Sūra 26 · 227v
Chapter 26227 verses

Ash-Shu'ara

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الشعراء
الشعراء

سوره شعراء

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی (آخری چار آیتوں کے سوا) اس میں ۲۲۷ آیات ہیں۔

سورہ شعراء کے مندرجات

مفسرین کے درمیان یہ مشہور ہے کہ سورہ شعراء کی آخری چار آیات کے علاوہ باقی تمام سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی کل ۲۲۷ آیتیں ہیں۔ [تفسیر جمع البیان، تفسیر فخر رازی، تفسیر قرطبی اور تفسیر تبیان، تفسیر روح المعانی نے پانچ آیات کا استثناء کیا ہے لیکن علامہ طباطبائی جیسے مفسرین نے ان آیات کے استثناء کو قبول نہیں کیا۔ انشاء اللہ ہم انہی آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کریں گے]۔ اس سورت کا اندازِ گفتگو مکمل طور پر دوسری مکّی سورتوں سے ہم آہنگ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کئی سورتیں آغازِ اسلام میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا ان کے مندرجات میں بیشتر اصولِ عقائد، توحید، معاد اور انبیاءِ خدا کی رحمت اور قرآن کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے سورہ شعراء کی تمام گفتگو بھی انھی مسائل پر مشتمل ہے۔ درحقیقت، اس سورۃ کی تمام مباحث کو چند حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصّہ سورت کا مطلع ہے جس کا حروفِ مقطعات سے آغاز ہوتا ہے اس میں قرآن کی عظمت کا بیان ہوتا ہے اور پھر مشرکین کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استقامت کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے اس کے بعد توحید کی کچھ نشانیوں اور خدا کی کچھ صفات کے بارے میں گفتگو ہے۔ دوسرے حصّے میں سات عظیم انبیاء کی زندگی کے چیدہ چیدہ حالات، اپنی قوم کے ساتھ ان کی نبرد آزمائی، مشرک لوگوں کی کج بحثی اور انبیاء علیہم السلام کے مقابلے میں ان کی بےتکی باتوں کا تذکرہ شامل ہے۔ جن میں سے کچھ کا تذکرہ زیادہ تفصیل کے ساتھ ہے جیسے موسی کی داستان ہے اور کچھ کا تذکرہ نہایت مختصر ہے جیسے حضرت ابراہیم، حضرت ہود، حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت لوط اور شعیب علیہم السلام کے حالات ہیں۔ اس حصے میں خاص طور پر ان مشرکین کی کمزور اور تعصب آمیز منطق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا سلسلہ ہر نبی کے دور میں چلتا رہا ہے جس کا زیادہ تر حصہ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کے مشرکین کی منطق سے ملتا جلتا ہے جو درحقیقت ابتدائی دور کہ تھوڑے سے مسلمانوں کے لیے باعث تسلی ہے کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ اس قسم کے افراد اور اس طرح کی بودی منطق سے بھری پڑی ہے لہٰذا وہ اپنے عزائم میں کمزوری کو ہرگز پیدا نہ ہونے دیں۔ مذکورہ اقوام پر نازل ہونے والے عذاب کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے اور ان پر جو وشت ناک بلائیں نازل ہوئی ہیں۔ان کو بھی خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے جو اس دور کے دشمنانِ رسول کے لیے ایک موثر تنبیہ ہے۔ تیسرے حصّے میں درحقیقت گزشتہ دونوں حِصّوں میں بیان شدہ مطالب کو نتیجہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کی دعوت اسلامی کیسی ہے؟ قرآن کس قدر عظیم ہے؟ مشرکین نے آپ کی کیونکر تکذیب کی؟ دعوتِ اسلامی کے سلسلے میں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو کیسے احکام ملے اور مومنین سے اس طرح ملا جاتا ہے اور آخر میں صالح مومنین کو خوشخبری اور ظالم اور ستمگر لوگوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے اور اسی پر سورہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس سورت کا نام اِسی کی آخری چند آیات سے لیا گیا جن میں بےمقصد شعراء کے بارے میں گفتگو کی گئی۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ سورہ آیات کے لحاظ سے سورۃ بقرہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اگرچہ کلمات کی تعداد کے لحاظ سے ایسا نہیں ہے بلکہ بہت سی سورتوں سے چھوٹی ہے۔

سوره شعراء کی فضیلت

اس سورت کی اہمیت کے بارے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: من قرء سورة شعراء كان له من الاجر عشر حسنات بعدد كل من صدق بنوح و كذب به وهود وشعيب وصالح و ابراهيم، و بعدد كل من كذب بعيسى وصدق بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ جو شخص سورہ شعراء کو پڑھے اسے نوح علیہ السلام کی تصدیق اور تکذیب کرنے والوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں ملیں گی۔ اسی طرح ہود، شعیب، صالح اور ابراہیم علیہ السلام کی تصدیق یا تکذیب کرنے والوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں ملیں گی اور جتنی تعداد نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی کے [مجمع البیان، سورہ شعراء کا آغاز] برابر نیکیاں ملیں گی۔ یہ تو صاف سی بات ہے کہ اتنا بڑا اجر اور ثواب فکر و عمل سے خالی تلاوت کا نہیں ہو گا بلکہ سورتوں کے فضائل پر مشتمل روآیات کے قرائن بتاتے ہیں کہ اس سے ایسی تلاوت مراد ہے جو ایسے غور و فکر کا مقدمہ بنے جو ارادے اور عمل تک لے جائے سابقہ سورتوں کے فضائل کے سلسلے میں اس بات کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے۔ اتفاق سے مندرجہ بالا حدیث کی تعبیر بھی ہمارے اس مدّعا کی موید ہے کیونکہ انبیاء کی تصدیق کرنے اور تکذیب کرنے والوں کی تعداد کے مطابق ثواب اور حسنات کا استحقاق اس لیے ہے تاکہ انسان ان لوگوں کی صف میں آ جائے جنھوں نے انبیاء علیم السلام کی تصدیق کی اور ان لوگوں سے دوری اختیار کر لے جنھوں نے تکذیب کی۔

1
26:1
طسٓمٓ
طسم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
26:2
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
یہ کتاب مبین کی آیتیں ہیں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
26:3
لَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ أَلَّا يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ
شاید اس غم میں تو اپنے آپ کو مار ڈالے گا کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
26:4
إِن نَّشَأۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٗ فَظَلَّتۡ أَعۡنَٰقُهُمۡ لَهَا خَٰضِعِينَ
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے آیت نازل کر دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
26:5
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ مُحۡدَثٍ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهُ مُعۡرِضِينَ
جو بھی نیا ذکر ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے آتا ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
26:6
فَقَدۡ كَذَّبُواْ فَسَيَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
انہوں نے جھٹلایا لیکن بہت جلد اس چیز کی خبر بھی انہیں مل جائے گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔

تفسیر: وہ ہر نئی چیز سے خوف کھاتے ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ہم ایک دفعہ پھر قرآن کے ایک اور قسم کے حروف مقطعات کو ملاحظہ کر رہے ہیں۔ وہ ہیں: (طٰسم)۔ اس قسم کے حروف مقطعات کی تفسیر میں ہم سورہ ٴ بقرہ، سورہ ٴ آل عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں بالتفصیل اور جدا گانہ گفتگو کر چکے ہیں جسے یہاں پر دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں پر جس چیز کا اضافہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ "طٰسم" کے بارے میں پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جو سب کی سب یہ بتا رہی ہیں کہ یہ خداوند تبارک و تعالیٰ یا قرآنِ مجید کے اسماء یا مقدس مقامات یا بہشت کے درخت وغیرہ کے ناموں کے علامتیں ہیں۔ یہ روایات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں جو ہم نے تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں سورہ ٴ اعراف کے آغاز میں درج کی ہے اور اس تفسیر کے منافی بھی نہیں ہیں جو سورہٴ بقرہ کے آغاز میں ذکر کی گئی ہے کہ ان حروف سے مراد قرآن کی عظمت اور اس کا اعجاز ہے کہ اس قدر عظیم کلام اس قدر سادہ اور چھوٹے سے حروف سے مرکب ہے۔ بعد والی آیت قرآنِ پاک کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہے: یہ کتابِ مبین کی آیتیں ہیں (تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ)۔ البتہ ادبیاتِ عرب کی رو سے "تلک" کا ارشاد دور کے لئے آتا ہے جس کا معنیٰ "وہ" ہوتا ہے لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ کلامِ عرب اور بعض اوقات فارسی زبان میں بھی کسی چیز کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے دور کے اسمِ اشارہ سے استفادہ کرتے ہیں یعنی موضوع اس قدر اہم اور بلند مرتبہ ہے گویا ہماری دسترس سے باہر اور آسمان کی بلندیوں پر واقع ہے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ یہی آیت بعینہ اسی صورت میں سورہ ٴ یوسف اور سورہٴ قصص کے آغاز میں بھی آ چکی ہے اور ہر جگہ حروفِ مقطعہ کے بعد آئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان حروف کا قرآن مجید کی عظمت کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ "قرآن" کی توصیف "مبین" کے ساتھ کی گئی ہے "مبین" "بیان" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے "روشن" اور یہ قرآن مجید کی عظمت اور اعجاز کے واضح اور آشکار ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جتنا اس کے مطالب میں غور و فکر کرے گا اتنا ہی قرآن کے معجزہ ہونے سے آشنا ہوتا جائے گا۔ اس کے علاوہ قرآنِ مجید "حق" اور "باطل" میں تمیز کرنے والا اور سعادت، کامیابی اور نجات کے رستے کو گمراہی کے رستے سے جدا کرنے والا بھی ہے۔ اس کے بعد رسول پاک کی دلجوئی اور تسلی کے لئے قرآن فرماتا ہے: گویا تو شدتِ غم کی وجہ سے جان دے دے گا کہ وہ لوگ ایمان نہیں لاتے (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ اَلاَّ یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ)۔ "باخع" کا صیغہ "بخع" (بر وزن "بخش") کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے شدتِ غم کی وجہ سے اپنے آپ کو مار ڈالنا اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کس حد تک لوگوں کے لئے دلسوز ہیں اور اپنی رسالت کے فریضے کی ادائیگی کے لئے کس قدر کوشاں ہیں؟ جب آپ دیکھتے تھے کہ وہ قرآن اور اسلام جیسے چشمہ آبِ زلال کے کنارے پر پیاسے کھڑے ہوئے ہیں اور اس سے اپنی پیاس نہیں بجھاتے تو اس سے آپ کو کتنا دکھ ہوتا تھا؟ وہ اس بات سے مغموم تھے کہ قرآن و اسلام جیسے روشن چراغ کی موجودگی میں صاحبانِ عقل کیوں بے راہ روی کا شکار ہیں اور کیوں گمراہی کی گہرائیوں میں گر کر اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں۔ ویسے تو تمام انبیاء الہٰی اسی طرح غم خوار، ہمدرد اور دلسوز تھے لیکن اسلام کے عظیم پیغمبر تو ایسے واقعات پر بہت ہی غمگین تھے۔ چنانچہ آپ کے بارے میں کئی مقامات پر قرآن میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ بعض مفسرین یہ کہتے تھے کہ مندرجہ بالا آیت کے نزول کا سبب یہ تھا کہ آنحضرت نے بار بار اہلِ مکہ کو دعوتِ اسلام دی لیکن انھوں نے آپ کی ایک نہ سنی اور ایمان نہیں لائے تو ایک مرتبہ آپ اس قدر غمگین اور پریشان ہو گئے کہ اس کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو گئے چنانچہ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے آپ کو تسلی دی اور آپ کی دلجوئی کی۔ [تفسیر ابو الفتوح رازی جلد ۸، اسی آیت کے ذیل میں]۔ بعد والی آیت اس حقیقت کے ثابت کرنے کے لئے کہ خداوندِ عالم ہر چیز پر قادر ہے حتیٰ کہ وہ مجبور کر کے بھی لوگوں کو ایمان لانے پر آمادہ کر سکتا ہے فرمایا گیا ہے: اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی آیت نازل کر دیں جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں ( ِٕنْ نَشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِنْ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ لَھَا خَاضِعِینَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اس قدر قدرت رکھتے ہیں کہ ان پر ایسا خیرہ کر دینے والا معجزہ یا زبردست اور وحشت ناک عذاب نازل کر دیں کہ سب کے سب بے ساختہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں اور ایمان لے آئیں لیکن اس طرح کے ایمان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ اس بات کو اہمیت حاصل ہے کہ وہ شعوری طور پر سوچ سمجھ کر اپنے ارادے اور اختیار سے ایمان لے آئیں اور حق کے آگے اپنی گردنیں جھکا دیں۔ اس بات کے بتانے کی ضرورت نہیں کہ گردنوں کے جھکنے سے مراد گردن والوں کا جھکنا ہوتا ہے کیونکہ فارسی میں "گردن" عربی میں "رقبہ" اور "عنق" کا اطلاق انسان کے ایک اہم ترین عضو پر ہوتا ہے جو کنایہ کی صورت میں خود انسان پر بھی بولا جاتا ہے جیسے باغی اور سرکش انسان کو فارسی میں "گردن کش" جابر ظالم انسان کو "گردن کلفت" اور کمزور شخص کو "گردن شکستہ" کہتے ہیں۔ البتہ اس مقام پر"اعناق" کی تفسیر میں اور بھی کئی احتمال پیدا ہوتے ہیں جو سب کے سب ضعیف ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "اعناق" کا معنیٰ یا تو "سربراہ اور روساء" ہے اور یا لوگوں کا ایک گروہ ہے۔ آگے چل کر قرآن مجید کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کے رد عمل کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: جو بھی نیا ذکر خداوندِ رحمن کی طرف سے ان کے پاس آتا ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (وَمَا یَاْتِیہِمْ مِنْ ذِکْرٍ مِنْ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ کَانُوا عَنْہُ مُعْرِضِینَ)۔ قرآن کو "ذکر" سے تعبیر کرنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مقدس کتاب اپنی تمام آیات اور سورتوں کے ساتھ بیدار اور آگاہ کرنے والی ہے لیکن یہ گروہ بیداری اور آگاہی سے دور بھاگتا ہے۔ "رحمن" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آیات اس خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں جس کی رحمت عام ہے اور کسی استثناء کے بغیر وہ تمام بنی نوعِ انسان کو سعادت اور کمال کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ انسانوں کی شکر گزاری کی حسّ بیدار کرنے کے لئے ہو کہ یہ آیات اس خدا کی طرف سے ہیں جس کی نعمتیں تمہیں سر سے پاوٴں تک ڈھانپے ہوئے ہیں تم کیوں اپنے ولی نعمت سے منہ موڑ رہے ہو۔ اگر وہ تمہیں عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا تو یہ بھی اس کی رحمت کے باعث ہے۔ "محدّث" (نیا، تازہ) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آیات ایک دوسرے کے بعد نازل ہوتی رہتی ہیں اور ہر ایک کا کوئی نہ کوئی نیا مضمون ہوتا ہے۔ لیکن اس کا کیا جائے کہ وہ ان نئے حقائق سے موافقت نہیں کرتے گویا وہ اپنے بڑوں کی خرافات پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جہالت، گمراہی اور خرافات کو الوداع کہنے پر کسی قیمت پر راضی نہیں۔ اصلاً ہوتا بھی یہی ہے کہ نئی بات خواہ کتنی ہی ہدایت کی موجب کیوں نہ ہو بے سمجھ، متعصب اور ہٹ دھرم لوگ اس کی مخالفت ہی کرتے ہیں۔ سورہٴ مومنون کی آیت ۶۸ میں ہے: افلم یدبّروا القول ام جائھم ما لم یاٴت آبائھم الاوّلین آیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا یا یہ کہ آیات نئی ہیں جو ان کے بزرگوں کے پاس کبھی نہیں آئیں (اور نئی بات کہہ کر اس کے مقابلے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں)۔ قرآن آگے چل کر فرماتا ہے کہ وہ فقط روگردانی پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ "تکذیب" اور اس سے بڑھ کر "استہزاء" کی حد تک جا پہنچتے ہیں ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے تکذیب کی ہے لیکن وہ استہزاء کرتے ہیں بہت جلد اس کی خبریں ان کے پاس آ جائیں گی اور وہ اپنے کاموں کی درد ناک جزا سے با خبر ہو جائیں گے (فَقَدْ کَذَّبُوا فَسَیَاْتِیھِمْ اَنْبَاءُ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتھْزِئُون)۔ "انباء" "نباٴ" کی جمع ہے جس کا معنیٰ اہم خبر ہے یہاں پر ایسی سخت سزا مراد ہے جو انھیں اس دنیا میں اور آئندہ جہان میں ملے گی اگرچہ بعض مفسرین مثلاً شیخ طوسی نے اپنی تفسیر تبیان میں اس سزا کو آخرت کی سزا میں منحصر کیا ہے لیکن زیادہ مفسرین اسے مطلق سزا سمجھتے ہیں جس میں دونوں شامل ہیں۔ درحقیقت، ہے بھی ایسا ہی کیونکہ آیت میں اطلاق ہے اس کے علاوہ کفر اور آیاتِ الہٰی کے انکار کا انسان کی تمام زندگی میں عظیم اور وحشت ناک ردِّ عمل ہوتا ہے لہٰذا اس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان انحراف اور گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو دن بدن اس کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور وہ روز بروز حق و حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے۔ پہلے تو حق سے بے پروائی اور روگردانی کا مرحلہ آتا ہے۔ پھر تکذیب اور انکار کی نوبت آتی ہے آخر میں حق کے مذاق اُڑانے کا مرحلہ آ جاتا ہے جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ انسان کو عذابِ الہٰی گھیر لیتا ہے اس طرح سے وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتا ہے (اس طرح کی تعبیر سورہٴ انعام کے آغاز میں آیت نمبر ۴ اور نمبر ۵ کی تفسیر میں بھی گذر چکی ہے)۔

چند اہم نکات: ۱۔ ایمان آزادی کے ساتھ ہی سود مند ہوتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک مشہور خطبہ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ خداوندِ عالم نے انبیاء کرام کو اس طرح مبعوث فرمایا ہے کہ لوگ ایمان لانے کے لئے آزاد ہو کر فیصلہ کریں، وگرنہ ان کا ایمان مجبوری کی وجہ سے ہو گا جس کا ہرگز کوئی فائدہ نہ ہوتا، ارشاد ہوتا ہے:۔ انبیاء کو مبعوث کرتے وقت اگر خدا چاہتا تو خزانوں اور سونے کی کانوں کے منہ ان کے لئے کھول دیتا۔ سرسبز و شاداب باغات کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جاتے۔ اگر چاہتا تو آسمانی پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اور زمین کے وحشی جانوروں کے دَل کے دَل ان کے ہمراہ کر دیتا لیکن اس طرح سے ایک تو امتحان اور آزمائش کی بات ختم ہو جاتی اور دوسرے سزا اور جزا کا تصور بے معنی ہو کر رہ جاتا۔ [نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ ( نمبر ۱۹۲)]۔ کافی میں اِسی آیت کے ضمن میں یوں درج ہے: اگر خدا چاہتا تو آسمان سے کوئی نشانی نازل کر دیتا جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جاتیں لیکن اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کی آزمائش اور امتحان کا تصور بالکل ختم ہو کر رہ جاتا۔ [تفسیر نور الثقلین اسی آیت کے ذیل میں بحوالہ کافی]۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ کتاب ارشاد از شیخ مفید، روضة الکافی، کمال الدین شیخ صدوق اور تفسیر قمی جیسی مشہور و معروف کتابوں میں درج ہے کہ حضرت امام جعفرِ صادق علیہ السلام نے آیت "ان نشاٴ ننزل۔۔۔ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے:۔ اس سے مراد نبی امیہ کے سرکش لوگ ہیں جب وہ امام مہدی آخر الزماں کے ظہور کے وقت آسمانی نشانیاں ملاحظہ کریں گے تو مجبوراً سرِ تسلیم خم کر دیں گے۔ [تفسیر المیزان اور تفسیر نور الثقلین، انہی آیات کے ضمن میں]۔ واضح ہے کہ اس طرح کی روایت سے مراد آیت کے مفہوم کی وجہ سے اس کے کسی نہ کسی مصداق کا بیان ہوتا ہے کہ آخرکار عالمی حکومت کے سربراہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ظلم و جور پر مبنی ان تمام حکومتوں کا خاتمہ ہو جائے گا جو بنی امیہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ اسلام کی طاقت اور انھیں حاصل تائید ایزدی کی وجہ سے مجبوراً ان کے آگے سرِتسلیم خم کر لیں گے۔

۲۔کلام اللہ حادث ہے یا قدیم

ہم جانتے ہیں کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں "کلام اللہ" کے حادث یا قدیم ہونے کے بارے میں لمبی چوڑی بحث عرصہ دراز تک چلتی رہی اور اس کی صدائے باز گشت کتب تفاسیر میں بھی سنائی دینے لگی اور کئی ایک مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں موجود لفظ "محدث" کے ذریعے اس کے حادث ہونے پر استدلال قائم کیا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس بحث کی کوئی منطقی بنیاد نہیں ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے بنی امیہ اور بنی عباس کے خود سرزمامدارانِ حکومت نے اپنی مطلق العنان حکومتوں کو دوام بخشنے کے لئے اس قسم کی بحثوں کا ڈھونگ رچایا تھا تاکہ اس طرح سے وہ مسلمان لوگوں کے افکار کو اہم ترین اسلامی مسائل پر غور و خوض کرنے سے منحرف کر دیں اور لوگوں کو حکومت کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہ ملے انہوں نے یہ مسائل چھیڑے ہی اس لئے تھے کہ علمائے اسلام ایسے مسائل میں الجھے رہیں اور ان کی خودسر اور مطلق العنان حکومت چار دن اور چل جائے۔ اگر "کلامِ الہٰی" سے مراد اس کے موضوع اور مطالب ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ازل ہی سے علمِ الٰہی میں تھے اور خدا ان سب سے واقف تھا اس لحاظ سے قدیم ہے اور اگر اس سے مراد وحی کا نزول اور قرآن کے حروف اور کلمات ہیں تو مسلم ہے کہ حادث ہیں۔ بنابریں، کلام الٰہی پہلی صورت میں قدیم اور دوسری صورت میں حادث ہے اور اس میں نہ تو کسی کو شک و شبہ ہے اور نہ ہی مقامِ بحث ہے۔ اسی لئے عالمِ اسلام خاص کر علماء اور دانشور طبقہ اس سے خبردار اور ہوشیار رہیں اور جابر و آمر حکمرانوں کے ذریعے چھیڑی جانے والی کج بحثیوں میں ہرگز نہ الجھیں۔

7
26:7
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَمۡ أَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ
کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں اس میں مختلف قسم کی نباتات پیدا کی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
26:8
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اس بات میں (خدا کے وجود پر) روشن نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ ہرگز مومن نہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
26:9
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
بیشک تمہارا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔

نباتات میں زوجیّت

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں تشریعی آیات یعنی قرآن مجید سے کفار کی روگردانی کا تذکرہ تھا ان آیات میں ان کے تکوینی آیات (کائنات میں موجود خدا کی نشانیوں) سے اعراض کا ذکر ہے انہوں نے آنحضرت کا کلام سننے سے صرف کانوں ہی کو بند نہیں کر رکھا تھا بلکہ اپنے اطراف میں موجود حق کی نشانیوں کو دیکھنے سے بھی آنکھوں کو محروم رکھا ہوا تھا۔ فرمایا گیا ہے: کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں مختلف قسم کی نباتات پیدا کی ہیں کہ جن میں نر بھی ہیں اور مادہ بھی، خوبصورت و زیبا بھی ہیں اور فائندہ مند بھی (اَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی الْاَرْضِ کَمْ اَنْبَتْنَا فِیہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیمٍ)۔ [تشریحی نوٹ: عموماً ایسا ہوتا ہے "روٴیت" کا مادہ "الیٰ" کے ساتھ ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات دو مفعولوں کی طرف بھی متعدی ہوتا ہے اور اگر یہاں پر "الیٰ" کے ساتھ متعدی ہو ا ہے تو اس وجہ سے ہے کہ یہ نگاہ کرنے کے معنی میں ہے جو غور و فکر کے ساتھ دیکھنے کی طرف اشارہ ہے]۔ یہاں پر نباتات کے بارے میں لفظ "زوج" لایا گیا ہے اور یہی چیز غور طلب ہے اگرچہ اکثر مفسرین نے زوج کو نوع اور صنف کے معنی میں لیا ہے اور ازواج کا معنی انواع اور اصناف کیا ہے لیکن اگر ہم اسے اس کے مشہور معنیٰ میں لیں یعنی ہر چیز کا جوڑا جوڑا تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس سے عالم نباتات میں زوجیت اور جوڑا ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ گزشتہ زمانے میں لوگوں نے کم و بیش اس حد تک سمجھ رکھا تھا کہ نباتات کی بعض قسمیں نر اور مادہ پر مشتمل ہیں اور نباتات کو ثمر آور بنانے کے لئے تلقیح کے عمل سے استفادہ کرتے تھے اور کم از کم کھجور کے درخت کی حد تک تو یہ بات مسلم تھی۔ لیکن باقاعدہ طور پر سب سے پہلے سویڈن کا مشہور و معروف ماہر نباتات مسٹر "لینے" اٹھارویں صدی عیسوی میں یہ حقیقت دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ نباتات کی دنیا میں تقریباً یہ ایک عام قانون ہے اور عام حیوانات کی طرح نباتات بھی نر اور مادہ کے نطفے کی آمیزش سے ثمر آور ہوتے ہیں اور ان کی نسل بڑھتی ہے۔ لیکن اس سائنس دان کی دریافت سے صدیوں پہلے قرآن نے مختلف آیات میں کئی مرتبہ نباتات کے جوڑا جوڑا ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے (زیرِ نظر آیات، سورہٴ رعد کی آیت ۴، سورہٴ لقمان کی آیت ۱۰ اور سورہ ق کی آیت ۷ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں) اور یہ قرآن کا ایک عالمی معجزہ ہے۔ "کریم" کا لفظ دراصل ہر قیمتی اور قابلِ قدر چیز کے معنی میں آتا ہے جو کبھی تو انسانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور کبھی نباتات کے لئے۔ حتی کہ بعض اوقات "خط" کو بھی "کریم" لفظ کے ساتھ موصوف کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت سیلمان علیہ السلام کے خط کے بارے میں ملکہ سبا نے کہا تھا "انی القی الیّ کتاب کریم" (نمل/۲۹) کریم نباتات سے مراد مفید نباتات ہیں۔ اگرچہ تمام نباتات مفید ہیں اور یہ افادیت علم اور سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جائے گی۔ بعد والی آیت میں مزید تاکید اور بیشتر وضاحت کے طور پر قرآن فرماتا ہے: ان قیمتی نباتات کی تخلیق میں خدا کے وجود پر واضح نشانی موجود ہے (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً)۔ اس حقیقت کی طرف توجہ کی جائے کہ یہ مٹی جو بظاہر ایک بے قیمت سی چیز ہے لیکن اگر اسے ایک مقررہ ترکیب حاصل ہو جائے تو یہ قدرتِ الہٰی کا یک عظیم شاہکار بن جاتی ہے جس سے رنگا رنگ خوب صورت پودے، پھول، ثمر آور درخت اور مختلف خواص کے حامل انواع و اقسام کے میوے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ دل کے اندھے اس قدر غافل اور بے خبر ہیں کہ اس قدر عظیم آیات کو دیکھنے کے باوجود غفلت کا شکار ہیں کیونکہ کفر اور ہٹ دھرمی ان کے دل میں راسخ ہو چکے ہیں۔ بنابریں، آیت کے اختتام پر فرمایا گیا ہے: ان میں سے اکثر لوگ تو کبھی بھی مومن نہیں تھے (وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ یعنی یہ بے ایمانی ان کی ایک راسخ صفت بن چکی ہے لہٰذا اگر وہ ان آیات سے فائدہ نہ اٹھائیں توتعجب نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ فعل کی اہلیّت اور لیاقت بھی تو تاثیر کی اصل شرط ہے جیسا کہ قرآنِ مجید کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ "ھدیً للمتقین" (یعنی متقیوں کے لئے سببِ ہدایت) ہے( بقرہ/۲)۔ زیرِ بحث آیات کے سلسلے میں آخری کڑی میں تنبیہ اور تشویق کے ساتھ امید اور خوف کا منظر پایا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تیرا پروردگار عزیز اور رحیم ہے (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیم)۔ "عزیز" اس طاقتور کو کہتے ہیں جو نا قابلِ شکست ہوتا ہے۔ خدا اس لئے عزیز ہے کہ وہ اپنی عظیم نشانیاں دکھانے پر بھی قادر ہے اور جھٹلانے والوں کی سرکوبی بھی بڑی آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ رحیم ہے اور اس کی وسیع رحمت ہر جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں کہ اگر ایک مختصر سے لمحہ میں بھی تہ دل کے ساتھ اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کیا جائے تو یہی کافی ہے کہ انسان پر اس کی نظرِ کرم ہو جائے اور وہ اس کے تمام گزشتہ گناہوں پر بخشش کا قلم پھیر دے۔ "عزیز" کو "رحیم" پر شاید اس لئے مقدم کیا گیا ہے کہ اگر رحیم کو عزیز پر مقدم کرتا تو شاید اس سے کمزوری کا احساس ہوتا لیکن عزیز کے مقدم کرنے سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ وہ انتہائی قدرت کے باوجود رحیم اور نہایت ہی مہربان ہے۔

10
26:10
وَإِذۡ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئۡتِ ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اس وقت کو یاد کر جب تیرے پروردگار نے موسیٰ کو ندا دی کہ اس ظالم قوم کے پاس جا،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
26:11
قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَۚ أَلَا يَتَّقُونَ
قوم فرعون (کے پاس)۔کیا وہ(خدا کے فرمان کی مخالفت سے) پرہیز نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
26:12
قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
(موسیٰ نے) عرض کی پروردگارا! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
26:13
وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ
اور میرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور میری زبان کافی حد تک گویا بھی نہیں۔ پس(میرے بھائی) ہارون کو بھی رسالت عطا فرما۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
26:14
وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢبٞ فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ
اور ان لوگوں کی طرف سے مجھ پر جرم کا الزام ہے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
26:15
قَالَ كَلَّاۖ فَٱذۡهَبَا بِـَٔايَٰتِنَآۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسۡتَمِعُونَ
(خدا نے)فرمایا کہ ایسا نہیں ہے تم دونوں (ان کی ہدایت کیلئے) ہماری آیات لے کر جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور (تمہاری باتوں کو) سن رہے ہیں۔

تفسیر: حضرت موسیٰ کی رسالت کا آغاز

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا آغاز: ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اس سورت میں خدا کے سات عظیم انبیاء کا تذکرہ ہے جو تمام مسلمانوں خصوصاً اوائلِ اسلام کے مسلمانوں کے لئے ایک درس ہے۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی داستان شروع ہوتی ہے۔ اس داستان میں ان کی زندگی کے مختلف پہلووٴں، فرعون اور فرعونیوں کے ساتھ ان کی لڑائی اور فرعون کی غرقابی تک کے واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب تک (سورہٴ بقرہ، مائدہ، اعراف، یونس، بنی اسرائیل اور سورہٴ طٰہٰ جیسی) قرآن مجید کی سورتوں میں بنی اسرائیل، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے بارے میں میں گفتگو ہو چکی ہے اور بعض سورتوں میں آئندہ بھی یہی ذکر آئے گا۔ اگرچہ یہ مباحث مکرر ہیں اور انھیں بار بار دہرایا گیا ہے لیکن اگر ان میں ذرا سا غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر بحث میں اس داستان کے کسی خاص حصے پر زور دیا گیا ہے اور کسی مخصوص مقصد کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ بالا آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان بہت اقلیت میں تھے اور ان کے مخالف اور دشمن نہایت طاقتور اور زور آور تھے اور کسی صورت میں بھی ان کی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تو یہاں پر لازم تھا کہ خداوندِ عالم گزشتہ اقوام کے ایسے واقعات پیش کرے جن سے ان کی ڈھارس بندھ جائے اور انھیں معلوم ہو جائے کہ دشمن کی عظیم طاقت اور ان کی ظاہری کمزوری کسی بھی صورت میں ان کی شکست کا سبب بن سکتی۔ اس طرح سے ان کے حوصلے بلند اور قوت مدافعت اور استقامت میں اضافہ ہو جاتا اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ ساتوں انبیاء میں سے ہر ایک کی سر گزشت کے بعد "وما کان اکثرھم موٴمنین و ان ربک لھو العزیز الرحیم" (ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے اور تمہارا پروردگار عزیز اور رحیم ہے) کو دہرایا گیا ہے یہ بعینہ وہی عبارت ہے جو ہم نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں سورة کے آغاز میں پڑھی ہے اس طرح کی ہم آہنگی اس حقیقت پر زندہ گواہ ہے کہ انبیاء کی داستانوں کا یہ حصہ اس خاص زمانے میں مسلمانوں کی اجتماعی اور نفسیاتی کیفیات کے پیشِ نظر تھا اور ان کا یہ دور ان انبیاء کے مذکورہ ادوار سے ملتا جلتا تھا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب تیرے پروردگار نے موسیٰ کو ندا دی کہ اس ظالم قوم کے پاس جاوٴ (وَإِذْ نَادَی رَبُّکَ مُوسَی اَنْ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ)۔ اسی قومِ فرعون کے پاس، آیا وہ ظلم و ستم اور پروردگارِ عالم کے حکم کی نافرمانی سے پرہیز نہیں کرتے (قَوْمَ فِرْعَوْنَ اَلاَیَتَّقُونَ)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قومِ فرعون کی جس بری خصلت کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے وہ ظلم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ ظلم کا ایک وسیع مفہوم ہے اور شرک اس کے ظاہری مصداقوں میں سے ایک ہے۔ انّ الشرک لظلم عظیم (لقمان :۱۳) اس طرح بنی اسرائیل کا لوٹ کھسوٹ کا شکار ہونا، انھیں غلام بنانا، انھیں انواع و اقسام کے شکنجوں میں جکڑنا اور تشدد کا نشانہ بنانا بھی ایک اور مصداق ہے اس کے علاوہ وہ احکامِ الہٰی کی خلاف ورزی کر کے دوسرے لوگوں سے پہلے خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے انبیاء کرام کی دعوت و تبلیغ کے مقصد کو ظلم کے خلاف نبرد آزمائی میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی عظیم مشکلات خدا کی بارگاہ میں پیش کر کے اس سے قوت اور طاقت کی درخواست کی تاکہ اس طرح سے وہ رسالت کے عظیم بوجھ کو اٹھانے کے قابل ہو جائیں۔ "عرض کیا خداوندا! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے" (قَالَ رَبِّ إِنِّی اَخَافُ اَنْ یُکَذِّبُون)۔ قبل اس کے کہ میں تبلیغِ رسالت کا فریضہ انجام دوں، شور و غوغا برپا کر کے اور مجھے جھٹلا کر میری راہ کو مسدود کر دیں گے اور یہ مقصد حاصل نہ ہو سکے گا۔ یہ بات کرنے میں موسیٰ علیہ السلام یقینا حق بجانب تھے کیونکہ فرعون اور اس کے چیلے چانٹے سرزمین مصر پر اس قدر مسلط تھے کہ کوئی بھی ان کی مخالفت کی جراٴت نہیں کر سکتا تھا اور جہاں کہیں سے بھی کوئی مخالفت کی آواز بلند ہوتی اسے سختی کے ساتھ دبا دیا جاتا اور افراد کو بے رحمی سے کچل دیا جاتا۔ اس کے علاوہ "میرا سینہ کارِ رسالت کی ادائیگی کے لئے اس قدر وسعت بھی نہیں رکھتا" (وَیَضِیقُ صَدْرِی)۔ اور پھر یہ کہ "میری زبان بھی کوئی ایسی گویا نہیں ہے" (وَلاَیَنْطَلِقُ لِسَانِی)۔ اس لئے میری درخواست یہ ہے کہ "(میرے بھائی) ہارون کو بھی منصبِ رسالت عطا کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ مل کر اس فریضے کو ادا کرے" (فَاَرْسِلْ إِلَی ھَارُونَ)۔ [درحقیقت، اس جملے کی ایک تقدیر ہے اور وہ یہ ہے "فارسل جبرئیل الیٰ ھارون"]۔ تاکہ ہم ایک دوسرے کی معاونت سے ان خود سر ظالموں تک تیرے اس عظیم فرمان کو پہنچا سکیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ (ان کے اپنے نظریئے کے مطابق) ان لوگوں کا مجھ پر ایک جرم کا الزام ہے (وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ)۔ میں نے ایک ظالم فرعونی کو اس وقت مکّا مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ ایک مظلوم بنی اسرائیلی سے لڑ رہا تھا۔ لہٰذا میں ڈرتا ہوں کہ قصاص کے طور پر وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے اور پھر یہ عظیم فریضہ ادا نہ ہو سکے گا (فَاَخَافُ اَنْ یَقْتُلُون)۔ درحقیقت، موسیٰ علیہ السلام کو اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لئے چار بڑی مشکلات آڑے آ رہی تھیں جن کے حل کے لئے انھوں نے اپنے خدا سے دعا مانگی (تکذیب کی مشکل، تنگی سینہ کی مشکل، عدم فصاحت کی مشکل اور انتقام کی مشکل)۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اپنی ذات کو خوف نہیں تھا بلکہ انھیں یہ خوف در پیش تھا کہ منزلِ مقصود پہنچنے سے پہلے ہی یہ مقصد فوت نہ ہو جائے۔ لہٰذا انھوں نے اس معرکے کے لئے خدا سے زیادہ سے زیادہ طاقت اور قوت کی درخواست کی۔ جس قسم کے وسیلے کی انھوں نے خداوندِ عالم سے درخواست کی اس حقیقت پر "شاہد ناطق" کی درخواست تھی۔ اس نے "شرح صدر" (وسیع اور کشادہ روح) کی درخواست کی۔ اِسی طرح زبان کی ہر قسم کی گرہوں کے کھولنے کی درخواست کی اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو منصبِ رسالت عطا کرنے کی تاکہ وہ اس کام میں ان کا ہاتھ بٹا سکیں چنانچہ اس آخری درخواست کا ماجرا سورہٴ طٰہٰ میں زیادہ تفصیل سے درج ہے۔ موسیٰ علیہ اسلام عرض کرتے ہیں:۔ رب اشرح لی صدری ویسر لی امری و احلل عقدة من لسانی یفقھوا قولی و اجعل لی وزیراً من اھلی ھارون اخی اشدد بہ ازری و اشرکہ فی امری کی نسبحک کثیراً پروردگارا! میرا سینہ کشادہ کر دے، میرے کام کو مجھ پر آسان فرما، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں اور میرے خاندان سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا، اس کے ذریعے میری کمر کو مضبوط کر دے، اسے میرے کاموں میں میرا شریک بنا تاکہ ہم تیری بہت تسبیح کر سکیں اور تجھے بہت یاد کر سکیں۔ (طٰہٰ/۲۵ تا ۳۴) خداوندِ عالم نے موسیٰ علیہ السلام کی صدقِ دل پر مبنی اس درخواست کو منظور فرمالیا اور "فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا" کہ وہ تمہیں قتل کر دیں یا تیرا سینہ تنگ ہو یا تیری زبان میں کوئی گرہ ہو اور تو بول نہ سکے (قَالَ کَلاَّ)۔ تمہارے بھائی کے بارے میں تمہارے دعا کو مستجاب کیا اور اسے بھی حکم دیا ہے "تم دونوں ہماری آیات لے کر جاوٴ" (اس کی گمراہ قوم کو میری طرف دعوت دو) (فَاذھَبَا بِآیَاتِنَا)۔ اور یہ نہ سمجھنا کہ میں تم سے دور ہوں اور تمہارا ماجرا مجھے معلوم نہیں ہے۔ بلکہ "ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری باتوں کو اچھی طرح سن رہے ہیں" (اِنَّا مَعَکُمْ مُسْتَمِعُون)۔ ہم بھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور سخت حوادث میں بھی تمہاری مدد کریں گے۔ تم بالکل مطمئن ہو کر آگے بڑھو اور بڑھتے چلے جاوٴ۔ تو اس طرح سے خداوندِ عالم نے تین جملوں کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کو کافی اطمینان دلا دیا اور ان کی درخواست کو عملی جامہ پہنایا۔ "کلا" کے لفظ کے ساتھ انہیں اطمینان دلا دیا کہ وہ لوگ انھیں ہرگز قتل نہیں کر سکیں گے۔ نیز سینے کی تنگی اور زبان کی مشکل بھی پیدا نہیں ہوگی اور"فَاذھَبَا بِآیَاتِنَا" کے جملے کے ساتھ ان کے بھائی (ہارون) کو ان کی کمک کے لئے بھیجا اسی طرح "اِنَّا مَعَکُمْ مُسْتَمِعُون"کے ساتھ انھیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلا دیا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخری جملے میں ضمیر کو جمع کی صورت میں لایا گیا ہے اور خدا نے فرمایا ہے: "اِنَّا مَعَکُم" (ہم تمہارے ساتھ ہیں) ممکن ہے یہ تعبیر اس لئے ہو کہ تم دونوں بھائی جہاں جہاں اور جس جس میدان میں بھی ظالم و جابر گروہ کا سامنا کرو گے، ہم وہیں وہیں موجود ہوں گے اور تم سب لوگوں کی باتوں کوسنیں گے، تم دو بھائیوں کی امداد کر کے ان پر کامیاب کریں گے۔ اس مقام پر بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوا کہ چونکہ "مع" کا کلمہ حمایت اور امداد پر دلالت کرتا ہے لہٰذا یہاں پر یہ فرعون اور فرعون والوں کے لئے نہیں ہو گا، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ "مع" کا معنیٰ ہے خداوندِ عالم کا ہر موقع و محل پر حاضر اور ناظر ہونا لہٰذا وہ گناہ گاروں کے لئے بھی ہو گا بلکہ اس میں بے جاں چیزیں بھی شامل ہوں گی کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے۔ "استماع" کا معنیٰ ہے کسی چیز کو غور سے سننا اور یہ کلمہ بھی اسی واقعیت کی تاکید ہے۔

16
26:16
فَأۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
پس تم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
26:17
أَنۡ أَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
26:18
قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ
(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تجھے بچپن میں اپنے درمیان نہیں پا لا اور کیا تو اپنی عمر کے کئی سال ہم میں نہیں رہا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
26:19
وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ ٱلَّتِي فَعَلۡتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور تو نے (آخر کار جو کام تجھے انجام نہیں دینا چاہئے تھا اسے)انجام دیا ہے اور تو کافروں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
26:20
قَالَ فَعَلۡتُهَآ إِذٗا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
(موسیٰ نے) کہا: میں نے وہ کام انجام دیا جب کہ میں بے خبر لوگوں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
26:21
فَفَرَرۡتُ مِنكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكۡمٗا وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
پھر جب مجھے تم لوگوں سے خوف ہوا تو تم سے بھاگ نکلا اور میرے پروردگار نے مجھے علم و دانش عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے قرار دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
26:22
وَتِلۡكَ نِعۡمَةٞ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنۡ عَبَّدتَّ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
کیا یہ احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کو تو نے اپنا غلام بنا رکھا ہے؟

تفسیر: فرعون سے معرکة الآرا مقابلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

فرعون سے معرکتیہ الآرا مقابلہ: گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماموریت کا پہلا مرحلہ ختم ہوا جس میں بتایا گیا ہے کہ انھیں وحی و رسالت ملی اور انھوں نے اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وسائل کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ہی زیرِ نظر آیات میں دوسرے مرحلے کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے یعنی فرعون کے پاس جانا اور اس کے ساتھ گفتگو کرنا چنانچہ ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی ہے اسے یہاں پر بیان کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے مقدمے کے طور پر فرمایا گیا ہے: اب جبکہ تمام حالات سازگار ہیں تو تم فرعون کے پاس جاوٴ اور اسے کہو کہ ہم عالمین کے پروردگار کے رسول ہیں (فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُولاَإِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ "فاٴتیا" کا لفظ بتا رہا ہے کہ تم ہر قیمت پر اس کے ساتھ رابطہ قائم کرو اور "رسول" کے لفظ کو مفرد کے صیغے کے ساتھ بیان کرنا جبکہ وہ دونوں رسول تھے، ان کی دعوت کی یگانگت کی دلیل ہے۔گویا وہ یک جان دو قالب کے مصداق ایک پروگرام ایک منصوبے اور ایک ہدف کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: "راغب" نے "مفردات" میں لکھا ہے کہ "رسول" کا لفظ ان کلمات میں سے ہے جن کا اطلاق مفرد اور جمع پر یکساں ہوتا ہے۔ اگرچہ کبھی اس کی جمع "رسل" بھی لائی جاتی ہے اور بعض لوگوں نے اسے مصدر اور "رسالت" کے معنیٰ میں لیا ہے اور معلوم ہے کہ مصدر کے تثنیہ اور جمع کے صیغے نہیں ہوتے ("لسان العرب") میں ہے "الرسول بمعنی الرسالة") لیکن حقیقتاً یہ لفظ وصفیٰ معنی میں استعمال ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض مواقع پر اس کا استعمال تثنیہ اور جمع کی صورت میں ہوتا ہے چنانچہ موسیٰ اور فرعون کی داستان میں آیا ہے: انّا رسولا ربک ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ (سورہٴ طٰہٰ/۴۷)]۔ اور اپنی رسالت کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیجئے اور کہیے کہ ہمیں حکم ملا ہے کہ تجھ سے مطالبہ کریں کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے (اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِی إِسْرَائِیلَ)۔ ظاہر ہے کہ اس مطالبہ کا مقصد ان کو غلامی سے آزاد کرانا تھا تاکہ وہ فرعون کی قید سے نکل کر ان کے ساتھ چلے جائیں۔ اس مقام پر فرعون نے زبان کھولی اور شیطنت پر مبنی چند ایک جچے تلے جملے کہے جس سے ان کی رسالت کی تکذیب کرنا مقصود تھا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منہ کر کے کہنے لگا: آیا بچپن میں ہم نے تجھے اپنے دامنِ محبت میں پروان نہیں چڑھایا۔ (قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِینَا وَلِیدًا)۔ ہم نے تجھے دریائے نیل کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی غشمگین موجوں سے نجات دلائی وگرنہ تیری زندگی خطرے میں تھی۔ تیرے لئے آیاوٴں کو بلایا اور ہم نے اولادِ بنی اسرائیل کے قتل کر دینے کا جو قانون مقرر کر رکھا تھا اس سے تجھے معاف کر دیا اور امن و سکون اور ناز و نعمت میں تجھے پروان چڑھایا۔ اور اس کے بعد بھی "تو نے اپنی زندگی کے کئی سال ہم میں گزارے(وَلَبِثْتَ فِینَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِینَ)۔ پھر وہ موسیٰ علیہ السلام پر ایک اور اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے: تو نے وہ اہم کام کیا ہے (فرعون کے حامی ایک قبطی کو قتل کیا ہے) (وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِی فَعَلْتَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا کام کرنے کے بعد تم کیونکر رسول بن سکتے ہو؟ ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے "تو ہماری نعمتوں کا انکار کر رہا ہے" (وَاَنْتَ مِنْ الْکَافِرِینَ)۔ تو کئی سالوں تک ہماری دسترخوان پر پلتا رہا ہے۔ ہمارا نمک کھانے کے بعد نمک حلالی کا حق اس طرح ادا کر رہا ہے؟ اس قدر کفرانِ نعمت کے بعد تو کس منہ سے نبوت کا دعوی کر رہا ہے؟ درحقیقت، وہ بزعمِ خود اس طرح کی منطق سے ان کی کردار کشی کر کے موسیٰ علیہ السلام کو خاموش کرنا چاہتا تھا۔ یہاں اس واقعہ کو بیان کرنا مقصود تھا جو سورہٴ قصص آیہ ۱۵ میں بیان ہوا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو آدمیوں کو دیکھا کہ آپس میں لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک تو فرعونی تھا اور دوسرا بنی اسرائیلی۔ چنانچہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے مظلوم بنی اسرائیل کی حمایت میں فرعونی کو ایک زور دار مکّا رسید کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی شیطنت آمیز باتیں سن کر اس کے تینوں اعتراضات کے جواب دینا شروع کئے۔ لیکن اہمیت کے لحاظ سے فرعون کے دوسرے اعتراض کا سب سے پہلے جواب دیا (یا پہلے اعتراض کو بالکل جواب کے لائق ہی نہیں سمجھا کیونکہ کسی کا کسی کی پر ورش کرنا اس بات کی دلیل نہیں بن جاتا کہ اگر وہ گمراہ ہو تو اسے راہِ راست کی بھی ہدایت نہ کی جائے)۔ بہرحال، جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ کام اس وقت انجام دیا جبکہ میں بے خبر لوگوں میں سے تھا۔ (قَالَ فَعَلْتُھَا إِذًا وَاَنَا مِنْ الضَّالِّینَ)۔ اس مقام پر "ضالین" کی تعبیر کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کیونکہ ایک طرف تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کا ماضی بالکل بے داغ ہونا چاہئیے حتی کہ مقام نبوت تک پہنچنے سے پہلے کے زمانے میں بھی ایسا ہونا چاہئیے وگرنہ اس کی عظمت اور شخصیت لوگوں کے درمیان مشکوک ہو جائے گی اور وہ تزلزل کا شکار ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں بعثت کا مقصد تشنہٴ تکمیل ہو کر رہ جائے گا۔ بنابریں، عصمتِ انبیاء کا دامن قبل از نبوت بھی بے داغ ہونا چاہئیے۔ دوسرے یہ کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کا جواب اس قدر ناطق اور مسکت ہونا چاہئیے کہ فرعون کو دوبارہ اس کے خلاف لب کشائی کی جراٴت نہ ہو سکے۔ لہٰذا کچھ مفسرین تو کہتے ہیں کہ یہاں پر "ضال" سے مراد خطا در موضوع ہے یعنی میں نے اسے جو مکا مارا تھا وہ اسے جان سے مار دینے کی غرض سے نہیں بلکہ مظلوم کی حمایت کے طور پر تھا میں تو نہیں سمجھتا تھا کہ اس طرح اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ بنابریں، یہاں پر "ضالّ" بمعنی "غافل" کے ہے اور غفلت سے مراد انجام سے لا علمی ہے۔ کچھ اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس ظالم شخص کے قتل کے سلسلے میں کوئی خطا واقع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اسی بات کا مستحق تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس قتل کا انجام یہ ہو گا کہ میں مصر میں نہیں رہ سکوں گا اور ایک عرصہ تک جلا وطن رہوں گا جس سے میرے بہت سے منصوبے التوا میں پڑ جائیں گے۔ لیکن ظاہراً یہ جواب ایسا نہیں تھا جو موسیٰ علیہ السلام فرعون کو دیتے اور وہ اسے قبول کر لیتا۔ بلکہ یہ ایک ایسا مطلب تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے دوستوں کو بیان کرتے تھے۔ تیسری تفسیر جو کئی لحاظ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شایانِ شان اور ان کے مقامِ عظمت کے لائق ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہاں پر "توریہ" سے کام لیا ہے انھوں نے ایسی بات کہی ہے جس کا ظاہری معنیٰ تو یہ بنتا ہے کہ میں اس وقت راہِ حق سے نا آشنا تھا پھر خداوندِ عالم نے مجھے حق کا راستہ دکھایا اور رسالت کا عہدہ تفویض کیا۔ لیکن اس کا باطن میں کچھ اور معنی بنتا ہے۔ وہ یہ کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ چیز اس قدر دردِ سر بن جائے گی۔ وگرنہ اصل کام تو بالکل ٹھیک ہی تھا اور قانونِ عدالت کے بھی عین مطابق تھا (یا یہ کہ جس دن یہ حادثہ رونما ہوا تھا اس دن میں راستہ بھول کر وہاں پہنچ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ واقعہ ہو گیا)۔ معلوم ہے کہ "توریہ" سے مراد یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس کا باطن حق پر مبنی ہو لیکن مخاطب اس کے ظاہر سے کچھ اور سمجھے اور اس قسم کی گفتگو وہاں پر جائز ہو جاتی ہے جہاں انسان کسی الجھن میں پڑ جائے اور جھوٹ بھی نہ بولنا چاہے ساتھ ہی ظاہر بھی محفوظ رہے۔ [یہ گفتگو حضرت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ اسلام کی حدیث کے مطابق ہے جسے صاحب تفسیر "نور الثقلین" نے اسی آیت کی تفسیر کے ضمن میں جلد ۴ ص ۴۸ پر بیان کیا ہے]۔ پھر موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں اس حادثے کی وجہ سے جب میں نے تم سے خوف کیا تو تم سے بھاگ گیا اور میرے پروردگار نے مجھے دانش عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے قرار دیا (فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِی رَبِّی حُکْمًا وَجَعَلَنِی مِنْ الْمُرْسَلِین)۔ اس آیت میں "حکم" سے کیا مراد ہے؟ اور کیا اس سے مراد مقامِ نبوت ہے یا علم، دانش اور آگاہی؟ تو اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن خود آیت میں غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ "رسالت" کو "حکم" کے مقابلے میں بیان کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ رسالت اور نبوت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔ اس موضوع کا ایک اور شاہد سورہٴ عمران کی آیت ۷۹ ہے جس میں فرمایا گیا ہے:۔ ما کان لبشر ان یوٴتیہ اللہ الکتاب و الحکم و النبوّة ثم یقول للناس کونوا عباداً لی من دون اللہ کسی انسان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ خداوندِ عالم اسے کتاب، حکم اور نبوت عطا فرمائے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کے علاوہ میری عبادت کرو اور میرے بندے بن جاوٴ۔ دراصل "حکم" کا لغوی معنیٰ "اصلاح کی غرض سے روکنا"ہوتا ہے۔ اسی لئے جانور کی لگام کو "حکمة" (بر وزن "صدقہ") کہا جاتا ہے۔ پھر یہ لفظ حکمت کے مطابق چیز پر بولا جانے لگا۔ اسی طرح علم اور عقل کو بھی "حکم" کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں پر یہ سوال در پیش آئے کہ سورہٴ قصص کی آیت ۱۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس واقعے کے رونما ہونے سے قبل ہی "حکم" اور "علم" کے منصب پر فائز ہو چکے تھے چنانچہ ارشاد باری ہوتا ہے: ولما بلغ اشدّہ و استوٰی اٰتیناہ حکما و علماً۔ جب موسیٰ اپنے رشد کی حدوں کو پہنچ گئے تو ہم نے انھیں حکم اور علم عطا کیا۔ اس کے بعد قبطی کے ساتھ جناب موسیٰ علیہ السلام کی لڑائی کا ذکر آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ علم اور حکمت کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ چنانچہ جناب موسیٰ ایک مرحلے تک تو نبوت و رسالت سے قبل پہنچ چکے تھے لیکن جب نبوت و رسالت کے عہدے پر فائز ہوئے تو کمال کے بقیہ مراحل کو بھی پالیا۔ پھر جناب موسیٰ علیہ السلام اس احسان کا جواب دیتے ہیں جو فرعون نے بچپن اور لڑکپن میں پرورش کی صورت میں ان پر کیا تھا دو ٹوک انداز میں اعتراض کی صورت میں فرماتے ہیں: تو کیا جو احسان تو نے مجھ پر کیا ہے یہی ہے کہ تو بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لے (وَتِلْکَ نِعْمَةٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَ بَنِی إِسْرَائِیلَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ حوادث زمانہ نے مجھے تیرے محل تک پہنچا دیا اور مجھے مجبوراً تمہارے گھر میں پرورش پانا پڑی اور اس میں بھی خدا کی قدرت کار فرما تھی ذرا یہ تو سوچو کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ میں نے اپنے باپ کے گھر میں اور ماں کی آغوش میں تربیت نہیں پائی؟ آخر کس لئے؟ کیا تو نے بنی اسرائیل کو غلامی کی زنجیروں میں نہیں جکڑ رکھا؟ یہاں تک کہ تو نے اپنے خود ساختہ قوانین کے تحت ان کے لڑکوں کو غلام اور لڑکیوں کو کنیز بنایا۔ تیرے بے حد و حساب مظالم اس بات کا سبب بن گئے کہ میری ماں اپنے نومولود بچے کی جان بچانے کی غرض سے مجھے ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دے اور پھر منشائے ایزدی یہی تھا کہ میری چھوٹی سی کشتی تمہارے محل کے نزدیک لنگر ڈال دے۔ ہاں تو یہ تمہارے بے انداز مظالم ہی تھے جن کی وجہ سے مجھے تمہارا مرہون منت ہونا پڑا اور جنہوں نے مجھے اپنے باپ کے مقدس اور پاکیزہ گھر سے محروم کر کے تمہارے آلودہ محل تک پہنچا دیا۔ اس تفسیر کے سا تھ موسیٰ علیہ السلام کا جواب فرعون کے سوال کے سلسلے میں مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ آیت کی تفسیر میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ اگر میری پرورش تمہاری طرف سے کوئی نعمت ہو بھی سہی تب بھی ان مظالم کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے سمندر کے سامنے قطرہ، جو چیز تو نعمت کی صورت میں بیان کر رہا ہے کیسی نعمت ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام مظالم بھی ہیں۔ ایک تیسری تفسیر بھی ہے جو فرعون کے سوال میں موسیٰ کے جواب کی صورت میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر میں نے تیرے محل میں پرورش پائی ہے اور رنگ برنگی نعمتوں سے بہرہ یاب ہوا ہوں تو یہ بات بھی تجھے فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ اس محل کے اصل تعمیر کار میری قوم کے افراد ہی تھے جنھیں تو نے غلام بنایا ہوا ہے یہ تمام نعمتیں مہیا کرنے والے بنی اسرائیل کے قیدی ہی تھے میری قوم کے افراد کی کمائی پر تو مجھ پر کس طرح احسان جتا رہا ہے۔ باوجودیکہ ان تینوں تفسیروں میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے لیکن کئی لحاظ سے پہلی تفسیر زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ "من المرسلین" کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ صرف ایک میں ہی رسول اور خدا کا بھیجا ہوا انسان نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں، میں ان میں سے ایک ہوں اور تو نے سب کو فراموش کر دیا ہے۔

23
26:23
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
فرعون نے کہا:یہ رب العالمین کیا چیز ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
26:24
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
(موسیٰ نے) کہا:وہ آسمان‘ زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم صاحبان یقین ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
26:25
قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهُۥٓ أَلَا تَسۡتَمِعُونَ
(فرعون نے) اپنے اطراف والوں سے کہا: کیا سن نہیں رہے ہو(کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے)؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
26:26
قَالَ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
(موسیٰ نے) کہا: وہ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
26:27
قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِيٓ أُرۡسِلَ إِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُونٞ
(فرعون)بولا: تمہاری طرف بھیجا جانے والا یہ رسول تو پاگل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
26:28
قَالَ رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ
(موسیٰ نے) کہا: وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب رب کاہے اگر تم عقل و خرد سے کام لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
26:29
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذۡتَ إِلَٰهًا غَيۡرِي لَأَجۡعَلَنَّكَ مِنَ ٱلۡمَسۡجُونِينَ
(فرعون نے غصے میں آ کر) کہا: اگر تو نے میرے علاوہ کسی کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔

تفسیر: دیوانگی کی تہمت اور قید کی دھمکی

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دو ٹوک اور قاطع جواب دے دیا اور جس سے وہ لا جواب اور عاجز ہو گیا تو اس نے کلام کا رخ بدلا اور موسیٰ علیہ السلام نے جو یہ کہا تھا کہ "میں رب العالمین کا رسول ہوں" تو اس نے اسی بات کو اپنے سوال کا محور بنایا اور کہا یہ رب العالمین کیا چیز ہے؟ (قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِینَ)۔ بہت بعید ہے کہ فرعون نے واقعاً یہ بات مطلب سمجھنے کے لئے کی ہو بلکہ زیادہ تر یہی لگتا ہے کہ اس نے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا تھا اور تحقیر کے طور پر یہ بات کہی تھی۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیدار اور سمجھ دار افراد کی طرح اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ دیکھا کہ گفتگو کو سنجیدگی پر محمول کریں اور سنجیدہ ہو کر اس کا جواب دیں اور چونکہ ذاتِ پروردگارِ عالم انسانی افکار کی دسترس سے باہر ہے لہٰذا انھوں نے مناسب سمجھا کہ اس کے آثار کے ذریعے استدلال قائم کریں لہٰذا انھوں نے آیاتِ آفاقی کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا: وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم یقین کا راستہ اختیار کرو (قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا إنْ کُنتُمْ مُوقِنِینَ)۔ اتنے وسیع و عریض اور با عظمت آسمان و زمین اور کائنات کی رنگ برنگی مخلوق جس کے سامنے تو اور تیرے چاہنے والے اور ماننے والے ایک ذرہِّ نا چیز سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے، میرے پروردگار کی آفرینش ہے اور ان اشیاء کا خالق و مدبر اور ناظم ہی عبادت کے لائق ہے نہ کہ تیرے جیسی کمزور اور نا چیز سی مخلوق۔ اس کی حقیقت کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ بت پرستوں کا عقیدہ تھا کہ موجودات عالم میں سے ہر ایک چیز کا علیحدہ علیحدہ رب ہے اور وہ کائنات کو مختلف نظاموں کا مجموعہ سمجھتے تھے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ پوری کائنات پر حکم فرما ایک ہی نظام اس بات کی دلیل ہے کہ تمام کائنات کا صرف اور صرف ایک رب ہے۔ "ان کنتم موقین" کا جملہ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمجھانا چاہتے ہوں کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس سوال سے تمہارا مقصد درکِ حقیقت نہیں ہے لیکن اگر تمہیں حقیقت کی تلاش ہو اور تمہارے عقل اور شعور بھی ہو تو جو استدلال میں نے کیا ہے وہی کافی ہے۔ ذرا اپنی آنکھوں کو کھولو اور ایک لحظہ ان آسمانوں، زمین اور ان کے آثار کو غور سے دیکھو تاکہ تمہیں حقیقت کا پتہ چل جائے اور کائنات کے بارے میں اپنے نظریئے کی اصلاح کر لو۔ لیکن عظیم آسمانی معلم کے اس قدر محکم بیان اور پختہ گفتگو کے بعد بھی فرعون خواب غفلت سے بیدار نہ ہوا اس نے اپنے ٹھٹھے مذاق اور استہزاء کو جاری رکھا اور مغرور مستکبرین کے پرانے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے اپنے اطراف میں بیٹھنے والوں کی طرف منہ کر کے کہا: کیا سن نہیں رہے ہو (کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے) (قَالَ لِمَنْ حَوْلَہُ اَلاَتَسْتَمِعُونَ)۔ معلوم ہے کہ فرعون کے گرد کون لوگ بیٹھتے ہیں اسی قماش کے لوگ تو ہیں۔ صاحبانِ زور اور زر ہیں یا پھر ظالم اور جابر کے معاون۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں: وہاں پر فرعون کے اطراف میں پانچ سو آدمی موجود تھے، جن کا شمار فرعون کے خواص میں ہوتا تھا۔ [تفسیر الفتوح رازی، اسی آیت کے ذیل میں]۔ اس طرح کی گفتگو سے فرعون یہ چاہتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی منطقی اور دلنشیں گفتگو اس گروہ کے تاریک دلوں میں ذرہ بھر بھی اثر نہ کرے اور لوگوں کو یہ باور کروائے کہ ان کی باتیں بے ڈھنگی اور نا قابل فہم ہیں۔ مگر جناب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی منطقی اور جچی تلی گفتگو کو بغیر کسی خوف و خطر کے جاری رکھتے ہوئے فرمایا: وہ تمہارا رب بھی ہے اور تمہارے آباوٴ اجداد کا بھی رب ہے (قَالَ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمْ الْاَوَّلِینَ)۔ درحقیقت، بات یہ ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو آفاقی آیات کے حوالے سے استدلال کیا اب یہاں پر "آیات النفس" اور خود انسان کے اپنے وجود میں تخلیق خالق کے اسرار اور انسانی روح اور جسم میں خداوند عالم کی ربوبیت کے آثار کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تاکہ یہ عاقبت نا اندیش مغرور کم از کم اپنے بارے میں تو کچھ سوچ سکیں خود کو اور پھر اپنے خدا کو پہچان سکیں۔ لیکن فرعون اپنی ہٹ دھرمی سے پھر بھی باز نہ آیا اور اب استہزاء اور مسخرہ پن سے چند قدم آگے بڑھ جاتا ہے اور موسیٰ علیہ اسلام کو جنون اور دیوانگی کا الزام دیتا ہے چنانچہ اس نے کہا: جو پیغمبر تمہاری طرف آیا ہے بالکل دیوانہ ہے (قَالَ إِنَّ رَسُولَکُمْ الَّذِی اُرْسِلَ إِلَیْکُمْ لَمَجْنُونٌ)۔ وہی تہمت جو تاریخ کے ظالم اور جابر لوگ خدا کے بھیجے ہوئے مصلحین پر لگاتے رہتے تھے۔ یہ بھی لائق توجہ ہے کہ یہ مغرور فریبی اس حد تک بھی روادار نہ تھا کہ کہے "ہمارا رسول" اور "ہماری طرف بھیجا ہوا" بلکہ کہتا ہے "تمہارا پیغمبر" اور "تمہاری طرف بھیجا ہوا" کیونکہ "تمہارا پیغمبر" میں طنز اور سہزاء پایا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس میں غرور اور تکبر کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ میں اس بات سے بالا تر ہوں کہ کوئی پیغمبر مجھے دعوت دینے کے لئے آئے اور موسیٰ علیہ اسلام پر جنون کی تہمت لگانے سے اس کا مقصد یہ تھا کہ جناب موسیٰ علیہ اسلام کے جاندار دلائل کو حاضرین کے اذہان میں بے اثر بنایا جائے۔ لیکن یہ ناروا تہمت موسیٰ کے بلند حوصلوں کو پست نہیں کر سکی اور انھوں نے تخلیقاتِ عالم میں آثارِ الہٰی اور آفاق و انفس کے حوالے سے اپنے دلائل کو برابر جاری رکھا اور کہا: وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل و شعور سے کام لو (قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَھُمَا إِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُونَ)۔ اگر تمہارے پاس مصر نامی محدود سے علاقے میں چھوٹی سی ظاہری حکومت ہے تو کیا ہوا؟ میرے پروردگار کی حقیقی حکومت تو مشرق و مغرب اور اس کے تمام درمیانی علاقے پر محیط ہے اور اس کے آثار ہر جگہ موجوداتِ عالم کی پیشانی پر چمک رہے ہیں اصولی طور پر خود مشرق و مغرب میں آفتاب کا طلوع و غروب اور کائناتِ عالم پر حاکم نظامِ شمسی ہی اس کی عظمت کی نشانیاں ہیں لیکن عیب خود تمہارے اندر ہے کہ تم عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ تمہارے اندر سوچنے کی عادت ہی نہیں ہے (یاد رہے کہ "ان کنتم تعقلون" کا جملہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تمہاری گزشتہ اور موجودہ زندگی میں سوچ بچار کا طریقہ ہوتا اور تم کچھ سوچ بچار سے کام لیتے تو یقینا اس حقیقت کو بھی پالیتے)۔ درحقیقت، یہاں پر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی طرف جنون کی نسبت کا بڑے اچھے انداز میں جواب دیا ہے دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیوانہ میں نہیں ہوں بلکہ دیوانہ اور بے عقل وہ شخص ہے جو اپنے پروردگار کے ان تمام آثار اور نشانات کو نہیں دیکھتا۔ عالم وجود کے ہر در و دیوار پر ذات پروردگار کے اس قدر عجیب و غریب نقوش موجود ہیں پھر بھی جو شخص ذاتِ پروردگار کے بارے میں نہ سوچے اسے خود نقشِ دیوار ہونا چاہئیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے پہلی بار ہی آسمانوں اور زمین کی طرف اشارہ کیا ہے چونکہ آسمان و زمین بہت بلند اور زمین نہایت اسرار آمیز ہے لیکن آخر میں آ کر ایک ایسے نقطے پر انگلی رکھی جس سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا تھا اور ہر شخص کا روزانہ اس سے واسطہ رہتا ہے اور وہ ہے سورج کا روزمرہ طلوع و غروب کا منظم پروگرام جس کے متعلق کوئی شخص بھی یہ کہنے کی جراٴت نہیں کر سکتا کہ میں ہی اسے منظم کرنے والا ہوں۔ "ما بینھما" (جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان وحدت اور ارتباطِ باہم پایا جاتا ہے جس طرح آسمان اور زمین کے باہمی ارتباط کی طر ف اشارہ گزر چکا ہے اور "ربکم و رب اٰبائکم الاولین" کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ موجودہ اور سابقہ نسلوں کے درمیان ایک وحدت و ہم آہنگی بر قرار ہے۔ ان طاقتور دلائل نے فرعون کو بوکھلا دیا، اب اس نے اسی حربے کا سہارا لیا جس کا سہارا ہر بے منطق اور طاقتور لیتا ہے اور جب وہ دلائل سے عاجز آ جاتا ہے تو اسے آزمانے کی کوشش کرتا ہے: فرعون نے کہا اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو معبود بنایا تو تمہیں قیدیوں میں شامل کر دوں گا (قَالَ لَئِنْ اتَّخَذْتَ إِلَھَا غَیْرِی لَاَجْعَلَنَّکَ مِنْ الْمَسْجُونِین)۔ میں تمہاری اور کوئی بات نہیں سننا چاہتا میں تو صرف ایک ہی عظیم الٰہ اور معبود کو جانتا ہوں اور وہ میں خود ہوں اگر کوئی شخص اس کے علاوہ کہتا ہے تو بس سمجھ لے کہ اس کی سزا یا تو موت ہے یا عمر قید جس میں زندگی ہی ختم ہو جائے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "المسجونین" میں الف لام عہد کے لئے ہے جو ایک مخصوص زندان کی طرف اشارہ ہے جس میں جو شخص بھی گیا زندہ سلامت واپس نہیں آیا۔ ["تفسیر المیزان"، "تفسیر رازی" اور "تفسیر روح المعانی" اسی آیت کے ذیل میں]۔ درحقیقت، فرعون چاہتا تھا کہ اس قسم کی تیز و تند گفتگو کر کے موسیٰ علیہ السلام کو ہراساں کرے تاکہ وہ ڈر کر چپ ہو جائیں کیونکہ اگر بحث جاری رہے گی تو لوگ اس سے بیدار ہوں گے اور ظالم و جابر لوگوں کے لئے عوام کی بیداری اور شعور سے بڑھ کر کوئی چیز خطرناک نہیں ہوتی۔

30
26:30
قَالَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٖ مُّبِينٖ
(موسیٰ نے) کہا: اگر میں تمہارے پاس اپنی رسالت کی واضح نشانی لے آؤں تو کیا پھربھی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
26:31
قَالَ فَأۡتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
(فرعون نے)کہا: اگر سچ کہتے ہو تو(وہ نشانی) لے آؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
26:32
فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ
اسی اثنا میں ٰموسیٰ نے اپنا عصا پھینک دیا تو وہ بہت بڑا اور واضح سانپ بن گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
26:33
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ
پھر اپنے ہاتھ کو آستین میں لے گئے اور باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کیلئے سفید اور چمکدار تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
26:34
قَالَ لِلۡمَلَإِ حَوۡلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ
(فرعون نے) اپنے اطرافیوں سے کہا: یہ تو ماہر اور سمجھ دار جادوگر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
26:35
يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِۦ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ
یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے۔ (اس بارے میں ) تمہارا کیا حکم ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
26:36
قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَٱبۡعَثۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور تمام شہروں کی طرف ہر کارے بھیج دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
26:37
يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٖ
کہ وہ ہر ماہر جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں۔

تفسیر: تمہارا ملک خطرے میں ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے منطق اور استدلال کی رو سے فرعون پر کیونکر اپنی فوقیت اور برتری کا سکہ منوا لیا اور حاضرین پر ثابت کر دیا کہ ان کا خدائی دین کس قدر عقلی منطقی ہے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ فرعون کے خدائی دعوے کس قدر پوچ اور عقل و خرد سے عاری ہیں کبھی تو وہ استہزاء کرتا ہے کبھی جنون اور دیوانگی کی تہمت لگاتا ہے اور آخر کار طاقت کے نشے میں آ کر قید و بند اور موت کی دھمکی دیتا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اب جناب موسیٰ کو ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئیے تھا جس سے فرعون کا عجز ظاہر ہو جائے۔ موسیٰ علیہ اسلام کو بھی کسی طاقت کے سہارے کی ضرورت تھی ایسی خدائی طاقت جس کے معجزانہ انداز ہوں، چنانچہ آپ علیہ اسلام فرعون کی طرف منہ کر کے فرماتے ہیں: آیا اگر میں اپنی رسالت کے لئے واضح نشانی لے آوٴں پھر بھی تو مجھے زندان میں ڈالے گا (قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُکَ بِشَیْءٍ مُبِین)۔ اس موقع پر فرعون سخت مخمصے میں پڑ گیا، کیونکہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے ایک نہایت ہی اہم اور عجیب و غریب منصوبے کی طرف اشارہ کر کے حاضرین کے توجہ مبذول کرالی تھی۔ اگر فرعون ان کی باتوں کو اَن سنا کر کے ٹال دیتا تو سب حاضرین اس پر اعتراض کرتے اور کہتے کہ موسیٰ کو وہ کام کرنے کی اجازت دی جائے اگر وہ ایسا کر سکتا ہے تو معلوم ہو جائے گا اور اس سے مقابلہ نہیں کیا جا سکے گا اور اگر ایسا نہیں کر سکتا تو بھی اس کی شیخی آشکار ہو جائے گی۔ بہرحال، موسیٰ علیہ اسلام کے اس دعوے کو آسانی سے مسترد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آخر کار فرعون نے مجبور ہو کر کہا: "اگر سچ کہتے ہو تو اسے لے آوٴ" (قَالَ فَاْتِ بِہِ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ)۔ اسی دوران میں موسیٰ نے جو عصا ہاتھ میں لیا ہوا تھا زمین پر پھینک دیا اور وہ (خدا کے حکم سے) بہت بڑا واضح سانپ بن گیا (فَاَلْقَی عَصَاہُ فَإِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُبِینٌ)۔ پھر اپنا ہاتھ آستین میں لے گئے اور باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لئے سفید اور چمک دار بن چکا تھا۔ (وَنَزَعَ یَدَہُ فَإِذَا ھِیَ بَیْضَاءُ لِلنَّاظِرِینَ)۔ درحقیقت، یہ دو عظیم معجزے تھے۔ ایک خوف کا مظہر تھا تو دوسرا امید کا۔ پہلے میں انداز کا پہلو تھا تو دوسرے میں بشارت کا۔ ایک خدائی عذاب کی علامت تھی تو دوسرا نور اور رحمت کی نشانی۔کیونکہ معجزے کو پیغمبرِ خدا کی دعوت کے مطابق ہونا چاہیئے۔ "ثعبان" بہت بڑے سانپ کا نام ہے جسے فارسی میں "اژدہا" کہتے ہیں۔ "راغب"نے اپنی کتاب "مفردات" میں لکھا ہے کہ "ثعبان"، "ثعب" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے پانی کا چلنا کیونکہ سانپ کی حرکت بھی پانی کی طرح ہوتی ہے جو بل کھا کر چلتا ہے۔ "مبین" کی تعبیر سے ممکن ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ عصا سچ مچ سانپ بن گیا۔ اس میں ہاتھ کی صفائی فریبِ نظر اور جادُو کار فرما نہ تھا۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر "ثعبان" کا لفظ آیا ہے اور سورہ ٴ نمل کی آیت ۱۰، اور سورہٴ سورہٴ قصص کی آیت ۱۳ میں "جان" کا لفظ استعمال ہوا ہے (جس کا معنی ہے چھوٹے چھوٹے اور تیز رفتار سانپ) سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۲۰ میں "حیة" کا لفظ ذکر ہوا ہے (جس کا معنیٰ ہے سانپ، اور "حیات" کے مادہ سے لیا گیا ہے)۔ بادی النظر میں یہ تعبیریں مختلف نظر آتی ہیں جن سے ذہن میں مختلف سوال بھی اُٹھ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں مندرجہ ذیل دو مطالب میں سے کسی ایک کے بیان کرنے کے لئے ہیں: ایک تو یہ کہ ممکن ہے یہ اس سانپ کی مختلف حالتوں کی طرف اشارہ ہو کہ پہلے تو وہ "عصا" چھوٹا سا ایک سانپ بن جاتا ہو، پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتے ہوتے اژدہا بن جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ممکن ہے کہ یہ تینوں الفاظ اس سانپ کی مختلف خاصیتوں کی طرف اشارہ ہوں "ثعبان" اس کے بڑا ہونے کی طرف اشارہ ہو اور "جان" اس کی تیز رفتاری کی طرف اور "حیة" اس کے زندہ سلامت ہونے کی طرف اشارہ ہو۔ فرعون نے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو سخت بوکھلا گیا اور وحشت کی گہری کھائی میں جا گرا لیکن اگر اپنے شیطانی اقتدار کو بچانے کے لئے جو موسیٰ علیہ اسلام کے ظہور کے ساتھ متزلزل ہو چکا تھا اس نے ان معجزات کی توجیہ کرنا شروع کر دی تاکہ اس طرح سے اطراف میں بیٹھنے والوں کے عقائد محفوظ اور ان کے حوصلے بلند کر سکے اس نے پہلے تو اپنے حواری سرداروں سے کہا: یہ شخص ماہر اور سمجھ دار جادوگر ہے (قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَہُ إِنَّ ھَذَا لَسَاحِرٌ عَلِیمٌ)۔ جس شخص کو تھوڑی دیر پہلے تک دیوانہ کہہ رہا تھا اب اسے "علیم" کے نام سے یا د کر رہا ہے۔ ظالم اور جابر لوگوں کا طریقہ کار ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی محفل میں کئی روپ تبدیل کر لیتے ہیں اور اپنی انا کی تسکین کے لئے نت نئے حیلے تراشتے رہتے ہیں۔ اس نے سوچا چونکہ اس نے زمانے میں جادو کا دَور دَورہ ہے لہٰذا موسیٰ علیہ اسلام کے معجزات پر جادو کا لیبل لگایا جائے تاکہ لوگ اس کی حقانیت کو تسلیم نہ کریں۔ پھر اس نے لوگوں کے جذبات بھڑکانے اور موسیٰ علیہ اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے کہا: وہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے (یُرِیدُ اَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہِ)۔ تم لوگ اس بارے میں کیا سوچ رہے ہو اور کیا حکم دیتے ہو (فَمَا ذَا تَاْمُرُونَ)۔ یہ وہی فرعون ہے جو کچھ دیر تک تمام سر زمین مصر کو اپنی ملکیت سمجھ رہا تھا "الیس لی ملک مصر" (کیا سرزمین مصر پر میری حکومت اور مالکیت نہیں ہے) اب جبکہ اسے اپنا راج سنگھا سن ڈولتا نظر آ رہا ہے تو اپنی حکومتِ مطلقہ کو مکمل طور پر فراموش کر کے اسے عوامی ملکیت کے طور پر یاد کر کے کہتا ہے "تمہارا ملک خطرے میں گِھر چکا ہے اسے بچانے کی سوچو"۔ وہی فرعون جو ایک لحظہ قبل کسی کی بات سننے پر تیار نہیں تھا بلکہ ایک مطلق العنان آمر کی حیثیت سے تختِ حکومت پر براجمان تھا اب اس حد تک عاجز اور درماندہ ہو چکا ہے کہ اپنے اطرافیوں سے درخواست کر رہا ہے کہ تمہارا کیا حکم ہے نہایت ہی عاجز اور کمزور ہو کر التجا کر رہا ہے۔ سورہ اعراف کی آیت ۱۱۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے درباری باہمی طور پر مشورے کرنے لگ گئے وہ اس قدر حواس باختہ ہو چکے تھے کہ سوچنے کی طاقت بھی ان سے سلب ہو گئی تھی۔ ہر کوئی دوسرے کی طرف منہ کر کے کہتا: "تمہاری کیا رائے ہے؟" جی ہاں! پوری تاریخِ انسانی میں ظالم حکمرانوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ جب وہ ملکی حالات پر مکمل طور پر مسلط ہوتے ہیں تو ہر چیز کو اپنی ملکیت اور ہر ایک کو اپنا غلام سمجھتے ہیں اور جبر و استبداد ان کی منطق ہوتی ہے۔ لیکن جب اپنی ظالمانہ حکومت کی چولیں ہلتی نظر آتی ہیں تو وقتی طور پر سخت استبداد سے اتر کر عوام کا دامن تھامنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی آراء و افکار کو اہمیت دینے لگ جاتے ہیں، عوامی حکومت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں "ملک کے اصلی مالک عوام ہیں" کا شور مچاتے ہیں ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن جب بحرانی لمحات ٹل جاتے ہیں تو پھر وہی چال بے ڈھنگی۔۔۔ ہمیں بھی ایک ایسے بادشاہ سے پالا پڑا ہے کہ جب سلطنت کے حالات اس کے لئے سازگار تھے تو اس نے تمام مملکت کو اپنی ذاتی ملکیت بنا رکھا تھا حتیٰ کہ جو لوگ اس کی پارٹی کا رکن نہیں بننا چاہتے تھے انھیں ملک سے چلے جانے کو حکم دے دیا جاتا تھا۔ خدا کی زمین وسیع ہے جہاں چاہو چلے جاوٴ اس ملک میں تمہارے رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی ہو گا اور بس! لیکن جب انقلاب کی آندھی چلی تو یہی آمر مطلق عوام کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔ اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار ہوا، گناہوں سے توبہ کی لیکن عوام نے اسے سالہا سال پہچانا ہوا تھا کہ سب دھوکا اور فریب ہے لہٰذا عوام کے آگے اس کی ایک نہ چلی۔ بہرحال، کافی صلاح مشورے کے بعد درباریوں نے فرعون سے کہا: موسیٰ اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور اس کے بارے میں جلدی نہ کرو اور تمام شہروں میں ہرکارے روانہ کر دو" (قَالُوا اَرْجِہِ وَاَخَاہُ وَابْعَثْ فِی الْمَدَائِنِ حَاشِرِین)۔ [تشریحی نوٹ: "ارجہ" کا کلمہ "ارجاء" کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے فیصلے میں تاخیر سے کام لینا اور جلدی نہ کرنا اور اس کی آخری ضمیر موسیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہ صیغہ دراصل "ارجئہ" تھا۔ ہمزہ کو تخفیف کے لئے حذف کر دیا گیا ہے]۔ تاکہ ہر ماہر اور منجھے ہوئے جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں (یَاْتُوکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیمٍ)۔ دراصل فرعون کے درباری یا تو غفلت کا شکار ہو گئے یا موسیٰ علیہ السلام پر فرعون کی تہمت کو جان بوجھ کر قبول کر لیا اور موسیٰ کو "ساحر" (جادوگر) سمجھ کر پروگرام مرتب کیا کہ ساحر کے مقابلے میں "سحار" یعنی ماہر اور منجھے ہوئے جادوگروں کو بلایا جائے۔ چنانچہ انھوں نے کہا: خوش قسمتی سے ہمارے وسیع و عریض ملک (مصر) میں دفنِ جادو کے بہت سے ماہر استاد موجود ہیں اگر موسیٰ ساحر ہے تو ہم اس کے مقابلے میں سحّار لاکھڑا کریں گے اور فنِ سحر کے ایسے ایسے ماہرین کو لے آئیں گے جو ایک لمحے میں موسیٰ کا بھرم کھول کر رکھ دیں گے۔ "حاشرین"، "حشر" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے میدان جنگ یا اسی قسم کے مقام پر کچھ لوگوں کو تیار کر کے لے آنا۔ یعنی فرعون کے ہرکاروں کو حکم ہوا کہ موسیٰ کے مقابلے کے لئے ہر قیمت پر ماہر جادوگروں کو جمع کر کے لائیں۔

38
26:38
فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
آخر کار ایک دن مقررہ وقت پر جادوگر اکٹھے ہو گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
26:39
وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلۡ أَنتُم مُّجۡتَمِعُونَ
اور لوگوں سے کہا گیا،کیا تم بھی (اس میدان میں ) جمع ہو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
26:40
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
کہ اگر جادوگر کامیاب ہو جائیں تو ہم ان کی پیروی کریں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
26:41
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرۡعَوۡنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
جب تمام جادوگر آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا: اگر ہم کامیاب ہو گئے تو کیا ہمارے لئے کوئی خاص اجر(وانعام) بھی ہو گا؟۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
26:42
قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
اس نے کہا:ہاں ! اور تم اس صورت میں ہمارے مقربین میں سے قرار پاؤگے۔

تفسیر: ہر طرف سے جادو گر پہنچ گئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ان آیات میں ان دلچسپ داستان کا ایک اور پہلو بیان کیا گیا ہے: فرعون کے درباریوں کی تجویز کے بعد مصر کے مختلف شہروں کی طرف ملازمین روانہ کر دیئے گئے اور انھوں نے ہر جگہ پر ماہر جادوگروں کی تلاش شروع کر دی "آخرکار ایک مقرہ دن کی میعاد کے مطابق جادوگروں کی ایک جماعت اکٹھا کر لی گئی" (فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیقَاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ)۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے جادوگروں کو اس روز کے لئے پہلے ہی سے تیار کر لیا تاکہ ایک مقرہ دن مقابلے کے لئے پہنچ جائیں۔ "یوم معلوم" سے کیا مراد ہے؟ جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیات سے معلوم ہوتا ہے مصریوں کی کسی مشہور عید کا دن تھا۔ جسے موسیٰ علیہ السلام نے مقابلے کے لئے مقرر کیا تھا اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس دن لوگوں کو فرصت ہوگی اور وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں گے کیونکہ انھیں اپنی کامیابی کا مکمل یقین تھا اور وہ چاہتے تھے کہ آیاتِ خداوندی کی طاقت اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کی کمزوری اور پستی سب دنیا پر آشکار ہو جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں شمعِ ایمان روشن ہو جائے۔ اس میدان مقابلہ میں عوام الناس کو بھی دعوت دی گئی اور لوگوں سے کہا گیا کہ آیا تم بھی اس میدان میں اکٹھے ہو گے؟ (وَقِیلَ لِلنَّاسِ ھَلْ اَنْتُمْ مُجْتَمِعُونَ)۔ اس طرز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے کارندے اس سلسلے میں سوچی سمجھی سکیم کے تحت کا م کر رہے تھے انھیں معلوم تھا کہ لوگوں کو زبردستی میدان میں لانے کی کوشش کی جائے تو ممکن ہے کہ اس کا منفی رد عمل ہو کیونکہ ہر شخص فطری طور پر زبردستی کو قبول نہیں کرتا لہٰذا انھوں نے کہا اگر تمہارا جی چاہے تو اس اجتماع میں شرکت کرو اس طرح سے بہت سے لوگ اس اجتماع میں شریک ہوئے۔ لوگوں کو بتایا گیا "مقصد یہ ہے کہ اگر جادوگر کامیاب ہو گئے کہ جن کی کامیابی ہمارے خداوٴں کی کامیابی ہے تو ہم ان کی پیروی کریں گے" اور میدان کو اس قدر گرم کر دیں گے کہ ہمارے خداوٴں کا دشمن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میدان چھوڑ جائے گا (لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِنْ کَانُوا ھُمْ الْغَالِبِینَ)۔ واضح ہے کہ تماشائیوں کا زیادہ سے زیادہ اجتماع جو مقابلے کے ایک فریق کے ہمنوا بھی ہوں ایک طرف تو ان کی دلچسپی کا سبب ہو گا اور ان کے حوصلے بلند ہوں گے اور ساتھ ہی وہ کامیابی کے لئے زبردست کو شش بھی کریں گے اور کامیابی کے موقع پر ایسا شور مچائیں گے کہ حریف ہمیشہ کے لئے گوشہٴ گمنامی میں چلا جائے گا اور اپنی عددی کثرت کی وجہ سے مقابلے کے آغاز میں فریق مخالف کے دل میں خوف و ہراس اور رعب و وحشت بھی پیدا کر سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون کے کارندے کوشش کر رہے تھے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ موسیٰ علیہ السلام بھی ایسے کثیر اجتماع کی خدا سے دعا کر رہے تھے تاکہ اپنا مدعا اور مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکیں۔ یہ سب کچھ ایک طرف، ادھر "جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے اور اسے مشکل میں پھنسا ہو ا دیکھا تو موقع مناسب سمجھتے ہوئے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور بھاری انعام وصول کرنے کی غرض سے اس سے کہا: اگر ہم کامیاب ہو گئے تو کیا ہمارے لئے کوئی اہم صلہ بھی ہو گا؟ (فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ)۔ فرعون جو بری طرح پھنس چکا تھا اور اپنے لئے کوئی راہ نہیں پاتا تھا انھیں زیادہ سے زیادہ مراعات اور اعزاز دینے پر تیار ہو گیا اس نے فوراً کہا: ہا ں ہاں جو کچھ تم چاہتے ہو میں دوں گا اس کے علاوہ اس صورت میں میرے مقربین بھی بن جاوٴ گے (قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ إِذًا لَمِنْ الْمُقَرَّبِینَ)۔ درحقیقت، فرعون نے انھیں کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ مال ہے یا عہدہ! میں یہ دونوں تمہیں دوں گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماحول اور زمانے میں فرعون کا قرب کس حد تک اہم تھا کہ وہ ایک عظیم انعام کے طور پر اس کی پیش کش کر رہا تھا درحقیقت، اس سے بڑھ کر اور کوئی صلہ نہیں ہو سکتا کہ انسان اپنے مطلوب کے زیادہ نزدیک ہو۔ اگر گمراہ لوگ فرعون کے قرب کو اپنی بڑی عزت سمجھتے تھے تو با خبر اور آگاہ خدا پرست بھی اپنی سب سے عظیم سعادت قُرب الہٰی کو جانتے تھے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز ان کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتی۔ حتی کہ بہشت کی تمام نعمتوں کے با وجود خداوندِ عالم کی ذات پاک کے جلوے کے مقابلے میں اسے کچھ اہمیت نہیں دیتے۔ اِسی بناء پر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کا عظیم ترین اجر جو انھیں ان کے عظیم ایثار کے بدلے میں ملے گا وہ قرآن کی گواہی کے مطابق "قُرب خداوندی" ہو گا چنانچہ "عند ربھم" کی تعبیر اس حقیقت کی شاہد ناطق ہے۔ اسی وجہ سے پاک دل مومن اپنی عبادت کی ادائیگی کے وقت جو چیز خدا سے مانگتا ہے وہ صرف اور صرف "قربة الیٰ اللہ" ہے۔

43
26:43
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ
موسیٰ نے ان(جادوگروں ) سے کہا:تم جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو پھینکو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
26:44
فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
انہوں (جادوگروں ) نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں اور کہا:فرعون کی عزت کی قسم! ہم کامیاب ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
26:45
فَأَلۡقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ
پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو اس نے اچانک ان کے جھوٹے کرشموں کو نگلنا شروع کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
26:46
فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
پس سب کے سب جادوگر فوراً سجدے میں گر پڑے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
26:47
قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اورکہنے لگے ہم عالمین کے رب پر ایمان لے آئے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
26:48
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
26:49
قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ
(فرعون نے)کہا:میری اجازت کے بغیر ہی تم اس پر ایمان لے آئے ہو؟ یقیناً وہ تمہارا بڑا اور استاد ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے۔ لیکن بہت جلد جان لو گے کہ میں تمہارے ہاتھوں اور پاؤں کو مختلف سمت میں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکاؤں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
26:50
قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
سب نے کہا: کوئی بڑی بات نہیں (تم جو کچھ کر سکتے ہو کرو)ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
26:51
إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کومعاف کر دیگا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔

جادو گروں کے دل میں نور ایمان چمک اٹھا

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

جب جادوگروں نے فرعون کے ساتھ اپنی بات پکی کرلی اور اس نے بھی انعام، اجرت اور اپنی بارگاہ کے مقرب ہونے کا وعدہ کر کے انھیں خوش کر دیا اور وہ بھی مطمئن ہو گئے تو اپنے فن کے مظاہرے اور اس کے اسباب کی فراہمی کے لئے تگ و دَو کرنی شروع کر دی، فرصت کے ان لمحات میں انھوں نے بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں اکھٹی کر لیں اور بظاہر ان کے اندر کھوکھلا کر کے ان میں ایسا کوئی کیمیکل مواد (پارہ وغیرہ کے مانند) بھر دیا جس سے وہ سورج کی تپش میں ہلکی ہو کر بھاگنے لگ جاتی ہیں۔ آخر کار وعدہ کا دن پہنچ گیا اور لوگوں کا انبوہِ کثیر میدان میں جمع ہو گیا۔ تاکہ وہ اس تاریخی مقابلے کو دیکھ سکیں فرعون اور اس کے درباری، جادوگر اور موسیٰ علیہ اسلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ اسلام سب میدان میں پہنچ گئے۔ لیکن حسبِ معمول قرآنِ مجید اس بحث کو حذف کر کے اصل بات کو بیان کرتا ہے۔ یہاں پر بھی اس تاریخ ساز منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے: موسیٰ نے جادوگروں کی طرف منہ کر کے کہا جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو پھینکو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے میدان میں لے آوٴ(قَالَ لَھُمْ مُوسَی اَلْقُوا مَا اَنْتُمْ مُلْقُونَ)۔ سورہ اعراف کی آیت ۱۱۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات اس وقت کی جب جادوگروں نے انھیں کہا: آپ پیش قدم ہو کر اپنی چیز ڈالیں گے یا ہم؟ موسیٰ علیہ السلام کی یہ پیش کش درحقیقت، انھیں اپنی کامیابی پر یقین کی وجہ سے تھی اور اس بات کی مظہر تھی کہ فرعون کے زبردست حامیوں اور دشمن کے انبوہِ کثیر سے وہ ذرہ بھر بھی خائف نہیں چنانچہ یہ پیش کش کر کے آپ نے جادوگروں پر سب سے پہلا کامیاب وار کیا جس سے جادوگروں کو بھی معلوم ہو گیا کہ موسیٰ علیہ اسلام ایک خاص نفسیاتی سکون سے بہرہ مند ہیں اور وہ کسی ذات خاص سے لَو لگائے ہوئے ہیں کہ جو ان کا حوصلہ بڑھا رہی ہے۔ جادوگر تو غرور و نخوت کے سمندر میں غرق تھے انھوں نے اپنی انتہائی کوششیں اس کام کے لئے صرف کر دی تھیں اور انھیں اپنی کامیابی کا بھی یقین تھا لہٰذا انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینک دیں اور کہا فرعون کی عزت کی قسم ہم یقینا کامیاب ہیں (فَاَلْقَوْا حِبَالَھُمْ وَعِصِیَّھُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ)۔ ["حبال"، "حبل" (بر وزن "طبل") کی جمع ہے جس کا معنیٰ ہے رسی اور "عصی" "عصا" کی جمع ہے]۔ جی ہاں! انھوں نے دوسرے تمام چاپلوس خوشامدیوں کی مانند فرعون کے نام سے شروع کیا اور اس کے کھوکھلے اقتدار کا سہارا لیا۔ جیسا کہ قرآنِ مجید ایک اور مقام پر کہتا ہے: اس موقع پر انھوں نے جب رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں تو وہ چھوٹے بڑے سانپوں کی طرح زمین پر حرکت کرنے لگیں (طٰہٰ۶۶) انھوں نے اپنے جادو کے ذرائع میں سے لاٹھیوں کا انتخاب کیا ہوا تھا تاکہ وہ بزعم خود موسیٰ علیہ اسلام کی عصا کی برابری کر سکیں اور مزید برتری کے لئے رسیوں کو بھی ساتھ شامل کر لیا تھا۔ اسی دوران حاضرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور فرعون اور اس کے درباریوں کی آنکھیں خوشی کے مارے چمک اٹھیں اور وہ مارے خوشی کے پھولے نہیں سماتے تھے یہ منظر دیکھ کر ان کے اندر وجد و سرور کی کیفیت پیدا ہو گئی اور وہ جھوم رہے تھے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام نے اس کیفیت کو زیادہ دیر نہیں پنپنے دیا وہ آگے بڑھے اور اپنے عصا کو زمین پر دے مارا تو وہ اچانک ایک اژدھے کی شکل میں تبدیل ہو کر جادوگروں کے ان کرشموں کو جلدی جلدی نگلنے لگا اور انھیں ایک ایک کر کے کھا گیا۔ (فَاَلْقَی مُوسَی عَصَاہُ فَإِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُون)۔ ["تلقف"، "لقف" بر وزن "سقف" کسی چیز کا جلدی جلدی پکڑنا کے معنی میں ہے خواہ وہ ہاتھ سے ہو یا منہ سے اور ظاہر ہے کہ یہاں منہ سے پکڑنے کے معنی میں ہے اور "یاٴفکون"، "افک" بر وزن "کذب" بمعنی جھوٹ ہے یہاں پر جھوٹے کرشموں اور ذرائع کی طرف اشارہ ہے]۔ اس موقع پر لوگوں پر یکدم سکوت طاری ہو گیا حاضرین پر سناٹا چھا گیا، تعجب کی وجہ سے ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، آنکھیں پتھرا گئیں گویا ان میں جان ہی نہیں رہی لیکن بہت جلد تعجب کے بجائے وحشت ناک چیخ و پکار شروع ہو گئی، کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہو ئے کچھ لوگ نتیجے کے انتظار میں رک گئے اور کچھ لوگ بے مقصد نعرے لگا رہے تھے لیکن جادوگروں کے منہ تعجب کی وجہ سے کھلے ہوئے تھے۔ اس مرحلے پر سب کچھ تبدیل ہو گیا جو جادوگر اس وقت شیطانی راستہ پر گامزن، فرعون کے ہم رکاب اور موسیٰ علیہ اسلام کے مخالف تھے یکدم اپنے آپے میں آ گئے اور کیونکہ جادو کی ہر قسم ٹونے ٹوٹکے اور مہارت و فن سے واقف تھے اس لئے انھیں یقین آگیا کہ ایسا کام ہرگز جادو نہیں ہو سکتا بلکہ یہ خدا کا ایک عظیم معجزہ ہے لہٰذا اچانک وہ سارے کے سارے سجدے میں گر پرے (فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سَاجِدِینَ)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن نے یہاں پر "القی" کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے گرا دیئے گئے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے اس قدر متاثر ہو چکے تھے کہ بے اختیار زمین پر سجدے میں جا پڑے۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ جو ان کے ایمان کی روشن دلیل تھا انھوں نے زبان سے بھی کہا: ہم عالمین کے پروردگار پر ایمان لے آئے (قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ اور ہر قسم کا ابہام و شک دور کرنے کے لئے انھوں نے ایک اور جملے کا بھی اضافہ کیا تاکہ فرعون کے لئے کسی قسم کی تاویل باقی نہ رہے۔ انھوں نے کہا: موسیٰ اور ہارون کے رب پر: (رَبِّ مُوسَی وَھَارُونَ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عصا زمین پر مارنے اور ساحرین کے ساتھ گفتگو کرنے کا کام اگرچہ موسی علیہ اسلام نے انجام دیا لیکن ان کے بھائی ہارون علیہ اسلام بھی ان کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت اور مدد کر رہے تھے۔ یہ عجیب و غریب تبدیلی جادوگروں کے دل میں پیدا ہو گئی اور انھوں نے ایک مختصر سے عرصے میں مطلق تاریکی سے نکل کر روشنی اور نور میں قدم رکھ دیا اور جن جن مفادات کا فرعون نے ان سے وعدہ کیا تھا ان سب کو ٹھکرا دیا۔ یہ بات تو آسان تھی۔ انھوں نے اس اقدام سے اپنی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے پاس علم و دانش تھا جس کے باعث وہ حق و باطل میں تمیز کرنے میں کامیاب ہو گئے اور حق کا دامن تھام لیا۔ انھوں نے باقی ماندہ راہ کو "عقل" کے پاوٴں سے" طے نہیں کیا بلکہ "عشق کے راہوار" پر سوار ہو کر آگے بڑھے اور بوئے گل نے انھیں ایسا مَست کیا کہ وہ خود سے بے گانہ ہو گئے اور ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ اسی بناء پر انھوں نے فرعون کی زبردست دھکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کے ہر ظلم و ستم کا شجاعانہ اور مردانہ وار مقابلہ کیا۔ پیغمبرِ اسلام کی ایک حدیث ہے:۔ ما من قلب الا بین اصبعین من اصابع الرحمن ان شاء اقامہ و ان شاء ازاعہ ہر ایک دل خداوند رحمن کے پنجہٴ قدرت میں ہے اگر چاہے تو اسے راہِ راست پر لگا دے اور اگر چاہے تو اسے پھیر دے۔ [تفسیر فی ظلا ل القرآن جلد ۶ ص ۲۰۸]۔ (ظاہر ہے کہ ان دونوں مراحل میں منشائے ایزدی خود انسان کی آمادگی پر منحصر ہے اور اس قسم کی توفیق یا سلبِ توفیق دلوں کی مختلف آمادگی کی بدولت حاصل ہوتی ہے اور کسی حساب و کتاب کے بغیر حاصل نہیں ہوتی)۔ اس موقع پر ایک طرف تو فرعون کے اوسان خطا ہو چکے تھے اور دوسرے اسے اپنا قتدار بلکہ اپنا وجود خطرے میں دکھائی دے رہا تھا خاص طور پر وہ جانتا تھا کہ جادوگروں کا ایمان لانا حاضرین کے دلوں پر کس قدر موٴثر ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کافی سارے لوگ جادوگروں کی دیکھا دیکھی سجدے میں گر جائیں لہٰذا اس نے بزعم خود ایک نئی ایچ نکالی اور جادوگروں کی طرف منہ کر کے کہا: تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ہو (قَالَ آمَنْتُمْ لَہُ قَبْلَ اَنْ آذَنَ لَکُمْ)۔ [یہاں پر سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۷۱ میں "اٰمنتم لہ" آیا ہے جبکہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۲۳میں "اٰمنتم بہ" آیا ہے چنانچہ بعض اربابِ لغت کے مطابق اگر "ایمان" "لام" کے ساتھ متعدی ہو تو خضوع و خشوع کا معنی دیتا ہے اور اگر "باء" کے ساتھ متعدی ہو تو تصدیق کا معنی دیتا ہے]۔ چونکہ وہ سالہا سال سے تختِ استبداد پر براجمان چلا آ رہا تھا لہٰذا اسے قطعا یہ امید نہیں تھی کہ لوگ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام انجام دیں گے بلکہ اسے تو یہ توقع تھی کہ لوگوں کے قلب و عقل اور فکر و اختیار اس کے قبضہٴ قدرت میں ہیں، جب تک وہ اجازت نہ دے وہ نہ تو کچھ سوچ سکتے ہیں اور نہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ جابر حکمرانوں کے طریقے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ یہ مغرور سرکش تو اس بات کا روادار بھی نہ تھا کہ خدا یا موسیٰ علیہ السلام کا نام ہی زبان پر لے آئے بلکہ اس نے حقارت اور نفرت کے اظہار کی صورت میں صرف "لہ" پر ہی اکتفا کیا۔ لیکن اس نے اسی بات کو کافی نہیں سمجھا بلکہ دو جلے اور بھی کہے تاکہ اپنے زعم باطل میں اپنی حیثیت اور شخصیت کو برقرار رکھ سکے اور ساتھ ہی عوام کے بیدار شدہ افکار کے آگے بند باندھ سکے اور انھیں دوبارہ خوابِ غفلت میں سلا دے۔ اس نے پہلے جادوگروں سے کہا: موسیٰ سے یہ پہلے لگی بندھی سازش ہے بلکہ مصری عوام کے خلاف ایک خطر ناک منصوبہ ہے اس نے کہا وہ تمہارا بزرگ اور استاد ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے اور تم سب نے جادوگری کی تعلیم اسی سے حاصل کی ہے (إِنَّہُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْرَ)۔ تم نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت یہ ڈرامہ رچایا ہے تاکہ مصر کی عظیم قوم کو گمراہ کر کے اس پر اپنی حکومت چلاوٴ اور اس ملک کے اصلی مالکوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر دو اور ان کی جگہ غلاموں اور کنیزوں کو ٹھہراوٴ۔ لیکن میں تمہیں کبھی اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ تم اپنی سازش میں کامیاب ہو جاوٴ، میں اس سازش کو پنپنے سے پہلے ہی نا کام کر دوں گا، تم بہت جلد جان لو گے کہ تمہیں ایسی سزا دوں گا جس سے دوسروے لوگ عبرت حاصل کریں گے تمہارے ہاتھ اور پاوٴں کو ایک دوسرے کے مخالف سمت میں کاٹ ڈالوں گا (دایاں ہاتھ اور بایاں پاوٴں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاوٴں) اور تم سب کو (کسی استثناء کے بغیر ) سولی پر لٹکا دوں گا: (فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلاَفٍ وَلَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجمَعِینَ)۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ تم سب کو قتل کر دوں گا بلکہ ایسا قتل کروں گا جس میں دکھ، درد، تکلیف اور شکنجہ بھی ہوگا اور وہ بھی سرِ عام کھجور کے بلند درختوں پر۔کیونکہ ہاتھ پاوٴں کے مخالف سمت کے کاٹنے سے احتمالاً انسان کی دیر سے موت واقع ہوتی ہے اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے۔ ہر دَور کے ظالم اور جابر حکمرانوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ پہلے تو وہ خدا کے مصلح لوگوں پر عوام کے خلاف سازش کا الزام لگاتے ہیں پھر تہمتوں اور الزام تراشیوں کے ھربے آزماتے ہیں آخر میں تلوار کا حربہ ہوتا ہے تاکہ اس طرح حق کے طلب گار افراد کی پہلے تو پوزیشن کمزور ہو اور پھر انھیں وہ اپنی راہ سے آسانی کے ساتھ ہٹا دیں۔ لیکن فرعون یہاں پر سخت غلط فہمی میں مبتلا تھا کیونکہ کچھ دیر قبل کے جادوگر اور اس وقت کے مومن افراد کے دل نورِ ایمان سے اس قدر منور ہو چکے تھے اور خدائی عشق کی آ گ ان کے دل میں اس قدر بھڑک چکی تھی کہ انھوں نے فرعون کی دھمکیوں کو ہرگز ہرگز کوئی وقعت نہ دی بلکہ بھرے جمع میں اسے دو ٹوک جواب دے کر اس کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ انھوں نے کہا: کوئی بڑی بات نہیں اس سے ہمیں ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچے گا تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے (قَالُوا لَا ضَیْرَ اَنَّا إِلَی رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ)۔ اس کام سے نہ صرف یہ کہ تم ہمارا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکو گے بلکہ ہمیں اپنے حقیقی معشوق اور معبود تک پہنچا دو گے، تمہاری یہ دھمکیاں ہمارے لئے اس وقت موٴثر تھیں جب ہم نے خود کو نہیں پہچانا تھا، اپنے خدا سے نا آشنا تھے اور راہِ حق کو بھلا کے زندگی کے بیابان میں سرگرداں تھے لیکن آج ہم نے اپنی گمشدہ گراں بہا چیز کو پالیا ہے جو کرنا چاہو کر لو۔ انھوں نے اس سلسلہٴ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہم ماضی میں گناہوں کا ارتکاب کر چکے ہیں اور اس میدان میں بھی اللہ کے سچے رسول جناب موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں پیش پیش تھے اور حق کے ساتھ لڑنے میں ہم پیش قدم تھے لیکن "ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں" (إِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَایَانَا اَنْ کُنَّا اَوَّلَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ ہم آج کسی چیز سے نہیں گھبراتے نہ تو تمہاری دھمکیوں سے اور نہ ہی بلند و بالا کھجور کے درختوں پر سولی پر لٹک جانے کے بعد ہاتھ پاوٴں مار نے سے۔ اگر ہمیں خوف ہے تو اپنے گزشتہ گناہوں کا اور امید ہے کہ وہ بھی ایمان کے سائے اور حق تعالیٰ کی مہربانی سے معاف ہو جائیں گے۔ یہ کیسی طاقت ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی نگاہوں میں حقیر ہو جاتی ہے اور وہ سخت سے سخت شکنجوں سے بھی نہیں گھبراتا اور اپنی جان دے دینا اس کے لئے کوئی بات ہی نہیں رہتی۔ یقینا یہ ایمانی طاقت ہوتی ہے۔ یہ عشق کے روشن و درخشان چراغ کا شعلہ ہوتا ہے جو شہادت کے شربت کو انسان کے حلق میں شہد سے بھی زیادہ شیریں بنا دیتا ہے اور محبوب کے وصال کو انسان کا ارفع و اعلیٰ مقصد بنا دیتا ہے۔ یہ وہی طاقت ہے جس سے پیغمبر اسلام نے استفادہ کیا اور صدر اسلام کے مسلمانوں کی اسی سے تربیت کی جس کی وجہ سے ایک پسماندہ قوم بہت جلد اعزاز و افتخار کی بلندیوں کو چھونے لگی، ایسے مسلمان جن پر تاریخ بشریت تا ابد ناز کرتی رہے گی۔ بہر حال یہ منظر فرعون اور اس کے ارکان سلطنت کے لئے بہت ہی مہنگا ثابت ہوا ہر چند کہ بعض روایات کے مطابق اس نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ بھی پہنا دیا اور تازہ ایمان لانے والے جادوگروں کو شہید کر دیا لیکن عوام کے جو جذبات موسیٰ علیہ اسلام کے حق میں اور فرعون کے خلاف بھڑک اٹھے تھے وہ انھیں نہ صرف دبا نہ سکا بلکہ اور بھی برانگیختہ کر دیا۔ اب جگہ جگہ اس خدائی پیغمبر کے تذکرے ہونے لگے اور ہر جگہ ان با ایمان شہداء کے چرچے تھے بہت سے لوگ اس وجہ سے ایمان لے آئے۔ جن میں فرعون کے کچھ نزدیکی لوگ بھی تھے حتی کہ خود اس کی زوجہ ان ایمان لانے والوں میں شامل ہو گئی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ توبہ کرنے والے تازہ مومن جادوگروں نے اپنے آپ کو پہلے مومن کیوں کہا؟ آیا ان کی مراد یہ تھی کہ وہ اس میدان میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں؟ یا فرعون کے حامیوں میں سے سب سے پہلے مومن ہیں؟ یا شربت شہادت نوش کرنے والے سب سے پہلے مومن ہیں؟ ان سب امور کا احتمال ہو سکتا ہے اور ان کا آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے۔ یہ تمام تفسیریں اس صورت میں ممکن نہیں جب ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ ان سے پہلے بنی اسرائیل یا غیر بنی اسرائیل میں سے کچھ اور لوگ بھی موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہوں گے لیکن اگر یہ کہیں کہ موسیٰ علیہ اسلام اور ہارون علیہ اسلام کو بعثت کے فوراً بعد حکم دے دیا گیا تھا کہ وہ براہِ راست فرعون سے بات چیت کریں اور سب سے پہلی ضرب اس کے پیکر پر لگائیں تو ایسی صورت میں بعید نہیں ہے کہ وہ واقعاً پہلے مومنین ہوں اور پھر کسی دوسری تفسیر کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی۔

52
26:52
۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِيٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات مصر سے لیجاؤ کیونکہ وہ(فرعونی) تمہارا پیچھا کرنے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
26:53
فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
فرعون نے شہروں میں کارندے بھیج دیئے کہ فوج جمع کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
26:54
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٞ قَلِيلُونَ
(اور اس نے) کہا: یہ تھوڑے سے لوگ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
26:55
وَإِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآئِظُونَ
اور انہوں نے ہمیں غصہ دلایا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
26:56
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ
اور ہم سب آمادہ پیکار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
26:57
فَأَخۡرَجۡنَٰهُم مِّن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
لیکن ہم نے(فرعون اور فرعون والوں، غرض) ان سب کو باغوں اور چشموں سے باہر نکالدیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
26:58
وَكُنُوزٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
اور خزانوں اور عالیشان محلوں سے(بھی)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
26:59
كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
جی ہاں ! ہم نے ایسا ہی کیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دیا۔

تفسیر: ہم نے انھیں باہر نکال دیا

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ہم گزشتہ آیات میں دیکھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میدانِ مقابلہ میں فرعون پر غالب آگئے اور سرخرو اور سرفراز ہو کر میدان سے باہر آئے اگرچہ فرعون اور اس کے تمام درباری ان پر ایمان نہیں لائے لیکن اس کے چند اہم نتائج ضرور بر آمد ہوئے، جن میں سے ہر ایک اہم کامیابی شمار ہوتا ہے۔ ۱۔ بنی اسرائیل کا اپنے رہبر اور پیشوا پر عقیدہ مزید پختہ ہو گیا اور انھیں مزید تقویت مل گئی چنانچہ ایک دل اور ایک جان ہو کر ان کے گرد جمع ہو گئے کیونکہ انھوں نے سالہا سال کی بد بختی اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد اب اپنے اندر کسی آسمانی پیغمبر کو دیکھا تھا جو کہ ان کی ہدایت کا بھی ضامن تھا اور ان کے انقلاب، آزادی اور کامیابی کا رہبر بھی تھا۔ ۲۔ موسیٰ علیہ السلام نے مصریوں اور قبطیوں کے درمیان ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔ کچھ لوگ ان کی طرف مائل ہو گئے اور جو مائل نہیں ہوئے تھے وہ کم از کم ان کی مخالفت سے ضرور گھبراتے تھے اور جناب موسیٰ کی صدائے دعوت تمام مصر میں گونجنے لگی۔ ۳۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ فرعون عوامی افکار اور اپنی جان کو لاحق خطرے سے بچاوٴکے لئے اپنے اندر ایسے شخص کے ساتھ مقابلے کی طاقت کھو چکا تھا جس کے ہاتھ میں اس قسم کا عصا اور منہ میں اس طرح کی گویا زبان تھی۔ مجموعی طور پر یہ امور موسیٰ علیہ السلام کے لئے اس حد تک زمین ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوئے کہ مصریوں کے اندر ان کے پاوٴں جم گئے اور انھوں نے کھل کر اپنا تبلیغی فریضہ انجام دیا اور اتمامِ حجت کی۔ اس روش کو کئی سال گزر گئے اور اس دوران میں موسیٰ علیہ السلام نے اپنے منطقی دلائل کے ساتھ ساتھ انھیں کئی معجزے بھی دکھائے جن کی طرف ہم سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۰ سے ۱۳۵تک کے ذیل میں اشارہ کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ خداوندِ عالم نے اہل مصر کو کئی سال تک قحط اور خشک سالی میں مبتلا رکھا تاکہ جو لوگ بیدار ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔ (اس بارے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں مذکورہ آیات کی تفسیر ملاحظہ ہو)۔ جب جناب موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں پر اتمام حجت کر چکے اور مومنین و منکرین کی صفیں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں تو موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے کوچ کرنے کا حکم دے دیا گیا چنانچہ یہی آیات اس منظر کی تصویر کشی کر رہی ہیں۔ سب سے پہلے فرمایا گیا: ہم نے موسیٰ علیہ اسلام پر وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو (مصر سے باہر) نکال کر لے جاوٴ، کیونکہ وہ تمہارا پیچھا کرنے والے ہیں (وَاَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِی إِنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ)۔ یہ ایک خدائی منصوبہ ہے کہ تم رات کو سفر کرو اور وہ بھی با خبر ہو جائیں اور تمہارے پیچھے چل پڑیں پھر کیا ہو گا؟ یہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ "عبادی" (میرے بندے) کی تعبیر، (باوجودیکہ اس سے پہلے "اوحینا" یعنی "ہم نے وحی بھیجی" جمع کی صورت میں آیا ہے)، خدا کی اپنے مومن بندوں سے نہایت محبت پر دلالت کرتی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس حکم کی تعمیل کی اور دشمن کی نگاہوں سے بچ کر بنی اسرائیل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے بعد کوچ کا حکم دیا اور حکمِ خدا کے مطابق رات کو خصوصی طور پر منتخب کیا تاکہ یہ منصوبہ صحیح صورت میں تکمیل کو پہنچے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اتنی بڑی تعداد کی روانگی ایسی چیز نہیں تھی جو زیادہ دیر تک چھپی رہ جاتی۔ جاسوسوں نے جلد ہی اس کی رپوٹ فرعون کو دے دی اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے: فرعون نے اپنے کارندے مختلف شہروں میں روانہ کر دیئے تاکہ فوج جمع کریں (فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَائِنِ حَاشِرِینَ)۔ البتہ اس زمانے کے حالات کے مطابق فرعون کا پیغام تمام شہروں میں پہنچانے کے لئے کافی وقت کی ضرورت تھی لیکن نزدیک کے شہروں میں یہ اطلاع بہت جلد پہنچ گئی اور پہلے سے تیار شدہ لشکر فوراً حرکت میں آگئے اور مقدمة الجیش اور حملہ آور لشکر کی تشکیل کی گئی اور دوسرے لشکر بھی آہستہ آہستہ ان سے آ ملتے رہے۔ ساتھ ہی لوگوں کو حوصلہ بلند رکھنے اور نفسیاتی اثر قائم رکھنے کے لئے اس نے حکم دیا کہ اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ وہ تو ایک چھوٹا سا گروہ ہے (تعداد کے لحاظ سے بھی کم اور طاقت کے لحاظ سے بھی کم) (إِنَّ ھَؤُلاَءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیلُونَ)۔ لہٰذا اس چھوٹے سے کمزور گروہ کے مقابلے میں ہم کامیاب ہو جائیں گے گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ طاقت اور قوت ہمارے پاس زیادہ ہے لہٰذا فتح بھی ہماری ہی ہوگی۔ "شرذمة" دراصل چھوٹے سے گروہ اور کسی چیز سے کچھ بچ رہنے کو کہتے ہیں۔ کٹے پھٹے لباس کو "شراذم" کہتے ہیں بنابریں، اس کلمہ میں کم ہونے کے معنی کے علاوہ پراکندگی اور انتشار کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے گویا اس طرح سے فرعون یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ لوگ صرف تعداد ہی میں ہم سے کم نہیں بلکہ ان میں انتشار اور افتراق بھی پایا جاتا ہے۔ فرعون نے یہ بھی کہا آخر ہم کس حد تک برداشت کریں اور کب تک ان سرکش غلاموں کے ساتھ نرمی کا برتاوٴ کرتے رہیں؟ "انھوں نے تو ہمیں غصہ دلایا ہے" (وَإِنَّھُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ)۔ آخر کل مصر کی کھیتیوں کی کون آبپاشی کرے گا؟ ہمارے گھر کون بنائے گا؟ اس وسیع و عریض مملکت کا کون لوگ بوجھ اٹھائیں گے؟ اور ہماری نوکری کون کرے گا؟ اس کے علاوہ "ہمیں ان لوگوں کی سازشوں سے خطرہ ہے (خواہ وہ یہاں رہیں یا کہیں اور چلے جائیں) اور ہم ان سے مقابلہ کے لئے مکمل طور پر آمادہ اور اچھی طرح ہوشیار ہیں" (وَإِنَّا لَجَمِیعٌ حَاذِرُونَ)۔ بعض مفسرین کے مطابق "حاذرون"، "حذر" سے ہے جس کا مطلب ہے ان کی سازشوں سے خطرہ اور بعض "حذر" کو افرادی قوت اور اسلحہ کے لحاظ سے مکمل ہوشیاری، بیداری اور تیاری کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ لیکن ان دونوں تفسیروں کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے فرعون والے خائف بھی ہوں اور ان سے مقابلے کے لئے مکمل طور پر تیار بھی ہوں۔ پھر قرآن پاک فرعونیوں کے انجام کا ذکر کرتا ہے اور اجمالی طور پر ان کی حکومت کے زوال اور بنی اسرائیل کے اقتدار کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے انھیں سرسبز باغات اور پانی سے لبریز چشموں سے باہر نکال دیا: (فَاَخْرَجْنَاھمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ)۔ اور خزانوں، خوبصورت محلات اور آرام و آسائش کے مقامات سے بھی نکال دیا (وَکُنُوزٍ وَمَقَامٍ کَرِیمٍ)۔ ہاں ہاں! ہم نے ایسا ہی کیا اور بنی اسرائیل کو بغیر کسی مشقت کے یہ سب کچھ دے دیا اور انھیں فرعون والوں کا وارث بنا دیا (کَذَلِکَ وَاَوْرَثْنَاھَا بَنِی إِسْرَائِیلَ)۔ "مقامِ کریم" کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کچھ لوگوں کے نزدیک اس سے بلند و بالا محلات اور قیمتی عمارتیں مراد ہیں اور بعض لوگوں نے اس سے عیش و نشاط کی محفلیں مراد لی ہیں کچھ مفسرین اس سے حکمرانوں اور اہل اقتدار کی مجالس مراد لیتے ہیں کہ جن کے آگے نوکر چاکر سرِ تسلیم خم کئے منتظرِ فرمان ہوتے ہیں اور بعض اسے وہ منبر مراد لیتے ہیں جن پر بیٹھ کر خطباء تقریریں کرتے ہیں (یعنی وہ منبر جن پر بیٹھ کر فرعون اور اس کی حکومت کے حق میں پروپگینڈا کیا جاتا تھا)۔ البتہ پہلا معنی سب سے مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ ان تمام معانی کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام معانی آیت کے مفہوم میں جمع ہوں یعنی ان سے محلات بھی لے لئے گئے ہیں، قدرت و طاقت، حکومت و دولت اور شان و شوکت بھی چھین لئے گئے اور محافلِ سرور و نشاط کی بساط بھی لپیٹ لی گئی۔

چند اہم نکات: ۱۔ بنی اسرائیل نے مصر میں حکومت کی ہے ؟

آیات بالا میں خداوندِ عالم فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون والوں کا وارث بنایا۔ اسی تعبیر کی بناء پر بعض مفسرین کی یہ رائے ہے کہ بنی اسرائیل کے افراد مصر کی طرف واپس لوٹ آئے اور زمامِ حکومت و اقتدار اپنے قبضے میں لے کر مدتوں وہاں حکومت کرتے رہے۔ ["تفسیر مجمع البیان" اور "تفسیر قرطبی" انہی آیات کے ذیل میں۔ نیز "آلوسی"نے اپنی تفسیر "روح المعانی" میں اس موضوع پر ایک قابلِ قدر تفسیر نقل کی ہے]۔ آیات بالا کا ظاہری مفہوم بھی اسی تفسیر سے مناسبت رکھتا ہے۔ جبکہ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ لوگ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد مقدس سرزمینوں کی طرف چلے گئے البتہ کچھ عرصے کے بعد مصر واپس آگئے اور وہاں پر اپنی حکومت تشکیل دی۔ ["تفسیر روح المعانی" انہی آیات کے ذیل میں]۔ تفسیر کے اسی حصے کے ساتھ موجودہ تورات کی فصول بھی مطابقت رکھتی ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ مصر میں رہ گیا اور وہیں پر حکومت کی اور ایک گروہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سرزمین مقدس کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے وارث ہونے سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اور جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں مصر کی وسیع و عریض سرزمین پر حکومت کی۔ لیکن اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ ایک عظیم انقلابی پیغمبر تھے لہٰذا یہ بات بالکل بعید نظر آتی ہے کہ وہ ایسی سرزمین کو کلی طور پر خیر باد کہہ کر چلے جائیں جس کی حکومت مکمل طور پر انھی کے قبضے اور اختیار میں آ چکی ہو اور وہ وہاں کے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ کئے بغیر بیابانوں کی طرف چل دیں خصوصاً جب کہ لاکھوں بنی اسرائیل عرصہ دراز سے وہاں پر مقیم بھی تھے اور وہاں کے ماحول سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ بنابریں، یہ کیفیت دو حال سے خالی نہیں یا تو تمام بنی اسرائیلی مصر میں واپس لوٹ آئے اور حکومت تشکیل دی، یا کچھ لوگ جناب موسیٰ علیہ السلام کے حکم کے مطابق وہیں رہ گئے تھے اور حکومت چلاتے رہے اس کے علاوہ فرعون اور فرعون والوں کے باہر نکال دینے اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دینے کا اور کوئی واضح مفہوم نہیں ہو گا۔

۲۔آیات کی ترتیب:

آیات کی ترتیب: قرآنِ مجید بعد والی آیات میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق ہونے کو تفصیل کے ساتھ بیان کر رہا ہے یہ بات اس سوال کا سبب بن جاتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآنِ مجید فرعونیوں کے اپنے محلات اور جائیداد سے باہر نکال دینے اور بنی اسرائیل کے ان کے وارث ہونے کو تو پہلے بیان کر رہا ہے اور فرعون وغیرہ کے غرق ہونے کو بعد میں؟ جبکہ اس کی طبیعی ترتیب اس کے بر عکس ہے۔ اس سلسلے میں ممکن ہے کہ یہاں اجمال بیان کرنے کے بعد تفصیل بیان کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے نتیجہ اور پھر اس کی تفصیل کے ذکر کا انداز ہو۔ غور کیجئے گا)۔

60
26:60
فَأَتۡبَعُوهُم مُّشۡرِقِينَ
وہ(فرعون والے)ان کے تعاقب میں چل پڑے اور طلوع آفتاب کے وقت انہیں جا لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
26:61
فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ
جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو فرعونیوں کے چنگل میں پھنس گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
26:62
قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ
(موسیٰ نے) کہا: ایسی کوئی بات نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے جو جلد ہی میری راہنمائی کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
26:63
فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ
اس کے بعد ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تم اپنی عصا دریا پر مارو‘ دریا پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
26:64
وَأَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ٱلۡأٓخَرِينَ
اور وہاں ہم نے دوسرے لوگوں کو بھی دریا کے نزدیک کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
26:65
وَأَنجَيۡنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
ہم نے موسیٰ اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے (سب کو) نجات بخشی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
26:66
ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
پھر دوسروں کو ہم نے غرق کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
26:67
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اس واقعہ میں (حق طلب افراد کیلئے) واضح نشانی ہے،لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
26:68
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تیرا پروردگار عزیز اور رحیم ہے۔

تفسیر: فرعون والوں کا دردناک انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ان آخری آیات میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کی داستان کا آخری حصہ پیش کیا گیا ہے کہ فرعون اور فرعون والے کیونکر غرق ہوئے اور بنی اسرائیل نے کس طرح نجات پائی؟ جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ فرعون نے اپنے کارندوں کو مصر کے مختلف شہروں میں بھیج دیا تاکہ وہ بڑی تعداد میں لشکر اور افرادی قوت جمع کر سکیں چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بعض مفسرین کی تصریح کے مطابق فرعون نے چھ لاکھ کا لشکر مقدمة الجیش کی صورت میں بھیج دیا اور خود دس لاکھ کے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ ساری رات بڑی تیزی کے ساتھ چلتے رہے اور طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی انھوں نے موسیٰ علیہ اسلام کے لشکر کو جالیا چنانچہ اس سلسلے کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: فرعون والوں نے ان کا تعاقب کیا اور طلوعِ آفتاب کے وقت انھیں جالیا (فَاَتْبَعُوھُمْ مُشْرِقِینَ)۔ [بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "مشرقین" سے مراد بنی اسرائیل کا مشرق کی جانب سفر تھا اور فرعون کا لشکر بھی اسی سمت چلتا رہا کیونکہ "بیت المقدس" کی سرزمین مصر سے مشرق کی طرف ہے]۔ جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ علیہ اسلام کے ساتھی کہنے لگے اب تو ہم فرعون والوں کے نرغے میں آ گئے ہیں اور بچ نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی (فَلَمَّا تَرَاءَ الْجَمْعَانِ قَالَ اَصْحَابُ مُوسَی إِنَّا لَمُدْرَکُونَ)۔ ہمارے سامنے دریا اور اس کی ٹھاٹھیں مارتی موجیں ہیں، ہمارے پیچھے خونخوار مسلح لشکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے لشکر بھی ایسے لوگوں کا ہے جو ہم سے سخت ناراض اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی خونخواری کا ثبوت ایک طویل عرصے تک ہمارے معصوم بچوں کو قتل کر کے دیا ہے اور خود فرعون بھی بہت بڑا مغرور، ظالم اور خونخوار شخص ہے لہٰذا وہ فوراً ہمارا محاصرہ کر کے ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے یا قیدی بنا کر تشدد کے ذریعے ہمیں واپس لے جائیں گے۔ قرائن سے بھی ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا۔ اس مقام پر بنی اسرائیل پر کرب کی حالت طاری ہو گئی اور ان کا ایک ایک لمحہ کرب و اضطراب میں گزرنے لگا یہ لمحات ان کے لئے زبردست تلخ تھے شاید بہت سے لوگوں کا ایمان بھی متزلزل ہو چکا تھا اور بڑی حد تک ان کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔ لیکن جناب موسیٰ علیہ اسلام علیہ السلام حسب سابق نہایت ہی مطمئن اور پر سکون تھے انھیں یقین تھا کہ بنی اسرائیل کی نجات اور سرکش فرعونیوں کی تباہی کے بارے میں خدا کا فیصلہ اٹل ہے اور وعدہ یقینی ہے۔ لہٰذا انھوں نے مکمل اطمینان اور بھرپور اعتماد کے ساتھ بنی اسرائیل کی وحشت زدہ قوم کی طرف منہ کر کے کہا: ایسی کوئی بات نہیں وہ ہم پر کبھی غالب نہیں آسکیں گے کیونکہ میرا خدا میرے ساتھ ہے اور وہ بہت جلد ہی مجھے ہدایت کرے گا (قَالَ کَلاَّ إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیَھْدِینِ)۔ ممکن ہے اس طرح کی تعبیر اس وعدہ کی طرف اشارہ ہو جو خداوندِ عالم نے موسیٰ علیہ اسلام اور ہارون علیہ اسلام سے حکمِ تبلیغ دیتے ہوئے کیا تھا: "اننی معکما اسمع و ارٰی"۔ میں ہر جگہ پر تم دونوں کے ساتھ ہوں، میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں (طٰہٰ ۴۶)۔ موسیٰ علیہ السلام کو علم تھا کہ خدا ہر جگہ ان کے ساتھ ہے خاص کر "رب" (یعنی خداوندِ مالک و مصلح) کے نام پر بھروسہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ جو بھی راستہ طے کر رہے ہیں اپنے پاوٴں کے ساتھ چل کر نہیں بلکہ خداوندِ قادر و مہربان کے لطف و کرم کے ساتھ طے کر رہے ہیں۔ اس موقع پر شاید بعض لوگوں نے موسیٰ علیہ اسلام کی باتوں کو سن لیا لیکن انھیں پھر بھی یقین نہیں آ رہا تھا اور وہ اسی طرح زندگی کے آخری لمحات کے انتظار میں تھے کہ خدا کا آخری حکم صادر ہوا، قرآن کہتا ہے: ہم نے فوراً موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو (فَاَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی اَنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ)۔ وہی عصا جو ایک دن تو ڈرانے کی علامت تھا اور آج رحمت اور نجات کی نشانی۔ موسیٰ علیہ اسلام نے تعمیل حکم کی اور عصا کو فوراً زمین پر دے مارا تو اچانک ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا جس سے بنی اسرائیل کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انکے دلوں میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی، ناگہانی طور پر دریا پھٹ گیا، پانی کے کئی ٹکڑے بن گئے اور ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی مانند بن گیا اور ان کے درمیان میں راستے بن گئے (فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیمِ)۔ "انفلق"، "فلق" (بر وزن "فرق") کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے پھٹ جانا اور "فِرق" (بر وزن "رزق") کے مادہ سے "فرق" (بر وزن "حلق") جدا ہونے کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں (جیسا کہ "راغب" اپنی کتاب "مفردات" میں کہتے ہیں) "فلق" اور "فرق" کے درمیان یہ فرق ہے کہ پہلا لفظ پھٹ جانے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا جدا ہونے کی طرف۔ لہٰذا فرقہ اور فرق اس ٹولے یا گروہ کو کہتے ہیں جو باقیوں سے جدا ہو جائے۔ "طود" کا معنیٰ بہت بڑا پہاڑ ہے اور آیتِ زیر بحث میں "طود" کی صفت کا "عظیم" ہونا اس معنیٰ کی تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ بہرحال، جس کا فرمان ہر چیز پر جاری اور نافذ ہے کہ اگر پانی میں طغیانی آتی ہے تو اس کے حکم سے اور اگر طوفان میں حرکت آتی ہے تو اس کے امر سے، وہ خدا کہ: نقشِ ہستی از ایوان اوست آب و باد و خاک سرگردان اوست اسی نے دریا کی موجوں کو حکم دیا اور مواجِ دریا نے اس حکم کو فوراً قبول کیا اور ایک دوسرے پر جمع ہو گئیں اور ان کے درمیان کئی راستے بن گئے اور بنی اسرائیل کے ہر گروہ نے ایک ایک راستہ اختیار کر لیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی یہ منظر دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے، اس قدر واضح اور آشکار معجزہ دیکھنے کے باوجود تکبر اور غرور کی سواری سے نہیں اترے انھوں نے موسیٰ علیہ اسلام اور بنی اسرائیل کا تعاقب جاری رکھا اور اپنے آخری انجام کی طرف آگے بڑھتے رہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اور وہاں پر دوسرے لوگوں کو بھی ہم نے دریا کے نزدیک کر دیا (وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِینَ)۔ اس طرح سے فرعونی لشکر بھی دریائی راستوں پر چل پڑے اور وہ لوگ اپنے ان پرانے غلاموں کے پیچھے دوڑتے رہے جنھوں نے اب اس غلامی کی زنجیریں توڑ دی تھیں لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کے آخری لمحات ہیں اور ابھی ابھی عذاب کا حکم جاری ہونے والا ہے۔ بعد والی آیت کہتی ہے: ہم نے موسیٰ اور ان تمام لوگوں کو نجات دی جو ان کے ساتھ تھے (وَاَنْجَیْنَا مُوسَی وَمَنْ مَعَہُ اَجْمَعِینَ)۔ ٹھیک اس وقت جب بنی اسرائیل کا آخری فرد دریا سے نکل رہا تھا اور فرعونی لشکر کا آخری فرد اس میں داخل ہو رہا تھا ہم نے پانی کو حکم دیا کہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آ۔ اچانک موجیں ٹھاٹھیں مارنے لگیں اور فرعون اس کے لشکر کو گھاس پھونس اور تنکوں کی طرح بہا کر لے گئیں اور صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ قرآن نے ایک مختصر سی عبارت کے ساتھ یہ ماجرا یوں بیان کیا ہے: پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا (ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْآخَرِینَ)۔ تو اس طرح سے سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا قیدی غلام آزاد ہو گئے۔ مغرور ظالم لوگ پھنس کر تباہ و برباد ہو گئے۔ تاریخ کا ورق الٹ گیا۔ چکا چوند کرنے والا تمدن صفحہٴ عالم سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گیا وہی تمدن جس کی بنیاد مستضعف لوگوں کے گھروں کو اجاڑ کر رکھی گئی تھی۔ مستکبرین کا دور ختم ہو گیا اور مستتضعفین عالم ان کی املاک اور حکومت کے وارث بن گئے۔ تو جناب "اس واقعے میں روشن نشانی اور عبرت کا درسِ عظیم ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے" گویا ان کی آنکھیں بند، کان بہرے اور دل خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِین)۔ جہان فرعون اور فرعون کے ساتھی یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو آپ بھی (اے پیغمبر!) اس مشرک قوم پر تعجب نہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے پر پریشان نہ ہوں کیونکہ اس قسم کے بہت سے مناظر تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ "اکثر" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فرعون کی قوم سے کچھ لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دین قبول کر لیا تھا اور ان کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے تھے، نہ صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور موسیٰ علیہ اسلام کے با وفا دوست جسے قرآن نے "مومن آلِ فرعون" کے عنوان سے یاد کیا ہے بلکہ جادوگروں کی طرح بہت سے لوگ بھی توبہ کر کے حضرت موسیٰ علیہ اسلام سے آ ملے تھے۔ اس سلسلے کی آخری آیت ایک مختصر لیکن معنی سے بھر پور جملے میں خدا کی بے پناہ قدرت اور رحمت کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے: تمہارا پروردگار عزیز بھی ہے اور رحیم بھی (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ)۔ یہ اس کی "عزت" (غلبے) کا کرشمہ ہی تو ہے کہ جب چاہے باغی اور منحرف قوموں کی نابودی کا حکم صادر کر دیتا ہے اور کسی ظالم و جابر قوم کی تباہی کے لئے اسے اس بات کی ضرورت نہیں کہ آسمان سے فرشتوں کے لشکر نازل کرے بلکہ جو پانی اس قوم کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اسے انہی لوگوں کی موت کا حکم دیتا ہے اور جو دریائے نیل فرعون اور اس کی قوم کا سرمایہ قدرت اور سببِ ثروت ہو وہی ان کا قبرستان بن جاتا ہے۔ اس کی رحمت یہ ہے کہ وہ ایسے کام میں ہرگز جلدی نہیں کرتا بلکہ کئی کئی سال تک ڈھیل دیتا ہے معجزے دکھاتا اور اتمامِ حجت کرتا اور یہ بھی اس کی رحمت ہےکہ اس قسم کی ستم رسیدہ قوم کو اس طرح کے خود سر اور سرکش حکمرانوں کی غلامی سے نجات بخشتا ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ بنی اسرائیل کی گذرگاہ

قرآن مجید میں بارہا اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کو "بحر" عبور کروایا [سورہ یونس ۹۰۔ سورہ طٰہٰ ۷۷۔ سورہٴ شعراء ۶۳ (یہی آیت) اور سورہ دخان ۲۴] اور چند مقامات پر "یم" کا لفظ بھی آیا ہے۔ [سورہ طٰہٰ ۷۸۔ سورہ قصص۴۰ اور سورہ ذاریات ۴۰]۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں پر "بحر" اور "یم" سے کیا مراد ہے آیا یہ نیل (Nile River) جیسے وسیع و عریض دریا کی طرف اشارہ ہے کہ سرزمین مصر کی تمام آبادی جس سے سیراب ہوتی تھی یا بحیرہ احمر یعنی بحر قلزم (Red Sea) کی طرف اشارہ ہے۔ موجودہ تورات اور بعض مفسرین کے اندازِ گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے لیکن ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نیل کا عظیم و وسیع دریا ہے کیونکہ لغت میں جیسا کہ راغب مفردات میں کہتے ہیں: "بحر" دراصل بہت زیادہ اور وسیع پانی کو کہتے ہیں اور "یم" بھی اسی معنیٰ میں آتا ہے بنابریں، ان دونوں کلمات کا دریائے نیل پر اطلاق بالکل صحیح ہے۔ رہے وہ قرائن جو اس نظریے کی تائید کرتے ہیں تو وہ مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ فراعنہ مصر کا محلِ سکونت جو مصر کے آباد شہروں کا مرکز تھا یقینا ایسے مرکزی مقام پر ہو گا جو دریائے نیل سے زیادہ دور نہیں ہو گا۔ اگر موجودہ اہرام اور اس کے اطراف کو معیار قرار دیں تو بنی اسرائیل مجبور تھے کہ سرزمین مقدس تک پہنچنے کے لئے پہلے دریائے نیل کو عبور کریں کیونکہ یہ علاقہ دریائے نیل کے مغرب میں واقع ہے اور انھیں مقدس سرزمین تک پہنچنے کے لئے مشرق کی طرف جانا چاہیئے تھا۔ (غور کیجئے گا) ۲۔ دریائے نیل کے نزدیک آباد علاقے بحیرہ احمر سے اس قدر دور ہیں کہ بنی اسرائیل اسے ایک شب یا نصف شب میں طے نہیں کر سکتے تھے (جبکہ گزشتہ آیات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بنی اسرائیل نے فراعنہ مصر کی سرزمین کو راتوں رات ترک کیا اور قاعدةً رات کے وقت ہی یہ کام انجام پانا چاہیئے تھا اور فرعونی لشکر بھی صبح صبح طلوعِ آفتاب کے وقت پہنچ گیا)۔ ۳۔ سرزمین مصر کو عبور کرنے اور سرزمین مقدس تک پہنچنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ بحیرہ احمر کو عبور کریں کیونکہ نہر سویز کی کھدائی سے پہلے وہاں پر خشکی کا ایک راستہ موجود تھا مگر یہ کہ اس مفروضہ کو تسلیم کر لیں کہ ہزار ہا سال قبل بحیرہٴ احمر (Red Sea) کا بحیرہ روم (Mediterranean) سے براہِ راست اتصال تھا اور خشکی کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا لیکن اس طرح کا کوئی مفروضہ کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ہے۔ ۴۔ قرآن نے عصائے موسیٰ کے پانی میں ڈالنے کی داستان میں "یم" کا لفظ استعمال کیا ہے (سورہ طٰہٰ ۳۹) اور جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں فرعون والوں کی غرقابی کے موقع پر بھی لفظ "یم" استعمال کیا گیا ہے اور پھر یہ کہ دونوں واقعات ایک ہی داستان بلکہ ایک ہی سورہ (طٰہٰ) میں ہیں اور دونوں مطلق طور پر منقول ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ دونوں کا معنی ایک ہے اور پھر اس بات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے بھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انھیں سمندر میں نہیں ڈالا تھا بلکہ تاریخی شواہد اور قرائن کے مطابق انھیں دریائے نیل کی موجوں کے سپرد کیا تھا لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں غرق ہوئے تھے (غور کیجئے گا)۔

۲۔ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعونیوں کی غرقابی

بعض مفسرین جو معجزات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے اور اس بات مصر ہیں کہ گزشتہ آیات میں مذکور فرعون والوں کی غرقابی اور بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی اس طرح توجیہ کریں جو عام طبیعی اسباب سے ہم آہنگ ہو۔ لہٰذا کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کو چلتے پھرتے اور متحرک پل سے مطابقت دی جائے جس کا آج بھی رواج ہے [علام القرآن ص ۲۶۶] (کہ ہنگامی طور پر عبور کرنے کے لئے متحرک پل سے استفادہ کرتے ہیں)۔ بعض دوسروں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام راستوں سے واقف تھے اور دریائے "سوف" (خلیج سویز) میں موجود درمیانی راستوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے لہٰذا وہاں سے گذر کر "جزیرہٴ سینا" پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور آیات "انفلاق بحر" سے اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ [علام القرآن ص ۲۶۶]۔ کچھ اور مفسرین نے شاید اس احتمال کو تقویت دی ہے اور کہا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے اس وقت پہنچے جب سمندر کا "جزیرہ" ختم ہوگیا تھا اور خشکی ظاہر ہو چکی تھی وہاں سے با آسانی گزرنے میں کامیاب ہو گئے جونہی وہ گزر گئے اور فرعونی قافلہ اس میں اترا تو "مد" شروع ہو گیا جس کی وجہ سے وہ سمندر کی موجوں میں گھر کر ہلاک ہو گیا۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ ان احتمالات میں سے کوئی بھی قرآنی آیات کے ظاہری مفہوم (اگر صریحی نہ بھی کہیں) سے ہم آہنگ نہیں ہے لیکن اگر معجزے کے مسئلہ کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر اس قسم کی توجیہات کی ضرورت پیش نہ آئے۔ معجزے کا مسئلہ انبیاء کے تفصیلی حالات میں با رہا آ چکا ہے خاص کر اس داستان میں بھی عصا کے معجزے کا تذکرہ موجود ہے۔ اگر ہم یہ بات مان لیں تو کیا حرج ہے کہ عصا کے لگنے سے خدا کے حکم کے مطابق دریائے نیل کا پانی کئی حصوں میں بٹ گیا اور پھر اکٹھا ہو گیا کیونکہ کائنات میں خداوندِ عالم ہی تو قانونِ علت و معلوم پر حاکم ہے۔ ہو سکتا ہے پانی کی یہ تقسیم کسی مخفی کشش کے تحت ہوئی ہو اور تھوڑے ہی عرصے بعد یہ کشش ختم ہو گئی ہو اور تمام پانی اپنی طبیعی حالت پر واپس آ گیا ہو اس قسم کا استثناء قانون علت و معلوم میں نہیں ہے بلکہ غیر معمولی علتوں کی تاثیر کا اعتراف کرنا پڑے گا جو ہماری محدود معلومات کی وجہ سے ہماری پہچان سے باہر ہے۔

۳۔ قدرت کے باوجود رحیم ہے

قدرت کے باوجود رحیم ہے: یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس سلسلے کی آخری آیت جو موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کے مجموعی کاموں اور لشکرِ حق کی فتح اور لشکر باطل کی شکست اور تباہی کے نتیجے کے طور پر ہے۔ خداوندِ عالم کی دو صفات بیان کر رہی ہے ایک "عزت" اور دوسری "رحمت" پہلی صفت اس کی قدرت کے نا قابلِ تسخیر ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری اپنے بندوں پر اس کی رحمت کی وسعت کا پتہ دیتی ہے اور پھر "عزیز" کو "رحیم" پر مقدم کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ یہ رحمت اس کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نہ! نہ! بلکہ وہ قدرت رکھنے کے باوجود رحیم ہے۔ البتہ بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ اس کی عزت سے توصیف اس کے دشمنوں کی شکست کی طرف اور رحمت سے توصیف اس کے دوستوں کی فتح کی جانب اشارہ ہے اور اگر دونوں صفات دونوں گروہوں کے لئے ہوں تو بھی کوئی ہرج کی بات نہیں کیونکہ گناہگاروں سمیت سب اس کی رحمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں اور نیک لوگوں سمیت سب اس کے جاہ و جلال اور سطوت اور دبدبے سے خوف کھاتے نظر آتے ہیں۔

69
26:69
وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ إِبۡرَٰهِيمَ
اور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر پڑھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
26:70
إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا تَعۡبُدُونَ
جبکہ انہوں نے اپنے (منہ بولے) باپ اور اپنی قوم سے کہا:تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
26:71
قَالُواْ نَعۡبُدُ أَصۡنَامٗا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ
انہوں نے کہا کہ ہم: بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور سارا سارا دن انہی کی پوجا میں لگے رہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
26:72
قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ
ابراہیم نے کہا:جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز بھی سنتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
26:73
أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ
یا تمہیں کوئی نفع یا نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
26:74
قَالُواْ بَلۡ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
انہوں نے کہا: ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتا ہوا پایا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
26:75
قَالَ أَفَرَءَيۡتُم مَّا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
ابراہیم بولے: کیا تم نے ان (چیزوں )کا مشاہدہ (بھی)کیا ہے جس کی تم عبادت کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
26:76
أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلۡأَقۡدَمُونَ
تم اور تمہارے گزشتہ آباؤ اجداد؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
26:77
فَإِنَّهُمۡ عَدُوّٞ لِّيٓ إِلَّا رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
وہ سب میرے دشمن ہیں سوائے عالمین کے پروردگار کے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
26:78
ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ
جس (خدا)نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری ہدایت فرماتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
26:79
وَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ
وہی تو ہے جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
26:80
وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفاء بھی دیتا ہے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
26:81
وَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ
جو مجھے مارے گا بھی اور پھر زندہ بھی کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
26:82
وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ
اسی کے بارے میں مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے گناہ بھی معاف کر دے گا۔

تفسیر: میں ایسے خدا کی عبادت کرتا ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

جیسا کہ ہم سورت کی ابتداء میں بتا چکے ہیں کہ خداوندِ عالم نے اس سورة میں سات عظیم الشان پیغمبروں کے تفصیلی حالات اور گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لئے ان کی معرکة آرائی کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ اس طرح سے ایک تو پیغمبرِ اسلام اور اس دور کے معدود چند مومنین کے لئے تسلی خاطر ہو، نیز حق کے تمام دشمنوں اور مستکبرین کے لیے تنبیہ کا کام دے۔ لہٰذا موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کی عبرت آموز داستان کے فوراً بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہدایت بخش سرگزشت اور مشرکین سے ان کی محاذ آرائی کے واقعات کو بیان کرتا ہے اور داستان کا آغاز ابراہیم کی اپنے چچا اور گمراہ قوم سے گفتگو کے ساتھ کرتا ہے۔ [ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ لفظ "اب" لغتِ عرب اور قرآن مجید میں کبھی باپ پر اور کبھی چچا پر بولا جاتا ہے اور یہاں پر دوسرا معنیٰ مراد ہے (مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم اردو ترجمہ ص ۲۴۸ کی طرف رجوع فرمائیں)]۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: ان کے سامنے ابراہیم کی خبر پڑھو (وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ إِبْرَاہِیمَ)۔ اس عظیم الشان پیغمبر سے متعلق تمام واقعات میں سے اس حصے کو زور دے کر بیان کیا گیا ہے: جبکہ انھوں نے اپنے باپ (جیسے چچا) اور اپنی قوم سے کہا: تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو:(إِذْ قَالَ لِاَبِیہِ وَقَوْمِہِ مَا تَعْبُدُون)۔ یقینا ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ کس چیز کی پوجا پاٹ کرتے ہیں لیکن اس سوال سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ کوئی بات کریں اور اپنے منہ سے اعتراف کریں اور ساتھ ہی "ما" (کیا چیز؟) کی تعبیر ایک طرح کی حقارت کا اظہار بھی ہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کے سوال کے جواب میں وہ فوراً بولے: ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سارا دن ان پر توجہ رکھتے ہیں اور نہایت ہی ادب اور احترام کے ساتھ ان کی عبادت میں لگے رہتے ہیں (قَالُوا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَہَا عَاکِفِینَ)۔ اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ فقط اپنے اس عمل پر شرمندہ نہیں تھے بلکہ اس پر فخر بھی کیا کرتے تھے کیونکہ "نعبد اصناماً" (ہم بتوں کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں) کا جملہ اس کے مقصود اور مدعا کے بیان کے لئے کافی تھا ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہ "فَنَظَلُّ لَہَا عَاکِفِین" (ہم سارا سارا دن ان کے آستان پر جبہ سائی کرتے رہتے ہیں)۔ لفظ "ظل" عموماً ایسے کاموں کے لئے بولا جاتا ہے جو دن کو انجام پاتے ہیں اور اسے مضارع کی صورت میں بیان کرنا اس کے استمرار اور دوام کی طرف اشارہ ہے۔ "عاکف"، "عکوف" کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ کسی چیز کی طرف توجہ کرنا اور اس کی ادب و احترام کے ساتھ معیّت اختیار کرنا ہے اور یہاں پر گزشتہ معنیٰ کی تاکید مزید کے لئے ہے۔ "اصنام"، "صنم" کی جمع ہے جس کا معنیٰ ہے مجسمہ، جسے سونے یا چاندی یا لکڑی وغیرہ سے بناتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور اسے مقدس مردوں اور مقدس عورتوں کا مظہر جانتے ہیں۔ بہرحال، ابراہیم علیہ السلام نے ان کی یہ باتیں سن کر ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی اور دو زبردست منطقی اور معتدل جملوں کے ذریعہ انھیں ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا تھا۔ آپ علیہ اسلام نے ان سے فرمایا: "جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری فریاد سنتے بھی ہیں؟" (قَالَ ھَلْ یَسْمَعُونَکُمْ إِذْ تَدْعُونَ)۔ "کیا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں" (اَوْ یَنْفَعُونَکُمْ اَوْ یَضُرُّونَ)۔ کم از کم جو چیز کسی معبود کے لئے ضروری ہے وہ یہی کہ اپنے عابد کی آواز سنے اور مصیبت میں اس کی مدد کو پہنچے یا کم از کم اس کے فرمان کی مخالفت کا خطرہ ہو لیکن ان بتوں میں ذرہ بھی درک و شعور نہیں پایا جاتا اور نہ ہی انسان کی زندگی کے بارے میں وہ کچھ بھی موٴثر ذرائع ہو سکتے ہیں۔ یہ بت تو بیکار سی دھاتیں، پتھر یا لکڑی ہی ہیں جنھیں خرافات اور اوہام و خیالات نے اس حد تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن متعصب لوگ بجائے اس کے کہ اس منطقی سوال کا کوئی ٹھوس جواب دیتے وہی پرانا اور بار بار کا دہرایا ہوا جواب پیش کرتے ہیں: انھوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے (قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَائَنَا کَذَلِکَ یَفْعَلُونَ)۔ ان کا یہ جواب اپنے جاہل اور ناداں بزرگوں کو اندھی تقلید کو بیان کر رہا ہے وہ جو جواب ابراہیم کو دے سکتے تھے یہی تھا اور بس۔ یہ ایسا جواب ہے جس کے بطلان کی دلیل خود اسی میں موجود ہے اور کوئی بھی عقل مند انسان اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ آںکھیں بند کر کے دوسروں کے پیچھے لگ جائے خاص کر جبکہ آنے والے لوگوں کے تجربے گزشتہ لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں اور ان کی اندھی تقلید کا تو کوئی جواز رہتا ہے اور نہ ہی کوئی دلیل۔ "کذٰلک یفعلون" (وہ اس طرح کیا کرتے تھے) کی تعبیر ان کی اندھی تقلید پر تاکیدِ مزید ہے یعنی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ہم بھی کرتے ہیں، خواہ وہ بتوں کی عبادت ہو یا کسی اور چیز کی۔ اب جناب ابراہیم علیہ السلام اپنے تیز حملوں کا رخ بتوں کی طرف موڑ دیتے ہیں اور "فرماتے ہیں آیا تم نے ان چیزوں کا مشاہدہ بھی کیا ہے جن کی تم عبادت کرتے ہو" (قَالَ اَفَرَاَیْتُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ)۔ "تم بھی اور تمہارے گزشتہ آباوٴ اجداد بھی" (اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ الْاَقْدَمُونَ)۔ "وہ سب کے سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے" (فَإِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِی إِلاَّ رَبَّ الْعَالَمِین)۔ جی ہاں! وہ سب میرے دشمن ہیں اور میں بھی ان سے صلح نہ کرنے والا ان کا دشمن ہوں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جنابِ ابراہیم علیہ اسلام فرماتے ہیں "وہ میرے دشمن ہیں" ہر چند کہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ میں بھی ان کا دشمن ہوں لیکن ممکن ہے کہ ان کا یوں فرمانا اس لئے ہو کہ بتوں کی عبادت انسان کی بد بختی، گمراہی اور دنیا و آخرت کے عذاب کا سبب بن جاتی ہے اور یہ چیز ان کی عداوت میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن بت اپنے عبادت گزاروں سے اظہارِ براٴت کریں گے اور ان کی دشمنی پر کمر بستہ ہو جائیں گے حکمِ خداوندی کے مطابق وہ گویا ہو کر ان سے اظہارِ نفرت کریں گے۔ [مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد۱۳، سورہ مریم آیت ۸۲]۔ "رب العالمین" کا استثناء، باوجودیکہ وہ ان کے معبودوں میں شامل نہیں (اصطلاح کے مطابق استثنائے منقطع ہے)، توحید خالص کی تاکید کے لئے اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان مشرکین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو بتوں کے ساتھ ساتھ خداوندِ عالم کی عبادت بھی کیا کرتے تھے اس لئے انھوں نے پروردگارِ عالم کا ستثناء کیا ہے۔ "ھم" کی ضمیر کا ذکر جو عام طور پر صاحبانِ عقل کی جمع کے لئے استعمال ہوتی ہے بتوں کے لئے اس کا استعمال مندرجہ بالا موضوع کی مناسبت سے ہے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام پروردگارِ عالم کی صفات اور اس کی مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ ان بتوں سے موازنہ کیا جا سکے جو نہ اپنے عبادت کرنے والوں کی آواز سنتے ہیں اور نہ ہی انھیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ آفرینش اور ہدایت جیسی نعمتوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں: خدا تو وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرتا ہے (الَّذِی خَلَقَنِی فَھُوَ یَہْدِینِ)۔ اس نے عالمِ تکوین میں بھی مجھے ہدایت کی ہے اور اس زندگی میں بھی مادی اور روحانی وسائل میرے اختیار میں دے دیئے ہیں اور عالمِ تشریع میں بھی ہدایت کی ہے اور وحی اور آسمانی کتابیں مجھ پر نازل کی ہیں۔ تخلیق کے ذکر کے بعد کلمہ "فاء" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہدایت، خلقت سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہے اور ہر جگہ پیش قدم ہے "یھدین" جو فعل مضارع کی صورت میں ہے اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ہدایت ہمیشہ اور مستمر ہے اور انسان کو ساری عمر اس کی ضرورت رہتی ہے۔ گویا ابراہیم علیہ السلام یہ کہہ کر اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میں جب سے پیدا ہوا ہوں اسی کے ساتھ ہوں اور کسی بھی لمحے اس سے جدا نہیں ہوا ہوں اسی کی موجودگی کو اپنی زندگی میں محسوس کرتا ہوں میں نے اس کی محبت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہوا ہے وہ جدھر چاہتا ہے مجھے لے جاتا ہے۔ ربوبیت کے پہلے مرحلے یعنی تخلیق و ہدایت کے بیان کے بعد مادی نعمتوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں "وہ وہی تو ہے جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی" (وَالَّذِی ھُوَ یُطْعِمُنِی وَ یَسْقِینِ)۔ جی ہاں! میں اپنی ساری نعمتیں اسی کی طرف سے سمجھتا ہوں۔ میرا گوشت پوست اور میرا دانہ پانی سب اسی کی طرف سے ہے۔ نہ صرف صحت اور تندرستی کی حالت میں اس کی نعمتیں میرے شاملِ حال ہیں بلکہ "جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفاء عنایت فرماتا ہے" (وَإِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِینِ)۔ باوجودیکہ بیماری بھی کبھی کبھی خدا کی طرف سے ہوتی ہے لیکن گفتگو میں آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے بھی اپنی طرف نسبت دی ہے۔ دنیاوی زندگی کے مراحل کے بعد قدم کو اور آگے بڑھاتے ہوئے جہانِ آخرت کی حیاتِ جاوید کا تذکرہ فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہر جگہ میں اس کے دسترخوانِ نعمت سے پرورش پا رہا ہوں نہ صرف دنیاوی زندگی میں بلکہ آخرت کے عالم میں بھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں: خدا ایسا ہے جو مجھے مارے گا بھی اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا (وَالَّذِی یُمِیتُنِی ثُمَّ یُحْیِینِ)۔ جی ہاں! میری موت بھی اسی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد پھر نئی زندگی بھی اسی کی جانب سے ہے۔ اور جب میں عرصہٴ محشر میں قدم رکھوں گا تو میری چشمِ امید پھر بھی اسی پر ہوگی کیونکہ "وہ وہی تو ہے جس کے بارے میں مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے گناہ معاف کر دے گا" (وَالَّذِی اَطْمَعُ اَنْ یَغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّین)۔ اس میں شک نہیں کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور ان کا کوئی گناہ ہی نہیں ہوتا کہ جس کے بخشے جانے کی ضرورت ہو لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات "حسنات الابرار سیئات المقربین" کے مصداق نیک لوگوں کی کئی اچھائیاں، مقربینِ بارگاہ کے لئے گناہ شمار کی جاتی ہیں اور کے مقامِ عظمت کے پیش نظر ان کا ایک اچھا کام بھی قابلِ مواخذہ ہوتا ہے کیونکہ اس اچھے کام نے اس سے بہتر کے انجام دینے سے روک دیا ہے اسی لئے اسے ترکِ اولیٰ کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے نیک اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ یہ اعمال خدا کے لطف و کرم کے مقابلے میں بالکل نا چیز ہیں اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کے سامنے ان کا کوئی شمار نہیں بلکہ ان کی ساری توقعات ذاتِ خدا کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں اور یہی انقطاع الیٰ اللہ کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ قصہٴ مختصر جناب ابراہیم علیہ السلام نے معبود حقیقی کی شناخت کے لئے پہلے پروردگار کی خالقیت کا تذکرہ فرمایا پھر اس کی ربوبیت کے تمام مراحل واضح کیے۔ ربوبیت کا پہلا مرحلہ ہدایت ہے پھر "مادی نعمتوں" کا مرحلہ ہے خواہ وہ نعمتیں حالات کی سازگاری کی صورت میں ہوں یا رکاوٹوں کے دور کرنے کی وجہ سے اور آخر میں ایک دوسرے جہان میں "حیاتِ جاوید" کا مرحلہ ہے۔ وہاں پر بھی اس کی ربوبیت نعمتوں کی عطا اور گناہوں کی بخشش کی صورت میں جلوہ گر ہوگی اس طرح سے خرافات کی پیداوار، متعدد خداوں اور مختلف ارباب کی خدائی پر خطِ تنسیخ کھنچ جاتا ہے اور صرف ایک اور حقیقی خدا کی بارگاہ میں سرِ تعظیم جھک جاتا ہے۔

83
26:83
رَبِّ هَبۡ لِي حُكۡمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
پروردگارا! مجھے علم و دانش عطا فرما اور مجھے صالحین سے ملحق کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
26:84
وَٱجۡعَل لِّي لِسَانَ صِدۡقٖ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ
اور میرے لئے آنے والی امتوں میں سچی زبان(اور ذکر خیر)قرار دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
26:85
وَٱجۡعَلۡنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ
اور مجھے نعمتوں سے بھر پور بہشت کے وارثوں سے بنا دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
26:86
وَٱغۡفِرۡ لِأَبِيٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
اور میرے باپ (کی مانند چچا) کو بخش دے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
26:87
وَلَا تُخۡزِنِي يَوۡمَ يُبۡعَثُونَ
اور جس دن لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (اس دن) مجھے شرمندہ اور رسوانہ کر۔

تفسیر: حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی اہم دعائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس مقام پر جنابِ ابراہیم علیہ السلام کی اپنے اللہ سے دعاوٴں اور اس کی بارگاہ میں درخواستوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گویا اس گمراہ قوم کو خدا کی طرف دعوت دینے اور کائنات میں اس کی ربوبیت کے جلووں کو بیان کرنے کے بعد یک لخت ان سے اپنا تعلق منقطع کر کے ذاتِ خدا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور جو کچھ مانگنا چاہتے ہیں اسی سے مانگتے ہیں اس طرح سے وہ بت پرستوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا اور آخرت کے لئے جو کچھ چاہتے ہو اسی سے طلب کرو۔ ضمنی طور پر یہ اس کی ربوبیت مطلقہ پر ایک اور تاکید بھی ہے۔ بارگاہِ رب العزت میں جناب ابراہیم علیہ السلام کی سب سے پہلی درخواست یہ ہے: پروردگارا! مجھے علم و دانش (اور حق بینی کی نعمت) عطا فرما اور صالح افراد کے ساتھ ملحق فرما دے (رَبِّ ھَبْ لِی حُکْمًا وَاَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ)۔ اس مقام پر سب سے پہلے "حکم" کے منصب کی درخواست کرتے ہیں اور پھر "صالحین سے ملحق ہونے" کی دعا۔ "حکم" اور"حکمت" کی بنیاد ایک ہی ہے اور جیسا کہ راغب نے مفردات میں لکھا ہے حکمت، علم اور معرفت کے ذریعہ حق تک پہنچنے اور موجوداتِ عالم اور نیک افعال کی معرفت کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان اقدار اور معیاروں کو حکمت کہتے ہیں جن کے ذریعے انسان حق کی معرفت حاصل کر سکے چاہے وہ جہاں بھی ہو اور باطل کو پہچان سکے چاہے وہ جس لباس میں بھی ہو۔ یہی وہ چیز ہے جسے بعض فلاسفر "قوة نظریہ کے کمال" کا نام دیتے ہیں۔ یہ وہی حقیقت ہے جو جناب لقمان کو خدا کی طرف سے حاصل ہوئی تھی ارشاد ہوتا ہے: ولقد اٰتینا لقمان الحکمة ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔ (لقمان / ۱۲) سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۶۹ میں اسے "خیراً کثیرا" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ومن یوٴت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً نیز معلوم ہوتا ہے کہ "حکم" کا مفہوم "حکمت" سے بالا تر ہے یعنی ایسا علم اور ایسی آگاہی جس میں اجراء اور نفاذ کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہو باالفاظ دیگر صحیح فیصلے کی قوت جس میں خواہشاتِ نفسانی اور غلطی کا قطعی دخل نہ ہو۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سے پہلے خداوندِ عالم سے اسی گہری اور صحیح معرفت کی درخواست کرتے ہیں جس میں صحیح فیصلہ کرنے کی قدرت بھی موجود ہو کیونکہ کوئی بھی عملی منصوبہ اس وقت تک پائی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کی بنیاد اسی چیز پر نہ رکھی جائے۔ اس درخواست کے بعد خدا سے صالحین کے ساتھ ملحق ہونے کی درخواست کرتے ہیں جو عملی پہلو کی جانب اشارہ ہے جسے اصطلاح میں "حکمتِ عملی" کہتے ہیں اور سابقہ درخواست کا نقطہ مقابل ہے جسے اصطلاح میں "حکمتِ نظری" کہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جناب ابراہیم علیہ اسلام "حکم" کی منزلت پر بھی فائز تھے اور "صالحین" کے زُمرے میں بھی شامل تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس طرح کی درخواست کر رہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہ تو حکمت کی کوئی حد مقرر ہے اور نہ ہی صالح ہونے کی حد معین ہے ان کی درخواست کا مقصد یہ ہے کہ روز بروز علم و عمل کے اعلیٰ سے اعلیٰ اور بلند سے بلند مرتبے تک پہنچتے رہیں حتیٰ کہ وہ تو ایک اولو العزم نبی کے مرتبہ پر فائز ہونے پر بھی قانع نہیں ہیں۔ پھر یہ کہ انھیں معلوم ہے کہ سب کچھ خداوندِ عالم کی طرف سے ہے اور کسی بھی لمحے کسی بھی لغزش کے سرزد ہونے اور ان نعمتوں کے سلب ہو جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا وہ خدا سے ارتقاء کی علاوہ ان کی پائیداری کی بھی درخواست کر رہے ہیں جیسا کہ ہم روزانہ ہر نماز میں خداوندِ عالم سے "صراط مستقیم" کی ہدایت کی درخواست کرتے ہیں اور اس راہ پر ثابت قدم رہنے اور ارتقاء کی منزلوں کو طے کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ان دو درخواستوں کے بعد ایک اور اہم درخواست ان لفظوں میں کرتے ہیں: خداوندا! آنے والی امتوں میں میرے لئے لسانِ صدق اور ذکرِ خیر مقرر فرما (وَاجْعَلْ لِی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِینَ)۔ اس طرح کر دے کہ میری یادوں میں باقی رہ جائے اور میرا مقرر کردہ طریقہ کار آنے والی نسلوں میں دائم و برقرار رہے۔ میں ایک اسوہ اور نمونہ عمل قرار پاوٴں کہ لوگ میری اقتداء کریں میرے ہاتھوں ایسے مکتب کی بنیاد رکھ جس سے لوگ تیرے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں۔ چنانچہ خداوندِ عالم نے آپ علیہ اسلام کی یہ درخواست بھی منظور فرمائی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: و جعلنا لھم لسان صدق علیّا ہم نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے لئے ذکرِ خیر اور بلند زبان مرتبہ مقرر کر دی۔ (مریم ۵۰) بعید نہیں ہے کہ یہ درخواست بھی اسی میں شامل ہو جو جناب ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعبیر کے بعد ان لفظوں میں کی تھی۔ و ابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم آیاتک و یعلمھم الکتاب و الحکمة ویزکیھم پروردگارا! ہماری (میری اور اسماعیل کی) اولاد میں ایک پیغمبر مبعوث فرما جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور رشد و ہدایت کے ذریعے انھیں پاک کرے۔ ( بقرہ /۱۲۹) چنانچہ معلوم ہے کہ آنجناب علیہ اسلام کی اس دعا نے بھی پیغمبر اسلام کی بعثت کے ساتھ عملی صورت اختیار کر لی اور اس طرح سے اس عظیم امت میں ان کا ذکر دوام کی صورت اختیار کر گیا۔ اس کے بعد آپ اپنی نگاہوں کے افق کو تبدلیل کر کے آخرت کی جاودانی زندگی کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں اور چوتھی دعا کے لئے عرض کرتے ہیں: خداوندا! مجھے بہشت بریں کے وارثوں میں قرار دے (وَاجْعَلْنِی مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیمِ)۔ ایسی بہشت جس میں روحانی اور مادی نعمتیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں جن کو نہ تو کسی قسم کا زوال ہے اور نہ ہی وہاں پر کسی طرح کا رنج و ملال ہے ایسی نعمتیں جو ہم جیسے اس پشت جہان کے قیدیوں کے لئے ذرہ برابر بھی قابل ادراک نہیں نہ تو انہیں عقل سوچ سکتی ہے نہ کسی آنکھ نے انھیں دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہے۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ بہشت کے بارے میں "ارث" کی تعبیر یا تو اس لئے ہے کہ ارث بمعنی کسی نعمت کو بغیر کسی قسم کی تکلیف اور محنت و مشقت کے حاصل کرنے کے ہے اور یقیناً ہم جتنی تکلیفیں بھی ٹھائیں اور محنت و مشقت کریں پھر بھی وہ بہشت کی نعمتوں کے مقابلے میں نا چیز ہیں۔ یا پھر اس لئے کہ ہر انسان کا ایک گھر بہشت میں ہوتا ہے اور ایک جہنم میں اور جب وہ جہنم میں چلا جاتا ہے تو اس کا بہشت والا گھر دوسروں کو دے دیا جاتا ہے۔ پانچویں دعا میں ان کی نظر اپنے گمراہ چچا (آزر) کی طرف اٹھتی ہے چنانچہ اس وعدے کی بناء پر جو آپ علیہ اسلام نے ان سے دعائے مغفرت کے لئے پہلے سے کیا ہوا تھا بارگاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں: خداوندا! میرے باپ (مانند چچا)کو بخش دے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے (وَاغْفِرْ لِاَبِی إِنَّہُ کَانَ مِنْ الضَّالِّینَ)۔ اس قسم کا وعدہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے پہلے سے اس سے کیا ہوا تھا جیسا کہ قرآن مجید کی صریح آیت اس بارے میں کہتی ہے: وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدة وعدھا ایاہ۔ (توبہ: ۱۱۴) اس سے جناب ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ اس کی تالیفِ قلب کر کے اسے ایمان کی طرف لے جائیں لہٰذا انھوں نے اس سے یہ وعدہ کیا تھا اور اس پر عمل بھی کیا۔ جناب عبد اللہ کی رویات کے مطابق جناب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آرزو کے لئے دعائے مغفرت کی لیکن جب کفر کی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی اور دینِ برحق کے مقابلے میں اس کی دشمنی مسلم ہو گئی تو آپ نے اس کے لئے استغفار کرنا بھی چھوڑ دی جیسا کہ مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں ہم پڑھتے ہیں "فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرءَ منہ" یعنی جب یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ دشمنِ خدا ہے تو انھوں نے اس سے بیزاری اختیار کرلی)۔ [مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد سورہ توبہ کی آیت ۱۱۴ کے ذیل میں مطالعہ فرمائیں]۔ آخرکار روز محشر کے بارے میں اپنے رب سے ان الفاظ میں چھٹی اور آخری دعا مانگتے ہیں: خداوندا! مجھے اس دن شرمسار اور رسوا نہ کرنا جس دن سب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے (وَلاَتُخْزِنِی یَوْمَ یُبْعَثُونَ)۔ "لاتخزنی"، "خزی" (بر وزنِ "حزب") کے مادہ سے ہے۔ مفردات میں راغب کی تصریحات کے مطابق "روح کی شکست" (شرمساری) کے معنی میں ہے جو یا تو خود انسان کی اپنی وجہ سے ہوتی ہے جو زبردست حیاء کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے یا پھر کسی کی طرف سے اس پر مسلط کی جاتی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے یہ تعبیر ایک طرف تو دوسروں کے لئے درس عمل اور اسوہٴ حسنہ ہے اور دوسری طرف اپنی ذمہ داری کا زبردست احساس اور خداوندِ عالم کے لطف و کرم پر حد درجہ بھروسے کی دلیل ہے۔

88
26:88
يَوۡمَ لَا يَنفَعُ مَالٞ وَلَا بَنُونَ
جس دن مال اور اولاد کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
26:89
إِلَّا مَنۡ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلۡبٖ سَلِيمٖ
مگر جو شخص قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
26:90
وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ
(اس دن) بہشت پرہیز گاروں کے نزدیک کر دیجائے گی

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
26:91
وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِلۡغَاوِينَ
اور جہنم گمراہ لوگوں کیلئے ظاہر ہو جائے گی

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
26:92
وَقِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ معبود جن کی پرستش کیا کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
26:93
مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلۡ يَنصُرُونَكُمۡ أَوۡ يَنتَصِرُونَ
خدا کے علاوہ (دوسرے) معبود؟کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا کوئی ان کی مدد کو آئے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
26:94
فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ
پس اس وقت تمام معبود (گمراہ) عابدوں کے ساتھ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
26:95
وَجُنُودُ إِبۡلِيسَ أَجۡمَعُونَ
اور اسی طرح ابلیس کے سارے کے سارے لشکربھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
26:96
قَالُواْ وَهُمۡ فِيهَا يَخۡتَصِمُونَ
وہ وہاں پر جھگڑے پر کمر بستہ ہو کر کہیں گے:

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
26:97
تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
خدا کی! قسم ہم تو واضح گمراہی میں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
26:98
إِذۡ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
کیونکہ تمہیں عالمین کے رب کے برابر سمجھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
26:99
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلۡمُجۡرِمُونَ
لیکن ہمیں تو سوائے مجرمین کے کسی اور نے گمراہ نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
26:100
فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ
(افسوس کہ آج) ہماری شفاعت کرنے والے موجود نہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
26:101
وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٖ
اور نہ ہی کوئی گر مجوش اورمحبت بھرا دوست ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
26:102
فَلَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اگر ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تو مومنین میں سے ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
26:103
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اس ماجرے میں (عبرت اور) نشانی ہے، لیکن ان میں سے اکثرمومن نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
26:104
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تمہارا پروردگار عزیز اور رحیم ہے۔

تفسیر: معبودوں اور گمراہ عابدوں کو جھگڑا

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ گفتگو کی آخری آیت میں روزِ قیامت اور معاد کے مسئلے کی طرف ایک مختصر سا اشارہ تھا لیکن زیر نظر کئی آیات میں قیامت کے منظر کی جامع تصویر کشی کی گئی ہے اور اس بازار میں جس اہم ترین سودے کے خریدار پائے جاتے ہیں اس کا بھی ذکر موجود ہے اور مومن، کافر، گمراہ اور شیطانی ٹولے کے افراد کا بھی ذکر ہے آیات کے ظاہر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ توصیف اور تشریح حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی دعا کا تمتمہ اور ضمیمہ ہے اور اکثر مفسرین بھی یہی کہتے ہیں لیکن بعض مفسرین کا احتمال یہ ہے کہ زیرِ نظر تمام آیات خدا کی گفتگو کا حصہ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی دعا کے فوراً بعد ان کی گفتگو کی وضاحت اور تکمیل کے طور پر آئی ہیں لیکن یہ احتمال ضعیف ہے۔ صورتِ حال خواہ کچھ ہو قرآن سب سے پہلے کہتا ہے: قیامت کا دن وہ دن ہے۔ جس میں کوئی بھی مال اور اولاد کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچائیں گے (یَوْمَ لاَیَنْفَعُ مَالٌ وَلاَبَنُونَ)۔ درحقیقت، جب دنیاوی زندگی کے دو اہم سرمائے، یعنی مال اور افرادی قوت اپنے صاحب کے لئے ذرہ بھر بھی مفید ثابت نہیں ہوں گے تو صاف ظاہر ہے کہ باقی دنیاوی سرمایہ جس کا شمار ان کے بعد ہوتا ہے قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں مال اور اولاد سے مراد ایسا مال اور اولاد نہیں ہے جس سے رضائے الہٰی کے حصول کا کام لیا جائے، بلکہ ان کے مادی پہلو پر گفتگو کی جا رہی ہے یعنی اس دن مادی سرمایہ کسی مشکل کو حل نہیں کر سکے گا، لیکن اگر یہ چیزیں، یعنی مال اور اولاد راہِ الہٰی میں کام آجائیں تو وہ مادی سرمایہ نہیں کہلائیں گی بلکہ وہ رنگ الہٰی اور "صبغة اللہ" میں رنگ جائیں گی اور "الباقیات الصالحات" میں ان کا شمار ہونے لگے گا۔ پھر استثناء کے عنوان سے بات کو آگے بڑھاتا ہے: مگر جو شخص قلبِ سلیم لے کر اللہ بارگاہ میں پیش ہو (اس کا دل ہر قسم کے شرک و کفر اور گناہوں کی آلائش سے پاک صاف اور صحیح و سالم ہو) (إِلاَّ مَنْ اَتَی اللهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ)۔ تو معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جو سرمایہ نجات دے گا وہ قلب سلیم ہے اور بس۔ کیا ہی جامع اور عمدہ تعبیر ہے۔ یہ ایک ایسی تعبیر ہے جس میں خالص ایمان بھی پایا جاتا ہے اور پاک نیّت اور ہر قسم کا نیک عمل بھی۔ کیونکہ اس طرح کے پاک و پاکیزہ دل کا ثمرہ بھی پاک اور پاکیزہ ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح انسان کا دل اور روح اس کے اعمال میں موثر ہوتے ہیں اس کے اعمال کا بھی اس کے دل و جان پر وسیع ردِّ عمل ہوتا ہے اور انھیں اپنے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔ اعمال خواہ رحمانی ہوں یا شیطانی ان کا دل و جان پر ضرور اثر ہوتا ہے۔ پھر جنت اور جہنم کی تشریح کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے: اس وقت بہشت پرہیزگاروں کے نزدیک کر دی جائے گی۔ (وَاُزْلِفَتْ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِینَ)۔ ["ازلفت"، "زلفی" (بر وزن"کبری") قرب اور نزدیکی کے معنیٰ میں ہے]۔ اور جہنم گمراہ لوگوں کے لئے ظاہر ہوگی (وَبُرِّزَتِ الْجَحِیمُ لِلْغَاوِینَ)۔ درحقیقت، یہ سب کچھ ان لوگوں کے جنت یا جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہو گا اور ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے ٹھانے کا منظر نزدیک سے دیکھ لے گا۔ مومن مسرور و شادمان اور گمراہ مبہوت و وحشت زدہ ہو جائیں گے اور یہ ان کی پاداش اور جزا و سزا کا پہلا مرحلہ ہو گا۔ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا کہ پرہیزگاروں کو بہشت کے نزدیک کر دیا جائے گا بلکہ فرماتا ہے بہشت کو ان کے قریب کر دیا جائے گا اور یہ ان متقین کی عظمت اور بلندی درجات کی طرف اشارہ ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ "غاوین" (گمراہ لوگ) کی تعبیر وہی تعبیر ہے جو شیطان کی داستان میں آ چکی ہے کہ جب شیطان بارگاہِ الٰہی سے دھتکار دیا گیا اور خدا نے فرمایا: ان عبادی لیس لک علیھم سلطان الا من اتبعک من الغاوین “ تجھے میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں ہو گا، مگر جو لوگ گمراہ ہیں وہ تیری پیروی کریں گے۔ (حجر/ ۴۲) پھر اس گفتگو کا تذکرہ کرتا ہے جس کے ذریعے اس گمراہ گروہ کو سرزنش اور عتاب کیا جائے گا۔ فرماتا ہے انھیں کہا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود کہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے (وَقِیلَ لَھُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُون)۔ وہی معبود جو خدا کے علاوہ تھے (مِنْ دُونِ اللهِ)۔ اب جبکہ ان شدید مصائب اور سختیوں میں تم گھرے ہوئے ہو تو کیا وہ تمہاری مدد کر رہے ہیں (ھَلْ یَنْصُرُونَکُمْ)۔ کسی کو تمہاری امداد کے لئے بلا رہے ہیں یا کوئی ان کی امدا کو آ رہا ہے (اَوْ یَنْتَصِرُونَ)۔ [ممکن ہے "ینتصرون" اپنے لئے مدد طلب کرنے کی طرف یا دوسروں کے لئے مدد طلب کرنے کی طرف یا ہر دو کے لئے مدد کی درخواست کی طرف اشارہ ہو کیونکہ بعد والی آیات میں ہے کہ معبود اور عابد دونوں جہنم میں ڈالے جائیں گے]۔ لیکن وہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکیں گے اور نہ ہی کسی کو ان سے اس قسم کی توقع ہے۔ اس موقع پر تمام معبودوں کو اکھٹا کر کے ان کے گمراہ عابدوں کے ساتھ انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا (فَکُبْکِبُوا فِیھَا ھُمْ وَالْغَاوُونَ)۔ بعض مفسرین کے بقول ان میں سے ہر ایک کو دوسرے پر اوندھے منہ ڈالا جائے گا۔ اور اسی طرح ابلیس کے لشکری تمام کے تمام (وَجُنُودُ إِبْلِیسَ اَجْمَعُونَ)۔ درحقیقت، یہ تینوں گروہ یعنی بت، بتوں کے پجاری اور شیطان کے لشکری جو کہ ان گناہوں کے دلال ہیں سب کے سب دوزخ میں جمع کئے جائیں گے لیکن اس طرح کہ انھیں یکے بعد دیگرے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ چونکہ "کبکبوا" دراصل "کب" کے مادہ سے ہے جس کا معنیٰ ہے کسی چیز کو گڑھے میں منہ کے بَل ڈالنا اور "کب" کو مکرر صورت (کبکب) میں لانا ان کو جہنم میں لڑھکانے کے معنیٰ بیان کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو دوزخ میں ایسے ڈالا جائے گا جس طرح کسی پتھر کو ڈالا جاتا ہے کہ اسے ایک بلند مقام سے گرایا جائے تو پہلے وہ درّے میں آکر گرے گا پھر ایک اور جگہ پھر وہاں سے کسی اور جگہ اسی طرح گرتے گرتے وہ گہرے کھڈے میں جا پڑے گا۔ [موجودہ فارسی میں "کبکبہ" سواروں کی جماعت یا گھوڑوں اور انسانوں کے اکھٹا چلنے کی صدا کو کہا جاتا ہے اور یہ شان و شوکت اور عظمت و جلال کے لئے کنایہ ہے (فرہنگ معین)۔ بعید نہیں کہ اس کلمہ کو "کبکبوبہ" (دونوں کاف پر پیش کے ساتھ) سے لیا گیا ہو جو عربی میں انسانوں کی جماعت یا گھوڑوں کے ٹولے کے معنی میں ہے اور کبھی اسے فارسی میں "دبدبہ" بھی استعمال کرتے ہیں جس کے معنی بھی لوگوں کے پاوٴں کی یا ڈھول یا باجے وغیرہ کی صدا ہے]۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے بعد ان جہنمیوں کی باہمی تلخ کلامی اور جھگڑے فساد کی منظر کشی کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ جہنم میں آپس میں لڑائی جھگڑا کریں گے اور کہیں گے (قَالُوا وھُمْ فِیھَا یَخْتَصِمُونَ)۔ جی ہاں وہ گمراہ عابد کہیں گے: خدا کی قسم ہم تو کھلم کھلا گمراہی میں تھے (تَاللهِ إِنْ کُنَّا لَفِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ)۔ ["ان کنا" میں "ان" مثقلہ سے مخففہ بن کر استعمال ہوا ہے جو دراصل "انا کنا" تھا]۔ لیکن تم جھوٹے معبودوں کو رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے (إِذْ نُسَوِّیکُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ [ہو سکتا ہے کہ یہاں پر "اذ" ظرفیت کے معنیٰ میں ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ تعلیلیہ ہو]۔ لیکن سوائے مجرمین کے ہمیں کسی نے بھی گمراہ نہیں کیا (وَمَا اَضَلَّنَا إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ)۔ وہی مجرمین جو ہمارے معاشرے کے سرغنے تھے جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر ہمیں قربانی کا بکرا بنایا اور بد بختی کے اس مقام پر لے آئے۔ لیکن افسوس کہ ہماری شفاعت کرنے والے موجود نہیں (فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِینَ)۔ اور نہ ہی کوئی گرم جوش اور محبت کرنے والا دوست جو ہماری مدد کر سکے (وَلاَصَدِیقٍ حَمِیمٍ)۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح ہم دنیا میں سمجھتے تھے کہ ہمارے معبود ہماری مدد کریں گے لیکن ایسا نہیں ہے اور وہ ہماری مدد نہیں کر رہے اور نہ ہی ہمارے دوستوں میں مدد کا یارا ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ آیت میں "شافعین" جمع اور "صدیق" مفرد کی صورت میں آیا ہے ممکن ہے کہ یہ تفاوت اس لئے ہو کہ گمراہوں کا یہ گروہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ جو مومنین دنیا میں لغزشوں کا شکار تھے آج انھیں انبیاء، اوصیاء ملائکہ اور دوسرے شفاعت کرنے والے دوستوں کی شفاعت نصیب ہو رہی ہے۔ تو وہ بھی یہی آرزو کریں گے کہ اے کاش! کہ ان کا بھی کوئی شفاعت کرنے والا اور دوست ہوتا۔ رہا "صدّیق" تو بعض مفسرین کی تصریح کے مطابق "صدیق" اور "عدو" کا اطلاق مفرد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ لیکن بہت جلد ان کو اس حقیقت کا پتہ چل جائے گا کہ اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی وہاں پر کوئی نیک عمل کر کے اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی جا سکتی ہے لہٰذا وہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کریں گے: اگر ہم دنیا میں دوبارہ پلٹ جائیں تو مومنوں میں سے ہوں گے (فَلَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہاں پر اور اس دن ایمان لے آئیں گے، لیکن ان کا یہ ایمان ایک طرح سے مجبوری والا ایمان ہو گا۔ ایمان وہ موٴثر، تعمیری اور قابلِ قبول ہوتا ہے جو اختیاری ہو اور اسی جہان میں ہو۔ جس سے ہدایت بھی حاصل ہو اور اعمالِ صالحہ بھی سر زد ہوں۔ لیکن یہ آرزو بھی کسی صورت میں کوئی مشکل حل نہیں کرے گی طریقہٴ الٰہیہ کسی کو واپس پلٹنے کی اجازت نہیں دے گا اور وہ خود بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہوں گے اور کلمہ "لو" اسی بات کی دلیل ہے۔ ["لو"حرف شرط ہے اور عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے جہاں پر شرط محال ہو]۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گمراہ قوم کے ساتھ گفتگو، بارگاہِ رب العزت میں ان کی دعا روز قیامت کی کفیت بیان کرنے کے بعد خداوند عالم نے تمام لوگوں کے لئے نتیجہ کے طور پر آخر میں وہی دو آیات ذکر کی ہیں جو موسیٰ علیہ اسلام اور فرعون کی داستان کے آخر میں ذکر کی ہیں اور اسی سورہ میں دوسرے انبیاء کی داستانوں میں بھی آئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: اس ماجرے میں خدا کی عظمت و قدرت اور گمراہ لوگوں کے دردناک انجام اور مومنین کی کامیابی میں بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اَکْثَرھُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ اور تمہارا پروردگار ناقابلِ تسخیر اور بے حد مہربان ہے (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ)۔ اس قسم کے جملوں کو بار بار اس لئے دہرایا جاتا ہے تاکہ اس طرح سے پیغمبر اسلام اور اس زمانے کے تھوڑے سے مسلمانوں کی تسلی خاطر کے اسباب فراہم کئے جا سکیں، نیز اس لئے بھی کہ کسی دور میں بھی مومن اقلیت گمراہ اکثریت سے وحشت نہ کرے اور خدا کی عزت و رحمت کے ذریعے اپنے آپ کو مشغول اور سرگرم رکھے۔ نیز یہ گمراہ لوگوں کے لئے ایک قسم کی تنبیہ اور اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اگر انھیں کچھ ڈھیل دی جا رہی ہے تو اس لئے نہیں کہ خداوندِ عالم کمزور ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ رحیم ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ ”قلب سلیم“ ہی نجات کا سر مایہ ہے

آیاتِ بالا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کے دوران قیامت کی کیفیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ سوائے "قلب سلیم" کے اور کچھ کام نہیں آئے گا۔ "سلیم"، "سلامت" کے مادہ سے ہے جس کا مفہوم واضح ہے یعنی وہ دل ہر قسم کی بیماری اور اخلاقی و اعتقادی بے راہروی سے پاک ہو۔ قرآنِ مجید منافق لوگوں کے بارے میں یہ فرماتا ہے: فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضاً ان کے دلوں میں ایک طرح کی بیماری ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی بناء پر خداوند عالم ان کی بیماری میں اضافہ کر دیتا ہے۔ (بقرہ /۱۰) چند ایک احادیث میں قلبِ سلیم کا بخوبی تعارف کروایا گیا ہے: 1۔ اسی آیت کے ذیل میں ہم حضرت امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: وکل قلب فیہ شرک او شک فھو ساقط ہر وہ دل جس میں شرک اور شک ہو اور جو ساقط اور بے قدر و قیمت ہوتا ہے۔ [مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ 2۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا مادی چیزوں سے شدید تعلق ہے اور دنیا پرستی اسے ہر گناہ پر آمادہ اور ہر قسم کی بے راہروی کا شکار بنا دیتی ہے کیونکہ: حب الدنیا راٴس کل خطیئة دنیا سے محبت ہر برائی کا سر چشمہ ہے۔ [بحار الانوار جلد ۷۰ ص ۲۳۹]۔ لہٰذا "قلبِ سلیم" وہ دل ہوتا ہے جو "حب دنیا" سے خالی ہو، جیسا کہ اسی آیت کے ضمن میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک اور حدیث میں ہے:۔ ھوالقلب الذی سلم من حب الدنیا یہ وہ قلب ہوتا ہے جو دنیا کی محبت سے محفوظ ہو۔ [تفسیر صافی اسی آیت کے ضمن میں]۔ اگر سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۷ کو مد نظر رکھا جائے، جس میں خدا فرماتا ہے: وتزوّدا فان خیر الزاد التقویٰ اپنے لئے زادِ راہ تیار کر لو کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ تو معلوم ہو گا کہ قلبِ سلیم وہ قلب ہوتا ہے جس میں تقوائے الہٰی جاگزیں ہو۔ 3۔ آخری بات یہ ہے کہ قلبِ سلیم وہ قلب ہوتا ہے جس میں خدا کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اسی آیت کے سلسلے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: القلب السلیم یلقی ربہ و لیس فیہ احد سواہ قلبِ سلیم وہ دل ہے جو خدا کی ملاقات کرے جبکہ اس میں خدا کے سوا کوئی اور نہ ہو۔ [صافی بحوالہ کافی]۔ واضح سی بات ہے کہ اس جیسے مقامات پر قلب سے مراد انسان کی روح اور جان ہوتے ہیں۔ اسلامی روایات میں قلب، اس کی سلامتی، اس کو لاحق ہو نے والی آفتیں اور ان آفتوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت سی باتیں مذکورہ ہیں جن سے اس اسلامی منطق کی تائید ہوتی ہے کہ اسلام ہر چیز سے پہلے فکری، عقیدتی اور اخلاقی بنیادوں کو زبردست اہمیت دیتا ہے کیونکہ انسان کے تمام اعمال کا دار و مدار انہی چیزوں پر ہے۔ جس طرح کہ ظاہری دل کی سلامتی اور تندرستی سے تمام جسم صحیح و سالم اور تندرست رہتا ہے اور اس کے بیمار پڑ جانے سے تمام اعضاء بیمار ہو جاتے ہیں کیونکہ بدن کے تمام خلیوں "Cells" کو غذا خون کے ذریعے ملتی ہے اور خون، دل کے ذریعے بدن کے تمام حصوں میں پہنچتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسانی زندگی کے سالم اور فاسد ہونے کا دار و مدار بھی اس کے عقیدے اور اخلاق کے سالم اور فاسد ہونے پر ہے۔ اس تفصیلی گفتگو کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: قلب چار قسم کے ہیں:۔ ایک وہ دل جس میں ایمان ہوتا ہے اور نفاق بھی۔ ایک وہ دل جو الٹا ہوتا ہے۔ ایک وہ دل جس پر مہر لگی ہوتی ہے اور کوئی حق وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایک وہ دل جو نورانی اور (غیر خدا سے) خالی ہوتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں:۔ نورانی دل مومن کا ہوتا ہے جس طرح خدا فرماتا ہے "افمن یمشی مکباً علی وجھہ اھدیٰ امن یمشی سویّاً علیٰ صراط مستقیم" یعنی آیا جو شخص زمین پر منہ کے بل چلتا ہے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا جو شخص سیدھے ہو کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہے؟" ( المک ۲۲) اور وہ دل جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی، تو یہ ایسے لوگوں کا دل ہے جو حق اور باطل کے بارے میں بالکل لا تعلق ہوتے ہیں اور ان کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اگر حق کے ماحول میں پہنچ جائیں تو حق کے تابع ہو جاتے ہیں اگر باطل کے ماحول میں پھنس جائیں تو اس کے طرفدار بن جاتے ہیں۔ رہا وہ دل کہ جس پر مہر لگی ہوتی ہے وہ منافقین کا دل ہوتا ہے۔ [اصولِ کافی جلد ۲ صفحہ ۳۰۹ باب فی ظلمة قلب المنافق]۔

۲۔آیت”فکبکبوا" کا مفہوم

آیت "فکبکوا" کا مفہوم: حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے "فکبکبوا فیھا ھم و الغاوون" والی آیت کے ذیل میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ مثلا ھم قوم وصفوا عدلا بالسنتھم ثم خالفوہ الیٰ غیرہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو حق و انصاف کی زبان سے تو بڑی تعریف کرتے ہیں لیکن عمل میں اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ [تفسیر نور الثقلین کے مولف نے اس روایت کو "اصولِ کافی" "تفسیر علی بن ابراہیم" اور "محاسنِ برقی" سے نقل کیا ہے]۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کے بغیر باتیں کرنا کس قدر بُری اور قابلِ مذمت بات ہے اور اس قسم کے شخص کو جہنم کی آگ میں دردناک طریقے سے ڈالا جائے گا اور وہ وہ لوگ ہوں گے جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ان کی باتیں تو لوگوں کو حق کی طرف بلاتی ہیں لیکن اعمال باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں، بلکہ ان کے اعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اپنی باتوں پر ایمان نہیں ہے۔ ضمنی طور پر اس طرف بھی توجہ رہے کہ "غاوون" کو "غی" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہر قسم کی گمراہی نہیں بلکہ "مفردات" میں "راغب" کے بقول یہ گمراہی اور جہالت وہ قسم ہے جس کا مرکز اور منبع فاسد عقیدہ ہوتا ہے۔

۳۔آیت ”فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم “ کا مفہوم

آیت "فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم" کا مفہوم: اس کا معنیٰ ہے نہ تو ہمارے شفاعت کرنے والے موجود ہیں نہ ہی محبت بھرے دوست متعدد روایات اس ضمن میں بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض روایات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے: الشافعون الائمة و الصدیق من الموٴمنین شافع تو آئمہ ہیں اور صدیق مومنین ہیں۔ ["محاسنِ برقی" منقول از تفسیرِ نور اسی آیت کے ضمن میں]۔ ایک اور حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا کو فرماتے سنا ہے: ان الرجل یقول فی الجنة ما فعل صدیقی فلان، وصدیقہ فی الجحیم، فیقول اللہ اخرجوا لہ صدیقہ الیٰ الجنة فیقول من بقی فی النار فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم۔ بعض بہشتی لوگ کہیں گے کہ ہمارے دوست کا کیا انجام ہوا ہے جبکہ ان کے دوست جہنم میں ہوں گے۔خداوندِ عالم اس مومن کے دل کو خوش کرنے کے لئے حکم دے گا کہ ان کے دوستوں کو جہنم سے نکال کر بہشت میں بھیج دیا جائے تو ایسے موقع پر جہنم میں باقی رہ جانے والے لوگ کہیں گے ہائے افسوس! نہ تو کوئی ہماری شفاعت کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی مہربان دوست ہے۔ [تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ ظاہر ہے کہ نہ تو شفاعت کسی معیار کے بغیر ہو گی اور نہ ہی بے حساب دوستوں کے بارے میں ان کی درخواستِ شفاعت ہو گی بلکہ شفاعت کرنے اور شفاعت کئے جانے والوں کے درمیان کسی قسم کا معنوی اور روحانی رابطہ ہونا ضروری ہے تاکہ شفاعت کا مقصد پورا ہو۔(شفاعت کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت ۴۸ کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں)۔

105
26:105
كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوحٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
26:106
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جب ان کے بھائی نوح نے انہیں کہا: کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
26:107
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
میں تمہارے لئے رسول امین ہوں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
26:108
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
توخدا کا تقویٰ اختیار کرواور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
26:109
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اس تبلیغ رسالت کے بدلہ میں ‘ میں تم سے کسی قسم کا اجر(اور معاوضہ) نہیں مانگتا۔ میرااجر تو میرے پروردگار ہی کے پاس ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
26:110
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
پس خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
26:111
۞قَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلۡأَرۡذَلُونَ
انہوں نے کہا: کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں جبکہ پست لوگ تیری پیروی کر چکے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
26:112
قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
(نوح نے) کہا: مجھے کیا معلوم ان کے عمل کیسے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

113
26:113
إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ
ان کا حساب و کتاب تو میرے پروردگار کے ذمہ ہے، اگر تم سمجھ دار ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

114
26:114
وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
میں کبھی بھی مومنین کو نہیں دھتکاروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

115
26:115
إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ
میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر: نوح علیہ اسلام کے گرد افراد

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

قرآنِ مجید جناب ابراہیم علیہ السلام کی داستان اور ان کی اپنی گمراہ قوم کے ساتھ گفتگو کے بعد نوح علیہ السلام کی قوم کا تذکرہ کرتا ہے اور اسے ایک اور سبق آموز داستان کی صورت پیش کرتا ہے اور چند آیات میں اس قوم کی ہٹ دھرمی، ضد اور بے شرمی کو ان کے دردناک انجام کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ سب سے پہلے کہتا ہے: قومِ نوح نے رسولوں کو جھٹلایا (کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِینَ)۔ [تشریحی نوٹ: "کذبت" کو مونث اس لئے لایا گیا ہے کہ قوم"جماعت" کے معنی میں ہے اور جماعت مونث لفظی ہے۔ بعض اربابِ فن کہتے ہیں کہ قوم مونث ذاتی ہے کیونکہ اس کی تصغیر"قویمة" آتی ہے (پہلی بات طبرسی نے مجمع البیان میں اور دوسری فخر رازی نے اپنی تفسیر میں کہی ہے) لیکن آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں کہ لفظ "قوم" مذکر اور مونث دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے]۔ معلوم ہے کہ نوح کی قوم نے صرف نوح کی ہی تکذیب کی تھی لیکن چونکہ اصولی طور پر تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت ایک ہوتی ہے لہٰذا نوح کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب شمار ہوئی۔ لہٰذا خدا بھی ہی فرماتا ہے کہ نوح کی قوم نے "رسولوں" کو جھٹلایا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ نوح علیہ السلام کی قوم تمام ادیان اور مذاہب ہی کی منکر ہو اور وہ خدا کے تمام انبیاء کی تکذیب کرتی ہو چاہے وہ نوح سے پہلے گزر چکے تھے یا ان کے بعد آنے والے تھے۔ پھر ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کی طرح ان کی زندگی کا بلند نصب العین بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب ان کے بھائی نوح نے انھیں کہا: کیا تم پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے ہو(إِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوھُمْ نُوحٌ اَلاَتَتَّقُونَ)۔ "بھائی" کی تعبیر ایسی ہے جو مساوات اور برابری کی بنیاد پر ایک نہایت ہی محبت آمیز تعلق کو ظاہر کرتی ہے یعنی حضرت نوح علیہ السلام ان پر کسی قسم کی برتری جتائے بغیر نہایت ہی سادگی اور صمیمِ قلب کے ساتھ انھیں دعوتِ پرہیزگاری دیتے رہے۔ اخوت کی تعبیر صرف حضرت نوح علیہ السلام ہی کے لئے نہیں آئی بلکہ ہود، صالح اور لوط علیہم السلام جیسے دوسرے انبیاء کے لئے بھی آئی ہے جو راہِ حق کے تمام راہنماوں کی راہنمائی کر رہی ہے کہ ان کی دعوت نہایت ہی پیار، محبت اور عزم و خلوص پر مبنی ہونی چاہیئے اور ہر قسم کے فوقیت طلبی سے دوری اختیار کرنی چاہیئے تاکہ دینِ حق سے دور بھاگے ہوئے دل زیادہ سے زیادہ نزدیک آجائیں اور کسی قسم کا بوجھ بھی اپنے لئے محسوس نہ کریں۔ چونکہ ہر قسم کی ہدایت اور مکمل نجات کا دار و مدار تقویٰ پر ہے لہٰذا اسے بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: میں تمہارے لئے (اللہ کا) امین رسول ہوں (إِنِّی لَکُمْ رَسُولٌ اَمِینٌ)۔ "خدا سے ڈرو، تقویٰ اپناو اور میری اطاعت کرو" (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُون)۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی امانت کے لحاظ سے اپنی قوم میں ایک عرصہ دراز سے مسلم حیثیت تھی اور لوگ آپ علیہ اسلام کو "امین" کی اعلیٰ صفت کے ساتھ پہچانتے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ اسلام بھی فرماتے ہیں: اسی دلیل کی بناء پر خدائی رسالت کی ادائیگی میں بھی امین ہوں اور مجھ سے کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں دیکھو گے۔ "تقویٰ" کو "اطاعت" پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ "اللہ" کی ذات پر مکمل ایمان و اعتقاد نہ ہو اور دل میں اس کی ذات کا خوف نہ ہو تو اس کے پیغمبر کی اطاعت نہیں ہو سکتی۔ ایک بار پھر حضرت نوح علیہ السلام اپنی نبوت کی حقانیت پر ایک دلیل پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسی دلیل ہے جس سے بہانہ بنانے والے لوگوں کی زبان بند کر دیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں میں تم سے اس دعوت کے عوض میں کوئی مزدوری نہیں مانگتا (وَمَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ)۔ "میرا اجر تو پروردگارِ عالم کے ذمے ہے" (إِنْ اَجْرِی إِلاَّ عَلَی رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ ظاہر ہے کہ رضائے الہٰی عموماً نبوت کے دعویدار کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے جبکہ مادی اغراض بخوبی واضح کرتی ہیں کہ اس کا مقصد مفاد پرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ خاص کر اس زمانے کے اعراب اس مسئلے کے سلسلے میں کاہنوں اور ان جیسے افراد سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس جملے کے بعد پھر وہی جملہ کہتے ہیں جو انھوں نے اپنی رسالت اور امانت کو بیان کرنے کے بعد کہا تھا: فرماتے ہیں: ڈرو اور میری اطاعت کرو (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُون)۔ لیکن ہٹ دھرم مشرکین اور خود سر مستکبرین نے جب بہانہ تراشیوں کی تمام راہیں اپنے اوپر بند دیکھیں تو یہ بہانا بنانا شروع کر دیا اور کہا: آیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں جب کہ پست اور رذیل لوگ تیری پیروی کر چکے ہیں (قَالُوا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُونَ)۔ کسی رہبر اور پیشوا کی حیثیت اور اس کی قدر و قیمت اس کے پیرووٴں سے پہچانی جاتی ہے اور اصطلاح کے مطابق صاحبِ مزار کو اس کے زائرین سے پہچانا جاتا ہے جب ہم تمہارے پیروکاروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ہر چند ایک بے بضاعت، گمنام، فقیر اور غریب لوگ ہی نظر آتے ہیں جن کا سلسلہٴ روزگار نہایت ہی معمولی ہے تو پھر ایسی صورت میں تم کس طرح امید کر سکتے ہو کہ مشہور و معروف دولت مند اور نامی گرامی لوگ تمہارے سامنے سرِ تسلیم خم کر لیں گے۔ ہم اور یہ لوگ کبھی بھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہم نہ تو کبھی ایک دسترخوان پر بیٹھے ہیں اور نہ ہی ایک چھت کے نیچے اکھٹے ہوئے ہیں تمہیں ہم سے کیسی غیر معقول توقع ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ اپنی اس بات میں سچے تھے کہ کسی پیشوا کو اس کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ہے لیکن ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے شخصیت کے مفہوم اور معیار کو اچھی طرح نہیں پہچانا تھا۔ ان کے نزدیک شخصیت کا معیار مال، دولت لباس اور گھر اور خوبصورت اور قیمتی سواری تھا لیکن طہارت، تقویٰ، حق جوئی جیسی اعلیٰ انسانی صفات سے غافل تھے جوغریبوں میں زیادہ اور امیروں میں کم پائی جاتی ہیں۔ طبقاتی اونچ نیچ بدترین صورت میں ان کی افکار پر حکم فرما تھی۔ اسی لئے وہ غریب لوگوں کو "اراذل" سمجھتے تھے۔ "اراذل"، "ارذل"، (بر وزن "اہرم") کی جمع ہے اور وہ بھی "رذل" بمعنی پست اور حقیر کی جمع ہے اور اگر وہ طبقاتی معاشرے کے قید خانے سے باہر نکل کر سوچتے اور باہر کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو معلوم ہو جاتا کہ ایسے لوگوں کا ایمان اس پیغمبر علیہ اسلام کی حقانیت اور اس کی دعوت کی سچائی پر بذات خود ایک دلیل ہے۔ لیکن نوح علیہ السلام انھیں یہ کہہ کر فوراً لاجواب کر دیتے ہیں کہ میرا تو حق کی طرف دعوت دینا اور معاشرے کی اصلاح کرنا ہے میں کیا جانوں کہ وہ کیا کرتے تھے (قَالَ وَمَا عِلْمِی بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ ان کا ماضی جو کچھ تھا وہ گزر چکا، معیار موجودہ حالت ہے اور آج انھوں نے خدائی راہبر کی دعوت کو "لبیک" کہا ہے اپنی اصلاح کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور اپنے دل کو حق کے قبضہٴ قدرت میں دے دیا ہے۔ انھوں نے گزشتہ زمانے میں اچھا یا برا کام کیا ہے تو "ان کا حساب و کتاب میرے پروردگار کے پاس ہے اگر تم کچھ سمجھدار ہو" اور تمہارے اندر قوت تمیز موجود ہے (إِنْ حِسَابُھُمْ إِلاَّ عَلَی رَبِّی لَوْ تَشْعُرُونَ)۔ اس گفتگو سے ضمنی طور پر یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ وہ لوگ ان مومنین کو غربت کے علاوہ اخلاقی اور عملی جرائم کا الزام بھی دینا چاہتے تھے کہ ان کے ماضی کا ریکاڈ خراب رہا ہے۔ حالانکہ اخلاقی جرائم معاشرے کے خوشحال طبقے میں کئی درجے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ان جرائم کے ہر طرح کے وسائل اور ذرائع ہوتے ہیں، وہ اپنے مال اور دولت کے نشے میں مغرور ہوتے ہیں اور خدا کے بندے بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن نوح علیہ السلام نے ان سے اس مسئلے میں الجھے بغیر یہی کہا کہ میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی اور اگر واقعاً ایسا ہے جیسا تم کہتے ہو تو پھر ان کا حساب و کتاب خدا پر ہے۔ جو میرا فریضہ بنتا ہے وہ یہی ہے کہ میری دعوت سب حق طلب انسانوں کے لئے ہے۔ "میں کبھی ایمان لانے والوں کو دھتکاروں گا نہیں" (وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِینَ)۔ درحقیقت، یہ ان مغرور دولت مندوں کی ضمنی درخواست کا جواب ہے جو انھوں نے جناب نوح علیہ السلام سے کی تھی کہ ان غریبوں کو اپنے اطراف سے ہٹا دیں تاکہ ہم آپ کے پاس آئیں۔ میرا فریضہ صرف یہی ہے کہ لوگوں کو ڈراون میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں (إِنْ اَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ مُبِینٌ)۔ جو شخص میری اس تنبیہ کو سنے اور کجروی سے صراطِ مستقیم پر آ جائے تو وہ میرا پیروکار ہے۔ خواہ کوئی ہو اور اس کی مادی اجتماعی کیفیت خواہ کیسی ہی ہو۔ پھر قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اعتراض صرف حضرت نوح علیہ السلام پرہی نہیں کیا کہ جو سب سے پہلے اولوالعزم رسول ہیں بلکہ پیغمبر خاتم الانبیاء اور اسی طرح دوسرے کئی انبیاء پر بھی کیا ہے انھوں نے اپنی سیاہ عینک سے ان سفید لباس والوں کو تاریکی میں دیکھا اور ہمیشہ انھیں دور کرنے کا تقاضا کرتے رہے۔ بلکہ وہ تو خدا اور ان انبیاء کو نہیں چاہتے تھے جن کے اس قسم کے پیروکار تھے۔ لیکن قرآنِ مجید سورہٴ کہف میں کیسے عمدہ پیرائے میں پیغمبر اسلام سے فرماتا ہے: واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغٰدوة و العشی یریدون وجھہ ولا تعد عیناک عنھم ترید زینة الحیٰوة الدنیا ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھواہ و کان امرہ فرطاً (کہف: ۲۸) ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور صرف اسی کی ذات کو چاہتے ہیں اور اپنی آنکھوں کو دنیاوی زینت کی خاطر کبھی بھی ان سے نہ پھیرو اور ان لوگوں کی اطاعت مت کرو جن کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، وہی لوگ تو ہیں جنھوں نے اپنے نفس کی اطاعت کی ہے اور ان کا کام حد سے بڑھا ہوا ہے۔ یہی اعتراض ہمارے زمانے میں راہِ حق کے راہنماوٴں اور رہبروں پر بھی کیا جاتا ہے کہ تمہارے طرفداروں کی زیادہ تر تعداد مستضعفین اور غریب لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح سے وہ ان کے عیب بیان کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ لا شعوری طور پر ان کی تعریف اور ان کے مشن کی حقیقت کی تائید کر رہے ہوتے ہیں۔

116
26:116
قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمَرۡجُومِينَ
انہوں نے کہا: اے نوح! اگر تم باز نہ آئے تو سنگسار کیے جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
26:117
قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوۡمِي كَذَّبُونِ
(نوح نے) کہا: پروردگارا! میری قوم نے میری تکذیب کی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

118
26:118
فَٱفۡتَحۡ بَيۡنِي وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحٗا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اب میرے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے (اور فیصلہ فرما دے) اور مجھے اور جو مومنین میرے ساتھ ہیں ان کو نجات عطا فرما۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
26:119
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
ہم نے نوح اور جو (لوگ اور جانور کشتی میں ) ان کے ساتھ تھے،سب کو نجات دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

120
26:120
ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ ٱلۡبَاقِينَ
پھر باقی سب کو غرق کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

121
26:121
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اس واقعے میں (سب کیلئے) واضح نشانی ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

122
26:122
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تمہارا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔

تفسیر: نوح نجات پا گئے اور مشرک غرق ہو گئے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

حضرت نوح علیہ السلام کے سامنے اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کا ردِّ عمل بھی وہی ہے جو تاریخ میں دوسرے متکبرین کا رہا ہے یعنی وہی طاقت، اکڑ اور جان سے مار دینے کی دھمکی چنانچہ حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم والے بولے "اے نوح! اب تک جو کچھ ہوا ہے کافی ہے اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے اور ہمارے ماحول کو اپنی گفتگو سے پھر تلخ اور تاریک بنایا تو یقینا تمہیں سنگسار کیا جائے گا"(قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ یَانُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنْ الْمَرْجُومِینَ)۔ "من المرجومین" کی تعبیر بتاتی ہے کہ ان میں سنگسار کرنے کی رسم پرانے وقتوں سے چلی آ رہی تھی۔ وہ درحقیقت نوح علیہ السلام سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ تم نے اپنے دعوتِ توحید کو جاری رکھا اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف ایسے ہی بلاتے رہے تو تمہارا انجام بھی ہمارے دوسرے مخالفین کا سا ہو گا اور وہ ہے سنگسار جو قتل کی بد ترین صورت ہے۔ ["رجم" دراصل "رجام" بر وزن کتاب کے مادہ سے "تجمۃ" بر وزن "لقمہ" کی جمع ہے جو پتھر کے اس ٹکڑے کے معنی میں ہے جسے قبر پر رکھا جاتا ہے یا جس کے گرد بت پرست لوگ چکر لگاتے ہیں۔ نیز "رجم" کسی کو اس حد تک پتھر مارنا جس سے اس کی صورت واقع ہو جانے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات قتل کے معنی میں بھی واقع ہو کیونکہ وہ لوگ پتھر سے ہی قتل کیا کرتے تھے]۔ جب نوح علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ اس قدر و مدّت مدیر تک میں انھیں دعوت دیتا رہاہوں، اس واضح منطق کے ساتھ ان سے گفتگو کرتا رہا ہوں اور صبر و شکیبائی کی بھی حد کر دی، اس کے باوجود اس کا اثر صرف محدودے چند لوگوں پر ہی ہوا ہے لہٰذا انھوں نے اپنی شکایت اللہ کی بارگاہ پیش کر دی۔ جس میں اپنا مفصل حال بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان بے منطق ظالم لوگوں کے چنگل سے نجات اور ان سے جدائی کی درخواست بھی کی۔ انھوں نے عرض کیا پر وردگارا! "میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے" (قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِی کَذَّبُون)۔ یہ ٹھیک ہے کہ خداوندِ عالم ہر چیز سے آگاہ ہے۔ لیکن اپنی شکایت پیش کرنے اور اپنی بعد کی درخواست پیش کرنے کے لئے مقدمہ کے طور پر یہ عرض کرتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جناب نوح علیہ السلام اپنی درخواست میں اپنی ذات پر نازل ہونے والے مصائب کی شکایت نہیں کرتے بلکہ انھیں غم ہے تو صرف اس بات کا کہ لوگوں نے انھیں جھٹلایا اور خدائی پیغام قبول نہیں کیا۔ پھر عرض کرتے ہیں: اب جبکہ اس گمراہ ٹولے کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا "تو میرے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دے اور ہمارے درمیان تو خود ہی فیصلہ فرما دے" (فَافْتَحْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ فَتْحًا)۔ جیسا کہ ارباب لغت کہتے ہیں: "فتح" دراصل کھولنے اور تعلقات کو ختم کرنے کے معنی میں ہے اور اس کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے۔ کبھی تو اس کا حسی پہلو ہوتا ہے جیسے "فتح المستغلق من العلوم" کا معنی علمی موشگافیاں ہے اور "فتح القضیة" کا معنی فیصلہ کرنا اور لڑائی جھگڑے کو ختم کرنا ہے۔ پھر وہ بارگاہِ رب العزت میں عرض کرتے ہیں مجھے اور جو مومنین میرے ساتھ ہیں انھیں نجات دے (وَنَجِّنِی وَمَنْ مَعِی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ)۔ اب یہاں پر رحمت الٰہی جناب نوح علیہ اسلام کی مدد کو پہنچتی ہے اور دردناک سزا کی وعید جھٹلانے والوں کو تلاش کرتی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انھیں بھی اور جو لوگ ان کے ہمراہ کشتی میں تھے اور وہ انسانوں اور جانوروں سے بھری ہوئی تھی۔ سب کو نجات عطا کی: (فَاَنجَیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ)۔ "پھر دوسرے سب لوگوں کو غرق اور فنا کر دیا" (ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِینَ)۔ "مشحون"، "شحن" (بر وزن "صحن") کے مادہ سے بھر دینے کے معنی میں ہے اور کبھی کبھی تیار کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے "شحناء" اس دشمنی کو کہتے ہیں جو انسان کے تمام وجود میں بھر جائے۔ اس مقام پر مراد یہ ہے کہ وہ کشتی افراد اور تمام وسائل سے بھری ہوئی تھی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یعنی جب کشتی ہر لحاظ سے تیار اور چلنے پر آمادہ ہو گئی تو خداوندِ عالم نے طوفان بھیجا تاکہ نوح علیہ السلام اور دوسرے تمام کشتی نشین کسی قسم کی مشکل سے دوچار نہ ہوں یہ بجائے خود ایک نعمت الٰہی ہے۔ اس تمام واقعے کے آخر میں قرآن کہتا ہے جو جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب ابراہیم علیہ السلام کے ماجرے کے آخر میں کہا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: نوح کی داستان، ان کی متواتر دعوتِ حق، ان کا صبر و شکیبائی اور آخر کار ان کے مخالفین کی غرقابی اور تباہی و بربادی میں سب لوگوں کے لئے آیت اور نشانی ہے ( ِٕنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً)۔ "ہر چند کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے" (وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ بنابریں، آپ بھی اے پیغمبرِ اسلام! اپنی قوم کے مشرکین کی سخت مزاجی، ترشروئی اور روگردانی سے پریشان نہ ہوں، صبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا انجام بھی وہی ہو گا جو نوح اور ان کے ساتھیوں کا ہوا اور گمراہوں کا انجام وہی ہو گا جو غرق ہونے والوں کا ہوا۔ اور جان لو"تمہارا پروردگار ناقابلِ شکست اور رحیم ہے" (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ)۔ اس کی رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ انھیں بڑی حد تک مہلت عطا فرمائے اور اتمامِ حجت کرے اور ان کی عزت اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ انجام کار آپ کو کامیاب اور آپ کے دشمنوں کو شکست سے دوچار کر دے۔

123
26:123
كَذَّبَتۡ عَادٌ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
قوم عاد نے(خدا کے) رسولوں کو جھٹلایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

124
26:124
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جبکہ ان کے بھائی ہود نے کہا: کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

125
26:125
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
میں تمہارے لئے امین رسول ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

126
26:126
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
خدائی تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
26:127
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
میں اس دعوت کے بدلے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف عالمین کے رب کے ذمے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

128
26:128
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ
کیا تم ہر بلند مقام پر اپنی خواہش کی ایک ایک نشانی بناتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

129
26:129
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ
خوبصورت اور مضبوط قلعے اور محلات تعمیر کرتے ہو گویا تم نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

130
26:130
وَإِذَا بَطَشۡتُم بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِينَ
جب تم کسی کو سزا دیتے ہو تو جابر لوگوں کی طرح سزا دیتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

131
26:131
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

132
26:132
وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِيٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعۡلَمُونَ
تم اس خدا سے ڈرو جس نے تمہاری ان نعمتوں سے امداد کی جنہیں تم جانتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

133
26:133
أَمَدَّكُم بِأَنۡعَٰمٖ وَبَنِينَ
تمہاری چوپایوں اور(لائق وارجمند) اولاد کے ذریعہ امداد فرمائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

134
26:134
وَجَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ
اس طرح باغوں اور چشموں کے ذریعے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 135 کے تحت ملاحظہ کریں۔

135
26:135
إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
(اگر تم کفران کرو تو) میں تم پر عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

تفسیر: قومِ عاد کے جرائم اور بے راہروی

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اب قومِ عاد اور ان کے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام کی باری آتی ہے اور اٹھارہ آیتوں میں ان کی مختصر سی سوانح، انجام اور اس سے حاصل ہونے والے عبرت آموز سبق بیان فرمائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قومِ عاد"جزیرة العرب" کے جنوب میں واقع "یمن" کے اطراف اور "حضر موت" کے علاقے میں رہتی تھی۔ سرکش قوم نے جیسا کہ قرآن کہتا ہے "خدا کے رسولوں کو جھٹلایا" (کَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِینَ)۔ [تشریحی نوٹ: چونکہ قوم "عاد" ایک جماعت اور قبیلہ پر مشتمل تھی لہٰذا فعل موٴنث لایا گیا ہے اور "کذبت" کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں لفظ موٴنث لفظی ہیں]۔ اگرچہ انھوں نے صرف حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی تھی لیکن چونکہ ہود تمام انبیاء کی دعوت تھی لہٰذا انھوں نے گویا تمام انبیاء کی تکذیب کی۔ اس اجمالی ذکر کے بعد اب اس کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جبکہ ان کے بھائی ہود نے کہا: آیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے (إِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوھُمْ ھُودٌ اَلاَتَتَّقُونَ)۔ چونکہ حضرت ہود علیہ اسلام انھیں ایک بھائی کی مانند نہایت ہمدردی اور مہربانی کی صورت میں توحید و تقویٰ اور حق کی جانب دعوت دیتے رہے لہٰذا یہاں پر"اخ" (بھائی) کا کلمہ استعمال ہوا ہے۔ پھر انھوں نے فرمایا: میں تمہارے لئے امین ہوں (إِنِّی لَکُمْ رَسُولٌ اَمِینٌ)۔ تمہارے درمیان میری زندگی کا سابقہ ریکارڈ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ میں نے کبھی بھی خیانت کا راستہ نہیں اپنایا اور حق و صداقت کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں: جب صورتِ حال یہ ہے اور تم بھی اس سے بخوبی آگاہ ہو، "تو خدا سے ڈرو، اور پرہیزگاری اختیار کرو اور میری اطاعت کرو" کیونکہ میری اطاعت درحقیقت، خدا کی اطاعت ہے (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُون)۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں حصولِ زر کے لئے ایسا کر رہا ہوں اور یہ سب کچھ مال و دولت اور مقام و منصب تک پہنچنے کا ایک مقدمہ ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ "میں اس دعوت کے بدلے تم سے ذرہ برابر بھی اجر نہیں مانگتا" (وَمَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ)۔ "میرا اجر تو بس پروردگارِ عالم کے پاس ہی ہے" (إِنْ اَجْرِی إِلاَّ عَلَی رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ تمام بر کتیں اور نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو صرف اسی سے مانگتا ہوں، کیونکہ ہم سب کا پروردگار وہی ہے۔ قرآنِ مجید نے حضرت داود اور قومِ عاد کی اس داستان کو بالترتیب چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے پہلے تو حضرت ہود علیہ اسلام کی دعوت کے مندرجات بیان کیا ہے جو توحید اور تقویٰ پر مشتمل ہے۔ اس کو ہم ابھی پڑھ چکے ہیں۔ پھر ان کے ناشائستہ افعال اور ٹیڑھے پن کو بیان کرتے ہوئے انھیں تین موضوعات کی یاد دہانی کراتا ہے۔ استفہام انکاری کی صورت میں انھیں جناب ہود علیہ اسلام مخاطب کر کے فرماتے ہیں: کیا تم ہر بلند مقام پر اپنی خواہشات کی ایک نشانی بناتے ہو (اَتَبْنُونَ بِکُلِّ رِیعٍ آیَةً تَعْبَثُونَ)۔ "ریع" دراصل بلند جگہ کے معنی میں ہے اور "تعبثون" "عبث" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ایسا کام ہے جس کا کوئی صحیح مقصد پیشِ نظر نہ ہو اور "آیة" کے لفظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مالدار اور ثروت مند قوم نے دوسروں پر اپنی خود نمائی، فخر اور بڑائی جتانے کے لئے پہاڑ کی بلندیوں اور اونچے ٹیلوں پر (برجوں وغیرہ کی مانند) عمارتیں بنا رکھی تھیں جن سے وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس گفتگو سے مراد ان کے وہ مکانات اور جھونپڑے ہیں جو وہ اونچی جگہ پر بناتے تھے اور ان سے لہو لعاب اور عیاشی کے اڈوں کا کام لیتے تھے جیسا کہ آج کے دور میں طاغوتی لوگوں کے درمیان رسم ہے۔ لیکن یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ جملہ "آیہ" اور لفظ"عبث" کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ احتمال بھی بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ قومِ عاد نے اس قسم کے گھر سڑکوں اور راستوں کے کنارے بلند مقامات پر بنا رکھے تھے تاکہ ان بلندیوں سے وہ راہ چلتے لوگوں کا مذاق اُڑائیں۔ ان تینوں تفسیروں میں سب سے پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ایک بار پھر ان پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں: تم خوبصورت اور پختہ محلات اور قلعے تعمیر کرتے ہو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تم لوگ اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے (وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُونَ)۔ "مصانع" "مصنع" کی جمع ہے جس کا معنی ہے خوبصورت اور پختہ مکان یا عمارت۔ جناب ہود علیہ السلام ان پر اعتراض نہیں کرتے کہ تمہارے لئے مناسب گھر کیوں ہیں؟ بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم اس دنیا اور اس کی زیبائش گھروں اور محلات کو پختہ اور محکم بنانے میں اس قدر غرق ہو چکے ہو کہ تم نے سرائے آخرت کو بالکل فراموش کر دیا ہے دنیا کو ایک گزرگاہ سمجھنے کی بجائے سرائے جاودانی سمجھ رکھا ہے۔ جب صورتِ حال یوں ہوتو اس قسم کی غافل کر دینے اور غرور پیدا کرنے والی عمارتیں یقینا قابلِ مذمت ہیں۔ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک دن آنحضرت کسی جگہ سے گزر رہے تھے کہ آپ کی نگاہ ایک گنبد اور عمارت پر پڑی جو راستے کے اوپر بنے ہوئے تھے، آپ نے سوال فریا: "کہ یہ کیا چیز ہے؟" ساتھیوں نے عرض کیا یہ ایک انصاری کی عمارت ہے۔ آپ وہیں پر تھوڑا سا رُک گئے کہ اتنے میں اس عمارت کا مالک بھی آ گیا۔ اس نے سلام کیا آپ نے اپنا چہرہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا۔ اس شخص نے یہ ماجرا ساتھیوں سے بیان کیا اور کہا: "خدا کی قسم! میں اپنے بارے میں رسول اللہ کی نظر کو بہتر نہیں دیکھ رہا ہوں، معلوم نہیں کہ مجھ سے کیا بات ہوئی ہے اور میں نے کیا کیا ہے؟" لوگوں نے بتایا کہ آنحضرت تمہاری عظیم الشان عمارت کو دیکھ کر ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ انصاری گھر واپس آ گیا اور اس تمام عمارت کو گرا دیا۔ ایک دن آنحضرت کا وہاں سے گزر ہوا لیکن اس عمارت کو نہ دیکھا تو پوچھا کہ وہ عمارت کیا ہوئی؟ تو لوگوں نے تمام ماجرا بیان کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ان لکل بناء یبنی وبال علی صاحبہ یوم القیامة الامالا بد منہ قیامت کے روز ہر عمارت اپنے مالک کے لئے وبالِ جان بن جائے گی، سوائے اس مقدار کے جو انسان کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ [مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں]۔ اس روایت سے اور اس قسم کی دوسری روایات سے اسلام کا رویہ مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ایسی عمارتوں کا مخالف ہے جو طاغوتی اور غافل کر دینے والی ہونے کے ساتھ ساتھ اسراف اور فضول خرچی کا مظہر ہوں اور مسلمانوں کو ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ وہ مستکبرین اور خدا سے بے خبر لوگوں کی طرح بلند و بالا عمارتیں تعمیر کریں خاص کر ایسے معاشرے میں جن غریب اور ضرورت مند افراد کی تعداد زیادہ ہو۔ لیکن یہ بات دلچسپ ہے کہ آپ نے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے طاقت کا سہارا نہیں لیا اور اس عمارت کے ڈھا دینے کا حکم صادر نہیں فرمایا، بلکہ ایک لطیف سے اخلاقی رد عمل کے ذریعے بے پرواہی اور نفرت کا اظہار کر کے اپنے مقصد کو واضح فرمایا۔ اس کے بعد قومِ عاد پر ایک اور تنقید کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے کے وقت بے رحمی کا مظاہرہ کرتی تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: جب تم کسی کو سزا دیتے ہو تو حد سے تجاوز کر جاتے ہو اور ظالم و جابر لوگوں کی طرح سزا دیتے ہو(وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِینَ)۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص ایسا کام کرے جس سے وہ سزا کا مستحق ہو لیکن اس کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تم حق اور عدالت سے تجاوز کر جاوٴ اور چھوٹے سے جرم کے بدلے سنگین اور سخت سزائیں دو اور غصّے کے وقت لوگوں کا خون بہانا شروع کر دو اور تلوار لے کر لوگوں کے پیچھے پڑ جاوٴ کیونکہ یہ زمانے کے جابر، ظالم اور سرکش لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ راغب "مفردات" میں کہتے ہیں کہ "بطش" (بر وزن "نقش") کا معنی کوئی چیز طاقت اور زور کے ذریعے حاصل کرنا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام درحقیقت، ان لوگوں کو تین وجوہ سے سرزنش کر رہے ہیں۔ ایک ان نشانیوں کی وجہ سے جو وہ خودخواہی اور خودنمائی کے لئے بلندیوں پر تعمیر کرتے تھے تاکہ ان کے ذریعے وہ دوسروں پر شیخی بگھار سکیں۔ دوسرے ان عمارتوں کی وجہ سے جو انھوں نے جابر حکمرانوں کے محلات کی طرح زیبا اور محکم بنا رکھی تھیں، جن سے ان کی لمبی آرزووٴں کی نشان دہی ہوتی تھی اور وہ اس نکتے سے غافل ہو چکے تھے کہ دنیا گزرگاہ ہے نہ کہ ہمیشہ کا گھر۔ تیسرے سزا دینے کے وقت جب وہ حد سے تجاوز کر جاتے تھے۔ ان تینوں امور کی قدر مشترک وہی دوسروں پر فخر اور بقاء سے محبت کی حِس ہے اور اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کی محبت ان پر اس حد تک غالب آ چکی تھی کہ وہ بندگی کا اسلوب بھلا بیٹھے تھے اور دنیا پرستی میں اس قدر غرق ہو چکے تھے کہ خدائی دعوے کی حد تک جا چکے تھے، یہ چیزیں ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ: حب الدنیا راٴس کل خطیئة [تفسیر فخر رازی اسی آیت کے ذیل میں]۔ ان تینوں تنقیدات کے بعد انھیں ایک بار پھر تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ تو تم تقویٰ اختیار کرو اور خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُون)۔ اب ہم حضرت ہود علیہ السلام کے بیان کے تیسرے حصے تک پہنچے ہیں جس میں بندگانِ خدا پر نعمتوں کا ذکر ہے تاکہ اس طرح سے ان کی حِس شکرگزاری کو متحرک کیا جا سکے اور وہ خدا کی طرف لوٹ آئیں۔ اس سلسلے میں اجمال اور تفصیل کی روش سے استفادہ کیا گیا ہے جو بحث کو دل نشین کرنے کے لئے بے حد مفید ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ان کی طرف روئے سخن کر کے فرماتے ہیں: اس خدا سے ڈرو جس نے ایسی نعمتوں کے ساتھ تمہاری امداد کی ہے جو تم جانتے ہو اور اس نے وہ نعمتیں ہمیشہ تمہیں دے رکھی ہیں (وَاتَّقُوا الَّذِی اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ)۔ ["امدکم" "امداد" کے مادہ سے ہے یہ لفظ دراصل ان مور پر بولا جاتا ہے جو مسلسل اور منظم طریقے پر انجام دیئے جائیں اور چونکہ اللہ اپنی نعمتیں مسلسل اور ایک خاص نظام کے ماتحت اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے اسی لئے یہاں پر "امد" کا لفظ استعمال ہوا ہے]۔ پھر اس مختصر بیان کے بعد اس کی تشریح اور تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اس نے تمہیں چوپائے اور (لائق اور با آبرو) اولاد دے کر تمہاری امداد کی ہے (امدکم بانعام و بنین)۔ خدا نے ایک طرف تو تمہیں مادی سرمائے سے نوازا ہے اس دور میں اس سرمائے کا اہم حصہ جانور اور چوپائے ہوا کرتے تھے، دوسری طرف کافی حد تک افرادی قوت عنایت فرمائی ہے جو اس سرماے کی حفاظت اور پرورش کر سکتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن مجید میں کئی مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ جب بھی مادی نعمتوں کو شمار کیا گیا پہلے "مال" اور پھر "افرادی قوت" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس مال کی محافظ اور مربّی ہوتی ہے۔ یہ ایک طبیعی ترتیب معلوم ہوتی ہے نہ کہ مال کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے مقدم کیا گیا ہے۔ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۶ میں ارشاد ہوتا ہے: و امددناکم باموال و بنین و جعلنا کم اکثر نفیراً ہم نے اموال اور اولاد کے ذریعے تمہاری امداد کی ہے اور تمہاری بہت سی تعداد قرار دی ہے۔ پھر فرماتے ہیں: اور سرسبز اور ترو تازہ باغات اور جاری چشمے تمہیں بخشے ہیں (وَجَنَّاتٍ وَعُیُونٍ)۔ بنابرین ہم نے افرادی قوت، زراعت، باغبانی، پرورشِ حیوانات اور ذرائع نقل و حمل کے لحاظ سے تمہیں خود کفیل اور بے نیاز کر دیا ہے تاکہ تم اپنی زندگی میں کسی بھی چیز کی کمی اور پریشانی کا احساس نہ کرو۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ تم نے اس قدر نعمتیں عطا کرنے والے مالک کو فراموش کر دیا ہے اور رات و دن جس کے دسترخوانِ نعمت سے بہرہ ور ہو رہے ہو اسے نہیں پہچانا۔ پھر اپنی گفتگو کے آخری مرحلے پر پہنچ کر انھیں متنبہ کرتے اور عذابِ الہٰی سے ڈرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم نعمت کا انکار کرو گے تو: مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا خطرہ نظر آتا ہے (إِنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ)۔ جس دن تم سب ظلم و ستم، غرور و تکبر، ہوا و ہوس اور پروردگار سے دوری اور بیگانگی کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ عموماً قرآن مجید میں "یومِ عظیم" (بڑا دن) کا اطلاق قیامت پر ہوتا ہے اور وہ ہر لحاظ سے با عظمت ہے لیکن آیاتِ قرآنی میں بعض اوقات اس کا اطلاق قیامت پر ہوتا ہے اور وہ ہر لحاظ سے باعظمت ہے لیکن آیاتِ قرآنی میں بعض اوقات اس کا اطلاق ان سخت اور وحشت ناک ایام پر بھی ہوا ہے جو سابقہ امتوں پر گزر چکے ہیں جیسا کہ خود اسی سورت میں جناب شعیب علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ خداوندِ عالم نے قومِ شعیب کو حق کے مقابلے میں سرکشی کی وجہ سے دردناک عذاب دیا (کہ بادل کے ٹکڑے سے ان پر بجلی گری)۔ اس واقعے کے بعد اس دن کو "یومِ عظیم" کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ فاخذ ھم عذاب یوم الظلة انہ کان عذاب یوم عظیم (الشعراء:۱۸۹) بنابریں زیرِ نظر آیات میں بھی ممکن ہے کہ "یومِ عظیم" سے اس دن کی طرف اشارہ ہو جس دن قومِ عاد کے سرکش اور متکبر لوگ اجاڑ کر رکھ دینے والے دردناک طوفان کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور اس بات کی گواہ بعد میں آنے والے چند آیات ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے روز قیامت کی یا دونوں ایام کی سزاوٴں کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ دونوں دنوں کی تاریخ عظیم ہے۔

136
26:136
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ
(قوم عادکے) ان افراد نے کہا: ہمارے لئے یکساں ہے کہ تم ہمیں نصیحت کرویا نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 140 کے تحت ملاحظہ کریں۔

137
26:137
إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلۡأَوَّلِينَ
یہ وہی پہلے والے لوگوں کا طریقہ کار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 140 کے تحت ملاحظہ کریں۔

138
26:138
وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 140 کے تحت ملاحظہ کریں۔

139
26:139
فَكَذَّبُوهُ فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے بھی انہیں ہلاک کر دیا، اور اس میں (صاحبان علم کیلئے) آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 140 کے تحت ملاحظہ کریں۔

140
26:140
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تمہارا پروردگار عزیز اور رحیم ہے۔

تفسیر: نصیحت ہم پر اثر نہیں کرتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں ہم نے خدا کے مہربان نبی کی سرکش قوم کے ساتھ مدلّل گفتگو کا تذکرہ پڑھا۔ اب ہم اس قوم کے نامعقول اور اذیت ناک جوابات کا مطالعہ کریں گے، قرآن کہتا ہے: انھوں نے جواب میں کہا، تم خود کو مزید نہ تھکاوٴ، ہمارے لئے یکسان ہے کہ خواہ ہمیں نصیحتیں کریں یا نہ کریں ہمارے دل میں ذرہ بھر اس کا اثر نہیں ہو گا (قَالُوا سَوَاءٌ عَلَیْنَا)۔ (اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِنْ الْوَاعِظِینَ)۔ لیکن یہ اعتراض جو تم ہم پر کرتے ہو یہ تمہارا بے جا اعتراض ہے کیونکہ یہ تو گزشتہ لوگوں کا طریقہٴ کار ہے (إِنْ ھذَا إِلاَّ خُلُقُ الْاَوَّلِینَ)۔ اور تمہارے قول کے برعکس ہمیں کبھی بھی عذاب نہیں ہو گا، نہ اس دنیا میں اور نہ ہی کسی اور جہان میں (وما نحن بمعذبین)۔ "خلق" (خا اور لام کے ضمہ کے ساتھ) کا معنی عادت، روش اور اخلاق ہے کیونکہ یہ کلمہ جب مفرد ہو تو خلق اور اخلاقی عادات کے معنی میں آتا ہے اور اس صورت میں ان اعمال کی طرف اشارہ ہے جن کے وہ مرتکب ہو تے ہیں مثلاً بت پرستی کرنا، محکم اور دلفریب محلات بنانا، بلند و مرتفع مقامات پر برج تعمیر کرکے شیخی بکھارنا، اسی طرح سزاوٴں میں سختی سے کام لینا گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جوکچھ ہم کر رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں ہم سے پہلے لوگ بھی یہی کیا کرتے تھے اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے جھوٹ اور دروغ گوئی مراد لی ہے یعنی اے ہود علیہ اسلام! خدا اور قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں سب جھوٹ ہیں جو پہلے بھی کہی جاتی تھیں (تو یہ معنی اس صورت میں ہو گا جب ہم خَلق (بر وزن حَلق) پڑھیں۔ لیکن مشہور قرائت اس طرح نہیں ہے)۔ اس کے بعد قرآنِ مجید اس قوم کا دردناک انجام ان لفظوں میں بیان کرتا ہے: ان لوگوں نے ہود کی تکذیب کی تو ہم نے انھیں تباہ و برباد کر دیا (فکذوبوہ فاھلکناھم)۔ اس داستان کے اختتام پر پھر وہی دو عبرت انگیز جملے کہے جاتے ہیں جو جناب نوح علیہ السلام، ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کی داستانوں کے آخر میں کہے گئے ہیں۔ فرمایا گیا ہے: اس سرگزشت میں قدرتِ خدا، انبیاء کی استقامت اور سرکش اور جابر لوگوں کے انجام کی واضح اور روشن نشانی ہے لیکن پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اَکْثَرُھمْ مُؤْمِنِینَ)۔ "اور تمہارا پروردگار طاقتور اور ناقابلِ تسخیر اور رحیم و مہر بان ہے" (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ)۔ کافی حد تک ڈھیل دیتا ہے۔ مہلت عطا کرتا ہے۔ گمراہ لوگوں کے لئے روشن دلائل پیش کرتا ہے لیکن جب سزا دینے پر آتا ہے تو یوں سخت گرفتار کرتا ہے کہ کسی کے لئے مجال فرار باقی نہیں رہ جاتی۔

141
26:141
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
قوم ثمود نے(خدا کے) رسولوں کو جھٹلایا

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

142
26:142
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جبکہ ان کے بھائی (اور ہمدرد) صالح نے انہیں کہا: کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

143
26:143
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
میں تمہارے لئے اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

144
26:144
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

145
26:145
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
میں اس دعوت کے بدلے تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو صرف عالمین کے رب کے پاس ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

146
26:146
أَتُتۡرَكُونَ فِي مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمیشہ نہایت ہی امن و سکون اور نعمتوں میں یہاں رہو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

147
26:147
فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
ان باغات اور چشموں میں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

148
26:148
وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ
ان زراعتوں اور کھجور کے درختوں میں کہ جن کے پھل میٹھے اور پکے ہوئے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

149
26:149
وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ
تم پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو اور ان میں عیاشی کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

150
26:150
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

151
26:151
وَلَا تُطِيعُوٓاْ أَمۡرَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
اور مسرف لوگوں کا کہنا نہ مانو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 152 کے تحت ملاحظہ کریں۔

152
26:152
ٱلَّذِينَ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
وہی جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔

تفسیر: مسرفین کی اطاعت نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس سورت میں بیان ہونے والی انبیاء کی داستان کا یہ پانچواں حصہ ہے جس میں قومِ ثمود اور اس کے پیغمبر جناب صالح علیہ اسلام کی مختصر سرگزشت بیان کی گئی ہے وہ "وادی القریٰ" میں رہتے تھے جو"مدینہ" اور "شام" کے درمیان واقع ہے۔ یہ قوم اس سرزمین میں خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی لیکن اپنی سرکشی کی بناء پر صفحہٴ ہستی سے یوں مٹ گئی کہ آج اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ اس داستان کا آغاز مکمل طور پر قوم عاد اور قومِ نوح کی داستانوں سے ملتا جلتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ فرمایا گیا ہے: قومِ ثمود نے خدا کے رسول کو جھٹلایا (کَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِینَ)۔ کیونکہ تمام انبیاء کی دعوتِ حق ایک جیسی تھی اور اس قوم کا اپنے پیغمبر جنابِ صالح علیہ اسلام کی تکذیب کرنا درحقیقت، تمام رسولوں کی تکذیب کے مترادف تھا۔ اس اجمال کے بعد اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جبکہ ان کے ہمدرد پیغمبر صالح نے ان لوگوں سے کہا: آیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو؟ (إِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوھُمْ صَالِحٌ اَلاَتَتَّقُونَ)۔ وہ جو کہ تمہارے بھائی کی مانند تمہارا ہادی اور راہبر تھا اس کی نظر میں نہ برتری جتانا تھا اور نہ ہی مادی مفادات، اسی لئے قرآن نے جناب صالح علیہ السلام کو "اخوھم" سے تعبیر کیا ہے۔ جناب صالح نے بھی دوسرے انبیاء کی مانند اپنی دعوت کا آغاز تقویٰ اور فرض کے احساس سے کیا۔ پھر اپنا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں: "میں تمہارے لئے امین پیغمبر ہوں"۔ میرا ماضی میرے اس دعویٰ کی بیّن دلیل ہے (إِنِّی لَکُمْ رَسُولٌ اَمِین)۔ اسی لئے تم تقویٰ اختیار کرو، خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، کیونکہ میرے مدِّ نظر رضائے الہٰی، تمہاری خیر و خوبی اور سعادت کے سوا اور کچھ نہیں (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُون)۔ بنابریں، اس دعوت کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ ہی تمہاری مجھے کسی چیز کی طمع ہے (وَمَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ)۔ میں تو کسی اور کے لئے کام کرتا ہوں اور میرا اجر بھی اسی کے پاس ہے۔ "ہاں تو میرا اجر صرف عالمین کے پروردگار کے پاس ہے" (إِنْ اَجْرِی إِلاَّ عَلَی رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ یہ جناب صالح اور ان کی داستان کا ابتدائی حصہ تھا جو دو جملوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک دعوت کا پیش کرنا اور دوسرا رسالت کو بیان کرنا۔ پھر دوسرے حصے میں افرادِ قوم کی زندگی کے قابل تنقید اور حساس پہلووٴں کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں، فرماتے ہیں: آیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمیشہ امن و سکون اور ناز و نعمت کی زندگی بسر کرتے رہو گے (اَتُتْرَکُونَ فِی مَا ھَاھُنَا آمِنِین)۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ مادّی اور غفلت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اور موت، انتقام اور سزا کا ہاتھ تمہارے گریبانوں تک نہیں پہنچے گا؟ پھر اجمال سے تفصیل کے طریقہ کار کو کام میں لاتے ہوئے اپنے گزشتہ سربستہ جملے کی یوں تشریح کرتے ہیں: تم گمان کرتے ہو کہ ان باغات اور چشموں میں (فِی جَنَّاتٍ وَعُیُون)۔ اور ان کھیتوں اور کھجور کے درختوں میں کہ جن کے پھل شیریں شاداب اور پکّے ہوئے ہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے (وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیمٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "طلع"، "طلوع" کے مادہ سے ہے جو عموما کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو میوہ ظاہر ہونے سے پہلے درخت سے سر نکالتا ہے اور ترازو کے دو پلڑوں کی مانند ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں ان خوشوں کے اندر خرما کا پھل ہوتا ہے جو اس وقت بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یہ شگوفہ شگافتہ ہوتا ہے جس سے خوشہ ظاہر ہوتا ہے کبھی کجھور کے پہلے میوے کے لیے بھی بولا جاتا ہے لیکن "ھضیم" "ھضم" کے طن سے ہے جس کے کئی معانی ہیں کبھی تو کسی چیز کے اندر گھس جانے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی پکے ہوئے پھل کے معنی میں کسی لطیف نرم اور پورے طور پر ہضم ہو جانے کے معنی میں اور کبھی ہضم شدہ کے معنی میں آیت بالا میں اگر طلع کو کھجور کے شگوفوں کے معنی میں لیا جائے اور ہضم کو اندر گھسی ہوئی چیز کے معنی میں تو اس وقت یہ اس درخت کے زبردست بارآور ہونے کی نشانی ہو گا اور اگر "طلع" کو کھجور کے پہلے ثمر کے معنی میں لیا جائے تو "ھضیم" کا معنی شاداب، لطیف، نرم اور پکا ہوا ہو گا]۔ پھر ان کے پختہ اور خوشحال گھروں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں: تم پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو اور اس میں عیاشی کرتے ہو (وَتَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا فَارِھینَ)۔ "فارہ"، "فرہ" (بر وزن "فرح") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایسی خوشی جو جہالت اور ہوس پرستی پر مبنی ہو اور کبھی کبھار کوئی کام کے ساتھ انجام دینے کے معنی میں بھی آتا ہے اگرچہ دونوں معنی مندرجہ بالا آیت کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں لیکن حضرتِ صالح کی طرف سے کی گئی ملامت اور سرزنش کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پہلا معنی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اگر ان تمام آیات کا قوم عاد کے بارے میں نازل ہونے والی گزشتہ آیات سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قومِ عاد میں خود خواہی، مقام پرستی اور خود نمائی جیسی برائیاں تھیں، جبکہ قوم ثمود شکم کی اسیر اور ناز و نعمت بھری خوشحال زندگی سے بہرہ مند تھی لیکن دونوں قومیں ایک ہی منحوس انجام کو پہنچیں، کیونکہ انھوں نے انبیاء کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا اور خود پرستی کی پستی سے نکل کر خدا پرستی کی معراج کو اختیار نہیں کیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے کیفر کردار کی پہنچ گئیں۔ حضرت صالح علیہ السلام اس تنقید کے بعد انھیں متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: حکمِ خدا کی مخالفت سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُونِ)۔ اور مسرفین کا حکم نہ مانو (وَلاَتُطِیعُوا اَمْرَ الْمُسْرِفِین)۔ وہی جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے (الَّذِینَ یُفْسِدُونَ فِی الْاَرْضِ وَلاَیُصْلِحُونَ)۔

اسراف اور فساد فی الارض کا باہمی رابطہ:

ہم جانتے ہیں کہ اسراف قانونِ آفرینش اور قانون تشریع کی حدود سے تجاوز کا نام ہے اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی صحیح نظام میں حد سے کسی قسم کا تجاوز فساد اور انتشار کا موجب بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر اسراف فساد کا سرچشمہ ہے اور اسراف کا نتیجہ فساد ہوتا ہے۔ البتہ اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ اسراف کا ایک وسیع مفہوم اور معنی ہے کبھی تو کھانے پینے جیسے زندگی کے سادہ اور عمومی مسائل میں اسراف ہوتا ہے (جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۳۱ میں آیا ہے)۔ کبھی حد سے زیادہ قصاص اور انتقام لینے کے سلسلے میں ہوتا ہے (جیسے سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۳۳ میں آیا ہے)۔ کبھی حد سے زیادہ خرچ کرنے کے سلسلے میں ہوتا ہے (جیسا کہ سورہ فرقان کی آیت ۶۷ میں آیا ہے)۔ کبھی ایسا فیصلہ کرنے کے مفہوم میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو جھوٹ اور کذب پر مبنی ہوتا ہے (جیسا کہ سورہٴ مومن کی آیت ۲۸ میں "مسر ف اور کذب" ساتھ ساتھ ذکر ہوئے ہیں)۔ کبھی یہ اعتقادات میں ہوتا ہے کہ جو شک و شبہ تک جا پہنچتا ہے (جیسا کہ سورہ مومن کی آیت ۳۴میں مسرف اور مرتاب اکھٹے آتے ہیں) کبھی دوسروں پر برتری حاصل کرنے، استکبار اور استعمار کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ سورہٴ دخان کی آیت ۳۱ میں فرعون کے بارے میں ہے: انہ کان عالیا من المسرفین وہ برتری کا خواہاں اور مسرف تھا۔ اور کبھی ہر قسم کے گناہ کے معنی میں بھی آتا ہے (جیسا کہ سورہٴ زمر کی آیت ۵۳ میں ہے): قل عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمة اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعاً کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنے آپ پر اسراف کیا ہے خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کیونکہ خداوندِ عالم تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ مندرجہ بالا تصریحات کی روشنی میں اسراف اور فساد کا باہمی رابطہ بخوبی روشن ہو جاتا ہے۔ تفسیر "المیزان" میں "علامہ طباطبائی" کے فرمان کے مطابق یہ کائنات نظم اور صلاح کا ایک مجموعہ ہے حتی کہ اگر کبھی کبھار ان کے اجزاء کوئی تضاد بھی دیکھنے میں آیا ہے تو اس میں بھی بڑی حد تک ملاپ اور ہم آہنگی ہوتی ہے۔ کائنات کا یہ نظام اہداف صالحہ کی طرف رواں دواں ہے اور اس کے ہر ایک جز کے لئے ایک مقررّہ راستہ ہے جس پر وہ گامزن ہے۔ اب اگر ان میں سے کوئی جز اپنے مدار سے ہٹ جائے اور فساد کے راستے پر چل نکلے تو اس کے اور کائنات کے دوسرے اجزاء کے درمیان تصادم شروع ہو جاتا ہے اگر تو دوسرے اجزاء اسے اس کی اپنی راہ پر واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں تو بہتر وگرنہ اسے نابود کر دیتے ہیں تاکہ یہ نظام اپنے سفر کو صحیح میں جاری رکھ سکے۔ انسان بھی اس عالمِ ہستی کا ایک جز ہے اور اس عمومی قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے اگر فطری بنیادوں پر اپنے مدار پر حرکت کرتا رہے اور نظام ہستی سے ہم آہنگ رہے تو اپنے مقدر شدہ سعادت کے ہدف تک پہنچ جاتا ہے لیکن اگر اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور "فساد فی الارض" کی راہ پر گامزن ہو جائے تو پہلے خداوندِ عالم اسے متنبہ کرتا ہے اور سخت اور دردناک حوادث کے ذریعے اسے متنبہ کرتا ہے۔ چنانچہ سورہ روم کی آیت ۴۱ میں ہے: ظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذین عملوا لعلھم یرجعون لوگوں کے اعمال کی وجہ سے جنگلوں اور سمندوں میں فساد ظاہر ہو گیا، خدا چاہتا ہے کہ لوگوں کے کچھ برے اعمال کی وجہ سے ان کا نتیجہ انھیں چکھائے، شاید کہ وہ پلٹ آئیں۔ لیکن اگر یہ تنبیہ بھی کارگر ثابت نہ ہو اور فساد ان کے رگ و ریشہ میں جا گزیں ہو جائے تو خداوندِ عالم "عذاب استیصالی" کے ذریعے زمین کو ان کے وجود سے پاک کر دیتا ہے۔ [المیزان جلد ۱۵ صفحہ۳۳۳] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند عالم نے کس لئے "اسراف" کو "فساد فی الارض" اور عدم اصلاح کے ساتھ ساتھ ذکر کیا ہے۔

153
26:153
قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
انہوں نے کہا (اے صالح!) تم (سحر زدہ ہو کر) اپنی عقل کھو چکے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

154
26:154
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا فَأۡتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
تم ہم جیسے ایک بشر ہی تو ہو۔ اگر سچ کہتے ہو تو کوئی نشانی لاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

155
26:155
قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
(صالح نے) کہا: یہ ناقہ ہے جس کا (بستی کے)پانی میں حصہ ہے اور تمہارے لئے مقرہ دن کا حصہ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

156
26:156
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
اسے ذرا سی بھی تکلیف نہ پہچاناورنہ تمہیں عظیم دن کا عذاب آ لے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

157
26:157
فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ
آخر کار انہوں نے اس (ناقہ) پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کر دیا،پھر اپنے کیے ہوئے پر نادم ہوئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

158
26:158
فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
پس عذاب الٰہی نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس (داستان) میں ایک نشانی(اور درس عبرت) ہے،لیکن ان میں سے اکثر مومن نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 159 کے تحت ملاحظہ کریں۔

159
26:159
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تمہارا پروردگار عزیز بھی ہے اور رحیم بھی۔

تفسیر: قومِ صالح کی ہٹ دھرمی

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

آپ گزشتہ آیات میں گمراہ قوم کے سامنے حضرت صالح علیہ السلام کی منطقی اور خیر خواہی پر مبنی گفتگو ملاحظہ فرما چکے ہیں اب صالح کے جواب میں اس قوم کی گفتگو سنیے۔ انھوں نے کہا: اے صالح! تم سحر زدہ ہو کر اپنی عقل کھو چکے ہو، لہٰذا غیر معقول باتیں کرتے ہو(قَالُوا إِنَّمَا اَنْتَ مِنْ الْمُسَحَّرِین)۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ "تم تو ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو" اور کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے جیسے شخص کی اطاعت کریں (مَا اَنْتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنَا)۔ اگر سچ کہتے ہو تو کوئی نشانی لاوٴ تاکہ ہم تم پر ایمان لے آئیں (فَاْتِ بِآیَةٍ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِین)۔ "مسحر" سحر کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے "جس پر جادو کیا گیا ہو" اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ بسا اوقات جادوگر لوگ جادو کے ذریعے انسان کی عقل و ہوش کو بیکار بنا دیتے ہیں صرف انھوں نے جناب صالح پر ہی یہ تہمت نہیں لگائی بلکہ اور لوگوں نے بھی دوسرے انبیاء پر ایسی تہمتیں لگائی ہیں۔ حتی کہ خود پیغمبرِ اسلام کی ذات کو متہم کیا جیسا کہ سورہ فرقان کی آیت ۸ میں ہے: ان تتبعون الا رجلاً مسحوراً ظالم لوگ کہتے تھے کہ تم تو اس شخص کی اتباع کرتے ہو جو مسحور ہونے کی بناء پر اپنی عقل کھو چکا ہے۔ جی ہاں! ان کے نزدیک عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو ماحول میں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائیوں پر منطبق ہو جائے اور اگر کوئی انقلابی مردِ خدا فاسد عقائد اور غلط نظام کے بطلان کے لئے قیام کرتا تو وہ اپنی اس منطق کی رو سے اسے دیوانہ، مجنون اور سحر زدہ کہتے۔ بعض مفسرین نے "مسحرین" کے معنی میں اور بھی کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے جو اس سے قطعاً مناسبت نہیں رکھتے لہٰذا انھیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہرحال، یہ سرکش لوگ حق طلبی کی خاطر نہیں بلکہ حیلے بہانوں کی بناء پر معجزے کے طلبگار ہوئے جس سے ان پر اتمام حجّت ہو جائے، لہٰذا خداوندِ متعال کے حکم کے مطابق جناب صالح علیہ السلام نے کہا: یہ ناقہ ہے جس کے لئے بستی کے پانی میں حصہ ہے اور تمہارے لئے مقرہ دن کا حصہ ہے (قَالَ ھٰذِہِ نَاقَةٌ لَھَا شِرْبٌ وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَعْلُومٍ)۔ "ناقہ" کا معنی ہے اونٹنی، اور قرآن نے اس اعجاز آمیز حالت کی حامل اونٹنی کے بارے میں مجمل ذکر کیا ہے اس کی تفصیل اور خصوصیت کو بیان نہیں کیا لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ ایک عام اور معمولی اونٹنی نہیں تھی۔ بعض مفسرین کے بقول یہ اونٹنی معجزانہ صورت میں پہاڑ کے اندر سے برآمد ہوئی اس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ بستی کا ایک دن کا پانی پی جاتی تھی جیسا کہ آیت میں اور سورہٴ قمر کی آیت ۲۸ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ البتہ اس کی اور خصوصیات بھی مختلف روایات میں ذکر ہو ئی ہیں۔ [اس بارے میں مزید تفصیلات کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۹ سورہ ہود کی آت ۶۱ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں]۔ بہر صورت جناب صالح علیہ السلام کو حکمِ خداوندی تھا کہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ یہ عجیب و غریب اور غیر معمولی اونٹنی ہے جو خداوندِ متعال کی بے انتہا قدرت کی ایک نشانی ہے لہٰذا اسے اپنے حال پر ہی رہنے دیں اور فرمایا کہ اسے ذرہ بھر بھی تکلیف نہ پہنچاوٴ، ورنہ عظیم دن کا عذاب تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا (وَلاَتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیم)۔ البتہ وہ سرکش قوم یہ نہیں چاہتی تھی کہ فریب خوردہ لوگ بیدار ہو جائیں کیونکہ لوگوں کی آگاہی کی وجہ سے اس کے مفادات کو خطرہ لاحق تھا لہٰذا ان سرکش اور مجرم لوگوں نے منصوبہ یہ بنایا کہ اس ناقہ کا ہی خاتمہ کر دیا جائے "آخرکار اس پر حملہ کر ہی دیا اور ایک یا چند ضربات سے اس کا خاتمہ کر دیا اور پھر اپنے کئے پر نادم ہو گئے" کیونکہ عذابِ الہٰی کو چند قدم کے فاصلے پر دیکھ رہے تھے (فَعَقَرُوہَا فَاَصْبَحُوا نَادِمِینَ)۔ ["عقروا" "عقر" (بر وزن"قفل") کے مادہ سے ہے جس کا اصلی معنیٰ کسی چیز کی اساس اور بنیاد ہے۔ جس کا ایک معنی تو "سر کاٹنے" کا ہے اور دوسرا "جانور کے پے" کرنے کا ہے۔ (یعنی جانور کے پاوٴں کے نچلے حصے کو کاٹنا اور زمین پر گرا دینا)]۔ چونکہ اس قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی اور عملی طور پر اس نے ثابت کر دیا کہ وہ حق قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے لہٰذا ارادہ الہٰی اس بات کا متقاضی ہوا کہ زمین کو اس قوم کے وجود سے پاک کر دے، ایسی حالت میں عذابِ الہٰی نے انھیں آ لیا (فَاَخَذَھُمْ الْعَذَابُ)۔ اور جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیہ ۷۸ اور سورہ ہود کی آیت ۶۷ میں اجمالی طور پر مذکور ہے کہ پہلے پہل زبردست زلزلے نے ان کی زمین کو لرزا دیا، جب وہ خواب سے بیدار ہوئے اور اپنے زانووٴں کے بل بیٹھ گئے تو حادثے نے انھیں مہلت نہ دی، گرجدار بجلی بہت ہی زور کے ساتھ کڑکی اور دیواروں کو ان کے اوپر گرا دیا اور اسی حالت میں انھوں نے عجیب و غریب وحشت کے ساتھ جان دی۔ اس داستان کے آخر میں وہی کچھ کہتا ہے جو قومِ ہود، قومِ نوح اور قومِ ابراہیم کی سرگزت کے آخر میں کہتا ہے: قومِ صالح کی اس داستان میں آیت اور درسِ عبرت ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے کس قدر پامردی، صبر اور عمدہ منطق کا مظاہرہ کیا اور روسیاہ لوگوں نے کس حد تک سرکشی، ہٹ دھرمی اور مخالفت کا اظہار کیا کہ بالآخرہ وہ اپنے منحوس انجام کو جا پہنچے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِین)۔ یقیناً کوئی بھی شخص قدرتِ خدا پر غالب نہیں آسکتا! جیسا کہ اس کی یہ قدرتِ کاملہ دوستوں بلکہ دشمنوں تک پہنچنے کے لئے اس کی رحمت میں مانع نہیں ہو سکتی لہٰذا "تمہارا پروردگار عزیز اور رحیم ہے"۔ (وَإِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ)۔ [روایات کے مطابق جس نے ناقہٴ صالح کو قتل کیا وہ ایک شخص تھا جبکہ یہ عمل قرآن مجید میں "فعلِ جمع" کی صورت میں بیان ہوا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ دوسرے لوگ اس کے ہم عقیدہ، ہم آواز اور اس کے عمل پر راضی تھے یہیں سے ایک بنیادی قاعدے کی راہ کھلتی ہے کہ مذہبی اور عقیدتی رشتہ مختلف لوگوں کو ایک ہی لڑی میں منسلک کر دیتا ہے اس کی مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۹ سورہٴ ہود کی آیت ۵۶ کی طرف رجوع فرمائیں]۔

160
26:160
كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
قوم لوط نے (خدا کے) رسولوں کی تکذیب کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

161
26:161
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جبکہ ان کے بھائی لوط نے انہیں کہا:کیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

162
26:162
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

163
26:163
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
پس خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

164
26:164
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
میں تم سے اس کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف پروردگار عالمین کے ذمہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

165
26:165
أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
کیا تم جہان(والوں ) میں سے صرف مذکر جنس کے پیچھے ہی جاتے ہو

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔

166
26:166
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ
اور اپنی ازدواج کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں خدا نے تمہارے ہی لئے خلق فرمایا ہے؟اور تم تو تجاوز کرنے والی قوم ہو۔

تفسیر: بے حیا قوم!

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

چھٹے پیغمبر کہ جن کی اپنی اور گمراہ قوم کی زندگی کا ایک گوشہ اس سورت میں بیان ہوا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام ہیں، باوجودیکہ جناب لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ہم عصر ہیں۔ لیکن ان کا ماجرا ابراہیم علیہ اسلام کی داستان کے بعد بیان ہوا، کیونکہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب تو نہیں کہ واقعات کو بالترتیب بیان کرے بلکہ اس کے پیشِ نظر تربیتی اور انسان سازی کے پہلو ہوتے ہیں جو دوسری مناسبتوں کے متقاضی بھی ہوتے ہیں۔ جناب لوط کی زندگی اور ان کی قوم کا ماجرا ایسے انبیاء کی داستان سے زیادہ ہم آہنگ ہے جن کا ذکر ابھی بیان ہوا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: لوط کی قوم نے خدا کے بھیجے ہوئے افراد کی تکذیب کی (کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِینَ)۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ "مرسلین" کو جمع کی صورت میں بیان کرنے کی وجہ تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت ایک ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی پیغمبر کی تکذیب سب کی تکذیب شمار کی جاتی ہے یا پھر اس لئے ہے کہ وہ گزشتہ کسی بھی پیغمبر پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر جناب لوط علیہ السلام کی دعوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کی دعوت بھی گزشتہ انبیاء جیسی تھی چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: جبکہ ان کے بھائی لوط علیہ اسلام نے انھیں کہا کہ آیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو (إِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوھمْ لُوطٌ اَلاَتَتَّقُونَ)۔ ان کی گفتگو کا انداز اور حد سے زیادہ اور گہری محبت و ہمدردی بتا رہی ہے کہ وہ بھائی کی مانند ان سے باتیں کرتے تھے۔ پھر فرمایا گیا ہے: میں تمہارے لئے امین ہوں (إِنِّی لَکُمْ رَسُولٌ اَمِینٌ)۔ کیا اب تک تم نے مجھ سے کوئی خیانت دیکھی ہے؟ اس کے بعد وحی الٰہی اور تمہارے رب کا پیغام پہنچانے میں بھی یقینا امانت کو مد نظر رکھوں گا۔ "اب جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ تو پرہیزگاری اختیار کرو، خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو" کیونکہ میں راہِ سعادت کا رہبر ہوں (فَاتَّقُوا اللهَ وَاَطِیعُونِ)۔ یہ نہ سمجھو کہ یہ دعوتِ الہٰی میرے گزر اوقات کا ایک ذریعہ ہے یا کسی مادی مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر ایسا کام کر رہا ہوں، نہ، نہ میں تو ذرہ بھر بھی تم سے اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف عالمین کے رب کے پاس ہے (وَمَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ إِنْ اَجْرِی إِلاَّ عَلَی رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ پھر وہ ان کے ناشائستہ اعمال اور ان کی کچھ اخلاقی بے راہروی کی باتوں کو بیان کرتے ہیں اور چونکہ ان کا بڑا انحراف جنسی انحراف اور ہم جنس بازی تھا لہٰذا اسی بات پر زیادہ زور دے کر کہتے ہیں: آیا تم ساری دنیا میں صرف مردوں کے پاس ہی جاتے ہو (اَتَاْتُونَ الذُّکْرَانَ مِنْ الْعَالَمِین)۔ یعنی باوجودیکہ خداوندِ عالم نے اس قدر جنس مخالف تمہارے لئے خلق فرمائی ہے جن سے صحیح طریقے سے شادی کر کے پاک و پاکیزہ اور اطمینان بخش زندگی بسر کر سکتے ہو۔ خدا کی اس پاک اور فطری نعمت کو چھوڑ کر تم نے خود کو اس طرح کے پست اور حیا سوز کام سے آلودہ کر لیا ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ "من العالمین" کا جملہ خود اس قوم کے لئے ہو یعنی تمام جہان والوں میں صرف تم ہی ہو جنہوں نے یہ کج روی اختیار کی ہوئی ہے اور یہ بات بعض تاریخوں سے بھی ہم آہنگ ہے کہ قومِ لوط ہی سب سے پہلی قوم ہے جس نے ہم جنس بازی کا وسیع صورت میں ارتکاب کیا ہے۔ [اس بے شرم قوم کے انحراف کی وجہ ایک داستان ہے جو تاریخوں میں موجود ہے اور جسے ہم تفسیر نمونہ جلد ۹ میں سورہٴ ہود کی آیت ۸۱ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں]۔ لیکن بعد والی آیت سے پہلی تفسیر زیادہ ہم آہنگ ہے۔ پھر فرمایا: اپنی ازواج کو ترک کر دیتے ہو جنھیں خدا نے تمہارے لئے خلق فرمایا ہے (وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ)۔ تم تو تجاوز کرنے والی قوم ہو (بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ)۔ یقینا کسی روحانی یا جسمانی فطری ضرورت نے تمہیں اس بے راہروی پر آمادہ نہیں کیا بلکہ یہ تمہاری سرکشی ہے جس نے تمہارے دامن کو اس شرمناک فعل کی گندگی سے آلودہ کر دیا ہے۔ تمہارے کام کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص خوشبودار میوے، مقوی اور صحیح سالم غذائیں چھوڑ کر زہر آلود اور مار ڈالنے والی غذاوٴں کو استعمال کرے۔ یہ فطری خواہش نہیں بلکہ سرکشی ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ لواطت ایک شرمناک فعل ہے۔

قرآن مجید نے سورہ اعراف، ہود، حجر، انبیاء، نمل اور عنکبوت میں قومِ لوط کے حالات اور ان کے اس برے گناہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ البتہ ہر مقام پر دوسرے مقام کی نسبت مختلف تعبیریں پائی جاتی ہیں درحقیقت ان میں سے ہر ایک تعبیر ایک بےحیائی پر مبنی قبیح فعل کے کسی ایک پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ مثلاً سورہ اعراف کی آیت ۸۱ میں ہے کہ لوط علیہ السلام نے انہیں کہا: بل انتم قوم مسرفون تم اسراف کرنے والے لوگ ہو۔ سورہ انبیاء آیت ۸۴ میں ہے: ونجيناه من القرية التي كانت تعمل الخبائث انهم كانوا قوم سوء فاسقين ہم نے لوط کو اس بستی سے نجات دلائی جو "خبائث" کا ارتکاب کرتی تھی۔ وہ بہت بڑے اور فاسق لوگ تھے۔ سورہ شعراء کی زیرِ بحث آیت میں ہے کہ جنابِ لوط علیہ السلام نے انھیں فرمایا: بل انتم قوم عادون تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ سورۃ نمل آیت ۵۵ میں ہے: بل انتم قوم تجھلون تم جاہل اور نادان قوم ہو۔ سورۃ عنکبوت کی آیت ۲۹ میں ہے کہ لوط علیہ السّلام اپنی قوم سے کہتے ہیں: انكم لتأتون الرجال وتقطعون السبیل تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور فطری اور نسلِ انسانی کے راستے کو منقطع کرتے ہو۔ [بعض مفسرین نے "تقطعون السبیل" کے جملے کی یوں تفسیر کی ہے کہ قومِ لوط کے افراد راہزن، ڈاکو اور لٹیرے بھی تھے]۔ اس طرح سے یہ قبیح فعل "اسراف"، "خبیث"، "تجاوز"، "جہل" اور "قطع سبیل" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ "اسراف" اس لیے کیونکہ ان لوگوں نے اس بارے میں نظامِ آفرینش کو فراموش کر دیا تھا اور حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ تعدّی کا لفظ بھی اس پر بولا گیا ہے۔ "خبیث" کا معنی ہے ایسا کام یا ایسی چیز جس سے انسان کی صحیح و سالم طبیعت نفرت کرے اور اس قبیح عمل سے بڑھ کر اور کون سا فعل ہو گا جس سے طبعیت نفرت کرے۔ "فسق" کا معنی ہے پروردگار کی اطاعت سے نکل جانا اور شخصیت انسانی کا ننگا ہو جانا اور یہ کام یقیناً اطاعتِ الہٰی سے خارج اور شخصیتِ انسانی کو ننگا کر دیتا ہے۔ "جہل" اس کے ان خطرناک نتائج سے بےخبری کی وجہ سے کہ جو فرد اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اور "قطع سبیل" یعنی اس قبیح فصل کا بدترین انجام نسلِ انسانی کا خاتمہ ہے کیونکہ اگر یہ شرمناک فعل وسعت اختیار کر لے تو نسلِ انسانی ختم ہو کر رہ جائے وہ اس لیے کہ موافق جنس کی طرف میلان آہستہ آہستہ مخالف جنس سے تعلقات منقطع کرنے کا سبب بن جائے گا اور نسلِ بشر بڑھنے سے رک جائے گی۔

۲۔ لواطت کے خطرناک نتائج

اگرچہ ہم نے تفسیر نمونہ کی پانویں جلد سورہ ہود کی آیات ۸۱ تا ۸۳ کی شرح میں اس شرمناک فعل کے مضرات اور نقصانات پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے لیکن موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر پھر بھی چند ایک مطالب کو بیان کرتے ہیں۔ پیغمبرِ اکرم کی ایک حدیث ہے۔ لا يجد ريح الجنة زنوق۔ وهو المخنث جس سے لواطت کی جائے وہ بہشت کی خوشبو نہیں سونگھ پائے گا۔ [بحار الانوار، طبع جدید جلد ۷۹ ص ۶۴، ۶۷]۔ حضرت علی علیہ السلام کے ایک فرمان میں اس قبیح فعل کا کفر کی حد تک تعارف کرایا گیا ہے۔ [بحار الانوار، طبع جدید جلد ۷۹ ص ۶۴، ۶۷]۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے لواطت کی حرمت کا فلسفہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ علة تحريم الذكران للذكران، والاناث للاناث لما ركب في الاناث وما طبع عليه الذكران. ولما في اتيان الذكران الذكران والاناث للاناث من انقطاع النسل، وفساد التدبير، وخراب الدنيا۔ مردوں پر مردوں کے اور عورتوں پر عورتوں کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے مرد اور عورت کی جو فطرت بنائی ہے یہ اس کے خلاف ہے۔ (اور اس فطری اور طبعی ساخت کی مخالفت، انسان کی روح اور جسم کے انحراف کا سبب بن جائے گی) اور اس لیے بھی حرام ہے کہ اگر مرد، مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ ملاپ شروع کر دیں تو نسل انسانی منقطع ہو جائے اور اجتماعی زندگی کی تمام تدبیریں خرابی کا شکار ہو جائیں اور دنیا تباہ و برباد ہو جائے۔ [بحار الانوار، طبع جدید جلد ۷۹ ص ۶۴، ۶۷]۔ اور سلام کی نگاہ میں یہ فعل اس حد تک برا اور شرمناک ہے کہ اسلامی حدود کے ابواب میں اس کی سزا کسی شک کے بغیر سزائے موت ہے حتی کہ جو لوگ اس قبیح فعل کے کم ترین مرحلے کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے بھی سخت سے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں منجملہ ان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: من قبل غلامًا من شهوة الجمه الله يوم القيامة بلجام من نار جو شخص کسی لڑکے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لے خداوندِ عالم بروز قیامت اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالے گا۔ [بحار الانوار جلد ۷۹ ص ۷۲]۔ جو شخص اس حدیث میں مذکور برے فعل کا مرتکب ہو اس کی سزا تیس تا ننانوے کوڑے ذکر ہوئے ہیں۔ بہرحال، اس میں شک نہیں کہ جنسی بےراہروی خطرناک ترین انحراف ہے کہ اگر یہ انسانی معاشرے میں رونما ہو جائے تو یہ اپنا منحوس سایہ تمام اخلاقی مسائل پر ڈال دیتا ہے اور انسانی مزاج اور جذبات کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ (اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۵ سورۃ ہود کی آیہ ۶ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں)۔

167
26:167
قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُخۡرَجِينَ
ان لوگوں نے کہا: اے لوط! اگر تم ایسی باتوں سے باز نہ آئے تو تم نکال دیئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

168
26:168
قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلۡقَالِينَ
(لوط نے) کہا: میں تو(بہر حال) تمہارے اعمال کا دشمن ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

169
26:169
رَبِّ نَجِّنِي وَأَهۡلِي مِمَّا يَعۡمَلُونَ
پروردگارا! مجھے اور میرے خاندان کو ان کے کرتوتوں سے نجات عطا فرما۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

170
26:170
فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
پس ہم نے اسے اور اسکے خاندان سب کو نجات دی،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

171
26:171
إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ
سوائے ایک بڑھیا کے جو اس گروہ میں باقی رہ گئی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

172
26:172
ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے ہلاک کر ڈالا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

173
26:173
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
اور ہم نے ان پر(پتھروں کی) بارش برسائی کس قدر بری بارش تھی ڈرائے جانے والوں پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

174
26:174
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
(قوم لوط کی) اس داستان (اور ان کے منحوس انجام) میں نشانی ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 175 کے تحت ملاحظہ کریں۔

175
26:175
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تیرا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔

قومِ لوط کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

قومِ لوط کے افراد جو بادہ شہوت غرور سے مست ہو چکے تھے، اس رہبر الٰہی کی نصیحتوں کو جان و دل سے قبول کرنے اور خود کو اس دلدل سے باہر نکالنے کی بجائے اس کے مقابلے پر تل گئے اور انھیں کہا اے لوط! کافی ہو چکا ہے۔ اب خاموش رہو اگر ان باتوں سے باز نہ آئے تو تمھارا شمار بھی اسی شہر سے نکال دیئے جانے والوں میں سے ہو گا (قالوا لئن لم تنته یا لوط لنكونن من المخرجين)۔ تمھاری باتیں ہماری فکر اور آرام میں خلل ڈال رہی ہیں ہم ان باتوں کے سننے کے ہرگز روادار نہیں: اگر تمھاری یہی حالت رہی تو ہم تہمیں سزا دیں گے جو کم از کم جلا وطنی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید کے ایک اور مقام پر ہے کہ انھوں نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ بهی پہنایا اور حکم دیا کہ لوطؑ کے خاندان کو شہر سے باہر نکال دو کیونکہ وہ پاک لوگ ہیں اور گناہ نہیں کرتے۔ اخرجوهم من قربتکم انهم اناس یتطهرون (الاعراف : 86) ان گمراه اور گناه آلود لوگوں کی جسارت اس حد تک جا پہنچی کہ تقوٰی اور طہارت ان کے درمیان بہت بڑا عیب سمجھا جانے لگا اور ناپاکی اور گناہ سے آلودگی سرمایہ افتخار! اور یہ کسی معاشرے کی تباہی کی علامت ہوتی ہے جو تیزی کے ساتھ برائیوں کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ "لتكوعن من المخرجين" سے معلوم ہوتا ہے کسی فاسق و فاجر گروہ نے ایسے پاک و پاکیزہ لوگوں کو پہلے باہر نکال دیا جو ان کے بیہودہ اعمال سے روکا کرتے تھے لہذا انھوں نے حضرت لوط کو بھی یہی دھمکی دی کہ اگر تم نے اپنے اس تبلیغی سلسلے کو جاری رکھا تو تمھارا بھی وہی انجام ہو گا۔ بعض تفسیروں میں صراحت کے ساتھ تحریر ہے کہ وہ پاک دامن لوگوں کو بد ترین طریقے سے جلا وطن کر دیا کرتے تھے۔ [تفسیر روح المعانی اور تفسیر کبیر فخر رازی، اسی آیت کے ذیل میں]۔ لیکن حضرت لوط علیہ اسلام نے ان دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنا کام جاری رکھا اور کہا: میں تمھارے ان کاموں کا دشمن ہوں۔ (قال اني لعملكم من القالين)۔ یعنی میں اپنا احتجاج برابر جاری رکھوں گا، تم جو کچھ میرا بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑ لو مجھے راہِ خدا اور برائیوں کے خلاف جہاد کے سلسلے میں ان دھمکیوں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہے۔ "القالين" جمع کا صیغہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس احتجاج اور جہاد میں اور بھی بہت سے لوگ جناب لوط علیہ اسلام کے ہمنوا ہو چکے تھے یہ اور بات ہے کہ سرکش قوم نے آخرکار انھیں جلا وطن کر دیا۔ "قالین"، "قال" کی جمع اور "قلى" (بر وزنِ حلق یا بر وزنِ شرک) کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ایسی عداوت ہے جو انسان کی روح میں اتر جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنابِ لوط علیہ اسلام کو ان کے اعمال سے کس قدر نفرت تھی؟ لائق توجہ بات یہ ہے کہ حضرت لوط علیہ سلام فرماتے ہیں کہ "میں تمھارے اعمال کا دشمن ہوں" یعنی مجھے تمھاری ذات سے دشمنی نہیں بلکہ تمھارے شرمناک اعمال سے نفرت ہے اگر ان اعمال کو اپنے سے دور کر دو پھر تم میرے پکے دوست ہو۔ بہرحال، جناب لوطؑ کی کسی بھی نصیحت نے ان پر کوئی اثر نہ کیا ان کا تمام معاشرہ اس متعفین دلدل میں پھنس کر رہ گیا بڑی حد تک اتمام حجت بھی کی گئی مگر بے فائدہ- اب لوط علیہ اسلام کی ذمہ داری کا آخری مرحلہ آن پنہچا لہذا وقت آ پہنچا کہ جناب لوط علیہ اسلام خود کو بھی اور جو لوگ ان پر ایمان لا چکے ہیں انھیں بھی اس گناہ آلود علاقے سے باہر نکال کر لے جائیں تاکہ ہولنک عذاب اس بے حیا قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ حضرتِ لوط علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں دست دعا بلند کر کے کہا: پروردگارا! جو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں مجھے اور میرے خاندان کو اس سے نجات دے (رب نجنی و اهلی مما يعملون)۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "اہل" سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو آپ پر ایمان لاچکے تھے لیکن سورة "ذاریات" کی آیت 36 کہتی ہے: فما وجدنا فيهاغير بيت من المسلمين صرف ایک ہی خاندان تھا جو ایمان لا چکا تھا۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ زیرِ تفسیر آیت میں بعض ایسی تعبیرات پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگ حضرتِ لوطؑ پر ایمان لا چکے تھے لیکن انھیں جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ جو کچھ بتایا جا چکا ہے اس سے ضمنی طور پر حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جناب لوط علیہ اسلام کی اپنے خاندان کے لیے دعا خاندانی شفقت اور رشتہ داری کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ ایمان لانے کی بناء پر تھی۔ خداوندِ عالم نے ان کی دعا قبول فرمائی جب کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے لوط اور ان کے سب خاندان والوں کو نجات دی (فنجیناہ واهله اجمعين)۔ سوائے اس بڑھیا کے جو گمراہ لوگوں کے درمیان باقی رہ گئی تھی (الاعجرزًا في الغابرین)۔ ["غابر"، "غبور" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے باقی ماندہ اور بچی کھچی چیز۔ جب کوئی کی ایک گروہ کسی جگہ سے چل پڑے جو شخص وہیں پر رہ جائے اسے غابر کہتے ہیں اسی لیے مٹی کے بچے کھچے حصے کو "غبار" کہتے ہیں اور حیوان کے پستان سے دودھ دوھ لینے کے بعد جو بچا رہے اسے غبرہ کہتے ہیں]۔ بچ رہنے والی یہ بڑھیا جناب لوط علی اسلام کی بیوی ہی تھی جو عقیدے اور مذہب کے لحاظ سے اس گمراہ قوم سے ہم آہنگ و ہم خیال تھی۔ وہ آخر دم تک جناب لوطؑ پر ایمان نہیں لائی اور اسی گمراہ قوم کے انجام سے دوچار ہوئی۔ اس کی تفصیل تفسیرِ نمونہ کی جلد 9 سورہ ہود کی مذکورہ آیات کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ ہاں تو خداوندِ عالم نے جناب لوط اور جو تھوڑے سے لوگ ان پر ایمان لے آئے تھے ان سب کو نجات بخشی۔ چنانچہ انھوں نے حکمِ الہی کے تحت گناه آلود لوگوں کے علاقہ سے رختِ سفر باندھا اور راتوں رات چل پڑے اور گناہ و بے شرمی میں غرق لوگوں کو اپنے حال پر باقی چھوڑ دیا۔ علی الصباح عذاب کا حکم صادر ہوا، وحشت ناک لے نے ان کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے ان کے آباد و شاد شہر، خوبصورت محلات، عیش و عشرت اور بے شرمی و بے حیائی پر مبنی ان کی زندگی غرض سب کچھ مکمل طور پر تہہ و بالا ہو گیا، جیسا کہ خداوندِ عالم نے اس سلسلے میں ارشاد فرمایا ہے: پھر ہم نے ان تمام لوگوں کو نیست و نابود کر دیا۔ (ثم دمرنا الأخرين)۔ اور ان پر بارش برسائی (لیکن کیسی بارش؟ پتھروں کی بارش اور وہ بھی اس حد تک کہ ان کے کھنڈرات تک دکھائی نہ دیتے تھے (امطرنا علیهم مطرًا)۔ کس قدر بری بارش نے اس ڈرائے جانے والے گروہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا (فساء مطر العنذرین)۔ معمول کے مطابق برسنے والی بارشیں مردہ زمینوں کو زندہ کر دیتی ہیں اور ان میں تازہ روح پھونک دیتی ہیں۔ لیکن یہ وحشت ناک بارش تباہ و برباد اور نسیت و نابود کرنے والی تھی۔ سورة ہود آیت 82 سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قومِ لوط کے شہر تہہ و بالا ہوئے پھر ان پر پتھروں کی مسلسل بارش برسی اور جیسا کہ اسی آیت کی تفسیر میں ہم بتا چکے ہیں کہ پتھروں کی بارش ان پر شاید اس لیے تھی کہ ان کے نام و نشان تک مٹ جائیں اور آباد و شاد شہروں کی بجائے پتھر اور مٹی کے ٹیلے یادگار کے طور پر باقی رہ جائیں۔ آیا یہ پتھر عظیم طوفان کی وجہ سے بیابانوں سے اڑ اڑ کر برسنے لگے یا آسمانی فضا میں اڑتے پھرتے پتھر تھے کے جو حکم خداوندی کے تحت وہاں پر برسے۔ یا بعض مفسرین کے بقول قریب ہی خاموش آتش فشاں تھا جو حکم پروردگار کے مطابق پھٹ پڑا۔ اور اسی کے پتھر بارش بن کر برسنے لگے؟ یہ اچھی طرح معلوم نہیں ہے جو بات مسلم وہ یہ کہ اس تباہ کن بارش نے اس گناہ آلود سرزمین میں سے زندگی کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ اس واقعے کی تفصيل تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد صفحہ 331 سے 337 اور چھٹی جلد کے صفحہ 207 سے 214 تک میں مختلف نکات کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ اس واقعے کے اختتام پر ایک بار پھر ان دو جملوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو اس طرح کے دوسرے پانچ انبیاء کے واقعات کے آخر میں پڑھ چکے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: اس ظالم اور بے حیا قوم کی داستان اور ان کے منحوس انجام میں آیت و نشانی اور درسِ عبرت ہے (ان في ذلك لاية)۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے (وما کان اكثرهم مؤمنین)۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی واضح اور روشن نشانی ہوتی ہے جو تمہیں اہم اور نتیجہ خیز مسائل سے آگاہ کرتی ہے اور تمہیں ذاتی تجربات کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ یقیناً گزشتہ لوگوں کی تاریخ ایک درس عبرت ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نشانی ہے۔ یہ ذاتی تجربہ بھی نہیں ہے کیونکہ ذاتی تجربے میں تو نقصان اٹھانے کے بعد نتائج حاصل ہوتے ہیں لیکن اس میں دوسروں کے تجربوں سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اور تیرا پروردگار عزیز و رحیم ہے (وان ربك لهو العزیز الرحیم)۔ اس سے بڑھ کر اور رحمت کیا ہو سکتی ہے کہ اس قسم کے گناہوں سے آلودہ قوموں کو سزا نہیں دیتا بلکہ انھیں ہدایت و نظر ثانی کے لیے کافی ڈھیل اور لمبی مہلت دیتا ہے۔ اور پھر یہ کہ اس سے بڑھ کر اور کیا رحمت ہو کہ اس کی سزا میں سب خشک و تر نہیں جلتے حتٰی کہ اگر ہزاروں لاکھوں گناہگار خاندانوں میں صرف ایک ہی مومن خاندان ہے تو وہ انہیں نجات عطا فرماتا ہے۔ اور غلبہ و قدرت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس قسم کے گناہ آلود شہروں کو چشم زدن میں یوں تہہ و بالا کر دیتا ہے کہ صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے جو زمین گناہگاروں کی آسائش و آرام کا گہوارہ ہوتی ہے اسے پل بھر میں ان کی موت پر مامور کر دیتا ہے اور حیات بخش بارش کو موت کی بارش میں تبدیل کر دیتا ہے۔

176
26:176
كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
’’ ایکہ‘‘ والوں نے(خدا کے) رسولوں کو جھٹلایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

177
26:177
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جبکہ شعیب نے انہیں کہا: کیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

178
26:178
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

179
26:179
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

180
26:180
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
میں اس دعوت کے بدلے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔میرا اجر تو صرف عالمین کے پروردگار کے پاس ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

181
26:181
۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ
پیمانے کا حق ادا کرو (اور کم مت بیچو) اور لوگوں کو نقصان نہ پہنچاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

182
26:182
وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِ
اور ٹھیک ترازو سے تولاکرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

183
26:183
وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
لوگوں کا حق کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی نہ پھیلاتے پھرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

184
26:184
وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ
جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والی قوموں کو خلق کیا ہے اس سے ڈرو۔

شعیب اور اہل ایکہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس سورت میں انبیاء کے واقعات کا ساتواں اور آخری حصہ ہے۔ یہ اللہ کے عظیم نبی شعیب علیہ السلام اور ان کی سرکش قوم کی داستان ہے۔ اللہ کے یہ نبی مدین (شامات کے جنوب میں ایک شہر کا نام) اور ایکہ (بر وزن لیلہ، مدین کے نزدیک ایک آبادی کا نام) میں رہتے تھے۔ سورة حجر کی آیت 79 اس بات کی گواہ ہے کہ سرزمین ایکہ حجاز سے شام کی طرف جانے والے رستے میں تھی۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ایکہ والوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی (کذب اصحاب الأيكة المرسلين)۔ انھوں نے نہ صرف جناب شعیب علیہ اسلام کی تکذیب کی جو ان کی طرف مبعوث ہونے کی دعوت کی یگانگت اور وحدت کی وجہ سے دوسرے انبیاء بھی ان کی تکذیب سے محفوظ نہ رہ سکے یا انھوں نے کسی بھی آسمانی دین کو قبول نہیں کیا تھا۔ "ایکہ" دراصل ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر گھنے جنگلات ہوں کہ جسے فارسی میں "بشہ" (اور اردو میں کچھار۔ مترجم) کہتے ہیں۔ یہ علاقہ مدین کے پاس تھا۔ پانی اور گھنے درختوں کی وجہ سے "ایکہ" کے نام سے مشہور ہو گیا۔ قرائن بتلاتے ہیں کہ ایکہ کے رہنے والے بڑے خوشحال اور ثروت مند لوگ تھے۔ اور یہی خوشحالی اور ثروت ہی شاہدان کے غرور اور غفلت میں غرق ہو جانے کا سبب بن گئی۔ پهر اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب شعیب نے انھیں کہا کہ آیا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو (اذ قال لهم شعيب الا تتقون)۔ درحقیقت، جنابِ شعیب علیہ اسلام کی دعوت کا آغاز بھی دوسرے انبیاء کی مانند تقوی اور پرہیزگاری سے ہوتا ہے کہ جو تمام اصلاحی کاموں کی بنیاد اور اخلاقی و سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ جس طرح جنابِ صالح، ہود، نوح اور لوط علیهم السلام کی داستانوں میں لفظ "اخوهم" آیا ہے یہاں پر دکھائی نہیں دیتا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جناب شعیب علیہ اسلام کا وطن "مدین" تھا ان کی رشتے داری مدین والوں کے ساتھ تھی۔ اہلِ ایکہ کے ساتھ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سورة سود کی آیہ 84 میں جب صرف "مدین" کا تذکرہ آتا ہے یوں کہا جاتا ہے: والى مدين اخاهم شعيبًا زیرِ نظر آیت میں چونکہ "ایکہ" والوں کا ذکر ہے اور شعیب علیہ اسلام سے ان کی کسی قسم کی رشتہ داری نہیں تھی لہذا یہاں پر وہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ شعیب نے کہا: میں تمھارے لیے امین رسول ہوں (انى لكم رسول امین)۔ تقویٰ اختیار کرو، خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (کیونکہ میری اطاعت اسی کی ہی اطاعت ہے) (فاتقوا الله واطيعون)۔ یہ بھی اچھی طرح جان لو کہ "میں اس دعوت کا اجر تم سے نہیں مانگتا میرا جر تو صرف اور صرف عالمین کے رب کے پاس ہے" (وما اسئلکم عليه من اجر ان اجرى الّا علی رب العالمین)۔ وہی ایک جملہ اور ہر لحاظ سے جچا تلا جملہ جو دوسرے تمام انبیاء کی دعوت کے آغاز میں آیا ہے۔ تقویٰ کی دعوت، اپنی دیانت و امانت پر منبی زندگی کا حوالہ اور اس بات پر خاص طور پر زور کہ اس دعوتِ الٰہی کا سبب صرف اور صرف روحانی ہے کوئی مادی فائدہ پیش نظر نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا تاکہ بہانہ ساز اور بد گمان لوگوں کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔ حضرت شعیب علیہ سلام نے بھی دوسرے انبیاء کا سا طریقہ اختیار کیا۔ پہلے انھوں نے تقویٰ اور اطاعتِ پروردگار پر منبی عمومی دعوت دی۔ اپنی تعلیمات کے دوسرے حصے میں اس ماحول کی خرابیوں، اخلاقی اور اجتماعی برائیوں کی نشاندہی کی اور انھیں اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس خوشحال قوم کی اہم ترین خرابیاں اقتصادی ناہمواری، کھلم کھلا ظلم، حق کشی اور لوٹ کھسوٹ تھیں لہذا انھوں نے بھی اسی مسائل پر خاص زور دیا۔ پہلے فرماتے ہیں: پیمانے کا حق ادا کرو (ناپ تول میں کمی نہ کرو) (اوفوا الكيل)۔ اور لوگوں کو نقصان اور گھاٹا نہ پہنچاؤ (ولا تكونوا من المخسرين)۔ سیدھے اور صیح ترازو سے تولو (وزنوا بالقسطاس المستقيم)۔ [تشریحی نوٹ:"قسطاس" (بر وزن مقباس) ترازو کے معنی میں ہے بعض لوگ اسے رومی اور کچھ لوگ عربی لفظ سمجھتے ہیں بعض کا خیال ہے قسطاس بڑے ترازو کو کہتے ہیں اور میزان چھوٹے کو اور چونکہ قسطاس ایسا ترازو ہوتا ہے جس کی سوئی کے مانند زبان ہوتی ہے لہذا صحیح صحیح وزن بتاتا ہے]۔ لوگوں کا حق کم نہ کرو اور نہ ہی لوگوں کی اشیاء اور جنس میں عیب نکالو (و لا تبخسوا الناس اشياءهم)۔ زمین پر خرابی نہ پھیلاتے پھرو (ولا تعثوا في الارض مفسدین)۔ ان تین آیات میں شعیب علیہ السلام نے ایک مختصر اور جچی تلی عبارت میں اس گمراہ قوم کو "پانچ حکم" دیئے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ تصور کیا ہے کہ یہ پانچ حکم ایک دوسرے کی تاکید کے طور پر آئے لیکن اگر خوب غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ پانچ حکم درحقیقت، پانچ بنیادی اور مختلف مطالب کی طرف اشارہ ہے ان میں چار حکم ہیں اور ایک مجموعی کلیہ ہے۔ اس فرق کو معلوم کرنے کے لیے اس حقیقت کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قوم شعیبؑ (ایکہ اور مدین کے لوگ) ایک اہم تجارتی راستے پر رہتے تھے۔ جہاں سے حجاز سے شام اور شام سے حجاز اور دوسرے مقامات کی طرف تجارتی قافلوں کی آمد و رفت ہوا کرتی تھی۔ معلوم ہے کہ ایسے قافلوں کو راستے میں بہت سی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعض اوقات راستے میں پڑنے والے شہروں کے لوگ مسافروں کی ضروریات اور مشکلات سے بہت ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ان کی اجناس کو کم قیمت پر خریدتے ہیں اور اپنی چیزیں زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں (البتہ توجہ رہے کہ اس زمانے میں زیادہ تر کاروبار مال کے بدلے مال کی صورت میں ہوا کرتا تھا)۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کسی کا مال خریدتے ہیں اس میں ہزار عیب نکالتے ہیں، جب اپنا مال بیچتے ہیں تواس کی ہزار تعریف کرتے ہیں۔ جب تولتے ہیں تو اپنا مال پورا پورا یا کم تولتے ہیں اور دوسروں کا مال بے پرواہی سے تولتے ہیں یا زیادہ تولتے ہیں چونکہ فریق ثانی بے چارہ ضرورت مند ہوتا ہے لہذا مجبور ہوتا ہے کہ ایسی بے انصافیاں قبول کرے۔ قافلوں اور کاروانوں سے ہٹ کر بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے غریب اور بے بس لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں اور معاشرے کے مالدار سرمایہ دار لوگ ایسے مجبور اور بے بس لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا ظالمانہ سلوک کرتے ہیں غریب لوگ کوئی جنس بیچیں یا خریدیں اس کی قیمت دولت مندوں کی حسبِ منشا متعین ہوتی ہے اور پیمانہ بھی ہر حالت میں انھی کے اختیار میں ہوتا ہے اور بے بس اور بے نوا مستضعف "مرده بدست زندہ" کے مصدق ان کے سامنے مجبور اور بے اختیار ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا گفتگو کو پیشِ نظر رکھ کر اب ہم آیات زیرِ بحث کی طرف لوتٹے ہیں۔ ایک مقام پر تو انھیں پیمانے کا حق ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے دوسری جگہ پر صحیح طور پر تولنے کا اور ہم جانتے ہیں کہ سامان کو یا تو تولا جاتا ہے اور یا ناپا جاتا ہے لہذا ہر دو صورتوں کی جداگانہ طور پر نشاندہی کی گئی ہے تاکہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرا دی جائے کہ کسی بھی موقع پر کم نہ بیچیں۔ اور پھر یہ کہ کم فروشی کے بھی کئی طریقے ہیں کبھی ترازو یا پیمانہ تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن اس کا حق ادا نہیں ہو پاتا اور کبھی ترازو اور پیمانہ صحیح نہیں ہوتا بلکہ خود ساختہ اور جعلی ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں ان سب باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان دو تعبیروں کے واضح ہو جانے کے بعد اب ہم "لا تبخسوا" کی بات کرتے ہیں چنانچه یہ "بخس" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ظالمانہ طریقے سے کسی کے حقوق گھٹا دینا اور کبھی یہ لفظ فریب دہی کے معنی میں بھی آتا ہے جس کا انجام دوسروں کے حقوق ضائع کرنا ہوتا ہے بنابریں، مندرجہ بالا جملے کا ایک وسیع معنی ہے جس میں لین دین میں کھوٹ، ملاوٹ، ٹھگی، لوٹ کھسوٹ اور دھوکا دہی سب شامل ہیں۔ رہا "لا تكونوا من المخسرین" کا جملہ تو چونکہ "مخسر" کا معنیٰ ہے ایسا شخص جو کسی شخص یا چیز کو خسارہ پہنچاتا ہے اور اس کے بھی کئی معانی ہیں جس میں خرید و فروخت اور لین دین میں ہر قسم کی کمی شامل ہے۔ اسی لحاظ سے ہر قسم کی ناجائز منافع خوری اور لین دین میں ظلم و ستم، ہر طرح کی دھوکا بازی اور نقصان پہنچانے کی کوشش خواه وہ کمیت میں ہو یا کیفیت میں، سب کچھ مندرجہ بالا حکم میں شامل ہیں۔ اور چونکہ اقتصادی ناہمواری اجتماعی نظام کے منتشر ہو جانے کا سبب بن جاتی ہے لہذا ان احکام کے اخر میں مجموعی صورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے "ولا تعثوا في الأرض مفسدین" یعنی زمین میں خرابی نہ کرو اور معاشرے کو تباہی کی طرف نہ لے جاؤ ہر قسم کی لوٹ کھسوٹ اور ظالمانہ منافع خوری اور دوسروں کے حقوق ضائع کرنے سے پرہیز کرو۔ یہ احکام صرف شعیب علیہ اسلام کے دور کے متمول اور ظالم معاشرے کے لیے ہی کارآمد نہیں بلکہ ہر دور اور ہر زمانے کے لیے کارساز ہیں اور معاشرتی مشکلات کا حل ہیں۔ جناب شعیب علیہ اسلام اپنے آخری فرمان میں ایک بار پھر انھیں تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس خدا سے ڈرو جس نے تمھیں بھی اور گزشتہ اقوام کو بهی پیدا کیا ہے۔ (واتقو الذي خلتكم والجبلة الاولين)۔ صرف تم ہی ایسی قوم نہیں ہو جس نے روئے زمین پر قدم رکھا ہے تم سے پہلے تمہارے آباء و اجداد اور دوسری قومیں آئیں اور چلی گئیں ان کے ماضی کو اور اپنے مستقبل کو فراموش مت کرو۔ "جبلة"، "جبل" سے ہے جس کا معنی ہے "پہاڑ" اور اس کا اطلاق اس کثیر التعداد جماعت پر ہوتا ہے۔ جس کی عظت پہاڑ جیسی ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس جماعت کی تعداد دس ہزار تک ذکر کی ہے۔ انسان کی طبیعت اور فطرت کو بھی "جبلت" کہا جاتا ہے کیونکہ وہ پہاڑ کی مانند اٹل ہوتی ہے جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ میں جو کہتا ہوں ظلم و فساد کو چھوڑ دو، حقوق العباد ادا کرو اور عدالت کو پیشِ نظر رکھو تو یہ سب کچھ روزِ اول ہی سے انسان کی فطرت میں شامل ہیں۔ میں تو صرف اس پاکیزہ فطرت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے آیا ہوں۔ لیکن افسوس کہ اس ہمدرد اور بیدار کرنے والے پیغمبر کی نصیحتیں ان پر کارگر نہیں ہوئیں۔ اس منطقی گفتگو کا جو انھوں نے تلخ اور نازیبا جواب دیا وہ ہم اگلی آیات میں پڑھیں گے۔

185
26:185
قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
انہوں نے کہا: تجھ پر تو جادو کردیا گیاہے اور تو پاگل ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

186
26:186
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
(اس کے علاوہ) تو فقط ہم جیسا انسان ہے۔ تیرے بارے میں ہمارا گمان صرف یہی ہے کہ تو جھوٹا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

187
26:187
فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اگر تو سچا ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

188
26:188
قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ
شعیب نے کہا:میرا پروردگار ان اعمال سے زیادہ آگاہ ہے جو تم انجام دیتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

189
26:189
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ
آخر کار انہوں نے اسے جھٹلایا اور سایہ دار بادل کے دن عذاب نے انہیں آ لیا اور وہ عظیم دن کا عذاب تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

190
26:190
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اس واقعہ میں نشانی(اور درس وعبرت) ہے، لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہ لائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 191 کے تحت ملاحظہ کریں۔

191
26:191
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تیرا پروردگار عزیز و رحیم ہے۔

اس سرکش قوم کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس ظالم اور ستمگر قوم نے جب خود کو شعیب علیہ السلام کی منطقی باتوں کے مقابلے میں بے دلیل دیکھا تو اپنی برائیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ان پر تہمتوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سب سے پہلے وہی پرانا لیبل جو مجرم اور ظالم لوگ ہمیشہ سے خدا کے انبیاء پر لگاتے رہے ہیں آپ پر بھی لگایا اور کہا: تو تو بس پاگل ہے (فالوا انما انت من المسحرين)۔ [جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں "مسحر" اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس پر کئی مرتبہ سحر کیا جائے اور جادوگر اس کی عقل کو بے کار کر دیں]۔ تیری گفتگو میں کوئی منطقی اور مدلل بات دکھائی نہیں دیتی۔ تیرا خیال ہے کہ ایسی باتیں کر کے تو ہمیں اپنے مال میں آزادی عمل سے روک دے۔ اس کے علاوہ "تو بھی تو ہماری طرح کا ایک انسان ہے کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم تیری اطاعت کریں گے۔ آخر تجھے ہم پر کون سی فضیلت اور برتری حاصل ہے" (وما انت الا بشر مثلنا)۔ تیرے بارے میں ہمارا یہی خیال ہے کہ تو ایک جھوٹا شخص ہے (و ان نظنک لمن الکاذبین)۔ ان کی یہ گفتگو کیسی تضادات پر منبی ہے کبھی تو انھیں ایسا جھوٹا اور مفاد پرست انسان کہتے تھے جو دعوائے نبوت کی وجہ سے ان پر فوقیت حاصل کرنا چاہتا ہے اور کبھی انھیں مجنون کہتے تھے۔ ان کی آخری بات یہ تھی بہت اچھا "اگر تو سچا ہے تو ہمارے سر پر آسمان سے پتھر برسا اور ہمیں اسی مصیبت میں مبتلا کر دے جس کی ہمیں دھمکی دے رہا ہے تاکہ تجھے معلوم ہو جائے کہ ہم ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے" (فاسقط علينا كسفًا من السماء ان كنت من الصادقين)۔ "کسف" (بر وزن پَدر) "کسفہ" (بر وزن "قطعہ") کی جمع ہے جس کا معنی ٹکڑا ہے اور آسمانی ٹکڑوں سے مراد پتھروں کے ٹکڑے ہیں جو آسمان سے برستے ہیں۔ یہ الفاظ کہہ کر انھوں نے اپنی ڈھٹائی اور بے حیائی کی انتہا کر دی اور اپنے کفر و تکذیب کا بد ترین مظاہرہ کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان ناموزوں الفاظ، قبیح اور نازیبا کلمات اور عذابِ الہی کے تقاضے کے جواب میں صرف ایک ہی جملہ کہا اور یہ کہا کہ میرا پروردگار ان اعمال سے زیادہ آگاہ ہے جو تم انجام دیتے ہو۔ (قال ربی اعلم بما تعملعون)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس چیز کا تقاضا کر رہے ہو وہ مجھ سے متعلق نہیں ہے آسمان سے پتھروں کا برسنا ہو یا کوئی دوسرا عذاب، میرے بس کی بات نہیں اور نہ ہی یہ اختیار مجھے دیا گیا ہے۔ خداوندِ تعالٰی ہی تمھارے اعمال کو جانتا اور تمہارے استحقاق کے معیار سے باخبر ہے جب اس نے تمھیں سزا کا مستحق دیکھا اور وعظ و نصیحت نے بھی تم پر کوئی اثر نہ کیا اور کافی حد تک اتمام حجت بھی ہو گئی تو تم پر عذاب نازل کر کے تمھارا ستیاناس کر دے گا۔ یہ جملہ اور انبیاء کی داستانوں میں اس جیسی دوسری تعبریں، واضح کرتی ہیں کہ انبیاء کرام علیهم السلام ہر چیز کو خدا کے حکم اور امر کے تابع سمجھتے ہیں اور انھوں نے کبھی یہ دعوٰی نہیں کیا کہ وہ اپنی طرف سے کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن جوں توں کر کے آخر وہ وقت بھی آ پہنچا کہ روئے زمین کو ایسے مجرمین کے وجود سے پاک کیا جائے چنانچہ قرآنِ مجید بعد والی آیت میں کہتا ہے: انھوں نے شعیب کو جٹھلایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ "سایہ ڈالنے والے بادل" کے دن عذاب نے ان کو آ لیا (فکذبوہ فاخذهم عذاب يوم الظلة)۔ اور "یہ عذاب، بڑے دن کا عذاب تھا" (انه كان عذاب يوم عظيم)۔ "ظله" بادل کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو سایہ کر دیتا ہے بہت سے مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ مسلسل سات دن تک ان پر گرم ہوا چلتی رہی اس دوران میں بادِ نسیم کا ایک بھی جھونکا نہیں آیا۔ اسی اثنا میں آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نمایاں ہوا اور بادِ نسیم بھی چلنے لگی وہ لوگ فورًا اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور سخت تکلیف کی وجہ سے جب بادل سائے تلے آ گئے تو سکھ کا سانس لیا۔ لیکن اچانک بادلوں سے بجلی کی ایک ایسی کڑک سنائی دی جس سے ان کے کان چھوٹ گئے اس کے فورا بعد ان پر آگ برسنے لگی اور زمین میں بھونچال آ گیا جس سے وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئے۔ ہم جانتے ہیں کہ بادلوں اور زمین کے درمیان طاقتور الیکٹریسٹی کے باہمی تبادلے کے نتیجے میں"صاعقہ" پیدا ہوتی ہے اور اس کی آواز بہت وحشت ناک ہوتی ہے اور اس کا شعلہ بھی بہت بڑا ہوتا ہے جہاں یہ بجلی گرے وہاں بعض اوقات زلزلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے قومِ شعیب کے عذاب کے بارے میں قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں میں جو الفاظ آئے ہیں وہ دراصل ایک حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت 91 میں "رجفة" (زلزلہ) سورہ ہود کی آیت 94 میں "میحۃ" (زبردست آواز) اور زیرِ گفتگو آیت میں "عذاب يوم الظلة" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ہر چند کہ قرطبی اور فخرِ رازی جیسے مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین دو مختلف قومیں تھیں اور دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ عذاب نازل ہوا، لیکن متعلقہ آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احتمال زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے۔ اس داستان کے آخر میں بھی انھی الفاظ کو دہرایا گیا ہے جو چھ بزرگ انبیاء کی گزشتہ داستانوں میں آئے ہیں۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: سرزمین ایکہ کے لوگوں کی داستان، ان کے مہربان بنی شعیبؑ کی محبت بھری تبلیغ، ان لوگوں کی طرف سے ڈھٹائی، سرکشی اور تکذیب اور انجامِ کار اس ظالم قوم کی گرجدار بجلی سے تباہی اور بربادی میں عبرت کی نشانی اور درس موجود ہے (ان في ذلك لاية)۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے (وما كان اكثرهم مؤمنین)۔ اس کے باوجود خداوندِ رحیم و مہربان نے انھیں کافی مہلت دی تاکہ وہ سمجھ جائیں اور اپنی اصلاح کر لیں لیکن جب وہ عذاب کے مستحق ہو گئے تو اس نے بھی اپنی قہاری قدرت کی شان دکھلائی اور ان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی، یقینًا تیرا پروردگار ناقابلِ تسخیر اور رحیم ہے (و ان ربك لهو العزیز الرحیم)۔

چند اہم نکات: 1- انبیاء کی دعوت میں مکمل ہم آہنگی

ان سات عظیم انبیاء کے واقعات کہ جو درحقیقت، تربیتی دروس کے سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں، کے آخر میں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ انہی انبیاء کی داستانیں قرآنِ مجید کی اور سورتوں میں بھی بیان ہوئی ہیں لیکن اس انداز سے بیان نہیں ہوئیں جیسا کہ اس سورت میں کہ جن کا آغاز بھی ایک جیسا اور انجام بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو۔ ان داستانوں کے پانچ حصوں میں ان کی دعوت کا موضوع تقوٰی ہے پھر ان کی امانت کا بیان ہے اور کسی قسم کی اجرت طلب نہ کرنے کا ذکر ہے۔ پھر اس دور میں پائی جانے والی لغزشوں اور غلطیوں پر دوستانہ طریقے سے تنقید کی گئی ہے۔ پهر ان گمراہ لوگوں کے برے ردِّ عمل اور نہایت ہی بھونڈے طریقے کا ذکر ہے آخر کار موقع کی مناسبت سے نازل ہونے والے دردناک عذاب کا بیان ہے۔ ان ساتوں داستانوں میں سے ہر ایک کے آخر میں اسے آیت اور عبرت کی نشانی بتایا گیا ہے اور ان گمراه قوموں کی اکثریت کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے۔ اور پھر ان سب کے آخر میں خدا کی "قدرت" اور "رحمت" کا ذکر ہے۔ یہ ہم آہنگی سب سے پہلے اس بات کا پتہ دیتی ہے کا انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں "توحید" کی جھلک پائی جاتی ہے کہ ان سب کا "واحد" پروگرام تھا اور جس کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہے۔ سب انبیاء انسان سازی کی کلاسوں کے معلم تھے ہر چند کہ مرورِ زمان کے ساتھ اور انسانی معاشرے کی پیش رفت کی بناء پر ان کلاسوں کے مضامین تبدیل ہوتے رہے لیکن ان سب کے اصول، بنیاديں اور نتائج ایک جیسے تھے اور پھر یہ بھی کہ یہ داستانیں اسلام اور اوائل کے چند گِنے چنے مومنین کے دلوں کے لیے ڈھارس اور تسلی کا کام بھی دیتی ہیں بلکہ ہر دور کی مومنین کے لیے موجب تسلی ہیں کہ وہ مخالفین کی کثرت اور گمراہ قوم کی اکثریت سے ہرگز نہ گھبرائیں اور اپنے کام کے نتائج کی سو فیصد امید رکھیں۔ نیز ہر دور اور ہر عصر کے ظالم اور ستمگر اور گمراہ لوگوں کے لیے ایک زبردست تنبیہ بھی ہیں کہ وہ سزائے الہی کو کسی بھی لمحے اپنے سے دور تصور نہ کریں کیونکہ ان پر زلزلوں، بجلیوں، ہولناک طوفانوں، آتش فشاں پہاڑوں، زمین کے پھٹنے کی صورتوں اور سیلاب اور بارشوں سے عذاب بھی نازل ہو سکتے ہیں اور آج کا انسان بھی ایسے عذاب کے سامنے اسی طرح سے بے بس ہے جس طرح گزشتہ زمانے کے لوگ۔ کیونکہ موجودہ دور کا انسان اپنی تمام صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اس طرح کے عذابوں کے سامنے عاجز اور بے بس ہے۔ قرآنِ مجید کا ان تمام داستانوں کے بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ انسان رشد اور ارتقاء کے مراحل طے کرے، اپنے قلب و روح میں نور اور روشنی پیدا کرے، اپنی سرکش خواہشات کو کنٹرول کرے اور ظلم و ستم اور ہر قسم کی لغزشوں کا مقابلہ کرے۔

2- سب کی دعوت کا آغاز تقوٰی ہے

2۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ان انبیاء علیہم اسلام کی انھی داستانوں کے اہم حصے سورہ ہود اور سورہ اعراف میں بھی آ چکے ہیں لیکن ان کا آغاز عمومًا خدا کی توحید اور یگانگت سے ہوا ہے مثلًا اس جملے سے "يا قوم اعبدوا الله مالكم من إله غيره" یعنی اے میری قوم خدا کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ ملاخطہ فرما چکے ہیں اس سورہ میں "الا تتقون" کہہ کر دعوت تقوٰی سے آغاز کرتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر دو کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کیونکہ جب تک کسی انسان میں تقوی کی کم از کم حدود یعنی حق طلبی اور حق جوئی نہ پائی جائیں، اس وقت تک اس پر نہ توحید کی دعوت موثر ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ لہذا سورۂ بقرہ کے آغاز میں ہم پڑھتے ہیں۔ ذلك الكتب لاریب فیه هدی للمتقين یہ وہ آسمانی کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ البتہ تقوٰی کے کئی مراتب ہوتے ہیں اور ہر مرتبہ دوسرے مرتبے کے لیے ایک بنیاد ہوتا ہے۔ سورہ شعراء اور سورہ اعراف و سورہ ہود کے مضامین میں ایک اور فرق بھی نظر آتا ہے کہ اعراف اور میں انبیاء کا بت پرستی کے خلاف جہاد کا تذکرہ ہے اور دوسرے مسائل اس کے تحت ہیں، لیکن یہاں فخر و غرور، تکبر و نخوت، اسراف وہ حوس، جنسی بے راہروی، لوٹ کھسوٹ، کم فروشی اور دھوکے بازی سے اخلاقی اور سماجی جرائم کے خلاف زور دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے قرآن مجید میں ایسی داستانوں کے بار بار دہرانے کا بھی کوئی خاص مقصد ہوتا ہے اور ہر دفعہ کسی خاص مقصد کو بیان کیا گیا ہے۔

3- شرک سب برائیوں کی بنیاد ہے

3- یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جن اقوام کا اس سورت کے مختلف مقامات پر ذکر ہوا وہ اصل توحید سے منحرف ہو کر شرک اور بت پرستی جیسی لعنت میں گرفتار ہو گئی تھیں اور یہ ان سب کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اس کے علاوہ وہ خاص اخلاقی اور سماجی برائیوں میں بھی مبتلا ہو گئی تھیں۔ اور یہی چیز انھیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے: کچھ قومیں غرور میں مبتلا تھیں (جیسے قومِ ہود)۔ کچھ قومیں فضول خرچ اور عیاش تھیں (جیسے صالح کی قوم)۔ کچھ قومیں جنسی بے رہروی کا شکار تھیں (جیسے جنابِ لوط کی قوم)۔ کچھ بہت مال پرست تھیں جس کے لیے وہ اپنے کاروبار میں دھوکا دہی کا مظاہرہ کرتی تھیں (جیسے شعیب کی قوم)۔ کچھ قوموں کو اپنی ثروت مندی کا گھمنڈ تھا (جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم)۔ لیکن انھیں جو عذاب دیا گیا وہ تقریبًا ایک دوسرے سے ملتا جلتا تھا، چنانچہ: کچھ تو بجلی کی کڑک اور زلزلے سے نابود ہو گئیں (جیسے شعیب، صالح، لوط اور ہود علیم اسلام کی قومیں)۔ کچھ طوفان اور سیلاب کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں (جیسے نوح علیہ اسلام کی قوم)۔ درحقیقت، جوزمین ان کے عیش و آرام کا گہوارہ تھی وه ایک دن ان کے لیے وبال جان بن گئی اور انھیں صفحہ ہستی سے مٹادیا اور جو ہوا اور پانی ان کی زندگی کے ضامن تھے ان کی موت پرعمل درآمد کرنے کے لیے تیارکیے گئے۔ کس قدر عجیب کیفیت ہے انسان کی کہ اس کی زندگی و موت کے منہ میں ہے اور موت زندگی کے سایے میں ، اس کے باوجود بھی غافل اور مغرور ہے۔

192
26:192
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور یہ (قرآن) عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 197 کے تحت ملاحظہ کریں۔

193
26:193
نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ
روح الامین اسے لے کرنازل ہوا ہے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 197 کے تحت ملاحظہ کریں۔

194
26:194
عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
تیرے(پاک) دل پر تاکہ تو(لوگوں کو) ڈرائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 197 کے تحت ملاحظہ کریں۔

195
26:195
بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ
اسے واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 197 کے تحت ملاحظہ کریں۔

196
26:196
وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور اس (قرآن)کی تعریف تو گزشتہ لوگوں کی کتابوں میں بھی آ چکی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 197 کے تحت ملاحظہ کریں۔

197
26:197
أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَـٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
کیا یہی نشانی ان کیلئے کافی نہیں ہے کہ نبی اسرائیل کے علماء اس سے اچھی طرح واقف ہیں ؟

گزشتہ کتابوں میں قرآن کی عظمت

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ انبیاء کی سات داستانوں کے بیان کرنے اور ان کی تاریخ میں پوشیدہ درس ہائے عبرت کا ذکر کرنے کے بعد قرآنِ مجید ایک بار پھر اسی گفتگو کی طرف لوٹ جاتا ہے جس سے اس سورت کا آغاز ہوا تھا۔ یعنی قرآنِ مجید کی عظمت اور خدا کے کلامِ مبین کی حقانیت کی طرف، چنانچہ فرماتا ہے: یہ عالمین کے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے (وانه لتنزيل رب العالمين)۔ اصولی طور پر گزشتہ انبیا کی سرگزشت اور وہ بھی نہایت صحیح اور دقیق انداز میں کہ جس میں نہ تو کوئی خرافات ہے اور نہ جھوٹے افسانے ہیں جب کہ وہ ماحول افسانوں اور قصے کہانیوں کا تھا اور پھر ان صحیح واقعات اور داستانوں کو وہ شخص بیان فرما رہا ہے جس نے مطلقاً کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور یہ اعجاز قرآن کی ایک علامت ہے۔ اسی وجہ سے آگے چل کر ارشاد فرمایا گیا ہے: اسے روح الامین خدا کی طرف سے لایا ہے (نزل به الروح الامین)۔ اگر وحی کا وہ فرشتہ اور "پروردگار کا روح امین" اسے خداوندِ عالم کی طرف سے نہ لاتا تو یہ کلام اس قدر روشن، تابناک اور ہر قسم کے خرافات اور باطل قصے کہانیوں سے قطعاً پاک نہ ہوتا۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہاں پر وحی کے فرشتے کی دو عنوانوں سے توصیف کی گئی ہے۔ ایک عنوان ہے " روح" اور دوسرے "امین "- روح جو حیات کا سرچشمہ ہوتی ہے اور "امانت" جو ہدایت اور رہبری کی شرط اولین شمار ہوتی ہے۔ جی ہاں اسی "روح الامین" نے قرآنِ مجید خداوندِ عالم کی طرف سے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تو لوگوں کو ڈرائے (على قلبك لتكون من المنذرین)۔ [تشریحی نوٹ: ظاہر ہے کہ یہاں پر "قلب" سے مراد پیغمبرِ اکرم کی پاک و پاکیزہ روح ہی ہے نہ کہ گوشت کا وہ لوتھڑا جو گردش خون کا سبب ہوتا ہے یہاں پر یہ تعبیر اس بات کی طرف اشاره ہے کہ آپ نے اپنی روح کے ساتھ قران مجید کو قبول فرمایا ہے اور اس عظیم آسمانی معجزے کا مرکز آپ کا قلب ہی ہے]۔ مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں کو ڈرائے اور انھیں اس خطرناک انجام سے مطلع کرے جو توحید سے منحرف ہو جانے کی وجہ سے ان کے دامن گیر ہو گا۔ گزشتہ لوگوں کی تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ موجودہ لوگوں کا دل بہلایا جائے اور انھیں قصے کہانیوں میں ہی مشغول رکھا جائے بلکہ اصلی مقصد یہ ہے کہ ان کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے اور انھیں بیدار کیا جائے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ ان کی صحیح تربیت کی جائے اور انھیں انسان بنایا جائے۔ تاکہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسے واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا بے (بلسان عربی مبین)۔ قرآنِ مجید فصیح عربی میں نازل ہوا ہے اور ہر قسم کے ابہام سے بھی خالی ہے تاکہ ڈرانے اور بیدار کرنے کے لیے بہت واضح اور گویا ہو کیونکہ اس دور کے لوگ نہایت ہی بہانہ ساز اور ہٹ دھرم تھے۔ وہی عربی زبان جو دنیا کی کامل ترین زبان ہے اور دنیا کے مفید ترین اور غنی ترین ادبیات پر مشتمل ہے۔ اس نکتے کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ لفظ "عربی" کا ایک معنی خود فصاحت اور بلاغت بھی ہے البتہ کیفیت زبان سے قطع نظر کرتے ہوئے۔.... جیسا کہ راغب اصفہانی مفردات میں لکھتے ہیں: والعربي، الفصيح البين من الكلام۔ عربی فصیح اور آشکارا گفتگو کو کہتے ہیں۔ ابنِ منظور نے بھی "لسان العرب" میں یہی معنی لکھا ہے: تو اس صورت میں یہ مقصد نہیں ہو گا کہ عربی زبان پر انحصار کیا گیا ہے بلکہ مدعا یہ ہو گا کہ قرآنِ مجید کی صراحت اور مفہوم کی وضاحت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے آئنده آیات بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہیں اور سورہ حٰم سجدہ کی آیت 44 میں بھی آیا ہے۔ ولو جعلناہ قرانًا اعجميا لقائوا لولا فصلت ایاته اگر ہم اس قرآن کو گونگا اور مبہم نازل کرتے تو وہ لوگ کہتے کہ اس قرآن کی آیات روشن اور واضح کیوں نہیں بیان کی گئیں؟ یہاں پر اعجمی کا معنی غیر فصیح کلام ہے۔ اس کے بعد قرآنِ مجید کی حقّانیت کے دلائل میں سے ایک اور دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کتاب کی توصیف گزشتہ لوگوں کی کتابوں میں بھی بیان کی جا چکی ہے اور انھوں نے آئندہ زمانے میں اس کے ظہور کی خوشخبری دی ہے (وانه لفی زبر الاولین)۔ ["زبر" "زبور" کی جمع ہے جو کتاب کے معنی میں ہے اور دراصل یہ "زبر" (بر وزن "ابر" کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے "لکھنا"]۔ خصوصًا جنابِ موسٰی علیہ السلام کی تورات میں اس پیغمبر اور اس آسمانی کتاب کے اوصاف کی طرف اشارہ موجود تھا اور علماءِ بنی اسرائیل ان اوصاف سے بخوبی واقف تھے یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "اوس" اور "خزرج" کے دو قبیلوں کا پیغمبرِ اسلامؐ پر ایمان لانے کا سبب بھی وہ پیش گویاں تھیں جو بنی اسرائیل کے علماء اس پیغمبر کے ظہور اور اسی آسمانی کتاب کے نزول کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ اس لیے قرآنِ مجید فرماتا ہے: آیا یہی نشانی ان کے لیے کافی نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علماء اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ (او لم يكن لهم اية ان یعلمه علماء بنی اسرآیل)۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس ماحول میں بنی اسرائیل کے اس قدر علماء موجود تھے اور مشرکین کے ساتھ مکمل طور پر ان کی نشست و برخاست تھی یہ بات قطعاً ناممکن تھی کہ قرآنِ مجید اپنے بارے میں بغیر کسی ثبوت کے اتنی بڑی بات کہہ دے کیونکہ اس کی تردید میں ہر طرف سے شور و غوغا بلند ہو جاتا لہذا معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ آیات کے موقع پر یہ اس قدر واضح اور اظہر من الشمس تھا کہ کوئی بھی اس کا انکار نہ کر سکا۔ سورہ بقرہ کی آیت 89 میں بھی ہے: وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا فلما جاءهم ماعرفوا كفروا به وہ (یہودی) لوگ اس سے پہلے، مشرکین کے ظلم و ستم کے سامنے (پیغمبرِ اسلام کے ظہور کے ذریعہ) فتح و کامرانی کی آرزو کیا کرتے تھے، لیکن جب وہی کتاب اور پیغمبر جنھیں وہ پہلے سے پہچانتے تھے ان کے پاس آ گئے تو وه اسکے منکر ہو گئے۔ یہ سب کچھ قرآن کی صدقِ گفتار اور اس کی حقانیتِ دعوت کا روشن گواہ ہے۔

198
26:198
وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ
اگر ہم اسے کسی عجمی (غیر عربی)پر نازل فرماتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔

199
26:199
فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ
اور وہ اس کو ان کے سامنے پڑھتا تو وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔

200
26:200
كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
(جی ہاں !) ہم قرآن کو اسی طرح مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔

201
26:201
لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
وہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔

202
26:202
فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
(عذاب الٰہی) اچانک ان کو آلے گا کہ انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔

203
26:203
فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ
پس وہ اس وقت کہیں گے:کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے؟

اگر قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا تو۔.....؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ان آیات میں سب سے پہلے کفار کے ایک اور احتمالی بہانے کی پیش بندی کی گئی ہے اور گزشتہ آیات میں قرآنِ مجید کے واضح عربی زبان میں ہونے کے بارے میں جو گفتگو تھی اس کی تکمیل کی گئی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی (غیر عرب اور غیر فصیح) پر نازل کرتے۔..... (ولو نزلناه على بعض الاعجمین)۔ اور وہ ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے پڑھتا تو وہ ہرگز ایمان نہ لاتے (فقرأه عليهم ما كانوا به مؤمنين)۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں "عربی" کا لفظ کبھی تو ان لوگوں پر بولا جاتا ہے جو اہلِ عرب کی نسل سے ہوں اور کبھی فصیح کلام کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس کا مقابل لفظ "عجمی" ہے اس کے بھی دو معنی ہیں ایک غیر عرب نسل اور دوسرے غیر فصیح کلام اور مندرجہ بالا آیت میں دونوں معانی کا احتمال ہے لیکن جو بات زیادہ قرینِ عقل معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر "غیر عرب نسل" کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عربوں کی نسل پرستی اور قومی تعصب اس قدر شدید ہے کہ اگر قرآنِ مجید کسی غیر عرب شخص پر نازل ہوتا تو ان کے تعصب کی موجیں انھیں اس کے قبول کرنے سے مانع ہوتیں حالانکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ایک حقیقی عرب خاندان کے شریف انسان پر فصیح و بلیغ بیان کے ساتھ نازل ہوا ہے اور کتبِ آسمانی میں بھی اس کے بارے میں بشارت آ چکی ہے اور بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی گواہی دے چکے ہیں پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے اگر رسول میں یہ اوصاف بالکل نہ ہوتے تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ پھر تاکیدِ مزید کے طور پر فرمایا گیا ہے: ہم قرآنِ مجید کو اسی طرح مجرموں کے دلوں میں سے گزارتے ہیں (کذلك سلكناہ في قلوب المجرمين)- واضع بیان اور ایسے شخص کی زبان کے ذریعے جو انھی میں سے ہے اور وہ لوگ اس کے اخلاق اور طرزِ کلام سے بھی آشنا ہیں اور وہ ایسے مطالب پیش کرتا ہے کہ جن کی تائید سابقہ کتابوں میں بھی آ چکی ہے۔ المختصر اس قرآن کو ان تمام اوصاف کے ساتھ جس کی قبولیت ہر ایک کے لیے آسان ہو اس گناہ گار قوم کی طرف بھیجا ہے لیکن یہ بیمار دل اسے قبول نہیں کرتے جس طرح صحیح و سالم اور مقوی غذا کو غیر سالم اور بیمار معدہ قبول نہیں کرتا اور اسے واپس پلٹا دیتا ہے۔ (توجہ رہے کہ "سلكناه" "سلوک" کے مادہ سے ہے جس کا معنی "راستے سے گزرنا" ہے اور ایک راہ سے آنا اور دوسری راہ سے گزر جانا)۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے: ایسی صورت میں یہ ہٹ دھرم لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں (لا يؤمنون به حق يروا العذاب الأليم)۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ "كذلك سلكناه في قلوب المجرمين" سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس عصبيّت، ہٹ دھرمی اور قبول نہ کرنے کی عادت کو ان کے اپنے جرائم اور گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں میں اتار دیا۔ اس معنی کی رو سے یہ آیت بعنینہ "ختم الله على قلوبهم" یعنی خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی کے مانند ہوجائے گی۔ لیکن پہلی تفسیر اول و آخر کی آیات سے زیادہ ہم آہنگ ہے لہذا بہت سے مفسرین نے اسے ہی اختیار کیا۔ [تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا چند آیات میں مفرد کی پانچ ضمیریں ہیں ان الفاظ میں ملتی ہیں "نزلناه"، "قرأه"، "وما كانوا به"، "سلكناه" اور "لا يؤمنون به" پہلی تفسیر کے مطابق یہ سب کی سب قرآن کی طرف لوٹ رہی ہیں لیکن دوسری تفسیر کے مطابق بعض ضمیریں قرآن کی طرف اور بعض ہٹ دھرمی اور عدم قبولیت کی جانب پلٹ رہی ہیں لیکن جب تک قرینہ موجود نہ ہو ایسا کرنا مشکل ہے]۔ ہاں ہاں! وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذابِ الٰہی ناگہانی طور پر ان کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اور انھیں اس کا خیال بھی نہ ہو (فياتیهم بغتة وهم لا يشعرون)۔ [توجہ رہے کہ "فيأتيهم" کا جملہ منصوب ہے اور "حتی یروا" پر اس کا عطف پڑ رہا ہے لہذا اس تناظر میں اس کا معنی بیان کرنا چاہیے]۔ اس میں شک نہیں کہ اس عذابِ الٰہی سے مراد جو انھیں اچانک اپنی لپیٹ میں لے لے گا یہی دنیاوی عذاب، نیست و نابود کر دینے والی بلائیں ہیں جسے "استیصالی عذاب" کہتے ہیں۔ اسی لیے اس آیت کے بعد فرمایا گیا ہے: ایسی صورت میں وہ اپنی صحیح حالت کی طرف لوٹ آئیں گے، اپنے شرمناک ماضی پر پچھتائیں گے، اپنے خطرناک مستقبل سے سخت خوف کھائیں گے "اور کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت مل جائے گی" تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور اپنے برباد ماضی کو آباد کریں (فيقولوا هل نحن منظرون)۔

چند ایک نکات: 1- قومی اور قبائلی تعصبات

اس میں شک نہیں کہ انسان جب سرزمین، قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اسی سے اس کو عشق کی حد تک محبت ہوتی ہے اور اس کا جغرافیائی، قومی اور قبائی تعلق نہ صرف معیوب ہی نہیں بلکہ معاشرتی زندگی کے لیے ایک موثر عامل بھی ہے لیکن اس تعلق کے لیے کوئی حد اور حساب ہے کہ اگر اس سے بڑھ جائے تو یہ نقصان دہ ہے بلکہ ہولناک مصیبت کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ لہذا جب قومی اور قبائلی تعصب کی مذمت کی گئی ہے وہ یہی حد سے بڑھ جانے والا تعلق ہوتا ہے۔ "تعصّب" اور" عصبّیت" دراصل"عصب" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے وہ چربی جو اعضاء کے جوڑوں کو آپس میں مربوط رکھتی ہے۔ اسی مناسبت سے ہر قسم کے ارتباط اور باہمی وابستگی کو "تعصب" اور "عصبیت" کہنے لگے، لیکن عام طور پر یہ لفظ افراط اور مذموم مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر قوم، قبیلے، نسل اور وطن کا حد سے زیادہ دفاع بہت سی جنگوں کا سبب بنا ہے اور قبائلی اور نسلی آداب و رسوم کے نام پر بہت سی برائیاں ایک سے دوسری قوم کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی دفاع اور حد سے بڑھ جانے والی طرفداری بسا اوقات اس حد تک جا پہنچتی ہے کہ انسان کی نگاہ میں اپنی قوم اور قبیلے کا بد ترین انسان، بہترین انسان بن جاتا ہے اور دوسری قوم اور قبیلے کا بہترین شخض بھی بد ترین شخص سمجھا جاتا ہے اور یہی آداب و رسوم کا بھی حال ہے گویا نسلی تعصب خود پرستی اور جہالت کا ایک پردہ ہوتا ہے جو انسان کی عقل و ادراک پر پڑ جاتا ہے جس سے وہ صحیح فیصلہ کرنے کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ بعض قوموں میں تعصّب زبردست حد تک پایا جاتا ہے جن میں سے وہ عرب بھی ہیں جو اپنے تعصب میں عالمی شہرت کے حامل ہیں اور ان کے بارے میں ہم ابھی آیات بالا میں بھی پڑھ چکے ہیں ان میں جاہلیت عرب کا تعصب اس حد تک پایا جاتا تھا کہ اگر قرآنِ مجید کسی غیر عرب پر نازل ہوتا تو وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ روایات میں بھی تعصب کو اخلاق مذمومہ کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے اور اس کی زبردست مذمت کی گئی ہے حتٰی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: من كان في قلبه حبة من خردل من عصبية بعثه الله يوم القيامة مع اعراب الجاهلية جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی تعصب ہو گا خداوندِ عالم اسے قیامت کے دن زمانه جاہلیت کے اعراب کے ساتھ محشور فرمائے گا۔ [اصولِ کافی جلد 2 ص 232 (باب، العصبیہ)]۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: من تعصب او تعصب له فقد خلع ربقة الايمان من عنقه جس شخص نے تعصب برتا یا جس کے لیے تعصب برتا گیا اس نے ایمان کے حلقے کو اپنی گردن سے اتار پھنیکا۔ [اصولِ کافی جلد 2 ص 232 (باب، العصبیہ)]۔ روایات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ "ابلیس پہلا وہ شخص ہے جس نے تعصب کا مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے تعصب کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جامع و مانع اور مدلل گفتگو فرمائی ہے جو کہ "خطہ قاصعہ" میں موجود ہے ہم اس کا ایک حصہ ذیل میں درج کرتے ہیں، امام فرماتے ہیں: اما ابلیس فتعصب على أدم لاصله وطعن عليه في خلقته، فقال انا ناری وانت طيني ابلیس نے اپنی تخلیق کے بل بوتے پر آدمؑ کے ساتھ تعصب برتا اور آدم کی تخلیق پر طعن و تشنيع کرتے ہوئے کہا کہ میں آگ سے ہوں اور تو مٹی سے۔ پھر آگے چل کر امامؑ فرماتے ہیں: فان كان لابد من العصبية فلیکن تعصبكم لمكارم الخصال و محامد الافعال و محاسن الأمور۔ اگر تعصب کے بغیر چارہ نہیں ہے تو پھر تمھارا یہ تعصب پسندیدہ اخلاق، نیک افعال اور اچھے کاموں کے لیے ہونا چاہیے۔ [نہج البلاغہ ، خطبہ قاصعہ نمبر192]۔ ضمنی طور پر اس حدیث سے بھی بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک پسندیدہ اور مستحسن واقعیت پر ڈٹ جانا نہ صرف قابل مذمت نہیں بلکہ انسان کے جاہلیت کے غلط رسم و رواج اور ربط و ضبط کی وجہ سے پیدا ہونے والے روحانی خلا کو بھی پر کر سکتا ہے۔ اسی لیے تو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے جب "تعصب" کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: العصبية التي يأثم علیها صاحبها ان يرى الرجل شرار قومه خیرًا من خیار قوم أخرين، وليس من العصبية ان يحب الرجل قومه، و لكن من العصبية أن يعين قومه على الظلم جس تعصب کی وجہ سے انسان گناہ گار ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی قوم کے بڑے لوگوں کو دوسری قوموں کے اچھے افراد سے بہتر سمجھا جائے اگر کوئی شخص اپنی قوم اور قبیلے سے محبت رکھتا ہے تو یہ تعصب نہیں ہو گا بلکہ عصبیت تو اس بات میں ہے کہ انسان اپنے قبیلے اور قوم کی ظلم و ستم میں امداد کرے۔ [اصول کافی (باب العصبیہ) جلد 2 ص 233]۔ آیات اور روایات میں عصبیت کو "حمیت" سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یا اسے "حمیۃ جاہلیہ" کا نام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کرنے کی بہت سی باتیں ہیں لیکن اپنی گفتگو کو دو حدیثوں کے بیان پر ختم کرتے ہیں: امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الله عزوجل يعذب ستة بست، العرب بالعصبية والدهاقنة بالكبر، والامراء بالجور، والفقهاء بالحسد، والتجار بالخيانة، واهل الرستاق بالجهل خداوندِ عالم چھ طرح کے لوگوں کو چھ طرح کی صفات کی وجہ سے معذب کرے گا عربوں کو ان کے تعصب کی بنا پر، جاگیر داروں (اور صاحبان ثروت) کو ان کے تکبر کی وجہ سے، حکمرانوں کو ان کے ظلم و جبر کی وجہ سے، فقہاء کو ان کے حسد کی بنا پر، تاجروں کو خیانت کی وجہ سے اور دیہاتیوں کو ان کی جہالت کی بناء پر۔ [بحار جلد 73 ص 289]۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر روز چھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے: كان رسول اللہ (ص) یتعوذ في كل يوم من ست من الشك والشرك والحمية والغضب والبغي و الحسد [بحار جلد 73 ص 289]۔ شک، شرک، حمیت (تعصب)، غضب، ظلم اور حسد سے [بحار الانوار جلد 73، ص 289]۔

2- دنیا کی طرف لوٹ جانے کی درخواست

مرنے کے فوراً ہی بعد گناہ گار اور مجرم لوگوں کی آہ و حسرت کا دور شروع ہو جاتا ہے اور ان کے اندر دنیا کی طرف پلٹ جانے کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر بے فائده آه و فریاد اور ناقابلِ قبول دعائیں شروع ہو جاتی ہیں۔ آیاتِ قرآنی میں اس کے بہت سے نمونے موجود ہیں جن میں سے ایک سادہ ترین نمونہ انھی آیات میں موجود ہے جن کی ہم تفسیر بیان کر رہے ہیں یعنی: "هل نحن منظرون" یعنی آیا ہمیں مہلت ملے گی؟ سوره انعام کی آیت 27 میں ہم پڑھتے ہیں: يا ليتنا نرد ولا يكذب بایات ربنا اے کاش ہم واپس لوٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کرتے۔ سوره احزاب کی آیت 66 میں آیا ہے: يا ليتنا اطعنا الله و اطعنا الرسولا اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ سورہ مومنون کی آیات 99 تا 100 میں آیا ہے: حتى اذا جاء احد ھم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمل صالحًا فيما تركت۔ مجرم لوگوں کی کیفیت برقرار رہے گی یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے پاس موت آ جائے گی تو وہ کہے گا خداوندا! مجھے واپس پلٹا دے تاکہ میں اپنے گزشتہ تاریک اعمال کی تلافی کر کے اعمالِ صالحہ انجام دوں۔ یہی صورتِ حال رہے گی یہاں تک کہ گناہ گار لوگ آتش جہنم کے کنارے لا کھڑے کیے جائیں گے تو وہاں پر بھی وہ اپنی یہی بات دہرائیں گے۔ ملاحظ ہو سورہ انعام آیہ 27: ولو ترٰی اذ وقفوا على النار فقالوا یا لیتنا نرد ولا نكذب بآيات ربنا ونكون من المؤمنين اگر آپ مجرموں کو اس وقت دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ آتش جہنم کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اور کہیں گے اے کاش! ہم پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومنین سے ہوتے۔ لیکن ظاہر ہے کہ امرِ الٰہی میں ایسی بازگشت ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ناپختہ میوہ اپنے درخت کی طرف واپس جا کر پک سکتا ہے اور ناقص پیدا ہونے والا بچہ رحم مادر کی طرف واپس پلٹایا جا سکتا ہے تو ایسی بازگشت بھی ممکن ہو سکتی ہے لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہوا لہذا مجرم ٹولہ بھی واپس نہیں پلٹایا جائے گا۔ لہذا اس افسوس کے تدارک کا بہترین راستہ یہی ہے کہ یہیں پر رہ کر عملِ صالح انجام دیئے جائیں اور گناہوں سے توبہ کی جائے کیونکہ ابھی فرصت باقی ہے وگرنہ باقی سب بے فائدہ ہے۔

3- عجم کی ایک فضیلت

اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کا ایک فرمان ہے جسے علی بن ابراہیم نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے: لو نزل القرآن على العجم ما أمنت بہ العرب وقد نزل على العرب فامنت به العجم فهذه فضيلة العجم۔ اگر قرآن عجم پر نازل ہوتا تو عرب اس پر ایمان نہ لاتے لیکن عرب پر نازل ہوا ہے اور عجم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور یہ عجمیوں کی ایک فضیلت ہے۔ [تفسیر نور الثقلين جلد 4 ص 165]۔ اس سلسل میں تفسیر نمونہ کی تیسری جلد (سورہ مائدہ کی آیت 54 کے ذیل) میں بھی کچھ ذکر کیا گیا ہے۔

204
26:204
أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ
کیا وہ ہمارے عذاب کیلئے جلدی کرتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

205
26:205
أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ
کیا تم نے غور کیا کہ اگر ہم انہیں سالہا سال بھی اس زندگی سے بہرہ مند کر دیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

206
26:206
ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ
پھر وہ عذاب ان کے پاس آ پہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

207
26:207
مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
تو دنیا سے اس قدر فائدہ اٹھانا ان کیلئے سود مند نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

208
26:208
وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ
ہم نے کسی بھی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ وعظ ونصیحت کرنیوالے (انبیا) وہاں موجودتھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

209
26:209
ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور ہم ہرگز ظالم نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

210
26:210
وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ
یہ آیات شیطانوں (اور جنون)نے نازل نہیں کیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

211
26:211
وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ
یہ چیز ان کے لائق بھی نہیں اور نہ یہ کام ان کے بس میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 212 کے تحت ملاحظہ کریں۔

212
26:212
إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ
وہ تو (ان آسمانی خبروں کے) سننے سے دور رکھے گئے ہیں۔

قرآنِ پاک پر ایک اور تہمت

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

چونکہ گزشتہ آیات اس جملے پر ختم ہو گئی تھیں کہ جب مجرم اور گناه گار لوگ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور موت کی وادی میں اتر چکے ہوں گے تو دوبارہ پلٹ جانے کی درخواست کریں گے تاکہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو موجوده آیات انھیں دو طرح سے جواب دے رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ آیا وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی کرتے ہیں (افبعذابنا يستعجلون)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کئی مرتبہ طنزیہ اپنے پیغمبر سے اس عذاب کے جلد آنے کا تقاضا کیا کرتے تھے جس کے متعلق وہ تمہیں پیشگوئی کر چکے تھے لیکن اب جبکہ تم اسی عذاب میں پھنس چکے ہو تو اس سے مہلت اور چھٹکارے کی درخواست کر رہے ہو تاکہ اس طرح سے تم اپنے ماضی کی تلافی کر سکو؟ ایک دن تم اس چیز کو مذاق سمجھتے تھے لیکن آج اسے حقیقت سے بالا تر حقیقت دیکھ رہے ہو۔ بہر صورت بات خواہ کچھ بھی ہو پروردگارِ عالم کا طریقہ کار یہی ہے کہ جب تلک مہلت نہ دے اور اتمام حجت نہ کر لے کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا لیکن جب اتمام حجت ہو جائے اور کہنے کے لائق باتیں کہی جا چکی ہوں اور کافی حد تک لوگوں کو مہلت مل جائے اور پھر بھی وہ راہِ راست پر نہ آئیں تو پھر اللہ انھیں ایسے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ جس سے چھٹکارا ناممکن ہوتا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ: اگر ہم انھیں اور بھی کئی سال اس دنیاوی زندگی سے بہرہ مند کر دیں۔..... (افرءیت ان متعناهم سنین)۔ پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا ان کے دامن گیر ہو گا.....(ثم جاء هم ما كانوا يوعدون)۔ یہ سامانِ حیات انہیں کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا (ما اغنی عنهم ما كانوا يمتعون): بالفرض اگر انھیں مہلت دے بھی دی جائے جبکہ اتمامِ حجّت کے بعد کوئی مہلت نہیں دی جائے گی اور بالفرض کئی اور سال بھی وہ یہیں پر رہ جائیں اور غرور و غفلت میں مگن رہیں تو کیا اس دنیاوی زندگی میں بیشتر مادی مفادات کے علاوہ اور کوئی کام کریں گے؟ کیا وہ اپنے گزشتہ دور کی تلافی کریں گے؟ یقینًا نہیں اور بالکل نہیں، پھر جب عذاب نازل ہو تو کیا یہ چیزیں اس وقت ان کی کوئی مشکل حل کر سکیں گی؟ یا ان کے انجام میں کوئی تبدیلی پیدا کر دیں گی؟ زیرِ بحث آیات کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ لوگ دنیا کی طرف دوبارہ واپس جانے کی درخواست اس لیے نہیں کریں گے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں گے یا اپنے گناہوں کی تلافی کریں گے بلکہ ان کی درخواست اس لیے ہوگی کہ وہ دنیا میں جا کر اس جہان کی ناپائیدار نعمتوں سے بہرہ مند ہوں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں لیکن یہ بات بھی انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی اور جلد یا بدیر وہ اس فانی دنیا سے عالمِ بقا کو کوچ ضرور کریں گے اور اپنے اعمال کے نتائج ضرور بھگتیں گے۔ یہاں پر ایک یا کئی سوال پیدا ہوتے ہیں بعد والی آیات جن کا جواب دیتی ہیں اور وہ یہ کہ: اصولی طور پر جب خداوندِ عالم کو ہر قوم کے مستقبل کا علم ہے تو پھر مہلت دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اور یہ بھی کہ جب گزشتہ امتوں نے پے در پے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور جیسا کہ ان میں سے بہت سے انبیاء کی داستان کے آخر میں "وما کان اكثرهم مؤمنین" آیا ہے یعنی ان میں سے اکثریت ایمان نہیں لاتی رہی تو پھر انبیاء کے پے درپے بھیجنے کا کیا یہی مقصد تھا کہ وہ آئیں اور لوگوں کو ڈرائیں اور تبلیغ کریں؟ انھی سوالات کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ یہ خدائی طریقہ کار ہے کہ ہم کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک ان کی طرف خبردار کرنے والے نہ بھیجیں اور انبیاء وعظ و نصیحت کے لیے اور اتمامِ حجت کے لیے بھیجے جاتے ہیں (وما اهلكنا من قرية الا لها منذرون)۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور بیدار ہو جائیں اور ان کے لیے حق کی طرف پلٹ آنے کا موقع موجود ہو (ذكرٰی)۔ [تشریحی نوٹ: یہاں پر "ذکرٰی" کا کیا اعراب بنتا ہے۔ مفسرین نے چار احتمال کا ذکر کیا ہے پہلا یہ کہ ممکن ہے یہ کلمہ "منذرون" کا "مفعول له" ہو (مندرجہ بالا تفسیر بھی اسی بنیاد پر ہے) دوسرا یہ کہ "منذرون" کا "مفعول مطلق" ہو کیونکہ "نذار" اور "تذکر" قریب المعنی ہیں۔ تیسرا یہ کہ "منذرون" میں جو ضمیر ہے یہ کلمہ اس سے حال بن رہا ہے اور چوتھا یہ کہ (هذه) مبتدا محذوف کی خبر ہو یعنی "هذه ذكری")]۔ اور اگر ہم اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ڈراتے اور تمام حجت کیے بغیر انھیں عذاب میں مبتلا کر دیتے تو یہ ظلم ہوتا حالانکہ ہم ہرگز ظالم و ستم گار نہیں ہیں بلکہ اصولی طور ظلم و ستم ہمارے شایان شان ہی نہیں ہے (وما كنا ظالمین)۔ یہ ظلم ہو گا کہ ہم غیر ظالم لوگوں کو ہلاک کر ڈالیں یا ظالموں کو کافی حد تک اتمامِ حجت کیے بغیر نیست و نابود کر دیں۔ جو کچھ ان آیات میں ذکر ہوا ہے درحقیقت، وہ مشہور و معروف عقلی اصول ہے جسے "قاعده قبح عقاب بلا بیان" کہتے ہیں۔ اسی کی مانند سورہ بنی اسرائیل کی آیت 15 میں بھی آیا ہے: وما كنا معذبين حتٰى نبعث رسولا ہم لوگوں کو اس وقت تک ہرگز عذاب نہیں دیتے جب تک ان میں کسی رسول کو نہ بھیج دیں جو انھیں حقائق بتائے۔ یقینا کافی حد تک حقائق بیان کیے بغیر سزا دینا قبیح اور ظلم ہے اور خداوندِ حکیم عادل ہرگز ایسا نہیں کرتا اور یہ وہی چیز ہے جسے علمِ اصول میں "اصل برائت" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی جس حکم کے ثبوت کے لیے کافی حد تک دلیل موجود نہ ہو۔ اسی اصول کی بناء پر اس کی نفی ہو جاتی ہے (مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد 12 سورة بنی اسرائیل کی 15 ویں آیت کی تفسیر کا مطالعہ فرمائیں)۔ پھر ایک اور بہانے یا دشمنانِ قرآن کی ایک اور ناجائز تہمت کا جواب دیا گیا ہے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم) کا رابطہ کسی جن کے ساتھ ہے۔ وہ انھیں یہ آیات تعلیم دیتا ہے جبکہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ یہ تنزيل من رب العالمین ہے۔ یہاں پر ارشاد فرمایا گیا ہے: شیاطین اور جنات نے ان آیات کو نازل نہیں کیا ہے (وما تنزلت به الشياطين)۔ پھر دشمنوں کے اس بے بنیاد الزام کے جواب میں فرمایا گیا ہے: جنوں اور شیطانوں کے ہرگز لائق نہیں ہے کہ وہ اس جیسی کتاب نازل کریں (وما ينبغي لهم)۔ یعںی اس عظیم کتاب کے مضامین ایسے ہیں جن میں حق کا راستہ، پاکی، عدالت، تقوٰی اور ہر قسم کے شرک کی نفی موجود ہے۔ ان سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب شیطانی افکار اور الہامات سے قطعاً کوئی مناسبت نہیں رکھتی جبکہ شیطانوں کا کام شر و فساد کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ کتاب تو مجسم خیز اور فلاح و بہتری ہے۔ بنابریں، صرف اس کے مضامین پر ہی اگر غور کیا جائے تو اس کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے پھر یہ کہ وہ ایسا کام کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا (وما يستطيعون)۔ اگر ایسا کام کرنا ان کے بس میں ہوتا تو "کاہنوں" جیسے افراد جو نزول قرآن کے زمانے میں شیاطین سے قریبی رابطہ رکھتے تھے وہ اس جیسی کتاب تیار کر لیتے (یا کم از کم وہ مشرکین جن کا شیاطین کے ساتھ رابطہ مسلّم تھا) لیکن وہ سب کے سب عاجز آ گئے اور اپنے عجز سے ثابت کر دیا کہ یہ آیات ان کی طاقت سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ خود کاہنوں کو بھی اس بات کا اعتراف تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت با سعادت کے بعد ان شیاطین کا رابطہ آسمانی خبروں سے منقطع ہو گیا ہے جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا اور وہ (آسمانی خبریں) سننے سے معزول اور برطرف کر دیئے گئے ہیں (انهم عن السمع لمعزولون)۔ کئی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے شیاطین انسانوں میں چلے جایا کرتے تھے اور وہاں کی خبریں چرا لاتے تھے اور باتیں فرشتوں کے درمیان ہوا کرتی تھیں وہ کبھی کبھی اپنے دوستوں کو بتا دیا کرتے تھے لیکن اسلام کے عظیم الشان پیغمبر کی ولادت با سعادت اور آپؐ کے ظہور کے ساتھ ہی باتیں چرانے کا یہ سلسلہ بالکل منقطع ہو گیا اور خبریں دینے کا رابطہ بھی ختم ہو گیا ان باتوں کا تو مشرکین کو بھی علم تھا، بالفرض اگر مشرکین نہ بھی جانتے ہوں تو قرآن یقینًا اس کی خبر دیتا ہے۔ [شیاطین کو چوری سے باتیں سننے سے روک دینے کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے "سیرت ابن ہشام" جلد اول ص 217 کے بعد کے اوراق ملاحظہ فرمائیں۔ ہم نے اس موضوع کی تفسیری تشریح اور شیاطین کے "شہاب ثاقب" کے ذریعے آسمانوں میں سے چوری چھپے باتیں سننے سے مار بھگائے جانے کو تفسیرِ نموںہ کی جلد 11 میں سوره حجر آیت 16 تا 18 کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے]۔ اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات میں قرآنِ مجید نے ایک دلیل کے عنوان سے اس کو بیان کیا ہے۔ اس طرح سے اس تہمت کا جواب تین طریقوں سے دیا گیا ہے: 1- قرآنی مضامین شیطانی القا سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ 2- شیاطین ایسا کام کر بھی نہیں سکتے۔ 3- شیطانوں کو انسانی خبریں چرانے سے روک دیا گیا ہے۔

213
26:213
فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ
خدا کے ساتھ کسی اور کو معبودمت پکارو ورنہ عذاب پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

214
26:214
وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ
اوراپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

215
26:215
وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اپنے بازوان مومنین کیلئے جھکا دو جو تمہاری پیروی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

216
26:216
فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں اس کام سے بیزار ہوں جو تم کرتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

217
26:217
وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ
اور خداوند عزیز و رحیم پر توکل کرو،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

218
26:218
ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ
وہی جو تمہیں اس وقت دیکھتا ہے جب (عبادت کیلئے) کھڑے ہوتے ہو

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

219
26:219
وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور سجدہ گزاروں میں تمہاری نقل و حرکت کو دیکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 220 کے تحت ملاحظہ کریں۔

220
26:220
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
وہی(خدا) سننے اور جاننے والا ہے۔

قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

خداوندِ عالم نے گزشتہ آیات میں اسلام اور قرآن کے بارے میں مشرکین کے موقف کو بیان کرنے کے بعد زیرِ نظر آیات میں اپنے پیغمبر کو ان مشرکین کے سامنے اپنی پالیسی واضح کر دینے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اس ضمن میں پانچ امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خداوندِ عالم سب سے پہلے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو توحید پر عقیدہ راسخ کرنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ توحید ہی تمام انبیاء کی دعوت کا بنیادی عنصر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو، ورنہ سزا پاؤ گے (فلا تدع و مع الله الها أخر فتكون من المعذبين)۔ اس میں ذرّہ برابر شک نہیں ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی الله علیه واله وسلم علمبردار توحید تھے اور آپ کے بارے میں اس عقیدے سے انحراف کا تو تصوّر نہیں کیا جا سکتا لیکن مسئلہ اس قدر اہم ہے سب سے پہلے آپ ہی کی ذات کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنا حساب خود کر لیں دوسرا مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی تربیت کا آغاز خودسازی سے کیا جائے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور مرحلے کا حکم دیا گیا ہے: اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ اور شرک اور حکمِ الٰہی کی نافرمانی سے خوف دلاؤ (وانذر عشيرتك الاقربين)۔ ["عشيرة"، "عشرة" (دس کا عدد) سے مشتق ہے اور چوںکہ دس کا عدد اپنی حد تک ایک مکمل عدد سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے قریبی رشتہ داروں "عشيره" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعے انسان کا ایک مکمل گروپ بنتا ہے۔ ممکن ہے کہ "معاشرت" کا مادہ بھی اسی معنی سے لیا گیا ہو کیونکہ معاشرت ہی سے انسانوں کا ایک کامل مجموعہ تشکیل پاتا ہے]۔ اس میں شک نہیں کہ کسی وسیع انقلابی پروگرام کو سب سے پہلے ایک محدود اور مختصر حلقوں سے شروع کیا جاتا ہے اور کیا ہی بہتر ہو کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتہ داروں سے کریں کیونکہ ایک تو وہ آپ کے پاکیزہ ماضی کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں اور دوسرے قریبی رشتہ داری کی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہی لوگ دوسروں سے زیادہ آپ کی باتوں کو سنیں اس لیے کہ قریبی رشتے دار عموماً دوسروں کی نسبت حسد، کینہ اور دشمنی سے دور ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پیغمبرِ اکرام کسی سے نہ تو سودے بازی کرتے ہیں اور نہ ہی دوغلی پالیسی اپناتے ہیں بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں تک کو توحید، حق اور عدالت کی دعوت سے مستثنٰی نہیں فرماتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اسلام کے اس عظیم پیغمبر نے اس پر عمل درآمد کے لیے ایک منصوبہ بنایا جس کی تفصیل انشاء الله آپ نکات کے ذیل میں پڑھیں گئے۔ تیسرے مرحلے میں دائرہ تبلیغ اور وسیع ہوتا ہے۔ حکم ہوتا ہے: جومومنین تمھاری اتباع کرتے ہیں (ان کا محبت اور تواضع کے ساتھ استقبال کرو اور اپنے بال و پر ان کے لیے جھکا دو "واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين")۔ یہ عمدہ تعبیر ایسی تواضع کے لیے کنایہ ہے جس میں مہر و محبت اور نرمی پائی جائے جیسا کہ پرندے جب اپنے بچوں سے محتب کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بال و پر کھول کر نیچے لے جاتے اور اپنے بچوں کو ان کے اندر لے لیتے ہیں تاکہ ایک تو وہ در پیش احتمالی خطرے سے بچ جائیں دوسرے انتشار اور افتراق کا شکار نہ ہوں اسی طرح پیغمبرِ اسلامؐ کو بھی حکم ہے کہ وہ سچے مومنین کو اپنے پروں کے نیچے لے لیں۔ معنی خیز تعبیر مومنین کے ساتھ محبت کے مختف اہم پہلوؤں کو بیان کر رہی ہے جس میں اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ڈرانے اور خوف دلانے کے حکم کے فورًا بعد اس جملے کا ذکر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اگر تربیتی مسائل بیان کرنے کے لیے کہیں سختی سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے تو فورًا ہی مہر و محبت اور نرمی سے کام لینے کا امر بھی کر دیا گیا ہے تاکہ ان دونوں کو ملا کر مناسب نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔ پھر چوتھا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر وہ تمھاری دعوت قبول نہ کریں اور مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں تو تم گھبراؤ نہیں بلکہ ان سے کہہ دو کہ "میں تمھارے طرزِ عمل سے بیزار ہوں"۔ اس طرح سے اپنا لائحہ عمل ان پر واضح کر دو (فان عصوك فقل اني بریء مما تعملون)۔ ظاہر یہ ہے کہ "عصوک" میں جو ضمیر ہے وہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی رشتہ داروں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی آپ کی دعوت الی الحق کے بعد بھی انھوں نے آپ کا حکم نہ مانا اور اپنی مخالفت کو جاری رکھا تو آپ بھی ان کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کر دیں۔ قرآن کی یہ پیش گوئی بھی پوری ہو کر رہی- نکات کے ذیل میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ چناچہ علی علیہ السلام کے سوا سب لوگوں نے آخرت کی یہ دعوت مسترد کر دی کچھ لوگوں نے تو خاموشی اختیار کر لی اور کچھ نے تمسخر اڑا کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ آخر کار مذکورہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنے پیغمبرؐ کو الله تعالی پانچواں حکم دیتا ہے: اور خداوندِ عزیز و رحیم پر توکل کرو (وتوکل علی العزیز الرحیم)۔ اس طرح کی مخالفتوں سے قطعاً نہ گبھرؤ، دوستوں اور پیروکاروں کی قلّت کی بناء پر اپنے آہنی عزائم پر کاربند رہو تم اکیلے نہیں ہو تمھاری پناہ گاہ ذاتِ خداوندِ عالم ہے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور وہ بے حد رحیم و مہربان ہے۔ وہی خداوند جہاں جس کے عزیز و رحیم ہونے کی توصیف کی گئی ہے۔ وہی خدا جس نے اپنی عظیم قدرت سے فرعون اور اہل فرعون کے ظلم، نمرود اور اس کے حواریوں کے غرور، قومِ نوح کے تکبر اور خود خواہی، قومِ عاد کی دنیا پرستی اور قومِ لوط کی ہوس پرستی کو خاک میں ملا دیا اور ان عظیم انبیاء اور مومنین کو نجات دلائی اور اپنی رحمت کاملہ میں شامل فرمایا جو اقلیت میں تھے۔ وہی خدا جو تجھے حالت قیام میں بھی دیکھتا ہے (الذي يراك حين تقوم)۔ اور سجدہ گزاروں میں بھی تمھاری نقل و حرکت کو ملاحظہ کرتا ہے (وتقلبک في الساجدین)۔ جی ہاں! وہی تو ہے سننے اور دیکھنے والا (انه هو السميع العليم)۔ اس طرح سے خداوندِ عالم کی عزیز اور رحیم کی صفات کے علاوہ تین اور صفات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن سے دلوں کو مزید تقویت ملتی ہے اور پہلے سے زیادہ ڈھارس بندھ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ اپنے رسول کی تکالیف کو دیکھ رہا ہے اور ان کے قیام، سجدے اور حرکت اور سکون سے پوری طرح باخبر ہے۔ آپ کی آواز کو سنتا ہے۔ اور آپ کی ضروریات سے آگاہ ہے۔ اسی لیے ایسے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دینے چاہییں۔

چند اہم نکات: 1- "تقلب في الساجدين" کی تفسیر

"الذي يراك حين تقوم"، "و تقلب في الساجدین" سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے ان دو جملوں کی مختلف تفسیر کی ہے۔ آیات کا ظاہری مفہوم تو وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ: جب آپ قیام کرتے ہیں تب بھی آپ کو خداوندِ عالم دیکھتا ہے اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں تب بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے۔ ممکن ہے قیامِ نماز کے لیے ہو یا عبادت کے واسطے نیند سے بیدار ہونا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا قیام "فرادیٰ نماز" کے لیے ہو جبکہ ممکن ہے "تقلبك في الساجدین" نماز باجماعت کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ سب قیام مراد ہوں۔ "تقلب" کا معنی چلنا پھرنا، حرکت کرنا اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اس سجدے کی طرف اشارہ ہو جو آپ دوسرے نمازیوں کے ساتھ بجا لاتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کے آپ کے اس چلنے پھرنے کی طرف اشارہ ہو جب آپ اپنے نمازی ساتھیوں کا حال معلوم کرنے کے لیے ان کی عبادت کی حالت میں چلتے پھرتے تھے۔ بہر صورت مجموعی طور پر یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے حالات میں سے کوئی حالت اور آپ کی کوششوں میں سے کوئی کوشش خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی جس سے آپ، لوگوں کے حالات سدھارتے اور دینِ حق کی نشر و اشاعت فرماتے ہیں، سب سے خداوندِ عالم آگاہ ہے (توجہ رہے کہ اس آیت میں آنے والے سب افعال کا تعلق مضارع سے ہے جو حال اور مستقبل کا معنی دیتے ہیں)۔ لیکن یہاں پر دو اور تفسیریں بھی ہیں جو آیت کے ظاہر سے تو ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن ہو سکتا ہے اس کی باطنی تفسیریں ہوں۔ پہلی یہ کہ نماز میں آنحضرتؐ کی نگاہیں جو کہ پسِ پشت سے ان پر پڑتی تھیں اس طرح تھیں کہ جس طرح آپ سامنے کی چیزوں کو دیکھ سکتے تھے پسِ پشت بھی اسی طرح چیزوں کو دیکھ سکتے تھے جیسا کہ ایک حدیث میں آپؐ ارشاد فرماتے ہیں: لاترفعوا قبلي ولا تضعوا قبلي، فانّی اراکم من خلقی کما اراکم من امامی نہ تو مجھ سے پہلے سجدہ سے سر اٹھاو اور نہ ہی مجھ سے پہلے سجدہ میں سر رکھو کیونکہ میں تمھیں پسِ پشت بھی ویسا ہی دیکھتا ہوں جیسا کہ سامنے سے دیکھتا ہوں۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے شاہد کے طور پر مندرجہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں]۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کا جنابِ آدمؑ سے جنابِ عبداللہ تک پاک و پاکیزہ انبیاء کی صلبوں میں منتقل ہونا ہے جو پروردگارِ عالم کی نظر کرم کے تحت انجام پایا یعنی جب بھی آپ کا پاکیزہ نور ایک ساجد اور توحید پرست پیغمبر سے دوسرے موحد اور سجدہ گزار نبی میں منتقل ہوتا خدا اس سے آگاہ تھا۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں ہے کہ حضرت امام محمد باقرؑ نے "و تقلبك في الساجدین" کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: في اصلاب النبیین صلوات الله عليهم انبیاء کی صلبوں میں خدا کی ان پر رحمت هو۔ [تفسير نور الثقلین جلد 4 ص 69]۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیهما السلام نے اس جملے کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے: في اصلاب النبيين نبی بعد نبی، حتى اخرجه من صلب ابيه عن نکاح غیر سفاح من لدن آدم انبیاء کی صلبوں میں رکھا، ایک پیغمبر سے دوسرے پیغمبر کی صلب میں، یہاں تک کہ خداوندِ عالم نے آپ کو آپ کے باپ کی صلب سے باہر نکالا، پاکیزہ نکاح کے ساتھ اور ہر طرح کی ناپاکی اور الائشوں سے دور رکھا۔ [تفسير مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں]۔ البتہ آیاتِ بالا اور ان کی تفسیر سے قطع نظر ہمارے پاس ایسے دلائل بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے آباؤ اجداد کبھی مشرک نہیں تھے اور ان کی ولادت ہر قسم کے شرک و برائی سے پاک اور نہایت ہی مقدس ماحول میں ہوئی ہے (مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد 5 میں سورۃ انعام کی آیت 74 کی تفسیر ملاحظہ فرائیں)۔ مندرجہ بالا تفسیریں آیت کی باطنی تفسیریں ہیں۔

2- دعوتِ ذوالعشیره

تاریخِ اسلام کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بعثت کے تیسرے سال اس دعوت کا حکم ہوا کیونکہ اب تک آپ کی دعوت مخفی طور پر جاری تھی اور اس مدت میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی "وانذر عشيرتك الاقربین" اور یہ آیت بھی "فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشركين" (سورہ الحجر آیہ 94) تو آپ کھلم کھلا دعوت دینے پر مامور ہو گئے۔ اس کی ابتداء اپنے قریبی رشتہ داروں سے کرنے کا حکم ہوا۔ [سیرت ابن هشام جلد 1 ص 280]۔ اس دعوت و تبلیغ کی اجمالی کیفیت کچھ اس طرح سے ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جنابِ ابوطالب کے گھر میں دعوت دی اس میں تقریبًا چالیس افراد شریک ہوئے آپ کے چچاؤں میں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولہب نے بھی شرکت کی۔ کھانا کھا لینے کے بعد جب آنحضرت نے اپنا فریضہ ادا کرنے کا ارادہ کیا تو ابولہب نے بڑھ کچھ ایسی باتیں کیں جس سارا مجمع منتشر ہو گیا لہذا آپ نے انہیں کل کے کھانے کی دعوت دے دی۔ دوسرے دن کھانا کھانے کے بعد آپ نے انھیں فرمایا: "اے عبدالمطلب کے بیٹو! پورے عرب میں مجھے کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو اپنی قوم کے لیے مجھ سے بہتر چیز لایا ہو، میں تمھارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں اس دین کی دعوت دوں، تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا جانشین ہو"؟ سب لوگ خاموش رہے سوائے علی بن ابی طالب کے جوسب سے کم سن تھے۔ علی اٹھے اور عرض کی: "اے اللہ کے رسول! اس راہ میں میں آپ کا یار و مددگار ہوں گا"۔ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ علی کی گردن پر رکھا اور فرمایا: ان هذا اخي ووصي و خليفتي فيكم فاسمعوا له و اطیعوه یہ (علی) تمھارے درمیان میرا بھائی میرا وصی اور جانشین ہے اس کی باتوں کو سنو اور اس کے فرمان کی اطاعت کرو۔ یہ سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تمسخر آمیز مسکراہٹ ان کے لبوں پر تھی۔ ابوطالب سے کہنے لگے "اب تم اپنے بیٹے کی ان باتوں کو سنا کرو اور اس کے فرمان پرعمل کیا کرو"۔ اس روایت کو بہت سے اہلِ سنت علماء نے نقل کیا ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: ابن ابی جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم، بہیقی، ثعلبی اور طبری- مؤرخ ابن اثیر نے یہ واقعہ اپنی کتاب "کامل" میں اور "ابوالفداء" نے اپنی تاریخ میں اور دوسرے بہت سے مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے۔ [مزید تفصیل کے لیے کتاب المراجعات ص 130 کے بعد اور کتاب احقاق الحق جلد 4 ص 96 کے بعد کا مطالعہ فرمائیں]۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه والہٖ وسلم ان دنوں کس حد تک تنہا تھے اور لوگ آپ کی دعوت کے جواب میں کیسے کیسے تمسخر آمیز جملے کہا کرتے تھے۔ اور علی علیہ السلام ان ابتدائی ایام میں جبکہ آپ بالکل تنہا تھے کیونکر آنحضرتؐ کے مدافع بن کر آپ کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس وقت قریش کے ہر قبیلے کا نام لے لے کر انہیں بلایا اور انھیں جہنم کے عذاب سے ڈرایا کبھی فرماتے: یابنی کعب انقذوا انفسكم من النار اے بنی کعب! خود کو جہنم سے بچاؤ۔ کبھی فرماتے: یا بنی عبدالشمس۔.................. کبھی فرماتے یا بنی عبدمناف۔.................. کبھی فرماتے: يا نبي هاشم۔.......... کبھی فرماتے: یابنی عبد المطلب۔..... انقذوا انفسكم من النار تم خود ہی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، ورنہ کفر کی صورت میں تمھارا دفاع نہیں کر سکوں گا۔ [تفسیر قرطبی جلد 7 ص 4859 اسی آیت کے ذیل میں (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)]۔

221
26:221
هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ
کیا تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

222
26:222
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ
وہ ہر جھوٹے گنہگا پر نازل ہوتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

223
26:223
يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ
وہ جو کچھ بھی سنتے ہیں (دوسروں کو) بتا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

224
26:224
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ
(پیغمبر شاعر نہیں ہیں )شاعر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

225
26:225
أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

226
26:226
وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ
اور وہ ایسی باتیں کرتے ہیں، جن پر خود عمل نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 227 کے تحت ملاحظہ کریں۔

227
26:227
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں،نیک اعمال انجام دیتے ہیں، اور خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں اور جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے (اور دوسرے مومنین کے) دفاع کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جنہوں نے ظلم کیا ہے انہیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ انہیں کہاں لوٹ کر جانا ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شاعر نہیں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

مندرجہ بالا آیات جو سورہ شعراء کی آخری آیات ہیں ایک بار پھر اس گفتگو کی طرف لوٹ رہی ہیں جن میں دشمنان رسول کی اس تہمت کا ذکر ہے کہ قرآن شيطانی القاء کا مجموعہ ہے چنانچہ یہ آیات دو ٹوک اور دلچسپ انداز میں اس تہمت کا جواب دے رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں (هل انبئکم على من تنزل الشياطين)۔ وہ ہر جھوٹے گناہگار پر نازل ہوتے ہیں (تنزل على كل افاك انعيم)۔ ["افاک"، "افک" (بر وزن پلک) کے مادہ سے جس کا معنی ہے "بہت بڑا جھوٹ اسی لیے "افک" اس شخص کو کہتے ہیں جو بہت بڑا جھوٹا ہو اور "اثیم"، "اثم" (بر وزن اسم) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ایسا کام ہے جو انسان کو ثواب حاصل کرنے سے مؤخر کر دیتا ہے اور عام طور پر گناہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا "اثیم" کا معنی گناہگار ہو گا]۔ شیطان جو کچھ سنتے ہیں اس میں بہت سے جھوٹ ملا کر اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں اور ان میں سے اکثر دروغ گو ہیں (يلقون السمع واكثرهم كاذبون)۔ قصہ مختصر یہ کہ شیطانی القاء کی نشانیاں بالکل واضع ہوتی ہیں جن کے ذریعے انھیں پہچاننا بالکل آسان ہوتا ہے۔ شیطان ایک خطرناک، ایذا رساں، تخریب کار وجود کا نام ہے جس کی بتائی ہوئی باتیں فساد اور تخریب کاری پر مبنی ہوتی ہیں اور اس کے خریدار بھی جھوٹے اور گناہ گار لوگ ہوا کرتے ہیں اور ان امور میں سے کوئی ایک بھی قرآن اور اس کے لانے والے سے مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس سے ذرہ بھر مشابہت رکھتا ہے۔ اس دور کے لوگوں نے جنابِ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو صادق، امین اور مصلح کے طور سے پہچانا تها - قرآنی مضامین میں بھی سوائے توحید، حق، عدالت اور تمام موارد میں اصلاح کی دعوت کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو پھر کس بناء پر تم انھیں شیطانی القاء کے ساتھ متہم کرتے ہو؟ "افاک اثیم" سے مراد وہی "کاہن لوگ" ہیں جن کا شیطانوں کے ساتھ رابطہ تھا اور شياطين چوری چھپے کان لگا کر فرشتوں سے سچی باتیں سنتے تھے اور پھر اپنی طرف سے بہت سے جھوٹ ملا کے کاہنوں کو بتایا کرتے تھے اور پھر کاہن لوگ اس کو مزید مرچ مصالح لگا کر اور جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتایا کرتے تھے سو سو جھوٹ ملا دیا کرتے تھے۔ نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو شیاطین کو آسمانوں پر جانے سے روک دیا گیا اس سے چوری چھپے سننے کا سلسلہ تو ختم ہو گیا اس کے بعد تو جو کچھ بھی وہ کاہنوں کو بتایا کرتے تھے سو فیصد جھوٹ، کذب اور افتراء کا پلندہ ہوتا تھا ایسی صورت میں قرآنی مضامین کا ان کے ساتھ کیا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ اور صادق اور امین رسول کا جھوٹے اور کذاب کاہنوں سے کیونکر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ "يلقون السمع" کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ پہلی تفسیر یہ ہے کہ "يلقون" میں جو ضمیر ہے وہ شیطانوں کی طرف لوٹ رہی ہے اور "سمع" کا معنی مسموعات (یعنی سنی سنائی باتیں) ہے۔ یعنی شیاطین سنی سنائی باتیں اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں (بہت سے جھوٹ ان میں سے اپنی طرف سے ملا دیتے ہیں)۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ "یلقون" میں موجود ضمیر ان جھوٹے گناہ گاروں کی طرف لوٹ رہی ہے جو شیطانوں کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں یا جو کچھ وہ شیطانوں سے سنتے تھے وہ دوسرے لوگوں تک پہنچا دیتے تھے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔ [کیونکہ "یلقون"، "القاء" کے مادہ سے ہے اور اس جیسے مقامات پر خبروں اور مطالب منتقل کرنے کے معنی میں ہے جیسا کہ سورة حج کی آیت 53 میں ہے: ليجعل ما يلقى الشيطان فتنة للذين في قلوبهم مرض اور "اکثرهم كاذبون" کا جملہ بھی شیاطین کے کاموں سے مناسبت رکھتا ہے۔ وگرنہ جو لوگ"أفاك اثيم" ہوتے ہیں وہ سب کے سب جھوٹے ہوتے ہیں نہ کہ اکثر لوگ (غورکیجیئے گا)]۔ زیرِ نظر چوتھی آیت میں پیغمبرِ اسلامؐ پر کفار کی طرف سے لگائے جانے والے ایک اور الزام کا جواب دیا گیا ہے۔ کفار آنحضرت صلی للہ علیہ وآلهٖ وسلم کو "شاعر مجنون" کہا کرتے تھے جیسا کہ سورہ انبیاء کی پانچویں آیت میں آیا ہے۔ کبھی کہتے تھے"بل ھو شاعر" (بلکہ وہ تو شاعر ہے) حتی کہ کبھی آپ کو "شاعر مجنون" بھی کہا کرتے تھے جیسا کہ سوره صافات کی آیت 32 میں ہے: و يقولون و انا لتاركوا اٰلھتنا لشاعر مجنون وہ کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے خداؤں کو ایک پاگل شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں؟ قرآنِ مجید موجودہ آیت میں نہایت منطقی بیان کے ساتھ فرماتا ہے کہ پیغبرِ اکرم صلی علیہ وآلہٖ وسلم کا طریقہ کار شعراء کے طریقہ کار سے بالکل جدا ہے۔ شعراء تخیلات اور تصورات کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں جبکہ رسول اللؐه ایک حقیقی اور واقعی دنیا میں رہ رہے ہیں اور عالمِ انسانیت کو ایک نظام عطا فرما رہے ہیں۔ شعراء عموماً عیش و نوش کے طالب ہوتے ہیں اور یار کے خال و زلفِ دراز کے اسیر ہوتے ہیں (خصوصاً وہ شعراء جو اس دور میں اور حجاز کے ماحول میں رہتے تھے، جیسا کہ ان کے اشعار سے ظاہر ہے)۔ اسی وجہ سے "شعراء وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں" (والشعراء يتبعهم الغاوون)۔ پھر اس کے فوراً بعد اس جملہ کا اضافہ فرمایا گیا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ "وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں" (الم تر انهم في كل واد یھیمون)۔ ["يھيمون"، "هيام" (بر وزن "قیام") کے مادہ سے ہے جس کا معنی بغیر مقصد کے چلنا پھرنا]۔ وہ اپنی شاعرانہ سوچوں اور تشبیہوں میں غرق رہتے ہیں حتٰی کہ جدھر قافیہ انہیں لے جاتا ہے ادھر ہی چل نکلتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً منطق اور استدلال کے پابند نہیں ہوتے۔ ان کے اشعار ان کے ہیجانات کی پیداوار ہوتے ہیں اور یہی ہیجانات اور خیالی دوڑ ہر زمانے میں انھیں ایک نئی وادی میں لے جاتے ہیں۔ جب کسی سے خوش ہو جاتے ہیں تو زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اور اسے اوج ثریا تک پہنچا دیتے ہیں خواہ وہ تحت الثریٰ کا مستحق ہی کیوں نہ ہو اور اسے ایک خوبصورت فرشتہ بنا دیتے ہیں خواہ وہ شیطان لعین ہی کیوں نہ ہو۔ اور جب کسی سے ناراض ہو جاتے ہیں تو اپنی ہجویات کے ذریعے گویا اسے اسفل السافلین تک پہنچا دیتے ہیں خواہ وہ مقدس آسمانی فرشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیا قرآنِ مجید کے جچے تلے مضامین، شاعروں کی فکری سرزمین سے ذرہ بھر بھی مشابہت رکھتے ہیں؟ خاص کر اس دور کے شعراء سے کہ جن کا کام ہی صرف شراب و جمال، معشوق اور خطِ یار اور منظور نظر قبیلہ کی مدح اور دشمنوں کی ہجو کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ پھر یہ کہ شعراء عموماً بزم کے شیر ہوتے ہیں مردِ میدان نہیں ہوتے، اہلِ سخن ہوتے ہیں صاحبانِ عمل نہیں، لہذا بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کیا دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے (وانهم يقولون مالا یفعلون)۔ لیکن پیغمبرِ اسلام تو سر تا پا عمل ہیں حتٰی کہ آپ کے بدترین دشمن بھی آپ کے عزم راسخ، زبردست استقامت اور عمل کے پہلوؤں کو اہمیت دینے کی تعریف کرتے ہیں، کجا شاعر اور کجا اسلام کے عظیم الشان پیغمبرؐ؟ مندرجہ بالا تصریات کو مد نظر رکھ کر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ قرآن نے شعراء کی تین علامتیں بیان کی ہیں: پہلی یہ کہ: ان کے پیروکار گمراہ لوگ ہوتے ہیں وہ خیالی دنیا میں مگن اور حقائق سے گریزاں رہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کا کوئی خاص مطمح نظر نہیں ہوتا۔ ان کا فکری راستہ بہت جلد تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ ہیجانات و جذبات سے متاثر ہو کر بہت جلد تبدیل ہو جاتا ہے۔ تیسری یہ کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے یہاں تک کہ جن حقائق کو وہ خود بیان کرتے ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن ان علامات میں سے کوئی ایک بھی پیغمبر میں نہیں پائی جاتی بلکہ آپ ان کے بالکل برعکس ہیں۔ لیکن چونکہ شعراء میں نیک اور بامقصد شاعر بھی ہوتے ہیں جو صاحبانِ عمل اور اہلِ حقائق ہوتے ہیں۔ حقانیت اور پاکیزگی کی طرف دعوت دیتے ہیں (ہر چند کہ اس قماش کے شاعر اس دور میں بہت کم ملتے تھے) قرآنِ مجید نے ایسے باایمان ہنر مندوں اور حق و صداقت کے متلاشیوں کا حق ضائع ہونے سے بچانے کے لیے، ایک استثناء کے ذریعے ان کی صف کو دوسروں جدا کر دیا چنانچہ فرماتے: لیکن جو لوگ ایمان ہیں جنھوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں (الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات)۔ جن شعراء کا ہدف شعر گوئی نہیں ہوتا بلکہ وہ اشعار کے پردے میں خدائی اور انسانی اہداف کے متلاشی ہوتے ہیں ایسے شعراء جو صرف اشعار میں غرق ہو کر خدا کو بھول نہیں جاتے بلکہ "جو خدا کو بہت یاد کرتے ہیں اور ان کے اشعار لوگوں کو خدا کی یاد دلاتے ہیں (و ذکروا الله کثيراً)۔ جب ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے ذوق کی بناء پر اپنے اور دوسرے مؤمنین کے دفاع کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں (وانتصروا من بعد ما ظلموا)۔ اگر وہ اپنے اشعار کے ذریعے کسی کی ہجو اور مذمت کرتے ہیں تو اس لیے کہ حق پر ہونے والے حملوں کا دفاع کریں۔ تو اس طرح سے قرآنِ پاک نے ان بامقصد شعراء کی چار صفات بیان کی ہیں۔ "ایمان"، "عملِ صالح" خدا کا ذکرِ کثیر"اور اپنے اور دوسرے مؤمںین پر ہونے والے ظلم کا شعری طاقت کے ذریعے دفاع"۔ اور چونکہ اس سورت کی بیشتر آیات پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اوائلِ اسلام کے معدودے چند مومنین کی دلجوئی کے لیے نازل ہوئی ہیں کیونکہ انھیں اس وقت کثیر تعداد میں دشمنوں کا سامنا تھا اور چونکہ اس سورہ کی آیات پیغمبرِ اکرم پر لگائی جانے والی ناروا تہمتوں کے جواب اور آپ کے دفاع کے طور پر نازل ہوئی ہیں لہذا ان ہٹ دھرم اور ضدی دشمنوں کو سورۃ کے آخر میں ایک بار پھر متنبہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ جلد جان لیں گئے کہ ان کی بازگشت کدھر کو ہے اور ان کا کیا انجام ہو گا (وسیعلم الذين ظلموا أيّ منقلب ينقلبون)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان کی بازگشت اور انجام کو دوزخ تک ہی منحصر کرنا چاہا ہے لیکن اسے محدود کرنے کی کوئی دلیل ہمارے پاس موجود نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ جنگِ بدر وغیرہ میں انہیں پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس دنیا میں وہ جس ذلت اور زبوں حالی کا شکار ہوئے ہیں، بھی اس آیت کے مفہوم میں جمع ہو۔

چند اہم نکات: 1- پیغمبر پر شاعری کی تہمت کیوں؟

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قرآنِ مجید کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخافلینِ اسلام اور دشمنانِ پیغمبر آپؐ پر جو الزام تراشی کیا کرتے تھے اس میں آپ کی طرف شعر اور شاعری کی نسبت بھی تھی اور مندرجہ بالا آیات اسی الزام کے جواب میں ہیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ قرآنِ مجید ذرّہ برابر بھی اشعار سے مشابہ نہیں ہے یعنی قرآن اور اشعار کا کوئی بھی جوڑ نہیں ہے۔ نہ تو ظاہری لحاظ سے یعنی نظم، وزن اور قافیہ کے لحاظ سے اور نہ ہی مضامین کے اعتبار سے، یعنی شاعرانہ تشبیات، تخیلات اور تغزّل کے اعتبار سے۔ لیکن چونکہ وہ دیکھتے تھے کہ قرآنِ مجید لوگوں کے افکار و اذہان میں بے حد اثر کر رہا ہے اور اس کا دلنشین لحن ان کی روح کے اندر اتر رہا تھا لہذا اس نورِ خداوندی پر پردہ ڈالنے کے لیے کبھی تو اسے جادو کا نام دیتے اور کبھی شعر کا، جادو اس لیے کہ وہ اذہان پر بہت زیادہ تاثیر کرتا ہے اور شعر اس کہ دلوں میں ارتعاش پیدا کر کے انھیں اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ وہ تو درحقیقت، اس کی مذمت کرنا چاہتے تھے لیکن ان الفاظ کے ساتھ اس کی تعریف کر رہے ہوتے تھے اور ان کی یہ گفتگو اس بات کی دلیل تھی کہ قرآنِ مجید دلوں اور دماغوں پر معجزانہ اثر کرتا ہے۔ قرآنِ مجید پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے: وما علمناہ الشعر وما ينبغي له ان هو الا ذکر و قران مبین لينذر من كان حيًا ہم نے انھیں شعر کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی ان کے شایانِ شان ہے بلکہ یہ تو واضح ذکر، بیداری اور قرآن ہے تاکہ جن لوگوں کے بدن میں جان ہے انھیں ڈرائیں۔ (یس ــــــــــــــ 69-70)

2۔ اسلام میں شعر و شاعری کا مقام

اس میں شک نہیں کہ شعری ذوق اور شعری صلاحیت انسان کی دوسری تمام صلاحیتوں کی مانند اس وقت ایک قیمتی سرمایہ شمار ہو گی جب وہ صحیح خطوط پر چلے اور اس سے مثبت اور تعمیری فائدہ حاصل کیا جائے۔ لیکن اگر اسے معاشرے کے اعتقاد اور اخلاق کی بنیادوں کو تباہ اور ویران کرنے اور معاشرے میں برائی اور بےراہروی کی ترغیب دلانے کا ذریعہ بنا لیا جائے یا اس سے انسانی معاشرے کو کھوکھلا کیا جائے یا بیہودہ بنا دیا جائے اور خیالی پلاؤ پکانے کی حد تک محدود رکھا جائے یا ایک بےمقصد مشغلے کے طور پر اس سے استفادہ کیا جائے تو ایسی صورت میں یہ صرف بےقیمت ہی نہیں مضر اور نقصان دہ بھی ہے۔ اور اس جملے کے ساتھ اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ آخر آیات بالا سے کیا سمجھا جائے شاعر ہونا اچھی بات ہے یا بری مناسب ہے یا غیرمناسب؟ اور اسلام شعر کے موافق ہے یا مخالف؟ اور یہ بھی یاد رہے کہ اسلام اس سلسلے میں "اہداف"، "اطراف" اور "نتائج" کو پیشِ نظر کرتا ہے۔ جب ماہِ رمضان المبارک کی ایک رات، امیرالمومنین کے کچھ دوستوں نے افطار کے وقت شعر اور شعراء کے بارے میں گفتگو شروع کر دی، تو آنجناب نے ارشاد فرمایا: اعلموا ان ملاك أمركم الدين، وعصمتكم التقوى ، وزينتكم الادب، وحصون اعراضكم الحلم جان لو تمھارے تمام کاموں کا معیار دین، تمھارا محافظ تقوٰی، تمھاری زنیت ادب اور تمھاری آبرو کے محکم قلعے علم اور حلم اور بردباری ہیں۔ [شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۲۰ ص ۴۶۱]۔ امام عالی مقام کا یہ ارشاد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وسیلہ ہوتا ہے جس کے اچھے یا برے ہونے کا دار و مدار اس کے ہدف اور مقصد پر ہوتا ہے کہ جس کے لیے شعر کہا جاتا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اقوامِ عالم کی تاریخ ادبیات میں شعر سے بہت ہی غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے اور اس خداداد ذوقِ لطیف سے گندے ماحول میں اس قدر شرمناک کام لیا گیا کہ بسا اوقات وہ فساد اور تخریب کاری کا موثر ترین ذریعہ بن گیا خصوصاً عصرِ جاہلیت میں جو کہ عرب قوم کے اخلاقی اور فکری انحطاط کا دور تھا کیونکہ اس دور میں "شعر"، "شراب" اور "غارتگری" شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو گا کہ تاریخ میں تعمیری اور بامقصد شعر نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اپنی شہادت کے جوہر دکھائے ہیں حتی کہ بعض اوقات اس نے کسی قوم اور ملّت کو خونخوار اور وحشی دشمن کے مقابلے میں یوں متحد کر دیا کہ وہ ہر چیز سے بےنیاز ہو کر دشمن پر یوں ٹوٹ پڑی کہ اس کے دانت کھٹے کر دیئے اور اسے ہزیمت اٹھانے پر مجبور کر دیا ہم نے اپنے سلامی انقلاب کی تحریک کے دوران میں بھی دیکھا ہے اور موزوں اشعار اور شعر کے قالب میں ڈھلے ہوئے نعرے بھی سنے ہیں کہ جن کی وجہ سے عوام میں جوش و خروش اور ذوق و ولولہ پیدا ہو جاتا ہے اور جرات کا خون ان کی رگوں میں دوڑنے لگتا ہے اور ان سادہ اور مختصر اشعار نے کہ جن سے بہادری اور جرات کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ کس قدر دشمن کو لرزہ براندام کر دیا تھا؟ اور اس کے ایوانِ حکومت کی بنیادوں کس طرح ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اور اس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ بسا اوقات ایک اخلاقی شعر انسان کے قلب و روح میں اس حد تک اتر جاتا ہے کہ ایک بہت بڑی کتاب بھی اس قدر موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ: ان من الشعر لحكمة، وان من البيان لسحرًا بعض اشعار حکمت اور بعض بیان جادو ہوا کرتے ہیں۔ [اس حدیث کو بہت سے شیعہ و سنی علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے "کتاب الغدیر جلد ۲ صفحہ ۹ کا مطالعہ فرمائیں]۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اشعار قیامت برپا کر دیتے ہیں۔ بسا اوقات شاعرانہ موزوں کلمات دشمن کے دل پہ تلوار سے زیادہ اور تیر سے بڑھ کر کارگر ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے اشعار کے سلسلے میں فرمایا ہے: والذي نفس محمد بيده فكانما تنضهونهم بالنبل اس ذات کی قسم محمد کی جان جس کے دستِ قدرت میں ہے ان اشعار کے ذریعے گویا تم ان کی طرف تیر چلا ر ہے ہو۔ [مسند احمد بن ضبل جلد ۳ ص ۴۲۰]۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمات اس وقت ارشاد فرمائے جب دشمن اپنے ہجویہ اشعار کے ذریعے مسلمانوں کے حوصلے پست کر رہا تھا تو آپ نے حکم دیا کہ دشمن کی مذمت اور مسلمانوں کے حوصلے بند کرنے کے لیے اشعار پڑھے جائیں۔ ایک مرتبہ ایک مدافعِ اسلام شاعر کے بارے میں فرمایا: اھجهم فان جبرئيل معك ان کی مذمت اور ہجو کرو کہ جبرائیل تمھارے ساتھ ہیں۔ [مسند احمد بن ضبل جلد ۴ ص ۲۹۹]۔ خصوصاً جب باایمان شاعر کعب بن مالک اسلام کی تقویت کے لیے شعر پڑھ رہے تھے تو رسولِ پاک سے دریافت کیا یا رسول اللہ! اشعار کی مذمت میں تو یہ آیات نازل ہو چکی ہیں میں کیا کروں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ان المؤمن يجاهد بنفسه وسيفه ولسانه مومن اپنی جان، تلوار اور زبان ہے کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔ [تفسیر قرطبی جلد ۷ ص ۴۸۶۹]۔ آئمہ اہلِ بیت علیهم السلام سے بھی بامقصد اشعار اور شعرا کی بہت تعریف ان کے حق میں دعا اور ان کے لیے بہت سے انعام و اکرام کی روآیات ملتی ہیں۔ اگر ہم ان تمام کو یہاں پر لکھنا شروع کر دیں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ لیکن افسوس کہ تاریخ میں کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جنھوں نے اس عظیم صلاحیت اور ملکوتی ذوق لطیف کو جو تخلیق کائنات کا بہترین مظہر ہے آلودہ کر دیا اور اسے اوجِ ثریا سے مادیت کے تحت الثریٰ میں ڈال دیا اور انہوں نے اس قدر جھوٹے اشعار کہے ہیں کہ مندرجہ ذیل ضرب المثل وجود میں آ گئی ہے"احسنه اکذبہ" یعنی جس شعر میں زیادہ جھوٹ ہو گا وہی زیادہ اچھا ہو گا۔ کبھی تو اس سے ظالموں اور جابر حکمرانوں کی مدح سرائی کی گئی اور ناچیز اور حقیر سے صلہ اور انعام کے لیے اس قدر خوشامد اور چاپلوسی کی کہ گویا اپنے تئیں سات آسمان اتار کر ان کے پاؤں میں رکھ دیئے تاکہ قزل ارسلان کے پاؤں کا بوسہ لیں۔ اور کبھی عیش و شراب، رسوائی اور بےحیائی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ علم ان کے ذکر کرنے سے شرماتا ہے۔ اور کبھی ایسے شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعہ جنگوں کی آگ بھڑکائی اور لوٹ مار اور قتل و غارت کے لیے انسانوں کو آپس میں لڑا دیا اور بےگناہوں کے خون سے صفحہ زمین کو رنگین کر دیا۔ لیکن ان کے مقابلے میں باایمان اور عالی ظرف شعراء بھی موجود رہے ہیں جنھوں نے مادیت کو ٹھوکر مار دی۔ اور اس ملکوتی عطیہ کو انسانوں کی آزادی، تقوی اور پاکیزگی کے راستے میں استمال کیا۔ ڈاکوؤں، لٹیروں اور ظالم و جابر حکمرانوں سے پنجہ آزمائی کی اور اوجِ کمال و افتخار تک جا پہنچے۔ کبھی حق کے دفاع میں ایسے ایسے شعر کہے کہ ہر بیت کے بدلے جنت میں ایک گھر خرید لیا۔ [حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: من قال فينا بيت شعر بني الله له بينا في الجنة جو شخص ہمارے بارے میں ایک بیت کہے گا خدا اس کا گھر بہشت میں بنائے گا یہ (الغدیر جلد ۲ ص ۳)]۔ اور کبھی "بنی امیّہ" اور "بنی عباس جیسے ظالم و جابر حکّام کے دورِ حکومت میں جبکہ اس حد تک گھٹن کا ماحول تھا کہ سانس لینا بھی دشوار تھا تو "مدارس آیات" جیسے قصیدے کہہ کہہ کر دلوں کو جلا بخشی اور جھوٹ اور فریب کے پردے چاک کر کے رکھ دیئے۔ گویا یه اشعار ان سے روح القدس کہلا رہا تھا۔ [ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ما قال فینا قائل بیت شعر حتی یوید بروح القدس "عیون اخبار الرضا"]۔ کبھی معاشرے کے محکوم و محروم اور پِسے ہوئے طبقے میں تحرک پیدا کرنے کے لیے شعر کہتے رہے جس سے ان کے اندر جوش اور ولولہ پیدا ہو جاتا تھا۔ اور قرآنِ مجید بھی ایسے لوگوں کے لیے فرماتا ہے: الا الذین امنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا وانتصروا من بعد ما ظلموا اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے شاعر بسا اوقات ایسی جاودانہ یادگاریں چھوڑ جاتے ہیں کہ بعض روآیات کے مطابق عظیم ہادیانِ اسلام لوگوں کو ان کے اشعار یاد کرنے کا حکم دیتے ہیں جس طرح "عبدی" کے اشعار کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: يا معشر الشيعة علموا اولادكم شعر العبدی فانہ علی دین اللہ اپنی اولاد کو عبدی کے اشعار تعلیم دو کیونکہ وہ خدا کے دین پر تھا۔ [تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۷۱]۔ ہم بھی اپنی اس گفتگو کو "عبدی" کے ان مشہور و معروف اشعار کے ساتھ ختم کرتے ہیں جو اس نے پیغمبر کی خلافت اور جانشینی کے بارے میں کہے ہیں: وقالوا رسول الله ما اختار بعده ____ اماما ولكنا لان سنا اخترنا اقمنا امامًا ان اقام على الهدى ____اطعنا وان ضل الهدیۃ قومنا فقلنا اذا انتم امام امامكم ____ بحمد من الرحمن تهتم ولاتھنا ولكننا اخترنا الذي اختار ربنا ____ لنا يوم خم ما اعتدينا ولا حلنا ونحن على نور من الله واضح ____ فيا رب زدنا منك نورا و ثبتنا ترجمه: انھوں نے کہا کہ رسولِ خدا نے اپنے بعد کسی کو امام نہیں بنایا ہم تو خود ہی اپنے لیے امام کا انتخاب کریں گے۔ ہم کیسے امام کا انتخاب کریں گے کہ اگر وہ ہدایت پر گامزن رہا تو ہم بھی اس کی اطاعت کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ اختیار کی تو ہم اسے سیدھا کریں گے (یا اسے مٹا دیں گے)۔ تو ہم نے انھیں کہا پھر تو تم اپنے امام آپ ہی ہو گے بجھد بحمد اللہ تم لوگ سرگرداں پھر رہے ہو لیکن ہم سرگرداں نہیں ہیں۔ ہم نے اسے امام تسلیم کیا ہے جسے غدیرِ خم کے دن ہمارے لیے ہمارا امام بنایا گیا تھا۔ ہم اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کریں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے واضع نور پر ہیں اور اے پروردگار! تو اس نور میں مزید اضافہ فرما اور ہمیں بھی ثابت قدم رکھ۔ [الکنی والالقاب جلد ۲ ص ۴۵۵]۔

3- ذکرِ خدا

ذکرِ خدا: مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ بامقصد شعراء کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں ہے: ذکرِ کثیر سے مراد حضرت فاطمہ زہرا کی تسبیح ہے۔ "جو تکبیر حمد اور تسبیح پر مشتمل ہے"۔ ایک اور حدیث میں آپ ہی فرماتے ہیں: سخت ترین اور اہم ترین امور میں سے ایک سخت اور اہم امر جو خدا نے اپنی مخوق پر فرض کیا ہے خدا کا ذکر کثیر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: میری مراد یہ نہیں ہے کہ لوگ "سبحان الله والحمد لله ولا اله الالله والله اکبر" کہیں اگرچہ یہ بھی اس کا ایک جز ہے لیکن "ذكر الله عندما احل وحرم فان کان طاعۃ عمل بها وان كان معصية تركها" يعنی میرا مقصد یہ ہے کہ جب انسان کسی حلال اور حرام کا سامنا کرے تو اس وقت خدا کو یاد کرے اگر اس میں خدا کی اطاعت ہے تو اسے انجام دے اور اگر معصیت ہے تو اسے چھوڑ دے۔ [اصول کافی]۔ پروردگارا! تو ہمارے دلوں کو اپنی یاد کے ساتھ سرشار فرما! تاکہ جہاں اور جس چیز میں تیری ذات کی رضامندی ہے اسے اپنائیں اور جس میں تیری ذات کی ناراضی ہے اسے چھوڑ دیں۔ خداوندا! ہماری زبانوں کو گویا، ہمارے قلم کو توانا اور ہمارے دلوں کو خلوص سے بھر دے! تاکہ ان سب کو تیری راہ اور تیری رضا میں کام میں لائیں۔ آمین یا رب العالمین!

end of chapter