Ghafir
سورہ مؤمن
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٨۵ آیات ہیں
سورہ مؤمن کے مندرجات
سورہ مؤمن ”حوامیم“میں سے سب سے پہلی سورت ہے۔(حوامیم قرآن کی ان سات سورتوں کے مجموعہ کا نام ہے جو”حٰمہ“سے شروع ہوتی ہیں اور قرآن میں یکے بعد دیگرے موجود ہیں۔ اور سب کی سب مکہ میں نازل ہوئی ہیں)۔ اس سورت میں بھی دوسری مکی سورتوں کے مانند مختلف اعتقادی اور اصولِ دین کے بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اُس دورکے مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت بنیادی عقائد کی پختگی تھی۔ اس سورت کے مندرجات میں مندرجہ ذیل امورآتے ہیں۔ خدا کا قہ، اسکی مہربانی، انذار، بشارت نیز ظالمو، جابروں اور متکبرین کے ساتھ منطقی، مدّلل اور قاطع نبرد آزمائی اور حق طلب و حق جو مؤمنین پر لطف و کرم۔ اس سورت کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ اس میں جناب موسٰی علیہ السلام اور فرعون کی داستان کا وہ حصہ ّبیان ہوا ہے، جو مؤمن آلِ فرعون سے متعلق ہے۔ یہ ماجرا صرف اسی سورت ہی میں ذکر ہوا جو کہ قرآن کی کسی اور سورہ میں نہیں ہے، یہ اسی مؤمن اور زیرک و با تدبیر شخص کی داستان ہے جس کا شمار فرعون کے بااثر افراد میں سے ہوتا تھا لیکن وہ اندرونی طور پر موسٰی علیہ السلام پر ایمان لا چکا تھا اور موسٰی علیہ السلام اور ان کے دین کے لیے فرعون کے دربار میں ایک قابل اعتماد مورچے کی حیثیت رکھتا تھا۔ جیسا کہ ہم سورت کی تفصیل میں دیکھیں گے کہ ایسے حساس لمحات میں جب کہ موسٰی علیہ السلام موت کے نزدیک پہنچ چکے تھے یہ باایمان شخص نہایت زیرکی اور ظرافت کے ساتھ آپ علیہ السلام کی مدد کے لئے آگے بڑھا اور انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔ اس سورت کا نام ”سورہٴ مؤمن“بھی اسی مناسبت سے ہے، کیونکہ اس کی تگ و دو اور سعی و کوشش کے تذکرے اس سورت کی بیس سے زائد آیات میں موجود ہیں جو مجموعی طور پر اس کے ایک چوتھائی حصّے پر مشتمل ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت میں مؤمن آل فرعون کے حالات کا بیان مکّہ کے ان مسلمانوں کیلئے ایک باقاعدہ تربیتی درس تھا جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبردست جانی دشمنوں سے بھی دوستانہ مراسم استوار کیے ہوئے تھے تاکہ مشکل کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے محفوظ مورچہ ثابت ہو سکیں۔ اور کہتے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا بزرگوار حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جیسا کہ اسلامی روایات میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلا م سے بھی مروی ہے (بحوالہ: الغدیر جلد ۸، ص ۳۸۸)۔ بہرحا ل، اس صورت کے مندرجات کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصّے میں سورت کے آغاز کے ساتھ ہی خدا کی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کچھ اسماءحسنٰی کا ذکر ہے خاص کر ان اسماءکا جو دلوں میں امید اورخوف کو وجود میں لاتے ہیں، ”غافرالذنب و قابل التوب شدید العقاب“۔ دوسرے حصّے میں ظالم و جابر کافروں کو اسی دنیا میں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے کہ وہ ایسے ہی عذاب میں گرفتار ہوں گے جیسے ان سے پہلی سرکش قومیں گرفتار ہوئی تھیں۔ اسی طرح قیامت کے عذاب اور اس کی خصوصیات اور تفصیلات کا بیان ہے۔ تیسرے حصّے میں حضرت موسٰی علیہ السلام اور فرعون کا قصہ بیان کرتے ہوئے بات مؤمن آل فرعون کی داستان تک جا پہنچتی ہے اور اس سورت کا ایک اچھا خاصا حصّہ اس باہوش، زیرک اور شجاع انسان کی اہل فرعون کے ساتھ مفصل گفتگو پر مشتمل ہے۔ چوتھے حصّے میں ایک بار پھر قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے تاکہ سوئے ہوئے دل بیدار ہو جائیں۔ پانچویں حصّے میں انسانی زندگی کے حوالے سے توحید اور شرک جیسے اہم مسئلے کو بیان کیا گیا ہے اور توحید کی علامات و اثبات اور شرک کے بطلان پر کچھ دلائل قائم کیے گئے ہیں۔ چھٹے حصّے میں جو کہ اس سورت کا آخری حصّہ ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صبر و شکیبائی پر کار بند رہنے کی دعوت کے ساتھ ساتھ اس سورت کے دوسرے حصوں کا ایک خلاصہ پیش کیا گیا ہے یوں مبداٴ و معاد کے مسائل، گزشتہ لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے، ضدی مزاج مشرکین کو متنبہ کرنے اور خدا کی کچھ نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد سورت ختم ہو جاتی ہے۔ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورت کو”مؤمن“کے نام سے موسوم کرنے کی وجہ اس کے ایک حصّے کو مؤمن آلِ فرعون کے حالات پر مشتمل ہونے کی بناءپر جیسا کہ اسے”غافر“سے اس موسوم کیا گیا ہے کہ اس کی تیسری آیت میں یہی نام آیا ہے۔
سورہ مومن کی فضیلت
جو روایات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہلبیت علیہم االسلام سے منقول ہوئی ہیں ان میں”حٰم“سورتوں کے بے شمار فضائل عمومی طور پر اور سورہ ” مؤمن“کے فضائل خصوصی طور پر بیان ہوئے ہیں۔ عمومی لحاظ سے جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”الحوا میم تاج القراٰن“۔ (ساتوں) حٰم سورتیں قرآن کا تاج ہیں(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورہ مؤمن کا آغاز. البتہ بعض نسخوں میں لفظ”فاج“ ایا ہے اور بعض میں لفظ ”دیباج“ ایا ہے)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک روایت بیان کی ہے جو روایت پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا حضرت امیر المؤمنینؑ سے سنی گئی ہے فرماتے ہیں: ۔ ”لکل شی ءٍ لباب و لباب القراٰن الحوامیم“۔ ہرچیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز”حٰم“سورتیں ہیں ( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورۃ مؤمن کا آغاز)۔ ایک اورحدیث میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے: ”الحوامیم ریحان القراٰن فاحمدوا اللہ و اشکروہ بحفظھا و تلاوتھا، وان العبد لیقوم یقراٴ الحوامیم فیخرج من فیہ اطیب من المسک الاذفرو العنیر و ان اللہ لیرحم تا لیھا وقارئھا ویرحم جیرانہ واصدقائہ ومعارفعہ و کل حمیم اوقریب لہ، وانّہ فی القیامة یستغفر لہ العرش والکرسی وملائکة اللہ المقربون“ ۔ ”حٰم“سورتیں قرآن مجید کے خوشبودار پھول ہیں۔ پس حمد خدا بجا لاؤ اور انہیں حفظ کر کے اور ان کی تلاوت کر کے خدا کا شکر بجا لاؤ اور جو شخص نیند سے بیدار ہونے کے بعد حٰم سورتوں کی تلاوت کرے تو( قیامت کے دن ) اس کے منہ سے نہایت ہی دل انگیز خوشبو نکلے گی جو مشک وعنبر سے کئی گنا بہتر ہو گی. اور خداوند عالم ان سورتوں کی تلاوت کرنے والوں پر بھی رحمت کرتا ہے اور ان کے ہمسایوں، دوستوں، واقف کاروں اور ان کے نزدیک و دور کے دوستوں کو بھی اپنی رحمت میں شامل کر دیتا ہے۔ قیامت کے دن عرش و کرسی اور خدا کے مقرب فرشتے بھی ان کے لیے استغفار کریں گے ( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورہٴ مؤمن کا آغاز)۔ پیغمبرؐاسلام کی ایک اور حدیث میں ہے:”الحوامیم سبع وابواب جھنم سبع، تجیءکل حامیم منھا فتقف علی باب من ھذہ الا بواب تقول اللہھم لاتد خل من ھٰذ الباب من کا ن یوٴمن بی و یقراٴنی“۔ ”حامیم والی سات سورتیں ہیں اور جہنم کے دروازے بھی سات ہیں اور ہر ایک ان میں سے ایک ایک دروازے پر کھڑی ہو جائے گی اور کہے گی: خداوندا! جوشخص مجھ پر ایمان اور میری تلاوت کی اسے اس دروازے سے داخل فرما“(بحوالہ: ”بہقی“منقول ”روح المعانی“جلد ۲۴ ،ص ۳۶)۔ سورہ مؤمن کی فضیلت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے: ”جوشخص حٰم مؤمن کی تلاوت کرتا ہے تمام انبیاء، صدیقین اور مؤمنین کی ارواح اس پر درود بھیجتی ہیں اور اس کے لیے استغفار کرتی ہیں“( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان آغاز سورہٴ مؤمن)۔ واضح سی بات ہے کہ اس قدرعظیم فضائل کا تعلق اس کے اہم مضامین اور مندرجات سے ہے کہ جوجب بھی انسان کی اعتقادی اور عملی زندگی میں نظر آنے لگ جائیں تو وہ کسی شک و شبہ کے بغیر ان عظیم فضائل کا مستحق ہو گا اور اگر ان روایات میں تلاوت کی بات ہوئی ہے تو اس سے ایسی تلاوت مراد ہے جو ایمان اور عمل کا مقدمہ ثابت ہو۔ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں یہ با معنی تعبیر وارد ہوئی ہے کہ ”جو شخص”حٰم“کی تلاوت کرے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہو“یہ ہماری اس بات کے لیے روشن دلیل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: امید افزا صفات
Tafsīr Nemūna · Vol. 6اس سورت کا آغاز بھی حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے اور یہاں پر کچھ نئے حروف دکھائی دیتے ہیں اور وہ ہیں”حاء“ اور”میم“۔ حروفِ مقطعات کے بار ے میں سورہٴ بقرہ، سورہٴ آل عمران، سورہٴ اعراف اور بعض دوسری سورتوں کے آغاز میں ہم تفصیل کے ساتھ گفتگو کر چکے ہیں۔ یہاں پر جو چیز بیان کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ بعض روایات اور اسی طرح بہت سے مفسرین کے مطابق یہ دو حروف کہ جن سے سورت کا آغاز ہو رہا ہے خدا کے دو نام ہیں کہ جن ناموں کے آغاز میں دو حروف ہیں جس طرح کہ حضرت امام جعفر صادقؑ کی ایک حدیث میں ان کی”حمید“ اور ”مجید“سے تفسیر کی گئی ہے ( بحوالہ: معانی الاخبار ازشیخ صدوق ۺ ص ۲۲ (باب معنی الحروفالمقطعة فی اوائل السور)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ”ح“خدا کی”حاکمیت“ اور ”م“خدا کی ”مالکیت“کی طرف اشارہ ہو۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ ”حٰم“خدا کا اسم اعظم ہے ( بحوالہ: تفسیر ”قرطبی“ اسی آیت کے ذیل میں)۔ ظاہر ہے کہ ان تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ سب تفسیریں اس آیت کے معنی میں جمع ہوں۔ جس طرح کہ قرآن مجید کا طریقہ کار ہے کہ حروف مقطعہ کے بعد قرآن کی عظمت بیان کرتا ہے اسی طرح بعد والی آیت میں بھی عظمتِ قرآن کا تذکرہ ہے جو اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کتا ب اپنی اس قدر عظمت و رفعت کے باوجود انہی عام حروف الف باءسے مرکب ہے۔ اس قدر عظیم عمارت اس قدر معمولی سے صالح سے معرض وجود میں لائی گئی ہے، جو بذات خود اس کے معجزہ ہونے کی دلیل ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: یہ ایسی کتاب ہے جو قادر اور دانا خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے (تَنْزیلُ الْکِتابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزیزِ الْعَلیمِ )۔ اس کی عزت اور قدرت اس بات کا موجب ہے کہ کوئی ایک بھی اس کی برابری نہیں کرسکتا اور اس کا علم اس بات کا باعث ہے کہ اس کے تمام مضامین کمال کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں اور وہ ارتقاءوتکامل کی راہ میں تمام انسانی ضروریات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں خداوند عالم کی پانچ ایسی عظیم صفات کا تذکرہ ہے جن میں سے کچھ تو امید افزا اور کچھ خوف آفرین ہیں۔ فرمایا گیا ہے: وہ ایسا خدا ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے(غافِرِ الذَّنْبِ)۔ اور تو بہ قبول کرتا ہے (وَ قابِلِ التَّوْبِ) ( بحوالہ: توب“ یا تو ، تو بہ کی جمع ہے یاپھر مصدر ہے ( مجمع البیان)۔ اس کی سزا سخت ہے (شَدیدِ الْعِقاب)۔ اس کی نعمتیں فراوان ہیں (ذِی الطَّوْلِ) ( تشریحی نوٹ: "طول“(بروزن قول) نعمت اور فضیلت کے معنی میں بھی ہے اور طاقت، امکان اور کسی چیز تک جا پہنچنے کے معنی میں آتا ہے، بعض مفسرین کے مطابق ”ذی الطول“ اسے کہا جاتا ہے جو عظیم اور طولانی نعمتیں کسی دوسرے کو بخش دے. بنابریں اس کا معنی ”منعم“کے معنی سے خاص ہے)۔ ایسا خدا ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں(لا إِلھَ إِلاَّ ہُو)۔ تم سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے (إِلَیْہِ الْمَصیر)۔ جی ہاں! جو ذات بھی ان اوصاف کی مالک ہے وہی عبادت کے لائق اور سزا اور جزا دینے کی حق دار ہے۔
چند اہم نکات: 1۔ ان آیات میں صفات الہٰی
مندرجہ بالا دو آیات( ۲،۳) میں”اللہ کے نام ک بعد اور ”معاد“کے ذکر”الیہ المصیر“سے پہلے خداوند کریم کے اوصاف میں سے صفتیں بیان ہوئی ہیں، جن میں سے کچھ تو”صفات ذات“ ہیں اور کچھ ”صفات فعل“ ہیں جو مجموعی طور پر توحید، علم، قدرت، رحمت اور غضب کو بیان کر رہی ہیں اور عزیز و علیم ایسی صفات اس آسمانی کتاب کے نزول کی بنیاد قرار پائی ہیں اور غفرانِ ذنوب، قبولِ توبہ، شدتِ عقاب اور عطائے نعمت تربیتِ نفوس اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کا مقدمہ ہیں۔
2۔ غضب دو رحمتوں کے درمیان
ان تمام اوصاف میں ”غافر الذنب“سب سے اوّل میں اور”ذی الطول“ اخر میں ہے اور ان دونوں کے درمیان میں”شدید العقاب“ ہے۔ درحقیقت اس کا غضب دو رحمتوں کے درمیان واقع ہوا ہے اور اس کے علاوہ اس ایک صفت غضب کے ساتھ ساتھ تین صفات رحمت کا واقع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ”اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے بڑھی ہوئی ہے“( یامن سبقت رحمتہ غضبہ)۔
3۔ إِلَیْہِ الْمَصیر کا مفہوم
یہ نہ صرف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن سب کی باز گشت اس کی طرف ہے بلکہ اس کا مطلق ہونا یہ بتا رہا ہے کہ تمام امور کی بازگشت خواہ وہ اس دنیا میں ہوں خواہ دوسرے جہاں میں اسی کی طرف ہے اور تمام موجودات کا سلسلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
4۔ لا إِلہَ إِلاَّ ہُو کا مفہوم اس آیت میں
یہ امر بھی توجہّ ہے کہ ”لا إِلھَ إِلاَّ hُو“کا جملہ جو آخری صفت کے طور پر آیا ہے اور”توحید عبودیت“کو بیان کر رہا ہے اور غیر اللہ کی نفی کر رہا ہے۔ درحقیقت آخری صفت اور آخری نتیجہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ابن عباس کی بیان کردہ ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ: ”وہ ”غافِرِ الذَّنْبِ“ ہے ا س شخص کے لیے جو ”لا إِلھَ إِلاَّ اللَّہ“کہے“۔ ”وہ ”قابِلِ التَّوْب“ ہے اس شخص کے لیے جو”لا إِلھَ إِلاَّ اللَّہ“کہے“۔ ”وہ ”شَدیدِ الْعِقاب“ ہے اس شخص کے لیے جو ”لا إِلھَ إِلاَّ اللَّہ“نہ کہے اور ”وہ ”ذِی الطَّوْل“ ہے اس شخص کے لیے جو“لا إِلھَ إِلاَّ اللَّہ“نہ کہے“۔ پس بنا بریں ان تمام صفات کا محور وہ لوگ ہیں جو توحید پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا قول و عمل توحید کے جادہ سے منحرف نہ ہو۔
5۔ قرآن میں بخشش کے ذ رائع
کلام مجید میں بہت سے امور ایسے ہیں جومغفرت اور گناہوں کے معاف ہو جانے کے اسباب کی حیثیت سے بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں۔ (۱)۔ توبہ. چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : یا ایُّھَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحاً عَسی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ اے وہ لوگ جو ایمان لاچکے ہو! خداکی طرف پلٹ جاؤ اور خالص توبہ کرو امید ہے کہ خدا تمہارے گناہ معاف کر دے (تحریم . ۸)۔ (۲)۔ ایمان اورعمل صالح . چنانچہ فرماتا ہے: وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ آمَنُوا بِما نزِّلَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّھِمْ کَفَّرَ عَنْھُمْ سَیِّئاتِھِمْ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک اعمال بجا لائے اور جو کچھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرنازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لے آئے اور وہ حق آیات ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے ہیں، توخداوند عالم ان کے گناہوں کو بخش دے گا ( سورہٴمحمد.۲)۔ ( ۳ )تقویٰ. چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: إِنْ تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقاناً وَ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُم ” اگرخدا کا تقویٰ اختیار کرو گے توخدا بھی تمہیں حق اور باطل کی پہچان عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کرد ے گا“( انفال . ۱۹)۔ ( ۴)۔ ہجر ت، جہا د اور شہاد ت. جیسا کہ فرماتا ہے: فَالَّذینَ ھاجَرُوا وَ اُخْرِجُوا مِنْ دِیارِھِمْ وَ اُوذُوا فی سَبیلی وَ قاتَلُوا وَ قُتِلُوا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّئاتِھِمْ جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکا لے گئے اور میری راہ میں انہیں دکھ پہنچا یاگی. اور جنگ کی اور مار ے گئے تو میں ایسے لوگوں کے گناہوں کو یقینامعاف کر دوں گا ( آل عمران . ۱۹۵)۔ (۵)۔ چھپا کر راہِ خدا میں خرچ کرن. جیسا کہ اس کا ارشاد ہے: إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ وَ إِنْ تُخْفُوا وَ تُؤْتُوھَا الْفُقَراءَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَ یُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِنْ سَیِّئاتِکُمْ“ اگرتم راہِ خدا میں اپنے صدقات کو آشکار ا طور پر خرچ کرو تو اچھا ہے اور اگر انہیں چھپا کرخرچ کرو اور فقیروں کو دو تو تمہارے لیے بہتر ہے اور وہ تمارے گناہوں کو معاف کر دے گا ( بقرہ . ۲۷۱) ۔ ( ۶)۔ قرض الحسنہ. چنانچہ فرماتا ہے: إِنْ تُقْرِضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً یُضاعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِرْ اگرتم خدا کو قرض الحسنہ دو تو وہ اسے تمہارے لیے دوگنا کر دے گا اور تمہیں معاف کر دے گا ( تغابن . ۱۷)۔ (۷)۔ گناہان کبیرہ سے پرہیز :إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبائِرَ ما تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ۔اگر تم گناہان کبیرہ سے بچوں کہ جن کہ پاس جانے سے تمہیں روکا گیا ہے، تو ہم تمہارے گناہان صغیرہ کو معاف کردیں گے (نساء. ۳۱)۔ تو اس سے ہم پر مغفرتِ الہٰی کے درواز ے ہر طرف سے کھلے ہوئے ہیں۔ سات قرآنی آیات کی رو سے مغفرت کے سات دروازے اوپر بیان ہوئے ہیں تاکہ ہم جس طرف سے چاہیں داخل ہو جائیں اور کیا ہی بہتر ہو کہ ساتوں دروازوں سے داخل ہو جائیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: خدا کا اٹل فرمان
Tafsīr Nemūna · Vol. 6خداوند عالم کی طرف سے نزولِ قرآن کے ذکر اور خدا کی ان صفات کے بیان کے بعد جو خوف اور امید کا سبب بنتی ہیں، ایسے لوگوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے جنھوں نے ان آیات الہٰی کے مقابلے کی ٹھان لی تھی اور مختصر سے جملوں میں ان کا انجام بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا کی آیات کے بار ے میں صرف وہی لوگ مجادلہ کرتے ہیں جوعناد اور دشمنی کی وجہ سے کافر ہو چکے ہیں (ما یُجادِلُ فی آیاتِ اللَّہِ إِلاَّ الَّذینَ کَفَرُوا)۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان لوگوں کے پاس بسا اوقات طاقت، اقتدار اور افرادی قوت بھی ہوتی ہے لیکن ”کہیں ایسانہ ہو کہ ان کی شہروں میں آمد و رفت اور قدرت نمائی تمہیں دھوکے میں ڈال دے“(فَلا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُھُمْ فِی الْبِلاد)۔ یہ ان کی چند روزہ کروفر اور مختصر سی مدت کے لیے ان کی شان و شوکت ہے اور بہت جلد ان کے بلبلے سے ہوا نکل جائے گی اور وہ نیست و نابود ہو جائیں گے یا تیز ہوا کے جھونکوں میں راکھ کے مانند پراگندہ ہو جائیں گے۔ ”یجادل "، "جدل“کے مادہ سے ہے جو رسی کو بل دینے اور اسے مضبوط بنانے کے معنی میں آتا ہے۔ اس کا استعمال عمارتوں اور زرہوں وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔ اسی بناءپر ان لوگوں کے طریقہ کار کو ”مجادلہ“کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میں آ کر مناظرہ کرتے اور اپنے مضبوط و محکم دلائل کے ذریعے ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن توجہ رہے کہ عربی لغت کے لحاظ سے ہر مقام پر”مجادلہ“مذموم بات نہیں ہے ( ہر چند کہ ہمار روز مرہ کی زبان نے اسے مذ موم بنا دیا ہے ) کیونکہ اگر اسے حق کی راہ میں استعمال کیا جائے اور وہ منطق واستدلال پر مبنی ہو اور بے خبر لوگوں کی ہدایت اور حقیقت کے بیان کی خاطر ہو تو قابل مذمت ہی نہیں بلکہ لائق تعریف بھی بن جاتا ہے۔ ہاں البتہ اگر پورے دلائل اور تعصب، جہالت اور غرور پر مبنی استدلال کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنایا جائے تو پھر مذموم اور پسندیدہ ہے۔ اتفاق سے قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ہم ایک جگہ پر پڑھتے ہیں: وجادلھم بالتی ھی احسن ان لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں مجادلہ کریں ( نحل۔ ۱۲۵)۔ لیکن دوسرے مقامات پر مذموم مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے زیر تفسیر آیت یا اس کے بعد والی آیت میں ہے۔ ”جدال“ اور”مجادلہ“کے بار ے میں ہم ”چنداہم نکا ت“کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کریں گے۔ ”تقلب“، ”قلب“کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دگرگوں کرنا، الٹ پلٹ کرنا۔ اور یہاں پر مختلف علاقوں اور شہروں پر حکومت، تصرف، تسلط اور غلبہ پانے اور آمد و رفت نکلنے کے معنی میں آیا ہے۔ مذ کورہ بالا آیت کا اصل مقصد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابتدائے اسلام کے غریب مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ کہیں وہ کا فروں کے مادی و مالی وسائل اورسیاسی و اجتماعی طاقت کو ان کی حقانیت اور حقیقی قوت کی دلیل نہ سمجھ لیں ان جیسے بہت سے افراد دنیا میں گزرے ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب ان پرعذاب الہٰی نازل ہوا تووہ کس قدرعاجز اور بے بس نظر آئے اور موسم خزاں کے پژمردہ پتوں کی طرح ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے۔ موجودہ دور میں بھی ظالم و مستکبر کفار اپنا وجود منوانے یا دنیا کے مستضعف اور غریب لوگوں پر اپنا رعب جمانے کے لیے بھا گ دوڑ، پروپیگنڈے، کانفرنسیں، سیاسی دورے، جنگی مشقیں، اپنے حلیفوں کے ساتھ جنگی اور اقتصادی معاہدے وغیرہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اپنے ناپاک عزائم کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فضا کو سازگار بنائے رکھیں۔ لیکن یہ مؤمنوں کا کام ہے کہ وہ بیدار رہیں اور کفار کی اس پُرانی روش کے فریب میں نہ آئیں اور ان سے کبھی مرعوب و پریشان نہ ہوں۔ لہذا بعد والی آیت میں بعض سابق سرکش اور گمراہ قوموں کے انجام کو مختصر لیکن جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے: ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد آنے والی قوموں نے اپنے پیغمبروں کوجھٹلا یا (کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ الْاَحْزابُ مِنْ بَعْدِھِمْ )۔ ”احزاب“سے مراد قوم عاد، قوم فرعون ، قوم لوط اور اس طرح کے دوسرے لوگ ہیں جنہیں سورہٴص کی آیت ۱۲ اور ۱۳ میں ”احزاب“کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ عادٌ وَ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتادِ،وَ ثَمُودُ وَ قَوْمُ لُوطٍ وَ اَصْحابُ الْاَیْکَةِ اُولئِکَ الْاَحْزابُ جی ہاں یہ وہ ”احزاب“تھے جنہوں نے ایک دوسر ے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کراپنے اپنے دور کے انبیاءکو جھٹلا یا کیونکہ ان انبیاءکی دعوت ان لوگوں کے ناجائز مفادات اور خواہشاتِ نفسانی کے خلاف تھی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے صرف جھٹلانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ”ان سے ہر امت نے سازش تیار کی کہ اپنے نبی کو پکڑیں، انہیں تکلیف پہنچائیں، قید خانے میں ڈال دین یا قتل کر ڈالیں“(وَ ھَمَّتْ کُلُّ اُمَّةٍ بِرَسُولِھِمْ لِیَاْخُذُوہُ)۔ انھوں نے پھر اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ”حق کو مٹانے کے لیے باطل باتوں کا سہارا لیا اور لوگوں کو گمراہ کرنے پر ڈٹے رہے“۔ (وَ جادَلُوا بِالْباطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ ) (تشریحی نوٹ:”لیدحضوا "، "ادحاض“کے تین مادوں سے مٹانے اور باطل کرنے کے معنی میں ہے) ۔ لیکن یہ چیزیں ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں اور مناسب موقع پر”میں نے انہیں پکڑ لیا اور سخت سزا دی، دیکھیے! عذابِ الہٰی کیسا تھا ؟“( فَاَخَذْتُھُمْ فَکَیْفَ کا نَ عِقابِ)۔ تمہارے سفر کے دوران میں ان کے شہروں کے کھنڈرات تمہیں نظر آتے ہیں۔ ان کا برا اور تاریک انجام تاریخ کے صفحات اور صاحبان دل کے سینوں میں محفوظ ہے دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ مکہ کے ان سرکش کفار اور عرب کے ظالم مشرکین کا بھی ان سے بہتر انجام نہیں ہو گا۔ مگر یہ کہ توبہ کریں اور اپنی کار ستانیوں پر نظر ثانی کریں۔ مندرجہ بالا آیت سرکش احزاب کے طرز عمل کو تین حصول میں خلاصہ کے طور پر بیان کر رہی ہے: الف: تکذیب اور انکار۔ ب: مردانِ حق کے خاتمے کی سازش۔ ج: عوام الناس کوگمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ۔ عرب کے مشرکین نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اسی طریقِ کار کو دہرایا، لہذا اگر قرآ ن نے انہیں گزشتہ اقوام جیسے انجام سے دوچار ہو نے کی دھمکی دی ہے تو اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں اس دنیا میں عذاب سے دوچار ہونے کے علاوہ دوسرے جہان میں بھی ان کے عذاب میں مبتلا ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمہارے پروردگار کا اس قسم کا فرمان ان لوگوں کے لئے مسلم ہو چُکا ہے جو کافر ہو چکے ہیں کہ وہ اہل جہنم ہیں (وَ کَذلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذینَ کَفَرُوا اَنَّھُمْ اَصْحابُ النَّارِ)۔ آیت کا معنی بڑا ہی وسیع ہے جو ہر قوم کے ضدی مزاج اور ہٹ دھرم کا فروں کے شاملِ حال ہے اور جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے یہ صرف کفار ہی سے مخصوص نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں پروردگار عالم کے عذاب کا مسلّم ہونا ان کے مسلسل گناہ اور بار بار کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جو وہ اپنی مرضی کے مطابق انجام دیا کرتے تھے۔ لیکن جناب فخر رازی جیسے بعض مفسرین پر تعجب ہوتا ہے کہ جنھون نے اس کو مختلف اقوام کے جبری انجام سے دوچار ہونے اور ان کے ارادہ و اختیار کے سلب ہو جانے کی ایک دلیل سمجھا ہے۔ حالانکہ اگر وہ فرقہ وارانہ تعصب کی عینک اتار کر اس کا مطالعہ کرتے اور اس میں تھوڑا سا بھی غور و فکر کرتے تو آیات کا صحیح مطلب ان کے لیے واضح ہو جاتا کہ خداوند عالم نے ان کے لیے برا انجام اس وقت مقرر کیا جب انہوں نے ظالم اور جرائم کے تمام راستے خود اپنے ہی پاؤں سے طے کئے۔
چند اہم نکات 1۔ کافروں کی ظاہری شان و شوکت
قرآنی آیات میں ہمیں بار بار یہ بات نظرآتی ہے کہ غریب اور مظلوم مؤمن یہ ہرگز تصوّر نہ کریں کہ بعض اوقات وسیع پیمانے پر کچھ مسائل ظالم و جابر اور بے ایمان افراد یا معاشرے کو مل جاتے ہیں تو یہ ان کی سعادت اور نیک بختی کی دلیل ہوتے ہیں یا ان کے کامیاب انجام کی علامت ہوتے ہیں۔ خاص کر قرآن مجید ان کوتاہ فکراور کوتاہ نظر افراد کی اس سوچ پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے جو بعض اوقات کچھ لوگوں کے مادی وسائل کو ان کی روحانی حقانیت کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ گزشتہ اقوام کی تاریخ کو مؤمنین کے لیے پیش کرتے ہوئے ان کے واضح نمونوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے مصر میں فرعونی حکمرانوں کے، بابل میں نمردیوں کے، عراق، حجاز اور شامات میں قومِ نوح ،عاد اور ثمود کے نمونے. تاکہ ایسا نہ ہو کہ غریب اور تنگ دست مؤمن کسی قسم کی کمی اور کمزوری کا احساس کریں اور ظالموں کے ظاہری کروفر سے مرعوب ہو جائیں یاسست پڑجائیں۔ البتہ قانونِ قدرت یہ نہیں ہے کہ جس نے بھی کسی قسم کی خلاف ورزی کی اسے فوراً اس کے کئےکی سزا دے دی گئی. جیسا کہ سورہٴ کہف کی آیت ۵۹ میں ہے: وَ جَعَلْنا لِمَہْلِکِھِمْ مَوْعِداً ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا ہے۔ سورہٴ طارق کی آیت۱۷ میں فرمایا گیا ہے: فَمَہِّلِ الْکافِرینَ اَمْہِلْھُمْ رُوَیْداً کا فروں کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے تاکہ ان کا انجام کار واضح ہو جائے۔ سورہٴ آل عمران کی آیت ۱۷۸ میں فرمایا گیا ہے: إِنَّما نمْلی لَھُمْ لِیَزْدادُواإِثْماً ہم ان کو اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ ان کے گناہ زیادہ ہو جائیں۔ المختصر اس قسم کی مہلت کا مقصد یا تو کفار پر اتمامِ حجت ہے یا مؤمنین کی آزمائش یا پھر جن لوگوں نے اپنے اوپر توبہ کے دروازے بند کر لیے ہیں ان کے گناہوں میں اضافہ۔ اس قسم کی صورتِ حال بعض اوقات ان بعض مادی لحاظ سے پسماندہ مؤمن قوموں کو درپیش آتی ہے کہ جو طاقتور ظالم مادی حکومتوں کی ترقی کودیکھتی ہیں تو ان کے دل میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔ ایسی اقوام کوچاہیے کہ وہ مندرجہ بالا قرآنی منطق کو پیش نظر رکھ کر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی باور کرنا چاہیئے کہ ان کی اس محرومی اور پسماندگی کا سب سے اہم سبب ظالموں کا ظلم ہی ہے کہ اگر وہ ان کے ظلم کی یہ زنجیریں توڑ ڈالیں اور ان کی غلامی سے نجات پا کر اپنی شبانہ روز کوششوں اور سعیِ مسلسل میں لگ جائیں تو اس پسماندگی کا ازالہ کر سکتی ہیں۔
۲۔ مجادلہ، قرآن کی رو سے
اسی سورت میں پانچ مرتبہ”مجادلہ“کی بات ہوئی ہے جوسب کی سب”مجادلہٴ باطل“کے ذکر پر مبنی ہے، ( ملاحظہ ہوں آیات ۴، ۵، ۳۵، ۵۶ اور ۶۹) لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی نکتہ نظر سے”جدال“کے بار ے میں کچھ تفصیل سے گفتگو کی جائے۔ ”جدال“ اور ”مراء“دو ایسے عنوا نہیں جن کے بار ے میں قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں کافی گفتگو ہوئی ہے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان کلمات کے مفہوم کو واضح کیا جائے پھر جدال کی قسمیں (جدالِ حق اور جدالِ باطل ) اور ان کی علامات کو بیان کیا جائے اور آخر میں جدالِ باطل کے نقصانات اور جدالِ حق کے فوائد اور کامیابی کے اسباب کی توضیح اور تشریح کی جائے۔
الف۔ جدال اور مراءکیا ہیں؟
واضح رہے کہ”جدال"، "مراء“ اور”مخاصمہ“تین ایسے الفاظ ہیں جن کا مفہوم ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے لیکن ان کا آپس میں بہت فرق ہے. (تشریحی نوٹ: یہ تینوں الفاظ ”باب مفاعلہ“کام مصدر ہیں)۔ ”جدال“دراصل رسّی کو بل دینے اور لپیٹنے کے معنی میں ہے بعد ازاں اس کا استعمال فریق مخالف کو بحث و گفتگوکے ذریعے اس پر غلبہ پانےکے مفہوم میں ہونے لگا۔ ”مراء“(بروزن حجاب ) ایسی چیز کے بار ے میں گفتگو کے معنی میں آتا ہے جس میں”مریہ“یعنی شک پایا جاتا ہو۔ ”خصومت“ اور ”مخاصمہ“دراصل دو آدمیوں کا ایک دوسرے کے گلے پڑ جانے اور ایک کا دوسرے کے پہلو کو پکڑنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اس کا اطلاق زبانی کلامی لڑائی جگڑے پر ہونے لگا۔ علامہ مجلسی مرحوم ”بحار اانوار“فرماتے ہیں کہ ”جدال“ اور”مراء“کے الفاظ اکثر و بیشتر علمی مسائل کے بار ے میں بولے جاتے ہیں جبکہ ”مخاصمہ“کا اطلاق دنیاوی امور کے بارے میں ہوتا ہے۔ بعض لوگ”جدال“ اور”مراء“میں یہ فرق بتاتے ہیں کہ ”مراء“میں فضیلت اور کمال کا اظہار مقصود ہوتا ہے جبکہ ”جدال“میں فریق مخالف کو حقیر اور عاجز کرنا موردِ نظر ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ”جدال“علمی مسائل میں ہوتا ہے کہ جب کہ ”مراء“علمی اور غیر علمی دونوں کے لیے عام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ”مراء“فریق مخالف کے حملوں کا دفاع کرنے کا نام ہے جبکہ ”جدال“کا اطلاق مدافعانہ اور جارحانہ دونوں طرح کے حملوں پر ہوتا ہے ( بحوالہ: بحار الانوار جلد ۷۳ ، ص ۳۹۹)۔
ب۔ جدالِ حق اور جدالِ باطل
جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس لفظ کے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر استعمال سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ ”جدال“کا ایک وسیع مفہوم ہے اور فریقین کے درمیان ہونے والی ہرقسم کی گفتگو اس کے مفہوم میں شامل ہے خواہ وہ حق پر مبنی ہو یا باطل پر۔ چنانچہ سورہ نحل کی آیت۱۲۵ میں خداوند عالم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: و جادلھم بالتی ھی احسن آپ ان لوگوں کے ساتھ اچھے انداز سے گفتگو اور مجادلہ کریں ۔ سورہٴ ہود کی آیت۷۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے: فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ جب وہ ابراہیم سے خوف دور ہوا اور انہیں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری مل چکی تو قومِ لوط کی سزا کے سلسلے میں ہم سے مجادلہ کرنے لگے۔ گویا ان کے مجادلات، مجادلہِ حق ہی کی ایک قسم تھے۔ لیکن قرآن مجید کے اکثر مقامات پر یہ لفظ جدالِ باطل کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ اس سورہٴ (مؤمن) میں یہ لفظ پانچ مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ بہرحال، دوسروں کے ساتھ گفتگو میں بحث، استد لال اور مناقشہ سے اس لیے استفادہ کیا جائے کہ اس سے حق بات کی وضاحت اور جاہل و بےعلم لوگوں کو ہدایت اور راہِ حق کی نشاندہی مقصود ہو تو یہ نہایت ہی پسندیدہ اور لائقِ قدر ہے بلکہ بعض مواقع پر واجب بھی ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید نے حق بات بیان کرنے اور حق کوثابت کرنے کے لیے بحث و گفتگو کی ہرگز مخالفت نہیں کی بلکہ بہت سی آیات میں اس امر کی عملاً تائید بھی کی گئی ہے۔ بہت سے مقامات پرمخالفین سے برہان اور دلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ھاتوا برھانکم اپنا استدلال پیش کرو( بحوالہ: بقرہ .۱۱۱، انبیاء. ۲۴ ، نمل .۶۴اور قصص.)۔ بہت سی جگہوں پر دلیل کے تقاضوں کے پیشِ نظر قرآن نے خود مختلف دلائل پیش کئے ہیں جیسا کہ سورہ یٰس کے آخر میں ہم نے پڑھا ہے کہ جب وہ عرب پرانی اور بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا: من یحی العظام و ھی رمیم ان گلی سڑی ہڈیوں کو از سرِنو کون زندہ کرے گا ( یٰس . ۷۸)۔ تو اس کے جواب میں معاد کے مسئلے اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے بار ے میں خدا کی قدرت پر کئی دلائل پیش کر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۵۸ میں نمرود کے سامنے جناب ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو اور ان کے دندان شکن دلائل، سورہٴ طٰہٰ کی آیات ۴۷ تا ۵۴ میں فرعون کے سامنے جناب موسٰی علیہ السلام کا احتجاج بیان فرمایا گیا ہے جن سے مجادلہٴ حق کے واضح نمونوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اسی طرح بت پرستوں، مشرکوں اور حیلے بہانے بنانے والوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف پُرمغز دلائل سے قرآن مجید چھلک رہا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے نمونوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ باطل پرستار اپنی بے بنیاد باتوں کو سچا ثابت کرنے کے لیے باطل مجادلات کا سہارا لیتے تھے اورحق کو باطل ثابت کرنے اور سادہ لوح عوام کو فریب دینے کے لیے فریب کاری وں، حیلوں اور بہانوں سے کام لیتے تھے۔ انبیائے الہٰی کے مقابلے میں گمراہ اور سرکش اقوام کے لیے مذاق، دھمکی، افترا پروازی اور بغیر دلیل کے انکار کردینا تومعمولی کام تھا ، جبکہ ابنیائے خدا کا کام مہر ومحبت سے بھرپور منطقی دلائل پیش کرنا ہوتا تھا ۔ اسلامی روایات میں بھی مخالفین کے سامنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے مباحث اور مناظرات بڑی تعداد میں ملتے ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کر لیا جائے تو ایک بہت ضخیم کتاب بن جائے (یاد رہے کہ ان حضرات کے سب کے سب اور تمام مناظر ے اور مباحثے ضیطِ تحریر میں نہیں لائے گئے)۔ نہ صرف یہ ذوات مقدسہ بلکہ ان کے اصحاب و انصار بھی انہی بزرگواروں کی حمایت و تائید کے ساتھ مخالفین سے مناظرے اور مباحث کرتے رہے۔ البتہ اس کام کی اجازت صرف ایسے لوگوں کو دی جاتی جو ان باتوں کی کافی صلاحیت رکھتے تھے۔ کیونکہ اگر یہ چیز مدنظر نہ رکھی جائے تو بجائے اس کے کہ حق تقویت پہنچنے الٹا اس کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور مخالفین کی جراٴت اور جسارت بڑھانے کا سبب ہوتا ہے۔ اسی لیے تو ایک روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک دوست حمزہ محمد طیّار کہتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: بلغنی انک کرھت مناظرة الناس مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ مناظرے کو ناپسند فرماتے ہیں؟ تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: اما مثلک فلا یکرہ، من اذا طار یحسن ان یقع، وان وقع یحسن ان یطیر، فمن کان ھذا لانکرھہ اگر تمہارے جیسے افراد ہوں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے یعنی ایسے لوگوں کے لیے اجازت ہے جو پرواز کر کے بلندی تک پہنچ جائیں تو اچھے طریقے سے اترنا جانتے ہوں اور اگر بیٹھے ہوئے ہوں تو بخوبی پرواز کر کے بلندی تک پہنچ جائیں۔ تو ہم ایسے لوگوں کے مناطرہ کرنے کو ناپسند نہیں کرتے ( بحوالہ: رجال کشی ، ص ۲۹۸)۔ یہ خوبصورت تعبیر استدلال میں اوج کمال کو پہنچنے اور پھر بحث کو سمیٹنے اور اسے خاتمہ دینے کی صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان مناظرہ میں ایسے لوگوں کو قدم رکھنا چاہیے جن کا استدلال مباحث پر مکمل تسلط اور ان پر پوری طرح عبور حاصل ہو. تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی کمزوری کو ان کے مذہب کی کمزوری پر محمول کیا جائے۔
ج۔ مجادلہ باطل کے غلط نتائج
یہ ٹھیک ہے کہ بحث و مباحثہ حل مشکلات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہو گا جب بحث کے دونوں فریق طالب حق ہوں اور راہِ حقیقت کے متلاشی ہوں یا کم از کم اگرایک فریق ہٹ دھرمی اور ضد بازی سے کام لے تو دوسرا فریق حق کے ثابت کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی فکر میں ہوں . اگر ہر دو فریق خود غرضی، بالا دستی اور صرف اپنی ہی بات منوانے کے لیے مجادلہ کریں تو حق سے دور ہو جانے، دل کے تاریک ہونے، لڑائی جھگڑوں اور کینوں کے بڑھ جانے کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اسی لیے اسلامی روایات میں”مراء“ اور”باطل مجادلہ“سے رو کا گیا ہے اور اس قسم کے مجادلات کے نقصانات کی طرف بھی انہی روایات معنی خیز اور لطیف اشارے ملتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں: من ضن بعرضہ فلیدع المرآء جیسے اپنی عزت پیاری ہے اسے مجادلہ اور زبانی لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرناچاہیئے (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار . کلمہ ۳۶۲۔)۔ کیونکہ اس قسم کی بحث مباحثوں سے بات بڑھ کر بے عزتی، توہین حتٰی کہ گالی گلوچ رکیک اور ناروا تہمتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں آپ علیہ السلام ہی کا فرمان ہے کہ ایاکم و المرآءوالخصومة فانھما یمرضان القلوب علی الاخوان، و ینبت علیھما النفاق مجادلہ اور زبانی لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں برادران دینی کے بار ے میں دلوں کو بیمار کردیتی ہیں اور انفاق کے بیج کو پودے کی صورت میں پروان چڑھاتی ہیں( بحوالہ: ”اصول کافی“جلددوم (باب المراءوالخصومة (حدیث ۱)۔ کیونکہ اس قسم کے لڑائی جھگڑے جو عموماً بحث و استدلال کے صحیح اصولوں سے عاری ہوتے ہیں۔ لوگوں کے اندر ہٹ دھرمی، ضدبازی اور تعصب کی روح کو اس قدر تقویت پہنچاتے ہیں کہ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے فریق پر غلبہ پانے کے لیے ہر قسم کے جھوٹ، فریب، تہمت اور ہتک عزت سے کام لیاجائے. جس کا ن تیجہ کینہ پروری اور دلوں میں نفاق کا بیج بونے کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلتا۔ ”جدال باطل“کا ایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ دونوں فریق اپنے انحراف، گمراہی اور غلط فہمی میں پہلے سے زیادہ سخت اور پختہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص کو اپنے مقصود کے ثابت کرنے کے لیے ہر باطل دلیل کا سہارا لینا پڑتا ہے حتٰی کہ اس کام قابلہ اگر حق بات بھی کہے تو اسے ٹھکرا دیتا ہے یا اسے قبول ہی نہیں کرتا جو بذات خود غلطی اور گمراہی کی تقویت کا موجب ہے۔
د۔ مجادلہ احسن کا طریقہ کار
جدال حق میں ہدف اور مقصد یہ نہیں ہوتا کہ فریق مخالف کی توہین کی جائے یا اس پر فوقیت اور برتری حاصل کی جائے بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے افکار اور روح کی گہرائیوں پر تاثیر پیدا کی جائے اسی وجہ سے مجادلہ احسن کا طریقہ کار جدال باطل سے ہر لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ اس موقع پر جدال کرنے والے شخص کو فریق مخالف کے اندر معنوی طور پر نفوذ اور رسوخ پیدا کرنے کے لیے مندرجہ ذیل وسائل سے کام لینا چاہیے جن کی طرف قرآن مجید میں بڑے پیارے انداز سے ارشاد کئے گئے ہیں: ۱۔ اس کی یہ کوشش نہیں ہونی چاہیئے کہ فریق مخالف اس کی باتوں کو حق سمجھ کر قبول کر لے بلکہ اگر ممکن ہو تو اسے یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ فریق ثانی اس کی باتوں کو اپنا نتیجہٴ فکر سمجھے تو نہایت ہی موثر بات ہو گی. دوسرے لفظوں میں فریق مخالف یہ خیال کرے کہ یہ مطلب اور سوچ خود اس کے اندرونِ قلب سے اٹھی ہے اور اس کے اپنے غور و فکر کی پیدا وار ہے تاکہ اسے مزید سوچنے اور سمجھنے کا موقع مل جائے۔ یہ جو قرآن مجید نے توحید اور شرک کی نفی جیسے اہم حقائق سے لے کر دوسرے تمام مسائل استفہام کے اندر میں پیش فرمائے ہیں مثلاً توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد قرآن فرماتا ہے: ءالٰہ مع اللہ آیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (نمل . ۶۰)۔ ہر اس چیز سے پرہیز کرنا چاہیئے جس سے فریقِ مخالف کے جذبات مجروح ہوتے ہوں اور اس سے اس کی ہٹ دھرمی بڑھ جاتی ہو ، قرآن کہتا ہے: ولاتسبو االذین یدعون من دون اللہ وہ لوگ خدا کے بجائے جن معبودون کو پکار تے ہیں انہیں بُرا بھلانہ کہو۔ ( انعام . ۱۰۸) مباد ا وہ بھی ضد میں آ کر خداوند بزرگ و برتر کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں ۔ ۳۔ ہرفرد یا گروہ کے مقابلے میں بحث و مباحثہ کرتے وقت انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے تاکہ فریق مخالف کو اس بات کا احساس ہو کہ بحث کرنے والا صحیح معنوں میں حقائق سے پردہ اٹھانا چا ہتا ہے۔ بطور مثال جب قرآن مجید شراب اور جوٴا کے نقصانات بیان کرتا ہے تو اس کے جزوی مادی اور اقتصادی منافع کو بھی بیان کرتا ہے جو کچھ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں فرماتا ہے: قُلْ فیہِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما اَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما کہہ دیجئے شراب اور جوئے میں بہت بڑا گناہ ہے اورلوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے ( بقرہ . ۲۱۹)۔ اس طرح کی طرزِ گفتگو سننے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ۴۔ بُری اور ناخوشگوار باتوں کا اسی انداز میں جواب نہ دے. بلکہ محبت، نرمی اور درگزر سے کام لے اس طرح کے طر زِعمل سے ہٹ دھرم اور ضدی مزاج دشمنوں کے دل نرم کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے، جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے: ادْفَعْ بِالَّتی ہِیَ اَحْسَنُ فَإِذَا الَّذی بَیْنَکَ وَ بَیْنَہُ عَداوَةٌ کاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمیمٌ بہترین طریقے سے برائیوں کو دور کرو کیونکہ اس طرح تمہاری جس شخص سے دشمنی ہے اس قدر نرم ہو جائے گا گویا وہ تمہارا ایک پکا دوست ہے۔ (حٰم السجدہ .۳۴) خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید میں بیان شدہ انبیاءکی اپنے جابر اور سرکش دشمنوں کے ساتھ اندازِ گفتگو کو ملاحظہ کرتے ہیں یا پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصو مین علیہم السلام کی اپنے دشمنوں سے عقیدتی مباحث کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس سلسلے میں ہمیں نہایت ہی قیمتی سبق ملتے ہیں جو بہت اہم نفسیاتی مسائل کو احسن انداز میں حل کر رہے ہوتے ہیں اور ان سے دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کی راہ صاف اور ہموار ہوتی ہے۔ خاص کر اس سلسلے میں علاّمہ مجلسی ؒ نے ایک مفصل روایت نقل کی ہے جس میں حضرت پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طویل مناظرے کا تذکرہ ہے جو آپ نے عرب کے یہودیوں، ثنویوں ( دوگانہ پرستوں ) اور مشرکوں کے ساتھ کیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مناظرہ ایسے احسن اور پیارے انداز میں تھا کہ دشمنوں کے لیے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ یہ ایک ایساسبق آموز مناظرہ ہے جو ہمارے مناظروں کے لیے نمونہٴ عمل بن سکتا ہے ( بحوالہ: بحارالانوار جلد ۹ ،ص ۲۵۷ کے بعد کے صفحات ملاحظہ ہوں) ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حاملانِ عرش ہمیشہ مؤمنین کے لیے دعاگو ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات کے تیور بتا رہے ہیں کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھیں جب مسلمان اقلیت میں تھے اور محرومی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور ان کے دشمن طاقت، تسلط اور وافر وسائل کے لحاظ سے عروج پر تھے۔ ان آیات کے بعد زیر نظر آیات درحقیقت اس لیے نازل ہوئیں تاکہ سچّے مؤمنین کو اس بات کی خوشخبری سنائیں کہ وہ ہرگز تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی وہ خود کو تنہا محسوس کریں کیونکہ عرش الہٰی کے حامل خدا کے مقرب ترین اور عظیم ترین فرشتے ان کے ہم صدا، دوست اور طرفدار ہیں اور ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ اس دنیا میں بھی اور اس جہان میں ہمیشہ ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ یہی چیز زمانہٴ ماضی کے مؤمنین کی طرح زمانہٴ حال اور ائندہ زمانہ مؤمنین کے لیے تسلّی خاطر اور دل جمعی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ فرمایا گیا ہے: جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ فرشتے جوعرش کے اردگرد رہتے ہیں خدا کی تسبیح اور حمد بجا لانے ہیں، اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور موٴمنین کے لیے استغفار کرتے ہیں (الَّذینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَ یَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذینَ آمَنُوا)۔ وہ اپنی باتوں میں کہتے ہیں: پروردگارا! تیری رحمت اور تیرا علم سب چیزوں پر حاوی ہے ( تو اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہے اور ان کی بابت رحیم بھی ہے ) خداوندا! ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کواختیار کیا انہوں نے جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ (رَبَّنا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَةً وَ عِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذینَ تابُوا وَ اتَّبَعُوا سَبیلَکَ وَ قِھِمْ عَذابَ الْجَحیم) ۔ یہ گفتگو مؤمنین کو اس بات کی طرف متوجہ کر رہی ہے کہ صرف تم ہی عبادتِ خدا اور اس کی حمد و تسبیح بجا نہیں لاتے، تم سے پہلے خدا کے مقرب ترین فرشتے یعنی حاملانِ عرش اوراس کا طواف کرنے والے فرشتے اس کی حمد و تسبیح بجالا رہے ہیں۔ ساتھ ہی کفار کو بھی تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ اس کے نزدیک ایک جیسی بات ہے کیونکہ اسے کسی کے ایمان کی ضرورت نہیں اس قدر فرشتے اسکی حمد و تسبیح بجا لاتے ہیں جن کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود کہ اسے کسی کی حمد و ثنا بجا لانے کی ضرورت نہیں اس قدر فرشتے اسکی حمد وتسبیح بجا لاتے ہیں جن کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود کہ اسے کسی کی حمد و ثنا بجا لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز برتر اور بالاتر ہے۔ ساتھ ہی مؤمنین کو یہ خبر بھی دی جا رہی ہے کہ تم اس دنیا میں اکیلے نہیں ہوــــــــــــــــــ اگرچہ بظاہر اس ماحول میں تم اقلیت میں ہو کائنات کی طاقتور ترین غیبی طاقتیں اورحاملینِ عرش تمہارے حامی اور دعا گو ہیں جو ہمیشہ خدا سے یہی دعا کرتے رہتے ہیں کہ تمہیں اپنے عفو اور رحمتوں میں شامل فرمائے. تمہارے گناہوں کومعاف کر دے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ اس آیت میں ایک بار پھر”عرش“کا فکر ملتا ہے اور حاملینِ عرش اور ان فرشتوں کی دعاؤں کی بات ہو رہی ہے جوعرش کے ارد گرد رہتے ہیں۔ اگرچہ مختلف سورتوں کی تفسیر کے سلسلے میں ہم اس موضوع پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں ( بحوالہ: تفصیل تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد، سور ہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں، نویں جلد ،سورہ ہود کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دوسری جلد سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۵ کے ذیل میں تفصیل بیان ہوچکی ہے) پھر بھی چند اہم نکا ت کی بحث میں ہم اس کی کچھ اور تشریح کریں گے۔ مؤمنین کے بار ے میں حاملین ِعرش کی دعا ؤں کا سلسلہ بعد والی آیت میں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے: خداوند ا! جس بہشت برین کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اس میں انہیں داخل فرما ( رَبَّنا وَ اَدْخِلْھُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتی وَعَدْتَھُمْ )۔ اور اسی طرح ان کے نیک آبا ؤ اجداد، ازواج اور اولاد کو بھی (وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبائِھِمْ وَ اَزْواجِھِمْ وَذُرِّیَّاتِھِمْ) (تشریحی نوٹ: ”و من صلح“کا جملہ ”وادخلھم“کے جملے کی ضمیر پر معطوف ہے)۔ کیونکہ تو ہرچیز پر غالب ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے (إِنَّکَ اَنْتَ الْعَزیزُ الْحَکیم)۔ یہ آیت جو ”ربّنا“سے شروع ہوئی ہے حاملانِ عرش اور مقامِ الہٰی کی عاجزانہ اور ملتمسانہ درخواست ہے جو وہ اپنے پروردگار کے لطف و کرم کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر اس کے مقامِ ربوبیت کا سہارا لے کرمؤمنین کے لیے نہ صرف دوزخ سے نجات کی درخواست کرتے ہیں بلکہ ان کے بہشت کے باغِ بریں میں داخل ہونے کی التجاءبھی کرتے ہیں۔ نہ صرف ان کی اپنی ذات کے لیے بلکہ ان کے آباوا جداد اور اولاد کے لیے بھی جو ان کے ہم مسلک اور ہم گام ہیں اور اس کی عزت و قدرت جیسی صفات کے واسطے سے یہ دعا مانگ رہے ہیں۔ ان آیات میں جس وعدہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اس سے مراد وہی وعدہ ہے جوخدا نے اپنے نبیوں کے ذریعے لوگوں سے کیا ہے۔ مؤمنین کی دو حصوں میں تقسیم سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ کچھ مؤمنین کا شمار توصفِ اول میں ہوتا ہے اور وہ یہ لوگ ہوتے ہیں جو فرامین کے بجا لانے میں پوری کوشش کرتے ہیں اور کچھ کا شمار اس صف میں نہیں ہوتا اور یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے گروہ کی طرف نسبت رکھتے ہیں اور اس کی کسی حد تک پیروی کی وجہ سے فرشتوں کی دعاؤں میں شامل ہیں۔ پھر یہ فرشتے مؤمنین کے بار ے میں اپنی چوتھی دعا میں کہتے ہیں: تو انہیں برائیوں سے محفوظ رکھ کیونکہ جنہیں تو اس دن کی برائیوں سے محفوظ رکھے گا وہی تیری رحمت میں شامل ہوں گے (وَ قِہِمُ السَّیِّئاتِ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّئاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ )۔ آخری کاروہ اپنی دعا اس جملہ پر ختم کرتے ہیں: اور یہ ہے عظیم کامیابی (وَ ذلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ )۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہو سکتی ہے کہ انسان کے گناہ بخش دیئے جائیں، عذاب اور برائیاں اس سے دور کردی جائیں، وہ رحمت الہٰی میں شامل ہو جائے، بہشت برین میں داخل ہو جائے اور اس کے تعلق دار اور قریبی رشتہ دار بھی اس سے جا ملیں۔
چند ہم نکات ۱۔ حاملین عرش کی چار دعائیں
یہاں پر یہ سوال آتا ہے کہ ان پر چار دعاؤں کا آپس میں کیا فرق ہے؟ آیا ان میں سے بعض دعاؤں کا تکرار نہیں ہے؟ لیکن اگر تھوڑا سا غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر دعا ایک علیحدہ مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ سب سے پہلے وہ مؤمنین کے لیے بخشش اور گناہوں کے آثار مٹا دیئے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ بات جہاں پر ہر عظیم نعمت تک پہنچنے کا مقدمہ ہے وہاں پر خود بھی ایک مطلوب اور پسندیدہ بات ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا مہربانی ہو سکتی ہے کہ انسان خود کو پاک و پاکیزہ محسوس کرے. اس کا خدا اس سے راضی ہو اور وہ اپنے خدا سے راضی ہو؟ جی ہاں بہشت اور دوزخ کے موضوع سے ہٹ کر بھی خدا کے بندوں کے لیے یہ احساس نہایت قابلِ فخر اور بہت ہی باعظمت احساس ہے۔ دوسرے مرحلے پر فرشتے انہیں جہنم سے دور رکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور یہ بھی بذاتِ خود ان کی روحانی تسکین کا ایک بہترین اور اہم ترین ذریعہ ہے۔ تیسرے مرحلے پر بہشت کے حصوں کی درخواست کرتے ہیں نہ صرف خود ان مؤمنین کے لیے بلکہ ان کے عزیز و اقارب کے لیے بھی کہ جن کا وجود مؤمنین کی روحانی تسکین اور قلبی مسرت کا سبب ہوتا ہے۔ نیز چونکہ ہم جہنم کے علاوہ عرصہٴ محشر میں اور بھی کئی قسم کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا ہو گا جیسے محشر کا ہولناک منظر، تمام خلو ق کے سامنے رسوائی، لمبی مدت کا حساب و کتاب و غیرہ تو وہ اپنی ایک اور دعا میں خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ مؤمنین کو اس دن کی ہر قسم کی ناخوشگواری اور رسوائیوں سے دور رکھے تاکہ وہ مکمل سکون، اطمینان، عزت اور احترام کے ساتھ بہشت بریں میں داخل ہو جائیں۔
۲۔ دعا کیسے کی جائے ؟
ان آیات میں حاملینِ عرش ، مؤمنین کو دعا کرنے کے آداب بتاتے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے خداوند عالم ذوالجلال کے نام سے متمسک ہونے کا درس دیتے ہیں (رَبَّنا)۔ پھر اسے جلال و جمال کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور اس کی بے پایاں رحمت اور ناپیدا کنار علم سے مدد حاصل کرنے کا سبق دیتے ہیں( وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَةً وَ عِلْماً )۔ اورآخر میں دعا کرنے اور مسائل کو اہمیت کے پیش نظر ترتیب کے ساتھ بیان کرنے اور ان شرائط کو دعا کے ساتھ ملانے کا درس دیتے ہیں جو قبولیتِ دعا کا سبب بنتے ہیں (فَاغْفِرْ لِلَّذینَ تابُوا وَ اتَّبَعُوا سَبیلَک)۔ پھر دعا کو خدا کی جمالی صفات کا ذکر کر کے ختم کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس دعا میں حاملینِ عرش نے اوصاف ِالہٰی میں سے پانچ بہترین اور اہم ترین صفات کا انتخاب کیا ہے خدا کی ربوبیت، رحمت، قدرت، علم اورحکمت۔
۳۔ دعاؤں کا آغاز ”ربّنا“سے کیوں ؟
آیاتِ قرآنی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ”اولیاءاللہ“خواہ وہ انبیاءہوں یا فرشتے اور خدا کے نیک اور صالح بندے دعا کرتے وقت اپنی گفتگو کا آغاز ”ربّنا“یا ”ربّی“سے کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام عرض کرتے ہیں: ربّنا ظلمنا انفسنا پروردگارا! میں نے اور میری بیوی نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے ( اعراف . ۲۳) حضرت نوح علیہ السلام عرض کرتے ہیں: ربّ اغفر لی ولوالدی اے میرے رب ! میری اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرما(نوح . ۲۸) حضرت ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں : رَبَّنَا اغْفِرْ لی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ اے ہمارے پروردگار! میری اور میری ماں باپ کی اس دن مغفرت فرما جس دن حساب برپا ہو گا ۔ ( براہیم . ۴۱) حضرت یوسف علیہ السلام عرض کرتے ہیں: ربّ قد اٰتیتنی من الملک” اے میرے پروردگار تو نے مجھے حکومت عطا فرمائی ہے۔ ( یوسف . ۱۰۱) حضرت موسٰی علیہ السلام عرض کرتے ہیں: رَبِّ بِما اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُونَ ظَہیراً لِلْمُجْرِمینَ۔ اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے نعمتیں عطا کی ہیں لہذا مجرمین کی پشت پناہی نہیں کروں گا۔(قصص ۔ ۱۷) حضرت عیسٰی علیہ السلام عرض کرتے ہیں: رَبَّنا اَنْزِلْ عَلَیْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ پروردگارا! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما۔ ( مائدہ . ۱۱۴) حضرت خاتم الانبیاءپیغمبرعظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرض کرتے ہیں۔ ربّ اعوذ بک من ھمزات الشیاطین پروردگارا! اس شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہون۔ ( مؤمنون. ۹۷) سورہٴ آل عمران کی آخری آیات کے مطابق مؤمنین اس جملے کو بار بار دہراتے ہیں جن میں سے ایک حصّہ یہ بھی ہے: ربّنا ما خلقت ھٰذا باطلاً پروردگارا! ان بڑے بڑے آسمانوں اورچوڑی چکلی زمین کوتو نے بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ ان تعبیرات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ بہترین دعا وہ ہے جو ربوبیتِ پروردگار کے ذکر سے شروع ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ”اللہ“کا مبارک نام خدا کے تمام ناموں کا جامع ہے لیکن چونکہ اس کی مہربان ذات سے دعا کا رابط ربوبیت کے مسئلے سے مناسب رکھتا ہے لہذا یہ دوسرے تمام ناموں سے زیادہ مناسب اور شایان شان ہے اور ربوبیت بھی ایسی جو خداوند کریم کی طرف سے انسان کے ابتدائی لمحات سے شروع ہو کر اس کی زندگی کے آخر لمحے بلکہ اس کے بعد بھی اسے اپنے زیر سایہ لیے رہتی ہے اور اسے الطافِ الہٰی میں غرق رکھتی ہے (بحوالہ:”تفسیر کبیر“، از فخر رازی. اسی آیت میں )۔
۴۔ عرش کیا ہے ؟
ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے یہ الفاظ جو ہماری محدود و ناچیز زندگی کی کیفیت بیان کرنے کے لیے وضع کیے گئے وہ خداوند جل وعلا کی عظمت تو بجائے خود اس کی عظیم مخلوق کی عظمت کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان الفاظ کے کنایہ پر مبنی معانی سے استفادہ کرتے ہوئے اس دھندلکے سے اس عظمت کو کچھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان الفاظ میں سے ایک”عرش“بھی ہے جس کا لغوی معنی ”چھت“پا”لمبی ٹانگوں والاتخت“ ہے جو کرسی کے مقابلے میں آتا ہے کیونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ پھر یہ لفظ قدرتِ خدا کے تخت کے بار ے میں ”عرشِ پروردگار“کے نام سے بولا جانے لگا۔ عرشِ خداوندی سے کیا مراد ہے اور یہ کلمہ کس معنی کے لیے کنایہ ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین، محدّثین اور فلاسفہ کے مختلف نظر یات ہیں۔ بعض نے اس کا معنی ”خداوند عالم کا بے انتہا علم“سمجھا ہے۔ بعض نے ”خدا کی مالکیت اور حاکمیت“کا معنی بتایا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد خدا کی کمالی اور جلالی صفات ہیں کیونکہ ہر ایک صفت اس کے مقام کی عظمت کو بیان کرتی ہے، جیسا کہ بادشاہوں کے تخت ان کی عظمت کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا تینوں تفاسیر کی رو سے ”عرش“کا مفہوم پروردگار عالم کی صفات کی طرف لوٹ جاتا ہے نہ کہ کسی اور خارجی وجود کی طرف۔ بعض روایات جو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں۔جیسا کہ ”حفص بن غیاث“بیان کرتے ہیں: ”کسی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے ”وسع کر سیہ السماوت والارض“کی تفسیر کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : ”اس سے مراد خدا کا علم ہے“(بحوالہ:بحارالانوار جلد۵۸ ،ص ۲۸ (حدیث ۴۶ .۴۷))۔ ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”عرش“سے مراد خدا کا وہ علم ہے جس سے اس نے ابنیاءکو واقف کیا اور ”کرسی“سے مراد وہ علم ہے جس سے کسی کو بھی آگاہ نہیں کیا (بحوالہ: بحارالانوار جلد۵۸ ،ص ۲۸ (حدیث ۴۶ .۴۷)۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے کچھ اور روایات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ”عرش“ اور”کرسی“خلاّق عالم کی دوعظیم مخلوقات ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ عرش سے مراد مجموعہٴ کائنات ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ زمین و آسمان مجموعی طور پر کرسی کے اندر موجود ہیں بلکہ زمین و آسمان کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے صحرائے عظیم میں ایک عدد انگشتری اور کرسی عرش کے سامنے ایسے ہے جیسے اس انگشتری کے سامنے زمین و آسمان۔ کبھی”عرش“کا اطلاق انبیاء، اوصیاءاور کامل مؤمنین کے دلوں پر کیا گیا ہے۔ جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ان قلب المؤمن عرش الرحمن مؤمن کا دل خدا کا عرشِ الرحمن (بحوالہ: بحارالانوار جلد ۵۸ ،ص ۳۹)۔ نیز حدیث قدسی میں آیا ہے: لم یسعنی سمائی ولا ارضی و وسعنی قلب عبدی المؤمن میرے آسمان و زمین مجھے اپنے اندر نہیں سما سکتے لیکن میرے مؤمن بندے کا دل میرا ٹھکا نا ہے( بحوالہ: بحارالانوار جلد ۵۸ ،ص ۳۹)۔ لیکن معنی عرش کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ...جہاں تک انسانی بس کی بات ہے۔ بہترین طریقہٴ کار یہ ہے کہ قرآن میں اس کے استعمال کے مقامات کا اچھی طرح سے جائزہ نہیں۔ قرآن پاک کی بہت سی آیات میں یہ تعبیر دیکھنے میں آتی ہے: ثم الستوٰی علی العرش خداوند عالم (تخلیق کائنات کے بعد) عرش پر مسلّط ہو گیا( بحوالہ: سور ہ اعراف ، ۵۴ . سورہ یونس ، ۳ . سورہ رعد ، ۲ . سورہ فرقان ،۵۹ . سورہ سجدہ ،۴. اور سورہ حدید۴)۔ اس سلسلے کی بعض آیات کے فوراً بعد ”یدبر الامر“کا جملہ ملتا ہے یا ایسی تعبیریں جوخداوند عالم کے علم و تدبیر پر کچھ اور ایات میں”عرش“کی صفت بھی بیان کی گئی ہے جیسے سورہٴ توبہ کی آیت ۱۲۹میں: و ھو رب العرش العظیم کچھ آیات میں ان ملائکہ کا تذکرہ ہے جو عرش کے ارد گرد رہتے ہیں جیسے: وَ تَرَی الْمَلائِکَةَ حَافِّینَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْش کہیں پر فرمایا گیا ہے: وکا ن عرشہ علی المآء ان تعبیروں سے اور ان کے علاوہ دوسری تعبیروں سے جو اسلامی روایات میں وارد ہوئی ہیں یہ نتیجہ بخوبی نکالا جا سکتا ہے کہ عرش کے لفظ کام ختلف معانی پر اطلاق ہوتا ہے اگرچہ کہ ان سب کی بنیاد ایک ہے۔ ”عرش“کا ایک معنی تو وہی ”حکومت، مالکیت اور کائنات کا نظام چلانا“ ہے۔ کیونکہ عام طور پر معمولی گفتگو میں بھی عرش کا لفظ کسی صاحبِ اقتدار کے اپنے ملک پر مکمل کنٹرول کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً عام طور پر کہتے ہیں: ”فلان ثل عرشہ“جو اس بات کا کنایہ ہے کہ ”اس کا راج سنگھاسن ڈول گیا۔ فارسی میں بھی کہا جاتا ہے: ”پایہ ہای تخت او درہم شکست“۔ اس کے تخت کے پائے ٹوٹ گئے ہیں۔ عرش کا ایک اور معنی ”پوری کائنات“ ہے کیونکہ تمام کائنات ہی اس کی عظمت کی نشانی ہے۔ کبھی ”عرش“کا اطلاق ”عالم بالا“پر اور”کرسی“کا ”عالم زیرین“پر ہوتا ہے۔ بعض او قات ”عالم م اور اءِطبیعت“کو ”عرش“کہتے ہیں اورعالم مادی خواہ زمین اور اسمان ہوں سب کو ”کرسی کہتے ہیں،جیسا کہ ”آیت الکرسی“میں آیا ہے: وسع کرسیہ السماوات والارض نیز چونکہ خدا کی معلومات اور مخلوقات اس کی پاک ذات سے جدانہیں ہیں لہذا کبھی”علم الہٰی“پر بھی ”عرش“کا طلاق ہوا ہے۔ اگر مؤمن بندوں کے پاک و پاکیزہ دل کو ”عرش الرحمان“کہا گیا ہے تو اس لئے کہ وہ اس کی پاک ذات کی معرفت کام قام اور اس کی عظمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ بنابریں، قرائن سے ہی سمجھا جائے گا کہ کون سامعنی کس موقع پر مراد لیاجا سکتا ہے؟ لیکن یہ بات بھی بہرحال، اپنے مقام پر مسلّم ہے کہ معنی خواہ کوئی مراد لیا جائے عرش کا لفظ خداوند ذوالجلال کی بزرگی اور عظمت کو ہی بیان کرے گا ۔ جس آیت کی ہم تفسیر کررہے ہیں اس میں حاملینِ عرش کا تذکرہ ہے ممکن ہے یہاں پر عرش سے مرادخدا و ندعالم کی حکومت اور نظمِ کائنات کو چلانا ہو اور حاملینِ عرش سے مراد اس کی حاکمیت اور تدبیر عالم کے نافذ کرنے والے ہوں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد تمام کائنات ہو یا پھر ”عالم م اور ا ءطبیعت“ ہو اور اس کے حامل وہ فرشتے ہوں جو اس کائنات کی تدبیرکے ستونوں کو بحکم خدا اپنی دوش پر اٹھائے ہو ئے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : گناہوں کا اعتراف لیکن کب ؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں مؤمنین کے ”رحمت الہٰی“میں شامل ہونے کی بات ہو رہی تھی. زیر نظر آیات میں بے ایمان لوگوں پر "غضب الہٰی“کی گفتگو ہو رہی ہے تاکہ دونوں فریقوں کا تقابل کر کے گفتگو کو مزید واضح کر دیا جائے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: جو لوگ کافر ہو چکے ہیں انہیں بروز قیامت آواز دی جائے گی کہ تمہارے بار ے میں تمہاری اپنی عداوت اور غصے کی نسبت خداوند عالم کی عداوت اور غصہ زیادہ ہے کیونکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے لیکن تم کفر کا رستہ اختیار کرتے تھے (إِنَّ الَّذینَ کَفَرُوا یُنادَوْنَ لَمَقْتُ اللَّہِ اَکْبَرُ مِنْ مَقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَی الْإِیمانِ فَتَکْفُرُونَ)۔ ان کفار کو یہ آواز کون دے گا ؟ ظاہراً کہ ان کو لعنت ملامت، سرزنش اور رسوا کرنے کے لیے عذاب کے فرشتے ہی ایسی آواز دیں گے جبکہ رحمت کے فرشتے ہمیشہ مؤمن اور صالح لوگوں کی عزت و احترام کے لیے کمربستہ نظر آئیں گے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آواز خود ان کفار کی ہو جو دوسرے کفار کو دیں گے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بہرصورت، کفار یہ آواز ضرور سنیں گے خواہ وہ کسی کی طرف سے ہو اور بعد کی آیات اس معنی پر واضح طور پر گواہی دے رہی ہیں۔ لغوی طور پر ”مقت“کا معنی بعض اور زبردست عداوت ہے، یہ آیت بتا رہی ہے کہ بے ایمان لوگ جس قدر اپنے بارے میں سخت اور زبردست عداوت پیدا کرتے جائیں گے خداوند قہار کا غضب بھی ان کے بار ے میں اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بارے میں کافر لوگوں کی عداوت اور غصّہ سے کیا مراد ہے؟ تو یہاں پر دو تفسیریں ملتی ہیں۔ ایک یہ کہ ان لوگوں نے اپنے بار ے میں بہت بڑی دشمنی کا ارتکاب کیا ہے کیونکہ وہ منادیانِ توحید اور پیامبرانِ الہٰی کی باتوں کو ٹھکراتے اور جھٹلاتے رہے ہدایت الہٰی کے چراغوں سے منہ ہی نہیں پھیرا انہیں گل بھی کرتے رہے تو کیا انسان کی اپنی ذات کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اور دشمنی ہو سکتی ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرتے ہوئے اور چند روزہ مادی مفاد کے لیے سعادتِ ابدی کی راہیں ہمیشہ کے لیے اپنے لیے بند کر دے اور دائمی عذاب کے دروازے اپنے لیے کھول دے ؟ اس تفسیر کے مطابق درحقیقت ”اذ تدعون الی الا یمان فتکفرون“(اس وقت تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کیا کرتے تھے) کا جملہ ان کی اپنی ذات کے ساتھ عداوت اور غصے کی کیفیت بیان کررہا ہے۔ دوسری یہ کہ ان کی اپنی ذات کے ساتھ دشمنی اور غصّے سے مراد قیامت کے دن کی دشمنی ہے۔ کیونکہ جب وہ وہاں پر اپنا انجام دیکھیں گے تو سخت پشیمان ہوں گے، ان کی چیخ و پکار بلند ہو گی زبردست غصے کی وجہ سے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹیں گے۔ و یوم یعضّ الظالم علیٰ یدیہ ( فر قان . ۲۷)۔ آرزو کریں گے کہ : یالیتنی کنت تراباً ”اے کا ش کہ خاک ہوتے“(نبا ء.۴۰)۔ زبردست تکلیف کی وجہ سے پیچ و تاب کھائیں گے اور چونکہ فبصرک الیوم حدید (ق . ۲۲ ) کے پیش نظر چشم بینا حاصل کر چکے ہو گے ”یوم تبلی السرائر“( طارق . ۹) کے پیش نظر تمام اندرونی بھید منظرِ عام پر آ چکے ہوں گے:”واذا الصحف نشرت“( تکویر . ۱۰) کے پیش نظر ہر ایک کا نامہٴ اعمال ظاہر ہو چکا ہو گا- ”کفٰی بنفسک الیوم علیک حسیباً“( بنی اسرائیل . ۱۴ ) کے پیش نظر ہر انسان اپنا حساب آپ کرنے کے لیے بلایا جا چکا ہو گا اور خود ہی اپنے خلاف فیصلہ دے گا اور اپنے آپ سے بالکل متنفر ہو کر راہِ فرار اختیار کرے گا۔ اسی موقع پر انہیں آواز دی جائے گی: ”تم پر خدا کی دشمنی اور غضب اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ راہِ حق کی طرف بلانے والے اللہ کے پیغمبر تمہیں ایمان کی دعوت دیتے تھے لیکن تم کفر کی راہ اختیار کرتے تھے اور اسی پر گامزن رہتے تھے۔ اس تفسیر کے مطابق”اذ تدعون الی الایمان فتکفرون“کا جملہ ان کے بارے میں غضبِ خداکی عظمت کی دلیل بن رہا ہے (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کے مطابق ”اذ، ظریفہ“ ہے اور ”مقتکم انفسکم“سے متعلق ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق ”اذ"، "تعلیلیہ“ ہے اور”مقت اللہ“سے متعلق ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آیت مندرجہ بالا میں لفظ ”مقت“کے بارے میں چار احتمال موجود ہیں اور ہر مفسر نے ان میں سے ایک احتمال اپنایا ہے۔ پہلا یہ کہ دونوں کا ظرف قیامت ہو. دوسرا یہ کہ دونون کا ظرف دنیا ہو .تیسرا یہ کہ پہلے کا ظرف دنیا ہو اور دوسرے کا قیامت ہو چوتھا یہ کہ اس کے بر عکس ہو . لیکن مندرجہ بالاتفسیر کے مطابق پہلا آخرت سے اور دوسرا دنیا سے یا دونوں آخرت سے مربوط ہوں ( غور کیجئے گا )۔ دونوں تفاسیر مناسب ہیں لیکن پہلی تفسیر کئی لحاظ سے زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے۔ بہرصورت، حالات خواہ کیسے ہی ہوں گناہ گار لوگ قیامت کی صورتِ حال اور اپنے بار ے میں غضب ِالہٰی کو مشاہد ہ کرنے کے بعد ایک لمبے خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں گے اور اس کے لیے چارہٴ کار کی فکر میں لگ جائیں گے اور کہیں گے”پپروردگارا ! تو نے ہمیں دو مرتبہ مارا اور دو مرتبہ زندہ پپروردگارا اور ہم نے موت و حیات کے ان مراحل میں بہت کچھ سیکھ لیا ہے اب ہم گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں آیا (دوزخ سے ) باہر جانے اور دنیا میں واپس جا کر ان گناہوں کی تلافی کرنے) کا کوئی راستہ ہے“؟ (قالُوا رَبَّنا اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا فَھَلْ إِلی خُرُوجٍ مِنْ سَبیل)۔ جی ہاں! اب غفلت کے پردے آنکھوں سے ہٹیں گے اور انسان کی حقیقت میں نگاہیں کھلیں گی لہذا اعترافِ گناہ کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہو گا۔ کفار اس دنیا میں معاد (اور قیامت) کا سخت انکار کیا کرتے تھے اور اس بارے میں انبیاءعلیہم السلام کام ذاق اڑایا کرتے تھے لیکن اپنی مسلسل موت و حیات کا سلسلہ دیکھیں گے توان کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی ان لوگوں کو دو موتوں اور دو زندگیوں پر بار بار زور دینا شاید اس لیے ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ”اے وہ خدا جو مارنے اور جلانے کی قدرت رکھتا ہے! تجھ میں اس بات کی بھی قدرت ہے کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم وہاں جا کر اپنے اعمال کی تلافی کریں۔“
دو موتیں، دو زندگیاں
یہاں پر”دو مرتبہ مارنے“ اور ”دو مرتبہ زندہ کرنے“سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں جن میں سے صرف تین احتمال قابل ذکر ہیں۔ ۱۔ دوبارہ مارنے سے مراد ایک موت تو زندگی کے خاتمہ پر ہے اور دوسری موت برزخ کے اختتام پر. اور دوبار جلانے سے مراد ایک تو برزخ میں جلانا ہے اور دوسرے بروز قیامت۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب انسان اس دنیائے فانی سے کوچ کرتا ہے تو اسے زندگی کا ایک اور روپ دے دیا جاتا ہے وہی زندگی جو ”بل احیاءعند ربھم یرزقون“(آل عمران ) کے مصداق شہداءکی زندگی ہے، وہی زندگی جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم اور ائمہ اطہارعلیہم السلام کی زندگی ہے اس زندگی میں وہ ہمار اسلام سنتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں۔ نیز وہی زندگی جو آل فرعون جیسے سرکش اور باغی افراد کی ہے اور "النار یعرضون علیھا غدوًّا وعشیّاً" ( مؤمن: ۴۶) کے پیش نظر صبح شام انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ادھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دنیا کے خاتمے پر جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو نہ صرف تمام انسان بلکہ تمام فرشتے اور مرنے والوں کے تمام وہ ارواح جو ”مثالی قالبوں“میں ہیں ”فصعق من فی السماوات ومن فی الارض“(زمر. ۶۸)۔ کے پیش ِنظر سب کے سب مر جائیں گی اور سوائے ذات ذو الجلال کے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہے گی. (البتہ فرشتوں اور ”مثا لی قالبوں“میں موجود ارواح کی موت اور زندگی ہم انسانوں کی موت اور زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی تفصیل ہم سورہٴ زمر کی آیت ۸۶ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں )۔ وہ اس طرح کہ ہماری ایک جسمانی حیات ہے اور ایک برزخی حیات. ہم اپنی حیات جسمانی کے خاتمے پر مر جائیں گے اور دوسرے اس دنیا کے خاتمے پر برزخی زندگی کو الوداع کہیں گے۔ان دونوں موتوں کے بعد ہمیں دو زندگیاں ملیں گی. ایک برزخی زندگی اور ایک روزِ قیامت کی زندگی۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہماری ان دو زندگیوں کے علاوہ اس دنیا میں تیسری زندگی بھی ہے اور اس دنیا میں آنے سے پہلے ہم ایک موت سے بھی دوچار رہے ہیں کیونکہ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی تو ہم مردہ ہی تھے۔ لیکن اگر آیت میں اچھی طرح غور کیا جائے تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہو جائے گا۔ کیونکہ اس دنیا میں آنے سے پہلے( جبکہ ہم مٹی تھے ) کو ”موت“کہتے ہیں ”اماتہ“( یعنی مارنا ) نہیں کہتے. لیکن اس دنیا کی زندگی اگرچہ احیاءکام صداق ہے لیکن قرآن مجید نے اس طرف اشارہ نہیں کیا کیونکہ یہ احیاءکفار کے لیے چنداں عبرت کا سبب نہیں تھا۔ جو چیز ان کی بیداری اور گناہوں کے اعراف کا سبب بنی تھی ایک تو برزخ کی زندگی ہے اور دوسرے روز قیامت کی زندگی۔ (غور کیجئے گا )۔ ۲۔ دو زندگیوں سے مراد ایک تو کچھ سوالوں کا جواب دینے کے لئے قبر میں زندہ ہونا ہے اور دوسرے قیامت کے دن جی اٹھنا ہے اور دو موتوں سے مراد ایک تو اسی زندگی کا خاتمہ ہے دوسرے قبر میں موت ہے۔ اسی لیے بعض مفسرین نے اس آیت کو قبر کی عارضی زندگی کی دلیل سمجھا ہے۔ اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبر کی زندگی کیسی زندگی ہے؟ آیا یہ زندگی جسمانی ہو گی یا برزخی یا نصف جسمانی اور نصف برزخی؟ اس سلسلے میں خاص لمبی چوڑی بحث ہے جسے یہاں پر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۳۔ پہلی موت سے مراد، انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے کی موت ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ مٹی تھا۔ بنا بریں اسکی پہلی زندگی بھی یہی دنیاوی زندگی ہو گی. اور دوسری موت اس دنیا کے خاتمے پر ہو گی اور دوسری زندگی بروز قیامت ہو گی۔ جن لوگوں نے اس تفسیر کو اپنایا ہے وہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۸ سے استد لال کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے: کَیْفَ تَکْفُرُونَ بِاللَّہِ وَ کُنْتُمْ اَمْواتاً فَاَحْیاکُمْ ثُمَّ یُمیتُکُمْ ثُمَّ یُحْییکُمْ ثُمَّ إِلَیْہِ تُرْجَعُون ” تم خدا کا کیونکر انکار کرتے ہو جب کہ تم پہلے مردہ تھے پھر اس نے تمہیں پیدا کیا، پھر وہ تمہیں مار دے گا اور دوبارہ زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے“۔ لیکن اگر ذرا سا بھی غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ زیرِ تفسیر آیت میں دو ”اماتہ“( مارنے ) کی بات ہو رہی ہے جب کہ سورہٴ بقرہ کی یہ آیت ایک ”موت“ اور ایک ”اماتہ“کی بات کر رہی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر پپروردگارا کہ ممکن ہے یہ آیت ”رجعت“کی طرف اشارہ ہو . لیکن اگر آیت کی عمومیت پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ تمام کفار کے بار ے میں ہے جب کہ رجعت میں عموم کا پہلو مفقود ہے، لہذا یہ تفسیربھی بحث طلب ہے)۔ ان تمام تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ تناسخ (آواگون ) کے قائل کچھ لوگوں نے اس آیت سے اپنے نظریے کے حق استدلال کر نیکی کوشش کی ہے کہ یہ آیت انسان کی کئی بار کی زندگی اور موت اور اسی دنیا میں نئے ابدان میں ایک ہی روح کے بار بارعود کر آنے پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن در حقیقت یہی آیت عقیدہِ تناسخ کی نفی کی ایک زندہ دلیل ہے۔ کیونکہ وہ موت اور حیات کوصرف دو ہی مرتبہ میں منحصر کر رہی ہے جب کہ تناسخ کا عقیدہ رکھنے والے متعدد اور مسلسل کئی زندگیوں اور کئی موتوں کے قائل ہیں ان کا نظریہ ہے کہ ایک انسان کی روح کئی بار نئے نئے ڈھانچوں اور کئی تازہ ترین نطفوں میں حلول کر کے اس دنیا میں لوٹ سکتی ہے۔ بہرحال، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کافروں کی یہ درخواست ہرگز قابل قبول نہیں ہو گی کہ انہیں دوزخ سے نکال کردنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے گمان کے مطابق اپنے تاریک ماضی کا ازالہ کر سکیں اور اس کا ناقابل قبول ہونا اس حد تک واضح ہے کہ ان آیات میں اس کی بات تک نہیں کی گئی. صرف بعد کی آیت میں ایک بات ہوئی ہے جو ایک دلیل کا عنوان رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: یہ اس لیے ہے کہ جب خدا کی وحدانیت کی طرف دعوت دی جاتی تھی تو تم انکار کار استہ اختیار کرتے ہوئے کفر کیا کرتے تھے لیکن جب کسی کو اس کا شریک بنایا جاتا تو تم اسے تسلیم کر لیتے تھے اور اس پر ایمان لے آتے تھے (ذلِکُمْ بِاَنَّہُ إِذا دُعِیَ اللَّہُ وَحْدَہُ کَفَرْتُمْ وَ إِنْ یُشْرَکْ بِہِ تُؤْمِنُوا)۔ جہاں پر بھی توحید، طہارت، تقوی اور فرمانِ حق کی بات ہوتی تو تم اپنا منہ پھیر لیتے اور جہاں پر کفر، نفاق، شرک اور پلیدی کی بات ہوتی تو تم نہال ہو جاتے لہذا تمہارا انجام بھی اس سے مختلف ہو گا۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جواب کا دنیا میں واپس لوٹ جانے کی درخواست سے کیا تعلق ہے؟ اگر آیت کی تعبیرات پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے اس قسم کے اعمال عارضی اور وقتی نہیں تھے بلکہ وہ ہمیشہ اسی صورتِ حال پر قائم تھے. لہذا اگر اب بھی وہ دنیا میں لوٹا دیئے جائیں تو پھر بھی وہ یہی کام کریں گے۔ ان کا قیامت کے دن اس قسم کا ایمان مجبوری کی بناءپر ہو گا نہ کہ حقیقی. اس کے علاوہ ان کے گزشتہ عقائد، اعمال اور نیتیں بھی اس بات کی متقاضی ہیں کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں۔ لہذا دنیا کی طرف باز گشت اب ممکن نہیں۔ بہرحال، یہ ان لوگوں کی مخصوص صورت حال کا جائزہ ہے، کفر و شرک اور گناہ جن کے رگ و ریشہ میں سرایت کر چکے تھے، جو خدا کا نام سنتے ہی منہ بنا لیتے تھے اور بتوں کا نام آجانے پر مسرت کا اظہار کرتے تھے. جن کے بار ے میں سورہٴ زمرکی آیت ۴۵ میں ارشاد ہوتا ہے: وَ إِذا ذُکِرَ اللَّہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوبُ الَّذینَ لا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَ إِذا ذُکِرَ الَّذینَ مِنْ دُونِہِ إِذا ھُمْ یَسْتَبْشِرُونَ اور یہ کیفیت عصرِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ہمارے اس دور میں بھی دل کے کئی اندھے ایسے ہیں جو ایمان، توحید اور تقویٰ سے گریز پاہیں جہاں پر کف، نفاق اور اخلاقی بے رہروی کو بو پا لیتے ہیں، وہیں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی بعض روایات میں اس آیت کی ”ولایت“سے تفسیر کی گئی ہے جن کو بعض لوگ سننے تک گوارا نہیں کرتے لیکن اس کے مخالفین کے نام سے نہال نہال ہو جاتے ہیں۔ (ظاہر ہے کہ یہ تفسیر آیت کا ایک مصداق بیان کررہی ہے نہ کہ آیت کا تمام مفہوم اسی مصداق میں منحصر ہے )۔ آیت کے آخر میں ان تاریک دل مشرکین کو ہمیشہ کے لیے مایوس کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے: فیصلے کا کلی اختیار خداوند برتر و بزرگ کے ہاتھ میں ہے (فَالْحُکْمُ لِلَّہِ الْعَلِیِّ الْکَبیرِ )۔ فیصلے کی اس سند کا مالک، قاضی، داد خواہ اور داد رس صرف خداوند علی و اعلیٰ ہے اور چونکہ وہ ”علی“( بلند مرتبہ) اور ”کبیر“(صاحبِ عظمت و بزرگی ) ہے لہذا نہ تو کسی سے مغلوب ہوتا ہے، نہ کسی کی سفارش اس پر اثر کرتی ہے اور نہ ہی کوئی فدیہ، تاوان وغیرہ جیسی چیزیں اس کے فیصلے کو روک سکتی ہیں۔ وہی حاکم مطلق ہے اور اس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اس کے زیر فرمان ہے لہذا اس کی حکم عدو لی اور اس کے فیصلے سے روگردانی کوئی بھی نہیں کر سکتا۔
دعا جو قبول نہیں ہو گی
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی آیات میں کفار یا اہل جہنم کے دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست اور اس کے مسترد کر دیئے جانے کے بار ے میں پڑھ رہے ہوں، بلکہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر یہی بیان ہوئی ہے۔ سورہٴ شوریٰ کی آیت ۴۴ میں ہے: ظالم لوگ عذاب الہٰی کو دیکھنے کے بعد کہیں گے کہ ھل الیٰ مردّ من سبیل کیا واپس لوٹ جانے کا کوئی راستہ ہے؟ سورہٴ زمر کی ۵۸ ویں آیت میں گناہ گار اور بے ایمان افراد کے بار ے میں ہے: جب وہ عذاب الہٰی کو دیکھیں گے تو کہیں گے اگر ہم ایک مرتبہ پھر دنیا میں چلے جائیں تو نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے: اَوْ تَقُولَ حینَ تَرَی الْعَذابَ لَوْ اَنَّ لی کَرَّةً فَاَکُونَ مِنَ الْمُحْسِنین سورہٴ مؤمنون کی آیت ۹۹ اور ۱۰۰ میں ہے کہ جب کچھ لوگ موت کے فرشتوں کو دیکھتے ہیں تو خدا سے یہ درخواست کرتے ہیں: ربّ ارجعون لعلّی اعمل صالحاً فیما ترکت پروردگارا! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نے جو بھی کوتاہی کی ہے اور جو کام چھوڑ آیا ہوں اس کی تلافی کے لیے عمل صالح انجام دوں۔ لیکن انہیں ”کلّا“(ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ) یا اس جیسے الفاظ کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ تو گویا قرآن مجید یہ کہنا چاہتا ہے کہ”اگر مرنے کے بعد ہمیں شدید ردِعمل کا سامناکرنا پڑا ہے تو کیا ہوا واپسی اور تلافی کی راہیں تو کھلی ہوئی ہیں“نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ اس کی دلیل واضح ہے، قانون تکامل و ارتقاء اور اس کی پیش رفت کے سلسلے میں رجعت پسندی اور پیچھےکو ہٹناناممکن ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت جس طرح نومولود کا شکم مادر میں واپس لوٹ جانا محال ہے، خواہ اس نے شکم مادر میں ارتقائی مراحل طےکر لیے ہوں یا قبل ازاں ساقط ہو جائے، واپسی تو کسی بھی صورت میں ناممکن ہے۔ موت بھی اسی طرح کا ایک دوسرا تولد ہے جس سے انسان ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ لہذا وہاں پر بھی واپسی کا امکا ن مفقود ہے۔ اس کے علاوہ مجبوری کی بیداری کوصحیح معنوں میں بیداری نہیں کہا جاتا، جب بھی اس کے اسباب ختم ہو جائیں گے فراموشی دوبارہ عود کر آئے گی اور پھر وہی کام شروع کر دیں گے۔ جیسا کہ اسی دنیا میں بہت سے لوگوں کے بارے میں بہت سے ایسے موارد دیکھنے میں آتے ہیں کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو پروردگار عالم کے لطف وکرم کا سہارا لیتے ہیں اور توبہ کے در وازے میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن جو نہی طوفان مصائب تھما وہ فوراً ان مصائب کو بھول کر پرانی ڈگر پر چل نکلتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : صرف خدا کو پکارو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات درحقیقت ان مسائل کا استدلال ہیں جو گزشتہ آیات میں وعظ و نصیحت اور تنبیہ و تہدید کی صورت میں بیان ہوائے ہیں۔ ان میں خداوند متعال کی توحید ربوبیت اور اس سے شرک نیز بت پرستی کی نفی پر دلائل ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: وہ ( خدا تو ) وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ( ھُوَ الَّذی یُریکُمْ آیاتِہِ )۔ آفاق اور ان فس میں موجود وہی نشانیاں جن سے ساری کائنات بھری پڑی ہے، ایسے عجیب وغریب نقوش جو عالمِ وجود کے درو دیوار پر نمایاں ہیں، ایسے واضح نقوش جنہیں دیکھ کر اگر کوئی تیری ذات کے متعلق نہ سوچے تووہ خود نقش بر دیوار ہے۔ پھر ان آیات میں سے ایک نشانی کے متعلق فرمایا گیا ہے: تمہارے لیے آسمان سے قیمتی رزق نازل کرتا ہے (وَ یُنَزِّلُ لَکُمْ مِنَ السَّماءِ رِزْقاً)۔ بارش کے حیات بخش قطرے،آفتاب کا نور جو تمام موجودات کوزندہ کرتا ہے، اور ہوا جو تمام حیوانات اور نباتات کا سرمایہٴ حیات ہے۔ یہ سب آسمان سے نازل ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ تین امور زندگی اور حیات کا اہم ترین وسیلہ ہیں اور باقی سب چیزیں ان کی فروعات ہیں۔ بعض مفسرین نے آسمان کو”عالمِ غیب“ اور زمین کو”عالمِ شہود“جانا ہے۔ اور آسمان سے رزقِ الہٰی کے نزول کا معنی ، اس کا عالم غیب سے عالم شہود پر نازل ہونا کیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر قطع نظر اس کے کہ ظاہر آیت کے خلاف ہے اس کی قطعاً ضرورت بھی نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وحی اور بہت سی آیات جو روحانی غذا ہیں آسمانِ غیب سے نازل ہوتی ہیں اور بارش اور آفتاب کا نور جو جسمانی غذا ہیں آسمان ظاہر سے نازل ہوتے ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ بھی ہیں، لیکن یہ تصوّر ہرگز نہیں کرنا چاہیئے کہ زیر تفسیر آیات بھی اس عام مفہوم یا آیات تشریعی کی طرف خصوصی اشارہ ہیں۔ کیونکہ ”یریکم ایاتہ“( وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ) کا جملہ قرآن میں بار بار کائنات میں موجود توحیدی آیات کے معنی میں آتا ہے۔ جن میں سے ایک مقام خود اسی سورت مؤمن کے آخر میں ہے جہاں پر خداوند عالم چوپایوں اور کشتیوں کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے: و یریکم اٰیاتہ فایّ اٰیات اللہ تنکرون ” وہ تمہیں اپنی آیات دکھاتا ہے پس تم اس کی کون کون سی آیات کا انکار کرو گے“؟( مؤمن . ۸۱) اسی طرح کی کئی دوسری آیات بھی ہیں۔ اصولی طور پر ”یریکم“(تمہیں دکھاتا ہے ) کی تعبیرمناسب ہی آیاتِ تکوینی کے لیے ہے۔ جہاں تک تشریعی آیات کا تعلق ہے تو ان کے لیے ”وحی بھیجی“ اور ”تمہاری طرف آیا“جیسی تعبیریں دکھائی دیتی ہیں۔ بہرحال، یہ جو بعض متقدم اور معاصر مفسرین نے آیات کو”تشریعی آیات“یا”تشریعی اور تکوینی آیات“کے معنی میں لیا ہے، اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن نے یہاں پر آسمان و زمین میں اور خود انسان کے اندر موجود اللہ تعالیٰ کی اور بہت سی آیاتِ عظیمہ کوچھوڑ کر انسان کی روزی کے مسئلے ہی کو کیوں بیان کیا ہے؟ کیونکہ یہ روزی کامسئلہ ہی ہے جو انسانی فکر کو اپنی طرف مشغول کئے رہتا حتٰی کہ بعض اوقات وہ رزق میں اضافے اور فقرو فاقہ سے نجات پانے کے لئے بتوں کے آگے جھک جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ہر قسم کی روزی خدا کے ہاتھ میں ہے بُت تو کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس قدرعظیم کائنات میں اتنی بڑی اورلاتعداد نشانیوں کے باوجود ان کی نابینا آنکھیں اور پردوں میں ڈھکے ہوئے دل کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے صرف وہی لوگ ان حقائق کو یاد رکھتے ہیں جو خدا کی طرف لوٹیں اور اپنے قلب و روح کوگناہوں سے پاک کریں (وَ ما یَتَذَکَّرُ إِلاَّ من ینیب)۔ بعد کی آیت میں یوں نتیجہ نکالا گیا ہے: اب جبکہ صورت حال یہ ہے تو تم خدا کو پکارو اور اپنے دین کو خدا کے لیے خالص کرو (فَادْعُوا اللَّہَ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ)۔ اب اٹھ کھڑے ہو اور ایمان کا بسولا لے کر مشرکین کے بتوں پر ٹوٹ پڑو اور سب کو اپنی فکر، ثقافت اور معاشرے سے باہر نکا ل پھینکو۔ البتہ تمہارا یہ کام ہٹ دھرم متعصب کنار کی کلیف کا باعث ضرور بنے گا لیکن تمہیں اس بات کی پروا نہیں کرنا چاہیئے تم اپنے دین کو خالص کئے رکھو ”خواہ یہ کافروں کونا گوار بھی گزرے“ ( وَ لَوْ کَرِھَ الْکافرونَ)۔ جس ماحول میں گمراہ بت پرستوں کی اکثریت ہو وہاں پر توحید کی آواز کے لیے ایک وحشت ناک آواز ہوتی ہے جیسا کہ جمگادڑوں کے ٹولے کے لیے طلوعِ آفتاب وحشت ناک ہوتا ہے، لیکن تم ان کے جاہلانہ اور وقتی ردِعمل سے مت گھبراؤ، خم ٹھونک کرمیدانِ عمل میں آجاؤ اور پوری جراٴت کے ساتھ آگے بڑھتے رہو اور توحید واخلاص کا پرچم ہر جگہ لہراؤ۔ بعد کی آیت خداوند عالم کوچند اوصاف سے متصف کرتی ہے اور کہتی ہے: وہ درجات بلند کرنے والا ہے (رفیع الدرجات )۔ وہ اپنے صالح بندوں کے درجات بلند کرتا ہے۔ جیسا کہ سورہٴ مجادلہ کی آیت ۱۱ میں فرمایا گیا ہے: یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ الَّذینَ اُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجات خداند عالم مؤمنین اورعلماءکے درجا ت بلند کرتا ہے۔ حتٰی کہ ان انبیاءکے درجات بھی بلند کرتا ہے اور انہیں فضیلت و برتری عطا فرماتا ہے جو امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں اور اخلاص کے عالی مرتبہ تک پہنچے ہیں۔ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۳۵ میں ارشاد ہوتا ہے: تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنا بَعْضَھُمْ عَلی بَعْض اس نے انسانوں کو اس زمین میں اپنا خلیفہ اور نمائندہ قرار دیا ہے اور ہر ایک کو اس لیاقت، اہلیت اور استعداد کے مطابق برتری عطا فرمائی ہے۔ سورہٴ انعام کی آیت ۱۶۵ میں فرمایا گیا ہے: وَ ھُوَ الَّذی جَعَلَکُمْ خَلائِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْض دَرَجات اگر گزشتہ آیت میں دین میں اخلاص برتنے کی دعوت دی گئی ہے تو اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خداوند عالم تمہارے درجات تمہارے اخلاص کے مطابق بلند کرے گا کیونکہ وہ ”رفیع الدرجات“ ہے۔ یہ سب کچھ اس صورت میں ہے جب ہم ”رفیع“کو ”رافع“یعنی بلند کرنے والا کے معنی میں لیں۔ لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”رفیع“یہاں پر ”مرتفع“کے معنی میں ہے، تو ایسی صورت میں رفیع الدرجات، خداوند عالم کی بلند اور عالی صفات کی طرف اشارہ ہے، بے شک وہ علم کے لحاظ سے بھی بلند مرتبہ ہے اور قدرت کے لحاظ سے بھی ، اس کے کمال وجمال کے تمام اوصاف اس قدر بلندہیں کہ انسانی عقل و دانش کا بلند پرواز ہما بھی اس کے بلند مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ لغت میں”رفیع“دونوں معانی کے لیے آتا ہے لہذا آیت کی بھی دونوں معنوں کے لحاظ سے تفسیر کی جا سکتی ہے۔ لیکن چونکہ آیات میں نیک بندوں کو جزائے خیر اور بلند درجات عطا کرنے کی بات ہو رہی ہے لہذا پہلا معنی وہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہر چند ہمارے نظریہ کے مطابق لفظ کا ایک سے زیادہ معانی میں استعمال جائز ہے لہذا دونوں تفاسیر بھی صحیح ہیں خاص کر قرآنی آیات کے بارے میں کہ جن کے الفاظ کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے: وہ عر ش کا مالک ہے ( ذوالعرش )۔ ساری کائنات اس کی قدر ت اور حکومت کے تابع ہے اور اس کے ملک و حکومت میں کوئی شریک نہیں ہے اور یہ بات بذاتِ خود اس امر کی دلیل ہے کہ لیاقت اور استعداد کے مطابق بندوں کے درجات کی طبقہ بندی اسی کے قبضہٴ قدرت میں ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں”عرش“کے بارے میں کافی گفتگو ہو چکی ہے لہذا یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیسری تعریف بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خداوند عالم ہی اپنے فرمان کے مطابق اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے روح القاءکرتا ہے ( یُلْقِی الرُّوحَ مِنْ اَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاءُ مِنْ عِبادِہِ)۔ یہ روح قرآن، مقام نبوت اور وحی ہی ہے جو جِسم انسانی میں روح کے مانند دلوں کی حیات کا سبب ہے۔ اگرچہ یہاں پر مفسرین نے ”روح“کے معنی کی وضاحت کے لیے کئی احتمالات ذکر کیے ہیں۔ لیکن اس آیت میں اورسورہٴ نحل کی دوسری آیت میں اور اسی طرح سورہٴ شوریٰ کی آیت ۵۲ میں موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پر روح سے مراد وحی، قرآن اورشرعی فرائض ہیں۔ ملاحظہ ہو سورہٴ نحل کی دوسری آیت: یُنَزِّلُ الْمَلائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاءُ مِنْ عِبادِہِ اَنْ اَنْذِرُوا اَنَّہُ لا إِلھَ إِلاَّ اَنَا فَاتَّقُونِ اسی طرح سورہ شورٰی کی ۵۲ ویں آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن، ایمان اور روح کے نزول کو بیان فرمایا گیا ہے: وَ کَذلِکَ اَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ اَمْرِنا ما کُنْتَ تَدْری مَا الْکِتابُ وَ لاَ الْإیمان ”من امرہ“(اس کے حکم کے مطابق ) یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر فرشتہ وحی بھی اس روح کے پہنچانے پر مامور ہے تو وہ بھی خدا ہی کی طرف سے بات کرتا ہے نہ کہ اپنی جانب سے۔ "علیٰ من یشاءمن عبادہ"، "اپنے بندوں سے جس پر چا ہے“ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ وحی کی نعمت بغیر کسی حساب و کتاب کے عطا فرما دیتا ہے کیونکہ اس کی مشیت اس کی عین حکمت ہوتی ہے۔ جیسے اس مقام کے لائق سمجھتا ہے اسے عطا فرماتا ہے جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۱۲۴ میں فرمایا گیا ہے: اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ خداوند عالم سب سے بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے۔ اہل بیت علیہم السلام کی بعض رویات میں مندرجہ بالا آیت میں”روح“کی تفسیر”روح القدس“کی گئی ہے اور اپنے پیغمبر اور معصوم اماموں سے مخصوص بتایا گیا ہے۔ یہ بھی ہماری ان تصریحات کے منافی نہیں ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ کیونکہ“روح القدس”وہ مقدس اور بلند مرتبہ معنوی روح ہے جو بطور کامل اور بدرجہ اتم ان معصومین میں موجود ہے۔اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ اس کا پرتو دوسرے افراد میں بھی متجلی ہوتا ہے۔ اور جب بھی"روح القدس“کافی ض ان کی کمک کرتا ہے تو ان سے نہایت ہی اہم باتیں اور اہم امور سرزد ہوتے ہیں ۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ گزشتہ آیات میں بارش کے نزول اور جسمانی رزق کی بات ہو رہی تھی اور یہاں پرنزولِ وحی اور روحانی رزق کی بات ہو رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انبیاءکرام علیہم السلام پر روح القدس نازل کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ اور اس پُرنشیب و فراز، طویل اور پُرمشقت سفر میں ان کام قصد اور ہدف ہے؟ اسی سلسلے کی آیت کے آخری جملے میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے خود قرآن فرماتا ہے: مقصد یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائیں (لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلاق)۔ جس دن بندے اپنے پروردگار سے شہود باطنی کے ذ ریعے ملاقات کریں گے، جس دن گزشتہ اور آئندہ زمانے کے لوگ آپس میں ملاقات کریں گے، جس دن حق اور باطل کے پیشوا اپنے پیروکاروں سے ملاقات کریں گے، جس دن مستضعفین اور مستکبرین باہم ملاقات کریں گے، جس دن ظالم اور مظلوم آپس میں ملاقات کریں گے، جس دن انسان اور فرشتے ملاقات کریں گے، خلاصہ یہ کہ جس دن انسان اپنے اعمال، گفتار اور کردار سمیت، اللہ کی بار گاہِ عدل کی ملاقا ت کرے گا۔ تمام آسمانی کتابوں اور خداوند عالم کے تمام منصوبوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو ”ملاقات کے اس عظیم دن“سے ڈرائیں، اور اس آیت میں قیامت کا کیا ہی عجیب نام منتخب کیا گیا ہے”یَوْمَ التَّلاق“۔ (تشریحی نوٹ: مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ بقر ہ کی آیت۸۷ کی تفسیر ملاحظہ ہو)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : ملاقات کا دن
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ اور بعد میں آنے والی چند دوسری آیات ”یَوْمَ التَّلاق“کی تشریح اور تفسیر میں، جو قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور گزشتہ چند آیات میں اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ ان دو آیات میں قیامت کی چند خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے بڑھ کردل دہلا دینے والی ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: ملاقات کا دن ایسا دن ہے جس میں سب لوگ ظاہر ہو جائیں گے (یَوْمَ ھُمْ بارِزُونَ )۔ ایسا دن ہے جس میں سب حجاب اور پردے ہٹ جائیں گے۔ ایک تو پہاڑوں جیسی مادی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور قرآن کے الفاظ میں زمین ”قاعاً صفصفاً“( کسی اونچ نیچ کے بغیر بالکل ہموار) ہو جائے گی. (طٰہٰ . ۱۰۶) دوسرے تمام انسان قبروں سے نکالے جائیں گے۔ تیسرے سب لوگوں کے باطنی اسرار ظاہر ہو جائیں گے ”یَوْمَ تُبْلَی السَّرائِرُ“۔( طارق . ۹) اور زمین اپنے تمام اندرونی دفینے باہر نکال دے گی ”وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقالَہا“( زلزال .۲) چوتھے تمام نامہٴ اعمال کھولے جائیں گے اور ان کا سب کچھ آشکار ہو جائے گا ”وَ إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ“۔ ( تکویر. ۱) پانچویں جن اعمال کو انسان پہلے سے بھیج چکا ہے وہ وہاں پر مجسم ہو کر اس کے سامنے آجائیں گے ”یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ ما قَدَّمَتْ یَداہُ“( نباء. ۴۰)۔ چھٹے جن مسائل کا انسان چھپ کر بار بار مرتکب ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائیں گے”بَلْ بَدا لَھُمْ ما کانُوا یُخْفُونَ مِنْ قَبْل“ (انعام. ۲۸) ساتویں انسان کے اپنے اعضاءحتٰی کہ وہ زمین بھی جس پر وہ گناہوں کا ارتکاب کیا کرتا تھا اس کے خلاف گواہی دے گی اور حقائق بیان کرے گی"و برزوا للہِ جمیعاً“۔ ( زلزال . ۴ ) المختصر اس دن تمام انسان اپنے تمام وجود، تمام ہستی اور کیفیت و حال کے ساتھ اس عظیم میدان میں آ موجود ہوں گے اور کوئی بھی چیز چھپی نہیں رہ جائے گی ”وبرزوا للہِ جمیعاً“( ابراہیم . ۲۱) کیا ہی عجیب اور وحشت ناک منظر ہو گا ؟ وہاں پر کیسا شور وغوغا اور چیخ و پکار بلند ہو گی؟ اس قدر کہنا کافی ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے یہ فکر کر لیں کہ اس دنیا میں یہی منظر معرض وجود میں آ جائے اور تمام انسانوں کے ظاہر و باطن اور خلوت ایک ہو کرمنصہ شہود پر آ جائیں تو لوگوں کی اس وقت کیا کیفیت ہو گی؟ اورلوگوں کے باہمی تعلقات کیونکر منقطع ہو جائیں گے؟ جی ہاں اس جہان کی کیفیت بھی یہی ہے اور انسان کو اس دنیا میں اس طرح رہنا چاہیے کہ اگر اس کے باطن کے حالات ظاہر ہو جائیں تو ان سے خوف نہ کھائے. اس کے اعمال و کردار کو ایسا ہونا چاہیئے کہ اگر آج بھی وہ منظر عام پر آ جائیں تو اسے پریشان نہ ہونا پڑے۔ اس دن کی دوسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: لوگوں کی کوئی چیز بھی خدا پر مخفی نہیں ہو گی ( لا یَخْفی عَلَی اللَّہِ مِنْھُمْ شَیْءٌ)۔ اس دنیا میں بھی اور آج کوئی چیز اس قادر مطلق پر مخفی نہیں ہے اور اصولی طور پر جس کا وجود لامتناہی ہو اور کسی قسم کی محدودیت جس کی پاک ذات کے لیے نہ ہو اس کے نزدیک ظاہر و باطن اور غیب و شہود یکساں ہیں۔ تو پھر قرآن مندرجہ بالا جملے کو”یوم ھم بارزون“کی تشریح اور تفسیر کے طور پر کیوں بیان کر رہا ہے؟ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ کیونکہ یہ بات اس دن تمام چیزیں کے مکمل طور پر اچھی طرح ظاہر ہونے پر دلالت کرتی ہے جس دن عام لوگوں سے کوئی چیز مخفی نہیں رہے گی خدا کے بار ے میں توا س کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس دن کی تیسری خصوصیت، پروردگار عالم کی حاکمیت مطلقہ ہے، جس طرح اسی آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس دن کہا جائے گا کہ اس دن کی حکومت اور ملکیت کس کے پاس ہے ( لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ )۔ تو اس کے جواب میں کہیں گے: صرف خداوند قہار کی ملکیت ہے (لِلَّہِ الْواحِدِ الْقَہَّارِ)۔ یہ سوال کون کرے گا اور اس کا جواب کون دے گا ؟ آیت نے اس کی وضاحت نہیں کی. البتہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ سوال خداوند عالم کی طرف سے کیا جائے گا اور اس کا جواب تمام مؤمنین اور کفار مل کردیں گے (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان ، انہی آیا ت کے ذیل میں)۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ سوال اور جواب دونوں کی جانب سے ہوں گے (بحوالہ: تفسیر”میزان“ انہی آیات کے ذیل میں) جب کہ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ سوال خدا کا منادی زرو زور سے کرے گا اور خود ہی اس کا جواب دے گا۔ لیکن بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال اور جواب کسی خاص فرد کی طرف سے نہیں ہوں گے۔ بلکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بغیر کسی استثناءکے خالق و مخلوق، فرشتہ و انسان، مؤمن و کا فر، وجود کے تمام ذرات اور کائنات کے در و دیوار کی طرف سے کیا جائے گا۔ اور ہرایک زبانِ حال سے اس کا جواب دے گا۔ یعنی جہاں جہاں دیکھو گے وہاں وہاں پر اس کی حاکمیت و حکومت کے آثار نمایاں اور اس کی قہاریت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی. جس ذرہ کی آواز سنو گے وہی”لمن الملک“کہہ رہا ہو گا اور اس کا جواب بھی خود دے رہا ہو گا ”للہ الواحد القہار“۔ اس کا ایک نہایت چھوٹا سا نمونہ ہم اسی دنیا میں دیکھتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم گھر یا ایک شہر یا ایک ملک میں داخل ہوتے وقت کسی ایک فردِ معین کی قدرت کی علامات کو ہر جگہ محسوس کرتے ہیں گویا ہر ایک کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس جگہ کام الک اور حاکم فلاں آدمی ہے اور وہاں کے در و دیوار بھی پکار پکار کر یہی کہہ رہے ہوتے ہیں۔ البتہ آج بھی خداوند عالم کی مالکیت سراسر کائنات پر حکم فرما ہے لیکن بروزِ قیامت نیا ظہور اختیار کرے گی اس دن نہ تو ظالم اور جابر لوگوں کی حکومت کا کوئی پتہ ہو گا اور نہ ہی طاغوتوں کے مسحور کن نعرے سنائی دیں گے۔ نہ اہریمنی طاقتوں کا کوئی نام و نشان ہو گا اور نہ ہی شیطان اور اس کے لشکریوں کا کوئی اتہ پتہ ہو گا۔ اس دن کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سزا اور جزا کا دن ہوگا۔ جیسا کہ بعد کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے ”آج کے دن ہرشخص اپنے کئے کی سزا یا جزا پائے گا“(الْیَوْمَ تُجْزی کُلُّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ )۔ جی ہاں ! خداوند عالم کا علمی احاطہ ، حاکمیت ،مالکیت اور قہاریت اس عظیم اور خوف و رجاءپر مبنی حقیقت پر واضح دلیل ہیں۔ پانچویں خصوصیت وہی ہے جو بعد کے جملے میں ذکر کی گئی ہے: آ ج کے دن کسی پر بھی ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا (لا ظُلْمَ الْیَوْمَ )۔ ظلم کیونکر ممکن ہو جب کہ ظلم یا تو جہالت کی وجہ سے سرزد ہوتا ہے اور خداوند عالم کا علم ہر چیز پر محیط ہے یا پھر عاجزی کی بناءپر ہوتا ہے اور خداوند عالم ہر چیز پر قاہر، حاکم اور مالک ہے تو پھر خدا کی بارگاہ میں اس دن ظلم کیونکر ممکن ہے؟ بالخصوص وہ دن خدا کے فیصلے کا دن ہو گا نہ کہ لوگوں کی آزمائش کے لیے آزادی کا دن ۔ چھٹی اورآخری خصوصیت بندوں کے اعمال کا جلد محاسبہ ہے۔ جیسا کہ آیت کے اختتام پر فرمایا گیا ہے: خداوند سریع الحساب ہے (إِنَّ اللَّہَ سَریعُ الْحِساب)۔ وہاں پر حساب و کتاب رفتار اس حد تک تیز ہو گی جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: ان اللہ تعالیٰ یحاسب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر خداوند عالم اپنی تمام مخلوقات کا حساب ایک پلک جھپکنے کی دیر میں کر لے گا ( بحوالہ: تفسیر مجمع البیان سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۰۲ کے ذیل ہیں)۔ اصولی طور پر”اعمال کے مجسم ہو جانے“ اور”خیر و شر کے آثار باقی رہ جانے“کے نظر یہ کو قبول کر لینے کے بعد قیامت کے دن حساب و کتاب کامسئلہ تو حل شد ہہی ہے۔ آیا جو مشینیں اس دنیا میں کام کے ساتھ نمبر بتاتی جاتی ہیں انہیں حساب کرنے کے لیے کسی زمانے کی ضرورت ہوتی ہے ؟ ”سریع الحساب“کا لفظ قرآن مجید کی مختلف آیات میں بار بار ملتا ہے اس کام قصد شاید یہ ہے کہ شیطان صفت لوگ سادہ لوح افراد کے دلوں میں یہ وسوسے نہ ڈال دیں کہ ہزاروں سالوں کے دوران میں بجا لائے ہوئے اعمال کا حساب و کتاب ا س قدر جلد آسانی کے ساتھ کیونکر ممکن ہے ؟ ان تمام باتوں سے ہٹ کر یہ تعبیر تمام انسانوں کے لیے تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ اس دن مجرمین کوکوئی بھی مہلت نہیں دی جائے گی، جس طرح کہ اس دنیا میں کسی مجر م یا قاتل پر مقدمہ چلانے اور کیس پر غور کرنے کے لیے کئی سالوں یا کم از کم کئی مہینوں کی مدّت درکار ہوتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: جب جان لبوں تک پہنچے گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات بھی حسب سابق اوصافِ قیامت کے سلسلے کی کڑی ہیں اور درحقیقت ان آیات میں قیامت کے اوصاف میں سے سات اور اوصاف اور ہولناک اور وحشت ناک حوادث کا بیان ہے جو ہر صاحبِ ایمان شخص کوگہرے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: انہیں اس دن سے ڈرائیے جو قریب ہے (وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْآزِفَة)۔ ”اٰزفة“لغت میں ”نزدیک“کو کہتے ہیں اور یہ کیسا عجیب و غیرب نام ہے جو ”یوم القیامة“کے بجائے آیا تاکہ نا آگاہ اور بے خبر لوگ یہ نہ کہیں کہ ابھی قیامت برپا ہونے میں بہت بڑا عرصہ باقی ہے، اپنے دھیان کو ابھی سے قیامت کی طرف لگانے کی ضرورت نہیں ہے یہ ایک ادھار کا وعدہ ہے۔ اگرہم غور سے دیکھیں تومعلو م ہو گا کہ کل دنیاوی عمر قیامت کی عمر کے مقابلے میں ایک زود گزر لمحے سے زیادہ نہیں ہے اور چونکہ اس کی حتمی تاریخ خدا نے ابنیاءو مرسلین تک کو نہیں بتائی لہذا ہمیشہ اس کے استقبال کے لیے آمادہ رہنا چاہیئے۔ دوسری صفت یہ ہے کہ : اُس روز زبردست خوف و ہر اس کی وجہ سے دل حلق تک پہنچ جائیں گے ( إِذِ الْقُلُوبُ لَدَی الْحَناجِرِ )۔ جب انسان زبردست مشکلات میں پھنس جاتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس کا دل اپنی جگہ چھوڑ کرحلق سے باہر آنا چاہتا ہے۔ عرب ایسی صورت حال کو ”بلغت القلوب الحناجر“سے تعبیر کرتے ہیں اور شاید اس کا فارسی صحیح نعم البدل ”جان لبوں تک پہنچ چکی ہے“ ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ دل جو خون کی تقسیم کا مرکز ہے وہ نہ توکبھی اپنی جگہ سے ہلتا ہے اور نہ ہی حلق تک پہنچتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ”قلب“دراصل ”جان“کے لیے کنایہ ہو، مثلاً کہا جاتا ہے کہ اس جان حلق تک پہنچ چکی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا اس کی روح اس کے بدن سے بالتدریج خارج ہوتے ہوتے باقی تھوڑی سی رہ چکی ہے۔ بہرحال، اس دن انسان خدا کے سخت حساب و کتاب، تمام مخلوق کے سامنے رسوائی کے خوف اور ناقابل ِ نجات دردناک عذاب میں مبتلا ہونے کے ڈر سے اس قدر ہول و اضطراب کا شکار ہو جائے گا جو بیان نہیں ہو سکتا ۔ اس کی تیسری صفت کے بار ے میں قرآن کہتا ہے: ان کا تمام وجود غم و اندوہ سے بھرا ہو گا لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر سکیں گے ( کا ظِمینَ)۔ ”کاظم"، "کظم“کے مادہ سے ہے جس کا لغوی معنی ہے ”پانی بھری مشک کام نہ باندھنا“بعد ازاں اس کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہونے لگا جوغصّے سے بھرے ہوئے ہیں لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر اس کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اگر انسان کسی وقت غمِ جانکاہ اور ان دوہ کا شکار ہو جائے لیکن وہ فریاد کرسکتا ہو توممکن ہے کہ اس کا کچھ غم ہلکا ہو جائے اور اس کے د ل کوکچھ آرام آجائے لیکن افسوس کہ وہاں پر تو چلّانے اور فریاد کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو گی، وہاں پر تو تمام مخفی رازوں کے ظاہر ہو جانے، حق کی عدالت میں پیش ہونے، عدالتِ پروردگار میں حاضری دینے اور مخلوقِ خدا کے موجود ہونے کے مسا ئل ہوں گے پھر چیخ و پکار کیا فائدہ پہنچائے گی؟ چوتھی صفت یہ ہے کہ:ظالموں کا کوئی دوست نہیں (ما لِلظَّالِمینَ مِنْ حَمیمٍ )۔ وہ یار اور مکار دوست جو اقتدار کے زمانے میں اس کے دستر خوان کی مکھی بنے اس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے اور خوشامد و چاپلوسی کے ذریعے اپنے آ پ کو وفادار دوست اورجان نثار ساتھی یا خاندانی غلام بتایا کرتے تھے ان سب کو اپنی اپنی پڑی ہے دوسرے کا کسی کو کچھ خیال نہیں۔ الغرض اس دن نہ تو کسی انسان کا کوئی دوست ہو گا، اور نہ ہی دردِ دل بانٹنے کے لیےکوئی غمخوار ۔ پانچویں صفت کے بارے میں فرمایا گیا ہے:اور نہ ہی کوئی ایسا شفاعت کرنے والا ہے کہ جس کی شفاعت قبول کی جائے (وَ لا شَفیعٍ یُطاع)۔ کیونکہ انبیاءاور اولیا ءجیسے سچے شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بھی خداوند عالم کے حکم پر منحصر ہو گی. اس طرح سے بت پرستوں کے اس گمان پر بھی خط تنسیخ پھر جاتا ہے کہ بت ان کی شفاعت کریں گے۔ چھٹے مرحلے پرقیامت کی کیفیت کے ضمن میں خدا کا ایک وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا خیانت سے دیکھنے والی آنکھوں کو جانتا ہے اورجو کچھ سینوں میں پوشیدہ ہے اس سے بھی باخبر ہے (یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ ما تُخْفِی الصُّدُورُ)ـ (بحوالہ: ”یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاَعْیُن“کے جملے میں نحوی ترکیب کے لحاظ سے دو احتمال ہیں۔ پہلا یہ کہ“خائِنَةَ“ مصدری معنی میں ہے جس کا معنی ”خیانت“ ہے، (جیسا کہ ”کا ذبة“ اور’ لاغیة“کہ جن کا معنی ”کذب“ اور”لغو“ ہے ) دوسر ا یہ کہ موصوف سے صفت مقدم ہو اور اصل میں ”الاعین الخائنة“ ہو تو پھر اس صورت میں لفظ ”خائِنَةَ“ اسم فاعل ہو گا)۔ جی ہاں ! جو خدا آنکھ کی مخفی حرکتوں اور سینے کے اندرونی رازوں سے آگاہ ہے وہی اس دن اپنی مخلوق کے بار ے میں عدل وانصاف کرے گا اور اس کے اس صحیح معنوں میں علم و آگاہی کی وجہ سے گناہ گاروں کے لیے دن نہایت تاریک ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے بار ے میں سوال کیا گیا تو آنجناب علیہ السلام نے فرمایا: الم تر الی الرجل ینظر الی الشیءوکانہ لاینظر الیہ، فذالک خائنة الاعین کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کبھی انسان کسی چیزکو دیکھ رہاہوتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے نہیں دیکھ رہا؟ یہی خیانت آلودہ نگا ہیں ہیں ( بحوالہ: ”تفسیر صافی“ اسی آیت کے ذیل میں)۔ جی ہاں ! اس قسم کی نگاہ خواہ لوگوں کی ناموس کی طرف ہو یا کسی اور ایسی چیز کی طرف کہ جس دیکھنا ممنوع ہے اس خدا سے چنداں مخفی نہیں رہ سکتی جس کے لیے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہٴ سبا کی آیت ۳ میں ارشاد فرمایا گیا ہے: لا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاَرْض ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ساتھی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں اسلام کے ایک جانی دشمن کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، جب وہ مخالف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان نامہ حاصل کر کے باہر چلا گیا توا س ساتھی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی اس کے امان حاصل کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیوں نہیں فرمایا تا کہ ہم کھڑے ہو کر اس کی گردن اڑا دیتے تو آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان النبی لاتکو ن لہ خائنة الاعین انبیاءکے پاس مخفی اور خائن آنکھیں نہیں ہوتیں ( بحوالہ: تفسیرقرطبی جلد۸ ،ص ۵۷۴۷( کچھ خلاصے کے ساتھ )۔ البتہ خیانتِ چشم کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ غیر عورتوں کی طرف چوری چوری دیکھا جائے یا اس سے آنکھ لڑانے کی کوشش کی جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کی عیب جوئی اور تحقیر کی غرض سے آنکھ کا اشارہ کیا جائے، تیسری صورت یہ ہے کہ سازشو ں اور شیطانی منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے آنکھوں سے اشارے کیے جائیں و غیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان کا اس بات پر ایمان ہو کہ بروز قیامت اس کی نگاہوں، سوچوں، خواہشوں اور ان کے اسباب تک کا پورا پورا محاسبہ ہو گا اور ہر ایک سے تعلق پوری تحقیق پوری کی جائے گی اور سوال کیا جائے گا تو وہ یقینا کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہو جائے اور نفوسِ انسانی کی تربیت میں معاد، خدا کی طرف سے نگرانی اور قیامت کے دن حساب و کتاب پر ایمان کتنا مؤثر ہے؟ کہتے ہیں کہ ایک بزرگ عالم جب اپنی اعلیٰ تعلیم نجف اشرف کے حوزہٴ علمیہ میں مکمل کر چکے اور اپنے وطن واپس جانے کے لئے اپنے استاد سے الوداع کی غرض سے ان کے حضور پہنچے اور ان سے آخری وعظ و نصیحت کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا اس قدر تکالیف اٹھانے کے بعد پھر بھی آخری نصیحت کلام اللہ مجید ہے اور اپ اس آیت کو ہرگز فراموش نہ کریں ۔ الم یعلم بان اللہ یرٰی کیا انسان نہیں جانتا تھا کہ خدا ہرچیز کودیکھ رہا ہے۔ ( علق . ۱۴) یقینا ایک صحیح معنوں میں مؤمن شخص کی نگاہ میں یہ تمام کائنات خدا کے حضور میں ہے اورتمام کام اسی کے سامنے انجام پاتے ہیں اور یہی تصور گناہوں سے اجتناب کے لیے کافی ہے۔ قیامت کی ساتویں صفت جو چھٹی صفت کی طرح خدا کی صفت کے طور پر بیان ہوئی ہے قرآن کے الفاظ میں: خدا حق پر مبنی فیصلہ کرے گا (وَاللَّہُ یَقْضی بِالْحَقِّ )۔ اور وہ اس کے علاوہ جن معبودوں کو پکار تے ہیں ان میں سے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا (وَ الَّذینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لا یَقْضُونَ بِشَیْء)۔ جی ہاں! اس دن فیصلے کا اختیار صرف اور صرف خدا کے پاس ہو گا اور وہ بھی حق سچ کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا کیوکہ ظلم پر مبنی فیصلہ یا تو جہالت اور نا آگاہی کی بنا پر ہوتا ہے جب کہ وہ تمام اسرار اور بھیدوں تک سے اچھی طرح واقف ہے اور یا پھر عاجز آ جانے یا ضرورت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ سب اُس کی ساحتِ مقدس سے دور ہیں۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ جملہ ”توحید معبود“پر ایک دلیل ہے کیونکہ معبود بننے کی صلاحیت وہی رکھتا ہے کہ آخر کار فیصلہ جن کے ہاتھ میں ہو لہذا وہ بت کہ جو نہ اس دنیا میں کسی خاصیت کے مالک ہیں اور نہ ہی قیامت کے دن کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں تو ان میں معبود بننے کی صلاحیت کیونکر ہو سکتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ حق کی جانب سے حق پر مبنی فیصلہ جات کے بہت سے اور وسیع معانی ہیں جو عالم تکوین اور عالم تشریع دونوں پر محیط ہیں جس طرح کہ قرآنی آیات میں ”قضاء“کی تعبیر دونوں معانی پر مشتمل ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر فرمایا گیا ہے: وقضٰی ربک الاّ تعبدوا الاّ ایّاہ ” تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔“ (سورہٴ بنی اسرائیل: ۲۳) یہ قضاوت تشریعی ہے۔ اور دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہے: إِذا قَضی اَمْراً فَإِنَّما یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ جب وہ کسی چیزکے بار ے میں حکم جاری کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ ( آل عمران . ۴۷) یہ قضاوت تکوینی ہے۔ آخر میں گزشتہ آیات پر تاکید کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خدا سننے اور دیکھنے والا ہے (إِنَّ اللَّہَ ھُوَ السَّمیعُ الْبَصیر)۔ بلکہ یہ دیکھنا اور سننا اپنے صحیح معنی کے لحاظ سے ، یعنی تمام سنی جانے والی اور تمام دیکھی جانے والی چیزیں ہمہ وقت اس کے حضور ہر وقت موجود رہتی ہیں اور یہ اسی کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور یہ چیز اس بات کی تاکید ہے کہ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اورحق کافی صلہ بھی اسی کے ساتھ خاص ہے کیونکہ جب تک کا ئی سمیع و بصیر مطلق نہ ہو وہ حق پر مبنی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ظالموں کا درد ناک انجام دیکھو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6چونکہ قرآن مجید کا بہت سی آیات میں طریقہ کار یہی رہا ہے کہ حساس اور اصولی و کلّی قاعدوں کو ذکر کرنے کے بعد انہیں جزئی اور محسوس مسائل کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ اور انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے ان مسائل کی تحقیقات کے لیے گزشتہ اور حال کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے لے جاتا ہے۔ زیر نظر آیات کی بھی یہی کیفیت ہے جن میں مبداٴ و معاد، اعمال کی سخت جانچ پڑتال اور سرکشی اور گناہ کے خطرناک نتائج کے ذکر کے بعد لوگوں کو گزشتہ امتوں کے حالا ت منجملہ فرعون اور فرعونیوں کے حالات کام طالعہ کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: آیا انہوں نے روئے زمین کی سیر نہیں کی تاکہ وہ ان لوگوں کا نجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں کہ کیا ہوا (اَوَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ کانُوا مِنْ قَبْلِہِم)۔ یہ کوئی مرتب کردہ تاریخ نہیں ہے جس کے اصل اور صحیح ہونے میں کسی قسم کا شک کیا جا سکے، یہ تو ایک زندہ تاریخ ہے جو اپنی زبانِ بے زبانی سے پکار رہی ہے۔ تباہ کاروں کے محلوں کے کھنڈرات سرکشوں کے عذاب شدہ شہر مٹی تلے سوئے ہوئے لوگوں کی گلی سٹری بوسیدہ ہڈیاں اور زمین میں ملی ہوئی سربفلک عمارتیں واقعی تاریخ کے ایسے سبق آموز جملے ہیں جو حقائق کو بے کم و کا ست بیان کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ تھے جو زمین میں اہم آثارکے اعتبار سے ان سے زیادہ طاقتور تھے (کانُوا ھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاَرْض)۔ وہ اس قدر طاقتور حکومتوں، عظیم لشکروں اور روشن مادی تمدن کے مالک تھے کہ مشرکین مکہ کی زندگی توان کے نزدیک ایک بازیچہٴاطفال سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ ”اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّةً“کہہ کر ان کی سیاسی اور فوجی طاقت کے بار ے میں بھی بتایا جا رہا ہے اور اقتصادی و علمی طاقت کے بارے میں بھی ۔ ”آثاراً فِی الْاَرْض“کی تعبیر سے ممکن ہے کہ ان کی عظیم زرعی ترقی کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ سورہٴ روم کی آیت۹ میں بھی آیا ہے کہ: اَوَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ مِنْ قَبْلِھِمْ کانُوا اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّةً وَ اَثارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوحا اَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوحا ” کیا ان لوگوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے تھے کہ وہ کیا ہوئے؟ وہ بہت ہی طاقتور تھے اور زمین کو( کھیتی باڑی کے لیے ) دگرگون کرتے تھے اور ان سے زیادہ اُن لوگوں نے اسے آباد کیا تھا“۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے بڑی بڑی اور محکم عمارتوں کی طرف ارشاد فرماتا ہے: اَ تَبْنُونَ بِکُلِّ ریعٍ آیَةً تَعْبَثُونَ وَ تَتَّخِذُونَ مَصانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُونَ آیا تم ہر بلند مکان پر اپنی خواہشاتِ نفسانی کی نشانی تعمیر کرتے ہو اور محکم قصر اور قلعے تعمیر کرتے ہو؟ گویا تم اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے۔ (شعرا ، ۱۲۸، ۱۲۹) اور آیت کے آخر میں ان سرکش قوموں کا انجام ایک مختصر سے جملے میں یوں بیان کیا گیا ہے: خدا نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور کوئی نہ تھا کہ ان کا دفاع کرتا اور انہیں عذابِ الہٰی سے بچاتا (فَاَخَذَھُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِھِمْ وَ ما کانَ لَھُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ واق)۔ نہ تو افرادی قوت کی کثرت انہیں عذاب الہٰی سے بچا سکی اور نہ ہی طاقت، شان و شوکت اور بے حساب مال و دولت۔ قرآن مجید میں کئی بار ”اخذ“(پکڑنا ) سزا دینے کی معنی میں آیا ہے کیونکہ کسی کوسخت ترین سزا دینے کیلئے پہلے اسے پکڑتے ہیں اور پھر سزا دیتے ہیں۔ جو چیز پہلے اجمالی طور بیان کی گئی ہے اس تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا کی یہ درد ناک سزا اس لیے تھی کیونکہ ان کے رسول دلائل لے کر ان کے پاس آتے رہتے تھے اور وہ سب کا انکار کر دیا کرتے تھے (ذلِکَ بِاَنَّھُمْ کا نَتْ تَاْتیھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّناتِ فَکَفَرُوا)۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ غافل یا بے خبر تھے یا ان سے سرزد ہونے والے گناہ اتما م حجت نہ کرنے کی وجہ سے تھے، ان کے پاس پیغمبر بھی مسلسل آیا کرتے تھے ( جیسا کہ ”کا نت تاٴ تیھم“کی تعبیرسے استفادہ ہوتا ہے ) لیکن ان سب کے باوجود انہوں نے احکام الہٰی کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ وہ ہدایت کے چراغوں کو گل کر دیتے، ہمدرد رسولوں سے منہ پھیر لیتے بلکہ کبھی تو انہیں شہید کر دیتے۔ ایسے ہی موقع پر خدا نے ان کی گرفت کی (فَاَخَذَھُمُ اللَّہُ )۔ کیونکہ وہ طاقتور اور سخت عذاب دینے والا ہے (إِنَّہُ قَوِیٌّ شَدیدُ الْعِقابِ)۔ رحمت کے موقع پر”ارحم الراحمین“ اور غضب کے مقام پر”اشد المعاقبین“ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قتل موسٰی (ع) کا ارادہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں سابقہ قوموں کے درد ناک انجام کی طرف اشارہ تھا اس کے فوراً بعد ان آیات میں ان داستانوں میں سے ایک داستان کا تذکرہ کرتے ہوئے موسٰی علیہ السلام اور فرعون، ہامان اور قارون کی داستان بیان کی گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی علیہ السلام اور فرعون، ہامان اور قارون کی داستان بیان کی گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسٰی علیہ السلام اور فرعون کی داستان قرآن مجید کی بہت سی سورتوں میں بیان ہوئی ہے لیکن مطالب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مطالب ہرگز مکرّر نہیں ہیں۔ بلکہ ہر موقع پر اس داستان کے ایک خاص زاویے پر نگاہ ڈالی گئی ہے۔ چنانچہ زیر تفسیر آیات میں اہم مقصد موٴمنِ آل فرعون کا ماجرا بیان کرنا ہے۔ اور باقی بیان اس اہم ماجرا کا مقدمہ ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے موسٰی کو اپنی ”آیات“ اور ”سلطان مبین“ دے کر بھیجا (وَ لَقَدْ اَرْسَلْنا مُوسی بِآیاتِنا وَ سُلْطانٍ مُبین)۔ ”فر عون، ہامان اور قارون کی طرف، لیکن انہوں نے کہا وہ تو جھوٹا جادوگر ہے“(إِلی فِرْعَوْنَ وَ ہامانَ وَ قارُونَ فَقالُوا ساحِرٌ کَذَّاب)۔ ”آیات“ اور”سلطان مبین“میں کیا فرق ہے؟ اس بار ے میں مفسرین کی طرف مختلف تفسیریں بیان ہوئی ہیں۔ بعض مفسرین ”آیات“کو روشن دلائل اور”سلطان مبین“کو معجزات کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ”آیات“کو تورات کی آیات کی طرف اور”سلطان مبین“کو معجزات کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ بعض اور مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”آیات“تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے تمام معجزات کے لیے ہے لیکن ”سلطان مبین“ ان کے چیدہ چیدہ اور برجستہ معجزات کے بار ے میں ہے جیسے عصا اور یدِ بیضا جو فرعون پر واضح طور پر غلبہ کا سبب بنے۔ کچھ اور مفسرین نے کہا ہے کہ ”آیات“سے مراد حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات ہیں اور”سلطان مبین“سے مراد فرعون پر موسٰی علیہ السلام کا وہ غلبہ قاہرہ اور خدائی تسلط ہے جس سے وہ آپ علیہ السلام کو قتل کرنے سے آپ علیہ السلام کی دعوت کو خاموش کرنے سے باز رہا ۔ لیکن ان تفاسیر میں سے کسی کا بھی واضح ثبوت موجود نہیں ہے اور قرآن مجید کی دوسری آیات سے جو بات سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ”سلطان مبین“عموماً ایسی روشن اور محکم دلیل کو کہتے ہیں جو کسی کے واضح غلبہ کا باعث بنے. جیسا کہ سورہ نمل کی آیت ۲۱ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہدہد کی داستان میں ہے۔ جب سلیمان کہتے ہیں : ”میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا، وہ کیوں غائب ہو گیا ہے؟ میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا پھر اپنی غیر حاضری کے لیے”سلطان مبین“(واضح دلیل ) پیش کرے“۔ سورہٴ کہف کی پندرہویں آیت میں ہے: لولا یاٴتون علیھم بسلطان مبین ” وہ اپنے معبودوں کے لیے روشن دلیل کیوں نہیں لاتے“؟ نیز قرآن مجید میں لفظ ”آیات“کئی مرتبہ معجزات کے معنی میں بھی آیا ہے۔اسی بناءپر”آیات"، "حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات“کی طرف اشارہ ہے اور”سلطان مبین“کا معنی قوی منطق اور دندان شکن دلائل ہیں، جو موسٰی علیہ السلام کو فرعون کے مقابلے کے لیے عطا ہوئے ہیں۔ بہرحال، حضرت موسٰی علیہ السلام ایک تو عقلی منطق کے اسلحے سے مسلّح تھے اور دوسرے ایسے معجزات بھی پیش کیا کرتے تھے جوان کے جہانِ ماوراءالطبیعت سے رابط کے علامت تھے لیکن اس کے برخلاف ان کے سرکش فرعونی دشمنوں کے پاس سوائے اس کے کوئی اور حربہ نہیں تھا کہ انہیں یا تو ساحر کہیں یا کذّاب! سحر کی تہمت آیات اور معجزات کے جواب میں تھی اور کذّب کی تہمت مطنقی دلائل کے مقابلے میں یہ ہماری اس تفسیر کا ایک اور شاہد ہے جو ہم نے ان دو تعبیروں کے بارے میں بیان کی ہے۔ جی ہاں کفر کے سرغنوں کا ہمیشہ سے یہی طریقہٴ کار چلا آ رہا ہے کہ وہ مردانِ حق کے سچے دلائل پر اس قسم کے جھوٹے لیبل لگایا کرتے ہیں کہ آج بھی ہم اس کے کئی نمونے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں تین افراد ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی چیز کام جسم نمونہ تھا ۔ ”فرعون“ طغیان اور شیطانی منصوبے بنانے کام ظہر تھا ”ہامان“ شیطنت اور شیطانی منصوبے بنانے کام مظہر تھا ”قارون“باغی اور سامراجی سرمایہ دار جو اپنی دولت بچانے کے لیے کسی بھی طریقہٴ کار کو اپنانے سے نہیں چوکتا تھا ۔ اس طرح سے حضرت موسٰی علیہ السلام مامور تھے کہ ظالم اور جابر حکام کے ظلم و ستم، غدار سیاستدانوں کی شیطنت اور مستکبر دولت مندوں کی سرکشی کا خاتمہ کر کے معاشرے کی بنیاد سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی عدل و انصاف پر رکھیں، لیکن جن لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑ گئے تھے انہوں نے آپ علیہ السلام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بعد کی آیت ان کے چند ایک شیطانی منصوبو ں کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: جب ہماری طرف سے حق ان کی جانب آیا تو بجائے اس کے کہ وہ اس کو غنیمت سمجھتے اس کے ساتھ مقابلہ کی ٹھان لی اور کہا کہ جو لوگ موسٰی پر ایمان لے آئے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کر دو اور کنیزی اور خدمت کے لیے ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو (فَلَمَّا جاءَھُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنا قالُوا اقْتُلُوا اَبْناءَ الَّذینَ آمَنُوا مَعَہُ وَ اسْتَحْیُوان ساءَھُمْ )۔ اس تعبیر سے پتہ چلتا ہے کہ لڑکوں کے مار ڈالنے اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا سلسلہ موسٰی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کے دور میں ہی نہیں تھا بلکہ آپ کے قیام اور دورانِ نبوت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ملاحظہ ہو سورہٴ اعراف آیت ۱۲۹ جو اس مدعا پر شاہد ہے کہ بنی اسرائیل نے موسٰی علیہ السلام سے کہا: اُوذینا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنا وَ مِنْ بَعْدِ ما جِئْتَنا“ آ پ کے آنے سے پہلے اور آپ کے آنے کے بعد ہر دو زمانوں میں ہمیں ستایا گیا“۔ بنی اسرائیل نے یہ بات فرعون کی طرف سے مؤمنین کے بچوں کے منصوبہٴ قتل کے بعد کہی۔ بہرحال، یہ شیطانی حکومتوں کا ایک ناپاک اور دائمی منصوبہ ہوتا ہے کہ فعال اور متحرک افرادی قوت کو تباہ و برباد کریں اور غیر فعال افراد کو اپنے مقاصد کے لیے زندہ رکھیں۔ تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ فرعون اور فرعونیوں کا یہ منصوبہ خواہ جناب موسٰی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کا تیار کردہ ہو کہ بنی اسرائیل کو فرعون کا قیدی بنا دیا جائے اورخواہ موسٰی علیہ السلام کے قیام کے بعد ہر. بہرحال، یہ ایک انقلاب دشمن حرکت تھی تاکہ بنی اسرائیل کو اس حد تک ناکارہ بنا دیا جائے کہ وہ اٹھنے کی قابل نہ رہیں۔ لیکن قرآن مجید آیت کے آخر میں فرمایا ہے: ”کافروں کے منصوبے ضلالت اور گمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ یہ ان کے ایسے تیر ہیں جو وہ جہالت اور گمراہی میں چلاتے ہیں اور پتھر پر جا لگتے ہیں (وَ ما کَیْدُ الْکا فِرینَ إِلاَّ فی ضَلالٍ )۔ انہیں اس بات کا قطعاً وہم و گمان نہیں ہوتا کہ ان پر کوئی مصیبت بھی آن پڑے گی، یہ تو مشیت الہٰی ہوتی ہے کہ آخر کار حق کی طاقت باطل کی قوتوں پرغالب آ کر رہتی ہے۔ ایک صرف موسٰی علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے درمیان باہمی نزاع، اور دوسری طرف، فرعون اور اس کے ہم نواؤں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کافی حد تک بڑھ گیا اور اس دوران میں بہت سے واقعات رونما ہو چکے، جنہیں قرآن نے اس مقام پر ذکر نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کو جسے ہم بعد میں بیان کریں گے پیش نظر رکھ کر ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ حالات بہت خراب ہو گئے تو فرعون نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی انقلابی تحریک کو دبانے بلکہ ختم کرنے کے لیے ان کے قتل کی ٹھان لی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس کے مشیروں اور درباریوں نے اس کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے: ”فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو تاکہ میں موسٰی علیہ السلام کو قتل کر ڈالوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلائے تاکہ وہ اسے اس سے نجات دے“(وَ قالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونی اَقْتُلْ مُوسی وَ لْیَدْعُ رَبَّہُ)۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اس کے اکثر یا کم از کم کچھ موسٰی علیہ السلا م کے قتل کے مخالف تھے وہ یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ چونکہ موسٰی علیہ السلام کے کا معجزانہ اور غیر معمولی ہیں لہذا ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے لیے بد دعا کر دے تو اس کا خدا ہم پر عذاب نازل کر دے لیکن کبر و غرور کے نشے میں بدمست فرعون کہنے لگے: میں تو اس ے ضرور قتل کروں گا جو ہو گا سو دیکھا جائے گا۔ یہ بات تو معلوم نہیں ہے کہ فرعون کے حاشیہ نشینوں اور مشیروں نے کس بناءپر اسے موسٰی علیہ السلام کے قتل سے باز رکھا البتہ یہاں پر چند ایک احتمال ضرور ہیں اور ہو سکتا ہے وہ سب کے سب صحیح ہوں۔ دوسرا احتمال ان کی نظر میں یہ ہو سکتا ہے کہ موسٰی علیہ السلام کے مارے جانے کے بعد حالات یکسر دگرگوں ہو جائیں گے کیونکہ وہ ایک شہید کا مقام پا لیں گے اور انہیں ہیرو کا درجہ مل جائے گا اس طرح سے ان کا دین بہت سے موٴمن، ہمنوا، بہی خواہ اور ہمدرد پیدا کر لے گا۔ خاص کر اگر یہ ماجرا جادو گروں سے مقابلے اور ان پرموسٰی علیہ السلام کے عجیب اور غیر معمولی انداز میں غالب آنے کے بعد کا ہو تو اس احتمال کو اور بھی تقویت مل جاتی ہے اور بظاہر ہے بھی ایسے ہی کیونکہ موسٰی علیہ السلام نے فرعون کے ساتھ سب سے پہلی ملاقات میں اسے دو عظیم معجزے (عصا ءکے معجزے ) دکھائے اسی لیے فرعون انہیں جادوگر کہنے لگا اور جادوگروں کو بلا کران سے مقابلے کی تاریخ مقرر کی تاکہ اس طرح سے وہ موسٰی علیہ السلام پر غالب آ جائیں اور وہ اسی روز کے انتظا ر میں تھا۔ بنابریں کوئی وجہ نہیں بنتی کہ فرعون نے اس درمیانی مدت کے دوران میں موسٰی کو ٹھکانے لگانے کا ارادہ کیا ہو یا مصر کے لوگوں کے دین کی تبدیلی کا اسے خوف ہو ( تشریحی نوٹ: تفسیرالمیزان میں ہے کہ سورہٴ شعراءکی آیت ۳۶ ”ارجہ واخاہ“(اسے اور اس کے بھائی کوکچھ نہ کہو) اس بات کی دلیل ہ کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو فرعون کو موسٰی کے قتل سے روکتے تھے . لیکن موسٰی کی داستان سے متعلقہ آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جناب موسٰی کے قتل کا منصوبہ زیر غور نہیں تھا . اس وقت صر ف اور صرف یہ بات پیش نظر تھی کہ دیکھیں آیاموسٰی علیہ السلام اپنے دعوے میں سچے ہیں یا جھوٹے ؟ قتل کا منصوبہ تو اس وقت زیر غور آنے لگا جب موسٰی جادو گر وں پر غالب آگئے اور مصر کے بہت سے لوگوں کے دل میں ان کا اثر و رسوخ بڑھ گیا اور اس طرح سے فرعون کو اپنا تخت وتاج خطرے میں نظر آنے لگا)۔ خلاصہ کلام انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ بذاتِ خود موسٰی علیہ السلام ان کے لے ایک عظیم خطرہ ہیں لیکن اگر ان حالات میں انہیں قتل کر دیا جائے تو یہ حادثہ ایک ”تحریک“میں بدل جائے گا جس پر کنڑول کرنا بھی مشکل ہو جائے گا اور اس سے جان چھڑانی مشکل تر ہو جائے گی ۔ فرعون کے کچھ درباری ایسے بھی تھے جو قلبی طور پر فرعون سے راضی نہیں تھے. وہ چاہتے تھے کہ موسٰی زندہ رہیں اور فرعون کی تمام ترتوجہّ انہی کی طرف مبذول رہے اس طرح سے وہ چار دن آرام کے ساتھ بسر کر لیں اور فرعون کی آنکھوں سے اوجھل رہ کر ناجائز مفاد اٹھاتے رہیں کیونکہ یہ ایک پرانا طریقہٴ کار ہے کہ بادشاہوں کے درباری اس بات کی فکرمیں رہتے ہیں کہ ہمیشہ ان کی توجہ دوسرے امور کی طرف مبذول رہے تاکہ وہ آسودہ خاطرہو کر اپنے ناجائز مفادات کی تکمیل میں لگے رہیں۔ اس لیے تو بعض اوقات وہ بیرونی دشمن کوبھی بھڑکاتے ہیں تاکہ بادشاہ کی فارغ البالی کے شر سے محفوظ رہیں۔ بہرحال، فرعون نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے قتل کے منصوبے کی توجیہ کرتے ہوئے اپنے درباریوں کے سامنے اس کی دو دلیلیں بیان کیں۔ ایک کا تعلق دینی اور روحانی پہلو سے تھا اور دوسری کا دنیاوی اور مادی سے. وہ کہنے لگا: مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ تمہارے دین کو تبدیل کر دے گا اور تمہارے باپ دادا کے دین کو دگرگوں کر دے گا (إِنِّی اَخافُ اَنْ یُبَدِّلَ دینَکُمْ)۔ یا یہ کہ زمین میں فساد اور خرابی برباد کر دے گا ( اَوْ اَنْ یُظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَساد)۔ اگر میں خاموشی اختیار کر لوں تو موسٰی کا دین بہت جلد مصر والوں کے دلوں میں اتر جائے گا اور بت پرستی کا ”مقدس دین“جو تمہاری قومیت اور مفادات کا محافظ ہے ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ توحید پرستی کا دین لے لے گا جو یقینا تمہارے سو فیصد خلاف ہو گا۔ اگر میں آج خاموش ہو جاؤں اور کچھ عرصہ بعد موسٰی سے مقابلہ کرنے کے لیے اقدام کروں تو اس دوران میں وہ اپنے بہت سے دوست اور ہمدرد پیدا کر لے گا جس کی وجہ سے زبردست لڑائی چھڑ جائے گی جو ملکی سطح پر خونریزی، گڑبڑ اور بے چینی کا سبب بن جائے گی. اس اسی لیے مصلحت اسی میں ہے کہ جنتا جلدی ہو سکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ البتہ ”فرعون“کے نکتہ نظر سے ”دین“کی تعبیر اس کی اپنی یا بتوں کی پوجا پاٹ کے علاوہ اور کچھ نہ تھی. ایسا ”دین“جس سے لوگوں کے دل و دماغ کو مخمور اور خون کو احمق بنایا جا سکے. ایسا ”دین“جس سے اس جابر اور خونخوار بھیڑیئے کے جابرانہ تسلط کو مقدس سمجھا جائے۔ اسی طرح استکباری نظام کے خلاف ایک ایسا انقلاب جس سے قید و بند کی زنجریں توڑ کرعوام الناس کو آزادی دلائی جا سکے اور بت پرستی کے آثار مٹا کر توحید الہٰی کو زندہ کیا جائے اس کی نظر میں ”فساد“تھا۔ جابر اور مفسد لوگوں کا ابتداءہی سے طریقہ کار چلا آ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور مردان خدا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ان دو جھوٹے بہانوں کا سہارا لیتے ہیں، جس کے کئی نمونے آج بھی ہمیں دنیا کے گوشہ و کنار میں نظر آتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس گفتگو سے موسٰی علیہ السلام نے کس رد عمل کا اظہار کیا جو اس مجلس میں تشریف فرما بھی تھے، قرآن کہتا ہے: موسٰی نے کہا : میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی ہر اس متکبر سے پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں لاتا (وَ قالَ مُوسی إِنِّی عُذْتُ بِرَبِّی وَ رَبِّکُمْ مِنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِساب)۔ موسٰی علیہ السلام نے یہ باتیں بڑے سکونِ قلب اور اطمینان خاطر سے کیں۔ جو ان کے قوی ایمان اور ذاتِ کردگار پر کامل بھروسے کی دلیل ہیں۔ اور اس طرح سے ثابت کر دیا کہ اس کی اس دھمکی سے وہ ذرہ بھر بھی نہیں گھبرائے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی اس گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں میں مندرجہ ذیل دو صفات پائی جائیں وہ نہایت ہی خطرناک افراد ہیں۔ ایک ”تکبر“ اور دوسرے ”قیامت پرایمان نہ رکھنا“ اور اس قسم کے افراد سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ ”تکبر“ اس بات کا باعث بن جاتا ہے کہ انسان اپنے علاوہ کسی اور کو درخور اعتناءنہیں سمجھتا، خدا کی آیات اور معجزات کو جادوگر جانتا ہے، مصلحین کو مفسدین کا نام دیتا ہے اور دوستوں اور ساتھیوں کی نصیحتوں کو سازش اور کمزوری پر محمول کرتا ہے۔ نیز روز حساب پر ایمان نہ رکھنا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ اس کے معمول اور کا روبار میں کسی قسم کی منصوبہ بندی اور حساب و کتاب نہیں ہونے ہوتے، اپنی محدود سی طاقت کے ذریعے پروردگار کی لامحدود قدر ت سے مقابلہ کے لیے کمر بستہ ہو جاتا ہے اور خدا کے پیغمبروں کے خلاف مقابلے کی ٹھان لیتا ہے، اس لئے کہ وہ خود کسی حساب و کتاب کا پابند نہیں ہوتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فرعون کی یہ دھمکی کہاں تک کارگر ثابت ہوئی؟ بعد کی آیات اس مسئلے سے پردہ اٹھاتی ہیں اور اس مغرور و متکبر شخص کے ہاتھوں سے موسٰی علیہ السلام کی نجات کی کیفیت واضح کرتی ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : آیا کسی کو خدا کی طرف بلانے پر بھی قتل کرتے ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہاں سے موسٰی علیہ السلام اور فرعون کی تاریخ کا ایک اور اہم کردار شروع ہوتا ہے۔ جو قرآن مجید کی صرف اس سورة میں بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے ”مؤمن آلِ فرعون"جو فرعون کے قریبیوں میں سے تھا حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعوتِ توحید قبول کر چکا تھا لیکن اپنے اس ایمان کو ظاہر نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو خاص طریقے سے موسٰی علیہ السلام کی حمایت کا پابند سمجھتا تھا جب اس نے دیکھا کہ فرعون کے غیظ وغضب سے موسٰی علیہ السلام کی جان کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے تو مردانہ وار آگے بڑھا اور اپنی دل نشین اور مؤثر گفتگو سے قتل کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: آل فرعون میں سے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہا: آیا کسی شخص کوصرف اس بناءپر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب ؟ (وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إیمانَہُ اَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً اَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہ)۔ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے معجزات اور واضح دلائل اپنے ساتھ لایا ہے (وَ قَدْ جاءَکُمْ بِالْبَیِّناتِ مِنْ رَبِّکُمْ )۔ آیا تم اس کے عصا اور یدِ بیضاءجیسے معجزات کا انکار کر سکتے ہو؟ کیا تم نے اپنی آنکھوں سے اس کے جادوگروں پر غالب آ جانے کا مشاہدہ نہیں کیا؟ یہاں تک کہ جادوگروں نے اس کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دئیے اور ہماری پرواہ تک نہ کی اور نہ ہی ہماری دھمکیوں کو خاطرمیں لائے اور موسٰی کے خدا پر ایمان لا کر اپنا سر اس کے آگے جھکا دیا ذرا سچ بتاؤ کیا ایسے شخص کو جادوگر کہا جا سکتا ہے؟ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو، جلدبازی سے کام نہ لو اور اپنے اس کام کے انجام کو بھی اچھی طرح سوچ لو تاکہ بعد میں پشیمان نہ ہونا پڑے۔ ان سب سے قطع نظر یہ دو حال سے خالی نہیں، اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹ اس کا خود ہی دامن گیر ہو گا اور اگر سچا ہے تو کم از کم جس عذاب سے تمہیں ڈرایا گیا ہے وہ کچھ نہ کچھ تو تمہارے پاس پہنچ ہی جائے گا (وَ إِنْ یَکُ کا ذِباً فَعَلَیْہِ کَذِبُہُ وَ إِنْ یَکُ صادِقاً یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذی یَعِدُکُمْ )۔ یعنی اگر وہ جھوٹا ہے توجھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، آخر کار ایک نہ ایک دن اس کا پول کھل جائے گا اور وہ اپنے جھوٹ کی سزا پالے گا لیکن یہ امکان بھی تو ہے کہ شاید وہ سچّا ہو اور خدا کی جانب سے بھیجا گیا ہو. تو پھر ایسی صورت میں اس کے کیے ہوئے وعدے کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہو کر رہیں گے۔لہذا اس کا قتل کرناعقل وخرد سے کوسوں دور ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا: ”اللہ تعالیٰ مسرف اور جھوٹے کی ہدایت نہیں فرماتا“(إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدی مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ) ۔ اگر حضرت موسٰی تجاوز و اسراف و دروغ کو اختیار کرتے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی ہدایت حاصل نہ کرتے اور اگر تم بھی ایسے ہی ہو گئے تو اس کی ہدایت سے محروم ہو جاؤ گے۔ یہ آخری عبارت اگرچہ ذومعنی ہے اور اس کے دو پہلو ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ مؤمن آلِ فرعون کے پیش نظر فرعون اور فرعون والوں کی کیفیت اور صورتِ حال تھی اور اس کا اس عبارت اور بعد کی عبارتوں میں خدا کی ربوبیت پر بار بار زور دینا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ فرعون یا کم از کم فرعونیوں کا ایک گروہ اللہ کی ربوبیت پر اجمالی عقیدہ رکھتے تھے۔ وگرنہ اس کی یہ تعبیر اس کا موسٰی کے خدا پر ایمان اور بنی اسرائیل کے ساتھ تعاون اور ہمکاری تصور کیا جاتا اور اس نے ”تقیہ“کا جوطریقہٴکار اپنایا ہوا تھا اس اصول سے ہم آہنگ نہ ہوتا۔ اس مقام پر بعض مفسرین کی طرف سے دو سوال کیے جاتے ہیں: ایک یہ کہ اگر موسٰی علیہ السلام جھوٹے تھے تو ان کا جھوٹ صرف ان کے اپنے لیے ہی نقصان دہ نہ تھا بلک تمام معاشرہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتا۔ کیونکہ معاشرے کے انحراف کا سبب بن جاتا۔ صرف ان کی ذات تک محدودیت کیسی؟ دوسرے یہ کہ اگر وہ سچے تھے تو ان کے تمام وعدے عملی جامہ پہنتے، یہ بعض کا تذکرہ کیوں ہوا ہے؟ پہلے سوال کا جواب اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد صرف جھوٹ کی سزا ہے جو صرف جھوٹے ہی کو ملتی ہے اور خدا کا عذاب اس کے شر کو دور کرنے کے لیے کافی ہے یہ بات کیونکر ممکن ہے کہ کوئی شخص خدا پر جھوٹ باندھے اور خدا لوگوں کی گمراہی کے لیے اسے اپنے حال پر چھوڑ دے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے تمہیں دنیا اور آخرت کے عذاب کی دھمکی دی ہے لہذا اگر وہ سچا ہے تو اس کا ایک حصہ جو دنیاوی عذاب سے متعلق ہے وہ تمہیں دامن گیر ہو گا یا پھر اس سے مراد کم از کم حد ہے کہ اگر اس کی تمام باتوں کو نہیں مانتے ہو تو کم از کم اس کی کچھ باتوں کا سچا ہونا تو ممکن ہے۔ بہرحال، مؤمن آلِ فرعون اس گفتگو کے ذریعے فرعون اور اس کے درباریوں کو چند طریقوں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا رہا۔ پہلا یہ کہ موسٰی کے اس عمل پر اس قدر شدید رد عمل کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کے پاس ایسے دلائل ہیں جو بظاہر قابل قبول نظر آتے ہیں۔ لہٰذا ایسے شخص کے ساتھ مقابلہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے کسی قسم کے اقدام کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا خود اس سے نمٹ لے گا اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ سچا ہو تو پھر ایسی صورت میں خدا ہم سے نمٹے گا۔ مؤمن آلِ فرعون نے اس پر ہی اکتفاءنہیں کی بلکہ اپنی گفتگو کو جاری رکھا، دوستی اور خیر خواہی کے انداز میں ان سے یوں گویا ہوا: اے میری قوم! آج مصر کی طویل و عریض سرزمین پر تمہاری حکومت ہے اور تم ہر لحاظ سے غالب اور کامیاب ہو، اس قدر بے انداز نعمتوں کا کفران نہ کرو، اگر خدائی عذاب ہم تک پہنچ گیا تو پھر ہماری کون مدد کرے گا (یا قَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظاھِرینَ فِی الْاَرْضِ فَمن ینصُرُنا مِنْ بَاْسِ اللَّہِ إِنْ جاءَنا )۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس کام قصد یہ ہو کہ آج تمہارے ہاتھ میں ہر قسم کی طاقت موجود ہے اور موسٰی کے بار ے میں جو چاہو رائے قائم کر سکتے ہو اور جو چاہو اس کے با رے میں فیصلہ کر سکتے ہو لیکن اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ہی نہ رہو اس سے پیدا ہونے والے انجام کو بھی مدِّ نظر رکھو۔ ظاہراً اس کی یہ باتیں ”فرعون کے ساتھیوں“کے لیے غیر مؤثر ثابت نہیں ہوئیں انہیں نرم بھی بنا دیا اور ان کے غصّے کو بھی ٹھنڈا کر دیا۔ لیکن یہاں پر فرعون نے خاموشی مناسب نہ سمجھی اس کی با ت کاٹتے ہوئے کہا : ”بات وہی ہے جو میں نے کہہ دی ہے“جس چیز کا میں معتقد ہوں اسی کا تمہیں بھی حکم دیتا ہوں اس بات کا معتقد ہوں کہ ہر حالت میں موسٰی کو قتل کر دینا چاہیئے.اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے (قالَ فِرْعَوْنُ ما اُریکُمْ إِلاَّ ما اَری )۔ اور جان لو کہ میں تمہیں حق اور کامیابی کے راستے کے علاوہ اور کسی بات کی دعوت نہیں دیتا (وَ ما اَھْدیکُمْ إِلاَّ سَبیلَ الرَّشادِ)۔ پوری تاریخ میں تمام جابروں اور طاغوتوں کی یہی صورت حال رہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی رائے ہی کو صائب اور برحق سمجھتے ہیں۔ اپنی رائے کے سامنے کسی کو رائے کے اظہار کی اجازت نہیں دیتے. بزعمِ خود وہی عقلِ کل ہوتے ہیں اور دوسرے عقل و خرد سے بالکل عاری اور یہی ان کی حماقت اور جہالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اہم نکات ۱۔ مؤمن آلِ فرعون کون تھا ؟
قرآنی آیات سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ وہ آلِ فرعون میں سے تھا جو موسٰی علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا لیکن اپنے ایمان کو چھپاتا تھا دل ہی دل میں موسٰی علیہ السلام سے محبت کرتا تھا اور اپنے آپ کو حضرت موسٰی علیہ السلام کا دفاع کرنے کا پابند سمجھتا تھا۔ وہ نہایت زیرک، سمجھدار اور موقع شناس انسان تھا۔ منطق اور استدلال میں نہایت قوی تھا اور اس قدر باسمجھ انسان تھا کہ نہایت ہی حساس لمحات میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی مدد کو پہنچا اور جیسا کہ بعد کی آیات میں سے پتہ چلے گا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو قتل جیسی خطرناک سازش سے نجات دلائی۔ اسلامی روایات اور مفسرین کے اقوال میں اس خدا شناس شخص کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ: وہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور انہوں نے”آل فرعون“کی تعبیر کو بھی اس معنی پر گواہ سمجھا ہے کیونکہ عموماً آل کا اطلاق نزدیکی رشتہ داروں پر ہوتا ہے ہر چند کہ دوست و احباب پر بھی لفظ بولا گیا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین اسے اللہ کا ایک نبی سمجھتے ہیں جس کا نام ”حزبیل“یا حزقیل تھا ( تشریحی نوٹ: یہ معنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت سے نقل کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو امالی شیخ صدوق منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۱۹ ) لیکن اگر دیکھاجائے تو ”حزقیل“ بنی اسرائیل کے ابنیاء میں سے تھے . لہذا یہ احتمال بعید معلوم ہوتا ہے اور مندرجہ بالاروایت بھی سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ حز قیل بنی اسرائیل کے وہ مشہور بنی نہ ہوں بلکہ اس نام کا کوئی اور شخص ہو)۔ بعض روایت کرتے ہیں کہ وہ فرعون کے ( گنجنیوں اور خزانوں کا سرپرست اور ) خازن تھا ( بحوالہ: یہ معنی علی بن ابراہیم کی تفسیر میں بھی آیا ہے (تفسیر نورالثقلین جلد ۴ ، ۵۱۸)۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ فرعون والوں میں سے صرف تین افراد حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے تھے، ایک تو مؤمن آلِ فرعون، دوسرے فرعون کی زوجہ اور تیسرے وہ شخص جس نے حضرت موسٰی کو نبوت ملنے سے پہلے خبر دار کیا کہ : فرعون کے درباری اپنے ایک پیروکار کے قتل کے بدلے آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں لہذا جتنا جلدی ہو سکے آپ مصر سے نکل جائیں ۔ ( قصص . ۲۰) لیکن کچھ ایسے قرائن بھی ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ موسٰی علیہ السلام کے جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد لوگوں کی بہت بڑی تعداد موسٰی پر ایمان لے آئی تھی اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن آل فرعون کا ماجرا جادوگروں کے واقعے کے بعد کا ہے۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ مؤمن آل فرعون کا تعلق دراصل بنی اسرائیل سے تھا جو فرعونیوں میں گھل مل کر زندگی بسر کر رہا تھا اور اس پر ان کا بہت حد تک اعتماد بھی تھا لیکن یہ احتمال کافی حد تک ضعیف نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک تو”آل فرعون“کی اور دوسرے ”یا قوم“(اے میری قوم) کی تعبیرسے ہم آہنگ نہیں ہے البتہ موسٰی اور بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس کا مسلم اور مؤثر کردار مکمل طور پر واضح ہے۔ اگرچہ اس کی زندگی کے تمام پہلو ہمیں آج تک واضح طور پر معلوم نہیں ہیں۔
۲۔ تقیّہ ... مقابلے کا ایک مؤثر ذریعہ
”تقیہ“ یا ”باطنی عقیدہ کا چھپانا“بعض لوگوں کے گمان کے برخلاف کمزوری، خوف اور مطلب براری کا نام نہیں ہے بلکہ طاقتوروں، ظالموں اور جابروں کے ساتھ مقابلے کے ایک مؤثر ذریعے کے عنوان سے اس سے کام لیا جاتا ہے، دشمن کے رازوں کا پتہ لگانا ایسے افراد کے بغیر ناممکن ہے جو تقیہ کے طریقہٴ کار سے کام لیتے ہیں۔ دشمن کو غافل کر کے اس کے پیکر پر کاری ضربیں لگانا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اپنے منصوبوں کو چھپایا نہ جائے اور تقیہ سے کام لیا نہ جائے۔ مؤمن آلِ فرعون کا تقیہ بھی موسٰی علیہ السلام کے دین کی خدمت اور حساس ترین بلکہ بحرانی لمحات میں ان کی جان کی حفاظت کے لیے تھا۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان کا اپنا کوئی نہ کوئی آدمی دشمن کے گروہ میں موجود ہو تاکہ اس کی چالوں اور منصوبوں کی اچھی طرح معلومات حاصل کر کے ان سے پوری طرح باخبر ہو اور بوقت ضرورت دوستوں کو اس سے مطلع کرے. بلکہ اگر ضرورت پڑ جائے تو دشمن کی سوچ اور فکر تک رسائی حاصل کر کے اس کے منصوبوں اور چالوں کو ناکام بنا دے۔ اگر مؤمن آلِ فرعون ”تقیہ“کی ٹیکنیک سے استفادہ نہ کرتا تو کیا اس قدر عظیم خدمات انجام دے سکتا تھا ؟ اسی لیے تو حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں آیا ہے: التقیة دینی و دین اٰبائی، ولادین لمن لا تقیة لہ، والتقیة ترس اللہ فی الارض، لان مؤمن اٰل فرعون لو اظہر الاسلام لقتل تقیہ میرا دین ہے اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے۔ جس کا تقیہ نہیں اس کا دین نہیں، تقیہ روئے زمین پر خدا کی طرف سے ایک ڈھال ہے کیونکہ اگر مؤمن آل فرعون اپنے ایمان کا اظہار کر دیتا تو قتل کر دیاجاتا (بحوالہ: ”مجمع البیان“ جلد ۸ ،صفحہ ۵۲۱ (زیر بحث آیات کے ذیل میں )۔ خاص ایسے مقامات پر جہاں مؤمنین اقلیت میں ہوں اور ایسی اکثریت کے درمیان پھنسے ہوئے ہوں جو نہ تو کسی دلیل اور منطق کو سمجھتی ہو اور نہ ہی اس میں رحم کا ذرہ ہو تو ایسی صورت میں کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ سوائے ضرورت کے خاص موقع کے اپنے ایمان کا اظہار کر کے اپنی فعال توانائیاں ضائع کر دی جائیں۔ بلکہ ایسے خاص حالات کے پیش نظر اپنے عقیدے کو چھپا کر اپنی توانائیوں کو یکجا اور اکٹھا کر کے آخری حملے کے لیے آمادہ کیا جانا چاہیے۔ خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی نے بھی اپنے قیام کے آغاز کئی سالوں تک اپنی دعوت کو مخفی رکھا اور اسی طریقہ کار سے کام لیتے رہے۔ جب ایک عرصہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں کی تعداد زیادہ ہو گئی اور مرکزی بنیاد مضبوط ہو گئی تو پھر اسلام کی کھلم کھلا دعوت کا اظہار فرمایا۔ اس ضمن میں دوسرے انبیاءعظام میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام لیا جا سکتا ہے۔ باوجودیکہ آپ علیہ السلام ایک شجاع اور نڈر انسان تھے لیکن بتوں کے توڑنے کے موقع پر آپ علیہ السلام نے تقیہ کے طریقہٴ کار سے کام لیا اور اپنے منصوبے کو بت پرستوں سے مخفی رکھ. اگر آپ علیہ السلام نہ کرتے تو اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہ ہوتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا بزرگوار جناب حضرت ابوطالب نے آخری عمر تک تقیہ کی روش ترک نہیں کی. صرف چند ایک لیکن خاص موقعوں پر اپنے ایمان کا اظہار کیا اور دوسرے مواقع پر صراحت کے ساتھ کوئی بات نہیں کی تاکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچانے کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں اور ہٹ دھرم، بے رحم اور کینہ پرور بت پرست آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچا سکیں۔ بہرحال، بعض جاہل اور حقائق سے بے خبر لوگو ں نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ تقیہ صرف مذہب شیعہ ہی کے لیے مخصوص ہے یا یہ کمزوری اور جھوٹ کی علامت ہے تو ان کی یہ سو چ مکمل طور پر بے بنیاد اور ہر قسم کی منطق سے دور ہے کیونکہ کسی استثناءکے بغیر تمام مذاہب اور مکاتب فکر میں کسی نہ کسی صورت میں یہ ضرور موجود ہے۔ مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد کا (بحوالہ سورہ آل عمران آیت ۲۸ کے ذیل میں ) اور گیارہویں جلد کا (سورہٴ نحل کی آیت ۱۰۶ کے ذیل میں ) مطالعہ فرمائیں۔
۳ صدیقین کون ہیں ؟
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں ہے کہ "الصدیقون ثلاث"؛ ”حبیب النجار“ مؤمن آل یٰس الذی یقول ”فاتبعوا المرسلین اتبعوا من لایسئلکم اجراً“ و ”حزقیل“ مؤمن اٰل فرعون، و ”علی بن ابی طالب (ع)“و ھو افضلھم ” "سب سے پہلے (بزرگ انبیاءکی ) تصدیق کرنے والے تین لوگ ہیں حبیب نجار مؤمن آل یٰس جس نے (انطاکیہ) کے لوگوں سے کہا خدا کے رسولوں کی پیروی کرو، ان لوگوں کی اتباع کرو جو تم سے کسی قسم کی اجرت بھی نہیں مانگتے اور خود ہدایت یافتہ ہیں اور حزقیل مؤمن آلِ فرعون اور علی بن ابی طالب جو ان سب سے افضل اور برتر ہیں۔“ یہ حدیث شیعہ اور سنی دونوں مذاہب کی کتابوں میں موجود ہے (بحوالہ: ملاحظہ ہو ”امالی شیخ صدوق“ اور ابن حجر کی کتاب ”الصواعق المحرقہ“ فصل ثانی باب ۹)۔ سچ بات بھی یہی ہے کہ ان افراد نے خدا کے انبیاءکی اس وقت تصدیق کی اور ان پر ایمان کا اظہار کیا جب انبیاءکے لیے زبردست بحرانی لمحات تھے انہوں نے اس وقت اور بحرانی لمحوں میں پیش قدمی کی اور صحیح معنوں میں ”صدیق“کہلانے کے حقدار ہیں۔ یہ ان لوگوں کے سرخیل ہیں جنہوں نے خدا کے انبیاءکی تصدیق کی خصوصاً علی بن ابی طالب علیہ السلام کہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی وقف ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کر دی تھی. آپ علیہ السلام نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بلکہ ان کی رحلت کے بعد ایثار و فداکاری کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : میں تمہیں خبر دار کرتا ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6اس دور میں مصر کے لوگ ایک حد تک متمدن اور پڑھے لکھے تھے۔ انہوں نے قوم نوح، عاد اور ثمود جیسی گزشتہ اقوام کے بار ے میں مؤرٓخین کی باتیں بھی سن رکھی تھیں۔ اتفاق سے ان اقوام کے علاقوں کا اس علاقے سے زیادہ فاصلہ بھی نہیں تھا یہ لوگ ان کے درد ناک انجام سے بھی کم و بیش واقفیت رکھتے تھے۔ لہذا مؤمن آل فرعون نے موسٰی علیہ السلام کے قتل کے منصوبے کی مخالفت کی. اس نے دیکھا کہ فرعون کو زبردست اصرار ہے کہ وہ موسٰی علیہ السلام کے قتل سے باز نہیں آئے گا۔ اس مرد مومن نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور نہ ہی ہارنی چاہیے تھی. لہذا ا کہ اس نے یہ تدبیر سوچی کہ اس سرکش قوم کو گزشتہ اقوام کی تاریخ اور انجام کی طرف متوجہ کرے کہ شاید اس طرح سے یہ لوگ بیدار ہوں اور اپنے فیصلے پرنظر ثانی کریں۔ قرآن کے مطابق اس نے اپنی بات یوں شروع کی. اس باایمان شخص نے کہا: اے میری قوم! مجھے تمہارے بارے میں گزشتہ اقوام کے (عذاب کے ) دن کی طرح کا خوف ہے (وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ إِنِّی اَخافُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ یَوْمِ الْاَحْزابِ )۔ پھر اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: میں قوم نوح، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والوں کی سی بُری عادت سے ڈرتا ہوں (مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَ عادٍ وَ ثَمُودَ وَ الَّذینَ مِنْ بَعْدِھِمْ) (تشریحی نوٹ: ”داٴب“ (بروزن ”ضرب“) کا اصل معنی ہمیشہ چلنا ہے اور ”دائب“ اس چیز کو کہتے ہیں جو ہمیشہ چلتی رہے پھر اس کا اطلاق ہر پختہ مستقل اور ہمیشگی کی عادت پر ہونے لگا۔ یہاں پر قوم نوح وغیرہ کے لیے ”داٴب“ کا لفظ ان کی مستقل اور دائمی عادت کی طرف اشارہ ہے جوان میں تھی اور وہ دائمی عادت شرک ، سرکشی، ظلم اور کفر ہے)۔ ان قوموں کی عادت شرک، کفر اور طغیان پر اصرار کی وجہ سے تم بھی مذکورہ عظیم بلاؤں میں سے کسی ایک کا شکار ہو سکتے ہو؟ لہٰذا مجھے کہنے دو کہ مجھے تمہارے بار ے میں بھی اس قسم کے خطرناک مستقبل کا اندیشہ ہے۔ آیا تمہارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ تمہارے کردار افعال ان سے مختلف ہیں؟ آخر ان لوگوں کا کیا قصور تھا کہ وہ اس طرح کے بھیانک مستقبل سے دوچار ہوئے کیا اس کے سوا کچھ اور تھا کہ انھوں نے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی دعوت کے خلاف قیام کیا، ان کی تکذیب کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا۔ لیکن یاد رکھو جومصیبت بھی تم پر نازل ہو گی خود تمہارے کئے کی سزا ہو گی کیونکہ ”خدا اپنے بندوں پرظلم نہیں کرنا چاہتا (وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ )۔ خدا نے اپنے بندوں کو اپنے فضل و کرم کے ساتھ پیدا کیا، انہیں بے شمار نعمتیں عطا کیں اور ان کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے، یہ تو ان بندوں کی مخالفت اور سرکشی ہے جو ان کے دردناک عذاب کا سبب بنتی ہے۔ پھر کہتا ہے: اے میری قوم! میں تمہارے لیے اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے (وَ یا قَوْمِ إِنِّی اَخافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنادِ )۔ ”التناد"، "نداء“کے مادہ سے ہے جس کا معنی ”پکارنا“ ہے۔(یہ لفظ اصل میں”التنادی“تھایاءکوحذف کر دیا گیا اور دال کا کسرہ اسی پردلالت کرتا ہے)۔ مفسرین کے درمیان مشہور اور معروف یہی ہے کہ ”یوم التناد“قیامت کا ایک نام ہے اور ہر ایک نے اس علیحدہ وجہ تسمیہ بیان کی ہے اور یہ وجوہات تقریبا ًایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام دوزخی لوگوں کے بہشتیوں کو پکارنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَ نادی اَصْحابُ النَّارِ اَصْحابَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفیضُوا عَلَیْنا مِنَ الْماءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللَّہُ ” جہنمی لوگ اہل بہشت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی یا تھوڑی سی روزی جو تمہیں خدا نے دی ہے ہمیں دے دو“تو بہشتی لوگ انہیں جواب دیں گے: إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَہُما عَلَی الْکافِرینَ ”خدا نے یہ سب کچھ کافروں پر حرام کر دیا ہوا ہے۔“ (اعراف.۵۰) (تشریحی نوٹ: یہی مطلب شیخ صدوق کی کتاب ”معانی الاخبار“میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے)۔ یا اس لیے کہ لوگ دوسرے کو پکاریں گے اور ایک دوسرے سے پناہ طلب کریں گے اور مدد مانگیں گے۔ یا اس لیے کہ منادیان محشر بلند آواز سے کہیں گے: الا لعنة اللہ علی الظالمین "ظالمین پر خدا کی لعنت ہے“۔( ہود . ۱۸) یا اس لیے کہ جب موٴمنین کو نامہٴ اعمال دیا جائے گا تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے: ھاؤم اقرءوا کتابیہ ”آؤ لوگو! میرا نامہٴ اعمال پڑھو“۔ ( حاقہ . ۱۹) اور جب کافروں کو ان کا نامہٴ اعمال دیا جائے گا تووہ گھبرا کر فریاد بلند کریں گے : یا لیتنی لم اوت کتابیہ ” اے کا ش کہ مجھے نامہٴ اعمال نہ دیا جاتا“۔ ( حاقہ . ۲۵) لیکن اس معنی کو وسیع تر تناظرمیں دیکھنا چاہیے ”یوم التناد“کے مفہوم میں یہ دنیا بھی شامل ہے کیونکہ ”یوم التناد“کا معنی صرف اور صرف ”ایک دوسرے کو پکارنے کا دن ہے“ اور یہ تعبیر انتہائی عاجزی اور سخت حیرت اور بےکسی کی نشانی ہے جب بھی کوئی شخص کسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے اور ہر طرف سے اس کی امیدیں منقطع ہو جاتی ہیں تو اس وقت چیخ و پکار کرتا ہے لیکن اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں بھی ”یوم التناد“بہت ہیں۔ جس دن خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے، جس دن معاشرہ اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ سے چاروں طرف سے مشکلات میں پھنس جاتا ہے، جس دن بحراں اور حوادث سب کو اپنے شکنجوں میں جکڑ لیتے ہیں تو لوگ ادھر ادھربھاگ کر پناہ تلاش کرتے ہیں لیکن انہیں کہیں بھی پناہ نہیں ملتی اور ہر شخص چیخ و پکار کر رہا ہوتا ہے۔ وہی دن ”یوم التناد“ ہوتا ہے۔ لیکن آیت ”یوم التناد“کی تفسیر بیان کر رہی ہے: جس دن تم منہ پھیر کر بھاگ رہے ہو گے لیکن خدا کے عذاب سے تمہیں کوئی چیز نہیں بچا سکے گی۔ اور جسے خدا ( اس کے اعمال کی وجہ سے ) گمراہ کر دے اسے کوئی بھی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔ وہ لوگ اس دنیا میں را ہ ہدایت سے گمراہ ہو جاتے ہیں اورجہل و ضلالت کے پردوں میں چلے جاتے ہیں لہذا آخر ت میں بہشت اور خدا کی نعمتوں کے راستے بھول جاتے ہیں۔ ممکن ہے مندرجہ بالاعبار ت فرعون کی باتوں کی طرف لطیف سا اشارہ ہو جب کہ اس نے کہا کہ : ما اھدیکم الاّ سبیل الرشاد ”میں تمہیں ہدایت اور سچائی کے راستے کے علاوہ اور کوئی دعوت نہیں دیتا“۔ ( مؤمن . ۲۹)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : جابر حکمرا ن صحیح فہم سے محروم ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں مؤمن آل فرعون کی گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ، موجودہ اور آئندہ آیات پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ” مؤمن آل فرعون نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سیاہ اور تاریک دل میں اثر کرنے اور ان سے متکبر اور کفر کا زنگ دور کرنے کے لیے اپنی گفتگو کو پانچ مرحلوں میں بیان کیا : پہلے مرحلے میں اس نے ذومعنی اور احتیاط پر مبنی گفتگو کی اور اس کافر اور سرکش قوم کو احتمال نقصان سے بچنے کی دعوت دی اور کہا: اگر موسٰی جھوٹ بولتے ہیں تو جھوٹ خود انکے اپنے دامن کو پکڑے گا اور اگر سچ کہتے ہیں تو عذاب ہمیں دامن گیر ہو گا لہذا خدا سے ڈرو اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو۔ دوسرے مرحلے میں انہیں گزشتہ اقوام کے حالات اور انجام کے بارے میں غور اور مطالعے کی دعوت دی اور انہیں اس قسم کے انجام سے بچنے کی دعوت دی ۔ تیسرے مرحلے میں موجودہ آیات میں ان کی کچھ اپنی تاریخ انہیں یاد دلائی جس کا ان سے زیادہ فاصلہ نہیں بھی گزرا تھا اور ان کے باہمی رابطے بھی اس سے ابھی تک نہیں ٹوٹے تھے اور یہ تھا حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت کا مسئلہ جو کہ حضرت موسٰی کے جد امجد تھے اور ان کی دعوت کے انداز کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: اس سے پہلے یوسف تمہاری ہدایت کے لیے واضح اور روشن دلائل لے کر آئے ( وَ لَقَدْ جاءَکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّناتِ) ( تشریحی نوٹ: واحد آیت جوجناب یوسف علیہ السلام کی نبوت پر دلالت کرتی ہے یہی آیت ہے ہر چندکی سور ہٴ یوسف میں اس بات کے اشارے تو ملتے ہیں لیکن اس میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان نہیں ہوئی)۔ لیکن تم نے اسی طرح ان کی دعوت میں بھی شک کیا( فَما زِلْتُمْ فی شَکٍّ مِمَّا جاءَکُمْ بِہِ)۔ اس وجہ سے نہیں کہ ان کی دعوت میں کسی قسم کی پیچیدگی تھی یا ان کی آیات و دلائل ناکافی تھے بلکہ صرف اپنی انا پر قائم رہتے ہوئے تم نے ہٹ دھرمی سے کام لیا اور ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کرتے رہے۔ پھر ہر قسم کی ذمہ داری اور فرائض کی انجام دہی سے جان چھڑانے، اپنی انا کو قائم رکھنے اور خواہشات نفسانی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جب یوسف اس دنیا سے چلے گئے تو تم نے کہنا شروع کر دیا ان کے بعد خدا ہرگز کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا (حَتَّی إِذا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَبْعَثَ اللَّہُ مِنْ بَعْدِہِ رَسُولاً)۔ تمہاری اس غلط روش کی وجہ سے ہدایت الہٰی تمہارے شامل حال نہ ہو سکی، جی ہاں ”اسی طرح خدا ہر اسراف کرنے والے اور شک کرنے اور وسوسہ ڈالنے والے کو گمراہ کرتا ہے (کَذلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُرْتابٌ )۔ تم نے ایک طرف تو اسراف اور خدائی حدود سے تجاوز کرنے کا راستہ اختیار کیا اور دوسری طرف ہر چیز میں شک و شبہ اور وسواس سے کام لیا۔ تمہارے دونوں کام اس بات کا سبب بن گئے کہ خداوندعالم اپنے لطف وکرم کی نگاہ تم سے پھیر لے اور تمہیں ضلالت و گمراہی کی وادی میں چھوڑ دے اور تمہارا انجام اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اب اگر موسٰی کے بار ے میں بھی تم نے اسی روش کو اپنایا اور تحقیق و جستجو سے کام نہ لیا تو ممکن ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نبی ہو لیکن اس کی ہدایت کا نور تمہارے چھپے ہوئے حجابوں میں پڑے ہوئے د ل پر نہ چمکے۔ بعد کی آیت ”مسرف مرتاب“ کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر کی ایسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیات مجادلہ کرتے ہیں (الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ بِغَیْرِ سُلْطانٍ اَتاھُمْ ) (تشریحی نوٹ: یہاں پر ”الذین "، "مسرف مرتاب“ کا بدل ہے۔ جب کہ مبدل منہ مفرد اور بدل جمع ہے کیونکہ کسی معین فرد پرنظر نہیں ہے بلکہ جنس مدنظر ہے)۔ اپنی گفتگو میں کوئی عقلی اور نقلی واضح دلیل رکھے بغیر خدا کی آیات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اٹکل پچوؤں، بے بنیاد وسوسوں اور مختلف حیلے بہانوں سے اپنی مخالفت جاری رکھتے ہیں۔ یہ کتنی بُری بات ہے کہ ”حق کے مقابلے میں اس قسم کے بے بنیاد جدال خدا کے اور ان لوگوں کے عظیم غضب کا سبب بنتے ہیں جو ایمان لا چکے ہیں“ (کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ وَ عِنْدَ الَّذینَ آمَنُوا ) (تشریحی نوٹ: ”کبر“ کا فاعل ”الجال“ ہے جو پہلے جملے سے سمجھ میں آتا ہے اور”مقتا“ اس کی تمیز ہے،بعض مفسرین نے سمجھا ہے کہ شاید اس کا فاعل ”مسرف مرتاب“ ہو۔ لیکن پہلامعنی بہتر معلوم ہوتا ہے) ۔ کیونکہ جدالِ باطل اور خدا کی آیات کے مقابلے میں بغیر کسی دلیل ومنطق کے محاذ آرائی ایک تومجادلہ کرنے والوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہے اور دوسرے عوام الناس کی بے راہروی اور ضلالت کی یہ روش معاشرے میں نور حق کو خاموش اور حکومت باطل کی بنیادوں کی مستحکم کرتی ہے۔ اور آخر میں ان کے حق کے آگے نہ جھکنے کی وجہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : خد ا اسی طرح ہر متکبر جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے (کَذلِکَ یَطْبَعُ اللَّہُ عَلی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ) (تشریحی نوٹ: یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں”متکبر اور جبا ر“قلب کی صفت کے طور پر ذکر ہوئے ہیں ( ہر چند کہ اضافت کی صورت میں ہیں ) نہ کسی شخص کی صفت ، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبراور جبار یت کی بنیاد قلب ہے اور وہیں سے یہ انسان کے باقی تمام وجود میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اور تمام اعضاءتکبر اور جبار یت کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں)۔ جی ہاں! جو لوگ تکبر اور جباریت جیسی دوسری صفات کی وجہ سے حق کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور کسی حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو خدا بھی حق جوئی اور حق خواہی کی روح ان سے سلب کر لیتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ حق ان کے ذائقے میں کڑوا اور باطل میٹھا ہو جاتا ہے۔ ان بیانات کے ذریعے مؤمن آل فرعون نے جو کچھ کرنا تھا کر دکھایا چنانچہ بعد کی آیات سے معلوم ہو گا کہ اس نے فرعون کو جناب موسٰی علیہ السلام کے قتل کی تجویز بلکہ فیصلے کے بار ے میں ڈانوا ڈول کر دیا یا کم از کم اسے ملتوی کروا دیا اور اسی التواءسے قتل کا خطرہ ٹل گیا اور یہ تھا اس ہوشیار، زیرک اور شجاع مرد خدا کا فریضہ جو اس نے کما حقہ اد اکر دیا۔ جیسا کہ بعد کی آیات سے معلوم ہو گا کہ اس سے اس کی جان کے بھی خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہو گیا تھا ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: موسٰی کے خدا کی خبر لاتا ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6اگرچہ مؤمنِ آل فرعون کی باتوں نے فرعون کے دل پر اس قدر اثر کیا کہ وہ موسٰی کے قتل سے تو باز آ گیا لیکن پھر بھی غرور کی چوٹی سے نیچے نہ اترا اور اپنی شیطنت سے بھی باز نہ آیا اور نہ ہی حق بات قبول کرنے پر آمادہ ہوا۔ کیونکہ فرعون میں اس بات کی نہ تو صلاحیت تھی اور نہ ہی لیاقت. لہذ اپنے شیطنت آمیز اعمال کو جاری رکھتے ہوئے اس نے ایک نئے کام کی تجویز پیش کی اور وہ ہے آسمانوں پر چڑھنے کے لیے ایک بلند و بالا برج کی تعمیر تاکہ اس پر چڑھ کر موسٰی کے خدا کی”خبر“لے آئے! جیسا کہ زیر نظر آیات میں ہے۔ فرعون نے کہا : اے ہامان ! میری لیے ایک بلند عمارت تیار کرو تاکہ میں اسباب و ذرائع تک پہنچ سکون: (وَ قالَ فِرْعَوْنُ یا ہامانُ ابْنِ لی صَرْحاً لَعَلِّی اَبْلُغُ الْاَسْبابَ)۔ ایسے اسباب و ذرائع جو مجھے آسمانوں تک لے جائیں تاکہ موسٰی کے خدا سے باخبر ہو سکوں ہر چند کہ میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے (اَسْبابَ السَّماواتِ فَاَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی وَ إِنِّی لَاَظُنُّہُ کا ذِباً )۔ جی ہاں اس قسم کے بُرے اعمال فرعون کی نظر میں مزین کر دیئے گئے تھے اور انھوں نے اسے راہ حق سے روک دیا تھا ( وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیل)۔ لیکن فرعون کی سازش اور چالوں کا انجام نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں (وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ)۔ ”صرح“دراصل وضاحت اور روشنی کے معنی میں ہے۔ اسی سے”تصریح“ ہے جس کا معنی ہے واضح اور اشکار کرنا۔ بعد ازاں اس کا اطلاق بلند و بالا عمارتوں اور خوبصورت اور سرفلک محلوں پر بھی ہونے لگا کیونکہ اس نوعیت کی عمارتیں کامل طور پر واضح اور ظاہر ہوتی ہیں۔ بہت سے مفسرین اور ارباب لغت نے اسی معنی کی تصریح کی ہے۔ اور ”تباب“کا معنی خسارہ اور ہلاکت ہے۔ سب سے پہلی چیز جو یہاں پر نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آخر اس کام سے فرعون کا مقصد کیا تھا ؟ آیا وہ واقعاً اس حد تک احمق تھا کہ گمان کرنے لگا کہ موسٰی کا خدا آسمان میں ہے؟ بالفرض اگر آسمان میں ہو بھی تو آسمان سے باتیں کرنے والے پہاڑوں کے ہوتے ہوئے اس عمارت کے بنانے کی کیا ضرورت تھی جو پہاڑوں کی اونچائی کے سامنے بالکل ناچیز تھی؟ اور کیا اس طرح سے وہ آسمان تک پہنچ بھی سکتا تھا؟ یہ بات تو بہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ فرعون مغرور اور متکبر ہونے کے باوجود سمجھ دار اور سیاستدان شخص تو ضرور تھا جس کی وجہ سے اس نے ایک عظیم ملت کو اپنی زنجیروں میں جکڑ ہوا تھا اور بڑے زور دار طریقے سے اس پر حکومت کرتا رہا۔ لہذا اس قسم کے افراد کی ہر ہر بات اور ہر ہر حرکت شیطانی حرکا ت و سکنات کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ لہذا سب سے پہلے اس کے اس شیطانی منصوبے کا تجزیہ و تحلیل کرنا چاہیے کہ آخرایسی عمارت کی تعمیر کام قصد یہ کیا تھا؟ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ان چند مقاصد کے پیش نظر ایسا اقدا م کیا: ۱۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگوں کی فکر کو مصروف رکھے. موسٰی علیہ السلام کی نبوت اور بنی اسرائیل کے قیام کے مسئلے سے ان کی توجہ ہٹانے کے لیے اس نے یہ منصوبہ تیار کیا۔ بعض مفسرین کے بقول یہ عمارت ایک نہایت ہی وسیع و عریض زمین میں کھڑی کی گئی جس پر پچاس ہزار راج اور مزدور کام کرنے لگے۔ اس تعمیری منصوبے نے دوسرے تمام مسائل کو بھلا دیا۔ جوں جوں عمارت بلند ہوتی جاتی تھی توں توں لوگوں کی توجہ اس کی طرف زیادہ مبذول ہوتی جاتی تھی. ہر جگہ اور ہر محفل میں نئی خبر کے عنوان سے اس کے چرچے تھے اس نے وقتی طور پر جادوگروں پر موسٰی علیہ السلام کی کامیابی کو جو کہ فرعون اور فرعونیوں کے پیکر پر ایک کاری ضرب تھی لوگوں کے ذہنوں سے فراموش کر دیا۔ ۲۔ وہ چاہتا تھا کہ اس طرح سے زحمت کش اور مزدور طبقے کی جزوی مادی اور اقتصادی امداد کرے اور عارضی طور پر ہی سہی بیکار لوگوں کے لیے کام مہیّا کرے تاکہ تھوڑا سا اس کے مظالم کو فراموش کر دیں اور اس کے خزانے کی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ احتیاج محسوس ہو۔ ۳۔ پروگرام یہ تھا کہ جب عمارت پایہٴ تکمیل کوپہنچ جائے، تووہ اس پر چڑھ کرآسمان کی طرف نگاہ کرے اور شاید چلہ کمان میں رکھ کر تیر چلائے اور وہ واپس بالکل مطمئن ہو کر اپنے اپنے کام میں مصروف ہو جائے۔ وگرنہ فرعون کے لیے تو صاف ظاہر تھا کہ اس کی عمارت جتنی بھی بلند ہو سو میٹر سے زیادہ تو اونچی نہیں جا سکتی تھی، جبکہ آسمان اس سے کئی گنا بلند اور اونچے تھے۔ پھر یہ کہ اگر بلند ترین مقام پر بھی کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھا جائے تو اس کا منظر بغیر کسی کمی بیشی کے ویسے ہی نظر آتا ہے جیسے سطح زمین سے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فرعون نے یہ بات کر کے درحقیقت موسٰی کے مقابلے سے ایک قسم کی پسپائی اختیار کی. جبکہ اس نے کہا کہ میں موسٰی کے خدا کے بار ے میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں ”فَاَطَّلِعَ إِلی إِلہِ مُوسی“ اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ ”ہرچند کہ میں اسے جھوٹا گمان کرتاہوں“ اس طرح سے وہ یقین کی منزل سے ہٹ کر شک اور گمان کے مرحلے تک نیچے آ جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید ”وَ کَذلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبیلِ وَ ما کَیْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فی تَبابٍ“میں سب سے پہلے فرعون کے انحراف کی بنیادی وجہ بتائی ہے اور وہ ہے تکبر، غرور اور خود خواہی جیسے قبیح اور بُرے اعمال کا اس کی نگاہوں میں مزین ہونا۔ پھر اس کا نتیجہ بیان کیا ہے جو راہ حق سے گمراہی کی صورت میں نکلا ہے۔ تیسرے مرحلہ میں اس کے منصوبوں کی ناکامی کا اعلان کرتا ہے۔ گویا تین مختصر سے جملوں میں تین جامع مطالب۔ یقینا اس قسم کی سیاست بازی مختصر سے عرصے کے لیے مؤثر واقع ہو سکتی ہے لیکن کاٹھ کی ہنڈیا بار بار چولہے پر نہیں چڑھ سکتی۔ بعض روایات میں ہے کہ ”ہامان“ اس فرعونی بُرج کو اس قدر اونچا لے گیا کہ اس کے اوپر تیز ہواؤں کی وجہ سے کام کرنا دشوار ہو گیا۔ راج اور مستری فرعون کے پاس آ کر کہنے لگے اس سے اُوپر مزید بلندی پر کام کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ اس کی تعمیر کو تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایسی زبردست تیز و تند ہوا چلی کہ جس نے اسے تہ و بالا کر کے رکھ دیا (بحوالہ: ”بحا رالانوار“جلد ۱۳ صفحہ ۱۲۵( نقل از تفسیرعلی بن ابراہیم )۔ معلوم ہو گیا کہ فرعون کی تمام طاقت اور قدرت نمائی ہوا کے ایک جھونکے کو بھی برداشت نہ کر سکی ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تم میری پیروی کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مؤمن آلِ فرعون نے اپنی گفتگو کو چند مرحلوں میں بیان کیا ہے اور یہ آیات اس کی گفتگو کا چوتھا مرحلہ ہے جس میں اس نے اپنے موضوع کو ایک اور طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ ہے انہیں دنیاوی زندگی ناپائیداری اور حشر و نشرکے مسئلے کی طرف متوجہ کرنا اور ان کی طرف توجہ کسی قسم کے شک وشبہ کے بغیر انسانوں کی تربیت میں گہرا اثر رکھتی ہے قرآن کہتا ہے: جو شخص ایمان لا چکا تھا اس نے پکار کر کہا اے میری قوم ! میری پیروی کرو تاکہ میں تمہیں راہ حق کی رہنمائی کروں (وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ اتَّبِعُونِ اَھْدِکُمْ سَبیلَ الرَّشادِ) ۔ اس سے چند آیات قبل ہم نے پڑھا تھا کہ فرعون نے کہا تھا کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی ہدایت اور بھلائی کا راستہ ہے لیکن مؤمن آل فرعون نے یہ بات کہہ کر درحقیقت فرعون کا جواب دیا اور اس کے دعویٰ کی تردید کردی اور حاضرین کو بتا دیا کہ فرعون کی وسوسہ انگیز باتوں میں نہ آ جائیں کیونکہ اس کی سب چالیں اور تدبیریں ناکامی کا شکار ہوجائیں گی صحیح راہ وہی ہے جو میں بتا رہا ہوں یعنی تقویٰ اور خدا پرستی کی راہ۔ پھراس نے کہا : اے میری قوم ! اس دنیا سے دل نہ لگاؤ کیونکہ یہ چند روزہ زندگی جلد ختم ہو جانے والی متاع ہے اور آخرت ہی تمہارے آرام کا ابدی ٹھکانا ہے (یا قَوْمِ إِنَّما ھذِہِ الْحَیاةُ الدُّنْیا مَتاعٌ وَ إِنَّ الْآخِرَةَ ہِیَ دارُ الْقَرارِ)۔ ممکن ہے کہ ہم لاکھوں فریب کے ذریعے کامیاب ہو بھی جائیں حق کو پسِ پشت بھی ڈال دیں، ہزاروں ظلم کا ارتکاب کر بھی ڈالیں، بے گناہوں کے خون سے اپنے دامن کو آلودہ بھی کرلیں لیکن آخرکتنے دنوں تک ؟ اس دنیا میں ہماری زندگی ہے کتنی؟ یہ چند روزہ زندگی بہت جلد گزر جائے گی اور موت کے بے رحم پنچہ ہماری گردنوں کو ضرور پکڑے گا با شکوہ اور بلند و بالا محلات و قصور سے اٹھا کر منو مٹی تلے دبادے گا . ہمارے لیے آرام و آسائش کا اصل ٹھکا نا توکوئی اور ہے۔ پھر اس دنیا کے فانی اور آخرت کے باقی ہونے کی ہی بات نہیں اس سے بھی اہم مسئلہ حساب و کتاب اور سزا و جزا کا ہے”جو شخص بُرے کام انجام دے گا اس کے مطابق اسے سزا دی جائے گی اور جو نیک اعمال بجا لائے گا خواہ وہ مرد ہو یاعورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو وہ بہشت میں داخل ہو گا اور اسے بے حدو حسا ب رزق وروزی دی جائے گی (مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلا یُجْزی إِلاَّ مِثْلَہا وَ مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُونَ فیہا بِغَیْرِ حِساب)۔ وہ اپنی اس جچی تلی گفتگو میں ایک طرف تو خداوند عالم کے عدل و انصاف کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ مجرموں کو صرف ان کے جرم کے مطابق سزا د ے گا ۔ دوسری طرف اس کے بے انتہا فضل و کرم کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ مؤمنین کو ان کے ایک نیک عمل کے بدلے میں بے حد وحساب جزا عطا فرمائے گا، اور اس سلسلے میں اس امر کو مد نظر نہیں رکھا جائے گا کہ ایک نیکی کے بدلے صرف ایک جزا ملے، نہیں بلکہ بے حد و حساب جزا ملے گی اور جزا بھی ایسی کہ جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کا ن نہ سنا ہو گا بلکہ کسی شخص کے تصوّر تک میں نہیں آئی ہو گی۔ ساتھ ہی وہ اپنی گفتگو میں ایمان اور عمل صالح کے لازم ملزوم ہونے کی یاد دہانی بھی کروا رہا ہے۔ اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ انسانی اقدار کے لحاظ سے اللہ کی بارگاہ میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بہرحال، وہ اپنی اس مختصر سی گفتگو کے ذریعے یہ حقیقت بیان کر رہا ہے کہ اگرچہ اس دنیا کی متاع ناچیز اور ناپائیدار ہے لیکن اس میں اس قدر صلاحیت ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ بے حد و حساب جزا تک پہنچنے کا وسیلہ بن سکتی ہے اور اس معاملے سے زیادہ منافع بخش اور کیا معاملہ ہو سکتا ہے ؟ ضمنی طور پر یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ”مثلھا“کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے جہان کی سزائیں بالکل اسی طرح ہیں جس طرح انسان اس دنیا میں کام انجام دیتا ہے۔ اور ”غیر حساب“کی تعبیر بتاتی ہے بخشش کا حساب و کتاب وہی رکھتا ہے جس کے پاس نعمتیں اور مال محدود ہوتا ہے اور اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اگر حساب و کتاب نہ رکھا گیا تو مال ختم ہو جائے گا یا کم از کم، گھٹ جائے گا، لیکن جس کی نعمتوں کے خزانے بے انتہا اور غیر محدود ہوں، جتنا بھی کسی کو بخش دے پھر بھی کوئی خزانہ کم نہ ہونے پائے اسے حساب و کتاب کے ساتھ عطا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟(کیونکہ جس قدر بھی ان سے اٹھالیں پھر بھی غیر محدود اور بے انتہا ہیں )۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اور وہ یہ کہ آیات یہ آیت سورۃ انعام کی آیت ۱۶۰ کے ساتھ متصادم نہیں ہو رہی جس میں کہا گیا ہے کہ : من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالھا جو ایک نیکی لائے گا اس جیسی دس پائے گا ۔ تو جواب کے لیے اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیئے کہ یہ دس گنا اجر تو اس کی کم از کم حد ہے یہی وجہ ہے کہ راہ خدا میں خرچ کرنے کا ثواب ساتھ سو گنا بلکہ اس سے بھی بیشتر ہے جو بے حد و حساب مرحلے تک جا پہنچتا ہے اور یہ حد اور حساب صرف خدا کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آتفسیر: خری بات
Tafsīr Nemūna · Vol. 6پانچویں اور آخری مرحلے پر مؤمنِ آلِ فرعون نے تمام حجاب الٹ دیئے اور اس سے زیادہ اپنے ایمان کو نہ چھپا سکا۔ وہ جو کچھ کہنا چاہتا تھا کہ چکا اور فرعون والوں نے بھی. جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا اس کے بارے میں بڑا خطرناک فیصلہ کیا۔ قرآئن بتاتے ہیں کہ اس خود غرض، مغرور اور ضدی مزا ج قوم نے اس بہادر اور باایمان شخص کی باتوں کو سُن کرخاموشی اختیار نہیں کر لی بلکہ اس کے برعکس شرک کے فوائد بیان کئے اور اسے بُت پرستی کی دعوت دی۔ اسی لیے تو اس نے پکار کرکہا: اے قوم! آخر کیا وجہ ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف دعوت دوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاؤ (وَ یا قَوْمِ ما لی اَدْعُوکُمْ إِلَی النَّجاةِ وَ تَدْعُونَنی إِلَی النَّار)۔ میں تمہاری سعادت کا طالب ہوں اور تم میرے بدبختی کے خواہاں، میں تمہیں شاہراہِ ہدایت پر لانا چاہتا ہوں اور تم مجھے صحیح راہ سے ہٹانا چاہتے ہو۔ تو کیا ”تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ خدائے واحد کا کافر ہو جاؤں اور اس کے لیے وہ شریک قرار دوں جس کا مجھے علم تک نہیں ہے حالانکہ میں تمہیں خداوند عزیز و غفار کی طرف دعو ت دیتا ہوں (تَدْعُونَنی لِاَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ اُشْرِکَ بِہِ ما لَیْسَ لی بِہِ عِلْمٌ وَ اَنَا اَدْعُوکُمْ إِلَی الْعَزیزِ الْغَفَّار)۔ قرآن پاک کی مختلف آیات اور مصر کی تاریخ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ مصری عوام فراعنہٴ مصر کی پرستش کے علاوہ بتوں کی پوجا پاٹ بھی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۲۷ میں ہے کہ فرعون کے حواریوں نے اسے کہا: اَ تَذَرُ مُوسی وَ قَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ آلِھَتَک آیا تو اس بات کی کھلی چھٹی دے سکتا ہے کہ موسٰی اور اس کی قوم زمین میں فساد برپا کریں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو ترک کر دیں ؟ حضر ت یوسف علیہ السلام نے بھی فرعون مصر کے زندان میں اپنے قیدی ساتھیوں سے کہا تھا : اَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اَمِ اللَّہُ الْواحِدُ الْقَہَّار آیا مختلف معبود بہتر ہیں یا ایک عذاب قہار خدا ؟(یوسف . ۳۹) بہرحال،ِ مؤمن آل فرعون نے ایک مختصر اور سرسری سے تقابل سے انہیں اس بات کی یاد دہانی کروا دی کہ تمہاری دعوت شرک کی طرف ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ جس کی کم از کم کوئی دلیل نہیں ملتی. یہ ایک تاریک اور خطر ناک راستہ ہے لیکن میں ایک واضح اور روشن راستے کی طرف بلاتا ہوں ایساراستہ جو تمہیں خداوند عزیز و توانا اور غفار تک پہنچاتا ہے۔ ”عزیز“ اور”غفار“کی تعبیر جہاں ایک طرف خوف اور امید کے عظیم مبداٴ کی طرف اشارہ ہے وہاں دوسری طرف بتو ں اور فرعونوں کی الوہیت کی نفی کی طرف بھی اشارہ ہے جن میں نہ تو عزت کی بو پائی جاتی ہے اور نہ ہی عفوو درگزشت کی۔ مزید کہتا ہے: اور جن چیزوں کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ان کی یقیناً نہ تو دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ ہی آخرت میں ( ان کی حکومت ہو گی ) (لا جَرَمَ اَنَّما تَدْعُونَنی إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیا وَ لا فِی الْآخِرَةِ )۔ حس وشعور سے خالی یہ چیزیں نہ تو پہلے کبھی کسی حرکت کا مبداٴ رہی ہیں اور نہ ہی کبھی بعد میں ہوں گی یہ بت نہ تو بول سکتے ہیں، نہ ان کے رسول ہیں اور نہ ان کے پاس عدالت کا کوئی محکمہ ہے المختصر نہ توکسی کی مشکل دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے تمہیں اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ ”بر وز قیامت ہماری باز گشت صرف اور صرف خداہی کی طرف ہو گی“(وَ اَنَّ مَرَدَّنا إِلَی اللَّہِ ) ۔ اسی نے تو انسان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں اور وہی ہے جو انسانوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے جزا اور سزا د ے گا۔ اور یہ بات بھی تمہیں جان لینی چاہیے کہ ”اسراف کرنے والے اور حد سے بڑھ جانے والے جہنمی ہیں“(وَ اَنَّ الْمُسْرِفینَ ھُمْ اَصْحابُ النَّارِ)۔ آخر کار اس مرحلے پرمؤمنِ آل فرعون نے اپنے ایمان کو آشکار کر ہی دیا اور اپنے توحید پرستی کے رستے کو اس قوم کے شرک آلود رستے سے جدا کر لیا اس استدلال کے ساتھ اس قوم کو اپنے سے جھٹک دیا اور اپنی مدلل گفتگو کے بل بوتے پر ان سب کا تنہا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اپنی آخری گفتگو میں بڑی معنی خیز دھمکی کے ساتھ کہا: جلد تمہیں اس چیز کا پتہ چل جائے گا جس کے متعلق میں آج کہہ رہا ہوں، جب غیظ وغضب الہٰی کی آگ تمہیں اس جہان میں آلے گی پھر تم میری باتوں کی تصدیق کروگے (فَسَتَذْکُرُونَ ما اَقُولُ لَکُم )۔ لیکن افسوس کہ اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی، اگر یہ عذابِ آخرت میں ہو تو اس وقت واپسی کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں گے اور اگر دنیا میں ہو تو توبہ کے تمام درواز ے بند ہوچکے ہوں گے۔ پھر اس نے کہا: اور میں اپنے تمام کام خداوند یکتا کے سپرد کرتا ہوں جو اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح آگاہ ہے (وَ اُفَوِّضُ اَمْری إِلَی اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ )۔ اسی لیے نہ تو میں تمہاری دھمکیوں سے ڈرتا ہوں نہ مجھے تمہاری کثرت اور طاقت کا خوف ہے اور نہ ہی میری تنہائی مجھے وحشت میں ڈال سکتی ہے کیونکہ میں نے اپنے سارے وجود کو اس قادر مطلق کے سپر د کر دیا ہے جو بے انتہا قدرت کام الک اور اپنے بندوں کے حالات سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ جملہ درحقیقت اس مرد مؤمن کی ایک مئودبانہ دعا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایسے طاقتور دشمن کے ہاتھو ں میں پھنسا ہوا تھا جو بے رحم خونخوار تھا۔ اس کی با ر گاہ رب العزت میں ایک مئودبانہ درخواست تھی کہ وہ ان مشکل حالات میں اس کی مدد فرمائے۔ خداوند عالم نے بھی اپنے اس مؤمن اور مجاہد بندے کو تنہا نہیں چھوڑا جیسا کہ بعد کی آیت میں ہے: خدا نے بھی اسے ان کی ناپاک چالوں اور سازشوں سے بچا لیا (فَوَقاہُ اللَّہُ سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا)۔ ”سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا“کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ فرعونیوں نے اس کے بارے میں مختلف سازشیں اور منصوبے تیار کر رکھے تھے اور وہ منصوبے کیا تھے؟ قرآن نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی ظاہر ہے کہ مختلف قسم کی سزائیں، اذ یتیں اور آخرکار قتل اور سزائے موت ہی ہو سکتی ہے لیکن خداوند عالم کے لطف و کرم نے ان سب کو ناکام بنا دیا۔ چنانچہ بعض تفسیروں میں ہے کہ وہ ایک مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسٰی علیہ السلام تک پہنچ گیا اور اس نے بنی اسرائیل کے ہمراہ دریائے نیل کو عبور کیا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس کے قتل کا منصوبہ بن چکا تو اس نے اپنے آپ کو ایک پہاڑ میں چھپا لیا اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا (بحوالہ: تفسیر ”مجمع البیان“ اسی آیت کے ذیل میں)۔ یہ دونوں روایات آپس میں مختلف نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے وہ شہر سے مخفی ہو گیا ہو اور پھر بنی اسرائیل سے جا ملا ہو۔ ہو سکتا ہے ان سازشوں میں بت پرستی کے مسلّط کرنے اور راہ توحید سے منحرف کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہو، چنانچہ خداوند عالم نے اسے اس منصوبے سے بھی بچا لیا اور اسے ایمان، توحید اور تقویٰ کی راہ پر ثابت قدم رکھا ۔ اس نے”آ ل فرعون پر سخت عذاب نازل کیا”(وَ حاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذاب) ( تشریحی نوٹ: ”حاق“کا معنی ہے“ پہنچ گیا "، "نازل ہو گیا“لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس کی اصل ”حق“ ہو ایک قاف کو الف میں تبدیل کر کے ”حاق“بنا دیا گیا ہو . ( دیکھئے مفردات راغب ، مادہ ”حق“ اور ”سوءالعذاب“صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے جواصل میں ”العذاب السوء“تھا)۔ ویسے خدا کی تمام سزائیں اور عذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ”سو ءالعذاب“کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کا انتخاب کیا اور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعد کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ویسے خدا کی تمام سزائیں اور عذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ”سوءالعذاب“کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کا انتخاب کیا اور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعد کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: ان کے لیے درد ناک عذاب وہی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں (النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہا غُدُوًّا وَ عَشِیًّا) ( تشریحی نوٹ: "النار "، ”العذاب السوء“کا بدل ہے)۔ اور جس دن قیامت برپا ہو گی تو حکم دیا جائے گا کہ آل فرعون کی سخت ترین عذاب میں داخل کر دو (وَ یَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذابِ )۔ اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ یہاں پر فرعون کے بجائے آل فرعون کا تذکرہ ہے جو فرعون کے گمراہ خاندان ،حواریوں اور ساتھیوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ جب ان لوگوں کا یہ انجام ہو گا توخود فرعون کا انجام واضح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہیں صبح و شام آگ پرپیش کیا جاتا ہے لیکن بروز قیامت وہ سخت عذاب میں داخل ہوں گے اس سے یہ با ت بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ان کا پہلا عذاب ”برزخی عذاب“ ہے جو اس دنیا کے بعد اور قیامت سے پہلے تک کے درمیانی عرصے کا عذاب ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ انہیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے لا کر اس کے نزدک کر دیا جاتا ہے جس سے جان بھی لرز جاتی ہے اورجسم پر بھی اس کا زبردست اثر ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ”غدو“ اور ”عشی“(صبح و شام ) کی تعبیر یا تو اس عذاب کے دائمی ہونے پر دلالت کر رہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص صبح و شام ہمارا وقت ضائع کرتا ہے یعنی ہمیشہ اور ہر وقت . یا پھر اس کے صبح و شام دو وقت ہونے کی طرف اشارہ ہے جو فرعونوں کے اظہار قدرت اور عیش و نوش کے وقت ہوا کرتے تھے۔ ”غدو“ اور ”عشی“(صبح و شام ) کی تعبیر پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ آیا عالم برزخ میں بھی یہ چیز ہو گی کیونکہ آیات قرآنی سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ آخرت میں بھی صبح و شام ہوں گے جیسا کہ سورہٴ مریم کی آیت ۶۲ میں ہے۔ ولھم ر زقھم فیھابکرة وعشیًّا ” ان بہشتی لوگوں کے لیے صبح و شام مخصوص رزق ہے“۔ اور یہ تعبیر بہشتی نعمتوں کے دائمی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہ رعد کی آیت۳۵ میں ہے: اکلھا دائم وظلّھا ” وہاں کی غذ ااور سایہ دائمی ہوں گے“۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جہاں روزی کی یہ نعمتیں دائمی ہوں گی وہاں ان دو وقتوں میں خدا کے مخصوص لطف و کرم اہل بہشت کو نصیب ہوں گی۔
چند اہم نکات: 1۔ مومن آل فرعون کی داستان ایک درس ہے
خدا کے دین اور آسمانی مذاہب جو طاغوتوں اور جباروں کے ساتھ مقابلے کا حکم دیتے ہیں شروع شروع میں یہ مذاہب مٹھی بھر افراد کے ذریعے پیش کیے۔ اگر وہ لوک اپنے افراد کی قلت اور منافقین کی کثرت کو ان کی حقانیت کی دلیل سمجھتے تو یہ مذاہب ہرگز کامیاب نہ ہوتے۔ اور ایسے لائحہ عمل میں حکم فرما بنیادی اصول وہی ہے جسے امیر المومنین علی ؑ ابن ابی طالب نے اپنے فرمان حقیقت ترجمان میں یوں ارشاد فرمایا ہے۔ ایھا الناس لا تستوحشوا فی طریق لقلۃ اھلہ "اے لوگوں! راہ حق میں افرادی قلت سے ہرگز نہ گھبراؤ"( بحوالہ: نہج البلاغہ خبطہ 201)۔ مؤمنِ آل فرعون اس مکتب کا ایک نمونہ اور اس راہ کے ایک راہی تھے۔ انہوں نے اپنے طرز عمل سے بتا دیا کہ ایک باعزم انسان اپنے ایمان بھرے راسخ عقیدے اور ارادے کے ساتھ جابر فرعونوں کے ارادوں تک متزلزل کر کے اللہ کے عظیم پیغمبر کو بہت بڑے خطرے سے نجات دلا سکتا ہے۔ اس شیر دل اور زیرک انسان کی تاریخ زندگی بتاتی ہے کہ حق کے طرفداروں کا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھنا چاہیئے. اگر ضرورت ہوتو ایمان کا اظہار کر کے اپنی آواز کو دُور دُور تک پہنچانا چاہیئے اور اگر حالات اس امر کے متقاضی نہ ہوں تو قلیل المیعاد اور طویل المیعاد مقاصد کے پیش نظر اپنے ایمان کو چھپا لینا چاہیئے۔ اور تقیہ بھی اسی چیز کا نام ہے کہ انسان اپنے نیک اور مقدس مقاصد کے لیے ایک خاص مدت تک اپنے عقائد کا اظہار نہ کرے۔ جس طرح دشمن کی سرکوبی کے لیے ظاہری اسلحے سے لیس ہونا ضروری ہے اسی طرح منطقی اسلحے سے مسلح ہونا بھی ایک ناگزیر امر ہے کیونکہ اس کا اثر ظاہری اسلحے سے کئی گنا بہتر ہے۔ لہذا جو کام مؤمنِ آل فرعون نے اپنے منطقی دلائل کے اسلحے سے انجام دیا، ان خاص حالات میں کوئی اسلحے انجام نہیں دے سکتا تھا۔ بہرحال، مؤمن آل فرعون کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند عالم اس جیسے مؤمن افراد کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اور اگر وہ خطرات میں گھر جائیں تو انہیں اپنے لطف و کرم کی پناہ میں لے لیتا ہے۔ یہاں پر اس نکتے کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ بعض روایات کے مطابق مؤمنِ آل فرعون کو شہید کر دیا گیا۔ جب کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے اسے فرعونیوں کی غلط چالوں سے بچا لیا تو اس سے مراد یہ ہے کہ خداوند ذو الجلال نے اسے اپنے عقیدے سے منحرف ہو کر کفر و شرک اختیار کرنے سے بچا لیا (بحوالہ: کتاب ”محاسن برقی“میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پوچھا گیاکہ ”فوتاہ اللہ سیّئات مامکروا“کی کیا تفسیر ہے توآ پ علیہ السلام نے فرمایا : اما لقدسطو ا علیہ وقتلوہ ولکن اتد رون ماوقاہ ؟ و قاہ ان یفتنوہ فی دینہ)۔ انہوں نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا لیکن تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کس لحاظ سے اس کی حفاظت کی وہ یہ کہ دین کے بارے میں اسے گمراہی اور فتنے سے بچا لیا۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۲۱)۔
2۔ مسئلہ تفویض
اپنے کاموں کو خدا کے سپرد کر کے اس کی ذات پر توکل کر لینے کا نام ”تفویض“ ہے اور اس کی اہمیّت کے بارے میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا یہ فرمان کافی ہے: الایمان لہ اربعة ارکا ن ، التوکل علی اللہ، وتفویض الامر الی اللہ عزو جل والرضاء بقضاءاللہ ، والتسلیم لامر اللہ“ "ایمان کے چار ارکان ہیں خدا کی ذات پر توکل، اپنے تمام کام اس کے سپرد کر دینا۔ اس کی قضا پر راضی ہو جانا اور اس کے فرمان پر سرتسلیم خم کردینا“( بحوالہ: بحارالان وار جلد ۶۸ ص ۳۴۱)۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : المفوض امرہ الی اللہ فی راحة الابد، و العیش الدائم الرغد والمفوض حقاً ھو العالی عن کل ھمة دون اللہ جوشخص اپنے امور کو خدا کے سپرد کر دیتا ہے وہ راحت ابدی اور ہمیشہ کی بابرکت زندگی پا لیتا ہے اور جوشخص اپنے کاموں کوصحیح معنوں میں خدا کے سپرد کر دیتا ہے وہ اس (خدا ( کے سواکسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا (کتاب سفینتہ البحار جلد ۲ ،ص ۳۸۷ ( ماد ہ فوض)۔ راغب اصفہانی اپنی کتاب ”مفر دات“میں کہتے ہیں کہ ”تفویض“کا معنی ”لوٹانا“ ہے لہذا اپنے مور خدا کو تفویض کر دینے کا مقصد اپنے کام اس کے سپرد کر دینا ہے نہ کہ ہر قسم کی ہمت اور کوشش سے بھی ہاتھ اٹھا لیا جائے . جوی قینا معنی میں تحریف کے مترداف ہو گا۔ لہذا تفویض کا معنی یہ ہو گا کہ انسان اپنے کام کے انجام دینے میں ہر قسم کی سعی و کوشش اور جد و جہد سے کام لے اور جب سخت مشکلات اور موانع آڑ ے آ جائیں تو گھبرائے نہیں، حواس باختہ نہ ہو اور نہ ہو ہمت ہار بیٹھے، بلکہ اپنے امور کو خدا کے سپرد کر کے اپنی ہمت اور کوشش جاری رکھے۔ ”تفویض“کی اگرچہ مفہوم کے لحاظ سے ”توکل“سے زیادہ مشابہت ہے لیکن یہ ایک مرحلہ اس سے با لاتر ہے، کیونکہ ”توکل“کی حقیقت خد ا کو اپنا وکیل بنانا ہے جبکہ تفویض تفویض کا مفہوم یہ ہے کہ سب کچھ مطلقاً اس کے سپرد کر دیا جائے. کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کو اپنا وکیل بناتا ہے لیکن اپنی نگرانی بھی اس پر رکھتا ہے لیکن تفویض کے سلسلے میں اس قسم کی نگرانی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
3۔ عالمِ برزخ
”برزخ“، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس دنیا اور اس جہان کے درمیان ایک واسط ہے۔ قرآن مجید میں جس قدر قیامت کے بارے میں کثرت سے گفتگو ہوئی ہے اس کی نسبت سے برزخ کے بارے میں بہت کم بات ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اس پر ابہام کے کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں اور اس کی خصوصیات اور تفصیلات کے بارے میں صحیح طور پر علم نہیں ہے اورحقیقت الامر یہ ہے کہ برزخ کی خصوصیات کا علم، اعتقادی مسائل میں زیادہ مؤثر نہیں ہے۔ لہذا کتاب خدا میں بھی اس کے بارے میں بہت کم گفتگو ہوئی ہے۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ قرآن نے عالم برزخ کے وجود کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے البتہ اسکی تفصیلات کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں ہے۔ جو آیات عالمِ برزخ کی نشاندہی کرتی ہیں ان میں سے زیر تفسیر آیات بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے”قیام“قیامت سے پہلے آلِ فرعون کو ہر صبح و شام آگ کے سامنے پیش کر کے انہیں سزا دی جاتی ہے“ اور یہ سزا ”عذاب برزخ“کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ دوسری طرف جو آیات مرنے کے بعد شہداءکی حیات جاوید اور ان کے خصوصی اور بے حد و حساب اجر کے بارے میں دلالت کرتی ہیں وہ بھی”برزخ کی نعمتوں“پر شاہد ناطق ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پیغمبر اسلام علیہ وآلہ وسلم الصلوٰة والسلام کی ایک حدیث ہے: ”ان احدکم اذامات عرض علیہ مقعدہ بالغداة والعشی،ان کان من اھل الجنة فمن الجنة، وان کا ن من اھل النار فمن النار، یقال ھٰذ امقعدک حیث بیعثک اللہ یوم القیامة“ جب تم میں سے کوئی شخص اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے تو اسے ہر صبح و شام اپنا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔ اگر تو وہ بہشتی ہے اس کا ٹھکانا بہشت میں ہے اگر جہنمی ہے تو اس کا مقام جہنم میں ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تمہاری رہائش یہیں ہو گی ( اور یہی چیزروح کی خوشی یاعذاب کا سبب بنے گی ) ( بحوالہ: ۔ اس حدیث کوبخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ( منقو ل ازطبرسی، در منثور اور قرطبی انہی آیات کے ذیل میں ) کتاب ”صحیح مسلم“میں تو اس موضوع پر پورا باب لکھاگیا ہے جس میں متعدد روایات نقل کی گئی ہیں۔ دیکھئے صحیح مسلم جلد چہارم ،ص ۲۱۹۹) حضر ت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ذالک فی الدنیا قبل یوم القیا مة لان فی نار القیامة لایکون غدو و عشی، ثم قال ان کانوا یعذبون فی النار غدوًّا و عشیًّا فقیھا بین ذالک ھم من السعداء، لا ولکن ھٰذا فی البرزخ قبل یوم القیامة الم تسمع قولہ عزو جل: ویوم تقوم الساعة ادخلوا اٰل فرعون اشد العذا ب“ یہ سب کچھ روز قیامت سے پہلے کی دنیا میں ہوتا ہے کیونکہ قیامت کی آگ میں ںا تو صبح و شام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر فرمایا : اگر وہ قیامت میں صرف صبح و شام عذاب جہنم سے دوچار ہوں تو اس درمیانی عرصہ میں تو وہ سعادت مند ٹھہرے. لہذا یہ بات نہیں ہے اور اس عذاب کا تعلق برزخ ہے سے ہے جو قیامت سے پہلے کا عرصہ ہے۔ آیا (اس جملے کے بعد) خدا کا فرمان نہیں سنا کہ فرماتا ہے: ”جب قیامت برپا ہو گی تو کہا جائے گا کہ آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں بھیج دو“ (بحوالہ:تفسیر مجمع ا+لبیان جلد ۸ ،ص ۵۲۶) ۔ امام علیہ السلام یہ نہیں فرماتے کہ قیامت میں صبح و شام نہیں، بلکہ جہنم کی آگ ہمیشہ کے لیے ہے اس کے لیے صبح و شام کا سوال پیدا نہیں ہوتا ، جہاں پرصبح و شام سزا ملے گی وہ عالمِ برزخ ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے آیت کے بعد والے جملے کو استدلال کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ جو قیامت کی بات کر رہا ہے اور اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے پہلے کا جملہ عالمِ برزخ پر دلالت کر رہا ہے۔ عالمِبرزخ اور اس کے دلائل کے سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد ۱۴ (سورہٴ مؤمنون کی آیت ۱۰۰ کے ذیل میں ) تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ذوزخ میں ضعفاء اور مستکبرین کا باہمی احتجاج
Tafsīr Nemūna · Vol. 6چونکہ مؤمنِ آل فرعون نے، فرعون والوں کی توجہ قیامت اور دوزخ کے عذاب کی طرف مبذول کروائی تھی لہذا زیر نظر آیات اس سلسلے میں رشتہ سخن کو آگے بڑھاتی ہیں اور دوزخ کی آگ کے درمیان میں جہنمیوں کی غصّے بھری باتوں کا ذکر کرتی ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اس وقت کا سوچیں جب لوگ آتش جہنم میں ایک دوسرے کے خلاف احتجاج اور گفتگو کریں گے، ضعفاء مستکبرین سے کہیں گے ہم تمہارے پیروکار تھے تو کیا(آج ) تم ہماری آگ کا کچھ حصّہ اپنے لیے قبول کرو گے (وَ إِذْ یَتَحاجُّونَ فِی النَّارِ فَیَقُولُ الضُّعَفاءُ لِلَّذینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعاً فَھَلْ اَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا نصیباً مِنَ النَّارِ) (تشریحی نوٹ: بعض لوگ یہ تصّور کرتے ہیں ”یتحاجّون“میں ضمیر کام رجع ”آل فرعون“ ہے لیکن آیات میں موجود قرائن بتاتے ہیں کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے جس میں سب کفار شامل ہیں ) ۔ "ضعفاء“سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ تو کوئی کافی حد تک علم تھا اور نہ وہ حریت فکر کے مالک تھے بلکہ اندھا دھند کفر کے سرغنوں کی پیروی کیا کرتے تھے جنہیں قرآن نے مستکبرین“کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ پیروی کرنے والے یہ لوگ وہاں پر جانتے ہوں گے کہ یہ رہبر تو خود ہی عذاب میں گرفتار ہیں اور ان کا ذرہ بھر بھی دفاع نہیں کر سکتے تو پھر وہ ان کی پناہ کیوں طلب کریں گے اور ان سے عذاب کا حصّہ بٹانے کی کیوں درخواست کریں گے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے یہ اس لیے ہے کہ اِس جہان میں ان کی عادت ہو چکی تھی کہ جب بھی کسی سخت مصیبت میں پھنس جاتے تھے تو ان کے دامن میں پناہ لیا کرتے تھے تو اس جہان میں بھی لاشعوری طور پر یہی کام کریں گے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ جواب دیا جائے کہ یہ بات ان کے لیے ایک طرح کا مذاق، لعنت و ملامت اور سرزنش کی حیثیت رکھتی ہے تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ ان کے تمام دعوے کھوکھلے اور حقیقت سے بہت دور تھے. ( تشریحی نوٹ: ”تبعا“تابع کی جمع ہے اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ مصدر ہو اور مصدر کا اطلاق ایسے افراد پر جو کسی صفت سے متصف ہوں ایک معمولی ہے یعنی دراصل وہ جہنمی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم تمہارے تابع ہی نہیں تھے بلکہ عین تبعیت تھے)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے آپ علیہ السلام نے”غدیر“کے ایام میں سے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا اور خطبہ میں لوگوں کو توحید الہٰی کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی اطاعت کی طرف بھی متوجہ کیا جن کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے مندرجہ بالا آیت تلاوت فرمانے کے بعد کہا: افتدرون الاستکبار ما ھو ؟ھو ترک الطّاعة لمن امروا بطا عتہ، والتر فع علی من ندبوا الیٰ متابعتہ، والقراٰن ینطق من ھٰذا کثیراً، ان تدبرہ متدبر زجرہ و وعظہ” تم جانتے ہو کہ استکبار کیا ہے ؟ ان لوگوں کی اطاعت کو ترک کر دینا جن کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور خود کو ان سے بالاتر سمجھنا، اس قسم کا کلام قرآن مجید میں اکثر مقام پر ملتا ہے۔ اس طرح کہ اگر انسان اس کے بارے میں غور و فکر سے کام لے تو اسے نصیحت دیتا اور خلاف ورزی سے روکتا ہے“۔ امام علیہ السلام ان زندہ اور واضح تعبیرات سے ان لوگوں کوخبردار کرنا چاہتے تھے جنہوں نے غدیر کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیتوں کو پس پشت ڈال کردوسرے لوگوں کی پیروی کرلی تھی۔ (بحوالہ: ”مصباح شیخ“( منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۲۶)۔ بہرحال، اس سوال کے جواب میں مستکبرین چپ نہیں سادہ لیں گے مگر مدلل جواب بھی نہیں دیں گے بلکہ ایسا جواب دیں گے جو ان کو عاجزی اور زبوں حالی کا آیئنہ دار ہو گا۔ جیسا کہ بعد کی آیت میں قرآن مجید اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: مستکبرین کہیں گے ہم اور تم غرض سب اسی آگ میں (جل رہے ہیں اور ایک جیسے نتائج بھگت رہے ) ہیں۔ خدا نے اپنے بندوں کے درمیان ( عدل وانصاف کے ساتھ ) فیصلہ کیا ہے (قالَ الَّذینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُلٌّ فیہا إِنَّ اللَّہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِباد)۔ اگر ہم تمہاری کسی مشکل کو حل کر سکتے تو سب سے پہلے اپنی مشکل کو حل کرتے. یہاں پر تو ہم سے کچھ نہیں بن پڑتا۔ نہ تم سے عذاب ہٹا سکتے ہیں نہ خود سے حتٰی کہ تمہارے عذاب کا کچھ حصہ بھی اپنے ذمہ لینے سے قاصر ہیں۔ یہ با ت بھی قابل توجہ ہے کہ سورہ ابراہیم کی آیت ۲۱ میں یہی چیز ہے کہ مستکبرین ان ضعفاءکے جواب میں کہیں گے: لَوْ ھَدانَا اللَّہُ لَھَدَیْناکُمْ سَواءٌ عَلَیْنا اَ جَزِعْنا اَمْ صَبَرْنا ما لَنا مِنْ مَحیص” اگر خدا نے ہمیں (عذاب سے نجات کے راستے کی ) ہدایت کی ہوئی توہم بھی تمہیں اس کی ہدایت کرتے.( لیکن یہ بات نہیں ہے ) چاہے بیتابی کا اظہار کریں چاہے صبر اختیار کریں برابر ہے“۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں جوابوں کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ جب ان کی تمام امیدیں ہرجگہ سے منقطع ہو جائیں گی تووہ خازنین جہنم کی طرف اپنا دامن پھیلائیں گے اور قرآن کے الفاظ میں وہ خازنین جہنم سے کہیں گے کہ تم اپنے خدا سے دعا کرو کہ ایک دن کے لیے ہم سے عذاب اٹھالے (وَ قالَ الَّذینَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَھَنَّمَ ادْعُوا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْماً مِنَ الْعَذابِ) (تشریحی نوٹ: ”خزنہ“، خازن کی جمع ہے جس کا معنی محافظ اور نگہبان ہے)۔ وہ جانتے ہوں گے کہ عذاب الہٰی برطرف ہونے والی چیز نہیں ان کی یہی درخواست ہو گی کہ صرف ایک دن کے لیے ان سے عذاب اٹھا لیا جائے. ان کے لیے ایک ہی دن کی رعایت ہو جائے تو کافی ہے کہ اس دن اطمینان کا سانس لے لیں اور تھوڑی دیر کے لیے تازہ دم ہو جائیں۔ لیکن جہنم کے داروغے ”کہیں گے آیا تمہارے پیغمبر تمہارے پاس روشن دلیل لے کر نہیں آئے تھے“ آیا تمہارے لیے کافی اتمام حجت نہیں ہوا (قالُوا اَوَ لَمْ تَکُ تَاْتیکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنات)۔ تو وہ جواب میں”کہیں گے: جی ہاں آئے تھے“( قالُوا بَلی )۔ تو پھر جہنم کے داروغے کہیں گے : ”اب جو چاہو دعا مانگتے رہو لیکن لیکن یاد رکھو کہ کافروں کی دعا کسی مقصد تک نہیں پہنچ پائے گی بلکہ رستے میں ضائع اور نابود ہو جائے گی“(قالُوا فَادْعُوا وَ ما دُعاءُ الْکافرینَ إِلاَّ فی ضَلال)۔ تم خود اس بات کا اعتراض کر رہے ہو کہ اللہ کے رسول تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے لیکن تم نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور کافر ہو گئے لہذا اب جو بھی دعا کرو گے بے سود ہو گی، اور کیونکہ خدا کافروں کی دعا قبول نہیں فرماتا۔ بعض مفسرین نے اس آخری جملے کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم خود دعا کرو کیونکہ ہم خدا کی اجازت کے بغیر کوئی دعا نہیں کر سکتے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ہمیں اس قسم کی اجازت نہیں ہے تو تمہیں یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیئے کہ نجات کے دروازے تم پر بند ہو چکے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ قیامت میں کافر، مؤمن بن جائیں گے لیکن یہ ایمان ان کے آثار کفر میں کسی قسم کی کمی نہیں کرے گا۔ لہذا حسب سابق کافر کے کافر ہی رہیں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: ہم مومنین کی مدد کرتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6چونکہ گزشتہ آیات میں جہنمیوں کے باہمی احتجاج اور گفتگو کا تذکرہ تھا کہ وہ وہاں پر نہ تو ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے اور نہ ہی کوئی دوسر ان کی مدد کو آئے گا۔ پھر ان سے قبل کی آیات میں مؤمنِ آ ل فرعون جیسے مرد مجاہد اور بطل حریت کی داستان اور اسے خدا کی حمایت حاصل ہونے کا ذکر تھا، لہذا زیر تفسیر آیات میں ایک قاعدہ کلیہ کے تحت دنیا و آخرت میں ابنیاءاور مؤمنین کی نصرت کا بیان ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی دنیاوی زندگی میں بھی اور جس دن تمام گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے اس دن بھی مدد کریں گے ( إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا وَ الَّذینَ آمَنُوا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ یَوْمَ یَقُومُ الْاَشْہادُ )۔ ایسی بے دریغ حمایت جس کی مختلف طرح سے تاکیدکی گئی ہے۔ ایسی حمایت جو غیر مشروط ہو گی. اسی لیے تو اس کے پیچھے پیچھے مختلف کامیابیاں بھی ہیں۔ یعنی دلائل و گفتگو میں کامیابی، جنگوں میں کامیابی، مخالفین پر عذاب بھیج کر انہیں نیست و نابود کر دینے کی صورت میں کامیابی اور غیبی امداد بھیج کر دل کو تقویت پہنچانے اور روح کو طاقتور بنانے کی صورت میں کامیابی۔ اس مقام پر ہم ”روز قیامت“کے بارے میں ایک نئی تعبیر دیکھ رہے ہیں اور وہ ہے ”یوم یقوم الاشھاد“( جس دن گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے )۔ ”اشھاد "، "شاھد“یا ”شھید“کی جمع ہے ( جس طرح ”اصحاب“، صاحب کی اور”اشراف“، شریف کی جمع ہے) اور ہر صورت میں گواہ کے معنی میں ہے اور یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ گواہ کون ہیں؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں جن کو ایک جا اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ اس سے مراد انسان کے اعمال پر نگران فرشتے ہیں۔ ۲۔ اس سے مراد انبیاءہیں جو اپنی امتوں کے گواہ ہیں۔ ۳۔ اس سے مراد فرشتے، انبیاءاور مؤمنین ہیں جو مؤمنین کے اعمال کے گواہ ہیں۔ لیکن یہ احتمال کہ انسان کے اعضاء بھی اس فہرست میں شامل ہیں بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ لفظ ”اشھاد“ اگرچہ وسیع معانی کا حامل ہے لیکن ”یوم یقوم الاشھاد“(جس دن گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے) کی تعبیر اس سے مناسب نہیں رکھتی۔ یہ تعبیر ایک دلچسپ نکتے کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور یہ کہنا چاہتی ہے کہ قیامت کا دن وہ دن ہوگا جس میں تمام مخلوق اکٹھی ہو گی اور اس عظیم اجتماع میں گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس مقام کی رسوائی بدترین رسوائی ہو گی جبکہ عزت افزائی اور کامیابی بھی بلند ترین مرتبہ کی ہو گی. ہم اس دن ابنیاءو مرسلین اور مؤمنین کی مدد کریں گے اور اس عظیم اجتماع میں ان کی عزت و آبرو میں چار چاند لگا دیں گے۔ لیکن اس دن رسوائی اور بدبختی کافروں اور ظالموں کا حصّہ ہو گی جیسا کہ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: جس دن کہ ظالموں کی عذر خواہی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی بلکہ خدا کی لعنت ان کے لیے مخصوص ہو گی اور بُرا گھر (اور ٹھکانا) بھی انہی کے لیے ہو گا (یَوْمَ لا یَنْفَعُ الظَّالِمینَ مَعْذِرَتُھُمْ وَ لَھُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَھُمْ سُوءُ الدَّارِ )۔ ایک تو گواہوں کے سامنے عذر خواہی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی بلکہ اس عظیم اور عدیم النظیر اجتماع میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہو گی۔ دوسرے وہ خدا کی رحمت سے دور ہوں گے کیونکہ لعنت کا معنی رحمت سے دوری ہے اور لعنت ان کا دامن پکڑ لے گی۔ اور تیسرے جسمانی لحاظ سے بھی وہ زبردست شکنجے اور عذاب میں گرفتار ہوں گے اور آتش جہنم میں ان کے لیے بدترین ٹھکانا ہو گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خداوند عالم نے اپنے انبیاء اور مؤمنین کے ساتھ کامیابی کا وعدہ کیا ہے اور وہ بھی بڑی تاکید کے ساتھ، تو پھر تاریخ میں ہمیں بے ایمان کفار کے ہاتھوں بہت سے انبیاء اور مؤمن کے قتل کیوں دکھائی دیتے ہیں، وہ بعض اوقات مشکلات میں کیوں پھنس جاتے تھے یا فوجی شکست کا سامنا کیوں کرتے تھے، تو کیا خداوند عالم وعدہ خلافی کرتا ہے؟ اس کا جواب ایک نکتے پر غور کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اور وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا سوچ کا معیار اور پیمانہ بہت محدود ہوتا ہے اور وہ کامیابی کے مفہوم کو اپنے اسی محدود معیار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ کسی کی کامیابی کا راز اسی میں سمجھتے ہیں کہ دشمن کو شکست دے کرچند روزہ دنیاوی حکومت کواپنے قبضہ ٴ قدرت میں لے لیا جائے۔ وہ مقصد میں کامیابی اور مکتب کی بالا دستی کو کامیابی ہی نہیں سمجھتے اور نہ ہی اسے کسی کھاتے میں شمار کرتے ہیں وہ کسی مجاہد شہید کے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ اور اسوہ بن جانے کو کوئی اہمیّت ہی نہیں دیتے. وہ کائنات کے حریت پسندوں کے نزدیک کسی عزت و سربلندی اور خالقِ اکبر کی رضا کے حصول کو تو کوئی چیز ہی نہیں سمجھتے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس محدود سوچ کے حامل افراد کے لیے تو اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے، لیکن اگر سوچ کو بلند اور افق فکری وسیع کیا جائے اور حقیقی اقدار کو مدنظر رکھا جائے تو پھر اس آیت کے حقیقی مفہوم کی تہ تک پہنچ جائیں گے۔ اس مقام پر سیّد قطب نے اپنی ” فی ظلال القراٰن “ میں ایک بہترین بات کہی ہے جو ہمارے مدعا کی بہترین شاہد ہے. وہ کربلا کے ہیروحضرت امام حسین علیہ السلام کی مثال کو پیشِ نظر رکھ کر کہتے ہیں : ” حسین رضوان اللہ علیہ نے اس عظیم میدان اور درد ناک منظر میں شربت شہادت نوش فرمایا آیا یہ فتح تھی یا شکست؟ چھوٹی سوچ اور ظاہری صورت میں تو شکست تھی ، لیکن خالص حقیقت اور وسیع سوچ کے لحاظ سے بہت بڑی کامیابی تھی۔ روئے زمین کے انسانوں کے پاک دل ہر شہید کے لیے لرز جاتے ہیں، ان میں عشق و محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، دلوں میں غیرت اور فداکاری جذبہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حسین ( رضوان اللہ علیہ ) نے یہی کچھ کیا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پر مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنّی متفق ہیں بلکہ غیر مسلمین کی بھی بہت بڑی تعداد کا اس پر اتفاق ہے۔ بہت سے ایسے شہداء ہیں کہ اگر ہزار سال تک بھی زندہ رہتے تو وہ اپنے عقیدے اور مکتب فکر کی اس قدر نصرت کر سکتے، نہ ہی ان تمام عظیم انسانی اقدار کو دلوں میں یادگار کے طور پر چھوڑ سکتے اور نہ ہی ہزاروں لوگوں کو اپنی آخری باتوں سے اس قدر آگاہ اور بیدار کرسکتے جتنا انھوں نے اپنے مقدس خون کے ذریعہ کیا ! جی ہاں وہ آخری باتیں اور خطبات جو انہوں نے اپنے خون کے ذریعے قلم بند کئے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کی جذبہ اور تحرک عطا کرتے رہیں گے بلکہ وہ ہر زمانے میں اس طرح سے تاثیر آفریں رہیں گے کہ پوری تاریخ پر چھائے رہیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال القرآن جلد ۷ ،ص ۱۸۹)۔ سید قطب کی باتوں پر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم شیعہ ہر سال ماہ محرم میں اپنی آنکھوں کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام اور کربلا میں شہید ہونے والے ان کے دوسرے رفقاء کار کی زندگی کے آثار دیکھتے ہیں۔ کس طرح وہ عظیم تحریکوں کا سبب بن جاتے ہیں ؟ ہم نے عاشوراء ِ محرم کے ایام میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے ظلم و استبداد اور استعمار کے ایوانوں کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس ایثار پیشہ اور فداکار نسل کہ جس نے اپنی فداکاری اور ایثارگری کا درس مکتبِ حسین علیہ السلام اور آؐپ علیہ السلام ہی کی یاد گار مجالس سے لیا تھا، نے کس طرح خالی ہاتھوں کے ساتھ دنیا کے طاقتور ترین جابر بادشاہ کو تخت سے نیچے اتار پھینکا۔ جی ہاں ہم نے یہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خون حسین علیہ السلام کس طرح ان کی رگوں میں دوڑا اور انہوں نے دنیا والوں کی قیاس آرائیوں کوکس طرح غلط ثابت کر دیا۔ یہ حسین علیہ السلام اور ان کے اعوان و انصار کی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے کہ تیرہ سو سال گزرنے کے باوجود اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا۔
ایک اور سوال اور اس کا جواب
یہاں پرایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہے ” قیامت کے دن ظالموں کو معذرت طلبی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی “ جب کہ سورہ مرسلات کی آیت ۳۶ میں ہے۔ ” اس دن انہیں عذر خواہی کی بالکل اجازت ہی نہیں دی جائے گی۔“ ولا یوذن لھم فیعتذرون یہ دونوں آیات آپس میں کیسے ہیں آہنگ ہو سکتی ہیں؟ جواب کے لیے دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا چاہیئے۔ پہلا یہ کہ بروز قیامت کچھ مرحلے ہوں گے جن کے حالا ت اور کوائف ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے کہیں پر زبان کام کرنا چھوڑ دے گی اور ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء و جوراح بولنے لگیں گے اور گواہی دیں گے۔ لیکن دوسر ے مرحلوں میں زبان کھول دی جائے گی اور انسان بولنے لگے گا۔ (جیسا کہ سورہ یٰس کی ۶۵ ویں آیت پہلی صورت حال کی اور زیربحث سورت کی گزشتہ آیات جو جہنمیوں کی گفتگو اور احتجاج کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں دوسری صورت حال کے بارے میں اسی مدعا پر شاہد ہیں)۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان بات تو کرتا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ بالکل فضول ہوتی ہے ایسے موقع پر گویا اس نے کوئی بات ہی نہیں کی۔ بنا بریں ” انہیں عذر خواہی کی اجازت نہیں دی جائے “ والا جملہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ ان کی معذرت طلبی بے سود ہو گی۔ پھرقرآن مجید انبیاء کی امداد اور حمایت الہٰی کے زیر سایہ ان کی دشمنوں پر کامیابی کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے موسٰی کو ہدایت عطا کی اور بنی اسرائیل کو آسمانی کتاب (تورت ) کا وارث بنایا (وَ لَقَدْ آتَیْنا مُوسَی الْہُدی وَ اَوْرَثْنا بَنی إِسْرائیلَ الْکِتاب)۔ جو ہدایت خداوند عالم نے جناب موسٰی علیہ السلام کو فرمائی اس کے وسیع معانی ہیں جس میں مقام نبوت اور وحی بھی شامل ہے اور تورات جیسی آسمانی کتاب بھی. نیز وہ ہدایت بھی اس میں شامل ہے جو انجام فرائض کے لے انہیں عطا ہوئی اور وہ معجزات بھی جوان کے اختیار میں تھے۔ ” تورات “ کے بارے میں میراث کی تعبیر اس لیے ہے کہ یہ کتاب بنی اسرائیل کی نسلہانسل میں چلی آتی رہی اگروہ چاہتے تو بغیر کوئی تکلیف اٹھائے اس سے فائدہ اٹھا سکتے تھے. جیسا کہ عام دوسری میراث سے کسی قسم کی زحمت کے بغیر فائدہ اٹھایا جاتا ہے. لیکن انہوں نے اللہ کی اس عظیم نعمت کو ضائع کر دیا۔ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ آسمانی کتاب صاحبان عقل کے لیے ہدایت اور یاد آوری کا سبب تھی (ہُدیً وَ ذِکْری لِاٴُولِی الْاَلْباب) (تشریحی نوٹ:”ھدی وذکرٰی “ ممکن ہے کہ ” مفعول لہ “ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ” مصدر “ بمعنی ” حال “ کے ہو یعنی ” ھادیا و مذکراً لاولی الالباب “ کچھ اور لوگوں نے اور بھی احتمالات کا ذکر پپروردگارا جیسے ” بدل “ یا مبتداء محذوف کی خبر و غیرہ لیکن وہ احتمالات مناسب معلوم نہیں ہوتے)۔ ” ہدایت“ اور ”ذکرٰی “ کا فرق یہ ہے کہ ”ہدایت “ کام کے اوائل میں ہوتی ہے اور” تذکر “ ان مسائل کے سلسلے میں یاد آوری کے طور پر استعمال ہوتا ہے جنہیں پہلے انسان نے سن رکھا ہو اور اس پر ایمان بھی لے آیا ہو لیکن اس وقت انہیں فراموش کر چکا ہو۔ دوسرے لفظوں میں آسمانی کتابیں ہدایت کی آغاز کنندہ بھی ہیں اور اسے جاری رکھنے والی بھی ۔ لیکن ہدایت کے دونوں مراحل میں خواہ وہ اوائل کار میں ہو خواہ پہلے سے جاری ہو فائدہ صرف ”او لو الالباب “ یعنی صاحبان فکر و عقل ہی اٹھا سکتے ہیں نہ کہ عقل و خرد سے عاری، ہٹ دھرم، متعصب اور آنکھوں اور کا نوں سے کام نہ لینے والے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں تین اہم احکام پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام جاری فرمائے گئے ہیں جو درحقیقت عمومی اور ہرایک کے لیے ہیں اگرچہ ان کے لیے خطاب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: صبر اختیار کر کیونکہ خدا کا وعدہ بالکل سچّا (فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ)۔ دشمنوں کے عناد وہٹ دھرمی کے مقابلے میں صبر کر۔ کچھ نادان دوستوں کی نادانی، سستی، سہل انگاری اور دل آزاری کے مقابلے میں صبر کر۔ خواہشات نفسانی اور سرکش ہوس اور غیظ و غضب کے موقع پر صبر۔ خلاصہ تمام مراحل میں آپ کی کامیابی کا راز صرف اور صرف صبر و استقامت میں ہے۔ جان لے کہ خدا نے تیری اور تیری امت کی فتح و کامرانی کے بارے میں جو وعدے کیے ہیں وہ یقینا پورا ہو کر رہیں گے اور وعدہ ٴ الہٰی کی حقانیت پر ایمان ہی تجھے اپنا مشن جاری رکھنے اور اپنے مشن میں سرگرم عمل رکھنے کے لیے استقامت عطا کررہا ہے، اور ہر قسم کی سخت مشکلات کے تحمل کو تجھ پر اور تیری امت کے لیے آسان بنا رہا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صبر کا حکم دیا گیا ہے. کبھی تو مطلق صورت میں جیسا کہ زیر نظر آیت میں ہم پڑھ رہے ہیں اور بعض دوسری آیات میں اور کبھی مخصوص صورت میں مذکور ہوا ہے جیسے سورہ ٴ ق کی ۳۹ ویں آیت میں ہے۔ فاصبر علیٰ مایقولون ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔ ” اپنے ان دوستوں کے ساتھ صبر کر جو (بظاہر غریب ہیں لیکن ) ہر صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں. اور ان سے جدائی اختیار نہ کر“ ( کہف . ۲۸) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآل وسلم اور صدر اسلام کے مؤمنین کو جو کامیابیاں بھی نصیب ہوئی ہیں وہ اسی صبر و استقامت کا نتیجہ تھیں، آج بھی کثیر تعداد میں دشمنوں اور لا تعداد مشکلات میں کامیابی اس کے بغیر ناممکن ہے۔ دوسرے حکم میں فرمایا گیا ہے: اور اپنے گناہوں پر استغفار کر (وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ)۔ یہ یقینی بات ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہونے کی بناء پر کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ قرآن مجید میں اس قسم کی تعبیریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کے بارے میں ان کے لیے بیان ہوئی ہیں جو کسی نسبت کی وجہ سے ہیں. کیونکہ کچھ ایسے کام ہوتے ہیں، جو عام انسانوں کے لیے تو عبادت اور نیکی شمار ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نزدیک گناہ کہلاتے ہیں، کیونکہ (حسنات الابرار سیئات المقربین )۔ ایک لحظے کی غفلت بلکہ ایک اولیٰ چیز کا ترک بھی ان کے لیے مناسب نہیں ہوتا اور ان کے عالی مرتبے اور بلند معرفت کی وجہ سے انہیں ایسی باتوں سے منزہ و مبرا ہونا چا ہیے اور اگر کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ ان پر استغفار کرتے ہیں۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد امت کے گناہوں پر استغفار ہے یا ایسے گناہوں پر جو لوگوں نے پیغمبر صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں انجام دیئے ہیں. یا یہاں پر استغفار، استغفار تعبدی ہے، یہ احتمال بعید نظرآتا ہے. اس سلسلے کے آخری حکم میں فرمایا گیا ہے: اے رب کی تسبیح اور حمد پر عصر اور صبح بجا لائیے (وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَ الْإِبْکار )۔ ” عشی“ کا معنی زوال آفتاب سے غررب آفتاب تک کا درمیانی وقت ہے اور” ابکار“ طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ” عشی “ اور” عصر اور صبح کے ان دو مخصوص اوقات کی طرف اشارہ ہو کہ جن میں انسان اللہ تعالیٰ کی حمد اورتسبیح کی آمادگی رکھتا ہے. کیونکہ یا تو اپنے دنیاوی دھندوں اور کاموں میں مصروف نہیں ہوا ہوتا اور یا پھر انہیں ختم کر چکا ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رات اور دن کے تمام اوقات میں حمد و تسبیح کے دوام کے معنی میں ہو اور اس تعبیر کو ہم اس مثال سے یوں واضح کرتے ہیں کہ ” اس کا صبح و شام دھیان رکھو “ یعنی ہمیشہ دھیان رکھو۔ بعض مفسرین نے اس حمد و تسبیح سے صبح اور عصر کی نمازوں کی طرف یا پھر پنجگانہ نمازوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جبکہ آیت کا مفہوم اس سے بھی وسیع تر ہے اور نمازیں فقط اس کا ایک مصداق بن سکتی ہیں۔ بہرحال یہ تینوں اوامر خود سازی کے جامع ترین اصول اور خدا کے لطف و کرم کے سائے میں بہت بڑی کامیابی کیلئے آمادہ ہونے کا سبب ہیں اور بڑے بڑے مقاصد تک رسائی کے لیے زاد راہ ہیں۔ سب سے پہلے مشکلات اور رکاوٹوں کے مقابلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ ، پھر گناہ اور ہر قسم کی آلودگی سے دل کو پاک اور صاف کرنا اور پھر اسے یاد الہٰی کے ساتھ آراستہ کرنا اور وہ آرائش بھی حمد و تسبیح پروردگار کے ساتھ ، جس کا معنی خدا کو ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ اور مبرا سمجھنا اور اس کے حسن و کمال پر اس کی ستائش اور تعریف کرنا ہے۔ حمد و تسبیح اگرچہ ہوتی تو خالق کے لیے ہے لیکن اس کا پر تو مخلوق پر بھی پڑتا ہے اور اسے بھی عیوب سے پاک اور صفات کمال سے آراستہ کرتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: اندھے اور آنکھوں والے برابر نہیں ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں خد اوند عالم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومخالفین کی ناہنجار باتوں اور ان کے ناپاک منصوبوں کے مقابلے میں صبر و شکیبائی کی دعوت دے رہا تھا۔ زیر نظر آیات میں کفار و مشرکین کے حق کے مقابلے میں جھگڑے کے اسباب پر روشنی ڈال رہا ہے۔ سب سے پہلے آیت میں کہتا ہے: جو لوگ خدا کی آیات کے بارے میں ایسی دلیل و منطق کے بغیر جھگڑا کرتے ہیں جو ان کے پاس خدا کی طرف سے آئی ہو، ان کے سینوں میں تکبر کے سوا کچھ نہیں ہے (إِنَّ الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ بِغَیْرِ سُلْطانٍ اَتاھُمْ إِنْ فی صُدُورِھِمْ إِلاَّ کِبْر)۔ ”مجادلہ“ــــــــــــــــــــ جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں ــــــــــ معنی گفتگو اور بات چیت میں لڑائی جھگڑا اور بغیر دلیل و منطق کے بحث و مباحثہ ہے، ہرچند یہ کبھی وسیع معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور حق اور باطل دونوں قسم کی گفتگو پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور ”بِغَیْرِ سُلْطانٍ اَتاھُمْ“کی تعبیر مجادلہ کے اس معنی کی تاکید ہے جو عموماً استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ”سلطان“ ایسی دلیل اور برہان کو کہتے ہیں جو کسی کے فریق مخالف پر تسلط حاصل کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اور ”اتاھم“کی تعبیران دلائل کی طرف اشارہ ہے جوخداوند عالم کی طرف سے وحی کے ذریعے نازل ہوتی ہیں اور چونکہ حقائق ثابت کرنے کے لیے وحی ہی سب سے زیادہ قابل اطمینان ذریعہ ہوتی ہے اسی لیے اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن ”اٰیات اللہ“کے بارے میں وہ مجادلہ کرتے ہیں ان سے مراد قرآن مجید کی آیات اور معجزے نیز مبداٴ ومعاد سے متعلق گفتگو ہے جسے کبھی تووہ سحر کہتے تھے اور کبھی جنون اور دیوانگی سے تعبیر کیا کرتے تھے اور کبھی ”اساطیر الاوّلین“یا قصّہ پارینہ کا نام دیا کرتے تھے۔ اس طرح سے یہ آیت اس حقیقت پر زندہ گواہ ہے کہ مجادلہ کا اصل منبع اور مرکز تکبر، غرور اور خود پسند ی ہے۔ کیونکہ متکبر اور خود پسند لوگ اپنے آپ ہی کوسب کچھ سمجھتے ہیں اور دوسروں کولائق اعتناءنہیں سمجھتے لہٰذا اپنے افکار کوخواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں حق اور دوسروں کے نظر یات کو خواہ وہ برحق ہی کیوں نہ ہوں باطل سمجھتے ہیں لہذا اپنے باطل نظر یات پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ”اِن“کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مواقع پر اس انحصار کا اصل سبب وہی تکبر، تغوّق اور خود پسندی ہے، وگرنہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر اپنی غلط باتوں پر اس قدر اڑا رہے۔ ”صدور“سے اس مقام پر دلوں کی طرف اشارہ ہے اور دل سے مراد روح، جان اور عقل و فکر ہے جس کا ذکر کئی بات قرآنی آیات میں آیا ہے۔ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں مذکور”کبر“کا معنی ”حسد“کیا ہے اور وہ جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کے مجادلے کا اصل سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری اور روحانی مدارج و کمال اور مقام و مرتبہ سے حسد کو سمجھتے ہیں۔ جبکہ ”کبر“کا لغوی معنی ”حسد“نہیں ہے البتہ ممکن ہے اس کا لازمی حصّہ ہو کیونکہ متکبر اور مغرور لوگ عموماً حاسد بھی ہوتے ہیں اور دنیا بھر کی نعمتیں صرف اپنی ذات کے لیے چاہتے ہیں اور دوسروں کے پاس ہرگز گوارہ نہیں کرتے۔ پھر فرمایا گیا ہے: وہ کبھی اپنے مقصود کو نہیں پا سکیں گے ( ماھم ببالغیہ )۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھیں، دوسروں پر بڑائی جتائیں اور شیخی بگھاریں اور لوگوں پر حکومت کریں لیکن ذلت و رسوائی اور محکم ہونے کے علاوہ انہیں اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا . نہ تو وہ تکبر اور غرور کے مقصد کوپہنچ پائیں گے اور نہ ہی ان کے باطل اور بے بنیاد مجادلے کا مقصد پورا ہو سکے گا کہ حق کو مٹا کر باطل کو اس کے جاگزیں کر لیں۔ (تشریحی نوٹ: "بالغیہ“میں ضمیر کا مرجع کیا چیز ہے ؟ مفسرین نے اس بارے میں دو احتمال ذکر کئے ہیں پہلا ذکر کئے ہیں پہلا یہ کہ شایدیہ ضمیر ”کبر“کی طرف لوٹ رہی ہوکیونکہ ”ماھم ببالغیہ“کا جملہ ”کبر“کی صفت ہے۔ اور پور ے جملے یوں ہو گا ”ما ھم ببالغی مقتضی کبرھم“ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر شاید”جدال“کی طرف لوٹ رہی ہے جو ”یجادلون“کے جملہ میں موجود ہے۔ یعنی وہ اپنے جدال کے مقصد کو نہیں پا سکیں گے کہ جو حق کا مٹانا ہے لیکن اس صورت میں یہ جملہ ”کبر“کی صفت نہیں ہو سکتا . لہذا حرف عطف کوحذف کر کے اسے پہلے جملوں پر عطف کرنا چاہیئے )۔ آیت کے آخر میں خدا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دے رہا ہے مغرور، خود خواہ اور بے منطق لوگوں کے شر سے خدا کی پناہ طلب کریں .فرمایا گیا ہے: اب جبکہ صورت حال یہ ہے تو خدا کی پناءمانگ کیونکہ وہ سننے اور دیکھنے والا ہے (فَاسْتَعِذْ بِاللَّہِ إِنَّہُ ھُوَ السَّمیعُ الْبَصیرُ)۔ وہ ان کی بے بنیاد باتوں کو بھی سنتا ہے اور ان کی سازشوں، چالوں اور برے اعمال کو بھی دیکھتا ہے۔ نہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلکہ راہ حق کے تمام راہی افراد کو لڑاکا اور جھگڑا لوگوں کے کھڑے کئے ہوئے طوفان حوادث میں خدا کی پناہ مانگنا چاہیئے اور خود کو اس کے سپرد کر دینا چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خدا کے باعظمت نبی جناب یوسف علیہ السلام کے کھڑے کئے ہوئے طوفان مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو کہتے ہیں: معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوای ”میں خداکی پناءمانگتا ہوں۔ زیز مصر نے نعمتیں دی ہیں اور میرا مرتبہ بلند کیا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اس سے خیانت کروں“۔ ( یوسف . ۲۳) اس سورت کی گز شتہ آیات میں جناب موسٰی علیہ السلام کی زبانی پڑھ چکے ہیں: انی عذت بربی وربکم من کل متکبر لا یومن بیوم الحساب ”میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں لاتا“ ( مؤمن . ۲۷)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفار کا مجادلہ معاد اور انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو نے کے بارے میں بھی تھا لہذا بعد کی آیت میں نہایت ہی واضح طور پر معاد کے اس مسئلے کو بیان کیا جا رہا ہے کہ ”آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانون کی خلقت سے زیادہ اہم اور بالاتر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“(لَخَلْقُ السَّماواتِ وَ الْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ)۔ جو ذات ان عظیم کروں اور سیع کہکشانوں کو اس عظمت کے ساتھ پیدا کرنے اور پھر انہیں صحیح نظام کے تحت چلانے کی قدرت رکھتی ہے وہ مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے سے کیونکر عاجز اور ناتواں ہو سکتی ہے؟ یہ تو ان لوگوں کی جہالت کی باتیں ہیں جنہیں ان حقائق کے ادراک کی توفیق ہی حاصل نہیں ہوتی ۔ اکثر مفسرین نے تو اس آیت کومعاد کے بارے میں کفار کے مجادلہ کا جواب سمجھا ہے ( بحوالہ: ملاحظہ ہوں تفسیر مجمع البیان ،تفسیر کبیر فخررازی ، تفسیر کشاف زمخشری ،تفسیر روح المعانی ، تفسیر صافی اور روح البیان) لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ان مغرور متکبر ین کے تکبر کا جواب ہے جو خود کو اور اپنے ناقص افکار کو بڑا سمجھتے تھے حالانکہ کائنات کی عظمت کے مقابلے میں وہ ایک ناچیز اور بے مقدار ذرے سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔ آیات کے مفہوم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ معنی بھی چنداں بعید نہیں ہے۔ لیکن بعد کی آیات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پہلامعنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال، اس آیت میں ”باطل مجادلہ“کا ایک اور عامل پیش کیا گیا ہے۔ جو ”جہالت“ ہے جبکہ اس سے پہلی آیات میں تکبر کی بات ہو رہی تھی، چونکہ ان دونوں کا آپس میں قریبی رابط ہے لہذا انہیں یکے بعد دیگر ے بیان کیا گیا ہے کیونکہ کبر و غرور کا سرچشمہ جہالت اور خود سے اور اپنی علم سے عدم آگاہی ہے۔ بعد کی آیت میں ایک واضح تقابل کے ذریعے ان جاہل متکبرین کی کیفیت اور صاحبان علم مؤمنین کی کیفیت کو جدا کر کے بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: اندھا اور انکھوں والا ہرگز برابر نہیں ہوتے ( وَ ما یَسْتَوِی الْاَعْمی وَ الْبَصیرُ )۔ ”اسی طرح جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح انجام دیئے وہ بدکاروں کے برابر نہیں ہیں (وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ لاَ الْمُسیءُ) (تشریحی نوٹ: آیات کی جملہ بندی کے لحاظ سے بادی النظر میں اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ”ولا المسی ء“میں ”لا“کا ذکر نہیں ہونا چاہیئے تھا . لیکن ایک طرف سے نفی کی تاکید اور دوسری طرف سے اس جملے کا مقصود اصلی ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ حر ف کو مکرر لایا جائے. خاص کرجب کوئی جملہ طولانی ہو جائے اور اس کی ابتدا میں نفی آئی ہو تو بعد میں بھی نفی لائی جاتی ہے تاکہ پہلی نفی نظر انداز نہ ہو جائے)۔ لیکن تم اپنی خود خواہی، تکبر اور جہالت کی بناءپر بہت کم توجہ کرتے ہو ( قَلیلاً ما تَتَذَکَّرُون) (تشریحی نوٹ: ”قلیلاً "، "ماتتذ کرون“کے جملہ میں ”ما“زائدہ ہے اور تاکید کے لیے ہے)۔ اندھوں سے مراد وہ بے خبر اور ناآگاہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر کبر و غرور کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں فہم حقائق کی اجازت نہیں دیتے اور آنکھ والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جونور علم اور منطقی استد لال کے پرتو ہیں، حق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں فریق آپس میں برابر ہیں؟ یہ تھا ایمان اور عقیدے کے لحاظ سے، رہا عمل کی رو سے، تو صلح العمل مؤمن افراد، بدکار، مجرم اور گناہ سے آلودہ لوگوں کے کس طرح برابر ہوسکتے ہیں؟ درحقیقت پہلا تقابل علم و آگاہی کے لحاظ سے ہے اور دوسرا اعمال کی رو سے۔ جی ہاں! ”آنکھوں والے“ ایک تو اپنے چھوٹے ہونے کو دیکھتے ہیں اور ادھر دوسری طرف اپنے اطراف میں موجود عظیم کا ئنات کو، اسی لیے وہ اپنی حیثیت اور قدر و قیمت کو پہچانتے ہیں۔ لیکن ”اندھے“نہ تو زمان و مکا ن میں اپنی حیثیت اور قدر و قیمت کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اپنے اطراف کی عظیم کائنات کو دیکھتے ہیں۔ اسی لی ہمیشہ اپنی ذات کی قیمت لگانے میں غلطی کا ارتکا ب کرتے ہیں اور کبرو غرور میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کبر و غرور انہیں برائیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت کے دو جملوں کو آپس میں ملا کر یہ نکتہ بھی حاصل کیاجا سکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح چشم دل کو بینائی عطا کرتے ہیں جبکہ کفر اور بد عملی انسان کے دل کو اندھا کر کے حق اور باطل کی پہچان کی قوت اس سے سلب کرلیتے ہیں۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں دوٹوک انداز میں بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ قیام قیامت کی خبر دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ساعت ( قیامت ) یقینا آ کر رہے گی اس میں تو شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (إِنَّ السَّاعَةَ لَآتِیَةٌ لا رَیْبَ فیہا وَ لکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یُؤْمِنُون)۔ ”لاتیة“میں“ ان“ اور ”لام“نیز ”لا ریب فیھا“سب تاکیدی معنی کے تکرار پردلالت کر رہے ہیں اور یقین کے ساتھ باور کروا ر ہے ہیں کہ قیامت ضرور برپا ہو گی. قرآنی آیات میں اس کے بہت سے دلائل بیان کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر بغیر کسی قسم کی دلیل ذکر کئے ایک قطعی اور یقینی امر کے طور پر اس کا تذکرہ ہے لہذا یہ بھی انہی مقامات میں سے ایک ہے۔ ”راغب“ اپنی کتاب ”مفردات“میں کہتے ہیں کہ ”ساعة“کا اصل معنی ”زمانے کے اجزاءمیں سے ایک جزء“ ہے اور چونکہ قیامت کا جلد و قوع اور اس دن بنی آدم کے اعمال کا حساب و کتاب جلد نمٹا دیاجائے گا لہذا اسے ”ساعة“کا نام دیا گیا ہے۔ یہی تعبیر قرآن مجید میں بیسیوں مرتبہ ذکر ہوئی ہے البتہ کہیں پر توخود قیامت کے بارے میں ہے اور کہیں پر اس دنیا کے اختیار اور قیام کے مقدمات کے بارے میں، تو چونکہ دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کار ابط ہے اور دونوں ہی ناگہانی طور پر وقوع پذ یر ہوں گے لہذا دونوں کو ”ساعة“کہا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: قیامت کو ”ساعة“سے موسوم کرنے کے بارے میں ہم مفصل بحث تفسیر نمونہ کی جلد ۱۶ (سورہ ٴ روم کی آیت ۱۲ کی تفسیر ) میں کر چکے ہیں)۔ اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ”اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے“ اس وجہ سے نہیں کہ قیامت کا مسئلہ کوئی مخفی اور مبہم چیز ہے بلکہ انکار قیامت کے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ دنیا میں مادر پدر آزادی کے ساتھ غیر مشروط طور پر ہر قسم کی ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی کے مزے لوٹے اسی لیے بھی اور اس وجہ سے بھی کہ لمبی چوڑی آرزوئیں اس بات سے مانع ہو جاتی ہیں کہ انسان قیامت کے بارے میں کچھ سوچ سکے اور اس پر ایمان لے آئے۔ مغرور یہودی
مغرور یہودی
بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت کی شان نزول یہ بتائی ہے کہ ”یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ عنقریب ”مسیح دجال“ظہور کرے گا اور ہم اس کی امداد کریں گے تاکہ وہ محمد اور اس کے ساتھیوں کی سرکوبی کرے اور ہمیں ان کے ہاتھوں سے نجات مل جائے گی اور ہم چین کی زندگی بسر کریں گے (بحؤالہ: تفسیر مجمع البیان جلد۸ ،ص ۵۲۸ انہی آیات کے ذیل میں)۔ اس عبار ت کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اس طرح سے حضرت ”عیسٰی علیہ السلام“کے ظہور اور ان کے ”دجال“پر غالب آ جانے کو بیان کرنا چاہتے تھے کہ جس کا انہیں انتظار تھا اور وہ مسیح علیہ السلام کو اپنے سے جتانا چاہتے تھے اور دجال کا انطباق نعوذ باللہ وہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کرنا چاہتے تھے۔ دوسرا معنی یہ کہ وہ صحیح معنوں میں ”دجال“کے انتظار میں تھے اور اسے اپنے میں سے سمجھتے تھے۔ کیونکہ جیسا کہ راغب نے ”مفردات“میں اور ابن منظور نے ”لسان العرب“میں ”مسیح“کے کلمہ کے متعلق تصریح کی ہے کہ یہ کلمہ حضرت ”عیسٰی“علیہ السلام پر بھی بولا جاتا ہے اور ”دجال“پر بھی جناب عیسٰی علیہ السلام پر یا تو اس لیے کیونکہ وہ زمین میں سیر و سیاحت کیا کرتے تھے، یا پھر اس لیے کیونکہ وہ بیماروں پر ہاتھ پھیر کر انہیں خدا شفا عطا فرمایا کرتے تھے اور ”دجال“پر اس لیے کہ اس کی صرف ایک آنکھ ہے اور دوسری آنکھ کی جگہ ”ممسوح“یعنی ”صاف“ ہے۔ احتمال یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے بعد یہودیوں کو جو پے در پے شکستیں ہوئیں وہ اس سخت پریشان تھے اور جھلا گئے تھے لہذا وہ جھوٹے اور فریبی شخص یعنی ”کا انتظار کرنے لگے تاکہ وہ آئے اور لوگ اس کے ہمنوا ہو کر پیغمبرؐ اور ان کے ساتھیوں سے اپنی جان چھڑائیں اور سکھ کا سانس لیں۔ یا پھر وہ حضرت عیسٰی مسیح علیہ السلام کا انتظار کرنے لگے۔ جیسا کہ ”قاموس مقدس“سے پتہ چلتا ہے کہ صرف عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے انتظار میں نہیں ہیں یہودی بھی ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام، دجال کے ساتھ جنگ کریں گے اور اسے مار مار کر فنا کر دیں گے اور وہ اپنا یہ عقیدہ ظہور اسلام پر منطبق کرنا چاہتے تھے۔ بہرحال، بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی اس شانِ نزول کو اس امر پر دلیل سمجھا ہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ برخلاف سور ت کی دوسری آیات کے جو سب کی سب مکی ہیں۔ لیکن چونکہ اصل شانِ نزول ثابت نہیں نیز اس کا مفہوم بھی کچھ مبہم سا ہے لہذا یہ نتیجہ نکالنا قابل قبول نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مجھے پکارو
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں بے ایمان، متکبر اور مغرور لوگوں کے بارے میں کچھ تہدید کا ذکر تھا۔ ان آیات میں پروردگار اپنے لطف و کرم کے ساتھ توبہ کرنے والوں کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول رہا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: تمہارے پرو ردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو تاکہ مین ( تمہارری دعا کو ) قبول کروں (وَ قالَ رَبُّکُمُ ادْعُونی اَسْتَجِبْ لَکُم) بہت سے مفسرین نے یہاں پر دعا اور پکارنے کی اسی اپنے مشہور معنی میں تفسیر کی ہے اسی طرح ”اَسْتَجِبْ لَکُم“کی. اسی طرح اسی آیت کے ذیل میں دعا اور اس کے ثواب کے بارے میں بھی متعدد روایات وارد ہوئیں جن کی طرف ہم آگے چل کر اشارہ کریں گے۔ وہ بھی اسی معنی کی گواہ ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے مشہور مفسر قرآن عبداللہ بن عباس کی پیروی کرتے ہوئے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ یہاں پر ”دعا“کا معنی توحید اور پروردگار کی عبادت ہے یعنی ”میری عبادت کرو اور میری وحدانیت کا اقرار کرو“. لیکن بظاہر وہی پہلی تفسیر بہتر ہے۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت سے چند نکا ت کا استفادہ کیا جا سکتا ہے: ۱۔ دعا کرنا خدا کی پسند یدہ بات ہے اورخود اس کی اپنی منشاءہے۔ ۲۔ دعا کے بعد قبولیت کا وعدہ کیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے نہ کہ مطلق . وہی دعا قابل قبول ہو گی جس میں ”دعا“کی، دعا کرنے والوں کی اور ”دعا میں طلب کئے جانے والی چیزوں“کی شرائط جمع ہوں اور ہم نے اس موضوع کو فلسفہ دعا اور اس کے حقیقی مفہوم کے عنوان سے سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں مفصل طور پر بیان فرمایا ہے اسے یہاں پر دہرانے کی ضرورت نہیں (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد اول)۔ ۳۔ دعا بذات خود ایک قسم کی عبادت ہے کیونکہ آیت میں اس کے لیے یہ لفظ آیا ہے۔ اسی آیت میں ان لوگوں کوسخت متنبہ کیا گیا ہے جودعا نہیں کرتے فرمایا گیا ہے: جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ بہت جلد ذلت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے (إِنَّ الَّذینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبادَتی سَیَدْخُلُونَ جَھَنَّمَ داخِرین) (تشریحی نوٹ:”داخر "، "دخو ر“کے مادہ سے ہے جس کا معنی ذلت اور خواری ہے اور یہ ذلت و خواری سی تکبر اور غرور کی سزا ہو گی)۔
دعا کی اہمیت اور قبولیت کی شرائط
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے متعدد روایات منقول ہوئی ہیں جو دعا کی اہمیت کو اچھی طرح واضح کرتی ہیں، مثلاً : ۱۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : الدعاءھو العبادة ” دعا عبادت ہی تو ہے“( بحوالہ: مجمع البیان جلد ۸ ،ص ۵۲۸) ۔ ۲۔ ایک اورحدیث میں ہے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے آپ علیہ السلام کے ایک صحابی نے سوال کیا: ما تقول فی رجلین دخلا المسجد جمیعاً کان احدھما اکثر صلاة والاخر دعاء، فایھما افضل ؟ قال کل حسن آپ ان دو لوگوں کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں جومسجد میں داخل ہوں ایک بہت زیادہ نمازیں بجالائے اور دوسرا بہت زیادہ دعا کرے توان دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ امام علیہ السلا م نے فرمایا : دونوں اچھے ہیں۔ سائل نے پھر عرض کیا : قد علمت، ولکن ایھما افضل ؟ جانتا تومیں بھی ہوں کہ دونوں اچھے ہیں، لیکن یہ فرمائیے کہ ان میں سے افضل کون ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : اکثرھما دعاء، اما تسمع قول اللہ تعالیٰ ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین جوشخص زیادہ دعا مانگتا ہے وہی افضل ہے، کیا تم نے خداوند متعال کا یہ فرمان نہیں سنا ادعونی استجب لکم ... آپھر آپ علیہ السلام نے فرمایا : ھی العبادة الکبری دعا بہت بڑی عبادت ہے (( بحوالہ:مجمع البیان جلد ۸ ،ص ۵۲۹)۔ ۳۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کونسی عبادت افضل ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : ما من شیء افضل عند اللہ من ان یسئل ویطلب مما عندہ و ما احد ابغض الی اللہ عزو جل ممن یستکبر عن عبادتہ و لا یسئل ماعندہ کوئی چیز خدا کے نزدیک اس بات سے افضل نہیں ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس میں سے طلب کیا جائے اورخدا کے نزدیک اُس سے بڑھ کرمبغوض اور قابل نفرت کوئی نہیں ہے جو اس کی عبادت سے متکبرانہ سرتابی کرتا ہے اور اس سے بخشش کی درخواست نہیں کرتا ۔(بحوالہ: کافی جلد ۲ ”باب فضل الد عاءوالحث علیہ“ص ۳۳۸ ۔ ۴۔ حضرت اما م جعفرصادق علیہ السلام کی ایک روایت میں ہے: ان عند اللہ عزو جل منزلة لاتنال الا بمساٴلة ، ولو ان عبداً سدّ فاہ ولم یسئل لم یعط شیئا، فاسئل تعط، انہ لیس من باب یقرع الا یوشک ان یفتح لصاحبہ خدا کے نزدیک کچھ مقامات ایسے ہیں جن تک دعا اور در خواست کے بغیر رسائی ناممکن ہے اگر کوئی بندہ دعا کرنے سے اپنا منہ بند کرے اور اس سے کسی چیز کی درخواست نہ کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا . لہذا خدا سے مانگو تاکہ تمہیں ملے کیونکہ جو دروازہ بھی اصرار کے ساتھ کھٹکھٹایا جائے آخرکار کھول دیا جاتا ہے ( بحوالہ: کافی جلد ۲ ”باب فضل الد عاءوالحث علیہ“ص ۳۳۸)۔ ۵۔ بعض روایات میں دعا مانگنے کوتو قرآن پاک کی تلاوت سے بھی افضل شمار کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس سلسلے میں پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: الدعاء افضل من قرائة القراٰن دعا مانگنا قرائت قرآن سے بھی افضل ہے ( بحوالہ: ”مکار م الاخلاق ( منقول از تفسیر ”المیزان“جلد ۲ ،ص ۳۴ سورہ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں )۔ ایک مختصر سے تجزیہ و تحلیل کے ذریعے ان تمام احادیث کے اصل فوائد اور مقاصد تک پہنچا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ ۱۔ دعاانسان کو معرفت خدا کی طرف دعوت دیتی ہے جو ہرانسان کا بہترین سرمایہ ہے۔ ۲۔ دعا اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان اپنے آپ کوخدا کا محتاج سمجھے اور اس کے سامنے جھک جائے اور تکبروغرور کو ترک کر دے کو جو ہر قسم کی شقاوتوں، بدبختیوں اور آیات خدا میں مجادلہ کرنے کا منبع و مرکز اور سرچشمہ ہے اور اس کی ذات پاک کے سامنے اپنے آپ بالکل ہیچ سمجھے۔ ۳۔ انسان تما م نعمتوں کی عطا و بخشش خدا کی ذات سے سمجھے اور اسی کے ساتھ محبت کرے جس سے اس کی محبت کے رشتے اور محکم ہوں گے۔ ۴۔ دعا کرنے والا چونکہ خود کو ضرورت مند اور خدا کی نعمتوں کا مرہون منت جانتا ہے لہٰذا وہ اپنے تئین اس کے احکام کا پابند بھی سمجھتا ہے۔ ۵۔ دعا کرنے والا چونکہ جانتا ہے کہ دعا کی قبولیت غیر مشروط نہیں ہے بلکہ خلوص دل اور صفائے قلب نیز گناہوں سے توبہ اور ضرورت مندوں اور دوستوں کی حاجات کو پورا کرنا اس کے شرائط میں سے ہے، لہذا خود سازی کرتا ہے اور اپنی تربیت کے لیے قدم اٹھاتا ہے۔ ۶۔ دعا، انسان کو خود اعتماد ی کا درس دیتی ہے مایوس اور ناامید ہونے سے بچاتی ہے اور مزید سعی و کوشش کی دعوت دیتی ہے ( بحوالہ: دعا اور اس کے فلسفہ و شرائط کے بارے میں تفسیر نمونہ کی دیگر جلدوں میں بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے ملاحظہ ہوجلد ۱۵ سورہٴ فر قان کی آیت ۷۷ ، نیز جلد ۶ میں بھی مطالب اورسب سے زیادہ تفصیل جلد اوّل میں موجود ہے)۔ اس تفصیلی گفتگو کے آخر میں ایک نہایت ہی اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ احادیث کے مطابق دعا ایسے مقامات کے ساتھ مخصوص ہے جب انسان کی تمام کوششیں بےکار ہو جائیں یا دوسرے لفظوں میں جو انسان کے بس میں ہے اس حد تک کوشش کرے اور باقی خدا سے طلب کرے. لہذا اگر انسان دعا کوشش کی جگہ لے آئے اور ہر قسم کی تگ و دو سے ہاتھ اٹھالے صرف دعا پر ہی اکتفا کر لے دعا قطعاً مستجاب نہ ہو گی. یہی وجہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے: اربعة لا تستجاب لھم دعوة، رجل جالس فی بیتہ یقول: اللھم ارز قنی، فیقال لہ الم امرک بالطلب؟ و رجل کا نت لہ امراٴة فدعا علیھا، فیقال لہ: الم اجعل امرھا الیک؟ ورجل کا ن لہ مال فافسدہ ، فیقول: اللھم ارزقنی، فیقال لہ: الم امرک بالاقتصاد؟ الم امرک بالاصلاح؟ ورجل کا ن لہ ما ل فادانہ بغیر بینة، فیقال لہ: الم اٰمرک بالشھادة چار قسم کے افراد ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں ہوتی. ایک وہ جو گھر میں بیٹھ کردعا مانگے خداوند ا! مجھے رزق عطا فرما، تو اسے کہا جاتا ہے: آیا میں نے تجھے تلاش کرنے کا حکم نہیں دیا ؟ دوسرا وہ جس کی بیوی ( اسے ہر وقت ستاتی رہتی ) ہو اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بد دعا کرے تو اسے کہا جاتا ہے آیا میں نے اس کی طلاق کا حق تجھے نہیں دیا ؟ تیسرا وہ جو اپنے مال کو فضول خرچی میں ضائع کر ڈالے پھر کہے خداوندا ! مجھے رزق عطا فرما ! تو اسے کہا جاتا ہے کہ آیا میں نے تجھے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ؟ کیا میں نے تجھے مال کی اصلاح کا حکم نہیں دیا ؟ اور چوتھا وہ جس کے پاس مال ہو اور وہ بغیر کسی کو گواہ ٹھہرائے کسی کو قرض دے ( اور قرض لینے والا مکر جائے اور قرض دینے والا دعا مانگے خدایا ! اس کے دل کو نرم بنا تاکہ میرا قرض واپس کرے ) تو اسے کہا جاتا ہے کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ قرض دیتے وقت گواہ ٹھہرا لیا کرو ( بحوالہ: ۹۔ اصول کافی جلد دوم ”باب من الا یستجاب لہ دعوة“حدیث ۲)۔ ظاہر ہے کہ ایسے مواقع پرانسان نے بھر پور کوشش سے کام نہیں لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے مصائب میں گرفتار ہو گیا اور اس کوتاہی، تقصیر اورسستی کے نتیجے میں اس کی دعا بھی مستجاب نہیں ہو گی۔ یہیں پرسے بہت سی دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ کا پتہ چل جاتا ہے، کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو سعی و کوشش کے بغیر صرف دعا سے کام چلانا چاہتے ہیں، لیکن خدائی طریقہٴ کار یہ ہے کہ ایسی دعا کبھی قبول نہیں ہوتی۔ البتہ دعا کی عدم قبولیت کے کچھ اور اسباب بھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے ہے کہ بہت سے مواقع پر انسان اپنے نفع اور نقصان کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے بہت دعا مانگتا ہے جبکہ اس کی قبولیت کسی بھی صورت میں اس کے مفاد میں نہیں ہوتی حتٰی کہ ممکن ہے کہ وہ خود بھی بعد میں اس چیز سے واقف ہو جائے. اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ بعض اوقات کوئی بیمار بچہ اپنی دیکھ بھا ل کرنے والوں سے رنگ برنگی غذائیں طلب کرتا ہے۔ اگر اس کی بات مان لی جائے تو اس کی جان خطر ے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہذا اس قسم کے مواقع پر خداوند رحمان و رحیم اس کی دعا کو دنیا میں شرف اجابت نہیں بخشتا بلکہ اس کے لیے آخرت میں ذ خیرہ کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دعا کی قبولیت کی کچھ شرطیں ہیں جو قرآنی آیات اور احادیث میں بیان ہوئی ہیں جن کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔
دعا قبول کیوں نہیں ہوتی؟
بعض روایات میں بہت سے ایسے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو دعا کی قبولیت سے مانع ہوتے ہیں. جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں بری نیت، نماز کو دیر سے ادا کرنا ، بد زبانی ، حرام غذا اور راہ خدا میں صدقہ وخیرات وغیرہ نہ دینا (بحوالہ: معانی الاخبار؛ منقول از تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۴ ۵۳ اور اصول کافی )۔ ہم اپنی اس گفتگو کوحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے مندرجہ ذیل معنی خیز فرمان پرختم کرتے ہیں، جسے مرحوم طبرسی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”احتجاج“ میں نقل کیا ہے: انہ سئل الیس یقول اللہ ادعونی استجب لکم ؟ و قد نری المضطر یدعوہ ولایجاب لہ، والمظلوم یستنصرہ علی عدوہ فلا ینصرہ ، قال ویحک ما یدعوہ احد الا استجاب لہ، اما الظالم فدعائہ مردود الی ان یتوب واما المحق فاذا دعا استجاب لہ وصرف عنہ البلاء من حیث لایعلمہ، او ادخر لہ ثواباً جزیلا لیوم حاجتہ الیہ، وان لم یکن الامر الذ ی سئل العبد خیراً لہ ان اعطا ہ امسک عنہ کسی نے آپ سے سوال کیا کہ آیا خدا نہیں فرماتا کہ تم مجھ سے دعا مانگوں میں قبول کروں گا، جبکہ ہم مضطر اور بے چار ے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ دعا مانگتے ہیں لیکن ان کی یہ دعا قبول نہیں ہوتی. مظلوموں کو دیکھتے ہیں کہ دشمن کے خلاف خدا سے کامیابی کی دعا مانگتے ہیں مگر خدا ان کی مدد نہیں کرتا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا، تجھ پر افسوس ہے۔ کوئی ایسا شخص نہیں جو اُسے پکارے اورخدا اس کی دعا قبول نہ کرے لیکن ظالم کی دعا اس وقت تک قبول نہیں ہو گی جب تک وہ توبہ نہ کر لے اور مستحق جب بھی دعا مانگے قبول ہوتی ہے اور اللہ اس سے بلائیں اس طرح دور کر دیتا ہے کہ خود سے بھی علم نہیں ہوتا یا پھر اس کی ضرورت کے دن ( بر وز قیامت ) کے لیے، ذخیرہ کردیتا ہے۔ اورجب بندے کسی چیز کا تقاضہ کرتے ہیں اور اس میں مصلحت نہیں ہوتی توخدا وہ اس سے روک لیتا ہے ( بحوالہ: تفسیر صافی انہی آیات کے ذیل میں)۔ چونکہ دعا اور خدا سے درخواست اس کی معرفت کی ایک شاخ ہے لہٰذا بعد کی آیت میں ان حقائق کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جوانسان کی سطح معرفت کو بالا کر دیتے ہیں اور اجابت دعا کی شرائط میں سے ایک شرط کو بیان کیا جا رہا ہے جس سے قبولیت دعا کی امید کو تقویت ملتی ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ خدا تو وہ ہے جس نے رات تمہارے لیے پیدا کی تاکہ تم اس میں آرام کرو ( اللہ الذی جعل لکم اللیل لتسکنوا فیہ )۔ کیونکہ ایک تو رات کی تاریکی اس بات کا موجب بنتی ہے کہ انسان کو مجبوراً اپنے دن کے کاموں کو بند کرنا پڑ تا ہے دوسرے خود یہی تاریکی بدن ،روح اور اعصاءکے آرام کا سبب بنتی ہے۔ جبکہ روشنی تحرک اور فعالیت کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے فوراً آیت میں فرمایا گیا ہے: اور دن کوروشنی عطا کرنے والا بنایا ہے ( والنھار مبصراً )۔ تاکہ انسان کے حیاتیاتی ماحول کوروشن کر کے اسے سرگرمی کے لیے آمادہ کرے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ”مبصر“کا معنی ہے ”دیکھنے والا“اور دن کی اس صفت کا بیان درحقیقت لوگوں کے بینا کرنے کے لیے ایک قسم کی تاکید اور مبالغہ (تشریحی نوٹ: نور و ظلمت اور روزی وشب کے اسرار و فلسفہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۱۶ ،جلد ۱۵ ، اورجلد ۸، میں بالتر تیب سورہٴ قصص کی آیت ۷۱ ،سورہ نمل کی آیت ۸۶ اور سورہٴ یونس کی آیت ۸۷ کے ذیل میں گفتگو کی گئی ہے)۔ پھر اضافہ کیا گیا ہے: خد ا لوگوں کے بارے میں صاحب فضل و کرم ہے، ہر چند کہ اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ( إِنَّ اللَّہَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یَشْکُرُونَ)۔ روز شب کا یہ جچا تلا نظام اور نور و ظلمت کا باری کے مطابق آنا جانا خداوند عالم کے اپنے بندوں پر فضل و کرم کا ایک نمونہ اور انسان اور دیگر اشیاءکی زندگی کا ایک مؤثر عامل ہے۔ اگر روشنی نہ ہوتی توحیات اور تحرک کا وجود نہ ہوتا، اگر باری کے مطابق تاریکی نہ ہوتی تو نور کی شدت تمام موجودات کو تھکا کر ناتواں اور فرسودہ کر دیتی، نباتات کو جلا کر بھسم کر دیتی لیکن اکثر لوگ قدرت کی ان عظیم نعمات سے بے پرواہ ہو کر گزر جاتے ہیں اور اس کا شکر بجا نہیں لاتے۔ قاعدے کی روسے دوسرے ”الناس“ک بجائے ضمیر ہونی چاہیے تھی اور ”ولٰکن اکثر ھم لایشکرو ن“کہنا چاہیئے تھا لیکن ضمیر کے بجائے ”الناس“کا ذکر گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ( غیر تربیت یافتہ ) انسان کی طبع ہی کفران نعمت ہے، جیسا کہ سورہ ابراہیم کی آیت ۳۴ میں بھی ہے: انّ الانسان لظلوم کفار ۔ انسان بہت ہی ظالم اور بڑا ناشکرا ہے ( بحوالہ: تفسیر المیزان اور تفسیر روح المعانی انہی آیات کے ذیل میں)۔ لیکن اگر انسان کی بینا آنکھیں اور دانا قلب ہوں جو خداوند عالم کے ہر جگہ بچھے خوان نعمت کو اور اس کے بے حساب باران رحمت کو ملاحظہ کریں جو ہر جگہ پہنچ چکی ہے تو زبان سے بیساختہ خدا کی حمد و شکر بجا لائے اور اپنے آپ کو خدا کی عظمت و رحمت کے سامنے حقیر و پست اور اس کی رحمت کا مرہون سمجھے ( بحوالہ: "شکر“کے معنی اور اس کی قسموں کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد۱۰ (سورہ ابراہیم کی آیت ۷ کے ذیل ) میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔ بعد کی آیت پروردگار کی توحید ربوبیت سے شروع ہو کر اس کی توحید خالقیت و ربوبیت پر ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : جس نے تمہیں یہ تمام نعمتیں عنایت فرمائی ہیں وہی وہ خدا ہے جو تمہارا مالک اور مربی ہے ( ذالکم اللہ ربکم )۔ وہی خدا ہے جو ہرچیز کا خالق ہے ( خالق کل شیء)۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( لاالٰہ الاّ ھو )۔ درحقیقت خدا کی بے انتہا نعمتیں اس کے رب اور مدبر ہونے پر دلالت کرتی ہیں. اور ہر چیز کا خالق ہونا اس کی ربوبیت میں وحدانیت کی ایک اور دلیل ہے کیونکہ اشیاءکا خالق ہی ان کام مالک اور مربی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم کی خالقیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس نے عالم کی تمام موجودات کو پیدا کر کے خود کنارہ کشی اختیار کر لی. ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہرہر لمحے اس کی ذات کا فیض کائنات کی ہرایک چیز تک پہنچ رہا ہے اور اس قسم کی خالقیت اس کی ربوبیت سے قطعاً جدا نہیں ہے۔ ظاہر ہے ایسی ذات ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی لیے ”خالق کل شیء، کا جملہ ”ذالکم اللہ ربکم“کی دلیل کے مانند ہے اور”لاالٰہ الاّ ھو“اس کے نتیجے کی طرح (غورکیجئے گا )۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: تو ایسی صور ت میں تم کس طرح راہ حق سے منحرف ہو سکتے ہو ( فانّٰی تو فکون ) ( بحوالہ: ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ ”تئو فکون "، "افک“کے مادہ سے ہے جس کا معنی حق کے راتے سے بھٹک جانا اور منحرف ہوجانا ہے اور اگر مخالف ہواؤں کو ”مئو تفکا ت“کہاجاتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے اور جھوٹ کو ”افک“کہتے ہیں تو اس لیے کہ وہ بیان حق سے منحرف ہوتا ہے )۔ اور کیوں خداوند وحدہ لا شریک کوچھوڑ کر بتوں کی عبادت بجا لاتے ہو؟ خیال رہے کہ ”تئو فکون“صیغہ مجہول کی صورت میں آیا ہے۔ یعنی تمہیں حق کے رستے سے منحرف کرتے ہیں، گویا بت پرست اس قدر بے اختیار و بے ارادہ ہیں کہ اس راہ میں ان کا اپنا کوئی ارادہ اور اختیار نہیں ہوتا ۔ زیر تفسیر آیات کے سلسلہ کی آخر ی آیت گزشتہ مطالب کی وضاحت اور تاکید کی صورت میں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں اسی طرح حق کے راستے سے منحرف ہو جاتے ہیں (کَذلِکَ یُؤْفَکُ الَّذینَ کا نُوا بِآیاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ)۔ ”یَجْحَدُونَ "، "جحد“کے مادہ سے ہے جس کا اصل معنی ایسی چیز کا انکار ہے جو دل میں ہوتی ہے یعنی انسان کسی چیز کا اعتقاد تو رکھتے لیکن ساتھ ہی اس کی نفی بھی کرے، یا کسی چیز کی نفی کا عقیدہ رکھتا ہو لیکن زبان سے اسکا اثبات کرے. بخیل اور کنجوس لوگوں کو”جحد“کہتے ہیں جو عموماً اپنی غربت کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور”ارض جحد ة“اس زمین کو کہتے ہیں جس میں نباتات بہت کم اگیں ( بحوالہ: مفردات راغب مادہ ”جحد“)۔ بعض دیگر صاحبان لغت نے ”جحد“اور ”جحود“کی یوں تفسیر کی ہے: الجحود الانکار مع العلم جحود ایسے انکار کو کہتے ہیں جس کا علم ہوتا ہے ( بحوالہ: صاحب لسان العرب نے اس تعریف کوجوہری سے نقل کیا ہے )۔ پس بنا بریں جحد کے مفہوم میں حق کے مقابلے میں ایک قسم کی ہٹ دھرمی اور عناد پوشیدہ ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے جو شخص حقائق کا ان صفات کے ساتھ سامنا کرے گا اس کا انجام راہ حق سے انحراف کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب تک انسان حق جو، حق خواہ اور حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر نے والا نہ ہو حق اور حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی لیے حق تک رسائی کے لیے پہلے سے خود سازی کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی کو ایمان سے پہلے تقویٰ کا نام دیا جاتا ہے جس کی طرف قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدًی للمتقین اس آسمانی کتاب میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ متقین کے لیے سرمایہٴ ہدایت ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: یہ ہے تمہارا رب
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں بھی گزشتہ آیات کی طرح اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بندوں کے شامل حال ہیں تاکہ ایک تو ان بندوں کو بیشتر آگاہی سے بہرہ مند کریں اور دوسرے ان کے دل میں امید کا اضافہ کریں تاکہ اس طرح سے وہ دعا کرنے کے اہل ہو کر قبولیت کی نعمت سے مالا مال ہو جائیں ۔ یہ نکتہ بھی دلچسپ ہے کہ گزشتہ آیات میں زمان سے متعلق نعمتوں یعنی رات اور دن کا تذکرہ تھا، اور یہاں پر مکان سے تعلق نعمتوں یعنی زمین کے آرام کی جگہ ہونے اور آسمان کے بلند چھت ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ فرمایا گیا ہے: خدا تو وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو آرام اور اطمینان کی جگہ بنایا ہے (اللَّہُ الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَراراً )۔ جی ہاں اس نے کرہٴ زمین پر وہ تمام شرائط پوری کر دی ہیں جو کسی قابل اطمینان و سکون جگہ کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ایک پائیدار اور ہر قسم کے ہچکولے سے خالی، انسان کی روح و جسم سے بالکل ہم آہنگ، مختلف چیزوں کے نکا لنے کا مرکز، ضرورت کی تمام چیزوں پر مشتمل وسیع و عریض، مفت اور مباح ۔ پھر فرمایا گیا ہے: اور آسمان کو چھت اور گنبد کے مانند تمہارے سر پر قرار دیا ہے ( وَ السَّماءَ بِناءً )۔ ”بناء“جیسا کہ ابن منظور”لسان العرب“میں لکھتے ہیں : ان گھروں کو کہتے ہیں جن سے بادیہ نشین عرب استفادہ کرتے ہیں جیسے خیمے اور سائبان وغیرہ ۔ کیسی دلچسپ تعبیر ہے کہ آسمان کو ایسے خیمے سے تشبیہ دی گئی ہے جس نے زمین کو گھیر رکھا ہے۔ البتہ یہاں پر ”آسمان“سے زیادہ تر مراد وہی وسیع معنوں میں فضاءہے جس نے چاروں طرف سے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ایک خیمے کے مانند تمام کرہٴ ارضی کو گھیرا ہوا ہے۔ خدا کا یہ عظیم خیمہ ایک تو تمازت آفتاب سے بچاتا ہے اور سورج کی روشنی کی شدت کم کر دیتا ہے۔ اگر یہ سائبان نہ ہوتا تو سورج کی اور دوسری فضائی شعائیں روئے زمین پر کسی بھی چیز کو زندہ باقی نہ رہنے دیتیں۔ یہی وجہ ہے کہ فضاءنورد مجبور ہیں کہ ان شعاعوں سے بچنے کے لیے ہمیشہ مخصوص لباس میں رہیں جو ایک تو سنگین ہوتا ہے اور دوسرے گراں قیمت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سائبان ان آسمانی پتھروں کو بھی زمین پر گرنے سے روکتا ہے جو ہمیشہ کوہٴ ارضی کی طرف کھینچ آتے ہیں کیونکہ یہی پتھر جب پہلی بار آسمان سے ٹکراتے ہیں تو بڑی تیزی میں ہوتے ہیں اور نہایت زور سے آ کر ٹکراتے ہیں تو جل کر بھسم ہو جاتے ہیں اور ان کی خاکستر آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھتی رہتی ہے۔ اور یہ وہی چیز ہے جسے سورہ انبیاءکی آیت ۳۲ میں ”سقف محفوظ“سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ”و جعلنا السماء سقفاً محفوظاً“ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد ۳ مذکورہ آیت کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں)۔ اس کے بعد”آفاقی آیات“سے ”انفسی آیات“کو بیان فرماتے ہوئے کہتا ہے: وہ خدا تو وہی ہے جس نے تمہاری صورتیں بنائی ہیں اور تمہاری کیا خوبصورت تصویریں بنائی ہیں( وَ صَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُم)۔ قامت میانہ اور سیدھی، صورت زیبا اور دلکش جسے نہایت ہی نظم کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔ جسے پہلی نظر دیکھتے ہی دوسرے موجودات اور حیوانات سے نمایاں فرق معلوم ہوتا ہے۔ اس کی یہی فزیکل ساخت اس کے لیے اس بات کا سبب بنتی ہے کہ وہ مختلف کاموں کو سر انجام دے اور نفیس یا بھاری مصنوعات ایجاد کرے اور مختلف اعضاءکی بناءپر آرام سے زندگی بسر کرے اور زندگی کی دوسری سہولیات سے فائدہ اٹھائے۔ دوسرے جانور اپنے منہ کے ذریعے کھاتے پیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس انسان اپنے ہاتھوں کے ذ ریعے دیکھ بھال کے کھاتا اور پیتا ہے۔ یہی وہ سبب ہے کہ جس کے ذریعے انسان ناپاک، غیر متعلقہ اور غیر ضروری غذاؤں کو جدا کر کے پاک و پاکیزہ غذا کا انتخاب کرتا ہے۔ پھلو ں کے چھلکے اتار دیتا ہے اور ناقابل استعمال اشیاءکو پھینک دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں پر صورت کا عمومی معنی مراد لیا ہے جس میں ظاہری اور باطنی دونوں صورتیں شامل ہیں۔ انہوں نے اسے استعد اد اور ذوق کی مختلف قسموں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر خلق فرمایا ہے اور جن کے ذریعے اسے دوسرے حیوانات پر فضیلت عطا کی ہے۔ آخر میں اس سلسلے کی چوتھی اور آخری نعمت کو بیان کرتے ہوئے پاک و پاکیزہ روزی کا ذکر کیا گیا ہے: اس نے تمہیں طیبات پر مبنی روزی عطا کی ہے (وَ رَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبات)۔ ”طیبات“کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر پاک و پاکیزہ چیز شامل ہے خواہ خوراک ہو یا لباس، زن و شوہر ہو یا مکان اور سواری، حتٰی کہ پاکیزہ اور شستہ گفتگو بھی اس میں آ جاتی ہے۔ خداوند عالم نے یہ تمام چیزیں عالم آفرینش میں تو پاک و پاکیزہ خلق فرمائی ہیں یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات انسان خود انہیں ناپاک بنا دیتا ہے۔ ان چار عظیم نعمتوں کے بیان کے بعد کہ جن میں سے نصف کا تعلق زمین و آسمان سے ہے اور آدھی کا تعلق خود انسان سے ہے، فرمایا گیا ہے: یہ خدا، تمہارا پروردگار ( ذالکم اللہ ربکم ) ( تشریحی نوٹ: ”ذالکم“دراصل دور کی طرف اشارہ ہ اور ایسے مقاما ت پر اس کا استعمال بلند مرتبہ اور عظمت کے لیے ہوتا ہے اورچونکہ فارسی زبان میں اس قسم کی تعبیر کام عمول نہیں ہے لہذا ہم نے نز دیک کے اشارے کی صورت میں اس کا ترجمہ کیا ہے )۔ اور چونکہ حقیقت امر اسی طرح ہے لہذا تمام جہانوں کا پروردگار جاوید و بابرکت ہے (فَتَبارَکَ اللَّہُ رَبُّ الْعالَمینَ )۔ جی ہاں! جس نے اس قدر نعمتیں انسان کوعطا فرمائی ہیں وہی کائنات کا چلانے والا اور لائق عبادت ہے۔ بعد کی آیت توحید عبودیت کے مسئلے کو ایک اور انداز میں پیش کر رہی ہے اور وہ ہے حقیقی معنوں میں حیات کا ذات خداوند عالم میں انحصار، چنانچہ فرمایا گیا ہے: وہی حقیقی معنوں میں زندہ ہے ( ھو الحی )۔ کیونکہ اس کی حیات اس کی عین ذات ہے کسی اور چیز کی اسے ضرورت نہیں ہے۔ ایسی زندگی ہے جس تک موت کی رسائی نہیں بلکہ وہ زندگی، جاوید ہے یہ صرف خداوند متعال کی ذات سے خاص ہے کائنات کے دوسرے تمام موجودات ایسی زندگی کی حامل نہیں ہیں بلکہ ان کی زندگی کے ساتھ موت ملی ہوئی ہے اوریہ عارضی اور محدود زندگی بھی اسی کی پاک ذات سے حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے اس کی عبادت کی جانی چاہیے جو زندہ ہے اور حیات مطلق کا مالک ہے۔ اسی لیے تو فوراً ہی فرمایا گیا ہے: اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے ( لاالٰہ الاّ ھو)۔ جب حقیقت حال یہی ہے توپھر تم بھی اسی کو پکارو اور اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرو (فَادْعُوہُ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ)۔ جو اس کے علاوہ ہیں انہیں ایک طرف ہٹا دو کہ سب فنا ہو جائیں گے اور پھر اپنی زندگی کے دوران میں بھی ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ جس میں کسی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوتی وہ صرف وہی ہے اور جس کے بارے میں موت کا تصّور نہیں کیا جا سکتا وہی ہے اور بس۔ ”آنچہ تغیر نپذیرد اوست“ و ”آنچہ نمردہ است و نمیرد اوست“ آیت کو ا س جملے پرختم کیا گیا ہے: تمام تعریفیں اس ذات کے ساتھ مخصوص ہیں جو رب عالمین ہے (الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمینَ )۔ درحقیقت یہ جملہ خدا کے ان بندوں کے لیے درس ہے جو گزشتہ آیات میں مذکور اور خود اپنی ذات میں موجود نعمتو ں خاص کر زندگی کی نعمت کی جہ سے اس کی حمد و ستائش و سپاس بجا لاتے ہیں۔ اسی سلسلے کی آخر ی آیت میں توحید سے متعلق گفتگو کو سمیٹتے ہوئے مشرکین اور بت پرستوں کو مایوس کرنے کے لیے روئے سخن پیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”کہہ دے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ خدا علا وہ جن جن کو تم بلاتے ہو میں ان کی عبادت کروں، کیونکہ میرے پروردگار کی طرف سے بینات اور روشن دلائل آ چکے ہیں“(قُلْ إِنِّی نُہیتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ لَمَّا جاءَنِی الْبَیِّناتُ مِنْ رَبِّی)۔ نہ صرف غیر اللہ کی عبادت سے روکا گیا ہوں بلکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اور صرف عالمین کے پروردگار کے آگے سر تسلیم خم کروں (وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعالَمین)۔ ایک طرف تو بتوں کی عبادت سے ممانعت کی گئی ہے اور اس کے ساتھ خدا کی طرف سے عقلی اور نقلی منطقی اور روشن دلائل بھی آئے اور دوسری طرف ”رب العالمین“کے آگے سر جھکانے کا حکم ہے، جو بذات خود مقصد اور مدعا پر ایک اور دلیل ہے کیونکہ عالمین کا پروردگار ہونا ہی اس کی پاک ذات کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں”امر“ اور”نہی“کے دو علیحٰدہ علیحٰدہ موارد ہیں۔ یعنی خداوند عالم کے آگے جھک جانے کا امر اور بتوں کی عبادت سے نہی. ممکن ہے یہ تعبیر اس لیے ہو کہ بتوں کے بارے میں صرف جس چیز کا تصوّر ہو سکتا ہے وہ ہے ان کی پرستش اور عبادت لیکن خدا کے بارے میں عبادت کے علاوہ اس کے فرامین اور احکام پرعملدر آمد بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ زمر کی گیارہویں اور بارہویں آیت میں ہے: قُلْ إِنِّی اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللَّہَ مُخْلِصاً لَہُ الدِّینَ وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَکُونَ اَوَّلَ الْمُسْلِمین کہہ دے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ خلوص کے ساتھ خدا کی عبادت کرو اور یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ اس کے سامنے سب سے پہلا سر جھکانے والا بنوں۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت میں موجود تعبیرات قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں بھی ملتی ہیں جو سرکش اور ہٹ دھرم دشمنوں کے ساتھ ایسے انداز کی گفتگو پر مشتمل ہیں کہ اگر ان میں حق کو قبول کرنے کی ذرہ بھر بھی صلاحیت موجود ہو تو ان سے یقیناً مثاثر ہوجائیں۔ غور کیجئے گا، فرمایا گیا ہے: مجھے اس بات کا حکم گیا ہے، مجھے اس با ت سے روکا گیا ہے یعنی جب مجھے ایسا حکم دیا گیا ہے یا روکا گیا ہے تو اپنا حساب تم خود ہی کرلو. یہ ایسی تعبیر ہے جوان کی سرکشی کو چیلنچ کئے بغیر ان کے ضمیر کوجھنجھوڑ رہی ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے بارے میں آخری بات جو کہنے کی ہے وہ یہ ہے کہ مسلسل تین آیات میں خدا کی”رب العالمین“کے ساتھ توصیف کی گئی ہے ملاحظہ فرمائیے: پہلے فرمایا گیا ہے: فتبارک اللہ رب العالمین اس کے بعد فرمایا گیا ہے: الحمد اللہ رب العالمین پھر فرمایا گیا ہے: وامرت ان اسلم لرب العالمین پھر ان کے درمیان ایک طرح کی منطقی ترتیب پائی جاتی ہے کیونکہ پہلی میں اس کے بابرکت ہونے کی بات ہے، اس کے بعد ہر قسم کی حمد ستائش کے ساتھ اختصاص ہے آخری کار عبودیت اور پرستش کو اسی کی ذات مقدس میں منحصر کردیا گیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: تخلیق انسانی کے سات مرحلے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6توحید سے متعلق آیات کو جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر کچھ ”انفسی آیات“کو بیان کرتے ہوئے تخلیقِ انسانی کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ پہلے پہل انسان کی مٹی سے تخلیق کا تذکرہ ہے، پھر شکم مادرمیں رہنے کی مدت کا ذکر، اس کے بعد مرتے دم تک دنیاوی زندگی کا دورانیہ، غرض اس طرح کے ساتھ مراحل کو بیان کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ایک طرف تو اس کی قدرت اور ربوبیت کی عظمت ہو جائے اور دوسری طرف اس کی اپنے بندوں پر عطا و بخشش اور نعمتوں کی عظمت کا اظہار ہو جائے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون کے مانند چیز سے پھر تم کو بچے کی صورت میں شکم مادر سے باہر بھیجتا ہے۔ پھر تم اپنی طاقت و توانائی اور کمال کے مرحلے کو پہنچتے ہو، اس کے بعد تم بڑھاپے کے مرحلے کو پہنچ جاتے ہو، ہر چند کہ تم سے کچھ لوگ اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ تم اپنی زندگی کی مقررہ مدت تک پہنچ جاؤ اور شاید عقل سے کام لو (ھُوَ الَّذی خَلَقَکُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخاً وَ مِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوا اَجَلاً مُسَمًّی وَ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ )۔ اس لحاظ سے تخلیق کا پہلا مرحلہ مٹی ہے، جو ہمارے جد امجد اور پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی جانب اشارہ ہے یا پھر تمام انسانوں کی خاک سے تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ وہ تمام غذائی مواد جو انسانی وجود بلکہ اس کے نطفے تک کو تشکیل دیتا ہے خواہ وہ مواد حیوانی ہو یا نباتی سب کی بنیاد مٹی ہی ہے۔ دوسرا مرحلہ، نطفے کا ہے جس کا تعلق جناب آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی جناب حوا کے علاوہ باقی تمام انسانوں سے ہے۔ تیسرا مرحلہ وہ ہے جس میں نطفہ ارتقاءکی منزل کو پہنچ جاتا ہے اور ایک بڑی حد تک نشو و نما پا کر جمے ہوئے خون کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد "مضغہ“(خون کے لوتھڑے ) کا پھر اعضاءکے ظاہر ہونے کا مرحلہ ہے، پھر حس وحرکت کا مرحلہ ہے۔ البتہ قرآن مجید میں اس مقام پران تین مراحل کا تذکرہ نہیں ہے اگرچہ دوسری کئی آیات میں ان کی طرف اشارات ملتے ہیں۔ اس جگہ پر چوتھا مرحلہ ”تولد جنین“کا بتایا گیا ہے اور پانچواں مرحلہ جسمانی طاقت کے کمال کا مرحلہ ہے جسے بعض لوگ تیس سال کی عمر بتاتے ہیں۔ جس میں زیادہ سے زیادہ جسمانی نشوونما ہو چکی ہوتی ہے۔ بعض لوگ اسے اس سے زیاد ہ اور کچھ لوگ اس سے زیادہ اور کچھ لوگ اس سے کم عرصہ بتاتے ہیں۔ البتہ ممکن ہے کہ مختلف افراد میں یہ مراحل مختلف ہوں . قرآن نے اسے ”بلوغ اشد“سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے بعد پیچھے کی طرف لوٹنے اور توانائیوں کے آہستہ آہستہ ختم ہو جانے کا مرحلہ شروع ہو کر بڑھاپے کے دوران تک جا پہنچتا ہے جو کہ چھٹا مرحلہ ہے۔ آخرکار عمر کے خاتمے کا مرحلہ ہے جوآخری مرحلہ ہے اور جو اس سرائے فانی سے اس عالم جاودانی کی طرف منتقل ہونے کا وقت ہے۔ آیا ان تمام منظم اور باقاعدہ تبدیلیوں کے باوجود کائنات کے مبداءکی قدرت و عظمت اور اس کے الطاف و احسنات میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ پہلے چارمراحل میں جو کہ مٹی، نطفہ، علقہ اور بچے کی پیدائش سے متعلق ہیں ”خلقکم“( تمہیں پیدا کیا) کہا گیا ہے اور ان مراحل میں انسان کے کسی قسم کا ارادہ و اختیار کو عمل دخل کا حق حاصل نہیں ہے، لیکن بعد کے تین مراحل میں جو قوت جسمانی کی انتہا کو پہنچنا، اس کے بعد بڑھاپا اور پھر عمر کے خاتمے سے متعلق ہیں ”لتبلغوا“( تاکہ تم پہنچو ) اور ”لتکونوا“ (تاکہ تم ہو جاؤ ) کہا گیا ہے جو ایک تو ولادت کے بعد انسان کی اپنی اچھی یا بری تدبیر کی وجہ سے آگے یا پیچھے ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ انسان ایسے کام کرے جس سے وہ جلد بوڑھا ہو جائے یا قبل از وقت اس کی موت واقع ہو جائے. اس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآنی تعبیرات کس قدر جچی تلی اور حساب و کتاب کے تحت ہوتی ہیں۔ موت کے بارے میں ”یتوفی“کے لفظ کا استعمال ( جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں ) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی منطق میں موت فنا اور نیستی کا نام نہیں ہے، بلکہ موت کے فرشتے انسان کی روح قبوض کر کے موت کے بعد کے عالم میں منتقل کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں با رہا استعمال ہونے والی اس تعبیر سے پتہ چلتا ہے کہ موت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ یعنی موت کے مادی مفہوم فنا اور نیستی کی نفی کر کے اسے بقاءابدی کا نام دیتا ہے۔ ”وَ مِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی مِنْ قَبْل“( تم میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے مر جاتے ہیں ) کا جملہ ممکن ہے کہ بڑھاپے کے مرحلے کی طرف یا اس سے پہلے کے مراحل کی طرف اشارہ ہو۔ یعنی ان مراحل تک پہنچنے سے پہلے ہر موڑ پر موت کا امکا ن موجود ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان تمام مراحل کو”ثم“کے کلمہ کے ساتھ ایک دوسرے پرعطف کیا گیا ہے جو فاصلے کے ساتھ ترتیب کی علامت ہے سوائے آخری یعنی زندگی کے خاتمے کے مرحلے کے جسے واؤ کے ساتھ عطف کیا گیا ہے، ممکن ہے تعبیر کا یہ فرق اس لئے ہو کہ عمرکی انتہائی کوجا پہنچنا ہمیشہ بڑھاپے کے بعد ہی نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے لوگ بوڑھا ہونے سے پہلے جوانی کے عالم ہی میں عالم بقاءکو سدھار جاتے ہیں۔ حتٰی کہ جوانی کے عالم تک پہنچنے سے بھی پہلے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ”اجل مسمّی“کے بارے میں تفسیر نمونہ کی پانچوین، چھٹی اور گیارہویں جلد میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں خداوند عالم کے اہم مظاہر یعنی موت اورحیات کی بات ہو رہی ہے۔ دو ایسی مخلوقات کہ انسان کی تمام علمی ترقی کے باوجود ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہیں چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا تووہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے (ھُوَ الَّذی یُحْیی وَ یُمیت)۔ جی ہاں ! موت اور حیات اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے وہ نباتا ت میں ہو یا حیوانات اور انسانوں میں سب خدا کے ہاتھ میں ہے اور زندگی مختلف اور گوناگون صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق سے لے غول پیکر حیوانا ت تک اور بحر اوقیانوس کی تا ریک اور ظلمانی گہرائیوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرنے والے پرندوں تک سمندروں کی موجوں کے درمیان میکرو سکوپ کے بغیر دکھائی نہ دینے والے باریک ترین نباتات سے لے کر بیسیوں گز لمبے درختوں تک کی اپنی مخصوص زندگی اور اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں۔ اسی لحاظ سے ان کی موت بھی مختلف ہوتی ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ زندگی کے مختلف روپ کائنات اور عالم خلقت کے نہایت ہی تعجب انگیز روپ ہوتے ہیں۔ خاص کر ان مخلوقات کا ایک بے جان عالم سے زندگی کی منزل میں قدم رکھنا یا علم حیات سے موت کی وادی میں منتقل ہونا اس حد تک قابلِ تعجب ہے کہ ان میں سے ہر ایک اسرار آفرینش کو بیان کر رہا ہے اپنے رب کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔ لیکن یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان اہم اور پیچیدہ مسائل میں سے کوئی بھی مسئلہ اس کی قدرت کاملہ کے سامنے مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے، بلکہ اس کے ایک ارادے اور فرمان کا منتظر ہے۔ لہذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اس سے یہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، تووہ فوراً ہو جاتی ہے۔ (فَإِذا قَضی اَمْراً فَإِنَّما یَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُون)۔ حتٰی کہ ”کن“( ہو جا) کے بعد ”فیکون“( ہو جاتی ہے ) کہ تعبیر بھی الفاظ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ وگرنہ لفظ ”کن“کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی. ادھر خدا کا ارادہ ہو ا ادھر مخلوقات نے وجود پیدا کر لیا۔ (تشریحی نوٹ: "کن فیکون“کی تفسیر کے سلسلے میں ہم جلد اوّل میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۷ کی تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مغرور دشمنوں کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں پھر ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو آیات الہٰی کے بارے میں مجادلہ کرتے ہیں اور نبوت کے دلائل اور ابنیاءکی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے. ان آیات میں ان افراد کے انجام کی واضح طور پر منظر کشی کی گئی ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: آیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو آیات الہٰی میں مجادلہ کرتے ہیں کہ وہ کس طرح راہِ حق سے پھر جاتے ہیں (اَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ اَنَّی یُصْرَفُونَ)۔ یہ مجادلہ، ضد اور عناد پر مبنی گفتگو، یہ اندھی تقلید اور بے بنیاد تعصبات اس بات کا سبب بن جاتے ہیں کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹک کر بے راہروی کا شکار ہو جائیں، کیونکہ حقائق صرف اس وقت واضح ہوتے ہیں جب انسان کے اندر تلاشِ حق کی روح زندہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے استفہامیہ انداز میں اس بات کا بیان اس چیز کو واضح کررہا ہے کہ جو بھی غیرجانبدار شخص ان کے حالات پر نگاہ ڈالے گا وہ ان کی بے راہروی اور راہِحق سے بھٹک جانے پر سخت تعجب کرے گا کہ اس قدر بیّن آیات اور واضح نشانیوں کے باوجود وہ حق کو کیوں نہیں دیکھتے؟ پھر ان کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب اور اس چیز کو جھٹلایا جو ہم نے رسولوں پر نازل کی (الَّذینَ کَذَّبُوا بِالْکِتابِ وَ بِما اَرْسَلْنا بِہِ رُسُلَنا )۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس سورت میں بارہا ”آیات الہٰی کے بارے میں مجادلہ کرنے والوں“کا ذکر آیا ہے اور تین مقامات ( ۳۵ و یں ۳۶ ویں اور زیر نظر آیا ت ) میں ”الذین یجادلون فی اٰیات اللہ“مذ کور ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ ”اٰیات اللہ“زیاد تر مراد وہی آیات نبوت اور آسمانی کتابوں کے مندرجات ہیں۔ نیز چونکہ توحید کی آیات اور معاد سے متعلقہ مسائل آسمانی کتابوں میں مندرجہ ہیں لہذا وہ بھی ان کے مجادلہ کی زد میں آتے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیات اس جملے کو بار بار دہرانا کسی اہم مطلب کی تاکید ہے یا ہر مقام پر کوئی نئی بات بتانی مقصود ہوتی ہے؟ بظاہر دوسرا احتما ل زیادہ قرینِ عقل معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان تینوں آیات میں سے ہرایک میں ایک نئی بات ذکر کی گئی ہے، جس سے خاص مطلب بتانا مقصود ہے۔ آیت ۵۶ میں اس قسم کے مجادلہ کا سبب تکبر، غرور اور نخوت بیان کیا گیا ہے جبکہ آیت ۳۵ میں اس کا سبب ان کی دنیاوی سزا کے طور پر ان کے دلوں پر لگی مہروں کا ذکر ہے اور زیر نظر آیت میں اس کا سبب ان کی اُخروی سزا اور دوزخ کے مختلف عذاب بیان ہوئے ہیں۔ اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ”یجادلون“کا صیغہ فعل مضارع کی صورت میں بیان ہوا ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ ہے اس قسم کے افراد جو آیات الہٰی کی تکذیب کرتے ہیں اپنے غلط عقائد اور برے اعمال کی توجیہ کے لیے ہمیشہ مجادلہ اور بے بنیاد بحث کا سہارا لیتے ہیں۔ بہرحال، آیت کے آخر میں انہیں ان الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے: وہ بہت جلد اپنے غلط اعمال کے انجام سے باخبر ہو جائیں گے ( فَسَوْفَ یَعْلَمُون)۔ جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیر ڈال کرانہیں کشاں کشاں جہنم میں لے جایا جائے گا (إِذِ الْاَغْلالُ فی اَعْناقِھِمْ وَ السَّلاسِلُ یُسْحَبُونَ ) ( تشریحی نوٹ: ”اغلال "، "غل“کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”وہ طوق جو گردن یاہاتھ اور پاؤں میں ڈالے جاتے ہیں“یہ دراصل ”غلل“(بروزن اجل ) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے وہ پانی جو درختوں کے درمیان چلتا ہے اگر خیانت کو ”غلول“ اور پیاس سے پیدا ہونے والی حرارت کو ”غلل“کہتے ہیں تو اس کی وجہ انسان کے اندر تدریجی نفوذ ہے۔ ”سلاسل "، "سلسلة“کی جمع ہے جس کا معنی کا معنی زنجیر ہے۔ اور”یسحبون "، "سحب“( بروزن ”سہو“کے مادہ سے ہے جس کا معنی ”کھینچنا“ ہے۔) پہلے وہ کھولتے پانی میں اور پھر جہنم میں جلائے جائیں گے (فِی الْحَمیمِ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُون)۔ ”یُسْجَرُون"، "سجر“(بروزن ”فجر“) کے مادہ سے ہے جو مفردات میں راغب کے بقول آگ جلانے اور اسے بھڑکانے کے معنی میں ہے، بعض دوسرے ارباب لغت اور مفسرین کا کہنا ہے کہ ا س کا معنی ہے ”تنور کو آگ سے بھر دینا“(تشریحی نوٹ تفسیرصافی ،تفسیر روح المعانی اور تفسیر کشاف ، انہی آیا ت کے ضمن میں ”لسان العرب“نے ”سجر“کا اصلی معنی پُر کرنا بتایا ہے اور کہا ہے کہ ”سجر ت النھر“یعنی نہر پانی سے بھری ہوئی ہے)۔ اس لیے بعض مفسرین نے آیت کا معنی یہ سمجھا ہے کہ اس قسم کے کفار خود ہی جہنم کا ایندھن ہوں گے جیسا کہ سورہ بقرہ کی چوبیسویں ۲۴ آیت میں ہے: فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارة اس آگ سے بچو جس کا ایندھن پتھر اور انسان ہوں گے۔ بعض لوگو ں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ ان کا تمام وجود آگ سے بھر جائے گا( البتہ دونوں معانی میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا)۔ مجادلہ کرنے والوں اور ضدی مستکبرین کے لیے اس قسم کی سزا درحقیقت ان کے اس دنیا میں اعمال کی مناسبت سے رد عمل ہو گا۔ کیونکہ وہ دنیا میں تکبر اور غرور کی وجہ سے خدائی آیا ت کوجھٹلایا کرتے تھے اور انھوں نے خود کو اندھی تقلید اور تعصبات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا لہذا اس دن نہایت ہی ذلت وخواہی کے ساتھ طوق اور زنجیر ان کی گردنوں میں ڈالے جائیں گے، پہلے توانہیں کھولتے پانی میں ڈالا جائے گا پھر جہنم کا ایندھن بنا کر اسی میں دھکیل دیاجائے گا ۔ اس جسمانی عذاب کے علاوہ انہیں روحانی عذاب کے طور پر بھی دردناک سزا دی جائے گی، ان کی سزاؤں میں سے ایک وہی ہے جس کے بارے میں آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر انہیں کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم خدا کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے (ثُمَّ قیلَ لَھُمْ اَیْنَ ما کُنْتُمْ تُشْرِکُون)۔ وہی معبود کہ جن کی تم خدا کے علاوہ عبادت کیا کرتے تھے (مِنْ دُونِ اللَّہ)۔ تاکہ وہ تمہاری شفاعت کریں اور آتش جہنم کی درد ناک سزا اور متلاطم موجوں سے تمہیں نجات دلائیں . کیا تم بارہا یہی نہیں کہا کرتے تھے کہ ہم ان کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ ہمارے شفیع بنیں تو کہاں گئی ان کی شفاعت؟ لیکن وہ نہایت شرمندگی اور رسوائی کی وجہ سے سرجھکا کر جواب میں ”کہیں گے وہ تو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں اورنیست و نابود اور یوں ہلاک ہو چکے ہیں کہ اب ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ‘ (قالُوا ضَلُّوا عَنَّا ) (تشریحی نوٹ: مفسرین نے یہاں پر ”ضلّوا“کے دومعانی بتائے ہیں ایک تو ”ضاعوا“(ضائع ہو گئے ) اور دوسرے ”ھلکوا“( ہلاک ہو گئے ) اور بعض مفسرین نے اس کلمہ کو ”غابوا“کے معنی میں لیا ہے یعنی ”غائب ہو گئے “جیسے ہم کہتے ہیں ”ضلت الدابة“یعنی ”غابت فلم یعرف مکا نھا“) ۔ اس میں شک نہیں۔.. جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آیا ہے کہ ــــــــــــــ یہ جھوٹے معبود جہنم میں ہوں گے اور بعید نہیں کہ ان کے ساتھ ہی ہوں، لیکن چونکہ وہاں پر نہ تو ان کا کوئی کردار ہو گا اور نہ ہی کسی قسم کا اثر، لہذا ان کا وجود اورعدم وجود یکساں ہو گا ۔ پھر جب وہ دیکھیں گے بتوں کی عبودیت کا اعتراف تو ان کی پیشانی کا داغ ثابت ہو رہا ہے لہذا انکار پرتُل جائیں گے اور کہیں گے: اس سے پہلے تو ہم باکل کسی چیز کی عبادت ہی نہیں کیا کرتے تھے (بَلْ لَمْ نَکُنْ نَدْعُوا مِنْ قَبْلُ شَیْئاً)۔ جنہیں ہم حقیقت سمجھتے تھے اوہام اورخیالات کے سوا کچھ نہیں تھے، ہماری زندگی کے صحرا میں ان کی حیثیت سراب کی سی تھی. جنہیں ہم پانی سمجھتے تھے۔ لیکن آج معلوم ہوا کہ وہ تو اسم بے مسمٰی اور الفاظ بے معنی و مفہوم تھے۔ جن کی عبادت ضلالت وگمراہی اور فضولیات کے علاوہ کچھ نہیں تھی. بنا بریں وہ ایک ناقابل تردید حقیقت کا اعتراف کریں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ اہل جہنم جھوٹ بولنے پر اتر آئیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ جھوٹ بول کر رسوائی سے بچ جائیں گے جیسا کہ سورہ انعام کی آیات ۲۳ اور ۲۴ میں ہے۔ ثم لم تکن فتنتھم الا ان قالو ا واللہ ربنا ما کنا مشرکین انظر کیف کذبو اعلیٰ انفسھم وضل عنھم ما کانوا یفترون ان کے عذر کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ کہیں گے اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے، ہم مشرکین نہیں تھے۔ ذرا دیکھئے تو کہ وہ اپنے آپ پر کیونکہ جھوٹ بول رہے ہیں؟ اور جنہیں وہ جھوٹ موٹ سے خدا کا شریک سمجھتے تھے ان کی نگاہوں سے اوجھل اور گم ہو جائیں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس طرح خدا کافروں کو بھٹکا دیتا ہے (کَذلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ الْکافرین)۔ ان کا کفر اور ہٹ دھرمی ان کے قلب و فکر پر پردے کا کام دے گی لہذا حق کے سیدھے رستے کو چھوڑ کر بے راہروی کا شکار ہو جاتے ہیں لہذا بروز قیامت بھی بہشت کے رستے سے بھٹک کر دوزخ کی راہ اختیار کریں گے۔ جی ہاں! اس طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔ بعد کی آیت اس گروہ کی اس قدر مصیبتوں اور عذاب میں گرفتار ہونے کی وجودہات بیان کر رہی ہے، کہتی ہے: تمہیں یہ عذاب اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ تم زمین میں ناحق خوشیاں مناتے تھے اور غرور اور خواہشات نفسانی کی لذتوں میں مگن رہتے تھے (ذلِکُمْ بِما کُنْتُمْ تَفْرَحُونَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِما کُنْتُمْ تَمْرَحُونَ)۔ انبیاء کی مخالفت کر کے، مو منین کوشہید کر کے اور غریبوں مسکینوں کو مشکلات و مصائب میں ڈال کر مزے لیتے تھے، گناہوں کا ارتکاب اور دین شکنی کر کے فخر و مباہات کرتے تھے۔ اب ان ناجائز خوشیوں، غرور، غفلت اور مستی و شہوات کا کفارہ تم ان طوق اور زنجیروں میں جکڑ کر اور آگ کے بھڑکتے شعلوں میں جل کر ادا کرو۔ ”تفرحون "، "فرح“کے مادہ سے ہے جس کا معنی مسرت اور خوشی ہے۔ خوشی کبھی ممدوح اور قابلِ تعریف ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورہِ روم کی چوتھی اور پانچویں آیت میں ہے: ویو مئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ ”جس دن (اہل کتاب رومیوں کومشرک مجوسیوں پر ) فتح حاصل ہو گی تو مؤمنین خوش ہوں گے“۔ کبھی خوشی قابل مذمت اور ناجائز ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورہ قصص کی آیت ۷۶ میں قارون کی داستان میں ہے: إِذْ قالَ لَہُ قَوْمُہُ لا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّہَ لا یُحِبُّ الْفَرِحین وہ وقت یاد کرو جب اس کی قوم نے اسے کہا : اس قدر مغرور ان خوشیاں نہ منا کیونکہ خدا خوشی منانے والے مغرور لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔ البتہ یہ فرق قرائن کے ذریعے ہی معلوم ہو گا اور ظاہر ہے کہ زیر تفسیر آیت میں ”فرح“کی دوسری قسم مراد ہے۔ ”تمرحون "، "مرح“( بروزن ”فرح“کے مادہ سے ہے جو بعض اربابِ لغت اور مفسرین کے بقول حد سے زیادہ اور بے پناہ خوشی کے معنی ہیں ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک بے بنیاد باتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خوشی کا نام ”مَدَح“ ہے جب کہ بعض لوگ اسے ایسی خوشی کے معنی میں لیتے ہیں جس میں عیش و نشاط پائی جائے اورخدائی نعمتوں کو غلط راہ میں استعمال کیا جائے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ سب معانی ایک ہی مقصود کی طر ف لوٹ جاتے ہیں کیونکہ بے انتہائی اور حد سے زیادہ خوشی کا سرچشمہ اس قسم کے مسائل ہوتے ہیں جومختلف گناہوں، ناپاکیوں، عیاشیوں اور خواہشات نفسانی کے ساتھ مخلوط ہوتے ہیں (تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتے ہیں : الفرح الشراح الصدر بلذة عاجلة واکثر ما یکسون ذالک فی اللذات البدنیة والمرح شدة الفرح والتوسع فیہ)۔ جی ہاں اس قسم کی خوشی میں غرور، غفلت، ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی پائی جائیں انسان کو بہت جلد خدا سے دور کرتی ہے اور حقائق کے ادراک سے روک دیتی ہے لہذا وہ واقعیت کو مذاق اور حقیقت کو مجاز سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر اس قسم کے لوگوں کا انجام و ہی ہوتا ہے جو مندرجہ بالا آیات میں بتایا گیا ہے۔ ایسے موقع پر ان سے کہا جائے گا : جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ اور اس میں ہمیشہ رہو (ادْخُلُوا اَبْوابَ جَہَنَّمَ خالِدینَ فیہا َ)۔ اور متکبرین کے لیے کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے (فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرین)۔ یہ جملہ اس بات کی ایک اور تاکید ہے کہ ان کی بدبختیوں کا اصلی مرکز تکبر اور غرور ہے۔ وہی تکبر جو ام الفساد ، انسان اور حق کے درمیان پردہ، ابنیاءکے مقابلے میں محاذ آرائی اور باطل کی راہ میں اصرار کرنے کا سبب ہے۔ اس آیت میں ہمیں پھر ”ابواب جھنم“( جہنم کے دروازوں ) کا تذکرہ ملتا ہے۔ کیا جہنم کے دروازوں سے داخل ہونے کا یہ معنی ہے کہ ہر ٹولہ ایک علیٰحدہ دروازے سے جہنم میں جائے گا یا ایک ٹولہ متعدد دروازوں سے داخل ہو گا ؟ گویا جہنم بھی بعض وحشت ناک اور تاریک قید خانوں کی طرح ہے کہ جن کے کمرے ایک دوسرے میں داخل اور پیچھے ہوتے ہیں یا ان کے مختلف طبقے ہیں اور زبردست گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے کو ان طبقات سے گزرنا پڑے گا اور جہنم کے نچلے سے نچلے طبقے میں انہیں ٹھہرایا جائے گا۔ اس بات کی شاہد امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ایک حدیث ہے جو آپ علیہ السلام نے ”لھا سبعة ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم“( سور حجر . ۴۴ ) کی تفسیر میں ارشاد فرمائی ہے۔ ان جھنم لھا سبعة ابواب اطباق بعضھا فوق بعض، ووضع احدی یدیہ علی الاخرٰی، فقال ھٰکذا ”جہنم کے ساتھ دروازے ہیں، سات طبقے جو ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ پھرآپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے کے اوپر کر کے فرمایا : اس طرح (بحوالہ: مجمع البیان جلد ۵ ، ۶ ص ۳۳۸ (سورہ حجرکی آیت ۴۴ کے ذیل میں ) اس بارے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں جنہیں علامہ مجلسی مرحوم نے بحارالان وار کی جلد ۸ ،ص ۲۸۹ ،ص ۳۰۱ اور ص ۲۸۵ میں ذکر فرمایا ہے۔ )۔ اس سلسلے میں ایک اور تفسیر بھی ملتی ہے جس کا خلاصہ یوں ہے: جہنم کے دروازے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بہشت کے دروازوں کے مانند ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان مختلف عوامل کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو جنت میں لے جاتے ہیں۔ ہر قسم کا گناہ یا ہر قسم کا نیک عمل ایک دروازہ شمار ہوتا ہے۔ اسلامی روایات میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور سات کا عدد ”کثرت“کے بیان کے لیے ہے نہ کہ تعداد بتانے کے لیے بہشت کے لیے جو کہا جاتا ہے کہ ا س کے آٹھ دروازے ہیں تو یہ عذاب و غضب کے اسباب کی نسبت رحمت کے اسباب کی کثرت کی طرف اشارہ ہے ( غور کیجئے گا )۔ البتہ دونوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میںمزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد۱۱ ( سور ہ حجر آیت ۴۴ ) کے ذیل میں مطالعہ فرمائیں )۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر : پھر بھی صبر کیجئے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6گزشتہ آیات میں کفار کے روڑے اٹکانے، تکبر اور غرور کا اظہار کرنے اور ایات الہٰی کو جھٹلانے کا ذکر تھا۔ زیر نظر دو آیات میں پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلجوئی اور انہیں ان مشکلات کے مقابلے میں صبر و شکیبائی اختیار کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اب جبکہ صور ت حال یہ ہے تو،تو صبر کر کیونکہ خدا کا وعدہ بر حق ہے (فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَق)۔ آپ سے فتح و کامرانی کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی اور مغرور متکبرین اور جھٹلانے والوں سے جس درد ناک عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بھی دونوں برحق ہیں اور یقینا ظہور پذیر ہو کر رہیں گے۔ اس لیے حق کے دشمن یہ نہ سمجھ لیں کہ ان کی سزا میں تاخیر ہو گئی ہے لہذا وہ عذاب الہٰی سے بچ جائیں گے اس لیے فرمایا گیا ہے: ہم نے ان سے جس عذاب کر رکھا ہے اگر اس کا کچھ حصہ تیری زندگی میں تجھے کھلائیں یا ان کے عذاب میں مبتلا ہونے سے پہلے تجھے اس دنیا سے اٹھا لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ بہرحال، ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے اور ہم ان سے کئے ہوئے اپنے وعدے پر عمل درآمد کریں گے (فَإِمَّا نرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذی نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِلَیْنا یُرْجَعُونَ) (تشریحی نوٹ: اس قسم کام فہوم سورہٴ یونس کی آیت ۴۶ میں بھی گزر چکا ہے) ۔ آپ کا کام صرف یہی ہے کہ آپ ان لوگوں کو واضح طو پر تبلیغ کریں اور ان پر اتمام حجت کریں تاکہ آپ کی تبلیغ کی برکت سے بیدار دل روشن ہو جائیں اور مخالفین کیلئے کسی عذر اور بہانے کی گنجائش باقی نہ رہ جائے. آپ کو اپنے فریضے کی ادائیگی کے علاوہ کسی اور چیز سے سروکار نہیں ہونا چاہیے. حتٰی کہ آپ کو اس بات کی فکر بھی نہیں ہونی چاہیے کہ ان پر جلد عذابِ الہٰی کے سبب آپ کے جلتے دل کو تسکین ہو جائے۔ یہ بات درحقیقت کفار کو ضمنی طور پر ایک واضح دھمکی ہے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ کسی بھی وقت عذاب الہٰی کے چنگل میں پھنس سکتے ہیں جس طرح کہ ان کے دوسرے دوست جنگ بدر جیسے میدانوں میں اپنے اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکے ہیں اور ان میں سے اکثر لو گ بروز قیامت اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔ پھر آنحضرت کی مزید تسلی اور دلجوئی کی خاطر گزشتہ انبیاءکے حالات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی آپ جیسی مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے لیکن انھوں نے اپنے کام کو جاری رکھا اور ساحل کامرانی سے ہمکنار ہوئے، ارشاد ہوتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے بھی رسولوں کوبھیجا ہے ان میں سے بعض پیغمبروں کا ذکر تو قرآن میں تجھ سے کر دیا ہے اور بعض کا نہیں کیا(وَ لَقَدْ اَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَیْکَ وَ مِنْھُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْک)۔ ان میں سے ہر ایک اس قسم کے حالات اور طاقت فرسا مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ ان کا سامنا کثیر تعداد میں ضدی مزاج ، متکبر اور مغرور لوگوں سے تھا۔ آخرکار حق کو کامیابی حاصل ہوئی اور ظالم و مجرم لوگ مغلوب ہوئے۔ چونکہ مشرک اور ہٹ دھرم اور ضدی مزاج کافر ہر روز خدا کے ابنیاءسے اپنے من پسند معجزے کا تقاضا کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کے مشرکین نے بھی اسی طرز عمل کو اپنایا تھا لہذا اسی کے ساتھ ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے: کسی پیغمبرکو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ حکم خدا کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے (وَ ما کا نَ لِرَسُولٍ اَنْ یَاْتِیَ بِآیَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّہ)۔ چونکہ اصولی طور پر تمام معجزات خدا کے اختیار میں ہیں اور کفّار کی خاطر انہیں بازیچہٴاطفال نہیں بنایا جا سکتا اور پیغمبر بھی ان کی روز روز کی مانگ کے آگے سر تسلیم خم نہیں کر سکتے لہذا جب لوگوں کی ہدایت اور حق کے اظہار کے لیے ضروری ہوتا ہے خدا اپنے ابنیاءکے ذ ریعے ظاہر فرماتا ہے۔ پھر سنجیدہ انداز میں لیکن تنبیہ کی صورت میں ان لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ اگر سچ مچ آپ ہمیں عذاب الہٰی کی دھمکی دے رہے ہیں تو پھر وہ کیوں ہم پر نازل نہیں ہوتا؟ ارشاد ہوتا ہے: جب ان ضدی مزاج منکرین کے لیے عذاب الہٰی کافرمان جاری ہو گا توان کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور اس وقت باطل کے پیروکار نقصان اٹھائیں گے (فَإِذا جاءَ اَمْرُ اللَّہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ ھُنالِکَ الْمُبْطِلُونَ )۔ اس وقت توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے، واپسی کی راہیں مسدود ہو جائیں گی، فریاد و واویلا اور چیخ پکار نہیں سنی جائے گی تب باطل کے پیروکاروں کو پتہ چلے گا کہ وہ تو اپنا سب کچھ گنوار چکے ہیں اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے. بلکہ الٹا خدائی غیظ و غضب اور درد ناک الہٰی عذاب کا شکار ہو چکے ہیں، لہذا وہ کس لیے اس بات پر مُصر ہیں کہ وہ دن جلد آ جائے ؟ اس تفسیر کے مطابق مندرجہ بالاآیت ”استیصالی عذاب“کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ لیکن کچھ مفسرین نے اس کو بروز قیامت عذاب کے فرمان کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور وہیں پر سب لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اور باطل کے پیروکار ہر لحاظ سے اپنے خسارہ اٹھانے سے آ گاہ ہو جائیں گے۔ سورہ جاثیہ کی آیت ۲۷ کی تعبیربھی اسی تفسیر کی مئوید ہے جہاں پر فاما یاگیا ہے: ویوم تقوم الساعة یومئذ یخسر المبطلون لیکن ”امر اللہ“وغیرہ ”جیسی تعبیرات جو متعدد آیات میں ذکر ہوئی ہیں دنیاوی عذاب کے بارے میں استعمال ہوئی ہیں (بحوالہ: مانند سورہٴ ہود آیات ۴۳ ، ۷۶ اور۱۰۱)۔ یہ احتمال بھی ہے آیت کا مفہوم وسیع ہو کرجو دنیاوی عذاب ہو اور آخرت کی سزا دونوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہو. عذاب خواہ کہیں کا ہو باطل کے پیروکاروں کی زیاں کاری ضرور آشکار ہو جائے گی۔ شہر مدینہ میں ایک مسخرہ رہتا تھا جو لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ کبھی کبھار وہ یہ بھی کہتا تھا کہ اس شخص (حضرت امام زین العابدین ) علیہ السلام نے مجھے عاجز کر دیا ہے کہ میں نے اسے جنتا بھی ہنسانے کی کوشش کی ہے میری کوئی کارگر ثابت نہیں ہوئی اور وہ کبھی میری باتوں پر نہیں ہنسا ۔ ایک دن حضر ت امام علیہ السلام کہیں سے گزر رہے تھے تو وہ مسخرہ آیا اور اپ کے دوش مبارک سے عبا اُٹھا کر چلتا بنا، لیکن امام نے پھر بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی. آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کا تعاقب کر کے عبا واپس لے کر کندھوں پر ڈال دی. امام نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ ساتھیوں نے عرض کی یہ ایک مسخرہ ہے جو شہر والوں کو ہنساتا رہتا ہے، امام نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو ”ان للہ یوماً یخسر فیہ المبطلون“(خدا کا ایک دن ایسا ہے جس میں اہل باطل نقصان اٹھائیں گے (بحوالہ: امالی شیخ صدوق منقول از تفسیر نورالثقلین جلد ۴ ،ص ۵۳۷)۔
انبیاء کی تعداد
بہت سے مفسرین نے آیات کے مناسبت سے یہاں پر ابنیاءکی تعداد کے بارے میں گفتگو کی ہے اور اس بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں۔ اس بارے میں مشہور روایت سے انبیاءکی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار معلوم ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ اور رویات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی. جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل سے تھے اور چار ہزار ان کے علاوہ تھے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان انہی آیات کے ذیل میں)۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زبانی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے: خلق اللہ عز و جل ماٴة الف نبی وا ربعة و عشرین الف نبی انا اکرمھم علی اللہ ولا فخر، و خلق اللہ عزوجل ماٴة الف وصی و اربعۃ و عشرین الف وصی، فعلی اکرمھم علی اللہ وافضلھم خداوند عالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی خلق کئے ہیں اور میں اللہ کے نزدیک ان سب سے زیادہ معزّز ہوں لیکن میں اس بات پر مغرور نہیں ہوں اور خدا نے ایک لاکھ چوبیس ہزار وصی پید اکئے ہیں اور اللہ کے نزدیک علی [علیہ السلام] ان سب سے زیادہ معزز اور افضل ہیں (بحوالہ: بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۳۰ (حدیث ۲۱)۔ ایک اور روایت میں انس بن مالک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں نقل کرتے ہیں: بعثت علی اثر ثمانیة اٰلاف نبی، منھم اربعة الاف من بنی اسرائیل ”میں آٹھ ہزار انبیاءکے بعد مبعوث ہوا ہوں جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل سے تھے ( بحوالہ: بحارالانوار جلد ۲۲ ،ص ۳۱ (حدیث ۲۲))۔ ان دو حدیثوں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے دوسری حدیث اللہ کے عظیم ابنیاءکی طرف اشارہ ہو (جیسا کہ اسی بات کی وضاحت علامہ مجلسی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کی ہے )۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار، اور جب پوچھا کہ ان میں رسول کتنے ہیں تو فرمایا تین سو تیرہ (بحوالہ: بحارالانوار جلد ۱۱ ،ص ۳۲ (حدیث ۲۴ )۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انبیاءکی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی ہے جن میں سے پانچ اولوالعزم پیغمبر بتائے ہیں یعنی جناب نوح ، جناب ابراہیم،حضرت موسٰی،حضرت عیسٰی اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ( علیہم الصلوٰة والسلام ) (بحار الانوار جلد ۱۱، ص ۴۱ (حدیث ۴۳)۔ اس بارے میں اور بھی روایات منقول ہوئی ہیں جو مندرجہ بالا عدد کی تائید کرتی ہیں۔ بہرحال، ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت خبر واحد نہیں ہے جیسا کہ ”برسوئی“نے ”روح البیان“میں لکھا ہے۔ بلکہ متعدد روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ انبیاءکی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی اور اس با رے میں مختلف اسلامی مآخذ میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن انبیاءکا صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں نام آیا ہے ان کی تعداد ۲۶ ہے۔ اور وہ یہ ہیں۔ آدم، نوح، ادریس، صالح، ہود، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یوسف، لوط، یعقوب، موسٰی، ہارون، شعیب، زکریا، یحیٰی، عیسٰی، داؤد، سلیمان، الیاس، الیسع، ذوالکفل، ایوب، یونس، عزیر اور حضرت محمد (علیہم الصلوٰة والسلام )۔ لیکن کچھ انبیاءایسے ہیں جن کی طرف قرآن میں صرف اشارہ ہوا ہے وضاحت کے ساتھ ان کا نام نہیں لیا گیا ہے جیسے حضر ت ”اشموئیل“کہ جن کی طرف سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۴۸ میں ”و قال لھم نبیھم“کے ہیں اشارہ کیا گیا ہے۔ اورحضرت ”ارمیا“ہیں کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۵۹ میں ”واذ قال موسٰی لفتاہ“میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ( بنابریں, جناب، یوشع علیہ السلام کا شمار بھی انبیاء میں ہوتا ہے). (تشریحی نوٹ: البتہ اس بارے میں بعض مفسرین میں اختلاف ہے کہ بعض اسے ”ار میا“بعض ”خضر“اور بعض ”عزیر“سمجھتے ہیں)۔ اور جناب ”خضر“علیہ السلام ہیں جن کی طرف سور ہ کہف کی آیت ۶۵میں ”فوجدا عبداً من عبادنا“میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ”اسباط بنی اسرئیل“ہیں جو اپنے قبیلوں کے سردار تھے اور سورہ نسا ءکی آیت ۱۶۳ میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ ان کی طرف وحی ہوتی تھی ۔ و اوحینا الیٰ ابراھیم واسماعیل واسحاق ویعقوب والاسباط--... اگر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں میں بھی کوئی تھا تو اس کی طرف بھی سورہ یوسف میں کئی بار اشارہ ہو چکا ہے۔ قصہ مختصر، جن انبیاء کی داستان اور سرگذشت کی طرف خداوند عالم نے اشارہ فرمایا ہے ان کی تعداد ۲۶ سے بہت زیادہ ہے اور یہ تعداد صرف ان کی ہے جن کا نام صراحت کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔ اس مقام پر آخری بات اور وہ یہ کہ بعض شیعہ اور سنی کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے سیاءفاموں سے بھی ایک پیغمبر مبعوث فرمایا ہے جیسا کہ طبری رحمO اللہ علیہ ”مجمع البیان“میں لکھتے ہیں : روی عن علی انہ قال بعث اللہ نبیاً اسود لم یقص قصتہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : خدا نے ایک سیاہ فام بنی بھیجا ہے لیکن اس کی داستان قرآن میں بیان نہیں کی (بحوالہ:تفسیر ”مجمع البیان“ انہی آیات کے ذیل میں۔ نیز تفسیر کشاف کے حواشی میں بھی اس بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ( دیکھئے کشاف جلد ۴ ،ص ۱۸۰ مطبوعہ وار لکتب العربی) ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: چوپاؤں کے مختلف فوائد
Tafsīr Nemūna · Vol. 6ان آیات میں ایک بار پھر قدرت خدا اور انسان کے بارے میں اس کی وسیع نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان نعمات کے ایک حصے کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ ایک تو لوگ اس کی عظمت سے خوب آشنا ہوجائیں اور دوسرے ان میں احساس تشکر اجاگر ہو جو معرفت الہٰی کا ایک ذریعہ ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: خدا تو وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ہیں تاکہ ان پر سواری کرو اور ان سے غذا حاصل کرو۔ (اللَّہُ الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاَنْعامَ لِتَرْکَبُوا مِنْہا وَ مِنْہا تَاْکُلُونَ) ۔ کچھ جانور تو وہ ہیں جو صرف خوراک کا کام دیتے ہیں جیسے، بھیڑ بکریاں، اور کچھ وہ ہیں جو سواری کا کام بھی دیتے ہیں او رخوراک کا بھی جیسے اونٹ کہ جو سواری کے لحاظ سے خشک اور جلتے صحراؤں کا جہاز بھی اور لوگوں کی غذا کا ذریعہ بھی۔ ”انعام"، "نَعَم“ (بر وزن قَلَم) کی جمع ہے جو دراصل ”اونٹ“کیلئے استعمال ہوتا تھا لیکن بعد میں اس نے مفہوم کے لحاظ سے اس قدر وسعت اختیار کر کہ اونٹ، گائے اور گوسفند کے لیے بھی بولا جانے لگا۔ یہ لفط نعمت سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کے لیے خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت چوپائے ہیں۔ حتٰی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی جب کہ آواز سے کئی گناہ تیز ہوائی جہاز اور تیز رفتار زمینی ذرائع آمد و رفت ایجاد ہو چکے ہیں پھربھی بعض مقامات ایسے ہیں جہاں پر صرف اورصرف انہی جانوروں سے استفادہ کیا جانا ممکن ہے۔ ریتلے صحراؤن سے جدید ذرائع آمدورفت کا عبور نہایت مشکل ہے۔پہاڑوں کی بعض تنگ و تاریک گزر گاہوں سے اب بھی صرف جانوروں کے ذریعے ہی گزرنا ممکن ہوتا ہے۔ اصولی طور پر جانوروں کی خصوصی، خاص کر سدھائے جانے کے لیے تسلیم کا مادہ اور قابلیت خدا کی عظیم نشانیوں سے خود ایک نشانی ہے جب کہ بعض جانور تو انسان سے کئی گناہ طاقتور ہوتے ہیں۔ ہم ایسے چھوٹے چھوٹے اور کم جثہ جانوروں کو بھی جانتے ہیں جو انسانوں سے وحشت رکھنے کی وجہ سے سخت خطرناک ہوتے ہیں۔جبکہ بڑے بڑے اونٹوں کی قطاروں کی باگ ڈور اگرایک معصوم بچے کے ہاتھ میں دے دی جائے تو. می برد ہر جا کہ خا طر خواہ اوست اس کے علاوہ ان جانوروں سے اور بھی کئی خاطر خواہ فوائد حاصل کئے جاتے ہیں جیسا کہ بعد کی آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور اس کے علاوہ تمہارے لئے اور بھی کئی فوائد ہیں (و لکم فیھا منافع )۔ تم ان کے دودھ ، اون، چمڑے اور دوسرےاجراءسے استفادہ کرتے ہو حتٰی کہ ان کے فضلے تک کو زراعت کے کام میں لاتے ہو. المختصر ان جانوروں کے تمام وجود کی کوئی چیزبھی بے فائدہ اور ناقابل مصرف ہیں بلکہ ان کا سارے کا سارا وجود مفید اور سود مند ہوتا ہے حتٰی کہ بعض مواقع پر کئی دواؤں کا خام مواد بھی انہی سے لیا جاتا ہے۔ (دھیان رہے کہ لفظ ”منافع“کو نکرہ لا یا جانا اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے ہے )۔ پھر فرمایا گیا ہے: ان کی تخلیق کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تم ان پر سوار ہو کر دل خواہ مقاصد تک جا پہنچو(وَ لِتَبْلُغُوا عَلَیْہا حاجَةً فی صُدُورِکُمْ )۔ بعض مفسرین نے اس جملے سے جانوروں کے ذریعے مال کی نقل و حرکت مراد لی ہے کیونکہ اس سے پہلے کہ جملے میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ ”حاجَةً فی صُدُورِکُم“( جوحاجت تم دل میں رکھتے ہو ) سے مراد تفریح ، ہجرت، سیر و سیاحت، مقابلہ بازی بلکہ وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ جیسے ذاتی اور شخصی فوائد مراد ہوں۔ چونکہ مسافرت کے ان تمام وسائل کا خشکی سے تعلق ہوتا ہے، لہذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ان چوپاؤں اور کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں (وَ عَلَیْہا وَ عَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُون) (تشریحی نوٹ: جانوروں کے فوائد کے بارے میں ہم تفسیر تمونہ کی گیار ہوں جلد (سورہٴ نحل کے ذیل میں ) تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں)۔ ”علیھا“ (ان جانوروں پر) کی تعبیر باوجودیکہ اس سے پہلے اس بارے میں گفتگو ہو چکی ہے یہاں ”فلک“(کشتیوں) کے ذکر کے لیے مقدمہ کی حیثیت سے ہے یعنی خداوند عالم نے صحراؤں اور دریاؤں میں سفر اور مال کی نقل و حمل کے ذ رائع تمہارے اختیار میں دے دیئے ہیں، تاکہ تم آسانی کے ساتھ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکو۔ بحری جہازوں اور کشتیوں میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ اپنے تمام بوجھ اور ثقل کے باوجود پانی پر تیرتی رہتی ہیں اور ہواؤں کو ایسے مقررہ رخ پر چلایا کہ ہمیشہ ان سے کسی نہ کسی معین راستے کے لیے استفادہ کر کے مقصد کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں تاکید کے طور پر اور ہر ایک سے اقرار حاصل کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: ”خدا ہمیشہ اپنی نشانیاں تم کو دکھلاتا ہے، تم ہی بتاؤ کہ خدا کی کس کس آیت کا انکار کرو گے (وَ یُریکُمْ آیاتِہِ فَاَیَّ آیاتِ اللَّہِ تُنْکِرُون)۔ کیا تم ”آفاق“میں اس کی آیات کا انکار کرو گے یا”انفس“میں؟ آیا تم مٹی سے اپنی تخلیق، پھر جنین کے مراحل طے کرنے اور ولادت کے بعد مراحل کا انکار کرو گے یاموت و حیات کا ؟ آیا زمین و آسمان میں خدا کی آیات کا انکار کرو گے یا روز و شب کی آفرینش کا ؟ یا جانوروں اور چوپاؤں جیسے وسائل زندگی کی تخلیق کا ؟ غرض”جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے“.اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جو اسے نہ دیکھ سکیں“۔ سچ مچ جب کہ اس کی آیات اور نشانیاں ہر ایک کے لیے واضح ہیں تو پھر کئی لوگ انکار کا ر استہ کیوں اپناتے ہیں؟ اس سوال کا جواب عظیم مفسر طبرسی نے ان الفاظ میں دیا ہے: ممکن ہے کہ اس نکار کے تین اسباب ہیں؟ ۱ ۔ خواہشاتِ نفسانی کی اتباع: یہ اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان بے بنیاد شکوک و شبہات کی وجہ سے حق کے چہرے کو چھپا دیتا ہے اور وہ اپنی ان نفسانی خواہشات کوہمیشہ اپنائے رہتا ہے، کیونکہ حق کی قبولیت تو اس ے محدود کر دیتی ہے ایک تو اس کے لیے فرائض کا تعین کرتی ہے اور دوسرے اسے کچھ حدود کا پابند تیارہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حد کے اندر رہ کر مقید ہوتا چاہتے. لہذا وہ انکار حق پر کمربستہ ہو جاتے ہیں ہرچند کہ اس کے دلائل اور براہین روشن اور آشکار ہی کیوں نہ ہوں۔ ۲۔ دوسرے لوگوں، خاص کر باپ داد ا کی اندھی تقلید: یہ بھی حق کے چہرہ پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ ۳۔ تحقیق کئے بغیر غلط فیصلہ: اور سابقہ غلط عقائد جو ذہن میں راسخ ہو چکے ہیں وہ بھی آیات حق کے بارے میں غیر جانبدار تحقیق اور مطالعے مانع ہو تے ہیں لہذا انسان حق کا ادراک کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 6تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: عذاب کے موقع پر ایمان لانا فضول ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 6یہ آیات جو سورہٴ مؤمن کی آخری آیات ہیں درحقیقت تمام سورت کا خلاصہ اور گزشتہ تمام گفتگو کا نچوڑ ہیں کیونکہ آفاق و انفس پر مشتمل اس قدر آیات کے بیان، معاد اور قیامت کی عظیم عدالت کے بارے میں قدر لطیف و دلنشین مواعظ و گفتگو کے بعد ضدی مزاج منکروں اور مستکبر کافروں کو زبردست لیکن استدلال پر مشتمل تنبیہ کرتے ہوئے ان کے انجام کو بڑی وضاحت ک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: آیا انہوں نے روئے زمین کی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا؟ (اَ فَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ مِنْ قَبْلِھِمْ )۔ اگر انہیں مدُوّن اور مرتب تاریخ اور تاریخی صفحات میں مندرجہ واقعات کی حقیقت اور اصلیت میں شک ہے تو وہ بادشاہوں کے ویران شدہ محلات، زمین کے اندر گلی سڑی ہڈیوں، مصائب کے شکار شہروں کے کھنڈرات اور ان کے آثار میں شک نہیں کر سکتے جو زبان حال سے پکار پکار کر ان کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ ”وہی لوگ جو افرادی قوت کے لحاظ سے بھی اور زمین میں اپنی طاقت اور آثار کے لحاظ سے بھی ان سے زیادہ تھے (کا نُوا اَکْثَرَ مِنْھُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاَرْضِ)۔ ان کی افرادی قوت ان کی قبروں سے اور ان کی طاقت اور آثا ر کی فراوانی روئے زمین پر چھوڑی ہوئی ان کی یادگاروں سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ”اٰثارًا فی الارض“کی تعبیر سے ممکن ہے کہ ان کی زراعت کی ترقی کی طرف اشارہ ہوـــــــــــــــ جیسا کہ ہم اسی سورت کی اکیسویں آیت کی تفسیر میں جو اس سے ملتی جلتی ہے، بیان کر چکے ہیں ۔ (نیز جیسا کہ سورہٴ روم کی آیت ۹ میں بھی گزر چکا ہے )۔ یا پھر گزشتہ اقوام کی پہاڑوں کے اندر یا صحراؤں کے سینے پر موجود عمارتوں کی طرف اشارہ ہو ( جیسا کہ سورہ شعراءکی آیات ۱۲۸ ، ۱۲۹ میں بیان ہو چکا ہے )۔ لیکن اس کے باوجود ”جو کچھ بھی انھوں نے کمایا وہ طوفانِ بلا اور عذابِ الہٰی کے موقع پر انہیں بے نیاز نہ کر سکا اور نجات نہ دلا سکا (فَما اَغْنی عَنْھُمْ ما کا نُوا یَکْسِبُونَ ) (تشریحی نوٹ: ۔”ما اغنٰی“ میں ”ما“ کون سا ہے، نافیہ ہے یا استفہامیہ؟ دونوں احتمال پائےجاتے،ہیں لیکن بظاہر نافیہ ہےاور ”ما کانوا یکسبون“ میں”ما“ موصولہ ہے یا مصدریہ؟ اس بارے میں دو احتمال ہیں، لیکن پہلے معنی کو مسلما ترجیح حاصل ہے)۔ بلکہ یہ تمام طاقتیں پلک جھپکنے میں نیست و نابود ہو گئیں، محلات ایک دوسرے پر گر پڑے اور ویران ہو گئے ، عظیم اور طاقتور لشکر جھڑکے موسم میں درخت کے پتوں کی طرح روئے زمین پر گر پڑے یا پھر کوہ پیکر موجوں کی نذر ہو گئے ۔ جہاں اس قدر عظیم و جرار لشکروں اور بے انتہا طاقتور کا یہ انجام ہوا ہو وہاں پر مکہ کے یہ کمزور اور ناتواں مشرکین جن کا کسی کھاتے میں شمار نہیں، کیا سمجھتے ہیں؟ بعد کی آیت میں ان لوگوں کے ابنیاءکے واضح اور روشن معجزات کے ساتھ سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: جب ان کے رسول ان کے پاس معجزات اور روشن دلائل لے کر آئے تو انھوں نے ان سے روگردانی کی اور صرف انہی معلومات پرخوش رہے جو ان کے پاس پہلے سے تھیں۔ ان کے علاوہ باقی سب کو کچھ نہ سمجھا (فَلَمَّا جاءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّناتِ فَرِحُوا بِما عِنْدَھُمْ مِنَ الْعِلْمِ )۔ یہی امر اس بات کا سبب ہوا کہ ”وہ خدا کی جد دھمکی اور عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر نازل ہو کر رہا (وَحاقَ بِھِمْ ما کا نُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُن )۔ اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ معلومات اور علم کیا تھا جس پروہ نازاں تھے اور اس کے ہوتے ہوئے خود کو بے نیاز تصّور کرتے تھے؟ اس بارے میں مفسرین نے مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جو سب کے سب باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ ۱۔ وہ بے بنیاد شکوک و شبہات اور بے اساس اوہام کو علم سمجھتے تھے اور انہی پر ان کو ناز تھا کہ جن کے کچھ نمونے قرآنی آیت میں ذکر ہوئے ہیں، کبھی تو وہ کہتے : مn یحی العظام وھی رمیم کون ان گلی سٹری ہڈ یوں کوزندہ کرے گا ؟( یٰس . ۷۸) کبھی کہتے : ءاذا ضللنا فی الارض و انّا لفی خلق جدید ہم مٹی ہوکرمٹی میں گم ہوجائیں گے توکیا ممکن ہے کہ دوبارہ نئی تخلیق حاصل کرلیں ( سجدہ . ۱۰) کبھی کہتے : ما ھی الاّ حیاتنا الدنیا نموت ونحیا و ما یھلکنا الاّ الدھر بس اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے،کچھ لوگ مر ر ہے ہیں کچھ پیداہو رہے ہیں اور صرف زمانہ ہی ہمیں مار ر ہا ہے۔ ( جاثیہ ۲۴) اس قسم کے دوسر ے واہیات اور بے بنیاد دعوے جنہیں وہ علم سمجھتے تھے۔ ۲۔ اس سے مراد دنیا اور نظام زندگی کو چلانے کے متعلق معلومات ہیں جیسا کہ قارون نے کہا تھا: انما اوتیتہ علیٰ علم عندی میں نے اس مال و دولت کواپنی خاص معلومات کی وجہ سے کیا ہے۔ جو میرے پاس تھیں ۔ ( قصص .۷۸) ۳۔ اس سے مراد عقلی اور فلسفی دلائل یعنی علوم و فنون ہیں خواہ وہ رسمی شکل میں ہوں یا غیر رسمی صورت میں کہ کچھ لوگ انکی معلومات رکھنے کی وجہ سے خود کو ابنیاءسے بے نیاز سمجھتے تھے، ایسے لوگ پہلے زمانہ کے ہوں یا موجودہ دور کے۔ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ان تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ محدود بشری علوم خواہ وہ عقلی معارف اور عقائد ہوں یا واہیات شکوک و شبہات کہ جنہیں وہ علم سمجھتے تھے، کے بل بوتے پر وہ ایسے علوم کی نفی کیا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ جس کا مآخذ اور سرچشمہ وحی الہٰی ہوتا تھا اور اپنی ان محدود اور مختصر سی معلومات پر نازاں اور مسرور تھے اور خود کو انبیاءسے بالکل بے نیاز سمجھتے تھے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ سمجھتے ہیں کہ ”جاءتھم“کی ضمیر ابنیاءکی طرف لوٹ رہی ہے لہذا یہاں پر علوم سے مراد ، ابنیاءکے علوم ہیں اور ”فرحوا“ سے مراد کفار کا ابنیاءکے علوم کے ساتھ ہنسی مذاق اور استہزاءہے لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ لیکن قرآن مجید نے اس خودخواہی، غر ور اور تکبر کے نتیجے کو بعد کی آیات میں یوں بیان کیا ہے : ”جب انہوں نے ہمارے عذاب کی شدت کو دیکھا، جو ان کے نیست و نابود کرنے کے لیے نازل ہو چکا تھا اور ان کی نابودی کے لیے اپنے پروردگار کا آخری حکم لے کر آ گیا تھا، تو وہ اپنے کئے پر پشیمان ہو گئے اور اپنے آپ کو ذرہٴ ناچیز و ناتواں سمجھنے لگے تو بارگاہ حق کی طرف متوجہ ہو گئے اور چلا کر کہا: اب ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے ہیں اور جن معبودوں کو ہم اس کا شریک ٹہراتے تھے ان سے پھر چکے ہیں (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنا قالُوا آمَنَّا بِاللَّہِ وَحْدَہُ وَ کَفَرْنا بِما کُنَّا بِہِ مُشْرِکین)۔ لیکن جب انہوں نے ہمارے عذاب کا مشاہد ہ کر لیا تو ان کا ایمان ان کے لیے سود مند ثابت نہ ہوا (فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ إیمانُھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنا)۔ کیونکہ ”استیصالی عذاب“کے نزول کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور اصولی طور پر اسے مجبوری کے ایمان کا اختیا ری ایمان جیسا فائدہ بھی نہیں ہوتا اور مجبوری کے ایمان کی کچھ خاص وجوہات ہوتی ہیں اور جب یہ وجوہات ختم ہو جاتی ہیں اور طوفان بلا تھم جاتا ہے تو پھر۔ع وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ یہ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون نے نیل کی امواجِ بلا میں گھر کر ایمان کا اظہار کیا تو قبول کیا گیا۔ یہ حکم کچھ خاص افراد یا اقوام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ایسا ہے جب کہ خود قرآن اسی آیت کے ضمن میں کہتا ہے: یہ ایک خدائی طریقہ کار ہے جو اس کے گزشتہ بندوں میں بھی نافذ العمل رہا ہے۔ ( سُنَّتَ اللَّہِ الَّتی قَدْ خَلَتْ فی عِبادِہِ)۔ آخر میں زیر تفسیر آیات میں سے آخری آیت کو ان الفا ظ کے ساتھ ختم کیا گیا ہے: جب خدائی عذاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کافروں کا خسارہ اور نقصان ظاہر ہو گیا (وَ خَسِرَ ھُنالِکَ الْکافرون)۔ اب انہیں پتہ چلا کہ ان کے پاس تو صرف غرور اور تکبر کا مٹھی بھر سرمایا تھا، جسے وہ آب حیات سمجھتے تھے وہ تو سراب نکلا، اپنے تمام سرمایہٴ وجودی کو دنیا کی اس بے راہروی میں گنوا چکے ہیں جس کا نتیجہ گناہ اور خدا کے دردناک عذاب کے سوا اور کچھ نہیں نکلا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان اور خسارہ ہو گا ؟ تو اس طرح سے سورہ مؤمن اپنے اختتام کو پہنچی، جس کا آغاز مغرور کفار کے حالات سے ہوا تھا اور اختتام ان کے دردناک انجام پر۔
نکتہ: اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے
جیسا کہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اس سورت میں بہت سے لوگوں کی گمراہی، بے راہروی اور بدبختی کا اصل سرچشمہ تکبر اور غرور بتایا گیا ہے۔ تکبر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ کبھی تو مال و ثروت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، کبھی افرادی قوت اور فوجی طاقت کی وجی طاقت کی وجہ سے کبھی تھوڑی سی معلومات کی وجہ سے جنہیں انسان عظیم علم تصوّر کر لیتا ہے۔ جس کا جیتا جاگتا ثبوت ہمارے اس دور میں ترقی یافتہ مادی اقوام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ مذہب کی نفی اور الحاوی مکاتب فکر کی ترویج کا ایک اہم مؤثر عامل وہی علمی غرور ہے جو کئی سائنس دانوں کے اندر پیدا ہوا۔ وہ فطرت کے بعض اسرار کا انکشاف اور سائنس معلومات حاصل کر کے اپنے علم کی وجہ سے اس قدر مغرور اور بدمست ہو گئے کہ یہ تصّور کر لیا کہ کائنات میں صرف وہی کچھ موجود ہے جسے وہ جانتے ہیں اور جو ان کے علم میں نہیں اس کا وجود بھی نہیں ہے اور چونکہ انھوں نے خدا کو اپنی لیبارٹریوں اور رصدگاہوں میں موجود نہیں یایا لہذا اس کے منکر ہو گئے ۔ یہ علمی غرور اس حد تک وسعت پیدا کر گیا کہ وہ سرے سے مذہب اور انبیاءپر نازل ہونے وحی کو بھی انسان کی جہالت اورخوف کی پیدائش سمجھنے لگے اور کہنا شروع کر دیا کہ اب جبکہ علم اور سائنس اپنے عروج کمال کی سرحدوں کو چھو رہے ہیں ایسے مسائل کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور بشری زندگی کو چار ادوار میں تقسیم کر ڈالا : ۱۔ افسانوی دور ۲۔ مذہبی دور ۳۔ فلسفی دور ۴۔ سائنسی دور البتہ ایسے دانشوروں کی فعالیت کے دور میں کچھ مذاہب کے خرافات پر مشتمل ہونے نے بھی ان کے باطل اور ناپاک مقاصد کو تقویت پہنچائی (البتہ زیادہ تر ارباب کلیسا کی خرافات مراد ہیں ۔) اس طرح سے انہوں نے اپنے زعم باطل کے تحت مذہب اور انبیاءکی تعلیمات کو ہمیشہ کے لیے انسانی زندگی کے پروگرام سے خارج کر دیا۔ لیکن خوشی قسمتی سے یہ مستی اور غرور بھی پائیدار ثابت ہوئے اور دوسرے کچھ عوامل نے مل کر اس بے بنیاد نظریئے پر خطِ تنسیخ کھینچ دیا۔ مندرجہ بالا آیات کے مصداق ”جب وہ اپنے علم پر مغرور ہو گئے توعذاب خدا نے انہیں آ لیا اور ان کی چیخ و پکار انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکی“۔ ایک طرف تو پہلی اور دوسری عالمیگر جنگوں نے ثابت کر دیا کہ سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کو نہ صرف خوش بخت نہیں بنایا بلکہ دوسرے ادوار سے کہیں زیادہ تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری طرف مختلف قسم کی اجتماعی اور اخلاقی بے راہروی، طرح طرح کے مصائب و مشکلات ، بے انداز قتل و غارت اور نفسیاتی بیماریوں، لوٹ مار اور جنسی مسائل نے ثابت کر دیا کہ انسانی علوم خواہ جس قدر بھی ترقی کر جائیں تنہا وہ ان مشکلات کا حل پیش نہیں کر سکتے بلکہ ان کی غلط انداز میں تعلیم نے تو مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ تیسری طرف، سائنسی علوم میں بہت سے معمے پیدا ہو گئے جن کو حل کرنے سے انسان نے خود کو عاجز پایا اور اسے ایک نہیں کئی وسیع جہان نظر آنے لگے (خواہ وہ عظیم ترجہان ہوں یا نہایت ہی چھوٹے) انسان نے ان جہانوں کی شناخت سے بھی خود کو ناتواں پایا تو مجبوراً اسے انبیاء عظام کی تعلیمات کا سہارا لینا پڑا اور بہت بڑی تعداد میں دانشوروں کو وحی کے سائے میں پناہ لینا پڑی اور ایسی جانکاہ بیماریوں کا علاج ابنیاءکے فرامین میں ڈھونڈنے لگے۔ کلیساؤں میں ایک پھر بہار آنے لگی اور مذہبی تعلیمات بہت سے لوگوں کی زندگی کا جزو قرار پائیں۔ اس دوران میں اسلام اپنی مخصوص، تازہ، ترقی یافتہ اور جامع تعلیمات لے کر ظہور پذیر ہوا اور حقیقی اسلامی کی پہچان کی لگن لوگوں کے دل میں پیدا ہوئی۔ ہمیں اُمید ہے کہ قبل اس کے بأس ( عذاب ) الہٰی ایک بار پھراس دنیا کے لوگوں پرنازل ہو، بیداری کی یہ لہر عمومی صورت اختیار کر لے گی اور اس غرور و تکبر کے آثار نیست و نابود ہو جائیں گے تاکہ انسانیت کو ایک بار پھر نقصان اور خسارہ نہ اُٹھانا پڑے۔ پپروردگارا ! ہمیں غرور، تکبر، ضد، ہٹ، دھرمی اورخود خواہی سے اپنی امان میں رکھ کہ یہی چیزیں انسان کی ہلاکت، بدبختی اور شرمساری کا سبب ہیں۔ خداوندا! ہماری دنیا کو بیدار فرما ! اور قبل اس کے تیری ”بأس شدید“ ہمارے اس دور کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے انہیں اپنے انبیاءکے محبت بھرے دامان کی طرف لوٹا ۔ بارِالہٰا ! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہیں تاکہ ہمارا انجام دوسروں کے لیے عبرت نہ ہو! امین یا رب العالمین