Sūra 101 · 11v
Chapter 10111 verses

Al-Qari'ah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
القارعة
القارعہ

سُورہ القارعة

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱ آیات ہیں۔

سُورہ "قارعہ" کے مطالب اور اس کی فضیلت

اِس سُورہ میں کلی طور پر معاد اور اس کے مقدمات کے بارے میں گفتگو ہے۔ اِس میں چُبھنے والی تعبیریں، ہلا دینے والے بیان ہیں، اور صریح و واضح انداز اور تنبیہ ہے۔ اور آخر میں انسانوں کی دو گروہوں میں تقسیم کا بیان ہے۔ ایک گروہ تو وہ ہے جن کے اعمال عدلِ الٰہی کے میزان میں وزنی ہوں گے، اور ان کی جزاء حق تعالیٰ کے جوارِ رحمت میں سراسر رضایت بخش زندگی ہے۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جن کے اعمال ہلکے اور کم وزن ہوں گے، ان کی سرنوشت جہنم کی جلا دینے والی آگ ہے۔ اِس سُورہ کا نام یعنی "قارعہ" اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ اِس کی فضیلت کے سلسلہ میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "من قراٴ القارعة اٰمنہ اللہ من فتنۃ الدجال ان یؤمن بہ، و من قیح جہنم یوم القیامة ان شاء اللہ: "جو شخص سُورہ "قارعہ" کو پڑھے گا تو خداوند تعالیٰ اسے دجال کے فتنہ اور اس پر ایمان لانے سے محفوظ رکھے گا، اور اسے قیامت کے دن انشاء اللہ پیپ سے دُور رکھے گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص۵۳۰)۔

1
101:1
ٱلۡقَارِعَةُ
وہ چبھنے والا حادثہ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
101:2
مَا ٱلۡقَارِعَةُ
اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
101:3
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ
اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیسا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
101:4
يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ
وہ دن جس میں لوگ پراگندہ پروانوں کی طرح ہر طرف دوڑ رہے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
101:5
وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ
اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
101:6
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ
(اس دن) جس کے اعمال کا ترازو وزنی ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
101:7
فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ
وہ ایک پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
101:8
وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ
لیکن جس کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
101:9
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ
اس کی پناہ گاہ ھاویہ (جہنم) ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
101:10
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا هِيَهۡ
اور تو کیا جانے کہ ھاویہ کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
101:11
نَارٌ حَامِيَةُۢ
ایک جلا ڈالنے والی آگ ہے۔

تفسیر چُھبنے والا حادثہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 15

اِن آیات میں، جو قیامت کا تعارف کراتی ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے: "وہ چُبھنے والا حادثہ" (الْقَارِعَةُ)۔ "اور وُہ کیسا چُبھنے والا حادثہ ہے۔" (وَ مَا الْقَارِعَةُ)۔ "اور تُو کیا جانے کہ وہ چُبھنے والا حادثہ کیا ہے؟ (وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ)۔ "قارعة"، "قرع" (بروزن فرع) کے مادّہ سے، کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر اس طرح رگڑنے کے معنی میں سے کہ اس سے سخت آواز پیدا ہو، تازیانہ اور ہتھوڑے کو بھی اسی مناسبت سے "مقرعۃ" کہتے ہیں، بلکہ ہر اہم سخت حادثہ کو "قارعة" کہا جاتا ہے۔ (یہاں تانیث کا تاء ممکن ہے تاکید کی طرف اشارہ ہو۔ اِن تعبیروں سے جو دوسری اور تیسری آیات میں آئی ہیں، جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک سے یہ فرماتا ہے کہ تو کیا جانے یہ سخت اور سرکوبی کرنے والا حادثہ کیا ہے: واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چبھنے والا حادثہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ابعاد اور مختلف جہات ہر شخص کے ذہن میں نہیں آ سکتے۔ بہرحال، بہت سے مفسّرین نے کہا ہے کہ "قارعة" قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، لیکن انہوں نے ٹھیک طور سے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا یہ تعبیر قیامت کے مقدمات کی طرف اشارہ ہے جس میں عالمِ دنیا درہم برہم ہو جائے گا، آفتاب و ماہتاب تاریک ہو جائیں گے، سمندروں میں آگ لگ جائے گی۔ اگر اس طرح ہو تو پھر اس حادثہ کے لیے "قارعة" کے نام کے انتخاب کی وجہ واضح ہے۔ دوم اس سے دوسرا مرحلہ مراد ہو، یعنی مُردوں کے زندہ ہونے اور عالم ہستی میں ایک نئی طرح ڈالنے کا مرحلہ، اور ٹکرانے اور چُھبنے کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اس دن وحشت و خوف اور ڈر دلوں سے ٹکرائیں گے ان کی سرکوبی کریں گے۔ وہ آیات جو اس کے بعد آئیں ہیں، اُن میں سے بعض تو جہان کے خراب و برباد ہونے کے حادثہ سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض مُردوں کے زندہ ہونے کے ساتھ، لیکن مجموعی طور سے یہ پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے، اگرچہ ان آیات میں دونوں حادثے یکے بعد دیگرے ذکر ہوئے ہیں (قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مانند جو قیامت کی خبر دیتی ہیں)۔ اس کے بعد اس عجیب و غریب دن کے تعارف میں کہتا ہے: "وہی دن جس میں لوگ پراگندہ، حیران و پریشان، پروانوں کی طرح ہر طرف جائیں گے۔" (يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ)۔ "فراش"، "فراشة" کی جمع ہے، بہت سے اسے "پروانہ" کے معنی میں سمجھتے ہیں، بعض نے اس کی "ٹڈی دل" کے معنی میں تفسیر کی ہے، اور ظاہراً یہ معنی سُورہٴ قمر کی آیہ ۷ سے لیا ہے جو لوگوں کو اس دن پراگندہ ٹڈی دل سے تشبیہ دیتی ہے، (كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ) ورنہ اس کے لغوی معنی "پروانہ" ہی ہیں۔ بہرحال، "پروانہ" کے ساتھ تشبیہ اس لیے ہے کہ پروانے اپنے آ پ کو دیوانہ وار آگ پر پھینک دیتے ہیں۔ بدکار لوگ بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں ڈالیں گے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پروانہ کے ساتھ تشبیہ ایک خاص قسم کی حیرت و سرگردانی کی طرف اشارہ ہے، جو اس دن تمام انسانوں پر غالب ہو گی۔ اور اگر "فراش" ٹڈی دل کے معنی میں ہو تو پھر مذکورہ تشبیہ اس لیے ہے کہ کہتے ہیں بہت سے پرندے اُڑتے وقت ایک معیّن راستہ میں اکھٹے پرواز کرتے ہیں، سوائے ٹڈی دل کے، جو گروہ کی صُورت میں اڑتے ہوئے بھی کوئی مشخص راستہ نہیں رکھتے، بلکہ اُن میں سے ہر ایک کسی دوسری ہی طرف اُڑ رہا ہوتا ہے۔ پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حیرت و پراگندگی و سرگردانی اور وحشت و اضطراب جہان کے خاتمہ کے ہولناک حوادث کی وجہ سے ہو گا، یا قیامت اور حشر و نشر کے آغاز کی وجہ سے۔ اِس سوال کا جواب ہمارے اسی بیان سے جو ہم نے اُوپر بیان کیا ہے واضح ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اس دن کی ایک خصوصیّت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے۔" (وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ)۔ "عھن" (بروزن ذہن) رنگی ہوئی اُون کے معنی میں ہے۔ اور "منفوش"، "نفش" (بروزن نقش) کے مادّہ سے اُون کو پھیلانے کے معنی میں ہے جو عام طور پر دھنکنے کے مخصوص آلات کے ذریعے اُون کو دھنکنے سے انجام پاتی ہے۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات کے مطابق قربِ قیامت میں پہاڑ پہلے تو چلنے لگیں گے، پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انجام کار غبار کی صُورت میں فضا میں اُڑنے لگیں گے۔ زیر بحث آیت میں ان کو رنگین اور دھنکی ہوئی اُون سے تشبیہ دی گئی ہے، ایسی اُون جو تیز آندھی کے ساتھ چلے اور اس کا صرف رنگ ہی رنگ نمایاں ہو، اور یہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے کا آخری مرحلہ ہو گا۔ ممکن ہے یہ تعبیر پہاڑوں کے مختلف رنگوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ روئے زمین کے پہاڑوں میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا ہے۔ بہرحال، یہ جملہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اُوپر والی آیات قیامت کے پہلے مرحلوں، یعنی اس جہان کی ویرانی اور اختتام مرحلہ کی ہی بات کرتی ہیں۔ اِس کے بعد حشر و نشر، مردوں کے زندہ ہونے اور ان کی دو گروہوں میں تقسیم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس جس شخص کا ترازوئے عمل وزنی ہو گا۔۔۔" (فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ)۔ "وہ ایک عُمدہ اور پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔" (فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ)۔ "لیکن جس شخص کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گا۔۔۔" (وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ)۔ "تو اس کی پناہ گاہ جہنم ہے۔" (فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ)۔ اور تو کیا جانے ھاویہ (دوزخ) کیا ہے؟ (وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ)۔ (تشریحی نوٹ: "ماھیہ" اصل میں "ماھی" تھا "ھاء سکت" کا اس سے الحاق ہوا)۔ "ایک جلانے والی آگ ہے" (نَارٌ حَامِيَةٌ)۔ "موازین" میزان کی جمع ہے جو تولنے کے ایک آلہ کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ پہلے تو مادّی وزنوں میں استعمال ہوتا رہا ہے، اس کے بعد معنوی موازین اور مقاسیس کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ اس دن انسان کے اعمال جسمانی اور قابلِ وزن موجودات کی صُورت اختیار کر لیں گے اور واقعی طور پر انہیں اعمال کے تولنے والے ترازوؤں کے ساتھ تولیں گے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ خود نامہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ اگر اس میں کچھ اعمال صالح لکھے ہوئے ہیں تو وہ سنگین اور بھاری ہو گا ورنہ ہلکا بے وزن ہو گا۔ لیکن ظاہراً ان توجیہات کی ضرورت نہیں ہے۔ میزان یقینی طور پر ترازوں کے معنی میں نہیں ہے، جس میں مخصوص قسم کے پلڑے ہوتے ہیں، بلکہ اس کا ہر قسم کے تولنے کے وسیلہ اور ذریعہ پر اطلاق ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ "ان امیر المؤمنین و الاٴئمہ من ذریتہ (ع) ھم الموازین۔" "امیر المومنینؑ اور وہ ائمہ جو آ پ کی ذریّت میں ہیں، وہی تولنے کے ترازو ہیں۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷، ص ٢۵۱)۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایا ہے کہ جب لوگوں نے آپؑ سے میزان کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: "المیزان العدل" "تولنے کی ترازو وہی عدل ہے۔" اس طرح اولیاء خدا یا قوانینِ عدل الٰہی ہی وہ ترازو ہیں جن کے سامنے انسانوں اور ان کے اعمال کو پیش کیا جاتا ہے اور جس قدر وہ اس کے ساتھ مشابہت اور مطابقت رکھتے ہیں وہی ان کا وزن ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ میزان کے "ہلکا" اور "بھاری" ہونے سے مراد خُود تولنے کے ترازوؤں کی سنگینی و سبکی نہیں ہے، بلکہ ان چیزوں کا وزن ہے جن کو ان سے تولتے ہیں۔ ضمنی طور پر "موازین" کی تعبیر جمع کی صُورت میں اس بناء پر آئی ہے کہ اولیائے حق اور قوانینِ الٰہی میں سے ہر ایک علیٰحدہ علیٰحدہ تولنے کی ایک میزان ہے۔ اِس سے قطع نظر انسان کی صفات اور اعمال کا تنوع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر ایک کو ایک ترازو سے تولا جائے، اور تولنے کے نمونے اور ترازو مختلف ہوں۔ "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے: "قرآن مجید میں میزان کبھی تو مفرد کی صُورت میں آیا ہے اور کبھی جمع کی صورت میں، پہلی صورت میں اس کے لیے آیا ہے جو حساب کرتا ہے یعنی خدائے یکتا، اور دوسری صورت میں ان کے لیے ہے جن کا حساب ہو گا۔ بعض مفسّرین نے یہ بھی کہا ہے کہ موازین "موزون" کی جمع ہے، یعنی وہ عمل جس کا وزن کرتے ہیں۔ اس بناء پر موازین کا ہلکا یا بھاری ہونا خود اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں ہے، نہ کہ ترازوؤں کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں۔ (تشریحی نوٹ: اس معنی کو "زمخشری" نے "کشاف" میں اور "فخر رازی" نے "تفسیر کبیر" میں اور "ابو الفتوح رازی" نے اپنی تفسیر میں "موازین" کے معنی میں دو احتمالوں میں سے ایک احتمال کے عنوان سے ذکر کیا ہے)۔ البتہ دونوں کا نتیجہ ایک ہے، لیکن دو مختلف راستوں سے۔ اس سلسلہ میں ہم نے سُورہ اعراف کی آیہ ۸۔ ۹ کے ذیل میں (جلد ۴، ص ۴۲) پر، اور اسی طرح سورہ کہف کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں (جلد۷، ص۷۲۷) پر اور سورہٴ مومنون کی آیہ ۱۰۲ کے ذیل میں (جلد۸) پر زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ "عیشة راضیة" (خوش و خرم زندگی) کی تعبیر بہت ہی عمدہ اور بلیغ تعبیر ہے، جو قیامت ،میں اہل بہشت کی پر نعمت اور سراسر سکون و آرام کی زندگی کے لئے بیان ہوئی ہے یہ زندگی اتنی پسندیدہ اور رضایت بخش ہے گویا کہ وہ خُود ہی راضی ہیں، یعنی بجائے اس کے کہ "مرضیة" کہا جائے، زیادہ تاکید کے لیے"اسم مفعول" کی بجائے "اسم فاعل" استعمال ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے "راضیة" کو "ذات رضا" کے معنی میں بھی سمجھا ہے، یا تقدیر میں کچھ فرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد اس زندگی والوں کی رضایت ہے، لیکن تین تفاسیر میں سے وہی تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے جو سب سے زیادہ مناسب ہے)۔ اور یہ عظیم امتیاز آخرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہے، کیونکہ دُنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی مرفہ، پُر نعمت، امن و امان اور رضایت و خوشنودی کے ساتھ ہو، پھر بھی ناخوشی اور ناپسندیدگی کے عوامل سے خالی نہیں ہوتی۔ یہ صرف آخرت ہی کی زندگی ہے جو سراسر رضایت و خوشنودی، آرام اور امنیت و دل جمعی کا سبب ہے۔ "فامّہ ھاویہ" کے جملہ میں "ام" کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ "ام" ماں کے معنی میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ ماں اولاد کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ ہے جس کی طرف مشکلات میں پناہ لیتے ہیں اور اس کے پاس رہتے ہیں، اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہلکے وزن والے، گنہگار، دوزخ کے علاوہ اور کوئی جگہ پناہ لینے کے لیے نہ پائیں گے، اس شخص کے حال پر وائے ہے جس کی پناہ گاہ دوزخ ہو گی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں "ام" کا معنی "مغز" (دماغ) ہے کیونکہ عرب سر کے مغز کو "امّ الراٴس" کہتے ہیں، تو اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہو گا کہ انہیں سر کے بل جہنم میں پھینکیں گے، لیکن یہ احتمال بعید نظرآتا ہے کیونکہ اس صورت میں بعد والی آیت "وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ" (تو کیا جانے کہ وہ کیا چیز ہے) کا مفہوم درست نہیں رہے گا۔ "ھاویة"، "ھوی" کے مادّہ سے گرنے اور سقوط کرنے کے معنی میں ہے، اور وہ "دوزخ" کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ گنہگار اس میں گریں گے اور یہ جہنم کی آگ کے عمق اور گہرائی کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اور اگر ہم "ام" کو یہاں "مغز" کے معنی میں لیں، تو "ھاویة" کا معنی گرنے والی ہو گا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے۔ "حامیة"، "حمی" (بروزن نفی) کے مادّہ سے شدتِ حرارت کے معنی میں ہے، اور "حامیة" یہاں جہنم کی آگ کی حد سے زیادہ حرارت اور جلانے کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، یہ جملہ جو یہ کہتا ہے تُو کیا جانے کہ "ھاویة" کیا ہے "ھاویة" جلانے والی آگ ہے۔" اِس معنی پر ایک تاکید ہے کہ قیامت کا عذاب اور جہنم کی آگ تمام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے۔

ایک نکتہ میزان اعمال کی سنگینی کے اسباب

اس میں شک نہیں کہ تمام نیک اور صالح اعمال کی قدر و قیمت یکساں نہیں ہے اور یہ آپس میں بہت زیادہ فرق رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے مختلف اسلامی روایات میں کچھ اعمالِ خیر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور ان کو ہی قیامت میں میزان عمل کے بھاری ہونے کے اسباب شمار کیا گیا ہے۔ منجملہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے لا الہ الا اللہ کی تفسیر میں فرمایا: "یعنی بواحدانیتہ لایقبل الاعمال الا بھا، وھی کلمة التقویٰ یثقل اللہ بھا الموازین یوم القیامة: "لا الہ الا اللہ" خدا کی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے اور کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہو گا یہ کلمہٴ تقویٰ ہے جو عمل تولنے والے ترازو کو قیامت میں سنگین اور وزنی بنائے گا۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۶۵۹، حدیث ۱۲، ۸)۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی نبوّت کی شہادت کے بارے میں آیا ہے: "خفّ میزان تر فعان منہ و ثقل میزان توضعان فیہ" "تولنے کا وہ ترازو جس سے شہادتین کو اُٹھا لیا جائے وہ ہلکا ہو جائے گا، اور وہ ترازو جس میں شہادتین کو رکھ دیا جائے وُہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۶۵۹، حدیث ۱۲، ۸)۔ اور ایک اور دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "ما فی المیزان شیء اثقل من الصلواة علیٰ محمد و آل محمد" "میزان عمل میں کوئی چیز محمدؐ و آلِ محمدؐ پر درود بھیجنے سے زیادہ سنگین نہیں ہے۔" اور روایت کے ذیل میں آیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگ میزانِ عمل کے نیچے کھڑے ہوں گے جن کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہو گا، پھر محمدؐ و آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود کو اس میں رکھ دیں گے تو وہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا۔ (بحوالہ: وہی مدرک حدیث ۷)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "من کان ظاہرہ ارجع من باطنہ خف میزانہ" "جس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر ہو گا قیامت میں اس کا میزان عمل ہلکا رہے گا۔" (بحوالہ: "نور الثقلین" ج۵، ص۶۶۰، حدیث۱۳)۔ ہم اس بحث کو سلمان فارسی کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جو حقیقت میں وحی اور سُنّت کا خلاصہ ہے۔ اس حدیث میں آیا ہے "کسی شخص نے تحقیر کے طور پر سلمان فارسی سے کہا: تُو کون ہے اور تیری حیثیت کیا ہے؟ تیری کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہے سلمان نے جواب میں کہا ہے: "امّا اولی و اولک فنطفة قذرة و اما اٰخری و اٰخرک فجیفة منتینة فاذا کان یوم القیامة، و نصبت الموازین فمن ثقلت موازینہ فھو الکریم و من خفت موازینہ فھو اللئیم": "لیکن! میرے اور تیرے وجود کا آغاز تو ایک گندے نطفہ سے ہوا ہے اور میرے اور تیرے وجود کا اختتام ایک بدبودار مردار ہے، اور جب قیامت کا دن ہو گا اور اعمال کے تولنے کے لیے ترازو نصب کیے جائیں گے تو جس شخص کے عمل کا ترازو سنگین اور بھاری ہو گا وہ شریف و بزرگوار ہے، اور جس کے عمل کا ترازو سبک اور ہلکا ہو گا وہ پست و ذلیل اور کمینہ ہو گا۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۶۶، حدیث ۱۴)۔ خداوندا! ہمارے عمل کے ترازو کو محمدؐ و آلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کے ذریعے سنگین اور وزنی کر دے۔ پروردگارا! "عیشة راضیة" کا حصول تیرے لطف و کرم کے بغیر آسان نہیں ہے۔ پس تو خود ہی اس راہ میں ہماری مدد فرما! بارالہٰا! تیری دوزخ کی آگ بہت ہی سخت جلانے والی ہے اور ہم میں اس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اسے اپنے رحم و کرم کے پانی سے ہمارے لیے خاموش کر دے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

end of chapter