Al-Jinn
سورہ جن
یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ٢٨ آیات ہیں۔
سورہ جن کے مضامین و مطالب
یہ سورہ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے، زیادہ تر ایک دکھائی نہ دینے والی مخلوق کے بارے میں گفتگو کرتی ہے جسے "جن" کہتے ہیں۔ یہ گفتگو ان کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے، قرآن مجید کے مقابلہ میں خضوع کرنے، معاد پر ان کے ایمان و اعتقاد، ان کے درمیان مومن و کافر گروہ کے وجود اور اسی قسم کے دوسرے مسائل سے متعلق ہے۔ سورہ کا یہ حصہ اٹھائیس آیات میں سے انیس آیات میں پھیلا ہوا ہے۔ اور "جن" کے بارے میں بہت سے بےہودہ عقائد کی اصلاح کرتا ہے، اور انھیں باطل قرار دیتا ہے۔ اس سورہ کے دوسرے حصہ میں توحید و معاد کے مسئلہ کے بارے میں اشارہ آیا ہے۔ اور اس سورہ کے آخری حصہ میں علم غیب کے مسئلہ کے متعلق گفتگو ہے، کہ کوئی بھی شخص اس سے آگاہ نہیں ہے، سوائے اس قدر جس کا خدا ارادہ کر لیا ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر گرامی اسلامؑ سے آیا ہے: "من قرا سورۃ الجن اعطی بعدد کل جنی و شیطان صدق بمحمد و کذب بہ عتق رقبۃ" "جو شخص سورہ جن کو پڑھے تو اسے ہر جن اور شیطان کی تعداد کے برابر، جس نے محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی تصدیق یا تکذیب کی ہے، غلام آزاد کرنے کا ثواب دیا جائے گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص ٣٦٥)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "من اکثر قراءۃ "قل اوحی" لم یصبہ فی الحیٰوۃ الدنیا شیئ من اعین الجن ولا نفثھم ولاسحرھم، و لا کیدھم، و کان مع محمد (ص) فیقول یا رب لا ارید منہ بدلا ولا ابغی عنہ حولا" "جو شخص سورہ جن کو بکثرت پڑھے، تو وہ دنیا کی زندگی میں، ہرگز جنون کی نظر بد، ان کے جادہ، سحر اور مکر و فریب سے نقصان نہیں اٹھے گا، اور محمؐد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہو گا اور کہے گا: "پروردگارا! میں اس کی بجائے کسی اور کو نہیں چاہتا اور نہ ہی اس سے کسی دوسرے کی طرف مائل ہوتا ہوں"۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ٤، ص ٢٩٠)۔ البتہ یہ تلاوت، اس سُورہ کے مضامین و مطالب پر آگاہ ہونے، اور پھر اس پر عمل کرنے کا ایک مقدمہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 11سورہ احقاف کی آیہ ٢٩ تا ٣٢ کی تفسیر میں کچھ شان نزول بیان ہو چکی ہیں، جو زیر بحث سورہ (سورہ جن) کے مطالب سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، اور وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں، کہ دونوں صورتوں کی آیات ایک ہی واقعہ سے مربوط ہیں۔ وہ شانِ نزول مختصر طور پر اس طرح ہے: ١- پیغمبرؐ مکہ سے طائف کے بازار "عکاظ" کی طرف آئے تاکہ اس عظیم مرکز اجتماع میں لوگوں کو طرف دعوت دیں، لیکن کسی نے آپ کی دعوت کا مثبت جواب نہ دیا، واپسی پر آپ ایک ایسی جگہ پہنچے جسے "وادی جن" کہتے تھے، رات آپ وہیں رہے اور قرآن کی آیات کی تلاوت فرماتے رہے، جنوں کے ایک گروہ نے سنا تو وہ ایمان لے آئے اور تبلیغ کے لیے اپنی قوم کی طرف پلٹ گئے۔ (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل "نور الثقلین" جلد ٥، ص ١٩ (تلخیص کے ساتھ))۔ ٢۔ "ابن عباس" کہتے ہیں "پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم صبح کی نماز میں مشغول ہوئے اور اس میں قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، جنوں کا ایک گروہ آسمانی خبروں کے ان منقطع ہو جانے کی علت کی تحقیق کر رہا تھا، انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے قرآن کی تلاوت کی آواز سنی تو انھوں نے کہا کہ آسمانی اخبار کے ہم سے منقطع ہو جانے کی علت یہی ہے لہذا وہ اپنی قوم کی طرف پلٹ گئے اور انھیں اسلام کی طرف دعوت دی۔ (بحوالہ: صیحح بخاری، مسلم و مسند احمد مطابق نقل "فی ظلال" جلد ٧، ص ٤٢٩ (تلخیص کے ساتھ))۔ ٣- "ابو طالب" کی وفات کے بعد جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر معاملہ سخت ہو گیا تو آپ نے "طائف" کی طرف جانے کا ارادہ کیا تاکہ کوئی مددگار پیدا کریں۔ "طائف" کے رؤسا نے شدت کے ساتھ آپ کی تکذیب کی اور انھوں نے پیغمبر کی پشت پر اس قدر پتھر مارے کہ آپ کے پائے مبارک سے خون جاری ہو گیا، تھکے ماندے زخمی حالت میں ایک باغ کے پاس آئے اور انجام کار اس باغ کے مالکوں کا غلام، جس کا نام "عداس" تھا، آنحضرتؐ پر ایمان لے آیا، آپ وہاں سے مکہ کی طرف لوٹے، رات ہوتے ایک کھجور کے درخت کے قریب پہنچے اور نماز میں مشغول ہو گئے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے "نصیبین" یا "یمن" کے "جنوں" کا ایک گروہ گزر رہا تھا۔ انھوں نے صبح کی نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی تلاوت کی آواز سنی تو وہ ایمان لے آئے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، ص ٩٢ و سیرت ابن ہشام، جلد ٢، ص ٦٢، ٦٣ (تلخیص کے ساتھ))۔ بہت سے مفسرین نے اسی قسم کے شانِ نزول سورہ جن کے آغاز میں بھی نقل کیے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور شانِ نزول بھی بیان کی گئی ہے، جو ان سب سے مختلف ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے "عبداللہ بن مسعود" سے پوچھا: کیا تم اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں سے، کوئی شخص "جن" والی رات کے واقعہ میں، پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں تھا، اس نے کہا، کہ ہم میں سے کوئی نہیں تھا، ہم نے ایک رات مکہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو نہ پایا، اور جس قدر ہم جستجو اور تلاش کی، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا کوئی پتہ نہ چلا۔ ہم ڈرے کہ کہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دشمنوں نے قتل نہ کر دیا ہو، ہم پیغمبرؐ کو تلاش کرتے ہوئے مکہ کے درّوں کی طرف گئے۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ آپؐ کوہ "حرا" کی طرف سے آ رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا، اے رسولِ خداؐ آپ کہاں تھے؟ ہم سخت پریشان تھے اور کل رات ہماری زندگی کی بدترین رات تھی، آپؐ نے فرمایا: جنوں کی طرف ایک دعوت کرنے والا میرے پاس آیا تھا اور میں ان کے لیے قرآن پڑھنے کے لیے گیا تھا۔
تفسیر ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے
اب جو کچھ بیان ہو چکا، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے، آیات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔ پہلی آیات میں فرماتا ہے: "کہہ دیجیے کہ میری طرف وحی ہوئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری باتوں کو کان لگا کر سنا، تو انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔" (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا)۔ (تشریحی نوٹ: ارباب لغت، و تفسیر کے قول کے مطابق "نفر" ٣ سے ٩ افراد تک کو کہا جاتا ہے)۔ "اوحی الیّ" (میری طرف وحی کی گئی ہے) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پیغمبر نے بذاتِ خود اس واقعہ میں جنوں کو مشاہدہ نہیں کیا تھا، بلکہ آپ وحی کے ذریعے آگاہ ہوئے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید کو کان دھر کے سُنا ہے۔ ضمنی طور پر آیت، اچھی طرح سے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گروہ "جن" صاحبانِ عقل و شعور، فہم و ادراک والے اور تکلیف و مسئولیت کے حامی ہیں، اور زبان سے آشنائی اور اعجاز آمیز کلام میں فرق کو سمجھتے ہیں، اور اسی طرح سے خود کو تبلیغ حق کا ذمہ دار جانتے ہیں اور قرآن کے خطاب کے مخاطب بھی ہیں۔ یہ اس زندہ نظر آنے والے موجود کی خصوصیات کا ایک حصہ ہے، جو صرف اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے، ان کی کچھ اور خصوصیات بھی ہیں، جنھیں ہم انشاءاللہ اسی بحث کی آخر میں تفصیل سے بیان کریں گے۔ انھیں اس بات کا حق تھا کہ وہ قرآن کو عجیب بات شمار کریں، کیونکہ اس کا لب و لہجہ اور طرز و آہنگ بھی عجیب ہے اور اس کا نفوذ کرنا اور قوت جاذبہ بھی۔ اس کے مضمون و مطالب اور اس کی تاثیر بھی عجیب ہے اور اس کا لانے والا بھی کہ جس نے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور وہ احیین میں سے معبوث تھا۔ یہ ایک ایسا کلام ہے جو ظاہر و باطن میں عجیب ہے اور ہر دوسری گفتگو سے مختلف ہے اور اس طرح سے انھوں نے قرآن کے معجزہ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ انھوں نے اس جملہ کے بعد کچھ اور باتیں بھی اپنی قوم سے کہیں، جنھیں قرآن نے بعد والی آیات میں بارہ جملوں میں بیان کیا ہے، جن میں سے ہر ایک "انۤ" کے ساتھ شروع ہوتا ہے، جو تاکید کی نشانی ہے۔ (تشریحی نوٹ: "علماء نحو کے درمیان مشہور یہ ہے کہ "ان" جب مقول قول میں ہو تو اسے زیر کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے اور اوپر والی آیات میں پہلے مرحلہ میں تو زیر کے ساتھ ہے، لیکن بعد والی آیات میں جن کا اس پر عطف ہے زبر کے ساتھ ہے۔ اس لیے بہت سے مفسرین اس بات پر مجبور ہوئے ہیں کہ ان آیات میں مقدرات فرض کریں یا کچھ اور توجیہیں کریں، لیکن اس بات میں کیا حرج ہے کہ ہم یہ کہیں یہ نحوی قاعدہ استشناء بھی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جن موارد میں مقول قول پر عطف ہو تو جائز ہے کے اسے زبر کے ساتھ پڑھا جائے اور اس کی دلیل اس سُورہ کی آیات ہیں)۔ پہلے فرماتا ہے: انھوں نے کہا: "یہ قرآن سب کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے، لہذا ہم ایمان لے آئے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیتے۔ "(يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا)۔ "رشد" کی تعبیر بہت وسع اور ایک جامع تعیر ہے، جو ہر قسم کا امتیاز اپنے اندر لیے ہوئے ہے، ایک ایسا صاف ستھرا راستہ ہے جس میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے، روشن اور واضح جو طے کرنیوالوں کو سعادت و کمال کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ ایمان کے اظہار اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے بعد، انھوں نے صفات خدا کے بارے میں اپنی گفتگو کو اس طرح جاری رکھا: "ہمارے پروردگار کا باعظمت مقام (مخلوق کے ساتھ مشابہت اور ہر قسم کے عیب و نقص سے) بلند ہے اور اس نے اپنے لیے بیوی اور اولاد کا ہرگز انتخاب نہیں کیا"۔ (وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا)۔ "جدّ" کے لغت میں بہت سے معانی ہیں منجملہ ان کے "عظمت"، "شدت"، "جدیت"، "حصہ و نصیب"، "نیا ہونا" اور اس کے مانند لیکن اس کا اصلی ریشہ اور جڑ، جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں نقل کیا ہے۔ "قطع" کے معنی میں ہے اور چونکہ ہر باعظمت وجد دوسرے موجودات سے قطع اور جدا ہو جاتا ہے، لہذا یہ لفظ عظمت کے معنی میں آیا ہے۔ اسی طرح اس کے باقی معانی کے بارے میں اسی تناسب کو نظر میں رکھا جا سکتا ہے اور اگر دادا یا نانا کو جد کہا جاتا ہے تو وہ بھی اس کی بزرگی مقام اور سن کے واسطہ سے ہے۔ بہت سے مفسرین نے یہاں "جد" کے بہت ہی محدود معانی ذکر کیے ہیں۔ بعض نے اس کی "صفات" کے معنی میں، اور بعض نے "قدرت" کے معنی، میں، بعض نے "ملک و حکومت" کے معنی میں، بعض نے "نعمت" کے معنی میں اور بعض نے "نام" معنی میں تفسیر کی ہے، جو سب کے سب عظمت کے معنی میں جمع ہیں۔ لیکن چونکہ یہ تعبیر "جدّ" کے مشہور معنی، جو وہی "دادا " اور "نانا" کا اظہار کرتی ہے۔ اس لیے بعض رویات میں یہ آیا ہے کہ گروہ جن نادانی کی بناء پر اس قسم کی غیر مناسب تعبیر کو انتخاب کیا یعنی تم لوگ خدا کے بارے میں ہرگز اس قسم کی تعبیر نہ کرو۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص ٣٦٨ و"نور الثقین" جلد ٥، ص ٤٣٥ تفسیر "علی بن ابراہیم" میں اس تعبیر کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔ یہ حدیث ممکن ہے ایسے مواقع کے لیے ہو، جہاں اس قسم کا اظہار ہوتا ہو، ورنہ قرآن ان آیات میں، جنوں کی باتوں کو موافق لب و لہجہ میں نقل کرتا ہے اور انھیں صحح و درست سمجھتا ہے۔ علاوہ ازیں نہج البلاغہ کے بعض خطبوں میں بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ جیسا کہ خطبہ ١٩١ میں آیا ہے۔ الحمدللہ الفاشی فی الخلق حمدہ والغالب جندہ و المتعالی جدّہ "حمد و ستائش اس خدا کے لیے مخصوص ہے، جس کی حمد و ثناء نے ہر جگہ کو گھیر رکھا ہےاور اس کا لشکر ہر جگہ کامیاب ہے اور اس کی مجد و عظمت بلند ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ "انس بن مالک" کہتے ہیں:- کان الرجل اذا اقرء سورۃ البقرۃ جد فی اعیننا جب کوئی شخص سورہ بقرہ کو یاد کر لیتا تھا اور اس کی قراءت کیا کرتا تھا، تو وہ ہماری نظر میں بزرگ اور باعظمت دکھائی دیتا تھا۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ١٠، ص ١، ٦٨)۔ بہرحال، مجدد بزرگی و عظنت کے معنی ہیں اس لفظ کا استعمال ایک ایسا مطلب ہے جو متون لغت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور موارد استعمال کے ساتھ بھی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان باتوں کے کہنے والے "جن" یہاں خصوصیت کے ساتھ اس مطلب پر تکیہ کرتے ہیں کہ خدا کی بیوی اور اولاد نہیں ہے اور احتمال یہ ہےکہ یہ تعبیر اس بےہودگی کی طرف اشارہ ہو جو عربوں میں موجود تھی، جو یہ کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، "ایک جن" بیوی سے، جسے خدا نے انتخاب کیا ہے۔ یہی معنی ایک احتمال کی عنوان سے سورہ صافات کی آیہ ١٥٨ کی تفسیر میں بھی آیہ ہے "وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسباً" "وہ خدا اور جنوں کے درمیان رشتہ داری کے قائل تھے"۔ اس کے بعد انھوں نے مزید کہا: "اب ہم اعتراف کرتے ہیں ہم میں سے کچھ بےوقوف لوگ خدا کے بارے میں ناروا اور حق سے دور بات کیا کرتے تھے"۔ (وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا)۔ یہاں ممکن ہے "سفیہ" کی تعبیر جنسی اور جمع کے معنی میں ہو، یعنی ہمارے سفہاء اور بےوقوف لوگ خدا کے بیوی اور اولاد کے قائل تھے، اور انھوں نے شبیہ و شریک بنا لیا تھا اور راہِ حق سے منحرف ہو کر فضول اور بےہودہ باتیں کہا کرتے تھے۔ بہت سے مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں "سفیہ" کا مفہوم وہی ایک فرد ہے اور ابلیس کی طرف اشارہ ہے جو خدا کے فرمان کی مخالفت کرنے کے بعد، اس کی ساحت مقدس کی طرف بہت سی ناروا نسبتیں دیں، یہاں تک کہ اس نےآدمؑ کے سجدہ کے بارے میں، پروردگار کے حکم پر علی الاعلان اعتراض کیا، اور اسے حکمت سے دُور سمجھا، اور اپنے آپ کو آدمؑ سے افضل و برتر خیال کیا۔ چونکہ "ابلیس"، "جن" تھا۔ لہذا مومنین جن اس سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس کی بات کو فضول اور حق سے دور کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ ظاہرًا عالم و عابد تھا۔ لیکن عالم بےعمل اور عابد خود خواہ و منحرف و مغرور، "سفیہ" کے واضح مصادیق میں سے ہے۔ "شطط" (بر وزن وسط) حدِّ اعتدال سے خارج ہو کر دور جا پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس لیے وہ باتیں جو حق سے دور ہوں انھیں شطط کہا جاتا ہے اور اسی لیے ان بڑے دریاؤں کے کناروں کو جن کا فاصلہ پانی زیادہ دور ہو اور اس دیواریں بلند ہوں "شط" کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مزید کہا: "ہم یہ گمان کیا کرتے تھے کہ جن اور انسان ہرگز خدا پر جھوٹ نہیں باندھیں گے " (وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا)۔ ان کی یہ بات ممکن ہے اس اندھی تقلید کی طرف اشارہ ہو جو یہ گروہ اس سے پہلے دوسروں کی کیا کرتا تھا اور اس بناء پر وہ خدا کا شریک بناتے تھے اور اس کے لیے بیوی اور اولاد کے قائل تھے، لہذا وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ان مسائل کو دوسروں سے بغیر کسی دلیل کے قبول کر لیا تھا تو وہ غلط فہمی کی بناء پر تھا۔ ہمیں یہ خیال ہی نہیں آیا کہ انسان اور جن اتنی جراءت کریں گے کہ اتنا بڑا جھوٹ خدا پر باندھیں گے، لیکن اب جبکہ ہم نے اس بات کی تحقیق کر لی ہے اور حق کو معلوم کر لیا ہے اور اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ لہذا ہم اب اس ناروا تقلید کو غلط سمجھتے ہیں، اور اس طرح اپنی غلطی اور مشرکین جن کے انحراف کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: جنوں اور انسانوں کے انحرافات میں سے ایک یہ تھا کہ "انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ کی پناہ لیا کرتے تھے۔ اور وہ ان کی گمراہی، گناہ اور طغیان و سرکشی کی زیادتی کا سبب بنتے تھے"۔ (وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا)۔ "رھق" (بر وزن شفق) اصل میں کسی چیز کو قہر و غلبہ کے ذریعے چھپانے کے معنی میں ہے اور چونکہ گمراہی، گناہ، طغیان اور خوف انسان کے قلب و روح پر مسلّط ہو جاتے ہیں اور اس کو چھپا لیتے ہیں۔ اس لئے ان کا ان معانی پر اطلاق ہوا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس جملہ کو ایک دوسری بیہودہ اور فضول بات کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو زمانہ جاہلیت میں موجود تھی اور وہ یہ تھی کہ جب عربوں کے قافلے رات کے وقت کسی درّہ میں داخل ہوتے تھے۔ تو یہ کہا کرتے تھے۔ اعوذ بعزیز ھٰذا الوادی من شرّ سفھاء قومہ! "میں اس سر زمین کے بزرگ و رئیس کی ــــــــــ اس کی قوم کے......؟ اور بےوقوفوں کے شر سے ــــــــــــــــ پناہ مانگتا ہوں"۔ اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس بات کے کہنے سے جنوں کا بزرگ اور رئیس، ان کی نادان اور بیوقوف جنوں کے شر سے حفاظت کرے گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ١٠، ص ٣٦٩ و "روح المعانی" جلد ٢٨، ص ٨٥)۔ اور چونکہ خرافات اور بہیودہ باتوں سے انحطاط فکری خوف اور گمراہی بڑھتی ہے لہذا آیت کے آخر میں "فَزَادُوهُمْ رَهَقًا" کا جملہ آیا ہے۔ ضمنی طور پر اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی مرد اور عورتیں ہوتی ہیں، کیونکہ اس میں "رجال من الجن" کی تعبیر آئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت کی تفسیر میں ایک اور بیان بھی آیا ہے جسے مفسرین کے ایک گروہ نے ایک احتمال کے عنوان سے آیت کی تفسیر میں ذکر کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کی جماعت کا جنوں کی طرف پناہ حاصل کرنا، جنوں کے طغیان کا سبب بنا اور انھوں نے خود کو اہم کاموں کا مبداء و منشاء خیال کر لیا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صیحح نظر آتی ہے۔ (پہلی تفسیر کے مطابق "زادوا" میں ضمیر "جن" کی طرف لوٹتی ہے اور "ھم" کی ضمیر انسانوں کی طرف، دوسری تفسیر کے برعکس)۔ لیکن آیت کا مفہوم بہرحال ایک وسیع مفہوم ہے، جو انسانوں کی جنوں سے ہر قسم کی پناہ لینے کو شامل ہے اور اوپر والی فضول اور بیہودہ بات اس کا ایک مصداق ہے، کیونکہ ہم جانتےہیں کہ عربوں کے درمیان کاہن بہت تھے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ جنوں کے ایک گروہ کے ذریعہ بہت سی مشکلات کو حل کرتے ہیں آنے والے واقعات کی خبر دیتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم پہلے چوری چھپے سن لیا کرتے تھے لیکن ...
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیات اسی طرح سے "جنّات مومنین" کے بیان کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اپنی قوم کو تبلیغ کرتے وقت بیان کر رہے تھے، اور مختلف طریقوں سے انھیں اسلام اور قرآن کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ پہلے کہتے تھے: "انسانوں کا ایک گروہ، تمھاری طرح ہی یہ گمان کرتا تھا، کہ خدا کسی بھی انسان کو (موسٰیؑ و مسیحؑ کے بعد) نبوت کے ساتھ مبعوث نہیں کرے گا"۔ (وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا)۔ لہذا وہ قرآن کے انکار اور پیغمبرِ اسلامؐ کی نبوت کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکبن ہم نے جب غور سے اس کتاب آسمانی کی آیات کو سنا، تو ہم نے اس کی حقانیت کا واضح طور پر ادراک کر لیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی مشرک انسانوں کی طرح کافر ہو جاؤ اور انھیں جیسی سرنوشت میں گرفتار ہو جاؤ۔ یہ تعبیر مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ہو جان لیں کہ جب جنوں کی منطق یہ ہے اور ان کا فیصلہ یہ ہے تو پھر وہ بیدار ہو جائیں اور قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کے دامن سے متمسک ہو جائیں۔ بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ "ان لن یبعث اللہ احدًا" کا جملہ معاد کے انکار کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ پیغمبر کی بعثت کے انکار کی طرف، اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت کلی طور پر خدا کا کلام ہے، نہ کہ مومنین "جن" کا اور یہ جملہ ہا کے معترضہ کی صورت میں ان کی باتوں کے درمیان آیا ہے اور اس میں مخاطبِ مشرکین عرب ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا کہ اے مشرکین عرب جن بھی تمھاری طرح ہی اس طرح کا گمان رکھتے تھے کہ خدا اب کسی بھی رسول کو معبوث نہیں کرے گا۔ لیکن قرآن کو سننے کے بعد وہ اپنی غلطی کو سمجھ گئے۔ لہذا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تم بھی بیدار ہو جاؤ۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ جن مومنین کی گفتگو ہی چل رہی ہے اور اس میں "کافرین جن" مخاطب ہیں۔ اس کے بعد مومنین جن، اپنی گفتگو کی صداقت کی ایک نشانی کی طرف ــــــــ جو عالمِ طبیعت میں تمام جنوں کے لیے قابل ادراک ہےــــــــــ اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم نے آسمانوں میں جستجو کی، تو ہم نے ان سب کو نگہبانوں اور قوی محافظوں اور شہاب کے تیروں سے بھرپور پایا"۔ (وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا)۔ (تشریحی نوٹ: ١۔ "لمسنا"، "لمس" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی مشہور ہے، لیکن یہاں طلب و جستجو سے کنایہ ہے (مفرادات راغب و تفسیر کبیر فخر رازی اور تفسیر قرطبی)۔ (تشریحی نوٹ: ٢۔ "حرس" (بر وزن قفس) جمع ہے "حارس" کی جو نگہبان کے معنی میں ہے اور بعض اس کو اسم جمع سمجھتے ہیں)۔ ہم اس پہلے چوری چھپے باتیں سننے کے لیے آسمانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے اور وہاں سے کچھ خبریں معلوم کر لیا کرتے تھے۔ اور اپنے دوستوں کو ان کی اطلاع دے دیا کرتے تھے، لیکن اب معاملہ ایسا ہو گیا ہے کہ اگر کوئی چوری چھپے کچھ سننا چاہتا ہے تو وہ اپنی گھات میں ایک شہاب کو پاتا ہے جو اس کو نشانہ بنا لیتا ہے"۔ (وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا)۔ تو کیا یہ نئی وضح و کیفیت اس حقیقت کی دلیل نہیں ہے کہ اس پیمغبر کے ظہور اور اس کی کتاب آسمانی کے نزول سے عالم میں ایک عظیم تغیر پیدا ہو گیا ہے؟ آخر پہلے تم میں چوری چھپے سننے کی طاقت کیوں تھی اور اب تم میں سے کوئی بھی اس کام پر قدرت کیوں نہیں رکھتا؟ کیا اس وضح جدید اور نئی کیفیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ شیطنت، کہانت اور مکر و فریب کا دور ختم ہو گیا ہے اور جہالت کی تاریک رات ڈھل گئی ہے اور وحی و نبوت کا آفتابِ عالم تاب طلوع ہو گیا ہے۔ "شھاب" اصل میں اس شعلہ کے معنی میں ہے جو آگ میں سے بھڑک کر نکلتا ہے اور اس اتشبن شعلہ کو بھی جو ایک لمبے خط صورت میں ظاہر ہوتا ہے "شہاب" کہتے ہیں۔ موجودہ دور کے ماہرین کی تحقیقات کے مطابق وہ پتھروں کے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں، جو کرّہ زمین سے باہر کی فضا میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں، جب وہ زمین کے قریب آتے ہیں تو اس کی قوت کشش کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں، اور تیزی کے ساتھ زمین کی طرف گرتے ہیں، جب وہ فضا یعنی زمین کے گردا گرد پھیلی ہوئی تہہ بہ تہہ ہوا میں داخل ہوتے ہیں، تو اس کے ساتھ شدید ٹکراؤ کی وجہ سے جل کر آگ بن جاتے ہیں، اور جلانے والے شعلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور آخرکار ان کی راکھ زمین پر آ گرتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ مسئلہ بارہا بیان ہوا ہے کہ "شھاب" وہ تیر ہیں جو ان شیاطین کی طرف، جو چوری چھپے باتیں سننے کا ارادہ کرتے ہیں، پھینکے جاتےہیں۔ اس بارے میں کہ چوری چھپے سننے سے مراد کیا ہے؟ اور جن اور شیاطین آسمان سے کس طرح بھگائے جاتے ہیں؟ ہم نے سورہ حجر کی آیہ ١٨کے ذیل میں (جلد ٦، ص ١٤٤ کے بعد) اور سُورہ صافات کی آیہ ١٠ کے ذیل میں (جلد ١٠، ص ٤٥٠ کے بعد) تفصیلی مباحث پیش کیے ہیں۔ بہرحال، لفظ "رصد" (بر وزن حسد) کسی چیز کے انتظار میں آمادگی کے معنی میں ہے، جسے فارسی (اور اُردو) میں "گھات لگا کر بیٹھنے" سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ لفظ بعض اوقات اسم فاعل کے معنی استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ چیز یا وہ شخص جو گھات لگا کر بیٹھا ہو اور اوپر والی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مزید کہا ان اوضاع و حالات میں ہم نہیں جانتے، کہ کیا چوری چھپے سننے کی ممنوعیت اس بات کی دلیل ہے کہ زمین پر رہنے والے لوگوں کے لیے شر اور برائی کا ارادہ ہوا ہے، یا خدا یہ چاہتا ہے کہ انھیں اس طریقہ سے ہدایت کرے۔" (وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا)۔ دوسرے لفظوں میں ہم نہیں جانتے کہ کیا امر خدا کی طرف سے نزولِ عذاب والا کا مقدمہ ہے یا ان کی ہدایت کی تمہید ہے۔ لیکن مومنین جن کو اصولی طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چوری چھپے سننے کی ممانعت، جو پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کے قریب ہوئی ہے، انسانوں کی ہدایت کا مقدمہ ہے اور کہانت کے اداروں اور اسی جیسی خرافات کے ختم ہونے کی تمہید ہے، اور یہ چیز تاریکی کے دور کے ختم ہونے، اور ایک نورانی اور روشن دور کے آغاز کے علان کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتی۔ لیکن چونکہ "جن" چوری چھپے سننے کے مسئلہ سے ایک خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ لہذا وہ بھی یہ باور نہیں کر سکتے تھے کہ یہ محرومیت ایک قسم کی خیر و برکت ہے۔ ورنہ یہ بات واضح ہے کہ زمانہ جاہلیت کے کاہن اسی چوری چھپے سننے کے مسئلہ پر تکیہ کرتے ہوئے، لوگوں ایک ایک بہت بڑے حصہ کو گمراہ کیا کرتے تھے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ اس جملہ میں ہدایت کی نسبت تو خدا کی طرف کر دیتے ہیں، لیکن شر کو فعلِ مجہول کی صورت میں، خدا کی طرف نسبت دیے بغیر ذکر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ آتا ہے وہ خیر و ہدایت ہوتی ہے۔ لیکن شر و فساد خود لوگوں کی طرف سے اور خدا کی نعمتوں اور مواہبِ آفرینش کے سواءِ استفادہ سے پیدا ہوتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم نے حق کو سنا اور سر تسلیم خم کر لیا
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیات اسی طرح جن مومنین کی باتوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی وہ باتیں جو انھوں نے اپنہ گمراہ قوم کو تبلیغ کرتے وقت کہی تھیں۔ پہلی آیت میں ان کی زبانی کہتا ہے: "ہمارے درمیان صالح اور غیر صالح افراد ہیں اور ہم میں مختلف گروہ ہیں۔" (وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا)۔ احتمال یہ ہے کہ انھوں نے اس جملہ کو اس لیے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ "ابلیس" کا قبیلہ "جن" میں سے ہونا، ان میں سے ایک گروہ کے دل میں یہ تو ہم پیدا نہ کر دے، کہ جن کی طبعیت اور مزاج شر اور فساد، شیطنت پر ہے اور نور ہدایت ان کے دل میں ہرگز نہیں چمکتا۔ مومنین جن اس گفتگو سے یہ واضح کر رہے ہیں کہ اصل اختیار اور آزادی ارادہ ان پر بھی حکم فرما ہے، اور صالح اور غیر صالح دونوں قسم کے افراد ان میں موجود ہیں۔ اس بناء پر ہدایت کی استعداد ان میں بھی موجود ہے اور اصولی طور پر تبلیغ کی تاثیر کے عوامل میں سے ایک طرف مقابل کی شخصیت کو اجاگر کر کے، اسے ہدایت و کمال کی استعداد کے موجود ہونے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جن مومنین نے، چوری چھپے سننے کے مسئلہ سے، سوءِ استفادہ کے موضوع سے، براءت کے لیے کہی ہو۔ یعنی اگرچہ ہم میں سے بعض، وہ اخبار جو وہ چوری چھپے سنا کرتے تھے، انھین شریر انسانوں کے پاس پہنچا کر گمراہی کا سبب بنے تھے۔ لیکن ہم میں سے تمام جن ایسے نہیں تھے۔ یہ آیت ضمنی طور پر جنوں کے بارے میں ہم انسانوں کی ذہنیتوں کی بھی اصلاح کرتی ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کے تصور میں لفظ "جن" شیطنت، فساد اور گمراہی کی ایک قسم کے ساتھ ہے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ وہ بھی مختلف گروہ ہیں، صالح اور غیر صالح۔ لفظ "قدر" (بر وزن پسر) "قد" (بر وزن ضد) کی جمع ہے۔ جس کا معنی کٹا ہوا کے ہیں۔ اور مختلف گروہوں پر بھی۔ چونکہ وہ ایک دوسرے سے الگ الگ ٹکڑوں میں ہوتے ہیں۔ اس کا اظلاق ہوتا ہے۔ جن مومنیں اپنی باتوں کو جاری رکھتے ہوئے دوسروں کو خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہمیں یقین ہیں کہ ہم زمین میں خدا کے ارادہ پر ہرگز غالب نہیں آ سکتے، اور نہ ہی اس کےپنجۂ قدرت سے فرار کر سکتے ہیں۔" (وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا)۔ اس بناء پر، اگر تمھارا یہ خیال ہو کہ تم خدا کے عذاب سے بھاگ کر زمین کے کسی گوشہ میں یا آسمانوں کے کسی مقام میں نجات پا جاؤ گے، تو تم سخت غلط فہمی میں مبتلا ہو۔ اس طرح سے پہلا جملہ تو زمین میں خدا کے پنجہۂ قدرت سے فرار کرنے کے لیے اور دوسرا جملہ مطلق فرار کرنے کی طرف اشارہ ہے، عام اس سے کہ وہ زمین میں ہو یا آسمان میں۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ پہلا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم خدا پر غالب نہیں آ سکتے، اور دوسرا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے پنجۂ عدالت سے فرار ممکن نہیں ہے۔ لہذا اس بناء پر کہ نہ تو غلبہ کی کوئی راہ پے نہ ہی بھاگنے کی، تو پھر اس کی فرمان عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جن مومنین اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم نے جب قرآن کی ہدایت کو سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے"۔ (وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَى آمَنَّا بِهِ)۔ اور اگر ہم تمھیں قرآن کی ہدایت کی طرف بلاتے ہیں تو ہم نے خود پہلے اس پروگرام پر عمل کیا ہے۔ اس بناء پر ہم دوسروں کو کسی ایسی چیز کی دعوت نہیں دے رہے ہیں، جسے ہم نے خود چھوڑ رکھا ہو۔ اس کے بعد ایمان کے نتیجہ کو ایک مختصر سے جملہ میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اسے نہ تو نقصان کا کوئی ڈر ہے اور نہ ہی ظلم سے"۔ (فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا)۔ "بخس" (بر وزن شخص) ظلم و ستم کے ذریعہ نقصان کے معنی میں ہے اور "رھق" (بر وزن شفق)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں: "کسی چیز کے زور کے ساتھ چھپانے" کے معنی میں ہے۔ بعض نے ان دو تعبیروں کے درمیان فرق کو اس طرح بیان کیا ہے کہ "یخس" تو اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ ان کی "حسنات" اور نیکیوں میں سے کسی چیز میں کمی کی جائے اور "رھق" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے "سیئات" اور برائیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ بعض نے "نجس" کو "حسنات" کی کمی اور "رھق" کو "تکالیفِ شاقہ" کے معنی میں لیا ہے۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ مومنین جس چھوٹے اور بڑے کام کو انجام دیں گے، وہ اس کا اجر و ثواب، بے کم و کاست حاصل کریں گے۔ یہ درست ہے کہ پروردگار کی عدالت مومنین پر منحصر نہیں ہے، لیکن چونکہ غیر مومن کوئی عمل صالح رکھتے ہی نہیں، اس لئے ان کے اجر کی بات درمیان میں نہیں آئی۔ بعد والی آیت میں مومنوں اور کافروں کی سرنوشت کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لیے کہتا ہے: "ہم قرآن کی ہدایت کے ذریعہ یہ جانتے ہیں کہ ہم میں سے ایک گروہ مسلمان ہے اور ایک گروہ ظالم و بیداد گر ہے۔" (وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ)۔ (تشریحی نوٹؒ "قاسط"، "قسط" کے مادہ سے عادلانہ تقسیم کے معنی میں ہے۔ یہ مادہ جب باب "افعال" کی صورت میں "اقساط" آئے تو اجرائے عدالت کے معنی میں ہے اور جب ثلاثی مجرد کی صورت میں استعمال ہو۔ (مثلاً اوپر والی آیت) تو پھر ظلم اور راہِ حق سے انحراف کے معنی میں ہوتا ہے)۔ لیکن جو اسلام کو اختیار کر لیں تو انھوں نے راہِ راست کو انتخاب کیا ہے اور خدا کی ہدایت اور ثواب کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ (فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُوْلَئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا)۔ (تشریحی نوٹ: "تحروا"، "تحری" کے مادہ سے کسی چیز کا قصد کرنے کے معنی میں ہے)۔ "باقی رہےظالم تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں"۔ (وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان آیات میں "مسلم"، "ظالم" کے مقابلہ میں آیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو جو چیز ظلم سے باز رکھتی ہے وہ ایمان ہی ہے۔ ورنہ ایک بےایمان فرد تو بہرحال ظلم و ستم میں آلودہ ہو گا ہی، اور ضمنی طور پر بتاتا ہے کہ واقعی مومن وہ ہے جو ظلم و ستم سے ہرگز آلودہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: المؤمن من اٰمنہ الناس علی انفسھم وامولھم "مومن وہ ہے کہ لوگ جس کی طرف سے اپنی جان و مال کے سلسلہ میں امان میں رہیں"۔ (بحوالہ: تفسیر "روح البیان" جلد ١٠، ص ١٩٥)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ "مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان آسودہ رہیں"۔ (بحوالہ: "اصول کافی"، جلد ٢۔ باب المومن و علاماتہ و صفاتہ)۔ "تحروارشدًا" کی تعبیر بتاتی ہے کہ مومنین، توجہ، قصد و اردہ اور تحقیق کے ساتھ ہدایت خاصل کرتے ہیں، آنکھیں بند کر کے اندھی تقلید کے طور پر نہیں، اور ان کا بالا ترین اجر حقیقت کو پا لینا ہی ہے، جس کے زیر سایہ وہ خدا کی تمام نعمتوں کو حاصل کرتے ہیں جبکہ ستم گروں کی بدترین بدبختی یہ ہے کہ وہ دوزخ کا ایندھن ہیں یعنی آگ ان کے وجود کے اندر سے شعلہ ور ہو گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم تمھیں ان فراواں نعمتوں کے ذریعے آزمائیں گے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیات ظاہرًا جن مومنین کی اپنی قوم سے گفتگو کو جاری رکھے ہوئے ہیں (اگرچہ کچھ مفسرین نے اسے خدا کا کلام سمجھا، جو جملہ معترضہ کے طور پر جنوں کی گفتگو کے درمیان آیا ہے)۔ لیکن چونکہ اس کا جملہ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے اور آیات کی تعبیر گزشتہ آیات کے لب و لہجہ سے زیادہ مشابہ ہے، جو جن مومنین کی گفتگو تھی، لہذا اس کا جنوں کا کلام نہ ہونا بعید ہے۔ (تشیریحی نوٹ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنہا وہ چیز جو اس بات کا سبب بنی ہے کہ مفسرین کا یہ گروہ اس خدا کا کلام اور جملہ معترضہ سمجھیں "متکلم مع الغیر" کی ضمیریں ہیں جو ان آیات میں استعمال ہوئیں ہیں، ایک جگہ کہتا ہے کہ ہم انھیں فراواں پانی سے سیراب کریں گے اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ: ہدف و مقصد یہ ہے کہ ہم انھیں آزمائیں گے۔ لیکن اگر ہم ان تعبیروں کو نقل بالمعنی جان لیں تو پھر کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی، یہ ٹھیک اس بات کے مشابہ ہے کہ کوئی اپنے دوست سے نقل کرے اور کہے کہ: فلاں آدمی کا عقیدہ یہ ہے کہ میں اچھا آدمی ہوں۔ البتہ اس نے لفظ "میں" استعمال نہیں کیا۔ بلکہ اس نے "وہ" کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن کہنے والا اس قسم کی تعبیر استعمال کرتا ہے)۔ بہرحال، گزشتہ آیات میں، قیامت میں مومنین کے لیے اجر و ثواب کے بارے میں گفتگو تھی، اور ان آیات میں ان کے دنیاوی اجر و ثواب کی گفتگو ہے: فرماتا ہے: "اگر وہ (جن و انس) ایمان کے طریقہ پر استقامت کریں، تو ہم انھیں فراواں پانی سے سیراب کریں۔" (وَأَلَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا)۔ ہم ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کریں گے، اور حیات بخش پانی کے منابع اور چشمے ان کے اختیار میں دے دیں گے اور جہاں پانی کی فروانی ہوتی ہے، وہاں پر ہر چیز کی فروانی ہوتی ہے۔ لہذا اس طرح سے ہم نے انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازیں گے۔ "غدق" (بر وزن شفق) فراواں پانی کے معنی میں ہے۔ قرآنِ مجید نے اس مطلب پر کئی بار تکیہ کیا ہے، کہ "ایمان و تقوٰی" نہ صرف معنوی برکات کا سرچشمہ ہیں، بلکہ مادی ارزاق کی زیادتی، نعمتوں کی کثرت، آبادی و عمران و مادی برکت کی زیادتی کا موجب بھی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم ایک تفصیلی بحث، جلد ١٤ میں سورہ نوحؑ کی آیہ ١٢ کے ذیل میں "ایمان و تقوٰی کا عمران و آبادی سے رابطہ" کے عنوان کے تحت کر چکے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بیان کے مطابق، وہ چیز جو نعمت کی زیادتی کا سبب بنتی ہے، ایمان پر استقامت ہے، نہ کہ اصل ایمان کیونکہ وقتی اور جلدی گزر جانے والے ایمان سے اس قسم کی برکات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لہذا اہم چیز ایمان، تقوٰی پر استقامت ہے، جس میں بہت سوں کے پاؤں لنگ کرنے لگتے ہیں اور لرزاں ہو جاتے ہیں۔ بعد والی آیت میں اسی سلسلہ میں ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "مقصد یہ ہے کہ ہم انھیں دفورِ نعمت کے ذریعہ آزمائیں"۔ (لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ)۔ آیا نعمت کی زیادتی ان کے غرور کا سبب بنتی ہے یا بیداری، شکر گزاری اور خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کا سبب ہوتی ہے۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدائی امتحان کے اسباب میں سے ایک دفورِ نعمت ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ نعمت کے ذریعہ جو آزمائش ہوتی ہے، وہ عذاب کے ذریعہ ہونے والی آزمائش سے زیادہ سخت اور زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نعمت کی زیادتی کا مزاج، سستی، کاہلی، غفلت اور لذائز و شہوات میں غرق ہوتا ہے، اور یہ ٹھیک ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے، اور میدان کو شیطان کی فعالیت کے لیے آمادہ کر دیتی ہے، صرف وہی لوگ وفورِ نعمت کی زیادتی کے غیر مطلوب عوارض سے امان میں رہ سکتے ہیں، جو ہمشہ خدا کی یاد میں رہیں اور اس کے ذکر کو فراموش نہ کریں اور دائمی یاد کے ذریعہ خانۂ دل کو شیاطین کے نفوز سے محفوظ رکھیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ اوپر والی آیت میں "طریقہ" سے مراد ہی کفر کی راہ ہے، اور اس راہ میں استقامت کے بعد نعمت میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ حقیقت میں عذاب کا ایک مقدمہ اور نعمت میں استدراج کا مصداق ہوتا ہے، لیکن یہ تفسیر زیرِ بحث آیت اور اس سے قبل و بعد کی آیات کے لب و لہجہ سے بالکل مناسبت نہیں رکھتی)۔ لہذا اس کے بعد مزید کہتا ہے: "جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے روگردانی کرے گا، تو وہ اسے شدید اور روزافزوں عذاب میں گرفتار کر دےگا۔" (مَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا)۔ "صعد" (بر وزن سفر) صعود کرنے اور اوپر جانے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات "گھاٹی" کے معنی میں آتا ہے اور چونکہ گاٹیوں سے اوپر جانے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ اس لیے یہ لفظ "مشقت اٹھانے والوں کاموں" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لہذا بہت سے مفسرین نے اوپر والی آیت کی اسی طرح تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد "مشقت والا عذاب" ہے۔ اس کے مشابہ جو سُورہ مدثر کی آیہ ١٧ میں آیا ہے، جس میں بعض مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے: "سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا" ۔ "میں اسے مشقت والے عذاب سے ڈھانپ لوں گا"۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اوپر والی تعبیر، اس عذاب کے مشقت بار ہونے کے ضمن میں، اس کے روز افزوں ہونے کی طرف بھی اشارہ ہو۔ اس طرح اوپر والی آیات ایک طرف تو ایمان و تقوٰی کا، زیادتی نعمت سے تعلق بیان کرتی ہے، اور دوسری طرف نعمت کی زیادتی کا، خدا کی آزمائشات کے ساتھ تعلق بیان کرتی ہیں اور تیسری طرف خدا کی یاد سے روگردانی کا سخت ترین اور روز افزوں عذاب سے تعلق ظاہر کرتی ہیں، اور یہ ایسے حقائق ہیں، جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے۔ جیسا کہ سورہ طہٰ کی آیہ ١٢٤ میں آیا ہے: وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا: "جو شخص میری یاد سے روگرانی کرے گا تو اس کی زندگی تنگ اور سخت ہو جائے گی۔ اور سورہ نمل کی آیہ ٤٠ میں حضرت سلیمانؑ کی زبانی بیان ہوا ہے: هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ "یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، وہ مجھے آزمانا چاہتا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا رہوں۔" اور سورہ انفال کی آیہ ٢٨ میں آیا ہے: وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ "جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھارے لیے آزمائش ہیں۔" بعد والی آیت میں جن مومنین کی زبانی، دوسروں کو توحید کی طرف دعوت دینے کے موقع پر اس طرح کہتا ہے: "مساجد خدا کے لیے ہیں، ان مساجد میں خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔" (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا)۔ اس بارے میں کہ یہاں "مساجد سے کیا مراد ہے، گونا گوں تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔" پہلی یہ ہے کہ اس مراد وہ مکان اور جگہیں ہیں کہ جن کے لیے خدا سجدہ ہوتا ہے۔ جس کا مصداقِ اکمل، مسجد الحرام ہے اور اس کا دوسرا مصداق باقی مساجد ہیں اور زیادہ وسیع مصداق وہ تمام جگہیں ہیں جہاں انسان نماز پڑھتا ہے اور خدا کے لیے سجدہ کرتا ہے، اور پیغمبر کی معروف حدیث کے مطابق، جس میں آپ نے فرمایا: جعلت لی الارض مسجدًا و طھورًا "تمام روئے زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور (تیمم کرنے کے لیے) طہارت کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ٢، ص ٩٧٠، حدیث ٣)۔ اس میں ہر جگہ شامل ہے اور اس طرح سے یہ مشرکین عرب، اور ان جیسے لوگوں کے اعمال کا، جنھوں نے خانہ کو بُت کدہ بنا رکھا تھا، ایک جواب یہ ہے، اور منحرف عیسائیوں کے اعمال کا بھی، جنھوں نے "تثلیث" کو اپنا لیا تھا اور اپنے گرجوں میں تین خداؤں کی پرستش کرتے تھے قرآن کہتا ہے: تمام عبادت گاہیں خدا کے ساتھ مخصوص ہیں، اور ان عبادت گاہوں میں خدا کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا جا سکتا اور اس کے غیر کی پرستش ممنوع ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مساجد سے مراد، سجدہ کے سات اس اعضاء ہیں۔ ان اعضاء کو صرف خدا کے لیے زمین پر رکھنا چاہیے اور اس کے غیٰر کے لیے جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ مشہور حدیث میں نویں امام محمد بن علی الجوادؑسے نقل ہوا ہے کہ "معتصم عباسی" نے ایک مجلس میں جس میں اہلِ سنت کے علماء جمع تھے، سوال کیا کہ چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹنا چاہیے؟ بعض نے کہا کلائی سے، اور اس تمیم والی آیت سے استدلال کیا، بعض دوسروں نے کہا کہ کہنی سے اور انھوں نے وضو والی آیت سے استدلال کیا، معتصم نے آپ سے اس سلسلہ میں وضاحت کی درخواست کی تو پہلے تو حضرت نے اس سے خواہش کی کہ وہ اپنے سوال سے صرفِ نظر کرے، جب اس نے اصرار کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ جو کچھ ان حضرات نے کہا ہے وہ سب غلط ہے صرف چار انگلیاں جڑ سے کاٹی جانی چاہیں۔ ہاتھ کی ہتھیلی اور انگوٹھا چھوڑ دینا چاہیے۔ جب معتصم نے اس کی دلیل طلب کی تو امام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اس ارشاد سے استدلال کیا کہ سجدہ سات اعضاء پر ہونا چاہیے۔ پیشانی، دو ہاتھ، دونوں گھٹنوں کے سرے اور پاؤں کے انگوٹھوں کے سرے اور اس کے بعد مزید فرمایا کہ اگر کلائی یا کہنی سے کاٹا جائے گا تو ہاتھ اس کے لیے باقی نہیں رہے گا کہ جس پر وہ سجدہ کرے۔ جبکہ خدا نے یہ فرمایا ہے و انّ المساجد اللہ یعنی یہ سات اعضاء خدا کے لیے ہیں اور جو چیز خدا کے ساتھ مخصوص ہو اسے قطع نہیں کرنا چاہیے۔ اس بات پر معتصم کو بہت تعجب ہوا اور اس نے حکم دیا کہ آنحضرتؐ کے حکم کے مطابق چور کا ہاتھ چاروں انگلیوں کی جڑ سے کاٹا جائے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ١٨، ص ٤٩٠ (ابواب حدالسرقہ، باب ٤، حدیث ٥))۔ اس مضمون کی اور دوسری احادیث بھی نقل ہوئی ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص٤٣٩۔٤٤٠)۔ لیکن جو احادیث اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں وہ عام طور پر سند کے بغیر ہیں، یا ان کی سند ضیعف ہے اور اس سے قطع نظر ان میں ایسا نقص پایا جاتا ہے جن کا جواب آسان نہیں ہے۔ مثلًا ہمارے فقہاء کے درمیان یہ بات مسلمہ ہے کہ اگر "چور" دوبارہ چوری کرے (جبکہ اس پر حد جاری ہو چکی ہو) تو اس کے پاؤں کے اگلے حصہ قطع کریں گے اور پاؤں کی ایڑی کو سالم رہنے دیں گے۔ حالانکہ پاؤں کا انگوٹھا بھی سجدہ کے سات مقامات میں سے ایک ہے اور اسی طرح "محارب" (ڈر کے ڈرنے والے) کے بارے میں جس کی سزاؤں میں سے ایک اس کے ہاتھ پاؤں کے ایک حصہ کو قطع کرتا ہے۔ تیسرا یہ کہ "مساجد" سے مراد وہی سجود ہے یعنی سجدہ ہمیشہ خدا کے لیے ہوناچا ہیے اور اس کے غیر کو سجدہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ احتمال بھی آیت کے ظاہر کے برخلاف ہے، اور اس ہر کوئی بھی شاہد موجود نہیں ہے۔ جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ آیت کے ظاہر کے موافق ہے وہ پہلی تفسیر ہی ہے اور توحید اور عبادت کے خدا کے ساتھ مخصوص ہونے کے بارے میں، قبل و بعد کی آیات سے مکمل مناسبت رکھتی ہے اور دوسری تفسیر آیت کے مفہوم میں وسعت کی قسم سے ہے لیکن تیسری تفسیر پر کوئی شاید نہیں ہے۔ اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے، قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی عبادت کی، حد سے زیادہ تاثیر کو بیان کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "خدا کا بندہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ محمدؐ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عبادت کے لیے کھڑا ہوتا اور خدا کو پکارتا ہے تو جنوں کا ایک گروہ شدّت سے اس کے اطراف میں جمع ہو جاتا ہے۔" (وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق اور اس بناء پر کہ یہ جملہ جن مومنین کی گفتگو میں سے ہو، "متکلم" کی بجائے "غائب" کی ضمیر کو لاتا ہے باب "الشقات" سے ہے۔ یا یہ اس لحاظ سے ہے کہ ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کی حالت کو بیان کر رہا تھا۔ (غور کیجیئے))۔ "لبد" (بر وزن پدر) اس چیز کے معنی میں ہے جس کے معنی میں ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے کے اوپر تہہ بہ تہہ رکھے گئے ہوں، اور یہ تعبیر اس پہلی ملاقات میں، قرآن سننے کے لیے، جن مومنین کے عجیب و غریب ہجوم کو بیان کرتی ہے، اور اسی طرح پیغمبرؐ کی نماز کے حد سے زیادہ قوت جذب کو بیان کرتی ہے۔ اس آیت کے لیے دو اور تفاسیر بھی بیان ہوئی ہیں پہلی یہ کہ مومنین جن پیغمبر کے اصحاب کی حالت کی تشریح کرتے ہیں کہ وہ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود جو مکہ میں ان کی تھی۔ پیغمبرؐ کے ارشادات کو سننے کے لیے اس طرح سر اور کندھے سے بھی اوپر چلے جاتے تھے۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ گروہ جن انھیں نمونہ بنا کر ایمان کی طرف آئیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کی حالت کا بیان ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ نماز اور قرآن میں مشغول ہوتے تھے تو وہ آپ کے اطراف کو سختی سے گھیر لیتے تھے اور استہزاء کرتے، مذاق اڑاتے اور آپ کو تکلیف و آزار پہنچاتے۔ لیکن آخری تفسیر جن مبلّغین کے ہدف و مقصد کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی، کیونکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ دوسروں کو ایمان کا شوق دلائیں لہذا مناسب گزشتہ دو معانی میں سے کوئی ایک ہی ہے۔
ایک نکتہ آیہ "أَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ" کی تفسیر میں تحریف
پیغمبر اور اولیاء دین سے "توسل" کا مسئلہ یعنی ان حضرات کو بارگاہِ خدا میں وسیلہ اور شفیع قرار دینا ایک ایسا مفہوم ہے جو نہ حقیقت توحید سے منافات رکھتا ہے اور نہ ہی قرآنِ مجید کی آیات سے، بلکہ یہ تو توحید پر ایک تاکید ہے اور یہ کہ ہر چیز خدا کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید کی آیات میں بھی مسئلہ شفاعت اور اسی طرح مومنین کے لئے پیغمبر کی استغفار اور طلب بخشش کے مسئلہ کا بار بار اشارہ ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے "قرآن و حدیث کی نظر میں" شفاعت کے مسئلہ کے بارے میں، پہلی جلد سورہ بقرہ کی آیہ ٤٥کے ذیل میں اور "توسل" کی حقیقت کے بارے میں سورہ مائدہ کی آیہ ٢٥، جلد ٣ میں، تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے)۔ اس کے باوجود بعض ایسے لوگوں کا ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو اسلام اور قرآن کی تعلیمات سے دور ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اصرار یہ ہے کہ ہر قسم کے توسل اور شفاعت کا انکار کر دیں اور اپنے مقصود کو ثابت کرنے کے لئے کچھ دستاویزات لائے ہیں۔ منجملہ ان کے اوپر والی آیت (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا) ہے وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے مطابق قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ خدا کے نام کے ساتھ کسی شخص کا نام نہ لو اور اس کے علاوہ کسی کو نہ پکارو، اور کسی سے شفاعت طلب نہ کرو۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ اس آیت کا اس مفہوم کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے، بلکہ اس کا ہدف اور مقصد شرک کی نفی ہے۔ یعنی کسی چیز کو خدا کے ساتھ عبادت کرنے میں یا حاجت طلب کرنے میں شریک قرار دینا۔ دوسرے لفظوں میں اگر کوئی واقعی طور پر خدا کے کام غیر خدا سے چاہے اور اس کو صاحبِ اختیار اور ان کے انجام دینے میں مستقل شمار کرے تو وہ مشرک ہے۔ جیسا کہ لفظ "مع" (قلا تدعوا مع اللہ) کے جملہ میں اس معنی کو گواہی دیتا ہے کہ کسی کو خدا کا شریک اور "مستقل تاثیر" کا مبدتہ نہیں جاننا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی خدا کے انبیاء سے شفاعت چاہے یا پروردگار کی بارگاہ میں وساطت کا تقاضا کرے، تو یہ نہ صرف اس کی نفی نہیں کرتا، بلکہ قرآن بعض اوقات خود پیغمبرؐ کو اس بات کی دعوت دیتا ہے، اور کبھی دوسروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ پیغمبرؐ سے شفاعت طلب کریں۔ سور توبہ کی آیہ ١٠٣ میں آیا ہے: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ "ان کے مال سے زکوٰۃ لے لو تاکہ تم اس کے ذریعہ انہیں پاک کر دو اور (زکات وصول کرتے وقت) ان کے لئے دعا کرو، کیونکہ تیری دعا ان کے سکون و آرام کا باعث ہے۔ اور سورہ یوسف کی آیہ ٩٧ میں ان کے بھائیوں کی زبانی باپ کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیا ہے: يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ "اے بابا جان! ہمارے لئے استغفار کیجئے کیونکہ ہم خطا کار تھے۔" یعقوب نے بھی، اس تقاضے کا نہ صرف انکار نہیں کیا بلکہ ان کی درخواست کی موافقت میں یہ وعدہ دیا اور کہا: سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ "میں بہت جلد تمہارے لیے بارگاہِ خدا سے بخشش کا تقاضا کروں گا۔" اس بناء پر توسل اور شفاعت طلب کرنے کا مسئلہ اس مفہوم کے ساتھ، جو بیان کیا گیا ہے، قرآن کے صریحی احکام میں سے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کہہ دیجئے: میں کسی کے سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 11ان آیات میں توحید کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے لیے ___ جس کی طرف گزشتہ آیات میں بھی اشارہ ہوا تھاــــــــ پہلے پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے: "کہہ دیجیے میں تو صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں، اور کسی کو بھی اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔" (قُلْ إِنَّمَا أَدْعُواْ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا)۔ اس کے بعد حکم ہے: "کہہ دیجیے میں تمھارے لیے سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں اور ہدایت دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔" (قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا)۔ پھر مزید کہتا ہے: "کہہ دیجیے: (اگر میں بھی اس کے حکم کے خلاف کروں گا تو کوئی بھی مجھے اس کے مقابلہ میں پناہ نہیں دے گا، اور میں اس علاوہ کوئی اور ملجاء اور پناہ گاہ نہیں پاؤں گا۔" (قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے اس آیت کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کفّار قریش پیغمبرؐ سے کہا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ تاکہ ہم تمھیں پناہ دیں تو اوپر والی آیات نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا۔ (تفسیر ابوالفتوح رازی، جلد ١١، ص ٢٩٣))۔ اس طرح سے نہ کوئی مجھے پناہ دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز میری پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ یہ باتیں ایک طرف تو خدا کی بارگاہ میں مکمل عبودیت کا اعتراف ہے، اور دوسری طرف سے پیغمبرؐ کے بارے میں ہر قسم کے غلو کی نفی کرتی ہیں اور تیسری طرف سے یہ بتاتی ہیں کہ نہ صرف بتوں سے ہی کوئی کام نہیں ہو پاتا بلکہ خود پیغمبرؐ بھی اس عظمت کے باوجود عذابِ خدا کے مقابلہ میں ملجاء اور مستقل پناہ نہیں ہو سکتے۔ اور چوتھی طرف سے ان بہانہ جوئیوں اور بےمحل توقعات کو ــــــــــ جو ہٹ دھرم لوگ پیغمبرؐ سے رکھتے تھے، اور ان سے خدائی کاموں کے تقاضے کرتے تھےــــــــ ختم کرتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ توسل اور شفاعت بھی اذانِ خدا سے ہی ہے۔ "ملتحدًا" مطمئن پناہ گاہ کے معنی میں ہے اور اصل میں "لحد" (بر وزن مہد) کے مادہ سے اس گڑھے کے معنی میں ہے جو ایک کنارے پر بنایا گیا ہو، جیسا کہ مردوں کے لیے قبر کی گہرائی میں کھودا جاتا ہے، جو قبر کی گہرائی میں ایک طرف کو زیادہ کھودتے ہیں اور مُردے کے جسم کو اس میں رکھتے ہیں تاکہ اس میں مٹی نہ گرے اور جانوروں کے آسیب سے بھی زیادہ محفوظ رہے، اس کے بعد ہر دوسری مطمئن جگہ اور پناہ گاہ پر اس کا اطلاق ہوا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ ان تعبیرات کا مقصد یہ کہ پیغمبرؐ خدا کے مقابلہ میں اور مستقل طور پر کوئی نقش و اثر نہیں رکھتے، اس کے باوجود وہ خدا سے لوگوں کے لیے مشکلات کے حل کا تقاضا کر سکتے ہیں، یا شائستہ اور لائق افراد کے لیے ہدایت کی درخواست کر سکتے ہیں اور یہ عین توحید ہے نہ شرک۔ قابل توجہ بات یہ کہ ان آیات میں "ضر" (نقصان) کے مقابلہ میں "رشد" (ہدایت) کو قرار دیا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقی سود اور نفع ہدایت میں ہے۔ جیسا کہ جنات کی باتوں میں بھی گزشتہ آیات میں "شر" اور "رشد" کے مقابلہ میں قرار پایا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "میرا وظیفہ تو صرف خدا کی طرف سے ابلاغ اور اس کے پیغامات کو پہچانا ہے۔" (إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّهِ وَ رِسَالَاتِهِ)۔ (تشریحی نوٹ: چونکہ "بلاغ" صرف "عن" کے ساتھ متعدی ہوتا ہے۔ اس لیے بعض نے "من" کو "عن" کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے "کائنا" کا لفظ مقدر سمجھا ہے۔ إِلَّا بَلَاغًا کائناً مِّنَ اللَّهِ))۔ یہ تعبیر اسی چیز کے مشابہ ہے جس کی طرف آیاتِ قرآنی میں بار بار اشارہ ہوا ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ ٩٢ میں آیا ہے: (أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِينُ) "پیغمبر کے ذمہ تو صرف واضح طور پر ابلاغ کرنا (اور پہنچا دینا ہے)۔ اور سورہ اعراف کی آیہ ١٨٨ میں آیا ہے: قُل لاَّ أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ "کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے لیے بھی سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں، اور اگر میں غیب کی خبر رکھتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سا نفع جمع کر لیتا اور کوئی بھی خرابی مجھے نہ پہنچتی۔ میں تو صرف اس گروہ کے لیے جو ایمان لے آتے ہیں، ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔" اس جملہ کے لیے بہت سے مفسرین نے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ: میں اپنی نجات کے لیے دعوتِ حق کے ابلاغ اور اس کی رسالت کے ادا کرنے کے سوا، کسی کی کوئی پناہ گاہ نہیں رکھتا۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق یہ جملہ گزشتہ جملے (و لن اجد من دونہ ملتحدًا) سے استنثناء ہے اور پہلی تفسیر کے مطابق یہ گزشتہ آیات سے استثناء ہے)۔ یہ بات کہ "بلاغ" اور "رسالات" میں کیا فرق ہے۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ "بلاغ" تو اصول دین کے ابلاغ کی طرف اشارہ ہے اور "رسالات" فروعِ دین کے بیان کی طرف۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ "بلاغ" احکامِ الہٰی میں معنی میں ہے اور "رسالت" ان کے اجراء کے معنی میں۔ لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹیں اور یہ ایک دوسرے کی تاکید ہوں، اور قرآن کی بہت سی آیات اس طرح ہیں، جو ان دونوں کو ایک ہی معنی کی صورت میں بیان کرتی ہیں، مثلًا سورہ اعراف کی آیہ ٦٢، جو یہ کہتی ہے "ابلغکم رسالات ربی"۔ "میں اپنے پروردگار کی رسالتیں تمھیں پہنچاتا ہوں" (اور دوسری متعدد آیات) بہرحال آیت کے آخر میں خبردار کرتا ہے کہ "جو شخص خدا اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی کرے گا، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور وہ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔" (وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا)۔ یہ بات واضH ہے کہ اس سے مراد ہر گنہگار نہیں، بلکہ اس سے مراد مشرکین اور کافرین ہیں، کیونکہ ہر گنہگار ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہنے کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: " کفار و مشریکن کی یہ وضع و کیفیت، کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کا استہزاء کرتے اور انھیں ضعیف اور کمزور شمار کرتے ہیں اس وقت یونہی جاری رہے گا، جب کہ وہ اس چیز کو نہ دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وقت وہ جانیں گے کہ کس کے مددگار زیادہ ہیں، اور کس کی جمعیت کم ہے۔" (حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا)۔ (تشریحی نوٹ: "حتٰی" عام طور پر کسی چیز کی غایت اور نیابت کے لیے آتا ہے اور یہاں اس کے لیے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ کہ ایک محدوف جملہ کی غیت ہے، اور تقدیر میں اس طرح ہے "ولا یزالون یستھزءون و یستضعفون المؤمنین حتٰی اذا راوا ما یوعدون" اور دوسری یہ کہ "یکونون علیہ لبدًا" کی غایت ہو، جو پہلے کی چند آیات میں آیا ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے)۔ اس بارے میں کہ "مَا يُوعَدُونَ" کے جملہ سے دنیا کا عذاب مراد ہے یا آخرت کا یا دونوں کا؟ بہت سی تفسیریں بیان کی گئی ہیں، لیکن مناسب یہ ہے کہ اس کا معنی عام اور وسیع ہو۔ خاص طور پر جبکہ تعداد کی زیادتی اور کمی، اور ناصر و مددگار کا ضعف و قدرت زیادہ تر دنیا کے ساتھ مربوط ہے۔ لہذا بہت سے مفسرین نے اس کی جنگِ بدر کے مسئلہ کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ جس میں مسلمانوں کی قدرت و قوت آشکار ہوئی تھی اور بہت سی روایات میں مہدی (ارواحنا فداہ) کے ظہور کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ اس بناء پر اگر ہم آیت کی اس کے وسیع معنی کے ساتھ تفسیر کریں تو یہ سب باتیں شامل ہوں گی۔ علاوہ ازیں, سورہ مریم کی آیہ ٧٥ میں بھی آیا ہے: حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضْعَفُ جُندًا۔ "یہ کیفیت اسی طرح برقرار رہے گی جب تک کہ وہ خدا کے وعدے کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں گے یا اس دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب، اس دن وہ جان لیں گے کہ کس شخص کی حیثیت بدتر اور کس کا لشکر زیادہ کمزور و ناتواں ہے۔" بہرحال, آیت کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ دشمنانِ اسلام اپنے افراد کی قدرت اور کثرت پر ناز کیا کرتے تھے اور انھیں ضعیف و ناتواں شمار کرتے تھے، قرآن اس ذریعہ سے مومنین کو تسلی دیتے ہوئے اور ان کی دلداری کرتے ہوئے انھیں خوشخبری دیتا ہے کہ آخرکار ان کی کامیابی اور دشمنوں کی شکست و ناتوانی کا دن آ پہنچے گا۔
چند نکات ١: خدائی رہبروں کی صداقت
خدائی رہبروں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ "شیطانی رہبروں" کے برخلاف ہرگز لمبے چوڑے وعدے نہیں کرتے اور اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے اور متکبر و مغرور نہیں ہوتے۔ جبکہ فرعون انا ربکم الا علٰی، "میں تمھارا اعلی اور بلند تر خدا ہوں "وھٰذہ الانھار تجری من تحتی: "اور دریائےِ نیل کی بڑی بڑی شاخیں سب میری نظروں کے سامنے جاری ہیں۔" کی احمقانہ فریاد بلند کرتا تھا، اور رہبرانِ الہٰی، تواضع اور فروتنی سے، اپنے آپ کو خدا کے بندوں میں سے ایک چھوٹا سا بندہ بتلاتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ وہ اس کے ارادہ کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ سورہ کہف کی آیہ ١١٠ میں آیا ہے: قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَـىَّ: کہہ دیجیے میں تو تم جیسا ہی ایک بشر ہوں، سوائے اس کے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے۔ اور دوسری جگہ آیا ہے: وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔ "میں نہیں جانتا کہ خدا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے اور میں ایک واضح ڈرانے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں۔" (احقاف ـــــــــ ٩)۔ ایک اور دوسری آیت میں آیا ہے: قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلاَ أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلاَ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ؛ "کہہ دیجیے میں یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں میں تو غیب کا علم بھی نہیں رکھتا (سوائے اس کے جس کی خدا مجھے تعلیم دیتا ہے) اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔" (انعام۔٥٠)۔ اگر وہ مادی قدرت کی انتہائی بلندی پر بھی پہنچ جاتے تو بھی ہرگز آپے سے باہر نہ ہوتے اور سلیمان کی طرح کہتے: هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي: "یہ قدرت و شوکت میرے پروردگار کا فضل ہے۔ (نمل۔ ٤٠)۔ قابل توجہ بات یہ کہ قرآن مجید میں متعدد آیات میں سخت قسم کی تعبیریں نظر آتی ہیں، جن میں پیغمبر کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں عتاب کرتا ہے، اور اس بات کی تننبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کا خیال رکھیں۔ یہ آیات اور گزشتہ آیات کا مجموعہ جن کی تعداد قرآن میں کم نہیں ہے، اس پیغمبر کی حقانیّت پر ایک زندہ مسند ہے۔ ورنہ اس میں کونسی رکاوٹ تھی کہ ان لوگوں کے سامنے جو آپ کے لیے ہر قسم کے مقام اور منزلت کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے، اپنے لیے بڑے سے بڑے مقام کا دعوٰی کرتے، جو فکر بشر کی دسترس سے بھی بالاتر ہوتا اور ہر قسم کے چون و چرا سے دور بھی۔ جیسا کہ تاریخ نے شیطانی رہبروں کے بارے میں اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہاں! زیرِ بحث آیات اور ان ہی جیسی آیات کی تعبیریں رسول اللہؐ کی دعوت کی حقانیت کے زندہ شواہد ہیں۔
٢: جمیّعت کے افراد کا زیادہ ہونا اہم نہیں، جمیعّت کا ایمان اہم ہے۔
قرآنی آیات میں یہ مطلب بہت زیادہ نظر آتا ہے کہ ہر زمانے کے طاغوت اپنی جمعیت اور افرادی قوت کی دوسروں پر زیادتی پر فخر کرتے تھے اور انبیاء کے مقابلے میں اتراتے تھے۔ فرعون موسٰیؑ کے طرف داروں کی تحقیر کے لیے کہتا ہے: "إِنَّ هَؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ:"۔ "یہ بہت ہی تھوڑے سے آدمی ہیں۔" (شعراء ـــــــــ ٥٤)۔ اور مشرکین عرب یہ کہا کرتے تھے: "نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِين:"۔ "ہم بہت مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہو گا۔" (سبا ــــــ ٣٥)۔ اور کبھی ایک بےایمان آدمی ایک مومن آدمی کے مقابلہ میں اپنی ثروت اور افرادی قوت پر فخر کرتے ہوئے کہتا: أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالاً وَأَعَزُّ نَفَرًا "میرے پاس تجھ سے زیادہ دولت و ثروت اور زیادہ قوی افراد ہیں" (کہف ــــــــــ ٣٤) لیکن اس کے مقابلہ میں، افراد مومن، انبیاء اور خدائی رہبروں کی پیروی میں، جمعیت کی زیادتی اور افرادی قوت پر تکیہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی منطق یہ تھی: كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ: "کتنے ہی چھوٹے گروہ ایسے ہیں ہوئے ہیں جو خدا کے حکم سے بڑے بڑے گرہوں پر کامیاب ہوئے ہیں" (بقرہ ـــ٢٤٩) امیر المومنین علیؑ فرماتے ہیں: ایھا الناس لا تستوحشوا فی طربق الھدی لقلۃ اھلہ اے لوگو! ہدایت کی راہ میں افراد کی کمی سے ہرگز وحشت نہ کرو۔ (بحوالہ: "نہج البلاغہ"، خطبہ ٢٠١)۔ تاریخ انبیاء خصوصًا پیغمبر اسلامؐ کی تاریخِ زندگی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بےایمان اور بکثرت جمعتیں، ہر قسم کی قدرت رکھنے کے باوجود، مومنین کے تھوڑے سے یاور و انصار کے مقابلہ میں کس طرح سے شکست اور درماندگی کا شکار ہوئے۔ قرآن مجید میں "بنی اسرائیل" و "فرعون" اور "طالوت" و "جالوت" کی داستان میں اور "جنگ بدر" و "احزاب" مربوط آیات میں بھی یہ معنی اچھی طرح منعکس ہوئے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر عالم الغیب خدا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 11چونکہ گزشتہ آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ اس گروہ کا استہزاء اور سرکشی اسی طرح سے جاری رہے گی، جب تک کہ عذاب کا خدائی وعدہ نہیں آ پہنچتا اور اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کے شانِ نزول میں بیان کیا ہے، کہ بعض مشرکین نے "نضر بن حارث" کے مانند، گزشتہ آیات کے نزول کے بعد اسی سوال کو پیش کیا تھا، قرآنِ مجید اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے۔ "کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (دنیا کا عذاب اور قیام قیامت) قریب ہے، یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی زمانہ قرار دے گا۔" (قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا)۔ یہ علم خدا کی پاک ذات کے ساتھ مخصوص ہے، اور اس نے یہ چاہا ہے کہ یہ اس کے بندوں سے پوشیدہ رہے۔ تاکہ مخلوق کے امتحان اور آزمائش کا موضوع مکمل ہو، کیونکہ اگر وہ یہ جان لیں کہ وہ دور ہے یا نزدیک ہے تو دونوں صورتوں میں امتحان کا اثر کم ہو جائے گا۔ "امد" (بر وزن صمد) زمانہ کے معنی میں ہے، اس فرق کے ساتھ کہ "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق کہ "زمان" تو ابتداء اور انتہاء دونوں کو شامل ہوتا ہے، لیکن "امد" صرف کسی چیز کی انتہاء کے زمانہ کو کہتے ہیں۔ اہلِ لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ "امد" اور "ابد" معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ "ابد" تو غیر محدود مُدّت کو بھی شامل ہوتا ہے جبکہ "امد" صرف محدود مدت چاہے وہ جتنی بھی طولانی ہو۔ بہرحال، قرآن مجید کی آیات میں بارہا یہ مطلب ہمارے سامنے آتا ہے کہ جب بھی قیامت کے زمانہ کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو پیغمبر اکرمؐ اس سے بےاطلاع ہونے کا اظہار فرمایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ "اس کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔" ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن "جبرئیل" ایک بدو عرب کی صورت میں پیغمبرؐ کے سامنے ظاہر ہوئے، اور ان سوالات میں سے جو انھوں نے آنحضرتؐ سے کیے، ایک یہ تھا کہ: اخبرنی عن الساعۃ "بتلائیے قیامت کب برپا ہو گی"؟ پیغمبرؐ نے فرمایا: ما المسئول عنھا باعلم من السائل "جس سے سوال کر رہے ہو وہ (اس مسئلہ میں) سوال کرنے والے سے زیادہ آگاہ نہیں ہے۔" اس مردِ عرب نے دوبارہ بلند آواز میں کہا: یا محمدؐ متی الساعۃ؟ " اے محمدؐ! قیامت کب آئے گی"؟ پیغمبرؐ نے فرمایا: ویحک انھا کائنۃ فما اعددت لھا؟ "وائے ہو تجھ پر قیامت تو آ کر رہے گی، یہ تو بتا کہ تو نے اس کے لیے کون سی چیز تیار کر رکھی ہے۔" اعرابی نے کہا: "میں نے نماز و روزہ تو کوئی زیادہ فراہم نہیں کیا لیکن خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہوں۔" پیغمبرؐ نے فرمایا: فانت مع من احببت "پس تو اس کے ساتھ رہے گا جسے تو دوست رکھتا ہے۔" اصحابِ پیغمبرؐ میں سے ایک صحابی "انس" کہتے ہیں: فما فرح المسلمون بشیء فرحھم بھذا الحدیث "مسلمان کسی حدیث پر اتنا خوش نہیں ہوئے، جتنا کہ اس حدیث پر خوش ہوئے۔" (بحوالہ: تفسیر "مراغی" جلد ٢٩، ص ١٠٥)۔ اس کے بعد بحث کو جاری رکھتے ہوئے، علمِ غیب کے بارے میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "عالم الغیب خدا ہے وہ کسی کو بھی اپنے غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا" (عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا) ۔ (تشریحی نوٹ: "عالم الغیب" ایک مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر "ھو العلم الغیب" ہے اور بعض نے اسے "ربی" کی صفت یا بدل قرار دیا ہے، جو گزشتہ آیت میں ہے)۔ اس کے بعد اس کلی مسئلہ سے استثناء کے عنوان سے مزید کہتا ہے: "مگر وہ رسول کہ جسے اس نے برگزیدہ کیا ہے اور اس سے وہ راضی ہے۔" (إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ)۔ وہ اسے جتنا چاہتا ہے علمِ غیب کی تعلیم دیتا ہے اور وحی کے ذریعہ اس تک پہنچاتا ہے۔ "پھر اس کے آگے اور پیچھے نگرانی کرنے والے نگہبان بھیجتا ہے۔" (فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا)۔ "رصد" اصل میں" مصدری" معنی رکھتا ہے اور کسی چیز کی نگرانی اور نگہبانی کے لیے آمادگی کے معنی میں ہے اور "اسم فاعل" اور "مفعول" پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ مفرد و جمع دونوں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک نگرانی کرنے والا اور نگہبان فرد، یا نگرانی کرنے والے اور نگہبانوں کی ایک جماعت، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہاں اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جھنیں خدا نزولِ وحی کے بعد حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے پیغمبر کا ہر طرف سے احاطہ کیے رہیں۔ اور شیاطین، جن و انس اور ان کے وسوسوں سے، اور ان چیزوں سے، جو وحی کی اصالت کو خدشہ وار کرتی ہیں، محافظت اور پاسداری کریں، تاکہ اللہ کا پیغام کمی و زیادتی اور کسی معمولی سے معمولی خدشہ کے بغیر بندوں تک پہنچ جائے۔ اور یہ بات خود پیغمبرؐ کے معصوم ہونے کی دلیل ہے کہ وہ غیبی قوتوں اور خدائی امدادوں اور اس کے فرشتوں کی نگرانی کے ذریعہ لغزیشوں اور خطاؤں سے مومون و محفوظ ہے۔ آخری زیرِ بحث آیت میں جو اس سُورہ کی آخری آیت ہے، ان نگرانی کرنے والے نگہبانوں کے وجود کی دلیل کو اس طرح بیان کرتا ہے "مقصد یہ ہے کہ خدا جان لے کہ پیغمبروں نے اپنے پروردگار کے پیغامات بے کم و کاست پہنچا دیئے ہیں، اور جو کچھ ان کے پاس ہے، خدا اس پر احاطہ رکھتا ہے، اور اس نے ہر ایک چیز کا باریکی کے ساتھ شمار کیا ہے۔" (لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا)۔ (تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین نے "لیعلم" کی ضمیر کو پیغمبر اسلامؐ کی طرف لوٹایا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا اسرارِ وحی و رسالت کے لیے محافظ اور نگہبان قرار دیتا ہے، تاکہ پیغمبرؐ جان لیں کہ انھوں نے وقت کے ساتھ، وحیِ الٰہی کو اس کے پاس پہنچا دیا اور کسی قسم کا شک اور تردد وحیِ الٰہی کی اصالت میں نہ کرے لیکن یہ تفسیر۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسالت تو پیغمبر کا کام ہے، نہ کہ فرشتوں کا، اور "رسول" کی تعبیر گزشتہ آیت میں اور "رسالات" کی تعبیر چند گزشتہ آیات میں، خود پیغمبرؐ کی ذات کے بارے میں آئی ہے۔ بعید نظر آتی ہے اور حق وہی پہلی تفسیر ہے)۔ یہاں "علم" سے مراد علم فعلی ہے اور دوسرے لفظوں میں آیت کا معنی یہ نہیں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے بارے میں کسی چیز کو نہیں جانتا تھا اور بعد میں اس نے جانا ہے۔ کیونکہ خدا کا علم ازلی و ابدی اور بےپایاں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ علم الٰہی خارج میں تحقق پائے اور عینی صورت اختیار کرے۔ یعنی پیغمبر اس کی رسالت کی عملی طور پر تبلیغ کریں اور اتمام حجت کریں۔
چند نکات علمِ غیب کے بارے میں ایک وسیع تحقیق
قرآن کی مختلف آیات میں غور کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہےکہ علم غیب کے سلسلہ میں دو قسم کی آیات موجود ہیں، پہلی قسم کی آیات تو وہ ہیں جو علمِ غیب کو خدا کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں۔ اور اس کے غیر سے اس کی نفی کرتی ہیں۔ مثلًا سورہ انعام کی آیہ ٥٩، وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ: غیب کی چابیاں خدا ہی کے پاس ہیں، اس کے سوا کوئی شخص انھیں نہیں جانتا اور سورہ نمل کی آیہ ٦٥، قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ، کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں سے کوئی شخص بھی غیب کو نہیں جانتا، سوائے خدا کے۔ اور پیغمبرؐ کے بارے میں سورہ انعام کی آیہ ٥٠ میں جو کچھ آیا ہے، مثلًا : قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلاَ أَعْلَمُ الْغَيْبَ: کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں، اور میں غیب کو نہیں جانتا۔ اور سورہ اعراف کی آیہ ١٨٨ میں آیا ہے: وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاَسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ: "اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو میں بہت سی خیر فراہم کر لیتا۔" اور آخر میں سورہ یونس کی آیہ ٢٠ میں آیا ہے: فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ: "کہہ دیجے کہ غیب تو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔" اور اسی قسم کی دوسری آیات۔ دوسرا حصہ ان آیات کا ہے جو وضاحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ اولیاء خدا "اجمالی طور پر" علمِ غیب سے آگاہی رکھتے ہیں، جیسا کہ آل عمران کی آیہ ١٧٩ میں آیا ہے: وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ "اور خدا تم کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرے گا لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (غیب کے لیے) منتخب کر لیتا ہے (اور اسرارِ غیب کا ایک حصہ انھیں عطا کر دیتا ہے)۔" اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزات میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے فرمایا: وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ: "میں تمھیں اس کی جو تم کھاتے ہو یا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو، خبر دیتا ہوں۔" (آل عمران ـــــــــــــ ٤٩)۔ زیرِ بحث آیت بھی، اس استثناء کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو اس میں آیا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا علمِ غیب کا ایک حصہ اپنے برگزیدہ رسولوں کو عطا فرماتا ہے (کیونکہ نفی سے استثناء ہمیشہ اثبات میں ہوتا ہے)۔ دوسری طرف قرآن کی وہ آیات جو غیب کی خبروں پر مشتمل ہیں، وہ بھی کم نہیں۔ مثلاً سُورہ روم کی دوسری آیت سے لے کر چوتھی تک غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ: "رومی مغلوب ہو گئے ہیں، اور یہ شکست نزدیک کی سرزمین میں واقع ہوئی ہے، لیکن وہ اس مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے، چند ہی سالوں کے اندر اندر۔" اور سُورہ قصص کی آیت ٨٥ جو کہتی ہے: إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ: "وہ ہستی جس نے قرآن کو تجھ پر فرض کیا ہے، وہ تجھے تیری جگہ (مکہ) کی طرف پلٹائے گا۔" اور سورہ فتح کی آیہ ٢٧ کہتی ہے: لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ: "انشاءاللہ تم مسجدالحرام میں انتہائی امن و امان کے ساتھ داخل ہو گے۔" اور اسی قسم کی دوسری آیات۔ اصولی طور پر آسمانی وحی جو پیغمبروں پر نازل ہوتی ہے، ایک قسم کا غیب ہی ہے جو انھیں عطا کیا جاتا ہے۔ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ غیب سے آگاہی نہیں رکھتے جبکہ ان کے اوپر وحی نازل ہوتی ہے۔ ان سب باتوں سے قطعِ نظر ہمارے پاس بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر غیب کا علم رکھتے تھے اور بعض اوقات اس کی خبر دیا کرتے تھے۔ مثلاً فتح مکہ کی داستان اور "حاطب بن ابی بلتعہ" کے واقعہ میں جس میں مکہ کے لوگوں کو خط لکھا تھا اور وہ خط مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچانے کے لیے "سارہ" نامی عورت کے حوالے کیا گیا تھا، تاکہ وہ انھیں لشکرِ اسلام کے قریب الوقوع حملہ سے آگاہ کر دے۔ٓ اور وہ عورت اس خط کو اپنے گیسوؤں کے درمیان چھپا کر مکہ کی طرف چل پڑی تھی۔ پیغمبرؐ نے علیؑ اور کچھ دوسرے مسلمانوں کو اس کے پیچھے بھیجا، اور فرمایا: تمھیں ایک منزل گاہ پر جس کا نام روضۂ "خاج" ہے ایک عورت ملے گی اس کے پاس "حاطب" کا خط ہے، جو مشرکینِ مکہ کے نام ہے، تم اس سے وہ خط لے لو، جب وہ سب کے سب وہاں پہنچے تو انھیں وہ عورت مل گئی، شروع میں اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا، لیکن آخر کار اس نے اعتراف کر لیا اور انھوں نے وہ خط اس سے لے لیا۔ (تشریحی نوٹ: اس واقعہ کی تفصیل حوالہ کے ساتھ اسی جلد میں سُورہ ممتحنہ کی تفسیر میں ہے)۔ اس کے علاوہ جنگَ "موتہ" کا واقعہ اور جعفر اور لشکرِ اسلام کے بعض دوسرے کمانداروں کی شہادت کی خبر دینا۔ جس کی پیغمبرؐ نے، مدینہ میں مسلمانوں کو، اسی لحمہ میں، جبکہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا، خبر دی تھی۔ (بحوالہ: "کامل بن اثیر" جلد ٢، ص ٢ (واقعہ غزوہ موتہ))۔ اور اس قسم کے اخبارِ غیب کی مثالیں پیغبرؐ کی زندگی میں کم نہیں ہیں۔ نہج البلاغہ میں بھی آئندہ کے واقعات کی بہت سی پیشین گوئیاں نظر آتی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علیؑ ان اسرارِ غیب کو جانتے تھے۔ مثلاً وہ باتیں جو خطبہ ١٣ میں اہلِ بصرہ کی مذمت میں بیان ہوئی ہیں۔ جس میں آپ فرماتے ہیں: کانی بمسجد کم کجؤ جؤ سفینۃ قد بعث اللہ علیھا الوذاب من فوقھا و من تحتھا و غرق من فی ضمنھا "گویا میں تمہاری مسجد کے پاس کھڑا دیکھ رہا ہوں کہ آسمان و زمین سے خدا کا عذاب تم پر نازل ہو رہا ہے اور تم سب کے سب اس میں غرق ہوئے ہو، صرف تمھاری مسجد کی چوٹی کشتی کے سینہ کی طرح پانی کے اوپر نمایاں ہے۔" اور دوسری رویات میں بھی جو علمائے اہل سنت اور شعہ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، آئندہ کے واقعات کے بارے میں آنحضرتؐ سے بہت سی پیشین گوئیاں آئی ہیں، جیسا کہ "ہجر بن قیس" کے بارے میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: تجھے میرے بعد لعنت کرنے پر مجبور کریں گے۔ (بحوالہ: مستدرک الصححین، جلد ٢، ص ٣٥٨)۔ اور جو کچھ آپؐ نے "مروان" کے بارے میں فرمایا کہ وہ بڑھاپے کے بعد ضلالت و گمراہی کا پرچم کندھے پر اٹھائے گا۔ (بحوالہ: طبقات ابن سعد، جلد ٥، ص٣٠)۔ اور جو کچھ "کمیل بن زیاد" نے حجاج سے کہا تھا کہ امیر المومنین علیؑ نے مجھے خبر دی ہے کہ تو میرا قاتل ہے۔ (بحوالہ: الاصابہ ابن حجر، جلد ٥، قسم ٣، ص ٣٢٥)۔ اور جو کچھ آپ نے خوارج نہروان کے بارے میں فرمایا تھا، کہ ان کی جنگ میں ہمارے گروہ کے دس آدمی بھی نہیں مارے جائیں گے، اور ان میں سے دس آدمی بھی نجات نہیں پائیں گے اور حقیقتاً اسی طرح واقع ہوا۔ (بحوالہ: "ہیثمی" نے "مجمع" جلد ٦، ص ٢٤١ پر)۔ اور جو کچھ امام حسینؐ کی قبر کی جگہ کے بارے میں سرزمینِ کربلا کے قریب سے عبور کے وقت "اصبغ بن نباتہ سے فرمایا۔" (بحوالہ: "الریاض النظرہ" جلد ٢، ص ٢٢٢)۔ کتاب فضائل الخمسہ میں، اہل سنت کی کتابوں سے، علیؑ کے علم کی حد سے زیادہ وسعت کے بارے میں، بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، ان سب کا یہاں بیان طول کا باعث ہو گا۔ (بحوالہ: "فضائل الخمسہ" جلد ٢، ص ٢٣١ تا ٢٥٣)۔ اہل بیت کی روایات میں بھی متعدد حدیثوں میں معصومین کے لیے علمِ غیب کا اشارہ ہوا ہے۔ منجملہ ان کے کتاب کافی جلد اوّل متعدد ابواب میں اس بارے میں تصریح یا اشارے نظر آتے ہیں۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانور کی جلد ٢٦ میں، اس سلسلہ میں بہت سی احادیث جو ٢٢ حدیثوں تک پہنچتی ہیں نقل کی ہیں۔ مجموعی طور پر پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ معصومین کے لیے اسرارِ غیب سے آگاہی کے سلسلہ میں روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اب بحث صرف یہ ہے کہ ان روایات و آیات کے درمیان، جن میں سے بعض غیر خدا سے علمِ غیب کی نفی کرتی ہیں بعض اثبات کرتی ہیں کس طرح جمع کی جائے؟ یہاں جمع کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔ جمع کے طریقوں میں سے مشہور ترین طریقہ یہ ہے کہ علمِ غیب کے خدا کے ساتھ اختصاص سے مراد علمِ ذاتی و استقلالی ہے اس بناء پر اس کا غیر مستقل طور پر ہرگز علمِ غیب سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا، اور ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کے الطاف و عنایت سے ہے اور تبعی جنبہ رکھتا ہے۔ اس جمع کا شاہد یہی زیرِ بحث آیت ہے، جو کہتی ہے: خدا کسی کو بھی اپنے اسرارِ غیب سے آگاہ نہیں کرتا، مگر وہ رسول جس سے وہ راضی ہے۔ "نہج البلاغہ" میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جب علیؑ آیندہ کے واقعات کی خبر دے رہے تھے (اور اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملہ کی پیشین گوئی کر رہے تھے) اور آپ کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کیا: اے امیر المومین کیا آپ علمِ غیب جانتے ہیں؟ حضرت ہنسے اور فرمایا: لیس ھو بعلم غیب، و انما ھو تعلم من ذی علم "یہ علمِ غیب نہیں ہے، یہ ایک ایسا علم ہے جو صاحبِ علم (پیغمبرؐ) سے میں نے حاصل کیا ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٢٨)۔ اس جمع کو بہت علماء و محقیقن نے قبول کیا ہے۔ ٢- اسرارِ غیب دو قسم کے ہیں، ایک قسم تو خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔ مثلاً قیامِ قیامت اور اسی قسم کے دوسرے امور، اور ایک قسم وہ ہے کہ جس کی وہ انبیاء و اولیاء کو تعلیم دیتا ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں اسی خطبہ کے ذیل میں جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا ہے، آیا ہے کہ: و انما علم الغیب علم الساعۃ و ما عددہ اللہ سبحانہ بقولہ: ان اللہ عندہ علم الساعۃ، و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام، و ما تدری نفس ماذا تکسب غدًا و ما تدری نفس بایّ ارض تموت "علمِ غیب تو صرف قیامت کا علم ہے اور وہ ہے جسے خدا نے اس آیت میں شمار کیا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے: قیامت کے وقت سے آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے، اور وہی بارش کو نازل کرتا ہے، اور جو کچھ ماؤں کے رِحم میں ہے، اسے جانتا ہے اور کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرےگا، اور کس سرزمین میں مرے گا۔" اس کے بعد امام نے اس معنی کی تشریح میں مزید فرمایا: "خداوند اس سے جو رحموں میں برقرارہے، آگاہ ہے کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی، بدصورت ہے یا خوبصورت، سخی ہے یا بخیل، سعادت مند ہے یا شقی و بدبخت، اہل دوذخ ہے یا اہلِ جنت؟.......... یہ سب علوم غیب ہیں۔ جنھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور ان کے علاوہ وہ علوم ہیں جن کی خدا نے اپنے پیغمبر کو تعلیم دی ہے اور انھوں نے ان کی تعلیم مجھے دی ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ١٢٨)۔ ٣- ان دونوں قسم کی آیات و روایات کے درمیان جمع کرنے کا ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ اسرارِ غیب دو جگہ ثبت ہیں "لوح محفوظ" (علم خدا کے مخصوص خزانہ) میں، جس میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیّر رونما نہیں ہوتا، اور اس سے کوئی بھی شخص آگاہ نہیں ہے اور (لوح محو و اثبات) جو مقتضیات کا علم ہے نہ کہ علّت تامہ کا، اور اسی بناء پر وہ تغیر اور تبدیلی کے قابل ہے اور جسے دوسرے نہیں جانتے وہ اسی حصہ سے مربوط ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: ان للہ علمًا لم یعلمہ الاھو، وعلمًا اعلمہ ملائکتہ و رسلہ فما اعلمہ ملائکتہ و انبیائہ و رسلہ فنحن نعلمہ "خدا کا ایک علم تو ایسا ہے جسے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، اور ایک علم ایسا ہے، جس سے اس نے فرشتوں اور انبیاء کو آگاہ کیا ہے، جو کچھ اس نے فرشتوں، انبیاء اور رسولوں کو دیا ہے، ہم بھی جانتے ہیں۔" (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٢٦، ص ١٦٠ (حدیث ٥) اس سلسلہ میں دوسری متعدد روایات بھی اس ماخذ میں نقل ہوئی ہیں)۔ امام علیؑ بن حسینؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: لولا اٰیۃ فی کتاب اللہ لحدثتکم بما کان و ما یکون الٰی یوم القیامۃ! فقلت لہ ایۃ اٰیۃ؟ فقال قول اللہ: یمحوا اللہ مایشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب "اگر قرآنِ مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمھیں اس سے بھی جو کہ پہلے گزر چکا ہے، اور ان واقعات کی بھی جو قیامت تک ہونے والے ہیں خبر دیتا، راوی کہتا ہے، میں نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ فرمایا: خدا فرماتا ہے: یمحوااللہ مایشاء (خدا جس چیز کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے، اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے)، ام الکتاب (اور لوحِ محفوظ) اسی کے پاس ہے۔" (بحوالہ: نورالثقلہن، جلد ٢، ص ٥١٢ (حدیث ١٦٠))۔ اس جمع کے مطابق علوم کی تقسیم ان کے حتمی و یقینی ہونے یا نہ ہونے کی بناد پر ہے، اور گذشتہ جمع میں معلومات کی مقدار کی بنیاد پر ہے۔ (غور کیجئے) ٤۔ ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ خدا تو تمام اسرارِ غیب سے بالفعل آگاہ ہے، لیکن انبیاء و اولیاء ممکن ہے بہت سے اسرارِ غیب کو بالفعل نہ جانتے ہوں، لیکن جب وہ ارادہ کرتے ہیں تو خدا انھیں ان کی تعلیم دے دیتا ہے، اور یقیقنًا یہ ارادہ بھی خدا کے اذان و رضا سے ہی انجام پاتا ہے۔ اس بناء پر ان آیات و روایات میں جمع، جو یہ بتلاتی ہیں کہ وہ نہیں جانتے، تو وہ بالفعل نہ جاننے کی طرف اشارہ ہے، اور جو یہ کہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں وہ ان کے جاننے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی مثال ٹھیک اس طرح ہے کہ کوئی شخص ایک خط کسی آدمی کو دے کہ وہ دوسرے تک پہنچا دے، تو یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے خط کے مضمون کا کوئی علم نہیں ہے، حالانکہ وہ خط کو کھول کر پڑھ سکتا ہے، کبھی تو صاحبِ خط نے اسے مطالعہ کی اجازت دی ہوئی ہوتی ہے۔ اس صورت میں اسے ایک لحاظ سے خط کے مضمون کا عالم سمجھا جا سکتا ہے اور کبھی اسے اجازت دی ہوئی نہیں ہوتی۔ اس جمع کی شاہد وہ ورایات ہیں جو کتاب کافی کے ایک باب میں ہے ان الائمۃ اذا شاء وا ان یعلموا علموا: "آئمہ جب کسی چیز کو جاننا چاہتے ہیں تو انھیں اس کا علم دے دیا جاتا ہے"کے عنوان کے تحت وارد ہوئی ہیں۔" (تشریحی نوٹ: "کتاب کافی" باب ان الائمۃ اذا شاءوا ان یعلموا علموا (حدیث ٣) اسی مضمون کی دوسری روایات بھی اسی باب میں نقل ہوئی ہیں)۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: اذا ارادالامام ان یعلم شیئا اعلمہ اللہ بذالک۔ "جب امام کسی چیز کو جاننا چاہتا ہے تو خدا اسے اس کی تعلیم دے دیتا ہے۔" جمع کی یہ وجہ، پیغمبرؐ اور امام کے علم کے سلسلہ میں بہت سی مشکلات کو حل کر دیتی ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ اس پانی اور کھانے کو جس میں زہر ملا ہوا ہوتا ہے، کس طرح کھا لیتے ہیں، حالانکہ یہ بات جائز نہیں ہے کہ انسان کوئی ایسا کام کرے جو اس کے لیے خطرے کا موجب ہو، ایسے مواقع کے لیے یہ کہنا پڑے گا کہ پیغمبر یا امام کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کا ارادہ کریں کہ اسرارِ غیب ان پر آشکار ہوں۔ اسی طرح بعض اوقات مصلحت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر یا امام کسی مطلب پر آگاہ نہ ہوں، یا کوئی امتحان اور آزمائش ایسی صورت پذیر ہو جو ان کے تکامل و ارتقاء کا موجب بنے، جیسا کہ "لیلۃ المبیت" کی داستان میں آیا ہے کہ علیؑ پیغمبرؐ کے بستر پر سوئے، حالانکہ خود آنجناب سے نقل ہوا ہے کہ آپ یہ نہیں جانتے تھے، کہ صبح کے وقت جب مشرکینِ قریش اس بستر پر حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا جان سلامت رہے گی۔ یہاں مصلحت یہ ہے کہ امام اس کام کے انجام سے آگاہ نہ ہو، تاکہ خدائی آزمائش اور امتحان پورا ہو جائے اور اگر امام جانتے کہ وہ پیغمبر کے بستر پر سوئیں گے اور صبح کو صحیح و سالم اٹھیں گے، تو یہ کوئی فخر کی بات نہیں تھی اور آیاتِ قرآنی اور دیگر روایات میں اس ایثار و قربانی کی اہمیت کے سلسلہ میں جو کچھ وارد ہوا ہے کچھ قابلِ توجہ نظر نہیں آتا۔ ہاں علمِ ارادی کا مسئلہ، اس قسم کے تمام اشکالات و اعتراضات کا جواب۔ ٥- علمِ غیب کے سلسلہ میں مختلف رویات کے لیے جمع کی ایک اور صورت بھی موجود ہے (اگرچہ یہ راہ: ان روایات کے ایک حصہ پر بھی صادق آتی ہے) اور وہ یہ ہے کہ ان روایات میں مخاطب مختلف تھے، وہ لوگ جو آئمہ کے بارے میں علمِ غیب کے مسئلہ کی قبولیت کی استعداد اور قابلیت رکھتے ہیں، انھیں تو حق مطلب بیان کر دیا جاتا تھا لیکن مخالف یا ضعیف و کم استعداد افراد کے لیے، سننے والے کی سمجھ کے مطابق بات کی جاتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آیا ہے کہ ابوالبصیر اور امام صادقؑ کے بزرگ اصحاب میں سے کچھ اور افراد ایک مجلس میں بیٹھے ہوۓ تھے کہ امام غصہ میں بھرے ہوئے مجلس میں وارد ہوئے، جب آپ بیٹھ گئے تو حاضرین مجلس سے فرمایا: یاعجبا لاقوام یزعمون انا نعلم الغیب! ما یعلم الغیب الا اللہ عزوجل، لقد ھممت بضرب جاریتی فلانۃ، فھربت منی فما علمت فی ای بیوت الدار ھی "تعجّب ہے کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم علمِ غیب جانتے ہیں (حالانکہ) خدا کے سوا کوئی بھی علم غیب نہیں جانتا۔ میں اپنی ایک کنیز کو تادیب کرنا چاہتاتھا، وہ میرے آگے سے بھاگ گئی اور مجھے یہ علم نہ ہوا کہ وہ گھر کے کس کمرے میں ہے۔" (بحوالہ: اصولِ کافی، جلد ١، باب نادر فیہ ذکر الغیب، حدیث ٣) حدیث کا راوی کہتا ہے کہ جس وقت امام اس مجلس سے اٹھے، تو میں اور کچھ دوسرے اصحاب آپ کی منزل میں داخل ہوئے اور ہم نے کہا: ہم آپ پر قربان ہوں، آپ نے اپنی کنیز کے بارے میں اس طرح فرمایا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت سے علوم ہیں، اور ہم علمِ غیب کا تو کوئی نام نہیں لیتے؟ امام نے اس سلسلہ میں تشریح کی جس کا مفہوم اسرارِ غیب پر آپ کی آگاہی تھا۔ واضح رہے اس مجلس میں کچھ ایسے افراد تھے، جو ان معانی کے ادراک اور مقامِ امام کی معرفت کے لیے ضروری استعداد نہیں رکھتے تھے۔ اس بات پر توجہ رکھنا چاہیے کہ ان پانچوں طریقوں میں آپس میں کوئی منافات نہیں ہے اور سب ہی صادق ہو سکتے ہیں۔ (غور کیجیے)۔
٢: آئمہ کے علمِ غیب کو ثابت کرنے کی ایک اور راہ
یہاں اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کہ پیغمبرؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر اسرارِ غیب سے آگاہ تھے دو اور راستے بھی ہیں: پہلا یہ کہ ان کی ماموریت کسی خاص مکان و زمان میں محدود نہیں تھی، بلکہ پیغمبر کی رسالت اور آئمہ کی امامت جہانی اور جاودانی ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اس قسم کی وسیع ماموریت اور ذمہ داری رکھتا ہو، اور وہ اپنے محدود زمانہ اور ماحول کے سوا کسی قسم کی آگاہی نہ رکھتا ہو؟ کیا وہ شخص، جو مثلاً کسی ملک ایک بہت بڑے حصہ کی امارت اور گورنری پر مامور ہو، اس علاقہ سے بےخبر ہو سکتا ہے اور پھر یوں وہ اپنی ماموریت کو اچھی طرح انجام دے سکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں: پیغمبرؐ اور امام کو اپنی مدتِ حیات میں، احکامِ الہٰی کو اس طرح بیان و اجراء کرنا چاہیے کہ وہ ہر زمانہ اور مکان کے تمام انسانوں کی ضروریات کے لیے جواب دہ ہوں اور یہ ممکن نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اسرارِ غیب کے ایک حصہ کو جانتے ہوں۔ دوسرا یہ کہ: قرآن مجید میں تین آیات ایسی ہیں کہ اگر ہم انھیں ایک دوسری کے ساتھ رکھ دیں تو اس سے پیغمبرؐ اور آئمہ کے علم کا مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ پہلی یہ کہ قرآن اس شخص کے بارے میں جو "ملکہ سبا" کا تخت آنکھ جھپکنے میں سلیمانؑ کے پاس لے آیا (یعنی آصف بن برخیا) کہتا ہے: قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اٰتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راٰہ مستقرًا عندہ قال ھٰذا من فضل ربی "اس شخص نے، جو کتاب میں سے کچھ علم رکھتا تھا، کہا میں اس کو آنکھ جھپکنے پہلے تیرے پاس لے آؤں گا، جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا: یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے۔" (نمل ـــــــــ ٤٠)۔ دوسری آیت میں ہے: قُلْ كَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ "کہہ دیجیے میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے خدا اور وہ شخص جس کے پاس علمِ کتاب ہے کافی ہے۔" (رعد ــــــــ ٤٣) دوسری طرف بہت سی احادیث میں، جو اہل سنت اور شیعہ کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، اس طرح آیا ہے کہ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خداؐ سے "الذی عندہ علم من الکتاب" کے معنی پوچھے، تو آپؐ نے فرمایا: وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کا وصی تھا، تو میں نے کہا "ومن عندہ علم الکتاب" کون ہے، تو آپؐ نے فرمایا: ذاک اخی علی بن ابی طالب "وہ میرے بھائی علی ابی طالب ہیں۔" (بحوالہ: "احقاق الحق" جلد ٣، ص ٢٨٠-٢٨١ اور "نور الثقلین" جلد ٢، ص ٥٢٣ کی طرف رجوع کریں)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "علم من الکتاب" جو "آصف" کے بارے میں آیا ہے، علمِ جزئی کو بیان کرتا ہے، اور "علم الکتاب" جو علیؑ کے بارے میں آیا ہے، وہ علمِ کلی کو بیان کرتا ہے، اس سے "آصف" اور علیؑ کے مقام علمی کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ تیسری طرف سورہ نحل کی آیہ ٨٩ میں آیا ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ: "ہم نے قرآن کو تجھ پر نازل ہے، جو ہر چیز کو بیان کرتا ہے۔" واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی کتاب کے اسرارِ کا عالم ہو اسے غیب کے اسرار کو جاننا چاہیے اور یہ اس چیز پر ایک واضح اور آشکار دلیل ہے کہ اولیاء خدا میں سے کوئی انسان حکمِ خدا سے اسرارِ غیب پر آگاہ ہو سکتا ہے۔ علمِ غیب کے سلسلہ میں ہم نے سورہ انعام کی آیہ ٥٠، ٥٩، جلد ٣، اور آیہ ١٨٨ سُورہ اعراف، جلد ٤ کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔
٣: "جن" کی خلقت کے بارے میں تحقیق
"جن" جیسا کہ اس لفظ کے لغوی مفہوم سے معلوم ہوتا ہے ایک ایسا نظر نہ آنے والا موجود ہے جس کے بہت سے مشخصات قرآن میں ذکر ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں: ١- ایک ایسا وجود ہے جو آگ کے شعلہ سے پیدا ہوا ہے، انسان کے برخلاف جو مٹی سے پیدا ہوا ہے (وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ) (الرحمٰن ــــــــــ ١٥) ٢- وہ علم و ادراک اور حق و باطل کی پہچان، اور منطق و استدلال کا حامل ہے (سُورہ جن کی مختلف آیات) ٣- وہ تکلیف و مسئولیت (فرائض و وظائف) رکھتا ہے۔ (سُور جن اور سورہ رحمٰن کی آیات) ٤۔ ان میں سے ایک گروہ مومن و صالح اور ایک گروہ کافر ہے۔ (وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ)۔ (جن ـــــــ ١١) ٥- وہ حشر و نشر اور معاد و قیامت رکھتے ہیں۔ (وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا) (جن ــــــ ١٥) ٦- وہ آسمانوں میں نفوذ کرنے، اور وہاں سے خبریں لینے اور چوری چھپے سننے کی قدرت رکھتے تھے، لیکن پھر انھیں روک دیا گیا۔ (وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا)۔ (جن ـــــــــــ ٩) ٧- وہ بعض انسانوں کے ساتھ رابط پیدا کر لیا کرتے تھے، اور اس محدود آگاہی کے ذریعہ جو وہ بعض پوشیدہ اسرار کے بارے میں رکھتے تھے، انسانوں کو گمراہ کرتے تھے۔ (وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا)۔ (جن ــــ ٦)۔ ٨- ان میں کچھ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں، جو بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں، جیسا کہ انسانوں میں بھی ایسے افراد ہیں (قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ) ایک سرکش جن نے سلیمان سے کہا: "میں ملکہ سباء کا تخت، اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے (دربار برخواست کر کے) اس کی سر زمین سے یہاں لے آؤں گا" (نمل ــــــ ٣٩) ٩- وہ انسانوں کے بعض ضروری کاموں کے انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں (وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ۔۔۔ يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ) "جنات کا ایک گروہ خدا کے حکم سے سلیمان کے سامنے کام کیا کرتا تھا اور اس کے لیے ۔۔۔ عبادت خانے، تصویریں اور بڑے بڑے برتن تیار کیا کرتے تھے۔ (سبا ـــــ ١٢- ١٣) ١٠- ان کی خلقت روئے زمین پر انسانوں کی خلقت سے پہلے تھی (وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ) (حجرـــــــــ٢٧) اور کچھ دوسری خصوصیات۔ اس کے علاوہ، قرآنی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ عام لوگوں میں مشہور ہے اور وہ انھیں "پم سے بہتر" سمجھتے ہیں، اس کے برخلاف انسان ایک ایسی نوع ہے جو ان سے بہتر اور برتر ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام خدائی پیغمبر انسانوں میں سے انتخاب ہوئے، اور وہ پیغمبر اسلامؐ پر جو نوع بشر میں سے تھے، ایمان لائے اور آپ کی جمیعت اور پیروی کی، اور اصولی طور پر شیطان پر آدم کے سامنے سجدہ کا واجب ہونا جو قرآن کی تصریح کے مطابق اس وقت گروہ جن (کے بزرگوں) میں سے تھا۔ (کہف ـــــــــ ٥٠) نوعِ انسان کی جن پر فضیلت پر دلیل ہے۔ یہاں تک تو ان مطالب سے گفتگو تھی جو قرآن مجید سے، اس نظر نہ آنے والے موجود کے بارے میں معلوم ہوتے ہیں، جو ہر قسم کی بےہودگی اور غیر علمی مسائل سے خالی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ عامۃ الناس نے بہت سی خرافات اس موجود کے بارے میں گھڑی ہوئی ہیں جو عقل و منطق کے ساتھ سازگار نہیں ہیں اور اسی بناء پر ایک خرافاتی اور غیر منطقی چہرہ اس موجود کو دیا گیا ہے کہ جونہی لفظ "جن" بولا جاتا ہے تو چند ایک خرافات بھی اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ انھیں عجیب و غریب اور وحشت ناک شکلوں اور دُم دار و سم وار و موذی و پرآزار، کینہ پرور و بدرفتار سمجھتے ہیں جو گرم پانی کے ایک برتن کو کسی خالی جگہ میں انڈیلنے سے گھروں کو آگ لگا سکتے ہیں۔ اور اسی قسم کے دوسرے موہومات۔ حالانکہ اگر وجود جن کو ان خرافات سے الگ کیا جائے تو اصل مطلب مکمل طور پر قابلِ قبول ہے، کیونکہ زندہ موجودات کے صرف ان ہی چیزوں میں منحصر ہونے پر، جنھیں ہم دیکھتے ہیں، کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ علماء اور علوم طبیعی کے ماہرین کہتے ہیں کہ وہ موجودات، جنھیں انسان اپنے حواس کے ساتھ روک کر سکتا ہے، ان موجودات کے مقابلہ میں، جو اس کے ساتھ قابلِ ادراک نہیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ان آخری ایّام تک جب تک کہ خوردبین سے زندہ موجودات کا انکشاف نہیں ہوا تھا، کوئی شخص یہ یقین نہیں کرتا تھا کہ پانی ایک قطرہ میں، یا خون کے ایک قطرہ میں ہزار ہا زندہ جاندار موجود ہیں، جن کو دیکھنے کی انسان میں قدرت نہیں ہے۔ نیز ماہرین کہتے ہیں: ہماری آنکھ نہ صرف محدود رنگوں کو ہی دیکھتی ہے، اور ہمارا کان محدود و صوتی امواج کو ہی سنتا ہے، وہ رنگ اور آواز جو ہماری آنکھ اور کان سے قابل ادراک نہیں ہیں، ان سے بہت ہی زیادہ ہیں جو قابل ادراک ہیں۔ جب عالم کی وضع و کیفیت اس طرح کی ہو، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے، کہ انواع و اقسام کے زندہ موجودات اس عالم موجود ہوں، جنھیں ہم اپنے حواس کےساتھ درک نہ کر سکتے ہوں، اور جب پیغمبر اسلامؐ جیسا مخبر صادق ان کے متعلق خبر دے، تو ہم اسے قبول کیوں نہ کریں؟ بہرحال، ایک طرف تو قرآن نے، جو کلام ناطقِ صادق ہے، جنّات کے وجود کی ان خصوصیات کے ساتھ، جو اوپر ذکر ہوئی ہیں، خبر دی ہے، اور دوسری طرف کوئی عقلی دلیل اس کی نفی پر موجود نہیں ہے، لہذا اس کو قبول کر لینا چاہیے اور غلط و ناروا توجہیات سے بچنا چاہیے، اور اسی طرح سے عوام کے خرافات سے اس سلسلہ میں اجتناب کرنا چاہیے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "جن" کبھی ایک زیادہ وسیع مفہوم پر بولا جاتا ہے، جو نظر نہ آنے والے کئی موجودات کے انواع کو شامل ہے۔ عام اس سے کہ وہ عقل و ادراک کے حامل ہو یا عقل و ادراک نہ رکھتے ہوں۔ یہاں تک کہ حیوانات کا وہ گروہ بھی، جو آنکھ سے نظر آتا ہے اور عام طور پر گھونسلوں میں چھپا رہتا ہے، اس وسیع معنی میں داخل ہے۔ اس بات کی شاہد وہ روایت جو پیغمبرؐ سے نقل ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: خلق اللہ الجن خمسۃ اصناف: صنف کالریح فی الھواء، و صنف حیات و صنف عقارب، و صنف حشرات الارض، و صنف کبنی اٰدم علیھم الحساب والعقاب "خدا نے جنوں کو پانچ اقسام میں پیدا کیا ہے: ایک صنف تو ہوا کی طرح فضا میں ہے (جو نظر نہیں آتی)۔ ایک صنف سانپوں کی صورت میں ہے، ایک صنف بچھوؤں کی صورت میں ہے، ایک صنف حشراتِ زمین ہیں اور ایک صنف ان میں سے انسان کی مانند ہے، جس پر حساب و عقاب ہے۔" (بحوالہ: "سفینۃ المجار"، جلد اول، ص ١٨٦ (مادہ جن))۔ اس روایات اور اس کے وسیع مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت سی مشکلات، جو روایات و حکایات ہیں، جنات کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، حل ہو جائیں گی۔ مثلاً بعض روایات میں امیر المومنین علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: لا تشرب الماء من ثلمۃ الاناء ولا من عروتہ فان الشیطان یقعد علی العروۃ والثلمۃ برتن کے ٹوٹے ہوئے حصہ اور اس کے دستے والی طرف سے پانی نہ پئو، کیونکہ شیطان اس کے دستہ اور ٹوٹے ہوئے حصہ پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔ (بحوالہ: "کتاب کافی" جلد ٦، ص ٣٨٥، کتاب الا شربہ باب الاوانی، حدیث ٥)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "شیطان"، "جنوں" میں سے ہے، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ برتن کی ٹوتی ہوئی جگہ، اور اسی طرح اس کا دستہ انوع و اقسام کے جراثیم کی اجتماع کی جگہ ہوتا ہے۔ یہ بعید نظر نہیں آتا کہ "جن و شیطان"، "عام مفہوم" کے لحاظ سے اس قسم کے موجودات کو بھی شامل ہوں، اگرچہ اس کا ایک خاص معنی ہے، جو ایک ایسا موجود ہے جو فہم و شعور اور مسئولیت و تکلیف (فرائض و وظائف) رکھتا ہے، اور اس سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں۔ (تشریحی نوٹ: کتاب "اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر" کی پہلی جلد میں اس سلسلہ میں تقریباً تیس روایات جمع کی گئی ہیں)۔ پروردگارا! اس دن جس میں جن و انس تیری دادگاہ عدل میں حاضر ہوں گے، اور سب بدکار اپنے کیے پر پیشمان ہوں گے، تو ہمیں اپنے سایہ لطف میں قرار دے۔ خداوندا! تیرے ملک کا دامن وسیع اور کشادہ ہے اور ہماری معلومات اور معرفت محدود ہے، ہمیں لغزشوں، خطاؤں اور غیر حق فیصلے کرنے سے مصون و محفوظ رکھ۔ بارِالہا! تیرے پیغمبر کا مقام اتنا بلند ہے کہ اس کی دعوت کو انسانوں کے علاوہ جن و پری نے بھی قبول کیا ہے، ہمیں اس دعوت پر ایمان لانے والوں میں سے قرار دے۔ آمین یا رب العالمینن