Sūra 11 · 123v
Chapter 11123 verses

Hud

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
هود
ہود

سورہ هود

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۲٣ آیات ہیں

مضامین اور فضیلت

مفسرین میں مشہور ہے کہ تمام سورہ مکّہ میں نازل ہوئی۔”تاریخ القرآن“ کے مطابق یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر نازل ہونے والی انچاسویں سورت ہے۔ بعض مفسّرین کی تصریح کے مطابق یہ سورة ان آخری سالوں میں نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم مکّہ میں تھے۔ یعنی حضرت ابوطالب (علیه السلام) اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد لہٰذا فطرتاً پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کا ایک سخت ترین دور تھا۔ اس بنا پر اس کہ اس زمانے میں دشمن کا دباؤ اور اس کا زہریلا پروپیگنڈا ہر دور سے زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ اس سورة کی ابتدا میں ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کی دل جوئی اور تسلّی کا پہلو رکھتی ہیں۔ اس سورة کی آیات کا اہم اور بیشتر حصّہ گذشتہ انبیاء خصوصاً حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت جہاں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کے لیے تسلی اور سکون قلب کا باعث تھا وہاں ان کے طاقتور دشمنوں کے لیے درسِ عبرت بھی تھا۔ اس سورة کی آیات باقی مکی سورتوں کی طرح معارف اسلامی کے اصولوں خصوصاً شرک و بت پرستی سے مبارزہ، بعد از موت کے معاملات اور دعوتِ پیغمبر اسلامؐ کی صداقت کی تشریح پر مبنی ہیں۔ ان مباحث میں دشمنوں کو شدید انجام سے ڈرایا گیا ہے اور مومنین کو استقامت و پامردی کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے حالات اور دشمنوں سے نبرد آزمائی کی تفاصیل کے علاوہ حضرت ہود (علیه السلام)، حضرت صالح(علیه السلام)، حضرت ابراہیم (علیه السلام)، حضرت لوط (علیه السلام) اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی سرگزشت نیز شرک و کفر اور انحراف و ستم گری کے خلاف وسیع و طویل جنگ کی بابت اشارات بھی اس سورة میں موجود ہیں۔

اس سورة نے مجھے بوڑھا کر دیا

اس سورة کی آیات وضاحت کے ساتھ اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی دشمنوں کی کثرت اور ان کے شدید حملوں کی وجہ سے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیئے بلکہ ہر لمحہ ان کی استقامت و پامردی میں اضافہ ہونا چاہیئے۔ اسی بنا پر ایک مشہور حدیث میں مذکور ہے کہ حضورِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: شیبتنی سورة ھود سورۃ ھود نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد دوم، ص۲۳۴) یا جس وقت آپ کے صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے چہرہٴ انور پر بڑھاپے کے آثار زیادہ جلدی نمودار ہو گئے ہیں، تو فرمایا: شیبتنی ھود والواقعہ سورہٴ ہود اور سورہٴ واقعہ نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان اسی سورة کے آیة ۱۱۸ کے ذیل میں)۔ اور بعض روایات میں سورہٴ ”مرسلات، عمّ یتساء لون اور تکویر“ وغیرہ کا اضافہ بھی ہوا ہے۔ (بحوالہ روح المعانی جلد ۱۱، ص ۱۷۹۔) ابن عباس سے اس حدیث کی تشریح میں منقول ہے: رسول اللہ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور دشوار کوئی اور آیت نازل نہیں ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے: فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَ مَن تَابَ مَعَکَ یعنی ـــــــ تم اور تمھارے ساتھی اس طرح ثابت قدم رہیں جیسا کہ حکم دیا گیا۔ (بحوالہ مجمع البیان اسی سورة کی آیت ۱۱۲ کے ذیل میں) بعض مفسرین سے منقول ہے کہ ایک عالم دین نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا تو آپ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ سے مروی ہے کہ ”سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا“ کیا اس کا سبب و علت گذشتہ امتوں کی سرگزشت اور ہلاکت بیان کرنا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ اس سبب ”فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ“ والی آیت تھی۔ (بحوالہ روح المعانی جلد ۱۱، ص ۱۷۹) بہرحال اس سورة میں علاوہ اس آیت کے، قیامت اور عدالتِ خدواندی میں باز پرس سے مربوط گذشتہ امتوں کی ہلا دینے والی سزاؤں سے متعلق اور فتنہ و فساد کے خلاف جنگ کے بارے میں احکام ہیں۔ یہ سب امور احساسِ مسئولیت پیدا کرتے ہیں۔ تعجب کی بات نہیں کہ ان ذمہ داریوں کے بارے میں غور و فکر انسان کو بوڑھا کر دے۔ ایک نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری یہ ہے کہ اس سورة کی بہت سی آیات ان مطالب کی تاکید کرتی ہیں، جو گذشتہ سورة یونس میں آچکے ہیں۔ خصوصاً اس کا آغاز بعینہ اس کے آغاز جیسا ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا مقصد اور ماحول بھی انہی مسائل کی تاکید ہے۔

اس سورة کی معنوی تاثیر

اس سورة کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث مروی ہے آپ نے فرمایا: من قرء ھذہ السورہ اعطی من الاجر والثواب بعد من صدق ھوداً والانبیاء علیھم السلام، ومن کذب بھم، و کان یوم القیامة فی درجة الشھداءٰوحوسب حساباً یسیراً ترجمہ: جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے اس کی جزا اور ثواب ان اشخاص جیسا ہے جو حضرت ہود(علیه السلام) اور باقی انبیاء پر ان کے جھٹلانے والوں اور منکرین کے مقابلے میں ایمان لائے۔ ایسا شخص قیامت کے دن شہداء میں سے قرار پائے گا اور اس کا حساب آسان وسہل ہو گا۔ (بحوالہ تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶.) واضح ہے کہ خالی اور خشک تلاوت یہ اثر نہیں رکھتی بلکہ غور و فکر کے ساتھ کی گئی تلاوت ہی عمل کی جانب گامزن کرتی ہے اور یہ بات انسان کو مومنین ماسلف کے نزدیک اور منکرین انبیاء سے دور کر دیتی ہے۔ اسی بناء پر اسے ان میں سے ہر ایک کی تعداد کے برابر جزا ملے گی۔ فکر و معرفت کے ساتھ اس سورة کی تلاوت کرنے والا قاری چونکہ گذشتہ امتوں کے شہداء کے ساتھ ہم مقصد و یک ہدف ہو گالہٰذا تعجب نہیں کہ وہ ان جیسا قرار پائے اور اس کا حساب کتاب (روزِ آخرت میں) آسان و سہل ہو جائے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: جو شخص یہ سورة اپنے پاس لکھ کر رکھے خدا اسے بے حد قوت و طاقت عطا فرمائے گا اور جس کے پاس یہ سورة تحریراً موجود ہو تو وہ جنگ میں دشمن پر غالب آئے گا یہاں تک کہ جو بھی اسے دیکھے گا اس سے خوف کھائے گا۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶) اگرچہ راحت طلب اور ظاہری مقاصد اخذ کرنے والے افراد اس قسم کی احادیث سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ صرف قرآن کی تحریر اور نقش کا ہمراہ ہونا ان مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہے مگر درحقیقت ان کو اپنے پاس رکھنے سے مراد انھیں ایک دستور العمل اور زندگی کے پروگرام کے طور پر اپنے پاس رکھنا، اسے ہمیشہ پڑھتے رہنا اور ہُوبہُو اس کا اجرا کرنا ہے۔ لہٰذا یہ بات مسلّم ہے کہ ایسا کرنے سے ہی نصرت و کامیابی کے آثار ظاہر ہوں گے، کیونکہ اس سورة میں استقامت و پامردی، فساد سے نفرت اور ہدف و مقصد سے ہم بستگی کا حکم اور گذشتہ اقوام کی تاریخ و تجربات کا بیشتر حصّہ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک مذکورہ واقعہ دشمن پر کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کا درس دیتا ہے۔

1
11:1
الٓرۚ كِتَٰبٌ أُحۡكِمَتۡ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
یہ کتاب ہے جس کی آیات مستحکم کی گئی ہیں پھر ان کی تشریح وتفصیل بیان کی گئی ہے، حکیم وآگاہ خدا کی طرف سے (یہ نازل ہوئی ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
11:2
أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۚ إِنَّنِي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ
(میری دعوت یہ ہے) خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں اس کی طرف سے تمہیں ڈرانے والا ہوں اور خوش خبری دینے والا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
11:3
وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ
اور یہ کہ اپنے پروردگار کی بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹو تاکہ وہ اچھے طریقے سے تمہیں مدت معین تک (اس جہان کی نعمتوں سے) بہرہ مند کرے اور ہر صاحب فضیلت کو اس کی فضیلت کے مطابق عطا کرے اور اگر(اس فرمان سے) تم نے منہ موڑا تو مجھے تمہارے لئے بہت برے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
11:4
إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
(جان لو) تمہاری بازگشت اﷲ کی طرف ہے اور وہ ہر چیز پرقادر ہے۔

دعوت انبیاء کے چار اہم اصول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ سورة بھی گذشتہ سورة اور قرآن کی دیگر بہت سی سورتوں کی مانند اس عظیم آسمانی کتاب کی اہمیت کے بیان سے شروع ہورہی ہے تاکہ لوگ اس کے مضامین کی طرف سے زیادہ متوجہ ہوں اور اسے زیادہ باریک بینی سے دیکھیں۔ حروف مقطعات ”آلرٰ“ کا ذکر خود اس عظیم آسمانی کتاب کی اہمیت کی دلیل ہے، یہ کتاب باوجود اپنے اعجاز وعظمت کے معمولی حروف مقطعات جو کہ سب کے سامنے ہیں یعنی الف، لام، راء، سے تشکیل پائی ہے (الٓرٰ)۔ (تشریحی نوٹ: اس معنی کی تفصیل اور قرآن کے حروف مقطعات کی دیگر تفاسیر سورة بقرہ، آلِ عمران اور اعراف کی ابتداء میں مذکورہ وچکی ہیں۔) حروف مقطعات کے بعد قرآن مجید کی ایک خصوصیت دو جملوں میں بیان کی گئی ہے، پہلی یہ کہ یہ ایسی کتاب ہے جس کی تمام آیات مستحکم ہیں (کِتَابٌ اُحْکِمَتْ آیَاتُہُ)۔ دوسری یہ کہ اس میں انسانی زندگی کی تمام انفرادی، اجتماعی، مساوی اور معنوی ضروریات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے (ثُمَّ فُصِّلَتْ)۔ یہ عظیم کتاب ان خصوصیات کے ساتھ اس خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو حکیم بھی ہے اور آگاہ بھی (مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ)۔ اپنے حکیم ہونے کے تقاضے بنا پر اس نے آیاتِ قرآن کو محکم بیان کیا ہے اور خبیر وآگاہ ہونے کے تقاضے کے پیشِ نظر آیاتِ قرآنی کو انسانی ضروریات کے مطابق مختلف حصّوں میں بیان فرمایا ہے۔اس لیے کہ جب تک کوئی انسان کی تمام روحانی وجسمانی کی جزئیات سے باخبر نہ ہو وہ تکامل آفرین اور ارتقائی اہلیّت کے حامل احکام صادر نہیں کر سکتا۔ درحقیقت صفاتِ قرآن میں سے ایک، جو اس آیت میں آئی ہے، کا سرچشمہ خدا کی کوئی ایک صفت ہے، قرآن کا مستحکم ہونا خدا کی حکمت سے ہے اور اس کی تشریح وتفصیل اس کے باخبر ہونے کے باعث ہے۔

”اُحْکِمَتْ“اور ”فُصِّلَتْ“میں فرق

مفسّرین قرآن نے ”اُحْکِمَتْ“ اور ”فُصِّلَتْ“کے فرق میں بہت سی بحثیں کی ہیں اور کئی ایک احتمالات پیش کیے ہیں، لیکن مذکورہ آیت کے مفہوم سے نزدیک تر جو بحث سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لفظ میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ قرآن ایک واحد مجموعہ ہے جو آپس میں پیوست ہے اور ایک محکم واستوار عمارت کی مانند ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خدا واحد ویکتا کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس بناء پر اس کی آیات میں کسی قسم کا تضاد واختلاف نظر نہیں آتا۔ دوسرا لفظ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس کتاب میں باوجود وحدت واکائی کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں جو انسان کی تمام تر جسمانی وروحانی ضروریات کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے اسی بناء پر وحدت کے باوجود کثیر ہے اور کثرت کے باوصف واحد ہے۔ بعد والی آیت میں قرآن کا اہم ترین اور سب سے بنیادی موضوع یعنی توحید کا بیان اور شرک کا مقابلہ ان الفاظ میں میں کیا گیا ہے”اَلاَّ تَعْبُدُوا إلاَّ اللهَ“، یعنی میری پہلی دعوت یہ ہے کہ یکتا ویگانہ خدا کے کسی کی پرستش نہ کرو (تشریحی نوٹ: الَّا تَعْبدُوا الا اللّٰہ“ کے بارے میں دو احتمال پیش کیے گئے ہیں پہلا یہ کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے یہ زبان پیغمبر سے ہے اور اس کی ترکیب یہ ہو گی: ”دعوتی وامری الاتعبدو الا اللّٰہ“- دوسرا یہ کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی تقدیر یہ ہے: امرکم الا تعبدوا الاللّہ- لیکن جملہ ”اننی لکم منہ نذیر و بشیر“(میں تمھیں ڈرانے اور خوشخبری سنائے والا ہوں) پہلے معنی سے زیاد مطابقت رکھتا ہے۔) یہ دراصل اس عظیم کتاب کے احکام کی پہلی تفسیر ہے۔ میری دعوت کا دوسرا پروگرام یہ ہے کہ: ”إنَّنِی لَکُمْ مِنْہُ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ“ یعنی میں تمھارے لیے اسی خدا کی طرف نذیر (ڈرانے والا) اور بشیر (خوشخبری دینے والا) ہوں، مَیں تمھیں نافرمانیوں، ظلم وفساد اور شرک وکفر کے بارے میں ڈراتا ہوں اور تمھارے کرکوتوں کے عکس العمل اور خدائی عذاب وسزا سے خبردار کرتا ہوں، اطاعت وپاکیزگی اور تقویٰ کے بدلے میں تمھیں سعادت بخش زندگی کی بشارت دیت ہوں (اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ) میری تیسری دعوت یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے استغفار کرو اور اپنے کو آلودگیوں سے پاک و صاف رکھو (وَاَنْ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ)۔ میری چوتھی دعوت یہ ہے کہ اس کی طرف پلٹ آؤ اور استغفار کے نتیجہ میں گناہوں سے پاک ہو جانے کے بعد اپنے کو خدائی صفات سے آراستہ کرو کیونکہ اس کی جانب بازگشت اس کی صفات سے اپنے آپ کو مزین کرنے کے علاوہ کچھ نہیں (ثُمَّ تُوبُوا إلَیْہِ)۔ درحقیقت حق کی جانب دعوت دینے کے چار مراحل ان چار جملوں کے ذریعے بیان ہوئے ہیں کہ جن میں دو عقیدہ اور بنیاد سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے دو کا تعلق بنیاد کے اوپر والے حصّے اور عمل سے ہے، حقیقی توحید قبول کرنا، شرک سے مبارزہ اور پیغمبر اکرمؐ کی ر سالت کو قبول کرنا اعتقادی اصول ہیں، اسی طرح اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنا اور صفات الٰہی کو اپنانا یعنی عملی لحاظ سے اپنی مکمل اصلاح کر لینا قرآن کے دو عملی احکام ہیں۔ لہٰذا اگر صحیح معنوں میں غور وفکر کریں تو قرآن کے تمام موضوعات کا خلاصہ یہی چار اقسام وامور ہیں، یہی اس سورة اور سارے قرآن کے موضوعات کی فہرست ہے، ان چار احکام کا ”موافقت“ یا مخالفت“ کی صورت میں عملی نتیجہ اس طرح بیان کیا گیا ہے: جس وقت اس پرگرام کو عملی جامہ پہناوٴگے تو خدا تمھیں تمھاری عمر کے آخری لمحات تک اس دنیا کی سعادت بخش زندگی سے بہرہ ور کرے گا (یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إلیٰ اَجَلٍ مُسَمًّی)۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر شخص کو اس کے عمل کے برابر بہرہ مند کرے گا اور ان چار اصولوں پر عمل کرنے کی کیفیت میں لوگوں کے فرق اور تفاوت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرے گا بلکہ ہر صاحبِ فضیلت کو اس کی فضیلت کے مطابق عطا کرے گا (وَیُؤْتِ کُلَّ ذِی فَضْلٍ فَضْلَہُ)۔ لیکن اگر انسان نے راہِ مخالفت اختیار کی اور عقیدہ وعمل سے متعلق ان چار احکام کی نافرمانی کے راستے پر چلے تو مَیں تم پر اس عظیم دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ دن کہ جس میں تم عدلِ الٰہی کی عظیم عدالت میں حاضر ہو گے (وَإنْ تَوَلَّوْا فَإنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیرٍ)۔ بہرحال جان لیجئے کہ تم جو کچھ بھی ہو اور جس مقام ومنزلت پر فائز ہوں آخرکار تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے (إلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ)۔ یہ جملہ قرآن کے تفصیلی اصولوں میں سے یعنی مسئلہ معاد وقیامت کی طرف اشارہ ہے۔ لہٰذا یہ کبھی نہ سوچنا کہ تمھاری قوت خدا کی قوت وقدرت کے مقابلہ میں کوئی اہمیت رکھتی ہے یا سمجھنے لگو کہ تم اس کے فرمان اور اس کی عدالت کے کٹہرے سے فرار حاصل کر سکو گے، نیز یہ تصوّر بھی نہ کرنا کہ وہ تمھاری بوسیدہ ہڈیوں کو موت کے بعد جمع نہیں کر سکتا اور نئی حیات کا لباس پہنا سکتا، اس لیے کہ وہ تو ہر چیز پر قادر وتوانا ہے (وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ)

دین ودُنیا کا رشتہ

ابھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو گمان کرتے ہیں کہ دینداری فقط آخرت کا گھر آباد کرنے اور بعد از موت راحت وسکون حاصل کرنے کے معنی میں ہے اسی طرح اعمال نیک آخرت کا ثمر اور زادِ راہ ہیں، ایسے لوگ اس جہان کی اصل زندگی میں ایک پاکیزہ اور حقیقی مذہب کے اثر سے بے اعتنا ہیں یا اس کے لیے کم اہمیت کے قائل ہیں حالانکہ مذہب آخرت کا گھر آباد کرنے سے پہلے دنیاوی گھر آباد کرنے والا ہے اور اصولاً جب تک مذہب اِس زندگی میں اثر انداز نہ ہو اُس زندگی کے لیے اس کی کوئی تاثیر نہ ہو گی۔ قرآن صراحت کے ساتھ بہت سی آیات میں اس موضوع کو اپنا عنوان قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض جزوی مسائل کو بھی اہمیت دی ہے جیسا کہ سورہٴ نوح میں ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے اپنی قوم سے یوں فرمایا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إنَّہُ کَانَ غَفَّارًا، یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا، وَیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اَنْھَارًا اور اپنے گناہوں سے اتسغفار کرو اور توبہ کے پانی سے انھیں دھو ڈالو کہ خدا بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے درپے تم پر آسمان کی برکتیں نازل کرے اور مال واولاد سے تمھاری مدد کرے اور سرسبز باغات کی اور پانی کی نہریں تمھارے قبضہ دے دے (نوح/۱۰،۱۱،۱۲). بعض لوگ دینا کی ان مادی نعمات اور استغفار وگناہ سے پاک ہونے کے درمیان صرف ایک معنوی رشتہ سمجھتے ہیں جو سمجھ نہیں آسکتا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ان امور کی ایسی تفسیر کی جائے جو سمجھ میں آنے والی نہ ہو، کون شخص اس حقیقت میں شک رکھتا ہے کہ حقیقی توحید کوقبول کرنے، انبیاء کی رہبری میں الٰہی معاشرے کا قیام، ماحول کو گناہوں سے پاک کرنے اور انسان قدروں سے آراستہ کرنے، (یعنی وہ چار اصول جن کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے) ان پر عمل پیرا ہونے سے معاشرہ تکامل اور ارتقاء کی جانب بڑھتا ہے اور امن وسلامتی اور صلح وصفا سے معمور ایک آباد وآزاد معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اسی بناء پر مذکورہ بالا آیات میں ان چار اصولوں کے تذکرے کے بعد ہم پڑھتے ہیں: یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إلیٰ اَجَلٍ مُسَمًّی۔ اگر ان اصولوں پر کاربند ہوجاوٴ تو آخری عمر تک شائستہ اور نیک طرزِ زندگی سے بہرہ مند رہو گے۔

5
11:5
أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
آگاہ ہو کہ جب وہ (اپنے سروں اور)سینوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو (اور اپنی باتوں کو) اس (پیغمبر) سے پوشیدہ رکھیں، آگاہ رہو کہ جب وہ اپنے لباس کو اپنے اوپر لپیٹ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس میں چھپالیتے ہیں (خدا) ان کے ظاہر اور باطن سے باخبرہے کیوں کہ وہ سینوں کے اندر کے رازوں سے آگاہ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسّرین نے اس آیت کے لیے کئی شانِ نزول ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نہایت شیرین زبان تھا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے دوستی اور محبّت کا اظہار کرتا مگر باطن میں دشمنی اور عداوت رکھتا تھا۔ نیز جابر بن عبد الله نے امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ مشرکین کا ایک گروہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے سے گزرتا تو اپنے سروں کو نیچے کرلیتا یہاں تک کہ اپنے سر کو لباس سے چھپا لیتا تاکہ پیغمبرؐ انھیں دیکھ نہ لیں، یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔

تفسیر

یہ آیت بطور کلی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے احمقانہ فعل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی نفاق آمیز اور حق سے گریزاں روش سے چاہتے تھے کہ اپنی ذات کو دوسریں کے نظروں سے پنہاں رکھیں تاکہ کہیں حق کی آواز نہ سُن لیں، لہٰذا فرمایا گیا ہے: آگاہ رہو کہ وہ پیغمبرؐ کی دشمنی کو دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں اور سروں کو نیچے کیے ہوئے سینوں کو آگے سے خم کرتے ہیں تاکہ خود کو آنحضرت کی نظر سے پوشیدہ رکھیں (اَلَاإنَّھُمْ یَثْنُونَ صُدُورَھُمْ لِیَسْتَخْفُوا مِنْہُ)۔ اس آیت کے معنی کوصحیح طور پر سمجنے کے لیے ضروری ہے کہ لفظ ”یَثْنُون“کا مفہوم پورے طور پر واضح ہو، ”یَثْنُون“کا مادہ ”ثنی“ (بروزنِ سنگ) ہے جو دراصل کسی چیز کے مختلف حصّوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کرنے کے معنی میں آیا ہے مثلاً لباس تہ کرنے کے لیے ”ثنی ثوبہ“کہا جاتا ہے اور یہ افراد کو ”اثنان“کہا جاتا ہے اس بناء پر ہے کہ ہم ان میں سے ایک کو دوسرے کے پہلو میں قرار دیتے ہیں، مداحی اور قصیدہ گوئی کو ”ثناخوانی“ بھی اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ممدوح کی صفاتِ برجستہ یکے بعد دیگرے شمار کی جاتی ہیں، نیز یہ مادّہ خم ہونے اور جھکنے کے معنی میں بھی آیا ہے اس کے انسان اس کام سے اپنے بدن کے کچھ حصّوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیتا ہے، اسی طرح کینہ وعداوت رکھنے کے معنی میں بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح انسان کبھی کسی شخص یا چیز کی دشمنی کو دل کے نزدیک کرلیتا ہے، یہ تعبیر بھی عربی ادب میں ملتی ہے۔ ”اثنونی صدرہ علی البغضاء“ اس نے میرا کینہ دل میں رکھا۔(بحوالہ: تاج العروس، مجمع البیان، المنار اور مفردات راغب کی طرف رجوع کیا جائے۔) جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس پر توجہ دینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممکن ہے مندرجہ بالا تفسیر دشمنانِ پیغمبرؐ کی ظاہری وباطنی مخالفت اور ہر قسم کی خفیہ یاسازشوں کی طرف اشارہ ہو، اس لیے کہ ایک طرف تو دل میں بغض وکینہ اور دشمنی رکھنے کے باوجود ظاہراشیرین زبان سے اظہارِ دوستی کرتے تھے اور دوسری جانب گفتگو کرتے وقت سروں کو ایک دوسرے کے قریب اور سینوں کو پیچھے کی طرف کیے ہوئے یہاں تک کہ اپنے لباسوں کو بھی سر پر لے لیتے ہیں، تاکہ اشارہ وکنایہ میں بدگوئیاں اور سازشیں کرسکیں اور کوئی شخص ان کے رازوں سے آگاہ نہ ہو، لہٰذا قرآن بلافاصلہ آگاہ کرتا ہے کہ ”آگاہ رہو جس وقت وہ اپنے آپ کو اپنے لباسوں میں چھپالیتے ہیں (اَلَاحِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَھُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ)۔ پروردگار ان کے ظاہر وپنہان سب کو جانتا ہے اس لیے کہ وہ ان کے سینوں (اندر) کے بھیدوں سے واقف ہے (إنَّہُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ)۔

6
11:6
۞وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
اور زمین میں حرکت کرنے والی کوئی چیز نہیں مگریہ کہ اس کی روزی خدا کے ذمہ ہے اور وہ اس کی جائے قیام اور نقل وحرکت کے مقام کو جانتا ہے یہ سب کچھ واضح کتاب (علم خدا کی لوح محفوظ) میں ثبت شدہ ہے۔

سب اسی کے مہمان ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت میں پروردگار کے علم کی وسعت اور ہر آشکار وپنہان چیز پر اس کے احاطہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، زیرِ بحث آیت درحقیقت اس امر کی دلیل ہے کیونکہ اس میں تمام موجوداتِ عالم کو خدا کی طرف سےروزی دینے کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور یہ ایسا کام ہے جو تمام موجوداتِ عالم کے کامل احاطہ علمی کے بغیر ممکن نہیں، اسی لیے خداوندعالم فرماتا ہے: رُورئے زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کی روزی اس کے ذمہ نہ ہو وہ انسان کی جائے قرار کو جانتا ہے اور اپنی قرار گاہ سے جن نقاط کی طرف منتقل ہوتا ہے اس سے بھی باخبر ہے، نیز ایک جاندار جہاں کہیں بھی ہو اس تک روزی پہنچاتا ہے (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاَرْضِ إلاَّ عَلَی اللهِ رِزْقُھَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمُسْتَوْدَعَھَا)۔ یہ تمام حقائق اپنی تمام حدود وقیود کے ساتھ کتابِ مبین اور علمِ خدا کی لوح محفوظ میں ثبت ہیں (کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ)

چند اہم نکات

۱۔ ”دابّہ“ لفظ دبیب سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں آہستہ آہستہ چلنا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا لیکن لغوی مفہوم کے لحاظ سے ہر قسم کی حرکت اس میں شامل ہوتی ہے، کبھی کبھار ان معانی کا اطلاق گھوڑے یا سواری کے دیگر جانوروں پر بھی کیا جاتا ہے، چنانچہ واضح ہے کہ زیرِ بحث آیت میں تمام زندہ موجودات کو شامل کیا گیا ہے۔ ۲۔ ”رزق“ مسلسل عطا کے معنی میں آیا ہے اور چونکہ موجودات عالم کے لیے خدا کی دی ہوئی روزی اس کی طرف سے پائیدار اور مسلسل عطا ہے لہٰذا اسے ”رزق“کہا جاتا ہے، اس نقطہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ عطا وبخشش کا مفہوم صرف مادی ضروریات پورا ہو جانے کے معنی میں مقید نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی مادّی ومعنوی عطا اس میں شامل ہے اسی لیے تو ہم کہتے ہیں: ”اللّٰھم ارزقنی علماً تاماً“ خدایا! مجھے کامل علم عطا فرما۔ یا کہتے ہیں: ”اللّٰھم ارزقنی شھادة فی سبیلک“ خدایا! اپنی راہ مجھے شہادت نصیب فرما۔ البتہ ممکن ہے کہ زیرِ بحث آیت میں مادّی رزق کو مدّنظر رکھا گیا ہو اگرچہ اس کا عمومی مفہوم بھی زیادہ بعید نہیں ہے۔ ۳۔ ”مستقر“ دراصل قرار گاہ کے معنی میں ہے، کیونکہ اس لفظ کی بنیاد مادہ ”قر“ (بروزنِ حر) ہے جس کا مطلب ہے سخت سردی جو انسان اور دیگر موجودات زندہ کو خانہ نشین بنادیتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ سکون اور توقف کے معنی میں بھی آیا ہے۔ ”مستودع“ اور ”ودیعہ“ ایک ہی مادّہ سے ہیں جو درحقیقت کسی کو چھوڑ دینے کے معنی میں ہے، وہ تمام امور جو اپنی ناپائیداری سے اصلی اور پائیدار حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں ان کو ”مستودع“ کہا جاتا ہے اور ”ودیعت“ بھی اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آخرکار اسے اپنے موجودہ محل ومقام کو چھوڑکر اپنے اصلی مالک کی طرف پلٹ جانا ہے۔ حقیقت میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ تصور ہرگز نہ کیا جائے کہ خدا صرف ان حرکت کرنے والوں کو روزی دیتا ہے جو اپنی اصلی جگہ پر برقرار ہیں اور اصطلاح کے مطابق ان کا حصّہ ان کے گھروں میں لے آتے ہیں، بلکہ جہاں کہیں بھی ہوں اور جس کیفیت وحالت میں ہوں ان کی روزی اور رزق کا حصّہ انھیں عطا کرتا ہے، اس لیے کہ وہ ان (موجودات) کی اصلی قرار گاہ کو بھی جانتا ہے اور جہاں جہاں وہ نقل مکانی کرتے ہیں ان تمام خطوں سے باخبر ہے اس نے غول پیکر دریائی جلانوروں سے لے کر بہت ہی باریک اور آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کے لیے بھی ان کے مناسب رزق مقرر کر دیا ہے۔ یہ رزق اس قدر حساب شدہ اور موجودات کے مناسبِ حال ہے کہ ”مقدار“ اور ”کیفیت“ کے لحاظ سے کاملاً ان کی خواہشات وضروریات کو پورا کرتا ہے یہاں تک کہ اس بچہ کی کی غذا کو شکمِ مادر میں ہے ہر ماہ ہر دن دوسرے مہینوں اور دنوں سے مختلف ہے اگرچہ ظاہری طور پر ای قسم کے خون سے زیادہ نہیں نیز بچّہ شِیرخواری کے زمانے میں باوجودیکہ ظاہراً پے ردپے کئی ماہ تک اس کی ایک قسم کی غذا (دودھ) ہوتی ہے مگر اس دودھ کی ترکیب بھی پہلے دن سے مختلف ہوتی ہے۔ ۴۔ ”کتاب مبین“ کا مطلب ہے کہ واضح وآشکار تحریر اور یہ اشارہ ہے پروردگار کے وسیع علم کے ایک مرحلہ کی جانب کہ جسے کبھی کبھی اپنی روزی حاصل کرنے کے سلسلے میں معمولی سے معمولی پریشانی بھی نہیں ہونی چاہیے اور وہ یہ تصور نہ کرے کہ اپنی روزی کا حصّہ لینے میں کبھی اس کا نام درج ہونے سے رہ جائے گا، اس لیے کہ تمام موجوداتِ اراضی وسماوی کے نام اس کتاب میں درج ہیں کہ جس میں اس کا نام سب کو شمار اور ضریحاً بیان کیا گیا ہے، اسی طرح جیسا کہ اگر ایک ادارہ میں کام کرنے والے تمام ملازمین کا نام ایک رجسٹر میں واضح طور پر درج کیا گیا ہو تو کیا ان کا قلم سے رہ جانے کا احتمال ہو سکتا ہے؟

تقسیمِ رزق اور زندگی کے لئے سعی وکوشش

رزق کے بارے میں بہت سی اہم بحثیں موجود ہیں جن میں سے چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے: ۱۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے”رزق کے لغوی معنی استمراری اور دائمی بخشش کے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ مادّی یا روحانی ومعنوی، بنابریں ہر وہ منفعت جو خدا اپنے بندوں کو نصیب کرے، غذائی مواد، مکان اور لباس میں سے یا علم وعقل، فہم وایمان اور اخلاص میں سے، ان سب کو رزق کہا جاتا ہے، جو لوگ اس مفہوم کو صرف مادّ ی پہلو میں محدود کرتے ہیں انھوں نے اس کے استعمال کے مواقع کی طرف دقیق توجہ نہیں کی، قرآن مجید راہِ حق میں شہید ہونے والوں کے بارے میں کہتا ہے: بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُونَ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق حاصل کرتے ہیں (آل عمران/۱۶۹) واضح رہے کہ شہداء کی روزی اور وہ بھی عالمِ برزخ میں مادّی نعمتیں نہیں بلکہ وہی روحانی ومعنوی عنایات ہیں جن کا تصور کرنا ہمارے لیے اس مادی زندگی میں مشکل ہے۔ ۲۔ زندہ موجودات کی ضروریات یا دوسرے لفظوں میں ان کا رزق مہیا کرنے کا معاملہ سب سے زیادہ توجہ طلب مسائل میں سے ہے اس کے اسرار سے وقت گزرنے اور سائنسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پردہ اٹھ رہا ہے، سائنس اس سلسلے میں تعجب انگیز امور منکشف کر رہی ہے۔ گذشتہ زمانے میں تمام سائنسدان اس فکر میں تھے کہ اگر سمندروں اور دریاوں کی تہوں میں زندہ موجودات موجود ہیں تو ان کی غذا کس راستے سے ان تک پہنچتی ہو گی کیونکہ غذاوں کی اصلی بنیاد تو نباتات ہیں جنھیں سورج کی روشنی کی ضرورت ہے جبکہ دریاوں کی گہرائیوں میں ۷۰۰ میٹر سے آگے مطلقاً روشنی کا وجود نہیں اور اس سے آگے تو گویا ایک ابدی تاریک رات ہے لیکن بہت جلد معلوم ہو گیا کہ سورج کی روشنی نباتات اور سبزے کے باریک ذرّات کی سطح آب اور موجوں کے بستر پر پرورش کرتی ہے اور جب وہ اپنے تکامل وارتقاء کا مرحلہ طے کر لیتے ہیں تو پکے ہوئے پھل کی مانند دریاوں کی گہرائیوں اور تہوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں زندہ موجودات کے لیے خوانِ نعمت ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے پرندے دریائی مچھلیوں کو اپنی غذا بناتے ہیں حتّیٰ کہ کئی قسم کے رات کو پرواز کرنے والے پرندے موجود ہیں جو رات کی تاریکی میں ایک ماہر غوطہ خور کی طرح اپنے شکار کو، جسے مخصوص امواج ریڈار کی طرح پہنچانتی ہیں اور اس کی نشاندہی کرتی ہیں، باہر لے آتے ہیں۔ بعض پرندوں کی روزی عظیم الجثّہ دریائی جانوروں کے دانتوں کے اندر چھپی ہوتی ہے، یہ حیوانات دوسرے دریائی جانوروں کے بطور غذا کھانے کے بعد اپنے دانتوں میں ”طبیعی خلال“ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ساحل کی طرف آتے ہیں اور اپنے منھ کو جو ایک چھوٹی غار سے مشابہت رکھتا ہے کھلا چھوڑدیتے ہیں وہ پرندے جن کی روزی خدا نے یہاں رکھی ہے بغیر کسی ڈر خوف کے اس غارنما منھ میں داخل ہو جاتے ہیں، اور اس دیو پیکر جانور کے منھ سے اپنی روزی تلاش کر لیتے ہیں، اس تیار غذا سے جہاں پرندے شکم سیر ہوتے ہیں وہاں اس جانور کو بھی ضرر رساں مادّوں سے نجات دلاتے ہیں، چنانچہ جب دونوں فریقوں کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو پرندے باہر پرواز کرجاتے ہیں اور وہ حیوان آرام وسکون کا احساس کرتے ہوئے اپنا منھ بند کرلیتا ہے اور واپس دریا کی گہرائیوں میں چلا جاتا ہے۔ مختلف موجودات کو روزی بہم پہنچانے کے لیے خداوندعالم کا طریقہ وتدبیر واقعاً حیرت انگیز ہے وہ نطفہ جو شکم مادرمیں برقرار ہے، سے لے کر قسم قسم کے حشرات الارض تک، جو زمین کی تاریک گہرائیوں، پُرپیچ راستوں، درختوں کی چھالوں، پہاڑوں کی چوٹیوں اور درّوں کی پہنائیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں اس خداوندعظیم کے علم و بینش سے ہرگز مخفی نہیں ہیں، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ خداوند ان کی قرار گاہ اور حقیقی مسکن سے بھی آگاہ ہے وہ ان کے چلنے پھرنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور جہاں کہیں بھی ہوں ان کی روزی ان تک پہنچاتا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیرِ نظر آیت میں روزی حاصل کرنے والوں کے بارے میں بحث کے دروان انھیں ”دابة“ (پھرنے والے) اور ”جنیدہ“ (حرکت کرنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے جو ”توانائی“(ENERGY) اور ”حرکت“ (MOTION) میں رابطہ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی حرکت وجود میں آتی ہے وہ توانائی پیدا کرنے والے مادّہ کی محتاج ہوتی ہے یعنی وہ مادّہ جو حرکت کا منشاء ہے، اسی لیے قرآن بھی زیرِ بحث آیات میں کہتا ہے کہ خدا تمام متحرک موجوات کوروزی دیتا ہے۔ اگر حرکت کی اس وسیع تر معنی میں تفسیر کریں تو پھر نباتات بھی اس میں شامل ہوں گے کیونکہ وہ بھی نشو ونما میں ایک دقیق وباریک حرکت رکھتے ہیں اسی بناء پر فلسفہ میں حرکت کی ایک قسم ”نمو“ بھی شمار کی گئی ہے۔ ۳۔ یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر شخص کی روزی اس کی ابتداء سے لے کر آخر عمر تک مقرر ومعین ہے اور چاہتے نہ چاہتے اس تک پہنچے گی؟ یا یہ کہ اس کے پیچھے نکلنا چاہیے، بقولِ شاعر: شرط عقل است جستن از درھا یعنی عقل کے لیے شرط ہے کہ اس سے کے دروازوں سے ڈھونڈا جائے۔ بعض سُست بے حال لوگ اس آیت کی مذکورہ تعبیر ان روایات کا سہارا لیتے ہوئے جو روزی کی مقدار اور اس کے تعیّن کے بارے میں کچھ بیان کرتی ہیں، یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ انسان تلاشِ معاش اور روزی مہیّا کرنے کے لیے زیادہ سعی وکوشش کرے یا اس کی تلاش میں نکلے کیونکہ روزی انسان کا مقدر ہے اور وہ ہر حالت میں اس تک پہنچے گی اور کوئی بھی شخص روزی سے محروم نہیں رہے گا۔ اس طرح کے نادان افراد جن کو دین ومذہب کے بارے میں بہت کم معرفت ہوتی ہے، دشمنوں کو بہانہ پیدا کرنے کا موقع دیتیں ہیں کہ مذہب اقتصادی کساد کا حامل ہے، جو زندگی میں شامل ہوتی تو بے چون وچرا مجھے مل جاتی، استثمار گروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ یہ ایک اچھا بہانہ لگا کہ جتنا ہوسکے محروم طبقوں کا خون چوسیں اور انھیں زندگی کی ابتدائی ضروریات سے بھی محروم رکھیں۔ حالانکہ قرآن اور احادیثِ اسلامی سے معمولی سی آشنائی بھی اس حقیقت تک پہنچنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام ہر قسم کی مادّی ومعنوی منفعت کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مثبت شمار کرتا ہے، یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے: "لَیسَ لِلاِنْسَانِ الَّا مَا سَعیٰ“ انسان کے لیے کچھ نہیں ماسوا اس کے جتنی اس نے کوشش کی۔ اس فرمان میں انسان کے فائدہ ومنفعت کو اس کی کوشش اور کام میں قرار دیا گیا ہے، ہادیان اسلام دوسروں کے لیے نمونہ عمل مہیا کرنے کے لیے سخت محنت سے کام کرتے تھے، انبیاء ماسلف بھی اس کام سے مستثنیٰ نہ تھے انھوں نے چرواہوں کا کام کیا، کپڑے سیئے، نیز،ہ زِرہ بنانے اور ہل چلانے تک کے طاقت آزما کام سرانجام دیئے، پس اگر خدا کی طرف سے رزق بہم پہنچانے کا ضامن ہونے سے مراد گھر بیٹھے رہنا اور روزی پہنچنے کا انتظار کرنا ہوتا تو انبیاء(علیه السلام)، آئمہ(علیه السلام) جو تمام انسانوں سے زیادہ عالم اور مفاہیمِ دین سے آشنا تھے تلاشِ رزق میں کوشش وجستجو نہ کرتے۔ بنابریں ہم یہ تو کہتے ہیں کہ ہر شخص کی روزی مقدر اور مسلّم ہے لیکن مشروط ہے اس کی تلاش وکوشش سے لہٰذا جہاں کہیں یہ شرط پوری نہیں ہو گی مشروط بھی دستیاب نہیں ہو گا، یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہیں کہ ہر شخص کی ایک اجل ہے اور اس کی عمر کی مقدار معیّن ہے، واضح طور پر اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بدن ایک مناسب مدّت تک باقی رہنے کی استعداد رکھتا ہے بشرطیکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا لحاظ رکھا جائے اور ضرررساں اشیاء سے پرہیز کیا جائے نیز جو چیزیں موت کی جلدی کا سبب بنتی ہیں ان سے دور رہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ آیات وروایات جو روزی کے معیّن ہونے سے مربوط ہیں دراصل ایک ”بریک“ اور حد ہیں، ان حریص اور دنیا پرست لوگوں کے لیے جو زندگی گزارنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹاتے پھرتے ہیں اور ہر ظلم وستم وبد دیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں اس گمان پر کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی زندگی اچھی نہیں گزرسکتی، آیاتِ قرآنی اور احادیثِ اسلامی ایسے افراد کو خبردار کرتی ہیں کہ بے کار ہاتھ پاوں نہ ماریں اور روزی کمانے کے لیے غیر شرعی اور غیر معقول ذرائع استعمال نہ کریں، بلکہ شرعی طریقے سے سعی وکوشش کرتے ہوئے مطمئن رہیں کہ خدا اس راستے سے ان کی تمام حاجات پوری کر دے گا، وہ خدا کہ جس نے انھیں ظلمت کدہٴ رحم میں فراموش نہیں کیا اور وہ خدا کہ جس نے بچپن میں جب انسان اس دنیا کے موادِ غذائیہ کی تغذیہٴ کی توانائی نہیں رکھتا تھا ااس کی مہربان ماں کے پستانوں میں اس کی روزی مہیّا کی، وہ خدا جس نے شِیر خواری کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی جبکہ انسان ناتواں تھا اس کی روزی اس کے مہربان باپ کے ہاتھ میں رکھی جو صبح وشام اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی خوش ہو کہ مَیں اپنی اولاد کو غذا مہیا کرنے کے لیے زحمت ومشقت اٹھاتا رہا۔ لہٰذا کس طرح ممکن ہے کہ جب انسان بڑا ہو جائے اور ہر قسم کے کام کی توانائی اور قدرت حاصل کرلے خدا اسے بھلادے، کیا عقل وایمان اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ انسان اس گمان پر کہ ممکن ہے اس روزی فراہم نہ ہو، گناہ، ظلم وستم اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے اور حریص بن کر مستضعفین اور کمزوروں کا حق غصب کرے۔ البتہ اس چیز کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رزق ایسے ہیں کہ انسان ان کے آگے پیچھے بھاگے یا نہ وہ اس کے پیچھے آتے ہیں مثلاً سورج کی روشنی جو ہماری تلاش وکوشش کے بغیر ہمیں میسّر ہے اور ہمارے گھر روشن کرتی ہے، کیا اس کا انکار ممکن ہے کہ بارش اور ہَوا بغیر ہماری جدوجہد اور کوشش کی ہماری تلاش میں آتی ہے کیا اس بات کا انکار کیا جا سکتا ہے کہ وہ عقل وہوش اور قوّت واستعداد جو روزِ اوّل سے ہمارے وجود میں رکھ دی گئی تھی ہمیں اس کے لیے جستجو نہیں کرنا پڑی۔ لیکن اس طرح کی نعمتیں جو ہَوا کے جھونکے کے ساتھ مل گئیں یا یہ کہ وہ نعمتیں جو کہ کوشش کے بغیر ہاتھ سے نکل جائیں گی یا بے اثر ہو کر رہ جائیں گی۔ حضرت علی علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث نقل ہوئی ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”واعلموا یا بنی! انّ الرزق رزقان رزق تطلبہ ورزق یطلبک“ اے فرزند جان لو! رزق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ تو جس کی جستجو میں نکلے اور ایک وہ جو تجھے تلاش کرتے ہوئے تیرے پیچھے آئے۔ (تشریح نوٹ: نہج البلاغہ، امام(علیه السلام) کی اپنے فرزند امام حسن(علیه السلام) کے نام وصیت۔) امام علیہ السلام کا یہ فرمان بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکثر اوقات انسان کسی نعمت یا ضرورت کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہوتا مگر حادثات واتفاقات کے ایک وسیع سلسلہ کے باعث کوئی نعمت اسے نصیب ہوجاتی ہے یہ حوادث اگرچہ ہماری نظر میں اچانک اور اتفاقیہ ہیں لیکن درحقیقت وہ صاحبِ تخلیق کے حساب وکتاب کے عین مطابق ہیں، بلاشبہ اس قسم کی روزی کا حساب اس روزی کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال نکتہ اساسی یہ ہے کہ تمام تعلیماتِ اسلامی میں ہمیں متوجہ کرتی ہیں کہ بہترین زندگی گزارنے کے لیے چاہے وہ مادّی ہو یا معنوی زیادہ سے زیادہ کوشش وجستجو کرنی چاہیے اس لیے کہ کام سے فرار کا یہ جواز غلط ہے کہ روزی تو مقسوم میں لکھی ہے اور مل کر رہے گی۔ ۴۔ زیرِ بحث آیات میں فقط ”رزق وروزی“ کی طرف اشارہ ہُوا ہے حالانکہ بعد کی چند آیات میں جہاں پر توبہ کرنے والے باایمان افراد کا ذکر ہے ”متاع حَسن“ یعنی شائستہ ومناسب منفعت اور فائدہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان دونوں کا مدِّمقابل ہونا ہمیں یہ بات سمجھاتا ہے کہ تمام حرکت کرنے والوں کے لیے وہ انسان ہوں یہ حیوان، حشرات الارض ہوں یا درندے، نیک ہوں یا بَد سب کے لیے رزق کا حصّہ معیّن ہے، لیکن متاع حَسن اور شائستہ وگرانبہا نعمتیں صرف صاحبان ایمان کے ساتھ مخصوص ہیں جنھوں نے خود کو آبِ توبہ سے ہر قسم کے گناہ اور آلودگی سے پاک کر لیا ہے اور جو خدائی نعمتوں کو اس کے احکامات کی اطاعت کے تابع رہ کر استعمال کرتے ہیں نہ کہ ہَوا وہوس اور سرکشی کی راہ میں۔

7
11:7
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَكَانَ عَرۡشُهُۥ عَلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ وَلَئِن قُلۡتَ إِنَّكُم مَّبۡعُوثُونَ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡمَوۡتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
وہ ایسی ذات ہے جس نے آ سمان اور زمین چھ دنوں (چھ ادوار) میں خلق کئے اور اس کا عرش (قدرت) پانی پر ہے (اور یہ اس لئے پیدا کیا) تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا عمل بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے (اور قبروں سے اٹھو گے)تو یقیناً کافر کہیں گے کہ یہ کھلاجادو ہے۔

مقصدِ خلقت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس آیت میں تین اساسی نکات پر بحث کی گئی ہے، اوّل جہانِ ہستی کی آفرینش، خصوصاً آغاز آفرینش کہ جو پروردگار کی قدرت کی نشانی اور اس کی عظمت کی دلیل ہے، ”وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا“ (وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ)۔ اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہاں دن سے مراد چوبیس گھنٹے والا دن ہے اس لیے کہ جس زمانے کی بات ہورہی ہے اس وقت زمین وآسمان وجود میں آئے تھے نہ کرہٴ ارض تھا اور نہ ہی اس کی اپنے گرد چوبیس گھنٹوں کی گردش، بلکہ جیسا کہ پہلے کہاجا چکا ہے اس سے مراد ایک ”دورانیہ“ ہے اب خواہ یہ دورانیہ چھوٹا ہو یا بہت طویل اور کروڑوں سالوں پر مشتمل ہو، سورہٴ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں اس بات کی جامع اور مفصل تشریح بیان کی جاچکی ہے لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ، ج۶) نیز وہاں ہم نے یاددہانی کروائی تھی کہ خدا قدرت وطاقت رکھتا تھا کہ تمام عالم کو ایک ہی لحظہ میں پیدا کرے لیکن متواتر اور پے درپے چھ ادوار میں اس لیے پیدا کیا ہے کہ یہ تدریجی خلقت جو ہر وقت رنگِ نو اور چہرہ تازہ دکھاتی ہے، قدرت وعظمتِ خداوندی کو بیشتر اور بہتر انداز میں متعارف کرواتی ہے۔ خدا چاہتا تھا کہ اپنی قدرت کو ہزراوں رُخ میں نمایاں کرے ایک ہی رُخ میں نہیں اور اپنی قدرت وحکمت کی پہچان آسان تر اور زیادہ واضح ہو اور اس کی معرفت کے دلائل ماہ و سال صدیوں اور زمانوں کی تعداد کے برابر ہمارے پاس موجود ہیں۔ پھر فرمایا کہ ”اس (خدا) کا عرش پانی پر تھا“ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ)۔ اس جملے کی تفسیر سمجھنے کے لیے ان دو الفاظ ”عرش“ اور ”ماء‘’‘ کے مفہوم سے آشنا ہونا چاہیے۔ ”عرش“ دراصل ”چھت“ یا ”چھت نما“ چیز کے معنی میں آیا ہے سلاطینِ گذشتہ کے بلند تختوں کو بھی عرش کہا جاتا ہے، اسی طرح ان بلند دیواروں اور مقامات کو بھی عرش کہتے ہیں جن پر بیل دار پودوں کو چڑھایا جاتا ہے، نیز بعد میں یہ کلمہ ”قدرت“ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا جیسا کہ لفظ تخت فارسی زبان میں اسی استعمال ہوا ہے۔ عربی میں کہتے میں: ”فلان استویٰ علیٰ عرشہ، اٴو، تُلّ عرشہ“ یعنی فلان آدمی تخت پر بیٹھا یا اس کا تخت گر گیا۔ عربی زبان کا یہ کنایہ کہ اسے اقتدار مل گیا یا اس کا اقتدار ختم ہو گیا فارسی زبان میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلان شخص کو لوگوں نے تخت پر بٹھادیا ہے یا فلاں کو تخت سے اتاردیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: البتہ بعض اوقات تخت کرسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس کا ایک دوسرا مفہوم ہے جسے ہم نے تفسیر نمونہ جلد۲، سورہٴ بقرہ میں آیت الکرسی کے ذیل میں ذکر کیا ہے)۔ اس نکتہ کی جانب توجہ رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات عرش مجموعہ عالمِ ہستی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ قدرت کا تخت اس پورے جہاں پر محیط ہے۔ باقی رہا لفظ ”ماء“ اس کا عام معنی تو پانی ہے لیکن بعض اوقات مائع اور بہنے والی اشیاء مثلاً بہنے والی دھاتوں کو بھی ”ماء“ کہا جاتا ہے۔ ان دو الفاظ کے تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء خلقت میں جہانِ ہستی پگھلے ہوئے مادّہ یا تہ بہ تہ بہنے والی گیس کی شکل میں تھا جس کے بعد اس مانندِ آب ٹکڑے میں سخت مدّ وجزر اورشکست وریخت پیدا ہوئی اور اس کے بعض حصّے سطح سے باہر آپڑے، اتصال، پیوستگی اور جدائی کا عمل شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے سیّارے، ستارے اور منظومے (SoLAR SYSTEMS) تشکیل پانے لگے، اس لیے جہانِ ہستی اور قدرت کا تخت سب سے پہلے پانی کی مانند (مثل آبگینہ) اس عظیم مادّہ پر قرار پایا۔ سورہٴ انبیاء کی آیت ۳۰ میں بھی اسی طرف اشارہ ہوا ہے: اَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ” کیا وہ جو خدا کا انکار کرتے ہیں علم ودانش کی آنکھ سے اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ آسمان وزمین ابتدا میں ایک دوسرے سے پیوست تھے پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور ہر زندہ موجود کو ہم نے پانی سے خلق کیا۔ نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں بھی اسی معنی کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں۔ دوسرا مطلب جس کی طرف مندرجہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے، وہ جہانِ ہستی اور عالمِ وجود کی خلقت کا ہدف ومقصد ہے، وہی ہدف کہ جس کا اہم ترین حصّہ اس جہان کا گل سرسبد یعنی انسان ہے، وہ انسان کہ جسے تعلیم وتربیت کی راہ اپنانا اور تکامل وارتقاء کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ وہ ہر لمحہ خدا کے قریب ہوتا جائے۔ خداوندعالم فرماتا ہے، باعظمت خلقت اس لیے معرضِ وجود میں آئی تاکہ تمھاری آزمائش کرے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اعمالِ حسنہ انجام دیتا ہے (لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا)۔ ”لِیَبْلُوَکُمْ“مادہ ”بلاء وابتلاء“ سے آزمائش کے معنی میں ہے، جیسا کہ قبل ازیں اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کی طرف سے آزمائش کشفِ ا۔حوال اور لوگوں کی داخلی، روحانی اور فکری وضعیت وکیفیت معلوم کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ پرورش اور تربیت کرنے کے لیے ہے (اس موضوع کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیت۱۵۵ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے)۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں انسان کی قدر وقیمت کو اس کے ”حسنِ عمل“ سے مربوط کیا گیا ہے نہ کہ اس کے کثرتِ عمل سے، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ہر جگہ کیفیتِ عمل پر نظر رکھتا ہے کثرت وکمیّت اور مقدار پر نہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اسی سلسلہ میں ایک حدث نقل ہوئی ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: لیس یعنی اکثر عملاً ولٰکن اٴصوبکم عملا، وانّما الاصابة خشیة الله، والنیة الصادقة، ثمّ قال الابقاء علی العمل حتّی یخلص اشد من العمل، والعمل الخالص، الذی لاترید ان یحمدک علیہ احد الّا الله عزّوجل. ترجمہ: خدا کثرتِ عمل نہیں چاہتا بلکہ عمل کی درستی چاہتا ہے اور درستی عمل خدا ترسی اور نیک نیّتی سے مربوط ہے۔ اس کے بعد فرمایا: عمل کو ریاکاری اور بد نیّتی کی آلودگیوں سے پاک رکھنا خود عمل سے کہیں زیادہ مشکل تر ہے اور عملِ خالص خالص یہ ہے کہ تُو نہ چاہے کہ خدا کے سوا کوئی اور تیری (اس عمل پر) ستائش کرے۔(بحوالہ برہان جلد٢، صفحہ ٢۰٧) تیسرا موضوع جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ”معاد“ ہے جو آفرینش جہاں کے مسئلہ اور ہدف خلقت سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ رکھتا ہے کیونکہ خلقتِ عالم کا مقصد انسانوں کا تکامل وارتقاء ہے اور انسانوں کا ارتقاء انھیں ایک وسیع تر اور کامل تر جہاں میں زندگی گزارنے کے لیے تیار کرتا ہے، اسی لیے فرمایا: اگر ان سے کہا جائے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاوٴگے تو کافر از روئے تعجب کہتے ہیں کہ اسے باور نہیں کیا جا سکتا اور اس میں کوئی حقیقت وواقعیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک واضح جادو ہے (وَلَئِنْ قُلْتَ إنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ ھٰذَا إلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ)۔ کلمہٴ ”ھذا“ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی معاد وقیامت کے بارے میں گفتگو کی طرف اشارہ ہے یعنی کافروں کے نزدیک پیغمبرؐ کا معاد کے بارے میں یہ دعویٰ جادو ہے اس بناء پر لفظ ”سحر“ یہاں حقیقت سے عاری بے بنیاد گفتگو اور سادہ وعام تعبیر کے مطابق فریب وشعبدہ بازی کے مترادف ہے کیونکہ جادوگر عموماً حقیقت وواقعیت سے عاری چیزیں دکھاتے ہیں لہٰذا لفظ ”سحر“ حقیقت سے خالی چیز کے معنی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ بعض لوگوں کے نردیک ”ھذا“ قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ قرآن اپنے سننے والوں میں ایک سحر انگیز نفوذ وجذب رکھتا ہے، صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ آیت میں بحث معاد وقیامت کے بارے میں ہے نہ کہ قرآن کے متعلق اگرچہ قرآن کی غیر معمولی قوتِ جذب سے انکار نہیں۔

8
11:8
وَلَئِنۡ أَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٖ مَّعۡدُودَةٖ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحۡبِسُهُۥٓۗ أَلَا يَوۡمَ يَأۡتِيهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
اور اگرعذاب کو ایک محدود مدت کے لئے ٹال دیں (تو بطور استہزا) کہتے ہیں کہ اس میں کون سی رکاوٹ ہے؟ آگاہ رہو جس دن اس کی طرف سے عذاب آئے گا تو کوئی چیز اس کے آگے رکاوٹ نہیں بنے گی اور جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی انہیں دامن گیر ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
11:9
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ ثُمَّ نَزَعۡنَٰهَا مِنۡهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٞ كَفُورٞ
اور اگر انسان کو ہم نعمت کا مزہ چکھانے کے بعد وہ (نعمت) اس سے واپس لے لیں تو بہت ہی ناشکرا اور ناامید ہو جاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
11:10
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّيٓۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٞ فَخُورٌ
اور اگر شدت ناراحتی کے بعد اس تک نعمتیں پہنچائیں تو کہتا ہے کہ مشکلات مجھ سے برطرف ہو گئی ہیں جو دوبارہ نہیں آئیں گی اور خوشی، غفلت اورفخر میں مستغرق ہو جاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
11:11
إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ
مگر وہ لوگ جنہوں نے (سچے ایمان کے سائے میں ) صبرواستقامت دکھائی اور عمل صالح انجام دیئے ہیں، ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

مومن عالی ظرف اور بے ایمان کم ظرف ہوتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں اس بحث کی مناسبت سے کہ جو بے ایمان افراد کے بارے میں گذر چکی ہے، ایسے افراد کے نفسیاتی حالات اور اخلاقی کمزوریوں کے بعض نکات کی تشریح ہوئی ہے، وہی کمزور گوشے جو انسان کو تاریکیوں اور فساد کی راہوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ ایسے افراد کی پہلی صفت جو ذکر کی گئی ہے وہ حقائق کا مذاق اڑانا اور حیات ساز مسائل کے بارے میں تمسخر کرنا ہے وہ جہالت ونادانی اور غرور وتکبر کی وجہ سے جس وقت خدائی نمائندوں کو، بدکاروں کی سزا کے بارے میں ڈراتے دھمکاتے ہیں، جبکہ چند روز گذرنے کے باوجود خدا اپنے لطف وکرم سے ان کے عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے تو بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں، کس چیز نے اس خدائی عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیا ہے؟ کیا ہُوا اس سزا کا اور کہاں گیا وہ عذاب؟ (وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُہُ)۔ ”امت“ مادہ ”ام“ (بروزن قم) سے ماں کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی دراصل مختلف اشیاء کا ایک دوسرے میں ضم ہو جانا ہے، اسی بناء پر ہر اس گروہ کو جو اپنے ہدف یا ایک ہی زمان ومکان میں جمع ہو، امت کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ لفظ وقت اور زمانے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ زمانے کے اجزاء باہم پیوست ہوتے ہیں یا اس بناء پر کہ ہر جماعت یا گروہ کسی نہ کسی زمانے میں زندگی گزارتا ہے، سورہٴ یوسف کی آیت ۴۵ میں ہے: <وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ آزاد شدہ قیدی ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کرنے لگا۔ زیرِ بحث آیت میں لفظ ”امت“ انھیں معنی میں آیا ہے، لہٰذا لفظ ”معدودہ“ سے توصیف کیا گیا ہے یعنی اگر تھوڑی مدت کے لئے ان سے عذاب موٴخر کر دیا جائے تو کہتے ہیں کہ کونسی چیز اس سے مانع ہوئی ہے۔ پس یہ شیوہ اور طریقہ تمام مغرور اور جاہلوں کا ہے جو چیز ان کے میلانات سے مطابقت نہ رکھے وہ ان کی نگاہ میں مذاق ہے، اسی لئے وہ مردانِ حق کی ہلادینے اور بیدار کرنے والی دھمکیوں کوشوخی اور مذاق سمجھتے ہیں لیکن قرآن مجید ان کو صراحت کے ساتھ جواب دیتا ہے: ”آگاہ رہو جس دن خدائی عذاب آن پہنچا کوئی اسے روک نہیں سکے گی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ (عذاب) ان پر نازل ہو گااور انھیں تباہ کر دے (اَلَایَوْمَ یَاٴْتِیھِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون)۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ان کا نالہ وفریاد آسمان تک بلند ہو گا اور اپنی شرم انگیز گفتگو سے پشیمان ہوں گے لیکن نہ وہ نالہ وفریاد کہیں پہنچے کا اور نہ وہ پشیمانی انھیں کوئی فائدہ پہنچانے دے گی۔ ان کمزوری کا ایک اور نکتہ، مشکلات وناراحتیوں اور برکات الٰہی کے منقطہ ہونے پر ان کی کم ظرفی ہے جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے: اور جس وقت کسی نعت اور رحمت کا مزہ ہم انسان کو چکھائیں گے اور پھر وہ اس سے واپس لے لیں تو وہ مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور کفرانِ نعمت اور ناشکری پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے (وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاھَا مِنْہُ إِنَّہُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ)۔ اگرچہ اس آیت میں گفتگو انسان کے بارے میں بطور کلی آئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلی بھی اشارہ کیا ہے کہ لفظِ ”انسان“ سے اس قسم کی آیات میں غیر ترتیب یافتہ، خود غرض اور ناکارہ انسانوں کی طرف اشارہ ہے، اس بناء پر یہ بحث گذشتہ آیات میں بے ایمان افراد کے متعلق بحث پر منطبق ہوتی ہے۔ بے ایمان افراد کی کمزوری کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس وقت نازونعمت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں تو ان پر تکبّر اور غرور اور نفس پرستی اس قدر چھائی ہوتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اور مشکلات وتکالیف اب مجھ سے دور ہو گئی ہیں جو کبھی دوبارہ نہ آئیں گی۔ اور یوں وہ پروردگار کی نعمتوں کے شکرانے سے غافل ہو جاتا ہے (وَلَئِنْ اَذَقْنَاہُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّہُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ)۔ اس آیت کے جملہ ”ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی“ میں ایک دوسرا احتمال بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب اس طرح کے لوگ شدائد ومشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ مصائب ہمارے گناہوں کا کفارہ تھے۔ اب ہمارے گناہ ان کی وجہ سے دھل گئے ہیں اور ہم پاک وپاکیزہ ہو گئے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مقربان درگاہِ خدا ہو چکے ہیں توبہ اور اس خدا کی بارگاہ میں بازگشت کے تصوّر سے عاری ہو جاتے ہیں۔ پس فرمایا: صرف صاحبان ایمان کہ جنھوں نے زندگی کے شدائد اورسخت حوادث کے مقابلے میں صبر واستقامت کا اختیار کیا اور جو ہر حال میں اعمالِ صالح بجالانے میں کوتاہی نہیں کرتے، تنگ نظری، ناشکرگزاری اور غرور وتکبر سے کنارہ کش ہیں جو نہ تو وفورِ نعمت کے وقت مغرور ہوتے اور خدا کو فراموش کرتے ہیں اور نہ ہی شدِّتِ مصائب کے وقت مایوسی اور کفرانِ نعمت کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم روح اور بلند فکر نعمت وبلا دونوں کو برداشت کرتی ہے، وہ یاد خدا اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتے، یہی لوگ خدا کے مقرب بندے ہیں اور انہی کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے (إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُوْلٰئِکَ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَاَجْرٌ کَبِیرٌ)۔

چند توجّہ طلب نکات

۱۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام:

وہ متعدد روایات جو طریق اہلِ بیتؑ سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”امت معدودہ“ سے مراد بہت تھوڑے افراد اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یار وانصار کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا اس ترتیب سے پہلی آیت کا مطلب اس طرح ہو گا: اگر ہم ستمگروں اور بدکاروں کی سزا وعذاب حضرت مہدی(علیه السلام) اور ان کے یاروانصار کے قیام تک ملتوی کر دیں تو وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذابِ خدا کو روک رکھا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں آیت کے ظاہری معنی میں ”امتِ معدودہ“ محدود ومعیّن زمانہ کے معنی میں آتا ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو روایت نقل ہوئی ہے اس میں ”امت معدودہ“ کی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے۔ بنابریں ممکن ہے منقولہ روایت آیت کے دوسرے معنی یا بطن آیت کی طرف اشارہ ہو، البتہ اس صورت میں ظالموں اور ستمگروں کے بارے میں ایک قانون کلّی کا بیان ہو گانہ کہ زمانہٴ پیغمبر اکرم کے مشرکین اور مجرموں سے مربوط مسئلہ ہو گا، نیز ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیات مختلف معانی رکھتی ہیں، ممکن ہے اس کا پہلا اور ظاہری مطلب کسی خاص مسئلہ یا گروہ سے متعلق ہو، لیکن اس کا دوسرا معنی ایک عام معنی ہو جو کسی زمانہ یا گروہ میں منحصر نہ ہو۔

۲۔ کوتاہ فکری کے چار مظاہر

مندرجہ بالا آیت نے مشرکین اور گنہگاروں کے روحانی وباطنی حالات کی تین صورتوں میں تصویر کشی کی ہے اور ان میں ان کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اوّلین یہ کہ وہ نعمتوں کے منقطع ہونے کی صورت میں ”یَئُوس“ یعنی بہت ہی ناامید ہو جاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ”کفور“ یعنی بہت ہی ناشکرے ہیں۔ اس کے برعکس، جب وہ نعمت میں مستغرق ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر چھوٹی سی نعمت بھی ان تک پہنچتی ہے تو وہ خوشی میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں اور لذّت ونشاط میں غرق ہو کر ہر چیز سے غافل ہو جاتے ہیں۔ بادہٴ لذّت وغرور کی یہ سرمستی انھیں فتنہ وفساد اور حدود الله سے تجاوز کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ مزید برآں ایسے لوگ ”فخور“ یعنی نعمت کے حصول پر بہت متکبر اور مباہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بہر کیف یہ چار صفات کوتاہ فکری اور کم ظرفی کی بناء پر معرض وجود میں آتی ہیں اور یہ بے ایمان اور گناہگار افراد کے کسی ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لیے عمومی اوصاف کے ایک سلسلہ میں سے ہیں۔ البتہ صاحبِ ایمان لوگ جو بلند فکر، اعلیٰ ظرف، کشادہ دل اور عظیم روح کے حامل ہوتے ہیں انھیں نہ زمانہ کی دگرگونیاں لرزاتی ہیں نہ نعمتوں کا چھن جانا انھیں شکری ومایوسی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور نہ ہی نعمتوں کا ان کی طرف رُخ کرنا انھیں غرور وغفلت میں مبتلا کرتا ہے۔ اسی لیے آیت میں استثنائی صورتِ حال کے پیش نظر لفظ ایمان کے بجائے صبر واستقامت استعمال کیا گیا ہے (غور طلب نکتہ ہے)۔

۳۔ کم ظرفی کی انتہا

ایک اور نکتہ جو توجہ طلب ہے یہ ہے کہ دونوں مواقع (عطا کے بعد نعمت کے سلب ہونے اور سلب کے بعد عطا ہونے) کے لیے ”اذقنا“ جو مادہ ”اذاقة“ سے چکھنے کے معنی میں آیا ہے، کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ اگر تھوڑی سی نعمت انھیں دی جائے اور پھر اسے ان سے لے لیا جائے تو ان کی داد وفریاد اور ناشکری کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر تکلیف وناراحتی کے بعد ذرا سی نعمت انھیں مل جائے تو فرط وانبساط میں سرکے بل دوڑتے ہیں۔

۴۔ تمام نعمات عطیہ وبخشش ہیں

یہ امر توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت میں نعمت کو لفظ ”رحمت“ سے بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں لفظ ”نعمت“ استعمال ہوا ہے، ممکن ہے اس سے یہ اشارہ ہو کہ خدا کی تمام نعمتیں اس کے فضل ورحمت کے ذریعے انسان تک پہنچتی ہیں نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر اور اگر نعمتیں استحقاق کی بنیاد پر میسّر ہوتیں تو بہت ہی تھوڑے لوگوں کو میسّر ہوتیں نہ کہ کسی شخص کو میسر آتیں۔

۵۔ اعمالِ نیک کے اثرات

اعمالِ نیک کے دو اثرات ذکر ہوئے ہیں، زیرِ نظر آخری آیت میں باایمان، صاحب استقامت اور صالح افراد سے ”مغفرت“ اور بخشش گناہ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور ”اجرِ کبیر“ کا بھی، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ نیک اعمال کے دو اثر ہیں ایک گناہوں کا دھل جانا اور دوسرا بڑی جزا کا حاصل ہونا۔

12
11:12
فَلَعَلَّكَ تَارِكُۢ بَعۡضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ وَضَآئِقُۢ بِهِۦ صَدۡرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٞۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٌ
شاید بعض آیات کی تبلیغ کو جن کی تجھ پر وحی ہوئی ہے تو تاخیر میں ڈال دیتا ہے اور تیرا دل اس بنا پر تنگ (اور ناراحت) ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوتا یا کیوں فرشتہ اس کے ہمراہ نہیں آیا(تبلیغ کرو اور پریشان نہ ہو کیونکہ) تم صرف ڈرانے والے (اور خدائی خطرات سے آگاہ کرنے والے) ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ودیکھنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
11:13
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
بلکہ وہ کہتے ہیں یہ (قرآن کی) جھوٹی نسبت (خدا کی طرف) دیتا ہے۔ ان سے کہہ دو اگر سچ کہتے ہوتو تم بھی ان جیسی چھوٹی بڑی ہی دس سورتیں لے آؤ اور (بجز خدا) اپنی حسب استطاعت (اس کام کے لئے) تمام لوگوں کو دعوت دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
11:14
فَإِلَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أُنزِلَ بِعِلۡمِ ٱللَّهِ وَأَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ
اور اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں تو جان لو کہ (یہ کلام) علم الٰہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا ان حالات میں سرتسلیم خم کرو گے؟

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات کے لیے دوشانِ نزول مذکور ہیں جو ممکن ہے دونوں صحیح ہوں۔ پہلا یہ کہ کفار مکّہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آیا، وہ کہنے لگے: اگر سچ کہتے ہو کہ تم خدا کے پیغمبرؐ ہو تو مکہ کے پہاڑ ہمارے لیے سونے کے کردو یا فرشتے لے آوٴ جو تمھاری نبوت کی تصدیق کریں، چنانچہ انکے جواب میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ دوسری شانِ نزول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: مَیں نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے اور تمھارے درمیان برادری اور اخوّت قائم کرے اور یہ درخواست قبول ہو گئی ہے، نیز مَیں نے یہ درخواست کی ہے کہ تمھیں میرا وصی قرار دے اور یہ درخواست بھی مستجاب ہو گئی ہے۔ جس وقت یہ گفتگو بعض مخالفین کے کانوں تک پہنچی تو عداوت ودشمنی کی بناء پر کہنے لگے خدا کی قسم ایک خشک مشک میں ایک من خرما بہتر ہے اس سے جو محمد نے اپنے خدا سے درخواست کی ہے، (اگر وہ سچ کہتا ہے تو) اسے کیوں خدا سے درخواست نہیں کی کہ دشمنوں کے خلاف مددکرنے کے لیے کوئی فرشتہ نازل فرمائے یا کوئی خزانہ جو فقر وفاقہ سے نجات دلائے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی تاکہ دشمنوں کو جواب دیا جاس کے۔

قرآن ایک معجزہٴ جادواں

ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ بعض اوقات دشمنوں کی شدید مخالفت اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بعض آیات کی تبلیغ کسی موقع کے لیے ملتوی رکھتے تھے۔ لہٰذا زیرِ بحث پہلی آیت میں خداوندِعالم اس بیان کے ساتھ اپنے پیغمبرؐ کو اس کام سے منع فرماتا ہے: گویا بعض آیات کی تبلیغ کہ جن کی وحی ہوتی ہے، ترک کر دیتے ہو اور اس لحاظ سے تمھارا دل تنگ اور مضطرب ہو جاتا ہے (فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ)۔ اور اس بات سے ناراحت ہو جاتے ہو کہ شاید وہ تجھ سے من پسند معجزات کی خواہش کریں اور ”کہتے ہیں کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوا یا کیوں اس کے ہمراہ فرشتہ نہیں آیا (اَنْ یَقُولُوا لَوْلَا اُنزِلَ عَلَیْہِ کَنزٌ اَوْ جَاءَ مَعَہُ مَلَکٌ) البتہ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے مثلاً سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ تا ۹۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تقاضا اس بناء پر نہ تھا کہ وہ قبولِ حق کے لیے اور دعوت کی صداقت کے لیے معجزہ دیکھیں بلکہ وہ یہ تقاضا بہانہ جوئی، ہٹ دھرمی اور عناد کے باعث کرتے تھے لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: تو صرف خوف دلانے اور ڈرانے والا ہے (إنَّمَا اَنْتَ نَذِیرٌ)۔یعنی چاہے قبول کریں یا نہ کریں، تمسخر اڑائیں اور ہٹ دھرمی سے کام لیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز کا حافظ، نگہبان اور ناظر ہے (وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ) یعنی ان کے ایمان وکفر کی پرواہ نہ کرو اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ مربوط نہیں ہے، تمھاری ذمہ داری ابلاغ اور پیغام پہنچانا ہے، خدا خود جانتا ہے کہ ان کے کس طرح کا سلوک کرے اور وہی ان کے ہر کام کا حساب کتاب رکھنے والا ہے۔ یہ بہانہ جوئی اور اعتراض تراشی چونکہ اس بناء پر تھی کہ وہ اصولی طور پر وحی الٰہی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں، یہ جملے محمد ؐنے خود جھوٹ موٹ خداپر باندھے ہیں، اسی لیے بعد والی آیت اس بات کا جواب جتنی صراحت سے ہو سکتا تھا دیتے ہوئے کہتی ہے: وہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ (آیات) خدا پر افتراء باندھی ہیں (اَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ)۔”ان سے کہہ دو اگر سچ کہتے ہو کہ یہ انسانی دماغ کی تخلیق ہیں تو تم بھی اس قسم کی دس جھوٹی سورتیں بناکر لاوٴ اور خدا کو چھوڑ کر جس سے ہو سکتا ہے اس میں مدد کی دعوت دو (قُلْ فَاْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِہِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ)۔ لیکن اگر انھوں نے تم مسلمانوں کی دعوت قبول نہ کی اور کم از کم ایسی دس سورتیں بھی نہ لانے تو پھر جان لو کہ یہ کمزوری اور ناتوانی اس بات کی نشانی ہے کہ ان آیات کا سرچشمہ علمِ الٰہی ہے ورنہ اگر یہ فکر بشر ہی ہیں (فَإلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اَنَّمَا اُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ)۔ نیز جان لو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور ان آیاتِ پُر اعجاز کا نزول اس حقیقت کی دلیل ہے (وَاَنْ لَاإلَہَ إلاَّ ھُوَ)۔ اے مخالفین! کیا اس حالت میں تم فرمانِ الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کروگے (فَھَلْ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ)۔ باوجودیکہ ہم نے تمھیں مقابلے کی دعوت دی ہے اور اس دعوت پر تمھارا عجز ثابت ہو گیا ہے۔کیا اس کے باوجود کوئی شک کی کی گنجائش باقی ہے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں۔ اس واضح معجزہ کے ہوتے ہوئے کیا پھر بھی تم ان کی راہ پر چلوگے یا سرِ تسلیم خم کر لو گے۔

چند اہم نکات

۱۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم:

آیت ”لعلّ“ کا مفہوم: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”لعلّ“ عام طور پر کسی چیز کے بارے میں توقع کا اظہار کے لیے آتا ہے، البتہ یہاں یہ لفظ نہیں کے معنی میں آیا ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی چیز سے روکنا چاہے تو کہے: شاید تیری دوستی اس شخص سے جو اپنے کاموں میں زیادہ پختہ کار نہیں ہے، یعنی اس سے دوستی نہ رکھ کیونکہ اس کی دوستی تجھے سُست اور بیکار بنادے گی، لہٰذا ایسے مواقع پر ”لعلّ“ اگرچہ ”شاید“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا التزامی مفہوم کسی کام کے کرنے سے روکنا ہے۔ زیرِ بحث آیات میں بھی خداتعالیٰ اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیات الٰہی کی تبلیغ مخالفین کی تکذیب کے ڈرسے یا دل خواہ معجزات کے تقاضے کی وجہ سے تاخیر میں نہ ڈالیں۔

۲۔ آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر؟

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبرؐ آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر کریں یا ان کی تبلیغ سے بالکل ہی رُک جائیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی سے کوئی گناہ یا خطا سرزد نہیں ہو سکتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ کسی حکم کی فوری تبلیغ پر مامور ہوں تو یقیناً بغیر کسی شک وشبہ کے وہ اس کی تبلیغ کریں گے لیکن کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ تبلیغ کا وقت وسیع ہوتا ہے اور پیغمبرؐ بعض وجوہات کے پیش نظر جو خود ا ن کی اپنی طرف سے نہیں ہوتیں بلکہ مکتب کے دفاع کی اور حمایت ہی کے حوالے سے ہوتی ہیں ان کی تبلیغ میں تاخیر کر دیتے ہیں۔مسلّم ہے کہ یہ گناہ نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورہٴ مائدہ کی آیت ۶۷ میں ہے کہ خدا اپنے پیغمبرؐ کو تاکید کرتا ہے کہ آیاتِ الٰہی کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو دھمکیوں سے نہ ڈریں اور خدا ان کی حفاظت کرے گا، قرآن کے الفاظ ہیں: یَااَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اُنزِلَ إلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ درحقیقت یہاں تبلیغ میں تاخیر ممنوع نہ تھی، تاہم قاطعیت کے اظہار کے طور پر اس میں جلدی کرنا بہتر تھا، اس طریقے سے خدا اپنے پیغمبرؐ کی نفسیاتی حوالے سے تقویت چاہتا ہے اور مخالفین کے سامنے ان کی قاطعیت اور اٹل فیصلے کو استقامت دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ان کے شور وشرابے، بے بنیاد تقاضوں، بہانہ سازیوں اور تمسخر سے پریشان نہ ہوں۔

۳۔ آیت میں ”اَم“ کا معنی:

زیرِ نظر دوسری آیت ”اَم یقولون افتراہ....“ کی ابتداء میں لفظ ”اَم“ کے بارے میں دو احتمالات ذکر کیے ہی، ایک یہ کہ یہ ”او“ (یا) کے معنی میں ہے اور دوسرا یہ کہ یہ ”بل“ کے معنی میں ہے۔ پہلی صورت میں آیت کا معنیٰ یہ ہو گا: شاید تو نے ہماری آیات کو مخالفین کی بہانہ سازیوں کے خوف سے انھیں نہیں سنایا ”یا یہ کہ“ تُونے تو آیات الٰہی پڑھی ہیں لیکن انھوں نے انھیں خداپر افتراء سمجھا ہے۔ دوسری صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہو گا: آیات الٰہی کی تبلیغ میں ان کی بہانہ سازیوں کی وجہ سے تاخیر نہ کرو۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ لوگ تو بنیادی طور پر وحی اور نبوت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے خدا پر افتراء باندھا ہے۔ درحقیقت اس بیان کے ذریعے خدا اپنے پیغمبرؐ کو خبر دیتا ہے کہ من پسند کے معجزات کے بارے میں ان کے تقاضے تلاشِ حقیقت کی بناء پر نہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ وہ اصولی طور پر نبوّت کے منکر ہیں اور یہ سب ان کے بہانے ہیں۔ بہرحال مندرجہ بالا آیات کے مفہوم میں غور وخوض سے اور خصوصاً ادبی لحاظ سے ان کے الفاظ دقتِ نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرا معنی آیات کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ہے (غور کیجئے گا)۔

۴۔ معجزہ طلبی کا جواب:

اس میں شک نہیں کہ پیغمبرؐ کے لیے ضروری ہے کہ متلاشیانِ حق کے لیے اپنی حقانیت کی سند کے طور پر معجزہ پیش کرے اور کوئی پیغمبرؐ بھی صرف اپنے دعویٰ کو کافی نہیں سمجھ سکتا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ جن مخالفین کا مندرجہ بالا آیات میں ذکر آیا ہے وہ حقیقت کی تلاش میں نہیں تھے وہ جن معجزات کا مطالبہ کرتے تھے وہ ان کے من پسند کے معجزات تھے۔ مسلّم ہے کہ ایسے لوگ بہانہ جو ہوتے ہیں نہ کہ حقیقت کے متلاشی، کیا حتماً ضروری ہے کہ پیغمبرؐ کے پاس بڑا خزانہ ہو جیسا کہ مشرکین کا خیال تھا یا کیا ضروری ہے کہ فرشتہ اس کے ہمراہ تبلیغِ رسالت کرے علاوہ ازیں کیا خود قرآن معجزہ سے برتر اور بالاتر نہیں تھا، اگر واقعاً ان کا مقصود بہانہ تراشی نہ تھا تو پھر قرآن کی اس بات پر کان کیوں نہیں دھرتے کہ اگر تمھارا خیال ہے کہ یہ آیات پیغمبر اپنی طرف سے لے آتا ہے تو جاوٴ اس کے مثل لے آوٴ اور دنیا کے تمام لوگوں کی مدد بھی حاصل کرلو۔

۵۔ قرآن کا چیلنج

مندرجہ بالا آیات میں دوبارہ اعجازِ قرآن کے بارے میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ کوئی عام سی گفتگو نہیں ہے اور نہ یہ انسانی ذہن کی اختراع ہے بلکہ آسمانی وحی ہے جس کا سرچشمہ خدا کا بے پایاں اور لامتناہی علم اور قدرت ہے اسی بناء پر پوری دنیا کوچیلنج کیا گیا ہے اور مقابلے کی دعوت دی گئی ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسول الله کے ہم عصر بلکہ وہ قومیں جو آج تک اس کام میں لگی ہوئی ہیں ایسا کرنے سے عاجز ہیں۔یہ قومیں دیگر تمام تر مشکلات تو جھیلنے کو تیار ہیں لیکن آیاتِ قرآن کامقابلہ کرنے کی طرف نہیں آتیں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایسا کام انسان کے بس میں نہ تھا ور نہ ہو سکتا ہے، تو کیا معجزہ اس کے علاوہ کسی چیز کا نام ہے۔ قرآن میں یہ آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، یہ معجزہٴ جاوید آج بھی اسی طرح عالمین اور ساری کائنات کو اپنی طرف دعوت دے رہا ہے اور دنیا کے تمام علمی مراکز کو چیلنج کررہا ہے، اس کا یہ چیلنج نہ صرف فصاحت وبلاغت یعنی عبارات کی شیرینی وجاذیب اور مفاہیم کی رسائی کے لحاظ سے ہے بلکہ: • اس کے مضامین کے اعتبار سے بھی • ان علوم کے لحاظ بھی جو اُس زمانے کے انسانوں سے پنہاں تھے۔ • قوانین واحکام کے حوالے سے بھی جو بشریت کی سعادت ونجات کے ضامن ہیں۔ • بیانات کے حوالے سے بھی جو ہر قسم کے تناقض اور پراگندگی سے پاک ہیں۔ • تواریخ کے اعتبار سے سے جو خرافات سے مبرّا ہیں اور، اسی طرح تمام حوالوں سے اس کا یہ چیلنج ہے۔ تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آیات ۲۳ اور ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم اعجاز قرآن کے بارے میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں۔

۶۔ پورا قرآن، دس سورتیں یا ایک سورت:

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قرآن مجید نے ایک جگہ مخالفین کو قرآن کی مثلا لانے کی دعوت دی ہے (بنی اسرائیل/۸۸) اور دوسری جگہ قران جیسی سورتیں لانے کے لیے کہا ہے (مثلاً محلِ بحث آیات) اور ایک اور جگہ قرآن کی ایک سورت جیسی سورت لانے کا کہا ہے (بقرہ/۲۳) اس بناء پر بعض مفسّرین نے یہ بحث کی ہے کہ چیلنج اور مقابلے کی اس دعوت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب میں مختلف راستے اختیار کیے گئے ہیں: الف) بعض کا نظریہ ہے کہ یہ فرق اوپر کے مرحلہ سے نیچے کی طرف تنزل کی مانند ہ، جیسے ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ تم بھی اگر میری طرح فنِ تحریر اور شعر گوئی میں مہارت رکھتے ہو تو میری کتاب جیسی کتاب لکھ کر دکھاوٴ، پھر کہتا ہے اس کے ایک باب جیسی تحریر پیش کردو حتّی کہ ایک صفحہ ہی لکھ کر دکھا دو۔ البتہ یہ جواب اس صورت میں صحیح ہے کہ سورہٴ بنی اسرائیل، سورہٴ ہود، سورہٴ یونس اور سورہٴ بقرہ اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہوں اور ”تاریخ القرآن“ میں فہرست ”ابنِ ندیم“ سے جو ترتیب نقل ہوئی ہے یہ بات اس سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ اس کے مطابق رسول اللهؐ پر نزول کے اعتبار سے سورہٴ بنی اسرائیل کا نمبر ۴۸ ہے، ہود کا نمبر۵۹، یونس کا نمبر ۵۱ اور بقرہ کا نمبر ۹۹ ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات مشہور ترتیب سے مناسبت نہیں رکھتی جو مندرجہ بالا سورتوں کے متعلق اسلامی تفاسیر میں بیان کی گئی ہے۔ ب) بعض نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ سورتیں ترتیبِ نزول کے اعتبار سے نیچے کی طرف تنزل کے معاملے پر منطبق نہیں ہوتیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک سورت کی تمام آیتیں ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہو جاتی تھیں، بلکہ بہت سی آیات ایسی ہوتیں جو بعد میں نازل ہوتیں اور رسول الله کے حکم سے پانی مناسبات کی وجہ سے قبل کی سورت میں قرار پاتیں، زیرِ بحث معاملے میں بھی ممکن ہے ایسا ہی ہُوا ہو لہٰذا مندرجہ بالا سورتوں کی تاریخِ نزول اس بات کے منافی نہیں ہے کہ یہاں اوپر سے نیچے کی طرف تنزل کا معاملہ ہو۔ ج) اس سوال کے جواب میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ اصولاً ”قرآن“ ایک ایسا لفظ ہے جو پورے قرآن کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کے کچھ حصّے پر بھی، مثلاً سورہٴ جن کی ابتدا میں ہے: اِنَّا سَمعْنَا قُرْآناً عَجَباً ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ واضح رہے انھوں نے قرآن کا کچھ حصّہ ہی سنا تھا۔ اصول طور پر قرآن مادہ ”قرائت“ سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قرائت وتلاوت پور ے قرآن پر بھی صادق آتی ہے اور جزوِ قرآن پر بھی لہٰذا مثلِ قرآن لانے کے چیلنج کا مفہوم تمام قرآن نہیں ہے بلکہ یہ دس سورتوں کے لیے بھی ٹھیک ہے اور ایک سورت کے لیے بھی درست ہے۔ دوسری طرف ”سورہ“ بھی ”مجموعہ“ اور ”محدودہ“ کے معنی میں ہے اور یہ لفظ آیات کے کسی بھی مجموعہ پر منطبق ہو جاتا ہے اگر عام اصطلاح میں جسے مکمل سورہ کہتے ہی یہ اس کے برابر بھی نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں ”سورہ“ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے، ایک معنی آیات کاوہ مجموعہ ہے جس کا ایک معیّن مقصد ہو اور دوسرا معنی ایک مکمل سورہ ہے جو بسم الله سے شروع ہو کر بعد والی سورت کی بسم الله سے پہلے ختم ہو جائے، اس بات کی شاہد ”توبہ“ کی آیت ۸۶ ہے جس میں فرمایا گیا ہے: وَإذَا اُنزِلَتْ سُورَةٌ اَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاھِدُوا مَعَ رَسُولِہِ.... جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاوٴ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو.... واضح ہے کہ یہاں سورہ سے مراد وہ آیات ہیں جو خدا پر ایمان اور جہادکے مذکورہ مقصد کے بارے میں ہیں اگرچہ وہ ایک مکمل سورت کا ایک حصّہ ہی ہوں۔ مفردات میں راغب نے بھی سورہ نور کی پہلی آیت ”سورة انزلناھ...“ کی تفسیر میں کہا ہے: ایّ جملة من الاحکام والحکم.... جیسا کہ ہم دیکھ رہے یہاں سورت کو احکام کا ایک مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس گفتگو کے پیش نظر قرآن، سورت اور دس سورتوں میں لغوی مفہوم کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں رہتا یعنی ان تمام الفاظ کا اطلاق قرآن مجیدکی چند آیتوں پر ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن چیلنج ایک لفظ اور ایک جملے کے لیے نہیں کہ کوئی دعویٰ کرے کہ مَیں آیہٴ ”والضحیٰ“ اور آیہٴ ”مدھامتان“ یا قرآن کے کسی سادہ جملے کی مثل لاسکتا ہوں بلکہ تمام جگہوں پر آیات کے ایک ایسے مجموعے کے بارے میں جس کا ایک خاص ہدف اور مقصد ہو (غور کیجئے گا)

۷۔ ”إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ“ کے مخاطب:

اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے کہ ”إنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ“ میں مخاطب کون ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ مخاطب مسلمان ہیں، یعنی اگر منکرین نے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور قرآن کی دس سورتوں کی مثل نہ لائے تو جان لو کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور یہی خود اعجاز قرآن کی دلیل ہے۔ بعض دوسروں نے کہا کہ مخاطب منکرین ہیں یعنی اے منکرین! اگر باقی انسان اور جو کچھ غیر از خدا ہے انھوں نے مثلِ قرآن لانے میں مدد کے لیے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور وہ عاجز وناتواں رہ گئے تو پھر جان لو کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے۔ نتیجہ کے لحاظ سے دونوں تفاسیر میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم پہلا احتمال زیادہ نزدیک معلوم ہوتا ہے۔

15
11:15
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيۡهِمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فِيهَا وَهُمۡ فِيهَا لَا يُبۡخَسُونَ
جو لوگ دنیا اور اس کی زینت کو چاہتے ہیں ہم ان کے اعمال انہیں بے کم وکاست اسی جہان میں دے دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
11:16
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا ٱلنَّارُۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَٰطِلٞ مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
(لیکن) آخرت میں (جہنم کی) آگ کے سوا ان کا (کچھ حصہ) نہیں ہو گا اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں (مادی مقاصد اور غیر خدا کے لئے) انجام دیا ہے وہ برباد ہوگا اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات نے اعجاز قرآن کے دلائل پیش کرکے مشرکین اور منکرین پر حجت تمام کر دی ہے اور چونکہ حق واضح ہو جانے کے باوجود ایک گروہ نے صرف اپنے مادی منافع کی خاطر سرِتسلیم خم نہیں کیا لہٰذا محلِ بحث آیات میں ایسے دنیا پرست افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”جس کا مقصد صرف دنیاوی زندگی کی رنگینیاں اور اس کی زنیت ہو وہ اس جہان میں اپنے اعمال کا نتیجہ پالے گا بغیر اس کے کہ کوئی چیز اس میں کم ہے“ (مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ)۔ ”بخس“لغت میں حق کے نقصان کے معنی میں آیا ہے اور ”وَھُمْ فِیھَا لَایُبْخَسُونَ“ اس طرح اشارہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ بغیر تھوڑے سے بھی نقصان کے پالیں گے۔ یہ آیت خداتعالیٰ کی ایک دائمی سنّت کو بیان کر رہی ہے اور وہ یہ کہ مثبت اعمال اور موٴثر نتائج ختم نہیں ہوتے، فرق یہ ہے کہ اگر اعمال کا اصلی مقصد اس جہاں کی مادّی زندگی کا حصول ہے تو نتیجہ بھی مادّی ہی ہو گا لیکن اگر مقصد خدا اور اس کی رضا کا حصول ہو تو وہ اس جہان میں بھی ثمر بخش ہوں گے اور دوسرے جہاں میں بھی پُربار نتائج پیدا کریں گے۔ درحقیقت پہلی قسم کے اعمال ایسی غیر مستقل اور کم عمر عمارت کی طرح ہیں جسے وقتی ضرورت کے لیے بنایا جاتا ہے اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ویران ہو جاتی ہے لیکن دوسری قسم کی مثال ایسی محکم اور مضبوط بنیادوں والی عمارت کی سی ہے جو صدیوں تک برقرار رہتی ہے اور قالِ استفادہ ہوتی ہے، اس امر کا نمونہ آج کل ہم اپنے گردو پیش دیکھتے ہیں، مغربی دنیا نے اپنی مسلسل اور منظم کوشش سے بہت سے علوم کے اسرار معلوم کیے ہیں نیز مغربی دنیا نے مادہ کی مختلف طاقتوں پر تصرف حاصل کر لیا ہے اور مسلسل کوشش اور مشکلات کے مقابلے میں استقامت، اتحاد اور ہم بستگی ہے انھوں نے بہت سی نعمات حاصل ہیں۔ اس بناء پر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے اعمال اور کوشش کے نتائج حاصل کریں گے اور درخشاں اور واضح کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے لیکن دوسری طرف سے چونکہ ان کا مقصد صرف دنیاوی زندگی ہے لہٰذا ان اعمال کا طبعی وفطری اثر سوائے ان کے لیے مادی وسائل فراہم ہونے کے اور کوئی نہیں ہو گیا یہاں تک کہ ان کے انسانی اور بڑے کام مثلاً ہسپتال بنانا، شفاخانے قائم کرنا، علمی مراکز قائم کرنا، غریب اقوام کی مدد کرنا اور اس قسم کے دیگر فلاحی کام، اگر ان کے استعمار واستثمار کی قیمت نہ ہو تو چونکہ بہرحال مادّی ہدف کے تحت اور مادّی منافع کے لیے ہوتے ہیں لہٰذا ان کا صرف مادی اثر ہو گا، اسی طرح وہ لوگ جو ریاکارانہ کام کرتے ہیں ان کے علاوہ جو انسانی حوالوں سے ہوتے ہیں ان کے صرف مادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعد والی آیت میں صراحت سے فرمایا گیا ہے: ایسے افراد کے لیے آخرت میں (جہنم کی) آگ کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے (اُوْلٰئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْآخِرَةِ إلاَّ النَّارُ)۔ ”اور جو کچھ انھوں نے اس جہان میں انجام دیا ہے وہ دوسرے جہاں میں محو ونابود ہو جائے گا اور اس کے بدلے میں انھیں کوئی جزا نہیں ملے گی“ (وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیھَا)۔ ”اور وہ تمام اعمال جو انھوں نے غیر خدا کے لیے انجام دیئے ہیں باطل ونابود ہو جائیں گے (وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ ”حبط“ (بروزن ”وقت“) کا معنی دراصل ایسا حیوان ہے جو نامناسب گھاس پھوس میں اتنا زیادہ کھا لے کہ اس کے پیٹ میں ہَوا بھرجائے اور اس کا اوجھڑی بیمار اور ضائع ہو جائے، اس عالم میں یہ جانور ظاہراً تو چاق وچوبند نظر آتا ہے حالانکہ باطناً مریض ہوتا ہے۔ یہ ایسے اعمال کے لیے نہایت مؤثر اور عمدہ تعبیر ہے جو ظاہراً مفید اور انسانی ہیں لیکن باطن میں آلودہ اور پست نیّت سے انجام دیئے گئے ہیں۔

۱۔ ایک اشکال کی وضاحت:

ہو سکتا ہے پہلی نظر میں یوں معلوم ہو کہ مندرجہ بالا دوآیتیں آپس میں تعارض رکھتی ہیں اس بناء پر کہ پہلی آیت کہتی ہے: ”وہ اشخاص جن کا ہدف فقط اس دنیا کی زندگی ہے ان کے اعمال کا نتیجہ ہم انھیں بے کم وکاست دیں گے“ لیکن دوسری آیت کہتی ہے: ان کے اعمال حبط اور باطل ہو جائیں گے۔ البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک آیت دنیاوی زندگی کے بارے میں اور دوسری اشارہ دارِ آخرت کی طرف ہے۔ اس اشکال کی وضاحت ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے اعمال کے نتائج اسی دنیا میں پورے طور پر حاصل کر لیں گے، لیکن اس کا کیا فائدہ کہ یہ اعمال جو اگرچہ نہایت زیادہ تھے مگر آخرت کے لیے بے اثر ہیں کیونکہ ان کا ہدف پاک اور نیّت خالص نہیں تھی، ان کا ہدف مادی مفادات کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ جس تک وہ پہنچ گئے۔

۲۔ دنیا کی زینتیں

حیاتِ دنیا کے بعد لفظ ”زینت“ دنیا پرستی اور دنیا کی زرق وبرق کی مذمت کے لیے ہے نہ کہ اس کا مقصد دنیا کی نعمتوں سے مناسب اور معتدل فائدہ اٹھانے کی نفی کرنا ہے۔ لفظ ”زینت“ جو یہاں سربستہ طور پر آیا ہے دوسری آیات میں خوبصورت عورتوں، عظیم خزانوں اور قیمتی سورایوں، رزعی زمینوں اور فراوان دولت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ۔(آل عمران 14) مادّی چیزوں میں سے عورتیں، اولاد اور مال جو سونے اور چاندی کے ڈھیروں پر مشتمل ہے، منتخب گھوڑے، جانور اور زراعت لوگوں کی نظر میں پسندیدہ بنادیئے گئے ہیں۔(تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے آل عمران کی آیت ۱۴ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں: بحوالہ تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ۲۶۶، اردو ترجمہ)

۳۔ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“

لفظ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“ ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ ان کے اعمال کا ایک ظاہر ہے اور باطن کوئی نہیں ہے، اسی بناء پر ان کا نتیجہ کچھ بھی نہیں، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ان کے اعمال اصولی طور پر ابتداء ہی سے باطل اور بے خاصیّت ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ بہت سی اشیاء کے حقائق چونکہ اس دنیا میں پہچانے نہیں جاتے اور دوسرے جہان میں جس میں تمام اسرار کھل جائیں گے، ان کی حقیقت ظاہر ہو جائے گی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اعمال شروع ہی سے کچھ نہ تھے۔

۴۔ ایک حدیث:

مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں کتاب ”الدرّ المنثور“ میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس سے ان کا مفہوم واضح ہوتا ہے، حدیث یہ ہے: قال رسول اللّٰہ صل اللّٰہ علیہ و آلہ: اذا کان یوم القیامة صارت امت ثلاث فرق: فرقة یعبدون اللّٰہ خالصاً و فرقة یعبدون اللّٰہ ریاءً و فرقۃ یعبدون اللّٰہ یعیون بہ دنیا. فیقول للذی کان یعبد اللّٰہ للدنیا: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی؟ فیقول الدنیا، فیقول لاجرم لا ینفعک ما جمعت و لا ترجع الیہ انطلقوا بہ الی النار. و یقول للذی یعبد اللّٰہ ریاء: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی؟ قال الریاء، فیقول انما کانت عبادتک التی کنت ترائی بھا لا یصعد الی منھا شییء و لا ینفعک الیوم، انطلقوا بہ الی النار. و یقول للذی کان یعبد اللّٰہ خالصاً: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی؟ فیقول بعزتک و جلالک لانت اعلم منی کنت اعبدک لوجھک و لدارک قال: صدق عبدی انطلقوا بہ الی الجنة رسول الله نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو، میرے پیروکار تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں: ایک وہ گروہ جو خدا کی خلوص کے ساتھ عبادت کرتا تھا۔ دوسرا گروہ جو دکھاوے کے لیے عبادت کرتا تھا اور تیسرا وہ گروہ جو دنیا تک رسائی کے لیے عبادت کرتا تھا۔ اس وقت خدا اس گروہ کو جو دنیا کی خاطر اس کی عبادت کرتا تھا کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاوٴ میری عبادت میں تمھارا کیا مقصد تھا، وہ جواب میں کہے گا: دنیا، خدافرمائے گا: اس بناء پر جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور تم اس کی طرف پلٹ کر نہیں جاوٴگے، پھر فرمائے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاوٴ۔ اور جو شخص ریاء کے طور پر خدا کی عبادت کرتا تھا الله اس سے کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاوٴ میری عبادت سے تمھارا کیا مقصد تھا؟ وہ جواب دے گا: دکھاوا۔ تو الله فرمائے گا: وہ عبادت جو تم نے ریاء کے طور پر انجام دی تھی اس میں کچھ بھی میرے پاس نہیں پہنچا تھا اور آج تمھیں اس کا کوئی فائدہ نہیں دوں گا، پھر حکم دے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاوٴ۔ اور وہ شخص جو خدا کی عبادت خلوص سے کرتا تھا، اس سے کہا جائے گا: میری عزت وجلال کی قسم، بتاوٴ تم عبادت کس مقصد سے کرتے تھے، وہ کہے تیری عزت وجلال کی قسم تو اس بات سے زیادہ باخبر ہے کہ مَیں نے تیری عبادت صرف تیرے لیے اور دارِ آخرت کے لیے کی تھی، خدا فرمائے گا: میرا بندہ سچ کہتا ہے اسے جنّت لے جاوٴ۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان: ج۱، ص۱۸۶)

17
11:17
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتۡلُوهُ شَاهِدٞ مِّنۡهُ وَمِن قَبۡلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامٗا وَرَحۡمَةًۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥۚ فَلَا تَكُ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُۚ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ
کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اس کے پیچھے اس کی طرف سے شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب کہ جو پیشوا اور رحمت تھی(اس پرگواہی دیتی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہ ہو)۔ وہ (حق طلب اور حقیقت کے متلاشی) اس پر (جو یہ خصوصیات رکھتا ہے) ایمان لاتے ہیں اور مختلف گروہوں میں سے جو شخص اس کا منکر ہو آگ اس کی وعدہ گاہ ہے۔ لہٰذا اس میں شک نہ کرو کہ وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیرِ نظر آیت کی تفسیر کے بارے میں مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے، آیت کے الفاظ کی جزئیات، ضمائر، موصول اور اسم اشارہ کے بارے میں مختلف نظریے ہیں، اس تفسیر میں ان سب کا ذکر ہماری روش کے خلاف ہے، دوتفاسیر جو زیادہ واضح معلوم ہوتی ہیں اہمیت ترتیبی کے اعتبار سے یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔ ۱۔ آیت کی ابتداء میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے خدا کی طرف سے شاہد آیا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توریت) پیشوا، رحمت اور ان کی عظمت کو واضح کرنے والی کتاب کی حیثیت سے آئی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ان صفات، نشانیوں اور واضح دلائل کا حامل نہیں ہے (اَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوسیٰ إمَامًا وَرَحْمَةً)۔ یہ شخص پیغمبر اکرمؐ ہیں، ان کی واضح دلیل قرآن مجید ہے، ان کی نبوت کی صداقت کے شاہد علی(علیه السلام) جیسے مومن صادق ہیں اور قبل ازیں ان کی نشانیاں اور صفات تورات میں آچکی ہیں، اسی طرح تین واضح طریقوں سے آپ کی دعوت کی حقانیت ثابت ہو گئی ہے۔ پہلا راستہ قرآن ہے، جو ان کے ہاتھ میں ایک واضح دلیل ہے۔ دوسرا راستہ گذشتہ آسمانی کتب ہیں، جن میں آنحضرت کی نشانیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں اور رسول الله کے زمانے کے ان کتب کے پیروکار انھیں اچھی طرح سے پہچانتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے انتظار میں تھے۔ تیسرا راستہ آپ کے فدا کار پیروکار اور مخلص مومنین ہیں کہ جو آپ کی دعوت اور گفتار کی صداقت کو واضح کرتے تھے کیونکہ کسی مکتب کی حقانیت کی ایک نشانی اس مکتب کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ہے۔ کیا ان زندہ دلائل وبراہین کے باوجود انھیں دوسرے مدعیانِ نبوت پر قیاس کیا جا سکتا ہے یا ان کی دعوت کی صداقت میں شک وشبہ کیا جا سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق ”مَن“ سے مراد پیغمبر اکرم ہیں، ”بیّنة“ سے مراد قرآن ہے اور ”شاھد“ سے کہ جو جنس کے معنی میں ہے سے مراد سچّے مومنین ہیں جن کے راٴس ورئیس حضرت علی علیہ السلام ہیں، نیز ”منہ“ کی ضمیر خداتعالیٰ کی طرف اور ”قبلہ“ کی ضمیر قرآن یا پیغمبر اسلام کی طرف لوٹتی ہے۔ پورا جملہ مبتداء، اس کی خبر محذوف ہے۔ اور اس کی تقدیر اس طرح ہو گی: "کمن لیس کذلک" یا "کمن یرید الحیا)۔ اس گفتگو کے بعد قرآن متلاشیانِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ضمنی طور پر ایمان کی دعوت دیتا ہے: ایسے پیغمبرؐ پر کہ جو روشن دلیل رکھتا ہے ایمان لائیں گے (اُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ)۔ لفظ”اُوْلٰئِکَ“ میں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگرچہ ان کا ذکر نہیں ہے لیکن اگر گذشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس آیت میں ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی طرف اشارے کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد منکرین کی کہانی یوں بیان کی گئی ہے: مختلف گروہوں میں سے جو کوئی اس سے کفر کرے گا تو اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے (بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ)۔ پورا جملہ مبتداء، اس کی خبر محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہو گی: ”کمن لیس کذلک“ یا ”کمن یرید الحیاة الدنیا“ آیت کے آخر میں قرآن کے دیگر بہت سے مواقع کی طرف سیرتِ قرآن کے روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لیے ایک عمومی درس بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ ایسا ہے اور تیری دعوت کی صداقت کے لیے یہ تمام شاہد موجود ہیں جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اس کے بارے میں ہرگز شک وشبہ کو راہ نہ دے (فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ)۔ ”کیونکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے کلامِ حق ہے“ (اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ)۔ ”لیکن بہت سے لوگ جہالت، تعصّب اور خود پسندی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے (وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ)۔ ۲۔ دوسری تفسیر جو آیت کے لیے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ اصل مقصد سچّے مومنین کی حالت بیان کرنا ہے کہ وہ ان واضح دلائل وشواہد اور گذشتہ کتب میں موحود شہادتوں کی بنیاد پر دعوتِ پیغمبر کی صداقت پر ایمان لائے ہیں، لہٰذا ”من کان علیٰ بیّنة من ربّہ“ کے جملے سے مراد وہ تمام لوگ ہیں کہ جو کھلی آنکھوں سے اور اطمینان بخش دلائل کے ذریعے اور اس کے لانے والے پیروی کررہے ہیں اور اس سے مراد خود پیغمبر اکرمؐ نہیں ہیں۔ یہ تفسیر گذشتہ تفسیر پر یہ ترجیح رکھتی ہے کہ مبتداء کی خبر آیت میں صراحت سے آئی ہے، اس میں کوئی محذوف نہیں اور ”اولئک“ کا مشارالیہ خود آیت میں مذکور ہے، نیز آیت کا پہلا حصّہ کہ جو ”اَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ“ شروع ہوتا ہے ”اُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ“تک ایک مکمل جملہ ہے اور اس میں کوئی حذف وتقدیر نہیں ہے۔ بلاشبہ آیت کی دوسری تعبیریں اس تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتیں، اس لیے ہم نے اس تفسیر کو دوسرے مرحلے میں قرار دیا ہے (غور کیجئے گا)۔ بہرحال آیت اسلام اور سچّے مسلمانوں کے امتیازات اور اس مکتب کے انتخاب میں محکم دلائل پر ان کے اعتماد کرنے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسری طرف سے آیت متکبر منکرین کا انجامِ بد بیان کر رہی ہے۔

۱۔ آیت میں ”شاھد“ سے مراد

بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں ”شاھد“ سے مراد وحیِ خدا کے قاصد جبرئیل (علیه السلام) ہیں، بعض نے اس سے مراد پیغمبر اسلامؐ لیے ہیں۔ بعض دوسرے مفسّرین نے اس کی تفسیر زبانِ پیغمبرؐ کی ہے (جبکہ ”یتلوہ“ کو ”تلاوت“ کے مادہ سے ’قرائت“کے معنی میں لیا ہے، نہ کہ پیچھے آنے والے کے معنی میں) لیکن بہت سے بزرگ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام سے تعبیر کیا ہے، اس ضمن میں آئمہ معصومین (علیه السلام) سے بھی کئی روایات سے اس تفسیر کی تاکید ہوئی ہے کہ ”شاھد“ سے مراد حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں، جو پیغمبر اسلام اور قرآن پر ایمان لانے والے پہلے شخص ہیں، جو تمام مراحل میں رسول اللهؐ کے ساتھ رہے اور ایک لمحہ کے لیے فداکاری سے دریغ نہیں کیا اور آخری دم تک ان کی حمایت میں کوشاں رہے۔ (بحوالہ: برہان، نور الثقلین، مجمع البیان اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں) ایک حدیث میں ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: قریش کے مشہور افراد کے میں ایک یا ایک سے زیادہ آیت نازل ہوئیں۔ کسی نے عرض کیا: اے امیرالمومنین (علیه السلام)! آپ (علیه السلام) کے بارے میں کون سی آیت نازل ہوئی؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا: کیا تُونے سورہٴ ہود کی یہ آیت نہیں پڑھی ”اَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ“، رسول الله خدائی ”بیّنہ“ اور ”شاہد“ مَیں تھا۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳) سورہٴ رعد کی آخری آیت میں بھی ایک تعبیر دکھائی دیتی ہے کہ جو اس معنی کی تاکید کرتی ہے۔وہاں فرمایا گیا ہے: وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفیٰ بِاللهِ شَھِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ کفار کہتے ہیں کہ تُو پیغمبرؐ نہیں ہے، کہہ دو یہی کافی ہے کہ خدا میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور وہ کہ جس کے پاس علمِ کتاب (قرآن) ہے۔ سُنّی اور شیعہ طرق کی بہت سی روایات میں ہے کہ ”ومن عندہ علم الکتاب“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے پھر اس نکتے کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی مکتب کی حقانیت کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کے پیروکار، مددکاروں اور حامیوں کی کیفیت کا مطالعہ ہے، مشہور ضرب المثل ہے کہ امامزادے کو اس کے زائرین سے پہچاننا چاہیے، جب دیکھیں کہ پاکباز، باشعور، صاحب ایمان، مخلص اور باتقویٰ افراد کسی رہبر اور مکتب کے گرد جمع ہیں تو اچھی طرح پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر صداقت کی حدّبلند پر ہے، لیکن اگر دیکھیں کہ موقع پرست، دھوکے باز، بے ایمان اور بے تقویٰ افراد کسی مکتب یا رہبر کے گرد جمع ہیں تو بہت کم یقین کیا جا سکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر حق پر ہے۔ اس مطلب کی طرف اشارہ بھی ہم سمجھتے ہیں کہ لفظ ”شاہد“ سے حضرت علی علیہ السلام مراد لینا اس حقیقت کے منافی نہیں کہ ابوذر، سلمان، عمار یاسر جیسے تمام افراد اس کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ ایسی تفاسیر اکمل وبرتر کی طرف اشارہ ہوتی ہیں یعنی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے رائس ورئیس یہ فرد اکمل ہے۔اس امر کی شاہد وہ روایت ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”شاہد سے مراد امیرالمومنین(علیه السلام) ہیں اور پھر یکے بعد دیگرے ان کے جانشین“۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳). اس حدیث میں اگرچہ معصوم ہستیوں کا ذکر ہے لیکن یہ امر خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ روایات جن میں ”شاہد“ کو منحصراً حضرت علی(علیه السلام) سے تفسیر کیا گیا ہے ان سے مراد فقط آپ(علیه السلام) نہیں بلکہ مراد افضل وبرتر کا مصداق ہے۔

۲۔ صرف تورات کی طرف اشارہ کیوں؟

جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ پیغمبرؐ کی حقانیت کی ایک دلیل زیرِ بحث آیت میں گذشتہ کتب میں بیان کی گئی ہیں، لیکن تذکرہ صرف حضرت موسیٰ ؐکی کتاب کا ہُوا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کی بشارتیں انجیل میں بھی ہیں۔ شاید یہ اس بناء پر ہو کہ نزولِ قرآن اور ظہور اسلام کے علاقے یعنی مکّہ اور مدینہ میں زیادہ تر اہلِ کتاب میں سے یہودیوں کے افکار ونظریات پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی نسبتاً دُور کے علاقوں میں رہتے تھے مثلاً یمن، شامات اور نجران (جو شمالی یمن کے پہاڑی علاقوں میں صنعاء سے دس منزل کے فاصلے پر واقع تھا)۔ یا ہو سکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ اوصاف پیغمبرؐ کا تذکرہ تورات میں زیادہ جامع اور زیادہ وسیع طور پر آیا تھا۔ بہرحال تورات کے بارے میں ”امام“ کی تعبیر ہو سکتا ہے اس بناء پر ہو کہ شریعتِ موسیٰ(علیه السلام) کے احکام پورے طور پر اس میں موجود تھے یہاں تک کہ عیسائی بھی اپنی بہت سی تعلیمات تورات سے لیتے ہیں۔

۳۔ ”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب:

”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب کون ہے، اس بارے میں دو احتمال ذکر کیے گئے ہیں: پہلا احتمال یہ کہ پیغمبر اکرم ہیں یعنی قرآن یا آئین اسلام کی حقانیت میں ذرہ بھر شک کوراہ نہ دیجئے۔ البتہ اس حکم کی رُو سے کہ وہ وحی کو بطورِ شہود دیکھتے تھے اور خدا کی طرف سے نزولِ قرآن ان کے لیے محسوس طور پر بلکہ حِس سے بھی بالا تھا، آپ کو اس دعوت کی حقانیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن میں خطاب تو پیغمبر اکرمؐ سے ہے جبکہ مراد تمام لوگ ہیں اور عربوں کی مشہور تعبیر کے مطابق ایسے خطاب ””ایّاک اعنی واسمعی یا جارة“ (میری مراد تو تم ہو اور پڑوسن تم بھی سُن لو)کی طرح کے ہیں۔ فارسی میں کہتے ہیں: در بہ تو گویم دیوار تو گوش کن یا تو بشنو اے دروازہ! مَیں تجھے کہہ رہا ہوں، دیوار! تُو سن لے۔ یہ فنونِ بلاغت میں سے ہے کہ کئی مواقع پر تاکید اور اہمیّت کے لیے یا دیگر مقاصد کے لیے حقیقی مخاطب کی بجائے دوسرے شخص سے خطاب کیا جاتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر مکلف عاقل مخاطب ہے یعنی ”فلا تک ایھا المکلف العاقل فی مریة“ یعنی اے عاقل ومکلف انسان! ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے اس قرآن کی حقانیت میں شک نہ کر“ اور یہ احتمال اس بناء پر ہے کہ ”من کان علی بیّنة من ربّہ“ سے مراد پیغمبر نہ ہوں بلکہ تمام سچّے مومنین ہوں (غور کیجئے گا) لیکن بہرحال پہلی تفسیر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔

18
11:18
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُعۡرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمۡ وَيَقُولُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
ان لوگوں سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء باندھتے ہیں وہ (روز قیامت) اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے اور شاہد(انبیاء اور فرشتے) کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔خدا کی لعنت ہو ظالموں پر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
11:19
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
وہی جو لوگوں کو راہ خدا سے روکتے تھے اور راہ حق میں کجی دکھانا چاہتے تھے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
11:20
أُوْلَـٰٓئِكَ لَمۡ يَكُونُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ مَا كَانُواْ يَسۡتَطِيعُونَ ٱلسَّمۡعَ وَمَا كَانُواْ يُبۡصِرُونَ
وہ زمین میں کچھ بھی فرار کی طاقت نہیں رکھتے اور خدا کے سوا وہ کوئی دوست اور سرپرست نہیں پائیں گے ان کے لئے کئی گنا عذاب الٰہی ہو گا (کیونکہ وہ) کبھی بھی (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور (حقائق کو) نہیں دیکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
11:21
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنا سرمایۂ ہستی گنوا بیٹھے ہیں اور تمام جھوٹے معبود ان کی نظر سے کھو گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
11:22
لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ
(اسی بنا پر) یقیناً وہ آخرت میں سب سے زیادہ زیاں کار ہیں۔

سب سے زیادہ زیاں کار

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت قرآن اور رسالتِ پیغمبرؐ کے بارے میں گفتگو کر رہی تھی، اس کے بعد زیرِ بحث آیات کی نشانیوں اور ان کے انجامِ کار کے متعلق تفصیلی بحث کر رہی ہیں، پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا)۔ یعنی سچّے پیغمبرؐ کی دعوت کی نفی کلماتِ الٰہی کی نفی ہے اور اس کی طرف جھوٹ کی نسبت دیتا ہے۔ اصولی طور پر تکذیبِ پیغمبر تکذیبِ خدا ہے، اس شخص پر جھوٹ باندھنا کہ جو صرف خدا کی طرف سے بات کرتاہے خدا کی ذاتِ پاک پر جھوٹ باندھنا شمار ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: یہ جو بعض مفسّرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس جملے سے مراد اُن لوگوں کو جواب دینا ہے جو کہتے ہیں کہ پیغمبر الله تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے، بہت بعید ہے کیونکہ پہلے والے اور بعد کی آیات اس ترتیب سے مناسبت رکھتیں بلکہ مناسب یہی ہے کہ یہ کفار کی طرف اشارہ ہے۔) جیسا کہ ہم نے متعدد بار کہا ہے قرآن مجید کی مختلف آیات میں لوگوں کو سب سے بڑھ کر ظالم (”اظلم“) قرار دیا گیا ہے حالانکہ ظاہراً ان کے کام آپس میں مختلف ہیں اور ممکن نہیں ہے کہ مختلف کام کرنے والے مختلف گروہوں میں سے ہر ایک کو سب سے بڑھ کر ظالم شمار کیا جائے بلکہ چاہیے کہ ایک گروہ ستمگر یا ستمگر تر ہو اور دوسرا ستمگر ترین ہو لیکن جیسا کہ اس سوال کے جواب میں ہم نے بارہا کہا ہے کہ ان تمام اعمال کی بنیاد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے شرک اور آیات الٰہی کی تکذیب جو کہ سب سے بڑی تہمت ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد پنجم صفحہ۱۶۰ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔ اس کے بعد قیامت ان کے بُرے مستقبل کو اس طرح بیا ن کیا گیا ہے: اس روز وہ بارگاہِ پروردگار میں اپنے تمام اعمال اور کردار کے ساتھ پیش ہوں گے اور اس کی عدالت میں حاضر ہوں گے (اُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّھِمْ)۔ ”اس وقت اعمال کے شاہد گواہی دیں اور کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے عظیم مہربان اور ولیٴ نعمت پروردگار جھوٹ باندھتا تھا (وَیَقُولُ الْاَشْھَادُ ھٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّھِمْ)۔ اس کے بعد کھلے بندوں کہیں گے: ظالموں پر خدا کی لعنت ہو (اَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ)۔ اس بارے میں کہ شاہد خدائی فرشتے ہیں کہ یا اعمال لکھنے پر مامور مَلک ہیں یا انبیاء ہیں، مفسّرین نے مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن کی دوسری آیات میں انبیاء الٰہی کا تعارف اعمال کے شاہدین کے طور پر کروایا گیا ہے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھی وہی مراد ہیں یا اس سے وسیع تر مفہوم مراد ہے جس میں دیگر گواہ بھی شامل ہیں۔ سورہٴ نساء کی آیت ۴۱ میں ہے: فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ بِشَھِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَاءِ شَھِیدًا ان کا کیا حال ہو گاجب اس دن ہم ہر امّت کے لیے ان کے اعمال کے گواہ بلائیں گے اور تجھے ان پر گواہ قرار دیں گے۔ حضرت مسیح(علیه السلام) کے بارے میں سورہٴ مائدہ کی آیت ۱۱۷ میں ہے: وَکُنتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا مَا دُمْتُ فِیھِمْ ” مَیں جب تک اپنے پیروکاروں کے درمیان تھا ان کے اعمال پر گواہ تھا۔ نیز اس سلسلے میں کہ ”اَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ“ کہنے والا خدا ہے یا گواہ ہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر آیت یہ ہے کہ بات گواہوں کی گفتگو کے تسلسل میں ہے۔ بعد والی آیت ظالموں کی صفات تین ظالموں کی صفات تین جملوں میں بیان کی گئی ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے افراد ہیں جو لوگوں کو مختلف ذریعوں سے راہِ خدا سے روکتے ہیں (الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ ایسا وہ کبھی شک وشبہ پیدا کرکے کرتے ہیں، کبھی دھمکی سے کام لیتے ہیں اور کبھی لالچ دے کر مقصد حاصل کرتے ہیں اور ان سب کا امور کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ راہِ خدا سے روکنا۔ دوسرا یہ کہ وہ خاص طور پر کوشش کرتے ہیں کہ خدا کی راہِ مستقیم کو ٹیڑھا کرکے دکھائیں (وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا)۔ یعنی طرح طرح کی تحریفیں کرے، کمی بیشی کرکے، تفسر بالرائے کرکے اور حقائق کو مخفی رکھ کر ایسا کرتے ہیں کہ یہ سیدھا راستہ اپنی اصلی صورت میں لوگوں کے سامنے نہ آئے تاکہ لوگ اس راستے پر نہ جاسکیں اور حق طلب افراد جادہٴ حقیقی کو نہ پہچان سکیں۔ (تشریحی نوٹ: عوج“ کا معنی کجی اور ٹیڑھ پن ہے، اس سلسلے میں جلد۶ صفحہ۱۶۱ (اردو ترجمہ) پر ہم تشریح کر چکے ہیں، ضمنی طور پر توجہ رہے کہ ”یبعغونھا“ کی ضمیر سبیل کی طرف لوٹتی ہے جو موٴنث مجازی ہے یا یہ طریقہ اور جادہ کے معنی میں ہے جو موٴنث لفظی ہیں سورہٴ یوسف کی آیت ۱۰۸ میں ہے: قُل ھٰذِہِ سَبِیلِیْ اَدْعُو اِلَی اللهِ) نیز یہ کہ وہ قیامت اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے (وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ)۔ اور معاد پر ان کا ایمان نہ رکھنا ان کے سب انحرافات اور تباہ کاریوں کا سرچشمہ ہے کیونکہ موت کے بعد اس بڑی عدلات اور وسیع عالم پر ایمان لانے سے قلب وروح کی تربیت ہوتی ہے۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ یہ تمام امور ”ظلم“ کے مفہوم میں جمع ہیں کیونکہ اس لفظ کے وسیع مفہوم میں ہر قسم کا انحراف اور اشیاء، اعمال، ثفات اور عقائد کو ان کی حقیقی جگہ سے تبدیل کر دینا شامل ہے۔ لیکن بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان سب چیزوں کے باوجود ”ایسا نہیں ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی سزا اور عذاب سے فرار حاصل کرسکیں اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکیں گے“ (اُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاَرْضِ)۔ ”اسی طرح وہ خدا کے علاوہ اپنے لیے کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے“ (وَمَا کَانَ لَھُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اَوْلِیَاءَ)۔ آخر میں ان کی سنگین سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ان کا عذاب کئی گُنا ہو جائے گا (یُضَاعَفُ لَھُمَ الْعَذَابُ)۔ کیونکہ وہ خود بھی گمراہ، گناہگار اور تباہکار تھے اور دوسرے کو بھی انہی راہوں کی طرف کھینچتے تھے، اس بناء پر وہ اپنے گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے اور دوسرں کے گناہوں کا بھی (جبکہ ان دوسرے گناہ کرنے والوں کی سزا میں بھی کمی نہیں ہو گی)۔ اس مفہوم پر قرآن کی دوسری آیات شاہد ہیں، مثلاً: وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِھِمْ۔ روزِ قیامت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اور ان کے ساتھ دوسرے بوجھ اور گناہ اپنے دوش پر اٹھائیں گے۔ (عنکبوت/۱۳) نیز بہت سی روایا ت میں ہے کہ جو شخص کسی بُری سنت کی بنیاد رکھے گا اس بُری سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا ”عذر“ اورگناہ اس کے کھاتے میں لکھا جائے اور اسی طرح جو شخص کسی اچھی نیت سنت کی بنیاد رکھے گا اس پر عمل کرنے والے لوگوں کی جزا کے برابر ثواب اس کے لیے لکھا جائے گا۔ آیت کے آخر میں ان کی بدبختی کی اصل بنیاد کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ان کے پاس سننے والا کان ہے نہ دیکھنے والی آنکھ (مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ)۔ درحقیقت جب یہ دونوں وسائل حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں تو وہ خود بھی گمراہی میں گرجاتے ہیں اور دوسروں کوبھی گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں کیونکہ کھلی آنکھ اور گوشِ شنوا کے بغیر حق وحقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا ۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ اس جملے میں ہے کہ وہ (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے، یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے لیے حق باتوں کا سننا اس قدر بوجھل ہے کہ گویا وہ اسے سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، یہ تعبیر بعینہ ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ عاشق اپنے معشوق کی برائی نہیں سن سکتا۔ واضح ہے کہ حقائق فہمی کی اس طرح سے طاقت نہ ہونا، اس کی سخت ہٹ دھرمی اور حق دشمنی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب ان کی مسئولیت ختم ہو گئی ہے، اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس کے اسباب انھوںنے خود مہیّاکیے ہیں جبکہ و ہ طاقت رکھتے تھے کہ اس حالت کو اپنے سے دُور رکھیں کیونکہ سبب پر قدرت رکھنا مسبب پر قدرت رکھنے کے مترادف ہے۔ بعد والی آیت میں ان کی غلط مساعی کو ایک ہی جملہ میں بیان کیا گیا ہے: یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے وجود کا سرمایہ گنوا بیٹھے اور خسارے میں رہے (اُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ)۔ اور یہ عظیم ترین گھاٹا ہے جو انسان کو دامن گیر ہو سکتا ہے وہ اپنی ہستی ہی گنوا بیٹھے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ”انھوں نے جھوٹے معبودوں سے دل لگالیا ہے ’لیکن آخرکا ر یہ سب بناوٹی معبود گم ہو گئے اور ان کی نظر سے محو ہو گئے“ (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ)۔ زیر بحث آخری آیت میں ان کے انجام کے بارے میں یقینی اور آخری حکم کو قطعی صورت میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے: ناچار وہ آخرت کے گھر میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے (لَاجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْآخِرَةِ ھُمَ الْاَخْسَرُونَ)۔ کیونکہ وہ دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ اپنے انسانی وجود کا تمام سرمایہ گنوا بیٹھے ہیں اور اس حالت میں اپنا بارِ مسئولیت بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور دوسروں کی ذمہ داری بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ ”جرم“ (بروزن ”حرم“) اصل میں درخت سے پھل چننے کے معنی میں ہے (جیسا کہ مفردات میں راغب نے ذکر کیا ہے) بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کے اکتساب اور تحصیل امر کے لیے استعمال ہونے لگا اور نامناسب کسب کا مفہوم پیدا ہو گیا، اسی لیے گناہ کو جرم کہا جاتا ہے لیکن جب یہ لفظ ”لا“ کے ساتھ کسی جملے کی ابتداء میں ”لاجرم“ کی صورت میں آئے تو پھر یہ معنی دیتا ہے کہ ”کوئی چیز اس امر کی نہیں روک سکتی“ اسی لیے ”لاجرم“ ناچار ”یقیناً“ اور ”مسلماً کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (غور کیجئے گا)۔

23
11:23
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَأَخۡبَتُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اور جو خدا کے سامنے خاضع اورتسلیم تھے اصحاب جنت ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
11:24
۞مَثَلُ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ كَٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡأَصَمِّ وَٱلۡبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِۚ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
ان دو گروہوں (منکرین اور مومنین) کی حالت ’’اندھوں اوربہروں ‘‘ اور ’’دیکھنے اور سننے والوں ‘‘ کی سی ہے۔ کیا یہ دونوں گروہ ایک جیسے ہو سکتے ہیں ؟ کیا تم فکر نہیں کرتے ہو؟

سچے مومنین کی حالت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں وحی الٰہی کے ایک گروہ کی حالت بیان کی گئی تھی، یہ دو آیات ان کے مقابل سچّے مومنین کی حالت بیان کر رہی ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے اور خدا کے سامنے خاضع اور تسلیم رہے اور اس کے عدول پر مطمئن رہے وہ اصحابِ جنت ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے (إنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاَخْبَتُوا إلیٰ رَبِّھِمْ اُوْلٰئِکَ اَصْحَابُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ)۔

دو قابلِ توجہ نکات: ۱۔ تین مربوط حقائق

ایمان، عملِ صالح اور دعوتِ حق کے سامنے سرتسلیم خم، دراصل تین ایسے حقائق ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں کیونکہ عملِ صالح شجر ایمان کا ثمر ہے، وہ ایمان جس کا ثمرہ عمل صالح نہ ہو ایسا کمزور اور بے وقعت ہوتا ہے کہ جو کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا، اسی طرح سرِتسلیم خم اور پروردگار کے وعدوں پر اطمینان ایسا مسئلہ ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے آثار میں سے نہیں ہے کیونکہ صحیح اعتقاد اور پاک عمل ہی انسان کی جان اور روح ہیں ان بلند صفات وملکات کے پیدا ہونے کا سرچشمہ ہے۔

۲۔ ”اَخْبَتُوا“ کا مفہوم

”اَخْبَتُوا“ ”اخبات“ کے مادہ سے ہے اس کی اصل ”خبت“ (بروزن ”ثبت“)ہے جس کے معنی ہیں صاف اور وسیع زمین جس میں آرام و اطمینان سے چل پھر سکتا ہے، اسی بناء پر یہ مادہ اطمینان کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور خضوع وتسلیم کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ ایسی زمین چلنے پھرنے کے لیے بھی اطمینان بخش ہے اور خود چلنے والوں کے سامنے خاضع اور تسلیم بھی ہے۔ اسی بناء پر جملہٴ ”اَخْبَتُوا إلیٰ رَبِّھِمْ“ ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل متن میں سے کسی ایک معنی میں ہو اگرچہ تینوں معانی ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے:۔ ۱۔ سچّے مومنین خدا کے سامنے خاضع ہیں۔ ۲۔ وہ اپنے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ ۳۔ وہ خدا کے وعدوں پر اطمینان رکھتے ہیں۔ ہر صورت میں مومنین کی ایک عالی ترین صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کا اثر ان کی تمام زندگی میں منعکس ہوتا ہے۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں ہے کہ آپ(علیه السلام) کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ ہمارے درمیان کلیب نامی ایک شخص ہے۔ آپ(علیه السلام) سے مروی جو بھی حدیث اس تک پہنچے وہ فوراً کہتاہے کہ مَیں اس کے سامنے تسلیم ہوں، اس لیے کہ اس کانام ”کلیب تسلیم“ رکھ دیا ہے۔ امام(علیه السلام) نے فرمایا: اس پر خدا کی رحمت ہو، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تسلیم کسے کہتے ہیں، ہم خاموش رہے تو فرمایا: خدا کی قسم یہ وہی ”اخبات“ ہے جو خدا کے کلام ”الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاَخْبَتُوا إلیٰ رَبِّھِمْ“ میں آیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر برہان: ج۲، ص۱۱۶) بعد والی آیت میں خدا اس گروہ کی حالت کو ایک واضح اور زندہ مثال کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ان دو گروہوں کی حالت، نابینا اور بہرے اور بینا اور سننے والے“ کی سی ہے (مَثَلُ الْفَرِیقَیْنِ کَالْاَعْمَی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیرِ وَالسَّمِیعِ)۔ کیا یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مساوی ہیں (ھَلْ یَسْتَوِیَانِ مَثَلًا) کیا تم تذکر نہیں کرتے اور غور وفکر نہیں کرتے (اَفَلَاتَذَکَّرُونَ)۔ جیسا کہ علم معانی و بیان میں آیا ہے کہ ہمیشہ حقائق عقلی کو مجسم کرنے اور عمومی سطح پر ان کی وضاحت وصراحت کے لیے معقولات کو محسوسات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ قرآن نے اس طریقہ کا زیادہ استعمال کیا ہے اور بہت سے حساس اور پُر اہمیت مسائل کو واضح اور خوبصورت مثالوں سے استفادہ کرتے ہوئے حقائق کو عالی ترین صورت میں بیان کیا ہے۔ مندرجہ بالا بیان بھی اس قسم کا ہے کیونکہ موٴثر ترین وسیلہٴ حِسّی حقائق کی شناخت کے لیے مادہ وطبیعت میں آنکھ اور کان ہیں۔ اسی بناء پر یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ افراد جو آنکھ اور کان سے مکمل طور پر مثلاً مادر زاد صورت میں بے بہرہ ہوں کسی چیز کا اس جہانِ طبیعت میں صحیح طور پر ادراک حاصل کر لیں۔ وہ مسلماً ایک مکمل بے خبری کے عالم میں زندی بسر کریں گے۔ اسی طرح وہ افراد جو ہٹ دھرمی، حق دشمنی، تعصب، خود خواہی اور خود پرستی کے چنگل میں گرفتار ہونے کی وجہ سے حقیقت میں آنکھ اور کان گنوا بیٹھے ہیں وہ ہرگز عالم غیب سے مربوط حقائق، ایمان کے اثرات، لذّتِ عبادتِ خداوندی اور اس کے فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کی عظمت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ایسے افراد اندھوں، بہروں کی مانند ہیں جو گھٹا ٹوپ اندھیرے اور موت کی خاموشی میں زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ مومن دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان سے ہر حرکت کو دیکھتے ہیں اور ہر صدا کوسنتے ہیں اور اس کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اپنا راستہ سعادت آفرین راہ کی طرف اختیار کر لیتے ہیں۔

25
11:25
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦٓ إِنِّي لَكُمۡ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (پہلی مرتبہ اس نے ان سے کہا) میں تمہارے لئے واضح ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
11:26
أَن لَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ أَلِيمٖ
(میری دعوت یہ ہے کہ) سوائے خدا کے کسی کی عبادت نہ کروکہ میں تم پر دردناک دن والے عذاب سے ڈرتاہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
11:27
فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۭ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ
اس کی قوم کے کافرسرداروں نے(جواب میں ) کہا: ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا بشر پاتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے تیری پیروی کی ہے انہیں ہم سوائے سادہ لوح پست لوگوں کے نہیں پاتے اور تمہارے لئے کوئی فضیلت اپنی نسبت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
11:28
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ أَنُلۡزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمۡ لَهَا كَٰرِهُونَ
(نوح نے) کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس نے اپنی طرف سے مجھے رحمت عطا کی (ہو) جو تم پر مخفی ہو(پھربھی تم میری رسالت کا انکار کرو گے) کیا میں تمہیں واضح امر قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہوں جبکہ تم آمادہ نہیں ہو؟

حضرت نوح(علیه السلام) کی قوم کی ہلا دینے والی سرگزشت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ ہم نے سورہ کی ابتداء میں بیان کیا ہے اس سورہ میں افکار کو بیدار کرنے اور زندگی کے حقائق کی طرف متوجہ کرنے اور تبہکارووں کی بُری سرنوشت کی طرف توجہ دلانے اور کامیابی اور موفقیت کی راہ بیان کرنے کے لیے گذشتہ انبیاء کیتاریخ کے اہم حصّے بیان ہوئے ہیں ۔ سب سے پہلے اولوالعزم پیغمبر حضرت نوح(علیه السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور ۲۶ آیات میں ان کی تاریخ کے اساسی اور بنیادی نکات کی ہلادینے والی شکل میں تشریح کی گئی ہے، اس میں شک نہیں کہ حضرت نوح(علیه السلام) کا قیام اور ان کے اپنے زمانے کے متکبروں کے ساتھ شدید اور مسلسل جہاد اور ان کے بُرے انجام کی داستان تاریخِ بشر کے فراز میں ایک نہایت اور بہت عبرت انگیز درس کی حامل ہے۔ مندرجہ بالا آیات پہلے مرحلے میں اس عظیم دعوت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے انھیں بتایا کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں (وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ)۔

انبیاء کے لفظ ”نذیر“

انبیاء ڈرانے والے بھی تھے اور خوش خبری دینے والے بھی پھر ”انذار“ (ڈرانے) کے مسئلہ پر انحصار صرف اس بناء پر کیا گیا ہے چونکہ انقلاب کی پہلی ضرب جو خطرے کے اعلان اور ڈرانے سے شروع کیا جائے،کیونکہ اس کی تاثیر سوئے ہوئے اور غافل لوگوں کو بیدار کرنے میں بشارت کی نسبت زیادہ ہے۔ اصولی طور پر جب تک انسان کوئی بڑا خطرہ محسوس نہ کرے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور اسی بناء پر انبیاء کے انذار اور خطرے کے اعالان کو تازیانہ کی شکل میں گمراہیوں کی بے درد روحوں پر پڑتے تھے کہ جو شخص بھی حرکت کی طاقت رکھتا وہ حرکت میں آجاتا تھا نیز اسی بناء پر قرآن کی بہت سی آیات میں (مثلاً سورہٴ حج۴۹، شعراء۱۱۵، عنکبوت۵۰، فاطر۴۲، ص۷۰، احقاف۹، ذاریات۵۰، اور دیگر آیات میں) ہر جگہ دعوتِ انبیاء کو بیان کرتے وقت لفظ ”نذیر“ (ڈرانے والے) استعمال کیا گیا ہے۔ بعدوالی آیات پہلی ضرب کے بعد اپنی رسالت کے مضمون کو صرف ایک جملہ میں بطور خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرا پیغام یہ ہے کہ ”الله“ کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کرو (اَنْ لَاتَعْبُدُوا إلاَّ اللهَ)۔ پھر بلافاصلہ اس کے پیچھے اسی مسئلہ انذار اور اعلامِ خطر کا تکرار کرتے ہوئے کہتا ہے: مَیں تم پر دردناک دن سے ڈرتا ہوں (إنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیمٍ)۔ (تشریحی نوٹ: باوجودیکہ دردناک عذاب ک صفت ہے لیکن زیرِ نظر آیت میں یوم کی صفت قرار دی گئی ہے یہ ایک قسم کی لطیف اسنادحجازی ہے جو مختلف زبانوں کی ادبیات میں آتی ہے فارسی میں بھی ہم کہتے ہیں ”فلاں دن بڑا دردناک تھا“ حالانکہ خود دن دردناک نہیں تھا بلکہ اس کے حوادث دردناک تھے)۔ اصل میں الله (خدائے یکتا ویگانہ) کی توحید اور عبادت ہی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ہے اور اسی بناء پر تمام انبیاء کے حالات میں جیسا کہ اس سورہ کی دوسری آیت اور سورہٴ یوسف کی آیت۴۰ اور سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت۲۳ میں بھی آیا ہے یہی تعبیر نظر آتی ہے کہ وہ اپنی دعوت کا خلاصہ توحید کو قرار دیتے تھے۔ سچ مچ اگر تمام افراد اور معاشرہ الله کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور طرح طرح کے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے چاہے بیرونی بت ہوں یا اندرونی، خود خواہی، ہَوا وہوس، شہوت وثروت، مقام ومنزلت، جاہ وجلال، عورت واولاد ہوں سرِتسلیم خم نہ کریں تو کسی قسم کی خرابی اور فساد معاشروں میں پیدا نہ ہو۔ اگر انسان خود کاسہٴ ناتوانی کو ایک بت کی صورت میں نہ لائے اور اس کے سامنے سجدہ نہ کرے اور اس کی فرمانبرداری نہ کرے تو استبداد اور استعمار وجود میں نہ آئے اور نہ ہی اس کے بُرے آثار، ذلّت اور اسارت پیش آئیں اور نہ ہی وابستگی اور طفیلی ہونے کی بنیاد پڑے۔ تمام بدبختیاں جو افراد اور معاشروں کودامنگیر ہیں اسی الله کی پرستش سے انحراف اور بتوں اور طاغوتوں کی پرستش کی طرف رخ کرنے کی وجہ سے ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کہ پہلا درِّعمل اس زمانے کے طاغوتوں، خود سروں اور صاحبان زروزور کا اس عظیم دعوت اور واضع اعلام کے مقابلے میں کیا تھا۔ مسلماً سوائے کچھ بیہودہ اور جھوٹے عذر بہانوں اور بے بنیاد استدلالوں کے جو کہ ہر زمانے کے جابروں کا طریقہ کار ہے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ انھوں نے حضرت نوح(علیه السلام) کی دعوت کے تین جواب دیئے: ۱۔ قومِ نوح(علیه السلام) کے سردار اور سرمایہ دار کافر تھے۔ انھوں نے کہا ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا انسان دیکھتے ہیں (فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا نَرَاکَ إلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا)۔ حالانکہ الله کی رسالت اور پیغام توفرشتوں کو اپنے کاندھوں پر لینا چاہیے، نہ کہ ہم جیسے انسانوں کو، اس گمان کے ساتھ کہ انسان کا مقام فرشتوں سے نیچے ہے یا انسان کی ضرورت کو فرشتہ انسان سے بہتر جانتا ہے، پھر ہم یہاں لفظ ”ملاء“ کاسامنا کررہے ہیں یعنی صاحبانِ اقتدار، سرمایہ دار اور ایسے افراد جن پر لوگوں کی نظریں جمتی ہیں لیکن وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں۔یہ لوگ ہر معاشرے میں فساد اور تباہی کا اصلی سرچشمہ ہوتے ہیں اور انبیاء کے مقابلے میں مخالفت کا پرچم بلند کرتے ہیں۔ ۲۔ انھوں نے کہا: اے نوح! ہم تیرے گرد وپیش اور ان کے درمیان کہ جنھوں نے تیری پیروی کی ہے سوائے چند پست، ناآگاہ اور بے خبر تھوڑے سن وسال کے نوجوانوں کے کہ جنھوں نے مسائل کی دیکھ بھال نہیں کی، کسی کو نہیں دیکھتے (وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إلاَّ الَّذِینَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِی الرَّاْیِ)۔ ”اراذل“ ”ارذل“ (بروزن اھرم“) کی جمع ہے اور وہ خود ”رذل“ کی جمع ہے جو پست وحقیر موجود کے معنی میں ہے۔ چاہے وہ انسان ہے یا کوئی اور چیز۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی طرف مائل ہونے والے اور ان پر ایمان لانے والے لوگ نہ اراذل تھے اور نہ ہی حقیر وپست، تاہم اس بناء پر چونکہ انبیاء ہر چیز سے پہلے مستضعفین کے حمایت اور مستکبرین سے مبارزہ اور جہاد کرتے تھے لہٰذا پہلا گروہ جو انبیاء کی دعوت پر لبیک کہتا وہی محروم، فقیر اور کم آمدنی والے لوگ ہوتے تھے، جو مستکبرین کی نگاہ میں جو کہ شخصیت کامعیار دولت اور اقتدار کو سمجھتے تھے پست اور حقیر افراد شمار ہوتے تھے اور یہ جو انھیں ”بادی الراٴی“ (ظاہر بین بے مطالعہ اوروہ شخص جو پہلی نظر میں کسی چیز کا عاشق اور خواہاں ہوتا ہے) کا نام دیا ہے۔حقیقت میں اس بناء پر ہے کہ وہ ہٹ دھرمی اور غیرمناسب تعصبات جو دوسروں میں تھے وہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زیادہ تر پاک دل نوجوان تھے جو حقیقت کی پہلی کرن کو جو اُن کے دل پر پڑتی جلدی محسوس کر لیتے تھے۔وہ اس بیداری کے ساتھ جو کہ حق کی تلاش سے حاصل ہوتی ہے صداقت کی نشانیاں انبیاء کے اقوال وافعال کا ادراک کر لیتے تھے۔ ۳۔ اُن کا آخری اعتراض یہ تھا کہ قطع نظر اس سے کہ تُو انسان ہے نہ کہ فرشتہ، علاوہ ازیں تجھ پر ایمان لانے والے نشاندہی کرتے ہیں کہ تیری دعوت کے مشتملات صحیح نہیں ہیں۔ اصولی طور پر تم ہم پر کسی قسم کی برتری نہیں رکھتے کہ ہم اس بناء پر تیری پیروی کریں (وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ)۔ لہٰذا ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو (بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِینَ)۔

حضرت نوحؑ کے جوابات

بعد والی آیات میں ان بہانہ جُو اور فسانہ ساز افراد کو حضرت نوح(علیه السلام) کی طرف سے دیئے گئے جوابات ذکر کیے گئے ہیں۔پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل اور معجزہ کا حامل ہوں اور اس نے اس رسالت وپیغام کی انجام دہی کی وجہ سے اپنی رحمت میرے شامل حال کی ہے اور یہ امر عدم توجہ کی وجہ سے تم سے مخفی رہ گیا توکیا پھر بھی تم میری رسالت کا انکار کر سکتے ہو اور میری پیروی سے دست بردار ہو سکتے ہو (قَالَ یَاقَوْمِ اَرَاَیْتُمْ إنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی رَحْمَةً مِنْ عِنْدِہِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ)۔ اس بارے میں کہ یہ جواب قوم نوح(علیه السلام) کے مستکبرین کے تین سوالوں میں سے کس کے ساتھ مربوط ہے مفسرین کا بہت اختلاف ہے لیکن غور وخوض سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جامع جواب تینوں اعتراضات کا جواب بن سکتا ہے کیونکہ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ تم انسان ہو، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: یہ بجا ہے کہ میں تمھاری طرح کا ہی انسان ہوں لیکن الله تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال ہوئی ہے اور اس نے مجھے کھلی اور واضح نشانیاں دی ہیں اس بناء پر میری انسانیت اس عظیم رسالت سے مانع نہیں ہو سکتی اور یہ ضروری نہیں کہ میں فرشتہ ہوتا۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تمھارے پیروکار بے فکر اور ظاہر بین افراد ہیں، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: تم بے فکر اوربے سمجھ ہو جو اس واضح حقیقت کا انکار کرتے ہو حالانکہ میرے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو ہر حقیقت کے متلاشی انسان کے لیے کافی ہیں اور اسے قائل کر سکتے ہیں مگر تم جیسے افراد جو غرور، خود خواہی، تکبر اور جاہ طلبی کا پردہ اوڑھے ہوئے ہیں ان کی حقیقت بین آنکھ بیکار ہو چکی ہے۔ ان کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے: ہم کوئی برتری اور فضیلت تمھارے لیے اور اپنی نسبت نہیں پاتے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا اس سے بالاتر کونسی برتری ہے کہ خدا نے اپنی رحمت میرے شاملِ حال کی ہے اور واضح مدارک ودلائل میرے اختیار میں دیئے ہیں۔اس بناء پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ تم مجھے جھوٹا خیال کرو کیونکہ میری گفتگو کی نشانیاں ظاہر ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: کیا مَیں تمھیں اس ظاہر بظاہر بینہ کے قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہوں جبکہ تم خود اس پر آمادہ نہیں ہو اور اسے قبول کرنا بلکہ اس کے بارے میں غوروفکر کرنا بھی پسند نہیں کرتے ہو (اَنُلْزِمُکُمُوھَا وَاَنْتُمْ لَھَا کَارِھُونَ)۔

29
11:29
وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُواْ رَبِّهِمۡ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ
اے قوم! میں اس دعوت کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا میرا اجر صرف اﷲ پر ہے اور میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں (تمہاری وجہ سے) دھتکارتا نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کریں گے۔ لیکن تمہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جاہل ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
11:30
وَيَٰقَوۡمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمۡۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
اے قوم! اگر میں انہیں دھتکار دوں تو خدا (کے عذاب) کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا؟ کیا تم سوچتے نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
11:31
وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٞ وَلَآ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزۡدَرِيٓ أَعۡيُنُكُمۡ لَن يُؤۡتِيَهُمُ ٱللَّهُ خَيۡرًاۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا فِيٓ أَنفُسِهِمۡ إِنِّيٓ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
میں تمہیں کبھی نہیں کہوں گا کہ خدائی خزانے میرے پاس ہیں۔ نہ میں کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ لوگ جو تمہاری نگاہ میں ذلیل وخوار نظر آتے ہیں خدا انہیں خیر نہیں دے گا۔ خدا ان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے(میں اگر اس کے باوجود انہیں دور کر دوں ) تو اس صورت میں میں ظالموں سے ہوں گا۔

صاحبِ ایمان افراد کودھتکارا نہیں جا سکتا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ہم نے گذشتہ آیات میں دیکھا ہے کہ خود غرض اور بہانہ جُو قوم حضرت نوح(علیه السلام) پر مختلف اعتراضات کرتی تھی جن کا انھوں نے نہایت عمدہ اور واضح جواب دیا۔ زیرِ بحث آیات میں بھی ان کی بہانہ تراشیوں کا جواب دیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں نبوّت کی ایک دلیل بیان کی گئی ہے جو حضرت نوح(علیه السلام) نے تاریک دل قوم کو روشنی بخشنے کے لیے پیش کی تھی، ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے مال وثروت اور اجر وجزاء کا مطالبہ نہیں کرتا (وَیَاقَوْمِ لَااَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا)۔ میرا اجر وجزاء صرف الله پر ہے وہ خدا کہ جس نے مجھ نبوّت کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور مخلوق کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے (إنْ اَجْرِی إلاَّ عَلَی اللهِ)۔ یہ امر اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نہیں۔ مَیں سوائے خدا کے معنوی وروحانی اجر کے کچھ بھی نہیں دیکھتا ہوں اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس قسم کے سردرد، ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ہی اپنے لیے خرید لے اور یہ سچّے رہبروں کی پہچان کے لیے ایک میزان ہے۔ اُن جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں جو کہ جب بھی قدم اٹھاتے ہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف اور مقصد ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کے جواب میں جنھیں اصرار تھا کہ حضرت نوح(علیه السلام) غریب وحقیر اور کم افراد کو جو آپ پر ایمان لائے تھے خود سے دُور کر دیں حضرت نوح(علیه السلام) حتمی طور پر (فیصلہ سناتے ہوئے) کہتے ہیں: مَیں ہرگز ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں نہیں دھتکاروں گا (وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا)۔ کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور دوسرے جہان میں اس کے سامنے میرے ساتھ ہوں گے (إنَّھُمْ مُلَاقُو رَبِّھِمْ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میں ہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی مراد یہ ہو کہ اگر مجھ پر ایمان لانے والے باطن میں دروغ گو اور جھوٹے ہوئے تو خدا قیامت تک ان سے حساب کرے گا، لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے) آیت کے آخر میں انھیں بتاگیا ہے: مَیں سمجھتا ہوں کہ تم جاہل ہو (وَلَکِنِّی اَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُونَ)۔ اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہو گی کہ فضیلت کو پرکھنے کی میزان تم گنوا بیٹھے ہو۔ آج تمھاری نظر دولت، مالی وجاہت، ظاہری مقام ومنصب اور سن وسال معیارِ فضیلت بن چکے ہیں اور صاحبان ایمان افراد جو تہی دست اور برہنہ پا ہیں وہ تمھارے گمان میں بارگاہ خداوندی سے دُور ہیں۔ یہ تمھاری بڑی غلط فہمی ہے اور یہ تمھاری جہالت کی نشانی ہے۔ علاوہ ازیں تم اپنی جہالت ونادانی کی بناء پر سمجھتے ہو کہ پیغمبر کوفرشتہ ہونا چاہیے حالانکہ انسانوں کا رہبر انہی کی نوع سے ہونا چاہیے تاکہ وہ ان کی ضروریات، مشکلات اور تکالیف کو محسوس کر سکے اور سمجھ سکے۔ بعد والی آیت میں مزید وضاحت کے لیے ان سے کہا گیا: اے قوم! اگر مَیں ان باایمان لوگوں کو دھتکاردوں تو خدا کے سامنے (اس عظیم عدالت میں بلکہ اُس جہان میں) کون میری مدد کرے گا (وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إنْ طَرَدْتُھُمْ)۔ صالح اورمومن افراد کو دھتکارنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ وہ کل قیامت کے دن میرے خلاف ہوں گے اور وہاں کوئی شخص میرا دفاع نہیں کر سکے گا، نیز ممکن ہے عذابِ الٰہی اس جہان میں بھی مجھے دامن گیر ہو، کیا تم کچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہو کہ تمھیں ہو کہ مَیں جو کچھ کررہا ہوں عین حقیقت ہے (اَفَلَا تَذَکَّرُونَ)۔ ”تفکر“ اور ”تذکر“ میں یہ فرق ہے کہ تفکر درحقیقت کسی چیز کی شناخت کے لیے ہوتا ہے چاہے اس کے بارے میں ہمیں پہلے سے کچھ پتہ نہ ہو لیکن ”تذکر“ (یادآوری) اس موقع پر بولا جاتا ہے جب انسان اس امر کے بارے میں پہلے سے واقفیت رکھتا ہو اگرچہ وہ فطر گاہی کے حوالے سے ہو۔ اتفاقا اپنی قوم سے حضرت نوح ؑکے زیرِ بحث مسائل بھی اسی نوعیت کے تھے کہ انسان اپنی فطرت اور وجدان کی طرف توجہ کرنے سے انھیں سمجھ سکتا ہے لیکن ان غرور، تعصب، خود پرستی اور غفلت نے ان کے چہروں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اپنی قوم کے مہمل اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح(علیه السلام) آخری بات یہ کہتے ہیں کہ اگر تم خیال کرتے ہو اور توقع رکھتے ہو کہ وحی اور اعجاز کے سوا مَیں تم پر کوئی امتیاز یا برتری رکھوں تو یہ غلط ہے، مَیں صراحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ”میں نہ تم سے کہتا ہوں کہ خدائی خزانے میرے قبضے میں ہیں اور نہ ہر کام جب چاہوں انجام دے سکتا ہوں“ (وَلَااَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ)۔ ”نہ میں غیب سے آگاہی کا دعویٰ کرتا ہوں“ (وَلَااَعْلَمُ الْغَیْبَ)۔ ”اور نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں (وَلَااَقُولُ إنِّی مَلَکٌ)۔ ایسے بڑے اور جُھوٹے دعوے جُھوٹے مدعیوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور ایک سچا پیغمبر کبھی ایسے دعوے نہیں کرے گا کیونکہ خدائی خزانے اور علمِ غیب صرف خدا کی پاک ذات کے اختیار میں ہیں اورفرشتہ ہونا بھی ان بشری احساسات سے مناسب نہیں رکھتا۔ لہٰذا جو شخص ان تین میں سے کوئی ایک دعویٰ کرے یا یہ سب دعوے کرے تو یہ اس کے جُھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ پیغمبر اسلام ؐکے بارے میں سورہٴ انعام کی آیت ۵۰ میں ایسی تعبیر ملتی ہے جہاں فرمایا گیا ہے: قُلْ لَااَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااَقُولُ لَکُمْ إنِّی مَلَکٌ إنْ اَتَّبِعُ إلاَّ مَا یُوحیٰ إلَیَّ مَیں نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں علم غیب رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں، مَیں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ اس آیت میں امتیازِ پیغمبرؐ کو وحی میں منحصر کرنا اور مندرجہ بالا تینوں امور کی نفی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط آیات میں بھی ایسای امتیاز مفہوم کلام میں مخفی ہے اگرچہ صراحت سے بیان نہیں ہوا۔ آیت کے آخر میں دوبارہ مستضعفین کا ذکر کرتے ہوئے تاکیداً کہا گیا ہے ”میں ہرگز ان افراد کے بارے میں جو تمھاری نگاہ میں حقیر ہیں، نہیں کہہ سکتا کہ خدا انھیں کوئی جزائے خیر نہیں دے گا (وَلَااَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَھُمْ اللهُ خَیْرًا)۔ بلکہ اس کے برعکس اس جہان کی خیر انہی کے لیے اگرچہ ان کا ہاتھ مال ودولت سے خالی ہے۔ یہ تو تم ہو جنھوں نے خام خیالی کی وجہ سے خیر کو مال ومقام یا سن وسال میں منحصر سمجھ رکھا ہے اور تم حقیقت سے بالکل بے خبر ہو۔ اور بالفرض اگر تمھاری بات سچی ہو اور وہ پشت اور اوباش ہوں تو خدا ان کے باطن اور نیتوں سے آگاہ ہے (اللهُ اَعْلَمُ بِمَا فِی اَنفُسِھِمْ)۔ مَیں تو ان میں ایمان وصداقت کے سوا کچھ نہیں پاتا، لہٰذا میری ذمہ داری ہے کہ مَیں انھیں قبول کرلوں، مَیں تو ظاہر پر مامور ہوں اور بندہ شناس خدا ہے۔ اور اگر مَیں اس کے علاوہ کچھ کروں تو یقیناً ظالموں میں سے ہوجاوں گا (إنِّی إذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ)۔ آخری جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ آیت کے سارے مضمون سے مربوط ہو یعنی اگر میں علمِ غیب جاننے، فرشتہ ہونے یا خزائن کا مالک ہونے کا دعویٰ کروں یا ایمان لانے والوں کو دھتکاردوں تو خدا کی بارگاہ میں اور وجدان کی نظر میں مَیں ظالموں کی صف میں داخل ہوں گا۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ علمِ غیب اور خدا کے خاص بندے

جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے غیب سے مطلق آگاہی اور بغیر کسی قید وشرط سے واقفیت خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن وہ جس قدر مصلحت سمجھتا ہے یہ علم وآگہی انبیاء اور اولیاء کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ جیساکہ سورہٴ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے: عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہِ اَحَدًا، إلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ خدا تمام پوشیدہ امور سے آگاہ ہے اور کسی کو اپنے علمِ غیب سے آگانہ نہیں کرتا مگر اس رسول کو جسے وہ چاہتا ہے۔ اس بناء پر زیرِ بحث آیات میں جو انبیاء سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے اور دیگر آیات وروایات جن میں انبیاء(علیه السلام)، یا آئمہ(علیه السلام) کی طرف بعض غیوب کی نسبت دی گئی ہے کوئی تضاد نہیں ہے، اسرارِ غیب سے بالذات گواہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ تعلیمِ خداوندی کے ذریعہ ہے، لہٰذا وہ ارادہٴ الٰہی کے مطابق اور اسی حد تک ہے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی تیسری جلد صفحہ۳۵١ (اردو ترجمہ) اور چوتھی جلد صفحہ۳۵٧ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔

۲۔ معیارِ فضیلت

ان آیات میں ہم دوبارہ اس حقیقت کو دیکھ رہے ہیں کہ اہلِ اقتدار، سرمایہ دار اور دنیا پرست مادی لوگ جو تمام چیزوں کو اپنے افکار کے دریچے سے اسی مادی حوالے سے دیکھتے ہیں ان کی نظر کسی مقام و احترام دولت ومنصب کے حوالے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات کوئی باعثِ تعجب نہیں کہ وہ تہی دست سچّے مومنین کو ”اراذل“ (پست) قرار دیں اور ان کی طرف حقارت سے دیکھیں۔ یہ امر قومِ نوح ؑہی میں منحصر نہیں کہ وہ مستضعفین مومنین خصوصاً انقلابی نوجوانوں کو جو آپ کے گرد وپیش تھے بے وقوف، کوتاہ فکر اور بے وقعت سمجھتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ یہی منطق دوسرے انبیاء، خصوصاً پیغمبر اسلام ؑ اور پہلے مومنین کے بارے میں موجود تھی۔آج بھی ہم یہی صورت دیکھتے ہیں۔ فرعون صفت مستکبرین اپنی شیطانی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے سچّے مومنین کو ایسے ہی متہم کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کو دُہراتے ہوئے اپنے مخالفین کو ایسے القابات ہی سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن ایک بُرا ماحول ایک خدائی انقلاب کے ذریعے پاک ہو جائے تو شخصیت شناسی کے ایسے معیار بھی دیگر موہوم چیزوں کے ساتھ تاریخ کے کوڑادان میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ اصلی اور انسانی معیار لے لیتے ہیں، وہ معیار کہ جن پر زندگی کا متن برقرار ہے، جن پر عینی حقائق استوار ہیں اور جن سے ایک پاک، آباد اور آزاد معاشرہ استفادہ کرتا ہے مثلاً ایمان، علم، آگہی، ایثار، تقویٰ، پاکدامنی، شہادت، شجاعت، تجربہ، بیداری، مدیریت اور نظم ونسق کی صلاحیت وغیرہ۔

۳۔ ایک اشکال کی وضاحت

صاحب المنار کی طرح بعض مفسّرین اس آیت تک پہنچے ہیں تو وہ ان لوگوں کی طرف جو غیر خدا کے لیے علمِ غیب کے قائل ہیں یا ان سے اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختصراً کہتے ہیں کہ یہ دو چیزیں (علمِ غیب اور خزائنِ الٰہی) ایسی ہیں جن کی قرآن نے انبیاء سے نفی کی ہے لیکن مسلمانوں اور اہلِ کتاب میں سے بدعتی اولیاء اور قدیسین کے لیے ان امور کے قائل ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اگر موصوف کی مراد یہ ہے کہ وہ ان سے ہر قسم کے علمِ غیب کی نفی کرے چاہے وہ تعلیمِ الٰہی سے ہو تو یہ بات قرآن مجید کی صرح نصوص کے خلاف ہے اور اگر مقصود انبیاء اور اولیاء سے توسل کی اس معنی میں نفی ہے کہ وہ خدا سے ہماری مشکلات کے حل کے لیے دعا اور خواہش کریں تو یہ بات آیا قرآن اور شیعہ سنّی مسلمہ احادیث کے خلاف ہے)۔

32
11:32
قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدۡ جَٰدَلۡتَنَا فَأَكۡثَرۡتَ جِدَٰلَنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
انہوں نے کہا: اے نوح! تو نے ہم سے بہت بحث وتکرار کی اوربڑی باتیں کیں اب (بس کرو) اگر سچ کہتے ہوتو جس (عذاب الٰہی) کا ہم سے وعدہ کرتے ہو اسے لے آؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
11:33
قَالَ إِنَّمَا يَأۡتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ
(نوح نے جواباً) کہا: اگر خدا نے ارادہ کر لیا تو لے آئے گا پھر تم میں فرار کی طاقت نہ ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
11:34
وَلَا يَنفَعُكُمۡ نُصۡحِيٓ إِنۡ أَرَدتُّ أَنۡ أَنصَحَ لَكُمۡ إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغۡوِيَكُمۡۚ هُوَ رَبُّكُمۡ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ
(لیکن کیا فائدہ کہ) جب خدا چاہے تمہیں (تمہارے گناہوں کی وجہ سے) گمراہ کر دے اور میں تمہیں نصیحت کروں تو پھر میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ تمہارا پروردگار ہے اس کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
11:35
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَعَلَيَّ إِجۡرَامِي وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُجۡرِمُونَ
(مشرکین) کہتے ہیں : وہ (محمدؐ) خدا کی طرف ان باتوں کو غلط نسبت دیتا ہے۔ کہہ دو: اگر میں نے انہیں اپنی طرف سے گھڑا ہے اور اس کی طرف نسبت دیتا ہوں تو اس کا گناہ میرے ذمہ ہے لیکن میں تمہارے گناہوں سے بیزار ہوں۔

کہاں ہے عذاب؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی باقی گفتگو کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلی آیت میں قومِ نوح(علیه السلام) کی زبانی نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے کہا: اے نوح! تم نے یہ سب بحث وتکرار اور مجادلہ کیا ہے اب بس کرو تم نے ہم سے بہت باتیں کی ہیں اب بحث مباحثے کی گنجائش نہیں رہی (قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدَالَنَا)۔ اگر سچّے ہو تو خدائی عذابوں کے بارے میں جو سخت وعدے تم نے ہم سے کیے تھے انھیں پورا کر دکھاوٴ اور وہ عذاب لے آوٴ (فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ)۔ یہ بعینہ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص یا کچھ اشخاص کسی مسئلے کے بارے میں ہم سے بات کریں اور ضمناً ہمیں دھمکیاں بھی دیں اور کہیں کہ اب زیادہ باتیں بند کرو اور جو کچھ تم کر سکتے ہو کر لو اور دیر نہ کرو، اس طرف اشارے کرتے ہوئے کہ ہم نہ تو تمھارے دلائل کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ تمھاری دھمکیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ اس سے زیادہ ہم تمھاری بات سن سکتے ہیں۔ انبیاءِ الٰہی کے لطف ومحبت اور ان کی وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانی کی طرح ہوتی ہے اس طرزِ عمل کا انتخاب انتہائی ہٹ دھرمی، تعصب اور جہالت کی ترجمانی کرتا ہے۔ قومِ نوح کی اس گفتگو سے ضمناً یہ بھی اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ آپ نے ان کی ہدایت کے لیے بہت طویل مدت تک کوشش کی اور انھیں ارشاد وہدایت کے لیے آپ (علیه السلام) نے ہر موقع سے استفادہ کیا۔ آپ (علیه السلام) نے اس قدر کوشش کی کہ اس گمراہ قوم نے آپ (علیه السلام) کی گفتار اور ارشادات پر اکتاہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت نوح (علیه السلام) کے بارے میں قرآن کریم میں جو دیگر آیات آئی ہیں ان سے بھی یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے، سورہٴ نوح آیات ۵ تا ۱۳ میں یہ مفہوم مبسوط طریقے سے بیان ہوا ہے: قَالَ رَبِّ إنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَھَارًا فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَائِی إلاَّ فِرَارًا وَإنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَ لَھُمْ جَعَلُوا اَصَابِعَھُمْ فِی آذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاَصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ثُمَّ إنِّی دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا ثُمَّ إنِّی اَعْلَنتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ إسْرَارًا پروردگارا! مَیں نے اپنی قوم کو دن رات تیری طرف بلایا لیکن میری اس دعوت پر ایمان میں فرار کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا، میں نے جب انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اورا پنے لباس اپنے اوپر لپیٹ لیے۔ انھوں نے مخالفت پر اصرار کیا اور تکبر وخود سری کا مظاہرہ کیا۔میں نے پھر انھیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر تیری طرف دعوت دی، مَیں نے پیہم اصرار کیا مگر انھوں نے کسی بھی طرح میری باتوں کی طرف کان نہ دھرے۔ زیرِ بحث آیت میں لفظ ”جَادَلْتَنَا“ آیا ہے جو ”مجادلہ“ کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہ اصل میں طناب اور رسّی کو مضبوطی سے بٹنے اور پیچ دینے کے معنی میں ہے، اسی بناء پر شکاری باز کو ”اجدل“ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام پرندوں سے زیادہ پیچ وخم کھانے والا ہے، بعد ازاں یہ لفظ بحث اور گفتگو میں مدِمقابل کے پیچ وخم کھانے کے لیے استعمال ہُوا ہے۔ ”جدال“، ”مراء‘ ‘ اور ”حجاج“ (بروزن ”لجاج“) اگرچہ معنوی طور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن جیسا کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ”مراء‘ ‘ میں ایک طرح کی مذمت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لفظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان کسی باطل مسئلے پر ڈٹ جائے اور استدلال کرے لیکن ”جدال“ اور ”مجادلہ“ میں یہ مفہوم لازمی طور پر نہیں ہوتا۔ باقی رہا ”جدال“ اور ”حجاج“ کا فرق تو وہ یہ ہے کہ ”جدال“ مدِّمقابل کو اس کے عقیدے سے لوٹانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ " حجاج" ایک عقیدے کی دعوت دینے اور اس پر استدلال پیش کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت نوح نے اس بے اعتنائی، ہٹ دھرمی اور بیہودگی کا یہ مختصر جواب دیا: خدا ہی چاہے تو ان دھمکیوں اور عذاب کے وعدوں کو پورا کر سکتا ہے (قَالَ إنَّمَا یَاْتِیکُمْ بِہِ اللهُ إنْ شَاءَ)۔ بہرحال یہ چیز میرے اختیار سے باہر ہے اور میرے قبضہٴ قدرت میں نہیں ہے، مَیں تو اس کا فرستادہ ہوں اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں لہٰذا سزا اور عذاب کی خواہش مجھ سے نہ کرو لیکن یہ جان لو کہ جب عذاب کا حکم آپہنچا تو پھر ”تم اس کے احاطہٴ قدرت سے نکل نہیں سکتے اور کسی پناہ گاہ کی طرف فرار نہیں کر سکتے“ (وَمَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ)۔ ”معجزہ“ ’اعجاز“ مادہ سے دوسرے کو عاجز وناتواں کرنے کے معنی میں ہے، یہ لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے کام میں رکاوٹ پیدا کر دے اور اسے روکے اور اسے عاجز وناتواں کر دے اور کبھی آگ بڑھ کر مدِمقابل کو شکست دے دے یا اپنے آپ کو محفوظ کرلے، یہ تمام مدِمقابل کو عاجز وناتواں کرنے کے مختلف طریقے ہیں، مندرجہ بالا آیت میں ان تمام معانی کا احتمال ہے کیونکہ یہ معانی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ یعنی تم کسی صورت میں اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا تمھارے گناہوں اور جسمانی آلودگیوں کی وجہ سے تمھیں گمراہ کرنا چاہے تو میری نصیحت تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دے گی چاہے مَیں تمھیں جتنی بھی نصیحت کرلوں (وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إنْ اَرَدْتُ اَنْ اَنصَحَ لَکُمْ إنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اَنْ یُغْوِیَکُمْ)۔ کیونکہ ”وہ تمھارا پروردگار ہے اور تم اس کی طرف پلٹ کر جاوٴگے“ اور تمھاری تمام تر ہستی اور وجود اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے (ھُوَ رَبُّکُمْ وَإلَیْہِ تُرْجَعُونَ)۔

ایک سوال اور اس کا جواب

اس آیت کے مطالعہ سے فوراً یہ سوال سامنے آتا ہے اور بہت سے مفسّرین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے گمراہ کرنے کا ارادہ کرے، کیا ایسا ہو تو یہ جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہو گی اور کیا یہ جو بنیاد ہے کہ انسان ارادہ واختیار میں آزاد ہے اسے قبول کرلینے کے بعد ایسی چیز قابلِ قبول ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالا مباحث میں واضح ہو چکا ہے اورہم نے بارہا اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض اوقات انسان مسلسل کچھ اعمال بجالاتا ہے جس کا نتیجہ دائمی گمراہی اور ہمیشہ کے انحراف اور حق کی طرف لوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، ہمیشہ کی ہٹ دھرمی، گناہوں پر دائمی اصرار اور حق طلب سچے رہبروں کی دشمنی، انسانی فکر پر ایسا ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے کہ انسان میں آفتابِ حق وحقیقت کی شعاع دیکھنے کی تھوڑی سی صلاحیت بھی نہیں رہتی، چونکہ یہ حالت ایسے اعمال کا نتیجہ ہے کہ جو انسان خود انجام دیتا ہے لہٰذا یہ کسی طرح بھی جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ عین اختیار ہے جو کچھ خدا سے مربوط ہے یہ ہے کہ اس نے ایسے اعمال میں ایسی تاثیر قرار دی ہے۔ قرآن مجید کی آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اس سلسلے میں ہم نے سورہٴ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دیگر مواقع پر اشارہ کیا ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں ایک بات جملہٴ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یہ ان مباحث کی تاکید کے لیے ہے جو حضرت نوح(علیه السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں گذشتہ اور آئندہ آیات میں موجود ہیں، ارشاد ہوتا ہے: دشمن کہتے ہیں کہ یہ بات اس (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم) نے خود سے گھڑ کر خدا کی منسوب کر دی ہے (اَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ)۔ ان کے جواب میں کہہ دو کہ اگر مَیں نے یہ اپنی طرف سے گھڑی ہے اور خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے (قُلْ إنْ افْتَرَیْتُہُ فَعَلَیَّ إجْرَامِی)۔ لیکن مَیں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں (وَاَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ)۔

چند توجہ طلب نکات: ۱۔ ”إِجْرَام“کا مفہوم

”إجْرَام“کا مادہ ”جرم“(بروزن ”جہل“) ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ کچے پھل توڑنے کے معنی میں ہے، بعد ازاں ہر غیر خوش آئندہ کام کے لیے بولا جانے لگا، اسی طرح کسی کو گناہ پر آمادہ کرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، چونکہ انسانی ذاتی اور فطری طور پر روحانیت اور پاکیزگی سے رشتہ رکھتا ہے لہٰذا جب وہ گناہ انجام دیتا ہو تو وہ اس خدائی رشتہ سے جدا ہو جاتا ہے۔

۲۔ آخری آیت کس کے بارے میں ہے؟

زیرِ نظر آخری آیت کے بارے میں بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خود حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے کیونکہ یہ سب آیات انہی سے مربوط ہیں اور بعد میں آنے والی آیات بھی انہی سے متعلق ہیں لہٰذا زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے اور ان کے نزدیک اس کا جملہٴ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ: اوّلاً: تقریباً اس طرح کی تعبیر انہی الفاظ میں سورہٴ احقاف کی آیت ۸ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں آئی ہے۔ ثانیاً: ان آیات میں جو کچھ حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں آیا ہے وہ سب صیغہٴ غائب کی صورت میں ہے جبکہ زیرِ بحث آیت مخاطب کی صورت میں ہے (اور مسئلہ ”التفات“ یعنی غیبت سے خطاب کی طرف انتقال بھی خلاف ظاہر ہے) اب اگر ہم اس آیت کو حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں قرار دیں تو لفظ ”یقولون“جو فعل مضارع کی صورت میں ہے اور اسی طرح ”قل“جو فعل امر کی صورت میں ہے سب تقدیر کے محتاج ہوں گے۔ ثالثاً: ایک حدیث جو تفسیر برہان میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے میں ہے کہ یہ آیت کفارِمکہ کے مقابلے میں نازل ہوئی تھی۔ ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مربوط ہے، کفار آپ پر ناروا تہمتیں باندھتے تھے یہ آیت آپؐ کی جانب سے ان کے لیے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جملہٴ معترضہ کا یہ معنی نہیں کہ کوئی ایسی بات ذکر ہو جو اصل گفتگو سے کوئی کلام تاکید اور تائید کرتے ہیں، ان سے وقتی طور پر رشتہٴ سخن منقطع ہو جاتا ہے، مخاطب کو ایک طرح سے موقع ملتا ہے اور گفتگو کو بھی لطافتِ روح اور تازگی میسّر آتی ہے، یہ بات حتمی ہے کہ جملہ معترضہ کبھی بھی ہر لحاظ سے کلام سے بیگانہ نہیں ہو سکتا ورنہ یہ بات اصولِ فصاحت وبلاغت کے خلاف ہو جائے گی حالانکہ فصیح وبلیغ کلام میں ہمیشہ جملہ ہائے معترضہ پائے جاتے ہیں۔

۳۔ ایک وضاحت

زیرِ نظر آخری آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہو سکتا ہے یہ اعتراض سامنے آئے کہ یہ بات کس طرح منطقی وعقلی ہو سکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا حضرت نوح علیہ السلام کفار سے کہیں کہ یہ بات اگر جھوٹ ہے تو اس کا گناہ میری گردن پر ہے، کیا جھوٹ بولنے کا گناہ قبول کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گفتگو سچی ہے اور واقع کے مطابق ہے اور لوگ ذمہ دار ہیں کہ ان کی اطاعت اور پیروی کریں؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ گذشتہ آیات میں غور وفکر کرنے سے ہمیں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہماری یہ باتیں جو بہت سے عقلی دلائل پر مشتمل ہیں بالفرضِ محال ہم خدا کی طرف سے نہ بھی ہوں تو اس کا گناہ ہماری گردن پر ہے لیکن عقلی استدلال اپنی جگہ پر ثابت ہیں اور تم ان کی مخالفت سے ہمیشہ گناہ میں مبتلا ہو گے، ایسا گناہ جو مسلسل اور دائمی ہے (توجہ رہے کہ ”تجرمون“ صیغہٴ مضارع ہے جو عام طور پر استمرار اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے۔

36
11:36
وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤۡمِنَ مِن قَوۡمِكَ إِلَّا مَن قَدۡ ءَامَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
نوح کو وحی ہوئی کہ سوائے ان لوگوں کے کہ جو (اب تک) ایمان لا چکے ہیں اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گالہٰذا جو کام وہ کرتے ہیں ان سے غمگین نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
11:37
وَٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ
اور (اب) ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور ان کے بارے میں شفاعت نہ کرو جنہوں نے ظلم کیا کیونکہ وہ غرق ہو کر رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
11:38
وَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ
وہ کشتی بنانے میں مشغول تھا اور جب اس کی قوم کے بڑوں میں سے کوئی گروہ اس کے قریب سے گزرتا تو اس کا مذاق اڑاتا(لیکن نوح نے) کہا: اگر(آج) ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی (جلد ہی) تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
11:39
فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ
عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس خوا رکرنے والا عذاب آتا ہے اور ہمیشہ کی سزا اسے ملتی ہے۔

معاشرے کو پاک کرنے کا مرحلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) کی سرگذشت بیان ہوئی ہے، اس کے درحقیقت مختلف مراحل ہیں، ان میں سے ہر محلہ مستکبرین کے خلاف حضرت نوح(علیه السلام) کے قیام کے ایک دور سے مربوط ہے۔گذشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام)کی مسلسل اور پر عزم دعوت کے مرحلے کا تذکرہ تھا۔ جس کے لیے انھوں نے تمام تر وسائل سے استفادہ کیا۔ یہ مرحلہ ایک طویل مدت پر مشتمل تھا، اس میں ایک چھوٹا سا گروہ آپ (علیه السلام) پر ایمان لایا۔ یہ گروہ ویسے تو مختصر سا تھا لیکن کیفیت اور استقامت کے لحاظ سے بہت عظیم تھا۔ زیر بحث آیات میں اس قیام کے دوسرے مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ مرحلہ دور تبلیغ کے اختتام کا تھا جس میں خدا کی طرف سے معاشرے کو برے لوگوں سے پاک کرنے کی تیاری کی جانا تھی۔ پہلی آیت میں ہے: نوح (علیه السلام) کو وحی ہوئی کہ جو افراد ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاُوحِیَ إلیٰ نُوحٍ اَنَّہُ لَنْ یُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ إلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ)۔ یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ صفیں بالکل جدا ہو چکی ہیں، اب ایمان اور اصلاح کی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں اور اب معاشرے کی پاکیزگی اور آخری انقلاب کے لیے تیار ہو جانا چاہیئے۔ آیت کے آخر میں حضرت نوح(علیه السلام) کی تسلی اور دلجوئی کے لیے فرمایا گیا ہے:اب جب معاملہ یوں ہے تو جو کام تم انجام دے رہے ہو اس پر کوئی حزن وملال نہ کرو (فَلَاتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ)۔ اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسرار غیبت کا کچھ حصہ جہاں ضروری ہوتا ہے اپنے پیغمبر کے اختیار میں دے دیتا ہے جیسا کہ حضرت نوح (علیه السلام) کو خبر دی گئی کہ آیندہ ان میں سے کوئی اور شخص ایمان نہیں لائے گا۔ بہرحال ان گنہگار اور ہٹ دھرم لوگوں کو سزا ملنی چاہیئے، ایسی سزا جو عالم ہستی کو ان کے وجود کی گندگی سے پاک کر دے اور مومنین کو ہمیشہ کے لیے ان کے چنگل سے نجات دے دے، ان کے غرق ہونے کا حکم صادر ہو چکا ہے لیکن ہر چیز کے لیے کچھ وسائل و اسباب ہوتے ہیں لہٰذا نوح (علیه السلام) کو چاہیئے کہ وہ سچے مومنین کے بچنے کے لیے ایک مناسب کشتی بنائیں تاکہ ایک تو مومنین کشتی بننے کی اس مدت میں اپنے طریق کار میں پختہ تر ہو جائیں اور دوسروں کے لیے بھی کافی اتمام حجت ہو جائے لہٰذا”ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ ہمارے حضور میں اورہمارے فرمان کے مطابق کشتی بنائیں“ (وَاصْنَعْ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا)۔ لفظ”اعیننا“ (ہماری آنکھوں کے سامنے) سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس سلسلے میں تمہاری سب جد وجہد، مساعی اور تمام کا وشیں ہمارے حضور میں اور ہمارے سامنے ہے لہٰذا اطمینان اور راحت فکر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو۔ یہ فطری امر ہے کہ یہ احساس کہ خدا حاضر وناظر ہے اور محافظ و نگران ہے ایک تو انسان کو قوت و توانائی بخشتا ہے اور دوسرے احساس ذمہ داری کو فروغ دیتاہے۔ لفظ”وحینا“ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کشتی بنانے کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت کی تشکیل بھی حکم خدا سے سیکھ رہے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ حضرت نوح (علیه السلام) آنے والے طوفان کی کیفیت ووسعت سے آگاہ نہ تھے کہ وہ کشتی اس مناسبت سے بناتے اور یہ وحی الٰہی ہی تھی جو بہترین کیفیتوں کے انتخاب میں ان کی مدد گار تھی۔ آیت کے آخرمیں حضرت نوح (علیه السلام) کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ”ظالم افراد کے لیے شفاعت اور معافی کا تقاضا نہ کرنا کیوں کہ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ حتماًغرق ہوں گے“(وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إنَّھُمْ مُغْرَقُونَ)۔ اس جملے سے اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے کہ سب افراد کے لیے شفاعت ممکن نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ شرائط ہیں، یہ شرائط جس میں موجودنہ ہوں اس کے لیے خدا کا پیغمبر بھی شفاعت اور معافی کے تقاضے کا حق نہی رکھتا، اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد اول (ص ۱۸۷تا ص ۲۰۴، اردوترجمہ)کی طرف رجوع کریں۔ اب چند جملے قوم نوحؑ کے بارے میں بھی سن لیں، وہ بجائے اس کے کہ ایک لمحہ کے لیے حضرت نوح (علیه السلام) کی دعوت کو غور سے سنتے، اسے سنجیدگی سے لیتے اور کم از کم انھیں یہ احتمال بھی ہوتا کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کے بار بار اصرار اور تکرارِ دعوت کا سرچشمہ وحی الٰہی ہی ہواورسکتا ہے طوفان اور عذاب کا معاملہ حتمی اور یقینی ہی ہو الٹا انھوں نے تمام متکبر اور مغرور افراد کی عادت کا مظاہرہ کیا اور تمسخر واستہزاء کا اسلسلہ جاری رکھا۔ ان کی قوم کا کوئی گروہ جب کبھی ان کے نزدیک سے گزرتا اور حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب کو لکڑیاں اور میخیں وغیرہ مہیا کرتے دیکھتا اور کشتی بنانے میں انھیں سرگرم عمل پاتا تو تمسخر اڑاتااور پھبتیاں کستے ہوئے گزرجاتا (وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ)۔ ”ملاء“ ان اشراف اوربڑے لوگوں کو کہتے ہیں جو خود پسند ہوتے ہیں اور ہر مقام پر مستضعفین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں پست و حقیر مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرمایہ اور اقتدار نہیں ہوتا، بس یہ نہیں کہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان کے افکار کتنے ہی بلندہوں، ان کا مکتب کتنا ہی پائیدار اور بااصول اور ان کے اعمال کتنے ہی چچے تلے ہوں ان کے خیال میں وہ حقارت کے قابل ہیں اسی بنا پر پند ونصیحت، تنبیہ اور خطرے کی گھنٹیاں ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ ان کا علاج فقط دردناک عذاب الٰہی ہے۔ کہتے ہیں کہ قوم نوح کے اشراف کے مختلف گروہوں کے ہر دستے نے تمسخر اور تفریح وطبع کے لیے اپنا ہی ایک انداز اختیار کررکھا تھا۔ ایک کہتا: اے نوح! دعوائے پیغمبری کا کاروبار نہیں چل سکا تو بڑھئی ہو گئے ہو۔ دوسرا کہتا: کشتی بنا رہے ہو؟ بڑا اچھا ہے البتہ اس کے لیے دریا بھی بناؤ، کبھی کوئی عقلمند دیکھا ہے جو خشکی کے بیچ میں کشتی بنائے؟ شاید ان میں سے کچھ کہتے تھے: اتنی بڑی کشتی کس لیے بنا رہے ہو، اگر کشتی بنانا ہی ہے تو ذرا چھوٹی بنالو جسے ضرورت پڑے تو دریا کی طرف لے جانا تو ممکن ہو۔ ایسی باتیں کرتے تھے اور قہقے لگاکر ہنستے ہوئے گزرجاتے تھے، یہ باتیں گھروں میں ہوتیں، کام کاج کے مراکز میں یہ گفتگو ہوتی گویا اب یہ بات بحثوں کا عنوان بن گئی، وہ ایک دوسرے سے حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے پیروں کاروں کی کوتاہ فکری کے بارے میں باتیں کرتے اور کہتے: اس بوڑھے کو دیکھو، آخر عمر میں کس حالت کو جا پہنچا ہے، اب ہم سمجھے کہ اگر ہم اس کی باتوں پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے ٹھیک ہی کیا اس کی عقل تو بالکل ٹھکانے نہیں ہے۔ دوسری طرف حضرت نوح(علیه السلام) بڑی استقامت اور پامردی سے اپنا کام بے پناہ عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ ان کے ایمان کا نتیجہ تھا، وہ ان کوباطن دل کے اندھوں کی بے بنیاد باتوں سے بے نیاز اپنی پسند کے مطابق تیزی سے پیش رفت کررہے تھے اور دن بدن کشتی کا ڈھانچہ مکمل ہورہا تھا، کبھی کبھی سر اٹھا کر ان سے یہ پر معنی بات کہتے: اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی جلد ہی اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے (قَالَ إنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ)۔وہ دن کے جب تم طوفان کے درمیان سرگرداں ہو گئے، سرا سیمہ ہو کر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمھیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، موجوں میں گھرے فریاد کرو گے کہ ہمیں بچالو، جی ہاں اس دن مومنین تمھارے افکار غفلت، جہالت اور بے خبری پر ہنسے گے،”اس دن تمھیں معلوم ہو گا کہ کس کے لیے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کسی دائمی سزا دامن گیر ہوتی ہے (فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُقِیم)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ تمہاری مزاحمتیں ہمارے لیے دردناک عذاب ہیں مگر اولا تو ان مشکلات کو گوارا کرتے ہوئے ہم سربلند اور پر افتخار ہیں۔ ثانیاً یہ مشکلات جو کچھ بھی ہیں جلد ختم ہو جائیں گی لیکن عذاب الٰہی رسوا کن بھی ہے اور ختم ہونے والا بھی نہیں اور ان دونوں کا آپس میں مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ معاشرے کی پاکیزگی نہ کہ انتقام

مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ خدائی عذاب انتقامی پہلو نہیں رکھتا بلکہ نوع بشر کی پاکیزگی اور ایسے لوگوں کے خاتمے کے لیے ہے جو زندگی کے اہل نہیں، اس طرح نیک لوگ باقی رہ جاتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک متکبر اور فاسد ومفسد قوم جس کے ایمان لانے کی اب کوئی امید نہیں، نظام خلقت کے لحاظ سے اب جینے کا حق نہیں رکھتی اور اسے ختم ہوجا نا چاہیئے۔ قوم نوح ایسی ہی تھی کیونکہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں کہ اب جب کہ باقی لوگوں کے ایمان لانے کی امید نہیں ہے کشتی بنانے کے لیے تیار ہوجاؤ اور ظالموں کے لیے کسی قسم کا کی شفاعت اور معافی کاتقاضا نہ کرو۔ یہی صورت حال اس عظیم پیغمبر کی بد دعا اور نفرین سے بھی معلوم ہوتی ہے جو کہ سورہ نوح میں موجود ہے: وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا إنَّکَ إنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَلَایَلِدُوا إلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا پروردگارا! ان کفار میں سے کسی ایک کو بھی زمین پر نہ رہنے دے کیونکہ اگر وہ رہ جائیں تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے بھی فاسق وفاجر اور بے ایمان کافروں کے سوا کوئی وجود میں نہیں آئے گا، (نوح، ۲۶،۲۷)۔ اصولی طور پر کارخانہ تخلیق میں ہر موجود کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے، جب کوئی موجود اپنے مقصد سے بالکل منحرف ہو جائے اور اصلاح کے تمام راستے اپنے لیے بند کرلے تو اس کا باقی رہنا بلا وجہ ہے۔لہٰذا اسے خواہ مخواہ ختم ہو جانا چاہیئے، بقول شاعر: نہ طراوتی نہ برگی نہ میوہ دارم متحیرم کہ دھقان بہ چکارہشت مارا نہ مجھ میں تازگی ہے، نہ مجھ پر پتے ہیں، نہ پھول اور نہ پھل ہیں، حیران ہوں کہ کسان نے مجھے کیوں چھوڑ رکھا ہے۔

۲۔ متکبرین کی نشانیاں

خود غرض اور خود سر متکبرین ہمیشہ ان مسائل کا مذاق اڑاتے ہیں جن سے ان کی خواہشات اور ہوا وہوس پوری نہ ہوتی ہو۔ اسی بنا پر ان مخصوص حقائق کا تمسخر اڑانا جن کاتعلق مستضعفین کی زندگی سے ہے، ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی گناہ آلود اجتماعات میں رنگ بھرنے اور انھیں رونق بخشنے کے لیے کسی تہی دست صاحب ایمان کی تلاش میں رہتے تھے جسے تمسخر اور مضحکہ کا عنوان بنا سکیں اور اگر کسی اجتماع یا نششت کے لیے انھیں ایسے افراد نہ مل سکیں تو ان میں ایک یا کئی افراد اکوان کی عدم موجودگی میں موضوع سخن قرار دے کر مذاق اڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے ہیں، ان کے گمان میں ان کی بے بہا حرام دولت، ان کی لیاقت، شخصیت اور مقام کی نشانی ہے، اسی لیے وہ دوسروں کو نالائق، بے قدر اور بے وقعت سمجھتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید ایسے مغرور اور متکبر افراد پر نہایت سخت حملے کرتا ہے اور خاص طور پر ان کی تمسخرات کی شدید مذمت کرتا ہے۔ مثلاً تاریخ اسلامی میں ہے: ابوعقیل انصاری ایک صاحب ایمان شخص تھا، محنت مزدوری کرتا تھا، غریب آدمی تھا، ایک مرتبہ وہ رات بھر جاگتا رہا اور مدینے کے کنوؤں سے پانی بھر بھر کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، اس طرح اس نے مزدوری کرکے کچھ خرمے حاصل کیے، وہ خرمے وہ جنگ تبوک کے لیے تیار ہونے والے لشکر اسلام کے لیے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں لے آیا، کچھ متکبر منافق وہاں موجود تھے۔ وہ اس پر بہت ہنسے، اس پر یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں اور ان پر بجلی بن کر گریں: الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَایَجِدُونَ إلاَّ جُھْدَھُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْھُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْھُمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ جو راہ خدا میں مالی مدد کرنے پر اطاعت گزار مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ جو تھوڑی سی مقدار سے زیادہ دینے پر دسترس نہیں رکھتے خدا ایسے لوگوںکا مذاق اڑائے گااور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (توبہ: ۷۹)

۳۔ حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی:

اس میں شک نہیں کہ کشتی نوح کوئی عام کشتی نہ تھی کیونکہ اس میں سچے مومنین کے علاوہ ہر نسل کے جانور کوبھی جگہ ملی تھی اور ایک مدت کے لیے ان انسانوں اور جانوروں کو جو خوراک درکار تھی وہ بھی اس میں موجود تھی۔ ایسی لمبی چوڑی کشتی یقینا اس زمانے میں بے نظیر تھی یہ ایسی کشتی تھی جو ایسے دریا کی کوہ پیکر موجوں میں صحیح وسالم رہ سکے اور نابود نہ ہو جس کی وسعت اس دنیا جتنی ہو، اسی لیے مفسرین کی بعض روایات میں ہے کہ اس کشتی کا طول یک ہزار دوسو ذراع تھا اور عرض چھ سو ذراع تھا (ایک ذراع کی لمبائی تقریبا آدھا میٹر کے برابر ہوتی ہے)۔ بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ظہور طوفان سے چالیس سال پہلے قوم نوح کی عورتوں میں ایک ایسی بیماری پیدا ہو گئی تھی کہ ان ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا، یہ دراصل ان کی سزا کی تمہید تھی۔

40
11:40
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ قُلۡنَا ٱحۡمِلۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ وَمَنۡ ءَامَنَۚ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ
(یہ کیفیت اسی طرح جاری تھی) یہاں تک کہ ہمارا فرمان آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ ہم نے (نوح سے) کہا: جانوروں کے ہر جفت (نراور مادہ) میں سے ایک جوڑا اس (کشتی) میں اٹھا لو۔ اسی طرح اپنے اہل کومگر وہ کہ جن کے ہلاک ہونے کا پہلے سے وعدہ کیا جا چکا ہے(نوح کی بیوی اور ایک بیٹا)اور اسی طرح مومنین کو لیکن مختصر سے گروہ کے سوا اس پر کوئی ایمان نہیں لایا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
11:41
۞وَقَالَ ٱرۡكَبُواْ فِيهَا بِسۡمِ ٱللَّهِ مَجۡرٜىٰهَا وَمُرۡسَىٰهَآۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
اس نے کہا: اﷲ کا نام لے کر اس میں سوار ہو جاؤ اور اس کے چلتے اور ٹھہرتے وقت اسے یاد کرو کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
11:42
وَهِيَ تَجۡرِي بِهِمۡ فِي مَوۡجٖ كَٱلۡجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبۡنَهُۥ وَكَانَ فِي مَعۡزِلٖ يَٰبُنَيَّ ٱرۡكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور وہ انہیں پہاڑ جیسی موجوں میں سے گزارتا تھا۔(اس وقت) نوح نے اپنے بیٹے کو جو ایک طرف کھڑا تھا پکارا: اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
11:43
قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا ٱلۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُغۡرَقِينَ
اس نے کہا: میں پہاڑ کا سہارا لے لوں گاتاکہ پانی سے محفوظ رہوں۔ (نوح نے)کہا: فرمان خدا کے سامنے آج کوئی بچانے والا نہیں مگر وہی (بچ سکتا ہے) جس پر وہ رحم کرے۔ اس وقت ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہوئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے قرار پایا۔

آغاز طوفان

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کس طرح حضرت نوح (علیه السلام) اور سچے مومنین نے کشتی ِنجات بنانا شروع کی اور انھیں کیسی کیسی مشکلات آئیں اور بے ایمان مغرور اکثریت نے کس طرح ان کا تمسخر اڑایا۔ اس طرح تمسخراڑانے والوں نے کس طرح اپنے آپ کو اس طوفان کے لیے تیار کیا جو سطح زمین کو بے ایمان مستکبرین کے نجس وجود سے پاک کرنے والا تھا۔ زیر بحث آیات میں اس سر گزشت کے تیسرے مرحلے کے بارے میں ہیں، یہ آیات گویا اس ظالم قوم پر نزول عذاب کی بولتی ہوئی تصویریں ہیں۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ صورت حال یونہی تھی یہاں تک کہ ہمارا حکم صادر ہوا اور عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے، پانی تنور کے اندر سے جوش مارنے لگا (حَتَّی إذَا جَاءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ)۔ ”تنور“ (نون کی تشدید کے ساتھ) وہی معنی دیتا ہے جو آج کل فارسی زبان میں مستعمل ہے، یعنی روٹی پکانے کی جگہ۔ (تشریحی نوٹ: اردو میں بھی ”تنور“ کا یہی معنی مستعمل ہے۔ مترجم) اس بارے میں کہ طوفان کے نزدیک ہونے سے تنور سے پانی کا جوش مارنا کیا مناسبت رکھتا ہے مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ تنور سے پانی کا جوش مارنا خدا کی طرف سے حضرت نوح(علیه السلام) کے لیے ایک نشانی تھی تاکہ وہ اصل واقعہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس موقع پر وہ اور ان کے اصحاب ضروری اسباب و وسائل لے کر کشتی میں سوار ہو جائیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں ”تنور“ مجازی اور کنائی معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ غضب الٰہی کے تنور میں جوش پیدا ہوا اور وہ شعلہ ور ہوا اور یہ تباہ کن خدائی عذاب کے نزدیک ہونے کے معنی میں ہے، ایسی تعبیریں فارسی اور عربی زبان میں استعمال ہوتی ہیں کہ شدت غضب کو آگ کے جوش مارنے اور شعلہ ور ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ان احتمالات میں یہ احتمال زیادہ قوی ہوتا ہے کہ یہاں ”‘تنور“ اپنے حقیقی اور مشہور معنی میں آیا ہے اور ہو سکتا ہے اس سے مراد کوئی خاص تنور بھی ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس سے یہ نکتہ بیان کرنا مقصود ہوکہ تنور جو عام طور پر آگ کا مرکز ہے جب اس میں سے پانی جوش مارنے لگا تو حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب متوجہ ہوئے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور انقلاب قریب تر ہے۔یعنی کہاں آگ اور کہاں پانی۔ بالفاظ دیگر جب انھوں نے یہ دیکھا کہ زیرزمین پانی کی سطح اس قدر اوپر آگئی ہے کہ وہ تنور کے اندر سے جو رعام طور پر خشک، محفوظ اوراونچی جگہ بنایا جاتا ہے۔ جوش مار رہا ہے تو وہ سمجھ گئے کہ کوئی اہم امر درپیش ہے اور قدرت کی طرف سے کسی نئے حادثے کا ظہور ہے۔ اور یہی امر حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب کے لیے خطرے کا الارم تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور تیار رہیں۔ شاید غافل اور جاہل قوم نے بھی اپنے گھروں کے تنور میں پانی کو جوش مارتے دیکھا ہو بہرحال وہ ہمیشہ کی طرح خطرے کے ان پُر معنی خدائی نشانات سے آنکھ کان بند کیے گزرگئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے آپ کو ایک لمحہ کے لیے بھی غور وفکر کی زحمت نہ دی کہ شاید شرف تکوین میں کوئی حادثہ پوشیدہ ہو اور شاید حضرت نوح (علیه السلام) جن خطرات کی خبر دیتے تھے ان میں سچائی ہو۔ اس وقت نوح کو”ہم نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جفت (نر اور مادہ کا جوڑا) کشتی میں سوار کرلو“ تاکہ غرقاب ہو کر ان کی نسل منقطع نہ ہو جائے (قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ)، ”اور اسی طرح اپنے خاندان میں سے جن کی ہلاکت کا پہلے سے وعدہ کیا جا چکا ہے ان کے سوا باقی افراد کو سوار کرلو نیز مومنین کو کشتی میں سوار کرلو“(وَاَھْلَکَ إلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ)،”لیکن تھوڑے سے افراد کے سوا لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تھے“، (وَمَا آمَنَ مَعَہُ إلاَّ قَلِیل)۔ یہ آیت ایک طرف حضرت نوح (علیه السلام) کی بے ایمان بیوی اور ان کے بیٹے کنعان کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی داستان آئندہ آیات میں آئے گی کہ جنھوں نے راہ ایمان سے انحراف کیا اور گنہگاروں کا ساتھ دینے کی وجہ سے حضرت نوح (علیه السلام) اپنا رشتہ توڑ لیا وہ اس کشتی میں سوار ہونے کا حق نہیں رکھتے تھے کیونکہ اس میں سوار ہونے کی پہلی شرط ایمان تھی۔ دوسری طرف یہ آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) نے جو اپنے دین وآئین کی تبلیغ کے لیے سالہاسال بہت طویل اور مسلسل کوشش کی اس نتیجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنین کے سوا کچھ نہ تھا بعض روایات کے مطابق ان کی تعداد صرف اسی افراد تھی یہاں تک کہ بعض نے تو اس سے بھی کم تعداد لکھی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے کس حد تک استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ان میں سے ایک ایک فرد کے لیے اوسطاً کم از کم دس سال زحمت اٹھائی۔ اتنی زحمت تو ہم لوگ اپنی اولاد تک کی ہدایت اور نجات کے لیے نہیں اٹھاتے۔ بہرحال حضرت نوح (علیه السلام) نے جلدی سے اپنے وابستہ صاحب ایمان افراد اور اصحاب کوجمع کیا اور چونکہ طوفان اور تباہ کن خدائی عذابوں کا مرحلہ نزدیک آرہا تھا ”انھیں حکم دیا کہ خدا کے نام سے کشتی پر سوار ہوجاؤاور کشتی کے چلتے اور ٹھہرتے وقت خدا کانام زبان پر جاری کرو اور اس کی یاد میں رہو (بِاِسْمِ اللهِ مَجْرَاھَا وَمُرْسَاھَا)۔ (تشریحی نوٹ: ”مجرا“ اور”مرسا“ دونوں اسم زمان ہیں اور ان کا معنی”چلتے وقت“ اور ”ٹھہرتے وقت“) کیوں کہا گیا کہ ہر حالت میں اس کی یاد میں رہو اور اس کی یاد اور اس کے نام سے مدد لو”اس لیے کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے“(إنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس نے اپنی رحمت کے تقاضے سے تم اہل ایمان بندوں کو یہ وسیلہ نجات بخشا ہے اور اپنی بخشش کے تقاضے سے تمہاری لغزشوں سے درگزر کرے گا۔ بالآخر آخری مرحلہ آپہنچا اور اس سرکش قوم کے لیے عذاب اور سزا کا فرمان صادر ہوا تیرہ وتار بادل جو سیاہ رات کے ٹکڑوں کی طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ہوئے کہ جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔ پے در پے سخت بادل گرجتے خیرہ کن بجلیاں پورے آسمان پر کوندتیں آسمانی فضا گویا ایک بہت بڑے وحشتناک حادثے کی خبر دے رہی تھی۔ بارش شروع ہو گئی اور پھر تیز سے تیزتر ہوتی چلی گئی، بارش کے قطرے موٹے سے موٹے ہوتے چلے گئے جیسا کہ قرآن سورہٴ قمر کی آیہ ۱۱ میں کہتا ہے: گویا آسمان کے تمام دروازے کھل گئے اور پانی کا سمندر ان کے اندر سے نیچے گرنے لگا۔ دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح اس قدر بلند ہو گئی کہ ہر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، یوں زمین وآسمان کا پانی آپس میں مل گیا اور زمین، پہاڑ، دشت، بیابان اور درہ غرض ہرجگہ پانی جاری ہو گیا۔ بہت جلد زمین کی سطح ایک سمندر کی صورت اختیار کرگئی، تیز ہوئیں چلنے لگیں جن کی وجہ سے پانی کو کوہ پیکر موجویں امنڈنے لگیں اس عالم میں”کشتی نوح پیکر موجوں کا سینہ چیرتے ہوئے بڑھ رہی تھی“(وَھِیَ تَجْرِی بِھِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ)۔ پسر نوح ایک طرف اپنے باپ سے الگ کھڑا تھا، نوح نے پکارا: میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ فنا ہوجاؤ گے (وَنَادیٰ نُوحٌ ابْنَہُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلَاتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ)۔ پیغمبر بزرگوار حضرت نوح (علیه السلام) نے نہ صرف پاک کی حیثیت سے بلکہ ایک انتھک پر امید مربی کے طور پر آخری لمحے تک اپنی ذمہ داریوں سے دستبرداری نہ کی۔ اس امید پر کہ شاید ان کی بات سنگ دل بیٹے پر اثر کرجائے لیکن افسوس کہ بری ساتھی کی بات اس کے لیے زیادہ پر تاثیر تھی لہٰذا دلسوز پاک کی گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ کر سکی، وہ ہٹ دھرم اورکوتاہ فکر تھا، اسے گمان تھا کہ غضب خداکا مقابلہ بھی کیا جا سکتا تھا، اس لیے”اس نے پکار کر کہا: ابا! میرے لیے جوش میں نہ آؤ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جس تک یہ سیلاب نہیں پہنچ سکتا (قَالَ سَآوِی إلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنَ الْمَاءِ)۔ نوح (علیه السلام) پھر بھی مایوس نہ ہوئے۔ دوبارہ نصیحت کرنے لگے کہ شاید کوتاہ فکر بیٹا غرور اور خود سری کے مرکب سے اتر آئے اور راہ حق پر چلنے لگے ”انھوں نے کہا: میرے بیٹے! آج حکم خدا کے مقابلے میں کوئی طاقت پناہ نہیں دے سکتی“(قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللهِ)،”نجات صرف اس شخص کے لیے ہے رحمت خدا جس کے شامل حال ہو“(إلاَّ مَنْ رَحِمَ)۔ پہاڑ تو معمولی سی چیز ہے، خود کرہ ارض بھی معمولی سی چیز ہے، سورج اور تمام نظام شمسی اپنی خیرہ کن عظمت کے باوجود خدا کی قدرتِ لایزال کے سامنے ذرہ بے مقدار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔کیا بڑے سے بڑے پہاڑ کرہ زمین کے مقابلے میں چھوٹے سے ابھار سے زیادہ رکھتے ہیں ۔ان کی حیثیت تو ایسے ہے جیسے ناشپاتی کی بالائی سطح ہوتی ہے جب کہ خود زمین کی حیثیت یہ ہے کہ اسے ایک ملین اور دوہزار گنا بڑا کیا جائے تو پھر جاکر وہ کرہ آفتاب کے برابر ہوتی ہے۔ وہ آفتاب آسمان میں جس کی حیثیت ایک معمولی سے ستارہ کی سی ہے جب کہ وسیع عالم خلقت میں اربوں کھربوں سارے موجود ہیں پس کس قدر خام خیالی ہے کہ پہاڑ پناہ دے سکے گا۔ اسی دوران ایک موج اٹھی اور آگے آئی، مزید آگے بڑھی اور پسر نوح کو ایک تنکے کی طرح اس کی جگہ سے اٹھایا اور اپنے اندر درہم برہم کر دیا اور باپ بیٹے کے درمیان جدائی ڈال دی اور اسے غرق ہونے والے میں شامل کر دیا (وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ)۔

چند اہم نکات:۱۔ کیا طوفان نوح عالمگیر تھا

بہت سی آیات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کسی خاص علاقے کے لیے نہیں تھا بلکہ پوری زمین پر رونماہوا تھا کیونکہ لفظ ”ارض“ (زمین) مطلق طور پر آیا ہے: رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا خداوندا! روئے زمین پر ان کافروں میں سے کسی کو زندہ نہ رہنے دے کہ جن کے بارے میں اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ (نوح: ۲۶) اسی طرح ہود کی آیہ ۴۴ میں یوں ہے: وَقِیلَ یَااَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ۔۔۔۔ اپنے زمین اپنا پانی نگل لے بہت سی تواریخ سے بھی طوفان نوح کے عالمگیر ہونے کی خبر ملتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ موجودہ تمام نسلیں حضرت نوح (علیه السلام)کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث کی اولادمیں سے ہیں جو کہ زندہ رہے تھے۔ طبیعی تاریخ میں سیلابی بارشوں کے نام سے ایک دور کا پتہ چلتا ہے، اس دور کو اگر لازمی طورپر جانداروں کی پیدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھے تو وہ بھی طوفان نوح پر منطبق ہو سکتا ہے۔ زمین کی طبیعی تاریخ میں یہ نظر بھی ہے کہ کرہ زمین کا محور تدریجی طور پر تغیر پیدا کرتا ہے یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی خط استوا میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور خط استوا قطب شمالی اور قطب جنوبی کی جگہ لے لیتا ہے۔ واضح ہے کہ جب قطب شمالی وجنوبی میں موجود بہت زیادہ برف پگھل پڑے تو دریاؤں اور سمندروں کے پانی کی سطح اس قدر اوپر آ جائے گی کہ بہت سی خشکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پانی زمین جہاں جہاں اسے گنجائش ملے گی ابلتے ہوئے چشموں کی صورت میں نکلے گا، پانیوں کی یہی وسعت بادلوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہے اور پھر زیادہ سے زیاہ بارشیں انھیں بادلوں سے ہوتی ہیں۔ یہ امر کہ حضرت نوح (علیه السلام) زمین کے جانوروں کے نمونے بھی اپنے ساتھ لیے تھے طوفان کے عالمگیر ہونے کا مویدہے۔ جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح(علیه السلام) کوفہ میں رہتے تھے دوسری طرف بعض روایات کے مطابق طوفان مکہ اور خانہ کعبہ تک پھیلا ہوا تھا تو یہ صورت بھی اس بات کی موید ہے کہ طوفان عالمگیر تھا۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود اس امر کی بھی بالکل نفی نہیں کی جاسکتی کہ طوفان نوح ایک منطقے کے ساتھ مخصوص تھا کیوں لفظ”ارض“ (زمین) کا اطلاق قرآن میں کئی مرتبہ زمین کے ایک وسیع قطعے پر بھی ہوا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی سرگزشت میں ہے: وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا۔ ہم نے زمین کے مشارق اور مغارب بنی اسرائیل کے مستضعفین کے قبضے میں دئےے۔ (اعراف:۱۳۷) کشتی میں جانوروں کو شاید اس بنا پر رکھا گیا ہو کہ زمین کے اس حصے میں جانوروں کی نسل منقطع نہ ہو خصوصا اس زمانے میں جانوروں کا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ (غور کیجئے گا) اسی طرح دیگر مذکوہ قرائن اس بات پر منطبق ہو سکتے ہیں کہ طوفان نوح ایک منقطعہ ارض پر آیا۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ طوفان نوح تو اس سرکش قوم کی سزا اور عذاب کے طور تھا اور ہمارے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جس کی بنا پر یہ کہا جاس کے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کی دعوت تمام روئے زمین پہنچی تھی۔ اصولی طور پر اس زمانے کے وسائل وذرائع کے ساتھ ایک پیغمبر کی دعوت کا (اس کے اپنے زمانے میں)زمین کے تمام خطوں اور علاقوں تک پہنچنا بعید نظر آتا ہے۔ بہرحال اس عبرت خیز واقعے کو بیان کرنے سے قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اہم تربیتی نکات بیان کیے جائیں جو اس میں چھپے ہوئے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ واقعہ عالمی ہویا کسی ایک علاقے تعلق رکھتا ہو۔

۲۔ کیا نزول عذاب کے بعد توبہ ممکن ہے؟:

گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) طوفان شروع ہونے کے بعد تک اپنے بیٹے کو تبلیغ کرتے رہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کا ایمان قابل قبول ہوتا، یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرنے سے، جن کے کچھ نمونے بیان کیے جا چکے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عذاب نازل ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں کیونکہ ایسے مواقع پر تو اکثر سرکش گنہگار جو اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیتے ہیں بے اختیار ہوتے ہیں اور اضطرار کی حالت میں توبہ کرتے ہیں۔ایسی توبہ جس کی کوئی قدر قیمت، اہمیت اور وقعت نہیں، ایسی توبہ جس کا کوئی مفہوم نہیں۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ آیات بالا میں غور فکر کرنے سے اس سوال کا جواب اس طرح سے مل سکتا ہے کہ آغاز طوفان میں عذاب کی کوئی واضح نشانی موجود نہیں تھی بلکہ تیز اور اور غیر معمولی بارش نظر آتی تھی اسی تو نوح (علیه السلام) کے بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گاتاکہ غرق ہونے سے بچ جاؤں۔ اسے یہ گمان تھا کہ بارش اور طوفان ایک طبیعی چیز ہے۔ ایسے مواقع پر توبہ کے دروازوں کا کھلا ہونا کوئی عجیب مسئلہ نہیں۔ دوسرا سوال جو حضرت نوح (علیه السلام) کے بیٹے سلسلے میں کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام)نے اس حساس موقع پر صرف اپنے بیٹے کو کیوں پکارا سب لوگوں کو دعوت کیوں نہ دی، ہو سکتا ہے یہ اس بنا پر ہو کہ وہ عمومی دعوت کا فریضہ سب کے لیے یہان تک کہ بیٹے کے لیے بھی انجام دے چکے تھے لیکن بیٹے کے بارے میں ان کی ذمہ داری زیادہ ہو کیونکہ وہ اس کے لیے نبی ہونے کے علاوہ باپ ہونے ہونے کے حوالے سے بھی مسئولیت رکھتے تھے۔ اسی بنا پر اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے آخری لمحات میں اپنے فرزند کے لیے مزید تاکید کررہے تھے۔ بعض مفسرین کے بقول یہاں ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ پسر نوح اس وقت نہ کفار کی صف میں تھا اور نہ مومنین کی صف میں، جملہ”وکان فی معزل“(وہ گوشہ تنہائی میں کھڑا تھا) کو انھوں نے اس کی دلیل قرار دیا ہے۔ اگرچہ وہ مومنین کی صف میں شامل نہ ہونے کہ وجہ عذاب کا مستحق تھا لیکن کفار کی صف سے اس کی کنارہ کشی کا تقاضا تھا کہ طریق تبلیغ سے اس کے ساتھ لطف ومحبت کا اظہار کیا جاتا ہے، علاوہ ازیں کفار کی صف سے اس کی علحیدگی نے حضرت نوح (علیه السلام) یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید وہ اپنے کام سے پشیمان ہو چکا ہے۔ آئندہ کی آیات پر توجہ کرنے سے یہ احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پسر نوح صراحت سے اپنے باپ کی مخالفت نہیں کرتا تھا بلکہ ”منافقین“ کی صورت میں تھا اور بعض اوقات آپ کے سامنے اظہار موافقت کرتا تھا۔ ایسی لیے حضرت نوح (علیه السلام) نے خدا سے اس کے لیے نجات کا تقاضا کیا۔ بہرحال مندرجہ بالا آیت ان آیات کے منافی نہیں ہے جو کہتی ہیں کہ نزول عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

۳۔طوفان نوح میں عبرت کے درس

جیسا کہ ہم جانتے ہیں قرآن گذشتہ لوگوں واقعات درس عبرت دینے کے لیے اور اصلاح وتربیت کے لیے بیان کرتا ہ۔ ہم نے حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان کا جتنا حصہ پڑھا ہے اس میں بہت سے درس پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ہم بعض کی ذیل میں اشارہ کرتے ہیں۔ الف۔ روئے زمین کو پاک کرنا:یہ صحیح ہے کہ خدا رحیم اور مہربان ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ وہ اس کے باجود حکیم بھی ہے، اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی قوم وملت فاسد ہو جائے اور نصیحت کرنے والوں اور تربیت کرنے والے خدائی نمائندوں کی دعوت ان پر اثر نہ کرے تو انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ایسے مواقع پر خدائے تعالیٰ بالآخر معاشرتی یا طبیعی اور فطری انقلابات کے ذریعے ان کی زندگی کے کارخانے کو درہم برہم کر کے انھیں نابود کر دیتا ہے۔ یہ بات نہ قوم نوح میں منحصر تھی اور نہ کسی اور زمانے یا معین وقت میں۔ یہ ہرزمانے اور ہرقوم کے لیے ایک خدائی سنت ہے یہاں تک کہ ہمارے زمانے کے لیے بھی اور ہو سکتا ہے پہلی اور دوسری عالمی جنگیں اس پاک سازی کی مختلف شکلیںہوں۔ ب۔طوفان کے ذریعے انقلاب کیوں؟: یہ صحیح ہے کہ ایک فاسد اور بری قوم کو نابود ہونا چاہیئے چاہے وہ کسی ذریعے سے نابود ہو اس میں فرق نہیں پڑتا لیکن آیاتِ قرآنی میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عذاب وسزا اور قوموں کی گناہوں میں ایک قسم کی مناسبت تھی اور ہے۔ (غور کیجئے) فرعون نے عظیم دریائے نیل اور اس کے پر برکت پانی کو اپنی قوت وطاقت کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔یہ بات جاذب نظر ہے کہ وہی اس کی نابودی کا سبب بنا۔ نمرود کو اپنے عظیم لشکر پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہیں کہ حشرات الارض کے چھوٹے سے لشکر نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔ قوم نوح زراعت پیشہ تھی ان کی کثیر دولت کا دارومدار زراعت پر ہی تھا ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنا سب کچھ بارش کے حیات بخش قطروں کو سمجھتے ہیں لیکن آخرکاربارش ہی نے انھیں تباہ وبرباد کر دیا۔ یہاں سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ خدائی فیصلوں میں کس قدر تدبیر اور تدبر کارفرما ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے سرکش انسان پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے جدید ترین اسلحوں کے ذریعے نیست ونابود ہوتے ہیں تو یہ بات ہمارے لیے باعث تعجب نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پسے ہوئے محروم انسانوں کے وسائل لوٹنے کے لیے ان کی استعماری طاقتوں نے اپنی اس ٹیکنالوجی اور مصنوعات پر ہی بھروسہ کررکھا تھا۔ ج۔خدا کا نام۔ہر حالت میں اور ہر جگہ: مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ خدا کا نام کشتی کے رکتے اور چلتے وقت فراموش نہ کریں۔ سب کچھ اس کے نام سے، اس کی یاد کے ساتھ اور اس کی پاک ذات سے مدد طلب کرتے ہوئے ہونا چاہیئے، ہر حرکت، ہر سکون میں۔ حالت آرام میں اور طوفان میں سب کچھ اسی کے نام سے شروع ہونا چاہیئے کیونکہ جو کام اس کے نام کے بغیر شروع ہو گاوہ ابتر اور دم بریدہ ہو گا، جیسا کہ رسول اللہ کی مشہور حدیث میں ہے: کل امر ذی بال لم یذکر فیہ بسم اللّٰہ فھوابتر۔ ہر اہم کام جس میں نام خدا نہ لیا جائے بد انجام اور دم بریدہ ہو گا۔ (بحوالہ سفینة البحار، ج۱، ص ۶۶۳) اہم بات یہ ہے کہ نام خدا کا ذکر تکلفات اور تشریفات کے لیے نہ ہو بلکہ مقصد کے طور پر ہو یعنی جو کام خدائی مقصد کے تحت نہیں ہو گااور اس کا ہدف خدا نہیں ہو گاوہ ابتر اور دم بریدہ ہو گاکیونکہ سارے مقاصد تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن الٰہی مقاصد ختم ہونے والے نہیں ہوتے۔ مادی اہداف جب اپنے کمال کو پہنچ جائیں تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن خدائی اہداف اس کی پاک ذات کی طرح دائمی اور جاوداں ہوتے ہیں۔ د۔ کمزور سہارے: عام طور پر ہر شخص اپنی زندگی کی مشکلات میں کسی چیز کا سہارا لیتا ہے اور پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے، کچھ لوگ اپنی دولت وثروت کو سہارا سمجھتے ہیں، کچھ مقام ومنصب کو، کچھ اپنی جسمانی طاقت کو اور بعض اپنی قوت فکر کو، لیکن جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں اور تاریخ نشاندہی کرتی ہے حکم خدا کے سامنے ان میں سے کسی چیز کی ذرہ برابر حیثیت نہیں ہے۔ ارادہ الٰہی کے سامنے ان میں سے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی جیسے تار عنکبوت شدیدآندھی میں فوراً درہم برہم ہو جاتی ہے۔ پیغمبر خدا حضرت نوح (علیه السلام) کا نادان اور سرپھرا بیٹا بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ خدا کے طوفان غضب کے مقابلے میں پہاڑ اسے پناہ دے گا لیکن یہ اس کا کتنا بڑا اشتباہ تھا۔ طوفان کی ایک لہر نے اس کا کام تمام کر دیا اور اسے ملک عدم میں پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم بعض دعاؤں میں پڑھتے ہیں: ھا رب منک الیک۔ (بحوالہ دعائے ابوحمزہ ثمالی) میں تیرے غضب سے تیری طرف بھاگتاہوں۔ یعنی اگر تیرے غضب کے مقابلے میں کوئی پناہ گا ہ ہے تو وہ بھی تیری ذات پاک ہے اور بازگشت تیری ہی طرف ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ ر۔کشتئی نجات: کشتئی نجات کے بغیرکسی طوفان سے نہین بچا جا سکتا، ضروری نہیں کہ وہ کشتی لکڑی اور لوہے کی بنی ہو بلکہ بعض اوقات یہ کشتی ایک کارساز، حیات بخش اور مثبت مکتب ومذہب ہوتا ہے جو انحرافی افکار کی طوفانی موجوں سے مقابلہ کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ساحل نجات تک پہنچا دیتا ہے، اسی بنا پر شیعہ اور سنی کتب میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان میں آپ کے خاندان یعنی ائمہ اہل بیت (علیه السلام) اور حاملین مکتب اسلام کا”کشتئی نجات“ کی حیثیت سے تعارف کروایا گیا ہے۔ حنش بن مغیرہ کہتا ہے: میں ابوذر کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آیا، ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور بلند آواز سے کہا: میں ابوذر ہوں جو شخص مجھے نہیں پہچانتا پہچان لے، میں وہی جندب ہوں (ابوذر کا اصلی نام جندب تھا)، میں رسول اللہ کا صحابی ہوں، میں نے اپنے کان سے آپ کو کہتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: مثل اھل بیتی مثل سفینة نوح من رکبھا نجیٰ۔ یعنی۔ میرت اہل بیتؑ کی مثال کشتیٴ نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی۔ (ابن قیتبہ دینوری جو مشہور علماء اہل سنت میں سے ہیں انھوں نے یہ حدیث عیون الاخبار، ج۱، ص ۲۱۱ پر لکھی ہے) حدیث کے دوسرے طرق میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے: فمن تخلف عنھا غرق۔ اور جو اس سے دور رہا اور جس نے تخلف کیا وہ غرق ہوا۔ (بحوالہ معجم الکبیر تالیف حافظ طبرانی، ص۱۳۰، (مخطوط)) بعض جگہ یہ جملہ بھی ہے: من تخلف عنھا ھلک۔ (تشریحی نوٹ: یہ حدیث بہت سے علماء اہل سنت مثلاًحاکم نیشاپوری نے مستدرک میں، ابن منازلی نے مناقب امیرالمومنین میں، علامہ خوارزمی نے مقتل الحسین میں، حموینی نے فرائد المسلمین۰ میں اور دیگر بہت سے علماء نے اپنی کتب میں نقل کی ہے (مزید وضاحت کے لیے احقاق الحق، ج۹، ص ۲۸۰، طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں)۔ یعنی۔ جو اس سے دور رہا وہ ہلاک ہوا۔ رسول خدا کی یہ حدیث صراحت سے کہتی ہے کہ جس وقت فکری، عقائدی اور معاشرتی طوفان اسلامی معاشرے کا رخ کریں تو ایسے میں واحد راہ نجات اس میں مکتب میں پناہ لینا ہے۔اس مسئلے کو ہم نے ملت ایران کے عظیم الشان انقلاب میں اچھی طرح سے آزمایا ہے کہ غیر اسلامی مکاتب کے پیروکاروں نے طاغوت کے مقابلے میں شکست کھائی اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوئے جنھوں نے پناہ گاہ اسلام اور اہل بیت (علیه السلام) کے مکتب اور ان کے انقلابی پروگراموں کو بنایا۔

44
11:44
وَقِيلَ يَـٰٓأَرۡضُ ٱبۡلَعِي مَآءَكِ وَيَٰسَمَآءُ أَقۡلِعِي وَغِيضَ ٱلۡمَآءُ وَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَٱسۡتَوَتۡ عَلَى ٱلۡجُودِيِّۖ وَقِيلَ بُعۡدٗا لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور کہا گیا: اے زمین ! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا اور پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہو گیا اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ کے دامن) میں ٹھہر گئی اور(اس وقت) کہا گیا: ظالم قوم کے لئے (خدا کی رحمت سے) دوری ہے۔

ایک داستان کا اختتام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ گذشتہ آیات میں ہم نے اجمالاً سربستہ طور پر پڑھا ہے کہ آخرکار پانی کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں نے تمام جگہوں کو گھیر لیا۔پانی کی سطح بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی. جاہل گنہگاروں نے یہ گمان کیا کہ یہ ایک معمول کا طوفان ہے۔ وہ اونچی جگہوں اور پہاڑوں پر پناہ گزیں ہو گئے لیکن پانی ان کے اوپر سے بھی گزر گیا اور تمام جگہیں پانی کے نیچے چھپ گئیں۔ان طغیان گروں کے جسم، ان کے بچے کھچے گھر اور زندگی کا سازوسامان پانی کی جھاگ میں نظر آرہاتھا۔ حضرت نوح (علیه السلام) نے زمام کشتی خدا کے ہاتھ میں دی، موجیں کشتی کو ادھر سے ادھر لے جاتی تھیں، روایات میں آیا ہے کہ کشتی پورے چھ ماہ سرگرداں رہی، یہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے کر ذی الحجہ کے اختتام تک تھی۔ایک اور روایت کے مطابق دس رجب سے لے کر روز عاشورہ تک کشتی پانی کی موجوں میں سرگرداں رہی۔ (بحوالہ: جات تفسیر قرطبی، ج۵، ص ۳۲۶۹، تفسیر ابولفتوح رازی، ج۶، ص۲۷۸، تفسیر مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۴، اور طبری، ض ۱۲، ص ۲۹۔) اس دوران میں کشتی نے مختلف علاقوں کی سیر کی یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق سرزمین مکہ اور خانہ کعبہ کے اطراف کی بھی سیر کی۔ آخرکار عذاب کے خاتمے اور زمین کے معمول کی حالت میں لوٹ آنے کا حکم صادر ہوا، مندرجہ بالا آیت میں اس فرمان کی کیفیت، جزئیات اور نتیجہ بہت مختصر مگر انتہائی عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبرت میں چھ جملوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: حکم دیا گیا کہ ات زمین! اپنے پانی نگل جاؤ (وَقِیلَ یَااَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ)۔ اور آسمان کو حکم ہوا ”اے آسمان ہاتھ روک لے“(وَیَاسَمَاءُ اَقْلِعِی وَ)۔ ”پانی نیچے بیٹھ گیا“(غِیضَ الْمَاءُ)۔ ” اور کام ختم ہو گیا “(وَقُضِیَ الْاَمْرُ) اور کشتی کوہ جودی کے دامن سے آلگیوَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ)۔ ” اس وقت کہا گیا: دور ہو ظالم قوم“(وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)۔ مندرجہ بالاآیت کی تعبیرات مختصر ہوتے ہوئے بھی نہایت موثر اور دلنشین ہیں۔ یہ بولتی ہوئی زندہ تعبیرات ہیں اورتمام تر زیبائی کے باوجود ہلا دینے والی ہیں،بعض علماء عرب کے بقول یہ آیات قرآن میں سے فصیح ترین اور بلیغ ترین آیت ہے، روایات اور توریخ اسلام میں اس کی شہادت موجود ہے، لکھا ہے: کچھ کفار قریش قرآن سے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، انھوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ قرآنی آیات جیسی کچھ آیات گھڑیں۔ان سے تعلق رکھنے والوں نے انھیں چالیس دن تک بہترین غذائیں مہیا کیں، مشروبات فراہم کیے اور ان کی ہر فرمائش پوری کی، خالص گندم کا معدہ، بکرے کا گوشت، ایرانی شراب غرض سب کچھ انھیں لاکر دیا تاکہ وہ آرام وراحت کے ساتھ قرآنی آیات جیسے جملوں کی ترکیب بندی کریں۔ لیکن جب وہ مذکورہ آیت تک پہنچے تو اس نے انھیں اس طرح سے ہلا کر رکھ دیا کہ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ ایسی گفتگو ہے کہ کوئی کلام اس سے مشابہت نہیں رکھتا، یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور مایوس ہو کر ادھر ادھر چلے گئے۔ (بحوالہ جات: مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۵، روح المعانی، ج۱۲، ص ۵۷)۔

کوہ جُودی کہاں ہے؟

بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ کوہ جودی جس کے کنارے کشتیٴ نوح آکر لگی تھی اور جس کا ذکر مذکورہ آیات میں آیاہے وہی مشہور پہاڑ ہے جو موصل کے قریب ہے۔ ( بحوالہ مجمع البیان، روح المعانی اور قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ بعض دوسرے مفسرین نے اسے حدود شام میں یا ”آمد“ کے نزدیک یا عراق کے شمالی پہاڑ سمجھا ہے۔ کتاب مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو موصل اور الجزیرہ کے درمیان ہے (الجزیرہ شمالی عراق میں ایک جگہ ہے اور یہ الجزائر یا الجزیرہ نہیں جو آج کل مشہور ہے)۔ بعید نہیں کہ ان سب کی بازگشت ایک ہی طرف ہو کیونکہ موصل، آمداور الجزیرہ سب عراق کے شمالی علاقوں میں ہیں اور شام کے نزدیک ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جودی سے مراد ہر مضبوط پہاڑ اور محکم زمین ہے یعنی کشتی نوح ایک محکم زمین پر لنگر انداز ہوئی جو اس کی سواریوں کے اترنے کے لیے مناسب تھی۔لیکن مشہور ومعروف وہی پہلا معنی ہے۔ کتاب”اعلام قرآن“ میں کوہ جودی کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے۔ یہ تحقیق ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں: جودی ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کشتی نوح آکر ٹھہر گئی تھی، اس کا نام سورہ ہود کی آیہ ۴۴ میں آیا ہے کہ جس کا مضمون تورات کے مندرجات کے قریب ہے، کوہ جودی کے محل ومقام کے بارے میں تین قول ہیں: ۱۔ اصفہانی کے بقول کوہ جودی عربستان (تشریحی نوٹ: جس کا نام آج کل موجودہ حکمرانوں نے اپنے خاندان کے نام پر”سعودی عرب“رکھا ہوا ہے(مترجم))میں ہے اور ان دو پہاڑوں میں سے ایک ہے جو قبیلہ ”طی“ کی حکومت میں تھے۔ ۲۔ کوہ جودی کاردین کا سلسلہ ہے جو جزیرہ ابن عمر کے شمال مشرق اور دجلہ کے مشرق میں موصل کے نزدیک میں واقع ہے، اکراد اسے اپنے لب ولہجہ میں کاردو اور یونانی جوردی اور اعراب جودی کہتے ہیں۔ ترگوم یعنی تورات کے کلدانی ترجمے میں اور اسی طرح تورات کے سریانی ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ کوہ اکراہ کا قلعہ ”کاردین“ معین ہوا ہے، عرب کے جغرافیہ دانوں نے بھی قرآن میں مذکورہ کوہ جودی کو یہی پہاڑ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کشتی نوح کے تختے کے کچھ ٹکڑے بنی عباس کے زمانے تک اس پہاڑ کی چوٹی پر باقی تھے اور مشرکین ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ بابل کی داستانوں میں طوفان نوح کی داستانوں سے مشابہ ایک داستان موجود ہے۔ علاوہ از ایں یہ احتمال ہے بھی ہے کہ دجلہ میں طوفان آیا ہو اور اس علاقے کے لوگوں کو طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ کوہ جودی پر آشوری کتیبے موجود ہیں۔ انھیں کتیبہ ہائے مسیر کہتے ہیں، ان کتیبوں میں ”ارارتو“ کا نام نظر آتا ہے۔ ۳۔موجودہ تورات کے ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ آرارات کے پہاڑ قرار دی گئی ہے اور وہ کوہ ماسیس ہے جو ارمنستان میں واقع ہے۔ قاموس کتاب مقدس کے مولف نے پہلے معنی کو ”ملعون“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روایات کے مطابق کشتی نوح اس پہاڑ کے اوپر رکی اور اسے عرب جودی کہتے ہیں، ایرانی کوہ نوح کہتے ہیں اور ترک”کرداغ“ کہتے ہیں کہ جو ڈھلوان کے معنی میں ہے اور وہ ارس کے قریب واقع ہے۔ پانچویں صدی تک ارمنستانی ارمنستان میں جودی پہاڑ کو نہیں جانتے تھے۔اس صدی سے شاید تورات کے ترجمہ نگاروں کو اشتباہ ہوا ہے اور انھوں نے کوہ اکراد کا ترجمہ کوہ آرارات کر دیا جس کی وجہ سے ارمنی علماء کو یہ خیال پیدا ہو گیا ہے۔ شاید یہ خیال اس وجہ سے پیدا ہوا ہو کہ آشوری لوگ ”وان“ جھیل کے شمال اور جنوب کے پہاڑ کو ”آرارات“ یا”آراراتو“ کہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ طوفان ختم ہونے کے بعد حضرت نوح (علیه السلام) نے کوہ جودی کی چوٹی پر ایک مسجد بنائی تھی۔ ارامنی بھی کہتے ہیں کہ کوہ جادی کے نیچے قریہ ”ثمانین“ یا”ثمان“ وہ پہلی جگہ ہے جہاں حضرت نوح (علیه السلام) کے ہمراہی آکر اترے تھے۔ (بحوالہ اعلام قرآن خزائلی، ص:۲۸۱)

45
11:45
وَنَادَىٰ نُوحٞ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبۡنِي مِنۡ أَهۡلِي وَإِنَّ وَعۡدَكَ ٱلۡحَقُّ وَأَنتَ أَحۡكَمُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
نوح نے اپنے پروردگار سے عرض کیا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ (میرے خاندان کی نجات کے بارے میں ) حق ہے اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
11:46
قَالَ يَٰنُوحُ إِنَّهُۥ لَيۡسَ مِنۡ أَهۡلِكَۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيۡرُ صَٰلِحٖۖ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۖ إِنِّيٓ أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
فرمایا: اے نوح! وہ تیرے اہل سے نہیں ہے۔ وہ غیر صالح عمل ہے لہٰذا جس سے تو آگاہ نہیں وہ سوال مجھ سے نہ کر۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں تاکہ تو جاہلوں میں سے نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
11:47
قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِكَ أَنۡ أَسۡـَٔلَكَ مَا لَيۡسَ لِي بِهِۦ عِلۡمٞۖ وَإِلَّا تَغۡفِرۡ لِي وَتَرۡحَمۡنِيٓ أَكُن مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
عرض کیا: پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں کہ جس سے میں آگاہی نہیں رکھتا اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں زیاں کاروں میں سے ہو جاؤں گا۔

پسر نوح کا دردناک انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ہم پڑھ چکے ہیں کہ نوح کے بیٹے نے باپ کی نصیحت نہ سنی اور آخری سانس تک اس نے ہٹ دھرمی اور بے ہودگی کو نہ چھوڑا اور آخرکار طوفان کی موجوں میں گرفتار ہو کر غرق ہو گیا۔ زیر بحث آیات میں اس داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت نوح (علیه السلام) نے اپنے بیٹے کو موجوں کے درمیان دیکھا تو شفقت پدری نے جوش مارا، انھیں چاپنے بیٹے کی نجات کے بارے میں وعدہ الٰہی یاد آیا، انھوں نے درگاہ الٰہی کا رخ کیا اور کہا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے اہل اور میرے خاندان میں سے ہے اور تونے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے خاندان کو طوفان اور ہلاکت سے نجات دے گا اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے اور تو ایفائے عہد کرنے میں محکم تر ہے (وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إنَّ ابْنِی مِنْ اَھْلِی وَإنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ)۔ یہ وعدہ اسی چیزکی طرف اشارہ ہے جو اسی سورہ کی آیہ ۴۰ میں موجود ہے جہاں فرمایا گیا: ُ قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ إلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْل۔ ہم نے نوح کو حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اسی طرح اپنے خاندان کو سوائے اس شخص کے جس کی نابودی کے لیے فرمان کدا جاری ہو چکا ہے۔ حضرت نوح (علیه السلام) نے خیال کیا کہ”الا من سبق علیہ القول“ سے مراد صرف ان کی بے ایمان اور مشرک بیوی ہے اور ان کا بیٹا کنعان اس میں شامل نہیں ہے لہٰذا انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں ایسا تقاضا کیا۔ لیکن فوراً جواب ملا، ہلا دینے والا جواب اور ایک عظیم حقیقت واضح کرنے والا جواب، وہ حقیقت جو کہ جو رشتہٴ مکتب کو نسب اور خاندان کے رشتہ سے مافوق قرار دیتی ہے،”درمایا: اے نوح وہ تیرے اہل اور خاندان میں سے نہیں ہے“(قَالَ یَانُوحُ إنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ)،”بلکہ وہ غیر صالح عمل ہے“(إنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ)، وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مکتبی اور مذہبی رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے خاندانی رشتے کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اب جب ایسا ہے تو مجھ سے ایسی چیز کا تقاضا نہ کر جس کے بارے میں تجھے علم نہیں (فَلَاتَسْاَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ)، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہوجا“(إنِّی اَعِظُکَ اَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاھِلِینَ) حضرت نوح (علیه السلام) سمجھ گئے کہ یہ تقاضا بارگاہ الٰہی میں صحیح نہ تھا اور ایسے بیٹے کی نجات کو خاندان کی نجات کے بارے میں خدا کے وعدے میں شامل نہیں سمجھنا چاہیئے تھا، لہٰذا آپ نے درگاہ پرورگار کا رخ کیا اور کہا: ”پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے کہ تجھ کسی ایسی چیز کی خواہش کروں جس کا علم مجھے نہیں“(قَالَ رَبِّ إنِّی اَعُوذُ بِکَ اَنْ اَسْاَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ)۔ اور اگر تونے مجھے نہ بخشا اور اپنی رحمت میرے شامل حال نہ کی تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا (وَإلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین)۔

چند قابل توجہ نکات ۱۔ حضرت نوح (علیه السلام)کا بیٹا کیوں ”عمل غیر صالح“ تھا؟

بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ مقدر ہے اور اصل میں اس کا مفہوم اس طرح ہے: ”انہ ذو عمل غیر صالح“۔ یعنی تیرا بیٹا غیر صالح عمل والا ہے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعض اوقات انسان کسی کام میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ گویا عین وعمل ہو جاتا ہے۔مختلف زبانوں کے ادب میں یہ چیز بہت نظر آتی ہے۔ مثلاًکہا جاتا ہے: فلاں شخص سراپا ودل وسخاوت ہے یا فلاں شخص سراپا فساد ہے، گویا وہ اس عمل میں اس قدر غوطہ زن ہے کہ اس کی ذات عین وہی عمل ہو چکی ہے، یہ پسر نبی بھی بروں کی صحبت میں اس قدر بیٹھا اور برے اعمال اور ان کے غلط افکار میں اس طرح غوطہ زن ہوا کہ گویا اس وجود ایک غیر صالح عمل میں بدل گیا۔ لہٰذا مندرجہ بالا تعبیر اگرچہ بہت ہی مختصر ہے لیکن ایک اہم حقیقت کی عکاس ہے، یعنی اے نوح ۱ اگر برائی، ظلم اور فساد اس بیٹے کے وجود میں سطحی طور پر ہوتا تو اس کے بارے میں امکان شفاعت تھا لیکن اب جب کہ یہ سراپا غرق فساد وتباہی ہے تو اہل شفاعت نہیں رہا، اس کی بات ہرگز نہ کرو۔ یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ حقیقتاً یہ آپ کا بیٹا نہیں تھا (یا غیر شرعی بیٹا تھا یا آپ کی بیوی کا دوسرا شوہر سے غیر شرعی بیٹا تھا)۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ”انہ عمل غیر صالح“کا جملہ در حقیقت”انہ لیس من اھلک“ کے لیے علت وسبب کی طرح ہے، یعنی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ”تیرے اہل میں سے نہیں ہے“ اس لحاظ پر ہے کہ کردار کے لحاظ سے تجھ سے جدا ہے، اگرچہ اس کا نسب تجھ سے متصل ہے۔

۲۔ حضرت نوح (علیه السلام) اپنے بیٹے کے بارے میں کیوں کر متوجہ نہ تھے؟

مندرجہ بالا آیت میں حضرت نوح (علیه السلام) کی گفتگو اور خدا کی طرف سے انھیں دئےے گئے جواب کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) اس مسئلے کی طرف کیوں کر متوجہ نہ تھے کہ وعدہ الٰہی میں ان کا بیٹا شامل نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ اس بیٹے کی کیفیت پوری طرح سے واضح نہ تھی کبھی وہ مومنین کے ساتھ ہوتا اور کبھی کفار کے ساتھ، اس کی منافقانہ چال ہر شخص کو ظاہراًاشتباہ میں ڈال دیتی تھی۔ علاوہ ازیں اپنے بیٹے سے متعلق حضرت نوح (علیه السلام) کو شدید احساس مسئولیت تھا، پھر فطری اور طبعی لگاؤ بھی تھا جو ہر اباپ کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے اور انبیاء بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں یہی سبب ہے کہ آپ نے اس قسم کی درخواست کی لیکن جب آپ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوئے تو فوراً درگاہ خداوندی میں عذرخواہی اور طلب عفو کی اگرچہ آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا لیکن نبوت کے مقام اور حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی گفتارورفتار میں اس سے زیادہ متوجہ ہوتے۔ اتنی عظیم شخصیت ہونے کے باعث یہ آپ کا ترک اولیٰ تھا، اسی وجہ سے آپ نے بارگاہ خداوندی میں بخشش کا تقاضا کیا۔ یہیں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہو گیا اور وہ یہ کہ کیا انبیاء گناہ کرتے ہیں جب کہ وہ بخشش کی دعا کرتے ہیں۔

۳۔ جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے

مندرجہ بالا آیات سے حضرت نوح (علیه السلام) کی سرگزشت میں سے انسانی تربیت کے حوالے سے ایک اور بلند سبق ہاتھ آتا ہے، ایسا سبق جو مادی مکتبوں میں بالکل کوئی مفہوم نہیں رکھتا لیکن ایک خدائی اور معنوی مکتب میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مادی رشتے یعنی نسب، رشتہ داری، دوستی اور رفاقت آسمانی مکاتب میں ہمیشہ روحانی رشتوں کے تحت ہوتے ہیں اس مکتب میں نسبی وخاندانی رشتوں کا مکتبی وروحانی رشتوں کے مقابلے میں کوئی مفہوم نہیں۔ جہاں مکتبی رابطے موجود ہیں وہاں دور افتادہ سلمان فارسی جو نہ خاندان پیغمبرؐ سے ہے نہ قریشی ہے، مکی بھی نہیں اور اصلا عرب بھی نہیں، وہ خاندان رسالت کا حصہ شمار ہوتا ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے: سلمان منا اھل البیت یعنی۔ سلمان ہم اہل بیتؑ میں سے ہے۔ دوسری طرف نوح جیسے پیغمبر کا بلا فصل حقیقی بیٹا باپ سے مکتبی رشتہ توڑنے کی وجہ سے اس طرح دھتکاردیا جاتا ہے: انہ لیس من اھلک یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ ہو سکتا ہے مادی فکر رکھنے والوں کو یہ بات بہت گراں محسوس ہو لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام ادیان آسمانی میں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث اہل بیت (علیه السلام) میں ان شیعوں کے بارے میں صریح اور ہلا دینے والی باتیں ہیں جو صرف نام کے شیعہ ہیں لیکن اہل بیت (علیه السلام)کی تعلیمات اور ان کے عملی پروگراموں کا ان کی زندگی میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ یہ امر بھی درحقیقت اسی روش کو واضح کرتا ہے جو قرآن نے زیر نظر آیات میں سامنے رکھی ہے۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے منقول ہے کہ آپ نے ایک دن اپنے دوستوں اور موالیوں سے یہ پوچھا کہ: لوگ اس آیت کی کس طرح تفسیر کرتے ہیں ”انہ عمل غیر صالح“ (یہ غیر صالح عمل ہے) حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا: بعض کا نظریہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ نوح کا بیٹا کنعان ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: کلا لقد کان ابنہ ولکن لما عصی اللّٰہ نفاہ عین عن ابیہ کذا من کان منا لم یطع اللّٰہ فلیس منا۔ یعنی۔ ایسا نہیں ہے یقینا وہ نوح کا بیٹا تھا لیکن جب اس نے نافرمانی کی اور حکم خدا کے راستے سے منحرف ہو گیا تو خدا نے اس کے فرزند ہونے کی نفی۔، اسی طرح جو لوگ ہم میں سے ہوں لیکن خدا کی اطاعت نہ کرتے ہوں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ (بحوالہ تفسیر صافی مذکرہ آیات کے ذیل میں) ۴۔دھتکارے ہوئے مسلمان: نا مناسب نہ ہو گااگر ہم مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ اسلامی احادیث کی طرف اشارہ کریں جن میں سے بہت سے لوگوں کو، جو ظاہراً مسلمانوں کے زمرے میں ہیں یا ظاہراً مکتب اہل بیت (علیه السلام) کے پیروکار ہیں، دھتکار دیا ہے اور انھیں مومنین اور شیعوں کی صف سے نکال دیا گیا ہے۔ ۱۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: من غش مسلما فلیس منا۔ جو مسلمان بھائیوں سے دھوکی بازی اور خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (بحوالہ سفینة البحار، ج۲، ص ۳۱۸) ۲۔ امام صادق (علیه السلام) فرماتے ہیں: لیس بولی لی من اکل مال موٴمن حراما۔ جو مومن کا مال ناجائز طور پر کھائے وہ میرا دوست اور موالی نہیں ہے۔ (بحوالہ وسائل، ج ۱۲، ص ۵۳) ۳۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: اٴلا ومَن اٴکرمہ الناس اتقاء فلیس منی۔ جان لو کہ جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اس کا احترام کریں وہ مجھ نہیں ہے۔ ۴۔امام نے فرمایا: لیس من شیعتنا من یظلم الناس۔ جو لوگوں پر ظلم کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں۔ ۵۔ امام کاظم فرماتے ہیں: لیس منا من لم یحاسب نفسہ کل یوم۔ جو شخص ہرروز اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (بحوالہ بحار، ج۱۵، حصہ اخلاق (طبع قدیم)) ۶۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم۔ جو شخص کسی انسان کی آواز سے سنے جو پکار رہا ہو اے مسلمانو! میری مدد کو پہنچو، میری اعانت کرو اور اس پر لبیک نہ کہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ (بحوالہ اصول کافی، ج۲، ص) ۷۔ امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص جابر تھا، آپ نے اس سے فرمایا: واعلم یا جابر بانّک لاتکون لنا ولیا حتی لو اجتمع علیک اھل مصرک وقالوا اٴنت رجل سوء لم یحزنک ذٰلک ولوقالوا انّک رجل صالح لم یسرک ذٰلک ولکن اعرض نفسک علی کتاب اللّٰہ۔ اے جابر! جان لو کہ تم اس وقت تک ہمارے دوست نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمھارے سارے اہل شہر جمع ہو کر تم سے کہیں کہ تو برا شخص ہے اور تو اس پر غمگین نہ ہو اور سب مل کر کہیں کہ تو اچھا آدمی ہے اور تو خوش نہ ہو بلکہ اپنے آپ کو کتاب خدا قرآن کے سامنے پیش کرو اور اچھائی اور برائی کے بارے میں قوانین وضوابط اس سے لو اور پھر تم دیکھو کہ تم کس گروہ میں سے ہو۔ (بحوالہ سفینة البحار، ج۲، ص) یہ احادیث ان لوگوں کے نظریات پر خط بطلان کھینچتی ہے جو صرف نام پر گزارا کرتے ہیں مگر عمل اور مکتبی ارتباط کی ان میں کوئی خبر نہیں، یہ احادیث وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ خدائی پیشواؤں کے مکتب ان کی بنیاد مکتب پر ایمان اور اس کے پروگراموں کے مطابق عمل کرنا ہے اور تمام چیزوں کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیئے۔

48
11:48
قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهۡبِطۡ بِسَلَٰمٖ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٖ مِّمَّن مَّعَكَۚ وَأُمَمٞ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ
(نوح سے کہا گیا): اے نوح! سلامتی اور برکت کے ساتھ جو تجھ پر اور تیرے ساتھ موجود تمام امتوں پر ہے اتر آؤ کچھ ایسی امتیں ہیں جنہیں ہم اپنی نعمتوں سے سرفراز کریں گے اس کے بعد انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
11:49
تِلۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهَآ إِلَيۡكَۖ مَا كُنتَ تَعۡلَمُهَآ أَنتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِن قَبۡلِ هَٰذَاۖ فَٱصۡبِرۡۖ إِنَّ ٱلۡعَٰقِبَةَ لِلۡمُتَّقِينَ
یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی (اے پیغمبر) ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں اور انہیں اس سے پہلے نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم لہٰذا صبرواستقامت سے کام لو کیونکہ کامیابی پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

حضرت نوح (علیه السلام) باسلامت اُتر آئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کی سبق آموز سرگذشت کے بارے میں اس سورت میں آنے والی یہ آخری آیات ہیں ان میں حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمین پر معمول کی زندگی گزانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: نوح سے کہا گیا کہ سلامتی اور برکت کے ساتھ جو ہماری طرف سے تم پر اور ان پر ہے جو تیرے ساتھ ہیں اتر آؤ (قِیلَ یَانُوحُ اھْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ)۔ اس میں شک نہیں ”طوفان“ نے زندگی کے تمام آثار کو درہم برہم کر دیا تھ، فطری طور پر آباد زمینیں، لہلہاتی چراگاہیں اور سرسبز باغ سب کے سب ویران ہو چکے تھے، اس موقع ہر شدید خطرہ تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام)اور ان کے اصحاب اور ساتھی زندگی گزارنے اور غذا کے سلسلے میں بہت تنگی کا شکار ہوں گے لیکن خدا نے ان مومنین کو اطمینان دلایاکہ برکت الٰہی کے دروازے تم پر کھل جائیں گے اور زندگی اور معاش کے حوالے سے تمھیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونا چاہیئے۔ علاوہ ازیں ممکن تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے پیروکاروں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے یہ پریشانی ہوتی کہ طوفان کے بعد باقی ماندہ ان گندے پانیوں، جوہڑو ں اور دلدلوں کے ہوتے ہوئے زندگی خطرے سے دوچار ہو گی لہٰذا خدائے تعالی اس سلسلے میں بھی انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمھیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گااور وہ ذات جس نے ظالموں کی نابود ی کے لیے طوفان بھیجا ہے وہ اہل ایمان کی سلامتی اور برکت کے لیے بھی ماحول فراہم کرسکتی ہے۔ یہ مختصر سا جملہ ہمیں سمجھا تا ہے کہ قرآن کیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اہمیت دیتا ہے اور انھیں جچی تلی اور خوبصورت عبارتوں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ لفظ ”امم“ ”امت“کی جمع ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کئی امتیں تھیں، یہ لفظ شاید اس بنا پر کہ جو افراد حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہر ایک ایک قبیلے اور امت کی پیدائش کاسرچشمہ تھا، یا یہ کہ جولوگ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہرگروہ الگ الگ قوم وقبیلہ سے تھا جس سے مجموعتا کئی امتیں بنتی تھیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ”امم“ ان مختلف اصناف حیوانات کے بارے میں ہے کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے کیونکہ قرآن مجید میں ان کے بارے میں لفظ امت آیا ہے، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۳۸ میں ہے: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَاطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إلاَّ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ۔ کوئی روئے زمین پر چلنے والا اور کوئی پرندہ جو اپنے دو پرو کے ساتھ پرواز کرتا ہے ایسا نہیں جو تمہاری طرح کی امت نہ ہو۔ اس بنا پر جس طرح حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے ساتھی پروردگار کی لامتناہی لطف وکر م کے سائے میں طوفان کے بعد ان تمام مشکلات کے باوجود سلامتی وببرکت کے ساتھ جیتے رہے اسی طرح مختلف قسم کے جانور جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کشتی سے اترے تھے خدا کی طرف سے سلامتی اورحفاظت کے ساتھ اور اس کے لطف کے سائے میں زندگی بسر کرتے رہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: اس تمام تر صورت حال کے باوجود آئندہ پھر انھیں مومنین کی نسل سے کئی امتیں وجود میں آئیں گی جنہیں ہم انواع واقسام کی نعتیں بخشیں گے لیکن وہ غرور وغفلت میں ڈوب جائیں گی، اس کے بعد ہمارا دردناک عذاب انھیں پہنچے گا (وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِنَّا عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ صالح لوگوں کا یہ انتخاب اور طوفان کے زریعے نوع انسانی کی اصلاح کوئی آخری اصلاح ہے بلکہ رشدو تکامل کے آخری مرحلہ کو پہنچنے تک انسان اپنے ارادے کی آزادی سے سوء استفادہ کی بنا پر کبھی کبھی شر وفساد کی راہ پر قدم رکھے گا اور پھر سزا اور عذاب کا وہی پروگرام اس جہان میں اسے دامنگیر ہو گا۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ مذکورہ جملے میں لفظ”سنمتعھم“(عنقریب انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہور کر یں گے)آیا ہے اور پھر بلا فاصلہ ان کے لے عذاب وسزا کی بات کی گئی ہے، یہ اس طرح اشارہ ہے کہ کم ظرف اور ضعیف الایمان لوگوں کو نعمت فراواں میسر آجائے تو ان میں شکر گزاریاور اطاعت کا جذبہ بیدار ہونے کی بجائے اکثر طغیان و غرور کے جذبات ابھر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ بندگی خدا کے رشتوں کو پارہ پارہ کر دیتے یںہیں ۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک قول نقل کیا ہے جو بہت جازب ہے، وہ کہتا ہے: ”ھلک المستمتعون فی الدنیا لان الجھل یغلب علیھم والغفلتہ، فلا یتفکرون الا فی الدنیا و عمارتھا وملاذھا“۔ صاحبان نعمت دنیا میں ہلاک اور گمراہ ہوئے ہیں کیونکہ جہالیت اور غفلت نے ان پر غلبہ کیا ہے اور دنیا اور اس کی لذت کے علاوہ انھیں کوئی فکر نہیں۔ یہ حقیقت دنیا کے سرمایہ دار اور دولت مند ممالک کی زندگی میں اچھی طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر برائی میں ہی غوطہ زن ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ دنیا کے مستضعف اور محروم انسانوں کے بارے میں سوچتے نہیں بلکہ الٹا ہر روز ان کا خون چوسنے کے لیے نئی نئی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا انھیں جنگوں اور دیگر المناک حوادث سے دوچار کرتا ہے جو وقتی طور پر ان سے یہ نعمتیں سلب کرلتا یں ہیں یہ اس لے ہوتا ہے کہ شاید وہ بیدار ہوں۔ آخری زیرے بحث آیت جس میں اس سورہ میں جاری حضرت نوح(علیه السلام) کا وقعہ ختم ہوتا ہے تمام مذکورہ واقعات کی طرف عمومی اشارہ ہوتا ہے: یہ سب غیب کی خبرے ہیں کہ جو (اے پیغمبر) ہم تجھ پر وہی کرتے ہیں (تِلْکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیھَا إلَیْک)، قبل ازیں تم اور تمہاری قوم اس سے ہرگز آگاہ نہ تھے (مَا کُنتَ تَعْلَمُھَا اَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذا)۔ جو کچھ تم نے سنا اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور اپنی دعوت کے دوران نوح کو پیش آمدہ تمام مشکلات اور اس کی استقامت دکھاؤ کیونکہ آخرکار کامیابی پرہیزگاروں ہی کےلیے ہے (ا فَاصْبِرْ إنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ انبیاء کے سچے واقعات:قرآن حکیم نے انبیاء کے سچے واقعات پیش فرمائے ہیں، زیر نظر آخر میں آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان واقعات کو ہر قسم کی تحریف اور انحراف سے پاک بیان کرنا صرف وہی آسمانی کے زریعے ممکن ہے ورنہ گذشتہ لوگوں کی کتب تاریخ میں اس قدر افسانے اور خرافات شامل ہیں کہ حق وباطل میں تمیز ممکن نہیں اور جتنی تاریخ قدیم ہوتی جاتی ہے اتنا ہی غلط ملط زیادہ ہوتی جاتی ہے۔لہٰذا انبیاء اور گذشتہ اقوام کی انحراف سے پاک سرگزشت بیان کرنا خود حقانیت قرآن اور پیغمبر اسلام(علیه السلام) کی صداقت کی نشانی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں تفصیل کے لیے کتاب”قرآن و آخرین پیغمبر‘ ‘ ملاحظہ فرمائیں۔) ۲۔انبیاء اور علم غیب:بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف آخری زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علم غیب رکھتے تھے البتہ یہ آگاہی وحی الٰہی کے ذریعے ہوتی تھی اور اتنی ہی جتنی خدا چاہتا تھا یہ نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کچھ جانتے تھے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیات میں علم غیب کی نفی ہوئی ہے تو وہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا علم ذاتی نہیں ہے بلکہ صرف خدا کی طرف سے ہے۔ ۳۔ درس کی ہمہ گیری: زیر بحث آخری آیت ایک اور حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ انبیاء اور گذشتہ اقوام کے واقعات قرآن میں صرف امت اسلامی کو درس دینے کے لیے بیان نہیں گئے بلکہ ایک طرح سے یہ پیغمبر اکرم (ص)کی دلجوئی اور تسلی کے لیے بھی ہیں اور اس آپ کے ارادے اور دل کو تقویت بھی مقصود ہے کیونکہ آپ بھی نوع انسانی میں سے ہیں اور آپ کوبھی خدا کے مدرسے سے اسی طرح درس لینا چاہیئے، اپنے زمانے کے طاغوتوں کے خلاف قیام کے لیے زیادہ تیار ہوناچاہیئے اور راستے میں موجود کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہیئے یعنی جیسے ان تمام ابتلا اور مشکلوں کے باوجود حضرت نوح (علیه السلام) استقامت کا مظاہرہ کرتے تھے اور ان کی مشہور طویل ترین عمر میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے پھر بھی وہ خوشدل تھے اسی طرح آپ بھی کسی حالت میں صبر واستقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ یہاں حضرت نوح (علیه السلام) کی تعجب خیز اور عبرت انگیز داستان کو چھوڑتے ہوئے ہم ایک اور عظیم پیغمبر حضرت ہود (علیه السلام) کہ جن کے نام سے یہ سورہ موسوم ہے کی طرف آتے ہیں۔

50
11:50
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمۡ هُودٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۖ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُفۡتَرُونَ
(ہم نے قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ (اس نے ان سے) کہا: اے میری قوم! اﷲ کی پرستش کرو کیونکہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم (خد پر)صرف تہمت لگاتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
11:51
يَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اے میری قوم! میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا میری اجرت اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا سمجھتے نہیں ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
11:52
وَيَٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡاْ مُجۡرِمِينَ
اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف رجوع کرو تاکہ وہ آسمان سے (بارش) پیہم تمہاری طرف بھیجے اور تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے اور(حق سے) منہ نہ پھیرو اور گناہ نہ کرو۔

بہادر بت شکن

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس سورت میں پانچ عظیم انبیاء کی دعوت، اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات اور دعوت کے نتائج کا تذکرہ ہے گذشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) کے بارے میں گفتگو تھی اور اب حضرت ہود (علیه السلام) کی باری ہے۔ یہ تمام انبیاء ایک ہی منطق اور ایک ہی ہدف کے حامل تھے، انھوں نے نوع بشر کو ہر طرح کی قید وبند سے نجات دلانے اور توحید کی طرف، اس کی تمام شرائط کے ساتھ، دعوت دینے کے لیے قیام کیا، ایمان، خلوص، جد وجہد اور راہ خدا میں استقامت ان سب کا شعار تھا، ان سب کے خلاف مختلف اقوام کا رویہ بہت تنگ اور سخت تھا انھوں نے انبیاء کو طرح طرح سے ستایا اور ان کو جبر واستبداد روا رکھا۔ زیر نظر پہلی آیت میں اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے: ہم قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا (وَإلیٰ عَادٍ اَخَاھُمْ ھُودًا)۔ یہاں حضرت ہود (علیه السلام)کو بھائی کہا گیا تھا، یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ عرب اپنے تمام اہل قبیلہ کو بھائی کہتے تھے کیونکہ نسب کی اصل میں سب شریک ہوتے ہیں، مثلاًبنی اسد کے شخص کو ”اخواسدی“ کہتے ہیں اور مذحج قبیلہ کے شخص کو ”اخومذحج“ کہتے ہیں، یا ہو سکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ حضرت ہود (علیه السلام) کا سلوک اپنی قوم سے دیگر انبیاء کی طرح بالکل برادرانہ تھا نہ کہ حاکم کا سا بلکہ ایسا بھی نہیں جو باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے بلکہ آپ کا سلوک ایسا تھا جو ایک بھائی دوسرے بھائیوں سے کرتا ہے کہ جس میں کوئی امتیاز اور برتری کا اظہار نہ ہو۔ حضرت ہود (علیه السلام) نے بھی اپنی دعوت کا آغاز دیگر انبیاء کی طرح کیا۔ آپ کی پہلی دعوت توحید اور ہر قسم کے شرک کی نفی کی دعوت تھی، ہود نے ان سے کہا: ”اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو“(قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ)۔ ”کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اللہ اور معبود لائق پرستش نہیں“(مَا لَکُمْ مِنْ إلَہٍ غَیْرُہُ)، ”بتوں کے بارے میں تمہارا اعتقاد غلطی اور اشتباہ پر مبنی ہے اور اس میں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو“(إنْ اَنْتُمْ إلاَّ مُفْتَرُونَ)۔ یہ بت خدا کے شریک ہیں نہ خیر وشر کے منشاء ومبدا اور ان سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بڑھ کر کیا افتراء اور تہمت ہو گی کہ اس قدر بے وقعت موجودات کے لیے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت کا اعتقاد رکھو۔ اس کے بعد حضرت ہود (علیه السلام) نے منزید کہا:اے میری قوم ! میں اپنی دعوت کے سلسلے میں تم سے کوئی توقع نہیں رکھتا تم سے کسی قسم کی اجرت نہیں چاہتا کہ تم یہ گمان کرو کہ میری یہ دادوفریاد اور جوش وخروش مال ومقام کے حصول کے لیے ہے یاتم خیال کرو کہ تمھیں مجھے کوئی بھاری معاوضہ دینا پڑے گاکہ جس کی وجہ سے تم تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتے ہو (یَاقَوْمِ لَااَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا)۔ میری اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہیں اور تمام چیزیں جس نے مجھے عطا کی ہیں وہی جو میرا خالق ورازق ہے (إنْ اَجْرِی إلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی)، میں اگر تمہاری ہدایت وسعادت کے لیے کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس کے حکم کی اطاعت میں ہوتا ہے لہٰذا اجروجزا بھی میں اسی سے چاہتا ہوں نہ کہ تم سے۔ علاوہ ازیں کیا تمھارے پاس اپنی طرف سے کچھ ہے جو تم مجھے دو، جو کچھ تمھارے پاس ہے اس کی طرف سے ہے، کیا سمجھتے نہیں ہے (اَفَلَاتَعْقِلُونَ)۔ آخر میں انھیں شوق دلانے کے لیے اور اس گمراہ قوم میں حق طلبی کاجذبہ بیدار کرنے کے لیے تمام ممکن وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے مشروط طور پر مادی جزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو اس جہان میں خدا مومنین کو عطا فرماتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: اے میری قوم ! اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب کرو (وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ)، پھر توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ (ثُمَّ تُوبُوا إلَیْہِ)، اگر تم ایسا کر لو تو وہ آسمان کو حکم دے گا کہ وہ بارش کے حیات بخش قطرے پیہم تمہاری طرف بھیجے (یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا) تاکہ تمھارے کھیت اور باغات کم آبی یا بے آبی کا شکار نہ ہوں اور ہمیشہ سرسبز وشاداب رہیں۔ (تشریحی نوٹ: مدرار“ جیسے کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے ”در“ کے مادہ سے ”پستان سے دودھ گرنے“ کے معنی میں ہے، بعد ازاں بارش برسنے کے معنی میں بھی بولاجانے لگا، یہ بات جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ آسمان سے تم پر بارش برسائے گا بلکہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان کو تم پر برسائے گا یعنی اس قدر بارش برسے گی کی گویا ساراآسمان برس رہا ہے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”مدرار“ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے انتہائی تاکید ظاہر ہوتی ہے) علاوہ ازیں تمھارے ایمان، تقویٰ، گناہ سے پرہیز اور خدا کی طرف رجوع اور توبہ کی وجہ سے تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا (وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إلیٰ قُوَّتِکُمْ)۔ یہ کبھی گمان نہ کرو کہ ایمان وتقویٰ سے تمہاری قوت میں کمی واقع ہو گی ایسا ہرگز نہیں بلکہ تمہاری جسمانی و روحانی قوت میں اضافہ ہوگ، اس کمک سے تمہارا معاشرہ آبادتر ہو گا، جمعیت کثیر ہو گی، اقتصادی حالات بہتر ہوں گے اور تم طاقتور، آزاد اور خود مختار ملت بن جاؤ گے۔لہٰذا راہ حق سے روگردانی نہ کرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ رکھو (ولَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ)

چند قابل توجہ نکات ۱۔ تمام انبیاء کی دعوت کا خمیر توحید ہے

تاریخ انبیاء نشاندہی کرتی ہے کہ ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے کیا۔درحقیقت انسانی معاشرے کی کسی قسم کی اصلاح اس دعوت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ معاشرے کی وحدت، ہمکاری، تعاون، ایثار اور فداکاری سب ایسے امور ہیں جو توحید معبود کے سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں۔ رہی بات شرک کی تو وہ ہر قسم کی پراگندگی، انتشار، تضاد، اختلاف، خود غرضی، خود پرستی اور انحصار طلبی کا سرچشمہ ہے اور ان مفاہیم کا شرک وبت پرستی کے وسیع مفہوم سے تعلق کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔ جو شخص خود محور اور خود غرض ہو وہ صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور اسی بنا پر وہ مشرک ہے۔ توحید ایک شخص کے قطرہ وجود کو معاشرے کے وسیع سمندر میں شامل کر دیتی ہے۔ موحد ایک عظیم وحدت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا یعنی وہ سارے انسانوں اور بندگان خدا کو ایک معاشرے کی صورت میں دیکھتاہے۔ جو برتری کے خواہشمند ہیں وہ شرک کی ایک اور قسم سے وابستہ ہیں، اسی طرح جو ہمیشہ اپنے ہم نوع افراد سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور اپنے مفادات کو دوسرے کے فائدے سے جدا سمجھتے ہیں تو یہ دوگانگی یا چند گانگی سوائے شرک کے مختلف چہروں کے اور کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع اصلاحی پروگراموں کو سب انبیاء نے یہیں سے شروع کیا، ان کی پہلی دعوت۔دعوت توحید تھی۔ توحید یعنی توحید معبودپھر توحید کلمہ، توحید عمل اور توحید معاشرہ۔

۲۔سچے رہبر اپنے پیروکاروں سے جزا نہیں چاہتے

ایک حقیقی پیشوا اور رہبر اس صورت میں ہرقسم کے اتہام سے بچ کر انتہائی آزادی سے اپنے مسلک پرکار بند رہ سکتا ہے۔ اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی ہر قسم کی کجروی کی اصلاح کر سکتا ہے ۔ جب وہ ان سے کوئی مادی وابستگی اور احتیاج نہ رکھتا ہو ورنہ وہی احتیاج ان کے دست وپا کی زنجیر بن جائے گی اور اس کی زبان وفکر کی بندش کا سامان ہو جائے گا۔ منحرف اور کج رو لوگ اسی طریقے سے اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے، مادی امداد منقطع کرنے کی دھمکی د یں گے یا امداد بڑھانے کی پیش کش کریں گے۔ کوئی رہبر کتنا ہی صاف دل اور مخلص کیوں نہ ہو پھر بھی انسان ہوتاہے، اور ہو سکتا ہے اس مرحلہ پر اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات میں ہے کہ انبیاء اپنی دعوت کی ابتدا میں صراحت سے اعلان کرتے اور بتاتے تھے کہ وہ مادی احتیاج اور اجر کی توقع اپنے پیروکاروں سے نہیں رکھتے۔ انبیاء کا یہ کردار تمام رہبروں کے لیے نمونہ اور ماڈل ہے خصوصا روحانی اور مذہبی رہبروں اور رہنماؤں کے لیے۔ البتہ چونکہ وہ اپنا تمام وقت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں صرف کرتے ہیں لہٰذا ان کی ضروریات صحیح طریقے پر پوری ہونا چاہیں، امدادی وسائل اور اسلامی بیت المال ایسی افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہیا کیا گیا ہے اور بیت المال کی تشکیل کا ایک فلسفہ اور وجہ یہی ہے۔

۳۔ گناہ۔معاشرے کی تباہی

مندرجہ بالا آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں روحانی اورمادی مسائل میں ایک واضح تعلق موجود ہے، یہاں گناہ سے استغفار، خدا کی طرف رجوع اور توبہ کو آبادی، خوشی، شادابی اور قوت میں اضافے کے ذریعے کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی اور بہت سی آیات میں بھی نظر آتی ہیں، منجملہ ان کے سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی فرمایا گیا ہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اَنْھَارً. ان سے میں نے کہااپنے گناہوں سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں استغفار کرو کہ وہ بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے در پے تم پر آسمان سے بارش برسائے اور مال واولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے اور تمھارے لیے باغات اور نہریں مہیا کرے۔ (نوح:۱۰۔۱۲) یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ: ربیع بن صبیح کہتا ہے کہ میں حسن (علیه السلام)کے پاس تھا۔ ایک شخص دروازے سے داخل ہوا۔اس نے اپنی آبادی کی خشک سالی کی شکایت کی، حسن (علیه السلام) نے اس سے کہا: استغفار کرودوسراآیا اس نے فقر وفاقہ کی شکایت کی۔ اس سے بھی کہا: استغفار کرو، تیسرا آیا، اس نے کہا: دعا کریں خدا مجھے بیٹا عطا کرے، اس بھی کہا: استغفار کرو، ربیع کہتا ہے کہ میں (تعجب کیا اور)اس سے کہا: جو شخص آپ کے پاس آتا ہے اور وہ کوئی مشکل پیش کرتا ہے اور نعمت کا تقاضا کرتا ہے اسے یہی حکم دیئے جا رہے ہو اور سب سے کہتے ہو کہ استغفار کرو اور خدا سے بخشش طلب کرو، اس نے میرے جواب میں کہا: جو کچھ میں نے کہا ہے اپنی طرف سے نہیں کہا، میں یہ مطلب کلام خدا سے لیا ہے اور یہ وہی بات ہے جو وہ اپنے پیغمبر ؑنوح سے کہتا ہے، اس کے بعد انھوں نے سورہ نوح کی ان (مذکورہ)آیات کی تلاوت کی۔ جن لوگوں کی عادت ہے وہ ایسے مسائل کو معمولی سمجھتے ہوئے گزرجاتے ہیں وہ ان امور میں موجود ایک روحانی تعلق جانے بغیر ان کے قائل ہو جاتے ہیں اور مزید کوئی تجربہ وتحلیل نہیں کرتے لیکن اگر زیادہ غوروفکرسے کام لیا جائے تو ہمیں ان امور کے درمیان تربیتی رشتے نظرآئیں گے جن کی طرف توجہ کرنے سے مادی اور روحانی مسائل کو آپس میں اس طرح مالایا جا سکتا ہے جیسے ایک کپڑے کے ریشے آپس میں ملے ہوتے ہیں یا جیسے کسی درخت کی جڑ تنااور پھل پھول آپس میں مربوط ہوتے ہیں۔ کونسا ایسا معاشرہ ہے جو گناہ، خیانت، نفاق، چوری، ظلم اور تن پروری سے آلودہ ہو اور پھر بھی وہ آباد اور پربرکت رہے۔ کونسا معاشرہ ہے جو تعاون وہمکاری کی روح گنوا بیٹھے جنگ، نزاع اور خونریزی اس کی جگہ لے لے اور پھر بھی اس کی زمینیں سرسبز وشاداب ہوں اور وہ اقتصادی طور پر خوشحال ہو۔ کونسا معاشرہ ہے جس کے لوگ طرح طرح کی ہواووہوس میں آلودہ ہوں پھر بھی وہ طاقتور ہواور دشمن کے مقابلے میں پامردی سے کھڑا ہوسکے۔ صراحت سے کہنا چاہیئے کہ کوئی ایسا اخلاقی مسئلہ نہیں مگر یہ کہ وہ لوگوں کی مادی زندگی پر مفید اور اصلاحی اثر کرے، اسی طرح کوئی صحیح اعتقاد اور ایمان ایسا نہیں کہ جو معاشرے کو آباد، آزاد، بااستقلال اور طاقتور بنانے میں موثر نہ ہو۔ جو لوگ اخلاقی مسائل، مذہبی عقیدہ اور توحید پر ایمان کو مادی مسائل سے جدا کرکے دیکھتے ہیں انھوں نے نہ معنوی اور روحانی مسائل کو اچھی طرح سے پہچانا ہے اور نہ مادی مسائل کو۔ اگر دین لوگوں میں تکلفات اور تشریفات، ظاہری آداب اور مفہوم ومعنی سے خالی شکل میں ہو تو واضح ہے کہ معاشرے کے مادی نظام میں اس کی کوئی تاثیر نہیں ہو گی۔لیکن اگر روحانی اعتقادات روح انسانی کی عمیق گہرائیوں میں اس طرح سے اتر جائے کہ اس کے اثرات ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زبان اور جسم کے تمام ذرات میں ظاہر ہوں تو ان اعتقاد کے معاشرے پر اصلاحی آثار کسی سے مخفی نہیں رہیں گے۔ ہو سکتا ہے مادی برکات کے نزول سے استغفار کے تعلق کے بعض مراحل میں ہم صحیح طورپر نہ سمجھ سکیں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کے بہت سے حصے ہمارے لیے قابل فہم ہیں۔ دور حاضر میں ہمارے اسلامی ممالک ایران کے اسلامی انقلاب میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کیا ہے کہ اسلامی اعتقادات اور اخلاقی اوروحانی قوت کس طرح دور حاضر کی طاقتورترین اسلحہ، طاقتور افواج اور استعمار ی سپر طاقتوں پر کامیاب ہو گی یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ دینی عقائد اور مثبت روحانی اخلاق کس حد تک اجتماعی اور سیاسی مسائل میں کارگر ہیں۔

۴۔ ”یزدکم قوة الیٰ قوتکم“ سے کیامراد ہے؟

اس جملے کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ خداوند عالم توبہ اور استغفار کے نتیجے میں تمہاری قوت میں قوت کا اضافہ کرے گا۔ بعض نے اس جملے کو انسانی قوت میں اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے (جیسا کہ سورہ نوح کی آیات میں بھی اس طرف اشارہ ہوا ہے)۔ بعض نے معنوی طاقت میں مادی طاقت کے اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن آیت کی تعبیر مطلق ہے اور ہر قسم کی مادی اور معنوی طاقت میں اضافے کا مفہوم اس میں شامل ہے اور اس میں ان تمام تفاسیر کا مفہوم موجود ہے۔

53
11:53
قَالُواْ يَٰهُودُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٖ وَمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيٓ ءَالِهَتِنَا عَن قَوۡلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِينَ
انہوں نے کہا: اے ہود! تو ہمارے لئے کوئی دلیل نہیں لایا۔ ہم اپنے خداؤں کو تیری بات پر نہیں چھوڑتے اور ہم (بالکل) تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
11:54
إِن نَّقُولُ إِلَّا ٱعۡتَرَىٰكَ بَعۡضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوٓءٖۗ قَالَ إِنِّيٓ أُشۡهِدُ ٱللَّهَ وَٱشۡهَدُوٓاْ أَنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ
ہم (تیرے بارے میں ) صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض خدا ؤں نے تجھے نقصان پہنچایا ہے (اور تیری عقل چھین لی ہے)۔ (ہود نے) کہا: میں خدا کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جنہیں تم (خدا کا) شریک قرار دیتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
11:55
مِن دُونِهِۦۖ فَكِيدُونِي جَمِيعٗا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
وہ جو اس (خدا) کے علاوہ ہیں (کہ جنہیں تم پوجتے ہو) اب جبکہ ایسا ہے تو تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو اور مجھے (لمحہ بھر کی بھی)مہلت نہ دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
11:56
إِنِّي تَوَكَّلۡتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
(کیونکہ) میں نے اﷲ پر توکل کر لیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے کوئی چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس پر وہ تسلط نہیں رکھتا(لیکن ایسا تسلط جو عدالت پر مبنی ہے کیونکہ) میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
11:57
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّي قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ
اور اگر تم منہ موڑ لو تو جو پیغام میرے ذمہ تھا وہ میں نے تم تک پہنچا دیا ہے اور خدا دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین کر دے گا اور تم اسے ذرہ بھر نقصان بھی نہیں پہنچا سکتے۔ میرا پروردگار ہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے۔

حضرت ہود (علیه السلام) کی قوی منطق

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اب دیکھتے ہ ہیں کہ اس سر کش اور مغرور قوم نے، یعنی قوم عاد نے اپنے بھائی ہود، ان کے پند ونصائح اور ہدایت و رہنمائی کے مقابلہ میں کیا رد عمل ظاہر لیا۔ ”انھوں نے کہا: اے ہود ! تو ہمارے لیے کوئی وضح دلیل نہیں لاےا“(قَالُوا یَاھُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ)، ہر ہرگزتیری باتو پر اپنے بتوں اور خداؤں کا دامن نہیں چھوڑے گے (وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِی آلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ)اور ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے (وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ)۔ ان تین غیر منطقی جملوں کے بعد انھوں نے مزید کہا:”ہمارا خیال ہے کہ تو دیوانہ ہو گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ تو ہمارے خداؤں کے غضب کا شکار ہوا ہے اور انھوں نے تیری عقل کو آسیب پہچایا ہے“(إنْ نَقُولُ إلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِھَتِنَا بِسُوءٍ)۔ اس میں شک نہیں کہ جیسے تمام انبیاء کا طریقہ کار ہوتا ہے اور ان کی ذمہ داری ہے۔ حضرت ہود نے انھیں اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لے کئی ایک معجزے دیکھائے ہوں گے۔ لیکن انھوں نے اپنے کبرو غرور کی وجہ سے دیگر ہٹ دھرم قوموں کی طرح معجزات کا انکار کیا اور انھیں جادو قرار دیا اور انھیں اتفاقی حوادث گردانا کی جنہیں کسی معاملے میں دلیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان باتوں سے قطع نظر بت پرستی کی نفی کے لیے تو کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور جو شخص بھی تھوڑی سی عقل شعور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو تعصب سے دور کرلے تو وہ اچھی طرح سے اس کا بطلان سمجھ سکتا ہے۔ فرض کر یں کہ اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے تو کیا یہ مسئلہ منطقی و عقلی دلائل کے علاوہ کسی معجزہ کا بھی محتاج ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو کچھ حضرت ہود(علیه السلام) کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں آیا ہے وہ خدائے یگانہ کی طرف دعوت، اس کی طرف بازگشت، گناہوں سے استغفار اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی ہے۔یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہیں عقلی دلیل سے بالکل ثابت کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگرچہ”بینة“ سے نفی سے ان کی مراد عقلی دلیل کی نفی تھی۔ بہرحال انھوں نے یہ جو کہا تھا کہ ہم ہرگز تیری باتوں کی وجہ سے اپنے بتوں کو فراموش نہیں کریں گے ان کی ہٹ دھرمی کی بہترین دلیل ہے کیونکہ عقل مند اور حق جو انسان حق کی بات کسی کی طرف سے ہو اسے قبول کرلیتا ہے۔ خصوصا یہ جملہ کہ انھوں نے حضرت ہود(علیه السلام) کو ”جنون“ کہ تہمت لگائی۔ اور ”جنون“ بھی وہ جو ان کے زعم میں ان کے خداؤں کے غضب کا نتیجہ تھا، ان کے بیہودہ پن اور خرافات پرستی کی خود ایک بہترین دلیل ہے۔ بے جان اور بے شعور پتھر اور لکڑیاں جو خود اپنے”بندوں“ کی مدد کی محتاج ہیں وہ ایک عقلمند انسان سے کس طرح اس کا عقل وشعور چھین سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ان کے پاس ہود (علیه السلام) کے دیوانہ ہونے کی کونسی دلیل تھی، سوائے اس کے کہ انھوں نے ان کی سنت شکنی کی اور ان کے ماحول کے بیہودہ رسم ورواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر یہ دیوانگی کی دلیل ہے تو پھر تمام مصلحین جہان اور انقلابی لوگ جو غلط روش اور طریقوں کے خلاف قیام کرتے ہیں سب دیوانے ہونے چاہیئں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، گذشتہ دور اور آج کی تاریخ نیک اندیش اور بدعت شکن مردوں اور عورتوں کی طرف یہ نسبت دئےے جانے سے بھری پڑی ہے، کیونکہ وہ خرافات اور استعمار اور اس کے ہتھکنڈوں اور شکنجوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ بہرحال حضرت ہود(علیه السلام)کی ذمہ دارہ تھی کہ اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کو دندان شکن جواب دیتے، ایسا جواب جو منطق کی بنیاد پر بھی ہوتا اور طاقت سے بھی ادا ہوتا۔ قرآن کہتا ہے کہ انھوں نے ان کے جواب میں چند جملے کہے: ”میں خدا کو گواہی کے لیے بلاتا ہوں اور تم سب بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں اور تمھارے خداؤں سے بیزار ہوں“(قَالَ إنِّی اُشْھِدُ اللهَ وَاشْھَدُوا اَنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَمن دونہ)۔یہ اس طرف اشارہ تھا کہ اگر یہ بت طاقت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ مجھے ختم کر دیں، میں جو ان کے خلاف علی الاعلان جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہوں اور یہ اعلانیہ ان سے بیزاری اور تنفر کا اعلان کررہا ہوں تو وہ کیوں خاموش اور معطل ہیں، کس چیز کے منتظر ہیں اور کیوں مجھے نابود اور ختم نہیں کرتے۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ نہ فقط یہ کہ ان سے کچھ نہیں ہو سکتا بلکہ تم بھی اتنی کثرت کے باوجود کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے”اگر سچ کہتے ہو تو تم سب ہاتھوں میں ہاتھ دے کر میرے خلاف جو سازش کر سکتے ہو کرگزرو اور مجھے لمحہ بھر کی بھی مہلت نہ دو“(فَکِیدُونِی جَمِیعًا ثُمَّ لَاتُنْظِرُون)۔ میں تمہاری اتنی کثیر تعداد کو کیوں کچھ نہیں سمجھتا اور کیوں تمہاری طاقت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم کہ جو میرے خون کے پیاسے ہو اور ہر قسم کی طاقت رکھتے ہو۔ اس لیے کہ میرا رکھوالا اللہ ہے، وہ کہ جس کی قدرت سب طاقتوں سے بالا تر ہے، ”میں نے خدا پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے“(انِّی تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُمْ)۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا، یہ اس امر کی نشانی ہے کہ میں نے دل کسی اور جگہ نہیں باندھ رکھا۔ اگر صحیح طور پر سوچو تو یہ خود ایک قسم کا معجزہ ہے کہ ایک انسان تن وتنہا بہت سے لوگوں کے بیہودہ عقائد کے خلاف اٹھ کھڑا ہو جب کہ وہ طاقتور اور متعصب بھی ہوں یہاں تک کہ انھیں اپنے خلاف قیام کی تحریک کرے اس کے باوجود اس میں خوف وخطر کے کوئی آثار نظر نہ آئیں اور پھر نہ اس کے دشمن اس کے خلاف کچھ کر سکتے ہوں۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ نہ صرف تم بلکہ”عالم وجود میں کوئی چلنے پھرنے والا نہیں کہ جو خدا کے قبضہ قدرت اور فرمان کے ماتحت نہ ہو“ اور جب تک وہ نہ چاہے ان سے کچھ نہیں ہو سکتا (مَا مِنْ دَابَّةٍ إلاَّ ھُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا)۔ لیکن یہ بھی جان لوکہ میرے خدا کی قدرت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خود سری اور خود خواہی کہ بنیاد پر عمل میں آئے اور وہ اسے غیر حق صرف کرے بلکہ ”میرا پروردگار ہمیشہ صراط مستقیم اور جادہ عدل پر ہے”اور وہ کوئی کام حکمت کے برخلاف انجام نہیں دیتا (إنَّ رَبِّی عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔

دو اہم نکات

۱۔ ”ناصیة“ کا مفہوم: ”ناصیة“ اصل میں سر کے اگلے حصے کے بالوں کے معنی میں ہے اور ”نصا“(بروزن”نصر“) کے مادہ سے اتصال اور پیوستگی کے مفہوم میں آیا ہے۔”اخذ ناصیة“ (سر کے اگلے حصے کے بال پکڑنا) کسی چیز پر تسلط اور قہر وغلبہ کے لیے کنایہ ہے۔ یہ جو مذکورہ آیت میں خدا فرماتا ہے کہ ”کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر یہ کہ ہم اس کی ”ناصیة“ پکڑ لیتے ہیں“ ہر چیز پر اس کی قدرت قاہرہ کا اشارہ ہے یعنی کوئی موجود اس کے ارادے کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا کیونکہ عام طور پر جب کسی انسان یا حیوان کے سر کے اگلے بالوں کو پکڑ لیاجائے تو اس میں مقابلے کی طاقت نہیں رہتی۔ یہ تعبیر اس لیے ہے کہ مغرور مستکبرین، خود پسند بت پرست اور ظالم حکومت کے خواہاں یہ نہ سوچیں کہ اگر چند دن کے لیے انھیں موقع مل گیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ پروردگار کے خلاف کچھ قیام کرنے لگیں۔ انھیں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے اور مرکب غرور سے نیچے اترنا چاہیئے۔

میرا رب سیدھے راستے پر = کیا مطلب؟

۲۔”ان ربی علیٰ صراط مستقیم:“کا مطلب یہ جملہ نہایت خوبصورت ہے اور خدا کی ایسی قدرت جو عدالت آمیز ہے اس کے بارے میں یہ زیبا ترین تعبیرات میں سے ہے کیونکہ عموماً طاقتور جھوٹے اور ظالم ہوتے ہیں لیکن اللہ اپنی بے انتہا قدرت کے باوجود ہمیشہ عدالت کی صراط مستقیم پر ہے۔اس کا راستہ ہمیشہ حکمت، نظم اور حساب وکتاب کا صاف وشفاف راستہ ہے۔ اس نکتہ کو بھی نگاہ سے دور نہیں رہنا چاہیئے کہ حضرت ہود(علیه السلام) کی باتیں مشرکین کے سامنے یہ حقیقت بیان کر رہی تھیں کہ ہٹ دھرم دشمن جس قدر اپنی ہٹ دھرمی میں اضافہ کریں ایک حقیقی رہبر کو چاہیئے کہ وہ اپنی استقامت وپامردی میں اتنا ہی اضافہ کر۔، قوم نے حضرت ہود(علیه السلام) کو بتوں سے بہت زیادہ خائف کرنے کی کوشش کی تھی لہٰذا انھوں نے بھی اس کے مقابلے میں انھیں شدید ترین طریقے سے خدا کی قدرت قاہرہ سے ڈرایا۔ آخرکار حضرت ہود(علیه السلام) ان سے کہتے ہیں: اگر تم راہ حق سے روگردانی کرو گے تو اس میں مجھے کوئی نقصان نہیں ہو گاکیونکہ میں نے اپنا پیغام تم تک پہنچادیا ہے (فَإنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَا اُرْسِلْتُ بِہِ إلَیْکُمْ)۔ یہ جو اس طرف اشارہ ہے کہ گمان نہ کرو کہ اگر میری دعوت قبول نہ کی جائے تو میرے لیے کوئی شکست ہے، میں نے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور فریضے کی انجام دہی کامیابی ہے اگرچہ میری دعوت قبول نہ کی جائے۔ دراصل یہ سچے رہبروں اور راہ حق کے پیشواؤں کے لیے ایک درس ہے کہ انھیں اپنے کام پر کبھی بھی خستگی وپریشانی کا احساس نہیں ہونا چاہیئے۔ چاہے لوگ ان کی دعوت قبول نہ کریں۔ جیسا کہ بت پرستوں نے آپ کو دھمکی دی تھی۔اس کے بعد آپ انھیں شدید طریقے سے عذاب الٰہی کی دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں: اگر تم نے دعوت حق قبول نہ کی تو خدا عنقریب تمھیں نابود کر دے گا اور کسی دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین بنا دے گا اور تم اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے (وَیَسْتَخْلِف رَبِّی قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّونَہُ شَیْئًا)۔ یہ قانون خلقت ہے کہ جس وقت لوگ نعمت ہدایت یا خدا کی دوسری نعمتیں قبول کرنے کے اہل نہ ہوں تو وہ انھیں اٹھا لیتا ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے اہل گروہ کو لے آتا ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ میرا پروردگار ہر چیز کا محافظ ہے اور ہر حساب وکتاب کی نگہداری کرتا ہے (إنَّ رَبِّی عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ حَفِیظٌ)، نہ موقع اس کے ہاتھ سے جاتا ہے اور نہ وہ موقع کی مناسبت کو فراموش کرتا ہے، نہ وہ اپنے انبیاء اور دوستوں کو طاق نسیاں کرتا ہے اور نہ کسی شخص کا حساب وکتاب اس کے علم سے اوجھل ہوتا ہے بلکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہرچیز پرمسلط ہے۔

58
11:58
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُودٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَنَجَّيۡنَٰهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ
اور جس وقت ہمارا فرمان آ پہنچا تو ہود اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انہیں اپنی رحمت سے ہم نے نجات دی اور عذاب شدیدسے انہیں بچا لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
11:59
وَتِلۡكَ عَادٞۖ جَحَدُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡاْ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ
اور یہ قوم عاد ہی تھی کہ جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکارکیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ستمگر حق کے دشمن کے حکم کی پیروی کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
11:60
وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ عَادٗا كَفَرُواْ رَبَّهُمۡۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّعَادٖ قَوۡمِ هُودٖ
اس جہان میں ان کے پیچھے لعنت (اور رسوائی رہی) اور قیامت میں (کہاجائے گا کہ) جان لو کہ عاد نے اپنے پروردگار سے کفروانکار کیا، دور ہو عاد قوم ہود(خدا کی رحمت اور خیروسعادت سے)

اس ظالم قوم پر۔ابدی لعنت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

قوم عاد اور ان کے پیغمبرحضرت ہود(علیه السلام) کی سرگذشت سے مربوط آیات کے آخری حصے میں ان سرکشوں کی، دردناک سزاا ور عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن پہلے کہتا ہے: جب ان کے عذاب کے بارے میں ہماراحکم آپہنچا تو ہود اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لاچکے تھے ہماری ان پر رحمت اورلطف خاص نے انھیں نجات بخشی (وَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُودًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا)، پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا گیاہے: اور ہم نے ان صاحب ایمان لوگوں کو شدید اور غلیظ عذاب سے رہائی بخشی (وَنَجَّیْنَاھُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِیظٍ)۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ بے ایمان، سرکش اور ظالم افراد کے لیے عذاب وسزا بیان کرنے سے پہلے صاحب ایمان قوم کی نجات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ خیال پیدا نہ ہو جیسا کہ مشہور ضرب المثل ہے کہ عذاب الٰہی کے موقع پر خشک وتر سب جل جاتے ہیں کیونکہ وہ حکیم وعادل ہے اور محال ہے کہ وہ ایک بھی صاحب ایمان شخص کو بے ایمان اور گنہگارلوگوں کے درمیان عذاب کرے۔بلکہ رحمت الٰہی ایسے افراد کو عذاب وسزا کے نفاذ سے پہلے ہی امن وامان کی جگہ پر منتقل کر دیتی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اس سے پہلے کی طوفان آئے حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی تیار تھی اور اس سے پہلے کہ حضرت لوط (علیه السلام) کے شہر تباہ وبرباد ہوں حضرت لوط (علیه السلام) اور آپ کے انصار راتوںرات حکم الٰہی سے وہاں سے نکل آئے۔ اس سلسلے میں کہ لفظ”نجینا“ کا اس جملے سے کیوں تکرار کیا گیا مختلف تفسیریں ہیں۔ بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ”نجینا“ دنیاوی عذاب سے نجات پانے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے مرحلے میں آخرت کے عذاب کی طرف کہ جو ”غلیظ“ ہونے کی صفت سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ رحمت الٰہی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی اگر فوراً لفظ عذاب کا تکرار ہوتا تو مناسب نہ تھا، رحمت کہاں اور عذاب غلیظ کہاں، لہٰذا ”نجینا“ کا تکرار ہوا تاکہ ان دونوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے اور عذاب کی شدت اور تاکید میں بھی کسی قسم کی کمی نہ آئے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ رہنا چاہییے کہ آیات قرآن میں چار مواقع پر عذاب کے لیے”غلیظ“ کی صفت استعمال کی گئی ہے (سورہ ابراہیم:۱۷، لقمان: ۲۴، اور فصلت: ۵۰۔) ان آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب غلیظ کا ربط جہانِ آخرت کے ساتھ ہے، خصوصا سورہ ابراہیم کی آیات جن میں عذاب غلیظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صراحت سے دوزخیوں کی حالت بیان کر رہی ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ دنیاوی عذاب کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو پھر بھی عذاب آخرت کے مقابلے میں خفیف ہے کم اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مناسبت بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جیسا کہ انشاء اللہ سورہ قمر اور سورہ حاقہ میں آئے گا قوم عاد کے لوگ سخت اور بلند قامت تھے، ان کے قدکو کھجور کے درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے ان کی عمارتیں مضبوط، بڑی اور اونچی تھیں یہاں تک کہ قبل اسلام کی تاریخ میں ہے کہ عرب بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت قوم عادہی کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے۔ اسی لیے ان پر آنے والا عذاب بھی انہی کی طرح غلیظ اور سخت تھاجیسا کہ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں آئے گا۔ اس کے بعد قوم عاد کے گناہوں کا خلاصہ تین امور میں بیان کیا گیا ہے: پہلا: یہ کہ انھوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے پیغمبر کی دعوت کے منکر ہو گئے۔ جوکہ واضح دلیل اور مدرک تھا (وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّھِم)۔ دوسرا: یہ کہ وہ عملی لحاظ سے بھی انبیاء کے خلاف عصیان وسرکشی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (وَعَصَوْا رُسُلَہُ)، یہاں ”رسل“ جمع کی صورت میں بیان ہوا ہے، ایسا یا تو اس بنا پر ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی حقیقت کی طرف تھی۔یعنی توحید اور اس کی شاخیں۔ لہٰذا ایک پیغمبر کا انکار تمام پیغمبروں کے انکار کے مترادف ہے، یا اس بنا پر کہ حضرت ہود (علیه السلام) انھیں گذشتہ انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور وہ انکار کرتے تھے۔ تیسرا: گناہ ان کا یہ تھا کہ وہ حکم خدا کو چھوڑ کر حق دشمن ظالموں کی اطاعت کرتے تھے (وَاتَّبَعُوا اَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ)۔ ترک ایمان، انبیاء کی مخالفت اور حق دشمن ظالموں کی پیروی سے بڑھ کر کونسا گناہ تھا۔ ”جبار“ اس شخص کو کہتے ہیں جو غضب سے مارتا، قتل کرتا اور نابود کرتا ہے اور حکم عقل کا پیرو نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں ”جبار“ اسے کہتے ہیں جو دسروں کو اپنی پیروی پرمجبور کرے یا جو اپنی بڑائی اور تکبر کے ذریعے اپنا عیب چھپانا چاہے، اور ”عنید“ وہ ہے جو حق وحقیقت کی بہت زیادہ مخالفت کرے اور کسی صورت میں حق کو قبول نہ کرے۔ یہ دو صفات ہر زمانے کے طاغوتوں اور متکبرین کی واضح صفات میں سے ہیں، کبھی بھی ان کے کان حق بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور اپنے مخالف سے قساوت، بے رحمی اور سختی سے پیش آتے ہیں اور اسے ختم کر دیتے ہیں۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر جبار کا یہی معنی ہے تو پھر قرآن کی سورہ حشر آیہ ۲۳ میں اوردیگر مصادر اسلامی میں خدا کی ایک صفت”جبار“ کیوں ذکر ہوئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل لغت میں جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں ”جبار“ یا مادہ”جبر“ سے قہر وغلبہ اور قدرت کے معنی میں ہے اور یا ”جبران“ کے مادہ سے کسی نقص کے برطرف کرنے کے معنی میں ہے۔ لیکن ”جبار“ چاہے پہلے معنی میں ہویا دوسرے معنی میں، دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے ک کبھی مذمت کی صورت میں اور وہ اس موقع پر جب کوئی انسان اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرکے، تکبر کے ذریعے اور غلط دعویٰ کرکے اپنے کمی اور نقائص کی تلافی کرنا چاہے یا اپنے خواہش سے دوسرے کو مقہور اور ذلیل کرنا چاہے، یہ معنی قرآن کی بہت سے آیات میں آیا ہے، کبھی اسے دیگر قابل مذمت صفات کے ہمراہ بیان کیا گیا ہ، مثلاًمندرجہ بالا آیت میں ”عنید“ کے ساتھ مل کر آیا ہے۔ سورہ مریم آیہ ۳۲میں پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ کی زبانی آئی ہے کہ: ولم یجعلنی جبارا شقیا۔ اور خدا نے مجھے جبار اور شقی قرار نہیں دیا۔ یا بنی اسرائیل کے حالات میں بیت المقدس کے ظالم ساکنین کے بارے میں ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا: ان فیھا قوماً جبارین۔ اس سرزمین پر ظالم اور ستم پیشہ قوم رہتی ہے (مائدہ: ۲۲) کبھی لفظ”جبار“ انھیں دونوں مادوں سے مدح کے معنی میں استعمال ہوتاہے، اس حوالے سے ”جبار“ اسے کہا جاتا ہے جو لوگوں کی حاجات اور نقائص کی تلافی کرتا ہو۔ اسی طرح اس جو جو ہڈیوں کو جوڑتا ہو یا یہ کہ اتنی بےپناہ قدرت کا مالک ہو کہ اس کا غیر اس کے سامنے خاضع اور ذلیل ہو لیکن وہ کسی پر ظلم نہ کرنا چاہے یا اپنی قدرت سے استفادہ نہ کرنا چاہے۔اسی بنا پر جب ”جبار“ اس معنی میں ہو تو دوسری صفات مدح ساتھ ہوتی ہے، جیسا کہ سورہ حشر کی آیہ ۲۳ میں ہے: الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبارالمتکبر۔ وہ پاک ومنزہ فرمانروا ہے کہ جس سے اس کے بندے کبھی ظلم نہیں دیکھتے اور نگہبان ومحافظ ہے، ناقابل شکست ہے، قدرت مند ہے اور برتر ہے۔ واضح ہے کہ قدوس، سلام اور مومن جیسے صفات کبھی صورت”جبار“بمعنی ”ظالم“ اور ”متکبر“ بمعنی”اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا“ سے مناسبت نہیں رکھتیں، یہ عبارت اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ یہاں”جبار“ دوسرے معنی میں ہے۔ بعض حضرات نے چونکہ ”جبار“ کے صرف کچھ مواقع استعمال نگاہ میں رکھے ہیں اور اس کے لغوی اور متعدد معانی پر غور نہیں کیا لہٰذا ان کا خیال یہ ہے کہ اس لفظ کا خدا کے لیے استعمال صحیح نہیں ہے (یہی صورت ان کے نزدیک لفظ ”متکبر“ کی ہے)لیکن اس کے اصلی لغوی مفہوم کو نظر میں رکھنے سے اعتراض برطرف ہو جاتا ہے (بحوالہ کتاب تاج العروس از زبیدی اور مفردات از راغب، اور تفسیر مجمع البیان اور تفسیر المنار کا زیر بحث آیات اور سورہ حشر کی آخری آیات کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں)۔ زیر بحث آخری آیت جہاں حضرت ہود (علیه السلام) اور قوم عاد کی داستان ختم ہورہی ہے ان کے برے اور نادرست اعمال کا نتیجہ یوں بیان کیا گیا ہے:وہ ان کے اعمال کی وجہ سے اس دنیا میں ان پر لعنت ونفرین ہوئی اور ان کے مرنے کے بعد ان کے برے نام اور رسوا کن تاریخ کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہ رہی (وَاُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَةً)، اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جان لو! قوم عاد نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تھا (وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ اَلَاإنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّھُمْ)، دور ہوجا عاد قوم ہود رحمت پروردگار سے (اَلَابُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ ھُود)۔ باوجود یکہ لفظ”عاد“ اس قوم کے تعارف کے لیے کافی ہے لیکن مندرجہ بالا آیت میں عاد کے ذکر کے بعد ”قوم ہود“ کے الفاظ بھی آئے ہیں جن سے تاکید بھی ظاہر ہوتی ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دلسوز پیغمبر حضرت ہود (علیه السلام) کو یہ سب تکلیفیں پہنچائیں، انھیں تہمتیں دیں اور اسی بنا پر رحمت الٰہی سے دور ہیں۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ قوم عاد تاریخ کی نگاہ میں

بعض مغربی مورخین جن میں اسپرینگل بھی شامل ہے،نے کوشش کی ہے کہ قوم عاد کا تاریخی طور پر انکار ہی کر دیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آثار اسلامی کے علاوہ اس کا کہیں ذکر نہیں اور انھیں کتب عہد قدیم (تورات وغیرہ)میں اس کا نام ونشان نہیں ملا۔ لیکن ایسے ماخذ موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ قصہ عاد عرب کے زمانہ جاہلیت میں مشہور تھا اور قبل اسلام کے شعراء نے قوم ہودکے بارے میں گفتگو کی ہے۔ یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت ”عاد“ کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ لفط”عاد“ کا اطلاق دو قبیلوں پر ہوتا ہے، ایک قبیلہ کا تعلق تاریخ سے ہے، یہ جزیرہ عربستان میں زندگی گزارتا تھا، یہ قبیلہ ختم ہو گیا اور اس کے آثار بھی مٹ گئے، تاریخ بشر میں ان کی زندگی کے چند ناقابل اطمینان افسانوں کے اور کوئی چیز محفوظ نہیں۔ ان مورخین نے قرآن میں سورہ نجم آیہ ۵۰ کی تعبیر ”عاد الاولیٰ“کو اسی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کا تعلق تاریخ انسانی کے دور سے ہے تو احتمال یہ ہے کہ وہ میلاد مسیح سے کوئی ۷۰۰ سال قبل یا اس سے بھی پہلے تھے۔ اس قوم کو بھی عاد کہتے تھے۔یہ قوم سرزمین احقاف یا یمن میں رہتی تھی۔ یہ طویل القامت، قوی جسم اور طاقتور لوگ تھے۔ اسی وجہ سے وہ بڑے جنگجو سمجھے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں ان لوگونئے تمدن وثقافت میں بہت ترقی کی، یہ لوگ آباد شہروں، سرسبز زمینوں اور شاداب باغات کے مالک تھے، جیسا کہ قرآن ان کی توصیف میں کہتا ہے: التی لم یخلق مثلھا فی البلاد۔ ان کی نظیر دنیا کے دیگر شہروں میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ (فجر: ۸) اسی بنا پر بعض مستشرقین نے کہا ہے کہ قوم عاد برہوت کے علاقہ میں زندگی بسرتی تھی (یہ علاقہ حضرموت یمن کے نواح میں ہے) اور آتش نشانیوں کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگ ختم ہو گئے اور باقی ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ بہرحال یہ قوم ایک عرصہ تک ناز و نعمت میں زندگی بسر کرتی رہی لیکن جیسا کہ زیادہ تر نازونعمت میں پلنے والے لوگوں کا شیوہ ہے، وہ غرور غفلت میں مست ہو گئے اور دوسروں پر ظلم وستم ڈھاکر اور استعماری ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے اپنی طاقت سے غلط فائدہ اٹھایا۔ مستکبرین اور جبارین عنید کو انھوں نے اپنا پیشوا بنایا۔ دین بت پرستی کو رائج کیا اور اپنے پیغمبر حضرت ہود(علیه السلام) کی پندونصیحت اور ان کے نظریات وافکار واضح کرنے اور ان کے لیے کی گئی اتمام حجت کی سعی وکاوش کو انھوں نے نہ صرف ذرہ بھر کوئی حیثیت نہ دی بلکہ اس عظیم مرد حق طلب کیا آواز خاموش کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ کبھی انھیں دیوانگی اور حماقت سے نسبت دی اور کبھی اپنے خداؤں کے غضب سے انھیں ڈرایالیکن آپ پہاڑ کی طرح اس مغرور اور طاقتور قوم کے مقابلے میں ڈٹے رہے، آخر کار تقریبا چار ہزار افراد کو آپ نے پاکباز بنایا اور انھیں اپنے دین حق کی طرف لے آئے لیکن دوسرے لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور عناد پر باقی رہے۔ جیسا کہ سورہ ذارعات، حاقہ اور قمر میں آئے گا، آخر کار بہت شدید اور تباہ کن طوفان سات راتیں اور چھ دن ان پر مسلط رہا، اس طوفان نے ان کے محلات برباد کردئے اور ان کی لاشیں خزاں کے پتوں کی طرح ہوا کی تیز لہروں نے ادھر ادھر بکھیر دیں، سچے مومنین کو پہلے ہی وہاں سے نکال لیا گیا تھا، خدائے تعالی نے انھیں نجات دی اور ان کی زندگی تمام جابروں اور خودسروں کے لیے ایک عظیم درس عبرت قرار پائی۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، تفسیر مجمع البیان اور کتاب اعلام القرآن 1)

۲۔ قوم عاد پر ابدی لعنت

یہ تعبیر اور ایسی دیگر تعبیرات مختلف اقوام کے لیے قرآن کی کئی ایک آیات میں آئی ہیں۔ ان اقوام کے کچھ حالات بیان فرماکر اس طرح سے فرمایا گیا ہے مثلاً: اَلَابُعْدًا لِثَمُودَ (ہود:۶۸) اَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ (ہود:۹۵) فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔ (مومنون:۴۱) فَبُعْدًا لِقَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ۔ (مومنون:۴۴) اور اسی طرح حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان میں ان کی قوم کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں: وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ (ہود: ۴۴) ان تمام آیات میں نفرین ایک طرح سے رحمت خدا سے دوری کی علامت ہے، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے بہت بڑے بڑے گناہ انجام دئے ہیں۔ آج بھی بالکل اسی طرح سرکش، استعمارگر، ستم پیشہ افراد اور گروہوں کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں البتہ یہ قرآنی شعار اس قدر مؤثر اور جامع ہے کہ جو صرف ایک پہلو کے حامل نہیں ہے کیونکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ”فلاں گروہ دور ہو“ تو اس کی رحمت الٰہی سے دوری بھی شامل ہے، سعادت سے دوری بھی، ہر قسم کی خیروبرکت اور نعمت سے دوری بھی اور بندگان خدا سے دوری بھی، البتہ ان کا خیر وسعادت سے دور ہونا رد عمل ہے ان کے خدا اور خلق خدا سے روحانی، فکری اور عملی طور پر اندرونی اعتبارسے دور ہونے کا۔ کیونکہ ہر قسم کا نظریہ اورعمل موت کے بعد دوسرے گھر میں اور دوسرے جہان میں اپنا عکس رکھتا ہے جو بالکل اس کے مشابہ ہے، اس بنا پر اس جہان کی دوریاں آخرت میں خدا کی رحمت، عفو، بخشش اور نعمات سے دوری کا سرچشمہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت میں لفظ”بعدا“ ترکیب نحوی کے اعتبار سے جملہ ”ابعدھم اللہ“ کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ مقدر ہے، البتہ قاعدتا ”بعدا“کی بجائے ”ابعادا“ہونا چاہیئے کیونکہ”ابعد“ کا مصدر ”ابعاد“ ہے لیکن بعض اوقات مفعول مطلق ذکر کرتے وقت باب افعال کے مصدر کی بجائے ثلاثی مجرد لے آتے ہیں مثلا-: واللّٰہ انبتکم من الارض نباتاً (غور کیجئے گا)

61
11:61
۞وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ
اور (قوم) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے میری قوم ! اﷲ کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس کی آبادکاری تمہارے سپرد کی۔ اسے بخشش طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو اور رجوع کرو کہ میرا پروردگار (اپنے بندوں کے) نزدیک اور (ان کے تقاضوں کو) قبول کرنے والا ہے۔

قوم ثمود کی داستان شروع ہوتی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

قوم عاد کے حالات اپنے تمام تر عبرت انگیز درس کے ساتھ بطور اختصار تمام ہوئے، اب قوم ثمود کی باری ہے، تواریخ کے مطابق یہ قوم مدینہ اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہتی تھی، یہاں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید جب ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیه السلام) کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو انھیں ”بھائی“ کے طور پر یاد کرتا ہے، یہ کتنی عمدہ، موثر اور خوبصورت تعبیر ہے، اس کے بعض مطالب ہم نے گذشتہ آیات کے ذیل میں اشارہ کیا ہے، دردِ دل رکھنے والا مہربان بھائی کہ جو خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں چاہتا، ”ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا“(وَإلیٰ ثَمُودَ اَخَاھُمْ صَالِحًا)۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت صالح (علیه السلام) کااصولی لائحہ عمل بھی دیگر انبیاء جیساہے، وہ لائحہ عمل جس کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے ہوتا ہے، وہ شرک اور بت پرستی جو انسان کی تمام مشکلات کا خمیر ہے۔ اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں(قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إلَہٍ)۔ اس کے بعد ان میں حق شناسی کی تحریک پیدا کرنے کے لیے انھیں پروردگار کی اہم نعمتیں کہ جو ان کے پورے وجود پر محیط ہیں کا ایک پہلو یاد دلایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا ہے (غَیْرُہُ ھُوَ اَنشَاَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ)۔ بے قدر وقیمت خاک کہاں اور یہ وجود عالی اور بدیع و عمدہ خلقت کہاں، کیا کوئی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسے خالق وپروردگار کو جو یہ قدرت رکھتا ہے اور جس نے یہ نعمت بخشی ہے اسے چھوڑ کر ان تمسخر آمیز بتوں کے پیچھے جائے۔ نعمت خلقت کی طرف اشارہ کرنے بعد زمین میں موجود دوسری نعمت سرکش یاد دلائی گئی ہیں وہ ایسی ذات ہے جس نے زمین کی تعمیر اور آباد کاری تمھارے سپرد کی ہے اور اس کے وسائل اور ذرائع تمھیں بخشے ہیں (وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیھَا)۔ لفظ”استعمار“ اور ”اعمار“ لغت عرب میں دراصل زمین کی آباد کاری کسی کو سپرد کر دینے کے معنی میں ہے اور یہ بات طبیعی و فطری ہے کہ اس کا لازمہ ہے کہ ضروری وسایل بھی اسے مہیا کیے جائیں، یہ وہ چیز ہے کہ جو ارباب لغت مثلاًراغب نے مفردات اور دوسرے بہت سے مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں کہی ہے۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ خدا نے نے تمھیں طولانی عمر دی ہے، البتہ متون لغت کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ بہرحال یہ امر دونوں معانی کے لحاظ سے قوم ثمود کے بارے میں صادق آتا ہے کیونکہ ان کی آباد اور سرسبز وشاداب زمین اور پر نعمت باغات بھی تھے۔ یہ لوگ زراعت میں نئی نئی ایجادات کرتے تھے اور بہت محنت صرف کرتے تھے۔ علاوہ ازیں ان کی عمریں لمبی اور قوی جسم تھے، مضبوط عمارتیں بنانے میں بھی انھوں نے بہت ترقی کی تھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ۔ پہاڑوں کے وسط میں پر امن گھر بناتے تھے۔ (حجر:۸۲) یہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا یہ نہیں کہتا کہ خدا نے زمین کو آباد کیا اور تمھارے اختیار میں دے دیا بلکہ کہتا ہے کہ زمین کی آبادی اور تعمیر تمھارے سپرد کر دی۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وسائل وذرائع ہر لحاظ سے مہیا ہے لیکن تمھیں کام اور کوشش کرکے زمین کو آباد کرنا ہے اور اس کے منابع اور ذرائع اپنے ہاتھ میں کرنا ہے اور کوشش کیے بغیر تمھیں اپنا حصہ نہیں مل سکتا۔ اس حقیقت کے ضمن میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم اور ملت کو آباد کاری کا موقع ملنا چاہیئے، کام اس کے سپرد کیا جانا چاہیئے اور ضروری وسائل اور سازوسامان اس کے اختیار میں دیا جانا چاہیئے۔ ”اب جب ایسا ہے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور خدا کی طرف رجوع کرو اور پلٹ آؤ کہ میرا پروردگار اپنے بندوں کے قریب ہے اور ان کی درخواست قبول کرتا ہے (فاستغفرُوہُ ثُمَّ تُوبُوا إلَیْہِ إنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ)۔

قرآن اور ہمارے زمانے کا استعمار

جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیات میں دیکھا ہے کہ خدا کے پیغمبرحضرت صالح (علیه السلام) اپنی گمراہ قوم کی تربیت مکمل کرنے کے لیے ان سے خاک سے انسان کی عظیم خلقت اور زمین کی آباد کاری کے لیے اس کے وسائل وذخائرا سے سپرد کیے جانے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ یہ لفظ استعمار اگرچہ مفہوم کے اعتبار سے ایک خاص زیبائی اور کشش رکھتا ہے، اس میں تعمیر وآبادکاری کا مفہوم بھی مضمر ہے، تفویض اختیارات کا بھی اور وسائل و ذرایع مہیا ہونے کا بھی لیکن ہمارے زمانے میں اس لفظ کا مفہوم اس طرح سے مسخ ہو گیا ہے اور قرآنی مفہوم کے بالکل الٹ ہو گیا ہے۔ لفظ”استعمار“ ہی نہیں جو اس منحوس انجام کو پہنچنا ہے بہت سے کلمات چاہے وہ فارسی کے ہوں یا عربی کے یا دوسری زبانوں کے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی طرح مسخ، تحریف اور تضاد کا شکار ہو گئے ہیں، عربی زبان کے الفاظ ”حضارت“،”ثقافت“ اور ”حرےت“ اور فارسی زبان میں ”تمدن“ ”روشن فکری“،”آزادی“ ”آزادگی“ ”ہنر“ اور ”ہنر مندی“ اس قسم کی مثالیں ہیں۔ ان تحریفوں کے نتیجے میں خود فراموشی، مادہ پرستی، فکری غلامی، انکار حقیقت اور ہر قسم کا پھیلاؤ، عجلت پسندی اور بے توجہی جنم لیتی ہے۔ بہرحال ہمارے زمانے میں استعمار کا حقیقی مفہوم بڑی سیاسی وصنعتی طاقتوں اور سوپر طاقتوں کا مستضعف اور کمزور قوتوں پر غلبہ ہے جس کا ماحول یہ ہے کہ استعماری طاقتیں مستضعف اور کمزور قوتوں کے ہاں لوٹ مار کرتی ہیں، انھیں غارت کرتی ہیں، ان کا خون چوستی ہیں اور ان کی زندگی کے وسائل غصب کرتی ہیں۔ استعمار کی کئی روپ ہیں، کبھی یہ ثقافت وتہذیب کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی فکری ونظری حوالے سے استحصال کرتا ہے، کبھی اقتصادی، کبھی سیاسی اور کبھی فوجی حوالے سے سامنے آتا ہے، یہ استعمار ہی ہے جس نے ہماری آج کی دنیا کا چہرہ تاریک کر دیا ہے۔ آج کی دنیا میں ہر چیز پر اقلیت کا قبضہ ہے اوربہت بڑی اکثریت تمام چیزوں سے محروم ہے۔یہ استعمار ہی جنگوں، ویرانیوں، تباہ کاریوں اور اسلحہ کی کمر شکن دوڈکا سرچشمہ ہے۔ جو لفظ قرآن نے اس مفہوم کے لیے استعمال کیا ہے وہ ”استضعاف“ ہے کہ جو ٹھیک اس معنی کا سانچہ ہے یعنی ضعیف کرنا، اس لفظ کے وسیع مفہوم میں فکری، سیاسی، اقتصادی اور دیگر حوالوں سے کمزور اور ضعیف کرنا شامل ہے۔ ہمارے زمانے میں استعمار کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ خود لفظ استعمار بھی استعماری ہو گیا ہے کیونکہ اس کا لغوی مفہوم باکل الٹ گیا ہے۔ بہرحال استعمار کے حوالے سے ایک غم انگیزطویل داستان وجود میں آئی ہے، کہا جا سکتا ہے کہ اس داستان میں پوری انسانی تاریخ سمائی ہوئی ہے۔ اگرچہ استعمار ہمیشہ چہرہ بدلتا رہتا ہے لیکن صحیح طور پر معلوم نہیں کہ انسانی معاشرے میں سے کب اس کی ریشہ کنی ہو گی اور کب انسانی زندگی باہمی تعاون واحترام اور اصول امداد باہمی کہ بنیاد پر استوار ہو گی تاکہ تمام میدانوں میں انسانی پیشرفت کا عمل شروع ہو سکے۔

62
11:62
قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ
انہوں نے کہا: اے صالح ! اس سے پہلے تو ہماری امید کا سرمایہ تھا۔ کیا تو ہمیں ان کی پرستش سے روکتا ہے جن کی ہمارے آباؤاجداد پرستش کرتے تھے اور ہمیں اس چیز کے بارے میں شک ہے جس کی طرف تو دعوت دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
11:63
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي مِنۡهُ رَحۡمَةٗ فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِنۡ عَصَيۡتُهُۥۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيۡرَ تَخۡسِيرٖ
اس نے کہا: اے میری قوم! بھلا دیکھو تواگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت (نبوت) عطا کی ہے(پھر بھی) اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اس کے مقابلہ میں کون میری مدد کر سکتا ہے؟لہٰذا تمہاری باتیں سوائے تمہاری زیاں کار ہونے کے میرے لئے اور کوئی اضافہ نہیں کرتیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
11:64
وَيَٰقَوۡمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٞ قَرِيبٞ
اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے دلیل اور نشانی ہے۔ اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرنے میں مشغول رہے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ تمہیں بہت جلد خدا کا عذاب گھیر لے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
11:65
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمۡ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٖۖ ذَٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوبٖ
(لیکن) انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اس نے ان سے کہا (تمہاری مہلت کاوقت ختم ہو گیا ہے) تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو (اس کے بعد خدائی عذاب آجائے گا) یہ ایسا وعدہ ہے کہ جس میں جھوٹ نہیں ہو گا۔

حضرت صالح کے مخالفین کی منطق

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اب ہم دیکھیں گے کہ حضرت صالح (علیه السلام) کے مخالفین ان کی زندہ اور حقیقت پسندانہ منطق کا کیا جواب دیتے ہیں۔ انھوں نے حضرت صالح (علیه السلام) کو غیر موثر بنانے کے لیے یا کم از کم ان کی باتوں کو بے تاثیر کرنے کے لیے ایک نفسیاتی حربہ استعمال کیا، وہ آپ کو دھوکا دینا چاہتے تھے،”کہنے لگے: اے صالح! اس سے پہلے تو ہماری امیدوں کا سرمایہ تھا“مشکلات میں ہم تیری پناہ لیتے تھے، تجھ سے مشورہ کرتے تھے، تیرے عقل وشعور پر ایمان رکھتے تھے، اور تیری خیر خواہی اور ہمدردی میں ہمیں ہرگز کوئی شک نہ تھا (قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَا) لیکن افسوس کہ تم نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ دین بت پرستی کی اور ہمارے خداؤں کی مخالفت کرکے کہ جو ہمارے بزرگوں کا رسم رواج تھا اور ہماری قوم کے افتخارات میں سے تھا تونے ظاہر کر دیا کہ تو بزرگوں کے احترام کا قائل ہے نہ ہماری عقل پر تمھیں کوئی اعتماد ہے اور نہ ہی تو ہمارے طور طریقوں کاحامی ہے۔”کیا سچ مچ تو ہمیں ان کی پرستش سے روکنا دینا چاہتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباؤواجداد کرتے تھے“ (اَتَنْھَانَا اَنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جس یکتا پرستی کے دین کی طرف تو دعوت دیتا ہے ہم اس کے بارے میں شک وتردد میں ہی، نہ سرف ہمیں شک ہے بلکہ اس کے بارے میں ہم بدگمان بھی ہیں (وَإنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إلَیْہِ مُرِیبٍ)۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ گمراہ قوم اپنے غلط اور نادرست افکارواعمال کی توجیہ کے لیے اپنے بڑوں کا سہارا لیتی ہے ان کے تقدس کے ہالہ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، یہ وہی پرانی منطق ہے جوتمام منحرف قوموں نے قدیم زمانے سے اپنے خرافات کی توجیہ کے لیے اختیار کی، یہی منطق آج بھی ایٹم اور خلاء کے دور میں پوری قوت سے باقی ہے۔ لیکن خدا کے یہ عظیم پیغمبر ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوئے اور ان کی پرفریب باتوں کا ان کی عظیم روح پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا، انھوں نے اپنی مخصوص قناعت کے ساتھ انھیں جواب دیا، ”کہا: اے میری قوم! دیکھو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو، اور اس نے میرے دل کو روشن اور فکر کو بیدار کیا ہو اور میں ایسے حقائق سے آشنا ہوا ہوں جن سے پہلے آشنا نہ تھا تو کیا میں پھر بھی سکوت اختیار کر سکتا ہوں اور کیا اس صورت میں پیام الٰہی نہ پہنچاؤں اور انحراف اور برائیوں کے خلاف جنگ نہ کروں“(قَالَ یَاقَوْمِ اَرَاَیْتُمْ إن کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی مِنْہُ رَحْمَةً)، اس عالم میں ”اگر میں فرمان خدا کی مخالفت کروں تو کون شخص ہے جو اس کے عذاب وسزا کے مقابلے میں میری مدد کر سکتا ہے“(فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إنْ عَصَیْتُہُ)، لیکن جان لو کہ تمہاری اس قسم کی باتیں اور بڑوں کی روش سے استدلال وغیرہ کا مجھ پر اس کے سوا اور کوئی اثر نہیں ہو گاکہ تمھارے زیاں کارہونے کے بارے میں میرا ایمان بڑھے گا (فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ)۔ اس کے بعد آپ نے اپنی دعوت کی حقانیت کے لیے معجزے اور نشانی کے لیے نچاندہی کی، ایسی نشانی جو انسانی قدرت سے ماوراء ہے اور صرف قدرت الٰہی کے سہارے پیش کی گئی ہے، ان سے کہا: ”اے میری قوم !یہ ناقہ الٰہی تمھارے لیے آیت اور نشانی ہے“(وَیَاقَوْمِ ھٰذِہِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً)،”اسے چھوڑدو کہ یہ بیابانوں چراگاہوں میں گھاس پھوس کھائے“(فَذَرُوھَا تَاْکُلْ فِی اَرْضِ اللهِ)،”اوراسے ہرگز کوئی تکلیف نہ پہنچانا، اگر ایسا کرو گے تو فوراً تمھیں دردناک عذاب الٰہی گھیر لے گا“(وَلَاتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیبٌ)۔

ناقہ صالح

لغت میں ”ناقہ“ اونٹنی کے معنی میں ہے، مندرجہ بالاآیت میں اور قرآن کی بعض دیگر آیات میں اس کی اضافت خدا کی طرف سے کی گئی ہے، (تشریحی نوٹ: ادبی اصطلاح میں یہ ایک تشریعی اضافت ہے جو کسی چیز کے شرف اور اہمیت کی دلیل ہے،،مندرجہ بالا آیت میں اس کے دو نمونے نظر آتے ہیں”ناقة اللّٰہ“ اور ”ارض اللّٰہ“، دیگر مواقع پر ”شھراللّٰہ“ اور ”بیت اللّٰہ“ وغیرہ آئے ہیں)۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اونٹنی کچھ خصوصیات رکھتی تھی۔ اس طر ف توجہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا آیت میں اس کا زکر آیات الٰہی اور دلیل حقانیت کے طور پر آیا ہے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ اونٹنی ایک عام اونٹنی نہ تھی اور ایک حوالے سے یا کئی حوالوں سے معجزہ کے طور پر تھی، لیکن آیات میں یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ نہیں آیا کہ اس ناقہ کی خصوصیات کیا تھیں، اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام اونٹنی نہ تھی۔ بس یہی ایک چیز قرآن میں دو مواقع پر موجود ہے کہ حضرت صالح (علیه السلام) نے اس ناقے کے بارے میں اپنی قوم کو بتایا کہ اس علاقے میں پانی کی تقسیم ہونا چاہیئے، ایک دن ناقہ کا حصہ ہے اور ایک دن لوگوں کا، آیت کے الفاظ ہیں: ھٰذِہِ نَاقَةٌ لَھَا شِرْبٌ وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَعْلُومٍ۔ (شعراء: ۱۵۵) نیز سورہ قمر کی آیہ ۲۸ میں: وَنَبِّئْھُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَیْنَھُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ۔ سورہ شمس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ موجود ہے: فَقَالَ لَھُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقْیَاھَا۔ - (شمس:۱۳) لیکن یہ بات پوری طرح مشخص نہیں ہوسکی کہ پانی کی یہ تقسیم کس طرح خارق عادت تھی، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اونٹنی بہت زیادہ پانی پیتی تھی اس طرح سے کہ چشمہ کا تمام پانی اس کے لیے مخصوص ہو جاتا، دوسرا احتمال یہ ہے کہ جس وقت وہ پانی پینے کے لیے آتی تو دوسرے جانور پانی پینے کی جگہ پر آنے کی جرات نہ کرتے۔ ایک سوال یہ ہے کہ یہ جانور تمام پانی سے کس طرح استفادہ کرتا تھا، اس سلسلے میں یہ احتمال ہے کہ اس بستی کا پانی کم مقدار میں ہو، جیسے بعض بستیوں میں ایک ہی چھوٹا سا چشمہ ہوتا ہے اور بستی والے مجبور ہوتے ہیں کہ دن بھر کا پانی ایک گڑھے میں اکٹھا کریں تاکہ کچھ مقدار جمع ہو جائے اور اسے استعمال کیا جاس کے۔ لیکن دوسری طرف سورہ شعراء کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود تھوڑے پانی والے علاقے میں زندگی بسر نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ لوگ تو باغوں، چشموں، کھیتوں اور نخلستان کے مالک تھے، قرآن کہتا ہے: اَتُتْرَکُونَ فِی مَا ھَاھُنَا آمِنِینَ، فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ، وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیمٌ. (شعراء: ۱۴۶، تا۱۴۸) بہرحال جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ناقہ صالح کے بارے میں اس مسئلے پر قرآن نے اجمالا ذکر کیا ہے لیکن بعض روایات جو شیعہ اور سنی دونوں طرق سے نقل ہوئی ہیں میں ہے کہ اس ناقہ کے عجائب خلقت میں سے تھا کہ وہ پہاڑ کے اندر سے باہرنکلی، اس کے بارے میں کچھ اور خصوصیات بھی منقول ہیں جن کی وضاحت کا یہ موقع نہیں ہے۔ بہر کیف حضرت صالح (علیه السلام) جیسے عظیم نبی نے اس ناقہ کے بارے میں بہت سمجھایا بجھایا مگر انھوں نے آخرکار ناقہ کو ختم کر دینے کا مصمم ارادہ کر لیا، کیونکہ اس کی خارق عادت اور غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے لوگوں میں بیدار ی پیدا ہورہی تھی اور حضرت صالح (علیه السلام) کی طرف مائل ہورہے تھے لہٰذا قوم ثمود کے کچھ سرکشوں نے جو حضرت صالح (علیه السلام) کی دعوت کے اثرات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے اوروہ ہرگز لوگوں کی بیداری نہیں چاہتے تھے کیونکہ خلق خدا کی بیداری سے ان کے استعماری اور استثماری مفادات کو نقصان پہنچاتا تھا، ناقہ کو ختم کرنے کی سازش تیار کی۔ کچھ افراد کو اس کام پر مامور کیا گیا، آخر کار ان میں سے ایک نے ناقہ پر حملہ کیا اور اس پر ایک یا کئی وار کیے اور اسے مار ڈالا (فَعَقَرُوھَا)۔ ”عقروھا“ ”عقر“ (بروزن ”ظلم“)کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کی اساس اور جڑ،”عقرة البعیر“کا معنی ہے ”میں نے اونٹ کا سر قلم کر دیا اور اسے نحر کر دیا“ اونٹ کو قتل کرنا چونکہ اس کے اصل وجود کو ختم کر دینے کا سبب بنتا ہے لہٰذا یہ مادہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے، کبھی نحر کرنے کی بجائے اونٹ کی کوچیں کاٹنے یا اس کے ہاتھ پاؤں قطع کرنے کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، دراصل ان تمام معانی کی بازگشت ایک ہی چیز کی طرف ہے اور ان سب کا ایک ہی نتیجہ ہے (غور کیجئے گا)

مکتب کا رشتہ

یہ امر توجہ طلب ہے کہ اسلامی روایات میں ہے جس نے ناقہ کو مارا تھا وہ صرف ایک شخص تھا لیکن اس کے باوجود قرآن اس کام کی نسبت حضرت صالح (علیه السلام) کے تمام مخالفین کی طرف دیتا ہے اورجمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے:”فعقروھا“۔ یہ اس بنا پر ہے کہ قرآن کسی امر پر باطنی طور پر راضی ہونے اور اس کے مکتبی رشتے کو اس میں شرکت سمجھتا ہے، درحقیقت اس کام کی سازش انفرادی نہ تھی، یہاں تک کہ جس نے اس پر عمل کیا تھا اس نے فقط اپنی قوت کے سہارے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے جمعیت کی طاقت تھی اور وہی اسے حوصلہ دے رہی تھی، یقینا ایسے کام کو انفرادی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک گروہی اور جماعتی کام شمار ہو گا۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وانما عقر ناقة ثمود رجل واحد فعمھم اللّٰہ بالعذاب لما عموہ بالرضا۔ ناقہ صالح کو ایک شخص نے قتل کیا تھا، خدا نے تمام سرکش قوم کو عذاب کیا کیونکہ وہ سب اس پر راضی تھے۔(بحوالہ نہج البلاغہ، کلام ۲۰۱)۔ اسی مضمون کی یا اس کی مانند متعدد دیگر روایات پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں، ان سے اسلام کے نزدیک مکتبی رشتے اورفکری ہم آہنگی کی بنیاد پر بننے والے پروگراموں کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نمونہ کے طور پر ان روایات کا کچھ حصہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں: قال رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم من شھد امراً فکرھہ کان کمن غاب عنہ، ومن غاب عن امرفرضیہ کان کمن شھدہ۔ جو شخص کسی کام کو دیکھے لیکن اس سے متنفر ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس سے غائب ہو اور جو کسی کام سے غائب ہو لیکن دلی طور پر اس پر راضی ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس وقت حاضر تھا اور اس میں شریک تھا۔ (بحوالہ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۰۹) امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: لو ان رجلا قتل فی المشرق فرضی بقتلہ رجل بالمغرب لکان الرضی عند اللّٰہ عز وجل شریک القاتل۔ جب کوئی شخص مشرق میں قتل ہو اورایک شخص مغرب میں رہتے ہوئے اس کے قتل پر راضی ہو تو خداکے ہاںوہ قاتل کا شریک ہے۔ (بحوالہ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۰)۔ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: الراض بفعل قوم کالداخل معھم فیہ وعلی کل داخل فی باطل اثمان اثم العمل بہ واثم الرضا بہ۔ جو شخص کسی گروہ کے فعل پر راضی ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس کام میں ان کا شریک ہو لیکن جس نے عملا شرکت کی ہے اس کے دو گناہ ہیں، ایک عمل گناہ کا اور دوسرااس عمل پر راضی ہونے کا گناہ ہے۔ (بحوالہ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۱۔) مکتبی اور فکری رشتے کی گہرائی کو جاننے کے لیے اور سمجھنے کے لیے اس میں زمان ومکان کی کوئی قید نہیں، نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی علیہ السلام کے اس پر معنی اور ہلا دینے والے کلام کی طرف توجہ کرنا کافی ہے: جب حضرت امیرالمومنین (علیه السلام) نے میدان جمل میں جنگ کی آگ بھڑکانے والے باغیوں پر فتح پالی اور آپ کے اصحاب وانصار شرک وجاہلیت کے خلاف اسلام کی اس کامیابی پر خوش ہوئے تو ان میں سے ایک شخص عرض کرنے لگا: میری کتنی خواہش تھی کہ میرا بھائی اس میدان میں موجود ہوتا اور وہ بھی دشمن پر آپ کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا۔ امام(علیه السلام) نے اس کی طرف رخ کیا اورفرمایا: اھوی اخیک معنا؟ یہ بتاؤ کہ تمھارے بھائی کا دل اور آرزو ہمارے ساتھ تھی؟ فقال نعم۔ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو امام (علیه السلام) نے فرمایا: فقدشھدنا (فکر مت کرو) وہ بھی اس میدان میں شریک تھا۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ولقد شھدنا فی عسکرنا ھذا اقوام فی اصلاب الرجال وارحام النساء سیرعف بھم الزمان ویقوی بھم الایمان۔ تجھے اس سے بھی بڑھ کر بتاؤں، آج ہمارے لشکر میں ان گروہوں نے بھی شرکت کی ہے جو ابھی اپنے باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں ہیں (اور ابھی انھوں نے اس دنیا میں قدم نہیں رکھا)لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عنقریب وہ دنیا میں آئیں گے اور ان کی قوت وطاقت سے قوت ایمان میں اضافہ ہو گا۔ (بحوالہ نہج لبلاغہ، کلام ۱۲)۔ اس میں شک نہیں کہ جو لوگ کسی کام میں شریک ہوتے ہیں اور اس کی تمام مشکلات و زحمات کو برداشت کرتے ہیں وہ ایک خاص امتیاز کے حامل ہیں لیکن اس کامعنی یہ نہیں کہ دوسرے بالکل اس میں شریک نہیں ہوتے بلکہ کیا اس زمانے میں اور کیا آئندہ زمانوں میں جو اشخاص بھی فکر ونظر اور مکتب ومذہب کے اعتبار سے اس کام سے منسلک ہیں وہ ایک لحاظ سے اس میں شریک ہیں۔ یہ مسئلہ شاید کسی عالمی مکتب میں اپنی نظیر ومثیل نہ رکھتا ہو، جو کہ ایک اہم اجتماعی حقیقت کی بنیاد پر استوار ہے اور وہ یہ ے کہ جو لوگ طرزِ فکر میں دوسروں سے مشابہت رکھتے ہیں اگرچہ ان کے انجام دئیے ہوئے کسی معین کام میں شریک نہ ہوں تاکہ ہم یقینی طور اپنے ماحول اور زمانے میں اس سے ملتے جلتے کام انجام دیں گے کیوں کہ انسان کے اعمال ہمیشہ اس کے افکار کا پرتو ہوتے ہیں، ممکن نہیں کہ انسان کسی مکتب کا پابند ہواور وہ اس کے عمل میں واضح نہ ہو۔ اسلام پہلے قدم پر ہی روح انسانی میں اصلاحات جاری کرتاہے تاکہ مرحلہ عمل کی خودبخود اصلاح ہو جائے، جو دستور ہم نے ستور بالا میں ذکر کیا ہے اس کے مطابق جب ایک مسلمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں نیک کام یا بد کام انجام پارہا ہے تو اس کے بارے میں فوراً ایک صحیح موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے قلب وروح کو نیکیوں کا ہمنوا بناتا ہے اور برائیوں سے نفرت کرتا ہے، یہ اندرونی کاوش یقینا اس کے اعمال پر اثرانداز ہو گی اور اس کا فکری تعلق ایک عملی رشتے کی صورت میں نمودار ہو جائے گا۔ آیت کے آخر میں حضرت صالح (علیه السلام) نے قوم کی سرکشی، نافرمانی اور اس کے ہاتھوں قتل ناقہ کے بعد اسے خطرے سے آگاہ کیا اور“کہا کہ پورے تین دن تک اپنے گھروں میں جس نعمت سے چاہو استفادہ کرو اور جان لو کہ ان تین دنوں کے بعد عذاب الٰہی آکے رہے گا“(فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ)،”اس بات کو حتمی سمجھو، میں جھوٹ نہیں کہہ رہا یہ ایک سچا اورحقیقی وعدہ ہے“(ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوب)۔

66
11:66
فَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا صَٰلِحٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَمِنۡ خِزۡيِ يَوۡمِئِذٍۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ
جب(اس قوم کی سزا کے بارے میں ) ہمار احکم آ پہنچا تو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی کیونکہ تیرا پروردگار قوی اور ناقابل شکست ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
11:67
وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انہیں (آسمانی) چنگھاڑ نے آلیا اور وہ اپنے ہی گھروں میں منہ کے بل گر کر مر گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
11:68
كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَآۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَاْ كَفَرُواْ رَبَّهُمۡۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّثَمُودَ
اس طرح سے کہ گویا وہ ان گھروں کے باسی ہی نہ تھے۔ جان لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تھا۔ دور ہو قوم ثمود(رحمت پروردگار سے)۔

قوم ثمود کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیت میں اس سرکش قوم (قوم ثمود) پر تین دن کی مدت ختم ہونے پر نزول عذاب کی کیفیت بیان کی گئی ہے: اس گروہ پر عذاب کے بارے میں جب ہمارا حکم آپہنچاتو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہم نے اپنی رحمت کے زیر سایہ نجات بخشی (فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صَالِحًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا)۔ انھیں نہ صرف جسمانی ومادی عذاب سے نجات بخشی بلکہ ”رسوائی، خواری اور بے آبروئی سے بھی انھیں نجات عطا کی کہ جو اس روز اس سرکش قوم کو دامنگیر تھی“(وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ)۔ (تشریحی نوٹ: ”خزی“ لغت میں شکست کے معنی میں ہے کہ جو انسان پر آتی ہے، چاہے خود اس کے اپنے ذریعہ ہو یا کسی دوسرے کی وجہ سے نیز ہر قسم کی رسوائی اور بہت زیادہ ذلت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے)۔ کیونکہ تیرا پروردگار ہر چیز پر قادر اور ہرکام پر تسلط رکھتا ہے، اس کے لیے کچھ محال نہیں ہے اور اس کے ارادے کے سامنے کوئی طاقت کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی (إنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیزُ)، لہٰذا کثیر جمعیت کے عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے سے صاحب ایمان گروہ کو کسی قسم کی کوئی مشکل اور زحمت پیش نہیں ہو گی، یہ رحمت الٰہی ہے جس کا تقاضا ہے کہ بے گناہ گنہگاروں کی آگ میں نہ جلیں اور بے ایمان افراد کی وجہ سے مومنین گرفتارِ بلا نہ ہوں۔ لیکن ظالموں کو صیحہ آسمانی نے گھیر لیا، اس طرح سے کہ یہ چیخ نہایت سخت اور وحشتناک تھی، اس کے اثر سے وہ سب کے سب گھروں ہی میں زمین پر گر کر مر گئے، (وَاَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوا فِی دِیَارِھِمْ جَاثِمِین)۔ وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان کے آثار مٹے کہ گویا وہ اس سرزمین میں کبھی رہتے ہی نہ تھے، (کَاَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیھَا)۔ جان لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا تھا اور انھوں نے احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا تھا (اَلَاإنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّھُمْ)۔ دُور ہو قوم ثمود، اللہ کے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو (اَلَابُعْدًا لِثَمُود)۔

چند اہم نکات: ۱۔ مومنین کےلیے رحمت

ان آیات میں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ رحمت الٰہی مومنین پر اس قدر مہربان ہے کہ نزول عذاب سے پہلے خدا تعالیٰ انھیں امن وامان کی جگہ منتقل کر دیتا ہے اور ہر خشک وتر کو عذاب اور سزا میں مبتلا نہیں کرتا۔ البتہ ممکن ہے کہ حوادث ناگوار مثلاًسیلاب، وبائی بیماریاں اور زلزلے وغیرہ ایسا رخ اختیار کر لیں کہ ہر چھوٹے بڑے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں لیکن یہ حوادث یقینی طور پر عذاب الٰہی کے حوالے سے نہیں ہوتے ورنہ عدالت الٰہی کی منطق میں محال ہے کہ ایک بھی بے گناہ شخص لاکھوں گنہگاروں کے ساتھ جرم میں گرفتار ہو۔ یہ بات البتہ پورے طور پر ممکن ہے کہ کچھ افراد ایک گنہگار جماعت میں رہتے ہوئے خاموش رہیں اور وہ برائی کے خلاف مقابلے کے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری پر عمل کریں توپھر محال ہے کہ وہ حادثہ جو عذاب کے طورپرنازل ہو انھیں دامنگیر ہو، (خدا شناسی سے مربوط مباحث میں نزول بلا اور حوادث کے مابین رابطے کے حوالے سے ہم نے اس موضوع سے متعلق کتب میں تفصیلی بحث کی ہے)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ، ج ۴، ص ۴۱۷(اردوترجمہ) پر بھی کچھ توضیحات آئی ہیں جو ایسی آیات سے فہم مقصود کے لیے موثر ہیں، قارئین کرام! اس سلسلے میں کتاب ”آفریدگارِ جہان“اور ”در جستجوی خدا“ کی طرف رجوع کریں)

۲۔ صیحہ سے کیا مراد ہے؟

”صیحة“ لغت میں میں”بہت بلند آواز“ کو کہتے ہیں جو عام طور پر کسی انسان یا جانور کے منہ سے نکلتی ہے لیکن اس کامفہوم اسی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی ”نہایت بلند آواز“ اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔ آیات قرآنی کے مطابق چند ایک گنہگار قوموں کو صیحہ آسمانی کے ذریعے سزا ہوئی، ان میں سے ایک یہی قوم ثمود تھی، دوسری قوم لوط (حجر:۷۳) اور تیسری قوم شعیب (ہود: ۹۴) ۔ قرآن کی دوسری آیات سے قوم ثمود کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اسے صاعقہ کے ذریعے سزا ہوئی، ارشاد الٰہی ہے: فَإنْ اَعْرَضُوا فَقُلْ اَنذَرْتُکُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ -- (فصلت: ۱۳) یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ”صیحة“ سے مراد”صاعقة“ کی وحشتناک آواز ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صاعقہ کی وحشتناک آواز کسی جمعیت کو نابود کرسکتی ہے؟ اس کا جواب مسلما مثبت ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ آواز کی لہریں جب ایک معین حد سے گزرجائیں تو شیشے کو توڑ دیتی ہیں، یہاں تک کہ بعض عمارتوں کو تباہ کر دی تی ہیں اورانسانی بدن کے اندر کے آرگانزم کو بے کار کر دی تی ہیں۔ ہم نے سناکہ جب ہوائی جہاز صوتی دیوار توڑ دیتے ہیں (اور آواز کی لہروں سے تیز رفتار سے چلتے ہیں)تو کچھ لوگ بے ہوش ہو کر گرجاتے ہیں یا عورتںکے حمل ساقط ہو جاتے ہیں یا ان علاقوں میں موجود عمارتوں کے تمام شیشے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ فطری اور طبیعی ہے کہ اگر ا؎آواز کی لہروں کی شدت اس سے بھی زیادہ ہوجائے تو آسانی سے ممکن ہے کہ اعصاب میں، دماغ کی رگوں میں اور دل کی ڈھڑکن میں تباہ کن اختلال پیدا ہو جائے جو انسانوں کی موت کا سبب بن جائے ۔ آیات قرآنی کے مطابق اس دنیا کا اختتام بھی ایک عمومی صیحہ کے ذریعے ہو گا، ارشاد الٰہی ہے: مَا یَنظُرُونَ إلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُونَ (یٰسین: ۴۹) جیسا کہ قیامت بھی ایک بیدار کرنے والی صیحہ سے شروع ہو گی، قرآن کہتا ہے: إنْ کَانَتْ إلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَإذَا ھُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ۔ (یٰسین: ۵۳)

۳۔ سزا صرف مادی پہلو سے نہیں

زیر بحث آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ سرکشوں اور طغیان گروں کی سزا نہ سرف مادی پہلو نہیں رکھتی بلکہ معنوی پہلو کی بھی حامل ہے کیونکہ ان کا رسوا کن انجام اور مرگبار سرنوشت کا تذکرہ تاریخ کا رسوا کر دینے والا باب بن جائے گا جب کہ اہل ایمان کا ذکر تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہو گا۔

۴۔ چاثمین کا مفہوم

”جاثم“ مادہ ”جثم“ (بروزن خشم)سے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے معنی میں ہے، اسی طرح منہ کے بل گرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ ”جاثمین“ کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ صیحہ آسمانی ان کی موت کا سبب بنی لیکن ان کے بے جان جسم زمین پر گرے پڑے تھے۔ البتہ چند ایک روایات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ صاعقہ کی آگ نے انھیں جلا کر خاکستر کر دیا لیکن یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ صدائےصاعقہ کا وحشتناک اثر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے جب کہ اس کے جلانے کے آثار خصوصا ان لوگوں کے لیے جو عمارتوں کے اندر ہوں، بعد میں ظاہر ہوتے ہیں۔

۵۔ یغنوا کا مطلب

”یغنوا“ ”غنی“ کے مادہ سے، کسی مکان میں اقامت کے معنی میں ہے اور بعید نہیں کہ”غنا“ کا اصلی مفہوم بے نیازی کے معنی سے لیا گیا ہو کیونکہ بے نیاز شخص مستقل گھر رہتا ہے اور وہ مجبور نہیں ہوتا کہ ایک گھر سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہے۔ جملہ”کان لم یغنوا فیھا“ قوم ثمود اور اسی طرح قوم شعیب کے لیے آیا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی زندگی کا دفتر اس طرح سے لپیٹ دیا گیا کہ گویا وہ اس سرزمین میں رہتے ہی نہ تھے ۔(اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ، ج۶، ص ۲۱۰، (اردوترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔

69
11:69
وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ
ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے۔ کہا: سلام (اس نے بھی) کہا: سلام اور زیادہ دیر نہ لگی کہ (ان کے لئے) بھنا ہوا گوسالہ لے آیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
11:70
فَلَمَّا رَءَآ أَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ إِلَيۡهِ نَكِرَهُمۡ وَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۚ قَالُواْ لَا تَخَفۡ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمِ لُوطٖ
(لیکن) جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے (اور وہ اسے نہیں کھاتے) تو انہیں ناپسند کیا اور دل میں احساس خوف کیا(مگر) انہوں نے اس سے (جلد ہی) کہا: ڈرو نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
11:71
وَٱمۡرَأَتُهُۥ قَآئِمَةٞ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنَٰهَا بِإِسۡحَٰقَ وَمِن وَرَآءِ إِسۡحَٰقَ يَعۡقُوبَ
اور اس کی بیوی کھڑی تھی وہ ہنسی تو ہم نے(فرشتوں کے ذریعے) اسے اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
11:72
قَالَتۡ يَٰوَيۡلَتَىٰٓ ءَأَلِدُ وَأَنَا۠ عَجُوزٞ وَهَٰذَا بَعۡلِي شَيۡخًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عَجِيبٞ
اس نے کہا: وائے ہو مجھ پر، کیا میں بچہ جنوں گی جبکہ میں بوڑھی عورت ہوں اور میرا یہ شوہر بھی بوڑھا ہے، یہ تو واقعاً عجیب بات ہے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

73
11:73
قَالُوٓاْ أَتَعۡجَبِينَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۖ رَحۡمَتُ ٱللَّهِ وَبَرَكَٰتُهُۥ عَلَيۡكُمۡ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِۚ إِنَّهُۥ حَمِيدٞ مَّجِيدٞ
انہوں نے کہا کیا حکم خدا پر تعجب کرتی ہو؟ یہ خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں تم اہل بیت پر کیونکہ خدا حمید اور مجید ہے۔

ابراہیم بت شکن کی زندگی کے کچھ حالات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اب ابراہیم جیسے بہادر بت شکن کی زندگی کے کچھ حالات کی باری ہے۔ البتہ اس عظیم پیغمبر کی بھرپور زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیل قرآن کی دوسری سورتوں میں آئی ہے، مثلاًسورہٴ بقرہ، آل عمران، نساء،انعام اور انبیاء وغیرہ۔ یہاں ان کی زندگی کا صرف ایک حصہ ذکر ہوا ہے جو قوم لوط کے واقعہ سے اور اس سرکش گناہ آلود گروہ کے عذاب دئیےجانے سے مربوط ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس ایک بشارت لے کرآئے (وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا إبْرَاھِیمَ بِالْبُشْریٰ)۔ جیسا کہ بعد کی آیات سے معلوم ہو گایہ خدا کے بھیجے ہوئے وہی فرشتے تھے جو قوم لوط کو تباہ وبرباد کرنے پر مامور تھے لیکن پہلے وہ حضرت ابراہم (علیه السلام) کے پاس ایک پیغام دینے آئے تھے۔ اس بارے میں کہ وہ کونسی بشارت لے کر آئے تھے، دو احتمالات ہیں اور ان دونوں کو جمع کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے۔ پہلا احتمال یہ ہے کہ وہ حضرت اسماعیل (علیه السلام) اور حضرت اسحاق (علیه السلام) کی پیدائش کی بشارت تھی کیوں کہ حضرت ابراہم (علیه السلام) کی ایک طویل عمر گزر چکی تھی، ابھی تک ان کی کوئی اولاد نہ تھی، ان کی آرزو تھی کہ ان کا ایک یا کئی بیٹے ہوں جو صاحب نبوت ہوں، اس لیے حضرت اسماعیل (علیه السلام) اور حضرت اسحاق (علیه السلام) کی پیدائش کی خبر ان کے لیے ایک عظیم بشارت تھی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیه السلام) قوم لوط کے فساد اور سرکشی سے بہت ناراحت تھے جب انھیں معلوم ہوا کہ فرشتے ان کے بارے میں یہ حکم لائے ہیں تو انھیں راحت ملی۔ بہرحال جب بھیجے ہوئے (رسولان) ان کے پاس آئے تو انھوں نے سلام کیا (قَالُوا سَلَامًا)، اس نے بھی ان کے جواب میں سلام کہا (قالَ سَلَام)۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ان کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے (فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِیذٍ)۔ ”عجل“ کا معنی ”بچھڑا“ اور ”گوسالہ“ اور ”حنید“ کا معنی ہے”بھنا ہوا“ بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ”عنید“ ہر قسم کے بھنے ہوئے کو نہیں کہتے بلکہ صرف اسی گوشت کو کہتے ہیں جو پتھروں کے اوپر رکھا جائے اور اس کے اطراف میں آگ روشن کی جائے لیکن آگ اس تک نہ پہنچے اور وہ خستہ اور بھنا ہوا ہو جائے۔ اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمان نوازی کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے مہمان کے لیے کھانا تیار کیا جائے کیوں کہ مہمان جب کہیں سے آتا ہے خصوصا اگر مسافر ہو تو عموما تھکا ماندا اور بھوکا ہوتا ہے۔ اسے کھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور آرام کی بھی لہٰذا جلدی سے اس کے لیے کھانا تیار کیا جانا چاہیئے تاکہ وہ پھر آرام کر سکے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض تنقید کریں کہ چند مہمانوں کے لیے ایک بچھڑا زیادہ ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے اول تو مہمانوں کی تعداد قرآن نے صراحت سے بیان نہیں کی اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے بعض نے تین، بعض چار،بعض نے نو اور بعض نے گیارہ افراد لکھے ہیں اور اس سے زیادہ کا بھی احتمال ہے، دوسرا یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیه السلام) کے پیروکار اور دوست احباب بھی تھے اور کار کن اور جان پہچان والے بھی ا ور یہ معمول ہے کہ بعض اوقات مہمان کے آنے پر مہمان کی ضرورت سے کئی گناہ زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے اور سب اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام)نے دیکھا کہ نو وارد کھانے کی طرف سے ہاتھ ہی نہیں بڑھاتے۔ یہ صورت ان کے لیے بالکل نئی تھی۔ اس بنا پر آپ کو ان سے اجنبیت کا احساس ہوا، اور یہ معاملہ ان کی وحشت وپریشانی کا باعث بنا (فَلَمَّا رَاَی اَیْدِیَھُمْ لَاتَصِلُ إلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَاَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیفَةً)۔ اس امر کا سرچشمہ ایک دیرینہ روایت ہے جو آج تک ان موقعوں میں پائی جاتی ہے جو گذشتہ اچھی روایات کی پابند رہتی ہیں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دوسرے کا کھانا کھا لے یعنی اس کا نان ونمک کھالے تو اس کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہیں کرتا۔ لہٰذا اگر کوئی واقعاً کسی کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہو تو کوشش کرتا ہے کہ اس کا نان ونمک نہ کھائے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو ان مہمانوں کے بارے میں شک ہوا اور سوچا کہ ہو سکتا ہے یہ کوئی برا ارادہ رکھے ہوں۔ ان”رسولوں“کو یہ مسئلہ معلوم ہو گیا تو انھوں نے جلدی سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا شک دور کر دیا اور ”اس سے کہا: مت ڈریں ہم خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں“اور ایک ظالم قوم کو عذاب کرنے پر مامور ہیں اور فرشتے غذا نہیں کھاتے (قَالُوا لَاتَخَفْ إنَّا اُرْسِلْنَا إلیٰ قَوْمِ لُوطٍ)۔ اس موقع پر ابراہیم کی بیوی (سارہ) جو وہاں کھڑی تھی ہنسی (وَامْرَاَتُہُ قَائِمَةٌ فَضَحِکَتْ)۔ شاید وہ اس لیے ہنسی ہوں کہ وہ بھی قوم لوط کے کرتوتوں سے سخت ناراحت اور پریشان تھیں اور ان کی سزا نزدی ک ہونے کا سن کر خوش ہوئیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ تعجب بلکہ وحشت کے باعث ہنسی ہوں کیوں کہ ہنسی صرف مسرت کے لمحات کے لیے مخصوص نہیں بلکہ گاہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان شدت وحشت و تکلیف پر ہنستا ہے۔ عربوں کی مشہور ضرب المثل ہے: شر الشدائد ما یضحک۔ بدترین مشکلات وہ ہیں جو انسان کو ہنسا دیں۔ یا ہو سکتا ہے کہ وہ اس بنا پر ہنسی ہوں کہ کھانا موجود ہے لیکن نووارد مہمان ہاتھ کیوں نہیں بڑھاتے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری پر ہنسی تھیں اگرچہ ظاہر آیت اس تفسیر کی نفی کرتی ہے کیوں کہ اسحاق کی بشارت انھیں اس ہنسنے کے بعد دی گئی ہے ہاں البتہ اگر یہ کہا جائے کہ پہلے انھوں نے ابراہیم کو بشارت دی ہو، سارا نے یہ بات سن لی ہو اور وہ اس احتمال پر خوش ہوئی ہوں کہ ان سے ابراہیم (علیه السلام) کا فرزند ہو گا۔ لیکن انھوں نے تعجب کیا کہ کیا اس سن وسال میں ممکن ہے کہ ایک بوڑھی عورت اپنے بوڑھے شوہر کے بچے کو جنم دے، لہٰذا انہوں ں نے تعجب سے ان سے سوال کیا اور انھوں نے صراحت سے کہا: جی ہاں! یہ بچہ تجھی سے ہو گا، سورہ ذارعات کی آیات میں غور کرنے سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ یہاں پر ”ضحکت“ ”ضحک“(بروزن ”درک“) کے مادہ سے عورتوں کے ماہواری کے معنی میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اسی وقت سارا کو دوبارہ ماہواری شروع ہو گئی جب کہ پہلے ختم ہو چکی تھی اور وہ حد یاس تک پہنچ چکی تھیں اور یہ ماہواری بچہ کی پیدائش کے امکان کی نشانی ہے، لہٰذا انھوں نے سارا کو اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی تو پھر انھوں نے مسئلہ کو پوری طرح باور کیا، مفسرین نے اس بات سے استدلال کیا ہے کہ لغت عرب میں کہا جاتا ہے: ضحک الارانب۔ یعنی۔ خرگوشوں کی ماہواری شروع ہو گئی۔ لیکن مختصر پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ احتمال بعید معلوم ہوتا ہے کیوں کہ: اوّلاً یہ نہیں سنا گیا کہ مادہ لغت عرب میں انسان کے بارے میں استعمال ہوا ہے، اسی لیے راغب نے مفرادات میں جب یہ معنی ذکر کیا ہے تو صراحت سے کہا ہے کہ یہ لفظ ”ضحکت“ کی تفسیر نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے بلکہ اس لفظ کا معنی ہنسنا ہی ہے لیکن ہنستے ہوئے اسے ماہواری بھی شروع ہو گئی اور یہ دونوں چیزیں آپس میں خلط ملط ہو گئیں۔ ثانیاً اگر یہ لفظ ایام ماہواری شروع ہونے کے بارے میں ہو تو پھر سارا کو اس کے بعد اسحاق کی بشارت پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے تھا کیوں کہ اس حالت میں بچہ جننا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔حالانکہ اسی آیت کے بعد والے جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف تعجب کیا بلکہ پکار کر کہا کہ وائے ہو مجھ پر کیا ممکن ہے کہ میں بوڑھی عورت بچہ جنوں؟ بہرحال یہ احتمال آیت کی تفسیر سے بہت بعید نظر آتا ہے۔ قرآن مزید کہتا ہے:اس کے بعد ہم نے اسے بشارت دی کہ اس سے اسحاق پیدا ہو گااور اسحاق کے بعد اسحاق سے یعقوب ہو گا(فَبَشَّرْنَاھَا بِإسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إسْحَاقَ یَعْقُوبَ)۔ درحقیقت ان ھیں بیٹے کی بشارت بھی دی گئی اور پوتے کی بھی، ایک اسحاق اور دوسرایعقوب،جو دونوں انبیاء خدا میں سے تھے۔ ابراہیمؑکی بیوی سارا جو اپنی اور اپنے شوہر کی زیادہ عمر کی وجہ سے بچے کی پیدائش سے بہت مایوس اور ناامید ہو چکی تھیں”بڑے تعجب آمیز لہجے میں پکاری: اے وائے ہو مجھ پر میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے، یہ بہت ہی عجیب معاملہ ہے (قَالَتْ یَاوَیْلَتَا اَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوزٌ وَھٰذَا بَعْلِی شَیْخًا إنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیبٌ)۔ وہ حق بجانب تھی کہ تعجب کرتی کیوں کہ اول تو سورہٴ ذارعات کی آیہ ۲۹ کے مطابق وہ جوانی میں ہی بانجھ تھی اور ثانیا جس روز اسے یہ خوشخبری دی گئی مفسرین کے بقول اور تورات کے سفر تکوین کے مطابق وہ نوے سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کی تھی اور اس کے شوہر ابراہیم (علیه السلام) اس وقت تقریبا سو سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کے تھے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سارا نے اپنے بڑھاپے سے بھی استدلال کیا اور اپنے شوہر کے بڑھاپے سے بھی حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عورتوں کو عام طور پر پچاس سال کی عمر سے خون حیض بند ہو جاتا ہے کہ جوکہ بچہ جننے کے قابل نہ ہونے کی نشانی ہے۔یہ عادت منقطع ہو جاتی ہے تو پھر اس کے بعد ان سے بچہ پیدا ہونے کا احتمال بہت کم رہ جاتا ہے لیکن طبی تجربات نشان دہی کرتے ہیں کہ مردوں میں باپ ہونے کے لیے نطفے کی صلاحیت زیادہ عمر میں بھی باقی رہتی ہے لیکن اس سوال کا جواب واضح ہے کہ اگرچہ مردوں میں اس کا امکان باقی رہتا ہے لیکن بہرصورت اس کے بارے میں بھی بہت زیادہ سن میں یہ احتمال کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہٴ حجر کی آیہ ۵۴ کے مطابق اس بشارت پر خود حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے اپنے بڑھاپے کی وجہ سے تعجب کیا۔ علاوہ ازیں نفسیاتی طور پر بھی شاید سارا نہیں چاہتی تھی کہ جرم ضعیفی صرف اپنی گردن پر لے لے۔ بہرحال خدا کے بھیجے ہوؤں نے فوراً اسے اس تعجب سے نکالا اور اس خاندان پر خدا تعالیٰ کی جو پہلے سے بہت زیادہ نعمتیں رہی ہیں اور جس طرح سے خدا انھیں حوادث کے چنگل سے معجزانہ طور پر نجات دلاتا رہا ہے اسے یاد دلایا اور اس سے کہا: کیا فرمان خدا پر تعجب کرتی ہو (قَالُوا اَتَعْجَبِینَ مِنْ اَمْرِ اللهِ)،حالانکہ خدا کی رحمت اور اس کی برکات تم اہل بیت پر تھیں اور ہیں(رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُہُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ)،وہی خدا جس نے ابراہیم کو نمرود جیسے ظالم کے چنگل سے نجات بخشی اور آگ میں صحیح وسالم رکھا، وہ خدا جس نے بہادر بت شکن ابراہیمؑکو جب کہ اس نے تن تنہا طاغوتوں پر حملہ کیا ہمت، طاقت، استقامت اور عقل ودانائی عطا کی (تشریحی نوٹ: ممکن ہے ”رحمة اللّٰہ وبرکاتہ علیکم“جملہ خریہ ہو اور اس مقام پر یہ بھی امکان ہے کہ یہ دعا ئیہ پہلو رکھتا ہو لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے)۔ یہ رحمت وفیضان الٰہی صرف اس روز اور اس دور کے لیے نہ تھا بلکہ اس خاندان پر اسی طرح جاری وساری تھا اور ہے، پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) اور ائمہ اہل بیت (علیه السلام) سے بڑھ کر کیا برکت ہو گی جو کہ اس خاندان میں ظہور پذیر ہوئے۔ یہاں مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ انسان کی بیوی بھی ”اہل بیت“ کے مفہوم میں داخل ہے، اور یہ لفظ اولاد اور ماں باپ کے لیے مخصوص نہیں ہے، یہ استدلال صحیح ہے بلکہ اگر یہ آیت نہ بھی ہوتی تو لفظ ”اہل“ کے مفہوم کے لحاظ سے یہ معنی درست ہے لیکن کوئی مانع نہیں کہ کچھ لوگ اہل بیت پیغمبر کا حصہ ہوں لیکن الگ مکتب ومذہب پر کاربند ہونے کی وجہ سے روحانی اعتبار سے اور معنوی لحاظ سے اہل بیتؑ سے خارج ہوجائیں۔ (اس کی مزید تشریح انشاء اللہ سورہ احزاب کی آیہ ۳۳ میں آئے گی)۔ آیت کے آخر میں۔فرشتوں نے زیادہ تاکید کے لیے کہا: ”وہ ایسا خدا ہے جو حمید اور مجید ہے“(إنَّہُ حَمِیدٌ مَجِید)۔ در اصل پروردگار کی ان دو صفات کا ذکر گذشتہ جملے کی دلیل ہے کیونکہ”حمید“اسے کہتے ہیں جس کے اعمال قابل تعریف ہوں، خدا کا یہ نام اس کی فراواں نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ اپنے بندوں پر روا رکھتا ہے کہ جن کے جواب میں وہ اس کی حمد وثنا کرتے ہیں، نیز ”مجید“ اسے کہتے ہیں جو استحقاق سے پہلے بھی نعمت بخشتا ہے، کیا وہ خدا جو ان صفات کا حامل ہے اس سے عجیب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے خاندان کو ایسی نعمت(یعنی آبرومند اولاد) عطا فرمائے۔

74
11:74
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ ٱلۡبُشۡرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِي قَوۡمِ لُوطٍ
جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اسے بشارت مل گئی تو ہمارے(فرشتوں کے) ساتھ قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
11:75
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ
کیونکہ ابراہیم بردبار، ہمدرد اور (خدا کی طرف)بازگشت کرنے والا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
11:76
يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَآۖ إِنَّهُۥ قَدۡ جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَإِنَّهُمۡ ءَاتِيهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُودٖ
(انہوں نے کہا)اے ابراہیم! اس سے صرف نظر کر لے کہ تیرے پروردگار کا فرمان آپہنچا اور (خدا کا) عذاب قطعی طور پر ان پر آئے گا اور وہ پلٹ نہیں سکتا۔

حضرت ابراہیم، قومِ لوط کی فکر میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) بہت جلد نووارد مہمانوں کے بارے میں جان گئے کہ وہ خطرناک دشمن نہیں بلکہ پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور خود انہی کے بقول ایک ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے قوم ِ لوط کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے جب ابراہیم (علیه السلام) کی پریشانی ختم ہو گئی اور ساتھ ہی انھیں صاحبِ شرف فرزند اور جانشین کی بشارت مل گئی تو فورا وہ قوم لوط کی فکر میں پڑ گئے جن کی نابودی پر وہ فرستادگان مامور تھے، وہ اس سلسلے میں ان سے جھگڑنے لگے اور بات چیت کرنے لگے (فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ إبْرَاھِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْریٰ یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ)۔ (تشریحی نوٹ: روع“(بروزن”نوع“)خوف ووحشت کے معنی میں ہے اور ”روع“(بروزن ”نوح“)روح یا لوح کے ایک حصے کے معنی میں ہے جو خوف ووحشت کے نزول کا مرکز ہے (قاموس اللغت کی رجوع کریں))۔ ممکن ہے یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) ایک آلودہ گناہ قوم کے بارے میں کیوں گفتگو کے لیے کھڑے ہو گئے اور پروردگار کے ان رسولوں کے ساتھ کہ جو فرمان خدا سے مامور تھے جھگڑنے لگے (یہی وجہ ہے کہ ”یجادلنا“ کی تعبیر استعمال ہوئی یعنی ہم سے مجادلہ کرتے تھے) حالانکہ ایسا ایک پیغمبر کی شان سے اور وہ بھی ابراہیم (علیه السلام)جیسے باعظمت پیغمبر سے بعید ہے۔ اسی لیے قرآن فوراً بعد والی آیت میں کہتا ہے: ابراہیم بردبار، بہت مہربان،خدا پر توکل کرنے والا اور اس کی طرف بازگشت کرنے والا ہے (إنَّ إبْرَاھِیمَ لَحَلِیمٌ اَوَّاہٌ مُنِیبٌ)۔ (تشریحی نوٹ: ”حلیم“،”حلم“ سے ہے، اس کا معنی ایک مقدس ہدف تک پہنچنے کے لیے بردباری اختیار کرنا اور ”آواہ“ اصل میں اس شخص کے معنی میں ہے جو بہت آہیں بھرتا ہو چاہے اپنی ذمہ داریوں کے خوف سے یالوگوں کو گھیرے ہوئے مشکلات ومصائب کی وجہ سے اور ”منیب“ ”انابہ“ کے مادہ سے رجوع اور بازگشت کرنے کے معنی میں ہے)۔ دراصل ان تین لفظوں میں مذکورہ سوال کا جواب دیا گیا ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے لیے ان صفات کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا مجادلہ اور جھگڑنا ممدوح اور قابل تعریف ہے، یہ اس لیے کہ ابراہیم (علیه السلام) پر یہ واضح نہیں تھا کہ خدا کی طرف سے عذاب کا قطعی فرمان صادر ہو چکا ہے۔ انھیں احتمال تھا کہ قوم کی نجات کے لیے ابھی امید کی کرن باقی ہے اور ابھی احتمال ہے کہ وہ بیدار ہو جائے لہٰذا ابھی شفاعت کاموقع باقی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سزا اور عذاب میں تاخیر کے خواستگار ہوئے کیونکہ وہ حلیم، اور بردبار تھے، وہ بہت مہربان بھی تھے اور ہرموقع پر خدا کی طرف رجوع کرنے والے بھی تھے۔ لہٰذا یہ جو بعض نے کہا کہ اگر ابراہیم (علیه السلام) کا مجادلہ خدا کے ساتھ تھا تو اس کا کوئی معنی نہیں ہے اور اگر اس کے بھیجے ہوئے فرشتوں کے ساتھ تھا تو وہ بھی اپنی طرف سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے تھے اس لیے یہ مجادلہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ ایک قطعی حکم کے مقابلے میں تو بات نہیں ہو سکتی لیکن غیر قطعی فرامین، شرائط وکوائف میں تبدیلی کی سورت میں بدلے جا سکتے ہیں کیونکہ ان میں بازگشت اور رجوع کی راہ بند نہیں ہوتی، دوسرے لفظوں میں ایسے فرامین مشروط ہوتے ہیں ناکہ مطلق۔ باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں مجادلہ مومنین کی نجات کے لیے تھا تو یہاں سورہٴ عنکبوت کی آیہ ۳۱،اور ۳۲ سے اشتباہ ہوا ہے جہاں فرمایا گیا ہے: وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا إبْرَاھِیمَ بِالْبُشْریٰ قَالُوا إنَّا مُھْلِکُو اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَةِ إنَّ اَھْلَھَا کَانُوا ظَالِمِینَ قَالَ إنَّ فِیھَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیھَا لَنُنَجِّیَنَّہُ وَاَھْلَہُ إلاَّ امْرَاَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ۔ جب ہمارے رسول بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے تو کہا: ہم اس بستی (قوم لوط کا شہر) والوں کو ہلاک کر دیں گے کیونکہ اس کے باسی ظالم ہیں، ابراہیم نے کہا: وہاں تو لوط رہتا ہے، انھوں نے کہا: ہم وہاں رہنے والوں سے بہت آگاہ ہیں، اسے اور اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے کہ جو قوم میں ہی رہے گی۔ یہ احتمال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ بعد والی آیت سے کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا، جس کے بارے میں ابھی ہم بحث کریں گے۔ بعد والی آیت میں ہے: رسولوں نے فوراً-ابراہیم (علیه السلام) سے کہا: اے ابراہیم! اس تجویز سے صرفِ نظر کرو اور شفاعت رہنے دو کیونکہ یہ اس کا موقع نہیں ہے (یَاإبْرَاھِیمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا)، کیونکہ تیرے پروردگار کا حتمی اور یقینی فرمان آپہنچا ہے (إنَّہُ قَدْ جَاءَ اَمْرُ رَبِّکَ)،اور خدا کا عذاب بلاکلام ان پر آ کر رہے گا (وَإنَّھُمْ آتِیھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُود)۔ ”ربک“ (تیرا رب)۔یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عذاب نہ سرف یہ کہ انتقامی حوالے سے نہیں تھا بلکہ اس کا سرچشمہ پروردگار کی صفتِ ربوبیت ہے جو بندوں کی تربیت وپرورش اور اجتماعِ انسانی کی اصلاح کی نشانی ہے۔ یہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے خدا کے رسولوں سے کہا: اگر قوم میں سو مومن افراد ہوئے تو پھر بھی ہلاک نہیں کرو گے؟ اس پر انھوں نے کہا: نہیں، ابراہیم (علیه السلام) نے پوچھا: اگر پچاس افراد ہوئے ؟ تو وہ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: اگر تیس ہوئے؟ وہ بولے: نہیں، کہا اگر دس ہوئے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، پوچھا: اگر پانچ ہوئے؟ انھوں کہا: نہیں، یہاں تک کہ پوچھا کہ: اگر ایک شخص بھی ان میں صاحب ایمان ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس پر حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے کہا: یقینا لوط تو ان کے درمیان ہیں، انھوں نے جواب دیا: ہم خوب جانتے ہیں اسے اور اس کی بیوی کے سوا اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے۔ (بحوالہ تفسیر برہان، ج۲، ص: ۲۲۶)۔ یہ روایت کسی طرح اس بات کی دلیل نہیں کہ مجادلہ سے مراد یہ گفتگو تھی بلکہ یہ گفتگو تو مومنین کے بارے میں تھی، حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے جو گفتگوکفار کے بارے میں کی وہ اس سے جدا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ سورہ عنکبوت کی مذکورہ آیات بھی اس تفسیر کے منافی نہیں ہے (غور کیجئے گا)

77
11:77
وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗا وَقَالَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَصِيبٞ
جب ہمارے رسول لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے سے ناراحت ہوا اور اس کا دل پریشان ہوا اور (اس نے) کہا کہ آج کا دن سخت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
11:78
وَجَآءَهُۥ قَوۡمُهُۥ يُهۡرَعُونَ إِلَيۡهِ وَمِن قَبۡلُ كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطۡهَرُ لَكُمۡۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ فِي ضَيۡفِيٓۖ أَلَيۡسَ مِنكُمۡ رَجُلٞ رَّشِيدٞ
اور اس کی قوم جلدی سے اس کے پاس آئی اور وہ پہلے سے برے کام انجام دیتی تھی۔ اس نے کہا: اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں (ان سے ازدواج کرو اور برے اعمال چھوڑ دو) خدا سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تمہارے درمیان کوئی مرد رشید نہیں ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
11:79
قَالُواْ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنۡ حَقّٖ وَإِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيدُ
وہ کہنے لگے: تو جانتا ہے کہ ہم تیری بیٹیوں کے لئے حق (اور میلان) نہیں رکھتے اور تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
11:80
قَالَ لَوۡ أَنَّ لِي بِكُمۡ قُوَّةً أَوۡ ءَاوِيٓ إِلَىٰ رُكۡنٖ شَدِيدٖ
کہا (افسوس) اے کاش ! میں تمہارے مقابلے میں طاقت رکھتا یا کوئی محکم سہارا اور مددگار مجھے میسر ہوتا۔

قوم لوط کی شرمناک زندگی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

سورہٴ اعراف کی آیات میں قوم لوط کی سرنوشت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر ہم وہاں پیش کر چکے ہیں، یہاں انبیاء اور ان کی قوموں کی داستانوں کا سلسلہ جاری ہے، اسی مناسبت سے گذشتہ کچھ آیات حضرت لوط (علیه السلام) اور ان کی قوم کی سرگزشت سے تعلق رکھتی تھیں۔ زیر نظر آیات میں اس گمراہ اور منحرف قوم کی زندگی کے ایک اور حصے سے پردہ اٹھایا گیا ہے تاکہ سارے انسانی معاشرے کی نجات وسعادت کے اصلی مقصد کو ایک اور زاوےے سے پیش کیا جائے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب ہمارت رسول لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے پر بہت ہی ناراحت اور پریشان ہوئے، ان کی فکر اور روح مضطرب ہوئی اور غم وانداہ نے انھیں گھیر لیا (وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا)۔ اسلامی روایات اور تفاسیر میں آیا ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) اس وقت اپنے کھیت میں کام کررہے تھے اچانک انھوں نے خوبصورت نوجوانوں کو دیکھا جو ان کی طرف آرہے تھے، وہ ان کی ہاں مہمان ہونا چاہتے تھے۔ اب حضرت لوط (علیه السلام) مہمانوں کی پذیرائی بھی چاہتے تھے لیکن اس حقیقت کی طرف بھی ان کی توجہ تھی کہ ایسے شہر میں جو انحراف جنسی کی آلودگی میں غرق ہے ان خوبصورت نوجوانوںکا آنا طرح طرح کے مسائل کا موجب ہے اور ان کی آبرو ریزی کا بھی احتمال ہے۔ اس وجہ سے حضرت لوط (علیه السلام) سخت مشکل سے دوچار ہو گئے، یہ مسائل روح فرسا افکار کی صورت میں ان کے دماغ میں ابھرے اور انھوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے کہنا شروع کیا: آج بہت سخت اور وحشتناک دن ہے (وَقَالَ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیبٌ)۔ ”سِیء“ مادہ”ساء“سے ناراحت وپریشان ہونے کے معنی میں ہے۔ ”ذرع“ کو بعض نے دل اور بعض نے خُلق کے معنی میں لیا ہے، اس بنا پر ”ضاق بھم ذرعا“ کا مفہوم ہے: ان کا دل یا خُلق ان کے بِن بلائے مہمانوں کے باعث ان سخت حالات میں بہت پریشان ہوا۔ لیکن فخررازی نے اپنی تفسیر میں ازہری سے نقل کیا ہے کہ ایسے موقع پر ”ذرع“ طاقت کے معنی میں ہے، اور اصل میں اس کا مطلب ہے”چلتے وقت اونٹ کے اگلے قدموں کے درمیان کا فاصلہ“۔ فطری اور طبیعی امر ہے جب اونٹ کی پشت پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لاددیں تو وہ مجبورا اپنے اگلے پاؤں کو زیادہ نزدیک کر کے رکھے گا اور چلتے وقت ان کے درمیان فاصلہ کم ہو گا، اسی مناسبت سے یہ تعبیر تدریجا کسی حادثے کی سنگینی کی وجہ سے ہونے والی ناراحتی اور پریشانی کے معنی میں استعمال ہونے لگی۔ بعض کتبِ لغت مثلا ”قاموس“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعبیر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے جہاں حادثے کی شدت اتنی ہو کہ انسان کو کوئی چارہ کار سجھائی نہ دے۔ ”عصیب“ ”عصب“ (بروزن ”اسپ“) کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کو ایک دوسرے سے باندھنا، سخت ناراحت کرنے والے حوادث چونکہ انسان کو ایک طرح سے لپیٹ دیتے ہیں اور گویا ناراحتی سے باندھ دیتے ہیں لہٰذا اس صورت حال پر ”عصیب“ کا اطلاق ہوتا ہے، نیز عرب گرم اور جلانے والے دن کو بھی ”یوم العصیب“ کہتے ہیں۔ بہرحال حضرت لوط (علیه السلام) کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہ تھا کہ وہ اپنے نووارد مہمانوں کوگھر لے جاتے لیکن اس بنا ء پر کہ وہ غفلت میں نہ رہیں راستے میں چند مرتبہ ان کے گوش گزار کر دیا کہ اس شہر میں شریر اور منحرف لوگ رہتے ہیں تاکہ اگر مہمان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو صورتِ حال کا اندازہ کر لیں۔ ایک روایت میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ جب تک یہ پیغمبر تین مرتبہ اس قوم کی برائی اور انحراف کی گواہی نہ دے انھیں عذاب نہ دیا جائے (یعنی۔ یہاں تک کہ ایک گنہگار قوم سے متعلق بھی حکم خدا عدالت کے ایک عادلانہ فیصلے کی روشنی میں انجام پائے) اور ان رسولوں نے راستے میں تین مرتبہ لوط کی گوہی سُن لی۔ (بحوا لہ مجمع البیان، مزکورہ آیت کے ذیل میں) کئی ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) نے مہمانون کو اتنی دیر تک (کھیت میں)ٹھہرائے رکھا کہ رات ہو گئی تاکہ شاید اس طرح اس شریر اور آلودہ قوم کی آنکھ سے بچ کر حفظِ آبرو کے ساتھ ان کی پذیرائی کرسکیں، لیکن جب ان کا دشمن خود اس کے گھر کے اندر موجود ہو تو پھر کیا کیا جا سکتا، لوط (علیه السلام) کی بیوی کو جو ایک بے ایمان عورت تھی اور اس گنہگار قوم کی مدد کرتی تھی جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں کے آنے کی خبر ہوئی تو چھت پر چڑھ گئی، پہلے اس نے تالی بجائی پھر آگ روشن کرکے اس کے دھوئیں کے ذریعے ان نے منحرف قوم کے بعض لوگوں کو آگاہ کیا کہ لقمہ ترجال میں پھنس چکا ہے۔ (بحوالہ المیزان، ج۱۰،ص ۳۶۲۔) یہاں قرآن کہتا ہے کہ وہ قوم حرص اور شوق کے عالم میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے بڑی تیزی سے لوط (علیه السلام) کی طرف آئی (وَجَائَہُ قَوْمُہُ یُھْرَعُونَ إلَیْہِ)۔ وہی قوم کہ جس کی زندگی کے صفحات سیاہ اور ننگ وعار سے آلودہ تھے”اور جو پہلے ہی سے برے اور قبیح اعمال انجام دی رہی تھی“(وَمِنْ قَبْلُ کَانُوا یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ)۔ حضرت لوط (علیه السلام) اس وقت حق رکھتے تھے کہ لرزنے لگیں اور ناراحتی و پریشانی کی شدت سے چیخ وپکار کریں، انھوں نے کہا: مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں(قَالَ یَاقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنَاتِی ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ)۔ آؤ”اورخدا سے ڈرو، میری عزت وآبرو خاک میں نہ ملاؤ اور میرے مہمانوں کے بارے میں برا ارادہ کرکے مجھے رسوا نہ کرو“(فَاتَّقُوا اللهَ وَلَاتُخْزُونِی فِی ضَیْفِی)۔ اے وائے”کیا تم میں کوئی رشید، عقلمد اور شائستہ انسان موجود نہیں ہے“ کہ جو اس ننگین اور شرمناک عمل سے روکے (َلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ)۔ مگر تباہ کار قوم نے نبی خدا حضرت لوط (علیه السلام) کو بڑی بے شرمی سے جواب دیا: ”تو خود اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارا تیری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں“ (قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقٍّ) ”اور یقینا تو جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیںوَإنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیدُ۔ (تشریحی نوٹ: ”یُھْرَعُونَ“ ”اھراع“ کے مادہ سے دھکیلنے کے معنی میں ہے، گویا سرکش جنسی خواہش اس گمراہ قوم کو بٹی شدت سے حضرت لوط (علیه السلام) کے مہمانوں کی طرف دھکیل رہی تھی) یہ وہ مقام تھا کہ اس بزرگوار پیغمبر نے اپنے آپ کو ایک محاصرے میں گھِرا ہوا پایا اور انھوں نے ناراحتی وپریشانی کے عالم میں فریاد کی: اے کاش! مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ مَیں اپنے مہمانوں کا دفاع کر سکتا اور تم جیسے سرپھروں کی سرکوبی کر سکتا (قَالَ لَوْ اَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً)، یا کوئی مستحکم سہارا ہوتا، کوئی قوم وقبیلہ میرے پیروکاروں میں سے ہوتا اور میرے کوئی طاقتور ہم پیمان ہوتے کہ جن کی مدد سے تم منحرف لوگوں کا مقابلہ کرتا (اَوْ آوِی إلَی رُکْنٍ شَدِید)

چند قابل توجہ نکات

۱۔ حضرت لوط (علیه السلام) کی بیٹیاں: جس وقت قوم لوط نے حضرت لوط (علیه السلام) کے گھر پر ہجوم کیا اور وہ ان کے مہمانوں پر تجاوز کرنا چاہتے تھے اس وقت آپ نے کہا: میری بیٹیاں تمھارے لیے پاک اور حلال ہیں، ان سے استفادہ کرو اور گناہ کے گرد چکر نہ لگاؤ۔ اس جملے نے مفسرین کے درمیان بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پہلا یہ کہ بیٹیوں سے مراد کیا لوط (علیه السلام) کی نسبی اور حقیقی بیٹیاں تھیں جب کہ تاریخ کے مطابق ان کی دو یا تین سے زیادہ بیٹیاں نہیں تھیں، لہٰذا انھوں نے اتنی کثیر جمعیت کے سامنے یہ تجویز کس طرح سے پیش کی، یا یہ کہ مراد تمام قوم اور شہر کی بیٹیاں تھیں کیونکہ معمول یہ ہے کہ قبیلہ کا بزرگ قبیلے کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں ہی قرار دیتا ہے۔ دوسرا احتمال ضعیف نظر آتا ہے کیونکہ خلافِ ظاہر ہے اور صحیح وہی پہلا احتمال ہے اور حضرت لوط (علیه السلام) کی یہ تجویز اس بنا پر تھی کہ ہجوم کرنے والے بستی کے چند افراد تھے نہ کہ سب کے سب، علاوہ ازیں وہ یہاں انتہائی قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے کہ مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ گناہ کو روکنے اور اپنے مہمانوں کی عزت اور مرتبے کی حفاطت کے لیے اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں کہ شاید اس بے نظیر قربانی پر ان کے سوئے ہوئے ضمیر بیدار ہو جائیں اور وہ راہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت لوط (علیه السلام) کی بیٹیوں جیسی باایمان لڑکیوں کی شادی بے ایمان کفار سے جائز تھی کہ آپ نے یہ تجویز پیش کی۔ اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے: ایک یہ کہ اسلام کی حضرت لوط (علیه السلام) کے دین میں بھی آغاز میں اس قسم کا ازدواج حرام نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ حضرت لوط (علیه السلام) کی مراد مشروط ازدواج تھی (یعنی۔ مشروط باایمان)یعنی یہ میری بیٹیاں ہیں، آؤ ایمان لے آؤ تاکہ مَیں انھیں تمھارے نکاح میں دے دوں۔ یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ نبیٴ خدا حضرت لوط (علیه السلام) پر یہ اعتراض کہ انھوں نے اپنی پاکیزہ بیٹیوں کے نکاح کی اوباش لوگوں سے تجویز کیونکر کی، درست نہیں ہے کیونکہ ان کی پیش کش مشروط تھی اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انھیں ان کی ہدایت سے کس قدر لگاؤ تھا۔ ۲۔ ”اطھر“ کا مفہوم: توجہ رہے کہ لفظ ”اطھر“ (پاکیزہ تر) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان کا وہ برا اور شرمناک عمل پاک تھا اور ازدواج کرنا اس سے زیادہ پاک تھا بلکہ عربی زبان میں اور دیگر زبانوں میں ایسی تعبیر موازنے کے وقت استعمال میں کی جاتی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہو تو اسے کہتے ہیں:دیر سے پہنچنا بہتر ہے بالکل نہ پہنچے سے ”یا“ مشکوک غذا نہ کھانا بہتر ہے اس سے کہ انسان اپنی جان خطرے میں ڈال دے۔ ایک روایت میں بھی ہے کہ امام (علیه السلام) نے خلفاء بنی عباس کی طرف سے احساس خطر اور شدتِ تقیہ کے موقع پر فرمایا: واللّٰہ افطر یوما من شھر رمضان احب الیٰ من ان یضرب عنقی۔ ماہِ رمضان کا ایک دن کہ جب خلیفہ وقت نے عید کا اعلان کیا ہوا تھا حالانکہ اس روز عید نہیں، اس دن افطار کروں (اور پھر اس دن کی قضا کروں) اس سے بہتر ہے کہ مارا جاؤں۔ (بحوالہ: وسائل، ج۷،ص ۹۵.) حالانکہ نہ مارا جانا اچھا ہے اور نہ مقصد تک بالکل نہ پہنچنا، لیکن ایسے مقامات پر اس طرح کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ ۳۔ایک مرد رشید، کی نصیحت: حضرت لوط (علیه السلام) کا آخرِ کلام میں یہ کہنا کہ ”کیا تمھارے درمیان کوئی مرد رشید نہیں ہے“ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک رشید انسان کا کسی قوم یا قبیلے میں ہونا بھی اس کے شرمناک اعمال سے اسے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے، یعنی ایک شخص بھی اگر عاقل اور رشدِ فکر رکھنے والا تمھارے درمیان ہوتا تو تم میرے گھر کی طرف میرے مہمانوں پر تجاوز کرنے کے ارادے سے اور بدنیتی سے ہرگز نہ آتے۔ اس سے انسانی معاشرے کی رہبری کے لیے ”رجل رشید“ کا اثرواضح ہوتا ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس کے بہت سے نمونے ہم نے پوری تاریخِ بشر میں دیکھی ہے۔ ۴۔ انحراف کی انتہا: تعجب کی بات یہ ہے کہ اس گمراہ قوم نے حضرت لوط (علیه السلام) سے کہا: ہم تیری بیٹیوں پر حق نہیں رکھتے یہ امر اس گروہ کی انتہائی انحراف کو ظاہر کرتا ہے یعنی گناہ میں ڈوبا ہوا ایک معاشرہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے، انھوں نے پاک وپاکیزہ صاحبِ ایمان لڑکیوں سے ازدواج کو بالکل قلمروِ حق میں شمار نہیں کیا لیکن اس کے برعکس جنسی انحراف کو اپنا حق شمار کیا۔ گناہ کی عادت اور خو ہو جائے تو یہ مرحلہ اس قدر خطرناک مراحل میں سے ہے کہ یہاں پہنچ کر افراد شرمناک ترین اور قبیح ترین اعمال کو اپنا حق شمار کرتے ہیں اور پاکیزہ ترین طریقے سے جنسی تقاضوں کی تسکین کو ناحق سمجھتے ہیں۔ ۵۔ ”قوة“ اور ”رکن شدید“ کا مفہوم: ایک حدیث میں امام صادق (علیه السلام) سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں فرمایا: ”قوة“ سے مراد وہی ”قائم“ہے اور ”رکن شدید“ ان کے ۳۱۳یار وانصار ہیں۔ (بحوالہ تفسیر برہان، ج۲،ص۲۲۸)۔ ہو سکتا ہے یہ روایت عجیب معلوم ہوکہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں حضرت لوط (علیه السلام) ایسی شخصیت کی ایسے یاروانصار کے ساتھ ظہور کی آرزو کریں، لیکن جو روایات آیاتِ قرآن کی تفسیر کے ذیل میں اب تک آئیں ہیں انھوں نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ عام طور پر ایک کلی قانون کو اس کے واضح مصداق کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ دراصل حضرت لوط (علیه السلام) یہ آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش! مصمم ارادوں والے، جسمانی اور روحانی طور پر طاقتور کافی تعداد میں مرد ہوتے ان کے مرد وں کی طرح جو قیام مہدی (علیه السلام) کے زمانے میں عالمی حکومت تشکیل دیں گے تو مَیں بھی حکومتِ الٰہی کی تشکیل کے لیے کام کرتا اور ان کی مدد سے فساد وانحراف کے خلاف جہاد کرتا اور اس قسم کے سرپھرے اور بے شرم افراد کی سرکوبی کرتا۔

81
11:81
قَالُواْ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓاْ إِلَيۡكَۖ فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٌ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمۡۚ إِنَّ مَوۡعِدَهُمُ ٱلصُّبۡحُۚ أَلَيۡسَ ٱلصُّبۡحُ بِقَرِيبٖ
انہوں نے کہا: اے لوط ! ہم تیرے پروردگار کے رسول ہیں، وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کر سکیں گے۔ وسط شب اپنے خاندان کے ساتھ (اس شہرسے) چلا جا اور تم میں سے کوئی بھی اپنی پشت کی طرف نگاہ نہ کرے۔ مگر تیری بیوی کہ وہ اسی بلا میں گرفتار ہو گی کہ جس میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے۔ ان کی وعدہ گاہ صبح ہے۔ کیا صبح نزدیک نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
11:82
فَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٖ مَّنضُودٖ
جب ہمارا فرمان آ پہنچا تو اس(شہراور علاقے)کو ہم نے تہ وبالا کر دیا اور ان پر ہم نے مٹیالے پتھروں کی بارش کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
11:83
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَۖ وَمَا هِيَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِبَعِيدٖ
(وہ پتھر کہ) جو تیرے پروردگار کے ہاں مخصوص تھے اور ایسا ہونا ستمگروں کے لئے بعید نہیں ہے۔

ظالموں کی زندگی کا اختتام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخرکار پرورگار کے رسولوں نے حضرت لوط (علیه السلام) کی شدید پریشانی دیکھی اور دیکھا کہ وہ روحانی طور پر کس اضطراب کا شکار ہیں تو انھوں نے اپنے اسرارِ کار سے پردہ اٹھایا اور ان سے ”کہا:اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں، پریشان نہ ہو، مطمئن رہو کہ وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کرسکیں گے“ (قَالُوا یَالُوطُ إنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَصِلُوا إلَیْکَ)۔ یہ امر جاذبِ توجہ ہے کہ خدا کے فرشتے یہ نہیں کہتے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ کہتے ہیں کہ اے لوط! یہ تجھ پر دسترس حاصل نہیں کر سکیں گے کہ تجھے کوئی نقصان پہنچے۔ یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ اپنے آپ کو لوط (علیه السلام) سے جدا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ بہرحال وہ انہی کے مہمان تھے اور ان کی ہتکِ حرمت حضرت لوط (علیه السلام) کی ہتکِ حرمت تھی یا یہ اس بنا پر کہ وہ حضرت لوط (علیه السلام) پر یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہم خدا کے فرستادہ ہیں اور ہم تک ان کی دسترس نہ ہونا تو مسلم ہے یہاں تک کہ تُو جو اِن کا ہم نوع ہے تجھ تک بھی یہ نہیں پہنچ سکیں گے۔ سورہ قمر کی آیہ ۳۷ میں ہے: وَلَقَدْ رَاوَدُوہُ عَنْ ضَیْفِہِ فَطَمَسْنَا اَعْیُنَھُمْ وہ لوط کے مہمانوں کے بارے میں تجاوز کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔ یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ اس وقت حملہ آور قوم پروردگار کے ارادے سے اپنی بینائی کھو بیٹھی تھی اور حملے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، بعض روایات میں بھی ہے کہ ایک فرشتے نے مٹھی بھر مٹی ان کے چہروں پر پھینکی، جس سے وہ نابینا ہو گئے۔ بہرحال حضرت لوط (علیه السلام) اپنے مہمانوں کے بارے میں ان کی ماموریت کے بارے میں آگاہ ہوئے تو یہ بات اس عظیم پیغمبر کے جلتے ہوئے دل کے لیے ٹھندک کے مانند تھی، ایک دم انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے دل سے غم کا بارِ گراں ختم ہو گیا اور ان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی، ایسا ہوا جیسے ایک شدید بیمار کی نظر مسیح پر جاپرے، انھوں نے سُکھ کا سانس لیا اور سمجھ گئے کہ غم واندوہ کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور بے شرم حیوان صفت قوم کے چنگل سے نجات پانے کا اور خوشی کا وقت آپہنچا ہے۔ مہمانوں نے فوراًحضرت لوط (علیه السلام) کو حکم دیا: تم اسی رات تاریکی شب میں اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لے لو اور سرزمین سے نکل جاؤ (فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ)۔ (تشریحی نوٹ: "اسرا" "اسراء" کے مادہ سے رات کو چلنے کے معنی میں ہے لہذا "لیل" (رات) اس آیت میں زیادہ تاکید کے لئے اور "قطع" رات کی تاریکی کے معنی میں ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رات کے سیاہ پردوں نے تمام جگہوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ غافل قوم خوابیدہ با مست شراب وہوس بازی ہے، چپکے سے ان میں سے نکل جاؤ۔) لیکن یہ پاپندی ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے“(وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ)، اس حکم کی خلاف ورزی فقط تمھاری معصیت کار بیوی کرے گی کہ جو تمھاری گنہگار قوم کو پہنچنے والے مصیبت میں گرفتار ہو گی (إلاَّ امْرَاَتَکَ إنَّہُ مُصِیبُھَا مَا اَصَابَھُمْ)۔ ”َلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ“ کی تفسیر میں مفسرین نے چند احتمال ذکر کیے ہیں: پہلا یہ کہ کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے۔ دوسرا یہ کہ شہر میں مال اور وسائل لے جانے کی فکر نہ کرے بلکہ صرف اپنے آپ کو اس ہلاکت سے نکال لے جائے۔ تیسرا یہ کہ اس خاندان کے اس چھوٹے سے قافلے میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہ جائے۔ چوتھا یہ کہ تمھارے نکلنے کے وقت زمین ہلنے لگے گی اور عذاب کے آثار نمایاں ہو جائیں گے لہٰذا اپنے پسِ پشت نگاہ نہ کرنا اورجلدی سے دور نکل جانا۔ البتہ کوئی مانع نہیں کہ یہ سب احتمالات اس آیت کے مفہوم میں جمع ہوں۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "الا امراتک" میں استثار کس جملے سے ہے مفسرین نے دو احتمال ذکر کیے ہیں: پہلا یہ کہ ”وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ“ سے استثناء ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) ان کا خاندان، یہاں تک کہ ان کی بیوی بھی سب شہر سے باہر کی طرف نکلے اور کسی نے بھی رسولوں کے فرمان کے مطابق پس پشت نگاہ نہ کی سوائے حضرت لوط (علیه السلام) کی بیوی کے کیونکہ اسے اپنی قوم سے بڑا لگاؤ اور دلی وابستگی تھی اور وہ ان کے انجام سے پریشان تھی۔وہ لحظہ بھر کے لیے رکی اور پسِ پشت دیکھا، ایک روایت کے مطابق شہر پر برسنے والے پتھروں میں سے ایک پتھر اسے لگا اور اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”فاسر باھلک“سے استثناء ہے یعنی اپنی بیوی کے سوا تمام خاندان کو ساتھ لے جاؤ، اس صورت میں لوط (علیه السلام) کی بیوی شہر ہی میں رہ گئی تھی، البتہ پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔) بالآخر انھوں نے لوط (علیه السلام) سے آخری بات کہی: نزولِ عذاب کا لمحہ اور وعدہ کی تکمیل کا موقع صبح ہے اور صبح کی پہلی شعاع کے ساتھ ہی اس قوم کی زندگی تباہ ہو جائے گی (إنَّ مَوْعِدَھُمْ الصُّبْحُ)۔ ابھی اٹھ کھڑے ہو اور جتنا جلدی ممکن ہو شہر سے نکل جاؤ ”کیا صبح نزدیک نہیں ہے“(اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ)۔ بعض روایات میں ہے کہ جب ملائکہ نے کہا کہ عذاب کے وعدہ پر عملدار آمد صبح کے وقت تو حضرت لوط (علیه السلام)کو جو اس آلودہ قوم سے سخت ناراحت اور پریشان تھے۔ وہی قوم کہ جس نے اپنے شرمناک اعمال سے ان کا دل مجروح کر رکھا تھا اور ان کی روح کو غم وانداہ سے بھردیا تھا، فرشتوں سے خواہش کی کہ اب جب کہ انھوں نے نابود ہی ہونا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ جلدی ایسا ہو لیکن انھوں نے حضرت لوط (علیه السلام) کی دلجوئی اور تسلی کے لیے کہا: کیا صبح نزدیک نہیں ہے؟ آخرکار عذاب کا لمحہ آن پہنچا اور لوط پیغمبر (علیه السلام) کا انتظار ختم ہوا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:جس وقت ہمارا فرمان آن پہنچا تو ہم نے اس زمین کو زیر وزبر کر دیا اور ان کے سروں پر مٹیلے پتھروں کی پیہم بارش برسائی (فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ)۔ ”سجیل“ اصل میں فارسی لفظ ہے کہ جو ”سنگ وگِل“ سے لیا گیا ہے، لہٰذا اس کا مطلب ہے ایسی چیز جو پتھر کی طرح بالکل سخت ہو اور ناہی گیلی مٹی ڈھیلی مٹی کی طرح بالکل ان دونوں کے درمیان ہو۔ ”منضود“ کا مادہ ”نضد“ ہے اس کا معنی ہے یکے بعد دیگرے اور پے در پے آنا، یعنی پتھروں کی یہ بارش اس قدر تیز اور پے در پے تھی کہ گویا پتھر ایک دوسرے پر سوار تھے۔ لیکن یہ معمولی پتھر نہ تھے بلکہ تیرے پروردگار کے ہاں معتین اور مخصوص تھے (مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ)، البتہ یہ تصور نہ کریں کہ یہ پتھر قوم لوط کے ساتھ ہی مخصوص تھے بلکہ ”یہ کسی ظالم قوم اور جمعیت سے دور نہیں ہیں“(وَمَا ھِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ)۔ اس بے راہ رو اور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور اپنے معاشرے پر بھی، وہ اپنی قوم کی تقدیر سے بھی کھیلے اور انسانی ایمان واخلاق کا بھی مذاق اڑایا، جب ان کے ہمدرد رہبر نے داد وفریاد کی تو انھوں نے کان نہ دھرے اورتمسخر اڑایا، اعلیٰ ڈھٹائی، بے شرمی اور بے حیائی یہاں تک آن پہنچی کہ وہ اپنے رہبر کے مہمانوں کی حرمت وعزت پر تجاوز کے لیے بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جنھوں نے ہر چیز کو الٹ کر رکھ دیا، ان کے شہروں کو بھی الٹ جانا چاہیئے تھا، فقط یہی نہیں کہ ان کے شہر تہ وبالا ہو جاتے بلکہ ان پر پتھروں کی بارش بھی ہونا چاہیئے تھی تاکہ ان کے آخری آثارِ حیات بھی درہم برہم ہو جائیں، اور وہ ان پتھروں میں دفن ہو جائیں اس طرح سے کہ ان کا نام ونشان اس سرزمین میں نظر نہ آئے صرف وحشتناک، تباہ وبرباد بیابان، خاموش قبرستان اور پتھروں میں دبے ہوئے مردوں کے علاوہ ان میں کچھ باقی نہ رہے۔ کیا صرف قوم لوط کو یہ سزا ملنی چاہیئے، نہیں، یقینا ہرگز نہیں بلکہ ہر منحرف گروہ اور ستم پیشہ قوم کے لیے ایسا ہی انجام انتظار میں ہے، کبھی سنگریزوں کی بارش کے نیچے، کبھی آگ اگلتے بموں کے نیچے اور کبھی معاشرے کے لیے تباہ کن اختلافات کے تحت،خلاصہ یہ کہ ہر ستمگر کو کسی نہ کسی صورت میں ایسے عذاب سے دوچارہونا پڑے گا۔ ۱۔ ”اسر“ ”اسراء“ کے مادہ سے رات کو چلنے کے معنی میں ہے لہٰذا لفظ”لیل“(رات) اس آیت میں زیادہ تاکید کے لیے اور ”قطع“ رات کی تاریکی کے معنی میں ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رات کے سیاہ پردوں نے تمام جگہوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ غافل قوم خوابیدہ یا مستِ شراب ہوس بازی ہے، چپکے سے ان میں سے نکل جاؤ۔ ۲۔ اس بارے میں کہ”الا امراتک“ میں استثناء کس جملے سے ہے،،مفسرین نے دو احتمال ذکر کیے ہیں:

چند قابل توجہ نکات

۱۔ صبح کے وقت نزولِ عذاب کیوں؟: مندرجہ بالا آیات میں غور کرنے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ عذاب کے لیے صبح کا وقت کیوں منتخب کیا گیا، رات کے وقت ہی عذاب کیوں نازل نہیں ہوا ؟ ایسا اس لیے تھا کہ جب حضرت لوط (علیه السلام) کے گھر پر چڑھ آنے والے افراد اندھے ہو گئے اور قوم کے پاس لوٹ کر گئے اور واقعہ بیان کیا تو وہ کچھ غوروفکر کرنے لگے کہ معاملہ کیا ہے، خدا نے صبح تک انھیں مہلت دی کہ شاید بیدار ہو جائیں اور اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ کریں یا یہ کہ خدا انھیں چاہتا تھا کہ رات کی تاریکی میں ان پر شب خون مارا جائے اسی بنا پرحکم دیا کہ صبح تک مامور عذاب سے ہاتھ روکے رکھیں۔ تفاسیر میں اس کے بارے میں تقریبا کچھ نہیں لکھا گیا لیکن جو کچھ ہم اوپر ذکر کیا ہے وہ اس سلسلے میں چند قابلِ مطالعہ احتمالات ہیں۔ ۲۔ زیر وزبر کیوں کیا گیا: ہم کہہ چکے ہیں کہ عذاب کی گناہ سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا چاہیئے، اس قوم نے انحراف جنسی کے ذریعے چونکہ ہرچیز کو الٹ پلٹ کر دیا تھا لہٰذا خدا نے بھی ان کے شہروں کو بھی زیر وزبر کر دیا، اور چونکہ روایات کے مطابق ان کے منہ سے ہمیشہ رکیک اور گندی گندگی کی بارش ہوتی رہتی تھی لہٰذا خدا نے بھی ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ ۳۔پتھروں کی بارش کیوں؟: کیا پتھروں کی بارش ان کے شہر زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا اس کے ساتھ ساتھ یا اس کے بعد، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے اور آیاتِ الٰہی میں بھی اس سلسلے میں صراحت نہیں ہے کیونکہ یہ جملہ واؤ کے ساتھ عطف ہوا ہے کہ جس سے ترتیب معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن بعض مفسرین مثلا المنار کا مولف معتقد ہے کہ پتھروں کی بارش یا زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا ساتھ ساتھ اور اس کا فلسفہ یہ تھا کہ وہ افراد جو اِدھر اُدھر گوشہ وکنار میں تھے اور ملبے میں دفن نہیں ہوئے تھے وہ صحیح وسالم نہ رہیں اور وہ بھی اپنے برے اعمال کی سزا تک پہنچ جائیں۔ وہ روایت کہ جس میں ہے کہ حضرت لوط (علیه السلام) کی بیوی نے آواز سنی تو سر پیچھے کی طرف پھیرا اور اسی عالم میں اسے پتھر آلگااور اسے مارڈالا، نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دونوں امور (زیروزبر ہونا اور پتھروں کی بارش) اکٹھے صورت پذیر ہوئے۔ اگر ان چیزوں سے صرف نظر لیں تو کوئی مانع نہیں کہ تشدیدِ عذاب اور ان کے آثار محو کرنے کے لیے سنگریزے ان کے زیروزبر ہونے کے بعد ہی ان پر نازل ہوئے ہوں اس طرح سے کہ ان کا علاقہ ان کے نیچے چھپ جائے اور اس کے آثار مٹ جائیں۔ ۴۔پتھر نشاندارکیوں تھے؟ ہم نے کہا کہ: ”مسومة عند ربک“ کے جملے سے بات واضح ہوتی ہے کہ یہ پتھر خدا کے نزدیک مخصوص اور نشاندار تھے لیکن یہ کس طرح نشاندار تھے، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ان پتھروں میں کچھ ایسی علامتیں تھیں جو نشاندہی کرتی تھیں کہ یہ عام پتھر نہیں ہیں بلکہ خصوصیت سے عذابِ الہی کے لیے نازل ہوئے ہیں تاکہ دوسرے پتھر گرنے سے اشتباہ نہ ہو۔اسی لیے بعض دوسروں نے کہا کہ پتھر زمینی پتھروں جیسے نہیں تھے بلکہ وہ ایک طرح کے آسمانی پتھر تھے جو کرّہ زمین کے باہر سے زمین کی طرف بھیجے گئے تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ علمِ پروردگار میں ان کی کچھ علامتیں تھیں کہ ان میں سے ہر ایک ٹھیک معین شخص اور معین مقام پر جاگرتا تھا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزا اور عذاب اس قدر حساب شدہ ہے کہ یہ تک معین ہے کہ کس شخص کو کون سے پتھر کے ساتھ سزا دی جائے گی اور اس کا کوئی کام حساب اور ضابطے کے بغیر انجام نہیں پاتا۔ ۵۔ہم جنس کی طرف میلان کی حُرمت۔ ہم جنس سے آمیزش، چاہے مردوں میں ہویا عورتوں میں، اسلام میں بہت بڑے گناہوں میں سے شمار کی گئی ہے اور دونوں کے لیے حدّ شرعی معیّن ہے۔ مردوں میں ہم جنسی کا گناہ ہو تو فاعل ہو یا مفعول اسلام میں اس کی سزا قتل ہے اور فقہ میں اس اغلام اور قتل کے کئی طریقے بیان ہوئے ہیں، البتہ اس کی سزا کے لیے ضروری ہے کہ یہ گناہ معتبر اور قطعی ذرائع سے ثابت ہو کہ جو فقہ اسلامی میں اور معصومین کی روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ سرف تین مرتبہ اقرار کرنا بھی کافی نہیں ہے کم از کم چار مرتبہ اس عمل کا اقرار ضروری ہے۔ باقی رہا عورتوںمیں ہم جنسی گناہ کی سزا تو اس کے لیے چار مرتبہ اقرار کرنے یا چار عادل گواہوں کی گواہی سے ثابت ہونے کے بعد (فقہ میں مذکورہ شرائط کی روشنی میں)سوتازیانے ہیں، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ شوہردار عورت یہ گناہ کرے تو اس کی حدّ قتل ہے۔ ان حدود کے اجراء کے لیے دقیق اور نپی تلی شرائط ہیں کہ جو فقہ اسلامی کی کتب میں موجود ہیں، وہ رویات کہ جو ہم جنسی کے گناہ کی مذمت میں پیشوایانِ اسلام کی طرف سے منقول ہیں اس قدر زیادہ اور ہلا دینے والی ہیں کہ ان کے مطالعے سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ اس گناہ کی قباہت اور برائی اس قدر ہے کہ بہت کم گناہ اس کے برابر شمار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک روایت میں منقول ہے کہ: لما عمل قوم لوط ما عملوا بکت الارض الیٰ ربھا حتیٰ بلغ ودعھا الی السماء،بکت السماء حتیٰ بلغ ودعھا العرش، فاوحی اللّٰہ الی السماء ان احصبیھم،واوحی الی الارض ان اخفی بھم۔ جب قوم لوط نے یہ قبیح ومل انجام دیا تو زمین نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس کے آنسو آسمان تک پہنچے اور آسمان نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس آنسو عرش تک پہنچے۔ اس وقت اللہ نے آسمان کو وحی کی کہ ان پر پتھر برسا اور زمین پر وحی کی کہ انھیں نیچے کی طرف لے جا۔ (بحوالہ تفسیر بریان، ج۲، ص۲۳۱) ظاہر ہے کہ یہاں آنسو بہانا تشبیہ اور کنایہ کے طور پر ہے۔ ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: من جامع غلاما جاء یوم القیامة جنبا لا ینقیہ ماء الدنیا وغضب اللّٰہ علیہ ولعنہ واعدلہ جھنم وساء ت مصیرا۔۔۔ثم قال ان الذکر فیھتزالعرش لذلک۔ جوشخص کسی لڑکے کے ساتھ جنسی ملاپ کرے گا قیامت کے دن ناپاک اور مجنب عرصئہ محشر میں پیش آئے گا یہاں تک کہ عالمِ دنیا کے تمام پانی اسے پاک نہیں کرسکیں گے اور خدا اس پر غضبناک ہو گااور اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا اور اس پر لعنت کرے گا اور جہنم اس کے لیے تیار رکھی گئی ہے اور جہنم کس قدر بری جگہ ہے، اس کے بعد فرمایا:جب مذکر مذکر سے جنسی ملاپ کرے تو عرش خداہلنے لگتا ہے۔ (بحوالہ وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۴۹) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: جو لوگ یہ کام کرتے کرواتے ہیں وہ سدوم(قوم لوط) کے باقی ماندہ لوگ ہیں۔ سوال ہوا: وہی شہر سدوم جو زیر وزبر ہوا۔ فرمایا:ہاں، وہ چار شہر تھے سدوم، صریم، لانا اور غمیرا (عمورا)۔ (بحوالہ وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۳۔) ایک اور روایت میں حضرت امیر المومنین (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: میں نے پیغمبرؐ سے سنا ہے کہ آپ کہہ رہے تھے: لعن اللّٰہ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ خدا کی لعنت ہو ان مَردوں پر جو اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہ کرتے ہیں (مَردوں سے جنسی ملاپ کرواتے ہیں) اور خدا کی لعنت ہو ان عورتوں پر کہ جو اپنے آپ کو مَردوں کی شبیہ بناتی ہیں۔ (بحوالہ وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۵۔)

ہم جنس پرستی کی حرمت کا فلسفہ

اگرچہ مغربی دنیا میں جہاں جنسی بے راہ روی بہت زیادہ ہے ایسی برائیوں سے نفرت نہیں کی جاتی یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض ممالک مثلا برطانیہ میں پارلمیٹ نے اس کام کو انتہائی بے شرمی سے قانونی جواز دے دیا ہے لیکن ان برائیوں کے عام ہونے سے ان کی برائی اور قباحت میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی مفاسد اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ بعض اوقات مادی مکتب کے بعض پیروکار جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں اپنے عمل کی توجیہ کے لیے کہتے ہیں کہ اس میں طبی نکتہ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہے لیکن وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اصولی طور پر ہر قسم کا جنسی انحراف انسانی وجود کے تمام ڈھانچے پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس کا اعتدال درہم برہم کر دیتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسانی فطری اور طبعی طور پر اپنے صفِ مخالف کی میلان رکھتا اور یہ میلان انسانی فطرت میں بہت مضبوط جڑیں رکھتا ہے اور انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے، ہر وہ کام جو طبعی میلان سے انحراف کی راہ پر ہو انسان میں ایک قسم کی بیماری اور نفسیاتی انحراف پیدا کرتا ہے۔ وہ مرد جو جنس مواقف کی طرف میلان رکھتا ہے اور وہ مرد کہ جو اپنے آپ کو اس کام کے لیے پیش کرتا ہے ایک کامل مرد نہیں ہے جنسی امور کی کتب میں ہم جنس پرستی (HOMOSEXUALISM) کو ایک اہم ترین انحراف قرار دیا ہے۔ اگر یہ کام جاری رہے تو جنس مخالف کے لیے انسان میں میلان آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے اور جو یہ کام کرواتا ہے ان میں رفتہ رفتہ زنانہ احساسات پیدا ہونے لگتے ہیں اور دونوں بہت زیادہ جنسی ضعف اور اصطلاح کے مطابق سردمزاجی میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔اس طرح سے کہ ایک مدت کے بعد وہ طبیعی اور فطری (جنس مخالف سے ملاپ) پر قادر نہیں رہتے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مرد اور عورت کے جنسی احساسات جہاں ان کے بدن کے آرگنزم میں موثر ہیں وہاں ان کے روحانی اور مخصوص اخلاقی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ طبیعی اور فطری احساسات سے محروم ہو کر انسان کے جسم اور روح پر کس قدر ضرب پڑتی ہے، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ اس طرح کے انحراف میں مبتلا افراد اس قدر ضعفِ جنسی کا شکار ہوں کہ پھر اولاد پیدا کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہو جائیں۔ اس قسم کے افراد عموماً نفسیاتی طور پر صحیح وسالم نہیں ہوتے اور اپنی ذات میں اپنے آپ سے ایک طرح کی بیگانگی محسوس کرتے ہیں اور جس معاشرے میں رہتے سہتے ہیں اس سے خود کو لاتعلق سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد قوت ِارادی کہ جو ہر قسم کی کامیابی کی شرط ہے آہستہ آہستہ کھو بیٹھتے ہیں اور ایک قسم کی سرگردانی اور پریشانی ان کی روح میں آشیانہ بنالیتی ہے۔ ایسے افراد اگر جلدی اپنی اصلاح کا ارادہ نہ کریں بلکہ لازمی طور پر جسمانی اور روحانی طبیب سے مدد نہ لیں اور یہ عمل ان کی عادت کی شکل اختیار کرلے تو اس کا ترک کرنا مشکل ہو جائے گا۔ بہرحال اگر مصمم ارادہ کر لیا جائے تو کسی حالت میں بھی یہ عادت ترک کرنے میں دیر نہیں لگتی، ارادہ بہرصورت قوی ہونا ضروری ہے۔ بہرکیف نفسیاتی سرگردانی انھیں تدریجاً منشیات اورشراب کی طرف لے جاتی ہے اور وہ مزید اخلاقی انحرافات کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ ایک اوربڑی بدبختی ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں مختصر اور پرمعنی عبارات کے ذریعے ان مفاسد کی طرف اشاری کیا گیاہے۔ ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، کسی نے آپ سے سوال کیا: لم حرم اللّٰہ اللواط۔ خدانے لواطت کو کیوں حرام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: من اجل انہ لوکان اتیان الغلام حلالا لاستغنی الرجال عن النساء وکان فیہ قطع النسل وتعطیل الفروج وکان فی اجازة ذلک فساد کثیر۔ اگر لڑکوں سے ملاپ حلال ہوتا تو مرد عورتوں سے بے نیاز ہو جاتے (اور ان کی طرف مائل نہ رہتے) اور یہ چیز نسلِ انسانی کے منقطع ہونے کا باعث بنتی اور جنسِ مخالف سے فطری ملاپ کے ختم ہونے کا باعث بنتی اور یہ کام بہت سی اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں کا سبب بنتا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ،ج ۱۴،ص ۲۵۲) اس نکتے کا ذکر بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے افراد کے لیے جن سزاؤں کا قائل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ فاعل پر مفعول کی بہن، ماں اور بیٹی سے نکاح حرام ہے یعنی اگر یہ کام ازدواج سے پہلے صورت پذیر ہو تو یہ عورتیں اس کے لیے ابدی طور پر حرام ہیں۔ جس نکتے کا ہم آخر میں ذکر ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ جنسی انحراف کی طرف افراد کے میلان کے بہت سے علل واسباب ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ کا اپنی اولاد سے سلوک یاہم جنس اولاد کی نگرانی نہ کرنا، ان کے طرزِ معاشرت اور ایک ہی جگہ پر سونا وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اس آلودگی کا ایک عامل بن جائے۔ بعض اوقات ممکن ہے کہ اس انحراف سے ایک اور اخلاقی انحراف جنم لے لے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ قومِ لوط کے حالات میں ہے کہ ان کے اس گناہ میں آلودہ ہونے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ بخیل اور کنجوس لوگ تھے چونکہ ان کے شہر شام جانے والے قافلوں کے راستے میں پڑتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مہمانوں اور مسافروں کی پذیرائی کریں لہٰذا ابتدا ء میں وہ اس طرح ظاہر کرتے تھے کہ وہ ان پر جنسی تجاوز کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ مہمانوں اور مسافروں کو اپنے سے دور بھگائیں تدریجاً یہ عمل ان کی عادت بن گیا اور انحراف جنسی کے میلانات آہستہ آہستہ ان کے وجود میں بےدار ہو گئے اور معاملہ یہاں تک جاپہنچا کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک اس میں آلودہ ہو گئے۔ (بحوالہ بحار، ج۱۲،ص ۱۴۷) یہاں تک کے فضول قسم کا مذاق جو کبھی کبھی لڑکوں یا لڑکیوں کے درمیان اپنے ہم جنسوں کے بارے میں ہوتا ہے بعض اوقات ان انحرفات کی طرف کھینچ لے جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ بہرحال پوری توجہ سے ان امور کا خیال رکھنا چاہیئے اور جو اس گناہ میں آلودہ ہوں انھیں جلدی نجات حاصل کرنا چاہیئے اور اس بارے میں خدا سے توفیق طلب کرنا چاہیئے۔

قومِ لُوط کا اخلاق

اسلامی روایات وتواریخ میں جنسی انحرفات کے ساتھ قومِ لوط کے برے اور شرمناک اعمال اور گھٹیا کردار بھی بیان ہوا ہے۔اس سلسلے میں سفینة البحار میں ہے: قیل کانت مجالسھم تشتمل علی انواع المناکیر مثل الشتم والسخف والصفح والقمار وضرب المخراق وخذف الاحجار علی من مر بھم وضرب المعازف والمزامیر وکشف العورات۔ کہا گیا ہے کہ ان کی مجالس اور بیٹھکیں طرح طرح کے منکرات اور برے اعمال سے آلودہ تھیں، وہ آپس میں رکیک جملوں، فحش کلامی اور پھبتیوں کا تبادلہ کرتے تھے، ایک دوسرے کی پشت پر مُکّے مارتے تھے طرح طرح کی آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہوں کا ننگا کرتے تھے۔ (بحوالہ سفینة البحار، ص ۵۱۷۔) واضح ہے کہ اس قسم کے گندے ماحول میں ہرروز انحراف اور بدی نئی شکل میں رونما ہوتی ہے اور وسیع سے وسیع ہوتی چلی جاتی ہے، ایسے موحول میں اصولی طور پر بُرائی کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور لوگ اس طرح سے اس راہ پر چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی نظر میں برا اور قبیح نہیں رہتا، اس سے زیادہ بد بخت وہ قومیں ہیں جو وعلمِ کی پیش رفت کے زمانے میں انھیں راہوں پر گامزن ہیں، بعض اوقات تو ان کے اعمال اس قدر شرمناک اور رسوا کن ہوتے ہیں کہ قومِ لوط کے اعمال بھو ل جاتے ہیں۔

84
11:84
۞وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو۔ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اور پیمانہ اور وزن کم نہ کرو(کم فروشی نہ کرو) میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور میں تمہارے لئے محیط ہو جانے والے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
11:85
وَيَٰقَوۡمِ أَوۡفُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
اے میری قوم! پیمانہ اور وزن عدالت سے پورا کرو اور لوگوں کی اشیاء (اجناس) پر عیب نہ رکھو اور ان کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
11:86
بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ
خدا نے تمہارے لئے جوحلال سرمایہ باقی رکھا ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارا پاسدار (اور تمہیں ایمان پر مجبور کرنے والا) نہیں ہوں۔

حضرت شعیب (علیه السلام) کی سرزمین۔ مدین

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

قوم لوط کی عبرت انگیز داستان ختم ہونے پر قومِ شعیب اور اہلِ مدین کی نوبت آئی ہے، یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے توحید کا راستہ چھوڑ دیا تھا اور شرک وبت پرستی کی سنگلاخ زمین میں سرگرداں ہو گئے تھے، یہ لوگ نہ صرف بُتوں کو پوجتے تھے بلکہ درہم ودینار اور اپنے مال وثروت کی بھی پرستش کرتے تھے اور اسی لیے وہ اپنے کاروبار اور بارونق تجارت کو نادرستی، کم فروشی اور غلط طریقوں سے آلودہ کرتے تھے۔ ابتدا میں فرمایا گیا ہے: مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا (وَإلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا)۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں لفظ ”اخاھم“ (ان کا بھائی) اس بنا پر ہے کہ اپنی قوم سے پیغمبروں کی انتہائی محبت کو بیان کیا جائے، نہ صرف اس بناء پر کہ وہ افراد ان کے گروہ اور قبیلے سے تھے بلکہ اس لیے کہ وہ ان کے خیرخواہ اور ہمدرد بھائی کی طرح تھے۔ مدین (بروزن”مَریَم“) حضرت شعیب (علیه السلام) اور ان کے قبیلے کی آبادی کا نام ہے، یہ شہر خلیج عقبہ کے مشرق میں واقع ہے، اس کے لوگ ااولادِ اسماعیل میں سے تھے، مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت کرتے تھے۔ آج کل شہر مدین کا نام ”معان“ ہے، بعض جغرافیہ دانوں نے خلیج عقبی کے درمیان سے کوہ سینا تک زندگی بسر کرنے والوں پر مدین کے نام کا اطلاق کیا ہے۔ تورات میں بھی لفظ ”مدیان“ آیا ہے لیکن بعض قبائل کے لیے (البتہ ایک ہی لفظ شہر اور اہل شہر پر عام طور پر استعمال ہو جاتا ہے)۔ (بحوالہ اعلام قرآن،ص ۵۷۳) اس پیغمبر اور ہمدرد ومہربان بھائی نے جیسا کہ تمام انبیاء کا آغازِ دعوت میں طریقہ ہے پہلے انھیں مذہب کے اساسی ترین رکن ”توحید“ کی طرف دعوت دی اور کہا:اے قوم! یکتا ویگانہ خدا کی پرستش کروکہ جس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إلَہٍ غَیْرُہ)، کیونکہ دعوتِ توحید تمام طاغوتوں اور جہالت کی تمام سنتوں کو توڑنے کی دعوت ہے اور اس کے بغیر کسی قسم کی اجتماعی اور اخلاقی اصلاح ممکن نہیں ہے۔ اس وقت اہل مدین میں ایک اقتصادی خرابی شدید طور پر رائج تھی جس کا سرچشمہ شرک اور بت پرستی کی روح ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:خرید وفروخت کرتے وقت چیزوں کا پیمانہ اور وازن کم نہ کرو (وَلَاتَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَان)۔ ”مکیال“اور ”میزان“ پیمانہ اور ترازو کے معنی میں ہے اور انھیں کرنا اور کم فروشی لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ان دونوں کے کاموں کا ان کے درمیان رواج نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے کاموں میں نظم ونسق، حساب وکتاب اور میزان وترازو نہیں تھا اور ان کے سرمایہ دار معاشرے میں غارت گری، استثماری اور ظلم وستم کا نمونہ تھا۔ یہ عظیم پیغمبر اس حکم کے بعد فوراً اس کے وہ علل واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہیں: پہلے کہتے ہیں:اس نصیحت کو قبول کرنے کا نتیجہ یہ ہو گاکہ اچھائیوں کے دروازے تمھارے لیے کھُل جائیں گے، تجارت کو فروغ حاصل ہو گا، چیزوں کی قیمتیں گر جائیں گی، معاشرے کو سُکھ چین نصیب ہو گا، خلاصہ یہ کہ ”مَیں تمہارا خیر خواہ ہوں“ اور مجھے اعتماد ہے کہ یہ نصیحت تمھارے معاشرے کے لیے خیروبرکت کا سرچشمہ بنے گی (إنِّی اَرَاکُمْ بِخَیْر)۔ اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) کا مقصود یہ تھا کہ”مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نعمتِ فراواں اور خیرِ کثیر کے حامل ہو“ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ تم پستی کی طرف مائل ہو کر لوگوں کے حقوق ضائع کرو اورشکرِ نعمت کی بجائے کفرانِ نعمت کرو۔ دوسرا یہ کہ اس سے ڈرتا ہوں کہ شرک، کفرانِ نعمت اور کم فروشی پر اصرار کے نتیجے میں تمھیں محیط ہو جانے والے دن کا عذاب نہ آلے (وَإنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ)۔ یہاں ”محیط“ ”یوم“ کی صفت ہے یعنی ایک گھیر لینے والادن، البتہ گھیر لینے والے دن سے مراد اس دن کا گھیر لینے والاعذاب ہے، ہو سکتا ہے یہ عذابِ آکرت کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح دنیا کے گھیر لینے والے عذاب اور سزا کی بھی نشاندہی ہو۔ لہٰذا تمھیں بھی ایسے کاموں کی ضرورت نہیں اور ان کاموں کے باعث عذابِ خدا بھی تمھاری گھات میں ہے اس لیے جس قدر جلد ممکن ہو اپنی حالت ٹھیک کرلو۔ بعد والی آیت پھر ان کے اقتصادی نظام کے بارے میں تاکید کر رہی ہے۔ اگر پہلے شعیب اپنی قوم کو کم فروشی سے منع کر چکے تھے تو آیت کے اس حصے میں لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دی جارہی ہے، فرمایا: اے قوم! پیمانہ اور میزان کو عدل سے پورا کرو (وَیَاقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْط)، قسط وعدل کا یہ قانون اور ہر شخص کو اس کے حق کی ادائیگی کا یہ ضابطہ تمھارے پورے معاشرے پر حکمران ہوناچاہیئے۔ پھر اس کے آگے بڑھ کر فرمایا: لوگوں کی چیزوں اوراجناس پرعیب نہ رکھو اور ان میں سے کسی چیز کو کم نہ کرو(وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَائَھُم)۔ ”بخس“(بروزن”نحس“) اصل میں ظلم کرتے ہوئے کم کرنے کے معنی میں ہے اور یہ جو ان زمینوں کو ”بخس“ کہا جاتا ہے کہ جو آبیاری کے بغیر کاشت ہوتی ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ ان کا پانی کم ہے (اور وہ صرف بارش سے استفادہ کرتی ہیں) یا اس لیے کہ ان کی پیداوار پانی والی زمینوں سے کم ہے۔ اس جملے کے مفہوم کی وسعت پر نگاہ ڈالیں تو یہ سب اقوام وملل کے لیے تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کے احترام کی دعوت ہے، ”بخس حق“ ہر ماحول اور ہر زمانے میں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات بلا معاوضہ مدد یا کسی اور صورت میں تعاون اور قرض کے نام پر بھی حقوق غصب کیے جاتے ہیں (جیسا کہ آج کل استعماری اور سامراجی طاقتوں کا طرزِ عمل ہے)۔ آیت کے آخر میں اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر فساد نہ کرو(وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِین)۔ کم فروشی کے ذریعے فساد اور برائی، لوگوں کے حقوق کو غصب کرنے کا فساد اور حقوق پر تجاوز کا فساد، معاشرتی میزان اور اعتدال کو درہم برہم کرنے کا فساد، اموال اور اشخاص پر عیب لگانے کا فساد۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کی حیثیت، آبرو، ناموس اور جان کے حریم پر تجاوز کرنے کا فساد۔ ”لا تعثوا“ ”فساد نہ کرو“ کے معنی میں ہے، اس بناء پر اس کے بعد ”مفسدین“ کا ذکر زیادہ سے زیادہ تاکید کی خاطر ہے۔ مندرجہ بالا دو آیات سے یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے کہ توحید کا اعقاد اور آئیڈیالوجی کا معاملہ ایک صحیح وسالم اقتصاد کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، نیز یہ آیات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اقتصادی نظام کا درہم برہم ہونا معاشرے کی وسیع تباہی اور فساد کا سرچشمہ ہے۔ آخر میں انھیں یہ گوش گزار کیا گیا ہے کہ ظلم وستم کے ذریعے اور استعماری ہتھکنڈوں سے بڑھنے والی دولت تمھاری بے نیازی اور استغنا کا سبب نہیں بن سکتی بلکہ حلال طریقے سے حاصل کیا ہوا جو سرمایہ تمھارے پاس باقی رہ جائے چاہے وہ تھوڑا ہی ہو اگر خدا اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ ہو تو بہتر ہے (بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ ”بَقِیَّةُ اللهِ“کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ تھوڑا حلال چونکہ خدا کے فرمان کے مطابق ہے لہٰذا ”بَقِیَّةُ اللهِ“ ہے اور یااس لیے ہے کہ حلال کی کمائی نعمتِ الٰہی دوام اور برکات کی بقا کا باعث ہے یا پھر یہ معنوی جزا اور ثواب کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابد تک باقی رہتا ہے اگرچہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے فنا ہو جائے گا، سورہ کہف کی آیہ ۴۶ میں ہے: وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اَمَلًا اور باقی رہنے والی نیکیاں تمھارے رب کے نزدیک انجام کی حیثیت سے بھی بہتر ہے اور امید وآرزو کے لحاظ سے بھی۔ یہ بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ ”إنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ“(اگر تم ایمان رکھتے ہو)، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حقیقت صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو خدا، اس کی حکمت اور اس کے فرامین کے فلسفہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ متعدد روایات میں ہے کہ ”بقیة اللہ“ صرف مہدی (علیه السلام) یا بعض دوسرے ائمہ کے وجود کی طرف اشارہ ہے، ان روایات میں سے ایک کتاب ”اکمال الدین“ میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: اول ما ینطق بہ القائم علیہ السلام حین خرج ھٰذہ الایة ”بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ“ ثم یقول: انا بقیةاللّٰہ و حجتہ وخلیفتہ علیکم فلا یسلم علیہ مسلم الا قال علیک یا بقیةاللّٰہ فی ارضہ۔ پہلی بات جو حضرت مہدی (علیه السلام) اپنے قیام کے بعد کریں گے وہ یہ آیت ہو گی”بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ“ اس کے بعد کہیں گے: مَیں بقیةاللہ ہوں اور تم میں اس کی حجت اور خلیفہ ہوں، لہٰذا اس کے بعد کوئی شخص ایسا نہ ہو گاکہ جو اس طرح سے آپ(علیه السلام) پر سلام نہ کرے گا: السلام علیک یا بقیة اللّٰہ فی ارضہ۔ یعنی۔اے خدا کی زمین میں بقیةاللہ! آپ پر سلام ہو۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر صافی میں مذکورہ آیت کے ذیل میں یہ روایت نقل ہے) ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آیاتِ قرآن اگرچہ خاص مواقع کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کا مفہوم جامع ہے اور یہ ممکن ہے کہ بعد کے زمانوں میں وہ زیادہ اور وسیع مصداق پر منطبق ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ زیرِ بحث آیت میں قومِ شعیب مخاطب ہے اور”بَقِیَّةُ اللهِ“ سے مراد حلال سرمایہ اور منافع اور جزائے الٰہی ہے لیکن ہر نفع بخش موجود کہ جو خدا تعالی کی طرف سے بشر کے لیے باقی ہے اور خیروسعادت کا باعث ہے اسے ”بَقِیَّةُ اللهِ“ شمار کیا جا سکتا ہے۔ تمام انبیائے الٰہی اور بزرگ ہادی ”بَقِیَّةُ اللهِ“ ہیں، اسی طرح جو مجاہد سپاہی کامیابی کے بعد میدان جنگ سے پلٹ آتے ہیں وہ بھی ”بَقِیَّةُ اللهِ“ ہیں۔ حضرت مہدی موعود چونکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بعد آخری پیشوا اور عظیم ترین انقلابی قائد ہیں”بَقِیَّةُ اللهِ“ کے مصادیق میں سے ایک روشن ترین مصداق ہیں اور ہر کسی سے بڑھ کر اس لقب کے اہل ہیں خصوصا جب کہ آپ(علیه السلام) انبیاء اور ائمہ کے واحد باقی ماندہ ہیں۔ زیرِ بحث آیت کے آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) کی زبانی بیان کیا گیاہے کہ وہ کہتے ہیں :میری ذمہ داری تو فقط ابلاغ، انذار اور کبردار کرنا ہے ”اور مَیں تمھارے اعمال کا جواب دہ نہیں اور نہ میری یہ ذمہ داری ہے کہ تمھیں یہ راہ اختیار کرنے پر مجبور کروں“تم ہو، یہ تمھاری راہ ہے اور یہ چاہ ہے (وما انا علیکم بحفیظ)

87
11:87
قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأۡمُرُكَ أَن نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوۡ أَن نَّفۡعَلَ فِيٓ أَمۡوَٰلِنَا مَا نَشَـٰٓؤُاْۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلۡحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ
انہوں نے کہا: اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انہیں چھوڑ دیں کہ جن کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کرتے تھے اور جو کچھ ہم اپنے اموال کے لئے چاہتے ہیں اسے انجام نہ دیں تو بردبار اور رشید مرد ہے (تجھ سے یہ باتیں بعید ہیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
11:88
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُۚ إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ
اس نے کہا: اے میری قوم ! اگر میرے پاس پروردگار کی طرف سے واضح دلیل ہو اور اس نے مجھے اچھا رزق دیا ہو (تو کیا میں اس کے فرمان کے خلاف عمل کر سکتا ہوں ؟) میں ہرگز نہیں چاہتا کہ جس چیز سے تمہیں روکتا ہوں اس کا خود ارتکاب کروں میں سوائے اصلاح کے، جتنی کہ مجھ میں توانائی ہے اور کچھ نہیں چاہتا اور مجھے اﷲ کے علاوہ توفیق نہیں ہے میں نے اس پر توکل کیا ہے اور میری اسی کی طرف بازگشت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
11:89
وَيَٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثۡلُ مَآ أَصَابَ قَوۡمَ نُوحٍ أَوۡ قَوۡمَ هُودٍ أَوۡ قَوۡمَ صَٰلِحٖۚ وَمَا قَوۡمُ لُوطٖ مِّنكُم بِبَعِيدٖ
اور اے میری قوم! مبادا میری دشمنی اور مخالفت کے نتیجے میں تم اس انجام میں گرفتار ہو جاؤ کہ جس میں قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح گرفتار ہوئی ہے اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 90 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
11:90
وَٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٞ وَدُودٞ
اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف رجوع اور توبہ کرو اور میرا پروردگار مہربان ہے اور (توبہ کرنے والے بندوں کو) دو ست رکھتا ہے۔

ہٹ دھرموں کی بے بنیاد منطق

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس ہٹ دھرم قوم نے اس آسمانی مصلح کی دعوت کے جواب میں کیا ردِ عمل ظاہر کیا۔ وہ جو بتوں کو اپنے بزرگوں کے آثار اور اپنے اصلی تمدن کی نشانی خیال کرتے تھے اور کم فروشی اور دھوکا بازی سے معاملات میں بڑے بڑے فائدے اور مفادات اٹھاتے تھے حضرت شعیب (علیه السلام) کے جواب میں کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں کی جن کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کرتے تھے (قَالُوا یَاشُعَیْبُ اَصَلَاتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا)، اور یا اپنے اموال کے بارے میں اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھیں(اَوْ اَنْ نَفْعَلَ فِی اَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ)، تُوتوایک بُرد بار، حوصلہ مند سمجھدار آدمی ہے تجھ سے یہ باتیں بعید ہیں(إنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انھوں نے حضرت شعیب (علیه السلام) کی نماز کا ذکر کیوں کیا؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ اس بنا پر تھا کہ حضرت شعیب(علیه السلام) زیادہ نماز پڑھتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ نماز انسان کو بُرے اور قبیح اعمال سے روکتی ہے لیکن وہ نادان لوگ کہ جو نماز اور ترکِ منکرات کے رابطے کو نہ سمجھ سکے انھوں نے اس بات کا تمسخراڑایا اور کہا کہ کیا یہ ذکر و اذکار اور حرکات تجھے حکم دیتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں کے طور طریقے اور مذہبی ثقافت کو پاؤں تلے روند دیں یا اپنے اموال کے بارے میں اپنا اختیار گنوا بیٹھیں۔ بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ”صلوٰة“ دین ومذہب کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ دین کا واضح ترین سمبل نماز ہے۔ بہرحال اگر وہ صحیح طور پر غور وفکر کرتے توحقیقت پالیتے کہ نماز انسان میں احساسِ مسئولیت، تقویٰ، پرہیزگاری، خداترسی اور حق شناسی زندہ کرتی ہے، اسے خدا کی اور اس کی عدالتِ عدل کی یاد دلاتی ہے، خود پسندی اور خودپرستی کا غبار اس کے صفحہ دل سے صاف کر دیتی ہے، اسے جہانِ محدود وآلودہ سے دنیائے ماورا ء طبیعت، پاکیزیوں اور نیکیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اسی بنا پر اسے شرک، بت پرستی، بڑوں کی اندھی تقلید، کم فروشی اور طرح طرح کی دھوکہ بازی سے باز رکھتی ہے۔ دوسرا سوال جو سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کیا انھوں نے جملہ”إنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید“،(تو عاقل، فہمیدہ اور بردبار شخص ہے) اعترافِ حقیقت وایمان کے طور پر کہا یا تمسخر واستہزاء کے طور پر؟ مفسرین نے دونوں احتمال ذکر کیے ہیں لیکن اگر پہلے آنے والے تمسخر آمیز جملے ”اَصَلَاتُکَ تَاْمُرُک“ کی طرف توجہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ جملہ بھی استہزاء کے طور پر کہا، ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایک حلیم وبردبار شخص وہ ہے کو کسی چیز کا جب تک کافی مطالعہ نہ کرلے اور اس کے صحیح ہونے کا اسے اطمینان نہ ہو جائے اس پر اظہارِ رائے نہیں کرتا اور ایک رشید وعاقل شخص وہ ہے کہ جو ایک قوم کے رسم ورواج کو پامال نہ کرے اور سرمایہ داروں سے عمل کی آزادی سلب نہ کرے، پس معلوم ہوتا ہے کہ نہ تمہارا کافی مطالعہ ہے، نہ تمھاری عقل وفہم درست ہے اور نہ تمھاری سوچ گہری ہے، کیونکہ درست عقل اور گہری سوچ تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے بڑوں کی سنت سے دستبردار نہ ہو اور کسی کی آزادی عمل سلب نہ کرے۔ لیکن جنھوں نے ان کی باتوں کو حماقت پر محمول کیا تھا اور ان کی بے عقلی کی دلیل قرار دیا تھا انھیں حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا: اے میری قوم!(اے وہ لوگو! کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور جو کچھ میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمھارے لیے بھی پسند کرتا ہوں) اگرخدا نے مجھے واضح دلیل وحی اور نبوت دی ہو اوراس کے علاوہ مجھے پاکیزہ روزی اور حسبِ ضرورت مال دیا ہو تو کیا اس صورت میں صحیح ہے کہ مَیں اس کے فرمان کی مخالفت کروں یا تمھارے بارے میں کوئی غرض رکھوں اور تمھاری خیر خواہ نہ بنوں(قَالَ یَاقَوْمِ اَرَاَیْتُمْ إنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَرَزَقَنِی مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھئے گا مندرجہ بالا آیت میں جملہ شرطیہ کی جزا محذوف ہے اور اس کی جزا یہ ہے: افاعدل مع ذلک عما انا علیہ من عبادتہ وتبلیغ دینہ) اس جملے سے حضرت شعیب (علیه السلام) یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کام میں میرا مقصد صرف روحانی، انسانی اور تربیتی ہے، مَیں ایسے حقائق کو جانتا ہوں جنھیں تم نہیں جانتے اور انسان ہمیشہ اس چیز کا دشمن ہوتا ہے جسے نہیں جانتا۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ ان آیات میں ”یاقوم“(اے میری قوم) کا تکرار ہوا ہے تاکہ قبولِ حق کے لیے ان کے جذبات اور میلانات کو نرم کیا جاس کے، حضرت شعیب (علیه السلام) اس طرح سے انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(چاہے یہاں ”قوم“ قبیلہ کے معنی میں ہو، طائفہ اور خاندان کے معنی میں ہو یا اس گروہ کے معنی میں ہو کس کے درمیان وہ زندگی گزارتے تھے اور انہی کا حصہ شمار ہوتے تھے)۔ اس کے بعد یہ عظیم پیغمبر مزید کہتے ہیں: یہ گمان نہ کرنا کہ مَیں تمھیں کسی چیز سے منع کروں اور پھر خود اسی کی جستجو میں لگ جاؤں(وَمَا اُرِیدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ إلیٰ مَا اَنْھَاکُمْ عَنْہ)۔ تمھیں کہوں کہ کم فروشی نہ کرو اور دھوکہ بازی اور ملاوٹ نہ کرو لیکن مَیں خود یہ اعمال انجام دوں کہ دولت وثروت اکٹھی کرنے لگوں یا تمھیں تو بتوں کی پرستش سے منع کرون مگر خود ان کے سامنے سرِتعظیم خم کروں، نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام) پر الزام لگاتے تھے کہ کود یہ فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے لہٰذا وہ صراحت سے اس امر کی نفی کرتے ہیں۔ آخر میں ان سے کہتے ہیں: میرا صرف ایک ہدف اور مقصد ہے اور وہ ہے اپنی قدرت واستطاعت کے مطابق تمھاری اور تمھارے معاشرے کی اصلاح (اِنْ اُرِیدُ إلاَّ الْإصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْت)۔ یہ وہی ہدف ہے جو تمام پیغمبرون کی پیشِ نظر رہا ہے۔ یعنی عقیدے کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، عمل کی اصلاح، روابط اور اجتماعی نظاموںکی اصلاح۔ اور اس ہدف تک پہنچنے کے لیے صرف خدا سے توفیق طلب کرتا ہوں(وَمَا تَوْفِیقِی إلاَّ بِالله)۔ اسی بنا پر اپنی ذمہ داری کی انجام دہی اور پیغام پہنچانے اور اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لیے ”صرف اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور تمام چیزوں میں میری بازگشت اسی کی طرف ہے (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإلَیْہِ اُنِیبُ)، مشکلات کے حل کے لیے اس کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوشش کرتا ہوں اور اس راہ میں سختیاں گوارا کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔اَ اس کے بعدا نہیں ایک اخلاقی نکتے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی بغض وعداوت کی بنا پر یا تعصب اورر ہٹ دھرمی سے اپنے تمام مصالح نظر انداز کر دیتا ہے اور انجام کو فراموش کر دیتاہے، حضرت شعیب (علیه السلام) نے ان سے فرمایا: اے میری قوم ! ایسا نہ ہو کہ میری دشمنی اورعداوت تمھیں گناہ، عصیان اور سر کشی پر ابھارے (وَیَاقَوْمِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی)، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہی بلائیں، مصیبتیں، تکلیفیں، عذاب اور سزائیں جو میں قومِ نوح، قومِ ہود یا قومِ صالح کو پہنچیں وہ تمھیں بھی آلیں(اَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ اَوْ قَوْمَ ھُودٍ اَوْ قَوْمَ صَالِح)، یہاں تک کہ قومِ لوط کے شہروں کا زیروزبر ہونا اور ان پر سنگباری کاواقعہ تم سے کوئی دور نہیں ہے (وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ)۔ نہ ان کا زمانہ ان سے کوئی دور ہے اور نہ ان کے علاقے تم سے دور ہیں اور نہ ہی تمھارے اعمال اور گناہ ان سے کچھ کم ہیں۔ ”مدین“ کہ جوقومِ شعیب (علیه السلام) کا مرکز تھا وہ قومِ لوط کے علاقے سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں تھا، کیونکہ دونوں شامات کے علاقوں میں سے تھے، زمانے کے لحاظ سے اگرچہ کچھ فاصلہ تھا تاہم اتنا نہیں کہ ان کی تاریخ فراموش ہو چکی ہوتی۔ باقی رہا عمل کے لحاظ سے تو اگرچہ قومِ لوط کے جنسی انحرافات نمایاں تھے اور قومِ شعیب (علیه السلام) کے اقتصادی انحرفات زیادی تھے اور ظاہراً بہت مختلف تھے لیکن دونوں معاشرے میں فساد پیدا کرنے، اجتماعی نظام خراب کرنے، اخلاقی فضائل کو نابود کرنے اور برائی پھیلانے میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم روایات میں دیکھتے ہیں کہ ایک درہم سُود کہ جس کا تعلق اقتصادی مسائل سے ہے کو،زنا کہ جو ایک جنسی آلودگی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”لا یجر منکم“ دو معنی میں آیاہے، ایک ”لایحملنکم“(یعنی۔ تمھیں نہ ابھارے)، اس صورت میں آیت ترکیب کے لحاظ سے اس طرح ہو گی”لایجر من“فعل”شقاق“ فاعل، ”کم“ مفعول اور ”ان یصیبکم“ مصدری معنی رکھتا ہے اور دوسرا مفعول، نیز اس صورت میں معنی یہ ہو گاکہ اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تمہارا انجام قومِ نوح وغیرہ کی طرح ہو، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”تمھیں گناہ کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے“، اس صورت میں”یجرمن“ فعل،”شقاق“فاعل، اور ”کم“ مفعول ہے اور ”ان یصیبکم“ اس کا نتیجہ ہے اور آیت کا معنی وہی ہو گا جو ہم متن میں بیان کر چکے ہیں)۔ آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) انھیں دو حکم اور دیتے ہیں کہ جو دراصل ان تمام تبلیغات کا نتیجہ ہیں کہ جو اس گمراہ قوم میں وہ انجام دے چکے تھے۔ پہلا یہ کہ”خدا سے مغفرت طلب کرو تاکہ گناہ سے پاک ہوجاؤ اور شرک وبت پرستی اور معاملات میں خیانت سے کنارہ کش ہوجاؤ (وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ)۔ دوسرا یہ کہ گناہ سے پاک ہونے کے بعد اس کی طرف پلٹ آؤ کیونکہ وہ پاک ہے اور تم بھی پاک ہو کر اس کی خدمت میں آؤ(ثُمَّ تُوبُوا إلَیْہِ)۔ دراصل استغفار، راہ ِ گناہ سے کنارہ کشی، خود کو پاک کرنا اور توبہ اس ذات کی طرف بازگشت ہے کہ جو لامتناہی وجود ہے۔ اور جان لو کہ تمہارا گناہ کتنا ہی عظیم اور سنگین کیوں نہ ہو بازگشت کی راہ تمھارے سامنے کھلی ہوئی ہے کیونکہ میرا پروردگاررحیم بھی ہے اوربندوں ودوست بھی رکھتا ہے (إنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُود)۔ ”ودود“ ”ود“ کا صیغہ مبالغہ ہے جس کا معنی ہے”محبت“،لفظ”رحیم“ کے بعد اس لفظ کاذکراس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالی نہ فقط اپنی رحیمیت کی بناء پر توبہ کرنے والے گنہ گار بندوں پر توجہ رکھتا ہے بلکہ اس سے قطع نظر انھیں بہت دوست رکھتا ہے، کیونکہ یہ دونوں(یعنی۔ رحم اور محبت) خود بندوں کی استغفار اور توبہ قبول کرنے کا باعث ہیں۔ ۹۱ -قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡنَا ضَعِیۡفًا ۚ وَ لَوۡ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمۡنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡنَا بِعَزِیۡزٍ۔ ۹۲۔قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَہۡطِیۡۤ اَعَزُّ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ۔ ۹۳۔وَ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ مَنۡ ہُوَ کَاذِبٌ ؕ وَ ارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ رَقِیۡبٌ۔ ترجمہ ۹۱۔انھوں نے کہا: اے شعیب! بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے ہم نہیں سمجھ پاتے اور ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے چھوٹے سے قبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کرتے اور تُوہمارے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ۹۲۔اس نے کہا: اے قوم! کیا میرا چھوٹا سا قبیلہ تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزت دار ہے جب کہ تم نے اس کے فرمان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جو کچھ تم انجام دیتے ہو میرا پروردگار اس پر محیط ہے (اور اس سے آگاہ ہے)۔ ۹۳۔اے قوم! جو کچھ تم سے ہو سکے کر گزرو اور مَیں بھی اپنا کام کروں گا اور عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ خوار ورسوا کرنے والا عذاب کس کے پیچھے آتا ہے اور کون جھوٹا ہے،تم انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں۔

91
11:91
قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٗاۖ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنَٰكَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيزٖ
انہوں نے کہا: اے شعیب ! بہت سی باتیں جو تو کہتا ہے ہم نہیں سمجھ پاتے اورہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے چھوٹے سے قبیلے کا احترام پیش نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کرتے اور تو ہمارے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
11:92
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَهۡطِيٓ أَعَزُّ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذۡتُمُوهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّاۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
اس نے کہا: اے قوم! کیا میر اچھوٹا سا قبیلہ تمہارے نزدیک خدا سے زیادہ عزت دار ہے جبکہ تم نے اس کے فرمان کوپس پشت ڈال دیا ہے۔ جو کچھ تم انجام دیتے ہو میرا پروردگار اس پر محیط ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
11:93
وَيَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَٰمِلٞۖ سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَمَنۡ هُوَ كَٰذِبٞۖ وَٱرۡتَقِبُوٓاْ إِنِّي مَعَكُمۡ رَقِيبٞ
اے قوم! جو کچھ تم سے ہو سکے کر گزرو اور میں بھی اپنا کام کروں گا اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خوارورسوا کرنے والا عذاب کس کے پیچھے آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔تم انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔

ایک دوسرے کو دھمکیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کہ انتہائی جچے تُلے، بلیغ اور دلنشین کلام کی وجہ سے جن کا لقب”خطیب الانبیاء“ ہے،(بحوالہ سفینة البحار،مادہ ”شعیب“۔) ان کا کلام ان لوگوں کی روحانی ومادی زندگی کی راہیں کھولنے والا تھا، انھوں نے بڑے صبر، حوصلے، متانت اور دلسوزی کے ساتھ ان سے تمام باتیں کیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس گمراہ قوم نے انھیں کس طرح سے جواب دیا۔ انھوں نے چار جملوں میں جو ڈھٹائی، جہالت اور بے خبری کا مظہرتھے آپ کو جواب دیا۔ پہلے وہ کہنے لگے: اے شعیب!تمھاری زیادہ تر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں(قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ)۔ بنیادی طور پر تیری باتوں کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔ ان میں کوئی خاص بات اور منطق ہی نہیں کہ ہم ان پر کوئی غور وفکر کریں۔ لہٰذا ان میں کوئی ایسی چیز نہیں جس پر ہم عمل کریں اس لیے تم اپنے آپ کو زیادہ نہ تھکاؤ اور دوسرے لوگوں کے پیچھے جاؤ۔ دوسرایہ کہ ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں(وَإنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا)۔ لہٰذا اگر تم یہ سوچتے ہو کہ تم اپنی بے منطق باتیں طاقت کے بل پر منوا لو گے تو یہ بھی تمھاری غلط فہمی ہے۔ یہ گمان نہ کرو کہ اگرہم تم سے پوچھ گچھ نہیں کرتے یہ تمھاری طاقت کے خوف سے ہے”اگر تیری قوم وقبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے بدترین طریقے سے قتل کر دیتے اور تجھے سنگسار کرتے (وَلَوْلَارَھْطُکَ لَرَجَمْنَاک)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ انھوں نے حضرت شعیب(علیه السلام) کے قبیلے کو ”رھط“ کے لفظ سے یاد کیا کہ جس کا لغتِ عرب میں تین سے کم تعداد سے لے کر سات یا دس یا بعض کے بقول زیادہ سے زیادہ چالیس افراد پر اطلاق ہوتا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تیری قبیلے کی بھی ہماری نظر میں کوئی طاقت نہیں بلکہ دوسرے لحاظ ہیں جو ہمیں اس کام سے روکتے ہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کہ اگر تیری قوم اور خاندان کے ان چار افراد کا لحاظ نہ ہو تو ہم تیرا حق تیرے ہاتھ پر رکھ دیتے جب کہ دراصل اس کی قوم اور خاندان کے وہی چار افراد نہیں ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ طاقت کے لحاظ سے اہمیت نہیں رکھتے۔ آخر میں انہوں نے کہا: تُوہمارے لیے کوئی طاقتور اور ناقابلِ شکست شخص نہیں ہے (وَمَا اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ)۔ اگرچہ تو اپنے قبیلے کے بزرگوں میں شمار ہوتا ہے لیکن جو پپروگرام تیرے پیشِ نظر ہے اس کی وجہ سے ہماری نگاہ میں تیری کوئی وقعت اور منزلت نہیں ہے۔ حضرت شعیب(علیه السلام) ان کی باتوں کے نشتروں اور توہین آمیز رویّے سے (سیخ پا ہو کر) اٹھ کر نہ چلے گئے بلکہ آپ نے اسی طرح انھیں پُر منطق اور بلیغ پیرائے میں جواب دیا: اے قوم! کیا میرے قبیلے کے یہ چند افراد تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزیز ہیں(قَالَ یَاقَوْمِ اَرَھْطِی اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنَ الله)، تم میرے خاندان کی خاطر جو تمھارے بقول چند نفر سے زیادہ نہیں ہیں مجھے آزار نہیں پہنچاتے ہو، تو کیوں خدا کے لیے تم میری باتوں کو قبول نہیں کرتے ہو۔کیا عظمتِ خدا کے سامنے چند افراد کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا تم خدا کے کسی احترام کے قائل ہو”جب کہ اسے اور اس کے فرمان کوتم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے (وَاتَّخَذْتُمُوہُ وَرَائَکُمْ ظِھْرِیًّا)۔ (تشریحی نوٹ: عربی زبان میں جب کسی چیز کے بارے میں اپنی بے اعتنائی کا اظہار کرتے ہیں تو کہتے ہیں”جعلتہ تحت قدمی“یا”جعلتہ دبرا ذنی“ یا”جعلتہ وراء ظھری“ یا”جعلتہ ظھریا“ (یعنی وہ میرے زیرِ پا ہے یا مَیں نے اسے پسِ پشت ڈال رکھا ہے وغیرہ) اور ”ظھری“ کا مادہ”ظھر“ (بروزن”قہر“)ہے اور”ی“ یہاں یاء نسبت ہے اور ”ظ“ کے نیچے زیر ان تبدیلیوں کی بناء پر ہے جو کبھی اسمِ منسوب میں کی جاتی ہے)۔ آخر میں حضرت شعیب (علیه السلام) کہتے ہیں:یہ خیال نہ کرو کہ خدا تمھارے اعمال کو نہیں دیکھتا اور تمھاری باتیں نہیں سنتا، یقین جانو کہ میرا پروردگار ان تمام اعمال پر محیط ہے جو تم انجام دیتے (إنَّ رَبِّی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیط)۔ بلیغ سخن ور وہ ہے جو اپنی باتوں میں مدِّ مقابل کی تمام تنقیدوں کا جواب دے۔ قومِ شعیب (علیه السلام) کے مشرکین نے چونکہ اپنی باتوں کے آخر میں ضمناً انھیں سنگسار کرنے کی دھمکی دی تھی اور ان کے سامنے اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا لہٰذا ان کی دھمکی کے جواب میں حضرت شعیب (علیه السلام) نے اپنا موقف اس طرح سے بیان کیا:اے میری قوم! جو کچھ تمھارے بس میں ہے کرگزرواور اس میں کوتاہی نہ کرو اور جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے اس میں رُو رعایت نہ کرو (وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُم)(”مکانة“ مصدر یا اسم مصدر ہے اور یہ کسی چیز پر قدرت رکھنے کے معنی میں ہے۔)۔مَیں بھی اپنا کام کروں گا (إنِّی عَامِلٌ)لیکن تم جلد سمجھ جاؤ گے کہ کون رسوا کن عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور کون جھوٹا ہے،مَیں یا تم (سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَمَنْ ھُوَ کَاذِب)۔ اور اب جب معاملہ اس طرح ہے تو تم بھی انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں(وَارْتَقِبُوا إنِّی مَعَکُمْ رَقِیبٌ)۔ (تشریحی نوٹ: ”رقیب“ کا معنی ہے محافظ، نگران اور نگہبان، یہ دراصل”رقبہ“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے”گردن“ یہ معنی اس کے لیے ہے کہ گردن کا محافظ اور نگران اس کی حفاظت کرتا ہے جو اس کی محافظت میں ہو (یہ اس سے کنایہ ہے کہ اس کی جان کی محافظت کرتا ہے) یا اس بنا پر کہ وہ گردن اونچی رکھتا ہے تاکہ پاسداری اور حفاظت کا کام انجام دے سکے)۔ تم اپنی طاقت، تعداد، سرمائے اوراثرورسوخ سے مجھ پر کامیابی کے انتظار میں رہو اور میں بھی انتظار میں ہوں کہ عنقریب دردناک عذابِ الٰہی تم جیسی گمراہ قوم کے دامن گیر ہو اور تمھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے۔

94
11:94
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور جب ہمارا فرمان آ پہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی اور جنہوں نے ظلم کیا تھا انہیں (آسمانی) چنگھاڑ نے آ لیا اور اپنے گھروں میں منہ کے بل گرے (اور مر گئے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
11:95
كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَآۗ أَلَا بُعۡدٗا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُودُ
اس طرح کہ گویا وہ ان گھروں میں رہتے ہی نہ تھے۔د ور ہو مدین (رحمت خدا) سے جیسے کہ قوم ثمود دور ہوئی۔

شعیب (ع) کی داستان میں تربیتی درس

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

انبیاء کے حالات اور گزشتہ اقوام کی داستانیں ہمیشہ بعد کی اقوام کے لیے الہام بخش اور سبق آموز ہوتی ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی آزمائشیں کہ جو بعض اوقات دسیوں سال یا سینکڑوں سال تک جاری رہیں تاریخ کے چند صفحات میں سمٹ کر سب کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنی زندگی میں ان سے سبق حاصل کرسکتا ہے ۔اس عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی زندگی بھی ہمیں بہت سے درس دیتی ہے۔مثلاً:

۱۔ اقتصادی مسائل کی اہمیت

اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے انھیں دعوتِ توحید کے بعد مالی امور تجارت میں حق وعدالت کی دعوت دی، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ ایک معاشرے کے اقتصادی مسائل کو معمولی اور غیر اہم شمار نہیں کیا جاسکتا، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انبیاء صرف اخلاقی مسائل کے لیے مامور نہ تھے بلکہ اجتماعی واقتصادی کیفیت کی خرابی کی اصلاح بھی ان کی دعوت کا ایک اہم حصہ تھی۔ اس حد تک اہم کہ وہ اسے دعوتِ توحید کے ساتھ قرار دیتے تھے ۔

۲۔ نماز۔توحید اور پاکیزگی کی طرف دعوت

حضرت شعیب (علیه السلام) کی گمراہ قوم نے بڑے تعجب سے ان سے پوچھا کہ کیا تیری یہ نماز بتوں کی پرستش نہ کرنے اور کم فروشی اور دھوکہ بازی نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔شاید ان کا خیال تھا کہ ان حرکات اور اذکار کا ان امور میں کیا دخل ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان قوی ترین رابطہ ہے ۔اگر نماز اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ ادا ہو یعنی انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہو تو یہ حضور تکامل وارتقاء کا زینہ، تربیتِ روح کا وسیلہ اور دل سے گناہ کا زنگ صاف کرنے کا ذریعہ ہے، یہ حضور انسان کے ارادہ کو قوی اور اس کے عزم کو راسخ کرتا ہے اور غرور وتکبر کو اس سے دور کرتا ہے۔

۳۔ خود بینی جمود کا باعث

جیسا کہ مندرجہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوا ہے قومِ شعیب کے افراد خود خواہ اور خود بین تھے، اور اپنے آپ کو فہمیدہ اور سمجھدار خیال کرتے تھے، حضرت شعیب (علیه السلام) کو نادان سمجھتے تھے ان کا مذاق اڑاتے تھے، ان کی باتوں کو بے معنی اور ان کی شخصیت کو کمزور جانتے تھے، اس خود پرستی اور خود بینی نے ان کی زندگی کو تاریک کر دی ا تھا اور انھیں خاک سیاہ پر لابٹھایا تھا ۔ نہ فقط انسان بلکہ اگر جانور بھی خود بین ہو تو وہ راستے میں ا اٹک کر رہ جاتا ہے، کہتے ہیں گھوڑا سوار ایک شخص ایک نہر کے پاس پہنچا لیکن اس نے حیرت سے دیکھا کہ گھوڑا ایک چھوٹی سی اور کم گہری نہر میں گزرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا، ایک دانا شخص کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کہا: نہر کے پانی کو ہلاؤ تاکہ وہ مٹی سے آلودہ ہوجائے، مشکل حل ہوجائے گی، اس نے یہ کام کیا، گھوڑے نے آرام سے اسے عبور کرلیا، اس پر لوگ بہت حیران ہوئے، انھوں نے اس دانا شخص سے اس کی وجہ دریافت کی ۔ اس مردِ حکیم نے کہا: جب پانی صاف تھا تو گھوڑے نے اپنا عکس پانی میں دیکھا، اس نے سمجھا کہ یہ وہ خود ہے، وہ تیار نہ ہوا کہ اپنا ہی پاؤں اپنے آپ پر رکھے لیکن جب پانی مٹی سے آلودہ ہوگیا تو اس کا عکس غائب ہوگیا اور وہ آسانی سے وہاں سے گزر گیا ۔

۴۔ اصولوں کو تعصب پر قربان نہیں کرنا چاہیے

اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ قوم کی بدبختی کے عوامل میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ذاتی کینہ پرستی اور عداوتوں کی وجہ سے حقائق کو بھلا دیتے تھے حالانکہ عقلمند اور حقیقت شناس وہ انسان ہے کہ ہر شخص سے حق بات سنے اور اسے قبول کرے چاہے کہنے والا اس کا اول درجے کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔

۵۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں

ابھی بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا خیال ہے کہ صرف عقیدہ رکھ کر ہی مسلمان ہوا جاسکتا ہے۔ اگرچہ وہ عمل نہ بھی کریں، بہت سے ایسے افراد ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ دین ان کی سرکش ہواوہوس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے، اور انھیں ہر لحاظ سے آزاد رکھے ۔ داستان شعیب (علیه السلام) سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی ایسے ہی دین کی خواہاں تھی، لہٰذا وہ حضرت شعیب (علیه السلام) سے کہتے تھے کہ ہم نہ اس کے لیے تیار ہیں اور نہ اپنے بڑوں کے بتوں کو فراموش کریں اور نہ ہم اپنے سرمائے اور اموال کے بارے میں اپنی آزادی ہاتھ سے دیں گے۔وہ یہ بات بھولے ہوئے تھے کہ اصولی طور پر شجرِ ایمان کا ثمر عمل ہے اور انبیاء کا دین وآئین اس لیے تھا کہ انسان کی ذاتی خرابیوں عملی کمزوریوں اور انحرافات کی اصلاح کرے ورنہ جس درخت کی نہ کوئی شاخ ہو نہ پتے اورنہ پھل وہ جلانے کے ہی کام آئے گا ۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں ایک طبقے میں یہ فکر بڑی راسخ ہوچکی ہے، وہ اسلام کو بس خشک عقائد کا ایک ایسا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جو فقط مسجد کے اندر ان کے ساتھ ہے اورجو نہی وہ مسجد کے دروازے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔ ان کے دفتروں میں، بازاروں میں اور کاروبار میں اسلام کا کوئی عمل دخل اورنام ونشان نہیں ہے ۔ بہت سے اسلامی ممالک کو ہم نے دیکھا ہے یہاں وہ ممالک جو ظہور اسلام کا مرکز تھے وہاں یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام چند عقائد اور چند کم روح عبادات میں منحصر ہوگیا ہے، علم وآگاہی، عدالتِ اجتماعی، رشدِ ثقافتی، بینشِ فرہنگی اور اخلاقِ اسلامی میں سے کسی چیز کا نام ونشان اور خبر نہیں ہے، اگرچہ خوش بختی سے چند ایک اسلامی تحریکوں کی وجہ سے خصوصا نوجون طبقے میں سچے اسلام اور ایمان وعمل کی یکجائی کی ایک تحریک پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اب یہ جملہ کہ اسلام کو ہمارے عمل سے کیا کام یا اسلام کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زندگی سے، کم سنا جا سکتا ہے نیز یہ جو التقاطی لوگوں(کہ جو کسی ایک مکتب کے پیروکار نہیں ہوتے) کا نظریہ ہے کہ ہم عقیدہ اسلام سے اور اقتصادیات مارکس سے لیتے ہیں یہ بھی قومِ شعیب کے گمراہوں کی سی طرزِ تفکر رکھتے ہیں، یہ نظریہ بھی قابل مذمت ہے، لیکن بہرحال یہ تفرقہ بھی قدیم زمانے سے ہے اور آج بھی موجود ہے، ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیئے ۔

۶۔ بلا شرط اور لامحدود ملکیت فساد کا سرچشمہ ہے

قومِ شعیب اس اشتباہ میں گرفتار تھی کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کے لیے اس کے اموال میں تصرف کے بارے میں تھوڑی سے بھی حد بندی کی بات کرے۔ یہاں تک کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام)سے تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ تجھ سا دانا شخص کیونکر ہمارے اموال کے بارے میں ہماری آزادی عمل میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ انھوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی یا حقیقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مالی تصرفات میں کسی حدبندی کو خلاف عقل سمجھتے تھے، حالانکہ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، اگر لوگ اپنے اموال میں تصرف کرنے کے بارے میں آزاد ہوں تو پورا معاشرہ بد بختی اور خرابی کی لپیٹ میں آجائے گا، مالی امور کو صحیح اور نپے تلے ضوابط کے تابع ہونا چاہیئے، جیسے انبیائے الٰہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ورنہ معاشرہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے گا ۔

۷۔ انبیاء کا ہدف فقط اصلاح تھا

یہ جو حضرت شعیب (علیه السلام) نے فرمایا:”ان ارید الاالاصلاح ما استعطعتم“ (مَیں تو فقط حتی المقدور اصلاح چاہتا ہوں) یہ فقط ان کا شعار نہ تھا بلکہ تمام انبیاء اور تمام حقیقی رہبروں کا شعار تھا، ان کا گفتار وکردار ان کے اس ہدف کا شاہد ہے۔ وہ نہ لوگوں کی مشغولیت کے لیے آئے تھے، نہ ان کے گناہ بخشنے کے لیے، نہ انھیں جنت بھیجنے کے لیے، نہ طاقتوروں کی حمایت کے لیے اور نہ عوام کے ذہنوں کو ماؤف کرنے کے لیے بلکہ ان کا ہدف اور مقصد ایک مکمل اور حقیقی اصلاح تھا، اصلاح سے ان کی مراد وسیع تر اصلاح تھی، فکر ونظر کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، معاشرے کے ثقافتی نظام کی اصلاح، اقتصادی اصلاح اور سیاسی اصلاح ۔ خلاصہ یہ کہ معاشرے کے تمام پہلوؤں کی اصلاح ان کے مدِنظر تھی ۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے ان کا سہارا فقط خدا تھا، وہ کسی سازش اور دھمکی سے نہیں ڈرتے تھے جیسا کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا: وَمَا تَوْفِیقِی إلاَّ بِاللهِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإلَیْہِ اُنِیب۔

96
11:96
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
11:97
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ فِرۡعَوۡنَۖ وَمَآ أَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيدٖ
فرعون اور اسکے حواریوں کی طرف، لیکن انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی جبکہ فرعون کا حکم رشدونجات کا باعث نہیں تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
11:98
يَقۡدُمُ قَوۡمَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَأَوۡرَدَهُمُ ٱلنَّارَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡوِرۡدُ ٱلۡمَوۡرُودُ
وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور وہ انہیں آتش جہنم میں پہنچا دے گا اور کتنا برا ہے کہ آگ انسان کے لئے پانی کا گھاٹ قرار پائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
11:99
وَأُتۡبِعُواْ فِي هَٰذِهِۦ لَعۡنَةٗ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ بِئۡسَ ٱلرِّفۡدُ ٱلۡمَرۡفُودُ
وہ اس جہان میں اورروز قیامت رحمت خدا سے دور ہوں گے اور انہیں کیا برا تحفہ دیا جائے گا۔

مدین کے تباہ کاروں کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

انبیاء کے حالات اور گذشتہ اقوام کی داستانیں ہمیشہ بعد کی اقوام کے لیے الہام بخش اور سبق آموز ہوتی ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی آزمائشیں کہ جو بعض اوقات دسیوں سال یا سینکڑوں سال تک جاری رہیں تاریخ کے چند صفحات میں سمٹ کر سب کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنی زندگی میں ان سے سبق حاصل کر سکتا ہے۔اس عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیب (علیه السلام) کی زندگی بھی ہمیں بہت سے درس دیتی ہے۔؎مثلاً: ۱۔ اقتصادی مسائل کی اہمیت: اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے انھیں دعوتِ توحید کے بعد مالی امور تجارت میں حق وعدالت کی دعوت دی، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ ایک معاشرے کے اقتصادی مسائل کو معمولی اور غیر اہم شمار نہیں کیا جا سکتا، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انبیاء صرف اخلاقی مسائل کے لیے مامور نہ تھے بلکہ اجتماعی واقتصادی کیفیت کی خرابی کی اصلاح بھی ان کی دعوت کا ایک اہم حصہ تھی۔ اس حد تک اہم کہ وہ اسے دعوتِ توحید کے ساتھ قرار دیتے تھے۔ ۲۔ نماز۔توحید اور پاکیزگی کی طرف دعوت دیتی ہے حضرت شعیب (علیه السلام) کی گمراہ قوم نے بڑے تعجب سے ان سے پوچھا کہ کیا تیری یہ نماز بتوں کی پرستش نہ کرنے اور کم فروشی اور دھوکہ بازی نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔شاید ان کا خیال تھا کہ ان حرکات اور اذکار کا ان امور میں کیا دخل ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان قوی ترین رابطہ ہے۔اگر نماز اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ ادا ہو یعنی انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہو تو یہ حضور تکامل وارتقاء کا زینہ، تربیتِ روح کا وسیلہ اور دل سے گناہ کا زنگ صاف کرنے کا ذریعہ ہے، یہ حضور انسان کے ارادہ کو قوی اور اس کے عزم کو راسخ کرتا ہے اور غرور وتکبر کو اس سے دور کرتا ہے۔ ۳۔ خود بینی جمود کا باعث ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوا ہے قومِ شعیب کے افراد خود خواہ اور خود بین تھے، اور اپنے آپ کو فہمیدہ اور سمجھدار خیال کرتے تھے، حضرت شعیب (علیه السلام) کو نادان سمجھتے تھے ان کا مذاق اڑاتے تھے، ان کی باتوں کو بے معنی اور ان کی شخصیت کو کمزور جانتے تھے، اس خود پرستی اور خود بینی نے ان کی زندگی کو تاریک کر دیا تھا اور انھیں خاک سیاہ پر لابٹھایا تھا۔ نہ فقط انسان بلکہ اگر جانور بھی خود بین ہو تو وہ راستے میں ا اٹک کر رہ جاتا ہے، کہتے ہیں گھوڑا سوار ایک شخص ایک نہر کے پاس پہنچا لیکن اس نے حیرت سے دیکھا کہ گھوڑا ایک چھوٹی سی اور کم گہری نہر میں گزرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا، ایک دانا شخص کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کہا: نہر کے پانی کو ہلاؤ تاکہ وہ مٹی سے آلودہ ہو جائے، مشکل حل ہو جائے گی، اس نے یہ کام کیا، گھوڑے نے آرام سے اسے عبور کر لیا، اس پر لوگ بہت حیران ہوئے، انھوں نے اس دانا شخص سے اس کی وجہ دریافت کی۔ اس مردِ حکیم نے کہا: جب پانی صاف تھا تو گھوڑے نے اپنا عکس پانی میں دیکھا، اس نے سمجھا کہ یہ وہ خود ہے، وہ تیار نہ ہوا کہ اپنا ہی پاؤں اپنے آپ پر رکھے لیکن جب پانی مٹی سے آلودہ ہو گیا تو اس کا عکس غائب ہو گیا اور وہ آسانی سے وہاں سے گزر گیا۔ ۴۔ اصولوں کو تعصب پر قربان نہیں کرنا چاہئے اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ قوم کی بدبختی کے عوامل میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ذاتی کینہ پرستی اور عداوتوں کی وجہ سے حقائق کو بھلا دیتے تھے حالانکہ عقلمند اور حقیقت شناس وہ انسان ہے کہ ہر شخص سے حق بات سنے اور اسے قبول کرے چاہے کہنے والا اس کا اول درجے کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ ۵۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں: ابھی بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا خیال ہے کہ صرف عقیدہ رکھ کر ہی مسلمان ہوا جا سکتا ہے۔ اگرچہ وہ عمل نہ بھی کریں، بہت سے ایسے افراد ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ دین ان کی سرکش ہواوہوس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے، اور انھیں ہر لحاظ سے آزاد رکھے۔ داستان شعیب (علیه السلام) سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی ایسے ہی دین کی خواہاں تھی، لہٰذا وہ حضرت شعیب (علیه السلام) سے کہتے تھے کہ ہم نہ اس کے لیے تیار ہیں اور نہ اپنے بڑوں کے بتوں کو فراموش کریں اور نہ ہم اپنے سرمائے اور اموال کے بارے میں اپنی آزادی ہاتھ سے دیں گے۔وہ یہ بات بھولے ہوئے تھے کہ اصولی طور پر شجرِ ایمان کا ثمر عمل ہے اور انبیاء کا دین وآئین اس لیے تھا کہ انسان کی ذاتی خرابیوں عملی کمزوریوں اور انحرافات کی اصلاح کرے ورنہ جس درخت کی نہ کوئی شاخ ہو نہ پتے اورنہ پھل وہ جلانے کے ہی کام آئے گا۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں ایک طبقے میں یہ فکر بڑی راسخ ہو چکی ہے، وہ اسلام کو بس خشک عقائد کا ایک ایسا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جو فقط مسجد کے اندر ان کے ساتھ ہے اورجو نہی وہ مسجد کے دروازے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔ ان کے دفتروں میں، بازاروں میں اور کاروبار میں اسلام کا کوئی عمل دخل اورنام ونشان نہیں ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک کو ہم نے دیکھا ہے یہاں وہ ممالک جو ظہور اسلام کا مرکز تھے وہاں یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام چند عقائد اور چند کم روح عبادات میں منحصر ہو گیا ہے، علم وآگاہی، عدالتِ اجتماعی، رشدِ ثقافتی، بینشِ فرہنگی اور اخلاقِ اسلامی میں سے کسی چیز کا نام ونشان اور خبر نہیں ہے، اگرچہ خوش بختی سے چند ایک اسلامی تحریکوں کی وجہ سے خصوصا نوجون طبقے میں سچے اسلام اور ایمان وعمل کی یکجائی کی ایک تحریک پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اب یہ جملہ کہ اسلام کو ہمارے عمل سے کیا کام یا اسلام کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زندگی سے، کم سنا جا سکتا ہے نیز یہ جو التقاطی لوگوں(کہ جو کسی ایک مکتب کے پیروکار نہیں ہوتے) کا نظریہ ہے کہ ہم عقیدہ اسلام سے اور اقتصادیات مارکس سے لیتے ہیں یہ بھی قومِ شعیب کے گمراہوں کی سی طرزِ تفکر رکھتے ہیں، یہ نظریہ بھی قابل مذمت ہے، لیکن بہرحال یہ تفرقہ بھی قدیم زمانے سے ہے اور آج بھی موجود ہے، ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیئے۔ ۶۔بلا شرط اور لامحدود ملکیت فساد کا سرچشمہ ہے: قومِ شعیب اس اشتباہ میں گرفتار تھی کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کے لیے اس کے اموال میں تصرف کے بارے میں تھوڑی سے بھی حد بندی کی بات کرے۔ یہاں تک کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام)سے تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ تجھ سا دانا شخص کیونکر ہمارے اموال کے بارے میں ہماری آزادی عمل میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ انھوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی یا حقیقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مالی تصرفات میں کسی حدبندی کو خلاف عقل سمجھتے تھے، حالانکہ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، اگر لوگ اپنے اموال میں تصرف کرنے کے بارے میں آزاد ہوں تو پورا معاشرہ بد بختی اور خرابی کی لپیٹ میں آجائے گا، مالی امور کو صحیح اور نپے تلے ضوابط کے تابع ہونا چاہیئے، جیسے انبیائے الٰہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ورنہ معاشرہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے گا۔ ۷۔ انبیاء کا ہدف فقط اصلاح تھا:یہ جو حضرت شعیب (علیه السلام) نے فرمایا:”ان ارید الاالاصلاح ما استعطعتم“ (مَیں تو فقط حتی المقدور اصلاح چاہتا ہوں) یہ فقط ان کا شعار نہ تھا بلکہ تمام انبیاء اور تمام حقیقی رہبروں کا شعار تھا، ان کا گفتار وکردار ان کے اس ہدف کا شاہد ہے۔ وہ نہ لوگوں کی مشغولیت کے لیے آئے تھے، نہ ان کے گناہ بخشنے کے لیے، نہ انھیں جنت بھیجنے کے لیے، نہ طاقتوروں کی حمایت کے لیے اور نہ عوام کے ذہنوں کو ماؤف کرنے کے لیے بلکہ ان کا ہدف اور مقصد ایک مکمل اور حقیقی اصلاح تھا، اصلاح سے ان کی مراد وسیع تر اصلاح تھی، فکر ونظر کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، معاشرے کے ثقافتی نظام کی اصلاح، اقتصادی اصلاح اور سیاسی اصلاح۔ خلاصہ یہ کہ معاشرے کے تمام پہلوؤں کی اصلاح ان کے مدِنظر تھی۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے ان کا سہارا فقط خدا تھا، وہ کسی سازش اور دھمکی سے نہیں ڈرتے تھے جیسا کہ حضرت شعیب (علیه السلام) نے کہا: وَمَا تَوْفِیقِی إلاَّ بِاللهِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإلَیْہِ اُنِیب۔

فرعون کے ساتھ زبردست مقابلہ

حضرت شعیب(علیه السلام) اور اہلِ مدین کی داستان ختم ہونے کے بعد اب اشارہ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ بن عمران کی سرگزشت کے ایک پہلو کی طرف کیا گیا ہے۔ یہاں فرعون کے ساتھ ان کے مقابلوں کا ذکر ہے اور اس سورہ میں یہ انبیاء الٰہی سے متعلق ساتویں داستان ہے۔ تمام پیغمبروں کی نسبت قرآن میں حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کا واقعہ زیادہ آیا ہے، تیس سے زیادہ سورتوں میں موسی(علیه السلام)ٰ وفرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سو سے زیادہ مرتبہ اشارہ ہوا ہے۔ حضرت صالح(علیه السلام) شعیب(علیه السلام) اور لوط (علیه السلام) جیسے ابنیاء کہ جن کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں کی نسبت حضرت موسیٰ کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ ان انبیاء نے گمراہ قوموں کے خلاف قیام کیا تھا۔ اصولی طور پر صاف پانی کے لیے چشمے کو صاف کرنا چاہیے، جب تک فاسد حکومتیں برسرِاقتدار ہیں کوئی معاشرہ شعادت اور نیک بختی کا منھ نہیں دیکھے گا۔خدائی رہبروں کو ایسے معاشروں میں سب سے پہلے فساد کے ان مراکز کو درہم وبرہم کرنا چاہیے۔ توجہ رہے کہ یہاں ہم حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کی سرگزشت کے ایک مختصر گوشے کا مطالعہ کریں گے کہ جو مختصر ہونے کے باوجود تمام انسانوں کو ایک عظیم پیغام دے رہا ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰؑ کو اپنے عطا کردہ معجزات اور قوی دلیل کے ساتھ بھیجا (وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوسیٰ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ)۔ ”سلطان“کا معنی”تسلط“ یہ کبھی ظاہری تسلط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی منطقی تسلط کے معنی میں، یعنی ایسا تسلط کہ کہ جو ںمخالف کے سامنے ایسی دیوار بن جائے کہ اسے فرار کا کوئی راستہ نہ ملے۔ مندرجہ بالا آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”سلطان“ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے اور لفظ ”آیات“ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کے واضح معجزات کی طرف اشارہ ہے، مفسّرین نے ان دو لفظوں کے بارے میں احتمالات بھی ذکر کیے ہیں۔ بہرحال موسی(علیه السلام)ٰ کو سرکوبی کرنے والے ان معجزات اور قوی منطق کے ساتھ ”ہم نے فرعون اور اس کے اطرافیوں کی طرف بھیجا“ (إلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہِ)۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے ”ملاٴ“ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کا ظاہر آنکھوں کو پُر کر دیتا ہے اگرچہ وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں، منطق قرآن میں اس کا اطلاق زیادہ تر اعیان واشراف اور پُرفریب اشخاص پر ہوتا ہے جو ظالم طاقتوں کے گرد رہتے ہیں۔ فرعون کے اطرافی جو دیکھ رہے تھے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے قیام سے ان کے ناجائز مفادات خطرے میں ہیں حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے معجزات اور منطق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے پر تیار نہ ہوئے ”لہٰذا انھوں نے حکمِ فرعون کی پیروی کی“(فَاتَّبَعُوا اَمْرَ فِرْعَوْنَ)۔ مگر فرعون کا حکم ہرگز ان کی سعادت کا ضامن اور سرمایہٴ رشد ونجات نہیں ہو سکتا تھا (وَمَا اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ)۔ البتہ فرعون کو یہ مقام آسانی سے نہیں مل گیا تھا بلکہ اس نے اپنے مقاصد کے لیے ہر طرح کے سازشی حربے استعمال کی اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے لیے نفسیاتی ہتھکنڈہ ہاتھ سے جانے سے نہیں دیتا تھا۔ کبھی وہ کہتا تھا کہ موسیٰ چاہتا ہے کہ تم سے زمینیں، ہتھیالے اور تمھیں کہ جو ان کے اصلی مالک ہو نکال باہر کرے، قرآن نے اس بات کو یوں نقل کیا ہے: یُرِیدُ اَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ اَرْضِکُمْ (اعراف/۱۱۰) کبھی وہ اپنی قوم کے مذہبی احساس کو تحریک دیتا اور کہتا: إنِّی اَخَافُ اَنْ یُبَدِّلَ دِینَکُمْ مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ یہ کہیں تمھارے دین ہی کو نہ بدل ڈالے۔ (المومن/۲۶) کبھی کہتا: اَوْ اَنْ یُظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمھاری زمین پر فتنہ وفساد برپا نہ کر دے۔ (المومن/۲۶) کبھی حضرت موسیٰ(علیه السلام) پر تہمت لگاتا، کبھی انھیں دھمکی دیتا، کبھی اہلِ مصر کے سامنے اپنی قدرت وشوکت کا مظاہرہ کرتا اور کبھی مکاری سے اپنے آپ کو ایک ایسے رہبر کی حیثیت سے پیش کرتا کہ جو ان کی خیر اور اصلاح کا ضامن ہے اور چونکہ روزِ قیامت ہرقوم وملت اور ہر گروہ اپنے رہبر کے ساتھ محشور ہو گااور جہان کے رہبر وہاں بھی رہبر شمار ہوں گے لہٰذا فرعون بھی کہ جو اپنے زمانے کے گمراہوں کا رہبر تھا۔ میدان حشر میں ان کے آگے آگے ہو گا(یَقْدُمُ قَوْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ)۔ لیکن یہ پیشوا اپنے پیروکاروں کو اس جلادینے والی گرمی میں کسی ٹھنڈے میٹھے پانی کے خوشگوار چشمے کے کنارے لے جانے کے بجائے انھیں آتش جہنم میں لے کر داخل ہو گا(فَاَوْرَدَھُمْ النَّارَ)۔ اور کیسی بُری چیز ہے کہ آگ انسان کے لیے پانی کا گھاٹ قرار پائے کہ جس میں وہ اخل ہو(وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ)۔ وہ چیز کہ جو تشنگی دور کرنے کے بجائے انسان کے سارے وجود کو جلادے اور سیراب کرنے کی بجائے اس کی پیاس اور بھڑکا دے۔ توجہ رہے کہ ”ورود“ دراصل پانی کی طرف چلنے اور س کے قریب ہونے کے معنی میں ہے لیکن بعد ازں ہر قسم کی چیز کے کسی چیز پر داخل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ”وِرد“ (بروزن ”ذکر“) اس پانی کو کہتے ہیں جس پر انسان وارد ہو اور پانی پر وارد ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اور ”مورود“ اس پانی کو کہتے ہیں جس پر وارد ہوا جائے (یہ اسم مفعول ہے)۔ اس بناء پر ”بئس الورد المورود“ کا معنی یہ ہو گا: آگ پانی پینے کی بُری جگہ ہے کہ جس پر وہ وارد ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے: ”بئس“ فعل ذم ہے، اس کا فاعل ”الورد“ ہے، ”المورود“ صفت ہے اور مخصوص بالذم لفظ ”النار“ ہے، جو محذوف ہے۔ بعض ادباء نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”المورود“ مخصوص بالذم ہے اور آیت میں کوئی چیز محذوف نہیں ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے)۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس دنیا کے ہمارے اعمال وافعال ایک وسیع صورت (ENLRRGED FORM) میں مجسم ہوں گے، اُس جہاں کی خوش بختیاں اور بدبختیاں ہمارے اِس جہاں کے کاموں کا پَرتو ہیں، جو اشخاص یہاں اہل بہشت کے رہبر ورہنما ہیں وہاں بھی مختلف گروہوں کو جنت اور سعادت کی طرف لے جائیں گے اور خود ان کے آگے آگے ہوں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: اِس جہان میں وہ لعنتِ خدا سے ملحق ہو گئے، سخت عذاب اور سزا میں گرفتار ہو گئے اور ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں میں وہ غرق ہو گئے اور روزِ قیامت بھی رحمتِ الٰہی سے دور ہوں گے (وَاُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ)۔ ان کا ننگین نام صفحاتِ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک گمراہ اور جابر قوم کے عنوان سے ثبت ہو گا، لہٰذا انھیں اس دنیا میں نقصان اٹھانا پڑا اور دوسرے جہان میں بھی اور جہنم کی آگ انھیں دیا جانے والا کیسا بُرا عطیہ ہے (بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ)۔ ”رفد“ دراصل کوئی کام انجام دینے میں مدد کرنے کے معنی میں ہے، یہاں تک کہ اگر کسی چیز کو دوسری چیز کا سہارا قرار دیا جائے تو اسے بھی ”رفد“ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ لفظ عطا اور بخشش کے معنی میں استعمال ہونے لگاکیونکہ یہ عطا کرنے والے کی طرف سے اس کی مدد ہوتی ہے جسے عطا کی جارہی ہو۔ (تشریحی نوٹ: ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے جس طرح ہم نے ”بئس الورد المورود“ بیان کیا ہے)۔

100
11:100
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيۡكَۖ مِنۡهَا قَآئِمٞ وَحَصِيدٞ
یہ شہروں اور آبادیوں کی خبریں ہیں کہ جو ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض ابھی تک قائم ہیں اور بعص کٹ چکی ہیں (اور ختم ہو چکی ہیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
11:101
وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡۖ فَمَآ أَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِي يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ لَّمَّا جَآءَ أَمۡرُ رَبِّكَۖ وَمَا زَادُوهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيبٖ
ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور جب عذاب الٰہی کا حکم آ پہنچا تو وہ جنہیں وہ اﷲ کے سوا پکارتے تھے انہوں نے ان کی مدد نہ کی اور ان کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
11:102
وَكَذَٰلِكَ أَخۡذُ رَبِّكَ إِذَآ أَخَذَ ٱلۡقُرَىٰ وَهِيَ ظَٰلِمَةٌۚ إِنَّ أَخۡذَهُۥٓ أَلِيمٞ شَدِيدٌ
اور تیرے پروردگار کا عذاب ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ ظالم شہروں اور آبادیوں کو سزا دیتا ہے۔(جی ہاں ) اس کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
11:103
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ ذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّجۡمُوعٞ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّشۡهُودٞ
اس میں اس شخص کے لئے نشانی ہے جو عذاب آخرت سے ڈرتا ہے وہی دن کہ جب لوگ جمع ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 104 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
11:104
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّا لِأَجَلٖ مَّعۡدُودٖ
اور ہم اس میں محدود مدت کے سوا تاخیرنہیں کریں گے۔

سات اقوام کی سرگزشت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سورہ کی آیات میں گذشتہ اقوام میں سے سات کی سرگذشت بیان کی گئی ہے اور کچھ حصّہ ان کے انبیاء کی تاریخ کا بھی بیان ہوا ہے، ان میں سے ہر سرگذشت بھرپور انسانی زندگی کے مختلف زاویوں کا اہم حصّہ واضح کرتی ہے اور ہر ایک میں عبرت کے بہت سے درس ہیں، یہاں ان تمام واقعات کی طرف مجموعی طور پر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ شہروں اور آبادیوں کے واقعات کا ایک حصّہ ہے کہ جو ہم تجھ سے بیان کررہے ہیں (ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْقُریٰ نَقُصُّہُ عَلَیْکَ)۔ وہی شہر اور آبادیاں جن کے کچھ حصّے ابھی قائم ہیں اور حصّے کشتِ زار کی طرح کٹ چکے ہیں اور تباہ ہو چکے ہیں (مِنْھَا قَائِمٌ وَحَصِیدٌ)۔ ”قَائِمٌ“ گذشتہ اقوام کے ان شہروں اور آبادیوں کی طرف اشارہ ہے جو ابھی باقی ہیں، مثلاً سرزمینِ مصر کہ جہاں فرعونی رہا کرتے تھے اور یہ علاقہ اس ظالم قوم کے غرق ہو جانے کے بعد بھی اسی طرح باقی رہے۔ اس کے باغات، کھیت اور بہت سی خیرہ کن عمارتیں ابھی تک باقی ہیں۔ ”حَصِیدٌ“ کا معنی ہے ”کٹ جانے والی“ یہ ایسی سرزمینوں اور بستیوں کی طرف اشارہ ہے جو قومِ نوح اور قوم لوط کے علاقوں کی طرح ہیں کہ جن میں سے ایک بستی پانی میں غرق ہو گئی اور دوسری زیر وزبر ہو گئی اور ان پر سنگباری ہوئی۔ لیکن یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے ان پر ظلم کیا ہے بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے (وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ)۔ انھوں نے بتوں اور جھوٹے خداوں کی پناہ لی لیکن وج جن خداوں کو پروردگار کے مقابلے میں پکارتے تھے انھوں نے ان کی کوئی مشکل حل نہ کی (فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ آلِھَتُھُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَاءَ اَمْرُ رَبِّکَ)۔ جی ہاں! ان مکار اور دھوکا باز خدداوں نے ان کے ضرر، نقصان، ہلاکت اور بدبختی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کیا (وَمَا زَادُوھُمْ غَیْرَ تَتْبِیبٍ) (تشریحی نوٹ: ”تتبیب“ کا مادہ ”تب“ ہے اس کا معنی ہے نقصان اور خسارے میں استمرار، نیز یہ لفظ ہلاکت اور نابودی کے معنی میں بھی آیا ہے)۔ جی ہاں! تیرے پروردگار کی سزا ان شہروں اور آبادیوں کے لیے اسی طرح تھی جنھوں نے ظلم کیا کہ جب الله نے انھیں سپرد ہلاکت کیا (وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ إذَ اَخَذَ الْقُریٰ وَھِیَ ظَالِمَةٌ)۔ یقناً الله کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید ہے (اِنَّ اَخْذَہُ اَلِیمٌ شَدِیدٌ)۔ یہ خدا کا ایک عمومی قانون ہے، یہ ایک ہمیشگی مناسبت اور دائمی طریقہ ہے کہ جو قوم ملت اپنے ہاتھ آلودہٴ ظلم کرے، آلودہٴ ظلم کرے، خدائی فرامین کی سرحد سے تجاوز کرے اور انبیاء الٰہی کی رہبری، رہنمائی اور پند ونصائح کی پرواہ نہ کرے تو خدا آخرکار انھیں سختی سے جکڑلیتا ہے اور پنجہٴ عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا طریقہٴ کار ایک عمومی طرزِ عمل ہے اور دائمی سنت ہے، یہ سنت دیگر قرآن آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے، یہ حقیقت دراصل تمام اہلِ دنیا کو خبردار کرتی ہے کہ تم خیال نہ کرو کہ تم اس قانون سے مستثنیٰ ہو یا یہ کہ حکم گذشتہ اقوام کے ساتھ مخصوص تھا۔ البتہ ”ظلم“ کے وسیع معنی میں تمام گناہ شامل ہیں۔ نیز جو ”ھِیَ ظَالِمَة“ کہہ کر بستی، شہر اور ابادی کو ظالم کہا گیا ہے حالانکہ یہ صفت شہر اور آبادی کے ساکنوں سے مربوط ہے، یہ گویا اس لطیف نکتے کی پرطرف اشارہ ہے کہ وہ ظلم وستم اور بیدادگری میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ گویا شہر کا شہر ظلم وستم کا حصّہ بن گیاہے۔ یہ تعبیر فارسی زبان کی اس تعبیر سے ملتی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہر کے در ودیوار سے ظلم برستا ہے، اور یہ چونکہ ایک عمومی قانون ہے اس لیے بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: یہ عبرت انگیز سرگزشتیں اور دردناک شوم اور منحوس حوادث کہ جو گذشتہ لوگوں پر گزرے ہیں اِن میں اُن راہِ حق پانے والوں کے لیے نشانی ہے کہ عذاب آخرت کے مقابلے سے ڈرتے ہیں (اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ)۔ کیونکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز حقیر اور معمولی ہے یہاں تک کہ اس سزائیں اور عذاب بھی، دوسرا جہان ہر لحاظ سے وسیع تر ہے اور وہ لوگ جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں دنیا کے یہ نمونے دیکھ کر ہل جاتے ہیں، عبرت حاصل کرتے ہیں اور ان کے سامنے راستہ کھل جاتا ہے۔ آیت کے آخر میں روزِ قیامت کے دو اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب لوگ جمع ہوں گے (ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ)۔ وہ ایسا دن ہے کہ جو تمام لوگوں کا مشہود ہے (وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَشْھُودٌ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے اس جہان میں خدائی قوانین وسنن عمومی اور سب کے لیے ہیں اُس عدالت میں بھی لوگوں کا اجتماع ہو گا، یہاں تک کہ ایک ہی وقت اور زمانے میں ہو گا، ایسا دن جو سب کے لیے واضح اور آشکار ہے، اس طرح کہ تمام انسان اس میں حاضر ہوں گے اور اسے دیکھیں گے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے: ”یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَہُ النَّاسُ“ یعنی ایسا دن جس کے لیے لوگ جمع ہوں گے، یہ نہیں کہا کہ ”فیہ النَّاس“ یعنی اس میں لوگ جمع ہوں گے۔ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا دن صرف ایسا ظرف نہیں ہے کہ جس میں لوگ جمع ہوں گے بلکہ ایک ہدف اور مقصد ہے کہ جس کی طرف انسان اپنے تکامل وارتقاء کے لیے بڑھیں گے۔ سورہٴ تغابن کی آیت۹ میں بھی ہے: یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ وہ دن کہ جو جمع کرنے اور اجتماع کا دن ہے، جو تم سب کو اکھٹا کرے گا اور وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب احساسِ زیاں کریں گے۔ چونکہ ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ اس دن کے بارے میں گفتگو کرنا ادھار والی بات ہے، معلوم نہیں وہ کب آئے گا؟ لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: اس دن کو ہم صرف ایک محدود زمانے کے لیے تاخیر میں ڈالیں گے (وَمَا نُؤَخِّرُہُ إلاَّ لِاَجَلٍ مَعْدُودٍ)۔ وہ بھی ایک مصلحت کے لیے جو واضح ہے تاکہ عالمِ دنیا کے لوگ آزمائش اور پرورش کے میدان دیکھ لیں اور انبیاء کا آخری پروگرام عملی شکل اختیار کرلے اور یہ جہان تکامل وارتقاء کے جس آخری سلسلے کی استعداد رکھتا ہے وہ ظاہر ہو جائے اور پھر اس جہان کے اختتام کا اعلان کیا جائے۔ ”معدود“ (یعنی شمار کیا ہوا)، یہ تعبیر قیامت کے نزدیک ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جوچیز قابلِ شمار اور گِنی جاس کے وہ محدود اور نزدیک ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس دن کی تاخیر ظالموں کو ہرگز مغرور نہ کر دے کیونکہ اگرچہ دیر ہو جائے قیامت آکر رہے گی یہاں تک کہ اس کے لیے دیر سے آنے کی تعبیر بھی صحیح نہیں ہے۔

105
11:105
يَوۡمَ يَأۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِيّٞ وَسَعِيدٞ
اور جس روز (قیامت) آ جائے گی، کوئی شخص اس (اللہ) کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرے گا۔ ان میں سے ایک گروہ شقی ہے اور ایک گروہ سعادت مند۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
11:106
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ
جو شقی ہیں وہ آگ میں ہیں اور ان کے لئے زفیر وشہیق (طویل اور دم گھٹنے والے نالے) ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
11:107
خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٞ لِّمَا يُرِيدُ
جب تک زمین وآسمان قائم ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے کیونکہ تیرا پروردگار جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
11:108
۞وَأَمَّا ٱلَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي ٱلۡجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَۖ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوذٖ
لیکن جو سعادت مند ہیں وہ جب تک آسمان وزمین قائم ہیں ہمیشہ جنت میں رہیں گے مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے، بخشش ہے یہ منقطع نہ ہونے والی۔

سعادت مند وشقاوت مند یا مشکلات؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیت میں مسئلہ قیامت اور اس عظیم عدالت میں تمام لوگوں کے اجتماع کی طرف اشارہ ہوا تھا، زیر بحث آیات میں اس دن لوگوں کے انجام کے ایک پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب تک وہ دن آپہنچے گا تو پروردگار کے ارادے کے بغیر کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا (یَوْمَ یَاْتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ إلاَّ بِإذْنِہِ)۔ بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آیت جو اُس دن اذنِ الٰہی سے لوگوں کو بات کرنے کی دلیل ہے اُن آیات کے منافی ہے جو مطلقاً بات کرنے کی نفی کرتی ہیں، مثلاً سورہٴ یٰسین کی آیہ۶۵: الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اَفْوَاہِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ آج کے دن ان کے دہنوں پر مُہر لگادیں گے اور ہمارے ساتھ ان کے ہاتھ بات کریں گے اور ان کے پاوں گواہی دیں گے، ان کاموں کی جو وہ انجام دیتے تھے۔ سورہٴ مرسلات کی آیت ۳۵ میں ہے: ھٰذَا یَومُ لَایَطِیقُونَ یہ وہ دن ہے جس میں وہ بول نہیں سکیں گے۔ اسی بناء پر بعض عظیم مفسّرین کا نظریہ ہے کہ اصولی طور پر اس دن بات کرنے کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ ”بات کرنا“ تو ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم انسان کے اندر کے حالات معلوم کرتے ہیں، اگر ہماری کوئی ایسی حسّ ہوتی کہ جس سے ہم ہر شخص کے افکار معلوم کر سکتے تو گفتگو کی ہرگز ضرورت نہ ہوتی، اس بات بناء پر قیامت میں جو اسرار ظاہر ہوں گے اور ہر چیز ”بروز وظہور“ کی حالت ظاہرہو جائے گی تو اصولاً بات کرنے اور تکلم کا کوئی معنی نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں آخرت کا گھر جزا کا گھر ہے نہ کہ عمل کا۔ لہٰذا ارادے اور اختیار سے انسان کے بات کرنے کی کوئی خبر نہیں ہے بلکہ وہاں انسان ہے، اس کے اعمال ہیں اور جو کچھ ان سے مربوط ہے، اس لیے کہ اگر وہاں انسان بات بھی کرے گا تو وہ دنیا میں کی جانے والی باتوں کی طرح نہیں ہو گی کہ جن کا سرچشمہ خود اس کا اختیار اور ارادہ ہوتا ہے اور جو اندرونی اسرار کا ظاہر کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ وہاں وہ جو کچھ کہے وہ ایک قسم کا اس کے اعمال کا عکس العمل ہو گا، وہ اعمال کہ جو وہاں ظاہر وآشکار ہیں۔ لہٰذا اس دن بات کرنا دنیا میں بات کرنے کی طرح نہیں ہے کہ انسان اپنے مَیل ورغبت سے جھوٹ سچ کہہ سکے۔ بہرحال وہ دن حقائقِ اشیاء کے کشف اور ”غیب“ کے شہود کی طرف پلٹ آنے کا دن ہے اور وہ اِس جہان کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔ لیکنـــــ مندرجہ بالا آیت سے مذکورہ نتیجہ نکالنا قرآن کی دیگر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ قرآن مومنین اور مجرمین کی پیشواوں، جابروں اور ان کے پیروکاروں کی۔اسی طرح شیطان اور اس کے فریب خوردگان کی اور دوزخیوں اور جنتیوں کی گفتگو نقل کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس جہان میں بھی اِس جہان کی سی باتوں کا وجود ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گنہگار بعض سوالات کے جواب میں جھوٹ بھی بولیں گے، مثلاً سورہٴ انعام کی آیہ ۲۲ تا۲۴ میں ہے: وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اَشْرَکُوا اَیْنَ شُرَکَاؤُکُمْ الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ، ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ إلاَّ اَنْ قَالُوا وَاللهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ، انظُرْ کَیْفَ کَذَبُوا عَلیٰ اَنفُسِھِمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ وہ دن کہ جس دن ہم ان کے سب کو محشور کریں گے، مشرکین سے کہیں گے کہ وہ معبود جنھیں تم خدا کا شریک سمجھتے تھے کہاں ہیں؟ ان کا جواب اور غذر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو گاکہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے۔ دیکھو وہ کس طرح اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں اور جسے وہ خدا جھوٹا شریک خیال کرتے تھے اسے بھی ہاتھ سے دے بیٹھیں گے۔ اس بناء پر بہتر ہے کہ ہم بات کرنے سے متعلق ظاہر آیات کے تناقض سے مربوط سوال کا وہی جواب دیں جو بہت سے مفسّرین نے دیا ہے اور وہ یہ کہ اس دن لوگ کئی مرحلوں سے گزریں گے کہ جن میں ہر ایک کی کچھ خصوصیات ہیں، کچھ مراحل ہیں ان میں سے کوئی بازپرس نہیں ہو گی، یہاں تک کہ ان کے منھ پر مُہر لگادی جائے گی صرف ان کے اعضاءِ جسم کہ جن میں آثارِ اعمال محفوظ ہیں زبانِ بے زبانی سے کلام کریں گے لیکن دوسرے مراحل میں ان کی زبان کا قفل کھول دیا جائے اور وہ اذنِ الٰہی سے بات کریں گے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ خطاکار ایک دوسرے کو ملامت کریں گے بلکہ ان کی کوشش یہ ہو گی کہ اپنے گناہ دوسرے کی گردن پر ڈال دیں گے۔ بہرحال آیت کے آخر میں تمام لوگوں کی دو گروہوں میں تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:وہاں ایک گروہ شقی ہو گااور دوسرا سعید، ایک گروہ بدبخت ہو گااور دوسرا خوش بخت (فَمِنْھُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ)۔ ”سعید“ مادّہٴ سعادت سے اسبابِ نعمت فراہم ہونے کے معنی میں ہے اور ”شقی“ مادّہٴ ”شقاوت“ سے سزا، پکڑ اور بلاء کے اسباب فراہم ہونے کے معنی میں ہے۔ اس بناء پر اُس جہان میں سعید وہی نیک لوگ یں جو انواع واقسام کی نعمتوں میں جاگزیں ہوں گے اور شقی وہی بدکار ہیں جو دوزخ میں مختلف عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔ بہرحال یہ شقاوت اور وہ سعادت دنیا میں انسانی اعمال، کردار، گفتار اور نیتوں کے نتیجے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض مفسّرین نے جبرو اکراہ پر مبنی اپنے باطل عقیدے کے لیے اس آیت کو دستاویز قرار دیا ہے حالانکہ یہ آیت اس معنی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ روزِ قیامت کے سعادتمندوں اور شقی افراد کے بارے میں بات کر رہی ہے کہ وہ سب اپنے اعمال کی وجہ سے اس مرحلے میں پہنچے ہیں۔شاید کچھ ایسی احادیث سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں اشتباہ ہوا ہے کہ جو قبلِ پیدائش سعادت وشقاوت مندوں کے بارے میں جو الگ الگ داستان ہے۔ اس کے بعد شقاوت مندوں اور شعادت مندوں کے حالات کی تشریح بڑے جچے تلے انداز میں اور واضح عبارات کے ذریعے کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: رہے وہ جو شقاوت مند ہوئے، جہنم کی آگ میں زفیر وشہیق میں مبتلا ہیں، نالہ وفریاد اور ورشین کرتے ہیں۔(فَاَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیھَا زَفِیرٌ وَشَھِیقٌ)۔ مزید فرمایا: وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے جب تک کہ آسمان وزمین موجود ہیں (خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ)۔ مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے (إلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ) کیونکہ خدا جس کام کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے (إنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیدُ)۔ لیکن جو لوگ سعادت مند ہوئے جب تک آسمان وزمین موجود ہیں وہ ہمیشہ بہشت میں رہیں گے (وَاَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیھَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ) مگر جو کچھ تیرے پروردگار کا ارادہ ہو (إلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ)۔ یہ بخشش وعطیہ ہے جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہو گا(عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ)۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ جبر و اکراہ کی نفی

۱۔ جبر واکراہ کی نفی: جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ بعض مندرجہ بالاآیات سے سعادت وشقاوت کا ذاتی ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ مندرجہ بالا آیات نہ صرف اس امر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ سعادت وشقاوت اکتسابی ہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے: ”فَاَمَّا الَّذِینَ شَقُوا“ یعنی وہ لوگ جو شقاوت مند ہوئے، اسی طرح فرمایا گیا ہے: ”اَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا“ یعنی وہ لوگ و سعادتمند ہوئے، اگر شقاوت وسعادت ذاتی ہوتیں تو کہنا چاہیے تھا: ”امّاالاشقیاء وامّا السعداء“ یا ایسی ہی کوئی اور عبارت ہوتی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ تفسیر رازی کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے: مذکورہ آیات میں خدا ابھی سے حکم لگا رہا ہے قیامت میں ایک گروہ سعادت مند ہو گا اور ایک شقاوت مند ہو گااور جنھیں خدا ایسے حکم سے محکوم کرتا ہے اور جانتا ہے کہ آخرکار قیامت میں سعید یا شقی ہوں گے، محال ہے کہ وہ تبدیل ہو جائیں ورنہ لازم آئے گا کہ خدا کا خبر دینا جھوٹ ہو اور اس کا علم جہالت ہو، اور یہ محال ہے۔ یہ مسئلہ جبر واختیار میں ”علم خدا“ کے حوالے سے وہی مشہور اعتراض ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افکار کو آیات پر نہ ٹھوسیں تو ان کے مفاہیم روشن اور واضح ہیں، یہ آیات کہتی ہیں کہ ان دن ایک گروہ اپنے اعمال کی وجہ سے سعادت مند ہو گااور ایک گروہ اپنے کردار کے باعث شقاوت مند ہو گااور خدا جانتا ہے کہ کونسے افراد اپنے ارادے، خواہش اور اختیار سے سعادت کی راہ اپنائیں گے اور کونسے اپنے ارادے سے راہِ شقاوت پر گامزن ہوں گے۔اس بناء پر اگر اس کے کہنے کے برعکس لوگ یہ راہ منتخب کرنے پر مجبور ہوں تو علمِ خدا جہل ہو جائے گا کیونکہ سب کے سب اپنے ارادہ واختیار سے اپنی راہ انتخاب کریں گے۔ ہماری گفتگو کا شاید یہ امر ہے کہ مندرجہ بالا آیات گذشتہ قوموں کے واقعات کے بعد آئی ہیں، ان واقعات کے مطابق ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ظلم وستم کی وجہ سے، حق وعدالت کے راستے سے اپنے انحراف کے باعث، شدید اخلاقی مفاسد کے سبب اور خدائی رہبروں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اس جہان میں دردناک عذابوں میں مبتلا ہوئی، یہ واقعات قرآن نے ہماری تربیت وارشاد کے لیے، راہِ حق کوباطل سے جدا کرکے نمایاں کرنے کے لیے اور راہِ سعادت کو راہِ شقاوت سے جدا کرکے دکھانے کے لیے بیان کیے ہیں۔ اصولی طور پر جیسا کہ فخر رازی اور اس کے ہم فکر افراد خیال کرتے ہیں اگر ہم پر ذاتی سعادت وشقاوت کا حکم نافذ ہو اور ہم بغیر ارادہ واختیار کے بدیوں اور نیکیوں کی طرف کھینچے جائیں تو تعلیم وتربیت بغو اور بے سود ہو جائے گی، پیغمبروں کا آنا جانا، کتب آسمانی کا نزول، پند ونصیحت، تشویق وتوبیخ، سرزنش وملامت، مواخذہ وسوال غرضیکہ سزا وجزا سب کی سب بے فائدہ یا ظالمانہ امور شمار ہوں گے۔ وہ جو لوگوں کو نیک وبد کی انجام دہی میں مجبور سمجھتے ہیں، چاہے اس کی جبر کو جبرِ خدائی سمجھیں یا جبر طبیعی، چاہے جبر اقتصادی سمجھیں یا جبرِ ماحول، صرف بات کرتے وقت یا کتابی دنیا میں اس مسلک کی طرفداری کرتے، لیکن عملی طور پر خود بھی ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر تجاوز ہو تو زیادتی کرنے والے سرزنش، ملامت اور سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور اس بات کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ اسے مجبور قرار دے کر اس سے صرف نظر کر لیں یا اس کی سزا کو ظالمانہ خیال کریں یا کہیں کہ وہ یہ کام کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا اور چونکہ خدا نے ایسا چاہا تھا یا ماحول اور طبیعت کا جبر تھا، یہ خود اصل اختیار کے فطری ہونے پر ایک اور دلیل ہے۔ بہرحال ہمیں کوئی جبری مسلک والا ایسا نہیں ملتا جو اپنے روز مرہ کے عمل میں اس عقیدے کا پابند ہو بلکہ وہ تمام افراد سے ان کے آزاد، مسئول، جوابدہ اور مختار ہونے کے لحاظ سے ملتا اور پیش آتا ہے، دنیا کی تمام اقوام نے عدالتیں قائم کررکھی ہیں، قوانین بنائے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے مختار ہونے کو قبول کیا گیا ہے، دنیا کے تمام تربیتی ادارے ضمنی طور پر اس بنیادی نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنے میل ورغبت اور اردہ واختیار سے کام کرتا ہے اور تعلیم وتربیت کے ذریعے اس کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اور اسے ارشاد ودہدایت کی جاسکتی ہے اور اسے خطاوں، غلطیوں اور کج فہمیوں سے روکا جا سکتا ہے۔

۲۔ ”شقوا“ اور ”سعدوا“ میں ایک باریک فرق:

یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ”شقوا“ فعل معلوم کے طور پر اور ”سعدوا“ فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ”سعدوا“ ”سعد“ کے مادہ سے ہے جو بعض ارباب لغت کے مطابق فعل لازم ہے اور مفعول کو نہیں چاہتا، اس بناء پر یہ صیغہ مجہول نہیں ہے لہٰذا یہ اہل لغت مجبور ہوئے ہیں کہ اسے محفف ”سعدوا“ (باب افعال کے مجہول) سے سمجھیں لیک جس طرح آلوسی نے روح المعانی میں ایت کے ذیل میں بعض اہلِ لغت سے نقل کیا ہے اس کا فعل ثلاثی بھی متعدی ہے اور ”سعدالله“ اور ”مسعود“ کہا جاتا ہے، اس بناء پر ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس فعل مجہول کو بابِ افعال سے سمجھیں-غور کیجئے گا)۔ تعبیر کا یہ اختلاف شاید اس لطیف نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ انسان راہِ شقاوت کو اپنے قدموں سے طے کرتا ہے لیکن راہِ سعادت پر چلنے کے لیے جب تک خدائی امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ میں وہ اس کے نصرت نہ کرے تو یہ کامیاب نہیں ہو گا، اس میں شک نہیں کہ یہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائی قدم اپنے ارادہ واختیار سے اٹھائے ہوں اور اسی طرح ایسی امادا کی اہلیّت پیدا کرلی ہو (غور کر لیجئے گا)۔

۳۔ قرآن میں مسئلہ خلود

اصل لغت میں ”خلود“ طولانی بقاء کے معنی میں ہے اور ابدیت کے معنی میں بھی آیا ہے اس لیے اکیلا ”خلود“ ابدیت کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی طولانی بقاء بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے لیکن بہت سی آیاتِ قرآنی میں یہ کلمہ کچھ قیود کے ساتھ ذکر ہوا ہے جن سے وضاحت کے ساتھ ابدیت کا مفہوم معلوم ہوتا ہے، مثلاً توبہ/ ۱۰۰، طلاق/۱۱، اور تغابن/۹ میں اہل بہشت کے لیے ”خَالِدِینَ فِیھَا اٴبداً“ کی تعبیر موجود ہے، اس تعبیر سے ان لوگوں کے لیے بہشت کی ابدیت معلوم ہوتی ہے اور دوسری آیات مثلاً نساء/۱۶۹ اور جِن/۲۳ میں دوزخیوں کے ایک گروہ کے بارے میں یہی تعبیر ”خَالِدِینَ فِیھَا اٴبداً“ نظر آتی ہے جو اُن کے لیے عذابِ جاوداں ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح کچھ اور تعبیرات بھی ہیں، مثلاً: <مَاکِثِینَ فِیہِ اَبَدًا (کہف/۳) اور خَالِدِینَ فِیھَا لَایَبْغُونَ عَنْھَا حِوَلًا (کہف/۱۰۸) یا اس قسم کی تعبیرات کی جو نشاندہی کرتی ہیں کہ حتماً بہشتیوں کے کچھ گروہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نعمت یا عذاب میں رہیں گے۔ بعض افراد سزا کے جاوداں ہونے کے اشکالات کو اپنی نظر میں حل کرنے نہیں کر سکے مجبوراً انھوں نے اس کے لغوی معنی کا سہارا لیا ہے اور انھوں نے اسے مدتِ طولانی کے معنی میں لیا ہے حالانکہ بعض تعبیرات جیسے مندرجہ بالا آیات ہیں ان کی ایسیا تفسیر نہیں کی جا سکتی۔ مزید وضاحت کے لیے ہم آپ کی توجہ ذیل کی اہم بحث کی جانب مبذولا کراتے ہیں۔

ایک اہم سوال اور اس کا جواب

یہاں فوراً ہر سننے والے صفحہٴ ذہن پر ایک بہت اہم سوال ابھرتا ہے اور وہ یہ کہ گناہ اور عذاب میں یہ عدمِ مساوات خدا کی طرف سے کیسے ممکن ہے، کیسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ انسان اپنی ساری عمر جو زیادہ سے زیادہ اسّی یا سو سال ہوتی ہے میں اچھا یا بُرا کام انجام دے لیکن اس کی جزاء یا سزا کروڑوں سالوں پر یا اس سے بھی جتنی بھی طولانی عرصے پر محیط ہو۔ البتہ یہ مسئلہ جزاء کے بارے میں تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ بخشش اور جزاء جتنی بھی زیادہ ہو جزاء دینے والے کے فضل وکرم کی نشانی ہے لہٰذا اس پر اعتراض، یا اشکال نہیں کیا جا سکتا لیکن بُرے کام، گناہ، ظلم اور کفر کے بارے میں یہ سوال ہے کہ ایک محدود گناہ پر دائمی عذاب عدلِ الٰہی کے نظریے کے ساتھ کیونکہ مناسبت رکھتا ہے، جس شخص کی سرکشی اور تجاوز کا دَور ایک سوال سال سے زیادہ نہیں ہمیشہ کے لیے جنہم کی آگ اور عذاب کے شکنجے میں گیوں گرفتار رہے؟ کیا عدالت کا تقاضا نہیں کہ یہاں پر ایک توازن برقرار رکھا جائے اور مثلاً سو سال کے غلط اعمال کی مقدار کے برابر سے عذاب اور سزا ہو؟ مطمئن نہ کرنے والے جوابات: اس اعتراض کے جواب کی پیچیدگی اس بات کا سبب بنی ہے کہ بعض علماء نے آیاتِ خلود کی توجیہ کا راستہ اختیار کیا اور ان کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ ان سے ہمیشہ کی سزا اور عذاب معلوم نہ ہو کیونکہ دائمی عذاب ان کے عقیدے کے مطابق خلافِ عدل ہے،اس سلسلے میں انھوں نے اس طرح کی باتیں کی ہیں: ۱۔ بعض کہتے ہیں کہ ”خلود“ سے مراد اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے، یعنی ایک مدت جو نسبتاً طولانی ہو، جیسا کہ جن افراد کو آخر تک کے لیے سزائے قید سنائی جائے ان کے لیے کہا جاتا ہے کہ انھیں دائمی قید سنائی گئی ہے حالانکہ مسلّم ہے کہ کسی قید خانے میں ابدیت نہیں ہوتی اور قید کی عمر ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ عربی زبان میں بھی ”یخلّد فی السّجن“ جوکہ مادہٴ ”خلود“ سے ہے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔ ۲۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ ایسے باغی اورسرکش افراد کہ جن کے پورے وجود کو گناہ نے گھیر لیا ہو اور ان کا سارا وجود کفر اور گناہ میں ڈھل گیا ہو اگرچہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے لیکن دوزخ ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہے گی، ایک دن ایسا آئے گا کہ اس کی آگ آخرکار دوسری آگ کی طرح بجھ جائے گی اور دوزخیوں کو ایک خاص قسم کا سکون مل جائے گا۔ ۳۔ بعض نے احتمال ذکر کیا ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ اور بہت سی سزا جھیلنے کے بعد آخرکار دوزخی ایک طرح سے اس کے عادی اور خوگر ہو جائیں گے اور وہ اپنے ماحول کے رنگ میں جائیں گے اور ماحول کے ساتھ ایک طرح کی موافقت پیدا ہو جائے گی، اس طرح انھیں کسی قسم کی ناراحتی، تکلیف اور عذاب کا احساس نہیں ہو گا۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ سب توجیہات ”خلود“ اور دائمی عذاب کے مسئلہ کے بارے میں جواب دینے سے عجز وناتوانی کی وجہ سے ہیں یہ بات ناقابل انکار ہے کہ آیاتِ خلود کا ظہور یہ ہے کہ ایک خاص طبقہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں رہے گا۔ حتمی جواب اس مشکل کے حل کے لیے گذشتہ مباحث کی طرف لوٹنا پڑے گا اور اس اشتباہ کی اصلاح کرنا پڑے گی کہ جی میں عذابِ قیامت کا دوسری سزاوں پر قیاس کیا جاتا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوسکے کہ مسئلہ خلود اصلِ عدالتِ الٰہی کے منافی ہے۔ ۱۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے ابدی اور دائمی عذاب اور سزا ایسے لوگوں کے لیے منحصر ہے جنھوں نے اپنے لیے نجات کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور جان بوجھ کر فساد وتباہی اور کفر ونفاق میں غرق ہو گئے ہیں، گناہ کے منحوس سائے نے جن کے تمام قلب وروح کو ڈھانپ دیا ہے اور درحقیقت جو گناہ اور کفر کے رنگ میں گئے ہیں، جیسا کہ سورہٴ بقرہ میں ہے: وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إلاَّ اَیَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ اَاتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللهِ عَھْدًا فَلَنْ یُخْلِفَ اللهُ عَھْدَہُ اَمْ تَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ جی ہاں! جو شخص گناہ کا مرتکب ہوا اور اس کے آثار اس کے تمام وجود کا احاطہ کر لیں ایسے لوگ اہلِ دوزخ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (بقرہ/۸۰) ۲۔ بعض لوگوں کا یہ غلط اشتباہ ہے کہ سزا اور عذاب کی مدت گناہ کی مدت کے برابر ہونا چاہیے کیونکہ گناہ اور سزا کے درمیان ”رابطہٴ کیفی“ ہے یعنی زمانہٴ سزا کا تعلق گناہ کی کیفیت سے ہے نہ کہ اس کے زمانے کی مقدار سے مثلاً ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی نفس کو قتل کرنے کے لیے لحظہ بھر کا تھا جبکہ اس کی سزا ممکن ہے اسّی سال پر محیط ہو، لہٰذا معاملہ کیفیت کا نہ کہ زمانی کمیت کا۔ ۳۔ ہم چاہتے ہیں قیامت کی زیادہ تر سزائیں اور عذاب عمل کے طبیعی وفطری اثر اور خاصیتِ گناہ کے حوالے سے ہیں، زیادہ واضح الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رنج وتکالیف اور پریشانیوں جن کا دوسرے جہان میں گنہگار سامنا کریں گے ان کے اپنے اعمال کا اثر اور نتیجہ ہیں جو انھیں دامنگیر ہو گا، قرآن کہتا ہے: فَالْیَوْمَ لَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَلَاتُجْزَوْنَ إلاَّ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (یٰسین: ۵۴) آج (روزِ قیامت) کسی شخص پر ظلم نہیں ہو گااور تمھارے اعمال کے سوا تمھاری جزا نہیں ہو گی (یٰسین/۵۴) یہ بھی ارشاد الٰہی ہے: وَبَدَا لَھُمْ سَیِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِھِمْ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون اور اُن کے بُرے اعمال اُن کے سامنے آشکار ہو جائیں گے اور جس کا ہمیشہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اور انھیں گھیرلے گا (جاثیہ/۳۳) فَلَایُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إلاَّ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (القصص" ۸۴)۔ جنھوں نے بُرے کام کیے ہیں ان کے اعمال کے علاوہ انھیں کوئی جزاء نہیں دی جائے گی (القصص/۸۴) اب جبکہ یہ تین پہلو ہوواضح ہو چکے ہیں تو مسئلے کا حتمی جواب ہماری دسترس سے زیادہ دُور نہیں رہا اور اس تک پہنچے کے لیے کافی ہے کہ آپ ذیل کے چندسوالات کا جواب دیں: ۱۔ فرض کریں کہ کوئی شخص پے درپے مشروباتِ الکحل کے استعمال کی وجہ سے ہفتہ بھر میں معدے کے شدید زخم میں مبتلا ہو گیا ہے اور بات یہاں تک جاپہنچی ہے کہ اب اسے یہ درد آخر عمر تک برداشت کرنا پڑے گا، تو کیا یہ نتیجہ اس کے بُرے عمل کے برابر ہے اور کیا یہ خلافِ عدالت ہے؟ اب اگر اس شخص کی عمر اسّی سال کی بجائے ایک ہزار سال یا ملین سال ہو تو اسے ایک ہفتے کی ہوس رانی کی خاطر ایک ملین سال دکھ درد جھیلناپڑیں گے تو کیا یہ اصلِ عدالت کے خلاف ہو گاجبکہ شراب خوری کے اس خطرے کے بارے میں پہلے سے بتایا جا چکا ہے اور اس کا انجام بھی اس کے سامنے واضح کیا جا چکا ہے۔ ۲۔ نیز فرض کریں کہ کوئی شخص ڈرائیونگ کے قوانین بھلادے جبکہ یہ بات مسلّم ہے کہ یہ قوانین سودمند ہیں اور حادثات سے رونما ہونے والی پریشانیوں میں کمی کا باعث ہیں، یہ شخص سمجھدار دوستوں کی طرف سے خطرے کی بار بار تنبیہوں پر کان دھرے، اب اگر کوئی حادثہ کسی مختصر لمحے میں اسے آلے (اور حادثات تو لمحوں ہی میں رونما ہوتے ہیں) اس حادثے میں اس کی آنکھیں، ہاتھ یا پاوں ضائع ہو جائیں اور اس کے بعد اسے اندھے پَن میں یا اپاہیج ہو کر زندگی گزارنا پڑے تو کیا یہ نتیجہ پروردگار کی عدالت کے کسی طرح بھی منافی ہے؟ ۳۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس ایک اور مثال بھی ہے اور مثالیں عقایں حقائق کو ذہن کے قریب کرتی ہیں اور اصلی، حتمی اور استدلالی نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ذہن کو یتار کرتی ہیں۔ فرض کریں ہم اپنے راستے میں خار مغیلاں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں، چند ماہ یا چند سالوں بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے راستے میں کانٹو ں کا ایک وسیع صحرا ہے جو ہمیشہ کے لیے ہماری دردسری اور تکلیف کا باعث بن گیا ہے۔ یا یہ کہ ہم پھلوں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں، تھوڑے ہی عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے بہت دلکش اور مہلک دار گلشن کھِل اٹھا ہے جو ہمیشہ ہمارے مشامِ جان کو معطر رکھتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے۔ کیا یہ امور جو سب کے سب اعمال کے آثار ہیں عدالت کے کسی طور بھی منافی ہیں حالانکہ اس عمل اور اس کے نتیجے کی مقدار میں مساوات نہیں ہے۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اس سے مجموعی طور پر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب جزاء اور سزا خود انسان کے عمل کا نتیجہ ہے تو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بسا اوقات ظاہراً ایک چھوٹا سا عمل ہوتا ہے جس کا اثر ایک عمر کی محرومیت، ابتلاء اور ناراحتی کی صورت میں نکلتا ہے اور بعض اوقات ایک اور ظاہراً چھوٹا چھوٹا سا عمل ایک عمر کے لیے سرچشمہٴ خیرات وبرکات بن جاتا ہے (اشتباہ نہ ہو، چھوٹے سے ہماری مراد مقدارِ زمانہ کے لحاظ سے ہے ورنہ وہ کام اور گناہ جو عذاب میں ہمیشگی کا باعث ہیں یقیناً کیفیت اور اہمیت کے لحاظ سے چھوٹے نہیں ہیں) اس بناء پر جب گناہ، کفر، طغیان اور سرکشی پورے انسانی وجود کا احاطہ کر لیں اور اس کی جان کے تمام بال وپر بیدادگری اور نفاق کی آگ میں جلیں تو کونسا مقامِ تعجب ہے کہ وہ دوسرے جہان میں آسمانِ بہشت میں پرواز کی نعمت سے محروم ہو جائے اور ہمیشہ کے لیے عظیم محرومیت کے درد ورنج میں گرفتار رہے، کیا اسے بتایا نہیں گیا اور کیا اسے اس عظیم خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ جی ہاں! ایک طرف سے انبیاء الٰہی نے اور دوسری طرف سے عقل وخرد نے ضروری آگاہی دی تھی، کیا اس نے بے توجہی میں اور بغیر اختیار کے اس کام میں ہاتھ ڈالا تھا اور اب ایسے انجام کوپہنچا ہے؟ نہیں بلکہ اس نے یہ کام علم کے ساتھ، جان بوجھ کر اور اختیار سے انجام دیا ہے۔ کیا یہ انجام خود اس کے اعمال اور سیدھا اس کے اعمال کا نتیجہ نہیں ہے، یقیناً یہ انجام خود اس کے کام کے آثار میں سے ہے۔ اس بناء پر نہ کشایت کی گنجائش ہے نہ کسی پر اشکال کی اور نہ ہی یہ انجام عدالتِ الٰہی کے قانون کے منافی ہے۔ (بحوالہ: معاد وجہان پس از مرگ“ ص۳۸۵تا۳۹۳)

۴۔ زیر بحث آیت میں خلود کا معنی

کیا ”خلود“ زیرِ بحث آیات میں ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں آیا ہے یا یہاں اس کا مفہوم ”طولانی مدت“ والا ہے جو اس کے لغوی مفہوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس بنیاد کہ یہاں ”خلود“ کے ساتھ یہ شرط ہے کہ: ”مادامت السموٰات“(یعنی، جب تک آسمان وزمین باقی ہیں) بعض مفسّرین نے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ اس موقع پر خلود ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ آسمان وزمین ابدیت اور ہمیشگی نہیں رکھتے اور قرآن کی صریح آیات کے مطابق ایک زمانہ آئے گاکہ آسمان درہم وبرہم ہو جائیں گے اور زمین تباہ ہو کر ایک اور زمین میں بدل جائیں گی۔ (بحوالہ سورہٴ ابراہیم، آیت۴۸، اور سورہٴ انبیاء، آیت۱۰۴) لیکن توجہ رہے ک عربی ادبیات میں ایسی تعبیریں عموماً ابدیت کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، لہٰذا محلِ آیات میں بھی خلود ہمیشگی کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً عرب کہتے ہیں: یہ کیفیت برقرار رہے گی ”مالاح کوکب“ (جب تک چمکتا ہے) یا ”ما لاح الجدیدان“ (جب تک دن رات موجود ہیں) یا ”ما اضاء فجر“ (جب تک روشن ہوتی رہے) یا ”ما اختلف اللیل والنھار“ (جبل تک رات دن ایک دوسرے کے بعد آتے رہیں)۔ ایسی ہی بہت سی مثالیں ہیں جو سب کی سب ہمیشگی اور ابدیت کے لیے کنایہ ہیں۔ امام امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام نہج البلاغہ میں ہے کہ جب جاہل مفسرین نے امام پر اعتراض کیا کہ آپ بیت المال کی تقسیم میں مساوات کیوں برتتے ہیں اور اپنی حکومت مستحکم کرنے کے لیے بعض لوگوں کو دوسروں پر ترجیح کیوں نہیں دیتے تو امام یہ بات سُن کر رنج ہوا اور آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”اتاٴمرونی ان اطلب النصر بالجور فیمن ولیت علیہ واللّٰہ لا اطور بہ ما سمر سمیر وما ام نجم فی السّماء نجماً“ کیا مجھ سے کہتے ہو کہ مَیں کامیابی کے لیے اپنی حکومت میں رہنے والوں کی طرف دستِ ظلم دراز کروں، خدا قسم! مَیں اس کام کے نزدیک بھی نہیں جاوں گا جب تک رات کو بیٹھ کر لوگ قصّہ گوئی کریں گے اور جب تک آسمان کے ستارے ایک دوسرے کے بعد طلوع وغروب کرتے رہیں گے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ۱۲۶.) دعبل خزاعی کے اشعار میں سے ایک ان کا مشہور قصیدہ ہے جو انھوں نے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہماالسلام کے حضور میں پڑھا، اُس کا ایک شعر یوں ہے: ساٴبیکھم ماذر فی الاٴفق شارق ونادیٰ منادی الخیر فی الصلوات میں خاندان نبوت کے شہیدوں پر گریہ وزاری کرتا رہوں گا، اس وقت تک سورج افق مشرق پر روشنی چھڑکتا رہے گا اور جب تک اذان کی صدا دعوتِ نماز کے لیے میناروں سے گونجتی رہے گی۔ (بحوالہ نور الابصار، ص۱۴۰، الغدیر اور دیگر کتب.) البتہ یہ چیز عربی ادبیات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسری زبانوں میں بھی کم وبیش موجود ہے بہرحال ابدیت اور ہمیشگی پر آیت کی دلات بحث وتمحیص سے ماوراء ہے اور اسی طرح یہاں ان لوگوں کی گفتگو کی بھی ضرورت نہیں جو کہتے ہیں کہ یہاں آسمان وزمین سے مراد قیامت کے زمین وآسمان ہیں جو جاودانی ہیں۔

۵۔ آیت میں استثناء کا مفہوم

مندرجہ بالا آیات میں اہلِ بہشت اور اہلِ جہنم دونوں کے بارے میں جملہٴ ”استثنائیہ“ الّا ماشاء ربّک (مگر وہ تیرا پروردگار چاہے) آیا ہے، اس مفسرّین کے لیے ایک وسیع بحث کا دروازہ کھل گیا ہے۔ عظیم مفسر طبرسیؒ نے اپنی تفسیر میں مفسّرین سے اس استثناء کی دس وجوہات نقل کی ہیں، ہماری نظر میں ان میں سے زیادہ تر کمزور ہیں اور قبل وبعد کی آیات سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتیں لہٰذا ہم ان کا ذکر نہیں کرتے اور ان میں سے جو دو ہمیں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں وہ پیش کرتے ہیں: ۱۔ اس استثناء کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تصور نہ ہو کہ بے ایمان افراد کی دائمی اور سچّے مومنین کی جزا اور ثواب خدا کی مشیّت اور مرضی کے بغیر ہیں اور ان سے اس کی قدرت وتوانائی اور ارادہ محدود ہوجاتا ہے اور یہ سزا وجزا جبر اور لزوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں بلکہ ان دونوں کے جاودانی اور دائمی ہونے کے باوجود اس کی قدرت اور ارادہ ہرچیز پر حاکم ہے۔ اس بات کا شاید یہ ہے کہ دوسرے جملے میں سعادت مندوں کے بارے میں استثناء کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: ”عطاء غیر مجذوذ؛ یہ ایسی عطا اور جزاء ہے کہ جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہو گی۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جملہ استثنائیہ صرف بیانِ قدرت کے لیے ہے۔ ۲۔ یہ آیت چونکہ شقی اور سعید دو گروہوں کے بارے میں ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام شقاوت مند بے ایمان افراد ہوں جو خلود کے مستحق ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان خطا کار مومنین بھی ہوں لہٰذا استثناء کا تعلق اس گروہ سے ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے پھر دوسرے جملے میں استثناء کا کیا مفہوم ہو گاجو سعادت مندوں کے بارے میں ہے، اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی خطاکار مومنین کے بارے میں ہے کہ جنھیں ابتداء میں ایک مدت تک دوزخ میں جاکر پاک ہونا ہو گااس کے بعد وہ اہلِ بہشت کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ درحقیقت پہلے جملے میں استثناء انجام اور آخرکار کے متعلق ہے جبکہ دوسرے جملے میں آغاز اور ابتداء کے بارے میں پہلے جملے ہے (غور کیجئے گا)۔ رہا یہ احتمال جو بعض نے ذکر کیا ہے کہ یہ جزاء اروسزا کی جنت اور دوزخ سے مربوط ہے جس کی مدت لامحدود ہے اور ختم ہو جائے گی، بہت بعید ہے کہ کیونکہ قبل کی آیات صراحت کے ساتھ قیامت کے بارے میں ہیں اور ان آیات کا تعلق اُن سے ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اسی طرح یہ احتمال بھی درست ہے کہ ان آیات میں ”خلود“ قرآن کی دیگر آیات کی طرح مدتِ طولانی کے معنی میں ہے نہ کہ ابدیت کے معنی میں، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جملہ ”عطاء غیر مجذوذ“ اور خود استثناء کہ جو اس سے قبل کے جملوں کے ابدیت کی دلیل ہے سے یہ احتمال مطابقت نہیں رکھتا۔

۶۔ "زفیر" اور "شہیق" کا مفہوم

مندرجہ بالا آیات میں دوزخیوں کے بارے میں ہے کہ وہ وہاں ”زفیر“ اور ”شھیق“ کے حامل ہوں گے۔ ان دو الفاظ کے معانی کے بارے میں اربابِ لغت اور مفسّرین نے متعدد احتمالات ذکر کیے ہیں: بعض نے کہا ہے کہ ”زفیر“ داد وفریاد اور چیخ وپکار کرنے کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ باہر کی طرف سانس لیا جائے اور ”شھیق“ اس نالہ وفریاد کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اندر کی طرف سانس کھینچا جائے۔ بعض نے "زفیر " گدھے کی ابتدائی آواز کو اور ”شھیق“ اس کی اختتامی آواز کوقرار دیا ہے، شاید یہ معنی پہلے معنی سےزیادہ مختلف نہیں ہے۔ بہرحال یہ دونوں الفاظ ایسے اشخاص کے نالہ وفریاد کا مفہوم دیتے ہیں کہ غم واندوہ کے مارے جن کا پورا وجود واویلا کررہا ہو اور ایسی داد وفریاد جو انتہائی ریشانی، نارحتی اور شدّتِ کرب وتکلیف کی نشانی ہو۔ توجہ رہے کہ ”زفیر“ اور ”شھیق“ دونوں مصدر ہیں اور ”زفیر“در اصل کندھے پر بھاری بوجھ اٹھانے کے معنی میں ہے اور چونکہ یہ کام آہ ونالہ کا سبب بنتا ہے اس لیے آہ ونالہ کو ”زفیر“کہتے ہیں اور ”شھیق“ اصل میں طولانی ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ بلند پہاڑ کو ”جبل شاھق“ کہتے ہیں بعد ازاں یہ لفظ طولانی نالہ وفریاد کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

سعادت وشقاوت کے اسباب

سعا دت جو تمام انسانوں کی گمشدہ چیز ہے اور اسے ہر کوئی ہر کسی چیز میں اور ہر جگہ تلاش کرتا پھرتا ہے یہ ایک فریاد یا معاشرے کے تکامل وارتقاء کے اسباب فراہم کرنے کا نام ہے۔ اس کے مقابل شقاوت وبدبختی ہے جس سے سب نفرت کرتے ہیں اور وہ کامیابی، تکامل اور ارتقاء کے لیے درکار اسباب، حالات اور شرائط کے نامساعد ہونے کو کہتے ہیں۔ اس بناء پر جس شخص کو رواحانی، جسمانی خاندانی، معاشرتی اور تمدنی لحاظ سے بلندتر اہداف تک پہنچنے کے لیے زیادہ اسباب حاصل ہوں وہ سعادت کے زیادہ نزدیک ہے یا دوسرے لفظوں میں زیادہ سعادتمند ہے، دوسری طرف جو شخص ان پہلووں کی کمی اور نارسائی میں گرفتار ہو وہ شقاوت مند اور بدبخت ہے اور سعادت سے بے بہرہ ہے۔ لیکن توجہ رہے کہ سعادت وشقاوت کی حقیقی بنیاد انسان کا اپنا ارادہ اور خواہش ہے، انسانی ارادہ ہی اپنی اصلاح بلکہ معاشرے کی اصلاح ودرستی کے لیے ضروری وسائل فراہم کر سکتا ہے اور یہ انسان خود ہے جو بدبختی اور شقاوت کے عوامل کے خلاف جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو یا اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ انبیاء کی منطق میں سعادت وشقاوت کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان کے لیے ذاتی ہو، یہاں تک کہ ماحول، خاندان اور وراثت بھی خود انسانی ارادے کے سامنے قابلِ تغیّر ہیں مگر یہ کہ ہم خود انسانی ارادے اور آزادی کا انکار کر دیں، اسے جبری شرائط وحالات کا محکوم قرار دے دیں اور اس کی سعادت یا شقاوت کو ذاتی یا ماحول وغیرہ کی جبری پیداوار سمجھیں حالانکہ یہ قطعی طور پر مکتبِ انبیاء اور اسی طرح مکتبِ عقل کے نزدیک محکوم ومذموم ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہے کہ روایات میں مختلف امور کی اسبابِ سعادت یا اسبابِ شقاوت کے طور پر نشاندہی کروائی گئی ہے کہ جن کا مطالعہ انسان کو اس اہم مسئلے کے بارے میں اسلامی طرزِ فکر سے آشنا کرتا ہے اور انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سعادت تک پہنچنے اور شقوات سے بچنے کے لیے بیہودہ وخرافاتی مسائل اور غلط قسم کے خیالات اور طور وطریقے کہ جو بہت سے معاشروں میں موجود ہوتے ہیں کا سہارا لینے کے بجائے اور بے بنیاد امور کو سعادت وشقاوت کے اسباب خیال کرنے کے بجائے حقائقِ غیبی اور سعادت کے اسباب حقیقی کی جستجو کرے۔ نمونے کے طور پر ذیل کی چند پُر معانی احادیث کی طرف توجہ فرمائیے: ۱۔امام صادق علیہ السلام اپنے جدّ بزرگوار امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: حقیقة السعادة ان یختم للرجل عملہ بالسعادة وحقیقة الشقاوة ان یختم للمرء عملہ بالشقاوة. حقیقتِ سعدت یہ ہے کہ انسان کی زنمدگی کا آخری مرحلہ سعادت مندانہ عمل کے ساتھ ختم ہو اور حقیقتِ شقاوت یہ ہے کہ اس کی زندگی کا آخری مرحلہ شقاوت مندانہ عمل پر اختتام پذیر ہو۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸) یہ روایت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ انسان کی زندگی کا آخری مرحلہ اور اس مرحلے میں اس کے اعمال اس کی سعادت یا شقاوت کا مظہر ہیں، گویا اس طرح آپ(علیه السلام) ذاتی سعادت وشقاوت کی مکمل نفی کررہے ہیں اور انسان کو اس کے اعمال کا گروی قرار دے ہیں اور اس کی عمر کے آخری مرحلے تک اس کے لیے لوٹ آنے کا راستہ کھُلا قرار دے رہے ہیں۔ ۲۔ ایک اور حدیث میں حضرت علی السلام فرماتے ہیں: السعید من وعظ بغیرہ والشقی من انخدع لھواہ وغرورہ. سعادتمند وہ شخص ہے جو دوسروں کی زندگی سے نصیحت حاصل کرے اور شقاوتمند وہ شخص ہے جو ہَوائے نفس سے دھوکاکھاجائے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ: صبحی صالحی، خطبہ۸۶) حضرت علی علیہ السلام کی یہ گفتگو بھی سعادت وشقاوت کے اختیاری ہونے کی تاکید مزید ہے اور اس میں آپ(علیه السلام) ان دونوں کے بعض اسباب کو بیان فرمارہے ہیں۔ ۳۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: اربع من اسباب السعادة واربع من الشقاوة: فلاٴربع الّتی من السّعادة: المرئة الصالحة والمسکن والواسع، والجار الصالح، والمرکب البھیء. والاٴربع الّتی من الشقاوة: الجار السوء، والمرئة السوء، والمسکن الضیق والمرکب السوء. چار چیزیں اسبابِ سعادت ہیں اور چار چیزیں اسبابِ شقاوت ہیں:بحوالہ مکارم الاخلاق: ص۶۵- وہ چار جو اسبابِ سعادت ہیں یہ ہیں: نیک بیوی، وسیع گھر، نیک ہمسایہ اور اچھی سواری، اور وہ چار جو اسبابِ شقاوت ہیں یہ ہیں: بُرا ہمسایہ، بُری بیوی، تنگ مکان اور بُری سواری۔ اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ یہ چار امور ہر شخص کی مادی اور روحانی زندگی میں موٴثر کردار ادا کرتے ہیں اور کامیابی یا شکست کے عوامل بن سکتے ہیں، اس سے اسلامی منطق میں سعادت وبدبختی کے مفہوم کی وسعت واضح ہو جاتی ہے۔ ایک اچھی بیوی انسان کو طرح طرح کی نیکیوں کا شوق دلاتی ہے، ایک وسیع گھر انسان کی روح وفکر کو سکون بخشتا ہے اور زیادہ فعّالیت کےلیے آمادہ کرتا ہے۔بُرا ہمسایہ قابلِ تعریف نہیں ہے اور اچھا ہمسایہ آسائش وآرام میں موٴثر مددگار ہوتا ہے بلکہ انسان کی پیشرفت میں معاون ہوتا ہے، ایک اچھی سواری اپنے کام انجام دینے اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے بہت کارمند ہے جبکہ خراب اور بے کار سواری پیچھے رہ جانے کا باعث ہے کیونکہ وہ اپنے مالک کو اس کے مقصد تک کم ہی پہنچاتی ہے۔ ۴۔پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک اور حدیث بھی نقل ہوئی ہے، فرمایا: من علامات الشقاء جمود العینین، وقسوة القلب، وشدة الحرص فی طلب الرزق، والامر علی الذنب. یہ چیزیں شقاوت کی علامتوں میں سے ہیں: آنکھوں کی قطرہٴ اشک سے محرومی، سنگدلی، حصولِ رزق میں شدید حرص اورگناہ پراصرار۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸.) یہ چارامور جو مندرجہ بالا حدیث میں آئے ہیں سب اختیاری ہیں، ان کا سرچشمہ انسان کے خود کردہ اعمال واخلاق ہیں، اسی طرح ان اسبابِ شقاوت سے بچنا بھی خود انسان کے اختیار میں ہے۔ سعادت وشقاوت کے وہ اسباب جو مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہوئے ہیں اگر ان سب کی حقیقت اور انسانی زندگی میں ان کے نقشِ موٴثر کا موازنہ ان بیہودہ اور خرافاتی اسباب سے کریں کہ جن کے ہمارے ایٹمی اور خلائی دَور کے بہت سے گروہ پابند ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ تعلیماتِ اسلام کس قدر منطقی اور حساب شدہ ہیں۔ ابھی بہت سے افراد ہیں جو گھوڑے کی نعل کو خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں، تیرھویں کے دن کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں، سال کی بعض راتوں میں آگ کے اوپر سے پرندہ اُڑنے کو خوش بختی کی دلیل قرار دیتے ہیں، بعض راتوں میں پرندے کی آواز کوبدبختی مانتے ہیں، مسافر کی پشت کے پیچھے پانی چھڑکنے کو خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں، پرنالے کے نیچے سے گزرنے کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے ساتھ یا اپنے کسی ذریعہٴ آمد ورفت کے ساتھ گھونگا آویزاں کرنے کو بھی خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں، چھینک آجائے تو اسے پیشِ نظر کام انجام دینے میں بدبختی کی علامت سمجھتے ہیں، اسی طرح بہت سی خرافات ہیں جو مشرق ومغرب کی اقوام میں رائج ہیں۔ ایسے کتنے زیادہ انسان ہیں جو ان خرافات میں گرفتار ہونے کی وجہ سے زندگی میں فعالیت اور کارکردگی سے رہ گئے ہیں اور بےشمار مصیبتوں میں گرفتار ہیں۔ اسلام نے ان تمام بیہودہ خیالات پر سُرخ لکیر کھینچ دی ہے اور انسان کی سعادت وشقاوت کی بنیاد اس کے مثبت ومنفی کام قوت وکمزوری، طرزِ عمل اور عقیدے کو قرار دیا کہ جس کے نمونے مندرجہ احادیث میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔

109
11:109
فَلَا تَكُ فِي مِرۡيَةٖ مِّمَّا يَعۡبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِۚ مَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبۡلُۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمۡ نَصِيبَهُمۡ غَيۡرَ مَنقُوصٖ
جن معبودوں کی وہ پرستش کرتے ہیں، تم ان کے بارے میں شک میں نہ پڑنا۔ یہ ان معبودوں کی ایسے ہی پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے آباء اجداد کرتے تھے اور ہم انہیں (عذاب میں سے) ان کا حصہ بے کم و کاست دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
11:110
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ
ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب دی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور اگر پہلے سے (ان کی آزمائش اور اتمام حجت کے بارے میں ) اللہ کا فرمان نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہو جاتا۔ اور یہ لوگ (مشرکین مکہ) اس (قرآن) کے بارے میں شک و شبہ میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
11:111
وَإِنَّ كُلّٗا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ أَعۡمَٰلَهُمۡۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
اور تیرا پروردگار ہر شخص کے عمل کا بدلہ بے کم و کاست اسے دے گا، وہ ان کی کارگزاری سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
11:112
فَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡاْۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
لہٰذا تمہیں جس طرح حکم ہوا ہے، استقامت اختیار کرو اور اسی طرح وہ لوگ بھی تیرے ساتھ خدا کی جانب آئے ہیں اور سرکشی نہ کرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

استقامت کا دامن تھامے رکھو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات درحقیقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی دلجوئی اور تسلّی کی خاطر اور ان کی مسئولیت وذمہ داری بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ دراصل گذشتہ قوموں کے حالات سے جو اہم نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اور ان کے بعد سچّے مومنین دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہوں اور جس بت پرست اور ظالم قوم کا انھیں سامنا ہے اس کی شکست کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑ یں اور خدائی امداد پر مطمئن رہیں۔ اسی لیے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس چیز کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑو کہ جس کی یہ پرستش کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں جس پر گذشتہ لوگوں کا ایک گروہ گیا ہے اور یہ بھی اسی طرح پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے بڑے کیا کرتے تھے لہٰذا ان کا انجام ان سے بہتر نہیں ہو گا(فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِمَّا یَعْبُدُ ھٰؤُلَاءِ مَا یَعْبُدُونَ إلاَّ کَمَا یَعْبُدُ آبَاؤُھُمْ مِنْ قَبْلُ)۔ (تشریحی نوٹ: ”مِریَة“ (بروزن ”جزیہ“ اور بروزن ”قریَة“بھی آیا ہے) عزم وارادے میں تردّد وشک کے معنی میں ہے، بعض نے اسے ایسے شک کے معنی میں لیا ہے جس میں قرائنِ تہمت موجود ہوں، بنیادی طور پر اس کا معنی اوٹنی کے پستان سے دودھ دوھ لینے کے بعد اسے اس امید پر نچوڑنا کہ اگر کچھ دودھ پستان میں باقی ہے تو وہ نکل آئے، یہ کام چونکہ تردّد وشک کے عالم میں انجام پاتا ہے لہٰذا اس لفظ کا اطلاق ہر قسم تردّد وشک پر ہونے لگا۔) لہٰذا بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: ”ہم یقیناً سزا اور عذاب میں سے ان کا حصّہ انھیں بے کم وکاست دیں گے“ اور اگر وہ راہِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ہماری جزا میں ان کا حصّہ محفوظ ہے (وَإنَّا لَمُوَفُّوھُمْ نَصِیبَھُمْ غَیْرَ مَنقُوصٍ) باوجودیکہ لفظ ”موفّوھم“ خود حق کی مکمل ادائیگی کے معنی میں ہے لفظ ”غَیْرَ مَنقُوص“(بے کم وکاست) بھی اس مسئلے پر تاکید کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔ دراصل یہ آیت اس حقیقت کو مجسّم کرتی ہے کہ گذشتہ سرگزشت ہم نے پڑھی ہے وہ ناول یا افسانہ نہیں تھا نیز وہ انجام گذشتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ یہ ایک ابدی اور جاودانی سنت ہے اور تمام انسانوں کے بارے میں ہے، کل آج اور آئندہ کل کے لیے البتہ یہ عذاب اور سزائیں بہت سی گذشتہ قوموں میں ہولناک اور عظیم بلاوں کی صورت میں عمل پذیر ہوئیں لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے لیے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئیں۔ وہ صورت یہ تھی کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو اس قدر قدرت اور طاقت دی کہ آپ(علیه السلام) ہٹ دھرم اور بے رحم دشمنوں کو کہ جو کسی طور پر بھی راہِ مستقیم پر آنے کے لیے تیار نہ تھے گروہِ مومنین کے ذریعے درہم وبرہم کرسکیں۔ دوبارہ پیغمبر اکرمؐ کی تسلّی کے لیے فرمایا گیا ہے: اگر تیری قوم تیری آسمانی کتاب کے بارے میں یعنی قرآن کے متعلق بہانہ جوئی کرتی ہے توپریشان نہ ہو کیونکہ ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب (تورات) دی تھی، ان کی قوم نے اس میں اختلاف کیا بعض نے قبول کر لیا اوربعض نے انکار کر دیا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیہِ)۔ اگر تم دیکھتے ہو کہ تمھارے دشمنوں کو سزا دینے کے بارے میں ہم جلدی نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کی تعلیم وتربیت اور ہدایت کے حوالے سے جو مصلحتیں ہیں وہ ایسا تقاضا نہیں کرتیں اور اگر یہ مصلحت نہ ہوتی اور وہ پروگرام جو تیرے پروردگار نے اس سلسلے میں پہلے سے شروع کررکھا ہے تاخیر کا تقاضا نہ کرتا تو لازماً ان کے درمیان فیصلہ ہو جاتا اور سزا انھیں دامنگیر ہو جاتی (وَلَوْلَاکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُم)۔ اگرچہ انھیں اس حقیقت کا ابھی تک یقین نہیں آیا اور اس کے بارے میں اسی طرح شک وشبہ میں ہیں ایسا شک وشبہ جس میں سوءِ ظن اور بدبینی کی آمیزش ہے (وَإنَّھُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں اس آیت میں ”ھم“ کی ضمیرز اور اسی طرح ”منہ“ کی ضمیر کس طرف لوٹتی ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے،بعض کا نظریہ ہے کہ ”ھم“کی ضمی قومِ موسیٰ کی طرف اور ”منہ“کی ضمیر کتاب موسیٰ کی طرف لوٹتی ہے اور آیت کا معنی یوں ہے) ”مُرِیب“ مادہٴ ”ریب“ سے ایسے شک وشبہ کے معنی میں ہے جو بد بینی، سوء ظن اور مخالف قرائن کی آمیزش رکھتا ہو، اس بناء پر اس لفظ کا مفہوم یہ ہو گاکہ بُت پرست نہ صرف حقانیتِ قرآن کے بارے میں اور تباہ کاروں پر نزولِ عذاب کے معاملے میں شک کرتے ہیں بلکہ مدّعی ہیں کہ اس کے خلاف قرائن بھی ہمارے پاس ہیں۔ ”اس قوم کے لوگ ابھی تک کتاب موسیٰ کے بارے میں تردّد وشک میں ہیں“۔ لیکن بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پہلی ضمیر مشرکینِ مکّہ اور دوسری قرآن (یا ان کی سزا اور عذاب) کی طرف لوٹتی ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے قبل اور بعد کی آیات پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور تسلّی کے لیے ہیں، دوسری تفسیر زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے اور ہم نے بھی متن میں اسی ہی منتخب کیا ہے۔ ”راغب“ نے مفردات میں ”ریب“ کا معنی شک کیا ہے کہ جس سے چہرے سے بعد میں پردہ اٹھ جائے اور وہ یقین میں بدل جائے، اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہو گاکہ عنقریب تیری دعوت کی حقانیت سے اور اسی طرح تباہ کاروں کی سزا اور عذاب سے پردہ اٹھ جائے گا اور حقیقتِ امر ظاہر ہو گی۔ مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا گیا ہے: تیرا پروردگار ان دو گروہوں (مومنین اور کافرین) میں سے ہر ایک کو ان کے اعمال کو پوری جزا دے گا اور ان کے اعمال بے کم وکاست خود انہی کی تحویل میں دے دے گا (وَإنَّ کُلًّا لَمَّا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ)۔ خدا کے یہ کام مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور جو کچھ بھی انجام دیتے ہیں اس سے باخبر ہے (إنَّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ خَبِیرٌ)۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ ہم انھیں ان کے اعمال دے دیں گے اور یہ مسئلہ تجسیمِ اعمال کی طرف ایک اور اشارہ ہے اور اس بات کی طرف نشاندہی ہے کہ جزا اور سزا دراصل انسان کے اعمال ہی کی مختلف شکل ہے جو اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ گذشتہ انبیاء اور قوموں کی سرگزشت اور ان کی کامیابی کی رمزِ بیان کرنے کے بعد اور اسی طرح پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور ان کے ارادے کی تقویت کے بعد اگلی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو اہم ترین حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: استقامت وپامردی اختیار کرو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے (فَاسْتَقِمْ)۔ تبلیغ وارشاد کی راہ میں استقامت اختیار کرو، جہاد وپیکار کے راستے میں استقامت اختیار کرو، خدائی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور تعلیماتِ قرآن کو عملی کل دینے میں استقامت اختیار کرو۔ لیکن یہ استقامت اِسے اور اُسے خوش کرنے کے لیے نہ ہو، نہ ظاہرداری اور ریاکاری کے لیے ہو، نہ غلبے اور تسلط کے لیے، نہ مقام ومنصب اور ثروت ودولت کے لیے ہو اور نہ طاقت واقتدار کے لیے ہو، بلکہ صرف فرمانِ خدا کی خاطر ہو اور جس طرح تجھے حکم دیا گیا اسی طرح ہونا چاہیے (کَمَا اُمِرْتَ)۔ لیکن یہ حکم صرف تجھ سے مربوط نہیں تمھیں بھی استقامت کرنا چاہیے ”اور وہ تمام لوگ بھی جو شرک سے ایمان کی طرف لوٹے ہیں اور انھوں نے الله کی دعوت کو قبول کیا ہے“ (وَمَنْ تَابَ مَعَکَ)۔ ایسی استقامت جو افراط وتفریط سے پاک ہو، جو کمی بیشی سے خالی اور جس میں سرکشی نہ ہو (وَلَاتَطْغَوْا) کیونکہ خدا تمھارے اعمال سے آگاہ اور باخبر ہے اور حرکت وسکون، گفتگو اورپروگران اس سے مخفی نہیں ہے (إنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ)۔

پُر معنی اور روح فرسا آیت

ابن عباس سے مروی ایک مشہور حدیث میں ہے: ما نزل علیٰ رسول الله (ص) آیة کانت اٴشد علیہ ولا اٴشق من ہٰذہ الآیة،ولذلک قال لاٴصحابہ حین قالوا اٴسرع الیک الشبیب یا رسول الله! شیبتی ھود والواقعة. پیغمبرِؐ خدا پر اس آیت سے زیادہ شدید اور گراں آیت نازل ہوئی، اسی لیے جب اصحاب نے آنحصرت سے پوچھا کہ یا رسول الله! آپ کے بال اتنی جلدی کیوں سفید ہو گئے اور پیری کے آثار اتنی جلدی کیوں نازل ہو گئے تو آپ نے فرمایا: مجھے سورہٴ واقعہ نے بوڑھا کر دیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر مجمع البیان: ج۵، ص۱۹۹) ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: شمروا، شمروا، فما رئی ضاحکاً. دامن سمیٹ لو، دامن سمیٹ لو (کہ کام اور کوشش کا وقت ہے) اور اس کے بعد آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ (بحوالہ درّا لمنثور: مذکورہ آیت کے ذیل میں) اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ اس آیت میں چار اہم احکام موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے کندھے پر بارِگراں کی مانند ہے۔ ان میں سے سب سے اہم حکم استقامت ہے ”استقامة“ جو ”قیام“ کے مادہ سے لی گئی ہے، اس لحاظ سے کہ انسان حالتِ قیام میں اپنے کام کاج پر زیادہ مسلط ہوتا ہے۔ استقامت جو طلبِ قیام کے معنی میں ہے یعنی اپنے آپ میں ایسی حالت پیدا کر کہ تجھ میں سُستی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ کیسا سخت اور سنگین حکم ہے۔ ہمیشہ کامیابیاں حاصل کرنا نسبتاً آسان کام ہے لیکن ان کی نگہداشت کرنا اور انھیں محفوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے وہ بھی ایسے معاشرے میں جو پسماندہ اور عقل ودانش سے دُور ہو، ایسے لوگوں کے مقابلے میں جو ہٹ دھرم اور سخت مزاج ہوں(کثیراور مصمم ارادے والے دشمنوں کی درمیان) صحیح، سالم، سربلند، باایمان اور آگے بڑھنے والے معاشرے کی تعمیر کے راستے میں استقامت کوئی آسان کام نہیں تھا۔ دوسرا حکم یہ کہ یہ استقامت ایسی ہو کہ اس کا ہدف صرف خدائی ہو اور اس کا سبب حکمِ خدا ہو اور یہ ہر قسم کے شیطانی وسوسے سے دور رہے یعنی بہت بڑی سیاسی اور اجتماعی طاقت ہاتھ میں لینے کے لیے ہو اور وہ بھی صرف خدا کی خاطر۔ تیسرا مسئلہ ان لوگوں کی رہبری کا ہے کہ جو راہ حق کی لوٹے ہیں اور انھیں استقامت پر ابھارنا اور آمادہ کرنا ہے، اور چوتھا حق وعدالت کے راستے میں جہاد کی رہبری کرنا اور ہر قسم کے تجاوز اور سرکشی کو روکنا ہے کیونکہ اکثر ایساہوتا ہے کہ بہت سے افرا مقصد تک پہنچنے کے لیے انتہائی استقامت وپامردی دکھاتے ہیں لیکن عدالت کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ اکثر اوقات طغیان وسرکشی اور حد سے تجاوز کرنے لگتے ہیں۔ جی ہاں! یہ تمام احکام جمع ہو گئے اور پیغمبر اکرم ؐپر ذمہ داریوں کا ایسا بوجھ لاد دیا کہ آپ نے مسکرانا چھوڑدیا اور آپ کو بوڑھا کر دیا۔ بہرحال یہ حکم صرف کل کے لیے نہیں تھا بلکہ آج کے لیے اور آئندہ کل اور اس کے بعد کے لیے بھی ہے۔ آج بھی ہم مسلمانوں کی ذمہ داری، خصوصاً رہبرانِ اسلام کی ذمہ داری کا خلاصہ یہی چار جملے ہیں: استقامت، خلوص، مومنین کی رہبری اور سرکشی وتجاوز سے اجتناب، اور ان اصولوں کو پلّے باندھے بغیر ان دشمنوں پر کامیابی ممکن نہیں جنھوں نے داخلی اور خارجی طور پر ہمار احاطہ کررکھا ہ اور جو تمام ثقافتی، فرہنگی، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی اور فوجی وسائل ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

113
11:113
وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
ظالموں پر بھروسہ نہ کرو جو اس بات کا باعث ہو گا کہ آگ تمہیں چھو لے۔ تو اس حالت میں اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی و سرپرست نہیں ہو گا، نہ ہی تمہاری مدد کی جائے گی۔

ظالموں پر بھروسہ نہ کرو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیت ایک نہایت بنیادی، اجتماعی، سیاسی، فوجی اور نظریاتی لائحہ عمل بیان کر رہی ہے، تمام مسلمانوں کو مخاطب کرکے ان کی ایک قطعی اور حتمی ذمہ داری کے طور پر ان سے کہا گیا ہے: ان لوگوں پر بھروسہ نہ کرو کہ جنھوں نے ظلم وستم کیا ہے، نہ اُن پر اعتماد کرو، نہ ان کا سہارا لو اور نہ پر تمھارا تکیہ ہو (وَلَاتَرْکَنُوا إلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا)۔ کیونکہ اس کام کے سبب آتشِ جہنم کا عذاب تمھیں دامنگیر ہو جائے (فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ)۔ اور خدا کے علاوہ تمھارا کوئی ولی، سرپرست اور یاور نہ ہو گا(وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اَوْلِیَاءَ)۔ اور واضح رہے کہ اس حالت میں کوئی تمھاری مدد نہیں کرے گا (ثُمَّ لَاتُنصَرُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ ”رکون“ کا مفہوم: ”رکون“ مادہٴ ”رُکن“ سے ستون اور ان دیواروں کے معنی میں ہے جو کسی عمارت یا دوسری چیزوں کو کھڑا کیے رکھتی ہیں، بعد ازاں یہ لفظ کسی پر اعتماد اور تکیہ کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں اس لفظ کے لیے بہت سے معانی ذکر کیے ہیں لیکن وہ سب یا ان میں سے زیادہ تر ایک جامع اور کلی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں مثلاً بعض نے اس کا معنی ”تمایل“ کیا ہے، بعض نے ہمکاری“، بعض نے ”اظہارِ رضایت“ یا ”دوستی“، بعض نے ’خیرخواہی“ اور بعض نے اس کا معنی ”اطاعت“کیا ہے کہ جو سب کے سب تکیہ، اعتماد اور وابستگی کے جامع مفہوم میں جمع ہیں۔ ۲۔ کِن امور میں ظالموں سے وابستگی نہیں کرنی چاہیے: واضح رہے کہ سب سے پہلے تو ان ظلم وستم میں شرکت نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایسے کام میں ان سے مدد لینا چاہیے۔ اس کے بعد ان چیزوں میں ان سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے جو اسلامی معاشرے کے ضعف وتوانائی کا باعث ہو، استقلال اور خود کفالت کھودینے کا سبب ہو اور ایک عضوِ ناتواں اور وابستہ میں تبدیل کر دینے کا ذریعہ ہو۔ ایسے امور میں ان پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے سہاروں کا نتیجہ اسلامی معاشروں کے لیے شکست، ناکامی اور کمزوری کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ باقی رہا مثال کے طور پر مسلمانوں کا غیر مسلمان معاشروں سے تجارتی یا علمی روابط ایس بنیاد پر رکھنا کہ اسلامی معاشروں کے مفادات، استقلال اور ثبات محفوظ رہیں تو ایسے روابط ظالمین سے ”رکون“ اور وابستگی کے مفہوم میں داخل نہیں اور نہ ہی اسلام کی نظر میں ایسی کوئی چیز ممنوع ہے، خود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں ہمیشہ ایسے روابط موجود رہے ہیں۔ ۳۔ ظالموں سے وابستگی کی حرمت کا فلسفہ: ظالموں پر تکیہ کرنا ان کی تقویت کا باعث ہے اور ان کے تقویت معاشروں میں ظلم، فساد اور تباہی پھیلانے کا باعث ہے۔ احکامِ اسلامی میں ہے کہ جب تک انسان مجبور نہ ہو (بلکہ جب تک اوقات مجبور بھی ہو تب بھی) ظالم کے مقرر کردہ قاضی کے ذریعے اپنا حق حاصل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے جج اور ایسی حکومت کی طرف احقاقِ حق کے رجوع کرنے کا مفہوم ضمنی طور پر اس حکومت کو تسلیم کرنا اور اس سے تقویت پہنچانا ہے اور اس کا کام ضرر بعض اوقات اپنا حق کھودینے سے زیادہ ہوتا ہے۔ ظالموں پر بھروسہ تدریجاً معاشرے کی ثقافت وتمدن کے فکری پہلووں پر اثرانداز ہوتا ہے، رفتہ رفتہ ظلم اور گناہ کی برائی اور قباحت کا تصور ختم کر دیتا ہے اور لوگوں کو ظلم کرنے اور ظالم بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ اصولی طور پر دوسروں پر تکیہ کرنا کہ جو وابستگی کی صورت میں ہو اس کا نتیجہ سوائے بدبختی کے کچھ نہیں چہ جائیکہ ظالم اور ستمگر پر ایسا بھروسہ کیا جائے۔ ایک آگے بڑھنے والا، سربلند اور قوی معاشرہ وہ ہے جو اپنے پاوں پر کھڑا ہو جیسا کہ سورہٴ فتح کی آیہ۲۹ میں قرآن ایک خوبصورمثال میں فرماتا ہے: فَاسْتَویٰ عَلیٰ سُوْتِہِ۔ سرسبز پوردے کی طرح کہ جو اپنے پاوں پر کھڑا ہو اور زندہ وسرفراز رہنے کے لیے کسی دوسری چیز سے وابستگی رکھتا ہو۔ ایک بااستقلال اور آزاد معارہ وہ ہے جو ہر لحاظ سے خود کفیل اور خود کفایت ہو اور دوسروں سے اس کا ارتباط برابر کے منافع کی بنیاد پر ہو، نہ کہ ایک ضعیف کے طاقتور پر بھروسہ سے اور انحصار کی بنیاد پر، یہ وابستگی چاہےفکری اور ثقافتی ہو یا فوجی، اقتصادی اور سیاسی ہو، ورنہ اس ما نتیجہ غلامی اور استعمار کے اور کچھ اور برآمد نہیں ہو گااور اگر یہ وابستگی ظالموں کے ساتھ ہو تو اس کانتیجہ ان کے ظلم سے وابستگی اور ان کے پروگراموں میں شرکت ہو گا۔ البتہ مندرجہ بالا آیت کا حکم معاشرے کے روابط کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دو افراد کے ایک دوسرے ے رابطے کے بارے میں بھی ہے یہاں تک کہ ایک آزاد با ایمان شخص کو کبھی بھی ایک ظالم وستمگر کا سہارا نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ اپنا استقلال گنوا بیٹھے گا، اس کے دائرہ ظلم وستم کی طرف کھینچ جائے گا اور فساد وبے دادگری کی تقویت ووسعت کا باعث بھی ہو گا۔ ۴۔”الذین ظلموا“ سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس سلسلے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کیے ہیں، بعض نے ان سے مشرکین مراد لیے ہیں لیکن جیسا کہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ انھیں مشرکین میں منحصر سمجھنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر نزولِ آیت کے وقت ظالمین کا مصداق مشرک تھے تب بھی منحصر کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔جیساکہ روایات میں اس لفظ کی جو مشرکین کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے وہ بھی انحصار کی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایسی روایات واضح اور آشکار مصداق بیان کرتی ہیں۔ اس بناء پر وہ تمام اشخاص جنھوں نے بندگانِ خدا پر ظلم اور فساد کے لیے ہاتھ دراز کیے ہیں، انھیں اپنا غلام بنایا ہے اور ان کی قوت واستعداد سے اپنے لیے فائدہ اٹھایا ہے ”الذین ظلموا“کے عام مفہوم میں داخل ہیں اور آیت کے مصادیق میں سے ہیں لیکن مسلّم ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں کسی چھوٹے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں اور کبھی اس عنوان کے مصداق تھے اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں ورنہ اس صورت میں تو بہت کم افراد ہی اس سے مستثنیٰ ہوئے ہوں گے اور پھر کسی شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرنا جائز نہیں رہے گا ہاں البتہ اگر ”رکون“ کا معنی ظلم وستم کے پہلو پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے تو پھر وہ اشخاص بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوں گے جنھوں نے ایک ہی مرتبہ ظلم میں ہاتھ آلودہ کیے ہیں۔ ۵۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت: بعض اہل سنّت مفسّرین نے یہاں ایک اشکال پیش کیا ہے جس کا جواب اُن کے مبانی رُو سے ہرگز آسان نہیں ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف ان کی روایات میں آیا ہے کہ ضروری ہے سلطانِ وقت کو ”اولوالامر“ سمجھتے ہوئے اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو مثلاً انھوں نے پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے: تم پر لازم ہے کہ سلطان اور بادشاہ کی اطاعت کرو۔ ”وان اخذ مالک وضرب ظھرک“ (اگرچہ وہ تمھارا مال لے لے اور تمھاری پشت پر تازیانے لگائے)۔ اسی طرح اور روایات بھی ہیں کہ جو وسیع معنی کے لحاظ سے اطاعتِ سلطان کی تاکید کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف مندرجہ بالا آیت کہتی ہے کہ ظالم افراد پر تکیہ واعتماد نہ کرو۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں احکام کو ختم کریں اور یہ کہ بادشاہ کی اطاعت اس وقت تک ضروری ہے جب تک وہ عصیان ونافرمانی کی راہ پر نہ چلے اور کفر کے راستے پر قدم نہ رکھے۔ لیکن ان روایات کا لب ولہجہ اطاعتِ سلطان کے لیے ہرگز اس استثناء سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بہرصورت ہماری فکر یہ ہے کہ جس طرح مکتبِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں آیا ہے کہ صرف اس حاکم اور متولی امورِ مسلمین کی اطاعت ضروری ہے جو عالم وعادل ہو اور جو عام مفہوم کے اعتبار سے پیغمبر اکرم اور امام معصوم(علیه السلام) کا جانشین شمار ہوسکے، نیز اگر بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشاہوں نے اپنے مفاد کے لیے اس سلسلے میں کچھ حدیثیں گھڑ لی ہیں تو وہ کسی طرح بھی ہمارے مکتب کے اصول اور ان تعلیمات کے ہم آہنگ نہیں ہیں جو قرآن سے لی گئی ہیں، ایسی روایات اگر قابل تخصیص ہیں تو انھیں تخصیص دی جائے ورنہ انھیں بالکل چھوڑدیا جائے کیونکہ جو روایت کتاب الله کے خلاف ہو وہ مردود ہے، قرآن کی صراحت ہے کہ مومنین کا امام اور پیشوا ظالم نہیں ہو سکتا اور زیرِ بحث آیت بھی صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ ظالموں کا سہارا نہ لو اور ان پر اعتماد نہ کرو، یا پھر ایسی روایات کو ضرورت اور مجبوری کی حالت کے ساتھ مخصوص قرار دیا جائے۔

114
11:114
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ ذَٰلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّـٰكِرِينَ
اور نماز کو دن کے دو اطراف اور ابتدائے رات میں بپا کرو۔ کیونکہ نیکیاں برائیوں (اور ان کے آثار) کو برطرف کر دیتی ہیں۔ یہ تذکر (اور یاد دہانی) ہے ان لوگوں کے لئے جو اہل ذکر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

115
11:115
وَٱصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور صبر کرو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔

نماز اور صبر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں اسلامی احکام میں سے دو اہم ترین نشاندہی کی گئی ہے جو درحقیقت روحِ ایمان اور رکنِ اسلام ہیں۔ پہلے نماز کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نماز کو دن کے دو اطراف میں اور اوائل شب میں قائم کرو (وَاَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّھَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْل)۔ ”طَرَفِی النَّھَارِ“ (یعنی دن کے دوطرف)، ظاہراً یہ تعبیر صبح اور مغرب کی نماز کے بارے میں ہے جو دن کے دو اطراف میں قرار پائی ہیں اور ”زُلف“ کہ جو ”زُلفہ“ کی جمع ہے نزدیکی کے معنی میں رات کے ابتدائی حصّوں پر ہے کہ جو دن کے قریب بولا جاتا ہے اس بناء پر بہ لفظ نمازِ عشاء پر منطبق ہو گا، روایاتِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں بھی یہی تفسیر وارد ہوئی ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں تین نمازوں (فجر، مغرب اور عشاء) کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجگانہ نمازوں میں سے صرف تین نمازوں فجر، مغرب اور عشاء کا ذکر کیوں ہوا ہے اور ظہر ومصر کی نمازوں کے بارے میں گفتگو نہیں کی گئی ہے؟ اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مفسّرین نے ”طَرَفِی النَّھَارِ“ کا مفہوم اس قدر وسیع لیا ہے کہ اس میں فجر،ظہر، عصر اور مغرب سب کو شامل کر لیا ہے اور ”زلفاً من اللّیل“ کی تعبیر کہ جو نماز عشاء کے لیے ہے اس کے ساتھ پانچ نمازوں کی گنتی پوری کرلی ہے۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ ”طرفی النہار“ کے الفاظ ایسی تفسیر کی تاب نہیں رکھتے خصوصاً اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ صدر اوّل کے مسلمان پابندی سے نماز ظہر کو اول وقت میں اور نماز عصر کو درمیانے وقت میں (زوال اور غروب آفتاب کے درمیان) انجام دیتے تھے۔ یہاں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آیاتِ قرآن میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہوا ہے مثلاً: اَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ (بنی اسرائیل/۷۸) کبھی تین نمازوں کا ذکر ہے جیسے محلِ بحث آیت اور کبھی صرف ایک نماز کا تذکرہ ہے مثلاً: حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلّٰہِ قَانِتِینَ (البقرہ/۲۳۸) اس بناء پر ضروری نہیں کہ ہر موقع پر تمام پانچ نمازوں کا ایک ساتھ ذکر ہو۔ خصوصاًیہ کہ کبھی مناسبات کا تقاضا ہوتاہے کہ صرف نماز ظہر (صلوٰة الوسطیٰ) کی اہمیت کے پیش نظر اسی کا ذکر کیا جائے اور کبھی فجر، مغرب، اور عشاء ہی کے ذکر کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کبھی خستگی اور تکان کی وجہ سے یا نیند کی بناء پر ہو سکتا ہے یہ نمازیں معرضِ فراموشی میں چلی جائیں۔ اس کے بعد روزانہ نماز نمازوں کے لیے خصوصاً اور تمام عبادات، اطاعات اور حسنات کے لیے عموماً فرمایا گیا ہے: نیکیاں برائیوں کو برطرف کر دیتی ہیں (إنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ) اور یہ ان کے لیے تذکر اور یادہانی ہے جو توجہ رکھتے ہیں (ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ)۔ یہ آیت قرآن کی دیگر آیات کی طرح بتاتی ہیں کہ نیک اعمال کی تاثیر یہ ہے کہ وہ بُرے اعمال کے اثرات کو برطرف کر دیتے ہیں، سورہٴ نساء کی آیت ۳۱ میں ہے: إنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ ” اگر بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو ہم تمھارے چھوٹے گناہوں کو چھپادیں گے“۔ اور سورہٴ عنکبوت کی آیہ۷ میں ہے: وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّئَاتِھِمْ ” وہ لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے ہم ان کے گناہوں کو چھپادیں گے۔ اسی طرح اطاعت اور نیک اعمال کے ذریعے گناہوں کے اثرات زائل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی اس میں شک نہیں کہ ہر گناہ اور بُر عمل انسانی روح میں ایک طرح کی تاریکی پیدا کر دیتا ہے اور اگر اسے جاری رکھا جائے تو اس کے پیہم اور تہ بہ تہ اثرات انسان کو ایک وحشتناک صورت میں مسخ کر دیتے ہیں۔ لیکن نیک اعمال کہ جن کا سرچشمہ رضائے الٰہی ہوتا ہے روحِ انسانی کو ایک لطافت بخشتے ہیں کہ جو اس سے آثار گناہ دھودیتے ہیں اور ان تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیتے ہیں۔ ”إنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ“ چونکہ نماز کے حکم کے بعد فوراً ٰآیا ہے اس لیے اس کا ایک واضح مصداق روزانہ نماز ہے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ روایات میں اس کی تفسیر صرف روزانہ کی نماز ہوئی ہے تو وہ اس کے منحصر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے یہ ایک واضح قطعی مصداق بیان کیا گیا ہے۔

نماز کی انتہائی اہمیت

متعدد روایات جو مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ان میں کچھ ایسی تعبیرات نظر آتی ہیں جو مکتبِ اسلام میں نماز کی اہمیت سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ابوعثمان کہتا ہے: مَیں سلمان فارسی کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، انھوں نے درخت کی ایک خشک شاخ پکڑکر ہلائی یہاں تک کہ اس کے سارے پتے جھڑگئے، اس کے بعد میری طرف رخ کرکے کہا: تُو نے پوچھا نہیں کہ مَیں نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: بتائیے آپ کی اس کام سے کیا مراد تھی؟ انھوں نے کہا: یہی کام ایک مرتبہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے انجام دیا تھا، جب میں ان کی خدمت میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، اس کے بعد رسول نے مجھ سے کہا: سلمان پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے ایسا کیوں کیا، میں نے عرض کیا: فرمائیے آپ نے کیاس کیوں کیا تو آپ نے فرمایا: انّ المسلم اذا توضاٴ فاٴحسن الوضوء ثمّ صلی الصلوات الخمس تحاتت خطایاہ کما تحات ہذا الورق ثمّ قرء ھذہ الآیة وَاَقِمْ الصَّلَاةَ.... جب مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر وہ پنجگانہ نماز ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسا کہ اس شاخ کے پتے جھڑگئے ہیں، اس کے بعد آپ نے یہ آیت ”وَاَقِمِ الصَّلَاةَ....“کی تلاوت فرمائی۔ (بحوالہ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں) ایک اور حدیث رسول الله کے صحابی ابی امامہ سے مروی ہے، ابی امامہ کہتے ہیں: ایک دن میں مسجد میں رسول الله کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس نے عرض کی: اے الله کے رسول! میں نے ایک گناہ کیا ہے کہ جس کی وجہ سے مجھ پر حد لازم ہو جاتی ہے، وہ حد مجھ پر جاری کیجئے، فرمایا: کیا تُو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول الله! فرمایا: خدا نے تیرا گناہ یا تیری حد بخش دی ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.) نیز حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: مَیں رسولِ خدا کے ساتھ مسجد میں نماز کے انتظار میں تھا کہ ایک شخص کھڑا ہو گیا، اس نے عرض کیا: اے الله کے رسول! مَیں نے ایک گناہ کیا ہے، رسول الله نے اس سے منھ پھیر لیا، جب نماز ختم ہوئی تو وہی شخص پھر کھڑا ہوا اور پھلی بات دُہرائی، رسول خدا نے فرمایا: کیا تُونے ہمارے ساتھ نماز یہ نماز ادا کی ہے؟ اور اچھی طرح وضو نہیں کیا؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: یہ تیرے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.) نیز حضرت علی علیہ السلام ہی کے واسطے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: انّما منزلة الصلوٰات الخمس لاٴمِتی کنھر جار علیٰ باب اٴحدکم فمایظن اٴحدکم لو کان فی جسدہ درن ثمّ اغتسل فی ذٰلک النھر خمس مرّات لو کان یبقی فی جسدہ درن فکذلک والله الصلوٰت الخمس لاٴمتی. پنجگانہ نماز میری امت کے لیے پانی کی جاری نہر کی طرح ہے کہ جو کسی شخص کے گھر کے دروازے سے گزرتی ہے، کیا تم گمان کرتے ہو کہ اگر اس کے بدن پر میل کچیل ہو اور پھر وہ پانچ مرتبہ روزانہ اس نہر میں غسل کرے تو پھر بھی کوئی میل کچیل اس کے بدن پر رہ جائے گی؟ (یقیناً نہیں) خدا کی قسم اسی طرح میری امت کے لیے پنجگانہ نماز ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں.) بہرحال اس میں شک وشبہ نہیں کہ جب نماز اپنی شرائط کے انجام پائے تو انسان کو معنویت اور روحانیت کے ایک ایسے عالم میں لے جاتی ہے کہ اس کے ایمانی رشتے خدا کے ساتھ ایسے مستحکم کر دیتی ہے کہ آلودگیوں اور گناہوں کے آثار اس کے قلب وجان سے دُھل جاتے ہیں۔ نماز انسان کا گناہ کے مقابلے میں بیمہ کر دیتی ہے اور گناہ کا زنگ آئینہٴ دل سے صاف کر دیتی ہے۔ نماز ملکاتِ عالی کے پودے انسانی روح کی گہرائیوں میں اُگاتی ہے، نماز ارادے کو قوی، دل کو پاک اور روح کو طاہر کرتی ہے اور اگر نماز جسمِ بے روح کی صورت میں نہ ہو تو تربیت کا اعلیٰ مکتب ہے۔

قرآن کی نہایت امید افزا آیت

زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک عمدہ اور جاذبِ نظر حدیث منقول ہے، جو اس طرح ہے:ایک دن آپ نے لوگوں کی طرف رخِ انور کرکے فرمایا: تمھاری نظرمیں قرآن کی کونسی آیت زیادہ امید بخش ہے؟ بعض نے کہا: إنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ(سورہٴ نساء: آیت۱۱۶) (خدا شرک کو ہرگز نہیں بخشتا اور اس سے کم تر جس شخص کے لیے چاہے بخش دیتا ہے)۔ امام(علیه السلام) نے فرمایا: خوب ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا: وَمَنْ یَعْمَلْ سُوئًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرْ اللهَ یَجِدْ اللهَ غَفُورًا رَحِیمًا (.سورہٴ نساء: آیت۱۱۰) (جو شخص کوئی برا عمل انجام دے یا اپنے اوپر ظلم کرے اس کے بعد خدا سے بخشش طلب کرے تو خدا کو غفور ورحیم پائے گا)۔ بعض نے کہا: قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ اَسْرَفُوا عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ لَاتُقْنِطُوا مِنْ رِحْمَةِ اللّٰہ(۔) (کہہ دو! اے میرے بندو! کہ جنھوں نے اپنے نفسوں پر اسراف کیا ہے! خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا) فرمایا: اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے۔ بعض دیگر نے کہا: وَالَّذِینَ إذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِھِمْ وَمَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ اللهُ(سورہٴ آل عمران: آیت۱۳۵) (پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو جب تک بُرا کام انجام دیں یا اپنے اوپر ظلم کریں تو خدا کی یاد میں پڑجاتے ہیں اور اپنے اوپر گناہوں کو بخشش طلب کرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کون ہے جو گناہوں کو بخشے گا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ بھی اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے۔ اس وقت لوگ ہر طرف سے امام کی طرف متوجہ ہوئے اور ہمہمہ کیا تو فرمایا: کیا بات ہے مسلمانو! تو وہ عرض کرنے لگے: خدا کی قسم! ہماری نظر میں اس سلسلے میں اور کوئی آیت نہیں۔ امام نے فرمایا: میں نے اپنے حبیب رسول اللہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا: قرآن کی امید بخش ترین آیت یہ ہے: وَاَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّھَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ(مجمع البیان، مذکورہ آیت کے ذیل میں.) البتہ جیسا کہ ہم ہے سورہٴ نساء کی آیت ۸۴ کے ذیل می کہا ہے کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کی زیادہ امید بخش آیت یہ ہے: إنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ یعنی۔ خدا شرک کو نہیں بخشتا اور اس سے کمتر جتنے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں سے ہر ایک اس بحث کے ایک زاویے کے بارے میں ہے اور اس کے پہلووں میں سے ایک پہلو کو بیان کرتی ہے، لہٰذا ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے درحقیقت زیر بحث آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی نمازیں اچھی طرح سے بجالاتے ہیں۔ ایسے نماز جو حضور قلب کے ساتھ ہوتی ہے وہ ان کے قلب و روح سے گناہوں کے آثار دھویتی ہے۔ جبکہ دوسری آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو ایسی نماز کے حامل نہیں اور صرف توبہ کا راستہ اپنا تے ہیں لہٰذا یہ آیت اس گروہ کیلیے اور وہ آیت اس گروہ کے لیے زیادہ امید بخش ہے۔ اس سے زیادہ امید افزاء بات کیا ہو گی کہ انسان جان یے کہ جس وقت اس پاؤں پھسلے یا ہوا و ہوس کا اس پر غلبہ ہو(جبکہ وہ گناہ پر اصرار نہ کرے اور نہ اس پاؤں گناہ کی طرف کھینچا رہے) وقت نماز آپہنچے تو وہ وضو کرے اور بارگاہ معبود میں راز و نیاز کے لیے کھڑا ہو جائے، گذشتہ اعمال کے بارے میں احساسِ شرمندگی اس میں موجود ہو۔ وہ احساس ندامت کو جو خدا کی طرف توجہ کے لوازمات میں سے ہے، تو اس کا گناہ بخشا جائے گا اور اس گناہ کی تاریکی اس کے دل سے ہٹ جائے گی۔ نماز کو جو انسان ساز پرواگرام ہے اور حسنات کی یہ تاٴثیر کہ وہ برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں ”صبر“ کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہوتا ہے: صبر کرو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا (وَاصْبِرْ فَإنَّ اللهَ لَایُضِیعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہاں صبر کو نماز کے معنی میں یا رسول اللہ کے سامنے جو دشمن تھے ان کی اذیت کے مقابلے کے مفہوم میں محدود کر دیا ہے لیکن واضح ہے کہ محل بحث آیت میں صبر کے معنی کو محدود کرنے کیلیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک عمومی اور جامع مفہوم ہے کہ جس مشکلوں، مخالفتوں، ایذاؤں، ہیجانوں، طغیانوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کے مقابلے میں صبر کرنے کا معنی شامل ہے اور ان تمام حوادث کے مقابلے میں پامردی اور قیام صبر کا جامع مفہوم اس میں مندرج ہے۔ صبر کو جو اسلام کا ایک اساسی حکم ہے قرآن میں کئی مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے۔ شاید ایسا اس بناء پر ہے کہ نماز انسان میں حرکت پیدا کرتی ہے اور صبر کا حکم مقاومت جب دوش بدوش ہوں تو ہر قسم کی کامیابی اصلی ععامل بن جاتے ہیں۔ اصولی طور پر کوئی نیکی صبر اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ نیک کاموں کے اختتام پذیر ہونے پر حتمی طور پر استقامت لازمی ہے۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا آیت میں صبر کا حکم دیتے کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ نیکوں کاروں کی جزااٴ ضائع نہیں کرتا۔ یعنی نیکی صبر اور قیام کے بغیر میسر نہیں آتی۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ناگوار حوادث کے مقابلے میں مختلف لوگ ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ۱۔ کچھ لوگ فوراً اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں اور قرآنی ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ وہ واویلا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآنی الفاظ میں: اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعاً یعنی جب اسے کوئی تکلیف چُھوتی ہے تو جزع وفزع شروع کر دیتا ہے۔ (معارج/۲۰) ۲۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو حواس نہیں گنوا بیٹھتے بلکہ حادثے کے مقابلے میں تحمل وبردباری سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ۳۔ بعض لوگ تحمل وبردباری کے ساتھ شکرگزاری بھی کرتے ہیں۔ ۴۔ کچھ لوگ ایسے حوادث کے مقابلے میں والہانہ جد وجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حادثے کے منفی اثرات ختم کرنے کے لیے انتظامات کرتے ہیں اور ایسا جہاد شروع کر دیتے کہ تھکنے کا نام نہیں لیتے اور جب تک کہ مشکل کو سامنے سے ہٹا نہیں دیتے چین نہیں لیتے۔ خدا نے ایسے صابروں کے لیے کامیابی کا وعدہ کیا ہے: إنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ اور اگر تم لوگوں میں ثابت قدم رہنے والے بیس بھی ہوئے تو دو سو پر غالب آجاوٴگے۔ (انفال/۶۵) اور ان کے لیے دوسرے جہاں کی جزاء نعماتِ بہشت کو قرار دیا گیا ہے: وَجَزَاھُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِیرًا اور ان کے صبر کے بدلے خدا انھیں باغ بہشت اور ریشمی پوشاک عطا کرے گا۔ (دہر/۱۲)

116
11:116
فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُوْلُواْ بَقِيَّةٖ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّنۡ أَنجَيۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَآ أُتۡرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجۡرِمِينَ
تم سے پہلے زمانوں (اور قوموں ) میں طاقتور علماء کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو روکتے، مگر یہ کہ ان میں بہت کم تھے جنہیں ہم نے نجات دی اور جو ظلم و ستم کرتے تھے انہوں نے عیش و عشرت اور لذتوں کی پیروی کی اور وہ گنہگار تھے (پس وہ نابود ہو گئے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 117 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
11:117
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ بِظُلۡمٖ وَأَهۡلُهَا مُصۡلِحُونَ
اور ایسا نہ تھا کہ تیرا پروردگار آبادیوں کو ظلم و ستم کے باعث نابود کرتا جبکہ ان کے باسی اصلاح کے در پے ہوتے۔

معاشروں کی تباہی کا سبب

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ مباحث کی تکمیل کے لیے ان دو آیات میں ایک ایسا اہم نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ جو معاشروں کی تباہی سے نجات کا ضامن ہے اور وہ یہ کہ ہر معاشرے میں جب تک صاحبانِ عقل و فکر کا ایک متعہد اور ذمہ دار گروہ موجود ہے کہ جو مفاسد کو دیکھ کر ساکت اور خاموش ہو کر نہیں بیٹھ جاتا بلکہ ان کے خلاف مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور فکری و مکتبی حوالے سے لوگوں کی رہبری و رہنمائی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں یہ معاشرہ تباہی اور نابودی کی طرف نہیں جا سکتا ۔ لیکن جب بے اعتنائی اور سکوت ہر سطح اور ہر طبقے میں حکم فرما ہو اور فساد اور برائی کے عوامل کے مقابلے میں معاشرے کا کوئی دفاع نہ ہو اور اس کا کوئی حامی و مددگا رنہ ہو تو پھر فساد اور اس کے پیچھے پیچھے نابودی و تباہی یقینی ہے۔ پہلی آیت میں ان گذشتہ اقوام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھیں، ارشاد ہوتا ہے: تم سے پہلے کے قرنوں، امتوں اور قوموں میں ایسے نیک پاک طاقتور اور صاحب شعور لوگ کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو پھیلنے سے روکتے (فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُوْلُوا بَقِیَّةٍ یَنْھَوْنَ عَنْ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ)۔ اس کے بعد استثناء کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر تھوڑے سے افراد کو جنھیں ہم نے نجات دی (إلاَّ قَلِیلًا مِمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْھُمْ)۔ یہ چھوٹا سا گروہ اگرچہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہا، لیکن یہ لوگ لوط (علیه السلام) اور ان کے چھوٹے سے خاندان کی مثل نوح(علیه السلام) اور ان کے چند ایمان لانے والوں کی طرح اور صالح(علیه السلام) اور ان کے چند پیروکاروں کی مانند، اتنے کم اور اس قدر تھوڑے تھے کہ جو پورے معاشرے کی اصلاح نہ کر سکے۔ بہرحال ظالم کہ جن کی معاشرے میں کثرت تھی ناز ونعمت اور عیش نوشی کے پیچھے لگے رہے اور بادہٴ غرور اور نعمتوں اور لذّتوں میں اس طرح سے مست ہوئے کہ طرح طرح کے گناہوں میں جاپڑے (وَاتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مَا اُتْرِفُوا فِیہِ وَکَانُوا مُجْرِمِینَ)۔ اس کے بعد اس حقیقت پر زرو دینے کے لیے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ تم دیکھ رہے ہو کہ خدا نے اس قوم کو دیارِ عدم کی طرف بھیج دیا تو یہ اس اس بناء پر تھا کہ ان کے درمیان اصلاح کرنے والے نہ تھے، کیونکہ خدا کسی قوم وملت اور شہر ودیار کو اس کے ظلم کی وجہ سے نابود نہیں کرتا اگر وہ اصلاح کی طرح قدم اٹھالے (وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَاَھْلُھَا مُصْلِحُونَ)۔ کیونکہ عام طور پر ہر معاشرے میں ظلم اور برائی ہوتی ہے لیکن اہم یہ ہے کہ لوگ اس ظلم اور برائی کا احساس کریں اور خدا انھیں اصلاح کے لیے اقدام کی مہلت دیتا ہے اور قانونِ آفرینش ان کے لیے حقِ حیات کا قائل ہے لیکن جب یہ احساس ختم ہو جاتا ہے، معاشرے بے پرواہی اور لااُبالی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ظلم وفساد پوری طرح چھاجاتا ہے تو یہ ایسی منزل ہوتی ہے کہ سنتِ فطرت کے مطابق ان کے لیے زندہ رہنے کا حق نہیں رہتا، اس حقیقت کو ایک مثال واضح سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ انسانی بدن میں ایک قوتِ مدافعت موجود ہوتی ہے، یہ قوتِ مدافعت خون کے سفید گلبول کی صورت میں ہوتی ہے، جب یہ ہَوا، آب وغذا اور چمڑے کی خراش وغیرہ کے ذریعے بیرونی جراثیم بدن کے اندر حملہ آور ہوتے ہیں تو خون کے یہ سفید ذرّات سپاہیوں کی طرح ان کے مقابلے میں قیام کرتے ہیں اور انھیں نابود کرتے ہیں یا کم از کم ان کے پھیلاوٴ کو روکتے ہیں، ظاہر ہے کہ اگر کسی دن لاکھوں سپاہیوں کا یہ عظیم لشکر کمزور پڑجائے اور بدن کا دفاع نہ کر سکے تو بدن مضر جراثیموں کے تخت وتاراج کا میدان بن جائے گا اور طرح طرح کی بیماریاں اس پر حملہ آور ہو جائیں گی۔ پورے انسانی معاشرے کی بھی یہی کیفیت ہے، اگر مدافع قوت اور محافظ لشکر کہ جسے ”اولوا بقیة“ کہا گیا ہے ہٹ جائے تو اجتماعی بیماری کے حامل جراثیم کہ جو معاشرے کے گوشہ وکنار میں موجود ہوتے ہیں بڑی تیزی سے نشو ونما پاتے ہیں اور کثرت حاصل کرکے معاشرے کو سرتاپا بیمار کر دیتے ہیں۔ ”اولوا بقیة“ کا اثر معاشروں کی بقاء کے لیے اتنا حساس ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے بغیر معاشروں سے حقِ حیات سلب ہو جاتا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف مندرجہ بالا آیات اشارہ کرتی ہیں۔

”اولوا بقیة“ کون ہیں؟ ”

اولوا“ کا معنی ہے ”صاحبان“ اور ”بقیة“ کا معنی ہے باقی ماندہ، لُغت عرب میں عموماً یہ تعبیر ”اولوا الفضل“ (صاحبانِ فضیلت اور نیک پاک شخصیات) کے معنی میں استعمال ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر انسان بہتر اجناس اور زیادہ نفیس چیزوں کو سنبھال رکھتا ہے اور وہ اس کے پاس رہ جاتی ہیں، اسی لیے یہ لفظ نفاست اور نیکی کا مفہوم بھی رکھتا ہے اس کے علاوہ اجتماعی مقابلوں میں جو لوگ زیادہ ضعیف ہو جاتے ہیں میدان اور منظر سے جلدی ہٹ جاتے ہیں یا نابود ہو جاتے ہیں اور وہ افراد باقی رہ جاتے ہیں جو فکر ونظر اور جسمانی قوت کے اعتبار سے زیادہ قوی ہوتے ہیں، اسی بناء پر باقی رہ جانے والے طاقتور اور قوی ہوتے ہیں، اس لیے عربوں میں ضرب امثل ہے: فی الزوایا خبایا وفی الرجال بقای. گوشہ وگنار میں ابھی چھپے ہوئے مسائل موجود ہیں اور مردوں میں سے باقی ماندہ شخصیتیں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ ”بقیة“ جو قرآن میں تین مواقع پر آیا ہے اسی مفہوم کا حامل ہے، طالوت وجالوت کے واقعہ میں قرآن مجید میں ہے: إنَّ آیَةَ مُلْکِہِ اَنْ یَاْتِیَکُمْ التَّابُوتُ فِیہِ سَکِینَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ حکومتِ طالوت کی حقانیت کی نشانی یہ ہے کہ صندوقِ عہد تمھارے ہاتھ آئے گا وہی صندوق کہ جس میں موسیٰ وہارون کے خاندان کی نفیس یادگار ہے اور تمھارے سکون کی پونجی ہے۔ (ق بقرہ/۲۴۸) نیز حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ میں زیرِ بحث سورہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ بقیة الله تمھارے لیے بہتر ہے۔ (ہود/۸۶) نیز یہ جو بعض تعبیرات میں حضرت مہدی موعود علیہ السلام کو ”بقیة الله“ کہا گیا ہے وہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ایک عظیم اور پُرفیض ذخیرہ ہیں کہ جنھیں اس جہان سے ظلم وستم کی بساط الٹنے اور عدل وداد کا پرچم گاڑنے کے لیے باقی رکھا گیا ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ قیمتی شخصیتیں، بُرائی کے خلاف کام کرنے والے افراد اور ”اولوابقیة“ انسانی معاشروں پر کتان بڑا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ اقوام وملل کی بقاء اور ہلاکت سے نجات کا وسیلہ ہیں۔ مندرجہ آیت میں جو دوسرا قابلِ توجہ نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ جب تک کسی شہر اور آبادی کے رہنے والے مصلح ہیں خدا اسے نابود نہیں کرتا ”مصلح“ اور ”صالح“ میں جو فرق ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ صرف صالحیت اور اچھا ہونا ضامن بقاء نہیں بلکہ اگر معاشرہ صالح نہ ہو لیکن اصلاح کی کوشش کرے تو وہ بھی بقاء وحیات کا حق رکھتا ہے لیکن جب نہ صالح ہوں نہ مصلح تو پھر سنتِ افرینش کےلحاظ سے اس کے لیے حقِ حیات نہیں ہے اور وبہت جلد ختم ہو جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں جب معاشرہ باقی رہ جاتا ہے لیکن اگر ظالم ہو اور اصلاح کے لیے قدم نہ اٹھائے تو وہ باقی نہیں رہ سکتا۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ظلم وجُرم کا ایک سرچشمہ ہوس رانی، لذّت پرستی اور عیش ونوش کی پیروی کو قرار دیا گیا ہے جسے قرآن میں ”اتراف“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، یہ بے قید وبے عیش کوشی اور لذّت پرستی طرح طرح کے انحرافات کا سرچشمہ ہے جو معاشرے کے خوشحال طبقوں میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شہوت کی مستی انھیں حقیقی انسانی اقدار اور اجتماعی حقائق کے ادراک سے روک دیتی ہے اور عصیان وگناہ میں غرق کر دیتی ہے۔

وہ سنت فطرت جو تمام مسائل کی بنیاد ہے

پہلی زیرِ بحث آیت میں ایک سنّت فطرت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو دراصل انسان سے مربوط تمام مسائل کی حقیقی بنیاد ہے اور وہ انسانوں کی روح، جسم، فکر، ذوق اور عشق کی عمارت میں اختلاف وفرق اور ارادہ واختیار کی آزادی۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو امتِ واحدہ بنادیتا لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا اور ہمیشہ انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں (وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَاحِدَةً وَلَایَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ)۔ اس لیے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ انھیں اپنی اطاعت پر پروردگار کی تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر نہیں کہ ان سب کو ایک ہی راستے اور ایک ہی معین پروگرام پر چلاتا، اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ وہ تمام انسانوں کو جبری طور پر ایک ہی طرز پر خلق کرتا اور وہ سب صاحبانِ ایمان ہوتے اور ایمان کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے لیکن ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہ تھا اور نہ ہی جبری ایمان کی بیناد پر ایسا اتحاد اور ہم آہنگی کہ جو غیر اداری اسباب پر قائم ہو کسی کے مقام ومرتبے کی دلیل ہے، نہ یہ حصولِ کمال اور تکامل کا ذریعہ ہے اور نہ ہی جزاء وسزا کا موجب، بالکل ایسے جیسے خدا نے شہد کی مکھّی کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے جبری حکم پر پھولوں کا شیرہ جمع کرتی ہے اور ملیریے کے مچھر کو اس لیے پیدا ہے کہ وہ اکیلا سوراخوں میں اپنا آشیانہ بناتا ہے اور ان میں کوئی بھی اس راستے میں خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اصولی طور پر انسان کی قدر و قیمت اور دوسرے موجودات سے اس کا اہم ترین امتیاز یہی ارادہ و اختیار کی آزادی کی نعمت ہے۔ اسی طرح انسان میں مختلف ذوق، سلیقے، نظریات اور تصورات موجود ہیں کہ جن میں ہر ایک معاشرے کے ایک حصّے کی تعمیر و اصلاح کرتا ہے اور اس کے کسی ایک تقاضے کو پورا کرتا ہے۔ جب انسان کو ارادے کی آزادی میسّر آئی ہے تو پھر عقیدے اور مذہب و مکتب کے انتخاب میں اختلاف فطری بات ہے۔ اس اختلاف سے ایک گروہ راہِ حق کو قبول کرلیتا ہے اور دوسرا باطل کا راستہ اپنا لیتا ہے لیکن اگر انسانوں کی تربیت ہو اور وہ پروردگار کے دامن رحمت اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے صحیح تعلیمات پالیں تو پھر تفاوت کے باوجود اور آزادی اختیار کے ہوتے ہوئے راہِ حق پر گامزن ہوں گے اگرچہ اس راہ میں بھی وہ مختلف ہوں گے۔ اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: لوگ حق کو قبول کرنے کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر وہ کہ رحمت پروردگار جن کے شامل حال ہے (إلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ)۔ لیکن یہ رحمت الٰہی کسی خاص گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ سب لوگ (بشرطیکہ وہ چاہیں) اس سے استفادہ کر سکتے ہیں درحقیقت ”خدا نے لوگوں کو اس نعمت و رحمت کو قبول کرنے کے لیے پیدا کیا ہے“ (وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ)۔جو لوگ رحمت الٰہی کے سائے میں آنا چاہتے ہیں ان کے لیے راستہ کھلا ہے، وہ رحمت کہ جس کا فیضان عقلی ادراک، ہدایت انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعے سب کے لیے عام ہے اور جب اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے تو جنت اور ابدی سعادت کے دروازے ان کے سامنے کھُل جائیں گے۔ اور اگر یہ صورت نہ ہوئی تو ”خدا کا فرمان صادر ہو چکا ہے کہ وہ سرکش و نافرمانِ جنّوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دے گا“ (وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاَمْلَاَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ)۔

118
11:118
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ
اور اگر تیرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو (بغیر کسی اختلاف کے) ایک ہی جماعت قرار دے دیتا لیکن وہ ہمیشہ سے مختلف ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
11:119
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
مگر یہ کہ جس پر تیرا پروردگار رحم کرے اور اسی کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ اور تیرے پروردگار کا فرمان قطعی ہے کہ وہ جہنم کو جنوں اور انسانوں (میں سے سرکشوں اور نافرمانوں ) سے بھر دے گا۔

چند قابل توجہ نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

۱۔ ارادے کی آزادی۔ اساس دعوت: انسانی خلقت میں ارادے کی آزادی تمام انبیاء کی دعوت کی اساس ہے۔ اصولی طور پر اس کے بغیر انسان ترقی اور کمال کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا (یہاں انسانی اور روحانی کمال مراد ہے) اس بناء پر قرآن کی متعدد آیات میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو جبری طور پر ہدایت کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا۔ خدا تو یہ کرتا ہے کہ راہ حق کی دعوت دیتا ہے، راستے کی نشاندہی کرتا ہے، نشانیاں اور علامتیں بتاتا ہے، بے راہ روی کے نتیجے سے خبردار کرتا ہے، رہبر مقرر کرتا ہے اور راستے پر چلنے اور اسے طے کرنے کا پروگرام دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدیٰ راستے کی نشاندہی ہمارے ذمہ ہے۔ (لیل/۱۲) یہ بھی فرماتا ہے: اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیھِمْ بِمُصَیْطِرٍ تو صرف یاد دہانی کروانے والا نہ کہ زبردستی کرنے والا۔ (غاشیہ/۲۱۔۲۲) نیز سورہٴ شمس آیہ ۸ میں ہے: فَاَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقْوَاھَا خدا نے انسان کو پیدا کیا اور اسے فجور و تقویٰ کا راستہ بتادیا۔ سورہٴ دہر کی آیہ ۳ میں ہے: اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِراً وَاِمَّا کَفُوراً ہم نے انسان کو راستے کی نشاندہی کر دی ہے۔ اب وہ چاہے شکر گزاری کرے یا کفران کرے۔ اس بناء پر محلِ بحث آیات انسانی ارادے کی آزادی اور مکتبِ جبر کی نفی پر زور دینے والی واضح ترین آیات میں سے ہیں اور اس امر کی دلیل ہیں کہ حتمی فیصلہ کرنا خود انسان ہی کا کام ہے۔ ۲۔ قرآنی آیات اور مقصد خلقت: مقصد خلقت کے بارے میں قرآنی آیات میں مختلف بیانات موجود ہیں، ان میں سے ہرایک اس مقصد کے کسی زاویے کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (ذاریات/۵۶) یعنی مکتبِ بندگی میں تکامل اور ارتقاء کو پہنچ جائیں اور اس مکتب میں انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ جائیں۔ ایک اور مقام پر ہے: اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً وہ خدا کہ جس نے موت وحیات کوپیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے بہتر عمل کون کرتا ہے۔ (یعنی ایسا آزمائش کو جس میں تربیت کی آمیزش اور جس کا نتیجہ ترقی وکمال ہو)(مُلک/۲) زیرِ بحث آیت میں فرمایا گیا ہے: ”وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ“یعنی لوگوں کو قبولِ رحمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ایسی رحمت کہ جس میں ہدایت اور حتمی فیصلے کی طاقت کی آمیزش ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں،یہ تمام خطوط ایک ہی نکتے پر پہنچ کر ختم ہوتے ہیں اور وہ ہے انسانوں کی پرورش، ہدایت، پیشرفت اور تکامل وارتقاء کہ جو حتمی واصلی مقصدِ خلقت شمار ہوتا ہے، ایسا مقصد کہ جس کی بازگشت خود انسان کے ساتھ ہے نہ کہ خدا کے ساتھ کیونکہ وہ ایک ایساوجود ہے کہ جس کی تمام پہلووں سے کوئی انتہا نہیں اور وہ ایسا معبود ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں کہ وہ مخلوق کو پیدا کرکے کمی اور ضرورت کو پورا کرے۔ ۳۔ ایک نکتے کی وضاحت: آخری آیت میں جن وانس سے جہنم کو بھرنے کے بارے میں خدا کی تاکیدی فرمان موجود ہے لیکن واضح ہے کہ اس حتمی فرمان کی صرف ایک شرط ہے اور وہ رحمت الٰہی کے دائرے سے باہر نکلنا اور اس کے بھیجے ہوئے بزرگوں کی ہدایت ورہنمائی کو ٹھکرانا، لہٰذا اس طرح سے آیت نہ صرف مکتبِ جبر کے لیے دلیل نہیں بنتی بلکہ اختیار وآزادی کے لیے تاکید مزید ہے۔

120
11:120
وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَقُّ وَمَوۡعِظَةٞ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
ہم نے پیغمبروں میں سے ہر ایک کی سرگزشت تم سے بیان کی تاکہ تمہارا دل آرام و سکون پائے (اور تمہارا ارادہ قوی ہو) ان واقعات میں مومنین کے لئے حق، نصیحت اور یاد دہانی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 123 کے تحت ملاحظہ کریں۔

121
11:121
وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنَّا عَٰمِلُونَ
اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دو: جو کچھ تمہارے بس میں ہے اسے انجام دو ہم بھی (اپنی جگہ) انجام دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 123 کے تحت ملاحظہ کریں۔

122
11:122
وَٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
اور انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 123 کے تحت ملاحظہ کریں۔

123
11:123
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
اور آسمانوں اور زمینوں کے غیب (اور مخفی اسرار) اللہ کے لئے ہیں، تمام امور کی بازگشت اسی کی طرف ہے، اس کی پرستش کرو اور اس پر توکل کرو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو تمہارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے۔

گذشتگان کے واقعات کے مطالعہ کے چار اثرات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات کے ساتھ ہی سورہٴ ہود اختتام پذیر ہوتی ہے، ان آیات میں اس سورہ کی تمام مباحث کا کلّی نتیجہ بیان ہوا ہے، اس سورہ کا چونکہ زیادہ حصّہ انبیاء کے بارے میں اور گذشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات کے بارے میں ہے لہٰذا یہاں ان داستانوں کے گراں بہا نتائج کو چار عنوانات کے تحت بطور خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انبیاء کے مختلف واقعات تجھ سے بیان کیے ہیں تاکہ تیرے دل کو مضبوط کریں اور تیرے ارادے کو تقویت دیں (وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ)۔ لفظ ”کلا“ان سرگزشتوں کے تنوع اور ان کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ہر ایک میں انبیاء سے ایک قسم کی روگرانی، ایک قسم کے انحرافات اور ایک قسم کے عذاب کی طرف اشارہ ہے، یہ تنوع انسانی زندگی کے مختلف زاویوں اور گوشوں پر کئی طرح سے واضح روشنی ڈالتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے لیے تثبیتِ قلب اور ان کے ارادے کو تقویت بخشنا (کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے)بلکہ ایک فطری امر ہے کیونکہ سخت ہٹ دھرم اور نہایت بے رحم دشمنوں کی مخالفتیں خواہ نہ خواہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے دل پر اثر ڈالتی تھیں کیونکہ آپ بھی انسان اور بشر تھے لیکن اس بناء پر کہ ناامیدی اور یاس کی تھوڑی سی گرد بھی آپ کے قلبِ پاک پر نہ پڑے اور آپ کا آہنی ارادہ ان مخالفتوں اور کارشکنیوں سے کمزور نہ ہو خدا تعالیٰ آپ سے انبیاء کے واقعات، ان کے کام کی مشکلات، ہٹ دھرم قوموں کے مقابلے میں ان کی استقامت وپامردی اور بالآخر کامیابی کے واعات یکے بعد دیگرے بیان کرتا ہے تاکہ رسول الله کا قلب وروح اور اسی طرح مومنین کے جو اس عظیم جنگ اور معرکے میں آپ کے دوش بدوش شریک تھے اور روز قوی تر ہوتے رہیں۔ اس کے بعد ان واقعات کا بیان کرنے کے دوسرے نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان واقعاتِ انبیاء میں زندگی سے مربوط حقائق ہیں، ان میں کامیابی اور ناکامی کے عوامل تمام تر تجھے بیان کر دیئے گئے ہیں (وَجَائَکَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ)۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”ھٰذہ“ ضمیر کا مرجع ”ابناء الرسل“ ہیں یہ مرجع ضمیر کے قریب بھی ہے، عبارت میں اس کا ذکر بھی ہے اور آیت میں موجودمباحث سے مناسبت بھی رکھتا ہے، اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضمیر کا ایسے مرجع کی طرف لوٹنا بالکل واضح ہے۔ سورہٴ ہود کی تفسیر اختتام کو پہنچی)۔ ان واقعات کے بیان کا تیسرا اور چوتھا نتیجہ جو واضح ہو کر سامنے آتا ے یہ ہے کہ ”مومنین کے لیے وعظ ونصیحت اور تذکر ویاد دہانی ہے“ (وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ)۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ موٴلف المنار نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے کہ اس آیت میں ایجاز واختصار کا ایسا معجزہ ہے کہ گویا گذشتہ تمام واقعات کا اعجاز اس نے اپنے اند رسمولیا ہے اور چند مختصر سے الفاظ کے ذریعے اس میں اس کے تمام فوائد بیان کر دیئے گئے ہیں۔ بہرحال یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ قرآن کے تاریخی واقعات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور ان سے سننے والوں کی ضیافتِ طبع کے لیے استفادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ زندگی کے بہترین دروس کا مجموعہ ہیں، ان میں انسانوں کے آج اور کل کے تمام زاویوں اور پہلووں سے راہ گشائی کی گئی ہے۔اس کے بعد حضرت پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی دشمن کی طرف سختیوں اور ہٹ دھرمیوں کے مقابلے میں وہی کچھ کہو جو بعض پیغمبر اُن کے جواب میں کہتے تھے، فرمایا: وہ کہ جو ایمان لائیں گے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے وہ انجام دو اور گنجائش نہ چھوڑاور جو کچھ ہماری طاقت ہو گی ہم بھی انجام دیں گے (وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إنَّا عَامِلُونَ)۔ تم انتظار میں رہو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ہزیمت اٹھاتا ہے (وَانتَظِرُوا إنَّا مُنتَظِرُونَ)۔ تم ہماری شکست کے خیالِ خام میں رہو اور ہم تمھارے لیے خدا کے واقعی عذاب کے انتظار میں ہیں کہ جو یا ہمارے ہاتھوں تمھیں پہنچے گا یا براہِ راست خدا کی طرف سے۔ ایسی دھمکیاں جو ”امر“ کی صورت میں ذکر ہوئی ہیں قرآن کے دیگر مقامات پر بھی ہیں۔ مثلاً: اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ جوچاہو کرو خدا تمھارے اعمال سے آگاہ ہے۔ (حم سجدہ/۴۰) نیز یہ بہت سے مفسّرین نے کہا ہے کہ مشار الیہ سورہ ہے، ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ سورہ کا زیادہ تر حصّہ جو گزرچکا ہے گذشتہ انبیاء کے حالات کے بارے میں ہی تھا۔ شیطان کے بارے میں ہے: وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ اپنی آواز سے انھیں حرکت میں لے آوٴ اور اپنا سوار اور پیدا لشکر ان کی طرف بھیجو۔ (بنی اسرائیل/۶۴) واضح رہے کہ امر کے یہ تمام صیغے کسی کام پر ابھارنے کے لیے بلکہ وہ سب کے سب دھمکی کا پہلو رکھتے ہیں۔ اس سورہ کی آخری آیت توحید (توحیدِ علم، توحیدِ افعالی اور تح۔وحیدِ عبادت) بیان کر رہی ہے جیسا کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات علم ِ توحید کے بارے میں تھیں۔ درحقیقت اس آیت میں توحید کے تین پہلووں کی نشاندہی کی گئی ہے: پہلا: پروردگار کی توحیدِ علمی، آسمانوں اور زمینوں کے غیبی اسرار کے ساتھ مخصوص ہیں اور وہی ہے جو تمام آشکار ونہاں بھیدوں سے باخبر ہے (وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ اور اس کے غیر کا علم محدود علم اور زمین وآسمان کے طول وعرض میں موجود تمام چیزوں کے بارے میں وہ علم ذاتی پروردگار کی ذاتِ پاک کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرا: یہ کہ تمام امور کی باگ ڈور اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور تمام چیزوں کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے (وَإلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ)۔ اور یہ توحیدِ افعالی کا مرحلہ ہے۔ تیسرا: یہ کہ اب جبکہ لامحدود اوربے پایاں قدرت اس کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے لہٰذا صرف اس کی پرستش کرو (فَاعْبُدْہُ)۔ اور اس پر توکل کرو (وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ)۔ اور یہ توحیدِ عبادت کا پہلو ہے۔ اور چونکہ نافرمانی وسرکشی گناہ ہے لہٰذا اس سے بچو کیونکہ ”جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے (وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ علمِ غیب خدا سے مخصوص ہے: جیسا کہ ہم ساتویں جلد میں سورہٴ اعراف کی آیہ ۱۸۸ اور پانچویں جلد میں سورہٴ انعام کی آیہ۵۰ کے ذیل میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اسرارِ نہاں اور اسرارِ گذشتہ وآئندہ پر آگاہی اور ان کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیات بھی اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ وہ اس صفت میں اکیلا ہے اور اور کوئی شخص اس کی مانند نہیں ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن میں علمِ غیب کے کچھ حصّوں کی نسبت انبیاء کی طرف دی گئی ہے یا بہت سی آیات ورمایات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ حضرات بعض اوقات آنے والے واقعات اور اسرارِ نہاں کی خبر دیتے تھے تو یہ جاننا چاہیے کہ یہ بھی خدائی تعلیم سے ہوتا ہے۔ وہی ہے کہ جب مصلحت دیکھتا ہے تو اسرارِ غیب کا کچھ علم اپنے خاص بندوں کو تعلیم دیتا ہے لیکن یہ علم ذاتی ہے اور لامحدود بلکہ تعلیمِ الٰہی کے ذریعے سے ہے اور اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ اپنے ارادے سے عطا کرتا ہے۔ اس وضاحت سے ان تمام بدگوئی کرنے والوں کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ جو شیعہ عقیدے پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انبیاء اور آئمہ کو عالم الغیب جانتے ہیں۔ خدا نہ صرف انبیاء اور آئمہ کو مناسب موقع اور محل پر اسرارِ غیب تعلیم کرتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے علاوہ افراد کو بھی اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہٴ گرامی کے بارے میں قرآنِ حکیم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کہا: ڈرو نہیں ہم یہ بچہ تمھاری طرف پلٹادیں گے اور اسے انبیاء میں سے قرار دیں گے۔ قرآنی الفاظ میں: وَلَاتَخَافِی وَلَاتَحْزَنِی إنَّا رَادُّوہُ إلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِینَ یہاں تک کہ پرندے اور دوسرے جانور ضروریاتِ زندگی کے ماتحت مخفی اسرار سے آگاہی حاصل کر لیتے ہیں، حتّیٰ کہ نسبتاً مستقبل بعید کے واقعات سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں کہ جس کا تصور ہمارے لیے مشکل اور پیچیدہ ہے اور یوں بعض مسائل جو ہمارے لیے غیب شمار ہوتے ہیں ان کے لیے غیب نہیں ہیں۔ ۲۔ عبادت خدا کے لیے مخصوص ہے: مندرجہ بالا آیت میں عبادت خدا کے لیے مخصوص ہونے کے بارے میں ایک لطیف دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اگر پرستش عظمت اور صفاتِ جمال وجلال کی بناء پر ہے تو یہ صفات سب سے بڑھ کر خدا میں موجود ہیں اور دوسرے اس کے مقابلے میں ناچیز وحقیر ہیں، عظمت کی سب سے بڑی نشانی علمِ لامحدود اور قدرت بے پایاں ہے کہ جن کے بارے میں زیرِ نظر آیت کہتی ہے کہ یہ دونوں اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور اگر پرستش مشکلات کے موقع پر معبود کی پناہ لینے کی خاطر ہے تو یہ اہلیت اس میں ہے کہ جو بندوں کی تمام ضروریات، حاجات اور اسرارِ غیب سیے باخبر ہو اور ان کی دعا قبول کرنے اور ان کی آرزووںکو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اسی بناء پر توحیدِ صفات توحیدِ عبادت کا سبب بن جاتی ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ ۳۔ تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ: بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پروردگار کی عبودیت کے ذریعے انسان کی تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ زیرِ بحث آیت کے دو لفظوں میں بیان کر دیا گیا ہے، یعنی ”فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ“ کیونکہ عبادت چاہے عام عبادات کی طرح جسمانی ہو یا روحانی، مثلاً عالمِ آفرینش اور نظامِ اسرارِ ہستی میں غور وفکر، وہ اس سیر وسلوک کا آغاز ہے اور توکل یعنی طور تمام امور کو خدا کے سپرد کرنا کہ جو ایک طرح سے ”فَنَا فِی اللّٰہ“ ہے اس سیر کا آخری نقطہ ہے۔ اس تمام راستے میں ابتداء سے لے کر انتہا تک توحیدِ صفات کی طرف توجہ راہرو کی مدد کرتی ہے اور کوشش وعشق سے ملی ہوئی جستجو پر ابھارتی ہے۔ پروردگار! ایسا کر کہ ہم تجھے تیری صفاتِ جمال وجلال کے پہچانیں اور ایسا کر کہ ہم آگاہی اور علم کے ساتھ تیری طرف حرکت کریں۔ پروردگار! ہمیں توفیق دے کہ ہم خلوص کے ساتھ تیری عبادت کریں اور عشق کے ساتھ تجھ پر توکّل کریں۔ پروردگار! اس سختی کے زمانے میں جبکہ ہمارے عظیم الشان اسلامی انقلاب کے بعد روز افزوں مشکلات نے ہر طرف سے ہمیں گھیر رکھا ہے اور دشمن اس انقلاب کے نور کو بجھادینے کے درپے ہیں، ہماری امید صرف تو ہے اور ان مشکلات کے حل کے لیے ہمارا سہارا تیری ذاتِ پاک ہے۔ پروردگار! یہاں تک کا راستہ ہم نے طے نہیں کہ بلکہ تیری آشکار اور مخفی تائیدیں تھیں کہ جنھوں اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے ہر جگہ ہمیں توانائی بخشی، جو راستہ باقی رہ گیا ہے اس میں بھی ہمیں اس عظیم نعمت سے محروم نہ فرما، اپنا لطفِ خاص ہم سے دُور نہ کر اور ہمیں اس کی بھی توفیق دے کہ ہم اس تفسیر کو کہ جو تیری عظیم آسمانی کتاب کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتی ہے تکمیل تک پہنچا سکیں۔ سورہ ہود کی تفسیر اختتام کو پہنچی۔

end of chapter