Al-Mujadilah
سورہ مجادلہ
یہ سُورہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۲۲ آیات ہیں
سورہ مجادلہ کے مضامین
یہ سُورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔ اور مدنی سورتوں کی طبیعت و مزاج کے مطابق زیادہ تر فقہی احکام، اجتماعی نظامِ زندگی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی روابط کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اس سُورہ کے تمام مباحث کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ١۔ پہلا حصّہ "ظہار" کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ یہ زمانۂ جاہلیت میں ایک قسم کی طلاق اور دائمی جدائی شمار ہوتی تھی۔ اسلام نے اس میں اعتدال پیدا کیا اور اس کی صحیح راہ متعیّن کی۔ ٢۔ دوسرے حصّہ میں آدابِ مجالست کے احکام کے بارے میں گفتگو ہے، سرگوشی سے منع کیا گیا ہے اور جو نئے لوگ مجلس میں داخل ہوں، انہیں جگہ دینے کے بارے میں احکام دیے گئے ہیں۔ ٣۔ تیسرے اور آخری حصّہ میں جو بحث ہے وہ گویا منہ سے بولتی ہوئی بھی ہے، تفصیلی بھی ہے اور سرکوبی کرنے والی بھی۔ منافقین یعنی وہ لوگ جو بظاہر اسلام کا دم بھرتے ہیں لیکن دشمنانِ اسلام کے ساتھ پوشیدہ طور پر ربط و ضبط رکھتے ہیں، ان کے بارے میں گفتگو ہے۔ سچّے مسلمانوں کو گروہِ شیاطین و منافقین میں داخل ہونے سے ڈرایا گیا ہے اور انہیں حُبّ فی اللہ اور بغض فی اللہ کے پیش نظر حزب اللہ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
سورۂ مجادلہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں دو روایات پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہیں۔ پہلی روایت میں ہے کہ: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ المُجَادِلَةِ كُتِبَ مِنْ حِزْبِ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ۔" "جو شخص سورۂ مجادلہ کی تلاوت کرے (اور اس میں غور و فکر کرے اور اس پر کاربند ہو) تو قیامت کے دن اسے حزب اللہ میں شمار کیا جائے گا۔" دوسری حدیث میں ہم پڑھتے ہیں: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الحَدِيدِ وَالمُجَادِلَةِ فِي صَلَاةٍ فَرِيضَةٍ وَادمنھا لَمْ يُعَذِّبْهُ اللَّهُ حَتَّى يَمُوتَ أَبَدًا، وَلَا يَرَى فِي نَفْسِهِ وَلَا فِي أَهْلِهِ سُوءًا أَبَدًا، وَلَا خَصَاصَةً فِي بَدَنِهِ۔" "جو شخص سورۂ حدید و مجادلہ کو واجب نمازوں میں پڑھے اور اس کا ورد رکھے، تو خدا اس کی پوری زندگی میں اس پر کوئی عذاب نازل نہیں کرے گا اور وہ اپنی ذات میں اور اپنے اہلِ خانہ میں کوئی برائی نہیں دیکھے گا، نیز فقر و بدحالی میں گرفتار نہیں ہو گا۔" ان سورتوں کے مضامین کی جو مناسبت مذکورہ بالا اجر اور جزا کے ساتھ ہے، وہ واضح ہے اور یہ چیز خود بتاتی ہے کہ تلاوت کا مقصد زندگی میں عملی شکل دینا ہے، ایسی تلاوت نہیں جو غور و خوض اور عمل سے خالی ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9اکثر مفسّرین نے اس سُورہ کی پہلی آیات کے لیے کئی شانِ نزول نقل کی ہیں، جن میں سے ہر ایک کا نفسِ مضمون اجمالی طور پر ایک ہی ہے، اگرچہ جزئیات میں ایک دوسرے سے اختلاف ہے، لیکن یہ اختلاف اس چیز پر جس کے ہم تفسیری بحث میں ضرورت مند ہیں، اثرانداز نہیں ہو گا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ گروہِ انصار کی ایک عورت جس کا نام "خولہ" تھا (دوسری روایات میں اس عورت کے اور بھی نام بیان ہوئے ہیں) وہ قبیلہ "خزرج" سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے شوہر کا نام "اوس بن صامت" تھا۔ کسی بات پر خولہ کا شوہر اس سے ناراض ہو گیا۔ وہ ایک تند خو اور شدید الحس آدمی تھا۔ اس نے اپنی عورت سے علیحدگی کا مصمّم ارادہ کر لیا اور کہا: "أَنْتِ عَلَیَّ كَظَهْرِ أُمِّي۔" "(تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی مانند ہے)۔" زمانۂ جاہلیّت میں یہ طلاق کی ایک قسم تھی، لیکن یہ طلاق اس طرح کی تھی کہ نہ تو اس میں رجوع ممکن تھا، نہ عورت مرد سے آزاد ہوتی تھی کہ اپنے لیے کوئی دوسرا شوہر منتخب کرے۔ یہ بدترین حالت تھی جس سے کوئی شوہردار عورت دوچار ہو سکتی تھی، وہ شخص جلد ہی پشیمان ہو گیا اور چونکہ زمانۂ جاہلیت میں "ظہار" یعنی مذکورہ بالا جملہ کہنا ایک ایسی طلاق شمار ہوتا تھا جس میں طرفین ایک دوسرے سے قطعاً رجوع نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ میرا خیال ہے تو مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ عورت نے کہا: ایسا نہ کہہ، تُو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا اور اس مشکل کا حل دریافت کر۔ مرد نے کہا: مجھے شرم آتی ہے۔ عورت نے کہا: میں جاتی ہوں۔ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں، تُو چلی جا۔ وہ عورت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: "اے خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے شادی کی تھی۔ اس وقت میں صاحبِ دولت و ثروت تھی اور خوبصورت تھی، میرا خاندان بھی اچھا تھا۔ وہ میرا مال اپنے مصرف میں لے آیا۔ اب جب کہ میں جوان نہیں رہی، میرا خاندان بھی پراگندہ ہو گیا ہے، تو اب اُس نے ظہار کیا ہے۔ لیکن وہ اپنے اس اقدام پر پشیمان ہے۔ تو کیا ایسی صورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے رجوع کر لیں"؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تو اس پر حرام ہو گئی ہے۔" عورت نے عرض کیا: "یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اس نے طلاق کا صیغہ جاری نہیں کیا، پھر وہ میری اولاد کا باپ بھی ہے۔ اور ان سب چیزوں کے علاوہ مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے۔" آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "تُو اُس پر حرام ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں میرے پاس سردست کوئی دوسرا حکم نہیں ہے۔" وہ عورت مسلسل اصرار کرتی رہی اور گڑگڑا کر عرضِ حال کرتی رہی۔ آخرکار اس عورت نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا: "اَشْکُوْ إِلَی اللّٰہِ فَاقَتِی وَحَاجَتِی وَشِدَّةَ حَالِی، اَللّٰہُمَّ فَأَنْزِلْ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکَ۔" "پروردگار! میں اپنی بےچارگی، احتیاج اور شدتِ حال تجھ سے عرض کرتی ہوں۔ خدایا! کوئی فرمان اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرما اور اس مشکل کو حل کر دے۔" ایک روایت میں ہے کہ اس عورت نے عرض کیا: "اللّٰہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ حَالِی فَارْحَمْنِی، فَإِنَّ لِی صِبْیَةً صِغَارًا، إِنْ ضَمَمْتُهُمْ إِلَیْهِ ضَاعُوا، وَإِنْ ضَمَمْتُهُمْ إِلَیَّ جَاعُوا۔" "خداوندا! تُو میری حالت کو جانتا ہے، مجھ پر رحم کر۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، جنہیں میں اگر اپنے شوہر کے حوالے کر دوں تو وہ ضائع ہو جائیں گے اور اگر اپنے پاس رکھوں تو بھوک سے مر جائیں گے۔" اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوئی اور اس سورہ کی ابتدائی آیات آپ پر نازل جو ظہار کی مشکل کو حل کرنے کا راستہ بتاتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "اپنے شوہر کو بلا کر لا۔" جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ آیات کی اس کے سامنے تلاوت کی اور فرمایا: "کیا تُو ایک غلام ظہار کے کفّارے کے طور پر آزاد کر سکتا ہے"؟ اُس نے کہا: "اگر ایسا کروں گا تو میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔" فرمایا: "کیا دو مہینے تک مسلسل روزے رکھ سکتا ہے"؟ اُس نے کہا: "میرے کھانے میں تین مرتبہ تاخیر ہو جائے تو میری آنکھ بیکار ہو جاتی ہے اور مجھے خوف ہے کہ میں نابینا ہو جاؤں۔" فرمایا: "تو کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے"؟ عرض کیا: "نہیں، مگر اس طرح کہ آپ میری مدد کریں۔" آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "میں تیری مدد کروں گا۔" پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ صاع (تقریباً پندرہ من ایرانی جو، جو ساٹھ مسکینوں کی خوراک کے برابر تھی، ہر شخص کے لیے ایک مد یعنی تقریباً چودہ چھٹانک) غذا اس کو دی۔ اُس نے کفّارہ ادا کیا اور اس طرح وہ میاں بیوی اپنی سابقہ ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ آئے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٦٤ (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ)]۔ جیسا کہ ہم نے کہا، اس شانِ نزول کو بہت سے لوگوں نے تفسیر، تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس سلسلے میں قرطبی، ابو الفتوح رازی اور کنز العرفان کے نام نمایاں ہیں۔
تفسیر: ظہار زمانہ ٔ جاہلیّت کا ایک قبیح عمل
جو کچھ شانِ نزول کے سلسلے میں عرض کیا گیا ہے اسے اور آیاتِ زیرِ بحث کے نفسِ مضمون کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس سورہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر واضح ہو گئی ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "خدا نے اس عورت کا قول سنا جس نے اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے رجوع کیا تھا اور بحث و تکرار کرتی تھی، اس کی التجا کو قبول کیا۔ (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا)۔" "تُجَادِلُ" کا مادہ "جدل" ہے، جس کے اصلی معنی رسی بٹنے کے ہیں۔ چونکہ طرفین اصرار آمیز گفتگو کے موقع پر یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے کو خاموش کر دیں، لہٰذا اس پر "مجادلہ" کا اطلاق ہوا ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہ عورت، اس کے علاوہ کہ تجھ سے مجادلہ کرتی تھی، اس نے خدا کی بارگاہ میں شکایت بھی کی اور حلِ مشکل کی استدعا بھی کی۔" (وَ تَشْتَكِي إِلَى اللّٰهِ)۔ یہ اس حالت میں تھا کہ جب خدا تمہاری گفتگو اور اس عورت کے اصرار کو سن رہا تھا: (وَ اللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا)۔ "تحاور"، "حور" بروزن غور کے مادہ سے گفتگو یا غور و خوض میں رجوع کرنے کے معنوں میں ہے اور محاورہ کا طرفین کی گفتگو پر اطلاق ہوتا ہے۔ "اور خدا سننے اور دیکھنے والا ہے۔" (إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ)۔ جی ہاں! خدا تمام مسموعات و مبصرات سے، بغیر اس کے کہ بینائی و سماعت کے اعضاء کا محتاج ہو، آگاہ ہے۔ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور ہر چیز کو دیکھتا اور ہر بات کو سنتا ہے۔ اس کے بعد ظہار کے حکم کی طرف رجوع ہے اور تمہیدِ کلام کے طور پر اس بےہودہ نظریے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے مختصر مگر قاطع جملے ارشاد فرماتا ہے: "تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں: (أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي) 'تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے'، وہ ہرگز ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے۔" (الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ)۔ ماں اور بیٹا ہونا ایسا نہیں ہے جو صرف الفاظ سے درست ہو جائے۔ وہ تو ایک ظاہر ہونے والی حقیقتِ واقعی ہے جو کسی صورت میں بھی الفاظ کے ساتھ کھیلنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اگر کوئی انسان سو مرتبہ بھی اپنی بیوی سے کہے کہ "تو میری ماں کی طرح ہے"، تو وہ ماں کی حیثیت اختیار نہیں کر سکتی۔ یہ محض ایک فضول بات ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہ ایک بُری اور قبیح بات کہتے ہیں اور ان کا قول باطل و بےبنیاد ہے۔" (وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا)۔ [تشریحی نوٹ: "زور" اصل میں سینے کے اوپر والے حصے کا ٹیڑھا اور جھکا ہوا ہونا ہے۔ یہ منحرف ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے اور چونکہ جھوٹی بات اور باطل گفتگو حق سے انحراف رکھتی ہے لہذا اسے زور کہتے ہیں اسی بنا پر یہ لفظ بت کے لیے بھی بولا جاتا ہے]۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس بات کا کہنے والا قصدِ "اخبار" نہیں رکھتا بلکہ اس کا مقصود "انشاء" ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس جملے کو صیغۂ طلاق کا درجہ دے لیکن اس جملے کا نفسِ مضمون ٹھیک "منہ بولے بیٹے" جیسی خرافات کی طرح بےبنیاد ہے جو زمانۂ جاہلیت کی ایک رسم تھی کہ کسی بچے کو اپنا بیٹا کہہ دیتے تھے اور پھر اس پر "احکامِ پسر" جاری کرتے تھے، جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور اسے باطل و بےبنیاد بات قرار دیا ہے: (ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ)۔ "یہ ایسی بات ہے جسے تم صرف اپنے منہ سے کہتے ہو، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔"( الاحزاب: ۴) اس آیت کے مطابق ظہار ایک "منکر" اور "حرام" عمل ہے، لیکن چونکہ تکلیفِ شرعی گزشتہ اعمال سے تعلق نہیں رکھتی اور اس کا اطلاق نزولِ وحی کے وقت سے ہوتا ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔" (وَإِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ)۔ اس بنا پر اگر کوئی مسلمان ان آیات کے نزول سے پہلے اس عمل کا مرتکب ہوا ہے تو اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ خدا اسے بخش دے گا۔ بعض فقہا اور مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اب بھی ظہار ایک گناہ ہے، جو "گناہانِ صغیرہ" کے مانند ہے اور اللہ نے "گناہانِ کبیرہ" کے ترک کی صورت میں عفو کا وعدہ کیا ہے۔ ["کنز العرفان" جلد ۲ ص ۲۹۰۔ المیزان میں بھی انہی معانی کی طرف اشارہ ہے]۔ لیکن اس مفہوم پر کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں ہے اور اوپر والا جملہ اس امر پر گواہ نہیں بن سکتا۔ بہرحال، کفّارے کا مسئلہ اپنی پوری قوّت کے ساتھ باقی ہے۔ حقیقت میں یہ تعبیر اس کے مشابہ ہے جو سورۂ احزاب کی آیت ۵ میں آئی ہے، جہاں منہ بولے بیٹے کے مسئلے کی نفی کرنے کے بعد مزید فرماتا ہے: "وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَا أَخْطَأْتُمْ بِہِ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔" "اس غلطی کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے جو اس موضوع پر تم سے سرزد ہوئی ہے، لیکن جو کچھ تم عمداً کہو، تو خدا اس پر مواخذہ کرتا ہے اور خدا غفور و رحیم ہے۔" (گزشتہ بےراہ روی کے بارے میں) "عفو" اور "غفور" کے درمیان کیا فرق ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "عفو" بخشش خدا کی طرف اشارہ ہے اور "غفور" گناہ کی پردہ پوشی کی طرف، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی کسی کے گناہ کو تو بخش دے، لیکن اسے چھپائے ہرگز نہیں، لیکن خدا بخشتا بھی ہے اور چھپاتا بھی ہے۔ بعض مفسرین نے "غفران" کے معنی یہ لیے ہیں کہ کسی شخص کو عذاب سے چھپا لیا جائے، جس کا مفہوم "عفو" سے مختلف ہے، اگرچہ نتیجہ ایک ہی ہے۔چونکہ یہ قبیح اور تکلیف دہ گفتگو کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی کوئی پرواہ نہ کی جائے، لہٰذا اس کا کفارہ نسبتاً سنگین قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کی تکرار کا سدِّ باب کیا جائے۔ فرماتا ہے: "وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اور پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے پلٹتے ہیں، تو انہیں چاہیے کہ مباشرت سے پہلے ایک غلام آزاد کریں۔" (وَالَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْ نِسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا)۔ پھر "اپنے کہے سے پلٹتے ہیں"، (ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا) کے جملے کے بارے میں کئی احتمالات پیش کیے گئے ہیں۔ فاضل مقداد نے "کنز العرفان" میں اس کی چھ تفسیریں نقل کی ہیں، لیکن اس کا ظاہر خصوصاً "مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا" پر توجہ کرتے ہوئے— یہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر نادم ہوتے ہیں اور گھریلو زندگی اور جنسی آمیزش کی طرف پلٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ روایاتِ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان در ذیل آیات محلِ بحث]۔ اس جملے کی اور بھی تفسیریں کی گئی ہیں، لیکن وہ آیت کے معانی کے ساتھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتیں، مثلاً: • یہ کہ "عود" سے مراد "ظہار" کی تکرار ہے۔ • یا یہ کہ "عود" سے مراد ایسے مواقع پر زمانۂ جاہلیت کے طریقوں پر عمل کرنا ہے۔ • یا یہ کہ "عود"، اس عمل کے تدارک اور تلافی کے معنی میں ہے۔ اور اسی قسم کے دیگر احتمالات۔ [کنز العرفان جلد ۲ ص ۲۹۰ و مجمع البیان جلد ۹ ص ۲۴۷ کی طرف رجوع کیا جائے]۔ "رقبہ" اصل میں "گردن" کے معنی میں ہے، لیکن یہاں انسان کا کنایہ ہے، کیونکہ گردن دیگر اعضائے بدن کے مقابلے میں زیادہ حساس سمجھی جاتی ہے۔ کبھی لفظ "راس" بھی کہا جاتا ہے اور اس سے مراد انسان ہوتا ہے، مثلاً پانچ افراد کی جگہ "پانچ راس" کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "یہ ایک دستور ہے جس کا تمہیں وعظ کیا گیا ہے۔" (ذٰلِکُمْ تُوعَظُوْنَ بِہٖ)۔ یہ گمان نہ کرنا کہ ظہار کے سلسلے میں اس قسم کا کفارہ غیر معتدل ہے، کیونکہ یہ پند و نصیحت، بیداری اور تمہارے نفوس کی تربیت کا سبب ہے تاکہ اس قسم کے حرام کاموں کے سلسلے میں تم اپنے نفس کو قابو میں رکھ سکو۔ اصولی طور پر تمام کفارے تربیتی پہلو رکھتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ کفارے جو مالی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی تاثیر تعزیرات کے مقابلے میں— جو بدنی حیثیت رکھتی ہیں— کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اور چونکہ اس بات کا امکان تھا کہ بعض افراد مختلف بہانوں سے کفارے سے جان چھڑائیں گے اور ظہار کے بعد بغیر کفارہ ادا کیے اپنی بیوی سے جنسی آمیزش رکھیں گے، آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا اس سے جو تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے۔" (وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ)۔ ظہار سے بھی آگاہ ہے، کفارہ نہ دینے سے بھی اور تمہاری نیتوں سے بھی۔ اور چونکہ ایک غلام کو آزاد کرنا تمام افراد کے لیے ممکن نہیں، جیسا کہ ہم نے آیت کی شانِ نزول میں دیکھا ہے، اوس بن صامت، جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، اس نے پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں کفارہ ادا کرنے سے قاصر ہوں اور اگر ایسا کروں گا تو تمام پونجی گنوا دوں گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان مالی اعتبار سے تو غلام آزاد کرنے کی قدرت رکھتا ہو، لیکن اسے کوئی غلام دستیاب نہ ہو، جیسا کہ ہمارے زمانے میں ہے۔ اس لیے، اسلام کے دینِ جاودانی ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بعد کے مرحلے میں غلاموں کے آزاد کرنے کا کوئی نعم البدل مقرر ہو، اس لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "جو شخص غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، تو جنسی آمیزش سے پہلے دو ماہ مسلسل روزے رکھے۔" (فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِّنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا)۔ اس قبیح عمل کو روکنے کے لیے یہ کفّارہ بھی ایک گہرا اثر رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں، چونکہ روزہ روح کی صفائی اور تہذیبِ نفس کا باعث ہے، لہٰذا اس قسم کے اعمال کے اعادے کا سدِّ باب کر سکتا ہے۔ البتہ ظاہر آیت تو یہ ہے کہ روزے ساٹھ دن تک مسلسل رکھے جائیں۔ بہت سے فقہائے اہلِ سنت نے بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیا ہے، لیکن آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی روایتوں میں آیا ہے کہ اگر دوسرے مہینے میں سے کچھ دن، حتیٰ کہ ایک دن بھی پہلے مہینے کے تسلسل کے ساتھ روزہ رکھ لے، تو "شہرین متتابعین" یعنی مسلسل دو ماہ کا تقاضا پورا ہو جائے گا اور یہ تصریح ظہورِ آیت پر حاکم ہے۔ [بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد ٧، صفحہ ٢٧١ سے رجوع فرمائیں (باب ٣ از ابواب بقیة الصوم الواجب)]۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں اور سورۂ نساء کی آیت ٩٢ میں (کفّارہ قتلِ خطا) "تتابع" سے مراد فی الجملہ پے در پے ہونا ہے۔ البتہ اس قسم کی تفسیر صرف امامِ معصوم سے سننے میں آئی ہے جو علومِ پیغمبرؐ کا وارث ہے اور اس قسم کے روزے رکھنا مکلفین کے لیے آسانی کا باعث ہیں۔ (اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل کتاب الصوم اور ابواب ظہار و کفّارہ قتلِ خطا میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)۔ "فمن لم یجد" کے جملے سے مراد یہ ہے کہ وہ ضروریاتِ زندگی سے زائد کوئی چیز نہ رکھتا ہو جس سے غلام خرید کر آزاد کر سکے۔ اور چونکہ بعض لوگ دوسرے کفّارے یعنی مسلسل دو ماہ روزے رکھنے پر بھی قادر نہیں ہیں، لہٰذا ایک اور متبادل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:" جب کوئی دو ماہ تک مسلسل روزے نہ رکھ سکے، تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔" "فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْكِينًا۔" "اطعام" کے معنی یہ ہیں کہ ایک مرتبہ اتنی غذا دے کہ کھانے والا سیر ہو جائے، لیکن اسلامی روایات میں ایک "مد طعام" (ایرانی من کا چوتھا حصہ یا تقریباً ٧٥٠ گرام) معین ہوا ہے، جب کہ بعض فقہاء نے اسے دو "مد" (ڈیڑھ کلو) قرار دیا ہے۔ [تشریحی نوٹ: ہمارے فقہا کے درمیان، جیسا کہ ہم نے کہا ہے، مشہور وہی ایک "مد" ہے اور اس کی دلیل بہت سی روایات ہیں جو شاید حدِ تواتر میں ہوں، جن میں سے بعض قتلِ خطا کے کفّارے کے بارے میں، بعض قسم کے کفّارے کے بارے میں اور بعض ماہِ مبارک رمضان کے کفّارے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اس ضمیمے کے ساتھ کہ فقہا میں سے کسی نے کفّاروں کی اقسام میں فرق نہیں رکھا، لیکن مرحوم شیخ طوسی سے "خلاف، مبسوط، نہایہ" اور "تبیان" میں منقول ہے کہ اس کی مقدار دو "مد" ہے اور اس سلسلے میں ابوبصیر کی روایت سے استدلال کیا ہے، جو کفّارہ ظہار کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے اور اس کی مقدار دو "مد" معین کرتی ہے۔ لیکن یہ روایت یا تو کفّارہ ظہار سے مخصوص ہونی چاہیے، یا اگر ہم قبول کر لیں کہ فقہا کفّاروں کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہوئے، جیسا کہ واقعی ایسا ہے، تو پھر اسے استحباب پر محمول کرنا چاہیے]۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں ایک مرتبہ پھر اس قسم کے کفّاروں کے اصل مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ اس لیے ہے کہ تم خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان لے آؤ۔" "ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ۔" جی ہاں! کفّاروں کے ذریعے گناہوں کی تلافی ایمان کے ستونوں اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے اور انسان کو مقدراتِ الہٰی کا زیادہ پابند بناتی ہے۔ آیت کے آخر میں، اس کے پیشِ نظر کہ تمام مسلمان اس مسئلے کو ایک پختہ امر کے طور پر قبول کریں، فرماتا ہے: "یہ احکامِ خدا کی حدود ہیں اور جو خدا کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور کافر ہو جائیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" "وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔" یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ "کفر" کے مختلف معانی ہیں، جن میں سے ایک "کفر عملی" ہے، یعنی معصیت و گناہ اور زیرِ بحث آیت میں یہی معنی مراد ہیں، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران کی آیت ٩٧ میں ان لوگوں کے بارے میں جو فریضۂ حج بجا لانے سے گریز کرتے ہیں، ان کے بارے میں فرماتا ہے: "وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ۔" "لوگوں پر لازم ہے کہ جو استطاعت رکھتے ہیں وہ خدا کے لیے اس کے گھر کا ارادہ کریں اور جو شخص کفر کرے (اور حج کو چھوڑ دے)، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اللہ عالمین سے بےنیاز ہے۔" "حد" اس چیز کے معنوں میں ہے جو دو چیزوں کے درمیان مانع ہو۔ اسی لیے مختلف ملکوں کی سرحدوں کو "حدود" کہا جاتا ہے۔ احکامِ الہٰی کو اس لیے "حدود" کہتے ہیں کہ ان کو عبور کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مزید تشریح پہلی جلد، سورۂ بقرہ، آیت ١٨٧ کے ذیل میں ہم پیش کر چکے ہیں۔
بعض احکامِ ظہار
١۔ ظہار کی رسم جس طرف قرآن مجید کی دو آیتوں میں (زیر بحث آیت اور سورۂ احزاب آیت ۴) اشارہ ہوا ہے، زمانۂ جاہلیت کے قبیح کاموں میں سے تھی۔ جب کوئی مرد اپنی بیوی سے اکتا جاتا تو اس غرض سے کہ عورت کو تنگ کرے، یہ کہہ دیتا کہ "أنتِ عليَّ كظهر أمي" (تو میرے لیے میری ماں کی طرح ہے)۔ [تشریحی نوٹ: "ظہر"، مندرجہ بالا عبارت میں، جیسا کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے، پشت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کنایہ ہے اس رابطے کا جو زوجیت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس جملے کے معنی یہ ہوں گے: "تجھ سے زوجیت والا رشتہ، میری ماں سے میرے تعلق کی مانند ہے۔" لسان العرب (مادہ: ظہر) اور تفسیر خوارزمی کی طرف رجوع فرمائیں]۔ اس کے بعد وہ یہ سمجھتا تھا کہ عورت اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ دوسرا شوہر بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس طرح وہ عضوِ معطل ہو کر رہ جاتی۔ اسلام نے اس اقدام کو، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، غلط قرار دیا اور اس کے بارے میں کفارہ کا حکم صادر کیا۔ لہٰذا، اگر کوئی مرد اپنی بیوی سے ظہار کرے تو اس کی بیوی حاکمِ شرعی سے رجوع کر کے اس مرد سے یا تو طلاق حاصل کر سکتی ہے یا اسے ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ جانے کا پابند بنا سکتی ہے۔ لیکن ازدواجی زندگی کو بحال کرنے سے پہلے، وہ کفارہ جو مندرجہ بالا آیات میں بیان ہوا ہے، اس مرد کو ادا کرنا ہو گا: • استطاعت کی صورت میں غلام آزاد کرے، • اور اگر ایسا نہ کر سکے تو مسلسل دو مہینے تک روزے رکھے، • اور اگر اس کی بھی مقدرت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس طرح یہ کفارہ اصلاح و تربیت کا کام کرتا ہے۔ ۲۔ ظہار گناہانِ کبیرہ میں سے ہے اور مندرجہ بالا آیات کا لب و لہجہ اس پر گواہ ہے۔ یہ جو بعض فقہاء نے اسے کفاروں میں شمار کیا ہے اور اسے قابلِ معافی سمجھتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ ۳۔ اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کا کفارہ ادا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، تو کیا محض توبہ و استغفار پر اکتفا کر سکتا ہے اور ازدواجی زندگی کی طرف پلٹ سکتا ہے؟ • فقہاء کے درمیان اس میں اختلاف ہے۔ • ایک جماعت، اس حدیث پر انحصار کرتے ہوئے جو امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے، [بحوالہ: "وسائل الشیعہ"، جلد ١٥، صفحہ ٥٥٤، حدیث ١، باب ۶]: اس نظریہ کی حامل ہے کہ دوسرے کفاروں کے سلسلے میں تو عدمِ استطاعت کی صورت میں توبہ کفیت کر سکتی ہے لیکن کفارۂ ظہار میں کفایت نہیں کرتی۔ لہذا طلاق کے ذریعہ انہیں یک دوسری جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں توبہ و استغفار کفارہ کا بدل ثابت ہوں گے اور وہ اس کی دلیل ایک اور روایت سے پیش کرتے ہیں جو امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے۔ [بحوالہ: "وسائل الشیعہ"، صفحہ ۵۵۵، حدیث ۴]۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ بصورتِ استطاعت اٹھارہ دن کے روزے کافی ہیں۔ [بحوالہ: کنز العرفان، جلد ٢، صفحہ ٢٩٢]۔ مذکورہ روایتوں کو ایک جگہ جمع کرنا بھی ممکن ہے، اس طرح سے کہ ہر طرح کے عدمِ استطاعت کی صورت میں ازدواجی زندگی کی طرف پلٹا جا سکتا ہے۔ اگرچہ مستحب ہے کہ ایسی صورت میں طلاق دے کر بیوی سے الگ ہو جائے، کیونکہ اس قسم کی جمع دونوں احادیث کے معتبر ہونے کی صورت میں ایک واضح تطبیق ہے اور فقہ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ۴۔ بہت سے فقہاء کا نظریہ ہے کہ اگر کوئی کئی مرتبہ ظہار کرے (یعنی مذکورہ جملے کو شدتِ قصد کے ساتھ تکرار کرے)، تو پھر اسے اتنے ہی کفارے دینے ہوں گے، خواہ ایک ہی دفعہ تکرار ہو، مگر یہ کہ تکرار سے اس کا مقصد محض تاکید ہو نہ کہ نیا ظہار۔ ۵۔ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جنسی تعلق قائم کرے، تو • ایک کفارہ ظہار کا ہو گا، • اور دوسرا کفارہ ظہار کے کفارے کی ادائیگی سے پہلے جنسی اختلاط کا ہو گا۔ اس حکم پر فقہاء کے درمیان اتفاق رائے ہے، البتہ مذکورہ آیات اس بارے میں خاموش ہیں، لیکن روایاتِ اہل بیتؑ میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ [بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۱۵، صفحہ ٥٢٦، حدیث ١، ٣، ٤، ٥، ٦]۔ ۶۔ ظہار کے بارے میں اسلام کا واضح اور قطعی طرزِ عمل اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ اسلام اس امر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ خود غرض مرد ظالمانہ رسم و رواج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عورت کے حقوق پامال کریں، بلکہ وہ ہر ایسے غلط اور بےہودہ رسم و رواج کو، جو لوگوں میں رائج ہو، خواہ وہ کتنا ہی مضبوط و مستحکم کیوں نہ ہو، ختم کرتا ہے۔ ۷۔ ایک غلام کو آزاد کرنا، جو ظہار کا پہلا کفارہ ہے، علاوہ اس کے کہ وہ خود غرض مردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی عورت کی غلامی اور کنیزی کے ساتھ ایک پرکشش مناسبت رکھتا ہے، • بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ تمام ممکنہ طریقوں سے غلامی کی رسم کو ختم کرے۔ لہٰذا، نہ صرف کفارۂ ظہار میں، بلکہ قتلِ خطا کے کفارے میں، اسی طرح ماہِ رمضان کے روزے کے کفارے میں (جس نے عمداً روزہ نہ رکھا ہو)، اسی طرح قسم کی مخالفت کے کفارے میں یا نذر توڑنے کے بارے میں بھی یہی حکم وارد ہوا ہے جو غلاموں کی اصل آزادی کو عملی حیثیت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: وُہ جو خُدا سے دُشمنی کرتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 9کیونکہ گزشتہ آیات کا آخری جملہ سب کے لیے خطرے کا اشارہ ہے کہ حدودِ الہٰی کی رعایت کی جائے اور ان سے تجاوز نہ کیا جائے، زیر بحث آیت میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جو نہ صرف یہ کہ ان حدود سے تجاوز کرتے ہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے کے لیے آمادہ ہیں۔ اس طرح خدا، اس دنیا میں اور دوسرے جہان میں، ان لوگوں کے انجام کو ظاہر کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے: "جو لوگ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہوں گے، جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل و خوار ہوئے" (إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ)۔ "یحادّون"، "محادّہ" کے مادّہ سے ہے اور مسلح ہو کر لڑنے کے معنی میں ہے۔ "حدید" یعنی لوہے سے مستفاد ہے اور غیر مسلح ہو کر لڑنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "محادّہ" کے معنی اصل میں ممانعت کے ہیں۔ اس کا مادّہ "حد" ہے جو دو چیزوں کے درمیان مانع کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے دربان کو "حدّاد" کہتے ہیں۔ دونوں معانی نتیجے کے لحاظ سے ایک ہی ہیں، اگرچہ دونوں ذلیل ہونے کے مفہوم میں دو مختلف اصل سے لیے گئے ہیں۔ "کُبِتُوا" کا مادّہ "کَبْت" (بروز "ثبت") ہے۔ اس کے معنی مانع کے ہیں، ایسا مانع جو ذلیل بھی کرتا ہو۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا ان لوگوں کی سزا ذلت و خواری قرار دیتا ہے جو اس سے اور اس کے پیغمبر سے لڑنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ان کو اپنے لطفِ بےپایاں سے محروم کر دیتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے "کُبِتُوا" کو "نفرین" کے معنی میں لیا ہے۔ چونکہ خدائے قادرِ مطلق کی طرف سے کسی کے لیے نفرین اس بات کی دلیل ہے کہ جس گروہ کے خلاف نفرین ہے، وہ ذلیل و خوار ہے، لیکن آیت کی تعبیر کا ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ خبریہ ہے نہ کہ انشائیہ]۔ یہ تعبیر اس تعبیر کی نظیر ہے جو سورۂ بقرہ کی آیت ١١٤ میں آئی ہے، جس میں ان افراد کے بارے میں بیان ہوا ہے جو لوگوں کو مساجد میں جانے سے روکتے ہیں، عبادت سے روکتے ہیں اور دینِ حق سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں، فرماتا ہے: "لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔" "ان کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔" سورۂ مائدہ کی آیت ٣٣ میں بھی اسی طرح ان لوگوں کے بارے میں جو خدا اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں اور زمین میں فساد کریں، فرمایا گیا ہے: "ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔" "یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی کا باعث ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذابِ عظیم ہے۔" اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "ہم نے واضح آیات نازل کیں" (وَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ)۔ اس سلسلے میں کافی اتمامِ حجت ہو چکا ہے اور مخالفت کے لیے کوئی عذر یا بہانہ باقی نہیں رہا۔ اس کے باوجود اگر مخالفت کریں تو پھر انہیں سزا ملنی چاہیے اور نہ صرف اس دنیا میں بلکہ کفار کے لیے قیامت میں بھی ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے: "وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ۔" تو اس طرح گزشتہ جملے میں ان کے دنیاوی عذاب کی طرف اشارہ ہے اور اس جملے میں ان کے اخروی عذاب کی طرف۔ ان معانی پر شاہد: "كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔" "جس طرح ان سے پہلے کے لوگ رسوا ہوئے۔" کا جملہ دلالت کرتا ہے۔ بعد والی آیت بھی انہی معانی کی گواہی دیتی ہے۔ بہرحال، یہ خدائی تہدید ان لوگوں کے بارے میں ہے جو پیغمبر اور قرآن کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جنگِ بدر، خندق، خیبر وغیرہ میں ذلت و خواری اور شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ آخرکار فتح مکہ نے ان کے اقتدار کی بساط الٹ دی اور اسلام ہر جگہ کامیاب ہوا۔ بعد والی آیت میں ان کے اخروی عذاب کے وقوع کے وقت کے بارے میں اس طرح فرمایا گیا ہے: "یہ اس دن ہو گا جب خدا ان کو قبروں سے اُٹھائے گا اور جو اعمال انہوں نے انجام دیے ہیں، انہیں ان سے باخبر کرے گا۔" "يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا" [تشریحی نوٹ: "یوم" ظرف ہے اور "للكافرین" سے متعلق ہے یا "مہین" سے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے اور بہت سے مفسرین نے اسی سے اتفاق کیا ہے۔ اور یہ جو بعض مفسرین نے احتمال تجویز کیا ہے کہ "اذکر" محذوف ہے، یہ بہت زیادہ محذوف نظر آتا ہے]۔ جی ہاں! خدا نے ان کے تمام اعمال کو شمار کیا ہے، اگرچہ وہ خود اسے فراموش کر چکے ہیں: "أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ۔" اسی وجہ سے جب ان کی نظر اپنے نامۂ اعمال پر پڑے گی تو ان کی فریاد بلند ہو گی: "مَا لِهَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا۔" (اس کتاب کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا کام ایسا نہیں جو اس میں منضبط نہ ہو) (کہف: ۴۶)۔ اور یہ خود ایک دردناک عذاب ہے کہ خدا ان کے بھولے ہوئے گناہ کو یاد دلائے گا اور وہ میدانِ حشر میں تمام مخلوق کے سامنے رسوا ہوں گے۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "خدا ہر چیز کا شاہد اور ہر جگہ ناظر ہے" (وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ)۔ یہ درحقیقت بمنزلہ دلیل ہے اس چیز کے لیے جو گزشتہ جملے میں بیان ہوا ہے۔ جی ہاں! خدا کا حضور ہر جگہ اور ہر زمانہ میں، خود ہمارے اندر اور باہر، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ نہ صرف اعمال بلکہ وہ ہماری نیتوں اور عقائد کا بھی احصا کرتا ہے اور وہ عظیم دن جو "یوم البروز" ہے، ان سب باتوں کو کھول دے گا تاکہ خود انسان بھی اور دوسرے بھی جان لیں کہ اگر سخت عذاب نازل ہوا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کے بعد خدا کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے اور ہر چیز سے آگاہ ہونے کی تاکید کے لیے مسئلہ نجویٰ کو موضوع بنا کر فرماتا ہے: " کیا تو نہیں جانتا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، خدا اسے جانتا ہے؟" (أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ)۔ اگرچہ رُوئے سخن یہاں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں۔ [تشریحی نوٹ: "أَلَمْ تَرَ" یہ "رؤیت" کے مادہ سے ہے جو اصل میں حسی مشاہدہ کے معنی میں آتا ہے، لیکن بہت سے مواقع پر شہود قلبی اور علم و آگاہی کے معنی میں آیا ہے]۔ درحقیقت، یہ مسئلہ نجویٰ کے بیان کا دیباچہ ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "کبھی تین افراد آپس میں سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان کا چوتھا ہوتا ہے اور کبھی پانچ افراد آپس میں باتیں نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان کا چھٹا ہوتا ہے۔" (مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "نجویٰ" اگرچہ مصدر ہے، لیکن یہاں اس فاعل کے معنوں میں آیا ہے، جیسے کہ کہا جائے "زید عدل" (زید خود عدالت ہے)]۔ اور نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ تعداد مگر یہ کہ خدا ان کے ہمراہ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی ہوں:"وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا۔" پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے:"ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔"
اس آیت میں چند نکات قابل توجہ ہیں
1۔ نجویٰ اور نجات اصل میں بلند جگہ کے معنوں میں ہیں جو اپنے ارتفاع کی وجہ سے اپنے اطراف سے جدا ہوتی ہے۔ چونکہ انسان جب چاہتا ہے کہ دوسرا اس کی باتوں سے آگاہ نہ ہو تو وہ ایسی جگہ جاتا ہے جو دوسروں سے الگ ہو، اس لیے سرگوشی کو نجویٰ کہتے ہیں۔ یا پھر اس لحاظ سے کہ چونکہ نجویٰ کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کے اسرار دوسروں تک نہ پہنچیں، لہٰذا وہ انہیں نجات بخشتا ہے۔ 2۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ نجویٰ حتمی طور پر تین یا تین سے زیادہ افراد کے مابین ہونا چاہیے، اور اگر صرف دو افراد کے درمیان ہو تو اسے سرار (بروزن کنار) کہتے ہیں، لیکن یہ خود آیت کے ظہور کے خلاف ہے کیونکہ: "وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ۔" کا جملہ تین سے کم افراد یعنی دو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ البتہ جس وقت دو شخص آپس میں نجویٰ کریں تو ضروری ہے کہ تیسرا آدمی ان کے قریب موجود ہو، ورنہ نجویٰ لازم نہیں آتا۔ لیکن یہ بات جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ربط نہیں رکھتی۔ 3۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں پہلے تین افراد کے نجویٰ کی اور پھر پانچ افراد کے نجویٰ کی بات ہوئی ہے، لیکن چار افراد کے نجویٰ کی، جو ان دونوں کے درمیان ہے، بات نہیں ہوئی۔ اگرچہ یہ محض مثال کی بات ہے، مگر بعض نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، جن میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ کلام میں فصاحت و بلاغت کی رعایت رکھی گئی ہے اور تکرار سے پہلو بچایا گیا ہے، اس لیے کہ اگر یوں فرمایا جاتا کہ تین افراد نجویٰ کرتے ہیں، چار افراد نجویٰ کرتے ہیں، پانچ افراد نجویٰ کرتے ہیں تو یہ فصاحت سے بعید ہوتا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیات منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو ٹھیک انہی اعداد کے مطابق تھے، یعنی تین اور پانچ کی تعداد میں تھے۔ 4۔ اس سے مراد کہ خدا چوتھا یا چھٹا ہے، یہ ہے کہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور ہر چیز سے آگاہ ہے، ورنہ اس کی پاک ذات نہ مکان رکھتی ہے اور نہ اعداد کے حوالے سے اس کی تعریف و توصیف کی جا سکتی ہے۔ اس کی یگانگت بھی وحدتِ عددی نہیں ہے، بلکہ اس معنی میں ہے کہ وہ مثل، نظیر اور شبیہ نہیں رکھتا۔ 5۔ آیت کے ذیل میں بات کو نجویٰ سے بھی اوپر لے جا کر کہتا ہے کہ خدا ہر جگہ لوگوں کے ساتھ ہے اور قیامت کے دن ان کو ان کے اعمال سے باخبر کرے گا۔ آیت کو خدا کے احاطۂ عملی پر جا کر ختم کرتا ہے، جیسا کہ آیت کی جو ابتدا ہے وہ تمام چیزوں کے بارے میں خدا کے احاطۂ علمی کو بیان کرتی ہے۔ 6۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے لیے ابن عباس سے ایک شانِ نزول نقل کی ہے کہ یہ آیت تین افراد ربیعہ، حبیب اور صفوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ خدا اس چیز کو جو ہم کہتے ہیں جانتا ہے۔ دوسرے نے کہا: وہ کچھ مقدار کو جانتا ہے اور کچھ کو نہیں جانتا۔ تیسرے نے کہا: اگر کچھ مقدار کو جانتا ہے تو پھر ساری بات کو جانتا ہے۔ تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور بتایا کہ خدا ہر نجویٰ میں موجود ہے اور آسمان و زمین کی ہر چیز سے آگاہ ہے، تاکہ یہ دل کے اندھے اپنی غلط فہمی سے بچ جائیں۔ [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۹، صفحہ ۲۶۵]۔
ایک نکتہ
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ خدا نہ جسم ہے اور نہ عوارضِ جسمانی رکھتا ہے، اس وجہ سے اس کے لیے زمان و مکان کا کوئی تصور نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اگر ہم تصور کریں کہ اس کے لیے کوئی جگہ ہو جہاں وہ حاضر و ناظر ہو، تو ہم نے اسے محدود کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ہر چیز پر احاطۂ علمی رکھتا ہے، باوجود یکہ اس کے لیے کوئی مکان متصور نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں، اس کے فرشتے ہر جگہ موجود ہیں، جو تمام اقوال و اعمال کو سنتے اور دیکھتے ہیں اور ثبت کرتے ہیں۔ اسی لیے اس آیت کی تفسیر میں ہم حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث سنتے ہیں: (إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ اسْتِيلَاءَ أُمَنَائِهِ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي رَكَّبَهَا فِيهِمْ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ وَإِنَّ فِعْلَهُمْ فِعْلُهُ)۔ "مراد یہ ہے کہ خدا کے اُمنا اس قدرت کی بنا پر جو انہیں بخشی گئی ہے، اس کی ساری مخلوق پر تسلط رکھتے ہیں اور چونکہ ان کا فعل اُس کا فعل ہے، لہٰذا اِس حضور کو اُس کی طرف نسبت دی گئی ہے۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۵۷ حدیث ۲۰]۔ البتہ یہ اس معاملے کا ایک رُخ ہے، لیکن دوسری جہت سے خود ذاتِ خدا کا حضور پیش کیا جا رہا ہے۔ ہم ایک اور حدیث میں دیکھتے ہیں کہ دنیائے عیسائیت کے ایک بہت بڑے عالم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے پوچھا: "خدا کہاں ہے"؟ فرمایا: "هُوَ هَاهُنَا وَهَاهُنَا وَفَوْقُ وَتَحْتُ وَمُحِيطٌ بِنَا وَمَعَنَا وَهُوَ قَوْلُهُ: مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ..." "وہ اِس جگہ ہے اور اُس جگہ ہے، وہ اُوپر ہے، نیچے ہے اور ہم پر احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے اور یہی معنی ہیں جن کے متعلق خدا کہتا ہے: تین افراد آپس میں سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان کا چوتھا ہوتا ہے۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۵۹، حدیث ۲۳]۔ مشہور حدیثِ اہلیلجہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا کو "سمیع" کا نام جو دیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ: "تین افراد آپس میں نجویٰ نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے۔" اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: "يَسْمَعُ دَبِيبَ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا، وَخَفَقَانَ الطَّيْرِ فِي الْهَوَاءِ، لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ خَافِيَةٌ، وَلَا شَيْءٌ مِمَّا أَدْرَكَهُ الْأَسْمَاعُ وَالْأَبْصَارُ، وَمَا لَا تُدْرِكُهُ الْأَسْمَاعُ وَالْأَبْصَارُ، مَا جَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَمَا دَقَّ وَمَا صَغُرَ وَمَا كَبُرَ۔" "سخت پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی صدا وہ سنتا ہے اور فضا میں پرندوں کے پر مارنے کی آواز وہ سنتا ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ شے جس کا کان اور آنکھیں ادراک کرتی ہیں اور وہ جس کا ادراک نہیں کرتیں، چھوٹی اور بڑی سب کی سب اس کے لیے ظاہر و آشکار ہیں۔" [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۳۵۸، حدیث ۲۱]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9پہلی زیر بحث آیت کے بارے میں دو شانِ نزول نقل ہوئی ہیں، جن میں سے ہر ایک آیت کے ایک حصے سے مربوط ہے۔ پہلی یہ کہ یہودیوں اور منافقوں کی ایک جماعت مؤمنین سے علیحدہ ہو کر آپس میں سرگوشی کرتی اور ایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کرتی اور کبھی یہ کہ مؤمنین کو آنکھوں سے پریشان کُن اشارے کرتی۔ جب مؤمنین یہ منظر دیکھتے تو کہتے: "ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عزیزوں اور رشتہ داروں کے بارے میں، جو جہاد پر گئے ہوتے ہیں، کوئی پریشان کُن خبر پہنچی ہے، یہ اُس کے متعلق باتیں کر رہے ہیں۔" یہ چیز مؤمنین کے غم و اندوہ کا باعث بنتی۔ جب انہوں نے یہ حرکت بار بار کی تو مؤمنین نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ رسولِ خدا نے حکم دیا کہ کوئی شخص مسلمانوں کے سامنے ایک دوسرے سے سرگوشی نہ کرے، تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی (اور انہیں اس کام پر سختی سے سرزنش کی)۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٤٩]۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور بہت سی کتبِ تفسیر نے تحریر کیا ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور "السلام علیک" کے بجائے "السام علیک" یا "أبا القاسم" کہا۔ (اس کا مفہوم ہے: "تجھ پر موت ہو" یا "ملامت و خستگی ہو")۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں فرمایا: "وعلیکم" (یعنی: یہی چیز تم پر ہو)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں اس مفہوم کی طرف متوجہ ہوئی تو میں نے کہا: عَلَیْکُمُ السَّامُ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْكُم۔ (یعنی: تم پر موت وارد ہو، خدا تم پر لعنت کرے اور تم پر غضب نازل ہو)۔ تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "نرمی سے کام لو اور سختی و بدگوئی سے پرہیز کرو۔" تو میں نے کہا: "کیا آپ نے نہیں سنا کہ وہ کہہ رہے ہیں: 'تجھ پر موت ہو'؟" فرمایا: "کیا تُو نے نہیں سنا کہ میں نے ان کے جواب میں 'وعلیکم' کہا ہے؟" یہ وہ موقع تھا کہ مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی، کہ "جس وقت یہ گروہ تمہارے پاس آتا ہے تو ایسا سلام کرتا ہے جیسا سلام خدا نے تم پر نہیں کیا۔" [بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ٢٨، صفحہ ١٣]۔
تفسیر : نجوی کی مباحث کا تسلسل
اِن آیات کی بحث اس طرح نجویٰ کے ان مباحث کا تسلسل ہے جو گزشتہ آیتوں میں تھے۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا تُو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں سرگوشی سے منع کیا گیا تھا؟ اس کے بعد وہ اس کام کی طرف پلٹے جس کی ممانعت کی گئی تھی اور وہ گناہ، تعدی اور رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کو انجام دینے کے لیے نجویٰ کرتے ہیں۔" (أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ)۔ اس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ نجویٰ سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ ایسا کام ہے جو دوسروں میں بدگمانی اور پریشانی پیدا کرتا ہے، لیکن انہوں نے نہ صرف اس حکم پر کان نہیں دھرے بلکہ اپنے نجویٰ کے لیے ایسے امور منتخب کیے جن میں گناہ کی انجام دہی تھی اور جو خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف تھے۔ "اثم" اور "عدوان" میں اس لحاظ سے فرق ہے کہ: • "اثم" ان گناہوں کو کہتے ہیں جو انفرادی پہلو رکھتے ہیں، مثلاً (شراب پینا)۔ • "عدوان" ان امور کے لیے آتا ہے جو دوسروں کے حقوق کے سلسلے میں تجاوز کا باعث ہوں۔ • "معصیت الرسول" ان فرامین سے تعلق رکھتی ہے جنہیں خود پیغمبرِ اسلام، حکومتِ اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے، اسلامی معاشرے کی مصلحتوں کے سلسلے میں صادر فرماتے تھے۔ اس وجہ سے وہ اپنی سرگوشیوں میں ہر قسم کے غلط کاموں کو شامل کرتے تھے، قطع نظر اس سے کہ وہ عمل خود انہی سے تعلق رکھتے تھے، یا دوسروں سے متعلق تھے، یا حکومتِ اسلامی اور ذاتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا تعلق تھا۔ "یَعُودُونَ" اور "یَتَنَاجَوْنَ" کی تعبیر، جو فعلِ مضارع کی صورت میں آئی ہے، بتاتی ہے کہ وہ یہ کام بار بار کرتے تھے اور ان کا مقصد مؤمنین کے دلوں میں پریشانی اور شک پیدا کرنا تھا۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت ایک اخبارِ غیبی کے عنوان سے ان کے غلط اعمال کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہے اور ان کی راہِ انحراف کا انکشاف کرتی ہے۔ اِس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے، منافقوں اور یہودیوں کے ایک اور غلط عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے: "اور جس وقت وہ تیرے پاس آتے ہیں تو ایسا سلام کرتے ہیں جیسا خدا نے تجھے نہیں کیا۔" (وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ)۔ "حَیَّوْكَ"، "تَحِیَّة" کے مادہ سے ہے، جو اصل میں "حیات" سے لیا گیا ہے اور سلامتی و زندگی کی دعا کرنے کے معنی میں ہے۔ اس آیت میں "تحیتِ الٰہی" سے مراد وہی "السلام علیک" (یا "سلام اللہ علیک") کا جملہ ہے، جس سے ملتا جلتا جملہ قرآنی آیات میں پیغمبروں اور بہشتیوں کے لیے بارہا آیا ہے۔ منجملہ دیگر آیتوں کے، ہم سورۂ صافات کی آیت ۱۸۱ میں دیکھتے ہیں: "وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔" (پروردگار کے تمام رسولوں پر سلام)۔ باقی رہا وہ سلام جو خدا نے نہیں بتایا اور جو جائز نہیں تھا، وہ "السَّامُ عَلَیْکَ" کا جملہ تھا (یعنی: تجھ پر موت، یا ملامت و خستگی ہو)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کے سلام کی طرف اشارہ ہو، جیسا کہ وہ کہتے تھے: "اَنْعِمْ صَبَاحًا" (تیری صبح راحت سے ہم کنار ہو)۔ "اَنْعِمْ مَسَاءً" (تیرا وقتِ عصر راحت سے ہم کنار ہو)۔ بغیر اس کے کہ خدا کی طرف توجہ کرے اور اس سے اپنے مقابل کے لیے سلامتی طلب کرے۔ یہ صورتِ حال اگرچہ زمانۂ جاہلیت میں تھی، لیکن اس کا حرام ہونا ثابت نہیں ہے، لہٰذا مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں اسے پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ نہ صرف یہ کہ بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں، بلکہ اس طرح بادۂ غرور میں مست ہیں کہ دل میں کہتے ہیں: اگر ہمارے اعمال بُرے ہیں اور خدا جانتا ہے، تو ہماری باتوں کی وجہ سے ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں کرتا'؟ (وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ)۔ اس طرح وہ پیغمبر کی نبوت پر اپنے ایمان کے نہ ہونے کو ثابت کرتے ہیں، اور خدا کے علمی احاطہ پر بھی اپنے ایمان کے نہ ہونے کو پایۂ ثبوت تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن قرآن ایک مختصر سے جملے میں انہیں اس طرح جواب دیتا ہے: "جہنم ان کے لیے کافی ہے اور کسی اور عذاب کی ضرورت نہیں ہے، وہی جہنم جس میں وہ عنقریب داخل ہوں گے اور وہ کیا ہی بُری جگہ ہے!" (حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ)۔ بہرکیف، یہ تعبیر اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ وہ دنیاوی عذاب سے بچ جائیں گے، بلکہ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ اگر کوئی اور عذاب، جہنم کے عذاب کے علاوہ، نہ بھی ہو تو یہ جہنم کا عذاب ہی ان کے لیے کافی ہے۔ وہ اپنے تمام اعمال کا عذاب اکٹھا جہنم میں دیکھیں گے۔ چونکہ مؤمنین کبھی کبھی ضرورت اور اپنی دلی خواہش کے ماتحت سرگوشی کرتے تھے، لہٰذا بعد والی آیت میں رُوئے سخن ان کی طرف کرتے ہوئے، اس خیال کے پیش نظر کہ وہ اس کام میں منافقوں اور یہودیوں جیسے گناہوں میں آلودہ نہ ہوں، فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! جس وقت تم نجویٰ کرو، تو گناہ، تعدی اور رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کے لیے نجویٰ نہ کرو۔ تمہارے نجویٰ کا مضمون پاکیزہ ہو اور خوفِ خدا لیے ہوئے ہو۔ نیک کاموں اور تقویٰ کے لیے نجویٰ کرو۔" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى)۔ "اور خدا کی معصیت سے پرہیز کرو، تم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے۔" (وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ)۔ اس تعبیر سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ نجویٰ، اگر مؤمنین کے درمیان ہو، تو وہ سوء ظن اور بدگمانی کے جذبات کو نہ ابھارے، پریشانی پیدا نہ کرے اور اس کا نفسِ مضمون نیکیوں کی وصیت پر مبنی ہو، تو پھر وہ جائز ہے۔ لیکن اگر نجویٰ یہودیوں اور منافقوں کے درمیان واقع ہو، جس کا مقصد ہی پاکیزہ دل مؤمنین کو تکلیف پہنچانا ہو، تو تب یہ عمل قبیح اور حرام ہے، چہ جائیکہ اس کا نفسِ مضمون بھی شیطانی ہو۔ اس لیے بعد والی آیت میں، جو زیرِ بحث آیتوں میں سے آخری آیت ہے، مزید فرمایا: "نجویٰ صرف شیطان کی طرف سے ہے۔" (إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ)۔ "اس مقصد کے پیش نظر کہ مؤمنین پریشان و غمگین ہوں۔" (لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا)۔ لیکن انہیں جان لینا چاہیے کہ شیطان، اذنِ پروردگار کے بغیر، مؤمنین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ)۔ عالمِ ہستی میں جو بھی مؤثر ہے، اس کی تاثیر حکمِ خدا ہی سے ہے، یہاں تک کہ آگ کا جلانا اور تلوار کا کاٹنا بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہے۔ اگر جلیل (اللہ) حکم نہ دے تو خلیل (ابراہیم علیہ السلام) کے حکم سے چھری نہیں کاٹتی۔اس لیے مومنین کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ڈرنا چاہیے، اور اس کے غیر سے محبت نہ کی جائے۔ (وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ)۔ وہ توکل کی روح اور خدا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اچھی طرح مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں، شیطان کے پیروکاروں کے منصوبے ناکام بنا سکتے ہیں اور ان کی سازشوں کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔
چند اهم نکات: ١۔ نجویٰ کی اقسام اور سرگوشی کی باتیں:
یہ عمل فقہِ اسلامی کے لحاظ سے شرائط کے اختلاف کے مطابق مختلف احکام رکھتا ہے اور اصطلاح کے مطابق پانچوں احکام میں تقسیم ہوتا ہے۔ یعنی کبھی حرام ہے اور وہ اس صورت میں کہ کسی مسلمان کی اذیت اور اس کے وقار کو برباد کرنے کا موجب ہو (جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں اس کی طرف اشارہ ہوا تھا)۔ چونکہ اس کا مقصد مومنین کو غمگین کرنا ہے، اس لیے ایسا نجویٰ شیطانی ہے۔ اس کے برعکس، یہ کبھی واجب ہو جاتا ہے اور وہ اس صورت میں کہ جب کوئی ایسا مسئلہ زیرِ بحث ہو جس کا پوشیدہ رکھنا ضروری ہو، اس کا افشا خطرناک ہو اور مسلمانوں کے حقوق کو برباد کرتا ہو۔ یہی نجویٰ کبھی مستحب ہو جاتا ہے، وہ اس صورت میں کہ جب انسان اچھے، نیک اور تقویٰ کے کاموں میں اسے اختیار کرے۔ اس طرح اس کے بارے میں کراہت اور اباحت کا حکم بھی ہے۔ اصولی طور پر بات یہ ہے کہ اگر کوئی اہم ترین مقصد پیشِ نظر نہ ہو، تو نجویٰ کرنا کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے اور آدابِ مجلس کے خلاف ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے بےاعتمادی اور بےاعتنائی کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: إِذَا كُنتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ۔ "جب تم تین افراد ایک جگہ ہو، تو دو افراد تیسرے سے الگ ہو کر سرگوشی نہ کرو، کیونکہ یہ چیز تیسرے شخص کو غمگین کر دیتی ہے۔" [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، در ذیل آیاتِ زیر بحث و درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۸۴، اصول کافی، جلد ۲، صفحہ ۴۸۳، باب المناجات، حدیث ۱، ۲]۔ ایک اور حدیث میں، ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کے اجرا کے لیے ایک رات کسی ضروری مقصد کے پیشِ نظر پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خانۂ اقدس کی طرف رواں تھے اور بہت سے افراد جمع ہو گئے تھے اور آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور فرمایا: "مَا هَذِهِ النَّجْوَىٰ؟ أَلَمْ تُنْهَوْا عَنِ النَّجْوَىٰ"؟ "یہ کیا سرگوشی ہے؟ کیا تمہیں نجویٰ سے منع نہیں کیا گیا"؟ [بحوالہ: درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۸۴]۔ دیگر متعدد روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان، مومنین کو غمگین کرنے کے لیے ہر ذریعہ سے فائدہ اٹھاتا ہے، نہ صرف نجویٰ سے، بلکہ خواب کے عالم میں کئی مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کر دیتا ہے، تاکہ وہ اس کے غم و اندوہ کا موجب ہوں۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ مومنین اس قسم کے مواقع پر خدا کی پاک ذات سے پناہ طلب کریں اور اسی پر توکل کر کے اس قسم کے شیطانی مخمصے کو اپنے سے دور کر سکتے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۶۱-۲۶۲، حدیث ۳۱-۳۲]۔
۲۔ خدا کا سلام کون سا ہے؟
عام طور پر مجالس و محافل میں ورود کے موقع پر لوگ ایک دوسرے سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو احترام و محبت کی ترجمانی کرتی ہیں اور وہ اس کا نام "تحیت" رکھتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کو بھی خدا کی رضا کا حامل ہونا چاہیے، جیسے کہ معاشرت کے تمام آداب و رسوم کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ سلام میں، مقابل کے احترام و اکرام کے علاوہ، خدا کی یاد بھی جھلکنی چاہیے، جیسے کہ سلام کرتے وقت ہم اپنے مقابل کی سلامتی کی خدا سے استدعا کرتے ہیں۔ تفسیرِ علی بن ابراہیم میں زیرِ بحث آیات کے ذیل میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رضی اللہ عنہم) کی ایک جماعت، جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، تو "أنعم صباحًا" اور "أنعم مساءً" کہتی ہوئی آئی۔ (تیری صبح راحت سے ہم کنار ہو اور تیرا وقتِ عصر راحت سے ہم کنار ہو) یہ زمانۂ جاہلیت کا سلام تھا۔ قرآن نے اس سے منع کیا اور رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا: "خدا نے ہمیں اس سے بہتر سلام کا حکم دیا ہے، وہ اہلِ بہشت کا سلام ہے: 'السلام علیکم'۔" [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، حدیث ۳۰]۔ اسلامی سلام کا امتیاز یہ ہے کہ: 1. یہ ذکرِ خدا کو لیے ہوئے ہے۔ 2. یہ ہر قسم کی سلامتی کو پیش کرتا ہے، خواہ وہ دین و ایمان کی سلامتی ہو یا جسم و جان کی۔ سلام کا مقصد محض راحت و آسائش کی خواہش نہیں ہے۔ [بحوالہ: کتاب "بلوغ الأرب فی معرفة أحوال العرب" میں زمانۂ جاہلیت میں عربوں کے سلام کی تفصیلی بحث اور "أنعم صباحًا و مساءً" کے جملہ کی تفسیر مذکور ہے، جلد ۲، صفحہ ۱۹۲]۔ سلام اور اس کے آداب کے سلسلہ میں ہم سورہ نساء کی آیت ۸۶ کے ذیل میں تفصیلی بحث پیش کر چکے ہیں۔ تفسیر نمونہ جلد ۴، ص ۴۱ سے آگے ملاحظہ فرمائیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9طبرسی نے مجمع البیان میں اور آلوسی نے روح المعانی میں اور دوسرے مفسرین کی ایک جماعت نے تحریر کیا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جمعہ کو صفہ (بڑا سا چبوترہ جو مسجد نبوی کے قریب تھا) پر تشریف فرما تھے اور ایک گروہ آپ کی خدمت میں حاضر تھا اور جگہ تنگ تھی۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ عادت تھی کہ آپ مجاہدین بدر کا زیادہ احترام کرتے تھے، خواہ وہ مہاجر ہوں یا انصار۔ اسی دوران بدریوں کا ایک گروہ آیا۔ اس وقت دوسرے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور جگہ خالی نہ تھی۔ وہ جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آئے تو انہوں نے سلام کیا۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوابِ سلام دیا مگر وہ لوگ کھڑے رہے اور منتظر رہے کہ حاضرین انہیں جگہ دیں، لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ اُٹھا۔ یہ بات پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار گزری۔ اپنے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کچھ کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رُخ کیا اور فرمایا: فلاں، فلاں شخص کھڑا ہو جائے۔ اس طرح چند افراد کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اُٹھایا تاکہ آنے والے بیٹھ سکیں۔ (یہ ایک قسم کا ایمان اور جہاد میں سبقت کرنے والوں کے بارے میں ادب اور احترام کا درس تھا)۔ لیکن یہ بات ان چند افراد کو ناگوار گزری جو اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ خفگی کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں تھے۔ منافقین، جو ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتے تھے، کہنے لگے: "پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ وہ لوگ جو عاشقانہ انداز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد بیٹھے ہوئے تھے، انہیں ان لوگوں کی خاطر جو مجلس میں بعد میں وارد ہوئے تھے، اُٹھا دیا۔" اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور مجلسوں میں بیٹھنے کے آداب کے کچھ حصے کی ان کے لیے شرح کی۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ١٨، صفحہ ٢٥۔ مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٥٣ دوسرے مفسرین رازی، قرطبی، سیوطی اور فی ظلال نے بھی یہی مفہوم زیر بحث آیت کے ذیل میں مختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے]۔
تفسیر: مجالس میں پہلے آنے والوں کا احترام
اس حکم کے بعد، جو گزشتہ آیات میں مجالس میں سرگوشی ترک کرنے اور اسے مخصوص مواقع تک محدود کرنے کے سلسلے میں آیا تھا، اس آیت میں ایک اور مجلسی ادب کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! جس وقت تم سے کہا جائے کہ مجلس کو وسعت دو اور نئے آنے والوں کو جگہ دو، تو اس کی اطاعت کرو۔" (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا) [بحوالہ: ان میں سے ایک باب تفعل سے ہے اور دوسری باب ثلاثی مجرد سے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پہلی تعبیر تکلف کی حامل ہے اور دوسری اس سے خالی ہے، یعنی جب کہنے والا زحمت کرتے ہوئے کہے کہ نئے لوگوں کو جگہ دو، تو وہ بغیر کسی زحمت کے جگہ دیں (غور کیجیے)]۔ اگر ایسا کرو گے تو خدا تمہاری جگہ کو جنت میں وسعت بخشے گا اور اس جہان میں بھی تمہارے دل، جان اور رزق میں وسعت دے گا۔ (يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ)۔ "تفسحوا"، "فسح" (بروزن قفل) کے مادّہ سے ہے اور وسیع مکان کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر "تفسہ" وسعت دینے کے معنی میں ہے اور اسے آدابِ مجلس میں شامل سمجھنا چاہیے۔ جس وقت کوئی نیا شخص مجلس میں وارد ہو تو حاضرین قریب قریب ہو جائیں اور اسے جگہ دے دیں تاکہ وہ پریشان اور نادم نہ ہو۔ یہ موضوع محبت اور دوستی کے رشتوں کو محکم کرنے کے وسائل میں سے ہے۔ قرآن مجید، جو عظیم آسمانی کتاب ہے اور مسلمانوں کے بنیادی قانون کی حیثیت رکھتا ہے، اس نے اخلاقی مسائل اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی بہت سی جزئیات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اس نے اہم اور بنیادی قوانین کے ذیل میں بھی ان جزئیات کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ مسلمان یہ تصور نہ کریں کہ صرف کلی اصولوں کا پابند ہونا ہی کافی ہے۔ (يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ)۔ "خدا تمہیں وسعت بخشے گا" کے جملے کی مفسرین کی ایک جماعت نے یہ تفسیر کی ہے کہ جنت کی مجالس کو وسعت دی جائے گی۔ یہ وہ اجر ہے جو خدا ان افراد کو دے گا جو اس جہان میں آدابِ مجلس کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ چونکہ آیت مطلق ہے اور اس میں کوئی قید و شرط نہیں ہے، لہٰذا اس کا مفہوم وسیع اور خدا کی طرف سے ہر قسم کی وسعت بخشنے پر حاوی ہے۔ یہ وسعت: جنت میں ہو یا دنیا میں، روح و فکر میں ہو یا عمر اور زندگی میں، مال و متاع میں ہو یا رزق میں، یہ سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ فضلِ خدا سے یہ بعید نہیں ہے کہ اس قسم کے چھوٹے سے کام کے صلے میں وہ اس طرح کا عظیم اجر عطا کر دے۔ کیونکہ اجر کی مقدار ہمارے اعمال پر نہیں بلکہ خدا کے کرم پر منحصر ہے۔ اور چونکہ کبھی مجلس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ کچھ افراد کے اٹھے بغیر دوسروں کے لیے جگہ نہیں بنتی، یا اگر ہوتی ہے تو ان کی ضرورت کے مطابق نہیں ہوتی، لہٰذا آیت کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جس وقت تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو، تو اٹھ کھڑے ہو۔" (وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا) [تشریحی نوٹ: "انشزوا"، "نشز" (بروزن نصر) کے مادہ سے ہے، جس کے معنی بلند زمین کے ہیں۔ 🔹 اس لیے یہ لفظ اٹھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ 🔹 ناشزہ اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو شوہر سے برتر سمجھے اور اس کی اطاعت نہ کرے۔ 🔹 یہ الفاظ کبھی زندہ کرنے کے معنی میں بھی آتے ہیں، کیونکہ یہ چیز کسی کے اپنی جگہ سے اٹھنے کا سبب بنتی ہے]۔ نہ تو بہانے بناؤ اور نہ جب اٹھو، تو پریشان ہو۔ کیونکہ بعض اوقات نئے آنے والے افراد بیٹھنے کے تم سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں، زیادہ تھکن کی وجہ سے، ضعیفی کی وجہ سے، خاص احترام کی بنا پر، یا کسی اور اہم سبب کی بنا پر، لہٰذا حاضرین کو چاہیے کہ وہ ایثار سے کام لیں اور اس اسلامی ادب پر عمل پیرا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے شانِ نزول میں پڑھا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جماعت کو، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، حکم دیا کہ اپنی جگہ ان نوواردوں کو دے دیں جو مجاہدین بدر میں سے ہیں اور علم و فضل کے لحاظ سے دوسروں پر برتری رکھتے ہیں۔ بعض مفسّرین نے، اس بنا پر کہ "انشزوا" (اُٹھ کھڑے ہو) یہاں مطلق ہے، اس کی زیادہ وسیع معانی پر مبنی تفسیر کی ہے، جس میں مجلس سے اٹھنا بھی شامل ہے۔ اور یہ جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہونے، نماز اور دیگر امورِ خیر کے لیے مستعد ہونے کے معانی پر بھی حاوی ہے۔ لیکن اس سے پہلے جملے کی طرف توجہ سے، جس میں "فی المجالس" کی قید ہے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جملہ بھی اسی شرط کا پابند ہے، جس کی تکرار سے، قرینہ کے موجود ہونے کی بنا پر، پرہیز کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس حکم کے اجر کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "اگر ایسا کرو گے تو خدا ان لوگوں کو جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور علم سے بہرہ ور ہیں، عظیم درجات بخشے گا۔" (يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ) [تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت میں "یرفع" اس صیغہ امر کی وجہ سے مجزوم ہے، جو اس سے پہلے گزرا ہے اور حقیقت میں مفہومِ شرط رکھتا ہے، جبکہ "یرفع" اس کی جزا کے طور پر ہے]۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان قوانین کی اطاعت ایمان و علم کی دلیل ہے۔ نیز، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض افراد کو حکم دیا کہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو جاؤ اور نووارد افراد کو جگہ دے دو، تو یہ ایک ایسا مقدّم مقصود ہے جس کا حکم خدا کی طرف سے ہے۔ یہ ایمان و علم میں سبقت کرنے والوں کے احترام کی بنا پر ہے۔ "درجات" کی تعبیر (نکرہ کی شکل میں اور صیغہ جمع کے ساتھ) عظیم اور بلند مراتب کی طرف اشارہ ہے، جو خدا ان افراد کو عطا کرتا ہے جو علم و ایمان دونوں کے حامل ہوں۔ حقیقت میں وہ لوگ جو نئے آنے والوں کو اپنے پاس جگہ دیتے ہیں، ایک درجہ پر فائز ہوتے ہیں۔ اور جو ایثار سے کام لیں اور اپنی جگہ انہیں دے دیں اور وہ علم و معرفت سے بھی بہرہ ور ہوں، تو ان کے لیے بہت سے درجات ہیں۔ اور چونکہ ایک گروہ ان آداب کو خلوصِ دل سے بروئے کار لاتا ہے، لہٰذا آیت کے آخر میں مزید فرماتا ہے: "خدا اس سے جسے تم انجام دیتے ہو، آگاہ ہے۔" (وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)۔
چند نکات
اگرچہ یہ آیت ایک خاص موقف کو لے کر نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا ایک عام مفہوم بھی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جو چیزیں انسان کے رتبہ کو خدا کی بارگاہ میں بلند کرتی ہیں وہ دو ہیں: ایک ایمان اور دوسرا علم۔ ہمیں معلوم ہے کہ شہید کا اسلام میں بلند ترین مقام ہے، لیکن اس کے باوجود ایک حدیث پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: فضل العالم علی الشہید درجة، وفضل الشہید علی العابد درجة... وفضل العالم علیٰ سائر الناس کفضلی علیٰ أدناھم۔ عالم، شہید سے ایک درجہ بلند ہے اور شہید، عابد سے ایک درجہ بلند ہے اور عالم کی فضیلت باقی لوگوں پر ان میں سے پست ترین کے مقابلے میں میری فضیلت جیسی ہے۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۳]۔ ایک اور حدیث میں حضرت علی (علیہ السلام) سے منقول ہے: من جائتہ منیتہ وھو یطلب العلم فبینہ وبین الأنبیاء درجة۔ "جس کو طالب علمی کے زمانہ میں موت آجائے، اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فاصلہ ہے۔" [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۳]۔ ہمیں معلوم ہے کہ چاندنی راتوں میں، خصوصاً مہینے کی چودھویں رات کو جب چاند مکمل ہوتا ہے، تو ستارے چاند کے نور میں مدھم ہو جاتے ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ عالم و عابد کے موازنے میں ایک اور حدیث پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے: فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکواکب۔ "عالم کی عابد پر فضیلت و برتری، چودھویں رات کے چاند کی باقی تمام ستاروں پر برتری کے مانند ہے۔" [بحوالہ: جوامع الجامع، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۶۴۔ قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۷۴-۷۵]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ عابد عبادت انجام دیتا ہے، جو مقصدِ خلقتِ انسانی ہے، لیکن روحِ عبادت معرفتِ الٰہی ہے۔ لہٰذا عالم، عابد پر حد سے زیادہ برتری رکھتا ہے۔ چونکہ مندرجہ بالا روایات میں عالم کی عابد کے مقابلہ میں فضیلت و برتری کے بارے میں آیا ہے، اس سے مراد ان دونوں کے درمیان ایک عظیم فاصلہ ہے۔ اس لیے ایک دوسری حدیث میں ان دونوں کے فرق کے سلسلہ میں ایک درجہ کی بجائے سو درجے کا فرق بیان ہوا ہے، جس میں ہر درجے کا فاصلہ دوسرے درجے سے تیز رفتار گھوڑے کے ستر سال تک دوڑنے کی مقدار کے برابر ہے۔ [بحوالہ: جوامع الجامع، مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۶۴۔ قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۷۴-۷۵]۔ یہ بھی واضح ہے کہ قیامت میں شفاعت ہر شخص کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ مقربانِ بارگاہِ خدا کا مقام ہے۔ لیکن ہمیں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ملتی ہے: یشفع یوم القیامة ثلاثة: الأنبیاء، ثم العلماء، ثم الشہداء۔ "قیامت میں تین گروہ شفاعت کریں گے: انبیاء، ان کے بعد علما اور پھر شہداء۔" [بحوالہ: روح المعانی، جلد ۲۸، صفحہ ۲۶۔ قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۶۴۷۰]۔ حقیقت میں، راہِ خدا پر چلنا، خوشنودیِ خدا کو حاصل کرنا اور اس کے قرب کی توفیق کا حصول دو عوامل کا مرہون منت ہے: ایک تو ایمان و عمل؛ دوسرے، آگاہی و تقویٰ۔ جس میں سے کوئی بھی دوسرے کے بغیر ہدایت و کامیابی کے لیے کافی نہیں ہے۔
آدابِ مجلس
قرآنِ کریم میں بارہا اہم مسائل کے ساتھ ساتھ مجالس کے اسلامی آداب کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر: • سلام کرنے کے آداب، • دعوتِ طعام کے آداب، • پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گفتگو کرنے کے آداب، • نوواردوں کو مجلس میں جگہ دینے کے آداب، • علی الخصوص فضیلت کے حامل افراد اور ایمان میں سبقت کرنے والے افراد کو مجلس میں جگہ دینے کے آداب۔ [تشریحی نوٹ: یہ احکام ترتیب کے ساتھ درج ذیل آیات میں آئے ہیں: سلام کرنے کے آداب: سورہ نساء، آیت ۸۶۔ دعوتِ طعام کے آداب: سورہ احزاب، آیت ۵۳۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرنے کے آداب: سورہ حجرات، آیت ۲ اور مجلس میں جگہ دینے کے آداب: زیرِ بحث آیت میں]۔ اس بات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ہر موضوع کو اس کے مقام کے اعتبار سے اس کی اہمیت کا قائل ہے۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ انسانی معاشرت کے آداب کچھ افراد کی بےاعتنائی کی وجہ سے پامال کر دیے جائیں۔ کتبِ احادیث میں سینکڑوں روایات پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آئمہ معصومین (علیہم السلام) سے دوسروں کے ساتھ معاشرت کے آداب کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور مرحوم شیخ "حر عاملی" نے انہیں کتاب "وسائل" کی جلد ۸، باب ۱۶۶ میں جمع کر دیا ہے اور جو جزئیات ان روایات میں میں ہیں وہ بتاتی ہیں کہ اسلام اس سلسلہ میں کس حد تک باریک بیں اور سخت گیر ہے۔ ان روایات میں بیٹھنے، بات کرنے، مسکرانے، مذاق کرنے، کھانا کھلانے، خط لکھنے، حتیٰ کہ دوستوں کی طرف نگاہ کرنے کے بارے میں بھی ہدایات موجود ہیں۔ ہم حضرت علی (علیہ السلام) کی ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: لیجتمع فی قلبک الافتقار الی الناس والاستغناء عنہم، یکون افتقارک الیہم فی لین کلامک وحسن سیرتک، ویکون استغناؤک عنہم نزاہة عرضک وبقاء عزک۔ "تیرے دل میں لوگوں کے لیے نیاز مندی و حاجت مندی اور بےنیازی و بےاحتیاجی دونوں موجود ہونے چاہئیں۔ تیری نیاز مندی و حاجت مندی، گفتگو کی نرمی اور حسنِ سلوک کے ذریعے ظاہر ہو اور تیری بےنیازی و بےاحتیاجی، حفظِ آبرو اور عزتِ نفس کے ذریعے جلوہ گر ہو۔ [بحوالہ: "وسائل الشیعہ"، جلد ۸، صفحہ ۴۰۱]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 9مرحوم طبرسی "مجمع البیان" میں اور دیگر مفسّرین کی ایک جماعت نے ان آیات کی شانِ نزول کے بارے میں یہ تحریر کیا ہے کہ اغنیا کا ایک گروہ محفلِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آ کر آپ سے نجویٰ کیا کرتا تھا۔ (یہ کام، علاوہ اس کے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیمتی وقت کے بےجا صرف ہونے کا سبب بنتا، غریبوں کی پریشانی اور امیر لوگوں کے ایک قسم کے امتیاز کا باعث بھی بنتا)۔ اس موقع کے لیے پروردگارِ عالم نے مندرجہ بالا آیات نازل کیں اور انہیں حکم دیا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرنے سے پہلے حاجت مندوں کو صدقہ دیا کرو۔ اغنیا نے جب یہ دیکھا تو نجویٰ سے احتراز برتنے لگے۔ اس پر دوسری آیت نازل ہوئی، (انہیں ملامت کی اور پہلے حکم کو منسوخ کیا) اور سب کو نجویٰ کرنے کی اجازت دے دی، لیکن نجویٰ صرف وہی ہو جو اطاعتِ پروردگار کے سلسلے میں ہو۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٥٢ اور بہت سی تفاسیر در ذیل آیات زیر بحث]۔ بعض مفسرین نے تصریح کی ہے کہ نجویٰ کرنے والے گروہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس طرح دوسروں کے مقابلے میں برتری حاصل کریں۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بزرگانہ حیثیت کے پیشِ نظر، باوجود اس کے کہ وہ اس بات سے ناخوش تھے، ان لوگوں کو اس سرگوشی سے منع نہیں فرمایا، یہاں تک کہ قرآن نے ان لوگوں کو اس کام سے منع کیا۔ [بحوالہ: روح المعانی، جلد ٢٨، صفحہ ٢٧]۔
تفسیر: ایک جاذبِ توجہ امتحان
گزشتہ آیات کے ایک حصے میں نجویٰ کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیات اسی مفہوم کو جاری و ساری رکھتی ہیں اور اس کی تکمیل کرتی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "اے ایمان لانے والو! تم جب چاہو کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرو تو اس سے پہلے راہِ خدا میں صدقہ دے دو۔" (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا ناجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَةً)۔ جیسا کہ شانِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ حکم اس لیے تھا کہ لوگوں کا ایک گروہ، خصوصاً اغنیاء، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرتے اور ان کو مصروف رکھتے۔ یہ ایسا کام تھا جو دوسروں کے لیے غم و اندوہ کا باعث بنتا تھا اور نجویٰ کرنے والوں کے لیے سببِ امتیاز ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں، پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیمتی وقت کے ضائع ہونے کا سبب بھی بنتا تھا، تو مندرجہ بالا حکم نازل ہوا۔ یہ حکم ان کے لیے ایک آزمائش، حاجت مندوں کے لیے مدد کا باعث اور مذکورہ زحمتوں کے کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔" (ذلِکَ خَیْر لَکُمْ وَ أَطْہَرُ)۔ صدقہ کا اغنیاء کے لیے خیر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ موجبِ ثواب تھا اور حاجت مندوں کے واسطے اس لیے کہ ان کی مدد کا ذریعہ تھا۔ باقی رہا "اطہر" ہونا، تو وہ اس وجہ سے تھا کہ یہ اغنیاء کے دلوں سے مال کی محبت کو دھوتا تھا اور حاجت مندوں کے دلوں سے کینے اور پریشانی کو دور کرتا تھا۔ نجویٰ جب مفت نہ ہو سکتا اور صدقہ کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہوتا، تو خودبخود کم ہو جاتا، جیسا کہ کم ہوا، لہٰذا یہ چیز مسلمانوں کے فکری اور اجتماعی ماحول کے لیے ایک قسم کی پاکیزگی بن گئی۔ لیکن اگر نجویٰ سے پہلے صدقہ کا وجوب عمومیت رکھتا، تو پھر فقراء اہم مسائل یا اپنی ضروریات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں پیش کرنے سے قاصر رہ جاتے۔ لہٰذا آیت کے ذیل میں صدقہ کا حکم اس گروہ سے واپس لیتے ہوئے فرماتا ہے: "اور اگر استطاعت نہ رکھتے ہوں تو خدا غفور الرحیم ہے۔" (فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس طرح، جو لوگ مالی اعتبار سے مضبوط تھے، ان کے لیے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینا واجب تھا اور جن کی مالی حالت اچھی نہ تھی، وہ صدقہ کے بغیر نجویٰ کر سکتے تھے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا حکم نے ایک عجیب تأثیر پیدا کی اور ایک عمدہ آزمائش پیش کی۔ ایک شخص کے علاوہ سب نے صدقہ دینے اور نجویٰ کرنے سے پہلو تہی کی اور وہ ایک شخص حضرت علی (علیہ السلام) تھے۔ یہ وہ مقام تھا کہ جہاں جس چیز کی وضاحت اور اس کے نمایاں ہونے کی ضرورت تھی، وہ واضح ہو گئی۔ اور جو کچھ مسلمانوں کو اس حکم سے سمجھنا چاہیے تھا اور درس لینا چاہیے تھا، اس کو انہوں نے سمجھا اور درس لیا۔ لہٰذا بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا اور یہ حکم پیش کیا: "کیا تم ڈر گئے کہ فقیر ہو جاؤ گے، جس کی وجہ سے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینے سے تم نے احتراز کیا"؟ (أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَاتٍ)۔ معلوم ہوتا ہے کہ مال کی محبت تمہارے دل میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرنے کے لگاؤ سے زیادہ پرکشش تھی اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان سرگوشیوں میں عام طور پر زندگی کے مسائل موضوعِ گفتگو نہیں ہوئے تھے، ورنہ کیا مانع تھا جو لوگ نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ دے دیتے اور پھر نجویٰ کرتے؟ خصوصاً جب کہ صدقہ کے لیے کوئی مقدار بھی مقرر نہیں تھی اور وہ تھوڑی سی رقم سے اس مشکل کو حل کر سکتے تھے۔ پھر مزید فرماتا ہے: "اب جب کہ تم نے یہ کام نہیں کیا اور خود تم اپنی کوتاہی کو بھانپ چکے ہو اور خدا نے بھی تمہیں معاف کر دیا ہے اور تمہاری توبہ قبول کر لی ہے، تو نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کرو اور خدا اور اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور جان لو کہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو، خدا اس سے باخبر ہے۔" (فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ تَابَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَأَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَ آتُوا الزَّکَاةَ وَ أَطِیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ اللَّہُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ)۔ "توبہ" کی تعبیر بتاتی ہے کہ وہ گزشتہ نجووں میں گناہ کے مرتکب ہوتے تھے، خواہ ریاکاری کی بنا پر، یا پیغمبر کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے، یا فقیر مؤمنین کو اذیت دے کر۔ اگرچہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ گفتگو نجویٰ کے جواز میں نہیں ہوئی، لیکن اس آیت کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ پہلا حکم اٹھا لیا گیا۔ جہاں تک نماز قائم کرنے، زکوٰة ادا کرنے اور خدا و پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے کا معاملہ ہے، تو وہ ان امور کی اہمیت کی بنا پر ہے۔ نیز، اس طرف اشارہ ہے کہ اگر اس کے بعد نجویٰ کرو، تو وہ ان عظیم مقاصد کے حصول کے لیے ہو اور خدا و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی راہ میں ہو۔
چند اهم نکات: ١۔ آیہ نجویٰ و صدقہ پر عمل کرنے والا تنہا شخص
اکثر شیعہ اور اہلِ سنت مفسرین نے لکھا ہے کہ اکیلا وہ شخص جس نے اس آیت پر عمل کیا، وہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تھے، جیسا کہ طبرسی ایک روایت میں خود آنجناب سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "آیةٌ من کتابِ اللہِ لم یعملْ بھا أحدٌ قبلِی ولا یعملُ بھا أحدٌ بعدِی، کان لِی دینارٌ فصرفتُہ بعشرةِ دراہم، فکنتُ إذا جئتُ إلی النبی تصدَّقتُ بدرھمٍ۔" "قرآن میں ایک ایسی آیت ہے جس پر نہ مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا ہے اور نہ کوئی میرے بعد عمل کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اُسے دس درہموں میں تبدیل کر لیا۔ جس وقت میں چاہتا کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کروں، تو ایک درہم صدقہ میں دے دیتا۔" [بحوالہ: طبرسی، جلد ۲۸، صفحہ ۱۵]۔ فخر رازی نے بھی اس حدیث کو، کہ وہ اکیلا شخص جس نے مندرجہ بالا آیت پر عمل کیا، حضرت علی علیہ السلام تھے، محدثین کی جماعت کے ذریعہ ابنِ عباس سے نقل کیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر البیان فی تفسیر القرآن، جلد ۱، صفحہ ۳۷۵۔ سید قطب نے بھی یہی روایت فی ظلال القرآن، جلد ۸، صفحہ ۲۱ پر نقل کی ہے]۔ دُر المنثور میں بھی متعدد روایات مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں اسی معنی میں آئی ہیں۔ [بحوالہ: درالمنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۸۵]۔ تفسیر رُوح البیان میں عبداللہ ابن عمر بن خطاب سے منقول ہے: "کان لعلی ثلاثٌ لو کانت لی واحدةٌ منھنَّ کانت أحبَّ إلیَّ من حمر النعم، تزویجُہ فاطمۃ، وإعطاؤُہ الرایۃَ یومَ خیبر، وآیةُ النجویٰ۔" "حضرت علی علیہ السلام کی تین ایسی فضیلتیں ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جاتی، تو سُرخ بالوں والے اُونٹوں سے بہتر تھی۔" (یہ تعبیر عربوں میں گراں بہا مال کی طرف اشارہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے ضرب المثل کے طور پر کسی چیز کے بہت ہی نفیس ہونے کے بیان کے وقت استعمال کرتے ہیں)۔ پہلی فضیلت یہ کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی ان سے کرنا، دوسری فضیلت یہ کہ خیبر کے دن علم ان کو عطا کرنا، اور تیسری آیة النجویٰ۔ [بحوالہ: تفسیر رُوح البیان، جلد ۹، صفحہ ۴۰۶ اس حدیث کو طبرسی نے مجمع البیان میں، زمخشری نے کشاف میں اور قرطبی نے تفسیر جامع میں زیر بحث آیات کے ذیل میں نقل کیا ہے]۔ حضرت علی علیہ السلام کے لیے اس عظیم فضیلت کا ثابت ہونا اکثر کتبِ تفسیر و حدیث میں آیا ہے اور اس طرح مشہور و معروف ہے کہ مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔
٢۔ نجویٰ سے پہلے صدقہ کی تشریع اور پھر نسخ کا فلسفہ
پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرنے سے پہلے وجوبِ صدقہ کی تشریع کیوں ہوئی اور پھر تھوڑی سی مدّت کے بعد وہ کیوں منسوخ ہو گیا؟ اس سوال کا جواب مندرجہ بالا آیت اور اس کی شانِ نزول میں موجود قرائن سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے۔ مقصد ان بلند بانگ دعویٰ کرنے والوں کی آزمائش تھا، جو اس طریقے سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک خاص لگاؤ کا اظہار کرتے تھے۔ چنانچہ معلوم ہو گیا کہ یہ لگاؤ اور محبت کا اظہار صرف زبانی تھا، جب تک نجویٰ مفت تھا، لیکن جس وقت تھوڑا سا مال خرچ کرنا پڑ گیا تو محبت کے اظہار کا جذبہ بھی سرد پڑ گیا۔ اس بات سے قطع نظر، اس حکم نے مسلمانوں پر ہمیشہ اثر کیا ہے اور ان پر واضح کر دیا کہ جب تک ضرورت نہ ہو، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے عظیم اسلامی رہبروں کا قیمتی وقت نجویٰ اور سرگوشی میں ضائع نہیں کرنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کی تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ درحقیقت یہ آئندہ کی سرگوشیوں کو قابو میں لانے کا ایک عمل تھا۔ اس بنا پر مذکورہ حکم ابتدا میں ایک عارضی و وقتی پہلو رکھتا تھا، لیکن جب اس کا مقصد پورا ہو گیا تو وہ منسوخ ہو گیا، کیونکہ اس کو برقرار رکھنا بھی مشکل پیدا کر دیتا۔ بعض اوقات ضروری مسائل پیش آتے ہیں، جن میں لازم ہوتا ہے کہ مخصوص خصوصیات کے ساتھ انہیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ اگر صدقہ کا حکم باقی رہ جاتا تو اکثر اوقات ان ضرورتوں کے تقاضے پورے نہ ہوتے اور اس طرح اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچتا۔ مواردِ نسخ میں کلی طور پر حکم ہمیشہ پہلے ہی سے محدود اور وقتی پہلو رکھتا تھا، اگرچہ لوگ بعض اوقات اس معنی سے آگاہ نہ ہوتے اور اسے ایسا حکم سمجھ لیتے جو ہمیشہ کے لیے ہو۔
٣۔ کیا یہ فضیلت تھی؟
اس میں شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دولت مندوں کے زمرے میں داخل نہیں تھے، آپ علیہ السلام کی زندگی سادہ اور زاہدانہ تھی۔ اس کے باوجود، اس حکمِ الٰہی کے احترام میں، اس مختصر سی مدّت میں، آپ علیہ السلام نے چند مرتبہ صدقہ دیا اور ضروری مسائل نجویٰ کے ذریعے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے، یہ مسئلہ مفسّرین اور اربابِ حدیث کے درمیان طے شدہ اور مسلّم ہے، لیکن بعض لوگ اس حقیقت کو قبول کرنے کے باوجود اس پر اصرار کرتے ہیں کہ اس کے افضل ہونے کا انکار کریں۔ وہ منجملہ دیگر باتوں کے یہ کہتے ہیں کہ اگر بزرگانِ صحابہ نے یہ اقدام نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی، یا ان کے پاس کافی وقت نہیں تھا، یا وہ خیال کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فقراء کی تکلیف و پریشانی اور اغنیاء کی وحشت کا سبب بنے۔ اس بنا پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے یہ اقدام کسی فضیلت اور دوسروں سے سلبِ فضیلت کا سبب نہیں ہے۔ [بحوالہ: تفسیر فخر رازی، رُوح البیان، آیات زیر بحث کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں]۔ یکن انہوں نے دوسری آیت کے متن پر غور نہیں کیا، جس میں خدا سرزنش کے عنوان سے فرماتا ہے: (أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ)۔ "کیا تم فقر و فاقہ سے ڈر گئے ہو اور تم نے بخل کیا ہے جو نجویٰ کے لیے صدقہ نہیں دیا"؟ یہاں تک کہ آیت کے ذیل میں توبہ کا ذکر آتا ہے، جو واضح طور پر اس معنی پر دلالت کرتا ہے کہ صدقہ دے کر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کا اقدام کرنا ایک پسندیدہ کام تھا، ورنہ توبہ اور سرزنش کی ضرورت نہ ہوتی۔ اس میں شک نہیں کہ اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جانے پہچانے افراد کی ایک جماعت اس واقعہ سے پہلے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرتی تھی (کیونکہ عام اور دُور افتادہ افراد یہ اقدام بہت کم کرتے تھے)، لیکن انہی مشہور صحابہ نے صدقہ کے حکم کے بعد نجویٰ کرنا چھوڑ دیا۔ وہ تنہا شخص جس نے اس کا احترام کیا اور اسے عملی جامہ پہنایا، وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ اس میں کون سی قباحت ہو گی کہ ہم واضح آیات اور روایات کے پیشِ نظر، جو اس سلسلے میں مختلف اسلامی کتب میں مندرج ہیں، انہیں قبول کر لیں اور کمزور و بےبنیاد احتمالات کی بنا پر ایک حقیقت کو نظر انداز نہ کریں اور عبداللہ ابنِ عمر کے ہم نوا بن جائیں، جو اس فضیلت کو حضرت فاطمہ علیہا السلام کے ساتھ تزویج اور فتح خیبر کے دن کی عمل داری سے مربوط اور حُمرُ النَّعَم (سرخ رنگ کے اُونٹ) سے افضل و برتر سمجھتے ہیں۔
٤۔ مدّتِ حکم اور مقدارِ صدقہ
مندرجہ بالا حکم، یعنی رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ کے وجوب، کی مدت کتنی تھی اور یہ کب منسوخ ہوا، اس سلسلے میں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض اس کو صرف ایک گھنٹے، بعض ایک رات تک محدود سمجھتے ہیں اور بعض اس مدت کو دس روز پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ صحیح تیسرا قول ہی ہے، کیونکہ ایک گھنٹہ یا ایک رات اس قسم کے امتحانی حکم کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے، اس لیے کہ وہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ اس مختصر سی مدت میں نجویٰ کے لیے کوئی سبب پیش نہیں آیا۔ لیکن دس دن کی مدت حقائق کو واضح کر سکتی ہے اور اس حکم سے تخلف کرنے والوں کے لیے ملامت و سرزنش کے اسباب فراہم کر سکتی ہے۔ جہاں تک صدقہ کی مقدار کا تعلق ہے، تو آیت میں اس کو معیّن نہیں کیا گیا اور اسلامی روایات کے مطالعے سے بھی کوئی مخصوص مقدار دستیاب نہیں ہوتی۔ البتہ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اقدام کے لیے ایک درہم بھی کفایت کرتا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: حزب شیطان
Tafsīr Nemūna · Vol. 9یہ آیات منافقین کی بعض سازشوں کو بےنقاب کرتی ہیں اور ان کی نشانیوں کے ساتھ مسلمانوں سے ان کا تعارف کراتی ہیں۔ نجویٰ کی آیات کے بعد اس چیز کا عنوانِ کلام بننا شاید اس مناسبت سے ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نجویٰ کرنے والوں میں کچھ منافق افراد بھی تھے، جو اس چیز کو اپنی سازشوں پر پردہ ڈالنے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اظہارِ قربت کے لیے استعمال کرتے تھے اور یہی بات سبب بنی کہ قرآن ایک امر کلی کی شکل میں اس کو پیش کرتا ہے۔ پروردگارِ عالم پہلے فرماتا ہے: "کیا تُو نے ان افراد کو نہیں دیکھا جو ایسی قوم سے دوستی کی طرح ڈالتے ہیں جس پر خدا نے غضب کیا ہے"؟ "أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ۔" یہ مغضوب علیہم قوم واضح طور پر یہود تھی، جس کا سورہ مائدہ آیت ۶۰ میں اسی عنوان سے تعارف ہوا ہے۔ وہاں یہودیوں کے بارے میں پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّهِ مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ۔" "کہہ دے: کیا تمہیں ان افراد سے باخبر کروں جن کی وضع و کیفیت اس سے زیادہ بُری ہے؟ وہ ایسے لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور انہیں موردِ غضب قرار دیا ہے۔" اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "یہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان (یہود) میں سے۔" "مَا هُمْ مِنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ۔" نہ مشکلات میں اور نہ پریشانیوں میں تمہارے مددگار ہیں، نہ ان کے کوئی جگری دوست ہیں، بلکہ منافق ہیں جو ہر روز رخ بدل لیتے ہیں اور ہر روز نئی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تعبیر سورہ مائدہ کی آیت ۵۱ کے ساتھ منافات نہیں رکھتی جو کہتی ہے: "وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ۔" "جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی اور محبت کرے وہ انہی میں سے ہے۔" اس لیے کہ وہ تمہارے دشمنوں میں شمار ہوں گے اگرچہ حقیقتاً ان کا جز شمار نہ ہوں۔ اس گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "تم سے اپنی وفاداری کو ثابت کرنے کے لیے قسم کھاتے ہیں لیکن جھوٹی قسم، جسے وہ خود بھی جانتے ہیں۔" "وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔" یہ منافقین کے طور طریقے ہیں، وہ ہمیشہ اپنے قبیح اور قابلِ نفرت چہرے کو چھپانے کے لیے جھوٹی قسموں کی پناہ لیتے ہیں، جب کہ ان کا عمل ان کا بہترین تعارف کراتا ہے۔ اس کے بعد ان ہٹ دھرم منافقین پر نازل ہونے والے عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا نے ان کے لیے شدید عذاب تیار کیا ہے۔" "أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا۔" اور اس میں شک نہیں کہ یہ عذاب عادلانہ ہے کیونکہ وہ برے اعمال بجا لاتے ہیں: "إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔" اس کے بعد ان منافقین کی علامتوں کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے فرماتا ہے: "انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے روکے رکھیں۔" "اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ۔" [تشریحی نوٹ: "جَنَّة" اصل میں "جِنّ" (بروزن فن) کے مادّہ سے ہے جس کا مطلب کسی چیز کو چھپانا ہے اور چونکہ ڈھال انسان کو دشمن کی ضربوں کے مقابلہ میں چھپاتی ہے، لہذا اسے جَنَّہ، مَجن اور مَجنہ کہتے ہیں]۔ وہ قسم کھاتے ہیں کہ "ہم مسلمان ہیں اور سوائے اصلاح کے ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے" حالانکہ اس قسم کے پردے کے پیچھے وہ انواع و اقسام کے فساد، تخریبی کارروائیوں اور سازشوں میں مصروف ہیں اور حقیقت میں خدا کا مقدس نام لے کر راہِ خدا سے روکنے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جی ہاں! جھوٹی قسمیں کھانا منافقین کی نشانی ہے، جو یہاں کے علاوہ سورہ منافقین میں بھی ان کے اوصاف کے بیان میں پیش ہوئی ہے: "سورة المنافقون، آیت ۲" آیت کے آخر میں مزید فرماتا ہے: "اس بنا پر ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔" "فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔" وہ چاہتے تھے کہ ان جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنے لیے سامانِ عزت فراہم کریں لیکن خدا انہیں ذلیل و خوار کرنے والے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس نے پہلے بھی فرمایا: "ان کے لیے عذاب شدید ہے۔" (اسی سورہ کی آیت ۱۵) اس لیے کہ یہ سچے مؤمنین کے دلوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ظاہر یہ ہے کہ دونوں عذابِ آخرت سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ دو مختلف اوصاف کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، لہٰذا تکرار بھی نہیں ہے۔ کیونکہ عذاب کی تشریح ان دو صفتوں کے ساتھ قرآن مجید میں عام طور پر آخرت کے عذابوں کے سلسلے میں آتی ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ پہلا عذاب دنیا یا قبر سے متعلق ہے اور دوسرا عذاب آخرت سے مربوط ہے اور چونکہ منافقین عام طور پر حلِ مشکلات کے سلسلے میں اپنے مال اور اولاد (اقتصادی اور انسانی قوت) پت انحصار کرتے تھے لہذا قرآن بعد والی آیت میں کہتا ہے: "ان کے مال اور اولاد انہیں عذابِ الٰہی سے کسی طرح بھی محفوظ نہیں رکھے گے: "لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا۔" [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہاں لفظ "عذاب" کو مقدر سمجھا ہے اور کہا ہے کہ مراد "من عذاب اللہ" ہے (قرطبی، روح البیان، کشاف)، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ آیت میں کوئی چیز مقدر نہ ہو اور "من اللہ" سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی دوسری پناہ گاہ نہیں پائیں گے]۔ بلکہ یہی اموال ان کی گردن میں لعنت کا طوق بن جائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب کا سبب بنیں گے، جیسا کہ سورہ آلِ عمران کی آیت ۱۸۰ میں ہم پڑھتے ہیں: "سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِیَامَةِ۔" اور اسی طرح ان کی گمراہ اولاد ان کے عذاب کا باعث بنے گی، خدا کی (رحمت) کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ بیکار ہو جائے گا، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۶ میں ہم پڑھتے ہیں: "وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ۔" "ان کا ہاتھ ہر قسم کے ذریعے اور اسباب سے منقطع ہو جائے گا" اور پھر آیت کے آخر میں اس جملہ کے ساتھ تہدید کرتا ہے: "وہ اہل دوزخ ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔" "أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔" اور اس طرح ان پر نازل ہونے والے عذاب کو کبھی "شدید" کہہ کر باعثِ تہدید بناتا ہے، کبھی "مُہین" (ذلیل و خوار کرنے والا) کہہ کر اور کبھی اس کا جاودانی ہونا باعثِ تہدید ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک منافقین کے اعمال کی وجہ سے مناسب حال ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ منافقین قیامت میں بھی اپنی منافقت سے دست بردار نہیں ہوں گے؛ جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے: "یاد کرو اس دن کو جس میں خدا ان سب کو مبعوث کرے گا اور ان کے اعمال ان کے سامنے پیش کرے گا اور اپنی دادگاہِ عدل میں ان سے سوال کرے گا، لیکن وہ خدا کے سامنے بھی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، جیسے کہ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔" "يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ۔" [تشریحی نوٹ: "یوم"، "ظرف" ہے اور "اذکر" محذوف سے متعلق ہے، یا اس کے ماقبل یعنی "لہم عذاب مہین" سے یا "اولئک اصحاب النار" سے متعلق ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے]۔ قیامت انسان کے اس دنیا کے اعمال اور نیتوں کی تجلی گاہ ہے اور چونکہ منافقین یہی احساسات اپنے ساتھ قبر اور برزخ میں لے کر جائیں گے، لہٰذا میدانِ قیامت میں بھی آشکار ہوں گے۔ باوجود اس کے کہ وہ جانتے ہیں کہ خدا "عَلَّامُ الْغُيُوبِ" (تمام غیب جاننے والا) ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، لیکن پھر بھی پرانی عادتوں کی بنا پر جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ یہ چیز اس دادگاہِ عدلِ الہٰی کے بعض مواقف میں ان کے گناہوں کے اقرار کے ساتھ متصادم نہیں ہے، کیونکہ قیامت کے مختلف منازل و مواقف میں ہر جگہ ایک الگ انضباطِ اوقات ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہ گمان کرتے ہیں کہ ان جھوٹی قسموں سے وہ اپنے لیے کوئی نفع حاصل کر سکتے ہیں یا کسی نقصان کو دور کر سکتے ہیں۔" "وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ۔" یہ ایک واہمہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن چونکہ دنیا میں انہوں نے یہ عادت بنا رکھی تھی کہ جھوٹی قسموں کے ذریعے خطروں اور مضر چیزوں کو اپنے سے دور کریں اور فائدہ حاصل کریں، لہٰذا یہ قبیح اور پست و پختہ عادتیں وہاں بھی اپنا اثر دکھائیں گی۔ آخرکار، آیت کو اس جملہ پر ختم کرتا ہے: "جان لو کہ وہی جھوٹے ہیں۔" "أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ۔" یہ اعلان ممکن ہے کہ دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہو یا قیامت سے مربوط ہو، یا دونوں کے ساتھ ربط رکھتا ہو۔ اس طرح ان کی رسوائی کا ڈنکا ہر جگہ بج رہا ہے اور ہر جگہ منادی ہو رہی ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں ان تاریک دل رکھنے والے منافقین کی حقیقی سرگزشت کو اس طرح بیان کرتا ہے: "شیطان ان پر مسلط ہو گیا ہے اور تیزی کے ساتھ ہانکتا ہے اور اس بنا پر ان کے دل سے خدا کی یاد نکال کر لے گیا ہے۔" "اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ۔" اسی دلیل کی رُو سے وہ "حزب الشیطان" (شیطان کا گروہ) ہیں: "أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ۔" "آگاہ رہو کہ گروہِ شیطان ہی گھاٹا اٹھانے والوں میں ہے!" "أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ۔" "استحوذ"، "حوذ" (بروزن موز) کے مادہ سے ہے، جو اونٹ کی ران کے پُشت والے حصے کے معنی میں آتا ہے، اور چونکہ ساربان اونٹوں کو ہنکاتے وقت ان کی رانوں کی پشت پر ضرب لگاتا ہے، اس لیے یہ لفظ تسلط حاصل کرنے اور تیزی کے ساتھ ہانکنے کے لیے آتا ہے۔ جی ہاں! جھوٹے اور مغرور منافقین، باوجود مال و دولت اور مقام و منزلت کے، اس کے علاوہ اور کوئی قسمت نہیں رکھتے کہ وہ شیطان کی گرفت اور اس کی خواہشات کے اختیار میں ہوتے ہیں اور وہ خدا کو کلی طور پر بھول جاتے ہیں۔ نہ صرف خدا سے منحرف ہو جاتے ہیں، بلکہ شیطان کے عُمّال، انصار، مددگار اور لشکر کے زمرے میں آ کر دوسروں کو گمراہ کرنے والے قرار پاتے ہیں۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فتنوں اور اختلافات کے وقوع کے آغاز کے بارے میں فرماتے ہیں: "اَیْهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَدَأَ وُقُوعُ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تَتَّبَعُ وَ أَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ یُخَالفُ فِیهَا كِتَابُ اللَّہِ یَتَوَلَّى فِیهَا رِجَالٌ رِجَالًا فَلَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ لَمْ یَخْفَ عَلَی ذِی حِجًى وَلَوْ أَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ لَمْ یَكُنْ فِیهِ اخْتِلَافٌ وَلَكِنْ یُؤْخَذُ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ وَ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ فَیُمَزَّجَانِ فَیَجِیئَانِ مَعًا فَهُنَاكَ اسْتَحْوَذَ الشَّیْطَانُ عَلَى أَوْلِیَائِهِ وَ نَجَا الَّذِینَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ الْحُسْنَى۔" "اے لوگو! فتنوں کے وقوع کا آغاز باطل آراء ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور ایسی بدعتیں ہیں جو حکمِ خدا کے خلاف قائم کی جاتی ہیں۔ لوگوں کا ایک گروہ دوسرے گروہ کی دوستی میں ان امور میں ان کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ اگر باطل اپنی خالص شکل میں خودنمائی کرتا تو کسی صاحب عقل کی نگاہ سے پنہاں نہ رہتا اور اگر حق باطل کی آمیزش سے پاک و صاف ہوتا تو اختلاف پیدا نہ ہوتا لیکن کچھ حصّہ اس کا لیتے ہیں اور کچھ حصّہ اس کا اور انہیں آپس میں ملا دیتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے کہ شیطان اپنے دوستوں پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے اور وہ لوگ جن کے توفیقِ الٰہی شامل حال ہے وہ رہائی پا جاتے ہیں۔" [بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۶۷]۔ (یہی تفسیر امام حسین علیہ السلام کے کلام میں کربلا میں نظر آتی ہے۔ جب اہل کوفہ کی صفوں کو اندھیری رات اور غل مچاتے ہوئے سیلاب کی طرح اپنے مدِّمقابل دیکھا تو فرمایا: "بہت بُرے لوگ ہو کہ خدا کی اطاعت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کا اظہار کرتے ہو لیکن اب اس لیے آئے ہو کہ اولادِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرو۔" "لَقَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْكُمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاكُمْ ذِكْرَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔" "شیطان نے تم پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور وہ خدائے عظیم کی یاد تمہارے دلوں سے نکال کر لے گیا ہے۔" اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: "تُم کو اور جو کچھ تم چاہتے ہو خدا نیست و نابود کر دے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔" حزب الشیطان اور حزب اللہ کے بارے میں ان شاء اللہ آئندہ آیات کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کریں گے۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ۲۶۶]
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 9تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر: حزب اللہ کامیاب ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 9گزشتہ آیات میں گفتگو منافقین اور دشمنانِ خدا کے بارے میں اور ان کی کچھ صفات اور علامتوں سے متعلق تھی۔ اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے ان آیتوں میں جو سورۃ مجادلہ کی آخری آیات ہیں ان کی کچھ اور نشانیاں پیش کرتا ہے اور ان کی حتمی سرنوشت جو شکست و بربادی ہے اسے واضح کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ترین افراد کے زمرہ میں ہیں۔" (إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى الْأَذَلِّين)۔ [تشریحی نوٹ: "یحادّون"، "محادّة" کے مادّہ سے مسلّح یا غیر مسلّح مبارزہ کے معنی میں ہے یا ممانعت کے معنی میں ہے (ہم اس سورہ کی آیت ۵ کے ذیل میں وضاحت کر چکے ہیں)]۔ بعد والی آیت حقیقت میں ان معانی کی دلیل ہے۔ فرماتا ہے: "خدا نے اس طرح مقرر کیا تھا کہ میں اور میرے پیغمبر ہی کامیاب ہوں گے" (كَتَبَ اللَّهُ لَآ غْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى)۔ "ایسا کیوں نہ ہو؟ اس لیے کہ خدا قوی اور ناقابلِ شکست ہے" (إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ)۔ جس قدر خدا صاحبِ قوت ہے اتنے ہی اس کے دشمن کمزور اور ذلیل ہیں اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ آیت میں (أَذَلِّين) کی تعبیر آئی ہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ "كَتَبَ" (لکھتا ہے) کی تعبیر اس کامیابی کے قطعی ہونے کی تاکید ہے اور "لَآ غْلِبَنَّ" کا جملہ لامِ تاکید اور نونِ ثقیلہ کے ساتھ اس کامیابی کے موکد ہونے کی دلیل ہے، اس طرح کہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کے شک اور تردد کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اس چیز کے مشابہ ہے جو سورۃ صافات کی آیت ۱۷۱ تا ۱۷۳ میں آئی ہے (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنا لِعِبَادِنَا ٱلْمُرْسَلِينَ إِنَّهُمْ لَهُمُ ٱلْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ ٱلْغَالِبُونَ)۔ "ہمارا قطعی وعدہ ہمارے مرسل بندوں کے بارے میں پہلے سے مسلّم ہو چکا ہے کہ ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر تمام میدانوں میں کامیاب ہے۔" تاریخ کے طویل دور میں خدا کے پیغمبروں اور اس کے بھیجے ہوئے افراد کی کامیابی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوئی ہے، مختلف عذابوں کی صورت میں جیسے طوفانِ نوح علیہ السلام میں، صاعقۂ عاد و ثمود میں، قومِ لوط علیہ السلام کو تباہ و برباد کرنے والے زلزلے کی صورت میں اور اسی قسم کی چیزوں میں۔ مختلف جنگوں میں جیسے جنگ بدر و حنین، فتح مکّہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باقی غزوات میں۔ ان سب سے زیادہ اہم شیطانی مکاتبِ فکر اور حق و عدلت کے دشمنوں پر ان کی منطقی کامیابی تھی۔ یہاں ان لوگوں کے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ وعدہ قطعی تھا تو پھر کیوں بہت سے انبیاء و مرسلین، آئمہ معصومین علیہم السلام اور سچے مومنین کو ان کے دشمنوں نے شہید کیا اور وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے؟ ان اعتراض کرنے والوں نے حقیقت میں کامیابی کے معنی کو صحیح طرح نہیں سمجھا۔ مثلاً ممکن ہے (تصور کریں) کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں شکست کھائی اس لیے کہ آپ علیہ السلام خود اور آپ علیہ السلام کے یاور و انصار تمام کے تمام شہید ہو گئے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اپنے اصلی مقصد تک پہنچ گئے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ بنی اُمیہ رسوا ہوں اور مکتب آزادی کی بنیاد رکھی جائے اور ساری دنیا کے لوگوں کو درسِ آزادی دیا جائے۔ آپ علیہ السلام نے یہ مقصد یقیناً حاصل کیا اور آپ آج بھی سرور شہیدانِ عالم اور جہانِ انسانیت کے رہبرِ کامل کی حیثیت سے انسانوں کے ایک عظیم طبقہ کے دلوں پر کامیابی کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے اسی تفسیر کی جلد ۱۰، سورہ صافات کی آیت ۱۷۱ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں]۔ اس چیز کی یادآوری بھی ضروری ہے کہ یہی حکم یعنی خدائی وعدہ کے مطابق کامیابی انبیاء و اولیاء کے پیروکاروں کے بارے میں بھی ثابت ہے۔ یعنی ان کی کامیابی کی بھی خدا کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے، جیسا کہ سورۃ مؤمن کی آیت ۵۱ میں ہم پڑھتے ہیں (إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا۟ فِى الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ ٱلْأَشْهَادُ)۔ ہم یقیناً اپنے رسُولوں کی اور ایمان لانے والوں کی زندگی دنیا میں اور اس دن جب گواہ قیام کریں گے (قیامت کے دن) مدد کریں گے۔ یقیناً خدا جس کی مدد کرے وہ کامیاب ہے۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ خدا کا یہ حتمی وعدہ قید اور شرط کے بغیر نہیں ہے۔ اس کی شرط ایمان اور آثارِ ایمان ہیں۔ اس کی شرط یہ ہے کہ بندہ سستی و کمزوری کو اپنے اندر پیدا نہ ہونے دے اور مشکلات سے نہ گھبرائے اور غمگین نہ ہو، جیسا کہ آلِ عمران کی آیت ١۳٩ میں فرمایا ہے: (وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمْ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ)۔ اس کی دوسری شرط یہ ہے کہ تبدیلی کو اپنی ذات سے شروع کرے، کیونکہ خدا کسی قوم و ملت کی نعمتوں کو تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں (ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يُغَيِّرْ نِعْمَةًۭ أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍۢ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ) (الأنفال ۵۳)۔ انہیں خدا کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ اپنی صفوں کو متحد رکھیں اور اپنی قوتوں کو مجتمع کریں، نیتوں کو خالص رکھیں اور مطمئن رہیں کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اور وہ خود بظاہر کمزور ہوں اور تعداد میں کم ہوں، لیکن آخرکار جہاد، کوشش اور خدا پر توکل کی وجہ سے وہ کامیاب ہوں گے۔ مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالا آیات کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے جس وقت حجاز کی بعض آبادیوں کی فتح کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ خدا عنقریب ہمیں روم و ایران کی فتح بھی نصیب کرے گا۔ اس پر منافقین نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ایران و روم بھی ان بستیوں کی مانند ہیں جنہیں تم نے فتح کر لیا ہے۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس کامیابی کا ان سے وعدہ کیا۔ آخری زیر بحث آیت، جو سُورۂ مجادلہ کی آخری اور آیاتِ قرآنی میں سب سے زیادہ سرکوبی کرنے والی آیت ہے، مؤمنین کو باخبر کرتی ہے کہ "خدا کی محبت" اور "دشمنانِ خدا کی محبت" کو ایک ہی دل میں جمع کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو منتخب کریں۔ اگر واقعی وہ مومن ہیں تو انہیں دشمنانِ خدا کی دوستی سے پرہیز کرنا چاہیے، ورنہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ نہ کریں۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "کسی ایسے گروہ کو، جو خدا اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، تو نہیں پائے گا کہ وہ خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں سے دوستی کریں، چاہے وہ ان کے آباؤ اجداد، اولاد یا رشتہ دار ہوں۔" (لَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِیرَتَهُمْ)۔ جی ہاں! ایک دل میں دو متضاد محبتیں جمع نہیں ہو سکتیں اور جو دو متضاد محبتوں کے حامل ہوں، وہ یا تو ضعیف الایمان ہوتے ہیں یا پھر منافق۔ اِسی لیے غزواتِ الہٰی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مخالف صفوں میں مسلمانوں کے عزیز و اقارب کی ایک جماعت تھی، لیکن چونکہ انہوں نے اپنا رشتہ خدا سے توڑ رکھا تھا اور وہ حق تعالیٰ کے دشمنوں کی صف سے وابستہ تھے، لہٰذا مسلمانوں نے ان سے جنگ کی، یہاں تک کہ ان میں سے بہت سوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ آباؤ اجداد، اولاد اور رشتہ داروں کی محبت بہت اچھی چیز ہے اور انسان کے جذبۂ کرم کے زندہ ہونے کی نشانی ہے، لیکن جب اس محبت کا مقابلہ خدا کی محبت سے ہو تو پھر یہ محبت اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھتی ہے۔ البتہ، انسان کے مرکزِ محبت صرف یہی چار گروہ نہیں ہوتے جن کا ذکر مذکورہ آیت میں ہوا۔ یہ انسان کے نزدیک ترین افراد ہیں اور ان کی مثال کو پیش نظر رکھ کر باقی افراد کی کیفیت بھی واضح ہو جائے گی۔ اسی لیے زیر بحث آیت میں گفتگو بیوی، شوہر، مال و دولت، تجارت اور گھروں کے متعلق، جو مرکزِ محبت ہو سکتے ہیں، درمیان میں نہیں آئی۔ جبکہ سورۂ توبہ کی آیت ۲۴ میں یہ سب امور موردِ توجہ قرار پائے ہیں۔ خدا فرماتا ہے: (قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِیرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَیْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِی سَبِیلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ یَأْتِیَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ)۔ "کہہ دے اگر تمہارے باپ دادا، اولاد، بھائی، قبیلہ، وہ مال جو تمہارے ہاتھ لگے ہیں، وہ تجارت جس کے نقصان کا تمہیں خطرہ ہے اور وہ گھر جن سے تمہارا دلی تعلق ہے، خدا، اس کے پیغمبروں اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو پھر اس انتظار میں رہو کہ خدا اپنا عذاب تم پر نازل کر دے اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔" دوسرے امور کے زیر بحث آیت میں مذکور نہ ہونے کی دوسری دلیل ممکن ہے وہ شانِ نزول ہوں جو آیت کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ منجملہ دیگر شانِ نزول میں سے ایک یہ ہے کہ "حاطب بن ابی بلتعہ" نے اہلِ مکّہ کو خط لکھا اور انہیں خبردار کیا کہ ہو سکتا ہے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتحِ مکّہ کے لیے روانہ ہوں۔ جب یہ بات کُھلی تو حاطب نے عُذر پیش کیا کہ میرے عزیز و اقارب مکّہ میں کفّار کے نرغے میں ہیں، میں نے چاہا کہ اہلِ مکّہ کی خدمت کروں تاکہ میرے عزیز امان میں رہیں۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۵۵]۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس کا بیٹا صاحبِ ایمان تھا۔ اس نے ایک دن دیکھا کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی نوش فرما رہے ہیں تو اس نے عرض کیا کہ تھوڑا سا پانی اس برتن میں رہنے دیجئے تاکہ میں وہ اپنے باپ کو پلاؤں، شاید خدا اس کے دل کو پاک کر دے۔ مختصر یہ کہ جب وہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوش کیے ہوئے پانی میں سے بچا ہوا پانی اپنے باپ کے پاس لے کر پہنچا تو اس نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا اور نہ صرف یہ بلکہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ایک بہت ہی توہین آمیز جملہ کہا۔ اس کا بیٹا پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور اس نے اپنے باپ کے قتل کی اجازت طلب کی۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت نہ دی اور فرمایا: "اس کا لحاظ کرو، لیکن دل میں اس کے اعمال سے بیزار رہو۔" اس کے بعد پروردگارِ عالم اس گروہ کے عظیم اَجر کو پیش کرتا ہے جس کے دل مکمل طور پر عشقِ خدا کے قبضے میں ہیں اور پانچ موضوعات کو بیان کرتا ہے، جن میں سے بعض امداد اور توفیق کی شکل میں ہیں اور بعض نتیجے اور انجامِ کار کی صورت میں۔ پہلے اور دوسرے حصے کے سلسلے میں فرماتا ہے: "وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا نے ایمان کا خط ان کے دلوں کے صفحے پر کھینچ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے ان کو تقویت پہنچائی ہے۔" (أُو۟لَـٰئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْإِيمَـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍۢ مِّنْهُ)۔ واضح رہے کہ یہ امداد اور لطفِ الہٰی انسان کے ارادہ و اختیار کی آزادی کی روح سے متصادم نہیں ہوتے کیونکہ پہلا قدم، یعنی دشمنانِ خدا کی محبت کو ترک کرنا، خود انہی کی طرف سے اُٹھایا گیا ہے۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے امداد "استقرارِ ایمان" کی شکل میں ان کی جانب آئی ہے۔ کیا یہ روحِ الٰہی، جس سے خدا مومنین کی تائید کرتا ہے، ایمان کی بنیادوں کی تقویت ہے یا عقلی دلائل ہیں یا قرآن ہے یا وہ خدا کا عظیم فرشتہ ہے جس کا نام روح ہے؟ اس سلسلے میں مختلف تفسیریں اور احتمالات بیان ہوئے ہیں اور ان سب کا اجتماع بھی ممکن ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ یہ روح ایک طرح کی جدید حیاتِ معنوی ہے جس کا فیضان خدا مومنین پر کرتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں فرماتا ہے: "خدا انہیں جنّت کے باغات میں داخل کرے گا، جن کے درختوں اور محلّوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔" (وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا)۔ چوتھے مرحلے میں اضافہ کرتا ہے: "خدا اُن سے راضی اور خوش ہے اور وہ خدا سے راضی و خوش ہیں۔" (رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ)۔ قیامت کے مادّی انعامات یعنی حُور و قُصور کے مقابلے میں یہ عظیم ترین رُوحانی اَجر ہے جو مومنین کے اس گروہ کو دیا جائے گا۔ یہ گروہ احساس کرے گا کہ خدا ان سے راضی ہے۔ ان کے معبُود کی یہ رضامندی کہ اس نے انہیں قبول کر لیا ہے اور اپنی عنایت سے انہیں نوازا ہے اور اپنی بساط قُرب پر انہیں بٹھایا ہے، بہترین لطف دینے والا احساس ہے جو انہیں حاصل ہو گا اور اس کا نتیجہ خدا سے ان کی مکمل خوشنودی ہے۔ جی ہاں! کوئی نعمت اس دوہری نعمت کے برابر نہیں ہے اور یہ دوسری نعمتوں کی کلید ہے، اس لیے کہ جب خدا کسی سے خوش ہوتا ہے تو جو وہ طلب کرے گا خدا اسے دے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ کریم بھی ہے اور قادر و توانا بھی ہے۔ کیا یہی عُمدہ تعبیر ہے؟ فرماتا ہے: "خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی ہیں۔" یعنی ان کا مقام اس قدر اُونچا ہو گیا ہے کہ ان کا نام خدا کے نام کے ساتھ اور ان کی رضامندی خدا کی رضا کے پہلو بہ پہلو قرار پائی ہے۔ آخری مرحلہ میں ایک ایسے عمومی اعلان کی شکل میں، جو ایک اور نعمت کی ترجمانی کرتا ہے، فرماتا ہے: "وہ اللہ کی جماعت ہیں اور جان لو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔" (أُو۟لَـٰئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ)۔ نہ صرف انہیں دوسرے جہان میں کامیابی اور قیامت میں انواع و اقسام کی مادّی و معنوی نعمتیں حاصل ہوں گی بلکہ جیسا کہ گزشتہ آیات میں بھی آیا ہے، وہ اس دنیا میں بھی اللہ کی مہربانی سے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کریں گے اور اس دنیا کے اختتام پر بھی حق و عدالت کی حکومت ان کے قبضے میں ہو گی۔
چند اهم نکات: ١۔ حِزبُ اللہ اور حِزب شیطان کی اصل نشانی
قرآن مجید کی دو آیتوں میں حزب اللہ کی طرف اشارہ ہوا ہے (زیرِ بحث آیت اور سورہ مائدہ کی آیت ۵۶) اور ایک آیت میں حزبِ شیطان کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں مواقع، جن پر حزب اللہ کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، "حب فی اللہ" اور "بغض فی اللہ" یعنی اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی اور اولیائے حق کی ولایت کے مسئلے پر انحصار کرتا ہے۔ سورہ مائدہ میں مسئلۂ ولایت اور خدا و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے وجوب کی بات کی گئی ہے، جس میں مذکور ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے حالتِ رکوع میں زکوٰة دی ہے: "وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ۔" (اور جو اللہ، اس کے رسول اور ایمان والوں کو ولی بنائے، تو بےشک حزب اللہ ہی غالب ہونے والے ہیں)۔ زیرِ بحث آیت میں بھی دشمنانِ خدا کی دوستی سے قطع روابط پر تکیہ ہے۔ اس بنا پر حزب اللہ کا خط وہی خطِ ولایت ہے، جو خدا، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اوصیاء کے دشمنوں سے قطع تعلق کا خط ہے۔ اس کے مقابلے میں حزبِ شیطان کے تعارف کے وقت، جس کی طرف اس سورہ کی گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے، اس کی جو واضح ترین نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ نفاق، حق سے دشمنی، یادِ خدا کی فراموشی، جھوٹ اور فریب ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک مقام پر کہتا ہے: "فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ۔" (بےشک حزب اللہ ہی غالب ہونے والے ہیں)۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے: "أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ المفلحون۔" (خبردار! بےشک حزبِ شیطان ہی نقصان اٹھانے والے ہیں)۔ اس طرف توجہ کرنے سے کہ فلاح بھی دشمن کے مقابلہ میں کامیابی اور ان پر غلبہ کے ہمراہ ہے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ دونوں آیتوں کا مفہوم ایک مربوط صورت میں اس امر کے ساتھ ظاہر ہے کہ فلاح و رستگاری غلبہ و کامیابی کی نسبت زیادہ گہرا مفہوم رکھتی ہے، اس لیے کہ وہ مقصد تک پہنچنے کو بھی مشخص کرتی ہے۔ اس کے برعکس حزب شیطان کا تذکرہ اس کی شکست، اس کے نقصان اور مقاصد میں ناکامی کے حوالے سے کرتا ہے۔مسئلۂ ولایت، ولایت خاص معنوں میں اور حبّ فی اللہ و بغض فی اللہ، عام معانی ہیں، ایک ایسا مسئلہ ہے کہ روایاتِ اسلامی میں اس کی بہت تاکید ملتی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں کہ جب بھی میں پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں گیا تو انہوں نے میرے شان پر ہاتھ رکھ کر آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "کہ سلمان یہ شخص اور اس کا گروہ کامیاب ہے"، "یا ابالحسن ما اطلعت علی رسول اللہ الاضرب بین کتفی وقال یا سلمان ھذا و حزبہ ھم المفلحون۔" [تشریحی نوٹ: یہ حدیث تفسیر برہان میں اہل سنت کی کتب سے نقل ہوئی ہے (برہان، جلد ٤، صفحہ ٣٢١)]۔ دوسرے مورد میں یعنی ولایت عامہ کے سلسلے میں ایک حدیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمیں ملتی ہے: "ود المؤمنون للمؤمنین فی اللہ من اعظم شعب الایمان۔" "ایک مومن کی دوسرے مومن سے برائے خدا خوشنودی اہم ترین شعبہ ایمان ہے۔" [بحوالہ: اصول کافی، جلد ٢، باب حب فی اللہ، حدیث ٣]۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی کی کہ کیا کوئی عمل میرے لیے بھی انجام دیا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں، میں نے تیرے لیے نماز پڑھی ہے، روزہ رکھا ہے، انفاق کیا ہے اور تجھے یاد کرتا رہا ہوں۔ فرمایا: "نماز تیرے لیے حق کی نشانی تھی، روزہ جہنم کی آگ کے مقابلے میں سپر تھا، انفاق محشر کے لیے سایہ ہے اور ذکر نور ہے۔ اے موسیٰ، میرے لیے تم نے کون سا عمل کیا ہے؟" عرض کیا: خداوندا! خود تو اس سلسلے میں میری رہنمائی فرما۔ فرمایا: "ھل والیت لی ولیا وھل عادیت لی عدوا قط فعلم موسیٰ ان فضل الاعمال الحب فی اللہ والبغض فی اللہ" کبھی میرے لیے کسی سے محبت کی ہے اور میری خاطر کسی سے دشمنی کی ہے؟ یہ وہ مقام تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ افضل ترین عمل حب فی اللہ اور بغض فی اللہ ہے۔ اللہ کے لیے دوستی اور اللہ کے لیے دشمنی۔ [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ١، صفحہ ٢٠١]۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "لا یمحض رجل الایمان باللہ حتی یکون اللہ احب الیہ من نفسہ وابیہ وامہ وولدہ واہلہ ومالہ ومن الناس کلھم۔" کسی شخص کا اللہ پر ایمان کامل نہیں ہوتا، تا وقتیکہ خدا اس کو اس کی جان، اس کے ماں باپ، اولاد، اہل خانہ اور اس کے مال سے زیادہ محبوب نہ ہو، اور انسانوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔ [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ١، صفحہ ٢٠١]۔ اس عنوان کے ماتحت اس بات کی سمت بھی، یعنی دوستانِ خدا سے دوستی اور نفی کی سمت میں بھی دوستانِ خدا سے دشمنی کی روایات بہت زیادہ ہیں۔ بہتر ہے کہ ہم اس گفتگو کو امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک پُرمفہوم حدیث پر ختم کر دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے: "إذا أردتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فيكَ خَيْرًا، فانْظُرْ إلى قَلْبِكَ، فإنْ كانَ يُحِبُّ أهلَ طاعَةِ اللهِ، وَيُبْغِضُ أهلَ مَعْصِيَتِهِ، فَفِيكَ خَيْرٌ، وَاللهُ يُحِبُّكَ. وإنْ كانَ يُبْغِضُ أهلَ طاعَةِ اللهِ، وَيُحِبُّ أهلَ مَعْصِيَتِهِ، فَلَيْسَ فِيكَ خَيْرٌ، وَاللهُ يُبْغِضُكَ، وَالمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ۔" "اگر یہ جاننا چاہو کہ تم ایک اچھے انسان ہو تو اپنے دل میں جھانک کر دیکھو۔ اگر وہ اللہ کی اطاعت کرنے والوں کو دوست اور اس کے نافرمانوں کو دشمن رکھتا ہے تو جان لو کہ تم اچھے انسان ہو اور خدا بھی تمہیں دوست رکھتا ہے۔ اور اگر تمہارا دل خدا کی اطاعت کرنے والوں کو دشمن اور اس کی معصیت کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے تو پھر تم میں کوئی خوبی نہیں اور خدا تم سے دشمنی رکھتا ہے، اور انسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جسے وہ دوست رکھتا ہے۔" [بحوالہ: سفینة البحار، جلد ١، صفحہ ٢٠١]۔
٢۔ حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کا اَجر
جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیات میں دیکھا ہے کہ خدا نے ان لوگوں کے لیے، جو اس کے عشق کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں اور ہر تعلق کو اس سے لگاؤ کے ماتحت قرار دیتے ہیں، اس کے دوستوں کو دوست اور اس کے دشمنوں کو دشمن قرار دیتے ہیں، پانچ عظیم اَجر مقرر کیے ہیں جن میں سے تین اَجر تو اسی دنیا میں عطا کرتا ہے اور دو اَجر قیامت میں عطا فرمائے گا۔ اس جہان کی پہلی نعمت ایمان کا ان کے دلوں میں قرار دینا ہے، خدا ان کے دلوں میں ایمان کا نقش اس طرح مرتسم کرتا ہے کہ حوادث کے ہاتھ اور زندگی کے طوفان اسے محو نہیں کر سکتے اور قطع نظر اس سے ایک نئی روح سے ان کو تقویت دیتا ہے۔ اور تیسرا یہ کہ انہیں اپنے حزب میں شمار کرتا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ آخرت میں بہشتِ جاوداں اپنی تمام نعمتوں کے ہمراہ ان کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی مطلق خوشنودی و رضامندی کا اعلان کرتا ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے: "مامن مؤمن إلا ولقلبه إذنان في جوفه، إذن ينفث فيها الوسواس الخناس، وإذن ينفث فيها الملك، فيؤيد الله المؤمن بالملك فذالک قوله، وايدهم بروح منه۔" ہر مومن کے دل میں دو کان ہیں۔ ایک وہ جس میں وسواس خناس پھونک مارتا ہے اور دوسرے کان میں فرشتہ پھونک مارتا ہے، خدا مومن کو فرشتے کے ذریعہ تقویت دیتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق فرمایا: "وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ۔" [بحوالہ: کافی مطابق نقل تفسیر المیزان، جلد ١٩، صفحہ ٢٨٨]۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی تفسیر کے سلسلے میں منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "إذا زنَى الرجل فارقَه روح الإيمان۔" جب انسان زنا کرتا ہے تو اس وقت روحِ ایمان اس سے جدا ہو جاتی ہے، یہ روحِ ایمان وہی ہے جس کے متعلق خدا نے قرآن میں فرمایا ہے: "وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ۔" [بحوالہ: کافی مطابق نقل تفسیر المیزان، جلد ١٩، صفحہ ٢٨٨]۔ مندرجہ بالا حدیث سے روحِ ایمان کی وسعت اور روحِ انسانی کے اعلیٰ مرتبہ اور شمولِ فرشتہ کے بارے میں وضاحت ہوتی ہے۔ یہ آیات اس حقیقت کو بھی بتاتی ہیں کہ روحِ ایمان کے اس مرتبہ کے ہوتے ہوئے انسان شراب خوری اور اس قسم کے دوسرے گناہوں کا مرتکب نہیں ہوتا۔ خداوندا! اگر تو ہمیں روحِ ایمان عطا کر دے تو اپنے کمزور اور ضعیف بندوں پر تیرا احسان عظیم ہو گا۔ اس کے بعد انہیں کوئی غم نہیں ہو گا۔ پروردگارا! ہمیں اپنے دوستوں کی دوستی اور اپنے دشمنوں کی دشمنی کی توفیق عطا فرما اور اپنے دشمنوں کی دوستی اور دوستوں کی دشمنی سے محفوظ فرما۔ بارِالہٰا! تو نے سچے مؤمنین سے کامیابی کا وعدہ کیا ہے اور انہیں حزب اللہ شمار کیا ہے۔ ہمیں اس حزب میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرما اور اپنی کامیابی ہمارے شاملِ حال فرما۔ آمین یارب العالمین۔