے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے کہ کیا تم مسلمان نہیں تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ تھے تو سہی۔ تو وہ کہیں گے کہ پھر تمہارا اسلام بھی تمہارے لئے فائدہ مند نہ ہوا۔ کیونکہ تم بھی ہمارے ساتھ ایک ہی جگہ پر ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے(بہت بڑے) گناہ کئے تھے کہ جن کے باعث ہم اس انجام کو پہنچے ہیں (گناہ اور تقصیر کا یہ اعتراف اور دشمن کی وہ سرزنش سبب بنے گی کہ) خدا وند عالم حکم دے گا کہ ہر وہ باایمان مسلمان کہ جو جہنم میں ہے اسے باہر نکا لو۔ تو اس وقت کفار کہیں گے کہ اے کاش ہم بھی اسلام لائے ہوتے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ نیز فخر رازی اپنی تفسیر میں اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث نقل کی ہے)۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ کافروں میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کا ضمیر ابھی بیدار ہے اور جب وہ پیغمبرِ اسلامؐ کی دعوت کو سنتے ہیں اور کتاب مبین کی آیات کے ان پیارے مضامین کو دیکھتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش ہم بھی اسلام لائے ہوتے۔ لیکن تعصب، ہٹ دھرمی یا مادی مفادات انھیں اجازت نہیں دیتے کہ اس عظیم حقیقت کو قبول کر لیں لہٰذا وہ اسی طرح کفر اور بےایمانی کے قیدخانے میں محصور رہ جاتے ہیں۔ ہمارا ایک صاحب ایمان اور مجاہد دوست یورپ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اسلام کی خوبیاں ایک عیسائی کے سامنے شمار کیں وہ ایک منصف مزاج آدمی تھا اس نے جواب میں کہا: میں سچ مچ تمہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ ہم اس قسم کے مذہب کے پیروکار ہو۔ لیکن میں کیا کروں، میری زندگی کے حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں اپنے مذہب سے دست بردار ہو جاوٴں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض اسلامی روایات میں ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قاصد آنحضرتؐ کا خط لے کر قیصر روم کے پاس پہنچا تو اس نے خصوصیت کے ساتھ آپ کے قاصد کے سامنے اظہار ایمان کیا یہاں تک کہ وہ رومیوں کو اس دین توحید و اسلام کی دعوت دینا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ پہلے ان کی آزمائش کی جائے جن اس کی فوج نے محسوس کیا کہ وہ عیسائیت کو ترک کر دینا چاہتا ہے۔ تو اس نے اس کے قصر کا محاصرہ کر لیا۔ قیصر نے ان سے فوراً کہا کہ میں تمہیں آزمانا چاہتا تھا اپنی جگہ واپس چلے جاوٴ۔ اس کے بعد اس نے رسول اللہؐ کے قاصد سے کہا: میں جانتا ہوں کہ تمہارا پیغمبر خدا کی طرف سے ہے اور وہی ہے جس کے ہم منتظر تھے لیکن میں کیا کروں کہ میں ڈرتا ہوں کہ میری حکومت ہاتھ سے نکل جائے گی اور میری جان بھی خطرے میں ہے۔ (بحوالہ مکاتیب الرسول جلد۱ ص ۱۱۲)۔ توجہ رہے کہ ان دونوں تفسیروں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور ممکن ہے آیت کا اشارہ اس جہان میں بھی کفار بعض گروہوں کی پشیمانی کی طرف ہو اور اس جہان میں بھی۔ جب کہ وہ مختلف حوالوں سے اس جہان میں لوٹ آنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ اس جہان میں (غور کیجئے گا)۔ اس کے بعد قرآن بہت سرزنش کے لہجہ میں کہتا ہے: اے پیغمبر! انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے (تاکہ چوپایوں کی طرح) کھاتے پھریں۔ اس ناپائیدار زندگی کی لذتیں حاصل کر لیں اور آرزوئیں انھیں اس عظیم حقیقت سے غافل کر دیں لیکن یہ بہت جلدی سمجھ جائیں گے (ذَرْھُمْ یَاْکُلُوا وَیَتَمَتَّعُوا وَیُلْھِھِمْ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ)۔ چونکہ یہ تو جانور ہیں جو اپنے اصطبل، گھاس پھوس اور مادی لذّات کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور ان کی حرکتیں بس انہی چیزوں کے لئے ہیں۔ غرور، غفلت اور لمبی آرزوٴں نے ان کے دلوں پر اس طرح سے پردہ ڈال رکھا ہے اور انھیں اپنے میں ایسا مگن کر رکھا ہے کہ اب وہ ادراکِ حقیقت کی قدرت نہیں رکھتے۔ لیکن جب اجل کا طمانچہ ان کے منہ پر لگا، غرور غفلت کے پردے ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹے اور انہوں نے اپنے آپ کو آستانہٴ موت پر یا عرصہٴ قیامت میں پایا تو اس وقت سمجھیں گے کہ کس قدر غفلت میں تھے، کسی قدر زیاں کا اور بدبخت تھے اور کس طرح انہوں نے اپنا قیمتی ترین سرمایہ خود اپنے ہاتھوں گنوا دیا ہے۔ بعد والی آیت میں، اس بناء پر کہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ مہلت اور لذائذِ دنیا سے بہرہ دری کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں، مزید ارشاد ہوتا ہے: ہم نے کسی گروہ کو کسی شہر میں نابود نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اجلِ معین اور تغیر ناپذیر دور رکھتے تھے۔ (وَمَا اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ وَلَھَا کِتَابٌ مَعْلُومٌ)۔ اور "کوئی امت اور جمیعت اپنی اجل معین سے تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ کوئی پیچھے رہ سکتی ہے" (مَاتَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَھَا وَمَا یَسْتَاخِرُوْنَ)۔ ہر جگہ یہی سنت الٰہی کار فرما رہی ہے کہ اس نے جدید نظر، بیداری اور آگاہی کے لئے کافی مہلت دی۔ اس نے دردناک حوادث سے بھی دوچار کیا اور وسائلِ رحمت سے بھی نواز۔ اس نے ڈرایا بھی اور شوق بھی دلایا۔ وہ خطرے سے خبردار کرتا ہے تاکہ سب پر حجت تمام ہو جائے۔ مگر جب یہ مہلت تمام ہوتی ہے تو حتمی انجام انھیں آ لیتا ہے۔ دیر اور جلدی کا تربیتی مصالح کی خاطر ممکن ہے لیکن۔۔۔۔۔ کیا اسی حقیقت کی طرف توجہ کافی نہیں ہے تاکہ سب کے سب گزشتہ لوگوں کی سرنوشت سے عبرت حاصل کریں، اور خدائی مہلت سے بازگشت اور اصلاح کے لئے استفادہ کریں کیا اب ہمیں بیٹھا رہنا چاہئیے تاکہ گزشتہ گمراہ اور ظالم قوموں کا سا بُرا انجام ہمارے لئے بھی دہرایا جائے۔ اور بجائے اس کے کہ ہم گزشتہ لوگوں سے عبرت حاصل کریں، آنے والوں کے لئے عبرت بن جائیں۔ ضمنی طور پر آخری دو آیات سے آیاتِ قرآن میں اور خود زیر بحث سورت میں گزشتہ لوگوں کی تاریخ بیان کرنے کا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔

ایک اہم نکتہ

لمبی آرزوئیں غفلت کا سبب ہیں:۔ اس اس میں شک نہیں کہ امید و آرزو یا عربوں کی تعبیر میں "امل" انسانوں کے چرخِ حیات کی حرکت کا عامل ہے یہاں تک کہ اگر اسے اہل دنیا کے دلوں سے صرف ایک دن کے لئے اٹھا لیں تو نظامِ زندگی درہم برہم ہو جائے اور بہت کم افراد میں فعالیت، سعی و کوشش اور جوشِ عمل پیدا ہو۔ اس سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ سے یہ مشہور حدیث منقول ہے: الامل رحمة لامتی ولولا الامل ما ا رضعت والدة ولدھا ولاغرس غارس شجرا۔ امید میری امت کے لئے سایہٴ رحمت ہے اگر نور امید نہ ہوئی تو کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے، اور کوئی باغبان پودا نہ لگائے۔ (بحوالہ سفینة البحار۔ ج۱، ص۳۰ (مادہ "امل"))۔ یہ حدیث بھی اسی عمل کی طرف اشارہ ہے لیکن حیات و حرکت کا عامل جب حد سے گذر جائے اور دور دراز کی آرزو کی شکل اختیار کرے تو انحراف و بدبختی کا بدترین عامل ہے یہ بالکل آبِ باراں کی طرح کہ جو سببِ حیات ہے لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو غرقابی اور نابودی کا باعث ہو جائے۔ یہی وہ ہلاکت خیز آرزو ہے جس کا ذکر زیر بحث آیات میں آیا ہے اور اسےخدا و حق و حقیقت سے بےخبری کا باعث شمار کیا گیا ہے۔ یہ دور دراز کی آرزوئیں اور لمبی چوڑی امیدیں ہیں جو انسان کو اس طرح اپنے میں مشغول رکھتی ہیں اور عالم تخیل میں مستغرق کر دیتی ہیں کہ انسان زندگی اور اس کے اصلی اہداف و مقاصد سے بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے۔ ایک مشہور حدیث کہ جو نہج البلاغہ میں حضرت علی (علیہ السلام) سے منقول ہے وہ بھی اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کرتی ہے: ایھا الناس ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان: اتباع الھوی و طول الامل، اما اتباع الھوٰی فیصد عن الحق، و اما طول الامل فینسی الاٰخرة۔ اے لوگو! خوفناک ترین چیزیں کہ جن کا مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے وہ دو ہیں۔ ہوا و ہوس کی پیروی اور دور دراز کی آرزوئیں، کیونکہ ہوا و ہوس کی پیروی تمہیں حق سے باز رکھے گی اور دور دراز کی آرزو آخرت کو بھلا دے گی۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، ۴۲۔) یہ حقیقت ہے کہ کتنے ہی باصلاحیت اور لائق افراد ہیں کہ جو آرزوئے دراز کے دام میں گرفتاری کے زیر اثر ضعیف اور مسخ شدہ وجود بن چکے ہیں کہ جس کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے معاشرے کے لئے مفید نہیں رہے بلکہ اپنے ذاتی مفادات بھی پامال کر چکے ہیں اور ہر قسم کی ترقی اور کمال سے محروم ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ دعائے کمیل میں ہے۔ وحبسنی عن نفعی بعد املی طویل آرزو نے مجھے اپنے حقیقتِ منافع سے محروم کر دیا ہے۔ اصولی طور پر آرزو جب حد سے گذر جاتی ہے تو ہمیشہ انسانوں کو رنج و تعب میں مبتلا کر دیتی ہے پھر وہ رات دن کوشش کرتا ہے اور اپنے گمان میں سعادت و خوشحالی کی طرف جا رہا ہوتا ہے حالانکہ اسے بدبختی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسے افراد اکثر اوقات اس حالت میں جان دے دیتے ہیں ان کی درد ناک اور غم انگیز زندگی کے ان کے لئے باعثِ عبرت ہے کہ جو دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان رکھتے ہیں۔

لمبی آروزئیں غفلت کا سبب ہیں

لمبی آروزئیں غفلت کا سبب ہیں :۔ اس اس میں شک نہیں کہ امید وآرزو یا عربوں کی تعبیر میں ”امل“ انسان کے چرخ حیات کی حرکت کا عامل ہے یہاں تک کہ اگر اسے اہل دنیا کے دلوں سے صرف ایک دن کے لئے اٹھالیں تو نظامِ زندگی درہم برہم ہو جائے اوربہت کم افراد میں فعالیت، سعی و کوشش اور جوش ِ عمل پیدا ہو۔ اس سلسلے میں پیغمبر اکرم سے یہ مشہور حدیث منقول ہے: الامل رحمة لامتی ولو لا الا مل لا رضعت والدة ولدھا ولاغرس غارس شجرا۔ امید میری امت کے لئے سایہ ٴ رحمت ہے اگر نورامید نہ ہوئی تو کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے، اور کوئی باغبان پودانہ لگائے۔ 1 یہ حدیث بھی اسی عمل کی طرف اشارہ ہے لیکن حیات و حرکت کا عامل جب حد سے گذر جائے اور دور دراز کی آرزو کی شکل اختیار کرے تو انحراف و بد بختی کا بد ترین عامل ہے یہ بالکل آبِ باراں کی طرح کہ جو سببِ حیات ہے لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو غرقابی اور نابودی کا باعث ہو جائے۔ یہی وہ ہلاکت خیز آرزو ہے جس کا ذکر زیر بحث آیات میں آیا ہے اور اسے کدا و حق و حقیقت سے بے خبری کا باعث شمار کیا گیا ہے۔ یہ دور دراز کی آرزوئیں اور لمبی چوڑی امیدیں ہیں جو انسان کو اس طرح اپنے میں مشغول رکھتی ہیں اور عالم تخیل میں مستغرق کر دیتی ہیں کہ انسان زندگی اور اس کے اصلی اہداف و مقاصد سے بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے۔ ایک مشہور حدیث کہ جو نہج البلاغہ میں حضرت علی (علیہ السلام) سے منقول ہے وہ بھی اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کرتی ہے: ایھا الناس ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان: اتباع الھوی و طول الامل، اما اتباع الھوٰی فیصد عن الحق، و اما طول الامل فینسی الاٰخرة۔ اے لوگو!خوفناک ترین چیزیں کہ جن کا مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے وہ دو ہیں۔ ہوا و ہوس کی پیروی اور دور دراز کی آر زئیں، کیونکہ ہوا و ٴ ہوس کی پیروی تمہیں حق سے باز رکھے گی اور دور دراز کی آرزو آخرت کو بھلا دے گی۔ 2 یہ حقیقت ہے کہ کتنے ہی باصلاحیت اور لائق افراد ہیں کہ جوآرزوئے درازکے دا م میں گرفتاری کے زیر اثر ضعیف اور مسخ شدہ وجود بن چکے ہیں کہ جس کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے معاشرے کے لئے مفید نہیں رہے بلکہ اپنے ذاتی مفادات بھی پامال کر چکے ہیں اور ہر قسم کی ترقی اور کمال سے محروم ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ دعائے کمیل میں ہے۔ وحبسنی عن نفعی بعد املی طویل آرزو نے مجھے اپنے حقیقت ِ منافع سے محروم کر دیا ہے۔ اصولی طور پر آرزو جب حد سے گذر جاتی ہے تو ہمیشہ انسانوں کو رنج و تعب میں مبتلا کر دیتی ہے پھر وہ رات دن کو شش کرتا ہے اور اپنے گمان میں سعادت و خوشحالی کی طرف جا رہا ہوتا ہے حالانکہ اسے بد بختی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسے افراد اکثر اوقات اس حالت میں جان دے دیتے ہیں ان کی درد ناک اور غم انگیز اندگی کے ان کے لئے باعثِ عبرت ہے کہ جو دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان رکھتے ہیں۔ * * * ۱۔سفینة البحار۔ج۱،ص۳۰(مادہ ”امل“)۔ 2۔ نہج البلاغہ،۴۲۔

6
15:6
وَقَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِي نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ إِنَّكَ لَمَجۡنُونٞ
اور انہوں (کفار) نے کہا: اے وہ شخص (پیغمبر) جس پر ذکر(قرآن) نازل ہوا ہے ،بے شک تو دیوانہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
15:7
لَّوۡمَا تَأۡتِينَا بِٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اگر تو سچ کہتاہے تو ہمارے لئے فرشتے کیوں نہیں لے آتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
15:8
مَا نُنَزِّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَمَا كَانُوٓاْ إِذٗا مُّنظَرِينَ
(لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ) ہم فرشتوں کو حق کے بغیر نازل نہیں کرتے اور جس وقت نازل ہوئے تو پھر انہیں مہلت نہیں دی جائیگی۔

تفسیر فرشتوں کے نزول کا تقاضا

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں پہلے تو قرآن اور پیغمبرؐ کے خلاف دشمنی پر مبنی کفار کے اعتراض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھوں نےکہا: اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا ہے ہم یقینی قسم کھاتے ہیں کہ تو دیوانہ ہے (وَقَالُوا یَااَیُّھَا الَّذِی نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ إِنَّکَ لَمَجْنُونٌ)۔ پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں ان کے یہ الفاظ انتہائی گستاخی اور جسارت کو مجسم کرتے ہیں۔ ایک طرف تو "یا ایھا الذی" (اے وہ شخص) کہا گیا ہے دوسری طرف "نزل علیہ الذکر" کے الفاظ ہیں کہ جو انھوں نے قرآن کے استہزاء اور انکار کے طور پر کہیں ہیں اور تیسری مرتبہ پیغمبر اکرمؐ کو مجنون قرار دینے کے لفظ "ان" اور "لام قسم" کے ذریعے ان کی تاکید ہے۔ جی ہاں! جس وقت ہٹ دھرم اور بےمایہ افراد ایک عظیم اور بےمثل عقل کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ "مجنون" کا پیوند لگانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے لئے تو ان کی اپنی ناتواں عقل ہی میزان ہوتی ہے اور جو کچھ ان کی میزان میں نہ سما سکے وہ ان کی نگاہ میں بےعقلی اور دیوانگی ہے۔ ایسے افراد اپنے ماحول کے مسائل کے بارے میں خاص قسم کے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں چاہے وہ گمراہی میں ہی کیوں نہ ہوں اسی لئے وہ ہر تازہ دعوت کو غیر عاقلانہ دعوت قرار دے کر مقابلے کی کوشش کرتے ہیں اور نئی پیش آمد چیزوں سے وحشت زدہ ہوتے ہیں اور غلط روشوں کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ دنیا پرست جو تمام چیزوں کو مادی معیاروں پر پرکھتے ہیں اگر ان کا کسی ایسے انسان سے سامنا ہو کہ جو اپنے تمام مادی مفادات حتی کہ اپنی جان بھی ایک روحانی مقصد کے لئے قربان کر دے تو انھیں یقین نہیں آتا کہ وہ عاقل ہے کیونکہ ان کے نزدیک عقل کا کام زیادہ مال و دولت، خوبصورت بیوی، پرتعیش زندگی اور ظاہری مقام و منصب کا حصول ہے۔ بالکل واضح سی بات ہے کہ اگر کسی فکر بس مال و دولت، عورتوں اور مقام و منصب تک ہے جو اس کے سامنے کہا جاتا ہے کہ: اگر آسمانی سورج میرے ایک ہاتھ پر اور چاند دوسرے ہاتھ پر رکھ دو اور تمہارے چھوٹے سے ماحول کی بجائے تمام نظام شمسی پر میری حکومت ہو تو بھی میں اپنی دعوت سے دستبردار نہیں ہوں گا، تو وہ یہ بات کرنے والے کو دیوانہ ہی قرار دے گا۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ بے عقل افراد خدائی رہبروں کے ساتھ ایسے ایسے پیوند چسپاں کرتے تھے کہ جو بعض اوقات بالکل ایک دوسرے کی ضد ہوتے تھے کبھی انھیں "دیوانہ" کہتے اور کبھی "جادو گر"۔ حالانکہ جادو گر تو ایک خاص زیر کی اور ہوشیاری کا حامل ہوتا ہے اور عین "دیوانہ" کا مدمقابل ہے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کی طرف ایسی غیر عاقلانہ نسبتیں دیتے تھے بلکہ بہانہ جوئی کے طور پر کہتے تھے۔ "اگر سچ کہتے ہو تو پھر ہمارے لئے فرشتے کیوں لاتے"۔ تاکہ وہ تیری گفتگو کی تصدیق کریں۔ اور ہم ایمان لے آئیں (لَوْ مَا تَاْتِینَا بِالْمَلَائِکَةِ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ)۔ خد اتعالیٰانھیں جواب دیتا ہے: ہم ملائکہ کو سوائے حق کے نہیں بھیجتے (مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِکَةَ إِلاَّ بِالْحَق)۔ اور اگر فرشتے نازل ہوں (اور حقیقت ان کے لئے حسی پہلو اختیار کر لے) اور اس کے بعد وہ ایمان نہ لائیں تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی اور وہ عذاب الہٰی کے ذریعے نابود ہو جائیں گے۔ (وَمَا کَانُوا إِذًا مُنْظَرِینَ)۔ ____________________ "ماننزل الملائکة الا بالحق" کی تفسیر کے سلسلے میں مفسرین کے مختلف بیانات ہیں:۔ ۱۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم فرشتوں کی صرف بطور اعجاز حق واضح کرنے کے نازل کریں گے نہ کہ ان کہ ان کی بہانہ جوئی کے لئے کہ وہ دیکھ لیں اور پھر بھی ایمان نہ لائیں۔ دوسرے لفظوں میں معجزہ کوئی بازیچہٴ اطفال نہیں کہ لوگوں کو من پسند سے رونما ہوتا رہے۔ بلکہ یہ تو اثبات حق کے لئے اور جو لوگ حق کے خواہاں ہیں ان کے لئے یہ امر بقدر کافی ثابت ہو چکا ہے کیونکہ پیغمبر اسلامؑ نےقرآن جیسا معجزہ ہاتھ میں ہونے باوجود دوسرے معجزات بھی دکھا کر اپنی رسالت کو ثابت کیا تھا۔ ۲۔ ایک احتمال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ "حق" یہاں "موت" کے معنی میں ہے یعنی فرشتے صرف موت اور قبضِ روح کے وقت نازل ہوں گے۔ کسی اور وقت نہیں۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ قرآن حکیم میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوطؑ کے واقعات میں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے بارے میں بعض سے متعلق ہے کہ ان پر فرشتے نازل ہوئے۔ ۳۔ بعض نے کہا ہے کہ "حق" سے مراد یہاں وہی آخری دنیاوی عذاب اور نابود کرنے والی مصیبت ہے۔ دوسرے لفظوں میں "عذاب استیصال" ہے یعنی اگر فرشتے نازل ہوں اور پھر یہ ایمان نہ لائیں کیونکہ ان میں موجود ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان کی نابودی بھی ساتھ ہو گی۔ آیت کا دوسرا جملہ "وما کانو ا اذاً منظرین" بھی اس کے معنی کی تاکید کرتا ہے۔ لیکن پہلی تفسیر کے مطابق اس کا الگ نیا مفہوم ہے۔ ۴۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "حق" یہاں شہود کے معنی میں ہے یعنی جب تک یہ افراد اس دنیا میں ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے پردے پڑے ہیں اور یہ ایسے حقائق نہیں دیکھ سکتے کہ جو ماورائے مادّہ سے مربوط ہیں صرف دوسرے جہان میں عالمِ شہود ہو گا کہ جہاں پردے ہٹ جائیں گے تو پھر یہ فرشتگانِ الٰہی کو دیکھ سکیں گے۔ اس میں بھی دوسری تفسیر والا اشکال موجود ہے کیونکہ قومِ لوط کے بےایمان اور گمراہ افراد تک نے عذاب پر مامور فرشتوں کو اسی دنیا میں دیکھا تھا۔ (بحوالہ سورہ ہود، آیہ۸) اس بناء پر صرف پہلی اور تیسری تفسیر ظاہر آیت سے مناسبت رکھتی ہے۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ آیت میں کہ اگر ان تمام واضح دلائل کے بعد بھی ان کے تقاضا کے مطابق حسی معجزہ پیش کیا جائے تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی یہ اس بناء پر ہے کہ ایسی حالت میں ان کے لئے ہر پورے معنی کے لحاظ سے اتمامِ حجت ہو جائے گا، اور تمام بہانے ختم ہو جائیں گے اور چونکہ زندگی کی مہلت، اتمام حجت، احتمالِ تجدید نظر اور حق کی طرف بازگشت کے لئے ہے اور جن پر پوری طرح اتمام حجت ہو جائے ان کے لئے مہلت کوئی معنی نہیں رکھتی لہٰذا ان کی عمر کے اختتام کا اعلان ہو جاتا ہے اور وہ اس سزا اور عذاب تک جا پہنچے ہیں جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں (غور کیجئے گا)۔

9
15:9
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم قطعی طور پر اس کی حفاظت کریں گے۔

تفسیر قرآن کی حفاظت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

کفار نے بہت بہانہ سازیاں کیں۔ یہاں تک کہ پیغمبرؐ اور قرآن کے بارے میں استہزا کیا۔ گزشتہ آیات میں اس کا ذکر موجود ہے اس کے بعد زیر بحث آیت میں ایک عظیم اور نہایت اہم حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یہ بیان حقیقت ایک طرف تو پیغمبر اکرمؐ کی دلجوئی کے لئے ہے اور ہم یقینی طور پر اس کی حفاظت کریں گے (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ)۔ ایسا نہیں کہ یہ قرآن کسی یاور و مددگار کے بغیر ہے اور وہ اس کے آفتابِ وجود کو کیچڑ سے چھپا دیں گے یا اس کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں گے _____ یہ تو وہ چراغ ہے جسے حق تعالیٰ نے روشن کیا ہے اور یہ وہ آفتاب ہے جس کے لئے غروب ہونا نہیں ہے۔ یہ چند ایک افراد اور ناتواں گروہ تو معمولی سی چیز ہے اگر دنیا بھر کے جابر، اہل اقتدار، سیاستداں، ظالم، منحرف، اہل فکر اور جنگ آزما جمع ہو جائیں اوراس کے نور کو بجھانا چاہیں تو وہ بھی ایسا نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خدا نے اپنے اوپر لے رکھا ہے۔ یہ کہ قرآن کی حفاظت سے مراد کن امور کی حفاظت ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں: ۱۔ بعض نے کہا ہے کہ تحریف و تغیر اور کمی بیشی سے حفاظت مراد ہے۔ ۲۔ بعض نے کہا ہے کہ آخر دنیا تک فنا و نابودی سے حفاظت مراد ہے۔ ۳۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ قرآن کے خلاف گمراہ کرنے والی منطق کے مقابلے میں حفاظت مراد ہے۔ لیکن یہ تفاسیر یہ صرف کہ یہ ایک دوسرے سے تضاد نہیں رکھیتیں بلکہ "انا لہ لحٰفظون" کے عام مفہوم میں شامل ہیں تو پھر کیوں ہم اس محافظت کو ایک کونے میں محصور کر دیں جبکہ یہ مطلق طور پر اور اصطلاح کے مطابق حذف متعلق کے ساتھ آئی ہے حق یہ ہے کہ اس آیت کے ذریعے خداوند تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قرآن کی ہر لحاظ سے حفاظت و نگہداری کرے گا اسے ہر قسم کی تحریف سے بچائے گا۔ اسے فنا و نابودی سے محفوظ رکھے گا اور وسوسے پیدا کرنے والے سوفسطائیوں اور بدیہات کے منکرین سے اس کی محافظت کرے گا۔ باقی رہا بعض قدماء مفسرین کا یہ احتمال کہ یہاں ذاتِ پیغمبر مراد ہے اور "لہ" کی ضمیر پیغمبر کی طرف لوٹتی ہے۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیات (مثلاً طلاق ۱۰) میں لفظ "ذکر" کا اطلاق ذاتِ پیغمبر پر ہوا ہے یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ زیر بحث آیت سے قبل آیت میں لفظ "ذکر" صراحت کے ساتھ قرآن کے معنی میں آیا ہے۔ اور یہ مسلم ہے کہ یہ بعد والی آیت اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

عدم تحریفِ قرآن

تمام شیعہ سنی علماء مشہور و معروف یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور جو قرآن آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ بالکل وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوا، یہاں تک کہ اس میں کوئی لفظ اور کوئی حرف بھی کم یا زیادہ نہیں ہوا۔ قدماء اور متاخرین میں سے وہ عظیم شیعہ علماء کہ جنہوں نے اس حقیقت کی تصریح کی ہے ان میں سے کوئی حسب ذیل علماء کے نام لئے جا سکتے ہیں: ۱۔ مرحوم شیخ طوسی۔۔۔۔۔ جو شیخ الطائفہ کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے اپنی مشہور کتاب "تفسیر بیان" کے آغاز میں اس سلسلے میں روشن واضح اور قطعی بحث کی ہے۔ ۲۔ سید مرتضیٰ۔۔۔۔۔ جو چوتھی صدی ہجری کے اعاظم علماء امامیہ میں سے ہیں۔ ۳۔ رئیس المحدثین مرحوم صدوق محمد بن علی بن بابویہ۔۔۔ وہ عقائد امامیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔ "ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوئی"۔ ۴۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی سے بھی اپنی تفسیر کے مقدمہ میں اس سلسلے میں ایک واضح بحث کی ہے۔ ۵۔ مرحوم کاشف الغطاء۔۔۔ جو بزرگ علماء متاخرین میں سے ہیں۔ ۶۔ مرحوم محقق یزدی نے کتاب عررہ الوثقیٰ میں جمہور مجتہدین شیعہ سے عدم تحریف قرآن نقل کیا ہے۔ ۷۔ بہت سے دوسرے بزرگواروں مثلاً شیخ مفید، شیخ بہائی، قاضی نور اللہ اور دیگر شیعہ محققین نے یہی عقیدہ نقل کیا ہے۔ اہل سنت کے بزرگ اور محققین بھی زیادہ تر یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ بعض شیعہ اور سنی محدثین کہ جن کی اطلاعات قرآن کے بارے میں ناقص تھیں انھوں نے قرآن میں وقوعِ تحریف کا ذکر کیا ہے لیکن دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی وضاحت سے یہ عقیدہ باطل قرار پا کر فراموش ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ "المسائل الطرابلسیات" کے جواب میں کہتے ہیں: "صحت نقل قرآن دنیا کے مشہور شہروں، تاریخ کے عظیم واقعات اور مشہور معروف کتب کے بارے میں ہماری اطلاعات کی طرح واضح اور روشن ہے۔ کیا کوئی شخص مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے شہروں کے ہونے میں کوئی شک و شبہ کر سکتا ہے اگرچہ اس نے کبھی بھی ان شہروں کی طرف سفر نہ کیا ہو۔ کیا کوئی شخص ایران پر مغلوں کے حملے، فرانس کے عظیم انقلاب یا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا منکر ہو سکتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس لئے یہ تمام چیزیں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں۔ قرآن کی آیات بھی اسی طرح ہیں۔۔۔ اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم بعد میں بیان کریں گے۔ اگر بعض افراد نے اپنے مفادات کی غرض سے شیعہ سنی میں تفرقہ ڈالنے کے لئے شیعوں کی طرف تحریف کے اعتقاد کی نسبت دی ہے تو ان کے دعوی کے بطلان کی دلیل علماء شیعہ کی بڑی اور عظیم کتب ہیں۔ یہ بات عجب نہیں کہ فخر رازی جیسا شخص کہ جو شیعوں سے مربوط مسائل میں خاص حساسیت اور تعصب رکھتا ہے محل بحث آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ یہ آیت "إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ" مذہب شیعہ کے بطلان کی دلیل ہے کیونکہ وہ قرآن میں تغیر اور کمی بیشی کے قائل ہوتے ہیں۔ ہم صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر اس کی مراد بزرگان اور محققین شیعہ ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا اور نہ رکھتا ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اس سلسلے میں شیعوں کے درمیان ایک ضعیف قوم موجود ہے تو اس کی نظیر اہلِ سنت میں بھی موجود ہے کہ جس کی نہ وہ اعتناء کرتے ہیں نہ ہم۔ معروف محقق کاشف الغطاء اپنی کتاب "کشف الغطاء" میں کہتے ہیں:۔ لاریب انہ "ای القراٰن" محفوظ من النقصان بحفظ الملک الدیان کما دل علیہ صریح القراٰن وجماع العلماء فی کل زمان ولاعبرة بنادر۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن کی حفاظت کے سائے میں ہر قسم کی کمی اور تحریف سے محفوظ رہا ہے جیسا کہ صریح قرآن اس پر دلالت کرتا ہے اور ہر زمانے کے علماء کا اس پر اجماع رہا ہے اور شاذ و نادر افراد کی مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں ہے (تفسیر آلاء الرحمن ص۳۵) تاریخ اسلام نے اس قسم کی ناروا نسبتیں کہ جن کا سرچشمہ تعصب کے سوا کچھ نہیں، بہت دیکھی ہیں ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بعض دشمنوں کی طرف سے پیدا کردہ غلط فہمیاں تھیں کہ جو اس قسم کے مسائل کھڑے کرتے تھے کہ مسلمانوں کی صفوں اتحاد و وحدت ہرگز برقرار نہ رہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مشہور حجازی موٴلف عبد اللہ القصیمی اپنی کتاب الصراع میں شیعوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے:۔ شیعہ ہمیشہ سے مساجد کے دشمن تھے یہی وجہ ہے کہ جو شیعوں کے شہروں میں جائے، شمال سے جنوب تک، اور مشرق سے مغرب تک اسے بہت کم مساجد دکھائی دیں گی۔ (تشریحی نوٹ: اس کی عبارت اس طرح ہے۔ والشیعۃ ھم اید اعداء المساجد ولھذیقل ان یشاھد الضلوب فی طول بلاء ھو وعن منھا مسجداً۔ (الصراع جلد٢، ص٢٢، جیسا کہ علامہ امینی نے الغدیر ج٣، ص٢٠٠ پر نقل کیا ہے) خوب غور کریں کہ۔۔۔ ہم ان تمام مساجد کو شمار کرتے تھک جاتے ہیں کہ جو شاہراہوں، بازاروں، کوچوں بلکہ شیعہ محلوں میں موجود ہیں۔ بعض مقامات پر تو ایک ہی علاقے میں اتنی مسجدیں ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس کر، آوٴ کوئی اور کام بھی کرو۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک مشہور موٴلف اس صراحت سے ایسی بات کرتا ہے جو ہم جیسے لوگوں کے نزدیک تو محض مضحکہ خیز ہے کہ جو ان مناطق اور شیعہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان حالات میں اگر فخر رازی کوئی ایسی نسبت دیتا ہے تو زیادہ تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔

عدم تحریفِ قرآن کے دلائل: ۔ حافظانِ قرآن

عدم تحریف قرآن کے بارے میں ہمارے پاس بہت زیادہ دلائل و براہین موجود ہیں ان میں زیادہ واضح اور روشن زیر بحث آیت اور قرآ ن کی کچھ اور آیات کے علاوہ اس عظیم آسمانی کتاب کی تاریخ بھی ہے۔ مقدمہ کے طور پر اس نکتہ کی یاد دہانی ضروری ہے کہ وہ ضعف اقلیت کہ جس نے تحریفِ قرآن کا احتمال ذکر کیا ہے۔ وہ صرف قرآن میں کمی کے سلسلے میں ہے۔ ورنہ کسی نے بھی یہ احتمال پیش نہیں کیا کہ موجودہ قرآن میں کسی چیز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ (غور کیجئے گا) یہاں سے گذر کر اگر ہم اس موضوع پر غور و فکر کریں کہ قرآن مسلمانوں کے لئے کچھ تھا۔۔۔۔۔ قانونِ اساسی، زندگی کا دستور العمل، حکومت کا پروگرام، مقدس آسمانی کتاب اور رمز عبادت۔۔۔ سب کچھ تو قرآن تھا۔۔۔ تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اصولی طور پر اس میں کمی بیشی کا امکان ہی نہیں۔ قرآن ایک ایسی کتاب تھی کہ پہلے دور کے مسلمان ہمیشہ نمازوں میں، مسجدوں میں، گھروں میں، میدان جنگ میں دشمن کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مکتب کی حقانیت پر استدلال کرنے کے لئے اسی سے استفادہ کرتے تھے۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم قرآن عورتوں کا حق مہر قرار دیتے تھے۔۔۔۔۔ اور اصولی طور پر۔۔۔۔۔ تنہا وہ کتاب کہ جو تمام محافل کا موضوع تھی اور ہر بچے کو ابتدائے عمر سے جس سے آشنا کیا جاتا تھا اور جو شخص بھی اسلام کا کوئی درس پڑھنا چاہتا اسے اس کی تعلیم دی جاتی تھی۔۔۔۔۔ جی ہاں وہ قرآن۔۔۔۔۔ یہی قرآن مجید ہے۔ کیا اس کیفیت کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو یہ شخص کو یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس آسمانی کتاب میں تغیر و تبدل ہو گیا۔۔۔۔۔ ہو خصوصاً جبکہ ہم نے اسی تفسیر کی جلد اول کی ابتداء میں ثابت کیا ہے کہ قرآن ایک مجموعہ کی صورت میں اسی، موجودہ صورت میں خود زمانہ پیغمبر میں جمع ہو چکا تھا اور مسلمان سختی سے اسے یاد کرنے اور حفظ کرنے کو اہمیت دیتے تھے۔ اصولی طور پر اس زمانے میں افراد کی شخصیت زیادہ تر اس بات سے پہچانی جاتی تھی کہ انھیں قرآن کی آیات کس حد تک یاد ہیں۔ قرآن کے حافظوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ تواریخ میں ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانے میں ایک جنگ میں قرآن کے چار سو قاری مارے گئے تھے (بحوالہ البیان فی تفسیر القرآن ص۲۶۰ بحوالہ منتخب کنزالعمال)۔ "ئر معونہ" مدینہ کی نزدیکی آبادیوں میں سے تھی۔ یہاں ایک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں رسول اللہؐ کی زندگی میں اس علاقے میں ایک جنگ رونما ہو گئی۔ اس جنگ میں اصحاب پیغمبر میں سے قاریانِ قرآن کی ایک کثیر جماعت نے شربتِ شہادت نوش کیا یہ تقریباً ستّر افرد تھے۔ (بحوالہ سفینة البحار جلد ۱ ص ۵۷)۔ ان سے اور ان جیسے دیگر واقعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ حافظ و قاری اور معلمین قرآن اس قدر زیادہ تھے کہ صرف ایک میدانِ جنگ میں ان میں سے اتنی تعداد نے جامِ شہادت نوش کیا۔۔۔۔ اور تعداد ایسی ہونا چاہئیے تھی کیونکہ ہم نے کہا ہے کہ قرآن مسلمانوں کے لئے صرف قانون اساسی نہیں ہے بلکہ ان کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے۔ خصوصاً ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی کتاب نہ تھی اور تلاوت و قرات اور حفظ و تعلیم تعلّم قرآن کے ساتھ مخصوص تھا قرآن ایک متروک کتاب نہ یہ گھر یا مسجد کے کسی کونے میں فراموشی کے گرد و غبار کے نیچے پڑی ہوئی نہ تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کر دیتا۔ حفظ قرآن کا مسئلہ ایک سنت اور ایک عظیم عبادت کے عنوان سے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان تھا اور ہے یہاں تک کہ قرآن ایک کتاب کی صورت میں بہت زیادہ پھیل گیا اور تمام جگہوں پر پہنچ گیا بلکہ آج بھی چھاپہ خانے کی صنعت کے وجود میں آنے کے بعد جبکہ اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ قرآن ہی چھپتا اور نشر ہوتا ہے پھر بھی حفظ قرآن کے مسئلے نے ایک قدیم سنت اور عظیم افتخار کے طور پر اپنی اہمیت و حیثیت کو محفوظ رکھا ہے اور ہر شہر و دیار میں ہمیشہ ایک جماعت حافظِ قرآن تھی اور آج بھی ہے۔ اس وقت حجاز اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں "تحفظ القراٰن الکریم" یا دوسرے ناموں سے ایسے مدارس موجود ہیں، جہاں طالب علموں کو پہلے مرحلے میں قرآن حفظ کرایا جاتا ہے۔ سفر مکہ کے دوران اس شہر مقدس میں ان مدارس کے سربراہوں سے جو ملاقات ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے ان مدارس میں بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مشغول تحصیل ہیں۔ جاننے والوں میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً پندرہ لاکھ حافظان قرآن موجود ہیں۔ جیسا کہ دائرة المعارف فرید وجدی نے نقل کیا ہے کہ جامعة الازھر مصر کی یونیورسٹی میں داخلے کی ایک شرط پورے قرآن کا حفظ ہونا ہے اس کے لئے چالیس میں سے کم ازکم بیس نمبر رکھے گئے ہیں۔ مختصر یہ کہ خود آنحضرتؐ کے حکم و تاکید سے کہ جو بہت زیادہ روایات میں آئی ہے حفظِ قرآن کی سنت زمانہ پیغمبرؐ سے لے کر آج تک ہر دور میں جاری و ساری ہے۔ کیا ایسی حالت میں تحریفِ قرآن کے بارے میں کسی احتمال کا امکان ہے؟

۲۔ کاتبان وحی

ان تمام امور کے علاوہ کاتبانِ وحی کا معاملہ بھی غور طلب ہے یہ وہ افراد تھے جو آنحضرتؐ کے حکم اور تاکید سے آپ پر قرآن کی آیات نازل ہونے کے بعد انھیں لکھ لیتے تھے ان کی تعداد چودہ سے لے کر تنتالیس تک بیان کی گئی ہے۔ ابو عبداللہ زنجانی اپنی نہایت قیمتی کتاب "تاریخ قرآن" میں لکھتے ہیں۔ کان للنبی کتاباًیکتبون الوحی وھم ثلاثة و اربعون اشھر ھم الخلفاء الاربعة و کان الزمھم للنبی زید بن ثابت و علی بن ابی طالب علیہ السلام۔ پیغمبرؐ کے مختلف کاتب اور لکھنے والے کہ جو وحی لکھا کرتے تھے اور وہ تنتالیس افراد تھے کہ جن میں زیادہ مشہور خلفاء اربعہ تھے۔ لیکن اس سلسلے میں پیغمبر کے سب سے بڑھ کر ساتھی زید بن ثابت اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام۔ (بحوالہ تاریخ القرآن ص۳۴)۔ وہ کتاب کہ جسے اس قدر لکھنے والے تھے کیسے ممکن ہے کہ تحریف کرنے والے اس کی طرف ہاتھ بڑھا سکتے۔

۳۔ تمام رہبران اسلام نے اسی قرآن کی دعوت دی ہے

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلام کے عظیم پیشواوٴں کے کلمات کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ابتدائے اسلام سے باہم بیک زبان لوگوں کو اسی موجودہ قرآن کی تلاوت، مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے اور یہ امر خود نشاندہی کرتا ہے کہ یہ آسمانی کتاب اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر بعد تک تحریف ناپذیر مجموعہ کی صورت میں موجود ہی ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کے کلمات اس دعویٰ کے زندہ گواہ ہیں۔ خطبہ ۱۳۳ میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں:۔ وکتاب اللہ بین اظھر کم، ناطق لایعیالسانہ، و بیت لاتھدم ارکانہ، و عزلاتھزم اعوانہ۔ اور اللہ تمہارے درمیان ایسا ناطق ہے جس کی زبان کبھی گنگ نہیں ہوتی۔ یہ ایسا گھر ہے جس کے ستون کبھی منہدم نہیں ہوتے اور یہ ایسا سرمایہٴِ عزت ہے کے انصار کبھی مغلوب نہیں ہوتے۔ خطبہ ۱۷۶میں فرماتے ہیں:۔ و اعلموا ان ھٰذا القراٰن ھو الناصح الذی الیغش والھادی الذی لایضل۔ جان لو کہ یہ قرآن ایسا ناصح ہے جو اپنی نصیحت میں کبھی خیانت نہیں کرتا اور ایسا ہادی ہے جو کبھی گمراہ نہیں کرتا۔ نیز اسی خطبے میں ہے: وما جالس ھٰذا القراٰن احد الاقام عنہ بزیادة او نقصان، زیادة من ھدی، او نقصان من عمی۔ کوئی شخص اس قرآن کا ہم نشین نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس سے پاس زیادتی یا نقصان کے ساتھ اٹھتا ہے۔ ہدایت کی زیادتی یا گمراہی کی کمی۔ اسی خطے کے آخر میں ہے: ان اللہ سبحانہ لم یعظ احداًبمثل ھٰذا القراٰن، فانہ حبل اللہ المتین و سببہ الامین۔ خدا نے کسی کو اس قرآن جیسی وعظ و نصیحت نہیں کی۔ کیونکہ یہ خدا کی محکم رسی اور اس کا قابل اطمینان وسیلہ ہے۔ خطبہ ۱۹۸ میں ہے:۔ ثم انزل علیہ الکتاب نوراً لاتطفا مصابیحة، و سراجاً لایخبوتوقدہ، و منھا جا لا یضل نھجہ و فرقاناً لایخمد برھانہ اس کتاب کے بعد خدا نے اپنے نبی پر ایک کتاب نازل کی وہ کتاب جو خاموش نہ ہونے والا نور ہے اور جو ایسا چراغ پر فروغ ہے کہ جس میں تاریکی آہی نہیں سکتی اور یہ ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والے گمراہ نہیں ہو سکتے اور یہ حق کی باطل سے جدائی کا ایسا سبب ہے جس کی برہان خاموش نہیں ہوتی۔ ایسی تعبیرات حضرت علی السلام اور دیگر پیشوایانِ دین کے کلمات و ارشادات میں بہت زیادہ ہیں۔ فرض کریں کہ اگر دست تحریف اس آسمانی کتاب کی طرف بڑھا ہوتا تو کیا پھر بھی ممکن تھا کہ اس کی طرف دعوت دی جاتی۔ اور اسے راہ کشا، حق کی باطل جدائی کا ذریعہ، نہ بجھنے والا نور، خاموش نہ ہونے والا چراغ، خدا کی محکم رسی اور اس کا امین و قابل اطمینان وسیلہ قرار دے کر تعارف کروایا جاتا۔

۴۔ آخری دین اور ختم نبوت کا تقاضا

اصولی طور پر پیغمبر اسلامؐ کی خاتمیت قبول کر لینے کے بعد اور یہ تسلیم کر لینے کے بعد کہ دین اسلام آخری خدائی دین ہے اور قرآن کا پیغام دنیا کے خاتمے تک برقرار رہے گا کس طرح یہ باور کیا جا سکتا ہے خدا اسلام اور پیغمبر خاتم کی اس واحد سند کی حفاظت نہیں کرے گا۔ اسلام کے ہزاروں سال کے بعد باقی رہنے، جاوداں ہونے اور آخری دنیا تک رہنے کے ساتھ کیا تحریفِ قرآن کا کوئی مفہوم ہو سکتا ہے؟

۵۔ روایاتِ ثقلین

روایات ثقلین کہ جو طرق معتبر و متعددہ سے پیغمبر اسلامؐ سے نقل ہوئی ہیں قرآن کی اصالت اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ رہنے پر ایک اور دلیل ہیں کیونکہ ان روایات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: میں تمہارے درمیان میں سے جا رہا ہوں اور دو گرانما یہ چیزیں تمہارے لئے بطور یادگار چھوڑے جا رہا ہوں، پہلی قرآن اور دوسری میری اہل بیت۔ اگر تم نے ان کا دامن نہ چھوڑا، تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ (تشریحی نوٹ: حدیث ثقلین متواتر احادیث میں سے ہے یہ حدیث اہل سنت کی بہت سے کتب میں صحابہ کی ایک جماعت کی وساطت سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے ان صحابہ میں ابو سعید خدری، زید بن ارقم، زید بن ثابت، ابو ہریرہ، حذیفہ بن اسید، جابر بن عبداللہ انصاری، عبداللہ حنطب، عبد بن حمید، جبیر بن مطعم، ضمرہ اسلمی، ابوذر غفاری، ابو رافع اور ام سلمہ وغیرہ شامل ہیں۔ کیا ایسی با ت کسی ایسی کتاب کے لئے صحیح ہے جو تحریف کا شکار ہو گئی ہو۔

۶۔ قرآن جھوٹی اور سچی روایات کے لئے کسوٹی ہے

ان سب پہلووٴں سے قطع نظر قرآن کا تعارف سچی اور جھوٹی روایات و احادیث کو پرکھنے کے لئے معیار کے طور پر کروایا گیا ہے بہت سے روایات کہ جو منابع اسلام میں آئی ہیں ان میں سے کہ جو حدیث کے سچے یا جھوٹے ہونے کے بارے میں شک کرو اسے قرآن کے سامنے پیش کرو، جو حدیث کے موافق وہ حق ہے اور جو حدیث اس کے مخالف ہے وہ باطل اور غلط ہے۔ فرض کریں کہ قرآن میں کمی کے لحاظ سے ہی تحریف ہوتی تب بھی ہرگز ممکن نہ تھا کہ اس کا تعارف حق و باطل کو پرکھنے کی کسوٹی کے طور پر کروایا جاتا۔

روایاتِ تحریف

مسئلہ تحریف کے بارے میں جو بعض لوگوں کے ہاتھ اہم ترین دستاویز ہے وہ ایسی مختلف روایات ہیں جن کا حقیقی مفہوم نہیں سمجھا گیا یا پھر ان کی سند کے بارے میں تحقیق نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس قسم کی بری تعبیر وجود میں آئی ہے۔ ایسی روایات مختلف قسم کی ہیں: ۱۔ ایسی روایات جن میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) نے قرآن جمع کرنا شروع کیا جب اسے جمع کر چکے تو اسے صحابہ کے ایک گروہ کے پاس لے آئے انہوں نے مقامِ خلافت کے ارد گرد کو گھیر رکھا تھا۔ آپ نے پیش فرمایا تو انھوں نے اسے قبول نہ کیا اس پر حضرت علی (علیہ السلام) نے کہا: پھر تم اسے کبھی نہ دیکھو گے۔ لیکن ان روایات میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جو قرآ ن تھا وہ دوسرے قرآنوں سے مختلف نہیں تھا۔ البتہ تین چیزوں کا فرق تھا۔ پہلا یہ کہ اس کی آیات اور سورتیں ترتیبِ نزولی کے مطابق منظم کی گئی تھیں۔ دوسرا یہ کہ ہر آیت اور سورة کی شانِ نزول اس کے ساتھ لکھی گئی تھی۔ تیسرا یہ کہ جو تفاسیر آپ نے پیغمبر اکرمؐ سے سنی تھیں وہ اس میں درج تھیں، نیز اس میں آیاتِ ناسخ و منسوخ کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ لہٰذا وہ قرآن جو حضرت علی علیہ السلام نے جمع کیا تھا اس میں اس قرآ ن سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہ تھی اور جو چیز زیادہ تھی وہ تفسیر تاویل، شانِ نزول اور ناسخ و منسوخ کی تمیز وغیرہ تھی دوسرے لفظوں میں وہ قرآن بھی تھا اور قرآن کی اصلی تفسیر بھی تھی۔ کتاب سلیم بن قیس میں ہے:۔ انّ امیر الموٴمنین (علیہ السلام) لما رای غدر الصحابة وقلة وفائھم لزم بیتہ، و اقبل علی القرآن، فلما جمعہ کلہ، وکتابہ بیدہ، و تاویلہ الناسخ و المنسوخ، بعثت الیہ ان اخرج فبایع، فبعث الیہ انی مشغول فقد آلیت علی نفسی لا ارتدی بردائی الا لصلاة حتی اوٴلف القراٰن و اجمعہ۔ (بحوالہ بحار الانوار، ج۱٣، ص۱۱)۔ جس وقت امیر المومنین (علیہ السلام) نے صحابہ کی بےوفائی اور دوستوں کی کمی دیکھی تو گھر نہ چھوڑا اور قرآن کی طرف متوجہ ہوئے آپ قرآن جمع کرنے اور اسے اپنے ہاتھ سے لکھنے میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ تاویل اور ناسخ و منسوخ سب کو جمع کر لیا اس دوران انہوں نے آپ کے پاس کسی کو بھیجا کہ گھرسے باہر نکلے اور بیعت کریں آپ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ مشغول ہوں، میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کر لوں سوائے نماز کے عبا کندے پر نہیں ڈالوں گا۔ ۲۔ روایات کی دوسری قسم وہ ہے جو تحریف معنوی کی طرف اشارہ کرتی۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تحریف تین طرح کی ہے:۔ ۱۔ تحریف لفظی ۲۔ تحریف معنوی ۳۔ تحریف عملی ۱۔ تحریف لفظی یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ اور عبارت میں کمی بیشی اور تغیر کیا جائے اور یہ وہ تحریف ہے جس کا ہم اور تمام محققینِ اسلام شدت سے انکار کرتے ہیں۔ ۲۔ تحریف معنوی یہ ہے کہ آیت کا معنی اور تفسیر اس طرح سے کی جائے کہ وہ اس کے حقیقی مفہوم کے برخلاف ہو۔ ۳۔ تحریف عملی یہ ہے کہ اس کے خلاف عمل کیا جائے۔ مثلاً تفسیر علی بن ابراہیم میں ابو ذر سے منقول ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی:۔ یوم بیض وجوہ و تسوة وجوة جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید ہوں گے اور کچھ کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (آلِ عمران ۱۰۶)۔ تو پیغمبرؐ نے فرمایا:۔ روز قیامت لوگوں سوال سےکیا جائے گا تم نے ثقلین (قرآن و عترتِ پیغمبرؐ) کے ساتھ کیا سلوک کیا تو لوگ کہیں گے: اما الاکبر فحرقناہ، ونبذناہ وراء ظھورنا۔۔۔۔۔ ہم نے ثقل اکبر (قرآن) کی تحریف کی اور اسے پس پشت ڈال۔۔۔۔۔ واضح ہے کہ یہاں تحریف سے مراد وہی مفہوم قرآن کو دگر گوں کرنا اور اسے پس پشت ڈال دینا ہے۔ ۳۔ تیسری قسم ان روایات کی ایسی روایا ت ہیں۔ یہ روایات دشمنوں، منحرفوں یا ناداں نے قرآن کو بےاعتبار کرنے کے لئے گھڑی ہیں مثلاً وہ متعدد روایات جو احمد بن سیاری سے نقل ہوئی ہیں کہ جن کی تعداد ایک سو اٹھاسی (تشریحی نوٹ: یہ تعداد کتاب "برہان روشن" کے موٴلف نے لکھی ہے)۔ تک جا پہنچی ہے۔ مرحوم حاجی نوری نے کتاب "فصل الخطاب" میں انھیں فراوانی سے نقل کیا ہے۔ ان احادیث کا راوی سیاری بہت سے بزرگ علماءِ رجال کے بقول فاسد المذہب، ناقابل اعتماد ضعیف الحدیث تھا اور بعض کے بقول صاحب غلو، منحرف، تناسخ کے ساتھ مشہور اور کذاب تھا۔ مشہور صاحبِ کتاب رجال کشی کے بقول امام جواد علیہ السلام نے اپنے خط میں سیاری کے دعووں کو باطل اور بےبنیاد قرار دیا ہے۔ البتہ روایاتِ تحریف سیاری میں منحصر نہیں ہیں لیکن ان کا زیادہ تر حصہ اسی کی طرف سے ہے۔ ان جعلی روایات میں کچھ مضحکہ خیز روایات بھی نظر آتی ہیں جو شخص تھوڑا بہت بھی مطالعہ رکھتا ہے وہ فوراً ان روایات کی خرابی کو سمجھ لیتا ہے مثلاً ایک روایت کہتی ہے کہ سورہٴ نساء کی آیہ ۳ میں "وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النساء" (اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگتی ہیں) شرط اور جزاء کے درمیان میں سے ایک تنہائی سے زیادہ قرآن ساقط ہو گیا ہے۔ حالانکہ ہم سورہٴ نساء کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس آیت میں شرط اور جزاء پوری طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں یہاں تک کہ اس میں سے ایک لفظ بھی ساقط نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں ایک تہائی سے زیادہ تو پھر اس حساب سے کم از کم چودہ پاروں کے برابر بنتا ہے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ان سب کاتبان، وحی اور زمانہ پیغمبرؐ سے لے کر آج تک قرآن کے حافظوں اور قاریوں کے ہوتے ہوئے اس کے چودہ پارے ضائع ہو گئے اور کوئی آگاہ نہ ہوا۔ ان جھوٹوں اور جعل سازوں نے اس تاریخی حقیقت کی طرف توجہ نہیں کہ قرآن کہ جو اسلام کا قانون اساسی ہے اور شروع سے مسلمانوں کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے رات دن گھروں اور مسجدوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہتی ہے کیا اس عالم میں اس کا ایک لفظ بھی ساقط کیا جا سکتا تھا چہ جائیکہ اس کے چودہ پارے غائب کر دئے جائیں۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ایسی احادیث گھڑنے والوں کے پیدا ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بہت سے بہانہ تراش کتاب فصل الخطاب کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کتاب کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے یہ مرحوم حاجی نوری کی تالیف ہے اور تحریف کے سلسلے میں لکھی گئی ہے اس کے بارے میں ہم نے جو کچھ اوپر کہا ہے اس کے علاوہ اس بات سے اس کی کیفیت واضح ہو جاتی ہے کہ مرحوم حاج شیخ آقا بزرگ تہرانی کہ جو مرحوم حاجی نوری کے شاگرد مبرز ہیں، اپنے استاد کے حالات کے ذیل میں "مستدرک الوسائل" کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں:۔ باقی رہا کتاب "فصل الخطاب" کے بارے میں تو میں نے بارہا اپنے استاد سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ وہ مطالب جو فصل الخطاب میں ہے وہ میرا ذاتی عقیدہ نہیں ہے۔ یہ کتاب تو میں نے بحث و اشکال کے لئے لکھی ہے اور اشارتاً عدم تحریف کے بارے میں اپنا عقیدہ بھی بیان کر دیا ہے اور بہتر تھا کہ میں کتاب کا نام "فصل الخطاب فی عدم تحریف الکتاب" رکھتا۔ اس کے بعد مرحوم محدث تہرانی کہتے ہیں: عملی لحاظ سے ہم اپنے استاد کی روش اچھی طرح دیکھتے تھے کہ وہ روایات تحریف کو کچھ بھی وزن دینے کے قائل نہ تھے بلکہ انھیں ایسی روایات سمجھتے تھے جنہیں دیوار پر دے مارنا چاہئیے۔ ہمارے استاد کی طرف تحریف کی نسبت وہی شخص دے سکتا ہے جو ان کے عقیدہ سے آشنائی نہ رکھتا ہو۔ آخری بات یہ ہے کہ بعض ایسے لوگ جو مسلمانوں کے لئے اس آسمانی کتاب کی عظمت کو محسوس نہیں کرتے تھے انھوں نے کوشش کی کہ اس قسم کے خرافات اور اباطیل سے قرآن کو اس کی اصالت اور بنیاد سے گرا دیں۔ گزشتہ اور موجودہ زمانے میں بہت سے ہاتھوں نے اس سلسلے میں کام کیا اور کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہم نے اخبارات میں پڑھا تھا کہ ابادی اسرائیل اور صیہونزم کی طرف سے قرآن شائع کیا اور اس میں بہت سی آیات تبدیل کر دیں لیکن یہ ان کا اندھا پن تھا۔ علماءِ اسلام فوراً دشمن کی اس سازش سے آگاہ ہوئے اور ان نسخوں کو اکھٹا کر لیا۔ یہ سیاہ دل دشمن نہیں جانتے تھے کہ قرآن میں سے ایک نقطہ بھی تبدیل ہو جائے تو قرآن کے مفسرین، حفاظ اور قارئین فوراً اس سے آگاہ ہو جائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نورِ خدا کو بجھا دیں لیکن وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔ یریدون ان یطفوٴا نور اللہ بافواھھم و یابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکافرون (توبہ۔ ۳۲)

10
15:10
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ فِي شِيَعِ ٱلۡأَوَّلِينَ
او رہم نے تجھ سے پہلے(بھی) گذشتہ امتوں کے درمیان پیغمبر بھیجے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
15:11
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
15:12
كَذَٰلِكَ نَسۡلُكُهُۥ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
ہم اسی طرح قرآن کو مجرموں کے دلوں کے اندر راستہ دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
15:13
لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ
لیکن اس کے باوجود) وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور گذشتہ امتوں کی روش بھی اسی طرح تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
15:14
وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَابٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعۡرُجُونَ
اور اگر ہم آسمان سے ان کیلئے کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ مسلسل اس میں اوپر کی طرف جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
15:15
لَقَالُوٓاْ إِنَّمَا سُكِّرَتۡ أَبۡصَٰرُنَا بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٞ مَّسۡحُورُونَ
تو کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کی گئی ہے ،بلکہ ہمیں (سرتاپا مسحور اور ہم پر) جادو کر دیاگیا ہے۔

تفسیر ہٹ دھرمی اور محسوسات کا انکار

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں پیغمبر اکرمؐ اور مومنین کو اپنی دعوت میں درپیش مشکلات کے مقابلے میں تسلی و تشفی کے لئے گزشتہ انبیاء کی زندگی اور گمراہ و متعصب قوموں کے مقابلے میں ان کی مصیبتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: تجھ سے پہلے ہم نے گزشتہ امتوں کے درمیان بھی نبی بھیجے تھے (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِی شِیَعِ الْاَوَّلِینَ)۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم اور سخت مزاج تھے کہ "جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا تمسخر اڑاتے" (وَمَا یَاْتِیھِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُونَ)۔

یہ استہزاء چند امور کی وجہ سے ہوتا تھا

۔۔۔۔انبیاء کی شان و شوکت کو کم کرنے اور حق کے متلاشی اور حق طلب افراد کو ان سے دور کرنے کے لئے۔ ۔۔۔۔ خدائی رسولوں کی منطق کے مقابلے میں ان کی اپنی ناتوانی کی وجہ سے چونکہ وہ لوگ ان کے دندان شکن دلائل کا جواب نہیں دے سکتے تھے لہٰذا تمسخر کا سہارا لیتے یعنی بے منطق ناداں کا حربہ استعمال کرتے تھے۔ ۔۔۔۔ اس بناء پر کہ انبیاء بدعت شکن تھے اور غیر مناسب رسوم و رواج کے خلاف قیام کرتے تھے لیکن جاہل متعصب کہ ان غلط رسول و رواج کو ابدی سمجھتے تھے انہیں ان کام پر تعجب ہوتا تھا اور وہ استہزاء کرنے لگتے تھے۔ ۔۔۔۔یہ لوگ اس لئے بھی استہزاء کرتے تھے کہ اپنے خوابیدہ ضمیر کو سلائے رکھیں اور کہیں کوئی ذمہ داری اور مسئولیت ان کے سر نہ آ جائے۔ ۔۔۔۔ اس لئے کہ بہت سے انبیاء کے ہاتھ مالِ دنیا سے تہی ہوتے تھے اور ان کی زندگی سادہ ہوتی تھی جو لوگ اپنے دل کے اندھے پن کی وجہ سے شخصیت کو نئے لباس، اعلیٰ سواری اور نگین زندگی میں منحصر سمجھتے تھے انھیں تعجب ہوتا تھا کہ کیا ایک فقیر اور تہی دست انسان ان دولت مندوں اور خوشحال لوگوں کا رہبر ہو سکتا ہے؟ لہٰذا وہ اس کا تمسخر اڑانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ ۔۔۔۔ آخرکار یہ بھی تھا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انبیاء کی دعوت قبول کرنے سے ان کی شہوات و خواہشات محدود ہ ہو جائیں گی اور ان کی حیوانی آزادی چھن جائے گی۔ اور ان کے لئے فرائض اور ذمہ داریاں پیدا ہو جائیں گی لہٰذا وہ استہزاء سے کام لیتے تاکہ اپنے آپ کو ان فرائض اور ذمہ داریوں سے بچا سکیں۔ __________________ اس کے بعد فرمایا گیا: اسی طرح ہم آیات قرآن مجرموں کے دلوں میں بھیجتے ہیں (کَذَلِکَ نَسْلُکُہُ فِی قُلُوبِ الْمُجْرِمِینَ)۔ لیکن ان تمام تبلیغ، تاکید، منطقی بیان اور معجزات دکھانے کے باوجود یہ متعصب تمسخر اڑانے والے "اس پر ایمان نہیں لاتے" (لاَیُؤْمِنُونَ بِہ)۔ البتہ یہ انہی پر منحصر نہیں ہے " ان سے پہلے گزشتہ اقوام کی بھی یہی روش تھی" (وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِینَ)۔ شہوات میں غوطہ زنی اور باطل پر ہٹ دھرمی کے باعث معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اگر ہم ان کے لئے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں اور ہمیشہ آسمان کی طرف چڑھیں اور اتریں (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھمْ بَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیہِ یَعْرُجُونَ)۔ تو کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کی گئی ہے (لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا)۔ بلکہ ہمیں جادو گر دیا گیا ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اس میں قطعاً کوئی حقیقت نہیں ہے (بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ)۔ یہ جائے تعجب نہیں کہ انسان عناد اور ہٹ دھرمی کے اس درجے پر پہنچ جائے کیونکہ انسان کی پاک روح اور خرابی سے بچی ہوئی فطرت کہ جو ادراکِ حقائق اور واقعیات کے اصلی چہرے کے مشاہدہ پر قدرت رکھتی ہے۔ گناہ جہالت اور حق سے دشمنی رکھنے کے زیر اثر آہستہ آہستہ تاریکی میں جا گرتی ہے البتہ ابتدائی مراحل میں اسے پاک کرنا پوری طرح ممکن ہے لیکن اگر خدانخواستہ یہ حالتِ انسان میں راسخ ہو جائے اور "ملکہ" کی شکل اختیار کرلے تو پھر اسے آسانی سے ختم کیا جا سکتا اور یہ وہ مقام ہے کہ حق کا چہرہ انسان کی نظر میں دگرگوں ہو جاتا ہے یہاں تک کہ محکم ترین عقلی دلائل اور واضح ترین حسی براہین اس کے دل پر اثر نہیں کرتے اور اس کا معاملہ معقولات اور محسوسات دونوں کے انکار تک جا پہنچتا ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ ”شیع کا مفہوم“

"شیع" "شیعہ" کی جمع ہے۔ "شیعہ" ایسی جمیعت اور گروہ کو کہا جاتا ہے جس کے افراد خطِ،مشترک کے حامل ہوں مفردات میں راغب نے کہا ہے: "شیع" "شیاع" کے مادہ سے پھیلاوٴ اور تقویت کے معنی میں ہے "شاع الخبر" اس وقت کہا جاتا ہے جب خبر متعدد اور قوی ہو جائے "شاع القوم" اس وقت کہا جاتا ہے جب جمیعت پھیل جائے اور زیادہ تعداد میں ہو اور "شیعہ" ان لوگوں کو کہتے ہیں کہ انسان جن کی وجہ سے قوی ہو۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس کی اصل "مشایعت" بمعنی متابعت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعہ پیروکار اور تابع کے معنی میں ہے اور شیعہ علی (علیہ السلام) انھیں کہا جاتا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) انھیں کہا جاتا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) کے پیروکار ہوں اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھتے ہوں۔ پیغمبر اکرمؐ کی یہ مشہور حدیث حضرت امِّ سلمہ سے مروی ہے۔ شیعة علی ھم الفائزون یوم القیامة (قیامت کے دن نجات پانے والے علی (علیہ السلام) کے پیرو ہیں) یہ حدیث بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ بہرحال اس لفظ کی اصل "شیاع" بمعی پھیلاوٴ اور تقویت سمجھیں یا مشایعت بمعنی متابعت جانیں۔۔۔۔۔۔ شیعہ اور تشیع کے مفہوم میں ایک طرح کی فکری و مکتبی ہم بستگی موجود ہونے کی دلیل ہے۔ ضمنی طور پر گزشتہ اقوام کے لئے "شیع" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انبیاء کے خلاف پراگندہ صورت میں عمل نہیں کرتے تھے بلکہ وہ خط مشترک اور ایک ہی پروگرام کے حامل تھے کہ جو ہم آہنگ اقدامات سے تقویت پاتا ہے۔ اگر گمراہ لوگ اس طرح باہم مل کر اقدامات کرتے ہوئے تو کیا راہِ حق کے سچے پیروکاروں کو اپنے راستے میں ہم آہنگی اور مشرکہ منصوبہ بندی اختیار نہیں کرنا چاہئیے۔

۲۔ ”نسلکہ“ کی ضمیر کا مرجع

یہ لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ خداوند تعالیٰ مجرموں اور مخالفوں کو اپنی آیات اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ گویا ان کے دلوں میں داخل ہو گئی ہوں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ عدم قابلیت اور عدم آمادگی کے سبب باہر نکل آتی ہیں جیسے مقوی اور مفید غذا خراب اور غیر صحیح معدہ میں جذب نہیں ہوتی۔ بالکل یہی حقیقت "نسلکہ" کہ جس کا مادہ ٴ اصلی "سلوک" سے ہے سمجھی جا سکتی ہے۔ لہٰذا "نسلکہ" کی ضمیر "ذکر" (قرآن) کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گزشتہ آیات میں آیا ہے کہ اس طرح بعد والے جملے "لایومنون بہ" میں "بہ" کی ضمیر اس کی معنی کی طرف لوٹتی ہے یعنی ان تمام چیزوں کے باوجود وہ لوگ ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے اس بناء پر دو ضمیروں کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی موجود ہے۔ اسی معنی میں اس تعبیر کی نظیر سورہ ٴ شعراء کی آیہ ۲۰۰ اور ۲۰۱ میں نظر آتی ہے۔ بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ "نسلکہ" کی ضمیر استہزاء کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گزشتہ آیت سے مستفاد ہوتا ہے لہٰذا جملے کا معنی یہ ہو گا: ہم نے اس استہزاء کرنے کو (ان کے گناہوں اور ہٹ دھرموں کی وجہ سے) ان کے دل میں داخل کر دیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر کوئی اور اشکال نہ بھی رکھتی ہو تاہم دوضمیروں کے درمیان سے ہم آہنگی خم کر دیتی ہے اور اس کی کمزوری کے لئے یہی کافی ہے (غور کیجئے گا)۔ ضمنی طور پر مندرجہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مبلغین کا فریضہ صرف یہ نہیں کہ مسائل لوگوں کے کانوں کو سنا دیں بلکہ انھیں تمام وسائل سے استفادہ کرنا چاہئیے تاکہ حق بات ان کے دل میں اتار دیں اس طرح سے کہ وہ دلنشیں ہو جائے یوں حق طلب لوگوں کو ارشاد و ہدایت ہو جائے گی اور ہٹ دھرم افراد پر اتمام حجت ہو جائے گی۔ یعنی۔۔۔۔ تمام سمعی و بصری اور عملی ذرائع سے استفادہ کرنا چاہئیے۔ واقعات اور داستانوں سے کام لینا چاہئیے۔ شعر و ادب و ہنر و فن سے حقیقی اور اصلاحی معنی میں استفادہ کرنا چاہئیے۔ تاکہ کلمات حق لوگوں کے دلوں میں جاگزیں ہو جائیں۔

۳۔ گزشتہ لوگوں کی روش

انبیاء پر طرف دار باطل کی نکتہ چینی اور مردانِ خدا سے لوگوں کو دور کرنے کی سازشیں کوئی نئی چیز نہیں اور کسی خاص زمانے یا علاقے میں منحصر نہیں بلکہ جیسا کہ مذکورہ بالا تعبیر سے معلوم ہوتا ہے قدیم زمانے سے گمراہ قوموں میں ایسی سازشیں موجود ہیں۔ لہٰذا ان سے ہرگز وحشت زدہ نہیں ہونا چاہئیے اور اپنے اندر مایوسی اور ناامیدی کو جگہ نہیں دینا چاہئیے۔ یا دشمنوں کی طرف سے پیدا کردہ کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئیے۔ یہ بات تمام راہیان حق کے لئے ایک موثر دلجوئی اور تسلی ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی دور اور کسی علاقہ میں ہم دعوتِ حق نشر کریں اور پرچم عدم لہرائیں لیکن ہٹ دھرم اور سخت مخالفت کرنے والے دشمن کی طرف سے ہمیں ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے تو ہم بہت ہی زیادہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ انبیاء الہٰی اور ان کے سچے پیروکار ان مخالفتوں کی وجہ سے کبھی مایوس نہیں ہوئے بلکہ ان کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ ہر روز اپنی دعوت کی گہرائی اور گیرائی میں اضافہ کریں۔

۴۔ "فظلوا فیہ یعرجون“ کا مفہوم

یہ جملہ اور مندرجہ بالا آیات میں آنے والے بعد کے جملے اچھی طرح نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ آسمان سے کوئی دروازہ ان کے لئے کھول دیا جائے (ظاہراً آسمان یہاں اس تہ بہ فضا کی طرف اشارہ ہے جو زمین کے اطراف میں ہے کہ جس سے آسانی سے نکلنا ممکن نہیں ہے) اور مسلسل روز روشن میں اس آئیں جائیں پھر بھی وہ شدید ہٹ دھرمی سے کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کر دی گئی ہے اور ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ توجہ رہے کہ "ظلموا" دن میں کسی کام کو جاری رکھنے کی دلیل ہے عرب یہ لفظ رات کے موقع کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ "باتوا" کہتے ہیں جو مادہ "بیتوتہ" (رات گزارنا) سے ہے۔ زیادہ تر مفسرین نے یہی تفسیر انتخاب کی ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ "ظلموا" میں ضمیر فرشتوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر وہ فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ وہ آسمان کی طرف جا رہے ہیں اور پلٹ رہے ہیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ علاوہ اس کے کہ یہ تفسیر قبل اور بعد کی آیات سے کہ جو عموماً مشرکین کے بارے میں ہیں سے مناسبت رکھتی (کیونکہ ملائکہ کا ذکر صرف پہلی چھ آیات میں آیا ہے اور ان کی طرف ضمیر کا لوٹنا بہت بعید ہے) بلاغت کلام میں بھی نقص کا باعث ہے کیونکہ قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہاں تک کہ اگر یہ لوگ خود بصورت اعجاز روز روشن میں آسمان کی طرف جائیں اور پلٹ آئیں تو بھی حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے۔ (غور کیجئے گا)۔

۵۔ "سکرت ابصارنا“ کا مطلب

"سکرت" "سکر" کے مادہ سے چھپانے کے معنی میں ہے یعنی ہٹ دھرم کافر کہتے ہیں کہ ہماری حقیقت میں آنکھ پر گویا پردہ ڈال دیا گیا ہے اور اگر ہم اپنے تئیں آسمان کی طرف محو پرواز دیکھیں تو یہ ایک خیالی بات ہے یہ بالکل وہی چیز ہے جسے فارسی زبان میں "چشم بندی" اور نظر بندی (تشریحی نوٹ: اردو میں اسے "فریبِ نظر" کہتے ہیں (مترجم))۔ سے تعبیر کرتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے کے ہاتھ کی صفائی کی وجہ سے انسان حقیقت کو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتا بلکہ اس کے خلاف محسوس کرتا ہے۔ یہ جو اس کے بعد جملہ "بل نحن قوم مسحورون" (بلکہ ہم تو جادو زدہ ہیں) آیا ہے۔۔۔ اگرچہ فریب نظر بھی ایک قسم کا جادو ہے لیکن شاید یہ اس طرف اشارہ ہو کہ معاملہ چشم بندی سے بھی بالا ہو گیا ہے اور ہمیں سرتاپا جادو کر دیا گیا ہے نہ صرف ہماری آنکھ جادو کے زیر اثر ہے بلکہ ہمارا سارا وجود جادو کے سبب اپنا حقیقی احساس گنوا بیٹھا ہے اور جو کچھ محسوس کرتا ہے۔ خلافِ حقیقت ہے۔ دوسرے لفظوں میں۔۔۔۔ جب ہم کسی انسان کو کسی ذریعے سے اوپر لے جائیں اور نیچے لے آئیں تو وہ اس حالت کو نہ صرف اپنی آکھوں سے بلکہ پورے وجود کے ساتھ محسوس کرتا ہے لہٰذا اگر کسی کی پوری طرح چشم بندی کر دی جائے تو وہ پھر بھی اپنے اوپر نیچے آنے جانے کو محسوس کرے گا، یعنی فرض کریں کہ ان مشرکین کو ہم آسمان کی طرف لے جائیں تو پہلے کہیں گے کہ ہماری نظر کو فریب دیا گیا ہے اور بعد میں متوجہ ہوں گے کہ یہ حالت تو بدون چشم قابل احساس ہے تو کہیں گے اصولی طور پر تو سرسے لے کر پاوٴں تک ہمارا وجود سحر زدہ ہے اور اس پر جادو کیا گیا ہے۔

16
15:16
وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَزَيَّنَّـٰهَا لِلنَّـٰظِرِينَ
اورہم نے آسمان میں برج قرار دیئے ہیں اور انہیں ناظرین(دیکھنے والوں ) کیلئے زینت عطا کی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
15:17
وَحَفِظۡنَٰهَا مِن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٍ
اور اس کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
15:18
إِلَّا مَنِ ٱسۡتَرَقَ ٱلسَّمۡعَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ مُّبِينٞ
مگر استراق سمع کرنے والے کہ شہاب مبین جن کا تعاقب کرتے ہیں۔

تفسیر شیطان شہاب کے ذریعے ہانکے جاتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں توحید اور شناخت ِ خدا کی دلیل کے طور پر نظام آفرینش کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان آیات کے ذریعے قرآن و نبوت کے بارے میں گزشتہ آیا ت کی بحث مکمل کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے آسمان میں برج قرار دئے ہیں (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا)۔ "بروج" "برج" کی جمع ہے اس کا اصلی معنی "ظہور" ہے اسی بنا پر اطراف ِ شہر کی دیوار یا اجتماع ِ لشکر کے اس مخصوص حصے کو برج کہا جاتا ہے جو خاص ظہور کرتا ہو۔ نیز اسی بناء پر جب عورت اپنی زینت ظاہر و آشکار کرے تو "تبرجت المرائة" کہتے ہیں۔ بہرحال آسمانی برج سورج اور چاند کی منازل کی طرف اشارہ ہیں زیادہ دقیق تعبیر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم کرہٴ زمین سے چاند اور سورج کی طرف نگاہ کریں تو سال کے مختلف مواقع پر انھیں ہم ایک خاص صورت فلکی میں دیکھتے ہیں (سیاروں کے مختلف مجموعے ہیں ان میں سے ہر ایک نے ایک خاص شکل اختیار کی ہوتی ہے۔ اسے صورت فلکی کہتے ہیں) اور کہا جاتا ہے کہ سورج برج حمل، ثور، میزان، عقرت، یاقوس میں ہے۔ (بحوالہ ۱"حمل" بھیڑ کے بچے کو کہتے ہیں "ٹور" بیل کے معنی میں ہے۔ "میزان" ترازو کو کہا جاتا ہے۔ "عقرب" بچھو کو کہتے ہیں اور "قوس" کمان کےمعنی میں ہے ستاروں کے مختلف مجموعے ہیں جو تقریباً ان شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔) ان آسمانی برجوں کا وجود، آفتاب و ماہتاب کی منزلیں اور وہ خاص نظام جو ان کی حرکت کے لئے ان پر برجوں میں موجود ہے کہ جس سے ہماری دنیائے ہستی کی تقویم بنتی ہے۔۔۔۔۔۔ آفریدگار اور خالق کے علم و قدرت پر یہ ایک واضح دلیل ہے یہ عجیب و غریب نظام جو دقیق بھی ہے اور باریک حساب کا حامل ہے۔ مسلسل اور رواں دواں ہے۔ ظاہر کرتا ہے کہ جہان کی خلقت ایک منصوبے اور ہدف کے تحت ہے اور اس میں ہم جتنا زیادہ غور و فکر کریں ہم اس جہان کے خالق اتنا ہی قریب ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے آسمان کو اور ان کی فلکی صورتوں کو ناظرین کی زینت عطا کی ہے (وَزَیَّنَّاھَا لِلنَّاظِرِینَ)۔(بحوالہ"زیّنّاھا" کی ضمیر "سماء" کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ "سماء" مؤنث مجازی ہے ) ایک تاریک ستاروں بھری رات میں آسمان کی طرف نظر اٹھائیں تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف گوشوں میں ستاروں کے مختلف گروہ موجود ہیں گویا ہر گروہ کی اپنی انجمن ہے۔ اور وہ آپس میں آہستہ آہستہ راز و نیاز کی باتیں کر رہے ہیں۔ بعض خیرہ خیرہ ہماری طرف دیکھتے ہیں مگر آنکھ سے اشارہ بھی نہیں کرتے اور بعض ہیں کہ مسلسل اشارہ کر رہے ہیں گویا ہمیں اپنی طرف بلارہے ہیں۔ بعض چمکتے ہوئے یوں لگتے ہیں کہ جیسے ہمارے قریب ہو تے جا رہے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کم رنگ نور کے ساتھ گویاآسمانوں کی ان پہنائیوں سے بغیر آواز کے صدا دے رہے ہیں کہ ہم بھی یہاں ہیں۔۔۔۔ یہ خوبصورت شاعرانہ منظر جو شاید بعض کے لئے مشاہدہ کے باعث معمول کا جلوہ ہو لیکن اس پر جتنا بھی غور و فکر کریں۔۔۔۔یہ قابل ِ دید، جاذب نظر اور شوق انگیز ہے اور جب چاند اپنی مختلف شکلوں میں ان گروہ درگروہ ستاروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو یہ منظر اور بھی تازہ اور اعجاب انگیز ہو جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے بعد ستارے یکے بعد دیگرے نمودار ہوتے ہیں گویا کسی پر دے کی اوٹ سے باہر کی طرف دوڑ رہے ہوں۔ یہی تارے دم صبح خیرہ کن آفتاب کی قوت کے سامنے ٹھہر نہیں پاتے، بھاگ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو چھپالیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر علمی زیبائیوں اور فراواں اسرار کی نگاہ سے آسمان کاچہرہ اس قدر خوبصورت ہے کہ ہزاروں سال تمام علماء اور دانش مندوں کی آنکھ اسی کی طرف لگی ہوئی ہے۔ خصوصاً آج کی دنیا میں نہایت طاقتور ٹیلی سکوپس اور ستارے دیکھنے والی عظیم دوربینوں کے ذریعے اس کی طرف دیکھا جاتا ہے اور ہر وقت اس سے ظاہر اً خاموش مگر غوغا حا کم کے تازہ اسرار اہلِ دنیا کے لئے منکشف ہو رہے ہیں، سچ ہے کہ: چرخ بایں اختران نغزو خوش و زیبا ستی آسمان ان عمدہ، اچھے اور زیبا ستاروں کے ساتھ ہے ___________________ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے اس آسمان کوہر مردود، شوم اور ملعون شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔ (وَحَفِظْنَاھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ)۔ مگر وہ شیطان کہ جو "اشتراق سمع" (خبریں چرانا) کی ہوس کرتے ہیں ان کا تعاقب شہابِ مبین کرتے ہیں اور انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں (إِلاَّ مَنْ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہُ شِھَابٌ مُبِینٌ)۔

شیطان شہاب کے ذریعے کیسے ہانکے جاتے ہیں؟

زیر نظر آخری آیت ان آیات میں سے ہے جس کے متعلق مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے اور ہر ایک نے ایک خاص راستہ طے کیا ہے اور اسے ایک معین نتیجہ نکالا ہے۔ چونکہ بعینہ یہی مضمون سورہٴ صافات (آیہ ۶،۷) اور سورہٴ جن (آیہ ۹) میں آیا ہے اور یہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس کے بارے میں ممکن ہے بےخبر افراد کچھ ایسے سوالات اٹھائیں جو جواب کے بغیر رہ جائیں لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے بزرگ عظیم اسلامی مفسرین کی آراء پر ایک نگاہ ڈال لیں اور پھر جس رائے کو ہم ترجیح دیں اسے بیان کیا جائے۔ ۱۔ بعض مفسرین مثلاً تفسری فی ظلال کا مولف۔۔۔۔ ان آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے بڑے آرام سے یہ کہہ کر گزر گئے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا ادراک ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور ضروری ہے کہ جو کچھ ہمارے حقیقی اعمال میں سے ہماری زندگی میں مؤثر ہے اسے اہمیت دیں۔ لہٰذا انھوں نے ان آیات کی اجمالی سی تفسیر پر قناعت کرتے ہوئے اس مسئلے کی توضیح سے صرف ِ نظر کیا ہے۔ تفسیر فی ظلال کا مولف لکھتا ہے: شیطان کیا ہے وہ کس طرح استراق سمع کرنا چاہتا ہے اور وہ کیا چرانا چاہتا ہے؟ یہ سب چیزیں خدائی غیوب میں سے ہیں کہ نصوص کے ذریعے جن کی دستیابی نہی ہو سکتی اور ان کے بارے میں تحقیق و جستجو کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے ہمارے عقیدے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کا اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں کہ فکر انسانی ایسی چیز میں مشغول ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ کوئی خاص ربط نہیں رکھتی اور اسے انسان اپنی زندگی میں حقیقی عمل انجام دینے سے رک جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں تحقیق سے کسی جدید حقیقت کے بارے میں ہمیں کوئی نیا ادراک نہیں ملتا۔ (بحوالہ تفسیر فی ظلال ج۵ ص ۳۹۶)۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ قرآن ایک ایسی عظیم انسان ساز، تربیت کنندہ اور حیات بخش کتب ہے کہ اگر کوئی چیز حیاتِ انسانی کے ساتھ ربط نہ رکھتی ہو تو وہ اس میں ہرگز نہ ہو گی۔ یہ کتاب ساری کی ساری درس ہے درسِ زندگی ہے علاوہ ازیں کوئی شخص اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ قرآن میں ایسے حقائق ہوں کہ جنہیں معلوم نہ کیا جا سکتا ہو، کیا قرآن نور کتابِ مبین نہیں ہے اور کیا یہ لوگوں کے فہم و تدبر اور ہدایت کے لئے نازل نہیں ہوا۔ تو کیسے ان آیات کو سمجھنا ہم سے ربط نہیں رکھتا؟ بہرحال ان آیات اور ان جیسی آیات کے بارے میں یہ طرز اعتراض ہمیں پسند نہیں ہے۔ ۲۔ مفسرین کی ایک اہم جماعت خصوصاً متقدین مفسرین کا اصرار ہے کہ آیت کے ظاہری معنی کو پوری طرح محفوظ رکھا جائے۔ ان کے نزدیک "سماء" اسی آسمان کی طرف اشارہ ہے اور "شہاب" اسی "شہاب" کی طرف اشارہ ہے یعنی وہی سرگرداں سنگریزے جو اس فضائے بیکراں میں گردش کر رہے ہیں اور کبھی کبھار وہ زمین کی قوت ثقل کی زد میں آ جاتے ہیں تو زمین کی طرف کھنچ آتے ہیں۔ ہوا کی لہروں سے تیزی سے ٹکرانے کی بنا پر وہ سرخ اور شعلہ ور ہو جاتے ہیں اور خاکستر بن جاتے ہیں۔ نیز "شیطان" وہی خبیث، راندہ اور سرکش موجودات ہیں جو آسمانوں کی طرف جانا چاہتے ہیں اور ہمارے اس جہان کی کچھ خبریں کہ جو آسمان میں منعکس ہوتی ہیں انھیں استراق سمع سے (مخفی طور پر کان لگا کر) معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شہاب تیروں کی طرح ان کی طرف آتے ہیں اور انھیں ایسا کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر اور آلوسی نے روح المعانی میں اس تفسیر کا ذکر کرنے کے بعد ہیئت قدیمہ کے حوالے سے پیدا ہونے والے مختلف اشکالات کے جواب بھی دئیے ہیں اور کہا ہے کہ آج کی ہیئت کی طرف توجہ کرتے ہوئے افلاک کا پیاز کے چھلکوں کی طرح ہونے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے)۔ ۳۔ مفسرین کی ایک اور جماعت نے ان آیات کی تعبیرات کو تشبیہ کنایہ اور امثال کے طور پر لیا ہے۔ یعنی اصطلاحاً انھیں سمبالک(SYMBOLIC) سمجھا ہے ان مفسرین میں المیزان کے عالی قدر مفسر اور صاحب تفسیر الجواہر طنطاوی شامل ہیں۔ ان مفسرین نے اس تشبیہ و کنایہ کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے۔ الف۔ تفسیر المیزان میں ہے: مفسرین نے شیاطین کے استراق سمع اور شہاب کے ذریعے ان کے ہان کے جانے کے بارے میں جو مختلف توجیہات کی ہیں ایسی چیز پر مبنی ہیں جو کبھی کبھی ظاہر آیات و روایات سے ذہن میں آتی ہیں وہ یہ کہ افلاک زمین پر محیط ہیں ان میں فرشتوں کے مختلف گروہ موجود ہیں ہر گروہ کے لئے ان افلاک میں کئی دروازے ہیں کہ جن میں سے ان فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں آ جا سکتا۔ ان فرشتوں میں سے کچھ اپنے ہاتھ میں شہاب لئے ہوئے ہیں اور وہ استراق سمع کرنے والے شیاطین کی تاک ہیں کہ ان کے ذریعے ان کی سرکوبی کریں اور انھیں ہانکیں۔ حالانکہ آج کی دنیا میں واضح ہو چکا ہے کہ ایسے نظریات بےبنیاد ہیں ایسے کوئی افلاک ہیں نہ دروازے اور نہ ہی ایسی اور چیزیں۔ جو کچھ یہاں بطور احتمال کہا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ایسے بیانات کلام ِ الہٰی میں امثال کی طرح ہیں کہ جو غیر حسی حقائق واضح کرنے کے لئے حسی لباس میں ذکر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے: و لک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون (یہ امثال ہیں کہ جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور صاحبانِ علم کے علاوہ انھیں کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ (عنکبوت۴۳)۔ ایسی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں مثلاً عرش، کرسی، لوح اور کتاب۔ لہٰذا آسمان کہ جو فرشتوں کا مسکن ہے سے مراد ایک عالمِ ملکوتی ہے جو عالم طبیعت سے ماوراء ہے کہ جو اس جہانِ محسوس سے برتر و بالاتر ہے اور اس آسمان کی باتیں چوری چھپے سننے کے لئے شیطانوں کے قریب ہونے اور ان کی طرف شہاب پھینکے جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمِ ملائکہ قریب ہوں تاکہ اسرار خلقت اور حوادث آئندہ کے بارے میں آگاہی حاصل کریں لیکن وہ ملائکہ معنوی و ملکوتی انوار سے شیطانوں کو ہانکتے ہیں۔ کیونکہ ان انوار کو برداشت کرنے کی وہ تاب نہیں رکھتے۔ (بحوالہ المیزان ج۱۷ص۱۳۰۔ سورہ صافات کی آیات کے ذیل میں) ب: طنطاوی اپنی مشہور تفسیر میں لکھتا ہے:۔ ایسے علماء جو حیلہ گر اور ریاکار ہیں اور عام لوگ جو ان کی پیروری کرتے ہیں یہ اہلیت نہیں رکھتے کہ آسمانوں کی عجائب، عالم بالا کی شگفیاں، اس کے بےکراں کرات اور ان پر حکم فرماں نظم و حساب سے آگاہ ہوں خدا نے انھیں اس علم دانش سے محروم رکھا ہے اور ستاروں بھرے، خوبصورت اور مزین آسمان کے تمام اسرار ان کے افراد کے اختیار میں دئیے ہیں جو عقل و ہوش اور اخلاص و ایمان رکھتے ہیں۔ فطری اور طبیعی ہے کہ پہلا گروہ اس آسمان کے اسرار میں نفوذ سے روک دیا جاتا ہے اور درگاہ الٰہی سے دھتکارا ہوا شیطان چاہے نوع بشر سے ہو یا غیر بشر سے، ان حقائق تک رسائی کا حق نہیں رکھتا اور جس وقت وہ ان کے نزدیک ہوتا ہے تو دھتکار دیا جاتا ہے۔ ایسے افراد ممکن ہے بہت سال جئیں اور پھر مر جائیں مگر ان اسرار تک ہرگز نہیں پہنچ پاتے۔ ان کی آنکھیں کھلی تو ہوتیں ہیں لیکن حقایق دیکھنے کی تاب نہیں رکھتیں۔ کیا ایسا نہیں کہ اس کا علم اس کے عاشقوں کے سوا کسی کو نہیں ملتا اور اس کے جمال کا نظارہ اس کے عارفوں کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ (بحوالہ تفسیر طنتاوی،ج۸ ص۱۱)۔ اس میں کیا مانع ہے کہ یہ تعبیرات کنایہ ہوں، منع حسی منع عقلی کی طرف اشارہ ہو جبکہ کنایہ بلاغت کی بہترین انواع میں سے ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ بہت سے لوگ جو ہمارے آس پاس زندگی کزارتے ہیں وہ اس زمین کے حدود اربعہ میں محبوس اور قید ہیں ان کی آنکھ کبھی جہان و بلا کی طرف نہیں اٹھتی اور وہ صدائے بالا پر کان نہیں دھرتے اور اس جہان کے امور اور عجائبات کی انھیں کوئی خبر نہیں وہ خود خواہی، شہوت، کینہ وری، طمع و حرص اور خانماں ساز شہاب کے ذریعے ان اعلی ٰ معانی کے ادراک سے ہانکے گئے ہیں (اور اگر کسی روز وہ ایسی خواہش ظاہر کریں تو اپنے قلب و روح کی ان آلودگیوں کے باعث وہ ہانکے جائیں گے) (بحوالہ تفسیر طنطاوی، ج۱۸ ص ۱۰)۔ ج:۔ ایک اور مقام پر اس نے جو گفتگو کی ہے اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: جس وقت انسانوں کی ارواح اس دنیا سے جہان برزخ کی طرف منتقل ہوتی ہیں ان کا زندوں کی روح کے ساتھ تعلق اور ارتباط ہوتا ہے اور جہاں ان کے درمیان مناسبت اور میلان ہو اور وہ احضار ارواح وغیرہ کے ذریعے ان سے ارتباط اور تفاہم برقرار رکھ سکیں تو کچھ مسائل ان کے اختیار میں دئے جاتے ہیں جو بعض اوقات حق اور بعض اوقات باطل ہوتے ہیں کیونکہ وہ عوالم اعلیٰ تک رسائی نہیں کر سکتے بلکہ ان کی رسائی صرف نچلے عوالم تک ہو سکتی ہے۔ مثلاً جسے مچھلی اپنے محیط سے باہر نکل کر ہوا میں پرواز نہیں کر سکتی، وہ بھی طاقت رکھتے کہ اپنے جہان کے حدود اربعہ سے نکل کر بالاتر چلے جائیں۔ د: بعض دوسرے کہتے ہیں جدید سائنسی انکشافات نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت دور کی فضا سے طاقتور ریڈ لہروں کا ایک سلسلہ جاری ہے انھی کرہ زمین میں ریڈیائی پیغامات وصول کرنے والے مخصوص مرکز کے لئے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کو معلوم نہیں کہ ان انتہائی طاقتور لہروں کا سرچشمہ کہاں ہے۔ بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ قوی احتمال ہے کہ دور کے آسمانی کرُوں میں بہت سی زندہ موجودات کہ جو تمدن کے لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں لہٰذا وہ چاہتی ہیں کہ اپنی خبریں اس دنیا تک پہنچائیں ان خبروں میں ایسے مسائل بھی موجود ہیں جو ہمارے لئے نئے ہیں اور موجودات کہ جنھیں دیو اور پری کہتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ان لہروں سے فائدہ اٹھائیں لیکن طاقتور شعائیں انھیں دور پھینک دیتی ہیں۔ (بحوالہ تفسیر قرآن بر فراز اعصار۔ مولفہ ع نوفل صفحہ ۲۵۸)۔ یہ تھے علماء اور مفسرین کے مختلف نظریات۔

نتیجہٴ بحث

ان آیات کی تفسیر کے سلسلے میں مباحث بہت طویل ہو گئے ہیں اب مکمل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہیئے۔ ۱۔لفظ "سماء" (آسمان) بہت سی آیات قرآن میں ایسی مادی آسمان کے معنی میں مثلاً سورہ اعراف کی آیہ۴۰ میں ہے:۔ ان الذین کذبوا باٰیاتنا و استکبروا و اعنھا لا تفتح لھم ابواب السماء وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور ان کے سامنے تکبر اختیار کیا ہے آسمان کے دروازے ان کے رخ پر نہیں کھلیں گے۔ ہو سکتا ہے یہاں آسمان قرب خدا کے لئے کنایہ ہو جیسا کہ سورہٴ فاطر کی آیہ۱۰ میں ہے۔ الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعہ پاکیزہ باتیں اس کی طرف اوپر جاتی ہیں اور وہ عمل صالح کو بلند کرتا ہے۔ واضح ہے کہ اعمال صالح اور پاکیزہ باتیں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو اس آسمان کی طرف اوپر جائیں بلکہ ان کی پیش رفت مقام قرب خدا کی طرف ہوتی ہے اور وہ روحانی عظمت و رفعت حاصل کرتے ہیں۔ اصولی طور پر آیات قرآن کے بارے میں "انزل" اور"نزل" کی تعبیر واضح طور پر بتاتی ہے کہ مقام قدس پروردگار سے قلب ِپیغمبرؐ پر نزول مراد ہے۔ سورہ ابراہیم کی آیہ۲۴ میں ہے:۔ الم ترا کیف ضرب اللہ مثلاً کلمة طیبة کشجرة طیبة اصلھا ثابت فرعھا فی السماء کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات کی مثال پیش کی ہے کہ گویا ایک پاکیزہ درخت ہے اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں۔ اس کی تفسیر میں ہم نے پڑھا ہے کہ یہ پاکیزہ درخت جسے خدا نے مثال کے طورپر بیان کیا ہے اس کی جڑ پیغمبرﷺ ہیں۔ اور علی (علیہ السلام) اس کی جڑ اور شاخ (وہی شاخ کہ جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے) اور دیگر آئمہ اس کی کچھ چھوٹی شاخیں ہیں۔ (بحوالہ تفسیر برہان جلد ۲ ص۳۱۰)۔ ایک حدیث میں ہے: کذٰلک الکافرون لاتصعد اعمالھم الیٰ السماء اسی طرح کفار کہ جن کے اعمال آسمان کی طرف اوپر نہیں جاتے۔ واضح ہے کہ اسی احادیث میں آسمان اس حسی آسمان کی طرف اشار ہ نہیں ہے یہاں سے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ آسمان مادی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور معنوی مفہوم میں بھی۔ ۲۔نجوم (ستارے) بھی ایک مادی مفہوم رکھتے ہیں کہ جو یہی ستارے ہیں جو آسمان میں نظر آتے ہیں اور ایک لفظ کا معنوی مفہوم ہے کہ جو علماء اور بڑی شخصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جو انسانی معاشروں کو روشنی بخشتے ہیں اور جیسے لوگ ستاروں کے ذریعے تاریک راتوں میں بیابانوں میں اور سمندوں میں اپنا راستہ ڈھونڈتے ہیں، انسانی معاشروں میں عام لوگ بھی زندگی اور سعادت کی راہ علماء آگاہ اور صاحب ایمان رہبروں کی مدد سے پاتے ہیں۔ مشہور حدیث جو پیغمبر اکرمﷺ سے نقل ہوئی ہے:۔ مثل اصحابی فیکم کمثل النجوم بایھا اخذ اھتدیٰ میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں جس کی اقتداء ہو جائے باعث ہدایت ہے۔ (بحوالہ و تشریحی نوٹ: سفینة البحار جلد۲ ص ۹۔ یہ روایت سنی روایات سے ملتی جلتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق اور عموم قابل عمل نہیں ہے کیونکہ صحابہ میں ہر قسم کے لوگ حتی کہ منافقین بھی داخل ہیں اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس سے یا تو سلمان و ابوذر جیسے خاص اصحاب مراد ہیں یا اصحاب کساء اور اہل بیت مراد ہیں ہمارے اس نظریہ کی تائید سورہ ٴ انعام کی آیہ۹۷ کے ذیل میں آنے والی مذکورہ بالا روایت کی بھی کرتی ہے۔ یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے)۔ یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ سورہ انعام آیہ ٩۷اس طرح ہے: وھوالذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی الظمات البر و البحر اور وہ ذات کہ جس نے تمہاے لئے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے تمہاری ہدایت ہو۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے کہ امام (علیہ السلام) فرمایا: النجوم آل محمد ستارے سے مراد خاندان ِپیغمبر ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد۱ ص ۷۵۰)۔ ۳۔ بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرف شیاطین کے صعود کی ممانعت اور ستاروں کے ذریعے ان کا ہانکا جانا پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے وقت سے ہوا اور بعض روایات سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدائش کے وقت سے شیاطین ایک حد تک ممنوع ہوئے اور پیغمبر اسلامؐ کی ولادت کے بعد مکمل طور پر ممنوع ہو گئے۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳، ص ۵ تفسیر قرطبی ج۵ م ص۳۶۲۶)۔ ان باتوں سے جو ہم نے بیان کی ہیں یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ "سماء" کا یہاں معنوی مفہوم ہے اور یہ حق، ایمان اور روحانیت کے آسمان کی طرف اشارہ ہے اور ہر وقت شیطانوں کی کوشش ہے کہ وہ اس چار دیواری میں داخل ہونے کے لئے راہ پا لیں اور سچے مومنین اور حامیان حق کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسوں کے ذریعے نفوذ پیدا کر لیں لیکن مرادانِ الٰہی اور راہبران راہ حق انبیاء و آئمہ سے لے کر مجتہد علماء تک اپنے علم و تقویٰ کی طاقتور موجوں کے ساتھ ان پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں اس آسمان سے قریب ہونے سے ہانکتے ہیں۔ اسی مقام پر حضرت مسیح کے تولد اور اس سے بالاتر حضرت محمدﷺکے تولد اور شیطان کے دھتکارنے کے درمیان ربط معلوم کیا جا سکتا ہے۔ نیز یہیں پر آسمان کی طرف صعود اور اسرار سے آگاہی کے درمیان ارتباط معلوم کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس مادی آسمان میں کوئی خاص خبریں نہیں ہیں سوائے خلقت کی عجیب و غریب چیزوں کے جو روئے زمین سے بھی قابل مطالعہ ہیں۔ نیز آج کی دنیا میں یہ مسئلہ یقینی ہو چکا ہے کہ اس بیکراں فضا میں پھیلے ہوئے آسمانی کرات میں سے بعض مردہ ہیں اور بعض زندہ ہیں اور ان کے ساکنان بھی ہیں لیکن شاید ان کی زندگی ہم سے بہت زیادہ مختلف ہو۔ یہ موضوع بھی بہت قابل ملاحظہ ہے کہ شہاب صرف زمین کی فضا سے پیدا ہوتے ہیں۔ اطراف زمین کی ہوا سے پتھر کے ٹکڑے اٹھتے ہیں اور شعلہ ور ہوتے ہیں انہی سے شہاب پیدا ہوتے ہیں ورنہ زمین کی فضا سے باہر کوئی شہاب نہیں ہوتا البتہ زمینی فضا سے باہر کچھ پتھر سرگرداں ہیں لیکن انھیں شہاب نہیں کیا جاتا لیکن جب وہ زمینی فضامیں داخل ہوتے ہیں تو گرم ہو کر شعلہ ور ہو جاتے ہیں اور انسان کی نظروں سے سامنے آگ کی ایک لکیر کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ حرکت کرتے ہوئے ستارے ہیں۔ نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آج کے انسان نے کئی مرتبہ زمین کی فضا سے باہر کی طرف عبور کیا ہے اور اس سے بہت بلند یہاں تک کہ چاند تک پہنچا ہے (توجہ رہے کہ زمین کی فضا ایک سو سے لیکر دوسو کلو میٹر سے زیادہ نہیں ہے جبکہ چاند ہم سے تیس لاکھ کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے)۔ لہٰذا اگر مراد یہی مادی شہاب اور مادی آسمان ہو تو یہ مان لینا چاہئیے کہ یہ علاقہ انسانی سائنسدانوں پر ظاہر ہو چکا ہے اور اس میں کوئی اسرار کی بات نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ بہت سے قرائن و شواہد جو ہم نے ذکر کئے ہیں، سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے مراد حق و حقیقت کا آسمان ہے۔ اور شیاطین وہی وسوسہ پیدا کرنے والے ہیں کہ جو کوشش کرتے ہیں کہ اس آسمان تک رسائی حاصل کر سکیں اور مخفی طور پر کان لگا کر باتیں سنیں اور لوگوں کو گمراہ کریں۔ ستارے اور شہاب یعنی رہبران الہٰی اور علماء اپنے قلم کی طاقتور لہروں اور موجوں سے انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں اور دھتکارتے دیتے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔ قرآن بحر بیکراں ہے اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے علماء ان آیات کے سلسلے میں نئے حقائق تک دسترس حاصل کر لیں کہ آج جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

19
15:19
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡزُونٖ
اور ہم نے زمین کو پھیلا یا اور اس میں ثابت پہاڑ ڈالے اور اس تمام موزوں نباتات اگائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
15:20
وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسۡتُمۡ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ
اور ہم نے تمہارے لئے طرح طرح کے وسائل زندگی فراہم کئے اسی طرح ان کے لئے بھی جنہیں تم روزی نہیں دے سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
15:21
وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٖ مَّعۡلُومٖ
اورتمام چیزوں کے خزانے ہمارے پاس ہیں لیکن ہم معین انداز سے سوا انہیں نازل نہیں کرتے۔

تفسیر ہر چیز کا خزانہ ہمارے پاس ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہاں آیات آفرینش ایک حصہ اور زمین میں عظمت خدا کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں تاکہ گزشتہ بحث تکمیل کو پہنچے۔ پہلے بات زمین سے شروع کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:ہم نے زمین کو پھیلایا (وَالْاَرْضَ مَدَدْنَاھَا)۔ "مد" دراصل وسعت دینے اور پھیلانے کے معنی میں ہے اور احتمال قوی یہ ہے کہ یہاں زمین کی خشکیوں کے ذریعے سے باہر نکلنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابتدا میں کرہٴ زمین کی ساری سطح سیلابی بارشوں کے زیر اثر پانی کے نیچے ڈوبی ہوئی تھی سالہا سال اسی حال میں گذر گئے۔ سیلابی بارشیں کم ہوئیں، پانی زمین کے گڑہوں میں جا گزیں ہوا۔ آہستہ آہستہ خشکیاں پانی کے نیچے سے نمودار ہونے لگیں۔ یہی وہ چیز ہے جو روایات اسلامی میں "دحو الارض" کے نام سے مشہور ہے۔ پہاڑوں کی خلقت چونکہ ان کے زیادہ فوائد کی وجہ سے توحید کی ایک نشانی ہے۔ اسی لئے ان کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے زمین میں مستقر اور ثابت پہاڑ ڈالے ہیں (وَاَلْقَیْنَا فِیھَا رَوَاسِیَ)۔ پہاڑوں کے لئے "القاء" (پھینکنا) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پہاڑ زمین کی وہ سلوٹیں ہیں جو زمین کے چمڑے کے تدریجاً سرد ہونے کی بناء پر یا آتش فشانی مواد کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔ ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے یہ تعبیر اس لہٰذا ہو کہ "القاء" "ایجاد" کے معنی میں بھی آیا ہے۔ ہم اپنی روز مرہ زبان میں بھی کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں زمین کے لئے پلان بنایا ہے اور اس میں چند کمرے ڈالے ہیں یعنی بنائے اور ایجاد کئے ہیں۔ بہرحال یہ پہاڑ علاوہ اس کے کہ جڑ سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں اور روز مرہ کی طرح زمین کے اندرونی خلفشار اور دباؤ کے مقابلے میں لرزتے نہیں، طوفانوں کی طاقت کی بھی درہم برہم کر دیتے ہیں اور ہوا کی رفتاری کو پوری طرح کنٹرول کرتے ہیں یہ پہاڑ، پانی کے ذخیروں کے لئے بہت اچھی جگہ ہیں جو یہاں برف کی صورت میں یا چشموں کی صورت میں میں موجود ہوتا ہے۔ خصوصاً لفظ "رواسی" استعمال کیا گیا ہے کہ جو "راسیہ" جمع ہے اور یہ ثابت اور مضبوط کے معنی میں ہے جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ خود بھی ثابت اور مستقر ہیں اور زمین کے نازک چمڑے اور انسانی زندگی کے ثبات و قرار کا باعث ہیں۔ انسانی زندگی اور تمام جانداروں کے زندگی کے لئے، بہترین عامل یعنی نباتات کی طرف بات کا رخ رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے زمین پر موزوں نباتات میں سے اگایا ہے (وَاَنْبَتْنَا فِیھَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْزُونٍ)۔ "موزون" کس قدر خوبصورت اور رسا تعبیر ہے۔ یہ لفظ دراصل "وزن" کے مادہ سے ہر چیز کے اندر شناسائی کے معنی میں لیا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ "الوزن معرفة قدر الشیء" (مفردات راغب)) یہ دقیق حساب، عجیب نظم و ضبط اور نباتات کے تمام اجزاء کے متناسب اندازوں کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک بلکہ ہر ایک کا ہر جز، شاخ، پتہ، پھول، پھل، اور گٹھلی سب کچھ معین حساب کتاب کا حامل ہے۔ کرُّہ زمین میں شاید لاکھوں قسم کے نباتات ہیں کہ جو مختلف خواص اور طرح طرح کے آثار رکھتے ہیں ان میں سے ہر ایک اللہ کی پہچان کا دریچہ ہے ان میں سے ہر ایک کا پتہ پتہ معرفتِ کردگار کی ایک کتاب ہے۔ اس جملہ کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد مختلف معدنیات کا پہاڑوں میں پیدا ہونا ہے کیونکہ عرب لفظ "انبات" معدن اور کان کے بارے میں استعمال کرتے ہیں۔ بعض روایات میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو فرمایا: مراد یہ ہے کہ خدا پہاڑوں میں سونے، چاندی، جواہرات اور باقی دھاتوں کی کانیں اور معدنیات پیدا کی ہیں۔ (بحوالہ و تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۶ (توجہ رہے کہ اس تفسیر کے مطابق "فیھا" کی ضمیر پہاڑوں کی طرف لوٹے گی))۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "انبات" (اُگانا) یہاں وسیع معنی میں ہو کہ جس میں تمام مخلوقات جنہیں خدا نے پیدا کیا ہے۔ شامل ہوں۔ سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی ہے کہ آپ لوگوں سے کہتے تھے: و اللہ انبتکم من الارض نباتا اور خدا نے تمہیں نباتات کی طرح زمین سے اُگایا ہے۔ (نوح۔ ۱۷) بہرحال کوئی مانع نہیں کہ آیت وسیع مفہوم رکھتی ہو اور اس میں انسان، نباتات اور معدنیات وغیرہ سبھی شامل ہوں۔ انسان کے وسائل حیات چونکہ نباتات اور معدنیات میں منحصر نہیں ہیں لہٰذا بعد والی آیات میں ان تمام نعمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے زمین میں تمہارے لئے انواع و اقسام کے وسائل زندگی بنائے ہیں (وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیھَا مَعَایِشَ)۔ نہ صرف تمہارے لئے بلکہ تمام زندہ موجودات کے لئے اور وہ کہ جنہیں تم روزی نہیں دیتے اور تمہاری دسترس سے باہر ہیں (وَمَنْ لَسْتُمْ لَہُ بِرَازِقِینَ)۔ جی ہاں! ہم نے ان سب کو ان کی ضروریات فراہم کی ہیں۔ "معایش" "معیشة" کی جمع ہے اور یہ وسیلہ ہیں، ذریعہ، انسانی زندگی کی ضروریات کو کہتے ہیں کہ بعض اوقات جن کے پیچھے خود انسان جاتا ہے اور بعض اوقات وہ اس کے پیچھے آتی ہیں اگرچہ بعض مفسرین نے لفظ "معایش" کی تفسیر صرف زراعت، نباتات اور کھانے پینے کی چیزوں سے کی ہے لیکن واضح ہے کہ مفہوم لغت پوری طرح وسیع ہے اور تمام وسائلِ حیات پر محیط ہے۔ مفسرین نے "من لستم لہ برازقین" کی دو تفسیریں ہیں۔ پہلی یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ انسانوں، حیوانوں اور زندہ موجودات سب کے لیے اپنی نعمات بیان کرے کہ انسان جنہیں غذا دیے کی طاقت نہیں رکھتا۔ دوسری یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ انسانوں کو متوجہ کرے کہ ہم نے بھی تمہارے لئے زمین میں وسیلہٴ زندگی قرار دیا ہے اور زندہ موجودات بھی تمہارے اختیار میں دئے ہیں (مثلاً چوپائے) کہ جنہیں تم روزی دینے کی توانائی نہیں رکھتے۔ خدا انھیں روزی دیتا ہے اگرچہ یہ کام تمہارے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر اول کی بناء پر "من" (من لستم برازقین) کا عطف "لکم" کی ضمیر پر ہوتا ہے اور دوسری تفسیر کی بناء پر "معایش" پر۔ بعض نے پہلی تفسیر پر اعتراض کیا ہے کہ مجرور کا اسم ظاہر ضمیر مجرور پر عطف نہیں ہوتا مگر یہ کہ حرف جر کی تکرار ہو یعنی یہاں ضروری تھا کہ لام "من" کے سر پر بھی آتی۔ دوسرا یہ "من" کا اطلاق انسان کے علاوہ دیگر زندہ پر کس طرح ہوا ہے۔ لیکن یہ دونوں اعتراض صحیح نہیں ہیں۔ کیونکہ عبارات عرب میں حرف جر کی تکرار نہ ہونے پر شواہد موجود ہیں اور اسی طرح غیر ذوی العقول موجودات "من" کے اطلاق کی بھی مثالیں ہیں، دوسری تفسیر پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ لفظ "معایش" اتنا وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ تمام وسائل زندگی یہاں تک کہ چوپائے وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ لہٰذا "معایش" کے ذکر کے بعد اس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔ اسی بناء پر ہم نے پہلی تفسیر کو ترجیح دی ہے)۔ لیکن ہماری نظر میں پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور اس کی ادبی دلیل بھی ہم نے اسی پیرے میں بیان کر دی ہے۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں موجود ایک حدیث میں ہم نے اس تفسیر کی تائید میں پاتے ہیں جہاں "من لستم لہ برازقین" کے بارے میں ہے۔ لکل ضرب من الحیوان قدرنا شیئا مقدراً تمام جانوروں کے لئے ہم نے کوئی نہ کوئی چیز مقدر کی ہے۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص۹)۔ ______________________ زیر بحث آخری آیت درحقیقت ایک سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ جو بہت سے لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ خدا اس قدر ازراق و نعمات انسانوں کے قبضے میں کیوں نہیں دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کی سعی و کوشش سے بےنیاز ہو جاتے۔ ارشاد ہوتا ہے: تمام چیزوں کے خزانے ہمارے پاس ہیں لیکن ہم ان کی معین مقدار کے علاوہ نازل نہیں کرتے (وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ عِنْدَنَا خَزَائِنُہُ وَمَا نُنَزِّلُہُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ)۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ ہماری قدرت محدود ہے اور اپنی نعمات کے ختم ہونے پر ہم وحشت زدہ ہیں بلکہ ہر چیز کا منبع، مخزن اور سرچشمہ ہمارے پاس ہے اور ہم ہر زمانے میں ہر مقدار ایجاد کرنے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن اس عالم کی تمام چیزیں کسی حساب کے ماتحت ہیں اور ارزاق بھی خدا کی طرف سے بمقدار حساب نازل ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے:۔ ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولٰکن ینزل بقدر مایشاء (شوری ۲۷) اگر خدا اپنے بندوں کے لئے بےحساب روزی پھیلا دیتا تو وہ جادہِ حق سے منحرف ہو جاتے، لیکن جتنی مقدار وہ چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ (شوریٰ۔۲۷) پوری طرح واضح ہے کہ سعی و کوشش، انسانی زندگی سے سستی، کاہلی اور دل مردگی دور کرنے کے علاوہ حرکت و نشاط پیدا کرتی ہے اور یہ انسانوں کی صحیح و سالم فکری و جسمانی مشغولیت کے لئے بہت ہی اچھا وسیلہ ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تمام چیزیں بےحساب انسان کے اختیار میں ہوتیں۔ اور نہ معلوم پھر دنیا کا کیا منظر ہوتا۔ کچھ بیکار انسان سیر شکم کے ساتھ بغیر کسی کنٹرول کے شور و غل مچاتے کیونکہ ہم جاتے ہیں کہ ان جہان کے لوگ اہل جنت کی طرح نہیں ہیں کہ جن کے قلب و روح سے ہر طرح کی شہوت، خواہش نفسانی، خود خواہی غرور اور کج روی دُھل چکی ہو بلکہ یہ ایسے انسان ہیں کہ تمام نیک و بدصفات کے حامل ہیں انہیں اس جہان کی بھٹی سے کندن بن کے نکالنا چاہئیے۔ سعی و کوشش اور صحیح حرکت و اشتغال سے بہتر کندن بنانے کے لئے کون سی چیز ہو سکتی ہے لہٰذا جس طرح فقر و فاقہ اور احتیاج و نیاز انسان کو انحراف اور بدبختی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں اسی طرح حد سے زیادہ بےنیازی بھی فساد اور تباہی کا باعث ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ خدا کے خزانے کیا ہیں؟ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ہے کہ خدا خزانے رکھتا ہے۔ آسمان و زمین کے خزانے خدا کی ملکیت ہیں یا ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں۔ "خزائن" جمع ہے "خزانہ" کی جس کا معنی ہے وہ جگہ جہاں انسان اپنے اموال حفاظت کے لئے جمع کرتا ہے یہ اصل میں مادہ "خزن" (بروزن"وزن")سے کسی چیز کی حفظ و نگہداری کے معنی میں ہے واضح ہے کہ جمع آوری اور ذخیرہ کرنے اور کسی چیز کو محفوظ کرنے کے لئے وہی شخص اقدام کرتا ہے جس کی قدرت محدود ہو اور جو ہر زمانے میں کچھ چاہے فراہم نہ کر سکے لہٰذا وہ قدرت کے موقع پر جس چیز کو ضروری سمجھتا ہے اسے ضرورت کے موقع کے لئے ذخیرہ کر لیتا ہے اور خزانہ میں جمع کر لیتا ہے۔ لیکن۔۔۔۔ کیا یہ امور خدا کے بارے میں تصور کئے جاسکتے ہیں؟ یقیناً نہیں یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع بیان میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور راغب نے مفردات میں "خزائن اللہ" کی "مقدراتِ الٰہی" کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی تمام چیزیں قدرت خدا کے خزانے میں جمع ہیں اس میں سے جتنی مقدار وہ ضروری اور قرین ِمصلحت سمجھتا ہے ایجاد کرتا ہے۔ جبکہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ "خزائن اللہ" سے مراد امور کا وہ مجموعہ ہے کہ جو عالم ہستی اور جہان مادہ میں موجود ہیں لیکن اس عالم کی اعلیٰ اور مخصوص موجودات محدود مقدار میں پیدا ہوتی ہے بغیر اس کے امکان وجود انہی میں منحصر ہو۔ (بحوالہ المیزان جلد ۱۲،ص۱۴۸)۔ یہ تفسیر اگرچہ اصولی طور پر قابل قبول مسئلہ ہے لیکن "عندنا" (ہمارے پاس) کی تعبیر پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ بہرحال خزائن اللہ جیسی تعبیرات کا انتخاب عام مفہوم میں خدا کے بارے میں صداق نہیں آتا۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ خود لوگوں کی زبان میں ان سے بات کرے۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طور پر یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ بعض مفسرین کی طرف سے "خزائن" کے مفہوم کو پانی اور بارش میں معین و محدود کرنے پر نہ صرف کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ یہ امر مفہوم آیت کی وسعت کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔ ۲۔نزولِ مقامی اور نزولِ مکانی :جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نزول ہمیشہ نزول مکانی یعنی اوپر سے نیچے آنے کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی نزول مقامی کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ مثلاًجس وقت کوئی بڑی نعمت کسی بڑے شخص کی طرف سے زیر دست لوگوں کو ملے تو اسے نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے اسی بناء پر قرآن مجید میں یہ لفظ خدا کی نعمتوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے چاہے وہ آسمان سے نازل ہوں مثلاً بارش یا زمین پر پرورش پاتی ہوں مثلاً حیوانات،جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۶ میں ہے: وانزل لکم من الانعام ثمانیة ازواج (اور اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے نازل کئے۔ نیز لوہے کے بارے سورہٴ حدید کی آیہ ۲۵ میں ہے۔ و انزل الحدید ہم نے لوہا نازل کیا۔ اسی طرح دیگر مثالیں بھی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ "نزول" اور "انزال" یہاں وجود، ایجاد اور خلقت کے معنی میں ہے البتہ چونکہ خدا کی طرف سے بندوں کے لئے ہے لہٰذا اس قسم کے تعبیر استعمال کی گئی ہے۔

۱۔ خدا کے خزانے کیا ہیں؟

قرآن کریم کی متعدد آیات میں ہے کہ خدا خزانے رکھتا ہے۔ آسمان و زمین کے خزانے خدا کی ملکیت ہیں یا ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں۔ "خزائن" جمع ہے "خزانہ" کی جس کا معنی ہے وہ جگہ جہاں انسان اپنے اموال حفاظت کے لئے جمع کرتا ہے یہ اصل میں مادہ "خزن" (بروزن"وزن") سے کسی چیز کی حفظ و نگہداری کے معنی میں ہے واضح ہے کہ جمع آوری اور ذخیرہ کرنے اور کسی چیز کو محفوظ کرنے کے لئے وہی شخص اقدام کرتا ہے جس کی قدرت محدود ہو اور جو ہر زمانے میں کچھ چاہے فراہم نہ کر سکے لہٰذا وہ قدرت کے موقع پر جس چیز کو ضروری سمجھتا ہے اسے ضرورت کے موقع کے لئے ذخیرہ کر لیتا ہے اور خزانہ میں جمع کر لیتا ہے۔ لیکن۔۔۔۔ کیا یہ امور خدا کے بارے میں تصور کئے جا سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع بیان میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور راغب نے مفردات میں "خزائن اللہ" کی "مقدراتِ الٰہی" کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی تمام چیزیں قدرت خدا کے خزانے میں جمع ہیں اس میں سے جتنی مقدار وہ ضروری اور قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ایجاد کرتا ہے۔ جبکہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ "خزائن اللہ" سے مراد امور کا وہ مجموعہ ہے کہ جو عالم ہستی اور جہان مادہ میں موجود ہیں لیکن اس عالم کی اعلیٰ اور مخصوص موجودات محدود مقدار میں پیدا ہوتی ہے بغیر اس کے امکان وجود انہی میں منحصر ہو۔ (بحوالہ المیزان جلد ۱۲،ص۱۴۸)۔ یہ تفسیر اگرچہ اصولی طور پر قابل قبول مسئلہ ہے لیکن "عندنا" (ہمارے پاس) کی تعبیر پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ بہرحال خزائن اللہ جیسی تعبیرات کا انتخاب عام مفہوم میں خدا کے بارے میں صداق نہیں آتا۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ خود لوگوں کی زبان میں ان سے بات کرے۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طور پر یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ بعض مفسرین کی طرف سے "خزائن" کے مفہوم کو پانی اور بارش میں معین و محدود کرنے پر نہ صرف کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ یہ امر مفہوم آیت کی وسعت کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔

۲۔ نزول مقامی اور نزول مکانی

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نزول ہمیشہ نزول مکانی یعنی اوپر سے نیچے آنے کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی نزول مقامی کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ مثلاً جس وقت کوئی بڑی نعمت کسی بڑے شخص کی طرف سے زیردست لوگوں کو ملے تو اسے نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے اسی بناء پر قرآن مجید میں یہ لفظ خدا کی نعمتوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے چاہے وہ آسمان سے نازل ہوں مثلاً بارش یا زمین پر پرورش پاتی ہوں مثلاً حیوانات، جیسا کہ سورہ زمر کی آیت۶ میں ہے: وانزل لکم من الانعام ثمانیة ازواج (اور اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے نازل کئے۔ نیز لوہے کے بارے سورہٴ حدید کی آیہ ۲۵ میں ہے۔ و انزل الحدید ہم نے لوہا نازل کیا۔ اسی طرح دیگر مثالیں بھی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ "نزول" اور "انزال" یہاں وجود، ایجاد اور خلقت کے معنی میں ہے البتہ چونکہ خدا کی طرف سے بندوں کے لئے ہے لہٰذا اس قسم کے تعبیر استعمال کی گئی ہے۔

22
15:22
وَأَرۡسَلۡنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَسۡقَيۡنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمۡ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ
ہم نے ہوائیں تلقیح کیلئے بھیجیں اور آسمان سے ہم نے پانی نازل کیا اور اس کے زریعہ سے ہم نے سب کو سیراب کیا جبکہ تم اس کی حفاظت کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
15:23
وَإِنَّا لَنَحۡنُ نُحۡيِۦ وَنُمِيتُ وَنَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثُونَ
اور ہم ہی ہیں جو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم (سارے جہان) کے وارث ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
15:24
وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَقۡدِمِينَ مِنكُمۡ وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَـٔۡخِرِينَ
اورہم تم سے متقدمین (پہلے والوں ) کو بھی جانتے ہیں اور متاخرین(آنے والوں ) کو بھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
15:25
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ
اورتیرا پروردگار یقینی طور پر(قیامت میں ) سب کو جمع کرے گا کیونکہ وہ دانا و حکیم ہے۔

تفسیر ہوا اور بارش

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں بعض اسرار آفرینش کا تذکرہ تھا اور خدا کی نعمتوں کا بیان تھا۔ مثلاً زمین، پہاڑ، نباتات اور وسائل زندگی کی خلقت۔ زیر نظر پہلی آیت میں ہواوٴں کے چلنے اور بارشوں کے نزول میں ان اسرارِ آفرینش کے نقشِ موٴثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ہم نے ہوائیں بھیجیں جبکہ وہ بار آور کرنے والی ہیں (بادلوں کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں اور انھیں بار آور کرتی ہیں) (وَاَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ)۔ اور ان کے پیچھے ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا (فَاَنْزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً)۔ اور اس ذریعےسے ہم نے سب کو سیراب کیا ( فَاَسْقَیْنَاکُمُوہُ)۔ حالانکہ تم اس کی حفاظت و نگہداری کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ (وَمَا اَنْتُمْ لَہُ بِخَازِنِینَ)۔ "لواقح " "لاقح" کی جمع ہے جس کا معنی بار آور کرنے والا۔ یہاں ان ہواوٴں کی طرف اشارہ ہے جو بادلوں کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہیں اور باہم پیوند کرتی ہیں اور انھیں بارش کے لئے تیار کرتی ہیں۔ بعض معاصرین اس آیت کو ہواوٴں کے ذریعے نباتات کی تلقیح اور گرد افشانی کے لئے اشارہ قرار دیا ہے اور اس طرح ایک سائنسی مسئلے کے حوالے سے اس کی تفسیر کی ہے کہ جو نزول قرآن کے زمانے میں انسانی معاشرے میں محل توجہ نہ تھا اس طرح انہوں نے اسے قرآن کے اعجاز علمی کے دلائل میں سے شمار کیا ہے لیکن اس حقیقت کو قبول کرنے باوجود کہ ہواوٴں کا چلنا نر نباتات کے نطفے کو مادہ نباتات تک پہنچانے اور انھیں بار آور کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت کو اس طرف اشارہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس لفظ کے فوراً بعد آسمان سے نزول باران کا ذکر (وہ بھی فاء تفریع کے ساتھ) آیا ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ ہواوٴں کا تلقیح کرنا بارش برسنے کی تمہید ہے۔ بہرحال مذکورہ بالا تعبیر بادلوں اور اس سے بارش پیدا ہونے کے لئے خوبصورت ترین تعبیر ہے ہو سکتا ہے کہ کہا جائے کہ بادلوں کو ماں باپ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جو ہواوٴں کی مدد سے ملاپ کرتے ہیں اور بار آور ہوتے ہیں، اور اپنی اولاد یعنی بارش کے دانوں کو زمین پر رکھتے ہیں۔ وَمَا اَنْتُمْ لَہُ بِخَازِنِینَ (تم ان پانیوں کی حفاظت اور ذخیرہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے)۔۔۔۔ ممکن ہے یہ جملہ آب باران کو نزول سے پہلے ذخیرہ کرنے کی طرف اشارہ ہو۔۔۔۔ یعنی ان بادلوں پر تمہارا بس نہیں کہ جو بارش کے اصلی منبع ہیں، نیز ممکن ہے نزول باران کے بعد ذخیرہ کرنے کی طرف اشارہ ہو۔۔۔۔ یعنی تم میں یہ طاقت نہیں کہ نزول باران کے بعد زیادہ مقدار میں پانی جمع اور محفوظ رکھ سکو، یہ خدا ہے جو اسے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی صورت میں منجمد کر کے یا زمین کی گہرائیوں میں بھیج کر محفوظ کر لیتا ہے جو بعد میں چشموں، ندیوں اور کنووٴں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ مباحث توحید کے بعد معاد و قیامت اور اس کے مقدمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہیں جو مارتے ہیں (وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْیِ وَنُمِیتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ)۔ یہ حیات و موت کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے جو درحقیقت اہم ترین اور قطعی ترین مسائل میں سے ہے یہ مسئلہ معاد کی بحث کے لئے تمہید بھی بن سکتا ہے اور توحید کی بحث کا نقطہ تکمیل بھی۔ کیونکہ ظہور حیات عالم ہستی کے عجیب ترین مسائل میں سے ہے اور اس مظہر کی تحقیق اور اس کا مطالعہ ہمیں خالقِ حیات سے اچھی طرح آشنا کر سکتا ہے۔ اصولی طور پر موت اور حیات کا نظام بے پایاں قدرت و علم کے بغیر ممکن نہیں۔ دوسری طرف موت و حیات کا وجود خود اس امر کی دلیل ہے کہ اس عالم موجودات خود سے کچھ نہیں رکھتے اور جو کچھ رکھتے ہیں وہ کسی اور کی طرف ہے اور آخرکار ان سب کا وارث اللہ ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم ان کے گذشتگان اور آنے والوں کو جانتے ہیں (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِینَ)۔ لہٰذا وہ خود بھی اور اس کے اعمال بھی ہمارے علم کے سامنے واضح اور آشکار ہیں اور اس لحاظ سے معاد و قیامت اور ان کے اعمال کا حساب و کتاب پوری طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس بناء اس گفتگو کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے: یقیناً تیرا پروردگار ان سب کو قیامت میں ایک نئی زندگی کی طرف پلٹائے گا اور انھیں جمع و محشور کرے گا (وَإِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ)۔ کیونکہ وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی (إِنَّہُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ)۔ اس کی "حکمت" کا تقاضا ہے کہ موت تمام چیزوں کا اختتام نہ بنے کیونکہ اگر زندگی اس جہاں کی انہیں چار دن کی حیات میں منحصر ہو تو آفرینش جہاں لغو اور بےمعنی ہو جائے اور خدا وند کلیم سے بعید ہے کہ اس کی خلقت ایسی بےنتیجہ ہو لیکن اگر یہ آفرینش ایک لامتناہی حیات اور دائمی سیر و ملوک کی تیاری کے لئے مقدمہ ہے ہو گی یا دو لفظوں میں ابدی اور جاوداں زندگی کے لئے تمہید ہو تو ایک مکمل مفہوم و معنی کی حامل ہو گی اور اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہو گی اس لئے کہ کلیم کوئی کام بےحساب و کتاب نہیں کرتا اور اس کا علیم ہونا سبب بنتا ہے کہ معاد و حشر کے معاملے میں کوئی مشکل پیدا نہ ہو ہر ذرہ خاکی جو کسی بھی انسان کا کسی گوشے میں جا پڑا ہے وہ اسے جمع کرے گا اور اسے نئی حیات بخشے گا۔ دوسری طرف سب کے اعمال کا دفتر اس جہان طبیعت کے دل میں بھی ثبت ہے اور انسانوں کے قلب و روح میں بھی اور وہ ان سب سے آگاہ ہے۔ اس بناء پر خدا کا علیم و حکیم ہونا حشر و نشر اور معاد و قیامت پر جچی تلی اور پر مغز دلیل شمار ہوتا ہے۔

متقدمین اور متاخرین کون ہیں؟

"لقد علمنا المستقدمین منکم و لقد علمنا المستاخرین"۔۔۔۔ اس آیت کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں چھ تفسیریں بیان کی ہیں۔ ۔۔۔۔ قرطبی نے آٹھ احتمال ذکر کئے ہیں ۔۔۔۔ ابو الفتح رازی نے تقریباً دس احتمال پیش کئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔ ان سب کا گہرا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان سب کو ایک ہیں تفسیر میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ:۔ لفظ "متقدمین" اور "متاخرین" وسیع معنی رکھتے ہیں، ان میں زمانے کے لحاظ سے پہلے اور بعد میں آنے والے اعمال خیر میں آگے بڑھ جانے والے، جہاد اور دشمنانِ حق سے مبارزہ کرنے والے یہاں تک کہ نمازِ جماعت کی صفوں میں آگے اور پیچھے رہنے والے اور اسی قسم کے دیگر لوگ شامل ہیں۔ اس جامع معنی کی طرف توجہ رکھتے ہوئے وہ تمام احتمالات جمع کر کے قبول کئے جا سکتے ہیں اور اس آیت میں تقدم و تاخر کے بارے میں ذکر کئے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز جماعت کی پہلی صف میں شرکت کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا:۔ "خدا اور اس کے فرشتے ان صفوں میں پیش قدمی کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں" اس تاکید کے بعد لوگوں نے پہلی صف میں شرکت کے لئے بہت ہجوم کیا۔ ایک قبیلہ "بنی عذرہ" تھا ان لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھر بیچ کر مسجد نبوی کے قریب ہی گھر خرید لیتے ہیں تاکہ صف اول میں پہنچ سکیں۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ خدا تمہاری نیتوں کو جانتا ہے اور یہاں تک کہ تم اگر آخری صف میں بھی کھڑے ہوئے تو بھی تمہاری نیت چونکہ صف میں کھڑا ہونے کی ہے تمہیں اپنی نیت کی جزا ملے گی۔ (بحوالہ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔) مسلم ہے کہ اس شانِ نزول کا محدود ہونا آیت کے وسیع مفہوم کے محدود ہونے کا ہرگز سبب نہیں ہو سکتا۔

26
15:26
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اورہم نے انسان کو خشک شدہ مٹی سے پیدا کیا کہ جو بدبو دار (سیاہ رنگ) کیچڑ سے لی گئی تھی۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

27
15:27
وَٱلۡجَآنَّ خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ
اور ہم نے جنات کو گرم اور جلانے والی آگ سے خلق فرمایا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

28
15:28
وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اور(یاد کر و وہ وقت) کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا میں بشر کو خشک شدہ مٹی جو بدبو دار کیچڑ سے لی گئی ہے سے خلق کروں گا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

29
15:29
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
جب میں اس کام کو انجام دے چکوں اور اس میں اپنی (ایک شائستہ اور عظیم)روح پھونک دوں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

30
15:30
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ
تمام فرشتوں نے (بلا استثناء) سجدہ کیا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

31
15:31
إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
سوائے ابلیس کے کہ جس نے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونے سے انکار کر دیا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

32
15:32
قَالَ يَـٰٓإِبۡلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
(اللہ نے)فرمایا: اے ابلیس ! تو ساجدین کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہوا ؟

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

33
15:33
قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ
اس نے کہا :میں ہرگز ایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو نے بدبودار کیچڑ سے لی گئی خشک شدہ مٹی سے خلق فرمایا ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

34
15:34
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ
اللہ نے فرمایا: ان(فرشتوں ) کی صف سے نکل جا کہ تو ہماری درگاہ سے راندہ گیا ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

35
15:35
وَإِنَّ عَلَيۡكَ ٱللَّعۡنَةَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
اور تجھ پر رو ز قیامت تک لعنت (اور رحمت حق سے دوری)ہو گی۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

36
15:36
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
اس نے کہا :پروردگارا ! مجھے روز قیامت تک مہلت دے (اور زندہ رکھ)

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

37
15:37
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
(اللہ نے) فرمایا: تو مہلت حاصل کرنے والوں میں سے ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

38
15:38
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ
(لیکن روز قیامت تک نہیں بلکہ) معین دن اور وقت تک۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

39
15:39
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اس نے کہا: پروردگارا ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں مادی نعمتوں کو زمین میں ان (انسا نوں )کی نگاہ میں مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

40
15:40
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
اور ان سب کو گمراہ کروں گا سوائے ان بندوں کے جوتیرے مخلص ہیں۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

41
15:41
قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيمٌ
فرمایا: یہ میری مستقیم اور سیدھی راہ ہے(اور ہمیشہ کی سنت ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
15:42
إِنَّ عِبَادِي لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ
(کہ) تو میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کر سکے گاسوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
15:43
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور جہنم ان سب کی وعدہ گاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
15:44
لَهَا سَبۡعَةُ أَبۡوَٰبٖ لِّكُلِّ بَابٖ مِّنۡهُمۡ جُزۡءٞ مَّقۡسُومٌ
جس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کیلئے ان میں سے ایک معین گروہ تقسیم شدہ ہے۔

تفسیر خلقتِ انسان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں مخلوق خدا کے ایک حصے اور نظامِ ہستی کا بیان تھا۔ اسی مناسبت سے ان آیات میں تخلیق کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت کو بیان کیا گیا ہے۔ متعدد پر معنی آیات کے ذریعے اس خلقت کے بہت سے پہلووٴں کو واضح کیا گیا ہے۔ ہم پہلے تو آیات کی اجمالی تفسیر بیان کرتے ہیں اس کے بعد اہم نکات پر علیحدہ علیحدہ بحث کریں گے۔ ارشاد ہوتا ہے ہم نے انسان کو صلصال سے (یعنی اس مٹی سے جو خشک شدہ ہو اور کسی چیز سے ٹکراتے وقت آواز دیتی ہو) پیدا کیا ہے کہ جو حماٍمّسنون (سخت تاریک، متغیر اور بدبودار کیچڑ) سے لی گئی ہے (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ)۔ اور اس سے پہلے "جنّوں" کو ہم نے گرم اور جلانے والی آگ سے پیدا کیا ہے (وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ)۔ "سموم" لغت میں جلانے والی ہوا کے معنی میں ہے گویا یہ ہوا انسانی جسم کے تمام سوراخوں سے نفوذ کرتی ہے کیونکہ عرب انسانی جسم کے بہت ہی چھوٹے سوراخوں کو "مسام" کہتے ہیں۔ "سموم" بھی اسی مناسبت سے ایسی ہوا کو کہا جاتا ہے مادہ "سم" (زہر) بھی اسی سے ہے کیونکہ وہ بدن میں نفوذ کر کے انسان کو قتل کر دیتی ہے یا بیمار کر دیتی ہے۔ جنوں نے ذکر کے بعد قرآن پھر خلقتِ انسان کے موضوع کی طرف لوٹتا ہے۔ فرشتوں سے اللہ تعالیٰ کی خلقتِ انسان کے بارے میں جو پہلی گفتگو ہوئی اسے یوں بیان کیا گیا ہے: یاد کرو وہ وقت جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا، فرمایا: میں بشر کو تاریک رنگ بدبودار کیچڑ سے لی گئی خشک مٹی سے پیدا کروں گا (وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ)۔ جب میں اس کی خلقت کو انجام و کمال تک پہنچالوں اور اپنی (ایک شریف پاک اور باعظمت) روح ان میں پھونک دوں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا (فَإِذَاسَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ)۔ خلقت انسان تکمیل کو پہنچ گئی اور انسان کے لئے جو جسم و جان مناسب تھا اسے دے دیا گیا اور سب کچھ انجام پا گیا "تو اس وقت تمام فرشتوں نے بلا استثناء سجدہ کیا (فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُونَ)۔ وہ تنہا شخص جس نے اس فرمان کی اطاعت نہ کہ وہ "ابلیس" تھا لہٰذا مزید فرمایا: سوائے ابلیس کے کہ جس نے ساجدین کے ساتھ ہونے سے انکار کیا (إِلاَّ إِبْلِیسَ اَبَی اَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ)۔ اس موقع پر ابلیس سے بازپرس کی گئی اور خدا نے "اس سے کہا" اے ابلیس! تو ساجدین میں کیوں شامل نہیں ہے (قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ)۔ __________________ ابلیس کو جو غرور اور خود خواہی میں ایسا غرق تھا کہ اس کی عقل و ہوش غائب ہو چکے تھے، پروردگار کی پرستش کے جواب میں بڑی گستاخی سے بولا "میں ہرگز ایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو بدبودار اور کیچڑ سے لی گئی خشک مٹی سے پیدا کیا ہے" (قَالَ لَمْ اَکُنْ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ)۔ نورانی اور چمکنے والی آگ کہاں اور سیاہ اور متعفن مٹی کہاں۔ کیا مجھ جیسا ایک اعلیٰ موجود پست تر موجود کے سامنے خضوع کر سکتا ہے۔ یہ کون سا قانون ہے؟ وہ چونکہ غرور اور خود خواہی کے باعث خلقت و آفرینش کے اسرا بےخبر تھا اور خاک کی برکات کو فراموش کر چکا تھا کہ جو ہر خیر و برکت کا منبع ہے اور اس سے بڑھ کر وہ شریف اور عظیم الٰہی روح تھی جو آدم میں موجود تھی اور اس نے اسے لائق اعتناء نہ سمجھا۔ اچانک اپنے بلند مقام سے گر پڑا اب وہ اس لائق نہ رہا تھا کہ صفِ ملائکہ میں کھڑا ہو سکے لہٰذا خداوند تعالیٰ نے اسے فوراً فرمایا: یہاں سے (بہشت سے یا آسمانوں سے یا ملائکہ کی صفوں سے) باہر نکل جا کہ تو راندہٴ درگاہ ہے (قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَإِنَّکَ رَجِیم)۔ اور جان لے کہ تیرا غرور تیرے کفر کا سبب بن گیا ہے اور اس کفر نے تجھے ہمیشہ کے لئے دھتکارا ہوا کر دیا ہے تجھ پر روز قیامت تک خدا کی لعنت اور رحمتِ خدا سے دوری ہے (وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ)۔ __________________ ابلیس نے جب اپنے آپ کو بارگاہِ الہٰی سے دھتکارا ہوا پایا اور احساس کیا کہ انسان اس بدبختی کا سبب بنا ہے تو کینہ کی آگ اس کے دل میں بھڑک اٹھی اور اس نے اولاد آدم سے انتقام لینے کی ٹھان لی حالانکہ اصلی مجرم وہ خود تھا نہ کہ آدم اور نہ فرمانِ خدا لیکن غرور اور خود خواہی نے جس میں اس کی ہٹ دھرمی بھی شامل تھی اس حقیقت کو سمجھنے کی اجازت نہ دی۔ لہٰذا اس نے عرض کیا پروردگارا!: اب جب معاملہ ایسا ہے تو مجھے روز قیامت تک مہلت دے دے۔ (قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ)۔ یہ تقاضا اس لئے نہ تھا کہ وہ توبہ کرے، اپنے کئے پر پشمان ہو یا تلافی کے درپے ہو بلکہ اس لئے تھا کہ اپنی ہٹ دھرمی، عناد، دشمنی اور خیرہ سری کو جاری رکھ سکے۔ خدا نے اس کی خواہش کو قبول کر لیا اور فرمایا "یقیناً تو مہلت یافتہ افراد میں سے ہے" (قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ)۔ لیکن روز قیامت مخلوق کے مبعوث ہونے تک کے لئے نہیں بلکہ جیسا کہ تو نے چاہا ہے بلکہ معین وقت اور زمانے کے لئے (إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ)۔ اس بارے میں کہ "یوم الوقت المعلوم" سے کون سا دن مراد ہے مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں: بعض نے کہا کہ اس سے مراد اس جہاں کا اختتام ہے اور ذمہ داری کے دور کا خاتمہ ہے کیونکہ قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم کے مطابق اس کے بعد تمام مخلوق نابود ہو جائے گی اور صرف خدا کی ذات باقی رہ جا ئے گی، لہٰذا ابلیس کی درخواست ایک حد تک قبول کی گئی۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا "وقت معلوم" سے ایک معین زمانہ مراد ہے جسے خدا جانتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اس سے آگاہ نہیں ہے کیونکہ اگر خداوند تعالیٰ اسے واضح کر دیتا تو ابلیس کو گناہ و سرکشی کی زیادہ تشویق ہوتی۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا کہ اس سے مراد یوم قیامت ہے کیونکہ وہ اس دن تک زندہ رہنا چاہتا تھا تاکہ حیات جاوید پائے اور اس کی بات مان لی گئی خصوصاً جبکہ سورہ واقعہ کی آیہ۵۰ میں "یوم الوقت المعلوم" کی تعبیر روز قیامت کے بارے میں بھی آئی ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو خدا نے اس کی درخواست کو مکمل طور پر موافقت کی ہوتی جبکہ مندرجہ بالا آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس کی درخواست کی پوری موافقت نہیں کی گئی ہے اور صرف "یوم وقت المعلوم" تک درخواست مانی گئی ہے۔ بہرحال پہلی تفسیر آیت کی روح اور ظاہری مفہوم کے ساتھ زیادہ موافقت رکھتی ہے اور امام صادق علیہ السلام سے منقول بعض روایات میں بھی اس معنی کی تصریح کی گئی ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۱۳، حدیث ۴۵)۔ اس مقام پر ابلیس نے اپنی باطنی نیت کو آشکار کر دیا۔ اگرچہ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہ تھی تاہم وہ کہنے لگا: "پروردگارا! اس بناء پر کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے (اور اس انسان نے میری بدبختی کا سامان فراہم کیا ہے) میں زمین کی مادی نعمتوں کو ان کی نگاہ میں دلفریب بناوٴں گا اور انسان کو ان میں مشغول رکھوں گا اور آخرکار سب کو گمراہ کر کے رہوں گا (قَالَ رَبِّ بِمَا اَغْوَیْتَنِی لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِینَ)۔ __________________ لیکن وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے وسوسے خدا کے مخلص بندوں کے دل ہرگز اثر انداز نہیں ہوں گے اور اس کے جال انھیں نہیں پھانس سکیں گے۔ خلاصہ یہ کہ خالص و مخلص بندے اس قدر طاقت ور ہیں کہ شیطانی زنجیریں توڑ ڈالیں گے۔ لہٰذا فوراً اپنی بات میں استثناء کرتے ہوئے اس نے کہا: مگر تیرے وہ بندے جو خالص شدہ ہیں (إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمْ الْمُخْلَصِینَ)۔ __________________ واضح رہے کہ خدا نے شیطان کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ ابلیس کی یہ بات شیطنت آمیز تھی۔ اصطلاح کے مطابق اپنے آپ کو بری قرار دینے کے لئے اور گمراہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنے کے لئے اس نے یہ بات کی تھی اور یہ سب ابلیسوں اور شیطانوں کی رسم ہے اولاً وہ اپنے گناہ دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں اور ثانیاً ہر جگہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے برے اعمال کی غلط توجیہ پیش کریں نہ صرف بندگان خدا کے سامنے بلکہ خود خدا کے سامنے بھی کہ جو ہر چیز سے آگاہ ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ "مخلصین" "مخلَص" (لام کی فتح کے ساتھ) جیسا کہ ہم سورہ کی تفسیرمیں بیان کر چکے ہیں کہ "مخلص" اس شخص کو کہتے جو ایمان و عمل کے اعلیٰ درجہ پر تعلیم و تربیت اور جہاد نفس کے بعد پہنچا۔ جس پر شیطان اور کسی اور کے بھی وسوسوں کا کوئی اثر نہ ہو۔ (بحوالہ تفسیر نمونہ جلد ۹،ص (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ خدا نے شیطان کی تحقیر اور راہِ حق کے متلاشیوں اور طریقِ توحید کے راہیوں کی تقویت کے لئے فرمایا: یہ میری مستقیم راہ ہے (قَالَ ھَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ)۔ تو میرے بندوں پر کوئی تسلط نہیں رکھتا مگر وہ کہ جو ذاتی طور پر تیری پیروی کریں (إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ)۔ یعنی درحقیقت تو لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتا بلکہ یہ تو منحرف انسان ہیں جو اپنے ارادے اور رغبت سے تیری دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور تیری نقش قدم ہر چلتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت انسانوں کے ارادے کی آزادی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ ابلیس اور اس کا لشکر کسی کو زبردستی برائی کی طرف کھینچ کر نہیں لے جاتا بلکہ یہ خود انسان ہی ہیں جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے دل کا دریچہ اس کے لئے کھولتے ہیں اور اسے مداخلت کی اجازت دیتے ہیں خلاصہ یہ کہ شیطانی وسوسے اگرچہ موثر ہیں لیکن آخری فیصلہ شیطان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خود انسان کے بس میں ہے کیونکہ انسان اس کے مقابلے کھڑا ہو کر اسے ٹھکرا سکتا ہے۔ درحقیقت خداوند تعالیٰ شیطان کے دفاع سے یہ خیال باطل اور تصور خام نکال دینا چاہتا ہے کہ وہ بلامقابلہ انسان پر حکومت حاصل کر لے گا۔ اس کے بعد شیطان کے پیروں کاروں کو نہایت صریح دھمکی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جہنم ان کے سب کی وعدہ گاہ ہے (وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِینَ)۔ یہ گمان نہ کریں کہ وہ سزا اور عذاب کے چنگل سے فرار کر سکیں گے یا معاملہ ان کے حساب و کتاب تک نہیں پہنچے گا ان سب کے حساب کتاب کی ایک ہی جگہ اور ایک ہی مقام پر دیکھ بھال کی جائے گی۔ وہی دوزخ کے جس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لئے شیطان کے پیروکاروں کا ایک گروہ تقسیم ہوا ہے (لَھَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْھُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ)۔ یہ درحقیقت گناہوں کے دروازے ہیں جن کے ذریعے مختلف افراد دوزخ میں داخل ہوں گے۔ ہر گروہ ایک گناہ کے ارتکاب کے ذریعے ایک در سے دوزخ میں جائے گا۔ جیسا کہ جنت کے دروازے اطاعتیں، اعمال صالح اور مجاہدات ہیں کہ جن کے ذریعے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے۔ ________________

چند اہم نکات ۱۔تکبر: عظیم بدبختیوں کا سرچشمہ

ابلیس اور خلقت آدم (علیہ السلام) کی داستان قرآن کی مختلف سورتوں میں آئی ہے اس میں اہم ترین نکتہ ابلیس کا تکبر کی وجہ سے انتہائی بلند مقام سے محروم ہو جانا ہے کہ جس پر وہ فائز تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا (جیسا کہ سورہ ٴ کہف کی آیہ ۵۰ سے معلوم ہوتا ہے) لیکن اس نے اطاعت الہٰی کے ذریعے ایسا بلند مقام حاصل کر لیا تھا کہ ملائکہ کی صفوں میں شامل ہو گیا تھا بلکہ یہاں تک کہ بعض کہ بقول فرشتوں کا معلم بن گیا تھا اور جیسا کہ نہج البلاغہ کے خطبہٴ قاصعہ سے معلوم ہوتا ہے اس نے ہزار سال خدا کی عبادت کی تھی لیکن وہ یہ تمام مقامات گھڑی بھر کے تکبر کے باعث کھو بیٹھا اور خود پرستی اور تعصب میں ایسا گرفتار ہوا کہ عذر خواہی اور توبہ کی طرف نہ لوٹا بلکہ اس نے اپنا کام ایسی طرح جاری رکھا اور ہٹ دھرمی کے راستے پر ایسا جما رہا کہ اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اولاد آدم میں سے تمام ظالموں اور گنہ گاروں کے جرائم میں وسوسہ ڈال کر شرکت کرے گا اور ان سب کے کیفر کردار۔۔۔۔۔۔ یہ ہے خود خواہی، غرور، تعصب، خود پسندی اور استکبار کا نتیجہ۔ نہ صر ف ابلیس بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے شیطان صفت انسانوں کو دیکھا ہے یا ان کے حالات تاریخ کے سیاہ صفحات میں دیکھے ہیں کہ جس وقت وہ غرور و تکبر اور خود غرضی کے مرکب پر سوار ہوئے تو انہوں نے ایک دنیا کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گویا آنکھوں میں اترے ہوئے خون اور جہالت کے پردے نے ان کے ظاہری اور باطنی آنکھوں کو بیکار کر دیا اور وہ کسی حقیقت کو نہ دیکھ پائے۔ انہوں دیوانہ اور ظلم و جور کی راہ میں قدم اٹھایا اور آخرکار اپنے آپ کو بدترین گڑھے میں گرا دیا یہ غرور و تکبر جلا ڈالنے والی اور وحشت ناک آگ ہے جیسا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان سالہا سال محنت و مشقت کرے، گھر بنائے اس کا ساز و سامان جمع کرے اور زندگی گذارنے کا سرمایہ فراہم کرے لیکن اس کی تمام محنتوں کا ماحصل آگ کا صرف ایک شعلہ چند لمحوں میں خاکستر بنا دے۔ اسی طرح پوری طرح ممکن ہے کہ ہزار ہا سال کی محنتوں کا ماحصل خدا کے سامنے ایک گھڑی کے غرور کے باعث کھو بیٹھے اس سے بڑھ کر واضح اور ہلا دینے والا سبق اور کیا ہو گا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی توجہ اپنے واضح اور روشن نکتے کی طرف بھی نہ تھی کہ آگ خاک پر برتری نہیں رکھتی کیونکہ تمام برکات کا سرچشمہ خاہے۔ نباتات، حیوانات، معدنیات، سب کا تعلق مٹی سے ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات اسی کے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہر زندہ موجود کی پیدائش سرچشمہ خاک ہے لیکن آگ کا کام جلانا ہے بہت مواقع پر ویرانی اور تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اسی خطبہ قاصعہ میں ابلیس کو "عد و اللہ" (دشمن خدا) امام المتعصبین (متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کا پیشوا) اور سلف المتکبرین (متکبرین کا بزرگ) کہہ کر پکارتے ہیں اور فرماتے ہیں: اسی لئے خدا نے عزت کا لباس اس کے بدن سے اتار دیا اور ذلت کی چادر اس کے سر پر ڈال دی۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں: الا ترون کیف صغرہ اللہ بتکبرہ، ووضعہ بترفعہ، فجعلہ فی الدنیا مد حوراًو اعدلہ فی الاٰخرہ سعیراً کیا دیکھتے نہیں ہو کہ کس طرح خدا نے اس سے اس کے تکبر کی وجہ سے حقیر اور چھوٹا کر دیا اور برتری کی خواہش کے سبب اسے پست کر دیا وہ دنیا میں راندہ درگاہ ہوا اور دارِ آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب فراہم کیا۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲)۔ ضمنی طور پر جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے ابلیس مکتب جبر کا بانی و مبانی ہے وہ مکتب جو ہر انسان کے وجدان کے خلاف ہے اور اس کے پیدا ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کہ گنہ گار انسان اپنے اعمال سے اپنے آپ کو بری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مندرجہ بلا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ابلیس نے اپنی برات کے لئے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اولاد آدم (علیہ السلام) کو گمراہ کرنے کی کوشش کا حق رکھتا ہے۔ اسی عظیم گناہ کا رتکاب کیا اور کہا: خدا وندا! تو نے مجھے گمراہ کیا ہے لہٰذا میں بھی اسی بناء پر مخلصین کے علاوہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کروں گا۔

٢۔ شیطان کن لوگوں پر تسلط حاصل کر لیتا ہے؟

ہم دوبارہ اس نکتے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ شیطانی وسوسوں کا اثر جبری نہیں بلکہ ہم اپنی رغبت سے اس کے وسوسوں کو دل میں جگہ دیتے ہیں ورنہ حتیٰ کہ خود شیطان بھی جانتا ہے کہ وہ مخلص پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ وہ کہ جنہوں نے اپنے آپ کو تربیت کے زیر سایہ خالص کیا ہے اور شرک کے زنگ کو اپنی روح سے دور کیا ہے۔ مندرجہ بالا آیات سے حاصل ہونے والے مفہوم کو دوسرے الفاظ میں یوں ادا کیا جا سکتا ہے کہ شیطان اور گمراہوں کا تعلق پیشوا اور پیروکاروں کا سا ہے نہ کہ مجبور کرنے والے اور مجبوروں کا سا۔

۳۔ جہنم کے دروازے

مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں (بعید نہیں کہ سات کا عدد یہاں عدد کثیر ہو یعنی جہنم کے بہت سے در وازے ہیں جیسا کہ سورہ ٴ لقمان کی آیہ ۲۷ میں بھی سات کا عدد اسی معنی میں آیا ہے)۔ لیکن واضح ہے کہ دروازوں کی یہ تعداد (جنت کے در وازوں کے طرح (نہ داخل ہونے والوں کی کثرت کی وجہ سے کہ وہ ایک چھوٹے سے دروازے سے نہیں گذر سکتے اور نہ ہی یہ تکلیف کے پہلو سے ہے بلکہ درحقیقت یہ ان مختلف عوامل کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو جہنم کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں گناہوں کی ہر قسم جہنم کا ایک دروازہ ہے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ جہاد میں ہے: ان الجھاد باب من الجنة اللہ فتحہ اللہ لخاصة اولیائہ جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے خدا نے اپنے خاص بندوں کے لئے کھولا ہے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، خطبہ ۲۷)۔ ایک مشہور حدیث ہے۔ ان السیوف مقالید الجنة۔ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔ ان تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جنت اور دوزخ کے متعدد دروازوں سے کیا مراد ہے۔ یہ قابل توجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ جنت کے آٹھ در وازے ہیں۔ (بحوالہ خصال شیخ صدوق ابواب الثمانیة۔) جبکہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں کہ جہنم کے سات دروازے ہیں، یہ فرق اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ بدبختی اور عذاب میں داخل ہونے کے بہت سے دروازے ہیں لیکن اس کے باوجود سعادت و خوش بختی تک پہنچنے کے دروازے اس سے زیادہ ہیں (سورہ رعد کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلے میں گفتگو کر چکے ہیں)۔

۴۔ سیاہ کیچڑ اور خدا کی روح

یہ بات جاذب نظر ہے کہ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انسان دو مختلف چیزوں سے پیدا ہوا ہے ان میں سے ایک عظمت کی انتہائی بلندیوں پر ہے اور دوسری قدر و قیمت کے لحاظ سے ظاہراً بہت پست ہے۔ انسان کا مادی پہلو بدبو دار سیاہ رنگ کیچڑ سے تشکیل پاتا ہے اور اس کا معنی پہلو وہ چیز ہے کہ جسے "روح خدا" سے یاد کیا گیا ہے البتہ اللہ تعالیٰ جس رکھتا ہے نہ روح۔ روح کی خدا کی طرف نسبت اصطلاح کے مطابق اضافت و نسبت تشریفی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی قالب میں ایک بہت ہی پر عظمت چیز روح کو ڈالا گیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے خانہٴ کعبہ کو اس کی عظمت کی بناء پر "بیت اللہ" اور ماہ مبارک رمضان کو اس کی برکت کی وجہ سے "شہر اللہ" (اللہ کا مہینہ) کہا جاتا ہے۔ اسی بناء پر انسان کی قوس صعودی اس قدر بلند ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اسے سوائے خدا کے کچھ نظر نہیں آتا اور اس کی قوسِ نزول اس قدر پست ہے کہ چوپایوں سے بھی پست ہے (بل ھم اضل)۔ قوس صعودی اور نزولی میں اتنا زیادہ فاصلہ خود اس کی مخلوق کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے اور یہ مخصوص ترکیب اس امر کی بھی دلیل ہے کہ انسانی مقام کی عظمت اس کے مادی پہلو کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ اس کے مادی پہلو کی طرف نظر کریں تو وہ سیاہ کیچڑ سے زیادہ کچھ نہیں یہ روح الہٰی ہے کہ جس میں بہت زیادہ صلاحیتیں پنہاں ہیں اور وہ انوار الٰہی کا مقامِ تجلی ہو سکتی ہے اسے یہ سب عظمتیں بخشی گئی ہیں اور اس کے کمال و ارتقاء کا صرف یہی راستہ ہے کہ اسے تقویت دی جائے اور مادی پہلو کہ جو اسی مقصد کے لیے ذریعہ ہے۔ اسے صرف اسی کے پیش رفت کے لئے استعمال کیا جائے (کیونکہ ممکن ہے اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے موثر مدد دے)۔ سورہ بقرہ کی ابتداء میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلقت کے متعلق جو آیات آئی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کا آدم کے سامنے سجدہ کرنا ان کے مخصوص الہٰی علم کی وجہ سے تھا۔ لیکن یہ سوال کہ غیر خدا کو سجدہ کس طرح ممکن ہے اور کیا واقعةً فرشتوں نے اس عجیب و خلقت کی وجہ سے خدا کو سجدہ کیا تھا یا انھوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا۔ اس کا جواب سورہ بقرہ کی انہی آیات میں دیا جا چکا ہے جوخلقتِ آدم سے متعلق ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ جلد اوّل ص (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)

۵۔ جن کیا ہے؟

لفظ "جن" دراصل ایسی چیز کے معنی میں ہے جو حسِ انسانی سے پوشیدہ ہو مثلاً ہم کہتے ہیں "جنة اللیل" یا "فلما جن علیہ اللیل" یعنی جس وقت سیاہ رات کے پردے نے اسے چھپا لیا۔ اسی بناء پر "مجنون" اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل پوشیدہ ہو۔ "جنین" اس بچے کو کہتے ہیں کو رحمِ مادر میں مخفی ہو۔ "جنت" اس باغ کو کہتے ہیں جس کے درختوں نے اس زمین کو چھپا رکھا ہو۔ "جنان" اس دل کو کہتے ہیں جو سینہ کے اندر چھپا ہو اور "جنة" اس ڈھال کو کہتے ہیں جو انسان کو دشمن کی ضربوں سے چھپائے۔ البتہ آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ "جن" ایک موجود عاقل ہے کہ جو حسِ انسانی سے پوشیدہ ہے اس کی خلقت دراصل آگ سے یا آگ کے صاف شعلوں سے ہوئی ہے ابلیس بھی اسی گروہ میں سے ہے۔ بعض علماء انھیں "ارواح عاقلہ" کی ایک نوع سے تعبیر کرتے ہیں کہ جو مادہ سے مجرد ہیں (البتہ واضح ہے کہ تجرد کامل نہیں رکھتے کیونکہ جو چیز کسی مادہ سے پیدا ہوتی ہے وہ مادی ہے لیکن اس میں کچھ نہ کچھ تجرد ہے کیونکہ ہمارے حواس اس کا اداک نہیں کر سکتے۔ دوسرے لفظوں میں ایک قسم کا جس لطیف ہے)۔ نیز آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔ مطیع بھی ہیں اور سرکش بھی۔ اور وہ بھی مکلف اور مسئول ہیں۔ البتہ ان مسائل کی تشریح اور دو حاضر کے علم سے ان کی ہم آہنگی کے بارے میں مزید بحث کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں ہم مناسب حد تک انشاء اللہ سورہ جن کی تفسیر میں بحث کریں گے کہ جو قرآن کے پارہ انتیس میں ہے۔ جس نکتے کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں لفظ "جان" آیا ہے جو اسی مادہ "جن" سے ہے۔ کیا یہ دونوں الفاظ ( "جن" اور "جان ") ایک معنی رکھتے ہیں یا جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "جان" "جن" کی ایک خاص قسم ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو اس سلسلہ میں آئی ہیں اگر انہیں ایک دوسرے کے سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کیونکہ قرآن بھی "جن" انسان کے ساتھ آیا ہے۔ اور کبھی "جان" مثلاً سورہ ٴ بنی اسرائیل کی آیہ ۸۸ میں ہے: قل لئن اجتمعت الانس و الجن سورہ ذاریات کی آیہ ۵۶ میں آیا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون حالانکہ سورہ رحمن کی آیہ ۱۴۔۱۵ میں ہے: خلق الانسان من صلصال کالفخار و خلق الجان من مارج من نار۔ اسی سورہ آیہ ۳۹ میں ہے: فیومئذ لایسئل من ذنبہ انس و لا جان مندرجہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات کے مجموعی مطالعے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ "جان" اور "جن" دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات میں کبھی "جن" انسان کے ساتھ آیا ہے اور کبھی "جان"۔ البتہ قرآن حکیم میں "جان" ایک اور معنی میں بھی ہے۔ کہ سانپ کی ایک قسم ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ہے: کانھا جان (قصص۳۱) لیکن یہ ہماری بحث سے خارج ہے۔

۶۔ قرآن اور خلقت انسان

جیسا کہ ہم نے زیر بحث آیات میں دیکھا ہے کہ قرآن میں انسان کے بارے میں بڑی جچی تلی بحث ہے اور اس موضوع سے قرآن تقریباً سربستہ اور اجمالی طور پر گذر گیا کیونکہ اصلی مقصد تربیتی مسائل تھے۔ قرآن کے چند اور مواقع پر اس بحث کی نظیر موجود ہے مثلاً سورہ سجدہ، مومنون اور جن میں۔ البتہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کوئی علوم طبیعی کتاب نہیں ہے بلکہ انسان سازی کی کتاب ہے لہٰذا ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ اس میں ان علوم کے جزئیات مثلاً تکامل سے مربوط مسائک، تشریح جنین شناسی، نباتات شناسی وغیرہ بیان ہوں۔ لیکن یہ بات اس سے مانع نہیں کہ تربیتی مباحث کی مناسبت سے ان علوم کی بعض جزئیات کی طرف قرآن میں مختصر سا اشارہ ہو جائے۔ بہرحال اس مختصر سی تمہید کے بعد یہاں دو امور پر بحث کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ۱۔ تکامل انواع سائنسی لحاظ سے۔ ۲۔ تکامل انواع قرآن کی نظر سے۔ پہلے اس موضوع پر آیات و روایات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف علوم طبیعی کے خصوصی معیاروں کو سامنے رکھ بحث کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ علوم طبیعی کے علماء کے درمیان زندہ موجودات چاہے۔ نباتات ہوں یا حیوانات، ان کے بارے میں دو مفروضے موجود ہیں۔ الف: تکامل انواع کا مفروضہ یا (Transformism) اس مفروضے کے مطابق زندہ موجودات کی انواع ابتداء میں موجودہ شکل میں نہ تھیں بلکہ موجودات کا آغاز ایک ایک سلول سے ہوا ہے۔ یہ سلول ( Cellule) سمندروں کے پانی اور دریاوٴں کی تہہ کے چکنے سیاہ کیچڑ کے درمیان حرکت سے پیدا ہوئے یعنی بےجان موجودات تھے کہ جو خاص حالات میں تھے ان سے پہلے پہلی زندہ سلول ( Cellule) پیدا ہوئے۔ ان انتہائی زندہ موجودات نے تدریجاً تکامل و ارتقاء شروع کیا اور ایک نوع سے دوسری نوع میں بدلتے ہوئے دریاوٴں سے صحراوٴں کی طرف اور وہاں سے ہوا اور فضا کی طرف منتقل ہوئے۔ اس طرح انواع و اقسام کے نباتات اور آبی و زمینی جانور اور پرندے وجود میں آئے۔ ان تکامل اور ارتقاء کی کامل ترین صورت یہی آج کا انسان ہے جو بندر سے مشابہ موجود سے اور بھی انسان نما بندر سے ظاہر ہوا۔ ب: ثبوت انواع کا مفروضہ یا (fixism) اس مفروضے کے مطابق جانداروں کی ہر نوع ابتداء ہی سے اسی موجود شکل میں ظاہر ہوئی اور کوئی نوع دوسری نوع میں تبدیل نہیں ہوئی اور فطرتاً انسان بھی مستقل خلقت کا حامل تھا کہ جو ابتداء سے اسی مشکل و صورت میں پیدا ہوا۔ دونوں گروہوں کے سائنسدانوں نے اپنا نظریہ ثابت کرنے کے لئے بہت سے مطالب لکھے ہیں اور عملی محافل میں اس مسئلے پر بہت سے نزاع اور جھگڑے ہوئے ہیں ان جھگڑوں میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب لامارک (مشہور جانورشناس فرانسی سائنسدان جو اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ اور اس کے بعد ڈارون (جانور شناس انگریز سائنسدان جو انیسویں صدی میں ہوا) نے تکامل انواع کے سلسلے میں اپنے نظریات نئے دلائل کے ساتھ پیش کئے۔ البتہ آج کی علوم طبیعی کی محافل میں شک نہیں کہ اکثریت تکاملِ انواع کے مفروضے کے حامی سائنس دانوں کی ہے۔

تکامل انواع کے حامیوں کے دلائل

ان دلائل کو آسانی سے تین حصوں میں خلاصہ کر کے بیان کیا جا سکتا ہے۔ (۱) پہلے وہ دلائل ہیں جو قدیم نباتات و حیوانات کے آثار کے علم (PALEONTOLOGIE) یعنی گزشتہ موجودات کے پتھرائے ہوئے ڈھانچوں کے مطالعے کے حوالے سے پیش کئے گئے ہیں ان کا نظریہ ہے کہ زمین کے مختلف طبقوں کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ زندہ موجودات نے زیادہ تر شکلوں سے کامل تر اور زیادہ تر پیچیدہ شکلوں میں طرف تغیر کیا ہے۔ ان قدیم حیوانات و نباتات کے آثار میں پیش آنے والے فرق کی تفسیر فقط مفروضہ ٴ تکامل کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ (۲) دوسری دلیل وہ قرائن ہیں جو علم تشریح (Comparative Anotomy) سے اخذ کئے گئے ہیں اس سلسلے میں وہ لمبی چوڑی بحثیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس وقت مختلف جانوروں کی ہڈیوں کو جوڑنے کی تشریح کر کے ان کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا گیا تو ان کے درمیان بہت زیادہ مشابہت دکھائی دی۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان سب کا اصل اور بنیاد ایک ہی ہے۔ (۳) ان کی تیسری دلیل وہ قرائن ہیں کہ جو جنین (Foeuts) سے ہاتھ لگے ہیں ان کا نظریہ ہے کہ اگر جانوروں کا حالت جنین میں تقابلی جائزہ کیا جائے جبکہ انہوں نے ابھی ضروری تکامل حاصل نہ کیا ہو تو ہم دیکھیں گے کہ تکامل سے قبل جانور شکم مادر میں یا حالت نطفہ میں ایک دوسرے سے کس قدر مشابہت رکھتے ہیں یہ امر بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سب کے سب ابتداء میں ایک ہی اصل سے لئے گئے ہیں۔

ثبوت انواع کے حامیوں کے جوابات

مفروضہ ثبوت انواع (Fixism) کے حامی ان تمام دلائل کا ایک کلی جواب دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ان قرائن میں سے کوئی بھی اطمینان بخش نہیں ہے البتہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ان تین طرح کے قرائن میں سے ہر ایک احتمالِ تکامل کو ایک "ظنی احتمال" کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن یقین ہرگز پیدا نہیں کرتا۔ واضح لفظوں میں مفروضہ تکامل کو عقلی دلیل کے ذریعے ایک علمی اور قطعی قانون ثابت کرنا چاہئیے یا محسوسات یا تجربہ کے ذریعے اور ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔ لیکن ایک طرف تو ہم جانتے ہیں کہ عقلی اور فلسفیانہ دلائل سے ان مسائل کو ثابت نہیں کیا جا سکتا اور دوسری طرف یہ مسائل کہ جن کی جڑیں لاکھوں برس قبل کے معاملات میں چھپی ہوئی ہیں ان تک تجربے کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ تجربے اور مشاہدہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ سطحی تغیرات ہیں جو زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ نباتات و حیوانات میں کسی اچانک تبدیلی جہش تاسیون کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں مثلاً عام بھڑوں میں سے اچانک کوئی ایسی بھڑ پیدا ہوتی ہے جس کی کھال عام بھڑوں کے کھال سے مختلف ہوتی ہے۔ یعنی بہت نرم اور ملایم ہوتی ہے اور پھر اس کی کھال کی ان خصوصیات کی وجہ سے بھڑوں کی ایک نسل گوسفند مرینوس کے نام سے پیدا ہوتی ہے۔ یا بعض جانوروں میں کسی تغیر کی وجہ سے، آنکھ، ناخن، بدن یا کھال کے رنگ میں یا اس قسم کی کوئی اور تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے لیکن آج تک کوئی ایسی اچانک تبدیلی نہیں دیکھی گئی جو کسی حیوان کے بدن کے اصلی اعضاء میں کوئی اہم تغیر پیدا کر دے یا ایک نوع کو دوسری نوع میں تبدیل کر دے۔ اس بناء پر صرف ایک قیاس اور گمان ہی کیا جا سکتا ہے کہ پے در پے جست و خیز اور یکے بعد دیگرے تبدیلیوں کے ذریعے ہو سکتا ہے کسی روز کسی حیوان کی نوع تبدیل ہو جائے مثلاً پیٹ کے پل زمین پر رینگنے والا جانور پرندے میں تبدیل ہو جائے۔ لیکن یہ قیاس و تخمین ہرگز یقینی نہیں ہے بلکہ صرف ایک ظنی مسئلہ ہے کیونکہ ہم نے آج تک ایسے ناگہانی تغیرات کا تجربہ نہیں کیا جو اصلی اعضاء کو تبدیل کر دیں۔ جو کچھ کہا گیا اس سے ہم مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ تبدیلیِ نوع (Tranformism) کے حامیوں کی تین دلیلیں اس نظریے کو ایک مفروضے سے اوپر نہیں لے جا سکتیں اسی بناء پر اس نظریہ پر دقتِ نظر سے بحث کرنے والے لوگ ہمیشہ اس پر تکاملِ انواع کے مفروضے کے طور پر گفتگو کرتے ہیں نہ کہ ایک قانون کے طور پر۔

مفروضہ تکامل اور مسئلہ خدا شناسی

بہت سے لوگ اس مفروضے اور مسئلہ خدا شناسی کے درمیان ایک قسم کا تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید ایک لحاظ سے وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ ڈارون کے نظریہ نے اربابِ کلیسا اور اس مفروضے کے حامیوں کے درمیان ایک شدید جنگ چھیڑ دی ہے۔ اس مسئلے کی بنیاد پر اس زمانے میں سیاسی اور اجتماعی وجوہات کی بنیاد پر جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے بہت پراپیگنڈا کیا گیا کہ ڈارونیسم خدا شناسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لیکن آج یہ مسئلہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ دونوں امور آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتے یعنی چاہے مفروضہ ٴ تکامل کو قبول کریں چاہے فقدان دلیل کے باعث اسے رد کریں دونوں صورتوں میں ہم خدا شناس ہو سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ مفروضہ تکامل ثابت بھی ہو جائے تو وہ ایک ایسے قانون علمی کے شکل اختیار کر لے گا جو طبیعی علت و معلوں سے پردہ اٹھا دے اور جانداروں اور دیگر موجودات کے درمیان اس علت و معلوں کے رابطے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ کیا بارشوں کے نزول، سمندرروں کے مدو جزر اور زلزلوں وغیرہ کے طبیعی علل معلوم ہونے سے خدا شناسی کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے؟ مسلماً نہیں۔ لہٰذا انواع موجودات کے درمیان ایک تکاملی و ارتقائی رابطے کا انکشاف خدا شناسی کے راستے میں مانع کیسے ہو سکتا ہے ایسی باتیں تو صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کا خیال ہے کہ علل طبیعی کا انکشاف وجود خدا قبول کرنے کے منافی ہے لیکن ہم آج اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان علل و اسباب کا انکشاف نہ صرف یہ کہ عقیدہٴ توحید کو ضرر نہیں پہنچاتا بلکہ وہ تو وجود خدا کے اثبات کے نظام خلقت سے ہمارے لئے مزید دلائل مہیا کرتا ہے۔ یہ بات جاذب توجہ ہے کہ خود ڈارون پر جب الحاد اور بے دینی کا الزام لگایا گیا تو اس نے اس کی تردید کی اور اصلِ انواع کے بارے میں اپنی کتاب میں تصریح کی کہ میں تکاملِ انواع کو قبول کرنے کے باوجود خدا پرست ہوں، اصولی طور پر خدا کو قبول کئے بغیر تکامل کی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ اس عبارت پر غور کریں۔ وہ جانوروں کی مختلف انواع کے ظہور کے لئے عللِ طبیعی کو قبول کرنے کے باوجود ہمیشہ خدائے یگانہ پر ایمان رکھتا ہے اور تدریجاً جب اس کا سن آگے بڑھتا ہے تو اس میں مافوق بشر قدرت کو سمجھنے کا ایک خاص اور اندرونی احساس شدید تر ہو جاتا ہے اس حد تک کہ وہ انسان کے لئے معمائے آفرینش کو لاینحل سمجھتا ہے۔ (بحوالہ دارونیسم۔ تالیف محمود بہزاد صفحہ ۷۵، صفحہ ۷۶) اصولی طور پر اس کا عقیدہ تھا کہ تکامل کے اس عجیب و غریب پیچ و خم میں انواع کی ہدایت اور ایک عام زندہ موجود کا ان مختلف انواع اور متنوع جانوروں میں تبدیلی ہونا کسی عقل کل کی طرف سے حساب شدہ اور دقیق منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور واقعاً ہے بھی ایسا ہی۔ کیا تنہا مادہ جو عام اور پست ہے ایسی تعجب خیز اور عجیب و غریب مشتقات کو ایک بےپایاں علم و قدرت کے سہارے کے بغیر کیسے وجود بخش ہو سکتا ہے جبکہ ان میں سے ہر کو اپنی مفصل تشکیلات ہیں۔ نتیجہ یہ کہ یہ شور و غوغا بالکل بےبنیاد ہے ہے کہ تکامل انواع کا نظریہ خدا شناسی کے نظریہ سے تضاد رکھتا ہے (چاہے ہم مفروضہ تکامل کو قبول کریں یا نہ کریں)۔ یہاں صرف ایک مسئلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن نے پیدائشِ آدم کی جو مختصر تاریخ بیان کی ہے کیا تکامل انواع کا مفروضہ اس سے تضاد رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں ذیل میں بحث کریں گے۔

قرآن اور مسئلہ تکامل انواع

یہ بات جاذب نظر ہے کہ مسلمانوں میں تکامل انواع کے حامیوں اور مخالفوں دونوں نے اپنے مقصد کے اثبات کے لئے آیاتِ قرآن سے تمسک کیا ہے لیکن شاید دونوں نے بعض اوقات اپنے عقیدے اور نظرے کے زیر اثر ہو کر ایسی آیات سے استدلال کیا ہے کہ جو ان کے مقصود سے بہت کم ربط رکھتی ہیں۔ لہٰذا وہ دونوں طرف سے زیر بحث آنے والی آیات کا انتخاب پیش کرتے ہیں۔ اہم ترین آیت کے جس کا تکامل کے طرفداروں نے سہارا لیا ہے سورہ ٴ آل عمران کی آیہ ۳۳ ہے۔ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ اللہ نے آدم (علیہ السلام)، نوح (علیہ السلام)، آل ابراہیم (علیہ السلام) اور آل عمران کو تمام جہانوں پر منتخب کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران ایک گروہ کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے اور ان میں سے چنے گئے، آدم کو بھی اسی طرح ہونا چاہئیے یعنی ان کے زمانے میں بھی وہ انسان کے جس پر "عالمین" کا اطلاق ہوتا ہے یقیناً موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) انہی میں سے چنے گئے تھے یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) روی زمین کے پہلے انسان نہ تھے بلکہ قبل ازیں بھی دوسرے انسان موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) کا امتیاز وہی ان کا فکری اور روحانی ارتقاء و تکامل ہے کہ جس کے سبب وہ اپنے جیسے افراد میں سے چنے گئے۔ اس نظریہ کے حامیوں نے کچھ اور آیات بھی ذکر کی ہیں کہ جن میں سے بعض مسئلہ تکامل سے بالکل ربط نہیں رکھتیں اور ان کی تفسیر تکامل کے مفہوم میں کرنا زیادہ تر تفسیر بالرئے بن جاتی ہے۔ ان میں سے بعض آیات ایسی بھی ہیں کہ جو تکامل انواع کے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتی ہیں، ثبوت انواع سے بھی اور آدم (علیہ السلام) کی مستقل خلقت سے بھی۔ اسی بناء پر ہم نے بہتر سمجھا ہے کہ ان کے ذکر سے صرف نظر کیا جائے۔ باقی رہا وہ اعتراض جو اس استدلال پر کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ہے "عالمین" اگر معاصر لوگوں کے معنی میں ہو اور "اصطفیٰ" (چننا) یقیناً ایسے ہی اشخاص میں سے ہو تو پھر یہ استدلال قابل قبول ہو سکے گا لیکن اگر کوئی کہے کے "عالمین" معاصرین اور غیر معاصرین سب کے لئے ہے تو اس صورت میں مندرجہ بالا آیت اس امر پر دلالت نہیں کرے گی جیسا کہ پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث میں خاتون اسلام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: امّا ابنتی فاطمۃ فھی سیدة نساء العالمین من الاوّلین و الاٰخرین باقی رہی میری بیٹی فاطمہ تو وہ اولین و آخرین کے سب جہانوں کے عورتوں کی سردار ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی کہے کہ کچھ لوگوں کو خدا نے تمام اور ادوار کے انسانوں میں سے چن لیا ہے اور ان میں سے ایک آدم ہیں اس صورت میں ضروری نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں دوسرے انسان بھی موجود ہوں کہ جن پر "عالمین" کا اطلاق ہو یا آدم ان میں سے چنے جائیں، خصوصاً جبکہ گفتگو خدا کے چننے کے بارے میں ہے جو آئندہ آنے والی اور بعد کے زمانوں میں آنے والی نسلوں میں سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ احتمال بھی ہے کہ ایک مختصر مدت میں اولاد آدم پر مشتمل ایک معاشرہ تشکیل پایا گیا ہو اور ان میں سے آدم برگزیدہ اور چنے ہوئے ہوں)۔ ___________________ لیکن اہم ترین دلیل جو ثبوت انواع کے حامیوں نے آیاتِ قرآن میں سے منتخب کی ہے وہ زیر بحث اور اس جیسی آیات ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ خدا نے انسان کو خشک مٹی سے پیدا کیا کہ جو سیاہ رنگ بدبودار اور کیچڑ سے لی گئی تھی۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ "انسان" کی خلقت کے موقع پر بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے: لقد خلقنا الانسان من صلصال من حماٍ مسنون (حجر:۲۶)۔ نیز بشر کے بارے میں بھی یہ تعبیر آئی ہے: و اذ قال ربّک للملائکة انّی خالق بشراً من صلصال من حماٍ مسنون (حجر:۲۸)۔ نیز یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے خود ذاتِ آدم کو سجدہ کیا اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ (سورہ ٴ حجر کی آیات ۲۹،۳۰ اور ۳۱ جو سطور بالا میں ہم بیان کر آئے ہیں ان میں غور و فکر کیجئے)۔ پہلی نظر میں ان آیات مفہوم یہی نکلتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) پہلے سیاہ رنگ کے کیچڑ سے پیدا ہوئے، اعضاء و جوارح کی تکمیل کے بعد ان میں خدائی روح پھینکی گئی اور اس کے ساتھ ابلیس کے سوا تمام فرشتے ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ ان آیات کا طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ آدم کی مٹی سے خلقت اور موجودہ شکل و صورت پیدا ہونے کے درمیان دیگر انواع موجود نہ تھیں۔ بعض مندرجہ بالا آیات میں "ثم" کی تعبیر آئی ہے یہ لفظ لغت عرب میں فاصلہ ترتیب کے لئے استعمال ہوتا ہے یہ لفظ ہرگز لاکھوں سال گذرنے اور ہزاروں انواع کے موجود ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ یہ ایسے فاصلوں کی طرف اشارہ ہو جو آدم کی مٹی سے خلقت اور پھر خشک مٹی اور پھر روح الٰہی پھونکے جانے کے مراحل میں موجود تھے اسی لئے لفظ "ثم" عالم جنین میں انسان کی خلقت اور ان مراحل کے بارے میں آیا ہے کہ جو جنین یکے بعد دیگرے طے کرتا ہے۔ مثلاً یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقناکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة ثم لنخرجکم طفلاً ثم لتبلغوا اشدّکم۔ اے لوگو! اگر تمہیں بعث اور قیامت کے بارے میں شک ہے (تو انسان کی خلقت کے بارے میں قدرت خدا پر غور و فکر کرو کہ) ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر مضغہ (گوشت کے جبائے ٹکڑے) سے پھر ہم تمہیں بچہ کی شکل میں باہر نکالتے ہیں پھر تم مرحلہٴ بلوغ تک پہنچتے ہو (حجر :۵) آپ دیکھ رہے ہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ "ثم" ایک طولانی فاصلہ کے لئے آئے بلکہ جیسے یہ ایک طولانی فاصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ویسے ہی مختصر فاصلوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگرچہ آیات قرآن نے براہ راست مسئلہ تکامل یا ثبوت انواع بیان نہیں کیا (لیکن بالخصوص انسان کے بارے میں) آیات کا ظاہری مفہوم مستقل خلقت سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اگرچہ اس کے بارے میں کامل صراحت نہیں ہے لیکن خلقتِ آدم سے متعلقہ آیات کا ظاہر زیادہ مستقل خلقت کے مفہوم کے گرد گردش کرتا ہے البتہ دیگر جانوروں کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔

45
15:45
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ
پرہیز گار (بہشت کے سر سبز) باغوں اور اس کے سر چشموں کے کنارے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
15:46
ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ
(اللہ کے فرشتے ان سے کہیں گے) امن و سلامتی کے ساتھ ان باغوں میں داخل ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
15:47
وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلٍّ إِخۡوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا غل (حسد‘ کینہ‘ عداوت اور خیانت) اتار لیں گے اور(ان کی روح پاک کر دیں گے)اس حالت میں کہ سب بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
15:48
لَا يَمَسُّهُمۡ فِيهَا نَصَبٞ وَمَا هُم مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِينَ
انہیں ہرگز کوئی خستگی اور تکان نہ ہو گی اور انہیں اس سے کبھی بھی نہیں نکالا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
15:49
۞نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں غفور و رحیم ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
15:50
وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ ٱلۡعَذَابُ ٱلۡأَلِيمُ
نیز (انہیں بتا دو کہ) میرا عذاب اور سزا دردناک ہے۔

تفسیر بہشت کی آٹھ نعمتیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا نے کس طرح تفصیل سے شیطان اور اس کے ساتھیوں، ہمجولیوں اور پیروکاروں کا نتیجہ کار بیان کیا ہے اور ان کے سامنے جہنم کے سات دروازے کھولے ہیں۔ قرآن کی روش ہے کہ وہ موازنہ پیش کر کے تعلیم و تربیت کے لئے استفادہ کرتا ہے اسی روش کے مطابق ان آیات میں بہشت، اہل بہشت، مادی اور معنوی نعمات اور جسمانی و روحانی عنایات کے بارے میں گفتگو ہے۔ درحقیقت ان آیات میں آٹھ عظیم مادی اور معنوی نعمات کا تذکرہ بہشت کے دروازوں کی تعداد کے مطابق آیا ہے۔ ۱۔ پہلے ایک عظیم مادی نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: پرہیزگار بہشت کے سرسبز باغوں میں ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں کے کنارے ہوں گے (إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُون)۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں تمام صفات میں سے صرف "تقویٰ" کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہی تقویٰ، پرہیزگاری تعہد اور مسئولیت کہ جس میں تمام عمدہ انسانی صفات جمع ہیں۔ "جنت وعیون" کا صیغہ جمع کے ساتھ ذکر ہوا ہے یہ طرح طرح کے باغات، فراوان چشموں اور گوناگوں بہشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک کا ایک نیا لطف اور خاص خصوصیت ہے۔ ۲۔۳۔ اس کے بعد دو اہم معنوی نعمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہیں "سلامتی" اور "امن"۔ ہر قسم کے رنج و ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی اور ہر قسم کے خطرے سے امن و امان۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان باغوں میں کامل سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاوٴ (ادْخُلُوھَا بِسَلَامٍ آمِنِینَ)۔ ______________________ بعد والی آیت میں تین اور معنوی نعمات کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ۴۔ ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا حسد کینہ، عداوت اور خیانت دھو دیں گے اور ایسی آلائشیں ان سے دور کر دیں گے (وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِھِمْ مِنْ غِلّ) (تشریحی نوٹ: "غِلّ" دراصل، کسی چیز کے مخفیانہ نفوذ کے معنی میں ہے اسی لئے حسد، کینہ اور دشمنی کو جو چپکے سے انسانی روح میں نفوذ کر جاتے ہیں انہیں "غل" کہا جاتا ہے۔ لہٰذا "غل" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں بہت سی بری اور خلافِ اخلاق صفات شامل ہیں (مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم، صفحہ ۱۱۸، اردو ترجمہ کے حاشیے کی طرف رجوع کریں)۔ ۵۔ اور وہ یوں ہوں گے جیسے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں،اور ان کے درمیان محبت کا قریبی تعلق کار فرما ہے (إِخْوَانًا)۔ ۶۔ اس حالت میں کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے (عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ)۔ (تشریحی نوٹ: "سرر" "سریر" کی جمع ہے جو دراصل تخت، کرسی یا اس قسم کی کسی چیز کے معنی میں ہے کہ جس پر بیٹھتے ہیں اور خوشی کی محفلیں برپا کرتے ہیں (توجہ رہے کہ "سرر" اور "سرور" ایک ہی مادہ سے ہیں))۔ ان کی اجتماعی نشستیں اس کے دنیا کے تکلیف و تکلفات کی طرح نہیں ہیں۔ ان مجلس میں کوئی اوپر اور کوئی نیچے ہے۔ اس دنیا کے المناک طبقاتی زندگی کا کوئی اصول وہاں نہیں ہے وہاں سب آپس میں بھائی ہیں سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے اور ایک ہی صف میں ہیں ایسا نہیں کہ کوئی تو مجلس میں بالا نشین ہے اور ددسرا جوتے اتارنے کی جگہ پر بیٹھا ہے۔ البتہ یہ امر معنوی درجات مختلف ہونے کے منافی نہیں ہے یہ تو ان کی اجتماعی نشستوں سے مربوط ہے ورنہ ہر ایک کا اپنے تقویٰ و ایمان کے لحاظ سے اپنا مقام ہے۔ ۷۔ اس کے بعد ساتویں مادی اور معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے انھیں ہرگز کوئی خستگی اور تکان لاحق نہ ہو گی (لاَیَمَسُّھُمْ فِیھَا نَصَبٌ)۔ جب کہ اس دنیا میں آرام کے ایک دن سے پہلے اور بعد کتنی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے کہ جن کا تصور انسان کے راحت و آرام کو درہم برہم کر دیتا ہے ایسا وہاں نہیں ہے۔ ۸۔ اسی طرح انھیں فنا اور نعمتوں کے ختم ہونے کا خیال بھی نہیں ستاتا کیونکہ "وہ ہرگز ان پر مسرت نعمتوں بھرے ہوئے باغوں سے باہر نہیں نکلیں گے" (وَمَا ھُمْ مِنْھَا بِمُخْرَجِینَ)۔ اب جبکہ بہشت کی فراوان اور دل انگیز نعمتوں کا موٴثر طریقے سے بیان ہو چکا اور یہ بتایا جا چکا کہ وہ کاملاً متقین کے سپرد ہوں گی تو اس بات کے پیش نظر کہ کہیں گنہ گار افراد ان غم و انداہ میں ڈوب کر نہ رہ جائیں کہ اے کاش! ہم بھی ان نعمتوں تک پہنچ سکتے اس مقام پر رحمن و رحیم خدا بھی ان کے لئے بھی جنت کے دروازے کھولتا ہے مگر مشروط طور پر۔ بہت محبت بھرے لہجے میں اور نوازشات کے نہایت اعلیٰ انداز میں اپنے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے: اے نبی! میرے بندوں کو آگاہ کر دے کہ میں غفور و رحیم ہوں۔ گناہ بخشنے والا اور محبت سے معمو رہوں (نَبَیٴ عِبَادِی اَنِّی اَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ)۔ "عبادی" (میرے بندے) یہ ایک لطیف تعبیر ہے کہ جو ہر انسان کو اشتیاق دلاتی ہے اور اس کے بعد خدا کی یہ توصیف کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس اشتیاق کو اوجِ کمال تک پہنچا دیتی ہے۔ لیکن قرآن چونکہ ہمیشہ رحمت الٰہی کے مظاہرے سے سوء استفادہ کو روکتا ہے لہٰذا اس کے ہلا دینے والے جملوں کے ذریعے اس کے خشم و غضب کا ذکر ہے یہ اس لئے ہے کہ تاکہ خوف و رجا کے درمیان اعتدال برقرار رہے کیونکہ یہ تکامل و ارتقاء اور تربیت کا راز ہے۔ لہٰذا بغیر کسی فاصلے کے فرمایا گیا ہے: میرے بندوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میرا عذاب دردناک ہے (وَاَنَّ عَذَابِی ھُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیمُ)۔

چند اہم نکات ۱۔ بہشت کے باغ اور چشمے

ہمارے لئے کہ جو اس محدود دنیا میں ہیں نعماتِ بہشت کو سمجھنا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔ کیونکہ اس جہاں کی نعمتیں ان نعمتوں کے مقابلے میں ایسے ہی ہیں جیسے تقریباً صفر کے مقابلے میں ایک بہت بڑا عدد۔ لیکن یہ امر اس میں رکاوٹ نہیں کہ اپنی فکر اور روح کے ذریعے انھیں محسوس کریں یہ بات مسلم ہے کہ بہشت کی نعمتیں بہت ہی متنوع ہیں، لفظ "جنات" (باغات) جو مندرجہ بالا اور دیگر بہت سے آیات میں آیا ہے۔ اسی طرح لفطظ "عیون" (چشمے) اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ البتہ قرآن میں (سورہ دہر، الرحمن، دخان اور محمد وغیرہ میں) ان چشموں کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہوا ہے اور مختلف اشارات کے ذریعے ان کی تنوع کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو شاید اس جہاں کے طرح طرح کی نیک کاموں کے مجسم ہونے کی طرف اشارہ ہو۔ انشاء اللہ ان سورتوں کی تفسیر میں ہم ان کا تفصیلی ذکر کریں گے۔

۲۔ مادی اور روحانی نعمتیں

برخلاف اس کے بعض لوگ خیال کر تے ہیں قرآن نے ہر جگہ لوگوں کو مادی نعمتوں کی طرف بشارت نہیں دی بلکہ بارہا گفتگو میں روحانی نعمتوں کا ذکر بھی آیا ہے مندرجہ بالا آیات اس کا واضح نمونہ ہیں اس طرح سے فرشتے اہل بہشت کو اس عظیم مرکز نعمت میں خوش آمدید کہتے ہوئے جو پہلی بشارت دیں گے وہ سلامتی اور امن کی بشارت ہے۔ کینوں کا سینوں سے دھل جانا اور بری صفات مثلاً حسد، خیانت وغیرہ کہ جو روح اخوت کو ختم کر دیتی ہیں کا خاتمہ اور اسی طرح غلط قسم کی تکلفاتی امتیازات کہ جو فکر و روح کا سکون بر باد کر دیتے ہیں کا خذف ہو جانا یہ سب ان کی معنوی و روحانی نعمتوں میں سے ہے کہ جن کی طرف مندرجہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امن و سلامتی کہ جس کا ذکر نعمات بہشت کے آغاز میں ہوا ہے ہر دوسری نعمت کی بنیاد ہے کیونکہ ان دو کے بغیر کوئی نعمت قابل استفادہ نہیں ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی تمام نعمتوں کا نقطہٴ آغاز امن و سلامتی کی نعمت ہے۔

۳۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں

یہ امر لائق توجہ ہے کہ امن و سلامتی کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں نعمت اخوت کے ذکر سے پہلے تمام مزاحم صفات مثلاً کینہ، حسد، غرور اور خیانت کی ریشہ کشی کا ذکر ہوا ہے لفظ "غل" جو وسیع مفہوم رکھتا ہے اس کے ذریعے ان سب کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ درحقیقت اگر انسان کا دل اس "غل" سے پاک نہ ہو امن و سلامتی کی نعمت بھی حاصل نہ ہو گی اور نہ ہی اخوت برادرری کی نعمت بلکہ ہمیشہ جنگ و جدال اور کشمکش جاری رہے گی اور رشتہ اخوت منقطع ہو گا اور امن و سلامتی چھن جائے گی۔

۴۔ جزائے کامل

بعض مفسرین کے بقول جزا تب مکمل ہوتی ہے جب اس میں یہ چار شرطیں موجود ہوں: ۱۔ فائدہ دیکھائی دینے والا ہو۔ ۲۔ احترام کے ساتھ ہو۔ ۳۔ ہر قسم کی پریشانی سے خالی ہو۔ ۴۔ دائمی ہو۔ مندرجہ بالا آیات میں نعمات بہشت کے لئے ان چار پہلووٴں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ "ان المتقین فی جنات و عیون" پہلی قسم کے لئے ہے۔ "ادخلوھا بسلام اٰمنین" احترام و تعظیم کی دلیل ہے۔ "و نزعنا ما فی صدور ھم من غل اخواناً علی سرر متقابلین" ہر قسم کی پریشانی، ناراضی اور روحانی تکلیف کی نفی کی طرف اشارہ ہے۔ "لایمسھم فیھا نصب" جسمانی نقصان اور ضرر کی نفی کے متعلق ہے۔ "وماھم منھا بمخرجین" آخری شرط پوری کرتا ہے یعنی ان نعمتوں کے لئے مدام ہے لہٰذا یہ جزا ہر لحاظ سے مکمل ہو گی۔ (بحوالہ تفسیر کبیر، فخرالدین رازی جلد ۱۹ صفحہ ۱۹۳)۔

۵۔ آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں

مندرجہ بالا آیات میں جنت کی جن مادی اور معنوی صفات کی تصویر کشی کی گئی ہے اس جہان کی نعمتوں کے اہم اصول بھی یہی ہیں گویا قرآن ہمیں یہ نکتہ سمجھانا چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں یہ نعمتیں فراہم کر کے تم بھی اس عظیم جنت کی ایک چھوٹی سی نظیر قائم کر سکتے ہو۔ ۔۔۔۔۔ اگر سینوں کو کینوں اور عداوتوں سے پاک کر لو۔ ۔۔۔۔۔ اگر اخوت و برادری کے اصول کو تقویت دو۔ ۔۔۔۔۔ اگر غیر ضروری تکلفات و تشرفات کو اپنی زندگی سے خصوصاً اجتماعی زندگی سے دور کر لو۔ ۔۔۔۔۔ اگر امن و سلامتی اپنے معاشرے کو لوٹا دو۔ ۔۔۔۔۔ اگر تمام لوگوں کو یہ اطمینان دلادیا جائے کہ کوئی شخص ان کی عزت و آبرو، مقام و حیثیت اور جائز مفادات سے مزاحم نہیں ہو گا اور انھیں اپنی نعمات کے بقاء کا اطمینان ہو تو۔۔۔۔۔ یہ دن ایسا دن ہو گا جب جنت کی نظیر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو گی۔

51
15:51
وَنَبِّئۡهُمۡ عَن ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ
اور انہیں (میرے بندوں کو) ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
15:52
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗا قَالَ إِنَّا مِنكُمۡ وَجِلُونَ
جس وقت و ہ اس (ابراہیم)کے پاس آئے اور سلام کیا تو (ابراہیم) نے کہا ہم تم سے خوفزدہ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
15:53
قَالُواْ لَا تَوۡجَلۡ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ
انہوں نے کہا: ڈر نہیں ہم تجھے ایک دانا و عالم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
15:54
قَالَ أَبَشَّرۡتُمُونِي عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِيَ ٱلۡكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ
اس (ابرا ہیم )نے کہا۔کیا مجھے بشارت دیتے ہو حالانکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں (تو پھر) کس چیز کی بشارت دیتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
15:55
قَالُواْ بَشَّرۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡقَٰنِطِينَ
انہوں نے کہا:ہم سچی بشارت دیتے ہیں،پس تم مایوس لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
15:56
قَالَ وَمَن يَقۡنَطُ مِن رَّحۡمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ
اس نے کہا اپنے پروردگار کی رحمت سے گمراہوں کے علاوہ کون مایوس ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
15:57
قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ
پھر اس (ابراہیم) نے پوچھا: اے فرستادگان الٰہی ! تم کس کام کیلئے مامور کئے گئے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
15:58
قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ
وہ کہنے لگے ہماری ذمہ داری گنہ گار قوم سے متعلق ہے (کہ انہیں ہلاک کریں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
15:59
إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمۡ أَجۡمَعِينَ
سوائے خاندان لوط کے کہ ان سب کو بچا لیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
15:60
إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَآ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
البتہ اس کی بیوی کہ ہم نے طے کیا ہے کہ وہ (شہر میں ) پیچھے رہ جانے والوں (اور ہلاک ہونے والوں ) میں سے ہوگی۔

تفسیر انجانے مہمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں اور ان سے پہلی والی کچھ آیات میں عظیم انبیاء اور ان کے سرکش امتوں کی تاریخ کا ایک تربیتی حصہ ہے اس میں خدا کے مخلص بندوں اور شیطان کے پیروکاروں کی زندگی کے واضح نمونے ہیں۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے واقعہ سے شروع کی گئی ہے (وہی فرشتے کہ جو آپ کے پاس انسانی لباس میں آئے تھے پہلے انھوں نے آپ کو ایک ذی وقار بیٹے کی بشارت دی اور پھر قوم لوط کے دردناک انجام کی خبر دی)۔ قبل کی دو آیتوں میں پیغمبرِ اسلامؑ کو حکم دیا کہ بندوں کو مقام رحمت خدا کے بارے میں بھی بتائیں اور اس کے درردناک عذاب کے بھی۔ اب حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے واقعے میں ان مذکورہ دو صفحات کے دو زندہ نمونے دکھائی دیتے ہیں اس طرح گزشتہ آیات اور ان آیات کے درمیان ربط واضح ہو جاتا ہے۔ پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے: میرے بندوں کو ابرہیم (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دو (وَنَبِّئْھُمْ عَنْ ضَیْفِ إِبْرَاھِیمَ)۔ اگرچہ "ضیف" یہاں مفرد کی صورت میں آیا ہے لیکن جیسا کہ بعض عظیم مفسرین نے کہا ہے "ضیف" مفرد اور جمع دونوں کے معنی رکھتا ہے (ایک مہمان اور کئی مہمان)۔ یہ بن بلائے مہمان وہی فرشتے تھے جنہوں نے "ابراہیم کے پاس پہنچ کر پہلے انجانے طور پر اسے سلام کیا" (إِذْ دَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَالُوا سلٰما)۔ جیسا کہ ایک بزرگ میزبان کا فریضہ ہے۔ ابراہیم نے ان کی پذیرائی کا اہتمام کیا فوراً ان کے لئے مناسب غذا فراہم کی لیکن جب دستر خوان بچھایا گیا تو انجانے مہمانوں نے غذا کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس پر وحشت ہوئی۔ انھوں نے اپنی پریشانی چھپائی نہیں۔ صراحت سے ان سے کہا: ہم تم سے خوف زدہ ہیں " (قَالَ إِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ مندرjo بالاآیات میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پذیرائی کی اور مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن جیسا کہ سورہ ہود کی آیہ ۶۹ اور ۷۰ میں ہم پڑھ چکے ہیں یہی تھا (تفسیر نمونہ جلد ۹ میں مذکورہ آیات کی تفسیر ملاحظہ کیجئے) یہ خوف اس رواج کی بناء پر تھا کہ اس زمانے میں اور بعد میں بھی بلکہ ہمارے زمانے تک بعض قوموں کا معمول ہے کہ جب کوئی شخص کسی کا نان و نمک کھا لیتا ہے تو اسے ضرر نہیں پہنچتا اور اپنے آپ کو اس ممنونِ احسان سمجھتا ہے لہٰذا کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے کو برا سمجھتا ہے اور اسے کینہ و عدات کی دلیل شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پریشانی سے نکال دیا اور "اس سے کہا: "ڈرو نہیں ہم تجھے ایک عالم و دانا بیٹے کی بشارت دیتے ہیں"۔ (قَالُوا لاَتَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیمٍ)۔ یہ کہ غلام علیم (صاحب علم لڑکے ) سے کون مراد ہے۔ قرآن کی دیگر آیات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد اسحاق ہیں کیونکہ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بشارت دی تو ان کی بیوی سارہ جو ظاہراً ایک بانجھ عورت تھی انھوں نے اسے بھی یہ بشارت دی جیسا کہ سورہ ٴ ہود کی آیہ ۷۱ میں ہے۔ وامراتہ قائمة فضحکت فبشرناھا باسحاق اس کی بیوی کھڑی تھی۔ وہ ہنسی اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سارہ حضرت اسحاق کی والدہ تھیں۔ قبل ازیں حضرت ابراہیم حضرت ہاجرہ سے صاحب ِاولاد تھے۔ حضرت اسماعیل ان کے فرزند تھے (حضرت ہاجرہ وہ کنیز تھیں جنھیں حضرت ابراہیم نے زوجیت کے لئے انتخاب کیا تھا) لیکن حضرت اسماعیل اچھی طرح جانتے تھے کہ طبیعی اصولوں کے لحاظ سے ان سے ایسے بیٹے کی پیدائش بہت بعید ہے اگرچہ خدا کی قدرت کاملہ کے لئے کوئی چیز محال نہیں ہے مگر انھوں نے معمول کے طبیعی قوانین کی طرف توجہ نے ان کے تعجب کو ابھارا لہٰذا انھوں نے کہا مجھے ایسی بشارت دیتے ہو حالانکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں۔ (قَالَ اَبَشَّرْتُمُونِی عَلَی اَنْ مَسَّنِی الْکِبَرُ)۔ واقعاً کس چیز کی بشارت دیتے رہے ہو (فَبِمَ تُبَشِّرُونَ)۔ کیا تمہاری یہ بشارت حکمِ الہٰی سے ہے یا خود تمہاری طرف سے ہے صراحت سے کہو تاکہ مجھے زیادہ اطمینان ہو۔ "مسنی الکبر" (مجھے بڑھاپے نے مس کیا ہے) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار میرے سفید بالوں اور چہرے کی جھریوں سے نمایاں ہیں اور اس کے آثار میں اپنے سارے وجود میں محسوس کرتا ہوں۔ ممکن ہے کہ کہا جائے کہ اس لحاظ سے ابراہیم ایک اچھے تجربے سے گذرے تھے کہ بڑھاپے میں ہی ان کے بیٹے اسماعیل پیدا ہوئے تھے لہٰذا نئے بیٹے یعنی حضرت اسحاق کی پیدائش کی بارے میں انھیں تعجب نہیں کرنا چاہئیے تھا لیکن معلوم ہونا چاہیئے، کہ بعض مفسرین کے بقول حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کی پیدائش میں دس سال سے زیادہ فاصلہ تھا لہٰذا بڑھاپے میں دس سال گذر جائیں تو بچے کی پیدا کا احتمال بہت کم ہوتا ہے۔ ثانیاً اگر کوئی واقعہ خلاف معمول ہو اگرچہ استثنائی طور پر ہو۔ اس سے مشابہ مواقع پر تعجب کرنے سے مانع نہیں ہے کیونکہ ایسے سن و سال میں بچے کی پیدائش بہرحال ایک امر عجیب ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے کہا ہے کہ پہلے بیٹے اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ۹۹ سال تھی اور اسحاق کی ولادت کے وقت ۱۱۲ سال تھے)۔ بہرحال فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو تردد یا زیادہ تعجب کا موقع نہ دیا۔ اور ان سے صراحت و قاطعیت سے کہا ہم تجھے حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں (قَالُوا بَشَّرْنَاکَ بِالْحَقّ)۔ وہ بشارت کہ جو خدا کی طرف سے ہے اور اس کے حکم سے ہے۔ اسی بناء پر یہ حق ہے اور مسلم ہے۔ اس کے بعد اس لئے کہ مبادا ابراہیم مایوس و ناامید ہوں تاکید کے طورپر کہنے لگے: اب جبکہ ایسا ہے تو مایوس ہونے والوں میں سے نہ ہو (فَلاَتَکُنْ مِنْ الْقَانِطِینَ)۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً ان کے اس خیال کو دور کر دیا کہ ان پر مایوسی اور رحمتِ خدا سے ناامیدی کا غلبہ نہیں ہے اور واضح کیا کہ یہ تو صرف طبیعی معمولات کے حوالے سے تعجب ہے۔ لہٰذا صراحت سے کہا: گمراہوں کے سوا اپنے پروردگار کی رحمت سے کون مایوس ہو گا (قَالَ وَمَنْ یَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّہِ إِلاَّ الضَّالُّون)۔ وہی گمراہ کہ جنہوں نے خدا کو اچھی طرح نہیں پہچانا اور اس کی بے پایاں قدرت پر ان کی نگاہ نہیں کی۔ وہ خدا کہ جو مشت خاک سے ایسا عجیب و غریب انسان پیدا کرتا ہے اور ناچیز نطفہ سے ایک بچہ وجود میں لاتا ہے خرما کا خشک درخت جس کے حکم سے پھل سے لد جاتا ہے اور جلانے والی آگ جس کے حکم سے گلزار ہو جاتی ہے کون شخص ایسے پروردگار کی قدرت میں شک کرے یا اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ بہرحال یہ بشارت سننے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) اس خیال میں پڑ گئے کہ ان خاص حالات میں یہ فرشتے انھیں صرف بیٹے کی بشارت دینے نہیں آئے، یقینا یہ کسی نہایت اہم کام پر مامور ہیں اور یہ بشارت تو ان کی ماموریت کا ایک پہلو ہے لہٰذا ان سے پوچھنے لگے: اے فرستادگان الٰہی! بتاوٴ کہ تم کس اہم ذمہ داری کے لئے بھیجے گئے ہو؟ (قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُونَ)۔ انھوں نے کہا: ہم ایک گنہ گار قوم کے لئے بھیجے گئے ہیں (قَالُوا إِنَّا اُرْسِلْنَا إِلَی قَوْمٍ مُجْرِمِینَ)۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جستجو اور تحقیق کے بارے میں اپنی خو کی وجہ سے وہ بھی خصوصاً ایسے مسائل میں اتنے جواب پر بس نہیں کریں گے۔ لہٰذا انھوں نے فوراً مزید فرمایا: یہ مجرم قوم لوط کے سوا کوئی اور نہیں ہے ہم مامور ہیں کہ اس بے شرم آلودہ قوم کو نیست و نابود کر دیں، سوائے خاندان لوط کے کہ جسے ہلاکت سے بچا لیں گے (إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوھُمْ اَجْمَعِینَ)۔ لیکن "اجمعین" کی تاکید کے ساتھ "آل لوط" کی تعبیر تمام گھر والوں کے بارے میں تھی یہاں تک کہ ان کی بیوی کہ جو مشرکین کی ہم کار تھی اور شاید ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس ماجرے سے آگاہ تھے لہٰذا انھوں نے بلافاصلہ استثناء کرتے ہوئے کہا: سوائے اس کی بیوی کے کہ ہم نے طے کیا ہے کہ وہ شہر میں رہ جانے والوں کے ساتھ فنا سے دوچار ہو گی اور نجات حاصل نہ کر سکے گی۔ (إِلاَّ امْرَاَتَہُ قَدَّرْنَا إِنَّھَا لَمِنْ الْغَابِرِینَ)۔ "قدرنا" اور ہم نے مقدر کیا)، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں خدا کی طرف سے ماموریت رکھتے ہیں۔ فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ملاقات کرنا انھیں ولادت اسحاق کی خوشخبری دینا اور اس طرح اس قوم لوط کے بارے میں گفتگو کرنا۔۔۔۔۔ ان سب امور پر ہم سورہ ہود کی آیات ۶۹ تا ۷۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر نمونہ جلد٥ میں ملاحظہ فرمائیے)۔

61
15:61
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
جس وقت(خدا کے) بھیجے ہوئے خاندان لوط کے پا س آئے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

62
15:62
قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ
تولوط نے کہا: تم انجانے افراد ہو۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

63
15:63
قَالُواْ بَلۡ جِئۡنَٰكَ بِمَا كَانُواْ فِيهِ يَمۡتَرُونَ
انہوں نے کہا: ہم تیرے پاس وہی چیز لائے ہیں کہ جس کے بارے میں وہ (کافر) شک و تردد کرتے تھے (ہم عذاب پر مامور ہیں )۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

64
15:64
وَأَتَيۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اورہم تیرے پاس حقیقت مسلمہ لائے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

65
15:65
فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ وَٱمۡضُواْ حَيۡثُ تُؤۡمَرُونَ
لہٰذا رات کے آخری پہر اپنے گھر والوں کو ساتھ لے اور یہاں سے نکل پڑ۔ تو ان کے پیچھے پیچھے چل ،اورتم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں کیلئے تمہیں کہا گیا ہے وہاں چلے جاؤ۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

66
15:66
وَقَضَيۡنَآ إِلَيۡهِ ذَٰلِكَ ٱلۡأَمۡرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰٓؤُلَآءِ مَقۡطُوعٞ مُّصۡبِحِينَ
اور ہم نے لوط کو وحی کی کہ صبح کے وقت ان سب کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے گی۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

67
15:67
وَجَآءَ أَهۡلُ ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡتَبۡشِرُونَ
اورشہر کے لوگ(مہمانوں کی خبرسن کر) خوشیاں مناتے ہوئے(بری نیت سے) ۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

68
15:68
قَالَ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ ضَيۡفِي فَلَا تَفۡضَحُونِ
ا س نے(لوط) کہا: یہ میرے مہمان ہیں میری آبرو نہ گنواؤ۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

69
15:69
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ
خدا سے ڈرو اور مجھے شرمندہ نہ کرو۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

70
15:70
قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
وہ کہنے لگے کیا ہم نے تجھے دنیا والوں (کے ادھر آنے)سے روکا نہ تھا؟

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

71
15:71
قَالَ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيٓ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ
اس نے کہا :اگر تم صحیح کام انجام دینا چاہتے ہو تو میری بیٹیاں حاضر ہیں (ان سے شادی کر لو اور گناہ سے بچو)۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

72
15:72
لَعَمۡرُكَ إِنَّهُمۡ لَفِي سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
(اے رسول) تیری جان کی قسم ! وہ اپنی مستی میں سر گرداں ہیں اور اپنی عقل گنوا بیٹھے تھے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

73
15:73
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِينَ
آخر کار طلوع آفتاب کے وقت(صاعقہ یا زمین کے لرزنے کی صورت میں ایک ہولناک)چنگھاڑنے انہیں گھیر لیا۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

74
15:74
فَجَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٍ
اس کے بعد (ان کے شہر اور آبادی کو ہم نے زیر و زبر کر دیا)وہ تہہ و بالا ہو گئے اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کردی۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

75
15:75
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُتَوَسِّمِينَ
اس میں سمجھ داروں کیلئے نشانیاں ہیں۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

76
15:76
وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٖ مُّقِيمٍ
اور قافلوں کے راستوں میں ان کے ویرانے ہمیشہ کیلئے برقرار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
15:77
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
اس میں ایمان داروں کے واسطے نشانیاں ہیں۔

تفسیر قوم لوط کے گنہ گاروں کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم نے ان فرشتوں کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کا حال پڑھا جو قومِ لوط پر عذاب کے لئے مامور تھے زیر نظر آیات میں ہم ان کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے چلے آنے اور حضرت لوط کے پاس آنے کا حال پوچھیں گے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جس وقت فرستادگان الہٰی خاندان لوط کے پاس آئے (فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ)۔ تو لوط نے ان سے فر مایا "تم اجنبی لوگ ہو"۔ (قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ مُنْکَرُونَ)۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام نے ان سے یہ بات اس لئے کہی کہ وہ بہت خوبصورت نوجوانوں کی صورت میں ان کے پاس آئے تھے اور ہو سکتا کہ ان کا آنا آپ کے لئے ایک مشکل کا باعث بن جاتا۔ ایک طرف وہ مہمان تھے محترم تھے اور ان کا آنا مبارک تھا اور دوسری ماحول انتہائی شرمناک اور مشکلات سے پر تھا اور اسی لئے سورہٴ ہود کی آیات میں یہی واقعہ جو کسی اور مناسبت سے آیا ہے وہاں"سیء بھم" کے الفاظ آئے ہیں یعنی یہ امر خدا کی طرف سے اس پیغمبر کے لئے سخت ناگوار تھا اور وہ ان کے آنے سے پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت ہی سخت ہے۔ لیکن فرشتوں نے انھیں زیادہ دیر انتظار میں نہ رکھا اور صراحت کے ساتھ کہا کہ ہم تیرے پاس ایسی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک رکھتے تھے۔ (قَالُوا بَلْ جِئْنَاکَ بِمَا کَانُوا فِیہِ یَمْتَرُونَ)۔ یعنی ہم اس دردناک عذاب کے لئے مامور ہیں جس کے بارے میں تو انھیں تنبیہ کر چکا ہے لیکن انھوں نے اسے کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بطور تاکید کہا: ہم تیرے لئے مسلم اور ناقابل تردید حقیقت لائے ہیں "یعنی ہم اس بےایمان اور منحرف قوم کے لئے حتمی عذاب اور قطعی سزا لے کر آئے ہیں” (وَاَتَیْنَاکَ بِالْحَقّ)۔ پھر انھوں نے مزید تاکید کے لئے کہا: “ہم یقینا سچ کہہ رہے ہیں" (وَإِنَّا لَصَادِقُونَ)۔ یعنی یہ قوم اپنے لوٹنے کے تمام راستے تباہ کر چکی ہے اور ان کی شفاعت کا موقع اب باقی نہیں رہا یہ اس لئے کہ کہیں لوط ان کی سفارش کے لئے نہ سوچنے لگیں کہ یہ لوگ اب ہرگز شفاعت کی اہلیت نہیں رکھتے۔ نیز ضروری تھا کہ مومنین کا چھوٹا سا گروہ (کہ جو ان کی بیوی کے سوا اہل خاندان پر مشتمل تھا) اس ہلاکت انگیزی سے بچ جائے لہٰذا انھوں نے حضرت لوط کو ضروری احکامات دئیے، کہنے لگے: رات کے وقت جب یہ گنہ گار لوگ سو جائیں یا شراب و شہوت میں مست ہو جائیں تم اپنے خاندان کو لے کر شہر کے باہر نکل جاؤ (فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّیْل)۔ "لیکن تم ان کے پیچھے پیچھے رہنا" تاکہ ان کی نگرانی کر سکو ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے (وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ)۔ "اور اسی مقام (شام یا کوئی دوسرا علاقہ جہاں کے لوگ اس آلودگی سے پاک ہیں) کی طرف چلے جاؤ" (وَامْضُوا حَیْثُ تُؤْمَرُونَ)۔ _______________________ اس کے بعد گفتگو کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے اور خداوند تعالیٰ فرماتا ہے "ہم نے لوط کو اس امر کی وحی کی کہ دمِ صبح سب کی ریشہ کنی ہو جائے گی"۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک فرد بھی نہیں بچے گا۔ (وَقَضَیْنَا إِلَیْہِ ذَلِکَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ ھَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِینَ)۔ غور کیجئے گا۔ قرآن اس واقعے کو یہیں چھوڑ کر ابتداء کی طرف لوٹتا ہے اور واقعے کا وہ حصہ جو ایک مناسبت کی و جہ سے وہاں رہ گیا تھا کہ جس کا ہم بعد میں ذکر کریں گے، اسے بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: شہر والوں کو جب لوط کے پاس آنے والے نئے مہمانوں کا پتہ چلا تو وہ ان کے گھر کی طرف چل پڑے، راستے میں وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے (وَجَاءَ اَھْلُ الْمَدِینَةِ یَسْتَبْشِرُونَ)۔ گمراہی کی شرمناک وادی میں بھٹکنے والے ان افراد کا خیال تھا کہ گویا نر مال ان کے ہاتھ آ گیا ہے خوبصورت اور خوش رنگ نوجوان اور وہ بھی لوط کے گھر میں۔ "اہل مدینہ" کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ کم از کم شہر کے بہت سے لوگ ٹولیوں میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کی طرف چل پڑے۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک بےشرم، ذلیل اور جسور تھے۔ خصوصاً لفظ "یستبشرون" (ایک دوسرے کو بشارت دیتے تھے) ان کی آلوگیوں کے گہرائی کی حکایت کرتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا شرمناک عمل ہے کہ شاید کسی نے ان کی نظیر جانوروں میں بھی بہت کم دیکھی ہو گی اور یہ عمل اگر کوئی انجام دیتا بھی ہے تو کم از چھپ چھپا کر اور احساس شرمندگی کے ساتھ ایسا کرتا ہے۔ لیکن یہ بدکار کمینہ صفت قوم کھلم کھلا ایک دوسرے کو مبارک باد دیتی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام نے جب ان کا شورو غل سنا تو بہت گھبرائے اور مضطرب ہوئے انھیں اپنے مہمانوں کے بارے میں بہت خوف ہوا کیونکہ ابھی تک وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ مہمان مامور ین عذاب ہیں قادر و قاہر خدا کے فرشتے ہیں لہٰذا وہ ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یہ میرے مہمان ہیں، میری آبرو نہ گنواؤ" (قَالَ إِنَّ ھَؤُلَاءِ ضَیْفِی فَلاَتَفْضَحُونِی)۔ یعنی اگر تم خدا، پیغمبر اور جزاء اور سزا کے مسئلہ سے صرف نظر کر لو تو بھی کم از کم یہ انسانی مسئلہ ہے اور یہ بات تو سب انسانوں میں چاہے مومن ہوں یا کافر، موجود ہے کہ وہ مہمانوں کا احترام کرتے ہیں تم کیسے انسان ہو کہ اتنی سی بات بھی نہیں مانتے ہو۔ اگر تمہارا کوئی دین نہیں تو کم از کم آزاد انسان تو بنو۔ اس کے بعد آپ نے مزید کہا: آؤ خدا سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے شرمسار نہ کرو (وَاتَّقُوا اللهَ وَلاَتُخْزُونِی)۔ (تشریحی نوٹ: "فضیحت" اصل لغت میں کسی چیز کے منکشف ہو جانے کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ عیب ظاہر ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ فارسی میں اس کا متبادل "رسوا کردن" (رسوا کرنا) ہے۔ گویا لوطؑ چاہتے ہیں کہ انہیں سمجھائیں کہ تمہارا یہ کام ان مہمانوں کے سامنے میری آبرو خاک میں ملاؤں گا اور یہ سمجھیں گے کہ میرے شہر گناہوں میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن "خزی" دراصل دور کرنے کے معنی میں ہے بعد ازاں شرمندگی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ گویا لوط چاہتے تھے کہ ان مہمانوں کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرو اور انھیں مجھ سے دور نہ کرو)۔ لیکن وہ، وہ بہت جسور اور منہ پھٹ تھے بجائے اس کے وہ شرمندہ ہوتے کہ انھوں نے اللہ کے پیغمبر لوط (علیہ السلام) سے کیسا مطالبہ کیا ہے الٹا اس طرح سے پیش آئے جیسا لوط سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے انھوں نے زبان اعتراض دراز کی اور کہنے لگے: کیا ہم نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ دنیا والوں کو اپنے ہاں مہمان نہ ٹھہرانا اور کسی کو اپنے ہاں نہ آنے دینا (قَالُوا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنْ الْعَالَمِینَ)۔ تم نے اس کی خلاف ورزی کیوں کی اور ہمارے کہنے پر عمل کیوں نہ کیا۔ یہ اس بناء پر تھا کہ یہ قوم انتہائی کم ظرف اور کنجوس تھی یہ لوگ ہرگز کسی کو اپنے ہاں مہمان نہیں ٹھہراتے تھے اور اتفاق سے ان کے شہر قافلوں کے راستے میں پڑ جاتے تھے کہتے تھے کہ انھوں نے یہ کام بعض آنے والوں کے ساتھ اس لئے کیا کہ کوئی ان کے ہاں ٹھہرے نہ۔ آہستہ آہستہ ان کی عادت بن گیا لہٰذا جب حضرت لوطؑ کو شہر میں کسی مسافر کے آنے کی خبر ہوتی تو اسے اپنے گھر میں دعوت دیتے تاکہ وہ کہیں ان کے چنگل میں نہ پھنس جائے ان لوگوں کو جب اس کا پتا چلتا تو بہت سیخ پا ہوئے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کھل کر کہنے لگے تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اب تم کسی مہمان کو اپنے گھر لے جاؤ۔ لہٰذا یوں لگتا کہ زیر نظر آیت میں لفظ "عالمین" مسافروں اور ایسے افراد کی طرف اشارہ ہے جو اس شہر اور علاقے کے رہنے والے نہ تھے اور ان کا صرف وہاں سے گذر ہوتا تھا۔ بہرحال حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی یہ جسارت اور کمینگی دیکھی تو انھوں نے ایک طریقہ اختیار کیا تاکہ انھیں خواب غفلت اور انحراف و بےحیائی کی مستی سے بیدار کر سکیں۔ آپ نے کہا: تم کیوں انحراف کے راستے پر چلتے ہو اگر تمہارا مقصد جنسی تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو جائز اور صحیح طریقے سے شادی کر کے انھیں پورا کیوں نہیں کرتے، یہ میری بیٹیاں ہیں (میں تیار ہوں کہ انھیں تمہاری زوجیت میں دے دوں) اگر تم صحیح کام انجام دینا چاہتے ہو تو اس کا راستہ یہ ہے (قَالَ ھَؤُلَاءِ بَنَاتِی إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِینَ)۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی تو چند بیٹیاں تھیں اور ان افراد کی تعداد زیادہ تھی لیکن مقصد یہ تھا کہ ان پر اتمام حجت کیا جائے اور کہا جائے کہ میں اپنے مہمانوں کے احترام اور حفاظت اور تمہیں برائی کی دلدل سے نکالنے کے لئے اس حد تک ایثار کے لئے تیار ہوں۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ "ھوء لاء بناتی" سے مراد شہر کی بیٹیاں ہیں اور روحانی باپ کے اعتبار سے انھوں نے سب کو اپنی بیٹیاں کہاں ہے لیکن پہلی تفسیر آیت کے معنی کے زیادہ نزدیک ہے۔ بغیر کہے واضح ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی بیٹیاں گمراہ مشرکین کی زوجیت میں دے دیں بلکہ ان کا مقصد تھا کہ آؤ! ایمان لے آؤ اور اس کے بعد میں اپنی بیٹیاں تمہارے عقد میں دے دوں گا۔ لیکن افسوس۔۔۔۔۔ شہوت انحراف اور ہٹ دھرمی کے اس عالم میں ان میں ذرہ بھر بھی انسانی اخلاق اور جذبہ باقی ہوتا تو کم از کم اس امر کے لئے کافی تھا کہ وہ شرمندہ ہوتے اور پلٹ جاتے مگر نہ صرف یہ کہ وہ شرمندہ نہ ہوئے بلکہ اپنے جسارت میں اور بڑھ گئے اور چاہا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ روئے سخن رسول اسلامؐ کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے: تیری جان اور زندگی کی قسم! وہ اپنی مستی میں سخت سرگرداں تھے (لَعَمْرُکَ إِنَّھُمْ لَفِی سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُونَ)۔ سورہٴ ہود میں اسی قسم کی بحث کے بعد ہے کہ فرشتوں نے اپنی ماموریت سے پردہ اٹھایا اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ڈرئیے نہیں یہ لوگ آپ کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ سورہ قمر آیہ ۳۷میں ہے کہ جب ان کی جسارت اور بڑھ گئی اور انھوں نے مہمانوں پر تجاوز کا مصمم ارادہ کر لیا تو ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ قرآن کے الفاظ میں۔ ولقد راو دوہ عن ضیفہ فطمسنااعینھم (انھوں نے ان کے مہمانوں کے بارے میں ناجائز خواہش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں) بعض روایت میں آیا ہے کہ ایک فرشتے نے مٹھی بھر مٹی ان کے چہرے پر پھینک دی تو وہ سب اندھے ہو گئے (اور چیختے چلاتے پلٹ گئے)۔ _______________________ اس مقام پر اس قوم کے بارے میں اللہ کی گفتگو انتہاء کو پہنچ جاتی ہے وہ دو جچی تلی اور مختصر آیات میں ان کا منحوس انجام پڑے قاطع تباہ کن اور عبرت انگیز صورت میں بیان کرتا ہے اور کہتا ہے: آخرکار طلوع آفتاب کے وقت وحشت ناک چنگھاڑنے ان سب کو گھیر لیا (فَاَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِینَ)۔ یہ "صیحہ" ہو سکتا ہے کہ ایک عظیم صاعقہ یا وحشت ناک زلزلہ کی آواز ہو۔ بہرحال ایک بہت بڑی چنگھاڑ تھی۔ اس کی وحشت سے سب کے سب بےہوش ہو گئے یا مر گئے۔ ہم جاتے ہیں کہ آواز کی لہریں جب ایک معین حد سے بڑھ جائیں تو تکلیف دہ اور وحشت ناک ہوتی ہیں اور اس سے بھی بڑھ جائیں تو انسان کو بیہوش کر دیتی ہیں یا پھر موت کا سبب بن جاتی ہیں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عمارتوں کو تباہ کردیں۔ لیکن۔۔۔۔۔ ہم نے اسی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ ان کے شہر کو ہم نے بالکل زیر و زبر کر دیا اور عماتوں کے اوپر والے حصے نیچے اور نیچے والے اوپر کر دئے (فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا)۔ ان کے لئے یہ عذاب بھی کافی نہ تھا۔ اس پر ہم نے ان پر پتھریلے کنکروں کی بارش برسائی (وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّی)۔ پتھروں کی یہ بارش ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لئے ہو جو اس وقت وحشت ناک چنگھاڑ سے نابود نہیں ہوئے تھے یا جو اسی گرمی و عذاب میں مبتلا نہیں ہوئے تھے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناپاک اجساد اور ناپاک آثار کو محو کرنے کے لئے ہو شہر کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ پتھروں کی بارش کے بعد کوئی شخص اس علاقے سے گذرتا تو آسانی سے باور نہیں کر سکتا تھا کہ کبھی اس علاقے میں ایک شہر آباد تھا۔ یہ تین عذاب (وحشت ناک چنگھاڑ، شہر کا تہہ و بالا ہونا اور پتھروں کی بارش) کیوں تھے جبکہ ان میں سے ہر ایک اس قوم کو ہلاک کرنے کے لئے کافی تھا۔ ایسا یا تو ان کے گناہ کی شدت اور بےحیائی میں ان کے جسور ہونے کی بناء تھا یا دوسروں کے لئے عبرت کی خاطر اللہ نے ان پر عذاب کو کئی گنا کر دیا۔؟ _____________________ یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن تربیتی اور اخلاقی نتیجہ حاصل کرتے ہوئے کہتا ہے: اس واقعہ میں باہوش لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِین)۔ جو اپنی خاص فراست و دانائی کی وجہ سے ہو، علامت سے واقعہ ہر اشارے سے حقیقت اور ہر نکتے سے اہم تربیتی مطلب اخذ کر لیتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "متوسم" "وسم" (بروزن "رسم") کے مادہ سے اثر کرنے کے معنی میں ہے اور "موسم" اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو تھوڑے سے نشان سے حقیقت معلوم کر لیتا ہے فارسی میں اس کے ہم معنی الفاظ ہوشیار، صاحبِ فراست اور باذکاوت ہیں) لیکن یہ تصور نہ کریں کہ ان کے آثار بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ نہیں "قافلوں اور راہ گیروں کے لئے ہمیشہ برقرار ہیں" ( وَإِنّھَا لَبِسَبِیلٍ مُقِیمٍ)۔ اگر تم باور نہیں کرتے تو اٹھ کھڑے ہو اور ان تباہ حال شہروں کے ویرانوں کو جا کر دیکھو کہ جو شام کے ایک راستے مدینہ جانے والوں مسافروں کے لئے موجود ہیں، دیکھو اور ان میں غور کرو، عبرت حاصل کرو، خدا کی طرف پلٹ آوٴ راہ توبہ اختیار کرو اور اپنے قلب و روح کو غلاظتوں سے پاک کر لو۔ تاکید مزید کے لئے اور اہل ایمان کو اس عبرت انگیز داستان میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: اس واقعہ میں اہل ایمان کی نشانیاں ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ)۔ کیسے ممکن ہے کہ کوئی صاحبِ ایمان یہ ہلا دینے والا واقعہ پڑھے اور اس سے عبرت حاصل نہ کرے۔ "سجیل" سے کیا مراد ہے۔ اس گناہ گار قوم پر پتھروں کی بارش کیوں برسی؟ ان کے شہر تہ و بالا کیوں ہوئے، نزول عذاب صبح کے وقت کیوں ہوا؟ خاندان لوط سے کیوں کہا گیا کہ پلٹ کر نہ دیکھیں اور قوم لوط کا اخلاق ۔۔۔۔۔۔ان سب امور کے لئے سورہ ہود کی تفسیر میں ہم کافی بحث کر چکے ہیں۔ (تفسیر نمونہ جلد ٥ میں ملاحظہ کیجئے)

چند اہم نکات ۱۔ "قطع من اللیل" سے کیا مراد ہے؟

"قطع" رات کی تاریکی کے معنی میں ہے۔ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: گویا "قطع" "قطعة" کی جمع ہے لہٰذا مذکورہ بالا آیت میں اس سے مراد رات کا زیادہ حصہ ہے۔ لیکن مفردات میں راغب کے بقول معلوم ہوتا ہے کہ "قطع" "قطعة" معنی میں ہے اور مفرد ہے۔ البتہ بہت سے مفسرین کے بقول یہ لفظ رات کے آخری حصہ اور وقت سحر کے معنی میں ہے۔ شاید یہ تفسیر قرآن کی بعض دوسری آیات کی بناء پر ہے کہ جو صراحت سے آلِ لوط کے بارے میں کہتی ہیں۔ نجینا ھم بسحر ہم نے انھیں وقت سحر نجات دی (قمر۳۴) یعنی اس وقت کہ جب شہوت پرست آلودہ دامن لوگ خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے تھے، شراب، غرور اور شہتی کی مستی ان کے وجود میں چھائی ہوئی تھی اور آل لوط کے شہر سے نکلنے کے لئے فضا بالکل سازگار تھی پس وہ نکل کھڑے ہوئے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ انھی تباہ کرنے والی سزا اور عذاب کی ابتداء بھی دمِ صبح طلوع آفتاب کے وقت ہوئی شاید یہ وقت اس لئے منتخب کیا گیا کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یورش کرنے والے سب اندھے ہو گئے اور گھروں کے لوٹ گئے تو ممکن تھا وہ کچھ نہ کچھ سوچ میں پڑ جائیں، لہٰذا رات انھیں مہلت کے طور پر دی گئی کہ شاید وہ تو بہ کر لیں اور تلافی کا راستہ اختیار کریں۔ بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جب گھروں کو لوٹ گئے تو ان میں سے بعض نے قسم کھائی کہ ہم صبح خاندانِ لوط (علیہ السلام) کے کسی فرد کو زندہ نہیں چھوڑیں گئے، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی اقدام کرتے، عذابِ الٰہی نے انھیں کاٹ کر دکھ دیا۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۳۸۵)

۲۔ ”وامضوا حیث توٴمرون“ کی تفسیر

ہم بتا چکے ہیں کہ فرشتوں نے خاندان لوط کو نصیحت کی کہ آخر شب اس علاقے کی طرف چلے جائیں جہاں کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اس جگہ کے بارے میں آیات قرآن اس سے زیادہ وضاحت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں مفسرین نے بہت سی مختلف باتیں کی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ان سے کہا گیا کہ سر زمین شام کی طرف چلے جائیں کہ جہاں کا ماحول نسبتاً پاک تھا۔ بعض نے کہا کہ فرشتوں نے ایک خاص بستی کا ذکر اور انھیں نصیحت کی کہ وہاں چلے جائیں۔ تفسیر المیزان میں اس جملے سے یہ استفادہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے راستے کے لئے ایک طرح کی الہٰی ہدایت اور حقیقی راہنمائی رکھتے تھے اور وہ اس کے مطابق چلے۔

۳۔ ” متوسم“ اور ”مومن“ کے درمیان واسطہ

مندرجہ بالا آیات میں ہم دیکھا ہے کہ کبھی فرمایا گیا ہے کہ قوم لوط کے عبرت انگیز انجام میں "متوسمین" کے لئے نشانیاں ہیں اور کبھی ارشاد ہوتا ہے "موٴمنین" کے لئے۔ ان دونوں تعبیروں کے درمیان ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ حقیقی "مومنین" "متوسم" یعنی صاحب فراست، فوراً بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے اور بہت سمجھدار ہوتے ہیں۔ ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) سے "ان فیٰ لک لٰا یٰة للمتوسمین" کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: اس سے مراد امت اسلامی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: قال رسول اللہ: اتقوا فراسة الموٴمن، فانہ ینظر بنور اللہ عزوجل رسول اللہؐ نے فرمایا: مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الہٰی سے دیکھتا ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳)۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: متوسمین آئمہ ہیں۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳) امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: رسول اکرمؐ متوسم تھے، ان کے بعد میں ہوں اور میرے بعد میری اولاد اور ذریت سے امام ہیں۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳)۔

۴۔ شہوت و غرور کی مستی

اگرچہ شراب کی مستی مشہور ہے لیکن شراب سے بالاتر مستیاں بھی پیدا ہوتی ہیں ان میں سے مقام و منصب، شہرت اور خواہش نفسانی کی مستی ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی جان کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مستی میں سرگرداں اور انتہائی واضح راہ نجات بھی انھیں سجھائی نہیں دیتی۔ معاملہ یہاں تک جا پہنچا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے اپنی بیٹیاں ان کے نکاح میں دینے کو تیار ہو جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی نفسانی خواہشات حلال و مشروع طریقے سے پورا کر سکیں اور آلودگیٴ گناہ اور شرمناک زندگی سے نجات پا سکیں لیکن وہ پھر بھی ان کی بات کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ضمنی طور یہ پیغمبر بزرگوار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مفاسد کو روکنے کے لئے صرف نفی پر بس نہ کی جائے بلکہ اثبات کا بھی سہارا لیا جائے یعنی انسان کے فطری تقاضے صحیح طور پر پورے ہونے چاہئیں تاکہ وہ خرابی کی طرف مائل نہ ہوں اگر قوم لوط کے فاسد افراد ایسے تھے جن پر یہ مثبت طریقہ اثر انداز نہ ہوا لیکن عام طور پر یہ طریقہ بہت موثر ہوتا ہے۔ جب ہم غلط اور غیر صحیح سرگرمیوں کو روکنا چاہیں تو پہلے ہمیں لوگوں کے لئے صحیح اور درست سرگرمیاں فراہم کرنا چاہئیں۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے بااستقامت پیغمبر تقریباً تیس سال اس پست اور کمینہ خصلت قوم میں پیدا کرتے رہے لیکن ان کے گھر والوں کے کوئی ان پر ایمان نہ لایا (اور اس میں بھی ان کی بیوی مستثنیٰ ہے) (بحوالہ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۳۸۲) یہ تمام استقامت کس قدر پر شکوہ ہے وہ بھی ایسے کمینہ خصلت لوگوں میں جن میں انسان ایک گھنٹہ بھی زندگی گذارے تو عاجز آ جائے اور کس قدر تکلیف دہ ہے وہ ایسی بیوی کے ساتھ زندگی گذارنا۔ سورہ ذاریات کی آیہ ۳۵،۳۶میں ہے: فاخرجنا من کان فیھا من الموٴمنین فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین ہم نزول بلا سے پہلے اس زمین سے ان تمام افراد کو نکال لے گئے جو ایمان لائے تھے لیکن وہاں ایک اہل ایمان خاندان کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔ یہاں بھی واضح ہو جاتا ہے کہ خدائی عذاب کبھی بھی خشک اور تر دونوں کو نہیں جلاتا یہاں تک کہ اگر ایک سچا مومن اور احساس ذمہ داری رکھنا والا مومن ہو تو اسے بھی نجات بخشتا ہے۔

78
15:78
وَإِن كَانَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَيۡكَةِ لَظَٰلِمِينَ
اصحاب ایکہ (سر سبز سر زمین والے شعیب کی قوم) یقیناً ظالم قوم تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
15:79
فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٖ مُّبِينٖ
ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان دونوں (قوم لوط اور اصحاب ایکہ) کے تباہ شدہ شہر سر راہ ظاہر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
15:80
وَلَقَدۡ كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡحِجۡرِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
اصحاب الحجر (قوم ثمود) نے مرسلین کی تکذیب کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
15:81
وَءَاتَيۡنَٰهُمۡ ءَايَٰتِنَا فَكَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ
اور ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انہوں نے ان سے روگردانی کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
15:82
وَكَانُواْ يَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ
وہ پہاڑوں کے اندر اپنے امن و امان والے گھر تراشتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
15:83
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِينَ
لیکن آخرکار (ہلاکت آفرین) چنگھاڑ نے صبح کے وقت انہیں آ گھیرا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
15:84
فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
اور جو کچھ وہ حاصل کر چکے تھے وہ عذاب الٰہی سے نجات کے لئے ان کے کام نہ آیا۔

تفسیر دو ظالم قوموں کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں قرآن دو گزشتہ اقوام کی سرگذشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک کو "اصحاب الایکہ" کہا گیا ہے اور دوسری "اصحاب الحجر" ان میں گزشتہ آیات قوم لوط کے بارے میں جو عبرت انگیز مباحث آئی ہیں ان کی تکمیل کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یقیناً اصحاب ایکہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے (وَإِنْ کَانَ اَصْحَابُ الْاَیْکَةِ لَظَالِمِینَ)۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "ان" اس آیت میں شرطیہ نہیں ہے بلکہ "مثقلہ" سے "مخففہ" ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: انہ کان اصحاب الایکة لظالمین) اور ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کی ستم گریوں اور سرکشیوں پر انھیں عذاب دیا ( فَانْتَقَمْنَا مِنْھمْ)۔ ان لوگوں کا علاقہ اور قوم لوط کہ جس کی داستان گزر چکی ہے۔ کی سر زمین تمہارے راستے میں واضح طور پر موجود ہے (وَإِنَّھمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ)۔ پس آنکھیں کھولو ان کا انجام دیکھو اور ان سے عبرت حاصل کرو۔

اصحاب ایکہ کون ہیں؟

بہت سے مفسرین اور ارباب لغت کہتے ہیں کہ "ایکہ" کا معنی ہے باہم جڑے ہوئے درخت یا جنگل اور "اصحاب الایکہ" وہی قوم شعیب ہے جو حجاز و شام کے درمیان سرسبز و شاداب زمین پر آباد تھی۔ ان کی زندگی بہت خوشحال تھی ان کے پاس فراواں دولت تھی اسی لئے انھیں غفلت و غرور نے گھیر لیا، خاص طور پر وہ کم فروشی اور فتنہ و فساد میں مبتلا ہو گئے، حضرت شعیب علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا اور توحید و راہ حق کی دعوت دی لیکن جیسا کہ ہم نے سورہ ہود کی آیات میں دیکھا ہے انھوں نے حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور آخرکار دردناک عذاب کے ذریعہ نیست و نابود ہو گئے کئی روز تک وہ نہایت سخت گرمی کا شکار رہے۔ آخری روز بادلوں کے جھنڈ کے جھنڈ آسمان پر چھا گئے اور انھوں نے بادل کے سائے میں پناہ لی لیکن ایک زبردست بجلی زمین پر ٹوٹ پڑی اور ظالموں کو نیست و نابود کر گئی۔ شاید قرآن نے "اصحاب الایکہ" (درختوں سے بھری ہوئی زمین والے) اس لئے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ سب نعمتیں ہم نے انھیں بخشی تھیں۔ اس کے باوجود انھوں نے شکرانِ نعمت کے بجائے کفرانِ نعمت کیا اور ظلم و ستم کی بنیاد رکھی اور صاعقہ نے انھیں اور ان کے درختوں کو ختم کر دیا۔ ان کے حالات کی مزید تفصیل سورہ ٴ شعراء کی آیہ ۱۷۶ تا ۱۹۰ کے ذیل میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حوالے سے آئے گی۔ ضمناً توجہ رہے کہ ہو سکتا ہے "فانتقمنامنھم" (ہم نے انھیں سزا دی)۔۔۔۔۔ قوم لوط اور "اصحاب الایکہ" دونوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس جملے کے بعد فوراً یہ عبارت آئی ہے۔ "و انھما لبامام مبین" ان دونوں کا علاوہ تمہارے سامنے آشکار ہے۔ "و انھما لبامام مبین" کی یہی تفسیر مشہور ہے کہ یہ شہر لوط اور اصحاب الایکہ کے شہر کی طرف اشارہ ہے "امام" "راستہ" اور "جادہ" کے معنی میں ہے۔ (کیونکہ یہ مادہ "ام" سے لیا گیا ہے جو قصد کرنے کے معنی میں ہے اور کیونکہ انسان مقصد تک پہنچنے کے لئے راستوں سے گذرتا ہے)۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "امام مبین" سے مراد لوح محفوظ ہے اس کے لئے انھوں نے سور ہٴ یٰس کی آیہ ۱۲ کو قرینہ کے طور پر پیش کیا ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید ہے کیونکہ قرآن چاہتا ہے کہ لوگوں کو درسِ عبرت دے اور یہ دونوں نام لوحِ محفوظ میں ہوں تو لوگ ان سے اثر لے سکتے ہیں۔ جبکہ یہ شہر قافلوں اور پاس سے گذرنے والے مسافروں کے راستے میں ہوں تو ان پر گہرا اثر مرتب کر سکتے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے وہاں رک جائیں، غور و فکر کریں ان کا عبرت میں دل اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس آفت زدہ زمین کو آئینہ عبرت سمجھے کبھی قوم لوط کی سرزمین کے پاس اور کبھی اصحاب ایکہ کے علاقے کے نزدیک اور آخر ان کے انجام پر آنکھیں سے سیلابِ اشک بہائیں۔ رہے "اصحاب الحجر" تو یہ وہی سرکش قوم ہے کہ جو حجر نامی علاقے میں رہتی تھی۔ بہت خوش حال تھی۔ ان کے عظیم پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام ان کے ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے۔ ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے: اصحاب حجر نے خدا کے بھیجے ہووٴں کی تکذیب کی (وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِینَ)۔ اس کے بارے میں یہ شہر کہاں واقع ہے۔ بعض مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ یہ شہر مدینہ اور شام کے درمیان قافلوں کی راہ میں "وادی القریٰ" میں " تیمہ" کے جنوب میں پڑتا تھا۔ اور تقریباً اس کا کوئی اثر نشان باقی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ شہر گزشتہ زمانے میں عربوں کے تجارتی شہروں میں سے تھا یہ شہر اتنا اہم تھا کہ بطلمیوس نے تجارتی شہروں میں لکھا ہے اور روم کے معروف جغرافیہ دان پلین نے اس کا نام "حجری" لکھا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجرت کے نویں سال جب رسولﷺ نے لشکر روم کے مقابلے کے لئے تبوک کی طرف لشکر کشی کی تو مجاہد اسلام اس مقام پر ٹھہرنا چاہتے تھے، پیغمبر اکرمﷺ نے منع کیا اور فرمایا: یہ وہی قوم ثمود کا علاقہ ہے جس پر عذاب الہٰی نازل ہوا تھا۔ (بحوالہ اعلام القرآن خزائلی ص۲۹۲)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں (اور اسی طرح قومِ نوح، قومِ شعیب اور قومِ لوط کے بارے میں شورہٴ شعراء کی آیات ۱۰۵، ۱۲۳، اور،۱۶۰ میں بالترتیب اور دیگر گزشتہ قوموں کے بارے میں) کہتا ہے کہ انھوں نے "پیغمبروں کی تکذیب کی" حالانکہ ظاہراً ان کے پاس ایک سے زیادہ پیغمبر نہیں آئے اور انھوں نے صرف اسی کی تکذیب کی تھی۔ یہ تعبیر شاید اس بناء پر ہو کہ انبیاء کا پروگرام اور ہدف اس طرح سے ایک دوسرے سے پیوستہ تھا کہ ان میں سے ایک کی تکذیب ان سب کی تکذیب تھی۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ان قوموں کے کئی پیغمبر تھے جن میں سے ایک زیادہ معروف تھا لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انھوں نے روگردانی کی (وَآتَیْنَاہُمْ آیَاتِنَا فَکَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ)۔ لفظ "اعراض" (منھ پھیرنا) نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ان آیات کو سننے یا ان پر نگاہ ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ جبکہ اس کے برعکس اپنی دنیاوی زندگی کے کاموں میں اس قدر سخت گوش تھے " اپنے لئے پہاڑوں میں امن کے گھر تراشتے تھے" (وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ)۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا علاقہ کوہستانی تھا نیز یہ کہ ان کا مادی تمدن ترقی یافتہ تھا جبھی تو وہ پہاڑوں میں اپنے لئے امن کے گھر تراشتے تھے کہ جو طوفانوں، سیلابوں بلکہ زلزلوں تک کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے اتنے محکم کام کرتا ہے لیکن اپنی ابدی زندگی کے بارے میں اس قدر تساہل سے کام لیتا ہے کہ خدا کی بات سننے اور اس کی آیات پر نظر ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ تو اب ایسی قوم کے بارے میں کیا توقع کی جا سکتی ہے سوائے اس کے کہ ان کے لئے "انتخاب" اصلح الہٰی" کا قانون حرکت میں آئے اور ایسی قوموں کو جو پوری طرح فاسد و مفسد ہو چکی ہیں انھیں جینے کا حق نہ دیا جائے اور تباہ کن عذاب کے ذریعے انھیں نابود کر دیا جائے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے: آخرکار آسمانی چیخ نے دمِصبح انھیں آلیا (فَاَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِینَ)۔ یہ چیخ بجلی کی ہولناک آواز تھی جو ان کے گھروں میں آ گری یہ اس قدر تباہ کن اور وحشت ناک تھی کہ اس نے ان کے بےجان جسموں کو زمین پر پھینک دیا اس بات کی شاہد سورہ حم سجدہ کی آیہ ۱۳ ہے۔ فاعرضوا فقل انذرتکم صاعقة مثل عاد و ثمود یہ کفار منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں تمہیں ایسی بجلی گرنے سے ڈرتا ہوں جو بجلی قوم عاد و ثمود پر گری۔ ان کے فلک بوس پہاڑ، امن و امان کے گھر، اس سرکش قوم کے طاقتور جسم اور ان کی بہت زیادہ دولت و ثروت کوئی چیز بھی عذاب الہٰی کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔ لہٰذا ان کی داستان کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا وہ انھیں عذابِ الہٰی سے بچا نہ سکا (فَمَا اَغْنَی عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ)۔ سورہٴ شعراء میں آیہ ۱۴۱ تا ۱۵۸ میں ان کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں جو انشاءاللہ ان آیات کی تفسیر میں آئیں گے۔

85
15:85
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞۖ فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ
اورجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،اسے ہم نے بغیر حق کے پیدا نہیں کیا اور وعدہ کی گھڑی (قیامت) یقیناً آکے رہے گی (اے رسول)ان دشمنوں سے اچھی طرح صرف نظرکرو(اور انہیں بخش دو) ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
15:86
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلۡخَلَّـٰقُ ٱلۡعَلِيمُ
تیرا پروردگار پیدا کرنے والا(اور) آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
15:87
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ سَبۡعٗا مِّنَ ٱلۡمَثَانِي وَٱلۡقُرۡءَانَ ٱلۡعَظِيمَ
ہم نے تجھے(اے رسول)سات آیتوں والی سورہ (سورہ حمد) اور قرآن عظیم دیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
15:88
لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
(لہٰذا) ان(کفار) میں سے کچھ گروہوں کو جو(مادی) نعمتیں دی، ہیں ان پر ہرگز نگاہ نہ ڈال اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس پر غمگین نہ ہو اور اپنے پر وبال مومنین کیلئے جھکا دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
15:89
وَقُلۡ إِنِّيٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلۡمُبِينُ
اور کہہ دے کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
15:90
كَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَى ٱلۡمُقۡتَسِمِينَ
(ہم ان پر عذاب نازل کریں گے)جیسے ہم نے (آیات الٰہی کو) تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
15:91
ٱلَّذِينَ جَعَلُواْ ٱلۡقُرۡءَانَ عِضِينَ
وہی لوگ جنہوں قرآن کو تقسیم کر دیا ہے کہ (ا پنے مفاد والے کو اپنا لیا اور مخالف کو چھوڑ دیا) ۔

تفسیر تقسیم اور نکتہ چینی کرنے والے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

انسان ہمیشہ سے ایک صحیح آئیڈیالوجی اور عقیدہ نہ ہونے کی مصیبت میں گرفتار رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ مبداء و معاد کے نظریے کا پابند نہیں رہا، قوم لوط، قوم شعیب اور قومِ صالح جیسی قومیں کہ جو اس ابتلاء میں گرفتار تھیں کے حالات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اب قرآن مسئلہ توحید اور معاد کی طرف لوٹتا ہے اور ایک ہی آیت میں ان دونوں امور کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے ہم نے بغیر حق کے پیدا نہیں کیا (وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ)۔ ان پر جو نظام حاکم ہے وہ بھی حق ہے اور ان کا مقصد تخلیق بھی حق ہے لہٰذا یہ عجیب و غریب نظم و نسق اور دقیق و منظم آفرینش دانا و توانا خالق پر واضح دلیل ہے کہ وہ بھی حق ہے بلکہ حقیقتِ حق وہی ہے اور ہر حق اسی وقت تک حق ہے جب تک اس کے وجودِ بےپایاں کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور جو کچھ اس کے سوا ہے اور اسے تعلق نہیں رکھتا وہ باطل و فضول ہے۔ یہ تو توحید کے بارے میں تھا۔ اس کے بعد معاد اور قیامت کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ وعدہ کی گھڑی (قیامت) آخرکار آ کے رہے گی (وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِیَةٌ)۔ اگرچہ دیر سے آئے، آخرکار ضرور آئے گی۔ بعید نہیں کہ پہلا جملہ دوسرے جملے کی دلیل کے طور پر ہو کیونکہ یہ وسیع و عریض جہان تبھی حق ہو گا جب صرف یہ چند روزہ دکھ درد سے بھری ہوئی زندگی کے لئے نہ پیدا کیا گیا ہو بلکہ اس کے لئے کوئی ایسا نہایت اعلیٰ ہدف پیش نظر ہو جو اس عظیم آفرینش کی توجیہ کر سکے۔ لہٰذا آسمان و زمین اور عالم ہستی کا حق ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ آگے قیامت اور معاد موجود ہے ورنہ آفرینش و خلقت فضول تھی (غور کیجئے گا)۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ ان کی ہٹ دھرمیوں نادانیوں، تعصب، کارشکنیوں اور سخت سے سخت مخالفوں کے باوجود ملائمت اور محبت کا مظاہرہ کرو" اور ان کے گناہوں سے صرف نظر کرو اور انھیں بخش دو، خوبصورتی کے ساتھ جس بخشش میں ملامت تک نہ ہو (فَاصْفَحْ الصَّفْحَ الْجَمِیلَ)۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں میں مبداء اور معاد کا عقیدہ راسخ کرنے کی دعوت کے لئے تمہارے پاس واضح دلیل موجود ہے لہٰذا تمہیں سختی اور خشونت کی کوئی ضرورت نہیں۔ منطق و عقل تمہارے پاس ہے علاوہ ازیں جاہلوں کے ساتھ سختی سے تعصب ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ "صفح" ہر چیز کے چہرے کو کہتے ہیں مثلاً صفحہٴ صورت (تشریحی نوٹ: قاموس میں فیروز آبادی نے لکھا ہے: پہاڑ کا دامن، تلوار پہنائی اور چوڑائی اور صورت کو بھی "صفح" کہتے ہیں۔ نیز کسی چیز کے کنارے اور چہرے کو بھی "صفح" کہتے ہیں)۔ اسی لئے "فاصفح" منہ پھیرنے اور صرف نظر کرنے کے معنی میں آیا ہے اور کسی سے منہ پھیرنا چونکہ بعض اوقات بےاعتبائی، اظہار ناراضگی وغیرہ کے لئے ہوتا ہے اور بعض اوقات بزرگانہ عفو و درگذر کے لئے اس لئے زیر بحث آیت میں فوراً اسے لفظ "جمیل" کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے تاکہ دوسرا معنی دے سکے۔ امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا: العفو من غیر عتاب اس سے مراد مواخذہ اور سرزنش کے بغیر عفو و درگذر ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین، ج۳، ص ۲۷)۔ ایسی ہی ایک حدیث امام زین العابدین علیہ السلام سے بھی نقل ہو ئی ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین، ج۳، ص ۲۷)۔ اگلی آیت، جیسا کہ آپ مفسرین نے لکھا ہے درحقیقت درگذر اور "صفح جمیل" کے لئے ضروری ہونے کی دلیل کے طور پر ہے ارشاد ہوتا ہے: تیرا پروردگار پیدا کرنے والا اورآگاہ ہے۔ (إِنَّ رَبَّک ھُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ)۔ وہ جانتا ہے کہ تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہیں وہ ان کے اندرونی اسرار، میلانات، سطح فکر اور مختلف قسم کے احساسات و جذبات سے باخبر ہے ان سب سے یہ توقع نہ رکھو کہ وہ ایک جیسے ہوں بلکہ ان سے عفو و درگذر سے جذبے سے پیش آوٴ تاکہ تدریجاً ان کی تربیت ہو اور وہ راہ حق کی طرف آئیں۔ البتہ اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اپنے طرز عمل اور اعمال میں مجبور ہیں بلکہ یہ صرف ایک تربیتی قانون کی طرف اشارہ ہے اور یہ فکر و نظر اور صلاحتوں میں اختلاف کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض کا یہ خیال ہے کہ حکم رسول اللہؐ کی مکی زندگی سے مخصوص ہے اور آ پ کی مدینہ ہجرت کے بعد جب مسلمان کچھ طاقتور ہو گئے تو اس کی جگہ جہاد کے حکم نے لے لی لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ حکم مدنی سورتوں میں بھی آیا ہے (مثلاً سورہ ٴ بقرہ، سورہ ٴنور، سورہٴ تغابن اور سورہٴ مائدہ کہ جن میں سے بعض میں رسول اللہؐ کو صفح و عفو کا حکم دیا گیا ہے اور بعض میں مومنین کو) واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک عمومی اور ابدی حکم ہے اور اتفاقاً یہ حکم جہاد کے حکم کے منافی نہیں کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے ایک مقام پر عفو در گذر کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں عفو و درگذر سے دوسرے کی جرات و جسارت اور بڑھ جائے اور وہ اس سے سوء استفادہ کرے تو وہاں شدت عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہؐ کی دلجوئی کی گئی ہے اور انھیں تسلی دی گئی ہے کہ دشمنوں کی سختی، کثرت اور فراواں مادی وسائل سے ہرگز پریشان نہ ہوں، کیونکہ خدا نے خود پیغمبر پر وہ انعامات کئے ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتی، فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے سورہٴ حمد اور عظیم قرآن دیا ہے (وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنْ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ)۔ ہم جانتے ہیں کہ "سبع" کا معنی لغت میں "سات" ہے اور "متعدد" "دو دو" کو کہتے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے اور روایات میں "سبع من المثانی" کو سورہٴ حمد کے لئے کنایہ مراد لیا ہے کیونکہ مشہور قوم کے مطابق سورہٴ حمد سات آیات پر مشتمل ہے اور اس لئے کہ اس کی اہمیت اور اس کے مضامین کو عظمت بہت زیادہ ہے یہ دو مرتبہ رسول اللہؐ پر نازل ہوئی یا یہ کہ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے آدھا خدا کی حمد و ثنا اور آدھا حصہ بندوں کی طرف سے تقاضا و التجاء ہے یا یہ کہ یہ ہر نماز میں دو مرتبہ پڑھی جاتی ہے ان پہلووٴں کے پیش نظر اس پر لفظ "مثانی" یعنی کئی دو دو کا اطلاق ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: پیغمبر اکرمؐ کی ایک حدیث میں ہے: خدا فرماتا ہے: میں نے نماز (سورہٴ حمد) اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصہ مجھ سے مربوط ہے دوسرا بندوں سے۔ (مجمع البیان، جلد۱،صفحہ۱۷)۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "سبع" قرآن کی ابتدائی بڑی سات سورتوں کی طرف اشارہ ہے اور مثانی خود قرآن کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قرآن رسول اللہؐ پر دو مرتبہ نازل ہوا ایک مربتہ سارے کا سارا اکھٹا اور ایک مرتبہ تدیرجاً ضرورت کے ماتحت مختلف اوقات میں، اس لحاظ سے معنی یہ ہو گا: پورے قرآن کی سات اہم سورتیں۔ ان مفسرین نے سورہ زمر کی آیہ ۲۳ کو بھی اس مفہوم کے لئے شاہد قرار دیا ہے ارشاد خداوندی ہے:۔ اللہ نزّل احسن الحدیث کتاباً متشابھا مثانی خدا وہی ہے جس نے بہترین حدیث کو نازل فرمایا کہ جس کے مضامین و مفاہیم ہم آہنگ اور ایک دوسرے سے مشابہ ہیں وہ کتاب کہ جو دو مرتبہ نازل ہوئی۔ لیکن۔۔۔۔۔ پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے خصوصاً ان بہت سے روایات کی بناء پر جو اہل بیتؑ سے نقل ہوئی ہیں جن میں اس کا مطلب سورہٴ حمد بتایا گیا ہے۔ مفردات میں راغب میں لفظ "مثانی" قرآن کا پہلا اطلاق اس لحاظ سے صحیح جانا کہ اس کی آیات بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہی تجوید و تکرار قرآن کو حوادث سے محفوظ رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں ہر زمانے میں حقیقتِ قرآن کا نیا تکرار اور نئی تجلی سامنے آتی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اسے "مثانی" کہا جائے۔ _____________________ بہرحال سورہ حمد کے بعد قرآن عظیم کا ذکر جب کہ سورہ ٴحمد بھی اس کا جزو ہے اس سورہ کی اہمیت و عظمت کی دلیل ہے کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ کسی چیز کے ایک حصے کا ذکر اس کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت کی وجہ سے کیا جاتا ہے ایسا عربی، فارسی اور دیگر زبانوں میں بہت ہے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ سے یہ حقیقت بیان کرتا ہے تو ایسے عظیم سرمایہ کا حامل ہے۔۔۔۔۔ قرآن جیسا سرمایہ جو تمام عالم ہستی کی عظمت رکھتا ہے وہ سرمایہ جو سراسر نور، برکت، درس اور لائحہ عمل ہے راہیں کھولنے والا ہے۔ خصوصاً سورہ ٴ حمد کہ جس کا مفہوم اور مضمون اس قدر بلند ہے کہ لحظہ بھر میں انسان کا رشتہ خدا سے جوڑ دیتا ہے اور اس کی روح کو خدا کے آستانہ پر تعظیم و تسلیم اور راز و نیاز کے لئے ایستادہ کر دیتا ہے۔ اس عظیم نعمت کا تذکرہ کرنے کے بعد پیغمبر اکرمؐ کو چار حکم دئے گئے ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: یہ مادی نعمتیں جو ہم نے کافروں دی ہیں ان پر ہرگز نگاہ نہ ڈالنا (لاَتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ اَزْوَاجًا مِنْھُمْ) (تشریحی نوٹ: "ازواجاً" "متعنا" کا مفعول ہے اور "منھم" ایک عمومی مقدر فعل کے متعلق جار مجرور ہے اور اس سارے کا معنی ہو گا۔ "کفار کے مختلف گروہ۔۔۔۔۔۔") یہ مادی نعمتیں پائیدار نہیں ہوتی ہیں اور پھر درد سر بھی ہیں یہاں تک کہ اچھے حالات میں بھی انسان کے لئے ان کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے لہٰذا یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو تیری آنکھوں کو متوجہ کرے۔ ان کے مقابلے میں عظیم روحانی نعمت قرآن جو خدا نے تجھے دی ہے وہ بہت اہم ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ جو مال و ثروت اور مادی نعمتیں ان کے ہاتھ میں ہیں اس پر ہرگز غمگین نہ ہو (وَلاَتَحْزَنْ عَلَیْھِمْ)۔ درحقیقت پہلا حکم مادی نعمتوں کی طرف آنکھ نہ اٹھانے کے لئے ہے اور دوسرا ان سے محرومی پر غم نہ کھانے کے لئے ہے۔ "ولاتحزن علیھم" کی تفسیر کے بارے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے: اگر وہ تجھ پر ایمان نہیں لاتے تو غم نہ کھاوٴں کیونکہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن اگر پہلی تفسیر قبل کے جملوں کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ بہرحال سوہ طٰہٰ آیہ ۱۳۱میں اس کی واضح نظیر موجود ہے۔ لاتمدن عینیک الیٰ ما متعنا بہ ازواجاً منھم زھرة الحیٰوة الدنیا لنفتنھم فیہ و رزق فیہ و رزق بک خیر و ابقی ان میں سے بعض کو نعمتیں دی ہیں ان پر نظر نہ ڈال یہ دنیاوی زندگی کے پھول ہیں (ناپائیدار پھول، جو بہت جلد مرجھا کر بکھر جائیں گے) لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ انھیں اس کے ذریعہ آزمائیں۔ خدا نے جو تجھے روزی دی ہے وہ تیرے لئے بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔ تیسرا حکم تواضع، فروتنی اور مومنین سے نرمی کرنے کے بارے میں ہے فرمایا گیا ہے: اپنے پر و بال مومنین کے لئے پھیلا دے اور نیچے جھکا لے (اِخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ تعبیر تواضع اور محبت کے لئے خوبصورت ہے جیسے پرندے اپنے بچوں سے اظہار محبت کرتے ہیں انھیں اپنے پر و بال کے نیچے چھپا لیتے ہیں یہ انتہائی محبت کا منظر ہوتا ہے اس طرح وہ دشمنوں سے انھیں بچا لیتے ہیں اور بکھر جانے سے روکتے ہیں دراصل کنایہ کی صورت میں یہ جچی تلی مختصر تعبیر بہت سے مطالب کی حامل ہے۔ ضمناً مذکورہ احکام کے بعد یہ جملہ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ مبادا مادی نعمتوں کے حامل ہونے کی وجہ سے کافروں سے انکساری کرو یہ انکساری اور محبت مومنین کے لئے ہونا چاہئیے اگرچہ مال دنیا دے ان کا ہاتھ خالی ہو۔ آخر میں پیغمبر اکرمؐ کو چوتھا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان بےایمان دولت مندوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہو جاوٴ اور انھیں کھلے بندوں کہہ دو کہ میں واضح ڈرانے والاہوں (وَقُلْ إِنِّی اَنَا النَّذِیرُ الْمُبِینُ)۔ کہہ دو کہ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں تم پر عذاب نازل کروں گا جیسے کہ میں نے تقسیم کرنے والے نازل کیا ہے (کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِینَ)۔ وہی تقسیم کرنے والے جنہوں نے آیات الہٰی کو بانٹ دیا (الَّذِینَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِینَ)۔ (تشریحی نوٹ: "عضین" "عضة" کی جمع ہے جس کا معنی ہے "متفرق" کسی چیز کے حصہ کو بھی "عضہ" کہتے ہیں لہٰذا "عضین" کا معنی ہوا "حصے" یا "ٹکڑے") جو کچھ ان کے مفاد میں تھا وہ لے لیا اور جو کچھ ان کے نقصان میں تھا اسے ایک طرف رکھ دیا۔ درحقیقت ہوا یہ کہ بجائے اس کے کہ کتاب خدا اور اس کے احکام ان کے رہبر و راہنما ہوتے اسے انھوں نے اپنے برُے مقاصد کے لئے وسیلہ بنالیا۔ ایک لفظ اُن کے مفاد میں ہوتا ہے اس سے چمٹ جاتے اور ہزار الفاظ ان کے ضرر میں ہوتے تو انھیں ایک طرف رکھ دیتے۔

چند اہم نکات ۱۔ قرآن کریم خدا کی عظیم نعمت ہے

زیر نظر آیت میں خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو خطرے سے خبردار کرنے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب اور بہت بڑا سرمایہ ہے یہ ایک بےنظیر نعمت ہے جو مسلمانوں کو دی گئی یہ ایک ایسا جاودانی پروگرام ہے جس پر عمل کیا جائے تو دنیا آباد و آزاد ہو جائے۔ اور امن و امان اور معنویت سے معمور ہو جائے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے دوسرے لوگ بھی معترف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر مسلمان اس کے معارف زندہ کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تو اتنا طاقتور اور ترقی یافتہ ہوتے کہ کوئی ان پر اپنا تسلط نہ جما سکتا۔ یہ سورہ حمد۔۔۔۔ سبعا من المثانی۔۔۔۔ کہ جو فاتحة الکتاب، آغاز قرآن کرنے والی ہے اور فہرستِ قرآن کہلاتی ہے۔ ایک مکمل درس حیات ہے۔ اس عظیم مبداء کی طرف توجہ کہ جو تمام عالمین کی راہِ تکامل میں پرورش کرتا ہے جس کی خاص اور عام رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے۔ اس عدالت کی طرف توجہ کہ جس پر ایمان انسان کے اعمال کو پوری طرح سے کنٹرول کر لیتا ہے۔ غیر اللہ پر بھرسہ نہ کرنا اور اس کے غیر کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنا۔ مختصر یہ کہ۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم پر قدم رکھنا جس میں انحراف نہیں، وہ راستہ جو مشرق کی طرف خم کھاتا ہے نہ مغرب کی طرف، جس میں افراط و تفریط ہے نہ گمراہی اور نہ ہی غضب الہٰی۔ یہ سب جب انسان کی روح میں رچ بس جائیں تو ایک اعلیٰ اور باکمال شخصیت بنانے کے لئے کافی ہے۔ لیکن افسوس یہ عظیم سرمایہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں جا پڑا ہے کہ جنہیں اس کی گہرائی پتہ چلا ہے نہ اس کی علیٰ و قدر و قیمت کا۔ یہاں تک کہ بعض ایسے ناگاہ لوگ بھی ہیں کہ اس کی آیات کو چھوڑ کر ایسے انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین اور پروگرام کی طرف دستِ نیاز پھیلاتے ہیں جو خود اسیر شہوت ہیں۔ کم از یہ کہ جن کی فکر ناپختہ اور نارسا ہے یا وہ کہ جو اپنا علم نجس دولت اور حقیر قیمت پر فروخت کرتے ہیں یا دوسروں مادی تمدن کی تمدن کی تھوڑی سی ترقی ان کی توجہ کو اس طرح سے کھینچتی ہے کہ جو خود ان کے پاس ہے اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مادی ترقی کو بالکل اہمیت نہ دیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ سبھی کچھ اسے نہ سمجھیں اور قرآن نہ صرف روحانی لحاظ سے ایک پر بار اور عظیم سرچشمہ ہے بلکہ مادی ترقی اور خوشحالی کا بھی موثر پروگرام ہے اس سلسلہ میں ہم پہلے بھی متعلقہ آیات میں توضیح کر چکے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی کریں گے۔

۲۔ دوسروں کے وسائل پر نگاہ رکھنا انحطاط کا باعث ہے

بہت سے تنگ نظر افراد ایسے ہیں جو ہمیشہ اسی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ ا س کے پاس کیا ہے؟ یہ لوگ مسلسل مادی حالت کا دوسروں سے تقابلی کرتے رہتے ہیں اور جب اپنے آپ کو کم پاتے ہیں تو رنج و غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں چاہے دوسروں نے یہ وسائل اپنی انسانی قدر و قیمت اور اپنا استقلال گنوا کر حاصل کئے ہوں۔ یہ طرز فکر رشد کی کمی، احساس کمتری اور کم ہمتی کی نشانی ہے۔ یہ زندگی میں پسماندگی اور تنزل کا سبب ہے یہاں تک کہ مادی زندگی کو بھی اس کا بہت منفی اثر ہوتا ہے بجائے اس کے انسان ایسے گھٹیا اور نقصان دہ تقابل میں پڑے اپنی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو اپنی رشد و ترقی کے لئے استعمال کرے اور اپنے آپ کہے کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں اور کوئی وجہ نہیں کہ میں ان سے زیادہ ترقی نہ کر سکوں میں کیوں ان کے مال و مقام پر آنکھ رکھوں میں ان سے بہتر حاصل کر سکتا ہوں۔ مادی زندگی کا زندگی کا ہدف ہرگز نہیں، ایک صحیح انسان مادی وسائل یا تو اس قدر چاہتا ہے جو اس کی روحانیت کے لئے مددگار ہوں یا جس قدر اس کی آزادی اور استقلال کی حفاظت کر سکیں نہ کہ وہ حریصانہ ان کے پیچھے بھاگتا ہے اور نہ ہی ان کے بدلے سب کچھ قربان کر دیتا ہے کیونکہ ایسا سودا احرار اور بندگان خدا نہیں کرتے وہ ایسا کام بھی نہیں کرتے جس میں دوسروں کے محتاج ہوں۔ پیغمبر اکرمؐ سے مروی ایک حدیث میں ہے:۔ من رمی ببصرہ ما فی ید غیرہ کثر ھمہ ولم یشف غیضہ جو شخص اس پر نظر جائے رکھے جو دوسروں کے پاس ہے وہ ہمیشہ غمگین رہے گا اور اس کے دل کی آتش غضب کبھی نہیں بجھے گی۔ (تشرتیحی نوٹ: تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔

۳۔ رہبر کی انکساری

آیات قرآن میں بارہا پیغمبر اکرمؐ کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ مومنین سے تواضح، مہربانی، نرمی اور ملائمت سے پیش آئیں یہ امر پیغمبر اسلامؐ کے لئے منحصر نہیں ہے۔ بلکہ جو شخص بھی وسیع یا محدود لوگوں میں رہبری کا فریضہ اپنے ذمہ لے اسے چاہئیے کہ اس پر کاربند رہے کیونکہ یہ حقیقی قیادت اور تنظیمی اصولوں میں سے ہے اس لئے ایک رہبر کا بہت بڑا سرمایہ اس کے پیروکاروں کا اس سے محبت کرنا اور اس سے روحانی رشتہ ہے اور یہ تواضع، ملنساری اور خیر خواہی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ رہبروں کی سختی اور فسادات ہمیشہ لوگوں کے ان کے گرد و پیش سے متفرق اور منتشر ہونے کا ایک ہی اہم عامل ہوتے ہیں۔ امیر المومنین (علیہ السلام)، محمد بن ابی بکر کو اپنے ایک خط میں اس طرح فرماتے ہیں: فاخفض لھم جناحک و الن لھم جانبک و ابسط لھم وجھک و آس بینھم فی اللحظة و النظرة اپنے پر و بال اس کے لئے جھکا دے، ان سے نرمی سے پیش آ، کشادہ رورہ اور ان کے درمیان نظر کرنے میں بھی مساوات اور برابری کو ملحوظ رکھ۔ (بحوالہ نہج البلاغہ، مکتوب ۲۷)۔

۴۔ ”مقتسمین“ کون لوگ ہیں؟

بلاشبہ خدائی احکام اور پروگرام سب لوگوں کے مفاد میں ہوتے ہیں لیکن ظاہراً اور ابتدائی نظر میں عام طور ان میں سے بعض ہماری رغبت اور خواہش کے مطابق ہیں اور بعض برخلاف ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں سچے مومن تو ان سب کو کاملاً قبول کر لیتے ہیں یہاں تک کہ جو احکام ظاہراً ان کے فائدے میں انہیں بھی قبول کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کل من عند ربا سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ یہ احکام الہٰی میں کسی قسم کی تقسیم اور تبعیض کے قائل نہیں ہیں لیکن وہ لوگ کہ جن کے دل بیمار ہیں اور وہ یہ تک چاہتے ہیں کہ دین حکم خدا کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں وہ صرف وہی حصہ قبول کرتے ہیں جو ان کے فائدے میں اور باقی پسِ پشت ڈال دیتے ہیں وہ آیات قرآن کو بلکہ بعض اوقات ایک ہی آیت کو تقسیم کر دیتے ہیں اور ایک حصہ جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتا ہے اسے قبول کر لیتے ہیں اور دوسرے حصے کو ایک طرف پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات باعث فخر نہیں کہ ہم بعض گزشتہ قوموں کی طرح یہ راگ لائیں:۔ نوٴمن ببعض و نکفر ببعض ہم بعض پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض پر نہیں۔ کیونکہ۔۔۔۔ تمام دنیا پرست یہی کچھ کرتے ہیں۔ پیروان حق اور پیروان باطل میں یہی فرق ہے کہ پیروانِ باطل میں یہی میں فرق ہے کہ پیروانِ باطل احکام کے اسی حصے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں جو ان کی خواہشات، ہوا و ہوس اور ظاہری مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ یہ مقام ہے جہاں کھرا اور کھوٹا اور مومن اور منافق پہچانا جاتا ہے۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس کے علاوہ بھی "مقتسمین" کی کچھ تفاسیر علماء نے ذکر کی ہے ہیں یہاں تک کہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس لفظ کی سات تفسیر بیان کی ہیں ان میں سے زیادہ تر غیر مناسب نظر آتی ہیں لیکن بعض جو غیر مناسب نہیں ہیں ان میں سے ایک ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ مشرکین کے کچھ سردار ایام حج میں مکہ کی سڑکوں اور کوچوں کے کنارے کھڑے ہو جاتے تھے ان میں سے ہر ایک گذرنے والوں سے رسول اللہؐ اور قرآن کے بارے میں کوئی نہ کوئی بات کرتا تاکہ انھیں متنفر کر دیں۔ بعض کہتے: وہ دیوانہ ہے جو کچھ کہتا ہے غیر موزوں ہوتا ہے۔ بعض کہتے: وہ جادو گر ہے اور اس کا قرآن بھی اس کے جادو کا ایک حصہ ہے۔ بعض آپ کو شاعر کہتے: آیات آسمانی کے جاں نواز آہنگ اور لہجے کو کذب اور جھوٹی شاعری قرار دیتے۔ بعض آپ کو کاہن کا نام دیتے اور قرآن کی غیب کی خبروں کو ایک طرح کی کہانت قرار دیتے۔ انھیں "مقتسمین" کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے مکہ کی سڑکوں اور گلیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تقسیم کر رکھا تھا۔ کوئی مانع نہیں کہ یہ تفسیر اور جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے دونوں آیت کے مفہوم میں شامل ہوں۔

92
15:92
فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔلَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
تیرے پروردگار کی قسم! ہم ان سب سے پوچھیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
15:93
عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جو کچھ وہ کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
15:94
فَٱصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
جس چیز کیلئے مامور ہو اسے واضح طور پر بیان کرو اور مشرکین سے رخ پھیر لو (اور ان کی پروانہ کرو)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
15:95
إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ
ہم تمسخر اڑانے والوں کے شرکو تجھ سے دور رکھیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
15:96
ٱلَّذِينَ يَجۡعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
وہ کہ جنہوں نے خدا کے ساتھ اور معبود بنا رکھے ہیں لیکن وہ جلد ہی جان جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
15:97
وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُولُونَ
ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر تیرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے (اوروہ تجھے پریشان کرتے ہیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
15:98
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
(اس پریشانی کو دور کرنے کیلئے) اپنے پروردگار کی تسبیح کر، حمد وثنا کر اور سجدہ گزاروں میں سے ہو جا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
15:99
وَٱعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأۡتِيَكَ ٱلۡيَقِينُ
اور اپنے پروردگار کی عباد ت کر، یہاں تک کہ یقین (موت) آ جائے۔

تفسیر اپنے مکتب واضح طور پر بیان کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہ سورہ ٴ کی آخری آیات میں ہیں کہ ان سے سے پہلے "مقسمین" کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ جزا کے بارے میں گزشتہ آیات میں گفتگو ہوئی تھی۔ فرمایا گیا ہے: تیرے پروردگار کی قسم! ہم یقینی طور پر ان سب سے سوال کریں گے (فَوَرَبِّکَ لَنَسْاَلَنّھُمْ اَجْمَعِینَ)۔ ان تمام کاموں کے بارے میں جو ہم انجام دیتے تھے۔ (عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُون)۔ واضح ہے کہ خدا کا سوال اس لئے نہیں کہ وہ پوشیدہ بات ظاہر ہو جائے کیونکہ وہ اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے اور زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے علم کے بےپایاں سے مخفی نہیں ہے۔ لہٰذا سوال خدا مخاطب کو سمجھانے کے لئے ہے تاکہ وہ اپنے اعمال کی قباحت کو سمجھ لے یا یہ ایک قسم کی نفسیاتی سزا ہے کیونکہ غلط کاموں کے بارے میں بازپرس اور وہ بھی سرزنش اور ملامت کے ساتھ اور وہ بھی ایسے جہان میں انسان حقائق سے زیادہ قریب اور آگاہ ہے بہت تکلیف دہ ہے۔ لہٰذا یہ سوالات درحقیقت ان کی سزا کا ایک حصہ ہیں۔ ضمنی طور پر "عماکانوا یعملون" کی عمومیت نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے تمام اعمال کے بارے میں بلااستثناء سوال ہو گا اور خود تمام انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ وہ لحظہ بھر بھی اپنے اعمال سے غافل نہ رہیں۔ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سوال توحید اور انبیاء پر ایمان لانے یا مشرکین کے معبودوں سے مربوط ہے ایک ایسی بات ہے جو بغیر دلیل کے ہے۔ آیت کا مفہوم پورے طورپر عمومیت کا حامل ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ اس آیت میں خداوند تعالیٰ سوال کرنے کے بارے میں تاکید کر رہا ہے جبکہ سورہٴ رحمن کی آیہ ۳۹ میں ہے: فیومئذلایسئل عن ذنبہ انس و جان اس روز انسان اور جنوں میں سے کسی سے بھی کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت میں کئی مراحل ہیں بعض مراحل میں لوگوں میں سے سوال ہو گا اور بعض میں نہیں ہو گا جہاں مسائل خود بخود واضح ہوں گے یا یہ کہ زبانی سوال نہیں ہو گا کیونکہ سورہٴ یٰس کی آیت ۶۵ کے مطابق لبوں پر مہر لگی ہو گی اور سوال صرف جسم کے اعضاء سے کیا جائے گا یہاں تک کہ بدن کی کھال سے بھی پوچھا جائے گا۔ (بحوالہ مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ جلد ٣ صفحہ۴۰ (اردو ترجمہ)) _______________________ اس کے بعد رسول اللہؐ کو ایک قطعی فرمان دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: مشرکین کے شور و غل کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ ضعف و خوف اور سستی کو نہ آنے دو اور خاموش ہو کر نہ بیٹھ جاوٴ بلکہ "جس کام کے لئے مامور کئے گئے ہو اسے واضح طور پر بیان کرو"۔ اور حقائق دین صراحت سے کہہ دو" (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ)۔ اور مشرکین سے رخ موڑ لو اور ان سے بےاعتنائی کرو (وَاَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِکِینَ)۔ "فاصدع" "صدع" کے مادہ سے ہے اس کا لغوی معنی ہے شگاف کرنا یا مضبوط چیزوں میں شگاف کرنا اور چونکہ کسی چیز میں شگاف کرنے سے اس کا اندرونی حصہ آشکار ہو جاتا ہے اس لئے یہ لفظ اظہار، افشاء، آشکار اور واضح کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شدید درد سر کو بھی "صداع" کہتے ہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ پھٹ رہا ہو اور شگافتہ ہو رہا ہو۔ بہرحال مشرکین سے اعراض کرنا یہاں یا تو بےاعتنائی کے معنی میں آیا ہے یا پھر ان سے جنگ ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے کیونکہ اس زمانے میں ابھی مسلمان اس مرحلے تک نہیں پہنچے تھے کہ دشمن کی سختی کے جواب میں مسلح مقابلہ کر سکیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ قلب پیغمبر کی تقویت کے لئے انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمسخر اڑانے والوں کے مقابلے میں وہ اپنے نبی کی حمایت کرے گا، ارشاد ہوتا ہے: ہم تمسخر اڑانے والوں کے شر کو تجھ سے دور کیا (إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِینَ)۔ یہ جملہ فعل ماضی کے ساتھ آیا ہے حالانکہ اس کا تعلق آئندہ سے ہے ظاہراً اس حمایت کے حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی ہم ان کے شر کو یقینی طور پر تجھ سے دور کریں گے اور یہ بات حتمی اور طے شدہ ہے۔ بعض مفسرین نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ چھ طرح کے گروہ تھے جس میں ہر ایک رسول اللہؐ ایک خاص قسم کا تمسخر کیا کرتا تھا اور جب آنحضرتؐ دعوت کے لئے کھڑے ہوتے تووہ کوشش کرتے کہ اپنی باتوں سے لوگوں کو آپ کے پاس سے دُور کریں لیکن خداوند تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا اس طرح انھیں اپنی اپنی پڑ گئی اور رسول اللہؐ کو بھی بھول گئے (بعض تفاسیر میں ان کی ابتلاء کی تفصیل آئی ہے)۔ اس کے بعد "مستھزئین" کی توصیف، قرآن یوں کرتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے ساتھ معبود بنا رکھے ہیں لیکن بہت جلد وہ اپنے اس کام کے منحوس نتیجہ سے آگاہ ہو جائیں گے (الَّذِینَ یَجْعَلُونَ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُون)۔ ہو سکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے افکار و اعمال خود مضحکہ خیز ہیں کیونکہ یہ اس قدر ناداں ہیں جہانِ ہستی کے خالق خدا کے مقابلے میں انھوں نے پتھر اور لکڑی کے معبود تراش رکھے ہیں اس کے باوجود وہ تیرے ساتھ تمسخر کرنا چاہتے ہیں۔ دوبارہ روح پیغمبرؐ کی دلجوئی اور تقویت کے لئے فرمایا گیا ہے: ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تیرے سینے کو تنگ کر دیتی ہیں اور تیری پریشانی کا باعث بنتی ہیں (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُون)۔ تیری لطیف روح اور حساس دل یہ سب بدگوئی اور کفر و شرک آمیز باتیں برداشت نہیں کر سکتا اور اسی بناء پر تو پریشان ہو جاتا ہے۔ لیکن تو پریشان نہ ہو اور ان کی گھٹیا اور ناہنجار باتوں کے اثرات کم کرنے کے لئے "اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کر اور اس کی ذاتِ پاک کے سامنے سجدہ ریز ہو جا (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنْ السَّاجِدِینَ)۔ کیونکہ اللہ کی تسبیح ان کی گفتگو کے برُے اثرات کو مشتاقان خدا کے دلوں سے دور کر دیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تجھے توانائی بخشتی ہے اور نور و صفا عطا کرتی ہے۔ دل کو جلا دیتی ہے۔ خدا سے تیرے رشتے کو محکم کر دیتی ہے۔ تیرے ارادے کو قوی کر دیتی ہے۔ زیادہ قوت برداشت عطا کرتی ہے۔ جہاد پر زیادہ آماد ہ کرتی ہے اور زیادہ راسخ قدم بنا دیتی ہے۔ روایات میں ابن عباس سے مروی ہے: رسول اللہؐ غمگین ہو جاتے تو نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور نماز کے ذریعے ان آثار حزن و ملال کو دل سے دور کرتے۔ اس سلسلے میں آخری حکم یہ دیا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کی عبادت سے زندگی بھر دستبردار نہ ہونا" ہمیشہ ان کی بندگی کرتا رہ یہاں تک کہ یقین (موت) آ جائے (وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَاْتِیَکَ الْیَقِینُ)۔ مفسرین میں مشہور ہے کہ "یقین" مراد یہاں موت ہے اور موت کو اس لئے یقین کہا گیا ہے کہ یہ ایک امر مسلم ہے۔ انسان ہر چیز میں شک کر سکتا ہے لیکن موت میں شک نہیں کر سکتا، یا اس لئے اسے یقین کہا گیا ہے کہ موت کے وقت پردے ہٹ جاتے ہیں اور حقائق انسان کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہو جاتے ہیں اور اس کے بارے میں یقین کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ سورہ مدثر کی آیت ۴۶۔۴۷۔ میں دوزخیوں کا یہ قول بیان کیا گیا ہے: وکنا نکذب بیوم الدین حتی اتاناالیقین ہم ہمیشہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ یقین (موت) نے ہمیں آ لیا۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو صوفیاء نے زیر بحث آیت کو ترک عبادت کے لئے دستاویز بنا لیا ہے اور کہا ہے کہ آیت کہتی ہے کہ عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں یقین آ جائے لہٰذا حصولِ یقین کے بعد عبادت کی ضرورت نہیں، یہ ایک بےبنیاد گفتگو ہے۔ کیونکہ:۔ اولاً: بعض قرآنی آیات گواہی دیتی ہیں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ یقین موت کے معنی میں ہے کہ جو مومنین کو بھی آئے گی اور دوزخیوں کو بھی۔ ثانیاً: اس گفتگو کے مخاطب پیغمبر اکرمؐ ہیں اور یقین پیغمبر کا مقام سب پر روشن ہے تو کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ آپ ایمان کے لحاظ سے اس مقامِ یقین کے حامل نہ تھے۔ ثالثاً: تواریخ متواتر گواہی دیتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے اپنی عمر کی آخری گھڑیوں تک عبادت ترک نہیں کی اور حضرت علی (علیہ السلام) محراب عبادت میں شہید ہوئے اور اسی طرح باقی آئمہ۔

چند اہم نکات ۱۔ اعلانیہ دعوتِ اسلام کا آغاز

جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات: فاصدع بماتوٴمر واعرض المشرکین انا کفیناک المستھزئین مکہ میں نازل ہوئیں جبکہ پیغمبر اسلامؐ تین برس تک مخفی طور پر دعوت دے چکے تھے اور آپ کے قریبوں میں سے چند افراد آپ پر ایمان لا چکے تھے جن میں عورتوں میں سے سب سے پہلے جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا تھیں اور مردوں میں حضرت علی علیہ السلام تھے۔ واضح ہے کہ اس زمانے میں اور اس ماحول میں توحید خالص کی دعوت اور نظامِ شرک و بت پرستی کو درہم برہم کرنا عجیب و غریب اور نہایت کٹھن کام تھا لہٰذا یہ بات تو شروع ہی سے نمایاں تھی کہ کچھ لوگ تمسخر اڑائیں گے لہٰذا خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر (ص) کے دل کو تقویت دیتا ہے۔ استہزاء کرنے والوں اور دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈریں اور اپنی دعوت کھلے بندوں شروع کر دیں اور اس راہ میں ایک پیہم مسلسل اور منطقی جہاد کے لئے تیار ہو جائیں۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳)۔

۲۔ خدا کی طرف توجہ کا روحانی اثر

انسانی زندگی میں ہمیشہ مشکلات آتی رہتی ہیں یہ دنیاوی زندگی کا مزاج ہے انسان جس قدر بڑا ہوتا جاتا ہے مشکلات بھی بڑی ہوتی جاتی ہیں اس سے عظیم مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن کا سامنا رسول اللہؐ کو اپنی عظیم دعوت کے لئے کرنا پڑا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ اپنے رسولؐ کو حکم دیتا ہے کہ زیادہ قوت کے حصول کے لئے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ وسعت قلب کے لئے تسبیح الٰہی، دعا اور اس کے آستانے پر سجدہ ریزی کریں۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی روح میں ایمان اور ارادے کی تقویت کے لئے عبادت گہرا اثر رکھتی ہے۔ مختلف روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بزرگ پیشواوٴں کو عظیم مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خانہ خدا کا رخ کرتے اس کی عبادت کے زیر سایہ راحت و آرام اور طاقت و قوت حاصل کرتے۔

۳۔ عبادت اور تکامل و ارتقاء

ہم جانتے ہیں کہ انسان ایسا موجود ہے جو تکامل و ارتقاء کی اعلیٰ ترین استعداد رکھتا ہے اس کے سفر کا آغاز نقطہٴ عدم سے ہوا ہے اور وہ لامتناہی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اگر وہ راہ تکامل پر چلتا رہے تو کہیں بھی ٹھہراوٴ نہیں آئے گا۔ ایک طرف ہم جانتے ہیں کہ عیادت تربیتِ انسان کا اعلیٰ ترین مکتب اور عبادت انسانی سوچ کو بیدار کرتی ہے اور اس کی فکر کو لامتناہی منزل کی طرف متوجہ کرتی ہے اس کے قلب و روح سے گناہ اور غفلت کا گرد و غبار دور کرتی ہے اس کے وجود میں اعلیٰ انسانی صفات کی پرورش کا باعث بنتی ہے۔ روح ایمان کو تقویت دیتی ہے اور انسان کو آگاہ اور مسئولیت عطا کرتی ہے لہٰذا ممکن ہے کہ انسان لمحہ بھر کے لئے بھی اس عظیم تربیتی مکتب سے بےنیاز ہو اور وہ لوگ یہ جو سوچتے ہیں ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ انسان ایک ایسا مقام پر پہنچ جائے کہ جہاں عبادت کرنے کی ضرورت نہ ہو انھوں نے انسان کے تکامل و ارتقاء کو محدود خیال کیا ہے یا وہ مفہوم عبادت نہیں سمجھ سکے۔ علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں اس سلسل میں ایک بحث کی ہے ہم اسے اختصار کے ساتھ ذیل میں پیش کرتے ہیں:۔ اس عالم کے تمام موجودات کمال کی طرف محو سفر ہیں اور انسانی تکامل معاشرے کے اندر ہوتا ہے لہٰذا انسان ذاتی طور پر سماجی فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ایک طرف انسانی معاشرے اس صورت میں انسان کی تربیت اور تکامل کا ضامن بن سکتا ہے کہ وہ منظم قوانین کے احترام کے زیر سایہ اپنے امور بجا لائیں، ٹکرائی سے بچیں اور ذمہ داریوں کی حدود واضح کریں۔ دوسرے لفظوں میں اگر انسانی معاشرہ صالح ہو جائے تو لوگ اس میں رہ کر اپنے اصلی ہدف تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر معاشرہ خراب ہو تو پھر لوگ اس تکامل و ارتقاء سے رک جاتے ہیں یہ احکام و قوانین و ارتقاء سے رک جاتے ہیں یہ احکام و قوانین اجتماعی ہوں یا عبادتی اس صورت میں موثر ہوں گے جب نبوت اور آسمانی وحی سے لئے گئے ہوں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عبادتی احکام انفرادی ہوں یا اجتماعی تکامل کے ایک حصے پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب تک انسانی معاشرہ موجود ہے اور اس دنیا میں اس کی زندگی جاری و ساری ہے الہٰی ذمہ داریاں اور احکام بھی جاری ہیں اور انسان کی ذمہ داریوں اور قوانین کے خاتمے کا مطلب احکام و قوانین کی فراموشی ہے اور اس کا نتیجہ انسانی معاشرے کی خرابی اور فساد ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ نیک اعمال اور عبادات انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے حصول کا سرچشمہ ہیں اور جب یہ اعمال کافی حد تک انجام پائیں اور انسان کے اندر یہ اعلیٰ صلاحتیں اور ملکات بیدار ہو جائیں تو یہ ملکات بھی اپنی باری پر زیادہ نیک اعمال اور خدا کی زیادہ اطاعت و بندگی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جن کا گمان ہے کہ حکم کا مقصد انسانی تکمیل ہے لہٰذا جب انسان اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو پھر بقاء کا کوئی معنی نہیں ان کا خیال مغالطے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ اگر انسان ذمہ داریوں اور احکام کی انجام دہی سے دستبردار ہو جائے تو معاشرہ فوراً ابتری کا رخ کرے گا لہٰذا ایسے معاشرے میں ایک فرد ِ کامل کیسے زندگی بسر کر سکتا ہے اور اگر ملکات اپنے حقیقی اثرات سے رو گردان ہو گئے ہیں (غور کیجئے گا)

end of chapter