Sūra 60 · 13v
Chapter 6013 verses

Al-Mumtahanah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الممتحنة
الممتحنہ

سورہ ممتحنہ

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۳ آیات ہیں۔

سورہ ممتحنہ اس کے مضامین

حقیقت میں اس سورہ کے دو حصّے ہیں: پہلے حصّے میں: "حب فی اللہ" اور "بغض فی اللہ" کے مسئلہ اور مشرکین سے دوستی کرنے کی ممانعت کا بیان ہے۔ مسلمانوں کو خدا کے عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہدایت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور اسی سلسلہ میں کچھ اور خصوصیات کا بیان ہے۔ یہ مضمون جس طرح سورۃ کی ابتداء میں آیا ہے، اسی طرح سورہ کے اختتام پر بھی اس کی تکرار اور تائید ہوئی ہے۔ دوسرے حصّے میں: مہاجر عورتوں، ان کی آزمائش اور امتحان اور اسی سے مربوط کچھ احکام سے بحث کی گئی ہے۔ اس سورہ کے لیے "ممتحنہ" کے نام کا انتخاب بھی اسی امتحان کے مسئلہ کی وجہ سے ہے جو آیت ۱۰ میں آیا ہے۔ [تشریحی نوٹ: بعض نے اس کو "مِمتحَنَة" (حاء کے فتح کے ساتھ) پڑھا ہے، مہاجر خواتین کے لحاظ سے جن کا امتحان لیا جاتا تھا اور بعض نے "مُمتَحِنَة" (حاء کے زیر کے ساتھ) پڑھا ہے کیونکہ یہ سورہ خود امتحان کا ایک ذریعہ ہے]۔ اس سورہ کے لیے ایک اور نام بھی بیان کیا گیا ہے اور وہ "سورۂ مودّت" ہے، جو اس سورہ کی پہلی آیت میں مشرکین سے مودّت کرنے سے منع کرنے کی وجہ سے ہے۔

سورہ ممتحنہ کی تلاوت کی فضیلت

رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث میں آیا ہے: "من قرأ سورة الممتحنة کان المؤمنون والمؤمنات له شفعاء يوم القيامة۔" "جو شخص سورۂ ممتحنہ کی تلاوت کرے گا، تمام مومنین و مومنات قیامت کے دن اس کے شفیع ہوں گے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۶۷]۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے آیا ہے: "من قرأ سورة الممتحنة في فرائضه ونوافله امتحن الله قلبه للإيمان، ونوّر له بصره، ولا يصيبه فقرٌ أبداً، ولا جنونٌ في بدنه، ولا في ولده۔" "جو شخص سورۂ ممتحنہ کو واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھے گا، خدا اس کے دل کو ایمان کے لیے خالص اور آمادہ کر دے گا اور اسے نورِ بصیرت عطا کرے گا اور ہرگز اُسے فقر و فاقہ دامن گیر نہ ہو گا اور وہ خود اور اس کی اولاد جنون میں گرفتار نہ ہو گی۔" یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ یہ تمام فضیلتیں اور اعزاز اس شخص کے لیے ہیں جو اس سورہ کی آیات پر "حب فی اللہ"، "بغض فی اللہ" اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کے سلسلہ میں اس کے مضمون پر کاربند ہونے کے لیے توجہ دے گا اور صرف بےروح تلاوت اور علم و عمل کے بغیر پڑھنے پر اکتفا نہیں کرے گا۔

1
60:1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
اے ایمان لانے والو! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ تم ان کے لئے محبت کا اظہار کر تے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس سے کافر ہوگئے ہیں۔ وہ رسول خدا کو اور تمہیں اس وجہ سے تمہارے شہر سے نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو ۔ اگر تم نے میری راہ میں جہاد کر نے اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ہے (تو تم ان سے دوستی کا رشتہ قائم نہ کرو)، تم مخفی طور پر ان سے دوستی کا رابطہ قائم کر رہے ہو حالانکہ جو کچھ تم پنہاں و آشکار ا کر تے ہو، میں اس سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔ اور تم میں سے جو بھی یہ کام کرے وہ راہ راست سے گمراہ ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
60:2
إِن يَثۡقَفُوكُمۡ يَكُونُواْ لَكُمۡ أَعۡدَآءٗ وَيَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ وَأَلۡسِنَتَهُم بِٱلسُّوٓءِ وَوَدُّواْ لَوۡ تَكۡفُرُونَ
اگر وہ تم پر مسلط ہو جائیں تو وہ تم سے دشمنی ہی کریں گے اور تمہارے ساتھ اپنے ہاتھ اور زبان سے بدی ہی کریں گے اور تمہیں کفر کی طرف پلٹا نے کی کوشش کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
60:3
لَن تَنفَعَكُمۡ أَرۡحَامُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡۚ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَفۡصِلُ بَيۡنَكُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
تمہارے عزیز و اقربا اور تمہاری اولاد تمہیں ہر گز کوئی نفع نہیں دیں گے۔ وہ قیامت کے دن تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

اکثر مفسّرین نے تصریح کی ہے کہ یہ آیات (یا پہلی آیت) "حاطب بن ابی بلتعہ" کے بارے میں نازل ہوئی ہیں (البتہ مختصر سے فرق کے ساتھ)۔ مرحوم طبرسی نے جو کچھ مجمع البیان میں ذکر کیا ہے ہم اُسے ذیل میں بیان کرتے ہیں: واقعہ یہ ہوا کہ ایک عورت جس کا نام "سارہ" تھا اور وہ مکّہ کے کسی قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی، مکّہ سے مدینہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اُس سے فرمایا: کیا تو مسلمان ہو کر آئی ہے؟ اُس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تو مہاجر کے عنوان سے آئی ہے؟ اُس نے کہا: نہیں! آپ نے فرمایا: پھر تو کیوں آئی ہے؟ اُس نے عرض کیا: آپ ہماری اصل اور عشیرہ و قبیلہ تھے، میرے سارے کے سارے سرپرست چل دیے ہیں اور میں سخت محتاج ہو گئی ہوں، اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ آپ مجھے کچھ عطا کریں اور لباس و سواری سے نوازیں۔ آپ نے فرمایا: مکّہ کے جوان کہاں چلے گئے؟ (یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عورت گانے والی تھی اور جوانوں کے لیے گانے گایا کرتی تھی)۔ اُس نے کہا: جنگ بدر کے بعد کسی نے مجھ سے گانے کی خواہش نہیں کی۔ (اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ بدر کی ضرب مشرکین مکّہ پر کتنی سخت تھی)۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اولاد عبدالمطلب کو حکم دیا تو انہوں نے اُسے لباس، سواری اور زادِ راہ دیا۔ یہ اس موقع کی بات ہے جب آپ فتح مکّہ کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ اس موقع پر "حاطب بن ابی بلتعہ" (ایک مشہور مسلمان جو جنگ بدر و بیعت رضوان میں شریک تھا) "سارہ" کے پاس آیا، اُس نے ایک خط لکھ کر اسے دیا اور کہا: یہ اہل مکّہ کو دے دینا۔ اُس نے دس دینار اور بقولے دس درہم اُسے دیے اور ایک یمنی کپڑا بھی اُسے دیا۔ "حاطب" نے اہل مکّہ کو خط میں یہ لکھا تھا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری طرف آنے کی تیاری کر رہے ہیں، لہٰذا تم اپنے دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ۔ "سارہ" نے خط لیا اور مدینہ سے مکّہ کی طرف چل پڑی۔ جبرئیل نے اس واقعہ کی اطلاع پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچائی۔ رسول خدا نے علی، عمار، زبیر، طلحہ، مقداد اور ابو مرثد کو حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر مکّہ کی طرف جائیں۔ ان سے یہ بھی فرمایا کہ تمہیں راستے کے درمیان ایک منزل پر ایک عورت "سارہ" نامی ملے گی، جو مشرکین مکّہ کے لیے "حاطب" کا ایک خط لے کر جا رہی ہے، تم اُس سے وہ خط لے لو۔ وہ وہاں سے چل پڑے اور اسی جگہ اس تک جا پہنچے جہاں رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ اُس کے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے اُس کے سامانِ سفر کی تلاشی لی، لیکن انہیں کوئی چیز نہیں ملی اور سب نے واپسی کا ارادہ کر لیا۔ لیکن علی علیہ السلام نے فرمایا: نہ تو ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹ کہا ہے اور نہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ نے تلوار سونت لی اور فرمایا: خط نکالو، ورنہ خدا کی قسم! میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔ "سارہ" نے جب مسئلہ کی حقیقت کو سمجھ لیا تو خط جو اس نے اپنے گیسوؤں میں چھپایا ہوا تھا، باہر نکالا اور وہ لوگ اس خط کو لے کر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو بھیج کر "حاطب" کو بلوایا اور فرمایا: یہ خط پہچانتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کس لیے کیا ہے؟ اُس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! خدا کی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیا ہے، ایک لمحہ کے لیے کافر نہیں ہوا اور کبھی بھی آپ سے خیانت نہیں کی ہے۔ جب سے مشرکین سے جدا ہوا ہوں، کبھی ان کی دعوت قبول نہیں کی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سبھی مہاجرین کے کچھ کچھ لوگ مکّہ میں ہیں جو مشرکین کے مقابلے میں ان کے گھروالوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر میں ان کے درمیان اجنبی ہوں اور میرے گھر والے ان کے چنگل میں گرفتار ہیں۔ میں نے چاہا کہ اس طرح سے اپنا ایک حق اُن کی گردن پر رکھ دوں تاکہ وہ میرے گھر والوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچائیں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ آخرکار خدا انہیں شکست دے گا اور میرا خط انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کا عذر قبول کر لیا، لیکن عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: یہ بدر کے غازیوں میں سے ہے اور خدا ان پر ایک خاص نظر کرم رکھتا ہے۔ (اس موقعہ پر اوپر والی آیت نازل ہوئیں اور ان میں مسلمانوں کو مشرکین اور دشمنانِ خدا سے ہر قسم کی دوستی ترک کرنے کے سلسلے میں اہم درس دیے گئے)۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٦٩ (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔ اس شان نزول کو بخاری نے اپنی صحیح (جلد ٦، صفحہ ١٨٥، ١٨٦) میں، فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح تفسیر "روح المعانی"، "روح البیان"، "فی ظلال"، "قرطبی"، "مراغی" وغیرہ نے تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے]۔

تفسیر: خدا سے دوستی کرنے کا انجام

جیسا کہ ہم شانِ نزول کے ذریعے جان چکے ہیں، ایک مسلمان سے ایک حرکت صادر ہوئی جو اگرچہ جاسوسی کے ارادے سے نہیں تھی، لیکن دشمنانِ اسلام سے اظہارِ محبت شمار ہوتی تھی۔ لہٰذا اوپر والی آیت نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی گئی کہ آئندہ اس قسم کے کاموں سے پرہیز کریں۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٦٩ (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)۔ اس شان نزول کو بخاری نے اپنی صحیح (جلد ٦، صفحہ ١٨٥، ١٨٦) میں، فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح تفسیر "روح المعانی"، "روح البیان"، "فی ظلال"، "قرطبی"، "مراغی" وغیرہ نے تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے]۔ پہلے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! تم میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔" "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ۔" یعنی وہ صرف خدا ہی کے دشمن نہیں بلکہ وہ تم سے بھی دشمنی رکھتے ہیں، لہٰذا ان حالات میں تم ان کو صرف دوستی کا ہاتھ کس طرح بڑھاتے ہو؟ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "تم ان کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہو، حالانکہ وہ اس حق (اسلام و قرآن) سے جو تمہارے لیے آیا ہے کافر ہو گئے ہیں۔ وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمہیں، تمہارے شہر و دیار سے اس وجہ سے باہر نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار خدا پر ایمان لائے ہو۔" "تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ۔" [تشریحی نوٹ: "تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ" کے جملہ کو "لَا تَتَّخِذُوا" کی ضمیر سے حال یا جملہ استینافیہ سمجھتے ہیں (کشاف، جلد ۴، ص ۵۱۲)۔ اور "بِالْمَوَدَّةِ" کی باء کو زائدہ اور تاکید کے لیے، جیسے (وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهْلُکَةِ) ہے یا "سببیہ" ہے حذف مفعول کے ساتھ اور تقدیر میں اس طرح ہے: "تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ أَخْبَارَ رَسُولِ اللّٰہِ بِسَبَبِ الْمَوَدَّةِ الَّتِی بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ" (وہی مدرَک)]۔ وہ عقیدہ میں بھی تمہارے مخالف ہیں اور عملی طور پر جنگ کے لیے کھڑے ہیں۔ اس کام کو جو تمہارے لیے عظیم ترین اعزاز و افتخار ہے، یعنی پروردگار پر ایمان، اسے انہوں نے تمہارے لیے بہت ہی بڑا گناہ شمار کیا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے تمہیں تمہارے شہر و دیار سے نکالا ہے۔ ان حالات میں کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ تم ان کے لیے محبت کا اظہار کرو اور سپاہِ اسلام کے قوی ہاتھوں سے ہونے والے عذابِ الٰہی کے چنگل سے ان کی نجات کے لیے کوشش کرو؟ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے اضافہ کرتا ہے: اگر تم نے راہِ جہاد میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی کے حصول کے لیے ہجرت کی ہے تو تم ان سے دوستی کا رشتہ قائم نہ کرو۔ "إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي۔" [تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت یہ نظریہ رکھتی ہے کہ اس جملہ شرطیہ کی جزاء محذوف ہے کہ جس کا گزشتہ جملہ سے استفادہ ہوتا ہے، یہ تقدیر میں اس طرح ہے: "إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِی سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِیْ فَلَا تَتَوَلَّوْا أَعْدَائِیْ"]۔ اگر واقعتا تم خدا کی دوستی کا دم بھرتے ہو، اسی کی خاطر تم نے اپنے شہر اور گھروں سے ہجرت کی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ سے خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو، تو یہ بات دشمنانِ خدا کی دوستی کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے اضافہ کرتا ہے: "تم مخفی طور پر ان سے دوستی کا رابطہ قائم کر رہے ہو، حالانکہ جو کچھ تم پنہاں و آشکارا کرتے ہو میں اس سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔" "تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ۔" [تشریحی نوٹ: یہ ایک جملہ استینافیہ ہے اور "ما أَسْرَرْتُمْ" کے بجائے "ما أَخْفَیْتُمْ" کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ اس سے زیادہ مبالغہ ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ "إِخْفَاء" پنہاں کاری سے زیادہ عمیق مرحلہ ہے (تفسیر فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں)]۔ اس بناء پر خدا کے غیب و شہود کا عالم ہوتے ہوئے اخفاء کاری کا کیا فائدہ ہے؟ اس آیت کے آخری قاطع تہدید کے عنوان سے فرماتا ہے: "تم میں سے جو شخص بھی اس قسم کا کام کرے گا وہ سیدھے راستے سے منحرف اور گمراہ ہو جائے گا۔" "وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ۔" وہ خدا کی معرفت کے راستہ سے بھی ہٹ گیا، کیونکہ اس نے یہ گمان کر لیا کہ کوئی چیز خدا سے مخفی رہ جاتی ہے۔ وہ ایمان، اخلاص اور تقویٰ کی راہ سے بھی ہٹ گیا، جبھی تو خدا کے دشمنوں سے دوستی کی بنیاد رکھی ہے۔ اس نے اپنی زندگی کی جڑوں پر بھی کلہاڑی ماری ہے کہ اپنے دشمن کو اپنے اسرار سے باخبر کر دیا ہے۔ یہ وہ بدترین انحراف ہے جو مومن آدمی کو سرچشمۂ ایمان تک پہنچنے کے بعد عارض ہو سکتا ہے۔ *** بعد والی آیت میں مزید تاکید و توضیح کے لیے فرماتا ہے: "تم ان کے ساتھ دوستی کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ اگر وہ تم پر مسلط ہو جائیں تو وہ تم سے دشمنی ہی کریں گے اور تمہارے ساتھ اپنے ہاتھ اور زبان سے بدی ہی کریں گے۔" "إِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُم بِالسُّوءِ۔" [تشریحی نوٹ: "یَثْقَفُوکُمْ"، "ثقف اور ثقافۃ" کے مادہ سے ہے، کسی چیز کی تشخیص اور اس کے انجام دینے میں مہارت کے معنی میں ہے، اس لیے فرہنگ و تمدن یا کسی چیز پر ماہرانہ تسلط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے]۔ تم ان کے ساتھ ہمدردی کرتے ہو، حالانکہ وہ تمہارے اتنے پکے دشمن ہیں کہ اگر وہ تم پر مسلط ہو جائیں تو وہ کسی بھی کام میں کوئی فروگذاشت نہ کریں گے اور تمہیں اپنے ہاتھ اور زبان سے ہر قسم کا آزار اور تکلیف پہنچائیں گے۔ کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنا مناسب ہے؟ سب سے بری بات یہ ہے کہ: "وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام سے کفر کی طرف پلٹا دیں، اور اپنے سب سے بڑے افتخار، یعنی گوہرِ ایمان کو کھو بیٹھو۔":"وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ۔" یہ واقعی ایک دردناک ترین ضرب ہے جو وہ تم پر لگانا چاہتے ہیں۔ آخری زیرِ بحث آیت میں "حاطب بن ابی بلتعہ" جیسے افراد کو جواب دیتا ہے، جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا تھا کہ: تُو نے مسلمانوں کے اسرار مشرکینِ مکہ کے پاس کیوں پہنچائے؟ تو اس نے یہ جواب دیا تھا: میرے عزیز و اقارب مکہ میں ہیں جو کفار کے ہاتھوں میں گرفتار ہیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ انہیں آسیب پہنچائیں گے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس طریقے سے ان کی حفاظت کروں۔خدا فرماتا ہے: "تمہارے عزیز و اقرباء اور تمہاری اولاد ہرگز تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی۔" "لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ۔" کیونکہ اگر اولاد اور عزیز و اقارب بےایمان ہوں تو وہ نہ اس دنیا کے لیے عزت و آبرو اور سرمایہ ہوں گے، نہ ہی آخرت میں ذریعۂ نجات۔ پس مومن ان کے لیے ایسے کام کیوں کریں جو خدا کے غضب اور اس کے اولیاء سے منقطع ہونے کا موجب ہوں؟ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "خدا قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔" "يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ۔" [تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین نے "یَوْمَ الْقِیَامَةِ" کو "یَفْصِلُ" کا متعلق سمجھا ہے، لیکن بعض اسے "لَنْ تَنْفَعَكُمْ" کے متعلق سمجھتے ہیں، تاہم دونوں کا نتیجہ قریب قریب ایک ہی ہے، اگرچہ پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض "یَفْصِلُ" کی تفسیر جدائی ڈالنے کے معنی میں نہیں کرتے بلکہ "فصل" کو قضاوت اور فیصلہ کرنے کے معنی میں جانتے ہیں، لیکن یہاں پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے]۔ اہلِ ایمان جنّت کی طرف اور اہلِ کفر دوزخ کی طرف جائیں گے، یہ حقیقت میں اس بات کے لیے ایک دلیل ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے، یعنی وہاں تم ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ گے اور تمام رشتے کلی طور پر منقطع ہو جائیں گے، تو پھر وہ تمہیں کون سا نفع پہنچائیں گے؟ یہ آیت حقیقت میں اسی بات سے مشابہ ہے جو سورہ عبس کی آیت ۳۴ تا ۳۶ میں بیان ہوئی کہ جس میں فرماتا ہے: "یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیہِ، وَ أُمِّہِ وَ أَبِیہِ، وَ صَاحِبَتِہِ وَ بَنِیہِ۔" "وہ دن دور نہیں جس میں انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور اولاد سے فرار کرے گا۔" آیت کے آخر میں ایک دفعہ پھر سب کو خبردار کرتا ہے کہ: "جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھ رہا ہے": "وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ۔" " وہ تمہاری نیّتوں سے آگاہ ہے اور ان اعمال سے بھی جو تم پوشیدہ طور پر انجام دیتے ہو۔ اگر کچھ موارد میں وہ تمہارے اسرار کو "حاطب بن ابی بلتعہ" کی طرح فاش نہیں کرتا تو وہ کچھ مصالح کی بناء پر ہے، نہ یہ کہ وہ واقف اور آگاہ نہیں ہے۔ حقیقت میں خدا کا غیب و شہود اور ظاہر و پوشیدہ علم، انسان کی تربیت کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے کہ وہ ہر حالت میں خود کو اس کی بارگاہ کے سامنے سمجھے اور سارے جہان کو خدا کے حضور میں حاضر جانے، وہ اپنی گفتار و رفتار حتیٰ کہ اپنی نیّت کا بھی خیال رکھے۔ یہی چیز ہے جو ہم کہتے ہیں کہ خدا کی مکمل معرفت تقویٰ کے ظہور کا سرچشمہ ہے۔

4
60:4
قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَـٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ
تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک اچھا نمونہ ہے ۔جب انہوں نے اپنی مشرک قوم سے کہا:ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو ،ان سے بھی بیزار ہیں۔ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے،اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کی دشمنی ہوچکی ہے اور یہ حالت اس وقت تک جاری رہے گی حتیٰ کہ تم خدائے یگانہ پر ایمان لاؤ سوائے اس بات کے جس کا ابراہیم نے اپنے باپ (چچا)سے وعدہ کیا تھاکہ میں تیرے لئے طلب بخشش کروں گا،لیکن اس کے باوجود میں اللہ کے مقابلہ میں تیرے لئے کسی چیزکا مالک نہیں ہوں،پروردگار!ہم نے تجھ پر ہی توکل کیاہے،تیری ہی طرف لوٹے ہیں اور سب کی بازگشت تیری ہی طرف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
60:5
رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ وَٱغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
پروردگارا!ہمیں کافروں کیلئے گمراہی کا سبب قرارنہ دے اور ہمیں بخش دے،اے ہمارے پروردگار!بے شک تو عزیز وحکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
60:6
لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيهِمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
ان کی زندگی میں تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ تھا،ان کے لئے جو اللہ اور روزقیامت پر ایمان رکھتے ہیں،اور جو شخص روگردانی کرے گا (تو خوداپنے آپ کوہی ضرر پہنچائے گاکیونکہ) اللہ تو بے نیاز ہے اور ہر قسم کی تعریف و ستایش کے قابل ہے۔

تفسیر: ابراہیم تم سب کے لیے نمونہ ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

چونکہ قرآن مجید بہت سے موارد میں اپنی تعلیمات کی تکمیل کے لیے ایسے اہم نمونے جو جہانِ انسانیت میں موجود ہیں، گواہ کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے زیرِ بحث آیات میں بھی دشمنانِ خدا سے دوستی کرنے سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے بعد، ابراہیم علیہ السلام اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں ایک ایسے عظیم پیشوا کے عنوان سے، جو تمام اقوام کے لیے اور خاص طور پر قومِ عرب کے لیے احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے، گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔" (قَدْ کانَتْ لَکُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فی إِبْرَاهِیمَ وَالَّذِینَ مَعَهُ)۔ [تشریحی نوٹ: مفسرین نے اس جملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیے ہیں، لیکن ظاہر یہ ہے کہ "اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"، "کَانَ" کا اسم اور "لَكُمْ" اس کی خبر ہے اور "فِي إِبْرَاهِيمَ"، "اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ" کا متعلق ہے۔ ضمنی طور پر اس بات کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ "اُسْوَةٌ" تاسی اور پیروی کے معنی میں کبھی تو اچھے کاموں کے لیے اور کبھی برے کاموں کے لیے آتا ہے، اسی لیے اوپر والی آیات میں "حَسَنَةٌ" کے ساتھ مقید ہوا ہے]۔ ابراہیم پیغمبروں کے بزرگ تھے۔ ان کی زندگی سراسر خدا کی عبودیت، جہاد فی سبیل اللہ اور اس کی پاک ذات کے عشق کے لیے ایک سبق تھی۔ وہ ابراہیم علیہ السلام کہ اُمتِ اسلامی ان کی بابرکت دعا کا نتیجہ ہے اور ان کے رکھے ہوئے نام پر فخر کرتی ہے، وہ تمہارے لیے اس سلسلے میں ایک اچھا نمونہ بن سکتے ہیں۔ "والذین معہ" (جو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھے) کی تعبیر سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو اس راہ میں ان کے پیرو اور ساتھی رہے، اگرچہ وہ قلیل تعداد میں تھے۔ باقی رہا یہ احتمال کہ اس سے مراد وہ پیغمبر ہیں جو آپ کے ساتھ ہم آواز تھے یا ان کے زمانے کے پیغمبر، جیسا کہ بعض نے احتمال دیا ہے، تاہم یہ بہت بعید نظر آتا ہے، خصوصاً جبکہ مناسب یہ ہے کہ قرآن یہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اور مسلمانوں کو ان کے اصحاب و انصار سے تشبیہ دے۔ یہ تو تاریخ میں بھی آیا ہے کہ بابل میں ایک گروہ ایسا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کے معجزات دیکھنے کے بعد ان پر ایمان لے آیا تھا اور شام کی طرف ہجرت میں وہ آپ کے ساتھ تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے کچھ وفادار یار و انصار بھی تھے۔ [بحوالہ: کامل ابنِ اثیر، جلد ۱، صفحہ ۱۰۰]۔ اس کے بعد اس معنی کی وضاحت کے لیے مزید کہتا ہے: "جب انہوں نے اپنی مشرک اور بت پرست قوم سے کہا: ہم تم سے اور جن غیر اللہ کی تم پرستش کرتے ہو، ان سے بھی بیزار ہیں۔" (إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَاءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللّٰہِ)۔ ہم نے نہ تو تمہیں اور نہ ہی تمہارے دین و مذہب کو قبول کیا ہے، ہم تم سے اور تمہارے بےقدر و قیمت بتوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ دوبارہ مزید تاکید کے لیے فرمایا: "ہم نے تم سے کفر اختیار کر لیا۔" (کَفَرْنَا بِکُمْ)۔ البتہ یہ کفر وہی براءت و بیزاری ہے کہ جس کی طرف بعض روایات میں کفر کی پانچ اقسام کے شمار میں اشارہ ہوا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "بَرَاءٌ"، "بَرِيء" کی جمع ہے جیسے: "ظُرَفَاء"، "ظَرِيف"]۔ پھر تیسری مرتبہ مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتا ہے: "ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کی دشمنی ہو چکی ہے۔" (وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا)۔ اور یہ وضع و کیفیت اسی طرح جاری رہے گی، یہاں تک کہ تم خدایِ یگانہ پر ایمان لاؤ۔ (حَتّٰی تُؤْمِنُوا بِاللّٰہِ وَحْدَهُ)۔ اس طرح سے انہوں نے کسی بھی طرح کی لگی لپٹی کے بغیر دوٹوک طریقے سے دشمنانِ خدا سے جدائی اور بیزاری کا اعلان کر دیا اور صراحت کے ساتھ کہا کہ جدائی کسی بھی صورت پر بھی ایسی تجدیدِ نظر کے قابل نہیں ہے، یہ ابد تک جاری رہے گی، مگر یہ کہ وہ اپنی راہ بدل لیں اور کفر کو چھوڑ کر ایمان کی طرف آ جائیں۔ لیکن چونکہ یہ کلی اور عمومی قانون ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ایک استثناء رکھتا تھا جو بعض مشرکین کی ہدایت کے لیے صورت پذیر ہوا تھا، لہٰذا اس کے بعد فرماتا ہے: انہوں نے کافروں سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر لیا اور ان سے کوئی بھی محبت آمیز بات نہیں کی: "سوائے اس بات کے جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ (چچا آزر) سے کی تھی کہ میں خدا سے تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا، لیکن اس کے باوجود میں خدا کے مقابلے میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور بخشش تو صرف اُسی کے ہاتھ میں ہے۔" (إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِیمَ لِأَبِیہِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ)۔ [بحوالہ: "اصولِ کافی" بحوالہ "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ۳۰۲]۔ حقیقت میں یہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا بت پرستوں سے ہر قسم کے ارتباط کو منقطع کرنے کے مسئلہ سے ایک ایسا استثناء ہے جو ایک خاص مصلحت اور حالات کی وجہ سے تھا، کیونکہ قرائن بتلاتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے احتمالاً اپنے چچا آزر میں ایمان کے لیے آمادگی مشاہدہ کی ہوئی تھی، لیکن آزر اس مسئلہ سے پریشان تھا کہ اگر اس نے توحید کی راہ اختیار کی تو اس کی بت پرستی کے دور کا کیا بنے گا؟ لہٰذا ابراہیم علیہ السلام نے اُس سے یہ وعدہ کر لیا تھا کہ میں بارگاہِ خدا میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور اس وعدہ پر آپ نے عمل بھی کیا، لیکن آزر ایمان نہ لایا۔ جب ابراہیم علیہ السلام پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ دشمنِ خدا ہے اور ہرگز ایمان نہیں لائے گا تو پھر اُس کے لیے استغفار نہیں کیا اور اس سے قطع تعلق کر لیا۔ چونکہ مسلمان ابراہیم علیہ السلام اور آذر کے اس واقعہ سے اجمالی طور پر باخبر تھے، لہٰذا ممکن تھا کہ یہی مطلب "حاطب بن ابی بلتعہ" جیسے لوگوں کے لیے کفار سے راز و نیاز قائم رکھنے کا بہانہ بن جائے، اس لیے قرآن کہتا ہے کہ یہ استثناء خاص حالات میں صورت پذیر ہوا اور آذر کے ایمان لے آنے کا ایک ذریعہ تھا نہ کہ دنیوی مقاصد کے لیے تھا، اسی لیے سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۴ میں فرماتا ہے: وَ ما کانَ اسْتِغْفارُ اِبْراهیمَ لِاَبیهِ اِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَها اِیّاهُ فَلَمّا تَبَیَّنَ لَهُ اَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ اِنَّ اِبْراهِیمَ لَاَوّاهٌ حَلِیمٌ۔ ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ (چچا آذر) کے لیے استغفار صرف اس وعدہ کی بناء پر تھا جو انہوں نے اُس سے کر لیا تھا (تاکہ اسے ایمان کی طرف کھینچ لائیں) لیکن جب اُن پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزاری اختیار کر لی، بےشک ابراہیم علیہ السلام مہربان اور بردبار تھے۔ لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے اسے "ابراہیم" علیہ السلام کے اُسوہ سے استثناء سمجھا اور کہا ہے کہ سوائے ان کے اپنے چچا آذر کے لیے استغفار کرنے کے ہر چیز میں اُن کی اقتداء اور پیروی کرنا چاہیے۔ یہ مطلب اگرچہ چند ایک مفسرین کے کلام میں ہی آیا ہے، پھر بھی یہ بات بہت ہی بعید دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اوّل تو وہ ہر چیز میں یہاں تک کہ اس عمل میں بھی اُسوہ تھے، کیونکہ اگر وہی "آذر" والے حالات بعض مشرکین میں پیدا ہو جاتے تو انہیں ایمان کی طرف کھینچ لانے کے لیے ان سے اظہارِ محبت کرنا اچھا کام ہوتا۔ دوسرے: ابراہیم علیہ السلام معصوم پیغمبر اور عظیم مجاہد انبیاء میں سے تھے اور ان کے تمام کے تمام اعمال ہی نمونہ تھے، لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس مسئلہ کا استثناء کریں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکار پورے قوت کے ساتھ بت پرستوں کے مخالف تھے، لہٰذا ہمیں اس سبق کو اپنا دستور العمل بنانا چاہیے، آذر کے واقعہ میں کچھ خاص حالات تھے اور اگر وہ ہمارے لیے بھی پیدا ہو جائیں تو وہ ہمارے لیے بھی پیروی کے لائق ہیں۔ [تشریحی نوٹ: مذکورہ بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں استثناء متصل ہے اور "مستثنٰی منہ" ایک محذوف جملہ ہے کہ جس پر آیت کا متن دلالت کرتا ہے، تقدیر میں اس طرح ہے: "إن إبراهيم وقومه آمنوا ولم يكن لهم قول يدل على المحبة إلا قول إبراهيم..." لیکن دوسری تفسیر کے مطابق استثناء منقطع ہو جائے گا اور یہ خود اس پر دوسرا اعتراض ہے]۔ چونکہ دشمنانِ خدا کے ساتھ ایسی صراحت اور قاطعیت کے ساتھ مبارزہ خصوصاً اُس زمانہ میں جبکہ وہ قدرتِ ظاہری رکھتے تھے، خدا کی ذات پر توکل کیے بغیر ممکن نہیں ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "پروردگارا! ہم نے تجھ پر توکل کیا ہے، تیری طرف رُخ کیا ہے اور انجامِ کار سب کا آخری اور اصلی رجوع تیری ہی طرف ہوتا ہے۔" (رَبَّنا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنا وَ اِلَیْکَ اَنَبْنا وَ اِلَیْکَ الْمَصیر)۔ حقیقت میں انہوں نے اس عبارت میں تین مطالب خداوند تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے ہیں: اوّل: اُس کی ذات پر توکل، دوسرے: اُس کی طرف توبہ و بازگشت، اور تیسرے: اس حقیقت کی طرف توجہ کہ تمام چیزوں کا آخری اور اصلی رجوع اُسی کی طرف ہوتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے علت و منزل ہیں، معاد اور آخری بازگشت پر ایمان لانا توبہ کا سبب بنتا ہے، اور توبہ روحِ توکل کو انسان میں زندہ کرتی ہے۔ [تشریحی نوٹ: ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے، اس سے واضح ہو گیا کہ یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا ہے، اگرچہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے جو مسلمانوں کی تعلیم کے عنوان سے ان آیات کے وسط میں نازل ہوا ہے، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے]۔ بعد والی آیت میں ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی ایک اور درخواست کی طرف، جو اس سلسلے میں حساس اور جاذب ہے، اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "پروردگارا! ہمیں کافروں کی گمراہی کا سبب نہ بنانا۔" (رَبَّنا لا تَجْعَلْنا فِتْنَةً لِلَّذینَ کَفَرُوا)۔ یہ تعبیر ممکن ہے ایسے اعمال کی طرف اشارہ ہو جو بعض بےخبر لوگوں سے سرزد ہو جاتے ہوں جیسے کہ "حاطب بن ابی بلتعہ" کا عمل تھا، یعنی وہ لوگ ایسا کام کر بیٹھتے ہیں جو گمراہوں کی تقویت کا سبب بن جاتا ہے، حالانکہ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمیں ان کے چنگل میں گرفتار نہ کرنا اور ان کے مقابلے میں مغلوب نہ کر دینا اور کہیں وہ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ہرگز شکست نہ کھاتے اور یہی بات ان کی گمراہی کا سبب بن جائے گی۔ یعنی اگر وہ اپنی شکست اور کافروں کے تسلط سے ڈرتے ہیں تو خود اپنی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ دینِ حق پر کوئی اعتراض نہ ہو اور مشرکین کی ظاہری کامیابی ان کی حقانیت کی دلیل نہ سمجھی جائے۔ گویا ایک مومنِ واقعی کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے خدا کے لیے چاہتا ہے، وہ سب سے کٹ کر خدا کا ہو گیا ہے اور تمام کام اُسی کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ سوی تو کردیم روی و دل بہ تو بستیم از ہمہ باز آمدیم با تو نشستیم!! ہرچہ نہ پیوند یار بود بریدیم ہر چہ نہ پیمان دوست بود گسستیم ہم نے تیری طرف رُخ کیا ہے اور تجھ ہی سے دل لگایا ہے۔ ہم سب کو چھوڑ کر تیرے ساتھ ہو بیٹھے ہیں۔ جس کا تعلق محبوب سے نہ ہو اُس سے ہم کٹ گئے ہیں۔ جو دوست کا عہد و پیمان نہیں تھا ہم نے اُس کو توڑ دیا ہے۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "پروردگارا! اگر ہم سے کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو ہمیں بخش دینا۔" (وَ اغْفِرْ لَنا رَبَّنا)۔ تو عزیز و حکیم ہے: (إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ تیری قدرت شکست ناپذیر ہے اور تیری حکمت ہر چیز میں نافذ ہے، ہو سکتا ہے یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اگر ہماری زندگی میں تیرے دشمن کی طرف تمائل، محبت اور دوستی کی نشانی موجود ہو تو ہماری اس لغزش کو بخش دے، نیز یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک درس ہے کہ وہ بھی اس کو دستور العمل بنائیں اور اگر کوئی "حاطب" ان میں پیدا ہو جائے تو وہ استغفار کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں۔ **** پھر آخری زیر بحث آیت میں دوبارہ اسی مطلب کو بیان کرتا ہے جو پہلی آیت میں بیان کیا گیا تھا، فرماتا ہے: ان کی زندگی میں تم مسلمانوں کے لیے ایک اچھا نمونہ تھا، ان لوگوں کے لیے جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ)۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اوپر والی آیت میں "لِمَنْ"، "لَكُمْ" کا بدل ہے (تفسیر فخر رازی و روح المعانی زیرِ بحث آیات کے ذیل میں)]۔ نہ صرف بت پرستوں اور کفر کے طریقہ سے ان کی براءت اور بیزاری بلکہ بارگاہِ خدا میں ان کی دعائیں اور تقاضے بھی، جن کے کچھ نمونے گزشتہ آیات میں گزر چکے ہیں، تمام مسلمانوں کے لیے دستور العمل ہیں۔ یہ دستور العمل اور نمونہ وہی لوگ قبول کرتے ہیں جنہوں نے خدا کے ساتھ دل لگا لیا، مبدء و معاد پر ایمان نے ان کے دل کو روشن کر دیا اور وہ طریقِ حق پر چل پڑے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس تاسی اور پیروی کا نفع سب سے پہلے خود مسلمانوں کو ہی پہنچتا ہے، اسی لیے آخر میں مزید کہتا ہے: "جو شخص رو گردانی کرے گا اور دشمنانِ خدا سے دوستی کی بنیاد ڈالے گا، وہ خود اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچائے گا اور خدا کو اس کی کوئی حاجت نہیں ہے، کیونکہ وہ سب سے بےنیاز اور ہر قسم کی حمد و ستائش کے لائق ہے" (وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ)۔ کیونکہ دشمنانِ خدا کے ساتھ دوستی کرنا انہیں تقویت پہنچاتا ہے اور ان کی قوت خود تمہاری شکست کا باعث ہے۔ اگر وہ تم پر مسلط ہو گئے تو پھر وہ کسی چھوٹے بڑے پر رحم نہیں کریں گے۔ [تشریحی نوٹ و بحوالہ: اس قول کی بنا پر جملہ "مَنْ يَتَوَلَّ" جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، وہ تقدیر میں اس طرح ہے: "مَنْ يَتَوَلَّ فَقَدْ أَخْطَأَ حَظَّ نَفْسِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَعُودُ نَفْعُهُ إِلَيْهِ" — جو رُو گردانی کرے اُس نے اپنے حصے سے خطا کی اور اُس چیز سے دور ہو گیا ہے جس کا نفع اس کی طرف لوٹتا ہے۔ (مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۷۲)]۔

چند اہم نکات: ۱- ابدی نمُونے

عملی نمونے ہمیشہ مؤثر ترین نمونے ہوتے ہیں، چونکہ عمل ہی انسان کے قول پر اس کے ایمان کی گہرائی کا ترجمان ہوتا ہے اور جو بات دل سے نکلتی ہے لازمی طور پر دل پر اثر کرتی ہے۔ ہمیشہ عظیم نمونے اور دستور العمل ہی انسانوں کی زندگی میں اُن کی تربیت کا مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔ اِسی بنا پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی اہم ترین شاخ کی اپنے عمل سے نشان دہی کیا کرتے تھے۔ بناء بریں جب "سنت" کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ "سنت" معصوم کے "قول"، "فعل" و "تقریر" کو کہا جاتا ہے، یعنی معصوم پیشواؤں کا قول و فعل و سکوت جب حجت اور رہنما ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبروں اور ائمہ میں عصمت شرط ہے تاکہ وہ تمام امور میں نمونہ بن سکیں۔ قرآن نے بھی اس ہم مسئلہ پر مہرِ تصدیق ثبت کی اور تمام امور میں مومنین کے لیے نمونوں اور اسوۂ حسنہ کا تعارف کرایا ہے۔ ان میں سے زیر بحث آیات میں ابراہیم علیہ السلام کے لیے نمونہ اور اسوہ کے عنوان سے تعارف کرایا ہے۔ (اس بات پر توجہ رکھنا چاہیے کہ "اُسوہ" مصدری معنی رکھتا ہے جو اتباع کرنے اور عملی پیروی کے معنی میں ہے۔ اگرچہ فارسی کے روزمرہ کے استعمال میں اُس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کی اتباع اور پیروی کرنی چاہیے)۔ خطروں سے بھری ہوئی جنگِ احزاب میں جبکہ مسلمان سخت ترین آزمائش میں مبتلا تھے اور ہمت توڑ دینے والے حوادث نے قوی ترین افراد کو بھی لرزہ براندام کر دیا تھا، خدایِ تعالیٰ اس طوفان کے درمیان استقامت، پامردی، ایمان، نیک نیتی، اخلاص اور اطمینانِ قلب کے نمونے کے طور پر اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا تعارف کراتا ہے۔ البتہ یہ امر صرف میدانِ احزاب میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہر جگہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نمونہ شمار ہوتے تھے۔ "كونوا دُعاةً لِلنَّاسِ بِأَعْمَالِكُمْ، وَلَا تَكُونُوا دُعاةً بِأَلْسِنَتِكُمْ" [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ۲، صفحہ ۲۷۸، مادۂ عمل]۔ یہ شعار اور نعرہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث سے لیا گیا ہے اس بات کی دلیل ہے کہ تمام سچے مسلمانوں کو بھی اپنی جگہ پر دوسروں کے لیے نمونہ بننا چاہیے، اگر یہ کام ہو جاتا تو اسلام عالمگیر ہو جاتا۔

۲۔ خُدا سب سے بےنیاز ہے

قرآن مجید میں بارہا اس نکتے کا بیان ہوا ہے کہ اگر خدا تمہیں کچھ ایسے احکام دیتا ہے جو بعض اوقات مشکل اور شاق نظر آتے ہیں، تو اس بات کو نہ بھولو کہ ان کے تمام منافع تمہاری طرف ہی لوٹتے ہیں، کیونکہ خدا کی ہستی کے بیکراں سمندر میں کوئی کمی نہیں ہے کہ وہ تم سے مدد لے، اس کے علاوہ تمہارے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ تم اس کو مدد دو، بلکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اُسی کا ہے۔ حدیثِ قدسی میں آیا ہے: "میرے بندو! تم مجھے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی کوئی نفع دے سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس پاکیزہ ترین دل رکھتے ہوں تو بھی میرے ملک میں ذرہ برابر اضافہ نہیں کر سکتے۔ اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس ناپاک ترین دل رکھتے ہوں تو میرے ملک میں کوئی کمی نہیں کر سکتے۔" "اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس کسی میدان میں جمع ہو جائیں، جو کچھ وہ چاہیں مجھ سے طلب کریں اور میں وہ سب کچھ انہیں دے دوں تو بھی میرے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی اور وہ سب کچھ اس رطوبت کے مانند ہو گا جو ایک رسی سمندر سے حاصل کرتی ہے۔" "اے میرے بندو! میں تمہارے اعمال کا ذخیرہ کرتا ہوں اور پھر میں انہیں تمہاری طرف لوٹا دوں گا، اب اگر کوئی اچھی چیز حاصل کرے تو وہ خدا کا شکر کرے اور جو اس کے سوا دیکھے تو وہ اپنے سوا کسی اور کی ملامت نہ کرے۔" [بحوالہ: روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۴۷۹]۔

٣۔حُب فی اللہ و بغض فی اللہ بنیادی اصل ہے۔

قرآن مجید میں بارہا اس نکتے کا بیان ہوا ہے کہ اگر خدا تمہیں کچھ ایسے احکام دیتا ہے جو بعض اوقات مشکل اور شاق نظر آتے ہیں، تو اس بات کو نہ بھولو کہ ان کے تمام منافع تمہاری طرف ہی لوٹتے ہیں، کیونکہ خدا کی ہستی کے بیکراں سمندر میں کوئی کمی نہیں ہے کہ وہ تم سے مدد لے، اس کے علاوہ تمہارے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ تم اس کو مدد دو، بلکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اُسی کا ہے۔ حدیثِ قدسی میں آیا ہے: "میرے بندو! تم مجھے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی کوئی نفع دے سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس پاکیزہ ترین دل رکھتے ہوں تو بھی میرے ملک میں ذرہ برابر اضافہ نہیں کر سکتے۔ اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس ناپاک ترین دل رکھتے ہوں تو میرے ملک میں کوئی کمی نہیں کر سکتے۔" "اے میرے بندو! اگر اوّلین و آخرین اور جن و انس کسی میدان میں جمع ہو جائیں، جو کچھ وہ چاہیں مجھ سے طلب کریں اور میں وہ سب کچھ انہیں دے دوں تو بھی میرے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی اور وہ سب کچھ اس رطوبت کے مانند ہو گا جو ایک رسی سمندر سے حاصل کرتی ہے۔" "اے میرے بندو! میں تمہارے اعمال کا ذخیرہ کرتا ہوں اور پھر میں انہیں تمہاری طرف لوٹا دوں گا، اب اگر کوئی اچھی چیز حاصل کرے تو وہ خدا کا شکر کرے اور جو اس کے سوا دیکھے تو وہ اپنے سوا کسی اور کی ملامت نہ کرے۔" [بحوالہ: روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۴۷۹]۔ "حب فی اللہ و بغض فی اللہ" بنیادی اصل ہے۔ مذہب کا رشتہ وہ اہم ترین رشتہ ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرتا ہے اور دوسرا ہر رشتہ اسی کے زیرِ اثر ہے۔ یہ وہ بات ہے جس پر قرآن نے بارہا تاکید کی ہے، اگر یہ رشتہ، دوستی، عزیزداری اور منافع شخصی روابط کے زیرِ اثر ہو جائے تو ارکانِ مذہب متزلزل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ اصل قدر و قیمت ایمان و تقویٰ کی ہے، لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں جن میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ اسی جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں آیا ہے: "من أحبّ لله وأبغض لله وأعطی لله جلّ و عزّ، فهو ممن کمل إیمانه۔" (ترجمہ: "جو شخص خدا کے لیے دوست رکھتا ہے، خدا کے لیے دشمن رکھتا ہے اور خدا کے لیے عطا و بخشش کرتا ہے تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ایمان کامل ہو چکا ہے۔") ایک اور حدیث میں انہی حضرت سے آیا ہے: "من أوثق عری الإیمان أن تحبّ فی الله، وتبغض فی الله، وتعطی فی الله، وتمنع فی الله۔" (ترجمہ: "ایمان کو محکم ترین کرنے والی چیزوں میں سے یہ ہے کہ تُو خدا کے لیے دوستی رکھے، خدا کے لیے ہی دشمنی رکھے، خدا کے لیے ہی دے اور خدا کے لیے ہی روکے۔") [بحوالہ: اصولِ کافی، جلد ۲، باب الحب فی الله، حدیث ۱، ۲]۔ اس سلسلے میں احادیث بہت زیادہ ہیں، مزید آگاہی کے لیے اصولِ کافی کی جلد دوم، باب "الحب فی الله" کی طرف رجوع کریں۔ مرحوم کلینی نے اس باب میں اس سلسلے کی سولہ احادیث نقل کی ہیں۔ علاوہ ازیں "حب فی الله" اور "بغض فی الله" کی مزید وضاحت کے لیے تفسیرِ نمونہ جلد ۱۳، سورۂ مجادلہ کی آیت ۲۲ کے ذیل میں ہمارے بیان سے رجوع کریں۔

7
60:7
۞عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ عَادَيۡتُم مِّنۡهُم مَّوَدَّةٗۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٞۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
امید ہے کہ اللہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان (اسلام کے ذریعے)رشتۂ محبت قائم کر دے گا،اور اللہ قادر،بخشنے والا اورمہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
60:8
لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ
خدانے تمہیں ان لوگوں سے جنہو ں نے امردین میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے شہر اور دیار سے باہر نہیں نکالا ،نیکی کرنے اور عدالت کی رعایت کرنے سے منع نہیں کیا،کیونکہ اللہ عدالت کرنے والوں کو دوست رکھتاہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
60:9
إِنَّمَا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَٰتَلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَأَخۡرَجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ وَظَٰهَرُواْ عَلَىٰٓ إِخۡرَاجِكُمۡ أَن تَوَلَّوۡهُمۡۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے د وستی کرنے سے منع کرتاہے جنہوں نے امردین میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے باہر نکالاتھایا تمہارے باہر نکالنے میں (دشمنوں کی)مدد کی ہے اور جو شخص ان سے دوستی کرے گا وہی ظالم و ستم گر ہیں۔

تفسیر: اُن کُفّار سے دوستی جو برسرِ پیکار نہیں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

ان آیات میں ان مباحث کو جاری رکھا گیا ہے جو گزشتہ آیات میں "حب فی اللہ" اور "بُغض فی اللہ" اور "مشرکین سے قطعِ تعلق" کے سلسلہ میں آئے تھے۔ چونکہ یہ قطعِ تعلق مسلمانوں کو ایک جماعت کے لیے قرابت داری میں ایک قسم کا خلا پیدا کرتا تھا، اس کے باوجود سچے مومنین اور صحابۂ رسول نے اس راہ میں ثابت قدمی دکھائی تھی، لہٰذا خدا ان کی جزا کے لیے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے انہیں بشارت دیتا ہے: "تم غم نہ کھاؤ، یہ حالت ہمیشہ اسی طرح نہیں رہے گی۔" فرماتا ہے: "اُمید ہے کہ خدا تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان (اسلام قبول کرنے کے ذریعے) دوستی کا رشتہ قائم کر دے گا۔" (عَسَى اللّٰهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُمْ مِنْهُم مَوَدَّةً)۔ انجامِ کار یہ وعدہ پورا ہو گیا، ہجرت کا آٹھواں سال آیا اور مکہ فتح ہو گیا، اہلِ مکہ "يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللّٰهِ أَفْوَاجًا" کے مصداق گروہ در گروہ مسلمان ہو گئے، دشمنی و عناد کے سیاہ بادل ان کی زندگی کے آسمان سے چھٹ گئے اور آفتابِ ایمان محبت و دوستی کی گرمجوشی کے ساتھ چمکنے لگا۔ بعض مفسرین اس جملہ کو "اُمِّ حبیبہ" دخترِ ابو سفیان کے ساتھ پیغمبر (صلى الله عليه و آله وسلم) کے ازدواج کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو مسلمان ہو چکی تھی اور اپنے شوہر عبداللہ بن جحش کے ہمراہ مہاجرینِ حبشہ کے ساتھ حبشہ گئی تھی۔ اس کا شوہر وہاں عیسائی ہو گیا تو پیغمبر اسلام (صلى الله عليه و آله وسلم) نے کسی کو نجاشی کے پاس بھیجا اور اُمِّ حبیبہ کو اپنی ازواج میں داخل کر لیا۔ چونکہ عربوں میں دامادی کا رشتہ عداوتوں اور دشمنیوں کی کمی کا باعث بنتا تھا، لہٰذا اس مسئلہ نے ابو سفیان اور اہلِ مکہ پر اثر ڈالا۔ [تشریحی نوٹ: عبید اللہ بن حجش، عبد اللہ حجش کا بھائی ہے، افسوس ہے کہ عبید اللہ اسلام پر باقی نہ رہا اور حبشہ میں اُس نے دینِ عیسائیت اختیار کر لیا، اسی بنا پر امّ حبیبہ اس سے الگ ہو گئی، لیکن عبید اللہ کا بھائی عبد اللہ اسلام پر باقی رہا، وہ مجاہدینِ اُحد میں سے تھا اور اسی میدان میں اُس نے شربتِ شہادت نوش کیا] لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے، زیرِ بحث آیات فتحِ مکہ کے قریب نازل ہوئیں، کیونکہ "حاطب بن ابی بلتعہ" کا مشرکینِ مکہ کو خط لکھنے سے مقصد یہ تھا کہ وہ انہیں اس واقعہ کی اطلاع دے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی اس واقعہ سے پہلے (فتحِ خیبر کے قریب) مدینہ کی طرف پلٹ آئے تھے۔ [بحوالہ: اس واقعہ کا خلاصہ بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے، تاہم اس واقعہ کی تفصیل "اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ" جلد ۵، صفحہ ۵۷۳ میں مطالعہ فرمائیے]۔ بہرحال، اگر وہ لوگ جو مسلمانوں کے عزیز و رشتہ دار ہیں، ان کے مذہب سے جدا ہو جائیں تو انہیں اُن کے اسلام کی طرف لوٹنے سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ خدا ہر چیز پر قادر ہے، وہی ہے جو دلوں کو متبدل کر سکتا ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی خطاؤں اور گناہوں کو بخشتا ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "اور اللہ قادر و توانا، اور غفور و رحیم ہے۔" (وَاللّٰهُ قَدِيرٌ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ)۔ لفظ "عَسَى" عربی زبان میں ان موارد میں بولا جاتا ہے جہاں کسی چیز کے پورا ہونے کی امید ہو۔ چونکہ یہ معنی بعض اوقات جہالت یا عجز سے ملا ہوا ہوتا ہے، لہٰذا بہت سے مفسرین نے قرآنِ مجید میں اس کی تفسیر خدا سے دوسروں کی امید رکھنے کے معنی میں کی ہے، لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ لفظ خدا کے کلام میں اپنا وہی اصلی معنی رکھتا ہے، کیونکہ بعض اوقات کسی ہدف اور مقصد تک پہنچنے کے لیے کچھ شرائط اور حالات کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ان میں سے بعض شرائط حاصل نہ ہوں تو یہی تعبیر استعمال ہو گی (غور کیجیے گا)۔ بعد والی آیت میں مشرکین سے دوستی کے رابطے ترک کرنے کے مسئلہ کی تشریح و توضیح ہے۔ فرماتا ہے: "خدا تمہیں ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدالت کی رعایت کرنے کے بارے میں، جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھر بار سے باہر نکالا، منع نہیں کرتا۔" (لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ)۔ کیونکہ خدا عدالت اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے: (إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ)۔ خدا تو تمہیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھر اور شہر سے باہر نکالا، یا تمہیں باہر نکالنے میں مدد کی ہے۔ ہاں! خدا تمہیں ان سے ہر قسم کے تعلق اور دوستی سے منع کرتا ہے: (إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ)۔ "اور جو شخص انہیں دوست رکھے وہ ظالم و ستمگر ہے۔" (وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ)۔ اس طرح سے غیر مسلم افراد دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، ایک گروہ تو وہ ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا، ان کے سامنے تلوار کھینچ لی اور انہیں گھربار سے جبراً باہر نکال دیا، اس طرح انہوں نے اپنی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کو گفتار و عمل سے آشکارا کیا۔ اس صورت میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس گروہ کے ساتھ ہر قسم کے میل جول اور تعلق کو ختم کر دیں اور ہر قسم کی دوستی اور محبت کا تعلق چھوڑ دیں۔ اس کا واضح مصداق مشرکینِ مکّہ خصوصاً سردارانِ قریش تھے کہ جن میں سے ایک گروہ نے تو رسمی طور پر یہ کام کیا تھا اور دوسرے گروہ نے اس میں ان کی مدد کی تھی۔ لیکن ایک اور گروہ ایسا بھی تھا جو کفر و شرک کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ کوئی سروکار نہیں رکھتا تھا، نہ تو وہ عداوت و دشمنی رکھتے تھے، نہ ہی ان کے ساتھ جنگ کرتے تھے اور نہ اُن کو ان کے گھربار اور شہر و دیار سے باہر نکالنے کا اقدام کرتے تھے، یہاں تک کہ اُن میں سے ایک گروہ نے تو مسلمانوں سے دشمنی نہ کرنے کا عہد کر رکھا تھا۔ پس اس گروہ سے نیکی کرنے اور اظہارِ محبت کرنے میں کوئی مانع نہیں تھا اور اگر ان سے کوئی معاہدہ کیا ہوا ہے تو اس کو وفا کرنا چاہیے اور ان سے عدالت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس گروہ کا مصداق قبیلۂ "خزاعہ" تھا، جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ترکِ مخاصمت کا عہد و پیمان باندھا ہوا تھا۔ اس بنا پر بعض مفسرین کی اس توجیہ کی گنجائش نہیں کہ جنہوں نے اس حکم کو منسوخ سمجھا اور اس کا ناسخ سورۂ توبہ کی آیت ۵ کو بیان کیا ہے کہ جس میں کہتا ہے: "فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْهُرُ الحُرُمُ فَاقْتُلُوا المُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ۔" "جب محترم مہینے ختم ہو جائیں تو پھر بت پرستوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو۔" کیونکہ سورۂ توبہ کی یہ آیت صرف اُن مشرکین کے بارے میں گفتگو کرتی ہے جنہوں نے عہدشکنی کی اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علی الاعلان اٹھ کھڑے ہوئے، اس بات کی گواہی اس کے بعد والی آیات ہیں۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ دوستی کی اجازت ان مومنین کے بارے میں ہے جو اسلام تو قبول کر چکے تھے، لیکن وہ مکّہ میں رہ گئے تھے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی، لیکن آیات کا لب و لہجہ بتلاتا ہے کہ یہ تمام باتیں غیر مسلموں کے بارے میں ہو رہی ہیں]۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے بارے میں ایک روایت کی ہے کہ ابوبکر کی مطلقہ بیوی اپنی بیٹی "اسماء" کے لیے مکّہ سے کچھ ہدیے لائی تو "اسماء" نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ تب اوپر والی آیت نازل ہوئی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ اپنی ماں کو گھر میں آنے دے، اس کا ہدیہ بھی قبول کر لے اور اس کا اکرام و احترام کرے۔ [بحوالہ: "روح البیان" جلد ۹، صفحہ ۴۸۱۔ یہ روایت صحیح بخاری اور دوسری بہت سی کتبِ تفسیر میں بھی کچھ اختلاف کے ساتھ آئی ہے]۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ مکّہ کے سارے لوگ اس آیت کے مشمول نہیں تھے، بلکہ مسلمانوں کے درمیان ایک ایسی اقلیت بھی موجود تھی جو مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی دشمنی اور مخاصمت نہیں رکھتی تھی۔ بہرحال ان آیات سے مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ رابطے کی کیفیت کی "ایک بنیادی اور کلی اصل" کا پتہ چلتا ہے جو نہ صرف اس زمانہ کے لیے بلکہ آج کے اور آئندہ زمانے کے لیے بھی ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر ایسا گروہ، جمعیت اور ملک جو ان سے دشمنی رکھتا ہو، اسلام اور مسلمانوں کا مخالف ہو یا دشمنانِ اسلام کی مدد کرتا ہو، اس کے خلاف سختی کے ساتھ مقابلے کے لیے کھڑے ہو جائیں اور ان سے ہر قسم کی دوستی کا رشتہ منقطع کر لیں۔ لیکن اگر وہ کافر ہونے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غیر جانبدار ہوں، یا ان کی طرف مائل ہوں تو پھر مسلمان ان کے ساتھ دوستانہ روابط رکھ سکتے ہیں، البتہ اس حد تک نہیں جو وہ مسلمان بھائیوں کے ساتھ رکھتے ہیں اور نہ ہی اس حد تک کہ وہ مسلمانوں میں نفوذ پیدا کر لیں۔ اگر کوئی گروہ یا کوئی حکومت گروہِ اوّل میں سے ہو اور وہ اپنی روش کو بدل دیں یا اس کے برعکس وہ دوسرے گروہ میں ہوں اور وہ اپنا راستہ بدل لیں تو پھر ان کی موجودہ وضع و کیفیت کو معیار قرار دیا جائے گا اور ان کے ساتھ اوپر والی آیات کے مطابق طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا۔

10
60:10
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّۖ فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ وَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقُواْۚ ذَٰلِكُمۡ حُكۡمُ ٱللَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡۖ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اے ایمان لانے والو! جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو تم ان کی آزمائش کر لیا کرو۔ اللہ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ پھر جب تم انہیں مومنہ پاؤ تو انہیں کفار کی طرف مت لو ٹاؤ کہ نہ تو وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ ہی کفار ان کے لئے حلال ہیں۔ اور جو کچھ ان کے شوہروں نے (ان سے ازدواج کر نے میں ) خرچ کیا ہے وہ انہیں دے دو۔ اب تمہارے لئے ان سے نکاح کر نے میں کوئی گناہ نہیں ہے جبکہ تم ان کا مہرا نہیں ادا کر دو، اور تم بھی کافر ہ بیویوں کو ہر گز اپنی زوجیت میں نہ رکھو(اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی کافرہ ہو جائے اور وہ کافروں کے شہر کی طرف بھاگ جائے) تو تم حق رکھتے ہو کہ جو حق مہر تم نے ادا کیا ہے اس کا مطالبہ کر و جس طرح وہ حق رکھتے ہیں کہ جن عورتوں سے وہ جدا ہوگئے ہیں، ان کے حق مہر کا تم سے مطالبہ کریں، یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہارے درمیان حکم کر تا ہے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
60:11
وَإِن فَاتَكُمۡ شَيۡءٞ مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ إِلَى ٱلۡكُفَّارِ فَعَاقَبۡتُمۡ فَـَٔاتُواْ ٱلَّذِينَ ذَهَبَتۡ أَزۡوَٰجُهُم مِّثۡلَ مَآ أَنفَقُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ
اگر تمہاری بیویوں میں سے بعض تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں (اور کفار کی طرف پلٹ جائیں ) پھر تم جنگ میں ان پر کامیابی حاصل کر لو اور مال غنیمت تمہارے ہاتھ آئے ،تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں۔ ان کو اتنا مہر دے دو جتنا انہوں نے دیا ہے اور اس اللہ کی مخالفت سے پرہیز کرو جس پر تم سب ایمان رکھتے ہو۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

مفسّرین کی ایک جماعت نے ان آیات کے شانِ نزول میں اس طرح نقل کیا ہے کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح حدیبیہ میں مشرکینِ مکّہ سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کی ایک شِق یہ تھی کہ جو شخص اہلِ مکّہ میں سے مسلمانوں کے ساتھ آ ملے، وہ اسے واپس کر دیں گے، لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص اسلام کو چھوڑ کر مکّہ کی طرف پلٹ جائے تو وہ اُسے واپس نہیں کریں گے۔ اسی دوران ایک عورت جس کا نام "سبیعہ" تھا، اُس نے اسلام قبول کر لیا اور اسی سرزمینِ حدیبیہ میں مسلمانوں سے آ ملی۔ تب اس کا شوہر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہا: یا محمد! میری بیوی مجھے پلٹا دو، کیونکہ ہمارے معاہدے کی ایک شِق یہ بھی ہے اور ابھی اس کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ اس پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ مہاجر عورتوں کا امتحان کر لیا کرو۔ (ابنِ عباس کہتے ہیں کہ ان کا امتحان یہ تھا کہ ان سے قسم لی جائے کہ ان کی ہجرت شوہر سے بُغض و کینہ یا نئی زمین سے لگاؤ یا کسی دنیوی مقصد کے لیے نہیں ہے بلکہ ان کی ہجرت صرف اسلام کی وجہ سے ہے)۔ اس عورت نے قسم کھائی کہ ایسا ہی ہے۔ تو اس موقع پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ حقِ مہر جو اُس کے شوہر نے اس کو دیا تھا اور تمام خرچہ جو اس کے شوہر نے کیا تھا، اس کے شوہر کو ادا کر کے فرمایا: قراردادِ معاہدہ کی اس شِق کے مطابق عورتوں کو نہیں، صرف مردوں کو لوٹانا ہے۔ [بحوالہ: اوپر والی شانِ نزول بہت سی تفسیروں میں آئی ہے۔ ہم نے اسے مجمع البیان سے کچھ تلخیص کے ساتھ اوپر پیش کیا ہے۔ "طبرسی" نے اس حدیث کو "ابنِ عباس" سے نقل کیا ہے]۔

تفسیر: مُسلمانوں اور کُفّار کے نُقصان کی تلافی

گزشتہ آیات میں "بُغض فی اللہ" اور دشمنانِ خدا سے قطع تعلق کے بارے میں گفتگو تھی، لیکن زیرِ بحث آیات میں "حب فی اللہ" اور ان لوگوں سے جو کُفر سے جُدا ہو کر ایمان کے ساتھ تعلق قائم کریں، رشتہ جوڑنے کے بارے میں گفتگو ہے۔ پہلی آیت میں مہاجر عورتوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور اس آیت میں مجموعی طور پر سات احکام وارد ہوئے ہیں جو زیادہ تر مہاجر عورتوں کے بارے میں ہیں اور ان کا ایک حصہ کافر عورتوں کے بارے میں بھی ہے۔ 1: پہلا حکم: "مہاجر عورتوں" کی آزمائش کے بارے میں ہے۔ رُوئے سخن مؤمنین کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں واپس نہ کیا کرو بلکہ ان کا امتحان کر لیا کرو۔" (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَاءَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ)۔ انہیں مومنات کہنے کے باوجود امتحان کا حکم دینا اس بنا پر ہے کہ وہ ظاہری طور پر تو شہادتین کو زبان پر جاری کرتی تھیں اور اہلِ ایمان کے زمرے میں تھیں، لیکن یہ امتحان اس لیے تھا تاکہ اطمینان ہو جائے کہ یہ ظاہر، باطن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ باقی رہا امتحان کا طریقہ، تو جیسا کہ ہم نے بیان کیا، وہ اسی طرح سے تھا کہ انہیں قسم دلاتے تھے کہ ان کی مہاجرت اسلام قبول کرنے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے نہیں تھی، انہیں یہ قسم کھانی چاہیے کہ انہوں نے شوہر سے دشمنی یا کسی دوسرے مرد سے تعلق، یا مدینہ کی سرزمین میں لگاؤ اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لیے ہجرت نہیں کی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اسی سورہ کی بارہویں آیت، مہاجر عورتوں کے امتحان کی کیفیت کی تفسیر ہو، (جس کے مطابق انہیں چاہیے) کہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس بات پر بیعت کریں کہ وہ راہِ شرک اختیار نہیں کریں گی اور وہ چوری، منافیِ عفت اعمال، اولاد کو قتل کرنے اور اس قسم کے اعمال کی مرتکب نہ ہوں گی اور رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کو کامل طور پر تسلیم کریں گی۔ البتہ ممکن ہے کہ کچھ افراد اس قسم اور بیعت میں بھی غلط بیانی سے کام لیں، لیکن اُس زمانے میں بہت سے لوگوں، حتیٰ کہ مشرکین کا مسئلہ بیعت اور خدائی قسم کے لیے مقیّد ہونا، اس بات کا سبب بنا کہ بہت کم افراد جھوٹ بولیں۔ اس طرح سے مذکورہ امتحان اگرچہ ہمیشہ ان کے ایمانِ واقعی کی دلیل تو نہیں ہوتا تھا، لیکن عام طور پر اس واقعیت کو بیان کرنے والا ہو سکتا تھا۔ لہٰذا بعد کے جملے میں مزید کہتا ہے: "خدا ان کے دل کی اندرونی کیفیت اور ان کے ایمان کے متعلق سب سے زیادہ آگاہ ہے۔" (اللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیمَانِہِنَّ) 2: اس کے بعد والے حکم میں فرماتا ہے: "جب وہ اس امتحان میں پوری اُتر جائیں اور تم نے واقعی انہیں مومنہ جان لیا تو پھر انہیں کفّار کی طرف نہ پلٹاؤ۔" (فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ)۔ یہ درست ہے کہ حدیبیہ میں زبردستی کے معاہدے کا ایک جزء یہ تھا کہ وہ افراد جو مسلمان ہو کر مکّہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کریں گے، انہیں مکّہ کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا، لیکن اس جزء کا عورتوں پر اطلاق نہیں ہوتا تھا، لہٰذا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں ہرگز کفّار کی طرف نہیں پلٹایا۔ یہ ایک ایسا کام تھا کہ اگر یہ انجام پا جاتا تو اس معاشرے میں عورتوں کے حد سے کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے لیے سخت خطرناک ہوتا۔ 3: تیسرے مرحلہ میں، جو حقیقت میں گزشتہ حکم کی ایک دلیل ہے، مزید کہتا ہے: "نہ تو یہ عورتیں کافروں پر حلال ہیں اور نہ ہی وہ کافر مرد ان ایماندار عورتوں پر حلال ہیں۔" (لَا ھُنَّ حِلٌّ لَھُمْ وَلَا ھُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ)۔ یہ اسی طرح ہونا چاہیے، کیونکہ ایمان و کفر ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور ازدواج کا مقدس پیمان مومن و کافر کے درمیان رابطہ قائم نہیں کر سکتا، اس لیے کہ یہ دونوں دو متضاد نظریات رکھتے ہیں، جبکہ پیمانِ ازدواج کو بیوی اور شوہر کے درمیان ایک قسم کی وحدت قائم کرنی چاہیے اور یہاں دونوں ایک دوسرے سے سازگار نہیں ہیں۔ البتہ ابتداءِ اسلام میں، جبکہ ابھی اسلامی معاشرہ مستحکم نہیں ہوا تھا، ایسے شوہر اور بیویاں تھیں جن میں سے ایک کافر اور دوسرا مسلمان ہوتا تھا، مگر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے منع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام کی بنیادیں مضبوط ہو گئیں۔ چنانچہ ظاہری طور پر صلح حدیبیہ کے بعد مکمل طور پر جدائی کا حکم دیا گیا اور زیرِ بحث آیت اس موضوع کی ایک دلیل ہے۔ 4: چونکہ عربوں میں معمول یہ تھا کہ وہ اپنی عورتوں کا حق مہر پہلے دے دیتے تھے، لہٰذا چوتھے حکم میں مزید کہتا ہے: "ان کے کافر شوہروں نے جو کچھ اس ازدواج میں خرچ کیا ہے وہ ان کو دے دو۔" (وَآتُوھُمْ مَا أَنْفَقُوا)۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے شوہر کافر ہیں، لیکن چونکہ جُدائی اور علیحدگی کا اقدام ایمان لانے کی بنا پر عورت کی طرف سے شروع ہوا ہے، لہٰذا عدالتِ اسلامی کا تقاضا یہ ہے کہ اس شوہر کے خسارے پورے کیے جائیں۔ کیا یہاں انفاق سے مراد صرف حق مہر ہے یا اس میں وہ تمام اخراجات شامل ہیں جو اس نے اس سلسلہ میں کیے ہیں؟ اکثر مفسرین نے پہلے معنیٰ کو اختیار کیا ہے اور آیت میں قدرِ مسلم بھی یہی ہے، اگرچہ "ابو الفتوح رازی" کے مانند بعض مفسرین نے اپنی تفسیر میں دوسرے مخارج بھی اس میں شامل کیے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ۱۱، صفحہ ۵۴]۔ البتہ یہ حق مہر کا ادا کرنا ایسے مشرکین کے بارے میں تھا جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ حدیبیہ یا دوسرے مواقع پر ترکِ مخاصمت کا عہد کیا تھا۔ لیکن یہ مہر کس کو ادا کرنا چاہیے؟ ظاہر یہ ہے کہ یہ کام حکومتِ اسلامی اور بیت المال کے ذمے ہے، کیونکہ ایسے تمام امور جن کا اسلامی معاشرہ میں کوئی خاص شخص ذمہ دار نہیں، وہ حکومت ہی کے ذمے ہوتے ہیں اور زیر بحث آیت میں جمع مخاطب کا صیغہ اسی معنی کا گواہ ہے (جیسا کہ چور کی حد اور زانی کی حدود والی آیات میں نظر آتا ہے)۔ ۵۔ ایک اور حکم جو اوپر والے احکام کے بعد آیا، وہ یہ ہے کہ فرماتا ہے: "اگر تم ان کے ساتھ نکاح کر لو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے جبکہ تم ان کا حق مہر ادا کر دو" (وَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ)۔ کہیں تم یہ تصور نہ کر لو کہ چونکہ وہ سابقہ شوہر سے حق مہر پہلے ہی لے چکی ہیں اور اس کے بدلے میں بیت المال سے اُس کے شوہر کو دے دیا گیا ہے اور تمہارا مفت میں کام ہو جائے گا۔ نہیں! ایسا نہیں ہے، عورت کی حرمت اور عزت کا تقاضا یہی ہے کہ جدید ازدواج میں بھی مناسب حق مہر اس کو دیا جائے۔ توجہ رکھنا چاہیے کہ یہاں عورت اپنے کافر شوہر سے طلاق کے بغیر الگ ہو جائے گی لیکن عدت پوری کرنا پڑے گی۔ مشہور فقیہ "صاحبِ جواہر" نے محقق کے کلام کی شرح کرتے ہوئے، جو انہوں نے "شرائع" میں بیان کیا، کہا ہے کہ: "اہلِ کتاب زوجہ و شوہر کے علاوہ، زوجہ و شوہر میں سے جو کوئی بھی اسلام قبول کر لے، اگر یہ دخول سے پہلے ہو تو عقد بلا فاصلہ فسخ ہو جائے گا، اگر دخول کے بعد ہو تو پھر وہ عدت کے ساتھ وابستہ ہے۔" فرماتے ہیں: "ان احکام میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ روایات اور فقہاء کے فتوے اس بارے میں ہم آہنگ ہیں۔" [بحوالہ: جواہر الکلام، جلد ۳۰، صفحہ ۵۴]۔ ۶۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو، یعنی شوہر اسلام قبول کر لے اور عورت کفر پر باقی رہے، تو یہاں بھی زوجیت کا رابطہ ٹوٹ جائے گا اور نکاح فسخ ہو جائے گا، جیسا کہ اسی آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے: "کافر بیویوں کو اپنی زوجیت میں نہ روکے رکھو" (وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ)۔ "عِصَم"، "عصمت" کی جمع ہے جو اصل میں منع کرنے کے معنی میں ہے، یہاں جیسا کہ مفسرین نے کہا اور قرائن گواہی دیتے ہیں، نکاح اور زوجیت کے معنی میں ہے۔ (البتہ بعض نے یہ تصریح کی ہے کہ اس سے مراد نکاحِ دائمی ہے اور عصمت کی تعبیر بھی اسی معنی کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ نکاحِ دائمی عورت کو کسی بھی دوسرے شخص سے ازدواج کرنے سے ہمیشہ کے لیے منع کرتا ہے)۔ "کوافر"، "کافرہ" کی جمع اور کافر عورتوں کے معنی میں ہے۔ کیا یہ حکم مشرک عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے یا اہلِ کتاب مثل عیسائی اور یہودی عورتوں کے لیے بھی ہے؟ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں اور ان کی تشریح و تفصیل کا فقہ کی کتابوں میں مطالعہ کرنا چاہیے۔ لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے اور تمام کافر عورتوں کے لیے ہے۔ نیز شانِ نزول اسے محدود نہیں کرتا۔ لیکن عدت کا مسئلہ یہاں پر بطریقِ اولیٰ برقرار ہے، کیونکہ اگر اس عورت سے بچہ پیدا ہو تو وہ مسلمان بچہ ہو گا کہ اُس کا باپ مسلمان ہے۔ ۷۔ آخری حکم جو آیت میں بیان ہوا ہے اس میں ان عورتوں کے حق مہر کے بارے میں گفتگو ہے جو اسلام سے علیحدگی اختیار کر کے اہلِ کفر سے جا ملیں۔ فرماتا ہے: "اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی اسلام سے الگ ہو جائے تو تم حق رکھتے ہو کہ جو حق مہر تم نے ادا کیا ہے اس کا مطالبہ کرو، جیسا کہ وہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی ان عورتوں کے مہر کا مطالبہ کریں جو ان سے جدا ہو کر اسلام سے وابستہ ہو گئی ہیں" (وَاسْأَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْأَلُوا مَا أَنْفَقُوا)۔ اور یہ عدالت اور برابر حقوق کا تقاضا ہے۔ جو کچھ بیان ہو چکا ہے، آیت کے آخر میں ان پر تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ اللہ کے وہ احکام ہیں جن کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے اور خدا علیم و حکیم ہے" (ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ)۔ یہ ایسے احکام ہیں جن کا سرچشمہ علمِ الٰہی ہے، یہ حکمت کی آمیزش رکھتے ہیں، ان میں تمام افراد کے حقوق نظر میں رکھے گئے ہیں اور یہ اصل اسلامی عدالت و انصاف کے ساتھ کامل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ ان احکام کے اجرا کے لیے عظیم ترین ضمانت شمار ہوتا ہے۔ دوسری اور آخری زیرِ بحث آیت میں اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے: "اگر تمہاری بیویوں میں سے بعض تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہوں اور اسلام کو چھوڑ کر کفار سے جا ملی ہوں، اِس کے بعد تمہیں جنگ میں ان پر کامیابی حاصل ہو جائے اور کچھ مالِ غنیمت تمہارے ہاتھ لگ جائے تو ان افراد کو، جو اپنی بیویاں ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں، جتنا مہر انہوں نے ادا کیا ہوا ہے اتنا غنائم میں سے انہیں دے دو۔" (وَإِنْ فَاتَکُمْ شَیْءٌ مِّنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَآتُوا الَّذِینَ ذَهَبَتْ أَزْوَاجُهُم مِّثْلَ مَا أَنفَقُوا)۔ گزشتہ آیت کے مطابق مسلمان اس قسم کی عورتوں کا حق مہر کفار سے لے سکتے تھے، جیسا کہ وہ حق رکھتے تھے کہ اپنی ان بیویوں کا حق مہر مسلمانوں سے لے لیں جو اسلام سے وابستہ ہو کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئی ہیں۔ لیکن بعض روایات کے مطابق اس عادلانہ حکم پر مسلمانوں کے عمل کے باوجود مشرکینِ مکہ نے اُس سے روگردانی کی، لہٰذا ان افراد کے حق کے ضائع ہونے سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ جب مالِ غنیمت ہاتھ آئے تو پہلے ان کا حق دیا جائے اور اس کے بعد باقی مالِ غنیمت کو تقسیم کیا جائے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اوپر والا حکم ایسی اقوام کے ساتھ مربوط ہے جن سے مسلمانوں کا کوئی عہد و پیمان نہیں تھا، لہٰذا طبعی طور پر وہ اس قسم کی عورتوں کا حق مہر مسلمانوں کو واپس دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تاہم دونوں معانی کا جمع ہونا بھی ممکن ہے۔ "عَاقَبْتُمْ"، "معاقبة" کے مادہ سے ہے۔ اصل میں "عَقِب" (بروزن "کَتِف") "پاؤں کی ایڑی" کے معنی میں ہے۔ اسی مناسبت سے لفظ "عُقبٰى" کسی کام کی جزا کے معنی میں اور "عُقُوبَة" کسی غلط کام کی سزا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ لفظ "مُعَاقَبَة" باری باری کام کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ وہ لوگ جو کسی کام کو باری باری انجام دیتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بعد آ پہنچتا ہے۔ اس لیے اوپر والی آیت میں "عَاقَبْتُمْ" مسلمانوں کے کفار پر غالب آنے اور انہیں سزا دینے کے معنی میں ہے، جو ضمنی طور پر غنائم لینے سے تفسیر ہوا ہے۔ اور "تناوب" (باری باری) کے معنی میں بھی ہے، کیونکہ ایک دن کفار کی باری ہے تو دوسرے دن مسلمانوں کی باری آ جاتی ہے اور یہ ان پر غالب آ جاتے ہیں۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس جملہ سے مراد کام کا انتہا اور آخر کو پہنچنا ہے۔ یہاں کام کی انتہا سے مراد جنگی غنائم حاصل کرنا ہے۔ ان معانی میں سے جو کوئی معنی بھی ہو، نتیجہ ایک ہی ہے، صرف نتیجے تک پہنچنے کے راستے مختلف بیان کیے گئے ہیں (غور کیجیے گا)۔ آیت کے آخر میں تمام مسلمانوں کو تقویٰ کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: "جس خدا پر تم سب ایمان لائے ہو، اس سے ڈرو اور اس کی مخالفت نہ کرو۔" (وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ)۔ ممکن ہے یہاں تقویٰ کا حکم اس بنا پر ہو کہ عام طور پر حق مہر کی تشخیص میں بیوی اور شوہر کے قول پر ہی اعتماد کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ثبوت کا طریقہ ان کے قول کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، لہٰذا اس بات کا امکان ہے کہ شیطانی وسوسے مقدارِ واقعی سے زیادہ کا دعوٰی کرنے کا سبب بن جائیں۔ اسی لیے انہیں تقویٰ کی وصیت اور نصیحت کرتا ہے۔ تواریخ اور روایات میں آیا ہے کہ یہ اسلامی حکم صرف چھ عورتوں کو شامل ہوا جو اپنے مسلمان شوہروں سے جدا ہو کر کفار سے جا ملیں اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا حق مہر جنگی غنائم سے ان کے شوہروں کو دیا۔

ایک نکتہ: دشمنوں کے لیے بھی عدالت

اوپر والی آیت میں لطافت و ظرافت اور خاص نکتہ کی بات جو مذکورہ احکام میں استعمال ہوئی ہے، یہ بتلاتی ہے کہ احکامِ اسلامی کی تشریع میں اصل عدالت پر کس قدر توجہ دی گئی ہے، یہاں تک کہ طوفانی اور بحرانی مواقع پر بھی اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی شخص، حتیٰ کہ کفار کو بھی نقصان نہ پہنچے۔ جبکہ دنیا کا معمول یہ ہے کہ بحرانی کیفیت میں سب یہی کہتے ہیں کہ حالات حد سے زیادہ سخت ہیں، لہٰذا ان کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حق دار کو حق دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی بےسرو سامانی کو برداشت کرنا چاہیے۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کا حق ضائع نہ ہو اور نہ صرف دوست بلکہ اگر دشمن بھی کوئی حق رکھتا ہو تو اس کی بھی رعایت کرنا چاہیے۔ اس قسم کے اسلامی احکام، اعجاز کی ایک قسم اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دعوت کی حقانیت کی نشانی ہیں، کہ جو اس قسم کے ماحول میں بھی، جہاں نہ مال کا کوئی احترام تھا اور نہ ہی جان کی کوئی قدر و قیمت تھی، اسلام حقدار کو اس کا حق دینے میں اس حد تک کوشش کرتا ہے۔

12
60:12
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشۡرِكۡنَ بِٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِينَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ وَلَا يَأۡتِينَ بِبُهۡتَٰنٖ يَفۡتَرِينَهُۥ بَيۡنَ أَيۡدِيهِنَّ وَأَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِينَكَ فِي مَعۡرُوفٖ فَبَايِعۡهُنَّ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے پیغمبر! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں اور تجھ سے ان شرائط پر بیعت کریں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیں گی۔ چوری نہیں کریں گی۔ زنا سے آلودہ نہ ہوں گی۔ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے آگے کوئی افتراء اور بہتان نہیں باندھیں گی، اور کسی شائستہ کام میں تیرے حکم کی مخالفت نہیں کریں گی تو تم ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے بارگاہ خدا میں طلب بخشش کرو، بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر: عورتوں کی بیعت کے شرائط

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

گزشتہ آیات کے بعد جن میں مہاجر عورتوں کے احکام کا بیان تھا، زیر بحث آیت میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے عورتوں کے بیعت کرنے کے حکم کی تشریح کرتا ہے۔ جیسا کہ کثیر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت فتح مکّہ کے دن نازل ہوئی، جبکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کوہِ صفا پر قیام فرمایا اور مردوں سے بیعت لی، بعدہ مکّہ کی وہ عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں بیعت کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور ان کی بیعت کی تفصیل بیان کی۔ رُوئے سخن پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے: یعنی: "اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں اور ان شرائط پر تجھ سے بیعت کریں کہ وہ کسی چیز کو خدا کا شریک قرار نہیں دیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا سے آلودہ نہیں ہوں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے آگے کوئی افتراء اور بہتان نہیں باندھیں گی اور کسی شائستہ حکم میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی، تو تم ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے بخشش طلب کرو، بےشک خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔" (یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ إِذَا جَاءَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلَىٰ أَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِینَ وَلَا یَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا یَأْتِینَ بِبُهْتَانٍ یَفْتَرِینَهُ بَیْنَ أَیْدِیهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰہَ، إِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان سے بیعت لی۔ بیعت کی کیفیت کے بارے میں بعض نے یہ لکھا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے پانی کا ایک برتن لانے کا حکم دیا اور اپنا ہاتھ پانی کے اس برتن میں رکھ دیا، عورتیں اپنے ہاتھ برتن کے دوسری طرف رکھ دیتی تھیں۔ بعض نے کہا ہے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) لباس کے اوپر سے بیعت لیتے تھے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں عورتوں کے بیعت کرنے کے لیے چھ شرطیں بیان کی گئی ہیں اور ان کے لیے ان سب کو قبول کرنا ضروری ہے: ۱: ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کو ترک کرنا، یہ شرط اسلام و ایمان کی بنیاد ہے۔ ۲: چوری کو ترک کرنا اور شاید اس سے مراد زیادہ تر شوہر کا مال ہو، کیونکہ اس زمانہ کی مالی بدحالی، مردوں کی سخت گیری اور تہذیب و تمدن کی سطح کا پست ہونا اس بات کا سبب ہوتا تھا کہ عورتیں اپنے شوہروں کے مال میں سے چوری کریں اور احتمالاً اپنے رشتہ داروں کو دے دیں۔ "ہند" کی داستان، جو بعد میں آئے گی، وہ بھی اسی معنی کی گواہی ہے۔ بہرحال آیت کا مفہوم وسیع اور عام ہے۔ ۳: زنا سے آلودہ نہ ہونا، کیونکہ تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عفت کی راہ سے بہت زیادہ انحراف تھا۔ ۴: اولاد کو قتل نہ کرنا۔ یہ فعل دو صورتوں میں، یعنی اسقاطِ حمل کی صورت میں اور کبھی "وَأْد" (لڑکیوں اور لڑکوں کو زندہ درگور کرنے) کی صورت میں انجام پاتا تھا۔ ۵: بہتان و افتراء کو ترک کرنا۔ بعض نے اس کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ مشکوک بچوں کو راستے سے اُٹھا لیتی تھیں اور یہ دعویٰ کرتی تھیں کہ یہ بچہ ان کے شوہر سے ہے (یہ امر شوہر کی طویل غیبت کے زمانہ میں زیادہ امکان پذیر تھا)۔ بعض نے اسے شرم آور کام کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کہ وہ بھی زمانۂ جاہلیت کے باقیات میں سے تھا، وہ یہ کہ ایک عورت اپنے آپ کو چند افراد کے اختیار میں دے دیتی اور جب اس سے کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ ان میں سے جس کی طرف مائل ہوتی، بچے کو اس کی طرف منسوب کر دیتی تھی۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مسئلہ زنا پہلے بیان ہو چکا ہے اور اس قسم کے کام کا اسلام میں جاری رہنا ممکن نہیں تھا، یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے اور پہلی ہی تفسیر زیادہ مناسب ہے، اگرچہ آیت کے مفہوم کی وسعت ہر قسم کے افتراء اور بہتان کو شامل ہے۔ "بَیْنَ أَیْدِیهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ" (ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے آگے) کی تعبیر ممکن ہے وہی سَرِراہ ملنے والے بچوں کی طرف اشارہ ہو جو دودھ پلانے کے وقت ذہن میں ہوتے تھے، لہٰذا طبعاً وہ ان کے پاؤں اور ہاتھوں کے سامنے ہوتے تھے۔ ۶: پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصلاحی احکام کی نافرمانی نہ کرنا: یہ حکم بھی وسعت رکھتا ہے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے تمام فرامین کو شامل ہے، اگرچہ بعض نے اسے زمانۂ جاہلیت کے بعض افعال مثلاً مردوں پر بلند آواز میں نوحہ کرنا، گریبان چاک کرنا اور منہ کو نوچنا وغیرہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ عورتوں کی بیعت کیوں ان شرائط کے ساتھ مشروط تھی؟ حالانکہ مردوں کی بیعت صرف اسلام اور جہاد پر تھی۔ اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مردوں کے بارے میں اس معاشرے اور ماحول میں جو چیز سب سے زیادہ اہم تھی وہ ایمان اور جہاد تھا، چونکہ عورتوں کے لیے جہاد مشروع نہیں تھا، لہٰذا ان کے لیے دوسرے شرائط ذکر کیے گئے جن میں توحید کے بعد سب سے زیادہ اہم امور وہی تھے جن سے اس معاشرے کی عورتیں انحراف میں مبتلا تھیں۔

چند نکات: ۱۔ عورتوں کی بیعت کا ان کی اسلامی شخصیّت کے ساتھ ربط

ہم سورۂ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے (آیۂ ۱۸ کے ذیل میں) بیعت، اس کے شرائط اور اسلام میں اس کی خصوصیات کے بارے میں ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں کہ جس کے دہرانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ۱۴میں سورۂ فتح، آیہ ۱۸ کے ذیل میں دیکھیں]۔ یہاں جس بات کا بیان کرنا ضروری ہے، وہ عورتوں کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیعت کرنے کا مسئلہ ہے اور وہ بھی ایسی مفید اور اصلاحی شرائط کے ساتھ کہ جو اوپر والی آیت میں بیان ہوئے ہیں۔ بےخبر اور مفاد پرست لوگوں کے برخلاف جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام انسانی معاشرے کے نصف حصے یعنی عورتوں کے لیے کسی قدر و قیمت کا قائل نہیں اور اس نے انہیں کسی حساب میں شمار نہیں کیا ہے، یہ مسئلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام نے اسے خصوصیت کے ساتھ اہم ترین مسائل میں شمار کیا ہے۔ منجملہ ان کے مسئلۂ بیعت ہے جو ایک مرتبہ صلح حدیبیہ میں (ہجرت کے چھٹے سال) اور ایک مرتبہ فتح مکّہ میں انجام پایا، تو عورتیں بھی مردوں کے دوش بدوش اس خُدائی عہد و پیمان میں داخل ہوئیں، یہاں تک کہ انہوں نے مردوں کی نسبت زیادہ شرائط کو قبول کیا — ایسی شرائط کو جو عورت کی انسانی حیثیت کو زندہ کرتی تھیں، نیز اس کو بےقدر و قیمت متاع میں تبدیل ہونے یا بوالہوس مردوں کی لطف اندوزی کا ذریعہ بننے سے نجات دیتے تھے۔

۲۔ ابو سفیان کی بیوی ھند کی بیعت کا ماجرا

فتحِ مکّہ کے وقت جن عورتوں نے پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی، ان میں سے ایک، ابو سفیان کی بیوی "ہند" بھی تھی — یعنی وہ عورت جس کی طرف سے تاریخِ اسلام بہت سے دردناک واقعات محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ ان میں سے ایک، میدانِ اُحد میں حمزہ سیدالشہداءؓ کی شہادت کا واقعہ ہے، جس کی کیفیت بہت ہی غم انگیز ہے۔ اگرچہ آخرکار وہ مجبور ہو گئی کہ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور ظاہراً مسلمان ہو جائے، لیکن اس کی بیعت کا ماجرا بتاتا ہے کہ وہ حقیقت میں اپنے سابقہ عقائد کی اسی طرح وفادار تھی۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بنی امیہ کا خاندان اور ہند کی اولاد نے پیغمبرؐ کے بعد اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا، کہ جن کی سابقہ زمانہ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بہرحال مفسرین نے اس طرح لکھا ہے کہ ہند نے اپنے چہرے پر نقاب ڈالا ہوا تھا۔ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئی جب آپ کوہِ صفا پر تشریف فرما تھے اور عورتوں کی ایک جماعت بھی ہند کے ساتھ تھی۔ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ "میں تم عورتوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم کسی چیز کو خدا کا شریک قرار نہیں دو گی"، تو ہند نے اعتراض کیا اور کہا: "آپ ہم سے ایسا عہد لے رہے ہیں جو آپ نے مردوں سے نہیں لیا، کیونکہ اُس دن مردوں سے صرف ایمان اور جہاد پر بیعت لی گئی تھی۔" پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کی پروا کیے بغیر اپنی گفتگو کو جاری رکھا اور فرمایا کہ: "تم چوری بھی نہیں کرو گی۔" ہند نے کہا: "ابو سفیان کنجوس اور بخیل آدمی ہے، میں نے اُس کے مال میں سے کچھ چیزیں لی ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ وہ انہیں مجھ پر حلال کرے گا یا نہیں۔" ابو سفیان موجود تھا۔ اُس نے کہا: "جو کچھ تُو نے گزشتہ زمانے میں میرے مال میں سے لے لیا ہے، وہ سب میں نے حلال کیا، لیکن آئندہ کے لیے پابندی کرنا۔" اس موقع پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے اور ہند کو پہچان کر فرمایا: "کیا تُو ہند ہے"؟ اس نے کہا: "جی ہاں، یا رسول اللہ! پچھلے امور کو بخش دیجئے، خدا آپ کو بخشے۔" پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گفتگو کو جاری رکھا: "اور تم زنا سے آلودہ نہیں ہو گی۔" ہند نے تعجب کرتے ہوئے کہا: "کیا آزاد عورت اس قسم کا عمل بھی انجام دیتی ہے"؟ حاضرین میں سے بعض لوگ، جو زمانۂ جاہلیت میں اس کی حالت سے واقف تھے، اس کی اس بات پر ہنس پڑے، کیونکہ ہند کا سب کا زمانہ کسی سے مخفی نہیں تھا۔ پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: "اور تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی۔" ہند نے کہا: "ہم نے تو انہیں بچپن میں پالا پوسا تھا، مگر جب وہ بڑے ہوئے تو آپ نے انہیں قتل کر دیا۔ اب آپ اور وہ خود بہتر جانتے ہیں۔" اس کی مراد اُس کا بیٹا "خظلہ" تھا، جو بدر کے دن علی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اس بات پر تبسم فرمایا۔ اور جب آپ اس بات پر پہنچے اور فرمایا: "تم بہتان اور تہمت کو روا نہیں رکھو گی۔" تو ہند نے کہا: "بہتان قبیح ہے! اور آپ ہمیں صلح و دوستی، نیکی اور مکاری میں اخلاق کے سوا اور کسی چیز کی دعوت نہیں دیتے۔" جب آپ نے یہ فرمایا: "تم تمام اچھے کاموں میں میرے حکم کی اطاعت کرو گی۔" تو ہند نے کہا: "ہم یہاں اس لیے نہیں بیٹھی ہیں کہ ہمارے دل میں آپ کی نافرمانی کا ارادہ ہو۔" حالانکہ مسلمہ طور پر معاملہ اس طرح نہیں تھا، لیکن تعلیماتِ اسلامی کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کے پابند تھے کہ ان کے بیانات کو قبول کر لیں۔ [بِحَوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۹، صفحہ ۲۷۶، "قرطبی" نے بھی اس داستان کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اسی طرح سے "سیوطی" نے "در المنثور" میں اور "ابو الفتوح رازی" نے "تفسیر روح البیان" میں زیرِ بحث آیات کے ذیل میں بیان کیا ہے]۔

۳- معروف میں اطاعت

اِن عمدہ نکات میں سے جو اوپر والی آیت سے معلوم ہوتے ہیں، ایک یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت معروف کے ساتھ مقید کی گئی ہے، حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم تھے اور کبھی بھی منکر اور بُری بات کا حکم نہیں دیتے تھے، لیکن ممکن ہے یہ تعبیر ان تمام احکام کے لیے ایک نمونہ کے عنوان سے ہو جو اسلامی سربراہوں سے صادر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ احکام صرف اسی صورت میں محترم اور قابلِ اجرا ہیں جبکہ وہ تعلیماتِ قرآن اور اصولِ شریعتِ اسلام کے ساتھ سازگار ہوں اور "لَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ" کے مصداق ہوں۔ وہ لوگ حقیقت سے کتنے دُور ہیں جو برسرِ اقتدار لوگوں کو واجب الاطاعت سمجھتے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی ہوں اور کسی بھی شخص کی طرف سے ہوں، حالانکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو نہ تو عقل کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی شریعت اور قرآن کے حکم کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے اُس خط میں، جو آپ نے مصر کے لوگوں کو "مالک اشتر" کی فرمانروائی (گورنری) کے بارے میں لکھا تھا، ان تمام اوصافِ بلند کے باوجود جو آپ نے مالک کے بارے میں بیان فرمائے تھے، آخر میں یہ لکھا تھا: فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا أَمْرَهُ فِيمَا طَابَقَ الْحَقَّ فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۳۸ — (یہ وہ مختصر خط ہے جو امام علیہ السلام نے مصر کے لوگوں کے نام لکھا تھا اور مالک اشتر کے نام معروف فرمان کے علاوہ ہے)]۔ "اس کی بات کو سنو اور اس کے اُس حکم کی جو حق کے مطابق ہو اطاعت کرو، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔"

13
60:13
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ قَدۡ يَئِسُواْ مِنَ ٱلۡأٓخِرَةِ كَمَا يَئِسَ ٱلۡكُفَّارُ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡقُبُورِ
اے ایمان لانے والو! وہ قوم جس پر اللہ نے غضب کیا ہے اس سے دوستی نہ کرو۔ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہو چکے ہیں جس طرح قبروں میں مدفون کفار مایوس ہیں۔

تفسیر: اس مغضوب علیہ قوم سے دوستی نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 9

ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس سورہ کا آغاز دشمنانِ خدا سے قطع تعلق کرنے کے مسئلہ سے ہوا ہے اور اب اسی چیز پر اس کا اختتام ہو رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس سورہ کا اختتام اس کے آغاز کی طرف ایک بازگشت ہے۔ فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! وہ قوم جس پر خدا نے غضب کیا ہے اس سے دوستی نہ کرو۔" (یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْهِمْ)۔ تمہیں ان سے دوستی نہیں کرنی چاہیے اور اپنے اسرار اور بھیدوں کو ان تک نہیں پہنچانا چاہیے۔ اس بارے میں کہ "مغضوب علیہم قوم" کون لوگ ہیں، بعض تو صراحت سے اسے یہودیوں سے متعلق سمجھتے ہیں، کیونکہ قرآن کی دوسری آیات میں انہیں اس عنوان کے ساتھ یاد کیا گیا ہے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۹۰ میں یہود کے بارے میں بیان ہوا ہے: "فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ۔" "پس وہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوئے۔" یہ تفسیر اس شانِ نزول سے بھی سازگار ہے جو مفسرین نے بیان کی ہے، کیونکہ انہوں نے کہا کہ فقراء مسلمین کی ایک جماعت مسلمانوں کی خبریں یہودیوں کے پاس لے جایا کرتی تھی اور یہودی اس کے بدلے میں انہیں اپنے درختوں کے پھل بطور ہدیہ کے دیا کرتے تھے۔ اس پر اوپر والی آیت نازل ہوئی اور انہیں اس کام سے منع کیا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۷۶]۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس آیت کی تعبیرات ایک وسیع مفہوم رکھتی ہیں، جو تمام کفار و مشرکین کو شامل ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں غضب کی تعبیر "یہود" میں منحصر نہیں ہے بلکہ یہی تعبیر منافقین کے بارے میں بھی آئی ہے (سورہ فتح، آیت ۶)۔ اور شانِ نزول بھی آیت کے مفہوم کو محدود نہیں کرتا۔ بناءً علیہ، اس آیت میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ اس وسیع مطلب کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو اس سورہ کی پہلی آیت دشمنانِ خدا سے دوستی نہ کرنے کے عنوان سے آیا ہے۔ اس کے بعد ایک اور مطلب کو بیان کرتا ہے جو اس نہی کی دلیل کے طور پر بیان ہوا ہے۔ فرماتا ہے: "قَدْ یَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ۔" [تشریحی نوٹ: بعض نے اس آیت کی تفسیر میں اور احتمال بھی دیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ "وہ آخرت کے ثواب سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح مشرکین اصحابِ قبور کے زندہ ہونے سے مایوس ہیں"، لیکن جو تفسیر ہم نے اوپر بیان کی ہے وہ زیادہ مناسب ہے (توجہ رہے کہ پہلی تفسیر کے مطابق "مِن أَصْحَابِ الْقُبُورِ" کفار کا وصف ہے اور آخری تفسیر کے مطابق "یَئِسَ" سے متعلق ہے)]۔ "وہ آخرت میں نجات سے کلی طور پر مایوس ہیں، جس طرح قبروں میں مدفون کفار مایوس ہیں۔" کیونکہ کفار میں سے جو مر چکے ہیں وہ عالمِ برزخ میں اپنے کاموں کے نتائج دیکھ رہے ہیں اور تلافی کے لیے واپسی کی کوئی راہ نہیں ہے، لہٰذا وہ کلی طور پر مایوس ہیں۔ یہ زندوں کا گروہ بھی گناہ سے اس قدر آلودہ ہے کہ ہرگز اپنی نجات کی امید نہیں رکھتا اور یہ ٹھیک کفار کے مردوں کی طرح ہے۔ اس قسم کے لوگ یقیناً خطرناک اور ناقابلِ اعتماد افراد ہیں، نہ تو ان کے قول پر کوئی اعتماد ہے اور نہ ہی ان کے صداقت اور ارادے پر کوئی اعتبار ہے۔ وہ حق تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہیں، اسی بناء پر ہر جرم و گناہ پر ہاتھ ڈالتے ہیں، ان حالات میں تم ان پر کس طرح اعتماد کرتے اور ان سے دوستی کرتے ہو؟ خداوندا! ہمیں اپنے بےپایاں لطف و کرم سے ہرگز محروم و مایوس نہ کرنا۔ پروردگارا! ہمیں ایسی توفیق مرحمت فرما کہ ہم ہمیشہ تیرے دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن رہیں اور تیری دوستی کی راہ میں ثابت قدم رہیں۔ بارالہٰا! ہمیں اپنے اولیاء اور انبیاءِ کرام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما۔

end of chapter
Al-Mumtahanah (60) — Tafseer e Namoona