Sūra 34 · 54v
Chapter 3454 verses

Saba

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
سبأ
سبا

سورہ سبا کے مطالب و مضامین

یہ سورہ جو قوم "سبا" کی سرگزشت کی مناسبت سے "سبا" کے نام سے موسوم ہوئی ہے "مکی" سورتوں میں سے ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ مکی سورتوں کے مطالب و مضامین عام طور پر معارف اسلامی اور اصول ہائے اعتقادی خصوصاً "مبدأ" و "معاد" اور "نبوت" ہوتے ہیں۔ اور اس سورہ کی زیادہ تر بحث بھی انہی امور کے گرد گھومتی ہے، کیونکہ مکہ کے زمانہ میں مسلمانوں کی عقائد کے لحاظ سے تعمیر کی جا رہی تھی اور فروع پر عمل کرنے اور حکومتِ اسلامی کے قیام اور تمام اسلامی پروگراموں کو عملی شکل دینے کے لیے انہیں آمادہ اور تیار کیا جا رہا تھا۔ کلی طور پر یہ کہنا چاہیئے کہ اس سورہ میں پانچ مطالب کو مدِّنظر رکھا گیا ہے: ۱۔ "مسئلہ توحید" اور عالمِ ہستی میں خدا کی چند نشانیاں اور اس کی پاک صفات، منجملہ ان کے "توحید" "ربوبیت" اور "الوہیت"۔ ۲۔ "مسئلہ معاد" جو اس سورہ میں دوسرے مسائل کی نسبت زیادہ بیان ہوا ہے۔ اس پر مختلف طریقوں سے طرح طرح کی بحثیں عنوان کی گئی ہیں۔ ۳۔ "گزشتہ انبیاء اور خصوصاً پیغمبرِ اسلام کی نبوت کا مسئلہ" اور اس کے بارے میں دشمنوں کی بہانہ سازیوں کا جواب اور گزشتہ انبیاء کے کچھ معجزات کا بیان۔ ۴۔ حضرتِ سلیمان اور قومِ سبا کی زندگی کے ایک گوشہ کے بیان کے ضمن میں خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک حصّہ اور شکرگزاروں اور کفرانِ نعمت کرنے والوں کے انجام کا ذکر۔ ۵۔ "غور و فکر کی دعوت" ایمان و عملِ صالح کی ترغیب اور ان عوامل کو نوعِ بشر کی سعادت و نیک بختی میں تاثیر اور مجموعی طور پر حق کی جستجو کرنے والوں کی تربیت کے لیے ایک جامع پروگرام۔

اس سورہ کی فضیلت

اسلامی روایات میں اس سورہ کی اہمیت اور اس کی تلاوت کے سلسلے میں عمدہ اور جاذبِ نظر قسم کی تعبیریں نظر آتی ہیں۔ منجلہ اُن کے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم سے ایک حدیث میں اس طرح منقول ہوا ہے کہ: من قرأ سورة سبا لم یبق نبی ولا رسول الا کان لہ یوم القیامة رفیقاً و مصافحاً جو شخص سورہ سبا کو پڑھے گا، قیامت میں تمام ابنیاء، مرسلین اس کے رفیق و ہمنشین ہوں گے اور سب کے سب اس سے مصافحہ کریں گے [بحوالہ: "مجمع البیان" سورہ "سبا" کا آغاز جلد ۸ ص ۳۷۵]۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ: من قرأ الحمد ین جمیعا ،سبا و فاطر ، فی الیلة لم یزل لیلة فی حفظ اللہ تعالیٰ و کلائہ ، فان قرأ ھما فی نھا رہ لم یصبہ فی نھا رہ مکرو ہ، واعطی من خیرالدنیا و خیرالاخرة مالم یخطرعلی قلبہ ولم یبلغ مناہ ۔ جو شخص ان دو سورتوں کو کہ جن کی الحمد کے ساتھ ابتداء ہوتی ہے، (سورہ سبا اور فاطر) کو کسی رات میں پڑھے گا تو وہ ساری رات خدا کی حفاظت و نگرانی میں رہے گا اور اگر ان دونوں کو دن میں پڑھے گا تو (اس دن) کوئی مکروہ اور ناپسندیدہ بات اسے پیش نہیں آئے گی اور اسے اس قدر خیر دنیا و آخرت عطا کیا جائے گا کہ اس کے دل میں کبھی اس کا گمان بھی نہ گزرا ہو گا اور نہ اس نے اس کے بارے میں کبھی سوچا ہو گا اور نہ آرزو کی ہو گی [بحوالہ: "مجمع البیان" سورہ "سبا" کا آغاز جلد ۸ ص ۳۷۵]۔ جیسا کہ ہم نے ہر سورہ کے آغاز میں اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ مسلمہ طور پر یہ عظیم ثواب ان لوگوں کو نہیں ملے گا کہ جو صرف ان کو زبان سے پڑھنے ہی کو کافی سمجھیں گے، بلکہ یہ پڑھنا غور و فکر کرنے کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہونا چاہیئے کہ جو انسان کو عمل کرنے پر آمادہ و تیار کرے۔ مثلا جو شخص اس سورہ کو پڑھتا ہے وہ اس نکتہ سے باخبر ہو جاتا ہے کہ خدا کی بے حساب نعمتوں کا کفران کرنے کے نتیجہ میں قومِ سبا کی زندگی ایسی تباہ و برباد ہوئی کہ وہ سب کے لیے عبرت بن گئے اور ان کا انجام دنیا والوں کے لیے ایک ضرب المثل بن گیا، اس قسم کے انسان نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ایسا شکر کہ جو عملی پہلو لیے ہوئے ہو۔ مشغول ہو جاتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے اس کی حفظ و امان میں رہیں گے۔ اس سلسلے میں ہم سورہ نور کی ابتداء میں زیادہ تفصیل سے بحث کر چکے ہیں۔

1
34:1
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
حمد و (ستائش) اس خدا کے لئے مخصوص ہے کہ جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور آخرت میں بھی وہی حمد کے لائق ہے اور وہ حکیم اور ہر چیز سے باخبر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 2 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
34:2
يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۚ وَهُوَ ٱلرَّحِيمُ ٱلۡغَفُورُ
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے، اور جو کچھ اس سے باہر نکلتا ہے۔ (اس کا علم بھی رکھتا ہے) اور (اسی طرح) جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں اوپر جاتا ہے (سب سے باخبر ہے) اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے۔

وہی ہر چیز کا مالک اور ہر چیز کا عالم ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

قرآن مجید کی پانچ سورتیں پروردگار کی حمد سے شروع ہوتی ہیں، جن میں سے تین سورتوں میں خدا کی حمد و تعریف آسمان و زمین اور دوسرے موجودات کی خلقت کی بناء پر ہے (سورہ سبا، سورہ فاطر اور سورہ انعام) اور ایک سورہ (سورہ کہف) میں یہ حمد و ثنا پیغمبر کے قلبِ پاک پر قرآن کے نزول کی بناء پر ہے۔ جبکہ سورہٴ حمد میں ایک جامع تعبیر ہے کہ جو ان تمام امور کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے: (الحمد للہ رب العالمین)۔ بہرحال سورہٴ سبا کے ابتداء میں خدا کی حمد و ثنا کے ساتھ گفتگو دنیا و آخرت میں اس کی مالکیت و حاکمیت کی بنا پر ہے فرماتا ہے: "حمد مخصوص ہے اس خدا کے لیے کہ جو آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے" (الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذی لَہُ ما فِی السَّماواتِ وَما فِی الاَرْض)۔ "اور آخرت میں بھی حمد اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے" (و لَہُ الْحَمْدُ فِی الْآخِرَة)۔ اسی طرح سے دونوں جہانوں کی حاکمیت و مالکیت اسی کے لیے ہے۔ ہر نعمت، موہبت، ہر فائدہ و برکت اور ہر موزوں و عجیب و غریب خلقت اسی کی ذات پاک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اسی بنا پر "حمد" کہ جس کی حقیقت "اچھے اور اختیاری کاموں" پر تعریف و ستائش ہے، سب کی سب اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور اگر مخلوقات میں بھی کوئی لائقِ حمد و ستائش ہے تو وہ بھی اسی کے وجود کا پَرتَو اور اس کے افعال و صفات کی ایک شعاع ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں جو بھی کسی چیز کی حمد و ستائش کرتا ہے تو یہ حمد و ستائش آخرکار اسی کی پاک ذات کی طرف لوٹ جاتی ہے اور بقولِ شاعر: بہ جہاں خرم از آنم کہ جہاں خرم از اوست عاشقم بر ہمہ عالم کہ ہمہ عالم از اوست "میں اس جہان سے اس وجہ سے خوش ہوں کیونکہ یہ جہان اسی کی وجہ سے خوش ہے، میں سارے عالم کا اس وجہ سے عاشق ہوں کیونکہ سارا عالم اس کی طرف سے ہے۔” آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "وہ حکیم اور خبیر ہے" (وَھُوَالحَکِیمُ الخَبِیر)۔ اس کی حکمت بالغہ کی بنیاد پر ہی یہ عجیب و غریب نظامِ جہان پر حکومت کر رہا ہے اور اس کے علم و آگاہی کی بنیاد پر ہی ہر چیز اپنی جگہ پر برقرار ہے اور ہر موجود کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کے اختیار میں ہے۔ اس بارے میں کہ خدا کی آخرت کے بارے میں حمد سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اگرچہ دارِ آخرت دارِ تکلیف نہیں ہے، لیکن خدا کے بندے وہاں پر اس کی عاشقانہ انداز میں حمد و ستائش کریں گے اور اس کی حمد و ستائش سے لذت حاصل کریں گے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ بہشتی تو اس کے فضل و کرم کی وجہ سے اس کی حمد کریں گے اور دوزخی اس کے عدل و انصاف کی وجہ سے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ انسان کہ جو اس دنیا میں نہیں وہ اپنے قلب و فکر پر پڑے ہوئے حجابوں کی وجہ سے غالباً اس کی خالص حمد و ثنا نہیں کرتے لیکن قیامت میں تمام حجاب ہٹ جائیں گے اور: "الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ " کے مصداق تمام عالمِ ہستی پر خدا کی مالکیت سب پر واضح و آشکار ہو جائے گی اور سب کے سب کامل خلوصِ نیّت کے ساتھ اس کی حمد و ثنا میں مشغول ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں، اس جہان میں تو یہ بات ممکن ہے کہ انسان غافل ہو جائیں اور کچھ موجودات کو ذاتِ خدا سے مستقل خیال کر لیں اور ان کی تعریف و توصیف کرنے لگیں، لیکن وہاں توسب کا اس کی پاک ذات کے ساتھ تعلق اس طرح سے واضح و آشکار ہو جائے گا جس طرح اس دنیا میں سورج کی شعاعوں کا سورج کے ساتھ رابط واضح و آشکار ہے۔ ان تمام باتوں سے قطعِ نظر قرآنِ مجید میں بھی بار ہا آیا ہے کہ جنّتی وہاں خدا کی حمد کریں گے: "وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (یونس، آیت ۱۰)۔ جنتیوں کی آخری بات یہ ہے کہ وہ کہیں گے کہ حمد و تعریف اس خدا کے لیے ہے کو جو عالمین کا پروردگار ہے۔ دوسری جگہ ہم یہ پڑھتے ہیں کہ جس وقت مومنین بہشتِ جاودانی میں وارد ہوں گے تو وہ یہ کہیں گے: "حمد و شکر ہے اس خدا کے لیے کہ جس نے ہم سے غم و اندوہ کو برطرف کیا۔” (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ) (فاطر ۳۴)۔یہ حمد و ثنا صرف انسانوں اور فرشتوں کی زبان سے ہی نہیں، بلکہ عالمِ ہستی کے تمام ذرات سے بھی اس کی حمد و تسبیح کا زمزمہ باہوش کان میں پہنچ رہا ہے، کوئی موجود بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اس کی حمد و تسبیح نہ کرتا ہو۔ بعد والی آیت، گزشتہ آیت میں خدا کی "حکیم" و "خبیر" کے ساتھ توصیف کی مناسبت سے پروردگار کے بے پایاں علم کے ایک گوشہ کی تشریح کر رہی ہے اور اس طرح کہتی ہے: "جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ اس سے باہر نکلتا ہے وہ اس سے بھی آگاہ ہے" (یَعْلَمُ ما یَلِجُ فِی الاَرْض وَما یَخْرُجُ مِنْھَا)۔ ہاں! وہ جانتا ہے بارش کے تمام قطرات اور سیلاب کی موجوں کو جو زمین کی گہرائیوں میں داخل ہوتی ہیں اور نفوذِ ناپذیر طبقہ تک پہنچتی ہیں اور وہاں مجتمع ہو جاتی ہیں اور انسانوں کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہیں۔ وہ باخبر ہے گیاہ اور سبزہ زاروں کے دانوں سے کہ جو ہوا یا حشرات الارض کی مدد سے وسیع و عریض زمین میں بکھر جاتے ہیں اور زمین کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور ایک دن سرسبز درخت یاہرے بھرے گیاہ اور سبزے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ باخبر ہے درختوں کی جڑوں سے، کہ جس وقت وہ پانی اور غذا کی تلاش میں زمین کی گہرائیوں میں چلتی ہیں۔ برقی لہروں سے، مختلف گیسوں اور ہَوا کے ذرات سے، کہ جو زمین کے اندر نفوذ کرتے ہیں، ان جانداروں سے کہ جو زمین کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور اسے زندگی بخشتے ہیں، نیز خزانوں، وفینوں اور مردہ چیزوں کے بدنوں سے، خواہ و ہ انسان ہوں یا غیر انسان، کہ جو اس زمین میں دفن ہیں، ہاں! وہ ان سب سے باخبر ہے۔ اسی طرح ان گیاہوں اور سبزوں سے کہ جو زمین سے نکلتے ہیں، ان انسانوں سے کہ جو اس سے اٹھے (پیدا ہوئے) ہیں، ان چشموں سے جو اس سے ابلتے ہیں، ان گیسوں سے جو اس سے اٹھتی ہیں، ان آتش فشاں پہاڑوں سے کہ جو اس سے بھڑکتے ہیں اور ان حشرات سے کہ جو زمین کے اندر بل رکھتے ہیں اور اس سے سر باہر نکالتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ان تمام موجودات سے، کہ جو زمین کی گہرائیوں سے باہر نکلتے ہیں، خواہ ہم ان میں سے کسی کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، وہ ان تمام پر مطلع اور سب سے آگاہ ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ ان تمام چیزوں سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں یا آسمان کی طرف اوپر جاتی ہیں (وَما یَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما یَعْرُجُ فیہا)۔ بارش کے قطروں سے، سورج کی حیات بخش شعاعوں سے، وحی اور آسمانی شریعتوں کی طاقتور موجوں سے، ان فرشتوں سے جو تبلیغِ رسالت یا دوسرے کاموں کی انجام دہی کے لیے زمین پر نازل ہوتے ہیں، ان کبریائی شعاعوں سے کہ جو فضا کے باہر سے زمین پر نازل ہوتی ہیں، ان شہابوں اور فضا میں گھومنے والے سنگریزوں سے کہ جو زمین کی طرف (آتے ہوئے فضا میں) جذب ہو جاتے ہیں، وہ ان سب سے آگاہ ہے۔ نیز بندوں کے اعمال سے کہ جو آسمان کی طرف عروج کرتے ہیں، ان فرشتوں سے کہ جو اپنی رسالت کی ادائیگی کے بعد آسمانوں کی طرف لوٹتے ہیں، ان شیاطین سے کہ جو (استراق سمع) باتیں چرانے کے لیے آسمانوں کی طرف جاتے ہیں، اونچے اونچے درختوں کی شاخوں سے جو آسمان کی طرف سر اٹھائے بڑھی چلی جا رہی ہیں، اُن بخارات سے کہ جو سمندروں سے اٹھتے ہیں اور آسمان کی بلندی پر جا کر بادل بناتے ہیں، اُس آہ و فریاد سے کہ جو کسی مظلوم کے دل سے اٹھتی ہے اور آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے، ہاں! وہ ان تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔ کیا اس کے سوا اور بھی کوئی ان امور سے آگاہ ہے؟ کیسا نوعِ بشر کے تمام دانشمند اور علماء کا علم ان معلومات کے کسی ایک گوشہ پر احاطہ رکھتا ہے؟ آخر میں مزید کہتا ہے کہ: "وہ رحیم ہے اور غفور، مہربان اور بخشنے والا" (وھو الرحیم وغفور)۔ اس مقام پر خدا کی ان دو صفات کے ساتھ توصیف، یا تو اس بناء پر ہے کہ ان امور میں سے کہ جو آسمان کی طرف اوپر چڑھتے ہیں، وہ بندوں کے اعمال اور ان کی ارواح ہیں، تو وہی ان کے اوپر اپنی رحمت و مغفرت کا سایہ ڈالنے والا ہے۔ یا اس بنا پر ہے کہ آسمانی برکات و مواہب کا نزول اس کی رحمت کا نتیجہ ہوتا ہے اور وہ اعمالِ صالح کہ جو بندوں کی طرف سے "والعمل الصالح یرفعہ" کے مطابق اوپر جاتے ہیں، اس کی مغفرت کو پا لیتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ لوگ کہ جو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں، تو رحمت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ لوگ کہ جو قصوروار اور گنہگار ہیں، اگر حد سے نہ بڑھ جائیں تو مغفرت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ اوپر والی آیت اپنے تمام پہلو ؤں کے لحاظ سے ایک وسیع و عریض معنی رکھتی ہے اور اس کو ایک ہی جہت میں محدود نہیں کرنا چاہئیے۔

3
34:3
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَأۡتِينَا ٱلسَّاعَةُۖ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأۡتِيَنَّكُمۡ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِۖ لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ مِثۡقَالُ ذَرَّةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَآ أَصۡغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرُ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
کافروں نے کہا: قیامت ہر گز ہمارے پاس نہیں آئے گی، تم کہہ دو:ہاں ! مجھے اپنے پرور دگار کی قسم وہ ضرور تمہارے پاس آئے گی وہ خدا کہ جو غیب سے آگاہ ہے، آسمانوں اور زمین میں نہ تو ایک ذرہ کے برابر کوئی چیز اس سے مخفی رہے گی، نہ اس سے کچھ چھوٹی نہ اس سے زیادہ بڑی، مگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں ثبت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
34:4
لِّيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
تا کہ وہ ان لوگوں کو کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل انجام دیئے، جزا دے، ان کے لیے بخشش اور باعزت روزی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
34:5
وَٱلَّذِينَ سَعَوۡ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٞ
وہ لوگ کہ جو ہماری آیات (کی تکذیب) کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اور انہوں نے یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہماری قدرت سے باہرہیں ان کے لیے برا اور درد ناک عذاب ہوگا۔

تفسیر: پروردگار کی قسم قیامت آکے رہے گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات اس حالت کے باوجود، کہ وہ توحید اور خدا کی صفات کا بیان کرتی تھیں، وہ مسئلہ معاد کے لیے بھی زمین کو ہموار کر رہی تھیں، کیونکہ جیسا کہ ہم دیکھیں گے معاد کی بحث کی مشکلات خدا کے لیے پایاں علم کے طریق کے سواحل نہیں ہوتیں۔ اس لیے زیرِبحث آیت میں پہلے کہتا ہے: "کافروں نے کہا: یہ جھوٹ ہے کہ کوئی قیامت ہمیں پیش آنے والی ہے، ہرگز قیامت ہمارے پاس نہیں آئے گی" (وَقالَ الَّذینَ کَفَرُوا لا تَأْتینَا السَّاعَةُ)۔ نہ صرف ہمارے، بلکہ انسانوں میں سے کسی کے لیے بھی قیامت نہیں ہے! وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ آزادی کے ساتھ جو کام ان کا دل چاہے کرتے رہیں، اور اس امید پر کہ حساب و کتاب اور عدل و انصاف تو کچھ ہو گا ہی نہیں، لہذا جو کام بھی ان سے ہو سکے کر لیں۔ لیکن چونکہ قیامت کے دلائل واضح و روشن ہیں لہذا قرآن ایک قاطع اور دو ٹوک جملہ کے ساتھ یہاں نتیجہ کی صورت میں پیغمبر سے کہتا ہے کہ: "کہہ دو کہ ہاں! میرے پروردگار کی قسم کہ قیامت تم سب کے پاس ضرور آئے گی" (قُلْ بَلیٰ وَرَبِّی لَتَأْتِیَنَّکُمْ)۔ لفظِ "رب" پر انحصار اس سبب سے ہے کیونکہ قیامت ربوبیت کے افعال میں سے ایک فعل اور ایک شان ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا نسان کا مالک و مربی تو ہو اور انہیں ارتقائی منازل میں آگے بھی بڑھائے لیکن انہیں بیچ میں ادھورا چھوڑ دے اور ان کے مرتے ہی تمام چیزیں ختم ہو جائیں اور اس کی زندگی بےمقصد اور اس کی پیدائش بیہودہ اور فضول ہو کر رہ جائے۔ سورہ تغابن کی آیہ ۷ میں بھی اسی صفت کا سہارا لیا ہے، چنانچہ فرماتا ہے: "زَعَمَ الَّذینَ کَفَرُوا اَنْ لَنْ یُبْعَثُوا قُلْ بَلی وَرَبِّی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِما عَمِلْتُمْ" (کافروں نے یہ گمان کر لیا ہے، کہ وہ ہرگز (زندہ کر کے) اٹھائے نہیں جائیں گے، تم کہہ دو: ہاں! میرے پروردگار کی قسم تم سب کے سب قیامت میں ضرور بالضرور (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے، پھر تم سب اپنے اعمال اور ان کے نتائج سے آگاہ ہو گے)۔ چونکہ معاد کی مخالفت کرنے والوں کے اعتراضات میں سے ایک یہ تھا کہ جب انسان کا بدن مٹی ہو جائے گا اور اس کے اجزائے بدن اطراف زمین میں بکھر جائیں گے، تو کون انہیں پہچان سکے گا اور کون انہیں اکٹھا کر سکے گا اور نئی زندگی کی طرف پلٹا سکے گا؟ دوسری طرف کون ایسا ہے کہ جو بندوں کے تمام پنہاں و آشکار اور اندرونی اعمال کو محفوظ رکھ سکے اور برموقع ان کا حساب کر سکے؟ لہذا اس آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے کہ: "وہ تمام پوشیدہ امور سے باخبر ہے اور نہ تو تمام آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں، ایک ذرّہ کی مقدار کے برابر بھی، اس کے بےپایاں علم کے سامنے چھپا ہوا نہیں رہے گا" (عالم الْغَیْبِ لا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَلا فِی الاَرض ) [تشریحی نوٹ: "یعزب" "عذب" کے مادہ سے اصل میں چراگاہ حاصل کرنے کے لیے گھر والوں سے دور ہونے کے معنی میں ہے، اس کے بعد ہر قسم کے غائب ہونے اور پنہاں ہونے کے معنی میں اطلاق ہوا اور اسی مناسبت سے ان مردوں یا عوتوں کو جو اپنی بیوی یا شوہر سے دور رہ گئے ہوں "عذب" یا "عذبہ" کیا جاتا ہے]۔ "اور نہ تو کوئی چیز ذرّہ سے چھوٹی اور نہ ہی اُس سے بڑی ایسی ہے، کہ جو سب کی سب کتابِ مبین میں ثبت و ضبط نہ ہو" (وَلا اَصْغَرُ مِنْ ذلِکَ وَلا اَکْبَرُ إِلاَّ فی کِتابٍ مُبین)۔ اس طرح سے نہ تو انسان کے بدن کے ذرّوں کا زمین میں بکھر جانا اور نہ ہی ان کا دوسرے موجودات میں مل جانا یہاں تک کہ ان اجزا کا تمام انسانوں کے بدن میں عذائی مادوں کی صورت میں داخل ہو جانا بھی، ان کو واپس اپنے اپنے بدن میں لوٹانے کے لیے کسی قسم کی کوئی مشکل پیدا نہیں کرے گا۔ ان کے اعمال بھی اس جہان میں باقی رہتے ہیں چاہے وہ اپنی شکل کو کتنا ہی بدل لے، وہ ان تمام سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس تعبیر کی نظیر سورہ "ق" کی آیہ ۳، ۴ میں بھی آئی ہے ارشاد ہوتا ہے: (ءَ إِذا مِتْنا وَکُنَّا تُراباً ذلِکَ رَجْعٌ بَعیدٌ ۔۔۔۔) "کیا ہم مر جائیں گے اور (خاک میں مل کر) خاک ہو جائیں گے، تو کیا ہم دوبارہ پلٹ کر آئیں گے؟ یہ بات تو بہت بعید (ناممکن) ہے لیکن انہیں جان لینا چاہیئے کہ ہمیں اس بات کا علم ہے، کہ زمین ان کے اجزاء کو کس طرح سے کم کر رہی ہے اور اپنے اندر ملاتی جا رہی ہے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ جس میں یہ تمام امور محفوظ ہیں۔” اس بارے میں کہ "کتاب مبین" سے کیا مراد ہے، بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے: کہ اس سے مراد وہی "لوحِ محفوظ" ہے لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "لوحِ محفوظ" کیا ہے؟ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ "لوحِ محفوظ" کی نزدیک ترین تفسیر جو بیان کی جا سکتی ہے وہی "پروردگار کے علم بےپایاں" کی لوح ہے۔ ہاں! اس لوح میں ہر چیز ثبت و ضبط ہے اور اس میں کسی قسم کے تغیّر اور دگرگونی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وسیع و عریض عالمِ ہستی بھی اسی لوحِ محفوظ کا انعکاس ہے۔ کیونکہ ہمارے وجود کے تمام ذارت بھی اور ہمارے تمام اقوال و اعمال بھی اس میں محفوظ رہتے ہیں، چاہے ظاہری طور پر صورت کتنی ہی بدل جائے لیکن وہ ختم ہرگز نہیں ہوتے۔ اس کے بعد دو آیات میں قیامت کے قیام کا مقصد بیان کرتا ہے، یا دوسرے لفظوں میں منکرین کے لیے موجود جہان کے بعد اس قسم کے ایک عالم کے ضروری اور لازمی ہونے کی دلیل کو بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے: "اس سے مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل انجام دیئے ہیں، انہیں جزا دے" (لِیَجْزِیَ الَّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ)۔ ہاں! "ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے" (اُولئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَریمٌ)۔ اگر مومنین کو ان کے نیک عمل کی جزا نہ ملے، تو کیا اصل عدالت کو جو خلقت کا انتہائی بنیادی اصول ہے معطل نہیں ہو جائے گی؟ کیا پروردگار کی عدالت بغیر کسی مفہوم کے برقرار رہ سکتی ہے؟ جبکہ ہم اس جہان میں بہت سے ایسے افراد کو دیکھتے ہیں کہ ہرگز اپنے نیک اعمال کی جزا اس دنیا میں نہیں پاتے، اس بناء پر کوئی ایسا جہان ضرور ہونا چاہیئے، تاکہ یہ اصل وہاں پر حقیقت بن سکے۔ "مغفرت" کو "رزقِ کریم" پر مقدم رکھنا ممکن ہے اس وجہ سے ہوتا کہ مومنوں کو زیادہ تر پریشانی ان لغزشوں کی وجہ سے ہوتی ہے جن کے ہونے کا انہیں احتمال ہوتا ہے، لہٰذا سب سے پہلے ان کی بخشش کو بیان کر کے، انہیں دلی سکون بخشتا ہے، علاوہ ازیں جب تک وہ خدا کی مغفرت کے پانی کے ساتھ (ہر قسم کے گناہ کی گندگی سے) پاک صاف نہ ہو جائیں، اس وقت تک وہ "رزقِ کریم" اور "مقامِ کریم" کے لائق نہیں ہوں گے۔ "رزقِ کریم" ہر قدر و قیمت رکھنے والی روزی کے معنی میں ہے اور اس کے مفہوم کی وسعت اس حد تک ہے کہ اس میں تمام مواہب و انعاماتِ خداوندی شامل ہیں، یہاں تک کہ وہ نعمتیں بھی کہ جنہیں نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی شخص کے وہم و گمان میں کبھی آئیں، دوسرے لفظوں میں بہشت اپنی تمام مادی و معنوی نعمتوں کے ساتھ اس لفظ میں جمع ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے "کریم" کی دو چیزوں خوب بغیر دردِ سر، کے عنوان سے تفسیر کی ہے [بحوالہ: "آلوسی" "روح البیان" زیرِبحث آیہ کے ذیل میں] لیکن نظر یہ آتا ہے کہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ چونکہ عدالت کا دوسرا حصّہ گنہگاروں اور مجرموں کوسزا دینے سے متعلق ہے اس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "وہ لوگ کہ جو ہماری آیات کی تکذیب اور ان کے ابطال و انکار کی کوشش میں لگیں ہوئے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ وہ ہماری قدرت کے احاطہ سے باہر نکل سکتے ہیں تو ان کے لیے بدترین اور دردناک ترین عذاب ہو گا" (وَالَّذینَ سَعَوْا فی آیاتِنا مُعاجِزینَ اُولئِکَ لَھُمْ عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ اَلیمٌ)۔ وہاں گفتگو "رزقِ کریم" کے بارے میں تھی اور یہاں "رجز الیم" کے بارے میں ہے۔ "رجز" (بر وزن کذب) اصل میں "اضطراب" اور "اعتدال کو برقرار رکھنے کی طاقت نہ ہونے" کے معنی میں ہے، لہذا جس وقت اونٹ بیمار و ناتوان ہو جاتا ہے اور وہ اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ چلتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے، تاکہ کچھ نہ کچھ اپنے اعتدال کو برقرار رکھ سکے تو عرب اس حالت کو "رجز" کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہر قسم کے گناہ اور بلیدگی پر اطلاق ہونے لگا۔ لفظ "رجز" (بر وزن مرض) کا اطلاق مخصوص جنگی اشعار پر بھی اسی بناء پر ہوتا ہے کہ اس کے مقطع مختصر اور ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔ بہرحال یہاں "رجز" سے مراد بدترین قسم کاعذاب ہے، جس کی لفظ "الیم" کے ذکر کے ساتھ بھی تاکید ہوئی ہے اور وہ دردناک جسمانی و روحانی عذابوں کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ بعض نے اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کی ہے کہ یہاں قرآن نے بہشتیوں کی نعمتوں کو بیان کرتے ہوئے لفظ "من" کو بیان نہیں کیا، تاکہ یہ بات ان کی وسعت کی دلیل ہو لیکن یہ لفظ "من" عذاب کے بارے میں آیا ہے تاکہ نسبتی محدودیت اور رحمت کے بیان کی نشانی ہو۔ "سعوا" "سعی" کے مادہ سے ہر قسم کی سعی و کوشش کے معنی میں آیا ہے اور یہاں پر آیاتِ حق کی تکذیب و انکار اور لوگوں کو پروردگار کے دین و آئین کی طرف جھکاؤ سے روکنے کی کوشش کرنا مراد ہے۔ "معاجزین" "معاجزہ" کے مادہ سے عاجز کرنے کے معنی میں ہے اور اس قسم کے مواقع پر ایسے لوگوں پر اطلاق ہوتا ہے کہ جو کسی کے ہاتھ سے اس طرح فرار کر جائیں کہ وہ ان پر تسلط حاصل نہ کر سکے، یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ مجرمین کی یہ توصیف اس سوچ کی بناء پر ہے کہ جو ان کے عمل سے نمایاں تھی، ان کے اعمال ایسے لوگوں سے مشابہ تھے کہ جو یہ تصور کرتے تھے کہ وہ جس قسم کا جرم کرنا چاہیں کر سکتے ہیں اور پھر وہ خدا کی قدرت کے احاطہ سے فرار کر جائیں گے۔

6
34:6
وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلۡحَقَّ وَيَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ
او روہ لوگ کہ جو علم رکھتے ہیں، وہ تو اس چیز کو، کہ جو تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوئی ہے، حق سمجھتے ہیں اور یہ کہ وہ عزیز و حمید خدا کے راستہ کی طرف ہدایت کرتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
34:7
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ يُنَبِّئُكُمۡ إِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمۡ لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍ
اور کافروں نے یہ کہا کہ کیا ہم تمہیں ایسا آدمی دکھائیں کہ جو اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جس وقت تم (مر جاؤ گے اور مٹی ہو جاؤ گے اور) بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے (تو دوبارہ) نئے سرے سے پیدا کیے جاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
34:8
أَفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةُۢۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ فِي ٱلۡعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلۡبَعِيدِ
کیا اس نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھا ہے ؟ یا اسے کسی قسم کا جنون ہے؟ (ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ لوگ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ عذاب اور بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
34:9
أَفَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِن نَّشَأۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّكُلِّ عَبۡدٖ مُّنِيبٖ
کیا انہوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین سے متعلق چیزوں پر نظر نہیں کی؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں (ایک زلزلہ سے) زمین میں دھنسا دیں، یا آسمان سے (پتھر کا) کوئی ٹکڑا ان پر گرا دیں، اس میں ہر تو بہ کرنے والے بندے کے لیے (خدا کی قدرت کی) واضح نشانی موجود ہے۔

تفسیر: علماء تیری دعوت کو حق سمجھتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں ایسے جاہل دل کے اندھوں کے بارے میں گفتگو تھی، کہ جو ان تمام دلائل کے باوجود، قطعی طور پر معاد کا انکار کرتے تھے اور آیاتِ الٰہی کو جھٹلانے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے زیرِبحث آیات میں ان علماء اور صاحبانِ فکر و نظر کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، کہ جو آیاتِ الٰہی کی تصدیق اور دوسروں کو انہیں قبول کرنے کا شوق دلاتے ہیں، فرماتا ہے: "وہ لوگ کہ جو علم رکھتے ہیں، وہ تو اس کو کہ جو تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہُوا ہے حق سمجھتے ہیں اور عزیز و حمید پروردگار کے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا جانتے ہیں" (وَیَرَی الَّذینَ اُوتُوا الْعِلْمَ الَّذی اُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ھُوَالْحَقَّ وَیَھْدی إِلی صِراطِ الْعَزیزِ الْحَمیدِ)۔ بعض مفسرین نے "الَّذینَ اُوتُوا الْعِلْمَ" کی اس آیت میں علماء اہلِ کتاب کے اس گروہ کے ساتھ تفسیر کی ہے کہ جو قرآنِ مجید کی حقانیت کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں سرِتسلیم خم کر دیتے ہیں اور اس کے حق ہونے کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اس آیت کے مصادیق میں سے ایک مصداق اہلِ کتاب بھی ہوں، لیکن صرف انہیں کے لیے محدود کر دینے پر کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ "یری" کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے (وہ دیکھتے ہیں) جو فعلِ مضارع ہے اور "الذین اوتو االعلم" کے مفہوم کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ہر عصر و زمانہ اور ہر مکان کے تمام علماء اور صاحبانِ فکر و نظر اس میں شامل ہیں۔ اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تفسیر علی بن ابراہیم میں یہ تعبیر امیر المومنین علی علیہ السلام سے تفسیر ہوئی ہے تو حقیقت میں یہ اس کے اتم و اکمل مصداق کا بیان ہے۔ ہاں! جو بھی غیر متعصب عالم، اس کتاب کے مطالب و مضامین میں غور و فکر کرے گا، تو وہ اس کے پرمغز معارف، پختہ احکام، حکیمانہ نصیحتوں اور ہلا دینے والے مواعظ سے لے کر اس کے عبرت انگیز تاریخی واقعات اور اعجاز آمیز علمی مباحث تک (دیکھ کر) یہ جان لے گا کہ یہ سب کے سب ان آیات کی حقانیت پر گواہ ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مغربی اور مشرقی علماء اور دانشمندوں کی طرف سے اسلام اور قرآن کے بارے میں مختلف کتابیں لکھی گئی ہیں کہ جن میں اسلام کی عظمت اور اوپر والی آیت کی صداقت پر بہت ہی بلیغ واضح اور روشن اعتراضات نظر آتے ہیں۔ "ھُوَالحق" کی تعبیر ایک جامع تعبیر ہے کہ جو قرآن کے تمام مطالب و مشمولات و مضامین پر منطبق ہوتی ہے، چونکہ "حق" واقعیتِ عینی اور اس کے وجودِ خارجی کا نام ہے، یعنی قرآن کے مطالب، عالمِ ہستی اور جہانِ انسانیت کی آفرینش کے قوانین اور واقعیتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ چونکہ یہ ایسا ہے لہذا راہِ خدا کی طرف ہدایت کرتا ہے، ایسا خدا کہ جو "عزیز" بھی ہے اور "حمید" بھی یعنی توانائی اور شکست ناپذیر ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی تعریف و ستائش کے لائق ہے، نوعِ بشر کے صاحبانِ اقتدار کی طرح نہیں کہ وہ جس وقت اقتدار اور طاقت کے تحت پر بیٹھتے ہیں تو وہ دھونس، زبردستی، تجاوز، ستم گری اور خودخواہی اور خود غرضی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس تعبیر کی نظیر سورہٴ ابراہیم آ یہ ۱ میں بھی ہوئی ہے، جہاں پر وہ کہتا ہے: "کِتابٌ اَنْزَلْناہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلی صِراطِ الْعَزیزِ الْحَمیدِ" "وہ کتاب ہے کہ جو ہم نے تم پر اس لیے نازل کی ہے تاکہ لوگوں کو ان کے پرودگار کے حکم سے (گمراہی کی) تاریکیوں سے (علم و ایمان کی) روشنی کی طرح خدائے عزیز و حمید کے راستہ پر نکال لے جاؤ۔” یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ جو ہستی صاحبِ قدرت بھی ہے اور لائقِ حمد و ستائش بھی، عالِم و آگاہ بھی ہے اور رحیم و مہربان بھی، صرف اس کا راستہ مطمئن ترین راستہ اور مستقیم ترین طریقہ ہے اور جو لوگ اس کے راستہ پر چلتے ہیں تو وہ خود کو سرچشمہ قدرت اور ہر قسم کے اوصافِ حمیدہ سے قریب اور نزدیک کر لیتے ہیں۔ بعد والی آیت میں دوبارہ قیامت اور معاد کے مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے اور گزشتہ بحثوں کی ایک دوسری شکل میں تکمیل کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کافروں نے کہا، کیا ہم تمہیں ایسا آدمی دکھائیں کہ جو اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جس وقت سب کے سب مٹی ہو جاؤ گے اور تمہارے بدن کے ذرّات ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے اور ہر ذرہ کسی گوشہ میں ٹھکانا بنا لے گا (یا شاید کسی حیوان یا کسی دوسرے انسان کے بدن کا جزو ہو جائے گا) تو تم دو بارہ ایک نئی خلقت و آفرینش میں پلٹ آؤ گے (وَقالَ الَّذینَ کَفَرُوا ہَلْ نَدُلُّکُمْ عَلی رَجُلٍ یُنَبِّئُکُمْ إِذا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّکُمْ لَفی خَلْقٍ جَدیدٍ)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ معاد پر ان کے انکار کے اصرار کی دو باتیں تھیں، پہلی بات یہ تھی کہ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ وہ معاد کہ جسے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیان کر رہے ہیں (معادِ جسمانی) ایک ایسا مطلب ہے کہ جس کو آسانی کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے اور جس کے بارے میں وہ عامتہ الناس کو بد ظن کر سکتے ہیں اور آسانی کے ساتھ اس کی نفی کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ تھی کہ معاد کا اعتقاد یا احتمالی طور پر اسے قبول کر لینا، بہرحال انسان میں مسئولیت اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے حق کی سوچ اور جستجو کے لیے آمادہ کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مطلب تھا کہ جو کفر کے سرغنّوں کے لیے سخت خطرناک شمار ہوتا تھا، لہذا انہیں اس بات پر اصرار تھا کہ جس طرح بھی ہو سکے معاد کی فکر اور اعمال کے بدلے میں جزا یا سزا کا خیال لوگوں کے دماغ سے باہر نکال دیں۔ وہ کہتے تھے کہ، کیا یہ بات ممکن ہے کہ یہ بوسیدہ ہڈیاں، یہ بکھری ہوئی مٹی کہ جس کے ذرات کو تیز ہواؤں کے جھکڑ ہر طرف لے جاتے ہیں، ایک دن جمع ہو کر اسے زندگی کا لباس پہنا دیں گے؟ اور یا یہ کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم "رجل" کے ساتھ تعبیر کرتے تھے، وہ بھی نکرہ کی صورت میں، تو یہ تحقیر کی بناء پر تھا۔ لیکن انہوں نے اس حقیقت کو بھلا دیا تھا کہ ہم ابتداء میں بھی تو پراکندہ اجزاء ہی تھے، ہمارے بدن میں موجود پانی کا ہر قطرہ کسی سمندر یا چشمہ کے کسی گوشہ میں تھا اور ہمارے جسم کے آبی اور معدنی مادہ کا ہر ذرّہ زمین کے کسی کونے میں پڑا ہوا تھا، تو جس طرح ابتداء میں خدا نے انہیں جمع کیا تھا، اسی طرح آخر میں بھی وہ اس امر پر قدرت رکھتا ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہ اسی بات کو اس کے کہنے والے کی دروغ گوئی یا جنون کی دلیل قرار دیتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے: "کیا اس نے خدا پر جھوٹا بہتان باندھا ہے، یا اسے کسی قسم کا جنون ہے" (اَفْتَری عَلَی اللہِ کَذِباً اَمْ بِہِ جِنَّةٌ)۔ ورنہ ایک سچے اور عقلمند انسان کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قسم کی بات کرے؟! لیکن قرآن قطعی اور دو ٹوک طریقہ سے انہیں اس طرح جواب دیتا ہے: "یہ بات نہیں ہے، نہ تو وہ دیوانہ ہے اور نہ ہی جھوٹا، بلکہ وہ لوگ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ عذاب اور انتہائی گمراہی میں ہیں" (بَلِ الَّذینَ لا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ فِی الْعَذابِ وَالضَّلالِ الْبَعیدِ)۔ اس سے زیادہ واضح اور آشکار گمراہی اور کیا ہو گی، کہ انسان معاد کا منکر ہو جائے، وہ معاد کہ جس کا نمونہ وہ ہر سال اپنی آنکھوں کے سامنے، عالمِ طبیعت میں اور مردہ زمینوں کے زندہ ہونے میں، دیکھتے ہیں۔ وہ معاد کہ اگر وہ نہ ہو تو اس جہان کی زندگی بغیر کسی مفہوم اور مطلب کے ہے۔ اور بالآخر وہ معاد کہ جس کا انکار کرنا، پروردگار کی قدرت، عدل و حکمت کے انکار کرنے کے برابر ہے۔ لیکن وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ وہ اسی وقت عذاب و گمراہی میں ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی میں بہت سی مشکلیں اور حادثات پیش آتے ہیں کہ جنہیں انسان آخرت پر ایمان کے بغیر برداشت نہیں کر سکتا۔ واقعاً اگر زندگی دنیا کی عمر کے انہیں چند دنوں میں محدود ہوتی تو موت کا تصور ہی ہر شخص کے لیے ایک وحشتناک عذاب بن جاتا، اسی وجہ سے منکرینِ معاد ہمیشہ ایک قسم کی جانکاہ پریشانی اور دردناک عذاب کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں، جبکہ معاد پر ایمان رکھنے والے موت کو عالمِ بقاء کے لیے ایک دریچہ اور قفسِ دنیا کے ٹوٹنے اور اس قیدخانے سے آزاد ہونے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں! معاد پر ایمان، انسان کو آرام و سکون بخشتا ہے، مشکلات کو قابلِ برداشت بناتا ہے اور ایثار و فداکاری اور جانبازی کو انسان کے لیے آسان بنا دیتا ہے۔اصولی طور پر وہ لوگ کہ جو معاد و قیامت کو دروغ گوئی یا جنون کی دلیل شمار کرتے تھے، وہ اپنے کفر و جہالت کی وجہ سے تاریک بینی کے عذاب اور دور دراز کی گمراہی میں گرفتار تھے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس عذابِ آخرت کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن آیت کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ابھی اسی وقت اسی جہان میں عذاب و گمراہی میں مبتلا ہیں۔ اس کے بعد معاد کے بارے میں ایک اور دلیل ایسی دلیل کو جو ہٹ دھرم غافلوں کو جھنجھوڑنے والی ہے۔ پیش کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے کہ: "کیا انہوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین سے متعلق چیزوں پر نظر نہیں کی"؟ (اَ فَلَمْ یَرَوْا إِلی ما بَیْنَ اَیْدیهِمْ وَما خَلْفَہُمْ مِنَ السَّماء ِ وَالاَرْض)۔ یہ باعظمت آسمان، ان تمام عجائبات کے ساتھ، ان تمام ثابت و سیار ستاروں کے ساتھ اور ان نظاموں کے ساتھ کہ جو اس پر حاکم ہیں، اسی طرح یہ زمین، اپنی تمام عجیب و غریب اور انواع و اقسام کے زندہ موجودات و برکات اور اس کے مواہب کے ساتھ، آفریدگار کی قدرت کی واضح ترین بولتی ہوئی دلیلیں ہیں۔ وہ ہستی کو جو ان تمام امور پر قدرت رکھتی ہے، کیا وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ عالمِ حیات کی طرف لوٹانے سے عاجز ہے؟! یہ وہی "برہانِ قدرت" ہے کہ جس کے ساتھ قرآن کی دوسری آیات میں منکرینِ معاد کے مقابلہ میں استدلال ہوا ہے، منجملہ اُن کے سورہ یسٰین کے آخر آیہ ۸۲ میں اور سورہ اسرار ء آ یہ ۹۹ اور سورہ ق کی آیہ ۶، ۷ میں بھی استدلال ہوا ہے۔ ضمنی طور پر جملہ، ان متعصب دل کے اندھوں کی تہدید کے لیے، کہ جو اس بات پر مصر ہیں کہ تمام حقائق سے آنکھیں بند کر لیں، ایک مقدمہ اور تمہید ہے، لہذا اس کے بعد فرماتا ہے کہ: "اگر ہم چاہیں تو زمین کو یہ حکم دیں کہ وہ ان کے جسم کو نگل لے" ایک ایسا زلزلہ آئے کہ جس سے زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دفن ہو جائیں (إِنْ نَشَاٴْ نَخْسِفْ بِهِمُ الاَرض)۔ "اور اگر ہم چاہیں تو یہ حکم دے دیں کہ آسمانی پتھروں کے ٹکڑے ان پر برسنے لگیں" اور خود انہیں بھی اور ان کے گھر بار اور ان کی زندگی کو بھی درہم برہم کر دیں (اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ کِسَفاً مِنَ السَّماء)۔ ہاں! اس بات میں خدا کی قدرت اور ہر چیز پر اس کی توانائی کی واضح اور روشن نشانی موجود ہے، لیکن (یہ نشانی) "ہر اُس بندے کے لیے ہے کہ جو خدا کی طرف رجوع کرے اور اس میں غور و فکر کرے" (إِنَّ فی ذلِکَ لَآیَةً لِکُلِّ عَبْدٍ مُنیبٍ)۔ ہر شخص نے اپنی زندگی میں زلزلوں، زمین کے پھٹنے اور اُس میں (لوگوں کے) دھنس جانے کو دیکھا یا سنا ہو گا، علاوہ ازیں فضا سے آسمانی پتھروں (شہابوں) کے گرنے یا بجلیوں کے گرنے یا آتش فشانوں کے نتیجہ میں پہاڑ وں کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا یا سُنا ہے، ہر عقلمند انسان یہ جانتا ہے کہ ان امور کا واقع ہونا ہر لمحہ اور ہر جگہ ممکن ہے، اگر زمین آرام و سکون میں ہے اور آسمان ہمارے لیے امن و امان بنا ہوا ہے تو یہ کسی دوسری ہستی کی قدرت و فرمان کی وجہ سے ہے۔ ہم جو ہر طرف سے اس کے قبضہٴ قدرت میں ہیں، معاد کے سلسلے میں اس کی توانائی و قدرت کا کس طرح انکار کر سکتے ہیں! یا اس کی حکومت کی حدود سے کیسے فرار کر سکتے ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ باوجود اس کے کہ آسمان سر کے اوپر اور زمین پاؤں کے نیچے ہے، اوپر والی آیت میں "ما بین ایدیھم" (جو ان کے آگے ہے) "و ما خلفھم" (اور جو ان کے پیچھے ہے) سے تعبیر ہوئی ہے اور قرآن میں صرف یہی ایک ایسا موقع ہے کہ جس میں یہ تعبیر نظر آتی ہے، یہ تعبیر ممکن ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ آسمان کا منظر سورج، چاند اور ستاروں کے طلوع و غروب کے وقت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور حقِ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اس لمحہ زیادہ واضح ہوتی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انسان جب افق کی طرف رخ کیے کھڑا ہوتا ہے تو یہ منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور زمین کہ جو اہمیت میں اس کے بعد قرار پاتی ہے اس کے پیچھے کہلائے گی۔ علاوہ ازیں اگر یہ مغرور غافل اپنے آپ کو اتنی بھی اجازت نہیں دیتے کہ اپنے سر کے اوپر دیکھ لیں تو کم از کم اپنے سامنے ہی، جو کچھ افق کے قریب دیکھائی دیتا ہے، اسے کیوں نہیں دیکھتے۔ ۲۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کرّہ ارض کے اندر پگھلنے اور جلانے والے مادے موجود ہیں، کہ جو ہر وقت جوش میں ہوتے ہیں اور درحقیقت تمام انسانوں کی زندگی بالقوہ آتش فشانوں کے ایک مجموعہ پر برقرار ہے۔ بس! اللہ کا ایک چھوٹا سا فرمان ہی کافی ہے، کہ ان آتش فشانوں میں سے کوئی سا ایک آتش فشاں پھٹ پڑے اور ایک عظیم علاقے کو لرزا کے رکھ دے اور پتھر، پگھلا ہوا مواد اور جلانے والے مادے وہاں پھینک دے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر رات اور دن میں لالھوں چھوٹے بڑے سرگرداں پتھر زمین کی فضا میں گھوم رہے ہیں اور اسی میں جذب ہو جاتے ہیں، اگر وہ زمین کے گردا گرد پھیلی ہوئی فضا کے قشر سے نہ ٹکراتے، کہ جو اُن کے بھڑک کر جل جانے کا سبب بنتی تو زمین پر رہنے والوں پر ہمیشہ آسمان کی طرف سے پتھروں کی بارش ہوتی رہتی، اب بھی ان کی طاقت اور شدت اس قدر ہے کہ وہ بعض اوقات ان رکاوٹوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے زمین پر آ گرتے ہیں اور یہ خدا کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔ اس بنا ء پر اگر ہم سارے کے سارے انسان خطرے کے ان دونوں منبعوں کے درمیان خدا کے حکم سے انتہائی آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں تو کیا یہی بات اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہم اس کی عظیم قدرت کو معلوم کر کے اس کے آستانہ پر سرِ نیاز جھکائیں؟! قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آخری آیت کے آخر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان چیزوں میں خدا کی عظمت و قدرت کی واضح و روشن آیت اور نشانی موجود ہے لیکن یہ نشانی ہر "اس بندے کے لیے ہے کہ جو اس کی طرف رجوع کرے۔” یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ باغی اور سرکش لوگ کہ جنہوں نے عبودیت کا طوق اپنی گردن سے نکال دیا ہے اور اسی طرح سے وہ غافل بندے کہ جو اپنے غلط اور گناہ آلود راستے پر مسلسل طور پر چلے جا رہے ہیں اور اپنے کاموں سے توبہ کر کے خدا کی طرف رجوع نہیں کرتے، ان واضح و روشن آیات سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ کیونکہ صرف آفتاب کا موجود رہنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ (دیکھنے کے لیے) دیکھنے والی آنکھ اور آنکھوں کے سامنے سے پردوں کا ہٹانا بھی ضروری ہے۔

10
34:10
۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ
ہم نے داؤد کو اپنے فضل سے ایک عظیم نعمت بخشی (ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا) اے پہاڑو اور اے پرندو! تم اس کے ساتھ ہم آواز ہو جاؤ (اور اس کے ساتھ خدا کی تسبیح کہو) اور ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
34:11
أَنِ ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِۖ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
(اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ تم) کامل اور فراخ زرہیں بناؤ، اور حلقوں کو مناسب اندازے سے بناؤ، اور صالح اور نیک عمل بجالاؤ، یقیناً میں تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہوں۔

تفسیر: داؤد (ع) پر خدا کے عظیم انعامات

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

چونکہ گزشتہ بحث کی آخری آیت میں گفتگو "عبد منیب" اور توبہ کرنے والے بندے کے بارے میں تھی اور ہم جاتنے ہیں کہ یہ تو صرف بعض آیات ہیں (سورہ ص آیہ ۲۴) داؤد پیغمبر کے لیے جس کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان ہو گی ذکر ہوئی ہے، اس بناء پر بہتر معلوم ہوتا ہے، کہ اس عظیم پیغمبر اور ان کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلا م کے حالات کا ایک گوشہ نمونہ کے طور پر بیان کیا جائے اور گزشتہ بحث مکمل ہو جائے اور ضمنی طور پر یہ بات اُن تمام افراد کے لیے ایک تنبیہ ہو کہ جو خدا کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہیں اور جس وقت تختِ اقتدار پر بیٹھتے ہیں تو پھر وہ خدا کے بندے ہی نہیں رہتے۔ پہلی آیت میں کہتا ہے: "ہم نے داؤد کو اپنے فضل سے ایک نعمت بخشی تھی" (وَلَقَدْ آتَیْنا داوُدَ مِنَّا فَضْلاً)۔ لفظ "فضل" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، کہ جو ان تمام مواہب اور نعمتوں کو کہ جو خدا نے داؤد علیہ السلام کو عطا کی تھیں شامل ہے اور "نکرہ" کی صورت میں اس کا ذکر اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو پروردگار کی طرف سے بہت سی نعمتیں چاہے وہ معنوی پہلو رکھتی ہوں یا مادی حاصل تھیں کہ جن کو قرآنی آیات نے بیان کیا ہے۔ ایک مقام پر کہتا ہے کہ: "ہم نے اُسے اور اس کے بیٹے کو بہت سا علم دیا اور انہوں نے کہا، خدا کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں اپنے بہت سے بندوں پر فضل و برترری بخشی" " وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ" (سورہ نمل، ۱۵)۔ دوسری جگہ خصوصیت کے ساتھ حیوانات سے باتیں کرنے کا علم رکھنے پر انحصار کیا ہے اور اسے ایک عظیم نعمت کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَالْفَضْلُ الْمُبِينُ" (اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر چیز سے بہرہ مند کیا گیا ہے اور یہ ایک واضح و آشکار فضیلت ہے پروردگار کی طرف سے)۔ (نمل . ۱۶) وہ مختلف معجزات، کہ جن کے تعلق زیرِبحث آیت کے ذیل میں گفتگو ہو گی، ان فضائل کا ایک حصّہ ہے، علاوہ ازیں بہت ہی عمدہ لحن اور آواز اور عادلانہ قضاوت پر قدرت کہ جس کی طرف سورہ "ص" میں اشارہ ہوا ہے، اس فضلِ الٰہی کا ایک دوسرا حصہ شمار ہوتا ہے اور سب سے زیادہ اہم فضیلت نبوت و رسالت کی فضیلت ہے جو خدا نے داؤد علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی۔ بہرحال اس اجمالی اشارہ کے بعد اس کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور ان کے کچھ معنوی فضائل اور چند مادی فضائل اس طرح بیان کرتا ہے: "ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ تم داؤد کے ساتھ ہم آواز ہو جاؤ اور اسی طرح اے پرندو! تم بھی اس کی آواز ملاؤ اور جس وقت وہ خدا کا ذکر اور تسبیح کرے تو تم بھی زمزمہ سرائی کرو" (یا جِبالُ اَوِّبی مَعَہُ وَالطَّیْرَ)۔ لفظ "اوبی" اصل میں "تاویب" سے آواز کو گلے میں گھمانے اور پھیرنے کے معنی میں ہے، یہ مادہ کبھی توبہ کے معنی بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ اس کی حقیقت خدا کی طرف بازگشت ہے۔ اگرچہ عالم کے تمام ذرات خدا کا ذکرِ تسبیح اور حمد کرتے ہیں، خواہ کوئی داؤد ان کے ساتھ ہم صدا ہو یا نہ ہو، لیکن داؤد علیہ السلام کا امتیاز یہ تھا کہ اُن کے صدا بلند کرنے اور تسبیح کی نغمہ سرائی کے وقت ان موجودات کے اندر جو کچھ پوشیدہ تھا وہ آشکار و ظاہر ہو جاتا تھا اور اندرونی زمزمہ بیرونی نغمہ کے ساتھ تبدیل ہو جاتا تھا، جیسا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر "سنگریزہ" کی تسبیح کے بارے میں بھی روایات آئی ہیں۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "انہ خرج یقرأ الزبور و کان اذا قرأ الزبور لایبقی جبل ولا حجر و لا طا ئر الّا اجابہ!" "داؤد علیہ السلام، دشت و بیابان کی طرف نکلے اور جس وقت آپ زبور کی تلاوت کرتے تو کوئی پہاڑ اور پتھر اور پرندہ ایسا نہ تھا کہ جو اُن کے ساتھ ہم آواز نہ ہوتا ہو" [بحوالہ: کمال الدین صدوق (المیزان، جلد ۱۶ ص ۳۹۰ کے مطابق)]۔ اس معنوی فضیلت کا ذکر کرنے کے بعد ایک مادی فضیلت کا بیان شروع کرتے ہوئے کہتا ہے: "اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا" (والنّا لہ الحدید)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ خدا نے حضرت داؤد علیہ السلام کو معجزانہ طور پر لوہے کو نرم کرنے کا طریقہ سکھایا تھا، اس طرح سے کہ وہ اس سے زِرہ بنانے کے لیے مضبوط و محکم اور پتلی پتلی نازک قسم کی کڑیاں بنا سکیں، یا یہ کہا جائے کہ حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے بھی جنگوں میں دفاع کے لیے لوہے کی سلیٹوں سے استفادہ ہوتا تھا، کہ جو بھاری ہوتی تھیں اور اگر انہیں پہنا جاتا تو اتنی خشک اور بےلچک بھی ہوتی تھیں کہ جو جنگجو غازیوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہوتی تھیں، کوئی بھی شخص اس زمانہ تک لوہے کی باریک اور مضبوط کڑیوں سے زِرہ کی مانند کوئی ایسی چیز نہ بنا سکا تھا کہ جو لباس کی مانند آسانی کے ساتھ بدن پر آ سکے اور بدن کی حرکات کے ساتھ نرم اور رواں رہے۔ لیکن آیت کا ظاہر یہ ہے کہ لوہے کا حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں نرم ہونا، خدا کے حکم سے اور معجزانہ صورت میں انجام پذیر ہوتا تھا۔ اس بات میں کیا چیز مانع ہے کہ وہی ذات کہ جو بھٹی کو لوہا نرم کرنے کی خاصیت بخشتی ہے، اسی خاصیت کو ایک دوسری شکل میں داؤد علیہ السلام کے پنجوں میں قرار دے دے، بعض اسلامی روایات میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۳، ص ۳۴۳ و تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۳۱۵]۔ "نعم العبد انت الا انک تأ کل من بیت المال فبکی داؤد اربعین صباحا ً فالان اللہ لہ الحدید وکان یعمل کل یوم درعا فاستغنی عن بیت المال۔” "تم ایک اچھے آدمی ہو، مگر تم بیت المال سے اپنی روزی حاصل کرتے ہو، داؤد علیہ السلام چالیس دن تک روتے رہے (اور خدا سے اس کے حل کی درخواست کی) تو خدا نے لوہے کو ان کے لیے نرم کر دیا اور ہر روز ایک زِرہ بنا لیتے تھے اور اس طرح سے وہ بیت المال سے بےنیاز ہو گئے" [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ یہ ٹھیک ہے کہ بیت المال ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ جو معاشرے کی بغیر عوض کے خدمت کرتے ہیں اور ایسے اہم بوجھ اٹھاتے ہیں کہ جو پسماندہ ہوں، لیکن یہ بات زیادہ بہتر ہے کہ انسان اس خدمت کو بھی انجام دے اور اپنے ہاتھ کی کمائی سے توانائی کی صورت میں گذر اوقات کرے اور داؤد علیہ السلام یہ چاہتے تھے کہ وہ اسی قسم کے ممتاز بندے بنیں۔ بہرحال داؤد علیہ السلام توانائی کے ذریعہ کہ جو خدا نے انہیں دی تھی، بہترین طریق یعنی جہاد کا وسیلہ بنانے سے ایسا وسیلہ جو دشمن سے حفاظت کرے استفادہ کرتے تھے اور اس سے زندگی کے عام وسائل میں ہرگز فائدہ نہ اٹھایا اور عجب یہ کہ اس کی آمدنی سے بعض روایات کے مطابق اپنی سادہ زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ کچھ نہ کچھ حاجت مندوں پر بھی خرچ کیا کرتے تھے [بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ۹، صفحہ ۱۹۲] ان تمام باتوں کے علاوہ اس کام کا ایک فائدہ نہ تھا کہ وہ ان کا ایک بولتا ہوا معجزہ شمار ہوتا تھا۔ بعض مفسرین نے اس طرح نقل کیا ہے کہ "لقمان" داؤد علیہ السلام کے پاس اس وقت پہنچے، جبکہ وہ پہلی زِرہ بنا رہے تھے، وہ لوہے کو بٹ بٹ کر کڑیوں اور حلقوں کی صورت میں بنا رہے تھے اور انہیں ایک دوسرے کہ ساتھ آپس میں جوڑ رہے تھے۔ اس عجیب و غریب منظر کو دیکھ کر لقمان حیران رہ گئے اور وہ سوچنے لگے (کہ یہ کیا ہو رہا ہے) اُسے دیکھتے رہے، لیکن کوئی سوال نہ کیا، یہاں تک کہ داؤد علیہ السلام نے زِرہ بنا کر تیار کر لی اور کھڑے ہو کر اسے پہن لیا اور کہا کہ جنگ میں دفاع کے لیے یہ کیسا اچھا ذریعہ ہے۔ لقمان نے جو اس کا اصلی مقصد سمجھ چکے تھے، کہا کہ: الصمت حکمة وقلیل فاعلہ! "خاموشی حکمت ہے مگر بہت کم لوگ اسے انجام دیتے ہیں" [بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ بعد والی آیت داؤد علیہ السلام کے زِرہ بنانے اور اس سلسلے میں پروردگار کے بہت ہی پُرمعنی فرمان کی شرح ہے، کہتا ہے: "ہم نے اس سے کہا کہ مکمل زرہیں بناؤ اور اس کے حلقوں کو اندازے کے ساتھ اور مناسب رکھو" (اَنِ اعْمَلْ سابِغاتٍ وَقَدِّرْ فِی السَّرْدِ)۔ "سابغات" "سابغ کی جمع" کامل اور فراخ زِرہ کے معنی میں ہے اور "اسباغ نعمت" بھی نعمت کی فراخی کے معنی میں ہے۔ "سرد" اصل میں زرہ جیسی سخت چیزوں کو بُننے کے معنی میں ہے اور " قَدِّرْ فِی السَّرْدِ " کے جملہ کا مفہوم وہی زرہِ کے حلقوں میں مناسب اندازوں کا خیال رکھنا اور اس کے بُننے کی طرز ہے۔ درحقیقت خدا، داؤد علیہ السلام کو ایسا حکم دے رہا ہے کہ جو ساری دنیا جہان کے باایمان صنعت کاروں اور کاریگر وں کے لیے ایک نمونہ ہو، یہ مصنوعات میں پختہ کاری و مضبوطی اور ان کی کیفیت و کمیت میں انتہائی احتیاط برتنے کا حکم ہے تاکہ انہیں استعمال کرنے والے اچھی طرح اور راحت و سکون کے ساتھ اس سے استفادہ کر سکیں اور کامل استحکام سے فائدہ اٹھائیں۔ داؤد علیہ السلام سے کہتا ہے: زرہ کو کشادہ اور آرام دہ بناؤ، تاکہ جنگ کرنے والے اسے پہنتے وقت قیدخانہ میں ہی گرفتار نہ ہو جائے، نہ تو اس کے حلقوں کو اندازہ سے زیادہ چھوٹا اور باریک بناؤ کہ اُس میں لڑنے کی حالت ہی باقی نہ رہے اور نہ ہی زیادہ سخت اور کناروں کے بغیر کہ کبھی تلوار و خنجر و نیز و تیر کی نوک ہی اس کے اندر چلی جائے، بلکہ اس کی ہر چیز اندازے کے مطابق اور مناسب ہو۔ خلاصہ یہ کہ خدا نے اس کے اصلی "مادہ" کو بھی "النالہ الحدید" کے مطابق داؤد علیہ السلا م کے اختیار میں دے دیا اور اس کی شکل و صورت بنانے کی طرز اور زرہ بنانے کا طریقہ بھی داؤد علیہ السلام کو سکھا دیا تاکہ اس "مادہ" اور "صورت" سے ایک کامل و مکمل نتیجہ برآمد ہو۔ آیت کے آخر میں داؤد علیہ السلام اور ان کے خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "عملِ صالح بجا لاؤ" کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو میں اُسے دیکھ رہا ہوں" (وَاعْمَلُوا صالِحاً إِنِّی بِما تَعْمَلُونَ بَصیر)۔ آیت کی ابتداء میں صرف داؤد علیہ السلام مخاطب ہیں اور آخر میں وہ ان کا خاندان یا وہ اور اُن کی قوم (مخاطب) ہیں، کیونکہ یہ تمام مسائل عملِ صالح کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہیں۔ زِرہ بنانے کا مقصد آمدنی کا حصول نہیں ہے، اصل مقصد عملِ صالح ہے اور یہ چیزیں اس راہ میں ایک وسیلہ اور ذریعہ ہیں کہ جن سے داؤد علیہ السلام بھی فائدہ اٹھاتے تھے اور ان کا خاندان بھی۔ اور عمل صالح کے شئون و حالات میں سے ایک یہ ہے کہ مصنوعات میں ہر طرح سے کافی و وافی احتیاط کو ملحوظ رکھیں اور ایک مفید اور کامل پیداوار تیار کر کے دیکھائیں اور ہر طرح کی برائی اور کمی رکھنے سے پرہیز کریں۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس خطاب کے مخاطب داؤد علیہ السلام اور وہ تمام لوگ ہیں کہ جو ان کے ہاتھ سے بنی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھاتے تھے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دفاعی وسیلہ اور ذریعہ کو عملِ صالح کی راہ میں استعمال کریں، نہ کہ ظلم و جور اور گناہ کی راہ میں۔

12
34:12
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٞ وَرَوَاحُهَا شَهۡرٞۖ وَأَسَلۡنَا لَهُۥ عَيۡنَ ٱلۡقِطۡرِۖ وَمِنَ ٱلۡجِنِّ مَن يَعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَمَن يَزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ أَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ
اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا کہ وہ صبح کے وقت بھی ایک مہینہ کی راہ طے کیا کرتی، اور شام کے وقت بھی ایک مہینے کی راہ طے کرتی تھی، اور ہم نے ان کے لیے تابنے کا چشمہ جاری کر دیا تھا، اور خدا کے حکم سے جنوں کا ایک گروہ ان کی خدمت میں کام سر انجام دیا کرتا تھا، اور ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے روگردانی کرتا تھا، تو ہم اسے جلا نے والی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
34:13
يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ
جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہ ان کے لیے بناتے رہتے تھے، عبادت خانے، تصویریں (یا مورتیاں )، کھانے کے لیے بڑے بڑے حوض جیسے برتن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں (اور ہم نے ان سے کہا) اے آل داؤد! تم (ان نعمتوں کا) شکر بجا لاؤ، لیکن میرے بندوں میں سے بہت کم لوگ شکر کرنے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
34:14
فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
لیکن جب ہم نے ان کے لیے موت کا حکم جاری کر دیا، تو کسی نے بھی اس کے مرنے کی انہیں خبر نہ دی سوائے زمین پر چلنے والی (دیمک) کے کہ جو اس کے عصا کو کھا رہی تھی، (یہاں تک کہ وہ عصا ٹوٹ گیا اور سلیمان کا جسم زمین پر آگرا) جب وہ زمین پر گرے تو اس وقت جنوں نے سمجھا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔

تفسیر: سلیمان کا جاہ و جلال اور ان کی عبرت انگیز موت

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ان مواہب کی بحث کے بعد کہ جو خدا نے داؤد علیہ السلام کو دئیے تھے، ان کے بیٹھے سلیمان علیہ السلام کا ذکر شروع کیا ہے۔ داؤد علیہ السلام کے بارے میں تو دو نعمتوں کا بیان کیا تھا، لیکن ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کے بارے میں تین عظیم نعمتوں کے متعلق بحث کرتا ہے، فرماتا ہے: "ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا، جو صبح کے وقت بھی ایک ماہ کی راہ طے کرتی تھی اور عصر کے وقت بھی ایک ماہ کی راہ چلتی تھی" (وَلِسُلَیْمانَ الرِّیحَ غُدُوُّھَا شَهْرٌ وَرَواحُھا شَھْرٌ) [تشریحی نوٹ: "لسلیمان" میں جار و مجرور ایک مقدر فعل سے متعلق ہے۔ یعنی "سخرنا" کہ جو گزشتہ آیات کے قرینہ سے سمجھا جاتا ہے اور سورہ ص کی آیہ ۳۶ میں اس کی تصریح ہوئی ہے، جہاں کہتا ہے "فسخرنا لہ الریح" بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "لسلیمان" میں "لام" اختصاص کے لیے ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ یہ معجزہ اس پیغمبر کے ساتھ مخصوص تھا اور کوئی دوسرا پیغمبر ان کے ساتھ اس امر میں شریک نہیں تھا]۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ باپ کے لیے تو سخت اور حد سے زیادہ محکم جسم یعنی لوہے کو مسخر کرتا ہے اور بیٹے کے لیے بہت ہی لطیف موجود کو مسخر کیا ہے، لیکن دونوں کام اصلاحی اور معجزہ نما ہیں اور مفید ہیں۔ سخت جسم کو تو داؤد علیہ السلام کے لیے نرم کرتا ہے اور ہوا کی لطیف نرم امواج کو سلیمان علیہ السلام کے لیے فعال اور محکم۔ ہوا کی لطافت ہرگز اس مانع نہیں ہے کہ وہ اہم افعال کو انجام دے، یہ ہوا میں ہی تو ہوتی ہیں کہ جو بڑے بڑے بحری جہازوں کو سمندروں کی سطح پر چلاتی ہیں اور چکّی کے بھاری اور سنگین پتھروں کو چکر دیتی ہیں اور بڑے بڑے پیکروں کو آسمان کی بلندی پر ہوائی جہازوں کی شکل میں چلاتی ہیں۔ ہاں! خدا نے اس لطیف جسم کو اس حیران کن قدرت و طاقت کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں دے دیا تھا۔ یہ بات کہ ہوا سلیمان علیہ السلام کی دستگاہ (اس کے تخت یا فرش کو) کس طرح چلاتی تھی، ہمارے لیے واضح نہیں ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی جاتنے ہیں کہ کوئی چیز خدا کی قدر ت کے مقابلہ میں مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے، جہاں انسان اپنی ناچیز قدرت کے ساتھ غباروں (یعنی ان حفاظتی چیزوں کو کہ جن میں ہلکی گیسیں بھر دیا کرتے تھے اور وہ آسمان کی طرف پرواز کر جاتے تھے اور بعض اوقات کچھ آدمیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے) اور موجودہ زمانے میں دیوہیکل بڑے بڑے ہوائی جہاز سینکڑوں مسافروں اور زیادہ سے زیادہ وسائل اور ساز و سامان کے ساتھ آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتے ہیں، تو خدا کے لیے سلیمان علیہ السلام کی بساط کو ہوا کے ذریعہ چلانا کیسے مشکل ہو سکتا ہے؟ وہ کون سے عوامل تھے کہ جو سلیمان علیہ السلام اور ان کی بساط و مسند کو گرنے، ہوا کے دباؤ اور آسمانی حرکت سے پیدا ہونے والی دوسری مشکلات سے حفاظت کرتے تھے؟! یہ بات بھی ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن کی جزئیات ہمارے لیے واضح نہیں ہیں، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ انبیاء کی تاریخ میں اس قسم کی خارقِ عادت چیزیں بہت تھیں۔ اگرچہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نادان لوگوں یا دانا دشمنوں نے ان میں خرافات کی آمیزش کر دی ہے، جس کے باعث ان مسائل کا اصلی چہرہ دگرگوں اور بدنما ہو گیا ہے اور ہم اس سلسلہ میں صرف اتنی ہی مقدار پر کہ جتنا قرآن نے اشارہ کیا ہے، قناعت کرتے ہیں [بحوالہ: اس سلسلے میں ہم نے جلد ۷ (سورہ انبیاء کی آیہ ۸۱ کے ذیل) میں بھی بحث کی ہے]۔ "غدو" (بر وزن علو) طرفِ صبح کے معنی میں ہے "رواح" کے مقابلے میں کہ جو غروب کی طرف کو کہتے ہیں، کہ جس وقت جانور آرام کرنے کے لیے اپنی جگہ کی طرف لوٹتے ہیں، لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ زیرِبحث آیت میں "غدو" دن کے پہلے آدھے حصّے کے معنی میں ہے اور "رواح" دن کے دوسرے آدھے حصّہ کے معنی میں اور آیہ کا مفہوم یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام صبح سے ظہر تک اس راہوار مرکب پر اس زمانہ کے مسافروں کے ایک مہینہ کے سفر کی مقدار کے برابر سفر کرتے تھے اور دن کے دوسرے آدھے حصّہ میں بھی اسی مقدار میں راستہ چلتے تھے۔ اس کے بعد سلیمان علیہ السلام کے لیے خدا کی دوسری نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ جاری کیا" (وَاَسَلْنا لَهُ عَیْنَ الْقِطْرِ)۔ "اسلنا"، "سیلان" کے مادہ سے جاری کرنے کے معنی میں ہے اور "قطر" تانبے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے اس دھات کو اس کے لیے پگھلا دیا تھا اور وہ پانی کے چشمہ کی طرح بہنے لگا۔ بعض "قطر" کو دھاتوں کی مختلف اقسام کے معنی میں یا کاسنی کے معنی میں سمجھتے ہیں تو اس طرح باپ کے لیے تو لوہا نرم ہوا اور بیٹے کے لیے دھاتیں پگھلا دی گئیں (لیکن مشہور وہی پہلا معنی ہی ہے)۔ پگھلے ہوئے تانبہ کا چشمہ یا دوسری دھاتوں کو سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں کس طرح دیا گیا؟ کیا خدا نے اعجاز و الہام کے ذریعہ اس پیغمبر کو ان دھاتوں کو پگھلانے کا طریقہ انتہائی وسیع اندازوں کے ساتھ سکھایا تھا؟ یا اس بہنے والی دھات کا چشمہ، انہیں چشموں کی مانند کہ جو آتش فشاں پہاڑوں کے فعال ہونے کے موقع پر ان کے دامن سے نیچے کی طرف بہتے ہیں، اعجاز آمیز طریقہ سے ان کے اختیار میں قرار پایا؟ یا کسی اور طریقہ سے؟ یہ بات صحیح طور پر ہمارے لیے واضح نہیں ہے، ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں خدا کے الطاف میں سے ایک یہ تھا۔ آخر میں سلیمان علیہ السلام کے لیے پروردگار کی تیسری موہبت و نعمت جِنّون میں سے ایک بہت بڑے گروہ کے مسخر کیے جانے کو بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "اور خدا کے حکم سے جِنّوں کے گروہ اس کے سامنے اس کے لیے کام کیا کرتا تھا" (وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ)۔ "اور جب ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تھا تو ہم اسے جلانے والی آگ کے ساتھ سزا دیتے تھے" (وَمَنْ یَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنا نُذِقْهُ مِنْ عَذابِ السَّعیرِ)۔ "جِنّ" جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، ایک ایسا وجود ہے کہ جو حِسّ سے پوشیدہ اور عقل و قدرت کا حامل ہے اور جیسا کہ قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ واجبات و افرائضِ خداوندی کا مکلف بھی ہے۔ "جنّوں" کے بارے میں لوگوں نے بہت سے بیہودہ افسانے اور داستانیں گھڑ رکھی ہیں، لیکن اگر ہم ان خرافات کو ترک کر دیں تو ان کا اصل وجود اور مخصوص صفات جو قرآن میں جِنّوں کے لیے بیان ہوئی ہیں ایک ایسے مطلب کا حامل ہے جو علم و عقل سے قطعاً بعید نہیں ہے اور ہم انشاء اللہ سورہ جِنّ کی تفسیر میں اس موضوع کو مزید تشریح و تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔ بہرحال اوپر والی آیت کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عظیم طاقت کی تسخیر بھی پروردگار کے فرمان سے ہی تھی اور جس وقت وہ اپنے وظائف اور ذمہ داریوں سے سرتابی کرتے تھے تو انہیں سزا دی جاتی تھی۔ مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ یہاں "عذاب السعیر" سے مراد قیامت کے دن کی سزا ہے، جبکہ آیت کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مخالفت کرنے والوں کے لیے دنیا میں سزا ہے، سورہ ص کی آیات سے بھی یہ بات اچھی طرح ثابت ہے کہ خدا نے شیاطین کا ایک گروہ سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں دے رکھا تھا جو ان کے لیے اہم قسم کے تعمیراتی کام سر انجام دیا کرتے تھے اور جس وقت وہ خلاف ورزی کرتے تھے تو انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا تھا! "و الشیاطین کل بنّاء وغوّاض واخرین مقرنین فی الاصفاد" (ص آیات 37،38) یہ بات قابلِ تو جہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے ملک اور سلطنت ایسی ایک وسیع و عریض سلطنت اور ملک کے نظام کو چلانے کے لیے بہت ہی زیادہ عوامل کی ضرورت ہے لیکن سب سے زیادہ اہم وہی تین عوامل ہیں جن کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ پہلا ایک مستقل اور حاوی تیز رفتار نقل وحمل کا وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعہ رئیسِ حکومت و مملکت اپنے ملک کے تمام اطراف و جوانب سے آگاہ ہو سکے۔ دوسرا خام مال جو لوگوں کی زندگی کے ضروری آلات و اسباب بنانے اور مختلف صنعتون کے لیے کام آ سکے۔ اور آخری، کام کرنے کی فعال قوت، کہ جو اس خام مال سے کافی مقدار میں فائدہ اٹھا سکے اور انہیں حسبِ ضرورت اپنے کام میں لا سکے اور اس لحاظ سے ملک کی مختلف ضرورتوں کو پورا کر سکے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے یہ تینوں باتیں سلیمان علیہ السلام کے اختیار میں دے دی تھیں اور وہ بھی رفاہِ عامہ، عام آبادی اور امن و امان کے لیے ان سے احسن طریقے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ موضوع صرف سلیمان علیہ السلام کے زمانہ اور ان کی حکومت کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا، آج بھی اور کل بھی، یہاں بھی اور ہر جگہ، تمام ملکوں کا صحیح طور پر انتظام چلانے کے لیے ضروری ہے۔ بعد والی آیت میں جِنّوں کے اہم تولیدی کاموں کے ایک حصہ کی طرف جو وہ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے انجام دیتے تھے۔ اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "سلیمان جو کچھ بھی چاہتے تھے وہ ان کے لیے عبادت خانوں، تمثالوں، حوض کے مانند بڑے بڑے کھانوں کے برتنوں اور زمین پر ثابت (جمی ہوئی یا گڑی ہوئی) دیگوں سے تیار کر کے دیتے تھے" (يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ)۔ ان میں سے ایک حصہ تو معنوی اور عبادت کے مسائل سے مربوط تھا اور ایک حصّہ انسانوں کی جسمانی ضروریات اور ان کے عظیم لشکریوں اور کارکنوں کی جمعیت کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ "محاریب" جمع ہے "محراب" کی کہ جو لغت میں "عبادت گاہ" یا "محلات" اور "بڑی بڑی عمارتوں" کے معنی میں ہے، کہ جو عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات صدرِ مجلس یا صدرِ مسجد و معبد کے حصّہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، وہ چیز جس کو آج محراب کہتے ہیں وہ امام جماعت کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے، درحقیقت ایک نئی تعبیر اور ایک نیا معنی ہے جو اصل مادہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ بہرحال چونکہ یہ لفظ "حرب" کے مادہ سے، جنگ کے معنی میں ہے، لہذا عبادت خانوں کو "محراب" کا نام دینے کا سبب یہ سمجھا ہے کہ یہ شیطان اور ہوائے نفس کے ساتھ "محاربہ" یعنی جنگ کرنے کی جگہ ہے [بحوالہ: مفردات راغب مادہ "حرب"]۔ یا "حرب" اُس لباس کے معنی میں ہے کہ جو میدانِ جنگ میں دشمن کے بدن سے اتارا جاتا ہے، چونکہ انسان کو چاہیئے کہ وہ عبادت خانوں میں دنیوی افکار اور دل کی پراکَندگی کی پوشاک کو اپنے اوپر سے اتار دے [بحوالہ: مفردات راغب مادہ "حرب"]۔ بہرحال سلیمان علیہ السلام کے یہ فعال اور چابک دست کارندے، بڑے بڑے باشکوہ عبادت خانے، کہ جو حکومت الہٰیہ اور اس کی مذہبی سلطنت کے لائق تھے، اس کے لیے بناتے تھے تاکہ لوگ راحت و آرام کے ساتھ اپنے عبادت کے فرائض کو انجام دے سکیں۔ "تماثیل" جمع ہے "تمثال" کی جو بیل بوٹوں اور تصویر کے معنی میں آیا ہے اور مجسمہ کے معنی میں بھی اس بارے میں مجسمے یا نقوش، کون سے موجودات کی صورتیں تھیں اور سلیمان علیہ السلام نے ان کی تیاری کا حکم کیوں دیا تھا، مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ زیب و زینت اور سجاوٹ کا پہلو رکھتے ہوں، جیسا کہ ہماری اہم قدیمی بلکہ جدید عمارتوں میں بھی نظر آتا ہے۔ یا یہ ان عمارتوں کا رعب اور دبدبہ بڑھانے کے لیے ہو، کیونکہ کچھ حیوانات مثلاً شیر کی تصویر بہت سے لوگوں کے افکار میں رعب و دبدبہ پیدا کرنے والی ہے۔ کیا سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں ذی روح موجودات کا مجسمہ بنانا جائز تھا، جبکہ یہ اسلام میں ممنوع ہے؟ یا جو مجسمے وہ سلیمان علیہ السلام کے لیے بنانتے تھے، غیر ذی روح کی جنس سے تھے مثلاً درختوں، پہاڑوں، سورج، چاند اور ستاروں کی تصویریں۔ یا اُن کے لیے صرف دیواروں پر نقش و نگار کیا کرتے تھے جیسا کہ قدیمی تاریخی آثار میں اکثر گُلکاریوں کی صورت میں نظر آتی ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ نقش و نگار چاہے جیسے ہوں مجسمہ کے برخلاف حرام نہیں ہیں۔ یہ سب احتمالات ہیں، چونکہ اسلام میں مجسمہ سازی کو حرام قرار دیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ بت پرستی کے مسئلہ کے ساتھ شدید مبارزہ کرنے اور اس کی بیخ کنی کی خاطر ہو اور سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں اس بات کی اتنی ضرورت نہ ہو اور یہ حکم ان کی شریعت نہ ہو۔ لیکن ایک روایت میں جو امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے یہ بیان کیا گیا ہے: "و اللہ ماھی تماثیل الرجل والنساء و لکنھا الشجر و شبھہ" خدا کی قسم سلیمان (ع) کے حکم سے بنائی جانے والی تمثال مردوں اور عوتوں کے مجسمے نہ تھے، بلکہ درخت وغیرہ کی تصویریں تھیں [بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲، ابواب مایکتسب بہ حدیث!]۔ "جفان" جمع "جفنہ" (بر وزن وزنہ) کھانا کھانے کے برتنوں کے معنی میں ہے اور "جواب" جمع "جابیہ" کی، پانی کے حوض کے معنی میں ہے اور اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے لیے بہت بڑے بڑے برتن، کہ جو حوض کی طرح ہوتے تھے تیار کیا کرتے تھے، تاکہ ایک کثیر گروہ ان کے گرد بیٹھ کر کھانا کھا سکیں اور اگر ہم نے اس بات کو بھلا نہ دیا ہو تو تھوڑے ہی سے پہلے زمانہ کی بات ہے ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر بڑے بڑے (غذا کے) مجموعوں سے اکٹھے مل کر کھایا کرتے تھے اور حقیقت میں ان کا دسترخوان وہی بڑا برتن ہوا کرتا تھا اور موجودہ زمانہ کی طرح ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ مستقل طور پر برتنوں کا رواج نہیں تھا۔ "قدور" جمع "قدر" (بر وزن قشر) اُس برتن کے معنی میں ہے کہ جس میں کھانا پکایا جاتا ہے (دیگ) اور "راسیات" جمع "راسیہ" کی ہے، جو ایک ہی جگہ پر گڑی ہوئی یا ثابت وجمی ہوئی کے معنی میں ہے اور یہاں وہ دیگیں مراد ہیں کہ جنہیں ان کے بڑے ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاتا تھا۔ آیت کے آخر میں ان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد داؤد علیہ السلام کی اولاد سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے آلِ داؤد! شکرگزاری کرو" (اِعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُکْراً)۔ "لیکن میرے بندوں میں سے بہت ہی تھوڑے لوگ شکر کرنے والے ہیں" (و قلیل من عبادی الشکور)۔ یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ اگر شکرگزاری سے مراد صرف زبان کے ساتھ شکر، شکر کہنا ہو تو پھر تو کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر عمل کرنے والے کم ہوں، بلکہ اس سے مراد "عملی طور پر شکر" ادا کرنا ہے، یعنی نعمتوں کو انہیں مقاصد میں استعمال کرنا جن کے لیے وہ پیدا کی گئیں اور عطا کی گئیں ہیں اور یہ بات مسلّم ہے کہ وہ لوگ کہ جو خدا کی نعمتوں کو عام طور پر ان کی اپنی جگہ پر استعمال کریں بہت ہی تھوڑے ہیں۔ بعض بزرگ شکر کے لیے تین مراحل کے قائل ہوئے ہیں: اوّل: دل کے ساتھ شکر کرنا یعنی نعمت کا تصور کرنا اور اس پر راضی ہونا اور خوشی کا اظہار کرنا۔ دوسرا: زبان کے ساتھ شکر کرنا یعنی نعمت دینے والے کی حمد و ثنا بیان کرنا۔ تیسرا: تمام اعضاء و جوارح کے ساتھ شکر کرنا اور وہ اعمال کو اس نعمت کے ساتھ ہم آہنگ بنانا ہے۔ "شکور" مبالغہ کا صیغہ ہے اور بہت زیادہ شکر ادا کرنے کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ دل، زبان اور اعضاء و جوارح کے ساتھ متواتر و مسلسل شکر کو دہراتے رہنا ہے۔ البتہ بعض اوقات یہ صفت خدا کے لیے بھی لائی گئی ہے، جیسا کہ سورہ تغابن کی آیہ ۱۷ میں بیان ہوا ہے: "و ا للہ شکور حلیم" خدا کی شکرگزاری سے مراد یہ ہے کہ بندے جتنا اس کی اطاعت کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں اتنا ہی وہ انہیں اپنے الطاف و انعامات سے نوازتا ہے اور ان کی قدردانی کرتے ہوئے انہیں اپنے فضل و کرم سے اس سے کہیں زیادہ عطا فرماتا ہے کہ جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ تعبیر کہ میرے بندوں میں سے کم لوگ شکرگزار ہیں، ممکن ہے کہ یہ اس گروہ کے مقام کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ہو کہ جو ایک نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں، یا مراد یہ ہو کہ تم بھی کوشش کرو اور ان کے زمرہ میں داخل ہو جاؤ تاکہ شکر کرنے والوں کی جماعت میں اضافہ ہو۔ آخری زیرِبحث آیت اس حال میں کہ وہ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بھی آخری گفتگو ہے، خدا کے اس عظیم پیغمبر کی عجیب و غریب اور عبرت انگیز موت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اور اس حقیقت کو روشن کر رہی ہے کہ اتنے باعظمت پیغمبر اور اتنی قدرت، رعب اور دبدبہ رکھنے والے حکمران نے اپنی جان کس طرح آسانی کے ساتھ جان آفرین کے سپرد کر دی، یہاں تک کہ بستر پر لیٹنے سے پہلے ہی موت کے چنگل نے ان کے گریبان کو پکڑ لیا۔ فرماتا ہے: "جب ہم نے سلیمان کے لیے موت کا حکم نافذ کر دیا تو کسی نے بھی لوگوں کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین پر رینگنے والے نے کہ جس نے اس کے عصا کو کھا لیا یہاں تک کہ اس کا عصا ٹوٹ گیا اور سلیمان کا پیکر نیچے گر پڑا " (فَلَمَّا قَضَیْنا عَلَیْهِ الْمَوْتَ ما دَلَّهُمْ عَلی مَوْتِهِ إِلاَّ دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأٴکُلُ مِنْسَأْتَهُ) [تشریحی نوٹ: "منساٴتہ" مادہ نساء (بر وزن نسخ) اور نسیی (بر وزن نصیب) سے تاخیر کے معنی میں ہے اور چونکہ عصا سے چیزوں کو پیچھے کی طرف دھکیلتے ہیں اور دُور کرتے ہیں لہذا لفظ "منساٴتہ" اس پر بولا گیا ہے (یعنی پیچھے دھکیلنے کا ذریعہ) بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ لفظ اہلِ یمن کے الفاظ میں سے تھا اور چونکہ سلیمان اس علاقے پر حکومت رکھتے تھے، لہذا قرآن نے ان کے بارے میں اسے استعمال کیا ہے۔ (مفرداتِ راغب، تفسیر قرطبی اور روح البیان کی طرف رجوع کریں)]۔ اوپر والی آیت کی تعبیر اور اسی طرح متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آن پہنچا تو وہ اس وقت کھڑے ہوئے تھے اور اپنے عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے کہ اچانک موت نے ان کو آ پکڑا اور ان کی روح بدن سے پرواز کر گئی، وہ ایک مدت تک اسی حالت میں کھڑے رہے، یہاں تک کہ دیمک نے کہ قرآن جسے "دابّة الارض" (زمین پر رینگنے والی چیز) سے تعبیر کرتا ہے، ان کے عصا کو کھا لیا، جس سے ان کا اعتدال برقرار نہ رہ سکا اور زمین پر گِر پڑے تب لوگ ان کی موت سے آگاہ ہوئے۔ لہذا اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ: "جب سلیمان علیہ السلام گرے تو اس وقت جنات سمجھے کہ اگر وہ غیب سے آگاہ ہوتے تو ذلیل کرنے والے عذاب میں گرفتار نہ رہتے" (فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْبَ ما لَبِثُوا فِی الْعَذابِ الْمُهِینِ)۔ "تبینت" کا جملہ "تبیین" کے مادہ سے عام طور پر آشکار و واضح ہونے کے معنی میں (فعلِ لازم) ہے اور بعض اوقات کسی چیز کو جاننے اور اُس سے آگاہ ہونے کے معنی میں (فعلِ متعدی کے طور پر) بھی آتا ہے اور یہاں دوسرے ہی معنی کے ساتھ مناسب ہے، یعنی اس وقت تک گروہ جِنّ سلیمان علیہ السلام کی موت سے آگاہ نہیں تھا اور انہوں نے اس سے یہ سمجھ لیا کہ وہ غیب کے اسرار سے آگاہ ہوتے تو اس مدت میں ایسے سخت کاموں کی زحمت و تکلیف میں باقی نہ رہتے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس جملہ کو پہلے معنی میں لیا ہے اور نہوں نے کہا ہے کہ آیت کا مفہوم اس طرح ہے، سلیمان علیہ السلام کے گِر جانے کے بعد جِنّوں کی حالت، انسان کے لیے واضح و آشکار ہو گئی کہ وہ غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں ہیں اور کچھ لوگ بِلا جواز ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں [تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں آیت کی ترتیب اس طرح ہوتی، تبینت فعل جن فاعل (یہاں معنی جمع کا ہے) اور ان لوکانوا ... اس کے مفعول کی جگہ پر ہے اور دوسری صورت میں بینت فعل اور "امر الجن" فاعل پھر مضاف حذف ہو گیا ہے اور مضاف الیہ اس کا قائم مقام بنا ہے، وان لوکانوا ... اس کا بیان وضاحت ہے]۔ "عذاب مھین" کی تعبیر ممکن ہے کہ اُن سنگین و سخت کاموں کی طرف اشارہ ہو کہ جو سلیمان علیہ السلام جرمانہ اور سزا کے عنوان جِنّوں کے ذمہ ڈالتے تھے ورنہ خدا کا پیغمبر کسی شخص کو بِلا وجہ کسی سختی اور عذاب وہ بھی "ذلیل و خوار کرنے والے عذاب" میں ہرگز نہیں ڈالتا۔

چند اہم نکات: ۱۔ سلیمان کی عبرت انگیز زندگی کا منظر

قرآنِ مجید موجودہ توارت کے برخلاف کہ جو سلیمان علیہ السلام کو ایک جبار، بت خانہ ساز اور عورتوں کی ہوس میں مبتلا بادشاہ کے طور پر متعارف کراتی ہے [بحوالہ: تورات کتابِ اوّل ملوک و پادشاہان] سلیمان علیہ السلام کو خدا ایک عظیم پیغمبر شمار کرتا ہے اور انہیں قدرت اور بےنظیر حکومت کے نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہے اور سلیمان علیہ السلام سے مربوط مباحث کے دوران بہت ہی عظیم درس انسانوں کو دیتا ہے، کہ ان داستانوں کے ذکر کرنے کا اصل مقصد وہی ہیں۔ ہم نے اوپر والی آیات میں پڑھا ہے کہ خدا نے اس بزرگ پیغمبر کو بہت ہی عظیم نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ بہت ہی سریع اور تیز رو سواری کہ جس کے ذریعے وہ مختصر سی مدت میں اپنے سارے ملک کی سیر کر سکتے تھے۔ مختلف صنعتوں کے لیے فراواں معدنی مواد۔ اس معدنی مواد کو استعمال کرنے کے لیے کافی فعال قوت۔ انہوں نے ان وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے عبادت خانے بنائے اور لوگوں کو عبادت کی طرف ترغیب دی، علاوہ ازیں حکومت کی فوجوں، کارکنوں اور کمزور لوگوں کے طبقات کی پذیرائی کے لیے وسیع و عریض پروگرام منظم کیا کہ جس کے برتنوں کے نمونہ سے کہ جو اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے باقی چیزوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان تمام نعمتوں کے مقابلہ میں انہیں شکرگزاری کا حکم دیا، اس مطلب پر تاکید کرتے ہوئے کہ خدا کی نعمتوں کے شکر کا حق بہت ہی کم لوگ ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ واضح و روشن کیا کہ ایک شخص اس قدرت و عظمت کے باوجود موت کے مقابلہ میں کتنا کمزور اور ناتواں تھا، کہ وہ ایک ہی لمحہ میں ناگہانی موت کے ذریعہ دنیا سے چل بسا، اس طرح سے کہ اجل نے اسے بیٹھنے یا بستر پر لیٹنے تک کی مہلت بھی نہ دی، تاکہ مغرور سرکشی کرنے والے یہ گمان نہ کر لیں کہ اگر وہ کسی مقام پر پہنچ جائیں اور قدرت و قوت حاصل کر لیں تو واقعی طور پر وہ توانا ہو گئے ہیں، وہ جس کے سامنے جِنّ اور انسان، شیطان و پری خدمت میں لگے ہوئے تھے اور زمین و آسمان جس کی جولانگاہ تھے اور جس کی حشمت اور شان و شوکت میں جو بھی شک کرے اس کی عقل و فکر پر مرغ و ماہی قہقہ لگائیں، ایک مختصر سے لمحہ میں سمندر کی موجوں پر ابھرنے والے بلبلے کی طرح محو و نابود ہو گیا۔ اور یہ بھی واضح و روشن کر دے کہ ایک ناچیز عصا اُسے ایک مدت تک کس طرح اٹھائے رہا اور "جِنّ" اُسے کھڑا ہو یا بیٹھے ہوئے دیکھتے رہنے کی وجہ سے کیسے سرگرمی کے ساتھ اپنے کاموں میں مشغول رہے؟ اور یہ بھی (دکھا دے) کہ دیمک نے انہیں کس طرح زمین پر گرایا اور ان کے ملک کے تمام رشتوں کو توڑ کے رکھ دیا۔ ہاں! ایک عصا ہی اُس وسیع و عریض ملک کی فعال قوت کو بروئےکار لائے ہوئے تھا اور چھوٹی سی دیمک نے اس کو حرکت سے روک دیا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض رویات میں آیا ہے کہ اس دن سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک خوبصورت اور خوش پوش جوان قصر کے ایک کونہ سے باہر آیا اور ان کی طرف بڑھا، سلیمان علیہ السلام نے تعجب کیا اور کہا: تو کون ہے؟ اور کس کی اجازت سے یہاں آیا ہے؟ میں نے تو یہ حکم دیا ہُوا تھا کہ آج کوئی شخص یہاں نہ آنے پائے۔ اس نے جواب دیا: میں وہ ہوں کہ نہ بادشاہوں سے ڈرتا ہوں اور نہ کسی سے رشوت لیتا ہوں سلیمان علیہ السلام نے بہت ہی تعجب کیا لیکن اُس نے مہلت نہ دی اور کہا میں موت کا فرشتہ ہوں، میں اس لیے آیاہو ں تاکہ میں آپ کی روح قبض کروں! یہ کہتے ہی فوراً ان کی روح قبض کر لی [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۳، ص ۳۴۵ علل الشراؤ مطابق نقل المیزان جلد ۶، ص ۳۹۱]۔ اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بہت سے انبیا ء کی داستانوں کی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان میں بھی افسوسناک حد تک گھڑی ہوئی روایات شامل کر دی گئی ہیں اور ان کے ساتھ بہت سی خرافات منسوب کر دی گئی ہیں کہ جنہوں نے اس عظیم پیغمبر کے چہرے کو بدل دیا ہے اور ان خرافات کا زیادہ حصّہ موجودہ تورات سے لیا گیا ہے اور اگر ہم صرف اسی پر قناعت کر لیں کہ جو قرآن نے کہا ہے، تو پھر کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

۲۔ سلیمان ( ع) کی موت ایک مدت تک کیوں پوشدہ رہی؟

یہ بات کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت ان کے کارکنانِ حکومت پر کتنی مدت تک مخفی رہی، صحیح طور پر واضح نہیں ہے، ایک سال؟ ایک ماہ؟ یا چند روز۔ مفسرین کا اس سلسلہ میں ایک نظریہ نہیں ہے۔ کیا یہ اخفا اور کتمان ان کے اصحاب اور ارکانِ سلطنت کی جانب سے صورت پذیر ہوا تھا؟ کیا انہوں نے جانتے بوجھتے اس غرض سے کہ کہیں امورِ سلطنت کا رشتہ وقتی طور پر بکھر نہ جائے، ان کی موت کو پوشیدہ رکھا؟ یا یہ کہ اصحاب و ارکانِ سلطنت بھی اس امر سے آگاہی نہیں رکھتے تھے۔ یہ بات بہت ہی بعید نظر آتی ہے کہ ایک طولانی مدت تک، یہاں تک کہ ایک دن سے زیادہ ہی سہی، ان کے اطراقبان (گرد و پیش رہنے والے اصحاب و ارکانِ سلطنت) بھی آگاہ نہ ہوں، کیونکہ یہ بات تو مسلّم ہے کہ کچھ لوگ ان کا کھانا لے جانے پر مامور تھے اور ان تک دوسری ضروریات پہنچاتے تھے، تو وہ تو اس واقعہ سے ضرور آگاہ ہو جاتے، اس بناء پر بعید نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ اس امر سے آگاہ تھے، لیکن اسے کچھ مصلحتوں کی بناء پر مخفی رکھا۔ اسی لیے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس مدت میں "آصف بن برخیا" ان کے وزیرِ خاص ملک کے امور کی تدبیر کرتے اور نظم و نسق چلاتے رہے۔ کیا سلیمان علیہ السلام کھڑے ہوئے عصا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے یا بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ عصا پر رکھے ہوئے تھے اور سر کو ہاتھوں پر ٹکائے ہوئے تھے اور اسی حالت میں ان کی روح قبض ہو گئی اور وہ ایک مدت تک اسی طرح رہے؟ اس سلسلے میں مختلف احتمالات ہیں، اگرچہ آخری احتمال زیادہ نزدیک نظر آتا ہے۔ اگر یہ دمدت طولانی تھی تو کیا غذا کا نہ کھانا اور پانی کا نہ پینا دیکھنے والوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا تھا۔ چونکہ سلیمان علیہ السلام کے تمام کام عجیب و غریب تھے لہذا وہ شاید اس مسئلہ کو بھی عجیب و غریب شمار کرتے تھے، یہاں تک کہ ایک روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آہستہ آہستہ ایک گروہ کے درمیان یہ زمزمہ پیدا ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کی پرستش کرنا چاہیئے، کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ ایک عرصہ سے ایک ہی جگہ پر ثابت و برقرار ہے؟ نہ تو وہ سوتا ہے، نہ کھانا کھاتا ہے اور نہ پانی پیتا ہے [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۳، ص ۳۴۵]۔ لیکن جس وقت عصا ٹوٹا اور سلیمان علیہ السلام نیچے گرے، تو یہ تمام رشتے ایک دوسرے سے ٹوٹ گئے اور ان کے خیالات نقش برآب ہو گئے۔ لیکن بہرحال جو کچھ بھی تھا سلیمان علیہ السلام کی موت کے اظہار میں اس تاخیر نے بہت سی چیزوں کو فاش کر دیا: ۱۔ سب پر واضح و روشن ہو گیا کہ اگر انسان قدرت و طاقت کی بلندی تک بھی پہنچ جائے تو پھر بھی حادثات کے مقابلہ میں ایک ضعیف و کمزور وجود ہے اور ایک پرکاہ کی مانند ہے کہ جو طوفان کے راستہ میں ہر طرف اُڑتا رہتا ہے۔ امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: ولَوْ أَنَّ أَحَداً يَجِدُ إِلَى البَقَاءِ سُلَّماً أَوْ إِلَى دَفْعِ الْمَوْتِ سَبِيلاً لَكَانَ ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عليه السلام الذِي سُخِّرَ لَهُ مُلْكُ الجِنِّ وَالإِنْسِ مَعَ النُّبُوَّةِ وَعَظِيمِ الزُّلْفَةِ اگر کوئی شخص اس جہان میں عالمِ بقاء کی طرف کوئی سیڑھی پاتا، یا اپنے آپ سے موت کو دُور کر سکتا، تو وہ سلیمان علیہ السلام تھے، کہ جن کے لیے نبّوت و مقامِ بلند کے ساتھ ساتھ جِنّوں اور انسانوں پر حکومت بھی فراہم تھی [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۲]۔ ۲۔ سب لوگوں پر یہ حقیقت واضح و روشن ہو گئی کہ جِنّوں کو غیب کا علم نہیں ہے اور نادان و بےخبر انسان کہ جو ان کی پرستش کرتے تھے، انتہائی خطا اور غلطی پر تھے۔ ۳۔ تمام لوگوں کے سامنے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ کس طرح کسی ملک کا نظام اور شیرازہ ایک چھوٹے سے موضوع کے ساتھ وابستگی پیدا کر لے تو اس کے وجود کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اس کے گرِ جانے سے گرِ جاتا ہے اور ان امور کے پیچھے پروردگار کی بےانتہا قدرت جلوہ گر ہے۔

۳۔ قرآن اور موجودہ توات میں سلیمان (ع) کی تصویر

اس حال میں قرآن سلیمان علیہ السلام کو ایک عظیم پیغمبر کہتا ہے، ایسا پیغمبر کہ جو علم سے سرشار اور بہت زیادہ تقویٰ شمار تھا، ایسا پیغمبر کہ جو عظیم حکومت و سلطنت کا حکمران ہونے کے باوجود ہرگز مقام و مال کا اسیر نہ ہوا اور ان لوگوں سے کہ اسے فریب دینے کے لیے بہت سے گراں بہا ہدایا لائے تھے یہ کہا کہ: " أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم" کیا تم میری مال کے ذریعہ مدد کرنا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے دیا ہے وہ اُس سے برتر ہے کہ جو تمہیں دیا ہے" نمل (۳۶)۔ ایسا پیغمبر کہ جس کی ساری آرزوئیں اور تمنائیں یہ تھیں کہ وہ پرودگار کی نعمتوں کا شکر ادا کر سکے، " قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ" اس نے کہا: پروردگارا میری مدد کر اور توفیق عطا فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کر سکوں کہ جو تُو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہیں" (نمل ۱۹)۔ ایسا رہبر کو جو یہ تک بھی اجازت نہ دیتا تھا کہ کوئی شخص جان بوجھ کر ایک چیونٹی پر بھی ظلم کرے، اسی لیے وادیٴ نمل میں ایک چیونٹی نے یہ صدا بلند کی تھی کہ: " يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ" اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں بےخبری میں روند نہ ڈالے" (نمل ۱۸)۔ وہ ایسا عبادت گزار تھا کہ اگر کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی دنیا میں مشغول ہو کر ذکرِ خدا سے غافل ہو جاتا تو فوراً اس کی تلافی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا اور کہتا کہ: "انی اجبت حب الخیر عن ذکر ربی" "افسوس کہ اچھی چیزوں سے تعلق نے مجھے ایک لمحہ کے لیے خدا کی یاد سے اپنی طرف مشغول رکھا" (ص ۳۲)۔ وہ ایسا حکیم و دانا تھا جو قدرت رکھنے کے باوجود منطق و دلیل کے سوا بات نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ ایک پرندے کے ساتھ بھی جیسا کہ ہُدہُد کے ساتھ بات کرنے میں حق و عدالت کو ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔ وہ ایسا حاکم تھا کہ جس کا معاون و وزیر بھی "علمِ کتاب" سے اتنا سرشار تھا کہ وہ ایک ہی لمحہ میں بلقیس کے تخت کو حاضر کر سکتا تھا۔ اور قرآن اس کی "اواب" (خدا کی طرف سے زیادہ سے زیادہ بازگشت کرنے والا) اور "نعم العبد" (بہت ہی اچھا بندہ) جیسے اوصاف کے ساتھ توصیف کرتا ہے۔ وہ شخص کہ خدا نے "حکومت" اور "علم" جس کے اختیار میں دے دیا تھا اور اسے اپنی ہدایت کے ساتھ نوازا تھا اور جس نے اپنی ساری عمر میں ایک لمحہ کے لیے بھی خدا کے ساتھ شرک نہ کیا تھا۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود، آئے دیکھیں! کہ موجودہ تحریف شدہ تورات اس بزرگ پیغمبر کے پاک دامن کو کس طرح شرک اور دوسری آلائشوں کے ساتھ آلودہ کر رہی ہے۔ تورات نے بتکدے بنانے، بُت پرستی کو رواج دینے، عورتوں سے بےحساب عشق رکھنے اور ان کے عشق و عاشقی کی بہت ہی بدنام کرنے والی داستانوں میں ملوث کرنے کے سلسلے میں بہت ہی بدترین نسبتیں ان کے لیے بیان کی ہیں۔ ان کو نقل کرنے سے شرم آتی ہے، ہم ایک حصّہ کو جو نسبتاً ملائم اور نرم نظر آتا ہے اس جگہ بیان کرنے پر قناعت کرتے ہیں۔ کتاب اوّل ملوک و پادشادہان میں اس طرح لکھا ہے: اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ "موآبیوں"، "عمونیوں"، "ادومیوں"، "صیدونیوں" اور "حتیوں" میں سے بہت سی بیگانہ، اجنبی اور غیر عورتوں سے محبت کیا کرتا تھا، (یہ عورتیں) ان امتوں سے تعلق رکھتی تھیں کہ جن کے بارے میں خدا کا بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ ان میں داخل نہ ہونا (اور ان سے شادی بیاہ نہ کرنا) اور وہ تم میں داخل نہ ہوں، کیونکہ وہ تمہارے دلوں کو اپنے خداؤں کی طرف مائل کر دیں گی اور سلیمان ان سے عشق و محبت کرتے ہوئے چمٹ گیا۔ اور اس کے لیے سات بیویاں (عقد دائمی والی) اور تین سو متعہ والی (موقت) تھیں اور انہوں نے سلیمان کے دل کو پھیر لیا تھا اور سلیمان کے بڑھاپے کے وقت واقع ہوا، کہ اس کی بیویوں نے ان کا دل اپنے عجیب و غریب خداؤں کی طرف موڑ لیا اور اس کا دل اس کے باپ داؤد کی طرح اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ تھا اور سلیمان "صیدونیوں" کے خدا "عشتروں" اور "عمونیوں" کے مکروہ "ملکوم" (عمونیوں کے بت) کے پیچھے لگ گیا اور سلیمان نے خدا کی نگاہ میں بدی کی اور اپنے باپ داؤد کی طرح مکمل طور پر خدا کی راہ پر نہ چلا۔ اس وقت سلیمان نے اس پہاڑ پر کہ جو "یروشلم" کے سامنے تھا، عمون کی مکروہ اولاد "کموش" کے لیے خصوصیت کے ساتھ ایک بلند مقام بنایا، پس خدا سلیمان پر غضبناک ہوا، کیونکہ اس نے اسرائیل کے خدا سے کہ جو اس کو دو مرتبہ دکھائی دیا تھا اپنا دل پھیر لیا تھا اور خدا نے سلیمان سے کہا کہ چونکہ تجھ سے یہ عمل صادر ہو گیا ہے اور میرے عہد اور ان فرائض کی جن کے بجا لانے کا میں نے تجھے حکم دیا تھا، تُو نے تعمیل نہیں کی، اس لیے میں تیری سلطنت تجھ سے چھین کر تیرے غلام کو دے دوں گا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ میں تیری زندگی میں ایسا نہ کروں گا، تیرے باپ داؤد کے سبب سے اور تیرے بیٹے کے ہاتھ سے اُسے لوں گا البتہ اس کے ہاتھ (سلیمان) سے تمام سلطنت نہیں لوں گا، بلکہ اپنے بندے داؤد کا لحاظ کرتے ہوئے کہ جسے میں نے اس لیے برگزیدہ بنایا تھا کہ اس نے میرے اوامر و فرائض کی حفاظت کی تھی۔ اس کو اس کی زندگی کے تمام دنوں میں بادشاہ رہنے کا دوں گا [بحوالہ: تورات کتابِ اول، ملوک و پادشاہان، فصل یازدہم جملہ ۱ تا ۳۴]۔ تورات کی اس ساری جھوٹی داستان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ: ۱۔ سلیمان علیہ السلام بُت پرست قبیلوں کی عورتوں سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے تھے اور خدا کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے ان میں سے بہت زیادہ تعداد میں (عورتیں) رکھی ہوئی تھیں اور وہ آہستہ آہستہ انہی کے مذہب کی طرف مائل ہو گیا تھا اور باوجود اس کے کہ "وہ ایسا شخص نہیں تھا کہ جس نے عورتوں کو نہ دیکھا" بلکہ ۷۰۰ عورتیں عقدِ دائم والی اور ۳۰۰ عورتیں متعہ والی اس کے پاس تھیں، عورتوں کے ساتھ شدید لگاؤ نے انہیں راہِ خدا سے باہر نکال دیا تھا (نعوذ باللہ)۔ ۲۔ سلیمان علیہ السلام نے کھلم کھلا بت خانہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس پہاڑ کے اوپر کہ جو اسرائیل کے مقدس مرکز "یروشلم" کے سامنے واقع تھا، ایک بت کدہ قبیلہٴ "موآبیان" کے معروف بہت "کموش" کے لیے اور قبیلہ "بنی عمون" کے خاص بت "مولک" کے لیے تعمیر کرایا اور"صیدونیوں" کے بت عشترون کے ساتھ بھی خاص لگاؤ پیدا کر لیا تھا اور یہ سب باتیں بڑھاپے کی حالت میں واقع ہوئیں۔ ۳۔ خدا نے اس انحراف اور بڑے گناہ کی وجہ سے اس کے لیے ایک سزا تجویز کی اور وہ سزا یہ تھی کہ اس کا ملک اس سے چھین لے گا، لیکن خود اس کے ہاتھ سے نہیں، بلکہ اس کے بیٹے "رحبعام" کے ہاتھ (چھینے گا) اور خود اس کو مہلت دے گا وہ جتنا چاہے، حکومت کرے اور یہ بات بھی خدا کے خاص بندے داؤد سلیمان کے باپ کی وجہ سے تھی، خدا کا وہی خاص بندہ کہ جو تورات کی تصریح کے مطابق (العیاذ باللہ) قتلِ نفس اور زنائے محصنہ اور اپنے رشید اور خدمت گزار افسر کی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کا مرتکب ہوا تھا، کیا کوئی بھی شخص اس قسم کی ناروا تہمتیں سلیمان جیسے آدمی کی مقدس ذات پر لگا سکتا ہے۔ اگر ہم سلیمان علیہ السلام کو جیسا کہ قرآن کہتا ہے پیغمبر سمجھیں، تو پھر تو بات بالکل صاف اور واضح ہے اور اگر ہم انہیں بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے سلسلے میں سے جانیں تو پھر بھی اس قسم کی تہمتیں اور نسبتیں ان کے بارے میں صادق نہیں آ سکتیں۔ کیونکہ اگر ہم اس کو پیغمبر نہ بھی سمجھیں تو پھر بھی مسلمہ طور پر وہ پیغمبر کے بعد ان کا قائم مقام، نائب و جانشین تو تھا۔ کیونکہ عہدِ قدیم کی کتب میں سے دو کتابیں ایک "مواعظِ سلیمان" یا "حکمت ہائے سلیمان" اور دوسری "سرودِ سلیمان" کے نام سے، اس بزرگ مردِ خدا کے اقوام و فرامین پر مشتمل ہیں۔ واقعاً یہودی اور عیسائی کہ جو موجودہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں، ان سوالات کا کیا جواب رکھتے ہیں؟ اور ان رسوائیوں کو کیسے قبول کرتے ہیں۔

۴۔ حقیقی شکر گزار بہت کم ہیں

اس سلسلے میں سب سے پہلے "شکر" کے لغوی بنیادی معنی کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ "راغب" مفردات میں کہتا ہے "شکر" نعمت کا تصور کرنا اور اس کا اظہار کرنا ہی ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ اصل میں "کشو" بمعنی "کشف" (اور اسی کی وزن پر) تھا، اس کے بعد مقلوب ہو کر شکر ہو گیا اور اس کے بعد مقلوب ہو کر شکر ہو گیا اور اس کا نقطہ مقابل کفر ہے کہ جو نعمت کو بھول جانا اور اس پر پردہ ڈالنا ہے۔ اس کے بعد شکر کو تین شعبوں میں قسیم کیا ہے (1): "دل کا شکر" یعنی نعمت کے بارے میں غور و فکر کرنا ( ۲): "زبان سے شکر" یعنی منعم کی حمد و ثنا کرنا۔ (۳): "تمام اعضاء کے ساتھ شکر" یعنی نعمت کے لیے قدردانی کرنا اور اس کا جواب دینا۔ اوپر والی آیات میں " اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا " کے جملہ کے ساتھ قرآن کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شکر کا تعلق زیادہ تر عمل کے ساتھ ہے اور اس کو انسان کے اعمال کے اندر دکھائی دینا چاہیئے اور شاید اسی بناء پر قرآن نے واقعی اور حقیقی شکرگزاروں کی تعداد تھوڑی شمار کی ہے۔ اوپر والی آیات کے علاوہ سورہٴ ملک کی آیہ ۲۳ میں بڑی نعمتوں مثلاً: کان آنکھ اور دل کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد مزید کہتا ہے کہ: " قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ" (تم اس کا بہت کم شکر ادا کرتے ہو) اور سورہ نمل کی آیہ 73 میں یہ بیان ہوا ہے: " وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ " (ان میں سے اکثر شکرگزاری نہیں کرتے) ایک طرف تو یہ ہے۔ اور دوسری طرف اس نکتہ پر توجہ کرتے ہوئے کہ خدا کی وہ نعمتیں کہ جنہوں نے انسان کے وجود کو سر سے پاؤں تک گھیر رکھا ہے، اس قدر زیادہ ہیں کہ جنہیں شمار ہی نہیں کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: " وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا " (ابراہیم ۳۴) یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ: تمام نعمتوں کے لیے شکر، اس کے واقعی مفہوم میں، اس طور پر کہ تمام نعمتوں کو انہیں کاموں کے لیے کہ جن کے لیے وہ پیدا ہوئی ہیں، بِلا استثناء خدا کی بندگی کی راہ میں استعمال کرے کیوں کم پایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اور بعض بزرگ مفسّرین کے قول کے مطابق "شکرِ مطلق" یہ ہے کہ انسان کسی قسم کی فراموشی کے بغیر ہمیشہ خدا کی یاد میں لگا رہے اور کسی قسم کی معصیت اور نافرمانی کیے بغیر اسی کی راہ میں قدم اٹھائے اور ہر قسم کی روگردانی کے بغیر اس کے فرمان کی اطاعت کرے اور مسلمہ طور پر یہ اوصاف بہت کم لوگوں میں جمع ہو سکتے ہیں اور یہ جو بعض نے اصولی طور پر انہیں محال خیال کیا ہے،بےبنیاد ہے اور ان مفاہیم اور عبودیت کے ان مراحل سے ان کی عدم آشنائی کی دلیل ہے [بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۴، ص ۳۸]۔ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ: پرودگار کے شکر کا حق ادا کرنا ایک لحاظ سے تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ جونہی انسان مقامِ شکر میں داخل ہوتا ہے اور یہ توفیق اسے نصیب ہوتی ہے اور شکرگزاری کے وسائل اس کے اختیار میں قرار پاتے ہیں، تو یہ خود ایک نئی نعمت ہے، کہ جو ایک نئے شکر کی محتاج ہے اور یہ موضوع تسلسل کی صورت اختیار کر لے گا اور انسان جتنا زیادہ سے زیادہ اس کے شکر کے رستے میںسعی و کوشش کرے گا، تو اور زیادہ نعمتوں کا مشمول ہوتا چلا جائے گا کہ جن کا شکر ادا کرنے کی اس میں قدرت نہیں ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، کہ شکرِ الٰہی کا حق ادا کرنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ اس کے شکر کو ادا کرنے سے عجز کا اظہار ہے حقیقتاً اس راستہ میں قرار پاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل احادیث پر توجہ کرنے سے اس بحث میں کافی روشنی پڑ سکتی ہے: ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "کیا پروردگار کے شکر کی کوئی حد ہے، کہ اگر انسان اس حد تک پہنچ جائے تو وہ شاکر محسوب ہو جائے گا؟" آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے سوال کیا: کس طرح؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: يحمد الله على كل نعمة عليه فى اهل و مال، و ان كان فيما انعم عليه فى ماله حق اداه۔ "خدا کی تمام نعمتوں پر، چاہے وہ گھر والوں سے متعلق ہوں یا مال سے تعلق رکھتی ہوں، حمد و ثنا کرے اور اس مال میں کہ جو اسے دیا گیا ہے کوئی حق ہو تو اسے ادا کرے [بحوالہ: "اصولِ کافی" جلد "باب الشکر" حدیث ۱۲ و حدیث ۱۰]۔ ایک اور حدیث میں انہی امام سے منقول ہے کہ: شكر النعمة اجتناب المحارم "نعمت کا شکر گناہ سے پرہیز کرنا ہے" [بحوالہ: "اصولِ کافی" جلد "باب الشکر" حدیث ۱۲ و حدیث ۱۰]۔ نیز ایک دوسری حدیث میں انہیں حضرت سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: فيما اوحى الله عزّوجلّ الى موسىٰ: يا موسىٰ! اشكرنى حق شكرى، فقال يا ربّ! و كيف اشكرك حقّ شكرك و ليس من شكر اشكرك به الا و انت انعمت به على؟ قال يا موسى! الان شكرتنى حين علمت ان ذلك منى! "خداوند تعالی نے موسیٰ کو وحی کی، اے موسیٰ! میرے شُکر کا حق ادا کر، موسیٰ نے عرض کیا: میں تیرے شکر کا حق کیسے بجا لاؤں جبکہ حال یہ ہے کہ میں جو شکر بھی تیرا ادا کرتا ہوں، اس کی وجہ سے تو نے ایک اور نئی نعمت عطا کی ہے، فرمایا: اے موسیٰ! اب تو نے میرا شکر ادا کر دیا ہے، چونکہ تو نے یہ جان لیا ہے کہ شکر ادا کرنے کی یہ توفیق بھی میری ہی طرف سے ہے" [بحوالہ: "اصولِ کافی" "باب الشکر" حدیث ۲۷]۔ اس نکتہ پر توجہ بھی ضروری ہے کہ اُن لوگوں کا شکر ادا کرنا اور قدردانی کرنا بھی کہ جو انسان کے لیے کسی نعمت کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں، شکرِ خدا کے شعبوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ امام سجاد علی بن الحسین علیہا السلام فرماتے ہیں: "جب قیامت کا دن ہو گا تو خدا اپنے بعض بندوں سے کہے گا، کیا تو نے فلاں شخص کا شکریہ ادا کیا ہے، تو وہ عرض کرے گا، میں تیرا شکر بجا لایا ہوں، خدا فرمائے گا، چونکہ تُو نے اس کا شکر ادا نہیں کیا ہے، لہذا تُو میرا شکر بھی بجا نہیں لایا، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ: " اشكركم للَّه اشكركم للناس" "تم میں سے خدا کی بارگاہ میں زیادہ شکرگزار وہ ہے کہ جو لوگوں کے احسانات اور زحمتوں کا زیادہ شکر اور قدردانی کرتا ہے"۔ "شکر" کی حقیقت کے بارے میں اور شکر کس طرح نعمت کی زیادتی اور کفرانِ نعمت کس طرح اس کے فنا ہونے کا سبب بنتا ہے، ہم نے دسویں جِلد سورہٴ ابراہیم کی آیہ ۷ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔

15
34:15
لَقَدۡ كَانَ لِسَبَإٖ فِي مَسۡكَنِهِمۡ ءَايَةٞۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٖ وَشِمَالٖۖ كُلُواْ مِن رِّزۡقِ رَبِّكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥۚ بَلۡدَةٞ طَيِّبَةٞ وَرَبٌّ غَفُورٞ
قوم سبا کے لیے ان کی سکونت کی جگہ میں (قدرت الٰہی کی) ایک نشانی تھی، دو (عظیم اور وسیع) باغ دائیں اور بائیں (فراواں پھلوں کے ساتھ ہم نے ان سے کہا:) اپنے پروردگارکی روزی میں سے کھاؤ اور اس کا شکر بجالاؤ (تمہارے لیے) پاک و پاکیزہ شہراور بخشنے والا (اور مہربان) پروردگار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
34:16
فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنَٰهُم بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ أُكُلٍ خَمۡطٖ وَأَثۡلٖ وَشَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ
لیکن وہ (خدا سے) روگردان ہو گئے، تو ہم نے بھی ویران کرنے والا سیلاب ان کی طرف بھیج دیا، اور ان کے دو (با برکت) باغوں کو ایسے دو (گھٹیا قسم کے) باغوں کے ساتھ بدل دیا کہ جن کے پھل کڑوے تھے کچھ جھاؤ تھے، اور تھوڑے سے بیری کے درخت (باقی رہ گئے تھے۔)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
34:17
ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِمَا كَفَرُواْۖ وَهَلۡ نُجَٰزِيٓ إِلَّا ٱلۡكَفُورَ
یہ ہم نے ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سزا دی تھی، اور کیاکفر ان نعمت کرنے والوں کے سوا ہم کسی اور کو ایسی سزا دیتے ہیں ؟

تفسیر: ایک درخشاں تمدن جو کفرانِ نعمت کی وجہ سے برباد ھو گیا

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

خدا نے داؤد و سلیمان کو جو اہم نعمتیں عطا کی تھیں اور ان دونوں پیغمبروں نے جس طرح سے ان کا شکر ادا کیا تھا، ان کا بیان کرنے کے بعد، ایک اور قوم کے بارے میں کہ جو ان کے نقطہٴ مقابل میں قرار پائی تھی گفتگو کر رہا ہے اور شاید وہ اسی زمانہ میں ہا تھوڑا سا ان کے بعد زندگی بسر کرتے تھے، وہ بھی ایک ایسی قوم تھی کہ خدا نے انہیں انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرمائیں تھیں، لیکن انہوں نے کفرانِ نعمت کی راہ اختیار کر لی، لہذا خدا نے اپنی نعمتیں اُن سے سلب کر لیں اور وہ اس طرح سے پریشان اور دربدر ہوئے کہ ان کی زندگی کا ماجرا سارے جہان کے لوگوں کے لیے ایک درسِ عبرت قرار پایا اور وہ "قومِ سبا" تھی۔ قرآنِ مجید نے ان کی عبرت انگیز سرگزشت پانچ آیتوں کے ضمن میں بیان کی ہے اور ان کی زندگی کے جزئیات و خصوصیات کے اہم حصہ کی طرف انہیں پانچ مختصر آیات میں اشارہ کیا ہے۔ پہلے کہتا ہے: "قومِ سبا کے لیے ان کے محلِ سکونت میں خدائی قدرت کی ایک نشانی تھی" (لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ)۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، خدا کی اس بزرگ آیت کا سرچشمہ یہ تھا، کہ قومِ سبا اس علاقے کے اطراف میں واقع پہاڑوں کے محلِ وقوع اور ان کے خاص حالات و شرائط اور اپنی خداداد ذہانت اور ہوشمندی سے استفادہ کرتے ہوئے ان سیلابوں کو کہ جو سوائے ویرانی و تباہی کے کوئی تنیجہ نہ دیتے تھے، ایک قوی اور مستحکم بند کے پیچھے روک دینے پر قادر ہو گئے تھے اور اس کے ذریعہ انہوں نے بہت ہی آباد ملک تعمیر کر لیا تھا۔ یہ کتنی عظیم آیت ہے کہ ایک ویران اور برباد کرنے والا عامل، عمران و آبادی کے اہم ترین عوامل میں بدل جائے۔ اس بارے میں کہ "سبا" (بر وزن سبد) کس کا نام ہے؟ اور یہ کیا چیز ہے؟ مورخین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن مشہور یہ ہے کہ "سبا" "یمن" کے اعراب کے باپ کا نام ہے اور اس روایت کے مطابق کہ جو پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہے، وہ ایک آدمی تھا اور اس کا نام "سبا" تھا۔ اور اس کے دس بیٹے تھے اور ان میں سے ہر ایک سے وہاں کے قبائل میں سے ایک قبیلہ وجود میں آیا [مجمع البیان زیرِ بحث آیہ کے ذیل میں]۔ بعض "سبا" کو سرزمینِ یمن یا اس کے کسی علاقے کا نام سمجھتے ہیں، سورہ نمل میں سلیمان و ہُدہُد کے قصّہ میں قرآنِ مجید کا ظاہر بھی یہی نشاندہی کرتا ہے کہ "سبا" کسی جگہ، علاقے یا مقام کا نام ہے، جہاں پر وہ کہتا ہے کہ (وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ) "میں سرزمینِ سبا سے تیرے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں" (نمل ۲۲)۔ جبکہ زیر بحث آیت کا ظاہر یہ ہے کہ سبا ایک قوم تھی کہ جو اس علاقے میں رہتی تھی، کیونکہ ضمیر جمع مذکر (ھم) ان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ لیکن ان دونوں تفسیروں میں کوئی منافات نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ ابتداء میں سبا کسی شخص کا نام ہو، پھر اس کے تمام بیٹے اور قوم اس نام سے موسوم ہوئے ہوں اور اس کے بعد یہ نام اس سرزمین کی طرف بھی منتقل ہو گیا ہو۔ اس کے بعد قرآن اس خدائی آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہ جو قومِ سبا کے اختیار میں قرار پائی تھی، اس طرح کہتا ہے: "دو بڑے باغ تھے دائیں اور بائیں طرف" (جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ)۔ یہ ماجرا اس طرح تھا کہ قومِ سبا اس عظیم بند کے ذریعہ جو انہوں نے اس علاقہ کے اہم پہاڑوں کے درمیان بنایا تھا، اس بات پر قادر ہو گئی تھی کہ ان فراواں سیلابوں کو جو ویرانی کا سبب بنتے تھے یا کم از کم بیابانوں میں بےکار فضول طور سے ضائع اور تلف ہو جاتے تھے اس بند کے پیچھے ذخیرہ کر لیں اور اس طرح سے وسیع و عریض زمینوں کو زیرِ کاشت لائیں۔ وہ اشکال جو فخرِ رازی نے یہاں نقل کیا ہے، کہ دو باغوں کا ہونا کوئی عجیب یا اہم چیز نہیں ہے، کہ جنہیں آیت اور نشانی کے طور پر ذکر کیا جائے، اس کے بعد اس اشکال کا جواب دیا ہے، کہ جو ہماری نظر میں اس قابل نہیں ہے کہ اسے بیان کیا جائے، کیونکہ وہ کوئی معمولی اور سادہ قسم کے باغ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک عظیم نہر کے دونوں طرف باغوں کا مسلسل اور ملا ہوا سلسلہ تھا جو اس عظیم سد کے ذریعہ سیراب ہوتے تھے اور وہ اتنے برکت والے تھے کہ تاریخوں میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ٹوکری اپنے سر پر رکھ کر پھلوں کی فصل میں درختوں کے نیچے سے عبور کرتا تھا تو اس قدر پھل اس میں گرتے تھے کہ تھوڑی سی دیر میں و ہ ٹوکری بھر جاتی تھی۔ وہی سیلاب کہ جو خرابی و بربادی کا باعث بنیں، وہ اس طرح سے آبادی کا باعث بن جائیں، کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ کیا یہ خدا کی عظیم آیت اور نشانی شمار نہیں ہوتی۔ ان تمام باتوں کے علاوہ اُس سرزمین پر حد سے زیادہ امن و امان سایہ فگن تھا کہ وہ خود بھی حق تعالیٰ کی ایک آیت شمار ہوتا تھا کہ جس کی طرف قرآن بعد میں اشارہ کرے گا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ہم نے اُن سے کہا کہ اپنے پروردگار کی اس فراواں روزی میں سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو" (كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَه)۔ "ایک پاک و پاکیزہ شہر ہے اور پروردگار بخشنے والا اور مہربان" (بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ) [تشریحی نوٹ: "بلدة" خبر ہے مبتدائے محذوف کی اور تقدیر میں اس طرح تھا "ھذہ بلدة طیبة وھذارب غفور" یہ پاکیزہ شہر ہے اور یہ بخشنے والا خدا ہے] [تشریحی نوٹ: کیا یہ خدائی پیغام ان پیغمبروں کے ذریعہ جو ان کے درمیان مبعوث ہوئے تھے، بھیجا گیا تھا۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے یا حالات و شرائط زبانِ حال سے اور ادراکِ عقلی سے اس قسم کا پیغام انہیں دیتے تھے، دونوں چیزیں ممکن ہیں]۔ اس چھوٹے سے جملے نے تمام مادی و معنوی نعمتوں کے مجموعہ کو زیبا ترین شکل میں منعکس کر دیا ہے، مادی نعمتوں کے لحاظ سے تو وہ پاک و پاکیزہ زمین رکھتے تھے کہ جو چوروں، ظالموں، آفات و بلیات، خشک سالی و قحط اور بداَمنی و وحشت جیسی طرح طرح کے مصائب سے پاک تھی، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین موذی حشرات سے بھی پاک و پاکیزہ تھی، پاک و پاکیزہ ہوائیں چلتی تھیں اور فرحت بخش نسیم رواں دواں تھی، زمین زرخیز تھی اور درخت پُر بار تھے۔ اور معنوی نعمت کے لحاظ سے خدا کی بخش و غفران ان کے شاملِ حال تھی، وہ ان کی تقصیر و کوتاہی سے صَرفِ نظر کرتا تھا اور انہیں مشمولِ عذاب اور ان کی سزمین کو بلا و مصیبت میں گرفتار نہیں کرتا تھا۔ لیکن ان ناشکرے لوگوں نے ان تمام نعمتوں کی قدردانی نہیں کی اور آزمائش کی کٹھالی سے صحیح و سالم باہر نہ آ سکے۔ انہوں نے کفرانِ نعمت اور روگردانی کی راہ اختیار کر لی لہٰذا خدا نے بھی ان کی سختی کے ساتھ گوشمالی کی۔ اسی لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "وہ خدا سے روگرداں ہو گئے" (فَأَعْرَضُوا)۔ انہوں نے خدا کی نعمتوں کی ناقدری کی، عمران و آبادی اور امن و امان کو عام سی چیز خیال کیا، حق تعالیٰ کی یاد سے غافل ہو گئے، نعمت میں مست ہو گئے، مالدار لوگ، فقراء و مساکین اور غرباء کو حقیر خیال کرتے اور خود پر ناز کرتے اور ان غریبوں کو اپنے لیے رکاوٹ خیال کرتے کہ جس کی تفصیل بعد والی آیات میں آئے گی۔ یہ وہ موقع تھا کہ عذاب کا کوڑا ان کے پیکر پر آ کر پڑا، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "ہم نے بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے والا وحشتناک سیلاب ان کے پاس بھیجا" اور ان کی آباد سرزمین ایک ویرانے میں بدل گئی (فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ)۔ "عرم" اصل میں "عرامہ" (بر وزن علامہ) ہے، خشونت و سختی، کج خلقی اور سخت گیری کے معنی میں ہے اور سیلاب کی اس سے توصیف کرنا اس کی شدت و خشونت اور ویران گری کی طرف اشارہ ہے اور سَيْلَ الْعَرِم کی تعبیر اصطلاح کے مطابق موصوف کی صفت کی طرف اضافت کے قبیل سے ہے۔ بعض نے "عرم" کو جنگلی چوہوں کے معنی میں لیا ہے، کہ جو اس سد میں سوراخ کرنے کی وجہ سے اس کی ویرانی کا سبب بنے تھے (چوہوں کا سد میں نفوذ کرنے کا مسئلہ اگرچہ قابلِ قبول ہے، اس طور سے کہ جس کی ہم بعد میں تشریح کریں گے، لیکن آیت کی تعبیر اس معنی سے چنداں مناسبت نہیں رکھتی)۔ "لسان العرب" میں مادہ "عرم" کے مختلف معنی آئے ہیں، منجملہ ان کے طاقت فرسا سیلاب، وہ رکاوٹیں جو درّوں کے درمیان پانی کو روکنے کے لیے بناتے ہیں، اسی طرح بڑے صحرائی چوہے [بحوالہ: لسان العرب، مادہ عرم]۔ لیکن سب سے زیادہ مناسب وہی پہلا معنی ہے اور تفسیر علی بن ابراہیم میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد قرآن اس سرزمین کی باقی ماندہ حالت و کیفیت کی اس طرح سے توصیف کرتا ہے: "ہم نے ان کے دو وسیع اور پُرنعمت باغوں کو دو بےقدر و قیمت کڑوے پھلوں والے اور جھاؤ کے بےمصرف درختوں اور تھوڑے سے بیری کے درختوں میں بدل دیا" وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَواتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْ‏ءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ)۔ "اکل" ہر قسم کے غذائی مادہ کے معنی میں ہے۔ "خمط" (بر وزن عمد) کڑوی گھاس کے معنی میں ہے۔ "اثل" (بر وزن اصل) جھاؤ کے درخت کے معنی میں ہے۔ اور اس طرح سے ان تمام سرسبز و شاداب درختوں کے بجائے، بہت ہی کم قدر و قیمت والے بیابانی اور جنگل قسم کے چند ایک درخت کہ شاید ان میں سے سب زیادہ اہم درخت وہی بیری کے درخت تھے، کہ وہ بھی تھوڑی سی ہی مقدار میں تھے، باقی رہ گئے تھے (اب تم اس کی اس مجمل داستان کو پڑھنے کے بعد خود ہی ان کی مفصل داستان کا اندازہ لگا لو، کہ خود ان کے اوپر اور ان کی آباد سرزمین پر کیا گزری؟)۔ ممکن ہے کہ ان تین قسم کے درختوں کا بیان کہ جو اس سرزمین میں باقی رہ گئے تھے (درختوں کے) تین مختلف گروہوں کی طرف اشارہ ہو، کہ ان درختوں میں سے ایک حصہ نقصان دہ تھا، بعض بےمصرف تھے اور بعض بہت ہی کم نفع دینے والے تھے۔ بعد میں آنے والی آیت سے نتیجہ نکالتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ: "یہ ہماری طرف سے ان کے کفرانِ نعمت کی سزا تھی" (ذلِكَ جَزَيْناهُمْ بِما كَفَرُوا). لیکن اس غرض سے کہ کہیں یہ تصور نہ کر لیا جائے کہ یہ انجام صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص تھا۔ بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے کہ جو ان ہی جیسے اعمال کے مرتکب ہوں گے، اس کی عمومیت مسلّم ہے۔ اس طرح اضافہ کرتا ہے: "کیا ہم کفرانِ نعمت کرنے والوں کے سوا کسی اور کو اس قسم کی سز ادیتے ہیں" (ذلِكَ جَزَيْناهُمْ بِما كَفَرُوا)۔ یہ تھا خلاصہ سبا کی سرگزشت کا، کہ جو بعد والی آیات میں زیادہ تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

18
34:18
وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ ٱلۡقُرَى ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا قُرٗى ظَٰهِرَةٗ وَقَدَّرۡنَا فِيهَا ٱلسَّيۡرَۖ سِيرُواْ فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ
ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان کہ جنہیں ہم نے برکت دے رکھی تھی ہم نے کچھ ایسی اور آبادیاں بھی رکھی تھیں جن میں ایسے مناسب اور نزدیک فاصلے تھے (کہ ایک سے دوسری دکھائی دیتی تھی) اور ان کے درمیان چلنے پھرنے کو آسان بنا دیا تھا (اور ہم نے ان سے کہا) کہ تم مکمل امن و امان کے ساتھ راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی ان آبادیوں کے درمیان سفر کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
34:19
فَقَالُواْ رَبَّنَا بَٰعِدۡ بَيۡنَ أَسۡفَارِنَا وَظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَحَادِيثَ وَمَزَّقۡنَٰهُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ
لیکن ان ناشکرے لوگوں نے کہا: پروردگارا! ہمارے سفر وں کے درمیان دوری ڈال دے اور (اس طرح) سے انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور ہم نے انہیں (دوسروں کے لیے) قصہ اور افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان کی جمعیت کو منتشر اور تتر بتر کر دیا اس ماجرا میں ہر صابر اور شکر کرنے والے کے لیے عبرت کی کئی اور نشانیاں ہیں۔

تفسیر: ہم نے انہیں اس طرح منتشر کیا کہ وہ دوسروں کیلئے ضرب المثل بن گئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ان آیات میں قرآن دوبارہ قومِ سبا کی داستان کی طرف لوٹتا ہے اور ان کے بارے میں مزید تشریح و تفصیل بیان کر تا ہے اور ان کی سزا اور عذاب کو بھی زیادہ شرح و بسط کے ساتھ پیش کرتا ہے، اس طرح سے کہ یہ ہر سننے والے کے لیے ایک ایسا درس ہے جو بہت اہم، سبق آموز اور تربیت کنندہ ہے۔ فرماتا ہے: "ہم نے ان کی سرزمین کو اس حد تک آباد کیا تھا کہ نہ صرف ہم نے شہروں کو غرقِ نعمت کیا ہوا تھا بلکہ ان کے اور ان کی اُن زمینوں کے درمیان کہ جنہیں ہم نے برکت دے رکھی تھی، ظاہر (ایک سے دوسرے کو دکھائی دینے والے) اور آشکار شہر اور آبادیاں قرار دیا تھا" (وَجَعَلْنا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بارَكْنا فِيها قُرىً ظاهِرَةً)۔ درحقیقت ان کے اور ان کی مبارک سرزمین کے درمیان متصل اور زنجیر کی کڑیوں کی طرح آبادیاں تھیں اور ان آبادیوں کے درمیان اتنا کم فاصلہ تھا کہ وہ ہر ایک میں سے دوسری کو دیکھتے تھے (اور یہ ہے " قُرىً ظاهِرَةً " واضح و آشکار آبادیوں کا معنی)۔ بعض مفسرین نے "قری ظاھرہ" کی دوسری طرح تفسیر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ان آبادیوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو ٹھیک راستہ کے درمیان واضح طور پر واقع تھیں اور مسافرین ان میں اچھی طرح توقف کر سکتے تھے، یا یہ کہ یہ آبادیاں بلندی کے اوپر واقع تھیں اور ہر عبور کرنے والے کو صاف طور پر دکھائی دیتی تھیں۔ باقی رہا یہ کہ مبارک زمینوں سے کونسا علاقہ مراد ہے، اکثر مفسرین نے اسے سرزمینِ شامات (شام، فلسطین اور اُردن) سے تفسیر کی ہے، کیونکہ یہ تعبیر اسی سرزمین کے لیے سورہ اسراء کی پہلی آیت اور سورہ انبیاء کی آیت ۸۱ میں آئی ہے، لیکن بعض مفسرین نے احتمال دیا ہے، کہ اس سے مراد "صنعاء" یا "مآرب" کی آبادیاں ہیں کہ یہ دونوں ہی یمن کے علاقہ میں واقع ہیں اور یہ تفسیر بعید نہیں ہے، کیونکہ "یمن" کا جو جزیرہ عرب کا جنوبی ترین نقطہ ہے "شامات" سے فاصلہ کہ جو شمالی ترین نقطہ میں واقع ہے اس قدر زیادہ ہے اور خشک اور جلے ہوئے بیابانوں سے اٹا ہوا ہے، کہ اس کے ساتھ آیت کی تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے اور تواریخ میں بھی نقل نہیں ہوا ہے بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ سرزمین ہائے مبارک سے مراد "مکّہ" کی سرزمین ہے، کہ وہ بھی بعید ہے۔ یہ بات تو آبادی کے لحاظ سے ہے، لیکن چونکہ لوگوں کی آبادی کافی نہیں ہے، بلکہ اہم اور بنیادی شرط امن و امان ہوتا ہے، لہٰذا مزید کہتا ہے: "ہم نے ان آبادیوں کے درمیان مناسب اور نزدیک نزدیک فاصلے رکھے" (تاکہ وہ آسانی اور امن و امان کے ساتھ ایک دوسرے میں آ جا سکیں) (وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْر)۔ اور ہم نے ان سے کہا: "تم ان بستیوں کے درمیان راتوں میں اور دنوں میں پورے امن و امان کے ساتھ سفر کرو اور ان آبادیوں میں چلو پھرو" (سِيرُوا فِيها لَيالِيَ وَأَيَّاماً آمِنِينَ). اس طرح یہ آبادیاں مناسب اور جچا تُلا فاصلہ رکھتی تھیں اور وحوش اور بیابانی درندوں، یا چوروں اور ڈاکوؤں کے حملہ کے لحاظ سے بھی انتہائی امن و امان میں تھیں، اس طرح سے کہ لوگ زادِ راہ، سفر خرچ اور سواری کے بغیر ہی اس صورت میں کہ نہ تو اکٹھے قافلوں میں چلنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی مسلح افراد ساتھ لینے کی کوئی احتیاج تھی۔ راستے کی بےامنی کی جہت سے یا پانی اور غذا کی کمی کی وجہ سے کسی ڈر اور خوف کے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھ سکتے تھے۔ اس بارے میں کہ "سیرو افیھا ..." (ان آبادیوں میں چلو پھرو) کا جملہ کس شخص کے ذریعہ انہیں پہنچایا گیا دو احتمال موجود ہیں، ایک تو یہ ہے کہ یہ انہیں ان کے پیغمبروں کے ذریعہ پہنچایا گیا اور دوسرا یہ کہ اس آباد سرزمین اور امن و امان والی سٹرکوں کی زبانِ حال یہی تھی۔ "لیالی" (راتوں) کو "ایام" (دنوں) پر مقدم رکھنا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو، کہ راتوں میں امن و امان کا ہونا زیادہ اہم ہے، راستے کے چوروں سے امنیت کے لحاظ سے بھی اور جنگل کے وحشی درندوں کے لحاظ سے بھی، ورنہ دن کے امن و امان کو قائم رکھنا زیادہ آسان ہے۔ لیکن یہ ناشکرے لوگ، خدا کی ان عظیم نعمتوں کے مقابلہ میں کہ جنہوں نے ان کی زندگی کو مکمل طور پر گھیر رکھا تھا، بہت سی دوسری متنعم قوموں کی طرح غرور و غفلت میں گرفتار ہو گئے، نعمت کی مستی اور کم ظرفی نے انہیں اس بات پر ابھارا کہ ناشکر ی کا راستہ اختیار کریں، حق کے راستے سے منحرف ہو جائیں اور خدا کے احکام کی طرف سے بےپروا ہو جائیں۔ ان کے مجنونانہ تقاضوں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے خدا سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کے سفروں کے درمیان فاصلہ ڈال دے، انہوں نے کہا: "پروردگارا! ہمارے سفروں کے درمیان فاصلہ ڈال دے" تاکہ بےسہارا فقیر لوگ امراء کے دوش بدوش سفر نہ کر سکیں! (فَقالُوا رَبَّنا باعِدْ بَيْنَ أَسْفارِنا) ان کی مراد یہ تھی کہ ان آباد بستیوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے اور کچھ خشک بیابان پیدا ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اغنیاء اور ثروتمند لوگ اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ تھوڑی آمدنی والے لوگ بھی انہی کی طرح سفر کریں اور جہاں چاہیں بغیر کسی زادِ راہ اور توشہ و سواری کے چلے جائیں، گویا سفر ان کے لیے ایک اعزاز و افتخار اور ان کی قدرت و ثروت کی نشانی تھا اور یہ امتیاز و برتری ہمیشہ انہی کے لیے مخصوص رہنی چاہیئے۔ اور یا یہ بات تھی کہ راحت و آرام نے انہیں بےچین کر رکھا تھا، جیسا کہ بنی اسرائیل "من" و "سلوی" (دو آسمانی غذاؤں) سے تنگ آ گئے تھے، اور خدا سے پیاز، لہسن اور مسور کی دال کا تقاضا کرنے لگے تھے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ " باعِدْ بَيْنَ أَسْفارِنا" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ وہ اس قدر آرام طلب ہو گئے تھے کہ وہ اب چراگاہوں سے استفادہ کرنے، یا تجارت و زراعت کے لیے سفر کرنے پر تیار نہیں تھے، لہٰذا انہوں نے خدا سے یہ مطالبہ اور تقاضا کیا کہ ہمیشہ وہ اپنے وطن میں ہی رہیں اور ان کے سفروں میں زمانہ کے اعتبار سے بہت زیادہ فاصلہ ہو جائے۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ بہتر نظر آتی ہے۔ بہرحال "انہوں نے اپنے اس عمل سے اپنے اوپر ظلم کیا" (وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ) ۔ ہاں! اگر وہ سوچ رہے تھے کہ وہ دوسروں پر ظلم کر رہے تھے تو وہ غلطی پر تھے، انہوں نے تو ایک ایسا خنجر اٹھایا ہوا تھا کہ جس سے وہ اپنے ہی سینہ کو زخمی کر رہے تھے اور اس ساری آ گ کا دھواں خود انہیں کی آنکھ میں گیا۔ کس قدر عمدہ تعبیر ہے، قرآن اس جملہ کے بعد، کہ جو ان کے دردناک انجام کے بارے میں بیان کیا ہے، کہتا ہے: "ہم نے انہیں ایسی سزا دی اور ان کی زندگی کو لپیٹ کر رکھ دیا کہ انہیں ہم نے دوسروں کے لیے داستان اور افسانہ بنا دیا" (فَجَعَلْناهُمْ أَحادِيثَ) ۔ ہاں! ان کی تمام تر بارونق زندگی اور درخشاں و وسیع تمدن میں سے زبانی قصوں، دلوں کی یادوں اور تاریخوں کے صفحات پر چند سطروں کے سوا اور کچھ باقی نہ رہا: "اور ہم نے انہیں بُری طرح سے حیران و پریشان کر دیا" (وَمَزَّقْناهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ)۔ ان کی سرزمین ایسی ویران ہوئی کہ اُن میں وہاں قیام کرنے کی طاقت نہ رہی اور زندگی کو باقی رکھنے کے لیے وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ ان میں سے ہر گروہ کسی طرف کا رُخ کرے اور خزاں کے پتوں کی طرح کہ جو تند و تیز ہواؤں کے اندر اِدھر اُدھر مارے مارے پھرتے ہیں، ہر ایک کسی گوشہ میں جا گرے اس طرح سے کہ ان کی پریشانی ضرب المثل بن گئی کہ جب کبھی لوگ یہ کہنا چاہتے کہ فلاں جمعیت سخت پراکندہ اور تتر بتر ہو گئی تو وہ کہا کرتے تھے کہ: "تفرقوا یادی سبا!" (وہ قومِ سبا اور ان کی نعمتوں کی طرح پراکندہ ہو گئے ہیں) [تشریحی نوٹ: یہ ضرب المثل دو صورتوں میں نقل ہوئی ہے: "تفرقوا ایدی سبا" و "ایادی سبا" پہلی صورت میں لشکر اور ان کے افراد کی پراکندگی کی طرف اشارہ ہے اور دوسری صورت میں ان کے اموال و مکانات و مواہب کی پراکندگی مراد ہے، کیونکہ ایادی عام طو ر پر نعمتوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے]۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق قبیلہٴ "غسان" شام کی طرف گیا اور "اسد" عمان کی طرف، "خزاعہ" تہامہ کی طرف اور قبیلہٴ "انمار" یثرب کی طرف [بحوالہ: "تفسیر قرطبی" و "تفسیر ابوا لفتوج رازی" زیرِ بحث آیت کے ذیل میں]۔ اور آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "یقینا اس سرگزشت میں صبر اور شکر کرنے والوں کے لیے عبرت کی آیات اور نشانیاں ہیں" (إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ)۔ "صابرین" اور "شاکرین" ہی ان قصوں سے، کیوں درسِ عبرت لے سکتے ہیں؟ (خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ صبار اور شکور دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں اور تکرار اور تاکید کو بیان کرتے ہیں)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے صبر و استقامت کی بناء پر ہوا و ہوس کی سرکش سواری کو لگام دیتے ہیں اور گناہوں کے مقابلہ میں ڈٹے رہتے ہیں اور اپنی شکرگزرای کی وجہ سے خدا کی اطاعت کے راستہ میں آمادہ اور بیدار ہوتے ہیں اور اسی بنا ء پر اچھی طرح سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ کہ جو ہوا و ہوس کے مرکب پر سوار ہوتے ہیں اور خدائی مواہب اور نعمتوں سے بےاعتناء ہوتے ہیں، وہ ان ماجروں سے کیسے عبرت حاصل کر سکتے ہیں؟

چند اہم نکات: ۱۔ قومِ سبا کا عجیب و غریب ماجرا

جس طرح قرآن اور اسلامی روایات اور اسی طرح تواریخ سے معلوم ہوتا ہے، وہ ایک ایسی جمعیت اور قوم تھی کہ جو جزیرہ عرب کے جنوب میں رہتی تھی اور ایک اعلیٰ حکومت اور درخشاں تمدن کی مالک تھی۔ یمن کا علاقہ وسیع اور زرخیز تھا لیکن زرخیز علاقہ ہونے کے باوجود چونکہ وہاں کوئی اہم دریا نہیں تھا، لہٰذا اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تھا، سیلاب اور بارشیں پہاڑوں پر برستی تھیں اور ان کا پانی بیابانوں میں بےکار اور بے فائدہ ضائع ہو جاتا تھا۔ اس سرزمین کے سمجھدار لوگ ان پانیوں سے استفادہ کرنے کی فکر میں لگ گئے اور اہم علاقوں میں بہت سے بند باندھے کہ جن میں سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ پانی کا ذخیرہ رکھنے والا بند "مآرب" تھا۔ "مآرب" (بر وزن مغرب) ایک شہر تھا کہ جو ان درّوں میں سے ایک کے آخر میں واقع تھا اور"صراة" کے کوہستانوں کے بڑے بڑے سیلاب اس کے قریب سے گزرتے تھے، اس درّہ کے دہانہ پر اور "بلق" نامی دو پہاڑوں کے دامن میں انہوں نے ایک مضبوط بند باندھا تھا اور اس میں سے پانی کی کئی نہریں نکالی تھیں، اس بند کے اندر پانی کا اس قدر ذخیرہ جمع ہو گیا تھا کہ جس سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اس بات پر قادر ہوئے تھے کہ اس نہر کے دونوں طرف کو جو بند تک جاتی تھی، بہت ہی خوبصورت و زیبا باغات لگائیں اور پُر برکت کھیت تیار کریں۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اس سرزمین کی آباد بستیاں ایک دوسرے سے متصل تھیں اور درختوں کے وسیع سائے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور اُن کی شاخوں پر اتنے پھل لگا کرتے تھے کہ کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے سر پر ایک ٹوکری رکھ کر ان کے نیچے سے گزرتا تھا، تو یکے بعد دیگرے اتنے پھل اس میں آ کر گرتے تھے کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ ٹوکری پُر ہو جاتی تھی۔ امن و امان کے ساتھ نعمت کے وفور نے پاک و صاف زندگی کے لیے بہت ہی عمدہ اور مرفہ ماحول پیدا کر رکھا تھا، ایک ایسا ماحول جو خدا کی اطاعت اور معنوی پہلوؤں کے ارتقاء و تکامل کے لیے مہیا تھا۔ لیکن انہوں نے ان تمام نعمتوں کی قدر کو نہ پہچانا اور خدا کو بھول گئے اور کفرانِ نعمت میں مشغول ہو گئے اور فکر و مباہات کرنے لگے اور طبقاقی اختلافات پیدا کر دیئے۔ بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ صحرائی چوہوں نے مغرور و مست لوگوں کی آنکھوں سے دُور، مٹی کے اس بند کی دیوار کا رُخ کیا اور اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا، اچانک ایسی شدید بارشیں برسیں اور ایسا عظیم سیلاب آیا کہ جس سے بند کی وہ دیواریں کہ جو سیلاب کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہ رہی تھیں، دھڑام سے گِر پڑیں اور بہت ہی زیادہ پانی کہ جو بند کے اندر جمع ہو رہا تھا اچانک باہر نکل پڑا اور تمام آبادیوں، باغات، کھیتوں، فصلوں اور چوپایوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور خوبصورت سجے سجائے قصور و محلات اور مکانات کو ویران کر دیا اور اس آباد سرزمین کو خشک اور بےآب و گیاہ صحرا میں بدل دیا اور ان تمام سرسبز و شاداب باغوں اور پھلدار درختوں میں سے صرف چند "اراک" کے کڑوے شجر، کچھ جھاؤ اور کچھ بیری کے درخت باقی رہ گئے، غزل خوانی کرنے والے پرندے وہاں سے کوچ کر گئے اور اُلوؤں اور کوّوں نے ان کی جگہ لے لیے [بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" و "قصص قرآن" اور دیگر تفاسیر سے اقتباس]۔ ہاں! جب خدا اپنی قدرت دکھانا چاہتا ہے تو چند چوہوں کے ذریعہ ایک عظیم تمدن کو برباد کر دیتا ہے، تاکہ بندے اپنے ضعف اور کمزوری سے آگاہ ہو جائیں اور قدرت اور اقتدار کے وقت مغرور نہ ہوں۔

۲۔ قرآن کا ایک تاریخی معجزہ

قرآنِ مجید نے اوپر والی آیات میں قومِ سبا کی داستان بیان کی ہے اور مدتیں گزر چکی تھیں کہ دنیا جہان کے مئورخین اس قسم کی قوم اور اس طرح کے تمدن سے بےخبری کا اظہار کرتے تھے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مئورخین جدید انکشافات سے پہلے ملوک سبا کے سلسلہ اور ان کے عظیم تمدن کا نام تک نہیں لیتے تھے اور "سبا" کو صرف ایک فرضی شخص سمجھتے تھے، کہ جو حکومت "حمیر" کے بانی کا باپ تھا، جبکہ قرآن میں ایک پوری سورت اسی قوم کے نام کی ہے اور ان کے تمدن کے مظاہر میں سے ایک مظہر کی طرف جو مآرب کے تاریخی بند کی تعمیر ہے اشارہ کر رہی ہے لیکن یمن میں اس قوم کے تاریخی انکشافات کے بعد ماہر دانشمندوں کا عقیدہ دگرگوں ہو گیا ہے۔ اس بات کا سبب، کہ اب تک قومِ "سبا" کے تمدن کے آثار معلوم نہ ہوئے، دو باتیں تھیں، ایک تو راستہ کی سختیاں اور آب و ہوا کی شدید گرمی اور دوسری اس علاقے کے لوگوں کی بیگانوں اور اجنبی لوگوں کے بارے میں بدگمانی، جسے بےخبر اور ناآگاہ یورپ والے کبھی کبھی وحشت سے تعبیر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ چند ماہرین آثارِ قدیمہ، کہ جو سبا کے اسرار کھولنے کی طرف شدید لگاؤ رکھتے تھے، شہر "مآرب" کے قلب اور اس کے نواح میں وارد ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پتھروں پر ثبت شدہ آثار، خطوط اور نقوش کے نمونے اٹھا کر لے گئے اور اس کے بعد انیسویں صدی عیسوی میں کئی گروہ نے یکے بعد دیگرے وہاں تک راہ نکال لی اور وہاں سے گراں بہا آثار اپنے ساتھ یورپ لے گئے اور ان نقوش و خطوط اور دوسرے آثار کے مجموعہ سے کہ جو ایک ہزار نقوش تک پہنچے ہوئے تھے، اس قوم کے تمدن کی جزئیات بلکہ سدِ مآرب کی بناء کی تاریخی اور دوسری خصوصیات تک معلوم کر لیے اور اہلِ مغرب پر ثابت ہو گیا کہ قرآن نے اس سلسلے میں جو کچھ کہا تھا وہ کوئی افسانہ نہیں تھا، بلکہ وہ ایک تاریخی واقعیت اور حقیقت ہے کہ جس سے وہ بےخبر تھے۔ اس طور پر کہ اب تو انہوں نے اس عظیم سد اور پانی کے گزرنے کے مقامات اور دائیں بائیں باغوں کی درمیانی نہروں اور اس کی دوسری خصوصیات کے بارے میں نقشے بھی تیار کر لیے ہیں [بحوالہ: فرہنگِ قصص القرآن، مادہ "سبا" (ملخص)]۔

۳۔ ایک مختصر سے واقعہ میں عبرت کے اھم نکات

"سلیمان علیہ السلام" کی سرگزشت بیان کرنے کے بعد قرآنِ مجید میں قومِ سبا کی داستان کا بیان کرنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔ ۱۔ داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام بہت ہی عظیم پیغمبر تھے کہ جنہوں نے ایک عظیم حکومت تشکیل دی تھی اور وہ ایک درخشاں تمدن کو وجود میں لائے تھے، لیکن داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام کی وفات کے ساتھ ہی یہ تمدن ختم ہو گیا۔ قومِ سبا نے بھی ایک عظیم تمدن قائم کیا تھا کہ جو سدِ "مآرب" کے ٹوٹ جانے سے برباد ہو گیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ روایات کے مطابق سلیمان علیہ السلام کے عصا کو تو دیمک نے کھایا تھا اور"مآرب" کے عظیم بند میں صحرائی چوہوں نے سوارخ کیا تھا تاکہ یہ مغرور انسان سمجھ لے کہ مادی نعمتیں چاہے جتنی بھی عظیم کیوں نہ ہوں، ایک ہوا کے جھونکے سے ختم ہو جاتی ہیں، ایک کیڑا یا ایک چھوٹا سا جانوار انہیں زیر و زبر کر سکتا ہے، تاکہ باخبر لوگوں کے لیے عبرت ہو کہ وہ اس کے ساتھ دل نہ لگائیں اور مومن اس کے اسیر اور قیدی نہ بنیں اور مغرور لوگ غرور کی مستی سے ہوش میں آ جائیں اور تکبّر اور ظلم و ستم کی راہ اختیار نہ کریں۔ ۲۔ اس سے قطع نظر یہاں پر باشکوہ تمدن کے دو چہرے نظر آتے ہیں کہ جن میں سے ایک رحمانی ہے اور دوسرا شیطانی، لیکن نہ وہ باقی رہا اور نہ یہ اور دونوں کے دونوں ہی فنا کی گود میں چلے گئے۔ ۳۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے، کہ قومِ سبا کے مغرور لوگ جو عامتہ الناس کو اپنے قریب نہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ یہ خیال کرتے تھے کہ بڑے بڑے لوگوں کی اقلیت اور کم آمدنی والے لوگوں کی اکثریت کے درمیان کوئی بہت بڑا بند اور ایک عظیم سرحد ہونی چاہیئے تاکہ وہ ہرگز آپس میں نہ ملیں جُلیں، لہذا انہوں نے خدا سے آبادیوں کے دور دور واقع ہونے اور سفروں کے لمبا اور دور دراز ہونے کا تقاضا کیا۔ خدا نے بھی ان کی دعا قبول کر لی اور وہ اس طرح سے بکھر ے اور پراکندہ ہوئے کہ اُن میں سے ہر ایک گروہ کسی ایک طرف چلا گیا اور وہ ایک دوسرے سے اس طرح سے دور ہوئے کہ اگر وہ ایک دوسرے کو دیکھنا اور ملاقات کرنا چاہتے بھی تو اُس کے لیے طویل عمر تک سفر درکار ہوتا۔ ۴۔ جس وقت کوئی شخص سیل عرم کے آنے سے پہلے اور اس کے آنے کے بعد کی اس سرزمین کی وضع و کیفیت پر نظر کرتا تو وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی سرزمین ہے، کہ جو ایک دن سرسبز و شاداب اور میواہ دار درختوں سے پُر تھے کہ جو آج ایک وحشتناک بیابان کی شکل میں کہ جس میں کہیں کہیں جھاؤ کے درخت، پیلو اور بیریاں ایسے مسافروں کی طرح کہ جو راستہ بھول گئے ہوں اور ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہوں نظر آتا ہے۔ یہ منظر زبانِ حال سے کہتا ہے کہ: انسان کے وجود کی سرزمین بھی اسی طرح ہے، کہ اگر اس کی تعمیری قوتوں کو کنٹرول کیا جائے اور اس کی صلاحیتوں کا صحیح مصرف ہو، تو علم و عمل اور فضائلِ اخلاقی کے سرسبز و شاداب باغات بارآور ہوں گے، لیکن اگر تقویٰ کا بند ٹوٹ جائے اور خوہشات ایک ویران کرنے والے سیلاب کی شکل میں انسانی زندگی کی سرزمین کو ڈھانپ لیں۔ تو بےقدر و قیمت ویرانی کے سوا اور کچھ باقی نہ رہے گا اور کبھی بھی ایک ایسا عامل جو ظاہری طور پر چھوٹا سا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ بنیاد کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور ہر چیز کو درہم برہم کر دیتا ہے، لہٰذا ایسے چھوٹے چھوٹے عوامل تک سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ ۵۔ آخری بات، کہ جس کی طرف اشارہ کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب ماجرا ایک دفعہ پھر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ انسان کی موت اس کی زندگی کے اندر ہی چھپی ہوئی ہے اور وہی چیز کہ جو ایک دن اس کی حیات و آبادی کا باعث ہوتی ہے، دوسرے دن ممکن ہے اس کی موت اور ویرانی کا عامل بن جائے۔

20
34:20
وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ إِبۡلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ہاں ! یقیناً ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا پایا کہ سوائے مومنین کے ایک تھوڑے سے گروہ کے سب ہی نے اس کی پیروی کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
34:21
وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيۡهِم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يُؤۡمِنُ بِٱلۡأٓخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِي شَكّٖۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ
اس(شیطان) کا ان کے اوپر کوئی تسلط نہیں تھا اور شیطان کو اس کے وسوسوں میں آزاد چھوڑنے کا مقصد یہ تھا کہ آخرت پر ایمان رکھنے والے اور شک میں پڑے ہوئے الگ الگ پہچانے جائیں اور تیرا پروردگار ہر چیز کا نگہبان ہے۔

تفسیر: کوئی شخص شیطانی وسوسوں کی پیروی پر مجبور نہیں ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ان آیات میں درحقیقت قومِ سبا کی داستان سے کلی نتیجہ نکال کر پیش کیا گیا ہے، جو گزشتہ آیات میں بیان ہوئی تھی اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ ہوائے نفس اور شیطانی وسوسوں کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کی وجہ سے ان تمام بدبختیوں اور ناکامیوں میں کس طرح گرفتار ہوئے۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے: "یقیناً شیطان نے اپنے گمان کو ان کے بارے میں (اور ہر اس جماعت کے بارے میں جو ابلیس کی پیروی کرتی ہے) درست پایا" (وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ)۔ "ان سب نے ہی اس کی پیروی کی، سوائے مومنین کے تھوڑے سے گروہ کے" (فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقاً مِنَ الْمُؤْمِنِين(. یا دوسری تعبیر کے مطابق ابلیس کی وہ پیشین گوئی جو اس نے آدم علیہ السلام کے سجدے سے روگردانی کرنے اور بارگاہِ خداوندی سے دھتکارے جانے کے بعد کی تھی کہ: " فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ" [بحوالہ: سورہٴ ص ۸۲، ۸۳] (تیری عزت کی قسم! تیرے مخلص بندوں کے سوا میں ان سب کو گمراہ کروں گا) اس گروہ کے بارے میں ٹھیک نکلی۔ اگرچہ اس نے یہ بات گمان اور اندازے سے کہی تھی، لیکن وہی گمان اور اندازہ آخرکار حقیقت بن گیا، کیونکہ یہ ارادوں کے کمزور اور ضعیف الایمان لوگ گروہ اس کے پیچھے چلنے لگے، صرف مومنین کا ایک چھوٹا سا گروہ تھا کہ جنہوں نے شیطانی وسوسوں کی زنجیروں کو توڑ دیا اور اس کے دامِ فریب میں نہ آئے۔ آزاد (ہی اس دنیا میں) آئے، آزادی سے زندگی بسر کی اور آزاد ہی اس دنیا سے گئے "اگرچہ وہ تعداد کے لحاظ سے تو کم تھے، لیکن قدر و قیمت کے لحاظ سے ان میں ہر ایک پورے ایک جہان کے ہم پلہ تھا"۔ "اولئك هم الاقلون عددا و الأكثرون عند الله قدرا" [بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار]۔ بعد والی آیت میں ابلیس کے وسوسوں اور اُن لوگوں کے بارے میں کہ جو اس کے اثر و نفوذ کا شکار ہو جاتے ہیں اور جو اس کے اثر و نفوذ سے باہر رہتے ہیں دو مطالب کی طرف اشارہ کرتا ہے، پہلے کہتا ہے: "شیطان کا ان کے اوپر کوئی تسلط اور قابو نہیں تھا اور وہ کسی کو اپنی پیروی پر مجبور نہیں کرتا" (وَما كانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطانٍ). یہ ہم ہی ہیں، کہ جو اُسے اپنے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور مملکتِ بدن کی سرحدوں کو عبور کرنے کے بعد دل میں داخل ہونے کا پروانہ اس کے لیے جاری کرتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے کہ جسے قرآن دوسری جگہ پر خود شیطان کی زبانی نقل کر رہا ہے کہ: (وَما كانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي) "میرا تم پر کوئی تسلط تو نہیں تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے بھی میری دعوت کو قبول کر لیا"۔ (ابراہیم ۲۲)۔ لیکن یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ ہواپرست اور بےایمان لوگوں کی طرف سے اس کی دعوت قبول ہو جانے کے بعد وہ آرام سے نہیں بیٹھتا بلکہ اپنے غلبہ اور تسلط کی بنیادوں کو ان پر مستحکم کر لیتا ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے کہ: "ابلیس کو اس کے وسوسوں میں آزاد چھوڑ دینے کا مقصد یہ تھا کہ آخرت پر ایمان لانے والے اور شک میں پڑے ہوئے بےایمان لوگ الگ الگ پہچانے جائیں" (إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَمِنْها فِي شَكٍّ) [تشریحی نوٹ: اس معنی کی بناء پر کہ جو ہم نے آیہ کی تفسیر میں بیان کیے ہیں، استثناء یہاں پر استثنائے متصل ہے، اس بات کے قرینہ سے کہ جو سورہ حجر کی آیہ ۴۲ میں بیان ہوئی ہے: " إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغاوِين" کیونکہ اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ شیطان "غاوین" پر تسلط جماتا ہے، البتہ بعض مفسرین نے استثناء منفصل کا احتمال بھی دیا ہے]۔ یہ بات بدیہی ہے کہ خدا ازل سے ان تمام چیزوں سے، کہ جو اس جہان میں ابد تک واقع ہوں گی، آگاہ ہے۔ اس بناء پر (لِنَعْلَم) "تاکہ ہم جان لیں" کے جملہ کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو ان سے کہ جو شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، نہیں پہچانتے لہٰذا شیطانی وسوسوں کو درمیان میں آنا چاہیئے، تاکہ وہ پہچانے جائیں۔ بلکہ اس جملہ سے مراد خدا کے علم کا تحققِ عینی ہے کیونکہ خدا ہرگز اشخاص کے باطن اور ان کے بالقوہ اعمال کو جاننے اور ان کا علم رکھنے کی بناء پر کسی کو سزا اور عذاب نہیں کرتا، بلکہ ضروری ہے کہ میدانِ امتحان فراہم ہو، شیطانی وسوسے اور خواہشاتِ نفسانی کا آغاز ہو، تاکہ ہر شخص جو کچھ اپنے اندر رکھتا ہے، اپنے ارادہ اور اختیار کی پوری آزادی کے ساتھ اسے باہر نکال دے اور خدا کا علم تحققِ عینی حاصل کرے، کیونکہ جب تک خارج میں کوئی عمل انجام نہ پائے اس وقت تک عذاب و عقاب کا استحقاق حاصل نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں وہ بات جو بالقوہ موجود ہے فعل میں نہ آئے صرف حسنِ باطن یا سوء باطن کی بناء پر کسی کو جزاء یا کسی کو سزا نہیں دیتے۔ اور آیت کے آخر میں تمام بندوں کو تنبیہ اور خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "اور تیرا پروردگار ہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے" (وَرَبُّكَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ حَفِيظٌ). تاکہ شیطان کے پیروکار یہ تصور نہ کر لیں کہ ان کے اعمال گفتار میں سے کوئی چیز اس جہان میں ختم ہو جائے گی، یا خدا اس کو فراموش کر دے گا۔ نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ خدا ہر چیز کی قیامت کے دن کے لیے نگہداری اور حفاظت کرتا ہے۔

22
34:22
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا لَهُمۡ فِيهِمَا مِن شِرۡكٖ وَمَا لَهُۥ مِنۡهُم مِّن ظَهِيرٖ
کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (اپنا معبود) خیال کرتے ہو انہیں پکارو انہیں آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ (اس کی خلقت و مالکیت میں ) شریک ہیں اور نہ ہی وہ (تخلیق میں ) اس کے یارو مددگار تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
34:23
وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنۡ أَذِنَ لَهُۥۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ
اس کے سامنے کسی کے لیے بھی کوئی شفاعت فائدہ نہ دے گی سوائے ان لوگوں کی شفاعت کے جن کو شفاعت کرنے کی اجازت دے دی جائے گی ۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب زائل ہو جائے گا تو (مجرمین شفاعت کرنے والوں سے) کہیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم دیا ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ حق(کا حکم دیا ہے)۔ اور وہی ہے بلند مقام اور بزرگ مرتبہ والا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
34:24
۞قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
کہہ دو آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے کہہ دو اللہ۔ پس ہدایت پر یا کھلی گمراہی میں ہم ہیں یا تم؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
34:25
قُل لَّا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّآ أَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
کہہ دو کہ تم سے ہمارے گناہوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہ ہو گی (اسی طرح) جو عمل تم کرتے ہو اس کی باز پرس ہم سے نہ ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
34:26
قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَهُوَ ٱلۡفَتَّاحُ ٱلۡعَلِيمُ
کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا (مجرموں کو نیکو کار لوگوں سے جدا کر دے گا) اور وہی فیصلہ کرنے والا اور آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
34:27
قُلۡ أَرُونِيَ ٱلَّذِينَ أَلۡحَقۡتُم بِهِۦ شُرَكَآءَۖ كَلَّاۚ بَلۡ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
کہہ دو:کہ جنہیں تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملحق کیا ہے۔ مجھے دکھاؤ(تو سہی) ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ وہ ہی عزیز و حکیم خدا ہے۔

تفسیر: مجھے بتاؤ کہ کیوں؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ہم نے سورت کے آغاز میں کہا تھا کہ اس سورہ کی آیات کا ایک قابلِ ملاحظہ حصّہ مبدا و معاد اور اعتقاداتِ حقّہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور ان کے ملانے سے سچے معارف کا ایک مجموعہ حاصل ہو جاتا ہے۔ آیات کے اس حصہّ میں واقعاً مشرکین کو محاکمہ میں کھینچ لے جاتا ہے، اور منطقی سوالات کی کچل دینے والی ضربوں کے ذریعہ ان کو گھٹنوں کے بَل گراتا ہے اور بتوں کی شفاعت کے بارے میں ان کی بوسیدہ منطق کا بےبنیاد ہونا واضح و آشکار کرتا ہے۔ آیات کے اس سلسلے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پانچ مرتبہ مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے اور ان سے کہہ دے اور ہر مرتبہ بُتوں اور بُت پرستی کے کام کے سلسلہ میں ایک نیا مطلب پیش کرتا ہے، اس طرح سے کہ انسان آخر میں اچھی طرح سے محسوس کر لیتا ہے کہ کوئی مکتب بُت پرستوں کے مکتب سے زیادہ کھوکھلا نہیں ہے، بلکہ اس کو تو مکتب و مذہب کہا ہی نہیں جا سکتا۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے: "ان سے کہہ دے کہ جنہیں تم خدا کے علاوہ (اپنا معبود) خیال کرتے ہو، انہیں پکارو، لیکن یہ جان لو کہ وہ ہرگز بھی تمہاری دعا اور پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور تمہاری مشکلات کو حل نہیں کر سکتے" (قُلِ ادْعُوا الَّذینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللہِ) [اس جملہ میں درحقیقت دو تقدیریں ہیں، پہلی "زعمتم" کے بعد "انھم اٰلھة" کا جملہ مقدر ہے اور " مِنْ دُونِ اللهِ " کے بعد "لا یستجیون دعأ کم" کا جملہ مقدر ہے اور مجموعی طو ر پر یہ جملہ اس طرح ہو جاتا ہے: " قل ادعو الذين زعمتم انهم آلهة من دون الله لا يستجيبون لكم."]۔ اس کے بعد اس گفتگو کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بناوٹی معبود نہ تو آسمان و زمین میں ایک ذرہ برابر اختیار رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی پیدائش اور ملکیت میں کوئی حصّہ اور شرکت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان میں سے کوئی تخلیق کے کاموں میں خدا کا یار و مددگار تھا (لا يَمْلِكُونَ مِثْقالَ ذَرَّةٍ فِي السَّماواتِ وَلا فِي الْأَرْضِ وَما لَهُمْ فِيهِما مِنْ شِرْكٍ وَما لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ). اگر وہ کسی مشکل کے حل پر قادر ہوں، تو اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تین اوصاف میں سے کسی ایک کے تو حامل ہوں: یا تو آسمان و زمین میں کسی چیز کی مستقل ملکیت رکھتے ہوں، یا کم از کم امرِ خلقت میں خدا کے ساتھ شرکت رکھتے ہوں، یا ان امور میں سے کسی میں پروردگار کے معاون و مددگار ہوں۔ حالانکہ یہ بات صاف طور پر واضح و روشن ہے کہ واجب الوجود ایک ہی ہے اور باقی سب کے سب ممکن الوجود اور اسی کے ساتھ وابستہ ہیں، کہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے لطف و کرم کی نظر اُن سے اٹھ جائے تو وہ دیارِ عدم کی طرف چلتے بنیں۔ "اگر نازی کند یکدم، فرو ریزند قالبھا!" اگر وہ ایک لمحہ کے لیے بھی فخر و ناز کریں، تو سارے سانچے گِر پڑیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے: " مِثْقالَ ذَرَّةٍ فِي السَّماواتِ وَلا فِي الْأَرْض" یعنی ایسی موجودات کہ جو ایک بےقدر و قیمت ذرّہ کے وزن کی مقدار کے برابر بھی اس بےکراں آسمان اور وسیع و عریض زمین میں کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، تمہاری مشکلات تو رہی ایک طرف وہ اپنی ہی کون سی مشکل حل کرنے کے قابل ہیں؟! یہاں یہ سوال فوراً ذہن میں آتا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کے مسئلہ کا کیا بنے گا۔ بعد والی آیت میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: اگر خدا کی بارگاہ میں کچھ شفاعت کرنے والے موجود ہیں تو وہ بھی اس کے اذن و فرمان سے ہے کیونکہ "اس کے یہاں کوئی شفاعت فائدہ نہ دے گی سوائے ان کے جن کے لیے اس نے اذن دیا ہو گا" (وَلا تَنْفَعُ الشَّفاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ)۔ اس بناء پر بُت پرستوں کا بُتوں کی پرستش کے بارے میں یہ بہانہ کہ جو کہتے تھے: " هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ الله" یہ خدا کے یہاں ہماری شفاعت کرنے والے ہیں (یونس ۱۸) اس وسیلہ سے ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ خدا نے ہرگز انہیں اشفاعت کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس بارے میں کہ: " إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ " سوائے اس کے کہ جس کے لیے وہ اذن دے کا جملہ شفاعت کرنے والے کی طرف اشارہ ہے یا ان کی طرف کہ جن کی شفاعت کی جائے گی؟ مفسرین نے دونوں احتمال دیئے ہیں، لیکن اس مناسبت سے کہ گزشتہ آیت میں بتوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی اور وہ بتوں کو اپنا شفیع خیال کرتے تھے، لہذا مناسب یہی ہے کہ یہ "شفاعت کرنے والوں" کی طرف اشارہ ہو۔ کیا یہاں "شفاعت" سے مراد دنیا کی شفاعت ہے یا آخرت کی، دونوں ہی احتمال ہو سکتے ہیں۔ لیکن بعد والے جملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں آخرت کی شفاعت مدِّنظر ہے۔ لہٰذا اس جملہ کے بعد اس طرح کہتا ہے: "اس دن دلوں پر اضطراب اور وحشت کا غلبہ ہو گا" (شفاعت کرنے والے بھی اور جن کی شفاعت کی جائے گی وہ بھی اضطراب میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور وہ سب کے سب اس انتظار میں ہوں گے کہ دیکھیں خدا کِن لوگوں کو شفاعت کی اجازت دیتا ہے؟ اور کِن لوگوں کی شفاعت کرنے کے لیے؟ اور یہ اضطراب اور پریشانی کی حالت اسی طرح جاری رہے گی) "یہاں تک کہ فزع و اضطراب ان کے دلوں سے زائل ہو اور خدا کی طرف سے یہ فرمان صادر ہو" (حَتَّى إِذا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ) [تشریحی نوٹ: "فزع" مادہ "فزع" ہے جس وقت "عن" کے ذریعہ متعدی ہو تو فزع کے ازالہ اور وحشت و اضطراب کے برطرف ہونے کے معنی میں ہے۔ یہ مادہ اس صورت تک بھی جبکہ یہ "ثلاثی مجرد" کی شکل میں ہو اور عن سے متعدی ہو تو پھر بھی یہی معنی دیتا ہے]۔ بہرحال اُس دن ایک شور و غوغا برپا ہو گا، شفاعت ہونے والوں کی نگاہیں شفاعت کرنے والوں پر لگی ہوئی ہوں گی اور زبانِ حال سے یا زبانِ قال سے ملتمسانہ ان سے شفاعت کا تقاضا کر رہے ہوں گے۔ یہ وہ مقام ہے کہ دونوں کی نگاہیں بھی فرمانِ خدا پر لگی ہوئی ہوں گی، تاکہ (دیکھیں کہ) کس طرح اور کس کے حق میں شفاعت کی اجازت دیتا ہے، یہ عمومی اور ہر وقت کا وحشت و اضطراب بھی اسی طرح جاری رہے گا، یہاں تک کہ ان لوگوں کے بارے میں کہ جو اس کے لائق ہیں خدائے حکیم کی طرف سے شفاعت کا فرمان صادر ہو گا۔ یہ وہ مقام ہے کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی طرف رُخ کریں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے (یا مجرم شفاعت کرنے والوں سے پوچھیں گے) اور "کہیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم دیا ہے" (قالُوا ما ذا قالَ رَبُّكُمْ). "وہ جواب میں کہیں گے کہ خدا نے حق کو بیان کیا ہے" (قالُوا الْحَقَّ). اور حق تو اس کے سوا کچھ نہیں، کہ شفاعت کی اجازت صرف ان کے لیے ہو گی جنہوں نے خدا سے کُلی طور پر اپنا رابط منقطع نہیں کیا تھا، نہ کہ ان گنہگاروں اور مجرموں کے لیے جنہوں نے خدا، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اولیاء اللہ سے کلی طور پر بیگانگی اختیار کر لی ہے اور تعلقات کے تمام رشتوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "وہی ہے بلند مقام اور بزرگ مرتبہ خدا" (وَهُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيرُ). یہ جملہ شفاعت کرنے والوں کی گفتگو کا آخری حصّہ اور اس کی تکمیل کرنے والا ہے۔ حقیقت میں وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خدا علیّ و کبیر ہے، لہٰذا وہ جو حکم دیتا ہے وہ عین واقعیت ہے اور ہر واقعیت اس کے احکام و دستور پر منطبق ہے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ ایسی نزدیک ترین تفسیر ہے کہ جو آیہ کے جملوں کے ساتھ ہم آہنگ اور منظم ہے، یہاں مفسرین نے دوسری تفسیریں بھی بیان کی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض میں آیت کے متن، اس کے ظاہر و باطن اور اس کے قبل و بعد کے ربط و تعلق کو کسی طرح بھی نظر میں نہیں رکھا گیا۔ بعد والی آیت میں ایک اور طریقہ سے مشرکین کے عقائد کو باطل کرنے کے لیے آغاز کیا ہے اور "رازقیت" کے مسئلہ کو مسئلہ "خالقیت" کے بعد کہ جو گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا عنوان کرتا ہے۔ یہ دلیل بھی سوال و جواب کی صورت میں ہے تاکہ ان کے سوئے ہوئے وجدان کو اس طرح سے بیدار کرے اور اس جواب سے کہ جو ان کے اندر سے جوش مارتا ہے، اپنی غلطی اور اشتباہ کو سمجھ لیں۔ کہتا ہے: "تم کہہ دو کہ کون ہے وہ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے اور ان کی برکات کو تمہارے اختیار میں قرار دے دیتا ہے" (قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ) یہ بات صاف طور پر واضح و ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ پتھر اور لکڑی کے بُت آسمان سے بارش برساتے ہیں اور زمین سے گیاہ اور سبزے اگاتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کے منبعوں اور ذخائر کو ہمارے اختیار میں دیتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ ان کے جواب کا انتظار کرتا، بِلافاصلہ فرماتا ہے: "کہہ دو کہ اللہ" (قُلِ اللهُ). کہہ دو کہ وہ خدا ہی ہے کہ جو اِن تمام برکات کا منبع ہے، یعنی یہ مطلب اس قدر واضح و روشن ہے کہ طرفِ مقابل کے جواب کا محتاج ہی نہیں ہے، کیونکہ مشرکین بھی خدا ہی کو خالق اور رِزق کا عطا کرنے والا جانتے تھے اور بُتوں کے لیے وہ بھی صرف مقامِ شفاعت ہی کے قائل تھے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ پروردگار کے رزق اور روزیاں جو آسمان کی طرف سے انسانوں تک پہنچتی ہیں وہ بارش میں منحصر نہیں ہیں، بلکہ "سورج" کی روشنی، "حرارت" اور "ہوا" کہ جو زمین کی فضا میں موجود ہے، بارش کے حیات بخش قطرات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ زمین کی برکات بھی گیاہ اور سبزہ زاروں میں منحصر نہیں ہیں، بلکہ زیرِ زمین انواع و اقسام کے پانی کے منبع، طرح طرح کی معدنیات کہ جن میں سے بعض تو اُس زمانہ میں بھی دریافت ہو چکے تھے اور بعض زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ظاہر ہوئے ہیں، سب کے سب اسی عنوان میں جمع ہیں۔ آیت کے آخر میں ایک ایسے مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو خود ایک دلیل کی بنیاد بن سکتا ہے، ایک ایسی دلیل کہ جو حقیقت بینی اور انصاف و آداب سے ملی ہوئی ہے، اس طرح سے کہ مخالف ہٹ دھرمی اور غرور کے مرکب سے نیچے اتر آئے اور غور و فکر کرے، کہتا ہے: "یقینا ہدایت پر یا کھلی ہوئی گمراہی میں ہم ہیں یا تم" (وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلى‏ هُدىً أَوْ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ) [بحوالہ: یہ جملہ تقدیر میں اس ترتیب سے دو جملوں کی طرف لوٹتا ہے: و انا لعلى هدى او فى ضلال مبين و انكم لعلى هدى او فى ضلال مبين، تفسیر مجمع البیان جلد ۷، ص ۳۸۸]۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارا اور تمہارا عقیدہ آپس میں واضح تضاد رکھتا ہے، اس بناء پر ممکن نہیں ہے کہ دونوں حق ہوں کیونکہ نقیضین اور ضدین میں جمع ممکن نہیں ہے، پس ایک گروہ اہلِ ہدایت کا ہے اور دوسرا ضلالت و گمراہی میں گرفتار ہے۔ اب تم خود غور کرو کہ کونسا ہدایت یافتہ ہے اور کونسا گمراہ، دونوں گروہوں میں نشانیاں دیکھو کہ کس گروہ میں ہدایت کی نشانیاں ہیں اور کس میں گمراہی کی نشانیاں۔ اور یہ مناظرہ اور بحث کے طریقوں میں سے ایک بہتر طریقہ ہے کہ مدِّمقابل اور فریق مخالف کو خودبخود غور و فکر اور جوش میں آنے کے لیے ابھاریں اور یہ جو بعض نے اسے تقیہ کی ایک قسم خیال کیا ہے انتہائی غلط اور اشتباہ بات ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "ہدایت" کہ لفظ "علیٰ" کے ساتھ ذکر کیا ہے اور "ضلالت" کو "فی" کے ساتھ کہ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہدایت یافتہ تو گویا ایک تیزرو مرکب پر بیٹھے ہوئے ہیں، جبکہ گمراہ لوگ گمراہی اور جہالت کی ظلمت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ کہ پہلے "ہدایت" کے بارے میں گفتگو کی ہے اور اس کے بعد "ضلالت" و گمراہی کے متعلق، کیونکہ پہلے جملہ کی ابتداء میں کہتا ہے "ہم" اور پھر کہتا ہے "تم" تاکہ یہ پہلے گروہ کی ہدایت اور دوسرے گروہ کے بےہدایت ہونے کی طرف ایک لطیف اور ہلکا سا اشارہ ہو۔ اگرچہ مفسرین کی ایک جماعت نے "مبین" کی صفت کو صرف "ضلال" کے ساتھ مربوط سمجھا ہے، کیونکہ ضلالت و گمراہی کئی اقسام رکھتی ہے اور ضلالتِ شرک سب سے زیادہ واضح و آشکار ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ توصیف "ہدایت" و "ضلالت" دونوں کے لیے ہو، کیونکہ اس قسم کے موقعوں پر فصحاء کے کلمات میں صفت کا تکرار نہیں ہوتا، اس بناء پر ہدایت بھی مبین کے ساتھ توصیف ہوئی ہے اور ضلالت بھی، جیسا کہ دوسری آیاتِ قرآنی میں یہ توصیف دونوں قِسموں کے لیے نظر آتی ہے [بحوالہ: سورہ نمل کی آیہ ۱، نور کی ۱۲، ہود کی ۶، قصص کی ۲ اور نمل کی آیہ ۷۹ کی طرف رجوع کریں]۔ بعد والی آیت میں پھر اسی استدلال کو ایک دوسری شکل میں پھر اسی منصفانہ لب و لہجہ میں کہ جو مخالف کو ہٹ دھرمی اور غرور کے مرکب سے اتار دے جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: "کہہ دے کہ تم سے ہمارے گناہوں کے بارے میں بازپرس نہیں ہو گی اور نہ ہی ہم سے تمہارے اعمال کے بارے میں کچھ پوچھا جائے گا (قُلْ لا تُسْئَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنا وَلا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ). عجیب بات یہ ہے کہ یہاں پیغمبر اس بات پر مامور ہیں کہ اپنے بارے میں تو جرم کی تعبیر کرے اور اپنے مخالفین کے بارے میں ایسے کاموں سے تعبیر کرے کہ جو وُہ انجام دیتے ہیں اور اس طرح سے اس حقیقت کو واضح و روشن کرے کہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا چاہیئے کیونکہ ہر انسان کے اعمال کے نتائج بُرے ہوں یا اچھے خود اسے ہی پہنچتے ہیں۔ ضمنی طور پر اس نکتہ کی طرف بھی ایک لطیف سا اشارہ ہے کہ اگر ہم تمہاری رہنمائی پر اصرار کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے، کہ تمہارے گناہ ہمارے ذمہ لکھ دیئے جاتے ہیں یا تمہارا شرک سے ہمیں کچھ ضرر پہنچاتا ہے، بلکہ ہم تو دل سوزی و حق جوئی اور حق طلبی کی بناء پر اس کام کا اصرار کرتے ہیں۔ بعد میں آنے والی آیت درحقیقت گزشتہ دو آیات کے نتیجہ کا بیان ہے، کیونکہ جس وقت انہیں اس بات سے آگاہ اور خبردار کر دیا گیا، کہ دونوں گروہوں میں سے ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل پر ہے اوراس بات کے لیے بھی خبردار کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہے، تو پھر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ سب کی وضع و کیفیت کی جانچ پڑتال کیسے ہو گی اور حق و باطل ایک دوسرے سے کس طرح جدا ہو گا اور ہر کسی کو اس کی ذمہ داریوں اور مسئولیت کے مطابق ہی جزا و سزا ملے گی، لہٰذا فرماتا ہے: "ان سے کہہ دے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا اور پھر ہمارے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرے گا اور ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دے گا تاکہ ہدایت یافتہ گمراہوں سے پہچانے جائیں اور ہر ایک اپنے اعمال کے نتیجہ تک جا پہنچے" (قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنا رَبُّنا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنا بِالْحَقِّ). اگر تم یہ دیکھ رہے ہو کہ آج سب کے سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ہر ایک یہی دعویٰ کرتا ہے، کہ میں حق پر ہوں اور میں اہلِ نجات میں سے ہوں، تو یہ کیفیت ہمیشہ باقی اور برقرا ر نہیں رہے گی اور آخرکار ان صفوں کی جدائی کا دن آن پہنچے گا، کیونکہ پروردگار کی "ربوبیت" کا تقاضا یہی ہے کہ اچھائی برائی سے، خالص ناخالص سے اور حق باطل سے آخرکار جدا ہو جائیں اور ہر ایک اپنے مقام پر رہے۔ اب تم غور کرو کہ تم اس دن کیا کرو گے؟ اور تم کون سی صف میں قرار پاؤ گے، کیا تم نے اس دن کے لیے پروردگار کے سوالا ت کاجواب تیار کر لیا ہے۔ آیت کے آخر میں اس حقیقت کو واضح و روشن کرنے کی غرض سے کہ یہ کام یقینی طور پر ہو کر رہے گا، مزید کہتا ہے: "وہی ہے فیصلہ کرنے والا اور حق کو باطل سے جدا کرنے والا، آگاہ اور جاننے والا" (وَهُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ). یہ دونوں نام کہ جو خدا کے اسماءِ حسنیٰ میں سے ہیں، ان میں سے ایک صفوں کو الگ کرنے کے مسئلہ پر قدرت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا اس کے بےپایاں علم کی طرف، کیونکہ حق و باطل کی صفوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ان دو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اوپر والی آیت میں "رب" (پروردگار) کے عنوان پر تکیہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا ہم سب کا مالک و مربی ہے اور یہ مقام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس قسم کے دن کے لیے پروگرام فراہم کیا جائے اور حقیقت میں یہ "معاد" کی دلائل میں سے ایک دلیل کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ لفظ "فتح" جیسا کہ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے، اصل میں شبہات اور پیچیدگی کو ختم کرنے کے معنی میں ہے اور وہ دو قسم پر ہے: کبھی تو یہ آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے، مثلاً تالا کھولنا اور کبھی غور و فکر کرنے سے اس کا ادراک ہوتا ہے، مثلاً غم و اندوہ اور دکھ درد کی پیچیدگی کو دُور کرنا یا علوم کے سربستہ رازوں کو کھولنا اور اسی طرح دو افراد کے درمیان فیصلہ کرنا اور ان کے نزاع اور مخاصمت کی مشکل کو کھولنا۔ اس بناء پر اگر یہ لفظ صفوں کو جدا کرنے کے بارے میں خاص طور پر جہاں وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملی جلی ہوں استعمال ہوا ہے، تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کیونکہ اس طرح ان کے درمیان جدائی کے علاوہ قضاوت اور فیصلہ بھی کہ جو فتح کا ایک معنی ہے انجام پا جاتا ہے اور ہر کسی کو جس کا وہ مستحق ہوتا ہے، جزا دیتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض رویات میں مشکلات کے حل کے لیے "یافتّاح" کے ذکر پر تکیہ کیا گیا ہے، کیونکہ خدا کا یہ عظیم نام کہ جو "فتح" سے صیغہ مبالغہ کی شکل میں آیا ہے، پروردگار کی ہر مشکل کو حل کرنے کی طاقت اور غم و اندوہ کو دور کرنے اور ہر فتح و کامرانی کے اسباب فراہم کرنے کی قدرت کو بیان کرتا ہے، واقعاً کوئی بھی اس کے سوا"فتّاح" نہیں ہے اور بند دروازوں کی "مفتاح" اور چابی اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں، کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے (اس سلسلے کا) پانچواں فرمان ہے، پھر ایک مرتبہ مسئلہ توحید کی طرف کہ جس سے گفتگو کی ابتداء کی تھی دوبارہ لوٹتا ہے اور اس مسئلہ کے ساتھ بحث کو ختم کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "کہہ دے کہ جنہیں تم نے شریک کے عنوان سے خدا کے ساتھ ملحق کیا ہے، مجھے دِکھا تو سہی" (قُلْ أَرُونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُمْ بِهِ شُرَكاءَ). ان میں کون سی صلاحیت اور کیا قدر و قیمت ہے، اگر تمہاری مراد یہی مٹھی بھر بےجان اور خاموش پتھر اور لکڑیاں ہیں تو کتنی بدبختی اور شرمساری کی بات ہے کہ عالمِ جمادات میں سے اپنے ہی ہاتھ کی ساختہ و پرداختہ چیزوں کو کہ جو موجودات میں سے سب سے پست ہیں لے لو اور انہیں خداوندِ عظیم کے مانند خیال کرو۔ اور اگر تم انہیں ارواح اور فرشتوں کے سمبل اور نمونہ سمجھتے ہو تو پھر بھی یہ ایک مصیبت ہے اور گمراہی ہے کیونکہ وہ بھی اسی کی مخلوق اور اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔ لہٰذا اس جملہ کے بعد ایک ہی لفظ کے ساتھ ان تمام اوہام پر خطِ بطلان کھینچتے ہوئے کہتا ہے: "نہیں ہرگز نہیں ایسا نہیں ہے" (کلّا)۔ یہ وقطعاً معبود ہونے کے لائق نہیں اور تمہارے ان خیالات میں کچھ بھی واقعیت نہیں ہے، انتہا ہو چکی ہے، اب تو تم بیدار ہو جاؤ، کب تک اس غلط راستے پر چلتے رہو گے۔ حقیقت میں "کلّا" ایک ایسا چھوٹا سا لفظ ہے کہ جو ان تمام معانی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور آخر میں اس بات کی تاکید اور فیصلہ کے طور پر کہتا ہے: "بلکہ وہی صرف خداوندِ عزیز و حکیم ہے" (بَلْ هُوَاللهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ). اس کی عزت اور اس کے شکست ناپذیر ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے حریمِ الوہیت تک کسی کی رسائی نہ ہو اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس قدرت کو صحیح طور سے صرف کرے۔ ہاں! ان صفات کا حامل ہونا واجب الوجود ہونے کی نشانی ہے اور واجب الوجود لامتناہی ہستی ہوتی ہے کہ جو کبھی بھی قابلِ تعدد نہیں ہوتی اور اس کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہوتا کیونکہ ہر تعداد اسے محدود و ممکن بناتا ہے، جبکہ وجودِ بےپایاں صرف ایک ہی ہے۔ (غور کیجئے)

نکتہ: دلوں کو تسخیر کرنے کا طریقہ

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اہلِ فضل اور دانشمند افراد، بحث و استدلال کے داؤ پیچ سے بےنیازی اور نفسیاتی پہلوؤں کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے، دوسرے کے افکار و نظریات میں بالکل نفوذ نہیں کر سکتے۔ اس کے برعکس ہم ایسے کئی افراد کو جانتے ہیں کہ، وہ علمی لحاظ سے اس پائے کہ نہیں ہوتے، لیکن دلوں کو جذب کرنے اور انہیں مسخر کرنے اور دوسروں کے افکار میں نفوذ کرنے میں کامیاب اور موفق ہوتے ہیں۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ مباحث کو پیش کرنے کا طریقہ اور مدِّمقابل سے مباحثہ کرنے کی طرز ایسے اصولوں کے ساتھ ہونی چاہیئے کہ جو اخلاقی اور نفسیاتی پہلو سے ملی ہوئی ہو تاکہ مدِّمقابل میں منفی پہلوؤں کو نہ ابھارے اور اُسے ہٹ دھرمی اور بُغض و عناد پر نہ اکسائے، بلکہ اس کے برعکس اس کے وجدان کو بیدار کرتے ہوئے حق طلبی اور حق جوئی کی روح اس میں زندہ کرے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ انسان صرف غور و فکر اور عقل و خرد کا مجموعہ ہی نہیں ہے کہ وہ قدرتِ استدلال کے سامنے سرِتسلیم خم کر دے، بلکہ وہ اس کے علاوہ گوناں گوں "عواطف" اور"احساسات" و "جذبات" کا مجموعہ بھی ہے کہ جس کا اہم حصہ اس کی روح کو تشکیل دیتا ہے، وہ اس کے وجود کے اندر ہی چھپا ہوا ہے کہ جسے صحیح اور معقول طریقہ سے مطالعہ کرنا چاہیئے۔ قرآن نے ہمیں اس راہ و روش کی تعلیم دی ہے کہ مخالفین کے مقابلہ میں کس منطقی مباحث کو پیش کرتے ہوئے انہیں اخلاقی اصول کے ساتھ اس عنوان سے ملائیں کہ وہ ان کی روح کی گہرائیوں میں اتر جائیں۔ نفوذ کی شرط یہ ہے کہ مدمقابل یہ احساس کر لے کہ کہنے والا ان اوصاف کا حامل ہے: ۱۔ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اُن باتوں پر ایمان بھی رکھتا ہے اور جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اس کے دل کی گہرائیوں سے اٹھ رہا ہے۔ ۲۔ اس بحث سے اس کا مقصد حق جوئی و حق طلبی ہے، نہ کہ غالب آنا اور فوقیت حاصل کرنا۔ ۳۔ وہ مدِمقابل کی قطعاً تحقیر و تذلیل نہیں چاہتا اور اپنے آپ کو بزرگ اور بڑا کر کے پیش کرنا نہیں چاہتا۔ ۴۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے دلسوزی اور خلوص سے کہہ رہا ہے اور اس کا اس میں کوئی خاص شخصی نفع نہیں ہے۔ ۵۔ وہ مدِّمقابل کے لیے احترام کا قائل ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنی تعبیرات میں بحث کی نزاکت کو فراموش نہیں کرتا۔ ۶۔ وہ اپنے مدِمقابل کی ہٹ دھرمی کی حِسّ کو بلاوجہ بھڑکانا نہیں چاہتا اور اگر کسی موضوع پر کافی مقدار میں بحث ہو چکی ہو تو وہ اسی پر قناعت کر لیتا ہے اور بحث میں اصرار کرنے اور اپنی بات کو فوقیت دینے سے پرہیز کرتا ہے۔ ۷۔ وہ انصاف کرنے والا ہے اور انصاف کے پہلو کو کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، چاہے مدِّمقابل اس اصول کی رعایت نہ کرتا ہو۔ ۸ ۔وہ اپنے افکار کو دوسروں پرٹھونسنا نہیں چاہتا . بلکہ وہ چاہتا ہے کہ خود دوسروں میں ولولہ پیدا کردے تاکہ وہ خوداپنے شوق میں آزادی کے ساتھ حقیقت تک پہنچ جائیں ۔ اوپر والی آیات میں غور و فکر کرنا اور حکمِ خدا سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخالفین کے ساتھ مباحثہ کرنے کا طریقہ جس میں بہت سے قابلِ غور نکات ہوتے ہیں اوپر والے مباحث پر بہترین گواہ ہیں۔ و ہ بعض اوقات تو یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ حتمی طور پر اس بات کا تعین بھی نہیں کرتے، کہ ہم تو راہِ ہدایت پر ہیں اور تم گمراہی کے طریقہ پر ہو، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ: "ہدایت یا گمراہی پر ہم ہیں یا تم" تاکہ وہ اس بات میں غور کریں کہ ہدایت اور گمراہی کی نشانیاں کس گروہ میں پائی جاتی ہیں۔ یاوہ کہتا ہے کہ: "قیامت کے دن خدا ہم سب کے درمیان فیصلہ کرے گا اور ہر کسی کو اس کی لیاقت کے مطابق جزاء دے گا"۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب باتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں کہ جن کی ہدایت کی امید ہی ہو، لیکن بےرحم، ظالم اور ہٹ دھرم دشمنوں کے ساتھ جن کی طرف سے قبول کرنے کی کوئی امید ہی نہ ہو۔ قرآن ایک دوسرے طریقہ سے پیش آتا ہے [بحوالہ: اس تفسیر کی نویں جلد سورہ عنکبوت کی آیت ۴۶ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں]۔ اس بحث کے لیے پیامبرِ السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام کا اپنے مخالفین کے ساتھ بحث کا طریقہ ایک بہترین نمونہ ہے، نمونہ کے طور پر اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام سے کتبِ حدیث میں جو کچھ نقل ہوا اس پر توجہ کیجئے۔ توحید "مفضل بن عمر" کی مشہور حدیث کے مقدمہ میں اس طرح نقل ہوا ہے: وہ کہتا ہے کہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مطہر کے پاس تھا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرتبہ و مقامِ عظمت کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میں نے دیکھا کہ "ابن ابی العوجا" (مشہور مادہ پرست شخص) وارد ہوا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا، اس طرح سے کہ میں اس کی باتیں سن سکتا تھا، جب اس کے ساتھی اس کے گرد جمع ہو گئے، تو اس نے کفر آمیز باتیں شروع کر دیں کہ جن کا نتیجہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار اوراس سے بڑھ کر خداوندِ تبارک و تعالیٰ کا انکار تھا، اس نے بہت ہی شیطنت آمیز اور جچی تلی باتیں کیں۔ میں اس کی باتیں سُن کر غضبناک اور پریشان ہوا، میں اٹھ کھڑا ہوا اور چیخ کر کہا، اے دشمن خدا! کیا تو نے کفر کی راہ اختیار کر لی ہے؟ اور اس خدا کا جس نے تجھے بہترین شکل میں پیدا کیا ہے انکار کر دیا ہے؟ "ابن ابی العوجا"نے میری طرف رُخ کیا اور کہا، تُو کون ہے، اگر تُو علمِ کلام کا عالم ہے تو دلیل پیش کر، تاکہ ہم تیری پیروی کریں اور اگر تُو عالم نہیں ہے، تو پھر تُو بات نہ کر اور اگر تو جعفر بن محمد صادق علیہ السلام کے پیروکاروں میں سے، تو وہ تو ہم سے اس طرح سے بات نہیں کرتے، جس طرح سے تُو بحث کر رہا ہے۔ انہوں نے تو اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہم سے سُنی ہیں انہوں نے تو کبھی بھی ناسزا اور گالی نہیں دی اور ہمارے جواب میں غصہ یا زیادتی کا راستہ اختیار نہیں کیا، وہ تو ایک بردبار، عاقل، سمجھدار اور سنجیدہ آدمی ہیں اور ان کے کبھی سبک سی دامن گیر نہیں ہوتی۔ وہ ہماری باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور ہمارے دلائل سے آگاہ ہوتے ہیں، جب ہم اپنی تمام باتیں کر لیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان پر فتح یاب ہو گئے، تو اس کہ بعد وہ چھوٹے چھوٹے جملوں اور جچی تلی باتوں کے ساتھ ہمارے تمام دلائل کا جواب دیتے ہیں اور ہمارے تمام بہانوں کو قطع کر دیتے ہیں۔ اس طرح سے کہ پھر ہم میں جواب دینے کی قدرت و طاقت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر تُو ان کے اصحاب میں سے ہے، تو پھر تُو بھی ہمارے ساتھ اسی طرح سے با ت کر ["توحید مفضل" (اوائل کتاب)]۔

28
34:28
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
ہم نے تجھے تمام لوگوں کے لئے (ثواب کی) بشارت اور (عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
34:29
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب (پورا) ہو گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
34:30
قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوۡمٖ لَّا تَسۡتَـٔۡخِرُونَ عَنۡهُ سَاعَةٗ وَلَا تَسۡتَقۡدِمُونَ
تم کہہ دو کہ یہ وعدہ اس دن (پورا) ہوگاکہ جس میں نہ ایک گھڑی تاخیر ہوگی اور نہ (ہی اس سے) آگے بڑھوگے۔

تفسیر: تم تمام جہان والوں کے لیے مبعوث کیے گئے ہو

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

پہلی زیرِبحث آیت پیغمبرِ السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبّوت کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور اس کے بعد والی آیات معاد و قیامت کے سلسلہ میں بحث کرتی ہیں اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ آیات میں گفتگو توحید سے متعلق تھی، عقائدِ دینی کے ایک کامل مجموعہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ جو سورہٴ سبا جیسی مکّی سورتوں کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ پہلے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کی وسعت اور تمام انسانوں کے لیے ان کی نبوت کی عمومیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "ہم نے تجھے نہیں بھیجا ہے مگر تمام جہان کے لوگوں کے لیے، در آنحالیکہ تم سب کو خدا کی عظیم جزاؤں کی بشارت دیتے ہو اور عذابِ الٰہی سے ڈراتے ہو، لیکن اکثر لوگ اس معنی سے بےخبر ہیں(وَمَا أَرْسَلْناكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ)۔ "کافّة" مادہ "کف" سے ہاتھ کی ہتھیلی کے معنی میں ہی ہے اور چونکہ انسان اپنے ہاتھ سے چیزوں کو پکڑتا ہے یا اپنے سے دور کرتا ہے لہٰذا یہ لفظ کبھی "جمع کرنے" کے معنی میں آتا ہے اور کبھی "منع کرنے" کے معنی میں۔ مفسرین نے زیر بحث آیت میں دونوں احتمال دئے ہیں، پہلا یہ کہ جمع کرنے کے معنی میں ہو اور اس صورت میں آیت کا مفہوم وہی ہو گا کہ جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے "کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا ہے مگر جہان کے تمام لوگوں کے لیے" یعنی یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے عالمی اور جہانی ہونے کو بیان کرتا ہے۔ متعدد روایات کہ جو شیعہ اور سُنّی طرق سے اس آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہیں وہ بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم و مطلب سورہٴ فرقان کی آیہ ۱، کی طرح ہے کہ جو یہ کہتی ہے کہ )تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى‏ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعالَمِينَ نَذِيراً("ہمیشہ ہی برکتوں والا ہے وہ خدا کہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ سارے جہان کے تمام لوگوں کو ڈرائے"۔ اور سورہٴ انعام کی آیہ ۱۹ کی طرح ہے کہ جو یہ کہتی ہے کہ: (وَأُوحِيَ إِلَيَّ هذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ‏) "یہ قرآن مجھ پر وحی ہوا تاکہ میں تمہیں بھی اور تمام ان لوگوں کو بھی، کہ جن تک یہ بات پہنچے، ڈراؤں"۔ ایک حدیث میں، کہ جسے بعض مفسرین نے اوپر والی آیت کی مناسبت سے ذکر کیا ہے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی عمومیت، ان کے ایک عظیم اعزاز و افتخار کی حیثیت سے منعکس ہو رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ: " اعطيت خمسا- و لا اقول فخراً- بعثت الى الاحمر و الاسود، و جعلت لى الارض طهورا و مسجدا، و احل لى المغنم و لا يحل لاحد قبلى، نصرت بالرعب فهو يصير امامى مسيرة شهر، و اعطيت الشفاعة فادخرتها لامتى يوم القيامة" "خدا نے مجھے پانچ چیزیں عطا فرمائیں ہیں اور میں اس بات کو فخر و مباہات کے طور پر نہیں کہتا (بلکہ شکرِ نعمت کے طور پر کہتا ہوں) میں تمام انسانوں کے لیے، خواہ وہ گورے ہوں یا کالے، مبعوث ہوا ہوں اور میرے لیے زمین کو پاک و پاکیزہ اور اس کی ہر جگہ کو مسجد و عبادت گاہ قرار دیا گیا ہے، جنگ میں حاصل شدہ مالِ غنیمت میرے لیے حلال ہے، جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں کی گئی تھی۔ دشمنوں کے دل میں دہشت اور رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے (اور خدا نے ہمارا رعب ہمارے دشمن کے دل میں ڈال دیا ہے) اس طور سے کہ وہ (رعب) میرے آگے آگے ایک مہینہ کی راہ کے برابر بڑھتا ہے اور مجھے مقامِ شفاعت دیا گیا ہے اور میں نے اسے اپنی امت کی خاطر قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ کیا ہوا ہے [تفسیر مجمع البیان ذیل آیات زیرِبحث، یہ حدیث در المنثور میں بھی ابنِ عباس سے نقل ہوئی ہے]۔ اگرچہ اوپر والی حدیث میں آیت کی تفسیر کے طور پر تصریح نہیں ہوئی ہے، البتہ اس سلسلہ میں اور بھی احادیث ہمارے پاس موجود ہیں کہ جن میں یا تو آیت کی تفسیر کی تصریح ہوئی ہے اور یا "للناس کافّةً" کی تعبیر ہے کہ جو وہی اوپر والی آیت کی تعبیر ہے [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ۲۵۵ ، ۲۵۶] اور یہ سب کی سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اوپر والی آیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے جہانی، ہونے کو بیان کر رہی ہے۔ دوسری تفسیر، جو اس آیت کے لیے بیان کی گئی ہے "کف" کے دوسرے معنی منع کرنے سے لی گئی ہے، اس تفسیر کے مطابق "کافة" پیغمبر کی صفت ہے [تشریحی نوٹ: کبھی "تا" اسمِ فاعل سے ملحق ہوتی ہے، اور مبالغہ کا معنٰی دیتی ہے، نہ کہ تانیث کا مثلاً "راویہ"] اور اس سے مراد یہ ہے کہ: خدا نے پیغمبر کو انسانوں کے لیے کفر و معصیت و گناہ سے روکنے والا بنا کر بھیجا ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ نزدیک نظر آتی ہے۔ بہرحال چونکہ تمام انسان جلبِ منفعت اور دفعِ ضرر کی خواہش رکھتے ہیں، لہٰذا پیغمبر بھی مقام "بشارت" و "نذارت" کے حامل تھے، تاکہ وہ ان دونوں خواہشات کو مجتمع رکھیں اور انہیں حرکت میں لے آئیں، لیکن غافل اور بےخبر اکثریت اپنے انجام پر توجہ کیے بغیر ان کے مقابلے میں کھڑی ہو جاتی اور خدا کی ان عظیم نعمتوں کا انکار کر دیتی۔ چونکہ گزشتہ آیات میں اس معنی کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ خدا قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرنے کے بعد ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، لہٰذا بعد والی آیت میں منکرینِ معاد کی طرف سے ایک سوال کو اس صورت میں نقل کرتا ہے کہ: "وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر یہ قیامت کا وعدہ کس زمانہ میں پورا ہو گا" ! (وَيَقُولُونَ مَتى‏ هذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ)۔ یہ سوال منکرینِ معاد، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دوسرے تمام پیغمبروں سے بارہا کیا کرتے تھے، جو کبھی تو مطلب کو سمجھنے کے لیے ہوتا تھا اور شاید اکثر استہزاء اور تمسخر کے طور پر ہوا کرتا تھا کہ آخر یہ قیامت جس کا تم ہمیشہ سہارا لیتے ہو، اگر تم سچ کہتے ہو تو بتلاؤ کہ وہ کب آئے گی۔ ان کا یہ پوچھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچ بولنے والے آدمی کو اس مطلب کے تمام جزئیات کا جس کی وہ خبر دے رہا ہے علم ہونا چاہیئے اور اس کے کم و کیف اور زمان و مکان سے بھی آگاہ ہونا چاہیئے۔ لیکن قرآن ہمیشہ اس مطلب کے صریح جواب اور قیامت کے وقوع کے زمان کی تعین سے پہلو تہی کرتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ یہ ان امور میں سے ہے کہ جس کا علم خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں ہے۔ لہٰذا بعد والی آیت میں اسی مطلب کو ایک دوسری عبارت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کہہ دو کہ تمہارا وعدہ اس دن ہو گا کہ نہ ایک گھڑی اس سے تاخیر ہو گی اور نہ ہی ایک لمحہ بھر اس سے آگے بڑھو گے" (قُلْ لَكُمْ مِيعادُ يَوْمٍ لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ ساعَةً وَلا تَسْتَقْدِمُونَ‏)۔ یہ قیامِ قیامت کی تاریخ کا مخفی ہونا یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، اس بناء پر ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ لوگ ایسی آزادی عمل جو انہیں ہمیشہ آمادہ رہنے کی حالت میں تیار رکھنے کے حامل ہوں کیونکہ اگر قیامت کی تاریخ معین ہو جائے تو اگر اس کا زمانہ دور ہوتا تو سب کے سب غفلت، غرور اور بےخبری میں جا پڑتے اور اگر اس کا زمانہ نزدیک ہوتا، تو ممکن تھا کہ وہ آزادی عمل کو ہاتھ سے کھو بیٹھتے اور ان کے اعمال اضطراری صورت اختیار کر لیتے اور دونوں صورتوں میں انسان کے تربیتی ہدف بےنتیجہ رہ جاتے، اسی بناء پر قیامت کی تاریخ تمام لوگوں سے پوشیدہ ہے، جیسا کہ شبِّ قدر کی تاریخ وہی رات کہ جو ہزار ماہ کی فضیلت رکھتی ہے، یا حضرت مہدی علیہ السلام کے قیام کی تاریخ۔ وہ تعبیر کہ جو سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۵ میں آئی ہے: " إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكادُ أُخْفِيها لِتُجْزى‏ كُلُّ نَفْسٍ بِما تَسْعىٰ" (قیامت یقینی طور پر آئے گی، میں چاہتا ہوں کہ اسے مخفی رکھوں تاکہ ہر شخص کو اس کی اپنی سعی و کوشش کے مقابلہ میں جزا دی جائے) اسی معنی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ اس ضمن میں کہ وہ یہ تصور کرتے تھے، کہ پیغمبر جو قیامت کے بارے میں خبر دے رہا ہے، اگر وہ سچ کہہ رہا ہے تو اسے اس کی یقینی تاریخ کا بھی علم ہونا چاہیئے۔ یہ ان کی انتہائی غلط فہمی ہے اور ان کے وظیفہٴ نبوت سے بےخبری اور لاعلمی کی دلیل ہے، کیونکہ وہ تو صرف احکام کو پہنچانے اور بشارت و انذار پر مامور تھے۔ باقی رہا قیامت کا مسئلہ تو وہ خدا سے مربوط ہے اور صرف وہی اس کے تمام جزئیات سے آگاہ ہے اور صرف اسی حصّہ کو جسے مسائل تربیتی کے لیے اُس نے ضروری سمجھا پیغمبر کے اختیار میں دیا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن، مخالفین کی تہدید کے مقام میں کہتا ہے کہ: "تم قیامت کے مقررہ وعدہ سے ایک لحظہ کے لیے بھی تاخیر نہیں کر وگے" (لا تستاخرون) لیکن یہ کیوں کہتا ہے کہ ایک لحظہ کے لیے مقدم بھی نہیں ہو گی، قرآن کے ہدف میں اس بات کا کیا اثر ہے؟ اس کے جواب میں دو نکات کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے: پہلا یہ ہے کہ ان دونوں کو اکٹھا ذکر کرنا ہمیشہ کسی چیز کی تاریخ کے قطعی اور یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہے ٹھیک اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں کام میں دیر یا جلدی نہیں ہے بلکہ اس کے وعدہ کا وقت قطعی و یقینی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہٹ دھرم کفار کی ایک جماعت ہمیشہ پیغمبروں پر دباؤ ڈالتی رہتی تھی کہ یہ قیامت آتی کیوں نہیں، دوسرے لفظوں میں انہیں اس کے لیے جلدی تھی، خواہ استہزاء کے طور پر یا بغیر استہزاء کے، قرآن انہیں کہتا ہے کہ تم جلدی نہ کرو، اس کی تاریخ اور وقت وہی ہے جو خدا نے مقرر کیا ہوا ہے۔

31
34:31
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ
کافروں نے کہا کہ :ہم اس قرآن پر اور جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ہرگز ایمان نہیں لائیں گے،اور اگر تو دیکھے کہ جس وقت یہ ستمگر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں (حساب و کتاب کے لیے) کھڑے ہوں گے (توان کی وضع و کیفیت سے تجھے تعجب ہو گا) جبکہ ان میں سے ہر ایک اپنا گناہ دوسرے کی گردن میں ڈال رہا ہوگا، مستضعفین مستکبرین سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہو جاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
34:32
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ
لیکن مستکبرین مستضعفین کو جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک رکھا تھا، اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آئی (اور تم نے اسے اچھی طرح سے پالیا تھا)؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
34:33
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَغۡلَٰلَ فِيٓ أَعۡنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
مستضعفین مستکبرین سے کہیں گے: تمہارے رات دن کے فریب دینے والے وسوسے (ہماری گمراہی کا سبب بنے) جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم خدا کا انکار کردیں، اور اس کے شریک قرار دیں، وہ جس وقت عذاب (الٰہی) کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت اور پشیمانی کو چھپائیں گے اور ہم کافروں کی گردن میں طوق و زنجیر ڈال دیں گے، کیا اس کے علاوہ کہ جو وہ عمل کرتے تھے کوئی اور جزا انہیں دی جائے گی ؟

تفسیر: مستضعفین اور مستکبرین کی گفتگو

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

اس بحث کی مناسبت سے کہ جو گزشتہ آیات میں مسئلہ معاد پر مشرکین کی طرف سے اعتراضات کے بارے میں تھی زیرِبحث آیات میں ان کے لیے معاد کے بعض دردناک مناظر کی تصویرکشی کرتا ہے، تاکہ و ہ اپنے کام کے انجام سے واقف ہو جائیں۔ پہلے کہتا ہے کہ: "ہم اس قرآن پر اور جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ہرگز بھی ایمان نہیں لائیں گے" (وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهذَا الْقُرْآنِ وَلا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ)۔ لفظ "لن" جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کی نفی کے لیے ہے۔ اس بناء پر وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اگر تم ابد تک بھی ہمیں تبلیغ کرو تو ہم ایمان نہیں لائیں گے اور یہ ان کی ہٹ دھرمی کی دلیل ہے کہ انہوں نے ابد تک کے لیے اپنے ارادے کو پختہ کر لیا تھا حالانکہ ایک حق طلب آدمی اگر کسی دلیل سے مطمئن نہ ہو تو وہ آئندہ کی احتمالی دلیلوں کا سنے بغیر انکار نہیں کر سکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں دوسرے دلائل کو بھی رد کرتا ہوں۔ اس بارے میں کہ " الَّذِينَ كَفَرُوا" سے کون لوگ مراد ہیں، مفسرین کی ایک جماعت نے تو اس کی مشرکین کے ساتھ تفسیر کی ہے اور بعض نے یہود اور اہلِ کتاب کے ساتھ، لیکن بعد والی آیات کے قرائن کہ جو شرک کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اس سے مراد مشرکین ہی ہیں۔ " بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ" سے مراد وہی کتبِ آسمانی ہیں کہ جو قرآن سے پہلے دوسرے پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں، کیونکہ قرآن کی بہت سی آیات میں یہ تعبیر خصوصاً ذکرِ قرآن کے بعد اسی معنی میں استعمال ہوئی ہے اور یہ بات جس کا بعض نے احتمال دیا ہے کہ اس سے مراد "معاد" اور یا قرآن کے مضامین تھے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔ بہرحال پہلے انبیاء کی کتب پر ایمان سے انکار شاید اس بناء پر تھا کہ قرآن اس مطلب پر تکیہ کرتا ہے کہ پیغمبرِ السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشانیاں تورات و انجیل میں وضاحت کے ساتھ آئی ہیں اور پیغمبرِ السلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی نفی کرنے کے لیے دوسری کتب آسمانی کی بھی نفی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ ہم اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور نہ اس سے پہلے کی کتب پر۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رُوئے سخن کرتے ہوئے قیامت میں ان کی وضع و کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "اگر تُو دیکھے کہ جب یہ ستمگر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حساب و کتاب اور دادرسی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے (تو ان کی وضع و کیفیت سے تُو حیرت میں ڈوب جائے گا) جبکہ ان میں سے ہر ایک اپنا گناہ دوسرے کی گردن میں ڈالے گا اور ایک دوسرے کے خلاف جھگڑا اور لڑائی کر رہے ہوں گے" (وَلَوْ تَرى‏ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلى‏ بَعْضٍ الْقَوْلَ) [تشریحی نوٹ: "یرجع" فعلِ لازم کی شکل میں بھی استعمال ہوتا ہے اور فعلِ متعدی کی شکل میں بھی اور یہاں دوسری شکل میں ہے اور ارجاع اور لوٹانے کا معنی دیتا ہے اور چونکہ اس کے بعد (بَعْضُهُمْ إِلى‏ بَعْضٍ) آیا ہے لہٰذا نتیجہ "مفاعلة" کا معنی دیتا ہے]۔ اوپر والی آیت سے ایک دفعہ اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ "ظلم" کے اہم ترین مصادیق میں سے ایک وہی "شرک" اور "کفر" ہے۔ " عِنْدَ رَبِّهِمْ " کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسی ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے کہ جو اُن کا مالک اور پروردگار ہے اور اس سے بڑھ کر شرمندگی و شرمساری کی اور کیا بات ہو گی کہ انسان ایک ایسی ہستی کے سامنے پیش ہو کہ نہ تُو وہ اس پر ایمان لایا ہو اور نہ ہی اس کے احکامات و فرامین پر، در آنحالیکہ اس کا سارا وجود اسی کی نعمتوں کا مرہونِ منّت ہو۔ اس حال میں "مستضعفین" وہی بےخبر لوگ کہ جو آنکھ، کان بند کیے ہوئے دوسروں کے پیچھے لگے ہوئے تھے مستکبرین سے یعنی اُنہی لوگوں سے کہ جو کبر و غرور اور دوسروں پر تسلط جمانے اور انہیں شیطانی سوچ کا راستہ دکھاتے تھے، اس طرح کہیں گے: "اگر تم نہ ہوتے اور اگر تمہارے شیطنت آمیز فریب دینے والے وسوسے نہ ہوتے تو ہم مومنین میں سے ہوتے" (يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْ لا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِين)۔ وہ اس طرح سے اپنے تمام گناہ ان بےرحم مستکبرین کی گردن میں ڈالنا چاہیں گے، اگرچہ دُنیا میں وہ اس قسم کی قطعی اور دو ٹوک بحث کرنے کی مجال نہ رکھتے تھے، چونکہ ضعف و ناتوانی ان کے وجود پر غالب آئی ہوئی تھی اور وہ اپنی حرّیت و آزادی کھو چکے تھے، لیکن اب جبکہ وہ تمام جھوٹے مفاہیم جنہوں نے مستکبرین کو ان سے جُدا کیا ہوا تھا برباد ہو گئے اور سب کے اعمال کے نتائج ظاہر و آشکار ہو گئے تو ان کے عین سامنے کھڑے ہو جائیں گے اور صراحت کے ساتھ ان سے بات کریں گے اور ان سے پر خاش رکھیں گے۔ لیکن مستکبرین بھی خاموش نہیں رہیں گے، "وہ جواب میں مستضعفین سے یہ کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت کی راہ سے روکا تھا، جبکہ ہدایت بھی تمہارے پاس آ گئی تھی اور کافی حد تک اتمامِ حجت بھی ہو گئی تھی اور پیغمبروں نے بھی تمام ضروری باتیں کہہ دی تھیں" (قالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَ نَحْنُ صَدَدْناكُمْ عَنِ الْهُدى‏ بَعْدَ إِذْ جاءَكُم)۔ نہیں ہم تمہارے جوابدہ نہیں ہیں، "بلکہ تم خود ہی گنہگار تھے، کہ تم نے آزادی ارادہ رکھنے کے باوجود ہماری بےبنیاد باتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، کفر و الحاد کی طرف رُخ کیا اور انبیاء کی منطقی باتوں کو بھلا بیٹھے" (بَلْ کُنْتُمْ مُجْرِمِیْنَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ مستکبرین اپنے وسوسوں کی وجہ سے عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے لیکن ان کی یہ بات بھی واقعیت رکھتی ہے کہ ان کے پیچھے لگنے والوں کو آنکھ اور کان بند کر کے ان کے پیچھے نہیں لگ جانا چاہیئے تھا، اس لحاظ سے ان کا گناہ خود انہیں کی گردن پر ہے۔ لیکن "مستضعفین" اس جواب پر قناعت نہیں کریں گے اور مستکبرین کو مجرم ثابت کرنے کے لیے دوبارہ گفتگو شروع کر دیں گے اور مستکبرین سے اس طرح کہیں گے: "بلکہ تمہارے وسوسے، سازشیں اور شب و روز کے مکارانہ پروپیگنڈے اس بات کا سبب بن گئے کہ ہم ہدایت حاصل کرنے سے باز رہیں، جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم خدا کا انکار کر دیں اور اس کے لئے شریک و شبیہ قرار دیں" (وَقالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ إِذْ تَأْمُرُونَنا أَنْ نَكْفُرَ بِاللهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْداداً)۔ ہاں! تم ہی تو تھے جو اپنے بُرے پروپیگنڈے سے دست بردار نہیں ہوتے تھے اور دن رات اپنے بُرے مقاصد کی پیشرفت کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم قبول کرنے میں آزاد تھے اور قصوروار و گنہگار، لیکن عاملِ فساد ہونے کے بناء پر تم بھی جوابدہ اور گنہگار ہو، بلکہ سنگِ بنیاد تو تمہارے ہی ناپاک ہاتھوں سے رکھا گیا، خاص طور پر جبکہ تم ہمیشہ ہی اپنی قدرت و طاقت اور قتدار کی بناء پر بات کرتے تھے "تأ مروننا" کی تعبیر اس مطلب پر گواہ ہے۔ یہ بات صاف طور پر واضح اور ظاہر ہے کہ مستکبرین اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتے تھے اور اس عظیم جرم میں اپنی شرکت کا انکار نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا دونوں گروہ اپنے کیے پر پشیمان ہوں گے، مستکبرین تو دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے اور مستضعفین ان بُرے وسوسوں کو بِلا قید و شرط قبول کرنے کی وجہ سے "لیکن جس وقت عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت و پشیمانی کو چھپائیں گے کہ کہیں اور زیادہ رسوا نہ ہو جائیں اور ہم طوق و زنجیر کافروں کی گردن میں ڈال دیں گے" (وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلالَ فِي أَعْناقِ الَّذِينَ كَفَرُوا)۔ اگرچہ اس جہان میں کہ جو ہر چیز کے ظاہر ہو جانے کا دن ہے اور اس دن کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جا سکے گی، کسی چیز کو چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لیکن وہ اپنی اسی پرانی عادت کے مطابق کہ جو وہ دنیا میں رکھتے تھے، اس خیال سے کہ وہ (یہاں بھی) اپنی حالت کو چھپا سکتے ہیں چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ہاں! وہ دنیا میں بھی جس وقت اپنی غلطی کو محسوس کرتے تھے، اوراس پر نادم و پشیمان ہوتے تھے تو اظہارِ ندامت کی جرأت جو تجدیدِ نظر اور بازگشت کے لئے ضروری تھی نہیں رکھتے تھے اور اپنی اسی اخلاقی خصوصیت کو قیامت میں بھی استعمال کریں گے، لیکن کیا فائدہ؟ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ ندامت کو پنہاں رکھنا عذابِ الٰہی کے مشاہدہ اور ان کی گردن میں طوق و زنجیر کے پڑنے سے شدتِ وحشت کی بناء پر ہو گا ان کے سانس ان کے سینوں میں رک جائیں گے اور ان کی زبان بات کرنے سے عاجز ہو گی۔ اگرچہ قیامت کے دوسرے مواقف میں وہی لوگ " يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِين" "ہائے افسوس! ہم ہی ظالم تھے" کی فریاد کریں گے۔ (انبیاء ۱۴)۔ بعض نے یہاں "اسرار" کا معنی "اظہار" کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لفظ عربی زبان میں دو متضاد معانی میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی مثالیں کم نہیں ہیں۔ لیکن قرآن میں بھی اور غیر قرآن میں بھی اس لفظ "اسرار" کے مواقع استعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ معنی بعید نظر آتا ہے کیونکہ "سر" عام طور پر "علن" کے مقابلہ میں آتا ہے اور راغب نے بھی "مفردات" میں اس قول کے ضعیف ہونے کی تصریح کی ہے، اگرچہ بعض علماءِ لغت نے دونوں معانی کی طرف اشارہ کیا ہے [بحوالہ: "لسان العرب" میں مادہ "سر" کے ذیل میں اس سلسلہ میں تفصیلی بحث کی گئی ہے اور اہلِ لغت و ادب کے اس بارے میں اختلاف کو نقل کیا ہے (جلد ۴، صفحہ ۳۵۷)]۔ بہرحال یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ جو انہوں نے پہلے سے فراہم کیا ہے۔ "کیا انہیں کوئی اور جزأ سوائے ان اعمال کے کہ جو وہ انجام دیا کرتے تھے ملے گی" (هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما كانُوا يَعْمَلُونَ)۔ ہاں! یہ کفار و مجرمین کے اعمال و کردار ہی ہوں گے، جو اُن کی گردن اور ہاتھ پاؤں میں قید کی زنجیروں کی صورت میں ڈال دی جائے گی، وہ اِس جہان میں بھی ہوائے نفس اور زر و زور اور پستی و بلندی کے اسیر تھے اور قیامت میں جب اعمال مجسم ہو کر سامنے آئیں گے تو وہی قیدیں دوسری شکل میں ظاہر ہوں گی۔ اوپر والی آیت ایک مرتبہ پھر تجسمِ اعمال کے مسئلہ کو جس کی طرف ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے واضح کر رہی ہے، کیونکہ وہ یہی بات کہہ رہی ہے کہ "ان کی جزاء خود انہیں کے اعمال ہیں" اور تجسمِ اعمال کے لیے اس سے زیادہ ظاہر و واضح اور کون سی تعبیر ہو گی۔ " الَّذِينَ كَفَرُوا" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اغوأ اور گمراہ کرنے والے مستکبر بھی اسی انجام کو پہنچیں گے اور اغوأ اور گمراہ ہونے والے مستضعف اور سب کافر بھی اسی انجام میں گرفتار ہوں گے اور اصولی طور پر اس وصف کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ ان کی مجازات اور سزا کی علت وہی ان کا کفر ہے۔

34
34:34
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
ہم نے کسی شہر اور بستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے مترفین (جو ناز و نعمت میں مست تھے) نے کہا ہم اس سے کہ جو کچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو کافر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
34:35
وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
اور انہوں نے یہ کہا کہ ہمارے اموال اور اولاد (سب سے) زیادہ ہیں۔ اور ہمیں ہر گز عذاب نہیں ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
34:36
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
کہہ دے کہ میرا پروردگار جس کی چاہتا ہے روزی وسیع یا تنگ کر دیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
34:37
وَمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُم بِٱلَّتِي تُقَرِّبُكُمۡ عِندَنَا زُلۡفَىٰٓ إِلَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ جَزَآءُ ٱلضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُواْ وَهُمۡ فِي ٱلۡغُرُفَٰتِ ءَامِنُونَ
تمہارے مال اور اولاد ہرگز تمہیں ہمارا مقرب نہیں بناتے، سوائے ان کے بدلے میں جو انہوں نے انجام دیئے ہیں ان کے لئے ہی ان کے اعمال کی کئی گنا جزا ہے، اور وہ جنت کے بالاخانوں میں (انتہائی) امن و امان میں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
34:38
وَٱلَّذِينَ يَسۡعَوۡنَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ
اور وہ لوگ کہ جو ہماری آیات کے انکار کی کوشش کرتے رہے اور یہ خیال کرتے رہے کہ ہماری قدرت کے چنگل سے نکل کر بھاگ جائیں گے،وہ عذاب (الٰہی) میں داخل ہوں گے۔

تفسیر: مال و اولاد قربِ خدا کی دلیل نہیں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

چونکہ گزشتہ آیات میں مستکبرین کے (لوگوں کو) اغواء کرنے کے بارے میں گفتگو تھی، زیرِبحث آیات میں اس اغواگری کے ایک گوشے کو بیان کیا جا رہا ہے اور ضمنی طور پر پیغمبرِ گرامی اسلام کو بھی تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر وہ تیری مخالفت کریں تو اس بات پر تعجب نہ کر کیونکہ مرفہ الحال مستکبرین کی طرف سے سچے پیغمبروں کی مخالفت کرنا تو ان کا شیوہ اور عادت رہی ہے۔ کہتا ہے: "ہم نے کسی شہر یا بستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے مترفین وہی لوگ جو ناز و نعمت میں مست اور مغرور ہو چکے تھے انہوں نے کہا ہم اس چیز کہ جو تم دے کر بھیجے گئے ہو منکر و کافر ہیں اور جسے تم خدائی پیغام کا نام دیتے ہو اُسے ہم قبول نہیں کرتے"۔ (وَما أَرْسَلْنا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قالَ مُتْرَفُوها إِنَّا بِما أُرْسِلْتُمْ بِهِ كافِرُونَ). "نذیر" کا معنی ہے ڈرانے والا اور یہ خدا کے پیغمبروں کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگوں کو ان کی کج رویوں، بیدادگریوں اور گناہ و فساد کے مقابلہ میں خدا کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ "مترفوھا" جمع ہے "مترف" کی "ترف" بر وزن طرف کے مادہ سے جو تنعم کے معنی میں ہے اور مترف اس شخص کو کہتے ہیں کہ جسے نعمت کی زیادتی اور زندگی کی مرفہ الحالی نے مست، مغرور اور غافل کر دیا ہو اور سرکشی پر اکسایا ہو ["لسان العرب" جلد ۹، ص ۱۷]۔ ہاں! عام طور پر وہ لوگ کہ جو انبیاء کے صفِ اوّل کے مخالف تھے، وہ یہی مترف، سرکش اور غافل لوگ تھے، چونکہ وہ ایک طرف سے تو انبیاء کی تعلیمات کو اپنے مقاصد کے حصول اور اپنی ہوس رانی سے مزاحم سمجھتے تھے اور دوسری طرف سے وہ اُسے اُن محرومین کے حقوق کا دفاع کرنے والا جانتے تھے کہ جن کے حقوق کو غصب کر کے وہ ایسی زرق برق زندگی گزار رہے تھے اور تیسری طرف سے وہ ہمیشہ اپنے مال و ثروت کی حفاظت کے لیے حکومت کی قدرت کو معاون و مددگار سمجھتے تھے اور پیغمبروں کو ان تمام جہات میں اپنا مدِّمقابل سمجھتے تھے، لہٰذا فوراً ان سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ کسی خاص حکم یا تعلیم کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ تو کلی طور پر یہ کہتے تھے کہ: "ہم اُن تمام چیزوں کے کہ جن کے ساتھ تم مبعوث ہوئے ہو کافر ہیں" یہاں تک کہ ہم ایک قدم بھی تمہارے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کی یہ بات خود حق کے مقابلہ میں ان کی لجاجت، ہٹ دھرمی اور عناد کی بہترین دلیل تھی۔ یہ حقیقت ایک اہم مسئلہ ہے کہ جس سے قرآن نے مختلف آیات میں پردہ اٹھایا ہے کہ عام طور پر محرومین ہی پہلے وہ افراد ہوتے تھے کہ جو انبیاء کی دعوت پر لبیک کہتے تھے اور مغرور ثروت مند متنعمین ہی وہ پہلا گروہ ہوتا تھا جو عَلَمِ مخالفت بلند کرتا تھا۔ باوجودیکہ مسلّمہ طور پر دعوتِ انبیاء کے منکر اسی گروہ میں منحصر نہیں تھے لیکن عام طور پر عاملینِ فساد اور شرک و خرافات کی طرف دعوت دینے والے وہی ہوا کرتے تھے کہ جو ہمیشہ اس بات کی کوشش کیا کرتے تھے کہ زبردستی دوسروں کو بھی انہیں راستوں پر چلائیں۔ سورہ زخرف کی آیہ ۲۳، سورہ ہود کی آیہ ۱۱۶ اور سورہ مومنون کی آیہ ۳۳ میں بھی یہی مطلب بیان ہوا ہے۔ نہ صرف انبیاء کے مقابلہ میں بلکہ ہر اصلاحی قدم جو کسی دانشمند مصلح اور عالمِ مجاہد کی طرف سے اٹھے یہ گروہ مخالفت کے لیے سر اٹھاتا اور مصلحین کے پروگراموں کو درہم برہم کرنے کے لیے سازشیں کرتا اور کسی بھی جرم کے ارتکاب سے باز نہیں رہتا۔ بعد والی آیت ان کی لچر اور پوچ منطق کی طرف کہ جس سے ہر زمانہ میں اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لیے متوسل ہوا کرتے تھے اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ: "اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم سب سے زیادہ ثروت مند اور سب سے زیادہ آل اولاد رکھتے ہیں" (وَقالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوالًا وَأَوْلاداً). خدا ہم سے محبت رکھتا ہے، لہٰذا اس نے ہمیں مال بھی فراواں دے رکھا ہے اور بہت سی افرادی قوت بھی اور یہ بات ہمارے حق میں اس کے لطف و کرم کی اور اس کی بارگاہ میں ہمارے مقام اور حیثیت کی دلیل ہے: "اور ہم (نور چشموں) کو ہرگز بھی عذاب نہیں ہو گا" (وَما نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ). کیا خدا اپنے معززین اور پیاروں کو عذاب دے گا؟! اگر ہم اس کی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے ہوتے، تو وہ یہ ساری نعمتیں ہمیں کیوں دیتا؟! خلاصہ یہ ہے کہ ہماری دنیا کا آباد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری آخرت بھی آباد ہو گی۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ (وَما نَحْنُ بِمُعَذَّبین) کا جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کُلی طور پر قیامت اور عذاب کے ہی منکر تھے، لیکن بعد والی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ جملہ اس معنی میں نہیں ہے، بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ اپنی ثروت و دولت کو مقربِ بارگاہ خدا ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ بعد والی آیت ان کی اس گھٹیا اور عوام کو فریب دینے والی منطق کا انہتائی اعلیٰ طریقہ سے جواب دیتی ہے اور ان کی سرکوبی کرتی ہے، روئے سخن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ: "ان سے کہہ دے کہ میرا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے اس میں تنگی کر دیتا ہے" (اور یہ سب کچھ ایسی مصلحتوں کے مطابق کرتا ہے کہ جنہیں مخلوق کی آزمائش اور انسانی زندگی کے نظم و نسق کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور یہ چیز بارگاہِ خداوندی میں قدر و منزلت اور مقام و حیثیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی) (قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ).اس بناء پر وسعتِ رزق کو سعادت کی اور تنگیٴ رزق کو شقادت کی دلیل ہرگز نہیں سمجھنا چاہیئے: "لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بےخبر ہیں" (وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ)۔ البتہ بےخبر اور ناواقف اکثریت ایسی ہے ورنہ واقف اور آگاہ لوگوں کیلئے یہ مسئلہ واضح و آشکار ہے۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے ساتھ اس مطلب کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "ہرگز ایسا نہیں ہے، کہ تمہارا مال و اولاد تمہیں ہمارا مقرب بنا دے" (وَما أَمْوالُكُمْ وَلا أَوْلادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى)["زلفی" اور "زلفة" مقام و منزلت اور منزل گاہ کے معنی میں آیا ہے (مفرداتِ راغب) اسی بناء پر رات کی منازل کو زلف الیل کہتے ہیں "التی" کی تعبیر اس بناء پر ہے، کیونکہ بہت سے موارد میں مفرد مونث کی ضمیر جمع مکسر کی طرف لوٹتی ہے، اس بناء پر یہاں تقدیر کی ضرورت نہیں ہے]۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ جو عوام کے ایک گروہ کو دامن گیر ہو گئی ہے۔ کہ جو یہ تصوّر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو دنیا میں مادی لحاظ سے محروم ہیں وہ بارگاہِ خدا میں مغضوب و مطرود ہیں اور وہ لوگ کہ جو نعمت کی فراخی میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ اس کے محبوب و مقبول ہیں۔ کتنے ہی ایسے محروم افراد ہوتے ہیں کہ جن کی اس (محرومیت) کے ذریعہ آزمائش ہوتی ہے اور بدترین مقامات تک پہنچتے ہیں اور کتنے ہی متنعم افراد ایسے ہیں کہ جن کا مال و دولت ان کے لیے بلائے جان بن جاتا ہے اور ان کی گناہگاری یا حد سے بڑھ جانے کا مقدمہ بنتا ہے۔ کیا قرآن سورہ تغابن کی آیہ ۱۵ میں صراحت کے ساتھ یہ نہیں کہتا کہ: (إِنَّما أَمْوالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ‏) "تمہارے مال اور اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں اور اجرِ عظیم خدا کے پاس ہے"۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان زندگی کے لئے لازمی و ضروری سعی و کوشش سے ہی دستبردار ہو جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اقتصادی وسائل اور فراواں انسانی قدرت و طاقت ہرگز خدا کی بارگاہ میں انسانوں کی معنوی قدر و قیمت کا معیار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد انسانوں کی قدر و قیمت کا اصلی معیار اور جو چیز خدا کی بارگاہ میں تقرب کا سبب بنتی ہے اُسے بیان کرتے ہوئے (ایک استثنائے منفصل کی صورت میں) کہتا ہے کہ: "مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عملِ صالح انجام دیئے ان کے لیے ان کے اعمال کے مقابلہ میں کئی گنا اجر و ثواب ہے اور وہ جنت کے بالاخانوں میں انتہائی امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کریں گے" (إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ بِما عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفاتِ آمِنُونَ) [جزاء الضعف کی تعبیر موصوف کی صفت کی طرف اضافت کی قبیل سے ہے]۔ اس بناء پر تمام معیار ان ہی دونوں امور کی طرف لوٹتے ہیں "ایمان" اور "عملِ صالح" خواہ کوئی بھی آدمی ہو، ہر زمانے میں اور ہر جگہ، وہ کسی بھی طبقہ سے ہو یا کسی گروہ سے ہو، بارگاہِ خدا میں انسانوں کے درمیان تفاوت اور فرق ان کے ایمان کے درجات اور عملِ صالح کے مراتب کے تفاوت اور فرق کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے سوا اور کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ علم و دانش اور بزرگ افراد کی طرف نسبت، یہاں تک کہ پیغمبروں کے ساتھ (نسبت بھی) اگر ان دونوں معیاروں سے توام نہ ہو، تو صرف یہ اکیلی نسبت انسان کی قدر و قیمت میں ذرا سا بھی اضافہ نہیں کرتی۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں قرآ ن نے اپنی بےنظیر صراحت کے ذریعہ پروردگار کے قرب کے عوامل کے سلسلہ میں اور انسان کی وجودی قدر و قیمت کے بارے میں تمام بےمعنی اور لغو خیالات پر قلم بطلان کھینچ دیا ہے اور اصل معیار کا دو چیزوں میں خلاصہ کر دیا ہے کہ جن کے حاصل کرنے پر تمام انسان قدرت رکھتے ہیں اور مادی امکانات و وسائل اور محرومیتیں اس میں مئوثر نہیں ہیں۔ ہاں! اگر مال و اولاد بھی یہی راستہ اختیار کر لیں تو وہ بھی خدائی رنگ میں رنگے جائیں گے اور ایمان اور عملِ صالح کا رنگ قبول کر لیں گے اور قربِ خدا کا سبب بن جائیں گے، لیکن وہ مال اور اولاد کہ جو انسان کو خدا سے دور کر دیں اور ایک بُت کی طرح پوجے جانے لگیں اور فساد برپا کرنے کا سبب بن جائیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں اور قرآن کے کہنے کے مطابق انسان کی جان اور اس کی سعادت و نیک بختی کے لیے دشمن ہیں۔ (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ) "اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور کچھ اولاد تمہاری دشمن ہے ان سے ڈرتے رہو" (تغابن ۱۴)۔ ضمنی طور پر جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے "ضعف" صرف "رکنے" کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ "چند برابر" (کئی گنا) کے معنی میں بھی آیا ہے اور زیرِ بحث آیت میں اسی معنی میں ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر نیک کام کی پاداش اور اجر، خدا کے ہاں کم از کم دس گنا ہے: (مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها)۔ (انعام ۱۶۰) اور کبھی اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ "غرفات" جمع ہے "غرفہ" کی کہ جو اُن کمروں کے معنی میں ہے کہ جو اوپر والے طبقہ میں ہوں، کہ جن میں روشنی بھی زیادہ آتی ہے اور ہَوَا بھی بہتر ہوتی ہے اور آفات سے بھی بچے ہوئے ہوتے ہیں، اس بناء پر یہ تعبیر جنت کے اعلیٰ منازل کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ یہ لفظ اصل میں مادہ "غرف" (بر وزن برف) کسی چیز کو اوپر لے جانے اور اٹھانے کے معنی میں ہے۔ "اٰمنون" (وہ لوگ جو امن و امان میں زندگی بسر کرتے ہیں) کی تعبیر، اہلِ بہشت کے بارے میں بہت ہی جامع تعبیر ہے، کہ جو ان کی روح اور جسم کے آرام و سکون کو ہر لحاظ سے ظاہر کرتی ہے، کیونکہ وہاں انہیں نہ تو فنا و زوال کا اور موت کا خوف ہو گا اور نہ ہی دشمن کے حملہ کا خطرہ، نہ کوئی بیماری اور آفت اور غم و اندوہ، یہاں تک کہ انہیں خوف کا بھی کوئی خوف نہیں ہو گا اور اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو گی کہ انسان ہر لحاظ سے امن و امان میں زندگی بسر کرے جیسا کہ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بدامنی سے بدتر کوئی بلا اور مصیبت نہیں ہے۔ اور بعد والی آیت میں ان کے مدِّ مقابل گروہ کی توصیف کرتے ہوئے کہتا ہے: "باقی رہے وہ لوگ کہ جو ہماری آیات کے انکار و ابطال کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں، نہ تو وہ خود ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو حق کی راہ میں قدم رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، اس حال میں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری قدرت کے چنگل سے نکل کر بھاگ جائیں گے، وہ تو قیامت کے دن دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے" (وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ أُولئِكَ فِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ)۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے مال و اولاد اور افرادی قوت سے استفادہ کرتے ہوئے انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں اور مخلوقِ خدا کو وسوسے میں ڈالنے میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اس قدر مغرور ہو گئے تھے کہ وہ یہ گمان کرنے لگ گئے تھے کہ وہ عذابِ الہٰی کے چنگل سے نکل کر بھاگ جائیں گے لیکن وہ سب کے سب خدا کے حکم سے جلانے والی آگ کے اندر جھونک دیئے جائیں گے۔ " أُولئِكَ فِي الْعَذابِ مُحْضَرُون" کے جملہ میں کیونکہ آئندہ زمانہ کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے، لہٰذا ممکن ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ اب اس وقت بھی عذاب میں گرفتار ہیں۔ اس زندان سے بڑھ کر اور کونسا عذاب ہو گا کہ جو انہوں نے مال و اولاد کے ذریعہ اپنے لیے بنا لیا ہے۔ یہ احتمال بھی اس میں موجود ہے کہ اوپر والی تعبیر اس بناء پر ہو کہ خدا کا یہ وعدہ ایسا مسلم اور یقینی ہے کہ گویا وہ اسی وقت اس میں قرار پا گئے ہیں جیسا کہ جملہٴ "فهم فِي الْغُرُفاتِ آمِنُون" میں بیان ہوا ہے۔ "معاجزین" کی تعبیر جیسا کہ بعض اربابِ لغت نے کہا ہے اس معنی میں ہے کہ وہ اس طرح خیال کرتے ہیں کہ وہ خدا کی قدرت اور اس کے عذاب سے نکل کر فرار کر سکتے ہیں، حالانکہ یہ خیال باطل اور بےبنیاد ہے ["لسان العرب" اور "مفرداتِ راغب" نے " مُعاجِزِين" کی (ظانين انهم يعجزون الله) "گمان کرتے ہیں کہ وہ خدا کو عاجز کر دیں گے" کے ساتھ تفسیر کی ہے اور حقیقت میں یہ " يخادعون الله و رسوله" کی تعبیر کے مشابہ ہے کہ جو سورہ بقرہ کی آیہ ۹ میں آئی ہے، کیونکہ باب مفاعلہ کبھی کبھی اس معنی میں آتا ہے]۔

چند اہم نکات: قدروں کا تعیّن

فرد اور جامعہ کی زندگی میں اہم مسئلہ پہچاننے کے معیار اور اس جامعہ کے تمدن پر حاکم اقدار کا نظام ہے۔ کیونکہ فرد اور معاشرے کی زندگی کی تمام تحریکیں قدروں کے اسی نظام سے پھوٹتی ہیں اور پھر یہی تحریکیں نئی اقدار کو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اس مسئلہ میں کسی قوم و ملت کی غلطی اور خیالی و بےبنیاد اقدار کو بروئےکار لانا، ان کی تاریخ کو تباہی کی طرف کھینچ لے جانے کے لیے کافی ہے اور واقعی اقدار اور سچے معیاروں کا ادراک ان کے ایوانِ سعادت کی محکم ترین بنیاد بنتا ہے۔ مغرور دنیا پرست قدر و قیمت کو صرف مال و منال مادی وسائل اور افرادی قوتوں تک محدود سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ بارگاہِ خدا میں شخصیت کا معیار بھی انہیں چیزوں میں تصور کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے اوپر والی آیت میں اس کا نمونہ دیکھا اور اس کے بہت سے اور نمونے قرآن میں نظر آتے ہیں۔ ۱۔ زر و زور پرست اور جبار فرعون اپنے مصاحبین سے کہتا ہے: "مجھے یقین نہیں آتا کہ موسیٰ، خدا کی طرف سے ہو، اگر وہ سچ کہتا ہے تو پھر اُسے سونے کے کنگن کیوں نہ دیئے گئے"؟! (فَلَوْ لا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ) (سورہ زخرف آیہ ۵۳)۔ یہاں تک کہ وہ اس قسم کے زر و زیور نہ رکھنے کو موسیٰ علیہ السلام کے مقام اور مرتبہ کی پستی کی دلیل شمار کرتا تھا اور کہتا تھا: " أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هذَا الَّذِي هُوَمَهِينٌ " (سورہٴ زخرف آیہ ۵۲)۔ ۲۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مشرکین اس بات سے کہ قرآن ایک تہی دست شخص پر نازل ہوا ہے تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ: " لَوْ لا نُزِّلَ هذَا الْقُرْآنُ عَلى‏ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيم" (یہ قرآن سرزمینِ مکّہ یا طائف کی کسی عظیم ثروت مند شخصیت پر کیوں نازل نہ ہوا)۔ (زخرف، آیہ ۳۱)۔ ۳۔ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے پیغمبر"اشموئیل" سے لشکر کی فرماندہی کے لئے "طالوت" کے انتخاب کے سلسلے میں اعتراض کرتے ہوئے کہا: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمال" (ہم فرماندہی اور حکمرانی کے لیے اس سے زیادہ حقدار ہیں، کیونکہ ہم مشہور و معروف خاندان سے ہیں، علاوہ ازیں طالوت کے پاس کچھ مال و دولت نہیں ہے)۔ (سورہ بقرہ ۲۴۷)۔ ۴۔ قومِ نوح کے مشرک ثروت مندوں نے اُن پر اعتراض کیا: "ان پست اور رذیل افراد نے تیرے اطراف کو کیوں گھیر رکھا ہے" اور پستی سے ان کی مراد مال و ثروت کا نہ ہونا ہے (قالُوا أَ نُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُون) "کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں حالانکہ اراذل اور پست لوگوں نے تیری پیروی کی ہے (اور تجھ پر ایمان لائے ہیں)۔ (سورہ شعراء آیہ ۱۱۱)۔ ۵۔ یہ اعتراض مکہ کے ثروتمندوں نے پیغمبرِ اسلام پر کیا تھا، کہ پا برہنہ (غریب) لوگوں نے تجھے کیوں گھیر رکھا ہے؟ ہم تو ان کے بدن کی بدبو سے بھی ناراحت اور پریشان ہو جاتے ہیں، اگر تُو انہیں اپنے سے دور کر دے تو پھر ہم تیرے پاس آئیں گے۔ قرآن سورہٴ کہف میں ان پر سختی کے ساتھ حملہ کرتا ہے اور شدید ترین لب و لہجہ میں انہیں تہدید کرتا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تجھے ایسے ہی لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیئے کہ جو اگرچہ تہی دست ہیں، لیکن ان کے دل عشقِ خدا سے پُر ہیں اور وہ صبح و شام درگاہِ خدا کی طرف رُخ کرتے ہیں اور اس کے سوا کسی کو نہیں چاہتے، اے پیغمبر! تم انہیں کے ساتھ رہو اور ان سے منہ نہ پھیرو " وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْناكَ عَنْهُم"۔ (کہف ۲۸)۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر انبیاء کا پہلا اور اہم اصلاحی قدم اسی جھوٹی عزت اور قدر و قیمت کی دیوار کو توڑنا تھا، انہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ ان غلط معیاروں کو ختم کیا اور اصل خدائی اقتدار کو ان کا جانشین بنایا اور ایک "علمی انقلاب" کے ذریعہ شخصیت کے محور کو مال و اولاد، ثروت و جاہ اور کنبہ و قبیلہ کی شہرت سے تقویٰ و ایمان اور عملِ صالح میں بدل دیا۔ اس کا نمونہ ہم نے زیرِبحث آیات میں پڑھ لیا ہے، کہ اموال و اولاد پر خطِ بطلان کھینچنے کے بعد بارگاہِ الٰہی میں تقرب کے ایک وسیلہ کے عنوان سے اور (وَما أَمْوالُكُمْ وَلا أَوْلادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى‏) کہہ کر بِلا فاصلہ اصل قدر و قیمت کو (إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً) کے جملہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آیہ شریفہ: (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُم) کہ جو ایک اسلامی شعار اور نعرے کی شکل میں آئی ہے، کنبہ اور قبیلہ سے وابستہ قدروں کی نفی کے بعد اسی فکری و اقداری انقلاب کو بیان کر رہی ہے۔ اسی آیہ (سورہ حجرات ۱۳) کے مطابق کوئی چیز بھی اُس تقویٰ اور ایمان کے سوا کہ جو احساسِ مسئولیت اور پاکیزگی عمل کے ساتھ ہو انسانوں کی شخصیت اور قدر و قمیت کا معیار اور خدا کی بارگاہ میں ان کے قرب کا ذریعہ نہیں ہے اور جو شخص اس اصل معیار سے زیادہ حصّہ رکھتا ہے وہی زیادہ مقرب اور زیادہ باعزت اور گرامیٴ قدر ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ سرزمینِ عرب کے ماحول میں، اسلام اور قرآن کی حیات بخش تعلیمات کے ظہور سے پہلے، زر و زور کی قدر و قیمت کے نظام کی حاکمیت کی وجہ سے اس ماحول کا نتیجہ اور ماحصل ابوسفیان، ابوجہل اور ابو لہب جیسے غارت گر اور منہ پھٹ لوگ تھے۔ لیکن اسی ماحول سے، اقدر کے نظام میں انقلاب آ جانے کے بعد مسلمان، ابوذر، مقداد اور عمار یاسر جیسے افراد سامنے آئے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآنِ مجید سورہ زخرف میں ان آیات کے ذکر کرنے کے بعد کہ جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہتا ہے: "نہ صرف یہ کہ مادی شان و شوکت شخصیت کی دلیل نہیں ہے، بلکہ اگر ایسا کرنے سے کچھ مفاسد وجود میں نہ آتے، تو ہم کافروں کے لئے ایسے گھر قرار دے دیتے کہ جن کی چھتیں چاندی کی ہوتیں اور اس کی سیڑھیاں (گراں قیمت) ہوتیں کہ جن کے ذریعہ وہ اوپر والے طبقات کی طرف جاتے اور ان کے کمروں کے لیے (شان و شوکت والے) ایسے دروازے اور (خوب صورت) تخت قرار دیتے کہ جن پر تکیہ لگاتے اور ہر قسم کے زیورات ہم ان کے اختیار میں دے دیتے، لیکن یہ سب کچھ دنیاوی زندگی کے مال و متاع ہیں اور آخرت کا گھر تیرے پروردگار کے پاس پرہیزگاروں کیلئے ہے" (وَلَوْ لا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ وَمَعارِجَ عَلَيْها يَظْهَرُونَ- وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ.. وَزُخْرُفاً وَإِنْ كُلُّ ذلِكَ لَمَّا مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِين) (زخرف، آیات ۳۳ ،۳۴، ۳۵)۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ جھوٹی قدریں انسان کی واقعی اور حقیقی اقدار کی جگہ نہ لے لیں۔

39
34:39
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥۚ وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ
کہہ دو: میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ (اور محدود) کر دیتا ہے اور جو چیز تم اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ اس کی جگہ تمہیں اور دے دے گا اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
34:40
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ أَهَـٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ
اور اس دن کو یاد کرو کہ جب خدا ان سب کو محشور کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ تمہاری عبادت کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
34:41
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ
وہ کہیں گے تو منزہ اور پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے نہ کہ وہ ۔بلکہ وہ تو جنات کی پرستش کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
34:42
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٖ نَّفۡعٗا وَلَا ضَرّٗا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
آج کے دن تم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے لیے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ تم اس آگ کا عذاب چکھو کہ جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔

تفسیر: معبودوں کی عبادت کرنے والوں سے بیزاری

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ان آیات میں دوبارہ ان لوگوں کی گفتگو کی طر ف رُخ کرتا ہے کہ جو اپنے اموال اور اولاد کو بارگاہِ خدا میں اپنے قرب کی دلیل سمجھتے تھے اور تاکید کے طور پر کہتا ہے: "کہہ دے کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی کو کشادہ یا محدود کر دیتا ہے" (قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "تم راہِ خدا میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے خدا اس کی جگہ اور دے دے گا اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے" (وَما أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍ فَهُوَيُخْلِفُهُ وَهُوَخَيْرُ الرَّازِقِين)۔ اگرچہ اس آیت کا مضمون گزشتہ مطلب کی تاکید ہے، لیکن دو جہات سے نئی چیز بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ آیت جس کا مفہوم یہی تھا، زیادہ تر کفار کے اموال و اولاد کے بارے میں تھی، جبکہ "عباد" (بندے) کی تعبیر زیرِبحث آیت میں اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مومنین کے بارے میں ہے، یعنی مومنین کے لئے بھی کبھی روزی کو فراخ اور کشادہ کرتا ہے جہاں مومن کے لیے مصلحت ہو اور کبھی ان کی روزی کو تنگ اور محدود کر دیتا ہے جہاں اس کی مصلحت معلوم ہو، بہرحال معیشت کی وسعت و تنگی کسی چیز کی دلیل نہیں بن سکتی۔ دوسری بات یہ کہ گزشتہ آیت تو معیشت کی وسعت و تنگی کو دو مختلف گروہوں کے بارے میں بیان کر رہی تھی، جبکہ زیرِبحث آیت میں ممکن ہے کہ یہ ایک ہی انسان کی دو مختلف حالتوں کی طرف اشارہ ہو کہ جس کی روزی کبھی کشادہ اور فراخ اور کبھی تنگ اور محدود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ اس آیت کی ابتداء میں بیان کیا گیا ہے وہ حقیقت میں اس چیز کیلئے ایک مقدمہ اور تمہید ہے کہ جو آیت کے آخر میں بیان کیا گیا ہے اور وہ خدا کی را ہ میں خرچ کرنے کی تشویق (شوق دلانا) ہے۔ "فَهُوَيُخْلِفُه" (وہ اس کی جگہ کو پُر کر دیتا ہے) کا جملہ، ایک جالب اور عمدہ تعبیر ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو کچھ راہِ خدا میں خرچ کیا جاتا ہے وہ حقیقت میں ایک نفع بخش تجارت ہے، کیونکہ خدا نے اس کا بدلہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی کریم شخص کسی چیز کا بدلہ دینے کا وعدہ کر لے تو وہ صرف اس کے مساوی برابر ہی بدلہ نہیں دیتا بلکہ وہ اس سے کئی گنا اور کبھی سو گنا بدلہ دیتا ہے۔ یقیناً خد اکا یہ وعدہ آخری اور دوسرے جہان کے لئے ہی نہیں ہے، ویسے وہ اپنی جگہ پر مسلّم ہے، لیکن وہ دنیا میں بھی راہِ خدا میں خرچ کرنے کی جگہ کو انواع و اقسام کی برکات سے احسن طریقہ سے پُر کرتا ہے۔ (هُوَخَيْرُ الرَّازِقِين) "وہ بہترین روزی دینے والا ہے" کا جملہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور مختلف جہات سے قابلِ غور ہے۔ وہ تمام روزی دینے والوں سے بہتر ہے، اس بناء پر کہ وہ یہ جانتا ہے کہ کونسی چیز بخشے اور کتنی مقدار میں روزی دے کہ جو فساد و تباہی کا سبب نہ بنے، کیونکہ وہ ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ جو کچھ چاہے عطا کر سکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جو کچھ عطا فرماتا ہے اس کے بدلے میں کوئی اجر اور جزاء نہیں چاہتا، کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ وہ درخواست کرنے اور مانگنے کے بغیر بھی دیتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز سے باخبر اور حکیم ہے۔ بلکہ حقیقت میں اس کے علاوہ کوئی بھی "روزی دینے والا" نہیں ہے، کیونکہ جو شخص بھی جو کچھ بھی رکھتا ہے، وہ اسی کی طرف سے ہے اور جو شخص بھی کسی کو کوئی چیز دیتا ہے وہ "انتقال روزی کا واسطہ" ہے نہ کہ روزی دینے والا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ وہ "فانی" اموال کے مقابلہ میں "باقی رہنے والی" نعمتیں عطا فرماتا ہے اور "قلیل" کے مقابلہ میں "کثیر" بخشتا ہے۔ اور چونکہ یہ ظالم اور سرکش دولت مندوں کا گروہ مشرکین کے زمرہ میں داخل تھا اور وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور وہ قیامت میں ہماری شفاعت کریں گے، قرآن اس بےبنیاد دعوے کے مقابلے میں جواب دیتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "یاد کر اس دن کو جس میں خدا سب کو عبادت کرنے والوں کو بھی اور جن کی عبادت کی جاتی ہے اُن کو بھی محشور کرے گا، اس کے بعد فرشتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا، کیا یہ تمہاری عبادت کرتے تھے"؟ (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلائِكَةِ أَ هؤُلاءِ إِيَّاكُمْ كانُوا يَعْبُدُون)۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ سوال کوئی ایسا سوال نہیں ہے کہ جو کسی مجہول چیز کو خدا کی ذات پاک کے لیے واضح کرے، کیونکہ وہ تو ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ فرشتوں کے بیان کے ذریعہ حقائق بتائے جائیں تاکہ عبادت کرنے والوں کا یہ گروہ نادم اور شرمندہ ہو اور جان لے کہ وہ ا ن کے عمل سے پورے طور پر بیزار ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے مایوس ہو جائیں۔ اُن تمام معبودوں کے درمیان سے کہ جن کی مشرکین عبادت کیا کرتے تھے، صرف فرشتوں کا ذکر یا تو اس بناء پر ہے کہ جن جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اُن میں سے فرشتے شریف ترین مخلوق تھے، جہاں قیامت میں ان سے شفاعت حاصل نہ ہو تو پھر چند پتھروں اور لکڑیوں، جِن اور شیاطین سے کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ یا اس لحاظ سے ہے کہ بُت پرست پتھر اور لکڑیوں کو موجوداتِ علوی (فرشتوں اور ارواحِ انبیاء) کا مظہر اور سمبل سمجھتے تھے اور اس طرح ان کی پرستش کرتے تھے اور جیسا کہ قومِ عرب کے درمیان بُت پرستی کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے کہ "عمرو بن لحی" [تشریحی نوٹ: عمرو بن لحی مکّہ کی جانی پہچانی شخصیت تھی (لحی لام کی پیش اور حاء کی زبر اور یا کی تشدید کے ساتھ)] جس سفر میں شام گیا تھا تو اس نے وہاں ایک گروہ کو بُت پرستی کرتے دیکھا، اُس نے اُن سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ خدا ہیں کہ جنہیں ہم نے موجوداتِ علوی کی شکل میں بنایا ہے، ان سے ہم مدد طلب کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، عمرو بن لحی نے ان کے اس عمل کو پسند کیا اور ان کی پیروی اختیار کی اور اپنے ساتھ ایک بُت سوغات کے طور پر حجاز کے لیے لایا، اور اسی وقت سے یہاں بت پرستی کی ابتداء ہوئی اور پھیلتی چلی گئی، یہاں تک کہ السلام کا ظہور ہوا اور اس کی بیخ کنی کی [بحوالہ: تفسیر توح المعانی جلد ۲۲ ص ۱۴۰ (زیر بحث آیت کے ذیل میں) سیرت ابنِ ہشام میں یہی مفہوم مختصر سے فرق کے ساتھ آیا ہے اور وہاں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے ساتھ شام سے "ہبل" بت لایا تھا۔ [بحوالہ: سیرة ابنِ ہشام جلد ۱، ص ۷۹)]۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ فرشتے، پروردگار کے سوال کے جواب میں کیا کہتے ہیں؟ وہ جامع ترین اور نہایت مئودبانہ جواب کا انتخاب کرتے ہوئے، عرض کرتے ہیں: "اے پروردگار، تُو ان ناروا نسبتوں سے کہ جو تیری مقدس ذات کی طرف انہوں نے دی ہیں پاک اور منزہ ہے" (قالُوا سُبْحانَكَ)۔ ہمارا اس گروہ سے کسی طرح کا بھی ربط و تعلق نہ تھا "صرف تُو ہی ہمارا ولی ہے نہ کہ وہ" (أَنْتَ وَلِيُّنا مِنْ دُونِهِمْ)۔ "وہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ تو جنّوں کی عبادت کرتے تھے اور اُن میں سے اکثر جنّات پر ایمان رکھتے تھے" (بَلْ كانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُون)۔ اس بارے میں کہ فرشتوں کے جواب کا مفہوم کیا ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف اور ہر ایک نے ایک الگ تفسیر کی ہے، لیکن جو زیادہ نزدیک نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ "جِنّ" سے مراد شیطان اور تمام ایسی خبیث موجودات ہیں کہ بُت پرستوں کو اس عمل کا شوق دلاتے تھے اور اُسے ان کی نظروں میں زینت دیتے تھے، اس بناء پر جِنّ کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے فرمان کی اطاعت و پیروی اور ان کی وسوسوں کو قبول کرتے تھے۔ فرشتے اس کام پر راضی نہ ہونے کے اعلان اور بیزاری و نفرت کے اظہار کے ضمن میں کہتے ہیں کہ فساد کے اصلی عامل شیاطین تھے، اگرچہ ظاہراً وہ ہماری عبادت کرتے تھے، لہٰذا اس کام کے واقعی چہرے کو کھول کر دکھانا چاہیئے۔ اور اس طریقہ سے وہ اُن عبادت کرنے والوں کو مکمل طور پر اپنے سے دور کرتے ہوئے ناامید کر دیں گے۔ اس معنی کی مثال ہمیں سورہٴ یونس میں بھی ملتی ہے، جہاں یہ ارشاد ہوتا ہے (وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكانَكُمْ أَنْتُمْ وَشُرَكاؤُكُمْ فَزَيَّلْنا بَيْنَهُمْ وَقالَ شُرَكاؤُهُمْ ما كُنْتُمْ إِيَّانا تَعْبُدُون) "اس دن کو یاد کرو کہ جس میں ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو، (تاکہ تمہارا حساب لیا جائے) پھر ہم انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیں گے اور ان کے معبود اُن سے کہیں گے کہ تم ہرگز ہماری عبادت نہیں کرتے تھے"۔ (یونس ۲۷)۔ یعنی حقیقت میں تم اپنی ہوا و ہوس اور اوہام و خیالات کی پرستش کرتے تھے نہ کہ ہماری، اس سے قطع نظر تمہاری یہ عبادت ہمارے حکم اور فرمان سے نہیں تھی اور نہ ہی ہماری رضامندی سے تھی اور جو عبادت اس طرح سے کی جائے وہ درحقیقت عبادت نہیں ہے۔ اس طرح سے مشرکین کی امید اس دن مکمل ناامیدی میں بدل جائے گی اور یہ حقیقت ان لیے واضح طور پر روشن ہو جائے گی کہ ان کے معبود ان کے کام کی چھوٹی سے چھوٹی گِرہ بھی نہ کھول سکیں گے، بلکہ وہ ان سے متنفر و بیزار ہوں گے۔ اس لئے بعد والی آیت میں ایک معنی خیز نتیجہ نکالتے ہوئے کہتا ہے: "آج کے دن تم میں سے کوئی بھی دوسرے کے لیے سود و زیاں اور نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے" (فَالْيَوْمَ لا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَفْعاً وَلا ضَرًّا)۔ اس بناء پر نہ تو فرشتے ہی کہ جو ظاہراً ان کے معبود تھے ان کی کوئی شفاعت کر سکیں گے اور نہ ہی وہ خود آپس میں ایک دوسرے کی کوئی مدد انجام دے سکیں گے۔ یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہم ان ظالموں سے کہیں گے: "تم اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو کہ جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے" (وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُون)۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جہاں قرآن مشرکین کے بارے میں ظالم اور ستمگر کی تعبیر کرتا ہے، بلکہ قرآن، کی بہت سی دوسری آیات میں "کفر" کو "ظلم" سے اور "کفّار و مشرکین" کی ظالمین سے تعبیر ہوئی ہے، کیونکہ وہ ہر چیز سے پہلے خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں کہ پروردگار کی عبودیت کا پُرافتخار تاج اپنے سر سے اتار کر بتوں کی ذلیل کرنے والی بندگی کا طوق اپنی گردن میں ڈالتے ہیں اور اپنی ساری حیثیت، شخصیت اور قسمت کو برباد کر لیتے ہیں۔ حقیقت میں وہ قیامت کے دن اپنے شرک کی سزا بھی دیکھیں گے اور معاد و قیامت کے انکار کا عذا ب بھی اور (وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُون) کے جملہ میں دونوں معانی جمع ہیں۔

چند اہم نکات: ۱۔ انفاق زیادتی کا باعث ہے نہ کہ کمی کا

جو تعبیر اوپر والی آیت میں انفاق کے بارے میں بیان کی گئی ہے: "کہ جو چیز بھی تم راہِ خدا میں خرچ کرو گے خدا اس کے بدلے میں اور دے دے گا"۔ بہت معنی خیز تعبیر ہے۔ اوّل اس لحاظ سے کہ لفظ "شیء" اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے، انفاق کی تمام اقسام کے لیے۔ خواہ وہ مادی ہوں یا معنوی، چھوٹی ہوں یا بڑی ہر ضرورت مند انسان کے لیے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کو شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان کے پاس جو بھی سرمایہ موجود ہے اُس میں سے خدا کی راہ میں بخشے چاہے وہ جس کیفیت میں ہو اور جس مقدار میں ہو۔ دوسرے انفاق کو فنا کے مفہوم سے باہر نکالتا ہے اور اسے بقاء کا رنگ دیتا ہے کیونکہ خدا نے اپنی مادی و معنوی نعمتوں کے ساتھ کہ جو کئی گنا اور کبھی ہزاروں گنا اور کم از کم دس گنا ہیں۔ اس کی جگہ کو پُر کرنے کی ضمانت لی ہے اور اس طرح سے انفاق کرنے والا شخص جس وقت اس جذبہ اور عقیدہ کے ساتھ میدان میں آتا ہے تو ہاتھ اور دل زیادہ کھلا رکھے گا، وہ کمی کے احساس اور فقر کی فکر ہرگز اپنے دماغ میں جگہ نہ دے گا بلکہ وہ خدا کا شکر ادا کرے گا کہ جس نے اُسے اس قسم کی پُر نفع تجارت کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ وہی تعبیر ہے کہ جو قرآنِ مجید میں سورہٴ صف کی آیہ ۱۰، ۱۱ میں بیان کی ہے کہ: (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى‏ تِجارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ- تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُجاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُون) "اے وہ لوگو! کہ جو ایمان لائے ہو، کیا میں تمہیں ایک ایسی پُر نفع تجارت کی طرف کہ جو دردناک عذاب سے رہائی بخشے رہنمائی کروں؟ خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور راہِ خدا میں اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو"۔ ایک روایت میں پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ينادى مناد كل ليلة لدوا للموت! و ينادى مناد ابنوا للخراب! و ينادى مناد اللهم هب للمنفق خلفا. و ينادى مناد اللهم هب للممسك تلفا! و ينادى مناد ليت الناس لم يخلقوا. و ينادى مناد ليتهم اذ خلقوا فكروا فيما له خلقوا! • ہر رات ایک آسمانی ندا کرنے والا یہ ندا کرتا ہے کہ مرنے کے لیے بچے جنم دو۔ • اور دوسرا منادی یہ ندا کرتا ہے کہ ویرانی کے لیے بنا کرو۔ • اور ایک منادی یہ نِدا کرتا ہے کہ خداوندا! جو انفاق کرتے ہیں ان کے لیے عوض قرار دے۔ • ایک اور منادی یہ ندا کرتا ہے کہ خداوندا! جو امساک کرتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے ان کے لیے تلف قرار دے۔ • اور ایک منادی یہ ندا کرتا ہے کہ کاش انسان پیدا ہی نہ ہوتے۔ • ایک اور ندا کرنے والا یہ ندا کرتا ہے کہ اے کاش اب جبکہ وہ پیدا ہو ہی گئے ہیں تو وہ اس امر میں غور و فکر کرتے کہ وہ کس لیے پیدا ہوئے ہیں [مجمع البیان، زیرِبحث آیات کے ذیل میں]۔ (ان نِدا کرنے والوں سے مراد وہ فرشتے ہیں کہ جو فرمانِ خدا سے اس عالم کے امور کی تدبیر کرتے ہیں)۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ: " من ايقن بالخلف سخت نفسه بالنفقه"۔ جسے اس بات کا یقین ہو کہ اُسے بدلہ ضرور ملے گا تو وہ خرچ کرنے میں زیادہ سخی ہو گا [بحوالہ: نور الثقلین، جلد۴، ص ۳۴۰]۔ یہی مفہوم امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے۔ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ افناق حلال اور مشروع اموال میں سے ہو، کیونکہ خدا اس کے سوا دوسرے کو قبول نہیں کرتا اور برکت نہیں دیتا۔ اس لیے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے یہ منقول ہوا ہے کہ ایک شخص نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ قرآن میں دو آیات ایسی ہیں کہ میں جتنا ان پر عمل کرتا ہوں، اس کا نتیجہ نہیں دیکھتا (اور اس کے مطلب کو حاصل نہیں کرتا)۔ امام علیہ السلام نے فرمایا وہ کونسی آیات ہیں؟ اس نے عرض کیا، پہلی تو خداوند بزرگ کی یہ بات ہے کہ اس نے یہ فرمایا ہے کہ: (ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ) "مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کرتا ہوں" میں خدا کو پکارتا ہوں لیکن میری دعا قبول نہیں ہوتی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تیرا خیال یہ ہے کہ خدائے عزوجل نے اپنے وعدہ سے خلاف کیا؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں! آپ علیہ السلام نے فرمایا: پس اس کا سبب کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ: مجھے معلوم نہیں ہے! آپ علیہ السلام فرمایا: لیکن میں تجھے بتاتا ہوں: " من اطاع الله عز و جل فيما امره من دعائه من جهة الدعاء اجابه " "جو شخص خداوندِ متعال کی اس چیز میں دعا کرے جس میں اس نے دعا کا حکم دیا ہے اور اس میں جہتِ دعا کی رعایت کرے تو وہ اس کی دعا کو قبول کرے گا"۔ اس نے عرض کیا کہ: جہتِ دعا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کہ پہلے تُو خدا کی حمد کرے گا اور اس کی نعمتوں کو یاد کرے گا، اس کے بعد شکر ادا کرے گا اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے گا۔ پھر اپنے گناہوں کو دل میں لائے گا اور ان کا اقرار کرے گا، پھر اُن سے خدا کی پناہ مانگے گا اور توبہ کرے گا۔ یہ ہے جہتِ دعا"۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا: دوسری آیت کونسی ہے؟ اس نے عرض کیا: وہ یہ آیت ہے کہ اس نے فرمایا ہے: " وَما أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍ فَهُوَيُخْلِفُهُ وَهُوَخَيْرُ الرَّازِقِين" لیکن میں خدا کی راہ میں انفاق کرتا ہوں، مگر وہ چیز جو اس کے بدلے میں دی جاتی ہے وہ مجھے نہیں ملتی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تُو یہ خیال کرتا ہے کہ خداوند نے اپنے وعدے کے خلاف کیا؟ اس نے عرض کیا کہ: نہیں! آپ علیہ السلام نے فرمایا: کہ پھر ایسا کیوں ہے؟ اس نے عرض کیا کہ: میں نہیں جانتا! آپ علیہ السلام نے فرمایا: " لو ان احدكم اكتسب المال من حله، و انفقه فى حله، لم ينفق درهما الا اخلف عليه" اگر تم میں سے کوئی شخص کچھ حلال مال حاصل کرے اور اُسے حلال طریقے سے ہی خرچ کرے، تو وہ کوئی ایک درہم بھی ایسا خرچ نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس کا عوض اُسے دیتا ہے [بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۳، ص ۳۵۳]۔

۲۔ اموال کا خدائی بیمہ

ایک مفسر نے یہاں ایک عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ: تعجب کی بات یہ ہے کہ جب تاجر یہ جانتا ہو، کہ اس کے اموال میں سے کوئی مال تلف ہونے والا ہے، تو وہ اس بات پر بھی تیار ہو جاتا ہے کہ اُسے ادھار کے طور پر فروخت کر دے، چاہے لینے والا کوئی فقیر آدمی ہی ہو۔ وہ کہتا ہے: یہ بات اس سے بہتر ہے کہ اس مال کو یونہی چھوڑ دوں اور وہ نابود ہو جائے اور اگر کوئی تاجر اِن حالات میں اپنے مال کو فروخت کرنے کا اقدام نہ کرے یہاں تک کہ وہ تلف اور نابود ہو جائے، تو اسے "خطاکار" شمار کرتے ہیں۔ اور اگر ان حالات میں کوئی سرمایہ دار خریدار مل جائے اور وہ اس کے پاس فروخت نہ کرے تو اُسے بےعقل کہتے ہیں۔ اور اگر ان تمام باتوں کے ساتھ وہ خریدار مضبوط مالی حیثیت رکھتے ہوئے ہر قسم کا وثیقہ اسے سپرد کر دے اور ایک قابلِ اطمینان سند بھی اُسے لکھ دے اور وہ تاجر اس کے پاس نہ بیچے تو اس کو دیوانہ کہتے ہیں۔ لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ ہم سب یہی کام انجام دیتے ہیں اور کوئی اسے جنون شمار نہیں کرتا۔ کیونکہ ہمارے تمام اموال معرضِ تلف میں ہیں اور خواہ مخواہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے، حالانکہ راہِ خدا میں خرچ کرنا ایک قسم کا خدا کو قرض دینا ہے اور ایک بہت ہی معتبر ضامن، یعنی خدائے بزرگ فرماتا ہے کہ: وَما أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍ فَهُوَيُخْلِفُهُ"اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے وہ اس کا عوض دے گا"۔ اور یہ اس حالت میں ہے جبکہ اُس نے اپنے اموال ہمارے پاس گروی رکھے ہوئے ہوں، کیونکہ جو کچھ انسان کے ہاتھ میں ہے وہ اس کی طرف سے عاریتہً ہے (اور کتبِ آسمانی میں سے ایک محکم ترین سند اس سلسلے میں اس نے ہمارے حوالہ کی ہوئی ہے) لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم میں سے بہت سے اپنے اموال راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے اور انہیں رہنے دیتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں، جس کے لیے نہ ہم کوئی اجر رکھتے ہیں نہ کوئی شکر [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۵، ص ۲۶۳، زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔

۳۔ "انفاق" کے مفہوم کی وسعت

اس بات کو جاننے کے لیے کہ "انفاق" کا مفہوم اسلام میں کس قدر وسیع ہے، ہمارے لیے حدیثِ ذیل کو موردِ توجہ قرار دینا کافی ہے۔ پیغمبرِ گرامی السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: " كل معروف صدقه، و ما انفق الرجل على نفسه و اهله كتب له صدقة، و ما وقى به الرجل عرضه فهو صدقة، و ما انفق الرجل من نفقة فعلى الله خلفها، الا ما كان من نفقه فى بنيان او معصية"۔ "ہر نیک کام جو کسی بھی شکل میں ہو صدقہ ہے اور راہِ خدا میں انفاق شمار ہوتا ہے" (اور یہ بات مالی انفاق تک ہی منحصر نہیں ہے)۔ "اور جو کچھ انسان اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضروریاتِ زندگی میں صَرف کرتا ہے وہ صدقہ لکھا جاتا ہے"۔ "اور جس کے ساتھ انسان اپنی آبرو کو محفوظ رکھتا ہے وہ صدقہ شمار ہوتا ہے"۔ اور جو کچھ راہِ خدا میں انفاق کرتا ہے خدا اس کا عوض اسے دے گا سوائے اس کے کہ جو بناء میں صرف ہو (مثلاً گھر بنانے میں) یا معصیت کی راہ میں صرف ہو [بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۶، ص ۸۹ ۵۳، زیرِبحث آیت کے ذیل میں]۔ ممکن ہے کہ گھر کا استثناء اس لحاظ سے ہو کہ اس کی اصل باقی ہے علاوہ ازیں لوگوں کی زیادہ تر توجہ اس کی طرف ہوتی ہے۔

43
34:43
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
جس وقت ہماری واضح آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ فقط ایک ایسا آدمی ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اس سے کہ جن کی تمہارے آباؤ اجداد پرستش کیا کرتے تھے روکے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑے جھوٹ کے سوا کہ جو خدا پر باندھا گیا ہے اور کچھ نہیں ہے اور کافروں کے پاس جب حق پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
34:44
وَمَآ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّن كُتُبٖ يَدۡرُسُونَهَاۖ وَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِن نَّذِيرٖ
ہم نے (اس سے پہلے) کتب آسمانی میں سے کوئی چیز انہیں نہیں دی کہ جسے وہ پڑھیں۔اور نہ ہی تجھ سے پہلے ہم نے کوئی (نبی یا) پیغمبر ان کے لیے نہیں بھیجا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
34:45
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ
وہ لوگ کہ جو ان سے پہلے تھے (انہوں نے بھی آیات خدا کی) تکذیب کی تھی حالانکہ یہ ان کی قدرت و طاقت کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے (ہاں ) انہوں نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی اب دیکھو کہ میرا عذاب (ان کے لیے) کیسا تھا۔

تفسیر: کس دلیل کے ساتھ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں مشرکین اور بےایمان افراد کی وضع و کیفیت کے بارے میں گفتگو تھی، زیرِبحث آیات میں دوبارہ اس دُنیا میں ان کی وضع و کیفیت کو بیان کرتے ہوئے قرآن سننے کے مقابلہ میں ان کے ردِّعمل کو بیان کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ بات واضح و روشن ہو جائے کہ قیامت میں ان کا وہ بُرا انجام دنیا میں آیاتِ الٰہی کے مقابلہ میں اس غلط تنقید اور طرزِعمل کے باعث ہو گا۔ پہلے کہتا ہے: "جس وقت ہماری واضح کرنے والی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ مرد تو صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اُس سے کہ جس کی تمہارے بڑے عبادت کرتے تھے بازر کھے" (وَإِذا تُتْلى‏ عَلَيْهِمْ آياتُنا بَيِّناتٍ قالُوا ما هذا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُكُمْ)۔ اِن "آیاتِ بیّنات" کے مقابلہ میں ان کا یہ پہلا ردِّعمل تھا، کہ جو وہ اس متعصب قوم میں تعصب کے احساس کو تحریک کرنے کے لیے پیش کرتے تھے۔ خصوصاً "اٰباؤکم" (تمہارے آباؤ اجداد) کی تعبیر "اٰبائنا" (ہمارے آباؤ اجداد) کے بجائے زیادہ تر اسی بناء پر ہے تاکہ اس متعصب قوم کو سمجھائیں کہ تمہارے بزرگوں کی میراث خطرے میں ہے لہٰذا تم کھڑے ہو جاؤ اور اس شخص کو اس کام سے روکو۔ " ما هذا إِلَّا رَجُلٌ " کی تعبیر دو لحاظ سے پیغمبر کی تحقیر و توہین ہے، ایک لفظ "ھذا" (یہ) اور دوسرا "رجل" (مرد) نکرہ کی صورت میں، درآنحالیکہ وہ سب کے سب پیغمبر کو اچھی طرح سے اس کے سابقہ واضح و روشن کارناموں کی وجہ سے پہچانتے تھے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآن "آیات" کی "بیّنات" کے ساتھ توصیف کرتا ہے، یعنی اس کی حقانیت کی دلیلیں اس کے ساتھ ہیں اور جب بات عیاں ہو تو بیان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ان کی اُس دوسری گفتگو کو جو وہ پیغمبر کی دعوت کو باطل کرنے کے لیے پیش کرتے تھے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) ایک بڑے جھوٹ کے سوا کہ جو خدا پر باندھا گیا ہے اور کچھ نہیں ہے" (وَقالُوا ما هذا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرىً)۔ "افک" (بر وزن فکر) جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، کہ یہ ہر اُس چیز کو کہتے ہین جو اپنی اصلی صورت سے بدلی ہوئی ہوا، اسی لیے مخالف ہَوَاؤں کو "مئوتفکات" کہتے ہیں، اس کے بعد جھوٹ، تہمت اور ہر قسم کی غلط بات کو "افک" کہا گیا، لیکن بعض کے قول کے مطابق "افک" بہت بڑے جھوٹ کے لیے بولا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو جھوٹ کے متہم کرنے کے لیے "افک" کی تعبیر کافی تھی، لیکن وہ لفظ "مفتری" کے ذریعہ اس میں مزید تاکید پیدا کرتے تھے، جبکہ ان کے پاس اپنے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ آخر میں تیسرا اتہام جو انہوں نے پیغمبر پر باندھا "سحر" (جادو) کی تہمت تھی، جیسا کہ زیرِبحث آیت کے آخر میں بیان ہوا ہے: "وہ لوگ کہ جو کافر ہو گئے، جس وقت حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ چیز سوائے واضح جادو کے اور کچھ نہیں" (وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لما جاءهُم إِنْ هذا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ گمراہ گروہ اپنی تینوں تہمتوں کی صریح ترین تاکید کے ساتھ اسی حصر کے ذریعہ بیان کرتے تھے، ایک جگہ کہتے تھے یہ فقط سحر ہے دوسری جگہ کہتے تھے، یہ فقط جھوٹ ہے اور آخر میں تیسری جگہ کہتے تھے کہ: وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے بزرگوں کے معبودوں سے روک دے۔ یقیناً یہ تینوں ناروا نسبتیں آپس میں متضاد نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ ضد و نقیض گفتگو سے انکار نہیں رکھتے تھے۔ اس بناء پر کوئی وجہ نہیں ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ہم ان تہمتوں میں سے ہر ایک کو کافروں کے ایک گروہ سے نسبت دیں۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ قرآن نے پہلے اور دوسرے مرحلہ میں لفظ "قالوا" کا استعمال کیا ہے لیکن تیسرے مرحلے میں اس کے بجائے (قالَ الَّذِينَ كَفَرُوا) کا جملہ استعمال کیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ یہ بدبختیاں کفر، حق کے انکار اور حقیقت کے ساتھ دشمنی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان کسی دلیل کے بغیر ان تمام تہمتوں کو یکے بعد دیگر ے ایسے مرد کی طرف منسوب کرے جس کی حقانیت کے دلائل اس کی گفتگو، اس کے عمل اور اس کے سابقہ کارناموں سے واضح ہیں۔ گویا وہ ان تینوں تہمتوں کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مبارزہ کرنے میں ایک سوچے سمجھے پروگرام کو روبہ عمل لاتے تھے، ایک طرف وہ یہ دیکھتے تھے کہ یہ ایک نیا دین و آئین ہے اور اس میں جذب و کشش موجود ہے۔ دوسری طرف، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا و آخرت میں عذابِ الٰہی سے تہدید خواہ مخواہ ایک گروہ کو وحشت زدہ بناتی تھی۔ اور تیسری طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات خواہ مخواہ عام لوگوں کے نفوس میں اثرانداز ہوتے تھے۔ انہوں نے ان تینوں موضوعات کو بےاثر کرنے کے لیے ایک نہ ایک تدبیر سوچ رکھی تھی، اس نئے دین و آئین کے مقابلہ میں اپنے گزرے ہوئے بزرگوں اور آباؤ اجداد کی میراث کی حفاظت کے مسئلہ کو سامنے لے آتے حالانکہ ان کے گزرے ہوئے بزرگ قرآن کے قول کے طابق (لا يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ) "کچھ نہیں سمجھتے تھے اور ہدایت یافتہ نہیں تھے" کے مصداق تھے۔ (بقرہ ۱۷۰) اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے کہ لوگوں کو اس قسم کی بیہودہ رسومات سے کہ جو بےوقوف جاہلوں کی میراث ہوں، سے باز رکھے۔ اور عذابِ الٰہی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تہدیدوں کے مقابلہ میں دروغ گوئی اور جھوٹ کا مسئلہ گھڑ کے تیار کر لیا تھا تاکہ عامتہ الناس کو خاموش کر سکیں۔ اور معجزات کے مقابلہ میں "سحر" (جادو) کی تہمت لگاتے تھے، تاکہ اس کی اس ذریعہ سے توجیہہ کر کے لوگوں کو اس کے سامنے جھکنے سے باز رکھیں۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے، کہ ان شیطانی وسوسوں میں سے کوئی بھی مئوثر نہ ہوا اور آخرکار لوگ فوج اس آمین و دینِ پاک میں داخل ہوئے۔ قرآن بعد والی آیت میں ان کے تمام دعووں پر خطِ بطلان کھینچ دیتا ہے اگرچہ بغیر کسی بیان کے بھی ان کا بطلان واضح ہے، ان کے تمام فضول اور بیہودہ دعووں کا ایک ہی جملہ کے ساتھ جوا ب دیتے ہوئے کہتا ہے: "ہم نے اس سے پہلے آسمانی کتابوں میں سے کوئی چیز انہیں نہیں دی ہے کہ جسے وہ پڑھ کر اس بنیاد پر تیری دعوت کا انکار کریں اور تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر بھی ہم نے ان کے لیے نہیں بھیجا" (وَما آتَيْناهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَها وَما أَرْسَلْنا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَذِيرٍ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دعوے ایسا شخص کر سکتا ہے کہ جس کے پاس پہلے کوئی پیغمبر آیا ہو اور آسمانی کتاب اس کے پاس لے کر آیا ہو اور وہ نئی دعوت کے مضمون کو اس کے مخالف پایا ہو، لہٰذا اس کی تکذیب کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، کبھی تو وہ یہ کہتا ہے کہ تمہارے بزرگوں کا دین تمہارے ہاتھ سے نہ جانے پائے اور کبھی یہ کہتا ہے کہ یہ نئی دعوت جھوٹی ہے اور کبھی اس کے لانے والے کو ساحر اور جادوگر کہتا ہے۔ لیکن وہ شخص کہ جس نے اپنی فکر پر تکیہ کرتے ہوئے کسی قسم کی آسمانی وحی کے بغیر کچھ بھی علم نہ رکھنے کے باوجود، خرافات کو دل سے گھڑ لیا ہے، اس قسم کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس آیت سے ضمنی طور پر اس نکتہ کا استفادہ ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنی قوتِ عقل کے بل بوتے پر زندگی کی نشیب و فراز سے پُر راہ طے نہیں کر سکتا، بلکہ اُسے وحی کی قوت سے مدد لینا چاہیئے اور خضرِ رسالت کی مدد سے قدم اٹھانا چاہیئے، ورنہ اندھیرا ہی اندھیرا ہے کہ جس میں گمراہ ہو جانے کے خطرے سے ڈرنا ضروری ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں اس سرکش گروہ کو ایک مئوثر اور بلیغ بیان کے ساتھ تہدید کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "وہ لوگ کہ جو ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں انہوں نے بھی آیاتِ الٰہی کی تکذیب کی تھی" (وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ)۔ "درآنحالیکہ یہ لوگ قوت و قدرت کے لحاظ سے اس قوت کے دسویں حصّہ کو بھی نہیں پہنچے کہ جو ہم نے گزشتہ اقوام کو دی تھی" (وَما بَلَغُوا مِعْشارَ ما آتَيْناهُمْ) ۔ لیکن دیکھو! ان کا انجام کیا ہوا؟ ہاں! "انہوں نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی تھی، تو دیکھ لو میرا عذاب ان کے لیے کس طرح کا تھا" (فَكَذَّبُوا رُسُلِي فَكَيْفَ كانَ نَكِيرِ)۔ ان کے ویران شدہ شہر، جو سرکوبی کرنے والے عذابِ الٰہی کی ضربوں کے ذریعہ تباہ و برباد ہوئے تھے، تمہارے نزدیک ہی اور شام کی طرف جاتے ہوئے تمہارے راستے میں پڑتے ہیں، اُن سے عبرت حاصل کرو اور ان ویرانوں کی زبان سے ضروری و لازمی پند و نصائح سنو اور اپنے انجام کا اس پر قیاس کرو کیونکہ نہ تو سنتِ الٰہی تغیّر پذیر ہے اور نہ ہی تم اُن سے برتر ہو۔ "معشار" "عشر" کے مادہ سے ہے اور وہی معنی (دسواں حصہ) دیتا ہے۔ بعض نے اس کو "عشر عشر" کے معنی، یعنی سواں حصہ مراد لیا ہے، لیکن زیادہ تر کتب لغت و تفسیر نے اس پہلے معنی کو ہی ذکر کیا ہے، لیکن بہرحال اس قسم کے اعداد تعدادی پہلو نہیں رکھتے اور تقلیل کے لیے ہیں، سات، ستر اور ہزار کے مقابلہ میں کہ جو تکثیر کے لیے ہیں۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے کہ ہم نے تو ایسے ایسے سرکشوں کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے، جبکہ یہ تو ان کی قدرت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی نہیں رکھتے۔ اس معنی کی مثال قرآن کی دوسری متعدد آیات میں بھی وارد ہوئی ہے، منجملہ ان کے سورہ انعام کی آیہ ۶ میں بیان ہو ا ہے کہ: ": أَ لَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ ما لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً وَجَعَلْنَا الْأَنْهارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْناهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِين" "کیا انہوں نے اس بات کا مشاہدہ نہیں کیا کہ ہم نے گزشتہ اقوام میں سے کتنوں کو ہلاک کیا ہے، ایسی اقوام کہ جو تم سے زیادہ طاقتور تھیں، انہیں ہم نے ایسے وسائل عطا کیے تھے کہ جو تمہیں نہیں دیئے، ہم نے ان کے لیے پےدرپے بارشیں برسائیں اور ان کے باغوں کے درختوں کے نیچے ہم نے نہریں جاری کر رکھی تھیں، لیکن جس وقت انہوں نے سرکشی اختیار کی، تو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں نیست و نابود کر دیا اور ان کے بعد ہم ایک دوسرا گروہ وجود میں لے آئے: اسی معنی کی مثال سورہٴ مومن آیہ ۲۱ اور سورہ روم کی آیہ ۹ میں بھی وارد ہوئی ہے۔ "نکیر" کا لفظ، انکار کے مادہ سے ہے اور انکار ہی کے معنی میں ہے اور خدا کے انکار کرنے سے مراد وہی سزا اور عذاب ہے [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے ایک اور خیال کا بھی اظہار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ (وَما بَلَغُوا مِعْشارَ ما آتَيْناهُمْ) کا جملہ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اتمام حجت کے لیے گزشتہ اقوام کے اختیار میں ان آیات کا دسواں حصہ بھی قرار نہیں دیا تھا کہ وہ مشرکین قریش کے اختیار میں دی ہیں، تو جب گزشتہ لوگوں کو ہم نے اتنا سخت عذاب کیا ہے تو پھر مشرکین قریش کی حالت کہ جن پر ان سے دس گنا زیادہ اتمامِ حجت کیا ہے اور واضح ہے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق آیت میں جو چار ضمیریں ہیں ان میں سے پہلی اور دوسری ضمیر تو کفارِ قریش کی طرف لوٹتی ہے اور تیسری اور چوتھی گزشتہ مشرکین کی طرف۔ لیکن دوسری تفسیر کے مطابق پہلی مشرکینِ قریش، دوسری گزشتہ کفار، تیسری مشرکینِ قریش اور چوتھی گزشتہ کفار کی طرف لوٹتی ہے۔ (غور کیجئے)]۔

46
34:46
۞قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ
(اے رسول)کہہ دو کہ میں تو تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو دو افراد (مل کر) یا اکیلے اکیلے ہی خدا کے لیے (قیام کرو اور) کھڑے ہو جاؤ اس کے بعد غور کرو اور سوچو کہ یہ تمہارا دوست اور ساتھی محمد(ﷺ) کسی قسم کا بھی جنون نہیں رکھتا وہ تو صرف (خدا کے) سخت عذاب سے تمہیں ڈرانے والا ہے۔

تفسیر: انقلابِ فکری ہر اصل انقلاب کی بنیاد ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

آیات کے اس حصّہ میں اور آئندہ آیات میں کہ جن میں سورہ کے آخری مباحث بیان ہوئے ہیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار پھر حکم دیتا ہے، کہ اب ان لوگوں کو مختلف دلائل کے ذریعہ حق کی طرف دعوت دیں اور گمراہی سے روکیں اور گزشتہ مباحث کی طرف پانچ مرتبہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "ان سے کہہ دے" ... (قل)۔ پہلی آیت میں تمام اجتماعی، اخلاقی، سیاسی، اقتصادی اور فرہنگی تغیرات اور تبدیلیوں کے اصل خمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہت ہی مختصر اور پُرمعنی جملوں میں کہتا ہے کہ: "ان سے کہہ دو کہ میں تو تمہیں صرف ایک ہی چیز کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم خدا کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ دو، دو افراد (مل کر) یا ایک ایک فرد (اکیلے اکیلے ہی) اور پھر غور و فکر کرو" قُلْ إِنَّما أَعِظُكُمْ بِواحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنى‏ وَفُرادى‏ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا)۔ "یہ تمہارا دوست اور ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم) کسی قسم کی فکری کجی اور جنون نہیں رکھتا" (ما بِصاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ)۔ "بلکہ وہ تو صرف تمہیں خدا کے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہے" (إِنْ هُوَإِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذابٍ شَدِيدٍ)۔ اس آیت کے کلمات و تعبیرات میں سے ہر ایک، ایک اہم مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے، جن میں سے دس نکات ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں: ۱۔ "اعظکم" (میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں) کا جملہ حقیقت میں اس واقعیت کو بیان کرتا ہے کہ اس گفتگو میں مجھے تمہاری خیر و صلاح مطلوب ہے نہ کہ کوئی اور دوسرا مسئلہ۔ ۲۔ "واحدة" (صرف ایک ہی بات) کی تعبیر، خصوصا "انما" کی تاکید کے ذریعہ، اس واقعیت کی طرف ایک بولتا ہوا اشارہ ہے، کہ تمام انفرادی اور اجتماعی اصلاحات کی بنیاد فکر اور سوچ کو روبہ عمل لانا ہے جب تک کسی قوم و ملت کی سوچ اور فکر سوئی ہوئی ہے اس وقت تک وہ قوم و ملت دین و ایمان اور آزادی و استقلال کے چوروں اور ڈاکوؤں کے حملوں کی زد میں رہتی ہے، لیکن جس وقت افکار بیدار ہو گئے تو ان کے اوپر راستے بند ہو جاتے ہیں۔ ۳۔ یہاں "قیام" کرنے کی تعبیر دو پاؤں پر کھڑے ہونے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ کام کو انجام دینے کی آمادگی کے معنی میں ہے، کیونکہ انسان جب اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کے مختلف پروگراموں کو انجام دینے کے لیے آمادہ ہوتا ہے، اس بناء پر غور و فکر کرنا پہلے سے آمادگی کا محتاج ہوتا ہے کہ جس سے انسان میں وہ حرکت اور تیاری وجود میں آتی ہے جس سے وہ پختہ ارادہ کے ساتھ غور و فکر کرنے لگتا ہے۔ ۴۔ "للہ" کی تعبیر اس معنی کو بیان کرتی ہے کہ قیام اور آمادگی میں خدائی جذبہ ہونا چاہیئے اور وہ سوچ جس کی تحریک اس طرح سے ہو قیمتی ہوتی ہے، اصولی طور پر کاموں میں خلوص، یہاں تک کہ سوچنے اور غور و فکر کرنے میں بھی نجات اور برکت کا سبب ہوتا ہے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ "اللہ" پر ایمان کا ہونا یہاں پر تسلیم شدہ مانا گیا ہے، اس بناء پر دوسرے مسائل کے لیے غور و فکر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توحید ایک فطری امر ہے، کہ جو بغیر کسی غور و فکر کے بھی واضح و روشن ہے۔ ۵۔ "مثنٰی و فرادٰی" "دو دو یا ایک ایک" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غور و فکر شور و غل سے دُور ہو کر کرنا چاہیئے۔ لوگوں کو ایک ایک کر کے اکیلے ہی یا زیادہ سے زیادہ دو دو مل کر قیام کرنا چاہیئے اور اپنی سوچ بچار اور فکر کو کام میں لانا چاہیئے، کیونکہ شور و غوغا کے درمیان سوچ و بچار گہرا اور عمیق نہیں ہو گا، خصوصاً جبکہ مجمع اور بہت سے لوگوں کی موجودگی میں اپنے اعتقاد سے دفاع اور اس کی حمایت میں خودخواہی اور تعصب کے عوامل زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ دونوں تعبیریں اس بناء پر ہیں چونکہ "انفرادی" اور "اجتماعی" افکار یعنی مشورے کی آمیزش کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا انسان کو چاہیئے کہ ایک تو تنہائی میں سوچ بچار کرے اور دوّم دوسروں کے افکار سے بھی فائدہ اٹھائے، کیونکہ فکر و رائے میں استبداد و استقلال تباہی کا باعث ہوتا ہے اور ہمفکری اور علمی مشکلات کے حل کے لیے کوشش کرنا ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ، جہاں بات شور و غوغا تک نہ پہنچے وہاں پر قابلِ اطمینان حد تک اس کا بہتر اثر ہوتا ہے اور شاید اسی بناء پر مثنٰی کو فرادیٰ پر مقدم رکھتا ہے۔ ۶۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن یہاں کہتا ہے: "تتفکّروا" (غور و فکر کرو) لیکن کس چیز میں؟ اس لحاظ سے یہ مطلق ہے اور اصطلاح کے مطابق "متعلق کا حذف ہونا عمومیت پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر چیز میں، معنوی زندگی میں، مادی زندگی میں، اہم مسائل میں اور چھوٹے سے چھوٹے مسائل میں، خلاصہ یہ کہ ہر کام میں پہلے غور کرنا چاہیئے، لیکن سب سے زیادہ اہم ان چار سوالات کے جواب معلوم کرنے کے لیے سوچ بچار کرنا چاہیئے: میں کہاں سے آیا ہوں؟ میں کس لیے آیا ہوں؟ میں کہاں جا رہا ہوں؟ اور اب میں کہاں ہوں؟ لیکن بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "تفکر" کا متعلق یہاں اس کے بعد کا جملہ: (ما بِصاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّة) ہے، یعنی اگر تم تھوڑا سا بھی غور و فکر کرو تو تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہو جائے گا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم جنون کے سلسلے میں تمہارے بیہودہ اتہام سے پاک و منزہ ہے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ لیکن مسلمہ طور پر منجملہ ان امور کے کہ جن میں غور و فکر کرنا چاہیئے یہی مسئلہ نبوت اور برجستہ (عمدہ) صفات کا مسئلہ ہے کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اور ان کی عقل و خرد میں موجود تھیں، بغیر اس کے کہ (یہ غور و فکر کرنا) انہیں میں منحصر ہو۔ ۷۔ "صاحبکم" (تمہارا ساتھی اور دوست) کی تعبیر، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کے بارے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ آپ اُن کے غیر معروف اور ناشناختہ نہیں ہیں، آپ ان کے درمیان سالہا سال رہے ہیں، انہیں امانت و درایت اور صدق و راستی کے ساتھ تم نے پہچانا ہے، اب تک تم نے ان کی زندگی کے نامہٴ عمل میں کوئی کمزوری کا نقطہ مشاہدہ نہیں کیا ہے، تو اس بناء پر انصاف سے کام لو۔ جو اتہامات تم ان پر باندھ رہے ہو وہ سب کے سب بےبنیاد ہیں۔ ۸۔ "جِنّة" جنون کے معنی میں اصل میں مادہ (جن) بر وزن ظن سے ستر و پوشش کے معنی میں ہے اور چونکہ مجنون کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ گویا اس کی عقل چھپی ہوئی ہے اور اس پر پردہ پڑا ہوا ہے، لہذا یہ تعبیر اس کے بارے میں استعمال ہوتی ہے۔ بہرحال قابلِ ملاحظہ نکتہ یہاں یہ ہے کہ گویا وہ اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ سوچ بچار اور فکر کی بیداری کی دعوت دینے والا خود مجنون ہو۔ جبکہ وہ سوچ بچار اور تفکر کرنے کے منادی کر رہا ہے۔ اس کی یہی بات اس کی انتہائی عقل و درایت کی دلیل ہے۔ ۹۔ " إِنْ هُوَإِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ " کا جملہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو مسئلہ انذار میں خلاصہ کرتا ہے، یعنی خدا کی دادگاہ میں جوابدہی اور اس کے عذاب سے ڈرانا، یہ ٹھیک ہے کہ پیغمبر بشارت کی رسالت بھی رکھتا ہے لیکن جو چیز انسان کو زیادہ سے زیادہ حرکت پر ابھارتی ہے وہ مسئلہ انذار ہے۔ اسی لئے قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی پیغمبر کی تنہا ذمّہ داری کے طور پر ذکر ہوا ہے، مثلاً سورہ احقاف کی آیہ ۹ میں: (وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ) "میں ایک واضح انذار کرنے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں" اسی معنی کی نظیر یہ سورہ ص کی آیہ ۶۵ اور دوسری آیات میں بھی آئی ہے۔ ۱۰۔ " بَيْنَ يَدَيْ عَذابٍ شَدِيدٍ" کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت اس قدر نزدیک ہے کہ گویا تمہارے چہرے کے سامنے ہے اور سچ مچ دنیا عمر کے مقابلہ میں وہ اسی طرح ہے۔ یہ تعبیر اسلامی روایات میں بھی آئی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "بعثت انا و الساعة كهاتين" (و ضم (ص) الوسطی والسبابة)۔ میری بعثت اور قیامِ قیامت ان کی دو طرح ہے۔ اس کے بعد آپ نے انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو ایک دوسری سے ملا دیا [بحوالہ: تفسیر روح المعانی، ذیل آیہ زیرِبحث جلد ۲۲، ۱۴۳]۔ ۔

چند اہم نکات: ۱۔ تمام انقلابات کی جڑ بنیاد

مادی اور کمیونسٹ مکاتبِ فکر کہ جو ہمیشہ سچے مذاہب کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے رہتے ہیں، وہ ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ادیان کی دعوت اصل میں عوام الناس کے افکار کو بیکار کرنے کے مترادف ہے۔ ان کی یہ رسوا تعبیر کہ "دین عوام الناس کے لیے افیون ہے" مشہور و معروف ہے۔ اس طرح شرق و غرب کے سامراجی اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو وہ مومنین کے قیام اور ان کے افکارِ مذہبی اور راہِ خدا میں شہادت کو قبول کرنے کے ضمن میں رکھتے ہیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماہرینِ نفسیات اور اسکالرز کو اس مطلب کی تلقین کریں کہ وہ اپنی اپنی اصطلاح میں اپنی علمی کتابوں میں انہیں بیان کریں، کہ مذہب طبعی طور پر انسانی جہالت اور نادانی کی پیداوار ہے۔ البتہ یہ ایک وسیع بحث ہے اور اپنی جگہ پر انہیں دو ٹوک اور دندان شکن جواب دیئے گئے ہیں، کہ ان سب کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ لیکن زیرِبحث آیات کی مانند بہت سی آیات کہ جو غور و فکر اور سوچ بچار کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ بلکہ دین کا نچوڑ اور انسان کی پیشرفت اور تکامل و ارتقاء کا سبب اسی غور و فکر کو جانتی ہیں۔ ان جھوٹ اور افتراء باندھنے والوں کا سارا پول کھول کر رکھ دیتی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام جیسا دین و آئین بےحسی یا شل کر دینے کا ذریعہ یا جہالت کی پیداوار ہو۔ حالانکہ اس کا لانے والا اپنی بلند آواز کے ساتھ تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: سوئے ہوئے افکار کو بیدار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور قیام کرو اور وہ بھی ایسے ماحول میں جو پُرسکون اور شور و غوغا سے خالی ہو۔ ایسے ماحول میں کہ جو ہوا و ہوس اور مسموم اور زہریلے پروپیگنڈے سے دور ہو۔ تعصبات سے دور ہو، جھگڑوں اور ہٹ دھرمیوں سے دور ہو۔ خدا کے لیے قیام کرو اور غور و فکر کرو۔ کہ میری طرف سے تمہیں یہی تنہا وعظ و نصیحت ہے اور بس۔ کیا اس قسم کے دین کو کہ جو نہ صرف اس مقام پر بلکہ بہت سے دوسرے مقامات پر بھی اسی دعوت کو دہراتا ہے، افکار کو سُن کرنے والے اور نشہ آور کے ساتھ متہم کرنا، مضحکہ خیز اور قہقہ لگانے والی بات نہیں ہے؟! خاص طور پر یہ بات کہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ تم اکیلے تنہائی اور انفرادی طور پر غور و فکر کرو، بلکہ دو دو افراد کی شکل میں اور ایک دوسرے سے تعاون اور معاونت کی صورت میں بھی غور و فکر کرنے میں مشغول رہو، انبیاء علیہ السلام کی دعوت کے مطالب و مفاہیم کو سنو، ان کے دلائل کا بغور مطالعہ کرو، اگر وہ تمہاری عقل کے ساتھ ہم آہنگ ہوں تو اسے قبول کر لو۔ ہمارے زمانہ میں شرق و غرب کی تباہی کن جہنمی طاقتوں اور قدرتوں کے مقابلہ میں جو حوادث، مختلف ممالک میں انقلابی مسلمانوں کے قیام کی وجہ سے رونما ہوئے، انہوں نے مستکبرین کی نگاہ میں دنیا کو تیرہ و تاریک کر کے رکھ دیا ہے اور ان کی طاقت و قدرت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ان حوادث نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ یعنی مستکبرین اچھی طرح سے اس نکتہ کو سمجھ چکے تھے کہ ان کے سخت ترین دشمن (مسلمان) کے اصل مذہبی عقائد ان کے لیے عظیم خطرہ ہیں اور انہوں نے یہ بھی نشاندہی کر دی کہ ان اتہامات کا ہدف و مقصد کہ جو مذہب کے بارے میں کیے گئے ہیں کیا ہے؟ واقعاً عجیب بات ہے کہ مغربی فلسفی مردم شناسی کی اصطلاح کی تحلیلوں اور تجزیوں میں اس مسئلہ کو مسلّم سمجھتے ہیں کہ ماوراءِ طبعیت یعنی اس دنیا کے اوپر کوئی عالم نہیں ہے اور دین نوعِ بشر کی ایک خودساختہ چیز ہے، پھر اس مسئلہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ اس کا عامل کیا ہے؟ اقتصادی مسائل ہیں؟ انسانوں کا خوف ہے؟ بشر کی لاعلمی اور عدم آگاہی ہے؟ روحانی عقیدے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ؟ لیکن وہ اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے ہی اس پہلے سے کیے ہوئے اپنے غلط فیصلہ سے خالی ہو کر فکر کریں کہ عالمِ طبعیت یعنی اس کا ئنات کے علاوہ ایک اور عالم ہے اور توحید کی روشن دلیلوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسے انبیاء کی نبوت کی آشکار اور واضح نشانیوں میں سوچ بچار سے کام لیں۔ یہ لوگ زمانہٴ جاہلیت کے مشرکین سے ملتے جلتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ وہ تو متعصب اور ہٹ دھرم تھے اس صورت میں کہ وہ اَن پڑھ تھے، یہ متعصب اور ہٹ دھرم ہیں، پڑھے لکھے ہونے کے باوجود اسی بناء پر زیادہ خطرناک اور زیادہ گمراہ کن ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن کی بہت سی آیات کا آخری حصّہ تفکر، تعقل اور تذکر کی دعوت ہے۔ کبھی کہتا ہے " : إِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ" (نحل ۱۱، ۶۹)۔ اور کبھی کہتا ہے: " إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون" (رعد .۳ ، زمر . ۴۲ اور جاثیہ . ۱۳)۔ اور کبھی کہتا ہے: " لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ " (حشر ۲۱، اعراف ۱۷۶)۔ اور کبھی اس جملہ کو دوبارہ خطاب کی صورت میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: " كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ الآيات لعلكم تتفكرون" "اس طرح سے خدا تمہارے لیے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو" (بقرہ ۲۱۹، ۲۶۶)۔ اسی طرح کے جملے قرآن میں بہت زیادہ ہیں، مثلاً قرآن کی بہت سی آیات میں "فقہ" (فہم) کی دعوت دی گئی ہے، عقل و تعقل کی دعوت اور ان افراد کی تعریف کی گئی ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں اور ان کی مذمت کہ جو اپنی فکر کو استعمال نہیں کرتے، یہ بات قرآنِ مجید کی ۴۶ آیات میں وارد ہوئی ہے۔ علماء اور دانشمندوں اور علم و دانش کے مقام و مرتبہ کی اتنی زیادہ تعریف و توصیف کی ہے، کہ اگر ہم ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے ان کی تفسیر کریں تو وہ خود ایک مستقل کتاب بن جائے۔ اس سلسلہ میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن دوزخیوں کی صفات میں سے ایک صفت تفکر و تعقل نہ کرنے کو بیان کرتا ہے: ": وَقالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ ما كُنَّا فِي أَصْحابِ السَّعِيرِ (دوزخی کہیں گے کہ اگر ہم سننے والے کان اور بیدار عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں سے نہ ہوتے)۔ کیونکہ دوزخ میں صاحبانِ عقل کی جگہ نہیں ہے۔ ( مُلک ۱۰) اور ایک اور دوسری جگہ پر کہتا ہے: اصولی طور پر وہ لوگ جو کان رکھتے ہیں لیکن سنتے نہیں، آنکھ رکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں اور عقل رکھتے ہیں لیکن سوچتے نہیں، وہ جہنم کے لیے نامزد ہو گئے ہیں۔ " وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَلَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ"۔ "یقینا جِنّوں اور انسانوں کے بہت سے گروہ جہنم کے لیے قرار دے دئیے ہیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ عقل رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ سوچتے نہیں، آنکھ رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دیکھتے نہیں، کان رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ سنتے نہیں، وہ چوپایوں کی مانند ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ وہی تو اصل غافل ہیں"۔(اعراف ۱۷۹)

۲۔ غور و فکر کے سلسلے میں روایاتِ اسلامی

روایاتِ اسلامی میں قرآن کی پیروی کرتے ہوئے غور و فکر کا مسئلہ اہمیت کے اعتبار سے درجہ اوّل میں قرار پاتا ہے اور بہت ہی بلیغ اور پُرکشش تعبیرات اس سلسلہ میں دکھائی دیتی ہیں، کہ جن کے کچھ نمونے ہم یہاں پر پیش کرتے ہیں: الف۔ غور و فکر کرنا عظیم ترین عبادت ہے۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے: " ليس العبادة كثرة الصلاة و الصوم انما العبادة التفكر فى امر الله عز و جل" (عبادت نماز و روزہ کی کثرت میں نہیں ہے، عبادت واقعی تو خداوند تعالیٰ کے کاموں اور جہانِ آفرینش کے کاموں میں غور و فکر کرنا ہے) [بحوالہ: اصولِ کافی جلد ۲، کتاب "الکفر والایمان" باب "التفکر" (ص ۴۵)]۔ ایک دوسری روایت میں یہ منقول ہوا ہے: " كان اكثر عبادة ابى ذر التفكر" "ابوذر کی زیادہ تر عبادت غور و فکر اور سوچ بچار کرنا تھا" [بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۲، ص ۳۸۳، مادہ فکر]۔ ب۔ ایک ساعت غور و فکر کرنا ایک رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ: "تفکر ساعة خیر من قیام لیلة" "ایک ساعت غور و فکر کرنا ایک رات بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے"۔ اس سے کیا مراد ہے اور غور و فکر کس طرح کرنا چاہیئے؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: " يمر بالخربة او بالدار فيقول اين ساكنوك اين بانوك مالك لا تتكلمين" "جب تُو کسی ویرانے کے پاس سے گزرتا ہے، یا کسی ایسے گھر کے پاس سے (کہ جو اپنے بسنے والوں سے خالی ہو) گزرتا ہے تو کہتا ہے، تجھ میں رہنے والے کہاں گئے؟ تیری بنیاد رکھنے والوں کا کیا ہوا؟ تُو بولتا کیوں نہیں" [مدرک مذکورہ]۔ ج۔ غور و فکر سرچشمہ عمل ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: " ان التفكر يدعوا الى البر و العمل به" "غور و فکر کرنا نیکی اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے" [بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۲، ص ۳۸۳، مادہ فکر]۔

47
34:47
قُلۡ مَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٖ فَهُوَ لَكُمۡۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٞ
کہہ دے کہ جو اجر اور بدلہ میں نے تم سے مانگا ہے وہ خود تمہارے ہی لیے ہے میرا اجر تو صرف خدا پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
34:48
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
کہہ دے کہ میرا پرور دگار حق کو اپنے پیغمبر وں کے دل میں ڈالتا ہے کیونکہ وہ تمام پوشیدہ اسرار سے واقف و آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
34:49
قُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَمَا يُبۡدِئُ ٱلۡبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ
کہہ دے کہ حق آگیا ہے اور باطل نہ تو کسی چیز کا آغازہی کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تجدید۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
34:50
قُلۡ إِن ضَلَلۡتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفۡسِيۖ وَإِنِ ٱهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوحِيٓ إِلَيَّ رَبِّيٓۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٞ قَرِيبٞ
کہہ دے کہ اگر میں گمراہ ہو جاؤں تو میں خود اپنی طرف سے گمراہ ہوں گا اگر ہدایت یافتہ ہو جاؤں تو وہ اس وحی کے وسیلہ سے ہے جو میرا پرور دگار میری طرف کرتا ہے وہ سننے والا، نزدیک ہے۔

چند اہم نکات: باطل سے کوئی کام نہیں ہوتا

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ہم بیان کر چکے ہیں کہ خدا آیات کے اس سلسلے میں پانچ مرتبہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ان بےایمان گمراہوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے بات کرو اور ہر طرف سے ان پر عذر کی راہ بند کر دو۔ گزشتہ آیات میں تفکر کی دعوت کے بارے میں گفتگو تھی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہر قسم کے روحانی عدم تعاون کی نفی تھی۔ پہلی زیرِبحث آیت میں رسالت کے مقابلہ میں اجر اور مزدوری کے عدم مطالبہ کی گفتگو ہو رہی ہے۔ کہتا ہے: "کہہ دے کہ جو اجر و پاداش میں نے تم سے مانگا ہے وہ تمہارے ہی لیے ہے" (قُلْ ما سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَلَكُمْ)۔ "اور میرا اجر اور صلہ تو خدا ہی کے ذمہ ہے" (إِنْ اَجْرِیَ إِلاَّ عَلَی اللہِ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقلمند انسان جو کام بھی کرے اس کا کوئی نہ کوئی سبب اور محرک ہونا چاہیئے۔ تو جب میری عقل کا کامل ہونا تم پر ثابت ہو چکا ہے اور تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ میں کوئی مادی سبب اور محرک نہیں رکھتا، تو تمہیں یہ جان لینا چاہیئے کہ خدائی اور معنوی محرک نے ہی مجھے اس کام پر آمادہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، میں نے تمہیں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تو تم اب اچھی طرح سے سوچ لو اور اپنے وجدان سے سوال کرو، کہ کونسی چیز اس بات کا سبب بنی ہے کہ میں تمہیں خدا کے سخت عذاب سے انذار کروں اور ڈراؤں، اس کام سے مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ اور اس میں میرا کونسا مادی فائد ہ ہے؟ اس کے علاوہ اگر اس مخالفت اور حق سے روگردانی کرنے میں تمہارا بہانہ یہ ہے کہ تمہیں اس کیلئے بےبہا قیمت ادا کرنی پڑے گی، تو میں نے اصولاً تم سے کوئی اجر اور صلہ مانگا ہی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی معنی سورہ قلم کی آیہ ۴۶ میں بھی صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے: (أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُون) "کیا تُو نے رسالت کی ادائیگی پر کوئی اجر اور صلہ ان سے مانگا ہے کہ جو ان کے کندھوں پر بوجھ بن گیا ہے"؟ اس بارے میں کہ (فَهُوَلَكُمْ) کا جملہ کیا معنی رکھتا ہے، اس کے لیے دو تفاسیر موجود ہیں: پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ مطلقاً ہر قسم کی اجرت کا مطالبہ نہ کرنے کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ: "جو کچھ ہم نے تجھ سے چاہا ہے خود تیرا ہی مال ہے" یہ اس بات کے لئے کنایہ ہے کہ میں نے تجھ سے کچھ بھی مطالبہ نہیں کیا، اس بات کا شاہد اس کے بعد والا جملہ ہے، کہ جس میں وہ کہتا ہے: ( إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الله) "میرا اجر اور صلہ تو صرف خدا پر ہے"۔ دوسری تفسیر یہ ہے اگر تم یہ دیکھتے ہو، کہ میں نے اپنی بعض باتوں میں، کہ جو میں پروردگار کی طرف سے لایا ہوں تم سے یہ کہا ہے کہ: (: لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبىٰ) "میں تم سے کوئی صلہ اور اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے اقرباء کی دوستی کے" (شوریٰ ۲۳)۔ تو اس کا فائدہ بھی خود تمہاری طرف ہی لوٹتا ہے، چونکہ (مودت ذی القربیٰ) مسئلہ "امامت و ولایت" اور خطِ نبوت کے مسلسل جاری رہنے کی طرف بازگشت ہے کہ جو تمہاری ہدایت کے جاری رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اس بات کی گواہ وہ شانِ نزول ہے کہ جو بعض مفسرین نے یہاں نقل کی ہے، کہ جس وقت آیہ: "قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى" نازل ہوئی، تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین مکّہ سے فرمایا میرے اقرباء اور اعزاء کو اذیت نہ دو، تو انہوں نے بھی اس فرمائش کو قبول کر لیا، لیکن جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے بتوں کو بُرا کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے منصفانہ برتاؤ نہیں کرتا، ایک طرف ہمارے خداؤں کو بُرا بھلا کہہ کر ہمیں اذیت و آزار پہنچاتا ہے تو اس موقع پر آیہ " قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَلَكُم" (زیرِبحث آیت) نازل ہوئی اور ان سے کہا کہ جو کچھ میں نے تم سے اس بارے میں سوال کیا ہے وہ تمہارے ہی نفع کیلئے ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ آزار و تکلیف پہنچاؤ یا نہ پہنچاؤ [بحوالہ: تفسیر روح البیان، جلد ۷ ص ۳۰۸]۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "اور وہ ہر چیز پر شاہد و گواہ ہے" (وَهُوَعَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ شَهِيدٌ). اگر مَیں اپنا اجر اور صلہ اسی سے چاہتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میرے تمام اعمال اور نیتوں سے آگاہ اور باخبر ہے۔ علاوہ ازیں وہ میری حقّانیت کا گواہ ہے کیونکہ یہ تمام معجزات اور آیاتِ بینات اس نے میرے قبضہ اور اختیار میں دے رکھے ہیں اور واقعاً سب سے زیادہ برتر و افضل گواہ خود وہ ہے، کیونکہ جو شخص حقائق کو سب سے بہتر طور پر جانتا ہے اور وہ سب سے بہتر طور پر انہیں ادا کر سکتا ہے اور حق کے سوا کوئی چیز اس سے صادر نہیں ہوتی تو وہی سب گواہوں سے بہتر گواہ ہے اور وہ خدا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کے سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے، اس پر توجہ کرتے ہوئے، بعد والی آیت میں کہتا ہے: قرآن ایک ایسی حقیقت اور واقعیت ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، کہ جو خدا کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل پر القاء ہوا ہے۔ "کہہ دے کہ میرا پروردگار حق کو ڈالتا ہے، کہ جو علام الغیوب ہے اور تمام اسرارِ نہاں سے آگاہ ہے" (قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "یقذف" "قذف" کے مادے سے (بر وزن حذف) دور دراز کی جگہ پر پھینکنے یا دور کے راستے سے لڑھکانے کے معنی میں ہے، اس آیت کے لیے بہت سی تفسیریں لکھی گئی ہیں، کہ وہ سب کی سب آپس میں قابلِ جمع ہیں۔ پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ "حق" کو پھینکنے سے مراد، کتبِ آسمانی اور وحی الٰہی کی انبیاء اور پروردگار کے بھیجے ہوؤں کے دلوں میں ڈالنا ہے۔ کیونکہ وہ علام الغیوب ہونے کے سبب آمادہ اور تیار دلوں کو پہچانتا ہے اور ان کا انتخاب کر کے اپنی وحی کو ان میں ڈالتا ہے، تاکہ اس کی گہرائیوں میں نفوذ کرے۔ تو اس طرح یہ آیہ اُس مشہور حدیث: "العلم نور يقذفه الله فى قلب من يشاء" "علم ایک نور ہے کہ جسے خدا جس دل میں چاہتا ہے اور جسے لائق دیکھتا ہے، ڈال دیتا ہے" ... سے مشابہت رکھتی ہے۔ تعبیر "علاّم الغیوب" اس معنی کی تائید کرتی ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد حق کو باطل پر پھینکنا اور حق کے ذریعہ باطل کی سرکوبی کرنا ہے۔ یعنی حق اس طرح کی قوت طاقت رکھتا ہے، کہ جو اپنے راستے سے تمام رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے اور کسی شخص کو اس کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت اور قدرت نہیں ہے۔ تو اس طرح سے یہ مخالفین کے لیے ایک تہدید ہے، کہ وہ قرآن کے مقابلہ کے لیے کھڑے نہ ہوں اور وہ یہ جان لیں کہ قرآن کی حقانیت انہیں درہم برہم کر کے رکھ دے گی۔ اور اس صورت میں یہ اس مطلب کے مشابہ ہے کہ جو سورہ انبیاء کی آیہ ۱۸ میں بیان ہوا ہے: (بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذا هُوَزاهِقٌ) "ہم حق کو باطل کے سر پر پھینکیں گے تاکہ وہ اس کو نابود اور ہلاک کر دے اور باطل محو و نابود ہو جائے گا"۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہاں "قذف" کی تعبیر سے مراد قرآن کی حقانیت کا عالم کے دور و نزدیک کے نقاط میں نفوذ ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخرکار یہ وحی آسمانی عالمگیر ہو جائے گی اور ہر جگہ کو اپنے نور سے روشن و منور کر دے گی۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتا ہے: "کہہ دے کہ حق آگیا ہے، اور باطل سے اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ تو وہ کوئی نیا کام انجام دے سکتا ہے اور نہ ہی پرانے پروگرام کی تجدید کر سکتا ہے" (قُلْ جاءَ الْحَقُّ وَما يُبْدِئُ الْباطِلُ وَما يُعِيدُ) [تشریحی نوٹ: "یبدء" مادہ "ابداء" سے ابتدائی طور پر ایجاد کرنے کے معنی میں ہے "یعید" "اعادہ" کے مادہ سے تکرار کے معنی میں ہے، باطل اس کا فاعل ہے اور اس کا مفعول محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے: "مایبد ء الباطل شیئا ومایبد شیئا" "باطل نہ تو کسی چیز کی ابتداء کر سکتا ہے اور نہ ہی اعادہ"]۔ اور اس طرح سے حق کے مقابلہ میں اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا، نہ تو کوئی جدید نقش و اثر ہو گا اور نہ ہی کوئی تکراری نقش و اثر ہو گا،کیونکہ اس کے تمام نقوش، نقش برآب ہیں اور ٹھیک اسی بناء پر وہ نورِ حق کی پردہ پوشی بھی نہیں کر سکتا اور اس کے اثر کو دلوں سے کم نہیں کر سکتا۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس آیت میں حق و باطل کو محدود مصادیق کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ان دونوں کا مفہوم وسیع و کشادہ ہے، قرآن، وحی خداوندی، تعلیماتِ اسلام سب کے سب "حق" کے مفہوم میں جمع ہیں۔ جبکہ شرک و کفر ضلالت و گمراہی، شیطانی وسوسے اور طاغوتی بدعتیں سب "باطل" کے معنی میں درج ہیں۔ اور حقیقت میں یہ آیت سورہ اسراء کی آیت ۸۱ کے مشابہ ہے کہ جس میں فرماتا ہے: " وَقُلْ جاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْباطِلُ إِنَّ الْباطِلَ كانَ زَهُوقا"۔ "کہہ دے کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا، کیونکہ باطل تو جانے والا ہی ہے"۔ ایک روایت میں ابنِ مسعود سے اس طرح منقول ہے، کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکّہ میں وارد ہوئے، درآنحالیکہ خانہ خدا کے اطراف میں ۳۶۰ بُت تھے، آپ اس چھڑی کے ساتھ کہ جو آپ کے ہاتھ میں تھی ایک ایک بُت کو گراتے اور فرماتے جاتے تھے: "جاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْباطِلُ إِنَّ الْباطِلَ كانَ زَهُوقاً. .. جاء الحق و ما يبدئ الباطل و ما يعيد" [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۸، ص ۳۹۷]۔

سوال

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے، کہ حق کے ظہور کے ساتھ باطل رنگ باختہ ہو کر کلی طور پر کوئی نئی بات ایجاد کرنے سے باز آ جاتا ہے، حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ باطل ابھی تک مصروفِ کار ہے اور بہت سے علاقوں کو اپنے زیرِ تسلط قرار دیئے ہوئے ہے؟ جواب: اس کے جواب میں اس نکتہ کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ اولاً: تو حق کے ظاہر ہونے اور اس کے آشکار ہونے سے باطل یعنی شرک و کفر و نفاق اور جن جن کا وہ سرچشمہ ہے، بےرنگ ہو جاتے ہیں اور اگر وہ اپنی زندگی کو جاری بھی رکھیں تو وہ بھی زور و ظلم اور دباؤ کے طریقہ سے ہو گا۔ ورنہ اس کے چہرے سے نقاب ہٹ جائے گا اور اس کا مکروہ چہرہ حق کے متلاشیوں کے لیے آشکار ہو جائے گا اور حق کے آنے، باطل کے محو ہو جانے سے یہی مراد ہے۔ ثانیاً: حق کی حکومت کے قیام اور سارے عالم میں باطل کی حکومت کے زوال کے لیے، اُن امکانات و وسائل کے علاوہ کہ جو خدا نے بندوں کے اختیار میں دیئے ہیں، ایسے شرائط و حالات کا وجود بھی ان کی طرف سے ضروری ہے کہ جن میں سے اہم ترین چیز ان امکانات و وسائل سے استفادہ کے لیے مقدمات کی ترتیب دینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حق کی باطل پر کامیابی نہ صرف مکتبی، منطقی و ہدفی پہلوؤں میں ہے، بلکہ اجرائی پہلوؤں میں دو بنیادوں پر قرار پاتی ہیں، "فاعلیتِ فاعل" اور "قابلیتِ قابل" اور اگر قابلیتوں کے نہ ہونے کے باعث اجرا ء کے مرحلہ میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو تو حق کی عدم کامیابی کی دلیل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ قرآن کہتا ہے: " ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" "مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں" (مئومن ۶۰) لیکن ہم جانتے ہیں کہ دعا کی قبولیت بےقید و شرط نہیں ہے، اگر اس کے شرائط حاصل ہو جائیں تو اس کی اجابت قطعی و یقینی ہے، ورنہ اس صورت کے علاوہ اجابت و قبولیت کی توقع نہیں ہونا چاہیے۔ اس معنی کی تشریح سورہ بقرہ کی آیہ ۱۸۶ کے ذیل میں (جلد اول میں آ چکی ہے)۔ یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ ہم ایک حاذق اور ماہر طبیب و ڈاکٹر کو ایک مریض کے پاس لائیں اور ہم کہیں کہ تیری نجات کے اسباب فراہم ہو گئے ہیں اور جب ہم اس کی دوا بھی مہیا کر دیں، تو ہم کہتے ہیں کہ اب تیری مشکل حل ہو گئی۔ حلانکہ یہ سب چیزیں تو وہ ہیں کہ جو مقتضی تھیں، نہ کہ علت تامہ۔ بیمار کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوا سے استفادہ کرے اور طبیب کی شرائط پر کاربند ہو اور وہ پرہیز کہ جو ضروری و لازمی ہیں ان کو نہ بھولے، تاکہ شفا کا حصول یقینی بن جائے۔ (غور کیجئے) اس کے بعد اس بناء پر کہ وہ یہ واضح کر دے کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے خدا کی طرف سے ہے اور ہر ہدایت خدا کی جانب سے ہے اور وحی الٰہی میں ہرگز خطا کا گزر نہیں ہے۔ مزید کہتا ہے کہ: "کہہ دے کہ اگر میں گمراہ ہو جاؤں تو میں خود اپنی طرف سے گمراہ ہوں گا اور اگر میں ہدایت پاؤں تو میں اُس چیز کے ذریعے سے کہ جو میرے پروردگار نے مجھے وحی کی ہے ہدایت پاؤں گا" (قُلْ إِنْ ضَلَلْتُ فَإِنَّما أَضِلُّ عَلى‏ نَفْسِي وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِما يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي) [تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ پہلے جملہ میں "علیٰ" کیوں لایا (علیٰ نفسی) اور دوسرے جملہ میں "با" (فَبِما يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي) بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ ان جملوں میں سے ہر ایک میں محذوف ہے کہ جو ایک دوسرے قرینہ کی وجہ سے حذف ہوا ہے اور اس کی تقدیر اس طرح تھی ": ان ضللت فانما اضل نفسى و ان اهتديت فانما اهتدى لنفسى بما يوحى الى ربى" اگر میں گمراہ ہو جاؤں تو میں خود سے گمراہ ہوا ہوں اور اگر میں ہدایت پاؤں تو میرے نفس نے اس چیز سے ہدایت حاصل کی ہے کہ جو میرے پروردگار نے میری طرف وحی کی ہے۔ (غور کیجیئے) تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ یعنی میں بھی اگر اپنی حالت پر رہوں تو گمراہ ہو جاؤں گا، کیونکہ باطل کے انبوہ میں سے راہِ حق کو تلاش کرنا پروردگار کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور ہدایت کا وہ نور کہ جس میں گمراہی کا کوئی گزر نہیں ہے، اس کی وحی کا نور ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ عقل ایک پر فروغ چراغ ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ انسان معصوم نہیں ہے اور اس چراغ کی شعاع و ظلمت کے تمام پردوں کو نہیں چیز سکتی پس آؤ اور تم بھی اس وحی الٰہی کے دامن میں ہاتھ ڈالو تاکہ وادی ظلمات سے نکل سکو اور سرزمینِ نور میں قدم رکھو۔ بہرحال جہان پیغمبر باوجود اپنے پورے علم و آگاہی کے خدا کی ہدایت کے بغیر کسی جگہ پر نہیں پہنچتا تو دوسروں کا معاملہ تو ظاہر اور روشن ہے۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "وہ سننے والا اور نزدیک ہے" (إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ)۔ کہیں یہ خیال نہ کر لینا کہ وہ ہماری اور تمہاری باتوں کو نہیں سنتا یا سنتا تو ہے لیکن ہم سے دُور ہے، ایسا نہیں ہے، وہ سنتا بھی ہے اور نزدیک بھی ہے، اس بناء پر ہماری گفتگوؤں اور خواہشات کا ایک ذرّہ بھی اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔

51
34:51
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ
اگر تو اس وقت دیکھے جبکہ ان کی فریاد بلند ہو گی لیکن وہ (عذاب سے) بھاگ نہ سکیں گے اور وہ نزدیک کسی جگہ سے پکڑ لئے جائیں گے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
34:52
وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
اور وہ یہ کہیں گے کہ ہم ایمان لائے لیکن وہ دور کے فاصلے سے اس بات پر کیسے رسائی حاصل کر سکیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
34:53
وَقَدۡ كَفَرُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۖ وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
(حالانکہ) وہ اس سے پہلے تو اس سے کافر ہو گئے تھے اور دور ہی دور سے عالم غیب کے بارے میں اٹکل پچوباتیں بنا یا کرتے تھے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
34:54
وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۭ
آخر کار ان کے اور ان کی خواہشات (تمناؤں آرزوؤں اور چاہتوں ) کے درمیان جدائی ڈال دی گئی جیسا کہ ان کے پیرو کاروں کے ساتھ اس سے پہلے کیا گیا تھا کیونکہ وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔

تفسیر: ان کے لئے راہِ فرار نہ ہو گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

زیرِبحث آیات میں کہ جو "سورہ سبا" کی آخری آیات ہیں، ان مباحث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو ہٹ دھرم مشرکین کے بارے میں گزشتہ آیات میں گزر چکی ہیں، دوبارہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے، اس گروہ کی حالت کو عذابِ الٰہی کے چنگل میں گرفتاری کے وقت مجسم کرتا ہے، کہ وہ (عذابِ الٰہی میں) گرفتار ہونے کے بعد کسی طر ح ایمان لانے کی فکر میں پڑیں گے لیکن ان کے ایمان لانے کا کوئی فائد ہ نہ ہو گا۔ فرماتا ہے: "اگر تُو اس وقت دیکھے جبکہ ان کی فریاد بلند ہو گی، لیکن وہ بھاگ نہ سکیں گے اور عذابِ الٰہی کے چنگل سے نکل نہ سکیں گے اور انہیں بالکل قریب سے ہی پکڑ لیں گے اور گرفتار کر لیں گے تو تُو ان کی بیچارگی اور بےبسی پر تعجب کرے گا" (وَلَوْ تَرى‏ إِذْ فَزِعُوا فَلا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ) [تشریحی نوٹ: "ولوترٰی" جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزاء محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے: "لرأیت امراً اعظیماً"۔ یا "لعجبت من احوالھم" (تُو ایک امر عظیم دیکھتا۔ یا ان کے حالات پر تعجب کرتا)]۔ یہ بات کہ یہ نالہ و زاری اور فریاد و بےتابی کس زمانے سے تعلق رکھتی ہے؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اسے عذابِ دنیا یا موت کے وقت کے ساتھ وابستہ سمجھتے ہیں اور بعض اسے روزِ قیامت کے عذاب سے متعلق جانتے ہیں۔ لیکن زیرِبحث آیتوں میں سے آخری آیت میں ایک ایسی تعبیر موجود ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ آیات، سب کی سب دنیا ہی میں پہنچنے والے عذاب کے ساتھ یا جان کنی کے لمحہ کے ساتھ مربوط ہیں، کیونکہ آخری آیت میں وہ یہ کہتا ہے کہ: "ان کے اور ان کی چہیتی چیزوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی" جیسا کہ اس سے پہلے کفار کے دوسرے گروہوں کے بارے میں یہی عمل انجام پایا ہے۔ یہ تعبیر روزِ قیامت کے عذاب کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ اس دن تو سب کے سب ایک ہی جگہ حساب کے لیے جمع ہوں گے، جیسا کہ سورہ ہود کی آیہ 103 میں بیان ہوا ہے کہ: " ذلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ" "وہ ایسا دن ہے کہ جس میں تمام لوگ جمع ہوں گے اور وہ ایسا دن ہے کہ جس کا سب مشاہدہ کریں گے"۔ اور سورہ واقعہ کی آیت ۴۹ ، ۵۰ میں یہ بیان ہوا ہے کہ: " قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلى‏ مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ‏"کہہ دے کہ سب اولین و آخرین، روزِ معین کے وقت اکٹھے کیے جائیں گے"۔ اس بناء پر أُخِذُوا مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ‏" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ یہ ستمگر اور بےایمان لوگ نہ صرف یہ کہ قدرتِ خدا کی حدود سے باہر نکل سکیں گے بلکہ خدا انہیں ایسی جگہ سے گرفتار کرے گا کہ جو ان سے بہت ہی زیادہ قریب ہو گی۔ کیا فرعونی دریائے نیل کی لہروں میں کہ جو اُن کے لیے سرمایہ افتخار تھا، دفن نہیں ہوئے؟ اور کیا قارون اپنے ہی خزانوں کے درمیان زمین میں نہیں دھنسا؟ اور کیا قومِ سبا، کہ جن کی داستان اسی سورہ میں بیان کی گئی ہے، نزدیک ترین مکان یعنی اسی عظیم سَد سے کہ جو اُن کی آبادی کا دل اور ان کی زندگی اور حرکت کا سرمایہ تھی گرفتار نہیں ہوئے؟ اسی بناء پر خدا انہیں بھی نزدیک ترین جگہ سے ہی گرفتار کرے گا تاکہ وہ اس کی قدرت نمائی کو جان لیں۔ بہت سے ظالم بادشاہ اپنے نزدیک ترین افراد کے ذریعہ قتل ہوئے اور نابود ہو گئے اور بہت سے قدرتمند ستمگروں نے اپنے گھر کے اندر ہی آخری ضرب کھائی۔ اور اگر یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سی روایات میں کہ جو شیعہ اور اہلِ سنت کے وسیلوں سے نقل ہوئی ہیں، یہ آیت "سفیانی" کے خروج اور اُس کے لشکر (وہ گروہ کہ جو ابوسفیانی کے مکتب کے پیرو اور زمانہ جاہلیت کے پسماندگان ہیں اور حق کے طرفداروں کے خلاف قیامِ مہدی علیہ السلام کی ابتداء میں خروج کریں گے) پر منطبق ہوئی ہے، کہ وہ مکہ کی تسخیر کے لیے اس کی طرف چلنے کے موقع پر صحرا میں گرفتارِ عذاب ہوں گے اور زمین میں اس کے شگافتہ ہونے اور ان کے اس میں دھنس جانے کے سبب سے شدید زلزلہ اور لرزہ طاری ہو گا۔ تو یہ حقیقت میں (أُخِذُوا مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ) کے ایک مصداق کا بیان ہے، کہ وہ اسی نقطہ سے کہ جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے عذابِ الٰہی کے چنگل میں گرفتار ہوں گے۔ اس حدیث کا مضمون "ابنِ عباس"، "ابنِ مسعود"، "ابوہریرہ"، "ابوحذیفہ"، "امِّ سلمہ" اور حضرت عائشہ نے اس کے مطابق کہ جو اہلِ سنت کی کتابوں میں آیا ہے، پیغمبرِ گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے [بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۱۶، ص ۴۱۹]۔ اور بہت سے شیعہ مفسرین مثلاً "مجمع البیان"، "نوارلثقلین"، "صافی" نے اور اہلِ سنت کے مفسرین کی ایک جماعت مثلاً "روح البیان" اور "قرطبی" کے مئولفین نے بھی اس کو زیرِبحث آیات کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ مرحوم علامہ مجلسی نے متعدد روایات بحار الانوار میں امام محمد باقر علیہ السلام اور پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلہ میں نقل کی ہیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زیرِبحث آیات کے مصادیق میں سے ایک قیامِ مہدی علیہ السلام کے وقت "خروجِ سفیانی" کا مسئلہ ہے کہ جس کو خدا (اس کے لشکر سمیت) نزدیک ترین جگہ سے گرفتارِ عذاب اور نابود کر دے گا [بحوالہ: بحار الانوار جلد ۵۲، ص ۱۸۵ سے بعد (باب علامات ظہورِ مہدی علیہ السلام من السفیانی وا ارجال)]۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ جو روایات آیات کی تفسیر میں وراد ہوتی ہیں وہ زیادہ تر واضح مصادیق کو بیان کرتی ہیں اور وہ ہرگز آیات کے مفہوم کو محدود کرنے کی دلیل نہیں ہیں۔ بعد والی آیت میں، ان کے عذابِ الٰہی کے چنگل میں گرفتار ہونے کے وقت ان کی حالت کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ کہیں گے کہ ہم اس (قرآن، اس کے لانے والے اور مبدأ و معاد) پر ایمان لائے" (وَقالُوا آمَنَّا بِهِ) [تشریحی نوٹ: "بہ" کی ضمیر "حق" کی طرف لوٹتی ہے، کہ جو اس سے قریب ترین مرجع ہے ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ آیات میں "حق" قرآن اور اس کے مضامین اور مبداء و معاد اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معنی میں ہے]۔ "لیکن وہ اس دور دراز کے فاصلہ سے اس پر کس طرح دسترس حاصل کر سکیں گے" (وَأَنَّى لَهُمُ التَّناوُشُ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ)۔ ہاں! موت اور عذابِ استیصال کے آ جانے پر بازگشت کے دروازے کلی طور پر بند ہو جاتے ہیں اور انسان اور گزشتہ غلط کاریوں کی تلافی کے درمیان ایک محکم رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، اسی بناء پر اس وقت ایمان کا اظہار کرنا ایسا ہو گا جیسا کہ یہ بات کسی دور دراز مقام سے انجام پائے جہاں ہاتھ نہ پہنچ سکتا ہو۔ اصولی طور پر اس قسم کا ایمان کہ جو اضطراری پہلو رکھتا ہو اور اُس عذاب کے حد سے زیادہ خوف کی وجہ سے ہو، جسے وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں کوئی وقعت نہیں رکھتا، لہٰذا قرآن کی دوسری آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ: "یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اگر یہ پلٹ جائیں تو پھر انہیں پروگراموں پر عمل کرنے لگیں گے" (انعام، ۲۸)۔ "تناوش" مادہ "نوش" (بر وزن خوف) کسی چیز کو پکڑنے کے معنی میں ہے اور بعض نے سہولت کے ساتھ پکڑنے کے معنی میں لیا ہے، یعنی وہ ایسے دُور دراز کے ہدف تک آسانی کے ساتھ کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ اس وقت جبکہ تمام چیزیں ختم ہو گئی ہیں وہ ایمان لا کر اپنی خطاؤں کی تلافی کیسے کر سکتے ہیں۔ "حالانکہ وہ اس سے پہلے (جبکہ وہ انتہائی اختیار اور ارادہ کی آزادی کے مالک تھے ) اس سے کافر ہو گئے تھے" (وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ)۔ وہ نہ صرف کافر ہی ہوئے تھے بلکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی تعلیمات پر طرح طرح کی تہمتیں باندھتے تھے اور عالمِ غیب، عالم ماوار، طبعیت، قیامت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے بارے میں ناروا فیصلے کیا کرتے تھے اور دور دراز مقام سے اس کی طرف ناروا نسبتیں دیتے تھے۔ "(وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ)"۔ "قذف" جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے،کسی چیز کو اٹھا کر پھینکنے کے معنی میں ہے اور "غیب" عالمِ ماورا حِس کے معنی میں ہے اور "مکان بعید" دور کی جگہ کے معنی میں ہے اور مجموعی طور پر یہ ایک لطیف کنایہ ہے، ایسے شخص کے بارے میں کہ جو عالمِ ماوراء طبعیت کے لئے آگاہی و اطلاع کے بغیر فیصلہ کرے۔ جیسا کہ دور کی جگہ سے کسی چیز کو پھینکنا بہت ہی کم نشانہ پر لگتا ہے، اسی طرح ان کا یہ ظن و گمان اور فیصلہ بھی ہدف اور نشانہ پر نہیں لگتا۔ وہ کبھی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساحر اور جادوگر کہتے تھے، کبھی "دیوانہ" کبھی کذاب (جھوٹا) کبھی قرآن کو انسانی فکر سے گھڑا ہوا کلام جانتے تھے اور کبھی جنّت، جہنم اور قیامت کا کلی طور پر انکار کر دیتے تھے۔ یہ تمام باتیں ایک قسم کا "غیب کے بارے میں اٹکل پچو باتیں بنانا اور "تاریکی میں تیر پھینکنا" اور "دور دراز کے مکان سے پھینکنا" " قذف مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ" تھا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ: آخرکار ان کے اور ان تمام چیزوں کے درمیان کہ جن سے وہ علاقہ و تعلق رکھتے تھے، موت کے ذریعہ جدائی ڈالی دی جائے گی، جیسا کہ ان کے مانند و مشابہ گروہوں کے ساتھ اس سے پہلے عمل ہوا (وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ما يَشْتَهُونَ كَما فُعِلَ بِأَشْياعِهِمْ مِنْ قَبْلُ)۔ ایک ہی دردناک لمحہ دیکھیں گے کہ ان کا تمام مال و دولت، تمام محلات اور مقام و منصب اور ان کی تمام آرزوئیں اور تمنائیں اُن سے جدا ہو رہی ہیں وہ لوگ کہ جو ایک ایک پیسے کے ساتھ (ایک ایک درہم و دینار سے) سختی کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور معمولی سے معمولی مادی وسائل و اسباب سے بھی دل کو الگ نہیں کرتے تھے، ان کا اس لمحہ میں کہ جس میں انہیں ایک ہی مرتبہ سب کو الوداع کہنا پڑے گا، آنکھیں بند ہو جائیں گی اور ایک تاریک اور وحشتناک مستقبل کی طرف قدم اٹھا رہے ہوں گے کیا حال ہو گا! " حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ما يَشْتَهُونَ" (ان کے اور ان تمام چیزوں کے درمیان کہ جن سے وہ علاقہ و تعلق رکھتے تھے جدائی ڈال دی جائے گی) کے جملہ کے لیے دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں: پہلی تفسیر تو یہی ہے کہ جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ایمان لے آئیں اور گزشتہ کی تلافی کریں، لیکن ان کے اور ان کی اس خواہش کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ لیکن پہلی تفسیر " ما يَشْتَهُونَ" والے جملہ کے معنی کے ساتھ زیادہ موت اور عذابِ استیصال گزشتہ آیات میں " (أَنَّى لَهُمُ التَّناوُشُ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ)" کے جملہ میں موت اور عذابِ استیصال کے وقت ایمان پر ان کی دسترس نہ ہونے کا مسئلہ بیان ہوا تھا، لہذا اس کے تکرار کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے، کہ بہت سے مفسرین نے ان آیات کو روزِ قیامت کے عذاب اور عرصہ محشر میں گنہگاروں کی ندامت سے متعلق جانا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ آخری زیربحث آیت میں " كَما فُعِلَ بِأَشْياعِهِمْ مِنْ قَبْلُ" کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے، یہ معنی مناسب نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد موت کا لمحہ اور خدا کی طرف سے نابود کرنے والے عذاب کا مشاہدہ ہی ہے۔ اور امیر المئومنین علی علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے اور جان کنی کے لمحات اور دنیا کی نعمتون سے جدائی کی اپنے نورانی کلمات میں بہت ہی واضح طریقہ سے تصویر کشی کی ہے: " اجتمعت عليهم سكرة الموت، و حسرة الفوت، ففترت لها اطرافهم، و تغيرت لهام الوانهم! ثم آزاد الموت فيهم ولوجا، فحيل بين احدهم و بين منطقه، و انه لبين اهله، ينظر ببصره و يسمع باذنه ... يفكر فيم افنا عمره؟ و فيم اذهب دهره؟ و يتذكر اموالا جمعها اغمض فى مطالبها، و اخذها من مصرحاتها و مشتبهاتها! ... فهو يعض يده ندامة على ما اصحر له عند الموت من امره، و يزهد فيما كان يرغب فيه ايام عمره، و يتمنى ان الذى كان يغبطه بها و يحسده عليها قد حازها دونه!" "سکرات موت اور دنیا کی نعمتوں کو ہاتھ سے کھونے کی حسرتیں ان کے اوپر حملہ آور ہو جاتی ہیں، ان کے بدن کے اعضاء سست ہو جاتے ہیں اور ان کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد موت کا پنجہ ان کے اندر اور زیادہ نفوذ کرنے لگتا ہے۔ اس طرح سے کہ ان کی زبان کام کرنا بند کر دیتی ہے، اس حالت میں کہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان پڑا ہوا ہوتا ہے، آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور کان سے سُن رہا ہوتا ہے (لیکن اس میں بات کرنے کی طاقت باقی نہیں رہتی)۔ وہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس نے اپنی عمر کو کس راہ میں تباہ کر دیا؟ اپنی زندگی کا وقت کس راہ میں گزارا؟ اور اس کے حصول کے طریقے کے بارے میں کبھی بھی نہ سوچا۔ انگشتِ حسرت منہ میں رکھتا ہے اور اپنا ہاتھ پشیمانی سے کاٹتا ہے کیونکہ موت کے وقت وہ مسائل اس پر روشن ہو جاتے کہ جو اس وقت تک مخفی و پوشیدہ تھے، وہ اس حالت میں ان تمام چیزوں سے کہ جن کے ساتھ وہ زندگی کے ایام میں شدّت سے علاقہ اور لگاؤ رکھتا تھا بےاعتناء ہو جائے گا اور یہ آرزو کرے گا کہ اے کاش! وہ لوگ کہ جو اس کی ثروت اور مال و دولت پر رشک اور حسد کیا کرتے تھے یہ مال اس کی بجائے ان کے قبضہ میں ہوتا" [بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ۱۰۹]۔ آخر میں آخری زیرِبحث آیت کے آخری جملہ میں کہتا ہے کہ: "ان سب مسائل کا سبب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ شک و شبہ کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے، لہٰذا طبعاً اس قسم کا انجام ان کے انتظار میں تھا" (إ (إِنَّهُمْ كانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ)۔ پروردگارا! ہمیں ان لوگوں سے قرار دے کہ جو اوقات کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں اور جو کچھ ان سے فوت ہو چکا ہے اس کی تلافی کرتے ہیں۔ بارالہٰا! دنیا کا جال بڑا سخت ہے اور دشمن طاقتور اور قوی ہے۔ اگر تیرا لطف و کرم شاملِ حال نہ ہو اور ہماری مدد نہ کرے تو ہمارا حال خراب ہے۔ خداوندا! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جو نعمتوں کے ملنے کے وقت ان کا شکر ادا کرتے ہیں اور مغرور و غافل نہیں ہوتے اور مصیبتوں کے نازل ہونے کے وقت آہ و زاری نہیں کرتے، بلکہ عبرت حاصل کرتے ہیں۔

end of chapter