Sūra 38 · 88v
Chapter 3888 verses

Sad

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
ص
ص

سوره «ص»

یہ سورہ مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۸۸ آیات ہیں

سُورہ "ص" کے مطالب و فضیلت

سُورہ "ص" کے مضامین یہ سورہ حقیقت میں سورہ"صافات" کے مضامین ہی کا تسلسل اور تتمّہ ہے اور اس کے مطالب کی بندش سورہ صافات کی جملہ بندی سے بہت زیادہ مشابہ ہے اور اس لحاظ سے کہ یہ سُورہ مکّی ہے اس لیے ان سورتوں کی تمام خصوصیات یعنی مبدا و معاد اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے بارے میں بحث کی حامل ہے بعض دیگر مطالب کا اضافہ کر کے راہِ حق کے تمام متلاشیوں کے لیے یہ سورہ راہنمائی مہیّا کرتی ہے۔ اس سورہ کے مطالب و مضامین کا پانچ حصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: پہلا حصّہ: اس میں مسئلہ توحید کے لیے اور شرک کے خلاف جدوجہد کا ذکر ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوّت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور ان دونوں امور کے مقابلے میں مشرک دشمنوں کی سختی اور ہٹ دھرمی سے متعلق گفتگو ہے۔ دوسرا حِصّہ اس میں خدا کے نو پیغمبروں کی تاریخ کے کچھ گوشوں کو منعکس کیا گیا ہے خصوصیّت سے حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں زیادہ گفتگو ہے ان کی زندگی اور خدا کی طرف دعوت کے سلسلہ میں ان کی مشکلات کو بیان کیا گیا ہے تاکہ شروع میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ایک اصلاحی اور تربیتی درس ہو، جو اس وقت انتہائی شدید دباؤ میں تھے۔ تیسرا حِصّہ: اس میں قیامت میں سرکش کفّار کی سرنوشت اور دوزخ میں ان کے آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کے بارے میں گفتگو ہے اور مشرکین اور بےایمان افراد کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہو گا؟ چوتھا حِصّہ: اس میں انسان کی خلقت، اس کے بلند مقام اور آدم کے لیے ملائکہ کے سجدے کے بارے میں گفتگو ہے اور اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ انسان کی بلندی اور پستی کے درمیان کتنا عظیم فاصلہ ہے تاکہ یہ بےخبر دل کے اندھے، اپنی حقیقت اور قدر و قیمت کو پہچانیں اور اپنے انحرافی طرزِعمل پر نظر ثانی کریں اور شیاطین کے زمرے سے باہر نکل آئیں۔ پانچواں حِصّہ: اس میں تمام ہٹ دھرم دشمنوں کے لیے ایک تہدید ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلّی خاطر ہے نیز اس میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی دعوت میں کسی سے کسی قسم کی اُجرت اور مزدوری طلب نہیں کرتے اور کسی کے لیے کوئی درد و رنج نہیں چاہتے۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

یہ سورہ جو اپنی ابتداء کی وجہ سے سُورہ "ص" کے نام سے موسوم ہے، پیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی فضیلت کے بارے میں ایک روایت میں آیا ہے: من قرء سورة" ص" أعطى من الأجر بوزن كل جبل سخره الله لداود حسنات و عصمه الله ان يصر علىٰ ذنب صغیرًا او کبیرًا جو شخص سُورہ "ص" پڑھے گا، ہر اس پہاڑ کے مطابق کہ جو خدا نے داؤد علیہ السلام کے لیے مسخر کیا تھا، اسے نیکی عطا کرے گا اور صغیرہ و کبیرہ گناہ سے آلودہ ہونے اور اس پر اصرار کرنے سے اسے محفوظ رکھے گا [بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سورہ ص جلد ۸ ص ۴۶۳]۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے: من قرء سورة" ص" فى ليلة الجمعة أعطى من خير الدنيا و الآخرة ما لم يعط احد من الناس الّا نبى مرسل او ملك مقرب، وَادخله الله الجنّة و كل من احب من أهل بيته حتى خادمه الذى يخدمه جو شخص سورہ "ص" شب جمعہ میں پڑھے گا (خدا کی طرف سے) خیرِ دنیا و آخرت میں سے اس قدر اسے دیا جائے گا کہ پیغمبرانِ مرسل اور مقرّب فرشتوں کے سوا اور کسی کو نہیں دیا جائے گا اور خدا اسے اور ان تمام افراد کو جو اس کے گھر والوں میں سے اس سے تعلّق رکھتے تھے، جنّت میں داخل کرے گا یہاں تک کہ اس خدمت گار کو بھی جو اس کی خدمت کرتا تھا [ایضاً]۔ جس وقت ہم اس سورہ کے مضامین و مطالب کو اس اجر کے ساتھ رکھتے ہیں تو اس اجر کا ان تعلیمات کے ساتھ ربط و تعلق واضح ہو جاتا ہے البتہ پھر اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ اس سے مراد خشک و بےروح تلاوت نہیں ہے بلکہ وہ تلاوت ہے جو فکرانگیز ہو ایسی فکر جو عمل پر اُبھارے اور سورہ کے مضامین و مطالب کو انسان کی زندگی میں عملی شکل دے۔

1
38:1
صٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ذِي ٱلذِّكۡرِ
صٓ۔ قسم ہے اس قرآن کی جس میں ذکر ہے (کہ یہ کتاب خدائی معجزہ ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
38:2
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي عِزَّةٖ وَشِقَاقٖ
لیکن کافر غرور اور اختلاف میں گرفتار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
38:3
كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ فَنَادَواْ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٖ
ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا ہے وہ (لوگ) نزول عذاب کے وقت داد و فریاد کرتے تھے۔ لیکن نجات کا وقت گزر چکا تھا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر و حدیث کی کتابوں میں اس سورہ کی ابتدائی آیات کے بارے میں کئی ایک ملتی جلتی شانِ نزول بیان ہوئی ہیں۔ ہم ان میں سے ایک جو زیادہ مشرح اور جامع ہے، یہاں پر پیشں کرتے ہیں اور یہ وہ حدیث ہے جو مرحوم کلینی نے امام باقرؑ سے نقل کی ہے۔ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابوطالب کے پاس آئی اور کہا: تمھارے بھتیجے نے ہمیں بہت تکلیف پہنچائی ہے اور ہمارے خداؤں کو بھی ناراض کیا ہے۔ اسے بلاؤ اور حکم دو کہ وہ ہمارے خداؤں کو کچھ نہ کہا کرے تاکہ ہم بھی اس کے خدا کو برا نہ کہیں۔ جنابِ ابوطالب نے کسی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ جب پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر داخل ہوئے اور کمرے کے اطراف میں نگاہ کی تو دیکھا کہ مشرکین کے علاوه ابوطالب کے پاس اور کوئی نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "السلام على من اتبع الهدٰی" (سلام ان پر جو ہدایت کے پیرو ہیں)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابوطالب نے ان کی باتیں بیان کیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: او هل لهم فى كلمة خير لهم يسودون بها العرب ويطاون أعناقهم کیا یہ اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ایک جملے میں مجھ سے موافقت کریں اور اس کے سایے تمام عرب پر سبقت حاصل کر لیں اور ان پر حکومت کریں۔ ابوجہل (اس بات سے وجد میں آ گیا، اس نے سوچا کہ عربوں پر حکومت کرنے کی چابی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے لے لے) کہنے لگا، ہاں ہم موافق ہیں، آپ کی مراد کون سا جملہ ہے؟ جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تقولون لا اله الا الله تم یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (اور ان بتوں کو جو تمھاری بدبختی، ننگ و عار اور پسماندگی کا سبب ہیں دور پھینک دو)۔ جس وقت حاضرین نے یہ سنا تو اتنے وحشت زدہ ہوئے کہ انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں اور تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہ کہتے جاتے تھے، ایسی بات تو ہم نے اب تک نہیں سنی تھی، یہ تو ایک جھوٹ ہے۔ اس موقع پر سوره "ص" کے آغاز کی آیات نازل ہوئیں [بحوالہ: اصولِ کافی، (نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۴۱ کی نقل کے مطابق)]۔

تفسیر: تھماری نجات کا وقت گزر چکا ہے

اس سورہ کی پہلی آیت میں پھر ایک مرتبہ حروفِ مقطعات میں سے ایک حرف "ص" سے ہمارا سامنا ہے اور یہاں بھی وہی گزشتہ باتیں پیش آئیں گی کہ کیا یہ قرآن مجید کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو "الف" و "با" جیسے سادہ حروف سے تشکیل پایا ہے مگر اس کے مضامین و مطالب ایسے ہیں جو عالمِ انسانیت کو منقلب کر دیتے ہیں اور یہ خدا کی عجیب و غریب قدرت نمائی ہے کہ اس نے اس سادہ سے مواد سے ایسی عجیب و غریب ترکیب کو وجود بخشا۔ یا یہ ان کے اسرار و رموز کی طرف اشارہ ہے جو خدا اور اس کے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان تھے اور ایک آشنا اور دوست کا دوسرے آشنا کی طرف کوئی پیغام ہے۔ یا پھر دوسری تفاسیر۔ مفسرين کی ایک جماعت نے یہاں خصوصیت کے ساتھ "ص" کو "اسماءِ الٰہی" یا دوسری باتوں کے لیے ایک اختصاری علامت قرار دیا ہے۔ کیونکہ بہت سے اسماءِ الٰہی "ص" سے شروع ہوتے ہیں۔ مثلاً صادق، صمد، صانع یا یہ "صدق اللہ" کے جملہ کی طرف اشارہ ہے جسے ایک ہی حرف میں بطورِ خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر کے سلسلے میں مزید تشریح سوره بقره، آل عمران اور اعراف کی ابتدا میں (پہلی، دوسری اور چوتھی جلد میں) ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: قسم ہے اس قرآن کی جو ذکر کا حامل ہے کہ تو حق پر ہے اور یہ کتاب خدائی معجزہ ہے۔ (والقران ذی الذکره) [تشریحی نوٹ: "وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ" کا جملہ، جملہ قسمیہ ہے جس کا جواب محزوف ہے اور اس کی تقدیر انھوں نے اس طرح ذکر کی ہے۔ والقران ذي الذكر انك صادق و أن هذا الكلام معجز تو سچا ہے اور یہ کلام معجزہ ہے]۔ قرآن خود بھی ذکر ہے اور ذکر کا حامل بھی ہے۔"ذکر" کا معنی ہے یادآوری اور صفحہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرنا خدا کی یاد، اس کی نعتوں کی یاد، قیامت کی عظیم عدالت کی یاد اور خلقتِ انسان کے مقصد کی یاد۔ ہاں! انسانوں کی بدبختی کا اہم سبب غفلت ہے اور قرآن مجید اسے زائل کرتا ہے۔ قرآن منافقین کے بارے میں کہتا ہے: نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ انھوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی انھیں فراموش کر دیا۔ (اور اپنی رحمت ان سے منقطع کر لی) (توبہ ۶۷) اسی سوره (ص) کی آیہ ۲۶ میں گمراہوں کے بارے میں بیان ہوا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ لَهُمْ عَذابٌ شَدِيدٌ بِما نَسُوا يَوْمَ الْحِسابِ جو لوگ خدا کی راہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں چونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے لہذا وہ عذابِ شدید میں مبتلا ہوں گے۔ ہاں! گمراہوں اور گنہگاروں کے لیے سب سے بڑی مصیبت فراموشی ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود کو اور اپنی ہستی کی قدر و قیمت کو بھی بھول جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَ لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولئِكَ هُمُ الْفاسِقُونَ تم ان لوگوں کے مانند نہ ہو جانا جنھوں نے خدا کو بھلا دیا ہے، خدا نے انھیں خود اپنے آپ کو ہی بھلوا دیا ہے، وہ فاسق ہیں۔ (حشر ۱۹) اور قرآن انھی نسیان کے پردوں کو چاک کرنے کا وسیلہ اور غفلت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے نور اور روشنی ہے۔ اس کی آیات انسان کو خدا اور قیامت کی یاد دلاتی ہیں۔ اور اس کے جملے انسان کو اپنے وجود کی قدر و منزلت آشنا کرتے ہیں۔ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ وہ ان ضیاء بخش آیات اور بیدار کرنے والے قرآن کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کلام حق پر کوئی پردہ پڑا ہوا ہے بلکہ یہ کفار تکبر و غرور میں گرفتار ہیں۔ جس نے انہیں حق کو قبول کرنے سے باز رکھا ہوا ہے اور عداوت و عصیاں انھیں تیری دعوت قبول کرنے سے روکے ہوئے بیں (بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَ شِقاقٍ‏)۔ "عزّة"، "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق ایک حالت ہے جو انسان کو مغلوب ہونے سے روکتی ہے، (شکست ناپذیری کی حالت) اور اصل میں یہ لفظ "عزاز" سے لیا گیا ہے جو سخت محکم اور نفوذ ناپزیر سرزمین کے معنی میں ہے اور یہ دو قسم کی ہوتی ہے کبھی "عزت ممدوح" اور پسندیدہ ہوتی ہے، جیسا کہ ہم ذات پاک الٰہی کی "عزیز" کے ساتھ توصیف کرتے ہیں اور کبھی "عزت مذموم" ہوتی ہے اور وہ حق کے مقابلے میں نفوذ ناپزیری اور حقیقتوں کو قبول کرنے سے تکبر کرنا ہوتا ہے اور یہ عزت درحقیقت ذلت ہے۔ "شقاق" "دراصل شق" کے مادہ سے "شگاف" کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اختلاف کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا کیونکہ اختلاف اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ہر گزوه ایک"شق" میں قرار پائے۔ قرآن نے یہاں نفوذ پذیری، کبر و غرور، جدائی اور اختلاف و تفرقه و کفار کی بدبختی کا عامل شمار کیا ہے۔ ہاں یہ قبیح صفات ہی ہیں جو انسان کی آنکھ اور کان پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور حسِّ تشخیص انسان سے چھین لیتی ہیں اور کتنی دردناک بات ہے کہ انسان کی آنکھیں بھی کھلی ہوں اور کان بھی کھلے ہوں لیکن پھر بھی وہ اندھا اور بہرہ ہو۔ سورة بقرہ کی آیت ۲۰۶ میں ہے: وَإِذا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهادُ جس وقت اس (منافق) کو کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو تو ہٹ دھرمی، تعصب اور غرور اس کو پکڑ لیتے ہیں اور گناہ کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ جہنم کی آگ اس کے لیے کافی ہے اور کتنی بری جگہ ہے وہ؟ اس کے بعد قرآن ان غافل مغروروں کو بیدار کرنے کے لیے ان کا ہاتھ پکڑ کر بشر کی گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور مغرور و متکبر اور ہٹ دھرم اقوام کا انجام انہیں دکھاتا ہے کہ شاید وہ عبرت حاصل کر لیں۔ کہتا ہے: ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ایسی تھیں جنھیں ہم نے (پیغمبروں کو جھٹلانے، آیاتِ الٰہی کا انکار کرنے اور ظلم و گناہ کی بنا پر) ہلاک کر دیا (كَمْ أَهْلَكْنا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ)۔ اور نزولِ عذاب کے وقت ان کی فریاد بلند ہوئی لیکن کیا فائدہ؟ کیونکہ اب دیر ہو چکی تھی اور نجات کا وقت گزر چکا تھا۔ (فَنادَوْا وَلاتَ حِينَ مَناصٍ)۔ وہ دن جس کے لیے خدا کے پیغمبروں اور اولیاء حق نے انہیں وعظ و نصیحت کی تھی اور ان کے اعمال کے برے انجام سے انھیں ڈرایا تھا، نہ صرف یہ وہ سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تھے بلکہ مومنین کا مذاق اڑاتے، انہیں آزار پہنچاتے، یہاں تک کہ انھیں قتل کر دیتے تھے۔ مہلت ہاتھ سے نکل گئی اور واپسی کے راستے تباہ ہو گئے اور عذابِ استیصال ان کی نابودی کے لیے نازل ہو گیا۔ کیونکہ توبہ و بازگشت کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے لہذا ان کی فریادیں کسی جگہ تک نہ پہنچیں۔ لفظ "لات" نفی کے لیے ہے اور اصل میں "لا" نافیہ تھا اور "تاءِ تانيث" بڑھایا گیا ہے [تشریحی نوٹ: بعض نے "تاء" کو "زائدہ" اور مبالغہ کے لیے بھی جانا ہے (مثلاً علامہ طباطبائی) جیسا کہ بعض نے یہاں "لا" کو "نفی جنس" کے لیے سمجھا ہے اور بعض نے "مشبه به ليس" بہرحال "تاء" کے اس کے ساتھ اضافہ کی وجہ سے مخصوص احکام پیدا کر لیتا ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حتمی طور زمانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ اس کا اسم یا خبر محذوف ہوتی ہے اور ان میں سے صرف ایک کا کلام میں ذکر ہوتا ہے۔ اس بنا پر "والات حين مناص" کا جملہ تقدیر میں "ولات الحين حين مناص" تھا]۔ "مناص" "نوص" کے مادہ سے پناہگاہ اور فریاد رَس کے معنی میں ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی عربوں کو کوئی سخت وحشتناک حادثہ پیش آ جاتا تھا، خصوصاً جنگوں میں تو وہ بار بار یہ کلمہ دہراتے تھے "مناص، مناص" یعنی پناہگاہ کہاں ہے، پناہگاہ کہاں ہے؟ اور چونکہ یہ مفهوم فرار کے ہم معنی ہے لہذا کبھی جائے فرار کے معنی میں آتا ہے [بحوالہ: مفردات راغب، تفسير فخر رازی، روح المعانی اور کتاب مجمع البحرین مادہ"نوص"]۔ بہرحال ان مغرور غافلوں کے پاس جب تک مہلت تھی کہ لطفِ خدا کی محبت بھری آغوش میں پناہ لیں، اس وقت تک انھوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔ لیکن جب ساری مہلتیں ہاتھ سے نکل گئیں اور عذاب استیصال نازل ہو گیا تو پھر یہ فریادیں اور راہِ فرار اور پناہگاہ ڈھونڈھنے کی کوشش کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ گزشتہ تمام اقوام کے لیے پروردگار کی یہی سنت رہی ہے اور آیندہ بھی یہی سنت جاری رہے گی کیونکہ اس کی سنت کے لیے کوئی تغیر نہیں ہے۔ افسوس کہ بہت سے لوگ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے وہ تلخ تجربوں کو پھر آزمانا چاہتے ہیں۔ وہ تجربات جو انسان کی تمام عمر میں صرف ایک جیسے پیش آتے ہیں اور دوسری مرتبہ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، یعنی جن کا اول و آخر ایک ہی ہوتا ہے۔

4
38:4
وَعَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٞ مِّنۡهُمۡۖ وَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا سَٰحِرٞ كَذَّابٌ
وہ تعجب کرنے لگے کہ ان میں سے ایک ڈرانے والا پیغمبر کیسے آگیا! اور کافروں نے کہا: یہ تو جھوٹا جادو گر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
38:5
أَجَعَلَ ٱلۡأٓلِهَةَ إِلَٰهٗا وَٰحِدًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٞ
کیا اس نے اتنے خدا ؤں کے بجائے ایک ہی خدا قرار دے لیا ہے؟یہ تو واقعاً ایک عجیب چیز ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
38:6
وَٱنطَلَقَ ٱلۡمَلَأُ مِنۡهُمۡ أَنِ ٱمۡشُواْ وَٱصۡبِرُواْ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمۡۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٞ يُرَادُ
ان کے سردار باہر آئے اور کہا : جاؤ اور اپنے خداؤں کے ساتھ مضبوطی سے جم جاؤ۔ یہ تو ہمیں بدبختی کی طرف کھینچ لے جانا چاہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
38:7
مَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِي ٱلۡمِلَّةِ ٱلۡأٓخِرَةِ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا ٱخۡتِلَٰقٌ
ہم نے ہر گز ایسی کوئی چیز اپنے آباؤ اجداد سے نہیں سنی ہے، یہ تو بس جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

ان آیات کے بارے میں بھی، گزشتہ آیات کے لیے بیان کردہ شان نزول سے ملتی جلتی ایک شان نزول بیان کی گئی ہے۔ یہ بھی بعید نہیں ہے کہ ان ساری آیات کے لیے مجموعی طور پر ایک شان نزول ہو۔ لیکن چونکہ اس شان نزول میں کچھ نئے مطالب بیان ہوئے ہیں لہذا ہم اسے تفسیر علی بن ابراہیم سے یہاں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ: جس وقت رسولِ خدا نے اپنی دعوت کو آشکار فرمایا تو قریش کے سردار حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: اے ابوطالب! آپ کا بھتیجا ہمیں بےعقل کہتا ہے اور سارے خداوں کو برا کہتا ہے۔ اس نے ہمارے جوانوں کو خراب کر دیا ہے اور ہماری اجتماعیت میں تفرقہ ڈال دیا ہے اگر یہ کام مال کی کمی کی وجہ سے کر رہا ہے تو اس کے لیے اس قدر مال اکٹھا کر دیتے ہیں کہ وہ قریش میں سب زیادہ مالدار بن جائے۔ یہاں تک کہ ہم اسے اپنا سردار و حاکم بنانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ابوطالب نے یہ پیغام پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا ۔ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لو وضعوا الشمس فى يمينى والقمر فى يسارى ما اردته، ولكن كلمة يعطونى يملكون بها العرب وتدين بها العجم ويكونون ملوكا فى الجنّة! "اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں، تو بھی میں اس کی طرف مائل نہیں ہوں گا۔ (لیکن ان تمام وعدوں کے بجائے) ایک جملہ میں میری موافقت کریں تو وہ اس کے سایے میں عرب پر بھی حکومت کریں گے اور غیرعرب بھی ان کے دین میں داخل ہو جائیں گے اور وہ جنت کے بادشاہ بن جائیں گئے"۔ ابوطالب نے یہ پیغام انھیں پہنچایا تو انھوں نے کہا: "اس کے لیے تو ہم ایک جملے کی بجائے دس جملے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ (تم کون سا جملہ کہلوانا چاہتے ہو"؟) پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تشهدون أن لّا اله الا الله وإنّي رسولِ الله تم یہ گواہی دو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں خدا کا رسول ہوں۔ (وه اس گفتگو سے بہت وحشت زدہ ہو گئے اور) انھوں نے کہا: "کیا ہم ۳۶۰ خداؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کو مان لیں، یہ کتنی عجیب بات ہے؟ (وہ بھی ایسا خدا جو دکھائی نہیں دیتا)"۔ اس موقع پر ذیل کی آیات نازل ہوئیں: وَعَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ وَقالَ الْكافِرُونَ هذا ساحِرٌ كَذَّابٌ‏ ... إِنْ هذا إِلَّا اخْتِلاقٌ"[بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم، نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۴۲ (حدیث ۷) کے مطابق]۔ یہی معنی مجمع البیان میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل ہوا ہے اور اس کے آخر میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روتے ہوئے فرمایا: اے چچا! اگر یہ سورج میرے دائیں ہاتھ اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تاکہ میں اپنی اس بات سے دست بردار ہو جاؤں، تو بھی میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ میں اس بات کو معاشرے میں نافذ و رائج کر کے رہوں گا یا اس کی راہ میں قتل ہو جاؤں گا۔ جس وقت حضرت ابوطالب نے یہ بات سنی تو فرمایا: "آپ اپنے پروگرام کو جاری رکھیں، خدا کی قسم میں ہرگز آپ کی نصرت سے دستبردار نہیں ہوں گا" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۸ ص ۶۵]۔

بہت سے خداؤں کے بجائے ایک خدا

مغرور و سرکش لوگ نہ تو کوئی اثر قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے مؤقف سے ہٹتے ہیں۔ جس چیز کو انھوں نے اپنے محدود اور ناقص افکار کے ذریعے اپنا لیا ہے، اس کے سوا کسی چیز کو صحیح نہیں سمجھتے اور تمام قدروں کے ناپ تول کا معیار اسی کو قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں توحید کا پرچم بلند کیا اور چھوٹے بڑے سارے بتوں کے خلاف کی جن کی تعداد ۳۶۰ تھی، قیام کیا تو کبھی تو "وہ اس بات پر تعجب کرتے کہ انھیں کے درمیان سے ایک انزار کرنے والا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں مبعوث کیا گیا؟" (وَعَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُم)۔ ان کا تعجب اس بات پر تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی میں سے ایک فرد ہیں۔ کوئی فرشتہ آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوا؟ وہ اس عظیم نقطہ قوّت کو، نقطۂ ضعف خیال کرتے تھے۔ جو شخص عوام الناس میں سے مبعوث کیا گیا ہے وہ ان کی حاجات، ضروریات اور دکھ درد سے واقف تھا اور ان کی مشکلات اور مسائل سے آشنا تھا۔ وہ تمام باتوں میں نمونہ اور مثال بن سکتا تھا۔ وہ اس عظیم امتیاز کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت میں ایک تاریک نقطہ خیال کرتے تھے اور اس پر تعجب کرتے تھے۔ کبھی اس مرحلے سے بھی آگے بڑھ جاتے، یہاں تک کہ کافروں نے کہا: یہ تو ایک جھوٹا جادوگر ہے (وَقالَ الْكافِرُونَ هذا ساحِرٌ كَذَّابٌ)۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جادو کی نسبت دینا اس وجہ سے تھا کیونکہ وہ آپ کے ناقابل انکار معجزات اور افکار میں غیرمعمولی نفوذ کا مشاہدہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کی نسبت اس بنا پر دیتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ماحول میں مسلمہ شمار ہونے والی بےہودہ رسوم اور پست افکار کے خلاف قیام کیا تھا اور اس کے خلاف بات کرتے تھے۔ اور خدا کی طرف سے رسالت کا دعوی رکھتے تھے۔ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی توحید کی دعوت کو آشکار کیا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے تھے: آؤ! اَن سنی باتیں سنو: "کیا اس نے ان سب خداؤں کے بجائے ایک ہی خدا قرار دے لیا ہے؟ واقعاً یہ تو ایک عجیب بات ہے" (أَ جَعَلَ الْآلِهَةَ إِلهاً واحِداً إِنَّ هذا لَشَيْ‏ءٌ عُجابٌ) [تشریحی نوٹ: یہاں "جعل" سے مراد تکوینی طور پر قرار دینا نہیں، بلکہ اعتقاد کے مطابق قرار دینا ہے]۔ ہاں! بعض اوقات غرور، خودخواہی، مطلق العنانی اور ماحول کی خرابی انسان کی عقل اور قوت فیصلہ کو اتنا بدل دیتی ہے کہ وہ واضح و روشن حقیقتوں پر تعجب کرنے لگتا ہے، جبکہ وہ خرافات اور بےہودہ خیالات کی سختی کے ساتھ پابندی کرتا ہے۔ لفظ "عجاب" "طوال" (بر وزن "تراب") کی طرح مبالغہ کا معنی دیتا ہے اور بہت زیادہ عجیب باتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ کم عقل خیال کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی، ان کے نفوذ کی قدرت و اعتبار بھی زیادہ ہو گی۔ اسی کی بنا پر ایک اکیلا خدا ان کی نگاہ میں حقیر دکھائی دیتا تھا۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ فلسفی نقطہ نظر سے متعدد چیزیں محدود ہوتی ہیں اور غیرمحدود وجود ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ اسی بنا پر خداشناسی کے سلسلے میں تمام تحقیقات راهِ توحید پر آ کر تمام ہوتی ہیں۔ ان کے سردار جب حضرت ابوطالب کی طرف رجوع کرنے اور ان کی وساطت سے مایوس ہو گئے تو ان کے پاس سے آ گئے اور کہا: جاؤ اور اپنے خداؤں کے ساتھ مضبوطی سے جم جاؤ اور استقامت اور پائیداری سے کام لو کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد ہے کہ ہمارے اس معاشرے کو تباہی اور بربادی کی طرف کھینچ لے جائے اور بتوں کی طرف پشت کرنے کی وجہ سے خدا کی نعمتوں کو ہم سے منقطع کرا دے اور وہ خود ہم پر حکومت کرے (وَ انْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَ اصْبِرُوا عَلى‏ آلِهَتِكُمْ إِنَّ هذا لَشَيْ‏ءٌ يُرادُ)۔ "انطلق" "انطلاق" کے مادہ سے، تیزی سے باہر نکلنے اور اپنے کام کو چھوڑ دینے کے معنی میں ہے۔ یہاں غصہ کی حالت میں ابوطالب کی مجلس کو چھوڑ کر چلے جانے کے معنی میں ہے۔ "ملا" قریش کے اشراف اور سرداروں کی طرف اشارہ ہے، جو ابوطالب کے پاس آئے تھے اور ان کی مجلس سے باہر آنے کے بعد ایک دوسرے سے یا اپنے پیروکاروں سے کہتے تھے کہ اپنے بتوں سے دست بردار نہ ہونا اور اپنے معبودوں کے ساتھ مضبوطی سے چمٹے رہنا۔ "لشئ يراد" کا مفہوم یہ ہے کہ "یہ مسئلہ ایک ایسی چیز ہے جو چاہی گئی ہ" اور چونکہ یہ جملہ سربستہ ہے لہذا مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہیں: بعض نے کہا ہے کہ یہ پیمغمبرِ گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ یہ دعوت ایک سازش ہے جس کا ہدف و مقصد ہم ہیں۔ اس کا ظاہر تو اللہ کی طرف دعوت دینا ہے لیکن اس کا باطن ہم پر حکومت کرنا اور عربوں کی سیادت و ریاست ہے۔ اور سب اسی مطلب کے حصول کے لیے بہانے ہیں۔ تم لوگ جاؤ اور اپنے دین پر مضبوطی سے ڈٹ جاؤ اور اس سازش کا کھوج لگانا ہم سردارانِ قوم پر چھوڑ دو۔ یہ وہی چیز ہے جسے سردارانِ باطل ہمیشہ راہِ حق کے راہرو افراد کی آواز خاموش کرنے کے لیے پیش کیا کرتے تھے۔ اسے سازش کا نام دیتے تھے، ایسی سازش جس کا ان کے نزدیک سیاستدان افراد کو ہی بڑے غور کے ساتھ پتہ لگانا ہوتا ہے اور اس سے مبارزہ کے لئے پروگرام بنانا ہوتا ہے اور عام لوگوں کو بےاعتنائی کے ساتھ اس کے قریب سے گزر جانا چاہیے اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے سختی کے ساتھ چمٹے رہنا چاہیے۔ اس گفتگو کی نظیر حضرت نوح کی داستان میں بھی آئی ہے۔ جس میں اشراف اور بڑے لوگوں نے عوام النٓاس سے کہا تھا: مَا هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ یہ شخص صرف تمہاری مانند ہی ایک انسان ہے۔ یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (مؤمنون ۲۴) بعض دوسروں نے اس جملہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم بت پرست اپنے خداؤں کے بارے میں مضبوطی کے ساتھ ڈٹے رہو۔ یہی وہ چیز ہے جو تم سے چاہی گئی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محمد کا ہدف و مقصد ہم ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو خرابی کی طرف کھینچ لے جائے۔ اور ہم اپنے خداؤں کی طرف پشت کر لیں۔ جس کے نتیجے میں ہم سے نعمتیں منقطع ہو جائیں اور ہم پر عذاب نازل ہو۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کام سے دستبردار ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے مصمم ارادہ کر لیا ہے اور اس کا ارادہ تخلف ناپذیر ہے لہذا اس سے مذاکرات کرنا فضول سی بات ہے، اس لیے جاؤ اور اپنے عقائد کی مضبوطی سے حفاظت کرو۔ نیز یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ یہ ایک مصیبت ہے جو ہمیں پیش آئی ہے لہذا اسی حالت کے ساتھ گزارا کریں اور دکھ جھیلیں اور اپنے دین کی محکم طریقہ سے حفاظت کریں۔ البتہ اس جملہ کے مفہوم کے کلی ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے ممکن ہے ان میں سے اکثر تفسیریں اس میں جمع ہوں، اگرچہ پہلا معنی مناسب تر نظر آتا ہے۔ بہرحال بت پرستوں کے سردار یہ چاہتے تھے کہ اس گفتگو کے ذریعے اپنے پیروکاروں کے متزلزل ایمان اور جذبے کو تقویت پہنچائیں اور زیادہ سے زیادہ ان کے اعتقادات کو بدلنے سے روکیں، لیکن یہ کتنی فضول کوشش تھی؟ اس کے بعد لوگوں کو غافل رکھنے یا اپنے آپ کو قانع کرنے کے لیے انھوں نے کہا: "ہم نے تو ایسی چیز اپنے آباؤ اجداد میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو نِرا جھوٹ ہی جھوٹ ہے"۔ (ما سَمِعْنا بِهذا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هذا إِلَّا اخْتِلاقٌ)۔ اگر توحید اور بتوں کی نفی کا دعوی کوئی حقیقت رکھتا ہوتا ہمارے آباو اجداد کو اپنی عظمت کی وجہ سے اسے درک کر لینا چاہیے تھا۔ اور ہمیں بھی ان سے سنے ہوئے ہونا چاہیے تھا لیکن یہ ایک جھوٹی بات ہے جس کا سابق میں کوئی نشان نہیں ملتا۔ "الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ" کی تعبیر ممکن ہے ان کے آباو اجداد کی جمعیت کی طرف اشارہ ہو جو ان کی نسبت آخری ملّت تھے، جیسا کہ ہم سطورِ بالا میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اہلِ کتاب خصوصاً انصاریٰ کی طرف اشارہ ہو جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور سے پہلے آخری دین و ملت شمار ہوتے تھے یعنی نصاریٰ کی کتابوں میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کا کوئی نام و نشان نہیں کیونکہ وہ "تثیث" (تین خداؤں) کے قائل ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توحید تو ایک نئی ظاہر ہونے والی بات ہے۔ لیکن جیسا کہ قرآن کا لب و لہجہ دوسری مختلف آیات میں نشان دہی کرتا ہے، زمانہ جاہلیت کے عرب یہود و نصاریٰ کی کتب پر اعتماد نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا سب کچھ ان کے بڑوں اور آباؤ اجداد کا طریقہ اور دین تھا اور پہلی تفسیر کے لیے یہ ایک اچھا شاہد ہے۔ "اختلاق" "خلق" کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کو سابقہ کے بغیر ابداء و اظہار کرتا ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ "جھوٹ" کے معنی میں بھی بولا گیا ہے، کیونکہ جھوٹ بولنے والا بہت سے مواقع پر بےسابقہ مطالب بیان کرتا ہے۔ اس بنا پر زیر بحث آیت میں"اختلاق" سے مراد یہ ہے کہ توحید کا دعویٰ ایک نئی چیز اور بےسابقہ دعویٰ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کیا ہے اور یہ ہمارے اور تم سے پہلے لوگوں کے درمیان ناشناختہ ہے اور خود اس کے بطلان کی دلیل ہے۔ آئینِ نو سے ڈرنا: تاریخ میں گمراہ اقوام کے اپنے انحرافات پر اصرار کرنے اور خدا کے پیغمبروں کی دعوت کے سامنے سر نہ جھکانے کے علل و اسباب میں سے ایک تازہ اور نئے ظاہر ہونے والے مسائل کا خوف ہی رہا ہے۔ وہ ہر نئی چیز سے وحشت رکھتے تھے اور اسی بنا پر انبیاء کے دین کو بہت بری نظر سے دیکھتے تھے، اب بھی بہت سی قوموں میں ایسی جاہلانہ سوچ کے اثرات پائے جاتے ہیں حالانکہ نہ تو پیغمبروں کی توحید کی طرف کوئی نئی چیز تھی اور نہ اس کا نئی چیز ہونا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہوتا، منطق اور دلیل کی پیروی کرنی چاہیے اور حق بات کو تسلیم کرنا چاہیے وہ جہاں کہیں بھی ہو اور جس کی طرف سے بھی ہو۔ تاسف و تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات نئی بات اور نئی تحقیق سے بعض علماء بھی وحشت کرنے لگتے ہیں اور نئے علمی نظریات کے مقابلے میں مخالفت کا علم بلند کر دیتے ہیں اور "ان هذا الا اختلاق" کہنے لگتے ہیں۔ خصوصاً اربابِ کلیسا (عیسائی پادریوں) کی تاریخ میں یہ بہت زیادہ نظر آتا ہے کہ وہ علماء علومِ طبیعی کے سائنسی انکشافات کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے تھے اور گلیلیو جیسے (علماء طبیعیات) کو زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے اور خود اپنے گرد گردش کرنے کے انکشاف کرنے کی وجہ سے سخت ترین حملوں کا نشانہ بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ باتیں بدعت ہیں بےسابقہ ہیں اور جھوٹ ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض بڑے علماء بھی جب نئی علمی تحقیقات پر دسترس حاصل کرتے ہیں تو اس خوف سے کہ کہیں ان لوگوں کے حملوں کا نشانہ نہ بن جائیں جو ان کے ہم عصر ہیں اور وہ اس نئی تحقیق پر تنقید کرنے لگیں، وہ ہاتھ پاؤں مارتے ہیں کہ قدیم اور گزشتہ لوگوں میں سے چند افراد کو اپنے نئے نظریات سے ہم آہنگ ظاہر کریں اور اس طریقے سے اپنے نظریے کو ایک پرانا اور قدیمی عقیده بیان کریں تاکہ امن و امان میں رہ سکیں اور یہ بات بہت ہی المناک ہے۔ اس بات کا ایک نمونہ معروف "حرکتِ جوہری" کے نظریے کے بارے میں صدر المتالھین شیرازی کے اسفار میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال نئے مسائل اور جدید تحقیقات کے ساتھ یہ طرزِ سلوک، انسانی معاشروں اور جہانِ علم و دانش کے لیے پہلے بھی نقصان دہ تھا اور آج بھی ہے اور ہمدردی اور خلوص رکھنے والوں کو اس کی اصلاح کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور زمانہ جاہلیت کی ان رسومات کو افکارِ انسانی سے دور کر دینا چاہیے۔ لیکن گفتگو اس معنی میں بھی نہیں ہے کہ ہر نئے مطلب کو اس کے تازہ اور نیا ہونے کی وجہ سے قبول کر لیں۔ چاہے وہ بالکل بےبنیاد اور بےاساس کیوں نہ ہو، کیونکہ تازہ پسندی بھی قدامت پرستی کی طرح ہی خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔ اعتدال اسلامی کا تقاضا یہ ہے کہ نہ اس معاملہ میں یہ افراط ہو اور نہ ہی تفریط-

8
38:8
أَءُنزِلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ مِنۢ بَيۡنِنَاۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّن ذِكۡرِيۚ بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
کیا ہم سب میں سے صرف اس (محمدؐ) پر قرآن نازل ہوا ہے؟ وہ درحقیقت میری اصل وحی کے بارے میں ہی شک کررہے ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی تک عذاب الٰہی نہی چکھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
38:9
أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡوَهَّابِ
کیا تیرے قادر اور عطا کرنے والے پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
38:10
أَمۡ لَهُم مُّلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ فَلۡيَرۡتَقُواْ فِي ٱلۡأَسۡبَٰبِ
یا یہ بات ہے کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے،(ان) کی ملکیت ان ہی کے لیے ہے۔(اگر ایسا ہے) تو آسمان پر چڑھ جائیں (اور نزول کو روک دیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
38:11
جُندٞ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُومٞ مِّنَ ٱلۡأَحۡزَابِ
ہاں ! یہ شکست خوردہ احزاب کا ایک چھوٹا سا لشکر ہیں۔

یہ چھوٹا سا شکست خوردہ لشکر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں راہِ توحید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی مخالفت میں مخالفین کی منفی تنقید اور نکتہ چینی کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی گفتگو کو جاری رکھا گیا ہے۔ مشرکین مکّہ نے جب اپنے ناجائز مفادات خطرے میں دیکھے اور کینہ و حسد کی آگ ان کے دل میں بھڑکنے لگی تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کے سلسلے میں خود کو قانع کرنے اور لوگوں کو غافل رکھنے کے لیے طرح طرح کی کمزور دلیلوں کا سہارا لینے لگے منجملہ ان کے تعجب اور انکار کے طور پر کہتے: کیا تم سب میں سے صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے؟ ((أَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا)۔ کیا تمام بڑے بوڑھوں اور سن رسیدہ لوگوں اور ان تمام مالدار، ثروتمند سرداروں میں سے کوئی نہ مل سکا کہ خدا اپنا قرآن اس پر نازل کرتا، سوائے تہی دست محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے؟! یہ منطق اس زمانے کے ساتھ ہی منحصر نہ تھی بلکہ ہر زمانے میں جب کوئی اہم ذمہ داری کسی کو سپرد کی جاتی ہے، تو حسد کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، آنکھیں خیرہ اور کان تیز ہو جاتے ہیں۔ بڑبڑاہٹ اور عذر تراشیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ کیا کوئی اور آدمی نہیں مل سکتا تھا کہ یہ کام فلاں شخص کو جو گمنام اور فقیر خاندان سے ہے سپرد کر دیا گیا ہے؟ ہاں! ایک طرف تو دنیا پرستی اور دوسری طرف سے حسد اس بات کا سبب ہوا کہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) جو مشرکین کے ساتھ ایک قدرِ مشترک کے باعث اسلام اور قرآن سے دور ہو گئے اور بت پرستوں کے پاس چلے گئے اور یہ کہنے لگے کہ تمھاری راه ان کی راہ سے بہتر ہے۔ أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هؤُلاءِ أَهْدى‏ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا کہ جنھیں کتابِ خدا سے کچھ حصہ ملا تھا۔ جبت و طاغوت (بت اور بت پرستوں) پر ایمان لاتے ہیں اور مشرکین سے کہتے ہیں کہ وہ محمدؐ پر ایمان لانے والوں زیاده ہدایت یافتہ ہیں۔ (نسا ۵۱) یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ سب تعجب اور انکار میں حسد اور حبِّ دنیا کے علاوہ ایک اور سرچشمہ یعنی قدر و قیمت کی پہچان کا غلط معیار بھی شامل تھا جو فیصلہ کے لیے ہرگز منطقی معیار نہیں بن سکتا۔ کیا انسان کی شخصیت نام و نمود، شہرت، مال و دولت، ثروت، مقام اور سن و سال میں ہے؟ کیا خدا کی رحمت ان معیاروں پر تقسیم ہوتی ہے؟ اسی لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ان کا مسئلہ کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ: وہ حقیقت میں میری اصل وحی اور میرے ذکر میں شک رکھتے ہیں۔ (بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْ ذِكْرِي) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اعتراض کرنا تو بہانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور ان کا یہ شک کسی مسئلے میں اسی بنا پر نہیں ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ابہام ہے بلکہ اس کا سرچشمه ہوا و ہوس، حبِّ دنیا اور حسد و کینہ ہے۔ اور آخر میں انھیں اس جملہ کے ساتھ تہدید کی گئی ہے: انھوں نے ابھی تک عذابِ الٰہی کو نہیں چکھا جو اس طرح سے دلیری کے ساتھ خدا کے بھیجے ہوئے کے سامنے اکڑے ہوئے ہیں اور ان فضول باتوں کے ساتھ وحی الٰہی کے مقابلے میں جنگ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں (بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذابِ)۔ ہاں ہیمشہ ایسا گروہ موجود رہا ہے کہ جن کے کان منطقی اور درست بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور انھیں عذاب کے تازیانوں کے سوا کوئی چیز غرور کے گھوڑے سے نیچے نہیں اتارتی، ان پر عذاب ہونا چاہیے چونکہ ان کا علاج عذابِ الٰہی ہی ہے۔ اس کے بعد ان کے جواب میں مزید فرمایا گیا ہے: واقعاً! کیا تیرے قادر اور بخشنے والے پروردگار کی رحمت کے خزانے انھی کے پاس ہیں کہ جس کسی کو وہ چاہیں نبوت کا پروانہ دے دیں اور جس کو چاہیں محروم کر دیں۔ (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ) خدا اس بِنا پر کہ وہ "رب" ہے (اور عالمِ ہستی اور جہانِ انسانیت کا مالک و مربی اور پروردگار ہے) اپنی رسالت کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرتا ہے جو لوگوں کو ارتقاء و تکامل کی راہ اور پرورش و تربیت میں رہبری کر سکے اور اس کے "عزیز" ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کی خواہش کا مغلوب نہیں ہے کہ وہ مقامِ رسالت کو کسی نالائق آدمی کے سپرد کر دے اور اصولی طور پر مقامِ نبوت اتنا عظیم مقام ہے کہ صرف خدا ہی اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کو دے اور اس کے "وهاب" ہونے تقاضا یہ ہے کہ وہ جو کچھ چاہے اور جس کو چاہے بخش دے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "وهاب" مبالغے کا صیغہ ہے اور بہت بخشنے والے کے معنی میں ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبوت ایک اکیلی نعمت نہیں ہے بلکہ متعدد نعمتوں کا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے اکٹھی ہوئی ہیں، پھر کہیں وہ اس منصب کا عہده دار ہو سکتا ہے، یہ نعمتیں، علم، تقوی، عصمت، شجاعت اور شہامت ہیں۔ اس گفتگو کی نظیر سوره زخرف کی آیہ ۳۲ میں بھی ہے: أَ هُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ وہ تجھ پر قرآن نازل ہونے کی وجہ سے اعتراض کر رہے ہیں تو کیا میرے پروردگار کی رحمت ان کے ہاتھوں سے تقسیم ہوتی ہے؟ ضمناً رحمت کی تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ نبوت جہانِ انسانیت پر خدا کی رحمت اور لطف ہے اور واقعاً ایسا ہی ہے کیونکہ اگر انبیاء نہ ہوتے تو انسان آخرت اور روحانیت کی راہ میں بھی گم کر بیٹھتے اور دنیا کی راہ بھی، جیسا کہ مکتب انبیاء سے دور لوگ دونوں راستے گم کیے ہوتے ہیں۔ پھر بعد والی آیت میں اسی مطلب کو ایک دوسرے طریقے سے بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کی مالکیت و حاکمیت ان کے لیے ہے؟ اگر ایسا ہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وحی الٰہی کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک قلب پر نازل ہونے سے روک دیں (أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَما بَيْنَهُما فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ)۔ یہ گفتگو حقیقت میں گزشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے۔ وہاں پر کہا گیا ہے کہ "پروردگار کی رحمت کے خزانے تمھارے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ تمھاری ہوس آلود خواہشات جس شخص کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اسے بخش دو"۔ اب فرمایا گیا ہے کہ اب جب کہ یہ خزانے تمھارے ہاتھ میں نہیں ہیں اور صرف خدا کے ہاتھ ہیں تو صرف ایک ہی راہ ہے جو تمھارے لیےکھلی ہے اور وہ یہ ہے کہ تم آسمانوں پر چڑھ جاؤ اور وحی کو نازل ہونے سے روک دو۔ اور تم خود جانتے ہو کہ تم اس کام سے بھی بالکل عاجز ہو۔ اس بنا پر نہ تو "جس بات کا اقتضاء ہو" وہ تمھارے اختیار میں ہے اور نہ ہی تم کسی کام کو روکنے کی قدرت رکھتے ہو۔ ان حالات میں تم سے کیا ہو سکتا ہے؟ حسد سے مر جاؤ اور جو کام تم کر سکتے ہو کر لو۔ اس ترتیب سے یہ دونوں آیتیں ایک ہی مطلب کا تکرار نہیں کرتیں۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک مسئلے کی ایک جہت کو بیان کر رہی ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں ان کم عقل مغروروں سے تحقیر کے طور پر ارشاد ہوتا ہے: یہ شکست خوردہ احزاب کا ایک چھوٹا سا لشکر ہیں (جُنْدٌ ما هُنالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزابِ). [تشریحی نوٹ: "ما" اوپر والے جملہ میں زائدہ ہے جو تقلیل کے لیے آیا ہے اور "جند" مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور "مھزوم" خبر کے بعد خبر ہے اور اصل میں "هم جند ما مهزوم من الأحزاب" تھا۔ بعض کا نظریہ ہے کہ اس جملے میں کوئی چیز محذوف نہیں ہے اور "جند" مبتداء اور "مھروم" خبر ہے۔ لیکن پہلا نظریہ زیادہ مناسب ہے]۔ "هنالك" کا معنی ہے "اس جگہ" اور یہ بعید کے لیے اسِم اشارہ ہے۔ اس بنا پر کچھ لوگ اسے جنگِ بدر میں مشرکین کی شکست کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو مکہ سے کافی دور واقع ہوئی تھی۔ "احزاب" کی تعبیر ظاہراً ان تمام گروہوں کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبروں کی مخالفت کیا کرتے تھے اور خدا نے انھیں تباہ و برباد کر دیا مشرکین کی یہ چھوٹی سی جمعیت ان ہی گروہوں میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو انھیں کے سے انجام میں گرفتار ہو گا (اس بات کی گواه آینده والی آیات ہیں جو اس مسئلے کی تصریح کرتی ہیں)۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے اور قرآن گفتگو اس وقت کر رہا ہے جب مسلمان شدید اقلیت میں تھے: تَخافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ اس طرح سے کہ ممکن تھا مشرکین انھیں ایک لقمہ کی طرح اچک لیں۔ (انفال ۲۶) اس وقت مسلمانوں کی کامیابی کی کوئی نشانی نظر نہیں آتی تھی، اس وقت بدر، احزاب اور حنین کی کامیابیاں سامنے نہیں آئی تھیں۔ لیکن قرآن قاطعیت اور دوٹوک فیصلے کے طور پر کہہ رہا ہے کہ"یہ سخت دشمن ایک چھوٹا سا ایسا لشکر ہیں جو شکست سے دوچار ہو کر رہے گا"۔ آج بھی قرآن دنیا کے مسلمانوں کو جو ہر طرف سے متجاوز اور ظالم طاقتوں کے محاصرے میں ہیں، یہی بشارت دے رہا ہے کہ اگر وہ بھی پہلے مسلمانوں کی طرح خدا کے عہد و پیمان پر ڈٹ جائیں تو خدا بھی جنودِ احزاب کی شکست کے بارے میں اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔

12
38:12
كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَفِرۡعَوۡنُ ذُو ٱلۡأَوۡتَادِ
ان سے پہلے قوم نوح و عاد اور صاحب اقتدار فرعون نے (ہمارے انبیاء کی) تکذیب کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
38:13
وَثَمُودُ وَقَوۡمُ لُوطٖ وَأَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَحۡزَابُ
نیز ثمود ، قوم لوط اور اصحاب الایکہ(قوم شعیب) یہ وہ جماعتیں تھیں (کہ جو انبیاء کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
38:14
إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
ان جماعتوں میں سے ہر ایک نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کے لیے عذاب الٰہی روبہ عمل آیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
38:15
وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٖ
ان لوگوں کو اس کے علاوہ کوئی توقع نہ تھی کہ ایک آسمانی چیخ نازل ہو۔ ایسی چیخ کہ جس کے باعث لوٹنے کو کائی راستہ نہ رہے (اور وہ سب کو نابود کردے)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
38:16
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
انہوں نے (سر کشی کی بنا پر) کہا: پروردگار! اپنے عذاب میں سے روزحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ جتنی جلدی ہو سکے ہمیں دے دے۔

صرف ایک آسمانی صیحہ کافی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں سے آخری میں مشرکین کی شکست کی خبر دی گئی تھی۔ اس میں انھیں احزاب میں سے چھوٹا سا مغلوب لشکر قرار دیا گیا ہے۔ اب زیر بحث آیات میں چند ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو انبیاء کی تکذیب کرتے تھے اور ان میں ان کے برے انجام کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، ان سے پہلے قومِ نوح و عاد اور صاحبِ اقتدار فرعون نے اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا (كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتادِ)۔ اسی طرح قومِ ثمود، قومِ لوط اور صاحب ایکہ (قومِ شعیب) بھی ایسے گروہ تھے جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحابُ الْأَيْكَةِ أُولئِكَ الْأَحْزابُ)۔ [تشریحی نوٹ: "أُولئِكَ الْأَحْزابُ" مبتداء اور خبر ہے. "أُولئِكَ" ان چھ قوموں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر ان دو آیتوں میں مذکور ہے۔ "احزاب" انھی دو قبل کی آیتوں میں مذکور احزاب کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے مشرکینِ مکّہ کو چھوٹا سا گروہ شمار کیا گیا ہے]۔ جی ہاں! یہ چھ گروہ زمانہ جاہلیت کی جماعتوں اور بت پرستوں کے سے تھے۔ انھوں نے اپنے عظیم انبیاء کے خلاف قیام کیا۔ قوم نوح نے حضرت نوحؑ جیسے عظیم پیغمبر کے خلاف قیام کیا۔ قوم عاد نے حضرت ہودؑ کے خلاف قیام کیا۔ فرعون نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے مقابلے میں قیام کیا۔ قوم ثمود نے حضرت صالحؑ کے خلاف قیام کیا۔ قوم لوط نے حضرت لوطؑ کے مقابلے میں قیام کیا۔ اور اصحاب الایکہ نے حضرت شعیب کے خلاف قیام کیا۔ ان قوموں نے جو کچھ ان کے بس میں تھا انبیاء اور اہلِ ایمان کے خلاف کیا، ان کی تکذیب کی اور انھیں اذیتیں دی لیکن انجامِ کار عذابِ الٰہی انھیں دامن گیر ہوا اور خشک فصلوں کی طرح انہیں کاٹ کر رکھ دیا۔ قوم نوح طوفان اور تباہ کن بارشوں سے نابود ہوئی۔ قوم عاد زبردست اور ہولناک آندھی سے تباہ ہوئی۔ فرعون اور اس کے ساتھی نیل کی موجوں میں غرق ہوئے۔ قوم ثمود آسمانی بجلی کا شکار ہوئی۔ قوم لوط پر وحشتناک زلزلہ آیا اور آسمانوں سے پھتروں کی بارش نازل ہوئی۔ قوم شعیب بھی موت آفریں بجلی کا شکار ہوئی کہ جو بادل سے ان کے سروں پر آ پڑی۔ گویا وہ لوگ پانی، ہوا، مٹی اور آگ سی چیزوں سے تباہ ہوئے کہ جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ ان سرکش باغیوں کا دفترِ حیات یوں لپیٹ دیا گیا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ لہذا ان مشرکین مکہ کو بھی سوچ بچار کر لینا چاہیے کیونکہ ان قوموں کے مقابلے میں تو یہ ایک چھوٹے سے گروہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے لہذا خوابِ غفلت سے بیدار کیوں نہیں ہوتے؟ فرعون کے لیے " ذُو الْأَوْتادِ " )مضبوط کلّے والا) کا لفظ آیا ہے۔ یہ ان آیات میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مضبوط اقتدار کے لیے ایک طرح کی صراحت ہے۔ اسی طرح سورہ فجر کی آیہ ۱۰ میں بھی اس امر کا ذکر کنایتًا موجود ہے۔ زیر نظر تعبیر روزمرہ میں بھی استحکام اور مضبوطی کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے، فلاں شخص کے کلّے مضبوط ہیں کیونکہ خیموں وغیرہ کی مضبوطی کے لیے مختلف طرح کے کلوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بعض نے اسے فرعون کی عظیم افواج کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ فوج عام طور پر خیموں سے کام لیتی ہے اور خیموں کی مضبوطی کے لیے کلوں اور میخوں وغیرہ سے استفادہ کرتی ہے۔ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ فرعونی لوگ اپنے مخالفوں کے خلاف بہت وحشتناک ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں انھیں چارمیخوں سے قتل کرتے تھے۔ تخت دار یا دیوار پر ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھونک دیتے تھے اور اسی عالم میں انہیں چھوڑ دیتے تھے یہاں تک کہ ان کی جان نکل جائے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "اوتاد" سے مراد "اہرامِ" مصر ہی ہیں کہ جو میخ کی طرح زمین میں گڑے ہوئے ہیں اور چونکہ اہرام فرعونوں کی خصوصیات میں سے ہیں اس لیے یہ صفت قرآن میں صرف انھی کے لیے آئی ہے۔ البتہ یہ تمام احتمالات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس لفظ کے مفہوم میں سب معنی جمع ہوں۔ اصحاب الایکہ میں "ایکہ" کا معنی ہے درخت اور "اصحاب الایکا" سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے۔ ان کا علاقہ حجاز و شام کے درمیان تھا اور اسی میں پانی اور درختوں کی فراوانی تھی۔ اس ضمن میں ہم سورہ حجر کی آیت ۸ کی تفسیر میں حسبِ ضرورت تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں (اس سلسلے میں قارئین جلد ۱۱ کی طرف رجوع کریں)۔ جی ہاں! ان میں سے ہر گروہ نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ کا عذاب ان کے لیے رُو بہ عمل آ گیا۔ (إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقابِ)۔ [تشریحی نوٹ: "فَحَقّ عِقَاب" دراصل معمول کے مطابق "فحق عقابی" تھا۔ یاء حذف ہو گئی اور اس پر دلالت کرنے والی زیر باقی رہ گئی۔ "حق" فعل ہے اور "عقاب" اس کا فائل ہے۔ یعنی میرا عقاب ان کے بارے میں ثابت ہو گیا ہے"]۔ تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح ان میں سے ہر گروہ گرفتارِ بلا ہوا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے شہر ویرانوں اور کھنڈروں میں تبدیل ہو گئے اور ان شہر کے باسی بےروح جسم ہو گئے۔ مشرکینِ کے مکہ جو کام انجام دیتے ہیں ان کے ہوتے ہوئے کیا ان کا ان لوگوں سے بہتر انجام ہو سکتا ہے جبکہ ان کے اعمال بھی ویسے ہی ہیں اور اللہ کی سنت بھی وہی ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں قرآن ایک قاطع اور تہدید آمیز انداز میں کہتا ہے: یہ لوگ ان اعمال کے ہوتے ہوئے اس کے سوا کوئی توقع نہیں رکھ سکتے کہ ایک آسمانی صیحہ آ پہنچے، ایسا صیحہ کہ پھر لوٹنے کی گنجائش نہ رہے (وَ ما يَنْظُرُ هؤُلاءِ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً ما لَها مِنْ فَواقٍ)۔ ممکن ہے یہ صیحہ ویسی ہی ہو جیسی گزشتہ اقوام نازل ہوتی رہی یعنی وحشتناک صاعقہ یا زبردست آواز کے ساتھ زمین پر آنے والا زلزلہ ہو کہ جسں کے ذریعے ان کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ نیز ممکن ہے یہ اس دنیا کے اختتام پر عظیم صیحہ ہو گی اس کی طرف اشارہ ہو کہ جس کے لیے پہلا صور پھونکے جانے کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ بعض مفسرین نے پہلی تفسیر پر تنقید کی ہے اور اسے سوره انفال کی آیت ۳۳ کے مخالف قرار دیا ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے: وَمَا كانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ‏ جب تک کہ تو ان کے درمیان ہے اللہ ان پر عذاب نہیں کرے گا۔ لیکن اس امر کی طرف توجہ کی جائے تو یہ تفسیر درست معلوم ہوتی ہے مشرکین کا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ اعتقاد نہ تھا اور ان کے اعمال بھی انھی قوموں کے سے تھے کہ جو صیحہ آسمانی کا شکار ہوئے لہذا ہو سکتا ہے کہ وہ ہر لمحہ اسی قسم کے انجام کے انتظار میں رہیں کیونکہ آیت میں انتظار کے بارے میں گفتگو ہے (غور کیجیے گا)۔ بعض نے دوسری تفسیر پر بھی اعتراض کیا ہے کہ مشرکینِ عرب اس جہان کے اختتام کے وقت زندہ نہیں ہوں گے کہ وہ عظیم صیحہ ان کے دامن گیر ہو۔ لیکن یہ اعتراض بھی درست نہیں، اسی دلیل کے مطابق کہ جو بیان ہوئی ہے کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ دنیا کب ختم ہو جائے گی اور قیامت کب آئے گی؟ لہذا ہو سکتا ہے کہ مشرکین ہر لحظہ اس عظیم صیحہ کے انتظار میں ہوں کہ جس کے لوٹ جانے کا امکان نہیں۔ [تشریحی نوٹ: رہی یہ بات کہ مفسرین نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ اس سے مراد صیحہ ثانی کہ جو مردوں کے زندہ ہونے اور عدالتِ الٰہی میں ان کے پیش ہونے کے لیے ہو گی، معلوم ہوتی ہے، تو یہ بہت بعید معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات نہ تو بعد والی آیت سے ہم آہنگ ہے اور نہ قبل کی آیات سے (غور کیجیے گا)]۔ بہرحال یہ جاہل لوگ آیاتِ الٰہی کی تکذیب و انکار کے باعث، رسول اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر ناروا تہمتیں لگانے کی وجہ سے اور بت پرستی پر اپنی ہٹ دھرمی اور اصرار کے سبب اور ظلم و فساد کی وجہ سے گویا عذابِ الٰہی کے انتظار میں ہیں۔ ایسا عذاب کہ جو ان کے خرمنِ حیات کو جلا کر رکھ دے گا یا ایسے صیحہ کے انتظار میں ہیں کہ جو اس دنیا ہی کو ختم کر دے گی اور انہیں ایسے راستے پر لے جائے گی کہ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ "فواق" (بر وزن"رواق") بہت سے اہلِ لغت اور اہلِ تفسیر کے نزدیک پستان سے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی فاصلے کو کہتے ہیں کیونکہ ایک مرتبہ اگر دودھ دوہ لیا جائے تو پھر دودھ دوہنے کے لیے کچھ صبر کرنا ہو گا تاکہ پھر سے دودھ پستان میں جمع ہو جائے۔ بعض اسے دودھ دوہتے وقت انگلیاں کھولتے اور بند کرتے ہوئے ان میں جو فاصلہ پیدا ہوتا ہے اس کے معنی میں لیتے ہیں۔ نیز دودھ جب دوہ لیا جاتا ہے تو پستان کو ایک طرح سے آرام آ جاتا ہے۔ لہٰذا یہ لفظ آرام و راحت کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ نیز چونکہ یہ فاصلہ پستان میں دودھ پھر سے آ جانے کا باعث بنتا ہے، لہذا یہ لفظ بازگشت، واپسی اور رجوع کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی بناء پر بیمار کی صحت اور ٹھیک ہو جانے کو "افاقہ" کہتے ہیں۔ کیونکہ سلامتی اور تندرستی اس کی طرف لوٹ آتی ہے- نیز بےہوش کے ہوش میں آ جانے اور دیوانے کے عاقل ہو جانے کو بھی "افاقہ" کہتے ہیں۔ کیونکہ ہوش اور عقل ان کی طرف لوٹ آتی ہے [تشریحی نوٹ: بعض اہلِ لغت نے "فوّاق" اور "فواق" میں فرق کیا ہے۔ جب کہ بعض دونوں کا ایک ہی معنی سمجتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے مفرداتِ راغب، تفسير روح المعانی، تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر ابو الفتوح، اور تفسیر قرطبی اور دیگر منابع لغت کی طرف رجوع کریں]۔ بہرحال اس وحشتناک صیحہ میں کسی قسم کی بازگشت، راحت و آرام اور سکون نہیں ہے اور جب وہ روبہ عمل آئی تو پھر انسان کے لیے سب دروازے بند ہو جائیں گے۔ پھر نہ پیشمانی فائدہ دے گی، نہ تلافی کا کوئی امکان ہو گا اور نہ ہی داد و فریاد کی کہیں رسائی ہو گی۔ آخری زیر بحث آیت میں کافروں اور منکروں کی کچھ اور باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو وہ تمسخر کے طور پر کرتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے کہا پروردگارا! روزِ حساب سے پہلے اپنے عذاب میں سے ہمارا حصہ جتنی جلدی ہو سکے ہمیں دے دے (وَقالُوا رَبَّنا عَجِّلْ لَنا قِطَّنا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسابِ)۔ یہ دل کے اندھے مغرور اسی طرح بادۂ غرور میں بدمست تھے حتیٰ کہ عذابِ الٰہی اور اس کی عدالت کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ عذاب کے ہمارے حصے میں کیوں تاخیر ہو گئی ہے؟ کیوں خدا ہمارے حصے میں جلدی نہیں کرتا؟ گزشتہ قوموں میں بھی ایسے ہلکے ذہن والے اور خود غرض کم نہ تھے لیکن جب وہ عذاب الٰہی میں پھنستے تو جانوروں کی طرح چِلّاتے اور بلبلاتے مگر پھر کوئی ان کی فریاد کو نہ پہنچتا۔ "قِط" (بر وزن "جن") دراصل ایسی چیز کے معنی میں ہے جو عرض میں کاٹی جائے جبکہ قد (اسی وزن پر) اس چیز کے معنی میں ہے جو طول میں کاٹی جائے۔ چونکہ ہر شخص کا معین حصہ گویا قطع شده اور کاٹی ہوئی چیز ہے لہٰذا یہ لفظ حصے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کبھی یہ لفظ اسی کاغذ کے معنی میں بھی آتا ہے جس پر کچھ لکھتے ہیں یا اس میں لوگوں کے نام اور ان کے انعامات لکھتے ہیں۔ اسی لیے زیر بحث آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے کہا ہے: کہ مراد یہ ہے: "خداوندا! ہمارا نامہ اعمال روزِ جزاء سے پہلے ہمارے ہاتھ میں دے دے"۔ یہ بات انھوں نے اس وقت کی جب آیاتِ قرآنی نے خبر دی کہ قیامت کے دن ایک گروہ کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہو گا اور دوسرے گروہ کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں ہو گا۔ انھوں نے گویا تمسخر کے طور پر کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسی وقت ہمارا نامۂ اعمال ہمیں دے دیا جانا تاکہ ہم پڑھ کر دیکھتے کہ ہم کس کھاتے میں ہیں؟ بہرحال جہالت اور غرور دونوں ہی نہایت قبیح اور مذموم صفات ہیں کہ جو عام طور پر ایک دوسرے سے جدا انہیں ہوتیں۔ جاہل مغرور ہوتے ہیں اور مغرور جاہل ہوتے ہیں اور ان دونوں صفات کے آثار زمانہ جاہلیت کے مشرکین میں بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔

17
38:17
ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
(اے رسول)وہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کراور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرکہ جو صاحب اقتدار بھی تھا اور بہت زیادہ توبہ کرنے والا بھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
38:18
إِنَّا سَخَّرۡنَا ٱلۡجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحۡنَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِشۡرَاقِ
ہم نے پہاڑ اس کے لیے مسخر کر دیئے کہ جو صبح و شام اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
38:19
وَٱلطَّيۡرَ مَحۡشُورَةٗۖ كُلّٞ لَّهُۥٓ أَوَّابٞ
تمام پرندے بھی ہم نے اس کے لیے مسخر کردیئے اور یہ سب اس کی طرف بازگشت کرنے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
38:20
وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهُۥ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ
اور اس کی حکومت کو ہم نے استحکام بخشا اسے ہم نے علم عطا کیا اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا بھی۔

داؤد کی زندگی سے درس حاصل کریں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

حضرت داؤد علیہ اسلام بنی اسرائیل کے بزرگ انبیاء میں سے تھے انھیں اللہ نے ایک عظیم حکومت عطا کی تھی۔ قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں ان کے بلند مقام کی تعریف کی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں مشرکین اور بت پرستوں کی زیادتیوں کا ذکر تھا۔ نیز ان ناروا تہمتوں کا بیان تھا جن کی نسبت وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اب قرآن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے زمانے کے مومنین کی دل جوئی کے لیے حضرت داؤد کی داستان بیان کر رہا ہے۔ وہ داؤدؑ کہ جنھیں اللہ نے اس قدر اقتدار بخشا یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تاکہ اس امر کی نشاندہی کرے کہ جب اس کا لطف و کرم کسی شخص کے شاملِ حال ہو تو پھر دشمنوں کی کثرت کچھ نہیں کر سکتی۔ لیکن یہ عظیم نبی بھی اس ظاہری اقتدار کے باوجود لوگوں کی زبان کے چرکوں سے محفوظ نہ تھے لہٰذا یہ صورتحال رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تسلی و تشفّی کا باعث ہونا چاہیے جس کیفیت سے وہ دوچار ہیں یہ انھی میں منحصر نہیں ہے، بلکہ اس دنیا کے عظیم لوگ اس امر میں ان کے شریک رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر اختیار کر اور ہمارے بندے داؤدؑ کو یاد کر کہ جو بااقتدار بھی تھا اور بہت زیادہ توبہ کرنے والا بھی (اصْبِرْ عَلى‏ ما يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنا داوُدَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ)۔ "اید" قدرت کے معنی میں بھی آیا ہے اور نعمت کے معنی میں بھی اور حضرت داؤد دونوں معانی کے لحاظ سے "ذالايد" تھے۔ ان کی جسمانی طاقت کا یہ عالم تھا کہ جب بنی اسرائیل کا ایک ظالم حکمران جالوت میدانِ جنگ میں آپؑ کے مدِّمقابل آیا تو آپؑ نے آلہ سنگ اندازی سے اس قوت سے پتھر پھینک کہ جالوت گھوڑے کی پشت سے زمین پر آ رہا اور اپنے خون میں لوٹنے لگا۔ بعض نے لکھا ہے کہ پتھر نے اس کا سینہ چیر دیا اور دوسری طرف نکل گیا۔ دوسری طرف آپؑ کے سیاسی اقتدار کا یہ حال تھا کہ ایک طاقتور حکومت آپؑ کے ہاتھ میں تھی اور آپؑ پوری طاقت دشمنوں سے مقابلے میں کھڑے ہوتے تھے۔ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ آپؑ کے محرابِ عبادت کے چاروں طرف ہزار افراد شام سے صبح تک تیار کھڑے رہتے تھے۔ نیز آپؑ کی روحانی، اخلاقی اور عبادی طاقت کا یہ عالم تھا کہ رات کا ایک بڑا حصہ بیدار رہتے اور پروردگار کی عبادت میں مشغول رہتے اور سال بھر کے آدھے ایام روزے میں گزارتے۔ نعمتوں کے لحاظ سے بھی الله تعالیٰ نے آپؑ کو طرح طرح کی ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔ خلاصه یہ حضرت داؤدؑ ایک ایسی شخصیت تھے کہ جنگ میں، عبادت میں، علم میں اور حکومت میں بہت قوی تھے اور انھیں فراواں نعمتیں حاصل تھیں ["اید" "ید" کی جمع ہے کہ جو "ہاتھ" کے معنی میں ہے۔ ہاتھ چونکہ طاقت، عطائے نعمت اور اقتدار و حکومت کا مظہر ہے اس لیے یہ لفظ تمام معانی میں استعمال ہوتا ہے]۔ "اوّاب" "اوب" (بر وزنِ "قول") کے مادہ سے کسی چیز کی طرف اختیاری طور پر لوٹنے کے معنی میں ہے "اواب" چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے لہذا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ پروردگار کی طرف بہت زیادہ لوٹنے والے اور بازگشت کرنے والے تھے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی غفلت اور ترکِ اولیٰ پر توبہ کرتے تھے۔ قرآنِ مجید اجمال کے بعد تفضیل کی اپنی خاص روش کے مطابق اب حضرت داؤد پر نعماتِ الٰہی کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس کے لیے پہاڑ مسخر کر دیئے، اس طرح سے کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیحِ خدا کرتے تھے (إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْإِشْراقِ). [تشریحی نوٹ: "معہ" ہو سکتا ہے"يسبحن" کے متعلق ہو۔ اس لحاظ سے یہ لفظ حضرت داؤد کے ساتھ پہاڑوں کے ہم آواز ہونے کو بیان کرتا ہے۔ سوره سبا کی آیہ ۱۰ میں بھی ہے: يا جِبالُ أَوِّبِي مَعَهُ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ "سخرنا" سے متعلق ہو اس صورت میں جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخّر کیا۔ لیکن "له" کے بجائے "معه" کا آنا یہ نکتہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ تسخیر تسبیح میں ہم آواز ہونے کے بارے میں تھی]۔ نہ صرف پہاڑ بلکہ سب پرندے بھی اس کے لیے مسخر کر دیئے تاکہ ہمیشہ اس کے ہمراہ اللہ کی تسبیح کریں (وَ الطَّيْرَ مَحْشُورَةً)۔ یہ سب پرندے اور پہاڑ حکم داؤدؑ کے مطیع تھے، اس کے ساتھ ہم آواز تھے اور اس کی طرف بازگشت کرنے والے تھے(كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ)۔ "له" کی ضمیر ممکن ہے داؤد کی طرف لوٹتی ہو۔ اگر یوں ہو تو جملے کا مفہوم وہی ہو گا جو ہم نے بیان کر دیا ہے۔ البتہ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ ضمیر اللہ کی ذات پاک کی طرف لوٹتی ہو یعنی تمام ذرّاتِ عالم اس کی طرف لوٹتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرنگوں ہیں۔ مفسرین کی اس سلسلے میں مختلف آراء ہیں کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے ساتھ کس طرح ہم آواز تھے اور اس کی کیفیت کیا تھی؟ ان آراء کا خلاصہ ہے: ۱۔ بعض کہتے ہیں حضرت داؤد عیلہ اسلام کی دلکش، جاذب اور دل گداز آواز تھی کہ جو پہاڑوں پر اثر انداز ہوتی تھی اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی (لیکن یہ کوئی ایسی اہم فضیلت نہیں کہ قرآن اسے اس اہمیت کے ساتھ ذکر کرے)۔ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تسبیح ظاہری آواز کے ساتھ ساتھ ایک طرح کے ادراک و شعور کے ہمراہ تھی کہ جو ذرات عالم کے باطن میں ہے۔ اس نظریے کے مطابق تمام موجوداتِ عالم ایک قسم کی عقل اور شعور کے حامل ہیں اور جب یہ موجودات اس عظیم پیغمبر کی مناجات کے وقت دل انگیز آواز سنتے تھے تو ان کے ساتھ ہم آواز ہو جاتے اور یوں سب باہم مل کر تسبیح کرتے۔ ۳۔ بعض نے اس احتمال کا ذکر بھی کیا ہے کہ یہ تسبیح تکوینی ہے کہ جو تمام موجودات زبان حال سے کرتے ہیں اور ان کا نظام خلقت اس امر کی بخوبی حکایت کرتا ہے کہ اللہ ہر عیب سے پاک و منزہ ہے اور علم و قدرت اور ہر قسم کی صفاتِ کمال کا حامل ہے۔ لیکن یہ بات حضرت داؤد کے ساتھ مخصوص نہیں کہ اسے ان کی خصوصیات میں سے شمار کیا جائے۔ اس لحاظ سے مناسب تر دوسری تفسیر ہے اور یہ امر قدرتِ الٰہی سے بعید نہیں ہے۔ یہ ایک زمزمہ تھا کہ جو ان موجوداتِ عالم کے اندر اور ان کے باطن میں ہمیشہ سے جاری تھا لیکن خدا نے قوت اعجاز سے اسے حضرت داؤدؑ کے لیے ظاہر کیا جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر سنگریزوں کا تسبیح کرنا مشہور ہے۔ اگلی آیت میں بھی حضرت داؤد پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے اس کے نظامِ حکومت کو استحکام بخشا (وَ شَدَدْنا مُلْكَهُ)۔ اس طرح سے کہ وہ باغی و سرکش دشمن کا حساب چکاتے۔ اس کے علاوہ "ہم نے اسے علم و حکمت عطا کی"(وَ آتَيْناهُ الْحِكْمَةَ)- وہی حکمت کہ جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً جس شخص کو حکمت مل گئی اُسے خیر کثیر مل گئی۔ (البقرہ ۲۶۹) اس مقام پر "حکمت" "علم و دانش" امورِ حکومت چلانے کی صلاحیت کا مقام نبوت کے معنی میں ہے یا پھر ان تمام مفاہیم کی جامع ہے۔ "حکمت" کبھی عملی پہلو کی حامل ہوتی ہے کہ جب اسے "معارفِ عالیہ" کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ عملی پہلو کی حامل ہوتی ہے کہ اس صورت میں اسے "اخلاق اور عملِ صالح" سے تعبیر کرتے ہیں اور حضرت داؤد علیہ اسلام ان سب سے خوب بہرہ مند تھے۔ حضرت داؤد عیلہ اسلام پر اللہ تعالٰی کی آخری عظیم نعمت کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے علمِ قضاوت اور صحیح و عادلانہ فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا(وَ فَصْلَ الْخِطابِ)۔ قضاوت و عدالت کو "فصل الخطاب" سے اس بنا پر تعبیر کیا گیا ہے کہ "خطاب" سے مراد طرفینِ مقدمہ کی گفتگو ہے اور "فصل" قطع کرنے اور جدائی کے معنی میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فریقین کی گفتگو تبھی منقطع ہو گی جب ان کے درمیان صحیح فیصلہ ہو جائے لہٰذا تعبیر عادلانہ فیصلے کے معنی میں آئی ہے۔ احتمالاً اس سے یہ مراد بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ نے حضرت داؤد کو قوی منطق عطا فرمائی ہو کہ جو بلند فکر اور گہری فکر کی ترجمان تھی۔ نہ صرف یہ کہ فیصلہ کرتے ہوئے بلکہ ہر مقام پر آپؑ کی بات آخری اور حتمی ہوتی تھی۔ واقعاً جب اللہ تعالی یہ قدرت رکھتا ہے کہ ایک اہل انسان کو اس قدر قوت و توانائی عطا فرما دے تو پھر اس بات کی گنجائش نہیں کہ کوئی شخص اس کے لطف و کرم سے مایوس ہو جائے۔ لہذا یہ بات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مومنین ہی کے لیے تسلی اور دل جوئی کا باعث نہیں کہ جو مکہ میں سخت دباؤ میں تھے بلکہ ان تمام مومنین کے لیے تسلّیِ خاطر کا پیغام ہے کہ جو مختلف زمانوں میں سختیوں اور مشکلات کا شکار ہوں۔

حضرت داؤد کی اہم صفات

بعض مفسرین نے مذکورہ بالا چند آیات سے حضرت داؤد کو حاصل دس عظیم نعمتیں اخذ کی ہیں کہ جو اللہ کے اس نبی کو خدا تعالٰے کی طرف سے حاصل تھیں۔ یہ نعمات آپؑ کے بلند مرتبے کی ترجمان ہیں۔ یہ دراصل ایک کامل انسان کی خصوصیات کو بھی واضح کرتی ہیں۔ ۱۔ پیغمبرِ اسلام کہ جو اس قدر عظیم مقام رکھتے تھے اس کے باوجود آپؐ کو حکم دیا جا رہا ہے صبر و شکیبائی میں حضرت داؤد کی اقتداء کریں اور ان کی تاریخِ حیات سے کمک حاصل کریں (اصْبِرْ عَلى‏ ما يَقُولُونَ وَ اذْكُرْ)۔ ۲۔ حضرت داؤد کے مقامِ عبودیت کی توصیف کی گئی ہے۔ دراصل یہ ان کی پہلی خصوصیت کے طور پر شمار کی گئی ہے (عَبْدَنا داوُد)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعہ معراج کے ذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی یہ تعبیر آئی ہے: سُبْحانَ الَّذِي أَسْرٰى‏ بِعَبْدِهِ ------ پاک و منزہ ہے وہ ذات کہ جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔ (بنی اسرائیل ۱) ۳۔ (اطاعاتِ الٰہی، گناہ سے پرہیز اور امورِ مملکت چلانے میں) وہ بہت قوی تھے (ذَا الْأَيْدِ) جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بھی ہے۔ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِين وہ وہی جس نے اپنی مدد اور مومنین کے ذریعے تیری تقویت کی۔ (انفال ۶۲) ۴۔ انھیں "اوّاب" کہہ کر ان کی توصیف کی گئی ہے۔ جس کا معنی ہے بار بار لوٹنے والا اور پے درّپے رجوع کرنے والا یعنی خداوندِ عالم کی ساحتِ قدس کی طرف رجوع کرنے والا (إِنَّهُ أَوَّابٌ)۔ ۵۔ صبح و شام تسبیح کرنے میں پہاڑ بھی ان کے لیے مسخر ہیں۔ اس بات کو بھی قرآن ان کا اعزاز و افتخار شمار کرتا ہے۔ (إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْإِشْراقِ)۔ ۶۔ پرندے بھی اللہ کی عبادت و تسبیح میں ان کے ہم آواز ہیں اور یہ بھی ان کے لیے خداداد نعمتوں میں سے ہے (وَ الطَّيْرَ مَحْشُورَةً)۔ ۷۔ آغاز ہی میں ان کے ہم آواز نہ تھے بلکہ جب بھی وہ تسبیحِ خدا کی طرف پلٹتے وہ ان کے ساتھ ہم صدا ہو جاتے (كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ)۔ ۸۔ اللہ نے انھیں ایک حکومت دی کہ جس کی بنیاد اس نے مستحکم کی ہوئی تھی اور اس مقصد کے لیے مادی و روحانی وسائل ان کے اختیار میں دے رکھے تھے (وَ شَدَدْنا مُلْكَهُ)۔ ۹۔ ایک اور اہم خداداد سرمایہ ان کے پاس بہت زیادہ علم و دانش کی صورت میں تھا۔ ایسا علم و دانش کہ جہاں بھی ہو خیرِ کثیر کا سرچشمہ ہوتا ہے اور نیکی و برکت کا منبع ہوتا ہے (وَ آتَيْناهُ الْحِكْمَةَ)۔ ۱۰۔ قوی منطق، اثر آفریں کلام اور قاطع و عادالانہ فیصلے کی طاقت بھی انھیں عطا کی گئی تھی (وفصل الخطاب) [بحوالہ: تفسیر کبیر فخر رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں، ج ۲۶، ص ۱۸۳]۔ واقعاً کسی حکومت کی بنیادیں علم، طاقت، منطق، تقوائے الٰہی، ضبطِ نفس اور عبودیتِ پروردگار کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتیں۔

21
38:21
۞وَهَلۡ أَتَىٰكَ نَبَؤُاْ ٱلۡخَصۡمِ إِذۡ تَسَوَّرُواْ ٱلۡمِحۡرَابَ
کیا تجھ تک شکایت کرنے والوں کی داستان پہنچی ہے کہ جو (داؤد کے) محراب سے اوپر گئے تھے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
38:22
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ خَصۡمَانِ بَغَىٰ بَعۡضُنَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فَٱحۡكُم بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَٱهۡدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ
جس وقت (بغیر کسی اطلاع کے) وہ اس کے پاس آپہنچے اور وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا تو انہوں نے کہا: ڈرو نہیں ہم دونوں شکایت لے کر آئے ہیں کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ اب تو ہمارے درمیان حق فیصلہ کردے اور کوئی زیادتی نہ ہونے دے اور راہ راست کی طرف ہماری ہدایت کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
38:23
إِنَّ هَٰذَآ أَخِي لَهُۥ تِسۡعٞ وَتِسۡعُونَ نَعۡجَةٗ وَلِيَ نَعۡجَةٞ وَٰحِدَةٞ فَقَالَ أَكۡفِلۡنِيهَا وَعَزَّنِي فِي ٱلۡخِطَابِ
یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس ایک سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس کا اصرار ہے کہ وہ (ایک) بھی مجھے دے ڈال اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
38:24
قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩
(داؤد نے) کہا : تیری ایک بھیڑ کا تقا ضا کر کے اپنی بھیڑوں میں اضافہ کرنے کے لیے اس نے مسلماً تجھ پر ظلم کیا ہے اور بہت سے دوست ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں سوائے ان کے کہ جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں مگر ان کی تعداد تھوڑی ہے۔داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اسے (اس واقعہ سے)آزمایا ہے۔ پس اس نے اپنے خداسے بخشش چاہی اور سجدے میں گر پڑا اور اس نے توبہ کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
38:25
فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
ہم نے اس کا یہ کام بخش دیا اور وہ ہمارے ہاں مقام بلند اور نیک انجام کاحامل ہے۔

حضرت داؤد کی ایک آزمائش

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

ان آیات میں حضرت داؤدؑ کے فیصلہ کرنے کے بارے میں سادہ اور واضح گفتگو کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جو تحریفات اور غلط تعبیرات کی گئی ہیں ان کے باعث لاشعوری طور مفسرین کے درمیان ایک بڑا نزاع پیدا ہوا ہے اس پر اس قدر شور و غوغا ہوا ہے کہ بعض مسلمان مفسرین بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں اور انھوں نے اس عظیم نبی کے بارے میں غلط اور کہیں کہیں بہت ہی ناروا فیصلے کیے ہیں۔ ہم سب سے پہلے بغیر کسی تشریح کے آیاتِ قرآنی کا متن پیش کرتے ہیں۔ تاکہ قارئین خالی ذہن کے ساتھ آیات کا مفہوم سمجھ سکیں۔ گزشتہ آیات میں حضرت داؤد علیہ السلام کی خاص صفات بیان کی گئی تھیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کا ذکر تھا۔ اس کے بعد اب دادرسی اور قضاوت کے سلسلے میں حضرت داؤد کو پیش آنے والے ایک واقعے کا تذکرہ ہے۔ پہلے پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: کیا داؤد کی دیوار محراب سے اوپر جانے والے شکایت کنندگان کا واقعہ تجھ تک پہنچا ہے (وَهَلْ أَتاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرابَ)- "خصم" کا دراصل مصدری معنی ہے اس کا معنی ہے نزاع اور جھگڑا کرنا لیکن ایسا بہت ہوتا ہے کہ جھگڑے کے طرفین کو "خصم" کہتے ہیں۔ یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں مفاہیم کے لیے بولا جاتا ہے اور کبھی اس کی جمع "خصوم" بھی آتی ہے۔ "تسوّروا" "سور" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے ایسی دیوار جو گھر یا شہر کے اطراف پر محیط ہو۔ لیکن توجّہ رہے کہ یہ مادہ دراصل چھلانگ لگانے اور اوپر جانے کے معنی میں ہے۔ "محراب" صدرِ مجلس" (مجلس کے نمایاں ترین مقام) یا اوپر والی منزل کے کمروں کے معنی میں ہے اور چونکہ "مقامِ عبادت" اس میں بنایا جاتا تھا۔ لہذا آہستہ آہستہ یہ لفظ "معبد" (عبادت خانہ) کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ روزمرّہ میں یہ لفظ خصوصیت سے اس مقام کے لیے استعمال ہونے لگا جہاں امام جماعت قیامِ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ مفردات میں منقول ہے کہ "محرابِ مسجد" کو اس لیے "محراب" کہا جاتا ہے چونکہ یہ شیطان اور ہوائے نفس سے جنگ کی جگہ ہے۔ بہرحال حضرت داؤد عیلہ سلام کے اردگرد اگرچہ بہت سے محافظین موجود تھے تاہم دو آدمی ایک جھگڑے کے سلسلے میں عام راستے سے ہٹ کر محراب اور دیوارِ قصر سے اوپر آئے اور اچانک آپؑ کے سامنے آ دھمکے۔ جیسا کہ قرآن حکیم اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: وہ اچانک داؤد کے سامنے آ نکلے (بغیر کسی اطلاع کے اور بغیر کسی اجازت کے) لہذا ان پر نظر پڑی تو داؤد وحشت زدہ ہوئے اور گھبرائے کیونکہ انھیں خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے ان لوگوں کا ان کے بارے میں غلط ارادہ ہو(إِذْ دَخَلُوا عَلى‏ داوُدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ)۔ لیکن انھوں نے بہت جلد آپ کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا: ڈریں نہیں، ہم دونوں ایک شکایت لے کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے اور ہم آپ کے پاس دادرسی کے لیے آئے ہیں (قالُوا لا تَخَفْ خَصْمانِ بَغى‏ بَعْضُنا عَلى‏ بَعْضٍ)۔ اب آپ ہمارے بارے میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور ظلم روا نہ رکھیں اور راہِ راست کی طرف جاری ہدایت کريں (فَاحْكُمْ بَيْنَنا بِالْحَقِّ وَ لا تُشْطِطْ وَ اهْدِنا إِلى‏ سَواءِ الصِّراطِ)۔ "تشطط" "شطط" (بر وزن "فقط") کے مادے سے دراصل زیادہ دوری کے معنی میں ہے، ظلم چونکہ انسان کو حق سے بہت دور کر دیا ہے اس لیے لفظ "شطط" اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح جو بات حقیقت سے دور ہو یہ لفظ اس کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس مقام پر حضرت داؤد کی پریشانی اور وحشت کم ہو گئی لیکن شاید ایک سوال ان کے ذہن میں ابھی باقی تھا، بہت اچھا، تمھارا کوئی غلط ارادہ نہیں ہے، تم صرف قاضی کے پاس شکایت لے کر آئے ہو لیکن اس خلاف معمول راستے سے آنے کا مقصد؟ لیکن انھوں نے حضرت داؤدؑ کو زیادہ موقع نہ دیا۔ ایک نے شکایت کرنے میں پہل کی، کہنے لگا: میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس ایک سے زیادہ نہیں، لیکن یہ اصرار کرتا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے، گفتگو میں یہ مجھ پر بھاری ہے اور مجھ سے زیادہ باتونی ہے (إِنَّ هذا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَ تِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ واحِدَةٌ فَقالَ أَكْفِلْنِيها وَعَزَّنِي فِي الْخِطابِ)۔ "نَعْجَةً" "بھیڑ" کے معنی میں ہے۔ جنگلی گائے اور پہاڑی بھیڑ کو بھی "نعجۃ" کہتے ہیں۔ " أَكْفِلْنِيها" "کفالت" کے مادے سے ہے۔ یہاں دے دینے کے مفہوم میں ہے (معنی یہ ہے کہ اس کی کفالت میرے سپر کر دے) "عزّنی" "عزت" کے مادہ سے "غلبہ" کے معنی میں ہے۔ یہاں اس لفظ کا معنی ہے "اس نے مجھ پر غلبہ کیا ہے"۔ آیاتِ قرآنی سے ظاہری طور پر معلوم ہوتا ہے حضرت داؤد نے دوسرے فریق کی بات کے سنے بغیر شکایت کرنے والے سے کہا: اپنی بھیڑوں میں تیری بھیڑ کا اضافہ کرنے کے لیے اس نے تقاضا کر کے ظلم روا رکھا ہے (قالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤالِ نَعْجَتِكَ إِلى‏ نِعاجِهِ)۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں "بہت سے دوست اور ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں"۔ (وَ إِنَّ كَثِيراً مِنَ الْخُلَطاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ) [تشریحی نوٹ: "خلطاء" "خليط" کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ایسے اشخاص یا ایسے امور سے جو ایک دوسرے سے مخلوط ہیں۔ نیز دوست، شریک اور ہمسائے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ظلم و زیادتی اگرچہ صرف اِن ہی سے نہیں ہوتی لیکن ان کا خصوصی ذکر یا اس بنا پر ہے کہ ایک دوسرے سے میل جول رکھنے سے لین دین کے بہت سے معاملات پیش آتے رہتے ہیں یا اس بنا پر ہے کہ اپنوں، دوستوں، عزیزوں اور ہمسایوں سے ظلم کی توقع نہیں ہوتی] سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک عمل کیے ہیں" (إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ) "لیکن وہ بہت تھوڑے ہیں" (وَقَلِيلٌ ما هُم) [جملہ کی ترکیب یوں ہے "هم" مبتداء "قليل" اس کی خبر ہے اور "ما" زائدہ ہے کہ جو یہاں کمی اور قلت کے مبالغے کے لیے آیا ہے]۔ جی ہاں! معاشرت اور دوستی میں دوسروں کے حق کا لحاظ رکھنے والے اور اپنے دوستوں پر ذرہ بھر بھی زیادتی نہ کرنے والے افراد بہت کم ہیں۔ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کا حق پورے عدل و انصاف سے وہی ادا کر سکتے ہیں جو ایمان اور عملِ صالح سے خوب بہرہ مند ہیں۔ بہرحال یوں لگتا ہے کہ طرفین یہ بات سن کر مطمئن ہو گئے اور حضرت داؤدؑ کے ہاں سے چلے گئے۔ لیکن داؤدؑ سوچ میں پڑ گئے۔ انھوں نے فیصلہ تو عدل کی بنیاد پر کیا تھا کیونکہ اگر فریق ثانی کو مدّعی کا دعویٰ قبول نہ ہوتا تو یقیناً وہ اعتراض کرتا۔ اس سکوت اس امر کے لیے بہترین دلیل تھا کہ معاملہ وہی ہے جو شکایت کرنے والے نے پیش کیا ہے لیکن ان سب امور کے باوجود عدالتی اقدار کا تقاضا تھا کہ داود اپنی بات میں جلدی نہ کرتے بلکہ فریق ثانی سے بھی شخصاً سوال کرتے اور پھر فیصلہ سناتے۔ لہذا اس کام پر وہ خود پشیمان ہوئے اور داؤد نے گمان کیا کہ اس واقعے کے ذریعے ہم نے اس کا امتحان لیا ہے(وَ ظَنَّ داوُدُ أَنَّما فَتَنَّاهُ)۔ اس نے استغفار کی، اپنے رب سے طلبِ بخشش کی، سجدے میں گِر گیا اور توبہ کی (فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَ خَرَّ راكِعاً وَ أَنابَ)۔ "خر" "خرير" کے مادے سے آواز کے ساتھ بلندی سے گِرنے کے معنی میں ہے جیسے آبشار کی آواز ہوتی ہے۔ سجده کرنے والے افراد چونکہ بلندی سے نیچھے آتے ہیں اور سجدہ کرتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں لہذا یہ تعبیر سجدہ کرنے کے لیے کنائے کے طور پر آئی ہے۔ "راکعًا" اس آیت میں یا تو اس بنا پر ہے کہ "رکوع" بھی لغت میں سجدے کے معنی میں آیا ہے یا پھر اس لیے کہ رکوع سجدے کے لیے مقدمہ ہے۔ بہرحال اللہ نے ان پر اپنا لطف و کرم کیا اور اس ترکِ اولیٰ میں ان کی لغزش کو معاف کر دیا۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے: ہم نے اس کے عمل کو بخش دیا (فَغَفَرْنا لَهُ ذلِك) اور وہ ہمارے نزدیک عالیٰ مقام اور نیک مستقبل کا حامل ہے (وَ إِنَّ لَهُ عِنْدَنا لَزُلْفى‏ وَ حُسْنَ مَآبٍ)۔ "زلفی" کا معنی ہے "مقام" (اور بارگاہِ الٰہی میں قرب) اور "حسن ماٰب" بہشت کی اور اخروی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔

چند اپم نکات: ۱- داؤد کو پیش آمده واقعے کی حقیقت

قرآن مجید سے جو کچھ معلوم ہوتا وہ اس سے زیادہ نہیں کہ کچھ افراد دادخواہی کے لیے حضرت داؤدؑ کی محراب کے اوپر چڑھ کر آپ کی خدمت میں پہنچے۔ پہلے تو آپ گھبرا گئے۔ پھر شکایت کرنے والے کی بات سنی۔ ان میں سے ایک کے پاس ننانوے بھیڑیں تھیں اور دوسرے کے پاس صرف ایک بھیڑ تھی۔ ننانوے بھیڑوں والا اپنے بھائی پر زور دے رہا تھا کہ وہ ایک بھیڑ بھی اسے دے دے۔ آپ نے شکایت کرنے والے کو سچا قرار دیا اور دوسرے کے اصرار کو ظلم قرار دیا۔ پھر اپنے کام پر پیشمان ہوئے اور اللہ سے معافی کا تقاضا کیا خدا نے آپ کو بخش دیا۔ یہاں دو تعبیر زیادہ غور طلب ہیں۔ ایک آزمائش اور دوسری استغفار اور توبہ۔ اس سلسلے میں قرآن نے کسی واضح امر کی نشاندہی نہیں کی۔ لیکن زیرِ نظر آیات اور ان آیات کی تفسیر کے سلسلے میں منقول روایات میں موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤدؑ قضاوت میں بہت زیادہ علم و مہارت رکھتے تھے اور اللہ تعالی چاہتا تھا کہ آپ کو آزمائے لہذا آپ کو ایسے غیرمعمولی حالات پیش آئے (مثلاً ان آدمیوں کا عام راستے سے ہٹ کر محراب کے اوپر سے آپ کے پاس آ پہنچنا) آپ نے جلدبازی کی اور اس سے پہلے کہ فریق ثانی سے وضاحت طلب کرتے آپ نے فیصلہ سنا دیا اگرچہ فیصلہ عادلانہ تھا۔ اگرچہ آپ بہت جلد اپنی اس لغزش کی طرف متوجہ ہو گئے اور وقت گزرنے سے پہلے اس کی تلافی کی۔ لیکن بہرحال جو کام آپ سے سرزد ہوا تھا وہ نبوت کے مقامِ بلند کے شایان نہ تھا۔ اس لیے آپ نے اس ترکِ اولیٰ پر استغفار کی اور اللہ نے بھی انھیں عفو و بخشش سے نوازا۔ مذکورہ تفسیر کی شاہد وہ آیت ہے جو زیرِ بحث آیات کے فوراً بعد آئی ہے۔ اس میں حضرت داود سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے زمین پر اپنا خلیفہ قرار دیا ہے، لہذا لوگوں کے درمیان حق و عدالت کے مطابق فیصلہ کر اور ہوا و ہوس کی پیروی نہ کر۔ اس سے واضح ہوتا ہے حضرت داؤد کی لغزش فیصلے کے طریقے میں تھی۔ لہذا مذکورہ بالا آیات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس عظیم نبی کی شان اور مقام کے خلاف ہو۔

۲- موجودہ تورات کی خرافاتی داستان

اب ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ وہ اس سلسلے میں کیا کہتی ہے: نیز بعض ناآگاہ اور بےخبر افراد نے جو تفسیریں کی ہیں، ان کی اصل خبر بھی تلاش کرتے ہیں۔ تورات کی دوسری کتاب اشموئیل کی فصل ۱۱ میں جملہ ۲ تا ۲۷ میں یوں بیان کیا گیا ہے: ہوا یہ کہ وقتِ غروب داؤد اپنے بستر سے اٹھا اور بادشاہ کے گھر کی چھت پر گردش کی۔ پشتِ بام سے ایک عورت کو دیکھا کہ جو غسل کر رہی ہے۔ وہ عورت بہت ہی خوبصورت اور جاذبِ نظر تھی۔ داؤد نے کسی کو بھیجا اور اس عورت کے بارے میں استفسار کیا۔ کسی نے کہا کہ کیا وہ اوریّاہ حِتّی [تشریحی نوٹ: "اوریاہ" حضرت داود کی فوج کے اہم افسروں سے تھے اور"حتی" "حت بن کنعان" کی طرف نسبت ہے کہ جس کے قبیلے کو بنی حت کہتے ہیں] کی بیوی بت شبع بنت الیعام [تشریحی نوٹ: "بت شبع" اسی عورت کا نام ہے (تورات کے بقول) کہ حضرت داؤد نے چھت سے اسے برہنہ دیکھا اور اس کے عشق کی آگ آپ کے دل میں بھڑک اٹھی۔ یہ عورت ایک صاحبِ منصب عبرانی شخص "الیعام" کی بیٹی تھی] تو نہیں۔ داؤد نے ایلچی بھیچ کر اسے منگوا لیا۔ وہ اس کے پاس آئی۔ داؤد اس کے ساتھ سویا۔ وہ اس کی نجاست سے پاک ہونے کے بعد اپنے گھر واپس چلی گئی۔ وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ اس نے کسی کو بھیچ کر داؤد کو خبر کی کہ میں حاملہ ہوں۔ داؤد نے یوآب [تشریحی نوٹ: "یوآب" حضرت داؤد کی فوج کا کمانڈر تھا] کو کہلا بھیجا کہ اوریاہ حِتّی کو میرے پاس بھیج دے۔ یوآب نے اوریا حتی کو اس کے پاس بھیجا۔ اوریاہ حتی اس کے پاس آیا۔ داؤد نے یوآب کی سلامتی اور جنگ میں اچھا وقت گزارنے کے بارے میں پوچھا۔ پھر داؤد نے اوریّاہ سے کہا: اپنے گھر جا اور اپنے پاؤں دھو۔ اوریاہ بادشاہ کے گھر سے باہر آیا۔ اس کے پیچھے بادشاہ کی طرف سے کچھ کھانا باہر گیا لیکن اوریاہ بادشاہ کے گھر کے آگے اپنے آقا کے سارے بندوں کے ہمراہ سو گیا اور اپنے گھر میں نہ گیا۔ جب داؤدؑ کو خبر دی گئی کہ اوریاہ اپنے گھر میں نہیں گیا تو داؤد نے اوریاہ سے کہا: کیا تو سفر سے نہیں لوٹا؟ اپنے گھر میں کیوں نہیں گیا؟ اوریاہ نے داؤدؑ سے عرض کی: صندوق، اسرائیل اور یہود سائبانوں میں قیام پزیر ہیں میرا آقا یوآب اور میرے آقا کے غلام صحرا میں خیمہ نشین ہیں، کیا ہو سکتا ہے کہ میں کھانے پینے اور اپنی بیوی کے ساتھ سونے کے لیے اپنے گھر جاؤں؟ آپ کی جان کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا........... ہوا یہ کہ داؤدؑ نے صبح ایک خط یوآب کو لکھا اور اوریاہ کے ہاتھ بھیجا۔ خط میں لکھا تھا کہ اوریاہ کو شدید جنگ میں دھکیل دو اور خود اس کے پیچھے سے ہٹ جاؤ تاکہ یہ مارا جائے اور مر جائے۔ اسی طرح ہوا۔ یوآب نے شہر کا جائزہ لینے کے بعد اوریاہ کو ایسی جگہ پر رکھا جہاں اسے علم تھا کہ بہادروں کی ضرورت ہے۔ شہر کے مردوں نے باہر آ کر یوآب سے جنگ کی۔ داؤد کے غلاموں کی قوم میں سے بعض گرے۔ اوریاہ حتی بھی مر گیا اوریاہ کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کا سنا تو خصوصیت سے اپنے شوہر کا سوگ منایا۔ جب یہ سوگ ختم ہوا تو داؤد نے اسے بلوا بھیجا اور اسے اپنے گھر لایا کہ وہ اس کی بیوی ہو گئی...... لیکن یہ جو کام داؤد نے کیا تھا خدا کو پسند نہیں آیا [بحوالہ: کتاب اشموئیل، فصل ۱۱ جملہ ۲ تا ۲۷]۔ اس داستان کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک روز داؤد اپنے محل کی چھت پر جاتے ہیں۔ ساتھ والے گھر میں ان کی نظر پڑتی ہے تو انھیں ایک عورت غسل کرتے ہوئے برہنہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پھر جیسے بن پڑتا ہے اسے اپنے گھر لے آتے ہیں اور وہ داؤد سے حاملہ ہو جاتی ہے۔ اس عورت کا شوہر لشکرِ داؤد کا ایک اہم افسر تھا۔ وہ ایک پاک طینت اور باصفا شخص تھا۔ داود (نعوذ باللہ( ایک بزدلانہ سازش کے ذریعے اسے ایک خطرناک جنگ میں بھجوا کر قتل کروا دیتے ہیں اور پھر اس کی بیوی کو قانونی طور پر اپنے نکاح میں لے آتے ہیں۔ اب آپ داستان کا باقی حصہ موجودہ تورات کی زبانی سنیں۔ اسی کتاب دوم اشموئیل کی ۱۲ ویں فصل میں ہے۔ خداوند نے ناثان [تشریحی نوٹ: بنی اسرائیل کے ایک نبی اور حضرت داؤد کے مشیر] کو داؤد کے پاس بھیجا اور کہا: ایک شهر میں دو آدمی رہتے تھے۔ ایک امیر تھا دوسرا غریب۔ امیر آدمی کے پاس بہت سی بھیڑیں اور گائیں تھیں۔ غریب کے پاس بھیڑ کے ایک بچے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک روز ایک مسافر امیر آدمی کے ہاں آیا۔ اس نے اپنی بھیڑوں میں سے مہمان کے لیے غذا تیار کرنے میں پس و پیش کیا۔ غریب کا بھیڑ کا بچہ لے کر اسے زبح کر دیا۔ اب کیا ہونا تھا، داؤد انتہائی غصّے ہوئے۔ ناثان سے کہنے لگے: بخدا جس نے یہ کام کیا وہ قتل کا مستحق ہے۔ اس ایک کی جگہ پر چار بھیڑیں دینی چاہئیں۔ لیکن ناثان نے داؤد سے کہا "وہ شخص تو ہے"۔ داؤد اپنے غلط کام کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کی لیکن اس کے باوجود ان پر بھاری مصیبتیں آئیں۔ اس مقام پر تورات میں ایسی عبارت ہے جس کے ذکر سے قلم کو شرم آتی ہے لہذا ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں تورات کی داستان کے اس حصے میں بعض نکات خصوصیت کے ساتھ قابلِ غور ہیں، مثلاً: ۱۔ حضرت داؤد کے پاس کوئی شخص قضاوت کے لیے نہیں آیا، بلکہ ان کے ایک مشیر جو نبی تھے انھوں نے نصیحت کے طور پر ان سے ایک داستان بیان کی۔ اس میں دو بھائیوں کا واقعہ اور ان میں سے ایک کا دوسرے سے تقاضا کرنا مذکور نہیں ہے بلکہ ایک امیر اور ایک غریب آدمی کا ذکر ہے جن میں سے ایک کے پاس بہت سی بھڑیں اور گائیں تھیں جبکہ دوسرے کے پاس بھیڑ کا صرف ایک بچہ تھا لیکن امیر آدمی نے اپنے مہمان کے لیے غریب آدمی کا بھیڑ کا بچہ ذبح کر دیا۔ اس واقعے میں محراب کی دیوار سے اوپر جانے کا ذکر ہے نہ آپ کے وحشت زدہ ہو جانے کی بات ہے، نہ دو بھائیوں کے دعوے کا معاملہ ہے اور نہ ہی توبہ و بخشش کی درخواست کا بیان ہے۔ ۲۔ داؤد نے اس ظالم امیر شخص کو قتل کا مستحق سمجھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بھیڑ کے لیے آخر قتل کیوں؟ ۳۔ ساتھ ہی انھوں نے اس حکم کے خلاف حکم صادر کیا اور کہا کہ ایک بھیڑ کے بدلے اسے چار بھیڑیں دینی چاہئیں۔ آخر کس بناء پر؟ ۴۔ داؤد نے اوریاہ کی بیوی کے بارے میں خیانت سے متعلق اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔ ۵۔ خدا نے انھیں معاف کر دیا (اتنی آسانی سے کس بناء پر؟)۔ ۶۔ اللہ نے داؤد کے بارے میں عجیب و غریب سزا کا فیصلہ کیا کہ جسے نقل نہ کرنا بہتر۔ ۷۔ یہی عورت سے "روشن ماضی" کے باوجود سلیمان کی ماں بنی۔ ان داستانوں کا ذکر واقعاً تکلیف دہ ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کہ بعض جاہل افراد نے نادانی سے ان اسرائیلی روایات کے زیر اثر قرآن مجید کی پاک و پاکیزہ آیات کا چہرہ سیاہ کر دیا ہے اور ایسی باتیں کہی ہیں کہ حق کو واضح کرنے کے لیے اس رسوا داستان کا کچھ حصہ ذکر کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔

اب هم سوال کرتے هیں

۱۔ وہ نبی کہ گزشتہ آیات میں اللہ نے جس کے دس عظیم اوصاف بیان کیے ہیں اور پیغمبرِ اسلام کو جس کی سرگزشت سے ہدایت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، کیا ممکن ہے کہ ان نعمتوں کے ہزارویں حصے کی بھی اس کی طرف نسبت دی جا سکے؟ ۲۔ قرآن مجید بعد کی آیات میں کہتا ہے: يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں اپنا خلیفہ اور نمائندہ بنایا کیا یہ آیت مذکورہ خرافات سے ہم آہنگ ہے؟ ۳۔ اگر کوئی عام شخص ہو، خدا کا نبی نہ ہو اور وہ اس قسم کے جرم کا مرتکب ہو، اپنے وفادار پاک طینت باایمان افسر کی بیوی کو ایسے گھٹیا طریقے سے اس کے ہاتھوں سے کھسکا لے تو لوگ اس کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے اور اس کی سزا کیا ہو گی؟ یہاں تک کہ اگر یہ کام افسق الفاسقین سے سرزد ہو تب بھی جائے تعجب ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تورات نے حضرت داؤد کو پیغمبر قرار نہیں دیا تاہم ان کا ذکر ایک بلند مرتبه عادل حکمران کے طور پر کیا ہے، کہ جو بنی اسرائیل کے عظیم عبادت خانے کا مؤسس تھا۔ ۴۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ تورات کی مشہور کتب میں سے ایک "مزامیرداؤد" ہے جس میں حضرت داؤد کی مناجات ہیں۔ کیا ایسے شخص کی مناجات اور باتیں مکتبِ آسمانی کا حصہ قرار دی جا سکتی ہیں؟ ۵۔ جو شخص تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ موجودہ تحریف شده تورات کی داستانیں خرافات کا ایسا مجموعہ ہیں جو مکتبِ انبیاء کے دشمنوں یا بہت ہی بےشعور اور جاہل افراد کی ساختہ و پرداختہ ہیں۔ لہذا انھیں کس طرح بحث کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟ جی ہاں! قرآن کی یہ عظمت ہے کہ وہ ایسی خرافات سے بالکل پاک ہے۔

۳۔ اسلامی روایات اور قصۂ داؤدؑ

اسلامی روایات میں تورات کی بیان کردہ قبیح اور بےہودہ داستان کی نہایت سختی سے تکذیب کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت امیر المومنین علی عیلہ اسلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: لا اوتى برجل يزعم داود تزوج امرأة اوريا الا جلدته حدين حدًا للنبوة وحدًا للاسلام اگر کسی ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے کہ جو یہ کہے کہ داؤد نے اوریاہ کی بیوی سے شادی کی۔ تو میں اس پر دو حدیں جاری کروں گا ایک حد نبوت کے لیے اور دوسری اسلام کے لیے [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ کیونکہ اس میں ایک طرف تو ایک مومن کی طرف ایک غیرشرعی امر کی نسبت ہے اور دوسری طرف مقامِ نبوت کی ہتکِ حرمت ہے۔ لہذا ایسی بات کرنے والے پر دو مرتبہ حدِ قذف جاری ہونی چاہیے اور اسے دو مرتبہ اَسّی کوڑے لگائے جانے چاہییں۔ امام بزرگوار حضرت علیؑ ہی سے یہی مفہوم ایک اور انداز سے منقول ہے، آپؑ فرماتے ہیں: من حدثكم بحديث داود على ما يرويه القصاص جلدته مائة وستين جو شخص تم سے قصہ داؤد اس طرح بیان کرے کہ جیسے افسانہ گو کہتے ہیں تو میں اسے ایک سو ساٹھ کوڑے لگاوں گا [بحوالہ: تفسير فخر الدین رازی، زیر بحث آیات کے ذیل ہیں]۔ ایک اور حدیث شیخ صدوق نے امام جعفر صادق علیه السلام سے امالی میں درج کی ہے، آپؑ فرماتے ہیں: أن رضا الناس لا يملك، وألسنتهم لا تضبط، أ لم ينسبوا داود الى أنه تبع الطير حتى نظر الى امرأة اوريا فهواها، وأنه قدم زوجها امام التابوت حتى قتل ثم تزوج بها! سب لوگوں کو راضی نہیں کیا جا سکتا اور نہ سب کی زبانیں بند کی جا سکتی ہیں۔ کیا انھوں نے یہ (انتہائی قبیح) تہمت داؤدؑ پر نہیں باندھی کہ وہ ایک پرندے کے پیچھے اپنے محل کی چھت پر گئے تو ان کی نظر اوریاہ کی بیوی پر پڑی اور وہ اس پر فریفتہ ہو گئے۔ پھر اس کے شوہر کو میدان جنگ میں تابوت کے آگے آگے بھیج دیا (جس میں انبیاء بنی اسرائیل کی یادگاریں رکھی جاتی تھیں اور برکت کے طور پر اسے فوج کے آگے رکھا جاتا تھا)۔ یہاں تک کہ وہ مارا گیا اور پھر انھوں نے اس کی بیوی سے شادی کر لی (جب اللہ کا عظیم نبی لوگوں کی زبان سے مامون رہا ہو تو دوسروں کو ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے) [بحوالہ: نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۴۶، بحواله امام صدوق]۔ ایک حدیث عیون الاخبار میں امام علی بن موسی الرضا علیهم السلام سے منقول ہے۔ آپ مختلف مذاہب کے اربابِ مذہب سے عصمتِ انبیاء کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اس دوران میں آپ نے حاضرین میں سے علی بن جہم سے فرمایا: "تم داود کے بارے میں کیا کہتے ہو"؟ اس نے کہا: کہتے ہیں کہ داؤد اپنی محراب میں مشغولِ عبادت تھے کہ شیطان ایک خوبصورت پرندے کی صورت میں ان کے سامنے آیا۔ داؤد نے نماز توڑ دی اور اس پرندے کے پیچھے ہو لیے .......... پھر انھوں نے اوریاہ کی بیوی کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر عاشق ہو گئے۔ پھر انھوں نے اس کے شوہر کو تابوت کے آگے آگے میدانِ جنگ میں بھجوا دیا، وہ مارا گیا تو داؤدؑ نے اس کی بیوی سے شادی کر لی۔ اس نے یہ افسانہ بیان کیا تو امام علی بن موسیٰ الرضا بہت ناراض ہوئے، آپ کو بہت دکھ ہوا، آپ نے اپنا ہاتھ پیشانی پر مارا اور فرمایا: إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ، لقد نسبتم نبيًا من انبياء الله الى التهاون بصلاته حتى خرج فى اثر الطير، ثم بالفاحشة ثم بالقتل؟! انا لله وانا اليه راجعون، تم نے انبیاءِ الٰہی میں سے ایک نبی کی طرف اپنی نماز میں سستی کرنے اور اسے معمولی سمجھنے کی نسبت دی۔ یہاں تک کہ (تمھاری نسبت کے مطابق وہ بچوں کی طرح) پرندے کے پیچھے گیا۔ پھر تم نے اس کی طرف فحشاء اور برائی کی نسبت دی اور اس کے بعد ایک بےگناہ انسان کے قتل سے متہم کیا۔ علی بن جہم نے پوچها: پھر داؤد کی لغزش کیا تھی؟ کہ جس پر انھوں نے استغفار کی اور قرآن میں جس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ امام نے مسئلہ قضاوت میں حضرت داؤد کی جلدبازی کا ذکر کیا اور بعد والی آیت کو بطور شاہد پیش فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ امام فرماتے ہیں: حضرت داؤد کے زمانے میں جن عورتوں کے شوہر مر جاتے یا قتل ہو جاتے وہ پھر کبھی شادی نہ کرتی تھیں (اور یہ امر بہت سی برائیوں اور قباحتوں کی بنیاد تھا) حضرت داودؑ وہ پہلے شخص تھے جن پر اللہ نے اس کام کو مباح قرار دیا (تاکہ یہ رسم ختم ہو جائے اور بیوہ عورتیں اس مصیبت سے نجات پائیں) لہٰذا جب اوریاہ (اتفاق سے ایک جنگ میں مارے گئے تو داؤد نے ان کی بیوی سے شادی کر لی اور یہ امر اس زمانے کے لوگوں پر بہت گراں گزرا (اور بعد ازاں اس پر انھوں نے افسانے گھڑ لیے) [بحوالہ: نور الثقلين، جلد ۴ ص ۴۴۵ بحوالہ عیون الاخبار]۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ اوریاہ کی ایک سادہ سی حقیقت پر بنیاد تھی۔ حضرت داؤد نے ایک کام الٰہی ذمہ داری کے طور پر انجام دیا تھا لیکن دانادشمنوں، نادان دوستوں اور افسانہ طرازوں نے کہ جنھیں عجیب و غریب باتیں بنانے اور جھوٹ گھڑنے کی عادت تھی اس واقعے پر خوب حاشیہ آرائی کی اور ایسی ایسی باتیں بنائیں کہ انسان کو وحشت ہوتی ہے۔ کسی نے کہا: اس شادی کی کچھ نہ کچھ بنیاد تو ضرور ہے۔ دوسرے نے کہا: ضروری بات ہے کہ اوریا کا گھر داؤد کی ہمسائیگی میں ہو گا۔ آخر کسی نے داؤد کی نظریں اوریا کی بیوی پر ڈلوائیں، پرندے کا قصه گھڑا۔ آخرکار اس عظیم پیغمبر کو طرح طرح کے شرمناک گناہانِ کبیرہ سے متہم کیا گیا۔ پھر بےوقوف جاہلوں نے ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچایا اور اگر اس افسانے کا ذکر مشہور کتب میں نہ ہوتا تو بھی اسے نقل کرنا غلط سمجھتے۔ البتہ حضرت امام رضا علیه اسلام کی مذکورہ روایت امیر المومنین علی علیہ اسلام کی روایت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ حضرت علیؑ سے منقول حدیث میں اس مشہور جھوٹی داستان کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں (نعوذ باللہ) اس عظیم نبی کی طرف زنا وغیرہ کی نسبت دی گئی ہے۔

مفسرین کی توجیہات

بعض مفسرین نے قصہ داود سے متعلق کچھ اور توجیہات کی ہیں۔ وہ توجیہات اگرچہ آیات کے ظاہری مفہوم سے ہم آنگ نہیں ہیں تاہم تکمیلِ بحث کے لیے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرنا ہم غیرمناسب نہیں سمجھتے۔ ۱۔ ایک یہ ہے حضرت داؤد نے اپنے اوقات کو ایک پروگرام کے تحت منظم کیا ہوا تھا اور مخصوص اوقات کے علاوہ آنے والوں سے نہیں ملتے تھے۔ ایک روز دو افراد کہ جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے وہ محراب کی دیوار سے اوپر چڑھ آئے۔ جبکہ آپ محراب میں عبادتِ الٰہی میں مشغول تھے۔ جب انھوں نے آپ کے گرد محافظین کو دیکھا تو ڈر گئے لہٰذا انھوں نے فوراً ایک جھوٹ گھڑا- کہنے لگے ہم دونوں ایک شکایت لے کر آپ کے پاس فیصلے کے لیے آئے ہیں اور پھر وه ماجرا بیان کیا جو قرآن میں آیا ہے۔ حضرت داؤد نے ان کے درمیان فیصلہ تو کر دیا لیکن چونکہ جانتے تھے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آئے لہذا غصے ہوئے اور ان سے انتقام لینے کا ارادہ کیا لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ آپ اپنے اس ارادے پر پشیمان ہوئے اور استغفار کی [بحوالہ: "فخر رازی"اور "روح المعانی" کی تفسیر میں یہ بحث ایک ہی مضمون کے تحت ذکر کی گئی ہے اور "مراغی" نے بھی اپنی تفسیر میں ایسی بات کو قبول و تسیلم کیا ہے]۔ ۲۔ المیزان کے عظیم مفسّر نے اس سلسلے میں جو بات کہی ہے وہ بنیادی طور پر اس سے ہم آہنگ ہے جو دیگر عظیم مفسرینِ اسلام نے داؤد کی تفسیر میں کہی ہے۔ ہم بھی سطورِ بالا میں اسے بیان کر آئے ہیں۔ لیکن صاحب المیزان کا بیان چند ایک جہات سے مختلف ہے۔ لہٰذا ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ حضرت داؤد کے پاس شکایت کے لیے آنے والے دو فرشتے تھے۔ جنھیں اللہ نے داؤد کی آزمائش کی غرض سے بھیجا تھا لیکن داستان کی خصوصیات مثلاً محراب سے اوپر جانا اور خلافِ معمول طریقے سے داؤد کے پاس جانا اور ان کا گھبرا جانا، نیز یہ کہ واقعہ ایک الٰہی آزمائش تھا یہ سب چیزیں نشاندہی کرتی ہیں کہ فرشتوں کے تمثل کی صورت میں دو آدمیوں کے لباس میں رونما ہوا تھا (تمثل سے مراد یہ ہے کہ خارجی وجود میں کوئی بھی نہیں آیا تھا بلکہ حضرت داؤد کی قوتِ ادراک میں یوں ہوا کہ دو فرشتے تھے جو انسانوں کی صورت میں آئے تھے)۔ لہٰذا اس دعویٰ میں انھوں نے جو حکم صادر کیا وہ ظرفِ تمثل میں تھا جیسے انھوں نے خواب دیکھا ہو، تو جیسے عالمِ خواب میں رونما ہونے والے واقعات میں انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی، ظرف تمثل میں بھی اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، ذمہ داری کا تعلق تو عالم شہود سے ہے یعنی عالم ماد ہ سے۔ اور یہ کوئی خطاء حضرت داؤد سے سرزد ہوئی بھی ہے تو اس کا تعلق اسی ظرفِ تمثل سے ہے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو مقامِ عصمت کے منافی ہو، بہشت میں آدم کی خطاء کی طرح، زمین پر اترنے سے پہلے کہ جو تکلیف شرعی اور ذمہ داری کا مقام ہے، اس لحاظ سے حضرت داؤد نے جو استغفار کی وہ ایک حقیقی گناہ سے استغفار نہ تھی [بحوالہ: المیزان، جلد ۱۷ ص ۲۰۳]۔ لیکن آیات کا ظاہری مفہوم یقیناً یہ ہے کہ شکایت اور دعویٰ دائر کرنے والے افراد خارجی وجود رکھتے ہیں، تاہم مذکورہ فیصلہ گناہ نہ تھا کیونکہ یہ فیصلہ شکایت کنندہ کی گفتگو سن کر علم و یقین حاصل کرنے کے بعد تھا۔ اگرچہ قضاوت کے مستحب آداب کا تقاضا تھا کہ فیصلہ کرنے میں جلدبازی سے کام نہ لیا جاتا اور ان کی استغفار بھی اسی ترکِ اولٰی پر تھی۔ بہرحال اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس واقعے کو ہم ظرفِ تمثل سے متعلق سمجھیں یا اسے بعض کے بقول خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت داود کو متنبہ کرنے کے لیے ایک آزمایش قرار دیں، ، بہتر یہی ہے کہ آیات کے ظاہری مفہوم کی حفاظت کی جائے اور جیسا کہ کہا گیا ہے ایسی تفسیر کی جائے کہ جس سے آیت کے الفاظ کا ظہور بھی محفوظ رہتا ہو اور انبیاء کے مقامِ عصمت پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔

26
38:26
يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلۡنَٰكَ خَلِيفَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱحۡكُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُواْ يَوۡمَ ٱلۡحِسَابِ
اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں (اپنا) خلیفہ (اور نمائندہ) قرار دیا ہے لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر اور ہوائے نفس کی پیروی نہ کر کیونکہ یہ تجھے راہ حق سے بھٹکا دے گی، جو لوگ راہ خدا سے منحرف ہو جائیں، روزحساب کو فراموش کرنے کی بنا پر ان کے لیے شدید عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
38:27
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَٰطِلٗاۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ ٱلنَّارِ
ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے فضول پیدا نہیں کیا، یہ کافروں کا گمان ہے وائے ہے کافروں کے لئے،(جہنم کی) آگ سے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
38:28
أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَٱلۡمُفۡسِدِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلۡمُتَّقِينَ كَٱلۡفُجَّارِ
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں، کیا ہم انہیں زمین میں فساد برپا کرنے والوں کی طرح قرار دے دیں یا پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح قرار دے لیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
38:29
كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
یہ بابرکت کتاب ہے کہ جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور اہل فکر و نظر متوجہ ہوں۔

عدل کرو اور ہوائے نفس سے بچو

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اب آخر میں حضرت داؤد سے خطاب فرماتے ہوئے ان کے بلند کردار کا ذکر کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی سنگین ذمہ داریوں کا ذکر دوٹوک انداز میں اور معنی خیز عبارت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں اپنا خلیفہ (اور نمائنده) قرار دیا ہے۔ لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر اور ہوائے نفس کی پیروی نہ کر کیونکہ وه تجھے راہِ خدا سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کے راستے سے منحرف ہو جائیں ان کے لیے روزِ حساب کو فراموش کرنے کی وجہ سے شدید عذاب ہے (يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى‏ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ لَهُمْ عَذابٌ شَدِيدٌ بِما نَسُوا يَوْمَ الْحِسابِ)۔ اس آیت میں حضرت داؤد کے بلند مرتبے کا ذکر ہے اور ان کے اہم منصب کی بات کی گئی ہے۔ اس آیت کا مضمون نشاندہی کرتا ہے کہ زوجہ اوریا کے ساتھ ان کی شادی کے لوگوں نے جو جھوٹے افسانے تراشے ہیں وہ کس قدر بےبنیاد ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایسے شخص کو زمین کی خلافت سونپ دے اور مقامِ قضاوت اس کے سپرد کر دے جو مومنین اور اپنے یار و انصار کی ناموس پر خیانت بھری نظریں گاڑے ہوئے ہو اور اس کا ہاتھ بےگناہوں کے خون سے آلودہ ہو؟ اس آیت میں پانچ جملے ہیں اور ہر جملہ ایک حقیقت کا ترجمان ہے۔ پہلی حقیقت زمین میں داؤد کا مقامِ خلافت ہے۔ اس سے مراد گزشتہ انبیاء کی خلافت و جانشینی ہے یا خلافتِ الٰہی؟ ہماری نظر میں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے اور یہی یعنی سورة بقرہ کی آیت ۳۰ سے ہم آہنگ ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے: وَإِذْ قالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً اس وقت کو یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں خلیفہ بنا رہا ہوں۔ البتہ لفظ خلافت کے حقیقی معنی کے لحاظ سے تو اللہ کی خلافت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ یہ تو ان کے لیے ہوتی ہے جن کے لیے وفات یا غیبت کا معنی صادق آتا ہو۔ یہاں اس سے مراد بندوں میں اس کی نمائندگی اور زمین میں اس کے فرامین کا اجراء ہے۔ یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ زمین میں حکومت کا منشاء و مصدر حکومت الٰہی ہونا چاہیے اور جو حکومت اس راستے کے علاوہ ہو وه ظالمانہ اور غاصبانہ حکومت ہے۔ دوسرے جملے میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اب جبکہ تجھے یہ عظیم نعمت دی جا چکی ہے، تیری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کر۔ درحقیقت خلافتِ الٰہیہ کا نتیجہ حق کی حکومت ہے۔ اس جملے سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے حقِ حکومت بھی صرف خلافت الٰہیہ سے پیدا ہوتا ہے اور براہِ راست اسی کا نتیجہ ہے۔ تیسرے جملے میں ایک حاکم عادل کو درپیش اہم ترین خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ہوائے نفس کی ہرگز پیروی نہ کرنا۔ جی ہاں! ہوائے نفس حقیقت میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے اور اس کے اور عدالت کے درمیان جدائی ڈال دیتی ہے۔ لہٰذا چوتھے جملے میں فرمایا گیا ہے: اگر تو نے ہوائے نفس کی پیروی کی تو وہ تجھے راہِ خدا سے کہ جو راہِ حق ہے بھٹکا دے گی۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی گمراہی ہے اس میں ہوائے نفس کا ہاتھ ہے اور جہاں بھی ہوائے نفس ہے اس کا نتیجہ گمراہی ہے، جو حاکم ہوائے نفس کا پیرو ہو وہ لوگوں کے مفادات و حقوق کو اپنی اغراض پر قربان کر دے گا۔ اسی لیے اس کی حکومت ناپائیدار ہو گی اور شکست کا سامنا کرے گی۔ ہو سکتا ہے اس مقام پر ہوائے نفس کا ایک وسیع معنی ہو کہ جس میں انسان کی اپنی خواہشِ نفس بھی شامل ہے اور لوگوں کی خواہشات بھی۔ اس طرح قرآن ان تمام مکاتب کی نفی کرتا ہے کہ جو عوامی افکار کی پیروی کو حکومتوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ دونوں کا نتیجہ طریقِ الٰہی اور صراطِ حق سے گمراہی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہم اس طرزِ فکر کے ذلّت بار نتائج کے شاہد ہیں جو بزعمِ خود متمدّن دنیا میں رونما ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات لوگوں کی خواہشات کے باعث قبیح ترین اعمال بھی قانونی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے ذلت و رسوائی کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ قلم کو بیان کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کی اساس دوشِ عوام ہی کو ہونا چاہیے اور ان کی شرکت ہی سے حکومت تشکیل پانا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حق و باطل کا معیار ہر جگہ اور مسئلے میں اکثریت کی خواہشات قرار پا جائیں۔ حکومت کے ستون حق پر استوار ہونے چاہیں اور ان کی تعمیر و استحکام کے لیے عوامی قوت سے مدد لینا چاہیے اور "اسلامی جمہوریہ" کا یہی معنی ہے۔ یہ اصطلاح "اسلامی" اور"جمہوریہ" دو لفظوں سے مرکب ہے اور اسی کے ہم قائل ہیں۔ بالفاظ دیگر اصول مکتب و دین سے لیے جائیں اور ان کے اجراء کے لیے لوگوں کو شریک کیا جائے (غور کیجیے گا)۔ آخر میں پانچویں جملے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ راہِ حق سے گمراہی کا سرچشمہ "يوم الحساب" کی فراموشی ہے اور اس کا نتیجہ شدید عذابِ الٰہی ہے۔ اصولی طور پر روزِ قیامت کی فراموشی ہمیشہ گمراہیوں کا سرچشمہ ہے اور ہر گمراہی میں اس فراموشی کا حصہ ہے اور یہ اصولِ معاد کی طرف توجہ، انسانی زندگی میں اس کے تربیتی اثر کو واضح کرتی ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی کتب میں منقول روایات بہت غور طلب ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث پیمغبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علی علیہ اسلام سے منقول ہے۔ انھوں نے فرمایا: أيّها الناس أن أخوف ما أخاف عليكم إثنان إتباع، الهوٰى و طول الامل فاما إتباع الهوٰى فيصد عن الحق واما طول الأمآل فينسى الآخرة: اے لوگو! وحشتناک ترین چیزیں دو ہیں جن کی جانب سے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں، ایک ہے ہوا و ہوس کی پیروی اور دوسری ہے لمبی چوڑی امیدیں۔ ہوا و ہوس کی پیروی تو تمھیں حق سے منحرف کر دے گی اور لمبی چوڑی امیدیں تمھیں قیامت بھلا دیں گی [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۴۲]۔ حق ہے کہ اس جملے کو آبِ زر سے لکھا جائے اور یہ ہر دیکھنے والے بالخصوص حکمرانوں، قاضیوں اور اہلِ منصب کے سامنے رہے ایک اور روایت کہ جو امام باقرؑ سے منقول ہے۔ اس میں آپؑ فرماتے ہیں: ثلاثُ موبقات: شح مطاع وهوٰى متبع، وأعجاب الْمرء بنفْسه تین چیزیں آدمی کو ہلاک کر دیتی ہیں: ۱۔ اطاعت کے موقع پر بخل، ۲۔ ہوائے نفس کہ جس کی پیروی کی جائے اور ۳۔ انسان کا اپنے آپ سے خوش ہونا [نور الثقلين جلد ۴ ص ۴۵۳، بحوالہ کتابِ خصال]۔ حضرت داؤد کی زندگی اور زمین میں ان کے لیے خلافتِ الہی کا ذکر کرنے کے بعد جہانِ ہستی کے باہدف و بامقصد ہونے کا ذکر آیا ہے تاکہ زمین پر حکومت کی جہت واضح ہو جائے کہ جو اس تمام نظامِ ہستی کا ایک حصہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اسے ہم نے باطل اور فضول پیدا نہیں کیا، یہ تو کافروں کا گمان ہے، افسوس کافروں پر آتشِ دوزخ سے (وَمَا خَلَقْنَا السَّماءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُما باطِلًا ذلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ)۔ اہم ترین مسئلہ کہ جو تمام حقوق کا سرچشمہ ہے وہ خلقت کا باہدف و بامقصد ہونا ہے۔ جب ہم نے تخلیقِ کائنات کے بارے میں اپنے عقیدے میں یہ بات قبول کر لی کہ یہ عالم وسیع خداوندِ بزرگ نے فضول پیدا نہیں کیا تو فوراً ہمیں اس کے ہدف کی تلاش ہوتی ہے۔ اس ہدف کو مختصر الفاظ میں "تکامل"، "تعلیم" اور "تربیت" کے معنی خیز الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ نتیجه اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومتوں کو بھی اسی راستے پر گامزن ہونا چاہیے۔ انھیں تعلیم و تربیت کی بنیادیں مضبوط کرنا چاہیں اور انھیں انسانوں کے روحانی کمال کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں عالمِ ہستی حق و عدالت کی بنیاد پر قائم ہے اور حکومتوں کو بھی پوری کائنات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یعنی انھیں حق و عدالت کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔ ضمنی طور پر بھی کہہ دیا جائے کہ گزشتہ آیت کا آخری جملہ کہ جس میں روزِ جزا کی فراموشی کا ذکر ہے: زیر بحث آیت کے مضمون سے پوری طرح ہم آہنگ ہے کیونکہ مقصدِ تخلیق کائنات کا تقاضا ہے کہ روزِ جزا موجود ہے اور جیسا کہ ہم سورہ یٰس کی تفسیر کے اختتام پر معاد سے متعلق بحث میں کہہ چکے ہیں اگر روزِ حساب موجود ہو تو اس جہان کی تخلیق بےمعنی، بےمقصد، فضول اور مہمل ہو گی۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ اس آیت کے اختتام پر ایک واضح خط کی جانب اشارہ موجود ہے جو مکتبِ ایمان کو کفر سے جدا کرتا ہے اور وہ ہے الحادی مکاتب میں عالم کا بےمقصد ہونا کہ جس کے بعض نمونوں میں ہم آج بھی گرفتار ہیں۔ وہ صراحت سے اعلان کرتے ہیں کہ یہ جہان بےمقصد اور بےہدف ہے ایسے تصورِ کائنات کی موجودگی میں وه لوگ اپنی حکومتوں حق و عدالت کو کیسے جاری کر سکتے ہیں یہ فقط الٰہی نظریہ کائنات ہے کہ جس کی بنیادی پر وجود میں آنے والی حکومت حق و عدالت کو جاری کر سکتی ہےکیونکہ اس نظریے کے مطابق تخلیق عالم کا کوئی ہدف و مقصد ہے اور اس جہان کا کوئی حساب شدہ نظام موجود ہے کہ حکومت کو بھی اس کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ الحادی حکومتیں آج جنگ و صلح اور اقتصاد و ثقافت کے جن مسائل میں پھنس چکی ہیں ان کی اصلی وجہ اس میں تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے اسی نظریے کی وجہ سے ان کی کارگزاری کی اصل بنیاد زور، زبردستی اور اقتدار ہے اور ہر کسی کے لیے وہ اسی کے قائل ہیں کہ جو وہ طاقت اور ظلم سے حاصل کر لیتا ہے اور ایسی دنیا کس قدر وحشتناک ہے کہ جو اس طرزِ فکر کی بنیاد پر عمل پیرا ہوا اور جس کا نظام اس نظریئے کے مطابق چلے۔ بہرحال خدا تعالیٰ حکیم ہے اور ممکن نہیں کہ وہ اس عظیم کائنات کو بےہدف پیدا کر دے اور یہ ہدف جبھی پورا ہو گا کہ یہ عالم ایک وسیع تر اور عظیم تر جہان کے لیے مقدمہ ہو وہ جہان کہ جو ابدیت سے وابستہ ہو اور جو عالم دنیا کو جواز فراہم کرے۔ بعد کی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: کیا ممکن ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام انجام دیئے ہیں، انھیں ہم ان جیسا قرار دے دیں کہ جو زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں (أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ) [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کہ یہاں "ام" "بل" کے معنی میں اضراب کے لیے ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ "ام" استفہامِ محذوف پر عطف ہو اور تقدیر میں اس طرح ہے: أ خَلقنَا السّماوات وَالأرض بَاطلًا امْ نجْعل المُتقيْنَ كَالفجّار] اور کیا ممکن ہے کہ ہم پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح قرار دیں (أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّار)۔ نہ تخلیق بےہدف ممکن ہے اور نہ نیک اور بد میں مساوات ممکن ہے کیونکہ نیک لوگ اہدفِ تخلیق کے مطابق قدم اٹھاتے ہیں اور مقصد کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں جب کہ برے لوگ مخالف سمت پر گامزن ہیں۔ درحقیقت معاد کی بحث اس آیت میں اور قبل کی آیت میں مستدل طور پر تمام پہلوؤں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ایک طرف تو یہ فرمایا گیا ہے حکمتِ خالق کا تقاضا ہے کہ تخلیقِ کائنات کا کوئی ہدف ہو (اور یہ ہدف دوسرے جہان کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی اتنی اہم نہیں ہے کہ اس عظیم کائنات کا ہدف ہو سکے)۔ دوسری طرف حکمت و عدل کا تقاضا ہے کہ نیک و بد اور عادل و ظالم یکساں نہ ہوں اور یہی امر قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کا مقتضی ہے۔ اس انسانی معاشرے میں فاجر، مومنین کے برابر اور برے نیکوں کے ساتھ نظر آتے ہیں بلکہ بہت سے مواقع پر ہم دیکھتے ہیں کہ بدکار مفسد لوگ زیادہ عیش و آرام میں ہیں۔ اگر اس جہان کے بعد کوئی جہان نہ ہو کہ جس میں عدالت حکم فرما ہو تو اس جہان کی وضع خلاف حکمت بھی ہے اور خلاف عدل بھی اور یہ خود مسئلہ معاد کے لیے ایک دلیل ہے۔ دوسرے الفاظ کبھی اثباتِ معاد کے لیے برہانِ حکمت سے استدلال کیا جاتا ہے اور کبھی برہان عدالت سے۔ گزشتہ آیت میں پہلی طرح کا استدلال ہے اور دوسری آیت میں دوسری طرح کا۔ زیر بحث آخری آیت میں ایسے مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ جو درحقیقت ہدفِ کائنات کو پورا کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل متوجہ ہوں (كِتابٌ أَنْزَلْناهُ إِلَيْكَ مُبارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آياتِهِ وَ لِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الْأَلْبابِ)۔ اس کی تعلیمات جاوداں ہیں اور اس کے احکام گہرے اور عمیق ہیں اور اس کے پروگرام حیات بخش اور ہدایت کنندہ ہیں کہ جو انسان کو ہدفِ تخلیق کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس عظیم کتاب کے نزول کا مقصد صرف یہ نہ تھا کہ اس کی تلاوت کی جائے اور اسے زبان پر جاری کر لیا جائے اور بس۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ اس کی آیات فکر و نظر اور سوچ بچار کا سرچشمہ بنیں۔ اور ضمیر و وجدان کی بیداری کا سبب بنیں اور پھر یہ بیداری حرکتِ عمل کا باعث بنے۔ "مبارک" جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایسی چیز کے معنی میں ہے کہ جو دائمی خیر کی حامل ہو اور قرآن کے بارے میں یہ تعبیر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی معاشرہ اس کی تعلیمات سے دائماً استفادہ کر سکتا ہے اور چونکہ یہ لفظ بطورِ مطلق استعمال ہوا ہے اس لیے دنیا و آخرت کی ہر طرح کی خیر و سعادت پر محیط ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر تم خیر و برکت کے طلبگار ہو تو تمھاری خواہش اس میں موجود ہے بشرطیکہ تم اس میں تدبّر کرو اور اس سے ہدایت حاصل کرو اور حرکت میں آؤ۔

چند اہم نکات: ۱ - تقویٰ اور فجور ایک دوسرے کی ضد

زیر بحث آیات میں "فساد فی الارض" کو "ایمان و عمل صالح" کے مدِّمقابل قرار دیا گیا ہے نیز "فجور" (دین کا پردہ چاک کرنا) تقوٰی و پرہیزگاری کی ضد قرار دیا گیا ہے کیا ان دونوں عبارتوں میں ایک ہی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے یا دو مطالب کو بیان کیا گیا ہے؟ بعید نہیں ہے کہ دونوں عبارتوں میں ایک حقیقت کو بیان کیا گیا ہو۔ کیونکہ "متقین" "نیک عمل کرنے والے مومنین" ہی ہیں اور "فجار" "مفسدين في الارض" ہی ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا جملہ اعتقادی اور عملی دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ ہو اور صحیح عقیدے کے ساتھ نیک عمل کرنے والوں کا موازنہ فاسد العقیدہ اور فاسد العمل لوگوں سے کیا جا رہا ہو، جبکہ دوسرا جملہ صرف عملی پہلو کی طرف اشارہ ہو۔ یہ فرق ممکن ہے کہ "تقوی" انسان کے انفرادی کمال اور "فجور" انسان کے انفرادی تنزل کی طرف اشارہ ہو جبکہ عملِ صالح اور فساد فی الارض معاشرتی پہلو کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن ان میں سے تاکید والی پہلی تفسیر ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔

۲- یہ آیات کس کے بارے میں ہیں؟

ایک روایت میں ان آیات کی تفسیر کے بارے میں ہے کہ " الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ" سے امیر المؤمنین حضرت علی اور ان کے یار و انصار کی طرف اشارہ ہے جبکہ "الْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ" کا اشارہ ان کے مخالفین کی طرف ہے [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴ ص ۴۵۳ (حدیث ۳۷)]۔ ایک اور حدیث جو ابن عساکر نے ابنِ عباس سے نقل کی ہے اس میں ہے کہ "الَّذِينَ آمَنُوا" سے مراد حضرت علی، حضرت حمز اور جناب عبیدہ ہیں کہ جو میدان بدر میں عقبہ، ولید اور شیبہ کے مقابلے میں نکلے تھے جو لشکرِ کفر و شرک میں سے تھے اور ان سے دست بدست لڑائی کی اور ان پر غالب آئے "الْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ" سے مراد تین مذکورہ افراد ہیں کہ لشکر کفر و شرک میں سے ہیں [تفسیر روح المعانی جلد ۲۳ ص ۱۷۱]۔ واضح ہے کہ ان روایات کا مفہوم یہ نہیں کہ آیت کو خاص افراد میں منحصر کر دیا جائے بلکہ اس سے شانِ نزول مراد ہے یا روشن و واضح مصداق۔

30
38:30
وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ کیا ہی اچھا بندہ تھا کیونکہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف باز گشت کرتاتھا۔ (اوراس کی یاد میں رہتا تھا)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
38:31
إِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِٱلۡعَشِيِّ ٱلصَّـٰفِنَٰتُ ٱلۡجِيَادُ
وہ وقت یاد کر جب وقت عصر انہوں نے چابک اور تیز رفتار گھوڑے اس (سلیمان)کے سامنے پیش کئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
38:32
فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ
تو اس نے کہا : ان گھوڑوں کو اپنے رب کی خاطر پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
38:33
رُدُّوهَا عَلَيَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلۡأَعۡنَاقِ
(سلیمان نے کہا) انہیں دوبارہ لاؤ اور پھر اس نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرا۔

تفسیر: سلیمان اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

ان آیات میں بھی حضرت داود کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ پہلی آیت میں انھیں سلیمان جیسا باشرف بیٹا عطا فرمانے کی خبر دی گئی ہے کہ جو ان کی حکومت و رسالت کو باقی و جاری رکھنے والے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ کیا ہی اچھا بندہ تھا کیونکہ وہ ہمیشہ دامنِ خدا کی طرف اور آغوشِ حق کی طرف لوٹتا تھا (وَ وَهَبْنا لِداوُدَ سُلَيْمانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّاب)۔ یہ تعبیر حضرت سلیمان کے عظیم مرتبے کی ترجمان ہے۔ شاید یہ ان بےبنیاد اور قبیح تہمتوں کی تردید کے لیے ہے کہ جو زوجہ اوریا سے حضرت سلیمان کے تولد کے بارے میں تحریف شده تورات میں آئی ہیں اور نزول قرآن کے زمانے میں وہ تہمتیں اسی طرح عام تھیں۔ ایک تو"وهبنا" (ہم نے بخشا، فرمایا پھر"نِعْمَ الْعَبْدُ" (وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے) کہہ کر تعریف کی نیز "إِنَّهُ أَوَّاب" (وہ شخص ہمیشه فرمان و اطاعتِ الٰہی کی طرف لپکتا ہے اور ذرہ بھر بھی لغزش ہو جائے تو توبہ کرتا ہے) کہہ کر ستائش کی گئی۔ یہ سب باتیں اس عظیم نبی کے بلند مرتبے کی غمّاض ہیں۔ "إِنَّهُ أَوَّاب" بالکل وہی تعبیر ہے جو اسی سورہ کی آیت میں ۱۷ میں ان کے باپ حضرت داؤد کے لیے آئی ہے۔ " اوّاب " مبالغے کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے "بہت زیاده بازگشت کرنے والا" اور اس میں کوئی شرط بھی نہیں ہے اگر اس مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو اطاعت فرمانِ الٰہی کی طرف بازگشت حق و عدالت کی طرف بازگشت او غفلت و ترکِ اولٰی سے بازگشت سب معانی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگلی آیت میں حضرت سلیمانؑ کے گھوڑوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس کے متعلق مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں۔ بعض جاہل اور بےخبر لوگوں کی طرف سے بھی ہیں کہ جو نہایت تکلیف دہ ہیں اور عقلی معیار کے خلاف ہیں۔ ان لوگوں نے ایسی ایسی باتیں کی ہیں کہ جو ایک عام انسان کے بھی شایانِ شان نہیں ہیں چہ جائیکہ ان کی نسبت حضرت سلیمان جیسے عظیم المرتبت نبی کی طرف دی جائے تاہم محققین نے عقلی و نقلی دلائل سے ایسی تفسیروں کا راستہ بند کر دیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم مختلف احتمالات کا جائزہ لیں آیات کی تفسیر اس کے ظاہر کے مطابق یا ظاہر ترین احتمالات کے مطابق پیش کرتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ جو ناروا نسبتیں دی جاتی ہیں ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ لوگوں نے پہلے فیصلے کیے پھر لا کر انھیں قرآن پر ٹھونس دیا۔ قرآن کہتا ہے: وہ وقت یاد کر جب وقتِ عصر چابک اور تیزرفتار گھوڑے اس (سلیمان) کے حضور پیش کیے گئے (إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِياد)۔ "صافنات" "صافنۃ" کی جمع ہے۔ جیسا کہ بہت سے مفسرین اور اربابِ لغت نے لکھا ہے "صافنات" ایسے گھوڑوں کو کہا جاتا ہے کہ جو کھڑے ہوتے وقت دو اگلے اور ایک پچھلے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک پچھلا پاؤں کچھ بلند کیے رہتے ہیں اور صرف سم کی نوک زمین پر رکھتے ہیں اور یہ چابک اور تیزرفتار گھوڑوں کی خاص حالت ہے کہ جو ہر وقت چلنے کو تیار ہوتے ہیں [تشریحی نوٹ: بعض نے کہا ہے کہ "صافنات"، مذکر و مؤنث دونوں معانی رکھتا ہے، لہذا یہ گھوڑیوں کے لیے مخصوص نہیں ہے]۔ "جیاد" "جواد" کی جمع ہے یہاں یہ لفظ سریع الحرکت اور تیزرفتار گھوڑوں کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ "جود" (بخشش) کے مادہ سے لیا گیا ہے، البته یہ لفظ انسان کے لیے ہو تو مال بخشنے کے معنی میں ہے اور گھوڑے کے لیے ہو تو تیزرفتاری کے معنی میں ہے۔ گویا مذکورہ گھوڑے جب کھڑے بھی ہوتے تھے تو چلنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے تھے اور جب چلتے تھے تو تیزرفتاری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس آیت میں موجود مختلف قرائن سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک روز حضرت سلیمان اپنے تیزرفتار گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے جنہیں میدانِ جہاد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عصر کا وقت تھا۔ مامورین مذکورہ گھوڑوں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے ان کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ ایک عادل اور بااثر حکمران کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس طاقتور فوج ہو اور اس زمانے میں لشکر کے اہم ترین وسائل تیزرفتار گھوڑے تھے لہذا حضرت سلیمان کا مقام ذکر کرنے کے بعد نمونے کے طور پر گھوڑوں کا ذکر آیا ہے۔ اس موقع پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ طاقتور گھوڑوں سے ان کا لگاؤ دنیا پرستی کی وجہ سے نہیں جناب سلیمان نے کہا: "ان گھوڑوں کو میں اپنے رب کی یاد اور اس کے حکم کی بنا پر پسند کرتا ہوں"۔ میں چاہتا ہوں کہ ان سے دشمنوں کے خلاف جہاد میں کام لوں (فَقالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي)۔ عربوں کا معمول ہے کہ وہ "خیل" گھوڑا کو "خیر" سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبرِ گرامی اسلام صلی الله علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: الخير معقود بِنواصِى الخيل الى يومِ القيامةِ خیر اور بھلائی قیامت تک کے لیے گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے [بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں بعض نے زیر بحث آیت میں "خیر" سے مالِ کثیر مراد لیا ہے ممکن ہے یہ سابقہ تفسیر پر منطبق ہو سکے کیونکہ یہاں مال کا مصداق گھوڑے ہی ہیں]۔ سلیمان کہ جو دشمن کے خلاف جہاد کے لیے آمادہ ان تیزرفتار گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے بہت خوش ہوئے۔ آپ انھیں یوں دیکھ رہے تھے کہ نظریں ان پر جَم کر رہ گئیں "یہاں تک کہ وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے"(حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ)۔ یہ منظر نہایت دلکش اور عمدہ تھا اور حضرت سلیمان جیسے عظیم فرماں روا کے لیے نشاط انگیز تھا۔ آپ نے حکم دیا "ان گھوڑوں کو واپس میرے پاس لاؤ" (رُدُّوها عَلَيَّ)۔ جب مامورین نے اس حکم کی اطاعت کی اور گھوڑوں کو واپس لائے تو سلیمان نے خود ذاتی طور پر ان پر نوازش اور"ان کی پنڈیلیوں اور گردونوں کو تھپتھپایا اور ہاتھ پھیرا"(فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ)۔ یوں آپ نے ان کی پرورش کرنے والوں کی بھی تشویق اور قدردانی کی۔ معمول ہے کہ جب کسی سواری کی قدردانی کی جاتی ہے تو اس کے سر، چہرے، گردن یا اس کی ٹانگ پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے اور یہ دلچسپی اور پسندیدگی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے کہ جس سے انسان اپنے بلند مقاصد میں مدد لیتا ہے لہٰذا حضرت سلیمانؑ جیسے عظیم نبی کا ایسا کرنا کوئی تعجّب انگیز نہیں۔ "طفق" ( کہ جو نحویوں کی اصطلاح کے مطابق افعالِ مقاربہ میں سے ہے) کسی کام کو شروع کرنے کے معنی میں ہے۔ "سوق" جمع ہے "ساق" کی (پنڈلی کے معنی میں) اور "اعناق" جمع ہے "عنق" کی( گردن کے معنی میں) پورے جملے کا معنی یہ ہے: سلیمان نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان سے نوازش کرنا شروع کیا۔ ان آیات کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ سطورِ بالا میں کہا گیا ہے یہ بعض مفسرین سے ہم آہنگ ہے۔ بزرگانِ شیعہ میں سے عالمِ نامدار و بزرگوار سید مرتضیٰ کے کلمات سے بھی اس تفسیر کے ایک حصے کا استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب "تنزیہ الانبیاء" میں بعض مفسرین اور اربابِ حدیث کی جانب سے حضرت سلیمانؑ کی طرف دی جانے والی ناروا نسبتوں کی نفی کرتے ہوئے لکھا ہے: کیسے ممکن ہے کہ اللہ پہلے تو اس پیغمبر کی مدح و ثنا کرے اور پھر ساتھ ہی اس کی طرف اس برے کام کی نسبت دے کہ وہ گھوڑوں کا نظارہ کرنے میں یوں محو ہوئے کہ نماز بھول گئے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ گھوڑوں سے بھی ان کا لگاؤ حکمِ پروردگار سے تھا کیونکہ اللہ ہمیں بھی حکم دیتا ہے گھوڑے پالیں اور دشمنوں کے خلاف جنگ کے لیے انھیں آمادہ رکھیں۔ لہٰذا کیا مانع ہے کہ اللہ کا نبی بھی ایسا ہی ہو [بحوالہ: تنزيہ الانبیاء، ص ۹۳]۔ علامہ مجلسی مرحوم نے بحار الانوار کی کتابِ نبوت میں مذکورہ بالا آیات کی تفسیر کے بارے میں مختلف باتیں کی ہیں جن میں بعض ہماری محرره بالا تفسیر کے نزدیک ہیں [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۴ ص ۱۰۴]۔ بہرحال اس تفسیر کے مطابق سلیمان سے نہ تو کوئی گناہ سرزد ہوا ہے اور نہ ہی آیات میں عدم ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی مشکل پیش آتی ہے کہ جس کی توجیہ کرنا پڑے [تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق "توارت" اور "ردوها" کی ضمیریں تیزرو گھوڑوں یعنی "الصافنات الجياد" کی طرف لوٹتی ہیں]۔ بعض مفسرين نے ایک اور تفسیر کی ہے اب ہم اسے پیش کرتے ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ "توارت" اور"ردوها" - کی ضمیریں "شمس" (سورج) کی طرف لوٹتی ہیں کہ جو عبارت میں مذکور نہیں ہے لیکن زیر بحث آیات میں لفظ "عشی" (وقت عصر ) آیا ہے اس سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے آیات کا مفہوم یہ ہو گا کہ سلیمانؑ گھوڑوں کو دیکھنے میں منہمک تھے کہ سورج نے اپنا سر افقِ مغرب میں رکھ دیا اور حجابِ مغرب میں پنہاں ہو گیا۔ سلیمانؑ اپنی نمازِ عصر کھو جانے سے بہت پریشان ہو گئے۔ وہ پکارے: اے پروردگار کے فرشتو! سورج کو میرے لیے لوٹا دو۔ سلیمان کا یہ تقاضا پورا ہوا اور سورج پلٹ آیا۔ حضرت سلیمان نے وضو کیا (پنڈلی اور گردن پر ہاتھ پھیرنے سے مراد وضو کے دوران میں مسح کرنا ہے کہ جوحضرت سلیمان کے مذہب میں تھا، البتہ کبھی لفظ مسح عربی زبان میں دھونے کے معنی میں بھی آتا ہے) پھر انھوں نے اپنی نماز ادا کی۔ بعض ناآگام اور بےشعور اس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ انھوں نے ایک اور قبیح تہمت اس عظیم نبی پر لگائی ہے وہ کہتے ہیں کہ "طَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَ الْأَعْناق" سے مراد یہ ہے کہ سلیمان نے حکم دیا کہ تلوار کے ساتھ گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ دی جائیں یا خود یہ کام انجام دیا کیونکہ وہ گھوڑے یادِ خدا سے غفلت اور نماز کی فراموشی کا سبب بنے تھے۔ اس آخری گفتگو کا بطلان تو کسی سے مخفی نہیں کیونکہ اس میں گھوڑوں کا کوئی قصور نہ تھا کہ انھیں تہ تیغ کیا جاتا اگر گناہ تھا تو خود سلیمانؑ کا تھا جو گھوڑوں کا نظارہ کرتے کرتے ان میں منہمک ہو گئے اور باقی سب کچھ بھول گئے۔ علاوہ ازیں گھوڑوں کو مار ڈالنا ظلم بھی ہے اور اسراف بھی۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسا ناروا عمل ایک نبی سے سرزد ہو۔ لہذا اسلامی کتب میں اس ضمن میں آنے والی روایات میں حضرت سلیمان کی طرف اس نسبت کی شدت سے نفی کی گئی ہے۔ رہی دوسری تفسیر میں کہ جس میں نمازِ عصر سے غفلت کی بات کی گئی ہے اس سے بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک معصوم نبی اپنی واجب ذمہ داری کو بھول جائے؟ اگرچہ گھوڑوں کا معائنہ بھی ان کی ایک ذمہ داری تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ مستحب نماز تھی کہ جسے چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہ تھا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نمازِ نافلہ کے لیے سورج پلٹانے کی ضروت نہ تھی۔ علاوہ ازیں اس تفسیر میں کچھ دیگر اشکالات اور اعتراضات بھی ہیں، مثلاً: ۱۔ لفظ "شمس" آیات میں صراحت کے ساتھ نہیں آیا "الصَّافِناتُ الْجِيادُ" (تیزرفتار گھوڑے) صراحت کے ساتھ مذکور ہے لہذا زیادہ مناسب یہی ہے کہ ضمیریں اسی چیز کی طرف لوٹیں جو صراحت کے ساتھ آیات میں موجود ہے۔ ۲۔ "عَنْ ذِكْرِ رَبِّي‏" کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ان گھوڑوں کی محبت یاد خدا اور اس کے فرمان کے باعث ہے جبکہ آخری تفسیر کے مطابق لفظ "عن، على" کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی میں نے گھوڑوں کی محبت کو اپنے رب کی محبت پر ترجیح دی اور یہ معنی خلافِ ظاہر ہے (غور کیجیے گا)۔ ۳۔ سب سے زیادہ تعجّب خیز یہ ہےکہ "رُدُّوها عَلَي" (انھیں میری طرف لوٹا دو) اس میں حکمیہ لب و لہجہ ہے۔ کیا ممکن ہے کہ سلیمانؑ اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں سے اس لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہیں کہ سورج میری طرف پلٹا دیں۔ ۴۔ سورج پلٹنے کا مسئلہ اگرچہ قدرتِ خدا کے لیے محال نہیں ہے تاہم واضح طور پر بہت سے مسائل اس سے وابستہ ہیں اور جب تک واضح دلیل موجود نہ ہو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ۵۔ زیرِ بحث آیات کا آغاز حضرت سلیمان کی مدح و تمجید سے ہوتا ہے جبکہ زیر نظر تفسیر کے مطابق ان آیات کا اختتام آپ کی مذمت پر ہوتا ہے۔ ۶۔ اگر واجب نماز ترک ہوئی ہے تو اس کی توجیہ مشکل ہے اور اگر نافلہ نماز ترک ہوئی ہے تو پھر سورج پلٹانے کی کیا ضرورت تھی؟ یہاں ایک سوال باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ یہ تفسیر کتبِ احادیث میں متعدد روایات میں نظر آتی ہے لیکن اگر ان روایات کی اسناد کا بغور جائزہ لیں اور ان کی تحقیق کریں تو ہم تصدیق کریں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی سند بھی معتبر نہیں۔ زیادہ تر روایات مرسلہ ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ان غیرمعتبر روایات سے صرف نظر کیا جائے اور اس کا علم ہم اس کے اہل کے ذمہ رہنے دیں اور پہلے سے فیصلہ کیے بغیر آیات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اسی کو انتخاب کریں اور یوں مختلف اشکالات سے آسودہ خاطر بھی رہیں۔

34
38:34
وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمَٰنَ وَأَلۡقَيۡنَا عَلَىٰ كُرۡسِيِّهِۦ جَسَدٗا ثُمَّ أَنَابَ
ہم نے سلیمان کا امتحان لیا اور ایک دھڑان کے تحت پر پھینک دیا پھر اس نے بارگاہ خدا کی طرف رجوع کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
38:35
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
اس نے کہا : پروردگار : مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا کر کہ جو میرے بعد کسی کے شایاں نہ ہو، کیونکہ تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
38:36
فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ
ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تاکہ وہ اس کے حکم کے مطابق آرام کے ساتھ چلے اور جہاں چاہے جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
38:37
وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ
اور شیطانوں کو بھی ہم نے اس کے لیے مسخر کردیا اور ان میں ہر معمار اور غوطہ خور کو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
38:38
وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ
(اور شیطانوں میں سے) ایک اور گروہ کو بھی جو (اس کے اختیار میں تھے اور) زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
38:39
هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمۡنُنۡ أَوۡ أَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٖ
(اور ہم نے سلیمان سے کہا) یہ ہماری عطا ہے جسے بھی تو چاہتا ہے (اور مصلحت دیکھتا ہے) اسے بخش دے اور جسے تو چاہتا ہے روک لے۔ اور تیرے لئے کوئی حساب نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
38:40
وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
اور اس (سلیمان) کے لیے ہمارے پاس بلند مقام اور نیک انجام ہے۔

تفسیر: سلیمان کا سخت امتحان اور وسیع حکومت

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات حضرت سلیمان کی زندگی کے واقعات کا کچھ حصہ بیان کرتی ہیں۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انسان قدرت کے جس بلند پائے تک بھی جا پہنچھے اس کے پاس کچھ بھی خود اس کی طرف سے نہیں ہوتا اور جو کچھ بھی ہو خدا کی طرف سے ہے، یہ وہ بات ہے کہ اگر اس کی طرف توجہ ہو تو غرور و غفلت کے پردے انسان کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں اور کائنات میں وہ اپنی حیثیت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ ان آیات کا پہلا حصہ ایک آزمائش کے بارے میں ہے۔ اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو آزمایا۔ اس میں ایک "ترکِ اولیٰ" پیش آیا۔ اس کے بعد جناب سلیمان نے بارگاہِ خداوندی کا رخ کیا اور اس ترکِ اولیٰ پر توبہ کی۔ یہ آیات بھی چونکہ اجمالی ہیں لہذا افسانہ طرازوں اور خیال پردازوں نے فائدہ اٹھایا اور بےبنیاد خیالی داستانیں بنا ڈالیں۔ انہوں نے اس عظیم نبی کی طرف بعض ایسی چیز منسوب کیں جو یا تو اساسِ نبوت کے خلاف ہیں یا مقامِ عصمت کے منافی ہیں یا اصولاً عقل و منطق ہی کے خلاف ہیں۔ یہ باتیں تمام محققینِ قرآن کے لیے خود ایک آزمائش ہیں حالانکہ قرآن کے متن میں جو کچھ کہا گیا ہے اگر اسی پر قناعت کر لی جاتی تو ان بےہودہ انسانوں کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ پہلی زیر بحث آیت میں قرآن کہتا ہے: ہم نے سلیمان کا امتحان لیا اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا، پھر اس نے بارگاہِ خداوندی کی طرف رجوع کیا اور اس کی طرف لوٹا (وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمانَ وَ أَلْقَيْنا عَلى‏ كُرْسِيِّهِ جَسَداً ثُمَّ أَنابَ)۔ "کرسی" کا معنی ہے "چھوٹے پاؤں والا تخت" یوں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہوں کے پاس دو طرح کے تخت ہوتے تھے۔ ایک تخت عام استعمال کے لیے ہوتا تھا جس کے پاؤں چھوٹے ہوتے تھے اور دوسرا تخت خصوصی پروگراموں کے لیے ہوتا تھا کہ جس کے پائے بلند ہوتے تھے۔ پہلی قسم کے تخت کو "کرسی" کہا جاتا تھا اور دوسری قسم کے تخت کو "عرش" کہتے تھے۔ "جسد" کا معنی ہے "بےجان دھڑ"۔ مفردات میں راغب کے بقول اس کا مفہوم "جسم" کے مفہوم سے محدود تر ہے کیونکہ "جسد" کا اطلاق غیرانسان پر نہیں ہوتا (سوائے شاذ و نادر مواقع کے) لیکن جسم کا مفہوم عام ہے۔ اس آیت سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سلیمانؑ کی آزمائش بےجان دھڑ کے ذریعے ہوئی تھی وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا تھا لیکن اس سلسلے میں قرآن میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ محدثین و مفسرین نے اس سلسلے میں روایاتِ تفاسیر بیان کی ہیں ان میں سے زیادہ قابل توجہ اور واضع یہ ہے کہ: سلیمان کی آرزو تھی کہ انھیں باشرف اور شجاع اولاد نصیب ہو جو ملک کا نظام چلانے اور خاص طور پر دشمنوں کے خلاف جہاد میں ان کی مدد کرے۔ حضرت سلیمان کی متعدد بیویاں تھیں۔ انھوں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں ان سے ہمبستر ہوتا ہوں تاکہ مجھے متعدد بیٹے نصیب ہوں کہ جو میرے مقاصد میں میری مدد کریں لیکن اس مقام پر ان سے غفلت ہوئی اور آپ نے "انشاء اللہ" نہ کہا کہ جو انسان کے ہر حالت میں اللہ پر تکیہ کا غماز ہے۔ لہٰذا اس زمانے میں ان کی بیویوں سےکوئی اولاد نہ ہوئی سوائے ایک ناقص الخلقت بچے کے۔ وہ بےجان دھڑ کی مانند تھا کہ جو لا کر ان کے تخت پر ڈال دیا گیا۔ سلیمان سخت پریشان اور فکرمند ہوئے کہ انھوں نے ایک لمحے کے لیے اللہ سے غفلت کیوں کی اور کیوں اپنی طاقت پر بھروسہ کیا اس لیے انھوں نے توبہ کی اور بارگاہِ الٰہی کی طرف رجوع کیا۔ ایک اور تفسیر بھی لائق توجہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ: اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو ایک شدید بیماری کے ذریعے آزمایا۔ آپؑ کی یہ حالت ہو گئی کہ گویا ایک بےجان دھڑ کے مانند اپنے تخت پر پڑے تھے اور عربی زبان میں معمول ہے کہ بہت کمزور اور نہایت بیمار انسان کو "جسدِ بِلا روح" کہا جاتا ہے۔ آخرکار انھوں نے توبہ کی اور اللہ نے انھیں پہلی کی سی حالت میں لوٹا دیا ("اناب" کا معنی ہے سلامتی کے ساتھ لوٹنا اور واپسی)۔ البتہ اس تفسیر پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس صورت میں "والقيناه" ہونا چاہیے تھا۔ یعنی ہم نے سلیمان کو اس کے تخت پر بےروح جسم کے مانند ڈال دیا جبکہ آیت میں یوں نہیں ہے اور اسے تقدیر قرار دینا بھی خلاف ظاہر ہے۔ اس تفسیر کے مطابق لفظ "اناب" "صحت کے ساتھ لوٹنا" کے معنی میں ہے اور یہ بھی خلافِ ظاہر ہے لیکن اگر "اناب" کو خدا کی طرف توبہ اور رجوع کے معنی میں لیں تو اس تفسیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس صورت میں خلاف ظاہر بات صرف یہ رہ جائے گی کہ "القيناه"، کی ضمیر حذف کر دی گئی ہے۔ باقی رہے جھوٹے اور قبیح افسانے کہ جن کا ذکر بعض کتب میں بڑی آب و تاب سے کیا گیا ہے ظاہراً ان کی جڑ تلمود کے یہودیوں کی طرف جاتی ہے اور یہ سب اسرائیلیات اور خرافات ہیں کوئی عقل و منطق انہیں قبول نہیں کرتی۔ ان قبیح انسانوں میں کہا گیا ہے سلیمان کی انگوٹھی کھو گئی تھی یا وہ کسی شیطان نے چھین لی تھی اور خود ان کی جگہ تخت پر آ بیٹھا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ افسانے ہر چیز سے قبل انھیں گھڑنے والوں کے انحطاطِ فکری کی دلیل ہیں۔ یہی وجہ ہے محققینِ اسلام نے جہاں کہیں ان کا نام لیا ہے ان کے بےبنیاد ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نہ تو مقام نبوت اور حکومتِ الٰہی انگوٹھی سے وابستہ ہے اور نہ کبھی یہ مقام اللہ اپنے کسی نبی سے چھینتا ہے اور نہ کبھی وہ شیطان کو نبی کی شکل میں لاتا ہے، چہ جائیکہ افسانہ طرزوں کے مطابق وہ چالیسں دن تک نبی کی جگہ پر بیھٹے اور لوگوں کے درمیان حکومت و قضاوت کرے [بحوالہ: اس کی مزید وضاحت کے لیے کہ ان خرافات کی جڑ یہودی کتب ہیں ، کتاب "اعلام قرآن میں سلیمانؑ سے متعلق افسانوں کی بحث کی طرف رجوع کریں، ص ۳۹۲]۔ اگلی آیت میں حضرت سلیمانؑ کی توبہ کا مسئلہ گزشتہ آیت کی نسبت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، اس نے کہا: پروردگارا! بخش دے (قالَ رَبِّ اغْفِرْلِي) اور مجھے ایسی حکومت عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایاں نہ ہو کیونکہ تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے (وَ هَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)۔

دو سوال اور ان کے جواب: ۱۔ کیا سلیمان کے اس تقاضے سے بخل کی بو نہیں آتی؟

اس سوال کے جواب میں مفسرین نے بہت سی باتیں کی ہیں جن کا زیادہ حصہ ظاہرِ آیات سے ہم آہنگ نہیں ہے جو جواب زیادہ مناسب اور زیادہ منطقی نظر آتا ہے وہ یہ ہے: حضرت سلیمان الله تعالی سے ایک قسم کی حکومت چاہتے تھے جس میں خاص معجزات ہوں اور وہ ان کی حکومت کو باقی حکومتوں سے ممتاز کریں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر نبی کا ایک خاص معجزہ تھا حضرت موسیٰ کے لیے عصا اور یدِ بیضاء کا معجزہ تھا حضرت ابراہیم کے لیے آگ سرد ہو گئی تھی۔ حضرت صالح کے لیے ایک خاص قسم کی اونٹنی کا معجزہ تھا اور پیغمبرِ اسلام کا معجزہ قرآنِ مجید ہے۔ حضرت سلیمانؑ کی ایک حکومت تھی جو الٰہی معجزات سے بہرہ ور تھی۔ مثلاً ہواؤں پر حکومت، شیطانوں پر حکومت اور اسی طرح دیگر بہت سی خصوصيات۔ یہ چیز انبیاء کے لیے کوئی نقص شمار نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لیے کسی مخصوص معجزے کا تقاضا کریں کہ جو ان کی کیفیت کو پوری طرح واضح کرے، لہذا اس میں کوئی مانع نہیں کہ دوسرے لوگوں کی سلیمانؑ سے وسیع تر حکومت ہو لیکن اس میں حضرت سلیمانؑ کی حکومت کے امتیازات نہیں ہوئے۔ اس بات کی شاہد بعد والی آیت ہے کہ جس میں درحقیقت جنابِ سلیمان کی اس دعا کی اجابت ظاہر ہوتی ہے اس میں ہواؤں اور شیطانوں کے مسخر ہونے کا ذکر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ بات حضرت سلیمان کی حکومت کے امتیازات میں سے تھی۔

۲۔ کیا امام مہدی کی حکومت وسیع تر نہ ہو گی؟

گزشتہ عبارت ہی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیده ہے حضرت مهدی علیہ السلام (ارواحنا له الفداء) کی حکومت ایک عالمی حکومت ہو گی جو یقیناً حکومتِ سلیمانؑ سے بہت وسیع ہو گی۔ البتہ حضرت مهدی علیہ السلام کی حکومت اپنی تمام تر وسعت اور دیگر حکومتوں سے اپنی خصوصیات و امتیازات کے باوجود جنابِ سلیمانؑ کی حکومت سے مختلف ہو گی اور حضرت سلیمان کی حکومت انھی کے ساتھ مخصوص ہے۔ خلاصہ یہ کہ حضرت سلیمانؑ کی گفتگو کمی بیشی، افزوں طلبی اور الخصار جوئی کے لیے نہ تھی گفتگو تو نبوّت کے اس کمال کے بارے میں تھی کہ وہ معجزات کے لحاظ سے ایسی خصوصیات رکھتی ہو جو کسی نبی کو دیگر انبیاء سے مشخص کرے اور حضرت سلیمانؑ اسی کے طالب تھے۔ بعض روایات جو اہلِ بیت علیهم السلام کے طرق سے حضرت امام موسیٰ بن جعفر سے منقول ہیں میں بخل کے بارے میں سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ جو بہت جاذبِ توجہ ہے۔ حدیث اس طرح ہے: آپؑ کے ایک محب علی بن یقطین نے امامؑ سے سوال کیا: کیا جائز ہے کہ اللہ کا نبی بخیل ہو؟ امام نے فرمایا: نہیں علی بن یقطین نے عرض کی: پھر حضرت سلیمان نے یہ کیوں کہا : رَبِّ اغْفِرْ لي‏ وَ هَبْ لي‏ مُلْكاً لا يَنْبَغي‏ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدي پروردگارا! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا کر کہ میرے بعد کسی کے شایاں نہ ہو۔ اس آیت کا مفہوم و تفسیر کیا ہے؟ امام نے فرمایا: حکومت دو قسم کی ہے۔ ایک وہ جو ظلم، تسلط اور لوگوں کو مجبور کر کے حاصل کی جائے اور دوسری حکومت وہ کہ جو والد کی طرف سے ہو، جیسے ابراہیم کے خاندان کی، طالوت کی اور ذو القرنین کی حکومت۔ سلیمان خدا سے چاہتے تھے کہ وہ انہیں ایسی حکومت دے کہ ان کے بعد کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ یہ حکومت لوگوں پر ظلم اور قہر و جبر سے حاصل کی گئی ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے ہوا کو ان کے تابعِ فرمان کر دیا تاکہ جدھر وہ چاہیں وہ آرام سے چل پڑے، وہ ہوا صبح کے وقت بھی ایک ماہ کا فاصلہ طے کرتی اور عصر کے وقت بھی ایک ماہ کا فاصلہ طے کرتی۔ نیز اللہ تعالی نے شیطانوں کو ان کے تابعِ فرمان کر دیا وہ ان کے لیے مکانات تعمیر کرتے اور غواصی و پیراکی کا کام کرتے۔ علاوه ازیں انھیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی اور اللہ نے زمین پر ان کی حکومت قائم کی۔ لہذا اس زمانے کے اور بعد کے لوگ سمجھ گئے کہ سلیمان کی حکومت نہ لوگوں کی بنائی گئی تھی اور نہ قہر و غلبہ اور ظلم و ستم سے حاصل ہوئی تھی۔ علی بن یقطین کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: پھر پیغمبر اسلام سے منقول اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ آپ نے فرمایا: رحم الله اخى سليمان ابن داود ما كان ابخله اللہ رحم کرے میرے بھائی سلیمان بن داؤد پر وہ کیسے بخیل تھے؟ امام نے فرمایا: اس کے دو معانی ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اپنی ناموس اور حرمت کے بارے میں بخیل تھے کہ کوئی ان کے بارے میں غیرمناسب بات کرتے۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ کی مراد یہ تھی کہ اگر آیتِ قرآن کی یوں تفسیر کی جائے کہ جیسے جاہل کرتے ہیں کہ سلیمان نے اپنے بےنظیر اور منحصر حکومت کا تقاضا کیا تو پھر انھیں ایک بخیل شخص ماننا پڑے گا (اور یہ دراصل ان لوگوں کے لیے طنز ہے) [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴ ص ۴۵۹ بحوالہ کتاب علل الشرائع]۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں بعد والی آیات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے سلیمان کی درخواست قبول کر لی اور انھیں خصوصی امتیازات اور عظیم نعمات والی حکومت عطا کی۔ ان امتیازات و نعمات کا پانچ حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ ہواؤں کا ایک رہوار اور سواری کی طرح تابع ہونا۔ جیسا کہ فرمایا گیا: ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا تاکہ اس کے حکم کے مطابق آرام سے چلے اور جہاں کا وہ ارادہ کرے جا سکے (فَسَخَّرْنا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخاءً حَيْثُ أَصابَ)۔ واضح ہے کہ ایک وسیع و عریض حکومت میں تیز رفتار رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بوقتِ ضرورت سربراہِ حکومت تیزی کے ساتھ ملک کے تمام علاقوں میں آ جا سکے۔ اللہ نے یہ امتیاز حضرت سلیمانؑ کو دے رکھا تھا۔ ہوا کیسے ان کے تابعِ فرمان تھی؟ کتنی تیزی سے چلتی تھی؟ حضرت سلیمان اور ان کے ساتھ ہوا کے ذریعے سفر کرتے ہوئے کس چیز پر سوار ہوتے تھے اور کون سے عوامل انھیں گرنے سے بچاتے تھے اور ہوا کے دباؤ کی کمی بیشی اور دیگر مشکلات کے موقع پر ان کی حفاظت کرتے تھے؟ خلاصہ یہ کہ وہ کیسا اسرارآمیز وسیلہ تھا کہ جو اس زمانے میں حضرت سلیمان کے قبضے میں تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی جزئیات اور خصوصیات کے بارے میں جواب ہمارے سامنے واضح نہیں ہے، ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک معجزہ تھا کہ جیسے معجزے نبی کے اختیار میں دیئے جاتے تھے۔ یہ ایک عام اور معمول کے مطابق بات نہ تھی۔ یہ ایک عظیم نعمت اور اعجاز تھا اور ایسا کرنا قدرتِ الٰہی کے لیے سادہ اور آسان سا کام ہے۔ نیز ایسے بہت سے مسائل ہیں کہ اصولی طور پر تو ہم انہیں جانتے ہیں لیکن ان کی جزئیات سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ لفظ "رخاء" (نرم اور ملائم) جو اس آیت میں آیا ہے وہ سورہ انبیاء کی آیہ ۱۸ میں آنے والے لفظ "عاصفہ" (آندھی) سے ہم آہنگ نہیں ہے، وہاں فرمایا گیا ہے: وَلِسُلَيْمانَ الرِّيحَ عاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلى‏ الْأَرْضِ الَّتِي بارَكْنا فِيهَا ہم نے تیز ہوا کو سلیمان کے لیے مسخر کر دیا کہ جو اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جسے ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ اس سوال کا جواب دو طریقوں سے دیا جا سکتا ہے۔ پہلا یہ کہ "عاصفہ" (تیز ہوا) اس کی سرعتِ رفتار کے لیے ہے اور"رخاء" اس کے منظم اور آرام دہ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی ہوا کے تیز رفتار ہونے کے باوجود انھیں چلنے میں پریشانی کا احساس نہیں ہوتا تھا، بالکل ہمارے زمانے کے ترقی یافتہ تیز رفتار ذرائع آمد و رفت کی طرح۔ ان میں بھی بعض وسائل ایسے ہیں کہ انسان جب ان کے ذریعے سفر کرتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے جیسے اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھا ہے حالانکہ وہ چیز انتہائی تیز رفتاری سے چل رہی ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ بعض مفسرین نے ان دو آیات کو دو قسم کی ہواؤں کا ذکر سمجھا ہے اور دونوں کو اللہ نے حضرت سلیمانؑ کے اختیار میں دے رکھا تھا۔ ایک تیز رفتار ہوا تھی اور دوسری آہستہ رو۔ ۲۔ دوسری نعمت اللہ تعالٰی نے جنابِ سلیمانؑ کو عطا کی تھی کہ سرکش موجودات ان کے لیے مسخر کر دیئے گئے تھے اور ان کے اختیار میں دے دیئے گئے تھے تاکہ آپ ان سے مثبت کام لے سکیں۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے "اور تم نے شیطانوں کو اس کے لیے مسخر کر دیا اور ان میں سے ہر معمار اور غواص کو اس کا تابع فرمان بنا دیا" تاکہ ان میں سے کچھ خشکی میں اس کے کہنے کے مطابق تعمیرات کریں اور کچھ دریا میں غواصی اور غوطہ زنی کے کام میں آئیں (وَ الشَّياطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَ غَوَّاصٍ) ["شیاطین" کا "الريح" پر عطف ہے کہ جو "سخرنا" کا مفعول ہے اور "کل بناءوغواص" "شیاطین" کا بدل ہے]۔ اس طرح سے اللہ تعالی نے مثبت کاموں کے لیے موجود قوت ان کے اختیار میں دے دی۔ شیطان کہ جن کے مزاج ہی میں سرکشی ہے وہ ان کے لیے اس طرح سے مسخر ہو گئے کہ ان سے تعمیری اور اصلاحی کام لیا جانے لگا اور گراں بہا منابع سے استفادہ کے لیے استعمال ہونے لگے۔ صرف اس آیت میں نہیں بلکہ قرآنِ مجید کی متعدد آیتوں میں اس امر کی طرف اشارہ ہے شیطان حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے اور ان کے حکم کے مطابق مثبت کام کرتے تھے۔ البتہ بعض آیات مثلاً زیرِ بحث آیت اور سورہ انبیاء کی آیت ۸۲ میں "شیاطین" کا لفظ ہے جبکہ سورہ سبا کی آیت ۱۲ میں "جن" کا لفظ ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ "جن" ایک ایسا موجود ہے جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے لیکن عقل و شعور اور طاقت کا حامل ہے۔ نیز جنوں میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی اور اس میں کوئی مانع نہیں کہ حکمِ خدا سے وہ ایک نبی کے تابعِ فرمان ہو جائیں اور مفید کام انجام دیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ "شیاطین" کا ایک وسیع تر معنی ہو کہ جس میں سرکش انسان بھی شامل ہوں اور ان کے علاوہ بھی۔ لفظ "شیطان" کا اطلاق قرآن مجید میں ایک وسیع مفہوم پر ہوا ہے (مثلاً سوره انعام کی آیت ۱۱۲)۔ بہرحال الله تعالی نے حضرت سلیمان کو یہ طاقت دی تھی کہ وہ تمام سرکشوں کو اپنے سامنے جھکا سکیں۔ ۳۔ تیسری نعمت اللہ نے حضرت سلیمانؑ کو یہ عنایت کی تھی کہ انھوں نے تخریب کار اور فسادی قوتوں پر قابو پا رکھا تھا، کیونکہ بہرحال بعض شیطان ایسے بھی تھے کہ جن سے ایک مفید اور اصلاحی قوت کے طور پر کام نہیں لیا جا سکتا تھا اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ قید و بند میں رہیں تاکہ معاشرہ ان کی مزاحمت سے پیدا ہونے والے شر سے محفوظ رہے۔ جیسا کہ اگلی آیت میں قرآن کہتا ہے: اور شیطانوں کا ایک اور گروہ اس کے قابو میں زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا (وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ) [تشریحی نوٹ: "اٰخرین" کا عطف "كل بناء" پر ہے اور "سخرنا" کے مفعول کے حکم میں ہے اور "مقرنين" "اخرین" کی صفت ہے]۔ "مقرنين" "قرن" کے مادے سے مقارنت اور نزدیکی کے معنی میں ہے۔ یہاں یہ لفظ ہاتھ پاوں یا گردن کو زنجیر میں جمع کرنے کے معنی میں ہے۔ "اصفاد" "صفد" (بروزنِ "نمد") کی جمع ہے جو قید و بند کے وسیلے کے معنی میں ہے مثلاً ہتھکڑیاں اور بیٹریاں جو قیدیوں کو پہنائی جاتی ہیں۔ بعض نے مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفاد سے ایسی زنجیر مراد لی ہے کہ جس سے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور یہ مفهوم "مقرنين" کے معنی کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ ان کے الگ الگ گروپ تھے اور ہر گروپ کے لیے الگ قید اور بندش تھی۔ البتہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر "شیاطین" سے مراد شیاطین جن ہیں کہ جو فطری طور جسمِ لطیف رکھتے ہیں تو پھر زنجیر اور ہتھکڑیاں ان کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتیں۔ اس لیے بعض نے کہا ہے کی یہ تعبیر انہیں تخریبی کاروائیوں سے باز رکھنے کے معنی کے لیے کنایہ ہے۔ ۴۔ چوتھی نعمت اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان کو یہ دی تھی کہ انھیں بہت سے اختیارات دے رکھے تھے کہ جن کی وجہ سے کسی کو کچھ عطا کرنے اور یا نہ کرنے میں وہ صاحبِ اختیار تھے۔ جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے: تم نے اس سے کہا: یہ ہماری عطا و بخشش ہے جسے تو (مصلحت کے مطابق) چاہتا ہے عطا کر اور جس سے تو (مصلحت کے مطابق) روکنا چاہتا ہے روک لے تجھ پر کوئی حساب نہیں ہے۔ (هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ)۔ "بغیر حساب" یا تو اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے تیرے مقام عدالت کی بنا پر تجھے وسیع اختیارات دیئے ہیں اور تجھ سے پوچھ گچھ نہ ہو گی، یا اس کا معنی یہ ہے کہ عطائے الٰہی تجھ پر اس قدر ہے کہ جس قدر بھی بخش دے اس میں حساب نہیں ہو گا۔ بعض مفسرین نے اس تعبیر کو صرف گرفتار شیاطین سے مربوط جانا ہے کہ جسے تو چاہے (اور مصلحت دیکھے) آزاد کر دے اور جس کے لیے قید میں مصلحت سمجھے اسے قید کر دے۔ لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے کیونکہ یہ "عطاؤنا" کے ظاہری مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ۵۔ پانچویں نعمت جو خدا نے حضرت سلیمان کو دی وہ ان کا روحانی مقام تھا کہ جو اللہ نے ان کی اہلیت و قابلیّت کی بنا پر انھیں مرحمت فرمایا تھا۔ جیسا کہ زیر بحث آخری آیت میں فرمایا گیا ہے، اس کے لیے ہمارے پاس چند بلند اور نیک انجام ہے (وَ ِنَّ لَهُ عِنْدَنا لَزُلْفى‏ وَحُسْنَ مَآبٍ)۔ یہ جملہ درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جنھوں نے اس عظیم نبی کے مقامِ مقدس پر طرح طرح کی ناروا اور بےہودہ تہمتیں لگانے میں موجودہ تورات کی پیروی کی۔ اس آیت میں قرآن حضرت سلیمانؑ کو تمام تہمتوں سے مبرّا قرار دے رہا ہے اور خدا کے ہاں ان کے معزز مقام کی خبر دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ "حسن ماٰب" کہہ کر ان کے انجام بخیر کی خبر بھی دی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ تورات میں آنے والی اس ناروا نسبت کی نفی ہو کہ حضرت سلیمان نے بت پرستوں میں شادی کی تھی۔ جس وجہ سے ان کا میلان بت پرستی کی طرف ہو گیا تھا۔ موجودہ تورات یہاں تک کہتی ہے کہ انھوں نے بت خانہ بنایا تھا، لیکن قرآن "حسن ماب" کہہ کر ان تمام اوہام و خرفات پر خطِ بطلان کھینچ رہا ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ داستانِ سلیمان سے حاصل ہونے والا درس

شک نہیں کہ تاریخِ انبیاء ذکر کرنے سے قرآن کا مقصد یہ ہے کہ ان زندہ واقعات میں سے یعنی حقائق منعکس کیے جائیں تاکہ تربیتی پروگرام کی تکمیل ہو سکے۔ حضرت سلیمان کی داستان سے جو حقائق سامنے آتے ہیں ان میں یہ امور بھی شامل ہیں: و- ایک طاقتور حکومت، فراواں مادی وسائل اور وسیع اقتصادی وسائل و خوشحالی اور درخشاں تمدن ان سب کی موجودگی روحانی مقامات اور الٰہی و انسانی اقدار کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ زیر بحث آیات میں حضرت سلیمان کے پاس موجود تمام مادی نعمات کے ذکر کے بعد آخر میں بارگاہِ الٰہی میں ان کے بلند مقام اور نیک انجام کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: أ رأيتم ما أعطى سليمان بن داود من ملكه؟ فان ذلك لم يزده الّا تخشعا، ما كان يرفع بصره الى السّماء تخشعا لربّه! تم نے دیکھا کہ اللہ نے سلیمان کو کیسی عظیم حکومت دی اس کے باوجود ان میں خشوع و خضوع کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا یہاں تک کہ شدّتِ خشوع کے باعث وہ آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھتے تھے [بحوالہ: روح البیان، جلد ۸ ص ۳۹]۔ ب۔ ایک آباد ملک کا نظام چلانے کے لیے تیزرفتار رابطے کی بھی ضرورت ہے۔ مختلف قوتوں سے کام لینے کی بھی اور تخریب کار اور فسادی قوتوں کو روکنے کی بھی ضرورت ہے، نیز انسانی و سماجی مسائل کی طرف توجہ بھی درکار ہے۔ مختلف وسائل و ذرائع سے کام لے کر سرمایہ تولید کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ لائق اور اہل مدبروں اور افسروں کو وسیع اختیارات بھی دینا ضروری ہیں یہ تمام امور واضح طور پر اس داستان سے واضح ہوتے ہیں۔ ج- تمام قوتوں اور طاقتوں سے استفادہ کرنا چاہیے حتیٰ کہ شیطانوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان میں سے بھی جو توجیہ اور ہدایت کے قابل ہیں انھیں میں استعمال میں لانا چاہیے اور صرف انھیں قید اور بندش میں ہونا چاہیے جو بالکل قابلِ استفادہ نہیں ہیں۔

۱- سلیمان قرآن اور تورات میں

قرآن نے اس عظیم نبی کی جو تصویر پیش کی ہے، اس کے مطابق ایک پاک و پاکیزہ، عالی مرتبہ، مدبر اور عدالت پیشه انسان تھے جبکہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں (نعوذ باللہ) ایک عیاش، ہوس پرست اور بہت سی کمزوریوں کے حامل شخص کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ اسی کتاب میں حضرت سلیمان کی مناجات، مذہبی اشعار اور حکیمانہ باتیں بھی شامل ہیں کہ نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ایک حکیم و دانا، مجاہد اور جوانمرد تهے، یہ موجودہ تورات میں عجیب تضاد ہے۔ مزید وضاحت کے لیے اس تفصیلی بحث کی طرف رجوع کریں جو تفسیر نمونہ جلد ۱۸ میں سورة سبا کی آیت ۱۲ تا ۱۴ کی تفسیر کے ذیل میں اس ضمن میں کی گئی ہے۔

41
38:41
وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ
ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور اذیت دی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
38:42
ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ
(ہم نے اس سے کہا) اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھو کر مار، یہ ٹھنڈے پانی کا چشمہ نہانے اور پینے کے لیے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
38:43
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
اور ہم نے اسے اس کا خاندان عطا کیا اور ان کی طرح اور بھی ان کے ساتھ قرار دیئے تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہو اور صاحبان فکر کے لیے ایک نصیحت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
38:44
وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثٗا فَٱضۡرِب بِّهِۦ وَلَا تَحۡنَثۡۗ إِنَّا وَجَدۡنَٰهُ صَابِرٗاۚ نِّعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٞ
(اور ہم نے اس سے کہا) مٹھی بھر گندم کی (یااس جیسی) سینکیں لے اور اسے (اپنی بیوی کو) مار اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اسے صابر پایا، کیا اچھا بندہ تھا کہ خدا کی طرف بہت رجوع کرنے والا تھا۔

حضرت ایوب کی حیران کن زندگی اور ان کا صبر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں حضرت سلیمان کی حشمت اور دبدبے کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو خداداد قدرت کا مظہر تھی اور حضرت سلیمانؑ کی داستان رسول اکرمؑ اور مکہ میں موجود انسانوں کے لیے ایک نوید کے مانند تھی کہ جو سخت دباؤ میں تھے۔ زيرِ بحث آیات حضرت ایوبؑ کے بارے میں ہیں کہ جو صبر و استقامت کا نمونہ تھے، ان کا ذکر اس لیے ہے تاکہ اس وقت کے اور پھر آج کے اور آئندہ کے مسلمانوں کے لیے مشکلوں اور پریشانیوں میں استقامت، قیام اور جدّوجہد کا درس ہو اور انھیں پامردی کی دعوت دی جائے اور اس صبر و استقامت کا حسنِ انجام واضح کیا جائے۔ ایوبؑ تیسرے نبی ہیں کہ ان کی زندگی کا کچھ حصہ اس سورہ میں بیان کیا گیا ہے اور ہمارے عظیم نبیؐ پر فرض کیا گیا ہے کہ ان کی سرگزشت کو یاد رکھیں اور اسے مسلمانوں کے سامنے بیان کریں تاکہ وہ طاقت فرسا مشکلات سے ہراساں نہ ہوں اور اللہ کے لطف و رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں۔ حضرت ایوبؑ کا نام اور ان کی زندگی کا ذکر قرآن کریم کی کئی ایک سورتوں میں آیا ہے۔ سورہ نساء کی آیت ۱۶۳ اور سورہ انعام کی آیت ۸۴ میں دیگر انبیاء کے ساتھ ان کے صرف نام پر اکتفا کیا گیا ہے کہ جس سے ان کا مقامِ نبوت ثابت اور واضح ہوتا ہے برخلاف موجودہ تورات کے کہ جو انھیں انبیاء کے زمرے میں شمار نہیں کرتی بلکہ انھیں ایک نیک اور صالح انسان سمجھتی ہے کہ جن کی بہت سی اولاد تھی اور جو صاحبِ مال شخص تھے۔ سورہ انبیاء کی آیت ۸۳ اور ۸۴ میں ان کی زندگی کے کچھ کمالات بیان ہوئے ہیں اور سورہ ص کی زیر بحث آیات میں دیگر مقامات سے مفصل تر حالات بیان ہوئے ہیں اور یہاں اس مضمون میں چار آیتیں آئی ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کی: شیطان نے مجھے بہت تکلیف اور اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے (وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ إِذْ نادى‏ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطانُ بِنُصْبٍ وَعَذابٍ)۔ "نصب" ("عسر" کے وزن پر) اور "نصب" ("حسد" کے وزن پر) دونوں بَلا و مصیبت کے معنی میں ہیں۔ اس آیت میں۔ اولاً: بارگاہِ الٰہی میں حضرت ایوب کا بلنده مقام "عبدنا" (ہمارا بندہ) سے معلوم ہوتا ہے۔ ثانیًا: اشارتاً حضرت ایوب کی شدید اور طاقت فرسا تکلیف اور فراواں مصیبت کا ذکر ہے، اس ماجرے کی تفصیل قرآن میں نہیں آئی لیکن حدیث و تفسیر کی مشہور کتب میں اس کی تفصیل نقل ہوئی ہے۔ کسی شخص نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: وہ مصیبت جو حضرت ایوبؑ کو دامن گیر ہوئی، کس بنا پر تھی؟ (شاید سائل کا خیال تھا کہ ان سے کوئی غلط کام سرزد ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اللہ نے انھیں مصیبت میں مبتلا کر دیا)۔ امام نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: ایوب کفرانِ نعمت کی وجہ سے ان عظیم مصائب میں گرفتار نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس شکرِ نعمت کی وجہ سے ہوئے کیونکہ شیطان نے بارگاہِ خدا میں عرض کی کہ یہ جو ایوبؑ تیرا شکرگزار ہے وہ فراواں نعمتوں کی وجہ سے ہے جو تو نے اسے دی ہیں، اگر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں تو یقیناً وہ بھی شکرگزار بندہ نہیں ہو گا۔ اس بنا پر کہ ساری دنیا پر ایوب کا خلوص واضح ہو جائے اور انھیں عالمین کے لیے نمونہ قرار دیا جائے تاکہ لوگ نعمت اور مصیبت ہر دو عالم میں شاکر و صابر رہیں۔ اللہ نے شیطان کو اجازت دی کہ وہ حضرت ایوب کی دنیا پر قبضہ کر لے۔ شیطان نے االلہ سے خواہش کی ایوب کا فراواں مال و دولت، ان کی کھیتیاں، بھیڑ بکریاں اور آل اولاد سب ختم ہو جائے۔ آفتیں اور مصیبتیں آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا لیکن نہ صرف یہ کہ ایوب کے شکر میں کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اور اضافہ ہو گیا۔ خدا سے شیطان نے خواہش کی کہ اب اسے ایوب کے بدن پر بھی مسلم کر دے اور وہ اس طرح بیمار ہو جائیں کہ ان کا بدن شدّتِ درد کی لپیٹ میں آ جائے اور وہ بیماری کے بستر کا اسیر ہو جائے لیکن اس چیز نے بھی ان کے مقامِ شکر میں کمی نہ کی۔ پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایوب کا دل توڑ دیا اور ان کی روح کو سخت مجروح کیا۔ وہ یہ کہ بنی اسرائیل کے راہیوں کی ایک جماعت میں انھیں دیکھنے آئی اور انھوں نے کہا کہ تو نے کون سا گناہ کیا ہے جس کی وجہ سے ایسی دردناک عذاب میں مبتلا ہے؟ ایوبؑ نے جواباً کہا: میرے پروردگار کی قسم مجھ سے کوئی غلط کام نہیں ہوا میں ہمیشہ اللہ کی اطاعت میں کوشاں رہا ہوں اور میں نے جب بھی کوئی لقمہ غذا کا کھایا ہے کوئی نہ کوئی یتیم و بےنوا میرے دسترخوان پر ہوتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایوب دوستوں کی اس شماتت پر ہر دوسری مصیبت سے زیادہ دکھی ہوئے پھر بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا اور شکر کے صفاف و شیرں پانی کو کفران سے آلودہ نہ کیا، صرف بارگاہِ خدا کی طرف رخ کیا اور مذکور جملہ عرض کیا اور چونکہ آپ اللہ کے امتحانوں سے خوب عہدہ برآ ہوئے لہذا اللہ نے اپنے اس شاکر و صابر بندے پر پھر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے اور کھوئی ہوئی نعمتیں یکے بعد دیگرے پہلے سے بھی زیادہ انھیں عطا کیں تاکہ سب لوگ صبر و شکر کا نیک انجام دیکھ لیں [تشریحی نوٹ: یہ روایت نور الثقلین میں تفسیر علی بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ یہی مضمون تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور تفسیر صافی وغیرہ میں اور اعلام القرآن میں کچھ فرق کے ساتھ آیا ہے۔ عہدِ عتیق کی کتبِ میں کتابِ ایوب میں اس سے ملتے جلتے مطالب نظر آتے ہیں اگرچہ یه مطالب اسلامی کتب میں آنے والی تفصیلات سے مختلف ہیں]۔ بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شیطان نے حضرت ایوبؑ کو مختلف وسوسوں کے ذریعے اذیت دی تھی۔ کبھی کہتا تھا: تمھاری بیماری بہت طویل ہو گئی ہے اللہ نے تمھیں بھلا دیا ہے۔ کبھی کہتا تھا: تمھارے پاس کیا عظیم نعمتیں تھیں؟ کیسی صحت و طاقت تھی؟ سب خدا نے چھین لی ہیں اور تم پھر بھی اس کا شکر ادا کر رہے ہو؟ شاید یہ تفسیر اس بنا پر ہو کہ ان مفسرین نے ایوبؑ جیسے پیغمبر، ان کی جان، مال اور اولاد پر شیطان کا تسلط بعید سمجھا ہے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اولاً تو یہ تسلط فرمانِ خدا سے تھا، ثانیاً وقتی طور پر تھا اور ثالثاً اس عظیم نبی کی آزمائش اور بلندی مقام کے لیے تھا۔ اس لیے اس سے کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا۔ بہرحال کہتے ہیں کہ ان کی بیماری اور ناراحتی سات سال تک رہی اور ایک روایت کے مطابق سترہ برس تک رہی، یہاں تک کہ آپ کے نزدیک ترین ساتھی بھی ساتھ چھوڑ گئے، صرف ایک بیوی نے وفا میں استقامت کی اور یہ چیز خود ایک شاہد ہے بعض بیویوں کی وفاداری پر۔ لیکن ایوب کو جس چیز سے زیاد دکھ ہوتا تھا وہ دشمنوں کی شماتت تھی۔ اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت ایوب کو کھوئی ہوئی صحت و سلامتی پھر مل گئی اور رحمتِ الٰہی کے دروازے ان کے لیے کھل گئے تو لوگوں نے آپ سے سوال کیا کہ سب سے شدید درد آپ کون سا تھا تو آپ نے کہا: دشمنوں کی شماتت۔ انجامِ کار حضرت ایوبؑ آزمائشِ الٰہی کی اس گرم بھٹی سے صحیح سالم باہر نکل آئے اور رحمتِ خدا کا آغاز ہوا۔ انھیں حکم دیا گیا کہ "اپنا پاؤں زمین پر مارو" تو پانی کا چمشہ ابل پڑے گا کہ تیرے نہانے کے لیے ٹھنڈا بھی ہو گا اور تیرے پینے کے لیے عمدہ بھی۔ (ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هذا مُغْتَسَلٌ بارِدٌ وَشَرابٌ)۔ "اركض" "رکض" (بر وزن "مکث") کے مادہ سے زمین پر پاؤں مارنے کے معنی میں ہے اور کبھی یہ لفظ دوڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن یہاں پہلے والا معنی ہے۔ وہی خدا جس نے خشک اور تپتے بیابان میں شیرخوار اسماعیل کی ایڑیوں کے نیچے چشمہ پیدا کر دیا، وہی خدا کہ ہر حرکت و سکون اور ہر نعمت و عنایت جس کی طرف سے ہے، اس نے یہ فرمان ایوب کے لیے بھی صادر فرمایا۔ پانی کا چشمہ ابلنے لگا، ٹھنڈا اور میٹھا چشمه جو اندرونی و بیرونی سب بیماریوں کے لیے شفا بخش تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ اس چشمے میں ایک طرح کا معدنی پانی تھا جو پینے کے لیے بھی اچھا تھا اور بیماریوں کو دور کرنے کے لیے بھی مؤثر تھا۔ بہرحال کچھ بھی تھا ایک صابر و شاکر نبی کے لیے الله کا لطف و کرم تھا۔ "مغتسل" نہانے والے پانی کو کہتے ہیں۔ بعض نے اسے نہانے کی جگہ کے معنی میں سمجھا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال ٹھنڈا ہونے کے لحاظ سے پانی کی تعریف شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا بدن کی صحت و سلامتی کے لیے خصوصی تاثیر رکھتا ہے جیسا کہ موجودہ طب میں بھی ثابت ہو گیا ہے۔ نیز یہ اس امر کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ نہانے کے لیے بہترین پانی وہ ہے جو پاکیزگی اور لطافت کے لحاظ سے پینے کے پانی جیسا ہو۔ اس امر کا شاہد یہ ہے کہ اسلامی احکام میں بھی آیا ہے کہ: اس سے پہلے کہ پانی سے غسل کرو اس میں سے ایک گھونٹ پی لو [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱ باب ۱۳ از ابواب آداب الحمام، حدیث ۱]۔ پہلی اور اہم ترین خدائی نعمت صحت ہے، جب وہ ایوب کی طرف لوٹ آئی تو دوسری نعمتوں کے لوٹنے کی نوبت آئی، اس سلسلے میں قرآن کہتا ہے: ہم نے اسے اس کے گھر والے بخش دیئے (وَوَهَبْنا لَهُ أَهْلَهُ) اور ان کے ساتھ ان کے مانند بهی قرار دیئے (وَمِثْلَهُمْ مَعَهُم)۔ تاکہ ہماری طرف سے رحمت ہو اور صاحبانِ فکر و نظر کے لیے نصیحت بھی (رَحْمَةً مِنَّا وَ ذِكْرى‏ لِأُولِي الْأَلْبابِ)۔ ان کا گھرانہ ان کے پاس کیسے واپس آیا۔ اس سلسے میں مختلف تفسیریں موجود ہیں مشہور یہ ہے کہ مر چکے تھے اور اللہ نے انھیں پھر زندگی دی۔ لیکن بعض نے لکھا ہے کہ حضرت ایوبؑ کی طویل بیماری کے باعث وہ اِدھر ادھر بِکھر چکے تھے جب حضرت ایوب صحت یاب ہو گئے تو وہ پھر آپ کے گرداگرد جمع ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ وہ سب یا ان میں سے بعض افراد بھی طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے رحمت الٰہی ان کے شاملِ حال ہوئی وہ سب رو بصحت ہو گئے اور پروانوں کی طرح وجودِ پدر کی شمع کے گرد جمع ہو گئے۔ "اور ان کے ساتھ ان کے مانند بهی قرار دیئے" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان کے گھر کو پہلے سے بھی زیادہ آباد اور پر رونق کیا اور ایوب کو مزید بیٹے عطا کیے۔ ان آیات میں اگرچہ حضرت ایوب کی مال و دولت کے بارے میں بات نہیں کی گئی لیکن موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے پھر آپ کو مال و دولت بھی فراواں تر عطا فرمایا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں حضرت ایوب کی طرف نعماتِ الٰہی کے لوٹ آنے کا مقصد دو چیزیں شمار کی گئی ہیں: ایک ان پر اللہ کی رحمت کہ جو انفرادی پہلو رکھتی ہے اور درحقیقت صابر و شاکر بندے کے لیے اجر و انعام ہے اور دوسری تمام تاریخِ انسانی میں صاحبانِ عقل و خرد کے لیے درسِ ہدایت، تاکہ وہ مشکلوں اور سختیوں میں صبر و شکیبائی کا راستہ نہ چھوڑیں اور رحمتِ الٰہی کے امیدوار رہیں۔ اب صرف ایک مشکل ایوب کے لیے باقی تھی وہ تھی وہ قسم جو انھوں نے اپنی بیوی کے بارے میں کھائی تھی اور وہ یہ تھی کہ انھوں نے ان سے کوئی خلافِ مرضی کام دیکھا تھا لہذا انھوں نے اس بیماری کی حالت میں قسم کھائی کہ جس وقت ان میں طاقت پیدا ہو گی تو وہ اسے ایک سو یا اس اسے کچھ کم کوڑے ماریں گے، لیکن صحت یابی کے بعد وہ چاہتے تھے کہ اس کی خدمات اور وفاداریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے معاف کر دیں لیکن قسم اور خدا کے نام کا مسئلہ درمیان میں تھا۔ خدا نے یہ مشکل بھی ان کے لیے حل کر دی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ ان سے فرمایا گیا: گندم کی شاخوں (یا اسی قسم کی کسی چیز) کی ایک مٹھی بھر لو اور اس کے ساتھ مارو اور اپنی قسم نہ توڑو (وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ)۔ "ضغث" (بر وزنِ "حرص") گندم یا جَو کی نرم و نازک شاخوں کی ایک مٹھی یا خرما کے خوشے کے تار یا پھولوں کی طرح کی چیزوں کی ایک مٹھی کے معنی میں ہے۔ حضرت ایوب کی بیوی کا نام ایک روایت کے مطابق لیا بنتِ یعقوب تھا۔ اس بارے میں کہ اس سے کون سی غلطی ہوئی تھی؟ مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ مشهور مفسر ابنِ عباس سے نقل ہوا ہے کہ شیطان یا (کوئی شیطان صفت) ایک طبیب کی صورت میں ایوب کی بیوی کے پاس آیا اس نے کہا: میں تیرے شوہر کا علاج کرتا ہوں صرف اس شرط پر جس وقت وہ ٹھیک ہو جائے تو وہ مجھ سے یہ کہ دے صرف میں نے اسے شفایاب کیا ہے، اس کے علاوہ میں اور کوئی اجرت نہیں چاہتا۔ ان کی بیوی نے جو ان کی مسلسل بیماری کی وجہ سے سخت پریشان تھی اس شرط کو قبول کر لیا اور حضرت ایوبؑ کے سامنے یہ تجویز پیش کی۔ حضرت ایوب جو شیطان کے جال کو سمجھتے تھے، بہت ناراض ہوئے اور قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کو سزا دیں گے۔ بعض نے کہا ہے کہ جنابِ ایوبؑ نے اسے کسی کام کے لیے بھیجا تھا تو اس نے دیر کر دی، حضرت ایوب چونکہ بیماری سے تکلیف میں تھے، بہت پریشان ہوئے اور اس طرح کی قسم کھائی۔ بہرحال اگر وہ ایک طرف سے اس قسم کی سزا کی مستحق تھی تو دوسری طرف اس طویل بیماری میں اس کی وفاداری، خدمت اور تیمارداری، اس قسم کے عفو و درگزر کا استحقاق ہی رکھتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ گندم کی شاخوں کے ایک دستہ یا خوشہ خرم کی لکڑیوں سے مارنا ان کی قسم کا واقعی مصداق نہیں تھا لیکن خدا کے نام کے احترام کی حفاظت اور قانون شکنی پھیلنے سے روکنے کے لیے انھوں نے یہ کام کیا اور یہ بات صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی مستحق عفو و درگزر ہو، اور انسان چاہے کہ عفو و درگزر کے باوجود قانون کے ظاہر کو بھی محفوظ رکھے ورنہ ایسے مواقع پر جہاں استحقاق عفو و بخشش نہ ہو وہاں ہرگز اس کام کی اجازت نہیں ہے [تشریحی نوٹ: اس معنی کی نظیر حدودِ اسلامی اور ان کے اجرا کے باب میں خطا کار بیماروں کے بارے میں بھی آئی ہے (کتاب الحدودہ۔ ابواب حد الزنا)]۔ آخر میں زیر بحث آیات کے آخری جملے میں جو اس داستان کی ابتداء و انتہا کا نچوڑ ہے، فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے صابر و شکیبا پایا، ایوب کتنا اچھا بندہ تھا جو ہماری طرف بہت زیادہ بازگشت کرنے والا تھا۔ (إِنَّا وَجَدْناهُ صابِراً نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ)۔ یہ بات کہے بغیر ہی ظاہر ہے کہ ان کا خدا کی بارگاہ میں دعا کرنا اور شیطان کے وسوسوں اور درد، تکلیف اور بیماری کے دور ہونے کا تقاضا کرنا، مقامِ صبر و شکیبائی کے منافی نہیں اور وہ بھی سات سال اور ایک روایت کے مطابق اٹھارہ سال تک بیماری اور فقر و ناداری کے ساتھ نبھانے اور شاکر رہنے کے بعد۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس جملے میں حضرت ایوب کی تین اہم صفات کے ساتھ توصیف کی گئی ہے کہ جو کسی میں بھی پائی جائیں وہ ایک انسانِ کامل ہوتا ہے۔ ۱- مقامِ عبودیت ۲- صبر و استقامت ۳- پے درپے خدا کی طرف بازگشت۔

چنداہم نکات: ۱- ایوب کی داستان کے اہم درس

اس کے باوجود کہ اس صابر پیغمبر کی ساری سرگزشت اس سورہ کی صرف چار آیتوں میں آئی ہے لیکن یہی مقدار جو قرآن نے بیان کی ہے بہت سے اہم حقائق کے لیے ہدایت بخش ہے۔ الف: خدا کی طرف سے آزمائش کا میدان اتنا وسیع اور کشادہ ہے کہ عظیم پیغمبر تک بھی شدید ترین اور سخت ترین آزمائشوں سے گزارے جاتے ہیں کیونکہ اس جہان کی زندگی کا مزاج اسی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔ اصولی طور پر انسانوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں سخت قسم کی آزمائشوں کے بغیر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ب: شدت اور سختی کے بعد فرخ و کشائش، یہ دوسرا نکتہ ہے جو اس داستان میں چھپا ہوا ہے۔ جب امواجِ مشکلات و بَالا ہر طرف سے انسان کو دباتی ہیں تو اسے نہ صرف مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے رحمتِ الٰہی کے دروازے کھلنے کی نشانی اور ایک تمہید سمجھنا چاہیے، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: عند تناهى الشدة تكون الفرجة، وعند تضايق حلق البلاء يكون الرخاء جب سختیاں اپنی بلندی کو پہنچ جاتی ہیں تو فرج و کشائش نزدیک ہو جاتی ہے اور وقت بلا و مصیبت کے حلقے زیادہ تنگ ہو جاتے ہیں تو راحت و آسودگی آن پہنچتی ہے [بحوالہ: نہج البلاغہ کلماتِ قصار جملہ ۳۵۱]۔ ج: اس داستان سے زندگی کی سخت مشکلات اور مصائب کے بعض فلسفے اچھی طرح سے واضح ہو جاتے ہیں، جو لوگ توحید کی بحث میں آفات اور بلاؤں کو برہانِ نظم کے برخلاف مادہ نقض سمجھتے ہیں انھیں یہ داستان یہ جواب دیتی ہے، کہ ان سخت حوادث کا وجود بعض اوقات انسانوں کی زندگی میں عظیم انبیاء سے لے کر عام انسانوں تک ایک ضرورت ہوتا ہے، امتحان و آزمائش کی ضرورت، چھپی ہوئی صلاحیتوں کے ظاہر ہونے کی ضرورت اور انسان کے وجود کے ارتقاء و تكامل کی ضرورت۔ لہذا بعض روایات میں حضرت صادقؑ سے منقول ہوا ہے: إن اشد الناس بلاء الانبياء ثم الّذي يلونهم الأمثل فالأمثل سب لوگوں سے زیادہ خدا کے پیغمبر سخت آفتوں اور مشکلات میں گرفتار ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے قرار پاتے ہیں، اپنی شخصیت و مقام کے لحاظ اور مناسبت سے [بحوالہ: سفینۃ البحار مادہ "بلا" جلد ۱ ص ۱۰۵]۔ اسی امامِ بزرگوار سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: إن في الجنة منزلة لا يبلغها عبدًا الّا بالإبتلاء جنت میں ایک مقام ایسا ہے جس تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا مگر ابتلائات اور مشکلات سے گزر کر [بحوالہ: سفینۃ البحار مادہ "بلا" جلد ۱ ص ۱۰۵]۔ د: یہ داستان تمام سچے مومنین کو تمام زندگی میں صبر و شکیبائی کا درس دیتی ہے، وہی صبر جس کا انجام ہر میدان میں کامیابی و کامرانی ہے اور جس کا نتیجہ پروردگار کی بارگاہ میں "مقامِ محمود" اور "بلند منزلت" کا اصول ہے۔ ھ: جو آزمائش کسی انسان کو پیش آتی ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے دوستوں اور ساتھیوں کی بھی آزمائش ہوتی ہے تاکہ ان کی صداقت اور دوستی کا وزن بھی جانچ لیا جائے کہ وہ کس حد تک وفادار ہیں۔ حضرت ایوبؑ جس وقت اپنا مال و ثروت اور صحت و سلامتی کھو بیٹھے، تو ان کے دوست و احباب بھی تھک کر منتشر ہو گئے اور دوستوں اور دشمنوں نے مل کر شماتت و ملامت کے لیے زبان کھولی اور ہر زمانے سے بہتر انھوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی اور ہم نے دیکھ لیا کہ ان کی زبان سے ایوبؑ کو جو دکھ پہنچا تھا وہ دوسرے ہر رنج سے زیادہ تھا۔ کیونکہ مشهور ضرب المثل کے مطابق نیزه و تلوار کے زخم تو مل جاتے ہیں لیکن جو زخم زبان دل پر لگاتی ہے وہ بھرنے والا نہیں ہوتا۔ و: خدا کے دوست وہ نہیں ہوتے جو صرف نعمتوں کے ان کی طرف رخ کرنے کے وقت اس کی یاد میں رہتے ہوں، بلکہ واقعی دوست وہ ہوتے ہیں جو فراخی، تنگی، مصیبت و نعمت، بیماری و صحت اور فقر و غنا ہر حالت میں اس کی یاد میں رہیں اور مادی زندگی کی دگرگونیاں ان کے ایمان و افکار میں دگرگونی پیدا نہ کریں۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے اس غرّا و پرشور خطبہ میں جو آپؑ نے اپنے باصفا دوست "ہمام" کے لیے پرہیزگاروں کے اوصاف میں بیان فرمایا تھا اور ایک سو سے زیادہ صفات متقین کی بیان کی تھیں، اس کے اہم اوصاف میں سے ایک یہ تھی: نزلت أنفسم منهم في البلاء التي نزلت في الرخاء ان کی روح بلا و مصیبت کے وقت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ راحت و آرام کی حالت میں (اور زندگی کی تبدیلیاں انھیں دگرگوں نہیں کرتیں)۔ ز: یہ ماجرا ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ نہ تو امکانات و وسائلِ مادی کا ہاتھ سے نکل جانا اور مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ کا رخ کرنا، انسان کے لیے خدا کی بےلطفی کی دلیل ہے اور نہ ہی امکاناتِ مادی کا فراہم ہونا، پروردگار کے قرب سے دوری کی دلیل ہے، بلکہ انسان ان تمام وسائل و امکانات کے ہوتے ہوئے خدا کا خاص بنده ہو سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ مال و مقام و فرزند کا اسیر نہ ہو جائے اور ان کے ہاتھ سے نکل جانے سے صبر کی زمام ہاتھ سے نہ چھوڑ دے۔

۲۔ ایوبؑ قرآن و تورات میں

اس عظیم پیغمبر کا پاک چہرہ جو صبر و شکیبائی کا مظہر ہے۔ یہاں تک کہ صبرِ ایوبؑ سب کے لیے ضرب المثل ہو گیا ہے۔ قرآن مجید میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے کس طرح سے اس داستان کی ابتدا اور انتہا میں ان کی تعریف کی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی سرگزشت بھی جاہلوں یا دانا دشمنوں کی دستبرد سے محفوظ نہ رہی اور ایسے ایسے خرافات ان پر باندھے گئے جن سے ان کی مقدس و پاک شخصيت منزہ ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیماری کے وقت حضرت ایوب کے بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے اور ان میں اتنی بدبو پیدا ہو گئی تھی کہ بستی والوں نے انھیں آبادی سے باہر نکال دیا۔ بِلاشک و شبہ اس قسم کی روایت جعلی اور مَن گھڑت ہے، چاہے وہ حدیث کی کتابوں کے اندر ہی کیوں نہ ذکر ہوئی ہو۔ کیونکہ پیغمبروں کی رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ ہر وقت اور ہر زمانے میں میل و رغبت کے ساتھ ان سے مل سکیں اور جو بات لوگوں کے تنفّر و بےزاری اور افراد کے ان سے دور رہنے کا موجب بنے، چاہے وہ تنفرآمیز بیماریاں ہوں یا عیوبِ جسمانی یا اخلاقی خشونت و سختی، ان میں نہیں ہوں گی، کیونکہ یہ چیزیں ان کے فلسفہ رسالت سے تضاد رکھتی ہیں۔ قرآن مجید پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کہتا ہے: فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِك رحمتِ الہی کے سایے میں تو ان کے لیے نرم و مہربان ہو گیا کیونکہ اگر تو سخت اور سنگ دل ہوتا تو وہ تیرے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ (آل عمران ـــــــــــ ۱۵۹) یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ پیغمبر کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اس کے اطراف سے منتشر ہو جائیں۔ لیکن تورات میں ایک مفصل قصہ"ایوب" کے بارے میں نظر آتا ہے جو "مزامیرِ داؤد" سے پہلے موجود ہے۔ یہ کتاب ۴۲ فصل پر مشتمل ہے اور ہر فصل میں تفصیلی بحث موجود ہے۔ بعض فصول میں تو انتہائی تکلیف دہ مطالب نظر آتے ہیں، ان میں سے تیسری فصل میں ہے کہ: " ایوب نے شکایت کے لیے زبان کھولی اور بہت زیادہ شکوہ کیا، جب کہ قرآن نے ان کی صبر و شکیبائی کی تعریف کی ہے"۔

۳۔ عظیم پیغمبروں کی "اوّاب" کہہ کر توصیف

اسی سورہ "ص" میں تین پیغمبروں کی "اوّاب" کے لفظ کے ساتھ توصیف کی گئی ہے اور وہ ہیں: داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام اور ایوب علیہ السلام سورہ ق کی آیت ۳۶ میں یہ صفت تمام جنتیوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔ هذا ما تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ یہ تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ "اوّابین" کا ایک بلند و بالا مقام ہے۔ جب ہم لغت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ "اوّاب" "اوب" بروزنِ "قول" کے مادہ سے رجوع کرنے اور بازگشت کے معنی میں ہے۔ یہ رجوع اور بازگشت خصوصاً اواب کے صیغہ مبالغہ کی طرف دیکھیں تو تکرار اور کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "اوّابین" ان عوامل کے مقابلے میں بہت حساس ہیں جو انہیں خدا سے دور کرتے ہیں، خواہ وہ عالمِ مادہ کی دل فریبیاں ہوں یا نفس اور شیاطین کے وسوسے اگر وہ ایک لمحے کے لیے دور ہو جاتے ہیں تو فوراً متوجہ ہو کر اس کی طرف لوٹتے ہیں اور اگر ایک لحظے کے لیے غافل ہو جاتے ہیں تو اس کی یاد کر کے تلافی کرتے ہیں۔ یہ بازگشت ممکن ہے خدائی اوامر و نواہی کی طرف بازگشت ہو یعنی ان کا لگاؤ ہر جگہ اس کے فرمان ہی سے ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹتے ہیں سورہ صبا کی آیت ۱۰ میں ہے: يا جِبالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں ہے اس سے اوّاب کا ایک اور معنی بھی معلوم ہوتا ہے اور وہ ہم آواز ہونا ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے۔ اے پہاڑو اور اے پرندو! داؤد کے ساتھ ہم صدا ہو جاؤ۔ اس بنا پر اوّاب وہ شخص ہے جو قوانین، خلقت، عوامرِ الہی اور موجودات عالم کی عمومی حمد و تسبیح کے ساتھ ہم صدا اور ہم آہنگ ہو اور اتفاق کی بات ہے کہ "ایوّب" کے معنی میں سے ایک "اوّاب" بھی ہے۔

45
38:45
وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ
اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو کہ جو (طاقت ور) ہاتھوں والے اور (بینا) آنکھوں والے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
38:46
إِنَّآ أَخۡلَصۡنَٰهُم بِخَالِصَةٖ ذِكۡرَى ٱلدَّارِ
ہم نے انہیں خاص خلوص کے ساتھ خالص کیا تھا وہ آخرت کی یاد آوری تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
38:47
وَإِنَّهُمۡ عِندَنَا لَمِنَ ٱلۡمُصۡطَفَيۡنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
اور وہ ہمارے نزدیک بر گزیدہ اور نیک افراد میں سے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
38:48
وَٱذۡكُرۡ إِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ وَكُلّٞ مِّنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
اور اسماعیل، الیسع اور ذاالکفل کو بھی یاد کرو، وہ سب نیک لوگوں میں سے ہیں۔

تفسیر: چھ اور عظیم پیغمبر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی زندگی کے بارے میں شرح و بسط کے ساتھ گفتگو تھی نیز حضرت ایوبؑ جیسے عظیم پیغمبر کی زندگی کے اہم نقاط کے سلسلہ میں مختصر سا ذکر تھا۔ زیرِ بحث آیات میں خدا کے عظیم ترین پیغمبروں میں سے چھ دیگر پیغمبروں کا نام ذکر کیا جا رہا ہے۔ نیز ان کی وہ عمدہ صفات جو تمام انسانوں کے لیے نمونہ اور اسوہ بن سکتی ہیں اختصار کے ساتھ بیان کی جا رہی ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان چھ عظیم پیغمبروں کے لیے چھ ایسے مختلف اوصاف ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک خاص معنی و مفهوم رکھتا ہے۔ پہلے تو روئے سخن پیغمبر اسلام کی طرف کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: یاد کر ہمارے بندوں ابراہیم و اسحاق اور یعقوب کو (وَ اذْكُرْ عِبادَنا إِبْراهِيمَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ)۔ مقام عبودیت و بندگی پہلی صفت ہے جو ان کے لیے بیان ہوئی ہے اور واقعاً ہر چیز اسی میں جمع ہے۔ خدا کی بندگی یعنی اس کے ساتھ مطلق وابستگی، یعنی اس کے ارادے کے سامنے اپنا کوئی ارادہ نہ رکھنا اور ہر حالت میں اس کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا۔ خدا کی بندگی یعنی اس کے غیر سے بےنیازی اور ماسوی اللہ سے بےاعتنائی اور صرف اسی کے لطف و کرم پر نظر رکھنا، یہی انسان کے ارتقاء کی بلندی اور اس کا برترین شرفِ افتخار ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ طاقتور ہاتھوں والے اور بینا آنکھوں کے مالک تھے۔ (أُولِي الْأَيْدِي وَ الْأَبْصار)۔ کتنی عجیب تعبیر ہے ہاتھوں اور آنکھوں والے: "ایدی" "ید" کی جمع ہے اور "ابصار" "بصر" کی جمع ہے اور آنکھ اور بینائی کے معنی میں ہے۔ انسان اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دو قوتوں کا محتاج ہے۔ ۱۔ ادراک اور پہچان کی قوت۔ ۲۔ کام اور عمل کی قوت۔ دوسرے لفظوں میں "علم" اور "قدرت" سے مدد لینا چاہیے تاکہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔ خدا نے ان پیغمبروں کی توصیف کی ہے کہ کاموں کو انجام دینے کے لیے ان کے پاس درک اور پہچان کی کافی طاقت اور قوی بصارت موجود تھی۔ وہ کم خبر افراد نہیں تھے، ان کی سطح معرفت اونچی تھی۔ دین خدا، اسرارِ آفرینش اور رموز زندگی کے بارے میں ان کی آگاہی بہت تھی۔ ارادہ اور قوت عمل کے لحاظ سے بہت ضعیف و ناتواں افراد نہیں تھے، بلکہ بااراده، قوی اور آہنی و قاطع ارادے کے مالک تھے۔ یہ تمام راہِ حق کے راہ روؤں کے لیے ایک نمونہ ہے کہ وہ مقام عبودیت اور خدا کی بندگی کے بعد، ان دو تیز دھار ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ یہاں ہاتھ اور آنکھ سے مراد دو خصوصی اعضاء نہیں ہیں، کیونکہ بہت سے ایسے افراد ہیں جو یہ دونوں اعضاء تو رکھتے ہیں لیکن نہ تو کافی ادراک و شعور رکھتے ہیں اور نہ ہی قوتِ ارادہ اور نہ عمل کرنے پر قدرت، بلکه یہ دو صفات علم اور طاقت کے لیے کنایہ ہیں۔ ان کی چوتھی صفت کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ہم نے انہیں خاص قسم کے خلوص کے ساتھ خالص کیا ہے (إِنَّا أَخْلَصْناهُمْ بِخالِصَةٍ)- اور وہ فی دار آخرت کی یادآوری (ذِكْرَى الدَّارِ) ["ذکري الدار" ممکن ہے مبدائے محذوف کی خبر ہو اور تقدیر میں"هی ذکری الدار" تھا یہ بھی ممکن ہے کہ "خالصة" سے "بدل" ہو]۔ ہاں وہ ہمیشہ دوسرے جہان کی یاد میں رہتے تھے۔ ان کی نگاہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی اور اس کی لذّات تک محدود نہیں تھی وہ اس زود گزر زندگی کے علاوہ بےپایاں نعمتوں سے معمور ایک جاودانی گھر کو دیکھتے تھے اور ہمیشہ یہ اس کے لیے سعی و کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس بنا پر "الدار" (گھر) جو مطلق طور پر ذکر ہوا ہے سے مراد آخرت کا گھر ہے۔ گویا اس کے علاوہ کوئی اور گھر وجود ہی نہیں رکھتا اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی طرف جانے والی ایک گزرگاہ ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں "دار" سے مراد دارِ دنیا ہے اور "ذِكْرَى الدَّارِ" کی تعبیر اس نیک نامی کی طرف اشارہ ہے جو ان پیغمبروں کے لیے اس دنیا میں باقی ره گئی۔ لیکن یہ احتمال خصوصاً "الدار" کے مطلق ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت ہی بعید نظر آتا ہے اور لفظ "ذکری" کے ساتھ بھی چنداں ہم آہنگ نہیں ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد دارِ آخرت میں نیک نامی اور ذکرِ جمیل ہے، جب کہ یہ بھی بعید نظر آتا ہے۔ بہرحال دوسرے لوگوں کے لیے بھی ممکن ہے کبھی کبھی آخرت کے گھر کو یاد کر لیں۔ خصوصاً جب ان کے دوستوں میں سے کوئی دنیا سے چلا جاتا ہے یا جب کسی عزیز کے جنازے کے ساتھ یا اس کی یاد منانے کے لیے وہ حاضر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ یاد خالص نہیں ہوتی کہ دنیا کی یاد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے لیکن مردانِ خدا خالص، عمیق، دائمی اور مسلسل توجہ دوسرے جہان کی طرف رکھتے ہیں۔ گویا وہ ہمیشہ ان کی آنکھوں کے سامنے حاضر ہے اور آیت میں "خالصة" کی تعبیر اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ ان کی پانچویں اور چھٹی صفت بعد والی آیت میں آئی ہے، فرمایا گیا ہے: وہ ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک افراد میں سے ہیں ((وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ) [تشریحی نوٹ: "مصطفين" (فا کی زبر کے ساتھ) "مصطفٰی" کی جمع ہے اور اصل میں "مصطفين" تھا پہلی "یا" حزف ہو گئی تو "مصطفين" ہو گیا]۔ ان کا ایمان اور عملِ صالح اس بات کا سبب بنا کہ خدا انھیں اپنے بندوں میں سے چن لے اور منصبِ نبوت و رسالت کے ساتھ مفتخر و معزز بنائے اور ان کی نیکوکاری اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ بطورِ مطلق "اخیار" (نیکوکار) کہلانے کے حق دار ہو گئے۔ ان کے افکار نیک، ان کے اخلاق نیک، ان کے اعمال اور ساری کی ساری زندگی نیک ہے اور"آنچہ خوباں ہمہ دارند آنہا تنہا دارند"۔ اسی بنا پر بعض مفسرین نے اس تعبیر سے کہ خدا بغیر کسی شرط کے انھیں "اخیار" کے لفظ سے پکار رہا ہے، انبیاء کے لیے مقامِ عصمت کا مفہوم لیا ہے [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۶ ص ۲۱۷]۔ "عندنا" )ہمارے نزدیک) کی تعبیر بہت معنی خیز ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا برگزیدہ اور نیک ہونا لوگوں کے نزدیک نہیں ہے، جو بعض اوقات اپنی ذاتی جانچ کے لیے چشم پوشی کو جائز سمجھ لیتے ہیں، بلکہ ان کا ان دو صفات متصف ہونا ہمارے نزدیک ثابت شدہ ہے، جو دیکھ بھال کر اور ان کے ظاہر و باطن کو جانچ کر انجام پایا ہے۔ مذکورہ تین پیغمبروں کے اہم مقام کی طرف اشارہ کرنے کے بعد دیگر تین انبیاء کی باری آتی ہے، فرمایا گیا ہے: اور یاد کر اسماعیل، الیسع اور ذاالکفل کو، جو سب کے سب اخیار اور نیک لوگوں میں سے تھے۔ (وَاذْكُرْ إِسْماعِيلَ وَ الْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِنَ الْأَخْيارِ)۔ ان میں سے ہر ایک صبر و استقامت اور فرمانِ خدا کی اطاعت میں ایک اسوہ اور نمونہ تھا خصوصاً اسماعیل جو اپنی جان کو اس کی راہ میں فدا کرنے پر تیار ہو گئے اور اسی بنا پر ان کا نام ذبیح اللہ ہو گیا۔ اپنے باپ کے ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر میں اور اس عظیم مرکز کو رونق بخشنے اور بہت سی دوسری ذمہ داریوں میں بہت زیاده ہاتھ بٹاتے تھے۔ ان کی زندگی کی طرف توجہ کرنا پیغمبرِ اسلامؑ اور تمام مسلمانوں کے لیے تقویت بخش ہے۔ ایسے عظیم مردانِ خدا کی زندگی کا مطالعہ انسانوں کی زندگی میں راہنمائی کرتا ہے اور ان میں تقویٰ، فداکاری اور ایثار و قربانی کی روح زندہ کرتا ہے اور سخت مشکلات میں انھیں ثابت قدم رکھتا ہے۔ "كُلٌّ مِنَ الْأَخْيارِ" کی تعبیر، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہی توصیف (الاخیار) بعینہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے بارے میں آخری صفت کے طور پر آئی ہے۔ ممکن ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ تین پیغمبر بھی گزشتہ تین پیغمبروں کی تمام صفات کے حامل ہیں۔ کیونکہ خیرِ مطلق کا ایک وسیع معنی ہے جس میں نبوت بھی آخرت کے گھر کی طرف توجہ اور مقام عبودیت و علم و قدرت میں شامل ہو جاتی ہے۔ ان تینوں پیغبروں میں سے حضرت اسماعیلؑ سب سے زیادہ مشہور اور زیادہ جانے پہچانے ہیں لیکن "الیسع" جن کا نام صرف دو مرتبہ قرآن میں آیا ہے (یہاں اور سورہ انعام کی آیہ ۸۶ میں) کے بارے میں قرآن کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وه بھی خدا کے بزرگ پیغمبروں میں سے تھے اور ان بزرگوں میں سے تھے جن کے بارے میں فرمایا گیا ہے: وَكلًّا فَضَّلْنا عَلَى الْعالَمِينَ ہم نے ان میں سے ہر ایک کو عاملین پر برتری و فضیلت بخشی۔ (انعام ــــــــــــــــ ۸۶) بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر یوشع بن نون ہیں جن پر "الف و لام" داخل ہوا ہے اور اس کی "شين" "سین" سے بدل گئی ہے اور کسی غیرعربی کے نام پر (جبکہ یہ عبرانی ہے) الف و لام کا داخل ہونا کوئی نئی چیز نہیں ہے، جس طرح سے کہ عرب "اسکندر" کو "الاسکندر" کے نام سے پہچانتے ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے اسے ایک عربی لفظ سمجھتے ہیں جو "یسع" (ماده "وسعت" فعلِ مضارع) سے لیا گیا ہے اور اسمی پہلو اختیار کرنے کے بعد الف و لام جو مشخصات اسم میں سے ہے اس پر آ گیا ہے۔ سورہ انعام کی آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اولادِ ابراہیم میں سے تھے لیکن یہ واضح نہیں کرتی کہ آیا وہ بنی اسرائیل میں سے تھے یا نہیں؟ تورات کی کتاب "بادشاہان" میں ان کا نام "الیشع" بن "شافات" لکھا ہوا ہے اور عبرانی زبان میں الیشع کا معنی "ناجی" اور "شافات" کا معنی "قاضی" ہے۔ بعض اسے اور "خضر" کو ایک ہی سمجھتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے اور جو بعض اسے"ذاالکفل" ہی سمجھتے ہیں تو زیرِ بحث آیت کے صریع برخلاف ہے کیونکہ آیت نے ذاالکفل "الیسع" پر عطف کیا ہے۔ بہرحال وہ ایک بلند مقام اور پراستقامت پیغمبر ہیں اور ان کی زندگی سے سبق حاصل کرنے کے لیے ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ باقی رہے "ذاالکفل" تو مشہور یہی ہے کہ وہ پیغمبروں میں سے تھے اور ان کے نام کا اور سورہ انبیا کی آیہ ۸۵ میں پیغمبروں کے ناموں کے ساتھ اسماعیلؑ اور ادریسؑ کے بعد ذکر اس معنی پر گواہ ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے اور انھیں ایوبؑ کا فرزند سمجھتے ہیں جس کا اصلی نام "بشر" یا "بشیر" یا "شرف" تھا۔ بعض انھیں "حزقیل"، سمجھتے ہیں کہ ذاالکفل ان کے لقب کے طور پر مشہور ہو گیا ہے [بحوالہ: اعلام القرآن، تفسیر قرطبی، تفسیر روح البیان اور تفسیر المیزان میں سے ہر ایک نے مذکورہ بالا مطالب کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے]۔ انھیں ذوالکفل کا نام کیوں دیا گیا؟ اس بارے میں اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "کفل" نصیب اور حِصّہ کے معنی میں بھی آیا ہے اور کفالت و عہده داری کے معنی میں بھی، علماء نے مختلف احتمال ذکر کیے ہیں۔ کبھی تو یہ کہا ہے کہ چونکہ خدا نے اپنے ثواب و رحمت کا وافر حصہ انھیں مرحمت فرمایا ہے۔ لہذا "ذاالکفل" یعنی (صاحب بہرہ وافی) کے نام سے موسوم ہوئے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ انھوں نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ راتوں کو عبادت کے لیے اٹھیں گے اور دن میں روزہ رکھا کریں گے اور قضاوت اور فیصلہ کرتے وقت ہرگز غصے میں نہ آئیں گے اور وہ اپنے اس عہد و پیمان پر قائم رہے لہذا انھیں یہ لقب دیا گیا ہے۔ کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ انھوں نے بنی اسرئیل کے انبیاء کے ایک گروہ کی کفالت کی تھی اور وقت کے ظالم بادشاہ سے ان کی جان بچائی تھی اس لیے انھیں یہ نام دیا گیا ہے۔ بہرحال ان کی زندگی کے حالات کی اتنی ہی مقدار تو آج ہماری دسترس میں ہے، خدا کی اطاعت و بندگی اور ظالموں کے مقابلے میں ان کی استقامت پامردی کی دلیل ہے اور ہمارے آج اور کل کے لیے ایک سبق ہے۔ اگرچہ ان کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں زمانے کی دوری کے سبب دقیق طور پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

49
38:49
هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
یہ توایک یاد آوری ہے اور پرہیز گاروں کے لئے اچھا مقام ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
38:50
جَنَّـٰتِ عَدۡنٖ مُّفَتَّحَةٗ لَّهُمُ ٱلۡأَبۡوَٰبُ
بہشت کے جاودانی باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
38:51
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدۡعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ وَشَرَابٖ
وہ اس میں تختوں پر تکیہ کیے ہوئے (بیٹھے ہوں گے) اور انوع و اقسام کے پھل اور طرح طرح کے مشروبات ان کی رسائی میں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
38:52
۞وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ أَتۡرَابٌ
اور ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے شوہروں کی طرف ہی دیکھتی رہتی ہیں اور وہ سب کی سب ہم عمر ہوں گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
38:53
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے قیامت کے دن کے لئے وعدہ کیا جاتا ہے (ناقابل شکن وعدہ)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
38:54
إِنَّ هَٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ
یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔

تفسیر: پرہیزگاروں کے لیے وعدہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہاں سے اس سورہ کی آیات کا دوسرا حصه شروع ہو رہا ہے۔ اس میں پرہیزگاروں کا سرکش باغیوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے قیامت میں دونوں گروہوں کے انجام کی وضاحت کی گئی ہے اور مجموعی حیثیت سے گزشتہ آیات کے مباحث کی تکمیل ہو رہی ہے۔ پہلے تو گزشتہ انبیاء کی سرگزشت اور ان کی زندگی کے اصلاحی و تربیتی نکات کے بارے میں کلی طور پر فرمایا گیا ہے: یہ ایک تذکر اور یادآوری ہے (هذا ذِكْرٌ) [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے اس جملے کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد گزشتہ انبیا کا ذکرِ جمیل ہے]۔ ہاں! ان کی پرشکوہ تاریخ کے نشیب و فراز کو بیان کرنے کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ ذکر و تذکر تھا۔ جیسا کہ اس سورہ کی ابتداء ہی اسی مسئلے سے کی گئی ہے "ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ"۔ اصل مقصد ان مسلمانوں میں جن کے لیے یہ آیات نازل ہوئی ہیں، فکر و نظر کو بیدار کرنا، معرفت و آگاہی کی سطح بلند کرنا اور استقامت و پامردی کی قوت و طاقت کا اضافہ کرنا ہے [تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے "هذا ذكــر" کو اس بات کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو کچھ گزشتہ انبیاء کے بارے میں بیان ہوا ہے وہ تو ان کا ذکرِ خیر اور ثناءِ جمیل تھی اور بعد والی آیات آخرت میں ان کے مقامات کو بیان کر رہی ہیں لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے بلکہ کا آیات ظاہر کلی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے]۔ اس کے بعد اس امر کو انفرادی اور انبیاء کی زندگی سے نکال کر کلی شکل دی گئی ہے۔ متقین کی سرنوشت کو عمومی طور پر محلِ بحث قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پرہیزگاروں کے لیے اچھا مقام اور جائے بازگشت ہے۔ (وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآب) [تشریحی نوٹ: "ماب" کا معنی ہے مقامِ بازگشت اور"حسن" کی "ماب" کی طرف اضافت صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے]۔ اس مختصر سے سربستہ جملے کے بعد جو ان کے حال کی خوبی اور اچھائی کی اجمالی طور پر تصویرکشی کرتا ہے، اجمال سے تفضیل کی قرآنی روش سے استفادہ کرتے ہوئے اس کی تشریح و تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کی بازگشت اس جنت کے جادوانی باغات کی طرف ہے جس کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے ہیں (جَنَّاتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوابُ) [تشریحی نوٹ: "جَنَّاتِ عَدْنٍ " "ماب" سے بدل یا عطف بیان ہے]۔ "جنّات" بہشت کے باغات کی طرف اشارہ ہے اور "عدن" بروزنِ "عدل" استقرار و ثبات کے معنی میں ہے اور "معدن" کو اس بنا پر "معدن" کہا گیا ہے کیونکہ مختلف دھاتیں اور گراں قیمت مواد وہاں مستقر ہوتا ہے۔ بہرحال یہ تعبیر یہاں جنت کے باغوں کے جاودانی اور ابدی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ "مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوابُ" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہشتیوں کے لیے دروازے کھولنے تک کی بھی زحمت نہیں ہو گی، گویا بہشت ان کے انتظار میں ہے اور جس وقت اس کی نگاہ ان پر پڑے گی تو آغوش پھیلا دے گی اور انھیں اندر آنے کی دعوت دے گی۔ اس کے بعد بہشتیوں کے خصوصی احترام اور ان کے آرام و سکون کو اس صورت میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کی حالت یہ ہو گی کہ وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے (بیٹھے) ہوں گے اور انواع و اقسام کے فراواں پھل اور مشروبات ان کی رسائی میں ہوں گے جس وقت طلب کریں گے فوراً ان کے پاس پہنچ جائیں گے (مُتَّكِئِينَ فِيها يَدْعُونَ فِيها بِفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَ شَرابٍ) [تشریحی نوٹ: دونوں جگہ "فِيها" کی ضمیر "جنّات عدن" کی طرف لوٹتی ہے اور "فاكهة" کی توصیف "کثیرة" کے ساتھ اس وصف سے "شراب" کی توصیف کی بھی دلیل ہے اور "متكئين" "لھم" کی ضمیر کے لیے حال ہے۔ یعنی وه بہشتِ جادواں میں جس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور وہ مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور مختلف پھلوں اور انواع و اقسام کے مشروبات لانے کا حکم دے رہے ہوں گے]۔ کیا یہ سب کچھ جنت کے خدمت گاروں کے ذریعے فوراً ان کے سامنے حاضر ہو جائے گا یا ان کے حاضر ہونے کے لیے ان کا اراده ہی کافی ہو گا، اس کے لیے دونوں احتمال موجود ہیں۔ "فاكهة" اور "شراب" ("پھل" اور "مشروبات") کا ذکر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ بہشتیوں کی زیادہ تر غذا پھل ہو گی، اگرچہ قرآنی آیات کی صراحت کے مطابق دوسری غذائیں اور کھانے بھی وہاں موجود ہوں گے۔ جیسا کہ اس دنیا میں بھی انسان کے لیے بہترین اور مکمل ترین غذا پھل ہی ہے۔ "كثيرة" کی تعبیر بہشتی پھلوں کی انواع و اقسام کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ اس کے مشروبات اور شرابِ طہور بھی کئی قسم کی ہو گی جس کی طرف قرآن کی مختلف آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ اس کے بعد بہشت کی پاکیزہ بیویوں کے بارے میں بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: بہشتیوں کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی کہ جن کی آنکھیں فقط اپنے شوہروں پر جمی ہوں گی وہ سب کی سب جوان اور اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی (وَعِنْدَهُمْ قاصِراتُ الطَّرْفِ أَتْرابٌ)۔ "طرف" (بروزن "برف") پلک کے معنی میں ہے اور کبھی نگاہ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جنت کی عورتوں کی "قاصرات الطرف" (جو تنگ نگاہ رکھتی ہیں) سے توصیف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے صرف اپنے شوہروں پر نظريں جمائی ہوئی ہیں۔ صرف انھیں سے عشق و محبت کرتی ہیں اور ان کے علاوہ کسی کو بھی تصور میں نہیں لاتیں۔ یہ بات بیویوں کی خوبی میں سے عظیم ترین خوبی ہے۔ بعض مفسرین نے اسے آنکھوں کے مخمور ہونے کے معنی میں سمجھا ہے جو ایک نہایت جاذب و پرکشش حالت ہے۔ ان دونوں معانی کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ "اتراب" ہم سن و سال اور ہم عمر ہونے کے معنی میں ہے یہ جنت کی عورتوں کی اپنے شوہروں کے لیے ایک اور صفت کا بیان ہے کیونکہ شوہر اور بیوی کے درمیان عمر کی موافقت کشش کو بڑھاتی ہے یا یہ خود انھیں عورتوں کی صفت ہے کہ وہ سب کی سب ہم سن اور جوان ہیں [تشریحی نوٹ: "اتراب" سے "ترب" (بروزن "شعر") کی]۔ آخری زیر بحث آیت میں بہشت کی ان تمام ساتوں کی ساتوں مذکور نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے روز حساب کے لیے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ (هذا ما تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسابِ)۔ ناقابلِ شکن اور نشاط انگیز وعده، خداوندِ عظیم کی طرف سے وعدہ۔ ان نعمات کے جادوانی اور ابدی ہونے کی تاکید کے طور پر مزید ارشاد ہوتا ہے: یہ ہمارا رزق اور ہماری دی ہوئی روزی ہے، یہ ایک ایسی عطا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی اور اس کے لیے فنا کا تصور ہی نہیں ہے (إِنَّ هذا لَرِزْقُنا ما لَهُ مِنْ نَفادٍ) [تشریحی نوٹ: "نفاء" فنا اور نابودی کے معنی میں ہے اور "لرزقنا" کی لام تاکید کے لیے ہے]۔ اس بنا پر زوال و نابودی کا غم جو ایک منحوس سائے کی طرح اس جہان کی نعمتوں پر پڑا ہے۔ وہاں موت موجود نہیں اور وہ خدا کے پربار خزانوں کی برکت سے ہمیشہ مدد لیتا رہتا ہے اور اس کے لیے محدودیت نہیں ہے۔ یہاں تک کسی قسم کی کمی اس میں ظاہر نہیں ہو گی کیونکہ خدا کا ارادہ یہی ہے۔

55
38:55
هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ
یہ (تو پرہیز گاروں کا اجر ہے) اور طغیان گروں کے لیے بد ترین جائے بازگشت ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
38:56
جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا فَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
دوزخ ہے جس میں وہ داخل ہوں گے اور کیا ہی برا بستر ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
38:57
هَٰذَا فَلۡيَذُوقُوهُ حَمِيمٞ وَغَسَّاقٞ
یہ حمیم و غساق (جلانے والے اور سیاہ رنگ کے مشروبات) ہیں جن کا مزہ چکھنا ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
38:58
وَءَاخَرُ مِن شَكۡلِهِۦٓ أَزۡوَٰجٌ
اور ان کے علاوہ ان کے لیے ان کی ہم شکل دوسری سزائیں ہوں گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
38:59
هَٰذَا فَوۡجٞ مُّقۡتَحِمٞ مَّعَكُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِهِمۡۚ إِنَّهُمۡ صَالُواْ ٱلنَّارِ
(ان سے کہا جائے گا) یہ وہ فوج ہے جو تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہو گی (یہ وہی گمراہ سردار ہیں ) ان کے لیے مرحبا اورخوش آمد ید نہیں ہے وہ سب کے سب آگ میں جلیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
38:60
قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ أَنتُمۡ قَدَّمۡتُمُوهُ لَنَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ
وہ (اپنے سرداروں سے) کہیں گے بلکہ خوش آمدید تمہارے لیے نہ ہو کیونکہ تم نے یہ عذاب ہمارے لیے فراہم کیا ہے، یہ کتنا برا ٹھکانا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
38:61
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ
اس کے بعد وہ کہیں گے : پروردگارا! جس نے یہ عذاب ہمارے لیے فراہم کیا ہے اس کے لیے آگ میں کئی گنا عذاب کا اضافہ فرما۔

تفسیر: سرکشوں کی سزا

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

گزشتہ آیات میں پرہیزگاروں کے لیے سات نعمتوں اور بےبہا عنایات کو شمار کیا گیا تھا اور زیر بحث آیات میں قرآن کی موازنے کی روش کے مطابق خدا کے سرکشوں اور طاغیوں کی منحوس سرنوشت اور مختلف سزاوں کو شمار کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ اب تک بیان کیا گیا ہے وہ تو متقیوں کی جزا ہے اور طغیان گروں کے لیے بدترین جائے بازگشت ہے۔ (هذا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ) [شتریحی نوٹ: "هذا" مبتدا ہے اور اس کی خبر محزوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: هذا الّذي ذكرناه لِلْمُتّقينَ]۔ متقین "حسن مآب" رکھتے تھے اور یہ "شرماب" بری جائے بازگشت اور برا انجام۔ اس کے بعد اجمال کی تفصیل کے انداز سے سربستہ جملے کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ منحوس جائے بازگشت اور برا ٹھکانا وہی دوزخ ہے جس میں وہ داخل ہوں گے اور اس کی آگ میں جلیں گئے اور کیا ہی برا بستر ہے جہنم کی آگ (جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَها فَبِئْسَ الْمِهادُ [تشریحی نوٹ: "جهنم" عطف بیان ہے یا "شرماب" سے بدل ہے اور "یصلونها" اس کا حال ہو گا]۔ گویا "يَصْلَوْنَها" (جہنم میں داخل ہوں گے اور اس کی آگ میں جلیں گے) اس چیز کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ وہ صرف جہنم کو دور سے دیکھیں گے یا اس کے کہیں آس پاس ہوں گئے۔ نہیں! بلکہ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے اور کوئی شخص یہ وہم بھی نہ کرے کہ وہ جہنم کی آگ کے عادی ہو جائیں گے اور اس سے مانوس ہو جائیں گے۔ نہیں! بلکہ وہ ہمیشہ اس میں جلا کریں گے۔ "مِهَاد" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔ اس بستر کے معنی میں ہے جو سونے اور آرام کرنے کے لیے بچھایا جاتا ہے۔ بچے کے گھوارے کو بھی "مهاد" کہا جاتا ہے۔ بستر چونکہ آرام کرنے کی جگہ ہوتا ہے اس لیے اسے ہر لحاظ سے مناسب حال اور نرم ہونا چاہیے لیکن کیا حال ہو گا ان لوگوں کا جن کا بستر جہنم کی آگ ہو گی؟ اس کے بعد ان کے لیے دوسرے عذاب بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ حمیم و غساق مشروب ہے جسے انہیں چکھنا ہو گا (هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ) [تشریحی نوٹ: یہ جملہ اصل میں "هذا حميم وغساق فَلْيَذُوقُوهُ " تھا۔ لیکن تاکید کے لیے فليذوقوه کا جملہ مبتدا و خبر کے درمیان اور بطور فاصلہ آ گیا ہے بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "هذا" مبتدائے محزوف کی خبر ہے "حمیم و غساق" بھی اسی طرح ہیں اور تقدیر میں اس طرح تھا: "العذاب هذا فَلْيَذُوقُوهُ، لهذ احميم وغساق" لیکن پہلا احتمال زیادہ بہتر ہے]۔ "حمیم" گرم اور جلا ڈالنے والے پانی کے معنی میں ہے جو دوزخیوں کے مشروبات میں سے ایک ہے۔ یہ کئی قسم کی شرابِ طہور کے مقابلے میں ہے جو گزشتہ آیات میں بہشتیوں کے لیے بیان ہوئی ہے۔ "غسّاق" "غسق" (بروزن "رمق") کے مادہ سے، رات کی تاریکی کی شدت کے معنی میں ہے۔ ابن عباس نے اسے ایک بہت ہی سرد مشروب سے (جو ٹھنڈک کی شدت سے انسان کے اندر کو جلا کر زخمی کر دے گا) تفسیر کی ہے۔ لیکن اس لفظ کے مفهوم کی اصل بنیاد میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو اس معنی پر دلالت کرے، سوائے اس کے کہ اس کا مقابلہ "حمیم" سے کیا جائے جو گرم اور جلانے والا پانی ہے۔ ممکن ہے یہی امر اس قسم کے استنباط کا سبب بنا ہو۔ راغب نے مفردات میں اس کی ان قطرات اور پیپ سے تفسیر کی ہے جو دوزخیوں کی جلد سے (اور ان کے بدن کے زخموں سے) باہر آئیں گے۔ ضروری طور پر اس کا سیاه رنگ ہونا، اس لفظ کے اس پر اطلاق ہونے کا سبب بنا ہے۔ چونکہ اس جلا ڈالنے والی آگ کا نتیجہ ایک مٹھی بھر جلے ہوئے بدن سے سیاہ راکھ کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ بہرحال کچھ کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ "غساق" کی بواتنی بری اور تکلیف دہ ہو گی کہ سب کو پریشان کر دے گی۔ بعض دوسرے مفسرین نے اسے عذاب کی ایک ایسی قسم قرار دیا ہے جسے خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کیونکہ وہ ایسے گناہوں اور سخت مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں جن سے خدا کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں تھا لہذا ان کی سزا بھی ایسی ہی ہونی چاہیئے۔ جیسا کہ پرہیزگار جنتی ایسے نیک اعمال بجا لاتے تھے جنھیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اس لیے ان سے ایسی جزاء کا وعدہ کیا گیا جس سے خدا کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں۔ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُن (الم - سجدہ ــــــــــــــ ۱۷) پھر ان کے دوسری قسم کے دردناک عذابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اور ان کے علاوہ انھی کی ہم شکل دوسری سزائیں بھی ان کے لیے ہیں (وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْواجٌ) [تشریحی نوٹ: "ایک محزوف موصوف کی صفت ہے، جو مبتدا ہے اور "ازواج" دوسرا مبتدا ہے اور "من شكله" اس کی خبر ہے اور مجموعی طور پر پہلے مبتدا کا جزء ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا: "وعذاب آخر ازواج من شكله"]۔ "شکل"(شین کے فتح کے ساتھ) مثل و مانند کے معنی میں ہے اور "ازواج" انواع و اقسام کے معنی ہے اور یہ گزشتہ عذابوں کے مانند دوسری قسم کے عذابوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے جو یہاں پر سربستہ طور پر بیان ہوئے ہیں اور شاید اس جہانِ مادہ کے اسیروں کے لیےقابلِ توصیف و ادراک نہ ہوں۔ یہ حقیقت میں گزشتہ آیات میں ذکر شده "فاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ" کے مقابلے میں ہیں، جو جنت کی مختلف قسم کی نعمتوں اور پھلوں کی طرف اشارہ تھا۔ بہرحال ممکن ہے یہ مشابہت شدت اور ناراحتی کے اعتبار سے ہو یا تمام جہات کے لحاظ سے ہو۔ اس کے بعد ان کی آخری سزا بیان کی گئی ہے اور وہ ہے برے ہم نشین اور یہ بھی ایک طرح کی سرزنش ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس وقت گمراہ سردار واردِ جہنم ہوں گے اور اپنی آنکھ سے دیکھیں گے کہ ان کے پیروکاروں کو بھی دوزخ کی طرف لایا جا رہا ہے تو ایک دوسرے سے کہیں گے: یہ وہ فوج ہے جو تمھارے ساتھ دوزخ میں داخل ہو گی (هذا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ) [تشریحی نوٹ: اس جملہ میں کچھ محزوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (يقول رؤساء الضلال بعضهم لبعض هذا فوج مقتحم معكم) گمراہوں کے سردار ایک دوسرے سے کہیں گے یہ فوج بھی تمھارے ساتھ داخل ہونے والی ہے]۔ ان کے لیے خوش آمدید نہیں ہے (لا مَرْحَباً بِهِم)۔ وہ سب کے سب آگ میں جلیں گے (إِنَّهُمْ صالُوا النَّارِ)۔ بعد کے جملوں اور آیات کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے"هذا فوج مقـتــحم معکم" کا جملہ گمراہی کے پیشواؤں کی گفتگو ہے، جس وقت وہ اپنے پیروکاروں کو جہنم میں داخل ہونے کے لیے تیار دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے کہیں گے کہ یہ بھی تمہارے ساتھ ہوں گے۔ بعض مفسرین اسے کفر و عصیان کے سرداروں سے ملائکہ کا خطاب سمجھتے ہیں لیکن یہی معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ "مرحبًا" وہ لفظ ہے جو مہمان کو خوش آمدید کہتے وقت کہا جاتا ہے اور "لامرحبًا" اس کی ضد ہے۔ یہ لفظ مصدر ہے "رحب" (بروزن "محو") کے مادہ سے وسعتِ مکان کے معنی میں یعنی آیئے، تشریف لائیے، آپ ایک مناسب اور وسیع مکان میں وارد ہو رہے ہیں اور فارسی میں اس کا متبادل خوش آمدید ہی ہے۔ "مقتحم" "اقتحام" کے مادہ سے شدید اور سخت خوفناک کام میں داخل ہونے کے معنی میں ہے اور اکثر پہلے سے غور و فکر اور مطالعہ کیے بغیر کاموں میں وارد ہونے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ تعبیر اس کام کی نشاندہی کرتی ہے کہ گمراہی کے پیروکار مطالعہ اور غور و فکر کے بغیر صرف ہوا و ہوس اور اندھی تقلید کی بنا پر جہنم کی شدید اور خوفناک آگ میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ آواز پیروکاروں کے کانوں تک پہنچے گی اور وہ سردارانِ ضلالت کے ناخوش آمدید کہنے سے سخت ناراض ہوں گے۔ ان کی طرف رخ کر کے وہ کہیں گے: بلکہ تمھارے لیے مرحبا نہ ہو کیونکہ تمھی نے ہمارے لیے اس دردناک عذاب کی راہ ہموار کی تھی اور ہمارے لیے اسے فراہم کیا تھا کیا ہی برا ٹھکانا ہے جہنم (قالُوا بَلْ أَنْتُمْ لا مَرْحَباً بِكُمْ أَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنا فَبِئْسَ الْقَرارُ)۔ " فَبِئْسَ القرار" حقیقت میں "جنات عدن" کا لفظ مقابل ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے آیا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ دوزخ ایک عارضی اور وقتی جگہ نہیں ہے جبکہ دائمی اور ثابت ٹھکانا ہے۔ اس تعبیر سے پیروکاروں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا ہے اس میں یہ خوبی تو ہے کہ تم سردارانِ ضلالت بھی اس امر میں ہمارے ساتھ شرک ہو اور یہ چیز ہماری دلی تسلی کا باعث ہے یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم پیشواؤں کا جرم ہمارے نزدیک بہت ہی عظیم ہے کیونکہ جہنم کوئی وقتی ٹھکانہ نہیں ہے بلکہ ہمارا دائمی ٹھکانا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پیروکار صرف اسی بات پر راضی نہیں ہوں گے چونکه وه گمراہی کے سرداروں کو جو اس جرم کے اصلی عامل تھے اپنے سے زیادہ مستحق جانتے ہیں لہذا بارگاهِ خداوندی کی طرف رخ کر کے "کہیں گے: پروردگارا جس شخص نے ہمارے لیے یہ عذاب فراہم کیا ہے جہنم کی آگ میں اس کے لیے کئی گنا اضافہ فرما"۔ (قالُوا رَبَّنا مَنْ قَدَّمَ لَنا هذا فَزِدْهُ عَذاباً ضِعْفاً فِي النَّارِ)۔ ایک عذاب خود ان کی اپنی گمراہی کی بنا پر اور ایک عذاب ہمیں گمراہ کرنے کی وجہ سے۔ یہ آیت اسی مطلب کے مشابہ ہے جو سوره اعراف کی آیہ ۳۸ میں آیا ہے: رَبَّنا هؤُلاءِ أَضَلُّونا فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّار پروردگارا! انھوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے لہذا آگ کا کئی گنا عذاب ان کے لیے قرار دے۔ اگرچہ سوره اعراف کی اس آیت کا آخری حصہ یہ بتاتا ہے کہ دونوں کے لیے کئی گنا عذاب ہے (کیونکہ پیروکار بھی تو پیشواؤں کے لیے اجرائی قوت تھے اور گمرائی و فساد کی راہ انھیں کے ذریے ہموار ہوئی کیونکہ اگر عوام الناس ظالموں کے ظلم کی بھٹی گرم نہ کریں تو ان میں کسی کام کو انجام دینے کی ہمت نہیں ہوتی) لیکن بہرحال اس میں شک نہیں ہے کہ پیشواؤں کا عذاب کئی درجے زیادہ سخت ہے اگرچہ دونوں کا عذاب دگنا ہے۔ ہاں یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنھوں نے آپس میں دوستی کا عہد و پیمان باندھا اور راہِ انحراف و ضلالت میں بیعت کی، جس وقت وہ اپنے اعمال کے برے نتائج دیکھیں گے تو ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اور نفرین کا اظہار کریں گے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں پرہیزگاروں کی نعمتوں کا ذکر طغیان گروں کی سزاؤں اور عذابوں سے زیادہ تنوع رکھتا ہے (پہلے حصے میں سات نعمتوں اور دوسرے حصے میں پانچ عذابوں کی طرف اشارہ ہوا ہے) اور یہ شاید خدا کی رحمت کے اس کے غضب پر سبقت کرنے اور زیادہ ہونے کی بنا پر ہے۔ يا من سبقت رحمته غضبه اے وہ کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔

62
38:62
وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ
وہ کہیں گے ہم ان لوگوں کو جنہیں ہم اشرار میں شمار کرتے تھے (یہاں جہنم کی آگ میں ) کیوں نہیں دیکھتے ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
38:63
أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ
کیا ہم نے ان کے ساتھ تمسخر کیا تھا یا (وہ اس قدر حقیر تھے کہ) آنکھیں انہیں دیکھتی ہی نہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
38:64
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ
بیشک یہ بات حق اور ایک واقعیت ہے کہ دوزخی مخاصمانہ باتیں کریں گے۔

تفسیر: اصحابِ دوزخ کی دشمنی

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات دوزخیوں کی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے ان کی ایک گفتگو بیان کرتی ہیں جس میں سے ان کے گہرے اور جانکاہ تأسف اور ایک روحانی و جان فرسا حالت کی ترجمانی ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: ضلالت کے سردار جب دوزخ میں اپنے اطراف میں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ ہم ان لوگوں کو جنھیں ہم اشرار میں شمار کرتے تھے یہاں کیوں نہیں دیکھتے (وَقالُوا ما لَنا لا نَرى‏ رِجالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرارِ)۔ ہاں! ابوجہل اور ابولہب جیسے افراد جب یہ دیکھیں گے کہ دوزخ میں عمار یاسر، خباب، صہیب اور بلال جیسے افراد کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، تو وہ اپنے دل میں سوچیں گے اور ایک دوسرے سے سوال کریں گے کہ یہ لوگ کہاں چلے گئے؟ ہم تو ان لوگوں کو خلل ڈالنے والے، زمین میں فساد کرنے والے، اشرار و اوباش سمجھتے تھے جو معاشرے کے آرام و سکون کو تباہ و برباد کرنے اور ہمارے بزرگوں کے اختیارات کو ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہماری راہ ہی بالکل غلط تھی۔ کیا ہم نے ان کا مذاق اڑایا تھا یا وہ اس قدر حقیر تھے کہ ہماری آنکھیں انھیں نہیں دیکھتیں (أَتَّخَذْناهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ) [تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "زاغت" جو "زیغ" کے مادہ سے ہے اور حق و صداقت سے انحراف کے معنی میں آتا ہے یہاں اس کی آنکھ کی طرف نسبت دی گئی ہے، نہ کہ آنکھ والوں کی طرف اور یہ مطالب میں مبالغہ کے لیے ہے]۔ ہاں! ہم ان عظیم المرتبہ انسانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور شرار ہونے کا لیبل ان پر لگاتے تھے اور بعض اوقات تو ہم انھیں اس سے بھی پست سمجھتے تھے۔ انھیں ایسے حقیر اور ذلیل جانتے تھے جو بالکل آنکھوں میں جچتے ہی نہیں تھے لیکن اب معلوم ہوا کہ ہوا و ہوس اور جہالت و غرور نے ہماری آنکھ پر پردہ ڈال رکھا تھا، وہ تو مقربانِ بارگاہ خدا تھے اور اس وقت بہشت بریں ان کا مسکن ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمسخر تو دنیا کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے اور " أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصار" کا جملہ دوزخ کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے یعنی یہاں جاری نزدیک بین آنکھ اس دھوئیں اور آگ کے شعلوں کے درمیان انھیں نہیں دیکھ سکتی، البتہ پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ یہ نکته قابلِ توجہ ہے کہ حقائق کا ادراک نہ کرنے کے عوامل میں سے ایک مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لینا اور حقائق کا مذاق اڑانا ہے۔ ہمیشہ سنجیدہ ارادے کے ساتھ مسائل کی تحقیق کرنا چاہیے تاکہ حقیقت واضح اور روشن ہو جائے۔ اس کے بعد دوزخیوں کے درمیان جو باتیں ہوں گی انھیں خلاصے کے طور پر اور جو کچھ گزر چکا ہے اس پر تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: بےشک یہ بات حق اور ایک حقیقت ہے کہ دوزخی مخاصمانہ گفتگو کریں کے (إِنَّ ذلِكَ لَحَقٌّ تَخاصُمُ أَهْلِ النَّارِ) [شریحی نوٹ: " تَخاصُمُ أَهْلِ النَّار" "ذلك" کا بیان ہے]۔ دوزخی اس جہان میں بھی دشمنی اور نزاع میں گرفتار ہیں اور پرخاش، نزاع اور جدال کی روح ان پر حاکم ہے اور ہر روز کسی نہ کسی سے دست و گربیاں اور گلوگیر ہوتے رہتے ہیں اور قیامت میں چھپی ہوئی چیزوں کے ظاہر ہو جانے کا دن ہے جو کچھ ان کے اندر ہو گا وہ ظاہر ہو جائے گا اور جہنم میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں گے، کل کے دوست آج کے دشمن ہو جائیں گے اور کل کے مرید آج کے مخالف ہو جائیں گے، صرف ایمان و توحید کا راستہ اس جہان میں بھی اور اِس جہان میں بھی وحدت و پاکیزگی کا راستہ ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بہشتی تو تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے دوستانہ گفتگو میں مشغول ہوں گے۔ جیسا کہ قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوا ہے۔ جب کہ دوزخی جنگ و جدال میں مشغول ہوں گے جبکہ وہ تو خود ایک نعمت اور عظیم انعام ہے اور یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ ایک نکتہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: "خدا نے تم مکتب اہلِ بیت کے پیروکاروں کو قرآن میں یاد کیا ہے جبکہ تمھارے دشمن جہنم کی آگ میں کہیں گے کہ ہم یہاں ان لوگوں کو جنہیں ہم اشرار میں شمار کرتے تھے کیوں نہیں دیکھتے؟ کیا ہم نے ان کا مذاق اڑایا تھا یا سخت حقارت کی وجہ سے ہمھاری آنکھوں میں نہیں جچتے تھے کہ خدا کی قسم ان افراد سے مراد تم ہو جنھیں ایک گروہ اشرار سمجھتا ہے، لیکن خدا کی قسم! جنت میں تم شادمان اور مسرور ہو گے جبکہ دوزخی جہنم میں تمھارے خیال میں سرگرداں ہوں گے [بحوالہ: یہ روایت روضۂ کافی سے نور الثقلین جلد ۴ ص ۴۶۷ پر نقل کی گئی ہے]۔

65
38:65
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
کہہ دو میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں اور خدائے یگانہ و قہار کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
38:66
رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّـٰرُ
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کاپروردگار عزیز و غفار ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
38:67
قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ
کہہ دو! یہ ایک بہت بڑی خبر ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
38:68
أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ
کہ جس سے تم روگردان ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
38:69
مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ
مجھے ملائے اعلیٰ (اور عالم بالا کے فرشتوں ) کے بارے میں۔ جبکہ وہ (آدم کی خلقت کے بارے میں ) جھگڑرہے تھے کچھ خبر نہیں ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
38:70
إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
مجھے تو صرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک واضح ڈرانے والاہوں۔

تفسیر: میں ایک نذیر ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

چونکہ تمام گزشتہ بحث، چاہے ان میں دوزخیوں کے دردناک عذاب سے متعلق گفتگو تھی یا گزشتہ گنہگار اقوام کے دنیاوی عذاب کی متعلق بحث تھی، سب کی سب مشرکین، سرکشوں اور ظالموں کے لیے انذار و تہدید کا پہلو رکھتی تھی۔ زیرِ بحث آیات میں اسی مسئلے کو جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کہہ دے کہ میں تو صرف ایک انذار کننده (ڈرانے والا) ہوں۔ (قُلْ إِنَّما أَنَا مُنْذِرٌ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیغمبر بشارت دینے والا بھی ہوتا ہے اور قرآن مجید کی آیات دونوں معانی پر ناطق ہیں لیکن چونکہ بشارت تو مومنین کے لیے ہوتی ہے اور انذار مشرکین و مفسدین کے لیے اور یہاں روئے سخن دوسرے گروہ کی طرف ہے، لہذا صرف انذار کا ذکر ہوا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کوئی معبود خداوندِ یگانہ و قہار کے علاوہ نہیں ہے۔ (وَ ما مِنْ إِلهٍ إِلَّا اللهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ)۔ اس کے قہر کا ذکر بھی اسی بنا پر ہے تاکہ کوئی اس کے لطف و کرم سے مغرور نہ ہو جائے اور خود کو اس کے قہر سے مامون نہ سمجھ لے اور کفر و گناہ کے گرداب میں غوطہ زن نہ ہو جائے۔ اور بلافاصلہ پروردگار کی توحیدِ الوہیت و عبادت کی دلیل کے طور پر مزید فرمایا گیا ہے: وہی تو ہے جو آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا پروردگار ہے۔ وہی خدا جو عزیز و غفار ہے (رَبُّ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ ما بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ)۔ درحقیقت اس آیہ میں خدا کی صفات میں سے تین اوصاف کو بیان کیا گیا ہے۔ جن میں سے ہر ایک، ایک مقصد کو ثابت کرنے کے لیے ہے۔ پہلا مسئلہ تمام عالمِ ہستی کے لیے اس کی "ربوبیت" کا مسئلہ ہے وہ اس سارے جہان کا مالک ہے۔ ایسا مالک جو ان کی تدبیر و تربیت کرتا ہے۔ ایسی ہستی ہی عبادت کے لائق ہے نہ کہ وہ بت جن کے پاس سوئی کی نوک کے برابر بھی اپنا کچھ نہیں۔ دوسرا مسئلہ اس کی "عزت" کا مسئلہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ "عزیز" لغوی معنی کے لحاظ سے اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس پر کوئی غالب نہ آ سکے اور جس چیز کا وہ ارادہ کرے وہ ہو جائے، دوسرے لفظوں میں وہ ہمیشہ غالب ہے اور کبھی بھی مغلوب نہیں ہوتا۔ جو ایسا ہو اس کی قدرت کے پنجے سے نکل بھاگنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور اس کے عذاب سے کیسے نجات مل سکتی ہے؟ تیسری صفت مقامِ "غفّاريت" اور اس کی بکثرت بخشش ہے جو بازگشت اور اس کی طرف لوٹنے کے دروازے گہنگاروں کے سامنے کھولے رکھتا ہے اور اپنی رحمت کی بارش ان پر برساتا رہتا ہے تاکہ وہ یہ تصور نہ کر بیٹھیں کہ اگر وہ قہار و عزیز ہے تو پھر اس کا مفهوم بندوں کے سامنے رحمت و توبہ کے دروازے بند کرنا ہے۔ حقیقت میں ایک صفت بیانِ خوف ہے اور دوسری صفت بیان رجاء ہے کیونکہ ان دونوں حالتوں کے موازنے کے بغیر انسان کا ارتقاء و تکامل ممکن نہیں۔ یا انسان غرور و غفلت میں گرفتار ہو جاتا ہے یا ناامیدی کے گرداب میں غرق ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی عزیز و غفار کے ساتھ توصیف اس کی الوہیت کی ایک اور دلیل ہے کیونکہ صرف وہی ہستی پرستش و عبادت کے لائق ہے جو ربوبیت کے علاوہ سزا دینے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور سزا دینے پر قدرت کے علاوہ اس کی رحمت و مغفرت کے دروازے بھی کھلے ہوئے ہوں۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ سے خطاب ہے اور ایک مختصر مگر ہِلا دینے والے انداز میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔ (قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ)۔ کہ جس سے تم منہ پھیرے ہوئے ہو (أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ)۔ یہ کون سی خبر ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اسے عظیم قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید؟ پیغمبر کی رسالت؟ قیامت اور مومنین و کفار کا انجام؟ توحید و یگانگی خدا؟ یا یہ سب کی سب؟ چونکہ قرآن ان سب امور پر مشتمل ہے اور ان سب کا جامع ہے اور مشرکین کی روگردانی بھی اسی سے تھی، اس لیے زیادہ مناسب وہی پہلا معنی یعنی قرآن ہے۔ ہاں یہ عظیم آسمانی کتاب ایک بڑی خبر ہے جو تمام عالمِ ہستی جتنی عظمت رکھتی ہے، کیونکہ یہ اس جہان کے خالق، خالق عزیز و غفار اور واحد و قہار کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ وہ خبر جس کی عظمت کو ایک بہت بڑے گروہ نے اس کے نزول کے وقت نہیں سمجھا، بعض نے اس کا مذاق اڑایا اور بعض نے اسے جادو کہا اور ایک گروہ نے اسے شاعری قرار دیا۔ لیکن زیادہ دیر نہیں گزری کہ اس "نباء عظیم" نے اپنے باطن کو ظاہر کیا اور تاریخِ بشریت کی راہ کو بدل کر رکھ دیا۔ وسیع عالم ہستی پر اپنا سایہ فگن ہو گئی اور اس نے اپنے عظیم اور درخشاں تمدن کو ہر ہر میدان میں پھیلا دیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس" نباء عظیم" کا اعلان اس مکّی سورہ میں ہوا ہے، ایسے زمانے میں جبکہ مسلمان ظاہراً انتہائی ضعف و ناتوانی میں تھے اور کامیابی و نجات کے راستے ان کے سامنے بند تھے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں بھی یہ عظیم خبر دنیا والوں پر، بلکہ خود مسلمانوں پر بھی کامل طور پر واضح نہیں ہے اور مستقبل ہی اس کی نشاندہی کرے گا۔ قرآن کی یہ گفتگو کہ "تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو"۔ ابھی تک صادق اور سچی ہے اور مسلمانوں کا یہی اعراض اس بات کا سبب بنا ہے کہ فیضِ الٰہی کے اس جوش مارنے والے چشمے سے پورے طور پر سیراب نہیں ہو سکے اور صحیح طور پر اس کے انوار کے پَرتو میں آگے نہیں بڑھ سکے اور فخر و شرف کی چوٹیوں کو سر نہیں کر سکے۔ اس کے بعد حضرت آدم کی پیدائش کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مرتبے کی اس حد تک بلندی کا ذکر ہے کہ فرشتوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا۔ تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے: مجھے ملا اعلٰی اور عالمِ بالا کے فرشتوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں (جب کہ وہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے) (مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلى‏ إِذْ يَخْتَصِمُونَ)۔ میری آگاہی صرف وحی کے ذریعے سے ہے اور مجھے تو صرف یہ وحی کی جاتی ہے میں ایک واضح انذار کنندہ ہوں(إِنْ يُوحى‏ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّما أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ)۔ اگرچہ فرشتے پروردگار کے ساتھ کوئی جھگڑا اور نزاع نہیں کر رہے تھے، صرف اتنی سی بات تھی کہ جب خدا نے ان سے یہ کہا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانا چاہتا ہوں"۔ تو انھوں نے باتیں شروع کر دیں اور عرض کیا: " کیا تو ایسے کو بنانا چاہتا ہے جو فساد و خونریزی کرے گا؟" تو ان کے جواب میں فرمایا: "جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے" (بــقره ــــــــــــ ۳۰)۔ تو ان کی انھیں باتوں پر"مخاصمہ" کا اطلاق ہوا ہے، جو ایک مجازی اطلاق ہے اور جیسا کہ ہم نے اشارتاً بیان کیا ہے کہ یہ حقیقت میں بعد والی آیات کے لیے جو آدم کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ایک مقدمہ اور تمہید ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "ملا اعلٰی" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں شیطان تک بھی شامل ہے، کیونکہ اس وقت شیطان بھی فرشتوں کے زمرے میں تھا اور خدا کے ساتھ مخاصمت کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا، اور اعتراض کرنے لگا اور اس بنا پر ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ خداوندی ہو گیا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ متعدد روایات میں جو شیعہ اور اہلِ سنت کے ذرائع سے نقل ہوئی ہیں، یہ بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبرِ اکرمؐ نے اپنے صحاب میں سے ایک سے پوچھا: أتدري فيما يختصم الملأ الأعلٰى؟ کیا تو جانتا ہے کہ عالمِ بالا کے فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و گفتگو کرتے ہیں؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: إختصموا فى الكفارات و الدرجات، فأما الكفارات فاصباغ الوضوء فى السبرات، ونقل الأقدام الى الجماعات، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، واما الدرجات فافشاء السلام، واطعام الطعام، والصلاة فى الليل والنّاس نيام وہ کفارات (وہ کام جو گناہوں کی تلافی کرتے ہیں) اور درجات (وہ چیزیں جو انسان کے درجات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں) کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ رہے کفارات تو وہ موسمِ سرما کی سردی میں بھرے پانی کے ساتھ وضو کرنا اور نماز باجماعت کے لیے قدم بڑھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے اور "درجات" بہت زیادہ سلام کرنا، دوسروں کو کھانا کھلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں [تشریحی نوٹ: مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں۔ یہی حدیث تفسیر درالمنثور میں کئی ایک حوالوں سے متعدد اصحابِ رسولؐ سے بھی کچھ اختلاف کے ساتھ منقول ہوئی ہے]۔ لیکن اس حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ بیان نہیں ہوا ہے کہ یہ زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں وارد ہوئی ہے، اگرچہ اس کی تعبیرات زیر بحث آیت کی تعبیروں کی طرح ہیں۔ بہرحال اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "مخصہ" سے مراد صرف گفتگو آدمیوں کے اعمال کے بارے میں ہے اور ان کاموں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں اور انسان کے درجارت میں اضافہ کرتے ہیں۔ شاید ان کی گفتگو ان اعمال کی تعداد کے بارے میں ہے جو ان فضائل کا سرچشمہ بنتے ہیں یا ان درجات کی حد اور میعار کا تعین کرنے میں جو ان اعمال سے حاصل ہوتے ہیں اور اس طرح سے آیت کی ایک تیسری تفسیر سامنے آتی ہے جو کئی لحاظ سے مناسب ہے لیکن یہ آینده والی آیات کے ساتھ کوئی زیادہ مناسب نہیں رکھتی اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ ممکن ہے: یہ حدیث فرشتوں کی کسی دوسری گفتگو کے بارے میں ہو نہ کہ اس گفتگو کے بارے میں جو ان آیات کےساتھ مربوط ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ پیغمبرِ اکرمؑ کا عدمِ علم اس معنی میں ہے کہ میں اس سلسلے میں اپنی طرف سے نہیں جانتا، صرف وہی کچھ جانتا ہوں جو وحی کے ذریعے مجھ پر نازل ہوتا ہے۔

71
38:71
إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ
( اس وقت کو یاد کر )جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا ؛ میں گیلی مٹی سے ایک بشر پیدا کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
38:72
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
جس وقت میں اسے درست اور منظم کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے لیے سجدہ کرنا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
38:73
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ
پس اس وقت تمام فرشتوں نے تو سجدہ کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
38:74
إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
مگر ابلیس نے (سجدہ نہ کیا اس نے) تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
38:75
قَالَ يَـٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ
اللہ نے فرمایا:اے ابلیس ! تجھے کس نے (اس مخلوق کو) سجدہ کرنے سے روکا، جسے میں نے اپنی قدرت سے خلق کیا ہے؟ کیا تو نے تکبر کیا ہے یا تو ’’عالین‘‘ میں سے تھا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
38:76
قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ
اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے گیلی مٹی سے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
38:77
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ
فر مایا: آسمانوں (اور ملائکہ کی صفوں ) سے نکل جا تو میرا راندہ درگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
38:78
وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
اور یقیناً تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
38:79
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
(ابلیس) کہنے لگا : میرے پرور دگار : مجھے اس دن تک کی مہلت دے دے، جس دن انسان قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
38:80
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
فر ما یا : تجھے مہلت دے دی گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
38:81
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ
لیکن ایک معین دن تک کے لیے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
38:82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اس نے کہا : تیری عزت کی قسم ؛ میں ان سب کو گمراہ کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
38:83
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
سوائے تیرے ان بندوں کے جوان میں سے تیرے مخلص ہوں گے۔

تفسیر: تکبر کیا اور راندۂ درگاہ ہو گیا

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ملا اعلٰیٰ کے بارے میں اور ابلیس کی گفتگو سے متعلق ہے۔ اور مجموعی طور اس واقعے کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پہلے تو انسانوں کو یاد دلایا جائے کہ ان کا وجود کتنا قیمتی ہے کہ تمام فرشتے ان کے جدِّ امجد آدم کے لیے سجدہ میں گِر پڑے۔ ایسی بڑی حیثیت کا مالک انسان کسی طرح شیطان اور ہوائے نفس کے چنگل میں اسیر ہو جاتا ہے کس طرح اپنی قدر و قیمت کو نظرانداز کر کے پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کرنے لگتا ہے؟ اصولی طور پر تربیت کے موثر طریقوں میں سے ایک، زیرِ تربیت افراد کو ان کی عظمت کا احساس دلانا ہے یا زیادہ صحیح لفظوں میں اس طرح سے ان کی بلند حثیت اور ان کے وجود کی قدر و قیمت انھیں یاد دلانا کہ انسان خودبخود محسوس کرنے لگے کہ انحطاط اور پستی اس کی شان کے لائق نہیں اور خودبخود ان سے کنارہ کشی کر لے۔ ثانیاً شیطان کی ہٹ دھرمی اور اس کا تکبر اور حسد سب ہٹ دھرم اور مغرور افراد کے لیے ایک تنبیہ اور عبرت ہے کیونکہ یہی اس بات کا سبب بن گیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے افتخار کی بلندی سے نیچے گِر جائے اور لعنت کی گندگی میں جا گرے۔ ثالثاً ایک ایسے بڑے دشمن کی خبر دی گئی ہے جس نے تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہے تاکہ سب ہوش میں رہیں اور اس کے دامِ فریب میں نہ پھنسیں۔ یہ امور مجموعی طور پر گزشتہ بحث کا تسلسل ہیں۔ بہرحال زیر بحث پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کر جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا: میں گیلی مٹی سے ایک بشر پیدا کروں گا۔ (إِذْ قالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ)۔ لیکن اس بنا پر کہ یہ تصوّر نہ ہو کہ انسانی وجود کا صرف وہی خاکی پہلو ہے۔ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: اور جس وقت میں اسے منظم کر لوں اور درست بنا لوں اور اپنی روح میں سے (اشرف اور ممتاز روح جسے میں نے خلق کیا ہے) اس میں پھینک دوں تو تم سب کے سب اس کے لیے سجدہ میں گِر پڑنا (فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ ساجِدِينَ)۔ اس طرح سے انسان کی خلقت مکمل ہو گئی اور خدا کی خاص روح اور سیاہ گیلی مٹی آپس میں مِل گئے اور ایک عجیب و غریب بالکل نیا وجود جس کی بلندی و پستی دونوں بےانتہا ہیں پیدا ہو گیا اور ایک انتہائی زیادہ استعداد رکھنے والا جو "خلیفۃ اللہ" ہونے کے لائق ہو عرصہ وجود میں وارد ہوا ۔"اور اس وقت بغیر کسی استثناء کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا"۔ (فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ)۔ اور اس حالت کو حمد و ستائش کے لائق جانا - ع کار و چنیں دل آویز نقشی زماء وطینی جس نے اس قسم کا دل آویز نقش پانی اور مٹی سے بنایا ہے۔ لیکن "صرف ایک جس نے سجدہ نہیں کیا ابلیسں تھا، اس نے تکبر کیا اور سرکشی کی اور اسی بنا پر اپنے باعظمت مقام سے نیچے گِر گیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔ (إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَ كانَ مِنَ الْكافِرِينَ)۔ ہاں! انسان کے لیے بدترین بلائے جان بھی یہی کبر و غرور ہے جو جہالت کے تاریک پردے اس کی چشمِ بینا پر ڈال دیتا ہے اور اسے حقائق کے ادراک سے محروم کر دیتا ہے، اسے سرکشی پر ابھارتا ہے اور مومنین کی صف سے نکال دیتا ہے کہ جو خدا کے مطیع بندوں کی صف ہے اور اسے کافروں کی صف میں پہنچا دیتا ہے کہ جو باغیوں اور سرکشوں کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر خدا نے ابلیس سے مؤاخزہ کیا اور بازپرس کی۔ "فرمایا اے ابلیسں! اس مخلوق کو سجدہ کرنے سے تمھیں کس نے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا تھا۔ (قالَ يا إِبْلِيسُ ما مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِما خَلَقْتُ بِيَدَيَّ).)۔ یہ بات ظاہر ہے کہ "یدی" (دونوں ہاتھ) کی تعبیر حِسّی ہاتھوں کے معنوں میں نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کے جسم و جسمانیت سے پاک و منزہ ہے، بلکہ یہاں پر ہاتھ قدرت کے معنی کے لیے کنایہ ہے کیونکہ عام طور پر انسان اپنی طاقت کو ہاتھ سے عمل میں لاتا ہے۔ اس لیے روزمرہ کی گفتگو میں یہ لفظ قدرت کے معنی میں فراوانی سے استعمال ہوتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں ملک فلاں گروہ کے ہاتھ میں ہے یا فلاں عبادت خانہ یا عمارت فلاں شخص کے ہاتھ سے بنی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ میرا ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچتا یا تیرا ہاتھ پر ہے تو ان میں کہیں بھی لفظ ہاتھ مخصوص عضو کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ سب کے سب قدرت و تسلط کے مفہوم کے لیے کنایہ ہیں۔ چونکہ انسان اہم کاموں کو دونوں ہاتھوں سے انجام دیتا ہے اور دونوں ہاتھوں کو کام میں لگانا انسان کی کسی چیز کے لیے انتهائی توجہ اور لگاؤ کی نشانی ہے، لہذا زیر بحث آیت میں اس تعبیر کا بیان، انسان کی خلقت میں پروردگار کی خصوصی عنایت اور اس کی قدرتِ مطلقہ کو عمل میں لانے کے لیے کنایہ ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: کیا تو نے تکبر کیا، یا تو اس سے بالا تر تھا کہ تجھے سجدے کا حکم دیا جائے۔ (َسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ‏)۔ بِلاشک و شبہ کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس کی قدر و منزلت اس سے بالاتر ہے کہ وہ خدا کے لیے سجدہ کرے (یا خدا کے حکم سے آدم کے لیے سجدہ کرے) اس بنا پر آخری راه جو باقی رہ جاتی ہے وہی دوسرا احتمال یعنی تکبر ہے۔ بعض مفسرین "عالمین" کو یہاں ایسے افراد کے معنی میں سمجھتے ہیں جو ہمیشہ کبر و غرور میں رہیں۔ اس بنا پر اس جملے کا معنی یہ ہو گا: کیا تو نے اب اس وقت ہی تکبر کیا ہے یا تو ہمیشہ سے ہی ایسا تھا؟ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ البتہ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ ابلیس نے دوسری شق کو انتخاب کیا اور وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ وہ اس سے برتر ہے کہ اسے اس قسم کا حکم دیا جائے لہذا انتہائی جسارت کے ساتھ فرمانِ خدا کی مخالفت کرنے کے لیے دلیلیں دینے لگا اور کہا: میں اس (آدم) سے بہتر ہوں، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گیلی مٹی سے (قالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ)۔ وہ حقیقت میں اپنے خیال کے مطابق تین حوالوں سے فرمانِ خدا کی نفی کرنا چاہتا تھا۔ پہلا یہ کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور وہ مٹی سے جو ایک حقیقت بھی تھی، جیسا کہ قرآنِ مجید نے خود کہا ہے: خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ وَ خَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ خدا نے انسان کو خشک شدہ اس (کھنکتی) مٹی سے پیدا کیا جو اینٹ یا پیالے کی مانند تھی اور جنّوں کو (جن میں سے ابلیس میں بھی تھا) آگ کے شعلے سے خلق کیا۔ (الرحمٰن ــــــ ۱۴، ۱۵) دوسرا یہ کہ جو آگ سے پیدا کیا گیا ہے وہ اس سے برتر و افضل ہے جسے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے، کیونکہ آگ مٹی سے افضل و برتر ہے۔ تیسرا یہ کہ اشرف و افضل موجود کو ہرگز یہ حکم نہیں دینا چاہیے کہ وہ غیراشرف کے سامنے سجدہ کرے۔ ابلیسں کا سارا اشتباه اور غلطی ان دو آخری پہلوؤں میں تھی۔ کیونکہ اوّل تو آدم صرف مٹی سے پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کی عظمت اس روحِ الٰہی کی وجہ سے تھی جو ان میں پھونکی گئی تھی، ورنہ مٹی کہاں اور یہ سارے افتخار، استعداد اور تکامل کہاں؟ دوسرے مٹی نہ صرف یہ کہ آگ سے کمتر نہیں ہے بلکہ اس سے کئی درجے برتر ہے، کیونکہ ساری زندگی اور منابع حیاتی مٹی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ تمام تر نباتات، پھول، پھل اور تمام زنده موجودات مٹی سے ہی وجود پاتے ہیں۔ تمام گراں بہا معدنیات مٹی کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مٹی انواع و اقسام کی برکات کا منبع ہے۔ جبکہ آگ اپنی پوری اہمیت کے باوجود جو اسے زندگی میں حاصل ہے ہرگز اس کے مر تبے کو نہیں پہنچ سکتی اور وہ صرف مٹی کے منابع سے استفادہ کرنے کا ایک آلہ ہے اور وہ بھی خطرناک آلہ اور پھر آگ پیدا کرنے والے مواد بھی زیادہ تر زمین کی برکت سے وجود میں آتے ہیں (ایندھن، کوئلہ، تیل اور پٹرول وغیرہ)۔ تیسرا مسئلہ اطاعتِ حکمِ الٰہی کا ہے۔ سب کے سب اسی کی مخلوق اور بندے ہیں، لہذا انھیں اس کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہیے۔ بہرحال اگر ہم ابلیس کے استدلال کا تجزیہ و تحلیل کریں تو وہ ایک عجیب و غریب کفر اس کی بنیاد ہے۔ وہ اپنی اس گفتگو سے چاہتا تھا کہ خدا کی حکمت کی بھی نفی کرے اور اس کے امر کو بھی (نعوذ باللہ) بےمآخد و بےمدرک شمار کرے اور اس کا یہی اعتراض اس کی انتہائی جہالت کی دلیل ہے، کیونکہ اگر وہ یہ کہتا کہ میری ہوائے نفس مانع ہوئی ہے یا کبر و غرور نے مجھے اجازت نہیں دی اور اسی طرح کا کوئی اور عذر تو اس نے صرف ایک گناہ کا اظہار کیا ہوتا، لیکن اب جبکہ اس نے اپنے عصیان کی توجہیہ کے لیے پروردگار کی حکمت اور اس کے علم کی نفی کی، تو یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس نے کفر کے پست ترین مرحلے کی طرف سقوط کیا۔ علاوہ ازیں مخلوق اپنے خالق کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی استقلال نہیں رکھتی، جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور شیطان کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے لیے پروردگار کی حاکمیت کے مقابلے میں حاکمیت و استقلال کا قائل تھا اور یہ کفر کا ایک اور سرچشمہ ہے۔ بہرحال شیطان کی گمراہی کا عامل خودپرستی، غرور، جہل اور حسد کا مرکب تھا۔ یہ سب کی سب شیطانی صفات اکٹھی ہو گئیں اور اسے جو سالہا سال سے ملائکہ کا ہم نشیں بلکہ ان کا معلم تھا، اس بلندی اور افتخار سے نیچے کھین لائیں اور یہ بری صفات جہاں کہیں بھی پیدا ہو جائیں کس قدر خطرناک ہیں؟ نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں علیؑ کے ارشاد کے مطابق۔ اس نے ہزارہا سال تک پروردگار کی عبادت کی تھی، لیکن گھڑی بھر کا تکبر اس سب کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے گیا اور سب کچھ برباد کر دیا [بحوالہ: امیرالومنین علی علیه السلام فرماتے ہیں: فاعتبروا بِما كان من فعل الله بابليس اذا حبط عمله الطويل وجهده الجهيد وكان قد عبد اللَّه ستة الاف سنة ... عن كبر ساعة واحدة فمن ذا بعد ابليس يسلم على الله بمثل معصيته خدا کے بندو! عبرت حاصل کرو اس سے جو خدا نے ابلیسں کے بارے میں انجام دیا کہ اس کے طولانی اعمال اور فراواں کششوں کو جبکہ اس نے چھ ہزار سال تک عبادت کی تھی، ایک گھڑی بھر کے تکبر سے برباد کر دیا تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص وہی ابلیسں والا کام انجام دے اور خدا کے غضب سے امان میں رہے (نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲-خطبه قاصعه)]۔ ہاں! ایک اہم اور عظیم عمارت کو تعمیر تو سالہا سال میں کیا جاتا ہے لیکن اسے ایک طاقتور بمب کے ساتھ ایک ہی لمحہ میں تباہ کیا جا سکتا۔ یہی موقع تھا جبکہ اس پلید وجود کو ملا اعلٰی اور عالمِ بالا کے فرشتوں کی صفوں سے نکال دیا جانا چاہیے تھا۔ لہذا خدا نے اسے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آسمانِ بریں سے فرشتوں کی صفوں سے نکل جا، کیونکہ تو میرا رانده درگاہ ہے (قالَ فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ)۔ "فاخرج منها" میں ضمیر ممکن ہے صفوفِ ملائکہ یا عوالمِ بالا یا بہشت یا خدا کی رحمت کی طرف اشارہ ہو۔ ہاں اس نامحرم کو یہاں سے چلے جانا چاہیے، کیونکہ یہ اس جگہ کے لائق نہیں ہے۔ یہ تو پاکیزہ اور مقرب لوگوں کی جگہ ہے یہ آلوده سرکش اور تاریک دلوں کی جگہ نہیں ہے۔ "رجیم" "رجم" کے مادہ سے سنگسار کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ اس کا لازمہ طرد دینا (نکالنا، بھگانا اور دھتکارنا) ہے لہذا کبھی یہ لفظ اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یقیناً میری لعنت قیامت کے دن تک تجھ پر پڑتی رہے گی اور تو ہمیشہ میری رحمت سے دور رہے گا (وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلى‏ يَوْمِ الدِّينِ)۔ اہم بات یہ ہے کہ جس وقت انسان اپنے اعمالِ بد کا برا نتیجہ دیکھے تو بیدار ہو جائے اور اس کی تلافی کی فکر کرے۔ لیکن اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز خطرناک نہیں ہے کہ وہ اس طرح سے غرور اور ہٹ دھرمی کے گھوڑے پر سوار رہے اور ہلاکت کے گڑھے کی طرف چلتا ہی چلا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جبکہ اس کا فاصلہ لمحہ بہ لمحہ صراطِ مستقیم سے بڑھتا چلا جاتا ہے اور یہی وہ بدبختی تھی جس نے ابلیس کا دامن پکڑ لیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں "حسد" کینہ میں بدل گیا، ایسا کینہ جو سخت اور جڑیں پیدا کر لینے والا تھا۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: اس نے کہا: میرے پروردگار! مجھے قیامت کے دن تک جب انسان قبروں سے اٹھائے جائیں گئے مہلت دے (قالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلى‏ يَوْمِ يُبْعَثُون)۔ کیا ایسی مہلت جس میں اپنی ماضی پر اشکِ حسرت و ندامت بہاؤں؟ کیا ایسی مہلت جس میں میں اپنے قبیح اور برے گناہوں کی تلافی کروں؟ نہیں! نہیں! مجھے تو ایسی مہلت درکار ہے جس میں میں آدم کی اولاد سے انتقام لوں اور سب کو گمراہی کی طرف کھینچ کر لےجاؤں۔ اگرچہ ان میں ہر ایک کی گمراہی، گناہ کا ایک نیا بھاری بوجھ میرے دوش پر رکھ دے گی اور مجھے کفر و عصیان کے منجمدار میں زیادہ سے زیادہ نیچے لے جائے گی۔ ہائے افسوس! وہ کون سی مصیبت ہے جو ہٹ دھرمی، کبر و غرور اور حسد کے ہاتھوں لوگوں کے سروں پر وارد نہیں ہوتی؟ حقیقت میں وہ چاہتا تھا کہ آخری حد تک ممکن وقت تک آدم کی اولاد کو گمراہ کرتا رہے اور چونکہ قیامت کا دن ذمہ داری کے ختم ہونے کا دن ہے اور اس کے بعد وسوسہ اور اغوا کا کوئی مفہوم ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اس درخواست کے ذریعے موت کو اپنے آپ سے دور کر دے اور قیامت تک زندہ رہے، اگرچہ ساری دنیا کے لوگ دنیا سے چل بسیں۔ یہاں مشیتِ الٰہی نے ان دلائل و وجوہ کی بنا پر۔ جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔ اقتضاء کیا کہ ابلیس کی یہ خواہش پوری ہو جائے۔ لیکن مطلق طور پر نہیں بلکہ مشروط صورت میں جیسا کہ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے، فرمایا: تجھے مہلت دی گئی (قالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ)۔ لیکن قیامت کے دن اور مخلوق کے مبعوث ہونے اور قبروں سے اٹھنے کے دن نہیں بلکہ "ایک معین دن اور زمانے تک کے لیے"۔ (إِلى‏ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم)۔ اس بارے میں کہ "يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم" کون سا دن ہے مفسرين نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ بعض تو اسے اس جہان کا اختتام سمجھتے ہیں، کیونکہ اس دن تمام زندہ موجودات مر جائیں گئے اور صرف خدا کی ذاتِ پاک باقی رہ جائے گی۔ جیسا کہ سورہ قصص کی آیہ ۸۸ میں بیان ہوا ہے: كُلُّ شَيْ‏ءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ اور اسی طرح سے ابلیس کی خواہش کا ایک حصہ منظور کر لیا گیا۔ بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے لیکن یہ احتمال نہ تو زیر بحث آیات کے ظاہری مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہے کیونکہ ان کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ اس کی تمام خواہش کے ساتھ موافقت نہیں ہوئی اور نہ ہی قرآن کی دوسری آیات کے ساتھ جو اس جہان کے اختتام پر تمام زندوں کی موت کی خبر دیتی ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے یہ آیت ایسے زمانے کی طرف اشارہ ہو جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے لہذا ایک روایت میں جو تفسیرِ برہان میں امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے، آیا ہے کہ ابلیس نفخہ اول اور دوم کے درمیانی عرصے میں مر جائے گا [بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۳۴۲]۔ یہ وہ منزل تھی جہاں ابلیسں نے اپنے دل میں چھپی ہوئی بات کو ظاہر کر دیا اور عمرِ جاودانی کا تقضا کرنے کے لیے اپنے اصل مقصد کی نشاندہی کر دی اور کہا: تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں گا (قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ)۔ "عزت" کی قسم، قدرت پر بھروسہ اور توانائی کے اظہار کے لیے ہے اور پےدرپے تاکیدیں (قسم، نون تاکید ثقیلہ اور اجمعین لفظ) اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اپنے عزم و ارادہ میں انتہائی ثبات و استقامت رکھتا تھا اور رکھتا ہے اور آخری سانس تک وہ اپنی بات پر اڑا ہوا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ خدا کے خاص بندوں کا ایک گروہ اس کے اثر و نفوذ سے باہر رہے گا اور اس کے وسوسے میں نہیں آئے گا، لہذا مجبوراً انھیں اپنی اوپر والی گفتگو سے مستثنیٰ کرتے ہوئے کہتا ہے: "مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہوں گے" (إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ)۔ وہی لوگ جو تیری معرفت و بندگی کی راہ میں اخلاص اور صدق و صفا سے قدم بڑھائیں گے، جنھیں تو نے بھی قبول کر لیا ہے اور انھیں خالص کیا ہے اور انھیں اپنی حفاظت میں لے لیا ہے، صرف یہی گروہ ہے جن تک میں کوئی دسترس نہیں رکھتا۔ ورنہ باقی سب کو اپنے فریب کے جال میں پھنسا لوں گا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ابلیس کا یہ اندازہ اور گمان درست نکلا اور ہر کوئی کسی نہ کسی طرح سے اس کے جال میں پھنس گیا۔ اور "مخلصین" کے علاوہ کوئی اس سے نہ بچا۔ جیسا کہ قرآن سوره سبا کی آیہ ۲۰ میں کہتا ہے: وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ان کے بارے میں ابلیس کا گمان سچ نکلا اور مومنین کے ایک گروہ کے سوا سبھی نے اس کی پیروی کی۔

چنداہم نکات: ۱۔ اس شیطان کے وجود کا فلسفہ

زیر بحث آیات کے سلسلے میں بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں: شیطان کی خلقت کا مسئلہ، فرشتوں کے آدم کو سجدہ کرنے کی دلیل، فرشتوں پر آدم کی برتری کی علت اور یہ کہ شیطان کس قسم کے لوگوں پر تسلط جماتا ہے اور کبر و غرور اور خودپرستی کا نتیجہ، سیاہ گیلی مٹی اور روحِ الٰہی سے مراد اور تکاملِ انواع کے مقابلے میں آدم کی پیدائش اور اس کی مستقل خلقت کا مسئلہ اور اسی قسم کے دوسرے مسائل۔ ان کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقره کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں، گیارہویں جلد میں سورہ حجر کی آیہ ۲۶ کے ذیل میں اور چھٹی جلد سوره اعراف کی آیہ ۱۱ کے ذیل میں مفصّل بحث کی ہے۔ جس چیز کی ہم یہاں نئے سرے سے یاددہانی کروانا ضروری سمجھتے ہیں وہ اس سوال کے بارے میں ہے جو شیطان کی خلقت کے فلسفہ کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں اگر انسان تکامل و ارتقاء اور بندگی خدا کے ذریعے سعادت و نیک بختی کے حصول کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو پھر شیطان کے وجود کی کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ جو تکامل و ارتقاء کے برخلاف ایک تباہ کن وجود ہے اور وہ بھی ایک ہوشیار، کینہ پرور، مکار، پرفریب اور اپنے ارادے کا پکّا۔ لیکن اگر ہم تھوڑا سا بھی غور و فکر کریں تو جان لیں گے کہ اس دشمن کا وجود بھی انسانوں کے تکامل و ارتقاء کے لیے ایک کمک ہے۔ ہم دور نہ ہو جائیں، ہمیشہ سخت دشمنوں کے مقابلے میں جمے اور ڈٹے رہنے والی طاقتیں ہی جاندار ہوتی ہیں اور وہ اپنی ارتقائی منزلوں کو طے کرتی ہیں۔ تجربه کار اور طاقتور کمانڈر اور میدانِ جنگ کے سپاہی وہی ہوتے ہیں جو بڑی بڑی جنگوں میں سخت ترین دشمنوں کے ساتھ نبرد آزما رہے ہوں۔ تجربہ کار اور طاقتور سیاستدان وہی ہوتے ہیں جو سخت سیاسی بحرانوں میں طاقتور دشمنوں کے ساتھ پنجہ آزمائی کیے ہوئے ہوں۔ کُشتی کے عظیم ہیرو اور بڑے پہلوان وہی ہوتے ہیں جنھوں نے سخت طاقتور حریفوں کے ساتھ زورآزمائی کی ہو۔ اس بنا پر یہ تعجب کی کون سی بات ہے کہ خدا کے عظیم بندے شیطان کے مقابلے مسلسل اور پےدرپے جہاد کرتے رہنے سے روز بروز زیادہ قوی ہوتے چلے جائیں۔ موجودہ زمانہ کے ماہرین، مزاحمت کرنے والے جراثیموں کے وجود کے فلسفہ کے بارے میں کہتے ہیں: اگر وہ (جراثیم) نہ ہوتے تو انسان کے بدن کے خلیے سست اور کاہل ہو جاتے اور احتمال ہے کہ انسانوں کے بدن کی نشوونما ۸۰ سنٹی میٹر سے زیادہ نہ ہوتی، سب کے سب بونے آدمیوں کی صورت میں ہوتے اور اس طرح سے آج کے انسانوں نے مزاحمت کرنے والے جراثیموں کے ساتھ جسمانی مقابلے کی وجہ سے زیادہ طاقت اور نشوونما حاصل کی ہے۔ یہی (ارتقائی صورت) روحِ انسانی کی شیطان اور ہوائے نفس سے مقابلہ کرنے میں ہوتی ہے۔ لیکن اس کا معنی نہیں ہے کہ شیطان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بندگانِ خدا کو گمراہ کرے۔ شیطان پہلے دن سے دوسرے موجودات کی طرح پاک و پاکیزہ خلقت رکھتا تھا۔ انحراف، انحطاط، بدبختی اور شیطنت خود اس کے ارادے اور خواہش سے اسے ملی۔ اس بنا پر خدا نے شیطان کو پہلے دن سے شیطان پیدا نہیں کیا۔ اس نے خود چاہا کہ وہ شیطان ہو، لیکن اس کے باوجود اس کی شیطنت نہ صرف یہ کہ حق طلب بندوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی بلکہ ان کے لیے ترقی کا زینہ ہے (غور کیجیے گا)۔ البتہ یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خدا نے اس کی زندگی کو برقرار رکھنے کی درخواست کو قبول کیوں کیا اور فوراً ہی اسے نابود کیوں نہ کر دیا؟ اس کا جواب وہی ہے جو ستورِ بالا میں بیان کیا گیا ہے اور دوسرے لفظوں میں: "عالمِ دنیا آزمائش اور امتحان کا میدان ہے (ایسی آزمائش جو انسانوں کی پرورش اور تکامل کا ذریعہ ہے) اور ہم جانتے ہیں کہ آزمائش سخت ترین دشمنوں، طوفانوں اور بحرانوں سے مقابلہ کیے بغیر ممکن نہیں"۔ البتہ اگر شیطان نہ بھی ہوتا تو بھی ہوائے نفس اور نفسانی وسوسے انسان کو آزمائش کی کٹھالی میں ڈالتے، لیکن شیطان کے ہونے سے آزمائش کا یہ تنور زیادہ گرم ہو گیا، کیونکہ شیطان ایک بیرونی عامل ہے اور ہوائے نفس عاملِ اندرونی ہے۔

۲۔ آتشِ غرور سب کچھ جلا دیتی ہے

ان غیرمعمولی حساس مسائل میں سے جو امر ابلیس اور اس کے راندۂ درگاِ خدا ہونے کے واقعے میں توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے، انسان کی تیرگی اور بدبختی میں خودخواہی اور غرور کے عامل کی تاثیر ہے۔ اس طرح سے کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انحراف کا اہم ترین اور خطرناک ترین عامل یہی ہے۔ یہی چیز تھی جو چھ ہزار سال کی عبادت کو ایک ہی لمحہ میں نابود کر گئی اور یہی چیز تھی جس نے اس موجود کو جو آسمان کے عظیم فرشتوں کا ساتھی تھا بدبختی کے پست ترین گڑھے میں لا پھینکا اور اسے خدا کی ابدی لعنت کا مستحق بنا دیا۔ خودخواہی اور غرور انسان کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ حقیقت کے چہرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھے۔ خودخواہی سرچشمہ حسد ہے اور حسد کینہ پروری کا سرچشمہ ہے اور کینہ پروری خوں ریزی اور دوسرے جرائم کا سبب بنتی ہے۔ خودخواہی انسان کو خطائیں اور غلطیاں جاری رکھنے پر ابھارتی ہے اور جب پیدا ہو جائے تو بیدار کرنے والے عوامل کو بےکارکر دیتی ہے۔ خوفخواہی اور ہٹ دھرمی انسان کے ہاتھ سے توبہ اور تلافی کی مہلت چھین لیتی ہے اور نجات کے دروازے اس کے لیے بند کر دیتی ہے خلاصہ یہ ہے کہ اس قبیح اور مذموم صفت کے خطرناک ہونے کے سلسلے میں جو کچھ کہا جائے بہت کم ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے: فعدو الله امام المتعصبين، وسلف المستكبرين، الذى وضع اساس العصبية، ونازع الله رداء الجبرية، وأدرع لباس التعزز، وخلع قناع التذلل، إلّا ترون كيف صغّرَهُ الله بِتَكَبِّرِهِ؟ وَوَضَعَه بِتَرفَعِهِ؟ فجعله فى الدّنيا مدحورًا وَأعد له فى الآخرة سعيرًا یہ (شیطان) دشمنِ خدا، تعصب کرنے والوں کا پیشوا اور مستکبرین کا سلف ہے۔ جس نے تعصب و تكبر اور خودخواہی کی بنیاد رکھی۔ اور خدا کے ساتھ اس کے مقامِ جبروتی کے خلاف نزاع کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنے بڑا ہونے کا لباس اپنے بدن پر پہن لیا اور انکسار اور فروتنی کا لباس اتار دیا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ خدا نے اسے اس کے تکبر کی وجہ سے کیسا ذلیل کیا اور اس کی بلند پروازی کی بنا پر اسے پست و حقیر بنا دیا؟ دنیا میں اسے راندۂ درگاہ بنا دیا اور آخرت میں جلا ڈالنے والی آگ اس کے لیے تیار کر دی (نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲، خطبه قاصعہ)۔

84
38:84
قَالَ فَٱلۡحَقُّ وَٱلۡحَقَّ أَقُولُ
(اللہ نے) فرمایا؛حق کی قسم :میں ہی حق کہتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
38:85
لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ أَجۡمَعِينَ
میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
38:86
قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ
(اے پیغمبر!)کہہ دو:میں تم سے کوئی کسی قسم کا اجر طلب نہیں کرتا اور میں متکلفین میں سے نہیں ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
38:87
إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
یہ(قرآن) تمام عالمین کے لیے تذکر (اور یاد دہانی) کا ذریعہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
38:88
وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعۡدَ حِينِۭ
اور تم اس کی خبر ایک مدت کے بعد ضرور سن لو گے۔

تفسیر: ابلیسں کے بارے میں آخری بات

Tafsīr Nemūna · Vol. 6

یہ آیات جو سورة ص کی آخری آیات ہیں، حقیقت میں اس سورہ کے سارے مضامین کا خلاصہ اور ان تمام مختلف بحثوں کا نتیجہ ہیں جو اس سورہ میں بیان ہوئی ہیں۔ پہلے تو ابلیسں کے جواب میں جس نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ مخلصین کے سوا سب انسانوں کو گمراہ کر کے رکھ دے گا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: حق کی قسم اور میں حق ہی کہتا ہوں (قالَ فَالْحَقُّ وَ الْحَقَّ أَقُول) [تشریحی نوٹ: اس جملہ کی ترکیب کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔ ممکن ہے "الحق" مبتدا ہو اور "قسمی" جو اس کی خبر ہے محزوف ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی خبر "قولی" ہو "فالحق قولی" یہ احتمال بھی موجود ہےکہ ایک محزوف مبتدا کی خبر ہو "هذا هوالحق" یا (انا الحق) ہو] کہ میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا (لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ)۔ جو کچھ ابتداءِ سورہ سے یہاں تک بیان ہوا ہے وہ سب حق تھا اور جو کچھ ان عظیم پیغمبروں نے، جن کی زندگی کا ایک گوشہ اس سورہ میں آیا ہے۔ اس کے لیے جنگ و پیکار اور جہاد کیا، وہ حق تھا۔ قیامت اور سرکشوں کے دردناک عذاب اور جنات کی انواع و اقسام کی نعمتوں کی جو باتیں اس سورہ میں بیان ہوئی ہیں وہ سب حق تھیں۔ اس سورہ کا اختتام بھی حق ہے اور خدا حق کی قسم کھاتا ہے اور حق بات کرتا ہے کہ جہنم کو شیطان اور اس کے پیروکاروں سے بھر دوں گا تاکہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے بارے میں ابلیس کی اس بات کا ایک قطعی اور دوٹوک جواب دیا جائے کہ جو اس نے قاطعیت کے طور پر کہی تھی۔ یہ اس لیے ہے تاکہ سب کی ذمہ داری واضح کر دی جائے۔ بہرحال یہ دونوں جملے بہت سی تاکیدات پر مشتمل ہیں: دو مرتبہ حق ہونے کی تاکید ہے اور قسم کھائی گئی ہے۔ اور "لاملئن" بھی نونِ تاکید ثقلیہ کے ساتھ ہے اور ان سب پر"اجمعین" کی ایک اور تاکید ہے تاکہ کسی کو معمولی سا بھی شک و شبہ اس بارے میں نہ ہونے پائے کہ شیطان اور اس کے پیروکاروں کے لیے کوئی راہِ نجات نہیں ہے اور ان کا اس راہ پر چلتے اہنا انھیں ہلاکت کے گھر تک پہنچا دے گا۔ اس کے بعد اس گفتگو کے آخر میں چار اہم مطالب کی طرف مختصر اور واضح عبارتوں کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا (قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ)۔ اس طرح سے بہانہ جوئی کرنے والوں کے بہانوں کو ختم کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ میں تو صرف تمھاری نجات اور سعادت کا خواہاں ہوں، نہ کوئی مادی اجر تم سے چاہتا ہوں اور نہ کوئی معنوی، نہ قدردانی، نہ شکرگزاری، نہ مقام و منزلت اور نہ حکومت، کیونکہ میرا اجر تو خدا کے ذمہ ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات مثلاً سورۃ سبا کی آیہ ۴۷ میں اس کی تصریح ہوئی ہے: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّه۔ یہ بات خود پیغمبرِ اکرمؐ کی صداقت کی ایک دلیل ہے کیونکہ جھوٹے مدعی مختلف قسم کے لالچ کے نئے دعوے کرتے ہیں اور ان کا لالچ ان کی کئی باتوں سے بہر صورت واضح و آشکار ہو جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فرمایا گیا ہے: میں متکلفین میں سے نہیں ہوں بلکہ میری باتیں دلیل و منطق کے ساتھ ہوتی ہیں اور کسی قسم کا تکلف ان میں نہیں ہے۔ میری عبارتیں واضح اور میری باتیں ہر قسم کے ابہام اور پیچیدگی سے خالی ہیں (وَ ما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ)۔ حقیقت میں پہلا جملہ دعوت کرنے والے کے اوصاف کے بارے میں ہے اور دوسرا جملہ اس کے دعوے کے مطالب کی کیفیت کے متعلق اور واقعاً یہ"آفتاب آمد دلیل آفتاب" کا مصداق ہے۔ تیسرے مرحلے میں اس عظیم دعوت اور آسمانی کتاب کے نزول کا اصلی ہدف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ قرآن سارے جہان والوں کے لیے نصحیت، یاددہانی اور بیداری کا ذریعہ ہے (إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعالَمِينَ)۔ ہاں! اہم بات یہ ہے کہ لوگ غفلت سے باہر نکلیں اور غور و فکر کریں کیونکہ راستہ واضح ہے اور اس کی نشانیاں آشکار ہیں اور انسان کے اندر ایک ایسی پاک و پاکیزہ فطرت ہے جو اس کی راہنمائی کرتی ہے اور راہِ توحید و تقویٰ کی طرف کھینچتی ہے، اہم بات تو بیداری ہے اور پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی اصلی ذمہ داری یہی ہے۔ يہ تعبیر جس کی نظیر قرآن مجید میں کم نہیں ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انبیاء کی دعوت کے مطالب تمام مراحل ہیں، خداداد فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور یہ دونوں ایک ساتھ مل کر پیش رفت کرتے ہیں۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں مخالفین کو مختصر اور معنی خیز عبارتوں کے ساتھ تہدید کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: تم اس کی خبر ایک مدت کے بعد سن لو گے (وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ)۔ ممکن ہے تم ان باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ قبول نہ کرو اور ان کے پاس سے بےاعتنائی کے ساتھ گزر جاؤ، لیکن بہت جلد میری گفتگو کی صداقت واضح ہو جائے گی۔ اس جہان میں بھی اسلام و کفر کی جنگ، اجتماعی اور فکری نفود کے مقام پر اور خدائی عذاب کے موقع پر اور دوسرے جہان میں بھی خدا کا دردناک عذاب دیکھ لو گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ اپنے موقع پر اپنی آنکھ سے مشاہدہ کر لو گے۔ مختصر یہ ہے کہ خدائی تازیانہ آمادہ ہے اور بہت جلد مستکبرین اور ظالموں پر برسے گا۔

متکلف کون ہے؟

زیر بحث آیات میں بیان ہوا ہے کہ رسولِ اکرمؐ اپنے افتخارات میں سے ایک یہ شمار کرتے ہیں کہ میں متکلفین میں سے نہیں ہوں۔ روایات میں بہت زیادہ مباحث "متکلفین" کی نشانیوں اور علامتوں کے بارے میں موجود ہیں۔ ایک حدیث میں جو "جوامع الجامع" میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے، یہ آیا ہے: للمتكلف ثلاث علامات: ينازع من فوقه، ويتعاطى ما لا ينال، ويقول ما لا يعلم متکلف کی تین نشانیاں ہیں۔ ہمیشہ اپنے سے اوپر کے لوگوں سے نزاع اور پرخاش رکھتا ہے، ایسے امور کے پیچھے لگا رہتا ہے جن تک کبھی نہیں پہنچ سکتا اور ایسے مطـــالب کے بــارے میں گـفتگــو کرتا ہے جن سے آگاہی نہیں رکھتا [بحوالہ: جوامع الجامع، المیزان جلد ۱۷ ص ۲۴۳ کے مطابق]۔ یہی مضمون ایک دوسری عبارت کے ساتھ امام صادقؑ سے لقمان حکیم کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرمؑ کی علیؑ سے وصیتوں میں بیان ہوا ہے: للمتكلف ثلاث علاماتٍ: يتملق اذا حضر، ويغتاب اذا غاب، ويشمت بالمصيبة متکلف کی تین نشانیاں ہیں: ۱۔ سامنے چاپلوسی کرتا ہے۔ ۲۔ پیٹھ پیچھے غیبت کرتا ہے۔ ۳۔ اور مصیبت کے وقت شماتت کرنے لگتا ہے [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۴ ص ۴۷۳]۔ امام صادقؑ سے ایک اور حدیث میں منقول ہے۔ المتكلف مخطئ وإن أصاب، و المتكلف لا يستجلب فى عاقبة أمره الّا الهوان، وفى الوقت الّا التعب والعناء و الشقاء، والمتكلف ظاهره رياء وباطنه نفاق، وهما جناحان بهما يطير المتكلف، وليس فى الجملة من اخلاق الصالحين، ولا من شعار المتقين المتكلف فى اىِّ بابٍ، كما قال اللَّه تعالى لنبيه قال ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ ما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ. متکلف خطاکار ہے چاہے وہ ظاہراً حقیقت تک پہنچ بھی جائے۔ متکلف کو آخرالامر سوائے پستی اور خواری کے اور کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اور آج بھی سوائے رنج و تکلیف اور زحمت و ناراحتی کے اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ متكلفت کا ظاہر ریا اور اس کا باطن نفاق ہے اور وہ ہمیشہ ان کی دونوں پروں کےساتھ پرواز کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تکلّف صالحین کے اخلاق اور متقین کے شعار میں سے نہیں ہے چاہے وہ اس بات میں بھی ہو جیسا کہ خدا اپنے پیغمبــــــؐر سے فرماتا ہے: کہہ دے! میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور میں متکلفین میں سے نہیں ہوں [ایضًا]۔ ان سب روایات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ متکلفین وہ لوگ ہیں جو حق و عدالت اور راستی و درستی کے راستے سے قدم باہر رکھتے ہوئے حقائق کو نظرانداز کر دیتے ہیں، خیالات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ایسے امور کی جن کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتے، خبر دیتے ہیں اور جن امور کو نہیں جانتے ان میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ ان کا ظاہر و باطن الگ الگ ہے اور ان کا حضور غياب متضاد ہیں وہ خود کو رنج و زحمت میں ڈالتے ہیں اور سر پھڑانے اور بدبختی کے سوا کوئی نتیجہ انھیں نہیں ملتا اور پرہیزگار اور صالح لوگ اس "صفت" سے بالکل پاک اور منزہ ہیں۔ پروردگارا! ہمیں توفیق عنایت فرما کہ ہم تكلّف، نفاق، تمرد اور سرکشی کے تمام آثار سے دور رہیں۔ خداوندا! ہہیں مخلصین کی صف میں قرار دے جن کی تو اپنی حمایت کے سایہ تلے حفاظت فرماتا ہے اور گمراہ کرنے والا شیطان ان سے مایوس ہے۔ بارالہٰا! ہمیں وہ بیداری اور سمجھ داری مرحمت فرما کہ اس قرآنِ عظیم کے مطالب و معانی کو زندہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ہم ساری دنیا کے مسلمانوں کی طاقت و قوت کو اکٹھا کریں اور یک دل اور یک زبان ہو کر تیری راہ میں قدم بڑھائیں اور حق و حقیقت کے دشمنوں کا قلع قمع کر کے رکھ دیں۔ آمین یا ربَ العالمین

end of chapter