Al-Qamar
سورہ قمر
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵۵ آیات ہیں۔
سورہ قمر کے مضامین
یہ سورہ اپنے اندر مکّی سورتوں کی خصوصیتیں یعنی مبداء و معاد کے عظیم مباحث کی خصوصیات لیے ہوئے ہے۔ یہ سُورہ گزشتہ اقوام سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کی بدکاری کو بیان کرتا ہے، جو ہٹ دھرمی، عناد، کُفر، ظلم اور فساد کے راستے پر چلنے کی وجہ سے خُدا کی طرف سے بھیجے ہُوئے سرکوبی کرنے والے پے بہ پے عذاب میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوئے۔ اِن افراد کے متعلق بیان ہونے والی ہر سرگزشت کے بعد یہ سُورہ یہ جملہ دہراتا ہے: "وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ" (ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کی نصیحت کے لیے آسان کیا ہے، تو کوئی ہے کہ جو نصیحت حاصل کرے؟) کی تکرار کرتا ہے تاکہ مسلمانوں اور کافروں دونوں کے لیے درسِ عبرت ثابت ہو۔ اس سُورہ کے مضامین کو مجموعی طور پر چند حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1. سورہ کے آغاز میں قُرب قیامت، شق القمر اور مخالفین کی طرف سے آیاتِ الہٰی کے انکار پر گفتگو کی گئی ہے۔ 2. دوسرے حصّے میں سب سے پہلی سرکش، متمردّ اور ہٹ دھرم قوم یعنی قومِ نوح اور طوفانِ نوح کے بارے میں مختصر بحث ہے۔ 3. تیسرا حصّہ قومِ عاد کی داستان بیان کرتا ہے اور ان پر آنے والے دردناک عذاب کی کیفیت پیش کرتا ہے۔ 4. چوتھے حصّے میں قومِ ثمود اور ان کی مخالفت کا ذکر ہے، جو انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالحؑ سے روارکھی۔ ناقۂ صالح کے معجزے کا بھی ذکر ہے اور آخر میں اس عذابِ الہٰی کا بیان ہے جو اس گروہ پر آیا۔ 5. اس کے بعد قومِ لوط کا ذکر ہے اور ان کے کُفر کی جانب اور اخلاق سے انحراف کی طرف ضمنی طور پر مختصر سا اشارہ اور ان پر نازل ہونے والے دردناک عذاب کا بیان ہے۔ 6. ایک اور حصّے میں آلِ فرعون اور ان پر عذاب و سزا کے بارے میں مختصر سی گفتگو ہے۔ 7. آخری حصّے میں گزشتہ اقوام، مُشرکینِ مکّہ اور مخالفینِ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موازنہ ہے اور مشرکینِ مکہ کے اُس بھیانک مستقبل کا تذکرہ ہے جو وہ اپنی روش کی وجہ سے اپنے لیے متعیّن کر چکے تھے۔ یہ سُورہ مجرموں کی سزا، ان پر نازل ہونے والے عذاب اور پرہیزگاروں کو ملنے والے اجر و ثواب کے بیان پر ختم ہوتا ہے۔ اِس سُورہ کی آیتیں عام طور پر مختصر اور دل ہلا دینے والی ہیں۔ اِس سُورہ کا نام پہلی آیت کی مناسبت سے "قمر" رکھا گیا ہے، کیونکہ پہلی آیت شق القمر کو موضوعِ بحث بناتی ہے۔
فضیلتِ تلاوتِ سورہ قمر
ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: "مَن قَرَأَ سُورَةَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ فِي كُلِّ غَبٍّ بُعِثَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَوَجْهُهُ عَلَى صُورَةِ القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ، وَمَن قَرَأَهَا كُلَّ لَيْلَةٍ كَانَ أَفْضَلَ، وَجَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مُسْفِرٌ عَلَى وُجُوهِ الخَلَائِقِ" یعنی: "جو شخص سورۂ اقتربت (سورۂ قمر) کو ایک دن چھوڑ کر پڑھے گا، وہ قیامت کے دن اس حالت میں اُٹھے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند چمکتا ہو گا اور جو اسے ہر شب میں پڑھے تو یہ اس سے بھی افضل ہے، قیامت میں ایسے شخص کے چہرے کی روشنی مخلوق پر برتری رکھتی ہو گی"۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ٩، تفسیر سورۂ قمر]۔ میدانِ قیامت میں چہرے کی یہ چمک یقینا مضبوط اور سچّے ایمان کی علامت ہو گی۔ یہ چمک اِس سُورہ کی تلاوت، اِس میں غور و فکر اور اِس کے مطابق عمل کرنے سے حاصل ہو گی، صِرف تلاوت سے نہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: چاند شق ہو گیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 8پہلی آیت میں دو اہم باتوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے: ایک تو قیامت کا آنا، کہ جس کا ورود اس عالمِ فانی کے لیے اپنے ہمراہ ایک عظیم انقلاب لیے ہوئے ہے، دوسرا عنوان ہے نئی زندگی کی ابتداء۔ وہ ایسی دنیا ہے کہ جس کی عظمت و وُسعت اس دنیائے دنی میں مقیّد رہنے والوں کے لیے ناقابلِ فہم و ناقابلِ توصیف ہے۔ دوسرا واقعہ معجزۂ شق القمر کا ہے، جو خُدائے بزرگ و برتر کی ہر شے پر قدرت رکھنے کی دلیل بھی ہے اور اس کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی نشانی بھی۔ "قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہو گیا" (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ سورۂ نجم قربِ قیامت کو بیان کرنے والے جملوں پر ختم ہوا: "أَزِفَتِ الْآزِفَةُ۔" یہ سورہ بھی اسی معنی و مفہوم سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ تاکید ہے اس بات کی کہ قیامت قریب ہے، خواہ یہ قرب دنیا کے پیمانے کے اعتبار سے ہزاروں سال ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس دنیا کی مجموعی عمر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور اس بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کہ اس دنیا کی تمام عمر قیامت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے ایک لمحہ، جو جلدی گزر جائے— اس سے مقصود یہ ہے کہ اس تعبیر کا مفہوم واضح ہو جائے۔ مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ان دونوں حادثوں کا اکٹھا ذکر اس وجہ سے ہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، جو کہ خدا کے آخری پیغمبر ہیں، ان کا ظہور اصولی طور پر خود قربِ قیامت کی ایک نشانی ہے۔ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" [بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۲۹، صفحہ ۲۹] "میرا مبعوث ہونا اور قیامت مثل ان دو کے ہے۔" یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو انگلیوں کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف چاند کا دو ٹکڑے ہونا ستاروں کے نظام کے درہم برہم ہونے کے امکان پر خود ایک دلیل ہے اور ایک چھوٹا سا نمونہ ہے ان عظیم حادثات کا جو قربِ قیامت میں ظہور پذیر ہوں گے، کیونکہ تمام ستارے بمع زمین ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور ان کی جگہ ایک نئی دنیا معرضِ وجود میں آ جائے گی۔ ایسی مشہور روایات کے مطابق، جن کے بارے میں بعض راویوں نے متواتر ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے، مشرکین پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ سچ کہتے ہیں اور خدا کے پیغمبر ہیں تو ہم کو چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "کہ اگر میں یہ کام کر کے دکھا دوں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے"؟ انہوں نے کہا: "جی ہاں۔" وہ چودھویں کی رات تھی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی کہ جو کچھ یہ چاہتے ہیں، وہ تو کر دے۔ چاند اچانک دو ٹکڑے ہو گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایک شخص کو آواز دیتے تھے اور فرماتے تھے: "یہ معجزہ دیکھ لو۔" [بحوالہ: "مجمع البیان" اور دوسری کتبِ تفاسیر، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں]۔ اس سلسلہ میں چند سوالات ہیں، مثلاً یہ کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک آسمانی کُرّہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہو جائے؟ نیز، اس قسم کا حادثہ کُرۂ زمین اور نظامِ شمسی کے لیے اپنے اندر کیا تاثیر رکھتا ہے؟ شگافتہ ہو جانے کے بعد چاند کے دونوں ٹکڑوں کے ہلنے کی کیفیت اور یہ کہ اس قسم کے حادثے کا ہونا کس طرح ممکن ہے؟ پھر یہ بھی کہ تواریخِ عالم نے اس کا ذکر بھی نہ کیا ہو؟ اس ضمن میں کچھ یہ اور کچھ ایسے ہی دوسرے سوالات ہیں، ان شاء اللہ نکات کے ذیل میں ہم یہ سب تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔ وہ نکتہ جس کا ذکر یہاں ضروری ہے، یہ ہے کہ بعض ایسے مفسرین، جن کی شہرت اچھی نہیں ہے اور جو ہر قسم کے اس عمل کے جو خارقِ عادت ہو، سوائے قرآن کے، پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے انجام پانے کے منکر ہیں— باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آیت واضح ہے اور اس عنوان پر علمائے اسلام کی کتابوں میں روایات کثرت سے موجود ہیں— وہ اُلجھن میں گرفتار ہیں کہ اس خارقِ عادت عمل کی کس طرح توجیہ کریں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو اس طرح زیرِ بحث لائیں کہ اس واقعہ کے معجزانہ پہلو کی نفی ہو جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ بطور اعجاز ظہور پذیر ہوا ہے اور بعد میں آنے والی آیات اس امر پر اپنے واضح شواہد لیے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ آیاتِ قرآنی کسی معجزے کی نفی کرتی ہیں تو وہ ایسے معجزات کی طرف اشارہ ہے، جن کا مطالبہ بہانے بنانے والے افراد کرتے تھے، وہ نہ تو حق کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور نہ اس کے انجام پا جانے کے بعد حق کے سامنے سرتسلیم خم کرتے تھے۔ وہ معجزات کہ جن کی تحقیق کے لیے مطالبہ ہوتا تھا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے انجام پاتے تھے۔ اس امر پر بہت سے شواہد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخِ زندگی میں موجود ہیں۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والے مخالفین جب تیری تبلیغ کی صداقت کے بارے میں کوئی معجزہ یا نشانی دیکھتے ہیں تو اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "یہ واقعی مستقل جادو ہے": (وَ إِنْ یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ)۔ "مُستمر" کا لفظ اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے پے درپے معجزات دیکھے تھے اور شق القمر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ وہ ان سب باتوں کو مستقل جادو قرار دیتے تھے، اگرچہ یہ تہمت حق کو تسلیم نہ کرنے کا محض ایک بہانہ تھی۔ کچھ مفسرین نے مُستمر کے معنی طاقتور قرار دیے ہیں، جیسا کہ "حبل مریر" کہا جاتا ہے، جس کے معنی مضبوط رسی کے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کے معنی ناپائیدار کے لیے ہیں، لیکن صحیح پہلی تفسیر ہی ہے۔ بعد والی آیت میں ان کے مخالفانہ نکتے اور اس مخالفت کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی نحوست کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: "انہوں نے تکذیب کی اور اپنی ہوائے نفس کی پیروی کی اور ہر چیز کی ایک قرار گاہ ہے": (وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَھْوَاءَھُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ)۔ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دلائل اور معجزات کی تکذیب اور قیامت کے انکار کا سبب ان کی ہوائے نفس کی پیروی تھی۔ تعصب، ہٹ دھرمی اور نفس پرستی انہیں حق کے سامنے سرِتسلیم خم نہیں کرنے دیتی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ بِلا کسی قید کے مفادات کا حاصل کرنا اور ہر قسم کے گناہ میں آلودہ ہونا، اس راہ میں حائل تھا کہ وہ دعوتِ حق کو قبول کریں، کیونکہ دعوتِ حق کا قبول کرنا ذمہ داری عائد کرتا تھا۔ جی ہاں! ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا، کیونکہ حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرستی ہی ہوتی ہے۔ (وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ) "ہر چیز کی ایک قرارگاہ ہے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کی سزا پائے گا: • نیکی کرنے والوں کی نیکی کی قرارگاہ • برائی کرنے والوں کی برائی کی قرارگاہ اس تفسیر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس جہان میں کوئی چیز ختم نہیں ہوتی اور ہر نیکی اور برائی باقی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان اس کی جزا یا سزا پائے۔ مندرجہ بالا تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ جھوٹے الزامات حق کے چہرے کو ہمیشہ نہیں چھپا سکتے۔ ہر چیز اپنی قرارگاہ کی طرف جاتی ہے اور زیادہ دیر نہیں لگتی کہ حق کا خوبصورت اور باطل کا قبیح چہرہ آشکار ہو جاتا ہے۔ یہ اس دنیا کی ایک مستقل روایت ہے۔ یہ تفسیریں ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ سب کی سب آیت کے مفہوم میں داخل ہوں۔
چند اہم نکات: ١۔ شق القمر، پیغمبر(ص) اسلام کا ایک عظیم مُعجزہ:
اگرچہ بعض کوتاہ نظر مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس معجزہ کی اس طرح توجیہ کریں کہ اس کی خارق العادت حیثیت باقی نہ رہے، ان کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیات آئندہ اور مستقبل کے بارے میں خبر دیتی ہیں، قیامت کی شرائط سے متعلق ہیں اور اس سے پہلے کے حوادث میں سے ہیں، لیکن ایسی متعدد قرآنی آیات موجود ہیں جو اس کے معجزہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ منجملہ ان کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اس معجزہ کا بیان ماضی کے صیغے میں کیا گیا ہے، جو بتاتا ہے کہ شق القمر واقع ہو چکا ہے، جیسا کہ آخری پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے کی وجہ سے قربِ قیامت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں، اگر گفتگو معجزے کے بارے میں نہ ہو تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سحر کی نسبت، جو بعد والی آیت میں آئی ہے، کوئی مناسبت نہیں رکھتی اور اس طرح (وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَھْوَاءَھُمْ) کا جملہ ان کی تکذیب کی خبر دیتا ہے، وہ بھی کوئی مناسبتِ کلام نہیں رکھتا۔ قطع نظر اس سے، کتبِ اسلامی میں اس معجزے کے وقوع کے بارے میں بہت سی روایات بھی موجود ہیں، جو حدِّ تواتر و شہرت تک پہنچی ہوئی ہیں اور اس وجہ سے قابلِ انکار نہیں ہیں۔ ہم فخرالدین رازی اور طبرسی—اہل سنت اور اہل تشیع کے دو معروف مفسرین—کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہیں: • فخرالدین رازی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور صحیح روایتیں بھی اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کا وقوع ایسا نہیں کہ اس کے ماننے میں کسی قسم کے شک یا تردد کو دخل ہو۔ پھر پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خبر دی ہے، اس بنا پر اسے قبول کرنا چاہیے۔ باقی رہی عدم فرق و التیام کی داستان (مطابق عقیدۂ ابطال شدہ بطلیموس) تو وہ بےبنیاد ہے اور اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ دلائلِ عقلیہ سے ثابت ہے کہ افلاک میں سے کسی چیز کا ٹوٹنا اور پھر جُڑ جانا ممکن ہے۔ • مرحوم طبرسی "مجمع البیان" میں رقم طراز ہیں کہ مفسرین اس آیت کو زمانۂ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں رُو نما ہونے والے معجزۂ شق القمر سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان چند مخالفین کے بےاعتنائی کے ساتھ نام لیتے ہیں۔ وہ نام یہ ہیں: عطا، حسن اور بلخی۔ بعض افراد نے نقل کیا ہے کہ حذیفۂ یمانی جو مشہور صحابی تھے، انہوں نے شق القمر کا واقعہ مسجدِ مدائن میں ایک کثیر جماعت کے سامنے بیان کیا۔ وہاں ان پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے حاضرین ایسے تھے جنہوں نے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ دیکھا تھا۔ (اس حدیث کو "دُرّ منثور" اور "قرطبی" نے اس آیت کے عنوان کے ماتحت پیش کیا ہے)۔ آیت میں جس مفہوم کے قرائن موجود ہیں، جو روایات اس سلسلے میں ہیں اور جو مفسرین کے اقوال ہیں، ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے بھی شق القمر کا واقعہ قابلِ انکار نہیں ہے۔ یہاں چند سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، جن کے جواب ہم پیش کرتے ہیں۔
٢۔ "شق القمر" موجودہ زمانے کے علوم کے لحاظ سے:
وہ اہم سوالات جو اس بحث میں سامنے آتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجرامِ سماوی میں شگاف کا پیدا ہونا اصولی طور پر ممکن ہے یا نہیں اور علم اس کی تائید کرتا ہے یا تردید؟ ماہرینِ فلکیات کے انکشافات کے مطالعے سے اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف یہ کہ محال نہیں ہیں بلکہ ایسے امور کا مشاہدہ ہوا ہے کہ اگرچہ ہر مشاہدہ میں مخصوص عوامل کارفرما تھے، نظامِ شمسی کے متعلقات اور دوسرے آسمانی کرّے کا اس طرح شق ہونا اور پھر مل جانا ایک ممکن امر ہے۔ نمونے کے طور پر چند باتیں درج ذیل ہیں: (الف) نظامِ شمسی کی تخلیق: اس نظریے کی تمام ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ نظامِ شمسی سے تعلق رکھنے والے تمام کرّے ابتدا میں سورج کے اجزا تھے۔ کسی وقت یہ سورج سے الگ ہوئے اور اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگے۔ یہ بات ضرور ہے کہ الگ ہونے کے اس عمل کے اسباب و عوامل میں اختلاف ہے۔ • "لاپلاس" کا نظریہ یہ ہے کہ کسی چیز کے الگ ہونے کے اس عمل کا سبب مرکز سے گریز کی وہ قوت ہے جو سورج کے منطقۂ استوائی میں پائی جاتی ہے۔وہ اس طرح کہ جس وقت سورج ایک جلنے والی گیس کے ٹکڑے کی شکل میں تھا (اور اب بھی ایسا ہی ہے) اور اپنے گرد گردش کر رہا تھا، تو اس گردش کی سرعت منطقۂ استوائی میں اس بات کا سبب بنی کہ سورج کے کچھ ٹکڑے اس سے الگ ہو جائیں اور فضا میں بکھر جائیں اور پھر مرکزِ اصلی یعنی خود سورج کے گرد گردش کرنے لگیں۔ • لیکن لاپلاس کے بعد بعض دوسرے ماہرین کی تحقیقات ایک دوسرے مفروضے پر منتہی ہوئیں۔ وہ اس علیحدگی کا سبب اس شدید مدّ و جزر کو قرار دیتے ہیں، جو سورج کی سطح پر سے ایک بہت بڑے ستارے کے عبور کرنے کی وجہ سے ہوا۔ اس مفروضے سے اتفاق کرنے والے اس وقت کی سورج کی حرکت و صفی کو سورج کے ٹکڑوں کے علیحدہ ہونے کی توجیہ کے لیے کافی نہیں سمجھتے۔ وہ اس مفروضے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مدّ و جزر نے سورج کی سطح پر بہت بڑی بڑی لہریں اس طرح پیدا کیں جیسے پتھر کا کوئی بہت بڑا ٹکڑا سمندر میں گرے اور اس سے لہریں پیدا ہوں۔ اس طرح سورج کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے باہر نکل کر گر پڑے اور خود سورج کے گرد گردش کرنے لگے۔ بہرحال، اس علیحدگی کا عامل کچھ بھی ہو، اس پر سب متفق ہیں کہ نظامِ شمسی کی تخلیق "انشقاق" کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی۔ (ب) بڑے شہاب: یہ بڑے بڑے آسمانی پتھر ہیں، جو نظامِ شمسی کے گرد گردش کر رہے ہیں اور جو کبھی چھوٹے کرّات اور سیاروں سے مشابہت رکھنے والے قرار دیے جاتے ہیں۔ بڑے اس وجہ سے کہ ان کا قطر ۲۵ کلومیٹر تک ہوتا ہے، لیکن وہ عموماً اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ "استروئیدھا" ایک عظیم سیارے کے بقیہ جات ہیں، جو مشتری اور مریخ کے درمیان مدار میں حرکت کر رہا تھا اور اس کے بعد نامعلوم عوامل کی بنا پر وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ اس طرح کے ٹکڑے شہاب معلوم کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے جو بڑے ہیں ان کے نام بھی رکھے جا چکے ہیں۔ بلکہ ان کا حجم، مقدار اور سورج کے گرد ان کی گردش کا حساب بھی لگایا جا چکا ہے۔ بعض ماہرینِ فلکیات ان استروئیدوں کی خاص اہمیت کے قائل ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ "فضا کے دور دراز حصّوں کی جانب سفر کرنے کے لیے اوّلین قدم کے عنوان سے ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔"
آسمانی کروں کے انشقاق کا ایک دوسرا نمونہ:
(ج) شہابِ ثاقب یہ چھوٹے چھوٹے آسمانی پتھر ہیں، جو کبھی کبھی چھوٹی انگلی کے برابر بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ سورج کے گرد ایک خاص مدار میں بڑی تیزی کے ساتھ گردش کر رہے ہیں اور جب کبھی ان کی سمتِ سفر کرّۂ زمین کے مدار کو کاٹ کر گزرتی ہے، تو وہ زمین کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ یہ چھوٹے پتھر، ہوا سے شدّت کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے اور اندرونی تھرتھراہٹ کے باعث شدید گرم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بھڑک اٹھتے ہیں کہ ان میں سے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ہم انہیں ایک پُرنور، خوبصورت لکیر کی شکل میں فضائے آسمانی میں دیکھتے ہیں اور انہیں "شہابِ تیر" کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کبھی یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک دور دراز کا ستارہ ہے جو گر رہا ہے، حالانکہ وہ چھوٹا شہاب ہوتا ہے، جو بہت ہی قریبی فاصلے پر بھڑک کر خاک ہو جاتا ہے۔ شہابوں کی گردش کا مدار زمین کے مدار سے دو نقطوں پر ملتا ہے۔ اسی بنا پر "مرداد" (ایرانی مہینے کا نام) اور "ابان" (یہ بھی ایرانی مہینے کا نام) میں، جو دو مداروں کے نقطۂ تقاطع ہیں، شہابِ ثاقب زیادہ نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دُمدار ستارے کے بقیہ حصّے ہیں، جو نامعلوم حوادث کی بنا پر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔
آسمانی کرّوں کے پھٹنے کا ایک اور نمونہ
بہرحال، آسمانی کرّوں کا انفجار و انشقاق یعنی پھٹنا اور پھٹ کر بکھرنا کوئی بےبنیاد بات نہیں ہے اور جدید علوم کی نظر میں یہ کوئی فعلِ محال بھی نہیں کہ یہ کہا جائے کہ "معجزہ کا تعلق امرِ محال کے ساتھ نہیں ہوا کرتا۔" یہ سب "انشقاق" یعنی پھٹنے کے سلسلہ کی باتیں ہیں۔ دو ٹکڑوں میں جو قوّتِ جاذبہ ہوتی ہے، اس بنا پر اس انشقاق کی بازگشت ناممکن نہیں ہے۔ اگرچہ ہیئتِ قدیم میں بطلیموس کے نظریہ کے مطابق، نو آسمان پیاز کے تہہ بہ تہہ چھلکوں کی طرح ہیں اور گھومتے رہتے ہیں اور یوں یہ نو آسمان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، جن کا ٹوٹنا اور جُڑنا ایک جماعت کی نظر میں امرِ محال تھا۔ اسی لیے اس نظریہ کے حامل افراد "معراجِ آسمانی" کے بھی منکر تھے اور "شق القمر" کے بھی لیکن اب، جب کہ ہیئتِ بطلیموس کا مفروضہ خیالی افسانوں اور کہانیوں کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور نو آسمانوں کا کوئی نشان تک باقی نہیں رہا، تو اب ان باتوں کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ یہ نکتہ کسی یاددہانی کا محتاج نہیں کہ "شق القمر" ایک عام طبعی عامل کے زیرِ اثر رونما نہیں ہوا بلکہ اعجاز نمائی کا نتیجہ تھا۔ لیکن چونکہ اعجاز "محالِ عقلی" سے تعلق نہیں رکھتا، لہٰذا یہاں مطلوب اس مقصد کے امکان کو بیان کرنا تھا، غور فرمائیں۔
٣۔ "شق القمر" تاریخی اعتبار سے
ایک اور اعتراض، جو بعض بےخبر افراد شق القمر پر کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ "اگر یہ واقعہ اپنی اس اہمیت کے ساتھ حقیقت پر مبنی ہوتا تو دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ملتا، جب کہ ایسا نہیں ہوا۔" یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے، اس مسئلے کا تجزیہ اور اس کی تحلیل کی جاتی ہے۔ (الف) یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ چاند ہمیشہ صرف آدھے کرّۂ ارض سے نظر آتا ہے اور سارے کرّۂ ارض سے بیک وقت نظر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے زمین کے آدھے حصے کے لوگ تو اس حساب سے خارج ہیں، یعنی ان کے لیے اس واقعے کو دیکھنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ (ب) اس نیم کرّۂ ارض کے جو آدھے لوگ ہیں، ان کا سویا ہوا ہونا ممکن ہے۔ چونکہ یہ معاملہ آدھی رات کے بعد کا ہے، اس لیے ساری دنیا کے چوتھائی افراد ہی اس واقعے سے باخبر ہو سکتے ہیں۔ (ج) قابلِ رویت حصہ میں بھی عین ممکن ہے کہ آسمان کا کوئی خاص حصہ ابر آلود ہو اور چاند کا چہرہ بادلوں میں پوشیدہ ہو۔ (د) آسمانی حوادث افراد کی توجہ صرف اس صورت میں اپنی طرف مبذول کراتے ہیں جب: • بجلیوں کی سی شدید کڑک اپنے اندر رکھتے ہوں۔ • یا مکمل گرہن کی صورت میں، جب چاند بالکل ہی غائب ہو جائے اور وہ بھی ایک طویل وقفے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر منجمین کی طرف سے اعلان نہ ہو تو چھوٹے موٹے گہن کی بہت کم لوگوں کو خبر ہوتی ہے۔ بہت سے افراد تو مکمل چاند گرہن سے بھی بےخبر رہتے ہیں، صرف وہ لوگ، جو اجرامِ فلکی یعنی چاند وغیرہ کا رصد گاہوں میں مشاہدہ کرتے رہتے ہیں یا وہ لوگ، جن کی اتفاقاً نگاہ آسمان پر پڑ جائے، ان کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسے واقعے سے باخبر ہوں اور کچھ اور لوگوں کو بھی باخبر کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاند کا مختصر وقت کے لیے رونما ہونے والا واقعہ، جیسا کہ ابتدا میں سمجھا جاتا تھا، پوری دنیا کے لوگوں کی توجہ جذب کرنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ علی الخصوص اس زمانے کے لوگ، جو اجرامِ سماوی کی اہمیت کے اصولی طور پر بہت کم قائل تھے۔ (ھ) علاوہ ازیں، تاریخ میں درج مطالب اور ان کی نشر و اشاعت کے وسائل اس زمانے میں محدود تھے۔ یہاں تک کہ لکھے پڑھے افراد بہت کم تھے اور کتابیں صرف ہاتھ سے لکھی ہوئی ہوتی تھیں۔ اس وقت موجودہ دور کی کیفیت نہیں تھی کہ اہم واقعات بجلی کی سی سرعت کے ساتھ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعے تمام دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ ان پہلوؤں کو اگر پیش نظر رکھا جائے، تو اس واقعے کے غیر اسلامی تاریخوں میں درج نہ ہونے پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس صورتِ حال کو اس واقعے کی نفی پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔
۴۔ اس عظیم معجزے کے وقوع کی تاریخ
راویانِ حدیث اور مفسّرین میں اس بات پر قطعاً کوئی اختلاف نہیں کہ شق القمر کا معجزہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے، قیامِ مکّہ کے زمانے میں رونما ہوا ہے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ابتدائے بعثتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہوا ہے۔ [بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ٧١، صفحہ ۳۵۴ (حدیث ٨)]۔ جبکہ بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قیامِ مکّہ کے آخری دور میں، ہجرت کے قریب ہوا اور وہ بھی کچھ حقیقت کے متلاشی افراد کے تقاضے پر۔ یہ افراد مدینہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عقبہ میں آپ کی بیعت کی۔ [بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ٧١، صفحہ ۳۵۲ (حدیث ۱)]۔ بعض روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے شق القمر کا اعجاز دکھانے کی علت یہ تھی کہ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ "جادو اور سحر کے اثرات زمینی امور سے متعلق ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بات کا اطمینان حاصل کر لیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات جادو نہیں ہیں۔" [بحوالہ: "بحار الانوار"، جلد ٧١، صفحہ ۳۵۵ (حدیث ۱۰)]۔ متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کی ایک جماعت نے اس معجزہ کو دیکھ کر کہا کہ ہم اسے قبول نہیں کریں گے، یہاں تک کہ شام اور یمن کے قافلے آن پہنچیں اور ہم ان سے سوال کریں کہ کیا انہوں نے یہ واقعہ دیکھا ہے لیکن جب آنے والے مسافروں نے اس واقعے کی تصدیق کی، تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے۔ [بحوالہ: "در المنثور"، جلد ۶، صفحہ ١٣٣]۔ آخری نکتہ، جو یہاں ذکر کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ دوسرے بہت سے معجزات کی طرح یہ معجزہ بھی تاریخ اور ضعیف روایتوں کے خرافات میں آمیزش کا شکار ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کا اصل چہرہ غور و فکر کرنے والوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا۔ مثلاً یہ کہ چاند کے ایک ٹکڑے کا زمین پر آنا وغیرہ۔ مناسب یہ ہے کہ ایسی خرافات کو اس واقعے سے جدا رکھا جائے تاکہ معجزے کی اصل حقیقت اس میں ملوث نہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وہ دن کہ جب سب قبروں سے باہر نکلیں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اس بحث کے بعد کہ جو گزشتہ آیتوں میں کفّار کی ایک ایسی جماعت کے بارے میں ہے کہ جس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تھی اور کسی بھی معجزے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا تھا، یہ آیتیں آئیں۔ ان میں اس قسم کے افراد کے بارے میں مزید تفصیل ہے اور یہ کہ قیامت میں دردناک عذاب کی وجہ سے ان کا کیا حال ہو گا۔ پروردگارِ عالم پہلے ارشاد فرماتا ہے کہ اس طرح نہیں ہے کہ یہ لوگ بےخبر ہوں بلکہ وہ خبریں، جو ان کے لیے بُرائیوں سے اور قبیح چیزوں سے دامن بچانے کا موجب بن سکتی ہیں، کافی مقدار میں ان کے پاس آئی ہیں۔ (وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ)۔ خدا کی طرف بلانے والوں کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں تھی بلکہ یہ ان کا بےغیرت پن ہے: یہ نہ تو سُننے والے کان رکھتے ہیں اور نہ اِن میں حق طلبی کی روح ہے۔ ان میں اس حد تک تقویٰ بھی موجود نہیں کہ جو انہیں آیاتِ الہٰی میں تحقیق و تدبر کی دعوت دے۔ "انباء" (خبریں) سے مراد گزشتہ امتوں اور قوموں کی خبریں ہیں جو مختلف النوع سزاؤں اور عذاب سے ہلاک ہوئیں۔ اس میں قیامت کی خبریں ہیں اور ظالموں اور کافروں کی ان سزاؤں کے بارے میں بیان ہے جس کا ذکر وضاحت سے قرآن میں موجود ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد فرماتا ہے کہ یہ آیتیں حکمتِ بالغہ الہٰی ہیں اور اپنے اندر گہرائی رکھنے والی نصیحتیں ہیں لیکن یہ ڈرانے والی چیزیں ان ہٹ دھرم افراد کے لیے مفید نہیں ہیں۔ (حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ)۔ [تشریحی نوٹ: "حِکْمَةٌ بالِغَةٌ" مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیرِ کلام میں "ھذہِ حِکْمَةٌ بالِغَةٌ" ہے اور "نُذُر" جمع ہے "نذیر" کی، یعنی ڈرانے والی چیزیں، عام اس سے کہ وہ آیاتِ الہٰی ہوں یا گزشتہ انبیاء اور اُمّتوں کی خبریں، کہ جن کی صدا لوگوں کے کانوں تک پہنچی ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی تسلیم کیا ہے کہ "نُذُر" مصدر ہے "انذار" کے معنوں میں، لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں۔ ضمنًا "ما"، "ما تُغْنِی النُّذُر" میں "نافیہ" ہے، نہ کہ "استفہامیہ"]۔ خلاصہ یہ ہے کہ فاعل کی فاعلیت میں کوئی نقص نہیں ہے، جو نقص ہے وہ قابل کی قابلیت میں ہے۔ ورنہ گزشتہ انبیاء کے پاس ان کی امتوں کے بارے میں جو خبریں آئی ہیں اور وہ خبریں جو قیامت کے بارے میں ان تک پہنچی ہیں، ان میں سے ہر ایک حکمتِ بالغہ ہے اور اتنی پُرتاثیر ہے کہ ان کے دل و دماغ میں جاگزیں ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ان میں تھوڑی سی روحانی توجہ موجود ہو۔ بعد والی آیت میں فرماتا ہے: اب جبکہ یہ حق سے بیگانہ افراد قبول کرنے کی طرف قطعاً آمادہ نہیں ہیں تو تُو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور آمادگی رکھنے والے دلوں کی تلاش کر۔ (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ)۔ اور اس دن کو یاد کر کہ جس دن خدا کی طرف بلانے والے ایک وحشتناک امر کی جانب لوگوں کو بلا رہے ہوں گے، یعنی حساب کتاب اور نامۂ اعمال کی جانچ پڑتال کی جانب۔ (يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ لِشَيْءٍ نُكُرٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "نُکُر" مفرد ہے۔ اس کا مادہ "نَکَارَہ" ہے، جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو غیرمعروف اور وحشتناک ہو]۔ اس بنا پر (يَوْمَ يَدْعُ الدَّاع) ایک مستقل جملہ ہے جو (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ) کے جملے سے الگ ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اسے گزشتہ جملے کا آخری حصہ سمجھا ہے۔ ان کے خیال میں مراد یہ ہے کہ جب قیامت میں خدا کی طرف بلانے والے بلائیں گے اور وہ لوگ تیرا دامنِ شفاعت تھامیں گے تو تُو ان سے منہ پھیر لے۔ لیکن یہ تفسیر بعید از عقل ہے۔ خدا کی طرف یہ بلانے والا یا تو خود خدا ہے، یا اس کے فرشتے، یا اسرافیل، کہ جو صور پھونک کر لوگوں کو قیامت میں بلائے گا، یا یہ سب ہیں۔ مفسرین نے مختلف احتمالات تجویز کیے ہیں۔ سورۂ اسراء کی آیت ۵۲ جس میں خدا فرماتا ہے: (يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ)۔ "یاد کرو اس دن کو جب خدا تمہیں تمہاری قبروں سے بلائے گا اور تم بھی اس کی پکار پر لبیک کہو گے، اس حالت میں کہ اس کی حمد و ثنا کر رہے ہو گے۔" اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے، پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں، اگرچہ بعد والی آیتیں ان معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں اور اس سے مراد فرشتے، حساب کتاب اور جزا و سزا کے مامورین ہوں۔ "شیءٍ نُکُرٍ" نہ پہچانے ہوئے سے مراد یا تو خدا کی طرف سے باریک بینی کے ساتھ حساب کتاب ہے، جو قیامت سے پہلے تک ان کے لیے غیرمعروف تھا، یا اجنبی قسم کے عذاب ہیں، جنہیں وہ کبھی تسلیم نہیں کرتے تھے، یا یہ سب امور ہیں کیونکہ قیامت کے تمام معیار انسانوں کے لیے اجنبی اور غیرمانوس ہوں گے۔ بعد والی آیت میں اس سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتا ہے: وہ قبروں سے نکلیں گے اس حالت میں کہ ان کی آنکھیں وحشت کی شدت کے باعث جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ بلامقصد ٹڈی دل کے مانند اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہوں گے۔ (خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ)۔ آنکھوں سے "خشوع" کی نسبت اس وجہ سے دی ہے کہ منظر اس قدر ہولناک ہو گا کہ آنکھیں اُسے دیکھنے کی تاب نہ رکھتی ہوں گی۔ لہٰذا نگاہیں نیچی ہوں گی۔ اور پراگندہ ٹڈی دل کی تشبیہ اس مشابہت کی وجہ سے ہے کہ دوسرے پرندوں کے برعکس، جو اُڑتے وقت اپنے اندر ایک طرح کا نظم اور ترتیب رکھتے ہیں، ٹڈی دل اپنے اندر کسی قسم کی ترتیب نہیں رکھتا، ٹڈیاں درہم برہم رہتی ہیں اور بغیر کسی مقصد کے چل پڑتی ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ اس دن ٹڈی دل کی طرح کمزور اور ناتواں ہوں گے۔ جی ہاں! یہ دل کے اندھے اور بےخبر لوگ اس طرح وحشت زدہ ہوں گے کہ بدمست افراد کی طرح ہر طرف رُخ کریں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے، گویا وہ اپنے وجود سے بےخبر ہوں گے، جیسا کہ سورۂ حج کی آیت ٢ میں ہمیں ملتا ہے: (وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ)۔ "اس دن تُو لوگوں کو مست دیکھے گا حالانکہ وہ مست نہیں ہوں گے۔" حقیقت میں یہ تشبیہ اس مفہوم کو لیے ہوئے ہے جو سورۂ قارعہ کی آیت ۴ میں آیا ہے: (يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ)۔ "یاد کر اس دن کو جب لوگ پراگندہ بھنگوں کے مانند ہوں گے۔" اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "جس وقت یہ لوگ اس پکار کے بعد قبروں سے نکلیں گے تو شدتِ وحشت کی وجہ سے پکارنے والے فرشتوں کی طرف گردن اٹھا کر دیکھ رہے ہوں گے۔" (مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ)۔ "مُهْطِعِينَ" کا مادہ "اهَطَاعَ" ہے، اس کے معنی گردن اٹھا کر دیکھنے کے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کے معنی کسی چیز کی طرف تیزی سے دوڑنے یا نگاہِ خیرہ سے دیکھنے کے لیے لیے ہیں۔ مذکورہ معانی میں سے اس تفسیر میں ہر ایک کا احتمال ہے، اگرچہ پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں، کیونکہ جب انسان کسی وحشتناک صدا کو سنتا ہے تو فوراّ گردن اونچی کر کے اس طرف دیکھتا ہے جہاں سے آواز آ رہی ہوتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام امور آیت میں اکھٹے موجود ہوں۔ یعنی وہ خدا کی طرف بلانے والے کی آواز سننے کے بعد گردنیں اٹھا کر خیرہ نگاہی کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پھر تیزی کے ساتھ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوں گے۔ یہ وہ دن ہے کہ اس دن برپا ہونے والے سخت حوادث کی وحشت ان کے وجود کو گھیر لے گی۔ اس لیے اس آیت کے آخر میں ہے: "کافر کہیں گے آج سخت اور دردناک دن ہے: (يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ)۔ وہ دن واقعی سخت ہو گا کیونکہ خدا ان معنوں کی تصدیق کرتا ہے اور سورۂ فرقان کی آیت ۲۶ میں فرماتا ہے: وَ کانَ یَوْماً عَلَی الْکافِرینَ عَسیرا "وہ کافروں کے لیے سخت دن ہے۔" اس تعبیر سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ دن مومنین کے لیے سخت نہیں ہو گا۔
ایک نکتہ: قیامت کا دن کیوں بہت سخت ہے؟
وہ دن سخت کیوں نہ ہو جب کہ خوف و دہشت کے تمام عوامل مجرموں کا احاطہ کیے ہوئے ہوں گے۔ جب نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیے جائیں گے تو ان کی فریاد بلند ہو گی: یَا وَیْلَتَنَا مَا لِہذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَا كَبِیرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا۔ "وائے ہو ہم پر! یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ چھوٹا یا بڑا کوئی کام ایسا نہیں جو اس میں مندرج نہ ہو" (الکہف: ۴۹)۔ پھر یہ کہ کوئی اچھا یا بُرا، چھوٹا یا بڑا کام جو اُنہوں نے کیا ہو گا، اس سب کا حساب انتہائی باریک بینی کے ساتھ کیا گیا ہو گا: إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ۔ "اگر خردل کے دانے کے برابر اچھا یا بُرا عمل کسی پتھر کے اندر، آسمانوں کے کسی گوشہ میں یا زمین کے کسی کونے میں چھُپا ہو گا، تو اللہ اسے حساب کے لیے حاضر کرے گا، کیونکہ اللہ باریک بیں اور ہر چیز سے آگاہ ہے" (لقمان: ۱۶)۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہاں کسی قسم کی تلافی کا امکان نہیں ہو گا اور کوئی عذر بھی نہیں سنا جائے گا، نیز واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں ہو گا، جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے: وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ۔ "اس دن سے ڈرو، جس میں کوئی شخص سزا و جزا میں دوسرے کی جگہ نہیں لے گا، نہ اس کے بارے میں شفاعت قبول ہو گی، نہ تاوان یا بدلہ قابل قبول ہو گا اور نہ ہی کوئی شخص اس کی مدد کے لیے کھڑا ہو سکے گا" (البقرہ: ۴۸)۔ پھر ہم یہ بھی پڑھتے ہیں: وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔ "اگر تم ان کی حالت دیکھو جب وہ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے: "اے کاش! ہم دنیا کی طرف دوبارہ پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں سے ہوتے" (الأنعام: ۲۷)۔ لیکن یہ باتیں ان سے قبول نہیں کی جائیں گی۔ چوتھا امر یہ ہے کہ خدا کا عذاب اس قدر شدید ہو گا کہ مائیں اپنی اولاد کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائیں گے اور لوگ مبہوت اور مست نظر آئیں گے، حالانکہ وہ مست نہیں ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب شدید ہو گا: يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ (الحج: ۲)۔ "اس بناء پر گنہگار اضطراب و وحشت میں اس قدر گرفتار ہوں گے کہ وہ پسند کریں گے کہ جو کچھ اس جہان میں ان کے پاس ہے، اسے دے کر عذابِ الہٰی سے نجات حاصل کرلیں۔" يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ كَلَّا إِنَّهَا لَظَىٰ۔ مجرم خواہشمند ہو گا کہ اس دن کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنا بیٹا، بیوی اور رشتہ دار جو مشکلات میں اس کے مددگار تھے، حتٰی کہ تمام لوگ جو روئے زمین پر ہیں، فدا کر دے، لیکن کوئی چیز کچھ فائدہ نہ دے گی۔ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کے انتظار میں ہے۔ (المعارج: ۱۱-۱۵)۔ کیا ان چیزوں کے ہوتے ہوئے اور قرآن میں مذکور ان دل دہلا دینے والی باتوں کی موجودگی میں، یہ ممکن ہے کہ وہ دن سخت، دردناک اور تکلیف دہ نہ ہو؟ (اللہ ہمیں اپنے لطف و کرم کی پناہ میں رکھے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قومِ نوح علیہ السلام کا ماجرا درسِ عبرت تھا
Tafsīr Nemūna · Vol. 8قرآن کی سنت یہ ہے کہ کفّار و مجرمین کو خوف دلانے کے بعد گزشتہ قوموں کی سرگزشت اور ان کی عبرتناک عاقبت کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے تاکہ انہیں سمجھائے کہ اگر تم اپنے غلط راستے پر چلتے رہے تو تمہارا انجام بھی ویسا ہی ہو گا۔ اس سورہ میں بھی ان مباحث کے بعد، جو گزشتہ آیتوں میں مذکور ہوئے، مختصر اور پُرمعنی اشارے گزشتہ اقوام میں سے پانچ قوموں کے متعلق موجود ہیں کہ جن میں سے پہلی قوم، قومِ نوح علیہ السلام تھی۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ان سے پہلے قومِ نوح نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی" (کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوحٍ)۔ جی ہاں! انہوں نے ہمارے بندے نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ شخص دیوانہ ہے اور اس کے بعد طرح طرح کی ایذا رسانیوں کے ذریعے اسے اپنی پیغام رسانی جاری رکھنے سے منع کیا (کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَکَذَّبُوا عَبْدَنا وَ قالُوا مَجْنُون وَ ازْدُجِر)۔ "کبھی اس سے کہتے کہ اگر تو اپنے کام سے باز نہ آیا تو ہم تجھے سنگسار کر دیں گے۔" (قالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ یا نُوحُ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومین) (الشعراء: ۱۱۶)۔ اور کبھی اس کا گلا اس طرح دباتے کہ وہ بےہوش کر کے زمین پر گر پڑتا، لیکن جب ہوش میں آتا تو کہتا: اللھم اغفر لی لقومی فإنھم لا یعلمون۔ "خداوندا میری قوم کو بخش دے یہ نہیں جانتے۔" [بحوالہ: "تفسیر کشاف"، "ابو الفتوح رازی"، در ذیلِ آیاتِ زیر بحث]۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح ان سے ہو سکا، انہوں نے اسے ایذا پہنچائی لیکن وہ تبلیغ سے دستبردار نہ ہوا۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ اس آیت میں تکذیب کا ذکر دو مرتبہ ہوا ہے۔ بظاہر اس بنا پر کہ پہلی مرتبہ اجمالی شکل میں ہے اور دوسری مرتبہ تفصیل کے ساتھ۔ "عبدنا" (ہمارا بندہ) سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مغرور و سرکش قوم نوح کی نہیں بلکہ ہماری مدِّمقابل تھی۔ "وازدجر" کا جملہ اصل میں "زجر" سے ہے، اس کے معنی دُور کرنے اور بلند آواز سے کسی کو دھتکارنے کے ہیں، لیکن یہ لفظ ہر ایسے عمل کے لیے بولا جاتا ہے جس کا روکنا مقصود ہو۔ قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ زیر بحث آیت میں "قالوا" فعل معلوم کی شکل میں آیا ہے اور "ازدجر" فعل مجہول کی شکل میں، شاید اس وجہ سے کہ ان کے اعمال نوح علیہ السلام کے زجر و توبیخ کے مقابلے میں اتنے زیادہ نامناسب تھے کہ پروردگارِ عالم اِن میں سے کسی گروہ کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتا۔ اس کے بعد فرماتا ہے: جس وقت نوح علیہ السلام ان کی ہدایت سے کُلّی طور پر مایوس ہو گئے تو انہوں نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی: "پروردگار! یہ باغی اور مجرم گروہ مجھ پر غالب آ گیا ہے، پروردگار! ان سے میرا انتقام لے (فَدَعا رَبَّہُ أَنِّی مَغْلُوب فَانْتَصِرْ)۔ انہوں نے دلیل، حجت اور برہان کے ذریعہ مجھ پر غلبہ حاصل نہیں کیا، بلکہ ظلم، تکذیب، انکار اور مختلف قسم کے دباؤ کے ذریعہ مجھ پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ تو اب یہ قوم باقی رہنے کے قابل نہیں ہے، لہٰذا ان سے میرا انتقام لے اور مجھے ان کے مقابلے میں کامیابی عطا فرما۔ [تشریحی نوٹ: "انتصر" کے معنی مدد طلب کرنے کے ہیں، جیسا کہ سورۂ شوریٰ کی آیت ۴۱ میں آیا ہے، لیکن یہاں انتقام کے معنی میں ہیں۔ ایسا انتقام جو عدل و حکمت پر مبنی ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ تقدیر عبارت میں "انتصرلی" تھا]۔ جی ہاں! یہ عظیم پیغمبر جب تک ان کے ہدایت پانے کی امید رکھتا تھا اس وقت تک خدا سے دعا کرتا رہتا کہ انہیں بخش دے، لیکن جب بالکل مایوس ہو گیا تو پھر اس نے ان پر نفرین کی اور ان کے حق میں بددعا کی۔ اس کے بعد ان کے عذاب کی کیفیت کی طرف صاف اور دل ہلا دینے والا اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: "ہم نے نوح کی اس درخواست کے بعد آسمان کے دروازے کھول دیے، پھر شدید اور مسلسل بارش ہونے لگی" (فَفَتَحْنا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْہَمِرٍ)۔ آسمان کے دروازوں کو کھول دینے کے الفاظ بہت ہی خوبصورت ہیں کہ جو شدید بارش کے وقت استعمال کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ہم اُردو میں بھی کہتے ہیں: "گویا آسمان کے دروازے کُھل گئے اور جتنا پانی تھا سب برس گیا۔" "منہمر" کا مادّہ "ھمر" بروزن "صبر" ہے، اس کے معنی شدت سے آنسو بہنے یا پانی کے برسنے کے ہیں۔ یہ لفظ جانور کے تھن کو دودھ کے آخری قطرے تک دوہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تعجب اس امر پر ہے کہ مفسرین کے بعض اقوال میں آیا ہے کہ وہ برسوں سے خشک سالی کا شکار تھے اور بارش کے انتظار میں تھے، یہاں تک کہ اچانک بارش ہونے لگی، مگر یہ زندہ کرنے والی بارش نہیں بلکہ جان سے مار دینے والی تھی۔ [بحوالہ: "روح المعانی" زیر بحث آیات کے ذیل میں]۔ نہ صرف یہ کہ آسمان سے زیادہ پانی برسنے لگا بلکہ زمین سے بھی اُبلنے لگا، جیسا کہ آیت میں آیا ہے: اور ہم نے زمین کو شگافتہ کیا اور اس سے زیادہ چشمے نکالے (وَ فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُونا)۔ [تشریحی نوٹ: "عیوناً" ہو سکتا ہے کہ "الارض" کے لیے تمیز ہو اور تقدیر عبارت میں "(وَ فَجَّرْنَا عُیُونَ الْأَرْض)" ہو۔ اس کے بعد "عیون"، جو کہ مفعول ہے، جدا ہوا ہے اور تمیز کی شکل میں آیا ہے تاکہ مبالغہ اور اہمیت کو بتائے، یعنی ساری زمین چشمے میں بدل گئی تھی]۔ اور یہ دونوں پانی اتنی مقدار میں کہ جس قدر مطلوب تھے، آپس میں مِل گئے اور اس نے ساری زمین کو گھیر لیا: (فَالْتَقَی الْماء ُ عَلی أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ)۔ بعض مفسّرین نے "قَدْ قُدِرَ" کے لفظ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ یہ دونوں پورے طور پر ایک دوسرے کی مقدار کے برابر تھے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ ساری زمین سے پانی اُبلنے لگا، چشمے نکل آئے، آسمان سے پانی برسنے لگا، یہ دونوں آپس میں مِل گئے اور انہوں نے ایک عظیم سمندر اور طوفان تشکیل دیا۔ یہاں قرآن نے طوفان کے مسئلے کو چھوڑ دیا، کیونکہ جو کچھ کہنا تھا وہ گزشتہ جملوں میں کہا جا چکا تھا۔ اب نوح علیہ السلام کی کشتیٔ نجات کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ہم نے نوح علیہ السلام کو ایک سواری پر، جو تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی، سوار کیا (وَ حَمَلْنَاہُ عَلی ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَ دُسُرٍ)۔ "دُسُرٍ" جمع ہے "دِسر" کی، جو "کتاب" کے وزن پر ہے، جیسا کہ راغب "مفردات" میں کہتا ہے کہ "دِسر" کے معنی کسی کو غصّے سے دھتکارنے کے ہیں اور چونکہ میخ ان شدید چوٹوں کی وجہ سے، جو اس پر پڑتی ہیں، لکڑی وغیرہ میں گھُس جاتی ہے، اس لیے اسے "دِسر" کہتے ہیں۔ بعض مفسّرین نے اس لفظ کے معنی "طناب" یعنی "رسّی" کے لیے لیے ہیں اور وہ اس سے کشتی کے بادبان کی رسّیوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ لیکن پہلے معنی، علی الخصوص "ألواح" (تختوں) کی مناسبت سے، زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ بہرحال، یہاں قرآن کی تعبیر جاذبِ توجہ اور پُرمعنی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے کہ اس عظیم، مجسّم طوفان کے درمیان، جو ہر چیز کو نگل گیا تھا، ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی نجات کا فرمان مُٹھی بھر میخوں اور لکڑی کے تختوں کے سپرد کر دیا اور انہوں نے یہ ذمّہ داری عمدہ طریقے سے پوری کی اور یہ قُدرت کا عظیم مظاہرہ تھا۔ ممکن ہے کہ یہ قرآنی تعبیر، اس زمانے کی ترقی یافتہ، صُورت رکھنے والی کشتیوں کے مقابلے میں اُس زمانے کی ان سادہ کشتیوں کی طرف اشارہ ہو، جن میں خصوصی طور پر بیٹھنے کی جگہیں نہیں تھیں اور نہ ان کی کوئی خاص صُورت تھی۔ پھر بھی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کافی بڑی تھی اور تاریخ کے بیان کے مطابق، اس کی تعمیر کے سلسلے میں نوح علیہ السلام نے برسوں محنت اور مشقّت کی تھی تاکہ مختلف جانوروں کا ایک ایک جوڑا اس میں سما سکے۔ اس کے بعد، خدا اپنی خاص عنایت کے ساتھ نوح علیہ السلام کی کشتیٔ نجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: یہ کشتی، ہمارے (علم) کی نظروں کے سامنے، موجوں کے سینے کو چیرتی ہوئی، ہمارے مشاہدے اور حفاظت کے ماتحت اپنے سفر کو جاری رکھے رہی (تَجْرِی بِأَعْیُنِنَا)۔ "بِأَعْیُنِنَا" کی تعبیر ("ہماری آنکھوں کے سامنے") ایک لطیف اشارہ ہے کسی چیز کی طرف خصوصی توجہ اور اس کی مکمل نگرانی کی طرف۔ ایسا ہی سورۂ ہود کی آیت ۳۷ میں بھی ہم اسی موضوع کے ایک اور حصے میں پاتے ہیں: وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا یعنی: ہم نے اس پر وحی کی کہ ہماری نظروں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا۔ بعض مفسرین نے اس کا یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ ان انسانوں کی طرف اشارہ ہے جو کشتی پر سوار تھے۔ [تشریحی نوٹ: "أعین" جمع ہے "عین" کی، جس کے ایک معنی آنکھ اور دوسرے معنی انسان کے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی معنی ہیں]۔ اس وجہ سے "تَجْرِی بِأَعْیُنِنَا" کے جملے کے معنی میں ہیں کہ وہ کشتی ہمارے مخلص بندوں کو ساتھ لیے ہوئے ہے، لیکن قرآن کی دوسری آیتوں میں اس تعبیر کے دوسرے موارد پیش نظر رکھتے ہوئے، پہلی تفسیر صحیح نظر آتی ہے۔ ایک یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ "بِأَعْیُنِنَا" ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جو کشتیٔ نوح کے سلسلے میں ہدایات میں دخل رکھتے تھے، لیکن یہ تفسیر بھی، اس دلیل کی بنا پر جو ہم نے اُوپر بیان کی، ضعیف ہے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "یہ تمام سزا تھی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اور کافر ہوئے "(جَزَاءً لِمَنْ کَانَ کُفِرَ)۔ [تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیے کہ یہاں "کُفِرَ" فعلِ مجہول کی شکل میں ہے، جو کہ حضرت نوح علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے، جن کی نسبت وہ لوگ کافر ہوئے تھے، نہ کہ فعلِ معلوم ہے اور کفّار کی طرف اشارہ ہے]۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام بھی دوسرے انبیاء کی طرح خدا کی بڑی مہربانیوں اور نعمتوں میں سے ایک تھے، جن کی بےخبر اور جاہل افراد نے تکذیب کی اور کافر ٹھہرے۔ [تشریحی نوٹ: اگر آیت میں کسی چیز کا مقدّر نہ مانا جائے تو "کُفِرَ" کا نائب فاعل حضرت نوح علیہ السلام کی ذات ہو گی، جو وہ نعمت تھے کہ جس کا کفران ہوا۔ اور اگر کہیں تقدیر میں "کُفِرَ بِہِ" تھا، تو حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی تعلیمات پر عدمِ اطمینان کی طرف اشارہ ہو گا]۔ اس کے بعد، اس عظیم واقعہ سے نتیجہ اَخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے اس واقعہ کو درسِ عبرت اور اُمّتوں کے درمیان نشانی کے طور پر باقی رکھا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے"؟ (وَلَقَدْ تَرَکْنَاہَا آیَةً فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ)۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جو اہم تھیں، اس واقعہ کے ذیل میں بیان کر دی گئی ہیں اور ایک بیدار مغز انسان کو جو کچھ سمجھنا چاہیے، وہ اس واقعہ سے سمجھ سکتا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق، جو قبل و بعد کی آیتوں سے مطابقت رکھتی ہے، "تَرَکْنَاہَا" کی ضمیر واقعۂ طوفان، سرگزشتِ نوح اور ان کی مخالفت سے تعلق رکھتی ہے، لیکن بعض مفسّرین اسے کشتیٔ نوح علیہ السلام کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ کشتی ایک مُدّت تک عام لوگوں کے درمیان باقی رہی تھی۔ اور جس شخص کی نظر اس پر پڑتی تھی، اس کی نظروں کے سامنے طوفانِ نوح علیہ السلام کا تمام واقعہ مجسّم ہو جاتا تھا۔ اگر ہم اس روایت کو تسلیم کر لیں کہ اس کشتی کے بچے ہوئے تختے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ تک باقی تھے اور اس بات کو پیشِ نظر رکھیں کہ بعض افراد کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کے زمانے میں اس کشتی کے بقیہ حصے کوہِ قفقاز و آرارات میں دیکھے گئے ہیں، تو پھر یہ احتمال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ ایک اشارہ دونوں جانب ہو، یعنی واقعۂ نوح بھی ایک نشانی تھا اور لوگوں کے درمیان رہنے والی کشتی بھی ایک نشانی تھی۔ [تشریحی نوٹ: قومِ نوح علیہ السلام کے بارے میں ہم تفصیلی مباحث سورۂ ہود کی آیت ۲۵ تا ۴۹ (جلد ۵، تفسیرِ نمونہ) میں تحریر کر چکے ہیں]۔ پروردگارِ عالم بعد والی آیت میں ایک تہدیدآمیز اور پُرمعنی سوال کے عنوان کے ماتحت، ان کافروں کے متعلق، جو زمانۂ نوح کے کافروں والے راستے پر چل رہے ہیں، فرماتا ہے: "اب بتاؤ کہ میرا عذاب اور تخویف دلانے والے امور کس طرح کے تھے؟" (فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَ نُذُرِ)۔ کیا وہ حقیقت تھے یا محض ایک افسانہ؟ اس مبحث سے متعلق آخری آیت میں، اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ: "ہم نے قرآن کو ذکر (نصیحت) کے لیے آسان کیا ہے، کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے" (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ)۔ بلاشک و شبہ، اس قرآن میں کسی قسم کا اُلجھاؤ نہیں ہے، تاثیر کی تمام شرائط اس میں جمع ہیں۔ اس کے الفاظ شیریں اور پُرکشش ہیں، اس کی تعبیریں زندہ اور پُرمعنی ہیں، اس کی خوف اور بشارتیں واضح اور صریح ہیں، اس کی داستانیں حقیقت پر مبنی ہیں، اس کے دلائل مضبوط و مستحکم ہیں، اس کی منطق فصیح، بلیغ اور متین ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ کسی کلام کو پُرتاثیر بنانے کے لیے ضروری ہے، وہ اس میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آمادگی رکھنے والا دل اس کی طرف جُھکے گا، تو وہ اس میں کشش محسوس کرے گا۔ اسلام کی طویل تاریخ میں، قرآن کی اس عمیق تاثیر کے بارے میں، جو توجہ رکھنے والے دلوں میں موجود تھی اور اس تاثیر کی واضح شاہد تھی، عجیب و غریب شواہد ملتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اگر کسی تخم (بیج) کا جوہرِ حیات ہی مردہ ہو چکا ہو، تو اسے اگر بہترین زمین میں بھی بو دیں اور بہترین باغبانوں کی زیرِ نگرانی اس کی آبِ کوثر سے آبیاری کریں، تب بھی وہ نشوونما نہیں پائے گا اور اس سے پھول اور سبزہ پیدا نہیں ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قومِ عاد کی سرگزشت
Tafsīr Nemūna · Vol. 8دوسری قوم، کہ جس کی سرگزشت اس سورہ میں حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت کے بعد آئی ہے، قومِ عاد ہے۔ قرآن کافروں اور مجرموں کو خبردار اور متنبہ کرنے کے لیے زیر بحث آیات میں مختصر طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "قومِ عاد" نے بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب کی (کَذَّبَتْ عَادٌ)۔ ان کے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام تبلیغ پر جتنا زیادہ زور دیتے اور مختلف طریقوں سے انہیں خوابِ غفلت سے جگانے کی کوشش کرتے، ان کی کج فہمی اور ہٹ دھرمی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا۔ اپنی دولت و ثروت کے غرور اور خواہشات میں مستغرق رہنے کی وجہ سے جو اُن میں غفلت آئی تھی، اس کے باعث وہ سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہو چکے تھے۔ آخرکار خدا نے انہیں دردناک عذاب کی سزا دی، اس لیے اس آیت کے آخر میں پروردگارِ عالم اجمالی طور پر فرماتا ہے کہ دیکھو! میرا عذاب اور تخویف کس طرح کے تھے؟ (فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَ نُذُرِ)۔ اس کے بعد والی آیت میں اس اجمال کی تفصیل پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے کہ: "ہم نے وحشتناک، سرد اور تیز آندھی، ایک ایسے منحوس دن کہ جو بہت طویل تھا، ان کی طرف بھیجی" (إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیحًا صَرْصَرًا فِی یَوْمٍ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ)۔ "صرصر" کا مادہ "صر" بروزن "شر" ہے۔ اس کے معنی باندھنے اور محکم کرنے کے ہیں۔ "صرصر" کے لفظ میں اس کی تکرار تاکید کے لیے ہے اور چونکہ یہ ہوا سرد، شدید، پُرسوز اور گونج سے بھری تھی، اس وجہ سے یہ لفظ اس کے لیے استعمال ہوا ہے۔ "نحس" اصل میں اس شدید سرخی کے معنوں میں ہے جو کبھی کبھی اُفق پر نمودار ہوتی ہے اور اس طرح وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو، عرب اسے "نحاس" کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لفظ ہر اس منحوس چیز کے لیے استعمال ہوا ہے جو نیک کے مقابل ہو۔ "مستمر"، "یوم" کی یا "نحس" کی صفت ہے۔ پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس دن کے حوادث اسی طرح طولانی تھے جس طرح کہ سورۂ حاقہ کی آیت ٧ میں مذکور ہیں: "سات رات اور آٹھ دن یہ عذابِ الٰہی ان پر مسلط رہا، یہاں تک کہ اس نے سب کو تلپٹ کر کے رکھ دیا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔" دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دن کی صورت برقرار رہی یہاں تک کہ سب کو ہلاک کر دیا۔ بعض مفسرین نے "نحس" کے معنی گرد و غبار سے بھرے ہوئے دن کے لیے ہیں، اس لیے کہ یہ آندھی اس قدر غبار آلود تھی کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جب یہ آندھی دور سے ظاہر ہوئی تو وہ یہ سمجھے کہ گھنگھور گھٹا ان کی طرف آ رہی ہے، لیکن بہت جلد وہ سمجھ گئے کہ تیز آندھی ہے جو ان پر عذاب کی صورت میں ہلاک کرنے کے لیے وارد ہوئی ہے۔ سورۂ احقاف کی آیت ۲۴ میں آیا ہے: "فَلَمَّا رَأَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِیَتِہِمْ قَالُوا ہَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِہِ رِیحٌ فِیہَا عَذَابٌ أَلِیمٌ۔" یہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آیت کے معنوں میں دونوں مفہوم موجود ہوں۔ اس کے بعد اس تیز آندھی کی کیفیت کے بارے میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے کہ لوگوں کو گھن کھائے ہوئے کھجور کے تنوں کی طرح اُکھاڑ دیا اور وہ ان کو ہر طرف پھینکتی تھی (تَنزِعُ النَّاسَ کَأَنَّھُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ)۔ "منقعر" کا مادہ "قعر" ہے، اس کے معنی ہیں کسی چیز کا سب سے نیچے کا نقطہ۔ اس لیے یہ لفظ جڑ سے اُکھاڑنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہ مفہوم یا تو اس بنا پر ہے کہ قومِ عاد کے لوگ قوی الجثہ تھے اور سخت جسم رکھتے تھے، یا یہ کہ انہوں نے تیز آندھی سے بچنے کے لیے زمین میں گڑھے کھود رکھے تھے اور زیرِ زمین پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں، لیکن اس روز آنے والی آندھی اتنی زوردار اور طاقتور تھی کہ ان کو پناہ گاہوں سے باہر نکالتی تھی اور اِدھر اُدھر پھینکتی تھی۔ وہ ان کو اس زور سے زمین پر پٹختی تھی کہ ان کے سر تن سے جدا ہو جاتے تھے۔ "أعجاز"، "عجز" کی جمع ہے، جو "رجل" کے وزن پر ہے۔ "عجز" کے معنی ہیں کسی چیز کا نچلا یا پچھلا حصہ۔ ان لوگوں کو کھجوروں کے تنوں کے نچلے حصے سے تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ وہ ہوا پہلے ان کے سروں اور ہاتھوں کو جدا کر کے اپنے ساتھ اُڑا کر لے جاتی تھی اور اس کے بعد بدن کے باقی حصے کو بےشاخ و برگ کھجور کے تنے کی طرح چاہے جس طرف پھینک دیتی تھی۔ یا اس وجہ سے کہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، ہوا اس قدر تیز تھی کہ وہ ان کو سر کے بل زمین پر گراتی تھی اور ان کی گردنوں کو توڑ کر سروں کو الگ کر دیتی تھی۔ اس کے بعد قرآن تنبیہ کے طور پر کہتا ہے: اب دیکھو! میرا عذاب اور میری تخویف کس طرح کی تھی (فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِی وَ نُذُرِ)۔ ہم نے دوسری ایسی قوموں کے ساتھ کہ جنہوں نے تکذیب، کبر و غرور اور گناہ و عصیان کا راستہ اختیار کیا تھا، اسی طرح کا سلوک کیا ہے، تو تم اپنے بارے میں کیا سوچتے ہو، کیونکہ تم بھی تو انہی کے راستے پر چل رہے ہو۔ پھر اس واقعہ کے آخر میں مزید کہتا ہے: ہم نے قرآن کو تذکیر کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی ہے کہ جو پند و نصیحت حاصل کرے۔ کیا تم خدا کی طرف سے آنے والی تنبیہ و تخویف کے لیے کوئی دیکھنے والی آنکھ رکھتے ہو؟ (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ کے جملے کی قومِ عاد کے بارے میں تکرار ہوئی ہے، یعنی وہ دو مرتبہ استعمال ہوا ہے، ایک تو اس سرگزشت کے بیان کے آغاز میں اور ایک مرتبہ اس کے آخر میں۔ یہ بات غالباً اس لیے ہے کہ اس گروہ پر آنے والا عذاب دوسری قوموں پر آنے والے عذاب کی نسبت زیادہ شدید اور وحشتناک تھا، اگرچہ سارے عذاب شدید ہی ہوتے ہیں۔
ایک نکتہ: نیک اور بد دن
یہ بات لوگوں کے معمولات میں سے ہے کہ وہ بعض ایّام کو نیک اور بعض کو نحس قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اس نیک یا منحوس ہونے کے تعیّن کے بارے میں اختلافات بھی بہت ہیں، یہاں گفتگو یہ ہے کہ آیا یہ عقیدہ اِسلام کے نقطۂ نظر سے قابلِ قبول ہے یا نہیں، یا پھر کیا یہ نظریہ اسلام سے اخذ کیا گیا ہے؟ بہرکیف، یہ نظریہ عقلی طور پر محال نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے زمانے کے اجزاء ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوں اور ان میں فرق موجود ہو۔ بعض اجزاء میں نحوست کے اثرات ہوں اور بعض میں اس کی ضد کے اثرات ہوں۔ اگرچہ کسی دن کو منحوس اور کسی کو نیک ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس عقلی دلیلیں نہیں ہیں، پس اس قدر ہم کہہ سکتے ہیں کہ "یہ ممکن ہے"، لیکن عقلی لحاظ سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ اگر شریعتِ محمدیہ کی طرف سے، اس وحی الہی کے ذریعہ کہ جو نہایت وسیع آفاق کو ظاہر کرتی ہے، ہمارے پاس دلیلیں ہوں تو ان کے قبول کرنے میں ہمارے لیے کوئی امر مانع نہیں ہے، بلکہ اس کا ماننا ہمارے لیے ضروری ہے۔ آیاتِ قرآنی میں صِرف دو مواقع ایسے ہیں جن میں دِنوں کی نحوست کی طرف اشارہ ہوا ہے، ایک تو زیر بحث آیتوں میں اور دوسرے سورۂ حم سجدہ کی آیت ۱۶ میں، جہاں اسی قومِ عاد کے بارے میں گفتگو ہے۔ وہاں ہمیں یہ ملتا ہے کہ فَأَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیحًا صَرْصَرًا فِی أَیَّامٍ نَحِسَاتٍ۔ "ہم نے سخت تیز اور سرد آندھی منحوس دنوں میں ان پر مسلط کی۔"" (حم السجدہ: ١٦) [تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیے کہ "نحسات" اس آیت میں "ایّام" کی صفت ہے، یعنی ایّامِ مذکور کی نحوست کے ساتھ توصیف ہوئی ہے، جب کہ زیرِ بحث آیات میں "(فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ)" میں "یوم" کی "نحس" کی طرف اضافت ہوئی ہے اور وہ وصفی معنی نہیں رکھتا۔ البتہ اوپر والی آیت کے قرینے سے ہمیں کہنا چاہیے کہ یہاں موصوف کی صفت کی طرف اضافت کی وجہ سے ہے]۔ اس کے برعکس، لفظ "مبارک" کی تعبیر بھی بعض آیاتِ قرآنی میں ہمیں نظر آتی ہے، چنانچہ شبِ قدر کے بارے میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ۔ "ہم نے قرآن کو بابرکت رات میں نازل کیا۔" (الدخان: ٣) نحس اصل میں، جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے عرض کیا ہے، اُفق کی شدید سُرخی کے معنی میں ہے، جو اُسے نحاس یعنی آگ کے اُس شدید شعلے کی شکل میں پیش کرتا ہے جو دھویں سے خالی ہو۔ پھر اسی مناسبت سے "شوم و منحوس" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس طرح قرآن اس مسئلے کے بارے میں اجمالی اشارہ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کہتا، لیکن اِسلامی روایات میں ایّامِ نحس و سعد سے متعلق بہت سی روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بہت سی روایات و احادیث ضعیف ہیں اور پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں، پھر بھی ان روایات میں ایسی چیزیں موجود ہیں جو قابلِ وثوق ہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا آیتوں کی تفسیر میں مفسّرین نے اس کی تائید کی ہے۔ محدّثِ اعظم علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بھی اس سلسلے میں بہت سی روایتیں بحار الانوار میں نقل کی ہیں۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۵۹، کتاب السماء والعالم، صفحہ ١ تا ٩١ اور کچھ اس کے بعد]۔ یہاں مختصراً جو کچھ کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے: (الف) بہت سی روایتوں میں نیک اور منحوس دن ان حادثات سے متعلق ہونے کی وجہ سے بیان کیے گئے ہیں، جو ان دنوں میں واقع ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں حضرت امیرا لمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زبانی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے بدھ کی جو بدشگونیاں مشہور ہیں، ان کے بارے میں سوال کیا اور پوچھا کہ یہ کون سا بدھ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: "آخِرُ أَرْبِعَاءِ فِی الشَّهْرِ وَهُوَ الْمَحَاقُ وَفِيهِ قَتَلَ قَابِیلُ هَابِیلَ أَخَاهُ... وَیَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِیحَ عَلَیٰ قَوْمِ عَادٍ۔" "مہینے کا آخری بدھ، جو محاق میں واقع ہو۔ اس دن قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تھا... اور خدا نے اسی بدھ کو تیز آندھی قومِ عاد کی طرف بھیجی تھی۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ١٨٣ (حدیث ۲۵)]۔ اس لیے بہت سے مفسّرین متعدد روایات کی پیروی کرتے ہوئے مہینے کے آخری بدھ کو منحوس سمجھتے ہیں اور اسے "اَرْبِعَاءُ لَا تَدُورُ" (وہ بدھ جو پلٹ کر نہیں آتا) مانتے ہیں۔ بعض دیگر روایات میں ہمیں ملتا ہے کہ مہینے کی پہلی تاریخ نیک ہوتی ہے، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام اسی تاریخ کو پیدا ہوئے تھے۔ اسی طرح ۲۶ ویں تاریخ، کیونکہ خدا نے دریائے نیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے اسی تاریخ کو شگافتہ کیا تھا۔ [بحوالہ: گزشتہ مدرک، صفحہ ۱۰۵]۔ یا یہ کہ مہینے کی تیسری تاریخ نحس ہے کیونکہ اس تاریخ کو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام جنت سے نکالے گئے تھے اور جنت کا لباس ان کے بدن سے اتارا گیا تھا۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵ صفحہ ۵۸]۔ یا یہ کہ مہینے کی ساتویں تاریخ مبارک ہے کیونکہ اس تاریخ کو حضرت نوح علیہ السلام اپنی کشتی پر سوار ہوئے (اور انہوں نے غرق ہونے سے نجات پائی)۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵ صفحہ ۶۱]۔ یا پھر یہ کہ نوروز کے سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہماری نظر سے گزرتی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ کشتی نوح علیہ السلام کوہِ جودی پر آ کر ٹھہری اور جبرئیل پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئے اور یہی وہ دن بھی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے دوشِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سوار ہو کر بتوں کو توڑا اور واقعۂ غدیر بھی نوروز ہی کو واقع ہوا۔ [بحار الانوار ج ۵۹ ص ۹۲]۔ روایتوں میں اس قسم کی اطلاعات عام ہیں جو دنوں کی نحوست اور نیکی کو اچھے واقعات اور ناپسندیدہ حوادث سے وابستہ کرتی ہیں، خصوصاً روزِ عاشورہ، جسے بنو اُمیہ اہلِ بیت کے مقابلے میں کامیاب ہونے کی وجہ سے نیک دن شمار کرتے ہیں۔ ہماری روایتوں میں اس دن کو بابرکت قرار دینے کی شدت سے مخالفت کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اِس دن کو آذوقہ و مال کے ذخیرہ کرنے کا دن قرار نہ دیا جائے، بلکہ اس روز اپنے کاروبار کی تعطیل کی جائے اور عملی طور پر بنو اُمیہ سے اپنا نظام الاوقات مختلف قرار دیں۔ ان روایات کے مجموعہ کی وجہ سے بعض لوگوں نے نیک اور بد ایّام کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ اسلام کا مقصد مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ عملی طور پر خود کو ان تاریخی واقعات کے ساتھ مربوط رکھیں اور ناپسندیدہ حوادث اور ان کی بنیاد رکھنے والے لوگوں سے احتراز کریں۔ یہ تفسیر ممکن ہے کہ ان روایتوں کے ایک حصے کے بارے میں ٹھیک ہو، لیکن سب کے بارے میں یقینا ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ ان میں سے بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ تاثیر بعض دنوں سے تعلق رکھتی ہے جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں۔ (ب) یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ بعض لوگ نیک و بد ایّام کے بارے میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ جس کام کو وہ کرنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے وہ ایّام کے نیک و بد کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور عملی طور پر بہت سے ضروری کاموں سے غافل ہوجاتے ہیں اور کئی سنہرے مواقع ہاتھ سے کھو دیتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ بجائے اس کے کہ اپنی اور دوسروں کی شکست و کامیابی کے اسباب و عوامل کی تحقیق کریں اور زندگی کے گراں بہا تجربات سے فائدہ اٹھائیں، وہ یہ کرتے ہیں کہ اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار اور کامیابیوں کا سبب ایّام کی نحوست اور ان کے سعد ہونے کو سمجھتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا حقیقت سے فرار ہے اور افراط کا شکار ہونا ہے، نیز حوادثِ زندگی کی نامعقول توجیہ ہے۔ اس قسم کے طرزِ عمل سے شدت کے ساتھ پرہیز کرنا چاہیے اور عامۃ الناس میں جو چیزیں مشہور ہیں ان کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے۔ نجومیوں اور فال نکالنے والوں کی پیشگوئیوں کو بھی نظر انداز کرنا چاہیے۔ صرف معتبر حدیث ایک ایسی چیز ہے کہ اس کی رو سے اگر کوئی حقیقت ثابت ہو تو اسے صدقِ دل سے تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ دوسرے جتنے عوامل ہیں، انہیں نظر انداز کر کے زندگی کے کام کرنے چاہئیں اور کاوشِ پیہم سے کام لے کر زندگی کی راہ میں قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ خدا پر توکل رکھنا اور اس کے لطف و کرم سے مدد طلب کرنا سب سے مقدم ہے۔ (ج) دنوں کے نیک و بد کی طرف توجہ کرنا نہ صرف یہ کہ انسان کے دل و دماغ کو تاریخی حوادث سے روشناس کراتا ہے، بلکہ پروردگارِ عالم کی ذاتِ والا صفات کے ساتھ توسل کرنے کی توفیق بھی بخشتا ہے، نیز اس سے امداد طلبی کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی متعدد روایات پڑھتے ہیں جن میں ان ایّام کو جنہیں نحس قرار دیا گیا ہے، ان میں ہمیں صدقہ دینے، دعا مانگنے اور پروردگارِ عالم سے مدد طلب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم قرآنِ پاک کی تلاوت کریں اور ذاتِ خدا پر توکل رکھیں۔ صرف اسی صورت میں ہم اپنی جدوجہد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ منجملہ دیگر باتوں کے، ہم حدیث میں ایک ایسے واقعہ سے باخبر ہوتے ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک محب منگل کو خدمتِ امام میں وارد ہوئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں کل نہیں دیکھا؟ وہ عرض کرنے لگا کہ میں پیر کو کہیں آنا جانا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: "مَن أَحَبَّ أَنْ یَقِیَهُ اللَّهُ شَرَّ یَوْمِ الِاثْنَیْنِ فَلْیَقْرَأْ فِی أَوَّلِ رَکْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ (هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ) ثُمَّ قَرَأَ، (فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْیَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا)۔" "جو شخص پسند کرتا ہے کہ پیر کے شر سے محفوظ رہے، تو وہ نمازِ فجر کی پہلی رکعت میں سورہ هل أتی علی الانسان کی تلاوت کرے۔" پھر امام علیہ السلام نے سورہ هل أتی کی وہ آیت تلاوت فرمائی جو دفعِ شر کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے: "فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْیَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا۔" "خدا نیک لوگوں کو قیامت کے دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور وہ انہیں ظاہری مسرتیں اور باطنی خوشحالی عطا کرے گا۔" [بحوالہ: بحار الانوار ج ۵۹ ص ۳۹ حدیث ۷]۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ چھٹے امام کے اصحاب میں سے ایک شخص نے آپ سے پوچھا: کیا کسی صورت میں بدھ جیسے مکروہ اور ناپسندیدہ دن میں سفر کرنا مناسب ہے؟ امام نے فرمایا کہ اپنے سفر کا آغاز صدقہ سے کرو اور روانگی کے وقت آیت الکرسی کی تلاوت کر لو (اور پھر جہاں کہیں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ)۔ [بحوالہ: وحی ندرک ص ۲۸]۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ دسویں امام علی نقی علیہ السلام کا ایک صحابی کہتا ہے کہ میں امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا، اس حالت میں کہ راستے میں میری انگلی زخمی ہو گئی تھی اور اثنائے راہ میں ایک سوار نے میرے قریب سے گزرتے ہوئے میرے کاندھے پر ضرب بھی لگائی تھی اور میں ایک ہجوم میں پھنس کر رہ گیا تھا جنہوں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے تھے۔ تو میں نے اس دن کو مخاطب کر کے کہا: "خدا مجھے تیرے شر سے محفوظ رکھے، تو کیسا منحوس دن ہے!" یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا: "تو ہم سے عقیدت بھی رکھتا ہے اور پھر ایسی نامناسب بات زبان پر لاتا ہے؟ وہ دن، جس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، تو اسے ذمہ دار قرار دیتا ہے۔" وہ شخص بیان کرتا ہے کہ امام علیہ السلام کی بات سن کر میں سنبھلا اور میں نے محسوس کیا کہ میں نے غلطی کی ہے۔ میں نے عرض کیا: "مولا، میں خدا سے اپنی غلطی کے سلسلے میں استغفار کرتا ہوں اور اس سے اپنی بخشش طلب کرتا ہوں۔" پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: "مَا ذَنْبُ الْأَیَّامِ حَتَّى صِرْتُمْ تَتَثَاءَمُونَ بِهَا إِذَا جُوزِيتُمْ بِأَعْمَالِكُمْ فِيهَا۔" "دنوں کا کیا قصور ہے کہ تم انہیں منحوس قرار دیتے ہو، حالانکہ صورتِ حال یہ ہے کہ تمہاری اپنی پستیِ کردار تمہیں گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔" اس شخص نے کہا: "فرزندِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، میں ہمیشہ کے لیے خدا سے استغفار کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔" امام علیہ السلام نے فرمایا: "مَا يَنْفَعُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُعَاقِبُكُمْ بِذَمِّهَا عَلَى مَا لَا ذَمَّ عَلَيْهَا فِيهِ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُثِيبُ وَالْمُعَاقِبُ، وَالْمُجَازِي بِالْأَعْمَالِ، عَاجِلًا وَآجِلًا۔" "یہ چیز تمہارے لیے فائدہ نہیں رکھتی، خدا تمہیں اس چیز کی مذمت کرنے کی سزا دیتا ہے جو قابلِ مذمت نہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہی جزا و سزا دینے والا ہے؟ وہ بندوں کو اعمال کی جزا و سزا اس دنیا میں بھی دیتا ہے اور اس جہان میں بھی دے گا۔" پھر فرمایا: "لَا تَعُدْ، وَلَا تَجْعَلْ لِلْأَيَّامِ صُنْعًا فِي حُكْمِ اللَّهِ۔" "ایسی بات آئندہ زبان پر مت لانا اور دنوں کے بارے میں حکمِ خدا کے برخلاف اثرات قرار نہ دینا۔" (١٠) یہ پُرمعنی حدیث اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنوں کی اگر کوئی تاثیر ہے تو وہ حکمِ خدا کے مطابق ہے۔ لہٰذا، ان کے لیے مستقل تاثیر کا کبھی قائل نہیں ہونا چاہیے اور اپنے آپ کو پروردگارِ عالم کے لطف و کرم سے بےنیاز نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ حوادث، جو عام طور پر انسان کے غلط افعال و اعمال کا کفارہ ہوتے ہیں، انہیں دنوں کی تاثیر سے منسوب نہیں کرنا چاہیے اور اس طرح خود کو بری الذمہ قرار نہیں دینا چاہیے۔ ممکن ہے کہ امام کا یہ بیان اس باب کی مختلف احادیث کو جمع کرنے کی بہترین راہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قومِ ثمود کا دردناک انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 8وہ تیسری قوم کہ جس کی زندگی کی داستان، مختصر طور پر، درسِ عبرت کے عنوان سے گزشتہ مباحث کے بعد اس سورہ میں پیش ہوئی، قومِ ثمود ہے، جو سرزمین "حجر" میں، جو حجاز کے شمال میں واقع ہے، رہائش پذیر تھے۔ ان کے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام نے انتہائی کوشش کی کہ وہ ہدایت پالیں، لیکن ان کی تمام محنت رائیگاں گئی۔ پروردگارِ عالم اس سلسلے میں پہلے فرماتا ہے کہ قومِ ثمود نے بھی خدائی تنبیہ کی تکذیب کی اور اس کی طرف سے دیے جانے والے خوف کی کوئی پرواہ نہیں کی: (کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہاں "نُذُر" کو ڈرانے والے پیغمبروں کے معنی میں لیا ہے اور قومِ ثمود کے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کرنے کو تمام پیغمبروں کی تکذیب قرار دیا ہے۔ وہ اس لیے کہ تمام پیغمبروں کی دعوتِ تبلیغ ہم آہنگ ہوتی ہے، لیکن ظاہر آیت یہ ہے کہ "نُذُر" یہاں "انذار" کی جمع کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد تخویف یعنی ڈرانا ہے اور یہ قدرتی طور پر ہر پیغمبر کے کلام میں موجود ہے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم ان لوگوں کی طرف سے جو تکذیب کی گئی، اس کی علت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "انہوں نے کہا: کیا ہم اپنی نوع کے ایک انسان کی پیروی کریں؟ اگر ایسا کریں تو گمراہی اور جنون میں مبتلا ہوں گے۔" (فَقالُوا أَ بَشَراً مِنَّا واحِداً نَتَّبِعُہُ ِنَّا ِذاً لَفِی ضَلالٍ وَ سُعُرٍ)۔ جی ہاں! کبر و غرور، خودبینی و خودپسندی ان کے لیے انبیاء کی دعوتِ فکر کے مقابلے میں ایک عظیم حجاب تھے۔ انہوں نے کہا: "صالح علیہ السلام ہم جیسا ہی ایک شخص ہے، کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کی پیروی کریں، اگر ایسا کریں گے تو جنون اور گمراہی میں مبتلا ہوں گے، وہ ہمارے مقابلے میں کون سا امتیاز رکھتا ہے جو رہبر بنے اور ہم اس کی پیروی کریں"؟ یہ وہی اعتراض ہے جو گمراہ امتیں زیادہ تر اپنے پیغمبروں پر کیا کرتی تھیں کہ "وہ ہماری ہی طرح کے افراد ہیں، لہٰذا خدا کے پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں"؟ مفسرین کی ایک جماعت نے "واحِداً" کی تعبیر سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ صالح علیہ السلام کے دشمنوں کی مراد یہ تھی کہ "وہ عام شخص ہے، زیادہ مال و دولت نہیں رکھتا، اس کا کوئی عظیم نام و نسب بھی نہیں ہے۔" بعض نے اس کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ "وہ فردِ واحد ہے، اس کا اپنا کوئی گروہ نہیں ہے، حالانکہ رہبر کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے گروہ کا مالک ہو جس پر اسے اختیار حاصل ہو، وہ اس امتیاز کے ذریعے دوسروں کو اپنی طرف بلائے۔" یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے، وہ یہ کہ وہ لوگ "واحد عددی" پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا اعتماد "واحد نوعی" پر تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ "ہماری ہی جنس و نوع کا فرد ہے اور نوعِ بشر رسالتِ الٰہی کا عہدہ نہیں سنبھال سکتی، پیغمبر کو فرشتوں کی نوع میں سے ہونا چاہیے تھا۔" تینوں تفسیروں کو ایک جگہ جمع کرنا ممکن ہے، لیکن بہرحال ان کا دعویٰ بےبنیاد تھا۔ "سُعُر" بروزن "شَتَر" ہے، جمع اس کی "سَعِیر" ہے۔ مفہوم اس کا "بھڑکتی ہوئی آگ" ہے، اسی لیے پاگل اونٹنی کو "ناقَۂُ مَسْعُورَہ" کہتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ قومِ ثمود نے یہ تعبیر اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام سے لی ہو کہ جو ان سے کہتے تھے کہ "اگر تم بت پرستی سے باز نہ آئے اور میری دعوتِ حق کی پیروی نہ کی تو "ضَلال و سُعُر" (گمراہی اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ) میں ہو گے"، تو وہ جواب میں کہتے: "اگر ہم اپنے جیسے بشر کی پیروی کریں گے تو ضَلال و سُعُر میں ہوں گے۔" بہرحال "سُعُر" کا ذکر جمع کی شکل میں حقیقتاً دوام اور تاکید کے لیے ہے، خواہ جنون کے معنی میں ہو یا بھڑکتی ہوئی آگ کے معنوں میں۔ اس کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ "اگر بفرض محال وحیِ الٰہی کسی انسان ہی پر نازل ہوتی ہے تو کیا ہمارے درمیان میں اسی کم حیثیت پر وحی نازل ہوئی ہے؟ حالانکہ زیادہ جانے پہچانے مشہور اور دولت مند افراد مل سکتے تھے۔" (أَ أُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنا؟)۔ حقیقت یہ تھی کہ قومِ ثمود کی باتیں مشرکینِ مکہ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں، جو کبھی یہ اعتراض کرتے تھے: "مَا لِہذَا الرَّسُولِ یَأْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِی فِی الْأَسْوَاقِ، لَوْ لا أُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیراً۔" "یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے، بازار میں چلتا پھرتا ہے؟ فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوا جو اس کے ساتھ مل کر تخویف کا فرض انجام دیتا؟" (سورۃ الفرقان: ۷) کبھی وہ کہتے: "لَوْ لا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیمٍ۔" "یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے اور دولت مند شخص پر کیوں نہیں نازل ہوا؟" (سورۃ الزخرف: ۳۱) اب بنیادِ کلام یہ ہے کہ اگر خدا کا رسول کوئی بشر ہی ہو تو پھر کوئی تہی دست، بےکس اور بے کار بشر ہی کیوں ہو؟ یہ دل کے اندھے، جو گویا پورے دُورِ تاریخ میں ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے، یعنی اگر کوئی شخص صاحبِ مال و دولت ہو، کسی اُونچے قبیلے سے تعلق رکھتا ہو، مقام و منصب کے اعتبار سے بلند ہو اور شہرت بھی رکھتا ہو تو وہ خدا کا رسول ہو سکتا ہے، معمولی شخص کس طرح رسول ہو سکتا ہے؟ حالانکہ جو لوگ ظالم و جابر ہوتے تھے، وہ زیادہ تر ایسے ہی دولت مند نام نہاد طبقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تفسیر میں بعض مفسرین نے اس نقطۂ نظر کو بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ "کیا وحی صرف اس شخص پر نازل ہوئی ہے؟ ہم سب پر نازل کیوں نہیں ہوئی؟ ہمارے اور اس کے درمیان کیا فرق ہے؟" جیسا کہ سورۂ مدثر کی آیت نمبر ۵۲ میں آیا ہے: بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً۔ "بلکہ ان میں سے ہر شخص توقع رکھتا ہے کہ اس پر آسمان سے کتابیں نازل ہوں۔" اس کے بعد پروردگارِ عالم آیت کے آخر میں فرماتا ہے: انہوں نے اس موضوع کو اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام کے کذب کی دلیل قرار دیا اور کہا کہ "بہت جھوٹا، نفس پرست اور متکبر شخص ہے" (بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ)۔ وہ اس لیے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم پر حکومت کرے، ہر چیز اپنے قبضے میں رکھے اور اپنی خوشی کے مطابق کام کرے۔ لفظ أشر کا مادّہ "أشر" بروزن "قمر" ہے، جس کے معنی ہیں ایسی خوشحالی جس میں نفس پرستی شامل ہو، لیکن قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ۔ "کل ان کی سمجھ میں آ جائے گا کہ کون سا شخص جھوٹا اور نفس پرست ہے۔" وہ وقت جب عذابِ الٰہی نازل ہو گا، ان کی سرکوبی کرے گا اور انہیں ایک مُشتِ خاک میں تبدیل کر دے گا اور موت کے بعد کا عذاب اس پر مستزاد ہو گا، تو یہ سمجھ لیں گے کہ ان باتوں کا تعلق کس قسم کے افراد کے ساتھ ہو سکتا ہے اور یہ پوشاک کس کے جسم سے مناسبت رکھتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ "غدًا" یعنی "کل" سے مراد مستقبل قریب ہے اور یہ مفہوم پُرکشش بھی ہے اور لطیف بھی۔ ممکن ہے، یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں، تو وہ اپنے عذاب کو واقعی دیکھ چکے ہوں، لہٰذا اب اس بات کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ یہ کہا جائے کہ "کل وہ سمجھ لیں گے کہ جھوٹا اور نفس پرست کون ہے۔" اس سوال کے دو جواب دیے جا سکتے ہیں: پہلا یہ کہ حقیقت میں یہ بات خدا نے اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام سے کہی تھی اور بعد والے دن کے ساتھ مشروط کر کے کہی گئی تھی اور یہ واضح حقیقت ہے کہ جس دن یہ بات کہی گئی، اس دن تک عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ "کل" سے مراد روزِ قیامت ہو، جس روز ہر چیز نہایت واضح طور پر سامنے آئے گی۔ (پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور بعد والی آیتوں کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔) یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکینِ قومِ ثمود نے نزولِ عذاب سے پہلے ہی صالح علیہ السلام کی حقانیت کو سمجھ لیا تھا اور ان کے ناقابلِ تردید معجزے کو دیکھ چکے تھے، تو پھر ان سے کیوں کہا جاتا ہے کہ "یہ کل سمجھ لیں گے۔" اس سوال کا جواب بھی ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کے جاننے کی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ ممکن ہوتا ہے کہ مقابل اس کا انکار کر دے، لیکن بعض اوقات وہ ایسے مرحلے میں پہنچ جاتا ہے کہ پھر اس کے لیے گنجائشِ انکار باقی نہیں رہتی اور ہر چیز بالکل واضح انداز میں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ علم یعنی جاننے سے یہاں "سمجھ لینے" کی یہی انتہا مراد ہے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم صالح علیہ السلام کی ناقہ، جو ایک معجزہ تھا اور ان کی صداقت کی سند کے طور پر بھیجا گیا تھا، کی داستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: إِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ۔ "ہم ناقہ کو ان کی آزمائش اور امتحان کے لیے بھیجیں گے، لہٰذا آپ ان کے انجامِ کار کا انتظار کریں اور صبر سے کام لیں۔" "ناقہ" وہی اونٹنی تھی، جو حضرت صالح علیہ السلام کے معجزے کی حیثیت سے بھیجی گئی تھی۔ یہ کوئی عام اونٹنی نہیں تھی، بلکہ معجز نما کیفیتوں کی حامل تھی۔ مشہور روایتوں کے مطابق یہ اونٹنی پہاڑ کے ایک پتھر سے برآمد ہوئی تھی تاکہ وہ کج فہم اور ہٹ دھرم منکرین کے لیے ایک نمونۂ بولتا معجزہ ثابت ہو۔ "فتنہ" جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں، سونے کی کٹھالی میں ڈال کر آگ پر پگھلا کر اس کے خالص ہونے کو ثابت کرنے کے لیے ہے اور یہ ہر طرح کے امتحان اور آزمائش کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ امر بالکل واضح ہے کہ قومِ ثمود اب ایک عظیم آزمائش میں ڈالی جانے والی تھی۔ اس لیے بعد والی آیت میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ہم نے صالح سے کہا کہ انہیں بتا دے کہ بستی کا پانی ان کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔ (ایک دن ناقہ کے لیے اور ایک دن بستی والوں کے لیے) اس طرح ایک فریق کو اپنے مقررہ دن پانی استعمال کرنا چاہیے اور دوسرے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔" وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ [تشریحی نوٹ: "مختصر" کا مادّہ "حضور" ہے۔ یہ اسم مفعول ہے اور "شرب" پانی کے حصے یا مقررہ وقت کے معنوں میں ہے۔ اس بنا پر "کل شرب محتضر" کے معنی یہ ہیں کہ ہر مقررہ وقت پر جس کو اجازت ہے، وہ پانی پئے گا اور دوسرا اس روز نہیں آئے گا اور اسے مزاحمت کا حق نہیں ہو گا]۔ اگرچہ قرآن نے اس سلسلہ میں اس سے زیادہ وضاحت نہیں کی، لیکن بہت سے مفسرین نے کہا کہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے پانی پینے کا جو دن ہوتا تھا، اس دن وہ سارا پانی پی جاتی تھی، لیکن بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ اس کی ہیئت کذائی ایسی تھی کہ جس وقت وہ پانی کے قریب آئی تو دوسرے جانور بھاگ جاتے تھے اور اس کے پاس نہیں پھٹکتے تھے۔ لہٰذا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہیں تھا کہ ایک دن پانی پینے کا حق اس اونٹنی کو دیا جائے اور دوسرے دن ان لوگوں کے اختیار میں ہو۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ جیسا کہ کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ ان کی آبادی میں پانی بہت کم تھا۔ اگرچہ یہ معنی آیت ۱۴۶ تا ۱۴۸ سے مناسبت نہیں رکھتے، کیونکہ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ایسی سرزمین میں زندگی بسر کرتی تھی جو باغوں اور چشموں سے پُر تھی۔ بہرحال، اس سرکش، ہٹ دھرم اور مفاد پرست قوم نے یہ مصمم ارادہ کر لیا کہ ناقۂ صالح علیہ السلام کو ختم کر دیں، حالانکہ صالح علیہ السلام انہیں خبردار کر چکے تھے کہ اگر انہوں نے ناقہ کو کوئی اذیت پہنچائی تو جلد ہی ان پر عذابِ الٰہی نازل ہو جائے گا، لیکن انہوں نے اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنے ایک ساتھی کو آواز دی۔ وہ اس کام کے لیے آیا اور اس نے ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں: (فَنادَوْا صاحِبَهُمْ فَتَعاطَى فَعَقَرَ)۔ "صاحب" سے یہاں مراد ممکن ہے کہ قومِ عاد کا کوئی سردار ہو۔ ان لوگوں میں ایک بہت ہی شریر شخص "قدارہ بن سالف" تھا۔ [تشریحی نوٹ: "قدارہ" (بروزن "منارہ") ایک قبیح صورت، بدسیرت اور شوم ترین فرد تھا] جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ "تعاطی" کسی چیز کو پکڑنے یا کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کے معنی میں ہے، نیز اہم اور خطرناک کاموں کو انجام دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جس کام میں زحمت بہت ہو یا اس کی کوئی مزدوری مقرر کی گئی ہو، اس کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ یہ تمام مفاہیم زیر بحث آیت میں موجود ہیں اور وہ اس لیے کہ مذکورہ ناقہ کو قتل کرنے کے لیے اچھی خاصی جرأت اور جسارت کی ضرورت تھی۔ اس کام کے لیے مشقت بھی درکار تھی اور حسبِ قاعدہ انہوں نے اس کام کے لیے اجرت بھی مقرر کی تھی۔ "عقر" کا مادہ "عقر" ہے جو "ظلم" کے وزن پر ہے اور بنیاد اور جڑ کے معنوں میں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن یہاں ناقہ کے قتل کو ایک فرد کی طرف منسوب کرتا ہے، جبکہ سورۂ الشمس میں پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرماتا ہے: (فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا)۔ "قومِ ثمود نے ناقہ کو مار ڈالا۔" یہ اس وجہ سے ہے کہ ناقہ کو مار ڈالنے والے ایک شخص نے پوری قوم کی رضا مندی سے ان سب کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کام کیا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ جو شخص کسی دوسرے کے کام سے خوش ہو، وہ اس میں شریک ہوتا ہے۔ [اس مطلب کی تشریح ہم نے "پیوند مکتبی" کے عنوان کے ماتحت جلد ۵، سورۂ ہود کی آیت ۶۵ کے ذیل میں بیان کی ہے]۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ قدارہ نے پہلے شراب پی، پھر نشہ کی حالت میں اس نے اس جرمِ قبیح کو سرانجام دیا۔ ناقہ کے قتل اور اس کی کیفیت کے بیانات بھی مختلف قسم کے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ تلوار سے اس کی کونچیں کاٹیں، بعض کا قول ہے کہ پہلے وہ اس کی گھات میں بیٹھا، پھر اس پر تیر مارا، آخر میں اس پر تلوار سے حملہ آور ہوا۔ بعد والی آیت اس سرکش قوم پر آنے والے وحشت ناک عذاب کے ذکر کے لیے ایک تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "اب دیکھو کہ میرا عذاب اور میری تخویف کس طرح کی تھی۔" (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ)۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "ہم نے ان کی طرف ایک چیخ بھیجی جس کے نتیجے میں وہ ایسی خشک اور روندی ہوئی گھاس کی طرح ہو گئے کہ جس کو گڈریا اپنے جانوروں کے لیے باڑہ میں جمع کرتا ہے۔" (إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ)۔ "صیحة" سے یہاں مراد ایک عظیم آواز ہے جو آسمان سے اٹھتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک وحشتناک چیخ کی طرف اشارہ ہو جو ان کے شہر میں سنائی دی، جیسا کہ سورۂ حم سجدہ کی آیت ۱۳ میں آیا ہے: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ۔ یعنی: "اگر وہ رُوگردانی کریں تو ان سے کہہ دے کہ میں تمہیں قومِ ثمود و عاد کے صاعقے سے مشابہ صاعقہ سے ڈراتا ہوں۔" "ھشیم" کا مادّہ "ھشم" (بروزن خشم) ہے۔ یہ کمزور چیزوں کے توڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اس کتری ہوئی گھاس کے لیے بولا جاتا ہے جو گوسفندوں کے مالک گوسفندوں کے لیے کاٹ کر رکھتے ہیں۔ کبھی اس خشک گھاس کو بھی کہا جاتا ہے جو جانوروں کے قدموں کے نیچے باڑہ میں روندی جاتی ہے۔ "مُحتظر" کا مادّہ "خطر" (بروزن مغز) ہے۔ اس کے معنی منع کرنے کے ہیں۔ اسی لیے اس باڑہ کو، جو بھیڑ بکریوں وغیرہ کے لیے بنایا جاتا ہے اور جو انہیں باہر نکلنے سے روکتا ہے اور وحشی جانوروں کے حملے سے بچاتا ہے، "خطیرہ" کہتے ہیں۔ اور "مُحتظر" (بروزن محتسب) وہ شخص ہے جو باڑہ کا مالک ہو۔ وہ مفہوم جو اس آیت میں قومِ ثمود پر نازل ہونے والے عذاب کو لیے ہوئے ہے، بہت ہی عجیب اور پُرمعنی ہے، کیونکہ خداوند تعالیٰ نے اس سرکش قوم کو نیست و نابود کرنے کے لیے زمین یا آسمان سے لشکر ہرگز روانہ نہیں کیے۔ صرف ایک آسمانی چیخ سے، ایک ایسی آواز سے جو کانوں کے پردے پھاڑ دے، ایک بھاڑ دینے والی عظیم موج سے، جس نے اپنے راستے کی ہر چیز کو ایک وسیع و عریض چمک کی لپیٹ میں لے لیا ہو، نہیں— بلکہ انہیں کُوٹ پیس کر رکھ دیا اور ختم کر ڈالا۔ ان کے آباد محل اور مکانات گوسفندوں کے باڑوں کی طرح ہو گئے اور ان کے بےجان لاشے اس کٹی ہوئی خشک گھاس کی طرح ہو گئے جو بھیڑ بکریوں کے قدموں کے نیچے روندی جاتی ہے۔ مذکورہ صورتِ حال گزشتہ لوگوں کے لیے ممکن ہے کہ مشکل ہو، لیکن اس زمانے کے لوگوں کے لیے جو کسی چیز کے پھٹنے اور دھماکے سے پیدا ہونے والی ان موجوں کے اثرات سے باخبر ہیں، جو اپنے دائرۂ اثر میں آنے والی ہر چیز کو پیس کر رکھ دیتی ہیں، نہایت آسانی سے قابلِ فہم ہے۔ ہاں، البتہ عذابِ الٰہی کی گڑگڑاہٹ کا انسانوں کے بنائے ہوئے بموں کی گڑگڑاہٹ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت کے پیش نظر ان لوگوں پر اس صاعقہ سے نازل ہونے والی مصیبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا بحث کو پیش کرنے والی آیتوں میں سب سے آخری آیت میں اس دردناک اور عبرت انگیز سرگزشت کے خاتمے پر پروردگارِ عالم دوبارہ فرماتا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ۔ "ہم نے قرآن کو نصیحت اور انسانوں کے بیدار کرنے کے لیے آسان کیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے"؟ قرآن کے مفاہیم زندہ اور واضح ہیں، اس کے واقعات اور داستانیں زبانِ حال سے گویا ہیں اور اس کی تخویف و تہدید دل ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: قومِ لُوط زیادہ منحوس صُورتِحال سے دوچار ہوئی
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اِن آیتوں میں واقعۂ قومِ لوط اور اس گمراہ اور بےشرم گروہ پر نازل ہونے والے وحشتناک عذاب کے بارے میں مختصر اور دل ہلا دینے والے اشارے پائے جاتے ہیں۔ اِس سورہ میں گزشتہ اقوام کی سرگزشت کا یہ چوتھا حصہ ہے۔ پروردگارِ عالم پہلے فرماتا ہے: "قومِ لوط نے اپنے پیغمبر کی پے درپے تخویف کی تردید کی" (کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ)۔ "نُذُر" جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے، "إنذار" کی جمع ہے جس کے معنی خوف دلانے اور متنبہ کرنے کے ہیں۔ اس تخویف کا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ بہت ممکن ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی پے درپے تنبیہوں کی طرف اشارہ ہو، کہ اس کج فہم قوم نے ان تمام ڈرانے والی باتوں کو جھٹلایا۔ یا پھر یہ اشارہ ہے حضرت لوط علیہ السلام اور ان سے پہلے آنے والے پیغمبروں کی طرف سے کی جانے والی تنبیہوں کی طرف، کیونکہ تمام پیغمبروں کی دعوتِ حق ایک ہی حقیقت کو لیے ہوئے ہوتی ہے۔ اس کے بعد ایک مختصر سے جملے میں ان کے عذاب کے ایک گوشے اور حضرت لوط علیہ السلام کے گھر والوں کی نجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے ان پر وہ تیز آندھی بھیجی جو سنگریزوں کو اُڑاتی تھی" (إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِباً)، اور ان سب کو سنگریزوں کی اس بارش میں دفن کر دیا، سوائے لوط علیہ السلام کے خاندان کے کہ ہم نے ان کو سحر کے وقت اس سرزمینِ بلا سے نجات دی (إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّیْنَاهُمْ بِسَحَرٍ)۔ "حاصب" اس تیز آندھی کے معنوں میں ہے جو "حصباء" یعنی ریت اور سنگریزوں کو اُڑائے۔ قرآن کی دوسری آیتوں میں جہاں قومِ لوط پر نازل ہونے والے عذاب کا ذکر ہوتا ہے، اس زلزلے کے علاوہ کہ جس نے ان کے شہروں کو زیر و زبر کر کے رکھ دیا تھا، پتھروں کی بارش کا بھی تذکرہ ہوتا ہے۔ چنانچہ سورۂ ہود کی آیت ٨٢ میں ہمیں ملتا ہے: فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ۔ "جس وقت ہمارا فرمان آ گیا تو ہم نے اس شہر کو زیر و زبر کر دیا اور اس پر سخت اور پتھریلی مٹی کے پتھروں کی بارش کی۔" کیا یہ دو قسم کے عذاب تھے؟ ایک تو تیز آندھی جو اپنے ساتھ سنگریزوں اور ریگِ بیابان کو اُڑاتی تھی اور ان کی سرکوبی کرتی تھی اور دوسرا آسمانی پتھروں کی بارش؟ یا یہ کہ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے؟ بعض اوقات بڑی بڑی آندھیاں بیابان کے گرد و غبار، سنگریزوں اور خاک کے تودوں کو اُٹھا کر آسمان کی طرف لے جاتی ہیں اور جس وقت طوفان کا دباؤ کم ہوتا ہے، تو ایک ہی مرتبہ اِن چیزوں کو کسی دوسری جگہ پھینک دیتی ہیں۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ یہاں حکمِ خدا سے گرد آلود آندھی اس بات پر مامور ہو کہ بیابان کے سنگریزوں اور خاک کے تودوں کو فضائے آسمانی کی طرف اُٹھا کر لے جائے اور تباہ و ویران کر دینے والے زلزلے کے بعد انہیں قومِ لوط علیہ السلام کے شہروں پر پھینک دے اور ان کے کج بینوں کو اِن کے نیچے دفن کر دے، اس حد تک کہ ان شہروں کے ویرانے بھی صفحۂ زمین سے مِٹ جائیں تاکہ یہ صورتِ حال ہمیشہ کے لیے دوسرے لوگوں کے واسطے درسِ عبرت بن جائے۔ [بحوالہ: اِس سلسلہ میں دوسرے مباحث جلد ٩ تفسیرِ نمونہ، سورہ ہود کی آیت ٨٢ کے ذیل میں ہو چکے ہیں]۔ اوپر والی آیت ضمناً یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے خاندان کی نجات صبح کے وقت ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس ستم شعار قوم پر نازل ہونے والے عذاب کا وعدہ بھی صبح کے وقت کا تھا۔ اس لیے یہ خانوادہ، جو صاحبِ ایمان تھا، آخر شب میں (سوائے لوط کی بیوی کے، کہ جس نے اپنا راستہ لوط علیہ السلام سے علیحدہ اختیار کیا تھا) شہر سے باہر چلا گیا۔ ان کے جانے کے بعد تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ پہلے زلزلہ آیا، اس کے بعد پتھروں کی بارش شروع ہوئی، جیسا کہ سورۂ ہود کی آیت ٨١ میں آیا ہے: فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ۔ "رات کے ایک حصے میں اپنے گھروالوں کو لے کر روانہ ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مُڑ کر نہ دیکھے، سوائے تمہاری بیوی کے، کہ وہ بھی اسی بلا میں گرفتار ہو گی جس میں سب مبتلا ہوں گے۔ ان کی وعدہ گاہ صبح ہے، کیا صبح نزدیک نہیں ہے"؟ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے اربابِ لغت کی پیروی کرتے ہوئے "سحر" کے معنی "بین الطلوعین" لیے ہیں، یہ معنی اوپر والی آیت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ [تشریحی نوٹ: راغب مفردات میں کہتا ہے: (السحر اختلاط ظلام آخر الليل بضياء النهار) آخر شب کی تاریکی کا دن کی روشنی کے ساتھ مل جانا سحر کہلاتا ہے]۔ بعد والی آیت میں تاکید کے لیے ارشاد ہوا ہے: "خاندانِ لوط علیہ السلام کی نجات ہماری طرف سے ایک نعمت تھی، جی ہاں! اسی طرح اس شخص کو، جو شکر گزاری کرے، ہم اجر دیتے ہیں۔" (نِعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا كَذلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ)۔ [تشریحی نوٹ: "نعمة" ایک فعل مقدر کا مفعول بہ ہے، جو اس کی جنس سے ہے، "مفعول بہ" یا "نجينا" کے فعل کا کہ جو پچھلی آیت میں آیا ہے مفعول لہ ہے]۔ بعد والی آیت میں یہ حقیقت پیش کی گئی ہے کہ لوط علیہ السلام نے پہلے سے ان پر اتمامِ حجت کر دیا تھا اور انہیں عذابِ الٰہی سے آگاہ کیا تھا، لیکن انہوں نے خدا کی طرف سے کی جانے والی تنبیہ میں شک کیا اور وہ لڑنے جھگڑنے پر آمادہ رہے: (وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ)۔ "بطش" بروزن "فرش"، کسی چیز کو طاقت کے ساتھ پکڑنے کے معنی میں ہیں اور چونکہ سزا دیتے وقت پہلے مجرم کو مضبوطی سے پکڑ لیا جاتا ہے، لہٰذا یہ لفظ "سزا" کے معنی میں بھی آتا ہے۔ "تماروا" کا مادہ "تماری" ہے، اس کے معنی "شک کرنے" اور حق کے مقابلے میں جھگڑنے والی گفتگو کے ہیں۔ انہوں نے درحقیقت ایک دوسرے کی مدد کی تھی اور مختلف طریقوں سے عام لوگوں کے ذہنوں میں شُبہات پیدا کیے تھے تاکہ اس عظیم پیغمبر کی طرف سے جو تنبیہ کی جارہی تھی، اس کے اثرات کو زائل کر دیں۔ انہوں نے لوگوں کے دلوں میں اعتقادات سے متعلق شبہات پیدا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بدکاری و بےشرمی میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ جس وقت عذاب پر مامور فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی صورت میں مہمانوں کی حیثیت سے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوئے، تو یہ بےشرم گروہ ان کے پاس آیا اور جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے: "انہوں نے لوط علیہ السلام سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے مہمان ان کی تحویل میں دے دیں۔" (وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ)۔ حضرت لوط علیہ السلام اس بات پر بےحد پریشان ہوئے اور ان لوگوں سے اصرار کیا کہ وہ ان کی اتنی بےعزتی نہ کریں، یہاں تک کہ سورۂ حجر کی آیت ٧١ کے مطابق ان سے وعدہ کیا کہ (ان بداعمالیوں سے توبہ کی صورت میں) اپنی لڑکیوں کی شادی ان سے کر دیں گے۔ یہ چیز اس مظلوم پیغمبر کی انتہائی مظلومیت کو ظاہر کرتی ہے، جو اس بےشرم اور بےایمان قوم کی طرف سے ان کے لیے روا رکھی گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں اس حملہ کرنے والے گروہ نے اپنی پہلی سزا پا لی، جیسا کہ خدا اسی آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا ہی نہیں کیا بلکہ غائب کر دیا اور ان سے کہا کہ میرے عذاب اور میری تخویف کا مزہ چکھو۔" (فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ)۔ جی ہاں! یہ وہ مقام تھا کہ قادرِ مطلق نے اپنی عدالت کا کرشمہ دکھایا اور بعض مفسرین کے بقول، جبرئیل کو حکم دیا کہ اپنے شہپر ان سرکشوں کی آنکھوں پر ماریں، جس کے نتیجے میں وہ فوراً نابینا ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی آنکھیں بالکل غائب ہو گئیں۔ اگرچہ آیت میں گفتگو اس مفہوم کو واضح نہیں کرتی کہ وہ کون لوگ تھے کہ جو فرشتوں کے پیچھے پیچھے آئے تھے، لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ پوری قوم لوط علیہ السلام نہیں آئی تھی۔ وہ ایسے اوباش لوگ تھے جو بدکاری میں سب سے آگے تھے۔ انہوں نے اس کام میں پیش قدمی کی اور اس طرح ان کی سرگزشت دوسرے لوگوں کے لیے درسِ عبرت بنی، کیونکہ وہ اسی حالتِ زار میں اپنے گروہ کے پاس لوٹ کر آئے، لیکن ان میں کوئی ایسا فرد موجود نہیں تھا جو اس ابتدائی عذاب سے عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ ہوتا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ خدا نے ان پر نازل ہونے والے عذاب کو صبح تک روکے رکھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حادثہ ایک روز پہلے واقع ہوا اور اس طرح انہیں مہلت دی گئی کہ وہ ایک رات اور اپنے حالات کے بارے میں غور و فکر کر لیں اور ان بدبخت اندھے ہونے والے افراد کی شکلوں پر عذابِ الٰہی کا نمونہ دیکھیں۔ ممکن ہے کہ انہیں ہوش آ جائے اور وہ توبہ کر لیں، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ ایک روایت کے مطابق، خود ان نابیناؤں نے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ وہ جس وقت دیواروں کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گھروں کی طرف لوٹے، تو انہوں نے قسم کھائی کہ کل صبح وہ خاندانِ لوط علیہ السلام کا ایک فرد بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ [بحوالہ: تفسیر "نور الثقلین"، ج ۵، صفحہ ۱۸۵]۔ آخرکار، انتہائی عذاب ان پر نازل ہو گیا۔ ایک ایسا تباہ کن زلزلہ آیا کہ جس نے سورج کی پہلی شعاع کے ظاہر ہونے کے ساتھ ہی ان کی زمین کو متزلزل کر کے رکھ دیا، جس کے نتیجے میں ان کے شہر منہدم ہو کر رہ گئے، جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور وہ مٹی کے نیچے دب گئے۔ ان کے سروں پر پتھروں کی شدید بارش ہوئی، یہاں تک کہ ان کے ویرانوں کے نشانات بھی باقی نہ رہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں بڑے اختصار کے ساتھ، اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "آخرکار، صبح کے وقت پائیدار اور واقعی عذاب ان پر نازل ہوا۔" (وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ)۔ جی ہاں! مختصر سے لمحات میں یہ سب چیزیں ختم ہو گئیں اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ "بُكرة" (دن کے آغاز) کا لفظ اس لیے آیا ہے کہ "صباح" بہت وسیع معانی رکھتا ہے۔ یہ صبح کے تمام معانی کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ مفہومِ کلام صبح کی بالکل ابتداء سے متعلق تھا۔ یہ واقعہ طلوعِ فجر کی بالکل ابتداء میں ہوا تھا یا طلوعِ آفتاب کے آغاز میں، صحیح طور پر معلوم نہیں ہے، لیکن "بُكرة" کا مفہوم طلوعِ آفتاب کے آغاز سے تعلق رکھتا ہے۔ لفظ "مُسْتَقِرٌّ" ثابت و برقرار کے معنی میں ہے اور یہاں ہو سکتا ہے کہ اس طرف اشارہ ہو کہ یہ عذاب اس قدر سر کُچلنے والا، قوی اور طاقتور تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ بعض مفسرین نے ان معانی کی نشاندہی بھی کی ہے کہ چونکہ دنیوی عذاب برزخ کے عذاب سے متصل ہو چکا تھا، لہٰذا "مُسْتَقِرٌّ" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم فرماتا ہے اور یہ دوبارہ ان سے کہا گیا ہے: "اب میرے عذاب اور میری تخویف کا مزہ چکھو!" (فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ)۔تاکہ پھر کبھی پیغمبروں کی طرف سے کی ہوئی تنبیہ کو شک کی نظر سے نہ دیکھو۔ یہ جملہ اس واقعہ میں دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن یہ بات معلوم ہے کہ پہلا جملہ ان ابتدائی عذاب کی طرف اشارہ ہے جس کے نتیجے میں وہ لوگ نابینا ہو گئے تھے، جنہوں نے لوط علیہ السلام کے گھر پر ہجوم کیا تھا. دوسرا جملہ عذابِ واقعی و اصلی یعنی ویران کرنے والے زلزلے اور پتھروں کی بارش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آخر میں، زیر بحث آیات میں سے سب سے آخری آیت میں درج ذیل پُرمعنی اور ہوش میں لانے والے جملے کی چوتھی مرتبہ تکرار ہوئی ہے: "ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے آسان کیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے"؟ (وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ)۔ قومِ لوط علیہ السلام نے کوئی نصیحت حاصل نہیں کی، نہ تنبیہ سے، نہ ابتدائی عذاب سے۔ کیا ایسے دوسرے لوگ، جو اس قسم کے گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں، ان آیاتِ قرآنی کی سماعت کے بعد اپنے ہوش میں آئیں گے اور گناہوں سے توبہ کریں گے؟
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: کیا تم گزشتہ اقوام سے افضل و برتر ہو؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اس سلسلۂ کلام میں پانچویں اور آخری جس قوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہ قومِ فرعون ہے، لیکن چونکہ اس قوم کی سرگزشت قرآن کی مختلف سُورتوں میں تفصیلی طور پر آئی ہے، لہٰذا یہاں صرف ایک مختصر لیکن جچا تُلا اشارہ ان کی عبرت انگیز داستان کی طرف ہوا ہے۔ پروردگارِ عالم ارشاد فرماتا ہے: "ہماری تنبیہیں یکے بعد دیگرے آلِ فرعون کی طرف آئیں" ( وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُر)۔ آلِ فرعون سے مُراد صِرف فرعون کا خاندان اور اس سے وابستہ افراد نہیں ہیں، بلکہ یہ لفظ ان کے تمام پیروکاروں پر حاوی ہے۔ لفظ "آل" عموماً اہلِ بیت اور خاندان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات، جیسا کہ ہم نے کہا ہے، ایک وسیع معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرینۂ کلام بتاتا ہے کہ یہاں یہ لفظ اسی وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ "نُذُر" (بروزن کُتب) "نذیر" کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں "ڈرانے والا۔" یہ ڈرانے والا خواہ کوئی انسان ہو یا حادثہ، جو انسانوں کو خبردار کرے، انہیں ان کے انجامِ کار سے ڈرائے اور بچنے کی تلقین کرے۔ پہلی صُورت میں ممکن ہے کہ اُوپر والی آیت کا اشارہ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی طرف ہو، دوسری صُورت میں ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نو معجزوں کی طرف اشارہ ہو۔ بعد والی آیت بتاتی ہے کہ یہاں دوسرے معنی زیادہ مناسب ہیں۔ [تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیے کہ "نذر"، "نذیر" کی جمع بھی ہے اور مصدر یا اسم مصدر کے معنی بھی رکھتا ہے اور چونکہ مصدر کا صفت کی حیثیت سے بھی اطلاق ہوتا ہے لہذا دونوں ایک ہی مفہوم کی طرف پلٹ سکتے ہیں]۔ خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں کے مقابلے میں اور ان کی تہدید و تنبیہ کے مقابلے میں آلِ فرعون کا جو ردّعمل ہے، اس پر سے پردہ اُٹھاتے ہوئے بعد والی آیت میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "انہوں نے ہماری سب آیات کی تکذیب کی" ( کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا كُلِّهَا )۔ جی ہاں! ان خُودپسند، مغرور اور ظالم و جابر لوگوں نے بلا استثناء خدا کی تمام آیتوں کی تکذیب کی۔ انہوں نے انہیں جُھوٹ، سحر یا اتفاقی حادثات قرار دیا۔ لفظ "آیات" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ معجزات پر بھی حاوی ہے، لیکن سورہ بنی اسرائیل (اسراء) کی آیت ١٠١ کے قرینہ سے: "وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍۭ بَيِّنَٰتٍ۔" ("ہم نے موسیٰ کو نو واضح معجزات عطا کیے")۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انہی نو معجزات کی طرف اشارہ ہے۔ [تشریحی نوٹ: "موسی کے نو معجزات" قرآن کی مختلف آیتوں پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتے ہیں: ۱۔ عصا کا عظیم اژدھے میں تبدیل ہونا "طہ ۲۰۔" ۲۔ "ید بیضاء" حضرت موسی کے ہاتھ کا مصدر نور کی طرح چمکنا "طہ ۲۲۔" ۳۔ سرکوبی کرنے والا طوفان "اعراف ۱۳۳"، "۴،۵،۶،۷" ٹڈی دل جو زراعتوں پر مچلط ہوئے اور جوئیں "ایک قسم کی نباتی مصیبت" مینڈک جنہوں نے دریائے نیل سے نکل کر مختصر سی مدت میں ان کی سطح زندگی کو ڈھانک لیا اور خون دریائے نیل نے خون کا رنگ اختیار کیا "اعراف ۱۳۳" ۸،۹ خشک سالی اور پھلوں کی کمی "اعراف ۱۳۰" جن میں سے ہر ایک کی تفصیل متعلقہ آیات کے ذیل میں دی گئی ہے]۔ اگر انسان حقیقت کا متلاشی ہو تو ان معجزوں میں سے کسی ایک کا دیکھنا اور پھر خدا کے پیغمبر کی دُعا کے وسیلے سے مصیبت کا برطرف ہو جانا، اس کے لیے کافی ہے۔ لیکن جب انسان بالکل ہی ہٹ دھرم بن جائے، تو پھر آسمان و زمین سر سے پا تک آیاتِ خدا بن جائیں، تب بھی وہ اثر نہیں لیتا۔ صرف عذابِ الٰہی ہی آ کر ایسے پُرغرور دماغوں کو کُچل سکتا ہے، چنانچہ زیر بحث آیت کے ذیل میں ہمیں ملتا ہے: "ہم نے ان کی گرفت کی اور انہیں سزا دی، گرفت اس کی جو کبھی مغلوب نہیں ہوتا اور مقتدر و توانا ہے" (فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ)۔ "أَخَذَ" پکڑنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے۔ چونکہ مجرم کو سزا دینے کے لیے پہلے اسے شکنجے میں جکڑ لیا جاتا ہے، لہٰذا یہ لفظ سزا و عذاب کے کنائے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جو مفہوم اس واقعہ کے ذیل میں آیا ہے، وہ تمام سرگزشتوں میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، کیونکہ فرعونی اپنی طاقت اور قوّت پر سب سے زیادہ فخر و مباہات کرتے تھے اور ان کی اس قوّت و طاقت کی ہر جگہ شہرت تھی۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ہم نے ان کی گرفت کی اور گرفت بھی خوب مضبوط، تاکہ سب پر واضح ہو جائے کہ یہ عارضی اور مختصر سی طاقت خدا کی عزّت و قدرت کے مقابلہ میں بالکل کھوکھلی ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔" باعثِ تعجب یہ ہے کہ وہی دریائے نیل، جو ان کی طاقت، ثروت، آبادی اور تہذیب کا سرچشمہ تھا، ان کی بربادی پر مامور ہوا۔ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ نہایت معمولی موجودات، جیسے ٹڈی دل، جوئیں اور مینڈک، ان پر مسلط کیے گئے اور انہوں نے انہیں اتنا تنگ کر دیا کہ لاچار کر کے رکھ دیا۔ گزشتہ قوموں کے واقعات اور سرکش و مجرم اُمتوں پر نازل ہونے والے عذاب کو بیان کرنے کے بعد، اس سے اگلی آیت میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "کیا تمہارے کفّار، گزشتہ کافروں سے بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے آسمانی کتابوں میں امان نامہ نازل ہو چکا ہے"؟ أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُو۟لَـٰٓئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌۭ فِى ٱلزُّبُرِ۔ [تشریحی نوٹ: "اکفارکم" میں ضمیر "ام لکم براءۃ فی الزبر" کے قرینے سے کفارِ عرب کی طرف لوٹتی ہے]۔ قومِ فرعون، نوح، لوط، ثمود اور تمہارے درمیان کیا فرق ہے؟ اگر وہ کفر، سرکشی، ظلم اور گناہ کی وجہ سے طوفانوں، زلزلوں اور صاعقوں میں گرفتار ہوئے، تو پھر کون سی دلیل ہے جس کی بناء پر تم ایسے مصائب کا شکار نہیں ہو سکتے؟ کیا تم ان سے بہتر ہو؟ یا پھر یہ کہ تمہارا طغیان و عناد اور کفر، ان کے طغیان و عناد اور کفر سے کمتر ہے؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تو پھر کیسے خود کو عذابِ الٰہی سے محفوظ سمجھتے ہو؟ مگر اس صورت میں کہ امان نامہ تمہارے لیے آسمانی کتب میں نازل ہوا ہو، یقیناً یہ دعویٰ جھوٹا ہے اور اس پر تم کسی قسم کی دلیل نہیں رکھتے۔ یا یہ کہ وہ کہتے ہیں: "ہم متحد، متفق اور طاقتور جماعت ہیں اور ہم اپنے مخالفوں سے انتقام لیں گے اور ان پر کامیابی حاصل کریں گے" أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌۭ مُّنتَصِرٌۭ۔ [تشریحی نوٹ: باوجودیکہ نحن جمع کی ضمیر ہے اس کی خبر "جمیع" مفرد کی شکل میں آئی ہے اور اسی طرح "منتصر" جو کہ خبر کے بعد یا جمیع کی صفت ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ "جمیع" اگرچہ لفظا مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے]۔ "جمع"، "مجموع" کے معنوں میں ہے۔ یہاں اس سے مراد ایسی جماعت ہے جن کا کوئی مطلوبہ مقصد ہو اور وہ عمل کی صلاحیت رکھتی ہو۔ "منتصر" کا مفہوم انہی معنی کی تاکید کے لیے ہے کیونکہ اس کا مادہ "انتصار" ہے، جس کے معنی ہیں انتقام لینے اور کامیاب ہونے کے اور کامیاب ہونے کے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیت خطاب کی شکل میں تھی، لیکن زیرِ بحث آیت اور آگے آنے والی آیات غائب کی صورت میں کفار سے گفتگو کرتی ہیں اور یہ ان کی ایک قسم کی تحقیر ہے، یعنی وہ اس قابل نہیں کہ اس سے زیادہ خطابِ الٰہی کے مستحق ہوں۔ بہرحال، اگر وہ اس قسم کی قدرت کا دعویٰ کریں تو وہ بھی بےبنیاد ہے۔ وہ اس لیے کہ آلِ فرعون، قومِ عاد و ثمود، اور انہی جیسے دوسرے گروہ، جو ان سے زیادہ قوی تھے، عذابِ الٰہی کے عظیم طوفان کے مقابلے میں پرکاہ کی طرح کم ترین مزاحمت بھی اپنی طرف سے نہیں دکھا سکے، چہ جائیکہ یہ چھوٹا سا گروہ، جس کے پاس کچھ بھی نہیں! اس کے بعد ایک قاطع اور دو ٹوک پیشین گوئی کے عنوان سے ان کی باتوں کو رد کرتے ہوئے پروردگارِ عالم مزید فرماتا ہے: "سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔" (وہ جان لیں کہ عنقریب ان کی جماعت شکست کھا کر بھاگ کھڑی ہو گی۔) [تشریحی نوٹ: اگرچہ مناسب ہے کہ "یولون الادبار" کہا جائے۔ اس کی جگہ "یولون الدبر" کہا گیا ہے کیونکہ یہ لفظ جنس کے، معنی رکھتا ہے کہ جو جمع کے حکم میں ہے]۔ جاذبِ توجہ یہ امر ہے کہ "سَیُہْزَمُ" کا مادہ "ھزم" (بروزن "جزم") ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی خشک جسم کو اتنا دبانا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہاں اسی مناسبت سے لشکر کے تِتر بِتر اور درہم برہم ہونے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ تعبیر ممکن ہے کہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ وہ بظاہر متحد و مربوط ہیں، لیکن چونکہ وہ ایسے موجودات کی طرح ہیں جو خشک ہوتے ہیں، لہٰذا وہ قوی دباؤ کے مقابلے میں درہم و برہم ہو جائیں گے، برخلاف مومنین کے، جو اپنے اندر ایسی قوت رکھتے ہیں جس میں مرکزیت بھی ہو۔ "دُبُر" کے معنی پشت کے ہیں، یہ "قِبَل" کی ضد ہے، جس کے معنی اگلے حصے کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں مکمل طور پر میدانِ جنگ میں پشت دکھانے کے مفہوم میں ہے۔ یہ پیشین گوئی میدانِ بدر اور دیگر جنگوں میں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور کفار کا مضبوط اور طاقتور گروہ میدانِ جنگ سے ہزیمت خوردہ ہو کر بھاگ نکلا۔ زیرِ بحث موضوع پر آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: "صرف دنیا میں شکست و ناکامی ان کا مقدر نہیں بلکہ قیامت ان کی وعدہ گاہ ہے اور قیامت کی سزائیں زیادہ سخت اور ہولناک ہیں۔" (بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَٱلسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ)۔ اِس اعتبار سے انہیں اس دنیا میں بھی شکست کی تلخی کا مزہ چکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور آخرت میں ان کے لیے زیادہ تلخ اور وحشتناک شکست ہے۔ "أَدْهَىٰ" کا مادّہ "دَهْوٌ" اور "دَهَاءٌ" ہے، اس کے معنی ایسی بڑی مصیبت اور عظیم حادثے کے ہیں، جس سے چھٹکارا ممکن نہ ہو۔ یہ لفظ کبھی انتہائی ہوشیاری کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن زیرِ بحث آیت میں اس کے پہلے معنی مراد ہیں۔ جی ہاں! وہ قیامت میں ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوں گے کہ ان کے لیے کوئی راہِ فرار نہیں ہو گی۔
ایک نکتہ: ایک واضح اور معجزہ کی کیفیّت رکھنے والی پیشن گوئی
ایک واضح اور معجزہ کی کیفیت رکھنے والی پیشین گوئی۔ اس میں شک نہیں کہ مکّہ میں جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں تو مسلمان بالکل اقلیت میں تھے اور دشمن انتہائی طاقتور تھا۔ مسلمانوں کی ان کے مقابلے میں جلد کامیابی کی پیشین گوئی ہرگز قابلِ اعتبار نہ تھی، لیکن تھوڑی سی مدت کے بعد مسلمانوں نے ہجرت کی اور اتنی طاقت جمع کر لی کہ میدانِ بدر میں دشمن کے ساتھ اپنے پہلے ٹکراؤ میں ایک خوفناک ضرب لگائی۔ اس صورتِ حال کی کفّار کو قطعاً توقع نہیں تھی۔ پھر جنگِ بدر کے واقعے کو چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ نہ صرف کفّارِ مکّہ بلکہ تمام جزیرۂ عرب مسلمانوں کے سامنے سر تسلیم خم کر چکا تھا۔ تو کیا مستقبل کے بارے میں غیب سے تعلق رکھنے والی خبر بالکل واضح طور پر ایک معجزہ نہیں ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ اعجازِ قرآن کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی خبریں غیبت پر مشتمل ہوتی ہیں، جس کا ایک نمونہ زیرِ بحث آیت میں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: مقامِ صِدق میں خُداوند مقتدر کے پاس
Tafsīr Nemūna · Vol. 8ان آیتوں میں قیامت کے دن مشرکین اور مجرموں کی جو کیفیت ہو گی اور جس کی بحث گزشتہ آیتوں میں تھی، اسی کے بیان کو جاری رکھا گیا ہے۔ گزشتہ آیتوں میں سے آخری آیت نے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ قیامت کا دن ان کی وعدہ گاہ ہے اور وہ دن مصیبت کا دن ہے اور تلخی لیے ہوئے ہے ایسی تلخی جو دنیا کی مصیبتوں اور شکستوں سے زیادہ تلخ ہو گی۔ زیرِ بحث آیات میں سے پہلی آیت میں اس امر کی علت کو پیش کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے: "مجرمین گمراہی اور آگ کے شعلوں میں ہیں۔" (إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "سعر"، جیسا کہ ہم نے اس سورہ کی آیت ۲۴ میں اشارہ کیا ہے، دو معنی رکھتا ہے: پہلا، یہ کہ یہ جمع ہے "سعیر" کی، جس کے معنی جلتی ہوئی آگ کے ہیں۔ دوسرا، یہ کہ یہ جنون، ہیجان اور اشتعال کے معنوں میں ہے، جو فکری اعتدال کے فقدان کے وقت ہوتا ہے۔ زیرِ بحث آیت میں ممکن ہے کہ یہ پہلے معنی میں ہو، یا پھر دوسرے معنی میں۔ اگر دوسرے معنی میں ہو تو آیت کا مفہوم یہ ہو گا: "وہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے جیسے انسان کی پیروی کریں تو ہم گمراہ ہیں اور دیوانے ہیں۔" قرآن کہتا ہے کہ قیامت کے دن سمجھ لیں گے کہ وہ انکار اور جنون کی وجہ سے گمراہی میں تھے]۔ "قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ میں اپنے منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو، وہ دوزخ جس کا تم ہمیشہ انکار کرتے تھے اور اسے محض جھوٹ تصور کرتے تھے۔" (يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ)۔ "سقر" بروزن "سفر" جسم کے رنگ کے متغیر ہونے اور دھوپ کی شدت یا کسی اور تکلیف دہ چیز کے اثر سے اذیت اٹھانے کے معنی میں ہے۔ چونکہ جہنم تکلیف و عذاب کی ایک شدید نوعیت رکھتا ہے، اسی لیے اس کا نام سقر رکھا گیا ہے۔ "مس" سے مراد چھونا ہے، اسی بنا پر دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ اس جلانے والی آنچ کا مزہ چکھو جو جہنم کی آگ کے چھونے سے حاصل ہوتی ہے۔ اسے چکھو اور یہ نہ کہو کہ یہ چیزیں جھوٹ، خرافات اور محض قصے کہانیاں ہیں۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "سقر" پوری دوزخ کا نام نہیں ہے، بلکہ دوزخ کا ایک خاص حصہ ہے جس میں حد سے زیادہ تپش ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ سقر ایک درہ (وادی) ہے جو متکبر لوگوں کے لیے ہے، یہ درہ جب سانس لیتا ہے تو پوری جہنم کو جلا دیتا ہے۔ [بحوالہ: تفسیرِ صافی، در ذیل آیاتِ زیرِ بحث]۔ چونکہ یہ ہو سکتا تھا کہ یہ خیال کرے کہ یہ عذاب ان گناہوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے، اس لیے بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا: "ہم نے ہر چیز کو مقدار اور اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔" (إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ)۔ جی ہاں! ان کے اس دنیا کے دردناک عذاب کا بھی حساب و کتاب ہے اور ان کو آخرت میں پہنچنے والی سزائیں ہی نہیں ہیں بلکہ ہر چیز کو خدا نے حساب و کتاب کے ماتحت پیدا کیا ہے، خواہ وہ زمین و آسمان ہوں، جاندار و بےجان ہوں، انسانی جسم کے اعضا ہوں، یا زندگی کے وسائل۔ ہر ایک چیز مقررہ مقدار کے مطابق ہے، کیونکہ یہ خالقِ حکیم کی پیدا کردہ ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "نہ صرف ہمارے اعمال حکمت کی رو سے ہیں بلکہ انتہائی قدرت و قاطعیت کے ساتھ بھی ہیں کیونکہ ہمارا فرمان ایک امر سے زیادہ نہیں ہے اور وہ اتنی تیزی کے ساتھ تکمیل پاتا ہے جیسے پلک کا ایک مرتبہ جھپکنا۔" (وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ)۔ جی ہاں! جس چیز کے بارے میں ہم ارادہ کریں تو ہم کہتے ہیں: کن، ہو جا، تو وہ بلا تاخیر ہو جاتی ہے۔ (حتّیٰ کہ کلمہ "کن" کی اِصطلاح بھی محض افہام کے لیے ہے، ورنہ خدا کا اِرادہ، مشیّت اور اس کی مُراد کا تحقق یہ سب ایک ہی چیز ہیں۔) اِس بنا پر جس دن ہم قیامت کے برپا ہونے کا فرمان صادر کریں گے تو پلک جھپک میں ہر چیز قیامت کی گرفت میں ہو گی اور جسموں کے ڈھانچوں میں نئی زندگی پھونک دی جائے گی۔ اسی طرح، جس روز ہم ارادہ کریں کہ مجرموں کو آسمانی بجلی کی چیخ یا زمین کے زلزلوں، طوفانوں اور تیز آندھیوں سے معذب کریں یا ان پر عذاب نازل کرنے کا اِرادہ رکھیں گے تو اس کے لیے ایک حکم سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں گنہگاروں کے لیے تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ وہ جان لیں کہ خدا حکیم ہونے کے ساتھ ساتھ قطعی اور دوٹوک فیصلے بھی کرتا ہے اور وہ قاطعیت کے ساتھ حکیم بھی ہے، لہٰذا اس کے فرمان کی مخالفت سے پرہیز کریں۔ بعد والی آیت میں دوبارہ کفّار و مجرمین کو مخاطب کرتے ہوئے اور گزشتہ اقوام کے حالات کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "ہم نے گزشتہ زمانے میں کچھ افراد کو، جو تمہارے ہی جیسے تھے، ہلاک کیا۔ کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے"؟ (وَلَقَدْ أَہْلَکْنَا أَشْیَاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ)۔ "اَشیاع" جمع ہے "شیعہ" کی، ایسے لوگوں کے معنوں میں جو کسی فرد کی طرف سے چہار جانب جائیں اور اس فرد سے متعلق امور کی نشر و اشاعت کریں اور اس کو تقویت پہنچائیں۔ اگر "شیعہ" پیروکار کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے۔ یقیناً گزشتہ اقوام، مشرکینِ مکّہ کی پیروکار نہیں تھیں بلکہ بالکل اس کے برعکس تھا، لیکن چونکہ کسی فرد کے طرفدار اس کے شیعہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ لفظ "مانند" اور "مثل" کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ چیز بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ کفّارِ مکّہ کا یہ گروہ گزشتہ لوگوں کے طرزِ عمل سے بھی قوّت حاصل کرتا تھا اور ان کے نظریات سے استفادہ کرتا تھا، اِسی بنا پر گزشتہ اقوام پر "اَشیاع" کا اطلاق ہوا ہے۔ بہرحال، یہ آیت دوبارہ اس حقیقت کی تاکید کرتی ہے کہ جب تمہارے اعمال، رفتار و گفتار اور عقائد ان کے عقائد وغیرہ سے مشترک ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تمہارا انجام ان کے انجام سے مختلف ہو۔ بیدار ہو جاؤ اور نصیحت حاصل کرو۔ اس کے بعد بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ اقوام کی موت کے ساتھ ان کے اعمال کالعدم نہیں ہو گئے بلکہ جو کام انہوں نے انجام دیے ہیں، وہ ان کے نامۂ اعمال میں مندرج ہیں: "اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ زُبُر (کتابوں) میں درج ہے۔" (وَکُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوہُ فِی الزُّبُرِ)۔ اسی طرح تمہارے اعمال بھی مندرج و منضبط ہیں اور روزِ حساب کے لیے محفوظ ہیں۔ "زُبُر" جمع ہے "زبور" کی، جو کتاب کے معنی میں ہے۔ یہاں انسانوں کے نامۂ اعمال کے معنوں میں ہے۔ بعض نے اس احتمال کی تائید بھی کی ہے کہ اس سے مُراد لوحِ محفوظ ہے، لیکن یہ معنی جمع کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے۔ اس کے بعد تاکیدِ مزید کے لیے خدا فرماتا ہے: "اور ہر چھوٹا بڑا کام بلا استثنا لکھا جائے گا۔" (وَکُلُّ صَغیرٍ وَکَبیرٍ مُسْتَطَرٌ)۔ اس بنا پر اس روز جو اعمال کا حساب و کتاب ہو گا، وہ ایک جامع اور مکمل حساب ہو گا۔ چنانچہ جس وقت مجرموں کا نامۂ اعمال ان کے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ فریاد کریں گے: "وائے ہو ہم پر! یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں درج نہ ہو!" (وَیَقُولُونَ یا وَیْلَتَنا مَا لِہذَا الْکِتابِ لَا یُغَادِرُ صَغیرَةً وَلَا کَبیرَةً إِلَّا أَحْصَاھا) (سورۃ الکہف، آیت ۴۹)۔ "مُستَطَر" کا مادّہ "سطر" ہے، اس کے معنی صف کے ہیں وہ خواہ وہ انسان ہوں جو ایک صف میں کھڑے ہوں، درخت ہوں جو ایک قطار میں ایستادہ ہوں، یا الفاظ ہوں جو صفحۂ کاغذ پر ایک ترتیب میں تحریر ہوں۔ چونکہ یہ زیادہ تر آخری معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لہذا یہی مفہوم عام طور پر اس سے ذہن میں آتا ہے۔ بہرحال، یہ ایک اور تنبیہ ہے گنہگار، غافل اور بےخبر لوگوں کے لیے۔ قرآن مجید کی سُنّت یہ ہے کہ اس کے بیانات میں اچھے اور بُرے، نیک و بد افراد کو موازنہ و تقابل کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے، تاکہ فرق واضح ہو۔ یہاں بھی کفّار و مجرموں کے احوال کے تذکرے کے بعد پرہیزگاروں کے مسرت بخش اور روح پرور احوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "بےشک، پرہیزگار جنّت کے باغوں میں اور نہروں کے قریب وسیع فضا اور خدا کے واضح فیض کے مقام پر جگہ رکھتے ہیں۔" (إِنَّ الْمُتَّقینَ فِی جَنَّاتٍ وَنَہَرٍ)۔ "نَہَر" بروزن "قمر" اور "نَہر" بروزن "قَہر"، دونوں بہت سے پانی کے بہنے کے معنی میں ہیں۔ اسی مناسبت سے کبھی وسیع فضا، فیضِ عظیم یا پھیلی ہوئی روشنی کے لیے "نَہَر" بروزن "قمر" کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ زیرِ بحث آیت میں آئندہ آنے والی حدیث سے قطع نظر ممکن ہے پانی کی نہر یا دریا کے لیے استعمال ہوا ہو۔ اس کا مفرد ہونا کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا کیونکہ وہ جنسِ جمع کے معنی رکھتا ہے، اسی لیے "جنّات" (جو "جنّت" کی جمع ہے) کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فیضِ الٰہی کی وسعت، جنّت کی روشنی اور اس کی وسیع فضا کی طرف اشارہ ہو یا دونوں معانی کی طرف اشارہ ہو لیکن اس حدیث میں جو درِّمنثور میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ہم دیکھتے ہیں کہ (النَّہَرُ الفَضَاءُ وَاسِعَةٌ لَیْسَ بِنَہَرٍ جَارٍ) یعنی "نہر سے مراد وسیع فضا ہے، جاری نہر نہیں۔" [بحوالہ: تفسیر درالمنثور جلد ۶، صفحہ ۱۳۹]۔ زیرِ بحث آیات کی آخری آیت، جو سورۃ القمر کی بھی آخری آیت ہے، متقین کی رہائش گاہ کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "وہ جائے صدق و حق اور راستی میں مالک و قادر خدا کے ہاں قرار و مقام رکھتے ہیں۔" (فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ)۔ اس آیت میں پرہیزگاروں کی رہائش گاہ کی نہایت پُرکشش اور جاذبِ نظر توصیف کی گئی ہے، جس میں دو خصوصیات بیان ہوئی ہیں: پہلی، تو یہ کہ وہ "صدق" کی جگہ ہے وہاں کسی قسم کی بےہودگی یا باطل کا گزر نہیں، وہ سراسر حق ہے۔ بہشت میں خدا کے تمام وعدے حقیقت کا رُوپ دھار چکے ہوں گے اور ان کی سچائی بالکل واضح ہو گی۔ دوسری خصوصیت یہ کہ وہ خدا کے قرب و جوار میں ہے۔ وہی چیز کہ جو "عِندَ" کے لفظ سے ظاہر ہوئی ہے۔ یہ قرب معنوی کی انتہا کی طرف اشارہ ہے، قرب جسمانی کی طرف نہیں۔ اور پھر خدا کی نسبت کہ جو مالک بھی ہے اور قادر بھی، ہر قسم کی نعمت و موہبت اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی حکومت و ملوکیت کے زیرِ فرمان ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے مہمانانِ گرامی کی پذیرائی میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کیا کیا نعمتیں فراہم کی ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان دو آیتوں میں کہ جہاں جنّت کی نعمتوں اور جزا کے بارے میں گفتگو ہے اِن میں پہلے تذکرہ وسیع باغات اور جاری نہروں کا ہے۔ یہ مادی نعمتیں ہیں۔ پھر ان کے عظیم معنوی اجر کا ذکر ہے، یعنی خدائے مالک و قادر کی بارگاہ میں حضوری کا تذکرہ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ انسان کو حقائق کی طرف رفتہ رفتہ مائل کرے، اس کی روح کو پرواز کرائے اور عشق و نشاط میں مستغرق کرے۔ "مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ" اور "مَقْعَدِ صِدْقٍ" ایسے الفاظ ہیں جو اللہ کے حضور اور اس کے قربِ معنوی کے دوام و بقاء پر دلالت کرتے ہیں۔
چند اہم نکات: ١۔ اس جہان کی تمام چیزیں حساب و کتاب کی تابع ہیں
(إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) کا جُملہ اختصار کے باوجود عالمِ تخلیق کی ایک اہم حقیقت کو بےنقاب کرتا ہے، ایسی حقیقت کہ جو پورے عالمِ امکان پر حکمران ہے اور وہ ساری کائنات میں ہر چیز کی مقدار کا نہایت باریک بینی کے ساتھ تعیّن ہے۔ انسان کا علم جس قدر ترقی کر رہا ہے، وہ باریک بینی پر مبنی اس دقیق تعیّنِ مقدار سے زیادہ طور پر باخبر ہوتا جا رہا ہے۔ تعیّنِ مقدار کے سلسلہ میں یہ دقتِّ نظر نہ صرف زمینی موجودات میں کارفرما ہے، بلکہ آسمان کے عظیم کروں میں بھی جاری و ساری ہے۔ مثال کے طور پر ہم سُنتے ہیں کہ الیکٹرانکی دماغوں کی مدد سے سینکڑوں مخصوص ماہرینِ فن نہایت دقیق علمی حساب لگا کر اس امر پر قادر ہوئے ہیں کہ کُرّہ قمر کے اس علاقہ میں اُتریں کہ جہاں وہ چاہتے ہیں۔ حالانکہ جن چند دنوں میں خلائی جہاز زمین اور چاند کا درمیانی فاصلہ طے کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو تمام صورتِ حال اُلٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔ چاند اپنے گرد بھی گھوم رہا ہے اور زمین کے گرد بھی گردش کر رہا ہے۔ اس طرح اس کی جگہ مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ حتیٰ کہ خلائی جہاز کے ایک مصروف لمحے ہی کے دوران زمین اپنے گرد بھی گردش کرتی ہوئی ہوتی ہے اور سُورج کے گرد بھی گردش میں مصروف ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ مختلف قسم کی گردشیں ایسے حساب کے مطابق ہیں کہ جو بہت باریک بینی پر مبنی ہے اور جس میں ذرّہ برابر فرق واقع نہیں ہوتا۔ اب فضانورد اس قابل ہو چکے ہیں کہ نہایت پیچیدہ حساب کے باوجود وہ اپنے پسندیدہ خطّے میں جا اُتریں۔ علمِ نجوم کے ماہر اس قابل ہو گئے ہیں کہ دسیوں سال پہلے مکمل یا نامکمل چاند گہن اور سُورج گہن کے متعلق زمین کے مختلف حصّوں کے حوالہ سے صحیح طور پر پیشین گوئی کر سکیں۔ یہ تمام باتیں اس وسیع دنیا میں حساب کی انتہائی باریک بینی پر دلالت کرتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جانداروں میں، مثال کے طور پر ننھی چیونٹیوں میں، ان کے مختلف قسم کے جسموں، رگوں اور پٹھوں کے بارے میں یہ حساب انسان کو حیران کر دینے کے قابل ہے۔ جس وقت ہم زیادہ چھوٹے موجودات مثلاً مائیکروب، وائرس اور امیبا تک پہنچتے ہیں تو حساب کی عمدگی اور صحت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ملی میٹر کا ہزارواں حصّہ بلکہ اس سے چھوٹا حصّہ بھی مکمل طور پر حساب کے ماتحت ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اگر ہم ایٹم کے دائرہ میں داخل ہوں تو پھر ان تمام اندازہ لگانے والے پیمانوں کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔ اب حساب کے موضوعات اتنے چھوٹے ہو جاتے ہیں کہ کسی انسان کے دائرہ فکر میں نہیں آتے۔ یہ تخمینے صرف مقداروں کے بارے میں نہیں ہیں، ترکیبی کیفیّتیں بھی اندازہ لگانے کے ان پیمانوں کی گرفت میں آ جاتی ہیں۔ وہ نظام، کہ جو رُوحِ انسانی کے تقاضوں اور حجانات و میلانات پر حاکم ہے، اس کا بھی حساب لگایا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی خواہشات کا وہ سلسلہ کہ جس میں ذرا سی بھی برہمی واقع ہو جائے تو اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی درہم برہم ہو جائے، اس کو ناپنے کے بھی دقیق پیمانے موجود ہیں۔ عالمِ طبعی میں ایسی موجودات ہیں کہ جو ایک دوسرے کے لیے مصیبت کا باعث بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں بھی ڈٹی ہوئی ہیں۔ شکاری پرندے چھوٹے پرندوں کے گوشت سے غذا حاصل کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہیں کرتے کہ تمام موجود ذخیرۂ غذا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔ نتیجتاً ان کی عمر طویل ہوتی ہے۔ یہ شکاری پرندے بہت کم انڈے دیتے ہیں۔ ان کی بچّوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔ یہ صرف خاص حالات میں تنہا زندگی گزارتے ہیں۔ اگر اس طویل عمر کے ساتھ ان کے بچّے بھی زیادہ ہوتے تو دُنیا سے تمام چھوٹے پرندوں کی نسلیں ختم ہو کر رہ جاتیں۔ عالمِ حیوانات و نباتات میں اس موضوع کا دامن بہت وسیع ہے جس کا مطالعہ انسان کو (إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) کی گہرائی اور اس کے عمق سے زیادہ روشناس کراتا ہے۔
٢۔ تقدیر الہٰی اور اس کے اِرادہ کی آزادی
ہو سکتا ہے کہ زیرِ بحث آیت اور اس سے مشابہت رکھنے والی آیات سے یہ غلط تاثر پیدا ہو جائے کہ اگر ہر چیز کو خدا نے اندازے، مقدار اور حساب کے ساتھ پیدا کیا ہے تو پھر ہمارے افعال و اعمال بھی اس کی مخلوق ہیں، لہٰذا ہم کسی طرح کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگرچہ ہمارے افعال و اعمال مشیت و تقدیر الہٰی کے مطابق ہیں اور اس کی قدرت اور ارادہ کے احاطہ سے ہرگز خارج نہیں ہیں، لیکن اس نے یہ بات مقدر کر دی ہے کہ اپنے اعمال میں ہم مختار ہیں اور اسی بنا پر وہ ہمارے بارے میں ذمہ داری و جوابدہی کا قائل ہے۔ اگر ہم اپنے افعال میں بالکل بےاختیار ہوتے تو تکلیف شرعی اور ذمہ دارانہ جوابدہی کا کوئی مفہوم ہی باقی نہ رہتا۔ ہمارا اپنے اعمال کے سلسلہ میں کوئی اختیار نہ رکھنا تقدیر الہٰی کے خلاف ہے۔ جبریوں کی افراط کے مقابلہ میں، اس کے برعکس، ایک گروہ تفریط اور تیزروی کا شکار ہے، وہ "قدری" یا "مفوضہ" کہلاتے ہیں۔ وہ بالکل وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے اختیار میں ہیں اور خدا کو ہمارے کاموں میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے الہٰی حاکمیت کی حدود کو محدود کر دیا ہے، خود کو مستقل سمجھا ہے اور شرک کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید و عدل کی دونوں اصلوں کے درمیان جو نقطہ ہے اس کو سمجھنے کے لیے خاصی بصیرت درکار ہے۔ اگر ہم توحید کا مفہوم یہ لیں کہ ہر ایک شے حتیٰ کہ ہمارے اعمال کا خالق بھی خدا ہے اور ہمیں اپنے اعمال کے سلسلہ میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے تو اس طرح ہم عدلِ الہٰی کے منکر ہو جائیں گے، کیونکہ ایسی صورت میں خدا نے گنہگاروں کو بےاختیار رکھ کر مجبور محض کر دیا ہے پھر اس پر طرہ یہ کہ انہیں سزا بھی دے گا۔ اس کے برعکس اگر ہم عدل کے معنی یہ سمجھیں کہ خدا ہمارے اعمال میں بالکل مداخلت نہیں کرتا تو ہم نے اس کو اس کی حکومت سے خارج کر دیا اور اس طرح ہم شرک کے گڑھے میں جا گرے۔ "امر بین الامرین" ایک درمیانی خط ہے اور وہ صراطِ مستقیم بھی ہے اور عقیدہ صحیح بھی۔ ہمیں چاہیے کہ یہ عقیدہ رکھیں کہ ہم صاحبِ اختیار ہیں لیکن ہمارا یہ صاحبِ اختیار ہونا بھی خدا کے ارادے سے ہے، جس وقت چاہے وہ ہمارے اختیار کو سلب کر سکتا ہے۔ یہ مکتبِ فکرِ اہل بیت علیہم السلام ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیرِ بحث آیات کے ذیل میں متعدد روایات مذکورہ بالا دونوں فرقوں کے بارے میں بصورتِ مذمت کتب اہل سنت و شیعہ میں وارد ہوئی ہیں۔ منجملہ ان حدیثوں کے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "صنفان من امتی لیس لھم فی الاسلام نصیب المرجئة والقدریة انزلت فیھم اٰیة فی کتاب اللہ ان المجرمین فی ضلال وسعر..." "میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے، جبری اور قدری اور ان کے بارے میں (ان المجرمین فی ضلال وسعر) گنہگار اور مجرم گمراہی، جنون اور آگ کے شعلوں میں ہیں، نازل ہوئی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی میں یہ حدیث بخاری، ترمذی، ابن ماجہ، ابن عدی اور ابن مردویہ سے ابن عباس سے نقل ہوئی ہے، ج ۲۷، ص ۸۱۔ اس کی نظیر حدیث قرطبی نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے، جلد ۹، صفحہ ۶۳۱۸]۔ "مرحبئہ" کا مادہ "ارجاء" ہے، اس کے معنی تاخیر میں ڈالنے کے ہیں۔ یہ ایک اصطلاح ہے جو جبریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس لیے کہ وہ اوامر الہٰی کی پرواہ نہیں کرتے اور معصیت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ اس گمان میں ہیں کہ وہ مجبور ہیں یا یہ کہ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ گناہانِ کبیرہ کے مرتکب افراد کے انجام کا معاملہ واضح نہیں ہے، وہ اسے قیامت پر چھوڑتے ہیں۔ [بحوالہ: "مجمع البحرین"، مادہ "رجا"]۔ امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ (نزلت ھذہ فی القدریة ذو قوا مس سقر انّا کل شیء خلقنا بقدر) یہ آیات قدریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، قیامت میں ان سے کہا جائے گا: "جہنم کی آگ کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو حساب اور اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے "۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۱۸۶]۔ (یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اندازہ اور حساب سے مراد یہ ہے کہ ہر گناہ کے لیے ہم نے معین سزا قرار دی ہے۔ یہ آیت کی ایک اور تفسیر ہے یا یہ کہ تم جو تقدیر الہٰی کے منکر تھے اور ہر چیز پر خود کو قادر سمجھتے تھے اور خدا کو اپنے اعمال کی قلمرو سے خارج سمجھتے تھے تو اب تم خدا کی قدرت کو دیکھو اور اپنے انحراف کے عذاب کا مزہ چکھو)۔
٣۔ خُدا کا فرمان صرف ایک ہی کلمہ ہے
ہم جانتے ہیں کہ "علّتِ تامہ" اور "معلول" کے درمیان کسی قسم کا زمانی فاصلہ نہیں ہے، اس لیے فلاسفہ کی اصطلاح میں علّت سچّے معلول کے تقدّم کو "تقدّمِ رتبی" سمجھتے ہیں۔ اور خدا کے ارادے کے بارے میں ایجاد و خلقت کے امر کی نسبت، جو علّتِ تامہ کا واضح ترین مصداق ہے، یا "علتِ تامہ کا منحصر بہ فرد" کا مصداق ہے، یہ معنی زیادہ واضح ہیں۔ اس لیے اگر آیت (وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ) "ہمارا امر ایک کلمہ سے زیادہ نہیں ہے" کی تفسیر لفظ "کُن" سے کی ہے تو یہ تنگی بیان کی وجہ سے ہے، کیونکہ لفظ "کُن" بھی مرکب ہے، "کاف" اور "نون" کا اور وہ ایک زمانہ کا محتاج ہے۔ یہاں تک کہ "فَیَکُون" میں "فا" عام طور پر ایک قسم کے زمانے کو بیان کرتا ہے، وہ بھی بیان کی تنگی کی بنا پر ہے۔ پھر (کَلَمْحِ الْبَصَرِ) [تشریحی نوٹ: "لَمْح" (بروزن مَسْح) اصل میں بجلی کے کوندنے کے معنی میں ہے۔ اس کے علاوہ یہ تیز نگاہ ڈالنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔] "پلک جھپکنے" کی تشبیہ، سورہ نحل کی آیت ۷۷ میں پروردگارِ عالم جس وقت امرِ الہٰی کی قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور اس کو لمحِ بصر کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے تو مزید کہتا ہے کہ (أَوْ هُوَ أَقْرَبُ) "چشم زدن سے بھی زیادہ قریب ہے"۔ بہرحال زمانہ کے بارے میں یہ گفتگو ہماری روزمرّہ کی تعبیر کے مطابق ہے اور اس وجہ سے ہے کہ قرآن ہم سے ہماری زبان میں بات کرتا ہے، ورنہ خدا اور اس کے اوامر زمانہ سے مافوق ہیں۔ ضمنی طور پر "وَاحِدَةٌ" کی تعبیر ہو سکتا ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ ایک ہی فرمان کافی ہے اور اس میں تکرار کی ضرورت نہیں ہے، یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ اُس کا فرمان چھوٹے بڑے، صغیر و کبیر، حتیٰ کہ تمام پھیلے ہوئے آسمانوں کی خلقت تک میں ذرّہ برابر فرق نہیں کرتا۔ بنیادی طور پر چھوٹا بڑا اور مشکل و آسان ہماری محدود فکر اور ناچیز قوّت کے پیمانوں میں سے ہے، جہاں قدرتِ لامتناہی کے بارے میں گفتگو ہو، یہ مفاہیم مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں اور سب ایک ہی رنگ اور ایک ہی شکل کے نظر آتے ہیں۔ غور کیجئے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اگر اوپر والے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ تمام چیزیں آناً فاناً وجود میں آتی ہیں تو یہ امر حوادثِ عالم کے تدریجی ہونے کے مشاہدہ کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس کا فرمان ہر جگہ ایک ہی کلمہ ہے جو چشم زدن سے بھی زیادہ سریع ہے، لیکن فرمان کے مضمون اور موضوع میں فرق ہوتا ہے۔ اگر جنین (وہ بچّہ جو شکمِ مادر میں ہوتا ہے) کو اس نے حکم دیا ہے کہ نو ماہ کے اندر اپنے دور کی تکمیل کرے تو ایک لمحہ زیادہ یا کم نہیں ہو گا۔ اس کا فوراً ہونا اس طرح ہے کہ ٹھیک اس مدت میں اس کی تکمیل ہو۔ اور اگر کُرّہ زمین کو حکم دیا ہے کہ چوبیس گھنٹے کے درمیان ایک مرتبہ اپنے گرد گردش کرے تو بھی اس کا فرمان تخلّف ناپذیر ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے فرمان کے اثر انداز ہونے کے لیے کسی قسم کے زمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فرمان کا مضمون و موضوع ہے جو عالمِ مادّی کے تدریجی ہونے کی وجہ سے اور خاصیتِ طبیعت و حرکت کی سنّت کی طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے لیے زمانہ کو قبول کرتا ہے۔
۴۔ سُورہ قمر کا آغاز و اِختتام
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ سورہ قمر وحشت و اضطراب اور قربِ قیامت کی تنبیہ کے ساتھ شروع ہوا ہے اور وہ سکون و آرامِ مطلق،کہ جو سچّے مومنین کے لیے ملیک مقتدر کے پاس مقامِ صدق میں ہے، اس کو بیان کرتے ہوئے اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ تربیت کا مرحلہ ہی ایسا ہوتا ہے جو وحشت و اضطراب سے شروع ہوتا ہے اور مکمل آرام و سکون پر ختم ہوتا ہے۔ وہ افکارِ پریشاں کو جمع کرنے کے بعد سرکش خواہشات کو رام کرتا ہے، انسان کے اندرونی خوف و اضطراب سے گمراہی و فنا کے عوامل کو دور کرتا ہے اور اسے پروردگارِ عالم کے جوارِ ابدیت اور اس کی بارگاہِ رحمت و قرب کے سکون و اطمینان سے ہم آغوشی کا شرف بخشتا ہے۔ حقیقی طور پر اس طرف توجہ کرنے سے کہ پروردگارِ عالم ہستی میں غیرمتنازع فیہ مالک اور مختارِ کل حاکم ہے اور اس پر توجہ کرنے سے کہ وہ صاحبِ اقتدار ہے اور اس کی قدرت ہر چیز میں نافع ہے، انسان کو بےمثل و بےنظیر سکون و اطمینانِ قلب میسّر آتا ہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ یہ دو مقدس نام "ملیک" اور "مقتدر" اجابتِ دعا کے سلسلہ میں بہت گہری اور شدید تاثیر رکھتے ہیں۔ اس موضوع سے متعلق ایک راوی نقل کرتا ہے کہ میں اس گمان کے ساتھ مسجد میں وارد ہو کہ صبح ہو گئی ہے، لیکن درحقیقت ابھی رات کا ایک حصہ باقی تھا۔ میرے علاوہ مسجد میں کوئی اور نہیں تھا، میں بالکل تنہا تھا۔ اچانک میں نے اپنے پیچھے ایک حرکت محسوس کی جس سے میں ڈر گیا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی اجنبی پکار رہا ہے: "اے وہ شخص کہ جس کا دل خوف سے لبریز ہے، تو ڈر مت اور کہہ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ مَلِيكٌ مُقْتَدِرٌ، مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرِكَ يَكُونُ۔ اس کے بعد تو جو چاہتا ہے اس کے لیے دعا کر۔ "وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے یہ مختصر سی دعا پڑھی، پھر کوئی چیز ایسی نہیں تھی جس کا خدا سے میں نے سوال کیا ہو اور وہ پوری نہ ہوئی ہو"۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۷، صفحہ ۸۳]۔ خداوندا! تو ملیک و مقتدر ہے، ہمیں اس طرح کی توفیق عطا فرما کہ ہم ایمان و عمل اور تقوےٰ کے سائے میں مقامِ صدق میں تیرے جوارِ رحمت کے زیر سایہ قیام پذیر ہوں۔ پروردگارا! ہم ایمان رکھتے ہیں کہ قیامت کا دن گنہگاروں کے لیے وحشتناک، تلخ اور ناگوار ہے، اس دن ہماری امید صرف تیرے لطف و کرم سے وابستہ ہے۔ بارِ الہٰا! ہمیں بیدار روح اور ہوشیار عقل مرحمت فرما تاکہ ہم گزشتہ لوگوں کے حالات سے درسِ عبرت حاصل کریں اور اس راستے پر نہ چلیں جس پر چل کر وہ ہلاک ہوئے۔