Sūra 28 · 88v
Chapter 2888 verses

Al-Qasas

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
القصص
القصص

سوره قصص

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اِس میں ۸۸ آیات ہیں۔

مندرجات سورہ قصص

مشہور یہ ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس وجہ سے اس کے مندرجات اور اس کا اسلُوب وہی ہے جیسا کہ دیگر مکی سورتوں کا ہے۔ (دیکھیے: "تاریخ القرآن، ابو عبداللہ زنجانی، اور "فہرست" ابن ندیم اور کتب تفسیر)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس سورة کی آیت نمبر ۸۵ یا ۵۲ سے ۵۵ تک کو اس سے مستثنٰی کیا ہے۔ اُن کا نظریہ یہ ہے۔ آ یہ ۸۵ حجفہ (جو کہ مکّہ کے درمیان ایک مقام ہے) میں نازل ہوئی اور باقی چار آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔ لیکن ان کے قول پر کوئی محکم دلیل نہیں ہے ممکن ہے کہ اہل تفسیر کے اِس خیال کا سبب یہ ہو کہ ان پانچ آیات میں اہل کتاب کا ذکر ہے۔ اور اہل کتاب کثرت سے مدینہ میں رہتے تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ قرآن کا جو حصّہ مکّہ میں نازل ہوا ہے، اُس میں صرف مشرکینمکّہ ہی کا ذکر ہو۔ جب کہ مکّہ اور مدینہ کے لوگوں کا ایک دوسرے کے ہاں بہت آنا جانا تھا۔ البتہ مفسرین نے آیات ۵۲ تا ۵۵ کی شان نزول کا جو ذکر کیا ہے وہ ان کے مدنی ہونے سے مناسبت رکھتی ہے۔ ان شاءاللہ ہم مناسب مقام پر اُس کا ذکر کریں گے۔ آیت نمبر پچاسی میں پیغمبر خداؐ کے اپنے اصلی وطن یعنی مکّہ کا ذکر ہے اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ یہ آیت ہجرت کے وقت جب کے آپؐ باہر تشریف لیے جا رہے تھے، اسی مقدّس سرزمین پر نازل ہوئی ہو۔ کیونکہ جناب رسالتمآبؐ کو سرزمینِ مکّہ سے جو کہ حرم، امن خدا اور مرکز توحید تھا بہت محبت تھی۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ انھیں بشارت دیتا ہے کہ آخرکار میں تم کو اِس شہر میں واپس لے آؤں گا۔ مذکورہ بالا مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیت مکّی ہو۔ اور اگر بالفرض یہ آیت حجفہ میں بھی نازل ہوئی تو وہ مقام بھی بہ نسبت مدینہ کے مکّہ سے نزدیک تر ہے۔ بنا برایں جب ہم آیاتِ قرآنی کو مکّی اور مدنی میں تقسیم کرتے ہیں تو اس آیت نمبر پچاسی کو غیر آیات مکّی میں جگہ نہیں دے سکتے۔ مسلّماً یہ سورة مکّہ میں نازل ہوئی ہے ان حالات میں جب کہ باایمان افراد قوی دشمنوں کے پنجہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ وہ دشمن بھی ایسے تھے جو اپنی جمعیّت و تعداد اور قدرت و قوّت ہر دو لحاظ سے مسلمانوں پر برتری رکھتے تھے۔ یہ مسلمان اقلیت اس اکثریت کے تحت ایسی دبی ہوئی تھی کہ اُن میں کچھ لوگ اسلام کے مستقبل کے متعلق خوف زدہ اور فکر مند رہتے تھے۔ چونکہ مسلمانوں کی یہ حالت بنی اسرائیل کی اُس وضع کے زیادہ مشابہہ تھی جب کہ وہ حکومتِ فرعون کے پنجہ میں گرفتار تھے۔ اس لیے اِس سورة کے ایک حصّہ میں حضرت موسٰی (علیه السلام) بنی اسرائیل، اور فرعون کا قصّہ بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ حصّہ انتا طویل ہے کہ سورة مذکورہ کے قریباً نصف حصّہ پر مشتمل ہے۔ اِس میں خوصاً حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے اُس حصّہ کا ذکر ہے جب کہ وہ ایک ضعیف شیر خوار اور فرعون کے گھر میں پرورش پا رہے تھے۔ مگر قادرِ مطلق کی اُس شکست ناپذیر قدرت نے، جو تمام کائنات پر سایہ فگن ہے، اِس کمزور بچّے کو طاقتور دشمنوں کے زیر دامن پرورش کرا کے بڑا کر دیا اور آخرکار خدا نے اُسے اس قدر قوّت عطا فرمائی کہ اُس نے فرعون کی تمام شوکت و ثروت کا خاتمہ کر دیا اور اس کے ظلم کے محل کو مسمار کر دیا۔ یہ قصّہ اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمان پروردگار کے لطف و کرم کے اُمیدوار رہیں اور اس کی لامحدود قدرت پر اعتماد کر کے اپنے دل کو مطمئن رکھیں۔ اور دشمن کی تعداد کثیر اور اُس کی طاقت سے ہرگز خوف زدہ نہ ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ اُس سورة کا ابتدائی حصّہ اسی پر معنٰی اور دانش آموز تاریخ واقعہ پر مشتمل ہے۔ بالخصوص آغاز بیان میں مستضعفین کے لیے حق و عدالت پر مبنی حکومت کی نوید ہے اور ظالمین کی شان و شوکت کے برباد ہونے کی بشارت ہے۔ یہ بشارت مظلومین کے لیے آرام بخش اور قدرت آفرین ہے۔ اِس سورة کا مغزِ بیان یہ ہے کہ جس وقت تک بنی اسرائیل رہبر و پیشوا سے محروم رہے اور اُن کے سروں پر سائبان ایمان و توحید کا سایہ نہ ہوا تھا، اُس وقت تک نہ توان میں کوئی ایسی تحریک رُونما ہوئی اور نہ وہ کوئی ایسی سعی و کوشش کر سکے جو اُنہیں من حیث القوم منظّم و متحد کر دے۔ اندریں حال وہ غلامی اور اسیری کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ مگر جیسے ہی انھیں ایک رہبر مل گیا اور اُن کا دل نور علم و توحید سے روشن ہو گیا ہے، وہ فرعون اور آل فرعون پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ ہمیشہ کے لیے حکومت اُن کے ہاتھ سے نکل گئی اور بنی اسرائیل آزاد ہو گئے۔ اِس سورة کے حصّہ دوم میں اس دولت مند اور مشکبر قارون کا ذکر ہے جسے اپنے علم اور دولت پر بڑا بھروسہ تھا۔ اِس غرور و تکبّر کے نتیجہ میں اس کا انجام بھی بالکل فرعون جیسا ہوا۔ فرعون پانی میں غرق ہوا، اور یہ مٹی میں۔ فرعون کو اپنی فوجی طاقت پر گھمنڈ تھا اور قارون کو اپنی دولت پر۔ خدائے حکیم نے یہ واقعات اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ اہل عالم پر یہ واضح ہو جائے کہ:۔ خواہ وہ مکّہ کے اہل ثروت ہوں، اس علاقہ کے مشرک صاحبانِ اقتدار ہوں یا اِس دور کے سیاسی بازی گر ہوں، اِن میں سے کسی میں بھی یہ قدرت نہیں ہے کہ مستکبرین پر مستضعفین کے غلبے کے بارے میں جو ارادہ الہٰی ہے اس کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ واقعات اس سورہ کے آخری حصّہ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اِن دو حصّوں کے درمیان توحید، معاد، اہمیتِ قرآن، قیامت مشرکین کی حالت، مسئلہ ہدایت و ضلالت اور کمزور افراد کی بہانہ جوئی کا جواب مذکورہ ہے۔ یہ بیان نہایت قیمتی اور سبق آموز ہے درحقیقت، یہ بیان سورة کے حصّہ اوّل کا نتیجہ اور حصّہ دوم کے لیے مقدّمہ رکھتا ہے۔

فضیلتِ تلاوتِ سورہ قصص

جناب رسالتمآبؐ سے مروی ایک حدیث میں ہم یوں پڑھتے ہیں: من قرء طسم القصص اعطی من الاجر عشر حسنات بعدد من صدق بموسیٰ وکذب بہ، ولم یبق ملک فی السماوات والارض الا شھد لہ یوم القیامۃ انہ کان صادقاً جو آدمی سورۃ قصص کو پڑھے گا تو اسے اُن لوگوں کہ جنہوں نے حضرت موسیٰؑ کی تصدیق یا تکذیب کی تعداد کی نسبت سے دس نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا۔ اور زمین اور آسمان میں کوئی فرشتہ ایسا نہ ہو گا جو بروز قیامت اس شخص کی صداقت پر گواہی نہ دے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان در آغازسورۃ القصص)۔ حضرت امام جعفر صادقؑ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ: جو شخص طواسین ثلاثہ یعنی سورۃ قصص، نمل اور شعراء کو ہر شب جمعہ میں پڑھے گا، اس کا شمار دوستان خدا میں ہو گا اور وہ جوارِ الہٰی اور اُس کے سائی حمایت میں رہے گا۔ وہ دنیا میں کبھی بے امن، ناراحت اور فقیر نہ رہے گا اور آخرت میں خدا اس کو اس قدرت انعامات عنایت کرے گا کہ وہ نہ صرف راضی ہو جائے گا بلکہ اس کی مسرت کی کیفیفت اس سے بھی زیادہ ہو گی۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین سورہ قصص کے آغاز میں، بحوالہ ثواب الاعمال)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ تمام اجر و ثواب اُن لوگوں کے لئے ہے جو اس سورۃ کو پڑھ کر دُنیا کے قارونوں اور فرعونوں کے مقابلہ میں حضرت موسیٰؑ اور راست باز مومنین کی صف میں کھڑے ہو کر باطل کے خلاف جہاد کرتے ہیں اور مشکلات کے وقت دشمن کے مقابلہ میں ہار نہیں مانتے اور شکست کی ذلت کو گوارا نہیں کرتے۔ کیونکہ نعماتِ الہٰی کسی کو مفت میں نہیں مل جاتیں۔ یہ نعمات و برکات اُنہیں لوگوں کے لئے مخصوص ہیں جو کلام الہٰی کو پڑھتے ہیں، اس پر غور کرتے ہیں اور اس کی تعلیم کو اپنی زندگی کا دستور العمل بناتے ہیں۔

1
28:1
طسٓمٓ
طسم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
28:2
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
28:3
نَتۡلُواْ عَلَيۡكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرۡعَوۡنَ بِٱلۡحَقِّ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
ہم تجھ سے موسیٰ اور فرعون کا مبنی برحق قصہ ایمان لانے والوں کیلئے بیان کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
28:4
إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
فرعون نے زمین میں اپنے آپ کو برتر سمجھ لیا تھا اور وہاں کے رہنے والوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔اس نے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر دیا تھا ٗان کے لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو(کنیزی کیلئے)زندہ رہنے دیتا تھا۔یقیناً وہ مفسدین میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
28:5
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةٗ وَنَجۡعَلَهُمُ ٱلۡوَٰرِثِينَ
ہمارا ارادہ ہے کہ ان لوگوں پر ہم احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اور انہیں زمین کا وارث اور اہل زمین کا پیشوا بنا دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
28:6
وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنۡهُم مَّا كَانُواْ يَحۡذَرُونَ
انہیں زمین میں ثبات قدم عطا کریں (ان کی حکومت کو مستحکم کر دیں ) اور فرعون،ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیز دکھائیں جس کا انہیں خوف ہے۔

تفسیر ارادہ الہٰی ہے کہ مستضعفین کامیاب ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اِس دفعہ قرآنی سورتوں کے آغاز میں "حروف مقطعہ" سے ہمارا چودھویں بار سابقہ پڑ رہا ہے۔ ان میں طسم تیسری اور آخری مرتبہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کے حروف مقطعہ کی مختلف تفاسیر کی گئی ہیں۔ اس موضوع پر ہم نے سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں تفصیلی بحث کی ہے۔ جہاں تک "طسم" کا تعلق ہے مختلف روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حروف صفات باری تعالیٰ کی مختصر علامات ہیں۔ یا اِن سے مراد مُقدّس مقامات ہیں۔ تاہم یہ امر اس معروف تفسیر کے جس پر ہم نے بارہا زور دیا ہے مانع نہیں ہے کہ خدا اس حقیقت کو سب پر روشن کر دینا چاہتا ہے کہ یہ کتا ب مقدّس آسمانی جو انسان کی ارتقائی تاریخ میں عظیم انقلاب کا سرچشمہ ثابت ہوئی اور جس میں انسان کی طرز حیات کے لیے ایک سعادت بخش پروگرام موجود ہے، اس کی تشکیل بھی "الف با" جیسے سادہ حروف سے ہوئی ہے۔ ہر بچہ اس کے کلمات کا تلفظ کر سکتا ہے یہ کتنی اہم اور غیر معمولی بات ہے کہ ایسے سادہ وسائل کی ترتیب و تنظیم کا نتیجہ ایسی عظیم المرتبت کتاب ہو کہ جو سب لوگوں کی دسترس میں ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حروف مقطعہ کے بعد بلا فاصلہ عظمتِ قرآن کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: "یہ باعظمت آیات کتاب مُبین کی آیات ہیں "یہ ایسی کتاب ہے کہ جو خُود بھی روشن ہے اور انسانوں کے لیے راہِ سعادت کو بھی روشن کرنے والی ہے: (تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ) (تشریحی نوٹ: "تلک" اسم اشارہ دور کے لیے ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس سے ان آیات کی عظمت مراد ہے)۔ اگرچہ کلمہ "کتاب مبین" بعض آیات قرآن میں مثلا سورہ یونس کی اکسٹھویں آیت: وَلاَ أَصْغَرَ مِن ذَلِكَ وَلا أَكْبَرَ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ سورہ ھود کی اِس آیت میں: كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ "لوح محفوظ" کے معنٰی لیے گئے ہیں۔ لیکن یہ آیت جو اِس وقت زیر بحث ہے اِس میں کلمہ "آیات" استعمال ہوا اور اسی طرح اگلی آیت میں جملہ "نتلوا علیک" آیا ہے۔ ان الفاظ کے قرینہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں "کتاب مبین" سے مراد قرآن ہے۔ اِس مقام پر قرآن کی صفت "مبین" ذکر کی گئی ہے کلمہ "مبین" لُغوی لحاظ سے لازم اور متعدی دونوں معنٰی میں آیا ہے۔ یعنی وہ چیز جو خود بھی واضح ہے اور دوسری شے کو بھی آشکار کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنے روشن پیغام اور مطالب کے ذریعہ حق کو باطل سے آشکار کرتا ہے اور راہِ راست کو گمراہی سے مُنفصل کر دیتا ہے۔ قرآن اس مختصر سے مقدمہ کے بعد موسٰی اور فرعون کی سرگذشت بیان کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے: "ہم گروہ مومنین کے لیے تجھ سے موسٰی اور فرعون کی سچی داستان کا کچھ حصّہ بیان کرتے ہیں": (نَتْلُوا عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ)۔ آیت میں حرف جار "من" استعمال ہوا ہے۔ اصطلاح نحو میں اسے "تبعیضیہ" کہتے ہیں۔ اِس کے معنٰی قدرے یا تھوڑا سا کے ہیں۔ حرف "من" استعمال کرنے میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ جو کچھ اس مقام پر ذکر کیا جا رہا ہے وہ اِس طویل داستان کا صرف ایک گوشہ ہے جو مناسبتِ مقام کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ آیت میں کلمہ "بالحق" سے اِس امر کی تاکید ہوتی ہے کہ جو کچھ یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ہر قسم کی خرافات، اباطیل، اساطیر اور غیر واقعی مطالب سے پاک و منزہ ہے۔ "بالحق" کے معنٰی ہیں "توأم باحق" یعنی عین واقعیت۔ کلمہ "لقوم یؤمنون" یہ ایک توضیح ہے اور تاکید ہے اِس حقیقت پر کہ جو اُس وقت مکہ میں جو مومنین کفّار کے ظلم و ستم سہہ رہے تھے یا اُن جیسے لوگ جو کہیں اور ہوں اس داستان کو سُن کر ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ خواہ دشمن کی طاقت کتنی ہی زیادہ ہو اور ان کی جمعیت، شمار اور وسائل کتنے ہی وسیع کیوں نہ ہوں۔ اُن کے مقابلہ میں اہل ایمان خواہ کتنے ہی قلیل التعداد، بظاہر کم طاقت اور اُن کے نیچے پس رہے ہوں، اُنھیں ہرگز خوف زدہ و ہراساں نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اُس قادرِ مطلق کے لیے ہر چیز آسان ہے۔ مومنین پر یہ امر روشن ہے کہ: وہ خدا جس نے فرعون کو نابود کرنے کے لیے مُوسٰی کو اُسی کے گھر میں پرورش دلوائی۔ وہ خدا جس نے مظلوم غلاموں کو روئے زمین کی سلطنت عطا کی۔ اور مغرور ظالموں کو ذیل و خوار اور نابود کر دیا۔ وہ خدا جس نے ایک شیر خوار بچّے کی پرشور لہروں میں حفاظت کی اور فرعون اور اُس کے لاکھوں پرزور ساتھیوں کو نیل کی موجوں میں دفن کر دیا۔۔۔ تمہیں بھی ان مصائب سے نجات دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ یقینا ان آیات کے اصلی مخاطب مومنین ہی ہیں۔ اُنھیں کے لیے یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ اُن مومنین کے لیے جو ان آیات کے منشا کو اپنے قلب میں جگہ دیتے ہیں اور ہجوم مصائب میں بھی اپنی منزل مقصود کی طرف راہ رو رہتے ہیں۔ درحقیقت، یہ ایک مجمل بیان تھا آئندہ آیات میں اس کی تفصیل آتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: فرعون نے خدا کی زمین پر تکبر، آمریّت اور خود سری اختیار (ان فرعون علا فی الارض)۔ حالانکہ وہ ایک ناچیز انسان تھا مگر، اُس نے اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اپنی ہستی کو نہ پہچانا اور اپنی حد سے یہاں بڑھ گیا کہ خدائی کا دعو یٰ کر بیٹھا۔ اس آیت میں الارض سے مراد ملک مصر اور اس کے اطراف کا علاقہ ہے۔ اور چونکہ اس زمانہ میں زمین کا وہی حصّہ آباد ترین تھا اس لیے قرآن میں یہ کلمہ بصورتِ عام استعمال کر کے خاص معنٰی مراد لیے گئے ہیں۔ اس کلمہ کے محل استعمال سے یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ "ارض" سے پہلے "ال" اُس عہد کی تخصیص کے لیے آتا ہو اور زمین مصر کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، فرعون نے اپنی متکبرانہ حکومت کے استقلال کے لیے چند گناہان عظیم کا ارتکا ب کیا۔ اوّل تواس نے یہ چال چلی کہ ساکنانِ مصر کے درمیان نفاق پیدا کر دیا (وجعل اھلھا شیعا)۔ یہ وہی سیاست تھی جس کے ذریعہ جابر اور ملوکیت پرستانہ حکومتیں اپنی بنیاد کو مستحکم کرتی رہی ہیں کیونکہ کسی اکثریت پر کسی اقلیت کی حکومت کا پائیدار رہنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وہ "لڑاؤ اور حکومت کرو" کے پروگرام پر عمل نہ کرے۔ اِس قسم کی جابر حکومت ہمیشہ "توحیدِ کلمہ" اور "کلمہ توحید" سے خائف رہتی ہیں۔ ایسی حکومتیں عوام میں اتفاق و اتحاد کے جذبات سے ہمیشہ ڈرتی رہتی ہے۔ اِسی لیے وہ اپنا تحفظ اسی میں سمجھتی ہیں کہ حکومت طبقاتی بنیادوں پر رہے۔ یہی پالیسی ہے جس پر تاریخ کے ہرعہد اور ہر زمانے کے فراعنہ کاربند رہے ہیں۔ البتہ فرعون نے خصوصیت سے باشندگان مصر کو دو طبقات میں تقسیم کر دیا تھا۔ اوّل قبطی جو ملک کے اصل باشندے تھے اور ملک کے تمام رفاہی وسائل، دولت و محلّات اور کلیدی اسامیاں ان کے اختیار میں تھیں۔ دوسرے سبطی یعنی مہاجر بنی اسرائیل جو اُن قبطیوں کے ہاتھ میں غلاموں اور کنیزوں کی طرح پھنسے ہوئے تھے۔ اِن بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ ایہ انتہائی فقر و ناداری میں گرفتار تھے۔ اُن سے نہایت سخت مشقت لی جاتی تھی مگر اُنھیں اُس کا اجر کچھ نہ ملتا تھا۔ کلمہ "اھلھا" میں قبطی اور بنی اسرائیل دونوں شامل ہیں۔ اس اعتبار سے کہ بنی اسرائیل ملک مصر میں ایک طویل مدّت سے رہتے تھے۔ تااینکہ وہ وہیں کے باشندے ہو گئے تھے۔ تاریخ کہتی ہے کہ ملوکِ فراعنہ میں سے بعض نے اپنے لیے ایک "ہرم" بنانے کے لیے ایک لاکھ غلاموں کو بیس سال تک کام پر لگائے رکھا (مثلاً خوفو بادشاہ کا مشہور ھرم جو موجودہ پائیہ تخت قاہرہ کے نزدیک ہے) اور اُن میں سے ہزاروں آدمیوں کو دورانِ کار میں سخت کام لے کر یا کوڑے مار مار کر قتل کر دیا۔ بنی اسرائیل کے مصائب کا اس مختصر واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے۔ اِس اجمال کی تفصیل کے لیے حدیث کی کتابوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ فرعون کا دوسرا جرم یہ تھا کہ اُس نے اُس ملک کے ایک طبقہ پر ظلم و قہر کے پہاڑ توڑ کر انھیں بالکل بےدست و پا کر دیا تھا اِس حالت کو قرآن شریف میں یوں بیان کیا گیا ہے: (یستضعف طائفة منھم یذبح ابناء ھم ویستحی نساء ھم)۔ فرعون نے اس گروہ کو اتنا ضعیف اور ناتواں کر دیا تھا کہ ان کی اولادِ نرینہ کو قتل کر دیا تھا۔ اور اُن کی لڑکیوں کو اپنی خدمت کے لئے زندہ رکھتا تھا۔ اُس نے یہ حکم دیا تھا کہ اچھی طرح خیال رکھو۔ بنی اسرائیل میں جو بچّہ بھی پیدا ہو۔ اگر وہ لڑکا ہو تو اُسے اسی وقت قتل کر دو۔ اور اگر لڑکی ہو تو اسے کنیزی اور خدمت گاری کے لیے زندہ رکھو۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے اِس فعل سے کونسا مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا؟ مشہور ہے کہ اس نے عالم خواب میں یہ دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے آگ کا ایک شعلہ بلند ہوا ہے جس نے مصر کے تمام گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ قبطیوں کے تو تمام گھر جل گئے ہیں مگر بنی اسرائیل کے گھر سلامت رہے ہیں۔ اُس نے علماء اور خواب کی تعبیر بتانے والوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ اُنھوں نے کہا: بیت المقدس کی سرزمین سے ایک آدمی خروج کرے گا۔ اس کے ہاتھ سے فراعنہ کی حکومت اور ملک مصر تباہ ہو جائے گا۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان۔ جلد ۷ صفحہ ۲۳۹۔ فخررازی)۔ نیز یہ بھی روایت ہے کہ بعض کاہنوں نے اُس سے کہا تھا کہ: بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تیری حکومت کو برباد کر دے گا (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان۔ جلد ۷ صفحہ ۲۳۹۔ فخر رازی)۔ بالآٓخر اسی سبب نے فرعون کو آمادہ کیا کہ اُس نے بنی اسرائیل کے نومولود فرزندان نرینہ کے قتل کا مصمّم ارادہ کر لیا۔ بعض مفسرین نے فرعون کے آمادہ بہ تعدی ہونے کے متعلق ایک اور بھی احتمال ظاہر کیا ہے کہ: "گزشتہ پیغمبروں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی پیدائش اور ان کی خصوصیات کے متعلق پیش گوئی کی تھی اور خاندان فراعنہ ان سے واقف ہو کر خوف زدہ رہتا تھا۔ اس وجہ سے وہ لوگ بنی اسرائیل کے دشمن ہو گئے۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر فخر رازی۔ ذیل آیت مورد بحث)۔ لیکن "یذبح ابنآء ھم" کا جملہ جو "یستضعف طآئفة منھم" کے بعد آیا ہے، اِس سے ایک اور مفہوم بھی مترشح ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت فرعون نے بنی اسرائیل کو قوی حیثیت سے کمزور اور ناتواں کرنے کے لیے یہ پالیسی اختیار کی تھی۔ تاکہ ان کی لڑکیوں کو کہ جن میں بغاوت اور جنگ کی طاقت نہیں ہوتی، اپنی خدمت کے لیے زندہ رکھے۔ قول بالا کی تائید "سورہ مومن" کی آیت نمبر پچیس سے ہوتی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد فرعون میں اولاد ذکور کو قتل کرنے اور اولادِ اناث کو زندہ رہنے دینے کا طرز عمل حضرت موسٰی (علیه السلام) کے دعویٰ نبوّت کے بعد بھی جاری رہا۔ آیت یوں ہے فلما جآء ھم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابنآء الذین امنوا معہ واستحیوا نسآءَھم وما کید الکفرین الا فی ضلل)۔ پس جب موسٰی ہمارے پاس سے حق لے کر ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے کہا کہ اُن لوگوں کے لڑکوں کو جو موسٰی پر ایمان لائے ہیں قتل کر دو اور اُن کی عورتوں کو زندہ رہنے دو لیکن کافروں کی تدبیریں ہمشہ گمراہی میں رہیں گی۔ آیہ زیر بحث کا جملہ "یستحی نسآءھم" (اُن کی عورتوں کو زندہ رہنے دو) یہ واضح کرتا ہے کہ فرعون کا عورتوں کی بقائے حیات پر اصرار یا تو اُن سے خدمت لینے کے لیے تھا یا جنسی ہوس رانی کے لیے۔ آیہ کے آخری کلمات میں بطور مجموعی اور بیان علّت کے طور پر فرمایا گیا ہے: بطور مسلّم وہ مفسدوں میں سے تھا (انہ کان من المفسدین)۔ فرعون کے اعمال کا خلاصہ صرف ان الفاظ میں کیا جا سکتا ہے کہ "اُس کا کام رُوئے زمین پر فساد پھیلانا تھا۔" اپنے آپ کو مخلوق سے برتر سمجھنا ایک فساد تھا۔ دوسرا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر میں طبقاتی زندگی پیدا کر دی تھی۔ بنی اسرائیل کو رنج و عذاب میں مبتلا کرنا، اُن لڑکوں کو قتل کرنا اور ان کی لڑکیوں کو کنیزیں بنانا تیسرا فساد تھا۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے مفاسد اور برائیاں تھیں۔ یہ امر قدرتی ہے کہ خود پرست اور جاہ پسند لوگ صرف اپنی ذاتی منفعت کے تحفظ کا خیال رکھتے ہیں۔ اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ شخصی منافع کا خودغرضانہ تحفظ، انسانی معاشرہ کے مفاد کے تحفظ (جس کے لیے عدالت، قربانی اور ایثار کی ضرورت ہے) سے ہم آہنگ ہو۔ خود غرضی کا نتیجہ ہر شعبئہ زندگی میں بصورت فساد نمودار ہوتا ہے۔ آیت کلمہ "یذبح" استعمال ہوا ہے جو"ذبح" سے مشتق ہے اس سے ثابت ہے کہ آ ل فرعون کا سلوک بنی اسرائیل کے ساتھ ایسا تھا جیسا کہ بھیڑوں اور چوپایوں کے ساتھ ہو۔ یعنی وہ ظالم ان بےگناہوں کو حیوانات کی طرح ذبح کرتے تھے (بحوالہ: یہ امر قابل توجہ ہے کہ "ذبح" کا مادہ فعل ثلاثی مجرد میں متعدی ہے۔ لیکن اس مقام پر وہ باب تفعیل میں استعمال ہوا ہے کہ کثرت کے مفہوم کو ظاہر کرے۔ نیز یہاں فعل مضارع کا استعمال اس اجر کے استمرار کی دلیل ہے)۔ وابستگان فرعون کی سفاکیوں کے متعلق بہت سے قصّے بیان کیے گئے ہیں۔ بعض یہ ہیں کہ: فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کی نگرانی کی جائے اور صرف قبطی اور فرعون کی نامزد دائیاں ہی وضع حمل میں مدد کریں۔ تاکہ اگر طفل نوزاد لڑکا ہو تو فوراً مصری حکومت کے دفتر میں اطلاع دیں۔ تاکہ آئیں اور اُسے ذبح کر دیں۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ قطعی واضح نہیں ہے کہ کتنے نومولود بچےّ اس پروگرام کے مطابق قربان کیے گئے۔ بعض لوگوں نے ان کی تعداد نوّے ہزار اور بعض نے لاکھوں لکھی ہے۔ فرعون اور اُس کے ہوا خواہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ اِن ہولناک مظالم کے ذریعے قوم بنی اسرائیل کے قیام اور مشیت الہٰی کے پورا ہونے کی راہ مسدود کر دیں گے۔ اس آیت کے بعد بلا فاصلہ یہ بیان کیا گیا ہے: ہمارے ارادہ اور ہماری مشیّت نے یہ طے کیا ہے کہ زمین پر جو ضعیف الحال اور مظلوم ہیں ہم اُن پر احسان کریں اور انھیں اپنی عنایت اور نوازشات سے سرفراز کریں: (و نرید ان نمنّ علی الذین استضعفوا فی الارض)۔ اور ہم ان کو نوع انسانی کے پیشوا اور روئے زمین کا وارث بنا دیں: (و نجعلھم ائمة و نجعلھم الورثین)۔ ہم اُن کو قوی، صاحب قدرت اور توانا کر دیں گے اور اُن کی حکومت کو ثبات بخش گے: (و نمکن لھم فی الارض)۔ اور ہم فرعون، ھامان اور اُس کی فوج کو اسی انجام سے دوچار کریں گے جس کا انھیں ان کمزور لوگوں کی طرف سے خطرہ لگا رہتا ہے: (و نری فرعون و ھامان وجنودھما منھم ما کانوا یحذرون)۔ یہ دونوں آیات کس قدر اپنے مطلب میں واضح اور امید بخش ہیں کیونکہ اِن آیات میں جو بھی امید افزا وعدہ ہے وہ ایک قانون کلی کی شکل میں، فعل مضارع کے ساتھ بیان ہوا ہے جس میں استمرار کا مفہوم شامل ہے۔ تاکہ اُن مومنین کو(جو قرآن کے مخاطب ہیں) یہ تصّور نہ ہو کہ یہ وعدہ صرف بنی اسرائیل کے ظلم کشیدہ اور ستم دیدہ لوگوں کے لیے ہے اور یہ وعید محض فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے ہے۔ کیونکہ قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ "ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں"۔ یعنی فرعون کا ارادہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو تباہ و برباد کر دے اور ان کی قدرت و شوکت کو نابود کر کے رکھ دے لیکن "ہم یہ چاہتے تھے کہ وہ قوی اور کامیاب ہو"۔ وہ چاہتا تھا کہ حکومت ہمیشہ مستکبرین کے قبضے میں رہے۔ لیکن ہم نے ارادہ کر لیا تھا کہ حکومت کمزوروں اور مستضعفوں کے سپرد کر دیں اور آخرکار ایسا ہی ہوا۔ اِس مقام پر کلمہ "منت" جیسا کہ ہم نے اس سے قبل بھی کہا ہے "نعمات اور عطایا" کے بخشنے کے معنٰی میں ہے منّت کے یہ معنٰی اس مفہوم سے مختلف ہیں جو اس کا روز مرہ کی بول چال میں لیا جاتا ہے یعنی کسی کو کچھ دے کے اس پر احسان کرنا۔ اس مفہوم میں طرف ثانی کی تحقیر ہوتی ہے جو یقیناً مذموم ہے۔ ان دو آیتوں میں خدا نے کمزوروں اور پسے ہوئے لوگوں کے بارے میں اپنے ارادے کو بےنقاب کیا ہے اور اس ضمن میں پانچ باتوں کا ذکر کیا ہے جو باہم مربوط اور متعلق بیک دیگر ہیں: اول یہ کہ: ہم چاہیتے ہیں کہ وہ ہماری نعمتوں سے فیض یاب ہوں (ونرید ان نمن ۔۔۔)۔ دوسرے یہ کہ: ہم چاہیتے ہیں کہ انھیں پیشوا بنائیں: (ونجعلھم ائمة)۔ تیسرے یہ کہ: ہم چاہتے ہیں کہ انھیں جابروں اور ستمگاروں کی حکومت کا وارث بنا دیں: (ونجعلھم الوارثین)۔ چوتھے یہ کہ: ہم انھیں ایک مستقل اور پائیدار حکومت دیں گے: (ونمکن لھم فی الارض)۔ آخری اور پانچویں بات یہ ہے کہ: وہ پیش آمد جس کا ان کے دشمنوں کو خوف تھا اور اپنی تمام قوتوں اور وسائل کو اس کے ٹالنے پر صرف کر رہے تھے، ہم اُس حادثے سے انھیں ضرور دوچار کریں گے۔ (ونری فرعون و ھامان و جنودھما منھم ماکانوا یحذرون)۔ ستم دیدہ اور مظلوم لوگوں پر خدا کی عنایات و الطاف اسی طرح نازل ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کون لوگ ہیں؟ اور اُن کی صفات کیا ہیں؟ آئندہ نکات کی نحث میں ان شاء اللہ ہم ان پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ ھامان فرعون کا مشہور و معروف وزیر تھا اور فرعون کی حکومت میں اس کا اتنا اثر تھا کہ آیت مذکورہ بالا میں ملک مصر کی فوج کو "جنود فرعون و ھامان" کہا گیا ہے۔ (ھامان کے متعلق آیت ۳۸ کی تفسیر میں تشریح سے بیان کیا جائے گا)۔

چند اہم نکات: ۱۔ مستضعفین کی عالمگیر حکومت:

سُطور بالا میں ہم نے کہا ہے کہ آیات بالا میں خدا کا پروگرام کوئی ہنگامی یاصرف بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ ان آیات میں ایک کلّی قانون بیان کیا گیا ہے جو تمام قرون و اعصار اور جملہ اقوام اور جماعتوں کے لیے ہے۔ چانچہ الفاظ یہ ہیں: ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ ستم رسیدہ اور مستضعف لوگوں کو اپنی نعمات عطا کریں اور ہم انھیں اقوام کا پیشوا اور زمین کی حکومت کا وارث قرار دیں۔ درحقیقت، یہ ایک بشارت ہے کہ ”حق“ باطل پر ایمان، کفر پر غالب ہو کے رہے گا“۔ نیز یہ کہ:۔ یہ اُن تمام آزاد لوگوں کے لیے بشارت ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ ظلم و جور کی بساط الٹ کر عدل و انصاف کی حکومت قائم ہو۔ اِس مشیت الہٰی کے بروئے کار آنے کا ایک نمونہ خاندان فرعون کی حکومت کا زوال اور بنی اسرائیل کی حکومت کا قیام تھا۔ اور اس بشارت کا کامل تر ثبوت ظہورِ اسلام کے بعد پیغمبرِ اسلامؐ اور اُن کے اصحاب کی حکومت کا قیام تھا۔ یہ حکومت ان پا برہنہ، تہی دست، مظلوم اور پاک دل مومنین کی تھی جو ہمیشہ اپنے زمانے کے فرعون کی طرف سے تحقیر اور تمسخر کا نشانہ بنتے رہتے تھے اور اُن کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہتے تھے۔ لیکن ایک دن بھی آیا کہ خدا نے اِسی داماندہ اور اُفتادہ گروہ کے ہاتھ سے قصیر و کسریٰ کے محلات کے دروازے شکستہ تھے۔ اُنہیں زور اور قدرت کے تخت سے محروم کر دیا اور ان مستکبرین کی ناک زمین پر رگڑ دیا۔ اِس بشارت کا وسیع ترین نمونہ وہ مبنی برحق و عدالت حکومت ہو گی جو امام مہدی (علیه السلام) (ہماری جانیں ان پر فدا ہوں) کے ہاتھوں تمام روئے زمین پر برپا ہو گی۔ یہ آیات من جملہ ان آیات کے ہیں جن میں واضح طور پر ایک ایسی حکومت کے ظہور کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اسلامی روایات میں ہماری نظر سے وہ ارشادات گزرتے ہیں جو اس آیت کی تفسیر میں اس ”ظہور عظیم“ کے متعلق ہیں۔ نہج البلاغہ میں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیه السلام) سے یوں منقول ہے: لتعطفن الدینا علینا بعد شماسھا عظف الضروس علی ولدھا وتلی عقیب ذلک و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض۔۔۔ دنیا اپنی سرکشی کے بعد ”اُس اونٹنی کی طرح جو دودھ دوھنے والے سے اپنے دودھ کو اپنے بچّہ کے لیے بچا لیتی ہے“ ہماری طرف رخ کر دے گی۔ اس کے بعد آپ نے آیت ”ونرید ان نمنّ“ کی تلاوت فرمائی (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار ۲۰۹)۔ ایک اور حدیث میں جو امام علی علیہ اسلام ہی سے مروی ہے ہم یوں پڑھتے ہیں کہ آیت فوق کی تفسیر میں فرمایا: ھم ال محمد یبعث اللہ مھدیھم بعدھم فیعزّھم و یذل عدوھم۔ وہ آل محمد ہیں کہ اُن زحمات و مصائب کے بعد جو اُن پر وارد ہو گے اُن میں سے خدا مہدی کو پیدا کرے گا۔ جو اُن کو عزّت دے گا اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خواار کر دے گا (بحوالہ: ”غیبت شیخ طوسی“ مطابق نقل تفسیر نوراثقلین، ج ۴، ص ۱۱۰)۔ ایک اور حدیث میں جو جناب امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے، اس میں ہے: والذی بعث محمدًا بالحق بشیرًا و نذیرًا، انّ الابرار منّا اھل البیت و شیعتھم بمنزلة موسٰی و شیعتہ، و ان عدونا و اشیاعھم بمنزلة فرعون و اشیاعہ قسم ہے اس خدا کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر مبعوث فرمایا کہ ہم اہلبیت میں ابرار اور ان کے پیر و مثل موسٰی کے ہیں اور ہمارے دشمن اور ان کے پیرو فرعون اور اس کے مقلّدین کے سے ہیں (بحوالہ: ”مجمع البیان“ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ امام (علیه السلام) کا مقصد یہ ہے کہ آخرکار ہم کامیاب اور فتح مند ہوں گے اور ہمارے دشمن نابود ہو جائیں گے اور ہم ہی حق و عدل پر مبنی حکومت قائم کریں گے۔ البتہ حضرت مہدی علیہ السلام کی عالمگیر حکومت ان حکومتوں کے خلاف اور مانع نہ ہو گی جو مظلوم لوگ ظالموں کے خلاف محدود علاقوں میں قائم کر لیں گے اور یہ مستضعف لوگ جس وقت مبنی برحق و عدل حکومت کی شرائط کو پورا کریں گے تو خدا کا حتمی وعدہ اور اس کی مشیت اُن کے حق میں پوری ہو جائے گی اور انھیں یہ کامیابی حاصل ہو جائے گی۔

۲۔ ”مستضعفین“ اور ”مستکبرین“ کون ہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ کلمہ ”مستضعف“ مادہ ”ضعف“ سے مشتق ہے۔ لیکن چونکہ اس مادہ کو باب استفعال میں لے جایا گیا ہے (لہذا خاصیت باب کی وجہ سے) اس کے معنی ہیں وہ شخص جسے کمزور کر دیا گیا ہو اور اسے پیڑیاں پہنا کر قید کر دیا گیا ہو۔ ایک اور تعبیر کے مطابق ”مستضعف“ وہ نہیں ہے کہ جسمانی لحاظ سے کمزور و ناتواں ہو اور کسی قسم کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اصطلاحا ”مستضعف“ وہ ہے کہ اس میں بالقوة اور بالفعل کام کرنے کی استعداد تو موجود ہو، مگر وہ ظالموں کے ظلم اور جبر کے نیچے پسا ہوا ہے۔ لیکن بایں حال کہ اُس کے دست و پاقید و بند میں گرفتار ہیں وہ اس حالت پر خاموش اور مطیع نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہو جائے۔ جابروں اور ستمگروں کے ہاتھ کاٹ دے اور دنیا میں ایسا قانون نافذ کرے جو حق اور عدل پر مبنی ہو۔ اللہ نے ایسے گروہ سے ان کی مدد کرنے اور انھیں زمین کی حکومت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ خدا کا یہ وعدہ اُن بےدست و پا بزدل اور ڈرپوک لوگوں کے لیے نہیں ہے جو ظلم کے خلاف فریاد کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ بھلا، اُن سے اس بات کی کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ میدان نبرد میں آئیں اور قربانی دیں۔ بنی اسرائیل بھی فرعونوں کی حکومت کے وارث اس وقت ہو سکتے ہیں جب وہ اپنے رہبر حضرت موسٰی (علیه السلام) کے حلقہ اطاعت میں آ گئے۔ اپنے وسائل کو جمع کیا اور سب کے سب من حیث القوم ایک مرکز پر اکٹھے ہو گئے۔ وہ ایمانی اثرات جو اُنھیں حضرت ابراہیم (علیه السلام) سے ورثے میں ملے تھے، حضرت موسٰی (علیه السلام) کی تبلیغ و تعلیم نے انھیں تازہ اور مکمل کیا، خرافات کو اپنے ذہن سے نکال دیا اور جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔ البتہ ”مستضعف“ بھی کئی قسم کے ہیں مثلا مستضعف فکر و علمی و ادبی، مستضعف اقتصادی، مستضعف اخلاقی اور مستضعف سیاسی، قرآن، مجید میں یہ کلمہ عام طور پر مستضعفین سیاسی و اخلاقی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جب آمر طبع ظالم مسلّط ہیں تو وہ سب سے پہلے اپنی تسلط پسندانہ سیاست کو مستحکم کرنے کی کوشش، کرتے ہیں۔ وہ اپنے محکوموں کے علوم و تہذیب کو تباہ اور اُن کی فکر کو ضعیف کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ، اُن کی اقتصادی حالت کو کمزور کر دیتے ہیں تاکہ ان میں یہ قوّت نہ رہے کہ و ہ کبھی یہ سوچ سکیں کہ بغاوت کر کے مستکبر و ظالم، آمر کے ہاتھ سے عنان حکومت چھین لی جائے۔ قرآن مجید میں پانچ مقامات پر ”مستضعفین“ کا ذکر آیا ہے، اِن سب مقامات پر اس کلمہ سے مراد مومنین ہیں جو ظالموں کے جبر کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر مومنین کو یہ وعوت دی گئی ہے کہ وہ خدا کی راہ میں اور مستضعفین کی نجات کے لیے جہاد کریں چنانچہ فرمایا گیا ہے: تم خدا کی راہ میں اور ان لوگوں کی نجات کے لیے جو قہر و ستم کا شکار ہیں، جہاد کیوں نہیں کرتے؟ جب کہ یہ ستم دیدہ لوگ کہتے ہیں: اے خدا! تو ہمیں اس شہر (مکّہ) سے جس کے باشندے ستم گر ہیں باہر لے جا اور ایک مددگار مقرر کر (نساء، آیت ۷۵)۔ قرآن میں صرف ایک جگہ ان لوگوں کا ذکر آیا ہے جو ظالم ہیں اور کافروں سے میل جول رکھتے ہیں اور ریاکاری سے اپنے کو ”مستضعفین“ کہتے ہیں۔ قرآن نے ان کے اس اِدّعا کی نفی کی ہے اور کہا ہے:۔ ”تم یہ کر سکتے تھے کہ کفر و فساد کے علاقے سے ہجرت کر کے اُن ظالموں کے پنجے سے رہائی حاصل کر لیتے۔ مگر، چونکہ تم نے ایسا نہیں کیا اس لیے تمہاری جگہ دوزح میں ہے-“ (نساء: ٩۷) تاہم، قرآن مجید میں ہر مقام پر مستضعفین کی حمایت کی گئی ہے اور ان کا ذکر بھلائی کے ساتھ کیا گیا ہے اور انھیں ایسے مومنین شمار کیا گیا ہے جو زیر تسلط پس رہے ہیں۔ یہ مومن مجاہد اور دین خدا کے لیے سعی و کوشش کرنے والے ہیں اور لطف خداوندی ان کے شاملِ حال ہے۔

۳۔ مستکبرین کی عام روش

صرف یہ فرعون کی خصوصیت نہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو اسیر رکھنے کے لیے ان کے مردوں کو قتل کرتا تھا اور اُن کی عورتوں کو اپنی خدمت کے لیے زندہ رکھتا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام جابروں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے محکوموں کی عملی قوتوں کی ختم کرتے رہے ہیں۔ اُن میں سے جو جابر حکمران مردوں کو قتل نہ کر سکتے تھے وہ ان کے جوہر مردانگی کو قتل کر دیتے تھے۔ وہ لوگ برائی کے وسائل کے ذریعہ لہوولعب کو پھیلا کر، منشیات کا عادی بنا کر فحشیات کو عام کر کے، جنسی لذائذ کو بےلگام کر کے، شراب اور جوئے بازی کو جائز کر کے اور طرح طرح کے غیر صحت مندانہ مشاغل کی ترغیب دلا کے اپنی محکوم قوم کی غیرت و حمیت، دلاودی، جنگی رُوح اور قوّت ایمانی کا گلا گھونٹ دیتے تھے۔ تاکہ باکل مطمئن ہو کر اپنی استحصالی حکومت کو دوام دے سکیں۔ لیکن۔۔۔۔ پیمبران الہٰی، بالخصوص پیمبر اسلامؐ نے یہ کوشش کی کہ جوانوں کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کریں۔ یہاں تک کہ عورتوں کو بھی بہاردی کا سبق سکھائیں اور انھیں مستکبرین کے مقابلے میں مردوں کی صف میں لاکھٹرا کریں۔ اِن دونوں چیزوں کے شواہد گزشتہ تاریخ میں زمانئہ حال میں تمام اسلامی ملکوں میں اچھی طرح نمایاں ہیں۔ ہم اس مقام پر ان کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

7
28:7
وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
ہم نے مادر موسیٰ کی ماں کی طرف وحی فرمائی کہ اسے دودھ پلا۔ جب تجھے اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور ڈرنا نہیں نہ ہی غمگین ہونا کیونکہ ہم اسے تیرے پاس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے قرار دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
28:8
فَٱلۡتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرۡعَوۡنَ لِيَكُونَ لَهُمۡ عَدُوّٗا وَحَزَنًاۗ إِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُواْ خَٰطِـِٔينَ
جب ماں نے بچے کو دریا میں ڈال دیا فرعون کے خاندان والوں نے اسے پانی میں سے اٹھا لیا تاکہ انجام کار وہ ان کا دشمن اور باعث اندوہ ہو جائے۔ یقیناً فرعون،ہامان اور ان کا لشکر خطا کار تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
28:9
وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٖ لِّي وَلَكَۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ (بچہ) میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ ممکن ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ انجام سے بے خبر تھے۔

تفسیر فرعون کی آغوش میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اِس جگہ سے قرآن مستکبرین پر مستضعفین کی فتح و غلبہ کو ذہن نشین کرانے کے لیے موسٰی اور فرعون کے قصّے کو بالشرح بیان کرتا ہے۔ بالخصوص واقعہ کا وہ حصّہ جس میں حضرت موسٰی (علیه السلام) ضعیف ترین حالات میں تھے اور فرعون قوی ترین اسباب و شرائط کا حامل تھا، وضاحت سے بیان کیا گیا ہے تاکہ جابروں اور ظالموں کے ارادے پر مشیّت الہٰی کے غلبے آشکار کیا جا سکے۔ اِس سلسلے میں قرآن شریف میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ ”ہم نے موسٰی کی والدہ کو وحی کی کہ موسٰی کو دودھ پلا اور جس وقت تمہیں اُس کے بارے میں کچھ خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دو: "(و اوحینا الی ام موسٰی ان ارضیعہ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم)۔ اور تم اپنے دل میں کسی قسم کا خوف اور ملال نہ آنے دینا: (و لاتخافی و لاتحزنی)۔ کیونکہ ہم اُسے یقیناً تمہارے پاس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے قرار دیں گے: (انا رآدّوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین)۔ اِس مختصر سی آیت میں دو "امر" ہیں دو "نہی" ہیں اور دو بشارتیں ہیں۔ یہ آیت بحیثیت مجموعی خلاصہ ہے ایک پُراز واقعات داستان کا، جس کا ماحصل یہ ہے: حکومت فرعون نے بنی اسرائیل کے ہاں جو نومولود بیٹے ہوتے تھے انہیں قتل کرنے کا ایک وسیع پروگرام بنایا تھا یہاں تک کہ فرعون کی مقرر کردہ دائیاں بنی اسرائیل کی باردار عورتوں کی نگرانی کرتی رہتی تھیں۔ اِن دائیوں میں سے ایک والدہ موسٰی کی دوست بن گئی تھی۔ شکمِ مادر میں موسٰی کا حمل مخفی رہا اور اُس کے آثار ظاہر نہ ہوئے جس وقت مادرِ موسٰی کو یہ احساس ہوا کہ بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے تو اس نے کسی کو اپنی دوست دائی کو بلانے بھیجا۔ جب وہ آ گئی تو اُس سے کہا۔ "میرے پیٹ میں ایک فرزند ہے آج مجھے تمہاری دوستی اور محبت کی ضرورت ہے۔" جس وقت حضرت موسٰی پیدا ہوئے توآپ کی آنکھوں سے ایک خاص نور چمک رہا تھا چنانچہ اُسے دیکھ کر وہ دایہ کانپنے لگی اور اُس کے دل کی گہرائی میں محبت کی ایک بجلی سما گئی، جس نے اُس کے دل میں تمام فضا کو روشن کر دیا۔ یہ دیکھ کر- وہ دایہ مادر موسٰی (علیه السلام) سے مخاطب ہو کر بولی کہ میرا خیال تھا کہ حکومت کے دفتر میں میں جا کے اس بچے کے پیدا ہونے کی خبر دوں تاکہ جلاد آئیں اور اسے قتل کر دیں اور اپنا انعام پا لوں۔ مگر میں کیا کروں کہ میں اپنے دل میں اس نوزائیدہ بچے کی شدید محبت محسوس کرتی ہوں۔ یہاں تک کہ میں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بال بھی بیکا ہو۔ اِس کی اچھی طرح حفاظت کرو۔ میرا خیال ہے کہ آخرکار یہی ہمارا دشمن ہو گا۔ وہ دایہ مادر موسٰی کے گھر سے باہر نکلی۔ تو حکومت کے بعض جاسوس نے اُسے دیکھ لیا اُنھوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ گھر میں داخل ہو جائیں گے۔ موسٰی کی بہن نے اپنی ماں کو اِس خطرے سے آگاہ کر دیا۔ ماں یہ سُن کے گھبرا گئی۔ اُس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اب کیا کرے۔ اِس شدید پریشانی کے عالم میں جب کہ وہ بالکل حواس باختہ ہو رہی تھی، اُس نے بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور تنور میں ڈال دیا۔ اِس دوران میں حکومت کے آدمی آ گئے۔ مگر وہاں انھوں نے روشن تنور کے سوا کچھ نہ دیکھا۔ اُنھوں نے مادرِ موسٰی سے تفتیش شروع کر دی۔ پوچھا۔ دایہ یہاں کیا کر رہی تھی۔؟ موسٰی (علیه السلام) کی ماں نے کہا کہ وہ میری سہیلی ہے مجھے ملنے آئی تھی۔ حکومت کے کارندے مایوس ہو کے واپس ہو گئے۔ اب موسٰی کی ماں کو ہوش آیا۔ اُس نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ بچہ کہاں ہے؟ اُس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ناگہاں تنور کے اندر سے بچہ کے رونے کی آواز آئی۔ اب ماں تنور کی طرف دوڑی۔ کیا دیکھتی ہے کہ خدا نے اُس کے لیے آتش تنور کو "ٹھنڈا اور سلامتی کی جگہ" بنا دیا ہے، وہی خدا جس نے ابراہیم (علیه السلام) کے لیے آتش نمرود کو "بردو سلام" بنا دیا تھا۔ اُس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور بچے کو صحیح و سالم باہر نکال لیا۔ لیکن پھر بھی ماں محفوظ نہ تھی۔ کیونکہ حکومت کے کارندے دائیں بائیں پھرتے رہتے اور جستجو میں لگے رہتے تھے۔ کسی بڑے خطرے کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ ایک نوازئیدہ بچے کے رونے کی آواز سن لیتے۔ اِس حالت میں خدا کے ایک الہام نے ماں کے قلب کو روشن کر دیا۔ وہ الہام تھا کہ ماں کو بظاہر ایک خطرناک کام پر آمادہ کر رہا تھا۔ مگر پھر بھی ماں اس ارادے سے اپنے دل میں سکون محسوس کرتی تھی۔ اُس نے کہا "خدا کی طرف سے مجھ پر یہ فرض عائد ہوا ہے۔ میں اسے ضرور انجام دوں گی"۔ اُس نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں اس الہام کو ضرور عملی جامہ پہناؤں گی اوراپنے نوزائیدہ بچے کو دریائے نیل میں ڈال دوں گی۔ اُس نے ایک مصری بڑھئی کو تلاش کیا (وہ بڑھئی قبطی اور فرعون کی قوم میں سے تھا) اُس نے اُس بڑھئی سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک چھوٹا سا صندوق بنا دے۔ بڑھئی نے پوچھا: جس قسم کا صندوقچہ تم بنوانا چاہتی ہو اسے کس کام میں لاؤ گی؟ موسٰی کی ماں جو دورغ گوئی کی عادی نہ تھی اس نازک مقام پر بھی سچ بولنے سے باز نہ رہی۔ اُس نے کہا:۔ میں بنی اسرائیل کی ایک عورت ہوں۔ میرا ایک نوزائیدہ بچہ لڑکا ہے۔ میں اُس بچے کو اُس صندوق میں چھپانا چاہتی ہوں۔ اُس قبطی بڑھئی نے اپنے دل میں یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ جلادوں کہ یہ خبر پہنچا دے گا۔ وہ تلاش کر کے ان کے پاس پہنچ گیا مگر جب وہ انہیں یہ خبر سنانے لگا تو اُس کے دل پر ایسی وحشت طاری ہوئی کہ اُس کی زبان بند ہو گئی۔ وہ صرف ہاتھوں سے اشارے کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ اُن علامتوں سے انھیں اپنا مطلب سمجھا دے۔ حکومت کے کارندوں نے اُس کی حرکات دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ شخص ہم سے مذاق کر رہا ہے۔ اِس لیے اُسے مارا اور باہر نکال دیا۔ جیسے ہی وہ اُس دفتر سے باہر نکلا اُس کے ہوش و حواس بجا ہو گئے۔ وہ پھر جلادوں کے پاس گیا اور اپنی حرکات سے پھر مار کھائی۔ آخر اُس نے یہ سمجھا کہ اِس واقعے میں ضرور کوئی الہٰی راز پوشیدہ ہے۔ چنانچہ اُس نے صندوق بنا کے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی والدہ کو دے دیا۔ غالباً صبح کا وقت تھا۔ ابھی اہل مصر محو خواب تھے۔ مشرق سے پوپھٹ رہی تھی۔ ماں اپنے نوزائیدہ بچے اور صندوق کو دریائے نیل کے کنارے لائی۔ بچے کو آخری مرتبہ دودھ پلایا۔ پھر اُسے، اُس مخصوص صندوق میں رکھا (جس میں یہ خصوصیت تھی کہ ایک چھوٹی کشتی کی طرح پانی پر تیر سکے) پھر اُس صندوق کو نیل کی موجوں کے سپرد کر دیا۔ نیل کی پُرشور موجوں نے اس صندوق کو جلد ہی ساحل سے دُور کر دیا۔ ماں کنارے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ معاً اُسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا دل سینے سے نکل کر موجوں کے اُوپر تیر رہا ہے۔ اُس وقت، اگر الطاف الہٰی اُس کے دل کو سکون و قرار نہ بخشتا تو یقیناً وہ زور زور سے رونے لگتی۔ اور۔ پھر سارا راز فاش ہو جاتا۔ کسی آدمی میں یہ قدرت نہیں ہے کہ اُن حساس لمحات میں ماں پر جو گزر رہی تھی۔ الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچ سکے مگر۔ ایک فارسی شاعرہ نے کسی حد تک اُس منظر کو اپنے فصیح اور پُراز جذبات اشعار میں مجسّم کیا ہے۔ ۱۔ مادر موسٰی چو موسٰی را بہ نیل در فگند از گفتئہ ربّ جلیل ۲۔ خود ز ساحل کرد باحسرت نگاہ گفت کای فرزند خرد بی گناہ! ۳۔ گر فراموشت کند لطفِ خدای چون رہی زین کشتی بی ناخدای ۴۔ وحی آمد کاین چہ فکر باطل است رہرو ما اینک اندر منزل است ۵۔ ماگرفتیم آنچہ را انداختی دست حق را دیدی و نشاختی ۶۔ سطح آب از گاہوارش خوشتر است دایہ اش سیلاب و موجش مادراست ۷۔ رودھا از خود نہ طغیان می کنند آنچہ می گوئیم ما آں می کنند ۸۔ ما بہ دریا حکم طوفان می دھیم ما بہ سیل و موج فرماں می دھیم ۹۔ نقشِ ہستی نقشی از ایوانِ مااست خاک و باد و آب سرگردانِ ماست ۱۰۔ بہ کہ برگردمی بہ مابسپاریش کی تو از ما دوسترمی داریش؟ (تشریحی نوٹ: یہ اشعار پروین اعتصامی کے دیوان سے لئے گئے ہیں)۔ ۱۔ جب موسٰی کی ماں نے حکم الہٰی کے مطابق موسٰی کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ۲۔ وہ ساحل پر کھڑی ہوئی حسرت سے دیکھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اے میرے بےگناہ ننھے بیٹے! ۳۔ اگر لطف الہٰی تیرے شاملِ حال نہ ہو تو، تُو اِس کشتی میں کیسے سلامت رہ سکتا ہے جس کا کوئی ناخدا نہیں ہے۔ ۴۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی ماں کو اُس وقت وحی ہوئی کہ تیری یہ کیا خام خیالی ہے۔ ہمارا مسافر تو سوئے منزل رواں ہے۔ ۵۔ تو نے جب اِس بچے کو دریا میں ڈالا تھا تو ہم نے اُسے اُسی وقت سنبھال لیا تھا۔ تو نے خدا کا ہاتھ دیکھا مگر اسے پہنچانا نہیں۔ ۶۔ اِس وقت پانی کی سطح (اُس کے لیے) اُس کے گہوارے سے زیادہ راحت بخش ہے دریا کا سیلاب اُس کی دایہ گیری کر رہا ہے اور اُس کی موجیں آغوش مادر بنی ہوئی ہیں۔ ۷۔ دیکھو دریاؤں میں اُن کے ارادہ اختیار سے طُغیانی نہیں آتی۔ وہ ہمارے حکم کے مطیع ہیں وہ وہی کرتے ہیں جو ہمارا امر ہوتا ہے۔ ۸۔ ہم ہی سمندروں کو طوفانی ہونے کا حکم دیتے ہیں اور ہم ہی سیل دریا کو روانی اور امواجِ بحر کو تلاطم کا فرمان بھیجتے ہیں۔ ۹۔ ہستی کا نقش ہمارے ایوان کے نقوش میں سے ایک نقش ہے جو کچھ ہے، یہ کائنات تو اُس کا مُشتے از خروارمی نمونہ ہے۔ اور خاک، پانی، ہوا اور آتش ہمارے ہی اشارے سے متحرک ہیں۔ ۱۰۔ بہتر یہی ہے کہ تو بچے کو ہمارے سپرد کر دے اور خود واپس چلی جا۔ کیونکہ تو اُس سے ہم سے زیادہ محبّت نہیں کرتی۔ یہ منظر تو یہیں ختم ہوتا ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ فرعون کے محل میں کیا ہو رہا تھا؟ روایات میں مذکور ہے کہ فرعون کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ ایک سخت بیماری سے شدید تکلیف میں تھی۔ فرعون نے اُس کا بہت کچھ علاج کرایا مگر بےسُود۔ اُس نے کاہنوں سے پوچھا۔ اُنھوں نے کہا: "اے فرعون ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ اِس دریا میں سے ایک آدمی تیرے محل میں داخل ہو گا۔ اگر اُس کے منہ کی رال اِس بیمار کے جسم پر مَلی جائے گی تو اِسے شفا ہو جائیگی۔ چنانچہ فرعون اور اُس کی ملکہ آسیہ ایسے واقعے کے انتظار میں تھے کہ ناگہاں ایک روز اُنھیں ایک صندوق نظر آیا جو موجوں کی سطح پر تیر رہا تھا۔ فرعون نے حکم دیا کہ سرکاری ملازمین فوراً دیکھیں کہ یہ صندوق کیسا ہے اور اُسے پانی سے نکال لیں۔ دیکھیں کہ اُس میں کیا ہے؟ نوکروں نے وہ عجیب صندوق فرعون کے سامنے لا کے رکھ دیا۔ کسی کو اُس کا ڈھکنا کھولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مطابق مشیتِ الہٰی، یہ لازمی تھا کہ حضرت موسٰی کی نجات کے لیے صندوق کا ڈھکنا فرعون ہی کے ہاتھ سے کھولا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جس وقت فرعون کی ملکہ نے اُس بچے کو دیکھا تو اُسے یوں محسوس ہوا کہ ایک بجلی چمکی ہے جس نے اُس کے دل کو منور کر دیا ہے۔ اُن دونوں۔ بالخصوص فرعون کی ملکہ کے دل میں اُس بچے کی محبت نے گھر کر لیا اور جب اِس بچے کا آبِ دہن اُس کی لڑکی کے لیے موجبِ شفا ہو گیا تو یہ محبت اور بھی زیادہ ہو گئی (تشریحی نوٹ: روایت کا یہ حصّہ ابن عباس سے منقول ہے جو تفسیر فخر رازی میں مذکورہ ہے۔ دوسری روایاات تفسیر ابوالفتاح اور مجمع البیان میں سے لی گئی ہے)۔ اب ہم پھر قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس سرگذشت کا خلاصہ قرآن کی زبان سے سُنتے ہیں۔ قرآن میں یہ واقعہ اس طرح مذکورہ ہے کہ: فرعون کے اہل خانہ نے موسٰی کو نیل کی موجوں کے اوپر سے پکڑ لیا۔ تاکہ وہ اُن کا دُشمن اور اُن کے لیے باعث اندرہ ہو جائے: (فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدواً وحزنا)۔ "التقط" مادہ "التقاط" سے مشتق ہے۔ جس کے وضعی معنٰی ہیں۔ "کسی شی کو بغیر تلاش و کوشش پا لینا" اِسی وجہ سے اگر انسان کسی گم شدہ چیز کو پا لے تو اُسے "لقط" کہتے ہیں۔ یہ امر بدیہی ہے کہ فرعون کے اہل خانہ نے اس بچے کے قنداقہ (وہ کپڑا جس میں بچہ کو لپیٹتے ہیں) کو اِس نیت سے دریا سے نہیں نکالا تھا کہ اپنے جانی دشمن کو اپنی گود میں پا لیں۔ بلکہ وہ لوگ بقول ملکہ فرعون، اپنے لیے ایک نور چشم حاصل کرنا، چاہتے تھے۔ لیکن انجام کار ایسا ہی ہوا۔ علمائے ادب کی اصطلاح میں "لیکون" میں جو "لام" سابق ہے وہ "لام" عاقبت کہلاتا ہے۔ نہ کہ "لام علّت" اور اس معنٰی و مراد کی تعبیر میں لطافت یہی ہے کہ خدا اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ وہ کس طرح اِس گروہ کو جنہوں نے اپنی تمام قوتیں اور وسائل، بنی اسرائیل کی اولاد ذکور کو قتل کرنے کے لیے وقف کر دیئے تھے، اِس خدمت پر مامور کرے کہ جس بچّے کو نابود کرنے کے لیے اُنھوں نے یہ پروگرام بنایا تھا، اُسی کو وہ اپنی جان کی طرح عزیز رکھیں اور اسی کی پرورش کریں۔ قرآن مجید میں کلمہ "ال فرعون" استعمال ہوا ہے۔ یہ اِس امر کی علامت ہے کہ صندوقِ موسٰی کو صرف ایک آدمی نے نہیں نکالا، بلکہ اُس کے نکالنے میں خاندان فرعون کے متعدد افراد شریک تھے۔ اور یہ عمل اس امر کا شاہد ہے کہ وہ کسی ایسے واقعے کے منتظر تھے۔ آیت کا اختتام اس آیت پر ہوتا ہے کہ "مسلماً فرعون" ھامان اور اُن دونوں کے اہل لشکر خطارکار تھے: (انّ فرعون و ھامان و جنود ھما کانوا خاطئین)۔ وہ دونوں ہر جہت سے خطاکار تھے۔ اِس سے بڑی خطا اور کیا ہو گی کہ اُنھوں نے حق و عدالت کی راہ سے رُوگردانی کر کے اپنی حکومت کی بنیاد، ظلم، جور اور شرک پر رکھی تھی۔ اس سے زیادہ عُریاں خطا اور کیا ہو گی کہ اُنھوں نے ہزاروں بچوں کے سر قلم کر دیئے تاکہ "کلیم اللہ" کو صفحئہ ہستی سے مٹا دیں مگر خدا نے اُسے اُنھیں کے سپرد کیا اور فرمایا: اپنے اِس دشمن کو لو، اُسے پا لو اور بڑا کرو (تشریحی نوٹ: امام راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے کہ "خاطی" اور "مخطی" میں یہ فرق ہے کہ "خاطی" وہ شخص ہے جو کسی کام کو اچھی طرح نہ کر سکے اور "مخطی" اپنے کام کو اچھی طرح کرتا ہے مگر اُس سے اتفاقاً غلطی ہو جاتی ہے)۔ *** اِس کے بعد کی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس بچّے کی بابت فرعون، اُس کی ملکہ اور دیگر اہل خاندان میں باہم نزاع اور اختلاف بھی ہوا تھا۔ کیونکہ قرآن شریف میں یہ بیان ہوا ہے: فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نُور ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ ممکن ہے یہ ہمارے لیے نفع بخش ہو یا ہم اسے متبنٰی کر لیں (و قالت امرات فرعون قرّت عین لی و لک لا تقتلوہ عسٰی ان ینفعنآ او نتخذہ ولدًا)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون بچے کے چہرے اور دیگر علامات سے، من جملہ اُن کے اُسے صندوق میں رکھنے اور دریائے نیل میں بہا دینے سے یہ سمجھ گیا تھا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے کسی کا بچہ ہے۔ یہ سمجھ کر ناگہاں، بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی کی بغاوت اور اُس کی سلطنت کے زوال کا کابوس اُس کی رُوح پر مسلّط ہو گیا اور وہ اِس امر کا خواہاں ہوا کہ اُس کا وہ ظالمانہ قانون، جو بنی اسرائیل کے تمام نوزائیدہ اطفال کے لیے جاری کیا گیا تھا اس بچے پر بھی نافذ ہے۔ فرعون کے خوشامدی درباریوں اور رشتہ داروں نے بھی اِس امر میں فرعون کی تائید و حمایت کی اور کہا اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ بچہ قانون سے مستثنی رہے۔ لیکن فرعون کی بیوی آسیہ جس کے بطن سے کوئی لڑکا نہ تھا اور اُس کا پاک دل فرعون کے درباریوں کی مانند نہ تھا، اِس بچے کے لیے محبت کی کان بن گیا تھا۔ چنانچہ وہ اُن سب کی مخالفت پر آمادہ ہو گئی اور چونکہ اس قسم کے گھریلو اختلافات میں فتح ہمیشہ عورتوں کی ہوئی ہے، وہ بھی جیت گئی۔ اگر اِس گھریلو جھگڑے پر، دختر فرعون کی شفایابی کے واقعے کا بھی اضافہ کر لیا جائے تو اِس اختلاف باہمی میں آسیہ کی فتح کا اِمکان روشن تر ہو جاتا ہے۔ مگر آیت کے اخیر میں ایک بہت ہی پر معنٰی فقرہ ہے: "وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کر رہے ہیں": (و ھم لایشعرون)۔ البتہ وہ بالکل بےخبر تھے کہ خدا کا واجب النفوذ فرمان اور اُس کی شکست ناپذیر مشیت نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ یہ طفل نوزاد انتہائی خطرات میں پرورش پائے۔ اور کسی آدمی میں بھی ارادہ و مشیتِ الہٰی سے سرتابی کی طاقت و جرات نہیں ہے۔

اللہ کی عجیب قُدرت:

اِس چیز کا نام قدرت نمائی نہیں ہے کہ خدا آسمان و زمین کے لشکروں کو مامور کر کے کسی پُرقوّت اور ظالم قوم کو نیست و نابود کر دے۔ بلکہ۔۔۔ قدرت نمائی یہ ہے کہ اُن ہی جباران مستکبر سے یہ کام لے کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی۔ نیست و نابود کر لیں اور اُن کے دل و دماغ میں ایسے خیالات پیدا ہو جائیں کہ بڑے شوق سے لکڑیاں جمع کریں اور اُن کی آگ میں جل مریں، اپنے لیے خود ہی قید خانہ بنائیں اور اُس میں اسیر ہو کے جان دے دیں، اپنے لیے خود ہی صلیب کھڑی کریں اور اُس پر چڑھ مریں۔ فرعون اور اُس کے زورمند اور ظالم ساتھیوں کے ساتھ بھی یہی پیش آیا۔ چنانچہ تمام مراحل میں حضرت موسٰی (علیه السلام) کی نجات اور پرورش اُن ہی کے ہاتھوں سے ہوئی۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی دایہ قبطیوں میں سے تھی، صندوق موسٰی کو امواج نیل سے نکالنے اور نجات دینے والے متعلقین فرعون تھے۔ صندوق کا ڈھکنا کھولنے والا خود فرعون یا اُس کی اہلیہ تھی، اور۔۔۔ آخرکار فرعون شکن اور مالک غلبہ و اقتدار موسٰی کے لیے امن و آرام اور پرورش کی جگہ خود فرعون ہی کا محل قرار پایا۔ یہ ہے پروردگار عالم خدا کی قدرت!

10
28:10
وَأَصۡبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَٰرِغًاۖ إِن كَادَتۡ لَتُبۡدِي بِهِۦ لَوۡلَآ أَن رَّبَطۡنَا عَلَىٰ قَلۡبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
موسیٰ کی ماں کا دل (اپنے بیٹے کے سوا) ہر چیز سے خالی ہو گیا۔اگر ہم اس کا دل ایمان و امید سے محکم نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ راز فاش کر دیتی۔ (مگر ہماری) غرض یہ تھی کہ وہ مومنین میں سے رہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
28:11
وَقَالَتۡ لِأُخۡتِهِۦ قُصِّيهِۖ فَبَصُرَتۡ بِهِۦ عَن جُنُبٖ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
ماں نے موسیٰ کی بہن سے کہا: تو اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ پس وہ اسے دور سے دیکھتی رہی جبکہ وہ لوگ اس حال سے بے خبر تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
28:12
۞وَحَرَّمۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَرَاضِعَ مِن قَبۡلُ فَقَالَتۡ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰٓ أَهۡلِ بَيۡتٖ يَكۡفُلُونَهُۥ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ نَٰصِحُونَ
اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر دودھ پلانے والیوں کے دودھ اس پر حرام کر دیئے تھے۔پس موسیٰ کی بہن نے کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں جو اس نومولود کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
28:13
فَرَدَدۡنَٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ وَلِتَعۡلَمَ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
پس ہم نے اس(موسیٰ) کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو۔نیز وہ جان لے کہ خدا کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر موسٰی پھر آغوش مادر میں۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اِن آیات میں اس داستان کا ایک اور حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی ماں نے اُس طرح سے جیسا کہ ہم نے پیشتر بیان کیا ہے، اپنے فرزند کو دریائے نیل کی لہروں کے سپرد کر دیا۔ مگر اس عمل کے بعد اُس کے دل میں جذبات کا ایک شدید طوفان اٹھنے لگا۔ نوزائیدہ بیٹے کی یاد، جس کے سوا اس کے دل میں کچھ نہ تھا اُس کے احساسات پر غالب آ گئی تھی۔ قریب تھا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنا راز فاش کر دے۔ قریب تھا کہ چیخ مارے اور اپنے بیٹے کی جدائی میں نالے کرے۔ لیکن ۔۔۔ عنایت خداوندی اُس کے شامل حال رہی جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے: موسٰی کی ماں کا دل اپنے فرزند کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہو گیا۔ اگر ہم نے اُس کا دل ایمان اور اُمید کے نُور سے روشن نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ راز فاش کر دیتی۔ لیکن ہم نے یہ اس لیے کیا تاکہ وہ اہل ایمان میں سے رہے: (واصبح فواد امّ موسٰی فارغا ان کادت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علٰی قلبھا لتکون من المومنین)۔ "فارغ" کے معنی ہیں خالی۔ اِس جگہ "ہر چیز سے خالی" سے مراد یہ ہے کہ ان کا دل "بیٹے کی یاد کے علاوہ، ہر چیز سے خالی تھا"۔ ہر چند کہ بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ مادر موسٰی کا دل غم و اندوہ سے خالی تھا۔ یا۔ اُس الہام اور خوش خبری سے خالی تھا جو اُسے پہلے دی گئی تھی لیکن اگر سیاقِ عبارت پر غور کیا جائے تو یہ مفاہیم درست معلوم نہیں ہوتے۔ یہ قطعی فطری امر ہے کہ: ایک ماں جو اپنے بچے کو اس صورت حال سے اپنے پاس سے جدا کرے وہ اپنی اولاد کے سوا ہر شے کو بھول جائے گا۔ اور اُس کے حواس ایسے باختہ ہو جائیں گے کہ ان خطرات کا لحاظ کیے بغیر جو اُس کے اور اس کے بیٹے دونوں کے سر پر منڈلا رہے تھے فریاد کرے اور اپنے دل کا راز فاش کر دے۔ لیکن۔۔۔ وہ خدا جس نے اِس ماں کے سپرد یہ اہم فریضہ کیا تھا، اُسی نے اس کے دل کو ایسا حوصلہ بھی بخشا کہ وعدہ الہٰی پر اُس کا ایمان ثابت رہے اور اُسے یہ یقین رہے کہ اس کا بچہ خدا کے ہاتھ میں ہے آخرکار وہ پھر اُسی کے پاس آ جائے گا اور پیغمبر بنے گا۔ "ربطنا" کا مادہ "ربط" ہے۔ اس کلمہ کے وضعی معنی ہیں "حیوانات کو کسی ایسی جگہ باندھنا جہاں وہ اطمینان سے اپنی جگہ محفوظ رہیں"۔ اِس قسم کی جگہ کو "رباط" کہتے ہیں۔ مجازاً حفظ و تقویت اور استحکام بخشنے کے معنی میں آتا ہے۔ اِس آیت میں جو "ربطناعلٰی قلبھا" کہا گیا ہے تو اس سے مراد یہی ہے کہ ہم نے اُس کے دل کو قوی کر دیا تاکہ وہ خدا پر ایمان لائے اور اس عظیم واقعے کا صدمہ برداشت کرے۔ اِس لطفِ خداوندی کے طفیل ماں کا سکون لوٹ آیا مگر اُسے آرزو رہی کہ وہ اپنے فرزند کے حال سے باخبر رہے۔ اس لیے اُس نے موسٰی کی بہن سے کہا کہ جا تُو دیکھتی رہ کہ اُس پر کیا گزرتی ہے: (وقالت لاختہ فصیہ)۔ "قصیہ" مادّہ "قص" سے مشتق ہے۔ اِس کے معنی ہیں کہ کسی چیز کی کیفیت کی جستجو۔ عرف عام میں جو لفظ "قصّہ" ہے یہ نام اس وجہ سے ہوا کہ اُس میں بھی قسم قسم کے واقعات کی جستجو ہوتی ہے۔ موسٰی کی بہن ماں کا حکم بجا لائی اور اتنے فاصلہ سے جہاں سے سب کچھ نظر آتا تھا دیکھتی رہی۔ اُس نے دُور سے دیکھا کہ فرعون کے عُمّال اُس کے بھائی کے صندوق کو پانی میں سے نکال رہے ہیں اور موسٰی کو صندوق میں سے نکال کر گود میں لے رہے ہیں: (قبصرت بہ عن جنب)۔ مگر وہ لوگ اِس بہن کی اس کیفیّت حال سے بےخبر تھے: (و ھم لا یشعرون)۔ اس واقعے کے متعلق بعض لوگوں کا قول یہ ہے کہ فرعون کے مخصوص خدمت گذار اس بچے کو لے کر محل سے باہر آئے تھے تاکہ اس کے لیے کوئی ددودھ پلانے والی تلاش کریں۔ ٹھیک اُسی وقت موسی کی بہن نے دُور سے اپنے بھائی کو دیکھ لیا تھا۔ مگر__ پہلی توجیہہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ اس توجیہہ کی بناء پر جب موسٰی کی ماں بچے کے صندوق کو دریائے نیل کے سپرد کر کے گھر لوٹ آئی تو موسٰی کی بہن دریا کے کنارے کھڑی دور سے دیکھتی رہی کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے! اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ غمال فرعون نے اسے پانی میں سے نکال لیا ہے اور بچہ اس عظیم خطرے سے جو اُسے درپیش تھا نجات پا گیا ہے۔ "ھم لایشعرون" کی اور بھی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ مرحوم علامہ طبرسی اس احتمال کو بعید نہیں سمجھتے کہ اس جگہ اور آیات ماقبل میں اس جملے کی جو تکرار فرعون کے متعلق ہوئی ہے، اِس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب کہ وہ حالات سے اس حد تک لاعلم تھا تو پھر کس طرح خدائی کا دعویٰ کرتا تھا؟ وہ ارادہ الٰہٰی اور اُس کے مشیت سے کس طرح نبرد آزما ہونا چاہتا تھا؟ بہرحال، ارادہ الہٰی یہ تھا کہ یہ طفل نوزاد جلد اپنی ماں کے پاس واپس جائے اور اُس کے دل کو قرار آئے۔ اِس لیے فرمایا گیا ہے "ہم نے تمام دودھ پلانے والی عورتوں کو اُس پر حرام کر دیا تھا:" (وحرّمنا علیہ المراضع من قبل) (تشریحی نوٹ: "مراضع" جمع ہے "مرضع" (بر وزن مخبر) کی۔ اس کا معنی ہے "دُودھ پلانے والی عورت"۔ بعض کے نزدیک یہ "مرضع" (بوزن مکتب) کی جمع ہے بمعنی دُودھ پلانے کی جگہ یعنی پستان مادر۔ اِس کلمے کے متعلق یہ احتمال بھی ہے کہ یہ مصدر میمی ہے "رضاع" دودھ پلانا۔ مگر پہلا معنٰی زیادہ مناسب ہے)۔ یہ امر طبعی ہے کہ شیر خوار نوازد چند گھنٹے گزرتے ہی بھوک سے رونے لگتا ہے اور بےتاب ہو جاتا ہے۔ اندریں حال لازم تھا کہ موسٰی کو دودھ پلانے کے لیے کسی عورت کی تلاش کی جاتی۔ خصوصاً جبکہ ملکہ مصر اُس بچے سے نہاہت دل بستگی رکھتی تھی اور اُسے اپنی جان کے برابر عزیز رکھتی تھی۔ محل کے خدّام حرکت میں آ گئے اور در بدر کسی دودھ پلانے والی کو تلاش کرنے لگے مگر عجیب بات تھی کہ وہ کسی کا دودھ پیتا ہی نہ تھا۔ ممکن ہے کہ وہ بچہ اُن عورتوں کی صورت ہی سے ڈرتا ہو اور اُن کے دودھ کا مزہ (جس سے وہ آشنا نہ تھا) اسے اس کا ذائقہ ناگوار اور تلخ محسوس ہوتا ہو۔ اُس بچے کا طور کچھ اس طرح کا تھا گویا کہ ان (دودھ پلانے والی) عورتوں کی گود سے اچھل کے دور جا گرے۔ دراصل یہ خدا کی طرف سے "تحریم تکوینی" تھی کہ اُس نے تمام عورتوں کو اُس پر حرام کر دیا تھا۔ بچّہ لحظہ بہ لحظہ زیادہ بھُوکا اور زیادہ بیتاب ہوتا تھا۔ بار بار رو رہا تھا اور اُس کی آواز سے فرعون کے محل میں شور ہو رہا تھا۔ اور ملکہ کا دل لرز رہا تھا۔ خدمت پر مامور لوگوں نے اپنی تلاش کو تیز تر کر دیا تھا۔ ناگہاں قریب ہی اُنھیں ایک لڑکی مل جاتی ہے۔ وہ اُن سے یہ کہتی ہے: میں ایک ایسے خاندان کو جانتی ہوں جو اِس بچّہ کی کفالت کر سکتا ہے۔ وہ لوگ اُس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ کیا تم لوگ یہ پسند کرو گے میں تمہیں وہاں لے چلوں؟ (فقالت ھل ادلکم علٰی اھل بیتٍ یکفلونہ لکم و ھم لہ ناصحون)۔ "میں بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جس کی چھاتیوں میں دودھ ہے اور اُس کا دل محبت سے بھرا ہوا ہے۔ اُس کا ایک بچّہ تھا اسے کھو چکی ہے۔ وہ ضرور اِس بچّے کو جو محل میں پیدا ہوا ہے، دُودھ پلانے پر آمادہ ہو جائے گی"۔ وہ تلاش کرنے والے خدام یہ سُن کر خوش ہو گئے اور موسٰی کی ماں کو فرعون کے محل میں لے گئے۔ اُس بچّے نے جُونہی اپنی ماں کی خوشبو سُونگھی اُس کا دودھ پینے لگا۔ اور اپنی ماں کا روحانی رس چُوس کر اُس میں جان تازہ آ گئی۔ اُس کی آنکھوں میں خوشی کا نور چمکنے لگا۔ اُس وقت وہ خدّام جو ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئے تھے۔ بہت ہی زیادہ خوش و خرّم تھے۔ فرعون کی بیوی بھی اُس وقت اپنی خوشی کو نہ چھپا سکی۔ ممکن ہے اُس وقت لوگوں نے کہا ہو کہ تو کہاں چلی گئی تھی۔ ہم تو تجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئے۔ تجھ پر اور تیرے شیر مشکل کُشا پر آفرین ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت موسٰی (علیه السلام) ماں کا دودھ پینے لگے، فرعون کے وزیر ھامان نے کہا:۔ مجھے لگتا ہے کہ تو ہی اِس کی ماں ہے۔ بچّے نے اِن تمام عورتوں میں سے صرف تیرا ہی دودھ کیوں قبول کر لیا؟ ماں نے کہا: "اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایسی عورت ہوں جس کے دودھ میں سے خوشبو آتی ہے۔ میرا دُودھ نہایت شیریں ہے۔ اَب تک جو بچّہ بھی مجھے سپرد کیا گیا ہے۔ وہ فوراً ہی میرا دودھ پینے لگتا ہے"۔ حاضرین دربار نے اس قول کی صداقت کو تسلیم کر لیا اور ہر ایک نے حضرت موسٰیؑ کی ماں کو گراں بہا ہدیے اور تحفے دیے (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۴، صفحہ ۲۳۱)۔ ایک حدیث جو امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے اِس میں منقول ہے کہ: "تین روز سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا کہ خدا نے بچّے کو اُس کی ماں کے پاس لوٹا دیا"۔ بعض اہل دانش کا قول ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لیے یہ "تحریم تکوینی" (یعنی دوسری عورتوں کا حرام کر دینا) اس سبب سے تھی کہ خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ میرا فرستادہ پیغمبر ایسا دُودھ پئے جو حرام سے آلودہ ہو اور ایسا مال کھا کے بنا ہو جو چوری، ناجائز ذرائع، رشوت اور حق النّاس کو غصب کر کے حاصل کیا گیا ہو۔ خدا کی مشیت یہ تھی کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنی صالحہ ماں کے پاک دُودھ سے غذا حاصل کریں۔ تاکہ وہ اہلِ دُنیا کے شر کے خلاف ڈٹ جائیں اور اہلِ شر و فساد سے نبرد آزمائی کر سکیں۔ ہم نے اس طرح موسٰیؑ کو اُس کی ماں کے پاس لوٹا دیا۔ تاکہ اس کی آنکھیں روشن ہو جائیں اور اُس کے دل میں غم و اندوہ باقی نہ رہے اور وہ یہ جان لے کہ خدا کا وعدہ حق ہے۔ اگرچہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے: (فرددناہ الٓی امہ کی تقرّ عینھا ولا تحزن ولتعلم ان وعد اللہ حق ولکن اکثرھم لایعلمون (تشریحی نوٹ: "تقرّ عینھا" کے لغوی مادّہ کے متعلق اس کتاب کی آٹھویں جلد میں۔ سورہ فرقان کی آیت نمبر ۷۴ کے تحت ذکر ہو چکا ہے)۔ اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ:۔ کیا وابستگان فرعون نے موسٰیؑ کو کُلّیۃ ماں کے سپرد کر دیا تھا کہ وہ اُسے گھر لے جائے اور دُودھ پلایا کرے اور دورانِ رضاعت روزانہ یا کبھی کبھی بچے کو فرعون کے محل میں لایا کرے تاکہ ملکہ مصر اُسے دیکھ لیا کرے__ یا__ یہ کہ بچہ محل ہی میں رہتا تھا اور موسٰیؑ کی ماں معیّن اوقات میں آ کر اُسے دُودھ پلا جاتی تھی؟ مذکورہ بالا دونوں احتمالات کے لیے ہمارے پاس کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ لیکن احتمال اوّل زیادہ قرین قیاس ہے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ:۔ آیا__ عرصہ شیر خوارگی کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل میں چلے گئے یا اُن کا تعلق اپنی ماں اور خاندان کے ساتھ باقی رہا اور محل سے وہاں آتے جاتے رہے؟ اِس مسئلے کے متعلق بعض صاحبان نے یہ کہا ہے کہ شیر خوارگی کے بعد آپ کی ماں نے اُنھیں فرعون اور اُس کی بیوی آسیہ کے سپرد کر دیا تھا اور حضرت موسٰی (علیه السلام) اُن دونوں کے پاس پرورش پاتے رہے۔ اِس ضمن میں راویوں نے فرعون کے ساتھ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی طفلانہ (مگر بامعنٰی) باتوں کا ذکر کیا ہے کہ اس مقام پر ہم ان کو بعذر طول کلام کے پیش نظر قلم انداز کرتے ہیں۔ لیکن فرعون کا یہ جُملہ جو اُس نے بعثتِ موسٰی (علیه السلام) کے بعد کہا: "أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ" (شعرا۔ ۱۸) کہا ہم نے تجھے بچپن میں پرورش نہیں کیا اور کیا تو برسوں تک ہمارے درمیان نہیں رہا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ حضر ت موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل میں مدّتوں رہے تھے۔ علی ابن ابراہیم کی تفسیر سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) تا زمانہ بلوغ فرعون کے محل میں نہایت احترام کے ساتھ رہے۔ مگر اُن کی توحید آشکار باتیں فرعون کو سخت ناگوار ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ اُس نے انھیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) اس خطرے کو بھاپ گئے اور بھاگ کر شہر میں آ گئے۔ یہاں وہ اس واقعے سے دوچار ہوئے کہ دو آدمی لڑ رہے تھے جن میں سے ایک قبطی اور ایک سبطی تھا (اِس واقعے کی تفصیل آئندہ آتی ہے) (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم طبق نورالثقلین، جلد ۴، صفحہ ۱۱۷)۔

14
28:14
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسۡتَوَىٰٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور جب وہ (موسیٰ) بھر پور جوان اور طاقتور ہو گیا تو ہم نے اسے حکمت اور دانش عطا فرمائی اور ہم نیکو کاروں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
28:15
وَدَخَلَ ٱلۡمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفۡلَةٖ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَٰثَهُ ٱلَّذِي مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِي مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيۡهِۖ قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ
اور وہ ایسے وقت، جب اہل شہر غافل تھے شہر میں داخل ہوا تو ناگہاں اسنے دو آدمیوں کو دیکھا جو باہم لڑ رہے تھے۔ان میں سے ایک اس کے پیرو کاروں میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں سے تھا۔ ان میں سے ایک نے جو اس کا طرفدار تھا، دشمن کے مقابلے میں اس سے امداد طلب کی موسیٰ نے اس (دشمن)کے سینے پر ایک مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (وہ زمین پر گرا اور مر گیا)۔موسیٰ نے کہا کہ یہ ایک عمل شیطانی تھا۔ بیشک وہ(شیطان) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
28:16
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
موسیٰ نے کہا: اے میرے پروردگارا ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو مجھے بخش دے۔ پس خدا نے اسے بخش دیا۔وہ (اللہ) بیشک بخشنے والا ٗ رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
28:17
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ فَلَنۡ أَكُونَ ظَهِيرٗا لِّلۡمُجۡرِمِينَ
اس نے عرض کی :اے پروردگار ! میں اس نعمت کے شکرانہ میں جو تو نے مجھے عطافرمائی ہے، کبھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا۔

تفسیر موسٰی (علیه السلام) مظلوموں کے مددگار کے طور پر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اَب ہم حضرت موسٰی (علیه السلام) کی بھرپور زندگی کے تیسرے دَور سے رُوبرو ہوتے ہیں۔ اس دَور میں اُن کے وہ واقعات ہیں جو اُنہیں بلُوغ کے دوران اور مصر سے مدین کو سفر کرنے سے پہلے پیش آئے اور یہ وہ اسباب ہیں جو ان کی ہجرت کا باعث ہوئے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ فرماتا ہے: موسٰی جب طاقتور اور کامل ہو گئے تو ہم نے اُنھیں حکمت اور علم عطا کیا اور ہم نیکوکاروں کو اس طرح جزا دیتے ہیں: (ولمّا بلغ اشدّہ و استوٰی اتیناہ حکمًا و علمًا و کذٰلک نجزی المحسنین)۔ "اَشدّ" کا مادہ "شدّت" ہے، بمعنی طاقتور ہونا۔ "استوٰٓی" کا مادہ "استواء" ہے بمعنی کمال خلقت اور اس کا اعتدال۔ ان دونوں الفاظ کے مفہوم میں کیا فرق ہے؟ اس پر مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ "بلوغ اشد" وہ ہے کہ انسان قوّائے جسمانی کے لحاظ سے سرحدِ کمال کو پہنچ جائے۔ غالباً اٹھارہ سال کی عمر میں ایسا ہوتا ہے۔ اور "استواء" زندگی میں استقرار اور اعتدال کو کہتے ہیں۔ یہ کیفیّت جسمانی طاقت کے کمال کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ بعض دیگر مفسّرین "بلوغ اشد" کے معنی "کمال جسمانی" اور "استواء" کے معنٰی "کمال عقلی و فکری" سمجھتے ہیں۔ کتاب معانی الاخبار میں امام جعفر صادق (علیه السلام) سے ایک حدیث منقول ہے کہ "اشد" اٹھارہ سال کی عمر ہے اور "استواء" عمر کا وہ حصّہ ہے جب داڑھی مونجھ نمودار ہو جائے۔ ان تعبیراتِ بالا میں کچھ بہت زیادہ فرق نہیں ہے اور اِن دونوں کلمات کے لغوی معنٰی پر توجہ کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے معنٰی جسمانی، فکری اور رُوحانی طاقتیں ہیں۔ "حکم" اور "علم" میں ممکن ہے کہ یہ فرق ہو کہ "حکم" سے مراد عقل و فہم اور صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد ہے اور علم کے معنٰی ایسی آگاہی اور دانش ہے جس میں جہل کا شائبہ نہ ہو۔ "کذٰلک نجزی المحسنین" کے الفاظ اس امر کے شاہد ہیں کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) میں اپنے تقویٰ اور طہارتِ قلب اور پاکیزہ اعمال کے سبب یہ استحقاق پیدا ہو گیا تھا کہ خدا انھیں بطور جزا علم و حکمت عطا فرمائے اور اظہر من الشمس ہے کہ اس علم و حکمت سے مراد وحی اور نبوّت نہیں ہے۔ کیونکہ اس زمانے کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) پر وحی نازل ہوئی اور نبّوت ملی۔ بلکہ اس مقام پر علم و حکمت سے مراد وہی آگاہی، روشن بینی، صحیح قوّت فیصلہ اور اسی قسم کے اوصاف ہیں جو خدا نے موسٰی (علیه السلام) کو اُن کی پاک دامنی، نیکی اور صالح زندگی کے صلہ میں عطا کیے تھے۔ اِس صورت حال سے اجمالاً یہ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ اگرچہ موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل میں رہے مگر اُس ماحول کے فضا سے قطعی متاثر نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ اُن سے جتنا بھی ہو سکتا تھا وہ احیاء حق و عدالت میں سعی کرتے رہے۔ ہر چند کہ آپ کی مصروفیات کا حال تشریحاً ہمیں معلوم نہیں ہے۔ بہرحال، حضرت موسٰی (علیه السلام) شہر میں اُس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے: (ودخل المدینة علی حین غفلة من اھلھا)۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کونسا شہر تھا۔ لیکن احتمال قوی یہ ہے کہ یہ مصر کا پائیہ تخت تھا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو اُس مخالفت کی وجہ سے جو اُن میں فرعون اور اُس کے وزراء میں تھی اور بڑھتی جا رہی تھی، مصر کے پائیہ تخت سے نکال دیا گیا تھا۔ مگر جب لوگ غفلت میں تھے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو موقع مل گیا اور وہ شہر میں آ گئے۔ اس احتمال کی بھی گنجائش ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) فرعون کے محل سے نکل کر شہر میں آئے ہوں کیونکہ عام طور پر فرعونوں کے محلّات شہر کے ایک کنارے پر ایسی جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر کی طرف آمد و رفت کے راستوں کی نگرانی کر سکیں۔ "علی حین غفلةٍ من اھلھا" سے مراد ایسا وقت ہے کہ شہر گے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہو چکے تھے اور کوئی بھی شہر کی حالت کی طرف متوجہ نہ تھا۔ مگر یہ کہ وہ وقت کونسا تھا؟ بعض کا خیال ہے کہ "ابتدائے شب" تھی، جب کہ لوگ اپنے کاروبار سے فارغ ہو جاتے ہیں' ایسے میں کچھ تو اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ کچھ تفریح اور رات کو بیٹھ کے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اِس وقت کو بعض اسلامی روایات میں "ساعت غفلت" کہا گیا ہے۔ چنانچہ جناب رسالت مآبؐ سے ایک حدیث منقول ہے: "تنفلوا فی ساعة الغفلة ولو برکعتین خفیفتین" ساعت غفلت میں نماز نافلہ پڑھو خواہ وہ دو رکعت مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ اِس حدیث میں "جو ساعت غفلت" کا کلمہ آیا ہے اُس کی یہ تعبیر کی گئی ہے:- "ساعۃ الغفلۃ ما بین المغرب و العشاء" ساعت غفلت مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد پنجم ص۲۴۹ (باب۲٠ از ابواب بقیۃ الصلٰوتِ المندوبیہ)۔ حقیقت میں وہ وقت غفلت کا ہوتا ہے۔ بہت سے گناہوں، بدچلنیوں اور اخلاقی انحرافات کا اسی وقت یعنی آغاز شب ہی میں ارتکاب کیا جاتا ہے۔ اُس وقت لوگ نہ تو اپنے کسب و کار میں مشغول ہیں نہ بستر خواب و استراحت میں ہوتے ہیں بلکہ شہروں پر معمولاً ایک عام غفلت کی حالت چھائی ہوئی ہوتی ہے۔ اور بداخلاقی کے مرکزوں میں اُسی وقت رونق ہوتی ہے۔ بعض اہل دانش کا خیال ہے کہ "ساعتِ غفلت" سے مراد وقت دوپہر ہے جبکہ نصف روز کام کرنے کے بعد چھٹی ہوتی ہے اور لوگ آرام کرتے ہیں۔ مگر اِس موضوع میں پہلی رائے زیادہ درست اور پُرمعنی معلوم ہوتی ہے۔ بہرکیف، حضرت موسٰی (علیه السلام) شہر میں آئے اور وہاں ایک ماجرے سے دوچار ہوئے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں الجھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ اُن میں سے ایک حضرت موسٰی (علیه السلام) کا طرفدار اور اُن کا پیرو تھا اور دوسرا اُن کا دشمن تھا: (فوجد فیھار جلین یقتتلان ھذا من شیعتہٖ وھذا من عدّوہ)۔ کلمہ "شیعتہ" اس امر کا غماز ہے کہ جناب موسیٰؑ اور بنی اسرائیل میں اُسی زمانے میں مراسم ہو گئے تھے اور کچھ لوگ اُن کے پیرو بھی تھے۔ ااحتمال یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ اپنے مقلدین اور شیعوں کے گروہ کو فرعون کی جابرانہ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بطور ایک مرکزی طاقت کے تیار کر رہے تھے۔ جس وقت بنی اسرائیل کے اُس آدمی نے موسٰی (علیه السلام) کو دیکھا تو اُن سے اپنے دشمن کے مقابلے میں امداد چاہی: (فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ)۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی مدد کرنے کے لیے تیار ہو گئے تاکہ اُسے اس ظالم دشمن کے ہاتھ سے نجات دلائیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ وہ قبطی فرعون کا ایک باورچی تھا اور چاہتا تھا کہ اُس بنی اسرائیل کو بیگار میں پکڑ کے اُس سے لکڑیاں اُٹھوائے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اُس فرعونی کے سینے پر ایک مُکّا مارا وہ ایک ہی مُکّے میں مر گیا اور زمین پر گر پڑا: (فوکزہ موسٰی فقضی علیہ) (تشریحی نوٹ: "وکز" کے معنیٰ مُکّا مارنے کے ہیں۔ اِس کلمے کے کچھ اور معنیٰ بھی بتائے گئے ہیں جو درست نہیں معلوم ہوتے)۔ اِس میں شک نہیں کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کا اُس فرعونی کو جان سے مار دینے کا ارادہ نہ تھا۔ آیات مابعد سے بھی یہ مطلب خوب واضح ہو جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہ تھا کہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلکہ اُنھیں اُن نتائج کا خیال تھا جو خُود حضرت موسٰی (علیه السلام) اور بنی اسرائیل کو پیش آ سکتے تھے۔ لہذا حضرت موسٰی (علیه السلام) نے فوراً کہا کہ یہ کام شیطان نے کروایا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا دشمن اور واضح گمراہ کرنے والا ہے: (قال ھذا من عمل الشیطان انہ عدو مضل مبین)۔ اِس واقعے کی دوسری تعبیر یہ ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل کا گریبان اُس فرعونی کے ہاتھ سے چھڑا دیں۔ ہر چند کہ وابستگان فرعون اس سے زیادہ سخت سلوک کے مستحق تھے لیکن اُس حالات میں سے ایسا کام کر بیٹھنا قرین مصلحت نہ تھا اور جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اِسی عمل کے نتیجے میں پھر مصر میں نہ ٹھہر سکے اور مدین چلے گئے۔ پھر قرآن میں حضرت موسٰی (علیه السلام) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے۔ اُس نے کہا: پروردگار: مَیں نے اپنے اُوپر ظلم کی۔ تُو مجھے معاف کر دے‘ اور خدا نے اُسے بخش دیا۔ کیونکہ وہ غفور رحیم ہے: (قال ربّ انّی ظلمت نفسی فاغفرلی لہ انّہ ھو الغفورُ الرحیم)۔ یقیناً حضرت موسٰی (علیه السلام) اس معاملے میں کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ حقیقت میں اُن سے ترکِ اُولٰی سرزد ہوا۔ کیونکہ انہیں ایسی بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیے تھی جس کے نتیجے میں وہ زحمت و تکلیف میں مبتلا ہوں۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اِسی ترکِ اُولٰی کے لیے خدا سے طلب عفو کیا اور خدا نے بھی اُنھیں اپنے لُطف و عنایت سے بہرومند کیا۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کہا: خداوند تیرے اس احسان کے شکرانے میں کہ تو نے میرے قصور کو معاف کر دیا اور دشمنوں کے پنجے میں گرفتار نہ کیا اور اُن تمام نعمتوں کے شکریے میں جو مجھے ابتدء سے اب تک مرحمت کرتا رہا ہے، میں عہد کرتا ہوں کے کہ ہرگز مجرموں کی مدد نہ کروں گا اور ظالموں کا طرفدار نہ ہوں گا: (قال ربّ بمآ انعمت علیّ فلن اَکون ظھیرا للمجرمین)۔ "بلکہ ہمیشہ مظلومین اور ستم دیدہ لوگوں کا مدد گار رہوں گا۔" اِس جملہ سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کا مقصود یہ تھا: کہ مَیں آئندہ ہرگز مجرم اور گنہگار وابستگان فرعون کا شریک کار نہ ہوں گا۔ بلکہ، میں بنی اسرائیل کے ستم دیدہ لوگوں کا ہمدرد رہوں گا۔ بعض لوگوں نے آیت میں کلمہ "مجرمین" سے وہ اسرائیلی شخص مراد لیا ہے جو قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ قیاس حقیقت سے بعید ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کا یہ کام اور مقام عصمت:

مفسّرین نے، اُس قبطی اور بنی اسرائیل کے باہمی نزاع اور حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ سے مرد قبطی کے مارے جانے کے بارے میں بڑی طویل بحثیں ہیں۔ درحقیقت، یہ معاملہ کوئی اہم اور بحث طلب تھا ہی نہیں کیونکہ ستم پسند وابستگانِ فرعون نہایت بےرحم اور مُفسد تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کے سر قلم کیے اور بنی اسرائیل پر کسی قسم کا ظلم کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اِس جہت سے یہ لوگ اِس قابل نہ تھے کہ بنی اسرائیل کے لیے اُن کا قتل احترام انسانیت کے خلاف ہو۔ البتہ مفسرین کے لیے جس چیز نے دشواریاں پیدا کی ہیں وہ اس واقعے کی وہ مختلف تعبیرات ہیں جو خود حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کی ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جگہ تو یہ کہتے ہیں: ھذا من عمل الشیطان یہ شیطانی عمل ہے۔ اور دوسری جگہ یہ فرمایا: ربّ انّی ظلمت تفسی فاغفرلی خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو مجھے معاف فرما دے۔ جناب موسٰی (علیه السلام) کی یہ دونوں تعبیرات اس مسلّمہ حقیقت سے کیونکر مطابقت رکھتی ہیں کہ: "عصمتِ انبیا کا مفہوم یہ ہے کہ انبیا ماقبل بعثت اور مابعدِ عطائے رسالت ہر دو حالات میں معصوم ہوتے ہیں"۔ لیکن__ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے اس عمل کی جو توضیح ہم نے آیاتِ فوق کی روشنی میں پیش کی ہے، اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) سے جو کچھ سرزد ہوا وہ ترکِ اُولیٰ سے زیادہ نہ تھا۔ اُنھوں نے اِس عمل سے اپنے آپ کو زحمت میں مبتلا کر لیا کیونکہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی کا قتل ایسی بات نہ تھی کہ وابستگان فرعون اُسے آسانی سے برداشت کر لیتے۔ نیز، ہم جانتے ہیں کہ "ترکِ اُولیٰ" کے معنٰی ایسا کام ہے جو بذاتِ خود حرام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ "عملِ احسن" ترک ہو گیا۔ بغیر اِس کے کہ کوئی عمل خلافِ حکم الہٰی سر زد ہوا ہو۔ اِس قسم کے واقعات کا دوسرے انبیاء کے احوال حیات میں بھی نشان ملتا ہے۔ اُن میں سے ایک حضرت آدمؑ بھی ہیں۔ جن کے متعلق سُورہ اعراف آیت نمبر ۱۹ کے تحت (جلد ۶ تفسیر ھذا میں) مفصّلا ذکر ہوا ہے۔ اِن آیات کی تفسیر میں "عیوان الاخبار" میں جناب امام علی رضا علیہ السلام سے ایک تفسیر مروی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: "ھذا من عمل الشیطان" سے مراد اُن دونوں آدمیوں کی ایک دوسرے سے لڑائی ہے۔ (جو عملِ شیطانی شمار ہوتا ہے) نہ کہ عملِ موسٰی اور اِس جملہ "ربّ انّی ظلمت نفسی فاغفر لی" سے مُراد یہ ہے کہ موسٰی کہہ رہے ہیں کہ___ خدایا جس مقام پر مجھے آنا نہیں چاہیے تھا میں وہاں پہنچ گیا۔ مجھے اس شہر میں ہرگز داخل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور "فاغفرلی" سے مراد یہ ہے کہ: "مجھے دشمنوں سے چھپا" تاکہ وہ مجھ پر غالب نہ آ جائیں (کیونکہ کلمہ "غفران" چھپانے کے معنٰی میں بھی آتا ہے) (بحوالہ: عیون الاخبار، طبق نقل تفسیر نوراثقلین ج۴ صفحہ ۱۱۹)۔

۲۔ مُجرموں کی مدد کرنا بہت بڑا گناہ ہے:۔

اسلامی فقہ میں ارتکابِ گناہ میں کسی کی اعانت کرنے اور ظالمین کی مدد کرنے کے بارے میں ایک مفصّل باب ہے، جس میں احادیثِ کثیرہ کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ بدترین گناہوں میں سے ایک گناہ ظالموں، ستمگاروں اور مجرموں کی اعانت کرنا بھی ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تُو اُس کا یہ عمل امر کا باعث بنتا ہے کہ اُس کا (مددگار کا) حشر اور عاقبت بھی اُن ہی ستمگاروں کے ساتھ ہو گی۔ یہ امر مسلّم ہے کہ ہر معاشرے میں ظالم، ستمگار اور فرعون جیسے کچھ لوگ ہوتے ہیں۔ اگر اُس معاشرے کے عوام اُن لوگوں کے کاموں کی تائید نہ کریں (یعنی خاموش نہ رہیں اور اظہارِ پسندیدگی کریں) تو پھر کوئی بھی فرعون نہ بن سکے۔ اِن ظالم فرعونوں کے مُوئیدین عام طو پر کمینے، مفلوک الحال یا ابن الوقت دنیا پرست لوگ ہوتے ہیں، جو اُن کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور اُن کے دست و بازو یا کم از کم اُن کے لشکر اور جمعیت میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں تاکہ اُن ستم شعاروں کے لیے شیطانی قوّت فراہم کریں۔ قرآن مجید میں اخلاق کے اِس بنیادی اصول کے متعلق بہ تکرار ھدایات موجود ہیں۔ چنانچہ سُورہ مائدہ کی دوسری آیت میں مذکور ہے: "وتعاونوا علی البرّ و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان"۔ ایک دوسرے سے نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو مگر گناہ اور تعدّی کے کاموں میں مدد نہ کرو۔ قرآن میں بصراحت مذکور ہے کہ ظالموں کے ساتھ "رکون" عذاب جہنم کا سبب ہے۔ "رکون" کے معنٰی خواہ قلبی میلان ہوں یا کسی کے ساتھ اُس کے کام میں ظاہری شریک، یا کسی کے فعل پر اظہار رضایت، دوستی و خیر خواہی یا اطاعت، مفسرین نے ان میں سے ہر معنی کی تفسیر کی ہے۔ اِس کلمہ کا ایک اور مفہوم ہے جو اِن معانی کا جامع ہے اور وہ بھروسہ، اعتماد اور وابستگی ہے۔ یہ مفہوم ہمارے مقصود کا زندہ گواہ ہے۔ امام زین العابدین علی ابن الحسینؑ سے ایک حدیث منقول ہے: محمد بن مسلم زہری ایک عالم شخص تھا۔ وہ بنی اُمیّہ کی حکومت بالخصوص ہشام بن عبدالملک کے ساتھ تعاون کیا کرتا تھا۔ امام علیہ اسلام نے جب اُس کو ظالمین کی اعانت کرنے سے پرہیز کرنے کی ھدایت فرمائی تو اُسے متنبہہ کرنے کے لیے یہ الفاظ فرمائے: اولیس بدعائھم ایاک حین دعوک جعلوک قطبا اداروا بک رحی مظالمھم، و جسرا یعبرون علیک الی بلایاھم و سلمَا الی ضلالتھم داعیاً الی عینھم، سالکا سبیلھم، یدخلون بک الشک علی العلماء و یقتادون بک قلوب الجھال الیھم۔۔۔ فما اقل ما اعطوک فی قدر ما اخذوا منک! وما الیسر ما عمروا لک فی جنب ما حزبوا علیک! فانظر لنفسک فانہ لاینظر لھا غیرک و حاسبھا حساب رجل مسئول! کیا اُنھوں نے (بنی اُمیّہ نے) تجھے اپنے گرد مجتمع ہونے کی دعوت نہیں دی؟ اور کیا تجھے اُنھوں نے وہ محور نہیں بنایا جس کے گرد اُن کے ظلم کی چکّی گھومتی ہے۔ اور کیا اُنھوں نے تجھے وہ پُل قرار نہیں دیا جس پر سے عبور کر کے وہ اپنی بلاؤں کی طرف جاتے ہیں۔ اور کیا اُنھوں نے تجھے اپنی ضلالت کے لیے سیڑھی نہیں بنایا۔ اور کیا اُنھوں نے تجھے اپنی جہالت اور گمراہی کی طرف داعی اور اپنی شرمناک راہ کا راہر و قرار نہیں دیا؟ وہ تیرے ذریعے سے علماء کو شک میں مبتلا کرتے ہیں اور جہلا کے قلوب کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ وہ جو کچھ تجھ سے لیتے ہیں اُس کے عوض تجھے کس قدر قلیل معاوضہ دیتے ہیں اور تیرے ذریعے وہ جتنا برباد کرتے ہیں اُس کے مقابلے میں کتنا کم آباد کرتے ہیں۔ پس تو اپنے نفس پر غور کر کیونکہ خود تجھ سے زیادہ، تیرا کوئی ہمدرد نہیں ہے۔ اور ایک شخص مسئول کی طرح تو خود اپنے نفس کا حساب لے (بحوالہ: تحف العقول، صفحہ۶۶)۔ حقیقت یہ ہے کہ امام (علیه السلام) کی یہ معنٰی آشکار اور دلنشین ہر اُس عالم کو جو دربار رس اور وابستئہ حکومت ہو اُس کے بارے میں ہے اور واضح کرتی ہے کہ اس کے نتائج کس قدر بُرے اور نحس ہوتے ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: کہ یہ آیت "ربّ بما انعمت علی فلن اکون ظھیرا للمجرمین" من جملہ ان آیات کے ہے جو یہ گواہی دیتی ہیں کہ مجرمین کی مدد کرنا جُرم و گناہ ہے اور مومنین کی اعانت کرنا فرمانِ الہٰی کی اطاعت ہے کہتے ہیں کہ لوگوں نے کسی عالم سے کہا کہ: "فلاں آدمی فلاں ظالم کا محرّر ہو گیا ہے اور صرف اُس کی آمدنی اور خرچ کا حساب لکھتا ہے۔ اگر وہ اِس کام کے معاوضے میں کچھ معاوضہ لے تو اُس کی گزر بسر ہو جائے گی ورنہ وہ خود اور اُس کے عیال فقر و فاقہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔" اُس عالم نے اس سوال کے جواب میں صرف ایک جملہ کہا: کیا تم نے اُس مرد صالح (حضرت موسٰی (علیه السلام) ) کا قول نہیں سنا؟ ربّ بما انعمت علیّ فلن اکون ظھیرا للمجرمین خداوندا! اِن نعمتوں کے شکرانے میں جو تو نے مجھے بخشی ہیں، میں ہرگز مجرمین کی اعانت نہیں کروں گا۔ (بحوالہ: ظالموں کی اعانت کے بارے میں ہم پہلے ہی دو تفصیل احادیث ذکر کر چکے ہیں۔ دیکھئے تفسیر نمونہ ج٣، سورہ مائدہ کی آیت۲ کی تفسیر کے ذیل میں اور ج٥ سورہ ہود کی آیت ۱۱۳ کی تفسیر کے ذیل میں)۔

18
28:18
فَأَصۡبَحَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِي ٱسۡتَنصَرَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهُۥۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِيّٞ مُّبِينٞ
موسیٰ نے شہر میں بحالت خوف صبح کی جبکہ ہر لحظہ وہ کسی حادثہ(اور کسی خبر کے) انتظار میں تھا۔ ناگہاں اس نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی آج پھر اسے پکار رہا ہے اور اس سے نصرت طلب کر رہا ہے۔موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو واضح طور پر گمراہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
28:19
فَلَمَّآ أَنۡ أَرَادَ أَن يَبۡطِشَ بِٱلَّذِي هُوَ عَدُوّٞ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقۡتُلَنِي كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسَۢا بِٱلۡأَمۡسِۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلۡمُصۡلِحِينَ
پس جب اس (موسیٰ) نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو، جو ان دونوں کا دشمن تھا ٗپکڑ ے تو اس نے کہا اے موسیٰ:کیا تو آج مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا ؟کیا تو چاہتا ہے کہ تو زمین میں ظالم بن کر رہے اور کیا تو مصلحین میں سے نہیں ہونا چاہتا ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
28:20
وَجَآءَ رَجُلٞ مِّنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلۡمَلَأَ يَأۡتَمِرُونَ بِكَ لِيَقۡتُلُوكَ فَٱخۡرُجۡ إِنِّي لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ
(اس وقت)ایک شخص شہر کے دور کے حصہ سے (فرعونیوں کے مرکز) سے تیزی سے آیا اور کہا: کہ اے موسیٰ سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں پس تو فوراً شہر سے نکل جا کہ میں تیرا خیر خواہ ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
28:21
فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
پس وہ(موسیٰ) شہر سے ڈرتے ہوئے نکلا اور اسے ہر لحظہ کسی حادثے کا کھٹکا تھا۔(اس نے خدا سے دعا کی) اور کہا: اے میرے رب ! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
28:22
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يَهۡدِيَنِي سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا: مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے راہ راست کی ہدایت فرمائے گا۔

تفسیر موسٰی (علیه السلام) کی مخفیانہ مدین کی طرف روانگی:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ان آیات میں اس پُر حوادث سرگذشت کا چوتھا حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ فرعونیوں میں سے ایک آدمی کے قتل کی خبر شہر میں بڑی تیزی سے پھیل گئی۔ قرائن سے شاید لوگ یہ سمجھ گئے تھے کہ اُس کا قاتل ایک بنی اسرائیل ہے اور شاید اس سلسلے میں لوگ موسٰی (علیه السلام) کا نام بھی لیتے تھے۔ البتہ یہ قتل کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اسے انقلاب کی ایک چنگاری یا اُس کا مقدمہ شمار کیا جاتا تھا۔ اور حکومت کی مشینری اُسے ایک معمولی واقعہ سمجھ کر اُسے چھوڑنے والی نہ تھی کہ بنی اسرائیل کے غلام اپنے آقاؤں کی جان لینے کا ارادہ کرنے لگیں۔ لہذا ہم زیر بحث پہلی ہی آیت میں یہ پڑھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد موسٰی شہر میں ڈر رہے تھے اور ہر لحظ اُنہیں کسی حادثے کا کھٹکا تھا اور وہ نئی خبروں کی جستجو میں تھے: (فاصبح فی المدینة خائفاً یترقب)۔ (تشریحی نوٹ: "یترقب" کا مادہ "ترقب" ہے۔ اس کا معنی ہے "انتظار کرنا" اس مقام پر موسٰی (علیه السلام) اُس حادثے کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے اور جاننا چاہتے تھے کہ شہر میں کیا خبر ہے۔ یہ جملہ بلحاظ اعراب ایک خبر کے بعد خبر ہے اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حال کے بعد حال ہے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے)۔ ناگہاں انہیں ایک معاملہ پیش آیا۔ آپ نے دیکھا کہ وہی بنی اسرائیل جس نے گزشتہ روز اُن سے مدد طلب کی تھی اُنھیں پھر پکار رہا تھا اور مدد طلب کر رہا تھا (وہ ایک اور قبطی سے لڑ رہا تھا): (فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ) (تشریحی نوٹ: "یستصرخ" کا مادہ "استصراخ" ہے جس کے معنی ہیں مدد کے لیے پکارنا۔ حقیقت میں اس کے معنی شور مچانے کے ہیں اور شور مچانا مدد مانگنے کے لیے لازم ہے)۔ لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اُس سے کہا کہ تو آشکارا طور پر ایک جاہل اور گمراہ شخص ہے: (قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ)۔ تو ہر روز کسی نہ کسی سے جھگڑ پڑتا ہے اور اپنے لیے مصیبت پیدا کر لیتا ہے اور ایسے کام شروع کر دیتا ہے، جن کا ابھی موقع ہی نہیں ہے۔ کل جو کچھ گُزری ہے میں تو ابھی اُس کے عواقب کا انتظار کر رہا ہوں۔ اور تُو نے وہی کام از سرنو شروع کر دیا ہے۔ بہرحال، وہ ایک مظلوم تھا جو ایک ظالم کے پنجے میں پھنسا ہوا تھا (خواہ ابتداء اُس سے کچھ قصور ہوا ہو یا نہ ہوا ہو) اِس لیے حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ اُس کی مدد کریں اور اُسے اُس قبطی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ لیکن جیسے ہی حضرت موسٰی (علیه السلام) نے یہ ارادہ کیا کہ اُس قبطی آدمی کو (جو اُن دونوں کا دشمن تھا) پکڑ کر اُس بنی اسرائیل سے جُدا کریں: وہ قبطی چلّایا، اُس نے کہا: اے موسٰی! کیا تو مجھے بھی اُسی طرح قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا: (فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ)۔ تیری حرکات سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ تُو زمین پر ایک ظالم بن کر رہے گا اور یہ نہیں چاہتا کہ مصلحین میں سے ہو: (إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ) (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اس اسرائیلی شخص کا جملہ ہے کہ جس نے گمان کیا تھا۔ موسٰی (علیه السلام) اسے قتل کرنا چاہتے ہیں‘ تاہم آیت میں ایسے اشارے موجود ہیں جو اس مفہوم کی نفی کرتے ہیں)۔ اِس جُملے سے یہ معلوم ہوتا ہے ک حضرت موسٰی (علیه السلام) نے فرعون کے محل اور اُس کے باہر ہر دو جگہ اپنے مصلحانہ خیالات کا اظہار شروع کر دیا تھا۔ بعض رویات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اِس موضوع پر اُن کے فرعون سے اختلاتات بھی پیدا ہو گئے تھے۔ اسی لیے تو اُسی قبطی آدمی نے یہ کہا: یہ کیسی اصلاح طلبی ہے کہ تو ہر روز ایک آدمی کو قتل کرتا ہے؟ حالانکہ اگر حضرت موسٰی (علیه السلام) کا یہ ارادہ ہوتا کہ اُس ظالم کو بھی قتل کر دیں تو یہ بھی راہ اصلاح میں ایک قدم ہوتا۔ بہرکیف، حضرت موسٰی (علیه السلام) کو یہ احساس ہوا کہ گزشتہ روز کا واقعہ طشت ازبام ہو گیا ہے اور اِس خوف سے کہ اور زیادہ مشکلات پیدا نہ ہوں، اُنھوں نے اِس معاملے میں دخل نہ دیا۔ اِس واقعے کی فرعون اور اُس کے اہل دربار کو اطلاع پینچ گئی۔ اُنھوں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) سے اِس عمل کے مکرّر سرزد ہونے کو اپنی شانِ سلطنت کے لیے ایک تہدید سمجھا۔ وہ ہاہم مشورے کے لیے جمع ہوئے اور حضرت موسٰی (علیه السلام) کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ اُس وقت ایک غیر متوقع واقعے نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کو موت سے نجات بخشی۔ ہوا یوں کہ ایک آدمی شہر کے دُور دراز حصّے سے (جہاں فرعون اور اُس کے اہل خانہ رہتے تھے) تیزی کے ساتھ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے پاس آیا اور اُنھیں مطلع کیا کہ آپ کو قتل کرنے کا مشورہ ہو رہا ہے، آپ فوراً شہر سے نکل جائیں، میں آپ کا خیر خواہ ہوں: (وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَا مُوسَى إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ)۔ یہ آدمی بظاہر وہی تھا جو بعد میں "مومن آل فرعون" کے نام سے مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس کا نام حزقیل تھا۔ وہ فرعون کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا اور اُن لوگوں سے اُس کے ایسے قریبی روابط تھے کہ ایسے مشوروں میں شریک ہوتا تھا۔ اُسے فرعون کے جرائم اور اُس کی کرتوتوں سے بڑا دُکھ ہوتا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کوئی شخص اُس کے خلاف بغاوت کرے اور وہ اس کارِ خیر میں شریک ہو جائے۔ بظاہر وہ حضرت موسٰی (علیه السلام) سے یہ آس لگائے ہوئے تھا اور اُن کی پیشانی میں من جانب اللہ ایک انقلابی ہستی کی علامات دیکھ رہا تھا اِسی وجہ سے جیسے ہی اُسے یہ احساس ہوا کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) خطرے میں ہیں، نہایت سُرعت سے اُن کے پاس پہنچا اور اُنھیں خطرے سے بچا لیا۔ ہم بعد میں دیکھیں گے کہ وہ شخص صرف اسی واقعے میں نہیں، بلکہ دیگر خطرناک مواقع پر بھی حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لیے بااعتباد ہمدرد ثابت ہوا۔ فرعون کے محل میں وہ بنی اسرائیل کے لیے گویا ایک دیدہ تیزبین تھا۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس خبر کو قطعی درست سمجھا اور اس ایماندار آدمی کی خیر خواہی کو بہ نگاہ قدر دیکھا اور اُس کی نصیحت کے مطابق شہر سے نکل گئے۔ اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ہر گھڑی انہیں کسی حادثے کا کھٹکا تھا (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ)۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے نہایت خضُوع قلب کے ساتھ متوجہ الی اللہ ہو کر اس بلا کو ٹالنے کے لیے اُس کے لطف و کرم کی درخواست کی اے میرے پروردگار! تو مجھے اس ظالم قوم سے رہائی بخش: (قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)۔ میں جانتا ہوں کہ وہ ظالم اور بےرحم ہیں۔ میں تو مظلوموں کی مدافعت کر رہا تھا اور ظالموں سے میرا کچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے میں نے اپنی توانائی کے مطابق مظلوموں کو ظالموں کے شر سے دُور کیا ہے تو بھی اے خدائے بزرگ! ظالموں کے شر کو مُجھ سے دُور رکھ۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے پختہ ارادہ کر لیا وہ شہر مدین کو چلے جائیں۔ یہ شہر شام کے جنوب اور حجاز کے شمال میں تھا اور قلم رومصر اور فراعنہ کی حکومت میں شامل نہ تھا۔ لیکن وہ جوان جو محل کے اندر ناز و نعم میں پلا تھا۔ ایک ایسے سفر پر روانہ ہو رہا تھا جیسا کہ سفر اُسے کبھی زندگی بھر پیش نہ آیا تھا۔ اُس کے پاس نہ زاد راہ تھا، نہ توشئہ سفر، نہ کوئی سواری، نہ رفیق راہ اور نہ کوئی راستہ بتانے والا ہر دم یہ خطرہ لاحق تھا کہ حکومت کے اہلکار مجھ تک پہنچ جائیں اور پکڑ کے قتل کر دیں اِس حالت میں ظاہر ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کا کیا حال ہو گا۔ لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لیے یہ مقدر ہو چکا تھا کہ وہ سختی اور شدّت کے دنوں کو پیچھے چھوڑ دیں اور قصر فرعون اُنھیں جس جال میں پھنسانا چاہتا تھا اُسے توڑ کر باہر نکل آئیں اور وہ کمزور اور ستم دیدہ لوگوں کے پاس رہیں۔ اُن کے درد و غم کا یہ شدّت احساس کریں اور مستکبرین کے خلاف اُن کی منفعت کے لیے بحکم الہٰی قیام فرمائیں۔ اِس طویل، بےزاد و راحلہ اور بےرفیق و رہنما سفر میں ایک عظیم سرمایہ اُن کے پاس تھا اور وہ تھا ایمان اور توّکل بَر خدا۔ لہذا جب وہ مدین کی طرف چلے تو کہا: خدا سے اُمید ہے کہ وہ مجھے راہِ راست کی طرف ہدایت کرے گا: (وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَى رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ) (تشریحی نوٹ: "تلقاء" مصدر یا اسم مکان ہے اور اس جگہ سمت یا جانب کے معنٰی میں آیا ہے)۔

23
28:23
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ أُمَّةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسۡقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمۡرَأَتَيۡنِ تَذُودَانِۖ قَالَ مَا خَطۡبُكُمَاۖ قَالَتَا لَا نَسۡقِي حَتَّىٰ يُصۡدِرَ ٱلرِّعَآءُۖ وَأَبُونَا شَيۡخٞ كَبِيرٞ
اور جب موسیٰ مدین میں پانی(کے کنویں ) کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ لوگ اپنے چوپایوں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں اپنی بکریوں کو لئے کھڑی ہیں۔(کنویں کے نزدیک نہیں آتیں ) ان سے موسیٰ نے پوچھا: تمہیں کیا مسئلہ در پیش ہے ؟ ان دونوں نے کہا کہ ہم انہیں اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک تمام چرواہے یہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہمارا والد بہت ہی بوڑھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
28:24
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَآ أَنزَلۡتَ إِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٖ فَقِيرٞ
پس موسیٰ نے ان کو پانی پلایا پھر وہ سائے کی جگہ جا بیٹھا اور کہا :پروردگارا ! تو مجھے جو بھی نعمت عطا فرمائے گا میں اس کا حاجت مند ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
28:25
فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيۡهِ ٱلۡقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفۡۖ نَجَوۡتَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
ان میں سے ایک حیا اور شرم کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی اور کہا: میرے والد تجھے بلاتے ہیں تاکہ تو نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا تھا اس کی تجھے اجرت دیں۔ پس موسیٰ اس (شعیب)کے پاس آئے اس سے تمام ماجرا بیان کیا۔ شعیب نے کہا کہ ڈر نہیں تو نے ظالموں سے نجات پالی ہے۔

تفسیر ایک نیک عمل نے موسٰی (علیه السلام) پر بھلائیوں کے دروازے کھول دیئے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس مقام پر ہم اس سرگذشت کے پانچویں حصے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ موقع یہ ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) شہر مدین میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ جوان پاکباز انسان کئی روز تک تنہا چلتا رہا۔ یہ راستہ وہ تھا جو نہ کبھی اُس نے دیکھا تھا اسے طے کیا تھا۔ بعض لوگوں کے قول کے مطابق حضرت موسٰی (علیه السلام) مجبور تھے کہ پا برہنہ راستہ طے کریں۔ بیان کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھ روز تک چلتے رہے۔ یہاں تک کہ چلتے چلتے ان کے پاؤں میں آبلے پڑ گئے۔ جب بھُوک لگتی تھی تو جنگل کی گھاس اور درختوں کے پتے کھا لیتے تھے۔ اِن تمام مشکلات اور زحمات میں صرف ایک خیال سے اُن کے دل کو راحت رہتی تھی کہ اُنھیں فرعون کے پنجہ ظلم سے رہائی مل گئی ہے۔ رفتہ رفتہ اُنھیں افق میں شہر مدین کا منظر نظر آنے لگا۔ اُن کے دل میں آسودگی کی ایک لہر اٹھنے لگی۔ وہ شہر کے قریب پہنچے۔ اُنہوں نے لوگوں کا ایک انبوہ دیکھا۔ وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ لوگ چرواہے ہیں کہ جو کنویں کے پاس اپنی بھیڑوں کو پانی پلانے آئے ہیں۔ جب موسٰی (علیه السلام) کنویں کے قریب آئے تو اُنھوں نے وہاں بہت سے آدمیوں کو دیکھا جو کنویں سے پانی بھر کے اپنے جوپایوں کو پلا رہے تھے۔ (وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ)۔ اُنھوں نے اس کنویں کے پاس دو عورتوں کو دیکھا وہ اپنی بھیڑوں کو لیے کھڑی تھیں۔ مگر کنویں کے قریب نہیں آتی تھیں۔ (و َوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ) (تشریحی نوٹ: "تذدوان" کا مادہ "زود" ہے۔ اس کے معنی ہیں منع کرنا، روکنا، وہ لڑکیاں نگرانی کر رہی تھیں کہ اُن کی بھیڑیں بھاگ نہ جائیں یا دوسرے لوگوں کی بھیڑوں میں نہ مل جائیں)۔ اِن باعفت لڑکیوں کی حالت قابل رحم تھی جو ایک گوشے میں کھڑی تھیں اور کوئی بھی اُن سے انصاف نہیں کرتا تھا۔ چرواہے صرف اپنی بھیڑوں کی فکر میں تھے اور کسی اور کو موقع نہیں دیتے تھے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اِن لڑکیوں کی یہ حالت دیکھی تو اُن کے نزدیک آئے اور پوچھا: تم یہاں کیسے کھڑی ہو: (قَالَ مَا خَطْبُكُمَا) (تشریحی نوٹ: "خطب" بمعنی کام مقصد)۔ تم آگے کیوں نہیں بڑھتیں اور اپنی بھیڑوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں؟ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لئے یہ حق کشی، ظلم و ستم بے عدالتی اور مظلوموں کے حقوق کے عدم پاسداری جو اُنھوں نے شہر مدین میں دیکھی، قابل برداشت نہ تھی۔ مظلوموں کو ظلم سے بچانا اُن کی فطرت تھی۔ اِسی وجہ سے اُنھوں نے فرعون کے محل اور اس کی نعمتوں کو ٹھکرا دیا تھا اور وطن سے بےوطن ہو گئے تھے۔ وہ اپنی اِس روش حیات کو ترک نہیں کر سکتے تھے اور ظلم کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ لڑکیوں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) سے جواب میں کہا: ہم اُس وقت تک اپنی بھیڑوں کو پانی نہیں پلا سکتیں، جب تک تمام چرواہے اپنے حیوانات کو پانی پلا کر نکل نہ جائیں: (قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّى يُصْدِرَ الرِّعَاءُ) (تشریحی نوٹ: "یصدر" مشتق ہے "صدر" سے اس کے معنی ہیں "خارج ہونا" اور "رعاء" جمع "راعی" کی بمعنی چوپان)۔ اُن لڑکیوں نے اس بات کی وضاحت کے لیے اِن باعفت لڑکیوں کے باپ نے اُنھیں تنہا اِس کام کے لیے کیوں بھیج دیا ہے، یہ بھی اضافہ کیا کہ ہمارا باپ نہایت ضعیف العمر ہے: (وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ)۔ نہ تو اُس میں اتنی طاقت ہے کہ بھیڑوں کو پانی پلا سکے اور نہ ہمارا کوئی بھائی ہے جو یہ کوئی کام کر لے۔ اِس خیال سے کہ کسی پر بار نہ ہوں۔ ہم خود ہی یہ کام کرتی ہیں۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو یہ باتیں سُن کر بہت کوفت ہوئی اور دل میں کہا کہ یہ کیسے بےانصاف لوگ ہیں کہ اُنھیں صرف اپنی فکر ہے اور کسی مظلوم کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ آگے آئے، بھاری ڈول اُٹھایا اور اُسے کنوئیں میں ڈالا۔ کہتے ہیں کہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا کہ چند آدمی مل کر اُسے کھینچ سکتے تھے۔ لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اپنے قوی بازوؤں سے اُسے اکیلے ہی کھینچ لیا اور اُن دونوں عورتوں کی بھیڑوں کو پانی پلایا: (فَسَقَى لَهُمَا)۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت موسٰی (علیه السلام) کنویں کے قریب آئے اور لوگوں کو ایک طرف کیا تو اُن سے کہا: "تم کیسے لوگ ہو کہ اپنے سوا کسی اور کی پرواہ نہیں کرتے"۔ یہ سُن کر لوگ ایک طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسٰی (علیه السلام) کے حوالے کر کے بولے: "لیجئے، بسم اللہ، اگر آپ پانی کھینچ سکتے ہیں۔ اُنھوں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کو تنہا چھوڑ دیا۔ لیکن حضرت موسٰی (علیه السلام) اُس وقت اگرچہ تھکے ہوئے تھے اور اُنہیں بھُوک لگ رہی تھی مگر قوت ایمانی اُن کی مددگار ہوئی، جس نے اُن کی جسمانی قوت میں اضافہ کر دیا اور کنویں سے ایک ہی ڈول کھینچ کر اُن دونوں عورتوں کی بھیڑوں کو پانی پلا دیا۔ اس کے بعد حضرت موسٰی (علیه السلام) سائے میں آ بیٹھے۔ اور بارگاہِ ایزدی میں عرض کرنے لگے: خداوندا! تُو مجھے جو بھی خیر اور نیکی بخشے، میں اس کا محتاج ہوں: (ثُمَّ تَوَلَّى إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ)۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) (اس وقت) تھکے ہوئے اور بھُوکے تھے۔ اُس شہر میں اجنبی اور تنہا تھے اور اُن کے لیے کوئی سر چھپانے کی جگہ بھی نہ تھی۔ مگر پھر بھی وہ بےقرار نہ تھے۔ آپ کا نفس ایسا مطمئن تھا کہ دعا کے وقت بھی یہ نہیں کہا کہ "خدایا تو میرے لیے ایسا یا ویسا کر" بلکہ یہ کہا کہ: "تو جو خبر بھی مجھے بخشے میں اُس کا محتاج ہوں۔" یعنی صرف اپنی احتیاج اور نیاز کو عرض کرتے ہیں اور باقی امور الطافِ خداوندی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن___ دیکھو کہ کارِ خیر کیا قُدرت نمائی کرتا ہے اور اُس میں کتنی عجیب برکات ہیں۔ صرف لوجہ اللہ ایک قدم اُٹھانے اور ایک ناآشنا مظلوم کی حمایت میں کنویں سے پانی کے ایک ڈول کھینچنے سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی میں ایک نیا باب کُھل گیا اور یہ عملِ خیر اُن کے لیے برکات مادّی اور رُوحانی کی ایک دُنیا بطور تحفہ لایا۔ اور وہ ناپیدا نعمت (جس کے حصول کے لیے اُنھیں برسوں کوشش کرنا پڑتی) اللہ نے اُنھیں بخش دی۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے لیے اس خوش نصیبی کا دَور اُس وقت شروع ہوا جب اُنھوں نے یہ دیکھا کہ ان دونوں بہنوں میں سے ایک نہایت حیا سے قدم اُٹھاتی ہوئی آ رہی تھی۔ اُس کی وضع سے ظاہر تھا کہ اُسے ایک جوان سے باتیں کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ وہ لڑکی حضرت موسٰی (علیه السلام) کے قریب آئی اور صرف ایک جملہ کہا: میرے والد صاحب آپ کو بُلاتے ہیں تاکہ آپ نے ہماری بکریوں کے لیے کنویں سے جو پانی کھینچا تھا، اُس کا معاوضہ دیں: (فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا)۔ یہ سُن کر حضرت موسٰی (علیه السلام) کے دل میں اُمید کی بجلی چمکی۔ گویا اُنھیں یہ ادراک ہوا کہ اُن کے لیے ایک عظیم خوش نصیبی کے اسباب فراہم ہو رہے ہیں۔ وہ ایک بزرگ انسان سے ملیں گے۔ وہ ایک ایسا حق شناس انسان معلوم ہوتا ہے جو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ انسان کی کسی زحمت کا یہاں تک کہ پانی کے ایک ڈول کھیچنے کا بھی معاوضہ نہ دے۔ یہ ضرور کوئی ملکوتی اور الہٰی انسان ہو گا۔ یاللہ! یہ کیسا عجیب اور نادر موقع ہے! بیشک وہ پیر مرد حضرت شعیب (علیه السلام) پیغمبر تھے۔ اُنہوں نے برسوں تک اِس شہر کے لوگوں کو رجوع الی اللہ کی دعوت دی تھی۔ وہ حق پرستی اور حق شناسی کا نمونہ تھی۔ جب حضرت شعیب (علیه السلام) نے یہ دیکھا کہ آج میری لڑکیاں ہر روز کے معمول سے قبل گھر آ گئی ہیں تو اُنھوں نے لڑکیوں سے اس کا سبب پُوچھا۔ جب اُنھیں کُل واقعے کا علم ہوا تو اُنھوں نے تہیہ کر لیا کہ اُس اجنبی جوان کو اپنے دین کی تبلیغ کریں گے۔ چنانچہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اُس جگہ سے حضرت شعیب (علیه السلام) کے مکان کی طرف روانہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق وہ لڑکی رہنمائی کے لیے اُن کے آگے آگے چل رہی تھی اور حضرت موسٰی (علیه السلام) اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ اُس وقت تیز ہوا سے اُس لڑکی کا لباس اُڑ رہا تھا اور ممکن تھا کہ ہوا کی تیزی لباس کو اُس کے جسم سے اُٹھا دے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی پاکیزہ طبیعت اس منظر کو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اِس لیے اُنھوں نے لڑکی سے کہا کہ میں آگے آگے چلتا ہوں۔ تم کسی دوراہے یا چند راہے پر مجھے راستہ بتا دینا۔ (تشریحی نوٹ: ابوالفتوح رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ چنانچہ حضرت موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) کے گھر پہنچ گئے۔ ایسا گھر جس سے نُورِ نبوّت ساطع تھا اور اس کے ہر گوشے سے رُوحانیت نمایاں تھی اُنھوں نے دیکھا کہ ایک پیر مرد، جس کے بال سفید ہیں ایک گوشے میں بیٹھا ہے۔ اُس نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کو خوش آمدید کہا۔ اور پوچھا: "تم کون ہو؟ کہں سے آ رہے ہو؟ کیا کرتے ہو؟ اس شہر میں کیا کرتے ہو؟ اور آنے کا مقصد کیا ہے؟ تنہا کیوں ہو؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی پوری داستان سنائی۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ جب موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) کے پاس پہنچے اور اُنھیں اپنی سرگذشت سُنائی تو حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا مت ڈرو، تمہیں ظالموں کے گروہ سے نجات مل گئی ہے: (فَلَمَّا جَائَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)۔ ہماری سرزمین ان کی حدود سلطنت سے باہر ہے۔ یہاں اُن کا کوئی اختیار نہیں چلتا ہے۔ اپنے دل میں ذرّہ بھر پریشانی کو جگہ نہ دینا۔ تم امن و امان سے پہنچ گئے ہو۔ مسافرت اور تنہائی کا بھی غم نہ کرو۔ یہ تمام مشکلات خدا کے کرم سے دُور ہو جائیں گی۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) فوراً سمجھ گئے کہ اُنھیں ایک عالی مرتبہ اُستاد مل گیا ہے، جس کے وجُود سے رُوحانیت، تقویٰ، اور معرفت اور زلالِ عظیم کے چشمے پُھوٹ رہے ہیں اور یہ اُستاد اُن کی تشنگی تحصیل علم و معرفت کو سیراب کر سکتا ہے۔ حضرت شعیب (علیه السلام) نے بھی یہ سمجھ لیا کہ اُنھیں ایک لائق اور مستعد شاگرد مل گیا ہے، جیسے وہ اپنے علم و دانش اور زندگی بھر کے تجربات سے فیض یاب کر سکتے ہیں۔ یہ مٗسلّم ہے کہ ایک شاگرد کو جس قدر ایک بزرگ اور قابل اُستاد پا کر جتنی مسرّت ہوتی ہے، اُستاد کو بھی ایک لائق شاگرد پا کر اُتنی ہی خوشی ہوتی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ مدین کہاں تھا؟

"مدین" ایک شہر کا نام تھا جس میں حضرت شعیب (علیه السلام) اور اُن کا قبیلہ رہتا تھا۔ یہ شہر خلیج عقبہ کے مشرق میں تھا (یعنی حجاز کے شمال اور شامات کے جنوب میں) وہاں کے باشندے حضرت اسماعیل (علیه السلام) کی نسل سے تھے۔ وہ مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت کرتے تھے۔ آج کل اس شہر کا نام معان ہے۔ بعض لوگ کلمہ "مدین" کا اطلاق اُس قوم پر کرتے ہیں جو خلیج عقبہ سے کوہ سینا تک سکونت پذیر تھی۔ توریت میں بھی اِس قوم کو "مدیان" کہا گیا ہے۔ بعض اہل تحقیق نے اس شہر کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا ایک بیٹا جس کام "مدین" تھا اِس شہر میں رہتا تھا۔ اگر جغرافیائی نقشے کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کا مصر سے کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے اِس لیے حضرت موسٰی (علیه السلام) چند روز میں وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔ ملک اُردن کے جغرافیائی نقشہ میں، جنوب غربی شہروں میں سے ایک شہر "معان" نام کا ملتا ہے، جس کا محل وقوع ہمارے مذکورہ بالا بیان کے مطابق ہے۔

۲۔ بہت سی سبق آموز باتیں

حضرت موسٰی (علیه السلام) کی سرگذشت کے اس حصّے میں بکثرت سبق آموز باتیں ہیں: (ا) پیمبرانِ خدا ہمیشہ مظلوموں کے حامی رہے ہیں۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) اُس زمانے میں بھی جبکہ وہ مصر میں تھے اور اُس وقت بھی جبکہ وہ مدین میں آ گئے، غرض جہاں بھی وہ ظلم و ستم کا منظر دیکھتے تھے بےچین ہو جاتے تھے۔ اُن کا یہ عمل عین حق تھا کیونکہ بعثتِ انبیاء سے خدا کا ایک مقصد یہ بھی ہے۔ (ب) بعض اوقات انسان کا معمولی خیر کتنا پُربرکت ثابت ہوتا ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے کنویں سے پانی کا صرف ایک ڈول کھینچا۔ اِس عمل سے اُن کا مقصد رضائے الہٰی کے حصول کے علاوہ، کچھ نہ تھا لیکن یہ چھوٹا سا کام کس قدر پُربرکت ثابت ہوا! کیونکہ یہی عملِ خیر اس امر کا سبب ہوا کہ وہ پیغمبر خدا حضرت شعیب (علیه السلام) کے مکان پر پہنچ گئے۔ اُنھیں احساس مسافرت سے نجات ملی اور ایک اطمینان بخش پناہ گاہ مل گئی۔ اُنھیں غذا، لباس اور ایک پاکدامن زوجہ بھی نصیب ہوئی۔ علاوہ بریں، افضل ترین نعمت نصیب ہوئی کہ وہ دس سال کی مدّت تک حضرت شعیب (علیه السلام) جیسے پیرِ روشن ضمیر کے انسان ساز مکتب تربیت میں رہ کر مخلوق کی رہبری کے لیے تیار ہو گئے۔ (ج) مردانِ خدا کسی کی خدمت کو بھی بالخصوص مزدوروں کی خدمت کو بےاجر و بےمعاوضہ نہیں رہنے دیتے۔ اسی وجہ سے جب حضرت شعیب (علیه السلام) نے اس اجنبی جوان کے متعلق سُنا کہ اس نے میری بھیڑوں کو پانی پلایا ہے تو چین سے نہ بیٹھے۔ فوراً اپنی بیٹی کو اُس کی تلاش میں بھیجا تاکہ اُس کی مزدوری ادا کریں۔ (د) حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی میں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ ہمیشہ یادِ خدا میں مشغول رہتے تھے اور ہر مشکل کے حل کے لیے اُسی سے دُعا کرتے تھے۔ جس وقت ایک قبطی اُن کے ہاتھ سے مارا گیا اورترکِ اُولیٰ سرزد ہوا تو اُنھوں نے خدا سے فوراً عفو اور مغفرت کی دعا کی: قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی خدایا میں نے اپنے اُوپر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف کر دے۔ اور جس وقت وہ ملک مصر سے باہر آئے تو دُعا کی: قال ربّ نجنی من القوم الظالمین خدایا تو مجھے اس ستمگار قوم سے نجات دے۔ اور جس وقت وہ شہر مدین کی طرف روانہ ہوئے تو متوجہ الی اللہ ہو کر کہا: قال عسٰی ربّی ان یھدینی سوَآءَ السّبیل مجھے اُمید ہے کہ خدا مجھے راہِ راست کی ھدایت کرے گا۔ اور جس وقت حضرت شعیب کی بھیڑوں کو سیراب کیا اور سائے میں آرام کرنے لگے تو خدا سے عرض کیا: فقال ربّ انّی لما انزلت الّی من خیر فقیر اے پروردگار تو مجھے نعمت عطا کرے گا میں اُس کا محتاج ہوں۔ خصوصا یہ آخری دُعا جو اُنھوں نے زندگی کے بُحرانی ترین وقت میں مانگی، نہایت مؤدبانہ، پُراطمینان اور سکون آمیز تھی اُنھوں نے یہ نہیں کہا کہ خدایا میری حاجات کو روا فرما۔ بلکہ صرف یہ کہا کہ___" میں تیرے احسان اور خیر کا محتاج ہوں"۔ (ر) یہ خیال نہ کیا جائے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) صرف سختی کے وقت ہی خدا کو یاد کرتے تھے بلکہ قصر فرعون میں بھی جبکہ اُن کا وقت نازو لغم میں گزر رہا تھا وہ خدا کو نہ بُھولے۔ ہم رویات میں پڑھتے ہیں کہ ایک روز فرعون کے سامنے اُنھیں چھینک آ گئی۔ تو اُنھوں نے فورًا "الحمد اللہ رب العالمین" کہا۔ فرعون یہ بات سُن کر ناراض ہو گیا اور اُن کے ایک تھپڑ مارا۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے بھی جواب میں اُس کی لمبی داڑھی پکڑ کر کھینچی۔ فرعون کو اِس پر سخت غصّہ آیا اور اُنھیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا مگر اُس کی بیوی نے اُنھیں یہ کہہ کر بچا لیا کہ یہ ابھی بچّہ ہے اُسے ابھی کیا پتہ" (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۴، صفحہ ۱۱۷)۔

26
28:26
قَالَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسۡتَـٔۡجِرۡهُۖ إِنَّ خَيۡرَ مَنِ ٱسۡتَـٔۡجَرۡتَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡأَمِينُ
ان میں سے ایک نے کہا :کہ ابا جان آپ اسے ملازم رکھ لیجئے۔ کیونکہ بہترین ملازم جو آپ رکھ سکیں اسے توانا اور امین ہونا چاہئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
28:27
قَالَ إِنِّيٓ أُرِيدُ أَنۡ أُنكِحَكَ إِحۡدَى ٱبۡنَتَيَّ هَٰتَيۡنِ عَلَىٰٓ أَن تَأۡجُرَنِي ثَمَٰنِيَ حِجَجٖۖ فَإِنۡ أَتۡمَمۡتَ عَشۡرٗا فَمِنۡ عِندِكَۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أَشُقَّ عَلَيۡكَۚ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
(شعیب نے) موسیٰ سے کہا: کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹیوں میں سے ایک کا تم سے نکا ح کر دوں اسی شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو گے اور اگر دس سال پورے کرو تو وہ تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔ میں تم سے کوئی سخت کام لینا نہیں چاہتا۔ انشاء اللہ تم مجھے صالحین میں سے پاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
28:28
قَالَ ذَٰلِكَ بَيۡنِي وَبَيۡنَكَۖ أَيَّمَا ٱلۡأَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَٰنَ عَلَيَّۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ
(موسیٰ نے) کہا!(کوئی حرج نہیں البتہ) میرے اور تمہارے درمیان یہ عہد ہے کہ میں ان(دونوں ) مدتوں میں سے جو بھی تمام کر دوں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی اور ہم جو معاہدہ کر رہے ہیں خدا اس پر گواہ ہے۔

تفسیر حضرت موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) کے گھر میں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اَب حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے چھٹے دور کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) جناب شعیب (علیه السلام) کے گھر آ گئے۔ یہ ایک سادہ سا دیہاتی مکان تھا، مکان صاف سُتھرا تھا۔ اور رُوحانیت سے معمور تھا۔ جب حضرت موسٰی (علیه السلام) نے جناب شعیب (علیه السلام) کو اپنی سرگذشت سُنائی تو اُن کی ایک لڑکی نے ایک مختصر مگر پُر معنی عبارت میں اپنے والد کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ موسٰی (علیه السلام) کو بھیڑوں کی حفاظت کے لیے ملازم رکھ لیں۔ وہ الفاظ یہ تھے: اے بابا! آپ اس جوان کو ملازم رکھ لیں۔ کیونکہ ایک بہرین آدمی جسے آپ ملازم رکھ سکتے ہیں، وہ ایسا ہونا چاہیے جو قوی اور امین ہو اور اس نے اپنی طاقت اور نیک خصلت دونوں کا امتحان دے دیا ہے: (قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ)۔ جس لڑکی نے ایک پیغمبر کے زیر سایہ تربیت پائی ہو اُسے ایسی ہی مؤدبانہ اور سوچی سمجھی بات کہنی چاہیے نیز چاہیے کہ مختصر الفاظ اور تھوڑی سی عبارت میں اپنا مطلب ادا کر دے۔ اس لڑکی کو کیسے معلوم تھا کہ یہ جوان طاقتور بھی ہے اور نیک خصلت بھی۔ کیونکہ اس نے پہلی بار کنویں پر ہی اُسے دیکھا تھا اور اُس کی گزشتہ زندگی کے حالات سے وہ بےخبر تھی؟ اِس سوال کا جواب واضح ہے۔ اُس لڑکی نے اُس جوان کی قوت کو تو اُسی وقت سمجھ لیا تھا جب اُس نے اِن مظلوم لڑکیوں کا حق دلانے کے لیے چرواہوں کو کنویں سے ایک طرف ہٹایا تھا۔ اور اُس بھاری ڈول کو اکیلے ہی کنویں سے کھینچ لیا تھا اور اُس کی امانت اور نیک چلنی اس وقت معلوم ہو گئی تھی کہ حضرت شعیب (علیه السلام) کے گھر کی راہ میں اُس نے یہ گوارا نہ کیا کہ ایک جوان لڑکی اُس کے آگے آگے چلے۔ کیونکہ ممکن تھا کہ تیز ہوا سے اُس کا لباس جسم سے ہٹ جائے۔ (تشریحی نوٹ: علی بن ابراہیم کی تفسیر میں یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب حضرت شعیب(علیه السلام) نے اپنی بیٹی سے یہ سوال کیا کہ اِس جوان کی قوت کا حال تو کنویں سے بڑا ڈول کھینچنے سے معلوم ہو گیا، تمہیں اُس کی امانت کا حال کیسے معلوم ہوا تو لڑکی نے جواب دیا کہ اُس نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ عورتوں کی کمر پر بھی نگاہ ڈالے۔ (تفسیر نورا لثقلین، ج۲، ص ۱۲۳)۔ علاوہ بریں، اُس نوجوان نے اپنی جو سرگذشت سُنائی تھی اُس کے ضمن میں قبطیوں سے لڑائی کے ذکر میں اُس کی قوّت کا حال معلوم ہو گیا تھا۔ اور اس کی امانت و دیانت کی یہ شہادت کافی تھی کہ اُس نے ظالموں کی ہم نوائی نہ کی اور اُن کی ستم رانی پر اظہار رضا مندی نہ کیا۔ حضرت شعیب (علیه السلام) نے اپنی بیٹی کی تجویز کو قبول کر لیا۔ اُنھوں نے موسٰی (علیه السلام) کی طرف رُخ کر کے یوں کہا: میرا ارداہ ہے کہ اپنی اِن دو لڑکیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کر دوں۔ اِس شرط کے ساتھ کہ تُو آٹھ سال تک میری خدمت کرے: (قال انّی اُرید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علی ان تاجرنی ثمٰنی حجج) (تشریحی نوٹ: "حجج" جمع "حجة" کی جس کے معنی ہیں "ایک سال" عربوں کا معمول یہ تھا کہ ہر سال کے بعد ایک حج کرتے تھے۔ یہ رسم حضرت براہیم (علیه السلام) کے وقت سے چلی آتی تھی)۔ اس کے بعد یہ اضافہ کیا۔ "اگر تو آٹھ سال کی بجائے یہ خدمت دس سال کر دے تو یہ تیرا احسان ہو گا۔ مگر تجھ پر واجب نہیں ہے: (فان اتممت عشرا فمن عندک)۔ بہرحال، مَیں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مشکل کام لوں۔ اِن شاء اللہ تم جلد دیکھو گے کہ میں صالحین میں سے ہوں، اپنے عہد و پیمان میں وفادار ہوں۔ تیرے ساتھ ہرگز سخت گیری نہ کروں گا اور تیرے ساتھ خیر اور نیکی کا سلوک کروں گا: (وما ارید ان اشق علیک ستجدنی ان شاء اللہ من الصالحین)۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی طرف سے اِس تجویز کے ضمن میں، ازدواج، مہر اور اس کی جُملہ خصوصیات کے متعلق بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں، جن پر ان شاء اللہ نکات کے ضمن میں بحث ہو گی۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اس تجویز اور شرط سے موافقت کرتے ہوئے اور عقد کو قبول کرتے ہوئے کہا: "میرے اور آپ کے درمیان یہ عہد ہے": (قال ذلک بینی و بینک)۔ البتہ ان دو مدّتوں میں سے (آٹھ سال یا دس سال) جس مدّت تک بھی خدمت کروں، مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی اور میں اُس کے انتخاب میں آزاد ہوں: (ایّما الاجلین قضیت فلا عدوان علی)۔ عہد کو پختہ اور خدا کے نام سے طلب مدد کے لیے یہ اضافہ کیا: جو کچھ کہتے ہیں خدا اُس پر شاید ہے: (واللہ علی ما نقول وکیل)۔

چند اہم نکات ۱۔ خدمت پر مامور کرنے کی دو بُنیادی شرائط:

آیات مذکورہ بالا میں، حضرت موسٰی (علیه السلام) کو ملازم رکھنے کے بارے میں، حضرت شعیب (علیه السلام) کی ببیٹی کی زبان سے جو الفاظ ادا ہوئے ہیں، اُن میں کسی کام کو ذمہّ داری کے ساتھ ادا کرنے کے لیے دو اہم ترین شرائط نہایت مختصر اور جامع صورت میں بیان ہوئی ہیں۔ اور وہ ہیں "قدرت اور امانت"۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ قدرت سے مراد صرف جسمانی قوّت ہی نہیں ہے بلکہ اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ انسان میں محولہ کام کو سرانجام دینے کی استعداد ہو۔ مثلا ایک قوی اور امین طبیب وہ ہے جو اپنے کام سے آگاہ اور اس پر حاوی ہو۔ ایک قوی سربراہ ادارہ وہ ہے جو اپنے فرائضِ منصبی سے خُوف واقف ہو، دفتری کام کے مقاصد سے باخبر ہو، ترتیب کار کا پروگرام بنانے میں ماہر ہو، اس میں بقدر کافی ایجاد و اختراع کی قابلیت ہو، کام کو منظم کرنے کی مہارت رکھتا ہو، اُس کے ذہن میں غایت کار واضح ہو اور اپنی تمام طاقتوں کو مقصد تک پہنچنے کے لیے استعمال میں لائے۔ اِن تمام خصوصیات کے باوجود وہ ہمدرد، خیرخواہ، امین اور اپنے کام میں دیانتدار بھی ہو۔ وہ لوگ جو کسی کو کوئی ذمّہ داری سپرد کرتے وقت صِرف اُس کی امانت اور درست کرداری پر قناعت کر لیتے ہیں وُہ بھی اُسی طرح غلط فہمی میں ہیں جیسے کہ وہ لوگ جو کسی مہارتِ خصوصی دیکھ کر اُس پر بھروسہ کر لیتے ہیں۔ خائنِ ماہرین خصوصی اور بددیانت واقفان کار ویسا ہی نقصان پہنچاتے ہیں جیسا کہ نااہل اور ناواقفان کار ایماندار لوگ۔ اگر ہم کسی ملک کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو اس کے انتظامی فرائض کو مذکورہ بالا گروہوں میں سے کسی ایک کے سپرد کر دینا چاہیے۔ سربراہ ادارہ خائن ہو اور صالح کردار کے لوگوں کو ذمّہ داریوں سے محروم رکھا جائے۔ نتیجہ دونوں حالتوں میں ایک ہے۔ اسلامی مصالح کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کام اُس کے اہل اور امانت دار آدمی کے ہاتھ میں ہو تاکہ معاشرے کا نظام درست رہے اگر ہم پوری تاریخ میں حکومتوں کے زوال کے اسباب پر غور کریں تو اُن کی بنیادی علّت یہی پائیں گے کہ کاروبارِ سلطنت مذکورہ بالا دو گروہوں میں سے کسی ایک کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلام میں اہلیت کار کی خصوصیات میں ہر جگہ "علم اور تقویٰ" کو ہم دوش لازم قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً مرجع تقلید کو مجتہد اور عادل ہونا چاہیے۔ قاضی اور رہنمائے قوم کو مجتہد اور عادل ہونا چاہیے (اِن شرائط کے علاوہ، کچھ اور بھی شرائط ہیں۔ مگر بنیادی شرائط یہی دونوں ہیں یعنی "عدالت و تقویٰ اور علم و آگہی")۔

۲۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کا حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح

مذکورہ بالا آیات کو پڑھ کر ذہن میں متعدد سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ہم جن کے بےکم و کاست جوابات دیتے ہیں۔ ۱۔ کیا فقہی اعتبار سے یہ درست ہے کہ وہ لڑکی جس کے ساتھ نکاح کرنا ہے اُس کا ماقبل تعین نہ ہو بلکہ صیغہ عقد کے اجراء کے وقت کہا جائے کہ: "مَیں ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا تیرے ساتھ نکاح کرتا ہوں۔" جواب: یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ الفاظ اجرائے صیغہ کے وقت کہے گئے ہوں گے۔ بلکہ سیاقِ عبارت سے ایسا مفہوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی گفتگو ہے، جیسے اصطلاح میں "مقاولہ" کہتے ہیں تاکہ موسٰی (علیه السلام) کی رضامندی کے بعد طرفین ایک دوسرے کو انتخاب کر لیں۔ پھر صیغئہ عقد جاری ہو جائے۔ ب۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ مہر کو غیر طے شدہ حالت میں یا کم اور زیادہ کے درمیان مشکوک حالت میں رکھا جائے۔ جواب: آیت کے لب و لہجہ سے یہ امر قطعی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے مہر آٹھ سال کی خدمت طے کی تھی۔ اُسے دس سال تک بڑھا دینا حضرت موسٰی (علیه السلام) کی مرضی پر منحصر تھا۔ ج۔ کیا اصولاً کام اور خدمت کو مہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ نیز ایسی عورت سے ہم بستری کیسے ہو سکتی ہے جبکہ ابھی اُس کا تمام مہر ادا کرنے کا وقت ہی نہیں آیا۔ حتٰی کہ شوہر کی اتنی بضاعت ہی نہیں ہے کہ کُل مہر یکجا ادا کر دے۔ جواب: ایسے مہر کے عدم جواز پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ ہماری شریعت میں ہر وہ شی جس کی کچھ قیمت ہو اُس پر مہر کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ شوہر کے لیے یہ بھی لازم نہیں کہ وہ کُل مہر بیک وقت ادا کر دے۔ اتنا ہی کافی ہے کہ حق مہر ادا کرنے کا شوہر ذمہّ دار ہو اور بیوی اس کی مالک ہو جائے۔ شوہر کی درستی صحت اور اُس کا اپنی بیوی کی رفاقت میں رہنا بھی اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور اُس میں اتنی قدرت ہو گی کہ وہ حق مہر ادا کر سکے گا۔ (تشریحی نوٹ: جواب شریعت اسلامی کی روشنی میں دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شریعت ابراہیمی میں (جو حضرت موسٰی (علیه السلام) سے قبل رائج تھی) حق مہر کی شرائط کچھ اور ہوں)۔ د۔ یہ بات اصولاً کس طرح ممکن ہے کہ باپ کی خدمت بیٹی کا حق مہر قرار دیا جا سکے۔ کیا بیٹی بھی کوئی متاع ہے جسے حق خدمت کے عوض فروخت کر دیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم محقق حلّی شرائع الاسلام میں کہتے ہیں: آزاد شخص کی منفعت پر عقد صحیح ہے مثلا بطور مہر کوئی صفعت سکھا دے یا قرآن کی کوئی سورة پڑھا دے اور ہر حلال عمل پر اور شوہر کو معینہ مدّت کے لیے اجیر بتانے پر۔ اور مرحوم فقیہ بزرگوار صاحب جواہر اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ علمائے مشہور اس رائے سے متفق ہیں)۔ جواب: اس میں شک نہیں کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے اس مسئلے میں اپنی بیٹی کی رضا مندی حاصل کر لی تھی اور وہ اس قسم کے عقد کو جاری کرنے کے لیے وکیل تھے۔ اس مسئلے کا ایک اور جواز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ذمّہ جو مہر تھا حقیقت میں اُس کی اصل مالک حضرت شعیب (علیه السلام) کی لڑکی ہی تھی مگر چونکہ خاندان مشترکہ اور اُن کی زندگی نہایت خلوص اور محبت سے گزرتی تھی، آپس میں کسی قسم کا اختلاف نہ تھا (جیسا کہ اَب بھی قدیمی خاندانوں یا دیہات میں دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے تمام افراد مل جل کر رہتے ہیں) اِس لیے وہاں یہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ حق مہر کون لے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی مالک صرف لڑکی ہی ہے نہ کہ باپ اور حضرت موسٰی (علیه السلام) کی خدمت بھی لڑکی ہی کے لیے تھی۔ ہ۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی دختر کا مہر نسبتاً بہت زیادہ تھا۔ اگر آج کے حساب سے ایک مزدور کی مزدوری کا ایک ماہ اور پھر ایک سال میں حساب کریں اور پھر اس کو آٹھ سے ضرب دیں تو بہت ساری رقم بن جاتی ہے۔ جواب: اوّل تو یہ کہ یہ ازدواج کوئی معمولی رسم نہ تھی بلکہ موسٰی (علیه السلام) کا حضرت شعیب (علیه السلام) کے زیر تربیت رہنے کے لیے اساب اولیہ میں سے تھا اور یہ ایک ذریعہ تھا جس سے موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) کے دارالعلم میں رہ کر نصاب تعلیم کو پورا کریں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس طویل مدّت میں موسٰی نے پیرمدین سے کیا کچھ حاصل کیا۔ علاوہ بریں، اگر حضرت موسٰی (علیه السلام) اس مدّت میں حضرت شعیب (علیه السلام) ہی کے لیے کام کرتے اور اس کے عوض میں حضرت شعیب (علیه السلام) موسٰی (علیه السلام) اور ان کی زوجہ کے کفیل رہتے تو انھوں نے موسٰی (علیه السلام) اور ان کی اہلیہ پر جو کچھ کیا اسے کام کی مزدوری میں سے نفی کریں تو کچھ زیادہ رقم باقی نہ رہے گی اور پھر مہر بہت خفیف رہ جائے گا۔

۳۔ ایک مروجہ رسم کی نفی:

اِس داستان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آجکل ہمارے معاشرے میں باپ یا لڑکی کے وارثین کی طرف سے لڑکے کو پیام دینا عیب سمجھا جاتا ہے، درست نہیں ہے۔ اس میں کوئی شرع مانع نہیں ہے کہ لڑکی والے اگر کسی لڑکے کو لائق اور قابل سمجھتے ہیں تو اُسے پیغام دے دیں۔ جیسا کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے کیا۔ نیز بزرگانِ اسلام کے حالاتِ زندگی میں بھی ایسی نظریں ملتی ہیں۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی لڑکیوں کا نام "صفورہ" (یا صفورا) اور "لیّا" بتایا جاتا ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی شادی "صفورہ" سے ہوئی تھی۔

29
28:29
۞فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلۡأَجَلَ وَسَارَ بِأَهۡلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارٗاۖ قَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ جَذۡوَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ
جب موسیٰ نے مدت پوری کر دی اور اپنے خاندان کے ساتھ (مدین سے مصر کی طرف) روانہ ہوئے توانہوں نے طور کی طرف سے آگ دیکھی۔ پس اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کچھ خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارا لے آؤں تاکہ تم اس سے گرم ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
28:30
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ مِن شَٰطِيِٕ ٱلۡوَادِ ٱلۡأَيۡمَنِ فِي ٱلۡبُقۡعَةِ ٱلۡمُبَٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّيٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
پس جب اس کے پاس پہنچے تو ناگہاں میدان کے داہنے کنارے سے اس بابرکت و بلند زمین میں ایک درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ! میں اللہ رب العالمین ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
28:31
وَأَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰٓ أَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡأٓمِنِينَ
تو اپنی لاٹھی کو ڈال دے (جب موسیٰ نے عصا کو ڈال دیا تو) دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔ موسیٰ کو خوف ہوااور وہ ر خ پھیر کر چل پڑے اور منہ موڑکر بھی نہ دیکھا(آواز آئی) اے موسیٰ!واپس آجا اور نہ ڈرو۔ تم امان میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
28:32
ٱسۡلُكۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖ وَٱضۡمُمۡ إِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهۡبِۖ فَذَٰنِكَ بُرۡهَٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
اپنا ہاتھ گریبا ن میں ڈال۔ جب تو اسے نکالے گاتو وہ بغیر کسی عیب کے سفید اور چمکدار ہو گا۔ اپنے ہاتھوں کو اپنے سینہ پر رکھ تاکہ خوف تجھ سے دور ہو۔ اور خدا کی طرف سے یہ دو روشن دلیلیں فرعوں اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے کیلئے ہیں۔یقیناً وہ سب فاسق ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
28:33
قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسٗا فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ
موسیٰ نے عرض کیا: میں نے ان میں سے ایک فرد کو قتل کیا ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
28:34
وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
میرا بھائی ہارون جس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے، اسے میرے ساتھ بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
28:35
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُلۡطَٰنٗا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيۡكُمَا بِـَٔايَٰتِنَآۚ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلۡغَٰلِبُونَ
(خدا نے فرمایا) ہم تیرے بازوؤں کو تیرے بھائی کے وسیلہ سے مضبوط کریں گے،تمہیں غلبہ اور برتری عنایت کریں گے اور ہماری نشانیوں کی برکت سے وہ تم پر غالب نہ ہو سکیں گے۔ تم اور تمہاری پیروی کرنے والے غالب رہیں گے۔

تفسیر وحی کی پہلی کِرن:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس مقام پر اس داستان کا ساتواں منظر ہمارے پیش نظر ہے۔ کوئی آدمی بھی حقیقتا یہ نہیں جانتا کہ اِن دس سال میں حضرت موسٰی (علیه السلام) پر کیا گزری۔ لیکن بلاشک یہ دس سال حضرت موسٰی (علیه السلام) کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ یہ سال دلچسپ، شیریں اور آرام بخش تھے نیز دس سال ایک منصب عظیم کی ذمّہ داری کے لیے تربیت اور تیاری کے تھے۔ درحقیقت، اس کی ضرورت بھی تھی کہ موسٰی (علیه السلام) دس سال کا عرصہ عالم مسافرت اور ایک بزرگ پیغمبر کی صحبت میں بسر کریں اور چرواہے کا کام کریں تاکہ اُن کے دل و دماغ سے محلات کی ناز پروردہ زندگی کا اثر بالکل محو ہو جائے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو اتنا عرصہ جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے ساتھ گزارنا ضروری تھا تاکہ اُن کی تکالیف اور مشکلات سے آگاہ ہو جائے اور ساکنان محلات کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔ (تشریحی نوٹ: اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت کی۔ یہ ذکر کتاب وسائل الشیعہ، جلد ۱٥ ص۲۲ (کتاب النکاح ابواب المہور باب ۲۲ حدیث ۴) میں آیا ہے)۔ ایک اور بات بھی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو اسرارِ آفرنیش میں غور کرنے اور اپنی شخصیت کی تکمیل کے لئے بھی ایک طویل وقت کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لئے بیابان مدین اور خانہ شعیب سے بہتر اور کونسی جگہ ہو سکتی تھی۔ ایک اُولوالعزم پیغمبر کی بعثت کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ یہ مقام کسی کو نہایت آسانی سے نصیب ہو جائے۔ بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ کے بعد تمام پیغمبروں میں سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی ذمّہ داری ایک لحاظ سے سب سے زیادہ اہم تھی۔ اس لیے کہ: روئے زمین کے ظالم ترین لوگوں سے مقابلہ کرنا، ایک کثیر الافراد قوم کی مدّتِ اسیری کو ختم کرنا: اور اُن کے اندر سے ایام اسیری میں پیدا ہو جانے والے نقائص کو محو کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ توریت اور اسی طرح اسلامی رویات میں مذکورہ ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے موسٰی (علیه السلام) کی مخلصانہ خدمات کی قدرشناسی کے طور پر یہ طے کر لیا تھا کہ بھیڑوں کے جو بچّے ایک خاص علامت کے ساتھ پیدا ہوں گے، وہ موسٰی (علیه السلام) کو دے دیں گے۔ اتفاقا مدّت موعود کے آخری سال میں جبکہ موسٰی (علیه السلام) حضرت شعیب (علیه السلام) سے رخصت ہو کر ملک مصر کو جانا چاہتے تھے تو تمام یا زیادہ تر بچّےاسی علامت کے پیدا ہوئے اور حضرت شعیب (علیه السلام) نے بھی انھیں بڑی محبت سے موسٰی (علیه السلام) کو دے دیا۔ (بحوالہ: اعلام قرآن، ص ۴۰۹)۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنی ساری زندگی چرواہے بنے رہنے پر قناعت نہیں کرتے سکتے تھے۔ ہر چند ان کے لیے حضرت شعیب (علیه السلام) کد پاس رہنابہت ہی مغتنم تھا مگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے تھے کہ اپنی اس قوم کی مدد کے لیے جائیں جوغلامی کی زنجیروں میں گرفتا ر ہے اور جہالت نادانی اور بےخبری میں غرق ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنا یہ فرض بھی سمجھتے تھے کہ مصر میں جو ظلم کا بازار گرم ہے اُسے سرد کر دیں، طاغوتیوں کو ذلیل کریں اور توفیق الہٰی سے مظلوموں کو عزّت بخشیں۔ اُن کے قلب میں یہی احساس تھا جو مصر جانے پرآمادہ کر رہا تھا۔ آخرکار اُنھوں نے اپنے اہل خانہ، سامان و اسباب اور اپنی بھیڑوں کو ساتھ لیا اور رختِ سفر باندھا اور روانہ ہو گئے۔ متعدد آیات قرآنی میں کلمہ "اھل" آیا ہے۔ اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ اس سفر میں حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ساتھ اُن کی زوجہ کے علاوہ، ان کا لڑکا یا کوئی اور اولادً بھی تھی۔ اسلامی روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ توریت کے "سفر خروج" میں بھی ذکر مفصل موجود ہے۔ علاوہ ازیں، اُس وقت ان کی زوجہ کی اُمید سے تھی۔ جب حضرت موسٰی (علیه السلام) مدین سے مصر کو جا رہے تھے تو راسُتہ بُھول گئے۔ یا غالباً شام کے ڈاکوؤں کے ہاتھ میں گرفتار ہو جانے کے خوف سے بوجہ احتیاط مروج راستے کو چھوڑ کے سفر کر رہے تھے۔ بہرکیف، قرآن شریف میں یہ بیان اس طور سے ہے کہ: جب حضرت موسٰی (علیه السلام) اپنی مدّت کو ختم کر چکے اور اپنے خاندان کے ساتھ لے کر سفر پر روانہ ہو گئے تو اُنھیں طور کی جانب سے شعلئہ آتش نظر آیا: (فَلَمَّا قَضَى مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا)۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اپنے اہل خاندان سے کہا۔ "تم یہیں ٹھہرو" مجھے آگ نظر آئی ہے۔ مَیں جاتا ہوں۔ شاید تمہارے لیے وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا آگ کا ایک انگارا لے آؤں تاکہ تم اُس سے گرم ہو جاؤ: (قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ)۔ "انست"۔ "ایناس" سے مشتق ہے جس کے معنٰی مشاھدہ کرنے اور سکون و آرام سے دیکھنے کے ہیں۔ "جذوة"، "آگ کا ایک انگارہ" بعض لوگوں نے اس کے معنی "ایندھن کا بڑا ٹکڑا" لکھے ہیں۔ اور "اتیکم بخبر" سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ راستہ بُھول گئے تھے اور "لعلکم تصطلون" یہ اشارہ کر رہا ہے کہ سرد اور تکلیف وہ رات تھی۔ قرآن کی آیت میں حضرت موسیٰؑ کی زوجہ کی حالت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مگر تفاسیر اور روایات میں مذکور ہے کہ وہ اُمید سے تھیں اور انہیں دروزہ ہو ریا تھا۔ اِس لیے موسٰی پریشان تھے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) جس وقت آگ کی تلاش میں نکلے تو اُنھوں نے دیکھا کہ:۔ آگ تو ہے مگر معمول کی سی آگ نہیں ہے بلکہ حرارت اور سوزش سے خالی ہے۔ وہ نُور اور تابندگی کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتی تھی۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) اس منظر سے نہایت حیران تھے کہ ناگہاں اُس پر برکت سرزمین بلند میں وادی کے داہنی جانب سے ایک درخت میں سے آواز آئی: اے موسٰی (علیه السلام) میں اللہ ربُّ العالمین ہوں (فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ)۔ شاطئی: بمعنی ساحل وادی: بمعنی درّہ یا پہاڑ میں وہ راستہ جہاں سے سیلاب گزرتا ہے۔ ایمن: جانب راست اور یہ "شاطی" کی صفت ہے۔ بُقعة: زمین کا وہ حصّہ جو اطراف کی زمین سے ممتاز ہو۔ اِس میں شک نہیں کہ یہ خدا کے اختیار میں ہے کہ جس چیز میں چاہے قوّت کلام پیدا کر دے۔ یہاں اللہ نے درخت میں یہ استعداد پیدا کر دی۔ کیونکہ اللہ موسٰی (علیه السلام) سے، باتیں کرنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے کہ موسٰی (علیه السلام) گوشت پوست کے انسان تھے۔ کان رکھتے تھے اور سُننے کے لیے انہیں امواج صوت کی ضرورت تھی۔ البتہ انبیاء پر اکثر یہ حالت بھی گزری ہے کہ وہ بطور الہام درُونی پیغام الہٰی کو حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح کبھی اُنھیں خواب میں بھی ہدایت ہوئی رہی ہے۔ مگر کبھی وہ وحی کی بصورت صدا بھی سُنتے رہے ہیں۔ بہرکیف، حضرت موسٰی (علیه السلام) نے جوآواز سُنی اس سے ہم ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ خدا جسم رکھتا ہے۔ بعض رویات میں مذکورہ ہے کہ موسٰی (علیه السلام) جب آگ کے پاس گئے اور غور کیا تو دیکھا کہ درخت کی سبز شاخوں میں آگ چمک رہی ہے اور لحظ بہ لحظہ اُس کی تابش اور درخشندگی بڑھتی جاتی ہے۔ جو عصا اُن کے ہاتھ میں تھا اُس کے سہارے جُھکے تاکہ اُس میں سے تھوڑی سی آگ لے لیں۔ تو آگ موسٰی (علیه السلام) کی طرف بڑھی۔ موسٰی (علیه السلام) ڈرے اور پیچھے ہٹ گئے۔ اُس وقت حالت یہ تھی کہ کبھی موسٰی (علیه السلام) آّگ کی طرف بڑھتے تھے اور کبھی آگ اُن کی طرف۔ اِسی کشمکش میں ناگہاں ایک صد ابلند ہوئی۔ اور اُنھیں وحی کی بشارت دی گئی۔ اِس طرح ناقابل انکار قرائن سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کو یقین ہو گیا کہ یہ آواز خدا ہی کی ہے، کسی غیر کی نہیں ہے۔ لیکن اُس عظیم ذمّہ داری کے اعتبار سے جو موسٰی (علیه السلام) پر عائد کی گئی تھی لازم تھا کہ اُسی کے مطابق اُنھیں خدا کی طرف سے معجزات بھی عطا کیے جائیں۔ چنانچہ ان آیات میں دو اہم معجزات ذکر کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ موسٰی سے کہا گیا کہ: "اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو" چنانچہ موسٰی نے عصا کو پھینک دیا۔ اَب کیا دیکھتے ہیں کہ وہ عصا سانپ کی طرح تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔ یہ دیکھ کر موسٰی ڈرے اور پیچھے ہٹ گئے۔ یہاں تک کہ مُڑ کے بھی نہ دیکھا: (وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ)۔ جس دن حضرت موسٰی (علیه السلام) نے یہ عصا لیا تھا تاکہ تھکن کے وقت اس کا سہارا لے لیا کریں اور بھیڑوں کے لیے اُس سے پتّے چھاڑ لیا کریں‘ اُنھیں یہ خیال نہ تھا کہ قدرت خدا سے اُس میں یہ خاصیت بھی چھپی ہوئی ہو گی اور یہ بھڑوں کو چرانے کی لاٹھی ظالموں کے محل کو ہلا دے گی۔ موجودات عالم کا یہی حال ہے کہ وہ بعض اوقات ہماری نظر میں بہت حقیر معلوم ہوتی ہیں مگر ان میں بڑی بڑی استعداد چھپی ہوتی ہے، جو کسی وقت خدا کے حکم سے ظاہر ہوتی ہے۔ آَب موسٰی (علیه السلام) نے دوبارہ آواز سنی جو اُن سے کہہ رہی تھی: واپس آ اور نہ ڈر تو امان میں ہے: (يَا مُوسَى أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ)۔ "جان" دراصل اُس شے کو کہتے ہیں جو موجود تو ہو مگر نظر نہ آتی ہو۔ مجازًا "جان" اُن چھوٹے سانپوں کو کہتے ہیں جو گھاس کے ڈھیر یا زمین کے ڈانڈوں کے اندر سے گزرتے ہیں۔ البتہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں "ثعبان مبین" (واضح اژدھا) بھی کہا گیا ہے۔ (اعراف۔ ۱۰۷، شعراء۔ ۳۲) ہم نے قبل ازیں کہا ہے کہ اس سانپ کے لیے جو یہ دو الفاظ ہوئے ہیں ممکن ہے اس کی دو مختلف حالتوں کے لیے ہوں کہ ابتداء میں وہ چھوٹا سا ہو اور پھر ایک بڑا اژدھا بن گیا ہو۔ اس مقام پر یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ موسٰی (علیه السلام) نے جب وادئی طور میں اسے پہلی بار دیکھا تو چھوٹا سا سانپ تھا، رفتہ رفتہ وہ بڑا ہو گیا۔ بہرحال، حضرت موسٰی (علیه السلام) پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ درگاہ رب العزّت میں مطلق و امان ہے اور کسی قسم کے خوف و خطر کا مقام نہیں ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو جو معجزات عطا کیے گئے ہیں اُن میں سے پہلا معجزہ خوف کی علامت پر مشتمل تھا۔ اُس کے بعد موسٰی کو حکم دیا گیا کہ اب ایک دوسرا معجزہ حاصل کرو جو نُور اُمید کی علامت ہو گا۔ اور یہ دونوں معجزے گویا "اعذار اور بشارت" تھے۔ موسٰی (علیه السلام) کو حکم دیا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو اور باہر نکا لو۔ موسٰی (علیه السلام) نے جب گریبان میں سے ہاتھ باہر نکالا تو وہ سفید تھا اور چمک رہا تھا اور اس میں کوئی عیب اور نقص نہ تھا: (اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ)۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ میں یہ سفیدی اور چمک کسی بیماری (مثلاً برص یا کوئی اسی جیسی چیز) کی وجہ سے نہ تھی۔ بلکہ یہ نُور الہٰی تھا جو باکل ایک نئی قسم کا تھا۔ جب حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اُس سنسان کوہسار اور اُس تاریک رات میں یہ دو خارق عادت اور خلافِ معمول چیزیں دیکھیں تو اُن پر لرزہ طاری ہو گیا۔ چانچہ اس لیے کہ ان کا اطمینانِ قلب واپس آ جائے انھیں حکم دیا گیا کہ اپنے سینے پر اپنا ہاتھ پھیریں تاکہ دل کو راحت ہو جائے: (وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ)۔ مذکورہ آیت کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ موسٰی (علیه السلام) اپنے فرض کی ادائیگی اور پیام الہٰی کے پہنچانے میں ثابت قدم اور راسخ العزم رہیں اور کسی مقام اور دنیا کی کسی طاقت سے خوف نہ کھائیں۔ بعض حضرات کا ذہن اِس طرف منتقل ہوا ہے کہ جس وقت عصانے سانپ کی شکل اختیار کر لی تو موسٰی (علیه السلام) نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اپنی مدافت کریں لیکن جناح (بازو) کا استعمال نہایت فصیح ہے۔ غالبا اس تشبہ سے مقصود یہ ہے کہ انسان کی حالت میں اس پرندہ کی سی ہے جب وہ کوئی خوفناک منظر دیکھتا ہے تو اپنے پر پھڑ پھڑاتا ہے۔ لیکن جب وہ بحالت سکون ہوتا ہے تو اپنے پُر اور بازو سمیٹ لیتا ہے۔ اُس کے بعد موسٰی نے پھر وہی صدا سنی جو کہہ رہی تھی: خدا کی طرف سے تجھے یہ دو دلیلیں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے کے لیے دی جا رہی ہیں کیونکہ وہ سب لوگ فاسق تھے اور ہیں: (فذانک برھانان من ربک الی فرعون وملائہ انھم کانوا قوما فاسقین)۔ یہ لوگ خدا کی اطاعت سے نکل گئے ہیں اور سرکشی کی انتہا تک جا پہنچے ہیں۔ تمہارا فرض ہے کہ انھیں نصیحب کرو اور راہ راست کی تبلیغ کرو اور اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں تو اُن سے جنگ کرو۔ اِس موقع پر موسٰی (علیه السلام) کو اپنی زندگی کا وہ اہم حادثہ یاد آ گیا جو مصر میں پیش آیا تھا۔ یعنی ایک قبطی کو قتل کرنا۔ اور فرعون کی پولیس کا اُس قبطی کے خون کا بدلہ لینے کے لیے پُختہ ارادہ۔ اگرچہ موسٰی (علیه السلام) ایک مظلوم کی حمایت میں اُس قبطی سے لڑے تھے مگر فرعون کی منطق میں یہ عذر بےمعنی تھا۔ وہ اب بھی تہیہ کیے ہوئے تھا کہ اگر موسٰی (علیه السلام) اُسے کہیں مل جائیں تو اُنھیں بےچون و چرا قتل کرا دے۔ اس لیے موسٰی (علیه السلام) عرض کرتے ہیں: خدایا! مَیں نے تو اُن میں سے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ اس کے انتقام میں مجھے قتل کر دیں گے اور میں اپنا فرض ادا نہ کر سکوں گا: (قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ)۔ (حضرت موسٰی (علیه السلام) نے درگاہ باری تعالیٰ میں عرض کی) علاوہ، بریں میں تنہا ہوں اور میری زبان بھی فصیح نہیں ہے۔ تو میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ بھیج کہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح زبان ہے۔ تاکہ وہ میری مدد کرے اور تصدیق بھی۔ مجھے اِس بات کا خوف ہے کہ میں تنہا ہوں گا تو لوگ مجھے جھٹلائیں گے: (وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ)۔ "افصح" کا مادہ "فصیح" ہے۔ اِس کے لغوی معنی کسی چیز کے خالص ہونے کے ہیں۔ مراد ہے "سخن خالص" یعنی ہر قسم کے حشو و زواید سے خالی۔ "ردء" بمعنی معین و یاور۔ بہرحال، چونکہ یہ ماموریت بہت اہم اور عظیم تھی، اِس لیے حضرت موسٰی (علیه السلام) کی آرزو تھی کہ اُنھیں شکست ہرگز نہ ہو۔ اِس لیے اُنھوں نے خدا سے یہ تقاضا کیا۔ خدا نے بھی اُن کی دعا کو قبولیت بخشا۔ اُنھیں اطمینان دلایا اور فرما: ہم تمہارے بازؤں کو تمہارے بھائی کے وسیلہ سے محکم کریں گے: (قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ)۔ اور تمہیں ہر مرحلے پر غلبہ اور برتری عطا کریں گے: (ونجعل لکما سلطانا ) ۔ قطعی مطمئن رہو ! وہ لوگ ہر گز تم پرغالب نہ ہوں گے اور ان معجزوں کی برکت سے وہ نہ تو تم پرمسلط ہوں گے نہ تمہارے مقابلے میںفتح مند ہوں گے : (فلایصلون الیکما بایاتنا)۔ بلکہ تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب اور کامیاب رہیں گے: (انتما ومن اتبعکما الغالبون)۔ یہ کیسی عظیم نوید اور کتنی بزرگ بشارت تھی ۔ایسی نوید وبشارت جس نے موسٰی کے دل کو گرم، اُن کے ارادہ کو پُختہ اور عزم کو محکم کر دیا۔ اس نوید کے روشن اثرات کو ہم اس داستان کے آئندہ بیان میں دیکھیں گے (تشریحی نوٹ: اسی حوالے سے تفسیر نمونہ کی جلد ۷، ۴ اور ۸ میں بالترتیب سورئہ طٰہٰ، اعراف اور شعراء کی تفسیر میں مزید مباحث بھی موجود ہیں)۔

36
28:36
فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ
پس جس وقت موسیٰ ہمارے روشن معجزات لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: یہ تو جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے جسے غلط طور پر خدا سے منسوب کر دیا گیا ہے اور ہم نے اپنے گزشتہ بزرگوں سے کوئی ایسی بات نہیں سنی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
28:37
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلۡهُدَىٰ مِنۡ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
موسیٰ نے کہا :میرا خدا ان لوگوں کو، جو اس کی طرف سے ہدایت لائے ہیں،خوب جانتا ہے اور اس شخص کو بھی جس کے لئے دارآخرت ہے۔ یقیناً ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔

تفسیر موسٰی فرعون کے مقابلے میں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس مقام پر اس رُوداد کا آٹھواں حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) کو اُس مقدّس مقام پر خدا کی طرف سے نبوت اور رسالت کا فرمان مل گیا۔ وہ مصر میں آئے اور اپنے بھائی ھارون (علیه السلام) کو مطلع کیا اور وہ رسالت جس کے لیے آپ مبعوث تھے، اس کا پیغام اسے پہنچایا۔ پھر یہ دونوں بھائی فرعون سے ملاقات کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ آخر بڑی مشکل سے اس کے پاس پہنچ سکے۔ اس وقت فرعون کے دزراء اور مخصوص لوگ اُسے گھیرے ہوئے تھے۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے ان سب کو خدا کا پیغام سنایا۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ پیغام حق سُنکر ان کا ردِّ عمل کیا ہوا۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں خدا فرماتا ہے کہ جس وقت موسٰی ہمارے روشن معجزات لے کر اُن لوگوں کے پاس گئے تو اُنھوں نے کہا: "یہ تو جادو کے علاوہ، کچھ نہیں ہے جسے غلط طور پر خدا سے منسوب کر دیا گیا ہے: (فلما جآء ھم موسٰی بایاتنا بینات قالوا ما ھذا الا سحر مفتری)۔ ہم نے ایسی بات اپنے بزرگوں میں کبھی نہیں سنی: (وَمَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ)۔ اُنھوں نے حضرت موسٰی (علیه السلام) کے روشن معجزات کے مقابلے میں وہی حربہ اختیار کیا جو پوری تاریخ میں تمام ظالم و جابر اور گمراہ لوگ انبیاء کے معجزات کے مقابلے میں اختیار کرتے رہے تھے۔ اور وہ تھا جادو گری کا الزام کیونکہ معجزہ بھی خارق عادت ہوتا ہے اور جادو بھی لیکن یہ کہا اور وہ کہاں! جادوگر گمراہ اور دنیا پرست لوگ ہوتے ہیں ان کے عملیات کی نبیاد تحریف حقائق پر ہے۔ اِس علامت سے ان کی حقیقت کو خوب پہچانا جا سکتا ہے جبکہ انبیا کے پیغام حق اور اس کی صداقت پر اُن کے معجزات گواہ ہیں۔ پھر بھی ہے کہ چونکہ ساحروں کا بھروسہ بشری طاقتور پر ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ اُن کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ لیکن انبیا کے پاس الہٰی طاقت ہوتی ہے لہذا اُن کے معجزات عظیم اور نامحدُود ہوتے ہیں۔ قرآن میں "اتِنَا بَيِّنَاتٍ" بطور جمع استعمال ہوا ہے۔ مراد اس سے وہ معجزات ہیں جو حضرت موسٰی (علیه السلام) کو عطا ہوئے تھے۔ بظاہر ذکر دو ہی معجزوں کا ہے۔ مگر ممکن ہے اُنھیں ان دو معجزوں کے علاوہ، بھی معجزے دیئے گئے ہوں۔ یا دو معجزے متعدد معجزوں سے مرکب ہوں۔ عصا کا اژدھے کی صورت میں متشکل ہو جانا ایک عظیم معجزہ ہے اور پھر اس کا پہلی حالت پر واپس آ جانا ایک اور معجزہ ہے اسی طرح موسٰی (علیه السلام) کے ہاتھ کا چمک اٹھنا ایک معجزہ ہے اور پھر اس کا حالت اصلی اختیار کر لینا دوسرا معجزہ ہے۔ کلمہ "مفتری" کا مادہ "فریہ" ہے جس کے معنی تہمت اور دروغ کے ہیں۔ مصر کے لوگوں نے یہ کلمہ اس لیے استعمال کیا کہ وہ یہ کہنا جاہتے تھے کہ موسٰی (علیه السلام) نے خدا کا نام لے کر جھوٹ بولا ہے۔ اور اہل مصر کا یہ کہنا کہ "ہم نے ایسی بات اپنے باپ دادا سے کبھی نہیں سنی"۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) سے قبل اس ملک میں حضرت نوح (علیه السلام) حضرت ابراہیم (علیه السلام) اور حضرت یوسف (علیه السلام) کو نبوت اور اُن کے پیغام کی شہرت پہنچ چکی تھی یا ممکن ہے کہ انھوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی ہو کہ اِن واقعات کو ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا اور وہ حق کو فراموش کر چکے تھے یا ہو سکتا ہے کہ اُن کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ اس سے پہلے بھی ہمارے اجداد کو ایسا پیغام دیا گیا تھا مگر انھوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن حضرت موسٰی نے ان کفار کے جواب میں تہدید آمیز لہجے میں کہا: میرا خدا اُن لوگوں کے حال سے، جو اس کی طرف سے انسانوں کے لیے ھدایت لاتے ہیں، خوب آگاہ ہے اور اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جس کے لیے دارِ آخرت ہے: (وَقَالَ مُوسَى رَبِّي أَعْلَمُ بِمَن جَاءَ بِالْهُدَى مِنْ عِندِهِ وَمَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّار اِس قول سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کا مقصودیہ تھا کہ خدا میرے حال سے خوب آگاہ ہے ہر چند کہ تم مجھے دروغ گوئی سے مہتم کرتے ہو۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ خدا ایک جھوٹے شخص کو ایسے معجزات کیونکہ عطا کر سکتا ہے کہ جو اس کے بندوں کو گمراہ کرتا پھرے۔ خدا میرے دل کا حال خوب جانتا ہے اور خدا نے مجھے یہ معجزات عطا کیے ہیں وہ میرے پیغام کی حقّانیت پر دلیل دانی ہیں۔ علاوہ بریں، "جھوٹ" کے پیر نہیں ہوتے "جھوٹے آدمی کا کام ایک قلیل مدّت تک ہی چلتا ہے اور پھر اُس کا پردہ فاش ہو جاتا ہے تم عنقریب دیکھ لو گے کہ ہم میں سے کون کامیاب ہوتا ہے اور شکست و رسوائی کی قسمت میں ہے۔ مطمئن رہو، اگر میں دروغ گو ہوں تو ظالم ہوں اور ظالموں کو کبھی فلاح نہیں ہوتی: (إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ)۔ اور اس آیت کا مضمون سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر ۶۹ کے مطابق ہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے: "وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى" ساحر جہاں بھی جائے گا اسے فلاح نہ ہو گی۔ اس مقام پر یہ احتمال بھی ہے کہ آیت میں فرعون اور اس کے مفسد اور متکبر ساتھیوں کی نفسانی حالت کی طرف اشارہ ہو کہ تم لوگ میرے معجزات کو دیکھ کر دل میں تو مجھے برحق سمجھ گئے ہو مگر اپنی خباثت نفس کی وجہ سے میرے مخالفت کرتے ہو، مگر اچھی طرح سمجھ لو کہ تم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے اور انجام کار میرے حق میں ہو گا نہ کہ تمہارے "عاقبة الدار" سے مراد ممکن ہے کہ دُنیا کا انجام یادار آخرت یا دونوں ہوں۔ البتہ تیسرے معنی زیادہ جامع اور زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ حضرت موسٰی (علیه السلام) نے اِس منطقی اور مہذّب جواب سے ان کی اس دنیا اور آخرت دونوں میں رُوسیاہی کو ان پر واضح کر دیا۔

38
28:38
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ مَا عَلِمۡتُ لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرِي فَأَوۡقِدۡ لِي يَٰهَٰمَٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجۡعَل لِّي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
فرعون نے کہا: اے (دربار نشین) سردارو ! میں اپنے سوا تمہارے لئے کسی کو خدا نہیں جانتا۔ لیکن(مزید تحقیق کے لئے) اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی پر آگ جلا(یعنی اینٹیں پکا) اور پھر میرے لئے ایک بلند برج تعمیر کرتا کہ مجھے موسیٰ کے خدا کا پتہ چلے اگرچہ میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
28:39
وَٱسۡتَكۡبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ إِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُونَ
وہ (فرعون) اور اس کے لشکر زمین میں ناحق مغرور ہو رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
28:40
فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ
پس ہم نے اسے اور اس کی افواج کو پکڑ لیا اور انہیں غرق دریا کر دیا۔ دیکھو !کہ ظالموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
28:41
وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ
اور ہم نے ان کو ایسے پیشوا قرار دیا جو (جہنم کی) آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ کی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
28:42
وَأَتۡبَعۡنَٰهُمۡ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا لَعۡنَةٗۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ هُم مِّنَ ٱلۡمَقۡبُوحِينَ
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے اور قیامت کے روز وہ بدحالوں میں سے ہوں گے۔

تفسیر ظالموں کا انجام:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس مقام پر ہم اس تاریخ کے نویں سبق آموز حصّے کا مطالعہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ فرعون نے حضرت موسٰی (علیه السلام) میدان مقابلہ سے ہٹانے کے لیے ایک برج بنانے کا منصونہ بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ منجھے ہوئے سیاستدانوں کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ اُن کی میلانِ طبع کے خلاف پیش آ جاتا ہے تو وہ عوام کی توجہ اُس سے منحرف کرنے کے لیے فورا کوئی نئی چال چلتے ہیں۔ تاکہ عوام کی توجہ اُن ہی کی طرف رہے۔ یوں لگتا ہے کہ فرعون نے نہایت بلند برج بنانے کا حکم حضرت موسٰی (علیه السلام) کے جادو گروں سے مقابلے کے بعد دیا ہو گا۔ کیونکہ قرآن مجید میں سُورہ مومن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ اُس وقت بنایا گیا تھا جب کہ فرعون کے اہل کار موسٰیؑ کو قتل کرنے کی تجویز کر رہے تھے اور مومن آلِ فرعون اُنہیں بچانے کی تدابیر کر رہا تھا۔ نیز یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ساحروں سے پہلے اس تجویز کی ضرورت نہ تھی بلکہ وہ حضرت موسٰیؑ کی صداقت کی تحقیق اور اُنہیں جادوگروں سے شکست دلانے میں مشغول تھے۔ قرآن مجید میں سے حضرت موسٰی (علیه السلام) کے ساحروں سے مقابلے کا حال سورہ طٰہٰ، اعراف یونس اور شعراء میں بیان کیا گیا ہے مگر اِس مقام پر اُس تفصیل سے قطع نظر کر کے ہم صرف تعمیر بُرج کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں جو صرف اس سورة اور سورة مومن میں بیان ہوا ہے۔ جادوگروں پر حضرت موسٰی (علیه السلام) کی فتح کا حال تمام مملکتِ مصر میں مشہور ہو گیا تھا۔ جادوگروں کے حضرت موسٰی (علیه السلام) پر ایمان لانے سے خطرہ اور بھی بڑھ گیا تھا۔ اور حکومت فرعون کی پوزیشن سخت خطرے سے دوچار ہو گئی تھی۔ ملک کے عوام جنہیں غلام بنا رکھا تھا، اُن کے بیدار ہونے کا احتمال ہونے لگا تھا۔ اِس لیے اس نازک وقت میں لازم تھا کہ ہر قیمت پر عوام کی توجہ اس مسئلے سے ہٹائی جائے۔ اور اُن کے ذہن کو کسی اور طرف مشغول کرنے، انہیں اصل مسئلے سے غافل کرنے اور بےوقوف بنانے کے لیے کوئی تدبیر کی جائے اور ساتھ ہی ساتھ حکومت کی طرف سے ان کے لیے عطا و بخشش کا سلسلہ بھی جاری ہو۔ فرعون نے اس معاملے میں اپنے اہل دربار سے مشورہ کیا۔ وہ اُس نتیجے پر پہنچا جس کا ذکر زیر بحث پہلی آیت میں آیا ہے: فرعون نے کہا: اے میرے امراء و وزراء! مجھے تمہارے لیے اپنے سوا کسی خدا کا علم نہیں: (وقال فرعون یا ایھا الملاء ماعلمت لکم من الٰہ غیری)۔ مسلمہ طور پر زمین کا خدا میں ہوں۔ رہا آسمان کا خدا اُس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ لیکن میں احتیاط سے گریز نہیں کرتا اور آسمانی خدا کے متعلق تحقیق کرتا ہوں اِس کے بعد اُس نے ھامان کی طرف رخ کیا اور کہا: اے ھامان! تو آگ جلا کر اینٹیں پکا: (فاوقد لی یاھامان علی الطین)۔ اس کے بعد تو میرے لیے ایک بہت بلند برج بنا تاکہ میں اُس پر چڑھوں اور موسٰی کے خدا کو تلاش کروں، ہر چند کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ سچّا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹوں میں سے ہے: (فاجعل لی صرحا لعلی اطلع الی الہ موسی و انی لاظنہ من الکاذبین)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرعون نے "اینٹ" کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا اور صرف یہ کہا کہ "مٹی پر آگ جلا"؟ اس کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس زمانے میں ابھی پختہ اینٹیں بنانے کا رواج نہ تھا۔ اینٹ فرعون کے دور میں ایجاد ہوئی۔ مگر بعض کا خیال ہے کہ یہ طرز بیان بھی متکبرانہ ہے جیسا کہ جابر بادشاہوں کا طرز گفتگو ہوتا ہے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ کلمہ "آجر" (بمعنی اینٹ) کوئی فصیح لفظ نہیں ہے کہ قرآن میں استعمال ہوتا اس کی بجائے کلمہ "طین" (مٹی) استعمال کیا گیا ہے۔ اِس مسئلے میں مفسرین کے ایک گروہ نے (مثلاً فخر رازی اور آلوسی نے) یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا! فرعون نے اپنا مجوزہ بلند مینار تعمیر کرایا تھا یا نہیں؟ اِن مفسرین کا ذہن اس طرف اس لیے منتقل ہوا کہ مینار کی تعمیر کا کام کسی طرح بھی عاقلانہ نہ تھا۔ کیا اُس عہد کے لوگ کبھی بلند پہاڑوں پر نہیں چڑھے تھے؟ اور اُنہوں نے آسمان کے منظر کو ویسا ہی نہیں دیکھا تھا جیسا کہ وہ زمین سے نظر آتا ہے؟ کیا انسان کا بنایا ہوا مینار پہاڑ سے زیادہ اونچا ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی احمق بھی یہ یقین کر سکتا ہے کہ ایسے مینار پر چڑھ کرآسمان کو چھوا جا سکتا ہے؟ لیکن ___ وہ مفسرین جنہوں نے یہ اشکالات پیدا کہے ہیں ان کی توجہ ان انکات کی طرف نہیں گئی کہ اول تو ملک مصر کوہستانی نہیں ہے۔ دوم یہ کہ انہوں نے اس عہد کے لوگوں کی سادہ لوحی کو فراموش کر دیا کہ ان سیدھے سادے لوگوں کو ایسے ہی مسائل سے غافل کیا جا سکتا تھا۔ یہاں تک کہ خود ہمارے زمانے میں جسے عصر علم و دانش کہا جاتا ہے، لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کیسے کیسے مکر و فریب اور حیلہ سازیاں کی جاتی ہیں۔ بہر کیف___ بعض تواریخ کے بیان کے مطابق، ھامان نے حکم دیا کہ ایسا محل اور برج بنانے کے لیے زمین کا ایک وسیع قطعہ انتخاب کریں اور اس کی تعمیر کے لیے پچاس ہزار معمار اور مزدور روانہ کر دے اور اس عمارت کے واسطے میڑیل فراہم کرنے کے لیے ہزاروں آدمی مقرر کیے گئے۔ اس نے خزانہ کا منہ کھول دیا اور اس مقصد کے لیے کثیر رقم خرچ کی۔ یہاں تک کہ تمام ملکِ مصر میں اس عظیم برُج کی تعمیر کی شہرت ہو گئی۔ یہ عمارت جس قدر بھی بلند تر ہوتی جاتی تھی۔ لوگ اتنے ہی زیادہ اُسے دیکھنے آتے تھے اور منظر تھے کہ دیکھئے فرعون یہ عمارت بنا کر کیا کرتا ہے؟ یہ عمارت اتنی بلند ہو گئی کہ اس سے دُور دُور تک اطراف و جوانب کا میدان نظر آنے لگے۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ معماروں نے اس کی گول سیڑھیاں ایسی بنائی تھیں کہ آدمی گھوڑے پر سوار ہو کر اس پر چڑھ سکتا تھا (تشریحی نوٹ: یہ موٴرخین کا طبع زاد افسانہ ہے۔ موجودہ قاہرہ کے جنوب میں فرعون کے دارالسطنت کے کھنڈارت موجود ہیں۔ وہاں! اِس قسم کی عمارت کا کوئی نشان نہیں ہے)۔ جب وہ عمارت پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور اُسے مزید بلند کرنے کا کوئی امکان نہ رہا تو ایک روز فرعون پوری شان و شوکت سے وہاں آیا اور مذاب خود برج پر چڑھ گیا۔ جب وہ برج کی چوٹی پر پہنچا اور آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو اُسے آسمان ویسا ہی نظر آیا جیسا کہ وہ زمین سے دیکھا کرتا تھا۔ اُس منظر میں ذرا بھی تغیّر و تبدیلی نہ تھی۔ مشہور یہ ہے کہ اُس نے مینار پر چڑھ کے کمان میں تیر جوڑا اور آسمان کی طرف پھینکا یا تو وہ تیر کسی پرندے کے لگایا پہلے سے کوئی سازش کی گئی تھی کہ تیر خون آلودہ واپس آتا۔ تب فرعون وہاں سے نیچے اُتر آیا اور لوگوں سے کہا: جاؤ مطمئن رہو اور کسی قسم کی فکر نہ کرو۔ میں نے موسٰی کے خدا کو مار ڈالا ہے (بحوالہ: اقتباس از تفسیر ابو الفتوح رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں، جلد ۸، صفحہ ۴۶۲)۔ یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ سادہ لوحوں اور اندھی تقلید کرنے والوں کے ایک گروہ نے اور ان لوگوں نے جن کی آنکھیں اور کان حکومت وقت کے پروپیگنڈے سے بند ہو گئے تھے، فرعون کے اس قول کا یقین کر لیا ہو گا اور ہر جگہ اس خبر کو عام کیا ہو گا اور مصر کی رعایا کو غافل رکھنے کا ایک سبب پیدا ہو گیا ہو گا۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ عمارت دیر تک قائم نہیں رہی (اور اُسے رہنا بھی نہ چاہیے تھا) تباہ ہو گئی۔ بہت سے لوگ اُس کے نیچے دب کے مر گئے۔ اس سلسلے میں اہل قلم نے اور بھی طرح طرح کی داستانیں لکھی ہیں لیکن ان کی صحت کی تحقیق نہ ہو سکی اِس لیے انہیں قلم زد کر دیا گیا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ فرعون نے یہ جُملہ کہہ کر کہ: ما علمت لکم من الہ غیری مجھے تمہارے لیے اپنے سوا کی خدا کا علم نہیں۔ بڑی شیطنت کا ثبوت دیا تھا جملے سے ظاہر ہے کہ وہ اپنی اُلوہیت کو تو مسلم سمجھتا تھا اور قابل بحث صرف یہ پہلو چھوڑ دیا کہ اس کے علاوہ، کوئی اور خدا بھی ہے یا نہیں؟ اور چونکہ خدائے برحق کے عدم وجود کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں نہ تھی اِس لیے یہاں ایک مغالطہ پیدا کرتا ہے اور اپنے علاوہ، کسی اور دوسرے خدا کا عدم وجود ثابت کرنے کے لیے ایک بلند برُج بنانے کا حکم دے کر لوگوں کو توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانا چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ وہ معاملے کو خوب سمجھتا تھا مگر مصر کے لوگوں کو بےوقوف بنانے کے لیے اور اپنی پوزیشن بچانے کے لیے بہانوں سے کھیل رہا تھا۔ اِس کے بعد قرآن مجید میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے تکبر اور اُن کے مبداٴ و معاد سے انکار کا ذکر ہے۔ کیونکہ اُن کے تمام گناہوں کا سرچشمہ ان ہی دو حقائق کا انکار تھا۔ چنانچہ قرآن شریف میں یہ ذکر اس طرح ہے: فرعون اور اس کے فوجیوں نے ناحق زمین پر تکبّر کیا اور خدا کا (جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے) انکار کیا۔ اُنہوں نے یہ گمان کیا کہ قیامت آنے والی نہیں ہے اور وہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے: (وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ)۔ ایسا انسان ضعیف البنیان جو کسی وقت اوپر سے مچھر بھی نہیں اڑا سکتا اور کبھی ایک جراثیم (جو صرف خوردبین ہی سے نظر آتا ہے قوی ترین انسان کو تہہ خاک پہنچا دیتا ہے، کیونکر اپنی ذات پر غرور کر سکتا ہے اور کس طرح اُلوہیّت کا دعوی کر سکتا ہے؟ مشہور حدیث قُدسی میں خدا فرماتا ہے: الکبریاءُ ردائی والعظمة ازاری، فمن نازعنی واحدًا منھما القیتہ فی الناّر بزرگی میری ردا ہے اور عظمت میرا لباس ہے جو میری قامت کبریائی پر سلا ہوا ہے جو شخص اِن دو چیزوں میں مجھ سے منازعت کرے گا، میں اُسے دوزخ میں ڈال دوں گا۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، تفسیر کبیر از فخر رازی، تفسیر المیزان نیز دیگر تفاسیر، اِس آیت کے متعلق)۔ ظاہر ہے کہ خدا کو تو اِن توصیفات کی ضرورت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان کی سرگشی اور عصیان کوشی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی حقیقت کو بھُول جاتا ہے اور اُس کا سر کبر و غرور سے بھر جاتا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کبر و غرور کا انجام کیا ہوا۔ قرآن میں یوں فرمایا گیا کہ: ہم نے اُسے اور اُس کے فوجیوں کو پکڑا اور دریا میں ڈبو دیا: (فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ)۔ البتہ وہ دریا جو اُن کی حیات کا باعث تھا (یعنی اہل مصر کی معاشی کا مدار جس کے پانی اور اس کے سیلاب پر تھا) ہم نے اسی کو اُن کی موت کا سبب بنا دیا۔ اور دریائے نیل کو جو اُن کی قدرت اور عظمت کا باعث تھا، ہم نے اُسے اُن کا قبرستان بنا دیا۔ اِس آیت میں کلمہ "نَبَذْنَاهُمْ" استعمال ہوا ہے۔ اس کا مادہ "نبذ" ہے (بروزن "نبض") اس کے معنی ہیں "بے قدر اور بیکار چیزوں کو دُور پھینک دینا"۔ یہاں قرآن کو بلاغت جاذب توجہ ہے کہ ہم نے ان بےقدر اور بیکار چیزوں (فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو دُور پھینک دیا اور زمین کو اُن کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا۔ آیت کے آخر میں رُوئے سُخن پیمبرِ اسلامؐ کی طرف ہے۔ خدا وندِ عالم فرماتا ہے دیکھو ظالموں کا انجام کیسا تھا؟ (فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ)۔ آیت میں کلمہ "انظُرْ" چشم ظاہر کے لیے نہیں بلکہ چشم باطن کے لیے ہے اور کلمہ "ظالمین" صرف زمانہ ماضی کے سرکشوں کے لیے نہیں بلکہ اِس زمانے کے ستمگروں کا انجام بھی یہی ہے۔ آیت نمبر ۴۱ میں فرمایا گیا ہے: ہم نے ان کو ایسا پیشوا بنایا ہے جو آتش دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے روز کوئی بھی اُن کا مددگار نہ ہو گا: (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ)۔ مفسّرین کو اس آیت کی تفسیر میں یہ مشکل پیش آئی ہے کہ خدا کا کام تو خیر کی طرف دعوت دینا ہے اور ایسے امام مقرر کرنا ہے جو پیشوایانِ حق ہوں۔ اِس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا ایسے پیشوایانِ باطل مقرر کرے جو اُس کی مخلوق کو آگ کی طرف دعوت دیں۔ لیکن __ غور کیا جائے تو یہ مشکل لایخل نہیں ہے۔ کیونکہ "ائمہ نار" دوزخیوں کے پیشوا ہیں۔ جس وقت ضالّین کے گروہ دوزخ کی طرف حرکت کریں گے تو وہ اُن کے آگے آگے ہوں گے۔ نیز جس طرح وہ دنیا میں "آئمہ ضلال" تھے۔ آخرت میں بھی دوزخیوں کے پیشوا ہوں گے کیونکہ وہ جہان اِس جہان کی ایک وسیع تر تجسیم ہے۔ دوم یہ کہ "آئمہ ضلال" خدا نہیں بناتا بلکہ یہ خود انہی کا نتیجہ اعمال ہو گا۔ یہ مسلّم ہے کہ ہر علّت کا معلول اور ہر مسبب فرمانِ الہٰی سے ظہور میں آتا ہے۔ چونکہ اُنھوں نے وہ راہِ عمل اختیار کی جو امامت ضالین پر منتہی ہوتی تھی لہذا نتیجتا وہ داعی الی النار ٹھہرے اور ان کی یہ یہ وضع بروز قیامت ہو گی۔ پھر تاکید مزید کے لیے قرآن میں، دُنیا اور آخرت میں اُن کے چہرے کی کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے: اِس دنیا میں ہم نے اُن کے نصیب میں لغت کی ہے اور بروز قیامت اُن کے چہرے مکروہ و سیاہ ہوں گے: (وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ) (تشریحی نوٹ: "مقبوح" کا مادہ "قبح" ہے جس کے معنی ہیں "زشتی" اور یہ کہ بعض مفسرین نے جو "مقبوح" کے معنی "دھتکارا ہوا" رُسوا یا مغضوب یا اور اسی طرح کے لکھے ہیں، یہ سب تفاسیر مجازی ہیں جسے لزومی معنی کہتے ہیں۔ وگرنہ "مقبوح" کے معنی وہی ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں)۔ "لغت خدا" کا مطلب "رحمت الہٰی" سے محروم ہونا ہے اور لعنتِ فرشتگان و مومنین سے مراد نفرین ہے جو صبح و شام اُن پر نازل ہوتی ہے۔ ظالمین و مستکبرین کبھی تو عام لعنت کے حقدار ٹھہرتے ہیں اور کبھی اُن پر خصوصیّت سے لعنت و نفرین ہوتی ہے۔ کیونکہ جو آدمی بھی تاریخ میں ان کے حالات پڑھتا ہے ان پر لعنت و نفرین بھیجتا ہے۔ بہرحال، دُنیا کے یہ بد سیرت اُس جہان میں بد صُورت ہوں گے۔ کیونکہ وہ دن "یوم البروز" ہو گا اور اُس روز ہر شخص کے حال سے پردہ اُٹھ جائے گا۔

چند اہم نکات ائمہ نور اور ائمہ نار:

قرآن شریف میں دو قسم کے اماموں کا ذکر ہے۔ ایک امام تو پیشوائے متقین ہے جو راہِ راست اور دینِ حق کی طرف ھدایت کرتا ہے۔ چنانچہ سورہ انبیاء کی آیت ۷۳ میں پیغمبروں کے ایک گروہ کے متعلق ہم یوں پڑھتے ہیں: وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ ہم نے اُن کو پیشوا بنایا تھا کہ وہ ہمارے حکم سے لوگوں کو ھدایت کرتے تھے۔ ہم نے اُن کو وحی کی کہ وہ نیک کام کریں، نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور وہ صرف ہمارے ہی عبادت گزار تھے۔ یہ ایسے امام تھے جن کے فرائض عمل بالکل واضح تھے۔ اُن کے فرائضِ عمل کی فہرست توحید خالص، خیر اور نیکی کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور حق و عدالت پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ امامانِ نُور تھے کہ اُن کا سلسلہ انبیاء اور اوصیا سے گزرتا ہوا جناب خاتم المرسلین تک آتا ہے۔ دوسری قسم کے امام رہبرانِ ضلال و گمراہی ہیں اور آیات زیر بحث کی رُو سے وہ "آ ئمہ نار" ہیں۔ پیشواؤں کے دو گروہوں کی خصوصیات جیسی کہ امام جعفر صادق (علیه السلام) سے منقول ہے یہ ہیں: "اُن میں سے گروہ ادل خدا کے فرمان کو مخلوق کی رائے اور اپنے ارادے پر مقدّم رکھتے ہیں اور اُسی کے حکم کو بر ترین فرمان سمجھتے ہیں"۔ لیکن گروہ دوم اپنی رائے کو خدا کے حکم پر مقدّم سمجھتے ہیں اور اپنے حکم کو خدا کے فرمان پر ترجیح دیتے ہیں (بحوالہ: تفسیر صافی ذیل آیات زیر بحث)۔ اہل نظر کے لیے ان دونوں قسم کے اماموں میں امتیاز کرنا اس معیار کی روشنی میں آسان ہو جائے گا جو امام صادق (علیه السلام) نے بیان فرمایا ہے: بروز قیامت جب اعمال حسن و قیبح کے مطابق مخلوق کی صف بندی ہو گی تو ہر گروہ اپنے اپنے امام کے پیچھے چلے گا۔ ناری گروہ کسی ناری امام کی تلاش کر لے گا اور نوری گروہ امام ہدایت کے پیچھے ہو گا۔ چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے: یوم ندعوا کل اناس بامامھم وہ ایسا دن ہو گا کہ ہم ہر گروہ کو اُس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (بنی اسرائیل۔ ۷۱) ہم نے بارہا اِس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ میدان قیامت اس تنگ دُنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور عظیم ہو گا۔ اِس جہان فانی میں جن لوگوں نے جس امام کی بھی پیروی کی ہے اور اُس کے معتقدر ہے ہیں، روزِ محشر بھی وہ اُسی کے ساتھ ہوں گے۔ بشر بن غالب یوں بیان کرتا ہے کہ میں نے ابو عبد اللہ امام حسین علیہ السلام سے یوم ندعوا کل اُناس بامامھم کی تفسیر پوچھی تو امام (علیه السلام) نے فرمایا: "امام دعا الی ھدی فاجابوہ الیہ، وامام دعا الی ضلالة فاجابوہ الیھا، ھوٴلاء فی الجنة وھوٴلاء فی النار وھو قولہ عز وجل فریق فی الجنة وفریق فی السعیر" ایک امام تو وہ ہے جو ھدایت کی طرف بلاتا ہے اور ایک گروہ اس کی دعوت کو قبول کر لیتا ہے۔ اور ایک امام وہ ہے جو گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ایک گروہ اس کی بھی پیروی کرنے لگتا ہے۔ پہلا گروہ اہل جنت میں سے ہے اور دوسرا دوزخی ہے اور خدا کے اس فرمان کا کہ ایک فریق جنت میں ہو گا، اور ایک دوزخ میں، یہی مطلب ہے۔ حقیقت امر یہ ہے کہ وہ فرعون جو حضرت موسٰی (علیه السلام) کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے پیروؤں کے آگے آگے چل رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے ان سب کو دریائے نیل کی موجوں میں غرق کر دیا، بروز قیامت بھی وہ اس گمراہ گروہ کے آگے آگے ہو گا اورانھیں دریائے آتش میں ڈبو دے گا۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے۔ یقدم قومہ یوم القیامة فاوردھم النار بروز قیامت وہ اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا۔ یہاں تک کہ وہ انھیں آگ میں داخل کر دے گا (ھود۔ ۹۸)۔ ہم اس بحث کو مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کے ایک قول پر ختم کرتے ہیں۔ آپ (علیه السلام) نے منافیقین کے ایک گروہ کے متعلق فرمایا ہے: ثمّ بقوا بعدہ، فتقربوا الی ائمة الضلالة والدعاة الی النار بالزور والبھتان، فولوھم الاعمال وجعلوھم حکاما علی رقاب الناس یہ گروہ منافقین رسول اللہؐ کی وفات کے بعد بھی باقی رہا۔ اور انھوں نے آئمہ ضلال کی قربت اختیار کر لی اور ان لوگوں کی پیروی کی جو دروغ اور بہتان کے ساتھ لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے۔ ان آئمہ ضلال نے ان کے وجود سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہیں عہدے اور منصب عطا کیے اور انھیں حکّام بنا کر مخلوق کی گردنوں پر سوار کر دیا۔

43
28:43
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ ٱلۡأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
اورپچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، ایسی کتاب جو لوگوں کیلئے بصیرت آفریں تھی اور ہدایت و رحمت کا باعث تھی تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
28:44
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلۡغَرۡبِيِّ إِذۡ قَضَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلۡأَمۡرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف فرمان نبوت بھیجا تو اس وقت تو(کوہ طورکے) مغربی گوشے میں موجود نہ تھا اور نہ تو اس واقعے کے دیکھنے والوں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
28:45
وَلَٰكِنَّآ أَنشَأۡنَا قُرُونٗا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيٗا فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَا وَلَٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ
لیکن ہم نے مختلف زمانوں میں مختلف قومیں پیدا کیں اور ان طولانی زمانے گزر گئے،اور تو اہل مدین میں سے نہ تھا کہ ان(مشرکین مکہ) کو اس بارے میں ہماری آیات پڑھ کر سناتا،مگر یہ کہ ہم نے تجھے بھیجا (اور تجھے یہ خبریں دیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
28:46
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذۡ نَادَيۡنَا وَلَٰكِن رَّحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
اور تو اس وقت طور کے پہلو میں نہ تھا جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی۔ لیکن یہ تیرے رب کی رحمت تھی (کہ تجھے یہ اطلاعات دیں ) تاکہ تو انہیں سنا کر اپنی اس قوم کو ڈرائے جن کے پاس اس سے قبل کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر یہ غیبی خبریں اللہ نے دی ہیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

سُورة قصص میں جتنی آیات بھی حضرت موسٰی (علیه السلام) کی سرگذشت سے متعلق ہیں، ہم اس مقام پر اُس کے دسویں حصے سے متعارف ہوتے ہیں۔ اِس حصے میں حضرت موسٰی (علیه السلام) پر تورات کے نزول اور احکامِ عشرہ عطا کرنے کا ذکر ہے یعنی جب نفی طاغوت کا زمانہ ختم ہو گیا ( یعنی جب موسٰی اپنی قوت کو بُت پرستوں کے نرغے سے نکال لائے) تو وہ عہد شروع ہوا جب اُن کی دینی نقطہ نگاہ سے تربیت و اصلاح اور غیر خدا کے انکار کے بعد اللہ کی وحدانیت کا اقرار سکھانا تھا ۔ چنانچہ خداوندِ عالم فرماتا ہے: ہم نے پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لیے بصیرت آفریں اور ھدایت و رحمت کا سبب ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں: (وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ)۔ آیت زیر نظر میں "قرون اولیٰ" (یعنی اعصار گزشتہ کی وہ اقوام جو ہلاک ہو گئیں) سے کونسی قومیں مراد ہیں؟ بعض مفسرین اس سے قومِ نوح، عاد و ثمود اور اُن جیسی ہی کافر قومیں مراد لیتے ہیں۔کیونکہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ انبیا کے آثار زمین سے محو ہو گئے تھے اور اب لازم تھا کہ نوع انسانی کی تربیت کے لئے ایک نئی کتاب نازل کی جائے۔ بعض کے نزدیک اس سے قومِ فرعون کی ہلاکت مراد ہے جو گزشتہ اقوام کی باقیات میں سے تھی کیونکہ خدا نے اُس قوم کی ہلاکت کے بعد ہی موسٰی پر توریت نازل کی۔ لیکن یہ امر تسلیم کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے کہ "قرون الاولی" سے اِس قسم کی جملہ اقوام مراد ہوں۔ "بصائر"، "بصیرت" کی جمع ہے جس کے معنی "بینائی" کے ہیں۔ مگر اس مقام پر خدا کی وہ نشانیاں اور دلائل مراد ہیں جو مومنین کے قلب کو منوّر کرنے کا سبب ہوں اور ہدایت و رحمت بھی اس بصیرت کے لوازم میں سے ہے۔ نیز دلوں کی بیداری اور قدرتِ الہٰی میں غور و فکر اس کا نتیجہ ہے۔(بحوالہ: بصائر جمع بصیرت و ابصار جمع بصر)۔ اِس کے بعد یہ ذکر ہے کہ _____ ہم نے جو کچھ موسٰی اور فرعون کی داستان اس کی جُزئیات کے ساتھ بیان کی وہ قرآن کی صداقت پر دلیل ہے۔ کیونکہ تم اُس موقع پر موجود نہ تھے اور تم نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے تھے۔ یہ ہمارا لطف و کرم ہے کہ ہم نے مخلوق کی ہدایت کے لیے تم پر یہ آیات نازل کیں۔ پھر فرماتا ہے کہ: جب ہم نے موسٰی کو فرمان نبوت دیا تو تم کوہ طور کے گوشے میں موجود نہ تھے اور تم اس واقعے کے شاہدین میں سے نہیں تھے:( وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ)۔ اس مقام پر یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) مدین سے بہ سُوئے مصر سفر کرتے ہوئے ( کہ وہ راستہ سرزمین سینا سے گزرتا تھا) ٹھیک مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کر رہے تھے۔ اِس کے برعکس جب بنی اسرائیل مصر سے شام کی طرف آئے اور وادی ٴ سینا سے گزرے تو اُنہوں نے مغرب سے مشرق کی طرف سفر کیا ۔ لہذا بعض مفسرین نے سورہ شعرا ٴ کی آیت ساٹھ ”فاتبعوھم مشرقین" (جو کہ فرعون اوراس کی افواج کے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے کے بارے میں ہے) کا یہی مطلب سمجھا ہے۔ اس کے بعد قرآن میں فرمایا گیا ہے: ہم نے مختلف زمانوں میں مختلف اقوام کو پیدا کیا مگر جب ان پر طویل زمانہ گزر گیا تو انبیاء کی ہدایت اور اُن کی تعلیم کا اثر ان کے قلوب سے محو ہو گیا۔ لہذا تمہیں رسول بنایا اور قرآن عطا کیا اور گزشتہ قوموں کے حالات بیان کیے تاکہ وہ انسانوں کے لیے نصیحت کا باعث ہوں: (وَلَكِنَّا أَنشَأْنَا قُرُونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ)۔ اور تم ہرگز اہل مدین کے درمیان نہ رہتے تھے ( کہ تمہیں ان کی زندگی کے حالات معلوم ہوتے ) اور وہ حالات تم انہیں (اہل مکہ کو ) سناتے: (وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا) (تشریحی نوٹ: "ثاوی" کا مادہ "ثوی" ہے جس کے معنی ہیں "مستقل طور پر قیام کرنا" اسی وجہ سے جائے قرار کو "مثوی" کہتے ہیں)۔ لیکن ہم نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا اور ہزارہا سال ماقبل کے تاریخی حالات کا علم تمہیں بخشا تاکہ تم اس مخلوق کی ہدایت کرو: (وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ) (تشریحی نوٹ: حضرت موسٰی (علیه السلام) اور جناب ختمی مرتبت رسالت مآب کے درمیان قریباً دو ہزار سال کا فاصلہ ہے)۔ اسی مفہوم کی تاکید کے لئے اِس عبارت کا اضافہ کیا گیا کہ: جب ہم نے موسٰی کو ندا دی اور اُس کے نام فرمان نبوت صادر کیا :( وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا) (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اِس آیت میں ندا سے مراد وہ ندا ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کے ستر افراد کے ساتھ کوہِ طور پر گئے تھے اور اُنہیں خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ لیکن یہ احتمال بہت بعید ہے کیونکہ اِن آیات میں اشارہ ہے اُن مطالب کی طرف جو ماقبل آیات میں آچکے ہیں اور رسولِ اکرمؐ نے وہ حالات لوگوں کو بتائے جبکہ وہ اُن حالات کے شاہد و ناظر نہ تھے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آیات ماقبل میں حضرت موسیٰؑ کا مدین سے مصر کی طرف سفر کرنے اور وادی طور میں پہلی دفعہ کلامِ خدا کو سننے کا ذکر ہے)۔ مگر ہم نے تمہیں جن حالات سے مطلع کیا ہے وہ اس رحمت کا تقاضا ہے کہ تم ان کے وسیلے سے اس قوم کو ڈراؤ جن کے پاس قبل ازیں کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں: (وَلَكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ)۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ خدا جنابِ رسالت مآبؐ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ: وہ بیدار کن اور ہوش آور واقعات جو ماضی بعید کی قوموں پر گزر چکے ہیں اور تم نے اُنہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہم نے تمہیں اُن سے آگاہ کیا ہے تاکہ تم اُنھیں اِس گمراہ قوم کو سناؤ کہ ممکن ہے وہ نصیحت حاصل کریں۔ اِس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں یہ کس طرح کہا گیا ہے کہ:۔ اِس قوم (زمانہ ٴ رسول کے عربوں) کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ جبکہ یہ بھی مسلم ہے کہ روئے زمین کبھی حجّت الہٰی سے خالی نہیں رہتی ۔ اور اُس قوم (عرب ) میں بھی پیمبرانِ صاحبِ کتاب کے اوصیاء موجود رہے ہیں۔ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ:۔ اُس قوم گمراہ کے پاس ایک صاحبِ کتاب پیغمبر اور ڈرانے والے کو بھیجنے کی غایت واضح ہے۔ کیونکہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اور پیمبرِا سلامؐ کے ظہور کے درمیان کئی سال گزر چکے تھے۔ اِس دوران میں کوئی اولوالعزم پیغمبر نہیں آیا تھا اور یہ مفسد اور ملحد عرب اسی بہانے سے راہ خدا سے منحرف ہو گئے تھے۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب (علیه السلام) فرماتے ہیں: انّ اللہ بعث محمداً وؐ لیس احد من العرب یقرء کتاباً ولایدعی نبوة فساق النّاس حتٰی بواھم محلتھم و بلغھم منجاتھم جس وقت خدا نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا (اُس وقت یہ حال تھا کہ) کوئی عرب بھی آسمانی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور وہاں کوئی بھی مدعی نبوت نہ تھا۔ آنحضرتؐ نے اُنہیں وہ مقام عطا کیا جو اُن کے لائق تھا اور اُنھیں نجات کی منزل پر پہنچا دیا۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۳۳)۔

47
28:47
وَلَوۡلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اگر کسی پیغمبر کے بھیجنے سے پہلے ہم ان کے اعمال پر انہیں سزا دیتے تو وہ کہتے: پروردگارا ! تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور مومنین میں سے ہوتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
28:48
فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ لَوۡلَآ أُوتِيَ مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ مُوسَىٰٓۚ أَوَلَمۡ يَكۡفُرُواْ بِمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبۡلُۖ قَالُواْ سِحۡرَانِ تَظَٰهَرَا وَقَالُوٓاْ إِنَّا بِكُلّٖ كَٰفِرُونَ
مگر جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے کہا کہ اس پیغمبر کو ایسی چیز کیوں نہیں دی گئی۔جیسی حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی؟کیا بہانہ سازوں نے ان کی طرح ان آیات کا انکار نہیں کیا تھا جو اس سے قبل موسیٰ کو دی گئی تھیں ؟انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں (موسیٰ وہارون) جادوگر ہیں اور انہوں نے باہم سازش کر لی ہے (تاکہ ہمیں گمراہ کریں ) اور انہوں نے کہا کہ ہم ان سب باتوں کے منکر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
28:49
قُلۡ فَأۡتُواْ بِكِتَٰبٖ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهۡدَىٰ مِنۡهُمَآ أَتَّبِعۡهُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
(اے پیغمبرؐ)کہہ دے کہ اگر تم سچے ہو(کہ تورات اور قران اللہ کی طرف سے نہیں ہیں ) تو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخش کتاب لے آؤ تاکہ میں اس کی پیروی کروں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
28:50
فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
پس اگریہ لوگ تیری تجویز قبول نہ کریں تو جان لے کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا کہ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ کی ہدایت کو قبول نہ کرے! یقیناً خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

تفسیر گریز از حق کے لے نو بہ نو بہانے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں پیغمبر کے بھیجنے کا مقصد ڈرانا اور خوف دلانا بیان ہوا تھا۔ زیرِ نظر آیات میں سے پہلی میں خدا کے اُس لطف و کرم کا ذکر ہے جو کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے کی صُورت میں ظہور میں آتا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: پیغمبر کو مبعوث کرنے سے پہلے ہم انہیں اُن کے اعمال پر سزا دیتے تو وہ کہتے کہ خدا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور مومنین میں سے ہو جاتے۔ اگر یہ وجہ نہ ہوتی تو ان کے اعمال اور کفر کی وجہ سے کسی پیغمبر کے بھیجنے کی ضرورت بھی نہ تھی: (وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ) (تشریحی نوٹ:۔ بعض مفسرین نے یہ تصریح کی ہے کہ پہلے "لولا" کا جواب محذووف ہے۔ اس شرط کی جزا "لما ارسلنا رسولا" یا "لما وجب ارسال الرسل" ہونی چاہیے۔ دوسری تعبیر صحیح تر اور قریب ترینِ حقیقت ہے۔ بہرحال، یہ کلام ان احکام سے مربوط ہے جن کا عقل مستقلا ادراک کرتی ہے۔ وگرنہ خداکی طرف سے بعثتِ انبیاء اور دلائل سے بھی لازم ہے۔ ہر چند کہ پیغمبروں کی آمد کے فوائد میں سے ایک "احکامِ عقلیہ" کی تاکید بھی ہے بطلانِ شرک، ظلم کی قباحت اور شر و فساد کے مضرات)۔ اِس آیت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ راہ حق روشن ہے اور ہر عقل شرک اور بُت پرستی کے باطل ہونے کا حکم لگاتی ہے اور اُن کے بہت سے اعمال مثلاً ظلم اور ناانصافیاں ایسے ہیں جنہیں عقل قابلِ نفرت سمجھتی ہے۔ اور ایسے قبیح ہیں کہ بُدون ارسال پیغمبر ہی مستحق سزا ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کہ اُن کی بداعمالیوں کے بارے میں حکم عقل واضح اور روشن ہے، خدا اُن کے ہر عُذر کی نفی اور اتمامِ حُجّت کے لئے، اُن کی طرف پیغمبروں کو آسمانی کتابیں اور معجزات کے ساتھ بھیجتا ہے تاکہ اُن میں سے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہماری بدبختی تو کسی رہنما کے نہ ہونے سے تھی اگر ہمارے لیے خداکی طرف سے کوئی رہبر ہوتا تو ہم نجات یافتہ اور راہ ہدایت پر ہوتے۔ بہرحال، یہ آیت، اُن آیات میں سے ہے جو "پیغمبر کو بھیجنے کی صورت میں" خدا کے لطف کے ضروری ہونے کو بیان کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے خدا کسی کو اس قوم کو اُس کی طرف پیغمبر بھیجنے سے پہلے اُس کے گناہوں کی سزا نہیں دیتا۔ جیسا کہ سورہ نساء کی آیت ایک سو پینسٹھ میں مذکور ہے: رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ہم نے وہ پیغمبر بھیجے جو بشارت دینے اور ڈرانے والے تھے تاکہ اِن پیغمبروں کے بعد لوگوں کے لیے کوئی حجّت باقی نہ رہے اور اللہ توانا اور حکیم ہے۔ اِس کے بعد قرآن میں اُن کافر اقوام کی بہانہ تراشیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ "ہماری طرف سے پیغمبر بھیجے جانے کے بعد بھی انہوں نے بہانہ سازی کو نہ چھوڑا۔ اور اپنی قدیم منحرف راہوں پرچلتے رہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے: جس وقت اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو اُنہوں نے کہا کہ اِس پیغمبر کو ویسے ہی معجزات کیوں نہیں دئے گئے جیسے کہ موسٰی کو دیئے گئے تھے: (فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَى)۔ اُس کے ہاتھ میں عصائے موسٰی کیوں نہیں ہے؟ وہ ید بیضا کیوں نہیں رکھتا؟ اُس کے لیے دریا کیوں نہیں پھٹ جاتا؟ اُس کے دشمن غرق کیوں نہیں ہو جاتے؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ویسا کیوں نہیں ہوتا؟یہ ہیں اعتراضات اُن کفّار کے۔ قرآن مجید میں ان بہانہ تراشیوں کا اس طرح جواب دیا گیا ہے۔ کیا گزشتہ بہانہ جو لوگوں نے ان معجزات کا جوموسٰی کو دیئے گئے تھے اِسی طرح انکار نہیں کیا تھا: (أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِن قَبْلُ)۔ کیا اُس عہد کے کفّار نے یہ نہیں کہا تھا کہ: یہ دونوں (موسٰی و ہاورن) ساحر ہیں۔ اِن دونوں نے باہم مشارکت کر لی ہے (تاکہ ہم کو گمراہ کریں) ہم اِن دونوں کا انکار کرتے ہیں:( قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ)۔ اِس مقام پر کلمہ "سحران" استعمال ہوا ہے۔ حسب قاعدہ ساحران ہونا چاہیے تھا۔ کلمہ سحران شدّت تاکید کے لیے ہے کیونکہ عربوں کی یہ فطرت تھی کہ جب وہ کوئی بات زور دے کر کہنا چاہیتے تھے تو وہ صفت کو عین ذات قرار دے دیتے تھے۔ مثلاً عادل شخص کو "عین عدالت" ظالم کو "عین ظلم" ساحر کو "عین سحر" وغیرہ۔ اِس مقام پر اس احتمال کی بھی گنجائش ہے کہ "کلمہ" سحران سے مراد حضرت موسٰی (علیه السلام) کے دو بڑے معجزے "عصا اور ید بیضا" ہوں۔ اگر اِس مقام پر تردیدا یہ کہا جائے کہ کفّار مصر کے انکار کا کفّار مکہ کے انکار سے کیا ربط ہے؟ تو اس کا جواب واضح ہے۔ اور وہ یہ کہ اہل کفرکی بہانہ جوئی کوئی تازہ بات نہیں ہے۔ تمام اہل کفر کا مزاج یکساں ہوتا ہے اور اُن کے اعتراضات بھی ایک دوسرے کے مشابہہ ہوتے ہیں اور اُن کے کافرانہ منصوبے بھی یکساں ہوتے ہیں۔ آیت مافوق کی جو تفسیر ہم نے بیان کی وہ تو شبہ سے پاک ہے۔ مگر کچھ مفسرین نے اِس آیت کی کسی اور طرح سے بھی تعبیر کی ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ "سحران تظاھران" سے مراد دو پیغمبر حضرت موسٰی (علیه السلام) اور جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں کیونکہ مشرکین عرب یہ کہتے تھے کہ یہ دونوں ساحر تھے اور ہم دونوں کا انکار کرتے ہیں۔ اِن مفسرین نے اپنے قول کی تائید میں ایک تاریخ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ:۔ اہل مکّہ نے چند لوگوں کو علمائے یہود کے پاس ایسے وقت بھیجا کہ وہ اُن کی عید کا دن تھا۔ اُن لوگوں نے علمائے یہود سے سوال کیا کہ کیا واقعاً محمد پیغمبر خدا ہے؟ اُن علما نے جواب دیا کہ ہم نے توریت میں ان کا نام ان کی صفات کے ساتھ پڑھا ہے۔ اِن نمایندوں نے واپس آ کر مشرکین مکّہ کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ اُس وقت کفّار مکّہ نے "سحران تظاھران ۔۔۔ وانا بکل کافرون" کہا (یہ دونوں ساحر تھے اور ہم دونوں کا انکار کرتے ہیں ) (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد ۲۰ ، صفحہ ۸۱)۔ لیکن دو نکتوں پر غور کرنے سے یہ تفسیر حقیقت سے بعید معلوم ہوتی ہے۔ اوّل یہ کہ:۔ روایات اور تاریخ سے یہ بات بہت کم ہے کہ مشرکین عرب نے حضرت موسٰی (علیه السلام) پر ساحری کا اتہام لگایا ہو اور شاید یہیں اِس قسم کا احتمال ظاہر کیا گیا ہے۔ دُوسرے یہ کہ:۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسٰی (علیه السلام) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے درمیان قریباً دو ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہ ادّعا کرے کہ یہ دونوں جادوگر تھے اور انہوں نے ایک دوسرے سے سازش کر رکھی تھی۔ نیز کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی جادوگر ہزاروں سال قبل یہ جان لے کہ آئند ہ کیسا آدمی پیدا ہو گا اور وہ کیا دعویٰ کرے گا۔ بہرحال، مُفسد طبع مشرکین مکّہ کو اِس امر پر اصرار تھا کہ پیغمبر اسلامؐ کے پاس حضرت موسٰی (علیه السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں ہیں۔ نیز نہ تو وہ اس شہادت اور ان علامات کی طرف اعتنا کرتے تھے جو توریت میں پیغمبر اسلامؐ کے متعلق موجود تھی اور نہ وہ قرآن اور اُس کی پُر عظمت آیات ہی پر ایمان لاتے تھے۔ لہذا قرآن میں جناب سالتمآب سے یہ کہا گیا ہے (اے پیغمبر) اِن سے کہہ کہ اگر تم سچ مچ یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ یہ دونوں کتابیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو اس کتاب سے زیادہ نوانی اور ہدایت بخش کوئی اور کتاب خدا کی طرف سے لے آؤ تاکہ میں اس کی پیروی کروں (قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَى مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ لیکن _____ وہ کفارِ مکہ حق طلب نہ تھے بلکہ صرف بہانہ جُو تھے ۔ اِس لیے وہ کسی اور عجیب کتاب ھدایت کے طلب گار اور پیغمبر کے دارائے معجزات ہونے پر مُصر تھے اور اس حقیقت سے غافل تھے کہ قرآن سے بڑا معجزہ اور اس سے بہتر کتاب ہدایت اور کونسی ہو سکتی تھی۔ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قرآن کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوتا تو یہی اُن کی حقانیت رسالت کے لیے کافی تھا۔ اس کے بعد اِن الفاظ کا اضافہ ہے۔ (اے پیغمبر) اگر یہ کفّار تمہارے پیغام کو قبول نہیں کرتے تو جان لو کہ اپنی ہوس کی پیروی کرتے ہیں: (فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ)۔ کیونکہ جو انسان ہوا پرست نہیں ہوتا وہ ایسی منطقی پیشکش کے سامنے سر جُھکا دیتا ہے لیکن وہ کسی طرح بھی راہِ راست پر نہیں آتے اور پیغمبر کے ہر پیغام کو کسی نہ کسی بہانے سے رَد کر دیتے ہیں۔ کیا____ کوئی شخص اُس سے بھی زیادہ گمراہ تر مل سکتا ہے جو اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کر کے کسی بھی ہدایت الہٰی کو قبول نہیں کرتا (وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ)۔ یہ مسلم ہے کہ خدا ظالمین کے گروہ کی ہدایت نہیں کرتا: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ)۔ اگرچہ وہ لوگ گمراہ تھے لیکن اپنی گمراہی کو محسوس کر کے حق طلب ہوتے لطف الہٰی نہ متقضای ٴ "والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (تشریحی نوٹ: جو لوگ ہماری طرف کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ہدایت کے راستوں کی رہنمائی کرتے ہیں)۔ ۔۔۔۔۔۔ ان کے شاملِ حال ہوتا مگر وہ ستمگر ہیں۔ وہ اپنی ذات پر بھی ظلم کرتے ہیں اور اُس معاشرے پر بھی جس میں وہ رہتے ہیں۔ ان کا مقصدِ حیات فساد اور عناد کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اِس حالت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ راہ ہدایت کے لیے اُن کی مدد کرے۔

خواہشات پرستی گمراہی کا سبب ہے:

مذکورہ بالا آیات میں اِن دونوں باتوں (یعنی خواہش پرستی اور گمراہی) کا رابطہ صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اُن لوگوں کو گمراہ ترین کہا گیا ہے جنہوں نے اپنی ہوائے نفس کو اپنا رہبر بنا لیا ہے اور ھدایت الہٰی کو ہرگز قبول نہیں کرتے ___اور___ ہوائے نفس، عقل کی آنکھوں پر ضخیم پردہ ہے۔" ہوائے نفس" کسی موضوع سے ایسا دل بستہ کر دیتی ہے کہ انسان میں اوراک ِحقیقیت کی قابلیت ہی نہیں رہتی کیونکہ اوراکِ حقیقیت کے لیے واقعات کو بطور امر مطلق کے تسلیم کرنا اور ہر قسم کے پیشگی فیصلے اور رُجحان طبع کو ترک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہر موجود عینیت خارجی رکھتا ہے، خواہ وہ تلخ ہو یا شیریں، ہمارے میلان طبع کے موافق ہو یا مخالف، ہمارے ذاتی مفاد سے ہم آہنگ ہو یا نہ ہو، اسے بلاقید و شرط تسلیم کر لینا ہی ادراک حقیقت کہلاتا ہے۔ مگر یہ مجرد اصول انسان کی ہوائے نفس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس موضوع پر ہم نے سورة فرقان کی آیت ۴۳ کے ذیل میں جلد ۸ میں مفصل بحث کی ہے۔ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ متعدد روایات میں آیت فوق کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ گمراہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے فرستادہ ٴ خدا رہبر اور امام کو قبول نہیں کیا اور صرف اپنی رائے پر جمے ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: یہ روایات اصول کافی اور بصائرالدرجات میں (بمطابق نور اثقلین جلد ۴، ص ۱۳۲) مذکورہ ہے)۔ یہ روایات حضرت امام جعفر صادق (علیه السلام) اور دیگر آئمہ ھدیٰ سے نقل ہوئی ہیں۔ اپنے مصداق کے لحاظ سے قطعی روشن اور بہ مرتبہ حق الیقین ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان ہر وقت ھدایتِ الہٰی کا نیاز مند ہے اور یہ ھدایت کبھی تو آسمان کتاب میں جلوہ گر ہوتی ہے، کبھی وجود پیغمبر اور اُس کی سنت میں کبھی اُس کے معصوم اوصیا میں اور کبھی عقل و خرد کے استد لال میں۔ بہرکیف، انوار ھدایت سے بہرہ مند ہونے کے لیے، لازم ہے کہ انسان ادامر پر بے چوں و چرا عامل ہو اور کسی امر میں بھی اپنی ہوائے نفس کو دخل نہ دے۔

51
28:51
۞وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ ٱلۡقَوۡلَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
ہم ان لوگوں کے پاس پے در پے قرآن کی آیات بھیجتے رہے کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
28:52
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤۡمِنُونَ
وہ لوگ جنہیں ہم نے قبل ازیں کتاب دی تھی وہ اس(قرآن) پر ایمان لاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
28:53
وَإِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلِهِۦ مُسۡلِمِينَ
اور جس وقت ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے۔ یقیناً یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے بر حق ہے اور ہم پہلے ہی سے مسلمان تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
28:54
أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
ان لوگوں کو دو گنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ وہ صبر کرتے رہے ہیں اور وہ بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے رہے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
28:55
وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ
اور جب وہ لغو اور بے ہودہ باتیں سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال مبارک ہوں۔ تم پر ہمارا (دور کا) سلام ہے ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

آیات فوق کی شانِ نزول کے بارے میں مفسرین اور ادیان حدیث نے گوناں گوں روایات نقل کی ہیں۔ اِن تمام روایات میں قدر مُشترک ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ آیاتِ قرآن اور پیغمبر اسلامؐ کی رسالت پر علمائے یہود و نصاریٰ کی ایک جماعت کا ایمان لانا۔ چنانچہ --- سعید ابن جُبیر نے روایت کی ہے کہ یہ آیات اُن ستر عیسائی علماء کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جنہیں نجاشی نے حبشہ سے تحقیقِ حال کے لیے مکّہ بھیجا تھا۔ جب جناب رسالتمآبؐ نے اُن کے سامنے سورہ یسٰ پڑھی تو اُن پر رقّت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگے اور اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا (بحوالہ: تفسیر فی ظلا ل القرآن، جلد ۶، صفحہ ۳۵۷، ۳۵۸)۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی تھیں، جو آنحضرتؐ کی خدمت میں آئے تھے۔ جب اُنھوں نے قرآن کی آیات سُنیں تو ایمان لے آئے ۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلا ل القرآن، جلد ۶، صفحہ ۳۵۷، ۳۵۸)۔ بعض لوگ اِن آیات کو "نجاشی" اور اُس کے اہلِ دربار کے متعلق سمجھتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلا ل القرآن، جلد ۶، صفحہ ۳۵۷، ۳۵۸)۔ بعض لوگوں نے اِن کی شان نزول حضرت سلمان فارسی، اور علمائے یہود کی ایک جماعت ( مثلاً عبد اللہ بن سلام، تمیم الداری،اور جارو عبدی وغیرہ) کے متعلق سمجھا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۷، صفحہ ۲۵۸)۔ بعض راوی اِن آیات کا مشار ُ الیہ چالیس روش ضمیر عیسائی علماء کو بتاتے ہیں کہ جن میں سے بتیس جو جناب جعفر ابن ابوطالب کے ساتھ حبشہ سے مدینہ آئے تھے اور آٹھ شام سے آئے تھے جن میں مشہور بحیرا راہب شامی بھی تھا۔(بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۷، صفحہ ۲۵۸)۔ البتہ اِن میں سے پہلی تین قسم کی روایات ان آیات کے مکہ میں نازل ہونے سے مناسبت رکھتی ہیں اور اُن لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کُلی سورہ مکی ہے۔ لیکن چوتھی اور پانچویں قسم کی روایات اُس امر کی دلیل ہیں کہ یہ چند آیات مدینہ میں نازل ہوئی تھیں اور یہ روایات اُن لوگوں کے قول پر گواہی ہیں چو ان آیات کو مدنی سمجھتے ہیں۔ بہرکیف____ جو بھی ہو ____ یہ آیات اِس امر پر شاہد ناطق ہیں کہ اہل کتاب کے علماء میں سے ایک جماعت نے آیاتِ قرآن سُن کر اسلام قبول کر لیا تھا کیونکہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ رسول اللہؐ ایسی حالت میں کہ اہلِ کتاب میں سے کوئی بھی اُن پر ایمان نہ لایا ہوتا، ایسی بات کہہ دیں کیونکہ اگر یہ آیات مطابق واقعہ نہ ہوتیں تو مشرک فورا ً آپ کی تکذیب کرتے اور شور مچانے لگتے۔

تفسیر حق طلب اہل کتاب:

گزشتہ آیات میں اُن بہانوں کا ذکر تھا جو مُشرک لوگ حقائق کو تسلیم نہ کرنے کے لیے تراشا کرتے تھے اور اِن آیات میں جو زیر بحث ہیں اُن آمادہ دلوں کا ذکر ہے جنہوں نے کلام الہٰی کو سُن کر حق کو قبول کیا، پھر اُس سے وفادار رہے اور دل و جان سے اُس کی اطاعت کی، جب کہ جُہلا کے تاریک دل حق سے ذرّہ بھر بھی متاثر نہ ہوئے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے:ہم نے آیات قرآن کو پے درپے اُن کے پاس بھیجا کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں: (وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ) (تشریحی نوٹ: "وصلنا" کا مادہ "وصل" ہے۔ جس کے معنی ارتباط دینے اور متصل کرنے کے ہیں مگر جب یہ مادہ باب تفعیل میں جاتا ہے، تو اس میں کثرت اور تاکید کے معنی بھی شامل ہو جاتے ہیں)۔ یہ آیات بارش کے قطروں کی طرح مسلسل ان پرنازل ہوئیں۔ ان آیات کی شکلیں نوع بہ نوع تھیں اور ان کی کیفیات مختلف تھیں۔ اُن میں کبھی حُسن عمل کی جزا کا وعدہ تھا اور کبھی عمل سُور کے نتیجہ میں دوزخ کی وعید تھی۔ اُن میں نصیحت و پند تھی اور کبھی خوف دلایا گیا تھا کبھی تو اُن میں عقلی استدلال تھا اور کبھی گزشتہ قوموں کی عبرت انگیز اور ثمر بخش تاریخ بیان کی گئی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ آیات ہر حیثیت سے بہت کامل اور نہایت ہم آہنگ تھیں۔ جس دل میں قبولِ حق کی ذرّہ بھر بھی استعداد ہو وہ اُنھیں خود بخود جذب کر لیتا ہے لیکن کوردل لوگوں نے اُنھیں قبول نہیں کیا۔ لیکن وہ لوگ جنہیں قبل ازیں ہم نے آسمانی کتاب دی تھی (یہود و نصاریٰ) وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں: (الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ)۔ کیونکہ وہ قرآن کو اُن علامات کے مطابق پاتے ہیں جو وہ اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھتے ہیں۔ اِس مقام پر جاذب توجہ یہ امر ہے کہ یہ ایمان لانے والے، اہل کتاب، کچھ افراد تھے لیکن آیت فوق میں صرف "اہل کتاب" کہا گیا ہے، جو کلمہ عمومی ہے۔ اِس میں کوئی قید اور تخصیص نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے یہ امر ہو کہ جو لوگ ایمان لائے صرف وہی اہل کتاب تھے اور باقی کچھ نہیں تھے۔ اس کے بعد اس مضمون کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس وقت اُن کے سامنے یہ آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، یہ یقیناً حق ہیں اور ہمارے خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں:( وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا)۔ البتہ اُن کے لیے ان آیات کی تلاوت ہی کافی تھی تاکہ وہ " آمنا" کہیں اور قصدیق کریں۔ اِس کے بعد اِن الفاظ کا اضافہ ہے۔ ہم نے پیغام الہٰی کوآج ہی قبول نہیں کیا، بلکہ ہم تو پہلے ہی سے مسلمان تھے:( إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ)۔ ہم نے اس پیغمبر کے آمد کی علامات اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھی ہیں۔ ہمیں اُن علامات کے مطابق آنے والے سے دلبستگی تھی اور بےچینی سے ہم اُس کا انتظار کر رہے تھے اور جب ہم نے اپنے اُس ہادی کو پا لیا جس کا انتظار تھا تو فوراً دل و جان کے ساتھ اُ س پر ایمان لے آئے۔ اِس کے بعد قرآن میں اس تقلید شکن اور حق طلب گروہ کی جزاء کے بارے میں فرمایا گیا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر و شکیبائی کی وجہ سے دوگنا اجر پائیں گے: (أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا)۔ اُنھیں ایک دفعہ تو اِس نیکی کا اَجر ملے گا کہ وہ اپنی آسمانی کتاب پر ایمان لائے اور اُس کے احکام کے پابند اور وفادار رہے۔ اور دُوسرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لائے اور اُنھوں نے اقرار کیا کہ یہ وہی پیغمبر موعود ہیں کہ جن کے آنے کی سابق کتابوں میں خبر دی گئی تھی۔ اِس مقام پر اس احتمال کی بھی گنجائش ہے کہ انھیں دوگنا اجر ملنے کا سبب یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلامؐ پر اُن کے ظہور سے پہلے بھی ایمان رکھتے تھے اور ظہور کے بعد بھی اُنھوں نے اپنے ایمان کا اعلان کی۔ گزشتہ آیات سے یہ معنی سمجھ میں آتا ہے۔ اِن اہل ایمان نے ہر دو مرحلوں میں اپنے اثباتِ ایمان کے لیے نہایت صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ نہ تو یہود و نصاریٰ کے مخرف الایمان لوگ اُن کے عمل کو پسند کرتے تھے اور نہ وہ معاشرہ جو اپنے آباؤ اجداد کے عقائد کا مقلد تھا اُنھیں سابق دین سے دستبرداری کی اجازت دیتا تھا۔ تاہم ____وہ ثابت قدم رہے اور اُنھوں نے عارضی منافع اور ہوائے نفس کا ٹھکرا دیا اور-خدا کی طرف سے دو گنا اجر کے مستحق ٹھہرے۔ اِس کے بعد قرآن میں ان کے ایک سلسلئہ اعمال کی طرف اشارہ ہے۔ اُن کے یہ اعمال ایک دوسرے سے زیادہ قدر و منزلت رکھتے ہیں اور وہ ہیں حسنات کے ذریعہ سے سیئات کو دُور کرنا، خدا کی عطاکردہ نعمتوں میں سے انفاق کرنا اور جُہلا کے ساتھ بزرگانہ برتاؤ کرنا۔ اِن تین صفات کے ساتھ صبر و شکیبائی کا اضافہ کیا جائے تو چار ممتاز صفات ہو جاتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ ذکر ہے کہ:۔ یہ لوگ بدیوں کو نیکیوں کے ذریعے دُور کرتے ہیں: (وید رء ون بالحسنة السیئة)۔ یہ لوگ بُری باتوں کو اپنی نیک گفتاری سے، مُنکر کو امربالمعروف سے، جاہلوں کے جہل کو اپنے حلم سے، عداوت اور کینہ توزی کو محبت سے، قطع محبت کو اپنی دوستی اور صلہ رحم سے دُور کرتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بجائے اس کے کہ بدی کا بدلہ بدی سے دیں، بدی کو نیکی کے ذریعے دفع کرتے ہیں۔ بُرائیوں کے ساتھ مقابلے، بالخصوص آمادہ ہٹ دھرم افراد کے مقابلے میں مذکورہ روش نہایت مئوثر ہے اور قرآن میں بار بار اِس روش کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم نے اس موضوع کو جلد٥ میں سورہ رعد کی آیت ۲۲ اور سورہ مومنون کی آیت ۹۶ کے ذیل میں تفصیلاً تحریر کیا ہے۔ اِن مومنین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ: ہم نے اُنھیں جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے انفاق کرتے ہیں: (وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ)۔ یہ مومنین اپنے مال اور ثروت میں سے ہی انفاق نہیں کرتے بلکہ اپنے علم و دانش، اپنی فکری اور جسمانی طاقت اپنی معاشرتی حیثیت بھی ( کہ یہ سب خدا کی عطا کردہ نعمتیں ہیں) مستحقین اور نیاز مندوں کے لیے کام میں لاتے ہیں۔ نیز اُن مومنین کا ایک امتیاز عملی یہ ہے کہ جس وقت وہ کوئی لغو اور بہودہ بات سنتے ہیں تو اُس سے منہ پھیر لیتے ہیں: (وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ)۔ اور ہرگز لغو بات کے جواب میں لغو بات نہیں کہتے اور جہل کا جواب جہل سے نہیں دیتے بلکہ، بیہودہ بکنے والوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ (وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ)۔ نہ تو تمہیں ہمارے جُرم اعمال کی سزا ملے گی اور نہ ہمیں تمہارے جرم اعمال کی مگر تم جلد ہی جان لو گے ہم میں سے ہر ایک عمل کا انجام کیا ہوا ہے۔ اُس کے بعد اِس مطلب کا اضافہ ہے کہ وہ مومنین ان جہلا سے (جو یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اذیت ناک باتوں سے باایمان اور نیکوکار افراد کو غصّہ دلائیں اور اُن کی دل آزاری کریں) رُخصت ہو جاتے ہیں اور اُن سے یہ کہتے ہیں " تمہیں ہمارا سلام ہو، ہم جاہلوں کے طالب نہیں ہیں: (سلام علیکم لانبتغی الجاھلین)۔ ہم نہ تو بدگوہیں اور نہ جاہل اور فسادی اور نہ ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہم تو روشن ضمیر اہل دانش اور علمائے عامل اور سچّے مومنین کے خواہاں ہیں۔ اِس عنوان سے وہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنی توانائیوں کو جاہلوں، کوردلوں اور بے خبر بیہودہ بکنے والوں کے مقابلہ میں ضائع اور برباد کریں، بڑی متانت سے ان سے کنارہ کش ہو کر اپنے بنیادی مقاصد کے پورا کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ قابل توجہ یہ امر ہے جب اس قسم کے افراد سے ان کا سامنا ہوتا ہے۔تو اُنھیں سلام تحیت نہیں کرتے بلکہ اُن کا سلام، سلام رخصت ہوتا ہے۔

قلوب با ایمان:

مذکورہ بالا آیات میں ان قلوب کی نہایت حسین اور جاذب تصویر کھینچی گئی ہے جن میں ایمان کا بیج ہے اور وہ اُس کی پرورش کرتے ہیں۔ وہ اُن بے شخصیت افراد کے زمرے میں سے نہیں ہیں جو جہل، تعصب، بدزبانی، بیہودہ گی اور بخل و کینہ توزی کا مخزن ہیں۔ یہ لوگ ایسے بزرگوار اور پاک زبان ہیں کہ اُنھوں نے سب سے پہلے کورانہ تقلید کی زنجیروں کو توڑ دیا ہے۔اس کے بعد اُنھوں نے توحید کی منادی کو بہ توجہ تام سنا اور جب انھیں دلائل حق کی صداقت کا یقین ہو گیا تو اُنھوں نے حق کو قبول کر لیا۔ اِس میں شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو تقلید شکنی اور اپنے متحرف الحق معاشرے سے جدا ہونے کا گراں تاوان ادا کرنا پڑتا ہے اور بہت سی تکالیف اور محرومیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔مگر اُن میں اس قدر صبر و شکیبائی کا جوہر ہوتا ہے کہ وہ پیش نظر عظیم مقصد کے لیے ان تمام مشکلات کو برداشت کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو کینہ توز ہوتے ہیں کہ ہر بدی کا بدتر جواب دیں اور نہ بخیل و خسیس ہوتے ہیں کہ عطیات الہٰی کو صرف اپنے لیے مخصوص کر لیں۔ وہ لوگ ایسے بزرگوار ہیں جو مذکورہ بالا نقائص کے علاوہ، دروغ، نامناسب مشاغل، لڑائی جھگڑوں، بیہودہ بحثوں، بے معنی باتوں، رکیک حرکتوں اور ان جیسی جملہ ناشائستہ باتوں سے محترز رہتے ہیں۔ وہ پاک زبان اور پاکیزہ قلب رکھتے ہیں ۔وہ اپنی فعال اور کار ساز تونائیوں کو جُہلا سے جھگڑا کر کے تباہ نہیں کرتے ۔ حتی کہ بہت سے موقعوں پر سکّوت کو (جو کہ ایسے احمقوں اور بے خرد لوگوں کے لیے بہتر ین جواب ہے) گویائی پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے اعمال اور فرائض میں رہتے ہیں اور ان پیاسوں کی طرح جو چشمہء آب کی طرف جاتے ہیں وہ لوگ بھی علم و دانش کے پیاسے ہیں اور علماء اور دانشمندوں کی صحبت میں حاضر ہونے کے خواہشمند رہتے ہیں۔ ہاں___ یہی وہ بزرگوار لوگ ہیں جن میں اتنی سعادت موجود ہے کہ ایمان کے پیغام کو دل سے قبول کرتے ہیں اور پیشگاہِ خداوندی سے اپنے اعمال خیر کا ایک گنا نہیں بلکہ دو گنا اجر پاتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت سلمان فارسی، نجاشی بابحیرا جیسے متلاشی حق یا اُن ہی جیسے اور اُن ہی کے ہم پایہ ہوتے ہیں کہ جب اُنھیں ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں تو وہ منزل ایمان پر پہنچنے کے لیے اُن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اِس ضمن میں حضرت امام جعفر صادق (علیه السلام) کی ایک حدیث جاذب توجہ ہے۔ آپؑ نے فرمایا: نحن صبراء و شیعتنا اصبر منا و ذلک انا صبرنا علی مانعلم و صبروا علی مالا یعلمون۔ ہم صابر ہیں اور ہمارے شیعہ ہم سے زیادہ صابر ہیں کیونکہ ہم تو اسرارِ اُمور سے آگاہ ہیں، پھر صبر کرتے ہیں (اور طبعاًیہ کام آسان تر ہے) مگر وہ اسرار اُمور کو جانے بغیر صبر و شکیبائی کو نہیں چھوڑتے۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ دو جانباز آدمی میدان جہاد میں قدم رکھتے ہیں۔ اُن میں سے ایک انجام کار سے باخبر ہے اور جانتا ہے کہ اس جہاد کا نتیجہ فتح ہو گا۔ لیکن دوسرا شخص باخبر نہیں ہے اور محض خوشنودی ٴ خدا کے لیے میدان میں آیاہے۔ اس حالت میں کیا دوسرے کا صبر پہلے شخص کے صبر سے اولیٰ نہیں ہے؟ یا بالفرض____ اِس امر کے قرائن موجو ہیں کہ متذکرہ دونوں افراد شہید ہو جائیں گے۔ مگر اُن میں سے ایک یہ جانتا ہے کہ شہادت میں کون کونسے اسرار نہاں ہیں اور اس شہادت کے مستقبل کے آئندہ زمانے پر کیا اثرات مترتب ہوں گے اور یہ شہادت آئندہ نسلوں کے لیے ایک نمونہ بن جائے گی۔ لیکن دوسرا شخص اسرار آئندہ سے مطلق بےخبر ہے۔ اِس لیے دوسرا شخص جب جنگی مصائب پر صبر کرتا ہے یہ صبر بلند تر ہے۔ ایک اور حدیث میں (جو کہ علی بن ابراہیم کی تفسیر میں درج ہے) منقول ہے کہ آیت فوق میں"لغو" سے مراد کذب، لہو اور غنا ہے۔ اس سے پرہیز کرنے والے آئمہؑ ہیں۔ یہ واضح ہے کہ گزشتہ دونوں احادیث میں بیان کے لحاظ سے کوئی ابہام نہیں ہے۔ وگرنہ "لغو" کا مفہوم بہت وسیع ہے، جس میں حدیث دوم کی مراد کے علاوہ، اور چیزیں بھی شامل ہیں۔ اور تمام راست کردار مومنین "لغو" سے اعتراض کرتے ہیں لیکن اس خصوص میں آئمہؑ کا مقام افضل ترین ہے۔

56
28:56
إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
جسے تو (نہیں ) چاہتا ہدایت نہیں پاتا بلکہ خدا ہی جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے اور خدا ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
28:57
وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت کو قبول کر لیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ کیا ہم نے انہیں ایسی جگہ نہیں دی جو حرم امن ہے (اور ہر شہر و دیار کے) ثمرات اس کی طرف لائے جاتے ہیں کہ جو ہماری طرف سے رزق ہے؟ مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

تفسیر ہدایت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اگرچہ مفسرین نے زیر نظر پہلی آیت کی شان نزول میں بہت بحث کی ہیں۔ لیکن انھوں نے جن روایات کو بنیاد بحث بنایا ہے وہ بےاعتبار و بےوقعت ہیں۔ اور خاص مقاصد کے لیے اُنھیں وضع کیا گیا ہے۔ لہذا___ ۔ہم نے یہی بہتر سمجھا کہ اِس آیت کی تفسیر خود قرآن مجید ہی سے اخذ کی جائے۔ اس کے بعد اُن مشکوک اور جعلی روایات کی تحقیق کی جائے۔ غور طلب یہ امر ہے کہ گزشتہ آیات میں دو گروہوں کا ذکر تھا۔ ایک گروہ ہٹ دھرم کفار مکہ کا تھا۔ جنابِ رسول خداؐ نے ہر چند اُنھیں ہدایت دینے کی کوشش کی، مگر اُن کے دلوں میں نُورِ ایمان کا نفوذ نہ ہوا۔ ان کے برعکس مکّہ سے دُور دراز فاصلے پر رہنے والا ایک گروہ اہل کتاب کا تھا، جنہوں نے ہدایت الہٰی کو قبول کیا اور راہِ اسلام میں فرطِ جذبات کے ساتھ استقلال و ایثار کا ثبوت دیا۔ حتٰی کہ اُنہوں نے خود پرست جاہلوں اور قریبی عزیزوں کی مخالفت کی بھی پرواہ نہ کی اور اُن سے خوفزدہ نہ ہوئے۔ اِن امور پر توجہ کرنے کے بعد زیر نظر پہلی آیت سے یہ حقیقت بےنقاب ہوتی ہے کہ اے پیغمبر تم جسے چاہتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اور وہ ہدایت پانے والوں کو خُوب جانتا ہے: (إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ)۔ وہی جانتا ہے کہ کون لوگ اس لائق ہیں کہ ایمان قبول کریں۔ وہی جانتا ہے کہ کونسے دل طلب حق میں بےچین ہیں۔ وہی جانتا ہے کہ کن سروں میں عشق الہٰی کا سودا سمایا ہوا ہے۔ ہاں__ وہ اِن شائستہ افراد کو خوب پہچانتا ہے۔ وہ اُنہیں توفیق عنایت کرتا ہے اور اپنے لطف کو اُن کا رفیق راہ بناتا ہے تاکہ وہ ایمان کی راہ اختیار کریں۔ لیکن___ وہ زشت سیرت تاریک دل جو دشمنِ حق ہیں اور اپنے تمام وسائل سے فرستادگانِ خدا کے خلاف جنگ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اوراپنی روش زندگی کے لحاظ سے اس قدر آلودہ اور شرمناک ہیں کہ کسی طرح بھی اُن کا ظرف نُورِ ایمان کو قبول نہیں کر سکتا خدا ہرگز ایسے لوگوں کی راہ میں چراغ توفیق نہیں جلاتا۔ بناء بریں___ اِس مقام پر "ھدایت" سے مراد "ارائہ طریق" نہیں ہے کیونکہ راہِ راست کی ھدایت تو پیمبر کا فرض ہے کہ وہ بغیر استثنا ہر ایک کی رہبری کرتا ہے۔ بلکہ یہاں ھدایت سے "ایصال نہ مطلوب" اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہے اور یہ صرف خدا کا کام ہے کہ دلوں میں ایمان کا بیج بوئے اور خدا کا یہ کام کرم بھی عام نہیں ہے۔ بلکہ وہ اہل دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور پھر اُنھیں یہ نور ایمانی عطا کرتا ہے۔ بہرحال، یہ آیت ایک طرح سے پیغمبر کی دلجوئی کے لیے ہے تاکہ وہ اس واقعیت کی طرف متوجہ ہوں کہ نہ تو مکہ کے بت پرستوں کے گروہ کا شرک پر اصرار بےوجہ ہے اور نہ مردم حبشہ یا نجران اور حضرت سلمان اور بحیرا جیسے لوگوں کا ایمان لانا ہی بےدلیل ہے۔ پیغمبر کو چاہیے کہ گروہ اوّل کے ایمان نہ لانے سے ہرگز ملول خاطر نہ ہوں کیونکہ نور الہٰی صرف دلہائے آمادہ کو تلاش کر لیتا ہے۔ پھر وہاں داخل ہوتا ہے اور سکونت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کی مثالیں آیات قرآنی میں بہت ہیں۔ چنانچہ ہم سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۲ میں پڑھتے ہیں: لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ تم اُن کی ہدایت کے ذمہ دارنہیں ہو بلکہ خدا جیسے چاہتا اسے ہدایت کرتا ہے۔ اور سورہ نمل کی آیت ۳۷ میں فرمایا گیا ہے: ان تحرص علی ھدٰھم فان اللہ لایھدی من یضل اس گروہ کی ہدایت پر تیرا اصرار مؤثر نہیں ہے کیونکہ خدا نے جسے گمراہ کر دیا ہے، اسے ہدایت نہیں کرتا۔ اور سورہٴ یونس کی آیت ۴۳ میں مذکوہ ہے: أَفَأَنتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُواْ لاَ يُبْصِرُونَ تم اندھوں کو ھدایت کرنا چاہتے ہو۔ ہرچند کہ وہ کسی چیز کو نہیں دیکھتے اور کسی حقیقت کابھی ادراک نہیں کرتے۔ بالآخر سورہ ابراہیم کی چوتھی آیت میں ایک قانون کُلّی طور فرمایا گیا ہے: فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ کہ ان دونوں گروہوں کے بارے میں خدا کی مشیت کو رانہ نہیں ہے بلکہ بر بنای معیار حکمت اور افراد کی اہلیت، تلاشِ حق کے لئے ان کی جستجو اور ان کے ظروف اور قابلتوں کے مطابق ہے۔ وہ صرف اسی لحظ سے کسی جماعت کو توفیق ہدایت عطا کرتا ہے اور کسی گروہ سے اُسے کر لیتا ہے۔ آیاتِ زیر بحث میں سے دوسری میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو دل میں تو اسلام کی حقانیت کے معترف تھے لیکن اپنے ذاتی مفادات کے خیال سے ایمان نہیں لاتے تھے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: اُنھوں نے کہا کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کو قبول کر لیں، اور اُس کی پیروی کریں۔ ہمیں زمین سے اُچک لیں گے: وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا)۔ (تشریحی نوٹ: آیت فوق میں "معک"، "نتبع" سے متعلق ہے اور امر کا احتمال بھی ہے کہ اس کا تعلق "ھدی" سے ہو۔ اِس طرح معنی میں خفیف سا فرق ہو جائے گا)۔ تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ بات حارث بن نوفل نے کہی تھی۔ وہ حضرت پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: "ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ حق ہے لیکن جو چیز ہمارے لیے آپ پر ایمان لانے اور قبول حق سے مانع ہے وہ یہ ہے کہ عرب ہم پر یلغار کر دیں گے اور ہمیں ہماری زمینوں سے اُٹھا لے جائیں گے اور ہم اُن کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔" (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ بات صرف وہی آدمی کہہ سکتا ہے جو خدا کی قدرت کو ناچیز سمجھتا ہے اور تھوڑے سے جاہل عربوں کی قوّت کو بہت عظیم۔ یہ بات صرف وہی کہ سکتا ہے جو خدا کی عنایات اور اُس کی حمایت کے رموز سے آشنا نہیں ہے اور یہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے محبوں کی کس طرح مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو کس طرح برباد کر دیتا ہے۔ لہذا قرآن ایسے لوگوں کے جواب میں فرماتا ہے: کیا ہم نے اُنھیں ایسی جگہ نہیں دی جو جائے امن ہے۔ اور شہر و دیار کے ثمرات اُن کی طرف لائے جاتے ہیں: (أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ) (تشریحی نوٹ: "یجبٰی" کا مادہ "جبایة" ہے اس کے معنی ہیں "جمع کرنا" لہذا اس حوض کو جس میں پانی جمع کرتے ہیں "جابیة" کہتے ہیں۔ ضمناً اُوپر کی آیت میں "نمکن"، "نجعل" کے معنی میں ہے اور "حرما" مفعول ہے۔ وگر نہ "نمکن" اپنے اصلی معنی میں چو کہ "تمکین دینا" ہیں "فی" کے صلہ سے متعدی ہوتا ہے)۔ اور یہ رزق ہماری طرف سے ہے: (رِزْقًا مِن لَّدُنَّا) مگر اُن میں سے اکثر یہ نہیں جانتے: (وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ)۔ وہ خدا جس نے شورہ زار، سنگلاخ اور بےآب و گیاہ زمین کو حرمِ امن قرار دے کر اور مخلوق کے دلوں کو اُس کی طرف ایسا متوجہ کر کے کہ دنیا کے مختلف مقامات سے بہترین پیداوار اُس کی طرف لاتے ہیں، اپنی قدرت کو خوب ظاہر کر دیا ہے۔ وہ خدا جس نے ایسی قدرت نمائی کی ہے اورایسی سرزمین کو ایسی نعمتیں بخشی ہیں کہ تم اپنی آنکھوں سے اُن کے آثار دیکھتے ہو اور سالہا سال سے اُن نعمات سے بہرہ اندوز ہو رہے ہیں، کیا وہ اس امر پر قادر نہیں ہے کہ تھوڑے سے بُت پرست عرب اگر تم پرحملہ آور ہوں تو وہ ان سے تمہاری حفاظت نہ کر سکے؟ تم کو حالت کفر میں خدا کی دو بڑی نعمتیں___ امنیت اور نعمات زندگی، نصیب ہوتی رہی ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بعد اسلام خدا تمہیں ان نعمتوں سے محروم کر دے۔ دل قوی رکھو، ایمان لاؤ اور مزاج میں استقلال پیدا کرو کہ خدایٴ کعبہ و مکّہ تمہارے ساتھ ہے۔ اِس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حرم مکّہ مسلمانوں کے لیے تو اس قدر جائے امن و امان نہ تھا۔ کیا مسلمانوں کی ایک تعداد پر وہاں ظلم و تعدّی نہیں کی گئی؟ کیا اہل مکّہ نے رسول اللہؐ کو پتھر نہیں مارے؟ کیا بعض مسلمانوں کو مکّہ میں قتل نہیں کیا گیا؟ کیا آخرکار حضرت جعفر طیار کے ساتھ کچھ لوگوں نے اور پھر باقی افراد نے حضرت پیغمبرؐ کے ساتھ اس خیال سے کہ وہ وہاں اپنے کو غیر محفوظ سمجھتے تھے ہجرت نہیں کی؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود مکّہ میں دوسرے مقامات سے زیادہ امن تھا اور عرب اس مقام کو محترم اور پاک سمجھتے تھے اور جن گناہوں کے وہ دوسرے مقامات پر مرتکب ہوتے تھے، وہاں اُن کے ارتکاب کی جرات کم کرتے تھے۔ مختصر یہ ہے کہ عین بےامنی کے زمانے میں بھی بڑی حد تک پُرامن تھا۔ خاص طور پر شہرِ مکّہ میں اُس کے اطراف و جوانب کے علاقوں کی نسبت زیادہ امن رہتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آغاز اسلام میں ایک قلیل مدّت تک یہ سرزمین امن الہٰی مسلمانوں کے لیے ناآسودگی اور بےامنی کا مقام ثابت ہوئی۔ مگر زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ یہ مقام پائدار امن کا مرکز اور جملہ اقسام کی عظیم نعمات کا مرکز بن گیا بنابریں، مسلمانوں کے لیے ان جلد گزر جانے والی مشکلات کا، عظیم نعمتوں کے حصول کے لیے برداشت کرنا کچھ سخت کام نہ تھا۔ بہرحال، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے نقصان کے خوف سے حادث بن نوفل کی طرح ھدایت اور ایمان سے دست کش ہو جاتے ہیں۔ جبکہ خدا پر ایمان لانا اور اُس کے احکامات پر عمل کرنا صرف اُن کے دنیادی مفادات ہی کو خطرات سے محفوظ نہیں کر دیتا بلکہ اُن کے مشروع مادّی منافع اور اُن کے لیے امن و سلامتی کا معاشرہ پیدا کرنے کے لیے بھی غیر معمولی طور پر مفید ہے۔ آج کی دُنیا میں جسے متمدن کہا جاتا ہے، جو قتل و غارت، خوں ریزی اور تباہ کاری ہم دیکھتے ہیں وہ اِس امر کی زندہ گواہ ہے۔ کہ لوگ ایمان اور ھدایت سے دُور ہو گئے ہیں۔ یہ نکتہ بھی توجہ طلب ہے کہ خدا نے اس مقام پر پہلے نعمتِ امن کا ذکر کیا ہے اور اُس کے بعد ہر سمت سے مکّہ کی طرف ضروریاتِ انسانی کے آنے کا ذکر ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تربیت اِس امر کی نشاندہی کرتی ہو کہ جب تک کسی ملک یا شہر میں امن و امان کا دَور دَورہ نہ ہو، اُس وقت تک وہاں کی اقتصادی حالت درست نہیں ہو سکتی۔ ہم نے اِس مطلب کو جلد ۶ میں سورہ ابراہیم کی آیتہ ۳۵ کے تحت مفصل بیان کیا ہے۔ علاوہ بریں آیتہ میں "یجبی" فعل مضارع کے صُورت میں استعمال ہوا ہے، جو حال اور مستقبل کی حالتِ استمراری پر دلیل ہے چنانچہ ہم چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اِس سرزمین کی جانب ہر طرف سے خدا کی نعمتیں کھنچی چلی جا رہی تھیں۔ جو لوگ خانہٴ خدا کی زیارت کے لیے جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ یہ خشک و سوزاں اور بےآب و گیاہ زمین انواع و اقسام کی بہترین نعمتوں سے پُر ہے۔ شاید دُنیا کے کسی حصّے میں بھی نعمتوں کا اتنا وفور نہ ہو گا۔

حضرت ابُو طالبؑ کا ایمان اور معاندین کا منشور:

اُن حضرات کو جو اہل مطالعہ ہیں، یہ بات عجیب معلوم ہو گی کہ راویانِ احادیث کی ایک جماعت کو اِس پر کیوں اصرار تھا کہ جناب رسالتمآب کے چچا کو بےایمانِ اور مشرک ثابت کریں جبکہ ان کے متعلق دُنیا کے تمام مسلمان باتفاق اس امر کے قائل ہیں کہ اُنھوں نے اپنی حیات میں پیغمبراسلامؐ کی حمایت میں انتہا درجہ فدا کاری، قربانی اور ایثار سے کام لیا۔ اِن لوگوں کا اصرار ہے کہ ان کی وفات بحالت کُفر ہوئی۔ آخر دوسرے لوگوں کے متعلق، جن کا اسلام میں کوئی کردار نہیں ہے، یہ اصرار کیوں ہیں ہے؟ غور کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ مسئلہ کوئی معمولی اور سرسری نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِن تاریخی اور روایاتی بحثوں کے پیچھے حضرت علی (علیه السلام) کے رقیبوں کی طرف سے ایک خطرناک سیاسی کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ اِس امر پر نظر کرنے سے کسی مزید وقت نظر کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ اِن معاندین کا اس امر پر زور تھا کہ علی (علیه السلام) سے ہر فصیلت چھین لیں؛ حتٰی کہ اُن کے باایثار اور فداکار باپ کو مُشرک ثابت کریں اور اُنھیں بحالت عدمِ دُنیا سے رُخصت کریں۔ یقیناً بنی اُمیہ اور اُن کے ہوا خواہ اپنے عہد میں برسر اقتدار آنے سے پہلے بھی، اِس فتنہ پردازی میں مشغول رہتے تھے اور کوشش میں لگے رہتے تھے کہ جہاں سے بھی ممکن ہو اِس مقصد کے لیے شواید جمع کریں خواہ وہ کیسے ہی کمزور اور بےبُنیاد ہوں۔ ہم اس کثیف اور گندی سیاست کی مخالفانہ امواج سے جو اپنی جگہ پر غو و فکر کی مستحق ہے، سے قطع نظر کرتے ہوئے___ جہاں تک موضوع کتاب اجازت دیتا ہے، اس موضوع کا تاریخ اور تفسیری حیثیت سے حقیقت طلبا نہ مطالعہ کرتے ہیں، تاکہ قارئین پر یہ روشن ہو جائے کہ اس ہنگامہ اختلاف کی پُشت پر کوئی معتبر سند موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے خلاف حقیقت ہونے پر زندہ شواہد موجود ہیں۔ ۱۔ آیة زیر بحث یعنی (إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ۔۔۔) کا کسی طرح بھی جناب ابو طالبؑ سے کوئی ربط نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے ماقبل کی آیات اس امر کی دلیل ہیں کہ یہ مشرکینِ مکّہ کے خلاف اہلِ کتاب میں سے مومنین کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ جاذب توجہ یہ امر ہے کہ فخر رازی جس نے اس آیت کو (اجماع مسلمن کا نام لے کر) حضرت ابو طالبؑ کی جانب منسوب کیا ہے، خود ہی اعتراف کرتا ہے کہ آیة اپنے ظاہری معنی کے لحاظ سے کسی طرح بھی ابو طالبؑ کے کفر پر دلالت نہیں کرتی۔(بحوالہ: تفسیر کبیر از فخر رازی، ج ۲۵، ص۳)۔ اِس تصریح کے بعد بھی بعض لوگوں کا یہ اصرار کیوں ہے کہ اس آیة کو حضرت ابو طالبؑ کے شرک سے مربوط کر دیں۔ واقعا یہ بات بہت حیران کن ہے۔ ۲۔ اِس موضوع پر جو سب سے بڑی دلیل قائم کی گئی ہے وہ "ادعای اجماعِ مسلمین" ہے کہ جناب ابو طالبؑ دُنیا سے "مشرک" رخصت ہوئے۔ جبکہ اِس اجماع کا ذکر محض جھوٹ ہے۔ جیسا کہ اہلِ سنت کے مشہور مفسّرین آلوسی نے اپنی تفسیر رُوح المعانی میں تصریح کی ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے اور آیة فوق کے متعلق اجماع مُسلمین یا مفسرین کی یہ روایت کہ یہ حضرت ابو طالب (علیه السلام) کے متعلق نازل ہوئی تھی، درست نہیں معلوم ہوئی۔ کیونکہ علمائے شیعہ اور ان کے بہت سے مفسرین حضرت ابو طالب (علیه السلام) کے ایمان کے معتقد ہیں اور اس موضوع پر اُنھوں نے اہلبیت علیہم السلام کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ علاوہ ازیں، حضرت ابو طالب (علیه السلام) کے اپنے اکثر قصائد اُن کے ایمان کی شہادت دیتے ہیں۔(بحوالہ: رُوح المعانی، ج۲۰، ص۸۴۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ۳۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ "اجماع مسلمین" کے ادعا کا سرچشمہ اخبار احاد ہیں جن کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اِن روایات کی سند میں جن افراد کے نام آتے ہیں وہ مشکوک یا کذّاب ہیں۔ اِن روایات میں سے ابن مردویہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کی ہے: آیة " إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ" ابو طالبؑ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ نے اُن سے اسلام قبول کرنے کے لیے بہت اصرار گیا مگر اُنھوں نے قبول نہ کیا۔ (بحوالہ: دُر المنثور، ج۵، ص ۱۳۳)۔ حالانکہ اس روایت کی سند میں "ابو سھل سری" کا نام بھی ہے اور بزرگانِ علمِ رجال کی تصریح کے مطابق وہ حدیث چوروں، جھوٹوں اور روایتیں گھڑنے والوں میں سے تھا۔ "عبدالقدوس ابن سعید دمشقی" کا نام بھی اس حدیث کی سند میں آتا ہے حالانکہ وہ بھی کذّابین میں سے تھا۔ بظاہر اس حدیث سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ابن عباس نے اسے کسی واسطے کے بغیر بیان کیا ہے اور وہ خود اُن حالات کے شاہد و ناظر تھے۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ ابن عباس ہجرت سے تین سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ بنابریں، حضرت ابو طالب (علیه السلام) کی وفات کے وقت وہ شیر خوار ہوں گے۔ اس سے ثابت ہے کہ یہ حدیثیں گھڑنے والے اپنے فن میں بھی ماہر نہیں تھے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیث ابو ہریرہ سے بھی نقل کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: جس وقت ابو طالبؑ کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہؐ نے اُن سے فرمایا کہ: اے چچا! کہئے: "لا الہ الا اللہ" تاکہ میں بروز قیامت آپ کے متعلق مُوحِّد ہونے کی گواہی دوں۔" تو ابو طالبؑ نے جواب دیا: "اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش مجھے یہ طعنہ دیں گے کہ اُس نے موت کے وقت خوف کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا تو میں ضرور توحید کی شہادت دیتا اور تجھے مسرور کر دیتا۔" اُس وقت آیة " إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ" نازل ہوئی۔ اِس حدیث کا ظاہری لب و لہجہ یا انداز بیان اِس امر کا مظہر ہے کہ ابو ہریرہ نے اس وقوعہ کو بچشم خود دیکھا تھا۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے ہجرت سے سات سال بعد (یعنی فتح خیبر کے سال میں) اسلام قبول کیا تھا۔ تو پھر بھلا وہ حضرت ابو طالب (علیه السلام) کی وفات کے وقت کیسے موجود ہو گئے جو ماقبل ہجرت واقع ہوئی تھی۔ بنابریں، اِس روایت سے بھی غیر ماہرانہ جعل سازی نمایاں ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ "ابن عباس اور ابو ہریرہ" خود اس واقعے کے شاید نہ تھے اور اُنھوں نے یہ داستان کسی دوسرے شخص سے سُنی تھی تو ہم سوال کرتے ہیں کہ "کس سے"؟ جس آدمی نے یہ روایت ان دونوں آدمیوں سے بیان کی وہ ناشناس اور مجہول ہے۔ ایسی حدیث کو مرسل کہتے ہیں اور اور سب جانتے ہیں کہ مرسل حدیث معتبر نہیں ہوتی۔ جائے افسوس ہے کہ مفسّرین اور راویان اخبار کی ایک جماعت نے بغیر تحقیق و غور فکر اس قسم کی احادیث کو ایک دوسرے سے لے کر اپنی کتابوں میں نقل کر دیا ہے۔ اور آہستہ آہستہ اپنے لیے توجیہہ اجماع بھی فراہم کر لی ہے لیکن ظاہر ہے کہ کہاں کا اجماع؟ اور کیسی حدیث معتبر؟ ۴۔ اِن تمام امور سے قطع نظر کر کے اِن جعلی احادیث کا متن ہی غماز ہے کہ حضرت ابو طالب (علیه السلام) پیغمبر اسلامؐ پر ایمان لائے تھے۔ ہر چند کہ اُنھوں نے مصالح کے تحت اعلانیہ اقرار نہیں کیا تھا۔ اور ہم یہ جانتے ہیں کہ ایمان کا تعلق قلب سے ہے اور زبان تو محض ایک ذریعہ اظہار ہے۔ بعض احادیث اسلامی میں حضرت ابو طالب (علیه السلام) کی کیفیت کو اصحاب کہف سے تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ لوگ دل میں ایما ن پنہاں رکتھے تھے مگر بعض وجوہ کی بناء پر اُس کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ ۵۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے اہم مسئلے میں صرف یک طرفہ روایات پر قناعت کر لی جائے اور ابو ہریرہ اور ابن عباس سے جو روایات منقول ہیں صرف اُنھیں پر اکتفا کر لیا جائے؟ اِس مسئلہ میں آئمہ اہل بیت (علیه السلام) اورعلمائے شیعہ کے اجماع کو قابل توجہ کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ حالانکہ یہ لوگ خاندان پیمبرؐ کے حالات سے زیادہ واقف ہیں۔ حضرت ابو طالب (علیه السلام) کے بہت سے اشعار ہمارے پاس ہیں جو حضرت محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت پر اُن کے ایمان کا آئینہ ہیں۔ بہت سے بزرگوں اور علماء نے اِن اشعار کو انپی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ہم نے آں جناب کی سُخن گوئی کے چند نمونے تفسیر نمونہ کی جلد٣ میں (سورہ انعام کی آئیة ۲۶) کے ذیل میں اہل سُنّت کے معروف منابع سے نقل کر دئیے ہیں۔ ۶۔ ان تمام امور سے قطع نظر کر کے حضرت ابو طالب (علیه السلام) کی تاریخ زندگی، جناب رسالت مآبؐ کے لیے اُن کی عظیم قربانیاں اور رسول اللہؐ اور مسلمانوں کی اُن سے شدید محبت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ ہم یہاں تک دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو طالب (علیه السلام) کی موت کے سال کا نام مسلمانوں نے "عام الحزن" رکھا۔ یہ سب باتیں اس امر کی دلیل ہیں کہ حضرت ابو طالب (علیه السلام) کو اسلام سے عشق تھا۔ اور وہ جو پیمبر اسلامؐ کا اس قدر دفاع کرتے تھے وہ محض رشتہ داری کی وجہ سے نہ تھا؛ بلکہ اس دفاع میں آپ کی حیثیت ایک مومن مخلص، ایک جاں نثار اور ایسے فدا کار کی تھی جو اپنے رہبر اور پیشوا کا تحفظ کر ریا ہو۔ اِن واضح حقائق کے باوجود کس قدر غفلت، بےخبری، ناشکر گزاری اور ظلم ہے کہ بعض لوگوں کا یہ اصرار ہے کہ ایک مومن اور وحّد مخلص کومشرک قرار دے کر دُنیا سے رخصت کریں۔

58
28:58
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۭ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ
اور ہم نے بہت سی ایسی بستیوں کو ہلا ک کردیا کہ جو زیادہ نعمتوں پر مغرور ہوگئی تھیں۔یہ ہیں ان کے گھر (جو ویران ہو چکے ہیں )جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی رہا ہے اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
28:59
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبۡعَثَ فِيٓ أُمِّهَا رَسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِي ٱلۡقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهۡلُهَا ظَٰلِمُونَ
اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے مرکز میں کوئی پیغمبر نہ بھیجے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کے باشندے ظالم ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
28:60
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتُهَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اور جو چیز تمہیں دی گئی ہے وہ دنیا کی بے قدروقیمت متاع اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

تفسیر دُنیا کی دلچسپیاں تمہیں فریب نہ دیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ بعض کفّارِ مکّہ کو اسلام قبول کرنے میں یہ عذر تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئیں گے تو عرب ہم پر حملہ کر دیں گے اورہمیں ہماری سرزمین سے باہر نکال دیں گے اور ہماری زندگیوں میں خلل ڈال دیں گے۔ گزشتہ آیات میں اس عذر کا ناطق جواب دیا گیا ہے۔ زیر بحث آیات میں اُس عذر کے دو جواب اور بھی دیئے گئے ہیں۔ خدا پہلے یہ فرماتا ہے: بالفرض یہ کہ تم ایمان کو قبول نہیں کرتے اور بحالتِ کفر و شرک مادّی حیثیت سے خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں لیکن یہ نہ بھولو کہ ہم نے بہت سی آبادیوں کو جو اپنی خوشحال اور پُر نعمات زندگیوں پر مغرور تھیں نابود کر دیا: (وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا)۔ البتہ غرورِ نعمت نے اُنھیں سرکشی پر آمادہ کیا اور یہ سرکشی ظلم اور ناانصافی کا سرچشمہ بن گئی اور ظُلم نے اُن کی اصل حیات کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ یہ ہیں وہ بستیاں اور اُن لوگوں کے مکانات کہ اُن کی تباہی کے بعد کوئی کم ہی ان میں بَسا (فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا)۔ اُن کی بستیاں اور مکانات اُسی طرح خالی، خاموش، ویران اور مکینوں کے بغیر پڑے رہے، اگر کچھ لوگ وہاں آ کر رہے بھی تو نہایت قلیل مدّت کے لیے اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے: (وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ)۔ اے مُشرکینِ مکہ! کیا تم بھی یہ چاہتے ہو کہ بحالتِ کفر اُسی خوشحالی زندگی تک پہنچ جاؤ جس کا انجام ہم نے تمہیں بتا دیا_____ بھلا ایسی زندگی کی کیا قدر و قیمت ہے۔ "بطرت" کا مادہ "بَطَر" (بروزن بَشَر) اس کے معنی اُس سرکشی اور غرور کے ہیں جو دولت کی زیادتی کی وجہ سے ہو۔ آیۃ میں جو کلمہ "تلک" استعمال ہوا ہے، یہ اسم اشارہ بعید ہے اور اُن چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو قابلِ مشاہدہ ہیں ممکن ہے کہ اس کلمہ سے اشارہ عاد، ثمود یا قومِ لُوط کی سرزمین کی طرف ہو۔ یہ مقامات اہل مکہ سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھے۔ یہ مقامات یا تو احقاف کے علاقہ میں تھے (جو یمن اور شام کے درمیان ہے) یا وادی قُریٰ میں تھے یا روم کے علاقے میں۔ الغرض، یہ تمام مقامات اعراب مکہ کے اُن تجارتی قافلوں کی راہ میں واقع تھے جو شام کا سفر کرتے تھے اور اہل عرب اِن ویران میتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ اُن کی تباہی کے بعد وہاں کبھی کوئی آباد نہیں ہوا۔ آیتہ نمبر اٹھاون میں جو " إِلَّا قَلِيلًا" بصورتِ استثنیٰ آیا ہے، اُس کے لئے تین احتمال ہو سکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ساکنین کو مستثنیٰ کیا گیا ہو۔ دوسرے مساکن کو اور تیسرے سکونت کو۔ پہلی صورت میں اُس کا یہ مفہوم ہے کہ اُن مقامات کی تباہی کے بعد تھوڑے سے لوگ وہاں آباد ہوئے۔ دُوسری صُورت میں یہ معنیٰ ہیں کہ اُس مقامات کے صرف چند گھر آباد ہوئے اور تیسری صُورت میں یہ مطلب ہے کہ ویرانی کے بعد وہاں قلیل مدت تک سکونت رہی ہے۔ کیونکہ جس آدمی نے اُن کوس اور بلاخیز بستیوں میں سکونت اخیتار کی وہ بہت جلد فنا ہو گیا۔ البتہ مذکورہ بالا تینوں تعبیرات کے اختیار کرنے سے منشائے الہٰی کے سمجھنے میں کوئی دُشواری پیدا نہیں ہوتی۔ ہر چند کہ پہلے کوئی زیادہ بہتر معلوم ہوتے ہیں۔ بعض حضرات نے "إِلَّا قَلِيلًا" کے متعلق یہ رائے ظاہر کی ہے کہ یہ اشارہ ہے اِس جانب کہ اِس راہ سے آنے جانے والے مسافر تھوڑی دیر کے لئے یہاں ٹھہر جاتے تھے۔ اور بعض لوگوں نے "قلیل" سے اُلو اور حیوانات وحشی مُراد لی ہے۔ اِن تمام آراء اور تعبیرات میں قدر مسلم یہ ہے کہ یہ گناہ و شرک سے آلودہ بستیاں ایسی ویران ہوئیں کہ پھر وہاں کوئی نہ بسا۔ "كُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ" کا مطلب یہ ہے کہ وہ بستیاں مکینوں سے خالی رہیں نیز یہ کہ "ہر چیز کا حقیقی مالک خدا ہی ہے۔" اگر وہ عارضی اور وقتی طور پر بعض انسانوں کو بعض چیزوں کا مالک بنا دیتا ہے تو زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ یہ ملکیت زائل ہو جاتی اور مالک حقیقی ہی اُس کا وارث ہوتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت درحقیقت، ایک سوال مقدر کا جواب ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر اصول یہ ہے کہ خدا سرکشوں کو نابود کر دیتا ہے تو پھر اس نے مکّہ اور حجاز کے مشرکوں کو عذاب دے کر نابود کیوں نہیں کیا جنہوں نے اپنی سرکشی کوآخری حد تک پہنچا دیا تھا اور کوئی ایسی جہالت اور گناہ نہ تھا جس کے وہ مرتکب نہ ہوئے ہوں؟ اس کے جواب میں قرآن میں ارشاد ہے کہ تیرا پروردگار ہرگز کسی شہر یا آبادی کو ہلاک نہیں کرتا۔ جب ان کے مرکزی مقام پر کوئی نبی نہ بھیج دے جو اُنھیں ہماری آیات پڑھ کر سنائے: (وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا)۔ رُوحِ مفہوم یہ ہے کہ ہم جب تک اتمام حجت نہیں کر لیتے اور اُس قوم کی طرف صریح احکام کے ساتھ پیغمبروں کو نہیں بھیج دیتے اس وقت تک ان کو سرکشی کی سزا نہیں دیتے۔ اتمام حجت کے بعد ہم اُن کے اعمال کی نگرانی کرتے رہتے ہیں اگر ان سے ظلم و ستم سرزد ہوتا ہے اور وہ مستوجب عذاب ہوتے ہیں تو ہم ان کو سزا دیتے ہیں اور ہم ہرگز آبادیوں کو نیست و نابود نہیں کرتے مگر اس حالت میں کہ اُن کے ساکنین ظالم اور ستمگرہوں: (وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ)۔ "ما کان" یا "ما کنّا" تخصیصی الفاظ اس امر کی دلیل ہیں کہ دائمی اور جاودانی سُنتِ الہٰی تھی اور ہے کہ وہ کافی اتمام حجت کے بغیر کسی قوم کو سزا نہیں دیتا۔ نیز "حتی بیعث فی امھا رسولا" (جب تک ان شہروں کے مرکز میں اپنا سوال مبعوث نہ کر دے) اِس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لازم نہیں ہے کہ خدا شہر اور ہر گاؤں میں اپنا پیغمبر بھیجے۔ صرف ایک ایسے مقام پر جہاں اس قوم کے دانشمند اور اہل فکر لوگ رہتے ہوں اور جہاں سے ہر طرف اطلاعات پہنچ سکتی ہوں، پیغمبر کا مبعوث ہونا کافی ہے۔ کیونکہ اُس علاقے کے تمام لوگ ضروریات زندگی کے لیے ہمیشہ وہاں آتے ہیں۔ اور وہاں جو بھی واقعہ ہو اس کی خبر بہ سرعت تمام علاقے میں اور دُور و نزدیک کے مقامات میں پھیل جاتی ہے۔ جیسے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکہ میں بعثت کی خبربہت کم مدت میں تمام جزیرہٴ عرب میں پھیل گئی تھی۔ بلکہ اُس سے بھی دُور تک پہنچ گئی تھی____ چونکہ مکّہ عرب کا مرکزی مقام تھا (جیسے اُم القریٰ کہتے تھے) یہ مقام حجاز کا مرکز روحانی بھی تھا اور تجارتی مرکز بھی۔ یہاں تک کہ بعثت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خبر اُس زمانے کے تمام متمدن مقامات تک پہنچ گئی تھی۔ اِس آیة میں ایک کلی اور عمومی حکم بیان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے جو اِس آیة کا مشار الیہ مکہ کو سمجھا ہے یہ بالکل بے یہ دلیل بات ہے اور "فی امھا" کہنا بھی ایک عام تعبیر ہے کیونکہ کلمہ "ام" کے معنی ماں اور مرکز اصلی کے ہیں۔ یہ کلمہ صرف مکہ کے لیے مخصوص نہیں ہے (بحوالہ: یہ بات کہ آیا اس آیت میں مستقلاتِ عقلیہ بھی شامل ہیں یا نہیں۔ ہم نے اس بحث کو جلد ۶ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۱۵ کے ذیل میں ذکر کیا ہے)۔ زیر نظر آیات میں سے تیسری آیت اُن بہانہ ساز کفار کی باتوں کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو عرب ہم پر یورش کر دیں گے اور ہماری زندگی کو تباہ کر دیں گے۔ اُن کے اس حیلہ کا ردّ قرآن میں یہ ہے: تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ حیات دنیا کی بے قدر و قیمت متاع اور صرف اُس کی زینب ہے: (وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا)۔ مگر جو کچھ خدا کے پاس ہے۔ (یعنی دُوسری دنیا کی بے پایاں نعمتیں اور رُوحانی برکات) وہ بہتر اور پائیدار ہے (وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى)۔ کیونکہ دنیا کی تمام مادی نعمتوں کے ساتھ بہت سے ناگوار واقعات اور طرح طرح کے مشکلات لگی ہوتی ہیں اور دنیا کی کوئی نعمت بھی ضرر اور خطر سے خالی نہیں ہے۔ اِس کے علاوہ، جو نعمتیں خدا کے پاس ہیں اُن کی یہ حیثیت ہے کہ وہ دائمی اور جاوداں ہیں اور اس دنیا کی راحتیں اور آسائشیں زود گزر ہیں تو بھلا ان دونوں کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے؟ اِس حقائق کو پیش نظر رکھ کے ایک عاقل انسان تھوڑا سا بھی مقابلہ کر کے یہ سمجھ سکتا ہے کہ اُن نعمتوں کو اِس دنیا کی لذات پر قربان نہیں کرنا چاہیے۔ اِس لیے آیة کے اخیرمیں یہ الفاظ ہیں__ (أَفَلَا تَعْقِلُونَ)۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟ فخررازی نے ایک فقیہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر کوئی یہ وصیت کرے کہ اُس کا ایک تہائی مال عاقل ترین لوگوں کو دے دیا جائے تو میرا فتویٰ یہ ہے کہ یہ تہائی مال ان لوگوں کو دیں جو اللہ کے احکامات کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ عاقل ترین انسان وہ ہے کہ زود گزر قلیل متاع کو چھوڑ دے اور پائیدار اور مستقل سرمایہٴ فراواں کو لے لے اور یہ اصول صرف اُن لوگوں پر صادق آتا ہے جو فرمان الہٰی کے مطیع ہیں۔ اِس کے بعد فخر رازی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اُنہوں نے فقہی حکم اس زیر بحث آیت سے اخذا کیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر فخر رازی، جلد ۲۵، ص۶)۔

61
28:61
أَفَمَن وَعَدۡنَٰهُ وَعۡدًا حَسَنٗا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعۡنَٰهُ مَتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ
وہ شخص جس نے ہم سے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے حاصل کر لے، کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے حیات دنیا کی متاع دی ہے اور پھر وہ قیامت کے روز (برائے حساب و جزا) پیش کیا جائے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
28:62
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
اور وہ دن جس روز خدا انہیں ندا دے گا اور کہے گا کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
28:63
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغۡوَيۡنَآ أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَاۖ تَبَرَّأۡنَآ إِلَيۡكَۖ مَا كَانُوٓاْ إِيَّانَا يَعۡبُدُونَ
تو مشرکین کے معبود جن کیلئے فرمان عذاب ثابت ہو چکا ہو گا، کہیں گے : اے ہمارے رب !یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا تھا جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ہم نے انہیں گمراہ کیا۔اب ہم ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ در حقیقت ہماری نہیں (بلکہ اپنی ہوائے نفس کی) پرستش کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
28:64
وَقِيلَ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ لَوۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ يَهۡتَدُونَ
اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے معبودوں کو جنہیں تم خداکا شریک قرار دیتے تھے بلاؤ۔ تو وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں جواب نہیں دیں گے۔ اور جب وہ عذاب کو(اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔

تفسیر وہ لوگ صرف اپنی ہوائے نفس کی پرستش کرتے تھے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اوپر تحریر شدہ آیات سے قبل کی آیات میں اُن لوگوں کا ذکر تھا جنہوں نے دُنیا کی نعمتوں کے لالچ میں کفر کو ایمان پر اور شرک کو توحید پر ترجیح دی۔۔۔ اور زیر نظر آیات میں اُس گروہ کی حالت اور راست باز مومنین کی کیفیت میں فرق بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے، خدا، ایک موازنے کے ذریعہ جو بصورت استفہام کیا گیا ہے، تمام لوگوں کے وجدان سے انصاف طلب ہو کر کہتا ہے: "وہ آدمی جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے۔ اور وہ یقیناً اُس موعود کو پا لے گا، کیا اُس کے مساوی ہے کہ جسے ہم نے صرف متاع دنیا کا حصہ دیاہے اور قیامت کے دن وہ حساب اور جزائے اعمال کے لیے ہمارے سامنے پیش ہو گا:" (أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ)۔ بدون شک ہر وہ شخص جس کا ضمیر پیدار ہے، وہ خدا کے نیک وعدوں اور اُس کی عظیم جاودانی برکات کو اِس دنیا کی فانی نعمات اور زود گزر لذات پر (جن کا انجام جادوانی دردوالم ہے) ترجیح دیتا ہے۔ جملہ "فَهُوَ لَاقِيهِ" تاکیدی ہے۔ یعنی اللہ کے وعدہ میں ہرگز تخلف نہیں ہوتا۔ اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کیونکہ وعدہ سے تخلف یا تو بوجہ جہل ہوتا ہے یا بوجہ عجز اور اللہ کی ذات اِن میں سے ہر ایک سے پاک ہے۔ "هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ" کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے محضر الہٰی میں حاضر ہوں گے۔ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ آتش دوزخ میں حاضر ہوں گے۔ مگر پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے بہرحال، آیت کے تیور بناتے ہیں۔ کہ اُن گناہ آلودہ لوگوں کو بالجبر اور اُن کی رغبت کے خلاف کھینچ کر خدا کے حضور لایا جائے گا۔ اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کہ حساب اور سزا کا خوف ان کے پورے وجود پر چھایا ہوا ہو گا۔ کلمہ "حیاتُ الدنیا" جو قرآن مجید کی مختلف سٗورتوں میں بارہا آیا ہے۔ اِس سے اشارہ حیاتِ آخرت اور زندگی جادوانی و زوال ناپذیر کے مقابلے میں اِس دُنیاوی زندگی کی پستی کی طرف ہے۔ کیونکہ کلمہ "دُنیا" مادٴہ "دنو" سے مشتق ہے۔ اس کے وضعی معنٰی ہیں زمان یا مکان میں یا منزل یا مقام سے نزدیک ہونا۔ کبھی کلمہ دُنیا اور ادنٰی اُن چھوٹی موجودات کے لیے (جو انسان کے اختیار میں ہوں) عظیم موجودات کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ اور کبھی بلند اور عالی موضوعات کے مقابلہ میں پست موضوعات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی اِس کلمہ کا اطلاق دُور کے مقابلے میں نزدیک پر ہوتا ہے۔ چونکہ اِس جہان کی زندگی جہان دیگر کے مقابلہ میں خفیف اور بےقدر اور نزدیک ہے۔ اِس لیے اس کو "حیات دنیا" کہنا نہایت ہی مناسب ہے۔ اِس کلام کے بعد قرآن شریف میں منظر کشی کی گئی ہے کہ روز حشر کفار کا کیا حال ہو گا۔ یہ ایسا منظر ہے کہ اس کے تصور ہی سے رُونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسان کانپنے لگتا ہے۔ چنانچہ خداوند عالم فرماتا ہے: ذرا اُس دن کا تصور کرو کہ خدا اُن مشرکین کو آواز دے گا اور کہے گا جنہیں تم نے میرا شریک قرار دیا تھا وہ کہاں میں؟ (وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ)۔ ظاہر ہے کہ یہ سوال ملامت اور سرزنش کے لیے ہے۔ کیونکہ روزِ محشر تمام پردے اور حجابات اُٹھ جائیں گے۔ اُس دن نہ تو شرک کا کوئی مفہوم باقی رہے گا۔ اور نہ مشرک اپنے عقیدے پر باقی رہیں گے۔ اِس لیے یہ سوال مشرکین کے لیے ایک قسم کی سرزنش اور اُن کے کیفر کردار کو یاد لانے کے لیے ہے اور ایک اور ایک طرح کی توبیخ و سزا ہے۔ لیکن قبل ازیں کہ وہ مشرکین جواب میں دیں، اُن کے معبود گویا ہوتے ہیں اور وہ اپنے ستاروں سے متنفّر اور بےزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اُن مشرکین کے معبود کبھی تو پتھر یا لکڑی کے بُت تھے۔ کبھی مقدس ہستیاں تھیں جیسے فرشتے عیسٰی علیہ السلام اور کبھی جنات اور شیاطین تھے۔ آیة میں جن شرکاء الہٰی کا ذکر ہے۔ اُن میں سے اِس مقام پر تیسرے نمبر کی جماعت (جنات و شیاطین) گویا ہوتے ہیں۔ ہم اُن کی گفتگو آیة مابعد میں اِس طرح پڑھتے ہیں: معبودوں کا ایک گروہ، جن کے لئے فرمان عذاب مسلم ہو چکا ہے یوں کہتا ہے: اے ہمارے پروردگار ہم نے ان پرستاروں کو گمراہ کیا۔ صحیح ہے کہ ہم نے انھیں گمراہ کیا۔ اِسی طرح کہ جیسے کہ ہم خود گمراہ تھے۔ (لیکن اُن لوگوں نے اپنی مرضی سے ہماری پیروی کی) ہم اُن سے بیزار ہیں۔ وہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ درحقیقت، وہ اپنی ہوایٴ نفس کی پرستش کرتے تھے: (قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ)۔ اِس بناء پر آیة فوق سورہ ٴ یونس کی اٹھائیسویں آیة کی طرح ہے۔ جسے میں یہ قول ہے: وقال شرکاوٴھم ما کنتم ایانا تعبدون یہ باطل معبود بروز قیامت اپنے عبادت کرنے والوں کی طرف رُخ کر کے کہیں گے تم ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ اِس طرح یہ گمراہ کرنے والے معبود، مثلاً: فرعون، نمرود اور جن و شیاطین اس قسم کے پرستاروں سے اپنی بیزاری اور نفرت کا اظہار (تشریحی نوٹ: مذکورہ بالا آیت کی تفسیر کے متعلق یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جواب دینے والے مشرکین کے سردار ہیں اور کفر و شرک کے معتقدین مراد ہیں۔ (یعنی فقط پرستاروں کا ایک گروہ) یہ لوگ اپنے معبودوں کے متعلق خدا کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنے پیروؤں کا ذکر کریں گے اور اپنی مدافعت کرتے ہوئے عرض کریں گے۔ خدایا ہم تو خود گمراہ تھے کہ ہم نے شرک کی راہ اختیار کی۔ اور اس گروہ نے اپنی مرضی سے ہماری پیروی کی اور ہم نے انھیں گمراہ کیا۔ لیکن درحقیقت، وہ ہماری اطاعت نہ کرتے تھے۔ بلکہ وہ تو اپنی ہوائے نفس کی اطاعت کرتے تھے مگر جو تفسیر ہم نے متن کتاب میں بیان کی وہ صحت سے زیادہ قریب ہے)۔ کریں گے اور اپنی مدافت کریں گے۔ یہاں تک کہ اپنے اُوپر اُن کی گمراہی کا الزام بھی نہ لیں گے اور کہیں گے کہ "انھوں نے اپنی مرضی سے ہماری پیروی کی تھی۔" لیکن یہ اظہر من الشمس امر ہے کہ نہ تو یہ انکار کچھ کارگر ہو گا اور نہ اُن کی اپنے پرستاروں سے بیزاری اور اظہار براٴت، بلکہ وہ معبود اپنے عبادت کرنے والوں کے گناہ میں برابر کے شریک اور حصہ دار ہوں گے۔ اِس مقام پر قابل توجہ یہ امر ہے کہ اُس روز (بروز حشر) اِن گمراہ اور گنہگار لوگوں میں سے ہر شخص ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کرے گا اور ہر شخص کی یہی کوشش ہو گی کی اپنا گناہ دوسرے کے سر تھوپ دے۔ ہم دنیا میں چھوٹے پیمانے پر اِس قسم کے واقعات کی نظیر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ باہم مل کر کسی خلاف اخلاق یا خلاف قانون فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب وہ گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار خیال کرتے ہیں۔ اور اُن میں سے ہر ایک اپنا گناہ دوسرے کے سر ڈالنے لگتا ہے۔۔۔ دنیا اور آخرت میں گمراہ اور غلط عملی کے مرتکب لوگوں کا انجام یہی ہے۔ جس طرح سے سورہ ابراہیم کی آیت نمبر بائیس میں مذکور ہے کہ: وما کان لی علیکم من سلطان الّا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم میرا تو تمہارے اُوپر کچھ زور نہ چلتا تھا۔ میں نے تو تمہیں صرف دعوت دی تھی۔ (یعنی امر الہٰی کی مخالف راہ کی طرف بلایا تھا) تم نے بڑے اشتیاق سے اُسے قبول کر لیا۔ اب تم مجھے نہیں بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ مشرکین کے بارے میں سورہ "صافّات" کی تیسویں آیت میں ہم یوں پڑھتے ہیں کہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے۔ اور ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ مگر گمراہ کرنے والے جواب میں واضح طور پر کہیں گے: وماکان لناعلیکم من سلطان بل کنتم قوما طاغین بہرحال، جب اُن سے اُن کے معبودوں کے متعلق سوال کیا جائے گا تو وہ جواب دینے سے عاجز رہ جائیں گے۔ تب اُن سے کہا جائے گا کہ تم اپنے معبودوں کو جنہیں تم خدا کا شریک قرار دیتے تھے بلاؤ تاکہ وہ اس وقت تمہاری مدد کریں: (و قیل ادعوا شرکاءکم)۔ (تشریحی نوٹ: "شرکاءکم" کی تعبیر اس لیے ہے کہ وہ مشرکین خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ شریک تم نے بنائے ہیں۔ اِس کا جواب بھی تم ہی دو)۔ وہ مشرکین یہ جاننے کے باوجود کہ وہ معبود اِس وقت ذرہ بھر بھی کام نہیں آ سکتے، انتہائی پریشانی کی وجہ سے یاہر طرف سے مایوس ہو کر یا فرمان الہٰی کی اطاعت کی وجہ سے کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اِس طرح مشرکوں اور اُن کے معبودوں کو سب کے سامنے رسوا کرے وہ اپنے معبودوں کی طرف دست تقاضا دراز کریں گے۔اور اُنھیں اپنی مدد کے لیے بلائیں گے: (فدعوھم)۔ لیکن وہ جھوٹے معبود، اُنھیں کچھ جواب نہیں دیں گے اور اُن کے صدائے امداد پر لبیک نہیں کہیں گے: (فلم یستجیبوا لھم)۔ وہ (مشرکین) اُس وقت عذاب الہٰی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے: (وراٴ و االعذاب)۔ اور یہ آرزو کریں گے کہ کاش ہم زندہ ہوتے اور ہدایت یافتہ ہوتے: (لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ)۔ کیونکہ اُس میدان قیامت میں دو جو بھی تدبیر کریں گے ناکامی اور رسوائی کے سوا اُس کا کوئی نتیجہ نہ ہو گا۔ کیونکہ صرف ایمان و عمل ہی وسیلہ نجات ہے جس سے وہ لوگ محروم ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ" کے متعلق بلند پایہ مفسرین نے بڑی طویل بحثیں کی ہیں۔ اکثریت نے کلمہ "کلمہ" کو حرف شرطِ سمجھا ہے۔ اس کے بعد اس کی جزا کے متعلق بحث کی ہے۔ بعض نے اس شرط کی جزا اس جملے کو سمجھا ہے جو "راوا العذاب" سے مستنبط ہوتا ہے۔ اور اِس جملہ مقدر کی یہ تاویل کی ہے اور بعض لوگوں نے جملہ مقدر کو اس طرح سمجھا ہے: لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ لراوا العذاب فی الدنیا بعین الیقین۔ بعض مفسرین نے دوسری جزاؤں کو مقدر سمجھا ہے۔ بعض مفسرین معتقد ہیں کہ اصلا جواب شرط مخدوف ہی نہیں ہے۔ انہوں نے جملہ "راوا العذاب" کو جواب شرط قرار دیا ہے۔ اس قول کی بناء پر جملے کا مفہوم یہ ہو گا کہ اگر وہ بروزِ قیامت چشم بینا رکھتے اور ہدایت یافتہ ہوتے تو عذاب کو دیکھتے مگر وہ چشم بینا نہیں رکھتے۔ مگر ان تمام معانی کے ماوراء ایک معنی اور بھی ہے جسے بالائی سطور میں ہم سے ترجیح دی ہے اور وہ یہ ہے کہ "لو" تمنا کے لئے ہے۔ ادبی کتابوں میں بالخصوص "مغنی البیب" میں اس کی شرح دیکھی جا سکتی ہے)۔

65
28:65
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبۡتُمُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
اس دن کے متعلق سوچو کہ جب خدا انہیں پکارے گا اور کہے گا تم نے مرسلین کو کیا جواب دیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
28:66
فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَنۢبَآءُ يَوۡمَئِذٖ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُونَ
اس دن تمام خبریں ان پر پوشیدہ رہیں گی، (یہاں تک کہ)وہ ایک دوسرے سے سوال (بھی)نہیں کر سکیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
28:67
فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلۡمُفۡلِحِينَ
لیکن جو شخص توبہ کرے،ایمان لائے اور عمل صالح انجام دے تو امید ہے کہ وہ ہدایت یافتگان میں سے ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
28:68
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
اور تیرا رب جسے چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔(اس کے سامنے) ان کا کوئی اختیار نہیں۔ اللہ ان شریکوں سے منزہ و برتر ہے جن کے وہ قائل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
28:69
وَرَبُّكَ يَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ
تیرا رب وہ سب جو کچھ جانتاہے کہ جو وہ اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں اور جس کا اظہار کر دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
28:70
وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأُولَىٰ وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
وہ اللہ ہے کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور حمد و ستائش اسی کیلئے ہے اس جہان میں اور دوسرے جہان میں حاکمیت(بھی)اسی کیلئے ہے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کرجاؤ گے۔

تفسیر سابقہ گفتگو کا تتمہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر تھا۔ اُن آیات میں اُن سوالات کے بارے میں گفتگو تھی جو اُن سے کیے گئے تھے۔ زیر نظر آیات اُسی گفتگو کا تتمہ ہیں۔ پہلے ان کے معبودوں کے بارے میں سوال تھا۔ اس کے بعد مرسلین کے ساتھ اُن کے سلوک سے متعلق ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اُس دن کا سوچو جس دن اللہ اُنہیں پکارے گا اور کہے گا، تم پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا: (وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ)۔ پہلے سوال کی طرح یقنیاً اِس سوال کا بھی اُن کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اگر وہ یہ کہیں کہ ہم نے اُن کی دعوت کو قبول کیا تھا تو یہ جھوٹ ہے اور اُس میدان میں جھوٹ نہیں چل سکتا۔ اور اگر وہ یہ کہیں کہ ہم نے اُن کی تکذیب کی تھی، اُن پر تہمتیں دھری تھیں، انہیں جادو گر کا نام دیا تھا، اُنہیں دیوانہ کہا تھا، اُن کے خلاف مسلح جنگ کی تھی اور انہیں اور اُن کے پیروکاروں کو قتل کیا تھا ___ تو یہ بھی اُن کی بدبختی اور رُسوائی کا باعث ہے۔ وہاں تو یہ عالم ہو گا کہ اللہ کے عظیم نبیوں سے جب سوال ہو گا کہ لوگوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا تو وہ کہیں گے: تیرے علم کے سامنے تو ہمارا علم کچھ بھی نہیں تُو تو علّام لغیوب ہے۔ (مائدہ۔ ۱۰۹)۔ ایسے عالم میں یہ کوردل مشرک کیا جواب دے سکتے ہیں؟ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: "اُس وقت تمام خبریں اُن سے پردہٴ اخفا میں ہوں گی" اور جواب دینے کے لیے کچھ بھی اُن کے پاس نہ ہو گا۔ (فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنبَاءُ يَوْمَئِذٍ)۔ یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے بھی کچھ پوچھ نہ سکیں گے" اور نہ کسی کا کچھ جواب سن پائیں گے۔ (فَهُمْ لَا يَتَسَاءَلُونَ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں "معی" یعنی اندھے پن کے نسبت خبروں کی طرف دی گئی ہے نہ کہ خود اُن کی طرف۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ ”وہ اندھے ہو جائیں گے" بلکہ کہتا ہے: "خبریں ایسی اندھی ہوں گی کہ اُنہیں تلاش نہ کر پائیں گی کیونکہ بسا ایسا ہوتا ہے کہ انسان خود کسی چیز سے باخبر نہیں ہوتا لیکن ایک منہ سے دوسرے کی طرف گردش کرتی ہوئی خبر اُس تک پہنچ جاتی ہے۔ معاشرے میں بہت سی خبریں یونہی پھیلتی ہیں لیکن اُس جہان میں نہ تو یہ لوگ آگاہی رکھتے ہوں گے۔ اور نہ ہی پھیلنے کی صلاحیت۔ اس طرح تمام خبریں اُن سے پوشیدہ رہیں گی۔ جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اُن مرسلین کو کیا جواب دیا تھا تواُن سے کوئی جواب نہ بن پائے گا اور وہ سراپا سکوت بن جائیں گے۔ قرآن کی روش یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کافروں اور گنہگاروں پر لوٹ آنے کے راستے کھلے رکھتا ہے تاکہ وہ گناہ کے کسی بھی مرحلے سے راہِ حق کی طرف پلٹنا چاہیں تو اُن کے لیے گنجائش موجود ہو۔ اسی لیے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے۔ البتہ جو شخص توبہ کر لے، ایمان لے آئے اور عمل صالح بجا لائے اُمید ہے کہ فلاح یافتگان میں سے ہو جائے۔ (فَأَمَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَن يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ)۔ لہذا تمہارے لیے راہِ نجات ان تین اقدامات میں ہے: ۱۔ خدا کی طرف باز گشت ۲۔ ایمان ۳۔ عملِ صالح اس کے بعد یقیناً فلاح و نجات ہے۔ ”عسٰی" (اُمید ہے)___ اگرچہ جو شخص ایمان و عمل صالح کا حامل ہو اس کے لیے فلاح یقینی ہے لیکن یہاں ممکن ہے یہ تعبیر اس لیے ہو کہ فلاح اس حالت کے تسلسل سے مشروط ہے اور چونکہ ضروری نہیں کہ ہر توبہ کرنے والا اپنی اس حالت پر باقی رہے اس لیے یہاں یہ لفظ لایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جب "عسٰی" کی تعبیر کسی ذات کریم سے صادر ہو تو اس میں قطعی اور یقینی ہونے کا مفہوم پنہاں ہوتا ہے جب کہ اللہ تو اکرم الاکرمین ہے۔ بعد والی آیت درحقیقت، نفیِ شرک اور مُشرکین کے بطلان کی دلیل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تیرا ربّ جس چیز کو چاہتا ہے خلق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چُن لیتا ہے۔ (وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ)۔ تخلیق اُس کے ہاتھ میں ہے تدبیر و اختیار اور انتخاب بھی اسی کے ارادے پر منحصر ہے "وہ اس کے مقابلے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے" (مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ)۔ (تشریحی نوٹ: " مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ" میں "ما" نافیہ ہے۔البتہ بعض نے اس احتمال کا ذکر یہاں یہ "ما" موصولہ ہے اور "یختار" کے محذوف مفعول پر مفطوف ہے لیکن یہ احتمال بہت بعید ہے)۔ خلق کرنے کا اختیار اُسے حاصل ہے، اختیارِ شفاعت کا حامل وہ ہے اور انبیاء و مرسلین بھیجنے کا اختیار اُسی کے پاس ہے ___ خلاصہ یہ کہ تمام چیزوں کا اختیار اس کی ذاتِ پاک کے ارادے سے وابستہ ہے کیونکہ بُتوں سے تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا جب کہ فرشتہ اور انبیاء بھی اس کی اجازت ہی سے کچھ کر سکتے ہیں۔ بہرحال، یہاں اختیار کا اطلاق اس کی عمومیت کی دلیل ہے یعنی اللہ امور تکوینی میں بھی صاحب اختیار ہے اور امور تشریعی میں بھی ___ دونوں کا سرچشمہ اس کا مقام خالقیت ہے۔ جب صورت حال یہ ہے تو پھر وہ کیونکر راہِ شرک پر چلتے ہیں اور غیر خدا کی طرف کس طرح جاتے ہیں۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اللہ ان شرکاء سے منزہ و برتر ہے جن کے وہ قائل ہوتے ہیں۔ (سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ)۔ اہل بیت علیہم السلام کے حوالوں سے پہنچنے والی روایات میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں مذکورہ اختیار، انتخاب اور چناؤ خدا کی طرف سے امام معصوم علیہ السلام کے انتخاب کی طرف اشارہ ہے۔ نیز "مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ" (لوگوں کو اِس سلسلے میں کوئی اختیار نہیں) سے بھی یہی مفہوم مُراد لیا گیا ہے۔ اِن روایات میں دراصل ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے کیونکہ دین کی حفاظت کا مسئلہ خدا ہی سے مربوط ہے اور ممکن نہیں ہے کہ اس مقصد کے لیے خدا کے علاوہ، کوئی اور معصوم رہبر کا انتخاب کر سکے۔ (بحوالہ: ۔تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص ۱۳۶، بحوالہ اصولِ کافی اور تفسیر علی بن ابراہیم)۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے وسیع اختیار کا ذکر ہوا تھا، زیر نظر آیت اس کے لیے تاکید یا دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تیرا پروردگار اُسے بھی جانتا ہے کہ جو وہ اپنے سینے میں چھپائے رکھتے ہیں اور اُسے بھی جسے آشکار کرتے ہیں۔ (وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ)۔ یہ ہر چیز پر اس کے احاطے اور اختیار کی دلیل ہے نیز ضمنی طور پر مشرکین کے لیے تہدید ہے کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ ان کی نیتوں اور سازشوں سے آگاہ نہیں ہے۔ زیر بحث آخری آیت درحقیقت، گزشتہ آیات کے لیے نفی شرک کے بارے میں اخذ نتیجہ اور توضیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس میں اللہ تعالیٰ کی ان چار صفات کا بیان ہے جو سب اُس کی خالقیت اور اختیار کی فرع ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وُہ خدا ہے کہ جس کے علاوہ، کوئی معبود نہیں (وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ)۔ کیسے ممکن ہے کہ اُس کے علاوہ، کوئی معبود ہو جب کہ خالق صرف وہ ہے اور تمام اختیارات اسی کے دستِ قدرت میں ہیں لہذا جو لوگ شفاعت وغیرہ کے عُذر سے بُتوں کے دامن سے متمسک ہیں وہ سخت اشتباہ میں مبتلا ہیں۔ دُوسری صفت یہ کہ تمام نعمتیں، چاہے اِس جہان کی ہوں چاہے اُس جہان کی سب اسی کی طرف سے ہیں اور یہ اس کی خالقیتِ مطلقہ کا لازمہ ہے۔ اُس لیے قرآن مزید کہتا ہے: ہر حمد و ستائش بھی اسی سے تعلق رکھتی ہے چاہے اس جہان میں ہو چاہے اُس جہان میں۔ (لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ)۔ تیسری صفت یہ ہے کہ دونوں جہانوں میں وہی حاکم ہے۔ (وَلَهُ الْحُكْمُ)۔ اظہر من الشمس ہے کہ جب خالق و مختار وہ ہے تو تکوینی و تشریعی حاکمیت بھی اسی کے اخیتار میں ہو گی۔ چوتھی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ "تم سب کی بازگشت (حساب و اجرکے لیے) اسی کی طرف ہو گی۔ (وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہ تمہارے اعمال سے آگاہ بھی ہے اور وہی یوم الجزاء کا حاکم ہے لہذا تمہارا حساب کتاب اور تمہاری جزاٴ و سزا بھی اسی کے ہاتھ میں ہو گی۔

71
28:71
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ
کہہ دو !مجھے بتاؤ کہ اگر خدا روز قیامت تک تمہارے لئے رات ہی کو باقی رکھنا چاہے تو کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لا سکے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
28:72
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلنَّهَارَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِلَيۡلٖ تَسۡكُنُونَ فِيهِۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ
کہہ دو مجھے بتاؤ اگر خدا روز قیامت تک دن ہی کو باقی رکھنا چاہے تو کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے رات لا سکے تاکہ تم اس میں سکون پا سکو ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
28:73
وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
یہ امر اس کی رحمت سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے ہیں تاکہ تم ان میں سکون پاؤ اور فضل الٰہی سے فائدہ اٹھاؤکہ شاید تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
28:74
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ
اس دن کا سوچو جس میں وہ انہیں پکارے گا اورپوچھے گا: کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
28:75
وَنَزَعۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا فَقُلۡنَا هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ فَعَلِمُوٓاْ أَنَّ ٱلۡحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
ہم روزقیامت ہر امت میں سے گواہ منتخب کریں گے اور(گمراہ مشرکین سے) کہیں گے اپنی دلیل پیش کرو۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ حق اللہ کے لئے ہے اور جو کچھ بھی وہ افتراء پردازی کرتے تھے وہ سب ان (کی نگاہ) سے گم ہو جائے گی۔

تفسیر رات اور دن کا وجود عظیم نعمت ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

زیر بحث آیات نعماتِ الہٰی کے ایک عظیم حصّے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ یہ نعمات توحید اور نفی شرک پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے زیر بحث آیات گزشتہ آیات کی بحث کو ہی مکمل کرتی ہیں۔ ان آیات میں مذکورہ نعمات اُن نعمات الہٰی کا ایک نمونہ بھی ہیں جن کی وجہ سے خدا لائق حمد ستائش ہے، وہی حمد و ستائش جس کا ذکر گزشتہ آیات میں آیا ہے نیز یہ نعمات نظام آفرینش اور جہان کی تدبیر میں خدا کے مختار ہونے پر بھی شاہد ہیں۔ پہلے دن کی عظیم نعمت یعنی روشنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہی روشنی کہ جو ہر جنبش و حرکت کا سرچشمہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کہہ دو مجھے بتاؤ اگر خدا روز قیامت تک دن رات کو طویل کر دیتا تو کیا اللہ کے علاوہ، کوئی معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی لے آتا؟ کیا سنتے نہیں ہو؟ (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: " أَرَأَيْتُمْ" کا عام طور پر "اخبرونی" (مجھے بتاؤ) معنی کیا جاتا ہے لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کبھی یہ لفظ "ھل علمھم" (کیا تم جانتے ہو؟) کے معنی میں بھی آتا ہے)۔ یہاں لفظ "ضیاء" (روشنی) استعمال کیا گیا ہے کیونکہ دن کا اصلی بنیادی مقصد روشنی ہی ہے۔ وہی روشنی کہ جس سے تمام موجوداتِ زندہ کی حیات وابستہ ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا تو نہ درخت اُگتے، نہ پُھول کھلتے، نہ پرندے پرواز کرتے، نہ انسانوں کی حیات ہوتی اور نہ بارش کا کوئی قطرہ برستا۔ "سرمد" دائم اور ہمیشگی کے معنی میں ہے۔ بعض نے اسے "سرد" کے مادّہ سے سمجھا ہے اور اس کا معنٰی "پے در پے" کیا ہے۔ اس کی میم کو اُنہوں نے زائد قرار دیا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ مادّہ خود دائم اور ہمیشگی کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اربابِ لغت نے تصریح کی ہے کہ "سرمدی" ایسے موجود کو کہا جاتا ہے کہ جس کا نہ آغاز اور نہ انجام جب کہ "ازلی" اُسے کہتے ہیں جس کا آغاز نہ ہو اور "ابدی" اُسے کہتے ہیں جس کا انجام نہ ہو)۔ اگلی آیت "تاریکی" کی نعمت کا ذکر کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کہہ دو: مجھے بتاؤ اگر خدا روزِ قیامت تک دن کو طویل کر دیتا تو اللہ کے علاوہ، کوئی معبود ہے جو تمہارے لیے رات لے آتا تاکہ تم اس میں آرام کر پاتے؟ کیا دیکھتے نہیں ہو؟ (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ)۔ تیسری آیت جو درحقیقت، گزشتہ دو آیتوں کا نتیجہ ہے اس میں فرمایا گیا ہے: یہ امر رحمت الہٰی میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے ہیں تاکہ تم آرام بھی کر سکو اور دوسری طرف اپنی زندگی کی خاطر فضل خدا سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر سکو اور شاید تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ (وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔ جی ہاں، رحمت الہٰی کی وسعت کا تقاضا ہے۔ کہ وہ تمہیں زندگی کے تمام وسائل مہیا کرے۔ ایک طرف تو تمہیں کام کاج اور جنبش و حرکت کی ضرورت ہے کہ جو دن کی روشنی کے بغیر ممکن نہیں اور دوسری طرف تمہیں راحت و آرام کی ضرورت ہے، کہ جو شب کی تاریکی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ دَورِ حاضر میں سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ روشنی کی موجودگی میں اِنسانی جسم کی تمام مشینریاں حرکت میں رہتی ہیں۔ خون کی گردش، سانس لینے کی مشینری، حرکت قلب وغیرہ۔ اگر روشنی ضرورت سے زیادہ پڑے یا ایک خاص مقدار سے بڑھ جائے تو خلیے (cells) تھک جاتے ہیں اور نشاط و اطمینان کی جگہ فرسودگی سی چھا جاتی ہے۔ اس کے برعکس، رات کی تاریکی میں بدن کی مشینریاں ایک گہرے آرام و سکون میں ڈوب جاتی ہیں۔ ایسے قویٰ ایک نشاط تازہ حاصل کرتے ہیں (بحوالہ: تفسیر نمونہ کی آٹھویں اور بارہویں جلد میں اِس مسئلے کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے)۔ یہ بات جاذب توجہ ہے کہ قرآن جس وقت دائمی رات کا ذکر کرتا ہے تو آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "کیا سنتے نہیں ہو؟" اور جس وقت دائمی دن کے بارے میں بات کرتا ہے۔ تو فرماتا ہے: "کیا دیکھتے نہیں ہو؟" تعبیر کا یہ فرق ہو سکتا ہے اس بناء پر ہو کہ رات سے مناسب رکھنے والی حس قوت شنوائی ہے جب کہ دن کے ساتھ مناسبت رکھنے والی بنیائی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن نے اپنی تعبیرات میں کس حد تک باریک بینی سے کام لیا ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ اس سلسلہٴ کلام کے آخر میں "شکر" کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ نور و ظلمت کا ایسا جچا تُلا نظام عطا ہونے پر شکر ___ ایسا شکر جو بہرصورت انسان کو معرفت منعم پرآمادہ کرتا ہے اور ایسا شکر جو افزائش ایمان کا باعث بنتا ہے۔ توحید اور نفی شرک کے بارے میں کچھ دلائل ذکر کرنے کے بعد قرآن پھر اسی سوال کی طرف لوٹتا ہے جو گزشتہ آیات میں زیر بحث تھا۔ فرماتا ہے: اس دن کا سوچو کہ جب خدا انہیں پکارے گا اور کہے گا: کہاں ہیں وہ جو بزعم خود تم نے شریک قرار دے رکھے تھے۔ (وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ)۔ یہ آیت بعینہ اسی سورہ کی آیت ۶۲ ہے۔ ہو سکتا ہے یہ تکرار اس بناء پر ہو کہ روز قیامت پہلے مرحلے میں اُن سے ایک انفرادی سوال ہو گا تاکہ اُن کا ضمیر بیدار ہو جائے اور وہ شرمندہ ہوں۔ جب کہ دُوسرے مرحلے میں سب لوگوں اور گواہوں کی موجودگی میں سوال کیا جائے گا تاکہ وہ شرمسار ہوں اور دوسری آیت میں اسی مرحلے کی مناسبت سے سوال آیا ہے۔ لہذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس روز ہم ہر امت میں سے گواہ چنیں گے۔ (وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا) (تشریحی نوٹ: ۔ نزع کے مادہ سے نزعنا کی تعبیر کسی چیز کو اس کی جگہ سے جذب کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں ہر گروہ سے ایک گواہ لایا جانا مُراد ہے)۔ اس کے بعد "بے خبر اور گمراہ مشرکین سے ہم کہیں گے کہ اپنے شرک پر کوئی دلیل پیش کرو" (فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ)۔ یہ وہ منزل ہے جہاں تمام مسائل روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں گے۔ "اور وہ جان لیں گے کہ حق خدا کے لیے ہے" (فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ)۔ اور جو کچھ وہ افتراء باندھتے تھے سب اٗن کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور گم ہو جائے گا۔ (وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ)۔ ہر اُمت میں سے گواہ سے کیا مراد ہےَ؟ اس سلسلے میں اگر قرآن کی دیگر آیات کو ملحوظ رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہر پیغمبر اپنی اُمّت پر گواہ ہو گا جب کہ پیغمبر اسلامؐ خاتم انبیاء ہیں۔ آپؐ تمام انبیاءؑ اور تمام اُمّتوں پر گواہ ہیں۔ چنانچہ سورہ نساء کی آیت ۴۱ میں فرمایا گیا ہے: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا اس دن اُن کی کیا حالت ہو گی جب ہم ہر اُمت کے اعمال کا گواہ طلب کریں گے اور تجھے اُن پر گواہ قرار دیں گے۔ اس طرح گویا انبیاء کے حضور ایک مجلس منعقد ہو گی اور ان کو ردل ہٹ دھرم مُشرکوں سے اس مجلس میں باز پُرس ہو گی۔ اس موقع پر انہیں احساس ہو گا کہ شرک کی مصیبت کتنی بڑی ہے۔ اَب وہ پروردگار کی حقانیت اور بُتوں کی لغویت واضح طور پر دیکھیں گے۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ قرآن یہاں پر کہہ رہا ہے: ضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ یعنی بُتوں کے بارے میں اُن کے بےبنیاد تصوّرات و خیالات سب ان کی نظروں سے غائب ہو جائیں گے کیونکہ میدان قیامت مقام حق ہے، وہاں باطل کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہذا باطل غائب اور محو ہو جائے گا۔ اِس دُنیا میں اگر باطل حق کا لباس پہن لیتا ہے اور چند دن فریب کاری میں مشغول رہتا ہے تو وہاں فریب کے پردے سب ہٹ جائیں گے اور حق کے علاوہ، کچھ باقی نہ رہے گا۔ ایک روایت میں امام محمد باقرعلیہ السلام "و نزعنا عن کل اُمّة شھیداً" کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ومن ھذہ الامة امامھا اس اُمّت سے بھی اس کے امام کو چُنا جائے گا۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، ج ۱۶، ص۲۰)۔ یہ بات اِس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ ہر زمانے میں اُمت کے لیے ایک معصوم شاہد ضروری ہے اور مندرجہ بالا حدیث اس کے ایک مصداق کی طرف اشارہ ہے۔

76
28:76
۞إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ
قارون قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن اس نے ان پر ظلم کیا۔ ہم نے اسے اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کے صندوق ایک طاقتور گروہ کیلئے بھی ا ٹھانا مشکل تھے۔وہ وقت یاد کرو جب اس کی قوم نے اس سے کہا: یہ سب متکبرانہ خوشی نہ کرو(کیونکہ) غرور آمیز خوشی کرنے والوں کو خدا دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
28:77
وَٱبۡتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن كَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ وَلَا تَبۡغِ ٱلۡفَسَادَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپنے حصہ کو فراموش نہ کر اور جیسے خدا نے تیرے ساتھ نیکی کی ہے تو بھی نیکی کر اور زمین پر ہرگز فساد و گناہ نہ کر کہ خدا مفسدین(فساد پھیلانیوالوں ) کو پسند نہیں فرماتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
28:78
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمٍ عِندِيٓۚ أَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَهۡلَكَ مِن قَبۡلِهِۦ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مَنۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرُ جَمۡعٗاۚ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
(قارون) کہنے لگا :یہ دولت میں نے اپنے علم سے حاصل کی ہے۔ کیا اسے معلوم نہ تھا کہ خدا نے اس سے پہلے کچھ ایسی بھی قوموں کو ہلاک کر دیا تھاجو اس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ مال دار تھیں ؟اور (جب عذاب الٰہی آتا ہے تو) پھر مجرموں سے ان کے گناہوں کا نہیں پوچھا جاتا۔

تفسیر بنی اسرائیل کے خُود پرست سرمایہ دار:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

حضرت موسٰی علیہ السلام کی عجیب و غریب سرگذشت اور فرعون کے خلاف اُن کے جہاد کے بارے میں کچھ تفصیلات اسی سُورت کی گزشتہ آیات میں بیان کی گئی ہیں اور اس سلسلے مین کہنے کی باتیں کہی جا چکی ہیں۔ مذکورہ گفتگو بہت ہدایت بخش تھی۔ اس سورہ کی کچھ آیات بنی اسرائیل کے ایک اور مسئلے اور اُلجھن سے متعلق ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اُن میں ایک سرکش سرمایہ دار تھا۔ اُس کا نام قارون تھا۔ قارون غرور و سرکشی میں مست کر دینے والی دولت کا مظہر تھا۔ اصولی طور پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں تین متجاوز طاغوتی طاقتوں کے خلاف جہاد کیا۔ ایک فرعون تھا جو حکومت و اقتدار کا مظہر تھا، دوسرا قارون تھا جو ثروت و دولت کا مظہر تھا اور تیسرا سامری تھا کہ جو مکر و فریب کام مظہر تھا۔ اگرچہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا سب سے بڑا معرکہ حکومت کے خلاف تھا لیکن دوسرے معرکے بھی اہم تھے اور وہ بھی عظیم ترین نکات کے حامل ہیں۔ مشہور ہے کہ قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے قریبی رشتہ دار تھا یا (چچا تھا یا چچا زاد تھا اور یا خالہ زاد)۔ اُس نے تورات کا خُوب مطالعہ کیا تھا۔ پہلے وہ مومنین میں تھا لیکن دولت کا گھمنڈ اُسے کفر کی آغوش میں لے گیا اور اُسے زمین میں غرق کر دیا۔ اس غرور نے اس پیغمبر خداؐ کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا اور اس کی موت سب کے لیے باعث عبرت بن گئی۔ اس واقعے کی تفصیل ہم زیر بحث آیات میں پڑھیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے: قارون موسٰیؑ کی قوم میں سے تھا لیکن اس نے ان پر ظلم کیا (إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْهِمْ)۔ اس ظلم کا سبب یہ تھا کہ اُس نے بہت سی دولت کما لی تھا اور چونکہ اس کا ظرف کم تھا اور ایمان مضبوط نہ تھا اس لیے فراواں دولت نے اُسے بہکا دیا اور اسے انحراف و استکبار کی طرف لے گئی۔ قرآن کہتا ہے: ہم نے اسے مال و دولت کے اتنے خزانے دیے کہ انہیں اٹھانا ایک طاقتور گروہ کے لیے بھی مشکل تھا۔ (وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ)۔ "مفاتح"، "مفتح" (بروزن "مکتب") کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ایسی جگہ جس میں کوئی چیز ذخیرہ کرتے ہیں مثلاً صندوق کہ جس میں اموال و اشیاء محفوظ رکھتے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ قارون کے پاس اس قدر سونا چاندی اور قیمتی اموال تھے کہ ان کے صندوقوں کو طاقتور لوگوں کا ایک گروہ بڑی مشکل سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتا تھا۔ توجہ رہے کہ "عصبہ" اس گروہ کو کہتے ہیں کہ جس نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوں، جس کے افراد بہت طاقتور ہوں اور اعصاب کی طرح ایک دوسرے کو پکڑے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قارون کے جواہرات اور گروں قیمت اموال کا جحم کس قدر زیادہ تھا۔ بعض کہتے ہیں"عصبہ" دس سے لے کر چالیس افراد تک کے گروہ کو کہتے ہیں۔ لفظ "تنوء"، "نوء" کے مادّے سے زحمت و مشقت سے اُٹھنے کے معنی ہے اور بہت وزنی اموال کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جب انسان اسے اُٹھاتا ہے تو بوجھ کے باعث ایک طرف سے دوسری طرف جھک جاتا ہے۔ "مفاتح" کی تفسیر میں جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اسے مفسرین اور علماء لغت کی ایک جماعت نے قبول کیا ہے۔ جب کہ بعض دوسرے علماء نے "مفاتح" کو "مفتح" (بروزن "منبر") کی جمع قرار دیا ہے جس کا معنی ہے چابی۔ یہ مفسرین کہتے ہیں کہ قارون کے خزانوں کی چابیاں اتنی تھیں کہ کیٴ طاقتور افراد بڑی مشکل سے انہیں اُٹھا پاتے تھے۔ جن لوگوں نے یہ دوسرا معنی اپنایا ہے وہ خود اپنے اس معنی کی توجیہ میں مشکل دوچار ہو گئے ہیں کہ خزانے کی چابیوں کے لیے ایسا کیونکر ممکن ہے۔ بہرحال، پہلی تفسیر زیادہ واضح اور زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ اس سے قطع نظر کہ اہل لغت نے "مفتح" کے بھی کئی معانی بیان کیے ہیں ان میں سے ایک معنی "خزانہ" ہی ہے یعنی مال جمع کرنے کی جگہ لیکن پہلا معنی حقیقت سے نزدیک تر اور ہر قسم کے مبالغہ سے پاک ہے۔ البتہ "مفاتیح"، "مفتاح" کی جمع ہے جس کا معنی ہے چابی۔ ان الفاظ سے اشتباہ نہیں ہونا چاہیے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہاں چابی کیلئے بھی ایک مجازی معنی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان تمام اموال کی چابی سنبھالنا اور ان کی حفاظت کرنا طاقتور لوگوں کے لیے بھی مشکل تھا لیکن یہ تفسیر بھی بہت بعید معلوم ہوتی ہے۔ اس لفظ کے مفہوم کو تفصیل سے جاننے کے لیے "لسان العرب" کی طرف رجوع فرمائیں)۔ آیئے اس بحث سے آگے بڑھیں اور دیکھیں کہ بنی اسرائیل نے قارون سے کیا کہا: قرآن کہتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب اس کی قوم نے اس سے کہا: تم میں ایسی خوشی نہیں ہونی چاہیے جس میں تکبر اور غفلت ہو کیونکہ خدا غرور میں ڈوبے ہو ئے خوشحال افراد کو پسند نہیں کرتا۔ (إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ) (تشریحی نوٹ: "فرحین"، "فرح" کی جمع ہے اس کا معنی ہے وہ شخص کہ جو پا لینے کی وجہ سے مغرور ہو گیا ہو اور خوشی سے پھولا نہ سماتا ہو)۔ اس کے بعد چار اور قیمتی، سرنوشت ساز اور تربیتی نصیحتیں کرتے ہیں۔ اس طرح کل پانچ ہو گئیں۔ پہلے کہتے ہیں: اللہ نے جو کچھ تجھے دیا ہے اُس سے دارِ آخرت حاصل کر۔ (وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض کج فہم افراد کے خیال کے برخلاف مال و دولت کوئی بُری چیز نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ کس راستے پر صرف ہو رہا ہے۔ اگر اس کے ذریعے دارِ آخرت کو تلاش کیا جائے تو پھر اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ غرور، غفلت، ظلم، تجاوز اور ہوس پرستی کا ذریعہ بن جائے تو پھر اس سے بدتر بھی کوئی چیز نہیں۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے یہی منطق دنیا کے بارے میں اپنے ایک مشہور جملے میں بیان فرمائی ہے: من ابصر بھا بصّرتہ و من ابصر الیھا اعمتہ۔ اگر کوئی دُنیا کو ایک ذریعہ جانتے ہوئے اس کی طرف دیکھے تو یہ اُس کی آنکھ کو بینا کر دیتی ہے مگر جو اسے مقصد قرار دیتے ہوئے اس کی جانب دیکھے تو یہ اسے نابینا کر دیتی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ۸۲)۔ قارون اپنی بے پناہ دولت کی بناء پر بہت سے اجتماعی امور خیر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ لیکن اس کے غرور و تکبر نے اسے حقائق دیکھنے کی اجازت نہ دی۔ اُنہوں نے مزید کہا: دُنیا سے اپنے حصے کو نہ بُھول جا۔ (وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہرانسان کا اس دُنیا میں ایک محدود حصہ ہے یعنی وہ مال جو اس کے بدن، لباس اور مکان کے لیے درکار ہوتا ہے اور ان پر صَرف ہوتا ہے اس کی مقدار معین ہے اور ایک خاص مقدار سے زیادہ اس کے لیے قابل جذب ہی نہیں ہوتا۔ انسان کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے۔ ایک انسان کتنی غذا کھا سکتا ہے، کتنا لباس پہن سکتا ہے اور اسے کتنے مکانوں اور سواریوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ مرتے وقت انسان کتنے کفن ساتھ لے سکتا ہے؟ لہذا باقی وہ چاہے نہ چاہے دوسروں کا حصہ ہے۔ اور انسان اس کا امانت دار ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے کیا خُوب بیان فرمایا ہے: یا بن اٰدم ما کسبت فوق قوتک فانت فیہ خازن لغیرک اے فرزند آدم: جو کچھ تو____ اپنی خوراک کی مقدار سے زیادہ حاصل کرتا ہے اس کے بارے میں تو دوسروں کا خزانہ دار ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، ص۱۹۲)۔ اسلامی روایات اور کلمات مفسرین میں اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی ملتی ہے اور ہو سکتا ہے یہ بھی اس کا ایک معنی ہو کیونکہ ایک لفظ ایک سے زیادہ معانی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ ____ معانی الاخبار میں ہے کہ "و لاتنس نصیبک من الدینا" کی تفسیر میں حضرت المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: ولاتنس صحتک وقدرتک و فراغک و شبابک و نشاطک ان تطلب بھا الا خرة تندرستی، قوت، فراغت، جوانی اور خوشی کو فراموش نہ کر اور ان (پانچ عظیم نعمتوں) کے ذریعے اپنی آخرت طلب کر۔ اِس تفسیر کے مطابق قرآن حکیم کا مذکورہ بالا جملہ تمام انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ میّسر صلاحیتوں اور مواقع کو ضائع نہ کر دیں کیونکہ مہلت کے لمحے بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نوراثقلین، ج۴، ص ۱۳۹، بحوالہ معانی الاخبار)۔ تیسری نصیحت یہ ہے: جیسے خدا نے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی نیکی کر۔ (وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ)۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ کے احسان پر نظر لگائے ہوئے ہے اور اس کی بارگاہ سے ہر خیر کا تقاضا کر رہا ہے اور اسی سے ہر قسم کی توقع باندھے ہوئے ہے تو اس سے وہ کیونکر کسی کے صریح تقاضے کو یا زبانِ حال کے تقاضے کو نظر انداز کر سکتا ہے اور اس سے کیسے بےاعتنائی بَرت سکتا ہے۔ دُوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جیسے خدا نے تجھ پر عنایت کی ہے تو بھی دوسروں سے نیکی کر۔ سورہ ٴ نور کی آیت۲۲ میں عفو و درگزر کے بارے میں ایسی ہی بات کہی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ولیعفوا ولیصفحوا اَلَا تحبون ان یغفر اللہ لکم۔ مومنین کو چاہیے کہ عفوو درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات خدا انسان کو عظیم نعمتیں دیتا ہے جب کہ اسے اپنی ذاتی زندگی میں ان سب کی احتیاج نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی کو خدا ایسی عقل دیتا ہے کہ جو نہ صرف ایک فرد نظام چلانے کے لیے کافی ہوتی ہے بلکہ ایک ملک کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ کسی کو وہ ایسا علم دیتا ہے جو نہ صرف ایک انسان ہی کے لیے نہیں بلکہ ایک معاشرے کے لیے کارمند ہو سکتا ہے۔ کسی کو وہ ایسا مال دیتا ہے کہ جو بڑے بڑے اجتماعی پروگراموں کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس قسم کی نعماتِ الہی کا مفہوم یہ ہے کہ یہ سب کی سب تیری ایک ذات سے متعلق نہیں بلکہ انہیں دوسروں کی طرف منتقل کرنے کے لیے تو امانت دار اور وکیل ہے۔ اللہ نے تجھے یہ نعمت اس لیے دی ہے تاکہ تیرے ہاتھ سے اپنے بندوں کا نظام چلائے۔ آخر میں چوتھی نصیحت یہ ہے: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مادہ وسائل تجھے دھوکہ دیں اور تو انہیں گناہ اور دعوت گناہ میں صرف کر دے "زمین میں ہرگز گناہ و فساد نہ کر کیونکہ اللہ مفسدین کو پسند نہیں کرتا" (وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ)۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات دولت مند اور سرمایہ دار ہوسِ زر یا بڑا بننے کے جنون میں خرابی کرتے ہیں اور معاشرے کو محرومیت اور فقر و فاقہ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہر چیز اپنے لیے ہی منحصر کر لیتے ہیں، لوگوں کو اپنا غلام بنا کر معاشرے سے ایک طرف کر دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ معاشرے کو خرابی و تباہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان ناصحین نے پہلے قارون کا غرور ختم کرنے کی کوشش کی۔ پھر اسے خبر دار کیا کہ دنیا وسیلہ ہے مقصد نہیں ہے۔ تیسرے مرحلے میں اسے متنبہ کیا کہ جو کچھ تیرے پاس ہے اُس میں سے تُو اپنے لیے تھوڑا سا خرچ کر سکتا ہے۔ پھر اسے یہ حقیقت یاد دلائی کہ خدا نے تیرے ساتھ نیکی کی ہے تجھے بھی نیکی کرنے چاہیے ورنہ وہ اپنی نعمتیں تجھ سے چھین لے گا اور پانچویں مرحلے میں اسے زمین میں خرابی برپا کرنے سے ڈرایا اور یہ آخری بات پہلی چار باتوں کا حاصل ہے۔ صحیح طور پر معلوم نہیں کہ نصیحت کرنے والے یہ افراد کون تھے۔ البتہ یہ بات مُسلّم ہے کہ وہ اہل علم، پرہیزگار، زیرک بابصیرت اور جرآت مند افراد تھے۔ بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ وہ خود حضرت موسٰی علیہ السلام تھے۔ لیکن یہ بات بہت بعید ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے: اذ قال لہ قومہ قارون کی قوم نے اس سے کہا۔ اَب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس سرکش دستمگر بنی اسرائیل نے ان ہمدرد واعظین کو کیا جواب دیا۔ قارون تو اپنی اس بےحساب دولت کے نشے میں چُور تھا اُس نے اُسی غرور سے کہا: مَیں نے یہ سب دولت اپنے علم و دانش کے بل بوتے پر حاصل کی ہے: (قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِندِي)۔ تمہیں اس سے کیا کہ میں اپنی دولت کیسے خرچ کرتا ہوں۔ جو مَیں نے کمایا اسے خود کمایا ہے تو پھر صَرف کرنے میں بھی مجھے تمہاری راہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں یقیناً خدا مجھے اس دولت کے لائق سمجھتا تھا تبھی اس نے مجھے عطا کی ہے اور اسے صرف کرنے کی راہ بھی اُس نے مجھے بتائی ہے۔ مَیں دوسرں سے بہتر جانتا ہوں۔ تمہیں اس میں دخیل ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان سب باتوں سے قطع نظر زحمت میں نے کی ہے، تکلیف میں نے اٹھائی ہے، خُون جگر پیا ہے تب کہیں یہ دولت جمع کی ہے، دوسروں کے پاس بھی ایسی لیاقت و توانائی ہوتی تو وہ زحمت و کوشش کیوں نہ کرتے۔ مَیں نے کوئی ان کا راستہ تو نہیں روک رکھا اور اگر اُن میں اس کی لیاقت نہیں ہے تو پھر کیاہی اچھا ہے کہ بھوکے رہیں اور مر جائیں۔ (تشریحی نوٹ: "اوتیتہ علی علم عندی" اس جملے میں مذکورہ بالا ایک یا تینوں معانی ہو سکتے ہیں)۔ یہی وہ بوسیدہ اور گھٹیا منطق ہے کہ جو عام طور پر بےایمان سرمایہ دار نصحیت کرنے والوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن نے اس باب کو اجمالاً بیان کیا ہے کہ قارون کس علم کے بل پر دولت جمع کرتا تھا۔ کیا وہ علم کیمیا تھا، جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے یا پھر تجارت، زراعت اور صنعت کا علم تھا یا پھر کیا وہ انتظامی صلاحیت اور علم کا حامل تھا یا سب امور تھے۔ بعید نہیں کہ آیت کا مفہوم وسیع ہو اور یہ ان سب امور کی طرف اشارہ کر رہی ہو۔ (قطع نظر اس کے کہ بات میں کتنی حقیقت ہے کہ علم کیمیا کے ذریعے تانبے کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے)۔ اس موقع پر قرآن قارون اور اس جیسے دیگر افراد ایک تیکھا جواب دیتا ہے: کیا اسے معلوم نہ تھا کہ خدا نے اس سے پہلے کئی ایسی قوموں کو ہلاک کر دیا کہ جو اس سے زیادہ طاقتور تھیں، علم میں بڑھ کر تھیں اور سرمایہ بھی ان کے پاس زیادہ تھا۔ (أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ القُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا)۔ تو کہتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ میرے علم کی بدولت ہے لیکن تو بُھول گیا ہے کہ تجھ سے زیادہ علم والے اور زیادہ طاقتور افراد بھی تھے۔ کیا وہ عذاب الہٰی سے بچ سکے ہیں؟ بنی اسرائیل کے اہل دانش نے قارون سے کہا تھا: ما اُتاک االلہ ... اللہ نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے: لیکن اُس بےاَدب گُستاخ نے کہا: میرے پاس جو کچھ ہے وہ میرے علم کی بدولت ہے۔ اللہ تعالی اپنے ارادے اور مشیت کا ذکر کر کے اس کی حیثیت و طاقت کے چھوٹے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ آیت کے آخر میں ایک مختصر اور معنی خیز جملے کے ذریعے ایک اور تنبیہ کرتا ہے: "عذاب الہٰی کے نزول کے وقت مجرموں سے ان کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں ہو گا"۔ اس وقت سوال و جواب کی گنجائش ہرگز نہ ہو گی، اس وقت تو قاطع، درد ناک، تکلیف دہ اور ناگہانی عذاب ہو گا۔ (وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ)۔ یعنی ___ آج تو بنی اسرائیل کے آگاہ افراد اور اہل دانش قارون کو نصیحت کر رہے ہیں، اسے غور و فکر کی دعوت دے رہے ہیں اور اس کے پاس جواب دینے کی گنجائش ہے لیکن جب اتمام حُجت ہو چکا اور عذاب الہٰی آ گیا تو پھر غور و فکر کرنے، اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے اور غرور و تکبر کے اظہار کی گنجائش نہ ہو گی۔ پھر عذاب الہٰی آ کر رہے گا اور پھر تباہی ناگزیر ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہاں جو کہا گیا ہے کہ مجرمین سے سوال نہ ہو گا، اس سے کونسا سوال مراد ہے؟ دنیا کا یا آخرت کا؟ بعض مفسرین نے پہلا سوال مراد لیا ہے اور بعض نے دوسرا لیکن کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں جگہ پر سوال مراد ہو یعنی سزائے استحصال کے موقع پر دنیا میں اُن سے سوال نہ ہو گا تاکہ وہ رُوگردانی اور عُذر تراشی کریں اور وہ اپنے آپ کو بےگناہ ظاہر کریں اور قیامت میں بھی اُن سے سوال نہ ہو گا کیونکہ وہاں سوال کے بغیر ہی سب کچھ واضح ہو گا اور قرآن کے بقول مجرموں کی حالت پر خود اُن کے چہرے گواہ ہوں گے: يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ یعنی__ مجرم تو اپنی کیفت ہی سے پہچانے جائیں گے۔ (رحمن، آیت . ۴۱) اس طرح زیر بحث آیت سورہ رحمن کی آیت ۳۹ سے ہم آہنگ ہے جس میں فرمایا گیا ہے: فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ اس دن کسی بھی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔ اس مقام پر ایک اور سوال سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ سورہ حجر کی آیت ۹۲ میں تو ہے: فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ تیرے ربّ کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ یہ آیت زیرِ بحث آیت سے ہم آہنگ ہے؟ اس سوال کا جواب دو طریقوں سے دیا جا سکتا ہے: پہلا یہ کہ قیامت کے مختلف مرحلے ہوں گے بعض مراحل پر سوال ہو گا اور بعض پر سب چیزیں واضح ہو چکنے کی وجہ سے سوال کی ضرورت نہ رہے گی۔ دُوسرا یہ کہ سوال دو قسم کا ہے: ۱۔ سوال تحقیق اور ۲۔ سوال سرزنش قیامت کے روز تحقیق کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ ہر چیز آشکار ہو گی اور بیان کی احتیاج نہ ہو گی لیکن سرزنش آمیز سوال وہاں ہو گا اور یہ خود مجرموں کے لیے ایک طرح کی نفسیاتی سزا ہو گی۔ یہ باکل ایسے ہے جیسے ایک باپ اپنے ناخلف بیٹے سے پوچھتا ہے کہ کیا میں نے تیری اتنی خدمت نہ کی تھی۔ کیا ان خدمات کا صلہ یہ خیانت اور سرکشی تھا (جب کہ حقیقت سے باپ اور بیٹا دونوں آگاہ ہوتے ہیں اور باپ کا مقصد بیٹے کو سرزنش کرنا ہوتا ہے)۔

79
28:79
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ فِي زِينَتِهِۦۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا يَٰلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ قَٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٖ
(ایک روز) قارون بڑی سج دھج اور ٹھاٹھ کے ساتھ اپنی قوم کے ساتھ نکلاتو وہ لوگ جو دنیوی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے :جیسا مال و متاع قارون کو ملا ہے کاش ہمارے پاس بھی ہوتا !یقیناً اس کے پاس تو (دولت کا) بہت بڑا حصہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
28:80
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَيۡلَكُمۡ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّمَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗاۚ وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّـٰبِرُونَ
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس ہے۔ ثواب الٰہی بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے اور عمل صالح انجام دیتے رہتے ہیں لیکن اسے صابروں کے سوا کوئی نہیں پا سکتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
28:81
فَخَسَفۡنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلۡأَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٖ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُنتَصِرِينَ
آخر کار ہم نے اسے (قارون کو)اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیااور عذاب الٰہی کے مقابلے میں کوئی جماعت اس کی مدد نہ کر سکی،نہ وہ خود اپنی ہی مدد کر سکا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
28:82
وَأَصۡبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوۡاْ مَكَانَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَقُولُونَ وَيۡكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُۖ لَوۡلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَاۖ وَيۡكَأَنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و منزلت کی تمنا کرتے تھے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو) کہنے لگے :وائے ہو ہم پر! اللہ ہی ہے کہ جو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے رزق کو فراخ کر دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے !گر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا افسوس کافروں پر کہ وہ ہرگز نجات نہیں پا سکتے۔

تفسیر نمائش ثروت کاجنون

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مغرور دولت مند لوگ طرح کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اُن میں سے ایک نمائش ثروت جنون ہے۔ اُنھیں اس عمل سے خوشی حاصل ہوتی ہے کہ اپنی دولت کا لوگوں پر اظہار کریں۔ مثلا یہ کہ وہ اپنی گراں قیمت سواری پر سوار ہو کے نکلیں اور برہینہ پا لوگوں کے درمیان گزریں۔ اُن کے منہ پر گرد و غُبار ڈالتے جائیں اور اُن کی تحقیر کرتے جائیں۔ اُنھیں اس عمل سے تسکین ہوتی ہے۔ لیکن دولت کی یہی نمائش اُن کے بلائے جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں میں اُن کے خلاف کینہ پرورش پانے لگتا ہے اور جذبات نفرت پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے۔ کہ یہی شرمناک اور مکروہ عمل اُن کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے یا اُن کی دولت کو برباد کر دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس جنون آمیز عمل کا نتیجہ کسی قسم کی تحریک ہو۔ مثلاً لالچی افراد میں مزید دولت حاصل کرنے کی ہوس میں اضافہ ہو۔ اور سرکش لوگوں میں فرمانبرداری کے جذبات پیدا ہوں۔ مگر اہل ثروت، نمائشِ دولت کے عمل کو اِس تصور کے بغیر انجام دیتے ہیں۔ درحقیقت، اُن کا عمل بھی ایک قسم کی ہوس ہوتا ہے۔ اِس میں کسی سُوجھ بُوجھ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بہرحال، قارون بھی اس قانوں سے مستثنی نہ تھا۔ بلکہ جنون نمائش ثروت کا ایک واضح نمونہ تھا۔ قرآن میں زیر بحث آیات میں ایک جُملے کے اندر قارون کی اِس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔ قارون پُوری زیب و زینت سے اپنی قوم کے سامنے نکلا: (فخرج علٰی قومہٖ فی زینتہ)۔ کلمہ "فی زینتہ" اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اُس نے اپنی پُوری قوت اور توانائی اِس کام پر صرف کر دی تھی کہ وہ اپنی تمام دولت و آرائش کی لوگوں کے سامنے نمائش کرے اور یہ بات محتاجِ ذکر نہیں کہ اتنی دولت کا مالک شخص جب نمودِ حشمت کا ارادہ کرے تو وہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔ کُتب تواریخ میں اِس واقعے کے متعلق بہت سے افسانے اور داستانیں ذکر ہوئی ہیں۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ قارون چار ہزار خادموں کی قطار کے ساتھ بنی اسرائیل کے درمیان سے گزرا۔ جبکہ یہ چار ہزار خادم گراں قیمت گھوڑوں پر سُرخ پوشاکیں پہنے ہوئے سوار تھے۔ اُس کے ساتھ خوش گل کنیزیں بھی تھیں جو سفید خچروں پر سوار تھیں جن پر سُنہری زین رکھے ہوئے تھے۔ اُن کی پوشاکیں سرخ اور سب طلا کار تھیں۔ بعض لوگوں نے اُس کے خادموں کی تعدار ستر ہزار لکھی ہے اور اسی طرح کی اور باتیں بھی لکھی ہیں۔ لیکن اگر ہم ان تمام بیانات کو مبالغہ آمیز بھی سمجھ لیں پھر بھی ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ نمائش دولت کے لیے اس کے پاس بہت ساز و سامان تھا۔ جیسا کہ دُنیا کا معمول ہے قارون کی جاہ و حشمت کو دیکھ کر لوگوں کے دو گروہ ہو گئے۔ دُنیا پر سب اکثریت نے جب اس خیرہ کن منظر کو دیکھا تو اُن کے دل تمنا ئیں مچلنے لگیں۔ اُنھوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگے کہ کاش وہ بھی قارون جیسی دولت کے مالک ہوتے۔ خواہ ایک دن، ایک ساعت یا ایک لمحے ہی کے لیے یہ شکوہ نصیب ہوتا۔ آہ! اُس کی کیسی شیریں، جذاب، نشاط انگیز اور لذت بخش زندگی ہے! چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ دُنیاوی زندگی کے طلب گار تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ کاش ہمارے پاس بھی اتنی دولت ہوتی جتنی قارون کے پاس: (قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ)۔ حقیقت میں اس کے پاس تو دولت کا فراواں حصہ ہے (إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ)۔ آفرین ہے قارون پر اور اُس کی بےپناہ دولت پر، واہ اُس کا کیا جاہ و جلال ہے، اور کتنے خادم اور نوکر چاکر ہیں، تاریخ میں اُس جیسا کوئی شخص نہیں ہے۔ یہ عظمت اُسے خدا نے عنایت کی ہے۔ غرض لوگ اِسی طرح کی باتیں کرتے تھے۔ درحقیقت، اِس واقعے میں امتحان کی ایک بہت بڑی بھٹّی جل رہی تھی۔ اُس بھٹّی کے بیچ قارون تھا۔ تاکہ وہ اپنی سرکشی اور غرور کا امتحان دے۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کے دنیا پرست لوگ اس بھٹّی کے گردا گرد مقیم تھے۔ لیکن قارون کے لیے ایک درد ناک عذاب تھا۔ ایسا عذاب جو ایسی نمائش کے بعد ہوتا ہے۔ یہ عذاب اوجِ عظمت سے قعرِ زمین میں لے جاتا ہے۔ لیکن اِس دنیا طلب بڑے گروہ کے مقابلے میں ایک اقلیت اہل علم صاحبان فکر، پرہیزگار اور باایمان لوگوں کی بھی وہاں موجود تھی جن کا اُفقِ فکر اِن مسائل سے برتر اور بالاتر تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک احترام شخصیت کا پیمانہ زر اور زور نہ تھا۔ ان کے نزدیک انسان کی قدر کا معیار اس کے مادی و سائل نہ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ دولت و ثروت کی عارضی اور مضحکہ انگیز نمود و نمائش پر تمسخر آمیز طور پر مسکرا دیتے تھے، اور اسے ایک بے مغز اور غیر حقیقی شے سمجھتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں مذکور ہے کہ:۔ وہ لوگ جنہیں علم و معرفت عطا ہوئی تھی، اُنھوں نے کہا تم پر افسوس ہے! یہ تم کیا کہہ دہے ہو؟ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں، خدا کی طرف سے ثواب اور جزا بہتر ہے: (وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا)۔ اِن الفاظ پر اُنھوں نے یہ اضافہ کیا کہ یہ ثواب الہٰی صرف اُن لوگوں کا نصیب ہے جو صابرین ہیں: (وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ)۔ اِس ثواب الہٰی کے مستحق وہ لوگ ہیں جو دُنیا کی زینتوں اور اُس کے ہیجان انگیز فرّو شکوہ کے مقابلے میں مستقیم المزاج رہتے ہیں۔ جو نعماتِ دُنیا کی محرو میت کو مردانہ وار استقلال سے برداشت کرتے ہیں۔ جو ناکس لوگوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتے اور جو دُنیا میں مال و دولت اور خوف و مصیبت کی آزمائش کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے ہیں۔ مسلماً۔۔۔ اس مقام پر "الذین اوتو االعلم" مراد بنی اسرائیل کے اہل علم مومنین ہیں۔ اُن میں یوشع جیسے بزرگ افراد بھی تھے۔ اس مقام پر قابل غور امر یہ ہے کہ "الذین یریدون الحیوة الدنیا" (یہ جُملہ گروہ اول کے متعلق آیا ہے) کے مقابلے میں "الذین یریدون الحیوة الا خرة" نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ صفت علم کی تخصیص کی گئی ہے۔ کیونکہ علم ہی وہ اصل ہے جس سے ایمان و استقامت، حصول ثواب الہٰی اور دار آخرت میں اجر کا جزبہ پیدا ہوتا ہے۔ "الذین اوتو العلم" میں ایک ایسا ابہام بھی ہے کہ یہ قارون کے اس فخر کا جواب ناطق ہے کہ وہ اپنے آپ کو عالم سمجھتے تھا۔ قرآن کا جواب یہ ہے کہ: حقیقی عالم یہ لوگ ہیں کہ جن کا افق فکر اس حد تک بلند ہے نہ کہ تو خیرہ سر اور مغرور۔ اِس جواب میں ہمارے لیے یہ درس بھی ہے کہ علم و دانش ہی جملہ خیرات و برکات کی بنیاد ہے۔ قارون نے سرکشی اور خدا کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا تھا۔ مگر تواریخ اور روایات میں اس کے متعلق کچھ اور ہی واقعہ بیان ہوا ہے جو قارون کی انتہائی بےشرمی کی علامت ہے۔ اور وہ ماجرا یہ ہے کہ:۔ ایک روز حضرت موسٰی علیہ السلام نے قارون سے کہا کہ خدا نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تیرے مال میں سے زکوٰة لوں جو محتاجوں کا حق ہے۔ جب قارون زکوٰة کی آدائیگی کے اصول سے مطلع ہوا اور اُس نے حساب لگایا کہ اُسے کتنی کثیر رقم دینا پڑے گی تو اُس نے انکار کر دیا اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے حضرت موسٰی علیہ السلام کی مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔ وہ بنی اسرائیل کے دولت مندوں کی ایک جماعت کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: "اے لوگو! موسٰی چاہتا ہے کہ وہ تمہای دولت خود ہضم کر لے۔ اُس نے تمہیں نماز کا حکم دیا تم نے قبول کیا۔ اُس کے دوسرے احکامات بھی تم نے مان لیے۔ کیا تم یہ بات بھی برداشت کر لو گے کہ اپنی دولت اُسے دے دو!؟ اُن سب نے کہا کہ نہیں۔ مگر اُس سے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ اُس وقت قارون کے ذہن میں ایک شیطانی کا خیال آیا۔ اُس نے کہا کہ میں نے ایک بہت اچھی تدبیر سوچی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اُس کے خلاف ایک منافیِ عصمت سازش کرنی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک فاحشہ عورت کو تلاش کر کے موسٰی کے پاس بھیج دیں، تاکہ وہ اس پر شرمناک تہمت لگا دے۔ بنی اسرائیل نے اس تجویز کو پسند کیا۔ اُنھوں نے ایک بدکار عورت کو تلاش کیا اور اُس کہا کہ: "تو جو کچھ مانگے گی تجھے دیں گے بشر طیکہ تو یہ گواہی دے کہ موسٰی کا تجھ سے نامشروع تعلق تھا۔ اُس عورت نے بھی اِس تجویز کو منظور کر لیا۔ ایک طرف تو یہ سازش ہوئی۔ دوسری طرف قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ:۔ "بہتر ہے کہ آپ بنی اسرائیل کو جمع کریں اور اُنھیں الہٰی احکامات سنائیں" حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ پیش کش منظور کر لی اور بنی اسرائیل کو جمع کیا۔ جب لوگ جمع ہو گئے تو اُنھوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا کہ: "آپ ہمیں خدا کے احکام سنائیں" حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ "بجز اُس کے کسی کی پرستش نہ کرو" صلہ رحم بجا لاؤ، ایسا کرو اور ویسا کرو۔ زنا کار آدمی کے لیے خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر وہ زنائے محضہ کرتا ہے تو اُسے سنگسار کیا جائے۔ جب حضرت موسیٰؑ نے یہ الفاظ کہے تو بنی اسرائیل کے دولت مند سازشی لوگوں نے کہا: "خواہ وہ مجرم تو خُود ہی ہو۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا "ہاں ٹھیک ہے خواہ میں خود ہی ہوں۔" اُس مقام پر اُن بے شرموں نے، بےادبی اور گستاخی کی حد کر دی اور کہا کہ: "ہم جانتے ہیں کہ تو خُود اس فعل کا مرتکب ہوا ہے۔ اور فلا ں بدکار عورت سے تیرا تعلق رہا ہے"۔ پھر اُنھوں نے اُس عورت کو بلایا اور اُس سے کہا کہ تو شہادت دے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اُس عورت کی طرف رُخ کیا اور کہا کہ "میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تو اصل حال بیان کر"۔ "جب اُس بد کار عورت نے یہ بات سُنی تو کانپ گئی، اُس کی حالت بدل گئی اور اُس نے کہا: "جب آپ مجھ سے سچ پوچھتے ہیں تو میں حقیقت حال بیان کرتی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اِن لوگوں نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ میں آپ کو متہم کرو، اِس کے بدلے میں اِنھوں نے مجھے ایک کثیر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ باعفت ہیں اور اللہ کے رسول ہیں"۔ ایک دُوسری روایت میں مذکورہ ہے کہ اُس عورت نے یہ بھی کہا کہ:۔ لعنت ہو مجھ پر، میں نے اپنی زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں مگر کسی پیغمبر پر تہمت نہ لگائی تھی۔ اس کے بعد اُس نے دولت کے دو تھیلے جو اُن سازشیوں نے اُسے دیے تھے نکال کر سامنے رکھ دیے اور مذکورہ باتیں کیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور رونے لگے۔ اِس موقع پر بدسیرت، سازشی قارون پر عذاب نازل ہوا۔ اِسی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ خدا نے قارون کے غرق زمین کرنے کا حضرت موسٰی علیہ السلام کو اختیار دیا تھا۔ (تشریحی نوٹ: بمطابق نقل تفسیر المیزان، جلد ۱۶۔ صفحہ ۸۴ بحوالہ درالمنثور اِسی طرح تفسیر رُوح المعانی۔ نیز دیگر مفسرین نے بھی کچھ فرق کے ساتھ اسی آیت کے ذیل میں یہ روایت نقل کی ہے)۔ اِس مقام پر قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ: ہم نے اُسے اور اُس کے گھر کو زمین میں غرق کر دیا: (فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ)۔ یہ درست ہے کہ جب منکرین کا طغیان اور سرکشی اور ان کی جانب سے تہی دست مومنین کی تحقیر و تذالیل، اور پیمبر الہٰی کے خلاف سازش اپنی انتہائی کو پہنچ جاتی ہے تو اس وقت دست قدرت الہٰی دارز ہوتا ہے اور ان متکبر گستاخوں کی زندگیوں کو ختم کر دیتا ہے اور اُنھیں ایسی سزا دیتا ہے کہ اُن کی افتاد سب لوگوں کے لیے سبب عبرت بن جاتی ہے۔ کلمہ "خسف" اِس مقام پر زمین میں گڑ جانے اور زمین میں پوشیدہ ہو جانے کے معنٰی میں استعمال ہوا ہے۔ انسان کی پوری تاریخ میں ایسے واقعات بارہا پیش آئے ہیں کہ سخت زلزلہ آیا اور زمین شگافتہ ہو گئی اور اُس نے شہر یا آبادیوں کو نگل لیا۔ مگر اِس مقام پر جس حادثہ خسف کا ذکر ہے، یہ مختلف نوعیت کا ہے۔ اس میں فقط قارون اور اُس کے خزانے ہی لقمہٴ زمین ہوئے۔ کیا عجب واقعات ہیں کہ فرعون تو دریائے نیل کو موجوں میں غرق ہو جاتا ہے اور قارون شکم زمین میں سما جاتا ہے۔ اس مقام پر دیدنی یہ امر ہے کہ پانی جو مایہٴ حیات ہے، وہ فرعون اور اس کے ہمکاروں کو نابود کرنے پر مامور ہوتا ہے۔ اور زمین جو انسان کے لیے جائے راحت وہ قارون اور اُس کے ساتھیوں کے لیے گورستان بن جاتی ہے۔ یہ مُسلّم ہے کہ قارون اپنے گھر میں تنہا نہ تھا۔ وہ اور اُس کے اہل خاندان، اُس کے ہم خیال، اور اُس کے ظالم اور ستمگر دوست سب کے سب شکم زمین میں سما گئے۔ لیکن اُس وقت اُس کی مدد کے لیے کوئی جماعت نہ تھی جو اُسے عذاب الہٰی سے بچا سکتی اور وہ خود بھی اپنی کوئی مدد نہ کر سکتا تھا: (فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِينَ)۔ نہ تو اُس کے دستر خوان کے مُفت خور، نہ اُس کے ولی دوست، نہ اس کا مال و دولت، اِن میں سے کوئی شے بھی اسے عذاب الہٰی سے نہ بچا سکی اور وہ سب کے سب قعر زمین میں سما گئے۔ آیاتِ زیر نظر میں سے آخری آیت میں چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ گذشتہ روز قارون کے جاہ و جلال اور کردفر کو دیکھ کر وجد اور رشک کر رہے تھے اور آرزو گر رہے تھے کہ کاس ہمیشہ کے لئے یہ تھوڑی دیر کے لئے ہی یہ شان ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ یہ آیت عجیب سبق آموز ہے چنانچہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ کہ گذشتہ روز یہ آرزو کر رہے تھے کہ "کاش ہم اُس کی (قارون کی) جگہ ہوتے جب اُنھوں نے اسے (قارون) اور اُس کی دولت کو زمین میں دھسنتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہمارے خیالات پر افسوس ہے (حق یہ ہے کہ) خدا اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ کلید رزق صرف اُسی کے ہاتھ میں ہے: "(وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ)۔ (اُنھوں نے کہا) آج یہ بات ہم پر ثابت ہو گئی کہ جس آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی دین ہے۔ اُس کی عطا کا انحصار اِس امر پر نہیں کہ وہ کسی سے راضی اور خوش ہے۔ اور نہ کسی کی محرومی اِس وجہ سے ہے کہ وہ شخص اللہ کی جناب میں بے قدر ہے۔ اللہ افراد اور اقوام کو دولت دے کر ان کا امتحان لیتا ہے اور اُن کی سیرت اور فطرت کو آشکار کرتا ہے۔ اِس کے بعد وہ (رشک کرنے والے) سوچنے لگے کہ اگر گذشتہ روز خدا اُن کی دُعا قبول کر لیتا اور اُنھیں بھی قارون جیسا ہی بنا دیتا تو اُن کا کیسا عبرت ناک انجام ہوتا۔ لہذا اُنھوں نے خدا کی اِس نعمت کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں غرق کر دیتا: (لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا)۔ اور___ گویا کہ کافر ہرگز نجات نہیں پائیں گے: (وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ)۔ اب ہم حقیقت کی نظر سے غرور و غفلت اور کفر و ہوس دنیا کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ یہ نمائشی زندگیاں جن کا منظر نہایت دل فریب ہوتا ہے ان کی حقیقت کتنی خوفناک ہے۔ اِس ماجرے کے انجام سے یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ آخر کار مغرور کافر اور بےایمان قارون دُنیا سے رخصت ہوا۔ ہر چند کہ اس کا شمار بنی اسرائیل کے دانشمندوں اور تورات کے تلاوت کرنے والوں میں ہوتا تھا۔ نیز وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا رشتہ دار بھی تھا۔

چند اہم نکات ۱۔ ماضی اور حال کے قارون:

داستان قارون، (جسے ایک مغرور دولت مند کا مثالی نمونہ کہنا چاہیے) جسے قرآن کی سات آیات میں بہت ہی جاذبِ توجہ طور پر بیان کیا گیا ہے، وہ انسان زندگی کے بہت سے حقائق سے پردہ اُٹھاتی ہے۔ یہ داستان اِس حقیقت کو روشنی میں لاتی ہے کہ دولت کا غرور اور نشہ بعض اوقات انسان کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً اپنی دولت کی نمائش کا جنون، دوسروں کے سامنے اپنی برتری کا اظہار، یا تہی دست لوگوں کی تحقیر کر کے محظوظ ہونے کا جنون وغیرہ۔ یہی غرور ثروت اور سیم و زر کی بےکراں حرص کبھی انسان کو بدترین اور مکروہ ترین گناہوں پرآمادہ کر دیتی ہے۔ مثلاً وہ پیمبر خدا کے مقابلہ پر اتر آئے اور حقیقت و حقانیت کے خلاف جنگ کرنے لگے۔ حتّٰی کہ پاک ترین افراد پر نہایت بےشرمانہ تہمتیں لگانے لگے اور اپنی دولت خرچ کر کے اِس مقصد کے لیے بدکار عورتوں کی امداد حاصل کرنے لگے۔ دولت کا غرور اور نشہ انسان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ ناصحین کی نصیحت پر کان دھرے اور خیر خواہوں کے مشورے پر عمل کرے۔ (جو اُنھوں نے بندگانِ خدا کے حقوق و غضب کر کے حاصل کی ہے) ان کی عقل و دانائی کی دلیل ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو دانا اور سب کو نادان سمجھتے ہیں۔ یہ بےخبر ثروت مند مغرور اپنے آپ کو سب سے زیادہ عالم اور دانا اور سب کو نادان سمجھتے ہیں۔ اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کی دولت یہاں تک کہ اُن کی جرات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خدا کے مقابلہ میں بھی اپنی ہستی سمجھتے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو اُس کی ذات سے مستغنی سمجھ کر کہنے لگتے ہیں کہ:۔ "ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ہماری جدّت، تیزی طبع، تخلیقی استعداد اور علم و دانش کا نتیجہ ہے۔" ہم نے دیکھ لیا کہ اس قسم کے تباہ کار متکبرین کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اگر قارون مع اپنے عیال و دولت کے قعرِزمین میں پیوست ہو کر ناُبود ہو گیا تو دوسرے لوگ، دوسرے طریقوں سے نابُود ہو جائیں گے اور زمین ان کی دولت کو کسی اور شکل سے نگل لے گی۔ بعض لوگ اپنی کثیر دولت سے محلات بناتے اور باغ لگاتے ہیں اور ایسی جائیدادیں خریدتے ہیں کہ اُن سے فائدہ اُٹھانا اُن کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنی دولت سے بنجر اور ویران زمینیں اِس خیال سے خرید لیتے ہیں کہ اُن کے پلاٹ بنا کر فروخت کریں گے۔ اور اس طرح سے بہت سی دولت کما لیں گے۔ اِس طرح زمین ان کی دولت کو نگل لیتی ہے۔ اس قسم کے سبک سردولت مندوں کے سامنے جب اپنی کثیر دولت کو خرچ کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا تو پھر اُنھیں ایسے شوق ہو جاتے ہیں جن کی اقدار محض وہمی ہوتی ہے مثلاً وہ آثار قدیمہ سے برآمد شدہ ٹوٹے ہوئے پیالے اور کوزے، بیرنگ تختیاں، سالہا سال پرانی ٹکٹوں یا نوٹوں کو گراں بہا قدیم یادگاریں سمجھ کر خرید لیتے ہیں اور اُنھیں احتیاط سے اپنے محلّات میں سجاتے ہیں۔ اگر ان چیزوں کی حقیقت پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ کوڑی پر پھینکنے کے لائق ہیں۔ اِن اہلِ ثروت نے یہ بازیب و زینت روش حیات اِس حالت میں اختیار کی ہے کہ اُن کے شہر و دیار یہاں کہ اُن کے ہمسائے اور زیر دیوار نادار اور مفلوک الحال لوگ رہتے ہیں۔ جو رات کو بھُوکے سوتے ہیں۔ مگر ان دولت مندوں کا ضمیر ایسا مردہ ہو گیا ہے کہ انہیں اِن غربا کی تکلیف کا قطعی احساس نہیں ہوتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اِن دولت مندوں کے پالتو حیوانات نہایت آرام دہ زندگی گزارتے ہیں۔ اُن کے لیے تربیت دینے والے اُستاد مقرر کیے جاتے ہیں۔ بوقت بیماری اُن کے لیے طبیب کو بُلایا جاتا ہے، جبکہ اُن اہل دولت کے قرب و جوار میں مظلوم انسان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ بستر بیماری میں نالہ و فریاد کر رہے ہوتے ہیں، مگر اُنھیں طبّی امداد میّسر ہوتی ہے نہ دوا کا ایک قطرہ۔ سطور بالا میں جو حالات ہم نے کسی معاشرے کے مخصوص افراد کے لکھے ہیں وہ کبھی ایک قوم یا ملک پر بھی صادق آتے ہیں یعنی دُنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں کوئی ایک ملک قارون ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ممالک میں امریکہ قارون ہو گیا ہے۔ اہلِ امریکہ تیسری دُنیا کے غریب، تہی دست اور پسماندہ عوام کا استحصال کر کے نہایت باشکوہ و جلال زندگی گزارتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی جو فالتو غذا کوڑیوں پر پھینک دیتے ہیں۔ اگر اُسے جمع کر کے صحیح مصرف میں لایا جائے تو دنیا کے لاکھوں بُھوکے انسانوں کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ جب ہم لفظ "غریب ملک" استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ ملک من جانب اللہ مفلس و بےنوا ہیں، بلکہ اُن ملکوں کو مغرب کی طاقتور قوموں نے غارت کر کے فقیر بنا دیا ہے۔ اِن میں بعض ملکوں میں زیر زمین گراں بہا معدنیات اور ذخائر ہیں۔ لیکن مغرب کے غارتگر اُنھیں لوٹ کے جاتے ہیں اور اُن ملکوں کے باشندوں کو کنگال کر دیتے ہیں۔ مغرب کی یہ قارون قومیں درحقیقت، خون آشام جونکیں ہیں جنہوں نے تیسری دنیا کے مستضعفین کی ویران شدہ جھونپڑیوں کے کھنڈرات پر اپنے محلّات تعمیر کیے ہیں۔ اِس لیے ___ جب تک دُنیا کی مستضعف اقوامِ متحد و متفق ہو کر اِن قارونوں کو قعرِزمین میں نہ بھیج دیں گی۔ دُنیا کے حالات ایسے ہی رہیں گے۔ فی الحال تو کیفیت یہ ہے کہ غارتگر اہلِ مغرب شراب پی کر عالم مستی میں قہقہے لگاتے ہیں اور مفلوک الحال اقوام سر جھکائے روتی ہیں۔

۲۔ قارون یہ دولت کہاں سے لایا تھا؟

یہ امر توجہ طلب ہے۔ سُورہ مومن کی آیات ۲۳ اور ۲۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی رسالت کا آغاز ہی تین شخصوں کے ساتھ تنازعے سے شروع ہوا تھا۔ وہ تھے فرعون اُس کا وزیر ہامان اور مغرور ثروت مند قارون۔ جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ oإِلَى فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ہم نے موسٰی کو اپنی آیات، دلائل اور روشن معجزات دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا۔ مگر اُن سب نے کہا کہ یہ تو بڑا جھوٹا جادوگر ہے۔ اِس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قارون بھی فرعون کے رفقاء میں سے تھا اور اُن کا ہم عقیدہ تھا۔ ہم تاریخ میں یہ بھی پڑھتے ہیں کہ وہ ایک طرف تو بنی اسرائیل میں فرعون کا نمائندہ (بحوالہ: تفسیر فخرالدین رازی، جلد ۲۵، ص ۱۳، واتفسیر مجمع البیان، جلد ۷، ص ۲۶۶زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ تھا اور اُس کا دوسرا مقام یہ تھا کہ فرعون کا خزانہ دار تھا(بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۸، ص۵۲۰، سورہ ٴ مومن کی آیت ص۲۴ کے ذیل میں)۔ قارون کی اِن حیثیات کے پیشِ نظر اُس کا کردار قطعی روشن ہو جاتا ہے۔ کہ فرعون نے اِس منصوبے کے تحت کہ وہ بنی اسرائیل کو مصر میں اسیر رکھے اور اُن کے سرمائے اور دولت کو لوٹتا رہے، اُن ہی میں سے ایک منافق، حیلہ باز اور بےرحم انسان کو منتخب کر لیا تھا اور اسے بنی اسرائیل پر مسلط کر کے مختار کل بنا دیا تھا، تاکہ وہ اپنی بستی پر مبنی برظلم عہدے سے فائدہ اُٹھا کر اُن کا خوب اِستحصال کرے اور اُنھیں تباہ کر دے۔ اور اپنے شیوہ ٴ جور سے خوب دولت بھی کما لے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ فرعون اور اُس کے ساتھیوں کے نابود ہو جانے کے بعد ان کی دولت اور خزانوں کی بہت بڑی مقدار قارون کے پاس رہ گئی تھی۔ اُس وقت تک حضرت موسٰی علیہ السلام میں اتنی قوت پیدا نہ ہوئی تھی کہ قارون سے اس فرعونی دولت کو جو اُس کے پاس تھی، مستضعفین کی امداد کے لیے لے لیں۔ بہرکیف، قارون نے خواہ اُس دولت کو فرعون کی حیات میں پیدا کیا تھا، یا فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد اُس کے خزانوں کو لوٹ کر۔ یا بقول بعض بذریعہ علم کیمیا یا بذریعہ تجارت یا زیر اقتدار پسے ہوئے لوگوں کا استحصال کر کے، جو کچھ بھی ہو۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلام کو فرعون اور اُس کے ساتھیوں پر فتح حاصل ہو گئی تو قارون نے معاً اپنی پالیسی بدل لی اور بہت بڑھ چڑھ کر (جیسا کہ گروہ منافقین کا طریقہ ہوتا ہے) اپنے آپ کو توریت کی تلاوت کرنے والا اور اُس کا عالم ظاہر کیا۔ حالانکہ اِس قسم کے لوگوں کے قلب میں نُورِ ایمان کی ایک کرن بھی داخل نہیں ہوتی۔ آخر کار جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے طے کر لیا کہ وہ اُس سے زکوٰة لیں گے تو اُس کے چہرے سے نقاب اُلٹ گئی اور اس کے پُر فریب رُوبند کے نیچے سے اُس کا بُرا اور منحوس چہرہ ظاہر ہو گیا ___ اور پھر ہم نے دیکھا کہ اُس منافق انسان کا کیا انجام ہوا۔

۳۔ دولت کے بارے میں اسلام کا مؤقف:

ہم نے جو کچھ سطور بالا میں بیان کیا ہے اُس سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ مال و دولت کے معاملے میں اسلام کا رویہ یہ منفی ہے اور ثروت مندی کا مخالف ہے۔ یہ بھی تصور نہیں کرنا چاہیے کہ اسلام غریب و افلاس کو پسند کرتا ہے اور لوگوں کو مسکنت اور بےنوائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس حالت کو رُوحانی کمالات کے حصول کا وسیلہ سمجھتا ہے۔ بلکہ ___ اس کے بالعکس اِسلام مال و دولت کو ایک موٴثر اور کار ساز وسیلہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ سورہ ٴ بقرہ کی آیت۱۸۰ میں "مال" کو خیر کہا گیا ہے۔ نیز ___ امام باقر علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے۔ نعم العون الدنیا علی طلب الاخرة آخرت تک پہنچنے کے لیے دنیا اچھا وسیلہ ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد۱۲، ص ۱۷ (ابواب مقدمات تجارت سے باب۱۶، حدیث ۵ ))۔ بلکہ ___ زیر بحث آیات جن میں مغرور اور صاحب ثروت قارون کی شدید ترین مذمت کی گئی ہے، اُن سے بھی یہ حقیقت مترشح ہے کہ اِسلام اُس دولت کو پسند کرتا ہے جس کے وسیلے سے "دار آخرت" کی جستجو اور اگلے جہان کی نعمات کو طلب کیا جائے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے اہلِ دانش نے قارون سے کہا: "وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ " اِسلام اُس دولت کو پسند کرتا ہے جس میں "احسن کما احسن اللہ الیک" کے تقاضے کے مطابق تمام بنی نوع انسان کے ساتھ بھلائی اور احسان ہو۔ اسلام اس دولت کا مداح ہے جس کا مالک "لَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا" کی تعلیم پرعامل ہو (یعنی دولت مند ہونے کے باوجود یہ خیال رکھتا ہو کہ دولت دنیا میں میرا محدود حصہ ہے)۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ اسلام اُس دولت کا خواہاں ہے جو "زمین پر باعث فساد، انسانی اقدار کو فراموش کر دینے والی، ارتکاز و تکاثر کی جنون آمیز سابقت میں گرفتار کر دینے والی، انسان میں جذبہ برتریٴ ذاب پیدا کرنے والی، دوسروں کو بہ نظر تحقیر دیکھنے والی اور یہاں تک کہ پیغمبروں کے مدِّمقابل آنے والی نہ ہو۔ اِن اخلاق رزیلہ کی بجائے وہ دولت ایسی ہو جس سے جملہ بنی نوع کو فائدہ پہنچے، بین الناس اقتصادی نشیب و فراز کے خلا کو پر کر دے۔ بےچارے غم رسیدہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھے اور مستضعفین کے احتیاجات اور مشکلات کا حل بن جائے۔ اگر کوئی شخص ایسی دولت کا مالک ہے جس کے مصرف ایسے مقدّس مقاصد ہیں تو اس شخص کو دنیا اور دولت پرست نہیں کہہ سکتے۔ ایسے شخص کا تعلق نعمات آخرت سے ہے چنانچہ ہم ایک حدیث میں پڑھتے ہیں کہ: امام جعفرصادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ: "ہم دُنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اُس سے دلبستگی رکھتے ہیں۔ ہم اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم دُنیا پرست نہ ہو جائیں۔" امام علیہ السلام (جو کہ اس شخص کی نیکی اور تقویٰ کو جانتے تھے) نے اُس سے سوال کیا۔ تو دُنیا کی دولت کو کس کام میں خرچ کرنا چاہتا ہے؟ اُس شخص نے جواباً عرض کیا: مَیں اُس سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی معاشی فراہم کرتا ہوں۔ اپنے اعزّا کی مدد کرتا ہوں، راہِ خدا میں انفاق کرتا ہوں اور حج و عمرہ بجا لاتا ہوں۔ یہ سُن کر امام علیہ السلام نے جواب دیا: "لیس ھذا طلب الدنیا ھذا طلب الا خرة" یہ دُنیا طلبی نہیں ہے، طلب آخرت ہے (بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص۱۹ (حدیث٣ از باب ۷ از ابواب مقدمات التجارۃ)۔ اِس استشہاد کی بناء پر دو قسم کے لوگوں کے عقائد کا بطلان ثابت ہوتا ہے: اوّل: مسلمان نما تعلیماتِ اسلام سے بےخبر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام سرمایہ داری کا حامی ہے۔ دوسرے: وہ اہلِ غرض دُشمنانِ اسلام جو تعلیماتِ اسلام کو مسخ کر کے اُسے معاندِ ثروت اور حامی افلاس و تہی دستی قرار دیتے ہیں ___ مگر اُن پر یہ حقیقت منکشف ہونی چاہیے کہ: ایک مفلس و نادار قوم کبھی آزاد اور باعزت زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ قومی افلاس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پسماندہ قوم کسی قوی قوم کے زیر اثر آ کر اس سے وابستہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ مفلسی دُنیا و آخرت دونوں جگہ رُوسیاہی کا باعث ہے۔ مفلسی انسان کو گناہ اور مکروہات کی طرف دعوت دیتی ہے۔ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ایک قول اس معنی کا مصداق ہے: "غنی یحجزک عن الظلم خیر من فقر یحملک الاثم" وہ دولت مندی جو تجھے دوسروں کے سلب حقوق سے باز رکھے اُس فقر سے بہتر ہے جو تجھے گناہ پر آمادہ کرے۔ اِس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام کوشش اس امر پر صرف کریں کہ وہ مالی حیثیت سے غنی اور بےنیاز ہو جائیں، خود کفیل ہوں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں۔ وہ اپنے شرف،عزّت اور استقلال کو، بوجہ فقر و افلاس دوسری قوموں کی وابستگی پر قربان نہ کریں اور یہ جان لیں کہ اسلام کے نزدیک صرف صراطِ مستقیم یہی ہے۔

83
28:83
تِلۡكَ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوّٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فَسَادٗاۚ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ
ہم نے دار آخرت کو صرف ان لوگوں کیلئے بنایا ہے جو دنیا میں اپنے لئے بڑائی(اور حصول اقتدار) کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ فساد کا ارادہ کرتے ہیں،اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کے لئے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
28:84
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جو شخص نیک کام کرتا ہے اس کیلئے اس کا بہتر صلہ موجود ہے اور جو لوگ کہ برے کام کرتے ہیں ان کا بدلہ بھی ان کے اعمال کے مطابق ہی دیا جائے گا۔

تفسیر فساد فی الارض اور ہوسِ اقتدار کا نتیجہ:

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں ایک گنہگار و متکبر ثروت (یعنی قارون) کے عبرت انگیز واقعہ کے ذکر کے بعد اب زیر بحث آیات میں سے پہلی آیت میں چو بیان کیا گہا ہے، درحقیقت، وہ اُس ماجرے کا ایک کلی نتیجہ ہے۔ چنانچہ ربُّ العزت فرماتا ہے: ہم سرائے آخرت صرف ان لوگوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں جو دُنیا میں ہوس اقتدار نہیں رکھتے اور نہ فساد کرتے ہیں: (تلک الدار الاخرة نجعلھا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا)۔ صرف یہی نہیں کہ وہ بڑا بننے کے خواہشمند اور مفسد نہیں ہیں بلکہ ان چیزوں کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔ اُن کا دل ان آلائشوں سے پاک اور اُن کی روح اس قسم کی آلودگیوں سے منزّہ ہے۔ انسان کے لیے جو چیزیں نعماتِ آخرت سے محرومی کا سبب بنتی ہیں وہ درحقیقت، یہی دو ہیں: اول: بڑا بننے کی طلب۔ دوم: "فساد فی الارض"۔ تمام گناہ اِن ہی دو چیزوں میں جمع ہیں کیونکہ خدا نے جن منکرات سے نہی کی ہے، وہ انسان کیلئے تحصیل شرف و کمال اخلاق میں مانع اور اس کی منشائے تخلیق کے خلاف ہیں۔ حتٰی کہ ہوسِ اقتدار بجائے خود ان چیزوں میں سے ہے جنہیں "فساد فی الارض" کہتے ہیں۔ اِسی لیے اس کی غیرمعمولی اہمیت کی وجہ سے اُس کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔ ہم نے 'قارون' کے تفصیلی حالات اور اُس کی سرنوشت میں دیکھا ہے کہ جو بات اُس کی بدبختی، ہلاکت اور نیستی کا باعث ہوئی وہ اُس کا تکبر اور برتری کی ہوس تھی۔ اِسلامی روایات میں اس مسئلے پر خصوصیت سے زور دیا گیا ہے یہاں تک کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے: ان لرجل لیعجبہ ان یکون شراک نعلہ اجود من شراک نعل صاحبہ فیدخل تحتھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو اس بات سے خوشی حاصل ہوتی ہے کہ اُس کی جوتی کے بند اس کے دوست کی جوتی کے بند سے بہتر ہیں؛ تو وہ شخص محض اسی برتری کے جذبہ کی وجہ سے اِس آیت کے مفہوم میں داخل ہو جاتا ہے (بحوالہ: تفسیر "جوامع الجامع" زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ قابلِ توجہ یہ امر کہ مفسرِ تفسیر کشاف اِس حدیث کا ذکر کرنے کے بعد ایک افادہ کا اضافہ کرتا ہے:۔ بعض اہلِ طمع آیہٴ زیر بحث میں جذبہ کبر ذات اور برتری کو بہ متقضائے آیہ (قصص، ۴) 'إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ' محض فرعون ہی سے منسوب کرتے ہیں۔ اور بہ متقضائے آیہ (قصص، ۷۷) "وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ" فساد کو قارون سے مخصوص کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جو آدمی فرعون اور قارون کی مانند ہو، بہشت اور دائمی گھر اس کی ملکیت ہے۔ اس طرح وہ لوگ صرف تنہا فرعون و قارون اور ان جیسے افراد کو بہشت سے خارج کرتے ہیں۔ اور باقی نعمات آخرت کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اِن حضرات نے اس آیہ کے اخیر میں "وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ" پر اس طرح پر غور نہیں کیا جس طرح اس پر امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے غور فرمایا تھا (بحوالہ: تفسیر فخر رازی: زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اس مقام پر"مفسر تفسیر کشاف" کے قول پر ہم اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ ان اہلِ طمع حضرات نے فرعون اور قارون کی حقیقت کو بھی نہیں پہچانا۔ کیونکہ فرعون نے اپنے آپ کو برتر وعالی سمجھا اور وہ مفسد بھی تھا: إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (قصص،۴)۔ قارون نے بھی اُس کی مانند زمین میں فساد کیا اور جذ بہٴ برتری بھی رکھتا تھا۔ یہ مقتضائے آ یت: "فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ" (قصص ۷۹)۔ ایک روایت میں جناب امرالمومنین علی علیہ السلام کے متعلق مذکورہ ہے کہ خلافت ظاہری کے زمانے میں آپ بذات خود بازاروں میں تشریف لاتے تھے۔ جو لوگ راستہ بھول گئے ہوتے ان کے رہنمائی کرتے تھے، ضعیف لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ آپ سوداگروں اور کاسبین کے قریب سے گزرتے تھے اور اُنھیں یہ سناتے جاتے تھے۔ تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا اِس کے بعد آپؐ یہ فرماتے تھے: نزلت ھذہ الایة فی اھل العدل و التواضع من الولاة و اھل القدرة من الناس یہ آیت عادل و متواضع سربراہان مملکت اور حکام نیز قوم کے صاحبانِ قدرت و اختیار افراد کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس روایت کو "زاذان" نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے متعلق نقل کیا ہے۔ تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ کاسبین اور سوداگروں کو اس تنبیہ سے آپ کا مقصود یہ تھا کہ جس طرح میں نے حکومت کو اپنے لیے سبب برتری نہیں سمجھا، تمہیں بھی چاہیے کہ اپنی فراوانی دولت کو دوسروں پر تحکم کا سبب نہ بناؤ۔ کیونکہ انجام نیک صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جن میں احساس برتری نہیں اور نہ وہ زمین پر فساد کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں اس آیت کے آخر میں مذکور ہے " وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ" عاقبت پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ "عاقبت" ایک وسیع المفہوم کلمہ ہے۔ جس میں اس جہان کی پیروزی اور نیک انجام اور دارِ آخرت میں بہشت اور اُس کی نعمتیں، سب کچھ شامل ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ قارون اور فرعون کا کیا انجام ہوا۔ باوجود یکہ وہ بےمثال طاقت رکھتے تھے۔ مگر، چونکہ اُن میں تقویٰ نہ تھا۔ لہذا وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اَب ہم اس آیت کے متعلق اپنے بیان کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث سے نقل کر کے ختم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کہ جس وقت امام علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو آپ کی آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا: ذھبت واللہ الامانی عند ھذہ الا یة اِس آیت نے دُنیا میں میری تمام آرزوؤں کو ختم کر دیا ہے اور پیروزیٴ آخرت بھی مشکل ہے (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اِس حقیقت کے بیان کے بعد کہ سرائے آخرت اور اُس کی نعمات دوسروں پر تسلط جمانے والوں مستکبرین کے لیے نہیں ہیں بلکہ متواضع اور حق طلب پرہیزگاروں کے لیے ہیں، زیر نظر آیات میں سے دُوسری آیت میں ایک قانونِ کلی کا ذکر کیا گیا ہے جس میں پاداش اعمال اور کیفر کردار کے متعلق خدا کے عدل اور تفضل کا ذکر ہے۔ یعنی جو آدمی نیک کام کرے گا اس کا بہتر بدلہ پائے گا: (مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا)۔ جزائے خیر کا موقع خدا کا مقام تفضل ہے۔ ذاتِ الہٰی دنیا کے تنگ چشم لوگوں کی طرح نہیں ہے کہ جب وہ کسی کے عمل کا صلہ دینے لگتے ہیں تو ان کے نزدیک عدالت کا یہی مفہوم ہے کہ وہ صلہ ٹھیک اس کام کے مطابق ہو۔ مگر ذات الہٰی کا مقام اس سے ارفع ہے۔ وہ کبھی بمقابلہٴ عمل اپنے لطف بیکراں سے دس گنا، کبھی سوگنا اور کبھی ہزار گنا صلہ دیتا ہے۔ کم از کم گنا توضروری دیتا ہے جیسا کہ ہم سورہٴ انعام کی آیت میں پڑھتے ہیں: "مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا" مگر ___ اُس صلہ کی حد آخر کو خدا خود ہی جانتا ہے۔ جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آ یت ۲۶۱ میں راہ خدا میں انفاق کے صلہ میں ضمناً آیا ہے۔ البتہ ___ اس اجر و صلہ کو کئی گنا کر دیتا بےحساب نہیں ہے۔ اس کا انحصار پاکی عمل، اخلاص، حُسن نیت اور صفائے قلب کے معیار پر ہے۔ نیکوکاروں کے متعلق خدا کے اس فضل و لطف کا ذکر بدکاروں کے اعمال کی سزا کے بعد آیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: جو لوگ گناہ کرتے ہیں انہیں اُن کے اعمال کے مطابق ہی سزا دی جائے: (وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)۔ یہ اُس پروردگار کا مقامِ عدل ہے کہ گنہگار اپنے عمل سے ایک ذرہ بھی زیادہ سزا نہیں پائیں گے۔ اس مقام پر یہ جُملہ جاذب توجہ ہے کہ: اُن کے اعمال ہی خود اُن کا صلہ ہیں: یعنی اُن کے عمل کے آثار، (عالم ہستی میں بقائے موجودات کے قانون کے مطابق) اُن کے نفوس اور عالمِ خارجی میں باقی رہ جاتی ہیں اور بررز قیامت، جس روز ہر راز پنہاں آشکار ہو جائے گا، یہ اعمال سیّسہ مجسم ہو کر گنہگاروں کے ساتھ ہوں گے اور اُن کے لیے آزار و اذیت کا موجب ہوں گے۔ اِس مقام پر تین سوال پیدا ہوتے ہیں، جن کا جواب دنیا ضروری ہے : ۱۔ اس آیت میں کلمہ "سیئة" کی دو مرتبہ تکرار کیوں ہوئی ہے؟ ممکن ہے کہ اِس کی جمع یہ ہو کہ اِس امر کا بیان حتمی مقصود ہو کر "سیّئات" میں ہر گنہگار کو صرف اُسی عمل بد کی سزا ملے گی جو اُس نے انجام دیا ہے۔ بالفاظ دیگر: خود کردہ را علا جے نیست ۲۔ کیا آ یت قوق میں کلمہ "حسنہ" میں ایمان اور توحید بھی شامل ہیں؟ اگر یہ درست ہے تو پھر اس جملہ کے کیا معنی ہیں؟ جو کہا گیا ہے: "ہم اُس سے بہتر کو، اُس کی جزا قرار دیں گے۔" کیا اس سوال سے بہتر بھی کوئی شے ہو گی جو اُس کی جزا ہو جائے گی؟ ہم اِس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ بدون تردید کلمہ "حسنہ" کے معنی بہت وسیع ہیں۔ اس میں انسان کے معتقدات، گفتار و گردار سب کچھ شامل ہے۔ لیکن "پروردگار کی رضا و خوشنودی" توحید کے صرف اعتقاد سے بہتر ہے اور یہی نیکوگاروں کی جزاٴ ہے۔ جیسا کہ ہم سورہٴ توبہ کی آیت ۷۲ میں پڑھتے ہیں: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّهِ أَكْبَرُ خدا کی خوشنودی ہر جزاء سے بہتر ہے۔ ۳۔ آیت فوق کلمہ "حسنہ" مفرد کیوں استعمال ہوا ہے اور کلمہ "سیئات" جمع کیوں استعمال ہوا ہے؟ اِس سلسلے میں بعض حضرات کا خیال ہے کہ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ لحاظ شمار گنہگاروں کی تعداد زیادہ ہے اور نیکوکاروں کی کمی ہے۔ اِس مقام پر یہ امکان بھی ہے کہ جملہ حسنات "حقیقت توحید" میں مجتمع ہو جاتی ہیں۔ نیز یہ کہ اگر "حسنات" کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کی بنیاد عقیدہ توحید ہے جبکہ سیئات کی بُنیاد شرک ہے اور شرک میں بخلاف "توحید" پراگندگی اور کثرت پائی جاتی ہے۔

85
28:85
إِنَّ ٱلَّذِي فَرَضَ عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٖۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ مَن جَآءَ بِٱلۡهُدَىٰ وَمَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
وہ ذات جس نے تجھ پر قرآن (کی تبلیغ کو) فرض (واجب)فرمایا ہے وہی تجھے تیرے وطن واپس پہنچا دے گی۔ کہہ دے کہ میرا رب اسے بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
28:86
وَمَا كُنتَ تَرۡجُوٓاْ أَن يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبُ إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرٗا لِّلۡكَٰفِرِينَ
اور تجھے یہ توقع نہ تھی کہ یہ کتاب تجھ پر نازل کی جائے گی مگر یہ محض تیرے رب کی رحمت سے تجھ پر نازل ہوئی ہے۔پس ہرگز کافروں کا مدد گار نہ ہونا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
28:87
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بَعۡدَ إِذۡ أُنزِلَتۡ إِلَيۡكَۖ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
اور(کہیں ) بعد از نزول وہ تجھے آیات خدا کی تبلیغ سے روک نہ دیں۔ انہیں اپنے خدا کی طرف دعوت دے اور مشرکوں میں سے نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
28:88
وَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۘ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجۡهَهُۥۚ لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
اور خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکاروکیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کی ذات کے سوا ہر چیزفانی ہے حکم اسی کا ہے اور سب کچھ اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

کچھ مفسرین نے زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت کی شان نزول ابن عباس سے نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے:۔ جس وقت جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ کی طرف جا رہے تھے، تو جب آپ مقام حجفہ پر پہنچے کہ جس کا فاصلہ مکہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے تو آپ کو اپنا وطن یاد آیا یعنی شہر مکہ، کہ جو خدا کا حرم ہے۔ اور وہاں خانہ کعبہ بھی ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناقابل انقطاع قلبی اور رُوحانی تعلق تھا۔ اِس یاد وطن سے احساس غم آپ کے چہرے پر نمایاں ہوا۔ اُس مقام پر جبرئیل نازل ہوئے اور پُوچھا: کہ واقعاً آپ کو اپنے شہر اور جائے پیدائش کا بہت اشتیاق ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ہاں ضرور ہے" تب جبرئیل نے عرض کیا کہ خدا نے آپ کو یہ پیغام بھیجا ہے: إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ جس ذات نے اس قرآن کو تجھ پر فرض کیا ہے وہ تجھے تیرے وطن میں بھی پہنچا دے گا (تفسیر مجمع البیان، تفسیر کبیر فخر رازی، تفسیر قرطبی، تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر)۔ ہم جانتے ہیں کہ آخرگار یہ عظیم وعدہ پورا ہوا۔ پیغمبر اسلام ایک طاقتور فوج اور بڑی عظمت کے ساتھ مکہ کو فاتحانہ لوٹ اور حرم خدا جنگ اور خون ریزی کے بغیر آپ کے قبضے میں آ گیا۔ تاریخ کے اِس عظیم انقلاب کے پیش نظر زیر نظر آیت قرآن کی اعجاز آمیز پیش گوئیوں میں سے ہے کہ اُس کے ذریعے آنحضرتؐ کو حتمی طور پر کسی شرط کے بغیر ایسی خبر دی گئی، جو قلیل مدّت کے بعد درست ثابت ہوئی۔

تفسیر حرمِ امن خدا کی طرف بازگشت کا وعدہ:

یہ سُورہٴ قصص کی آخری آیات ہیں۔ ان میں پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ موسٰی بن عمران کی زندگی کے بعض گوشوں اور فرعون اور اُس کے رفقاء سے جنگ کے حالات بیان کرنے کے بعد ان میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بشارت دی گئی ہے نیز انھیں نہایت مستحکم دستور العمل دے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ـــــ اِن آیات میں سے پہلی آیت (جیسا کہ مشہور ہے) مقامِ حجفہ پر اس وقت نازل ہوئی، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینے کی طرف سفر کر رہے تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ یثرب جائیں اور اس بستی کو "مدینة الرسول" بنا دیں۔ اُس مقام پر اسلامی حکومت کی بنیاد کی پہلی اینٹ رکھیں۔ تاکہ پیام اسلام میں جو انقلابی صلاحیتیں ہیں، انہیں عمل میں لائیں اور اُس مقام کو وسیع حکومت الہٰی اور اِس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مرکز قرار دیں۔ اِس عظیم منصوبے کے باوجود آپ کو مکہ سے جو دل بستگی تھی وہ رنج و غم کا باعث بنی رہتی تھی اور آپ کو اس حرم امن الہٰی سے دُوری سخت ناگوار تھی۔ اِن حالات میں آپ کے قلب مطہر پر نُورِ وحی کی تابش ہوتی ہے اورآپ کو وطن مالوف کی طرف بازگشت کی بشارت دی جاتی ہے "باین الفاظ" کہ: وہی ذات جس نے تم پر قرآن کو فرض کیا، وہ تمہیں تمہارے وطن و مولدِ کو واپس کر دے گی: (إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ)۔ تم رنجیدہ خاطر نہ ہو ____ وہی خُدا جس نے عالم طفولیت میں موسٰی علیہ السلام کو اُس کی ماں کے پاس لوٹا دیا، وہی خدا جس نے مصر سے دس سال کی جلاوطنی کے بعد اسے، اُس کے وطن کو واپس کر دیا تاکہ وہ چراغ توحید روشن کرے اور مستضعفین کی حکومت قائم کرے۔ اور منکرین خدا فرعونیوں کی طاقت کو برباد کر دے۔ وہی تم کو بھی پوری طاقت اور قوت کے ساتھ مکہ کو لوٹا دے گا۔ اور تمہارے ہاتھ سے اس مقدس سرزمین میں چراغ توحید روشن کرائے گا۔ وہی خدا جس نے تم پر قرآن نازل کیا، اس کی تبلیغ فرض کی اور تم پر اُس کے احکام کو واجب کیا۔ اُس زمین و آسمان کے مالک قادر مطلق خدا کے لیے یہ امور آسان ہیں۔ اس کے بعد اس مطلب کا اضافہ ہے کہ: ان سر پھرے اور متکبر مخالفین سے کہہ دو کہ میرا خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اُس کی طرف سے کون ہدایت لایا ہے اور کون شخص گمراہی میں ہے: (قل ربی اعلم من جاء بالھدی ومن ھو فی ضلال مبین)۔ مقصد یہ ہے کہ راہ ہدایت روشن ہے اور مشرکین کی گمراہی آشکار ہے۔ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں عبث ہے خدا اُن کے افعال سے خوب آگاہ ہے اور حق طلب قلوب بھی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس آیت کی واضح تفسیر یہی ہے کہ جو ہم نے سطور بالا میں بیان کی ہے بہت سے مفسرین نے کلمہ "معاد" کے متعلق دوسرے احتمالات کی طرف بھی رُجوع کیا ہے۔ ان کے خیالات یہ ہیں کہ:۔ "معاد" سے مراد حیات بعد از موت ہے، یا سرزمین محشر، یا خُود موت، یا مقام شفاعت کبرای، یا بہشت یا بیت المقدس (جہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمم معراج پر گئے تھے) نیز اس طرح کے بہت سے خیالات ظاہر کیے گئے ہیں۔ لیکن آیت کے کلیة مطالعے اور سرگذشت مو سٰی علیہ السلام اور بنی اسرائیل پر غور کرنے کے بعد، اور مذکورہ شان نزول کے علم کے بعد یہ تمام معانی حقیقت سے بعید نظر آتے ہیں۔ اس لیے کلمہ "معاد" کی تفسیر (بمعنی مقام بازگشت) سر زمین مکہ ہی درست ہے۔ علاوہ بریں، یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ اگر کلمہ"معاد" کے معنی روز قیامت لیے جائیں تو وہ روز صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی سے تو مخصوص نہیں ہے جب کہ آیت کا رُو ئے سخن صرف جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے۔ نیز یہ کہ ماقبل آیت (۸۴) میں بروز قیامت اعمال کی جزا اور سزا کا بیان ہے اور یہ اُس کے بعد ہے، اس لیے بھی کلمہ معادہ کا وہ مفہوم نہیں ہو سکتا ہے۔ بلکہ اِس کے برعکس مطلب کا قوی امکان ہے۔ کیونکہ آیت ماقبل (۸۴) میں سرائے آخرت میں جزائے اعمال کا ذکر ہے۔ تو سیاقِ معانی کا تقاضا یہ ہے کہ اِس آیت میں اِس دنیا کی کامرانیوں کا ذکر ہو۔ آیت مابعد (۸۶) میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدا کی طرف سے ایک عظیم ترین نعمت کے عطا ہونے کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: "تمہیں ہرگز امید نہ تھی کہ یہ عظیم آسمانی کتاب تمہیں القا کی جائے گی لیکن یہ تمہارے رب کی رحمت کا تقاضا تھا: (وَمَا كُنتَ تَرْجُواْ أَن يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے اس مقام پر کلمہ "الا" کو استثنی کے معنی میں س سمجھا ہے۔ اس بناء پر وہ مستثنی منہ کے حذف اور مقدر ہونے کے قائل ہوئے ہیں۔ دوسرے گروہ نے کہا ہے کہ "الا" اِس مقام پر "لکن" کے معنی میں ہے اور اِن معنی میں استدراک کا پہلو نکلتا ہے اور یہ معنی سیاق کے قریب تر ہیں)۔ اُس وقت بہت سے لوگوں نے نئے دین کی آمد کی خوش خبری سن رکھی تھی۔ نیز، شاید اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اس عنایت الہٰی کے منتظر تھے کہ وحی ان پر نازل ہو گی اور خدا اُنھیں یہ ذمہ داری سپرد کرے گا لیکن اے پیغمبر تمہیں اس کا گمان بھی نہ تھا۔ مگر خدا نے تمہیں اس کام کے لیے سب سے زیادہ اہل سمجھا کہ یہ دین تمہارے ذریعے سے دنیا میں پھیلے بعض بزرگ مفسرین نے اس آیت کو اُن آیات سے مربوط سمجھا ہے جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے داستانِ موسٰی کے بارے میں خطاب کیا گیا ہے۔ وہ آیات یہ ہیں۔ وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الْأَمْرَ … (قصص، ۴۴)۔ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ۔۔۔(قصص،۴۵)۔ وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ۔۔۔ (قصص، ۴۶)۔ اے رسول تم ہرگز وادیٴ طور میں موجود نہ تھے، جہاں ہم نے موسیٰ پر وحی نازل کی تھی۔۔۔ تم نے اہلِ مدین میں زندگی نہیں گزاری۔۔۔۔ اور جب ہم نے طور پر موسیٰ کو وحی کی تھی تم اُس وقت بھی موجود نہ تھے۔ مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے کہ اُس نے تمہیں ان حالات کی خبر دی۔ اِس تفسیر کے مطابق "کتاب" سے مراد سرگذشتِ انبیائے ماسبق ہے۔ مگر اِس تفسیر اور تفسیر ماسبق میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بلکہ اسے اُس تفسیر کا ایک حصہ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کے بعد ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ: اَب اس عظیم نعمت کا شکریہ یہ ہے کہ کافروں کی ہرگز مدد نہ کرنا: (فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ)۔ یہ حکم اُس مطلب سے ہم آہنگ ہے جسے ہم آیات ماسبق میں حضرت موسٰی علیہ السلام کے متعلق پڑھ آئے ہیں کہ موسٰی نے کہا: "پروردگارا! اُن نعمات کی وجہ سے جو تو نے مجھے دی ہیں۔ میں ہرگز مجرمین کا مددگار نہ بنوں گا۔ ظالموں کی مدد کرنے کے بارے میں، ہم نے سورہٴ قصص کی آیت۱۷ کے تحت مفصل بحث کی ہے۔ اِس سورہ کے آخر میں مختلف استدلالات اور تعبیرات کے ساتھ توحید کو واضح کیا گیا ہے۔ وہ توحید جو جُملہ دینی مسائل کی اصل بنیاد ہے، وہ توحید جو اصل بھی ہے اور فرع بھی، جو کل بھی ہے اور جز بھی۔ اِن دو آیات میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چار احکامات دیئے گئے ہیں اور خدا کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ نیز اس سورة میں جتنے بھی موضوعات پر بحث ہوئی ہے، یہ آیات ان سب کا تکملہ ہیں: (وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ آيَاتِ اللَّهِ بَعْدَ إِذْ أُنزِلَتْ إِلَيْكَ)۔ اِس آیت میں اگرچہ حرف نہی کا مرجع کفارہیں۔ لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اُن کی سازشوں اور خلل اندازیوں سے متنبہ رہی جیسے کہ ہم کسی سے کہتے ہیں کہ: کوئی آدمی تمہیں بہکانے نہ پائے۔ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آ جانا۔ اِس کے بعد جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا جاتا ہے کہ جب کہ تم پر آیات الہٰی نازل ہو گئی ہیں تو اُن احکامات پر باستقلال قائم رہو اور کسی قسم کے تردد اور شک کو دل میں نہ آنے دو۔ امر اللہ کی تبلیغ میں جو رکاوٹیں بھی پیش آئیں انھیں راستے سے ہٹا دو اور محکم قدموں کے ساتھ مقصد کی طرف بڑھو کیونکہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور تمہارا مددگار ہے۔ مُفسر معروف ابن عباس کے قول کے مطابق، اس آیت کی مخاطب تو ذاتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے لیکن مراد ہیں عام لوگ جیسے کہ ایک عربی ضرب المثل ہے "ایّاک اعنی و اسمعی یاجارہ" میری مراد تو ہے مگر اے ہمسائی تو بھی سن لے۔ یہ حکم جو نفی کا پہلو رکھتا ہے، اس کے بعد اثباتی انداز سے حکم دیا ہے کہ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دے (و ادع الٰی ربّک)۔ وہ خدا جو تیرا مالک ہے، تو جس کے اختیار میں ہے، وہی تیرا مربی اور تیری پرورش کرنے والا بھی ہے۔ اس حکم کے بعد کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیں۔ ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ قطعا مشرکین میں سے نہ ہونا۔ (وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ)۔ یعنی راہ توحید قطعی آشکارا اور نورانی ہے اور اس پر چلنے والے ہی راہ مستقیم پر ہیں۔ بالآخر چوتھا حکم ہر قسم کے شرک کی نفی پر ایک تاکید مکرر ہے، خدا فرماتا ہے کہ خدا کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کو مت پکار: (وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ)۔ الغرض یہ پے درپے احکام جن میں سے ہر ایک دوسرے حکم کا مُوکّد ہے، اسلامی پروگرام میں عقیدہ ٴتوحید کی اہمیت کو روشن کرتے ہیں کیونکہ جب تک عقیدہٴ توحید پوری طرح دلنشین نہ ہو، تمام عقائد و اعمال برباد ہیں۔ قرآن میں ان چار احکامات کے ذکر کے بعد خدا کی چار صفات کا ذکر ہے کہ وہ لوازم عقیدہٴ توحید میں سے ہیں: ۱۔ اوّل: یہ کہا گیا کہ "اس کے سوا کوئی معبود نہیں (لاالہ الا ھو)۔ ۲۔ دوسرے: اُس کی ذات پاک کے علاوہ، ہر چیز فانی اور نابود ہونے والی ہے: (کل شیٴ ھالک الا وجھہ) ۳۔ تیسرے: دُنیائے تکوین و تشریع میں حکم اور حاکمیت اُسی کی ذات سے مخصوص ہے: (لہ الحکم)۔ ۴۔ چوتھے: آخر الامر ہم سب کی بازگشت اُسی کی طرف ہے: (والیہ ترجعون)۔ اِس امر کا امکان عقلی موجود ہے کہ آخری تین صفات اثبات توحید اور ہر قسم کی اس بت پرستی کو ترک کرنے کی دلیل ہو جس کا ذکر صفت اول میں کیا گیا ہے۔ کیونکہ ___ ہم سب فانی ہیں اور بقا صرف اُسی کی ذات کے لیے ہے۔ کیونکہ ___ نظام ہستی کی تدبیر اور کائنات کی حاکمیت صرف اُسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ___ قیامت میں ہم سب کی بازگشت اُسی کی طرف ہو گی۔ اُس کے مقابلے میں معبود ان مجازی کی بھلا کیا حقیقت ہے اور سوائے اس کے اور کونسی چیز قابل پرستش ہے؟ "کل شیء ھالک الّا وجھہ" کی تفسیر میں بڑے بڑے مفسرین نے گوناں گوں خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اِن آرائے مختلف کا محور دو کلمات" وجہ اور ھالک" ہیں۔ کیونکہ لغوی اعتبار سے کلمہ "وجہ" اِنسان کے جسم کے اس حصہ کے لیے بولا جاتا ہے جسے چہرہ کہتے ہیں یعنی انسانی صورت۔ لیکن جس وقت یہ کلمہ خدا کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اُس سے مراد اُس کی ذات ہوتی ہے۔ کلمہ "ھالک" کا مادہ "ہلاک" ہے جس کے معنی موت اور نابودی کے ہیں۔ اِن معانی کے پیش نظر اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ذات الہٰی کے سوا موجودات میں سے ہر شے فنا ہو جائے گی۔ یہ "فنا" کائنات کے اختتام پر منحصر نہیں ہے بلکہ بحالت موجودہ بھی اُس کے مقابلے میں ہر شے فانی اور معدوم ہے۔ کیونکہ جُملہ ممکنات اپنے وُجود کے لیے اُسی کی محتاج ہیں۔ اور لحاظہ بہ لحاظہ اُسی سے فیض وجُود حاصل کرتی رہتی ہیں۔ اُن کا قیام بذاتِ خود نہیں ہے، بلکہ یہ ارادہٴ الہٰی ہے۔ اگر نازی کند یکدم فرد ریزند قالبہا اگر مشیتِ ایزدی مائل بہ فنائے ممکنات ہو تو وہ ایک لمحے میں فنا ہو جائیں۔ علاوہ بریں ___ کائنات میں تمام موجودات ہر وقت متغیر ہو رہی ہیں اور اُن کی کیفیت بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ایٹمی نظریے کے مطابق (یعنی حرکت جوہری) ہر شے کی ماہیت تغیر اور حرکت ہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تغیر اور حرکت سے مراد ہے کہ پر شے ہر لمحہ فنا اور وجود تازہ مرحلے سے گزرتی رہتی ہے۔ یعنی موجودات جہاں ہر لحظہ مرتے اور زندہ ہوتے رہتے ہیں۔ بنابریں، جملہ موجودات اپنی کیفیت حالیہ میں بھی "ھالک" اور فانی ہیں۔ صرف ذات الہٰی وہ ہے جس میں تغیر و فنا کو دخل نہیں ہے اور اس کی ذاتِ مقدس استقلال محض ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب اس دُنیا کا وقت آخر آئے گا تو ہر موجود فنا اور نیستی کا تسلط ہو گا۔ جیسا کہ قرآن میں فریایا گیا ہے: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍOوَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِO زمین پر رہنے والا ہر وجود فنا ہو جائے گا صرف خدا کی ذات ذوالجلال ہی باقی رہ جائے گی (رحمن، ۲۶ ۲۷)۔ صرف اہلِ زمین ہی نہیں بلکہ اہلِ آسمان بھی فنا ہو جائیں گے: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ اور جس وقت صور پھونک جائے گا تو وہ سب کہ جو آسمان میں زمین میں ہیں مر جائیں گے۔ (زمر۔ ۶۸)۔ یہ تفسیر اس آیت اور دیگر آیات کے ظاہری معنٰی سے ہم آہنگ ہے لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کی اور تفاسیر بھی لکھی ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: کسی نے کہا ہے کہ"وجہ" سے مراد عمل صالح ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ: انسان کے تمام اعمال "اس عمل کے سوا جو لوجہ اللہ کیا گیا ہو" ضائع ہو جائیں گے۔ بعض دیگر حضرات نے کہا ہے "وجہ" سے مُراد اشیا کا اللہ سے منسوب پہلو ہے۔ اِس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ تمام اشیا بذاتہ تو معدوم ہیں، سوائے پروردگار کی طرف ان کے انتساب کا پہلو۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ "وجہ" بہ معنی دین ہے۔ اس اعتبار س آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بروز قیامت جملہ شریعتیں باطل اور فنا ہو جائیں گی۔ بجز اللہ کے دین کے اور آیت میں کلمہ "لہ الحکم" کے معنی حاکمیت تشریعی سمجھے ہیں اور اسے اس مفہوم کے لیے کلمہ تاکید شمار کیا ہے۔ اسی طرح جملہ "والیہ ترجعون" سے اخذ شریعت میں خدا کی طرف رجوع کرنا مراد لیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ یہ جملہ اِن معنی پر ایک مکرر تاکید ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نورا لثقلین میں اس آیت کے ذیل میں متعدد روایات کا ذکر ہے۔ ان میں سے بعض میں "وجہ" سے مراد دینِ خدا ہے اور بعض میں مراد رہبرانِ الہٰی اور بعض میں وہ چیزیں جو خدا سے منسوب ہیں)۔ ہم نے اس آیت کی تفسیر میں، سطور مافوق میں جو کچھ کہا تھا، یہ تفاسیر جن کا ہم نے بعد میں ذکر کیا اس کے منافی ںہیں کیونکہ جب ہمیں یہ علم ہو گیا کہ اس عالم جو چیز باقی رہ جائے گی وہ صرف ذات الہٰی ہو گی۔ تو اِس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جو شے کسی طرح بھی اس کی ذات سے متعلق ہے وہ بھی کیفیت بقا و ابدیت اختیار کر لے گی۔ رہبران الہٰی ابھی بذات خدا مربوط ہیں اس لیے وہ بھی جاودانی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شے بھی جو ذات الہٰی سے تعلق اور ربط رکھتی ہے وہ فنا اور ہلاکت سے محفوظ رہے گی۔ (یہ مقام غور فکر ہے)۔

چند اہم نکات ۱۔ تمام اشیا کس طرح فنا ہوں گی؟

آیاتِ فوق کے ذیل میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں اِن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر دنیا کے آخر میں سب چیزیں فنا ہو جائیں گی تو اس مٹی کو بھی فنا ہو جانا چاہیے جو انسان کے جسم کی بن گئی ہے جب کہ قرآن میں بطور مکرر یہ صراحت موجود ہے کہ ہم جسم کی ان ہڈیوں کو جمع کر کے ان سے دوبارہ انسان پیدا کریں گے۔ یا ___ بروز قیامت انسان اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ نیز جیسا کہ آیات قرآنی کے ظاہری معنی سے مترشح ہو تا ہے، بہشت اور دوزخ بھی پیدا کیے جا چکے ہیں جیسا کہ کلمات "اُعدّت للمتّقین" یا ان ہی جیسے اور کلمات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ "بہشت پرہیزگاروں کے لیے ہے" چنانچہ قرآن میں دو مقامات پر یعنی سورہ آل عمران کی آیت ۱۳۳ اور سورة حدید کی آیت ۲۱ میں یہ بیان ہے۔ اور دو مقامات پر دوزخ کا ذکر "اُعدّت للکافرین" کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ وہ ہیں سورہ بقرہ آیت ۲۴ اور سورہ آل عمران آیت ۱۳۱۔ اَب سوال یہ ہے کہ اگر بہشت و دوزخ مخلوقات میں سے ہیں تو کیا وہ بھی بروز قیامت فنا اور نابود ہو جائیں گی؟ قطع نظر اِن امور کے ہمارا عقیدہ بھی ہے کہ انسان کے لیے ایک حیات برزخی بھی ہے جیسا کہ "ارواح" کے ذکر کے وقت ہم نے اسے آیات قرآنی سے ثابت کیا ہے، تو کیا وہ ساکنانِ برزخ بھی فنا ہو جائیں گے؟ ذیل کی توضیحات سے اِن تمام سوالات کے جوابات واضح ہو جائیں گے: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کلمات "ہلاک' نابودی اور فنا" سے کسی نظم و ترتیب کا زیر و زبر ہو جانا مراد ہوتا ہے نہ کہ اُس شے کے موادِ اصلی کا فنا ہو جانا۔ مثلاً۔ اگر ایک عمارت زلزلہ کی وجہ سے مسمار ہو جائے تو اُس کیفت پر ہم کلمات "فنا وھلاک" کا اطلاق کرتے ہیں۔ حالانکہ اُس عمارت کا اصلی مواد موجود ہوتا ہے۔ اُس مواد کی صرف نظم و ترتیب و درہم برہم ہو گئی ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ دُنیا کے آخر وقت میں ___ خورشید بےنور، چاند تاریک اور پہاڑ زیزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ اور زمین پر ہر زندہ موجود کو موت آ جائے گی۔ ایک پہلو سے اِن اشیا کے لیے ہلاکت کا مفہوم یہ ہے: دُوسرے پہلو سے ہلاکت اور فنا کا اطلاق دُنیا اور اُس کے مافیہا پر ہے۔ لیکن بہشت اور دوزخ (خواہ ہم اُنھیں اسی دُنیا میں سمجھیں، خواہ اس دنیا سے باہر) اِس دُنیا کا جُز نہیں ہیں کہ اِنھیں فنا اور نابودی کے حکم میں شامل کیا جا سکے۔ اِن چیزوں کا تعلق آخرت اور دوسری دُنیا سے ہے نہ کہ اِس دُنیا سے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا کہ موجوداتِ امکانی کے لیے ہلاکت اور فنا کا انحصار صرف دنیا کے خاتمے پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ موجودات بحالت موجودہ بھی فانی ہیں۔ کیونکہ اوّل تو ان کا وجود قائم بالذّات نہیں ہیں بلکہ اپنے وجود کے لیے دوسرے کی محتاج ہیں۔ دوسرے یہ کہ جملہ کائنات ہمہ وقت حالت تغیّر اور حرکت میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ حرکت کے معنی ہیں فنائے تدریجی۔ جس کے مطابق ہر وقت وجود عدم کی دونوں کیفیّات موجود رہتی ہیں۔ ان توضیحات سے محولا بالا سوالات کو جواب واضح ہو جاتا ہے۔

۲۔ "و لا تدع مع اللہ الٰھا اٰخر" کی غلط تفسیر:

وہابی لوگ جن کا اس عقیدے پر اصرار ہے کہ "توسل اور شفاعت" کا مسئلہ حقیقت توحید سے ہم آہنگ نہیں ہے، کبھی تو وہ آیت مافوق سے اور کبھی اسی کے مشابہ دوسری آیات سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ: قرآن میں صریحاً غیر خدا کی عبادت و پرستش، یا کسی غیر کا نام خدا کے نام کے ساتھ لینے سے نہی کی گئی ہے "فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا۔ (سُورہ جن۔۱۸)۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی آیات کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہم کسی کو ہرگز نہ پکاریں۔ ایسی آیات کا مفہوم وہی ہے جو کلمہ "مع اللہ" سے سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص خدا کے اختیار اور اُس کی خلاقیّت کی صفت میں کسی اور کو دخیل سمجھے اور مستقل طور پر یہ سمجھے کہ کوئی دوسری ذات بھی خدا کے کاموں کو انجام دے سکتی ہے، تو مشرک ہے۔ لیکن ___ اگر ہم تمام اختیارات کو خدا سے مخصوص سمجھیں اور کسی کو بھی اس کی قدرت میں شریک یا مؤثر خیال نہ کریں۔۔۔ مگر یہ عقیدہ رکھیں کہ اولیاء اللہ اُس کے اذن اور فرمان سے شفاعت کرتے ہیں اور اس نیّت سے ہم اُن سے متوسّل ہوں کہ وہ خدا کے حضور میں ہماری شفاعت کریں گے تو یہ عین توحید ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف قرآن میں مکرّر اشارہ ہوا ہے۔ آیا ـــــ جب برادارانِ یوسف نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ " يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا" اے باپ تو ہمارے لیے خدا سے مغفرت طلب کر (سُورہ یوسف، ۹۷)۔ تو کیا یہ شرک تھا؟! یا___ جس مقام پر قرآن شریف میں یہ ذکر آتا ہے: وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا جس وقت اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں، اگر وہ تیرے پاس آتے ہیں اور خدا سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اور رسول بھی اُن کے لیے مغفرت طلب کرے تو وہ خدا کو توّاب اور رحیم پائیں گے۔ (سُورہ نساء، ۶۴)۔ تو کیا یہ کفر کی طرف دعوت ہے؟ شفاعت اور توسل حقیقت اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: اِس مسئلے کی زیادہ توضیح کے لیے جلد٣ میں سُورہ مائدہ کی آیت ۳۵ کے ذیل میں اور جلد اوّل میں سُورہ بقرہ کی آیت کے ذیل میں رجوع کریں)۔ پروردگار! ___ تو ہمارے دلوں کو توحید اورمعرفت کے نور سے منوّر کر تاکہ ہم تیرے سوا کسی کو نہ دیکھیں، تیرے سوا کسی کی جستجو نہ کریں اور تیرے سوا کسی کی آرزو نہ کریں۔ خداوندا ___ تو اپنی ذاتِ پاک سے ہمارے ارتباط کو روز بروز محکم کرتا جا۔ تاکہ اس طریقے سے ہماری روح پر تیری ذات کی بقائے جاودانی کا پر تو پڑے۔ بار الہٰا ___ تو ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت، بڑائی کو خواہش اور فساد فی الارض کو دُور رکھ اور تُو ہمیں ان پرہیزگاروں کی صف میں جگہ دے جن کے لیے "عاقبت نیک" ہے (والعاقبة للمتقین)۔

end of chapter
Al-Qasas (28) — Tafseer e Namoona