Sūra 96 · 19v
Chapter 9619 verses

Al-Alaq

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
العلق
العلق

سورہٴ العلق

یہ سورہ مکّہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۱۹ آیات ہیں۔

سُورہٴ علق کے مطالب اور فضیلت

مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ سورہ وہ پہلا سورہ ہے جو پیغمبر گرامی اسلامؐ پر نازل ہوا اور اس کے مطالب بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں اور یہ بات جو بعض نے کہی ہے کہ پہلا سُورہ، سورہ "حمد" یا سورہ "مدثر" ہے، یہ بات قطعی مشہور نہیں ہے۔ یہ سُور پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو قرات و تلاوت کا حکم دیتا ہے اور اس کے بعد اس باعظمت انسان کی ایک بےقدر و قیمت قطرہ خون سے خلقت کی بات کرتا ہے۔ اور بعد کے مرحلہ میں پروردگار کے لطف و کرم کے سائے میں انسان کے تکامل و ارتقاء اور اس کی علم و دانش اور قلم سے آشنائی کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد کے مرحلہ میں ان ناشکرے انسانوں کے بارے میں، جو ان تمام خدائی نعمتوں اور الطاف الہی کے باوجود سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہیں، گفتگو کرتا ہے۔ اور آخر میں ان لوگوں کی درد ناک سزا کی طرف اشارہ کرتا ہے جو لوگوں کو ہدایت اور نیک اعمال سے روکتے ہیں۔ اور سُورہ کو "سجدہ" اور بارگاہِ پروردگار میں تقرب حاصل کرنے کے حکم پر ختم کرتا ہے۔ اس سُورہ کی قرأت کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قراٴ فی یومہ او لیلتہ اقرأ باسم ربک ثم مات فی یومہ او لیلتہ مات شہیداً و بعثہ اللہ شہیداً، واحیاہ کمن ضرب بسیفہ فی سبیل اللہ مع رسول اللہ۔" جو شخص دن میں یا رات کو سورہٴ اقرأ باسم ربک پڑھے گا اور وہ اس رات یا دن میں مر جائے گا تو وہ دنیا سے شہید مرے گا اور خدا اُسے شہید مبعوث کرے گا اور شہیدوں کی صف میں اُسے جگہ دے گا، اور وہ قیامت میں اس شخص کی مانند ہو گا جس نے راہِ خدا میں پیغمبر اکرم نُورِ مجسم صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کی معیت میں شمشیر سے جہاد کیا ہو۔" یہ سُورہ اُن مختلف تعبیروں کی مناسبت سے جو اس سُورہ کے آغاز میں آئی ہیں سُورہ "علق" یا سُورہ "اقرأ" یا سُورہ "قلم" کے نام سے موسوم ہوا ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر برہان" جلد ۴، ص ۴۷۸)۔

1
96:1
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ
پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے جہان کو پیدا کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
96:2
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ
وہی جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
96:3
ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ
پڑھ کہ تیرا پروردگار سب سے زیادہ مکرم و باعزت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
96:4
ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ
وہی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
96:5
عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ
اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

جیسا کہ ہم نے سُورہ کے مطالب کی تشریح میں اشارہ کیا ہے کہ اکثر مفسرین کے نظریہ کے مطابق یہ پہلا سُورہ ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا ہے، بلکہ بعض کے قول کے مطابق تو اوپر والی پانچ آیات سب ہی مفسرین کے نزدیک آغاز وحی میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں اور ان کا مضمون بھی اس معنی کی تاکید کرتا ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوہِ حرا پر گئے ہوئے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا: اے محمّدؐ پڑھو: پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل نے انہیں آغوش میں لے کر دبایا اور پھر دوبارہ کہا: پڑھ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے پھر اسی جواب کو دُہرایا۔ اس کے بعد جبرئیل نے پھر وہی کام کیا اور وہی جواب سُنا، اور تیسری بار کہا: "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔۔۔ پانچوں آیات کے آخر تک۔ جبرئیل یہ بات کہہ کر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظروں سے غائب ہو گئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جو وحی کی پہلی شعاع کو حاصل کرنے کے بعد بہت تھکے ہوئے تھے خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا: "زملونی و دثرونی": مجھے اُڑھا دو اور کوئی کپڑا میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں آرام کروں۔ (تشریحی نوٹ: "ابو الفتوح رازی" جلد۱۲، ص۹۶، (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ، اسی مطلب کو بہت سے مفسرین عامہ و خاصہ نے بہت سے شاخ و برگ اور پھول بوٹے لگا کر نقل کیا ہے، جن میں سے بعض بالکل قابلِ قبول نہیں ہے))۔ "طبرسی" بھی مجمع البیان میں یہ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا: "جب میں تنہا ہوتا ہوں تو ایک آواز سُن کر پریشان ہو جاتا ہوں۔" حضرت خدیجہؑ نے عرض کیا: خدا آپؐ کے بارے میں خیر اور بھلائی کے سوا کچھ نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی قسم آپؐ امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہٴ رحم بجا لاتے ہیں، اور جو بات کرتے ہیں اس میں سچ بولتے ہیں۔ "خدیجہؑ" کہتی ہیں: اس واقعہ کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، (نوفل خدیجہؑ کا چچا زاد بھائی اور عرب کے علماء میں سے تھا)۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ "ورقہ" سے بیان کیا۔ "ورقہ" نے کہا: جس وقت وہ پُکارنے والا آپؐ کے پاس آئے تو غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے؟ اس کے بعد مجھ سے بیان کرنا۔ پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنی خلوت گاہ میں سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: اے محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم) کہو: بسم اللہ الرحمن الرحیم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ۔ اور کہو لا الہ الّا اللہ، اس کے بعد آپؐ ورقہ کے پاس آئے اور اس ماجرے کو بیان کیا۔ "ورقہ" نے کہا: آپؐ کو بشارت ہو، پھر بھی آپؐ کو بشارت ہو۔ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ وہی ہیں جن کی عیسیٰ بن مریمؑ نے بشارت دی ہے، آپؐ موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحبِ شریعت ہیں اور پیغمبر مرسل (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں۔ آج کے بعد بہت جلد جہاد کے لئے مامور ہوں گے اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں آپ کے ساتھ ہو کر جہاد کروں گا"! جب "ورقہ" دنیا سے رُخصت ہو گیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مَیں نے اس رُوحانی شخص کو بہشت (برزخی جنت) میں دیکھا ہے کہ وہ جسم پر ریشمی لباس پہنے ہوئے تھا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی۔" (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۱۴)۔ یقینی طور پر مفسّرین کے بعض کلمات یا تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کی اس فصل کے بارے میں ایسے ناموزوں مطالب نظر آتے ہیں جو مسلمہ طور پر جعلی، وضعی، گھڑی ہوئی روایات اور اسرائیلات سے ہیں، مثلاً یہ کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نزولِ وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بہت ہی ناراحت ہوئے اور ڈر گئے کہ کہیں یہ شیطانی القاب نہ ہوں، یا آپ نے کئی مرتبہ اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا کہ خُود کو پہاڑ سے گرا دیں، اور اسی قسم کے فضول اور بےہودہ باتیں جو نہ تو نبوّت کے بلند مقام کے ساتھ سازگار ہیں اور نہ ہی پیغمبرؐ کی اس عقل اور حُد سے زیادہ دانش مندی، مدبریت، صبر و تحمل و شکیبائی، نفس پر تسلّط اور اس اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں جو تاریخوں میں ثبت ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی ضعیف ورکیک روایت دُشمنانِ اسلام کی ساختہ و پر داختہ ہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کو بھی موردِ اعتراض قرا دے دیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو بھی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے آیات کی تفسیر پیش کرتے ہیں۔

تفسیر اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ

پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "اپنے اس پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے سارے جہان کو خلق کیا ہے۔" (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ)۔ (تشریحی نوٹ: "راغب"، "مفردات" کہتا ہے "قرات" حروف و کلمات کو ایک دوسرے میں ملانے اور ضم کرنے کے معنی میں ہے: اسی لئے ایک حرف کو قرات نہیں کئے)۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اُوپر والے جملہ میں مفعول محذوف ہے اور اصل میں اس طرح تھا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ اپنے پروردگار کے نام سے قرآن مجید پڑھ، اور اسی بناء پر بعض علماء نے اس آیت کو اس پر دلیل بنایا ہے کہ بسم اللہ قرآن کی سُورتوں کا جُز ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس صورت میں "باء" ملابست کے لئے ہے)۔ اور بعض نے "باء" کو زائدہ سمجھا ہے اور یہ کہا ہے کہ اپنے پروردگار کے نام کو پڑھ ہے، لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے، کیونکہ مناسب یہ ہے کہ کہا جائے اپنے پروردگار کے نام کو یاد کر۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہاں سب پہلے پروردگار کی "ربوہیت" کے مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ "رب"، "مالک مصلح" کے معنی میں ہے، یعنی وہ ہستی جو کسی چیز کی مالک بھی ہے اور اس کی اصلاح و تربیت بھی کرتی ہو۔ اِس کے بعد پروردگار کی ربوہیت کو ثابت کرنے کے لئے عالمِ ہستی کی خلقت و آفرنیش پر تکیہ ہوا ہے، کیونکہ اس کی ربوہیت کی بہترین دلیل اس کی خالقیّت ہے، اور عالم کی تدبیر وہی کر سکتا ہے جس نے اس کو خلق کیا ہے۔ یہ حقیقت میں عرب کے مُشرکون کا جواب ہے جو خدا کی خالقیت کو تو قبول کرتے تھے لیکن ربوہیت اور تدبیر کے ضمن میں بُتوں کے قائل تھے۔ اس کے علاوہ نظامِ ہستی میں خدا کی ربوہیت اور اس کی تدبیر اس کی ذاتِ مقدّس کو ثابت کرنے کی بہترین دلیل ہے۔ اِس کے بعد تمام مخلوقات میں سے عالم خلقت کے اہم ترین موجود اور ٓآفرنیش کے گل سر سبد یعنی انسان پر تکیہ کرتا ہے اور اس کی آفرنیش کو ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی خدا جس نے انسان کو جمے ہوئے خُون سے پیدا کیا۔" (خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ)۔ "من علق" اصل میں کسی چیز کے چپک جانے کے معنی میں ہے۔ اسی لئے جمے ہوئے خون کو اور اسی طرح "جونک" کو جو خُون چُوسنے کے لئے بدن سے چپک جاتی ہے "علق" کہتے ہیں، اور چونکہ نطفہ عالم جنین کا پہلا دَور گزارنے کے بعد جمے ہوئے اور چپکے ہوئے خُون کے ٹکڑے کی صُورت اختیار کر لیتا ہے، جو ظاہر میں بہت ہی کم قدر و قیمت رکھتا ہے لہذا اس آیت میں انسان کی خلقت کا مبداء اسی ناچیز موجود کو شمار کرتا ہے تاکہ پروردگار کی عظیم قدرت نمائی واضح ہو جائے جس نے اس قسم کی بےقدر و قیمت موجود سے ایسی قابل قدر اور قیمتی مخلوق پیدا کر دی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ علق سے مُراد یہاں آدم علیہ السلام کی مٹی ہے جو چپکنے کی حالت بھی رکھتی تھی، اور یہ بات واضح ہے کہ وہ خُدا جو اس عجیب مخلوق کو اس "چپکی ہوئی مٹی" کے ایک ٹکڑے سے وجود میں لایا ہے، وہی ہر قسم کی حمد و ستائش کے لائق ہے۔ کبھی "علق" کو "صاحبِ علاقہ" وجود کے معنی میں لیا ہے، جو انسان کی اجتماعی رُوح اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کی طرف ایک اشارہ ہے، اور یہ حقیقت میں تکامل بشر اور تمدنوں کی پیش رفت کا پایہ اصلی ہے۔ بعض "علق" کو نر کے نطفہ (سپرم) کی طرف بھی اشارہ سمجھتے ہیں جو "جونک" کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ یہ خوردبینی موجود نطفہ کے پانی میں تیرتا ہے، رحم میں عورت کے نطفہ کی طرف بڑھتا ہے، اس کے ساتھ چپک جاتا ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے انسان کا کامل و مکمل نطفہ وجود میں آتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس زمانہ میں یہ مسائل تحقیق و دریافت نہیں ہوئے تھے، لیکن قرآن مجید نے ہم باعجاز کے طریق سے اس سے پردہ اُٹھایا ہے۔ ان چاروں تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ چاروں تفسیروں کے درمیان جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ "انسان" ایک تفسیر کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کے معنی میں ہے اور دوسری تین تفاسیر کے مطابق مطلق انسانوں کے معنی میں ہے۔ دوبارہ تاکید کے لئے مزید کہتا ہے: "پڑھ کر تیرا پروردگار ہر کریم سے زیادہ کریم اور ہر بزرگوار اور باعزّت سے بڑھ کر بزرگوار اور باعزّت ہے۔" (اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ)۔ (تشریحی نوٹ: "وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ " کا جملہ، جملہ اسمیہ استنافیہ ہے اور "مبتدا" اور "خبر" سے مرکب ہے)۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ دوسرا "اقْرَأْ " اسی "اقْرَأْ " کی ایک تاکید ہے جو اس سے پہلی آیات میں ہے۔ اور بعض نے یہ کہا کہ یہ اُس سے مختلف ہے۔ پہلے جملہ میں پیغمبرؐ کا اپنے لئے پڑھنا مراد ہے، اور دوسرے جملہ میں لوگوں کے لئے پڑھنا۔ لیکن تاکید زیادہ مناسب نظر آتی ہے کیونکہ اس فرق پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بہرحال، اس آیت کی تعبیر حقیقت میں پیغمبرؐ کی اس گفتگو کا جواب ہے جو جبرئیل کے جواب میں آپ نے کہی تھی کہ مَیں پڑھا ہوا نہیں ہو۔ یعنی پروردگار کی برکت سے جو حَد سے زیادہ کریم و بزرگوار ہے تو قرأت و تلاوت کی طاقت و توانائی رکھتا ہے۔ اس کے بعد اس خدا کی توصیف کرتے ہوئے جو سب کریموں سے بڑھ کر کریم و بزرگوار ہے، فرماتا ہے: "وہی ہستی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔" (الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ)۔ "اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔" (عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ)۔ یہ آیات بھی درحقیقت پیغمبرؐ کی اُسی گفتگو کا جواب ہیں جس میں آپؑ نے فرمایا تھا کہ: "مَیں قرأت کرنے والا نیں ہوں۔" یعنی وہی خدا جس نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور جو کچھ انسان نہیں جانتا تھا اُسے سکھایا ہے، وہ اِس بندے کو بھی جس نے کسی سے سبق نہیں پرھا ہے قرأت و تلاوت سکھانے کی قدرت رکھتا ہے۔ "الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ" کے جملہ کے دو معنی نکلتے ہیں، ایک یہ کہ: خدا نے انسان کو لکھنا اور کتابت کرنا سکھایا اور اس عظیم کام کی قدرت و توانائی، جو تاریخ بشر کا مبداء اور تمام علوم و فنون اور تمدنوں کا سرچشمہ ہے، اس میں ایجاد کی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اس طریق سے اور اس وسیلہ سے علوم و فنون سکھائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک تفسیر کے مطابق تو لکھنے کی تعلیم مراد ہے، اور دوسری تفسیر کے مطابق وہ علوم مُراد ہیں جو کتابت کے ذریعہ انسان تک پہنچے ہیں۔ بہرحال، یہ ایک ایسی پُرمعنی تعبیر ہے، جو نزولِ وحی کے ان حسّاس لمحات میں ان عظیم اور پُرمعنی آیات میں منعکس ہو گئی ہے۔

چند نکات ۱۔ وحی کا آغاز ایک علمی تحرّک کے آغاز کے ساتھ ہوا

یہ آیات، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، اکثر مفسرین یا تمام کے تمام مفسرین کے نظریہ کے مطابق وہ سب سے پہلی آیات ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے قلب پاک پر نازل ہوئی تھیں اور وحی کی پہلی شعاعوں کی روشنی سے تاریخ بشریت میں ایک نئی فصل کا آغاز ہوا، اور نوع انسانی ایک عظیم ترین الطافِ الہی کی مشمول ہوئی، اور خدا کا وہ اکمل ترین دین، جو سارے دینوں کا نقطہ اختتام تھا، نازل ہوا، اور تمام احکام اور اسلامی تعلیمات کے نزول کے بعد الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا۔ (مائدہ۔۳) کے مطابق دین الہی کی تکمیل ہوئی اور اس کی نعمت حدِ کمال کو پہنچ گئی اور اسلام خدا کا پسندیدہ دین قرار پایا۔ یہاں ایک بہت ہی عُمدہ موضوع ہے، (اور وہ یہ ہے) کہ باوجود اس بات کے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم "اُمیّ تھے، اور آپؐ نے کسی سے درس لیا نہیں کیا تھا، اور حجاز کے ماحول کو سراسر جہالت و نادانی کے ماحول نے گھیر رکھا تھا، وحی کی پہلی آیات میں "علم" اور "قلم" کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی، جو ان آیات میں خلقت و آفرنیش جیسی عظیم نعمت کے فوراً بعد بلافاصلہ ذکر ہوا ہے۔ حقیقت میں یہ آیات پہلے انسانی جسم کی ایک بےقدر و قمیت لوتھڑے "علقہ" جیسے موجود سے تکامل و ارتقاء کی خبر دیتی ہیں، اور دوسری طرف سے رُوح کے تکامل کی، تعلیم و تعلم کے ذریعے، خصوصاً قلم کے ذریعے بات کرتی ہیں۔ جس دن یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس دن نہ صرف حجاز کے ماحول میں، جو جہالت کا ماحول تھا، کوئی شخص قلم کی قدر و منزلت کا قائل نہ تھا بلکہ اس زمانہ کی تمندن دُنیا میں بھی قلم کی کم ہی قدر کی جاتی تھی۔ لیکن آج کے زمانہ میں ہم جانتے ہیں کہ وہ تمام تمدّن، علوم و فنون اور ترقیاں جو ہر میدان میں نوعِ بشر کو نصیب ہوئی ہیں، قلم کے محور کے گرد ہی گردش کرتی ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ "مدادِ علماء" (علماء کے قلم کی سیاہی) "دماء شہداء" (شہداء کے خون) کو سبقت لے چکی ہے کیونکہ شہید کے خون کی بیُنیاد اور اس کی پشتییان علماء کے قلموں کی ساہی ہی ہے، اور اصولی طور پر انسانی معاشروں کی سرنوشت پہلے درجہ میں قلم کی نوک سے ہی لکھی گئی ہے۔ اِنسانی معاشروں کی اصلاحی باتیں مؤمن و متعہد قلموں سے لکھی جاتی ہیں، اور معاشروں کے فساد اور تباہیوں کی باتیں بھی مسموم اور فاسد قلموں سے ہی تحریر میں آتی ہیں۔ یہ بات بلاوجہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھتے ہیں، اس کی قسم کھائی ہے۔ یعنی "آلہ" کی قسم بھی کھاتا ہے۔ اور جو کچھ اس سے حاصل ہوتا ہے اس کی قسم بھی، جیسا کہ فرماتا ہے: "ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ" (قلم۔ ۱) ہم جانتے ہیں کہ بشر کی زندگی کے ادوار کو دو ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ ۱۔ تاریخ کا دَور ۲۔ قبل از تاریخ کا دَور تاریخ کا دَور وُہ ہے جس میں قلم، پڑھتے اور لکھنے کا زمانہ شروع ہوا، اور انسان اس قابل ہو گیا کہ قلم کے ذریعے اپنی زندگی کی کوئی چیز لکھ سکے، اور آنے والے لوگوں کے لئے بطور یادگار چھوڑ جائے۔ اس طرح تاریخ بشر قلم اور خط کی تاریخ کے برابر ہے۔ ہم نے اِنسانوں کی زندگی میں قلم کے اثرات کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد۱٤ میں سورہ قلم کے آغاز میں ایک افضل اور مبُسوط تشریح پیش کی ہے۔ اسی بناء پر ابتداء سے ہی اسلام کی بنیاد علم و قلم پر رکھی گئی ہے، اور یہ بات بلاوجہ نہیں ہے کہ اس قسم کی پس ماندہ قوم علوم و فنون میں اس قدر ترقی کر گئی کہ، دوست و دُشمن کے اعتراف کے مطابق، اُنہوں نے ساری دنیا میں علم و دانش کو پھیلا دیا اور یورپ کے مؤرخین کے اعتراف کے مطابق یہ مُسلمانوں کا نور علم و دانش ہی تھا جو قرون وسطیٰ میں تاریک یورپ کے صفحہ پر چھکا اور انہیں متمندن عصر میں داخل کر گیا۔ اور اس سلسلہ میں خُود انہیں کی طرف سے بہت سی کتابیں "تاریخ تمدن اسلام" یا "میراثِ اسلام" کے عنوان سے لکھی گئی ہیں۔ کِس قدر نامناسب بات ہے کہ اس قسم کی ملّت اور ایسا دین علم و دانش کے میدان میں پیچھے رہ جائے اور دوسروں کا محتاج ہو جائے، یہاں تک کہ ان سے وابستہ ہو جائے۔

۲۔ ہر حال میں ذکرِ خدا

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کا آغاز خدا کے نام کے ذکر سے شروع ہوا ہے "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ" اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ آپ کی بھرپور زندگی ذکرِ خدا اور یادِ خدا سے ملی ہوئی تھی۔ آپؑ کا ہر سانس ذکر خدا کے ساتھ وابستہ تھا۔ کھڑے ہوتے، بیٹھتے، سوتے، چلتے، اور سوار ہوتے، پیادہ چلتے یا توقف کرتے سب یادِ خدا کے ساتھ اور "اللہ" کے نام کے ساتھ تھا۔ جب آپؐ نیند سے بیدار ہوتے تھے تو فرماتے تھے: "الحمد للہ الّذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور" "حمد کے لائق وہی ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی جانب ہم سب نے لُوٹ کر جانا ہے۔" "ابن عباس" کہتے ہیں کہ ایک رات مَیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سویا ہوا تھا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپؑ نے آسمان کی طرف سر کو بلند کیا اور سورہٴ آلِ عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔۔۔ پھر عرض کیا: اللّٰھم لک الحمد انت نور السماوات و الارض و من فیھنّ۔۔۔ اللّٰھم لک اسلمت و بک اٰمنت و علیک توکلت و الیک انبت۔۔۔ "خدایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے، خدایا میں تیرے سامنے سر تسلیم خم کر چکا ہوں، تجھ پر ایمان لا چکا ہوں، تجھ پر توکل کر چکا ہوں، اور تیری طرف لوٹ چکا ہوں۔" جس وقت آپ گھر سے نکلتے تو فرماتے: "بسم اللہ، توکلت علی اللہ، اللّٰھم انی اعوذبک ان اَضِلّ، او اَضَلَّ، او ازِلّ، او اَظلِم، او اُظلِمَ، او اَجھَل، او یُجھَلَ علیّ۔" "اللہ کے نام سے، مَیں اللہ پر توکل کرتا ہوں، خدایا مَیں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ مَیں گمراہ ہو جاؤں، یا کسی کی گمراہی کا سبب بنوں، یا مَیں پھسل جاؤں یا کسی پر ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں، یا جہالت سے کام لوں، یا مجھ سے جہالت کا برتاؤ کیا جائے۔" جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے: "اعوذ باللہ العظیم، وبوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم۔" "مَیں عظیم خدا سے اور اس کی کریم ذات سے اور اس کی قدیم سلطنت کے ذریعہ راندہٴ درگاہ شیطان سے پناہ مانگتا ہوں۔" اور جس وقت آپ نیا لباس زیبِ تن کرتے تو فرماتے: "اللّٰھم لک الحمد انت کسوتنیہ اسئلک خیرہ و خیر ما صنع لہ و اعوذبک من شرّہ و شرّ ما صنع لہ۔" "خدایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ تو نے ہی یہ لباس مجھے پہنایا ہے۔ میں تجھ سے اس کی خیر چاہتا ہوں اور جس خیر کے لئے یہ بنا ہے اور تجھ سے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور جس شر کے لئے یہ بنا ہے۔" اور جب گھر کی طرف لَوٹتے تو فرماتے: "الحمد للہ الذی کفانی و اٰوانی و الحمد للہ الذی اطعمنی و اسقانی۔ "حمد ہے اس اللہ کی جس نے میری کفالت کی اور مجھے پناہ دی، اور حمد ہے اس للہ کی جس نے مجھے کھلایا اور پلایا۔ اور اسی طرح آپ کی تمام زندگی یاد خدا، نام خدا اور الطافِ خدا کے تقاضوں سے گوندھی ہوئی اور ملی ہوئی تھی۔ (بحوالہ: "فی ظلال القراٰن" جلد ۸، ص ۶۱۹ سے آگے (بہت زیادہ تلخیص کے ساتھ)۔

6
96:6
كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ
ایسا نہیں ہے (کہ انسان حق شناس نہ ہو) یقیناً وہ سرکشی کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
96:7
أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ
اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
96:8
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ
یقینی طور پر سب کی بازگشت تیرے پروردگار کی طرف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
96:9
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يَنۡهَىٰ
مجھے بتا کیا وہ شخص جومنع کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
96:10
عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ
بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
96:11
أَرَءَيۡتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلۡهُدَىٰٓ
مجھے بتا اگر یہ بندہ طریق ہدایت پر ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
96:12
أَوۡ أَمَرَ بِٱلتَّقۡوَىٰٓ
یا لوگوں کو تقویٰ کا حکم دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
96:13
أَرَءَيۡتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ
مجھے بتا اگر (یہ سرکش) حق کی تکذیب کرے اور اس کی طرف سے پشت پھیر لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
96:14
أَلَمۡ يَعۡلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ
کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے؟

تفسیر کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تیرے تمام اعمال کو دیکھتا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

گزشتہ آیات کے بعد، جن میں انسان کے لیے پروردگار کی مادی و معنوی نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا تھا، اور ایسی وسیع نعمتوں کا لازمہ یہ ہے کہ انسان شکر ادا کرے اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، لہٰذا زیرِ بحث آیات میں فرماتا ہے: ایسا نہیں ہے کہ خدائی نعمتیں ہمیشہ ہی انسان میں شکر گزاری کی رُوح بیدار کرتی ہوں: بلکہ وہ یقینی طور پر طغیان و سرکشی کرتا ہے۔" (كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ)۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے " کلا" اس چیز کو روکنے کے لئے ہے جو گزشتہ آیات کے مضمون کا لازمہ ہے، اور بعض نے اسے "حقاً"کے معنی میں بھی لیا ہے جو تاکید کے لئے ہے)۔ "اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگ جاتا ہے"۔ (أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ)۔ (تشریحی نوٹ: "ان رٰاہ استغنی" کا جملہ مفعول لاجلہ ہے اور تقدیر میں لان۔۔۔ ہے اور رؤیت یہاں علم کے معنی میں ہے، لہٰذا اس کے دو مفعول ہوئے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ روئیت حِسی کے معنی میں ہو اور "استغنیٰ" بمنزلہ "حال" کے ہو)۔ یہ عام لوگوں کی فطرت ہوتی ہے، ان لوگوں کی فطرت اور عادت جنہوں نے عقل و وحی کے مکتب میں پرورش نہ پائی ہو، چنانچہ جب وہ اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگ جاتے ہیں تو سرکشی و طغیان شروع کر دیتے ہیں۔ نہ تو خدا کا بندہ بنتے ہیں، نہ اس کے احکام کو قبول کرتے ہیں، نہ وجدان کی پکار پر کان دھرتے ہیں اور نہ ہی حق و عدالت کا خیال کرتے ہیں۔ انسان اور کوئی بھی دُوسری مخلوق ہرگز بےنیاز اور مستغنی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ تمام ممکن موجودات ہمیشہ خدا کے لطف اور نعمتوں کے محتاج اور نیاز مند رہتے ہیں۔ اور اگر ایک لمحہ کے لئے بھی اس کا فیض و کرم منقطع ہو جائے تو ٹھیک اسی لمحہ سب کے سب نابود و فنا ہو جائیں۔ البتہ انسان بعض اوقات غلطی سے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھنے لگ جاتا ہے، اور آیت کی تعبیر لطیف بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے، جو یہ کہتی ہے کہ: "وہ خود کو بےنیاز سمجھنے لگ جاتا ہے۔" یہ نہیں کہتی کہ وہ بےنیاز ہو جاتا ہے۔" بعض کا نظریہ یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں "انسان" سے مراد خصوصیت کے ساتھ "ابو جہل" ہے، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے آغاز ہی سے مخالفت کے لئے کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن مسلّمہ طور پر یہاں "انسان" ایک مفہوم کلّی رکھتا ہے، اور "ابوجہل" جیسے افراد اس کے مصادیق ہیں۔ بہرحال، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ پیغمبر کو یہ توقع رکھنی چاہئیے کہ لوگ فوراً ہی ان کی دعوت قبول کر لیں گے۔ بلکہ انہیں چاہئیے کہ وہ خُود کو سرکش مستکبرین کے انکار اور مخالفت کے لیے آمادہ تیار رکھیں اور یہ جان لیں کہ ایک نشیب و فراز سے بھرا ہوا راستہ ان کے سامنے ہے۔ اس کے بعد ان مستکبر سرکشوں کو تہدید کرتے ہوئے فرماتا ہے: یقیناً سب کی بازگشت تیرے پروردگار کی طرف ہے۔" (إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى)۔ اور وہی سرکشوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔ اصولی طور پر جس طرح کہ ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے اور سب مر جائیں گے، اور آسمان و زمین کی میراث اس کی پاک ذات کے لیے رہ جائے گی: وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (آل عمران۔ ۱۸۰) ابتداء میں بھی تمام چیزیں اسی کی طرف سے تھیں، اور اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان خُود کو بےنیاز سمجھنے لگ جائے، اور مغرور ہو کر سرکش بن جائے۔ اس کے بعد مغرور سرکشوں کے کاموں کے ایک حصہ، یعنی راہ حق پر چلنے اور ہدایت و تقویٰ کے طریق کو طے کرنے سے روکنے کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "مجھے بتا کیا وہ شخص جو منع کرتا ہے۔" (أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ)۔ "بندہ کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے۔" (عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰی)۔ کیا ایسا آدمی عذاب الٰہی کا مستحق نہیں ہے؟! احادیث میں آیا ہے کہ "ابوجہل" نے اپنے اطرافیوں سے سوال کیا! کیا محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، تمہارے سامنے بھی (سجدہ کے لئے) مٹی پر چہرے کو رکھتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: قسم ہے اس کی جس کی ہم قسم کھاتے ہیں، اگر میں اُسے اس حالت میں دیکھوں گا تو اپنے پاؤں سے اس کی گردن کو کچل کر رکھ دوں گا۔ انہوں نے اس سے کہا: وہ دیکھو! وہ اس جگہ نماز پڑھنے میں مشغول ہے۔ ابوجہل چلا تاکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن کو اپنے پاؤں کے نیچے کچلے۔ لیکن جب وہ قریب پہنچا تو پیچھے ہٹ گیا اور ایسا معلوم دیتا تھا جیسے کہ وہ کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے ہٹا رہا ہے۔ ان لوگوں نے اس سے کہا، ہم تیری یہ حالت کیا دیکھ رہے ہیں؟ اس نے کہا: مَیں نے اچانک اپنے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق دیکھی ہے، اور ایک وحشت ناک منظر اور کچھ پر وباں مشاہدہ کیے ہیں! اس موقع پر پیغمبر نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، اگر وہ میرے قریب آ جاتا تو خدا کے فرشتے اس کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے اور اس کے ایک ایک عضو کو اچک کر لے جاتے"! اس موقع پر اُوپر والی آیات نازل ہوئیں، (بحوالہ: تفسیر "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۱۵)۔ اِن روایات کے مطابق اُوپر والی آیات آغازِ بعثت میں نازل ہوئیں، بلکہ اس وقت نازل ہوئیں جب اسلام کی دعوت برملا ہو چکی تھی۔ اسی لیے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ اس سورت کی پہلی پانچ آیات ہی آغازِ بعثت میں نازل ہوئی تھیں، اور باقی کافی مدت کے بعد نازل ہوئیں۔ لیکن بہرحال، یہ شانِ نزول آیت کے مفہوم کی وسعت سے مانع ہے۔ بعد والی آیت میں اور زیادہ تاکید کے لئے مزید کہتا ہے: "مجھے بتا اگر نماز گزار بندہ طریق ہدایت پر ہو۔" (أَرَأَيْتَ إِن كَانَ عَلَى الْهُدَى)۔ "یا لوگوں کو تقویٰ کا حکم دے۔ (أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى)۔ کیا اس کو منع کرنا مناسب ہے، اور کیا اس قسم کے شخص کی سزا جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ اور ہو سکتی ہے؟! "مجھے بتا اگر یہ سرکش آدمی جو راہِ حق کے راہ رو افراد کو نماز، ہدایت اور تقویٰ سے روکتا ہے اگر حق کی تکزیب کرے، اور اس سے رُوگردانی کرے، تو اس کی کمی کیسی دردناک سرنوشت ہو گی" (أَرَأَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى)۔ (تشریحی نوٹ: بہت سے مفسّرین کے قول کے مطابق اُوپر والی تینوں آیات میں "رأیت" کے جملے "اکبرنی" کے معنی میں ہیں، جس کا ہم "مجھے بتاؤ" کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں، اور ان آیات میں جو شرطیں آئی ہیں ان کے جواب مذوف ہیں، اور تقدیر میں اس طرح ہے کیف یکون حالہ و مجازاتہ وعذابہ؟: ایسے انسان کی سرنوشت اور سزا و عذاب کیسا ہو گا؟")۔ "کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے، اور ان سب کو حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لئے ثبت و ضبط کر رہا ہے۔" (أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى)۔ اُوپر والی آیات میں قضیہ شرطیہ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مغرور سرکش کو کم از کم یہ احتمال تو دینا چاہئیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طریقِ ہدایت پر ہیں، اور اُن کی دعوت تقویٰ کی طرف دعوت ہے، یہی احتمال اس کی سرکشی کو روکنے کے لئے کافی ہے۔ اس بناء پر ان آیات کا مفہوم، پیغمبرؐ کی تقویٰ کی طرف دعوت، اور ہدایت میں تردید نہیں ہو گا، بلکہ یہ اُوپر والے باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسّرین نے "کان" و "امر" کی ضمیر کو اسی نہی کرنے والے شخص کی طرف لوٹایا ہے، جیسا کہ "ابوجہل" تھا۔ اس بناء پر آیات کا مفہوم اس طرح ہو جائے گا، اگر وہ ہدایت کو قبول کر لے اور نماز سے منع کرنے کی بجائے تقویٰ کی دعوت کرے تو اس کی حالت کے لئے یہ کتنا مفید ہو گا؟ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔

ایک نکتہ عالم ہستی محضرِ خُدا میں ہے

اِس واقعیت کی طرف توجہ کہ انسان جو کام بھی انجام دیتا ہے وہ خدا کے سامنے ہے، اور اصولاً "تمام عالم ہستی محضر خدا میں ہے" اور انسان کے اعمال میں سے کوئی چیز بھی، یہاں تک کہ اس کی نیّات بھی خدا سے پنہاں نہیں ہیں، انسان کی زندگی کے پروگرام پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے، اور اس کی غلط کاروائیوں سے روک سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وُہ واقعی اس مطلب پر ایمان رکھتا ہو اور اس نے ایک قطعی یقین کی صُورت اختیار کر لی ہو۔ ایک حدیث میں آیا ہے: "اعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک"۔ "خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تُو اُسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تُو اُسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔" کہتے ہیں کہ ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کر لی تھی، لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ تو اتنا کیوں روتا ہے؟ کیا تُو نہیں جانتا کہ خداوند تعالیٰ بخشنے والا ہے؟ اس نے کہا: ہاں ممکن ہے کہ وہ معاف کر دے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، اس کو اپنے سے کیسے دُور کروں؟! گیرم کہ تو از سرِّ گنہ گزری زان شرم کہ دیدی کہ چہ کر دم چکنم؟ مَیں نے مانا کہ تُو میرے گناہ کو ضرور معاف کر دے گا۔ لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تُو نے یہ دیکھ لیا ہے میں نے کیا کیا ہے؟

15
96:15
كَلَّا لَئِن لَّمۡ يَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِيَةِ
(جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے) ایسا نہیں ہے، اگر وہ اپنے کام سے دستبردار نہ ہو گا تو ہم اس کی ناصیہ (سر کے اگلے حصہ کے بال) پکڑیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
96:16
نَاصِيَةٖ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٖ
وہی دروغ گو اور خطاکار ناصیہ (پیشانی)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
96:17
فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهُۥ
پھر وہ جسے چاہے پکارتا رہے (کہ وہ اس کی مدد کرے)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
96:18
سَنَدۡعُ ٱلزَّبَانِيَةَ
ہم بھی عنقریب دوزخ کے مامورین کو پکاریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
96:19
كَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡۤ وَٱقۡتَرِب۩
جیسا کہ وہ سمجھتا ہے، ایسا نہیں ہے، ہرگز اس کی اطاعت نہ کر، اور سجدہ کر، اور اللہ کا تقرب حاصل کر۔

تفسیر سجدہ کر اور تقرب حاصل کر!

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

اس بحث کے بعد، جو گزشتہ آیات میں کافر سرکشوں، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور نماز گزاروں کے لئے ان کی مزاحمت کے بارے میں آئی تھی۔ اِن آیات میں اُن پر سخت دھمکیوں کی بارش کرتے ہوئے فرماتا ہے، "جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے (وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ پیغمبر کی گردن پر ان کے سجدہ کے وقت پاؤں رکھ سکتا ہے، اور انہیں اس عبادتِ خُدا سے روک سکتا ہے")۔ (كَلَّا)۔ "اگر وہ اپنے اس غرور اور جہالت سے دستبردار نہ ہو گا تو ہم اس کے سر کے اگلے حصّہ کے بالوں کو پکڑ کر اُسے عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔" (لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ)۔ "وہی دروغ گو اور خطاکار کے سر کا اگلا حصہ (پیشانی)" (نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ)۔ "لنسفعاً"، "سفع" (بروزن عفو) کے مادّہ سے بعض مفسّرین کے قول کے مطابق مختلف معنی رکھتا ہے: پکڑنا، اور سختی کے ساتھ کھینچنا، منہ پر طمانچہ مارنا، منہ کو کالا کرنا۔ (ان تین پتھروں کو بھی، جو دیگ کو آگ پر رکھتے وقت دیگ کے پایے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، سفع کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سیاہ اور دُھوئیں سے آلودہ ہوتے ہیں)۔ اور آخری بات نشان زدہ کرنے اور ذلیل کرنے کے لئے آیا ہے۔ (بحوالہ: "فخر رازی" جلد ۳۲، ص ۲۳)۔ اور یہاں سب سے زیادہ مناسب وہی پہلا معنی ہے۔ اگر زیر بحث آیت میں دوسرے معانی کا احتمال بھی ہے۔ بہرحال، کیا اس سے مراد ہے کہ یہ ماجرا قیامت میں واقع ہو گا کہ ابوجہل جیسے افراد کے سر کے اگلے حصے کے بالوں کو پکڑیں گے اور جہنم کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے، یا دنیا میں پورا ہو جائے گا، یا دونوں باتیں ہوں گی؟ یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں ہی مُراد ہوں، اور اس کا گواہ ذیل کی روایت ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے: "جس وقت سورہ رحمن نازل ہوا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "تم میں سے کون ہے؟ جو اس سُورہ کو رؤسائے قریش کے سامنے جا کر پڑھے۔" حاضرین کچھ دیر کے لیے خاموش رہے کیونکہ وہ سردارانِ قریش کی ایذا رسانی سے ڈرتے تھے۔ "عبد اللہ بن مسعود" کھڑے ہو گئے اور کہا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! مَیں یہ کام کروں گا۔۔۔ ابنِ مسعودؓ چھوٹے سےجُثہ کے تھے اور جسمانی لحاظ سے کمزور بھی تھے، کھڑے ہو کر سردارانِ قریش کے پاس پہنچ گئے۔ انہیں دیکھا کہ وہ کعبہ کے گرد اکٹھے بیٹھے ہیں، لہٰذا (ابن مسعود نے) سُورہ رحمن کی تلاوت شروع کر دی۔ "ابوجہل" نے کھڑے ہو کر ابنِ مسعودؓ کے منہ پر ایسا تھپڑ مارا کہ ان کا کان پَھٹ گیا اور خون جاری ہو گیا۔ ابن مسعودؓ روتے ہوئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب پیغمبرؐ کی نگاہ ان پر پڑی تو آپؐ کو دُکھ ہوا۔ آپؐ نے سر نیچے کر لیا اور گہرے غم و اندوہ میں ڈوب گئے۔ اچانک جبرئیل نازل ہوئے جبکہ وہ خندان و مسرور تھے۔ آپ نے فرمایا: اے جبرئیل! تم کس لیے ہنس رہے ہو جبکہ ابن مسعود رو رہا ہے؟ (جبرئیل نے) عرض کیا: عنقریب آپؐ کو اس کی وجہ معلوم ہو جائے گی۔ یہ ماجرا گزر گیا۔ جب مسلمان جنگ بدر کے دن کامیاب و کامران ہوئے تو ابن مسعود مشرکین کے مقتولین کے درمیان گردش کر رہے تھے، ان کی نظر ابوجہل پر پڑی کہ وہ آخری سانس لے رہا تھا۔ ابنِ مسعود اس کے سینہ پر سوار ہو گئے، جب اس کی نگاہ ان پر پڑی تو کہا: اے حقیر چرواہے! تو کتنے بلند مقام پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ابنِ مسعود نے کہا: الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ: "اسلام برتری حاصل کرے گا اور کسی چیز کو اسلام پر برتری حاصل نہیں ہو گی۔" ابوجہل نے ان سے کہا اپنے دوست محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کہہ دے: نہ تو زندگی میں کوئی شخص میری نظر میں اس سے زیادہ مبغوض تھا اور نہ ہی موت کی حالت میں۔ جب یہ بات پیغمبرؐ کے کانوں تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: "میرے زمانے کا فرعون، موسیٰؑ کے زمانے کے فرعون سے بدتر ہے۔ کیونکہ اس نے تو اپنی عمر کے آخری لمحات میں کہا تھا: مَیں ایمان لے آیا ہوں، لیکن اس کی سرکشی اور بھی بڑھ گئی ہے۔" اس کے بعد ابوجہل نے ابن مسعودؓ کی طرف رُخ کر کے کہا: میرا سر اس تلوار سے قطع کر جو زیادہ تیز ہے۔ جب ابن مسعود نے اس کا سر قلم کیا تو وہ اسے اُٹھا کر پیغمبرؐ کی خدمت میں نہ لا سکے۔ (لہٰذا اس کے سر کے بالوں کو پکڑ کر زمین پر کھینچتے ہوئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آیت کا مضمون اس دنیا میں پُورا ہو گیا)۔ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۲، ص ۲۳(تلخیص کے ساتھ))۔ "ناصبہ" سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو کہتے ہیں۔ اور ان بالوں کو پکڑنا ایسی جگہ بولا جاتا ہے جب کسی شخص کو کسی کام کے لیے ذلّت و خواری کے ساتھ لے جائیں، کیونکہ جب کسی کے سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو پکڑتے ہیں تو اس سے ہر قسم کی حرکت کی قدرت سلب ہو جاتی ہے اور اس کے لیے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ البہتہ لفظ "ناصبہ" افراد و اشخاص کے لیے بھی اور نفیس اشیاء کے بارے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ ہم فارسی (اور اُردو) زبان میں "جمعیت کی پیشانی" یا "عمارت کی پیشانی" سے تعبیر کرتے ہیں۔ "نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ" کی تعبیر ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو یہ ناصیہ رکھتا ہے، جو جھوٹا بھی تھا اور خطا کار بھی، جیسا کہ ابوجہل تھا۔ ایک روایت میں ابن عباسؓ سے آیا ہے کہ ایک دن ابوجہل رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس آیا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز میں مشغول تھے۔ اس نے پُکار کر کہا: کیا مَیں نے تجھے اس کام سے منع نہیں کیا تھا؟ حضرتؐ نے اسے جھڑک کر دھتکار دیا۔ ابوجہل نے کہا: اے محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! تم مجھے جھڑکتے ہو اور مجھے دھتکارتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اس سرزمین میں میری قوم اور قبیلہ سب سے زیادہ ہے؟ (بحوالہ: "فی ظلال القرآن" جلد ۱۰، ص٦۲۴)۔ اِس موقع پر بعد والی آیت نازل ہوئی: "یہ جاہل و مغرور اپنی ساری قوم و قبیلہ کو پکار لے اور انہیں مدد کے لیے بلا لے" (فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ)۔" "ہم بھی مامورینِ دوزخ کو پُکار لیں گے" (سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ)۔ تاکہ اُسے معلوم ہو جائے کہ اس بےخبر غافل سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا اور وہ مامورینِ عذاب کے چنگل میں پرکاہ کی طرح ایک خوفناک طوفان کے درمیان ہے۔ "نادی"، "ندا" (پکارنا) کے مادّے سے مجلسِ عمومی کے معنی میں ہے، اور بعض اوقات مرکزِ تفریح کو بھی نادی کہا جاتا ہے، چونکہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ "ندا" سے لیا گیا ہے، جو بخشش کے معنی میں ہے، کیونکہ وہاں ایک دوسرے کی پذیرائی کرتے ہیں۔ "دار الندوہ" بھی جو قریش کی مشہور مجلس مشاورت کہی جاتی تھی اسی معنی سے لی گئی ہے۔ لیکن یہاں "نادی" سے مُراد وہ جماعت ہے جو اس مجلس میں جمع ہوتی تھی۔ یا دوسرے لفظوں میں وہ قوم و قبیلہ اور دوست مراد ہیں جن کی قوت پر ابوجہل جیسے لوگ اپنے کاموں میں بھروسہ کرتے تھے۔ "زبانیہ" جمع "زبینہ" (زاء کی زیر کے ساتھ) اصل میں انتظامی مامورین کے معنی میں ہے، جو "زبن" (بروزن متن) کے مادّہ سے دفع کرنے، ضرب لگانے اور دُور کرنے کے معنی میں ہے، اور یہاں فرشتگان عذاب اور دوزخ کے مامورین کے معنی میں ہے۔ اس سورہ کی آخری آیت میں جو آیۂ سجدہ ہے، فرمایا گیا: "اس طرح نہیں ہے جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے اور تیرے سجدہ کے ترک کرنے پر اصرار کرتا ہے "كَلَّا " "ہرگز اس کی اطاعت نہ کر، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کر اور اس کا تقرب حاصل کر" (لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ)۔ دنیا زمانے کے ابوجہل اس سے کہیں زیادہ حقیر و ناچیز ہیں کہ تجھے سجدہ کرنے سے روک سکیں، یا تیرے دین و آئین کی ترقی میں روڑے اٹکا سکیں اور اس میں کوئی رکاوٹ ڈال سکیں۔ تو پروردگار پر توکل کرتے ہوئے اس کی عبادت و بندگی اور سجدہ کے ساتھ اس راستے میں قدم بڑھائے جا، اور ہر روز اپنے خدا سے نزدیک سے نزدیک تر ہوتا چلا جا۔ ضمنی طور پر اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ سجدہ انسان کے لیے بارگاہِ خدا کے قُرب اور نزدیکی کا باعث ہے۔ اور اسی لیے ایک حدیث میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا کہ آپؐ نے فرمایا: "اقرب ما یکون العبد من اللہ اذا کان ساجدًا" "بندے کی خدا سے سب سے زیادہ قُرب کی حالت اس وقت ہوتی ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے۔" البتہ ہمیں معلوم ہے کہ اہل بیت عصمتؑ کی روایات کے مطابق قرآن مجید میں چار سجدے واجب ہے "الم سجدہ" و "حٰم سجدہ" و "النجم" اور یہاں سُورہ علق" میں اور قرآن کے باقی سجدے مستجب ہیں۔

ایک نکتہ سرکشی اور بےنیازی کا احساس

دُنیا کے اکثر مفاسد اور خرابیاں مرفہ الحال اور مستکبر طبقوں سے قوت حاصل کرتی ہیں، اور انبیاء کے مقابلہ میں مخالفت کرنے والوں کی صفِ اوّل میں یہی لوگ ہوتے تھے۔ وہی لوگ جنہیں قرآن کبھی "ملاٴ" (اعراف: ۶۰) سے تعبیر کرتا ہے، اور کبھی "مترفین" (سبا: ۳۴) سے، اور کبھی "مستکبرین" (مومنون: ۶۷) کے ساتھ جن میں پہلا لفظ تو ان اشراف کی جمعیت کی طرف اشارہ ہے جن کا ظاہر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے لیکن ان کا باطن خالی ہوتا ہے، دوسرا لفظ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو ناز و نعمت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور مست و مغرور ہو جاتے ہیں اور انہیں دُوسروں کے دُکھ درد کی کوئی خبر نہیں ہوتی، اور تیسرا لفظ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو کبر و غرور کی سواری پر سوار ہو کر خدا اور خلقِ خدا سے دُور ہو جاتے ہیں۔ اور ان سب کا سرچشمہ بےنیازی اور غنا کا احساس ہے، اور یہ کم ظرف لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے کہ جب وہ کوئی نعمت، مال یا کوئی مرتبہ و مقام حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ایسے مست ہو جاتے ہیں اور بےنیازی کا احساس کرنے لگتے ہیں کہ جس سے خدا کو بھی بُھول جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہوا کے ایک ذرا سے جھونکے سے دفترِ ایام درہم برہم ہو جاتا ہے، اور انسان کا سارا مال و دولت ایک ساعت سے بھی کم وقت میں نابود ہو سکتا ہے، یا سیلاب، زلزلہ اور بجلی کی کڑک سب کچھ برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ اور انسان کی سلامتی بھی، پانی کا ایک گھونٹ گلے میں پھنس جانے سے، ایسی خطرے میں پڑ جاتی ہے کہ موت آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگتی ہے۔ یہ کیسی غفلت ہے جو کچھ لوگوں کو دامن گیر ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو بےنیاز خیال کرنے لگ جاتے ہیں اور غرور کی سرکش سواری پر سوار ہو کر معاشرے کے میدان کو اپنی جولانگاہ بنا لیتے ہیں۔ "اس جہل و نادانی، بےخبری اور خیرہ سری سے خدا کی پناہ! ایسی حالت سے بچنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انسان تھوڑا سا اپنے بےحساب ضعف و کمزوری اور پروردگار کی عظیم قدرت پر غور کرے، اور تھوڑا سا گزرے ہوئے لوگوں کی تاریخ کی ورق گردانی کر لے، اور ان اقوام کی سرگزشت کو جو اس سے زیادہ قوی اور طاقتور تھیں، دیکھ لے تاکہ غرور کی سواری سے نیچے اُتر آئے۔ خداوندا! ہمیں کبر و غرور سے، جو تجھ سے دُوری کا اصل سبب ہے، محفوظ رکھ۔ پروردگارا! ہمیں دُنیا و آخرت میں ایک لمحہ کے لیے بھی ہمارے اپنے سپُرد نہ کرنا۔ بارِ الہا! ہمیں ایسی قدرت عطا فرما کہ ہم ان مغرور و مستکبرین کی ناک کو، جو تیرے سامنے سدِ راہ بنے ہوئے ہیں، رگڑ کر رکھ دیں اور ان کے تمام منصُوبوں کو مٹا دیں۔ آمین یا رب العالمین!

end of chapter