Al-Waqi'ah
سورہ واقعہ
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی۔ اس میں ۹۶ آیات ہیں۔
سُورہ واقعہ اور اس کے مضامین
"تاریخ القرآن" میں ابنِ ندیم سے منقول ہے کہ سورۂ "واقعہ" چوالیسواں سورہ ہے جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ہے۔ [بحوالہ: "تاریخ القرآن" ابو عبداللہ زنجانی ص ۵۹]۔ اس سے پہلے سورۂ طٰہٰ اور اس کے بعد سورۂ شعراء نازل ہوا۔ یہ سورہ، جیسا کہ اس کے لب و لہجے سے واضح ہے اور مفسّرین نے بھی تصریح کی ہے، مکہ میں نازل ہوا۔ اگرچہ بعض نے کہا ہے کہ اس کی آیت ۸۱، ۸۲ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، لیکن اس کے ثبوت کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور مذکورہ بالا آیتوں میں اس دعوے کی کوئی علامت بھی نہیں ہے۔ سورۂ واقعہ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے، قیامت اور اس کی خصوصیات کے مضامین pر مشتمل ہے اور یہ مسئلہ اس سورہ کی ۹۶ آیتوں کا بنیادی موضوع ہے، لیکن ایک لحاظ سے، اس سورہ کے مضامین کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1۔ ظہورِ قیامت کا آغاز اور اس سے ملحق سخت و وحشتناک حوادث۔ 2۔ اس دن انسانوں کی اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور مقربین میں تقسیم۔ 3۔ مقاماتِ مقربین کے بارے میں تفصیلی بحث اور جنت میں انواع و اقسام کے ثواب اور سزائیں۔ 4۔ پہلے گروہ یعنی اصحاب الیمین کے بارے میں تفصیلی بحث اور الہٰی نعمتیں۔ 5۔ مسئلہ معاد کے سلسلہ میں مختلف دلائل کا بیان، خدا کی قدرت اور انسان کی حقیر و ناچیز نطفہ سے خلقت، نباتات میں تجلیِ حیات، نزول بارش اور آگ کا روشن ہونا، کہ یہ سب توحید کی علامتوں کے ذیل میں آتا ہے۔ 6۔ اصحاب الشمال کے بارے میں قابلِ توجہ بحث اور دوزخ میں ان کی دردناک سزائیں۔ 7۔ حالتِ احتضار کی تصویرکشی اور اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف انتقال، جو قیامت کے مقدمات میں سے ہے۔ 8۔ مومنین کی جزا و ثواب اور کفار کے عذاب پر ایک اجمالی نظر۔ آخر میں یہ سورہ پروردگار کے عظیم نام پر ختم ہو جاتا ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سورہ کی تلاوت کے بارے میں اسلامی کتابوں میں بہت سی روایات موجود ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: "من قرأ سورة الواقعة كتب ليس من الغافلين۔" یعنی: "جو شخص سورۂ واقعہ کی تلاوت کرے گا تو اس کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ غافلین میں سے نہیں ہے"۔ [بحوالہ: فسیر مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢١٢، تفسیر برہان، جلد ۴، صفحہ ٢٧٣]۔ اس سورہ کی آیتیں اس قدر دل ہلا دینے والے اور چونکا دینے والی ہیں کہ ان کے پڑھنے کے بعد پھر انسان کے لیے غفلت کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی بنا پر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک اور حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام سے یہ سوال ہوا کہ آپ کے چہرۂ مبارک پر بڑھاپے کے آثار اس قدر جلد کیوں نمایاں ہو گئے؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "شیبتني هود، والواقعة، والمرسلات، وعم يتساءلون۔" یعنی: "سورۂ ہود، واقعہ، المرسلات اور عم یتساءلون نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔" [بحوالہ: خصال صدوق، باب الاربعہ، حدیث ١٠]۔ کیونکہ ان سورتوں میں قیامت کے دل دہلا دینے والے واقعات، ہولناک حادثات، مجرموں کی سزاؤں کا بیان ہے۔ اس طرح گزشتہ قوموں کے لرزہ براندام کر دینے والے واقعات اور وہ مصیبتیں اور بلائیں ہیں کہ جو ان پر نازل ہوئیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک اور حدیث میں ہے کہ: "من قرأ في كل ليلة جمعة الواقعة أحبه الله وحببه إلى الناس أجمعين، ولم ير في الدنيا بؤساً أبداً ولا فقراً ولا فاقة ولا آفة من آفات الدنيا، وكان من رفقاء أمير المؤمنين۔" یعنی: "جو شخص ہر شبِ جمعہ سورۂ واقعہ کی تلاوت کرے تو خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے لوگوں کا محبوب بنا دیتا ہے۔ وہ دنیا میں ہرگز ناراضی اور تکلیف نہیں دیکھے گا، فقر و فاقہ اور دنیاوی آفات سے محفوظ رہے گا اور وہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے رفقاء میں شمار ہو گا"۔ [بحوالہ: "ثواب الاعمال"، مطابق نقل "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ٢٠٣]۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ عثمان بن عفان، عبداللہ ابن مسعود کی عیادت کے لیے گئے، اس بیماری میں کہ جس میں عبداللہ ابن مسعود کا انتقال ہوا۔ تو انہوں نے ان سے پوچھا: "تم کس بات پر پریشان ہو"؟ عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ: "اپنے گناہوں کی وجہ سے پریشان ہوں۔" حضرت عثمان رض نے کہا: "تمہارا دل کیا چاہتا ہے"؟ عبداللہ ابن مسعود نے جواب میں کہا کہ : "اللہ کی رحمت۔" حضرت عثمان نے کہا کہ اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے علاج کےلیے طبیب لے آوں۔ وہ کہنے لگے: مجھےطبیب ہی نے بیمار کیا ہے۔ حضرت عثمان نے کہا کہ: "اگر تمہارا دل چاہے تو میں حکم دوں کہ تمہارا عطیہ بیت المال سے لے آئیں۔" عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ: "جس وقت مجھے اس کی ضرورت تھی، تم نے وہ مجھے نہیں دیا۔ آج جب کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، تو تم مجھے دیتے ہو۔" حضرت عثمان کہنے لگے : "اگر وہ رقم تمہاری بیٹیوں کے کام آئے تو بھی کوئی حرج نہیں۔" انہوں نے کہا کہ: "میری لڑکیوں کو بھی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے کہ سورۂ واقعہ پڑھا کریں۔ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ: "من قرأ سورة الواقعة كل ليلة لم تصبه فاقة أبداً۔" یعنی: "جو شخص رات کو سورۂ واقعہ پڑھے، وہ کبھی بھی افلاس کا شکار نہیں ہو گا"۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢١٢]۔ اسی بنا پر سورۂ واقعہ کو ایک روایت میں "سورۂ غنی" (یعنی مالداری کا سورہ) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ٢٧، صفحہ ١١١]۔ یہ امر بخوبی واضح ہے کہ صرف زبان سے ادا کر لینے سے یہ تمام برکتیں حاصل نہیں کی جا سکتیں بلکہ ضروری ہے کہ تلاوت کے ساتھ ساتھ تفکر ہو اور تفکر کے ساتھ عمل بھی ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: عظیم واقعہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 8قیامت سے ربط رکھنے والے مسائل قرآن مجید میں عام طور پر عظیم انقلاب برپا کرنے والے اور سرکوبی کرنے والے حادثات کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور یہ قرآن کی ان بہت سی سورتوں میں نظر آتے ہیں جو قیامت کے متعلق بحث کرتی ہیں۔ اس سورۂ واقعہ میں، جس کا مرکزی خیال معاد ہے، اس کی ابتدائی آیات میں یہی واضح نظر آتا ہے۔ پروردگارِ عالم آغاز ہی میں فرماتا ہے: "جس وقت قیامت کا عظیم واقعہ رونما ہو گا" (إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ)۔ [تشریحی نوٹ: "اذا" ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا ناصب لفظ "لیس" ہے، جو دوسری آیت میں آیا ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں "یوم الجمعة لیس لی شغل" (جمعہ کے دن میرا کوئی مشغلہ نہیں ہے)۔ یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اس کا ناصب "اذکر" مقدر ہو یا "کان کذا و کذا" کا جملہ ہو (کشاف زیر بحث آیت کے ذیل میں)، لیکن پہلا احتمال سب سے زیادہ مناسب ہے]۔ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا (لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ)۔ کیونکہ اس کے رونما ہونے سے پہلے کے حوادث اس قدر شدید اور ہولناک ہوں گے کہ ان کے اثرات دنیا کے ذرہ ذرہ پر نمایاں ہوں گے۔ "واقعۃ" اجمالی طور پر قیامت کے برپا ہونے اور مردوں کے قبروں سے اٹھنے کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ اس کا واقع ہونا قطعی و یقینی ہے، اس لیے اسے واقعہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مفسرین نے واقعہ کو قیامت کے ناموں میں سے ایک نام بتایا ہے۔ "کاذبة" کے لفظ کو بعض مفسرین نے یہاں مصدری معنوں میں لیا ہے، جو کہ اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا وقوع اس طرح ظاہر اور آشکار ہو گا کہ کسی قسم کی تکذیب اور اختلافات کی گنجائش نہیں ہو گی۔ بعض مفسرین نے اس کی اس کے ظاہری معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے، اس اعتبار سے کہ یہ اسم فاعل ہے اور کہا ہے کہ قیامت کے وقوع کے سامنے کوئی تکذیب کرنے والا موجود نہیں ہو گا۔ [تشریحی نوٹ: ضمیر کا مؤنث ہونا اس بنا پر ہے کہ تقدیر عبارت "نفسِ کاذبہ" یا ضمنی طور پر "لو قعتھا" کے "لام" کو بعض مفسرین نے توقیت سمجھا ہے]۔ بہرحال، قیامت نہ صرف یہ کہ کائنات کی تباہی کے ساتھ لازم ہے بلکہ اس کے نتیجے میں انسان بھی درہم و برہم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ بعد کی آیات میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ایک گروہ کو نیچے لے جائیں گے اور دوسرے کو اوپر لے آئیں گے" (خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "خافِضَة رافِعَة" مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور اصل میں "ھی خافِضَة رافِعَة" تھا]۔ تکبر کرنے والے، اکڑنے والے اور صدرِ نشین ظالم نیچے گِرا دیے جائیں گے اور کمزور، مومن اور نیک افراد اوجِ افتخار پر متمکن ہوں گے۔ خواہ مخواہ بنے ہوئے عزت دار ذلیل ہوں گے اور بلاوجہ محروم کیے گئے افراد عزیز ہوں گے۔ ایک گروہ قعرِ جہنم میں گرے گا، دوسرا گروہ بہشت کے اعلیٰ علیّین میں قیام پذیر ہو گا اور یہ خدائی عظیم و وسیع انقلاب کی خصوصیت ہے۔ اسی لیے امام زین العابدین علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا: "خَافِضَةٌ خَفَضَتْ وَاللّٰہِ بِأَعْدَاءِ اللّٰہِ فِی النَّارِ، رَافِعَةٌ رَفَعَتْ وَاللّٰہِ أَوْلِیَاءَ اللّٰہِ إِلَی الْجَنَّةِ۔" "قیامت خافضہ ہے، کیونکہ خدا کی قسم! وہ دشمنانِ خدا کو جہنم کی آگ میں گرا دے گی اور رافعہ ہے، کیونکہ خدا کی قسم! اولیاءِ اللہ کو بہشت میں لے جائے گی۔" [بحوالہ: خصال، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۰۴]۔ اس کے بعد اسی سلسلہ میں توصیف کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے: "یہ اس وقت ہو گا جب زمین شدت کے ساتھ لرزنے لگے گی" (إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا)۔ یہ زلزلہ اس قدر عظیم و شدید ہو گا کہ پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ "وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا۔" اور غبار کی شکل میں بکھر جائیں گے: "فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا۔" رَجّت کا مادّہ رَجّ (بروزن حج) ہے، جس کے معنی شدید حرکت کرنے کے ہیں اور اضطراب کو "رَجْرَجَة" کہا جاتا ہے۔ "بَسَّتْ" کا مادّہ "بَسّ" ہے اور دراصل آٹے کو پانی سے نرم کرنے کے معنی میں ہے۔ "هباء" غبار کے معنی میں ہے اور "منبثا" پراگندہ اور منتشر کے معنوں میں ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "ھباء" بہت ہی چھوٹا غبار ہے جو فضا میں معلق ہو اور عام حالات میں نظر نہ آتا ہو، مگر اس وقت کہ جب سورج کی روشنی کسی سوراخ کے ذریعے اندھیرے کی جگہ داخل ہو جائے۔ اب سوچنا چاہیے کہ وہ زلزلہ کس حد تک سنگین ہو گا، جو ایسے بڑے بڑے پہاڑوں کو، جو اپنے استحکام میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں، اس طرح تتر بتر کر دے گا! کہ وہ بکھرے ہوئے غبار میں بدل جائیں گے اور جو آواز اس عظیم دھماکے کی وجہ سے بلند ہو گی وہ اس سے بھی زیادہ وحشتناک ہو گی۔ بہرحال قرآنی آیات میں قیامت کے قریب پہاڑوں کی وضع اور ان کی کیفیت کے بارے میں طرح طرح کی تعبیریں بیان ہوئی ہیں جو حقیقت میں پہاڑوں کے مختلف مرحلوں میں بہت بھیانک انداز میں پھٹنے کی خبر دیتی ہے۔ پروردگارِ عالم کبھی فرماتا ہے: "پہاڑ حرکت میں آجائیں گے" (وَتَیْسِرُ الْجِبَالُ سَیْرًا) (طور: ١٠٠)۔ اور کبھی فرماتا ہے: "پہاڑ اپنی جگہ سے اکھاڑ دیے جائیں گے" (وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ) (مرسلات: ١٠)۔ اور کبھی فرماتا ہے: "انہیں اٹھا دیا جائے گا اور وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے" (فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً) (حاقہ: ۱۴)۔ کبھی فرماتا ہے: "ریت کے تہہ بہ تہہ ٹیلوں میں تبدیل ہو جائیں گے" (وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا) (مزمل: ۱۴)۔ کبھی فرماتا ہے: "وہ غبار کی شکل میں پراگندہ ہو جائیں گے" (زیر بحث آیت)۔ اور آخر میں فرماتا ہے: "دھنکی ہوئی روئی کی طرح ایسے فضا میں بکھر جائیں گے کہ صرف ان کا رنگ نظر آئے گا" (وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ) (قارعہ: ۵)۔ ہاں، البتہ خدا کے علاوہ کوئی پورے طور پر نہیں جانتا کہ ان حادثوں کا کون سا راستہ ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو ہمارے الفاظ کے سانچے میں ڈھل سکے، لیکن یہ تمام پُر معنی اشارے اس دھماکے کی عظمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس عظیم واقعے، یعنی قیامت کے وقوع کے بیان کے بعد، اس دن لوگوں کی جو حالت ہو گی، اسے پیش کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے قرآن انہیں تین حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے: "اس روز تم تین گروہ ہو جاؤ گے" (وَ کُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَة)۔ ہمیں معلوم ہے کہ لفظ "زوج" مذکر و مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، بلکہ ان معاملات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو باہم قریب ہوں۔ چونکہ آدمیوں کی مختلف صنفیں قیامت میں ایک دوسرے کے قریب ہوں گی، لہٰذا ان کے لیے "ازواج" استعمال ہوا ہے۔ پہلے گروہ کے بارے میں فرماتا ہے: "پہلے اصحابِ میمنہ ہیں، کیا ہیں اصحابِ میمنہ!" (فَأَصْحابُ الْمَیْمَنَةِ ما أَصْحابُ الْمَیْمَنَة)۔ [تشریحی نوٹ: اپنی ترکیب کے اعتبار سے اس جملے میں کئی احتمال ہیں، جن میں سب سے مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے "فَأَصْحابُ الْمَیْمَنَہ" اور "ما" استفہامیہ دوسرا مبتدا ہے اور "اصحاب المیمنہ" اس کی خبر ہے اور مجموعہ یہ دونوں پہلے مبتدا کی خبر ہیں، اور "فا" جملے کے آغاز میں تفسیر کے عنوان کی حیثیت سے ہے]۔ اصحابِ میمنہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نامۂ اعمال ان کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ صورتِ حال قیامت میں نیکوکار، اہلِ نجات مومنین کی نشانی ہو گی۔ چنانچہ آیاتِ قرآنی میں اس طرف بارہا اشارہ کیا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ "میمنہ" یُمن سے مشتق ہے، جس کے معنی سعادت اور خوش بختی کے ہیں۔ اس اعتبار سے پہلا گروہ سعادت مند اور خوش قسمت افراد کا ہے۔ اس کے بعد والی آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جس میں دوسرے گروہ کو "اصحابُ المشئمہ" (شوم سے مشتق) کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، یہ آخری تفسیر ہی مناسب ہے۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ بعد والی آیت میں "أَصْحابُ الْمَشْئَمَةِ" کی جگہ "أَصْحابُ الشْمال" آیا ہے]۔ "ما اصحاب المیمنۃ۔" "کیا کہنے اس خوش قسمت گروہ کے!" یہ تعبیر اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ان لوگوں کی خوش قسمتی کی کوئی انتہا نہیں ہے اور یہ بہترین تعریف ہے جو اس گروہ سے متعلق کہی جا سکتی ہے۔ جیسے کہ ہم کہیں: "فلاں شخص انسان ہے اور انسان بھی کیسا!" اس کے بعد دوسرے گروہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اصحابِ شوم، اور کیا ہیں اصحابِ شوم!" (وَ أَصْحابُ الْمَشْئَمَةِ ما أَصْحابُ الْمَشْئَمَةِ)۔ یہ بدبخت، بےچارہ اور بےنوا گروہ ہو گا۔ ایسے لوگ جن کا نامۂ اعمال ان کے اُلٹے ہاتھ میں دیا جائے گا، جو ان کی بدبختی اور ان کے جرم کی خود نشانی ہو گا۔ "ما أَصْحابُ الْمَشْئَمَة" کی تعبیر یہاں بھی ان کی بدبختی اور شقاوت کو ظاہر کرتی ہے۔ آخر میں تیسرے گروہ کی اس طرح تعریف کرتا ہے:"اور سبقت کرنے والے، سابقین!" (وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُون)۔ [تشریحی نوٹ: اس آیت کی اور اس کے بعد والی آیت کی ترکیب کے بارے میں بہت سے احتمالات پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا احتمال یہ ہے کہ پہلا "السابقون" مبتدا ہے اور دوسرا اس کی صفت یا تاکید ہے اور "اولئک المقربون" مبتدا اور خبر ہو کر مجموعہ "السابقون" کی خبر ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ "وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُون" مبتدا و خبر ہیں، جیسے "ابوالنجم" کے مشہور شعر میں: "انا ابو النجم وشعری شعری۔" (میں ابوالنجم ہوں اور میرا شعر صرف میرا ہی شعر ہے)۔ یہ واقعی ایک عالی تعریف و توصیف ہے۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ پہلے "السابقون" کے معنی ہیں ایمان میں سبقت کرنے والے اور دوسرے "السابقون" کے معنی ہیں جنّت کی طرف سبقت کرنے والے۔ اس صورت میں بھی یہ مبتدا و خبر ہی ہوں گے]۔ "وہی مقرب ہیں۔" (أُولئِکَ الْمُقَرَّبُونَ)۔ "سابقون" وہ لوگ ہیں جو نہ صرف ایمان میں پیش قدمی کرتے ہیں بلکہ انسانی صفاتِ اخلاق میں بھی سبقت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کے لیے نمونہ ہیں اور مخلوق کے لیے امام و پیشوا ہیں اور اسی وجہ سے خدائے بزرگ و برتر کے مقربینِ بارگاہ ہیں۔ اس بنا پر اگر بعض مفسّرین نے ان کے سابق ہونے کو اطاعتِ خداوندی، پنجگانہ نماز، جہاد، ہجرت، یا توبہ سے متعلق کیا ہے، تو ہر ایک نے اس وسیع مفہوم کے صرف ایک گوشے کی طرف توجہ کی ہے۔ ورنہ یہ لفظ دوسری نیکیوں اور برکتوں کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور پھر اسلامی روایات میں اگر کبھی "السابقون" کا مصداق چار افراد کو قرار دیا گیا ہے، یعنی: 1. ہابیل۔ 2. مومن آلِ فرعون۔ 3. حبیب نجّار۔ (کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی امت کے مقابلے میں پیش قدمی کی ہے)۔ 4. امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام (جو مردوں میں سب سے پہلے صاحبِ ایمان تھے)۔ یہ ایک واضح مصداق کی نشاندہی ہے اور آیت کے مصداق کو محدود کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہی معنی ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے (مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۱۵)]۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اَتَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَی ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ"؟۔ (کیا تم جانتے ہو کہ قیامت میں لطفِ پروردگار کے سایہ میں کون لوگ ہوں گے؟) اصحاب نے عرض کی: "خدا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ آگاہ ہیں۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اَلَّذِینَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوہُ، وَإِذَا سُئِلُوہُ بَذَلُوہُ، وَحَکَمُوا لِلنَّاسِ کَحُکْمِہِمْ لِأَنفُسِہِمْ۔" (وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب انہیں حق دیا جائے تو اسے قبول کر لیتے ہیں اور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اسے مسائل تک پہنچا دیتے ہیں۔ لوگوں کے بارے میں اسی طرح حکم کرتے ہیں جس طرح اپنے بارے میں حکم کرتے ہیں)۔ [بحوالہ: تفسیر مراغی جلد ۲۷ ص ۱۳۴]۔ بعض روایات میں "السابقون" کا مفہوم مرسل و غیر مرسل پیغمبر بتایا گیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۵ ص ۲۰۶]۔ ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ ابنِ عباس کہتے ہیں کہ میں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھ سے اس طرح کہا ہے: "ذَالِکَ عَلِیٌّ وَشِیعَتُہُ، ھُمُ السَّابِقُونَ إِلَی الْجَنَّةِ، الْمُقَرَّبُونَ مِنَ اللّٰہِ بِکَرَامَتِہِ لَہُمْ۔" (یہ علی علیہ السلام اور ان کے پیروکار ہیں جو جنت کی طرف پیش قدمی کرنے والے ہیں اور وہ مقربین بارگاہِ خدا ہیں، اس احترام کی بنا پر جو خدا کی نظر میں ان کا ہے)۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۵ ص ۲۰۹]۔ یہ بھی درحقیقت مذکورہ بالا مفاہیم کے واضح مصداقوں کا بیان ہے، ایسا مفہوم کہ جس میں ہر ملّت و اُمّت کے تمام سابقین شامل ہیں۔ اس کے بعد ایک مختصر سے جملے میں مقربین کے مقامِ بلند کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "مقربین جنّت کے پُرلغت باغات میں ہیں" (فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ)۔ [تشریحی نوٹ: "فی جَنَّاتِ النَّعیمِ" (جار و مجرور) ہو سکتا ہے "مقربین" سے متعلق ہوں یا ایک محذوف سے متعلق ہو جو "حال" ہے "مقربین" کے لیے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے "کائنین فی جنات النعیم" یا خبر کے بعد خبر ہے]۔ "جنّات النعیم" کے مفہوم میں بہشت کی مادی و معنوی تمام اقسام کی نعمتیں شامل ہیں۔ ضمنی طور پر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ صرف جنت کے باغات ہی نعمتوں کا مرکز ہیں، برخلاف دنیا کے باغات کے، جو کبھی کبھی وسیلہ زحمت بھی بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ مقربین کی آخرت کی حالت ان کی دنیا کی حالت سے مختلف ہے، اس لیے دنیا میں ان کا مقامِ بلند اپنے اندر ذمہ داری اور جواب دہی کا پہلو بھی رکھتا ہے، جب کہ آخرت میں وہ صرف نعمت کا سبب ہو گا۔ واضح رہے کہ یہاں قرب سے مراد قربِ معنوی ہے، نہ کہ قربِ مکانی، اس لیے کہ خدا مکان نہیں رکھتا اور وہ ہم سے ہماری نسبت زیادہ قریب ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں گزشتہ امتوں اور اس امت کے افراد کی تقسیم کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "بہت سے گروہ گزشتہ امتوں میں سے ہیں۔" (ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ)۔ "اور ایک چھوٹا سا گروہ آخری امت میں سے ہے۔" (وَقَلِیلٌ مِنَ الْآخِرِينَ)۔ "ثُلَّةٌ" جیسا کہ راغب "مفردات" میں کہتا ہے کہ اصل میں پشم کے مجتمع ٹکڑوں کے معنی میں ہے اور اس کے بعد میں جماعت یا گروہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے "ثُلَّ عرشہ" (اس کا تخت گِر پڑا اور اس کی حکومت ختم ہو گئی) سے مشتق سمجھا ہے اور اسے "قطعہ" کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ یہاں مقابلہ کے قرینے کے ماتحت (وَقَلِیلٌ مِنَ الْآخِرِينَ) کے ساتھ قطعہ عظیم کے معنوں میں ہے۔ ان دونوں آیتوں کے مطابق مقربین کے زیادہ گروہ گزشتہ امتوں میں سے ہیں اور ان میں سے صرف تھوڑے سے افراد امتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہاں یہ سوال درپیش ہو کہ یہ صورتِ حال امتِ اسلامیہ کی اس بےحد اہمیت سے کس طرح مطابقت رکھتی ہے، جب کہ خدا انہیں "بہترین امت" کے خطاب سے نوازتے ہوئے فرماتا ہے:"کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ۔" (آلِ عمران، ۱۱۰) اس سوال کا جواب دو نکات پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے: 1. پہلا یہ کہ مقربین سے مراد وہی سابقین اور ایمان میں پیش قدمی کرنے والے ہیں۔ یہ طے شدہ ہے کہ امتِ اسلامی میں صدر اوّل میں اسلام قبول کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے والے تھوڑے سے افراد تھے۔ o مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی علیہ السلام تھے۔ o عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ علیہا السلام تھیں۔ جبکہ گزشتہ انبیاء کی کثرت، ان کی امتوں کی تعداد، اور ہر امت میں پیش قدمی کرنے والوں کا موجود ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ تعداد میں زیادہ ہوں۔ 2. دوسرا یہ کہ عددی کثرت کیفی برتری کی دلیل نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس امت کے سابقین کی تعداد کم ہو، لیکن مرتبہ و مقام کے لحاظ سے بہت ہی افضل و برتر ہوں۔ جیسا کہ خود انبیاء میں بھی فرق ہے: "تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ۔" (ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی)۔ (البقرہ، ۲۵۳) اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بعض مومنین ایمان میں سبقت کرنے والوں کے زمرے میں نہ ہوں، لیکن دوسری صفات اور خصوصیات کے حامل ہوں، جو انہیں سابقین کے ہم پلہ بنا دیں اور اجر و جزا کے لحاظ سے وہ "السابقون" کے برابر ہوں۔ اسی لیے بعض روایات میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "نَحْنُ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ وَنَحْنُ الْآخِرُونَ۔" (ہم ہی السابقون السابقون ہیں اور ہم آخرون بھی ہیں)۔ [بحوالہ: تفسیر صافی، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پیروکاروں کی ایک جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "أَنْتُمُ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ وَالسَّابِقُونَ الآخِرُونَ وَالسَّابِقُونَ فِي الدُّنْيَا إِلَی وِلَايَتِنَا وَفِي الآخِرَةِ إِلَی الْجَنَّةِ۔" "تم پہلے بھی سابقون ہو اور آخری سابقون ہو۔ تم دنیا میں ہماری ولایت کی طرف سبقت کرنے والے ہو اور آخرت میں جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہو۔" [بحوالہ: تفسیر صافی، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بعض مفسرین اوّلین و آخرین کا مصداق اوّلین امتِ اسلام اور آخرین اسلام کو بتاتے ہیں۔ لہٰذا اس تفسیر کے مطابق تمام مقربین امتِ اسلامی میں سے ہیں، لیکن یہ نقشہ نہ تو ظاہر آیات کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ان روایات کے ساتھ جو ان آیتوں کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں، جو گزشتہ امتوں کے افراد کو بھی خصوصیت کے ساتھ سابقین و اوّلین کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جنّت کی وہ نعمتیں جو مقربین کی منتظر ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیتیں انواع و اقسام کی نعمتوں کو، جو تیسرے گروہ یعنی مقربین کا نصیب ہوں گی، بیان کرتی ہیں۔ وہ نعمتیں جن میں سے ہر ایک دوسری سے زیادہ شوق انگیز اور روح پرور ہے، وہ نعمتیں جنہیں سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "وہ صف کشیدہ اور ایک دوسرے سے پیوستہ پلنگوں پر بیٹھے ہوں گے" (عَلی سُرُرٍ مَوْضُونَة)۔ ان پر تکیہ لگائے، ایک دوسرے کے روبرو محبت اور خوشی سے پُر (مُتَّکِئینَ عَلَیْہا مُتَقابِلین)۔ "سرر"، جمع ہے "سریر" کی، جس کا مادہ "سرور" ہے۔ اس کے معنی ایسے پلنگ اور تخت کے ہیں جن پر صاحبانِ نعمت مسرت میں بیٹھے ہوں گے۔ [بحوالہ: "مفرداتِ راغب" کے مطابق، مادہ "سر"]۔ "موضون" کا مادہ "وضن" ہے بروزن وزن، اس کے معنی زرہ بُننے کے ہیں، اس کے بعد اس کا اطلاق ہر اس بنی ہوئی چیز پر ہوا جس کے تار و پُو محکم ہوں۔ یہاں اس سے مراد پلنگ اور تخت ہیں، جو ایک دوسرے کے قریب اور آپس میں ملے ہوئے ہوں گے، یا پھر یہ کہ یہ پلنگ ایک خاص قسم کی بافت رکھتے ہوں گے اور لعل و یاقوت وغیرہ سے بنے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے۔ بہرحال، ان پلنگوں کی ساخت، ان کے بچھائے جانے کی جگہ، اور وہ مجلسِ انس جو وہاں تشکیل پائے گی اور سرور و شادمانی کی لہر جو اس میں موجزن ہو گی، ہر قسم کی تعریف و توصیف سے بالا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا جنت کے پلنگوں اور اہلِ بہشت کی اجتماعی محفلوں کی نہایت عمدہ تعریف ہوئی ہے، جو بتاتی ہے کہ ان لذتوں میں سے ایک لذت یہی محافلِ انس و محبت ہیں۔ رہا یہ کہ وہاں موضوعِ سخن کیا ہو گا؟ اسے کوئی نہیں بتا سکتا! کیا وہ اسرارِ آفرینش کے بارے میں گفتگو کریں گے اور خدا کی تخلیق کے عجائبات کو موضوعِ سخن بنائیں گے؟ یا اصولِ معرفت اور اسمائے حسنیٰ کے بارے میں گفتگو ہو گی؟ یا وہ حوادث جو اس دنیا میں رونما ہوئے، عنوانِ کلام ہوں گے؟ یا وہ جاں کاہ مصائب، جن کے سبب سے انہیں راحت و آسودگی ملی؟ یا کچھ اور ہوں گے، جن کے ادراک کی ہم اس دنیا میں طاقت نہیں رکھتے؟ کوئی کچھ نہیں بتا سکتا۔ اس کے بعد اس کی دوسری نعمت کے سلسلہ میں فرماتا ہے: ایسے نوجوان جو ہمیشہ جوانی کی بانکپن اور اس کی تازگی سے بہرہ ور رہتے ہیں، ان کے گرد و پیش مصروفِ خدمت ہوں گے (یَطُوفُ عَلَیْہِمْ وِلْدان مُخَلَّدُون)۔ "یطوف" کا مادہ طواف ہے، اس سے ان کی مستقل خدمت کی طرف اشارہ ہے۔ "مخلدون" کی تعبیر، اس صورت میں کہ تمام اہلِ بہشت جاودانی ہیں، ان کے نشاط، جوانی، تازگی اور خوبصورتی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ بات کہ یہ نوجوان کون ہیں؟ اس کے بارے میں مختلف تفسیریں ہیں۔ 1. بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ اہلِ دنیا کے وہ فرزند ہیں جو بلوغ سے پہلے راہیِ ملکِ عدم ہو گئے اور چونکہ انہوں نے کوئی نیکی یا برائی نہیں کی، اس لیے اللہ کے کرم کے نتیجے میں انہیں یہ منصب ملا ہے۔ وہ اپنے اس کام میں بہت لذت محسوس کرتے ہیں کہ وہ مقربین بارگاہِ الہٰی کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ بات ایک حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے۔ 2. لیکن ایک تفسیر میں ملتا ہے کہ یہ مشرکین کے بچے ہیں، جو بےگناہ ہونے کی بنا پر اس مرتبے پر فائز ہوئے ہیں، کیونکہ مومنین کے بچے تو اپنے ماں باپ کے پاس ہوں گے۔ 3. تیسری تفسیر یہ بتاتی ہے کہ یہ جنت کے خدمت گار ہیں، جنہیں خدا نے اس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ خوبصورت نوجوان، شرابِ طہور سے لبریز، ایسے پیالے، کوزے اور جام لیے ہوئے ہوں گے، جو جنت کی نہروں کے مشروبات سے بھرے ہوں گے۔ یہ اہلِ بہشت کے گرد پھریں گے اور انہیں سیراب کریں گے: بِأَکْوابٍ وَ أَباریقَ وَ کَأْسٍ مِنْ مَعینٍ۔ [تشریحی نوٹ: "اکواب"، "کوب" کی جمع ہے، جس کے معنی پیالہ یا دستہ دار ظرف کے ہیں۔ "اباریق"، "ابریق" کی جمع ہے، جو فارسی "آب ریز" سے لیا گیا ہے اور یہ ایسے برتنوں کے معنی میں ہے جن میں دستہ اور ٹونٹی ہوتی ہے۔ "کأس" لبریز جام کو کہا جاتا ہے۔ "معین" کا مادہ "معن" (بروزنِ صحن) ہے، جس کے معنی جاری ہونے کے ہیں]۔ لیکن یہ ایسی شراب نہ ہو گی جو ہوش اُڑا دے اور مست کر دے۔ جس وقت جنت میں رہنے والے اسے پئیں گے، تو انہیں نہ دردِ سر لاحق ہو گا اور نہ وہ مست و بےہوش ہوں گے: لا یُصَدَّعُونَ عَنْہا وَ لا یُنْزِفُون۔ [تشریحی نوٹ: "یصدعون"، "صداع" (بروزنِ حباب) کے مادہ سے ہے، اس کے معنی "دردِ سر" کے ہیں۔ یہ لفظ اصل میں "صدع" یعنی چیرنے کے معنی میں ہے۔ انسان جب شدید درد سے دوچار ہو، تو دردِ سر کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر پھٹ جائے گا، اس لیے یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ "ینزفون"، "نزف" کے مادہ سے ہے، جس کے معنی کنویں کا تمام پانی آہستہ آہستہ نکال لینے کے ہیں۔ یہ مستی اور عقل کی گمشدگی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے]۔ ان پر صرف ایک ایسے روحانی نشہ کی کیفیت طاری ہو گی جو تعریف و توصیف سے ماوراء ہے۔ یہ ان کے وجود کو بےمثل لذت سے ہمکنار کرے گی۔ اس کے بعد بہشت میں حاصل ہونے والی مادی نعمتوں کے چوتھے اور پانچویں حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: بہشتی نوجوان ہر قسم کے وہ پھل، جن کی طرف اہلِ بہشت مائل ہوں گے، ان کی خدمت میں پیش کریں گے (وَ فاکِہَةٍ مِمَّا یَتَخَیَّرُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: "فاکھة" اور "لحم" دونوں "اکواب" پر معطوف ہیں اور اس طرح وہ ایسی چیزوں میں سے ہیں جو "ولدان مخلدون" کے ذریعے مقربین کے لیے ہدیہ بنیں گے]۔ اور ہر قسم کے پرندے کا گوشت جسے وہ چاہیں گے (وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَہُونَ)۔پھل کو گوشت پر مقدم رکھنا اس وجہ سے ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے وہ بہتر اور قیمتی ہے۔ علاوہ ازیں، کھانے سے قبل پھل کھانا ایک کیفیتِ خاص رکھتا ہے۔ البتہ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے درختوں کی شاخیں مکمل طور پر اہلِ بہشت کی دسترس میں ہوں گی، اس طرح کہ وہ ہر قسم کا پھل بہ آسانی حاصل کر کے تناول کریں گے۔ یہ معنی دوسری بہشتی غذاؤں پر بھی صادق آتے ہیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب خدمت گار یہ نعمتیں لے کر ان کے سامنے آئیں گے، تو اس کا لطف کچھ اور ہی ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ بہشت میں رہنے والے افراد کا ایک قسم کا احترام ہے اور ان کی محافلِ انس کی رونق میں اضافے کا باعث ہے۔ خود اس دنیا کی تمام محفلوں میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ باوجودیکہ پھل اور دیگر ماکولات مہمانوں کی دسترس میں ہوتے ہیں، پھر بھی میزبان خود ان اشیاء کا تعارف کراتا ہے اور یہ ایک قسم کا احترام شمار ہوتا ہے۔ گوشت کی اقسام میں سے پرندوں کا گوشت چونکہ بہتر ہوتا ہے، لہٰذا صرف اسی پر انحصار کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پھل کے بارے میں "یتخیّرون" (یعنی انتخاب کریں گے) اور گوشت کے بارے میں "یشتہون" (یعنی اشتہاء رکھتے ہیں) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بعض مفسرین ان دونوں تعبیروں کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں، لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ دونوں ہم معنی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اہلِ جنت جس قسم کی غذا پسند کریں گے، وہ ان کے خدمت گاروں کے اختیار میں دے دی جائے گی۔ اس کے بعد چھٹی نعمت یعنی پاک و پاکیزہ بیویوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے:"اور حور العین میں سے بیویاں رکھتے ہیں" (وَ حُور عین)۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ "حور عین"، "غلمان مخلدون" پر عطف ہے، اس لیے وہ بھی جنتیوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں، لیکن اس کے پیشِ نظر کہ یہ معنی اہلِ بہشت کی محفلوں سے مناسبت نہیں رکھتے، معلوم ہوتا ہے کہ یہ مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: "(ولھم حور عین)" یعنی "اور ان کے لیے حور العین ہیں"]۔ "مثل صدف میں پنہاں مروارید" (کَأَمْثالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُونِ)۔ "حور"، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے، "حوراء" کی جمع ہے اور "احور" اس شخص کو کہتے ہیں جس کی آنکھ کی پتلی مکمل طور پر سیاہ ہو اور باقی حصہ کی سفیدی بالکل صاف و شفاف ہو۔ "عین"، "عیناء" اور "اعین" جس کی جمع ہے، موٹی آنکھ کے معنی میں ہے اور چونکہ انسان کی خوبصورتی زیادہ تر اس کی آنکھوں کی وجہ سے ہوتی ہے، لہٰذا اس بات پر خصوصی طور پر انحصار کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "حور" کا مادہ "حیرت" ہے، یعنی وہ اتنی خوبصورت ہیں کہ جنہیں دیکھ کر آنکھیں حیران رہ جائیں گی۔ [بحوالہ: ابو الفتوح رازی، جلد ۱۱، آیتِ زیر بحث کے ذیل میں]۔ "مکنون" کے معنی پوشیدہ کے ہیں۔ یہاں مراد صدف میں پوشیدہ ہونا ہے، کیونکہ مروارید جب تک صدف میں ہوتا ہے، اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور وہ ہمیشہ خوبصورت اور صاف و شفاف رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، ممکن ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ وہ دوسروں کی آنکھوں سے مکمل طور پر مستور ہوں، نہ انہیں کسی کا ہاتھ لگا ہے اور نہ ان پر کسی کی نظر پڑی ہے۔ ان چھ مادی نعمتوں کے بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:"یہ سب کچھ جزا ہے ان اچھے اعمال کی جو انہوں نے انجام دیے ہیں" (جَزاء ً بِما کانُوا یَعْمَلُونَ)۔ تاکہ یہ تصور نہ ہو کہ یہ تمام نعمتیں اہلِ بہشت کو کسی حساب و کتاب کے بغیر دی جائیں گی، یا یہ کہ صرف ایمان و عملِ صالح کا دعویٰ کرنا ان کے حصول کے لیے کافی ہے۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ مسلسل خالص عمل کی ضرورت ہے تاکہ خدا کی یہ مہربانیاں انسان کو نصیب ہو سکیں۔ (توجہ فرمایئے، "یعملون" فعل مضارع ہے اور استمرار کے معنی رکھتا ہے)۔ ساتویں اور آخری نعمت، جو معنوی پہلو رکھتی ہے، یہ ہے کہ وہ جنت کے باغات میں لغو، بےہودہ اور گناہ آلودہ باتیں نہیں سنیں گے: (لا یَسْمَعُونَ فیہا لَغْواً وَ لا تَأْثیما)۔ نہ وہاں جھوٹ، تہمت اور افتراء کا وجود ہے، نہ غیبت، نہ تمسخر، نہ تکلیف دہ گفتگو، نہ تلخ کلمات، اور نہ لغو، بےہودہ اور بےبنیاد باتیں ہیں۔ وہاں جو کچھ ہے، وہ لطف و کرم ہے، خوبصورتی ہے، متانت و ادب اور پاکیزگی ہے۔ کیا ہی عمدہ ہو گا وہ ماحول کہ جس میں بری باتیں نہ ہوں! اگر ہم ٹھیک طرح غور کریں تو ہماری اس دنیاوی زندگی کی زیادہ تر ناراضی و پریشانی کا سبب یہی لغو، بےہودہ، تکلیف دہ اور گناہ آلود باتیں ہیں جو دلوں کو دُکھاتی ہیں اور ان پر زخم لگاتی ہیں۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "واحد بات جو وہاں وہ سنیں گے، وہ سلام ہی سلام ہے" (إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا)۔ [تشریحی نوٹ: "سلاماً" مفعول بہ ہے "قیلاً" کے لیے، جو مصدر ہے "قول" کی طرح، یعنی "ان کی گفتگو وہاں سلام ہے"۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ "سلاماً"، "قیلاً" کے لیے صفت ہو یا مفعول بہ (یا مفعول مطلق) ہو فعلِ محذوف کے لیے اور تقدیرِ عبارت میں "یسلمون سلاماً" ہے، لیکن پہلے معنی سب سے بہتر ہیں۔ دوسرا "سلاماً" تاکید کے لیے ہے]۔ یہ سلام خدا کی طرف سے ہے، یا فرشتوں کی طرف سے، یا خود اہلِ بہشت کی طرف سے، یا ایک دوسرے کے لیے، یا یہ سب صورتیں مراد ہیں۔ مناسب ترین تفسیر آخری تفسیر ہے، جیسا کہ دوسری آیاتِ قرآنی میں خدا اور اہلِ بہشت کے ایک دوسرے کو سلام کرنے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ [بحوالہ: یٰسین: ۵۸، رعد: ۲۴، یونس: ۱۰]۔ جی ہاں! وہ سلام کے علاوہ اور کچھ نہیں سنیں گے—خدا اور اس کے مقرب فرشتوں کا سلام و درود، اور ایک دوسرے کو خود ان کا سلام و درود۔ ان پاکیزہ محفلوں میں، جو دوستی اور محبت سے معمور ہیں، ان کا ماحول سلامتی سے پُر ہے اور یہی معنی ان کے پورے وجود پر حاوی ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہ اسی محور کے گرد گھومتا ہے اور ان کی عام گفتگو اور تکلّم کا نتیجہ سلام، صلح اور صفا پر منتہی ہوتا ہے۔ اصولی طور پر بہشت "دار السلام" ہے، یعنی سلامتی و امن کا گھر، جیسا کہ سورۂ انعام کی آیت ۱۲۷ میں ہم پڑھتے ہیں: "(لَہُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّہِم)"۔ [تشریحی نوٹ: آپ کی توجہ ہونی چاہیئے کہ "إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا" میں استثناء، استثنائے منقطع ہے اور تاکید کا فائدہ دیتا ہے]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نکتہ: وہ نعمتیں جو اصحابِ یمین کو حاصل ہوں گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اِن مادی اور معنوی نعمتوں کے بیان کے بعد (جو مقربین بارگاہِ الہٰی کو حاصل ہوں گی) بات اصحاب الیمین تک جا پہنچی ہے، وہ سعادت مند جماعت جن کا نامۂ اعمال امتحاناتِ الہٰی میں کامیابی کی علامت کے طور پر ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہاں پروردگارِ عالم اپنی نعمتوں میں سے چھ کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے: مقربین کے لیے جو نعمتیں بیان ہوئیں، وہ سات تھیں، یہ چھ ہیں یعنی ایک نعمت کم ہے۔ سب سے پہلے ان کے مرتبہ کی بلندی کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اصحاب الیمین، کیا کہنا اصحاب الیمین کا"! (وَ أَصْحٰبُ الْيَمِينِ مَا أَصْحٰبُ الْيَمِينِ) (56:27) [بحوالہ: اس جملے کی ترکیب اس سورہ کی آیت ۸ کے ذیل میں گزر چکی ہے]۔ یہ افضل ترین تعریف ہے جو ان کی ہوئی ہے، کیونکہ ایسی تعبیر ان مواقع پر ہوتی ہے جب کسی کے اوصاف بیان سے باہر ہوں۔ بہرحال، یہ تعبیر اصحاب الیمین کے بلند مرتبہ کو بیان کرتی ہے۔ اس کے بعد کی آیت اس گروہ کو حاصل ہونے والی پہلی نعمت کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ "وہ ایسے بیر کے درخت کے نیچے جگہ پائیں گے جس میں کانٹے بالکل نہیں ہوں گے": (فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ) (56:28) [تشریحی نوٹ: "جار و مجرور" مقدر عامل سے متعلق ہے اور مجموعہ مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح تھی: (هُم فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ)]۔ حقیقت میں، یہ بہترین تعریف ہے جو جنت کے درختوں کے لیے ہمارے دنیاوی الفاظ کے قالب میں ڈھل سکتی ہے۔ "سدر" بعض اربابِ لغت کے بقول ایک تناور درخت ہوتا ہے جس کی بلندی بعض اوقات چالیس میٹر تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی عمر دو ہزار سال تک ہوتی ہے (اس کا سایہ بہت گھنا اور پُرلطف ہوتا ہے)۔ اس درخت میں صرف ایک عیب ہے کہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں، لیکن "مخضود" کا لفظ "خضد" کے مادّہ سے ہے (بروزن مجد) جس کے معنی ہیں کانٹوں کا قطع کر دینا۔ اس لفظ کے استعمال کے بعد جنت کے "سدر" نامی درخت کی یہ مشکل بھی حل ہو گئی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب قرآن کے بعض الفاظ اصحابِ پیغمبر کے لیے مشکل ہو جاتے تو وہ کہتے کہ بادیہ نشین عربوں کے سوالات کی برکت سے پروردگار ہم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ایک دن ایک صحرانشین عرب پیغمبر کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، خدا نے قرآن میں ایک تکلیف دینے والے درخت کا ذکر کیا ہے، میں نہیں سمجھ سکتا تھا کہ جنت میں اس قسم کا درخت کیسے ہو گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کون سا درخت؟ اس نے کہا: سدر، کیونکہ اس میں تو کانٹے ہوتے ہیں۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کیا خدا نے نہیں فرمایا؟ (فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ)۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۲۰۔ درالمنثور، جلد ۲، صفحہ ۱۵۶]۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے کانٹے دور کر دیے گئے ہیں اور ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دیا گیا ہے اور وہ پھل بھی ایسا کہ جس میں بہتر قسم کے غذائی اجزا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف ہو گا۔ دوسری نعمت یہ ہے کہ وہ "طلح" کے درختوں کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں: (وَ طَلْحٍ مَنْضُودٍ) (56:29)۔ "طلح" ایک سبز، خوش رنگ اور خوشبودار درخت ہے۔ ایک گروہ کا قول ہے کہ وہ کیلے کا درخت ہے جس کے چوڑے، سبز اور خوبصورت پتے ہوتے ہیں اور اس کا پھل خوش ذائقہ اور شیریں ہوتا ہے۔ "منضود" کا مادہ "نضد" ہے، جس کے معنی تہہ بہ تہہ ہونے کے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس کے پتوں یا پھلوں کے تہہ بہ تہہ ہونے کی وجہ سے ہو یا دونوں کی وجہ سے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ درخت پھلوں سے اس طرح لدے ہوتے ہیں کہ ان کا تنا اور ٹہنیاں پھلوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ چونکہ سدر کے درخت کے پتے کافی چھوٹے ہوتے ہیں اور کیلے کے پتے بڑے ہوتے ہیں، تو ان دونوں درختوں کا ذکر جنت کے تمام درختوں کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جو ان دونوں درختوں کے درمیان قرار پاتے ہیں۔ [بحوالہ: فخر رازی تفسیر کبیر میں درج ذیل آیہ زیر بحث جلد ۲۹ ص ۱۶۲]۔ تیسری بہشت کی نعمت کو پروردگارِ عالم اس طرح بیان فرماتا ہے: "اور طویل و عریض سایہ" (وَ ظِلٍّ مَمْدُودٍ) (56:30)۔ بعض مفسرین اس سائے کو "بین الطلوعین" (طلوعِ فجر سے لے کر طلوعِ آفتاب تک) کی حالت سے مشابہ قرار دیتے ہیں، جب سایہ ہر جگہ کا احاطہ کیے ہوتا ہے۔ مذکورہ معانی ایک حدیث میں جو "روضہ کافی" میں ہے، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوئے ہیں۔ [بحوالہ: روضہ کافی، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۱۶]۔ مقصودِ کلام یہ ہے کہ سورج کی گرمی اور اس کی تپش اہلِ جنت کو کبھی پریشان نہیں کرے گی۔ وہ ہمیشہ پسندیدہ، محبوب، وسیع اور روح پرور سائے میں رہیں گے۔ چوتھے مرحلے میں جنت کے پانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اہلِ بہشت آبشار کی مانند پانی (جو خوبصورت اور دلربا منظر رکھتا ہے) کے پاس رہتے ہیں": (وَ مَاءٍ مَسْكُوبٍ) (56:31)۔ "مسکوب" کا مادہ "سَکْب" (بروزنِ کبک) ہے، اس کے اصل معنی گرنے کے ہیں۔ چونکہ آبشار کی صورت میں پانی کا اوپر سے نیچے گرنا بہترین منظر پیش کرتا ہے اور اس کے زمزمے دل کے کانوں کو نوازتے ہیں اور اس کا منظر آنکھوں کو فروغ اور روشنی بخشتا ہے، اس لیے یہ جنت کی ایک نعمت قرار دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ درخت اور آبِ رواں ہمیشہ اپنے ہمراہ انواع و اقسام کے پھل لیے ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے پانچویں نعمت کے بیان میں مزید فرماتا ہے: "اور فراواں پھل۔" (وَ فَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ) (56:32)۔ "جو نہ کبھی منقطع ہوتے ہیں، نہ ممنوع ہوتے ہیں۔" (لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ) (56:33)۔ جی ہاں، وہ پھل اس جہان کے پھلوں کی مانند نہیں جو صرف اپنی فصل میں آتے ہوں اور سال بھر میں صرف چند مہینے یا چند ہفتے درختوں پر لگتے ہوں۔ اور یہ بھی نہیں کہ کانٹے ان کے حصول کی راہ میں حائل ہوں، یا درخت کی بہت زیادہ بلندی (جیسے کھجور کے درخت کی بلندی) ان کے حصول میں مانع ہو۔ نیز، انسان کے وجود میں کوئی ایسا تقاضا موجود نہیں ہو گا جو ان کے استعمال سے روکتا ہو۔ پھر جنت کا اصل میزبان خداوندِ منان ہے، وہ یا اس کے مامور منتظمین نہ کسی قسم کا بخل رکھتے ہیں، نہ ان پھلوں کے استعمال کو منع کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے پیشِ نظر کوئی امر ایسا نہیں جو ان پھلوں کے استعمال کی راہ میں رکاوٹ بنے، بلکہ صورتِ حال یہ ہو گی کہ جس چیز کی ضرورت ہو گی، وہ بروقت موجود ہو گی اور اس کے حصول کی راہ میں جو رکاوٹ ہو سکتی ہے، وہ ہر وقت مفتود ہے۔ اس کے بعد ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ گراں قدر اور ہمسر بیویاں رکھتے ہیں۔" (وَ فُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ) (56:34)۔ "فرش" جمع ہے "فراش" کی، جس کے معنی ہر وہ چیز ہے جو بچھائی جائے اور اسی مناسبت سے یہ کبھی بطورِ کنایہ زوج کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت)۔ اسی بنا پر ایک مشہور حدیث میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: "الولد للفراش وللعاهر الحجر۔" یعنی "وہ بچہ جو شوہر دار عورت سے پیدا ہو، وہی اس کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اگر درمیان میں کوئی فاسق و زناکار مرد ہو تو اس کے حصے میں صرف پتھر ہے" (اور اس کے نطفہ سے فرزند کے انعقاد کا احتمال قابلِ قبول نہیں ہے)۔ بعض مفسرین نے "فرش" کی تفسیر اس کے حقیقی معنی کے اعتبار سے کی ہے (کنایہ کے طور پر جو معنی بنتے ہیں انہوں نے ان کو نظر انداز کیا ہے)۔ اور انہوں نے اس کو جنت کے بہت ہی بے قیمت فرض کی طرف اشارہ سمجھا ہے، لیکن اس صورت میں بعد میں آنے والی آیتوں سے ارتباط ختم ہو جائے گا، جن میں جنت کی حوروں اور بیویوں کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد جنت کی بیویوں کی اور خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً" (56:35) ہم نے انہیں نئی خلقت و آفرینش بخشی ہے۔ اس جملہ سے ممکن ہے اس دنیا کی مومن بیویوں کی طرف اشارہ مقصود ہو، جنہیں خدا قیامت میں نئی خلقت عطا کرے گا اور وہ سب انتہائی شباب کے عالم میں، ظاہر و باطنی جمال کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گی۔ اور اگر مراد حوریں ہوں، تو خدا انہیں نئی خلقت عطا کرتے ہوئے اس طرح بنائے گا کہ ضعیفی و ناتوانی کا گرد و غبار ان کے دامنِ حیات کو ہرگز نہیں چھو سکے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مومن بیویوں اور حوروں دونوں کی طرف اشارہ ہو۔ "ہم نے ان سب کو باکرہ قرار دیا ہے۔" (فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا) (56:36)۔ شاید یہ صفت ان کے لیے ہمیشہ باقی رہے، جیسا کہ بہت سے مفسرین نے اس کی تصریح کی ہے، نیز روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے کہ مرد سے اختلاط کے باوجود ان کی جسمانی کیفیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۲۳۔ ضمناْ توجہ کرنی چاہیئے کہ اس حالت کا "فا تفریع" کے ساتھ گزشتہ آیت پر عطف ہوا ہے]۔ ان بیویوں ہی کی خصوصیات کے بارے میں مزید فرماتا ہے: "وہ اپنے شوہروں سے محبت رکھتی ہیں اور خوش گفتار و فصیح ہیں۔" (عُرُبًا أَتْرَابًا) (56:37)۔ "عُرُب" کی جمع "عروبۃ" (بروزنِ ضرورۃ) ہے، یہ اس عورت کے معنوں میں ہے جو اپنے مرد سے محبت کرتی ہے اور پاک دامن ہوتی ہے، کیونکہ "اعَرَاب" بروزن "إظهار" آشکار اور ظاہر کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ فصیح اور خوش گفتار ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ آیت میں دونوں معنی موجود ہوں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سن ہیں اور ظاہری و باطنی خوبی اور حسن و جمال میں ایک دوسرے کے مانند ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بہتر ہے (أَتْرَابًا)۔ "أتراب" جمع ہے "تِرْب" کی، جو "ذِہن" کے وزن پر ہے اور اس کے معنی "مثل و مانند" کے ہیں۔ بعض مفسرین کے خیال کے مطابق یہ معنی "ترائب" سے لیے گئے ہیں، جو سینے کی ہڈیوں کے پنجرے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سینے کی ہڈیاں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ یہ مشابہت اور برابری ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ ان سب کا سن و سال ان کے شوہروں سے مطابقت رکھتا ہو گا تاکہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کو مکمل طور پر سمجھ سکیں اور ان کی آپس کی زندگی زیادہ لذت بخش ہو جائے۔ اگرچہ بعض اوقات سن و سال کا فرق ہوتے ہوئے بھی زندگی لذت بخش ہوتی ہے، لیکن اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا۔ یا پھر یہ کہ وہ خوبصورتی اور ظاہری و باطنی حسن و جمال میں ایک جیسے ہوں، مشہور و معروف تعبیر کے مطابق کہ "وہ سب اچھے ہیں اور ایک سے ایک بہتر ہے۔" اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "یہ سب نعمتیں اصحابِ یمین کے لیے ہیں۔" "لِأَصْحَابِ الْيَمِينِ" (56:38)۔ یہ مذکورہ چھ نعمتوں کے ان کے ساتھ مخصوص ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ جملہ (إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً) (56:35) کے جملے کی تکمیل ہے۔ [تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں أصحاب اليمين مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے: (هَذِهِ كُلُّهَا لِأَصْحَابِ الْيَمِينِ)۔ (یہ سب کچھ اصحابِ یمین کے لیے ہے)۔ اور دوسری صورت میں "جار و مجرور" إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ کے ساتھ متعلق ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے]۔ اس گفتگو کے آخر میں فرماتا ہے: "اور ان میں سے ایک گروہ پہلی امتوں میں سے ہے۔""ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ" (56:39)۔ "اور ایک گروہ آخری اقوام میں سے ہے۔" "وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ" (56:40)۔ "ثُلَّةٌ" کے معنی پشم کے ایک مجتمع ٹکڑے کے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اس کثیر جماعت کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو باہم ملی جُلی ہو۔ تو اس طرح اصحابِ یمین کے عظیم گروہ میں گزشتہ امتوں کے افراد بھی شامل ہیں اور اس میں امتِ اسلامی کے بھی بہت سے افراد شامل ہیں، کیونکہ اس امت میں بہت سے صالحین و مومنین موجود ہیں۔ اگرچہ ملتِ اسلامی میں ایمان قبول کرنے کے سلسلے میں سبقت کرنے والے افراد کی تعداد، سابقہ امتوں اور ان کے انبیاء کی کثرت کی وجہ سے، ان کے سابقین کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اصحابِ یمین کے دونوں گروہ امتِ اسلامی میں سے ہیں: ایک گروہ ان کے اولین میں سے ہے اور ایک گروہ ان کے آخرین میں سے ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اصحابِ شمال کو مِلنے والی سزائیں اور ان پر نازل ہونے والے دردناک عذاب
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گروہ مقربین و اصحاب الیمین کو حاصل ہونے والی عظیم نعمتوں کے تذکرے کے بعد ایک تیسرے گروہ پر نازل ہونے والے دردناک عذاب کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ تقابل کی صورتِ حال کے موجود ہونے کی وجہ سے تینوں گروہوں کی کیفیت اور ان کا حال واضح ہو جائے۔ فرماتا ہے: "اصحاب الشمال اور کیا ہیں اصحاب الشمال"؟ (وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ) وہی کہ جن کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گناہ گار، ستمگر اور اہلِ دوزخ ہیں۔ اور جس طرح ہم نے مقربین اور اصحابِ یمین کے بارے میں کہا ہے کہ "مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ" کہنے کا یہ اندازہ بتاتا ہے کہ یہ کسی کی انتہائی اچھی یا بری حالت کے بیان کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ سعادت نے ہماری طرف رخ کیا ہے، کیسی سعادت نے! یا مصیبت نے ہماری طرف رخ کیا ہے، کیسی مصیبت نے۔ اس کے بعد ان پر نازل ہونے والی تین سزاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ زہریلی ہواؤں اور جلانے والے پانی کے درمیان رکھے گئے ہیں" (فِی سَمُومٍ وَحَمِیمٍ)۔ "اور شدید دھویں اور آگ کے سائے میں" (وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ)۔ جلانے والی زہریلی ہوا ایک، جھلسا کر مارنے والا کھولتا ہوا پانی دو اور گرم اور گھوٹھنے والا دھواں تین۔ یہ تینوں چیزیں انہیں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ان کی قوت چھین لی ہے۔ اور اگر وہ ان تینوں مصیبتوں کے علاوہ کوئی اور مصیبت نہ بھی رکھتے ہوں، تو یہی تین مصیبتیں ان کی شامتِ اعمال کے لیے کافی ہیں۔ "سموم" کا مادہ "سم" ہے، جس کے معنی زہر ہیں۔ یہاں زہر سے مراد جلانے والی ہوا ہے جو انسان کے جسم کے مساموں میں داخل ہو کر اسے ہلاک کر دیتی ہے (اصولی طور پر زہر کو "سم" اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بدن کے تمام اجزا میں نفوذ کر جاتا ہے)۔ "حمیم" گرم چیز کے معنی میں ہے اور یہاں گرم اور جلانے والے پانی کے معنی میں ہے جس کی طرف قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی اشارہ ہوا ہے، مثلاً سورۂ حج کی آیت ۱۹ میں ہے: "يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ۔" (ان کے سروں پر گرم اور جلانے والا پانی ڈالا جائے گا)۔ "يحموم" بھی اسی مادہ سے ہے اور یہاں "ظل" کی مناسبت سے گاڑھے، سیاہ دھویں کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے فرماتا ہے: "وہ سایہ جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہے، نہ کوئی فائدہ" (لَا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ)۔ سائبان کبھی انسان کو سورج کی تمازت سے حفاظت کرتا ہے، کبھی ہوا اور بارش سے، یا پھر اور دوسری منفعتیں لیے ہوئے ہوتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ سائبان ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ "کریم" کی تعبیر "کرامت" کے مادہ سے ہے اور فائدہ کے معنوں میں ہے۔ اس لیے عربوں میں معمول ہے کہ جب وہ کسی چیز یا شخص کو غیرمفید بتانا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں "لَا كَرَامَةَ فِيهِ۔" یقینی امر ہے کہ وہ سایہ جو سیاہ ہے اور گلا گھونٹنے والے دھویں سے بنا ہے، سوائے برائی اور نقصان کے، اس سے کوئی اور توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ اگرچہ وہ عذاب جو دوزخیوں پر نازل ہوں گے، ان کی بہت سی قسمیں ہیں، لیکن یہی تین قسمیں اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان باقی کا اندازہ خود لگا لے۔ اس کے بعد والی آیتوں میں اصحاب الشمال کی گرفتاری کے دلائل کا ان کی منحوس اور وحشت ناک داستان کے پہلے ہی تین جملوں میں خلاصہ کرتا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ اس سے پہلے دنیا میں نعمت حاصل ہونے پر مست اور مغرور تھے (إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُتْرَفِينَ)۔ "مترف" جس طرح لسان العرب میں "ترف" کے مادہ سے (بروزن "سبب") ہے، اس کے معنی عیش و عشرت میں وقت گزارنے کے ہیں۔ "مترف" اس شخص کو کہتے ہیں جسے نعمتوں کی فراوانی نے مست و مغرور کر دیا ہو اور نافرمانی و سرکشی پر ابھارا ہو۔ [بحوالہ: لسان العرب، جلد ۹، صفحہ ۱۱۷]۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمام اصحابِ شمال مترفین کے زمرہ میں نہیں آتے، لیکن اس سے قرآن کا مقصود ان کے سرکردہ افراد ہیں۔ جیسے کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی معاشروں کا فتنہ و فساد مست و مغرور عیش پرستوں کی وجہ سے ہے، جو اپنے ساتھ دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی ہیں۔ تمام لڑائیوں، خون ریزیوں، مختلف قسم کے جرائم، شہوتوں کے مراکز اور باغیانہ سرگرمیوں کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اسی بنا پر قرآن ہر چیز سے پہلے انہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ نعمت کے معانی وسیع ہیں اور یہ صرف مال و دولت تک محدود نہیں ہے، بلکہ جوانی اور سلامتیٔ عمر بھی خدا کی نعمتوں میں سے ہیں کہ اگر غرور و غفلت کا باعث نہ بنیں تو گناہوں کا اصلی سرچشمہ یہی ہیں۔ اور اصحابِ شمال ان میں سے ہر ایک نعمت سے بہرہ ور تھے۔ اس کے بعد ان کے دوسرے گناہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے" (وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ)۔ "حنث" اصل میں ہر قسم کے گناہ کے معنوں میں ہے، لیکن بہت سے مواقع پر یہ لفظ عہد شکنی اور قسم کی مخالفت کے معنوں میں آتا ہے، اس وجہ سے یہ واضح طور پر گناہ کے معنی رکھتا ہے۔ اصحابِ شمال کی برائی یہی نہیں ہے کہ وہ گناہ کرتے تھے، بلکہ وہ بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔ گناہ ممکن ہے کہ اصحابِ یمین سے بھی بعض اوقات سرزد ہو، لیکن وہ اس پر کبھی اصرار نہیں کرتے اور جس وقت توفیقِ الہٰی شاملِ حال ہوتی ہے، فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "حنث العظیم" سے مراد شرک لیا ہے، کیونکہ اس سے بڑا اور کوئی گناہ نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: (إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ)۔ (خدا ہر قسم کے گناہ کو بخش سکتا ہے لیکن وہ شرک کے گناہ کو کبھی معاف نہیں کرے گا)۔ [بحوالہ: سورۂ نساء، آیت ۴۸]۔ بعض مفسرین نے اس سے جھوٹ مراد لیا ہے، جو تمام گناہوں سے بڑا ہے اور گناہوں کی کلید ہے، خصوصاً جب وہ انبیاء کی تردید اور قیامت کی تکذیب کے لیے استعمال ہوتا ہو۔ حقیقت حال یہ ہے کہ مذکورہ تمام گناہ "حنث العظیم" کے ذیل میں آتے ہیں۔ ان کا تیسرا غلط کام یہ تھا کہ وہ کہتے تھے: "کیا ہم مرنے کے بعد، جب محض ہماری ہڈیاں رہ جائیں گی اور ہم مٹی میں مل جائیں گے، دوبارہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے"؟" (وَكانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ)۔ اصحابِ شمال کے دوسرے بہت سے گناہوں میں سے ان کا ایک بڑا گناہ یہ تھا کہ وہ قیامت کے انکار پر مُصر تھے۔ یہاں دو مطالب قابلِ توجہ ہیں: 1. جس وقت گفتگو مقربین اور اصحابِ یمین کے بارے میں تھی، تو وہاں ان کے اعمال کی تفصیل بیان نہیں کی گئی جو ان کے لیے باعثِ اجر و ثواب تھے (سوائے مختصر اشارے کے جو مقربین کے بارے میں تھا)، لیکن جب اصحابِ شمال کا ذکر آیا، تو اس سلسلے میں پروردگارِ عالم نے کافی تفصیل سے کام لیا تاکہ اتمامِ حجت بھی ہو اور یہ حقیقت بھی واضح ہو جائے کہ یہ سزائیں جو دی جا رہی ہیں، وہ عدالتِ الہٰی کے عین مطابق ہیں۔ 2. یہ تین گناہ جن کا تذکرہ مذکورہ تین آیتوں میں ہوا ہے، درحقیقت اصحابِ شمال کی طرف سے دین کے تین اصولوں کی نفی کی طرف اشارہ ہے۔ آخری آیت میں قیامت کی تکذیب تھی، اور دوسری آیت میں توحید کا انکار تھا، اور پہلی آیت میں، جہاں مترفین کی بات ہو رہی تھی، انبیاء کی تکذیب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے سورۂ زخرف کی آیت ۲۳ میں پڑھا ہے: وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ۔ (اس طرح ہم نے کسی شہر اور آبادی میں تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان کے مترفین نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا ہے اور ہم ان کے آثار کے پابند ہیں)۔ "تُرابًا وَعِظَامًا" کی تعبیر ممکن ہے کہ اس طرف اشارہ ہو کہ ہمارے گوشت مٹی میں تبدیل ہو جائیں گے اور ہماری برہنہ ہڈیاں رہ جائیں گی، تو ایسی صورت میں نئی خلقت کس طرح ممکن ہے؟ چونکہ مٹی اور نئی زندگی کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے، لہٰذا اس کا ابتدا میں ذکر ہوا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ معاد کے مناظر اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ کس طرح اس دنیا کے بہت سے موجودات، گھاس وغیرہ پرانے ہو کر مٹی ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر لباسِ حیات پہن لیتے ہیں۔ اصولی طور پر جس نے پہلی مرتبہ تخلیق کی ہے، اس کے لیے اس کا اعادہ کس طرح مشکل ہے؟ بہرحال، یہی کیفیت تھی جس میں وہ ہمیشہ معاد کی تکذیب کرتے تھے۔ [تشریحی نوٹ: حرفِ استفہام کی تکرار اور ان کی تعبیر تاکید کے لیے ہے]۔ انہوں نے صرف اسی پر قناعت نہیں کی بلکہ اظہارِ تعجب کے لیے مزید کہتے تھے: "کیا ہمارے پہلے آباء و اجداد، جن کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا، دوبارہ زندہ ہوں گے"؟ (أَوَ آبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: "أَوَ آبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ" میں "ہمزۂ استفہام" اور "واوِ عاطفہ" ہے، جس پر ہمزہ کو مقدم رکھا جاتا ہے]۔ وہ جن کی خاک کا ہر ذرّہ یا تو کسی گوشے میں پڑا ہے یا کسی اور وجود کا جُز بن چکا ہے، لیکن جیسا کہ سورۂ یٰسین کے آخر میں تفصیل سے کہا جا چکا ہے کہ ان محکم دلائل کے مقابلے میں، جو مسئلۂ معاد پر دلالت کرتے ہیں، یہ فقط چند فضول بہانے ہیں۔ اس کے بعد قرآن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے کہ ان کے جواب میں کہہ دے:"نہ صرف تم اور تمہارے آباء و اجداد، بلکہ تمام اولین و آخرین..." (قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ)۔ "سب معیّن دن کی وعدہ گاہ میں (قیامت کے دن) جمع ہوں گے۔" (لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "إِلَىٰ" اس جملے میں اس لیے استعمال ہوا ہے کہ قیامت اس جہان کے آخر میں واقع ہو گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں "إِلَى"، "لام" کے معنوں میں ہو، جیسا کہ بہت سی قرآنی آیات میں "لِمِيقَاتِ" آیا ہے]۔ "میقات" کا مادّہ "وقت" ہے اور اس کے معنی ہیں: جو کسی کام یا وعدہ کے لیے معیّن کیا گیا ہو۔ یہاں "میقات" سے مراد قیامت کا مقررہ وقت ہے، جس میں تمام انسان میدانِ محشر میں اپنے حساب و کتاب کے واسطے جمع ہوں گے۔ بعض اوقات، بطورِ کنایہ، اس مکان کے لیے بھی، جو کسی کام کی انجام دہی کے لیے مقرر کیا گیا ہو، لفظ "میقات" استعمال ہوتا ہے، مثلاً حج کے "میقات" (مواقیت)، جو خاص مقامات کے نام ہیں جہاں سے حاجی احرام باندھتے ہیں۔ آیت کی مختلف تعبیروں سے ضمنی طور پر استفادہ ہوتا ہے قیامت کے بارے میں بہت سی تاکیدوں کا۔ اِنَّ۔لام۔مجموعون اسم مفعول کی شکل میں اور یوم کی توصیف معلوم ہونے کے معنوں میں، اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ تمام لوگوں کا قبروں سے نکل کر مبعوث ہونا ایک ہی دن انجام پائے گا اور یہی معنی قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی آئے ہیں۔ [بحوالہ: سورۂ ہود، آیت ۱۰۲؛ سورۂ مریم، آیت ۹۵]۔ یہاں یہ اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ جو قیامت کے برپا ہونے کو ہر اُمّت کے اعتبار سے مختلف زمانوں میں خیال کرتے ہیں، وہ قرآنی آیات سے مکمل طور پر ناآشنا ہیں۔ شاید یاددہانی کی ضرورت نہ ہو کہ "قیامت کا معلوم ہونا" سے مراد یہ ہے کہ وہ پروردگارِ عالم کو معلوم ہے، ورنہ کوئی شخص، حتیٰ کہ انبیاء و مرسلین اور ملائکۂ مقرّبین بھی اس کے برپا ہونے کے وقت سے باخبر نہیں ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 8tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر: ان گمراہ مُجرموں پر نازل ہونے والے عذاب کا ایک اور حِصّہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیتیں اسی طرح اصحابِ شمال پر نازل ہونے والے عذاب کے مباحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پروردگارِ عالم اصحابِ شمال کو اسی انداز میں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پھر تم اے گمراہوں اور تکذیب کرنے والو"! (ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ)۔ "زقوم کے درخت میں سے کھاؤ گے" (لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّومٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "من شجر" کا "من" تبعیضیہ ہے اور "من زقوم" کا "من" بیانیہ ہے]۔ "اپنے شکموں کو اُس سے پُر کرو گے" (فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ)۔ گزشتہ آیتوں میں اصحابِ شمال کی دوزخ میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی، یہاں ان کی غذا کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے یہ اصحابِ شمال، مقربین اور اصحابِ یمین کے بالکل مقابل ہیں۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ ان آیتوں میں مخاطب وہ گمراہ ہیں جو تکذیب کرنے والے ہیں، وہ افراد جو ضلالت و گمراہی کا شکار ہونے کے علاوہ حق سے دُشمنی اور اس کی خلاف ورزی کی روح اپنے وجود میں رکھتے ہیں اور اپنے اس غلط رویے کو برقرار رکھنے والے ہیں۔ "زقوم"، جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، ایک بدبودار گھاس ہے جس کا ذائقہ تلخ ہے۔ اس میں ایسا لیس ہوتا ہے کہ اگر وہ انسان کے بدن پر لگ جائے تو اس سے جسم پر ورم ہو جاتا ہے اور یہ کبھی دوزخیوں کی ہر قسم کی ناقابلِ نفرت غذاؤں کے لیے بولا جاتا ہے۔ [بحوالہ: مجمع البحرین، مفردات راغب، لسان العرب اور تفسیر روح المعانی]۔ زقوم کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے جلد ١٩، سورہ صافات کی آیت ٦٢ اور جلد ٢١، سورہ دخان کی آیت ۴۳ کے ذیل میں جو مندرجات ہیں ان کی طرف رجوع کیجیے۔ "فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ" کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے انہیں تیز بھوک لگے گی، اتنی تیز کہ وہ اس نہایت ناگوار غذا کو کھا لیں گے، تو انہیں پیاس لگے گی۔ اب وہ پئیں گے کیا؟ تو بعد والی آیت میں قرآن بتاتا ہے: "تم اس ناگوار غذا کے بعد جلانے والا پانی پیو گے" (فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ)۔ [تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں ضمیر مؤنث (منها) "شجر من زقوم" کی طرف لوٹتی ہے اور اس آیت کی ضمیر مذکر (عليه)۔ یہ اس وجہ سے کہ لفظ شجر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، اسی طرح ثمر بھی۔ (مجمع البیان در ذیل آیہ زیر بحث)]۔ "اس حریصانہ انداز میں پیو گے جس طرح وہ اُونٹ جو استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہوں" (فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ)۔ استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہونے والا اُونٹ بہت پیاس محسوس کرتا ہے اور بار بار پانی پیتا ہے، یہاں تک کہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ جی ہاں! یہ ہے بروزِ قیامت سرگزشت گمراہوں اور تکذیب کرنے والوں کی۔ حمیم حد سے زیادہ گرم اور جلانے والے پانی کے معنوں میں ہے، اسی بنا پر ایسے دوستوں کو جو محبت کی آگ میں جل رہے ہوں، حمیم کہتے ہیں۔ حمام بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ "هِيم" (بروزن مِيم) هائم کی جمع ہے۔ (اور بعض لوگ اسے أَهْيَم اور هِيماء کی جمع مانتے ہیں)۔ اصل میں هِيام (بروزن فُرات) پیاس کی اس بیماری کو کہتے ہیں جو اُونٹ کو لاحق ہوتی ہے۔ یہ تعبیر عشقِ سوزاں اور عاشقانِ بےقرار کے بارے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ بعض مفسرین هِيم کو ایسی زمینِ ریگزار کے معنوں میں جانتے ہیں جس پر جتنا پانی ڈالا جائے، وہ سب اس میں جذب ہو جاتا ہے، گویا وہ کبھی سیراب نہیں ہوتی۔ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں ایک مرتبہ پھر اسی کھانے اور پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ ہے قیامت میں ان کی پذیرائی کا ذریعہ" (هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ)۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب دوسری طرف اصحابِ یمین بہت ہی لطیف و خوشگوار سائے میں آرام و سکون سے ہیں، بہترین پھل کھاتے ہیں اور شرابِ طہور و آبِ خوشگوار پیتے ہیں اور عشقِ خدا میں مست ہیں۔ (ببیں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا)۔ "نُزُل"، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے، اس وسیلہ اور ذریعہ کے معنوں میں ہے جس سے مہمانِ عزیز کی پذیرائی کی جاتی ہے اور بعض اوقات مہمان کے لیے سب سے پہلے لائے جانے والے کھانے اور مشروب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ دوزخی نہ تو مہمان ہیں اور نہ زقوم و حميم پذیرائی کے ذریعے شمار ہوتے ہیں۔ یہ ان پر ایک قسم کا طنز ہے تاکہ وہ اندازہ لگا لیں کہ جب ان کی پذیرائی کا یہ عالم ہے تو پھر ان کی معذب صورتِ حال کتنی عبرت ناک ہو گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: عقیدہ معاد پر سات دلیلیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیتوں میں قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے ضمن میں گفتگو تھی۔ بنیادی طور پر اس سورہ میں مسئلۂ معاد کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے اور ان آیتوں میں معاد سے متعلق دلیلوں کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ قرآن مجید اس اہم عقیدے کے ثبوت میں مجموعی طور پر سات دلیلیں پیش کرتا ہے جو ایمان کی بنیادوں کو قوی کرتی ہیں اور انسان کے دل کو خدا کی طرف سے کیے گئے ان وعدوں کے بارے میں پختہ یقین دلاتی ہیں جو گزشتہ آیتوں میں اصحابِ یمین اور اصحابِ شمال کے بارے میں مذکور ہوئے۔ پہلے مرحلے میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ہم نے تمہیں خلق کیا ہے، تو نئی خلقت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے"؟ ( نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ )۔ [تشریحی نوٹ: "لولا" اصطلاح کے مطابق تخفیف اور کسی کام کی انجام دہی کی تحریک کے لیے ہے اور بعض کے قول کے مطابق اصل میں یہ "لم" اور "لا" سے مرکب تھا، جو سوال اور نفی کے معنی میں ہیں، اس کے بعد میم واؤ کے ساتھ تبدیل ہو گیا۔ یہ لفظ ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی فرد یا کچھ افراد کسی کام کے کرنے میں تساہل کریں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ "کیوں اس طرح اور اس طرح نہیں کرتے"؟]۔ تم قبروں سے اٹھنے پر اور بدن کے خاک ہو جانے کے بعد معادِ جسمانی پر کیوں تعجب کرتے ہو؟ کیا اس نے پہلی مرتبہ تمہیں مٹی سے پیدا نہیں کیا؟ کیا امثال و نظائر کا حکم ایک نہیں ہوتا؟ یہ استدلال حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جو سورۂ یٰسین کی آیت ۷۸-۷۹ میں آیا ہے، جہاں قرآن ایک مشرک کے جواب میں، جس نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے رکھی تھی اور کہتا تھا کہ "کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا"؟، کہتا ہے: "وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ، قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ۔" "اس نے ہمارے لیے ایک مثال پیش کی اور اپنی پہلی خلقت کو بھول گیا، اور اس نے کہا: کون ان بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا؟ کہہ دے: وہی جس نے انہیں ابتداء میں خلق کیا تھا اور وہ اپنی تمام مخلوق سے آگاہ ہے۔" پروردگارِ عالم بعد والی آیت میں دوسری دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا اس نطفہ سے، جسے تم رحم میں ڈالتے ہو، تم باخبر ہو"؟ ( أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ )۔ [تشریحی نوٹ: "رأیتم" یہاں رؤیت سے علم کے معنوں میں ہے، نہ کہ آنکھ سے دیکھنے کے معنوں میں]۔ "کیا جنینی مراحل کے دوران تم اسے بار بار تخلیق کرتے ہو یا اس کے خالق ہم ہیں"؟ ( أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ )۔ کون ہے جو اس بےقیمت نطفہ کو ہر روز ایک نئی شکل دیتا ہے اور خلقت کے بعد نئی خلقت سے نوازتا ہے؟ حقیقتاً یہ تدریجی تبدیلیاں، جو نہایت تعجب انگیز ہیں اور جنہوں نے تمام فکر و دانش کو حیرت زدہ کر دیا ہے، کیا تمہاری طرف سے ہیں یا خدا کی طرف سے؟ کیا وہ ذات جو ان بار بار کی خلقتوں پر قدرت رکھتی ہے، قیامت میں مُردوں کو زندہ کرنے سے قاصر ہے؟ یہ آیت حقیقت میں سورۂ حج کی آیت ۵ سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا۔" "اے لوگو! تم قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو تو اس نکتہ کی طرف توجہ کرو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر بستہ شدہ خون سے، پھر مضغہ سے (چبائے ہوئے گوشت کی شکل کی ایک چیز) جن میں سے بعض کی شکل و صورت ہے اور بعض شکل و صورت کے بغیر ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ ہم تم پر واضح کریں کہ ہم ہر چیز پر قادر ہیں اور جن کو ہم چاہیں، انہیں مدتِ معین تک رحم میں رکھتے ہیں (اور جنہیں چاہیں، ساقط کر دیتے ہیں)، پھر تمہیں بچے کی شکل میں باہر بھیجتے ہیں۔" ان سب سے قطع نظر، اگر اس دریافت کو، جو موجودہ زمانے کے ماہرین نے اس بظاہر ناچیز پانی کے قطرے کے بارے میں کی ہے، مدنظر رکھا جائے تو مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چیز جو انسان کے نطفے کی تولید کا باعث بنتی ہے، وہ مرد کے نطفہ (اسپرم) اور عورت کے نطفہ (اوول) کا مرکب ہے۔ مرد کے نطفہ میں موجود اسپرم ایک بہت ہی چھوٹا خوردبین سے نظر آنے والا کیڑا ہے۔ مرد کے ایک مرتبہ کے انزال میں دو سو سے لے کر سے پانچ سو ملین "اسپرم" موجود ہوتے ہیں (یعنی دنیا کے کئی ممالک کی آبادی کے برابر)۔ [بحوالہ: اولین دانش گاہ، جلد ١ (بحث جنین شناسی)، صفحہ ۲۴۱]۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ انتہائی چھوٹا وجود عورت کے نطفے کے ساتھ مل کر نشوونما پاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر انسانی بدن کے خلیات (سیلز) کی تشکیل کرتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تمام خلیے ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں اور تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اپنے مخصوص مقام پر جا کر ایک خاص عضو کی تشکیل کرتا ہے۔ دوسرا، ہاتھ پاؤں کی اور ایک اور گردہ کان اور آنکھ کی اور ہر ایک ٹھیک اپنی جگہ قرار پاتا ہے۔ نہ دل کے لیے ظاہر ہونے والے خلیے گردے کی جگہ جاتے ہیں، نہ گردے کے خلیے دل کی جگہ۔ کان کے لیے ظاہر ہونے والے خلیے آنکھ کے لیے ظاہر ہونے والوں کی جگہ قرار نہیں پاتے اور نہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نطفہ اپنے جنینی دور میں کئی پُرشور جہانوں کو طے کرتا ہے حتیٰ کہ ایک بچے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور یہ سب خدا کی دوام رکھنے والی صفتِ خالقیت کے زیرِ سایہ ہے۔ جبکہ اس خلقت کے سلسلے میں انسان کا ایک معمولی سا نقش ایک ہی لمحے میں مکمل ہو جاتا ہے، اور وہ رحم میں نطفہ ڈالنے کا لمحہ ہے اور بس۔ تو کیا یہ عقیدۂ معاد پر ایک زندہ دلیل نہیں ہے کہ اس قسم کا قادرِ مطلق مُردوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس سلسلہ کی مزید وضاحتیں جلد ٧، سورۂ حج کی آیت ۵ کے ذیل میں ہم نے جمع کر دی ہیں]۔ اِس کے بعد تیسری دلیل کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کیا اور کسی نے ہم پر سبقت نہیں کی، (نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِینَ)۔ جی ہاں! ہم کبھی مغلوب نہیں ہوں گے۔ اور اگر موت کو ہم نے مقدر کیا ہے تو اس بنا پر نہیں کہ ہم عمرِ جاودانی نہیں دے سکتے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ تم میں سے ایک گروہ کو ہم اُٹھا لیں اور اس کی جگہ دوسرا گروہ لے آئیں اور انجام کار تمہیں ایسے جہان میں کہ جسے تم نہیں جانتے، نئی خلقت بخشیں (عَلٰی أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَنُنْشِئَکُمْ فِی مَا لَا تَعْلَمُونَ)۔ اِن دو آیتوں کی تفسیر میں اس نظریے کے علاوہ جو ہم نے اوپر بیان کیا، ایک اور نظریہ موجود ہے، اور وہ یہ کہ دوسری آیت پہلی آیت کے مقصود کا بیان نہیں ہے بلکہ اس کا جزوِ آخر ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: ہم ہرگز عاجز و مغلوب نہیں ہیں اس سے کہ ایک گروہ کو لے جائیں اور دوسرے گروہ کو اس کا جانشین بنا دیں۔ [تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کے مطابق "عَلٰی أَنْ نُبَدِّلَ" کا جار و مجرور "قَدَّرْنَا" سے متعلق ہے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق "مَسْبُوقِینَ" سے متعلق ہے (غور کیجئے)]۔ "عَلٰی أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ" کے جملہ کے بارے میں بھی دو تفسیریں موجود ہیں۔ ایک وہی تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی ہے، جو مفسّرین کے درمیان مشہور ہے۔ اِس تفسیر کے مطابق اس آیت میں گفتگو اس دنیا میں اقوام کی تبدیلی کے بارے میں ہے۔ دوسری تفسیر کہتی ہے کہ "امثال" سے مراد خود انسان ہیں جو قیامت میں دوبارہ پلٹ آئیں گے اور "مثل" کا لفظ اس لیے آیا ہے کہ انسان اپنی تمام خصوصیات کے ہمراہ واپس نہیں آئے گا بلکہ ایک اور ہی زمانے میں ہو گا اور جسم و رُوح کے اعتبار سے نئی خصوصیات کا حامل ہو گا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال، مقصودِ کلام یہ ہے کہ موت سے قیامت پر استدلال پیش کیا جائے۔ اس استدلال کو اس طرح وضاحت کی جا سکتی ہے: خداوندِ حکیم، جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور باقاعدہ ایک گروہ انتقال کرتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، اس کا یہ عمل کوئی نہ کوئی مقصد اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر صرف دنیاوی زندگی ہی یہ مقصد ہوتی تو پھر مناسب تھا کہ انسانی زندگی جاودانی ہوتی، نہ کہ اس قدر مختصر اور ہزارہا تکالیف سے لبریز کہ انسان کی آمد و رفت کی قیمت بھی نہیں رکھتی۔ اس بنا پر موت کا قانون بڑی عمدگی سے یہ گواہی دیتا ہے کہ دنیا ایک گزرگاہ ہے، منزل نہیں ہے۔ ایک پل ہے نہ کہ ایک مقصد۔ اگر منزل ہوتی اور مقصد ہوتا تو پھر یہ دوام رکھتی۔ "وَنُنْشِئَکُمْ فِی مَا لَا تَعْلَمُونَ" یعنی "تمہیں ہم پیدا کرتے ہیں ایسی صورت میں جسے تم نہیں جانتے۔" ظاہر ہے کہ یہ قیامت میں انسان کی خلقت کی طرف اشارہ ہے، جو ممکن ہے اس دنیا کی موت و حیات کا مقصود ہو۔ یہ واضح ہے کہ چونکہ کسی شخص نے دارِ آخرت کو نہیں دیکھا، لہٰذا وہ ان اصولوں اور نظاموں سے باخبر نہیں جو وہاں رائج ہیں، یہاں تک کہ وہاں کی حقیقت کا بیان ہمارے الفاظ میں بھی نہیں سما سکتا۔ ہم دُور سے اس کا ایک ہیولا دیکھتے ہیں۔ ضمنی طور پر، اوپر والی آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ہم تمہیں ایک نئے جہان میں نئی شکل و صُورت، نئے حالات اور نئی کیفیات میں پیدا کریں گے، جس کی تمہیں خبر نہیں ہے۔ آخری آیت میں معاد کی چوتھی دلیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: تم "نشأة اُولیٰ" (اس جہان) کو جان چکے ہو تو کس طرح قائل نہیں ہوتے کہ دوسرا جہان اس کے بعد ہے؟ (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولٰی فَلَوْلَا تَذَکَّرُونَ)۔ اس دلیل کو دو طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے: پہلی یہ کہ، مثال کے طور پر، اگر ہم ایک بیابان سے گزریں اور اس میں ایسا محل دیکھیں جو بہت آراستہ و پیراستہ ہو، اس کی عمارت میں عظمت و شکوہ ہو، وہ بہت مضبوط ہو، اس میں نہایت عمدہ سہولتیں موجود ہوں اور وہ بہت وسیع و عریض ہو، بعد میں لوگ ہم سے کہیں کہ یہ عظیم عمارت اس مقصد کے لیے ہے، کہ صرف ایک چھوٹا سا قافلہ چند گھنٹے اس میں آرام کر کے چلا جائے۔ تو ہم اپنے ذہن میں یہ سوچیں گے کہ یہ کوئی حکیمانہ کام نہیں ہے، کیونکہ اس قسم کے مقصد کے لیے مناسب یہ تھا کہ چند چھوٹے چھوٹے خیمے نصب کر دیے جاتے۔ اسی طرح یہ دنیا اتنی عظمت کے ساتھ، یہ تمام کُرّے، سُورج، چاند اور انواع و اقسام کی زمین میں بسنے والی مخلوقات—یہ تمام چیزیں صرف ایک چھوٹے سے مقصد یعنی انسان کو چند روزہ زندگی کے لیے نہیں بنائی جا سکتیں، ورنہ اس جہان کی خلقت فضول اور لاحاصل ہوتی۔ یہ عظیم مقامات انسان جیسے صاحبِ شرف وجود کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر وہ خدائے عظیم کی معرفت حاصل کرے، ایسی معرفت جو دوسری زندگی کے لیے اس کا سرمایہ ثابت ہو۔ یہ بیان حقیقت میں اس کے مشابہ ہے جو سورۂ ص کی آیت ٢٧ میں قیامت کے بارے میں پیش کی گئی ہے: (وَما خَلَقْنَا السَّماءَ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما باطِلاً ذلِکَ ظَنُّ الَّذینَ کَفَرُوا) "ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے فضول نہیں پیدا کیا، یہ کافروں کا گمان ہے۔" دوسری بات یہ کہ معاد کے مناظر تم اس دنیا کے ہر گوشے میں اپنی آنکھ سے دیکھتے ہو۔ ہر سال نباتات کی دنیا میں قیامت کے منظر کی تکرار ہوتی ہے۔ پروردگارِ عالم مُردہ زمینوں کو بارش کے زندگی بخش قطروں کے نزول سے زندہ کرتا ہے، جیسا کہ سورۂ حم سجدہ کی آیت ٣٩ میں فرماتا ہے: (إِنَّ الَّذِی أَحْیاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتَیٰ)۔ "وہ جو ان مردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے، وہی ہے جو مُردوں کو زندہ کرے گا۔" سورۂ حج کی آیت ۶ میں بھی ان معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
ایک نکتہ
ہمارے اصولِ فقہ میں یہ مسئلہ پیش کیا جاتا ہے کہ احکامِ شرعی کو قیاس کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ہم کہیں کہ وہ عورت جسے حیض آ رہا ہو، چونکہ اپنے روزے قضا کرتی ہے، لہٰذا نماز بھی قضا کرنی چاہیے (اصطلاح کے مطابق ضروری ہے کہ کلی سے جزئی تک راہ پیدا کی جائے نہ کہ جزئی سے دوسرے جزئی تک)۔ زیادہ تر علمائے اہلِ سنت قیاس کو فقہِ اسلامی کے سلسلے میں منابعِ تشریع میں سے ایک منبع تسلیم کرتے ہیں۔ ان علماء میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو قیاس کی حجیت کی نفی میں ہماری ہم نوا ہے۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ قیاس کے بعض طرف داروں نے مندرجہ بالا آیت (وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ) سے یہ چاہا ہے کہ اپنے مقصود پر استدلال کریں، اس لیے کہ خدا کہتا ہے: نشأة الآخرة یعنی قیامت کو نشأة الأولى یعنی اس دنیا پر قیاس کرو۔ مگر یہ استدلال عجیب ہے، کیونکہ: اوّلًا: جو کچھ اوپر والی آیت میں آیا ہے، وہ ایک عقلی استدلال اور منطقی قیاس ہے۔ چونکہ منکرینِ معاد کہتے تھے کہ خدا کس طرح قدرت رکھتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے، قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کہ وہی ذاتِ والا صفات جو ابتدا میں تمہیں پیدا کرنے کی قدرت رکھتی تھی، وہی بعد میں بھی اس قسم کی قدرت رکھتی ہے۔احکامِ شرعی میں قیاس ظنی ہرگز اس طرح نہیں ہے، کیونکہ ہم تمام احکام کے مفاد و مصالح پر احاطہ نہیں رکھتے۔ ثانیًا: جو لوگ قیاس کو ممنوع سمجھتے ہیں، انہوں نے قیاسِ اولویت کا استثناء کیا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے: "ماں باپ کی نسبت معمولی سے معمولی خشونت آمیز بات بھی نہ کرو۔" تو ہم یہ بدرجہ اولیٰ سمجھتے ہیں کہ ماں باپ کو کوئی جسمانی تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔ زیرِ بحث آیت بھی قیاسِ اولویت کے قبیل میں سے ہے اور اس قیاسِ ظنی سے کوئی ربط نہیں رکھتی جو متنازع فیہ ہے۔ ابتدا میں کوئی چیز موجود نہیں تھی، خدا نے کرۂ زمین اور مٹی کو پیدا کیا اور انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا۔ آخرت کی تخلیق کے لیے کم از کم خاک تو موجود ہے۔ اس لیے قرآن مجید کی سورہ روم کی آیت ۲۷ میں ہم پڑھتے ہیں: وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ۔ "وہی ہے جس نے آفرینش کا آغاز کیا، اس کے بعد اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔" اس گفتگو کو ہم ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں: "عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُكَذِّبِ بِالنَّشْأَةِ الْأُخْرَى وَهُوَ يَرَى النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ، وَعَجَبًا لِلْمُصَدِّقِ بِالنَّشْأَةِ الْأُخْرَى وَهُوَ يَسْعَىٰ لِدَارِ الْغُرُورِ۔" "بہت ہی حیران کن ہے اس شخص کا معاملہ جو نشأة الآخرة (آخرت) کا انکار کرتا ہے، جب کہ نشأة الأولى (دنیا) کو وہ دیکھتا ہے۔ اور بہت زیادہ تعجب ہے اس شخص پر جو نشأة الآخرة پر ایمان رکھتا ہے، لیکن اس کی ساری تگ و دو اس دنیا کے لیے ہے۔" [تشریحی نوٹ: اس حدیث کو "روح البیان"، "روح المعانی"، "قرطبی" اور "مراغی" نے مختصر سے فرق کے ساتھ خبر کے عنوان کے تحت پیغمبر اسلام (ﷺ) کے نام کی تصریح کے بغیر بیان کیا ہے۔ لیکن اس کی تعبیرات کا انداز یہ ہے کہ یہ حدیث پیغمبر (ﷺ) کی ہے۔ کتاب "کافی" میں اس حدیث کا پہلا حصہ امام علی زین العابدین (علیہ السلام) سے منقول ہے]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: دانوں کو اُگانے والا خُدا ہے یا تم ہو؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اس سُورہ میں جو سات دلیلیں معاد کے بارے میں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ہم نے اب تک چار دلیلیں پڑھی ہیں۔ زیر بحث آیت اور آنے والی آیات میں تین اور دلیلیں پیش کی گئی ہیں، جن میں سے ہر ایک انسانی زندگی میں خُدا کی قُدرتِ بےپایاں کا نمونہ ہے۔ ان دلیلوں میں سے ایک غذا کے دانوں کی خلقت سے تعلق رکھتی ہے، دوسری پانی سے اور تیسری آگ سے متعلق ہے۔ انسانی زندگی کے تین بنیادی ارکان کو یہی چیزیں تو تشکیل دیتی ہیں۔ نباتات کے دانے انسانی غذا کا اہم ترین جز شمار ہوتے ہیں، پانی اہم ترین مشروب ہے اور آگ غذائی مواد اور دیگر امورِ زندگی کی اصلاح کا اہم ترین وسیلہ ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: کیا اس میں جسے تم کاشت کرتے ہو، کبھی غور کیا ہے؟ أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُون) "کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟" جاذبِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں "تحرثون" ہے، جس کا مادہ "حرث" (بروزنِ درس) ہے، جو کاشت کرنے کے معنی میں آتا ہے (یعنی بیج بکھیرنا اور انہیں نشوونما کے لیے آمادہ کرنا)، جبکہ دوسری آیت میں "تزرعون" کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مادہ "زراعت" ہے، جو اگانے کے معنی میں ہے۔ واضح رہے کہ انسان کا کام صرف کاشت کرنا ہے، جبکہ اُسے اگانا خدا کا کام ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر اسلام (ﷺ) سے منقول ہے: لَا یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ زَرَعْتُ، وَلْیَقُلْ حَرَثْتُ، فَإِنَّ الزَّارِعَ هُوَ اللّٰهُ۔ (تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے زراعت کی، بلکہ یہ کہے کہ میں نے کاشت کی، کیونکہ زارع حقیقی اللہ ہے)۔ [تشریح نوٹ: اس حدیث کا پہلا حصہ تفسیر مجمع البیان میں آیاتِ زیر بحث کے ذیل میں آیا ہے، جبکہ دوسرا حصہ روح البیان میں نقل ہوا ہے]۔ اس دلیل کی تشریح اس طرح ہے کہ انسان جو کام زراعت کے سلسلہ میں کرتا ہے، وہ بچے کے تولد کے سلسلہ میں جو اس کا کام ہے اس کچھ زیادہ غیرمشابہ نہیں ہے۔ یہ زمین میں صرف دانہ ڈالتا ہے، پھر الگ ہو جاتا ہے۔ یہ خدا ہے جس نے دانے کے اندر ایک بہت ہی چھوٹا زندہ سیل پیدا کیا ہے، جو مساعد ماحول میں پہنچ کر ابتدائی طور پر خود دانے میں موجود غذائی مواد سے استفادہ کرتا ہے، کونپل نکالتا ہے اور جڑ کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر عجیب و غریب تیزی کے ساتھ زمین کے غذائی مواد سے مدد حاصل کرتا ہے اور اس بیج میں ایک حیرت انگیز نظام حرکت میں آ جاتا ہے، جو اسے ایک تناور درخت، شاخوں اور خوشوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اور کبھی تو ایک بیج میں سے کئی سو یا کئی ہزار دانے نکلتے ہیں! [تشریحی نوٹ: اگرچہ عام طور پر گندم کی بالی میں کئی سو دانے بہت کم نظر آتے ہیں، لیکن جیسا کہ اس تفسیر کی پہلی جلد میں مطبوعات کی صریح گواہی کے مطابق جنوبی ایران کے ایک شہر میں بعض کھیتوں میں گندم کے بوٹے بہت بلند اور پُر خوشہ دیکھے گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ایک بوٹے میں چار ہزار دانے موجود تھے]۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وہ ترتیبیں جو ایک گھاس کی ساخت اور اس کے ڈھانچے میں نظر آتی ہیں، ایک ایسے عظیم صنعتی شہر کی ترتیبوں کی طرح ہیں جس میں متعدد کارخانے ہوں اور یہ ترتیبیں بہ نسبت اس صنعتی شہر کی ترتیبوں کے زیادہ تعجب انگیز اور پیچیدہ ہیں۔ تو کیا وہ ہستی جو اس قسم کی قدرت رکھتی ہے، مُردوں کو زندہ کرنے سے عاجز ہے؟ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ نباتات کی نشوونما کے سلسلہ میں انسان سوائے دانوں کو زمین میں ڈالنے کے کوئی اور کام نہیں کرتا، بعد والی آیت مزید کہتی ہے: اگر ہم چاہیں تو اس زراعت کو مٹھی بھر خشک و کوبیدہ گھاس میں اس طرح تبدیل کر دیں کہ تم حیران رہ جاؤ (لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ) جی ہاں! ہم تیز زہریلی آندھی بھیج سکتے ہیں جو اسے دانوں کے لگنے سے پہلے ہی خشک کر کے درہم و برہم کر دے، یا پھر کوئی اور آفت و مصیبت اس پر مسلط کر دیں جو حاصل ہونے والے سرمایہ کو ختم کر دے۔ ٹڈی دل کا سیلاب اس کی طرف بھیج سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک عظیم بجلی کا ایک گوشہ اس پر مسلط کر دیں، اس طرح کہ سوائے مٹھی بھر خشک روندی ہوئی گھاس کے اور کوئی چیز باقی نہ رہے اور تم اس منظر کے مشاہدے سے حیرت و ندامت میں غرق ہو جاؤ۔ اگر حقیقی زارع تم لوگ خود ہوتے تو کیا یہ امور ممکن تھے؟ تو پھر جان لو کہ یہ سب برکتیں کسی اور جانب سے ہیں۔ "حطام" کا مادہ "حطم" (بروزن ختم) ہے، جس کے معنی کسی چیز کے ٹوٹنے کے ہیں، زیادہ تر خشک چیزوں پر، جیسے بوسیدہ ہڈی یا گھاس کے خشک تنکوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں مراد وہی گھاس ہے۔ یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ "حطام" سے مراد یہاں زمین کے نیچے بوسیدہ اور نہ اگنے والا بیج ہے۔ [بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی در ذیل آیاتِ زیر بحث]۔ "تفکّہون"، "فاکھة" کے مادہ سے پھل کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے بعد "فکاھت" مزاح، خوش طبعی اور ایسی لطیفہ گوئی کے لیے استعمال ہوتا ہے جو محافلِ محبت کی جان ہوتی ہے۔ لیکن کبھی یہ مادہ حیرت اور تعجب کے معنوں میں بھی آیا ہے اور زیر بحث آیت میں اسی قبیل سے ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ، جیسا کہ انسان کبھی غصہ کی حالت میں بھی ہنستا ہے، جسے "غصے کا ہنسنا" کہتے ہیں، وہ سخت اور بڑی مصیبت کے وقت بھی مزاح سے کام لیتا ہے۔ اس بنا پر اس سے یہاں مراد وہ مزاح اور خوش طبعی ہے جو مصیبت کے وقت ہو۔ جی ہاں! تعجب کرتے ہو اور حیرت میں ڈوب کر کہتے ہو: "سچ مچ ہم نے نقصان اُٹھایا ہے اور ہم سرمایہ کھو بیٹھے ہیں اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا": (إِنَّا لَمُغْرَمُونَ۔)۔ [تشریحی نوٹ: اس جملے میں کچھ محذوف ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: (وَتَقُولُونَ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ)۔ "مُغْرَمُونَ"، غرامت کے مادہ سے ہے، زیادہ نقصان کرنے اور وقت و سرمایہ ضائع کرنے کے معنوں میں]۔ بلکہ ہم تو کلی طور پر بےچارے اور محروم ہیں: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ۔ اگر حقیقی زارع تم ہی ہوتے تو کیا اس قسم کی صورتِ حال ممکن تھی؟ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ یہ سب آوازیں اور صدائیں اُسی طرف سے ہیں اور وہی ہے جو ایک ناچیز دانہ سے کبھی سرسبز گھاس اور کبھی سینکڑوں یا ہزاروں دانے پیدا کرتا ہے۔ وہ گھاس اور وہ نباتات، جن کے دانے انسانوں کی غذا ہیں اور ان کے شاخ و برگ جانوروں کی غذا ہیں اور کبھی ان کی جڑیں اور باقی اجزاء انواع و اقسام کی بیماریوں کی دوائیں ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: یہ پانی اور آگ کِس کی طرف سے ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8پروردگارِ عالم سورۂ واقعہ کی ان آیتوں میں معاد کی چھٹی اور ساتویں دلیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ آیتیں اس قدرت و اختیار کو بیان کرتی ہیں جو اُسے ہر چیز پر حاصل ہے اور یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچاتی ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا تم نے اس پانی پر غور کیا ہے جسے تم پیتے ہو"؟ (أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ)۔ "کیا تم اسے بادل سے نازل کرتے ہو یا ہم نازل کرتے ہیں"؟ (أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ)۔ "مُزْن" (بروزن حُزْن) جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے، واضح بادلوں کے معنی میں ہے، بعض مفسرین نے اس کے معنی برسنے والے بادل لیے ہیں۔ یہ آیتیں انسان کے وجدان میں سوالات کا ایک سلسلہ قائم کرتی ہیں اور اس سے اقرار لیتی ہیں اور درحقیقت کہتی ہیں: کیا اس پانی کے بارے میں، جو تمہاری زندگی کا باعث ہے اور تم ہمیشہ اسے پیتے ہو، کبھی غور کیا ہے؟ کون ہے جو سورج کو حکم دیتا ہے کہ سطح سمندر پر چمکے؟ وہ کون ہے جو کڑوے اور نمکین پانیوں میں سے صرف خالص شیریں پانی کے اجزا کو، جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہیں، بخارات کی شکل میں آسمان کی طرف بھیجتا ہے؟ کون ہے جو ان بخارات کو حکم دیتا ہے؟ بادلوں کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے الگ کون کرتا ہے اور پھر انہیں خشک و مُردہ زمینوں کی بلندیوں پر بھیجتا ہے؟ کس نے ہوا کے اوپر والے حصے کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ سرد ہونے کے موقع پر آہستہ آہستہ بخارات کو جذب کرنے کی قوت کھو بیٹھیں اور اس کے نتیجے میں موجود بخارات قطروں کی شکل میں نرم و ملائم صورت میں آہستہ آہستہ زمین پر گریں؟ اگر سورج اپنا کام چھوڑ دے، ہوائیں چلنے سے رک جائیں، فضا کے اوپر والے حصے بخارات کو اصرار کر کے اپنے اندر روک لیں، آسمان زمین کے بارے میں بخیل ہو جائے اس انداز میں کہ زراعتیں اور نخلستان اپنے لب تر نہ کر سکیں، تو تم سب شدتِ تشنگی سے ہلاک ہو جاؤ گے اور تمہارے جانور، باغات اور زراعتیں سب خشک ہو جائیں گے۔ تو پھر سوچو! جو قدرت رکھتا ہے کہ اس قسم کے آسان ذرائع سے اس طرح کی برکتیں تمہارے لیے فراہم کرے، کیا مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا؟ یہ تو خود ایک قسم کا مُردوں کو زندہ کرنا ہے، مُردہ زمینوں کو زندہ کرنا توحید و عظمتِ خدا کی بھی دلیل ہے اور قیامت و معاد کی بھی۔ اور اگر ہم مندرجہ بالا آیتوں میں دیکھتے ہیں کہ صرف پینے کے پانی پر انحصار کیا گیا ہے، تو اس کی تاثیر سے جانوروں اور نباتات کی زندگی کے لیے پانی کی حد سے زیادہ اہمیت کی بنا پر ہے۔ اس کے علاوہ، گزشتہ آیتوں میں زراعت کے معاملے پر گفتگو ہوئی تھی، لہٰذا تکرار کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت اور اس کے اثرات، نہ صرف یہ کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ، صنعتوں کے وجود میں آنے اور انسان کے علم و دانش کی ترقی کے باوجود، کم نہیں ہوئے بلکہ، اس کے برعکس، صنعتی انسان پانی کا زیادہ محتاج ہے۔ اسی لیے بہت سے عظیم صنعتی ادارے صرف بڑے بڑے دریاؤں کے کنارے واقع ہیں اور ان کی کارکردگی انہی مقامات سے وابستہ ہے۔ آخرکار، بعد والی آیت میں اس بحث کی تکمیل کے لیے مزید کہتا ہے: "اگر ہم چاہیں تو اس میٹھے اور خوشگوار پانی کو کڑوے اور نمکین پانی میں تبدیل کر دیں۔" (لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا) [تشریحی نوٹ: اس جملے میں "لام" حذف ہو گیا ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے: "لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ"]۔ "تو پھر کیوں اس عظیم نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے"؟ (فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ)۔ جی ہاں، اگر خدا چاہتا تو پانی میں حل شدہ نمکیت کو اجازت دیتا کہ وہ پانی کے اجزا کے ساتھ بخار بنے اور اس کے ساتھ آسمان کی طرف چلی جائے اور کڑوے اور نمکین بادلوں کی شکل بنائے اور بارش کے قطرے شور و تلخ سمندر کے پانی کا ذائقہ لیے ہوئے اوپر سے نیچے گریں، لیکن اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے نمکین پانی کو یہ اجازت نہیں دی۔ نہ صرف پانی کے نمکین حصے کو بلکہ ایذا رساں، مضرِ صحت، اور تکلیف دہ جراثیم کو بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ پانی کے بخارات کے ہمراہ آسمان کی طرف بلندی پر جائیں اور بارش کے قطروں کو آلودہ کریں۔ اسی بنا پر بارش کے قطرے، جس وقت فضا آلودہ نہ ہو، زیادہ خالص، پاکیزہ اور خوشگوار پانی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ "أُجَاج" کا مادّہ "أَجّ" (بروزن حج) ہے۔ یہ اصل میں "أَجِيج" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی آگ کے بھڑکنے اور جلانے کے ہیں۔ اس پانی کو، جو کڑواہٹ، نمکینی اور حرارت کی وجہ سے منہ کو جلا دے، "أُجَاج" کہتے ہیں۔ اس گفتگو کو ہم پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں: "إِنَّ النَّبِيَّ كَانَ إِذَا شَرِبَ الْمَاءَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا۔" جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی نوش فرماتے تو ارشاد فرماتے: "حمد ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنی رحمت سے ہمیں میٹھے اور خوشگوار پانی سے سیراب کیا اور اسے ہمارے گناہوں کی وجہ سے نمکین اور کڑوا نہیں بنایا۔" [بحوالہ: تفسیر "مراغی"، جلد ۲۷، صفحہ ۱۴۸۔ "تفسیر روح المعانی"، جلد ۲۷، صفحہ ۱۲۹]۔ انجامِ کار ہم اسی سلسلۂ آیات میں ساتویں اور آخری دلیل تک پہنچتے ہیں۔ وہ ساتویں دلیل "آگ کی خلقت" ہے۔ آگ، جو انسانی زندگی کے آلات و اسباب میں سب سے زیادہ اہم ہے اور تمام صنعتوں میں سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ ہے، کو موضوع بنا کر خدا فرماتا ہے: "کیا اس آگ کے بارے میں جسے تم روشن کرتے ہو، کبھی تم نے غور و فکر سے کام لیا ہے"؟ "أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ۔" "کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم نے پیدا کیا ہے"؟ "أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ۔" "تورون" کا مادّہ "وری" (بروزن نَفْی) ہے، اس کے معنی "چھپانا" ہیں۔ وہ آگ، جو آگ جلانے کے وسائل میں چھپی ہوئی ہے، اس کو چنگاری سلگا کر باہر نکالیں، تو اسے "وری" اور "إيراء" کہا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے: پہلی چنگاری پیدا کرنے اور آگ جلانے کے لیے موجودہ زمانے میں ماچس اور لائٹر سے کام لیا جاتا ہے۔ کبھی لوہے اور چقماق سے یہی کام لیا جاتا تھا، انہیں ایک دوسرے سے رگڑتے تھے تو اس میں سے چنگاری نکلتی تھی۔ لیکن حجاز کے دیہاتی دو قسم کے مخصوص درختوں سے، جو صحرا میں اگتے ہیں اور "مرخ" اور "عفار" کہلاتے ہیں، ان سے آگ جلانے والی لکڑیوں کے طور پر فائدہ اٹھاتے تھے۔ پہلی لکڑی کو نیچے رکھ لیتے اور دوسری لکڑی کو اس کے اوپر پتھر اور چقمق کی مانند ان میں سے چنگاری نکلتی۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کی انہی معانی میں تفسیر کی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ آگ، جو اس قسم کے درختوں میں چھپی ہوئی ہے اور جس سے ماچس یا چقماق کی طرح فائدہ اٹھایا جاتا ہے، پروردگار اسے اپنی انتہائی قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ اس نے "شجرِ اخضر" (سرسبز درخت) میں آگ پیدا کی ہے، حالانکہ پانی درخت کی جان ہے۔ پانی کہاں اور آگ کہاں! وہ ذاتِ پاک، جو اس قسم کی قدرت رکھتی ہے کہ پانی اور آگ کو ایک دوسرے کے اندر محفوظ رکھے، وہ مُردوں کو لباسِ حیات پہنانے سے کس طرح قاصر ہو سکتی ہے اور بروزِ قیامت انہیں کس طرح زندہ نہیں کر سکتی؟ معاد کے لیے یہی دلیل سورۂ یٰسین کی آخری آیات میں بھی آئی ہے: "الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ۔" "وہی ذات جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کی اور تم اس کے ذریعے آگ روشن کرتے ہو۔" (یٰسین: ۸۰) لیکن جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے تفصیل سے بیان کیا ہے، یہ قرآنی تعبیر ہو سکتی ہے ایک زیادہ لطیف دلیل کی، یعنی قوّتوں کی "قیامت" کی طرف اشارہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں، یہاں گفتگو صرف ماچس اور لائٹر وغیرہ کی نہیں ہے بلکہ وہ چیزیں مراد ہیں جو جلانے کے کام آتی ہیں، یعنی لکڑیاں اور ایندھن وغیرہ، جو جل کر یہ ساری طاقت اور حرارت بہم پہنچاتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ علمی لحاظ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ آگ، جو آج ہم لکڑیوں کے جلنے کے وقت دیکھتے ہیں، یہ وہی حرارت ہے جو درختوں نے طویل عرصے کے دوران سورج سے حاصل کی ہے اور اپنے اندر ذخیرہ کر لی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سورج کی پچاس سال کی چمک اور روشنی درخت کے تنے سے ختم ہو گئی ہے، لیکن ہم اس سے غافل ہیں کہ وہ حرارت درخت میں جمع ہے۔ جس وقت آگ کی چنگاری خشک لکڑیوں تک پہنچتی ہے اور وہ جلنے لگتی ہیں، تو درخت وہ حرارت اور روشنی واپس کر دیتا ہے۔ یعنی اس طرح یہاں قیامت بپا ہوتی ہے اور مردہ طاقتیں از سرِ نو زندہ ہو جاتی ہیں۔ اور وہ ہم سے کہتی ہیں کہ وہ خدا، جس نے ہماری قیامت برپا کی ہے، وہ یہ قدرت رکھتا ہے کہ تم انسانوں کی قیامت بھی برپا کر دے۔ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے تفصیلی بحث جلد ۱۸ کی طرف رجوع کریں۔ "تورون"، جس کے معنی آگ جلانے کے ہیں، اگرچہ یہاں عام طور پر اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد ماچس وغیرہ سے فائدہ اٹھانا ہے، لیکن اس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ اس سے مراد ایندھن ہو، کیونکہ بہرحال اس میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے جو ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے سے متصادم بھی نہیں ہیں۔ پہلے معنی عام لوگ سمجھتے ہیں اور دوسرے معنی، جو زیادہ دقیق ہیں، وہ زمانے کے گزرنے اور علم و دانش کی ترقی کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بعد والی آیت میں مذکورہ بالا مباحث کی تاکید کے لیے مزید فرماتا ہے: "ہم نے اس آگ کو، جو درختوں سے خارج ہوتی ہے اوروں کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ اور مسافروں کے لیے زندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔" "نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ۔" سبز درختوں میں سے آگ کا ظاہر ہونا ایک طرف بےجان بدنوں میں قیامت کے دن روحوں کے واپس آنے کو یاد دلاتا ہے اور دوسری طرف آتشِ دوزخ کا احساس دلاتا ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث: "نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تُوقِدُونَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ۔" "یہ آگ جو تم جلاتے ہو، جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔" [بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۶۳۹۲ اور تفسیر روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۳۱]۔ باقی رہی تعبیر "مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ" کی، تو وہ اس آگ کے دنیوی فوائد کی طرف ایک مختصر اور پُرمعنی اشارہ ہے۔ کیونکہ "مقوین" کی دو تفسیریں کی گئی ہیں: 1. پہلی یہ کہ یہ مادّہ "قَوَىٰ" (بروزن کتاب) سے مشتق ہے، جس کے معنی خشک اور خالی بیابان کے ہیں۔ اس بنا پر "مقوین" ان افراد کو کہتے ہیں جو صحراؤں میں پھرتے ہیں اور چونکہ صحرانشین افراد عام طور پر فقیر ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تعبیر بعض اوقات فقیر کے معنی میں بھی آئی ہے۔ 2. دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ "قُوَّة" کے مادّہ سے ہے، جس کا مطلب طاقتور کے ہیں۔ اس بنا پر یہ لفظ ان الفاظ میں سے ہے جو دو متضاد معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: توجہ کریں کہ "متاع" کا لفظ ہر اس ذریعہ کے لیے بولا جاتا ہے جس سے انسان اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے]۔ یہ ٹھیک ہے کہ آگ اور درخت (ماچس اور ایندھن وغیرہ) سب کے لیے ذریعۂ استفادہ ہیں، لیکن چونکہ مسافر سردی کو دُور کرنے اور کھانا پکانے کے لیے خصوصاً پُرانے زمانے کے سفروں میں، جو قافلوں کے ذریعے ہوتے تھے، خصوصی طور پر ان چیزوں کے حاجت مند تھے، لہٰذا انہی کے ذکر پر انحصار کیا گیا۔ "اقویا" (طاقتوروں) کا آگ سے فائدہ اٹھانا اپنی زندگی کی وسعت، یعنی سہولتوں کی بنا پر واضح ہے، خصوصاً اگر اس بحث کو ہم موجودہ زمانے تک لے آئیں کہ جس طرح وہ حرارت، جو انواع و اقسام کی آگ سے پیدا ہونے والی ہے اور وہ دنیائے صنعت کو متحرک کرتی ہے اور کارخانوں کے عظیم پہیوں کو گردش میں لاتی ہے، وہ بھی بلا واسطہ یا بالواسطہ درختوں ہی سے متعلق ہے، کسی دن بجھ جائے تو نہ صرف یہ کہ چراغِ تمدّن گل ہو جائے بلکہ انسانوں کی زندگی کا چراغ بھی خاموش ہو جائے۔ اس میں شک نہیں کہ آگ انسانی انکشافات میں سے ایک بہت اہم چیز ہے، جب کہ اس کے تمام اثرات کا سرچشمہ خلقت و آفرینش ہی ہے اور انسان کی کاوش کا دخل اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ جس وقت سے آگ دریافت ہوئی ہے، بشریت نے اپنے تمدّن کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا ہے۔ جی ہاں! قرآن مجید نے اس ایک مختصر سے جملے میں ان تمام حقائق کی طرف اجمالی اور سربستہ شکل میں اشارہ کیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں پہلے تو آگ کا معنوی فائدہ پیش ہوا ہے، جو یقیناً قیامت کی یاددہانی تھا، اس کے بعد اس کا دنیوی فائدہ بیان ہوا اور وہ اس لیے کہ پہلا فائدہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے، بلکہ اصل و اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تین نعمتوں (غذائی اناج، پانی اور آگ) کے ذکر کے موقع پر ایک خاص ترتیب رکھی گئی ہے، جو پوری طرح ایک طبعی ترتیب ہے۔ سب سے پہلے انسان غذا میں استعمال ہونے والے دانوں کو لیتا ہے، اس کے بعد ان دانوں میں پانی ملاتا ہے، پھر اسے آگ پر رکھ کر پکاتا ہے اور اس قابل بناتا ہے کہ انہیں بطور غذا استعمال کیا جائے۔ آخری زیر بحث آیت میں نتیجہ پیش کرتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "اب جب کہ ایسا ہے تو اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کر اور اسے پاک و منزہ شمار کر۔""فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ۔" [تشریحی نوٹ: "باسم ربك" میں "با" ہو سکتا ہے تعدیہ کے لیے (اس طرح سے کہ "سبح" کا فعل متعدی بمنزلہ لازم لیا گیا ہو)۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ یہاں "با" استعانت کے لیے ہے یا زائدہ ہے یا مناسبت کے لیے ہے، لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں]۔ جی ہاں! وہ خدا جس نے یہ سب نعمتیں پیدا کی ہیں، جن میں سے ہر ایک اس کی توحید، قدرت اور عظمت پر دلالت کرتی ہے اور قیامت کا ثبوت ہے، وہ ہر قسم کے عیب و نقص سے مبرا ہے۔ وہ پروردگار بھی ہے، عظیم بھی ہے اور قادرِ مطلق بھی۔ اس جملہ میں اگرچہ تنہا پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے، لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ اس سے مراد تمام انسان ہیں۔
ایک نکتہ
یہاں ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیات سے متعلق ہم پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امیر المومنین علیہ السلام کی چند حدیثیں پیش کریں۔ 1۔ تفسیر روح المعانی میں ایک حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک رات نماز کے بعد سورۂ واقعہ کو پڑھتے ہوئے جب آپ (أَفَرَأَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ، أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ) پر پہنچے تو آپ نے تین مرتبہ عرض کیا (بل أنتَ يا ربّ( "بلکہ تو ہی (انسان کا خالق ہے) اے پروردگار"۔ اور جس وقت (أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ) پر آئے تو پھر تین مرتبہ عرض کیا (بل أنتَ يا ربّ( "بلکہ زارع حقیقی تو ہی ہے، اے پروردگار"۔اس کے بعد جب (أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ) پر آئے تو پھر تین مرتبہ عرض کیا )بل أنتَ يا ربّ( “اے پروردگار! تو ہی ہے )جو بادلوں سے مینہ برساتا ہے)۔اس کے بعد (أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُونَ) کی تلاوت فرمائی تو پھر تین مرتبہ عرض کیا )بل أنتَ يا ربّ( “تو ہی ہے )جس نے آگ پیدا کرنے والے درختوں کو پیدا کیا)۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۳۰]۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مناسب یہ ہے کہ انسان ان جملوں کا اقتضائے حال کے مطابق جواب دے، اس طرح جیسے خدا اس سے باتیں کر رہا ہے، اس کے بعد اس حقیقت کو اپنی روح میں جاگزیں کرے اور محض غور و فکر سے عاری بےجان تلاوت پر قناعت نہ کرے۔ 2۔ ایک دوسری حدیث میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "لَا تَمْنَعُوا عِبَادَ اللَّهِ فَضْلَ الْمَاءِ وَلَا كَلَاءً وَلَا نَارًا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَهَا مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ وَقُوَّةً لِلْمُسْتَضْعَفِينَ۔""تمہارے پاس جو فالتو پانی ہو، اسے بندگانِ خدا کو استعمال کرنے سے کبھی نہ روکنا، اسی طرح اضافی چراگاہ اور آگ کے معاملے میں بھی لوگوں کو اس کے استعمال سے نہ روکنا۔ کیونکہ خدا نے انہیں مسافروں کی زندگی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کی قوت کا سبب قرار دیا ہے۔" [بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۱]۔ 3۔ ایک اور حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ جب "فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ" کی آیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ۔" یعنی: "اسے اپنے رکوع میں شامل کرو (اپنے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ کہا کرو")۔ [تشریحی نوٹ: اس حدیث کو مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک صحیح حدیث کے عنوان کے تحت درج کیا ہے (جلد ۹، صفحہ ۲۲۴) اور یہ حدیث من لا یحضره الفقیہ میں بھی موجود ہے (مطابق تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۲۵) اور اسی طرح تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۸ پر بھی درج ہے]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: صِرف پاکیزہ افراد حریم قرآن تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اِن بہت سے مباحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں قیامت کے بارے میں سات دلیلوں کے ساتھ آئے اِن آیات میں گفتگو قرآنِ مجید کی اہمیّت کے بارے میں کیونکہ مسئلہ نبوّت اور مسئلہ نزولِ مبداء و معاد کے مسائل کے بعد اہم ترین اعتقادی ارکان کو تشکیل دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن مجید توحید و معاد جیسے دو اصولوں کے پسِّ منظر کے لیے عمیق بحث پیش کرتا ہے اور مسئلہ نبوّت و نزول قرآن کے مرتبہ کا استحکام توحید و معاد کا استحکام شمار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ایک بڑی قسم کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہوئے فرماتا ہے: "قسم ہے ستاروں کی جگہ کی اور ان کے محل طلوع و غروب کی۔" فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ۔ بہت سے مفسّرین کا یہ عقیدہ ہے کہ "لا" یہاں نفی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ زائدہ ہے اور تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں یہی تعبیر روزِ قیامت، نفسِ لوّامہ، مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کا شفق کی قسموں کے سلسلہ میں آئی ہے۔ بعض دوسرے مفسّرین "لا" کو یہاں نفی کے معنوں میں لیتے ہیں اور اس طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ موضوعِ قسم اس سے زیادہ اہمیّت رکھتا ہے کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ جیسا کہ روزمرّہ ہم دیکھتے ہیں کہ میں فلاں چیز کی قسم نہیں کھاتا۔لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے کیونکہ قرآن میں خدا کی پاک ذات کی صراحت کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے تو کیا ستارے خدا سے بہتر و برتر ہیں کہ ان کی قسم نہ کھائی جائے؟ مفسرین نے "مواقع النجوم" کے بارے میں متعدد تفسیریں پیش کی ہیں: 1. پہلی: وہی جو ہم نے ابھی بیان کی یعنی ستاروں کی جگہ اور ان کے مدار و گزر گاہ کی قسم۔ 2. دوسری: یہ کہ مراد ان کا محل طلوع و غروب ہے۔ 3. تیسری: یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے ستاروں کا قیامت میں گرنا مراد ہو۔ 4. چوتھی: بعض نے اس کی صرف ستاروں کے غروب کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ 5. پانچویں: بعض نے چند روایات کی پیروی کرتے ہوئے، اسے قرآن کے مختلف حصّوں کے مختلف زمانی فاصلوں کے ساتھ نزول کی طرف اشارہ سمجھا ہے (کیونکہ "نجوم"، جو "نجم" کی جمع ہے، وہ تدریجی کاموں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے)۔ ان سب معانی کے درمیان کوئی منافات بھی نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ سب معانی زیر بحث آیت کی تفسیر میں شامل ہوں، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ کیونکہ ان آیات کے نزول کے وقت اکثر لوگ اس قسم کی اہمیت کو نہیں جانتے تھے، لیکن اِس زمانہ میں ہم پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ آسمان کے ستاروں میں سے ہر ایک کی ایک معیّن جگہ ہے اور اس کا مدار قانونِ جاذبہ و دافعہ کے مطابق معیّن و مقرر ہے اور بہت ہی دقیق حساب کے مطابق ہے اور ان میں سے ہر ایک کی سُرعتِ رفتار ایک معیّن پروگرام کے مطابق طے پاتی ہے۔ جو کُرات زیادہ دور واقع ہیں ان کا بالکل ٹھیک حساب لگانا اگرچہ ممکن نہیں ہے لیکن نظام شمسی جو ہم سے قریب کے ستاروں کا خاندان تشکیل دیتا ہے اس میں صحیح مطالعہ بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس کے مداروں کا نظام اس حد تک قطعی اور صحیح حساب ہے کہ انسان کے دماغ کو حیران کر دیتا ہے۔ جس وقت ہم اس نکتہ کی طرف توجہ کریں کہ ماہرین کی گواہی کے مطابق صِرف ہماری کہکشاں میں تقریباً ایک ہزار ملین ستارے موجود ہیں اور عالم میں اس کے علاوہ اور بہت سی کہکشائیں ہیں جن میں سے ہر ایک کی ایک مخصوص سمت ہے، تو ہمیں قرآن کی اس قسم کا اندازہ ہوتا ہے۔ "اللہ والعلم الحدیث" نامی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ ماہرین علم الافلاک کا نظریہ ہے کہ یہ ستارے، جو اربوں سے زیادہ تعداد میں ہیں، ان میں سے بعض کو بغیر کسی مددگار آلے کے، صرف اپنی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور ان میں سے بہت زیادہ حصّہ کو سوائے ٹیلیسکوپ کی مدد کے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ ان ستاروں کا ایک حصّہ تو ٹیلیسکوپ کے ذریعہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا، صرف مخصوص قسم کے وسائل سے ان کی تصویر لی جا سکتی ہے۔ یہ سب اپنے مخصوص مدار میں تیرتے ہیں اور اس بات کا کوئی بھی احتمال نہیں ہے کہ ان میں سے ایک کسی دوسرے کے ایسے علاقہ میں، جہاں اس کی کشش کام کر رہی ہو، موجود ہو، یا یہ کہ یہ ستارے ایک دوسرے سے متصادن ہو جائیں۔ فی الحقیقت ان ستاروں کا ٹکراؤ ایسا ہی ہے جیسے ہم فرض کریں کہ ایک بحری جہاز جو ایک سمندر میں ہے وہ دوسرے اس جہاز سے جو دوسرے بڑے سمندر میں ہو ٹکرا جائے جب کہ دونوں جہاز ایک ہی سمت میں اور ایک ہی رفتار سے چل رہے ہوں۔ اس قسم کا احتمال اگر محال نہیں تو بعید ضرور ہے۔ [بحوالہ: اللہ والعلم الحدیث، صفحہ ۳۳]۔ ستاروں کی کیفیّت اور وضع کے سلسلہ میں ان علمی انکشافات کی طرف توجہ کرتے ہوئے مذکورہ بالا قسم کی اہمیّت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے، اسی بنا پر بعد والی آیت میں پروردگارِ عالم مزید فرماتا ہے: "یہ بہت ہی بڑی قسم ہے اگر تم جان لو۔" وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ۔ "لَوْ تَعْلَمُونَ" (اگر تم جان لو) کے الفاظ اچھی طرح گواہی دیتے ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی دانش اُس زمانے میں اس حقیقت کا مکمل طور پر ادراک نہیں کر سکتے تھے اور یہ خود قرآن کا ایک علمی اعجاز شمار ہوتا ہے کہ ایسے زمانے میں، جب کہ شاید ایک گروہ یہ خیال کرتا تھا کہ ستارے چاندی کی میخیں ہیں جو آسمان کی چھت میں ٹھونکی گئی ہیں، اس قسم کا بیان اور وہ بھی ایسے ماحول میں جو فی الحقیقت جہالت و نادانی سے مملو تھا، ممکن نہیں تھا کہ ایک عام انسان سے صادر ہو۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ عظیم قسم کس مقصد کے لیے بیان ہوئی ہے۔ بعد والی آیت اس کے رُخ سے پردہ اُٹھاتی ہے اور کہتی ہے: "جو کچھ محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں وہ قرآن کریم ہے۔" )إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ(۔ اور اس طرح ان کج فہم اور ضدی مشرکین کو، جن کا ہمیشہ یہ اصرار تھا کہ یہ آیتیں ایک قسم کی کہانت ہیں، یا نعوذ باللہ جنون آمیز باتیں ہیں، یا شعراء کے اشعار کی طرح ہیں، یا پھر شیاطین کی طرف سے ہیں، یہ جواب دیتا ہے کہ یہ وحی آسمانی ہے اور ایسا کلام ہے جس کی عظمت کے آثار بالکل نمایاں ہیں اور اس کے موضوعات و مضامین اس کے مبداءِ نزول کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اتنی واضح ہے کہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔ قرآن کی تعریف لفظ "کریم" کے ساتھ کی گئی ہے۔ (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "کرم" جب خدا سے متعلق ہو تو اس کے معنی احسان و انعام کے ہیں اور جب انسان سے متعلق ہو تو قابلِ تعریف اخلاق و اعمال کے حامل ہونے کے معنی میں آتا ہے)۔ مجموعی طور پر یہ عظیم اوصاف کی طرف اشارہ ہے۔ [بحوالہ: راغب کے مفردات میں مادّہ "کرم"]۔ اور قرآن کے فصیح و بلیغ لفظوں اور جملوں کے اعتبار سے اس کی ظاہری خوبصورتیوں اور پُرکشش موضوعات و مضامین کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے اور وہ ہر جمال و کمال، خوبی و زیبائی اور خوبصورتی کا مبداء و منشأ ہے۔ جی ہاں! • قرآن جس کا کلام ہے، وہ بھی "کریم" ہے۔ • خود قرآن بھی "کریم" ہے۔ • اس کو لانے والا بھی "کریم" ہے۔ • اور اس کے مقاصد بھی "کریم" ہیں۔ اس کے بعد اس آسمانی کتاب کی دوسری صفت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ آیات ایک مستور اور پوشیدہ کتاب میں ہیں۔" )فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ۔( اس لوحِ محفوظ (علمِ خدا) میں جو ہر قسم کی خطا و لغزش اور تغیّر و تبدّل سے محفوظ ہے۔ واضح ہے کہ وہ کتاب، جس کا یہ سرچشمہ ہے اور جس کا اصلی نسخہ وہاں موجود ہے، وہ ہر قسم کی تبدیلی، خطا اور شک و شبہ سے محفوظ ہے۔ تیسری صفت کے سلسلہ میں فرماتا ہے: "اس کتاب کو پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی مس نہیں کر سکتا۔)لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ(۔ [تشریحی نوٹ: لَا یَمَسُّهُ جملہ خبریہ ہے جو نفی کے معنی میں ہو سکتا ہے]۔ بہت سے مفسّرین نے ان روایات کی پیروی کرتے ہوئے جو آئمہ معصومین سے منقول ہیں، اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ غسل و وضو کے بغیر قرآن کی تحریر کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔ جبکہ دوسرا گروہ اس آیت کو ایک ایسا اشارہ سمجھتا ہے جو اُن پاک و پاکیزہ فرشتوں کی طرف ہے جو قرآن سے آگاہی رکھتے ہیں یا وہ جو قلبِ پیغمبر پر نزولِ وحی کا ذریعہ تھے۔ مشرکین، جو کہتے تھے کہ یہ کلمات شیاطین نے آنحضرت (ﷺ) پر نازل کیے ہیں، ان کے نقطۂ نظر کے مقابل بعض مفسّرین اسے اس طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے بلند حقائق و مفاہیم کا پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی ادراک نہیں کر سکتا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲ میں پڑھتے ہیں: ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔ "یہ کتاب (قرآن) بےشک، اس میں کوئی شک نہیں، یہ پرہیزگاروں کے لیے سبب ہدایت ہے۔" دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ پاکیزگی کی کم سے کم حد، جو حقیقت جوئی کی روح ہے، وہ قرآن کے کم ترین ادراک کے لیے لازمی ہے۔ اور جس قدر پاکیزگی اور طہارت زیادہ ہو گی، موضوعات و مفاہیمِ قرآن کا ادراک انسان کے لیے اتنا ہی زیادہ ممکن ہو گا۔ ان تینوں تفسیروں میں کوئی منافات نہیں ہے، لہٰذا ممکن ہے کہ مفہومِ آیت میں یہ سب شامل ہوں۔ پروردگارِ عالم قرآن مجید کی چوتھی اور آخری توصیف کے سلسلہ میں فرماتا ہے: "یہ قرآن عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔" (تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ)۔ [تشریحی نوٹ: تنزیل یہاں مصدر ہے، اسمِ مفعول کے معنی میں، یعنی "منزل" کے معنی میں اور مبتدائے محذوف کی خبر ہے یا خبر کے بعد خبر ہے]۔ وہ جو تمام اہلِ جہاں کا مربّی و مالک ہے، اُس نے اس قرآن کو انسانوں کی تربیّت کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاکیزہ دل پر نازل کیا ہے اور جس طرح عالمِ تکوین میں وہی مالک و مربّی ہے، عالمِ تشریع میں بھی جو کچھ ہے، اسی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "کیا اس قرآن کو ان اوصاف کے ساتھ، جو بتائے گئے ہیں، کمزور اور چھوٹا شمار کرتے ہو؟ آسان ہے تو اس کی تکذیب کرتے ہو"؟ (أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنتُمْ مُدْهِنُونَ)۔ جب کہ اس سے صدق و حقانیت کی نشانیاں اچھی طرح واضح ہوتی ہیں، تو چاہیے کہ تم کلامِ خدا کو انتہائی کاوش کے ساتھ قبول کرو اور ایک حقیقتِ واقعی سمجھ کر اس کے سامنے جاؤ۔ "ھٰذَا الْحَدِيث" یہ بات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور "مُدْهِنُون" "دھن" کے مادّہ سے ہے جس کے معنی روغن اور تیل کے ہیں۔ چونکہ بدن کی کھال یا دوسری چیزوں کو نرم کرنے کے لیے روغن ملتے ہیں، اس لیے لفظ "ادھان" نرمی سے پیش آنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کبھی سستی اور مقابلہ نہ کرنے کی کیفیت کے لیے بھی آتا ہے۔ چونکہ منافقین اور جھوٹے افراد کی عام طور پر ملائم زبان ہوتی ہے، اس بنا پر یہ لفظ کبھی کبھی تکذیب و انکار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں ان دونوں معانی کا احتمال ہے۔ اصولی طور پر، انسان جس چیز کو باور کرتا ہے، اسے پوری قوت اور مضبوطی سے پکڑتا ہے اور اگر مضبوطی سے نہ پکڑے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسے باور نہیں کرتا۔ زیرِ بحث آیات میں سے آخری آیت میں فرماتا ہے: "تم بجائے اس کے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں، خصوصاً قرآن جیسی عظیم نعمت، کا شکر ادا کرو، تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔" (وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق یہاں "شکر" کا لفظ محذوف ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے: "تَجْعَلُونَ شُكْرَ رِزْقِكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ۔" یا "شکر" کنایہ ہے "شکرِ رزق" کا]۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ قرآن میں سے تمہارا حصّہ صرف یہ ہے کہ تم اس کی تکذیب کرتے رہو یا تم نے تکذیب کو اپنا ذریعہ معاش قرار دے دیا ہے [تشریحی نوٹ: ان دونوں تفسیروں کے مطابق کوئی چیز مقدر نہیں ہے]۔ لیکن آخری دو تفسیروں میں سے پہلی تفسیر گزشتہ آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور اس شانِ نزول کے ساتھ بھی زیادہ ہم آہنگ ہے، جو اس آیت کے لیے بیان ہوئی ہے۔ کیونکہ بہت سے مفسّرین نے ابنِ عباس سے نقل کیا ہے کہ وہ ایک سفر میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے کہ انہیں شدید پیاس لگی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی نتیجتاْ بارش کا نزول ہوا اور سب سیرب ہو گئے۔ اسی دوران میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ فلاں ستارے کے طلوع کی وجہ سے بارش ہوئی۔ عرب زمانۂ جاہلیت میں "انواء" کا عقیدہ رکھتے تھے، اس سے ان کی مراد ایسے ستارے تھے جو مختلف فصلوں میں آسمان پر ظاہر ہوتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان میں سے ہر ستارے کے ظہور کے ساتھ بارش ہوتی ہے، اس لیے وہ کہتے تھے: "مُطِرْنَا بِنَوْءِ فُلَانٍ۔" (یہ بارش فلاں ستارے کے طلوع کی برکت کی وجہ سے ہے)۔ یہ بھی شرک، بُت پرستی اور ستارہ پرستی کا ایک ادنیٰ مظاہرہ تھا۔ [بحوالہ: اس حدیث کو طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے۔ نیز تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۳، قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۶۳۹۸، مراغی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۵۲ اور روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۱۳۵ نے بھی مختصر سے فرق کے ساتھ زیر بحث آیات کے ذیل میں اسے نقل کیا ہے۔] قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت کم آیتوں کی تفسیر کی ہے۔ منجملہ ان چند آیتوں کے جن کی آپ نے تفسیر کی ہے، ایک آیت یہ ہے: "وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ۔" آپ نے فرمایا: "اُس سے مراد یہ ہے کہ اپنی روزی کے شکر کی بجائے تم تکذیب کرتے ہو۔" [بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۳۔ نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۲۷]۔
چند نکات: ١۔ قرآن مجید کی خصُوصیات
ان چار اوصاف سے، جو مندرجہ بالا آیات میں قرآن کے بارے میں بیان ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی عظمت: 1. ایک تو اس کے موضوعات و مضامین کی وجہ سے ہے، 2. دوسرے، اس کے معانی کے عمق کی وجہ سے ہے، 3. تیسرے، اس پاکیزگی کی وجہ سے ہے کہ نیک اور پاک افراد کے سوا کوئی اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، 4. اور چوتھے، اس وجہ سے کہ یہ حد سے زیادہ تربیّتی پہلو لیے ہوئے ہے، اس لیے کہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ ان چاروں موضوعات میں سے ہر موضوع مفصل بحث کا محتاج ہے، جسے ہم نے مناسب آیات کے ذیل میں بیان کیا ہے۔
٢۔ قرآن و طہارت
مندرجہ بالا آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ قرآن کو پاک لوگوں کے علاوہ کوئی مَس نہیں کرتا اور ہم نے بتایا ہے کہ اس آیت کی "مس" ظاہری سے بھی تفسیر ہوئی ہے اور "مس" معنوی سے بھی اور دونوں تفسیریں آپس میں تضاد بھی نہیں رکھتیں، بلکہ آیت کے مفہوم کلی میں موجود ہیں۔ پہلے حصے میں روایتِ اہل بیت میں حضرت ابو الحسن امام علی ابنِ موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے: المصحف لا تمسہ علی غیر طھر ولا جنبا ولا تمس خطہ ولا تعلقہ ان اللہ تعالیٰ یقول: لایمسہ الّا المطھرون۔ "قرآن کو وضو کے بغیر مَس نہ کر اور جنابت کی حالت میں بھی مَس نہ کر اور اس حالت میں اس کی تحریر کو مت چھو اور اسے حمائل نہ کر، کیونکہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے: سوائے پاکیزہ لوگوں کے اسے کوئی مَس نہیں کرتا۔" [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ١، صفحہ ٢٦٩، حدیث ٣۔ اس حدیث کے مطابق اوپر والی آیت میں نفی، نہی سے کنایہ ہے]۔ یہی معنی ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مختصر فرق کے ساتھ منقول ہے۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ١، صفحہ ٢٧٠، حدیث ۵]۔ منابعِ اہل سنت میں بھی آیا ہے اور مختلف طرق سے بھی نقل ہوا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "لایمس القراٰن الّا طاھر۔" "قرآن کو پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی مَس نہ کرے۔" [بحوالہ: یہ حدیث درالمنثور میں عبداللہ ابن عمر، معاذ ابن جبل اور ابنِ جزم کے واسطے سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے، جلد ۶، صفحہ ۱۶۲]۔ "مسِ" معنوی کے بارے میں ابنِ عباس کے ذریعے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون قال: عنداللہ فی صحف مطھرۃ لایمسہ الّا المطھرون قال: المقربون۔" "یہ قرآن کریم ہے جو پوشیدہ (لوح محفوظ) کتاب میں ہے، خدا کے پاس پاکیزہ صفحات میں ہے، اور سوائے پاکیزہ لوگوں کے اسے کوئی مَس نہیں کرتا۔ پاک لوگوں سے مراد مقربین ہیں۔" [بحوالہ: درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۲]۔ یہ مطلب از روئے عقل بھی مدلل ہے، کیونکہ قرآن مجید اگرچہ سب لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ تھے جو قرآن کو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لب ہائے مبارک سے سنتے تھے اور اس آبِ زلالِ حقیقت کو سرچشمۂ وحی میں دیکھتے تھے، لیکن چونکہ تعصّب، عناد اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ لیکن جن لوگوں نے تھوڑا سا اپنے آپ کو پاک کیا اور حق کے جذبے اور تحقیق کی روح کے ساتھ اس کی طرف آئے، وہ ہدایت پا گئے۔ اس بنا پر جس شخص میں جتنی زیادہ انسانی پاکیزگی اور تقویٰ ہو گا، وہ قرآن مجید سے اتنے ہی زیادہ عمیق مفاہیم حاصل کر سکے گا۔ لہٰذا یہ آیت جسمانی اور روحانی دونوں جہتوں سے منطبق ہوتی ہے۔ بغیر کہے یہ امر واضح ہے کہ ذاتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، آئمہ معصومین اور ملائکۂ مقربین اس کے سب سے زیادہ واضح مصداق ہیں اور وہ حقائقِ قرآن کا سب سے بہتر ادراک کرتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جس وقت کہ جان گلے تک پہنچ جائے گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 8منجملہ دیگر حسّاس لمحات کے جو انسان کو بہت زیادہ گہری فکر میں مستغرق کر دیتے ہیں، احتضار، یعنی انسانی زندگی کے اختتام کا لمحہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں معاملہ انسان کے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے اور آس پاس کھڑے ہوئے لوگ جان کنی میں مبتلا فرد کو نااُمیدی سے دیکھتے ہیں کہ یہ شمع کی طرح ہے جس کی زندگی ختم ہو چکی ہے اور آہستہ آہستہ بُجھ رہی ہے۔ وہ زندگی سے رُخصت ہو رہا ہوتا ہے۔ اس وقت اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ جی ہاں، انسان کا مکمل ضعف ان حسّاس لمحات میں آشکار ہو جاتا ہے۔ نہ صرف گزشتہ زمانوں میں، بلکہ موجودہ زمانے میں بھی، علاج کی تمام سہولتوں کے باوجود، جان کنی کے عالم کی زبوں حالی بالکل گزشتہ دور کی طرح واضح و آشکار ہے۔قرآن مجید معاد کے مباحث کی تکمیل اور منکرین و مکذّبین کی جواب دہی میں اس لمحے کی گویا تصویرکشی کرتے ہوئے کہتا ہے: "پس کیوں، جس وقت جان گلے میں آ جائے گی، تو اس کو واپس لوٹانے کی طاقت تم نہیں رکھتے"؟ (فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ)۔ [تشریحی نوٹ: آیت محذوف رکھتی ہے جس کا گزشتہ آیات سے استفادہ ہوتا ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے: (فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ لَا تَرْجِعُونَهَا وَلَا تَمْلِكُونَ شَيْئًا)۔ یہاں فعل کا مؤنث ہونا اس بنا پر ہے کہ وہ نفس کی طرف لوٹتا ہے]۔ "اور تم اس حالت میں نظارہ کرو گے اور تم سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔" (وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ)۔یہاں مخاطب وہ لوگ ہیں جو جان کنی میں مبتلا فرد کے متعلقین ہیں۔ ایک تو وہ اس کی خستہ حالت کو دیکھیں گے، دوسرے اپنی بےچارگی و ناتوانی کو محسوس کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ موت و حیات خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ اس سے بھی باخبر ہیں کہ ان کا اپنا انجام بھی یہی ہونا ہے۔ [تشریحی نوٹ: یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ یہاں مخاطب جاں کنی میں مبتلا ہونے والا شخص ہے، بہت بعید نظر آتا ہے، کیونکہ بعد والی آیت واضح کرتی ہے کہ مخاطب اس کے متعلقین اور اردگرد بیٹھنے والے افراد ہیں]۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم مزید فرماتا ہے: "حالانکہ ہم تمہاری نسبت اس کے زیادہ قریب ہیں اور ہمارے فرشتے، جو اس کی روح قبض کرنے کے لیے آمادہ ہیں، وہ بھی تمہاری نسبت اس کے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔" (وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَكِن لَّا تُبْصِرُونَ)۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جاں کنی میں مبتلا شخص کی جاں پر کیا گزر رہی ہے اور اس کے وجود کی گہرائی میں کیسا تلاطم برپا ہے اور وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے اس کی روح کے قبض کرنے کا معیّن وقت پر فرمان جاری کیا ہے۔ لیکن تم تو صرف اس کے ظاہری حالات کو دیکھتے ہو اور اس گھر سے دوسرے گھر کی طرف انتقال سے اور ان طوفانوں سے جو اس وقت برپا ہیں، تم بےخبر ہو۔ اس بنا پر، اس آیت سے مراد خدا کا جان کنی میں مبتلا فرد سے قریب ہونا ہے۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد روح قبض کرنے والے فرشتے کا نزدیک ہونا ہے، لیکن پہلی تفسیر آیت کے ظاہر سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ بہرحال، نہ صرف اس موقع پر بلکہ ہر حالت میں، خدا ہر شخص کی نسبت ہم سے زیادہ نزدیک ہے، یہاں تک کہ وہ خود ہم سے بھی ہم سے زیادہ قریب ہے، اگرچہ ہم بےخبری کی وجہ سے اس سے دور ہیں۔ اس حقیقت کا اظہار جاں کنی کے موقع پر دیگر تمام موقعوں کی نسبت زیادہ واضح و آشکار ہے۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے اور اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے لیے مزید فرماتا ہے: "اگر تمہیں تمہارے اعمال کی بالکل جزا نہ دی جائے" (فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ)۔ "تو پھر اس کو واپس لوٹا دو، اگر تم سچّے ہو" (تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ یہ تمہارا ضعف اس بات کی دلیل ہے کہ موت و حیات کا مالک کوئی اور ہے اور جزا و سزا کسی اور کے ہاتھ میں ہے اور وہ وہی ہے جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے۔ "مدینین"، "مدین" کی جمع ہے اور یہ "دین" کے مادّہ سے ہے، جس کے معنی جزا ہیں۔ بعض نے اس کے معنی "مربوبین" بتائے ہیں، یعنی اگر اب تمہارا کوئی مالک نہیں ہے اور اپنے امر کے تم خود ہی مالک ہو، تو اس کو واپس لوٹا دو۔ یہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ تم کسی اور کے محکوم ہو۔
چند نکات: ١۔ جبّارین کی ناتوانی کا لمحہ
حقیقت میں ان آیات کا مقصودِ کلام یہ ہے کہ موت و حیات کے مسئلے پر خدا کے اختیار کو بیان کیا جائے تاکہ اس سے مسئلۂ معاد تک ایک پُل بنایا جا سکے۔ اس موقع پر موت اور جاں کنی کا انتخاب انسان کی مکمل ناتوانی اور اس کے ضعف کے ظہور کی وجہ سے ہے، باوجود اس تمام اختیار کے جس کو وہ اپنے لیے خیال کرتا ہے۔ یہ امر معیوب نہیں کہ بعض ایسے جبار لوگوں کی طرف ہم توجہ کریں جن کے اوجِ قدرت و اختیار میں ان کی موت کا لمحہ آیا ہے تاکہ ان آیتوں کی گہرائی زیادہ آشکار ہو۔ مسعودی نے مروج الذہب میں مامون اور اس کی فوج کی روم سے جنگ کے بارے میں ایک داستان بیان کی ہے جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: مامون جس وقت میدانِ جنگ سے لوٹ رہا تھا تو وہ "بدیدوں" نامی چشمے پر پہنچا جو قشیرہ کے علاقے میں مشہور ہے۔ آرام کرنے کی غرض سے اس نے وہاں پڑاؤ کیا۔ اس چشمے کے پانی کی صفائی، ٹھنڈک اور چمک نے اسے بہت مسرور کیا اور اس طرح وہ اس علاقے کی شادابی، تازگی اور بشاشت سے بہت خوش ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ درختوں کو کاٹ کر چشمے پر ایک پُل بنا دیں اور اس پر لکڑیوں اور پتوں سے ایک چھت بنا دیں۔ وہ وہاں آرام کرنے لگا اس حالت میں کہ پانی اس کے پاؤں کے نیچے سے گزر رہا تھا۔ پانی اس قدر صاف و شفاف تھا کہ اس نے ایک درہم پانی کے اندر پھینکا، جو پانی کی تہہ میں پہنچ گیا، لیکن اس پر جو تحریر کندہ تھی، وہ صاف پڑھی جا رہی تھی۔ پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ کوئی اس میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔ اسی اثنا میں ایک مچھلی جو خاصی بڑی تھی، تقریباً ایک ہاتھ کے برابر ہو گی، ظاہر ہوئی۔ مچھلی بالکل ایک چاندی کے ٹکڑے کی طرح تھی۔ مامون نے کہا: "جو شخص اس کو پکڑ کر لائے گا، میں اسے تلوار انعام میں دوں گا۔" ایک خدمت گار نے پیش قدمی کی اور اسے پکڑ لیا۔ جب وہ مچھلی کو مامون کی خدمت میں لایا تو مچھلی نے ہلنا شروع کر دیا اور وہ خدمت گار کے ہاتھ سے نکل کر باہر گر پڑی اور ایک پتھر کے ٹکڑے کی طرح پانی میں گر گئی۔ اس کے گرنے سے تھوڑا سا پانی مامون کے گلے، سینے اور شانوں پر پڑا اور اس کا لباس خاص بھیگ گیا۔ خدمت گار دوبارہ پانی میں اترا اور اس نے مچھلی کو پکڑ لیا اور اسے ایک رومال میں لپیٹ کر مامون کے سامنے رکھ دیا اس حالت میں کہ وہ مچھلی حرکت کر رہی تھی۔ مامون نے کہا: "ابھی ابھی اسے بھون کر سرخ کرو!" اسی اثنا میں مامون اچانک سردی کی وجہ سے کانپنے لگا اور حالت یہ ہوئی کہ وہ دو قدم چل نہیں سکتا تھا۔ اسے کئی لحاف اوڑھائے گئے مگر وہ پھر بھی کپکپاتا رہا۔ وہ چلا رہا تھا: "سردی! سردی!" اس کے لیے آگ جلائی گئی، پھر بھی اسے افاقہ نہ ہوا۔ اسی دوران مچھلی سرخ کر کے اس کے لیے لائی گئی لیکن وہ اسے چکھ بھی نہ سکا۔ جب اس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تو "بختیشوع" اور "ابنِ ماسویہ" جو دونوں شاہی طبیب تھے، طلب کیے گئے۔ اس وقت مامون نزع کے عالم میں تھا۔ بختیشوع نے اس کا ایک ہاتھ اور ابنِ ماسویہ نے دوسرا ہاتھ پکڑ کر اس کی نبض دیکھی جو مکمل طور پر غیر معتدل تھی اور اس کی موت کی خبر دے رہی تھی۔ اس حالت میں اسے ایک خاص قسم کا پسینہ آ رہا تھا جو تیل کی طرح چپکنے والا تھا۔ یہ دونوں طبیب اس کی تشخیص میں منہمک تھے۔ ان دونوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے ایسی کسی مرض کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ بہرحال جو صورتِ حال ہے، وہ اس کی موت کی خبر دیتی ہے۔ مامون کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی تو کہنے لگا: "مجھے کسی اونچی جگہ لے چلو جہاں سے میں اپنے لشکر کو دیکھ سکوں۔" اس وقت شام ہو چکی تھی۔ اسے ایک اونچی جگہ پر لے جایا گیا۔ وہاں سے جب اس نے اپنے لشکریوں کے خیمے اور وہ بہت سی آگ دیکھی جو لشکر نے اپنے پڑاؤ میں روشن کر رکھی تھی تو اس نے کہا: يَا مَنْ لَا يَزُولُ مُلْكُهُ، ارْحَمْ مَنْ قَدْ زَالَ مُلْكُهُ۔ "اے وہ خدا جس کی حکومت کو کبھی زوال نہیں، اس پر رحم کر جس کی حکومت روبہ زوال ہے!" اس کے بعد اسے اٹھا کر لایا گیا اور بستر پر لٹا دیا گیا اور ایک شخص کو اس کے پاس بٹھایا گیا جو اسے شہادتین کی تلقین کرے۔ چونکہ مامون کی سماعت کمزور ہو چکی تھی، اس شخص نے اپنی آواز بلند کی تو ابنِ ماسویہ نے کہا: "فریاد نہ کر اور اونچی آواز نہ نکال، خدا کی قسم! وہ اس وقت خدا اور 'مانی' کے درمیان فرق نہیں کر سکتا!" اس وقت مامون نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی آنکھوں کے ڈھیلے اتنے سرخ ہو چکے تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے ابنِ ماسویہ کی خبر لے، لیکن اس پر اسے قدرت نہ تھی۔ بس اسی لمحے اس کی جان نکل گئی۔ [بحوالہ: مروج الذہب، مطابق نقل سفینة البحار، جلد ۱، صفحہ ۴۴]۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی بیماری پہلے سے ہو، یا بعض مؤرخین کے بقول جو شخص اُس چشمے کا پانی پیتا تھا، بیمار ہو جاتا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ مچھلی زہریلے اثرات رکھتی ہو۔ جو کچھ بھی تھا، اس کی حکومت و قدرت چند لمحوں میں ختم ہو گئی، اور بڑے بڑے جنگ کے میدانوں کا قہرمان و سپہ سالار موت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔ اس لمحے کوئی بھی اس کے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا، نہ ہی کم از کم اسے اس کی اصل منزل، یعنی اس کے گھر تک لے جا سکا۔ تاریخ کے دامن میں اس قسم کی بہت سی عبرت انگیز داستانیں موجود ہیں۔
٢۔ کیا جانکنی تدریجی امر ہے؟
جان کے گلے تک پہنچنے کی تعبیر جو گزشتہ آیات میں آئی ہے (فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ)، وہ زندگی کے آخری لمحات کا کنایہ ہے۔ شاید اس کا منشا یہ ہے کہ زیادہ تر اعضائے بدن، جیسے ہاتھ، پیر وغیرہ، موت کے وقت باقی اعضا سے پہلے بیکار ہو جاتے ہیں اور گلا وہ عضو ہے جو سب سے آخر میں بیکار ہوتا ہے۔ سورۂ قیامہ کی آیت ۲۶ میں ہم پڑھتے ہیں: "كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ۔" (کفار کبھی ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ روح ان کی "تَرَاقِيَ"، یعنی ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے)۔ "تَرَاقِيَ" وہ ہڈیاں ہیں جو حلق کے اطراف کو گھیرے ہوئے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: نیکو کاروں اور بد کاروں کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات اس سورہ کی ابتدائی اور آخری آیات کا ایک قسم کا امتزاج ہیں، یہ آیتیں جب انسان موت کے آستانے پر ہو تو اس کی حالت کے تغیّر کی تصویرکشی کرتی ہیں کہ کس طرح بعض لوگ انتہائی آرام و سکون اور راحت و خوشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ اور ایک وہ گروہ ہے جو جہنم کی آگ کے دور سے نظر آنے والے نظارے کی وجہ سے انتہائی اضطراب و وحشت کے عالم میں جان دیتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "جس شخص پر جاں کنی کا عالم طاری ہوتا ہے، اگر وہ مقربین میں سے ہو" (فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ) تو وہ انتہائی راحت و آرام میں ہے، اُسے نعمتوں سے لبریز جنت میں جگہ مل جائے گی (فَرَوْحٌ وَ رَيْحَانٌ وَ جَنَّةُ نَعِيمٍ)۔ "رُوح" بروزن "قول"، جیسا کہ علمائے لغت نے کہا ہے، اصل میں "تنفس" کے معنوں میں ہے اور "ریحان" خوشبودار گھاس یا کسی خوشبودار چیز کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لفظ ہر اس چیز کے لیے بولا گیا ہے جو سببِ حیات و راحت ہو۔ جیسا کہ "ریحان" ہر قسم کی نعمت اور فرحت بخش روزی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس بنا پر "روح و ریحان" انسان کے آرام کے تمام وسائل اور خدائی نعمت و برکت پر محیط ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ "روح" ان تمام امور کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو تکالیف سے رہائی بخشیں تاکہ وہ سُکھ کا سانس لے سکے۔ باقی رہا "ریحان" تو وہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو تکالیف سے رہائی کے بعد انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ اسلامی مفسّرین نے ان دونوں الفاظ کے لیے متعدد تفسیریں تجویز کی ہیں جو غالباً دس تفسیروں سے زیادہ ہیں۔ کبھی انہوں نے کہا ہے کہ "روح" کے معنی رحمت اور "ریحان" ہر شرافت و فضیلت کو کہتے ہیں۔ اور کبھی کہا ہے کہ "روح" جہنم کی آگ سے نجات کو اور "ریحان" جنت میں داخلہ کو کہتے ہیں۔ کبھی "روح" سے مراد کشف الکروب (بےآرامیوں کا برطرف ہونا) لیا ہے اور "ریحان" کی تفسیر غفران الذنوب (گناہوں کی بخشش) کی ہے۔ کبھی "روح" کو انظر الی وجہ اللہ (اللہ کے دیدار) اور "ریحان" کو استماع کلام اللہ (اللہ کے کلام کو سننا) شمار کیا گیا ہے اور اس قسم کی بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا، یہ سب اس جامع مفہوم کے مصداق ہیں، جن کا ذکر آیت کی تفسیر میں ہوا۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ "روح و ریحان" کے ذکر کے بعد "جنت نعیم" کی گفتگو درمیان میں لائی گئی ہے، جو ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ "روح و ریحان" موت کے وقت، قبر و برزخ اور بہشت میں مومن کو حاصل ہوں گے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "فأما إن كان من المقربين فروح وريحان يعني في قبره وجنة نعيم يعني في الآخرة۔" "لیکن اگر مقربین میں سے ہو تو اس کے لیے قبر میں روح و ریحان ہے اور اس کے لیے آخرت میں پُر نعمت بہشت ہے۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٢٢٨، حدیث ١٠٣، ١٠٤] [تشریحی نوٹ: "روح" ہو سکتا ہے مبتدائے محذوف کی خبر ہو اور تقدیر عبارت یہ ہو (فجزائہ روح) یا مبتدائے خبر محذوف ہے اور تقدیر عبارت (فلہ روح) ہے اور پُورا جملہ فروح ... امّا کی جزا ہے اور اِن شرطیہ اس جزا کے ہوتے ہوئے دوسری جزا سے مستغنی ہے (غور فرمایئے)]۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "لیکن اگر دوسرے گروہ، یعنی اصحاب یمین میں سے ہے (وہی نیک اور صالح مرد اور عورتیں جن کے نامۂ اعمال کامیابی اور قبولیت کی نشانی کے طور پر ان کے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے) (وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ)۔ تو اس سے کہا جائے گا: "تجھ کو تیرے ان دوستوں کی طرف سے سلام، جو اصحابِ یمین میں سے ہیں۔" (فَسَلَامٌ لَكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ)۔ اس طرح روح قبض کرنے والے فرشتے انتقام کے وقت اس کے دوستوں کا سلام پہنچائیں گے، جیسا کہ اس سورۂ واقعہ کی آیت ۲۶ میں اہل بہشت کی تعریف و توصیف میں ہم نے پڑھا ہے: "إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا۔" اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ سلام فرشتوں کی طرف سے ہو، جو اس سے کہیں گے: "تجھ پر سلام ہو، اے وہ شخص جو اصحابِ یمین میں سے ہے!" یعنی تیرے اعزاز و افتخار، تعریف و توصیف کے لیے یہی کافی ہے کہ تو ان کی صف میں قرار پایا ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس بنا پر آیت میں دو تقدیریں ہیں، اس شکل میں (یقال لہ سلام انک اصحاب الیمین) لیکن پہلی تفسیر کی بنا پر صرف ایک ہی تقدیر ہے (یقال لہ)]۔ دوسری قرآنی آیات میں بھی مومنین کو موت کے موقع پر فرشتوں کا سلام آیا ہے، مثلاً سورۂ نحل کی آیت ٣٢ جس میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔" "وہ لوگ کہ فرشتے جن کی روحوں کو قبض کرتے ہیں، درآنحالیکہ وہ پاک و پاکیزہ ہیں، وہ ان سے کہتے ہیں: تم پر سلام ہو، جنت میں داخل ہو جاؤ ان اعمال کی بنیاد پر جو تم انجام دیتے تھے۔" یہ "سلام" کی تعبیر بہت پُرمعنی ہے، چاہے وہ سلام فرشتوں کی طرف سے ہو، چاہے اصحابِ یمین کی طرف سے۔ وہ سلام جو "روح و ریحان" اور ہر قسم کی سلامتی، سکون و آرام اور نعمت کی نشانی ہے۔ [تشریحی نوٹ: ان سلاموں کے بارے میں جو جنّتیوں پر نثار ہوں گے، جلد ١٨، صفحہ ۴۲۰، سورہ یٰسین کی آیت ۵۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث گزر چکی ہے]۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ "اصحاب الیمین" (وہ لوگ جن کے نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے) کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ عام طور پر انسان اپنے اہم اور ماہرانہ کام دائیں ہاتھ سے انجام دیتا ہے، لہٰذا دایاں ہاتھ مہارت، توانائی اور کامیابی کی علامت ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا: "هم شيعتنا ومحبونا۔" "اصحابِ یمین ہمارے شیعہ اور ہمارے دوست ہیں۔" [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، صفحہ ٢٨۵]۔ اس کے بعد ہم تیسرے گروہ کو عنوانِ کلام بناتے ہیں، جنہیں سورہ کے اوائل میں "اصحابِ شمال" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہو" (وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ) تو اس کی دوزخ کے کھولتے ہوئے زہریلے پانی سے ضیافت و پذیرائی ہو گی (فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ)۔ [تشریحی نوٹ: نزول مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے (فجزائہ نزل من حمیم) یا مبتدا ہے محذوف خبر ہے کا اور تقدیر عبارت یوں ہے (فلہ نزل من حمیم)]۔ اور اس کے بعد اس کی قسمت یہ ہے کہ اس کا جہنم میں ورود ہو گا (وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ)۔ جی ہاں، موت کی آمد پر خدا کی طرف سے نازل ہونے والے ابتدائی عذاب وہ چکھیں گے، اور قبر و برزخ میں قیامت کے عذابوں کے تلخ ذائقے ان کے حصہ میں آئیں گے۔ اور چونکہ گفتگو "محتضر" کے بارے میں ہے، مناسب یہ ہے کہ "فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ" برزخ کے عذاب کے بارے میں ہو اور "وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ" قیامت کے عذاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ معنی متعدد روایات میں آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ٢٢٩]۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ مکذبین اور ضالین کا ذکر ایک جگہ ہوا ہے جن میں سے پہلے کا تعلق قیامت، خداوند یکتا اور نبوّتِ پیغمبر کی تکذیب سے ہے اور آیت میں اسی طرف اشارہ بھی ہو سکتی ہے کہ گمراہوں کے درمیان ایسے مستضعف و جاہل اور قاصر افراد بھی ہیں جو حق سے عناد نہیں رکھتے، نہ ہٹ دھرمی کا شکار ہیں، تو اس بات کا امکان ہے کہ ان کے حال پر اللہ کا لطف و کرم ہو، لیکن ایسے تکذیب کرنے والے جو حق سے عناد رکھتے ہوں اور ہٹ دھرم ہوں، اُن کا نصیب وہی ہو گا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔ "حمیم" کھولتے ہوئے پانی یا گرم اور زہریلی ہواؤں کے معنی میں ہے اور تصلیہ کا مادّہ "صلی" (بروزن سعی) ہے، اس کے معنی جلنا اور آگ میں داخل ہونا ہے۔ باقی متعدی رہا وہ تصلیہ جو متعدی کے معنی میں رکھتا ہے، وہ صرف جلانے کے معنی میں آتا ہے۔ اس گفتگو کے آخر میں مزید فرماتا ہے: "یہ وہی حق و یقین ہے" (إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ)۔ اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے "تو اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کر اور اُسے منزّہ شمار کر" (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ)۔ مفسّرین کے درمیان یہ مشہور ہے کہ حق الیقین اضافتِ بیانیہ کے قبیل میں سے ہے۔ یعنی جو کچھ مقربین، اصحابِ یمین اور تکذیب کرنے والے تین گروہوں کے بارے میں کہا گیا ہے وہ عین واقعیت و حق و یقین ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ چونکہ یقین کے کئی مدارج ہیں اس کا اعلیٰ درجہ حق الیقین ہے۔ واقعی یقین جو مکمل ہو اور ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو۔ [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق حق کی اضافت یقین کی طرف اختصاص و تأکید کے لیے ہے۔ بعض نے اسے موصوف کی صفت کی طرف اضافت کے قبیل میں سے سمجھا ہے اور کہا ہے کہ (الیقین الحق) وہ یقین جو حق ہے یہ ان معنوں میں ہے]۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طور پر معلوم ہو گیا ہے کہ اس آیت میں لفظ ھٰذا تین گروہوں کے حالات کی طرف اشارہ ہے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ بعض نے یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ سورہ واقعہ کے سارے موضوعات و مضامین کی طرف اشارہ ہے یا سارے قرآن کی طرف اشارہ ہے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "فَسَبِّحْ" (پس تسبیح کر) کی تعبیر فاء تفریع کے ساتھ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ ان تین گروہوں کے بارے میں کہا گیا ہے وہ عین عدالت ہے، لہٰذا اس بنا پر اپنے خدا کو ہر قسم کے ظلم اور بےانصافی سے پاک و منزّہ شمار کر، یا یہ کہ اگر تو چاہتا ہے کہ تیسرے گروہ کی حالتِ زار سے دوچار نہ ہو تو خدا کو ہر قسم کے شرک و ناانصافی سے، جو انکارِ قیامت کا لازمہ ہیں، پاک و منزّہ سمجھ، بہت سے مفسّرین نے آخری آیت کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ اس کے نزول کے بعد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اجعلوھا فی رکوعکم اس کو اپنے رکوع میں قرار دو۔ (اور سبحان ربی العظیم کہو)۔ اور جس وقت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى نازل ہوا تو فرمایا: اجعلوھا فی سجودکم اسے اپنے سجدے میں قرار دو (سبحان ربی الاعلیٰ کہو) ۔ [بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، روح المعانی، روح البیان، قرطبی، درالمنثور اور تفسیر مراغی در ذیل آیت زیر بحث]۔ اسی سورہ کی آیت ۷۴ کی تفسیر میں بھی ہم نے اس روایت سے مشابہ روایتیں مفسّرین کی جانب سے نقل کی ہیں۔
ایک نکتہ
اُوپر والی آیات ان آیات میں سے ہیں جو عالمِ برزخ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، کیونکہ جیسا کہ ہم ان آیات کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ موت کے آستانے پر پہنچ کر جب انسان دوسرے جہان کی طرف انتقال کے لیے آمادہ ہو گا تو درج ذیل حالات میں سے کسی حالت سے دوچار ہو گا، اسے خدا کی نعمتیں میسّر ہوں گی، اس کے حال پر اللہ کا لطف و کرم ہو گا، اعمال کی جزا ملے گی اور روح و ریحان سے ہمکنار ہو گا یا اسے دردناک سزائیں ملیں گی اور عذابِ الہٰی اس پر نازل ہو گا۔ آیت میں موجود قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے ایک حصّہ قیامت سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرے کا تعلق قبر و برزخ سے ہے اور یہ خود اس عالم کے وجود پر ایک دلیل شمار ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ پہلی چیز جس کی مومن کو موت کے وقت بشارت دی جائے گی وہ روح و ریحان ہیں اور نعمتوں سے پُر جنت میں خوش آمدید کہتے ہیں، خدا نے ان تمام افراد کو بخش دیا ہے جنہوں نے تیرے جنازے کی مشایعت کی ہے اور تیرے بارے میں جو انہوں نے شہادت دی ہے اللہ نے اس کی تصدیق کردی ہے اور تیرے بارے میں ان کی دعائے مغفرت کو مستجاب کیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۶۶]۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان جس وقت ایّامِ دنیا میں سے آخری دن اور ایّامِ آخرت میں سے پہلے دن کی منزل پر پہنچے گا تو اس کی دولت، اولاد اور اعمال اس کے سامنے مجسّم ہو کر آئیں گے۔ وہ اپنے اعمال سے کہے گا: "میں تمہارے معاملہ میں بالکل بےپرواہ تھا، اگرچہ تم مجھ پر گراں تھے، اب تم میرے متعلق کیا خبر رکھتے ہو؟ تو اس کا عمل اس سے کہے گا: میں قبر میں اور قیامت میں تیرا ہم نشین ہوں تاکہ میں اور تو دونوں حضور پروردگارِ عالم میں پیش ہوں۔" اس کے بعد امام نے مزید فرمایا: "اگر وہ خدا کا دوست ہو گا تو اس کا عمل بہت ہی خوشبودار انسان کی شکل میں، انتہائی خوبصورتی کے عالم میں، نہایت پُرکشش لباس پہنے ہوئے آئے گا اور کہے گا کہ تجھے سکون و آرام، نعمت و موہبت اور پُرنعمت جنت کی خوشخبری ہو، تیرا خیر مقدم کیا جائے گا۔ تو وہ انسان سوال کرے گا کہ تُو کون ہے؟ وہ اس کے جواب میں کہے گا: میں تیرا عملِ صالح ہوں، میں دنیا سے تیرے ساتھ بہشت کی طرف جاؤں گا۔" [بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۵، صفحہ ٢٢٨، حدیث ۱۰۶]۔ عالمِ برزخ کے بارے میں زیادہ تفصیل ہم سورۂ مومنون کی آیت ١٠٠ کے ذیل میں تحریر کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ٨، صفحہ ۱۶۸ تا ١٧٨ ملاحظہ فرمائیں]۔ اے پروردگار! ہمیں مقربین، اصحابِ یمین اور اپنے خالص اولیاء میں شمار کر اور موت کے وقت ہمیں روح و ریحان اور جنتِ نعیم کی نعمتوں سے سرفراز فرما۔ خداوندا! قیامت کا عذاب ایسا دردناک عذاب ہے کہ اسے برداشت کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے، اور تیری بےشمار رحمتیں اور عظیم موہبتیں ہیں، جن کا کوئی شخص بھی اپنے عمل سے حقدار نہیں ہو گا، اس روز ہمارا سرمایہ صرف تیرا لطف و کرم ہو گا۔ بارِ الہٰا! قیامتِ کُبریٰ اور موت جو قیامتِ صغریٰ ہے، اس کے آنے سے پہلے ہمیں بیدار کر دے تاکہ ہم اپنے آپ کو اس عظیم سفر کے لیے آمادہ کر سکیں جو ہمارے سامنے ہے۔ آمین یا رب العالمین۔