Sūra 16 · 128v
Chapter 16128 verses

An-Nahl

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
النحل
النحل

سوره نحل

اس کی ۱۲۸ آیات ہیں اِس کا کچھ حصّہ مکّی ہے اور کُچھ مدنی

اِس سُورہ کے مضامین

اگرچہ بعض مفسرین اس سورہ کی تمام آیات کو مکّی سمجھتے ہیں لیکن زیادہ تر مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس کی کچھ آیات مکّہ میں نازل ہوئیں اور کچھ مدینہ میں۔ مکّی اور مدنی سورتوں کے جیسے مضامین ہوتے ہیں انہیں پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے خصوصا اس کی بعض آیات میں صراحت سے ہجرت اور جہاد کی بات کی گئی ہے۔ مثلاً یہ ۴۱: والذين هاجروا في الله۔۔۔۔۔۔ اسی طرح آیہ ۱۰۱: ثمّ انّ ربّک للّذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثمّ جاھدوا فصبروا۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں موضوعات ہجرتِ پیغمبرص کے بعد سے مناسبت رکھتے ہیں اور اگر آیہ ۴۱ میں ذکرِ حجرت کو جعفر بن ابی طالب کی سربراہی میں مسلمانوں کی پہلی ہجرت یعنی ہجرتِ حبشہ کی طرف اشارہ سمجھا جائے تو آیت ۱۰۱ میں تو ہجرت اور جہاد دونوں کا اکٹھا ذکر آیا ہے۔ بہت بعید ہے کہ یہ پہلی ہجرت کی طرف ہو۔ اس آیت کو رسول اللہ کی ہجرتِ مدینہ کے علاوہ کسی اور پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں آیہ۱۲۶: وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به۔۔۔۔۔۔ کی تفسیر میں مشہور ہے کہ یہ جنگ احد کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور جنگِ احد ہجرت کے بعد ہوئی ہے۔ ان وجوہ کی بناء پر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سورہ کی ابتدائی چالیس آیات تو مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور باقی آیات مدینہ میں جبکہ بعض دیگر حضرات اس کی تین آیات کے علاوہ باقی سب آیات کو مکّی سمجھتے ہیں اور تین آیات کو وہ جنگ احد کے سلسلے میں سمجھتے ہیں۔ امرِ مسلّم یہ ہے کہ اس سورہ کو مکی اور مدنی آیات کا مرکب سمجھا جائے۔ اگرچہ چند آیات کے سوا ہر آیت کے بارے حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتاکہ یہ مکی ہے یا مدنی۔ بہرحال اس سورہ کی آیت میں مکی سورتوں کی سی مخصوص بحث بھی نظر آتی ہے مثلاً توحید اور معاد کے بارے میں بحثِ قاطع اور شرک و بت پرستی سے سخت مقابلہ نیز مدنی سورتوں کی سی مخصوص بحث بھی موجود ہے مثلاً جتماعی و معاشرتی احکام اور جہاد و ہجرت سے مربوط مسائل۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس سورہ کے مضامین دلکش اور مناسب انداز میں آپس میں مِلے جلے ہوئے ہیں۔ مضامین کے مشتملات کچھ اس طرح سے ہیں: ۱۔ اس سورہ میں سب سے زیادہ نعمات الٰہی کے بارے میں بحث کی گئی ہے اس سلسلے میں ایسی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ ہر انسان کے اندر احساسِ شکر گزاری بیدار ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان ان سب نعمات کے خالق کے زیادہ نزدیک ہو جاتا ہے۔ یہ نعمات ہیں: بارش، نورِ آفتاب، طرح طرح کے پودے، پھول، پھل، میوے اور دیگر غذائی مواد۔ اسی طرح جانور کہ جو انسان کے خدمت گزار ہیں، منافع اور برکات کہ جو حیوانات سے انسان کو پہنچتے ہیں اور مختلف قسم کے وسائل و اسباب زندگی۔ یہاں تک کہ اولاد اور بیوی کی نعمت۔ مختصر یہ کہ طرح طرح کے "طیّبات"۔ اسی وجہ سے بعض اس سورہ کو "سورہ نعم [نعمت کی جمع]" کہتے ہیں لیکن اس کا مشہور نام وہی "سورہ نحل"ہے۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ کی گوناگوں نعمتوں کو شمار کرتے ہوئے اس میں شہد کی مکھّی کی طرف بھی ایک معنی خیز اور عجیب و غریب اشارہ کیا گیا ہے۔ خصوصا اس سے انسان کو حاصل ہونے والی اہم غذا کے حوالہ سے نیز اس کی طرف حشرہ کی زندگی میں جو توحید کی نشانیاں موجود ہیں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ۲۔ اس سورہ کا دوسرا موضوعِ کلام توحید، خلقتِ خدا کی عظمت، معاد اور مشرکین اور مجرمین کو تہدید ہے۔ ۳۔ اس سورہ کا ایک اور حصّہ اسلام کے مختلف احکام مثلاً عدل و احسان، ہجرت و جہاد، فحشاء، منکر کی نہی اور ظلم و پیمان شکنی کی ممانعت پر مشتمل ہے۔ اسی طرح نعمتِ الٰہی کی شکرگزاری کی دعوت دی گئی ہے نیز اس سلسلےمیں توحید کے ہیرو حضرت ابراہیم ع کا ذکر ایک شکر گزار بندے کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ ۴۔ گفتگو کا ایک پہلو مشرکین کی بدعات کے بارے میں ہے اور اس سلسلے میں کئی ایک جاذب نظر سی مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔ ۵۔ نیز اس سورہ میں انسانوں کو شیطانی وسوسوں سے ڈرایا گیا ہے۔

اس سوره کی فضیلت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے منقول بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا: من قراٰھا لم یحاسبہ اللہ تعالی بالنعم الّتی انعمھا علیہ فی دار الدنیا جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا خدا تعالی اس جہاں میں اسے بخشی گئی نعمتوں کا حساب نہیں لے گا [مجمع البیان جلد ۶ ص ۳۴۷]۔ واضح ہے کہ ان آیات کی تلاوت کے جن میں نعمات الھی کا اہم حصّہ بیان ہوا ہے اگر فکر و نظر کے ساتھ ہو تو یہ عزم، عمل اور شکر گزاری کا سبب بن جاتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں انسان ہر نعمت کو ٹھیک اسی مقصد کے لیے صرف کرے گا جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے لہذا اس کے بعد اس سے کیسے یہ حساب لیا جائے کہ اس نے نعمت کو بجا صرف نہیں کیا۔

1
16:1
أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
(مشرکوں اور مجرموں کی سزا کے بارے میں )حکم خدا پہنچ گیا ہے۔ اس کیلئے جلدی نہ کرو۔ خدا اس سے منزہ و برتر ہے کہ اس کیلئے شریک قرار دیئے جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 2 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
16:2
يُنَزِّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦٓ أَنۡ أَنذِرُوٓاْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ
روح الٰہی کے ساتھ ملائکہ کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل کرتا ہے (اور انہیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈرائیں اور( ان سے کہیں کہ) میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا میرے (حکم کی) مخالفت سے بچو۔

حکمِ عذاب قریب ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جیسا کہ پہلے کہا چکا ہے کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات کا اہم حصّہ مکّہ میں نازل ہوا ہے۔ یہ وہ دن تھے جب پیغمبر اسلام ص کو مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے شدید الجھاو اور سختی کا سامنا تھا۔ ہر روز وہ آپ کی حیات آفریں اور آزادی بخش دعوت کے خلاف کوئی نیا بہانہ تراشتے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ جس وقت رسول اکرم ص انھیں عذاب الٰہی کی تہدید کرتے تو بعض ہٹ دھرم کہتے کہ اگر یہ عذا ب اور سزا جس کی دھمکی دیتے ہو سچ ہے تو پھر وہ ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا اور شاید کبھی مزید کہتے کہ اگر فرض کیا عذاب آیا بھی تو ہم بتوں کا دامن تھام لیں گے۔ تاکہ وہ بارگاہ الٰہی میں سفارش کریں کہ وہ ہم سے عذاب اٹھا لے کیا وہ اس کی بارگاہ کے شفیع نہیں ہیں۔ اس سورہ کی پہلی آیت ان اوہام پر خط بطلان کھینچتے ہوئے کہتی ہے: جلدی نہ کرو۔ مشرکوں اور مجرموں کی سزا کے بارے میں حکم الٰہی یقینا پہنچ چکا ہے (أتى أمر الله فلا تستعجلوه) اور اگر تمہارا خیال ہے کہ بت اس کی بارگاہ کے سفارشی ہیں تو تم سخت غلطی اور اشتباہ میں۔ خدا اس سے منزہ اور برتر ہے کہ جسے تم اس کا شریک بناتے ہو(سبحانه وتعالى عما يشركون)۔ لہٰذا اس آیت میں”امر اللہ“ مشرکین کے لئے عذاب کے بارے میں حکم خدا کی طرف اشارہ ہے اور لفظ ”اتٰی“ اگر چہ فعل ماضی ہے اور گزشتہ زمانے میں اس حکم کے تحقق کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اس کا مفہوم مضارع ہے اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم یقینا اور قطعاً تحقق پذیر ہو گا۔ ایسا قرآن میں کثرت سے ہے کہ قطعی الوقوع صیغہ مضارع ماضی کےساتھ ذکر ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ”امر اللہ“ خود عذاب کی طرف اشار ہ ہے نہ کہ حکم عذب کی طرف۔ بعض نے اس سے ”روز قیامت“ مراد لیا ہے۔ لیکن جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب اور سزا کا فی دوافی بیان اور عادلانہ اتمام حجت کے بغیر نہیں ہے لہٰذا بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا ملائکہ کو خدائی روح کے ساتھ حکمِ الٰہی کے ہمراہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے(ينزل الملائكة بالروح من أمره على من يشاء من عباده ["من امر" میں "من" ب کے معنی میں ہے اور یہاں سببّیت کے معنی دیتا ہے۔ ]) اور انھیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈراو، شرک و بت پرستی پر متنبہ کرو اور کہو کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے (أن أنذروا أنه لا إله إلا أنا)۔ لہٰذا صرف میری نافرمانی سے ڈرو اور میرے سامنے احساسِ ذمہ داری کرو(فاتقون)۔ اس آیت میں روح سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وحی، قرآن اور نبوت ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کا باعث ہے اگرچہ بعض مفسّرین نے یہاں وحی کو قرآن سے اور دونوں کو نبوت سے جدا کیا ہے اور انھیں تین تفاسیر کی شکل میں بیان کیا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں۔ بہرحال، ”روح“ یہاں معنوی اور روحانی پہلو سے ہے اور ہر اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو دلوں کی زندگی کا سبب ہیں اور نفوس کی تربیت اور عقلوں کی ہدایت کا باعث ہے جیسا کہ سورہ انفال کی آیہ ۲۴ میں ہے۔ يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم ۖ اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کی دعوت قبول کرو۔ جبکہ وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف پکارتے ہیں جو تمہاری زندگی کا باعث ہے۔ سورہ مومن کی آیت ۱۵میں ہے: یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح القاء کرتا ہے۔ نیز سورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲ میں ہے۔ وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا ۚ ما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان اس طرح ہم نے اپنے حکم سے تجھ پر روح کو وحی کیا اس سے پہلے کتاب و ایمان سے آگاہ نہ تھا۔ واضح ہے کہ ان آیات میں ”روح“ قرآن، مضامین وحی اور فرمانِ نبّوت کے معنی میں ہے اگر چہ روح قرآن کی دیگر آیات میں اور معانی میں بھی آیا ہے لیکن ان مذکورہ قرائن کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیر بحث آیت میں روح کا مفہوم قرآن اور مضمونِ وحی ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی بہت ضروری ہے کہ ”علیٰ من یشاء من عبادنا“ (اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے) کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وحی و نبی کی نبوت بغیر کسی حساب کتاب کے ہے کیونکہ مشیت الٰہی کبھی اس کی حکمت سے جدا نہیں ہوتی اور حکیم ہونے کے تقاضا سے وہ یہ انعام اسے عطا کرتا ہے جواس کا اہل ہو۔ ارشاد الٰہی ہے۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے (انعام ۱۲۴) یہ نکتہ بھی نظر سے اوجھل نہ رہے کہ اگر انبیاء کے لئے پہلا فرمان الٰہی " ان انذروا " (ڈراو) ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک گمراہ اور آلوشرک وفساد قوم کو بیدا ر کرنے کے لئے انذار سے بڑھ کر موثر کوئی چیز نہیں۔۔۔انذار۔۔۔ بیدار کرنے والا۔ آگاہ کرنی والا اور حرکت آفرین۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان نفع کا طالب اور نقصان پسند نہیں کرتا لیکن تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ تشویق کا اثر آمادہ افراد پر زیادہ ہوتا ہے جب کہ آلودہ افراد پر تہدید کا اثر بہت ہوتا ہے اور ابتدائے نبوت میں انداز اور ڈرانے والے امور ہونے چاہیئیں۔

3
16:3
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ اس سے بالاتر ہے کہ اس کیلئے شریک بنائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
16:4
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ
اس نے انسان کو ایک بے حیثیت نطفے سے پیدا کیا اور آخر کار وہ ایک موجود فصیح اور اپنا واضح مدافع قرار پایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
16:5
وَٱلۡأَنۡعَٰمَ خَلَقَهَاۖ لَكُمۡ فِيهَا دِفۡءٞ وَمَنَٰفِعُ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ
اور اس (اللہ)نے چوپایوں کو پیدا کیا جن سے تمہارے لباس اور دیگر منافع حاصل ہوتے ہیں اور تم ان کے گوشت میں سے کھاتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
16:6
وَلَكُمۡ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسۡرَحُونَ
اور تمہارے لئے ان میں زینت و شکوہ ہے جس وقت انہیں ان کی آرام گاہ کی طرف لوٹاتے ہو اور جب صبح کے وقت انہیں صحرا کی جانب بھیجتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
16:7
وَتَحۡمِلُ أَثۡقَالَكُمۡ إِلَىٰ بَلَدٖ لَّمۡ تَكُونُواْ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلۡأَنفُسِۚ إِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
اوروہ تمہارے بھاری بوجھ ایسے مقام تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تک تم بہت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ تمہارا پروردگار رؤف و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
16:8
وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
اور( اسی طرح) اس نے گھوڑوں ‘ خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا تاکہ تم ان پر سواری کرواور وہ تمہاری زینت بنیں اور وہ کئی ایک چیزیں خلق کرے گا کہ جنہیں تم نہیں جاتے۔

جانوروں کے مختلف فائدے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں شرک کی نفی کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ زیر بحث آیات میں شرک کی بیخ کنی کے لئے اور خدائے یکتا کی توجہ کے لئے دو حوالے سے بات کی گئی ہے۔ پہلے عقلی دلائل کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور عجیب و غریب نظام خلقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور انسان کے لئے خدا کی طرح طرح کی نعمتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے تاکہ اس میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو اور آخر کار اسے خدا کے قریب کر دے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کےسا تھ پیدا کیا ہے (خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ)۔ آسمان و زمین کی حقانیّت اس کے عجیب نظام سے بھی واضح ہے اور منظم و حساب شدہ آفرینش سے بھی، اس کے ہدف سے بھی اور اس میں موجود فائدہ سے بھی۔ اس کے بعد مزید فرمایا: خدا اس سے بر تر و بلند ہے کہ وہ اس کے لئے شریک بناتے ہیں (تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ)۔ بت کہ جنہیں وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں ایسی تخلیق کی صلاحیت ہر گز نہیں رکھتے یہاں تک کہ وہ تو معمولی سا مچھر یا غبار کا ذرہ بھی پیدا نہیں کر سکتے اس کے باوجود تم انھیں کس طرح خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ مشرکین خود اس عجب نظام اور بدیع خلقت کہ جو خالق کے علم و قدرت کی مظہر ہے کو صرف اللہ کی طرف سے جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عبادت کے وقت بتوں کے سامنے خاک پر گِر پڑتے ہیں۔ آسمان و زمین اور ان میں بے پایاں اسرار کی جانب اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے وہ انسان کہ جو ہر کسی سے بڑھ کر اپنے آپ سے قریب ہے۔ فرمایا گیا ہے: انسان بے وقعت اوربے قیمت نطفے سے پیدا کیا گیا لیکن اس طرح پیدا ہو کر وہ فصیح و بلیغ متفکر، اپنا دفاع کرنے والا اور واضح کلام کرنے والا بن گیا۔(خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ)۔ ”نطفہ“ کا اصلی معنی ہے تھوڑا یا صاف پانی۔ بعد میں ان قطرات کو نطفہ کہا جانے لگا جو تلقیح کے ذریعے انسانی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔ اس تعبیر سے درحقیقت، قرآن حق تعالیٰ کی عظیم قدرت کو مجسم صورت میں بیان کرنا چاہتا ہے کہ اس نے پانی کے بے حیثیت قطرے سے کیسی عجیب مخلوق پیدا کی ہے کہ جس کی قوسِ نزول اور قوسِ صعود کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب ”غصیم“ کو مدافع اور اپنی باطنی حالت بیان کرنے والے کے معنی میں لیا جائے جیسا کہ سورہٴ نساء کی آیہ ۱۰۵ میں ہے: ولا تكن للخائنين خصيما اے رسول ص! خیانت کرنے والوں کے حامی اور مدافع نہ بنو۔ یہ تفسیر کے ایک گروہ کے نزدیک قابل قبول ہے لیکن بعض مفسّرین نے ایک اور تفسیر بیان کی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ: خدا نے انسان کواپنی قدرت کاملہ کے ذریعے بے وقعت نطفے سے پیدا کیا لیکن یہ ناشکرا انسان خدا کے مقابلے میں کھلم کھلا مجادلہ اور مخاصمہ پر اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ مفسّرین سورہ یٰس کی آیہ ۷۷ کو اس تفسیر پر شاہد کے طورپر پیش کرتے ہیں۔ لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ زیرِ نظر آیات عظمتِ خلقتِ الہٰی کے بارے میں ہیں اور عظمت اس وقت آشکار ہو گی جب ظاہراً معمولی موجود سے وہ ایک قیمتی چیز پیدا کر دے۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی ہے کہ: خلقہ من ماء قطرة ماء منتن فیکون خصیماً متکلماً بلیغاً خدا نے انسان کو پانی کے بد بودار قطرے سے پیدا کیا ہے اور پھر وہ فصیح و بلیغ کلام کرنے والا ہو گیا [تفسیر نورالثقلین ج۳ ص ۳۹]۔ خلقتِ انسان کے ذکر کے بعد ایک اور اہم نعمت کا بیان ہے اور وہ ہے جو پایوں کی خلقت اور ان سے حاصل ہونے والے فائدے۔ ارشاد ہوتا ہے خدا نے چوپایوں کو پیدا کیا اور وہ تمہارے لباس اور پوشش کا ذریعہ ہیں جبکہ ان سے تمہیں اور فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں اور تم ان کا گوشت کھاتے ہو(والأنعام خلقها ۗ لكم فيها دفء ومنافع ومنها تأكلون)۔ اس آیت میں پہلے تو چوپایوں کی خِلقت کا ذکر ہے اور یہ خدا کے علم و قدرت کی دلیل ہے اس کے بعد ان کے ذریعے جو مختلف نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے سب سے پہلے "دفء" کا ذکر ہے یہ ہر قسم کے لباس اور پہناوے کو کہتے ہیں یہ اشارہ ہے جانوروں کی اون اور چمڑے سے بنائی جانے والی چیزوں مثلاً لباس، سویٹر، کمبل، جوتا، ٹوپی اور خیمہ وغیرہ کی طرف۔ دوسرے نمبر پر "منافع" کا لفظ آیا ہے یہ دودھ اور اس سے بنائی جانے والی چیزوں کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا گیا ہے "ومنها تأكلون" یہ ان کے گوشت سےاستفادہ کرنے کی جانب اشارہ ہے۔ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ ان فوائد میں سے سب سے پہلے لباس و پوشش اور مسکن و مکان کے مسئلےکو پیشِ نظر رکھا گیا ہے کیونکہ بہت سے لوگ (خصوصا بادیہ نشین) ایسے ہیں جن کا لباس بھی اون یا چمڑے سے تیار ہوتا ہے اور ان کے خیمے بھی جو انہیں سردی اور گرمی سے بچاتے ہیں بہرحال دوسری ہر چیز سے لباس و مکان کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ انھیں "منافع" سے پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ لباس ضرر کو روکنے کے لئے ہے اور ضرر کو روکنا حصولِ منافع پر مقدم ہے۔ ہو سکتا ہے وہ لوگ جو گوشت کھانے کے مخالف ہیں اس آیت سے بھی مطلب نکالیں کہ خدا نے جانوروں کا گوشت کھانے کا مسئلہ ان کے "منافع" میں شمار نہیں کیا۔ لہٰذا "منافع" کا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:" ومنها تأكلون" (اور تم ان حیوانات کا گوشت کھاتے ہو) اس تعبیر سے کم از کم یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ لبنیات کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن نے ان مفید جانوروں کے عام معمول فوائد بیان کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ان سے حاصل ہونے والے نفسیاتی فوائد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ جانور تمہارے لئے زینت کا باعث ہوتے ہیں جبکہ انھیں آرام کی جگہ واپس لے کر جاتے ہو اور جب صبح کے وقت انھیں صحرا کی طرف بھیجتے ہو (ولكم فيها جمال حين تريحون وحين تسرحون)۔ "تریحون" "اراحہ" کے مادہ سے غروب کے وقت جانوروں کو ان کے باڑوں اور آرام کی جگہوں کی طرف واپس لانے کے معنی میں ہے اسی لیے ان کے آرام کی جگہ کو "مراح" کہتے ہیں۔ 'تسرحون" "سروح" کے مادہ سے چوپایوں کو صبح کے وقت چرا گاہ کی طرف باہر لے جانے کے معنی میں ہے۔ بھیڑ بکریوں اور دوسرے چوپایوں کے بیابان اور چراگاہ کی طرف اکھٹے جانے اور پھر شام ڈھلے باڑوں اور آرام کی جگہ لوٹ آنے کے جاذبِ نظر منظر کو قرآن "جمال" سے تعبیر کرتا ہے یہ صرف ایک ظاہری، تکلفاتی اور رسمی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جس کا تعلق معاشرے کی گہرائیوں سے ہے یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس قسم کا معاشرہ خود کفیل ہوتا ہے فقیر و پس ماندہ نہیں ہے اور اس سے یا اس سے وابستہ نہیں ہوتا وہ خود وسائل مہیا کرتا ہے اور جو کچھ خود اس کے پاس ہوتا ہے اسے صرف کرتا ہے یہ دراصل معاشرے کا جمال استغناء اور خود کفالت ہے یہ درحقیقت جمالِ تولید اور ایک ملت کی ضروریات کی تکمیل ہے۔ واضح تر الفاظ میں استقلالِ آزادی کے جمال اور ہر قسم کی وابستگی سے نجات ہے۔ اس حقیقت کو دیہات میں رہنے والے اور دیہات میں پیدا ہو نے والے شہروں میں رہنے والوں سے بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ جب یہ مفید چوپائے آتے جاتے ہیں تو انھیں دیکھ کر انھیں کیسا روحانی اور دلی سکون ہوتا ہے ایسا سکون جو بے نیازی کے احساس سے اٹھتا ہے ایسا سکون جو ایک موثر اجتماعی ذمہ داری کی انجام دہی پر ہوتا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیر نظر آیت میں پہلے ان کے صحرا سے لوٹنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ جب یہ ڈھورڈنگر صحرا سے لوٹتے ہیں تو ان کے پستان دودھ سے بھرے ہوتے ہیں، شکم سیر ہوتے ہیں اور ان کے چہرے سے خوشی اور طمانیت جھلک رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس وقت ان میں وہ حرص اور جلد بازی نظر نہیں آتی جو صبح دم صحرا کی طرف جاتے ہوئے ہوتی ہے۔ اطمینان سے کشاں کشاں قدم اٹھاتے ہیں اور اپنے آرام کی جگہ پر جا پہنچتے ہیں۔ ان کے دودھ بھرے پستانوں کو دیکھنے والا ہر کوئی ایک بے نیازی کا احساس کرتا ہے۔ اگلی آیت میں ان جانوروں کے ایک اور اہم فائدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے وہ تمہارے بھاری بوجھ اپنے پشت پر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ایسے دیار کی طرف لے جاتے ہیں جہاں تک تم شدید مشقت کے بغیر نہیں پہنچ پاتے (وتحمل أثقالكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس ۚ) یہ خدا کی رحمت و کرم کی نشانی ہے کہ اس نے ان چوپایوں کو اتنی طاقت بخشی اور انھیں تمہارے قابو میں کر دیا کیونکہ ” تمہارا پر وردگار روف و رحیم ہے (اإن ربكم لرءوف رحيم)۔ "شِقّ" "مشقّت" کے مادہ سے ہے لیکن بعض مفسّرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ شگاف کرنے اور آدھا آدھا کرنے کے معنی میں ہے یعنی تم خود اس وزن کو اپنے کندھے پر لاد کر جاو تو تمہاری آدھی قوت ختم ہو جائے۔ اصطلاح کے مطابق نیم جاں ہو جاو لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح یہ چوپائے پہلے تو انسان کے لئے لباس اور گرمی سردی سے بچنے کا ذریعہ مہّیا کرتے ہیں دوسرے درجہ پر ان کے لبنیات سے تیار شدہ چیزوں سے استفادہ کیا جاتا ہے اور پھر ان کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اس کے بعد ان کے وہ نفسیانی آثار ہیں جو احساسات پر مرتب ہوتے ہیں اور آخر میں ان کی بار برداری کا ذکر ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس دور میں جو کہ مشین کا زمانہ ہے اس میں بھی بہت سے مواقع پر صرف چوپایوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور جہاں کوئی اور طریقہ کار آمد بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد ایسے جانور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انسان کی سوای کے کام آتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: خدا نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرسکو اور وہ تمہاری زینت کا سبب بھی بنیں (والخيل والبغال والحمير لتركبوها وزينة ۚ)۔ واضح ہے کہ یہاں لفظ "زینت" کوئی تکّلفاتی اور رسمی طور پر نہیں آیا جو شخص تعلیماتِ قرآن سے آشنا ہے اس کے لئے اس کا مفہوم واضح ہے۔ وہ زینت ہے جس کا اثر اجتماعی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے اس حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لئے آپ اس شخص کی حالت کا تصّور کریں کہ جس نے ایک طویل بیابانی راستے کو پا پیادہ طے کیا ہو اور تھکا ماندہ اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ ایک عرصہ تک کام کرنے کے قابل نہ رہا ہو اس کا موازنہ ایسے شخص سے کریں کہ سواری جس کے پاس ہو اور وہ بہت جلد اپنی منزل پر پہنچ گیا ہو۔ اس کی قوت و توانائی اسی طرح باقی ہو، خوش و خرم ہو اور اپنے آئندہ امو ر انجام دہی کے لئے تیار ہو تو کیا یہ زینت نہیں ہے؟ آیت کے آخر میں ایک نہایت اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور انسانی افکار کو آئندہ زمانے میں نقل و حمل کے نئے پیدا ہونے والے ذرائع کی طرف متوجہ کیا گیا ہے یعنی آئندہ زمانے میں انسان کے پاس ان جانوروں کی نسبت نقل وحمل کے بہتر اور خوب تر ذرائع ہوں گے۔ ارشاد ہوتا ہے خدا تعالیٰ (نقل و حمل کے لئے) کئی ایک چیز پید اکرے گا کہ جنھیں تم نہیں جانتے (وَیَخْلُقُ مَا لاَتَعْلَمُونَ)۔ بعض گزشتہ مفسّرین نے اگر چہ اس جملے کو ایسے جانوروں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو آئندہ پیدا ہوں گے اور نوعِ بشر کے مطیع ہوںگے لیکن جیسا کہ تفسیر مراغی اور تفسیر فی ظلال میں ہے ہمارے لیے جملے کا مفہوم سمجھنا آسان ہے کیونکہ ہم مشینی اور تیز رفتار سواریوں کے زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ جو لفظ"یخلق" (پید اکرے گا) استعمال کیا گیا ہے اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ انسان درحقیقت، چیزوں کو جوڑ کر اور ملا کر ایجادات کرتا ہے اور کچھ نہیں جبکہ ان چیزوں کا اصلی مواد صرف خدا کی تخلیق ہے علاوہ ازیں انسانی ایجادات میں موجود استعداد خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔

جانور پالنے اور کھیتی باڑی کی اہمیت

آج کے زمانے میں پیدا واری اور کارخانے اور مشینیں اتنی زیادہ ہیں کہ تمام دوسری چیزیں ماند پڑ گئی ہیں لیکن آج بھی انسانی زندگی کی پیداوار کا ایک اہم حصّہ جانور پالنے اور کھیتی باڑی سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ غذائی مواد کی حقیقی بنیاد یہی دو امور ہیں اسی بناء پر جانوروں اور کھیتی باڑی کی ضروریات میں خود کفالت نہ صرف اقتصادی استقلال کی ضامن ہے بلکہ سیاسی استقلال بھی بہت حد تک اس سے مربوط ہے لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ساری دنیا کی قومیں جانوروں کی نشوونما کو وسعت دینے اور اس کی وسعت کے لئے ماڈرن ذرائع استعمال کرنے میں کوشاں ہیں۔ یہ دونوں چیزیں اتنی اہم اور بنیادی ہیں کہ بعض اوقات ان ممالک میں سے جنھیں سوپر پاور کہا جاتا ہے مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے سیاسی مقام کو نظر انداز کر کے ان ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلائیں جو عین ان کے مخالف ہیں اس کے لئے روس کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ اسی بناء پر اسلام اور اس کی حیات آفریں تعلیمات میں جانوروں کی پرورش اور زراعت کے مسئلے کو انتہائی زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور ان امور کے لئے مسلمانوں کو ترغیب دینے کے لئے ہر موقع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن جانوروں کے مسئلہ پر کس تشویق آمیز لہجے میں بات کرتا ہے ان سے حاصل ہونے والے منافع کا ذکر کرتا ہے چاہے وہ غذئی اعتبار سے ہوں یا لباس کے لحاظ سے۔ یہاں تک کہ صحرا میں ان کے آنے جانے کا ذکر بڑے حسین پیرائے میں کرتا ہے۔ زراعت، کھیتی باڑی اور مختلف قسم کے پھلوں کی اہمیت کے بارے میں اسی طرح آئندہ آیات میں عمومی اعتبار سے گفتگو ہو گی۔ اسلامی روایات میں جانور پالنے کے بارے میں نہایت جاذبِ توجہ تعبیرات نظر آتی ہیں اسی طرح کھیتی باڑی کے بارے میں بہت سی روایات میں ہم نمونے کے طور پر اسلامی مصادر سے چند ایک روایات پیش کرتے ہیں۔ ۱۔پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) نے ایک ایک عزیز سے فرمایا: تم اپنے گھر میں "برکت" کیوں نہیں لاتے ہو؟ اس نے عرض کیا: "برکت" سے آپ کی کیا مراد ہے؟ فرمایا:"شاة تحلب" (دودھ دینے والی بکری) مزید فرمایا: انہ کانت فی دارہ شاة تحلب اونعجة او بقرہ فبرکاة کلھن جس گھر میں دودھ دینے والی بکری، بھیڑ یا گائے ہو تو یہ سب برکتیں ہیں [بحار الانوار ج ۱۴ ص ۶۸۶ طبع قدیم۔ مذکورہ حدیث میں بکری اور گائے کے علاوہ "نعجہ" کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ لغت میں اسی لفظ کے بہت سے معانی درج ہیں مثلاً وحشی گائے، پہاڑی بکری اور بھیڑ۔] ۲۔پیغمبر اکرم )صلی الله علیه و آله وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے بکری کی اہمیت کے بارے میں فرمایا:۔ نعم المال الشاة بکری بہت اچھا سرمایہ ہے۔ [بحار الانوار جلد ۱۴ ص ۶۸۶ طبع قدیم۔] ۳۔تفسیر نور الثقلین میں زیرِ بحث آیات کے ذیل میں امام امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے: افضل مایتخذہ الرجل فی منزلہ لعیالہ الشاة فمن کان فی منزلہ شاة قدست علیہ الملائکة مرتین فی کل یوم اپنے اہل خانہ کے لئے انسان گھر میں جو بہترین چیز مہّیا کرتا ہے وہ بکری ہے جس شخص کے گھر میں بکری ہو خدا کے فرشتے ہر روز دو مرتبہ اس کی تقدیس کرتے ہیں۔ یہاں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، ممکن ہے بہت سے لوگوں کے گھر میں بکری پالنے کے لئے حالات ساز گار نہ ہوں لیکن اصلی مقصد یہ ہے کہ جتنے گھر ہوں اتنی بھیڑ بکریاں ہمیشہ پالتے رہنا چاہئیے (غور کیجئے گا)۔ ۴۔زراعت کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: (من وجد ماءً و تراباً ثم افتقر فابعدہ اللہ) جس کے پاس پانی اور مٹی ہو اس کے باوجود وہ فقیر ہو، خدا اسے اپنی رحمت سے دور رکھے۔ [بحار الانوار جلد ۲۳ ص ۱۹۔] ۵۔پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: علیکم بالغنم و الحرث فانھما یروحان بخیر ویغدوان بخیر تمہاری ذمہ داری ہے کہ بھیڑ بکریاں پالو اور کھیتی باڑی کرو اور ان کا لین دین خیر و بر کت کا باعث ہے۔ [بحار الانوار جلد ۱۴ ص ۳۴۔] ۶۔امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: مافی الاعمال شیء احبّ الیٰ اللہ من الزراعة خدا کے ہاں زراعت سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ [بحار الانوار جلد ۲۳ ص۲۰۔] ۷۔امام صادق علیہ السّلام ہی سے ایک اور حدیث منقول ہے۔ فرماتے ہیں: الزارعون کنوز الانام تزرعون طیباً اخرجہ اللہ عزوجل وھم یوم القیامة احسن الناس مقاماً و اقربھم منزلة یدعون المبارکین۔ کسان لوگوں کے خزانے ہیں وہ خدا کا عطا کردہ پاکیزہ اناج بوتے ہیں قیامت کے دن وہ بلند ترین مقام کے حامل ہوں گے وہ خدا کے زیادہ قریب ہیں اس روز انھیں"مبارکین" کے نام سے پکارا جائے گا۔ [وسائل الشیعہ جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۴۔]

9
16:9
وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ
اورخدا کے ذمہ ہے کہ وہ بندوں کو راہ راست کی ہدایت کرے،البتہ بعض راستے گمراہی کے ہیں اور اگر خدا چاہے تو تم سب کو( جبری طور) پر ہدایت کرے( لیکن مجبور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
16:10
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗۖ لَّكُم مِّنۡهُ شَرَابٞ وَمِنۡهُ شَجَرٞ فِيهِ تُسِيمُونَ
وہ وہی ہے جس نے آسمانوں سے پانی بھیجا کہ جسے تم پیتے ہو نیز یہ پودے اور درخت بھی اسی سے اگتے ہیں کہ جنہیں چرنے کے لئے تم اپنے جانور لے کر جاتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
16:11
يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرۡعَ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلۡأَعۡنَٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
اس( بارش کے پانی ہی) سے خدا تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے،اسی سے وہ تمہارے لئے زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے یقیناً غور وفکر کرنے والوں کیلئے اس میں واضح نشانی موجود ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
16:12
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ وَٱلنُّجُومُ مُسَخَّرَٰتُۢ بِأَمۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
اس نے رات،دن اور سورج،چاند کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے نیز ستارے بھی اس کے حکم سے تمہارے لئے مسخر ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لئے (عظمت خدا کی) نشانیا ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
16:13
وَمَا ذَرَأَ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهُۥٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَذَّكَّرُونَ
(ان کے علا وہ) جو رنگا رنگ مخلوق اس زمین میں پیدا کی گئی ہے اسے بھی( تمہارے لئے) مسخر کر دیا گیا ہے۔ اس میں ان لو گوں کے لئے واضح نشانی ہے جو متذکر ہوتے ہیں۔

سب چیزیں انسان کے دستِ تسخیر میں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں خدا کی مختلف نعمتوں کا ذکر تھا۔ زیرِ نظر آیات میں بھی خدا کی بعض نہایت اہم نعمتوں کا ذکر ہے۔ ایک بہت اہم معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا کے ذمے ہے کہ لوگوں کو اس صراطِ مستقیم کی ہدایت کرے جس میں کوئی انحراف اور کجی نہیں ہے۔ (وَعَلَى اللّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ)۔ "قصد" راستہ صاف ہونے کے معنی میں ہے لہٰذا "قصد السبیل" کا معنی "سیدھا راستہ" ہو گا یعنی وہ راستہ جس میں انحراف اور گمراہی نہ ہو۔[بعض بزرگ مفسّرین مثلا علامہ طباطبائی نے "المیزان" میں "قصد" کو "قاصد" کے معنی میں لیا ہے کہ جو "جائز" یعنی حق سے منحرف کا الٹ ہے]۔ اس بارے میں کہ یہ "سیدھا راستہ" تکوینی پہلو سے ہے یا تشریعی پہلو سے، اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں لیکن کوئی مانع نہیں کہ اس میں دونوں پہلو شامل ہوں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو مختلف توانائیاں عطا کی ہیں اور اسے طرح طرح کی استعدادیں دی ہیں تاکہ تکامل و ارتقاء میں راہ میں اس کی مدد کی جائے کیونکہ تکامل و ارتقاء اس کا مقصدِ خلقت ہے اسی طرح نباتات اور دیگر مختلف جانوروں کو بھی اس ہدف تک پہنچنے کے لئے ضروری توانائیاں عطا کی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ انسان اپنے ارادے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ جب کہ نباتات اور جانور بے اختیار اپنے ہدف کی طرف جاتے ہیں۔ نیز تکامل انسان کی قوسِ صعودی کا بھی دیگر جانداروں سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔ اس طرح خداوند تعالیٰ نے خلقت اور تکوین کے اعتبار سے عقل و استعداد اور دیگر لازمی توانائیاں عطا کرکے اس صراط مستقیم پر چلنے کے لئے تیار کیا ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو وحیِ آسمانی، درکار تعلیمات اور انسانی ضرورت کے قوانین کے ساتھ بھیجا تاکہ تشریعی لحاظ سے صحیح اور غلط راستہ کو جدا جدا کرکے دکھا دیں اور اس راستے چلنے کے لئے انسان کے شوق کو ابھاریں اور اسے انحرافی راستوں سے باز رکھیں یہ بات جاذب نظر کہ مندرجہ بالا آیت میں خداوند تعالیٰ نے اس امر کو اپنا ایک فریضہ شمار کیا ہے۔ اور "علی اللہ" (خدا پر لازم ہے) الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قرآن کی دیگر آیات میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً (علینا للھدیٰ) ہم پر لازم ہے کہ ہم انسان کی ہدایت کری۔ (لیل ۱۲) اگر ہم "علی اللہ قصد السبیل" کے مفہوم کی وسعت پر غور کریں اور تمام مادی اور روحانی توانائیاں جو خلقت انسان اور اس کی تعلیم و پرورش میں استعمال ہوئی ہیں کے بارے میں سوچیں تو ہمیں "قصد السبیل" کی عظمت کا اندازہ ہو گا کہ جو تمام نعمتوں سے برتر ہے۔ انحرافی راستے چونکہ بہت زیادہ ہیں اس لئے قرآن اگلے مرحلے پر انسان کو بیدا رکرتے ہوئے کہتا ہے: ان راستوں میں سے بعض انحرافی ہیں (ومنھا جائز)["منھا" کی ضمیر "سبیل" کی طرف لوٹتی ہے اور سبیل مونث مجازی ہے]۔ انسان کے کمال اور ارتقاء کے لئے چونکہ اختیار و ارادہ کی آزادی اہم ترین عامل ہے لہٰذا قرآن ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے "اگر خدا چاہتا تو ہم سب کو زبر دستی راہِ راست کی ہدایت کرتا" یہاں تک کہ تم ایک قدم آگے اس سے نہ رکھ سکتے (وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ) لیکن اس نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ جبری ہدایت نہ باعث افتخار ہے اور نہ تکامل و ارتقاء کاذریعہ اس نے تمہیں آزادی دی ہے تاکہ تم یہ راستہ اپنے قدموں سے طے کرو اور اوجِ کمال تک جا پہنچو۔ قرآن کا جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر انسانوں کا ایک حصّہ منحرف راستے کی طرف چل پڑتا ہے تو اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ ان کے مقابلے میں خدا مغلوب ہو گیا ہے بلکہ اس کی خواہش اور تقاضائے حکمت ہے کہ انسان آزاد ہے۔ اگلی آیت میں بھی مادی نعمت کا ذکر ہے تاکہ انسانوں کے احساس شکر کو ابھارا جائے اور ان کے دلوں کو عشقِ الٰہی کے نور سے اجالا کیا جائے اور انھیں ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی زیادہ سے زیادہ معرفت کی دعوت دی جائے۔ قرآن کہتا ہے: وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا (هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً)۔ حیات بخش، میٹھا، صاف شفاف اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک پانی جسے تم پیتے ہو (لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ)۔ اور اسی سے پودے اور درخت نکلتے ہیں کہ جنہیں چرنے کے لئے تم اپنے جانور بھیجتے ہو (وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ)۔ "تسیمون" "اسامہ" کے مادہ سے جانوروں کو چرانے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جانور زمین کے پودوں سے بھی اِستفادہ کرتے ہیں اور درختوں کے پتوں سے بھی۔ اِتّفاق کی بات ہے کہ عربی لغت میں "شجر" کا ایک وسیع مفہوم ہے۔ یہ لفظ درخت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور پودے کے لئے بھی۔ اس میں شک نہیں کہ بارش کا فائدہ یہی نہیں کہ اس کا پانی انسانوں کے پینے اور پودوں کے اگنے کے کام آتا ہے بلکہ اس سے ہوا صاف ہو جاتی ہے انسانی جسم کو درکار طوبت اور نمی حاصل ہوتی ہے انسانی تنفس میں سہولت کا باعث ہے اور اسی طرح اس بارش کے اور بے شمار فائدے ہیں لیکن چونکہ مذکورہ دو باتیں زیادہ اہم تھیں اس لئے فقط انہی کا ذِکر کیا گیا ہے۔ قرآ ن بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: بارش کے پانی ہی سے تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے (يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ) مختصر یہ کہ تمام پھل اسی سے اگتے ہیں (وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ)۔ یقینا یہ رنگا رنگ پھل اور طرح طرح کی کھیتیاں خدا کی طرف سے ان لوگوں کے لئے واضح نشانیاں ہیں جو صاحب فکر ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)۔ "زرع" کے مفہوم میں ہر طرح کی زراعت شامل ہے "زیتون" ایک خاص درخت کا نام ہے اور اس درخت کے پھل کو بھی "زیتون" کہتے ہیں (لیکن بعض مفسّرین کے نزدیک "زیتون" صرف درخت کا نام ہے اور "زیتونہ" اس کے پھل کا نام ہے جبکہ سورہٴ کی آیت ۳۵ میں لفظ "زیتونہ" خود درخت کے لئے استعمال ہوا ہے)۔ "نخیل" کا معنی ہے "کھجور کا درخت" یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ "اعناب" جمع ہے"عنب" کی جس کا معنی انگور۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم نے تمام پھلوں میں سے صرف ان تین پھلوں زیتون، کھجور اور انگور کا ذکر کیوں کیا ہے اس کی دلیل انشاءاللہ آپ اسی آیت میں پڑھیں گے۔ اس کے بعد اس نعمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس جہان کے مختلف موجودات انسان کے لئے مسّخر کردئے گئے ہیں، ارشادِ الٰہی ہے اللہ نے تمہارے لئے رات اور دن کو مسّخر کر دیا ہے اور اسی طرح سورج اور چاند کو بھی (وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالْنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ)۔ اسی طرح ستارے بھی حکم انسان کے سامنے مسّخر ہیں (وَالْنُّجُومُ مسّخراتٌ بِأَمْرِهِ)۔ ان امور میں یقینا خدا اور اس کی خلقت کی عظمت کی نشانیاں ہیں ان کے لئے جو عقل و فکر رکھتے ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ سورہ رعد اور سورہ ابراہیم کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کے لئے موجودات مسّخر ہونے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ موجودات انسانی فائدے کے لئے مصروف خدمت ہوں اور انسان کو اس بات کا امکان فراہم کریں کہ وہ ان سے استفادہ کر سکے۔ اسی بناء پر رات، دن، سورج، چاند اور ستاروں میں سے ہر کوئی انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اس لحاظ سے یہ موجودات انسان کے لئے مسّخر ہیں۔ یہ جاذبِ نظر تعبیر کہ موجودات حکمِ خدا سے انسان کے لئے مسّخر ہیں۔ اسلام اور قرآن کی نگاہ میں انسان کے مقام اور حقیقی عظمت کو واضح کرتی ہے اور اس کے خلیفة اللہ ہونے کی اہلیّت کا اظہار کرتی ہے اس تعبیر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خدا کی گونا گوں نعمتوں کا ذکر کر کے انسان کے جذبہ تشکر کو ابھار ا جائے اور وہ اس عمدہ و بدیع نظام کی اپنے لئے تسخیر کو دیکھتے ہوں اور خدا کے نزدیک ہو جائیں۔ اسی لئے آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: اس تسخیر کے لئے ان میں نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ اسرارِ تسخیر سے زیادہ آگاہی کے لئے سورہ ابراہیم کی آیات ۳۲ اور ۳۳ کی تفسیر دیکھئے۔ ان کے علاوہ "زمین میں پیدا کی گئی مخلوقات کو بھی تمہارے لئے مسّخر کر دیا گیا ہے" (وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ)۔ رنگا رنگ مخلوقات (مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ)۔ طرح طرح کے لباس، مختلف قسم کی غذائیں، پاکیزہ بیویاں، آرام و آسائش کے وسائل، قسم قسم کے معدنیات، زیرِ زمین اور بالائے زمین مفید چیزیں اور دوسری نعمتیں "ان میں بھی واضح نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ جاتے ہیں" (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ)۔

۱۔ مادی اور رروحانی نعمتیں

یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں مادی و روحانی نعمتیں اس طرح آپس میں ملی جلی ہوئی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اس کے با وجود آیات کے اس سلسلے میں مادی اور روحانی نعمتوں کے بارے میں لب و لہجہ میں ایک فرق ضرور ہے۔ کسی موقع پر نہیں کہا گیا کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہارے لئے فلاں روزی پیدا کرے لیکن راہ راست کی ہدایت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ خدا پر لازم ہے کہ وہ تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرے اور اس راستے کو طے کرنے کے لئے درکار قوت و توانائی بھی تمہیں عطا کرے، تکوینی لحاظ سے بھی اور تشریعی لحاظ سے بھی۔ اصولی طور پر قرآن کی یہ روش ہی نہیں کہ وہ کسی بحث کے کسی ایک پہلو پر ہی نظر رکھے۔ یہاں تک کہ درختوں اور پھلوں کی خلقت اور چاند سورج کی تسخیر ہونے کی بات کرتے ہوئے بھی معنوی اور روحانی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ مادی نعمتیں بھی خلقت و خالق کی عظمت کی نشانی ہیں۔

۲۔ زیتون، کھجور اور نگور ہی کا ذکر کیوں؟

ہو سکتا ہے یہ سمجھا جائے کہ قرآن نے مندر جہ بالا آیات میں طرح طرح کے پھلوں میں سے زیتون، کھجور اور انگور کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ نزول قرآن کے علاقے میں موجود تھے لیکن قرآن کے عالمی اور جاودانی ہونے اور اس کی تعبیرات کی گواہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ مطلب اس سے کہیں اونچا ہے۔ غذا شناس اور وہ عظیم سائنسدان جنہوں نے اپنی عمر کے سالہا سال مختلف پھلوں کے خواص کے مطالعے میں صرف کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت کم پھل ایسے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے انسانی جسم کے لئے ان تین پھلوں سے جتنے مفید اور موثر ہوں وہ کہتے ہیں کہ زیتون کا تیل بدن کے جلے ہوئے حصے کے پھر بننے کے لئے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے اس میں حرارت بہت زیادہ ہوتی ہے اسی بناء پر یہ ایک قوت بخش شے ہے جو لوگ اپنے صحت و سلامتی کی حفاظت چاہتے ہیں انھیں اس اکسیر سے استفادہ کرنا چاہئیے۔ زیتون کا تیل انسان کے جگر کا مخلص دوست ہے گردوں صفرا کے عوارض اور گردے اور جگر کے درد دفع کرنے کے لئے خشکی کو دور کرنے کے لئے بہت ہی موثر ہے اسی بناء پر اسلامی روایات میں بھی اس کی بہت مدح و ثنا اور توصیف کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے زیتون کے بارے میں مروی ہے: بڑی اچھی غذا ہے منہ کو خوشبودار بنا دیتی ہے۔ بلغم کو دور کرتی ہے چہرے کو صفائی اور تازگی بخشتی ہے۔ اعصاب کو تقویت دیتی ہے بیماری اور درد کو ختم کر دیتی ہے اور غصّے کی آگ کو بجھا دیتی ہے۔ [اسلام پزشک بیدارد]۔ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ خود قرآن میں زیتون کے درخت کو "شجرہ مبارکہ" یعنی با برکت درخت کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اسی طرح میڈیکل سائنس اور علمِ غذا شناسی کی ترقی نے دوا کی حیثیت سے کھجور کی اہمّیت کو بھی درجہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے۔ کھجور میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی اور پختگی میں اہم کردار کرتے ہیں نیز اس میں فاسفر( Phosphore) بھی موجود ہے۔ جس سے دماغ کے اصلی عناصر کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ اعصاب کو کمزوری اور خستگی سے بھی بچاتا ہے اور قوتِ بینائی کو زیادہ کرتی ہے۔ اس میں پوٹاشیم بھی موجود ہے جبکہ پوٹاشیم کی کمی ہی بدن میں زخمِ معدہ کی حقیقی وجہ سمجھی جاتی ہے نیز اس کا وجود پٹھوں اور بدن کے تانے بانے کے لئے بہت ہی قیمتی ہے دورِ حاضر کے غذا شناسوں میں یہ بات مشہور ہے کہ کھجور سرطان کو روکتی ہے کیونکہ اس سلسلے میں جو اعداد شمار مہیا ہوئے ہیں وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ جن علاقوں میں کھجوریں زیادہ کھائی جاتی ہیں وہ سرطان کی بیمای میں کم مبتلا ہوئے ہیں۔ عرب کے بدو اور صحرا نشین جن کی زندگی فقر و فاقے میں گزرتی ہے کھجور کھانے کی وجہ سے کبھی سرطان میں مبتلا نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ کھجور میں میگینشم (Magnesium) موجود ہے۔ خرمے میں شکر بہت ہے اور یہ شکر کی زیادہ صحیح اور بہتر قسم ہے یہاں تک کہ بعض مواقع پر شوگر کی بیماری میں مبتلا شخص بھی آرام کے ساتھ اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے کھجور میں تیرہ قسم کے حیاتی مادے اور پانچ طرح کے وٹامن معلوم کئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ ایک نہایت قیمتی اور بھر پور غذا ہے[کتاب "اوّلین دانشگاہ و آخرین پیامبر" جلد ۷ ص ۶۵۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اس کتاب کی ساتویں جلد میں غذاوں ہی کے خواص بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں علاج کے طور پر کھجور اور خرما کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا مطالعہ ان دونوں غذاوں کی اہمّیت سے آشنا کرتا ہے]۔ اسی بناء پر اسلامی روایات میں بھی اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : کل التمر فان فیہ شفاء من الادواء کھجور کھاو کہ اس میں بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ نیز یہ بھی روایت ہے کہ حضرت علی(علیہ السلام) کی غذا اکثر اوقات روٹی اور کھجور پر مشتمل ہوتی تھی۔ ایک اور روایت ہے کہ: جس گھر میں کھجور کا درخت نہیں اس کے رہنے والے در حقیت بھوکے ہیں۔ [سلیقہ البحار، جلد ۱ ص ۱۲۵] سورہ مریم کی آیات میں بھی آئے گا کہ حضرت مریم جس بیابان میں تھیں وہاں کچھ بھی نہ تھا جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں تازہ کھجور عطا کیں یہ اس طر ف اشارہ ہے کہ زچہ کے لئے تازہ کھجور بہترین وغذاوں میں سے ہے۔ یہاں تک کہ اس آیت کے ذیل میں آنے والی روایات کے مطابق اس حالت میں عورتوں کے لئے بہترین دوا کھجور ہی ہے۔ [سفینہ البحار جلد ۱ ص ۱۲۵]۔ باقی رہا انگور تو غذا شناس ماہرین کے بقول یہ اس قدر موثر عوامل رکھتا ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک طبیعی میڈیکل سٹور ہے۔ علاوہ ازیں انگور خواص کے لحاظ سے ماں کے دودھ کے قریب قریب ہے یعنی ایک مکمل غذا ہے انگور جسم میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ یہ زہر کی ضد اور کاٹ ہے خون کی صفائی، جوڑوں کے درد کے علاج ورم کے آرام اور خون بڑھانے کے لئے یہ ایک موثر دوا ہے۔ انگور معدہ اور آنتوں کو غیر مشکوک کر دیتا ہے یہ نشاط آفریں ہے۔ اور رنج و غم کو بر طرف کر دینے والا ہے اعصاب کو تقویت پہنچاتا ہے اس میں موجود مختلف وٹامن انسان کو قوت بخشتے ہیں انگور ایک نہایت قیمتی غذا ہونے کے علاوہ جراثیم کشی کی بہت صلاحّیت رکھتا ہے یہاں تک کہ سرطان کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی یہ ایک موثر عامل ہے۔ [اوّلین دانشگاہ آخرین پیامبر جلد ۷ ص ۱۰۱، ص ۱۲۲]۔ اسی بناء پر رسول اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) سے مروی ایک حدیث کے مطابق: خیر طعامکم الخبز و خیر فاکھتکم العنب تمہاری بہترین غذا روٹی اور بہترین پھل انگور ہے۔ [اسلام پزشک بیدارد]۔ ان پھلوں کے بارے میں غذا شناسوں نے جو کچھ کہا ہے اور فراواں روایات جو ان کے بارے میں اس اسلامی مصادر میں آئی ہیں ہم وہ سب کچھ بیان کرنے لگیں تو یقینا روشِ تفسیر سے ہٹ جائیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ ہم واضح کریں کہ قرآن نے ان تین پھلوں کا ذکر بلا وجہ نہیں کیا اور شاید اس زمانے میں ان کے فوائد کا اہم حصہ لوگوں سے مخفی تھا۔

۳۔ تفکر تعقل اور تذکر

زیرِ بحث آیات میں نعمات الٰہی کو تین حصوں میں بیان کرنے کے بعد لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے فرق یہ ہے کہ ایک موقع پر قرآن کہتا ہے: ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ دوسری جگہ کہتا ہے: اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ تیسری جگہ کہتا فرماتا ہے: ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو متذکر ہوتے ہیں۔ تعبیر کا یہ اختلاف یقینا از راہِ تفنن نہیں ہے بلکہ جیسا کہ قرآن کی روش سے واضح ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے شاید فرق کا پہلو یہ ہے کہ زمین کی رنگا رنگ نعمتوں کا مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ وہاں صرف تذکر اور یاد دہانی کافی ہے لیکن زراعت کا معاملہ اور زیتون، کھجور، انگور اور کلّی طور پر پھلوں کا مسئلہ ایسا ہے جس پر کچھ غور و فکر کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی غذائی خواص اور علاج کے لئے ان کی اہمیت سے آشنائی ہوسکے لہٰذا اس ضمن میں "تفکر" کی دعوت دی گئی ہے۔ رہا سورج، چاند اور ستاروں کی تسخیر کا مسئلہ، نیز رات اور دن کے اسرار کا معاملہ تو اس کے لئے زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے لہٰذا "تعقل" کا ذکر آیا ہے گویا یہ عام غور و فکر سے بالاتر مسئلہ ہے۔ بہرحال، قرآن کا روئے سخن ہر جگہ سوچ بچار کرنے والوں، اہل فکر و نظر اور صاحبانِ عقل کی طرف ہے۔ اس طرف توجہ کریں کہ قرآن ایک ایسے ماحول میں اترا کہ جہاں جہالت کے سوا کسی چیز کی حکمرانی نہ تھی اس سے تعبیرات کی عظمت اور آشکار ہوتی ہے یہ امر ان لوگوں کے لئے دندان شکن جواب بھی ہے جو بعض خرافاتی مذاہب کی وجہ سے سچے مذاہب پر بھی سرخ لکیر کھینچ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب تو افیون ہے اور یہ فکر و نظر اور عقل و فہم کو بے کار کر دیتا ہے اور خدا پر ایمان لانا آدمی کی جہالت کی پیدا وار ہے قرآن کی ایسی آیات تقریباً تمام سورتوں میں موجود ہیں جو وضاحت سے کہہ رہی ہے کہ سچا مذہب سوچ بچار اور تعقل کی پیداوار ہے اور اسلام ہر مقام پر سروکار ہی اہل فکر و نظر اور اولو الالباب سے رکھتا ہے نہ کہ جاہل خرافات بکنے والوں اور بے منطق روشن فکروں سے۔

14
16:14
وَهُوَ ٱلَّذِي سَخَّرَ ٱلۡبَحۡرَ لِتَأۡكُلُواْ مِنۡهُ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُواْ مِنۡهُ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
وہ ذات وہی ہے جس نے( تمہارے لئے) دریاکو مسخر کیا تاکہ اس سے تازہ گوشت کھا سکو اور لباس کیلئے اس سے وسائل زینت نکالو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ دریا کا سینہ چیرتی ہیں تاکہ تم (تجارت کر سکو اور) فضل خدا سے بہرہ مند ہو سکو، شاید تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
16:15
وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَأَنۡهَٰرٗا وَسُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
اور اس نے زمین میں محکم اور مضبوط پہاڑوں کو گاڑ دیا تاکہ تمہیں اس کی حرکت اور لرزنے سے محفوظ رکھے اور اس نے دریا پیدا کئے اور راستے بنائے، تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
16:16
وَعَلَٰمَٰتٖۚ وَبِٱلنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدُونَ
اور اس نے نشانیاں پیدا کیں اور( رات کے وقت) ان (لوگوں ) کی ستاروں کے ذریعے راہنمائی کی گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
16:17
أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
کیا خلق کرنے والا اس کی مانند ہے جو خلق نہیں کرتا؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
16:18
وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
اور اگر تم نعمات خدا کو گننا چاہو تو ہرگز شمار نہیں کر پاؤ گے یقیناً اللہ غفور و رحیم ہے۔

پہاڑ، دریا اور ستارے نعمت ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں انسان کو حاصل کچھ اور اہم نعماتِ الہٰی کا ذکر ہے یہاں بات دریاوں سے شروع کی گئی ہے کہ جو انسانی زندگی کا بہت اہم منبع ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جس نے دریاوں اور سمندروں کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور انھیں تمہاری خدمت پر مامور کیا ہے۔ (وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ)۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین کا زیادہ تر حصہ دریاوں اور سمندروں پر مشتمل ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ زندگی کی پہلی نپل دریا سے پھوٹی۔ اس وقت بھی دریا اور سمندر انسانوں اور زمین کی تمام موجودات کی زندگی کو جاری رکھنے کے لئے اہم منبع ہیں انھیں خدمتِ بشر پر مامور کرنا خداوند تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے بعد دریاوں کے تین فوائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاو۔ (لِتَأْكُلُواْ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا)۔ وہ گوشت کہ جس کی پرورش کی زحمت تم نے نہیں اٹھائی۔ صرف خدا کے دستِ قدرت نے انھیں سمندروں اور دریاوں میں پالا ہے اور تمہیں یہ مفت حاصل ہوا ہے۔ اس گوشت کی تازگی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اس زمانے میں بھی پرانا اور باسی کئی طرح کا گوشت ملتا تھا اور ہمارے اس زمانے میں بھی ملتا ہے اس صورتِ حال پر نظر رہے تو اس نعمت کی اہمیت اور تازہ گوشت سے غذا تیار کر کے کھانے کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ انسان کی مادی زندگی اور تمدن میں بہت ترقی ہوئی اس کے باوجود آج بھی دریا اور سمندر انسانی غذا کا ایک اہم منبع ہیں ہر سال لاکھوں ٹن گوشت جسے لطف پر وردگار کے دستِ مبارک نے انسانوں کے لئے پالا ہے دریا اور سمندر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس وقت جب انسان زمین پر بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھ کر اور ابتدائی مطالعہ کے بعد بعض لو گ آئندہ غذا کی کمی ہو جانے کا احساس کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ غذا میں آئندہ کی یہ متوقع کمی ڈراتی ہے لیکن سائنسدانوں کی توجہ دریاوں اور سمندروں کی طرف ہے انھوں نے ان کی طرف چشم امید لگائی رکھی ہے ان کا خیال ہے کہ مختلف النوع مچھلیاں پال کر اور ان کی نسل کو بڑھا کر اس کمی کو بہت حد تک پورا کیا جا سکتا ہے دوسری طرف سائنسدانوں نے دریاوں کے پانی کو آلودگی سے اور مچھلیوں کی نسل کی تباہی سے بچانے کے لئے قوانین اور طریقے بھی وضع کیے ہیں ان کے مجموعی مطالعے سے قرآن کے مذکورہ جملے کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو کہ چودہ سو سال پہلے نازل ہوا ہے۔ سمندروں سے ملنے والی چیزوں میں سے زینت اور بناو سنگار کے کام آنے والی چیزین بھی ہیں لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے تاکہ اس سے پہننے کے لئے زینت کی چیزیں نکال سکو(وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا)۔ انسان چوپایوں کی طر ح ذوق سے محروم نہیں بلکہ روحِ انسانی کے چار مشہور پہلو ہیں ان میں سے ایک جمالیاتی حِس ہے یہی ذوق حقیقی شعر اور ہنر کی تخلیق کا سرچشمہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کا روحانی پہلو بشری زندگی میں بہت موثر ہے لہٰذا صحیح طریقے سے، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اس پہلو کی ضروریات بھی پوری کرنی چاہییں۔ جو لوگ جمال پرستی، زینتوں اور لذتوں میں غرق ہیں وہ اسی طرح گمراہ ہیں جیسے وہ خشک افراد کہ جو ہر قسم کی زینت کے مخالف ہیں ان میں سے ایک گروہ افراط میں مبتلا ہے اور دوسرا تفریط میں۔ ایک گروہ سرمایے کو ضائع کرنے، طبقاتی فاصلے پیدا کرنے اور معنویات کو قتل کرنے کا باعث ہے جبکہ دوسرا جمود اور ٹہراو کا باعث ہے۔ اسی بناء پر اسلام میں معقول طریقے سے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے زیب و زینت سے استفادہ کی اجازت دی گئی ہے مثلاً اچھے لباس پہننے، مختلف قسم کے عطر استعمال کرنے بعض قیمتی پتھروں سے استفادہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے خصوصاً عورتوں کے لئے چونکہ وہ زیب و زینت کی طرف فطری طور پر زیادہ رغبت رکھتی ہیں لیکن ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ فضول خرچی سے خالی ہونا چاہئیے۔ آخر میں تیسری دریائی نعمت کا ذکر ہے اور وہ ہے اس میں کشتیوں کا چلنا جو کہ انسان اور اس کی ضروریات کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ فرمایا گیا ہے: کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتی ہیں (وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ)۔ کشتی پر بیٹھے ہوئے لوگ جب صفہ سمندر پر چل رہے ہوتے ہیں تو یہ منظر کس قدر قابلِ دید ہوتا ہے "خدا نے یہ نعمت تمہیں بخشی ہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھاو اور راہِ تجارت میں اس کے فضل و کرم سے استفادہ کرو(وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ)["وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ" واو عطف کے ساتھ آیا ہے اس کا کوئی معطوف علیہ ہونا چاہیے قاعدہ مقتر ہے اور اس کی تقدیر یہ ہے۔ لتنفعوا بھا و لتبتغوا من فضلہ تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کا سینہ چیرتی ہیں تاکہ تم اس سے مختلف فائدے اٹھا سکو اور تجارت کیلیے اس سے بہرہ ہوسکو]۔ ان سب نعمتوں کی طر ف متوجہ ہونے سے تم میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتو "شاید اس کی نعمتوں کا شکر بجالاو" (وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ)۔ لفظ "فلک" کشتی کے معنی میں ہے مفرد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ "مواخر" "ماخرة" کی جمع ہے اس کامادہ "مخر" ہے جو پانی کو دائیں بائیں سے چیرنے کے معنی میں ہے کشتیاں چونکہ چلتے وقت پانی کا سینہ چیرتی ہیں اس لئے انھیں "ماخر" یا "ماخرة" کہتے ہیں۔ اصولاً وہ کون ہے جس نے اس مادہ میں یہ خاصیت رکھی ہے جس سے کشتی بنائی جاتی ہے کہ وہ پانی کے اوپر ٹہر سکے اگر ہر چیز پانی سے زیادہ بھاری ہوتی اور پانی کا مخصوص دباو بھی نہ ہوتا تو ہم سمندر کے بیکراں صفحے پر کبھی بھی نہیں چل سکتے تھے نیز وہ کون ہے جو سمندروں کی سطح پر منظم ہواوں کو چلاتا ہے اور وہ کون ہے جس نے بخارات میں یہ طاقت پیدا کی ہے کہ ان سے ہم سمندر پر انجن والی کشتیاں چلا سکیں؟ کیا ان میں سے ہر ایک عظیم نعمت نہیں ہے۔ سمندری راستے خشکی کی سڑکوں اور شاہراہوں کی نسبت بہت وسیع، بہت کم خرچ اور زیادہ مہیا ہوتے ہیں۔ بعض دیو قامت بحری جہاز شہروں کی طرح وسیع ہوتے ہیں اور اس طرح انسانوں کو حمل و نقل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہاتھ آیا ہے ہم اس طرف توجہ کریں تو کشتی رانی کے لئے سمندروں کی نعمت کی عظمت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ سمندروں اور دریاوں کے نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن سخت اور مضبوط پہاڑوں کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے: زمین میں محکم اور مضبوط پہاڑ گاڑ دئیے گئے ہیں تاکہ اسے لرزنے اور حرکت کرنے سے بچا یاجائے اور تم اس پر آرام و اطمینان سے رہ سکو (وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ)["أَن تَمِيدَ بِكُمْ" تقدیر میں یوں تھا "لئلا تمید بکم" یا "کراھتہ ان تمید بکم" تاکہ وہ تمہیں ہلا جلا نہ دے یا تمہیں حرکت دینے کو نا پسند کرتے ہوئے]۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پہاڑوں کی بنیادیں اور جڑیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور باہم وابستہ اور پیوستہ ہیں اور زرہ کی طرح زمین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں یہ چیز اندرونی گیس کے سبب ہر لمحہ ممکن ہے سرزنش سے زمین کو بہت حد تک بچائے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں پہاڑوں کی خاص وضع پانی کے مد جزر کے مقابلے میں زمین کی جلد کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتی ہے اور اس پر پانی کے مدجزر کے اثر کو بہت کم کر دیتی ہے اسی طرح پہاڑ زمین پر آنے والے شدید طوفان کو قوت اور ہواوں کی حرکت کو کم کر دیتے ہیں کیونکہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کی ہموار سطح تیز آندھیوں اور طوفان کی زد میں رہتی اور اس حالت میں اس کے لئے سکون ممکن نہ تھا۔ نیز پہاڑ چونکہ پانیوں کے اصل خزانوں میں سے ہیں (برف کی صورت میں یا اندرونی طور پر ان میں پانی ہوتا ہے) لہٰذا ان کے ساتھ ہی فوراً دریاوں اور نہروں کی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: اور تمہارے لئے دریا اور نہریں پیدا کی گئی ہیں (وَأَنْهَارًا)۔ ممکن تھا کہ پہاڑوں کی وجود سے یہ وہم پیدا ہوتا کہ وہ زمین کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتے ہیں اور راستوں کو بند کر دیتے ہیں لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے اور تمہارے لئے راستے بنائے گئے ہیں تاکہ تم ہدایت پاو (وَسُبُلاً لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ)[بہرحال مندرجہ بالا آیت قرآنِ مجید کے علمی معجزات میں سے ہے۔ یہ بات کم از کم اس زمانے میں لوگوں پر ابھی منکشف نہیں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں تفصیل کے لیے ہماری کتاب "قرآن و آخرین پیامبر" دیکھیے]۔ یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ دنیا میں پہاڑوں کے بڑے بڑے سلسلوں میں کٹاو موجود ہے جس سے انسان ان کے درمیان سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے اور بہت کم ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پہاڑ زمین کے حصوں کو بالکل ہی ایک دوسرے سے الگ کر دیں۔ راستہ چونکہ نشانی، علامت اور راہنما کے بغیر انسان کو مقصد تک نہیں پہنچاتا لہٰذا راستے کی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد ان نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا گیا ہے: اور علامتیں قرار دی گئی ہیں (وَعَلامَاتٍ)۔ یہ علامتیں مختلف قسم کی ہیں پہاڑوں کی شکل و صورت، درے اور ان کا ایک دوسرے سے کٹاو اور علیحدگی، زمین کا نشیب و فراز، مختلف رنگ کی مٹی، پہاڑوں کے مختلف رنگ یہاں تک کہ ہر ایک میں چلنے والی ہواوں کی کیفیت راستے تلاش کرنے کے لئے علامتیں ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ علامتیں مسافروں کے لئے کس قدر مدد گار ہیں یہ انھیں منزل سے دور ہو جانے اور کھو جانے سے بچاتی ہیں بعض بیابان ایک ہی طرز کے ہوتے ہیں انھیں عبور کرنا بہت زیادہ مشکل اور خطر ناک ہے ایسے ایسے بیابان ہیں کہ کتنے ہی لوگ ان میں گئے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں آئے۔ غور کیجئے کہ اگر اسی طرح ساری زمین ایک ہی طرز اور کیفیت کی ہوتی، پہاڑ ایک جیسے ہوتے۔ سب دشت و بیابان ایک ہی رنگ کے ہوتے اور درے ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے تو کیا پھر انسان آسانی سے اپنے راستے معلوم کر سکتے؟ بعض اوقات انسان تاریک راتوں میں بیابانوں میں سفر کرتا ہے یا رات کو وسط سمندر میں سفر کرتا ہے اور اس کے لئے ایسی کوئی علامات نہیں ہوتیں ایسے میں اللہ تعالیٰ آسمانی علامتوں کو مدد کے لئے بھیجتا ہے تاکہ اگر زمین میں کوئی علامت نہیں ہے تو مسافر آسمانی علامت سے استفادہ کریں اور بھٹک نہ جائیں لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے اور ستاروں کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کی جا سکتی ہے (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ)۔ البتہ یہ ستاروں کے فوائد میں سے ایک کا ذکر ہے ورنہ ان کے بہت سے فوائد ہیں تاہم اگر ان کا صرف یہی فائدہ ہوتا تو بھی اہم تھا اگرچہ اب تو کشتیاں قطب نما کی مدد سے تیار کردہ نقشوں کے مطابق اپنا راستہ معین کر لیتی ہیں لیکن قطب نما کی ایجاد سے پہلے تو سمندروں میں ستاروں کی مدد کے بغیر چلنا ممکن ہی نہ تھا یہی وجہ ہے کہ رات کو جب بادل آسمان پر چھائے ہوتے تھے کشتیاں رک جاتی تھیں اور اگر وہ ایسے میں چلتی رہتیں تو انھیں موت کا خطرہ در پیش رہتا۔ البتہ ہم جانتے ہیں کہ جو ستارے آسمان میں ہمیں اپنی جگہ بدلتے نظر آتے ہیں وہ پانچ سے زیادہ نہیں ہیں انہیں سیّارے کہتے ہیں اگرچہ سیّارے ان سے زیادہ ہیں لیکن باقی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے۔ باقی ستارے اپنی جگہ پر برقرار رہتے ہیں گویا یہ سیاہ کپڑے پر جڑے ہوئے موتی ہیں یہ موتی کپڑے کو افق کی ایک طرف سے کھینچ کر دوسری طرف لے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ثوابت کی حرکت مجموعی ہے لیکن سیّاروں کی حرکت انفرادی ہے اور دیگر ستاروں سے ان کا راستہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں ثابت ستاروں کی مختلف شکلیں ہیں جو "اشکالِ فلکی" کے نام سے مشہور ہیں اور چاروں سمتیں (مشرق، مغرب، شمال، جنوب) معلوم کرنے کے لئے ان شکلوں کی پہچان بہت مفید ہے۔ پروردگار کی ان عظیم نعتوں اور پوشیدہ الطاف کا ذکر کرنے کے بعد قرآن انسانی وجدان کو فیصلے کی دعوت دیتا ہے کیا پیدا کرنے والا اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا، کیا تم خیال نہیں کرتے (أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ)۔ یہ تربیت کا ایک موثر طریقہ ہے۔ قرآن نے اس سے بہت سے مواقع پر استفادہ کیا ہے۔ قرآن سوالیہ طریقے سے مسائل پیش کر دیتا ہے اور ان کا جواب ان پر چھوڑ دیتا ہے جن کا وجدان بیدار ہے۔ قرآن اس طریقے سے لوگوں کے احساس کو ابھارتا ہے تاکہ جواب ان کی روح کے اندر سے اٹھے اور پھر وہ اسے قبول کرلیں اور اس جواب سے اس طرح محبت کریں جیسے وہ اپنے وجود سے پیدا ہونے والی اولاد سے کرتے ہیں۔ اصولی طور پر علمِ نفسیات کی رو سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صحیح تعلیم و تربیت کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کی جانا چاہئیے اس طرح کی جسے تعلیم دی جارہی ہو وہ مطالب کا خود سے احساس کرے اور خود اس کے اندر سے وہ مطالب نکالیں اسے یہ احساس نہ ہو کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو باہر سے اس پر ڈالی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ ان مطالب کو اپنے پورے وجود کے ساتھ قبول کرے اور ان کا دفاع بھی کرے۔ اس نکتے کا تکرار بھی ضروری ہے کہ وہ مشرکین جو مختلف بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ان کا کبھی یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ بت پیدا کرتے ہیں اور وہ خالق ہیں بلکہ وہ بھی خلقت کو اللہ کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے: کیا ان نعمتوں کے خالق کے سامنے سجدہ کرنا چاہئیے یا ان کے سامنے جو ایک ناچیز مخلوق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور جنھوں نے کبھی کسی چیز کو خلق نہیں کیا اور نہ وہ خلق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اس بناء پر کہیں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ نعمتِ الہٰی انہی چیزوں پر منحصر ہے۔ قرآن کہتا ہے: اور اگر خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو یہ تمہارے بس میں نہیں (وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا): سر تا پا تمہارا وجود اس کی نعمتوں میں مستغرق ہے ہر سانس جو اندر اور باہر آتا ہے یہی دو نعمتیں نہیں۔ لمحہ بھر میں ہزاروں نعمتیں ہیں اور ہر نعمت پر ایک شکر واجب ہے ہماری عمر کے گذرنے والے ہر لمحے کے لئے ہمارے بدن کے اندر اور باہر لاکھوں زندہ اور بے جان موجود کام کرتے ہیں جن کی فعالیت کے بغیر لحظہ بھر کی زندگی ممکن نہیں۔ اصولا ہم تمام نعمتوں سے آگاہ نہیں۔ انسانی علم و دانش کا دامن جتنا پھیلتا جا رہا ہے ان نعمتوں کے نئے افق ہم پر کھلتے جارہے ہیں ایسے افق کہ جو بے شمار ہیں کیا ان حالات میں ہم خدا کی نعمتیں شمار کر سکتے ہیں؟ اس وقت سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہم کس طرح اس کے شکر کا حق ادا کرسکتے ہیں اس حالت میں کیا ہم ناشکروں کے زمرے میں نہیں آئیں گے؟ اس سوال کا جواب قرآن اس آیت کے آخری جملے میں دیتا ہے۔ کہتا ہے: خدا غفور و رحیم ہے۔ (إِنَّ اللّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ)۔ جی ہاں! اللہ اس سے زیادہ مہربان اور بزرگوار ہے کہ اپنی نعمتوں پر شکر کی طاقت نہ ہونے پر تمہارا مواخذہ کرے اگر تم یہ جان لو کہ تم سر تا پا اس کی نعمت میں غرق ہو اور اس کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہو اور اپنا عذرِ کوتاہی اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو تم نے اس کا بہت شکر ادا کیا ہے ور نہ وہ شکر کہ جو اس کی خداوندی کے لائق ہے کوئی ادا نہیں کر سکتا لیکن یہ سب کچھ اس میں مانع نہیں کہ ہم مقدور بھر اس کی نعمتوں کو شمار کریں کیونکہ جس قدر جہاں بینی اور جہان شاسی میں اضافہ ہوتا جائے گا معرفتِ الہٰی میں بھی اضافہ ہوگا اور عشقِ الہٰی کا نور بھی دل میں زیادہ ضیاء پاش ہو گا۔ اس کی نعمتوں پر غور ہمارے احساس شکر گذاری کو بھی متحرک کرتا ہے اسی لئے ہادیانِ دین اپنے ارشادات میں بلکہ اپنی دعاوں اور مناجات میں بھی اس کی کچھ بے پایاں نعمتوں کو بیان کیا کرتے تھے تاکہ دوسروں کے لئے سبق ہو۔ شکرِ نعمت کے بارے میں اور اس بارے میں کہ انسان پروردگار کی نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتا ہم سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں۔

راہ، نشانی اور رہبر

مندرجہ بالا آیات میں اگرچہ زمین کے راستوں کا ذکر ایک نعمتِ الہٰی کے طور پر آیا ہے کیونکہ راستے تمدّن انسانی کی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ اسی لئے ترقی کاموں میں سب سے پہلے مناسب راستہ بنانے کی فکر کی جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی قسم کی آبادکاری اور انسانی فعالیت ممکن نہیں۔ بہرحال ہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں قرآن کا بیان انسان کی روحانی اور معنوی زندگی کے لئے نمونے کے طور پر ہو کیونکہ ہر مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے صحیح راستے کا انتخاب ضروری ہے راستے کے علاوہ علامات اور نشانیوں کا وجود بھی زندگی کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ایک دوسرے سے مشابہ راستے بہت ہیں اور ان میں سے اصلی راستہ بھول جانا بہت ممکن ہے۔ ایسے مواقع پر"علامات" کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ خصوصاً وہ مومنین جنہیں قرآن نے "متوسمین" (ہوشیار) کہا ہے انھیں چاہیئے کہ ان نشانیوں کے حوالے سے پہچانیں اور حق کی نشانیوں کو دیکھ کر اسے باطل سے جدا طور پر پہچانیں۔ اسی طرح رہبر و رہنما کا مسئلہ بھی محتاجِ وضاحت نہیں۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے مروی بہت سی روایات میں "نجم" سے رسول اللہ اور "علامات" سے آئمہ مراد لیے گئی ہیں۔ بعض روایات میں "نجم" اور"علامات" دونوں سے آئمہ اور ہادیانِ راہِ حق مراد لی گئی ہے ہم یہاں ان میں سے چند ایک احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ۱۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: النجم رسول اللہ و العلامات الائمة علیھم السلام ستارہ رسول اللہ کی طرف اور علامات آئمہ علیہم السلام کی طرف اشارہ ہے[تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵]۔ بعینہ یہی مضمون امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے۔ ۲۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا:۔ نحن النجم ہم ہی ستارہ ہیں [تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵]۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا: انت نجم بنی ھاشم تم بنی ہاشم کا ستارہ ہو [تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵]۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا: انت احد العلامات علامات میں سے ایک تم ہو [تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵]۔ یہ سب روایات مندرجہ بالا آیات کی معنوی تفسیر کی طرف اشارہ ہیں۔

19
16:19
وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ
جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، اللہ سب کو جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
16:20
وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ
خدا کے علاوہ وہ جن معبودوں کو پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو خلق نہیں کر سکتے،بلکہ وہ تو خود مخلوق ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
16:21
أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
وہ بے جان موجودات ہیں ( جن میں زندگی کی کوئی رمق نہیں )اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کی عبادت کرنے والے کب محشور ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
16:22
إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٞ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ
تمہارا معبود خدائے یکتا ہے ۔لیکن جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل حق کا انکار کرتے ہیں اور وہ بڑے بن بیٹھے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
16:23
لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡتَكۡبِرِينَ
جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں یقیناً خدا اس سب سے باخبر ہے اور وہ مستکبر ین کو پسند نہیں کرتا۔

مردہ اور بےشعور معبود

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں خدا کی ان دو نہایت اہم صفات کی طرف اشارہ تھا جن میں سے کوئی بھی بتوں اور تراشے ہوئے معبودوں میں نہیں تھی یعنی موجودات کا خالق ہونا اور نعمتیں عطا کرنا۔ زیرِ نظر پہلی آیت میں معبود حقیقی کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے علم اور دانائی۔ ارشاد ہوتا ہے: جسے تم پنہاں رکھتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو خدا سب کو جانتا ہے (وَاللّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ)۔ پھر تم بتوں کے پیچھے کیوں جاتے ہو کہ جن کا کائنات کی خالقیت میں ذرہ برابر بھی حصہ نہیں۔ نہ جنہوں نے تمہیں کوئی چھوٹی سی چھوتی نعمت بخشی ہے اور نہ جو تمہارے پوشیدہ اسرار اور ظاہری اعمال کو جانتے ہیں یہ کیسے معبود ہیں کہ جن میں ضرورت کی ایک بھی صفت نہیں۔ اس کے بعد قرآن دوبارہ مسئلہِ خالقیت کی طرف لوٹتا ہے لیکن اس کے مشابہ آنے والی پہلی آیت سے بات کچھ آگے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جن معبودوں کو وہ پکارتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ کوئی چیز خلق نہیں کرتے بلکہ خود بھی مخلوق ہیں۔ (وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ)۔ اب تک تو بحث اس بارے میں تھی کہ وہ خالق نہیں ہیں لہٰذا لائق عبادت نہیں ہو سکتے اب فرمایا گیا ہے کہ وہ تو خود مخلوق ہیں، نیازمند اور محتاج ہیں۔ اس صورت میں وہ انسانوں کا سہارا کیسے ہو سکتے ہیں۔ کس طرح ان کی مشکل کشائی کر سکتے ہیں؟ یہ کیسا احمقانہ فیصلہ ہے۔ علاوہ ازین وہ تو "مردہ" ہیں۔ انھوں نے زندگی کی بو تک نہیں سونگی اور نہ ا س کی استعداد رکھتے ہیں (أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاء)۔ کیا معبود کو موجود زندہ بھی نہیں ہونا چاہئیے کہ جو اپنے عبادت کرنے والوں کی نیاز، حاجت اور عبادت سے با خبر ہو۔ لہٰذا معبودِ حقیقی کی چوتھی صفت یعنی "حیات" بھی ان میں بالکل نہیں ہے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: یہ بت بالکل نہیں جانتے کہ ان کی عبادت کرنے والے کس وقت اور کس زمانے میں مبعوث ہوں گے (وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ)۔ ثواب اور جزا ان کے ہاتھ میں ہوتی تو انھیں کم از کم اپنے عبادت گزاروں کے پھر سے جی اٹھنے کا تو پتہ ہوتا۔ اس جہالت کے ہوتے ہوئے وہ کس طرح لائق عبادت ہو سکتے ہیں یہ پانچویں صفت ہے جو معبود حقیقی میں ہونا چاہئیے جبکہ وہ اس سے محروم ہیں["أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ" اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دیگر احتمالات بھی ذکر کئے ہیں ان میں سے ایک کے مطابق یہاں مراد یہ ہے کہ بت نہیں جانتے کہ وہ کب مبعوث ہوں گے اس سلسلے میں مفّسرین نے بعض آیات سے شواہد بھی پیش کئے ہیں۔ سورہ ٴ انبیاء کی آیت ۶۸ میں خدا فرماتا ہے: مشرکین اور ان کے بت دونوں ہی جہنم میں ہوں گے۔ لیکن واضح ہے کہ اگر یہ مراد ہو تو پہلے اور بعد کی آیات میں مناسب ربط نہیں ہو گا لہٰذا صحیح تفسیر وہی ہے جو ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں (غور کیجئے گا) ]۔ اب تک ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بت اور بت پرستی کا قرآن کی منطق میں وسیع مفہوم ہے ہر موجود یا ہر شخص جسے ہم خدا کے بدلے سہارا قرار دے لیں اور اپنی تقدیر اس کے ہاتھ میں سمجھیں وہ ہمارا بت شمار ہو گا لہٰذا جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے وہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو ظاہراً بت پرست نہیں ہیں لیکن ایک سچے مومن کا سا استقلال نہیں رکھتے وہ جو کمزور بندوں کو اپنا سہارا بنائے ہوئے ہیں اور آزادی کی بجائے وابستگی اور دوسروں پر انحصار کی زندگی گزارتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عالمی سوپر طاقتیں مشکلات میں ان کا سہارا بن سکتی ہیں جبکہ یہ طاقتیں جہنمی اور خدا سے بیگانہ ہیں ایسے لوگ بھی عملی طور بت پرست اور مشرک ہیں اور ہمیں ان سے کہنا چاہئیے کہ کیا تمہارے ان معبودوں نے کوئی چیز خلق کی ہے کیا وہ کسی نعمت کا سرچشمہ ہیں؟ کیا یہ تمہارے اندرونی اسرار سے آگاہ ہیں۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ تم کب اپنی قبروں سے اٹھوگے کہ تمہیں تمہاری جزا یا سزا دے سکیں۔ پس کیوں ان کی بتوں کی سی پرستش کرتے ہو۔ بتوں کی صلاحیّت کی نفی پر ان واضح دلائل کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: تمہارا الہ الہِ واحد ہی ہے (إِلَهُكُمْ إِلَهٌ)۔ مبداء و معاد چونکہ ہر جگہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں لہٰذا بلافاصلہ مزید فرمایا گیا ہے وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے) اور فطرتا مبداء کے بارے میں بھی ٹھیک ایمان نہیں رکھتے(۔ ان کے دل حقیقت کے منکر ہیں اور وہ حق کے مقابلے میں مستکبر بنے ہوئے ہیں (فَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ) [جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ "فَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ"میں فاء تفریع کے لئے ہے۔ قیامت و مبعوث ہونے کا انکار مبداء کے انکار کی وجہ سے ہے اور ان سرچشمہ استکبار ہے]۔ ورنہ توحید کے دلائل تو متلاشیانِ حق کے لئے اور حقیقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والوں کے لئے آشکار ہیں۔ اسی طرح معاد کے دلائل بھی واضح ہیں۔ اِستکبار و تکبّر اور حق کے سامنے سر نہ جھکانے کے سبب وہ ہمیشہ انکار ہی کرتے ہیں یہاں تک کہ حِسی حقائق کے بھی منکر ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا یہ طرزِ عمل ان میں رچ بس جاتا ہے اور اس کے عادت کے ہوتے ہوئے حق کی کوئی بات اور دلیل و منطق ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ بت، پرستش کے لائق نہیں اس سلسلے میں گزشتہ آیات میں جو زندہ دلائل گزر چکے ہیں کیا وہ کافی نہیں کہ ہر ذی شعور تصدیق کرے کہ بت لائق عبادت نہیں لیکن انتہائی تعجب کی بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں یہ لوگ پھر بھی حقیقت قبول نہیں کرتے۔ زیرِ بحث آخری آیت میں ہم پھر دیکھتے ہیں۔ غیب و شہود اور پنہاں و آشکار پر خدا کی آگاہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: جسے تم پنہاں رکھتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو یقینا خدا اس سے باخبر ہے (لاَ جَرَمَ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ)۔ یہ جملہ درحقیقت، کفار اور دشمنانِ حق کے لئے ایک دھمکی ہے کہ خدا تمہاری حالت سے ہرگز غافل نہیں ہے وہ نہ صرف ان کے ظاہر کو جانتا ہے بلکہ ان کے باطن سے بھی آگاہ ہے اور موقع آنے پر ان سے حساب لے گا۔ وہ مستکبر ہیں اور "خدا مستکبرین کوپسند نہیں کرتا" (إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ)۔ کیونکہ حق کے سامنے استکبار اور تکبّر خدا سے بیگانگی کی پہلی دلیل ہے۔ لفظ "لا جرم" "لا" اور "جرم" کا مرکب ہے یہ لفظ عام طور پر تاکید کے لئے اور قطعاً اور یقینا کے معنی میں آتا ہے اور کبھی "لا بد" (ناچار) کے معنی میں آتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات قسم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں: لاجرم لافعلن میں قسم کھاتا ہوں کہ کام کروں گا۔ رہا یہ سوال کہ "لاجرم" سے یہ معانی کیسے معلوم ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ "جرم" دراصل درخت سے پھل چننے اور توڑنے کے معنی میں ہے اور جب اس کے شروع میں "لا" لگا دیا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز اسے توڑ اور کاٹ نہیں سکتی اس طرح اس سے مسلماً، ناچار اور کبھی قسم کا مفہوم حاصل ہو جاتا ہے۔

مستکبر کون ہیں ؟

قرآن مجید کی چند آیات میں "استکبار" کفار کی ایک خاص صفت کے عنوان سے استعمال ہوا ہے ان سب آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد "تکبر" کرتے ہوئے حق کو قبول نہ کرنا ہے۔ سورہٴ نوح کی آیہ ۷ میں ہے: وإني كلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا أصابعهم في آذانهم واستغشوا ثيابهم وأصروا واستكبروا استكبارا میں اپنے میں سے اس بے ایمان گروہ کو دعوت دیتا ہوں تاکہ تیری عفو و بخشش ان کے شامل حال ہو تو اس دعوت پر وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اپنے لباس کے نیچے چھپالتے ہیں اور گمراہی پر اصرار کرتے ہیں اور حق کے سامنے استکبار کرتے ہیں۔ نیز سورہ منافقین کی آیہ ۵ میں ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ اور جب ان سے کہو کہ آو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے بخشش و مغفرت طلب کرے تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ وہ لوگوں کو راہِ حق سے روکتے ہیں اور استکبار کرتے ہیں۔ اور سورہ جاثیہ کی آیت ۸ میں اسی گروہ کے بارے میں ہے: يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّهِ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا اللہ کی آیات انھیں سنائی جاتی ہیں وہ سنتے ہیں لیکن اس کے باوجود کفر پر اس طرح سے اصرار کرتے ہیں گویا انھوں نے یہ آیت سنی ہی نہیں۔ درحقیقت، بدترین استکبار یہی ہے کہ حق کو قبول کرنے کی بجائے تکبّر کیا جائے کیونکہ یہ تکبّر ہدایت کے تمام راستے انسان کے سامنے بند کر دیتا ہے اور وہ ساری عمر بدبختی، گناہ اور بے ایمانی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں حضرت علی علیہ السلام نے صراحت سے شیطان کو "سلف المستکبرین" (تکبر کرنے والوں کا سربراہ) قرار دیا ہے کیونکہ اس نے پہلا قدم ہی اٹھایا کہ حق کی مخالفت کی اور اس حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا کہ آدم اس سے زیادہ کامل ہیں اسی طرح وہ تمام افراد جو حق کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیتے ہیں مالی طور پر تہی دست ہوں یا دولتمند وہ مستکبر ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اکثر اوقات زیادہ مالی طاقت ہی کے سبب انسان حق کو قبول کرنے سے روگردانی کرتا ہے۔ روضة الکافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: و من ذھب یری ان لہ علی الاٰخرة فضلا فھو من المستکبرین، فقلت انما یری ان لہ علیہ فضلا بالعافیة اذا راٰہ مرتکباً للمعاصی؟ھیھات ھیھات! فعلہ ان یکون قد غفرلہ ما اتی، و انت موقوف تحاسب، اما تلوت قصة سحرة موسیٰ (ع) جو شخص دوسرے پر برتری اور امتیاز کا قائل ہو وہ مستکبرین میں سے ہے۔ راوی کہتا ہے: میں نے امام سے پوچھا کیا اس میں کوئی حرج ہے کہ انسان کسی کو گناہ میں مشغول دیکھے اور خود اس نے چونکہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا لہٰذا اس پر اپنی بر تری اور امتیاز سمجھے؟ امام نے فرمایا: تو نے اشتباہ اور غلطی کی ہے ہو سکتا ہے کہ خدا بعد ازاں اس کا گناہ بخش دے اور تجھے حساب کے لئے کھڑا رکھے۔ کیا تو نے قرآن میں زمانہِ موسیٰ کے جادوگروں کا قصہ نہیں پڑھا (کہ وہ فرعون کے انعام و اکرام کی خاطر اور اس کے دربار میں تقرب حاصل کرنے کے لئے، اللہ کے ایک اولو العزم پیغمبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔ لیکن جونہی انھوں نے حق کا چہرہ دیکھا فوراً اپنا راستہ بدل لیا یہاں تک کہ فرعون کی طرف سے قتل کی دھمکیاں سن کر بھی وہ ڈٹے رہے اور خداوند تعالیٰ نے انھیں اپنی عفو و بخشش اور رحمت و مہر بانی سے نوازا) [تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۸۔]

24
16:24
وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡ قَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور جس وقت ان (بے ایمان افراد سے) کہا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے، تو وہ کہتے ہیں یہ(خدائی وحی نہیں یہ) تو گذشتہ لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
16:25
لِيَحۡمِلُوٓاْ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
روز قیامت ان کے گناہوں کا بوجھ انہیں پوری طرح اپنے کندھے پر اٹھانا ہو گا اور ان لوگوں کے گناہوں کا ایک حصہ بھی جنہیں انہوں نے جہالت کی وجہ سے گمراہ کیا ہے،جان لو کہ وہ اپنے کندھوں پر سنگین بوجھ اٹھاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
16:26
قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ (بھی) اسی قسم کی سازشیں کرتے تھے، لیکن خدا نے ان کی( زندگی) کو بنیاد ہی سے اکھاڑ پھینکا اور اوپر سے ان کے سروں پر چھت گرائی اور (اللہ کا) عذاب ان پر ادھر سے آیا جہاں سے وہ نہیں جانتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
16:27
ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يُخۡزِيهِمۡ وَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تُشَـٰٓقُّونَ فِيهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ إِنَّ ٱلۡخِزۡيَ ٱلۡيَوۡمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
پھر قیامت کے دن خدا انہیں رسوا کرے گا اور ان سے کہے گا: کہ تم نے جو میرے شریک بنا رکھے تھے، جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ تم دشمنی کرتے تھے وہ کہاں ہیں اس وقت اہل علم کہیں گے: آج کے دن رسوائی اور بدبختی کافروں کیلئے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
16:28
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۭۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
(روح قبض کرنے والے) فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کریں گے کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہو گا۔ اس وقت وہ سر جھکا لیں گے۔ (اور کہیں گے )کہ ہم برے کام نہیں کرتے تھے۔ جی ہاں ! جو کچھ انجام دیتے تھے خدا اسے جانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
16:29
فَٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ
اب جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہو جاؤ تم کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ یہ مستکبرین کے لئے کیسا برا ٹھکانا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ بعض روایات کے مطابق پہلی آیت "مقتسمین" (تبعیض کرنے والوں) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کے متعلق پہلے بحث ہو چکی ہے۔ یہ سولہ افراد تھے۔ ان کے چار گروپ تھے ان میں سے چار افراد حج کے دنوں میں مکہ کی سڑک پر لوگوں کے راستے میں کھڑے ہو جاتے تھے تاکہ مکہ میں لوگوں کے داخل ہونے سے پہلے ان کے ذہنوں کو قرآن اور اسلام کے خلاف کر دیں وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ محمد صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم کوئی نیا دین نہیں لایا بلکہ وہی پرانے لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں۔

جو دوسروں کے گناہ اپنے کندھے پر لاد لیتے ہیں

گزشتہ آیات میں ان مستکبرین کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو کبھی بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح حق قبول کرنے سے بچ جائیں۔ زیر نظر آیات میں اس بے ایمان گروہ کی دائمی منطق بیان کرنے سے بچ جائیں۔ زیر نظر آیات اس بے ایمان گروہ کی دائمی منطق بیان کیا گئی ہے ارشاد ہوتا ہے: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پر وردگار نے کیا چیز نازل کی ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی وحی نہیں ہے یہ تو وہی اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ (وَإِذَا قِیلَ لَھمْ مَاذَا اَنزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا اَسَاطِیرُ الْاَوَّلِینَ)۔ اس تکلیف دہ بات کے ساتھ دو باتیں وہ اور بھی کہتے۔ پہلی، یہ کہ ہماری سطح فکر ان مسائل سے بہت بلند ہے یہ باتیں تو افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں جو عوام کو مشغول رکھنے کے لئے گھڑی گئی ہیں۔ دوسری، یہ کہ یہ کو ئی نئی باتیں نہیں ہیں کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی انسان ایسی باتیں سنائے کہ ہم کہیں کہ محمد نے کوئی ایجاد کی ہے یا کوئی اپنی نئی تخلیق کی ہے یہ تو انہیں گزشتہ لوگوں کی فضول باتوں کا تکرار ہے۔ ”اساطیر“، ”اسطورۃ“ کی جمع ہے [بعض اسے جمع الجمع سمجھتے ہیں ان کے مطابق ”اساطیر“،”اسطار“ کی جمع ہے اور "اسطار"، ”سطر“ کی جمع ہے کہ جس کا مفرد اس کی جنس میں سے نہیں ہے؛ لیکن مشہور وہی ہے جو ہم نے متن تفسیر میں بیان کیا ہے۔ ] یہ لفظ فضول اور جھوٹے قصے کہانیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ نو مرتبہ انبیاء کے مقابلے میں بے ایمان کافروں کا زبانی نقل ہوا ہے وہ لوگ اکثر اوقات ہادیانِ الہٰی کی دعوت کے جواب میں اپنی مخالفت کی توجیہ اور بہانے کے لئے اس لفظ کا سہارا لیتے تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمیشہ لفظ ”اساطیر“ کے ساتھ ”اولین“ کو بھی صفت کے طور پر استعمال کرتے تھے؛ تاکہ ثابت کریں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں تک کہ کبھی تو یہ بھی کہتے کہ: یہ کوئی اہم چیز نہیں ہے ہم بھی اگر چاہیں تو ان جیسی باتیں کر سکتے ہیں۔ (انفال۳۱) یہ بات جاذب توجہ ہے کہ آج کے مستکبرین بھی اکثر اوقات حق سے فرار کرتے ہوئے تکلیف و اذیت دینے کے لئے نیز دوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے ایسی ہی باتیں کرتے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے معاشرہ شناسی کے نام پر کتابیں لکھی ہیں اور اپنے ان نظر یات کو علمی شکل میں پیش کیا ہے انھوں نے مذہب کو انسانی جہالت کی کی پیدا وار اور مذہبی تفاسیر و تشریحات کو افسانے اور قصے کہانیاں قرار دیا ہے لیکن اگر ان کی فکر کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مسئلہ کچھ اور ہے اور یہ لوگ فضول اور جعلی مذاہب کے خلاف مصروفِ جنگ نہیں، بلکہ یہ خود ان کی پیدا ئش اور نشر و اشاعت کا عامل ہیں۔ ان کی مخالفت صرف سچے مذاہب کے ساتھ ہے کہ جو انسانی افکار کو پیدا کرتے ہیں۔ سامراج و استعمار کی زنجیریں توڑتے ہیں اور مستکبرین اور استعمار گروں کےلئے سدّ راہ ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات ان کے منصوبوں کے خلاف ہیں کیونکہ وہ عدل و انصاف کے برخلاف مذہب کے اخلاقی احکام سر کش ہواو ہوس اور بے سروپا آزادیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان سب پہلووٴں کو جب وہ مجموعی طور پر دیکھتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ اس رکاوٹ کو راستے سے ہٹا دیں یقینا اپنے اس کام کے لئے انھیں ایک جواب کی بھی ضرورت ہے جو وہ لوگوں کو دے سکیں لہٰذا ان کے لئے ا س سے بہتر کونسا جواب ہے کہ ان تعلیمات کو جھوٹے افسانے قرار دے لیں۔ افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ ا ن لوگوں کو کامیاب کرنے میں ان خرافات کا بہت ہاتھ ہے جنھیں بعض اوقات ناداں اور ناآگاہ افراد گھڑتے ہیں اور انھیں مذہب کے سانچے میں ڈھال کر مذہب کے نام پیش کرتے ہیں۔ مذہب کے تمام حقیقی طرفداروں پر لازم ہے کہ وہ ایسی خرافات کا شدت سے مقابلہ کریں اور ان کے خلاف جنگ کریں اور دشمنوں کا غیر مسلح کر دیں۔ یہ حقیقت ہر جگہ لکھیں اور کہیں کہ اس قسم کی خرافات سچے مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور دشمن کو انھیں سند نہیں بنانا چاہئیے۔ اصول عقائد اور مسائل عملی کے بارے میں انبیاء کی تعلیمات عقل و منطق سے اس قدر ہم آہنگ ہیں کہ ان کے لئے اس قسم کی تہمتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگلی آیت میں ان دل کے اندھوں کے اعمال کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے (لِیَحْمِلُوا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ)۔ جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے (اَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ)۔ کیونکہ بعض اوقات ان کی گفتگو ہزاروں افراد کی گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ کس قدر دشوار ہے انسان اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے گندھے پر اٹھائے ہزاروں دوسرے افراد کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے اور اگر ان کی گمراہ کن باتیں بعد کی نسلوں کی گمراہی کا سرچشمہ بن جائیں تو ان کا بوجھ بھی ان کے کندھے پر پڑے گا۔ ”لیحملوا“ (چاہئیے کہ اس بوجھ کو کندھے پر اٹھائیں) یہ لفظ صیغہ امر کی شکل میں ہے جس کا مقصد نتیجہ اور انجام کار بیان کرنا ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ اب جب کہ یہ غلط کام تو نے انجام دیا ہے تو اس کا نتیجہ بھی بھگتو اور اس کی تلخی بھی چکھو۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”لیحملوا “ کی لام لامِ عاقبت ہے۔ ”اوزار“، ”وزر“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے بھاری بوجھ۔ یہ لفظ گناہ کے معنی میں بھی آیا ہے اور یہ جو”وزیر“ کو ”وزیر“ کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کس طرح کہتا ہے کہ کچھ افراد کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھاتے ہیں جنہیں انھوں نے گمراہ کیا ہے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ”ان کے تمام گناہ“ حالانکہ روایات میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی برے کام کی بنیاد رکھے تو جتنے لوگوں نے اس پر عمل کیا ان کے سب کا گناہ بنیاد رکھنے والے کے کندھے پر ہو گا۔ بعض مفسرین کے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ گمراہ پیروکاروں کے دو قسم کے گناہ ہوتے ہیں ایک وہ کہ جن کا ار تکاب وہ اپنے ہبروں کی پیروی میں کرتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو خود سے بجا لاتے ہیں جبکہ رہبروں کے کندھے پہلی قسم کے گناہوں کا بوجھ ہے۔ بعض نے مندرجہ بالا آیت میں لفظ ”من“ کو تبعیض کے لئے نہیں لیا، بلکہ ”من“ کو اس بات کا بیان سمجھا ہے کہ پیروکاروں کے گناہ رہبروں کے دوش پر ہیں۔ لیکن ایک اور تفسیر بھی نظر آتی ہے جو ان سب سے زیادہ دلچسپ ہے اور وہ یہ ہے کہ گمراہ پیروکاروں کی دو حالتیں ہیں، بعض اوقات وہ جانتے بوجھتے ہوئے ان منحرف اور کج رہبروں کے پیچھے جاتے ہیں اور ان کے مثالیں پوری تاریخ میں بہت ہیں۔ اس صورت میں گناہ کا عامل رہبروں کا حکم بھی ہے اور ان کا اپنا ارادہ بھی۔ یہ مقام کہ جہاں ان کے گناہوں کی ذمہ داری کا ایک حصہ رہبروں کے کندھے پر ہے۔ ( بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں سے کسی چیز کی کمی ہو)۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیرو کار مائل راغب نہیں ہوتے بلکہ انھیں غفلت میں ڈالا جاتا ہے اور وہ گمراہ رہبروں کے وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بہت سے معاشروں میں عوام میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی وہ ایسے کاموں میں ”تقرب الیٰ اللہ“ کی نیت سے شریک ہوں اس صورت میں ان کے تمام گناہوں کا بوجھ گمراہ پیشواوٴں کے کندھے پر ہے اور اگر ایسے پیروں کاروں نے تحقیق میں کوتاہی نہ کی ہو تو جوابدہ نہیں ہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے علم و آگہی ہوتے ہوئے گمراہ پیشواوٴں کی پیروی کی یقینا ان کے گناہوں میں سے سوئی کے سرے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی جبکہ ان کے پیشواوٴں کے کندھے پر بھی ذمہ داری کا ایک حصہ ڈالا جائے گا۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”بغیر علم“ کے الفاظ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان گمراہوں کے پیروکار اپنے رہبروں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے اور وہ بالکل ہی غافل تھے کہ اس طرح کی کوئی ذاتی ذمہ داری ہی نہ ہو؛ بلکہ یہ تعبیرات اس بات کی طرح ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ جاہل و ناداں افراد اغوا کرنے والوں کے جال میں جلدی پھنس جاتے ہیں لیکن دانا اور سمجھ دار لوگ بہت دیر میں۔ اسی لئے قرآن نے دوسری آیات میں ان پیروکاروں کو بر ی الذمہ نہیں قرار دیا، بلکہ ذمہ داری کا ایک حصہ ان کے کندھے پر رکھا ہے۔ چنانچہ سورہٴ مومن کی آیہ ۴۷ اور ۴۸ میں ہے:۔ و اذ یتحاجّون فی النار فیقول الضعفاء للذین استکبروا انّا کنا لکم تبعاً فھل انتم مغنون عنا نصیباً من النار قال الذین استکبروا انا کلّ فیھا انّ اللہ قد حکم بین العباد۔ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے آپس میں دوزخ میں بحث و مباحثہ اور جھگڑا کریں گے نادا ں اور کمزور پیروکار، مستکبرین سے کہیں گے ہم تمہارے پیرو تھے تو کیا آگ کا کچھ حصہ ہماری طرف سے تم قبول کروگے وہ جواب میں کہیں گے: ہم سب دوزخ میں ہیں خدا نے اپنے بندوں میں ( عادلامنہ ) فیصلہ کیا ہے۔ بعد والی آیت میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ مستکبرین ہادیانِ الہٰی پر تہمت لگا رہے ہیں اور آسمانی وحی کو ”اساطیر الاولین“ (پہلے لوگوں کے افسانے) شمار کرتے ہیں، بلکہ ان سے پہلے بھی ایسی سازشیں کرتے تھے لیکن خدا ان کی زندگی کی بنیاد کی طرف گیا اور اسے بنیاد سے اکھیڑ دیا اور اوپر سے ان کے سروں پر چھت گرا دی ( قَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللهُ بُنْیَانَھُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْھِمْ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِھِمْ)۔ اور عذاب الہٰی ادھر سے ان کی طرف آیا جدھر کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا (وَاَتَاھُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ)۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر نمرود کے ایک واقعہ سے کی ہے اس نے ایک عمارت بنائی تھی تاکہ آسمان کی طرف چڑھ کر آسمانی خدا سے مقابلہ کرے۔ بعض دیگر مفسرین نے اسے بخت النصر کے واقعہ کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ لیکن مسلم ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے اور اس میں تمام مستکبرین اور گمراہ رہبر شامل ہیں۔ یہ بات جاذب توجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ خدا ان مستکبرین کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ان کی عمارت کے سامنے کے حصے کی طرف سے اقدم نہیں کرتا بلکہ ان کی جڑ اکھاڑنے اور بیخ کنی کے لئے اقدام کرتا ہے اور چھتوں کو ان کے سروں پر گراتا ہے۔ جی ہاں ایسے لوگوں کے لئے خدائی سزا ایسی ہی ہوتی ہے۔ عمارت کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکنا اور چھت کو نیچے گرانا ہو سکتا ہے ظاہری طور پر عمارتوں اور چھتوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو زلزلوں اور بجلیاں گرنے سے تباہ و برباد ہو جائیں اور ان کے سروں سے آ گریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے ارادوں اور ڈویلپمنٹ کی طرف اشارہ ہو کہ جو حکمِ خدا سے جڑ سے اکھاڑ پھینکی گئیں اور تباہ و بر باد ہو گئیں۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ آیت دونوں معانی کی طرف اشارہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن لفظ”سقف“ کے بعد ”من فوقھم“ کہتا ہے حالانکہ مسلم ہے کہ چھت ہمیشہ اوپر کی طرف ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تاکید کے لئے بھی ہو اور یہ نکتہ بیان کرنا بھی مقصود ہو کہ بعض اوقات چھت نیچے گرے لیکن صاحب خانہ چھت کے نیچے نہ ہو جب کہ ان ظالموں پر چھت گری تو وہ اس کے نیچے تھے اور وہ نابود ہو گئے آج کی اور گزشتہ تاریخ میں اس خدائی سزا کے کس قدر مناظر موجود ہیں۔ کئی طاقت اور جابر حکمراں ہیں جو اپنے محلِ اقتدار کو اس قدر مستحکم سمجھتے تھے کہ انھوں نے صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد کے لئے مستقبل کے لئے بھی اس کے منصوبے بنا رکھے تھے ان کے پروگرام مکمل تھے اور ظاہراً انہوں نے اپنے اقتدار اور نظام کی بقا اور حفاظت کے پورے انتظامات کر رکھے تھے لیکن اچانک اس طرف سے عذاب الہٰی ان کی طرف آیا جدھر سے وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے اور ان کے اقتدار کی چھت ان کے سر پر آ گری اور وہ یوں نابود و منتشر ہوئے گویا وہ صفحہ ارض پر تھے ہی نہیں۔ جو کچھ کہا گیا وہ ان کے لئے دنیاوی عذاب ہے لیکن ان کی سزا یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ان کے بعد روز قیامت بھی خدا انھیں رسوا کرے گا (ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یُخْزِیھِمْ)۔ وہاں ان سے پوچھے گا اور کہے گا "کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جو تم نے میرے لئے بنائے تھے اور ان سے تمہیں بڑی عقیدت تھی اور ان کی وجہ سے تم دوسروں سے جنگ و جدال کرتے تھے بلکہ دشمنی پر تل جاتے تھے۔ “(وَیَقُولُ اَیْنَ شُرَکَائِی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِیھِمْ) [”تشاقون“،”شقاق“ کے مادہ سے مخالفت اور دشمنی کے معنی میں ہے اور اس کی اصل ”شق“ نصف کرنے (اور شگافتہ کرنے) کے معنی میں آیا ہے۔ ] یقینا اس سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے لیکن موقع پر اہل علم لب کشائی کریں گے اور کہیں گے: شرمندگی، رسوائی اور بدبختی آج کے دن کفار کے لئے ہے (وَقالَ الَّذِینَ اُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَی الْکَافِرِینَ)۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ روز قیامت گفتگو علماء کریں گے کیونکہ اس عظیم بارگاہ میں ایسی گفتگو کرنا چاہئیے جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور ایسا اہل ایمان علماء کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتا۔ یہ جو بعض روایات میں اس سے مراد آئمہ اہل بیت (علیہ السلام) لئے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ”با ایمان علماء“ کا بہترین مصداق ہیں۔[ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۵۰ کی طرف رجوع فرمائیں]۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مشر کین اور علماء کے درمیان اس سوال و جواب کا ردّ و بدل کسی پنہاں بات کو ظاہر کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ بھی مشرکین کے لئے ایک قسم کی نفسیاتی سزا اور عذاب ہے خصوصاً آگاہ مومنین اس جہاں میں ہمیشہ ان مفرور مشرکین کی ملامت کا نشانہ بنتے رہے تھے اور وہاں یہ مفرور اپنی سزا بھی اسی کیفیت سے پائیں گے انھیں بھی ملامت کی جائے گی جبکہ وہ ایسی جگہ پر ہوں گے جہاں وہ نہ انکار کر سکتے ہوں گے اور نہ وہاں سے نکل سکتے ہوں گے۔ گزشتہ آیت کے آخر میں جن کفار کا ذکر تھا اگلی آیت کے بارے میں انہی کا ذکر ہے یہ ذکر دراصل، ایک ہلا دینے والا اور غافل افراد کو بیدار کرنے والا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ موت کے فرشتے اس عالم میں ان کی روحیں قبض کرتے ہیں جبکہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوتا ہے ( الَّذِینَ تَتَوَفَّاھُمْ الْمَلاَئِکَةُ ظَالِمِی اَنفُسِھِمْ)۔ انسان جو ظلم و ستم کرتا ہے ، پہلے مرحلے میں وہ خود اسی پر ہوتا ہے اور دوسروں کے گھر سے پہلے وہ اپنا ہی گھر ویران کرتا ہے کیونکہ ظلم کا پہلا قدم یہ ہے کہ خود ظلم کرنے والے کی باطنی خوبیاں اور اس کی اپنی صفات برباد ہو جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، جن معاشرے میں ظلم کی بنیاد رکھی جائے اجتماعی اور معاشرتی رشتوں کے حوالے سے چکر لگا تا ہوا وہ ظلم خود ظالم کے گھر کی طرف پلٹ آتا ہے۔ لیکن یہ ظالم جب اپنے آپ کو موت کی چوکھٹ پر دیکھتے ہیں اور غرور و غفلت کے پر دے ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹے ہو تے ہیں تو وہ فوراً مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے برا کام انجام دیا ہے (فَاَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ)۔ وہ ہر قسم کے برے کام کا انکار کیونکر کریں گے؟ کیا وہ جھوٹ بولیں گے، اس لئے کہ بار بار جھوٹ بولنے کی وجہ سے جھوٹ ان کی ذاتی صفت بن گیا ہے یا کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے یہ کام انجام دئے ہیں لیکن ہم سے غلطی ہو گئی ہے اگر چہ ہماری نیت بری نہیں تھی۔ ممکن ہے دونوں وجوہ ہوں۔ مگر ان سے فوراً کہا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو تم نے بہت سے برے کام کئے ہیں۔ جی ہاں ! اللہ تمہارے اعمال اور اسی طرح تمہاری نیتوں سے با خبر ہے ( بَلَی إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ لہٰذا اب انکار کرنے اور بہانے بنانے کی گنجائش نہیں۔ اب جبکہ ایسا ہے تو جہنم کے در وازوں سے داخل ہو جاوٴ کہ تم نے اس میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے ( فَادْخُلُوا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خَالِدِینَ فِیھا)۔ متکبرین کا ٹھکانا کس قدر برا ہے (فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ اچھی اور بُری سنت

ایک عمل انجام سے پہلے کئی مرحلوں سے گزرتا ہے اس میں رہبروں، ہدایت کرنیوالوں یا وسوسے ڈالنے والوں کا اثر بھی اہمیت رکھتا ہے اسی طرح اچھی یا بری سنتیں اور رسمیں بھی اعمال کے لئے فکری اور معاشرتی اعتبار سے زمین ہموار کرتی ہیں۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض اوقات رہبروں اور کسی کام کی بنیاد رکھنے والوں کا اثر دیگر تمام عوامل سے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ وہ برائیوں یا نیکیوں میں شریک نہ ہوں۔ اسی منطق کی رو سے قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں نیکی یا بدی کی بنیاد رکھنے یا اچھی بری سنت قائم کرنے کے مسئلہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ کنندہ مستکبر اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کند ھوں پر رکھتے ہیں اور ایک حصہ اپنے پیروکاروں کے گناہوں کا بھی (بغیر اس کے کہ پیروکاروں کی ذمہ داری میں کوئی کمی واقع ہو)۔ یہ بات اس قدر اہم ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: الدّال علی الخیر کفاعلہ نیکی کی دعوت دینے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے[ بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۴۳۶]۔ زیرِ بحث آیت کے ذیل میں رسول اللہ سے منقول حدیث میں ہے آپ نے فرمایا: ایّما داع دعی الیٰ الھدی فاتبع، فلہ مثل اجورھم من غیر ان ینقص من اجورھم شیئاً و ایّما داع دعی الیٰ ضلالۃ فاتبع علیہ فان علیہ مثل اوزار من اتبعہ من غیر ان ینقص من اوزارھم شیئا۔ جو شخص ہدایت کی دعوت دے اس کا اجر اس ہدایت پر عمل کرنے والوں جتنا ہو گا جبکہ عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص گمراہی کی دعوت دے گا اسے اس کے پیروکاروں جتنی سزا ملے گی جبکہ پیروکاروں کی سزا میں بھی کوئی تخفیف نہ ہو گی۔[مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: من استن بسنة عدل فاتبع کان لہ من عمل بھا، من غیر ان ینتنقص من اجورھم شیء و من استنّ سنة جور فاتبع کان علیہ مثل وزر من عمل بہ، من غیر ان ینتنقص من اوزارھم شیء۔ جو شخص کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا اجر پیروی کرنے والوں جتنا ہو گا جبکہ خود عمل کرنے والوں کا اجر بھی کم نہ ہو گا اور جو شخص کسی ظلم و جور کی بنیاد رکھے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا عمل کرنے والوں جتنا ہو گا جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی[وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۴۳۷]۔ اس مضمون کی متعدد دیگر روایات معصوم پیشواؤں سے نقل ہوئی ہیں شیخ حرّ عاملی علیہ الرحمة نے یہ روایات وسائل کی جلد ۱۱ کتاب ”الامر بالمعروف و انہی عن المنکر“ کے باب ۱۶ میں جمع کی ہیں۔ صحیح مسلم میں بھی رسول اکرم سے اس مضمون کی ایک حدیث نقل ہوئی ہے۔ رسول اللہ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے کچھ افراد آپ کے پاس آئے ان کے پاؤں ننگے تھے جسم پر لباس نہیں تھا۔ تلواریں انھوں نے اپنی کمروں سے باندھ رکھی تھیں (اور وہ جہاد کے لئے تیار تھے) ان کے فقر و فاقہ کا یہ عالم دیکھا تو رسول اللہ کا چہرہ دگرگون ہو گیا آپ اپنے گھر میں چلے گئے واپس آئے تو حضرت بلال کو حکم دیا کہ لوگوں سے کہو کہ جمع ہو جائیں اور انھیں نماز کی دعوت دو، نماز پڑھی گئی، اس کے بعد رسول اللہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! خدا سے ڈرو، وہی خدا کہ جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے۔ اور جان لو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے لوگو تقویٰ اختیار کرو اور کل قیامت کے لئے غور و فکر کرو۔ تم میں سے جو جس کے بس میں ہے۔ دینار، درھم، لباس، گندم، کھجور یہاں تک کہ آدھی کھجور سے بھی حاجت مند کی مدد کرو۔ اس دوران ایک انصاری رقم کی ایک تھیلی لے آیا۔ تھیلی اتنی بڑی تھی کہ اس کے ہاتھ میں نہیں آ سکتی تھی۔ اس سے لوگوں کو تشویق ہوئی۔ یکے بعد دیگرے انھوں نے مختلف چیزیں امداد کے طور پر دیں، یہاں تک کہ اناج اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے۔ رسول اللہ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس وقت آپ نے فرمایا: من سنّ فی الاسلام سنة حسنة فلہ اجرھا و اجر من عمل بھا بعدہ من غیر ان ینقص من اجورھم شیء و من سنّ فی الاسلام سنة سیئة کان علیہ وزرھا و وزر من عمل بھا من بعد من غیر ان ینقص من اوزارھم شیء۔ یعنی جس نے اسلام میں کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھی، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس پر جو عمل ہو گا اس کا اجر بھی ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہو گی اور جو کوئی اسلام میں کسی بری سنّت کی بنیاد رکھے اسے اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا اور اس پر جو عمل ہو گا اس کا بوجھ بھی۔ جبکہ عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہ ہو گی [بحوالہ: صحیح مسلم جلد ۲ ص ۷۰۴ - باب ”الحث علی صدقة ولو بشق تمرة“]۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ یہ احادیث اور ان جیسی قرآنی سورۂ انعام کی اس آیت سے کیسے مطابقت رکھتی ہیں، جس میں فرمایا گیا ہے: ولا تزر وازرة وزر أخرى کوئی دوسرے کا گناہ اپنے کاندھے پر نہیں اٹھاتا۔ (انعام ۱۶۴) ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ دوسرے کے گناہوں کے جواب دہ نہیں ہیں بلکہ اپنے ہی گناہوں کے جواب دہ ہیں کیونکہ یہ دوسروں کے گناہوں کے عمل میں شریک ہیں اور ایک لحاظ سے یہ خود ان ہی کا گناہ شمار ہوتا ہے۔

۲۔ بے موقع تسلیم حق

بہت کم ایسے لوگ ہیں جو حقیقت کو شہود کے عالم میں دیکھ کر بھی جھٹلا دیں۔ یہی وجہ ہے کہ گنہگار اور ظالم جب موت کی چوکھٹ پر پہنچتے ہیں اور غفلت و غرور کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ اور ان کی برزخی آنکھ کھل جاتی ہے تو اظہار ایمان کرنے لگتے ہیں جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں ہے۔ فالقوا السلم البتہ ایسے لوگ اس موقع پر مختلف باتیں کرتے ہیں۔ بعض اپنے پرانے اعمال کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی برا کام نہیں کیا ہے اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنے کا موقع نہیں پھر بھی جھوٹ بولتے ہیں یہاں تک کہ بعض آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ روز قیامت بھی جھوٹ بولیں گے۔ قرآن کہتا ہے: قالوا والله ربنا ما كنا مشركين مشرکین کہیں گے پروردگار کی قسم ہم مشرک نہیں ہیں ( انعام ۲۳) بعض دوسرے اظہار ندامت کریں گے اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے۔( سجدہ ۱۲) بعض ایسے بھی ہوں گے جو صرف اظہار ایمان کریں گے مثلاً فرعون۔ (یونس ۹۰) بہرحال ان میں سے کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہو گا۔ ایسا اظہار ِایمان اضطراری پہلو رکھتا ہے۔ اور ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔

30
16:30
۞وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡۚ قَالُواْ خَيۡرٗاۗ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۚ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞۚ وَلَنِعۡمَ دَارُ ٱلۡمُتَّقِينَ
اورجب پرہیز گاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں خیر (اور سعادت) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کیلئے بھلائی ہے ۔اور آخرت کا گھر تو اس سے بھی بہتر ہے اور پرہیزگاروں کا گھر کتنا اچھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
16:31
جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ لَهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَۚ كَذَٰلِكَ يَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلۡمُتَّقِينَ
بہشت جاوداں کے باغات ہیں کہ جن میں وہ سب داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں موجود ہوگا۔ اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
16:32
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
وہی لوگ (قبض روح کرنے والے )فرشتے جن کی روح اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاک و پاکیزہ ہوں گے انہیں کہیں گے کہ تم پر سلام ہو اپنے اعمال کے سبب بہشت میں داخل ہو جاؤ۔

نیک لوگوں کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکین قرآن کے بارے میں کیا اظہار خیال کرتے تھے ان آیات میں ہم نے ان مشرکین کا انجام بھی پڑھا ہے۔ زیر نظر آیات میں مومنین کا اعتقاد بتا دیا گیا ہے اور ان کے انجام کار کی بھی خبر دی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جب پرہیزگاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں خیر و سعادت (وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْاْ مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ خَيْرًا)۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم مکہ میں تھے تو موسمِ حج میں جزیرة العرب کے مختلف گوشوں سے لوگ جوق در جوق مکہ میں آتے تھے۔ ان کے کانوں تک پیغمبر اسلام کے بارے میں ادھر اُدھر سے اڑتی ہوئی باتیں پہنچی ہوتی تھیں لہٰذا جب وہ مختلف لوگوں سے ملتے تو اس بارے میں پوچھتے۔ جب وہ مشرکین سے بات کرتے تو وہ کہتے کہ کوئی خاص بات نہیں وہی فضول افسانے اور گھسی پٹی کہانیاں ہیں اور جب ان کی ملاقات مومنین سے ہوتی اور وہ ان سے سوال کرتے تو وہ کہتے کہ ہمارے پروردگار نے سوائے خیر و سعادت کے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ ”خیر“ کس قدر معنی خیز، خوبصورت اور جامع تعبیر ہے وہ بھی مطلق صورت میں کہ جس کے مفہوم میں تمام طرح کی نیکیاں، مادی و روحانی سعادتیں اور کامیابیاں شامل ہیں دنیا میں خیر، آخرت میں خیر، فرد کے لئے خیر، معاشرے کے لئے خیر، تعلیم وتربیت میں خیر، سیاست و اقتصاد میں خیر اور امن و آزادی کی خیر، مختصر یہ کہ ہر لحاظ سے خیر۔ (کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب کسی لفظ کے متعلق کو حذف کر دیا جائے تو اس کے مفہو م میں عمومیت پیدا ہو جاتی ہے)۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ قرآن کے متعلق خود قرآن میں طرح طرح کی تعبیریں آئی ہیں مثلاً نور، شفاء، ہدایت اور فرقان (حق کو باطل سے جدا کرنے والا) حق اور تذکرہ وغیرہ، لیکن شاید یہ واحد آیت ہے جس میں ”خیر“ کی تعبیر آئی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ دیگر تمام خاص مفاہیم اس عام مفہوم میں جمع ہیں۔ ضمناً وہ اختلاف تعبیر جو مشرکین اور مومنین قرآن کے بارے میں کرتے تھے قابل ملاحظہ ہے مومنین کہتے تھے ”انزل خیراً“ یعنی خدا نے خیر و سعادت نازل کی ہے اس طرح سے وہ اپنے ایمان کا بھی اظہار کرتے تھے کہ قرآن وحی الہٰی ہے۔ [تشریحی نوٹ: ”خیرا“ درحقیقت فعل محذوف کا مفعول ہے اور تقدیر میں ”انزل خیرا“ تھا] جبکہ مشرکین سے پوچھا جاتا کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو”اساطیر الاولین“ یعنی گزرے ہوؤں کے قصّے کہانیاں ہیں اس طرح وہ قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا قطعی انکار کر دیتے تھے۔[تشریحی نوٹ: ”اساطیر الاولین“ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور تقدیر میں ھٰذہ اساطیر الاولین“ تھا]۔ اس کے بعد جیسا کہ گزشتہ آیات میں مشرکین کی باتوں کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے کہ انھیں دنیا اور آخرت میں کئی گنا مادی و روحانی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زیر نظر آیات میں مومنین کے اعتقادات کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے جنہوں نے نیکی کی ہے ان کے لئے اس دنیا میں نیکی ہے (لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ)۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ ان کی جزا ”حسنة“ ان کے اظہار ایمان ”خیر“ کی طرح مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں اس جہان کی انواع و اقسام کی حسنات اور نعمات شامل ہیں۔ یہ تو ان کی دنیا کی جزا ہے جبکہ ”آخرت کا گھر اس سے بھی بہتر ہے اور پرہیزگاروں کا گھر کس قدر اچھا ہے (وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ)۔ یہاں پھر ہم ”خیر“ اور ”نعم الدار المتقین“ کے الفاظ پا رہے ہیں یہ دونوں اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ مطلق ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ ثواب اور جزا کیفیت و کمیت کے اعتبار سے انسانی اعمال کا عکس العمل ہیں۔ جو کچھ ہم نے لکھا ہے ضمناً یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ”للذین احسنوا۔۔۔۔۔تا آخر آیہ“ ظاہراً کلامِ خدا ہے اور ان آیات اور گزشتہ آیات میں مقابلے کا قرینہ اس معنی کو تقویت پہنچاتا ہے البتہ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر میں دو احتمال ذکر کئے ہیں پہلا یہ کہ یہ کلامِ خدا ہے اور دوسرا کہ پرہیزگاروں کے کلام کا تتمہ۔ پہلے تو پرہیزگاروں کے گھر کا ذکر سربستہ طور کیا گیا ہے اگلی آیت میں اس کی توصیف یوں کی گئی ہے: پرہیزگاروں کا گھر بہشت کے جاوداں باغ ہیں۔ یہ سب ان گھروں میں داخل ہو جائیں گے (جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا) ان درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَار)۔ یہی نہیں کہ وہاں باغات اور درخت ہوں گے بلکہ وہ جو کچھ چاہیں وہ وہاں موجود ہے (لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآؤُونَ)۔ کیا نعمات بہشت کی جامعیت اور وسعت کے بارے میں اس سے بہتر تعبیر ہو سکتی ہے؟ یہاں تک کہ یہ تعبیر سورہ زخرف کی آیہ ۷۱ میں آنے والی تعبیر سے زیادہ وسیع نظر آتی ہے۔ جہاں فرمایا گیا ہے: وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُن بہشت میں ہر وہ چیز موجود ہے جو دل چاہیں گے اور آنکھیں جس سے لذت محسوس کریں گی۔ سورہ زخرف کی اس آیت میں دلوں کی خواہش کا ذکر ہے جبکہ زیر بحث آیت میں مطلق ”خواہش“ کی بات کی گئی ہے (يَشَآؤُونَ) بعض مفسرین نے ”لَهُمْ فِيهَا“ کے ”مَا يَشَآؤُونَ“ پر مقدم ہونے سے انحصار کا استفادہ کیا ہے یعنی صرف وہی ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہے گا ورنہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ زیر بحث آیات میں پرہیزگاروں کی زندگی اور موت کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ گزشتہ آیات سے ہم آہنگ اور ہم قرینہ ہیں کہ جن میں مستبکر مشرکین کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ وہاں ہم نے پڑھا ہے کہ فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ ظالم ہیں اور ان کی موت ان کی بدبختی کے نئے دور کی ابتداء ہے۔ اس کے بعد انھیں حکم دیا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے: پرہیزگار وہ لوگ ہیں کہ روح قبض کرنے والے فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک و پاکیزہ ہیں (الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَآئِكَةُ طَيِّبِينَ) اس موقع پر فرشتے انھیں کہتے ہیں ”سلام ہو تم پر“ (يَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَيْكُمُ) وہ سلام کہ جو امن و سلامتی اور آرام و سکون کی نشانی ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں: اپنے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ (ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ تتوفاھم (ان کی روح حاصل کرتے ہیں) یہ موت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ موت فنا و نابودی نہیں اور اس سے ہر چیز ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ایک بالا تر مرحلہ کی طرف منتقل ہونے کا مرحلہ ہے۔ تفسیر المیزان میں ہے کہ: اس آیت میں تین موضوعات پیش کئے گئے ہیں: ۱۔ متقین کی روح اس حالت میں قبض کی جائے گی کہ وہ پاک و طیب ہوں گے۔ ۲۔ ان کے لئے ہر لحاظ سے امن و سلامتی کا ہونا۔ ۳۔ بہشت کی طرف ان کی راہنمائی۔ ان تین نعمات کی نظیر سورۂ انعام کی آیہ ۸۲ میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان کے لئے امن و امان ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

33
16:33
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ أَمۡرُ رَبِّكَۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
کیا وہ اس کے علاوہ کسی چیز کے منتظر ہیں کہ (قبض روح کرنے والے)فرشتے ان کے پاس آئیں یا پھر ان کی سزا کے بارے میں تیرے پروردگار کا حکم آپہنچے (اور پھر وہ توبہ کریں ) ان سے پہلے والے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
16:34
فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
اور ان کے برے اعمال کا نتیجہ ان تک پہنچا،اور جس (وعدہ عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان تک آ پہنچا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
16:35
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖ نَّحۡنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ فَهَلۡ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اور جن لو گوں نے کیا انہوں نے کہا: اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے آباؤ اجداد اس (اللہ ) کے غیر کی عبادت نہ کرتے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے (جی ہاں )ان سے پہلے لوگوں نے بھی یہی کام انجام دیئے ہیں لیکن کیا انبیاء کی ذمہ داری سوائے واضح تبلیغ کے کچھ ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
16:36
وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنۡهُم مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ ٱلضَّلَٰلَةُۚ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ وہ خدائے یکتا کی عبادت کریں اور طاغوت سے اجتناب کریں۔ ایک گروہ کو خدا نے (اس کی اہلیت کی بنا پر) ہدایت کی اور ایک گروہ کو(نااہلی کی وجہ سے ) گمراہی دامن گیر ہوئی پس روئے زمین میں چلو پھر و اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
16:37
إِن تَحۡرِصۡ عَلَىٰ هُدَىٰهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَن يُضِلُّۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
تم ان کی ہدایت کا جتنا بھی لالچ کرو (کوئی فائد ہ نہیں ) کیونکہ اللہ نے جسے گمراہ کیا ہے اس کی ہدایت نہیں فرماتااور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہو گا۔

انبیاء کی ذمہ داری واضح تبلیغ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قرآن دوبارہ مشرکین اور مستکبرین کے طرز فکر اور طرز عمل کے بارے میں تجزیہ و تحلیل کرتا ہے اور تہدید آمیز لہجے میں کہتا ہے: وہ کس انتظار میں ہیں ” کیا وہ اس بات کے منظر ہیں کہ موت کے فرشتے ان کے پاس آئیں“ توبہ کے دروازے بند ہو جائیں دفتر اعمال لپیٹ دیا جائے اور واپسی کی کوئی راہ باقی نہ رہے (هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلاَئِكَةُ)۔ یا پھر کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے لئے تیرے پروردگار کی طرف سے عذاب کا حکم صادر ہو (أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ) جبکہ اس حالت میں بھی توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے اور باز گشت اور تلافی کا راستہ باقی نہ رہے گا۔ یہی ان کی کیسی طرز فکر ہے۔ کیسی ہٹ دھرمی ہے اور کیا احمقانہ انداز ہے۔ یہاں لفظ ”ملائکہ“ اگر چہ مطلق طور پر آرہا ہے لیکن گزشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جن میں روح قبض کرنے والے فرشتے کے بارے میں گفتگو ہے یہاں بھی وہی مراد ہیں۔ ”یاتی امر ربک“ (خدا کا حکم آ جائے گا) اس جملے سے بہت سے احتمالات پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے یہی تعبیر قرآن کی مختلف آیات میں نزول عذاب کے بارے میں آئی ہے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہاں بھی وہی معنی مراد ہے۔ بہرحال، مجموعی طور پر ان دونوں جملوں سے تہدید کا مفہوم نکلتا ہے یہ تہدید اور دھمکی مستکبرین کے لئے ہے ان سے کہا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پند و نصیحت اور ا س کے انبیاء کی طرف سے وعظ و نصیحت سے تم بیدار نہیں ہوتے تو عذاب اور موت کے تازیانے تمہیں بیدار کریں گے لیکن اس بیدار ہونے سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہی گروہ نہیں کہ جس کا طرز عمل ہے بلکہ ”گزشتہ مشرکین اور مستکبرین بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے (كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ)۔ خدا نے تو ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ہے (وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّهُ وَلـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ)۔ کیونکہ درحقیقت خدا ان کے اعمال ہی کا نتیجہ ان کی طرف لوٹائے گا، یہ جملہ پھر اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ ہر ظلم اور برائی جو انسان سے سر زد ہوتی ہے آخر کار اسی کی دامن گیر ہوتی ہے بلکہ ہر چیز سے پہلے ان تک آپہنچی ہے کیونکہ برے عمل کے برے آثار اپنے فاعل کی روح پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس سے اس کا دل تاریک ہو جاتا ہے روح آلودہ ہو جاتی ہے اور آرام و سکون جاتا رہتا ہے۔ دوبارہ ان کے اعمال کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: بالآخرہ ان کے اعمال کی برائیاں ان تک آپہنچی ہیں (فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُواْ)۔ (وعدۂ عذاب الہٰی کہ)جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ان تک آپہنچے گا (وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ)۔ ”حاق بھم“ کامعنی ہے ”ان پر وارد ہوا“ لیکن قرطبی، فرید وجدی اور دیگر مفسرین نے اسے احاطہ کرنے کے معنی میں لیا ہے البتہ اس سے ایسا مفہوم مراد لیا جانا چاہئیے جس میں وارد ہونا اور احاطہ کرنا دونوں معانی شامل ہوں۔ بہرحال، یہ آیت جو کہتی ہے کہ ”ان کے اعمال کی برائیاں ان تک آ پہنچیں“ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ یہ انسان کے اپنے اعمال ہیں کہ جو اس جہان میں بھی اور اس جہاں میں بھی اسے دامن گیر ہوتے ہیں اس کے یہ اعمال مختلف صورتوں میں بھی مجسم ہوتے ہیں اور اسے رنج تکلیف، آزار اور اذیت دیتے ہیں۔[تشریحی نوٹ: اس بناء پر ضروری نہیں کہ ہم ”جزا“ کو ”سیئات“ سے پہلے مقدر فرض کریں]۔ اگلی آیت مشرکین کی ایک کمزور اور بے بنیاد منطق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: "مشرکین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو ہم کو ہمارے آباء و اجداد اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے“ اور بتوں کا رخ نہ کرتے (وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاءَ اللّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ نَّحْنُ وَلاَ آبَاؤُنَا) اور کوئی چیز اس کے اذن کے بغیر حرام قرار دیتے (وَلاَ حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ)۔ یہ جو کچھ چوپایوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں مشرکین نے زمانۂ جاہلیت میں اپنی طرف سے حرام قرار دے لیا تھا ان کے اس طرز عمل پر پیغمبر شدید تنقید کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ ان کا دعویٰ تھا کہ بتوں کی پرستش اور حلال حرام قرار دینا اور ان کے دیگر کام اللہ کی رضا سے ہیں اور اس کے اذن کے بغیر نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ گفتگو اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ وہ جبر کا عقیدہ رکھتے تھے اور ہر چیز کو تقدیر سے وابستہ سمجھتے تھے۔ اس آیت سے بہت سے مفسرین نے یہی مراد لیا ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ان کا یہ کہنا عقیدۂ جبر کی بنیاد پر نہ ہوا اور اس کا استدلال یہ ہو کہ اگر ہمارے اعمال پر خدا راضی نہیں ہیں ہے تو پھر اس نے پہلے پیغمبر اور رسول بھیج کر ان سے منع کیوں نہیں کیا اور کیوں ہمارے بزرگوں سے پہلے دن ہی نہیں کہا کہ میں ان کاموں سے راضی نہیں ہوں۔ اس کی یہ خاموشی اس کی رضا کی دلیل ہے۔ یہ تفسیر اس آیت اور کے بعد کی آیات کے ظاہری مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے اسی لئے بلافاصلہ فرمایا گیا ہے ان کے آباؤ و اجداد بھی یہی کچھ کرتے تھے (اور انہی بہانوں کا سہارا لیتے تھے) لیکن کیا انبیاء الہٰی کی ذمہ داری واضح تبلیغ کے علاوہ کچھ اور ہے؟ (كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبِينُ)۔ یعنی______ اولاً، یہ جو تم کہتے ہو کہ خدا نے سکوت اختیار کر رکھا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ جو پیغمبر بھی آیا ہے اس نے توحید کی اور نفی شرک کی دعوت دی ہے۔ ثانیاً، خدا اور پیغمبر کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ مجبور کریں بلکہ ان کے ذمہ ہے کہ راستے کی نشان دہی کریں اور یہ کام کیا جا چکا ہے۔ ضمنی طور پر ”کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِم“ (جو لوگ اس سے پہلے تھے انھوں نے بھی یہی کام انجام دئیے ہیں) یہ ایک طرح سے پیغمبر کی تسلی کے لئے ہے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے لہٰذا ملول نہ ہوں، استقامت سے کام لیں اور ڈٹ جائیں خدا آپ کا یار و مددگار ہے۔ یہ حقیقت بیان کرنے کے بعد کہ انبیاء کی ذمہ داری صرف ابلاغِ آشکار اور تبلیغ واضح ہے۔ اگلی آیت میں انبیاء کی کیفیتِ دعوت کی طرف ایک مختصر اور جامع اشارہ کیا گیا ہے فرمایا گیا ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا ہے (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً)۔ لفظ ”امة“، ”ام“ ماں کے معنی میں ہے یا ہر چیز کے معنی میں ہے جو کسی دوسری چیز کو اپنا ضمیمہ قرار دے لہٰذا ہر وہ جماعت کہ جس کے افراد میں زمان، مکان، فکر یا ہدف میں کسی طرح کی وحدت ہو اسے ”امہ“ کہا جاتا ہے قرآن میں یہ لفظ ۶۴ سے زیادہ مرتبہ آیا ہے ان کے مطالعے سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: کہ ان سب رسولوں نے یہی دعوت دی ہے کہ خدائے یکتا کی پرستش کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو (أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ)[یہ جملہ تقدیر میں یوں تھا۔” لیقول لھم اعبدو ا اللہ۔۔۔۔] یعنی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد پر عقیدۂ توحید اور طاغوت سے مقابلہ تھا اور یہی وہ پہلی چیز تھی کی جس کی طرف سب انبیاء بلااستثناء دعوت دیتے تھے کیونکہ اگر توحید کے ستون مستحکم نہ ہوں اور انسانی معاشرے سے طاغوتیت اور طاغوتی افکار نکال باہر نہ کئے جائیں تو کوئی اصلاحی پروگرام قابلِ عمل نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ”طاغوت“ مبالغے کا صیغہ ہے یہ ”طغیان کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے حد اور سرحد سے تجاوز کرنا اور ”طاغوت“ تجاوز کرنے والے کو کہتے ہیں لہٰذا شیطان، بت اور ظالم و ستمگر حاکم کو ”طاغوت“ کہتے ہیں اور ہر وہ راستہ جو غیرِ حق تک جا پہنچائے اسے طاغوت کہا جاتا ہے یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں معانی میں استعمال ہوا ہے اگرچہ بعض اوقات اس کی جمع ”طواغیت“ کی جاتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کی دعوتِ توحید کا نتیجہ کیا نکلتا ہے قرآن کہتا ہے: ان امتوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں خدا نے ہدایت کی (فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللّهُ)۔ اور ان میں ایسے تھے کہ گمراہی جنہیں دامن گیر ہوئی (وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلاَلَةُ)۔ اس موقع پر بھی مکتبِ جبر کے پیروکاروں نے آواز بلند کی ہے کہ یہ آیت بھی ہمارے مکتب کی صداقت کے لئے ایک دلیل ہے لیکن ہم نے بار ہا کہا ہے کہ اگر ہدایت و ضلات والی آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں رہتا اور نہ صرف یہ کہ وہ جبر کی طرف اشارہ نہیں کرتیں، وضاحت سے انسانی اختیار، ارادے اور آزادی کو بیان کرتی ہیں کیونکہ بہت سی قرآنی آیات میں ہے کہ خدائی ہدایت و ضلالت اس اہلیت اور نا اہلی کے بعد کہ جو انسان کے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ خداوند تعالیٰ ظالموں، ہیرا پھیری کرنے والوں، جھوٹوں اور اس قسم کے لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا اس کے برعکس جو لوگ راہِ خدا میں جہاد اور جد و جہد کرتے ہیں اور دعوت انبیاء کو قبول کرتے ہیں ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے۔ انھیں تکامل و ارتقاء کی منزلوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور سیر الی اللہ کا راستہ کہ جو نشیب و فراز سے پر ہے اس میں ہدایت کرتا ہے جبکہ ظالموں اور جھوٹوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں اور عالِم بے راہ روی میں سر گرداں رہیں نیز اعمال اچھے ہوں یا برے ان کی خاصیت چونکہ خدا کی طرف سے ہے لہٰذا ان کے نتائج کی نسبت خدا کی طرف دی جا سکتی ہے۔ جی ہاں! خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ ہدایت تشریعی کا طریقہ اختیار فرماتا ہے یعنی انبیاء کو مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ فطرت سے ہم آہنگ ہو کر لوگوں کو توحید اور نفی طاغوت کی دعوت دیں اس ہدایت تشریعی کے بعد جو شخص یا گروہ اپنی لیاقت و اہلیت ثابت کرتا ہے وہ اس کے لطف و ہدایتِ تکوینی سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ جی ہاں! یہ ہے خد اکی دائمی سنت، نہ وہ کہ جو فکر الدین رازی اور اس جیسے مکتب جبر کے طرفداروں نے کہا ہے کہ خدا پہلے انبیاء کے ذریعہ دعوت دیتا ہے اور پھر جبری طور پر (بغیر کسی وجہ کے) لوگوں میں ایمان یا کفر پیدا کردیتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے خیال میں اس سلسلے میں خدا سے کسی قسم کا کوئی سوال و جواب نہیں ہو سکتا ۔ واقعاً لوگوں نے خدا کا کیسا وحشت ناک تصور پیش کیا ہے کہ جوکسی عقل، احساس اور منطق سے مناسبت نہیں رکھتا۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں ہدایت و ضلالت کے بارے میں مختلف انداز سے بات کی گئی ہے پہلے فرمایا گیا ہے: ”خدا نے ایک گروہ کی ہدایت کی“ لیکن ضلالت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ”خدا نے ایک گروہ کو گمراہ کیا۔ بلکہ فرمایا : حقت علیھم الضلالة یعنی۔۔۔۔گمراہی ان کے لئے ثابت ہو گئی اور ان کے دامن سے لپٹ گئی۔ تعبیر کا یہ فرق ہو سکتا ہے۔ دوسری آیاتِ قرآن اور بعض روایات سے ظاہر ہونے والی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ہدایت کا زیادہ تعلق ان مقدمات سے ہے جو خداوند تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں، اس نے عقل دی ہے۔ انسانی فطرت کو توحید کے لئے آمادہ کیا ہے۔ انبیاء بھیجے ہیں اور تشریعی و تکوینی آیات دکھائی ہیں اب صرف بندوں کی طرف سے ایک آزادنہ ارادے کی ضرورت ہے کہ جو انھیں منزل مقصود تک پہنچا دے۔ جبکہ ضلالت و گمراہی میں تمام تر کردار خود بندوں کا ہے کیونکہ خود بندے ہی تکوینی و تشریعی ہدایت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں الہٰی فطرت کے قوانین کو پامال کرتے ہیں۔ تشریعی و تکوینی آیات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور انبیاء کی دعوت پر چشمِ بصیرت اور گوش ہوش بند کر لیتے ہیں۔ خلاصہ یہ تخریب و تحریف کے ان سب عناصر کے ساتھ وادیٔ ضلالت میں قدم رکھتے ہیں۔۔۔۔۔تو کیا یہ سب امور انہی کی طرف سے نہیں ہیں؟ سورة نساء کی آیہ ۷۹ میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ جو بھلائی تجھے حاصل ہو وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچے وہ خود تیری طرف سے ہے۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کی طرف سے اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ اس مطلب کو زیادہ واضح کرتی ہے۔ ایک صحابی نے آپ سے جبر و اختیار کے بارے میں سوال کیا: آپ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا: لکھو: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم قال علی بن الحسین قال اللہ عز و جل: یا بن آدم! بمشیتی کنت انت الذی تشاء، و بقوتی ادیت الیٰ فرایضی، وبنعمتی قویت eلیٰ معصیتی، جعلتک سمیعاً بصیراً ”ما اصابک من حسنة فمن اللہ وما اصابک من سیئة فمن نفسک“ ”وذٰلک انا اولیٰ بحسناتک منک، اونت اولیٰ بسیئاتک منی“ ترجمہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم (امام) علی بن الحسین (زین العابدین) نے فرمایا کہ (حدیث قدسی میں) اللہ عز و جل فرماتا ہے: اے فرزند آدم! میرا ارادہ ہے کہ جس کی بنیاد پر تو ارادہ کر سکتا ہے (میں نے تو تجھے ارادے کی آزادی بخشی ہے)، اور میری عطا کردہ قوت کے ساتھ تو واجبات ادا کر سکتا ہے۔ جبکہ میری نعمت سے سوئے استفادہ کرتے ہوئے تو نے اس وقت کو نافرمانی کی طاقت میں بدل لیا ہے۔ میں نے تجھے سننے اور دیکھنے والا بنایا ہے (اور صحیح و غلط راستے کی نشاندہی کر دی ہے)۔ اب جو بھلائی تجھے پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جس برائی کا تجھے سامنا کرنا پڑتا ہے وہ خود تیری طرف سے ہے۔ “یہ اس لئے ہے کہ تو جو نیک کام انجام دیتا ہے اس کے حوالے سے میں تجھ سے اولیٰ اور زیادہ مستحق ہوں اور جن برے کاموں کا تو مرتکب ہوتا ہے مجھ سے سزاوار تر ہے۔ [بحوالہ: اصول کافی جلد ۱ ص ۱۶۰ باب الجبر والقدر حدیث ۱۶۔] آیت کے آخر میں گمراہوں کو بیدار کرنے اور ہدایت یافتہ افراد کی روحانی تقویت کے لیے ایک عمومی حکم صادر فرمایا گیا ہے: زمین میں چلو پھرو اور صفحئہ زمین پر تہِ خاک چھپے ہوئے گزشتہ لوگوں کے آثار کا مطالعہ کرو اور دیکھو آیاتِ الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا (فَسِيرُواْ فِي الْأَرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ)۔ یہ تعبیر بھی انسانی ارادے کی آزادی کے لئے ایک زندہ دلیل ہے کیونکہ ہدایت و گمراہی جبری ہوتی تو زمین میں چلنا پھرنا اور گزشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنا فضول تھا لہٰذا یہ حکم بذاتِ خود اس بات کی تاکید ہے کہ کسی شخص کی سرنوشت پہلے سے معین شدہ نہیں ہے بلکہ خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ”سیر فی الارض“ (زمین میں چلنا پھرنا) اور گزشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنا، اس بارے میں قرآن مجید میں بہت اور قابل توجہ مباحث موجود ہیں اس کا تفصیلی ذکر ہم تفسیر نمونہ، جلد ۲ سورہ آل عمران آیت ۱۳۷ کے ذیل میں کر آئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیرِ بحث آیت میں پیغمبر اکرم کی دلجوئی کے طور پر تاکید کی گئی ہے کہ آخر کار یہ گمراہ اور ہٹ دھرم لوگ اس مقام تک جا پہنچیں گے تو جس قدر بھی ”ان کی ہدایت کے لئے خواہش مند ہو جائے اور کوشش کرے، کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ خدا جسے گمراہ کرے (پھر اسے) ہدایت نہیں کرتا۔ (إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي مَن يُضِلُّ)۔ اور ان کے لئے کوئی یار و مددگار نہیں ہے“ (وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ)۔ ”تحرص“ مادہ ”حرص“ سے خوب کوشش کے ساتھ کوئی چیز طلب کرنے کے معنی میں ہے۔ واضح ہے کہ یہ جملہ تمام منحرفین اور کج رو لوگوں کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ پیغمبر کا فریضہ ہے تبلیغ و ہدایت کرنا اور ہم جانتے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ تبلیغ و ہدایت بہت سے گمراہوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے باعث سے بہت سے افراد دینِ حق سے منسلک ہو جاتے ہیں اور بڑے عشق اور جذبے سے دینِ حق کا دفاع کرنے لگتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں۔ لہٰذ امندرجہ بالا جملہ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے کہ جن کی ہٹ دھرمی اور بد دماغی انتہا کو پہنچ گئی ہو اور وہ استکبار، غرور، غفلت اور گناہ میں ایسے غرق ہو گئے ہوں گے کہ ان کے سامنے ہدایت کے دروازے نہ کھل سکیں۔ ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے پیغمبر جتنی بھی کو شش کر لیں بے نتیجہ ہوتی ہے کیونکہ اپنے اعمال کے سبب وہ اس حد تک گمراہ ہیں کہ قابلِ ہدایت نہیں رہے۔ فطری امر ہے کہ ایسے لوگوں کا کوئی یار و مددگار بھی نہیں ہوتا کیونکہ یار و مددگار تو کسی مناسب موقع پر ہی اقدام کر سکتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ تعبیر بھی نفی جبر کی دلیل ہے کیونکہ ”ناصر“ ایسے موقع سے مربوط ہے جہاں خود انسان کے اندر سے جوش پیدا ہو اور اس کا نتیجہ نصرت و مدد ہو (غور کیجئے گا)۔ ”ناصرین“ جمع کی صورت میں ہے یہ شاید اس طرف اشارہ ہو۔ اس گروہ کے بر عکس گروہ مومنین کا ایک دوست اور مددگار نہیں بلکہ بہت سے دوست اور مددگار ہیں خدا ان کا مددگار ہے انبیاء اور اولیاء الہٰی ان کے ناصر ہیں۔ ملائکہ رحمت بھی ہیں ان کے حامی و مدد گار ہیں۔ سورۂ مومن کی آیہ ۵۱ میں ہے۔ إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ہم اپنے رسولوں کی اور اسی طرح مومنین کی اس جہان میں روز قیامت جبکہ گواہی دینے والے شہادت کے لئے اٹھیں گے، نصرت کریں گے۔ نیز سورة حم السجدہ کی آیہ ۳۰ میں ہے:۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکة الا تخافوا ولا تحزنوا و ابشروا بالجنة التی کنتم توعدون جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس عقیدہ پر استقامت سے قائم رہتے ہیں ان پر آسمان کے ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں ڈرو نہیں اور غم نہ کھاؤ تمہیں اس جنت کی خوشخبری ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ ”بلاغ مبین “ کیا ہے

آیات بالا میں بتایا گیا ہے کہ تمام انبیاء کی ذمہ داری ”بلاغِ مبین“ ہے۔ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبِينُ یعنی ہادیان الہٰی محدود وقت کے سوا اپنی دعوت مخفی طور پر جاری نہیں رکھ سکتے۔ مخفی کام اور وہ بھی دعوت رسالت کے زمانے میں قابل قبول اور نتیجہ بخش نہیں ہو سکتا ایسی صراحت کہ جس میں رشد و ہدایت اور قاطعیت ہو تدبیر کے ساتھ ساتھ اس دعوت کی شرط ہے۔ اسی بناء پر تاریخ شاہد ہے کہ تمام انبیاء اگر چہ وہ عام طور پر تنہا ہوتے تھے اپنی دعوت صراحت اور وضاحت سے پیش کرتے تھے اور اس سلسلے میں ہر قسم کی مشکلات کے لئے تیار رہتے تھے اور یہی تمام حقیقی رہبروں کا دستور العمل ہے چاہے وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا ان کے علاوہ۔ کیونکہ خاموش رہنے سے دعوت کو کوئی قبول نہیں کرتا اور نہ ہی دو مختلف پہلو رکھنے والی باتوں سے کوئی استفادہ پاتا ہے۔ حقیقی رہبر حقیقت بیان کرنے کے لئے کوئی چیز فرو گذاشت نہیں کرتے وہ اس صراحت اور قاطعیت کے تمام نتائج بھی دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔

۲۔ ہر امت کے لئے ایک رسول

زیر بحث آیت میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے ہر امت میں ایک رسول مبعوث کیا ہے۔ یہاں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر ہر امت میں رسول بھیجا گیا ہے تو پھر دنیا کے تمام ممالک میں پیغمبر مبعوث ہوئے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کم از کم امت ہے حالانکہ تاریخ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ انبیاء بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ خدائی دعوت امتوں کے کانوں تک پہنچ جائے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ جس زمانے میں پیغمبر اسلام نے مکہ یا مدینہ میں قیام کیا تھا حجاز کے دوسرے شہروں میں کوئی پیغمبر نہیں تھا لیکن رسول اللہ نے اپنے نمائندے ان علاقوں میں بھیجے تھے ان نمائندوں نے رسول اللہ کی آواز ان سب کے کانوں تک پہنچائی علاوہ ازیں خود رسول اللہ نے خطوط لکھے اور مختلف ممالک مثلاً ایران، روم اور حبشہ کی طرف قاصد روانہ کئے اس طرح ان تک پیغام الہٰی پہنچایا گیا۔ اس وقت ہم بھی ایک امت ہیں ہم نے صدیوں بعد پیغمبر اسلام کی دعوت آپ کا پیغام لانے والے علماء کے ذریعے سنی ہے۔ ہر امت میں رسول بھیجنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

38
16:38
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَا يَبۡعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُۚ بَلَىٰ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
وہ (مشرک) تاکید سے قسم کھا کر کہتے ہیں مرجانے والوں کو خدا ہرگز مبعوث نہیں کرے گا۔ جی ہاں ! یہ خدا کا قطعی وعدہ ہے (کہ وہ تمام مرنے والوں کو پھر سے زندہ فرما ئیگا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
16:39
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي يَخۡتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰذِبِينَ
مقصد یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے وہ ان کے سامنے واضح کر دی جائیگی تاکہ انکار کرنے والے جان لیں کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
16:40
إِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَيۡءٍ إِذَآ أَرَدۡنَٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
(معاد و قیامت ہمارے لئے مشکل نہیں ہے کیونکہ) ہم جس وقت کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف کہتے ہیں کہ ’’ہو جا‘‘ تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں مفسرین نقل کرتے ہیں: ایک مسلمان نے کسی مشرک سے کچھ لینا تھا جب اس نے مطالبہ کیا تو اس نے قرض ادا کرنے میں لیت و لعل کی۔ مسلمان پریشان ہوا، اس نے دورانِ گفتگو قسم کھائی: اس چیز کی قسم کہ جس کے انتطار میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس کا مقصد قیامت اور حسابِ خدا تھا) مشرک کہنے لگا: ”تم سمجھتے ہو کہ ہم موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے۔ و اللہ وہ کسی مردہ کو زندہ نہیں کرے گا۔ (اس نے یہ بات اس لئے کہی کیونکہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مردوں کی بازگشت اور حیاتِ نو فضول یا محال بات ہے)۔ اس کے بعد اس بات پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں اسے اور اس جیسے افراد کو جواب دیا گیا ہے اور مسئلہ معاد کو واضح دلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابو الفتوح رازی، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔]

معاد اور اختلافات کا خاتمہ

گزشتہ آیات توحید اور رسالتِ انبیاء کے بارے میں تھیں۔ زیر بحث آیات میں مباحثِ توحید کے ایک پہلو کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ تاکید کے ساتھ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مر جانے والوں کو خد اہر گز مبعوث نہیں کرے گا اور انھیں حیات نو عطا نہیں کرے گا (وَأَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لاَ يَبْعَثُ اللّهُ مَن يَمُوتُ)۔ بغیر کسی دلیل کے ان کا یہ انکار اور بھی تاکیدی قسموں کے ساتھ ان کی نادانی اور جہالت کی نشانی ہے لہٰذا ان کے جواب میں قرآن کہتا ہے: یہ خدا کا قطعی وعدہ ہے ( کہ وہ تمام مرنے والوں کو حیاتِ نو عطا کرے گا تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ لیں) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے اور نہ جاننے کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں (بَلَى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ)۔ ”بلیٰ“ (جی ہاں) ”حقاً“ اور اس کے بعد وعدہ کا ذکر، وہ وعدہ کہ جو خدا کی طرف سے ہے۔ معاد کی تاکید اور قطعیت کی دلیل ہیں۔ اصولی طور پر جو شخص کسی حقیقت کا قاطعیت کے ساتھ انکار کرے اس کا جواب بھی قاطعیت کے ساتھ دیا جانا چاہئیے تاکہ اس انکار کے برے نفسیاتی اثرات اثباتِ قاطع کے ذریعہ دور ہو سکیں اور یہ بات واضح ہو جائے کہ اس کی طرف سے نفی، بے خبری اور نادانی کی وجہ سے ہے۔ اس طرح انکار اپنا اثر بالکل کھو دے گا۔ اس کے بعد معاد و قیامت کا مقصد اور اس پر خدا کی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس امر کی نشاندہی کی جائے کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حیات نو قدرتِ خدا میں نہیں ہے تو یہ ان کا بہت بڑا اشتباہ ہے اور اگر ان کا خیال ہے کہ معاد و قیامت بے مقصد ہے تو یہ بھی ان کی بہت بڑی غلطی ہے۔ فرمایا گیا ہے: خدا مرنے والوں کو مبعوث کرے گا تاکہ جس چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے ان کے سامنے واضح کر دے (لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ)۔ اور اس لئے کہ وہ جان لیں کہ وہ اس حقیقت کا جھوٹ انکار کرتے تھے۔ (وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَاذِبِينَ)۔ کیونکہ وہ جہان تو ایسا ہے جس میں پردے ہٹ جائیں گے، اور حقائق آشکار ہو جائیں گے۔ جیسا کہ سورہ قۤ کی آیت ۲۲ میں ہے: لقد كنت في غفلة من هذا فكشفنا عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد انسان سے کہا جائے گا کہ تو اس دن کے بارے میں غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیری آنکھوں کے سامنے سے پردہ اٹھا دیا ہے اور آج تو خوب دیکھتا ہے۔ سورہ طارق کی آیہ ۹ میں ہے: یوم تبلی السرائر قیامت ایسا دن ہے کہ جب رازہائے پنہاں آشکار ہو جائیں گے۔ نیز سورہ ابراہیم کی آیت ۴۸ میں ہے: وَبَرَزُواْ لِلّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ اس روز سب کے سب خدائے واحد و قہّار کی بارگاہ میں حاضر ہو ں گے۔ خلاصہ یہ کہ وہ دن شہود، کشفِ اسرار اور ظہور کا دن ہے۔ اس روز پنہاں چیزیں آشکار ہو جائیں گی ایسے حالات اور ماحول میں اختلافِ عقیدہ کا کوئی معنی نہیں ہے اگرچہ ممکن ہے کہ بعض ہٹ دھرم منکر اپنے آپ کو بچانے کے لئے جھوٹے سہارے لینے کی کوشش کریں لیکن یہ ایک استثنائی اور زود گزر امر ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجرم کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تو اپنے تمام جرائم کا انکار کر دے لیکن جب فوراً ٹیب ریکارڈ لگا کر اس کی آواز اسے سنائی جائے اس کے دستخظ اسے دیکھائے جائیں اور واضح ثبوت اس کے سامنے پیش کیے جائیں اور اسے ساتھ لے جا کر، اس کے جرم کے آثار، موقع و محل دکھایا جائے تو اب جائے کلام باقی نہ رہے گی اور وہ اقرار کر لے گا۔ عالمِ قیامت میں حقائق کا ظہور اس سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہو گا۔ موت کے بعد کی زندگی اور قیامت کے مختلف اہداف و مقاصد ہیں جن کی مختلف مقامات پر آیات قرآنی میں نشاندہی کی گئی ہے مثلاً انسان کا تکامل و ارتقاء، اجرائے عدالت، اس جہان کی زندگی کو با مقصد بنانا، فیضِ الٰہی کو جاری و ساری رکھنا وغیرہ۔ زیرِ بحث آیت ایک اور مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ ہے اختلافات کو دور کرنا اور توحید کی طرف لوٹنا۔ ہم جانتے ہیں کہ بہترین اصل کہ جو سارے عالَم پر حکمران ہے وہ اصل توحید ہے۔ یہ وسیع اور ہمہ گیر اصل خدا کی ذات، صفات اور افعال پر صادق آتی ہے سارے عالم خِلقت اور قوانینِ آفرینش پر بھی یہ اصل حکمران ہے اور ہر چیز کو آخر کار اسی اصل کی طرف پلٹنا چاہیئے لہٰذا ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ اختلافات اور نزاعات ایک دن ختم ہو جائیں گے اور ساری دنیا کے لوگ ایک حکومت کے پرچم تلے جمع ہو جائیں گے اور یہ حضرتِ مہدی علیہ السلام کی حکومت ہو گی کیونکہ عالمِ ہستی کی روح یعنی توحید کے بر خلاف جو کچھ بھی ہے اسے آخر ایک دن ختم ہونا چاہئیے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عقائد کا یہ اختلاف دنیا سے مکمل طور پر کبھی بھی ختم نہیں ہو گا کیونکہ یہ عالمِ غطا ہے یہاں بہت کچھ پردے میں ہے۔ البتہ ایک دن آئے گا کہ جب یہ پردے ہٹ جائیں گے اور وہ ”یومِ ظہور“ ہے۔ اس بناء پر معاد کا ایک ہدف یہ ہے کہ سب وحدت کی طرف پلٹ آئیں اور تمام اختلافات ختم ہو جائیں۔ اسی ہدف کی طرف مذکورہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اس مسئلے کی تکرار اور تاکید موجود ہے کہ خداوندِ عالم روز قیامت لوگوں کے درمیان عدالت کرے گا اور اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ [تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں آل عمران کی آیہ ۵۵، مائدہ کی ۴۸، انعام کی ۱۶۴، نحل کی ۹۲، اور حج کی ۶۹ کی طرف رجوع فرمائیں۔] دوسرا نکتہ ایک اور حقیقت پر مبنی ہے وہ یہ کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی بازگشت اور نئی زندگی محال ہے تو یہ جان لیں گے قدرتِ خدا اس سے برتر اور بالا ہے ”جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو فقط یہ کہتے ہیں کہ ”ہو جا“ تو وہ فوراً موجود ہو تی ہے“ (إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ)۔ ایسی قدرتِ کاملہ کہ جس میں صرف ”ہو جا“ کا فرمان ہر چیز کے وجود کے لئے کافی ہو تو پھر اس کے لئے مردوں کے حیاتِ نو عطا کرنے کی قدرت کے بارے میں تردّد و شک کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔ شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ ”کن“، (ہو جا) کی تعبیر بھی تنگی بیان کی وجہ سے ہے ورنہ خدا کے لئے ”کن“کی ضرورت نہیں۔اس کا ارادہ ہی کام کا ہو جانا ہے۔ اس کی ناقص سی مثال اپنی زندگی سے پیش کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ ہم ارادہ کرتے ہیں کس چیز کے تصور کا تو وہ ہمارے ذہن میں ایجاد ہو جاتا ہے ہم اگر کسی عظیم پہاڑ، وسیع سمندر،، درختوں سے بھرے بہت بڑے باغ یا ایسی کسی چیز کا تصور کرنا چاہیں تو ہمارے لئے کیا مشکل ہے کیا اس کے لئے ہمیں کسی جملے اور لفظ کی احتیاج ہے؟ ان موجودات تصویر کی تو صرف تصور ہی سے ہمارے صفحہ ذہن پر ابھر آتی ہے۔ تو اسی طرح خدا کے ”ہو جا“ کہے بغیر، صرف ارادہ سے چیز موجود ہو جاتی ہے۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ خدا کے ارادہ اور مخلوق کے ارادہ کے بارے میں وضاحت فرمائیے تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: مخلوق کا رادہ باطنی ہے اس کے بعد افعال ہیں کہ جو بعد میں آشکار ہوتے ہیں لیکن خدا کا ارادہ ہی اس کی ایجاد ہے نہ کہ اس کا غیر، کیونکہ خدا میں سوچ بچار، تصمیم اور فکر و نظر نہیں ہے (کیونکہ یہ صفات زائد بر ذات ہیں) خدا کے بارے میں ان چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہے یہ مخلوقات کی صفات ہیں لہٰذا خد اکا ارادہ ہی ایجاد، افعال ہے۔ فقط خدا کہتا ہے: ”ہوجا“ تو وہ ہو جا تا ہے بغیر کوئی لفظ ادا کئے، اسے زبان سے ادا کرنے، کمر ہمت باندھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ [بحوالہ: اصولِ کافی جلد ۱، باب الارادہ، حدیث نمبر ۳۔]

41
16:41
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
اورجن لوگوں پر ظلم ہوا ہے اور پھر انہوں نے خدا کیلئے ہجرت کی ہے،ہم اس دنیا میں ان کو اچھا مقام عطاکریں گے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کی جزا بہت بڑی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
16:42
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور صرف اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات کی شانِ نزول میں بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں اسلام لانے کے بعد بعض مسلمانوں مثلاً بلال، عمار یاسر صہیب اور خبّاب پر سخت تشدد کیا گیا اسلام کی تقویت اور دوسروں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پیغمبر اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہ ہجرت آپ کی اور دوسروں کی کامیابی کا باعث بنی۔ صہیب سن رسیدہ شخص تھے انہوں نے مشرکین مکہ سے کہا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں میں اگر تمہارے پاس رہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر میں تمہارا مخالف رہوں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تم ایسا کرو کہ میرا مال لے لو اور مجھے مدینہ جانے دو۔ اس پر صہیب سے لوگوں نے کہا کہ تم نے نفع کا سود کیا ہے اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں اس جہان میں، دوسرے جہان میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ ہے۔ تاریخ میں ہے کہ خلفاء کے زمانے میں جب بیت المال کے اموال تقسیم ہوتے تھے تو مہاجرین کی باری آتی تھی تو انہیں کہا جاتا تھا کہ اپنا حصہ لے لو یہ وہی ہے کہ جو خدا نے تمہیں دنیا میں دینے کا وعدہ کیا ہے اور جو کچھ دوسرے جہان میں تمہارے انتظار میں ہے وہ بہت زیادہ ہے اس کے بعد وہ مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کرتے تھے۔[بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں۔]

مہاجرین کی جزا

ہم نے بار ہا کہا ہے کہ قرآن اپنے تربیتی امور میں جس موثر ترین روش سے استفادہ کرتا ہے وہ ہے موازنہ اور تقابل۔ قرآن ہر چیز کو ا س کے متضاد کے سامنے لے آتا ہے تاکہ ہر ایک کا مقام واضح اور متعین ہو جائے۔ گزشتہ آیات میں منکرینِ قیامت اور ہٹ دھرم مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر بحث آیات سچے اور پاکباز مہاجرین کی بات کرتی ہیں تاکہ موازنہ اور تقابل سے دونوں کی کیفیت واضح ہو جائے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں نے ستم اٹھائے اور راہِ خدا میں ہجرت کی ہم اس دنیا میں انھیں اچھی جگہ اور مقام دیں گے (وَالَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي اللّهِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً)۔ یہ ان کی دنیاوی جزا ہے۔ رہی اُخروی جزا، اگر وہ جانے تو بہت ہی بڑی ہے (وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ)۔ بعد والی آیت میں ان سچے اور با استقامت اہلِ ایمان مہاجرین کی توصیف میں ان کے دو اوصاف بیان کئے گئے ہیں فرمایا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھاما اور جو اللہ پر توکل رکھتے ہیں (الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ ہجرت اور مہاجرین: آغازِ اسلام میں مسلمانوں نے دو ہجرتیں کیں۔ پہلی ہجرت نسبتاً مختصر تھی اس میں چند مسلمانوں نے ھجرت جعفر بن ابی طالب (علیه السلام) کی سر براہی میں حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ دوسری ہجرت ہمہ گیر تھی۔ اس میں رسول اللہ اور تمام مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ زیر نظر آیات دوسری ہجرت سے متعلق ہیں۔ ان آیات کی شان نزول بھی اس امر کی تائید کرتی ہے۔ گزشتہ زمانے میں اور دورِ حاضر میں مسلمانوں کے لئے ہجرت کی دائمی اہمیت کے متعلق ہم سورہ نساء کی آیہ ۱۰۰ اور سورہ انفال کی آیہ ۷۵ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔[بحوالہ: تفسیرِ نمونہ جلد ۴ ص ۸۵ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔] بہرحال، مہاجرین کا مقام اسلام میں بہت بلند ہے۔ خود پیغمبر اکرم اور بعد کے مسلمان سب ان کا خاص احترام کرتے تھے کیونکہ انہوں نے دعوت اسلام کی تو سیع کی خاطر اپنا تمام سرمایہ حیات کو ٹھوکر مار دی۔ بعض نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا صہیب جیسے بعض افراد نے اپنے سارے مال و متاع سے منھ پھیر لیا۔ ان دنوں میں اگر ان مہاجرین کا ایثار نہ ہو تا تو مکہ کا تنگ ماحول اور اس میں موجود شیطانی عناصر ہرگز اجازت نہ دیتے کہ اسلام کی آواز کسی کے کانوں تک پہنچے وہ یہ آواز ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے حلقوم میں دبا دیتے لیکن یہ مہاجرین تھے کہ جن کی اس سوچی سمجھی تحریک اور انقلاب کے ذریعے نہ صرف مکہ ان کے زیر تسلط آگیا بلکہ اسلام کی آواز پوری دنیا کے کانوں تک پہنچ گئی ان کا یہ طرز عمل بعد کے مسلمانوں کے لئے اس قسم کے حالات میں ایک دائمی سنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۲۔”ھاجروا فی اللہ“ کا مفہوم: اس تعبیر میں لفظ ”سبیل“ تک ذکر نہیں ہوا۔ یہ دراصل ان مہاجرین کے انتہائی خلوص کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صرف خدا کی راہ میں، اس کی رضا کی خاطر اور ا س کے دین کی حفاظت کے لئے اس قسم کی ہجرت کی، نہ کہ اپنی جان بچانے کے لئے یا کسی دوسرے مادی مفاد کے لئے۔ ۳۔ من بعد ما ظلموا کا مطلب: یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ میدان فوراً خالی نہیں کر دینا چاہئیے بلکہ جب تک ممکن ہو قیام کرنا چاہئیے اور مشکلات کو بر داشت کرنا چاہئیے۔ البتہ جس وقت دشمن کے آثار اور مظالم برداشت کرنے کا نتیجہ اس کی جسارت میں اضافہ ہو اور مومنین کی کمزوری کے سوا کچھ نہ ہو اس وقت ہجرت کرنا چاہیئے تاکہ زیادہ طاقت جمع کرنے اور زیادہ مضبوط مورچے قائم کرنے کا موقع مل سکے اور ہمہ گیر جہاد کے لئے بہتر جگہ میسّر آسکے اور اہلِ حق کو فوجی، ثقافتی اور تبلیغی محاذ پر کامیابی حاصل ہو سکے۔ ۴۔لنبوئنھم فی الدنیا حسنة“ کا مفہوم: یہ جملہ ”بوأت لہ مکاناً“ (وہ مکان کہ جو میں نے اس کے لئے تیار کیا اور اسے اس میں جگہ دی) کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی مہاجرین اگرچہ ابتداء میں اپنے مادی وسائل کھو بیٹھے تھے لیکن آخر کار انھیں مادی زندگی کے لحاظ سے بھی کامیابی حاصل ہوئی۔ [تشریحی نوٹ: ”لنبوئنھم“ اصل میں ”بواء“ کے مادہ سے جگہ کے اجزاء مساوی ہونے کے معنی میں ہے۔ اس کے برعکس ”نبوہ“(بر وزن ”مبدء“) جگہ کے اجزاء مساوی نہ ہونے کے میں ہے۔ لہٰذا ”بوأت لہ مکانا“ کا معنی ہے: میں نے اس کے لئے جگہ صاف کی لہٰذا یہ کسی کے لئے کوئی جگہ تیار کرنے کے معنی میں ہے۔ ] انسان آخر دشمن کی ضربوں میں رہ کر ذلّت کے ساتھ کیوں مرجائے؟ وہ شجاعت و جرأت کے ساتھ ہجرت کیوں نہ کر جائے اور کیوں نہ نئی جگہ سے مقابلے کی تیاری کرے تاکہ اپنا حق لے سکے۔ سورۂ نساء کی آیہ ۱۰۰ میں یہی مسئلہ زیادہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے: ومن يهاجر في سبيل الله يجد في الأرض مراغما كثيرا وسعة جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں انھیں دنیا میں امن کی بہت وسیع جگہ ملے گی کہ جہاں رہ کر وہ دشمن کو رسوا کر سکتے ہیں۔ ۵۔ مہاجرین کی صفات: مہاجرین کی دو صفات بیان کی گئی ہیں صبر اور توکل۔ ان کی ان صفات کو بیان کرنے کا مقصد واضح ہے کیونکہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے ایسے روح فرسا حوادث میں سب سے پہلے صبر و استقامت ضروری ہے جتنی مصیبت زیادہ ہو گی پھر اللہ پر توکل اور اعتماد بھی ضروری ہے اصولی طور پر ایسی مشکلات میں اگر انسان کا کوئی مستحکم اور قابلِ اطمینان سہارا نہ ہو تو اس کے لئے صبر و استقامت ممکن نہیں ہے۔ بعض نے کہا کہ صبر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راہ میں پہلے خواہشاتِ نفسانی کے مقابلے میں صبر و استقامت ضروری ہے اور توکل کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راستے کا آخر یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر کسی سے کٹ جائے اور اس سے پیوستہ ہو جائے لہٰذا پہلی صفت آغازِ سفر ہے اور دوسری اختتام سفر۔[بحوالہ: تفسیر کبیر فخرِ رازی، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔] بہرحال، بیرونی ہجرت اندرونی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں ہے انسان کو چاہئیے کہ پہلے وہ اندرونی مادی برائیوں کو چھوڑ کر اخلاقی فضائل کی طرف ہجرت کرے تاکہ وہ بیرونی طور پر اس قسم کی ہجرت کر سکے اور دار الکفر کی ہر چیز کو ٹھوکر مار کر دار الایمان کی طرف منتقل ہو سکے۔

43
16:43
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
ہم نے تم سے پہلے بھی ایسے مرودں ’’جن پر وحی نازل کی‘‘کے سوا کسی کو نہیں بھیجا۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر لوگوں سے پوچھ لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
16:44
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ
(اور وہ لوگ جو) واضح دلائل اور( گزشتہ انبیاء) کی کتب سے (آگاہ ہیں ) اور ہم نے اس ذکر (قرآن) کو تجھ پر نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کی طرف جو کچھ ہم نے بھیجا ہے وہ ان سے بیان کرو شاید وہ غور و فکر کریں۔

نہیں جانتے تو پوچھ لو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ دو آیتیں حقیقی مہاجرین کے بارے میں تھیں البتہ زیر بحث آیات کے بارے میں دوبارہ اصولِ دین سے متعلق گزشتہ مسائل کا ذکر ہے ان میں مشرکین کے ایک مشہور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ خدا نے تبلیغ رسالت کے لئے کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا (یا وہ کہتے تھے کہ پیغمبر کے پاس کوئی ایسی غیر معمولی قوت کیوں نہیں ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں یہ کام ترک کرنے پر مجبور کر دے کہ جو ہم انجام دیتے ہیں) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے تجھ سے پہلے بھی رسول بھیجے ہیں اور وہ بھی بس ایسے ہی مرد تھے کہ جن پر وحی نازل ہوتی تھی (وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِمْ)۔ جی ہاں! یہ مرد نوعِ بشر میں سے تھے ان میں تمام تر انسانی جذبات و احساسات موجود تھے یہ لوگوں کی مشکلات اور مصائب کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے۔ ان کی ضروریات کو جانتے تھے جبکہ کوئی فرشتہ ان امور سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہو سکتا۔ انسان کے اندر جو گذرتی ہے فرشتہ اسے نہیں سمجھ پاتا۔ مسلّم ہے صاحبانِ وحی کی اس کے سوا کوئی اور ذمہ داری نہ تھی کہ وہ ابلاغِ رسالت کریں۔ ان کا کام تھا کہ وہ پیامِ وحی حاصل کریں۔ اسے انسانوں تک پہنچائیں اور معمول کے ذرائع کے ساتھ مقاصدِ وحی کے حصول کی جد و جہد کریں۔ ان کا یہ کام نہ تھا کہ کسی غیر معمولی خدائی طاقت کے ذریعے تمام طبیعی قوانین کو توڑتے ہوئے لوگوں کو قبولیت کی دعوت دیں اور انہیں انحرافات ترک کرنے پر مجبور کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر کسی کا ایمان لانا کوئی افتخار کی بات نہ ہوتی اور نہ ہی ایسا ایمان ترقی اور کمال کا ذریعہ ہوتا۔ اس حقیقت پر تاکید اور اس کی تائید کے لئے مزید فرمایا گیا ہے: اگر اس بات کا تمہیں علم نہیں تو جاؤ با خبر لوگوں سے پوچھو (فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ)۔ ”ذکر“ آگاہی اور اطلاع کے معنی میں ہے اور ”اھل الذکر“ ایک وسیع مفہوم ہے۔ مختلف سطح پر اسکے مفہوم میں تمام آگاہ اور باخبر لوگ شامل ہیں۔ بہت سے مفسرین نے ”اھل الذکر“ سے اہل کتاب کے علماء مراد لیتے ہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ”اھل الذکر“ کا مفہوم اسی میں محدود سمجھ لیا جائے بلکہ درحقیقت، اس کے کلّی مفہوم کا ایک مصداق ہے کیونکہ اس کے بارے میں سوال قاعدتاً اہل کتاب کے اور یہود و نصاریٰ کے علماء سے کیا جانا چاہئیے کہ گزشتہ انبیاء و مرسلین نوعِ بشر میں سے تھے اور مرد تھے کہ جو خدائی احکام کی تبلیغ اور اجراء کے لئے مامور ہوئے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اہل کتاب ہر لحاظ سے مشر کین کے ہم آہنگ نہ تھے بلکہ اسلام کی مخالفت میں وہ ان سے ہم آہنگ تھے لہٰذا گزشتہ انبیاء کے حالات بیان کرنے کے لئے اہل کتاب کے علماء بہتر ذریعہ تھے۔ مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ ”ذکر“ کے دو معنی ہیں یہ لفظ کبھی ”حفظ“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ”یاد آوری“ کے معنی میں۔ البتہ ممکن ہے یاد آوری دل ہی سے ہو (دل سے یاد کرنا دراصل باطنی ذکر شمار ہوتا ہے) یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کو ذکر کہا جاتا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ قرآن حقائق کو واضح کرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی آیت میں ہے: اگر تمام انبیاء اور ان کی کُتَب کے واضح دلائل سے آگاہ نہیں ہو تو آگاہ اور با خبر لوگوں کی طرف رجوع کرو (بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ)۔ [تشریحی نوٹ: ”بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ“ترکیب کے لحاظ سے کس فعل سے متعلق ہے اس سلسلے میں مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں بعض نے اسے ”لا تعلمون“ سے متعلق سمجھا ہے (جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اور ظاہری مفہوم سے یہی بات مطابقت رکھتی ہے)۔ توجہ رہے کہ علم باء کے بغیر اور باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے ”ارسلنا“ مقدر ہے اور اصل میں یوں تھا : ”ارسلنا ھم بالبینات و الزبر“۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا متعلق ”وما ارسلنا“ قبل کی آیت میں ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ”نوحی الیھم“ سے متعلق ہے۔ واضح ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے مطابق آیت کا ایک خاص مفہوم ہو گا لیکن مجموعی طور پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔] ”بینات“، ” بینة“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ”واضح دلائل“، ہو سکتا ہے یہاں یہ انبیاء کے معجزات اور ان کی حقانیت کے دیگر دلائل کی طرف اشارہ ہو۔ ”زبر“، ”زبور“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ”کتاب“۔ درحقیقت، ”بینات“ کا مفہوم ہے اثبات کے دلائل اور ”زبر“ ان کتب کی طرف اشارہ ہے جن میں انبیاء کی تعلیمات جمع تھیں۔ اس کے بعد قرآن روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے: ہم نے یہ ذکر (قرآن) تجھ پر نازل کیا تاکہ لوگوں کے لئے جو کچھ نازل ہوا ہے تو ان سے بیان کرے (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ)۔ تاکہ وہ ان آیات پر غور و فکر کریں اور ان کے حوالے سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کی طرف متوجہ ہوں (وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ)۔ درحقیقت، تیری دعوت اور رسالت کا پروگرام اصولی طور پر کوئی نئی چیز نہیں۔ گزشتہ رسولوں پر بھی ہم نے آسمانی کتابیں نازل کی ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ان ذمہ داریوں سے آگاہ کریں کہ جو خدا، مخلوق اور خود اپنی ذات کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اس کے مفاہیم اور تعلیمات کو بیان کرے اور انسانون کی فکر کو بیدار کرے تاکہ وہ مسئولیت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ قدم اٹھائیں اور رشد و کمال کی طرف آگے بڑھیں (نہ کہ جبری طریقے سے اور خدا کی خلافِ معمول جبری طاقت سے)۔

ایک اہم نکتہ: اہل ذکر کون ہیں؟

اہلبیت علیہم السلام کے ذرائع سے مروی متعدد روایات میں ہے کہ اہل ذکر آئمہ اہلِ بیت ہیں۔ ان میں سے ایک روایت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے مروی ہے۔ اس آیت کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا: نحن اھل الذکر و نحن المسئولون ہم ہے اہل ذکر اور ہم سے سوال کیا جانا چاہئیے[بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔] ایک اور روایت میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا: الذکر القرآن، و آل الرسول اھل الذکر و ھم المسئولون ذکر قرآن ہے اور آلِ رسول اہلِ ذکر ہیں اور انھیں سے سوال کیا جانا چاہئیے۔[بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔] بعض روایات میں ہے کہ ذکر خود رسول اللہ ہیں اور ان کے اہل بیت اہل الذکر ہیں۔[بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔] اس مضمون کی اور بھی کئی ایک روایات ہیں۔ اہل سنت کی تفاسیر اور کتب میں بھی اسی مضمون کی بہت سی روایات ہیں ان میں سے ایک روایت ابنِ عباس سے مروی ہے جسے اہلِ سنت کی مشہور بارہ تفاسیر میں زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں نقل کیا گیا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں: ھو محمد و علی و فاطمہ و الحسن و الحسین ھم اھل الذکر و العقل و البیان محمد، علی، فاطمہ، حسن، اور حسین ہی اہل ذکر، اہل عقل اور اہل بیان ہیں۔ [بحوالہ:احقاق الحق جلد ۲ ص ۴۸۲۔ بارہ تفاسیر سے مندرجہ ذیل تفاسیر مراد ہیں: ۱۔ تفسیر ابو یوسف ۲۔ تفسیر ابن حجر ۳۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان ۴۔ تفسیر وکیع بن جراح ۵۔ تفسیر یوسف بن موسیٰ ۶۔ تفسیر قتادہ ۷۔ تفسیر حرب الطائی ۸۔ تفسیر سدی ۹۔تفسیر مجاہد ۱۰۔ تفسیر مقاتل بن حیان ۱۱۔ تفسیر ابو صالح ۱۲۔تفسیر محمد بن موسیٰ الشیرازی اسی آیت کی تفسیر میں جابر جعفی کی ایک حدیث ثعلبی کی کتاب میں مرقوم ہے۔ وہ کہتا ہے: لما نزلت ھٰذہ الاٰیة قال علی (علیه السلام) نحن اھل الذکر جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، حضرت علی (علیه السلام) نے فرمایا: ”ہم اہلِ ذکر ہیں۔“ (مذکورہ بالا مدر ک کی طرف رجوع کریں)] آیات قرآن کی تفسیر میں معین مصادیق پر مبنی روایات سے یہ ہمارا پہلا سابقہ نہیں ہے ایسا مصداق آیت کے وسیع مفہوم کو کبھی محدود نہیں کرتا۔ اسی طرح یہاں بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ذکر ہر قسم کی آگاہی، یادآوری اور اطلاع کے معنی میں ہے اور اہلِ ذکر کے مفہوم میں ہر سطح کے آگاہ اور باخبر افراد شامل ہیں لیکن قرآن مجید چونکہ یادآوری، علم اور آگہی کا زیادہ واضح نمونہ ہے لہٰذا اس پر ”ذکر“ کا اطلاق ہوا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ کی ذات بھی اس کا واضح مصداق ہے اسی طرح آئمہ معصومین کہ جو آنحضرت کے اہلِ بیت اور آپ کے علم کے وارث ہیں وہ ”اہل الذکر“ کا واضح ترین مصداق ہیں۔ اس سارے مسئلے کو قبول کر لیا جائے تو یہ آیت کے عمومی مفہوم کے منافی نہیں اور نہ ہی اس بات کے منافی ہے کہ اہل کتاب کے علماء کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماءِ اصول اور فقہاء نے اس سے اجتہاد اور تقلید کی بحث میں استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ دینی مسائل میں ناآگاہ افراد اور مجتہدین کی پیروی اور تقلید کرنا چاہئیے۔ اس موقع پر ایک روایت کے حوالے سے ایک سوال ابھرتا ہے۔ روایت عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے مروی ہے روایت کے مطابق جو لوگ اس آیت کی تفسیر میں کہتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرو اور ان پر آپ نے اعتراض کیا اور فرمایا: سبحان اللہ! کیسے ممکن ہے کہ ہم علماء یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس طرح تو یقیناً وہ ہمیں اپنے مذہب کی طرف دعوت دیں گے۔ پھر فرمایا: اہل ذکر ہم ہیں۔[بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۵۷۔] اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ امام نے یہ بات ان لوگوں سے کہی ہے جو آیت سے یہ مراد سمجھتے ہیں کہ ہر دور میں صرف علماءِ اہل کتاب کی طرف رجوع کیا جائے حالانکہ یہ بات ہر زمانے کے لئے نہیں ہے۔ مثلاً امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کی ہرگز یہ ذمہ داری نہ تھی کہ وہ حقائق جاننے کے لئے یہودی اور عیسائی علماء کے پاس جائیں ایسے زمانے میں علماءِ اسلام مرجع ہیں اور علماء اسلام کے سید و سردار آئمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرم کے زمانے کے مشرکین کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس مسئلے سے آگاہی کے لئے کہ اللہ کے نبی نوعِ بشر میں سے تھے، علماء اہل کتاب کی طرف رجوع کریں بلکہ چاہئیے کہ ہر مسئلہ اس مسئلے سے آگاہ افراد سے پوچھا جائے اور یہ ایک بدیہی بات ہے۔ بہرحال، زیر بحث آیت میں ایک بنیادی اسلامی اصول بیان کیا گیا ہے یہ آیت مادی و روحانی تمام پہلوؤں پر محیط ہے اور تمام مسلمانوں کو تاکید کرتی ہے کہ جو چیز وہ نہیں جانتے اس کے بارے میں آگاہ افراد سے پوچھیں اور جن مسائل سے جو لوگ آگاہ نہیں ہیں وہ ان میں دخل اندازی نہ کریں۔ اس طرح سے قرآن نے نہ صرف اسلامی دینی مسائل میں ”تخصص“ (Specialization)کی ضرورت کو باقاعدہ قانونی طور پر تسلیم کیا ہے بلکہ تمام شعبوں، تمام مواقع اور تمام علاقوں میں اس کے لئے تاکید کی ہے اس بناء پر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہر زمانے میں ہر شعبے اور ہر موضوع پر ان کے پاس آگاہ اور ماہر افراد موجود ہوں۔ تاکہ نہ جاننے والے ان کی طرف رجوع کریں۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمیں ایسے متخصصین اور ماہرین کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جن کی صداقت، بے غرضی اور دوستی ثابت ہو۔ کیا ہم کبھی کسی ایسے ماہر ڈاکٹر کی طرف رجوع کریں گے خود جس کے کام سے ہم مطمئن نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ تقلید اور مرجعیت کی بحث میں اجتہاد یا اعلمیّت کے ساتھ عدالت کو بھی قرار دیا جاتا ہے یعنی مرجع تقلید اسلامی مسائل کا عالم و آگاہ ہو، صاحبِ تقویٰ بھی ہو۔

45
16:45
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
کیا سازش کرنے والے اللہ کے اس دردناک عذاب سے مامون (و محفوظ)ہو گئے ہیں کہ جو ممکن ہے خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا اس کی سزا ایسی جگہ سے ان کے پاس آ پہنچے کہ جہاں سے انہیں توقع نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
16:46
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ فِي تَقَلُّبِهِمۡ فَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ
یا جس وقت (زیادہ مال و دولت سمیٹنے کیلئے )وہ دوڑ دھوپ کر رہے ہوں ان کا دامن آ پکڑے جبکہ وہ کہیں فرار بھی نہ کر سکیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
16:47
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ
یا انہیں تدریجی طور پر خوف انگیز تنبیہات کے ساتھ اپنی گرفت میں لے کیونکہ تمہارا پروردگار رؤف اور رحیم ہے۔

مختلف گناہوں کی مختلف سزائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

بہت سی مباحث میں قرآن استدلالی مطالب، جذباتی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ وہ سامعین کے دلوں کے لئے بہت زیادہ اثر انگیز ہو جاتے ہیں۔ زیر بحث آیات کی اسی روش کا ایک نمونہ ہیں۔ گزشتہ آیات میں معاد و نبوت کے مسئلے پر مشرکین سے ایک بحث تھی لیکن زیر بحث آیات میں جابر، مستکبر اور ہٹ دھرم گنہگاروں کو تہدید کی گئی ہے اور انھیں مختلف طرح کے عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: نور حق کو بجھا دینے کے لئے طرح طرح کی منحوس سازشین کرنے والے یہ لوگ کیا عذابِ الہٰی سے مامون ہوں گئے ہیں حالانکہ ہر آن ممکن ہے خد انھیں مختلف طرح کے عذاب میں دھنسا دے (أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ)۔ کیا یہ بعید ہے کہ زمین پر ایک وحشت ناک زلزلہ آ جائے، سطح زمین پھٹ جائے اور اس میں وہ تمام تر سازو سامانِ حیات کے ساتھ دھنس جائیں اور اقوامِ عالم کی تاریخ میں ایسا بارہا ہوا ہے۔ ”مکروا السیئات“ گھٹیا مقاصد اور غلط اہداف تک پہنچنے کے لئے سازشیں کرنے اور منصوبے بنانے کے معنی میں جیسا کہ مشرکین نور قرآن کو خاموش کرنے، پیغمبر اسلام کو ختم کرنے اور مومنین کو اذیت دینے کے لئے سازشیں کرتے تھے۔ ”یخسف“، خسف (بر وزن ”وصف“) کے مادہ سے پنہاں ہونے اور مخفی ہونے کے معنی میں ہے اسی لئے چاند کی روشنی جب زمین کے سائے میں چھپ جائے تو اسے ”خسوف“ کہتے ہیں۔ نیز مخسوف اس کنویں کو کہتے ہیں جس میں پانی چھپ جائے اسی طرح انسان اور مکان زلزلے وغیرہ سے پیدا ہونے والے زمین کے شگاف میں چھپ جائیں تو اسے ”خسف“ کہتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: یا جب وہ غفلت میں ہوں اور عذاب الہٰی ایسی جگہ سے آپہنچے جہاں سے انھیں توقع ہی نہ ہو۔ (أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ)۔ یا جس وقت وہ زیادہ مال جمع کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہے ہوں انھیں عذاب دامنگیر ہو جائے (أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ)۔ جبکہ وہ کہیں بھاگ بھی نہ سکیں (فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ”معجزین“، ”اعجاز“کے مادہ سے ناتواں اور عاجز کرنے کے معنی میں ہے۔ ایسے مواقع پر یہ عذاب کے چنگل سے فرار کرنے کے معنی میں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ کہ عذاب الہٰی اچانک ان تک نہ پہنچے بلکہ تدریجی طور پر پے در پے تنبیہوں کے بعد انھیں اپنی گرفت میں لے (أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ)۔ آج ان کا ہمسایہ کسی سانحے کا شکار ہوا، کل ان کے کسی باغ کو نقصان پہنچا اگلے روز ان کے کچھ اموال ضائع ہو گئے خلاصہ یہ کہ یکے بعد دیگرے انھیں تنبیہیں کی گئیں وہ بیدار ہو گئے تو کیا خوب ورنہ آخری اور اصلی عذاب انھیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔ کسی گروہ کے لئے ایسے مواقع پر عذاب اور سزا تدریجی اس لئے ہے کہ ابھی اس میں احتمالِ ہدایت موجود ہے اور خدا کی رحمت اجازت نہیں دیتی کہ اس کے ساتھ دوسروں کا سا سلوک کیا جائے کیونکہ تمہارا پروردگار رؤف اور رحیم ہے (فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرؤُوفٌ رَّحِيمٌ)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں چار قسم کی سزاؤں کا تذکرہ ہے: پہلی ”خسف“ اور زمین میں دھنس جانا۔ دوسری بے خبری میں ایسی جگہ سے عذاب آنا کہ جہاں سے توقع نہ ہو۔ تیسری اس وقت عذاب آپہنچا جب انسان مال و دولت جمع کرنے کی دھن میں مگن تھا۔ چوتھی تدریجی سزا اور تدریجی عذاب۔ مسلّم ہے کہ چار قسم کی ان سزاؤں میں سے ہر ایک کسی خاص قسم کے گناہ سے مناسبت رکھتی ہے اگر چہ یہ سب گناہ گار ”الذین مکروا السیئات“ (ایسے لوگ جو گھٹیا سازشیں کرتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں) کا مصداق ہیں۔ مختلف گناہوں پر یہ مختلف سزائیں اس لئے ہیں کہ خدا کے تمام کام حکمت کے مطابق اور استحقاق کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ جہاں تک ہماری نظر ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے کوئی بات نہیں کہی لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ: پہلا عذاب سازشیوں کے اس گروہ کے لئے مخصوص ہے جو خطرناک، جابر اور مستکبر ہیں جیسے قارون۔ خدا ان لوگوں کو اقتدار اور طاقت کی ایسی بلندی سے نیچے کھینچتا ہے اور انھیں زمین کی گہرائیوں میں سے اس طرح سے دھنسا دیتا ہے کہ وہ سب کے لئے باعثِ عبرت بن جاتے ہیں۔ دوسرا عذاب ایسے سازشیوں کے لئے مخصوص ہے کہ جو عیش و نوش میں سرمست ہوں اور جو سرکش ہوا و ہوس میں غرق ہوں عذابِ الہٰی اچانک ایسی جگہ سے انھیں آپکڑتا ہے کہ جہاں سے انھیں توقع تک نہیں ہوتی۔ تیسرا عذاب دنیا پرست زراندوز لوگوں کے لئے مخصوص ہے ایسے لوگ کہ جو شب و روز اس کو شش میں ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو اور جس جرم اور ظلم سے ہو سکے اپنی دولت میں اضافہ کریں یہ لوگ مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ عذابِ الہٰی انھیں آجکڑتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: لغت عرب میں ”تقلب“ اگر چہ ہر قسم کی آمد و رفت کے معنی میں ہے لیکن جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے اور بعض اسلامی روایات میں بھی تاکید کی گئی ہے ایسے مواقع پر نجات اور کسبِ مال کے لئے آمد و رفت کے معنی میں ہے (غور کیجئے گا)۔] چوتھا عذاب ایسے لوگوں کے لئے جو طغیان و سرکشی اور سازش و گناہ میں اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ اب ان کے لوٹ آنے کی اور کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس مقام پر ” تخوف“ تنبیہ و تہدید کے ذریعے اللہ تعالیٰ انھیں بیدار کرتا ہے۔ وہ بیدار ہو جائیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو بہتر ورنہ انھیں دہن عذاب میں ڈال دیتا ہے۔ خدا کی رأفت و رحمت کا ذکر ایک علّت کے طور پر چوتھے گروہ سے مر بوط ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابھی خدا سے اپنے تمام رشتے منقطع نہیں کئے اور اپنی واپسی کے تمام راستے ابھی تباہ نہیں کئے۔

48
16:48
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ يَتَفَيَّؤُاْ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدٗا لِّلَّهِ وَهُمۡ دَٰخِرُونَ
کیا وہ(مشرک) مخلوق خدا کو نہیں دیکھتے کہ ان کے سائے کس طرح سے دائیں بائیں حرکت کرتے ہیں اور وہ خضوع و خشوع سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
16:49
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن دَآبَّةٖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ
(نہ صرف ان مخلوقات کے سائے بلکہ) آسمانوں اور زمین میں چلنے والے تمام انسان اور ملائکہ خدا کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا تکبر نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
16:50
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ۩
وہ اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرتے ہیں کہ جو ان کا حاکم ہے اور جس چیز پر وہ مامور ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔

سائے تک اللہ کے حضور سجدہ زیر ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں دوبارہ بحث توحید کی طرف لوٹ آئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: کیا وہ (سازشی مشرک) مخلوق خدا کو نہیں دیکھتے کہ جس طرح ان کے سائے ان کے دائیں بائیں حرکت کرتے ہیں اور بڑے خشوع و خضوع سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (أَوَ لَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلاَلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ)۔ [تشریحی نوٹ: ”داخر“ اصل میں ”دخور“ کے مادے سے انکساری اور اپنے آپ کو چھوٹا ظاہر کرنے کے معنی میں ہے۔] ”یتفئوا“، ”فیئی“ کے مادہ سے لوٹ آنے اور رجوع کے معنی میں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب چیزوں کے صبح کے سائے کو ”ظل“ کہتے ہیں اور عصر کے سائے کو ”فیئی“ کہتے ہیں اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ غنائم و اموال کے ایک حصے کو ”فیئی“ کہا گیا ہے تو یہ اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ مالِ دنیا کا بہترین حصہ بھی وقتِ عصر کے سائے کی طرح ہے کہ جو جلدی سے زائل اور ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس طرح توجہ کی جائے کہ زیر بحث آیت میں دائیں اور بائیں طرف کے سایوں کا ذکر ہے اور لفظ ”فیئی“ ان سب کے لئے استعمال ہوا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں لفظ ”فیئی“ وسیع معنی رکھتا ہے اور اس کے مفہوم میں ہر طرح کا سایہ شامل ہے۔ جس وقت آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ انسان جنوب کی طرف منھ کر کے کھڑا ہوا تو وہ دیکھے گا کہ سورج اس کی بائیں طرف افقِ مشرق سے بلند ہو رہا ہے اور تمام چیزوں کا سایہ اس کی دائیں طرف پڑرہا ہے۔ اسی دائیں طرف مغرب ہے یہ صورت اسی طرح سے رہتی ہے اور دائیں طرف کا سایہ رفتہ رفتہ کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وقت زوال آپہنچتا ہے اس وقت سائے بائیں جانب کو ڈھلنے لگتے ہیں اور غروب آفتاب تک مشرق کی طرف سائے بڑھتے پھیلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ چھپ جاتا ہے۔ اس مقام پر خداوند تعالیٰ چیزوں کے سایوں کی دائیں اور بائیں طرف حرکت کا ذکر اپنی عظمت کی نشانی کے طور پر کرتا ہے اور ان کے اس ڈھلنے کو پروردگار کے حضور عالمِ خضوع و خشوع میں سجدہ ریز ہونا قرار دیتا ہے۔

ہمارے سایوں کا ہماری زندگی پر اثر

اس میں شک نہیں کہ ہمارے سائے ہماری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں شاید بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں قرآن نے سایوں کا ذکر اس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے کیا ہے۔ سائے اگرچہ عدم نور کے علاوہ کچھ نہیں ہیں لیکن اس کے با وجود بہت سے فوائد کے حامل ہیں۔ مثلاً: ۱۔ سورج کی روشنی اور اس کی حیات بخش شعائیں موجودات کی زندگی اور نشو و نما کا باعث ہیں جبکہ سائے روشنی کی شعاعوں کی تابش کو اعتدال میں رکھنے کے لئے ایک حیات آفرین کردار ادا کرتے ہیں سورج کی روشنی اگر ایک ہی طویل عرصے کے لئے چمکتی رہے تو ہر چیز پژمردہ ہو جائے اور جل جائے ایسے میں سایے شدت و حدت کو اعتدال عطا کرتے ہیں وہ کم و بیش ہوتے رہتے ہیں کبھی اس جانب کو جھکتے ہیں اور کبھی اس جانب کو ۔ گویا کبھی ادھر نوازش کرتے ہیں اور کبھی اُدھر عنایت کرتے ہیں سایوں کا یہ طرز عمل چیزوں کی حفاظت اور بچاؤ میں نہایت تاثیر بخش ہے۔ ۲۔ جو لوگ بیابانوں میں پھرتے رہتے ہیں یا جنہیں بیابانوں میں رہنا اور گزرنا پڑجائے ان کے لئے انسانی نجات کے لئے سایوں کی غیر معمولی اثر انگیزی بالکل واضح ہے ایسے میں سایہ بھی وہ جو متحرک ہو اور ایک ہی جگہ ٹھہرنہ جاتا ہو اور ہر طرف حرکت کرتا ہو انسانی خواہش اور ضرورت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ ۳۔ سائے کا ایک مفید پہلو یہ بھی ہے جوعام لوگوں کے خیال کے بر خلاف ہے۔ عام لوگ سمجھتے ہیں چیزوں کو دیکھنے کا ذریعہ صرف روشنی ہی ہے حالانکہ نور ہمیشہ سایے یا نیم سایے کے ساتھ ہو تو چیزیں دکھائی دیتی ہیں دوسرے لفظوں میں اگر کسی موجود کے ہر طرف ایک جیسی روشنی چمکے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سایہ یا نیم سایہ نہ ہو تو روشنی میں مستغرق یہ چیز ہرگز نہیں دیکھی جا سکے گی۔ یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح مطلق تاریکی میں کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی اسی طرح مطلق نور میں بھی کوئی چیز نہیں دیکھی جا سکتی بلکہ نور و ظلمت باہم ہوں تو چیزوں کا دیکھا جانا ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا سایے بھی چیزیں نظر آنے اور ان کی شناخت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ (غور کیجئے گا) ۔ زیر نظر آیت میں ایک نکتہ اور قابل توجہ ہے آیت میں لفظ ”یمین“ (دائیں طرف) مفرد صورت میں آیا ہے جبکہ ”شمائل“ جمع کی صورت میں ہے ”شائل“ شمأل (بروزن ”مشعل“)کی جمع ہے اور شمال کا معنی ہے بائیں طرف تعبیر کا فرق ہو سکتا ہے اس بناء پر ہو کہ جو لوگ جنوب کی طرف رخ کئے ہوں دم صبح سایہ ان کے دائیں طرف پڑتا ہے اور پھر وہ مسلسل بائیں طرف حرکت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وقتِ مغرب افق مشرق میں محو ہو جاتا ہے۔[ تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔] بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”یمین“ اگرچہ مفرد ہے لیکن بعض اوقات اس سے جمع مراد ہوتی ہے اور یہاں جمع مراد ہے[تفسیر ابو الفتوح رازی جلد ۷ ص ۱۱۰]۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ آیت میں صرف سایوں کے سجدہ کرنے کی بات ایک وسیع مفہوم کے طور پر آئی تھی لیکن اگلی آیت میں تمام مادی و غیر مادی آسمانی و زمینی موجودات کے بارے میں فرمایا گیا ہے: آسمانوں اور زمین میں حرکت کرنے والی تمام موجودات اور اسی طرح فرشتے خدا کے حضور سجدہ کرتے ہیں (وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلَآئِكَةُ)۔ اور وہ اس میں کسی قسم کا کوئی تکبر نہیں کرتے (وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ)۔ اور وہ خدا اور اس کے فرمان کے سامنے تسلیمِ محض ہیں۔ سجدہ درحقیقت، انتہائی خشوع و خضوع اور پرستش کا نام وہ سجدہ جو سات اعضاء کے ساتھ ہم انجام دیتے ہیں سجدہ کے عمومی مفہوم کا ایک مصداق ہے ورنہ سجدہ کا مفہوم بس اسی میں منحصر نہیں ہے۔ عالم تکوین اور جہان آفرینش میں خدا کی تمام مخلوقات اور موجودات عام قوانین کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ اور ان قوانین سے انحراف نہیں کرتیں اور تمام قوانین خدا کی طرف سے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس درحقیقت، تمام چیزیں بارگاہ الہٰی میں سجدہ ریز ہیں۔ سب اس کی عظمت کی ترجمان ہیں سب اس کی بزرگی و بے نیازی کا مظہر ہیں مختصر یہ کہ سب اس کی مقدس ذات کی دلیل ہیں۔ ”دابة“ حرکت کرنے والے موجود کے معنی میں ہے نیز اس سے زندگی کا معنی بھی لیا جاتا ہے یہ جو زیرِ نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں چلنے والی سب موجودات خدا کے حضور میں سجدہ ریز ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ موجودات کرّہ ارض ہی سے مخصوص ہیں بلکہ آسمانی کرّات میں بھی زندہ چلنے والے موجودات وجود رکھتے ہیں۔ اگرچہ بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ لفظ ”من دابة“ صرف ”مافی الارض“ کے لئے ہے یعنی یہاں صرف زمین میں حرکت کرنے اور چلنے پھرنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے لیکن یہ اھتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ سورہ شوریٰ کی آیہ ۲۹ میں ہے۔ ومن آياته خلق السماوات والأرض وما بث فيهما من دابة خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین دونوں میں اس کی چلنے پھرنے والی مخلوق موجود ہے۔ یہ بجا ہے کہ تکوینی اعتبار سے سجدہ اور خشوع و خضوع متحرک موجودات میں منحصر نہیں ہے لیکن چونکہ متحرک موجودات خلقت و آفرینش کے بہت سے اسرار و عجائب کا مظہر ہیں لہٰذا یہاں انہی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آیت کے مفہوم میں چونکہ عقل رکھنے والے انسان اور صاحب ایمان فرشتے بھی شامل ہیں نیز حیوانات اور دوسرے جانور بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں لہٰذا سجدہ یہاں عام اختیاری اور تشریعی معنی کا بھی حامل ہے اور تکوینی و اضطراری معنی کا بھی۔ رہا یہ سوال کہ زیرِ بحث آیت میں فرشتوں کا الگ سے ذکر کیوں ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”دابة“ صرف ان چلنے پھرنے والے موجودات کو کہا جاتا ہے کہ جو جسم رکھتی ہیں جبکہ فرشتے چلتے پھرتے تو ہیں لیکن مادی جسم نہیں رکھتے لہٰذا وہ ”دابة“ کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم) فرماتے ہیں: اللہ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو ابتدائے آفرینش سے خدا کے حضور سجدہ میں ہیں اور روز قیامت تک اسی طرح سربسجود رہیں گے اور جب وہ قیامت کے دن سجدے سے سر اٹھائیں گے تو کہیں گے: ما عبدناک حق عبادتک ہم سے حق عبادت ادا نہ ہو سکا۔ ”وھم لا یستکبرون“ فرشتوں کی اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بار گاہ حق میں خضوع اور سجدہ کرتے ہیں اور اس میں ان کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کے بعد فوراً ان کی دو صفات کا تذکرہ ہے اور یہ دونوں ان میں تکبر کے نہ ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وہ اپنے پروردگار کی مخالفت سے ڈرتے ہیں کہ جو ان کا حاکم ہے (يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ)۔ اور جس چیز پر وہ مامور ہیں اسے خوب انجام دیتے ہیں (وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ)۔ جیسا کہ سورہ تحریم کی آیہ ۶ میں فرشتوں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے: لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرون وہ فرمان الہٰی کی مخالفت نہیں کرتے اور انھیں جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ اسی آیہ سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ غرور تکبر کے نہ ہونے کی دو نشانیاں ہیں۔ ذمہ داریوں کا خوف اور احکام الٰہی کو بے چوں و چرا انجام دینا۔ ان میں سے ایک تکبر نہ کرنے کی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری قوانین اور احکام کے بارے میں ان کے طرزِ عمل کی طرف ۔ طرز عمل درحقیقت، نفسیاتی کیفیت کا ردّ عمل ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہے۔ آیت میں ”من فوقھم“ یقینا حسی اور مکانی طور پر ہونے کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ مقام کی برتری کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا سب سے برتر اور بالا تر ہے۔ سورہ انعام کی آیہ ۶۱ میں ہے۔ وهو القاهر فوق عباده وہ اپنے بندوں پر قاھر و غالب ہے۔ قرآن میں ہے کہ فرعون نے قدرت و طاقت کے اظہار کے لئے کہا: وانّا فوقھم قاھرون میں ان پر قاہر و غالب ہوں (اعراف۱۲۷) ان تمام مواقع پر لفظ ”فوق“ مقام کی بر تری کو بیان کرتا ہے۔

51
16:51
۞وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَإِيَّـٰيَ فَٱرۡهَبُونِ
اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ دو خداؤں کا انتخاب نہ کرو (تمہارا) معبود صرف ایک ہے۔ صرف مجھ سے (اور میرے عذاب سے) ڈرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
16:52
وَلَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًاۚ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور دین (اور دینی قانون) ہمیشہ اسی کا ہے تو کیا تم اس کے غیر سے ڈرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
16:53
وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيۡهِ تَجۡـَٔرُونَ
تمہارے پاس جو کچھ بھی نعمتیں ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں پھر جب تمہیں پریشانیاں (اور تکالیف) پہنچتی ہیں تو اسی کو پکارتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
16:54
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنكُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ
اور جب وہ رنج و تکلیف تم سے دور کر دیتاہے تو تم میں سے بعض اپنے پروردگار کیلئے شریک بنانے لگتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
16:55
لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
(چھوڑو انہیں ) ہم نے انہیں جو نعمتیں دی ہیں ان کا کفران کر لیں (دینوی مال ومتاع سے) فائدہ اٹھا لیں، پس عنقریب جان لیں گے( کہ تمہارا انجام کیا ہے)۔

ایک دین اور ایک معبود

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

توحید اور خدا شناسی کی بحث کے بعد زیرِ نظر آیات میں نظامِ خلقت کے حوالے سے نفی شرک پر زور دیا گیا ہے تاکہ ان دونوں سے مجموعی طور پر حقیقت زیادہ آشکار ہو جائے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: خدا نے حکم دیا ہے کہ دو خدا نہ مانو (وَقَالَ اللّهُ لاَ تَتَّخِذُواْ إِلَـهَيْنِ اثْنَيْنِ)۔ معبود ایک ہی ہے (إِنَّمَا هُوَ إِلهٌ وَاحِدٌ)۔ نظام خلقت کی وحدت اور اس پر حاکم قوانین کی وحدت، خود خالق و معبود کی وحدت کی دلیل ہے اب جبکہ ایسا ہی ہے تو ”صرف میرے عذاب سے ڈرو اور میرے فرمان کی مخالفت سے خوف کھاؤ نہ کہ کسی غیر سے ڈرتے رہو (فَإيَّايَ فَارْهَبُونِ)۔ لفظ ”ایّای“ کا مقدم ہونا حصر کی دلیل ہے جیسے ”ایاک نعبد“۔ مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف میری مخالفت اور میرے عذاب سے ڈرتے رہو۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں صرف دو معبودوں کی نفی کی گئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عرب کے مشرکین نے بہت سے بت اور معبود بنا رکھتے تھے اور ان کے بت خانے مختلف قسم کے بتوں سے بھرے ہوئے تھے ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ذیل کے نکات میں سے کسی ایک یا سب کی طرف اشارہ ہو۔ ۱۔ آیت کہتی ہے کہ دو معبودوں کی عبادت بھی غلط ہے چہ جائیکہ زیادہ معبودوں کی۔ دوسرے لفظوں میں کم از کم بات بیان کر دی گئی ہے تاکہ باقی ماندہ کی نفی زیادہ تاکید کے ساتھ ہو کیونکہ ایک سے زیادہ جس عدد کو بھی اختیار کریں دو سے بہرحال، گذرنا پڑے گا۔ ۲۔ یہاں تمام باطل معبود ایک شمار کئے گئے ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ انھیں حق کے مقابلے میں قرار نہ دو اور دو معبود حق و باطل کی پرستش نہ کرو۔ ۳۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں نے درحقیقت، دو معبود اپنا رکھے تھے ایک وہ معبود جو خالق ہے اور جہان کو پیدا کرنے والا ہے یعنی اللہ اور دوسرا وہ معبود جسے وہ اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ سمجھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بت خیر، برکت اور نعمت کا وسیلہ ہیں۔ ۴۔ ہو سکتا ہے مندرجہ بالا آیت ”ثنویین“ (دو خداؤں کی پو جا کرنے والوں) کے عقیدے کے لئے نفی ہو۔ ثنویین دو ؤں یعنی نیکی کا خدا اور بدی کا خدا کے قائل تھے۔ دو خداؤں کی پوجا کرنے والوں کی منطق اگرچہ ضعیف اور غلط تھی، لیکن عرب بت پرستوں کے پاس تو ایسی کمزور منطق بھی نہ تھی۔ عظیم مفسّر مرحوم طبرسی نے اس آیت کے ذیل میں بعض حکماء سے یہ لطیف جملہ نقل کیا ہے: خدا نے تجھے حکم دیا ہے کہ دو خداؤں کی عبادت نہ کر لیکن تو نے تو اپنے اتنے سارے معبود بنا رکھے ہیں۔ ایک بت تیرا سرکش نفس ہے، دوسرا بت تیری ہوا و ہوس ہے۔ تیرے مادی مقاصد اس پر مستزاد ہیں یہاں تک کہ تو انسانوں کو سجدہ کرتا ہے تو کس قسم کا توحید پرستار ہے۔ اس کے بعد تین آیات میں توحید عبادت کی دلیل چار حوالوں سے پیش کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے (وَلَهُ مَا فِي الْسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)۔ تو کیا عالمِ ہستی کے مالک کو سجدہ کرنا چاہیئے، یا بتّوں کو کہ جو کسی بھی قابلیت سے محروم ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین اس کی ملکیت ہیں بلکہ ہمیشہ سے دین اور تمام قوانین بھی اسی کی طرف سے ہیں (وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا)۔ جب یہ ثابت ہے کہ عالم ہستی اسی کی طرف سے ہے اور وہی تکوینی قوانین ایجاد کرتا ہے تو مسلّم ہے کہ تشریعی قوانین بھی اسی کے ذریعے معیّن ہونا چاہئیں لہٰذا طبعاً و فطرتاً اطاعت بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ ”واصب“، دراصل، ”وصوب“ کے مادہ سے ” دوام“ کے معنی میں لیا گیا ہے بعض نے اس کا معنی ”خالص“ کیا ہے (فطری بات ہے کہ جب تک کوئی چیز خالص نہ ہو دوام حاصل نہیں کر سکتی) ہو سکتا ہے آیت میں یہ لفظ دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ کر رہا ہو یعنی ہمیشہ اور ہر زمانے میں دین خالص خدا کی طرف سے ہے جنھوں نے دین کو اطاعت کے مفہوم میں لیا ہے، انھوں نے ”واصب“ کا معنی ”واجب “ لیا ہے یعنی صرف خدا کے حکم کی اطاعت ہونی چاہئیے۔ ایک روایت میں بھی ہے کہ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے اس جملے کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا واصب یعنی واجب[تفسیر برہان جلد ۲ ص۳۷۳]۔ لیکن واضح ہے کہ یہ معانی ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کیا اس کے با وجود کے تمام قوانین دین اور طاعتِ خدا سے مخصوص ہیں اسکے غیر سے ڈرتے ہو (أَفَغَيْرَ اللّهِ تَتَّقُونَ)۔ کیا بت تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ کیا بت تمہیں کوئی نعمت بخش سکتے ہیں؟ نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ان کی مخالفت کا تمہیں خوف کیوں ہے اور ان کی عبادت کو تم کیوں ضروری سمجھتے ہو حالانکہ جتنی نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ (وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ)۔ یہ درحقیقت، معبود یگانہ یعنی اللہ کی عبادت ضروری ہونے کے بارے میں یہاں تیسری بات کی گئی ہے مراد یہ ہے کہ بتوں کی عبادت اگر شکرِ نعمت کی وجہ سے ہے تو انھوں نے تمہیں کوئی نعمت نہیں دی کہ جس کا شکر ضروری ہو بلکہ تمہارے وجود پر سر تا پا نعمتِ الہٰی محیط ہے اس کے با وجود تم نے اس کی بندگی کو چھوڑ رکھا ہے اور بتوں کے پیچھے لگے پھرتے ہو۔ علاوہ ازیں، جب تمہیں پریشانیوں، مصیبتوں اور رنج و بلا کا سامنا ہوتا ہے تو انھیں دور کرنے کے لئے بارگاہ الہٰی میں آہ و زاری کرتے ہو اور اسے پکارتے ہو (ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ)۔ لہٰذا بتوں کی پرستش اگر دفع ضرر اور حل مشکلات کے لئے کرتے ہو تو غلط ہے کیونکہ خود تم نے بھی عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ زندگی کے سنگین لمحات میں سب چیزوں کو چھوڑ کر خدا کی بارگاہ کی طرف جاتے ہو یہ دراصل مسئلہ توحید عبادت کے بارے میں چوتھی بات ہے۔ ”تجرٔون“ دراصل”جؤر“ (بر وزن ”غبار“) کے مادہ سے ہے یہ چوپایوں اور وحشی جانوروں کی اس آواز کو کہتے ہیں جو تکلیف کے عالم میں ان سے بے اختیار نکلتی ہے بعد از آن یہ لفظ کنایے کے طور پر ہر اس آہ و زاری کے لئے استعمال ہونے لگا جو درد و غم کے موقع پر بے اختیار بلند ہو۔ اس لفظ کا یہاں پر خصوصیت سے انتخاب اس بات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ جب مشکلات بہت زیادہ ہو جائیں جان عذاب میں اور درد و غم کے مارے بے اختیار فریاد بلند کرو تو کیا اس وقت اللہ کے علاوہ کسی کو پکارتے ہو؟ نہیں تو پھر آرام و سکون کے وقت چھوٹی چھوٹی مشکلات کے موقع پر بتوں کے دامن سے کیوں جا لگتے ہو۔ جی ہاں! ان مواقع پر خدا تمہاری فریاد سنتا ہے اس کا جواب دیتا ہے اور تمہاری مشکلات کو بر طرف کرتا ہے ”پھر جب اللہ تمہارے ضرر اور رنج و غم کو بر طرف کر دیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ اپنے پروردگار کے لئے شریک ماننے لگتے ہیں اور بتوں کی راہ لیتے ہیں (ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ)۔ قرآن درحقیقت، اس باریک نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ فطرت توحید تم سب میں موجود ہے عام حالات میں غفلت غرور، جہالت، تعصب اور خرافات کے پردے اسے ڈھانپ دیتے ہیں لیکن جب طوفانِ حوادث آجائیں اور مصائب کی تند و تیز آندھیاں چل پڑیں تو یہ پردے ہٹ جاتے ہیں اور نورِ فطرت آشکار ہو جاتا ہے اور چہرہ فطرت چمکنے لگتا ہے ایسی حالت میں تم خدا کو اپنے پورے وجود اور اخلاص کے ساتھ پکارتے ہو۔ اور خدا بھی رنج و بلا تم سے دور کر دیتا ہے، رنج و بلا کے پر دے اس لئے ہٹ جاتے ہیں کہ غفلت کے پردے اٹھ چکے ہوتے ہیں (توجہ رہے کہ آیت میں لفظ ”کشف الضر“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے مشکلات کے پر دے ہٹ جانا)۔ ادھر طوفانِ مصائب تھمتا ہے زندگی ساحلِ سکون سے ہم کنار ہوتی ہے اور ادھر وہی غفلت، غرور اور شرک و بت پرستی ظاہر ہونے لگتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منطقی دلائل اور توضیح حقیقت کے بعد، زیر بحث آخری آیت میں تہدید آمیز لہجے میں کہا گیا ہے: تمہیں جو نعمتیں دی گئی ہیں ان کا کفران کرلو اور چند روز اس دنیاوی مال و متاع سے بہرہ مند ہولو لیکن عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے کام کا انجام کیا ہے (لِيَكْفُرُواْ بِمَا آتَيْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ)۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی انسان کسی منحرف شخص کو مختلف دلائل و براہین کے ساتھ وعظ و نصیحت کرے تو ممکن ہے اس پر کوئی اثر نہ ہو تو آخر میں ایسے تہدید آمیز جملے پر اپنی گفتگو تمام کر دے کہ: جو باتیں میں تم سے کہہ چکا ہوں یہ سننے کے با وجود اگر تم اپنی اصلاح نہ کرو تو پھر جو کچھ کر سکو کرتے رہو لیکن یاد رکھو تم جلد اس کے انجام سے دوچار ہوگے۔ اس بناء پر ”لیکفروا“ میں لام ”لامِ امر“ ہے وہ امر جو تہدید کے لئے آیا ہے جیسے ”تمتعوا“ بھی امر ہے تہیدید کے لئے۔ فرق یہ ہے کہ ”لیکفروا“ غائب کا صیغہ ہے اور ”تمتعوا“ مخاطب کا۔ گویا پہلے انھیں غائب فرض کر کے قرآن کہتا ہے: یہ جائیں اور تمام نعمتوں کا کفران کریں۔ اس تہدید سے وہ کچھ متوجہ ہوئے ہیں گویا وہ مخاطب کے طور پر سامنے آگئے ہیں۔ اب قرآن ان سے کہتا ہے۔ ان دنیاوی نعمتوں سے چند دن فائدہ اٹھا لو لیکن ایک روز دیکھو گے کہ تم کس عظیم اشتباہ اور کتنی بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہو اور آخرکار تم کس انجام تک آپہنچے ہو۔ درحقیقت یہ آیت سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۰ کے مشابہ ہے: قل تمتعوا فإن مصيركم إلى النار کہہ دو چند روز اس دنیا کی لذتیں اٹھا لو آخرکار تمہارا انجامِ کار آتشِ جہنم ہے۔[تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے ”لیکفروا“ اس شرک و کفران کی غایت و نتیجہ ہے جو پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے اس بناء پر مبنی ہو گا: حوادث کے چنگل سے نجات مل گئی تو بعد ازاں انھوں نے راہ ِ توحید کو چھوردیا اور شرک کی راہ اپنالی تاکہ نعمتوں کا کفران و انکار کریں]

56
16:56
وَيَجۡعَلُونَ لِمَا لَا يَعۡلَمُونَ نَصِيبٗا مِّمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡۗ تَٱللَّهِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَفۡتَرُونَ
اورجو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس کا ایک حصہ بتوں کے نام کر دیتے ہیں جبکہ ان سے وہ کسی قسم کے نفع و نقصان کی خبر نہیں رکھتے۔ خدا کی قسم ان جھوٹی تہمتوں پر ان سے باز پرس ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
16:57
وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ ٱلۡبَنَٰتِ سُبۡحَٰنَهُۥ وَلَهُم مَّا يَشۡتَهُونَ
وہ اللہ کیلئے بیٹیوں کے قائل تھے۔اللہ( اس سے) منزہ ہے، لیکن اپنے لئے وہ (لوگ) وہ کچھ چاہتے جو انہیں پسند ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
16:58
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٞ
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو خبر دی جائے کہ تمہارے یہاں بیٹی ہوئی ہے تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
16:59
يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓۚ أَيُمۡسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ يَدُسُّهُۥ فِي ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
اس بری خبر پر اپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے(بیٹی کو ) زندہ رہنے دے یا اسے زندہ درگور کر دے۔ یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
16:60
لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوۡءِۖ وَلِلَّهِ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
بری صفتیں انہیں ہی جچتی ہیں جو دارآخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔خدا کیلئے تو اعلیٰ صفات ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے۔

جہاں بیٹی کو باعثِ رسوائی سمجھاجاتا تھا

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں شرک و بت پرستی کے خلاف مدلّل بحث تھی۔ اب زیرِ نظر آیات میں مشرکین کی بعض بری بدعتوں اور گھٹیا عادتوں کو بیان کیا گیا ہے تاکہ شرک پرستی کے خلاف ایک اور دلیل قائم ہو جائے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ان مشرکوں کو ہم نے جو روزی دی ہے اس کا ایک حصہ بتوں کی نذر کر دیتے ہیں جبکہ انھیں ان سے کسی نفع و نقصان کی خبر تک نہیں (وَيَجْعَلُونَ لِمَا لاَ يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْنَاهُمْ) [تشریحی نوٹ: ”لا یعلمون“ کے معنی اور اس کی ضمیر کے بارے میں مفسرین نے دو تفسیریں بیان کی ہیں: پہلی یہ کہ ”لا یعلمون “کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے یعنی مشرکین اپنے بتوں کے لیے ایک حصہ وقف کر دیتے ہیں جبکہ ان سے کسی خیر و شر کی انہیں خبر نہیں۔ ہم نے یہی تفسیر انتخاب کی ہے۔ دوسری یہ کہ ”لا یعلمون“ کی ضمیر خود بتوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی وہ بت کہ جو علم، شعور اور عقل نہیں رکھتے، ان کے لیے ایک حصہ نذر کرتے تھے۔ لیکن یس دوسری صورت میں آیت کی تعبیرات میں ایک تضاد محسوس ہوتا ہے کیونکہ ”ما“ عام طور پر غیر ذوی العقول موجودات کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ”یعلمون“ عموما ذوی العقول کے لیے آتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جبکہ پہلی تفسیر کی بناء پر ”ما“ بتوں کی طرف اشارہ ہے اور ”لا یعلمون“ عبادت کرنے والوں کی طرف]۔ جس حصے کا یہاں ذکر ہے اس میں کچھ اونٹ اور دیگر چوپائے شامل ہوتے ہیں اور کچھ حصہ وہ زرعی پیداوار کا وقف کرتے ہیں اس کی طرف سورہ انعام کی آیہ ۱۳۶ میں اشارہ ہوا ہے کہ مشرکین زمانہ جاہلیت میں اسے بتوں کے لئے مخصوس سمجھتے تھے اور ان کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ حالانکہ بتوں سے انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تھا نہ ضرر کا خوف ہوتا تھا یہ نہایت احمقانہ کام تھا جو وہ انجام دیتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا: قسم بخدا! قیامت کی عدالت میں ان تہمتوں اور جھوٹوں کے بارے میں باز پرس ہوگی(تَاللّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ)۔ اس بازپرس پر ان کے لئے اعراف کے سوال کوئی چارہ کار نہ ہو گا۔ اس اعتراف کے بعد انھیں سزا ملے گی لہٰذا تمہارے اس برے منحوس عمل کا دنیاوی نقصان بھی ہے اور اخروی بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی دوسری منحوس بدعت یہ تھی کہ وہ اس خدا کے لئے بیٹیوں کے قائل تھے کہ جو ہر قسم کی آلائشِ جسمانی سے پا ک ہے وہ معتقد تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں (وَيَجْعَلُونَ لِلّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ)۔ لیکن اپنی نوبت پر اپنے لئے وہ کچھ چاہتے جو انھیں پسند تھا (وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ)۔ یعنی وہ کسی صورت تیار نہ تھی کہ انہی بیٹیوں کو اپنے لئے پسند کریں کہ جنہیں خدا کے لئے قرار دیتے تھے۔ بیٹی تو ان کی نظر میں سخت ننگ و عار، رسوائی اور بدبختی کی علامت تھی۔ اگلی آیت میں بات جاری رکھتے ہوئے ان کی تیسری بری عادت کی نشاندہی کی گئی ہے فرمایا گیا ہے: جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جاتی ہے کہ خدا نے تجھے بیٹی دی ہے تو غم اور غصہ کے مارے ان کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے (وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا) اور زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا (وَھُوَ کَظِیمٌ)۔[”کظیم“ اس شخص کو کہتے ہیں جوغم و اندوہ کے عالم میں اپنے تئیں سنبھالا دے رہا ہو یعنی زہر کے گھونٹ پی رہا ہو] معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اپنے خیالِ باطل کے باعث وہ جس ننگ و عار میں مبتلا ہے اس میں اس کی حالت یہ ہے کہ ”یہ بری خبر سن کر وہ اپنی قوم قبیلے سے چھپتا چھپاتا ہے“(يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ) بات اس پر بھی بس نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ اس فکر میں غوطہ زن رہتا ہے کہ کیا وہ اس ننگ و عار کو قبول کرلے اور اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھے یا اسے زندہ در گور کر دے (أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ)۔ آخر میں اس ظالمانہ شقاوت آمیز غیر انسانی فیصلے کی انتہائی صراحت سے مذمت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جان لو کہ وہ بہت بڑا اور قبیح فیصلہ کرتے ہیں (أَلاَ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ)۔ آخر میں ان تمام برائیوں اور قباحتوں کو آخرت پر ایمان نہ ہونے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو دارِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کی ایسی بری صفات ہوتی ہیں (لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ)۔ لیکن خدا کی صفات بہت عالی ہیں (وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ)۔ اور وہ زبردست حکمت والا ہے (وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ)۔ یہی سبب ہے کہ جو انسان اس عظیم و عزیز اور حکیم و دانا خدا کے نزدیک ہوتا ہے اس کے علم و قدرت و حکمت کی بلند صفات کی طاقت و شعاعیں اس پر پڑتیں ہیں اور وہ خرافات اور گھٹیا بدعات سے الگ ہو جاتا ہے۔ لیکن انسان جس قدر اللہ سے دور ہوتا ہے اسی قدر جہالت، زبوں حالی اور ظلمتوں میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ اللہ اور اس کی عدالت کو بھول جانا تمام تر پستیوں، برائیوں اور بے راہ رویوں کا باعث ہے۔ ان دونوں بنیادی اصولوں کو یاد رکھا جائے تو انسان میں احساسِ مسئولیت زندہ رہتا ہے اور وہ جہالت و خرافات کے خلاف جنگ کے لئے توانائی کے حقیقی سرچشمہ سے مدد حاصل کرتا رہتا ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں کہتے تھے ؟

قرآن کی متعدد آیات کے مطابق عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے یا خدا کی طرف منسوب کیے بغیر انھیں عورتوں کی صنف میں سے سمجھتے تھے۔ سورہ زخرف کی آیہ ۱۹ میں ہے: وجعلوا الملائكة الذين هم عباد الرحمن إناثا فرشتے کہ جو رحمن کے بندے ہیں انھیں وہ عورتیں قرار دیتے تھے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۴۰ میں ہے: أفأصفاكم ربكم بالبنين واتخذ من الملائكة إناثا کیا تمہیں خدا نے بیٹے دیے ہیں اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا رکھی ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ خیال گزشتہ اقوام کی خرافات میں سے زمانہ جاہلیت کے عربوں تک پہنچا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتے چونکہ نظروں سے پوشیدہ ہیں اور پردے مین رہنے کی صفت عورتوں میں پائی جاتی ہے اس لئے وہ انھیں مؤنث سمجھتے ہوں یہی وجہ ہے کہ بعض کے بقول عرب سورج کو مؤنث مجازی اور چاند کو مذکر مجازی کہتے تھے کیونکہ سورج کا قرص اپنے خیرہ کن نور میں چھپا ہوتا ہے اور اس کی طرف نگاہ کرنا آسان نہیں ہے جبکہ چاند کو ٹکیہ پوری طرح نمایاں ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتوں کے وجود کی لطافت اس توہم کا سبب بنی ہو کیونکہ عورت مرد کی نسبت زیادہ لطیف ہے۔ بہرحال، یہ ایک پرانا، غلط اور فضول سا تصور ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس خیال باطل کی تلچھٹ ابھی تک بعض لوگوں کی فکر میں موجود ہے یہاں تک کہ مختلف زبانوں کے ادب میں بھی یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ کسی خوبصورت عورت کی تعریف کے لئے اسے فرشتہ کہتے ہیں اسی طرح فرشتوں کی تصویر بناتے ہیں تو اسے عورتوں کی شکل دیتے ہیں حالانکہ اصولی طور پر فرشتے مادی جسم ہی نہیں رکھتے کہ ان کے بارے میں مذکر و مونث کی بحث میں پڑا جائے۔

۲۔بیٹیوں کو زندہ در گور کیوں کیا جاتا تھا ؟

واقعاً یہ بات بڑی وحشت انگیز ہے کہ انسان اپنے انسانی جذبات و احساسات کو مسل کر اتنا آگے بڑھ جائے کہ دوسرے انسان کو قتل کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قتل بھی ایسا بدترین کہ پھر جس پر وہ فخر کرتا پھرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر قتل بھی اسے کرے کہ جو اس کا اپنا جگر گوشہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمزور اور ننھی سے جان ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر قتل بھی اس طرح سے کہ اس زندہ بولتی جاگتی جان کو اپنے ہاتھوں مٹی میں دفن کر دے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ انسان ایسا وحشت ناک جرم کرنے لگے چاہے وہ نیم وحشی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کام کی یقینا کچھ معاشرتی، نفسیاتی اور اقتصادی بنیادیں تھیں۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ اس فعل کی ابتداء زمانہٴ جاہلیت میں یوں ہوئی کہ: ایک مرتبہ دو گروہوں میں جنگ شروع ہو گئی۔ فاتح گروہ نے مغلوب گروہ کی بیٹیوں اور عورتوں کو قید کر لیا۔ ایک مدت بعد جب ان کے مابین صلح ہو گئی تو انھوں شکست کھانے والے گروہ کے قیدی واپس کرنا چاہے لیکن بعض قیدی لڑکیوں نے فتح مند گروہ کے مردوں سے شادی کرلی تھی انھوں نے یہی پسند کیا کہ دشمنوں کے ہاں ہی وہ جائیں اور پلٹ کر اپنے قبیلے میں نہ جائیں ان لڑکیوں کے والدوں پر یہ بات بہت گراں گذری۔ انھیں اس پر بہت شرمساری اٹھانا پڑی یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے قسم کھائی کہ اگر آئندہ ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو وہ خود اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیں گے تاکہ وہ دشمنوں کے ہاتھ نہ لگے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح وحشت ناک ترین جرائم اور مظالم ناموس شرافت کی حفاظت اور خاندان کی عزت کے نام پر انجام دئیے گئے۔ بات یہاں جاپہنچی کہ اس قبیح اور شرمناک بدعت کو بعض لوگ سراہنے لگے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا زمانہ جاہلیت کی ایک رسم بن گئی جس کی قرآن نے شدت کے ساتھ مذمت کی ہے۔ قرآن کہتا ہے: و إذا الموءودة سئلت بأي ذنب قتلت وہ لڑکی جسے زندہ درگور کر دیا گیا تھا جب اس سے پوچھا جائے گا کہ بتا تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا۔ (تکویر ۸۔۹) لڑکے چونکہ تولید کنندہ ہوتے ہیں اور لڑکیاں مصرف کنندہ لہٰذا یہ احتمال بھی ہے کہ اس امر نے بھی اس ظلم میں مدد کی ہو لڑکے کو وہ لوگ بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔ لوٹ مار اور اونٹوں کی حفاظت وغیرہ میں اس سے کام لیتے تھے۔ جب کہ بیٹیاں ایسے کسی کام نہ آتی تھیں۔ دوسری طرف ان میں قبائلی جنگ کا ایک دائمی سلسلہ تھا۔ جھگڑے فساد ہوتے رہتے تھے ان میں سے بہت سے جنگجو مرد اور لڑکے کام آجاتے تھے لہٰذا لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں توازن اور تناسب باقی نہیں رہتا تھا۔ لڑکوں کا وجود اس قدر نادر اور عزیز ہو چکا تھا کہ ایک لڑکا بھی پید اہوتا تو خاندان کے لئے بڑے فخر کی بات ہوتی جبکہ لڑکی پیدا ہوجاتی تو پورا خاندان رنجیدہ ہو جاتا۔ بات یہاں تک جاپہنچی کہ بعض مفسرین کے بقول جب کسی عورت کے ہاں بچّے کی پیدائش کا وقت قریب ہوتا تو اس کا شوہر کہیں غائب ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی پیدا ہو جائے اور وہ گھر پر موجود ہو اس کے بعد اگر اسے خبر ملتی کہ لڑکا پیدا ہوا ہے تو ناقابل توصیف خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور شور مچاتے ہوئے گھر میں لوٹ آتا لیکن اگر اسے پتہ چلتا کہ بیٹی ہوئی ہے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔[تفسیر فخرالدین رازی جلد ۲۰ ص۵۵] بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی داستان بڑی ہی درناک ہے ان واقعات پر نظر پڑے تو حالت غیر ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے کے بارے میں لکھا ہے: ایک شخص پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسلام قبول کر لیا، سچا اسلام۔ ایک روز وہ آنحضرت کی خدمت میں آیا اور سوال کیا: اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: خدا توّاب و رحیم ہے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا گناہ بہت بڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: وائے ہو تجھ پر، تیرا گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو خدا کی پخشش سے تو بڑا نہیں؟ وہ کہنے لگا: اب جب آپ یہ کہتے ہیں تو میں عرض کروں۔ زمانہ جاہلیت میں میں ایک دور دراز کے سفر پر گیا ہوا تھا ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی میں چار سال کے بعد گھر واپس لوٹا۔ میری بیوی نے میرا استقبال کیا میں گھر میں آیا تو مجھے ایک بچی نظر آئی۔ میں نے پوچھا یہ کس کی لڑکی ہے؟ اس نے کہا: اس نے کہا ایک ہمسایہ کی لڑکی ہے۔ میں نے سوچا گھنٹہ بھر تک چلی جائے گی لیکن مجھے بڑا تعجب ہوا کہ وہ نہ گئی۔ مجھے علم نہ تھا کہ میری لڑکی ہے اور اس کی ماں حقیقت کو چھپا رہی ہے کہ کہیں یہ میرے ہاتھوں قتل نہ ہو جائے۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: آخرکار میں نے بیوی سے کہا: سچ بتاؤ یہ کس کی لڑکی ہے؟ بیوی نے جواب دیا: جب تم سفر پر چلے گئے تھے تو میں امید سے تھی بعد میں یہ بیٹی پیدا ہوئی۔ یہ تمہاری ہی بیٹی ہے۔ اس شخص نے مزید کہا: میں نے وہ رات بڑی پریشانی کے عالم میں گزاری کبھی آنکھ لگ جاتی اور کبھی میں بیدار ہو جاتا۔ صبح قریب تھی، میں بستر سے اٹھا، لڑکی کے بستر کے پاس گیا وہ اپنی ماں کے پاس سو رہی تھی۔ میں نے اسے بستر سے نکالا، اسے جگایا، اس سے کہا: میرے ساتھ نخلستان کی طرف چلو۔ اس نے بات جاری رکھی: وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی یہاں تک کہ ہم نخلستان میں پہنچ گئے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا وہ میری مدد کر رہی تھی میرے ساتھ مل کر مٹی باہر پھینک رہی تھی گڑھا مکمل ہو گیا میں نے اسے بغل کے نیچے سے پکڑ کر اس گڑھے کے درمیان دے مارا۔ اتنا سننا تھا کہ رسول اللہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مزید بتایا: میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا وہ باہر نہ نکل سکے دائیں ہاتھ سے میں اس پر مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، بڑی مظلومانہ فرمایاد کی: وہ کہتی تھی ابو جان! آپ مجھ سے یہ سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ اس نے بتایا: میں اس پر مٹی ڈال رہا تھا کہ کچھ مٹی میری داڑھی پر آپڑی بیٹی نے ہاتھا بڑھایا اور میرے چہرے سے مٹی صاف کی لیکن میں اسی قساوت اور سنگدلی سے اس کے منھ پر مٹی ڈالتا رہا یہاں تک کہ اس کے نالہ و فریاد کی آخری آواز تہہ خاک دم توڑ گئی۔ رسول اللہ (ص) نے داستان بڑے غم کے عالم میں سنی وہ بہت دکھی اور پریشان تھے اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے فرمایا: اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو ضروری تھا کہ جتنا جلدی ہوتا وہ تجھ سے انتقام لیتا۔[القرآن یواکب الدھر جلد ۲ ص ۲۱۴] قیس بن عاصم بنی تمیم کے سرداروں میں سے تھا۔ ظہور رسالت مآب کے بعد وہ اسلام لے آیا تھا اس کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک روز وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ چاہتا تھا کہ جو سنگین بوجھ وہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے پھرتا ہے اسے کچھ ہلکا کرے۔ اس نے رسول اکرم کی خدمت میں عرض کیا: گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھی تھے جنہوں نے جہالت کے باعث اپنی بے گناہ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا تھا میری بھی بارہ بیٹیاں ہوئیں میں نے سب کے ساتھ یہ گھناؤنا سلوک کیا لیکن جب میرے ہاں تیرہویں بیٹی ہوئی تو میری بیوی نے اسے مخفی طور پر جنم دیا اس نے یہ ظاہر کیا کیا کہ نومولود مردہ پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اسے چھپ چھپا کر اپنے قبیلوں والوں کے ہاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطمئن ہو گیا لیکن بعد میں مجھے اس ماجرا کا علم ہو گیا میں نے اسے حاصل کیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا۔ اس نے بہت آہ و زاری کی، میری منتیں کیں گر یہ و بکا کی مگر میں نے پرواہ نہ کی اور اسے زندہ درگور کر دیا۔ رسول اللہ (ص) نے یہ واقعہ سنا تو بہت ناراحت ہوئے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ آپ نے فرمایا: من لا یرحم لا یرحم جو کسی پر رحم نہیں کھاتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ نے قیس کی طرف رخ کیا اور یوں گویا ہوئے: تمہیں سخت دن درپیش ہے۔ قیس نے عرض کیا: میں کیا عرض کروں اس گناہ کابوجھ میرے کندھے سے ہلکا ہو جائے؟ پیغمبر اکرم نے فرمایا: تونے جتنی بیٹیوں کو قتل کیا ہے اتنے ہی غلام آزاد کر (شاید تیرے گناہ کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔)[جاہلیت و اسلام صفحہ۶۳۲] نیز مشہور شاعر فرزدق کے دادا صعصعہ بن ناحیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ حرّیت فکر رکھنے والا ایک شریف انسان تھا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ لوگوں کی بہت سے بری عادات کے خلاف جد و جہد کرتا تھا یہاں تک کہ اس نے ۳۶۰ لڑکیاں ان کے والدوں سے خرید کر انھیں موت سے نجات بخشی۔ ایک مرتبہ اس نے دیکھا کہ ایک باپ اپنی نومولود بیٹی کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے۔ اس بچی کی نجات کے لئے اس نے اپنے سواری کا گھوڑا تک اور دو اونٹ اس کے باپ کو دئے اور اس بچی کو نجات دلائی۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا: تونے بہت ہی بڑا کام انجام دیا ہے اور تیری جزا اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ فرزدق نے اپنے دادا کے اس کام پر فخر کرتے ہوئے کہا: ومنا الذی منع الوائدات فاحیا الوئید فلم توائد اور وہ شخص ہمارے خاندان میں سے تھا جس نے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کے خلاف قیام کیا۔ اس نے لڑکیوں کو لیا اور انھیں زندگی عطا کی اور انھیں تہہ خاک دفن نہ ہونے دیا۔[قاموس الرجال جلد۵ ص۱۲۵] ابھی ہم اس مسئلہ پر گفتگو تفصیلی کریں گے اور دیکھیں گے اسلام نے کس طرح ان تمام قباحتوں، مظالم اور جرائم کو ختم کر دیا اور عورت کو ایک ایسا مقام بخشا کہ تاریخ میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔

۳۔عورت کے مقام کے احیاء میں اسلام کا کردار

عورت کی تحقیر و تذلیل اور اس کی حیثیت کی تباہی زمانۂ جاہلیت کے عربوں ہی میں نہ تھی بلکہ اس زمانے کی سب سے زیادہ متمدن قوموں کا بھی یہی حال تھا وہ عورت کو ایک حقیر وجود سمجھتے تھے اس سے زیادہ تر ایک متاع بازار کا سلوک کرتے تھے نہ کہ انسان کا سا۔ البتہ دور جاہلیت کے عربوں کے ہاں عورت کی تذلیل زیادہ تکلیف دہ اور زیادہ وحشت ناک تھی یہاں تک کہ وہ نسب کو صرف مرد سے مربوط سمجھتے تھے اور عورت کو تو قبل پیدائش بچے کی پرورش کے لئے ایک ظرف شمار کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت کے اس شعر سے بھی ان کا یہ نظریہ ظاہر ہوتا ہے: بنونا بنو ابنائنا و بناتنا بنوھن ابناء الرجال الاباعد ہمارے بیٹے تو صرف ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں۔ باقی رہے ہماری بیٹیوں کے بیٹے تو وہ تو اور مردوں کے بیٹے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ عورت کے لئے حقِ میراث کے قطعاً قائل نہ تھے اور تعداد ازدواج کے لئے بھی کسی حد و حدود کے قائل نہ تھے وہ شادی اس آسانی سے کرلیتے جیسے پانی پیتے ہیں اور اسی آسانی سے طلاق دے دیتے تھے۔ اسلام نے ظہور کیا تو اس نے اس فضول اور بے ہودہ روش کے خلاف مختلف حوالوں اور طریقوں سے سخت جنگ کی۔ اسلام نے خاص طور پر بیٹی کی پیدائش کو ننگ و عار سمجھنے کے خلاف بہت جنگ کی ہے احادیثِ اسلامی میں کسی خاندان میں بیٹی کی پیدائش کو رحمت الہٰی کی آبشار جاری ہوجانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ رسولِ اسلام خود اپنی بیٹی بانوئے اسلام فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا اس قدر احترام کرتے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا آپ اپنے اس قدر مقام و منزلت کے ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کے ہاتھ چومتے، کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے اپنی بیٹی فاطمہ (علیه السلام) سے ملنے جاتے اور اس کے برعکس جب کسی سفر کے لئے روانہ ہوتے تو آخری گھر جس میں خدا حافظ کہنے کے لئے آتے وہ فاطمہ (علیه السلام) کا ہی گھر ہوتا۔ ایک حدیث میں ہے: جب رسول اللہ کو خبر دی گئی کہ خدا نے انھیں بیٹی عطا فرمائی ہے تو اچانک آپ نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا ان کے چہروں پر افسوس کے آثار نمایاں تھے (گویا زمانۂ جاہلیت کی رسموں کے کچھ آثار ابھی ان کے دماغوں میں باقی تھے)۔ رسول اللہ نے فوراً فرمایا: ما لکم؟ ریحانة اشمھا، و رزقھا علی اللہ عز و جل تمہیں کیا ہوا؟ اللہ نے مجھے ایک مہکتا ہوا پھول دیا ہے میں جس کی خوشبو سونگھوں گا (رہی بات اس کی روزی کی تو) اس کا رزق خدا کے ذمہ ہے۔[وسائل الشیعہ جلد ۱۵ص۱۰۲] ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم (ص) سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: نعم الولد البنات، ملطفات، مھجزات، مونسات مفلیات۔ بیٹی کتنی اچھی ہوتی ہے، وہ محبت کرنے والی، مددگار، مونس و غمخوار اور پاک و پاک کنندہ ہوتی ہے۔[وسائل الشیعہ جلد ۱۵ صفحہ ۱۰۰] ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: من دخل السوق فاشتری تحفة فحملھا الیٰ عیالہ کان کحامل الصدقة الیٰ قوم محاویج ولیبدء بالاناث قبل الذکور، فانہ من فرح ابنتہ فکانما اعتق رقبة من ولد اسمٰعیل۔ جو شخص بازار جائے اور اپنے گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ خریدے وہ اس شخص کی طرح ہے جو حاجت مندوں کی مدد کرے (اسے اس شخص کی سی جزا ملے گی) اور جب گھر آکر اسے بانٹنے لگے تو سب سے پہلے بیٹیوں کو دے کیونکہ جو شخص اپنی بیٹی کو خوش کرے ایسے ہے گویا اس نے اولادِ اسماعیل میں سے کسی غلام کو آزاد کیا ہے۔[مکارم الاخلاق ص ۵۴] درحقیقت، عورت کو اسلام نے جو احترام عطا کیا ہے اسی کے سبب اسے معاشرے میں آزادی نصیب ہوئی اور اس کے سبب عورتوں کی غلامی کا دور ختم ہوا۔ اس سلسلے میں اور بھی بہت سی کہنے کی باتیں ہیں جو متعلقہ آیات کی تفسیر میں بیان کی جائیں گی لیکن اس حقیقت کو یہاں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اب بھی اسلامی معاشروں میں دور جاہلیت کے آثار باقی ہیں۔ اب بھی ایسے گھرانوں کی کمی نہیں جو لڑکے کی پیدائش پر تو خوش ہوتے ہیں لیکن لڑکی کی پیدائش پر افسردہ اور پریشان ہو جاتے ہیں یا کم از کم لڑکے کی پیدائش کو لڑکی کی پیدائش پر ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ ہو سکتا ہے معاشرے میں عورتوں کی کیفیت کے حوالے سے خاص قسم کے اقتصادی اور معاشرتی حالات ایسی غلط عادات و رسوم کا باعث ہوں لیکن کچھ بھی ہو تمام سچے مسلمانوں کو چاہئیے کہ ایسے طرز فکر کو ختم کرنے کی جد و جہد کریں اور اس فکر کی معاشرتی اور اقتصادی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکیں کیونکہ اسلام یہ بات پسند نہیں کرتا کہ چودہ صدیوں بعد اس کے پیروکار دورِ جاہلیت کے افکار و نظر یات کی طرف پلٹ جائیں۔ اور ایک نئے دور جاہلیت کا آغاز ہو جائے۔ حالت تو یہ ہے کہ مغرب کے معاشرے میں بھی جہاں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کے لئے اعلیٰ مقام کے قائل ہیں عملی طور پر اسے اس قدر ذلیل کیا گیا ہے کہ اس کی حیثیت ایک بے قیمت گڑیا، آتشِ شہوت کو خاموش کرنے والے وجود یا مال اسباب کے لئے ایک اشتہار سے زیادہ نہیں رہی۔[یہ بات جاذب نظر ہے کہ اتفاق سے یہ سطور ۲۰ جمادی الثانیہ ۱۴۰۱ھ کو لکھی جا رہی ہے ہیں کہ جو بانوئے اسلام حضرت فاطمہ اللہ علیھا کا روز ولادت ہے اور اسی دن کو اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ”یوم خواتین“ قرار دیا گیا ہے]

61
16:61
وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلۡمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے سزا دے تو سطع زمین پر چلنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ لیکن وہ ایک عرصے تک انہیں موخر کر دیتا ہے ۔البتہ جب ان کی اجل آ پہنچتی ہے تو پھر وہ نہ ساعت بھرتا خیر کرتے ہیں اور نہ گھڑی بھر تقدیم کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
16:62
وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكۡرَهُونَۚ وَتَصِفُ أَلۡسِنَتُهُمُ ٱلۡكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفۡرَطُونَ
وہ خدا کیلئے وہ کچھ قرار دیتے ہیں کہ جسے خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں (یعنی بیٹیاں )‘ اس کے باوجود وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کا انجام نیک ہے۔ اسمیں کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے(جہنم کی) آگ ہے اور وہ (اس کی طرف) پیش قدمی کرنے والے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
16:63
تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
بخدا تجھ سے پہلے ہم نے امتوں کی طرف نبی بھیجے تھے لیکن شیطان نے ان امتوں کو ان کے اعمال انہیں سجا بنا کر دکھائے اور آج وہی ان کا ولی ہے،اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
16:64
وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
اورہم نے قرآن تم پر نازل نہیں کیا مگر اس لئے کہ جس امر میں وہ اختلاف کرتے ہیں تو ان سے بیان کر دو اور یہ ان کیلئے ہدایت و رحمت ہے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں۔

خدا فوراً سزا کیوں نہیں دیتا؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں مشرکینِ عرب کے وحشت ناک جرائم اور قبیح بدعتوں کا ذکر ہے ان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ ہو سکتا ہے اس مو قع پر بعض ذہنوں میں یہ سوال ابھرے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات پر خداوند تعالیٰ فوراً عذاب کیوں نہیں کرتا؟ زیر نظر آیت اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے: اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم و گناہ پر سزا دے تو سطح زمین پر کوئی حرکت کرنے والا باقی نہ رہے (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍ)۔[”علیھا“ کی ضمیر ”ارض“ کی طرف لوٹتی ہے۔ اگرچہ پہلے اس کا ذکر نہیں آیا اور یہ مطلب کی وضاحت کے لئے ہے اس کی نظیر عربی ادب میں اور دیگر زبانوں کے ادب میں بہت ملتی ہے] ”دابة“ ہر قسم کے زندہ اور متحرک موجود کو کہتے ہیں یہاں ممکن ہے ”علیٰ ظلمھم“ کے قرینوں سے انسانوں کے لئے کنایہ ہو یعنی اگر خدا انسانوں کا ان ظلم کی وجہ سے مواخذہ کرے تو کوئی انسان سطح زمین پر باقی نہ رہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین پر تمام حرکت کرنے والے اور چلنے پھرنے والے ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ زمین پر چلنے والے جانور معمولاً انسان کے لئے پید اکئے گئے ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ھو الذی خلق لکم ما فی الاض جمیعاً اللہ وہ ہے کہ جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔ (بقرہ۲۹) لہٰذا جب انسان ختم ہو جائیں تو دوسرے چلنے پھرنے والے جانداروں کے وجود کا فلسفہ بھی ختم ہو جائے گا، اس لئے ان کی نسل بھی منقطع ہو جائے گی۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آیت کے مفہوم کی عمویت اور وسعت کو دیکھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان ظالم ہیں اور ہر شخص کسی نہ کسی ظلم کا مرتکب ہوا ہے اور اگر فوری سزا نافذ ہو تو کسی کا دامن نہیں بچے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نہ صرف انبیاء و مرسلین اس زمین پر موجود رہے ہیں کہ جو معصوم ہیں اور اس ظلم کے مصداق نہیں ہیں بلکہ ہر زمانے میں ایسے نیک پاک اور سچے مجاہد رہے ہیں کہ جن کی نیکیاں یقینا ان کی چھوٹی برائیوں سے زیادہ ہوتی ہیں اور جو ہرگز ایسی سزا کے مستحق نہیں ہوتے کہ جو نابود کر دے۔ اس سوال کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت کا حکم نوعی ہے نہ عمومی کہ جو سب کے لئے ہو۔ اسے بیانات کی مثالیں عربی ادب میں اور دیگر زبانوں میں موجود ہیں یہ مشہور شعر ہم نے اکثر سنا ہے: گر حکم شود کہ مست گیرند در شھر ہر آنچہ ہست گیرند اگر حکم ہو کہ جو بھی نشے میں ہو اسے پکڑ لیا جائے تو شہر میں کوئی بھی گرفتاری سے نہ بچ سکے۔ اسی طرح ایک اور شاعر کہتا ہے: گفت باید حد زند ہشیار، مرد مست را گفت ہشیاری بیار، اینجا کسی ہشیار نیست اس نے کہا ہے جو ہوش میں ہے وہ اس مست شخص پر حد جاری کرے تو جواب ملا کہ پہلے کسی باہوش کو لے آؤ کیونکہ یہاں تو کوئی ہوش میں نہیں ہے۔ اس استثناء کی شاہد سورۂ فاطر کی آیہ ۳۲ ہے، اس میں ارشاد الہٰی ہے: ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا ۖ فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات بإذن الله ۚ ذلك هو الفضل الكبير پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جنھیں چن لیا انھیں کتاب کا وارث بنایا اور انسانوں میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، دوسرے وہ جو درمیانے سے ہیں اور تیسرے وہ کہ جو اذن الہٰی سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور یہ بڑے فضل کی بات ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ زیر بحث آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ سورۂ فاطر کی مذکورہ آیت کے بیان کردہ پہلے گروہ کے لئے ہے اور ایسے لوگوں کی چونکہ معاشروں میں کثرت ہوتی ہے لہٰذا آیت کے انداز میں عمومیت کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت انبیاء کی عصمت کی نفی پر ہر گز دلالت نہیں کرتی اور جنھوں نے یہ خیال کیا ہے انھوں نے قرآن کی دیگر آیات اور کلام میں موجود قرائن کی طرف توجہ نہیں کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: خدا سب ظالموں کو مہلت دیتا ہے اور اجل مسمیٰ (ایک معین زمانے) تک ان کی موت کو مؤخر کر دیتا ہے (وَلَكِن يُؤَخِّرُهُمْ إلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى)۔ لیکن جب ان کی اجل آپہنچتی ہے تو ھر گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم (فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ)۔ بلکہ ٹھیک اسی لمحے موت انھیں دامن گیر ہو جاتی ہے اور لحظے کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ اجل مسمیٰ کیا ہے؟ ”اجل مسمیٰ“ کے مفہوم کے بارے میں میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں البتہ قرآن حکیم کی دیگر آیات کہ جن میں سورہ انعام کی آیت ۲ اور سورۂ اعراف کی آیہ ۳۴ شامل ہیں، پر نظر رکھی جائے تو اس سے مراد موت کا آنا ہی ہے یعنی خدا بندوں کو ان کی عمر کے آخر تک اتمام حجت کے لئے مہلت دیتا ہے کہ شاید ظالم اپنی اصلاح کی فکر کریں اور اپنے طرز عمل پر تجدید نظر کریں اور خدا، حق اور عدالت کی طرف پلٹ آئیں، جب مہلت یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو موت کا حکم جاری ہو جاتا ہے اور موت کے اسی لمحے سے سزا اور عذاب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ”اجل مسمیٰ“ کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۵ ص ۱۳۳(اردو ترجمہ) اور جلد ۶ ص ۱۴۲(اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی آیت میں قرآن ایک مرتبہ پھر زمانۂ جاہلیت کے عرب کی بری رسموں کی مذمت کرتا ہے قبل ازیں بتایا جا چکا ہے کہ وہ خود بیٹیوں سے نفرت کرتے تھے جبکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: ایک طرف تو وہ خود اپنے لئے بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن دوسری طرف خدا کے لئے قائل ہیں (وَيَجْعَلُونَ لِلّهِ مَا يَكْرَهُونَ)۔ یہ عجیب و غریب تناقض اور تضاد ہے سورۂ نجم کی آیہ ۲۲ میں ہے؛ یہ ایک انتہائی ناپسنددیدہ تقسیم ہے۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ بیٹیاں اچھی چیز ہیں تو پھر تم کیوں بیٹیاں پیدا ہونے پر پریشان ہوجاتے ہو اور اگر یہ بری چیز ہے تو پھر خدا کے لئے اس کے قائل کیوں ہوتے ہو؟۔ اس کے با وجود ان کا غلط دعویٰ ہے کہ ان کا انجام نیک ہے اور جزائے خیر انہی کے لئے ہے (وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَىی)۔ کس عمل کی وجہ سے وہ ایسی جزا کی توقع رکھتے ہیں کیا معصوم، بے گناہ بے چاری بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے پر یا پروردگار کی ساحتِ مقدس پر افتراء باندھنے پر؟ لفظ ”حسنیٰ“، ”احسن“ کا مونث ہے اس کا معنی نہایت عمدہ، بہت اچھا۔ یہاں بہترین جزا یا بہترین انجام کے معنی میں آیا ہے جس کی یہ مغرور اور گمراہ قوم اپنے تمام تر جرائم کے با وجود قائل تھی۔ اس صورت میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب تو معاد اور قیامت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے اس کے با وجود اس قسم کی باتیں کیوں کرتے تھے۔ اس سلسلے میں توجہ رہے کہ وہ سب کے سب مطلقاً معاد کے منکر نہیں تھے بلکہ معادِ جسمانی کا انکار کرتے تھے انھیں اس بات سے انکار تھا کہ انسان کو پھر سے مادی زندگی دی جائے گی وہ اس بات پر تعجب کرتے تھے علاوہ ازیں ممکن ہے یہ تعبیر ”قضیہ شرطیہ“ کے طور پر ہو یعنی وہ کہتے تھے: با لفرض دوسرا جہاں ہو تو ہمیں وہاں بہترین جزا ملے گی۔ بہت سے ظالم و جابر، منحرف اور ہٹ دھرم افراد کی یہی طرز فکر ہے کہ خدا سے دور ہونے کے با وجود وہ اپنے آپ کو خدا سے بہت نزدیک سمجھتے ہیں اور انتہائی مضحکہ خیز دعوے کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ”حسنیٰ“ سے ”نعمت حسنیٰ“ یعنی بیٹے مراد ہیں کیونکہ وہ بیٹیوں کو برا اور منحوس سمجھتے تھے لیکن بیٹوں کو اچھا اور اعلیٰ نعمت جانتے تھے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے: نا چار ان کے لئے جہنم کی آگ ہے (لاَ جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ الْنَّارَ)۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ان کی عاقبت بخیر نہیں بلکہ ان کا انجام کار جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ اسی آگ کی طرف پیش قدمی کرنے والے ہیں۔ (وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ)۔ ”مفرط“، ”فرط“ (بر وزن ”فقط“) کے مادہ سے آگے بڑھنے کے معنی میں ہے۔ ہو سکتا ہے زمانہ جاہلیت کے عربوں کی داستان سن کر بعض یہ سوال کریں کہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے جگر گوشہ کو اس بربریّت کے ساتھ مٹی میں زندہ گاڑ دے۔ اس سلسلے میں اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: بخدا ہم نے تجھ سے پہلے امتوں کی طرف نبی بھیجے لیکن شیطان نے ان امتوں کے اعمال انھیں بہت بنا سنوار کر پیش کئے تھے (تَاللّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ)۔ جی ہاں شیطان اپنے وسوسوں میں اتنا ماہر ہے کہ قبیح ترین اور بدترین جرائم کو بھی بعض اوقات انسان کے سامنے بہت خوبصورت بنا کر پیش کر دیتا ہے اور اسے باعثِ فخر سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ دورِ جاہلیت کے عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کو پانے لئے سند افتخار جانتے تھے وہ اسے غیرت مندی کا مظاہرہ قرار دیتے اور قبیلے کی عزت و آبرو کی حفاظت کے نام پر اس فعل کی تعریف کرتے۔ بیٹی کو زندہ گاڑ دینے والا باپ کہتا: میں نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے زیر خاک دفن کر دیا ہے تاکہ کل کو وہ کسی جنگ میں دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔ ظاہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں ایسے شرمناک ترین اعمال شیطانی تزئین کے بعد ایسے پر فریب ہو جائیں تو باقی کاموں کی حالت کیا ہو گی۔ آج بھی شیطانی تزئین کے ایسے نمونے بہت سے افراد کے اعمال میں نظر آتے ہیں۔ آج بھی چوری، غارت گری، تجاوز اور جرم کو مختلف پر فریب نام دئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ دورِ حاضر کے مشرکین بھی ان گزشتہ امتوں کے انحرافی طرز عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شیطان نے جن کے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کیا تھا آج بھی شیطان ان کا ولی، راہنما اور سر پرست ہے (فَهُوَ وَلِيُّهُمُ)۔ اور یہ اسی کی راہنمائی میں قدم اٹھاتے ہیں۔ اسی بناء پر دردناک عذابِ الٰہی ان کے انتظار میں ہے (الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ ”فَھُوَ وَلِیُّھُمْ الْیَوْمَ“ (آج شیطان ان کا ولی و سرپرست ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جملے کی مفسرین مختلف پیرائے میں تفسیر کی ہے۔ شاید ان میں سے زیادہ واضح وہی ہے جو ہم کہہ چکے ہیں۔ یعنی یہ جملہ دور جاہلیت کے مشرکین عرب کی کیفیت واضح کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ انھوں نے بھی گزشتہ منحرف امتوں کے طرز عمل کی پیروی کی اور شیطان ان کا سرپرست ہے جیسے وہ گزشتہ گمراہوں کا سرپرست تھا۔[لیکن اس تفسیر کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ”اعمالھم“ اور ”ولیھم“ کی ضمیر میں معنیٰ کے لحاظ سے فرق ہو پہلی ضمیر گزشتہ امتوں کے لئے ہو اور دوسری رسول اللہ کے زمانے کے مشرکین کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے یہ جملہ مقدر مانا جا سکتا ہے۔ ھؤ لاء یتبعون الامم الماضیة (غور کیجئے گا)] یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ابھی تک گزشتہ منحرف امتوں کے کچھ لوگ موجود ہیں اور وہ اپنے انحرافی طریقے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور شیطان آج بھی پہلے کی طرح ان کا سرپرست ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زیر بحث آخری آیت میں بعثتِ انبیاء کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ تاکہ واضح ہو جائے کہ اگر قومیں اور ملتیں اپنی خود غرضیوں اور غلط طور طریقوں کو چھوڑ کر رہبریِ انبیاء سے وابستہ ہو جائیں تو ایسے خرافات، اختلافات اور عملی تضادات ختم ہو جائیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے قرآن تجھ پر صرف اس لئے نازل کیا ہے کہ وہ جس امر میں اختلاف رکھتے ہیں تو اسے واضح کر دے (وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ)۔ اور یہ قرآن ان لوگوں کے لئے باعثِ ہدایت و رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں (وَھُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ)۔ شیطانی وسوسے ان کے دلوں سے نکال دیتا ہے نفس امارہ اور شیطان صفت لوگوں کے پہنائے ہوئے پر فریب پردے حقائق کے چہرے سے ہٹا دیتا ہے۔ پسِ پردہ خرافات و جرائم کو واضح کردیتا ہے خود غرضیوں نے جو اختلافات پیداکر دئے ہوتے ہیں انھیں ختم کر دیتا ہے۔ بربریتوں کا خاتمہ کر دیتا ہے اور ہر طرف ہدایت و رحمت کا نور پھیلا دیتا ہے۔

65
16:65
وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ
اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایااور جب زمین مردہ ہو چکی تھی اسے پھر سے حیات بخشی اس میں اس قوم کیلئے واضح نشانی ہے جو سننے والے کان رکھتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
16:66
وَإِنَّ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَنۡعَٰمِ لَعِبۡرَةٗۖ نُّسۡقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيۡنِ فَرۡثٖ وَدَمٖ لَّبَنًا خَالِصٗا سَآئِغٗا لِّلشَّـٰرِبِينَ
اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے عبرت (کا درس) ہے ان کے شکم کے اندر سے ہم تمہارے پینے کیلئے ہضم شدہ غذا اور خون میں سے خالص اور پسندیدہ دودھ فراہم کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 67 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
16:67
وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلۡأَعۡنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنۡهُ سَكَرٗا وَرِزۡقًا حَسَنًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
اور کھجور و انگور کے درختوں کے میووں سے شراب (ناپاک) اور اچھا رزق حاصل کرتے ہیں۔ اس میں عقل و دانائی سے کام لینے والی قوم کیلئے روشن نشانی ہے۔

پانی ، پھل اور حیوانات

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قرآن ایک مرتبہ پھر پروردگار کی گونا گوں نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے یہ دراصل توحید اور خدا شناسی کے لئے ایک تاکید بھی ہے اور ساتھ ہی معاد کی طرف اشارہ ہے۔ نیز نعمتوں کا تذکرہ بندوں کے احساسِ تشکر کو بیدار کرنے کے لئے بھی ہے اس طرح انھیں زیادہ قربِ الہٰی کے حصول کی طرف مائل کیا گیا ہے ان تینوں پہلوؤں پر نظر رکھی جائے تو ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گزشتہ آیات میں سے آخری آیت قرآن کے نزول کے بارے میں تھی۔ وہ آیات کہ روحِ انسانی کے لئے حیات بخش ہیں اور زیرِ نظر پہلی آیت آسمان سے بارش کے نزول کے بارے میں ہے۔ اور بارش جسمِ انسانی کے لئے حیات بخش ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس طرح زمین کو جو مردہ ہو چکی تھی اسے حیاتِ تازہ بخشی (وَاللّهُ أَنزَلَ مِنَ الْسَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا)۔ اس امر میں ان کے لئے عظمتِ الہٰی کی واضح نشانی ہے کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ)۔ آسمان سے بارش برسنے سے زمین کو جو حیاتِ نو ملتی ہے اس کا ذکر قرآن کی بہت سی آیات میں آیا ہے۔ بعض اوقات خشک سالی زمین کو اس طرح سے خشک، خاموش اور بے روح کر دیتی ہے کہ وہ بالکل بے کار اور بنجر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کسی کو یقین نہیں آتا کہ کبھی اس زمین پر بھی سر سبز کھیتیاں لہراتی رہی ہیں یا آئندہ کبھی اس دکھ سے کوئی زندگی جنم لے گی لیکن چند پے در پے بارشیں ہوتی ہیں اور پھر سورج کی حیات بخش شعاعیں اس میں حرکت پید اکر دیتی ہیں گویا کوئی سو رہا تھا اور اب بیدار ہو گیا ہے یا زیادہ صحیح الفاظ میں کوئی مردہ تھا کہ جس میں بارش کے دمِ مسیحائی سے زندگی لوٹ آتی ہے اس میں طرح طرح کے پھل پھول اگنے لگتے ہیں۔ سبز ے لہلہانہ شروع کر دیتے ہیں۔ حشرات الارض اس پر رینگنے لگتے ہیں۔ پرندے اس میں چہچہانے لگتے ہیں اور جانور پھر سے اس کا رخ کرنے لگتے ہیں اور اس طرح زمرمۂ حیات پھر سے گونج اٹھتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ زمین جو پہلے مردہ خاموش تھی اس میں ایسا غلغلہ جاگ اٹھتا ہے کہ انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ عالمِ آفرینش کا ایک شاہکار ہے یہ خالق کی قدرت و عظمت کی نشانی بھی ہے اور معاد و قیامت کے امکان کی دلیل بھی ہے اس سے کھلتا ہے کہ مردے کس طرح دوبارہ لباسِ حیات زیب تن کرتے ہیں یہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت بھی ہے خصوصاً بارش ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے حصول کے لئے بندے کچھ زحمت نہیں کرتے۔ پانی کہ جو پہلا رکنِ حیات ہے اس کے ذکر کے بعد چوپایوں کے وجود کی نعمت کی طرف اشارہ ہے اس سلسلے میں خصوصیت سے دودھ کا تذکرہ ہے کہ جو انتہائی مفید غذائی عنصر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے (وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً)۔ اس سے بڑھ کر عبرت کی بات کیا ہو گی کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے شکم میں ہضم شدہ غذا اور خون کے درمیان میں سے تمہارے پینے کے لئے خالص اور عمدہ دودھ فراہم کرتے ہیں (نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشَّارِبِينَ)۔ ”فرث“ لغت میں اس ہضم شدہ غذا کے معنی میں ہے کہ جو معدے کے اندر ہو اور جب وہ انتڑیوں تک پہنچتا ہے تو اس کا حیاتی مادہ بدن میں جذب ہو جاتا ہے اور اس کا پھوک اور فضلہ باہر نکل جاتا ہے اس فضلے کو ”روث“ (گوبر) کہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ شکر کا کچھ مواد اور اسی طرح پانی وغیرہ کی کچھ مقدار معدے کی دیواروں کے ذریعے بدن میں جذب ہو جاتی ہے اور اس کا ایک اہم حصہ ہضم شدہ غذا کی صورت میں انتڑیوں کی طرف منتقل ہو کر خون میں داخل ہو جاتا ہے۔ نیز ہم یہ بھی جاتے ہیں کہ دودھ پستان کے اندر موجود خاص غدودوں سے نکلتا ہے اور اس کا اصلی مواد خون اور چربی ساز غدودوں سے لیا جاتا ہے، اس طرح یہ سفید رنگ، صاف ستھرا اور خالص مادہ، یہ قوت بخش اور عمدہ غذا ہضم شدہ غذاؤں کے درمیان سے کہ جو فضلہ سے مخلوط ہیں اور خون کے بیچوں بیچ سے حاصل ہوتا ہے واقعاً یہ ایک عجیب و غریب چیز ہے۔ سرچشمہ اس طرح سے آلودہ اور تنفر آمیز لیکن ماحصل خالص، خوبصورت، دل انگیز اور عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دودھ۔ جانوروں اور ان کے دودھ کے ذکر کے بعد کچھ نباتات کی نعمت کا تذکرہ ہے ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے تمہیں کھجور اور انگور کی صورت میں پر برکت غذا عطا کی ہے کبھی تم اسے نقصان دہ شکل میں ڈھال لیتے ہو اور اس سے شراب بناتے ہو اور کبھی اس سے پاک و پاکیزہ رزق حاصل کرتے ہو۔ (وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا)۔ اس امر میں اس کے لئے قدرت پروردگار کی ایک نشانی ہے جو عقل و خرد رکھتے ہیں (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)۔ ”سکر“ کے اگرچہ لغت میں مختلف معانی ہیں۔ یہاں سکرات، مشروبات الکحل اور شراب کے معنی میں ہے اور یہی اسی کا مشہور معنی ہے۔ واضح ہے اس آیت میں قرآن نے کھجور اور انگور سے شراب بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی بلکہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”سکراً“ کو ”رزقاً“ کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے یہ دراصل شراب کی حرمت اور اس کے غیر مطلقب ہونے کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے لہٰذا اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ آیت حرمت شراب نازل ہونے سے پہلے کی ہے اور اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ ہے بلکہ اس کے برعکس آیت اس کے حرام ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور شاید یہ تحریم شراب کے لئے پہلا الارم ہے۔ درحقیقت، ایک جملہ معترضہ کی صورت میں خدا چاہتا ہے کہ نعمات الہٰی سے سوءِ استفادہ کی طرف بھی اشارہ کرے۔

چند اہم نکات: ۱۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟

جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیات میں پڑھا ہے، قرآن مجید کہتا ہے: کہ دودھ ”فرث“ (معدے کے اندر ہضم شدہ غذا) اور ”دم“ (خون) کے درمیان سے نکلتا ہے۔ آج کی فزیالوجی (Physiology) [علم الاعضاء] نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ جس وقت غذا معدے میں ہضم اور جذب کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو معدے اور اتڑیوں کی سطح میں کئی ملین بالوں کی رگوں کے ساتھ ساتھ بہت پھیل جاتی ہے۔ مفید اور ضروری عناصر اسے جذب کرکے اسے ایک جڑدار درخت تک پہنچاتے ہیں وہی جڑدار درخت کہ جس کی جڑیں پستان کی نوک میں جا کر جمع اور تمام ہوتی ہیں۔ ماں غذا کھاتی ہے تو اس کا نچوڑ خون میں داخل ہو جاتا ہے خون کی ان رگوں کی آخری شاخیں اور ”جنین“ کے گردشِ خون کا آخری مقام اور اس کی رگوں کی آخری شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں جب تک بچہ شکمِ مادر میں ہوتا ہے اس طرح غذا ملتی رہتی ہے لیکن وہ ماں سے الگ ہو جاتا ہے تو غذا دینے والے قطب نما عقربہ کی نوک کی ماں کے پستان کی نوک کی طرف رخ کرتی ہے اس حالت میں اب ماں کا خون نوزاد بچے کے خون تک نہیں پہنچ سکتا یہاں ایک تغیر اور تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے اب ایک صاف شدہ محصول کی ضرورت ہوتی ہے جو بچے کے لئے گوارا اور مناسب ہو ایسے میں ”فرث“ اور ”دم“ کے درمیان میں سے دودھ پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں جو کچھ کھاتی ہے اس سے ”فرث“ بنتا ہے اور پھر اس سے خون پیدا ہوتا ہے اور پھر ان دونوں کے درمیان میں سے دودھ وجود میں آتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ دودھ کی ترکیب بھی ”خون“ اور”دم“کی درمیانی سی ترکیب ہے یہ نہ صاف شدہ خون ہے نہ ہضم شدہ غذا۔ یہ ”فرث“ سے بالا اور خون سے نیچے کی ایک چیز ہے۔ دودھ کے بعض عناصر خون میں نہیں ہوتے اور پستان کی غدود میں بنتے ہیں۔ مثلاً کازوئین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خون کے کچھ عناصر جو دودھ میں موجود ہیں وہ بغیر کسی تغیر کے خون کے پالازما (Plasma) سے ترشح ہو کر دودھ میں داخل ہوتے ہیں مثلاً مختلف وٹامن، خوردنی نمک اور مختلف فاسفیٹ۔ کچھ اور مواد بھی خون سے حاصل ہوتا ہے مثلاً دودھ میں موجود شکر (Lactose) خون میں موجود شکر سے حاصل ہوتی ہے جو پستان کے عمل میں مدد ہوتی ہے اور اس تغیر میں ایک اہم کردار کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں دودھ کی تولید نتیجہ ہے خون کے ذریعہ ضذبِ غذا کا اور خون کے پستانوں کی غدود سے براہ راست تعلق کا، لیکن یہ بات جاذب نظر ہے کہ ”فرث“ کی مخصوص بو اور خون کا مخصوص رنگ دودھ میں منتقل نہیں ہوتے بلکہ یہ دودھ نئے رنگ اور نئی مہک کے ساتھ پستان کی نوک سے نکلتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فزیالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ پستان میں ایک لیٹر دودھ پیدا ہونے کے لئے کم از پانچ سے لیٹر خون کو اس حصے سے گزرنا چاہئیے تاکہ ایک لیٹر دودھ کے لئے درکار ضروری مواد خون سے حاصل کیا جا سکے جبکہ رگوں میں ایک لیٹر خون پیدا ہونے کے لئے ضروری مقدار میں غذائی مواد کو انتڑیوں سے گزرنا پڑتا ہے یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ”من بین فرث و دم“ (ہضم شدہ غذا اور خون میں سے) کا مفہوم پوری طرح واضح ہوتا ہے۔[ کتاب ”شیمی حیاتی و پزشکی“ اور کتاب ”اولین دانشگاہ اور آخرین پیامبر“ جلد ۶ ص ۷۱، تا ص ۷۷]

۲۔ دودھ ایک اہم غذا

دودھ اہم حیاتین سے بھرپور ہے یہ اجزاء باہم مل کر ایک غذا بناتے ہیں۔ دودھ کے اجزاء: سوڈیم (Sodium) پوٹا شیم (Potassium) کیلشیم (Calcium) میگگنیشیم، کانسی، تانبا، آئرن، فاسفورس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آیوڈ (lode) اور گندھک۔ اس کے علاوہ، دودھ میں آکسیجن، ازاٹ (Azote) اور کارناک ایسڈ کے اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں۔ دودھ میں شکر کافی مقدار میں لکٹوز (Lactose) کی شکل میں ہوتی ہے۔ دودھ میں تحلیل شدہ وٹامن اے، بی، سی اور ڈی ہوتے ہیں۔ دور حاضر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اگر جانور نے خوب چارہ چر لیا تو اس کے دودھ میں ہر طرح کے وٹامن موجود ہوتے ہیں سب کی تفصیل اس کتاب میں نہیں آسکتی نیز اس مسئلے پر بھی تقریباً اتفاق ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: لیس یجزی مکان الطعام والشراب الّا اللبن دودھ کے سوا کوئی چیز کھانے پینے کا مکمل نعم البدل نہیں ہے۔ نیز روایات میں ہے: دودھ عقل انسان کو بڑھاتا ہے، ذہن انسانی کو شفا بخشتا ہے، آنکھوں کی بینائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے، نسیان کو ختم کرتا ہے، دل کو تقویت دیتا ہے اور کمر کو مضبوط کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آثار دودھ میں موجود حیاتین سے قریبی ربط رکھتے ہیں۔[ کتاب ”اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر“ جلد ۶ میں موجود دودھ کی بحث سے استفادہ کیا گیا ہے۔]

۳۔ دودھ ایک خاص اور عمدہ غذا

زیر بحث آیات میں دودھ کو ”خالص“ اور ”گوارا“ غذا قرار دیا گیا ہے اور یہ بات پہلی نظر ہی میں ہر شخص کے لئے واضح ہے کہ دودھ کم حجم، پر قوّت اور اضافی مواد سے پاک ایک خالص غذا ہے اور ساتھ ہی یہ ہر سن و سال کے شخص کے لئے، بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کے لئے نہایت گوارا، مفید اور مناسب ہے۔ انہی وجوہ کی بناء پر بہت سے بیمار اس غذا سے استفادہ کرتے ہیں خصوصاً ہڈیوں کی نشو و نما کے لئے اس کی بہت زیادہ تاثیر مانی گئی ہے، یہی وہ ہے کہ ہڈی ٹوٹ جانے کی صورت میں اس کی سفارش کی گئی ہے۔ ”خلوص“ کا معنی ”پیوند“ بھی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اس قرآنی تعبیر کو ہڈی جوڑنے میں دودھ کے بہت مؤثر ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ دودھ پلانے کے بارے میں جو اسلامی احکام وارد ہوئے ہیں ان میں یہ معنی وضاحت سے نظر آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہا کہتے ہیں: اگر بچہ کسی عورت کا اس قدر دودھ پئے کہ اس کی ہڈی مضبوط ہو جائے اور گوشت اگ آئے تو یہ اس عورت کا محرم اور رضاعی بیٹا ہو جائے گا۔ اسی طرح کا حکم اس عورت کے شوہر اور دیگر رشتہ داروں کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے۔[شرح لمعہ، کتاب نکاح احکام الاولاد و منہا الرضاع ۔] دوسری طری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ فقہاء کے نزدیک پندرہ مرتبہ پے در پے دودھ پینے سے یہاں تک کہ ایک شب و روز دودھ پینے والا اس عورت کا محرم ہو جاتا ہے جس کا اس نے دودھ پیا ہے۔ ان دونوں باتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کیا اس کا یہ مفہوم نہیں ہو گا کہ چوبیس گھنٹے دودھ پینا بھی ہڈیوں کی تقویت اور گوشت اگنے کے لئے موثر ہے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ اسلامی احکام میں پہلے دن کے دودھ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ اسلام کی فقہی کتب میں بچے کی زندگی کو اس سے وابستہ سمجھا گیا ہے۔ اسی بناء پر بچے کو پہلا دودھ پلانا واجبات میں شمار کیا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں سورۂ قصص کی آیہ ۷ میں ہے۔ وأوحينا إلى أم موسى أن أرضعيه ۖ فإذا خفت عليه فألقيه في اليم موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی کہ اسے دودھ پلاؤ اور جب تمہیں اس کے بارے میں خوف لاحق ہو تو اسے دریا کی موجوں کے سپرد کر دو۔

68
16:68
وَأَوۡحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحۡلِ أَنِ ٱتَّخِذِي مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُونَ
تیرے پروردگار نے (نظام فطرت کے تحت) شہد کی مکھی کو وحی کی کہ پہاڑوں میں ‘ درختوں میں اور جو عرشے (اورمچان) لوگ بناتے ہیں ان میں گھر بنائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
16:69
ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسۡلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلٗاۚ يَخۡرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٞ لِّلنَّاسِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
پھر تمام پھلوں میں سے کھائے اور جو راستے تیرے پروردگار نے معین کئے ہیں ان میں راحت سے چلے پھرے۔ ان کے بطن سے پینے کی ایک خاص چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں کیلئے شفاء ہے اس امر میں اہل فکر و نظر کیلئے بڑی نشانی ہے۔

شہد کی مکھی اور وحی الہٰی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

یہاں قرآن کا لب و لہجہ شگفت انگیز ہو گیا ہے نعمات الٰہی اور اسرار آفرینش کی بات جاری رکھتے ہوئے شہد کی مکھی اور پھر شہد کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے لیکن اس طرح سے کہ شہد کی مکھی خدا کی طرف سے مامور ہے بتایا گیا ہے کہ رمز آمیز الہام و ہدایت کے جسے ”وحی“ کا نام دیا گیا ہے کے تحت شہد کی مکھی مشغول کار ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تیرے پروردگار نے شہد کی مکھی کو وحی کی کہ درختوں، پہاڑوں اور لوگوں کے بنائے ہوئے عرشوں اور مچانوں میں گھر بنا (وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ)۔ اس آیت میں چند قابل غور تعبیرات آئی ہیں: ۱۔ ”وحی“ کامفہوم: جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے دراصل تیز اشارہ کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظ مخفی طور پر کوئی بات القاء کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ لیکن قرآنِ مجید میں یہ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ان سب معانی کی بازگشت اسی اصل معنی کی طرف ہے قرآن کے مفاہیم میں ایک وحی نبوت ہے زیادہ تر یہ لفظ قرآن میں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ سورہ شوریٰ کی آیت ۵۱ میں ہے: وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا۔۔۔ انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ طریقِ وحی کے سوا کسی طرح اللہ سے کلام کر سکے۔ نیز ”وحی“ الھام کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے یہ الہام خود آگاہ (انسانوں کے لئے) بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً وأوحينا إلى أم موسى أن أرضعيه ۖ فإذا خفت عليه فألقيه في اليم اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اپنے نو مولود کو دودھ پلا اور جب تجھے اس کے بارے میں دشمنوں کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا کی لہروں کے سپرد کر دے۔ (قصص۷) اور یہ الہام ناآگاہ اور طبیعی صورت میں بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ شہد کی مکھی کے بارے میں زیر بحث آیات میں مذکور ہے کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ یہاں ”وحی“ حکم غزیزہ یا طبیعت میں کوئی بات ڈال دینے کے معنی میں ہے اور یہ چیز خدا تعالی نے مختلف جانوروں میں رکھی ہے۔ نیز ”وحی“ اشارے کے معنی میں بھی ہے جیسا کہ حضرت زکریا کے واقعے میں ہے: فأوحى إليهم أن سبحوا بكرة وعشيا زکریا نے لوگوں کو اشارے سے کہا: صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔ (مریم ۱۱) نیز مخفی طور پر خبر پہنچانے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ انعام کی آیہ ۱۱۲ میں ہے: يوحي بعضهم إلى بعض زخرف القول غرورا انسانی اور غیر انسانی شیاطین مخفی طریقے سے پر فریب اور گمراہ کن مطالب ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں۔ ۲۔ کیا طبعی الہام شہد کی مکھیوں سے مخصوص ہے؟ طبائع و غرائز یا طبعی الہام شہد کی مکھیوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام جانوروں میں موجود ہے اس مقام پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہاں یہ تعبیر استعمال کیوں کی گئی ہے۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں جبکہ شہد کی مکھیوں کی زندگی کا سائنسدانوں نے نہایت دقتِ نظر کے ساتھ مطالعہ کیا ہے تو یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس عجیب و غریب جانور کا تمدن اور شگفت آمیز اجتماعی طرز حیات کئی حوالے سے انسان اور اس کی اجتماعی زندگی سے بڑھ کر ہے۔ گزشتہ زمانے میں اس کی عجیب و غریب زندگی کچھ تو واضح تھی لیکن عصر حاضر کی مانند اس کی زندگی کے ایک سے ایک بڑھ کر عجیب تر پہلو انسان کے سامنے نہ تھے۔ قرآن نے نہایت اعجاز آمیز انداز میں لفظ ”وحی“ کے ذریعے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کرے کہ شہد کی مکھی کی زندگی کا ہرگز چوپایوں اور دیگر جانوروں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا اس طرح سے قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس عجیب جانور کی اسرار آمیز دنیا میں قدم رکھیں اس کے خالق کی عظمت و قدرت سے آشنا ہوں اس آیت میں کلام کا لب و لہجہ بدلنے کا یہی راز ہے۔ ۳۔ شہد کی مکھی کا گھر: آیت میں سب سے پہلے شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اسے گھر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے شاید اس بات کا ذکر اس لئے کیا گیا ہو کہ مناسب گھر زندگی کی پہلی ضرورت ہے باقی کاموں کی باری بعد میں آتی ہے یا ہو سکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ مسدس کمروں کی شکل میں بنی ہوئی شہد کی مکھیوں کی عمارت جو شاید کئی ملین سالوں سے دنیا بھر میں یو نہی بنتی چلی آرہی ہے، ان کی زندگی کی ایک عجیب ترین بات ہو۔[ابھی تک شہد کی مکھیوں کی ۴۵۰۰ اقسام دریافت ہو چکی ہیں لیکن یہ بات بڑی عجیب ہے کہ مہاجرت اختیار کرنے میں ان کا طرز عمل، شہد بنانا، پھولوں کا رس چوسنا اور کھانا سب کچھ ایک جیسا ہے، (اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر جلد ۵ ص ۵۵)۔] یہاں تک کہ یہ تعبیر خود شہد بنانے سے عجیب تر۔ شہد کی مکھی کس طرح سے ایک خاص قسم کی موم تیار کرتی ہے اور کیسی عمدگی، نفاست اور صفائی سے پیمائش شدہ مسدسی کمرے بناتی ہے۔ بنیادی طور پر کسی ایک سطح سے اس طرح سے پورا استفادہ کرنا اس کا کوئی حصہ بے کار نہ رہ جائے یا اس کے زاویے اور کونے تنگ و تاریک نہ ہو ں اس کے لئے مسدس شکل میں بہتر مساوی رادیوں کا کوئی اور انتخاب نہیں ہو سکتا علاوہ ازیں ایسے گھروں میں پائیداری بھی ہوتی ہے۔ ۴۔ گھر کا انتخاب: جیسا کہ قرآن کہتا ہے ایسے گھر بعض اوقات پہاڑوں میں بنائے جاتے ہیں ناقابلِ عبور پتھروں کے درمیان ان کے ایسے خاص سوراخوں میں جو اس مقصد کے لئے بالکل مناسب ہوتے ہیں۔ کبھی شہد کی مکھیاں یہ گھر درختوں کی ٹہنیوں میں بناتی ہیں، اور گاہ ان گنبد نما جگہوں میں کہ جو لوگ ان کے لئے عرشوں کے اوپر بناتے ہیں۔ اس تعبیر سے ضمناً معلوم ہوتا ہے کہ شہد کا چھتہ پہاڑ، درخت اور عرشہ کی بلند جگہ پر ہونا چاہئیے تاکہ وہ اس سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد شہد کی مکھی کی دوسری ذمہ داری بیان کی گئی ہے قرآن کہتا ہے: اس کے بعد ہم نے اسے یہ وحی کی کہ تو تمام قسم کے پھلوں سے کھا۔ (ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ)۔ اور جو راستے تیرے رب نے تیرے لئے معین کئے ہیں ان میں بڑی راحت سے چل پھر۔ (فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً)۔ ”ذلل“ ”ذلول“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ”ہموار اور ”تسلیم“ یہ راستوں کی توصیف کے لئے آیا ہے اس لئے کہ یہ راستے اس باریک بینی کے ساتھ معین کئے گئے ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے سامنے تسلیم اور ہموار ہیں اس سلسلے میں ہم بعد ازیں وضاحت کریں گے۔ آخر میں ایک نتیجہ کی صورت میں ان کی مأموریت کا آخری مرحلہ بیان کیا گیا ہے: شہد کی مکھیوں کے اندر سے ایک خاص طرح کی پینے کی چیز نکلتی ہے جو مختلف رنگ کی ہوتی ہے (يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ)۔ یہ شراب حلال انسانوں کے لئے بڑی اہم شفا بخش چیز ہے (فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ)۔ شہد کی مکھیوں کی یہ زندگی انسان کے لئے غذا مہیا کرتی ہے اور شفا بھی اور سبق آموز بھی ہے اس میں اہل فکر و نظر کے لئے عظمت و قدرت پروردگار کی واضح نشانی ہے۔ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)۔ اس آیت میں بھی چند پر معنی اور قابل توجہ نکات ہیں۔

قابل توجہ نکات: ۱۔ شہد کس چیز سے بنتا ہے؟

شہد کی مکھیاں عموماً شکر کا خاص مادہ جو پھولوں کی جڑوں اور ابتدائی حصوں میں ہوتا ہے اسے چوستی ہیں اور اسے جمع کرتی ہیں لیکن ان مکھیوں کی شناخت رکھنے والے کہتے ہیں کہ مکھیاں پھولوں کے ابتدائی حصوں میں موجود شکر سے ہی استفادہ نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات پھولوں کے تخمدانوں نیز پتوں اور پھلوں کے ابتدائی حصوں سے بھی استفادہ کرتی ہیں۔ قرآن ان سب کو ”من کل الثمرات“ (سب پھلوں سے) تعبیر کرتا ہے۔ ایک ماہر حیاتیات مسٹر مٹرلینگ اس سلسلے میں عجیب بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے قرآنی تعبیر کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے وہ کہتا ہے: آج اگر شہد کی مکھی (پالتو یا جنگلی جس قسم کی بھی ہو) ختم ہو جائے تو ہمارے ایک لاکھ قسم کے نباتات، پھول اور پھل نابود ہو جائیں اور کیا معلوم کہ اصلاً ہمارا تمدّن ہی ختم ہو جائے۔[اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر جلد ۵ ص ۵۵]۔ اس نے یہ اس لئے کہا ہے کیونکہ نر پھلوں کے دانے بکھیرنے میں، مادہ پودوں کو حاملہ کرنے میں اور اس کے بعد پھلوں کی پرورش میں شہد کی مکھیوں کا کردار اس قدر عظیم ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک ان کا یہ کام شہد بنانے سے کہیں اہم ہے درحقیقت، شہد کی مکھیاں جو کچھ ان سے کھاتی ہیں وہ بالقوہ طرح طرح کے پھل ہیں کہ جو ان کی مدد سے صورت پذیر ہوتے ہیں اس صورت میں دیکھا جائے تو ”کل الثمرات“ کی تعبیر کس قدر معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔

۲۔ ہموار اور مطیع راستے

مکھیوں کا علم رکھنے والے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صبح کے وقت شہد کی مکھیوں کا ایک غول جو پھولوں کی پہچان پر مامور ہوتا ہے چھتے سے نکلتا ہے اور پھولوں سے بھری جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے لوٹ آتا ہے اور دوسروں کو اطلاع فراہم کرتا ہے اس طرح سے ان کی سمت اور پروگرام کا تعین ہوتا ہے اور چھتے سے ان کا فاصلہ بھی دوسروں پر واضح ہو جاتا ہے۔ شہد کی مکھیاں پھولوں کی جگہ تک پہنچنے کے لئے بعض اوقات اپنے راستے میں نشانیاں اور علامتیں مقرر کرتی ہیں وہ اپنے راستے میں مختلف قسم کی مہک پھیلا کر یا کسی اور طرح سے راستے کو معین کرتی ہیں اس کے باعث بہت کم امکان ہوتا ہے کہ کوئی مکھی راستے سے بھٹک جائے۔ ”فاسلکی سبل ربک ذللا“ (اپنے رب کے راستوں پر چل پھر کہ جو تیرے لئے مطیع اور ہموار کئے گئے ہیں)۔ یہ جملہ گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

۳۔شہد کہاں بنتا ہے؟

شاید ابھی تک بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ شہد کی مکھیوں کا طریقِ کار یہ ہے کہ وہ پھولوں کا شیرہ چوس کر منہ میں جمع کر لیتی ہیں اور پھر چھتے میں سٹور کر دیتی ہیں حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے وہ پھولوں کا شیرہ اپنے خاص بدن کے بعض خانوں میں بھیج دیتی ہیں ان خانوں کو مکھیوں کا علم رکھنے والے ”پوٹ“ کہتے ہیں۔ یہ جگہ در اصل ایک چھوٹے سے کیمیکل کارخانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پھولوں کے رس میں مختلف تغییرات اور تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور آخر کار یہ شہد کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پھر مکھی اس تیار شدہ شہد کو اپنے بدن سے باہر نکالتی ہے۔ یہ بات عجیب ہے کہ سورۂ نحل مکی سورتوں میں سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مکہ کے علاقے میں نہ پھل ہوتے ہیں نہ پھول اور نا ہی شہد کی مکھیاں لیکن قرآن اس بارے میں اس عمدگی اور باریکی سے گفتگو کر رہا ہے اور انتہائی دلکش انداز میں شہد بنانے کی تفصیلات بیان کر رہا ہے۔ مثلاً: یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ شہد کی مکھیوں کے اندر سے مختلف رنگوں کا ایک مائع نکلتا ہے۔

۴۔شہد کے مختلف رنگ

شہد کی مکھیاں جس رنگ کے پھل یا پھول پر بیٹھتی ہے اور اس کا رس چوستی ہے اس رنگ کے اعتبار سے شہد مختلف رنگوں کا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شہد کبھی سیاہ قہووں کی طر ح کا، کبھی چاندی کی سی سفیدی کے ساتھ، کبھی بے رنگ، کبھی زرد، کبھی شفاف، کبھی سیاہ، کبھی گولڈن، کبھی کھجور کی مانند یہاں تک کہ کبھی سیاہی مائل ہوتا ہے۔ رنگوں کا یہ تنوع شہد کے سرچشموں کے تنوع کو ظاہر کرنے کے علاوہ ذوق کے تنوع کا بھی غماز ہوتا ہے کیونکہ آج کے زمانے میں ثابت ہو چکا ہے کہ غذا کا رنگ انسان کی بھوک اور خواہش کو تحریک کرنے میں بہت ہی موثر ہوتا ہے۔ متقدمین بھی گویا اس نفسیاتی مسئلے کو پہچانتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی غذاؤں کو زعفران، ہلدی اور دوسرے رنگوں سے رنگین کرتے تھے تاکہ دیکھنے میں مہمانوں کو غذا اچھی لگے اور انھیں کھانے کے لئے تشویق پیدا ہو۔ غذا شناسی کی کتب میں اس ضمن میں بہت بحث کی گئی ہے کہ جسے تفسیر کی موجودہ حدود کے پیش نظر تمام تر نقل کرنا مناسب نہیں ہے۔

۵۔ شہد، غیر معمولی شفا بخش مادہ ہے

ہم جانتے ہیں کہ نباتات اور پھلوں میں حیات بخش دوائیں مخفی ہیں۔ آج بھی ہماری وسیع معلومات جڑی بوٹیوں اور نباتات میں دواؤں کی موجود صلاحیت کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ سائنس دان تجربے کے ذریعے اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ شہد کی مکھیاں شہد بناتے وقت اس مہارت سے کام کرتی ہیں کہ نباتات میں موجود دواؤں کے خواص پوری طرح شہد میں منقتل کر دیتی ہیں جو اس میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہد اس زمین کے بہت سے نباتات اور پھولوں کے معالجاتی خواص کا زندہ ثبوت ہے۔ سائنسدانوں اور ڈاکٹروں نے شہد کے بہت زیادہ خواص بیان کئے ہیں۔ ان خواص کا تعلق علاج معالجے سے بھی ہے، احتیاطی تدابیر سے بھی حصولِ قوت سے بھی۔ شہد بہت جلد خون میں جذب ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ قوت بخش ہے اور خون بنانے میں نہایت مؤثر ہے۔ شہد معدے اور انتڑیوں میں بد بو پیدا ہونے سے بچاتا ہے۔ شہد خشکی اور قبض کو دور کرتا ہے۔ شہد بے خوابی کے علاج کے لئے بہت مؤثر ہے۔ (بشرطیکہ تھوڑی مقدار میں پی جائے ورنہ اس کا زیادہ استعمال نیند کو کم کر دیتا ہے)۔ شہد تھکان کو دور کرنے اور پٹھوں کے کھچاؤ دور کرنے کے لئے اثر آفرین ہے۔ شہد حاملہ عورتوں کو دیا جائے تو ان کے بچوں کے اعصاب قوی کر دیتا ہے۔ شہد خون کے کیلیشیم میں اضافہ کر دیتا ہے۔ شہد کمزور ہاضمے کے لئے مفید ہے خصوصاً جن کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہو اطباء ان کے لئے اسے تجویز کرتے ہیں۔ شہد بدن کی تعمیر میں جلدی سے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیتا ہے لہٰذا فوری طور پر انرجی پیدا کرتا ہے اور قوٰی پر اثر انداز ہو تا ہے۔ شہد دل کو تقویت بخشتا ہے۔ شہد جگر اور پھیپھڑوں کے علاج کے لئے ایک اچھی دوا ہے۔ شہد جراثیم کش خاصیت کی بناء پر اسہال میں مبتلا افراد کے لئے مفید ہے۔ شہد معدے اور انٹریوں کے زخم کے علاج کے لئے مؤثر عامل شمار ہوتا ہے۔ شہد گھٹیا (Rlieumatism) پٹھوں کی بیماریوں اور عضلات کے نمو میں نقص کے علاج کے لئے مفید دوا ہے۔ شہد کھانسی کے علاج کے لئے مؤثر ہے اور آواز کو صاف کرتا ہے۔ خلاصہ, یہ کہ شہد دوا کے طور پر اس قدر خواص رکھتا ہے کہ اس مختصر سی کتاب میں بیان نہیں کئے جا سکتے۔ علاوہ ازیں, شہد سے جلد کی لطافت، چہرے کی خوبصورتی، طول عمر کے لئے پر تاثیر دوائیں بنتی ہیں۔ شہد منہ زبان اور آنکھ کے ورم دور کرنے کے لئے فائدہ مند دوائیں تیار کرنے کے کام آتا ہے۔ شہد جَلد تھک جانے کے علاج کے لئے بننے والی دواؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ شہد میں کئی ایک معدنیات اور وٹامن پائے جاتے ہیں مثلا ً۔ آئرن (Iron)، فاسفورس (Phosphorous) پوٹاشیم (Potasium)، میگنیشم (Magnesium) سیسہ (Lead)، تانبا (Copper) سلفر (Sulpher)، نکّل (Nickel)، کانسی (Bronze)، سوڈیم (Sodium) وغیرہ اس میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ اس میں گوند، پولن، لکٹک ایسڈ (Lactic)، فارمک ایسڈ (Formic) سڑک ایسڈ (Citric) ٹارٹارک ایسڈ (Tartaric Acid) اور معطر روغن بھی اس میں موجود ہوتا ہے۔ اس میں چھ طرح کے وٹامن پائے جاتے ہیں۔ اے، بی، سی، ڈی، کے اور ای۔ بعض خیال ہے کہ (پی۔ بی۔ وٹامن) بھی شہد میں ہوتے ہیں۔ شہد انسانوں کے علاج کے لئے بھی مفید ہے صحت کے استحکام کے لئے بھی اور خوبصورتی میں بھی خدمت گذار ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی روایات میں بھی دوا کی حیثیت سے شہد کی کاصیت کا بہت ذکر آیا ہے اس سلسلے میں حضرت امام علی علیہ السلام امام صادق علیہ السلام اور دیگر معصومین سے منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا: ما استشفی الناس بمثل العسل لوگوں کے لئے شہد کی سی شفا کسی بھی چیز میں نہیں ہے۔[وسائل الشیعہ جلد ۱۷ ص ۷۳ تا ص ۷۵]۔ یہ بھی حدیث ہے۔ لم یستشف مریض بمثل شربة عسل کسی مریض کے لئے شربتِ شہد سے بڑھ کر کوئی چیز شفا بخش نہیں ہے۔[وسائل الشیعہ جلد ۱۷ ص ۷۳ تا ص ۷۵] کئی ایک روایات میں درد دل کے علاج کے لئے شہد کو تجویز کیا گیا ہے رسول اکرم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: من شرب العسل فی کل شھر مرة یرید ماجاء بہ القراٰن عوفی من سبع و سبعین داء جو شخص مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ شربت شہد پئے اور خدا سے اس شفاء کا تقاضا کرے کہ جس کا قرآن میں ذکر ہے و ہ اسے ستر قسم کی بیماریوں سے شفا بخشے گا۔[سفینة البحار ، جلد ۲ ص۱۹۰] یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہر حکم کے استثنائی مواقع بھی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چند ایک ایسے مواقع بھی ہیں کہ جن میں شہد کے استعمال سے منع کیا گیا ہے۔

۶۔ ”للناس“ یعنی انسانوں کے لئے

یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ مکھیوں کا علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی کی بھوک ختم کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ دو یا تین پھلوں کو چوس لے جبکہ وہ ایک گھنٹے میں اوسطاً اٹھائی سو پھولوں پر بیٹھتی ہے اور کئی کلو میٹر سفر کرتی ہے اور اپنی مختصر سی عمر میں ڈھیر سا را شہد جمع کر لیتی ہے۔ بہرحال، اس کی یہ تگ و تازی اور کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صرف اپنے لئے کام نہیں کرتی بلکہ جیسا کہ قرآن کہتا ہے ”للناس“ (سب انسانوں کے) کرتی ہے۔

۷۔ شہد کے بارے میں دیگر اہم امور

موجودہ زمانے میں یہ نکتہ ثابت ہو چکا ہے کہ شہد کبھی بھی خراب نہیں ہوتا یعنی یہ ایسی غذا ہے جو ہمیشہ تازہ اور زندہ دستیاب رہتی ہے یہاں تک کہ اس میں موجود وٹامن کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ماہرین کے نزدیک اس کی وجہ اس پوٹاشیم کی فراواں موجودگی ہے۔ کہ جو جراثیموں کو پیدا نہیں ہونے دیتی۔ علاوہ ازیں، ایسا مواد بھی موجود ہے جو بدبو پیدا ہونے سے روکتا ہے مثلاً اس میں فارمک اسیڈ (Formic Acid) موجود ہے لہٰذا شہد میں جراثیم کی پیدائش روکنے کی خاصیت بھی موجود ہے اور جراثیم کشی کی بھی۔ قدیم مصری اسی بات کو جانتے ہوئے اپنے مردوں کو مومیانے کے لئے اسے استعمال کرتے تھے۔ شہد کو معدنیات سے بنے ہوئے برتنوں میں ذخیرہ نہیں کرنا چاہئیے یہ وہ بات ہے جو ماہرین بتاتے ہیں اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ قرآن شہد کی مکھیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے: من الجبال بیوتاً و من الشجر ومما یعرشون یعنی شہد کی مکھیوں کے گھر صرف پتھروں اور لکڑیوں میں ہوتے ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شہد کو بطور دوا استعمال کرنے کے لئے اور صحت کے لئے اس کے خواص سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ہرگز حرارت نہ پہنچائی جائے اور دوسری غذاؤں میں پکا کر اس سے استفادہ نہ کیا جائے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ قرآن نے شہد کے لئے جو”شراب“ (پینے کی چیز) کی تعبیر استعمال کی ہے یہ اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ اسے پیا جائے۔ نیز یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ شہد کی مکھی کا ڈنگ بھی معالجانہ خاصیت رکھتا ہے البتہ شہد کی مکھی اپنے لطیف مزاج کے باعث کسی کو ڈنگ نہیں مارتی۔ یہ تو ہم ہیں جو اسے ڈنگ مارنے پر ابھارتے ہیں۔ ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ شہد کی مکھی بدبو سے پریشان ہو جاتی ہے اگر کوئی شہد حاصل کرنے والا بدبو دار ہاتھ، بدبو دار لباس کے ساتھ چھتے کے قریب جائے تو اسے ضرور ڈستی ہے اگر اس نے پہلے کسی چھتے میں ہاتھ ڈالا ہو اور غیر چھتے کی بدبو اس کے ہاتھ میں لگی ہو تو دوسرے چھتے میں ہاتھ ڈالنے پر مکھیاں اس پر حملہ کر دیں گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھو لے۔ البتہ شہد کی مکھی جب ڈنگ مارتی ہے تو خود مر جاتی ہے اس بناء پر ڈنگ مارنا اس کی ایک طرح کی خود کشی ہے۔ مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے شہد کی مکھی کے ڈنگ سے استفادہ کیا جاتا ہے مثلاً گھٹیا (Rheumatism)، ملیریا، درد اعصاب وغیرہ۔ البتہ اس کے لئے اطباء کی راہنمائی کے مطابق استفادہ کرنا چاہئیے ورنہ شہد کی مکھی کا ڈنگ خطرناک بھی ہو سکتا ہے چند ایک مکھیاں ڈس لیں تو عموماً قابل برداشت ہوتا ہے لیکن دو سو سے لے کر تین سو تک مکھیاں ڈس لیں تو بہت زہر پیدا ہو جاتا ہے اور دل کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور اگر پانچ سے کی تعداد تک مکھیاں ڈس لیں تو عمل تنفس مفلوج ہو جانے اور موت کا احتمال بھی ہو تا ہے۔

۸۔ شہد کی مکھیوں کی عجیب و غریب زندگی

گزشتہ زمانے میں کم موجودہ زمانے میں بہت سے علماء و محققین کے پیہم مطالعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ شہد کی مکھیوں کی زندگی بہت ہی منظم ہوتی ہے ان کے ہاں بڑے سلیقے سے کام تقسیم ہوتا ہے بہت دقیق نظام کے تحت ذمہ داریاں بانٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کا شہر بہت زیادہ پاک و صاف اور متحرک زندگی سے بھر پور ہوتا ہے ان کا شہر عام شہروں سے بہت مختلف ہوتا ہے یہ روشن اور درخشاں تمدن کا حامل ہوتا ہے۔ اس شہر میں خلاف ورزی کرنے والے اور کاہل افراد بہت کم نظر آتے ہیں اگر کبھی چھتے کے باہر مکھیاں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بد بو دار اور نقصان دہ پھولوں کا رس چوس آئیں تو چھتے کے دروازے پر ہی اس سے باز پرس ہوتی ہے۔ پھر ایک کھلی عدالت لگتی ہے اور اس مقدمے کے ضمن میں اس کے قتل کا حکم صادر ہوتا ہے۔ بلجیم کے ماہر حیاتیات مڑلینگ نے شہد کی مکھیوں کے بارے میں بہت زیادہ مطالعہ اور تحقیق کی ہے اس نے ان کے شہر پر حکم فرما عجیب وغریب نظام کا گہرا مطالعہ کیا ہے، وہ لکھتا ہے: ملکہ (یا زیادہ صحیح الفاظ میں چھتہ کی ماں) مکھیوں کے شہر کی ایسے حکمران نہیں جیسا ہم تصور کرتے ہیں بلکہ وہ بھی اس شہر کے دیگر باسیوں کی طرح یہاں کے نظام اور قوانین کی فرمانبردار ہوتی ہے۔ ہمیں یہ علم نہیں کہ یہ نظام اور قوانین کہاں پر وضع ہوتے ہیں ہمیں انتظار ہے کہ شاید کسی دن اس بات کا ہمیں سراغ مل جائے اور ان قوانین کے بنانے والے کو ہم پہچان لیں لیکن فی الحال ہم اس قانون ساز کو ”چھتے کی روح“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ”چھتے کی روح“ کہاں ہے اور شہر میں رہنے والے کس فرد میں حلول کئے ہوئے ہیں لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ چھتے کی روح پرندوں کے مزاج اور طبیعت سے مشابہ نہیں ہے نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چھتے کی روح شہد کی مکھی کا اندھا ارادہ اور عادت نہیں ہے ”چھتے کی روح“ شہر میں رہنے والے ہر فرد کو اس کی استعداد کے مطابق ذمہ داری سونپتی ہے اور ہر کسی کا کسی نہ کسی کام پر لگاتی ہے۔ ”چھتے کی روح“ ماہر تعمیرات اور کاریگر مکھیوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ گھر بنائیں ”چھتے کی روح“ معین دن اور معین لحظے میں شہر کے تمام باسیوں کو حکم دیتی ہے کہ شہر سے ہجرت کر جائیں اور نیا مسکن تلاش کرنے کے لئے اپنے آپ کو ان دیکھے حوادث اور مشقتوں کے حوالے کر دیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ شہد کے قوانین جو ”چھتے کی روح“ کے ذریعے وضع ہوئے ہیں کس پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ہیں کہ جس نے انھیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کون ہے جو ایک معین دن چل پڑنے کا حکم صادر کرتا ہے۔ جی ہاں! چھتے میں مہاجرت کے یہ مقدمات اطاعتِ خدا میں فراہم ہوتے ہیں۔ وہی خدا کہ جس کے ہاتھ میں شہد کی مکھی کی تقدیر ہے۔[ کتاب زنبور عسل (شہد کی مکھی) تالیف مٹرلینگ ص ۳۵۔۳۶] مذکورہ دانش مند اپنی فکر و نظر میں موجود مکتب مادیت کے پرانے خیالات کی وجہ سے اس مسئلے پر اگر ابہام کے ساتھ گفتگو کرتا ہے تو ہماری نظر تو قرآن کی راہنمائی پر ہے ہم تو یہ بات اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ یہ آوازیں کہا سے آتی ہیں یہ نظام کہاں تربیت پاتا ہے، یہ پروگرام کہاں بنتا ہے انھیں منظم کرنے والا کون ہے اور کون ان کے لئے حکم جاری کرتا ہے۔ قرآن کتنی خوبصورت تعبیر کہتا ہے۔ اوحی ربک الیٰ النحل تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی و الہام کیا کیا اس سے زیادہ رسا، جامع، منہ بولتی اور ناطق تعبیر کا تصور ہو سکتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کے بارے میں جو کچھ بیان نہیں کیا جا سکا اگرچہ وہ بیان کئے جانے والے کی نسبت بہت زیادہ ہے لیکن ہماری طرز تفسیر اجازت نہیں دیتی کہ اس موضوع پر اس سے زیادہ گفتگو کریں۔[اولین دانش گاہ و آخرین پیامبر، زنبور عسل۔ تالیف مٹرلینگ ۳۔ شگفت ہائے ۔ عالم حیوانات۔ (غیر ایرانی مصنفین کی کتابوں کے فارسی ترجمے سے استفادہ کیا گیا ہے وغیرہ اور ترجمے ہی کا نام یہاں دیا گیا ہے۔ (مترجم) مندر جہ بالا مباحث میں شہد کی مکھیوں اور شہد کے خواص کے بارے میں ان کتابوں سے استفادہ کیاگیا ہے۔] لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے کیا یہی اہلِ فکر و نظر کے لیے عظمتِ پروردگار کا اندازہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جی ہاں ضرور ہے۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکّرون بے شک اس میں صاحبانِ فکر کے لیے عظمتِ پروردگار کی نشانی ہے۔

70
16:70
وَٱللَّهُ خَلَقَكُمۡ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمۡۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٖ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٞ قَدِيرٞ
اللہ نے تمہیں پیدا کیا، پھر وہی تمہیں مارے گا۔ تم میں سے بعض سخت بڑھاپے کو جا پہنچتے ہیں کہ علم و آگاہی کے بعد (ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ) کچھ نہیں جانتے (سب کچھ بھول جاتے ہیں ) بیشک خداآگاہ اور قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
16:71
وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلرِّزۡقِۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزۡقِهِمۡ عَلَىٰ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَهُمۡ فِيهِ سَوَآءٌۚ أَفَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
خدا نے تم میں سے بعض کو بعض دوسروں پر رزق میں برتری دی ہے (کیونکہ تمہاری کوشش میں فرق ہے) لیکن جنہیں برتری دی گئی ہے وہ اس بات پر تیار رہیں کہ اپنی روزی میں سے اپنے غلاموں کو دیں تاکہ سب کے سب برابر ہو جائیں کیا وہ نعمت خدا کا انکار کرتے ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
16:72
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةٗ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ أَفَبِٱلۡبَٰطِلِ يُؤۡمِنُونَ وَبِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ هُمۡ يَكۡفُرُونَ
اور اللہ نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور ان بیویوں سے تمہیں پوتے،نواسے اور بیٹے عطا فرمائے ہیں اور تمہارے لئے پاک چیزوں میں روزی قرار دی ۔کیا پھر یہ باطل پر ایمان لے آتے ہیں اور نعمت خدا کا انکار کرتے ہیں۔

رز ق میں اختلاف کا سبب

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

رز ق میں اختلاف کا سبب گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کچھ اہم نعمتوں اور عنایاt کا تذکرہ تھا کچھ نباتا ت اور حیوانات کی تخلیق کا بیان تھا تاکہ لوگ ان پر نظر کرتے ہوئے ان سب نعمتوں اور اس دقیق نظام کے خالق سے آشنا ہوں۔ زیر بحث آیات میں بھی ایک اور حوالے سے خالق یکتا کے اثبات کے مسئلہ پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ آیات نعمتوں کے تغیرات کے حوالے سے بات کرتی ہیں ایسے تغیرات کا ذکر ہے کہ جو انسانی اختیار سے باہر ہیں اور ان کا فیصلہ کسی اور کی جانب سے ہوا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ نے تمہیں پیدا کیا( وَاللهُ خَلَقَکُمْ) اس کے بعد وہ تمہاری روح کو لے لے گا ( ثُمَّ یَتَوَفَّاکُمْ)۔ زندگی بھی اسی کی طرف سے ہے اور موت بھی تاکہ تم جان لو کہ موت و حیات پیدا کرنے والے تم نہیں ہو لمبی عمر کا ہونا بھی تمہارے اختیار میں نہیں ہے بعض جوانی میں یا بڑھاپے کی سرحد پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن ” تم میں سے بعض لمبی عمر پاتے ہیں۔ عمر کے بدترین دَور یعنی انتہائی بڑھاپے تک جا پہنچتے ہیں (وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اَرْذَلِ الْعُمُر) [تشریحی نوٹ: ”ارذل“ ”رذل“کے مادہ سے پست، ناچیز اور حقیر شے کے معنی میں ہے ” ارذل العمر “ سے مراد بڑھاپے کا وہ دور ہے کہ جب ناتوانی اور نسیان انسان کو اس طرح سے آلے کہ وہ اپنی ابتدئی ضروریات بھی پورانہ کر سکے اسی بناء پر قرآن اس مدت کو عمر کا غیر مطلوب حصہ قرار دیتا ہے۔ بعض مفسرین اسے ۷۵سال کی عمر سمجھتے ہیں۔ بعض ۹۰ اور بعض ۹۵ شمار کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ یہ کوئی معین عمر نہیں ہے بلکہ شخص شخص میں فرق ہوتا ہے]۔ اور اس طولانی عمر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علم و آگاہی کے بغیر انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں (لِکَیْ لاَیَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا) [تشریحی نوٹ: لِکَیْ لاَیَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا “__ہو سکتا ہے عمر کے بالائی سالوں تک پہنچنے کا نتیجہ ہو۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ ان سالوں میں انسنا کے اعصاب اور دماغ تمر کز اور حافظہ کی طاقت گنوا بیٹھے ہیں اور انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فراموشی اور بے خبری میں گھرا ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ علت و سبب کے معنی میں ہو؛ یعنی: اللہ انہیں ان بالائی سالوں کی طرف لے جاتا ہے اس کی علت یہ ہے کہ ان پر حالتِ نسیان طاری کرے تاکہ یہ انسان جان لیں کہ ان کے پا سجو کچھ ہے کچھ بھی ان کی اپنی طرف سے نہیں ہے]۔ بعینہ اس کی حالت بچپن کی سی ہو جاتی ہے کہ جب بھول جاتا ہے اور ناآگاہ بھی تھا ۔جی ہاں ! ”خدا آگاہ اور قادر ہے“ (إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ قَدِیر)۔ تمام قدرتیں اسی کے اختیار میں ہیں وہ جس قدر مصلحت سمجھتا ہے عطا کرتا ہے اور جس موقع پر ضروری سمجھتا ہے لے لیتا ہے۔ اگلی آیت میں یہی بات جاری ہے اور فرمایا گیاکہ تمہاری روزی تک تمہارے اختیار میں نہیں ہے ” یہ خدا جو تم میں سے بعض کو رزق کے اعتبار سے دوسروں پر بر تری دیتا ہے۔ (وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ )۔ لیکن جنھیں یہ برتری دی گئی ہے ان کی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ جو کچھ ان کے اختیار میں ہے وہ اپنے غلاموں کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور انھیں اپنے اموال میں شریک نہیں کرتے کہ وہ بھی ان کے برابر ہو جائیں (فَمَا الَّذِینَ فُضِّلُوا بِرَادِّی رِزْقِھِمْ عَلَی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَھُمْ فِیہِ سَوَاءٌ )۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ جملہ مشرکین کے بعض احمقانہ افعال کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنے بتوں اور خدا وٴں کے لئے چوپاوں اور زرعی پیدا وار کا ایک حصہ مختص کر دیتے تھے حالانکہ یہ بے وقعت پتھر اور لکڑیاں ان کی زندگی پر ذرہ بھر اثر نہیں رکھتے تھے لیکن وہ اس بات پر تیار نہ تھے کہ اس دولت میں سے کچھ اپنے بے چارے غلاموں کو دیں کہ جو رات دن ان کی خدمت کرتے تھے۔

کیا رزق کی تفریق عدالت پر مبنی ہے؟

اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لوگوں میں تقسیم رزق میں اختلاف پیدا کرنا اللہ کے اصولِ عدالت و مساوات کے مطابق ہے جبکہ اصول ِ عدالت و مساوات کو انسانی معاشروں پر حاکم ہونا چاہئیے۔ اس سوال کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ رکھنا چاہئیے۔ ۱۔ اس میں شک نہیں کہ انسانوں میں موجود مادی فوائد وسائل اور آمد نی میں اختلاف کا ایک اہم حصہ ان کی استعداد اور صلاحیتوں میں اختلاف سے مربوط ہے۔ جسمانی اور وحانی صلاحیتوں فرق اقتصادی کارکردگی کی کمیت و کفییت کا سرچشمہ ہے اسی سے بعض کا حصہٴ رزق کم اور بعض کا زیادہ ہو جاتا ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ بعض اوقات ایسے حوادث پیش آتے ہیں کہ جو ہمارے نزدیک اتفاقات ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے بعض لوگوں کو زیادہ نعمات میسر آ جاتی ہیں لیکن انھیں استثنائی امور شمار کرنا چاہئیے لیکن اکثر امور کی بنیادوہی سعی و کوشش کی کمیت و کیفیت کا فرق ہے۔ البتہ ہماری مراد ایسے معاشر ے سے ہے جو صحیح نہج پر قائم ہو جو ظالمانہ لوٹ کھسوٹ سے پاک ہو نہ کہ ایسا معاشرہ جو منحرف اور کج رو ہو اور جو قوانینِ آفرینش اور انسانی بنیادوں پر قائم نظام سے ہٹ گیا ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم بعض لوگوں کو بے وقعت اور بے دست و پا سمجھتے ہیں لیکن ان کے پا س بہت وسائل اور مال و دولت ہوتی ہے ہم اس پر تعجب کرتے ہیں لیکن اگر ہم بعض لوگوں کو بے وقعت اور بے دست و پاسمجھتے ہیں لیکن ان کے پاس بہت وسائل اور مال و دلت ہوتی ہے ہم اس تر تعجب کرتے ہیں لیکن اگر ہم ان کے جسم، روح اور اخلاق پر زیادہ غور کریں اور سطحی مطالعے پر مبنی فیصلہ ایک طرف کر دیں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ کوئی نہ کوئی ایسی قوت رکھتے ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچے ہیں۔ ہم پھر یہ بات دہراتے ہیں کہ ہمارا موضوع بحث وہ صحیح و سالم معاشرہ ہے کہ جو ظالمانہ لوٹ کھسوٹ سے پاک ہو۔ بہرحال، آمدن اور وسائل کا یہ فرق صلاحیتوں کے فر ق پر مبنی ہے اور یہ صلاحتیں نعماتِ الہٰی ہیں البتہ ہو سکتا ہے کہ چند مواقع پر یہ اکتسابی ہوں۔ لیکن بعض مواقع یقینا غیر اکتسابی ہوتے ہیں اور اس بناء پر ایک صحیح و سالم معاشرے میں بھی اقتصادی لحاظ سے آمدن کا فرق قابل انکار نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم سب لوگوں کا ہم شکل، ہم رنگ، ہم استعداد اور ہم قالب بنا سکیں۔ سب لوگ ایسے ہو جائیں کہ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق باقی نہ رہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ ۲۔انسان، درخت یاپھول کے پودے کو دیکھیے کیا ممکن ہے کہ ان کے بدن کی متناسب عمارت اعضاء کے لحاظ سے مساوی ہو۔ کیا پودے کی جڑیں اس کے پھولوں کی نازک پتیوں جیسی ہو سکتی ہیں؟ کیا انسان کی ایڑی کی ہڈی اس کی آنکھ کی لطیف پتلی کے ہر لحاظ سے مساوی ہو سکتی ہے اور اگر ہم انھیں یکساں کر سکیں تو کیا آپ سمجھیں گے کہ ہم نے صحیح کام انجام دیا ہے۔ پرفریب اور شعور سے عاری نعروں سے قطع نظر کر کے فرض کیجئے کہ ایک دن ہم ہر لحاظ سے ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے خیالی انسان بنا لیں پوری دنیا کو پانچ ہزار ملین (۵/ارب) ایسے انسان سے بھر دیں جو ہم شکل، ہم لباس، ہم ذوق، ہم فکر اور ہر لحاظ سے یکساں ہیں۔ کسی کار خانے سے نکلنے والے ایک ہی برانڈ کے سگرِٹوں کی طرح۔ تو ذرا سوچیں کہ کیا اس روز انسانوں کو اچھی زندگی نصیب ہو جائے گی۔ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ دنیا ایک جہنم بن جائے گی۔ سب کے سب ایک مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے سب کے سب ایک ہی طرف چل پڑیں گے سب کے سب ایک ہی چیز چاہیں گے سب ایک پوسٹ کے خواہش مند ہو ں گے، سب ایک ہی قسم کی غذائیں چاہیں گے اور سب ایک کام کرنا چاہیں گے۔ ظاہر ہے اس قسم کی زندگی بہت ہی جلد ختم ہو جائے گی اور فرض کریں کہ وہ باقی رہ جائے تو ایک تھکا دینے والی بے روح، بے کیف اور ایک ہی طرز کی زندگی ہو گی۔ ایسی زندگی جو موت سے زیادہ مختلف نہ ہو گی۔ لہٰذا صلاحیتوں کا اختلاف اور اس کے لوازم نظام کی بقا کے لئے ناگریز ہے بلکہ ایسا ہونا استعداد و صلاحیت کی نشو ونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ پر فریب نعروں سے اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ کوئی ہماری اس گفتگو کا یہ مطلب سمجھنے لگے کہ ہم طبقاتی معاشرے اور لوٹ کھسوٹ اور استعماری نظام کو قبول کرتے ہیں نہیں ہر گز نہیں ہماری مراد طبعی اور فطری اختلاف ہے نہ کہ مصنوعی ہماری مراد وہ تفاوت اور فرق ہیں کہ جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہیں نہ کہ ایک دوسرے پر تجاوزو ظلم کرنے والے۔ طبقاتی فرق (توجہ رہے یہاں طبقاتی فرق سے مراد اس کا وہی اصلاحی مفہوم ہے یعنی ایک لوٹ کھسوٹ کرنے والا طبقہ اور دوسرا جسے لوٹا جا رہا ہے) ہر گز نظام آفرینش سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نظام ِ خلقت سے ہم آہنگ استعدا اور کوشش کا فرق ہے اور ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ (غور کیجئے گا) دوسرے لفظوں میں استعداد کے اختلاف کو اصلاح و تعمیر کے لئے استعمال ہو نا چاہیئے جیسے ایک بد ن کے اعضاء کا اختلاف ہوتا ہے جیسے ایک پھول کے پودے میں مختلف حصوں کا اختلاف ہوتا ہے وہ اختلاف کو ایک دوسرے کے مزاحم نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ آمدن کے اختلاف سے طبقاتی معاشرہ پیدا کرنے کے لئے سوء ِ استفادہ نہیں کرنا چاہیئے۔ اسی بناء پر زیر بحث آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ نعمت ِ خدا کا انکار کرتے ہیں (اَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُونَ )۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ اختلاف فطرت کی صورت میں ہوں نہ کہ مصنوعی اور ظالمانہ صورت میں خدا کی نعمت ہیں اور انسان کے نظام معاشرہ کی حفاظت کے لئے ہیں۔ زیر بحث آخری آیت گزشتہ دو آیات کی طرح لفظ”اللہ“ سے شروع ہوتی ہے اس میں نعماتِ الہٰی کا ذکر ہے اس میں انسان کی انفرادی قوت، انسان کے معاونین اور مددگاروں اور اسی طرح پاکیزہ رزق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ان تین آیتوں میں جن نعمتوں کا ذکر شروع ہوا ہے اس کی تکمیل ہ وجاتی ہے یعنی بات زندگی اور موت کے نظام سے شروع کی گئی ہے پھر رزق اور استعداد میں فرق کا ذکر ہے کہ جو زندگی میں تنوع کا باعث ہے اور آخری آیت میں نسل انسانی کے زیادہ ہونے اور پاکیزہ رزق کی طرف اشارہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے تمہاری نوع میں سے تمہارے لئے بیویاں بنائی ہیں (وَاللهُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اَنفُسِکُمْ اَزْوَاجًا)۔وہ بیویاں کہ جو تسکین ِ جسم کی باعث بھی ہیں اور بقاء کا ذریعہ بھی اسی لئے ساتھ ہی اضافہ کیا گیا ہے: اور تمہاری بیویوں کے ذریعے تمہیں بیٹے، پوتے اور نواسے عطا کئے ہیں(وَجَعَلَ لَکُمْ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِینَ وَحَفَدَةً)۔ ”حفدة“، ”حافد“ کی جمع ہے۔ دراصل اس کا معنی ہے وہ شخص جو کسی جزا کی توقع کے بغیر تعاون کرے۔ لیکن زیر نظر آیت میں بہت سے مفسرین کے نظرے کے مطابق ”حفدة“ اس سے مراد پوتے اور نواسے ہیں۔ بعض اس سے مرا د صرف نواسے لیتے ہیں اور بعض نے ”بنین“ سے چھوٹے بیٹے مراد لیا ہے اور ”حفدة“ سے بڑے بیٹے کہ جو مدد اور ہمکاری کر سکتے ہیں۔ بعض نے ”حفدة“ مراد ہر طرح کے معاون و مدد گار لئے ہیں چاہے وہ بیٹے ہوں یا کوئی اور۔ [تشریحی نوٹ: اس صورت میں ” حفدة“ کا عطف” بنین“ پر ہونا چاہیئے بلکہ ” ازدواج“ پر ہو نا چاہئیے یہ خلاف ظاہر ہے۔ جبکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ ”بنین“پر ہی عطف ہے (غور کیجئے گا)۔ بہرحال، اس میں شک نہیں ہر شخص کے ارد گرد، بیٹوں، پوتوں اور نواسوں اور بیویوں کی صورت میں انسانی قوتوں کا وجود اس کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے یہ روحانی لحاظ سے بھی مدد کرتے ہیں اور مادی لحاظ سے بھی۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اللہ نے تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا ہے (وَرَزَقَکُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ )۔ ”طیبات“کا یہاں وسیع مفہوم ہے اس میں ہر قسم کے پاکیزہ رزق شامل ہے چاہے وہ مادی پہلو سے ہو یا روحانی پہلو سے، انفرادی حوالے سے۔ آخر میں اس بحث سے نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے:کیا وہ خدا کی عظمت و قدرت کے یہ سب آثار دیکھنے کے باوجود اس کی جانب سے اپنے اوپر ہونے والی ان تمام نعمتوں کے باوجود بتوں کے پیچے لگے ہوئے ہیں ” کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں (اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللهِ ھُمْ یَکْفُرُونَ )۔ یہ ان کا کیسا غلط طرز عمل ہے کہ وہ نعمتوں کے سرچشمے کو فراموش کر کے اس کے پیچے جاتے ہیں کہ ان کی زندگی پر کچھ بھی اثر نہیں رکھتا اور ہر لحاظ سے ” باطل“ کامصداق ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ رزق کے اسباب اور سر چشمے

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ خدا داد صلاحیتوں اور نعمتوں کے لحاظ سے انسان مختلف ہیں لیکن کامیابیوں کی اصل بنیاد انسان کی سعی و کوشش اور جدو جہد ہی ہے۔ زیادہ کوشش کرنے والے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں اور سست و کم و کوش محروم رہتے ہیں۔ اسی بناء پر انسان کے نصیب کو اس کی سعی و کوشش سے مربوط قرار دیتا ہے اور صراحت سے کہتا ہے: و ان لیس للانسان الا ما سعیٰ یقینا انسان کے لئے بس وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے (نجم۳۹) نیز اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ درست راستے کا انتخاب،امانتداری ، نظام قوانینِ الہٰی کی پاسداری اور عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق عمل بھی اس میں غیر معمولی اثر رکھتا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ولو ان اھل القریٰ اٰمنوا و اتقوا لفتحنا علیھم برکات من السماء و الارض اگر شہروں اور قصبوں کے باسی ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں توہم ان پر زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیں۔ (اعراف۹۶) نیز وہ فرماتا ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً و یرزقہ من حیث لایحتسب جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اسے رزق کی فراوانی عطا کرتا ہے اور جہاں سے اسے گمان نہیں ہوتا وہاں سے عطا کرتا ہے۔ (طارق۲،۳) اسی بناء پر انفاق اور راہ خدا میں خرچ کرنے کو وسعت رزق کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: ۔ ان تقرضوا اللہ قرضاًحسناً یضاعفہ لکم اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اسے کئی گناہ کر دے گا۔ (تغابن۱۷) شاید یاددہانی کی ضرورت نہ ہو کہ اجتماعی زندگی میں سے ایک فرد یا ایک گروہ کے چلے جانے سے سارے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لئے فرد کی نگہداری اور مدد کرنا سارے معاشرے کے لئے فائدہ مند ہے (اس لئے کہ معنوی اور انسانی پہلووٴں سے قطع نظر بھی یہ فائدہ ہے )۔ خلاصہ یہ کہ معاشرے کے اقتصادی نظام پر تقویٰ، درست روی، پاکیزگی، امداد باہمی ایک دوسرے سے تعاون اور اتفاق کے اصول کار فرما ہوں تو وہ طاقتور اور سر بلند ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس معاشرے میں لوٹ کھسوٹ، دھوکا دہی، غارتگری، تجاوز اور دوسروں کو نظر انداز کر دینے کا عمل جاری ہوتو وہ اقتصادی لحاظ سے پس ماندہ رہے گا اور اس کی مادی زندگی بھی پراگندگی اور انتشار کا شکار ہو جائے گی۔ اسلامی روایات میں حصول رزق کے لئے سعی و کوشش پر زور دیتے ہوئے اسے تقویٰ کے ساتھ ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ۔ لاتکسلوا فی طلب معایشکم فان اٰبائنا کانوا یرکضون فیھا و یطلبونھا حصول رزق میں سستی سے کام نہ لو۔ کیونکہ ہمارے آباء اجداد اس راہ میں دوڑتے تھے اور اسے طلب کرتے تھے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲ص۴۸)۔ ان ہی امام بزرگوار سے منقول ہے: الکاد علی عیالہ کالمجاھد فی سبیل اللہ جو شخص اپنے اہل و عیال کے تلاش رزق کے لئے نکلتا ہے وہ مجاہدِ راہ خدا کی طرح ہے۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص۴۳) یہاں تک کہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان صبح سویرے جتنی جلدی ہو سکے اپنے گھروں نکلیں اور اپنی زندگی کے لئے سعی و کوشش کریں۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۲ص۵۰) وہ اشخاص کہ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ان میں سے وہ افراد بھی شامل ہمیں جن کا جسم صحیح و سالم ہو مگر وہ گھر میں پڑے رہتے ہوں اور کشایش رزق کے لئے صرف دعا کرتے رہتے ہوں۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پھر بہت سی روایات میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ روزی خدا کے ہاتھ میں ہے اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل دو نکات کی طرف توجہ کرنا چاہئیے: ۱۔ اسلامی مصادر میں غور و خوض کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ ہو یا کوئی اور، جو آیات و روایات ابتدائی نظر میں ایک دوسرے سے متضاد نظر آتی ہے دراصل، ان میں سے ہر ایک مسئلے کے ایک پہلو کے بارے میں ہوتی ہے جبکہ دوسرے پہلوؤں سے غفلت کے باعث تضاد کا شک گذرتا ہے۔ وہ مقام کہ جہاں لوگ دنیا پر ریجھ جاتے ہیں ان کا حرص بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ مادی دنیا کی زرق و برق زندگی کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کسی جرم اور زیادتی سے نہیں چوکتے وہاں پیہم تاکیدی احکام کے ذریعے انھیں اس دنیا کی ناپائیداری اور دنیاوی مال و جاہ کی بے وقعتی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جبکہ وہ مقام کہ جہاں کچھ لوگ زہد و تقویٰ کے بہانہ سے کام اور سعی و کوشش سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں وہاں انھیں محنت، کام کاج اور کوشش کی اہمیت یا دلائی گئی ہے۔ دراصل ،سچے رہبروں کا یہی طرز عمل ہونا چاہئیے کہ وہ افراط سے بھی مناسب طریقے سے روکیں اور تفریط سے بھی۔ جن آیات و روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ رزق خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس نے ہر شخص کا حصہ معین کیا ہوا ہے درحقیقت یہ حرص و طمع، دنیا پرستی اور بے اصول و بےحدود سمیٹنے سے روکنے کے لئے ہے اور ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان کے نشاط کار کے ولولوں کو ختم کر دیا جائے۔ اور ایک آبر ومندانہ، خود کفایت اور اپنے قدموں پر کھڑی زندگی کی جدو جہد کو ختم کر دیا جائے۔ اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان روایات کی تعبیر واضح ہو جاتی ہے کہ جن میں کہا گیا ہے کہ بہت سی روزیاں ایسی ہیں کہ اگر تم ان کے پیچے نہ جاؤ تو وہ تمہارے پیچھے آئیں گی۔ ۲۔ توحیدی نقطہ نگاہ سے کائنات کو دیکھا جائے تو ہر چیز خد اکی طرف منتہی ہوتی ہے اور ایک خدا پرست سچا موحد کسی چیز کو اپنی طرف سے نہیں سمجھتا بلکہ اس تک جو بھی نعمت پہنچی ہے اس کا سر چشمہ خدا ہی کو جانتا ہے وہ کہتا ہے۔ بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر ہر طرح کی نیکی اور خیر کی کلید تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر اور توانا ہے (آلِ عمران ۲۶) اس لحاظ سے ایک حقیقی توحید پرست کو ہر موقع پر اس حقیقت کی طرف متوجہ رہا چاہئیے یہاں تک کہ اس کی سعی و کاوش، فکر اور آلات و اسباتِ پیداوار بھی دراصل ،خدا ہی کی طرف سے ہیں۔ اس کی نگاہِ لطف لمحہ بھر کے لئے پھر جائے تو سب کچھ ختم ہو جائے۔ خدا پر ایمان رکھنا والا ایک شخص جب کسی سواری پر سوار ہوتا ہے تو کہتا ہے: سبحان الذی سخر لنا ھٰذا پاک ہے وہ خدا کہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیا ہے۔ جب وہ کوئی نعمت پاتا ہے تو زمزمہٴ توحید اس کے ہونٹوں سے نکلتا ہے: وما بنا من نعمة فمنک ہمارے پاس جو بھی نعمت ہے بار الہٰا ! تیری طرف سے ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کی نجات کے لئے جب کوئی قدم اٹھاتا ہے تو انبیاء کی پیروی میں کہتا ہے: ۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت و الیہ انیب میری توفیق صرف اللہ کی طرف سے، میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور میں ایس کی طرف پلٹتا ہوں (ہود،۸۸) لیکن ان تمام مباحث میں جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہے کہ تلاش رزق کو نکلنا چاہیئے۔ سعی و کو شش کرنا چاہئیے اور ا س کے لئے مثبت اور اصلاحی راستہ اختیار کرنا چاہئیے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ راستہ کہ جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک ہو۔ رہی اس روزی کی بات کہ جو انسان کو بغیر کوشش کے مل جاتی ہے تو وہ فرعی مسئلہ نہ کہ اساسی اور بنیادی۔ شاید اسی بناء پر حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلمات قصار میں پہلے درجے میں اس رزق کا ذکر فرمایا ہے کہ انسان جس کے لئے نکلتا ہے اور اس کے بعد رزق کا جو خود انسان کے پیچھے آتا ہے۔ یا بن اٰدم! الرزق رزقان: رزق تطلبہ ورزق طلبہ اے ابن آدم ! رزق دو قسموں کا ہوتا ہے ایک وہ کہ جس کی تلاش میں تو نکلتا ہے اور دوسرا وہ کہ جو تیری تلاش میں آتا ہے ( بحوالہ: کتب دعا میں اس جملے کا ذکر نماز عصر کی تعقیبات میں کیا گیا ہے)۔

۲۔ دوسروں سے برابری کا سلوک

زیر نظر آیات میں بہت سے انسانوں کی تنگ نظری اور بخل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: فرمایا گیا ہے کہ وہ اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ان کے اختیار میں جو بہت سے نعمتیں دی گئی ہیں وہ اپنے زیر دست افراد کو بخشیں البتہ وہی لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو انبیاء اور ہادیان الہٰی کے تربیتی مکتب کے تربیت یافتہ ہیں۔ ان روایا ت کے ضمن میں کئی ایک روایات میں مساوات اور مواسات کی تاکید کی گئی ہے۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں اس سلسلے میں ہے: لایجوز للرجل ان یختص نفسہ بشیء من الماٴکول دون عیالہ کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے لئے گھر میں مخصوص غذا رکھے اور وہ کچھ کھائے کہ جس سے اس کے گھر والے محروم رہیں۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ ، کلمات قصارص ۳۷۹)۔ نیز حضرت ابوذر سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا: انما ھم اخوانکم فاکسوھم مما تکسون، و اطعموھم مما تطعمون، فما رؤی عبدہ بعد ذٰلک الا و ردٰئہ، ردئہ و ازارہ ازارہ، من غیر تفاوت۔ جو افراد تمہارے زیرِ دست اور ماتحت ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں جو کچھ خود پہنتے ہو انھیں پہناؤ اورجو کچھ خود کھاتے ہو انھیں کھلاؤ۔ رسولؐ اللہ کی اس وصیت کے بعد ابوذر کا طرز عمل اپنے ماتحت افرد سے یہ تھا کہ ان کا لباس ان کے اپنے لباس سے بالکل مختلف نہ ہوتا تھا۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص۶۸)۔ مذکور ہ روایات اور اسی طرح خود زیر بحث آیت کہ جو کہتی ہے ”فھم فیہ سوآءُ“(بس وہ اس میں مساوی ہیں ) سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نصیحت کرتا ہے کہ تمام مسلمان اسلامی اخلاق کے طرز عمل کے طور پر اپنے گھر کے تمام افراد اور اپنے تحت افراد سے حتی الامکان مساوات کریں اور برابری کا سلوک کریں گھریلو ماحول اور اپنے ماتحت افراد میں اپنے لئے کوئی امتیاز نہ برتیں۔

73
16:73
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ رِزۡقٗا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ شَيۡـٔٗا وَلَا يَسۡتَطِيعُونَ
اور خدا کو چھوڑ کر کچھ ایسے موجودات کی پرستش کرتے ہیں کہ جو آسمانوں اور زمین میں سے ان کے رزق کے مالک نہیں ہیں اور یہ کام جن کے بس کا نہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
16:74
فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
لہٰذا اللہ کیلئے امثال (اور شبیہ) کا عقیدہ نہ رکھو کیونکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

خدا کے لئے شبیہ کا عقیدہ نہ رکھو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں توحید کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیر بحث آیات میں مسئلہ شرک کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ سرزنش و ملامت کے لہجے میں فرمایا گیا ہے: وہ خدا کو چھوڑ کر ایسے موجودات کی پرستش کرتے ہیں کہ جو آسمان و زمین میں سے ان کی روزی کے مالک نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ان کا ذرہ بھر بھی کوئی اثر نہیں (وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا )۔ نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں وہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ خلق و ایجاد اور ان پر دست رسی کی طاقت نہیں رکھتے (وَلاَیَسْتَطِیعُونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مشرکین اس لئے بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے کہ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی زندگی اور نفع ونقصان میں کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ رزق کا مسئلہ انسانی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے چاہے وہ آسمان سے بارش کے حیات بخش قطروں اور سورج سے زندگی بخش شعاعوں کی صورت میں ہو یا وہ زمین سے نکلنے والا ہو اس میں سے کچھ بھی بتوں کے اختیار میں نہیں وہ تو بے اہمیت اور بے قیمت موجودات ہیں کہ جن کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا یہ تو صرف خرافات اور جہالت پر مبنی تعصبات ہیں کہ جھنہوں نے انھیں اہمیت دے رکھی ہے۔ در حقیقت ”لایستطیعون “”لایملکون“ ( وہ کسی چیز کے مالک نہیں ) کی دلیل ہے اس لئے کہ وہ ان کی خلقت یا حفاظت کی ذرہ بھر قدرت بھی نہیں رکھتے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اب جبکہ ایسا ہے تو پھر خدا کی کسی مثل، شبیہ اور نظیرکے قائل نہ بنو( فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّہِ الْاَمْثَالَ)۔ کیونکہ خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے( إِنَّ اللهَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ )۔ بعض مفسرین کاکہنا ہے کہ ”فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّہِ الْاَمْثَال“ زمانہ جاہلیت کے مشرکین کی ایک منطق کی طرف اشارہ ہے ( ہمارے زمانے کے بعض مشرکین بھی یہ بات کرتے ہیں ) وہ کہتے تھے کہ اگر ہم بتوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں تو ا س کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس لائق نہیں کہ خدا کی پرستش کریں لہٰذا ہمیں بتوں کی طرف رجوع کرنا چاہئیے کہ جو ا س کے مقرب بارگاہ ہیں۔ خدا ایک عظیم شہنشاہ کی طرح ہے کہ جو وزراء اور خواص ہی اس سے رابطہ کر سکتے ہیں اور عام لوگ جن کی اس بادشاہ تک رسائی نہیں وہ بادشاہ کے قریبی خواص اور مقربین کے پیچھے ہی لگیں گے۔ اس قسم کی قبیح اور غلط منطق بہت خطرناک ہے بعض اوقات بڑے انحرافی انداز میں اسے خوب صورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: خدا کے لئے مثالیں بیان نہ کرو۔ یعنی ایسی مثال اس کے لئے پیش نہ کرو جو محدود افکار اور ممکن موجودات کے حوالے سے ہو اور نقائص سے مامور ہو کیونکہ ایسی مثال اس سے مناسبت نہیں رکھتی تو اگر اس امر کی طرف توجہ رکھتے کہ تمام موجودات اللہ کے احاطہ وجودی میں ہیں اور اس کے غیر متناعی لطف و رحمت کے سایے میں ہیں اور وہ خود تم سے تمہاری نسبت زیادہ نزدیک ہے تو کبھی بھی وسائط و وسائل کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔ وہ خدا جو براہ راست اپنے سے راز و نیاز اور گفتگو کی دعوت دیتا ہے اور جس نے اپنے گھر کے دروازے شب و روز تمہارے لئے کھول رکھے ہیں اسے کسی جابر و متکبر بادشاہ سے تشبیہ نہیں دینا چاہئیے کیونکہ یہ باد شاہ تو محل نشیں رہتے ہیں اور گنتی کے چند افراد کے سوا کوئی ان کے محل میں نہیں جاسکتا (فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّہِ الْاَمْثَال) صفات خدا کی بحثوں میں ہم اس نکتے کی طرف خصوصی طور پر متوجہ ہوتے ہیں کہ صفات الہٰی کی شناخت کی راہ میں تشبیہ کا مسئلہ نہایت خطرناک ہے یعنی اس کی صفات کو بندوں پر قیاس کرنا اور ان سے مشابہ قرار دینا کیونکہ خدا ہر لحاظ سے ایک لامتناہی وجود ہے اور دوسرے لحاظ سے محدود وجود ہیں لہٰذا ہر قسم کی تشبیہ و تمثیل ہمیں اس کی ذات سے دور لے جائے گی۔ یہاں تک کہ جہاں ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس کی ذات مقدس کو نور یا اس قسم کی چیز کے ساتھ تشبیہ دیں وہاں بھی ہمیں متوجہ رہنا چاہئیے کہ ایسی تشبیہات بہر حال ناقص اور نا رسا ہیں اور صرف کسی ایک پہلو سے قابل قبول ہیں نہ کہ ہر پہلو سے (غور کیجئے گا)۔ جبکہ بہت سے لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور زیادہ تر تشبیہ و قیاس کی گمراہ کن وادیوں میں گھر جاتے ہیں ، اور حقیقتِ توحید سے بہت دور جا پڑتے ہیں لہٰذا قرآن بار بار بیدار کرتا ہے اور تنبیہ کرتا ہے کبھی کہتا ہے: ولم یکن لہ کفواً احد کوئی چیز اس کے ہم پلہ اور اس کی مثل نہیں۔ (اخلاص ۔ ۴) کبھی کہتا ہے: لیس کمثلہ شیء کوئی شے اس کی مانند و مثل نہیں ہے۔ ( شورایٰ ۔ ۱۱) کبھی فرماتا ہے: فلا تضربوا للہ الامثال یہ دراصل، اسی حقیقت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے ہے اور شاید ” ان اللہ یعلم و انتم لاتعلمون “ ( خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) اسی مسئلے کی طرف اشارہ کر رہا ہو کہ عام لوگ صفاتِ الہٰی کے اسرار سے بے خبر ہیں۔

75
16:75
۞ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
خدا نے مثال بیان کی ہے اس مملوک غلام کی جس کے قدرت میں کوئی چیز نہیں اور اس (با ایمان) انسان کی جسے اچھا رزق بخشا گیا ہے اور وہ چھپ کر اور ظاہر اس میں سے عطائے خدا میں خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟حمد و شکر خدا کیلئے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
16:76
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا رَّجُلَيۡنِ أَحَدُهُمَآ أَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوۡلَىٰهُ أَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأۡتِ بِخَيۡرٍ هَلۡ يَسۡتَوِي هُوَ وَمَن يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور اللہ نے دو افراد کی (ایک اور) مثال بیان فرمائی ہے کہ جن میں سے ایک مادر زاد گونگا ہے کہ جو کچھ نہیں کر سکتا اور اپنے ساتھی پر بوجھ ہے اسے جس کام کیلئے بھی بھیجا جائے اچھا عمل انجام نہیں دیتا ۔کیا ایسا شخص اس انسان کے برابر ہے جو عدل و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے اور راہ مستقیم پر قائم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 77 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
16:77
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَآ أَمۡرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمۡحِ ٱلۡبَصَرِ أَوۡ هُوَ أَقۡرَبُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
زمین اور آسمانوں کا غیب اللہ کیلئے ہے( اور وہی سب کچھ جانتا ہے )اور قیامت کا معاملہ اس کیلئے بالکل پلک جھپکنے یا اس سے بھی معمولی کام کی طرح ہے کیونکہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

مومن اور کافر کے لئے مثالیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور مومنین و مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں دو زندہ اور روشن مثالوں کے ذریعے ان کی حالت کو واضح کیا گیا ہے۔ پہلی مثال میں مشرکین کو اس غلام مملوک سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے بس میں کچھ نہیں ہوتا اور مومنین کو غنی و بے نیاز انسان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو اپنے وسائل سے سب کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ غلام مملوک کا ذکر بطور مثال کرتا ہے کہ جس کے بس میں کچھ بھی نہیں ( ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ)۔ نہ تکوین میں اس کی کوئی قدرت ہے اور نہ تشریع میں۔ کیونکہ ایک طرف وہ ہمیشہ اپنے آقا کی قید میں ہوتا ہے اور ہر لحاظ سے محدود ہوتا ہے اور دوسری طرف اسے اپنے مال میں (وہ بھی اگر ہو تو) کوئی حق تصرف نہیں ہوتا اور اسی طرح اپنی ذات سے متعلق دیگر امور میں بھی وہ آزاد نہیں ہوتا ۔ جی ہاں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ بندوں کا غلام اور بندہ ہونے کا نتیجہ قید اور ہر لحاظ سے محدود یت کے سوا کچھ نہیں ۔جبکہ اس کے مقابلے میں آزاد انسان کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے رزق حسن اور طرح طرح کی روزی اور پاکیزہ نعمتیں میسر ہوں (وَمَنْ رَزَقْنَاہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا )۔ ان آزاد انسانوں کے پاس بہت سے وسائل ہیں کہ جن سے وہ چھپ کر بھی اور اعلانیہ بھی خرچ کرتے ہیں اور انفاق کرتے ہیں (فَھُوَ یُنفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَجَھرًا)۔ کیا یہ دونوں افرد برابر ہیں ( ھلْ یَسْتَوُونَ )۔ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہے لہٰذا ”تمام حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے۔ (الْحَمْدُ لِلَّہِ )۔ وہ اللہ کے جس کا بندہ آزاد قدرت مند بھی ہے اور عطا کرنے والا بھی جبکہ بتوں کے بندے ناتواں، محدود، بے قدرت اور قیدی ہیں” لیکن ان (مشرکین) میں سے اکثر نہیں جانتے (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْلَمُونَ )۔ (تشریحی نوٹ: جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے ا سکے مطابق مذکورہ بالا مثال مومن اور کافر کےلئے ہے لیکن بعض مفسرین نے اس تشبیہ کے لئے ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ بتوں کو مملوک غلام سے خدا کو اس آزاد ومومن سے تشبیہ دی جائے کہ جو صاحب نعمات ہے اور اس میں سے خرچ کرتا ہے لیکن بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے]۔ اس کے بعد ایک اور مثال بتوں کے بندوں اور سچے مومنین کے بارے میں بیان کی گئی ہے بتوں کے بندوں کو مادر زاد گونگوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو غلام اور ناتواں بھی ہیں اور سچے مومنین کو اس آزاد انسان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو قوتِ گویائی رکھتا ہے ہمیشہ عدل و انصاف کی دعوت دیتا ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے دو اشخاص کی مثال دی ہے ان میں سے ایک مادر زاد گونگا ہے اور کچھ اس کے بس میں نہیں (وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً رَجُلَیْنِ اَحَدُھُمَا اَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ )۔ وہ غلام ہونے کے باوجود اپنے مولا و آقا کے لئے بوجھ ہے (وَھُوَ کَلٌّ عَلَی مَوْلاَہُ)۔ یہی وجہ ہے کہ ”اسے جس کام کے لئے بھی بھیجا جائے وہ اچھا انجام نہیں دے سکتا۔ (اَیْنَمَا یُوَجِّہُّ لایَاْتِ بِخَیْرٍ)۔ گویا اس میں چار منفی صفات ہیں: ۱۔وہ مادر زاد گونگا ہے۔ ۲۔بالکل نواں ہے۔ ۳۔ اپنے مالک کے لئے بوجھ ہے اور ۴۔جب اسے کسی کام کے لئے بھیجا جائے تو کوئی مثبت اقدام نہیں کر پاتا۔ یہ چار صفات اگر ایک دوسرے کی علت و معلول ہیں مگر ایک انسان کی منفی حالت کی سو فی صد تصویر کشی کرتی ہیں کہ جس کے وجود سے کوئی خیر و برکت حاصل نہیں ہوتی اور جو معاشرے اور خاندان پر بوجھ ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے کہ جو فصیح اور گویا زبان رکھتا ہے اور ہمیشہ عدل و انصاف کی دعوت دیتا رہتا ہے اور صاف راستے اور سیدھی راہ پر قائم ہے۔( ھَلْ یَسْتَوِی ھُوَ وَمَنْ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَھُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ یہاں اگرچہ دو ہی صفات بیان ہو ئی ہیں ایک، مسلسل عدل و انصاف کی صورت اور دوسری، طرز مستقیم اور صحیح راستہ کہ جو ہر قسم کے انحراف سے پا ک ہو۔ لیکن ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ دونوں صفات دوسری صفات کو واضح کرتی ہیں وہ شخص عدل و انصاف کی دعوت دیتا ہے، کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ایک گونگا ، بزدل اور بے وقعت انسان ہو۔ ہرگز نہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا شخص زبان گویا، منطق محکم اور ارادہ قوی اور شجاعت و شہامت کا حامل ہو گا۔ وہ شخص کہ جو راہِ مستقیم پر گامزن ہو کیا وہ بے دست و پا، ناتواں ،بے ہوش اور کم عقل انسان ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مسلم ہے کہ وہ ایک صاحبِ فکر و نظر، صاحبِ کاوش و جستجو، باہوش، با تدبیر اور با استقامت شخص ہو گا۔ ان دونوں کا موازنہ کیا جائے تو بت پرستی میں وسیع فرق واضح ہو جاتا ہے اور ان دونوں نقطہ ہائے نظر اور مکاتبِ فکر کے تحت تربیت پانے والوں کا فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن توحید کے بیان اور شرک کے خلاف گفتگو کو معاد اور قیامت کی عظیم عدالت کے مسائل سے مربوط کر دیتا ہے یہاں بھی ایسی ہی صورت حال ہے گزشتہ اور زیر بحث آیات شرک کی نفی اور اثبات توحید کے بارے میں ہیں اب گفتگو کا رخ معاد کی طرف ہو رہا ہے اور مشرکین کے بعض اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اللہ آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے آگاہ ہے۔( وَلِلَّہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ )۔ گویا یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ جو معاد جسمانی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ ہم جس وقت مر جائیں گے ہماری خاک کے ذرے ادھر اُدھر بکھر جائیں گے کیسے ان کا علم ہو گا کہ وہ ہمیں جمع کر سکے۔ علاوہ ازیں، وہ کہتے، اگر فرض کریں ہمارے خاک کے ذرے ادھر اُدھر بکھر جائیں گے تو کیسے ان کا علم ہو گا کہ وہ ہمیں جمع کر سکے۔علاوہ ازیں، وہ کہتے، اگر فرض کریں ہمارے جسموں کے بکھرے ہوئے ذرات جمع بھی ہو جائیں اور ہمیں پھر سے زندگی بھی مل جائے ان جسموں کے بھولے بسرے ہوئے اعمال سے کون آگاہ ہو گا اور کون ان کے نامہ اعمال کی پڑتال کرے گا۔ زیر بحث آیت ایک ہی جملے میں اس سوال کے تمام پہلوؤں کا جواب دیتی ہے کہ خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے، وہ ہر جگہ ہمیشہ حاضر ہے لہٰذا اصولی طور پر غیب و پنہاں کا اس کے لئے کوئی مفہوم ہی نہیں۔ اس کے لئے تما م چیزیں شہود ہیں۔ یہ مختلف تعبیرات تو ہمارے وجود کے حساب سے ہیں اور ہماری منطق سے ہم آہنگ ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: قیامت کا معاملہ تو پلک جھپکنے یا اس سے بھی کم تر سطح پر آسان ہے (وَمَا اَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ھُوَ اَقْرَبُ) (تشریحی نوٹ: ”لمح“ ”برزن”مسح“) اصل میں بجلی کے چمکنے کے معنی میں ہے بعد ازاں ایک اچکتی نگاہ ڈالنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ضمناً توجہ رہے کہ یہاں ”او“ ”بل“ کے معنی میں ہے)۔ یہ درحقیقت، منکرین معاد کے دوسرے اعتراض کی طرف اشارہ ہے وہ کہتے تھے کہ یہ کام تو انتہائی مشکل ہے ۔ کون اسے انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے؟ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: تمہاری طاقت بہت کم ہے اس لئے تمہیں یہ کام مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن خدا کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں اس کے لئے یہ کام آسان سا ہے جیسے تمہارا پلک جھپکنا آسان سا بھی ہے اور تیزی سے انجام بھی پاجاتا ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ قیام قیامت کو پلک جھپکنے یاجلدی سے کسی چیز کو دیکھنے سے تشبیہ دے کر مزید فرمایا گیا ہے۔ (او ھو اقرب)( یا اس سے بھی نزدیک تر) یعنی نظر بھر دیکھنے کی تشبیہ بھی تنگی بیان کی وجہ سے ہے یعنی قیامت اس تیزی سے بر پا ہو گی کہ اس کے لئے مدت اور زمانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جو یہ ” کلمح البصر“ کہا گیا ہے یہ بھی اس لئے ہے کہ تمہاری منطق میں اس سے مختصر تر کوئی زمانہ نہیں ہے۔ بہرحال، یہ دو چھوٹے چھوٹے جملے اللہ کی بے انتہاء قدرت پر ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خصوصاً معاد اور انسان کے قبروں سے جی اٹھنے میں اس کی قدرت پر ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زندہ ناطق اور منہ بولتے اشارے ہیں۔ زاسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کیونکہ خدا ہر چیز پر تواناو قادر ہے (إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ آزاد اور قیدی انسان

بعض لوگوں کے نظریےکے بر خلاف توحید اور شرک کا مسئلہ صرف ایک اعتقادی اور ذہنی مسئلہ نہیں ہے بلکہ انسان کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہر چیز کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ توحید کا پودا جس دل لگ جاتا ہے اس دل کی زندگی اور رشد و نمو کا عامل بن جاتا ہے کیونکہ توحید انسانی نگاہ کو اس قدر وسیع کر دیتی ہے کہ اس کا رشتہ لامتناہی ذات سے جوڑ دیتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس، شرک انسان کو پتھر، لکڑی کے بتوں کی انتہائی محدود دنیا میں محصور کر دیتا ہے انسانوں کو بتوں کی طرح کمزور کر دیتا ہے اور انسان کی فکر، نظر، ہمت، سعی اور توانائی کو اسی رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ زیر بحث آیت میں یہ حقیقت مثال کے پیرائے میں اس خوبصورتی سے بیان ہوئی ہے کہ اس سے عمدہ اور رسا انداز ممکن نہیں ہے۔ مشرک ”ابکم“ (گونگا) مادر زاد گونگا کہ جس کا عمل ا س کی فکری کمزوری اور عاری از منطق ہونے کا ترجمان اور وہ شرک کے چنگل میں گرفتار ہونے کی وجہ سے کوئی مثبت کام نہیں کر سکتا (لایقدر علی شیء)۔ وہ ایک آزاد انسان نہیں ہے بلکہ خرافات و موہومات کا قیدی ہے۔اپنی انہی صفات کی بناء پر وہ معاشرے پر ایک بوجھ ہے کیونکہ اس نے اپنی تقدیر کی مہاربتوں یا استعمارگر انسانوں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے وہ ہمیشہ بندھا ہوا اور کسی پر انحصار کیے ہوئے ہوتا ہے جبکہ توحید آزادی اور استقلال کا آئین ہے وہ جب تک توحید کا ذائقہ نہ چکھے اس بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتا (وھو کل علی مولاہ )۔ اپنی یہ طرز فکر لئے ہوئے وہ جس راستے پر بھی قدم رکھے گا، ناکام رہے گا اور کسی طرف اسے خیر و سعادت نصیب نہیں ہو گی” اینما یوجھہ لایاٴت بخیر“ کوتاہ فکری کے اس اسیر اور عاجز و ناتواں شخص کی زندگی کا کوئی ہدف اور پروگرام نہیں ہے یہ اس مرد آزاد و شجاع سے کسی قدر مختلف ہے جو نہ صرف خود عدل و داد پر کاربند ہے بلکہ ہمیشہ اپنے معاشرے میں عدل و داد کی حکمرانی کا پرچم بلند کیے رہتا ہے، علاوہ ازیں، ایک آزاد انسان منطقی فکر اور توحید کے فطری نظام سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ راہ مستقیم پر گامزن رہتا ہے وہی راہ مستقیم جو منزلِ مقصود تک پہنچنے کے نزدیک ترین راستہ ہے اس راستے سے انسان تیزی سے منزل تک جا پہنچتا ہے ایک آزاد انسان کج راستوں پر اپنا سرمایہ وجود ضائع نہیں کرتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ توحید اور شر ک صرف عقیدہ نہیں ہے بلکہ پوری زندگی سے ان کا تعلق ہے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور تمدنی زندگی ان سے مربوط ہے۔ اگر ہم زمانہ جاہلیت کے مشرک عربوں اور ابتدائے اسلام کے موحد مسلمانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان دونوں راستوں کا واضح فرق معلوم ہو جائے گا۔ وہی افراد جو کل تک جہالت، تفرقہ، انحطاط اور بد بختی میں ایسے گرفتار تھے کہ انھیں فقر و فساد سے آلود اپنے ماحول کے سوا کچھ خبر نہ تھی لیکن جب انھوں نے وادی توحیدی میں قدم رکھا تو انھیں ایسی وحدت، آگہی اور توانائی میسر آئی کہ اس زمانے کی ساری متمدن دنیا ان کے زیر نگیں ہو گئی۔

۲۔ انسانی زندگی پر عدالت اور سچائی کا اثر

یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث آیات میں موحدین کے کاموں میں سے صرف دعوتِ عدل اور صراط مستقیم پر گامزن ہو نے کا ذکر کیا گیا ہے یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ کسی فرد یا معاشرے کی حقیقی سعادت انہی دو چیزوں میں مضمر ہے انسان کا طرز عمل صحیح ہو اس کی زندگی کا پروگرام نہ شرقی ہو نہ غربی وہ نہ دائیں طرف منحرف ہو نہ بائیں طرف اور پھر قیام عدل کی دعوت۔وہ بھی وقتی نہیں بلکہ ”یاّمر بالعدل“ کے مفہوم کے مطابق دائمی اور مسلسل (کیونکہ ”یاٴمر“ مضارع کا صیغہ ہے جو دوام کا مفہوم دیتا ہے)۔

۳۔ روایت پر ایک نظر

طرقِ اہل بیت سے ایک روایت مندرجہ بالا آیات کی تفسیر کے ضمن میں آئی ہے روایت میں ہے: الذی یاٴمر بالعدل امیر الموٴمنین و الائمة (صلوٰة اللہ علیھم )۔ عدل و انصاف کی دعوت دینے والے امیر المومنین علی اور آئمہ اہل ( علیھم السلام )ہیں (بحوالہ: نور الثقلین،جلد۳ ص ۷۰) بعض مفسرین نے ”من یاٴمر بالعدل“ سے حضرت حمزہ، عثمان بن مظعون یا عمار مراد لئے ہیں اور ”ابکم “ سے ابن ابی خلف اور ابوجہل وغیرہ۔ واضح ہے کہ یہ سب ان کے لئے واضح مصداق ہیں اور ان روایات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ان مفہوم انہی افراد میں منحصر ہے۔ ضمنی طور پر ان تفسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔آیات کی تشبیہ بتوں اور خدا کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ مشرکین اور مومنین کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

78
16:78
وَٱللَّهُ أَخۡرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکم سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، لیکن اس نے تمہیں کان‘ آنکھ اور عقل عطا فرمائی تاکہ اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
16:79
أَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
کیا انہوں نے ان پرندوں پر نظر نہیں ڈالی کہ جو فضائے آسمانی میں مسخر ہیں ؟انہیں خدا کے سوا (فضا میں )کس نے تھام رکھا ہے؟ بیشک اس میں ( عظمت و قدرت خدا)کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے کہ جو ایمان رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
16:80
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمۡ سَكَنٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ بُيُوتٗا تَسۡتَخِفُّونَهَا يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ إِقَامَتِكُمۡ وَمِنۡ أَصۡوَافِهَا وَأَوۡبَارِهَا وَأَشۡعَارِهَآ أَثَٰثٗا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ
اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں میں سے آرام و قیام کی جگہ قرار دی اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں سے گھر (یعنی خیمے) قرار دیئے جنہیں تم سبک اور ہلکا پھلکا پاکر سفرکے دن یاقیام کے دن اپنے کام میں لاتے ہو اور ان سے حاصل ہونے والی اون‘ روئی اور بالوں سے تمہارے لئے ایک معین وقت تک کیلئے بہت سے اسباب اور کار آمد چیزیں پیدا کی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
16:81
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡجِبَالِ أَكۡنَٰنٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلۡحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأۡسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُونَ
اللہ تعالیٰ نے اپنی خلق کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لئے سایے کا انتظام فرمایااور پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں اور تمہارے لئے ایسے لباس بنائے کہ جو گرمی (اور سردی) سے بچاتے ہیں اور جنگ میں تمہاری حفاظت کرنے والے لباس بھی بنائے ۔ اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم اس کے (حکم کے) سامنے سر تسلیم خم کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
16:82
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
(اس کے باوجود) اگر وہ رو گردانی کریں (تواے رسول تم پریشان نہ ہو ) تمہارے ذمے تو صرف واضح ابلاغ کرنا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
16:83
يَعۡرِفُونَ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
(لیکن )وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر لوگ کافر ہیں۔

طرح طرح کی مادّی اور روحانی نعمتیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قرآن حکیم ایک درس توحید اور خدا شناسی کے لیے ایک مرتبہ پھر پروردگار کی گوناگوں نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اس میں سب سے پہلے علم و دانش اور معرفت و شناخت کے آلات کی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے شکم سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے(وَاللّـٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْئًا)۔ البتہ اس محدود، تاریک، وابستہ اور بندھے ہوئے ماحول میں یہ جہالت اور بےخبری گوارا تھی لیکن جب تم نے اس وسیع دنیا میں قدم رکھا اب ممکن نہ تھا یہ جہالت یونہی جاری رہے۔ لہذا ادراک حقائق اور شناخت موجودات کے لیے کان، آنکھ اور عقل جیسے وسائل تمھیں عطا کیے گئے (وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ)۔ تاکہ تم ان عظیم نعمتوں کو سمجھ سکو اور انھیں عطا کرنے والے کے لیے تمھارے اندر احساس تشکر پیدا ہو "شاید تم اس کا شکر ادا کرو" (لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ)۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ ابتدا میں انسان کچھ نہیں جانتا

یہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ پیدائش کے وقت انسان بالکل کوئی علم نہیں رکھتا ہوتا لہذا وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ ولادت کے بعد اللہ کے عطا کردہ وسائل سے حاصل کرتا ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ قرآن کہتا ہے بچہ جب حالت جنین سے نکلتا ہے اس وقت کچھ بھی نہیں جانتا ہوتا حالانکہ ہم کئی طرح کے فطری چیزوں کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً خدا شناسی اور اسی طرح کئی واضح مسائل (جیسے متضاد چیزوں کاجمع نہ ہو سکنا۔یا کل جزء سے بڑا ہوتا ہے) یا کئی اجتماعی اور اخلاقی مسائل (جیسےعدل اچھا ہے اور ظلم بُرا ہے) اور اس طرح کے کئی اور مسائل سے انسان فطری طور پر آگاہ ہوتا ہے کیونکہ یہ آگاہی تو ہماری فطرت میں رکھ دی گئی ہے تو پھر قرآن کیوں کہتا ہے کہ پیدائش کے وقت تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ کیا ہمیں اپنے وجود کا علم بھی نہیں تھا کہ جو علم حضوری شمار ہوتا ہے اور وہ بھی کان، آنکھ اور عقل کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔ ان کی استعداد اور قوت انسان کے اندر موجود تھی۔ دوسرے لفظوں میں ولادت کے وقت ہم ہر چیز سے غافل تھے یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی۔البتہ استعداد کے اعتبار سے بہت سے حقائق کا ادراک ہمارے اندر مخفی تھا۔ رفتہ رفتہ ہماری آنکھ میں قوت بینائی پیدا ہوئی۔ کان میں طاقت شنوائی پیدا ہوئی اور عقل نے ادراک، تجزیہ اور تحلیل کی قدرت حاصل کی اور ہم خدا کی ان تینوں نعمتون سے بہرہ مند ہوئے پہلے پہل قوت حس کے ذریعے بہت سی چیزوں کے تصورات پیدا ہوئے وہ تصورات عقل کی طرف منتقل ہوئے۔ پھر ان سے کامل اور کامل تر مفاہیم بننے لگے اور تعمیم و تجرید کے ذریعے عملی حقائق تک ہماری رسائی ہوئی اس سفر سے گزرتی ہوئی ہماری قوت فکر اس مقام تک آ پہنچی ہے کہ ہم علم حضوری کے طور پر اپنے آپ سے آگاہ ہوتے ہیں پھر وہ علوم جو استعداد کے طور پر ہمارے اندر موجود ہیں ان میں جان پیداہوتی ہے اور وہ عملی شکل اختیار کرتے ہیں ان بدیہی اور ضروری علوم کی بنیاد پر ہم نظری اور غیر بدیہی علوم تک پہنچتے ہیں۔ لہذا آیت میں جوعمومیت پائی جاتی ہے اس میں تخصیص اور استثناء کی گنجائش نہیں اور اس بات کا مفہوم کلی ہے کہ "جب تمھیں پیدا کیا گیا تم کچھ نہ جانتے تھے"۔

۲۔ آلاتِ شناخت کی نعمت

اس میں شک نہیں کہ عالم خارج کے لیے ہمارے وجود کی داخلی دنیا کے لیے کوئی راستہ نہیں البتہ ہماری روح میں موجود مختلف آلات و وسائل کے ذریعے اس کی تصویر اور شکل نقش ہوتی ہے اس طرح خارجی دنیا سے ہماری شناخت آلات کے ذریعے ہوتی ہے اور ان آلات میں سے سب سے اہم کان اور آنکھ ہیں۔ بیرونی دنیا سے یہ آلات جو کچھ حاصل کرتے ہیں ہمارے ذہن اور فکر کی طرف منتقل کرتے ہیں اور ہم عقل و فکر کی قوت سے انھیں حاصل کرتے ییں اور اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔ اسی بنا پر زیر بحث آیت میں یہ بتانے کے بعد کہ انسان جب اس جہاں میں قدم رکھتا ہے تو اسے مطلقا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا قرآن مزید فرماتا ہے: "اللہ نے تمھیں آنکھ، کان اور دل عطا کیے ہیں (تاکہ تم حقائق ہستی تک پہنچ سکو)"۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے کان کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر آنکھ کا حالانکہ ظاہراً آنکھ کی کارکردگی کا دائرہ زیادہ وسیع ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ نوزائیدہ بچے میں پہلے کان کارکردگی کا آغاز کرتا ہے اور آنکھیں کچھ مدت بعد دیکھنے لگتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ رحم مادر کی دنیا تو بالکل تاریک ہوتی ہے۔ ابتدائے تولد میں آنکھیں روشنی کی شعاعیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں یہی وجہ ہے کہ ولادت کے بعد عام طور پر آنکھیں بند ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ روشنی کی عادی ہوتی ہیں اور ان میں دیکھنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے جبکہ کان کے بارے میں بعض کا نظریہ ہے کہ وہ عالم جنین میں بھی تھوڑا بہت سن لیتے ہیں اور بچہ ماں کے پیٹ میں اس کے دل کی دھڑکن سنتا ہے اور اس کا عادی ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر انسان آنکھ کے ساتھ صرف حسی امور کو دیکھتا ہے جبکہ کان تمام پہلوؤں سےتعلیم وتربیت کا ذریعہ ہے۔ کان الفاظ سننے کے ذریعے تمام حقائق سے آشنا ہو جاتا ہے چاہے وہ حسی ہوں یا قوت حس کے دائرے سے باہر جبکہ آنکھ یہ وسعت عمل نہیں رکھتی یہ ٹھیک ہے کہ انسان آنکھ کے ذریعے الفاظ پڑھ کر ان مسائل سے آگاہ ہوجاتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سب لوگ نہیں پڑھ سکتے جبکہ الفاظ سن تو سبھی سکتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ"سمع"مفرد شکل میں اور "ابصار"(جو بصر کی جمع ہے) جمع کی شکل میں کیوں آیا ہے تو اس کی وجہ ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیت کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ " فؤاد" اگرچہ "قلب" (عقل) کے معنی میں آیا ہے لیکن "قلب" سے اس کا فرق یہ ہے کہ "فواد"کے مفہوم میں جوش، جذبہ اور ولولہ پیدا ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے یعنی تجزیہ و تحلیل اور تخلیق و ایجاد کا معنی بھی اس میں پنہاں ہیں۔ راغب مفردات میں کہتا ہے: الفؤاد کا لقلب لکن یقال لہ فؤاد اذا اعتبر فیہ معنی التفؤد ای التوقد "فؤاد"، "قلب" کی طرح ہے لیکن یہ لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں اس سے روشنی دینا اور دل خستگی مراد ہو۔ یہ بات مسلًم ہے کہ یہ چیز کافی تجربے کے بعد انسان کے ہاتھ آتی ہے بہرحال شناخت کے آلات اگرچہ ان دو یا تین ہیں منحصر نہیں ہیں تاہم یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اہم ترین آلات شناخت یہی ہیں کیوںکہ انسان کا علم تجربے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یا عقلی استدلال کے ذریعے۔ظاہر ہے کہ تجربہ آنکھ اور کان کے بغیر ممکن نہیں ہے رہے عقلی استدلالات تو وہ " فؤاد" یعنی عقل کے ذریعے صورت پذیر ہوتے ہیں۔

۳۔ تاکہ اس کا شکر بجا لاو

آلات شناخت بہت بلند اور عظیم نعمت ہے کہ جو انسان کو عطا کی گئی ہے کیوںکہ آنکھ اور کان سے انسان نہ صرف وسیع عالم ہستی میں آثار الٰہی دیکھتا ہے اور رہبرانِ الٰہی کی باتیں سنتا ہے اور دل کے ذریعے ادراک اور تجزیہ و تحلیل کرتا ہے بلکہ اس کی مادّی زندگی میں بھی ہر قسم کی ترقی و تکامل انھی تین وسائل کامرہونِ منؔت ہے اسی لیے ان کے ذکر کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے:"لعلکم تشکرون"۔ یہ جملہ ان تین چیزوں کی اہمیت یاد دلاتا ہے یعنی یہ وسائل تمھیں عطا کیے گئے ہیں تا کہ تم عالم اور آگاہ بنو اور اس کے بعد اس آگہی و علم پر شکر بجا لاؤ کہ جو حیوانوں سے تمھیں بہت ممتاز کرتا ہے اس میں شک نہیں کہ کوئی انسان ان عظیم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ بارگاہ ایزدی میں عذر کوتاہی پیش کرے۔ ____________________ اس کے بعد کی آیت میں بھی وسیع عالمِ ہستی میں چھپے ہوئے عظمتِ الٰہی کے اسرار کا ذکر جاری ہے ارشاد ہوتا ہے:کیا وہ ان پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ جو وسعت آسمان میں پرواز کرتے ہیں (الم یروا الی الطیر مسخرات فی جوّ السماء)۔ "جو" لغت میں فضا کے معنی میں ہے (جیسا کہ مفردات میں راغب نے بیان کیا ہے) اور یا پھر یہ ہوا کا وہ حصہ ہے جو زیر زمین سے دور ہے (جیسا کہ تفسیر مجمع البیان، المیزان اور آلوسی میں بیان کیا گیا ہے)۔ اجسام کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کی طرف کھنچتے ہیں لہذا زمین سے اوپر پرندوں کی پرواز اور آمد و رفت کو "مسخرات" (تسخیر شدہ) کہا گیا ہے یعنی اللہ نے ان کے پروبال کو یہ قوت دی ہے اور ہوا میں ایک خاصیت پیدا کی ہے کہ جو ان کے لیے اسے ممکن بناتی ہے کہ کشش ثقل کے باوجود وہ فضا میں پرواز کرتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:خدا کے سوا کوئی انھیں فضا میں اس طرح روکے نہیں رکھ سکتا (ما یمسکھن الا اللہ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ پروبال کی طبعی خاصیت ان میں پیدا کیے گئے عضلات، پرندوں کی مخصوص شکل اور ہوا میں موجود خصوصیات نے باہم مل کر پرندوں کی پرواز کو ممکن بنایا ہے لیکن یہ شکل و صورت اور ان خواص کو کس نے پیدا کیا ہے اور اس گہرے حساب شدہ نظام کو کس نے مقرر کیا ہے کیا اندھی گونگی طبیعت نے یا اس ذات نے کہ جو اجسام کے تمام طبیعاتی خواص سے آگاہ ہے اور جس کا لا متناہی عل ان سب پر محیط ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام امور کی خدا کی طرف نسبت دی جاتی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ وہی ان سب کا سرچشمہ ہے ایسی تعبیرات کہ جن میں اسباب و علل اور خواص کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے قرآن حکیم میں بہت ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اس امر میں اللہ کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (ان فی ذٰلک لاٰیٰت لقوم یؤمنون)۔ یعنی جو متلاشیانِ حق ان امور کو چشم بصیرت سے دیکھتے ہیں اور ان کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں ان کا ایمان ان سے زیادہ قوی اور راسخ تر ہے۔

چند قابلِ غور نکات: ۱۔ فضائے آسمانی میں پرندوں کی پرواز کے اسرار

اس بات کو سمجھنا آسان ہے کہ جہانِ ہستی کی بہت سی چیزیں ہمیں زیادہ حیرت میں کیوں نہیں ڈالتیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انھیں دیکھتے رہتے ہیں اور ان کے عادی ہو چکے ہیں اس عادت نے درحقیقت ان طرح طرح کی حیران کن چیزوں کے درمیان ایک پردہ سا حائل کر دیا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن کو اس عادی زندگی سے نکال لیں تو ہمیں اپنے گردا گرد بہت سی حیران کن چیزیں دکھائی دیں۔پرندوں کی پرواز کا مسئلہ بھی ایسے ہی امور میں سے ہے۔بھاری جسم کششِ ثقل کے قانون کے برخلاف آسانی سے چلتے پھرتے ہیں کتنی جلدی سے وہ بلند جا پہنچتے ہیں اور دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔یہ بات کوئی سیدھی سادی نہیں ہے۔ اگر ہم پرندوں کی ساخت اور ان کے جسم کو ہر حوالے سے غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ان کا پورا جسم پرواز کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ان کے جسم کی مخروطی شکل کہ جو ان کے بدن پر ہوا کا دباؤ بہت کم کر دیتی ہے ہلکے پھلکے پر اور اس کے ساتھ ساتھ نچلی طرف ان کا چوڑا سینہ سب مل کر انھیں امواجِ ہوا پر سوار ہونے کے قابل بناتے ہیں اور ان کے پروں کی خصوصی ساخت کہ جو ان کو اوپر اٹھنے کی طاقت بخشتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ :اوپر اٹھنے کی طاقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ فزکس میں نئ اصطلاح ہے کہ جو ہوائی جہازوں کے امور میں استعمال ہوتی ہے۔ مختصر اس کے بارے میں یہ ہے کہ ایک جسم کی اگر وہ مختلف سطہیں ہوں(جیسے ہوائی جہاز کی ہوتی ہیں کہ جس کی نچلی سطح سیدھی ہوتی ہے اور بالائی سطح اوپر کو اٹھی ہوئی خمدار ہوتی ہے) تو ایسا جسم اگر افقی حرکت کرے تو اس کے اندر ایک خاص قسم کی قوت (ENERGY) پیدا ہوتی ہے جو اسے بلند سطح کی طرف لے جاتی ہے یہ قوت اس لیے ہوتی ہے کہ ہوا کا دباؤ بالائی سطح کی نسبت نچلی سطح پر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ نیچے والی سطح چھوٹی ہوتی ہے اور اوپر والی سطح زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ہوائی جہازوں کی حرکت کا دارو مدار اسی پر ہے اگر ہم پرندوں پر توجہ کریں تو ان میں یہ امر بہت وضاحت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اصولی طور پر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہوائی جہاز کی ساخت میں پرندوں کی ساخت کی تقلید کی گئی ہے)۔ نیز ان کی دُم کی مخصوص ساخت کہ جو ان کے دائیں بائیں اور اوپر نیچے تیزی سے حرکت کے لیے (ہوائی جہاز کی دم کی طرح) مدد کرتی ہے۔ان کی قوتِ نظر اور دیگر حواس ایسے ہم آہنگ ہیں کہ جو ان کی تیز اور سریع پرواز کو ممکن بناتے ہیں۔ ان سب چیزوں کے علاوہ ان کے بچوں کی پرورش ان کے وجود سے الگ ہوتی ہے کہ جو انڈوں میں سے نکلتے ہیں ظاہر ہے انھیں اٹھائے پھرنا پرواز کے لیے رکاوٹ ہوتا۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے امور ہیں کہ جن میں سے ہر ایک فزکس کے اصول کے تحت پرواز کے لیے بہت مؤثر ہے۔ ان سب کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انھیں پیدا کرنے والے نے کس قدر وسیع علم و قدرت سے کام لیا ہے۔ قرآن کے بقول: - ان فی ذالک لاٰیات لقوم یؤمنون۔ بے شک اس میں اہل ایمان کے لیے اللہ کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں۔ پرندوں کی دنیا کے عجائبات اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ایک یا چند کتب میں سما سکیں دور حاضر میں بہت سے پرندوں کو ہم مہاجر پرندوں کے نام سے پہچانتے ہیں یہ پرندے زندگی کی بقاء کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات شمال سے جنوب تک کا بہت ہی طولانی فاصلہ طے کرتے ہیں اور دور دراز کے اس سفر میں انتہائی رمز آمیز وسائل سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں ان کی مدد سے پہاڑوں،صحراؤں، بیابانوں اور دریاؤں میں اپنا راستہ ڈھونڈھ لیتے ہیں یہاں تک کہ ابر آلود دنوں میں اور کبھی تاریک راتوں میں بھی راہ تلاش کر لیتے ہیں کہ جن میں کوئی انسان اپنا راستہ تلاش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ بعض اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ وہ آسمان کی پہنائیوں میں محوِخواب بھی ہوتے اور محوِ پرواز بھی بعض اوقات بغیر کسی لمحہ بھر توقف کے کئی کئی ہفتے رات دن محوِ پرواز رہتے ہیں یہاں تک کہ انھیں کھانے پینے کی احتیاج بھی نہیں ہوتی کیونکر وہ پرواز سے پہلے ایک اندرونی راہنمائی کے ذریعے خوب کھا پی لیتے ہیں یہ غذا بھی چربی کی شکل میں ان کے جسم میں اسٹور ہو جاتی ہے اور راستے میں انھیں ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی طرح گھر بنانے، اولاد کی تربیت کرنے، دشمن کا مقابلہ کرنے اور ضروری غذا مہیا کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے بلکہ اپنی نوع کے علاوہ غیر سے تعاون اور اکٹھے زندگی گزارنے اور اس قسم کے دیگے بہت سے امور میں پرندوں کی زندگی کے ایسے ایسے اسرار ہیں کہ ان میں ہر ایک، ایک طویل داستان ہے۔ جی ہاں: جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیت میں پڑھا ہے: ان میں سے ہر ایک میں عظمت پروردگار اور اس کے لا متناہی علم و قدرت کی نشانیاں ہیں۔

۲۔ آیات کا باہمی ربط

اس میں شک نہیں کہ پرندوں کے پرواز کے بارے میں زیر بحث آیت اور اس سے آگے پیچھے کی آیات میں یہ تعلق ہے کہ سب کی سب جہانِ خلقت میں نعماتِ الٰہی کے مختلف پہلوؤں اور اس کی قدرت و عظمت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں لیکن یہ احتمال بھی زیادہ بعید نہیں کہ آلاتِ شناخت کے ذکر کے بعد پرندوں کی پرواز کا ذکر یہ لطیف نکتہ ہو کہ علم محسوس میں ان پرندوں کی پرواز کو علمِ غیر محسوس میں افکار و خیالات کی پرواز سے تشبیہ دی گئی ہو۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنے آلات کے ساتھ اپنی اپنی مخصوس فضا میں پرواز کرتے ہیں۔ خطبہ شقسقیہ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ینحدر عنی السیل ولا یرقی الّی الطیر علم و دانش کی آبشار میرے وجود کے کوہسار سے گرتی ہے اور بلند افکار اس کی چوٹی تک نہیں پہنچ پاتیں۔ آپ کے کلمات قصار میں ہے کہ آپ نے مالک شتر ؒ جیسے جانباز افسر کی فضیلت میں فرمایا: لا یرتقیہ الحافر ولا یوفی علیہ الطائر کوئی رہوار اس کے کوہسارِ وجود سے اوپر نہیں جا سکتا اور کوئی طائرِ فکر اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتا۔(بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار ص 443)۔ جیسا کہ یم نے اس سورہ کی ابتداء میں کہا تھا کہ اس کا ایک نام نعمتوں کی سورت ہے کیونکہ اس میں پروردگار کی کوئی پچاس روحانی اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے یہ نعمتیں اس کی ذات پاک کی شناسائی کی دلیل بھی ہیں اور ان کا ذکر اس کی شکر گذاری کا سبب بھی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیر بحث تیسری آیت میں بھی اس مسئلے پر گفتگو جاری ہے، ارشاد ہوتا ہے: اور اللہ نے تمھارے لیے تمھارے بعض گھروں میں سے آرام و قیام کی جگہ قرار دیا ہے( واللہ جعل لکم من بیوتکم مسکناً)۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر اور مسکن ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ جب تک یہ میسر نہ ہو پاتی نعمتوں کا کوئی لطف نہیں۔ لفظ "بیوت" "بیت" کی جمع ہے یہ کمرے یا گھر کے معنی میں ہے یہ " بیتوتہ" کے مادہ سے ہے کہ جو دراصل، رات میں توقف کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ انسان اپنے کمرے اور گھر سے زیادہ تر رات کو آرام کرنے کے لیے استفادہ کرتا ہے لہذا اس پر لفظ "بیت" کا اطلاق ہوا ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ میں نے تمھارے گھروں کو تمھارے لیے مقامِ سکونت قرار دیا ہے بلکہ لفظ "من" کہ جو تبعیض یعنی بعض کے لیے آتا ہے استعمال ہوا ہے یعنی تمھارے کمروں اور گھروں میں مقامِ سکونت قرار دیا ہے۔یہ تعبیر بہت معنی خیز ہے کیوںکہ پورے گھر کے تو اور بھی بہت سے فائدے ہوتے ہیں اس میں مقام سکونت بھی ہوتا ہے سواری کے ٹھہرانے کی جگہ بھی، ضروریات زندگی رکھنے کے لیے سامان وغیرہ بھی۔ ثابت اور ٹھہرے ہوئے گھروں کے ذکر کے بعد سیؔار اور چلتے پھرتے گھروں کا ذکر آتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ نے یہ جانوروں کی کھالوں سے تمھارے لیے خیمے بنائے (وجعل لکم من جلود الانعام بیوتاً)۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ ہمارے زمانے میں چمڑے سے بہت کم خیمے بنائے جاتے ہیں لیکن زیر نظر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں چمڑے کے خیموں کو بہترین سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے قرآن نے اس انداز سے ان کا ذکر کیا ہے۔ شاید خیمے سے چمڑے اس لیے بنائے جاتے تھے کہ حجاز کے بیابانوں کی نہایت گرم ہواؤں سے بچنے کے لیے ایسے خیمے زیادہ مفید تھے)۔ اور یہ ایسے گھر ہیں کہ جو بہت ہلکے پھلکے ہیں۔کوچ اور قیام کے وقت انھیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے ( تستخفونھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم)۔ علاوہ ازیں ان سے حاصل ہونے والی اُون، روئی اور بالوں سے تمھارے لیے ایک معین وقت تک کے لیے بہت سے اسباب، وسائلِ زندگی اور کارآمد چیزیں پیدا کی ہیں (ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثا و متاعاً الی حین)۔ ہم جانتے ہیں کہ چوپایوں کے بدن پر جو بال اگتے ہیں ان میں سے بعض بہت سخت اور موٹے ہوتے ہیں مثلاً بکری کے بال کہ جنھیں عرب "شعر" کہتے ہیں (اشعار اس کی جمع ہے) اور کبھی کچھ نرم ہوتے ہیں جنھیں پشم یا اون کہتے ہیں عرب انھیں صوف کہتے ہیں۔("اصواف" اس کی جمع ہے) اورکبھی بہت نرم ہوتے ہیں فارسی میں انہیں"کرک" کہتے ہیں۔ عرب انہیں"وبر" [یہ لفظ"روئی" کے گالوں کی طرح نرم بالوں کے لیے آیا ہے (ث- ن] (بروزن "ظفر") کہتے ہیں،(اوبار اس کی جمع ہے)۔ واضح ہے کہ مختلف ساخت اور نوعیت کے ہونے کی وجہ سے ان بالوں کو مختلف کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے کسی سے قالین بنتے ہیں کسی سے لباس اور کسی سے خیمے وغیرہ۔ اس بارے میں کہ آیت میں "اثاث" اور "متاع" سے کیا مراد ہے مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں مجموعی طور پر "اثاث" گھر کے ساز و سامان چونکہ عموماً زیادہ ہوتا ہے لہذا اسے"اثاث" کہتے ہیں۔ "متاع", ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان "متمتع" ہو اور فائدے اٹھائے۔لہذا یہ دونو ں تعبیریں دو مختلف زاویوں سے ایک ہی مطلب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان دو تعبیروں کا یکے بعد دیگرے آنا، ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ تم چوپایوں کی اُون، روئی کے سے نرم اور دوسرے بالوں سے اپنے گھر کے لیے درکار بہت سا ساز و سامان تیار کرسکتے ہو اور اس طرح ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ فخر الدین رازی اور بعض اور مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ "اثاث" سے مراد لباس ہے اور "متاع" سے زمین پر بچھانے والی چیز ہے لیکن انھوں نے اس کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ "روح المعانی" میں آلوسی نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ " اثاث" گھر کے سامان کی طرف اشارہ ہے اور "متاع"، مالِ تجارت کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ ہم جو شروع میں کہہ چکے ہیں وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "الیٰ حین" کے مفہوم کے بارے میں بھی مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ لیکن ظاہراً اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس دنیا اور زندگی کے اختتام تک ان چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ گے یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی اور اسباب جاودانی نہیں ہیں اور یہاں کی ہر چیز محدود ہے۔

سائے، گھر اور لباس

اس کے بعد ایک اور نعمتِ الٰہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ارشاد ہوتا ہے:خدا نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں تمھارے لیے سائے بھی بنائے ہیں(واللہ جعل لکم مما خلق ظللاً) اور پہاڑوں میں تمھارے لیے پناہ گاہیں بنائی ہیں۔ (وجعل لکم من الجبال اکناناً) "اکنان"، "کِن" (بروزن "جن") کی جمع ہے یہ لفظ کسی ایسی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ڈھانپنے اور حفاظت کے لیے استعمال ہوئی ہو۔ پہاڑوں کے اندر موجود مخفی جگہوں، غاروں اور پناہ گاہوں کو اسی لیے "اکنان" کہا جاتا ہے۔ یہاں ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ درختوں کے سائے ہوں یا پہاڑوں کے۔ ۔ ۔ سائے کا مجموعی طور پر ایک اہم نعمت کے عنوان سے ذکر کیا جا رہا ہے اور حقیقت بھی یہ ہی ہے کیونکہ انسان کو جس طرح زندگی میں روشنی کی چمک کی ضرورت ہے بہت سے اوقات میں سائے کی بھی احتیاج ہے اس لیے کہ روشنی اگر ایک ہی طرح چمکتی رہے تو زندگی ناممکن ہوجائے اور ہم جانتے ہیں ہم زمین باسیوں کے لیے سب سے بڑا سایہ کرۤۂ زمین کا سایہ ہے کہ جسے "رات" کہتے ہیں۔ یہ سایہ سطح زمین کے نصف حصے کو چھپا دیتا ہے۔انسانی زندگی پر اس عظیم سائے کی تاثیر کسی سے مخفی نہیں ہے۔اسی طرح دن کے اوقات میں مختلف چیزوں کے چھوٹے بڑے سایوں کے اثرات اور فوائد بھی ہمارے سامنے واضح ہیں۔ گھروں اور خیموں کی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد سایوں اور پہاڑی پناہ گاہوں کی نعمت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسانوں کے تین ہی گروہ ہو سکتے ہیں۔ایک بستیوں اور آبادیوں میں رہنے والا۔دوسرا کہ سفر میں اور خیمے اس کے ساتھ ہوں اور تیسرا ان مسافروں کا گروہ کہ جن کے پاس خیمے نہ ہوں۔خدا نے انھیں بھی محروم نہیں کیا بلکہ انھیں راہوں میں پناہ گاہیں مہیا کی ہیں۔ ہو سکتا ہے شہروں میں آرام کی زندگی گزارنے والوں پر غاروں اور کوہستانی پناہ گاہوں کی اہمیت بالکل واضح نہ ہو لیکن بیابانوں میں پھرنے والے بے امان مسافروں اور چرواہوں کو ان کی قدر معلوم ہے وہ تمام لوگ کہ جن کے پاس نہ ثابت گھر ہوں اور نہ سیار اور سورج کی تیز دھوپ یا سردیوں کی شدید لہر سے دوچار ہوں وہ جانتے ہیں کہ ایک کوہستانی پناہ گاہیں سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد ہوتی ہیں۔ ان فطری اور مصنوعی سائبانوں کے ذکر کے بعد انسان کے لباس کا ذکر کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے:خدا نے تمھیں لباس عطا کیے ہیں کہ جو گرمی سے تمھیں بچاتے ہیں (وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر)۔ اور اسی طرح ایسے خاص دفاعی لباس بھی عطا کیے ہیں کہ جو جنگ کے موقع پر تمھاری حفاظت کرتے ہیں (وسرابیل تقیکم باسکم)۔ "سرابیل"، "سربال" (بروزن "مثقال") کی جمع ہے۔مفردات میں راغب نے اس کا معنی پیراہن اور قمیص بیان کیا ہے چاہے وہ کسی چیز کی بھی بنی ہو۔دیگر مفسرین بھی اس معنی کی تائید کی ہے البتہ بعض مفسرین نے اسے ہر طرح کے لباس کے معنی میں لیا ہے لیکن پہلا معنی ہی مشہور ہے۔ البتہ لباس کا صرف یہ ہی فائدہ نہیں کہ وہ گرمی اور سردی میں انسان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ یہ انسان کے وقار کا بھی باعث سے اور جسمِ انسانی کو بہت سے خطرات سے بچائے رکھتا ہے۔کیوںکہ انسان برہنہ ہو تو شاید اس کے بدن کا کوئی نہ کوئی حصہ ہر روز زخمی ہوجائے لیکن مندرجہ بالا آیات میں لباس کا جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اہمیت کے لحاظ سے ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ آیت میں صرف گرمی سے بچانے کا ذکر کیا گیا ہے؛ شاید یہ اس لیے ہو کہ بہت سے مواقع پر عرب اختصار کے طور پر دو ضدوں میں سے ایک کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری پہلی کے قرینے سے واضح ہو جاتی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس بناء پر ہو کہ قرآن جن علاقوں میں نازل ہوا تھا وہاں گرمی سے بچانے کا مسئلہ زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ گرمی لگنے اور سورج کی تیز حدت کے خطرات زیادہ سریع اور زیادہ خطرناک ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں شدید گرمی اور سورج کی شدید تپش کے سامنے انسان کی قوت برداشت سردی کے مقابلے میں قوت برداشت کی نسبت کم ہوتی ہے کیوںکہ سردی میں انسان کی اندرونی حرارت بہت حد تک اس کی حفاظت کرسکتی ہے جبکہ گرمی کے مقابلے میں اس کی قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیت کے آخر میں یاددہانی اور تنبیہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس طرح سے اللہ تم سب پر اپنی نعمت کو پورا کرتا ہے کہ شاید تم اس کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کر دو (کذٰلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون)۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان جب دیکھتا ہے کہ بہت سی نعمتیں اس کے وجود کو گھیرے ہوئے ہیں تو بے اختیار اس کا خیال ان نعمتوں کو بخشنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اگر اس طرح اس کے اندر قدر دانی اور شکر گزاری کا کچھ بھی احساس پیدا ہو جائے تو وہ معطی نعمت کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ "لفظ"نعمت" کہ جو مذکورہ بالا آیت میں آیا ہے بعض مفسرین نے اسے نعمتِ خلقت، نعمتِ تکامل، نعمتِ عقل، نعمتِ توحید شناسی یا نعمتِ وجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں محدود سمجھا ہے لیکن واضح ہے کہ یہاں یہ لفظ ایک وسیع معنی کا حامل ہے کہ جس میں یہ تمام مذکورہ نعمتیں اور ان کے علاوہ دیگر نعمتیں بھی شامل ہیں۔محدودیت والی یہ تفاسیر دراصل، نعمت کے واضح مصادیق کی طرف اشارہ سمجھی جانا چاہییں۔ ان ظاہر و مخفی نعمتوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے:ان تمام امور کے باوجود اگر وہ روگردانی کریں اور دعوتِ حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں تو تم پریشان نہ ہونا۔ کیوںکہ تمھاری ذمہ داری تو بس یہ ہے کہ واضح طور پر ابلاغ کر دو (فان تولوا فانما علیک البلاغ المبین)۔ کہنے والے کی بات کتنی ہی استدلالی، مؤثر اور جاذب کیوں نہ ہو جب تک سننے والا مائل نہ ہو، اثر نہیں کرسکتی۔ دوسرے لفظوں میں اہلیت مقام بھی شرط ہے اور ہر بات اس کے اہل پر ہی اثر ہوتی ہے لہذا اگر کور دل، ہٹ دھرم تیری دعوت تسلیم نہیں کرتے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ تو بلاغِ مبین میں کسر نہ چھوڑے اور سب کے سامنے اپنی دعوت کُھلے بندوں پیش کرے۔ یہ جملہ درحقیقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلجوئی اور تسلیِ خاطر کے لیے ہے۔ بات پوری کرنے کے لیے مزید فرمایا گیا ہے: وہ نعمتِ الٰہی کو پہچانتے ہیں اس کے پہلوؤں اور وسعت سے آشنا ہیں اور اس کی گہرائی کو جان چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا انکار کرتے ہیں (یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا)۔ لہذا ان کے کفر کا سبب نا آگاہی اور بے علمی میں تلاش نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ کافی حد تک آگاہ ہو چکے ہیں اس کفر کا باعث ان کی کوئی اور پست صفات ہیں کہ جو ان کے ایمان میں سدّ راہ بنی ہوئی ہیں اور وہ ہیں اندھا تعصب، ہٹ دھرمی، حق دشمنی، مادّی زندگی کے تھوڑے سے مفادات کو ہر چیز پر مقدم کرنا، طرح طرح کی خواہشات میں اسیری اور تکبر۔ شاید اسی بناء پر آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے:اور ان میں سے اکثر کافی ہیں (و اکثرھم الکافرون)۔ لفظ "اکثرھم" نے بہت سے مفسرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور انھوں نے سوچا ہے کہ یہاں "اکثر" کا لفظ کیوں آیا ہے ہر مفسر نے اس کی کوئی نہ کوئی تفسیر بیان کی ہے لیکن ان میں سے ہمیں جو زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے وہ وہی ہے جو سطورِ بالا میں بیان کی گئی ہے یعنی ان کفار کی اکثریت ہٹ دھرم، معاند اور متعصب ہے اور ان میں سے جو غلط فہمی کا شکار ہیں، وہ اقلیت میں ہیں۔ وہ کفر جو تکبر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کا ذکر قرآنِ حکیم کی دیگر آیات میں بھی دکھائی دیتا ہے مثلاً شیطان کے بارے میں ہے:- ابی واستکبر و کان من الکافرین ابلیس نے حکم ماننے سے انکار کر دیا اور (تکبر) انکار کیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔ (بقرہ 34) کچھ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "اکثر" سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن پر اتمامِ حجّت ہو چکا تھا جبکہ جن پر ابھی تک اتمامِ حجّت نہیں ہوا وہ اقلیت میں تھے اس معنی کو بھی پہلے معنی کے ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

چند اہم نکات

"نعمت اللہ" سے مراد: اس سلسلے میں مفسرین کی مختلف تفسیریں ہیں کہ آیت میں "نعمت اللہ" سے کیا مراد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کوئی ایک مصداق بیان کرتی ہیں حالانکہ "نعمت اللہ" کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ تمام مادی معنوی نعمتیں اس میں شامل ہیں یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی بھی اس مفہوم میں شامل ہے روایات اہلِ بیت ٰعلیہ السلام میں بتایا گیا ہے کہ اس سے مراد آئمہ اور معصوم رہبروں کے وجود کی نعمت ہے۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: نحن واللہ نعمۃ اللہ التی انعم بھا علی عبادہ وبنا فاز من فاز قسم بخدا کہ جس نعمت کی وجہ سے اللہ نے بندوں پر اپنا لطف و کرم کیا ہے وہ ہم ہی ہیں اور ہمارے سبب سے سعادت مند سعید کامیاب ہیں۔( بحوالہ: نور الثقلین جلد3 ص 72)۔ یہ بات واضح ہے کہ سچے رہبروں کی رہبری سے استفادہ کیے بغیر سعادت و کامیابی ممکن نہیں اور ان ہادیانِ حق کا وجود اللہ کی سب سے واضح نعمت ہے اور یہاں اس کا ذکر ایک آشکار مصداق کے طور پر کیا گیا ہے۔ 2۔حق و باطل میں کش مکش: بعض مفسرین نے زیر بحث آیات میں"یعرفون نعمت اللہ ثمہ ینکرونھا" میں لفظ "ثم" پر غور و خوض کیا ہے۔یہ لفظ عموماً، عام فاصلے کے ساتھ آنے والے عطف کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ لفظ نشاندہی کرتا ہے کہ نعماتِ الٰہی کی اس آگہی و علم اور پھر ان کے انکار کے درمیان فاصلہ تھا۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ تعبیر یہ نکتہ بیان کر رہی ہے کہ مناسب تو یہ تھا کہ وہ نعمتِ الٰہی کو پہچان لینے کے ساتھ ہی صمیم قلب سے اعتراف کرتے اور اس کی طرف آتے لیکن انھوں نے انکار کا راستہ اختیار کر لیا قرآن نے ان کے اس عمل کو دور کی بات شمار کیا ہے، اور اسے "ثم" سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن ہم یہ احتمال پیش کرتے ہیں کہ یہاں "ثم"ایک زیادہ ظریف اور عمدہ نکتے کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ جس وقت دعوتِ حق اپنےمنطقی اصول کی بناء پر انسان کی روح پر پَرتو ڈالے تو وہ ان منفی عوامل کے خلاف بر سر پیکار ہو جاتی ہے کہ جو کبھی کبھی اس میں موجود ہوتے ہیں یہ پیکار ایک عرصے تک جاری رہتی ہے اور یہ عرصہ منفی عوامل کی قوت یا ضعف کے تناسب سے ہوتا ہے اگر منفی عوامل زیادہ قوی ہوں تو کچھ عرصے بعد انھیں غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے "ثمہ" کی تعبیر بالکل مناسب ہے۔ سورہ انبیاء کی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں بتایا گیا ہے کہ جب آپ نے بتوں کو توڑنے کے بعد بت بُت پرستوں کے سامنے اپنی قومی منطق پیش کی تو چند لمحے تو وہ سوچ میں پڑ گئے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے قریب تھا کہ وہ حق کی طرف جھکتے اور بیداری کی یہ لہر ان کے پورے وجود کو روشن کر دیتی لیکن منفی عوامل یعنی تعصب تکبر اور ہٹ دھرمی دعوتِ حق کے آڑے آگئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لمحات جاتے رہے اور پھر وہ پھر سے انکار کرنے لگ پڑے۔یہاں بھی لفظ "ثمہ" استعمال ہوا ہے۔ فَرَجَعُـوٓا اِلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ فَقَالُـوٓا اِنَّكُمْ اَنْتُـمُ الظَّالِمُوْنَ ثُـمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِـمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓؤُلَآءِ يَنْطِقُوْنَ پس وہ اپنی ضمیر کی طرف متوجہ ہوئے اپنے آپ سے کہنے لگے تم تو خود ظالم ہو پھر ان کی گردانیں اسی گمرائی کی طرف مڑ گئیں اور وہ کہنے لگے کہ تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بُت بولا نہیں کرتے (انبیاء 64،65) ضمناً کافروں کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس بیان سے اس کی "ثم" کے ساتھ ہم آہنگی زیادہ واضح ہو گئ ہے۔

84
16:84
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ
اس دن کے بارے میں سوچو کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو اٹھا کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو (بات کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان کا عذر سنا جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
16:85
وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلۡعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
اور جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو انہیں نہ تخفیف ملے گی نہ مہلت ملے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
16:86
وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ شُرَكَآءَهُمۡ قَالُواْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدۡعُواْ مِن دُونِكَۖ فَأَلۡقَوۡاْ إِلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلَ إِنَّكُمۡ لَكَٰذِبُونَ
اور جب مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں وہ خدا کا شریک قرار دیتے تھے تو کہیں گے: پروردگارا ! یہ ہمارے وہ شریک ہیں جنہیں ہم تیری بجائے پکارتے تھے ۔ اس وقت ان کے وہ معبود ان سے کہیں گے تم جھوٹ بولتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
16:87
وَأَلۡقَوۡاْ إِلَى ٱللَّهِ يَوۡمَئِذٍ ٱلسَّلَمَۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
اور اس دن سب بارگاہ الٰہی میں جھک جائیں گے اور ان کا سارا جھوٹ رفو چکر ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
16:88
ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدۡنَٰهُمۡ عَذَابٗا فَوۡقَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفۡسِدُونَ
اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنایا اور( لوگوں کو بھی) راہ خدا سے روکا‘ انہیں ہم ان کے فساد کے باعث عذاب پر عذاب دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
16:89
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
اس دن کے بارے میں سوچو کہ جب ہر امت میں خود اسی میں سے ایک گواہ ہم اٹھا کر کھڑا کریں گے اور تمہیں ان پر گواہ بنائیں گے اور یہ ایسی کتاب (قرآن) ہم نے تم پر اتاری ہے کہ جو ہر چیز کو واضح کرتی ہے اور مسلمانوں کیلئے ہدایت،رحمت و بشارت ہے۔

جب بدکاروں کو کوئی راہ سجھائی نہ دے گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں اللہ کی گونا گوں نعمتوں پر منکرینِ حق کے غلط ردِعمل کا ذکر تھا ان آیات میں ان منکرینِ حق کی دوسرے جہاں میں بعض درد ناک سزاؤں کا تذکرہ ہے کہ جو ان کا برا اور منحوس انجام ہے ان سزاؤں کا تذکرہ اس لیے ہے تاکہ وہ جملہ اپنے طرزِعمل پر تجدیدِ نظر کریں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اس دن کا سوچو جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ پیش کریں گے (ویوم نبعث من کل امۃ شھیداً) (تشریحی نوٹ:"یوم" یہاں ظرف ہے۔ یہ ایک فعل مقدر سے متعلق ہے جس کی تقدیر یوں تھی: - "ولیذکروا" یا " واذکروا" ) یہ عبارت پڑھتے ہی فوراً سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے لامتناہی علم کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے گواہ کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ ایسے امور عام طور پر نفسیاتی پہلو سے ہوتے ہیں یعنی جتنا انسان کو احساس ہوگا کہ اس کی طرف دیکھنے والے اور گواہ زیادہ ہیں اتنا ہی اپنے کام کو بہتر حساب کتاب سے انجام دے گا یا کم از کم زیادہ وہ افراد کے سامنے رسوائی سے ہی پریشان ہو گا۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اس عدالت میں کفار کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔(ثم لا یؤذن للذین کفروا)۔ کیا ممکن ہے کہ اللہ مجرم کو دفاع کی اجات نہ دے؟ جی ہاں! وہاں زبان سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ہاتھ، پاؤں، کان، آنکھ بلکہ وہ زمین بھی جس پر انسان نے نیکی یا بدی کی ہو گی گوائی دے گی اس لیے زبان کی باری نہیں آئے گی۔ اس حقیقت کا ذکر قرآنِ حکیم کی دوسری آیات میں بھی ہے:- مثلاً یٰس 65 اور مرسلات 36۔ نہ صرف انھیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ اس وقت وہ تلافی اصلاح اور تقاضائے عفو بھی نہ کر سکیں گے (ولاھم یستعتیون)۔ کیونکہ وہ رد عمل کا موقع ہوگا نہ کہ عمل، تلافی اور اصلاح کا۔جیسے کوئی پھل شاخ سے گر جائے تو اس کی نشوونما کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "یستعتبون" استعتاب کے مادہ سے ہے کہ جو عتاب سے لیا گیا ہے کہ جس کا معنی ہے دوسرے سے گفتگو میں سختی کا اظہار۔ لہذا "استعتاب" کا مفہوم یہ ہے کہ گنہگار شخص صاحب حق سے عتاب طلب کرے یعنی اپنے تئیں اس کی سرزتش کے سامنے پیش کرے تا کہ صاحب ِ حق کا غصہ ختم ہو جائے اور وہ راضی ہو جائے یہ ہی وجہ ہے کہ بعض "استعتاب" کا معنی "استرضاء" (کسی کی رضا طلب کرنا) لیتے ہیں حالانکہ اس کا مفہوم یہ نہیں بلکہ اس کے مفہوم کا لازمہ ہے)۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ ستم پیشہ ظالم جب حساب کتاب کے مرحلے سے گذر کر عذابِ الٰہی کا سامنا کریں گے تو کبھی تخفیف کا اور کبھی مہلت کا تقاضا کریں گے لیکن جب ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے عذاب میں کمی ہو گی نہ انھیں کئی مہلت دی جائے گی۔(وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ)۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ان دو آیتوں میں مجرموں کے چار مرحلوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس دنیا میں بھی یہ مرحلے ہم اپنی آنکھ سےدیکھتے ہیں: پہلہ مرحلہ: یہ کہ مجرم کوشش کرے گا کہ مکر و حیلہ سے اپنے آپ کو بچا لے۔ دوسرا مرحلہ: پہلے مرحلے میں بات نہ بنے تو وہ دوسرے مرحلے میں کوشش کرے گا کہ مدِّ مقابل کو مہر و محبت کی طرف مائل کرے اس کی سرزنش کو برداشت کرے اور اس کی رضا حاصل کرے۔ تیسرا مرحلہ: دوسرا مرحلہ بھی کامیاب نہ ہوا تو تیسرے مرحلے میں سزا میں کمی کا تقاضا کرے گا اور کہے گا کہ عذاب دے مگر کم۔ چوتھا مرحلہ: اگر اس کا جرم زیادہ ہونے کی وجہ سے تیسرے مرحلے پر بھی بات نہ بنی تو تقاضا کرے گا کہ مجھے کچھ مہلت دے دے اور سزا سے نجات کی یہ آخری کوشش ہو گی۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ ان ظالموں کے اعمال اتنے قبیح اور برے ہیں اور ان کے گناہوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہو گا کہ نہ انھیں دفاع کی اجازت ملے گی نہ وہ رضا حاصل کر سکیں گے نہ انھیں تخفیف ملے گی اور نہ مہلت۔ اگلی آیت میں مشرکین کے برے انجام کے بارے میں ایسی ہی گفتگو کی گئی ہے ان کا یہ انجام بتوں کی پرستش کے باعث ہوگا ارشاد ہوتا ہے کہ میدانِ قیامت میں خود ساختہ معبود اور انسان کہ جن کی بتوں کی طرح پرستش کی جاتی تھی، پوجا کرنے والے کے ساتھ ہوں گے جس وقت یہ عبادت کرنے والے اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار! یہ ہمارے وہ ہی شریک ہیں جنھیں ہم تیری بجائے پکارتے تھے۔(وَاِذَا رَاَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَـآءَهُـمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ شُرَكَـآؤُنَا الَّـذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ)۔ ان معبودوں نے بھی اس کام میں ہمیں وسوسے میں ڈالا اور درحقیقت ہمارے شریک جرم ہیں لہذا ہمارے عذاب کا کچھ حصہ ان کے لیے قرار دے۔اس وقت حکم خدا سے "بت پول اٹھیں گے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے کہیں گے یقیناً تم جھوٹے ہو (فَاَلْقَوْا اِلَيْـهِـمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكَاذِبُوْنَ)۔ نہ ہم خدا کے شریک تھے اور نہ ہم نے تمھیں وسوسے میں ڈالا اور نہ تمھارے عذاب کا کوئی حصہ ہمیں پہنچے گا"۔

چند قابل توجہ نکات

1۔ "شرکاء اللہ" کی بجائے "شرکاءھم": "شرکاء اللہ" (اللہ کے شریک) کی بجائے "شرکاءھم" (بت پرستوں کے شریک)ـــــــــــــ اس بناء پر ہے کہ وہ ہرگز پروردگار کے شریک نہ تھے بلکہ خیالی اور جھوٹے شریک تھے۔ کہ جو بت پرستوں نے اپنے لیے بنا رکھے تھے۔اور کیا ہی بہتر ہے کہ انھیں انھی کی طرف نسبت دی جائے نہ کہ خدا کی طرف۔ علاوہ ازیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ بت پرست اپنے کچھ چوپائے اور زرعی پیداوار بتوں کے نام کر دیتے تھے اور اس طرح انھیں اپنا شریک بناتے تھے۔ 2۔ بے جان بت بھی بیش ہون گے: زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روز قیامت بت بھی ظاہر ہوں گے۔فرعوں اور نمرود کی طرح کے انسانی بت ہی وہاں پیش نہیں ہونگے بلکہ بے جان بت بھی حاضر ہوں گے سورہ انبیاء کی آیہ 98 میں مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔ تم اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہیں جہنم کا ایندھن ہیں۔ 3 - بت مشرکین کی تکذیب کریں گے: زیر بحث آیت میں ہے کہ اس دن مشرکین کہیں گے۔ہم ان معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔ ان کی یہ بات غلط نہیں کہ بت ان کی تکذیب کریں لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ تکذیب اس بناء پر ہو کہ جعلی معبود اس بات کی تکذیب کریں کہ وہ پرستش کے لائق ہیں یا شاید وہ اس بناء پر تکذیب کریں گے کہ ان کی عبادت کرنے والے یہ بھی کہیں گے کہ: خدایا ! یہ معبود ہمیں وسوسہ ڈالنے میں شریک تھے۔ لہذا وہ جواب دیں گے: تم جھوٹ بولتے ہو،ہم وسوسہ نہیں ڈال سکتے تھے۔ 4- "فالقوا الیھم القول" کا مفہوم: اس کا معنی ہے " قول اس کی طرف القاء کرتے تھے" یہ نہیں کہا: "قالو الیھم" (انھیں کہتے تھے) یہ شاید اس بناء پر ہو کہ بت خود سے بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور اگر بات کریں گے تو وہ پروردگار کی طرف سے القاء ہو گا یعنی خدا انھیں القاء قول کرے گا اور وہ اسے اپنی پوجا کرنے والوں کی طرف القاء کریں گے۔

سب بارگاہ الہی میں جھک جائیں گے

اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ بات اور یہ جواب سننے کے بعد "سب بارگاہِ الٰہی میں جھک جائیں گے" یہ نادان عبادت کرنے والے جب حق کا چہرہ دیکھ لیں گے تو ان کے غرور، نخوت اور اندھے تعصبات کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ اس کی بارگاہ میں سر جھکا دیں گے (والقوا الی اللہ یومئذ نِ السلم) (تشریحی نوٹ: المیزان کے محترم مؤلف اور بعض دیگر مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اظہار تسلیم یہاں صرف عبادت کرنے والوں کی طرف سے ہوگا نہ کہ بتوں کی طرف ہے۔ ان مفسرین نے آیت کے آخری جملے کو شہادت کے طور پر پیش کیا ہے)۔ اس موقع پر جبکہ ہر چیز آفتاب کی مانند روشن ہوگی"ان کا سارا جھوٹ رفو چکر ہو جائے گا"(وضل عنھم ما کانوا یفترون)۔ خدا کی طرف شریک کی جھوٹی نسبت بھی پا در ہوا ہو جائے گی اور یہ خیال بھی محو ہو جائے گا کہ بت بارگاہِ الٰہی میں شفیع ہیں کیونکہ سب اچھی طرح دیکھ لیں گے کہ نہ صرف بت کچھ نہیں کر سکتے بلکہ خود بھی جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں تک ان گمراہ مشرکین کی حالت بیان کی گئی ہے کہ جو خود شرک و انحراف میں غوطہ زن تھے مگر دوسروں کو اس راہ کی طرف دعوت نہ دیتے تھے۔اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو کافر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے ہیں ان کے کفر کے عذاب پر ہم دوسروں کو گمراہ کرنے کے عذاب کا اضافہ کریں گے کیونکہ وہ فساد برپا کرتے ہیں (اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ زِدْنَاهُـمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُـوْا يُفْسِدُوْنَ)۔ وہ اپنی ذمہ داری کا بوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے شریکِ جرم بھی ہوتے ہیں یہ لوگ زمین پر فساد اور برائی کا سبب بنتے ہیں۔ خلقِ خدا کی گمراہی کا باعث ہوتے ہیں اور راہ حق پر چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ اسلام کی اجتماعی منطق کے لحاظ سے جو شخص بھی کوئی اچھی یا بُری روایت قائم کرتا ہے۔ اس روایت پر عمل کرنے والوں کے عمل میں شریک ہے۔ایک مشہور حدیث میں ہے: جو شخص کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھتا ہے اس پر عمل کرنے والوں کا اجر اسے ملے گا جب کہ عمل کرنے والوں کی جزا بھی کم نہ ہوگی۔اسی طرح جو کوئی بُری سننت کی بنیاد رکھتا ہے، اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ بہرحال، قرآن اور احادیث کے لرزا دینے والے یہ الفاظ اللہ اور مخلوقِ خدا کے بارے میں رہبروں اور راہنماؤں کی ذمہ داری کی واضح کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ قبل کی چند آیات میں ہر امت میں گواہ ہونے کا ذکر آیا تھا۔اب پھر وہی گفتگو کچھ مزید وضاحت کے ساتھ آئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو جب ہم ہر امت کے لیے اسی میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے (وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْـهِـمْ مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ) علمِ خدا ہر چیز پر محیط ہے مگر پھر ہر امت کے لیے خود اسی میں سے گواہ کا ہونا اس بات پر مزید تاکید کرتا ہے کہ انسانوں کے اعمال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے یہ ایک تنبیہ بھی ہے۔ اس عام حکم میں اگرچہ مسلمان بھی شامل ہیں، رسولِ اسلام بھی، لیکن اس بات پر مزید تاکید کے طور پر با لخصوص فرمایا گیا ہے: اور تجھے ہم ان مسلمانوں پر شاید قرار دیں گے (وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ)۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس کی بناء پر "ھٰؤلاءِ" سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جو زمانہ پیغمبر میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ان کے اعمال پر ناظر و شاہد تھے لہذا فطرتاً رسول اللہ کے بعد امت میں کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے کہ جو بعد والوں پر شاہد ہو اور شاید کسی ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو خود ہر قسم کے گناہ اور خطا سے پاک ہوتا کہ وہ شہادت کا حق اچھی طرح سے ادا سکے۔ اسی بناء پر بعض شیعہ و سنی مفسرین نے آیت کو ہر زمانے میں حجت عادل اور شاہد عادل کے وجود پر دلیل قرار دیا ہے البتہ شیعہ کہ جو ہر زمانے میں امامِ معصوم کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہیں، ان کے لیے اس کی تفسیر واضح ہے لیکن اہلِ سنت علماء کے لیے اس کی توجیہ آسان نہیں ہے۔ شاید اسی مشکل کی بناء پر فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں ایسے توجیہ میں الجھے ہیں کہ جو اشکال سے خالی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس آیت سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب لوگوں پر گواہ نہ ہو اور گواہ کو جائز الخطا نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کے لیے بھی ایک گواہ کی ضرورت ہو گی اور اس معاملے کا سلسلہ لا متناہی ہو جائے گا ہر زمانے میں ایسے افراد کو ہونا چاہیے کہ جن کی گفتار اور قول حجت ہو اس معاملے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ ہم کہیں کہ اجماعِ امت حجت ہے (یعنی ہر زمانے کے تمام لوگ باہم مل کر کبھی راہ ِ خطا اختیار نہیں کریں گے)۔(بحوالہ:تفسیر کبیر جلد 20 ص 98) جناب فخر الدین رازی اپنے عقائد کی قید سے تھوڑا سا باہر نکل آتے تو یقیناً ایسی تعصب آمیز گفتگو میں مبتلا نہ ہوتے کیونکہ قرآن کہتا ہے: ہر امت کے لیے خود اسی کی نوع میں سے ہم نے ایک گواہ بنایا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ اجماعِ امت ہر فرد امت کے لیے حجت اور گواہ ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے سورہ نساء کی آیت ۴۱ کے ذیل میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ’’ھؤلاء‘‘ کی تفسیر میں دو اور احتمال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ ’’ھؤلاء‘‘ گزشتہ امتوں کے گواہوں یعنی انبیاء و اوصیاء کی طرف اشارہ ہے لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس امت پر گواہ ہیں اور گزشتہ انبیاء پر بھی۔ دوسرا یہ کہ شاہد اور گواہ سے مراد عملی گواہ ہے یعنی وہ شخص کہ جس کا وجود نمونہ، ماڈل اور حق و باطل کی پہچان کے لیے میزان ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ ص ۲۸۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔ شہیداور گواہ مقرر کرنا اس بات کی دلیل ہے انسان کے لیے پہلے سے ایک ایسا مکمل اور جامع پروگرام موجود ہے کہ جس سے سب پر حجت تمام ہو جاتی ہے تبھی تونگرانی کا صحیح مفہوم پیدا ہو سکتا ہے لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے اور ہم نے یہ آسمانی کتاب (قرآن مجید) تجھ پر نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان موجود ہے ( ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئ)۔ یہ ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے بشارت بھی ہے (وھدی و رحمۃ وبشرٰی للمسلمین)۔

چند اہم نکات: ۱۔ قرآن سب واضح کرتا ہے

مندرجہ بالا آیات میں سب سے اہم بات یہ آئی ہے کہ قرآن ’’ تبیاناً لکل شئ‘‘ (ہر چیز کا واضح بیان) ہے۔’’تبیان‘‘ (’’ت‘‘ پر زبر یا زیر کے ساتھ) مصدری معنی رکھتا ہے یعنی "بیان کرنا"۔ (تشریحی نوٹ: آلوسی نے روح المعانی میں بعض عربی ادیبوں سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام مصدر جو ’تفعال‘ کے وزن میں آتے ہیں ’ت‘ کی زبر کے ساتھ ہیں سوائے ’تبیان‘ اور ’تلقاء‘ کے۔ ضمناً اس لفظ کو بعض نے مصدر اور بعض نے اسم ِ مصدر سمجھا ہے)۔ اس تعبیر سے "لکل شئ" کے مفہوم کی وسعت کی طرف توجہ کی جائے تو یہ واضح استدلال کی جا سکتا ہے کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے لیکن اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک تربیتی اور انسان ساز کتاب ہے کہ جو ہر پہلو سے معاشرے کے کمال و ترقی کے لیے نازل ہوئی ہے واضح ہو جاتا ہے کہ تمام چیزوں سے مراد وہ تمام امور ہیں جو اس سفر کے لیے ضروری ہیں نہ یہ کہ قرآن ایک بہت بڑا دائرۃ المعارف ہے کہ جس میں ریاضی جغرافیہ، کیمیا، فزکس، فزیالوجی وغیرہ کی تفصیلات بیان کی گئ ہیں۔ اگرچہ قرآن نے تمام علوم کے حصول کی ایک کلی دعوت دی ہے کہ جس میں مذکورہ اور غیر مذکورہ سب علوم جمع ہیں۔علاوہ کبھی کبھی اس نے توحیدی اور تربیتی مباحث کی مناسبت سے علوم کے حساس حصوں سے پردہ اٹھایا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود جس چیز کے لیے قرآن نازل ہوا ہے اور جو قرآن کا اصلی اور آخری ہدف ہے وہ انسان سازی ہی ہے اور اس سلسلے میں اس نے کسی چیز کو فرو گذاشت نہیں کیا۔ بعض اوقات قرآن ان سب مسائل کی جزئیات تک کا ذکر کرتا ہے اور مسئلے کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بیان کر دیتا ہے (مثلاً تجارتی معاہدے اور قرض کے لیے اسناد لکھنے کے احکام کہ جو قرآن کی طویل ترین آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں اس سلسلے میں ۱۸ احکام بیان ہوئے ہیں)۔(بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۲۲۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ کبھی قرآن انسانی زندگی کے مسائل کو کلی صورت میں بیان کرتا ہے مثلاً یہ آیت کہ جس کی تفسیر بعد میں آرہی ہے۔ ان اللہ یأمر بلعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربیٰ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی یقیناً اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اور وہ فرمان دیتا ہے کہ قریبیوں کو عطا کرو۔نیز وہ برائی نا فرمانی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ اسی طرح بعض امور کو بڑے وسیع مفہوم کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ ایفائے عہد کے بارے میں ہے: ان العھد کان مسئولاً یقیناً عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بنی اسرائیل ---- ۳۴) اسی طرح اس آیت میں بھی مفہوم بہت وسیع ہے۔ اوفوا بالعقود (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ ) (مائدہ ------- ۱) حق جہاد کی ادئیگی کے لازمی ہونے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ اور راہِ خدا میں ایسا جہاد کرو کہ اس کا حق جہاد ادا ہو جائے (حج------------ ۷۸) اسی طرح قیام عدل کا وسیع مفہوم کے اعتبار سے بیان فرمایا گیا ہے۔ لیقوم الناس با لقسط ( تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں)۔ (حدید ----------- ۲۵) تمام امور میں نظم کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ والسماء رفعھا و وضع المیزان الا تطغوا فی المیزان واقیموا الوزن بالقسط ولاتخسروا المیزان (ترجمہ اور اسی نے آسمان بلند کیا اور ترازو (انصاف) کو قائم کیا تا کہ تم لوگ ترازو سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک کرو اور تول کم نہ کرو)۔(رحمٰن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۷ تا ۹) زمین میں ہر قسم سے فتنہ و فساد اور برائی سے اجتناب کا حکم اس وسیع مفہوم میں پیش کرتا ہے۔ ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا جب زمین میں اصلاح ہو چکی تو اس میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو۔ (اعراف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۸۵) اسی طرح بہت سی آیات میں تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دی گئی ہے اور یہ بہت سی قرآنی آیات میں موجود ہے اس طرح کے ہمہ گیر انسانی پروگرام کہ جو ہر سمت کی راہیں کھولتے ہیں اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ قرآن میں تمام چیزوں کا بیان ہے یہاں تک کہ ان کلی احکام کی فروغات بھی معین کیے بغیر نہیں چھوڑی گئیں۔ نیز جس مرکز سے احکام اور پروگرام جاری اور بیان ہونا ہیں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ وما اٰتاکم الرسول فخذوہ ْ وما نھٰکم عنہ فانتھوا ْ جس چیز کا تمھیں رسول حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رُک جاؤ۔ (حشر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۷) قرآن کے بے کنار سمندر میں انسان جس قدر شناوری کرتا ہے اور اس کی گہرائی سے سعادت بخش پروگراموں کے موتی نکال کر لاتا ہے اس آسمانی کتاب کی عظمت، وسعت اور جامعیت زیادہ آشکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو مسلمان حیات انسانی کی راہنمائی کے لیے اِدھر اُدھر ہاتھ پھیلاتے ہیں۔انھوں نے یقیناً قرآن کو نہیں پہچانا اور جو کچھ خود ان کے پاس ہے اس کی آرزو دوسروں سے کرتے ہیں۔ یہ آیت ہر پہلو سے اسلامی تعلیمات کی اصالت و استقلال کو واضح کرنے کے علاوہ مسلمانوں پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے کہ انھیں جس چیز کی احتیاج ہو اس قرآن سے حاصل کریں۔ اس آیت اور ایسی دیگر آیات کے حوالے سے اسلامی روایات میں جامعیتِ قرآن پر بہت زور دیا گیا ہے ان میں سے ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں۔ ان اللہ تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شئ حتی و اللہ ما ترک شئا تحتاج الیہ العباد، حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان ھٰذا، انزل فی القران، الا وقد انزلہ اللہ فیہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں ہر چیز بیان کی ہے۔ خدا کی قسم !جو چیز لوگوں کی ضرورت ہے اسے ترک نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ کاش فلاں حکم قرآن میں نازل ہوتا، لہذا اسے نازل کیا گیا ہے۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۴۰)۔ ایک دیگر حدیث میں امام باقر عیلہ السلام سے مروی ہے: ان اللہ تبارک و تعالیٰ لم یدع شیئاً تحتاج الیہ الامۃ الا انزلہ فی کتابہ و بینہ لرسولہ (ص) وجعل لکل شئ حداً ، وجعل علیہ دلیلا یدل علیہ، وجعل علی من تعدی ذٰلک الحد حداً۔ اللہ تبارک و تعالی نے کوئی ایسی چیز جس کی اس امت کو ضرورت تھی اپنی کتاب میں فروگذاشت نہیں کی اور اسے اپنے رسول سے بیان کیا ہے اس نے ہر چیز کے لیے ایک حد مقرر کر دی ہے اور اس پر ایک واضح دلیل قائم ہے اور ہر اس شخص کے لیے حد اور سزا مقرر ہے جو اس حد سے تجاوز کرے۔ (بحوالہ:نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۴۰)۔ یہاں تک کہ اسلامی روایات میں اس مسئلے کی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ ظاہر قرآن کہ جسے عام لوگ اور علماء سمجھ لیتے ہیں کے علاوہ باطنِ قرآن بھی ایک وسیع سمندر ہے جس میں بہت سے مسائل مخفی ہیں کہ جہاں تک ہماری فکر نہیں پہنچ سکتی۔ قرآن کا یہ پہلو خاص اور پیچیدہ علم کا حامل ہے کہ جو رسول اللہ اور ان کے سچے اوصیاء کی دسترس میں ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:- ما من امر یختلف فیہ اثنان الا ولہ اصل فی کتاب اللہ عزوجل ولٰکن لا تبلغہ عقول الرجال۔ ہر امر کہ جن کے بارے میں دو افراد کے درمیان بھی اختلاف ہو اس کے بارے میں قرآن میں ضابطہ موجود ہے لیکن لوگوں کی عقل و دانش اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۸)۔ جو چیز عام لوگوں کی دسترس میں نہیں اسے انسان کے وجدانِ ناخود آگاہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے البتہ یہ اس چیز سے مانع نہیں کہ اس کے خود آگاہ اور ظاہری حصے سے سب استفادہ کر سکتے ہیں۔

۲۔ ہدایت کے چار مرحلے

یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں نزولِ قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے چار تعبیریں آئی ہیں: ۱۔ تبیاناً لکل شئ قرآن میں ہر چیز کا واضح بیان ہے: ۲۔ باعثِ ہدایت ہے (ھدی)۔ ۳۔ سبب رحمت ہے (ورحمۃ)۔ ۴۔ تمام مسلمانوں کے لیے موجبِ بشارت ہے (وبشریٰ للمسلمین)۔ اگر صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو ان چار مراحل میں واضح منطقی تعلق دکھائی دے گا۔ کیونکہ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے راستے میں پہلا مرحلہ بیان اور آگاہی کا ہے۔اور مسلم ہے کہ آگاہی کے بعد ہدایت اور راہ پانے کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد عمل کرنے کی باری ہے کہ جو باعثِ رحمت ہے۔ اور آخر کار جب انسان مثبت اور صالح عمل انجام دے لے تو وہ دیکھے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لا محدود جزاء ملے گا۔کہ جو اس راہ کے تمام راہیوں کے لیے بشارت و سرور کا باعث ہے۔

90
16:90
۞إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
یقیناً اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قریبیوں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائیوں ‘ نافرمانیوں اور ظلم سے روکتا ہے اللہ تمہیں نصیحت کرتاہے کہ شاید تم سبق لو۔

نہایت جامع معاشرتی پروگرام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیت میں تھا کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔زیر نظر آیت میں تعلیماتِ اسلام کا ایک جامع اجتماعی انسانی اور اخلاقی پروگرام پیش کیا ہے۔یہاں آیت میں چھ اہم اصول بیان کیے گئے ہیں۔تین مثبت پہلو سے ہیں، اور تین منفی پہلو سے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ عدل و احسان اور اسی طرح قریبیوں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے (اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى)۔ عدل سے بڑھ کر کون سا قانون وسیع اور جامع متصور ہو سکتا ہے۔عدل وہی قانون ہے جس کے خور پر تمام نظامِ ہستی گردش کرتا ہے۔آسمان و زمین اور تمام موجودات عدالت کے ساتھ قائم ہیں (بالعدل قامت السمٰوٰت والارض)۔ انسانی معاشرہ اس وسیع عالمِ ہستی کا ایک گوشہ ہے۔یہ معاشرہ عالمِ ہستی کے اس عمومی قانون سے الگ نہیں ہو سکتا اور عدل کے بغیر صحیح طرح اپنی زندگی جاری نہیں رکھ سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ عدل کا حقیقی معنیٰ ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہو لہذا ہر قسم کا انحراف، افراط و تفریط، حد سے تجاوز اور دوسروں کے حقوق کا استحصال عدالت کے بر خلاف ہے۔ایک صحیح انسان وہ ہے جس کے بدن کے تمام حصے بغیر کسی کمی بیشی کے اپنا اپنا کام کریں جب کبھی اس کا کوئی ایک یا کچھ حصے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کریں یا تجاوز کریں تو فوراً سارے بدن پر خرابی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں اور بیماری یقینی طور پر آجاتی ہے۔ سارا انسانی معاشرہ بھی ایک انسانی بدن کی طرح ہے۔اگر عدل ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ بیمار ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ بعض بحرائی و استثنائی مواقع پر تنہا عدالت اپنے جاہ و جلال اور گہرائی کے ساتھ کارساز نہیں ہوئی۔ لہذا ساتھ ہی احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں انسانوں کی طویل زندگی میں ایسے حساس مواقع بھی آ جاتے ہیں کہ جب مشکلات کا حل عدالت کی مدد سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ ایثار،درگذر اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا مفہوم "احسان" میں مضمر ہے۔ مثلاً ایک غدار اور دھوکا باز دشمن نے علاقے پر حملہ کر دیا۔یا طوفان، سیلاب اور زلزلے نے ملک کا ایک حصہ تباہ کر دیا ہے۔ اب اگر لوگ ان حالات میں اس انتظار میں رہیں کہ مالی لحاظ سے اور دیگر لحاظ سے عادلانہ قوانین ان مسائل کو حل کریں تو یہ ممکن نہیں ہے ایسے مواقع پر وہ تمام لوگ کہ جن کے پاس زیادہ وسائل ہیں، جن کے پاس فکری، جسمانی اور مالی طاقت ہے انھیں چاہیے کہ ایثار و قربانی سے کام لیں اور طاقت کے مطابق ایثار کریں۔ورنہ ہو سکتا ہے ظالم دشمن سارے ملک کو ختم کر دے یا قدرتی آفات بہت سے لوگوں کو بلکل مفلوج کر دیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ دونوں اصول ایک انسان کے بدن میں بھی فطری طور پر کار فرماہیں۔عام حالات میں بدن کے تمام حصے ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں اور ہر عضو سارے بدن کے لیے کام کرتا ہے اور دوسرے اعضاء کی خدمات سے بہرہ مند ہوتا ہے یہ دراصل عدالت ہی ہے لیکن جب کبھی ایک عضو زخمی ہو جاتا ہے اور مقابلۃً خدمت کی قوت کھو بیٹھتا ہے تو کیا ممکن ہے اس حالت میں باقی اعضاء اسے بھلا دیں کیونکہ وہ بیکار ہو گیا ہے۔کیا ممکن ہے زخمی عضو کا دوسرے اعضاء ساتھ نہ دیں اور اسے غذا نہ پہنچائیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دراصل احسان ہی ہے۔ سارے انسانی معاشرے پر بھی یہ دو اصول کار فرما ہونے چاہییں ورنہ معاشرہ صحیح و سالم نہیں ہو سکتا۔ اسلامی روایات اور اسی طرح مفسرین کے اقوال میں عدل و احسان کے درمیان فرق کے بارے میں مختلف بیانات دکھائی دیتے ہیں جو شاید زیادہ تراسی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نو سطورِبالا میں بیان کیا ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: العدل الانصاف، والاحسان التفضل۔ عدل یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق ان تک پہنچائے جائیں اور احسان یہ ہے کہ ان پر تفضل کیا جائے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۲۳۱)۔ اسی چیز کی طرف سطورِبالا میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ بعض نے کہا ہے: "عدل" توحید ہے اور "احسان" واجبات کیادائیگی ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر "عدل" اعتقاد کی طرف اور "احسان"عمل کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے کہا ہے: "عدالت" ظاہر و باطن کی ہم آہنگی کا نام ہے اور "احسان"یہ ہے کہ انسان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہو۔ بعض دیگر مفسرین نے عدالت کو عملی پہلوؤں سے مربوط سمجھا ہے اور ’احسان‘ کو گفتار کے ساتھ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے ان میں سے بعض تفاسیر ہمارے ذکر کردہ مفہوم سے ہم آہنگ ہیں اور دوسری بھی اس کے منافی نہیں ہے اور اس قابل ہیں کہ سب کو اس آیت میں سمجھا جائے۔ رہا "اِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى"، یعنی قریبیوں کے ساتھ نیکی کرنے کا مسئلہ تو یہ درحقیقت مسئلہِ احسان کا ایک حصہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ "احسان" پورے معاشرے کے ساتھ اور وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى خصوصیات سے اقرباء اور وابستگان کے ساتھ ہے کہ جو ایک چھوٹا معاشرہ شمار ہوتا ہے یہ خاندان معاشرے کی ایک اکائی ہے اگر اس میں باہمی اتحاد ہوگا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر مرتب ہو گا۔ درحقیقت اس طرح لوگوں میں فرائض اور ذمہ داریاں صحیح صورت میں تقسیم ہوتی ہیں، کیونکہ ہر گروہ ذرا پہلے درجے میں اپنے اقرباء میں سے کمزور افراد کی دستگیری کرے گا تو اس طرح سے تمام افراد کے اپنے اقرباء کے ساتھ خوشگوار مراسم قائم ہو جائیں گے۔ بعض احادیثِ اسلامی میں ہے کہ "ذی القربیٰ" سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی یعنی آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام ہیں اور "ایتاء ذی القربیٰ" سے مراد خمس کی ادائیگی ہے۔ اس تفسیر کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ آیت کا مفہوم محدود کر دیا جائے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ آیت اپنے وسیع مفہوم میں باقی رہے اور یہ مفہوم دراصل، اس کے عمومی مفہوم کا ایک روشن مصداق ہے۔ اور اگر ہم "ذی القربیٰ" کو مطلق طور پر نزدیکیوں کے معنیٰ میں لیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چاہے وہ نسب اور خاندان کے اعتبار سے نزدیکی ہوں یا کسی اور اعتبار سے نزدیکی ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تو آیت کا مفہوم اور بھی وسیع ہو جائے گا۔اس طرح اس کے مفہوم میں ہمسائے، دوست اور اس قسم کے دیگر قریبی بھی شامل ہو جائیں گے۔اگرچہ "ذی القربیٰ" کا مشہور معنی وہی "اقرباء و خویش"ہی ہے۔ چھوٹے معاشرہ (یعنیٰ اقرباء و اعزاء) کی مدد میں چونکہ انسان کے احساسات،کارفرما ہوتے ہیں لہذا اجزاء کے لحاظ سے یہ حکم زیادہ قوی تر ہے۔ ان تین مثبت اصولوں کے ذکر کے بعد تین ممانعتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے فرمایا گیا ہے: اللہ، "فحشاء"، ’منکر‘ اور ’بغی‘ کی ممانعت کرتا ہے (و ینھٰی عن الفحشاء و المنکر و البغی)۔ "فحشاء"، ’منکر‘ اور ’بغی‘کے مفہوم کے بارے میں بھی مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ان کے لغوی معانی کو ایک دوسرے کے قرینے سے دیکھا جائے تو زیادہ مناسب یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ ’فحشاء‘ سے مراد چھپے ہوئے گناہ ہیں ’منکر‘ کھلے عام گناہوں کو کہتے ہیں اور ’بغی‘ اپنے حق سے ہر قسم کے تجاوز، ظلم اور اپنے تئیں دوسرے سے بڑا سمجھنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسرین(تفسیر فخر الدین رازی جلد ۲۰ ص ۱۰۴)نے کہا ہے کہ اخلاقی انحراف کا سرچسمہ تین قوتیں ہیں: ۱۔ قوتِ شہوانی ۲۔ قوتِ غضبی ۳۔ قوتِ وہمی شیطانی ۱۔ قوتِ شہوانی: انسان کو زیادہ سے زیادہ لذتیں حاصل کرنے پر ابھارتی ہے اور اسے فحشاء میں غرق کر دیتی ہے۔ ۲۔ قوتِ غضبی: انسان کو منکرات انجام دینے اور لوگوں کو اذیت پہچانے پر انیگخت کرتی ہے۔ ۳ ۔ قوتِ وہمی شیطانی: انسان کو مقام و منصف اور بڑا بننے پر ابھارتی ہے اور انسان کی نظر کو فقط اس کی اپنی ذات تک محدود کر دیتی ہے انسان میں دوسروں کے حقوق پر تجاوز کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور اسے ایسے کاموں پر اکساتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تعبیرات کے ذریعے ان جبلتوں کی سرکشی پر تنبیہ کی ہے۔مندرجہ بالا آیت میں ایک جامع بیان کہ جس میں یہ تمام اخلاقی انحرافات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کے ذریعے راہِ حق کی طرف ہدایت کی گئی ہے۔ آیت کے آخر میں ان چھ اصولوں پر ایک اور تاکید کی گئی ہے۔ارشاد ہوتا ہے:اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے شاید تم خیال کرو اور عمل کرنے لگو۔(یعظکم لعلّکم تذکّرون)۔

خیر و شر کے بارے میں جامع ترین آیات

اس آیت کی جاذبیت اور طرزِ بیان کے بارے میں یہ روایت ملاحظہ ہو: عثمان بن مظعون رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابہ میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: شروع میں میں نے اسلام ظاہری طور پر ہی قبول کیا تھا اور دل سے اسے نہیں مانا تھا وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہا مجھے اسلام کی دعوت دیتے۔ شرم کی وجہ سے میں نے قبول کر لیا میری یہ کیفیت یونہی رہی یہاں تک کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ بہت گہری فکر میں ہیں اور سخت پریشان ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، یوں لگتا تھا جیسے کوئی پیغام وصول کر رہے ہیں یہ حالت ختم ہوئی تو میں نے ماجرا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں تم سے باتیں کر رہا تھا، اچانک میں نے جبرائیل کو دیکھا وہ میرے پاس یہ آیت لے کر آئے تھے:- ’اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى‘ آپؐ نے میرے سامنے یہ آیت پوری تلاوت کی تو اس کے مضمون نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ اسی وقت اسلام میری روح میں اتر گیا میں آپ کے چچا ابی طالب کے پاس گیا اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو انھوں نے فرمایا: اےاہلِ قریش؛ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرو تو ہدایت پاؤگے کیونکہ وہ تمھیں مکارمِ اخلاق کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔ پھر میں ولید بن مغیرہ کے پاس گیا (یہ مشہور عالم اور مشرکین کا ایک سردار تھا) یہ ہی آیت میں نے اس کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا: اگر یہ بات خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے تو بہت عمدہ ہے اور اگر اس کے خدا کی طرف سے ہے تو بھی بہت ہی اچھی ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت ولید بن مغیرہ کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا برادر زاد: (تشریحی نوٹ: بھائی کا بیٹا۔ اس نے اس لیے کہا کہ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور یہ دونوں قریش میں سے تھے) اسے پھر پڑھنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پھر پڑھی تو ولید نے کہا: ان لہ لحلاوۃ و ان علیہ الطلاوۃ، وان اعلاہ لمثمر، وان اسفلہ لمغdق، وما ھو قول البشر۔ یہ خاص مٹھاس،حسن اور درخشندگی کی حامل ہے اس کی شاخیں پُر بار ہیں اور اس کی جڑیں پُر برکت ہیں اور کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔( بحوالہ:مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اور حدیث مروی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماع التقوٰی فی قولہ تعالیٰ ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان تقویٰ سارے کا سارا خدا کے اس ارشاد میں ہے۔(ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان) (بحوالہ: نور الثقلین جلد ۳ ص ۱۷۸)۔ مذکورہ بالا احادیث اور دیگر متعد احادیث سے یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ زیر نظر آیت اسلام کے ایک ہمہ گیر حکم، اسلام کے ایک بنیادی قانون اور اس کے عالمی منشور کی بنیاد کے طور پر ہمیشہ مسلمانوں کے ہاں بہت اہم وہی ہے یہاں تک کہ ایک حدیث کے مطابق جب امام باقر علیہ السلام نمازِ جمعہ پڑھاتے تو خطبہ نماز کے آخر میں آپ یہ ہی آیت تلاوت فرماتے اور اس کے بعد ان الفاظ میں دعا کرتے۔ اللھم اjعلنا ممن یذکر فتنفعہ الذکریٰ خداوندا؛ ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو پندونصیحت کو سنتے ہیں اور یہ ان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ منبر سے اتر آتے۔ (بحوالہ:نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۷ بحوالہ کافی)۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہر قسم کی بد بختی، فساد اور برائی سے پاک ہو جائے تو اس کے لیے کافی ہے کہ ان تین اصولوں پر عمل کیا جائے؛ ۱۔ عدل ۲۔ احسان ۳۔ ایتاء ذی القربیٰ اور ان تین انخرافات کا سطح ارض سے خاتمہ کر دیا جائے: ۱۔ فحشاء ۲۔ منکر اور ۳۔ بغی مشہور صحابیِ رسول ابنِ مسعود سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا: یہ آیت قرآن میں خیر اور شر کے بارے میں جامع ترین آیت ہے۔ ان کے اس قول کی بھی یہ ہی وجہ ہے جو بیان کی جاچکی ہے۔ اس آیت کا مفہوم ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لرزا دینے والی حدیث یاد دلاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ صnfان من امتی اذا اصلحا صلحت امتی واذا فسد فسدت امتی میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اگر ان کی اصلاح ہو جائے گی تو میری امت کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ فاسد اور خراب ہو جائیں گے تو میری امت فاسد ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا؛ ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ دو گروہ کون سے ہیں؟‘‘ الفقھاء والامراء علماء اور امراء و اہل ِ اقتدار۔ محدث قمی،’سفینۃ البحار‘ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حسبِ حال حدیث نقل کرتے، آپ نے فرمایا:- قال تکلم النار یوم القیٰمۃ ثلاثۃ؛ امیراً، وقاریاً، وذا ثروۃ من المال، فیقول للامیر یا من وھب اللہ لہ سلطاناً فلم iعدل، فتزدردہ کما تزدرد الطیر حب السمم، وتقول للقاری بامن تزین للناس وبارز اللہ بالمعاSی فتزدردہ، وتقول للغنی یا من وھب اللہ لہ دنیا کثیرۃ واسعۃ فیضاً وسئلہ الحقیر الیسیر قرضا فابی الا بخلا فتزدردہ۔ قیامت کے دن جہنم کی آگ تین گروہوں سے بات کرے گی۔اہل اقتدار، علماء اور دولت مند۔اہل ِ اقتدار سے کہے گی؛ یہ تمھیں خدا نے اقتدار دیا تھا لیکن تم نے عدل سے کام نہیں لیا۔یہ کہہ کر آگ انھیں اس طرح سے نگلے گی جیسے پرندوں تلوں کے دانوں کو نگل جاتا ہے۔ اس کے بعد علماء سے کہے گی؛ تم نے طاہراً تو اپنے آپ کو بہت اچھا بنا رکھا تھا لیکن تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ یہ کہہ کر آگ انھیں بھی نگل جائے گی۔ پھر دولت مندوں سے کہے گی؛ خدا نے تمھیں بہت سے وسائل عطا کیے تھے اور تم نے چاہا تھا کہ ان میں سے کچھ مال خرچ کرو لیکن تم نے بخل سے کام لیا۔ یہ کہہ کر آگ انھیں بھی نگل جائےگی۔ (بحوالہ: سفینۃ البحار جلد ۷۱ ص ۳۰)۔ (عدالت اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد میں سورہ مائدہ کی آیہ ۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ادھر رجوع کیجیے گا)۔

91
16:91
وَأَوۡفُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمۡ وَلَا تَنقُضُواْ ٱلۡأَيۡمَٰنَ بَعۡدَ تَوۡكِيدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ ٱللَّهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيلًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ
اور جب اللہ سے عہد پیمان باندھو تو اسے پورا کرو اور اپنی قسموں کو ان کے پکا ہو جانے کے بعد نہ توڑ و جبکہ تم خدا کو اپنی قسموں پر کفیل و ضامن قرار دے چکے ہو جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
16:92
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّتِي نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثٗا تَتَّخِذُونَ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرۡبَىٰ مِنۡ أُمَّةٍۚ إِنَّمَا يَبۡلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
اس (کم عقل) عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے سوت کو خوب کات کر پھر بکھیر دیتی ہے جبکہ تم اپنی (قسموں اور) پیمانوں کے ذریعے خیانت و فساد کرتے ہو اس بناء پر کہ ایک گروہ کی نفری دوسرے سے زیادہ ہے اور اللہ تمہیں آزماتا ہے اور جس چیز کے بارے میں تم اختلاف کرتے ہو‘ روز قیامت اسے واضح فرما دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
16:93
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَلَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا (سب کو جبری طور پر ایمان قبول کروا دیتا) مگر خدا جس شخص کو چاہتا ہے (اور مستحق پاتا ہے) اسے گمراہ کر دیتا ہے اور جسکو چاہتا (اور لائق سمجھتا ہے) ہدایت فرماتاہے اور جوکچھ تم انجام دیتے ہو تمہاری اس بارے میں باز پرس ہو گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 94 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
16:94
وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمُۢ بَعۡدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُواْ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمۡ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَكُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
اپنی قسموں کو باہم دھوکا بازی اور خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ‘ مبادا (ایمان پر) جمے ہوئے قدم اکھڑ جائیں اور پھر راہ خدا سے لوگوں کو روکنے کے برے آثار کا مزہ چکھو اور تمہارے لئے بڑا سخت عذاب ہو گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

عظیم مفسر قرآن علامہ طبرسی مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیات میں سے پہلے آیت کے شانِ نزول کے بارے میں کہتے ہیں:- جس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دشمن بہت زیادہ تھے ایسے میں امکان تھا اتنے فرق کا احساس کرتے ہوئے بعض مومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کی ہوئی اپنی بیعت توڑ دیتے اور آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے۔۔ ۔ ۔ ان حالات میں یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس سلسلے میں تنبیہ کی گئی اور خبردار کیا گیا۔

عہد و پیمان ایمان کی دلیل

گزشتہ آیت میں اسلام کے اساسی اصول، عدالت، احسان وغیرہ کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں اسلامی تعلیمات کے ایک نہایت اہم گوشے کا تذکرہ شروع کیا گیا ہے اور وہ ہے ایفائے عہد اور قسموں کو پورا کرنا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ سے جب عہد کرو تو اسے ایفا کرو (وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ اِذَا عَاهَدْتُّـمْ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد توڑ نہ دو (وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا)۔ جبکہ تم نے اللہ کے نام کی قسم کھائی ہو اور اپنی قسم پر اللہ کو کفیل اور ضامن قرار دیا ہو (وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا)۔کیونکہ اللہ تمھارے اعمال کو جانتا ہے (اِنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ)۔ مفسرین نے ’’عہد اللہ‘‘ کی بہت سی تفسیریں کی ہیں لیکن ظاہری مفہوم وہی عہد و پیمان ہی ہےجو لوگ اللہ کے ساتھ باندھتے ہیں ( اور واضح ہے کہ اس کے رسول کے ساتھ عہد کرنا بھی اس کے ساتھ عہد کرنا ہی ہے) لہذا ایمان اور جہاد وغیرہ کے نام پر بیعت کرنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے بلکہ تمام شرعی ذمہ داریاں تو رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے بتائی جاتی ہیں، ضمنی طور پر عہد الٰہی کے مفہوم میں داخل ہیں اور عقلی احکام کی بھی یہ ہی صورت ہے کیوںکہ عقل و ہوش اور استعداد اللہ ہی کی عطا ہیں۔ ’’ایمان‘‘، ’’یمین‘‘ کی جمع ہے اس کا معنی ہے قسم۔مندرجہ بالا آیت میں آنے والے اس لفظ کی بھی مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔جملے کے مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بھی وسیع مفہوم ہے اس میں بھی وہ تمام معاہدے شامل ہیں جو انسان خدا کے سامنے کرتا ہے اور تمام معاہدے اور وعدے جو قسم کے ذریعے مخلوقِ خدا کے سامنے کیے جاتے ہیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں دوسرے لفظوں میں ہر قسم کا معاہدہ یا وعدہ جو اللہ کے نام پر یا اس کی قسم کے ذریعے انجام پا ئے وہ ’’ایمان‘‘ کے معنی میں داخل ہے خصوصاً جبکہ اس کے بعد’’وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا‘‘ (جبکہ تم نے خدا کو اپنا کفیل و ضامن قرار دیا ہو) تفسیر و تاکید کے طور پر آیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ’’اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ‘‘ خاص حکم ہے اور’’لَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ‘‘عام حکم ہے۔ ایفائے عہد کا مسئلہ معاشرے کے ثبات و قیام کے لیے چونکہ بہت اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اگلی آیت میں ملامت کے لہجے میں اس کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: تم اس عورت کی طرح نہ ہوجانا جس سے خوب سُوت کاتا اور پھر اس سارے کو کھول دیا۔ (وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَـهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا) ( تشریحی نوٹ: ’’انکاث‘‘، ’’نکث‘‘ (بروزن ’قسط‘) کی جمع ہے۔ یہ اُون اور بالوں کو بٹنے کے بعد کھول دینے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ اون اور بالوں سے بُنے ہوئے لباس کو ادھیڑنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس بارے میں کہ زیر بحث آیت میں ’’انکاث‘‘ کیا محلِ اعراب رکھتا ہے؛ بعض اسے حال تاکیدی اور بعض ’’نقضت‘‘ کا دوسرا مفعول سمجھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ ای جعلت غزلھا انکاثاً‘‘ (اس نے اپنی کاتی ہوئی چیز کو ادھیڑ دیا) یہ زمانہ جاہلیت کی ایک قریشی عورت’’رائطہ‘‘کی طرف اشارہ ہے وہ خود اور اس کی کنیزیں صبح سے دوپہر تک سُوت کاتتیں پھر وہ عورت حکم دیتی کہ اس سارے کو کھول دو۔اسی وجہ سے وہ عربوں میں’’حمقاء‘‘(احمق عورت) کے نام سے مشہور تھیں۔ ان عورتوں کے اس کام پر غور کیا جائے تو یہ ایک رجعت پسندانہ کام دکھائی دیتا ہے کیونکہ کاتنے کے بعد سوت ایک نیا استحکام اور تکامل حاصل کر لیتا ہے اب اس کو ادھیڑنا ایک رجعتی عمل ہی ہے۔کہ جو نہ صرف فضول اور لا حاصل ہےبلکہ نقصان وہ بھی ہے اسی طرح جو لوگ اللہ سے عہد باندھتے ہیں یا اس کے نام پر کوئی معاہدہ کرتے ہیں ان کا اس عہد اور معاعدے کو توڑ دینا نہ صرف فضول اور بے ہودہ حرکت ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کے شخصی انحطاط کی دلیل بھی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: تم اس کی یا اس کی خاطر اور اس خیال سے کہ فلاں گروہ کی نفری دوسرے سے زیادہ ہے اپنے پیمان اور قسم نہ توڑو اور اس پیمان اور قسم کو دھوکا دہی اور برائی کا ذریعہ نہ بناؤ (تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُـوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ)۔ (تشریحی نوٹ: ’’دخل‘‘ (بروزن’دغل‘) اندرونی برائی، باطنی دشمنی اور مکروفریب کے معنی میں ہے اسی مادہ سے ’داخل‘ اندر کے معنی میں لیا گیا ہے اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ہم نے جو تفسیر سطور بالا میں پیش کی ہے اس کے مطابق ’’تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ‘‘جملہ حالیہ ہے لیکن بعض مفسرین نے اسے جملہ استفہامیہ سمجھا ہے البتہ پہلی تفسیر آیت کے ظہور سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے)۔ یہ چیز انسان کی شخصیت اور روح کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے یا اس کے مکر و فریب اور خیانت کی دلیل ہے کہ وہ صرف مخالفین کی کثرت دیکھ کر اپنے سچے دین کو چھوڑ دے اور اس دین سے رشتہ جوڑ لے کہ جو بے بنیاد ہے، اس لیے کہ اس کے طرفدار زیادہ ہیں۔ آگاہ رہو کہ اس طرح اللہ تمھیں آزمائے گا (انما یبلوکم اللہ بہ)۔ اگر تم کثرت میں ہو اور تمھارا دشمن اقلیت میں تو یہ آزمائش کی بات نہیں آزمائش تو جبھی ہے کہ دشمن بڑی تعداد میں تمھارے سامنے کھڑا ہو اور تم ظاہراً کم اور کمزور ہو۔ بہرحال، اس آزمائش کا نتیجہ اور جس امر میں تم اختلاف رکھتے تھے۔خدا کی طرف سے روز قیامت تمھارے سامنے واضح ہو جائے گا اور اس روز دلوں کے بھید آشکار ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کی جزا پا لے گا (وَلَـيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُـمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) خدا کی طرف سے آزمائش، ایمان پر زور دینا اور فرائض کی انجام دہی کی بحث سے عام طور پر یہ تو ہم پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے جبری طور پر حق منوا لے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں اس توہم کا جواب دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: خداچاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا (وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً)۔ امت واحدہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ایمان اور قبولِ حق کے لحاظ سے لیکن جبری طور پر۔ واضح ہے اس طرح سے حق قبول کرنا نہ کمال و ارتقاء کا باعث ہے اور نہ باعثِ افتخار ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سنتِ الٰہی یہ ہے کہ سب کو آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنے اختیار اور ارادے سے راہِ حق طے کریں۔ لیکن اس آزادی کا یہ معنی نہیں کہ جو لوگ اس کی راہ پر چلتے ہیں اللہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کرتا بلکہ جو لوگ راہِ حق پر قدم رکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اللہ کی توفیق ان کے شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ اس کی ہدایت کے زیرِسایہ منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں اور جو باطل کے راستے پر قدم رکھتے ہیں وہ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں اور ان کی گمراہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مزید فرمایا گیا ہے: لیکن خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (ولکن یضل من یشاء ویھدی من یشاء) لیکن خدا کی طرف سے اس ہدایت و گمراہی کا یہ مطلب نہیں کہ تمھاری ذمہ داری سلب ہوگئی ہے کیونکہ اس سے پہلے خود تم نے قدم اٹھائے ہیں۔ اسی لیے مزید فرمایا گیا ہے:تم اپنے اعمال کے یقیناً جواب دہ ہو اور تم سے بازپرس ہوگی (ولتسئلن عماکنتم تعملون)۔ یہ تعبیر کہ جس میں ایک طرف اعمال انجام دینے کی نسبت انسانوں کی طرف دی جا رہی ہے اور دوسری طرف اعمال پر جواب دہی پر زور دیا جارہا ہےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گزشتہ جملے کے مفہوم کے تعین کے لیے واضح قرائن میں سے ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایت و گمراہی ہرگز جبری نہیں ہے۔ (اس سلسلے میں ہم پہلے بھی بحث کر چکے ہیں۔ قارئین تفسیر نمونہ جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت 26 کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں) اس کے بعد پھر ایفائے عہد کی طرف تاکید کی جا رہی ہے۔اور قسمیں پوری کرنے پر زور دیا جا رہا ہے چونکہ معاشرے کے ثبات و بقاء کے لیے یہ ایک اہم عامل ہے ارشاد ہوتا ہے: اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب اور نفاق کا ذریعہ نہ بناؤ (ولا تتخذوا ایمانکم وخلا بینکم)۔کیونکہ اس کام کے دو عظیم نقصانات ہیں۔پہلا یہ کہ اس سے ایمان پر جمے ہوئے قدم متزلزل ہو جاتے ہیں (فتزل قدم بعد ثیوتھا) اس لیے کہ جب تم قسم کھاتے ہو یا عہد باندھتے ہو تو اگر اس وقت تمھارا ایفائے عہد کا ارادہ نہیں ہوتا پھر بھی ایسا کرتے ہو تو لوگوں کا تم پر اعتماد اُٹھ جائے گا اور ایمان لانے والوں میں سے بعض لوگوں کا ایمان بھی اس طرح متزلزل ہو جائے گا گویا ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط نہ تھی۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ تمھیں اس کام کےبُرے نتائج بھگٹنا پڑیں گے۔ اس دنیا میں اللہ کے راستے سے محروم ہو جاؤ گے اور دوسری دنیا میں اللہ کا سخت عذاب تمھارے انتظار میں ہو گا۔ (وتذوقوا السؔوء بما صددتم عن سبیل اللہ ولکم عذاب عظیم)۔ در حقیقت پیمان شکنی اور قسموں کی خلاف ورزی سے ایک طرف تو لوگ دینِ حق سے بدبین اور متنفر ہو جاتے ہیں، انتشار اور بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اسلام قبول کرنے کی طرف لوگوں کی رغبت کو نقصان پہنچتا ہے اس حالت میں اگر دوسرے لوگ کوئی عہدوپیمان باندھیں گے تو اسے پورا کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پابند نہیں سمجھیں گے اور یہ صورتِ حال خود دنیا میں بے شمار پریشانیوں اور تلخ کامیوں کا باعث ہے۔ دوسری طرف دارِ آخرت میں تمھیں عذابِ الٰہی کی سوغات ملے گی۔

چند اہم نکات: ۱۔ عہد و پیمان کے احترام کا فلسفہ

ہم جانتے ہیں کسی معاشرے کا اہم ترین سرمایہ لوگوں کا باہمی اعتماد ہے۔ اصولی طور پر جو چیز معاشرے کو بکھرے ہوئی اکائیوں سے نکال کر ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں منسلک اور وابستہ کر دیتی ہے وہ یہ ہی باہمی اعتماد ہی ہے یہ اعتمادی ہے جس کی بنیاد پر انسانوں کے کاموں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور وہ آپس میں مل جل کر کام کرتے ہیں اور رہتے سہتے ہیں۔عہدوپیمان اور قسمیں اس باہمی اعتماد ہی کے لیے تاکید کا کام دیتی ہیں۔ اگر عہدوپیمان ٹوٹتے رہیں تو پھر معاشرے میں باہمی اعتماد کے عظیم رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور معاشرہ ظاہری صورت میں ایک ہونے کے باوجود بکھرا ہوا اور پراگندہ ہوتا ہے اور وہ ایسی اکائیوں میں بدل جاتا ہے جن میں کوئی دم خم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی آیات اور اسلامی احادیث میں ایفائے عہد اور قسموں کو پورا کرنے پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہےاور بد عہدی اور قسموں کو توڑنے کو گناہِ کبیر قرار دیا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں اسلام اور زمانہ جاہلیت میں اس امر کی بہت زیادہ اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے ایک نہایت اہم اور عمومی مسئلہ شمار کرتے ہوئے اس پر بہت تاکید کی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ مشرکین تک اپنے عہد اور معاہدوں کی پابند کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں پیمان شکنی کے المناک انجام کا علم تھا۔(بحوالہ: نہج البلاغہ خطوط علی (ع) نامہ ۵۳)۔ اسلام کے جنگی احکام میں ہے کہ ایک عام سپاہی بھی دشمن فوج کے ایک فرد یا چند افراد کو امان دے دے تو تمام مسلمانوں کے لیے اس امان کا احترام لازمی ہے۔ مؤرخین اور مفسرین کہتے ہیں کہ صدرِ اسلام میں جو بہت سے گروہوں نے اسلام جیسا عظیم الٰہی دین قبول کیا اس کا ایک سبب مسلمانوں کا اپنے عہد و پیمان کا پابند ہونا اور اپنی قسموں کو پورا کرنا تھا۔ یہ معاملہ اس قدر اہم ہے کہ حضرت سلمان فارسی سے ایک روایت ان الفاظ میں مروی ہے:- تھلک ھذہ الامۃ بنقض موا ثیقھا اس امت کی ہلاکت پیمان شکنیوں کی وجہ سے ہوگی۔(بحوالہ:مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل ہیں)۔ یعنی جیسے ایفائے عہد عظمت و شوکت اور ترقی کا سبب ہے اسی طرح پیمان شکنی،درماندگی، تنزلی اور نابودی کا سبب ہے۔ تاریخ اسلام میں ہے کہ جب خلیفہ ثانی کے دور میں مسلمانوں نے ساسانیوں کو شکست دی اور ایران کے لشکر کا عظیم بادشاہ ہرمزان گرفتار ہوا تو اسے حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے اس سے کہا: تم نے بارہا ہم سے عہدوپیمان کیا اور پھر پیمان شکنی کی،اس کی کیا وجہ تھی۔ ہرمزان کہنے لگا:مجھے خوف ہے کہ اس کی وجہ بیان کرنے سے پہلے تم مجھے قتل نہ کر دو۔ خلیفہ نے کہا: ڈرو نہیں۔ ہرمزان نے پانی مانگا، فوراً ایک عام سے بے قیمت برتن میں پانی بھر کے اسے پیش کیا گیا۔ ہرمزان نے کہا: میں پیاس سے مر بھی جاؤں تو اس برتن میں پانی نہیں پیوں گا۔ خلیفہ نے کہا:ا یسے برتن میں پانی لے آؤ جو اس کے لیے قابلِ قبول ہو۔ایسا برتن لایا گیا پانی بھر کر اسے دیا گیا وہ ادھر اُدھر دیکھتا تھا اور پانی نہیں پیتا تھا اور کہتا تھا: مجھے ڈر ہے کہ میں پانی پینے لگوں گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ خلیفہ نے کہا: ڈرو نہیں، میں تجھے اطمینان دلاتا ہوں کہ جب تک تو پانی پیی نہ لے تجھے کچھ نہیں کیا جائے گا۔ ہر مزان نے اچانک پانی کا برتن اوندھا کر دیا۔پانی زمین پر گر گیا۔خلیفہ نے سمجھا پانی اس کے ہاتھوں سے بے اختیار گر گیا ہے لہذا کہا: اس کے لیے اور پانی لے آؤ اور اسے پیاسا قتل نہ کرو۔ ہرمزان نے کہا مجھے پانی نہیں چاہیے میرا مقصد تو یہ تھا کہ تجھ سے امان لے لوں۔ خلیفہ نے کہا میں تجھے ہر صورت میں قتل کروں گا۔ ہرمزان کہنے لگا: تو مجھے امان دے چکا ہے اور اطمینان دلا چکا ہے۔ خلیفہ نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تجھے امان نہیں دی۔ انس (ایک مشہور صحابی) وہاں موجود تھے کہنے لگے: ہر مزان سچ کہتا ہے، آپ نے اسے امان دی ہے کیا آپ نے نہیں کہا کہ جب تک تو پانی نہ پی لے تجھے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ خلیفہ بات کہہ کر پھنس گئے، ہرمزان سے کہنے لگے: تو نے مجھے دھوکا دیا ہے لیکن میں نے اس لیے دھوکا کھایا کہ تو اسلام قبول کر لے۔ ہرمزان نے یہ منظر دیکھا (اور مسلمانوں کے عہدوپیمان کی پابندی دیکھی تو اس کے سینے میں نورِ ایمان چمک اُٹھا) تو مسلمان ہو گیا۔(بحوالہ: تاریخ کامل جلد ۲ ص ۵۴۹)۔

۲۔ پیمان شکنی کے بہانے

پیمان شنکنی اتنی بُری چیز ہے کہ کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ اپنے اوپر اور اس کا الزام لے۔یہی وجہ ہے کہ عہد شکنی کرنے والے عُذر تلاش کرتے ہیں چاہے وہ عُذر کتنا ہی بے بنیاد کیوں نہ ہو۔ اس کی مثال ہم نے زیر بحث آیات میں بھی دیکھی ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض مسلمان خدا اور رسول ﷺ سے باندھے ہوئے اپنے عہد میں تزلزل کے لیے دشمنوں کی کثرت کا بہانا کرتے تھے حالانکہ کثرت کامیابی کی دلیل نہیں کیونکہ ایسا بہت ہوا ہے کہ ایک با ایمان اور عزم صمیم کا حامل اقلیت کسی بڑی بے ایمان اکثریت پر کامیاب ہو گئی۔اسی طرح دشمنوں کی کثرت اس بات کے لیے کب جواز بن سکتی ہے کہ دوستوں سے عہد شکنی کی جائے کیونکہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو ایسی عہد شکنی دراصل ،ایک قسم کا شرک اور خدا اسے بیگانگی ہے۔ آیت میں جو مثال پیش کی گئی ہے۔ہمارے زمانے میں اس بات نے ایک نئی صورت اختیار کی ہے بعض ایسی مسلمان حکومتیں ہیں کہ جو بظاہر چھوٹی ہیں بڑی استعماری طاقتوں کے خوف سے مومنین سے باندھے ہوئے اپنے پیمان پورے نہیں کرتیں ان کے حکمران ناچیز اور کمزور انسانی طاقت کو خدا کی لامتناہی قدرت پر مقدم سمجھتے ہیں۔غیر خدا پر تکیہ کرتے ہیں اور غیر خدا سے ڈرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے عہد و پیمان بھی اسی انحصار اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ یہ سارے کیفیت شرک و بت پرستی کی پیداوار ہے۔

95
16:95
وَلَا تَشۡتَرُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اللہ کے عہد کو (کبھی بھی) تھوڑی سی قیمت کے بدلے نہ بیچو ۔ اور اگر تم جانو تو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
16:96
مَا عِندَكُمۡ يَنفَدُ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٖۗ وَلَنَجۡزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓاْ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
کیونکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ فانی ہے لیکن جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور جو لوگ صبر و استقامت اختیار کریں گے ہم انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
16:97
مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
مرد ہو یا عورت،جو کوئی بھی نیک عمل کریگا اس حالت میں کہ وہ مومن ہو ہم اسے حیات پاکیزہ عطا کریں گے اور انہیں ان جیسی جزا دیں گے جنہوں نے بہترین اعمال انجام دیئے ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

عظیم مفسر مرحوم طبرسی نے ابنِ عباس سے نقل کیا ہے: ایک شخص حضر موت کا رہنے والا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! میرا ایک ہمسایہ ہے اس کا نام امراؤ القیس ہے اس نے میری زمین کا کچھ حصہ غصب کر رکھا ہے، لوگ میری سچائی کے گواہ ہیں لیکن چونکہ اس کا احترام کرتے ہیں لہذا میری حمایت پر آمادہ نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے امرؤالقیس کو طلب کیا اور اس سے اس سلسلے میں پوچھا تو اس نے جواب میں کچھ ماننے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا کہ اپنی سچائی کے لیے قسم کھاؤ، لیکن مدعی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص کسی اصول کا پابند نہیں لہذا اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں یہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ نے فرمایا:ب ہر حال اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں یا تو اپنے گواہ پیش کرو یا اس کی قسم تسلیم کرو۔ امرؤالقیس قسم کھانے کے لیے اُٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے روک دیا اور مہلت دی (اور فرمایا: اس بارے میں سوچ سمجھ لو پھر قسم اُٹھانا)۔ وہ دونوں چلے گئے اسی دوران میں زیر نظر پہلی اور دوسری آیت نازل ہوئی (جس میں جھوٹی قسم کے انجام سے خبردار کیا گیا) رسول اللہ ﷺ نے یہ دونوں آیتیں ان کے سامنے پڑھیں تو امرؤالقیس کہنے لگا: حق ہے، جو کچھ میرے پاس ہے بالآخر فانی ہے اور یہ شخص سچ کہتا ہے۔میں نے اس کی زمین کا کچھ حصہ غصب کر رکھا ہے لیکن مجھے علم نہیں کہ وہ کتنا ہے؟ اب جبکہ یہ صورت ہے تو جتنا یہ چاہتا ہے (اور سمجھتا ہے کہ اس کا حق ہے) لے لے اور اس مقدار کے برابر مزید بھی لے لے چونکہ میں نے اتنی مدت اس کی زمین سے استفادہ کیا ہے اس اثناء میں تیسری زیر نظر آیت بھی نازل ہوئی (جس میں ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والوں کو ’’حیات طیبہ‘‘ کی بشارت دی گئی ہے)۔

حیاتِ طیبہ کی بنیاد

گزشتہ آیات میں پیمان شکنی اور جھوٹی قسم کی قباحت کے بارے میں گفتگو تھی۔اس کے تسلسل میں زیر بحث پہلی آیت میں اسی مطلب کی تاکید کی گئی ہے البتہ فرق یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں پیمان شکنی اور جھوٹی قسم کا سبب دشمن کی زیادہ تعداد سے مرعوب ہونا بیان کیا گیا تھا جبکہ یہاں بے قیمت مادی مفادات کے حصول کا مسئلہ در پیش ہے اسی لیے فرمایا گیا ہے: عہد الٰہی کا کبھی بھی کم قیمت پر سودا نہ کرو (وَلَا تَشْتَـرُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا)۔ یعنی عہد الٰہی کی جو بھی قیمت لگاؤ وہ حقیر اور ناچیز ہے یہاں تک کہ اس کے بدلے تمھیں ساری دنیا بھی مل جائے تو ایفائے عہد الٰہی کے ایک لمحے کی بھی قیمت کے برابر نہیں ہے۔ اس کے بطور رد دلیل مزید فرمایا گیا ہے:جو کچھ اللہ کے پاس ہے تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جان لو (اِنَّمَا عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ اگلی آیت میں اس بہتری کی دلیل یوں بیان کی گئی ہے:ج و کچھ تمھارے پاس ہے آخر کار فانی ہے اور نابود ہو جائےگا۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی اور جاودان ہے۔(مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللّـٰهِ بَاقٍ)۔ مادی مفادات ظاہراً کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں پانی کے بلبلے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے جبکہ اللہ کی جزا اس کی ذات کی طرح جاوداں ہے اور ان سب سے برتر و بالا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: جو لوگ ہمارے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے (خصوصاً قسموں اور عہد و پیمان کے معاملے میں) صبرواستقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم انھیں ان کے بہترین عمل کی جزا دیں گے (لَنَجْزِيَنَّ الَّـذِيْنَ صَبَـرُوٓا اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ)۔ ’’احسن‘‘ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے تمام نیک اعمال ایک جیسے نہیں ہیں بعض اچھے ہیں اور بعض بہت اچھے ہیں لیکن اللہ ان کے سارے اعمال کو زیادہ اچھے اعمال کے حساب میں رکھے گا اور انھیں اچھے اعمال والی جزا دے گا اور یہ انتہائی عظمت کی بات ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کئی قسم کا مال و اسباب بیچنے کے لیے لاتا ہے بعض چیزیں بہت اعلیٰ ہیں کچھ اچھی ہیں اور کچھ درمیانی سہی۔ لیکن خریدار سب چیزوں کو بہت بڑھیا والی کی قیمت پر خرید لیتا ہے۔ ضمناً ’’ولنجزین الذین صبروا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نکتے کی طرف اشارے سے خالی نہیں ہے کہ راہِ اطاعت میں صبرواستقامت دکھانا،خصوصاً عہدوپیمان کا پابند ہونا، انسان کے بہترین اعمال میں سے ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:- الصبر من الایمان کالرأس من الجسد ولا خیر فی جسد لا رأس معہ ولا فی ایمان لا صبر معہ صبرواستقامت ایمان کے لیے ایسے ہے جیسے بدن کے لیے سر۔ بدن میں سر کے بغیر کوئی خوبی کی بات نہیں اور وہ سرے کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔اسی طرح ایمان کی بھی صبر کے بغیر کوئی حیثیت نہیں۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار ص ۷۸۲)۔ اس کے بعد ایک ہمہ گیر قانون کے طور پر ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح کی انجام دہی کا نتیجہ اس جہان کے لیے اور دوسرے جہان کے لیے بیان کیا گیا ہے چاہیے کوئی بھی شخص کسی حالت میں بھی ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح بجا لائے قرآن اس ے بارے میں کہتا ہے:مرد ہو یا عورت، جو کوئی بھی حالتِ ایمان میں نیک عمل انجام دے ہم انھیں بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔ (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّـهٝ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ اَجْرَهُـمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُـوْايَعْمَلُوْنَ)۔ گویا معیار صرف ایمان اور اس کے نتیجے میں انجام دیئے جانے والے نیک اعمال ہیں اس کے علاوہ کوئی شرط نہیں؛ نہ سن و سال کا مسئلہ ہے، نہ قوم و قبیلے کا نہ جنس و صنف کا اور نہ معاشرے میں مقام و مرتبے کا وہ عمل صالح جو ایمان کی پیداوار ہو، اس جہان میں اس کا نتیجہ ’’حیاتِ طیبہ‘‘ ہے۔ یعنی اس سے ایسا معاشرہ وجود پاتا ہے جس میں آرام و سکون ہو امن و خوشحالی ہو، صلح وآشتی ہوا وہ تعاون و محبت ہو۔ایسا معاشرہ جو انسان ساز اور اصلاحی مفاہیم کا حامل ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں معاشرے سے اسی بدحالی اور ایسے مصائب اور رنج و محن ختم ہو جاتے ہیں کہ جو استکبار، ظلم، طغیان، خود غرضی اور ہوس پرستی کی پیداوار ہوتے ہیں اور جن کے باعث آسمانِ حیات تاریک ہو جاتا ہےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر وجود میں آنے والا معاشرہ ان سب مشکلات اور قباحتوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ایک طرف تو امن و خوشحالی کا یہ دور دورہ ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا انھیں ’’ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا و ثواب دے گا۔ ‘‘ اور اس کی تفسیر گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ سرمایہ جاوداں

اس مادی دنیا کے مزاج میں فنا ہونا موجود ہے۔مضبوط ترین عمارتیں، طویل حکومتیں، نہایت قومی انسان اور ان سے بھی مضبوط ہر چیز نے آخر کار کہنہ، فرسودہ اور نابود ہونا ہے۔ بلا استثناء ہر چیز کے لیے زوال ہے لیکن ان موجودات کا رشتہ اگر کسی طرح خدا کی ذات پاک سے قائم ہو جائے اور انھیں اس کے لیے اس کی راہ پر ڈال دیا جائے تو وہ جاودانی رنگ اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ اس کی ذاتِ پاک ابدی ہے۔ شہید حیاتِ جاوداں رکھتے ہیں۔ انبیاء، آئمہ حقیقی علماء اور مجاہدین راہِ خدا کی تاریخ جاودانی ہے۔کیونکہ وہ اللہ کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔اسی بناء پر زیر بحث آیات ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ آؤ اور اپنے سرمایۂ وجود کو فنا ہونے سے بچاؤ اس سرمائے کو اس بنک میں محفوظ کر لو کہ جس میں جتنا بھی زمانہ گذر جائے کسی چیز کے ضائع ہونے کا احتمال نہیں۔ اپنے وسائل اور صلاحیتیں خدا کے لیے مخلوقِ خدا کے مفاد میں اور اس کی رضا کے حصول کے لیے استعمال میں لاؤ تاکہ وہ ’’عند اللہ‘‘ کا مصداق ہو جائیں اور ’’ماعند اللہ باق‘‘ کے تقاضے کے مطابق باقی رہیں۔ ایک حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے: اذامات ابن اٰدم انقطع اھلہ الا عن ثلاث صدقۃ جاریہ علم ینتفع بہ و ولد صالح یدعو لہ۔ فرزند آدم جب دنیا سے جاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا ہر چیز سے اس کی امید کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔اور وہ تین چیزیں ہیں: ۱۔ صدقاتِ جاریہ:۔(لوگوں کی خدمت کی غرض سے اور راہِ خدا میں انجام دیئے جانے والے کاموں کے آثارِخیر) ۲۔ وہ علم کہ جس سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ۳۔ اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔(بحوالہ: ارشاد ویلمی) سب چیزیں جو اللہ کے لیے اور اس کی راہ میں ہیں اس لیے ابدیت کا رنگ رکھتی ہیں: شتان ما بین عملین: عمل تذھب لذتہ وتبقی تبعتہ و عمل تذھب مئونتہ ویبقی اجرہ۔ بہت فرق ہے اس عمل میں جس کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور باز پرس باقی رہتی ہے اور اس عمل میں کہ جس کی سختی ختم ہوجاتی ہے اور اس کا اجر باقی رہ جاتا ہے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار صفحہ ۸۲۱)۔

۲۔ مرد اور عورت کی برابری

اس میں شک نہیں کہ جسمانی اور روحانی اعتبار سے مرد اور عورت میں کئی لحاظ سے فرق ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی سماجی ذمہ داریاں اور مناصب مختلف ہیں اور بقولے ع ہر کسے را بہر کارے ساختند ہر کسی کو ایک خاص کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہر کسی کا اپنا الگ کام ہے لیکن ان میں سے کوئی فرق بھی ان کے مقامِ انسانیت یا بارگاہِ خداوندی میں ان کے مقام کے جدا ہونے کی دلیل نہیں ہے اور اس لحاظ سے دونوں مکمل طور پر برابر ہیں۔ اسی بناء پر جس معیار کی بناء پر ان کےمعنوی روحانی مرتبے کا تعین کیا جاتا ہے وہ ایک سے زیادہ نہیں اور وہ ہے ایمان، عملِ صالح اور تقوٰی کہ جن میں دونوں یکساں طور پر اپنا مقام پیدا کر سکتے ہیں۔ زیر نظر آیات میں یہ حقیقت صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ عورت کے مقام و مرتبے کے بارے میں بیہودہ گو لوگ گزشتہ زمانے میں جو شک رکھتے تھے یا موجودہ زمانے میں رکھتے ہیں یا جو عورت کے لیے مرد سے کم تر انسانی مقام کے قائل تھے۔ ان آیات میں ان کا منہ بند کر دیا گیا ہے اور ضمناً اس اہم معاشرتی مسئلے کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر واضح کر دیا گیا ہے یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ کوتاہ فکر لوگوں کی سوچ کے برخلاف دینِ ِاسلام مرد کے تفوق کا دین نہیں بلکہ جس قدر اس کا تعلق مردوں سے ہے اسی قدر عورتوں سے بھی ہے۔ مرد اور عورت ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ دونوں صنفیں اعمالِ صالح کی طرف گامزن ہوں اور ان کا قدم مثبت، تعمیری اور اصلاحی ہو اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہو تو دونوں یکساں طور پر’’حیاتِ طیبہ‘‘ کے حامل ہون گے اور دونوں بارگاہِ الٰہی میں مساوی اجر و ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔اور ان کی اجتماعی حیثیت بھی یکساں ہو گی۔ ہاں البتہ جو ایمان اور عملِ صالح کو معیار قرار دیئے بغیر برتری کی تمنا کرے گا اس کے لیے حیاتِ طیبہ نہیں ہو گی۔

۳۔ عمل صالح کی جڑ، سرچشمہ ایمان سے سیراب ہوتی ہے

"عملِ صالح" کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ تمام مثبت، مفید، تعمیری اور اصلاحی کام اور پروگرام اس میں شامل ہیں، چاہے وہ علمی ہوں یا ثقافتی، اقتصادی ہوں یا سیاسی اور چاہے وہ فوجی ہوں۔ ایک سائنس دان کہ جس نے انسانوں کے فائدے کے لیے، سالہا سال زحمت و مشقت جھیلی اور کوئی چیز ایجاد کی، وہ شہید کہ جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر معرکہ حق و باطل میں شرکت کی اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک نثار کر دیا، وہ با ایمان ماں۔۔۔ جس نے بچہ جننے سے لے کر اس کی پرورش تک تکلیف برداشت کی ہے وہ علماءِکرام جو اپنی بلند پایہ کتابیں لکھنے کے لیے زحمتیں اور مشقتیں جھیلتے ہیں سب کے کام عملِ صالح کے مفہوم میں شامل ہیں۔ عظیم ترین کارناموں مثلاً انبیاء کی رسالت اور پیامبری سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کام مثلاً راستے سے چھوٹا سا پھتر ہٹانے تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عملِ صالح کے ساتھ ایمان کی شرط کیوں لگائی گئی ہے جبکہ یہ ایمان کے بغیر بھی انجام پا سکتا ہے اور بہت سے مواقع پر ہم نے ایسا ہوتے بھی دیکھا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ایک ہی نکتہ قابلِ غور ہے اور وہ یہ کہ اگر جذبہ ایمان نہ ہو تو عموماً عمل آلودہ ہو جاتا ہے اور ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ ایمان کے بغیر انجام پانے والا عمل آلودہ نہ ہو لیکن اگر عمل ِ صالح کی جڑیں توحید پرستی اور ایمان باللہ کے چشمے سے سیراب ہوں تو بہت کم ممکن ہے کہ اس میں تکبر، ریاکاری،خود نمائی، مکرو فریب اور احسان دھرنے کی سی آفات اور بلائیں اس پر اثر انداز ہوں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عموماً قرآن مجید عملِ صالح اور ایمان کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے بیان کرتا ہے کیونکہ ان کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا اور ایک عینی حقیقت ہے۔ ضروری ہے کہ ایک مثال کے ذریعے ہم اس مسئلے کو اور واضح کر دیں۔ فرض کیجیے دو افراد ہیں۔ان میں سے ہر کوئی ایک ہسپتال بنا رہا ہے۔ ایک کے اندر جذبہ الٰہی کار فرما ہے اور وہ خدمت خلقِ خدا کے لیے یہ کام کر رہا ہے لیکن دوسرے کا مقصد خود نمائی ہے اور وہ اس کے ذریعے معاشرے میں بلند مقام حاصل کرنا چاہتا ہے ہو سکتا ہے ہم سطحی نظر سے دیکھیں تو سوچیں کہ آخر دونوں ہسپتال ہی بنا رہے ہیں اور لوگوں کو تو ان کے عمل کا ایک جیسا فائدہ ہو گا۔ ٹھیک ہے کہ ایک کو اللہ کی طرف سے جزا و ثواب بھی ملے گا اور دوسرے کو نہیں ملے گا لیکن ظاہراً ان کے عمل میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن ــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ سوچ ایک سطحی مطالعے کا تنیجہ ہے۔کچھ مزید غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ خود یہ دونوں عمل مختلف جہات سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں مثلاً پہلا شخص شہر کے ایسے محلے کو منتخب کرے گا کہ جس میں مستضعفین،غریب اور ضرورتمند لوگ زیادہ ہوں۔بعض اوقات یہ محلہ گمنام سا ہوگا جہاں کوئی بڑی گزرگاہ نہیں پڑتی، اور وہ آمد و رفت کا راستہ نہیں ہے لیکن دوسرا شخص ایسا علاقہ تلاش کرےگا جو زیادہ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہے چاہے وہاں ضرورت بہت ہی کم کیوں نہ ہو۔ پہلا شخص عمارت کی ساخت وغیرہ میں مستقبل بعید کو نظر میں رکھے گا اور ایسی بنیادی رکھے گا جو صدیوں باقی رہیں لیکن دوسرا شخص عام طور پر یہ سوچے گا کہ عمارے جلد از جلد کھڑی ہو۔ اس کا افتتاح ہو اور وہ شور و غل مچا سکے۔ اور اس کا مقصد حاصل کر سکے۔ پہلا شخص اس کام کے باطن کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ دوسرا شخص ظاہری ٹیپ ٹاپ کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح علاج معالجے کی مختلف اقسام، ڈاکٹروں اور نرسوں کے انتخاب اور اس ہسپتال کی دیگر ضروریات کے انتخاب میں ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہو گا کیونکہ ان کے مقاصد عمل کا اثر ہر مقام پر ہو گا۔ بالفاظ دیگر عمل کو وہ اپنے رنگ میں پیش کریں گے۔

۴۔ حیات طیبہ کیا ہے؟

’’حیات طیبہ‘‘ (پاکیزہ زندگی) کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں: بعض نے اسے حلال روزی کے معنی میں لیا ہے۔ بعض نے قناعت اور نصیب پر راضی رہنا مراد لیا ہے۔ برض نے روزانہ کا رزق سمجھا ہے۔ بعض نے حلال روزی کے ساتھ بجا لائی جانے والی عبادت کا مفہوم لیا ہے۔ اور بعض نے اطاعت ِ حکم خدا کی توفیق وغیرہ کا مطلب لیا ہے۔ لیکن شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ حیاتِ طیبہ کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ یہ سب مطالب اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں بھی اس کے اندر سموئی ہوئی ہیں۔ پاکیزہ زندگی کہ جوہر لحاظ سے آلودگی، ظلم، خیانت، عداوت، ذلت، پریشانی اور بدبختی سے پاک ہو ایسی زندگی کہ جس کے پاک و شفاف چشمے میں ایسی کوئی آلودگی نہ ہو کہ اس کا پانی انسان کے حلق کے لیے ناگوار ہو جائے۔ البتہ اس سے پہلے جو گفتگو آئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیاتِ طیبہ اس دنیا کے لیے مربوط ہے اور جزائے احسن آخرت کے ساتھ۔یہ بات جاذب ِ نظر ہے کہ نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ: وسئل عن قولہ تعالی: ’’فلنحیینہ حیٰوۃ طیبۃ‘‘ فقال ھی القناعۃ آپ ﷺ سے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا فلنحیینہ حیٰوۃ طیبۃ آپ نے فرمایا۔ یہ قناعت ہے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصاء ص )۲۲۹۔ اس میں شک نہیں کہ اس تفسیر کا مطلب یہ نہیں کہ ’’حیات طیبہ‘‘ کا مفہوم قناعت میں محدود ہے بلکہ اس میں ایک مصداق بیان کیا گیا ہے لیکن یہ بات واضح مصداق ہے کیونکہ اگر انسان کو ساری دنیا دے دی جائے لیکن اس سے قناعت کی روح لے لی جائے تو وہ ہمیشہ تکلیف و آزار اور رنج و پریشانی میں رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر انسان میں جذبہ قناعت موجود ہو اور وہ حرص و طمع سے محفوظ ہو تو وہ ہمیشہ آسودہ خاطر اور خوش و خرم رہے گا۔ اسی طرح بعض دیگر روایات میں بتایا گیا ہے کہ حیاتِ طیبہ یہ ہے کہ انسان اس پر راضی رہے، جو کچھ خدا نے دیا ہے۔ ان روایات کا مفہوم ’’قناعت‘‘ کے قریب قریب ہے۔ البتہ معافی کو ان مفاہیم میں ہرگز منحصر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ رضا و قناعت کو بیان کرنے کا یہاں اصلی مقصد حرص و آزار اور طمع و ہوا پرستی کو ختم کرنا ہے کیونکہ یہ ہی تجاوز، لوٹ کھسوٹ، جنگوں اور خوں ریزی کے عامل ہیں اور یہ ہی بعض اوقات ذلت و رسوائی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

98
16:98
فَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
جب قرآن پڑھو تو دھتکارے ہوئے شیطان سے خدا کی پناہ مانگو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
16:99
إِنَّهُۥ لَيۡسَ لَهُۥ سُلۡطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
کیونکہ جو اہل ایمان اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں ان پر اس (شیطان) کا بس نہیں چلتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
16:100
إِنَّمَا سُلۡطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوۡنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشۡرِكُونَ
شیطان کاتسلط تو صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اسے اپنا سر پرست بنا لیا ہے ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اطاعت اور بندگی میں اسے اللہ کا شریک بنارکھاہے۔

قرآن اس طرح سے پڑھو

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ہمیں یاد ہے کہ پہلے کی چند آیات میں اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے’’تبیاناً لکل شیء‘‘ اور اس کے بعد فرامینِ الٰہی کا ایک نہایت اہم حصہ بیان ہوا ہے۔زیر نظر آیات ہمیں قرآن مجید سے استفادہ کرنے اور اس کی تلاوت کا طریقہ بیان کرتی ہیں کیونکہ یہ ہی کافی نہیں کہ مضامینِ قرآن پُرثمر ہوں بلکہ ضروری ہے کہ ہمارے وجود اور ہماری فکر و روح کے ارد گرد موجود رکاوٹیں بھی دور ہوں تاکہ اُن پُر ثمر مضامیں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ پہلے فرمایا گیا ہے:جس وقت قرآن پڑھو، دھتکارے ہوئی شیطان کے شر سے خدا کی پناہ مانگو (فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْـمِ)۔ البتہ اس سے صرف یہ مراد نہیں کہ ’’اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ پڑھ لیا جائے بلکہ اس مفہوم کو ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خدا کی طرف توجہ کی حالت، سرکش ہوا و ہوس کہ جو صحیح فہم و ادراک سے مانع ہے، سے جدائی کی حالت اور تعصب، غرور، اور خود پرستی سے لا تعلقی کی حالت کیونکہ یہ چیزیں انسان سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہر چیز سے یہاں تک کہ کلامِ الٰہی سے بھی اپنی انحرافی خواہشات کے لیے فائدہ اُٹھائے جب تک انسان کی روح میں ایسی حالت پیدا نہ ہو جائے، حقائق قرآن کا ادراک اس کے لیے ممکن نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی شرک آلود خواہشات کی توجیہ کے لیے اس کی تفسیر بالرائے کرنے لگے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگلی آیت درحقیقت پہلی آیت میں کہی گئی بات کی دلیل ہے۔ارشاد ہوتا ہے۔شیطان کا ان لوگوں پر بس نہیں چلتا کہ جو اہلِ ایمان ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (اِنَّهٝ لَيْسَ لَـهٝ سُلْطَانٌ عَلَى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَلٰى رَبِّـهِـمْ يَتَوَكَّلُوْنَ) اس کا تسلط تو صرف ان لوگوں پر ہے جنھوں نے اسے اپنی رہبری اور سرپرستی کے لیے منتخب کر رکھا ہے(اِنَّمَا سُلْطَانُهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٝ)۔اور وہ لوگ کہ جنھوں نے اطاعت و بندگی میں اسے خدا کا شریک بنا رکھا ہے (وَالَّـذِيْنَ هُـمْ بِهٖ مُشْرِكُـوْنَ)۔ وہ لوگ کہ جو حکمِ خدا کی بجائے حکمِ شیطان کو عمل در آمد کے لائق سمجھتے ہیں۔

چند اہم نکات: ۱۔ شناخت کی رکاوٹیں

حقیقت کا چہرہ کتنا ہی آشکار، درخشاں اور واضح کیوں نہ ہو جب تک نگاہِ بینا کے سامنے نہ ہو اس کا ادراک ممکن نہیں ہے۔دوسرے لفظوں میں حقائق کی شناخت کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک چہرہِ حق کا آشکار اور واضح ہونا اور دوسرا نظر اور قوتِ ادراک کا ہونا۔ کیا کبھی کوئی نابینا سورج کو دیکھ سکتا ہے؟ کیا بہرہ شخص عالمِ ِامکان کے دل نواز نغمے سن سکتا ہے؟اسی طرح جو لوگ نگاہِ حق بیں نہیں رکھتے وہ چہرہٓ حقیقت دیکھنے سے محروم ہیں۔اور جو حق بات سننے والے کان نہیں رکھتے،وہ آیات نہیں سن سکتے۔ وہ کون سی رکاوٹ ہے کہ جس کے باعث انسان قوتِ شناخت کھو بیٹھتا ہے: اس میں شک نہیں کہ پہلے سے کیے ہوئے غلط فیصلے، نفسانی ہوا و ہوس، اندھے انتہائی تعصبات، خودغرضی اور غرور حقیقت شناسی کے لیے سب سے پہلے درجے پر رکاوٹ بنتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ چیز جو انسان کے دل کی صفائی اور روح کی پاکیزگی کو درہم برہم کر دے اور انسان کے باطن کو تیرہ و تار کر دے۔ادراکِ حقیقت میں مانع ہے۔ جمال یار ندارد حجاب و پردہ ولی غبارِ رہ بنشاں تا نظر توانی کرد جمالِ یار پر تو کوئی پردہ اور حجاب نہیں لیکن اگر تو نظارہٓ رخِ یار کرنا چاہتا ہے تو راستے میں جو غبار حائل ہے پہلے اسے بٹھا دے۔ تا نفس مبرا ز نواہی نشود دلِ آئینہ نورِ الٰہی نشود جب تک نفس نواہی اور نافرمانی سے پاک نہ ہو جائے،دل دل نورالٰہی کا آئینہ نہیں بن سکتا ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک حدیث میں ہے: لولا ان الشیاطین یحومون حول قلوب بنی اٰدم لنظروا الی ملکوت السمٰوٰت اگر اولادِ آدم کے دلوں کے گردِ شیطان محوِگردش نہ ہوتے تو انسان ملکوتِ آسمانی کو دیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ راہِ حق کے مسافروں کے لیے پیلی شرط تہذیبِ نفس اور تقوٰی ہے اس کے بغیر انسان وہم کی تاریکیوں اور بے راہ رویوں میں سرگرداں رہتا ہے۔یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے: ھدیً للمتقین یہ آیات الٰہی پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہیں۔ یہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ہم نے بہت دیکھا ہے کہ جو لوگ تعصب، ہٹ دھرمی اور پہلے سے کیے گئے انفرادی یا گروہی فوصلوں کے ساتھ آیاتِ قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ قرآن سے ادراک حقیقت کی بجائے اپنی خواہشوں کو ان پر ٹھونس دیتے ہیں با لفاظ دیگرـــــــــــــــــــــــــــ جو کچھ وہ چاہتے قرآن میں تلاش کرتے ہیں، وہ کچھ نہیں ڈھونڈھتے جو اللہ نے بیان کیا ہے اس طرح بجائے اس کے کہ قرآن ان کی ہدایت کا سبب بنے ان کے انحراف میں اضافہ ہو جاتا ہے البتہ قرآن ایسا نہیں کرتا بلکہ ان کی سرکش ہوا و ہوس اس کا سبب بنتی ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَزَادَتْـهُـمْ اِيْمَانًا وَّهُـمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ وَاَمَّا الَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْـهُـمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِـمْ وَمَاتُوْا وَهُـمْ كَافِرُوْنَ جو لوگ ایمان لائے ہیں آیاتِ قرآنی ان کے ایمان میں اضافہ کرتی ہیں اور وہ مسرور ہوتے ہیں۔جبکہ جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی ناپاکی میں اور ناپاکی کا اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ دنیا سے حالتِ کفر میں جاتے ہیں۔ (توبہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 124،125) لہذا بالصراحت کہنا چاہیے کہ زیرِبحث آیت کا یہ مقصد نہیں کہ صرف’’اعوذ با للہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھ لیا جائے اور بس ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بلکہ ضروری ہے کہ یہ ذکر فکر میں بدل جائے اور فکر احساس میں ڈھل جائے اور ہر آیت پڑھتے ہوئی خدا سے پناہ مانگیں کہ کہیں کوئی شیطانی وسوسہ ہمارے اور حیات بخش کلامِ الٰہی میں حائل نہ ہو جائے۔

۲۔ شیطان کو یہاں رجیم کیوں کہا گیا ہے؟

’’رجیم‘‘، "رجم" کے مادہ سے دھتکارے ہوئے کے معنی میں ہے اور اصل میں یہ لفظ پھتر مارنے کے معنی میں ہے بعد ازاں دھتکارا ہوا ہونے کا ذکر کیا گیا ہے یہ ذکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا تعالی نے جب شیطان کو دعوت دی کہ وہ آدم کے سامنے سجدہ کرے تو اس نے تکبر کیا اس کا یہ تکبر سبب بنا کہ ادراکِ حقائق اور اس کے درمیان پر وہ حائل ہو گیا یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو آدم سے برتر خیال کرنے لگا اور کہنے لگا کہ: میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس سرکشی اور غرور کے باعث اس نے فرمانِ خدا پر اعتراض کر دیا ایسا اعتراض کہ جو اس کے کفر اور راندہِ درگاہ ہونے کا باعث بنا۔ یہاں ’’رجیم‘‘ کی تعبیر استعمال کر کے قرآن گویا یہ حقیقت سمجھانا چاہتا ہے کہ تلاوتِ قرآن کے وقت تکبر اور تعصب کو اپنے آپ سے دور رکھو تا کہ کہیں شیطانِ رجیم جیسا حال نہ ہو جائے اور کہیں ادراکِ حقیقت کی بجائے کفر و بےایمانی کے گڑھے میں نہ جا گرو۔

۳۔ گروہ حق اور گروہ شیطان

زیرِ بحث آیات میں لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک گروہ شیطان کے زیر تسلط ہے اور دوسرا اس کے تسلط سے خارج ہے ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کی دو دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ جولوگ شیطان کے تسلط سے باہر ہیں وہ با ایمان ہیں اور توکل علی اللہ کے حامل ہیں یعنی عقیدے کے لحاظ سے صرف خدا پرست ہیں اور عمل کے لحاظ سے ہر چیز کے بارے میں خدا پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ ان کا سہارا نہ کمزور انسان ہیں نہ ہوا و ہوس نہ تعصب اور نہ ہٹ دھرمی۔ لیکن جو شیطان کے کنٹرول میں ہیں اولاً اس کی رہبری پر اعتقاد رکھتے ہیں ’’یتولونہ‘‘ ثانیاً عمل کے لحاظ سے اسے اطاعتِ خدا کا شریک سمجھتے ہیں یعنی عملی طور پر اس کے مطیعِ فرمان ہیں۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو اپنے آپ کو پہلے گروہ میں شمار کروانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ترتیب کنندگانِ الٰہی سے دور ہونے، غلط ماحول میں رہنے یا دیگر وجوہات کے باعث دوسرے گروہ میں جا پڑتے ہیں۔ بہرحال، زیر بحث آیات ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں کہ انسانوں پر شیطانو کا تسلط جبری اور بےاختیاری کی بناء پر نہیں بلکہ یہ انسان ہی ہے جو اسے اپنے اوپر تسلط کے حالات فراہم کرتا ہے اور اس کے لیے دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔

۴۔ تلاوت قرآن کے آداب

ہر کام کے لیے ایک طرزِ عمل کی ضرورت ہے؛ خصوصاً قرآن جیسی عظیم کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی انداز اور آداب درکار ہیں۔ اسی بنا پر قرآنی آیات کی تلاوت اور ان سے استفادہ کرنے کے آداب و شرائط خود قرآن میں بتائے گئے ہیں، مثلاً: ۱۔ لا یمسہ الا المطھرون پاک لوگوں کے علاوہ کوئی قرآن کو نہیں چھوتا۔ ہو سکتا ہے یہ تعبیر ظاہری پاکیزگی کی طرف اشارہ ہو۔یعنی قرآن کے الفاظ اور سطروں کو طہارت اور وضو کے بغیر مس نہ کیا جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طرف اشارہ ہو کہ ان آیات کے مضامین و مفاہیم کا ادراک صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اخلاقی برائیوں سے پاک ہوں کیونکہ بری صفات انسان کی حقیقت بیں نگاہوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں کہ جس کے باعث وہ جمالِ حق کے مشاہدے سے محروم ہو جاتا ہے۔ ۲۔ آغازِ تلاوتِ قرآن کے وقت راندہٓ درگاہِ حق شیطان سے خدا کی پناہ طلب کی جائے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں ہے:۔ فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْـمِ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس حکم پر کیسے عمل کیا جائے اور کیا کہا جائے، آپ نے فرمایا: استعیذ بالسمیع العلیم من الشیطان الرجیم میں شیطانِ مردود سے سمیع و علیم خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ امام علیہ السلام نے سورہٓ الحمد کی تلاوت کے وقت فرمایا: اعوذ با للہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، واعوذ با للہ ان یحضرون میں شیطان مردود سے سمیع و علیم خدا کی پناہ مانگتا اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس امر کے بارے میں کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ پناہ طلبی فقط زمان اور الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے روح کی گہرائیوں میں اترنا چاہیے اور تلاوتِ قرآن کے وقت شیطانی عادات سے دور اور الٰہی صفات کے قریب ہونا چاہیے تا کہ وہ رکاوٹیں انسان کی فکر سے دور ہو جائیں جو کلامِ حق کے سمجھنے میں حائل ہو جاتی ہیں اور حقیقت کے جمالِ دل آراء کو نظروں سے اوجھل کر دیتی ہیں یہ ہی وجہ سے کہ آغازِ تلاوت کے وقت بھی شیطان سے خدا کی پناہ طلب کرنا بھی ضروری ہے اور تلاوت کے دوران میں بھی مسلسل ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ اگرچہ زبان سے نہ ہو۔ ۳۔ تلاوت بصورت ترتیل کرنا چاہیے یعنی ٹھہر ٹھہر کر اور غور و فکر کے ساتھ۔ ارشادِ الٰہی ہے: و رتّل القراٰن ترتیلا (مزمل ۔ ۴) ایک اور حدیث میں ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ان القراٰن لا یقرء ھذرمۃ، ولٰکن یرتل ترتیلا، اذا مررت بایۃ فیھا ذکر النار وقفت عندھا، وتعوذت با للہ من النار۔ قرآن کو جلدی جلدی اور اس کے اعضاء شکستہ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ اس کی تلاوت سکون و اطمینان سے کرنا چاہیے۔جب تم تلاوت کرتے ہوئے کسی ایسی آیت تک پہنچو کہ جس میں آتشِ جہنم کا ذکر ہو وہاں رک جاو (اور غور و فکر) اور جہنم کی آگ سے خدا کی پناہ مانگو۔ ۴۔ ترتیل کے علاوہ قرآنی آیات میں تدبر و تفکر کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: افلا یتدبرون القراٰن۔ کیا وہ قرآن میں سوچ بچار نہیں کرتے۔ (نساء۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۸۲) ایک حدیث میں ہے کہ اصحابِ رسول آنحضرت ﷺ سے قرآن کی دس دس آیتیں سیکھتے تھے اور جب تک پہلی آیات میں جو علم و عمل ہوتا اسے جان نہ لیتے مزید دس آیات نہ سیکھتے۔(بحوالہ: بحار۔ جلد 92 ص 106)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعربوا القراٰن والتمسوا غرائبہ قرآن کو فصیح طریقے سے اور واضح کر کے پڑھو اور اس کے حیران کن مفاہیم کو تلاش کرو۔(بحوالہ: بحار۔ جلد 92 ص 106.) نیز ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: لقد تجلی اللہ لخلقہ فی کلامہ ولکنھم لا یبصرون۔ خدا نے اپنے کلام میں اپنی ذات کی تجلی رکھی ہے لیکن دلوں کے اندھے نہیں دیکھتے۔( بحار۔ جلد 92 ص 107). یعنی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صرف آگاہ، روشن ضمیر اور غور و فکر کرنے والے اہلِ ایمان اس کے کلام میں اس کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ۵: جو لوگ آیات قرآن کو سنیں ان کا بھی ایک فریضہ ہے اور وہ یہ کہ خاموشی اختیار کریں ایسی خاموشی کہ جس میں وہ سنیں بھی اور غور و فکر بھی کریں۔ ارشادِ الٰہی ہے: وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَـهٝ وَاَنْصِتُـوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ تا کہ تم پر اللہ تعالی کی رحمت ہو۔ (اعراف۔204) ان کے علاوہ بھی اسلامی روایات میں آدابِ قرآن کے بارے میں کئی احکام موجود ہیں مثلاً اسے اچھے لحن سے پڑھنا کیونکہ اچھی آواز بھی یقینی طور پر اس کے مفاہیم کے بارے میں ایک نفسیاتی تاثیر پیدا کرتی ہے۔ البتہ یہ موقع نہیں کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں۔ (تشریحی نوٹ:مزید معلومات کے لیے بحار الانوار جلد 9 ص 190 کی طرف رجوع فرمائیں)۔

101
16:101
وَإِذَا بَدَّلۡنَآ ءَايَةٗ مَّكَانَ ءَايَةٖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مُفۡتَرِۭۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور جب ہم (کسی حکم کو منسوخ کرتے ہوئے)ایک آیت کو دوسری آیت سے بدل دیتے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون سا حکم نازل کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ تو جھوٹ بولتا ہے لیکن ان میں سے اکثر (حقیقت کو) نہیں سمجھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
16:102
قُلۡ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلۡقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلۡحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
(اے رسول)کہہ دے۔ اسے روح القدس حق کے ساتھ تیرے پروردگار کی طرف سے لایا ہے تاکہ اہل ایمان کو ثابت قدم کر دے اور یہ تمام مسلمانوں کیلئے ہدایت اور بشارت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
16:103
وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّهُمۡ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٞۗ لِّسَانُ ٱلَّذِي يُلۡحِدُونَ إِلَيۡهِ أَعۡجَمِيّٞ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيّٞ مُّبِينٌ
ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات اسے ایک بشر سکھاتا ہے،حالانکہ جس کی طرف وہ انہیں نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے، جبکہ یہ( قرآن) واضح عربی زبان میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
16:104
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهۡدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اللہ انہیں ہدایت نہیں کرتا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
16:105
إِنَّمَا يَفۡتَرِي ٱلۡكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
جھوٹ صرف وہ لوگ بولتے ہیں جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ واقعاً جھوٹے ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ابن عباس کہتے ہیں: کبھی کوئی آیت نازل ہوتی اور اس میں کوئی سخت حکم ہوتا اور اس کے بعد کوئی آیت آتی کہ جس میں نسبتاً سہل حکم ہوتا تو بہانہ ساز مشرکین کہتے: محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مذاق کرتا ہے اور یہ اپنے پاس سے کرتا آج ایک چیز کا حکم دیتا ہے اور اس سے منع کر دیتا ہے۔ یہ امور ظاہر کرتے ہیں کہ محمدؐ سب کچھ اپنی طرف سے کہتا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے۔ اس سلسلے میں پہلی آیت میں انھیں جواب دیا گیا ہے۔

تفسیر: رسوا کُن جُھوٹ

گزشتہ آیات میں قرآن اور اس سے استفادہ کرنے کے طریقے کے بارے میں بات تھی۔ زیرِ بحث آیات بھی قرآن سے مربوط کچھ مسائل بیان کر رہی ہیں۔ خصوصاً ان میں مشرکین کی طرف سے آیاتِ الٰہی پر کیے جانے والے اعتراضات کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں یہ تغیر و تبدل حکمت و مصلحت کے تحت ہوتا ہے اور خدا بہتر جانتا ہے کہ اس کی حکمت کیا ہے اور کس طرح سے نازل کرنا چاہیے تو وہ کہتے ہیں کہ تو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے لیکن ان میں سے اکثر حقیقتِ امر کو نہیں جانتے (وَاِذَا بَدَّلْنَـآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُـوٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَـرٍ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ)۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ قرآن کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا پیغام رسانی اس کے ذمہ ہے وہ نہیں جانتے کہ قرآن ایک معاشرے کی تعمیر کے درپے ہے وہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جو ترقی یافتہ ہو آباد ہو، آزاد ہو اور بلند روحانی مقام رکھتا ہوــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں؛ ’’اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ‘‘(ان میں سے اکثر نہیں جانتے)۔ واضح ہے کہ ان مقاصد کے لیے یہ خدائی نسخہ جو ان بیماروں کی جان بچانے کے لیے لکھا گیا ہے اس میں بعض اوقات تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے ہو سکتا ہے آج ایک نسخہ لکھا جائے کل اس کی کچھ اور تکمیل کی جائے اور آخر میں اصل نسخہ صادر ہو۔ جی ہاں؛ وہ ان حقائق سے بے خبر ہیں انھیں نزولِ قرآن کی شرائط و کوائف کی خبر نہیں ورنہ وہ جانتے کہ کچھ احکام و آیاتِ قرآن کی تبدیلی ایک دقیق اور سوچے سمجھے تربیتی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر اصلی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنا کمال و ارتقاء کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ اپنی اسی نا سمجھی کی بناء پر ان کا خیال تھا کہ یہ تبدیلی پیغمبر اکرم ﷺ کی تناقض گوئی اور اللہ پر افتراء باندھنے کی دلیل ہے۔ حلانکہ ایک ایسا معاشرہ جو بہت ہی پست ہو اور اسے بلند مراحل کی طرف لے جاتا ہو اس کے لیے نسخ کی حکمتِ عملی ناگزیر ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مرحلے میں تمام تر تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اسے مرحلہ بہ مرحلہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کیا کسی دیرینہ بیماری کا علاج ایک ہی دن میں ہو سکتا ہے۔ ایک شخص کہ جو سالہا سال سے منشیات کا عادی ہو، کیا اس کا ایک ہی دن میں علاج ممکن ہے؟ کیا اس کے لیے مرحلہ وار طریقِ کار اختیار نہیں کرنا پڑےگا؟ کیا مرحلہ وار پروگرام میں جو تبدیلی رونما ہوتی ہے نسخ و منسوخ اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ (نسخ کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد اول میں سورہٓ بقرہ کی آیہ ۳۶ کےذیل میں بحث کر چکے ہیں)۔ اگلی آیت میں اسی مسئلے پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے: کہہ دے! اسے روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے (قُلْ نَزَّلَـهٝ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ)۔ ’’روح القدس‘‘ یا ’’روحِ مقدس‘‘ وحی الٰہی کا قاصد جبریلِ امین ہے۔ وہی ہے کہ جو حکمِ خدا سے آیاتِ الٰہی ناسخ ہوں یا منسوخ رسول ﷺ پر لے کر آتا ہے۔ وہ آیات جو سب کی سب حق ہیں اور سب ایک حقیقت کا سلسلہ ہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور وہ حقیقت ترتیب نوعِ انسانی کے علاوہ کچھ نہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ ترتیب کہ جس کے لیے کبھی احکام میں ناسخ و منسوخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بناء پر اس کے بعد فرمایا گیا ہے: مقصد یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو اپنے اپنے راستے میں زیادہ ثابت قدم کیا جائے اور یہ تمام مسمانوں کے لیے ہدایت و بشارت ہے (ِيُـثَبِّتَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَهُدًى وَبُشْـرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ)۔ مفسر عالی قدر مولف المیزان کے بقول یہ آیت مومنین کے بارے میں کہتی ہے کہ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے راستے میں ثابت قدم ہو جائیں لیکن مسلمانوں کے بارے میں کہتی ہے کہ مقصد، ہدایت و بشارت ہے۔ یہ فرق اسی فرق کی بناء پر ہے جو مومن اور مسلم میں موجود ہے کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے اور اسلام کا تعلق ظاہری عمل سے ہے۔ بہرحال، قوتِ ایمان کو مضبوط کرنے اور راہِ ہدایت و بشارت کے طے کرنے کے لیے بعض اوقات چھوٹی مدت کے پروگراموں (-SHORT -TERM PROGRAMMES) کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا اور بعد میں ان کی جگہ آخری اور حتمی پروگرام لے لیتے ہیں، آیاتِ الٰہی میں ناسخ و منسوخ کا یہ ہی راز ہے۔ آیاتِ قرآن پر بہانہ ساز مشرکوں نے جو اعتراض کیا تھا یہ اس کا جواب تھا۔ اس کے بعد ان کے دوسرے اعتراض یا زیادہ واضح الفاظ میں پیغمبر اسلام ﷺ پر مخالفین کے افتراء کی طرف اشارہ ہوتا ہے: ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات اسے ایک انسان سکھاتا ہے (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّـهُـمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٝ بَشَـرٌ)۔ اس بارے میں کہ مشرکین کی مراد اس سے کون شخص تھا، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں: ابن عباس سے منقول ہے وہ ایک مکہ کا شخص تھا جس کا نام ’’بلعام‘‘ تھا وہ تلواریں بناتا تھا۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق روم سے تھا اور وہ عیسائی تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ قبیلہ بنی حضرم کا ایک شخص تھا جس کا نام ’’یعیش‘‘ یا ’’عائش‘‘ تھا وہ اسلام لے آیا تھا اور اصحابِ رسول میں شمار ہوتا تھا۔ بعض دیگر سمجھتے ہیں کہ وہ دو عیسائی غلام تھے ان کا نام ’’یسار‘‘ اور ’’جبر‘‘ تھا۔ ان کے پاس ان کی زبان میں ایک کتاب تھی جسے کبھی کبھی وہ بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد سلمان فارسی ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں سلمان مدینہ میں بارگاہ رسالت ﷺ میں پہنچے تھے اور وہاں پہنچ کر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ سورہٓ نحل کا زیادہ تر حصہ مکی ہے اور مشرکین کی ایسی تہمتوں کا تعلق بھی اسی دور سے ہے۔ بہر حال ان بے بنیاد باتوں پر قرآن نے خطِ بطلان کھینچ دیا ہے انھیں دندان شکن جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس شخص کی طرف یہ اس قرآن کی نسبت دیتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ حالانکہ یہ قرآن فصیح و واضح عربی میں نازل ہوا ہے۔ (لِّسَانُ الَّـذِىْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَـمِىٌّ وَّهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِيْنٌ) (تشریحی نوٹ: ’’یلحدون‘‘, ’’الحاد‘‘ کے مادہ سے ہے یہ حق سے باطل کی طرف انحراف کے معنی میں ہے اور کبھی یہ ہر قسم کے انحراف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ افتراء پرواز چاہتے تھے کہ قرآن کو ایک انسان کی طرف نسبت دیں اور اسے رسول اللہ ﷺ کا استاد قرار دیں۔ ’’اعجام‘‘ اور ’’عجمۃ‘‘ دراصل ’’ابہام‘‘ کے معنی میں ہے اور عجمی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بیان میں نقص ہو چاہے وہ عرب ہو یا غیر عرب۔عربوں کو چونکہ دوسروں کے بارے میں ناقص اطلاعات ملیں لہذا دوسروں کو ’’عجم‘‘ کہتے تھے)۔ اس تہمت سے اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن رسول اللہ کو ایک ایسا انسان سکھاتا کہ جو عربی زبان سے بیگانہ تھا تو یہ انتہائی پست بات ہے ایسے شخص کی عبارات ایسی فصیح و بلیغ کیسے ہو سکتی ہیں کہ جن کے سامنے خود اہلِ زبان عاجز ہیں یہاں تک کہ اس جیسی ایک سورت بھی نہیں بنا سکے۔ اگر ان کی مراد یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مفہوم پیغمبر ﷺ نے ایک عجمی معلم سے لیے ہیں تو بھی یہ سوال سامنے آئےگا کہ ان مضامین کو ایسے اعجاز آمیز الفاظ و عبارات میں کسی شخص نے ڈھالا ہے جن کے سامنے دنیائے عرب کے تمام فصحاء نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں کیا یہ کام اس شخص کا ہو سکتا ہے جو عربی زبان سے نا واقف ہو یا پھر یہ اس ذات کا کام ہے کہ جس کی قدرت تمام انسانوں کی قدرت سے مافوق ہے یعنی اللہ۔ علاوہ ازیں, فلسفے اور قوی منطق کے لحاظ سے، عقائد کے اعتبار سے اور اخلاقی تعلیمات کے لحاظ سے اس قرآن کے مضامین ایسے ہیں کہ جو انسان کے باطن اور روح کی پرورش کرتے ہیں۔ مختلف انسانی ضروریات کے حوالے سے اس کے معاشرتی قوانین ایسے ہیں کہ جو انسانی افکار سے مافوق ہیں۔یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ افتراء پروازوں کو بھی اپنی بات پر یقین نہ تھا یہ صرف ان کا شیطانی ہتھکنڈا تھا وہ تو ایسی باتیں کر کے سادہ لوح افراد گمراہ کرنا چاہتے تھے اور ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب کو اپنے میں سے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا تھا جس کی طرف اس قرآن کی نسبت دے سکیں لہذا کوشش کرتے تھے کہ کوئی ایسا اجنبی شخص کہ جس کی زندگی وہاں کےلوگوں کے لیے مبہم ہو اس کی طرف ان مطالب کی نسبت دے دیں تا کہ ہوسکتا ہے چند دنوں تک وہ سادہ لوح لوگوں کو گمراہ رکھ سکیں۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر خود پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا کوئی شخص نہیں ملتا حالانکہ اگر واقعاً ایسے افراد ہی اس قرآن کے اصلی موجود ہوتے تو پھر اس قسم کی رابطہ ان سے برقرار رہنا چاہیے تھاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن جیسا کہ پرانی مثل ہے کہ: الغریق یتشبث بکل حشیش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ وہ بھی اس قسم کی سہارے ڈھونڈتے تھے۔ نزولِ قرآن کا زمانہ اور عربوں کی جاہلیت کا دور تو معمولی بات ہے آج تمدنِ انسانی کے مختلف میدانوں میں اس قدر پیش رفت ہو چکی ہے بے پناہ کتابوں کے ذریعے انسانی معاشرے میں افکارِ انسانی پھیل چکے ہیں، مختلف نظام ہائے حیات اور قوانین معرضِ وجود میں آچکے ہیں مگر اس کے باوجود موازنہ کیا جائے تو ان سب پر قرآنی تعلیمات کی برتری پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ سید قطب نے تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں لکھا ہے کہ روسی مادہ پرستوں نے ۱۹۵۴ء میں قرآن پر اعتراض کرنے کی غرض سے مستشرقین کا ایک سیمینار منعقد کیا تو انھوں نے کہا: یہ کتاب ایک انسان ـــــــــــــــــــــــــــــــــ محمدؐ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کے دماغ کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ایک بڑی جماعت کی کوشش کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ یقین بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ساری کی ساری جزیرۃ العرب میں لکھی گئی ہے بلکہ یقینی طور پر اس کے کچھ حصے جزیرۃ العرب سے باہر لکھے گئے ہیں۔(بحوالہ: تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ جلد ۵ ص ۲۸۲)۔ ان کی منطق کی بنیاد وجودِ خدا اور نزولِ وحی کا انکار تھی وہ ہر چیز کی مادی تفسیر تلاش کرتے تھے دوسری طرف وہ جزیرۃ العرب میں قرآن کو انسانی ذہن کی پیداوار نہیں سمجھ سکتے تھے مجبوراً انھوں نے ایک مضحکہ خیز بات کی اور اسے عرب اور عرب کے باہر کے بہت سے افراد کی پیداوار قرار دیا جبکہ یہ وہ چیز ہے تاریخ جس کا بالکل انکار کرتی ہے۔ بہرحال، اس آیت سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کا اعجاز صرف اس کے مضامین کے حوالے سے نہیں بلکہ الفاظِ قرآن بھی معجزہ ہیں۔ ان الفاظ کی خاص کشش، مٹھاس، ہم آہنگی اور جملوں کی بندش ایسی ہے کہ جو انسانی طاقت سے ماوراء ہے۔ (اعجاز قرآن کے سلسلے میں ہم جلد اول سورہٓ بقرہ آیہ ۲۳ کے ذیل میں کافی بحث کر آئے ہیں) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد قرآن تنبیہ کے انداز میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ ان کے یہ الزامات اور انحرافات سب کے سب ان کی داخلی بے ایمانی کے سبب سے ہیں اور ’’جو لوگ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے خدا انھیں ہدایت نہیں کرتا (نہ صراطِ مستقیم کی ہدایت اور نہ جنت و سعادت جاوداں کے راستے کی ہدایت) اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘(اِنَّ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ لَا يَـهْدِيْـهِـمُ اللّـٰهُ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ)۔ کیونکہ وہ اس طرح سے تعصب، ہٹ دھرمی اور حق دشمنی میں گرفتار ہیں کہ ہدایت کی اہلیت گنوا بیٹھے ہیں اور اب وہ عذابِ الیم کے علاوہ کسی چیز کی اہلیت نہیں رکھتے۔ زیر بحث آخری آیت میں مزید فرمایا گیا ہے اللہ والوں پر صرف وہ لوگ جھوٹ باندھتے ہیں کہ جہ آیاتِ الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ پکے جھوٹے ہیں (اِنَّمَا يَفْتَـرِى الْكَذِبَ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَاذِبُوْنَ)۔ اے محمدؐ! جھوٹ وہ بولتے ہیں نہ کہ آپ ـــــــــــــــــــــــــــ کیونکہ ان آیات، واضح نشانیوں اور دلیلوں کو کہ جن سے میں ہر ایک دوسری سے زیادہ آشکار ہے، دیکھنے کے باوجود وہ افتراء پروازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا کہ انسان مردانِ حق پر تہمت باندھے اور اس طرح سے وہ حق کے پیاسے لوگوں اور ان کے درمیان دیوار کھڑی کر دے۔

اسلام کی نگاہ مین جھوٹ کی قباحت

زیر بحث آخری آیت قرآن کی لرزا دینے والی آیتوں میں سے ہے۔یہ آیت جھوٹ کی قباحت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے اس آیت نے جھوٹوں کو کافروں اور آیاتِ الٰہی کے منکروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے آیت اگرچہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنے کے بارے میں ہے تا ہم جھوٹ کی قباحت اجمالاً اس سے مشخص ہو جاتی ہے اس پیشِ نظر ہم کچھ تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کی نگاہ میں جھوٹ کی قباحت کس قدر ہے۔ ۱۔ راست گوئی اور امانت ایمان کی دلیل ہیں: راست گوئی اور امانت کی ادائیگی ایمان اور بلندی اور بلندیٓ کردار کی دو واضح نشانیاں ہیں یہاں تک کہ نماز سے بڑھ کر ایمان پر دلالت کرتی ہیں۔ امام صادق عیلہ السلام فرماتے ہیں: لا تنظروا الٰی طول رکوع الرجل و سجود ، فان ذٰلک شئی قد اعتاد ، ولو ترکہ استوحش لذٰلک، ولٰکن انظروا الٰی صدق حدیثہ واداء امانتہ لوگوں کے لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ دیکھو، ہو سکتا ہے اس کی انھیں عادت پڑ گئی ہو۔ اس طرح سے کہ وہ انھیں چھوڑ دے تو پریشان ہو جائے۔ البتہ ان کے قول کی سچائی اور امانت کی ادائیگی کی طرف دیکھو۔ (بحوالہ: سفینۃ البحار مادہ صدق منقول از کتاب کافی)۔ ۲۔ جھوٹ سب گناہوں کی جڑ ہے: اسلامی روایات میں جھوٹ کو ’’گناہوں کی چابی‘‘ کہا گیا ہے۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:- الصدق یھدی الی البر، والبر یھدی الی الجنۃ سچائی نیکی کی دعوت دیتی ہے اور نیکی جنت کی طرف ہدایت کرتی ہے۔(بحوالہ: مشکوٰۃ الانوار طبرسی ص ۱۵۷ ۳)۔ ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان اللہ عزوجل جعل للشر اقفالا، وجعل مفاتیح تلک الاقفال الشراب، والکذب شر من الشراب۔ اللہ بزرگ و برتر نے برائی کے کچھ قفل قرار دیئے ہیں اور ان کی چابی شراب ہے (کیونکہ یہ عقل ہے کہ جو برائیوں سے روکتی ہے اور شراب عقل کو بیکار کر دیتی ہے)۔ اس کے بعد مزید فرمایا: جھوٹ بولنا شراب نوشی سے بھی بدتر ہے۔( بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ ص ۲۵۴)۔ امام عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: جعلت الخبائث کلھا فی بیت وجعل مفتاحھا الکذب تمام خباثتیں ایک کمرے میں بند کر دی گئی ہیں اور اس کمرے کی چابی جھوٹ ہے۔( بحوالہ: جامع السادات جلد ۲ ص ۲۳۳)۔ جھوٹ اور دوسرے گناہوں کا تعلق یہ ہے کہ گناہ گار شخص ہرگز سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ سچائی کی رسوائی کا سبب ہے اور آثارِ گناہ چھپانے کے لیے اسے عموماً جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جھوٹ انسان کو گناہ کی چھوٹ دیتا ہے اور سچائی گناہ پر پابندی لگاتی ہے۔ اتفاق سے یہ حقیقت پیغمبر اکرم ﷺ سے منقول ایک حدیث سے ظاہر ہوتی ہے۔ حدیث یوں ہے: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی، میں نماز نہیں پڑھتا اور ایسے کام کرتا ہوں تو عفت و پاکدامنی کے منافی ہیں اور جھوٹ بھی بولتا ہوں۔ان میں سے کس کو پہلے چھوڑوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھوٹ کو۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ آئیندہ ہرگز جھوٹ نہیں بولے گا۔ جب وہ آپ کے پاس سے اُٹھ کر چلا گیا تو اس کے دل میں شیطانی وسوسے پیدا ہوئے۔ اور غلط کاری پر ابھارنے لگے۔ فوراً ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر کل رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں پوچھ لیا تو کیا کہوں گا۔ کیا یہ کہوں گا کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا اگر یہ کہا تو یہ جھوٹ ہو گا اور اگر سچ کہہ دیا تو اس پر حد جاری ہوگی۔ اسی طرح دوسرے غلط کاموں کے بارے میں اس کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے رہے اس وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہا۔اس طرح سے جھوٹ ترک کرنا سارے گناہ ترک کرنے کی بنیاد بن گیا۔ ۳۔ جھوٹ نفاق کی بنیاد ہے: جھوٹ نفاق کا سرچشمہ ہے کیونکہ راست گوئی کا مطلب ہے زبان و دل کی ہم آہنگی لہذا جھوٹ ان دونوں کی باہم آہنگی اور نفاق ظاہر و باطن میں اختلاف کے سوا کچھ نہیں۔ سورہٓ توبہ کی آیت ۷۸ میں ہے: فَاَعْقَبَـهُـمْ نِفَاقًا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٝ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّـٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُـوْا يَكْذِبُوْنَ ان کے اعمال نے روز قیامت تک کے لیے ان کے دل میں نفاق پیدا کر دیا کیونکہ انھوں نے عہدِالٰہی کو توڑا اور وہ جھوٹ بولتے تھے۔ ۴۔ جھوٹ اور ایمان کا کوئی تعلق نہیں: یہ حقیقت نہ صرف اس آیت سے ظاہر ہوتی ہے بلکہ اصلاحی احادیث میں بھی صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ جھوٹ اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ایک حدیث میں ہے: سئل رسول اللہ (ﷺ): یکون المومن جباناً؟ قالا: نعم قیل: ویکون بخیلاً؟ قال: نعم قیل: یکون کذابا؟ قال: لا رسول اللہ (ﷺ) سے سوال کیا گیا: کیا ایک با ایمان شخص کبھی بزدل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں پھر پوچھا گیا: کیا وہ کبھی بخیل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں پھر پوچھا گیا: کیا وہ کبھی جھوٹا ہو سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔ (بحوالہ: جامع السعادات، جلد ۲ ص ۳۲۲)۔ کیونکہ جھوٹ نفاق کی نشانیوں میں سے ہے اور نفاق اور ایمان ایک ساتھ کبھی نہیں رہ سکتے۔یہ ہی وجہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے منقول ہے: لا یحد العبد طعم الایمان حتی یترک الکذب ھزلہ وجدہ انسان کبھی بھی ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا جب تک جھوٹ ترک نہ کرے چاہے مزاح میں ہو یا واقعی طور پر۔(بحوالہ: مشکوٰۃ الانوار ص ۱۵۶)۔ ۵۔ جھوٹ سے اعتماد جاتا رہتا ہے: ہم جانتے ہیں کہ کسی معاشرے کا اہم ترین سرمایہ باہمی اعتماد اور عمومی اطمینان ہے جب کہ خیانت اور دھوکا بازی اس سرمایے کو تباہ کر دیتی ہے اسلامی تعلیمات میں سچائی کو اختیار کرنے اور جھوٹ کو چھوڑ دینے کے لیے ایک اہم دلیل یہ ہی بیان کیا گئی ہے۔ اسلامی احادیث میں ہے کہ ہادیانِ دین نے جب لوگوں سے شدت سے منع کیا ہے ان میں دروغ گو اور جھوٹے بھی ہیں کیونکہ وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے کلماتِ قصار میں فرماتے ہیں: ایاک و مصادقۃ اکذاب فانہ کالسراب، یقرب علیک البعید، ویبعد علیک القریب۔ جھوٹے سے دوستی کرنے سے بچو کیونکہ وہ سراب کی مانند ہے بعید کو تجھے قریب کر دکھائے گا اور قریب کو دور کر دےگا۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلماتِ قصار ص۳۷)۔ جھوٹ کی قباحتوں کے بارے میں اور بھی بہت گفتگو کی جاسکتی ہے اس کے نفسیاتی علل و اسباب بھی ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے طریقے بھی بہت ہیں یہ تفصیلات اخلاق کے بارے میں لکھی گئی کتب میں دیکھا چاہیے۔ (تشریحی نوٹ: ہماری کتاب ’’زندگی پر توِ اخلاق‘‘ کی طرف رجوع فرمائیں)۔

106
16:106
مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنۡ أُكۡرِهَ وَقَلۡبُهُۥ مُطۡمَئِنُّۢ بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلۡكُفۡرِ صَدۡرٗا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے سوائے اس لئے کہ جو مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو(تو اس پر کوئی حرج نہیں )لیکن جنہوں نے آزادی سے کفر قبول کر لیا ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور عذاب عظیم ان کے انتظار میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
16:107
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
یہ اس بناء پر ہے کہ انہوں نے( پست )دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور اللہ بے ایمان (اور ہٹ دھرم )افراد کو ہدایت نہیں فرماتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
16:108
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ
وہ ایسے لوگ ہیں کہ( ان کے گناہوں کی کثرت کے باعث)اللہ نے ان کے دلوں ‘ کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے (اس لئے وہ کچھ نہیں سمجھ سکتے ) وہ واقعی غافل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
16:109
لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
یقیناً آخرت(قیامت کے دن) میں ایسے لوگ خسارے میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
16:110
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَٰهَدُواْ وَصَبَرُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
لیکن تیرا رب ان لوگوں کیلئے جنہوں نے دھوکا کھانے کے بعد ہجرت کی پھر راہ خدا میں جہاد کیا اور استقامت دکھائی، یہ کام انجام پانے کے بعد تیرا پروردگار غفور و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
16:111
۞يَوۡمَ تَأۡتِي كُلُّ نَفۡسٖ تُجَٰدِلُ عَن نَّفۡسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
اس دن کے متعلق سوچو جب ہر شخص( اپنی فکر میں پڑا ہو گا اور) اپنے دفاع کیلئے کھڑا ہو گا اور ہر شخص کا نتیجہ اعمال بے کم و کاست اسے دیا جائیگا اور ان پر ظلم نہیں ہو گا

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

بعض مفسرین نے پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں نقل کیا ہے کہ آیت مسلمانوں کے ایک خاص گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ مشرکین کے چنگل میں گرفتار ہو گئے تھے کفار نے انھیں مجبور کیا کہ اسلام کے خلاف کفر و شرک کا اظہار کریں۔ یہ افراد عمار، ان کے والد یاسر، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور خباب تھے۔عمار کے ماں باپ نے اس واقعے میں بڑی استقامت دکھائی اور ڈٹے رہے۔انھیں قتل کر دیا گیا۔عمار نوجوان تھے مشرکین جو چاہتے تھے انھوں نے کہہ دیا۔ یہ خبر مسلمانوں تک پہنچی تو بعض نے غائبانہ طور پر عمار کی مذمت کی اور کہا کہ عمار اسلام سے نکل گیا ہے اور کافر ہو گیا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: ان عمارا ملاء ایماناً من قرنہ الی قدمہ و اختلط الایمان بلحمہ و دمہ۔ ایسا نہیں ہے (میں عمار کو خوب جانتا ہوں) عمار سرتاپا ایمان سے معمور ہے ایمان اس کے گوشت اور خون میں ملا ہوا ہے (وہ ہرگز ایمان کو ترک نہیں کرے گا اور مشرکین سے نہیں ملے گا)۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ عمار رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ انھوں نے عرض کی بہت بُرا ہوا۔ انھوں نے اس وقت تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک میں نے آپ کے بارے میں جسارت نہیں کی اور ان کے بتوں کے بارے میں کلمہ خیر نہیں کہا: رسول اللہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمار کی آنکھوں سے آنسو پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: اگر دوبارہ تم ان کے ہاتھوں میں آجاو تو جو کچھ وہ کہیں کہہ دو (اور اپنی جان کو مشکل سے بچاو) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ مَنْ كَفَرَ بِاللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ۔۔۔۔ اس آیت نے مسائل کو واضح کر دیا۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان)۔

تفسیر: اسلام سے پھر جانے والے۔۔۔ (مرتدین)

گزشتہ آیات مشرکین اور کفار کے طرزِ عمل کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ان آیات میں بھی وہی سلسلہٓ کلام جاری ہے ان میں کفار کے ایک اور گروہ یعنی مرتدین اور اسلام سے پھر جانے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائیں سوائے ان کے جو دباو میں آکر اظہار کفر کریں، جبکہ ان کا دل ایمان پر ہو ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مگر جنھوں نے اپنا سینہ پھر سے کفر کے لیے کھول دیا ہے ان پر خدا کا غضب ہے اور عذابِ عظیم ان کے انتظار میں ہے (مَنْ كَفَرَ بِاللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٝ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّـٰهِۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ)۔ درحقیقت یہاں دوگروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک وہ کہ جو دشمنوں کے چنگل میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ جو منطق کی زبان نہیں جانتے۔ ان ظلم اور دباو کی وجہ سے وہ اسلام سے بیزاری اور کفر سے وفاداری کا اظہار کر دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ سب کچھ زبان سے کہتے ہیں اور ان کے دل ایمان سے مالا مال ہوتے ہیں۔ یہ لوگ یقیناً عفو و درگذر کے قابل ہیں بلکہ اصلاً ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہیں ہوا یہ ہی وہ تقیہ ہے کہ جس کی اجازت دی گئی ہے جس کا مقصد جان کی حفاظت ہے تا کہ زیادہ طاقت جمع کر کے راہِ خدا میں زیادہ خدمت کی جا سکے۔ اسی تقیہ کو اسلام میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے وہ کہ جو سچ مچ اپنے دل کے دریچے کفر اور بے ایمانی کے لیے کھول دیتے ہیں اور اپنا عقیدہ بلکل بدل لیتے ہیں ایسے لوگ غضبِ الٰہی اور اس کے عذابِ عظیم میں گرفتار ہوں گے۔ ہو سکتا ہے یہاں’’غضب‘‘اس جہان میں رحمتِ الٰہی اور اس کی ہدایت سے محرومی کی طرف اشارہ ہو،اور’’عذابِ عظیم‘‘ دوسرے جہان کی سزا اور عذاب کی طرف اشارہ ہو۔ بہر حال مرتدین کے بارے میں آیت میں جو تعبیر آئی ہے وہ بہت سخت اور ہلا دینے والی ہے۔ اگلی آیت میں ان کے مرتد ہونے کی وجہ بیان کی گئی ہے یہ اس لیے ہے کہ انھوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے لہذا انھوں نے پھر سے کفر کی راہ اختیار کر لی ہے (ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ)۔اور خدا (کفر و انکار پر اصرار کرنے والی) کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا (وَاَنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ)۔ مختصر یہ کہ جب وہ ایمان لاتے تھے تو وقتی طور پر ان کے کچھ مادی مفادات خطرے میں پڑ گئے تھے اور چونکہ وہ دنیا سے لگاؤ رکھتے تھے لہذا اپنے ایمان پر پشیمان ہوئے اور پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔ اگلی آیت میں ان کی عدمِ ہدایت کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ ’’وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے‘‘۔ اس طرح سے کہ وہ حق کو دیکھنے، سننے اور سمجھنے سے محروم ہیں۔(اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ طَبَعَ اللّـٰهُ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ وَسَـمْعِهِـمْ وَاَبْصَارِهِـمْ) اور واضح ہے کہ ایسے افراد معرفت کے سارے ذرائع گنوا بیٹھنے کی وجہ سے واقعا غافل ہیں (و اولئک ھم الغٰفلون) ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں غلط اعمال اور طرح طرح کے گناہ انسان کی حسِ ادراک اور نگاہِ معرفت پر بُرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کے باعث انسان کی سلیم فکری رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے اور انسان اس راہ پر جس قدر آگے بڑھتا ہے اس کے دل، کان اور آنکھ پر غفلت کے پردے دبیز تر ہوتے چلے جاتے ہیں آخر کار اس کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے دیکھ نہیں پاتا، کان رکھتے ہوئے سن نہیں پاتا اور اس کی روح کا دریچہ حقائق کے لیے بند ہو جاتا ہے۔حسِ ادراک اور قوت تمیز اس سے لے لی جاتی ہے حالانکہ یہ اللہ کی عظیم ترین نعمتیں ہیں۔ ’’طبع‘‘ یہاں پر’’مہر لگانے‘‘کے معنی میں آیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات کسی صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے اس پر خاص انداز سے مہر لگا دیتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ کوئی اس سے سامان کو نہ چھیڑے اور اگر کوئی اسے کھولے تو فوراً معلوم ہو جائے۔ اس لحاظ سے یہ تعبیر مطلقاً نفوذ نا پذیر کے لیے کنایہ ہے۔ اگلی آیت میں ان کے کام کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے کہ ناچار اور یقیناً آخرت میں وہ خسارے میں ہیں (لَا جَرَمَ اَنَّـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ) اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہو گا کہ انسان ہدایت و سعادتِ جاوداں کے تمام ضروری وسائل اپنی ہوا و ہوس کی وجہ سے گنوا بیٹھے۔ پہلے دو گروہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک وہ کہ جو دشمن کے ظلم اور دباؤ کی وجہ سے تقیہ کے طور پر کفر آمیز باتیں کہہ دے جبکہ اس کا دل ایمان سے معمور ہو۔ اور دوسرا وہ کہ جو آزادی اور رغبت کے ساتھ کفر کی طرف پلٹ جائے۔ ان کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا گروہ بھی ہے اور وہ ہے فریب خوردہ لوگوں کا گروہ۔ لہذا اگلی آیت میں ان کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: تیرا رب ان لوگوں کے بارے میں کہ جو دھوکا کھا کر ایمان سے پلٹ گئے ہیں لیکن بعد ازاں انھوں نے توبہ کر لی اور ہجرت، جہاد اور صبر و استقامت کے ذریعے اپنی توبہ کی سچائی کو ثابت کیاــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! ان کے بارے میں تیرا رب غفور و رحیم ہے (ثُـمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُـوْا ثُـمَّ جَاهَدُوْا وَصَبَـرُوْاۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "بعد ھا‘‘ کی ضمیر بہت سے مفسرین کے بقول لفظ ’’فتنہ‘‘ کی طرف لوٹتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت، جہاد اور صبر کی طرف لوٹتی ہے جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں آیا ہے)۔ یہ آیت مرتد کی توبہ قبول ہونے کے لیے واضح دلیل ہے لیکن جن افراد کے بارے میں یہ آیت بات کر رہی ہے وہ پہلے مشرک تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے تھے لہذا وہ ’’مرتد ملی‘‘ شمار ہوںگے نہ کہ ’’مرتد فطری‘‘۔ (تشریحی نوٹ: ’’مرتد فطری‘‘ اسے کہتے ہیں کہ جو مسلمان باپ یا ماں سے پیدا ہوا اور اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام سے پھر جائے لیکن ’’مرتد ملی‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کے ماں باپ اس کے انعقاد نطفہ کے وقت مسلمان نہ ہوں لیکن بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا ہو اور پھر اس سے پھر جائے)۔ زیر بحث آخری آیت میں ایک عمومی تنبیہ کے طور پر اور بیداری کے لیے فرمایا گیا ہے: اس دن کا سوچو جب ہر شخص اپنی فکر میں غلطاں ہوگا اور اپنے ہی دفاع کے در پے ہوگا۔ تا کہ اپنے تئیں اس درد ناک عذاب اور سزا سے بچا سکے (یَوْمَ تَاْتِىْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا) (تشریحی نوٹ: مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ’’یوم‘‘ کس فعل سے تعلق رکھتا ہے بعض اسے فعلِ مقدر سے متعلق سمجتھے ہیں اور کہتےہیں کہ تقدیر میں ’’ذکرھم یوم تأتی‘‘ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ گزشتہ آیت میں جو ’’غفور و رحیم‘‘ آیا ہے یہ ان کے فعل ’’غفران‘‘ اور ’’رحمت‘‘ سے تعلق رکھتا ہے (لیکن ہم نے سطور بالا میں پہلے احتمال کو اس کی عملی جامعیت کی وجہ سے ترجیح دی ہے)۔ بعض اوقات گنہ گار عذاب سے بچنے کے لیے اپنے غلط اعمال کا سرے سے انکارہی کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں:- واللہ ربنا ما کنا مشرکین اس اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہ تھے (انعام ـــــــــــــــــــــــــــــــ ۲۳) جب وہ دیکھیں گے کہ اس مکروفریب اور دروغ سے کام نہیں بنتا تو کوشش کریں گے کہ اپنے گناہ اپنے گمراہ رہنماؤں کی گردن پر ڈال دیں۔ وہ کہیں گے: ربنا ھؤلاء اضلونا فاٰتھم عذاباً ضعقاً من النار پروردگار! یہ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا ان کا عذاب دگنا کر دے اور ہمارے عذاب کا حصہ انھیں دےدے۔ (اعراـفــــــ۳۸) لیکن اس طرح سے ہاتھ پاؤں مارنا فضول ہے’’ اور وہاں ہر شخص کا نتیجہِٓ اعمال بے کم و کاست اسی کو دیا جائے گا۔ (وَتُـوَفّـٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ) اور کسی شخص پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوگا (وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ تقیہ اور اس کا فلسفہ

پیغمبر اسلام ﷺ کے تربیت یافتہ حقیقی مسلمان دشمنوں کے مقابلے میں حیران کن، تحمل اور قوتِ پرداشت کا مظاہرہ کرتے تھے مثلاً جیسا کہ ہم نے دیکھا عمار رضی اللہ عنہ کے والد ایک جملہ بھی دشمن کی مرضی کا کہنے کو تیار نہ ہوئے ان کا دل ایمان باللہ اور عشقِ رسول ﷺ سے سرشار تھا اور انھوں نے اسی راہ میں اپنی جان نثار کر دی عمار زبان سے کچھ کہنے کے لیے تیار ہو گئے پھر وہ سر تاپا پریشانی اور ندامت میں غرق ہو گئے۔ وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے تھے انھیں اس وقت تک قرار نہ آیا جب تک رسول اللہ ﷺ نے اطمینان نہ دلایا کہ ان کا عمل جان بچانے کے لیے ایک تدبیر کے طور پر شرعاً جائز ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے کہ جس وقت وہ اسلام لائے اور وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے دفاع کے لیے بڑی شجاعت سے اُٹھ کھڑے ہوئے تو مشرکین انھیں شدید اذیتیں دینے لگے یہاں تک کہ انھیں چلچلاتی دھوپ میں گھسیٹ کر لے جاتے اور بہت بڑا پتھر ان کے سینے پر رکھ دیتے اور ان سے مشرکانہ کلمات ادا کرنے کو کہتے مگر وہ ایسا نہ کرتے۔ مشرکین اتنا ستم ڈھاتے کہ ان کی سانس اکھڑ اکھڑ جاتی مگر وہ مسلسل ’’احد‘‘، ’’احد‘‘ (اللہ ایک ہی ہے، اللہ ایک ہی ہے) کہتے چلے جاتے اور اس کے بعد کہتے کہ بخدا! اگر مجھے معلوم ہو کہ کوئی بات بھی اس سے بڑھ کر تمھیں ناگوار ہے تو میں وہی کہتا۔(بحوالہ" تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۳۸۴)۔ حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے کہ جب مسیلمہ کذاب نے انھیں گرفتار کر لیا تو ان سے پوچھا۔ ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (ﷺ) اللہ کا رسول ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں پھر اس نے پوچھا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیب نے تمسخر سے کہا: مجھے تمھاری بات نہیں سنائی دے رہی۔ مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا مگر ان کے پائے استقامت میں کوئی لرزش نہ آئی اور وہ چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ (بحوالہ: تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۳۸۴)۔ ایسے ہلا دینے والے واقعات تاریخِ اسلام میں خصوصاً صدر اول کے مسلمانوں اور آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے اصحاب و انصار میں بہت زیادہ ہیں۔ اسی بناء پر محققین نے کہا ہے کہ ایسے مواقع پر تقیہ اختیار نہ کرنا اور دشمن کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا جائز اگرچہ اس میں انسان کی جان کیوں نہ چلی جائے کیونکہ ہدف پرچم اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمہ اسلام ہے خصوصاً پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کے آغاز میں یہ امر خاص اہمیت رکھتا تھا۔ اس کے باوجود اس میں شک نہیں ہے کہ ایسے مواقع پر بھی تقیہ جائز ہے اور اس سے کم تر مواقع پر واجب ہے۔ تقیہ (خاص مواقع پر ہر جگہ نہیں) نا آگاہ افراد کے خیال کے برخلاف نہ تو کمزوری کی نشانی ہے نہ جمعیت دشمن سے خوف کی اور نہ ان کے دباؤ کے سامنے جھک جانے کی۔ بلکہ تقیہ ایک سوچی سمجھی تدبیر اور تکنیک ہے انسانی قوتوں کی حفاظت کی اور کم اہم مواقع پر اہلِ ایمان کی جان ضائع ہونے سے بچانے کی۔ ساری دنیا میں معمول ہے کہ حریت پسند اور مجاہد اقلیتیں خود سر اور ظالم اکثریتوں کا تختہ الٹنے کے لیے مخفی طریقے اختیار کرتی ہیں یہ لوگ زیر زمین افراد تیار کرتے ہیں جو خفیہ طور پر کام کرتے ہیں اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کے بھیس میں کام کرتے ہیں یہاں تک کہ گرفتار ہو جائیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا اصلی کام مخفی رہے تا کہ ان کے گروہ کی قوتیں بیکار ضائع نہ ہو جائیں اور وہ جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ کوئی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ایسے حالات میں مجاہدین کہ جو تھوڑی سی تعداد میں ہیں اپنے آپ کو دشمن پر ظاہر کر کے تباہ ہو جائیں۔ اسی بناء پر تقیہ ایک اسلامی حکمتِ عملی سے پہلے ان تمام لوگوں کے لیے ایک عقلی اور منطقی طریقہ ہے کہ جو کسی طاقتور دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے یا کر رہے ہیں۔ اسلامی روایات میں بھی تقیہ کو ایک دفاعی ہتھیار اور ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چناچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:- التقیۃ ترس المؤمن والتقیۃ حرز المؤمن تقیہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مومن کی ڈھال اور اس کا دفاعی ہتھیار ہے۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۱ حدیث ۶ باب امر با المعروف کے ابواب میں سے۔ ۲۶)۔ (توجہ رہے کہ تقیہ کو یہاں سپر اور ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ ڈھال وہ ہتھیار ہے کہ جسے صرف میدانِ جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے انقلابی قوتوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے)۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ احادیث میں تقیہ کو دین کی نشانی، ایمان کی علامت اور دین کے دس حصوں میں سے نو حصے شمار کیا گیا ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ البتہ تقیہ ایک وسیع موضوع ہے یہاں اس کی تفصیلات کی گنجائش نہیں ہے ہمارا مقصد یہ تھا کہ اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ جو لوگ تقیہ کی مذمت کرتے ہیں وہ درحقیقت اس کی شرائط اور فلسفے سے آگاہی نہیں رکھتے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مواقع ایسے بھی ہیں جہاں تقیہ اختیار کرنا حرام ہے مثلاً جہاں تقیہ اسلامی قوتوں کی حفاظت کی بجائے مکتب دین کی نابودی یا اس کے لیے خطرے کا باعث ہو یا اس سے کسی بڑے فساد کی برائی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ایسے مواقع پر تقیہ کا بند توڑ دینا چاہیے اور اس سے جو نتائج برآمد ہوں انھیں قبول کر لینا چاہیے۔(تشریحی نوٹ: تقیہ کے بارے میں مکمل وضاحت اس کے احکام، فلسفلہ اور مختلف مدارک کے لیے ہماری کتاب ’’القواعد الفقھیہ‘‘ کی تیسری جلد کی طرف رجوع فرمائیں)۔

۲۔ فطری اور ملی مرتد اور فریب خوردہ لوگ

جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا ہو ان کے بارے میں اسلام سخت گیری نہیں کرتا (ہماری مراد اہلِ کتاب سے ہے)۔ اسلام انھیں پیہم دعوت اور منطقی تبلیغ کے ذریعے اپنی طرف بلاتا ہے اگر وہ اسے قبول نہ کریں اور ذمیوں کی شرائط پر مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیں تو اسلام نہ صرف انھیں امان دیتا ہے بلکہ ان کے مال و جان اور جائز مفادات کی حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے۔ لیکن جو لوگ اسلام قبول کر لیں اور پھر اس سے پھر جائیں اسلام کا رویہ ان کے بارے میں نہایت سخت ہے کیونکہ یہ عمل اسلامی معاشرے کو متزلزل کرنے کا سبب بنتا ہے یہ عمل حکومت اسلامی اور اس کے طریقے کے خلاف ایک قسم کا قیام شمار ہوتا ہے اور اکثر اوقات یہ عمل بدنیتی کی دلیل ہوتا ہے اور سبب بنتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے راز دشمنوں کے ہاتھ جا لگیں۔ بہرحال، مرتد فطری وہ ہے کہ جس کا حمل ٹھہرتے وقت اس کے ماں باپ میں سے کوئی مسلمان تھا یا آسان لفظوں میں جو مسلمان زادہ ہے اور پھر وہ اسلام سے پھر جائے اور اسلامی عدالت میں یہ امر ثابت ہو جائے تو اسلام اس کے خون کو مباح سمجھتا ہے اس کے اموال اس کے وارثوں میں تقسیم ہونے چاہییں۔ اس کی بیوی کے لیے حکم ہے کہ وہ اس سے الگ ہو جائے اور ظاہراً اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یعنی یہ تینوں احکام ایسے شخص پر ہر حالت میں نافذ ہوں گے لیکن اگر وہ واقعی پشیمان ہوں تو بارگاہِ الٰہی میں اس کی توبہ قبول ہوگی (البتہ اگر عورت اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی توبہ مطلقاً قبول کی جائے گی)۔ اسلام سے پھرنے والا اگر مسلمان زادہ نہ ہو تو اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اب اگر وہ توبہ کرلے وہ قابلِ قبول ہوگی اور اس کے لیے تمام سزائیں ختم ہو جائیں گی۔ جو لوگ اصل مفہوم سے آگاہ نہیں ہیں ہو سکتا ہے وہ مرتد فطری کے بارے میں اس سیاسی حکم کو سختی، عقیدے کا ٹھونسنا اور آزادی فکر سلب کرنا قرار دیں لیکن انھیں چاہیے کہ وہ اس حقیقت کی طرف غور کریں کہ یہ احکام اس شخص کے بارے میں نہیں ہیں جو باطنی طور پر یہ عقیدہ رکھتا ہے اس اس کا اظہار نہیں کرتا۔ یہ احکام تو صرف اس شخص کے بارے میں ہیں جو اظہار کرے اور پراپیگینڈا کرے۔ یعنی دراصل وہ موجود حکومت کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کرتا ہے اس امر پر غور سے واضح ہو جائےگا کہ یہ سختی بلا وجہ نہیں ہے یہ مسئلہ آزادی فکر و نظر کے بھی منافی نہیں ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا بہت سے مشرقی اور مغربی ممالک میں اس سے ملتے جلتے قوانین موجود ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام کی نظر اس نکتے پر بھی ہے کہ اسلام کو منطق اور دلیل کے ساتھ قبول کیا ہو۔ خاص طور پر جو شخص مسلمان باپ یا ماں سے پیدا ہوا ہو اور اس نے اسلامی ماحول میں پرورش پائی ہو اس کے لیے بہت بعید ہے کہ اس نے مفہومِ اسلام کو نہ پہچانا ہو۔ لہذا ایسے شخص کا پھر جانا اشتباہ اور ادراک حقیقت نہ کرنے کی نسبت سازش اور خیانت سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے اور ایسا شخص ایسی ہی سزا کا مستحق ہے۔ ضمناً یاد رکھیں کہ احکام ایک یا دو افراد کے ہرگز تابع نہیں ہوتے اس کے لیے مجموعی اور کلی صورتِ حال کو نظر رکھنا چاہیے۔ (تشریحی نوٹ: ’’من کفر با للہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس جملے کی ترکیب کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اسے اس سے پہلے جملے کی تشریح و توضیح سمجھتے ہیں۔ بزبان اصطلاح یہ ’’الذین لا یؤمنون باٰیات اللہ‘‘ کا بدل ہے۔ بعض اسے محذوف الخبر مبتداء خیال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اس کی تقدیر اس طرح تھی:- من کفر با للہ من بعد ایمانہ فعلیھم غضب من اللہ ولھم عذاب عظیم اور حقیقت میں یہ جزائے شرط محذوف ہے کیونکہ بعد والا جملہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے بارے میں چوتھا احتمال بھی ہے کہ جو سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس مبتداء کی خبر وہی ہے کہ جو خود آیت میں آئی ہے اور محذوف نہیں ہے اور’’لکن من شرح بالکفر صدراً‘‘ مبتداء کی نئے سرے سے توضیح ہے کیونکہ جملہ استثنائیہ نے مبتداء اور خبر کے درمیان فاصلہ ڈال دیا ہے۔ ایسی تعبیرات دوسری زبانوں کے ادب میں بھی نظر آتی ہیں مثلاً فارسی زبان میں ہم کہیں گے۔ ’’جو شخص ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے البتہ ان افراد کے استثناء کے ساتھ کہ جو دباؤ کی وجہ سے ایسا کریں اور ان کا دل ایمان سے معمور ہوـــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں؛ ایسے لوگ کہ جو اسلام کے بعد کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہوگا‘‘۔ (غور کیجیے گا)

112
16:112
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا قَرۡيَةٗ كَانَتۡ ءَامِنَةٗ مُّطۡمَئِنَّةٗ يَأۡتِيهَا رِزۡقُهَا رَغَدٗا مِّن كُلِّ مَكَانٖ فَكَفَرَتۡ بِأَنۡعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلۡجُوعِ وَٱلۡخَوۡفِ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ
اللہ نے ایک آباد علاقے کی مثال بیان فرمائی ہے جہاں امن و امان اور سکون و اطمینان تھا اور ہمیشہ ہر جگہ سے وہاں وافر رزق پہنچ جاتا تھا لیکن انہوں نے کفران نعمت کیا اور اللہ نے ان کے اعمال کے باعث انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 114 کے تحت ملاحظہ کریں۔

113
16:113
وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡهُمۡ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ
خود انہی میں سے ایک رسول ان کے پاس آیا لیکن انہوں نے اس کی تکذیب کی اور عذاب الٰہی نے انہیں آ جکڑا کہ وہ ظالم تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 114 کے تحت ملاحظہ کریں۔

114
16:114
فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗا وَٱشۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ
جب یہ صورت حال ہے تو اللہ نے جو کچھ روزی تمہیں دی ہے اس میں سے حلال و پاکیزہ کھاؤ اور نعمت خدا کا شکر ادا کرو اگر اس کے عبادت گزار ہو۔

جنھوں نے کفرانِ نعمت کیا اور گرفتارِ عذاب ہوئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ سورت نعتموں کے ذکر سے معمور ہے اس میں مختلف قسم کی روحانی اور مادی نعمتوں کا تذکرہ ہے اس کی مناسبت سے بعض دیگر مباحث بھی آ گئے ہیں۔ زیر نظر آیات میں نعماتِ الٰہی کے کفران کا نتیجہ ایک عینی مثال کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ نعماتِ الٰہی کی ناشکری کرتے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایک آبادی کی مثال بیان کی ہے کہ جو بڑے امن و سکون میں تھی (وَضَرَبَ اللّـٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً)۔ یہاں ایسا امن و امان تھا کہ سب باسی اطمینان سے رہتے سہتے تھے۔ انھیں یہاں سے چلے جانے کی کوئی مجبوری نہ تھی (مُّطْمَئِنَّـةً)۔ امن و امان اور سکون و اطمینان کی نعمت کے علاوہ مختلف قسم کے جس رزق کی انھیں ضرورت تھی وہ وافر مقدار میں ہر جگہ سے پہنچ جاتا تھا (يَّاْتِيْـهَا رِزْقُـهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ)۔ لیکن آخر کار اس آبادی کے باسیوں نے نعماتِ الٰہی کا کفران کیا اور اللہ نے ان کے اعمال کی وجہ سے انھیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا (فَكَـفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّـٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّـٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُـوْا يَصْنَعُوْنَ) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ نہ صرف مادی نعمتوں سے مالا مال تھے بلکہ انھیں روحانی نعمتیں بھی میسر تھیں ایک فرستادہِ الٰہی ان میں موجود تھا اور انھیں آسمانی تعلیمات میسر تھیں۔ انھیں میں سے ایک رسول ان کی طرف آیا، ان نے انھیں دینِ حق کی دعوت دی، اور اتمامِ حجت کیا لیکن انھوں نے اس کی تکذیب شروع کردی (وَلَقَدْ جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ مِّنْـهُـمْ فَكَذَّبُوْهُ) اس موقع پر عذابِ الٰہی نے انھیں گھیر لیا کہ وہ ظالم و ستمگر تھے (فَاَخَذَهُـمُ الْعَذَابُ وَهُـمْ ظَالِمُوْنَ) جب تم نے ایسے زندہ اور واضح نمونے دیکھ لیے ہیں تو پھر ان غافلوں، ظالموں اور کفرانِ نعمت کرنے والوں کی راہ اختیار نہ کرنا۔ ’’اللہ نے تمھیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم اس کی ــــــــــــــــــــــ عبادت کرتے ہو (فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّـٰهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَّاشْكُـرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ یہ مثال ہے یا تاریخی واقعہ

زیر بحث آیات میں ایک آباد اور پُر نعمت جگہ کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس آبادی کے لوگ کفرانِ نعمت کی وجہ سے خوف، بھوک اور بُرے انجام کا شکار ہوئے اس لیے لفظ’’مثلاً‘‘استعمال کیا گیا ہے۔ نیز اس میں جو فعل ذکر کیے گئے ہیں وہ فعلِ ماضی کی صورت میں ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا واقعہ عملاً رونما ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے بحث کی ہے کہ کیا یہاں ایک عمومی مثال بیان کرنا مقصود ہے یا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جو عملاً خارجی حیثیت رکھتا ہے جو لوگ دوسرے احتمال کے حامی ہیں انھوں نے پھر اس مسئلے پر بھی گفتگو کی ہے کہ یہ علاقہ کہاں تھا؟ بعض کا خیال ہے کہ یہ سر زمینِ مکہ کی طرف اشارہ ہے اور شاید یہ کہنا کہ ’’يَّاْتِيْـهَا رِزْقُـهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ‘‘ (اس آبادی کے لیے روزی فراوانی کے ساتھ ہر جگہ سے آتی ہے) اس احتمال کی تقویت کا باعث بنا ہے کیونکہ یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس علاقے میں ضرورت کی چیزیں پیدا نہیں ہوتی تھیں باہر سے اس کی طرف لائی جاتی تھیں اس سے قطع نظر سورہٓ قصص کی آیہ ۵۷ میں ہے:- یجیی الیہ ثمرات کل شئی ہر طرح کے پھل اس کی طرف لائے جاتے تھے۔ یقیناً یہ جملہ اس علاقہ سے مراد سر زمین مکہ ہونے سے بہت مناسبت رکھتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے واضح طور پر اس قسم کا کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ جو مکہ میں رونما ہوا ہو کہ ایک دن وہاں بہت امن و سکون ہو اور دوسرے دن قحط و بد امنی نے اسے سختی سے گھیر لیا ہو۔ بعض دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ داستان بنی اسرائیل کے ایک گروہ سے مربوط ہے یہ لوگ ایک آباد علاقے میں زندگی بسر کرتے تھے اور کفرانِ نعمت کی وجہ سے قحط و بد امنی میں گرفتار ہوگئے تھے۔ اس بات کی شاید وہ حدیث ہے جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا ایک گروہ بہت خوشحال زندگی گزار رہا تھا یہاں تک کہ وہ لوگ غذا سے چھوٹے چھوٹے مجسمے بناتے تھے اور بعض اوقات اپنے بدن (کی نجاست) کو بھی ان سے صاف کر لیتے تھے لیکن انجام کار ان کا معاملہ یہاں تک پہنچا کہ وہ مجبور ہو گئے کہ غلاظت سے آلودہ اسی غذا کو کھائیں اور یہی وہ چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتا ہے: يَّاْتِيْـهَا رِزْقُـهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۹۱۔ توجہ رہے کہ مندرجہ بالا حدیث عیاشی سے لی گئی ہے اور اس کی احادیث مرسل ہیں)۔ اس جیسے مضمون کی اور روایات بھی امام صادق علیہ السلام اور تفسیر علی بن ابراہیم سے نقل ہوئی ہیں کہ جن کے اسناد پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ورنہ مسئلہ واضح تھا۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۹۱ (توجہ رہے کہ مندرجہ بالا حدیث عیاشی سے لی گئی ہے اور اس کی احادیث مرسل ہیں)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مذکورہ آیت قومِ سبا کے واقعے کی طرف اشارہ ہو کہ جو یمن کی آباد سر زمین میں زندگی بسر کرتی تھی۔ قرآن نے سورہٓ سبا کی آیت 15 تا 19 میں ان کی زندگی کی داستان بیان کی ہے کہ وہ لوگ بہت سرسبز علاقے میں رہتے تھے وہاں پھلوں سے لدے ہوئے باغات تھے ہر طرف امن و امان تھا۔پاک و پاکیزہ زندگی تھی وہ غرور سرکشی اور کفرانِ نعمت کا شکار ہوئے جس کے باعث ان کا علاقہ ویران ہوگیا۔ اور وہ لوگ ادھر ادھر منتشر ہو کر ساری دنیا کے لیے سامانِ عبرت بن گئے ۔ ’’يَّاْتِيْـهَا رِزْقُـهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ‘‘ لازمی طور پر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ علاقہ خود سر سبز و شاداب نہیں تھا ہو سکتا ہے’’کل مکان‘‘ سے مراد اسی علاقے اور شہر کے اطراف ہوں اور ہم جانتے ہیں کہ ایک وسیع علاقے کی پیداوار شہر یا مرکزی بستی کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت ان سب کی طرف اشارہ ہو بہرحال تاریخ میں ایسے بہت سے علاقوں کا ذکر ہے کہ جو اس انجام سے دوچار ہوئے۔ لہذا آیت کی تفسیر کے بارے میں کوئی اہم مشکل باقی نہیں رہتی اگرچہ کسی ایک علاقے کے تعین کے بارے میں عدم اطمینان کے باعث بعض مفسرین نے اسے ایک عمومی مثال قرار دیا ہے۔ لیکن زیر نظر آیات کا ظاہری مفہوم اس تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتا بلکہ اس کی سب تعبیرات ایک حقیقی واقعے پر دلالت کرتی ہیں۔

۲۔ امن اور رزق فراوان

زیر نظر آیات میں اس آباد اور پر برکت علاقے کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی خصوصیت امن و امان ہے۔ اس کے بعد اطمینانِ حیات کا ذکر ہے اور تیسری خصوصیت یہ ہے کہ فراواں رزق اس کی طرف آتا ہے یہ تینوں خصوصیات آیت میں موجود ترتیب کے لحاظ سے طبیعی ترتیب اور علت و معلول کے سلسلے کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ جب تک امن و امان نہ ہو کوئی شخص کسی جگہ اطمینان سے زندگی نہیں گزار سکتا اور جب تک یہ دونوں نہ ہوں کوئی شخص پیداوار کے حصول اور اقتصادی امور میں لگاؤ سے کام نہیں کر سکتا۔ یہ بات ہم سب کے لیے اور ان لوگوں کے لیے ایک درس ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کی سرزمین آباد اور ہر لحاظ سے آزاد ہو۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے امن و امان کی ضرورت ہے اس کے بعد علاقے کے لوگوں کو اپنے مستقبل کے لیے پُرامید ہونا چاہیے اور اس کے بعد اقتصادی فعالیت کی باری آتی ہے۔ لیکن یہ تینوں مادی نعمتیں اس وقت کمال کو پہنچتی ہیں جب ایمان و توحید جیسی نعمتوں سے ہم آہنگ ہوں اسی لیے مندرجہ بالا آیات میں ان تینوں نعمتوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا: ولقد جاءھم رسول منھم ایک رسول کہ جو انھیں کی نوع میں سے تھا اسے ان کی ہدایت کے لیے مامور کیا گیا۔(بحوالہ: تفسیر المیزان جلد ۱۲ ص ۳۸۸)

۳۔ بھوک اور بدامنی کا لباس

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں کفرانِ نعمت کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اللہ نے انھیں بھوک اور خوف کا لباس چکھایا۔ یعنی ایک طرف تو بھوک اور خوف کو لباس سے تشبیہ دی گئی ہے اور دوسری طرف پہنانے کی بجائے چکھانے کا ذکر ہے۔ اس تعبیر نے مفسرین کو زیادہ غور و خوض پر ابھارا ہے۔ البتہ ہو سکتا ہے بعض تشبیہات کا ہماری زبان میں معمول نہ ہو اور ہمیں ان پر تعجب ہو جبکہ یہی تعبیرات کسی دوسری زبان میں کوئی لطیف نکتہ بیان کر رہی ہوں مثلاً لباس کا چکھنا۔ ابن راوندی کے بقول اس سے ابنِ اعرابی نے پوچھا: کیا لباس بھی چکھا جاتا ہے؟ ابن راوندی نے کہا: فرض کیا تمھیں پیغبرِاسلام کی نبوت میں شک ہے لیکن تم اس پر شک نہیں کر سکتے کہ وہ ایک (فصیح) عرب تھے۔(بحوالہ: تفسیر فخر الدین رازی جلد ۲۰ ص ۱۲۸)۔ بہرحال، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ قحط اور بد امنی نے انھیں اس طرح سے گھیر رکھا تھا کہ جیسے لباس نے جسم کو گھیرا ہوتا ہے اور بدن کے ساتھ چمٹا ہوتا ہے دوسری طرف یہ قحط اور خوف اس طرح سے ان پر مسلط تھا کہ گویا اسے وہ اپنی زبان سے چکھ رہے تھے یہ بات قحط کی انتہائی شدت اور بدامنی کی دلیل ہے۔ درحقیقت، جیسے ابتداء میں امن و خوشحالی نے ان کے سارے وجود کو سرشار کر رکھا تھا بعد ازاں کفرانِ نعمت کے باعث اسی طرح فقر و فاقہ اور بدامنی نے ان کے وجودِ حیات کو گھیر لیا۔

۴۔ نعمات الہی کا ضیاع اور کفرانِ نعمت

جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالا روایت میں پڑھا ہے کہ خوشحالی میں یہ قوم اس طرح سے غرور و غفلت میں گرفتار ہوئی کہ مفید اور محترم غذا کو اپنے بدن کی غلاظت دور کرنے کے لیے استعمال کرنے لگی اسی بنا پر اللہ تعالی نے انھیں قحط اور خوف میں مبتلا کر دیا۔ یہ بات ان تمام افراد اور قوموں کے لیے ایک تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ جو نعماتِ الٰہی میں مستغرق ہیں تا کہ وہ جان لیں کہ ہر قسم کا اسراف، حدِاعتدال سے تجاوز اور نعمتوں کا ضیاع جرم ہے ایسا جرم کہ جو بہت ہی سنگین ہے، یہ ان سب کے لیے تنبیہ ہے کہ جو ہمیشہ اپنی اضافی غذا کو کوڑا کرکٹ کی نذر کر دیتے ہیں یہ ان لوگوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ جو تین چار مہمانوں کے لیے ۲۰ افراد کی ضرورت کے مطابق رنگا رنگ کھانے تیار کر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس میں سے جو کھانا بچ جاتا ہے وہ غریب بھوکے انسانوں کے بھی کام نہیں آتا۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ جو غذائی اشیاء ذخیرہ کر رکھتے ہیں تا کہ بعد میں انھیں مہنگے داموں بیچیں یہاں تک کہ وہ اشیاء خراب ہو جاتی ہیں لیکن وہ اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے کہ انھیں سستے داموں یا مفت دے دیں۔ جی ہاں! ان سب امور پر خدا کے ہاں عذاب اور سزا ہے اور کم از کم سزا یہ ہے کہ نعمتیں سلب ہو جاتی ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم جان لیں کہ روئے زمین پر موجود غذا اور اناج محدود نہیں ہے دوسرے لفظوں میں زمین کی جو پیداوار ہے اس کے مطابق ضرورت مند اور بھوکے افراد بھی موجود ہیں اور اس میں جو بھی افراط و تفریط کی جائے گی اس کا نتیجہ اس کے مطابق لوگوں کی محرومی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں اس مسئلے کی طرف سختی سے توجہ دلائی گئی ہے یہاں تک امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:- میرے والد تو لیے سے غذا آلودہ ہاتھ صاف کرنے پر ناراض ہوتے تھے وہ غٖذا آلودہ ہاتھ کو احترامِ غذا میں چاٹ لیتے تھے۔ کوئی بچہ ان کے پاس ہوتا اور کوئی چیز اس کے برتن میں باقی رہ جاتی تو اس کے برتن کو خود صاف کر لیتے یہاں تک کہ آپ خود فرماتے کہ کبھی دستر خوان سے تھوڑی سی غذا گر جاتی ہے تو میں اسے تلاش کرتا ہوں اس حد تک کہ گھر کی خادمہ ہنستی ہے (کہ مٰن غذا کے تھوڑے سے ٹکڑے کو تلاش کرتا پھرتا ہوں) آپ مزید کہتے کہ تم سے پہلے بعض قومیں ایسی تھیں کہ جنھیں اللہ نے فراواں نعمت عطا کی لیکن انھوں نے ناشکری کی، غذا کو بلاوجہ ضائع کیا تو خدا نے اپنی برکتیں ان سے واپس لے لیں اور انھیں قحط میں مبتلا کر دیا۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۹۱۔ ہم نے حدیث کی تلخیص کر کے مفہوم بیان کیا ہے)۔

115
16:115
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اللہ نے تم پر صرف مردار‘ خون‘ سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کئے ہیں کہ جن کا سر غیر خدا کے نام پر کاٹا جائے،البتہ جو لوگ مجبور ہو جائیں مگر حد سے تجاوز نہ کریں (ان کی سزانہیں ہے)‘ کیونکہ اللہ غفور و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔

116
16:116
وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ
اور اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
16:117
مَتَٰعٞ قَلِيلٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
ایسے لوگوں کو دنیا کا تھوڑا سا فائدہ تو مل جائے گا مگر دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔

118
16:118
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ مِن قَبۡلُۖ وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
جو چیزیں پہلے ہم نے تم سے بیان کی ہیں، انہیں ہم نے یہودیوں پر حرام کیا ہے ۔ ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 119 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
16:119
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٌ
لیکن جنہوں نے جہالت کے باعث برے کام کئے ہیں مگر بعد ازاں انہوں نے توبہ کر لی ہے اور اصلاح کیلئے اقدام کیا ہے تو، پھر تمہارا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔

جھوٹے کبھی فلاح نہیں پائیں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں اللہ کی پاکیزہ نعمتوں اور ان کے شکرانے کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر بحث آیات میں وہی سلسلہ کلام جاری ہے۔اب ان چیزوں کا ذکر ہے کہ جو واقعتاً حرام ہیں نیز جنھیں لوگوں نے دینِ خدا میں بدعت کے طور پر حرام قراد دے لیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جانوروں سے مربوط غذا میں سے اللہ نے چار چیزیں حرام قرار دی ہیں مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور کہ جن کا سر غیر اللہ کے نام پر کاٹا گیا ہے (اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالـدَّمَ وَلَحْـمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهٖ) (تشریحی نوٹ: محرمات’’اھل‘‘، ’’اھلال‘‘ کے مادہ سے لیا گیا ہے اور یہ بھی دراصل ’’ھلال‘‘ سے لیا گیا ہے یہ چاند دیکھتے وقت آواز بلند کرنے کے معنی میں ہے مشرکین جانور ذبح کرتے وقت بتوں کے نام بلند آواز سے لیتے تھے لہذا اسے ’’اھل‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے)۔ مردار، خون اور سور کا گوشت حرام ہونے کا فلسفہ سورہٓ بقرہ کی آیت ۱۷۳ کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا (پہلی جلد میں مذکورہ آیت کی طرف رجوع کریں)۔ دورِ حاضر میں کسی سے مخفی نہیں کہ یہ تینوں چیزیں کس قدر آلودگی کی حامل ہیں۔ مردار طرح طرح کے جراثیم کا منبع ہے خون بھی بدن کے تمام اجزاء کی نسبت جراثیموں کے اعتبار سے زیادہ آلودہ ہے اور سور کا گوشت بھی کئی طرح کی خطرناک بیماریوں کے لیے حامل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تمام سے قطع نظر جیسا کہ ہم نے سورہٓ بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے خون اور سور کا گوشت کھانے سے جسمانی نقصانات کے علاوہ نفسیانی اور اخلاقی قباحتیں بھی پیدا ہوتی ہیں اور یہ اپنے ہارمونز (Harmones) انسان کے وجود میں بطور یادگار چھوڑ جاتے ہیں۔ مردار بھی چونکہ ذبح نہیں کیا گیا ہوتا اس لیے اس سے خون باہر نہیں نکلتا لہذا اس کے کھانے سے دوسرے نقصانات کے علاوہ خون کھانے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ رہے وہ جانور کہ جو غیر خدا کے نام پر ذبح ہوتے ہین ــــــــــــــــــــــــــــــــ (ہم جو آج بسم اللہ کہتے ہیں وہ اس کی بجائے بتوں کے نام لیتے تھے) ــــــــــــــــــــــــــــــ۔ اس کی حرمت یقیناً صحت کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ یہ حکم اخلاقی اور روحانی پہلو رکھتا ہے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں حلال و حرام کا حکم صرم صحت کے حوالے سے نہیں بلکہ کچھ صرف روحانی پہلو رکھتی ہیں ان کا مقصد تہذیبِ نفس ہوتا ہے اور انھیں اخلاقی مسائل کے پیشِ نظر حرام کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات صرف نظامِ معاشرہ کی حفاظت کے لیے بعض چیزیں حرام قرار دے دی گئی ہیں جو جانور نامِ خدا لیے بغیر ذبح کر دیئے جاتے ہیں ان کی حرمت بھی اخلاقی پہلو سے ہے کیونکہ یہ حکم ایک طرف سے تو شرک اور بت پرستی کے خلاف جنگ ہے اور دوسری طرف ان نعمتوں کے خالق کی طرف توجہ کا باعث ہے۔ ضمنی طور پر اس آیت سے اور بعد کی آیات سے مجموعی طور پر یہ نکتہ ہوتا ہے کہ گوشت استعمال کرنے کے سلسلے میں اسلام اعتدال کا راستہ معین کرتا ہے۔ اسلام اس سلسلے میں نہ ساگ پات کھانے والے ہندومت کی طرح اس غذا کو بالکل حرام قرار دیتا ہے اور نہ دورِ جاہلیت اور ہمارے زمانے کے بعض بزعم خویش تہذیب یافتہ لوگوں کی طرح ہر قسم کا گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہے (یہاں تک کہ بعض لوگ سوسمار، سرطان اور طرح طرح کے کیڑے مکوڑے تک کھا جاتے ہیں)۔

ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ: زیر بحث آیت میں حکمِ حرمت صرف چار حرام چیزوں میں منحصر ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اور بھی بہت سے حرام جانور ہیں مثلاً درندوں کا گوشت اور چھلکے والی مچھلی کے علاوہ طرح طرح کے دریائی جانور۔ یہاں تک کہ قرآن کی دوسری سورتوں میں ابھی ان چار سے زیادہ حرام چیزوں کا ذکر ہے۔ مثلاً سورہٓ مائدہ کی آیت ۳ دیکھیے۔ لہذا یہاں حکم چار چیزوں میں محدود کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ہم چھٹی جلد میں سورہٓ انعام کی آیہ ۱۴۵ کے ذیل میں بھی دے آئے ہیں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہاں ایک نکتہ پنہاں ہے وہ یہ کہ اس مقام پر حصر اصطلاح کے مطابق ’’حصر اضافی‘‘ ہے یعنی ’’انما‘‘ جو کہ حصر کے لیے آتا ہے یہاں اس کا مقصد بدعتوں کی نفی ہے یہ بدعتیں مشرکین میں کچھ جانوروں کی حرمت کے بارے میں رائج تھیں۔ دراصل، قرآن کہتا ہے: یہ حرام ہیں نہ کہ وہ جو تم کہتے ہو‘‘۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جن چار چیزوں کا یہاں قرآن ذکر کرتا ہے وہ اصلی اور بنیادی محرمات ہیں (مثلاً ’’منخنقۃ‘‘ یعنی جس جانور کا گلا گھونٹ دیا جائے یا اس قسم کا کوئی جانور جس کا ذکر سورہٓ مائدہ کی آیہ ۳ میں آیا ہے وہ بھی انھی چار جانوروں میں داخل ہے کیونکہ یہ بھی مردار ہی ہے) اسی طرح جانوروں کے کچھ حرام اجزاء یا مختلف قسم کے حیوانات مثلاً درندے یہ سب دوسرے درجے کے محرمات ہیں اسی لیے ان کی حرمت کا حکم سنتِ رسولﷺ میں آیا ہے اس صورت میں آیت میں موجود حصر حقیقی حصر ہو سکتا ہے (غور کیجیے گا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ قرآن کی سنت ہے، آیت کے آخر میں استثنائی مواقع کا ذکر ہے فرمایا گیا ہے: جو لوگ حرام گوشت کھانے پر مجبور ہو جائیں (مثلاً کسی بیاباں میں ہوں جہاں کچھ اور کھانے کو نہ مل سکے اور ان کی جان خطرے میں ہو) اور صرف جان بچانے کی حد تک ان میں سے کچھ کھا لیں اور حد سے تجاوز نہ کریں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ (فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ) ’’باغ‘‘ یا ’’باغی‘‘، ’’بغی‘‘ کے مادہ سے طلب کے معنی میں ہے یہاں طلبِ لذت کے معنی میں یا حرامِ الٰہی کو حلال شمار کرنے کے مفہوم میں ہے۔ ’’عاد‘‘ یا ’’عادی‘‘، ’’عدو‘‘کے مادہ سے تجاوز نہ کرنے کے معنی میں ہے یہاں وہ شخص مراد ہے کہ جو بوقتِ ضرورت ان حرام کردہ چیزوں کو حدِ لازم سے بڑھ کر استعمال کر لے۔ البتہ اہلِ بیت علیھم السلام کی بعض روایات میں’’باغی‘‘، ’’ظالم‘‘کے معنی میں اور’’عادی‘‘ ’’غاصب‘‘کے معنی میں تفسیر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں ’’باغی‘‘ کا مطلب امام کے خلاف قیام کرنے والا شخص اور ’’عادی‘‘کا مطلب چور بیان کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ روایات اس طرف اشارہ ہوں کہ حرام گوشت کھانے کے لیے اضطراری کیفیت عموماً دورانِ سفر پیدا ہوتی ہے اب اگر کوئی شخص ظلم، غصب اور چوری کے لیے سفر کرے اور اس قسم کا گوشت کھائے اگرچہ اس کے لیے ضروری ہو جائے کہ اپنی جان بچانے کے لیے ایسا کرے لیکن اللہ تعالی ایسے شخص کا یہ گناہ نہیں بخشے گا۔ بہرحال، یہ تفسیریں آیت کے عمومی مفہوم کے منافی نہیں ہیں اور انھیں یکجا کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ مشرکین نے بے بنیاد طور پر جو چیزیں حرام قرار دے لی تھیں اور جن کا ذکر پہلے ہو چکا۔ اگلی آیت میں ان کے بارے میں صراحت سے فرمایا گیا ہے: اور اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے اپنی زبانوں سے غلط طور پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلَالٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَـرُوْا عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ)۔ (تشریحی نوٹ: ’’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ‘‘ کی ترکیب اس طرح ہے: اس میں لام، لامِ تعلیل ہے اور ’’لما تصف‘‘ میں ’’ما‘‘ ماءِ مصدریہ ہے اور ’’کذب‘‘، ’’تصف‘‘ کا مفعول ہے جو مجموعی طور پر یوں ہو گا: لا تقولوا ھذا حلال و ھذا حرام لتوصیف السنتکم الکذب۔ یعنی: "اپنی زبانوں سے جھوٹی توصیف کرتے ہوئے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ہے")۔ یعنی یہ ایک واضح جھوٹ ہے کہ جو صرف تمھاری زبانوں سے ٹپکا ہے کہ تم خود سے کچھ چیزوں کا حلال بنا لیتے ہو اور کچھ کو حرام۔(یہ ان چوپایوں کی طرف اشارہ ہے کہ مشرکین جن میں سے کچھ کو اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے اور کچھ کو حلال اور ان میں سے بعض کو بتوں کے نام کر دیتے تھے)۔ کیا اللہ نے تمھیں ایسی قانون سازی کا حق دیا ہے؟ کیا یہ خدا پر افتراء نہیں؟ تمھیں تمھارے بےہودہ افکار اور اندھی تقلید نے ان بدعتوں سے باندھ رکھا ہے۔ سورہٓ انعام کی آیہ ۱۳۶ میں وضاحت کےساتھ آیا ہے کہ وہ لوگ اس طرح کے حلال و حرام گھڑے کے لیے اپنی زرعی پیداوار کا ایک حصہ اللہ کے نام پر وقف کر دیتے تھے اور ایک حصہ بتوں کے نام۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بتوں کے نام جو حصہ کیا ہے وہ ہرگز اللہ کو نہیں پہنچ سکتا لیکن جو حصہ خدا کے لیے۔ وہ بتوں کو پہنچتا ہے لہذا اللہ کے حصے کو نقصان پہنچ جائے تو بتوں کے حصے سے اسے پورا نہیں کیا جاسکتا لیکن بتوں کا حصہ کم ہو جائے تو اسے اللہ کے حصے سے پورا کر دیتے اس قسم کی اور بھی ان میں بہت سی خرافات تھیں۔ سورہ انعام کی آیت ۱۴۸ میں ہے: سَيَقُوْلُ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّـٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَىْءٍ۔ مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم لوگ شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء اور نہ ہی ہم کوئی چیز اپنے اوپر حرام کرتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ انھیں حق پہنچتا ہے کہ کچھ چیزوں کو حلال قرار دے لیں یا حرام۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا بھی ان کی بدعتوں کا موافق ہے (یہ ہی وجہ ہے کہ پہلے وہ کوئی بدعت ایجاد کرتے، کسی چیز کو حلال یا حرام بناتے اور پھر اسے خدا سے منسوب کر دیتے اور اس طرح ایک جھوٹ کے مرتکب ہوتے)۔(تشریحی نوٹ اسی بناء پر زیر بحث آیت میں خدا پر افتراء کا ذکر جو لام کے ساتھ آیا ہے، ان کی بدعتوں کا نتیجہ ظاہر کر رہا ہے (غور کیجیے گا)۔ آیت کے آخر میں ایک حتمی خطرے کے الارم کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی نجات اور فلاح نہیں پائیں گے (ِانَّ الَّـذِيْنَ يَفْتَـرُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ)۔ اصولی طور پر جھوٹ کسی کے بارے میں بھی ہوا ہے ہی بدبختی اور عدمِ فلاح کا سبب۔ چہ جائیکہ وہ خدائے بزرگ کے بارے میں ہو۔ ظاہر ہے ایسے جھوٹ کا گناہ اور برے اثرات کئی گناہوں گے۔ اگلی آیت میں عدمِ فلاح اور بدبختی کی اس طرح سے وضاحت کی گئی ہے: ایسے کاموں سے وہ اس دنیا سے تو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے لیکن اس کے مقابلے میں درد ناک عذاب ان کے انتظار میں ہے (مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۖوَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ)۔ یہ متاعِ قلیل ہو سکتا ہے شکمِ مادر میں مر جانے والے جانوروں کے بچوں کی طرف اشارہ ہو جنھیں وہ اپنے لیے حلال شمار کرتے تھے اور ان کا گوشت استعمال کرتے تھے یا ہو سکتا ہے ان کی خود غرضی اور پیٹ پرستی کی طرف اشارہ ہو کہ جو ان کی بدعتوں کا باعث تھی یا یہ کہ ان کے اس طرزِ عمل کی طرف اشارہ ہو کہ وہ اس شرک اور بت پرستی کو مضبوط کرتے اور لوگوں کو اس میں مشغول رکھتے تا کہ ان پر اس طرح سے زیادہ عرصہ تک حکومت کرتے رہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ سب کچھ ’’متاعِ قلیل‘‘ تھا کہ جس کا تنیجہ ’’عذابِ الیم‘‘ تھا۔ ممکن ہے یہاں پہ سوال کیا جائے کہ چار چیزوں کا جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔ ان کے علاوہ جانور یہودیوں پر کیوں حرام کیے گئے تھے؟ اگلی آیت گویا اس سوال کا جواب دے رہی ہے، ارشاد ہوتا ہے: اور یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کر دی تھیں جو تم سے پہلے بیان کر چکے ہیں (وَعَلَى الَّـذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ)۔ یہ ان چیزوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن کا ذکر سورہٓ انعام کی آیہ ۱۴۶ میں اس طرح سے آیا ہے: وَعَلَى الَّـذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِىْ ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَـمِ حَرَّمْنَا عَلَيْـهِـمْ شُحُومَهُمَآ اِلَّا مَا حَـمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَـآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذٰلِكَ جَزَيْنَاهُـمْ بِبَغْيِـهِـمْ ۖ وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَ۔ یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار حیوان حرام کر دیا ہے (یہ ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جو گھوڑے کے سموں کی طرح یکپاءچہ ہوتے ہیں) نیز گائے اور گوسفند کی پشت، انتڑیوں کے درمیان اور دونوں پہلوؤں یا ہڈی سے ملی ہوئی چربی کے علاوہ باقی چربی بھی حرام قرار دی ہے۔ یہ حرمت ان کے ظلم کی وجہ سے سزا کے طور پر ہے اور ہم سچ کہتے ہیں۔ درحقیقت حرمت کے یہ اضافی احکام یہودیوں کے مظالم اور ستم کاریوں پر عذاب اور سزا کے طور پر تھے۔ اسی لیے زیربحث آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: وما ظلمناھم ولٰکن کانوا انفسھم یظلمون ہم نے ان پر ستم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ سورہٓ نساء کی آیت ۱۶۰ اور ۱۶۱ میں ہے: فَبِظُـلْمٍ مِّنَ الَّـذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْـهِـمْ طَيِّبَاتٍ اُحِلَّتْ لَـهُـمْ وَبِصَدِّهِـمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ كَثِيْـرًا وَاَخْذِهِـمُ الرِّبَا وَقَدْ نُـهُوْا عَنْهُ وَاَكْلِهِـمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے کچھ پاکیزہ غذائیں جو ذاتا حلال تھیں ہم نے ان پر حرام کر دیں کیونکہ وہ لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے تھے اور سود کھاتے تھے حالانکہ انھیں ان کاموں سے منع کیا گیا تھا اور وہ لوگوں کا مال باطل طور پر کھاتے تھے۔ لہذا یہودیوں پر کچھ گوشت انھیں سزا دینے کے لیے حرام قرار دے دیئے گئے اور مشرکین کو حق نہیں پہنچتا تھا وہ اس سے استدلال کریں۔ علاوہ ازیں، جو چیزیں مشرکین نے حرام کی ہوئی تھیں نہ یہودیوں کے مذہب میں حرام تھیں اور نہ دینِ اسلام میں۔ وہ تو خرافات کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والی بدعتیں تھیں۔ (ہو سکتا ہے زیر بحث آیت اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ تم نے ایسا کام کیا ہے کہ جو کسی آسمانی کتاب سے مطابقت نہیں رکھتا)۔ (وما ظلمناھم ولٰکن کانوا انفسھم یظلمون) زیر نظر آخری آیت میں قرآن اپنی روش کے مطابق فریب خوردہ یا پشیمان ہو جانے والے افراد کے لیے لوٹ آنے کا راستہ کھولتے ہوئے فرماتا ہے: تیرا پروردگار ان کے بارے میں کہ جنھوں نے جہالت کے باعث برے اعمال انجام دیئے ہیں اور پھر انھوں نے توبہ کر لی ہے اور اصلاح و تلافی کی ہےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! تیرا پروردگار توبہ و اصلاح کے بعد بخشنے والا مہربان ہے (ثُـمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّـذِيْنَ عَمِلُوا السُّوٓءَ بِجَهَالَـةٍ ثُـمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُـوٓا اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ) یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ اولاً، ارتکابِ گناہ کی وجہ جہالت کو شمار کیا گیا ہے کیونکہ جہالت ہی بہت سے گناہوں کا حقیقی عامل ہے اور جو لوگ جہالت میں ارتکابِ گناہ کرتے ہیں وہی آگاہی کے بعد راہِ حق کی طرف لوٹتے ہیں نہ کہ وہ جنھوں نے جان بوجھ کر غروروتکبر، تعصب یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کیا ہو۔ ثانیاً، قرآن یہاں توبہ کو فقط دل کی توجہ و ندامت تک محدود نہیں کرتا بلکہ اس کی عمل تاثیر پر تاکید کرتا ہے اور اصلاح و تلافی کے ساتھ توبہ کو مکمل شمار کرتا ہے یہ اس لیے ہے کہ ہم غلط فکرہی کو دل و دماغ سے باہر نہ نکالیں کیونکہ ہزاروں گناہوں کا ازالہ ’’استغفراللہ‘‘ کے ایک جملے سے نہیں ہو سکتا۔ انسانی روح یا معاشرے کو جو نقصان گناہ سے پہنچتا ہے اس کی اصلاح و مرمت کی ضرورت ہوتی ہے یہ ہی ہے حقیقی توبہ نہ کہ زبانی توبہ۔ ثالثاً، اس مسئلے پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ ’’ان ربک من بعدھا لغفور رحیم‘‘ (ایسا ہو جائے تو یقیناً تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے) کہہ کر تاکید مزید کی گئی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحمتِ الٰہی کا حصول توبہ و اصلاح کے بعد ہی ممکن ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ حقیقت ہے کہ توبہ کی قبولیت یقینی طور پر ندامت، تلافی اور اصلاح کے بعد ہے اور تین تعبیروں کے ذریعے ایک ہی آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے پہلے لفظ ’’ثمہ‘‘ آیا ہے پھر ’’ من بعد ذٰلک‘‘ آیا ہے اور آخر میں ’’من بعدھا‘‘ فرمایا گیا ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ وہ برے افراد جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہم لطفِ الٰہی اور اس کی بخشش و رحمت کے امیدوار ہیں، یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دیں۔

120
16:120
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةٗ قَانِتٗا لِّلَّهِ حَنِيفٗا وَلَمۡ يَكُ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
ابراہیم (تن تنہا)ایک امت تھا،امر الٰہی کا مطیع تھا،ہر قسم کے انحراف سے مبرا تھا اور وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔

121
16:121
شَاكِرٗا لِّأَنۡعُمِهِۚ ٱجۡتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
وہ پروردگار کی نعمتوں کا شکر گزار تھا۔اللہ نے اس کو منتخب فرمایا اور اسے سیدھے راستے کی ہدایت فرمائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔

122
16:122
وَءَاتَيۡنَٰهُ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور دنیا میں ہم نے اسے ہمت نیک بخشی اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔

123
16:123
ثُمَّ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ أَنِ ٱتَّبِعۡ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے دین کی اتباع کر کہ جو ہر قسم کے انحراف سے پاک ہے اور مشرکین میں سے نہ تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 124 کے تحت ملاحظہ کریں۔

124
16:124
إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبۡتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
ہفتے کا روز (کہ جس روز یہودیوں پر کچھ چیزیں حرام تھیں )سزا کے طور پر تھا کہ اس میں انہوں نے اختلاف کیا اور جن میں وہ اختلاف کرتے تھے ان کے بارے میں تیرا رب قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔

ابراہیم ع اپنی ذات میں ایک امت تھے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ہم کہہ چکے ہیں کہ سورہ کا موضوع نعمتوں کا بیان ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے جذبہِ شکر گذاری کو بیدار کیا جائے تا کہ وہ یہ نعمتیں عطا کرنے والے کی معرفت کی جانب آئے۔ زیر نظر آیات میں خدا کا شکر گزاری ایک کامل مصداق یعنی مکتبِ توحید کے مجاہد ہیرو اور علمبردار حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے ان کا ذکر اس لحاظ سے بھی خصوصیت کا حامل ہے کہ مسلمان باعموم اور عرب بالخصوص حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پہلا پیشوا اور مقتدا سمجھتے ہیں۔ اس عظیم اور بہادر اور انسان کی صفات میں سے یہاں پانچ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: ۱۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ابراہیم علیہ السلام اپنی ذات میں ایک امت تھا (اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً)۔ اس سلسلے میں حضرت ابراہیم کو ’’امت‘‘ کیوں قرار دیا گیا ہے، مفسرین نے مختلف نکات بیان کیے ہیں۔ ان میں سے چار قابلِ ملاحظہ ہیں: (1) ابراہیم علیہ السلام انسانیت کے عظیم رہبر، مقتداء اور معلم تھے۔ اسی بناء پر انھیں امت کہا گیا ہے کیونکہ ’’امت‘‘ اسمِ مفعول کے معنی میں اسے کہا جاتا ہے جس کی لوگ اقتداء کریں اور جس کی رہبری لوگ قبول کریں۔ (2) ابراہیم علیہ السلام ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ کیونکہ بعض اوقات کسی انسان کی شخصیت کا نور اتنی وسیع شعاعوں کا حامل ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت ایک دو یا بہت سے افراد سے زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کی شخصیت ایک عظیم امت کے برابر ہو جاتی ہے۔ ان دونوں معانی میں ایک خاص روحانی تعلق ہے کیونکہ جو شخص کسی ملت کا سچا پیشوا ہوتا ہے وہ ان سب کے اعمال میں شریک اور حصہ دار ہوتا ہے اور گویا وہ خود امت ہوتا ہے۔ (3) وہ ماحول کہ جس میں کوئی خدا پرست نہ تھا اور جس میں سب لوگ شریک و بُت پرستی کے جوہڑ میں غوطہ زن تھےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان میں ابراہیم تنِ تنہا موحد اور توحید پرست تھے پس آپ تنہا ایک امت تھے اور اس دور کے مشرکین ایک الگ امت تھے۔ (4) ابراہیم علیہ السلام ایک امت کے وجود کا سرچشمہ تھے اس لیے آپ کو ’’امت‘‘ کہا گیا ہے۔ اس میں کوئی اشکال نہیں ’’امت‘‘ کا یہ چھوٹا سا لفظ اپنے دامن میں یہ تمام وسیع معانی لیے ہوئے ہو۔ جی ہاں! ابراہیمؑ ایک امت تھے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ ایک عظیم پیشوا تھے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ ایک امت ساز جوانمرد تھے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جس ماحول میں کوئی توحید کا دم بھرنے والا نہ تھا وہ توحید کے عظیم علمبردار تھے۔ (تشریحی نوٹ: حضرت عبد المطلب کے بارے میں مروی احادیث میں سے ایک کے الفاظ یوں ہیں: یبعث یوم القیامۃ امۃ واحدۃ علیہ بھاء الملوک و سیماء الانبیاء عبد المطلب (چونکہ شرک و بت پرستی کے ماحول میں توحید کے حامی و مددگار تھے اس لیے) قیامت کے دن ایک امت کی شکل میں مبعث ہوں گے ان کی درخشندگی (عدل کے) نام داروں کی سی ہوگی اور ان میں انبیاء کی سی علامتیں ہوں گی)۔ (سفینۃ البحار جلد ۲ ص ۱۳۹)۔ ایک عرب شاعر کہتا ہے: لیس علی اللہ بمستنکر ان یجمع العالم فی واحد ۲۔ ان کی دوسری صفت یہ تھی کہ وہ اللہ کے مطیع بندے تھے (قانتاً للہ)۔ ۳۔ وہ ہمیشہ اللہ کے سیدھے راستے اور طریقِ حق پر چلتے تھے (حنیفاً)۔ ۴۔ وہ کبھی بھی مشرکین میں سے نہ تھے۔ ان کے فکر کے ہر پہلو میں، ان کے دل کے ہر گوشے میں اور ان کی زندگی کے ہر طرف اللہ ہی کا نور جلوہ گر تھا (وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) ۵۔ ان تمام خصوصیات کے علاوہ وہ ایسے جواں مرد تھے کہ اللہ کی سب نعمتوں پر شکر گزار تھے (شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان پانچ صفات کو بیان کرنے کے بعد ان کے اہم نتائج بیان کیے گئے ہیں: 1) اللہ نے ابراہیم کو نبوت اور دعوت کی تبلیغ کے لیے منتخب کیا (اجتبہ)۔ 2) اللہ نے انھیں راہِ راست کی ہدایت کی اور انھیں ہر قسم کی لغزش اور انحراف سے بچایا (وَهَدَاهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ) ہم نے بارہا کہا ہے کہ خدائی ہدایت ہمیشہ لیاقت و اہلیت کی بنیاد پر ہوتی ہے کہ جس کا مظاہرہ انسان کی اپنی طرف سے ہوتا ہے۔اس کی طرف سے کسی کو کوئی چیز استعداد اور کسی حساب کتاب کے بغیر نہیں دی جاتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی اسی بنیاد پر یہ ہدایت نصیب ہوئی۔ 3) ہم نے دنیا میں انھیں’’حسنہ‘‘ سے نوازا۔ (وَاٰتَيْنَاهُ فِى الـدُّنْيَا حَسَنَةً)۔ وسیع معنی کے اعتبار سے ’’حسنہ‘‘ میں ہر قسم کی نیکی اور اچھائی کا مفہوم موجود ہے۔ اس میں مقامِ نبوت و رسالت سے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لے کر اچھی اولاد وغیرہ تک کا مفہوم موجود ہے۔ 4) اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہے (وَاِنَّهٝ فِى الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِيْنَ)۔ اس کے باوجود کہ ابراہیم صالحین کے سردار ہیں پھر بھی قرآن کہتا ہے کہ وہ صالحین میں سے ہیں اور یہ امر مقامِ صالحین کی عظمت کی نشانی ہے کہ ابراہیم اپنے ان تمام بلند مقامات کے باوجود ان میں سے ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خود حضرت ابراہیم نے اللہ سے یہ ہی تقاضا کیا تھا: رب ھم لی حکما و الحقنی بالصّٰلحین پروردگار! مجھے نگاہِ صائب عطا فرما اور مجھے صالحین میں سے قرار دے۔ (شعراء ۸۳) 5) ان صفات کے ساتھ ساتھ ایک اور امتیاز جو اللہ نے حضرت ابراہیم کو عطا فرمایا وہ یہ ہے کہ ان کا مکتب و مذہب صرف ان کے اہلِ زمانہ کے لیے نہ تھا بلکہ ہمیشہ کے لیے تھا۔ خاص طور پر اسلامی امت کے لیے بھی یہ ایک الہام بخش مکتب قرار پایا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے پھر ہم نے تجھے وحی کی کہ دینِ ابراہیم کا اتباع کر کہ جو خالص توحید کا دین ہے (ثُـمَّ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِــعْ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا)۔ (تشریحی نوٹ: ’’حنیف‘‘ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ٹیڑھے اور انحراف راستے کو چھوڑ کر درست اور سیدھے راستے کی طرف متوجہ ہو دوسرے لفظوں میں ’’حنیف‘‘ وہ شخص ہے جو ٹیڑھے اور انحرافی دنیوں اور راستوں سے منہ موڑ کر اللہ کے صراطِ مستقیم کا رخ کرتا ہےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صراطِ مستقیم کہ جو ایسا دین ہے جو فطرت سے ہم آہنگ ہے اور اس ہم آہنگی کی وجہ سے صراطِ مستقیم شمار ہوتا ہے. لہذا لفظ ’’حنیف‘‘ میں توحید کے فطری ہونے کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ موجود ہے)۔ ایک مرتبہ پھر تاکید کی گئی ہے کہ ابراہیم مشرکین میں سے نہ تھے (وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ)۔ ان آیات کی طرف توجہ کرنے سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر دینِ اسلام دینِ ابراہیم ہے اور بہت سے مسائل میں مسلمان سننِ ابراہیم کی پیروی کرتے ہیں اور ان میں روزِ جمعہ کا احترام کرنا بھی شامل ہے تو پھر یہودی روز ہفتہ کو کیوں عید قرار دیتے ہیں اور اس روز چھٹی کرتے ہیں۔ زیر نظر آخری آیت میں اس سوال کا جواب موجود ہے، ارشاد ہوتا ہے: ہفتے کا دن(اور ہفتے کے روز حرام قرار دی گئی چیزوں کا حکم) یہودیوں کے لیے سزا کے طور پر مقرر تھا اور پھر انھوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ان میں سے بعض نے اس سزا کو قبول کر لیا اور اس روز کام کاج بالکل چھوڑ دیا اور بعض نے اس کے بارے میں اعتنائی سے کام لیا (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّـذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ)۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا گیا کہ وہ روزِ جمعہ کا احترام کریں اور اس روز تعطیل کیا کریں یہ حکمِ دینِ ابراہیم کے مطابق تھا لیکن انھوں نے بہانے بنائے اور روز ہفتہ کو ترجیح دی تو اللہ نے ان کے لیے ہفتے کا دن مقرر کیا لیکن اس کے بارے میں سختی برتی گئی اور کئی حد بندیاں اور شرائط نافظ کر دیں۔ لہذا فرمایا گیا ہے کہ روزِ ہفتہ کی تعطیل کے اس حکم کو تمھیں سند قرار نہیں دینا چاہیے کیونکہ یہ حکم تو بڑی سخت سزا کا پہلو رکھتا ہے اور اس سلسلے میں بہترین دلیل یہ ہے کہ یہودیوں نے خود اپنے اس انتخاب شدہ دن کے بارے میں بھی اختلاف کیا ہے ان میں سے بعض تو اس دن کی قدر و منزلت کے قائل ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں اور بعض اس کے اس کے احترام کو نظر انداز کرتے ہوئے کاروبار میں لگے رہتے ہیں اور عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ زیر بحث آیت جانوروں کی غذا کے سلسلے میں مشرکین کی بدعتوں کے بارے میں ہو کیونکہ گزشتہ آیات میں جو گفتگو ہوئی ہے اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں میں جو محرمات تھے وہ اسلام میں کیوں نہیں ہیں تو جواب دیا گیا ہے کہ وہ محرمات سزا کے طور پر تھے۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے احکام یہودیوں میں کیوں تھے؟ مثلاً مچھلی کا شکار ہفتہ کے روز ان کے لیے حرام کیوں تھا جبکہ اسلام میں ایسا نہیں ہے پھر جواب یہ ہی ہے ایسا ان کے لیے عذاب کا سزا کے طور پر تھا۔ بہرحال, ان آیات کا تعلق سورہٓ اعراف کی آیات ۱۶۳ تا ۱۶۶ سے ہے کہ جو ’’اصحاب السبت‘‘ کے بارے میں ہیں۔ اس سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد ۶ میں وضاحت کر چکے ہیں۔(بحوالہ: دیکھو صفحہ ۳۵۶ (اردو ترجمہ تفسیر نمونہ جلد ۶)۔ وہاں بتایا گیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز کس طرح مچھلی شکار کرتے تھے اس حکم اور خدائی آزمائش کے بارے میں وہاں وضاحت موجود ہے اس کی مخالفت کرنے والے یہودیوں کو جو سخت سزا ملی اس کا بھی وہاں ذکر موجود ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ ’’سبت‘‘دراصل آرام کے لیے کام سے تعطیل کرنے کے معنی میں ہے اور روزِ ہفتہ کو اس لیے’’یوم السبت‘‘ کہتے ہیں کہ یہودی اس روز عام کاروبار سے تعطیل کرتے تھے بعد ازاں مسلمانوں میں بھی اس دن کا یہ ہی نام باقی رہ گیا اگرچہ اسلام میں یہ تعطیل کا دن نہ تھا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جنھوں نے اختلاف کیا ہے ان کے بارے میں اللہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ (وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْمَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ)۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ قیامت کے روز ایک مقصد یہ حاصل کیا جائےگا کہ تمام معاملات کے بارے میں اختلافات ختم کر دیئے جائیں گے کیونکہ وہ یوم البروز اور یوم الظہور ہوگا اس روز تمام حقیقتیں ظاہر ہوجائیں گی پردے ہٹ جائیں گے ہر مسئلے اور ہر معاملے کے بارے میں حق آشکار ہو جائے گا۔

125
16:125
ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے بہترین انداز میں استدلال اور مباحثہ کر۔تیرا پروردگار ہر شخص کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کس نے ہدایت پائی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 128 کے تحت ملاحظہ کریں۔

126
16:126
وَإِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُواْ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبۡتُم بِهِۦۖ وَلَئِن صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٞ لِّلصَّـٰبِرِينَ
اور جب تم بدلا لینا چاہو تو صرف اتنی ہی سزا دو جتنی تم پر زیادتی ہوئی ہے اور اگر تم صبر کروتو یہ صبر کرنے والوں ہی کے لئے بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 128 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
16:127
وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ
صبر کراور تیرا یہ صبر اللہ کے لیے اور اس کی توفیق سے ہو، ان کی حرکات پر رنجیدہ نہ ہو اور ان کی سازشوں اور چالبازیوں پر دل تنگ نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 128 کے تحت ملاحظہ کریں۔

128
16:128
إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحۡسِنُونَ
اللہ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکو کار ہیں۔

مخالفین کے مقابلے میں دس اہم اخلاقی احکام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس سورہ میں مختلف آیات مشرکوں، یہودیوں اور کلی طور پر تمام مخالف گروہوں کے بارے میں ہیں یہ گفتگو کبھی نرم انداز سے ہے اور کبھی تندوتیز لہجے میں۔ خصوصاً زیرِ نظر آخری آیات میں اس سلسلے میں زیادہ گہرائی اور شدت ہے۔ یہ سورہٓ نحل کی آخری آیات ہیں ان میں اہم اخلاقی احکام ہیں ان میں منطقی اور استدلالی گفتگو اور طرز بحث اختیار کرنے کا حکم ہے مخالفین کو سزا دینے اور معاف کرنے کے بارے میں حکم ہے اور ان کی سازشوں کے مقابلے کی کیفیت اور طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ ان احکام سے ایک ہمہ گیر قانون کے طور پر ہر زمانے میں ہر مقام پر استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ساری گفتگو دس اصولوں پر محیط ہے۔ ترتیب کچھ یوں ہے: 1) پہلے فرمایا گیا ہے: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت سے دعوت دے (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ)۔ ’’حکمت‘‘ علم و دانش اور منطق و استدلال کے معنی میں ہے۔ اصل میں یہ لفظ منع کرنےکے معنی میں ہے اور علم و دانش اور منطق و استدلال چونکہ فتنہ وفساد اور انحراف سے مانع ہیں لہذا انھیں حکمت کہا جاتا ہے بہر حال راہِ حق کی طرف دعوت دینے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ صحیح منطق اور بچھے تلے استدلال سے کام لیا جائےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسرے لفظوں میں لوگوں کی فکرونظر کو دعوت دی جائے اور ان کی سوچ بچار کی صلاحیت کو ابھارا جائے اور عقلِ خوابیدہ کو بیدار کیا جائے۔ 2) نیز یہ دعوت عمدہ نصیحت کے ساتھ ہو (وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ) راہِ خدا کی طرف دعوت کا یہ دوسرا اصول ہے۔ یہ درحقیقت انسانی جذبات اور فطری احساسات سے استفادہ کرنے کا انداز ہے کیونکہ وعظ و نصیحت دراصل جذب و احساس کو ابھارنے کے لیے ہوتی ہے۔ زیادہ تر عوام کو جذبات و احساسات کو ابھار کر حق کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ در حقیقت ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حکمت انسان کے عقلی پہلو سے مربوط ہے اور ’’وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ‘‘انسانی جذب و احساس سے کام لینے کے لیے ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسری نے ’’حکمہ‘‘، ’’وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ‘‘ اور ’’مجادلہ احسن‘‘ کے درمیان فرق کے بارے میں کہا ہے کہ ’’حمکۃ‘‘قطعی اور یقینی دلائل کی طرف اشارہ ہے ’’وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ‘‘ ظنی دلائل کو کہتے ہیں اور ’’مجادلہ احسن‘‘ ایسے دلائل سے استفادہ کرنا ہے کہ جو مخالفین کے ہاں قابلِ قبول ہوں (البتہ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے وہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)۔ نیز ’’موعظۃ‘‘ کے ساتھ ’’حسنۃ‘‘ کی شرط شاید اس طرف اشارہ ہے کہ وعظ و نصیحت اس صورت میں مؤثر ہوتی ہے کہ جب اس میں کسی قسم کی سختی، بڑائی، دوسرے کی تحقیر و تذلیل اور اس کی ہٹ دھرمی کی انگیخت وغیرہ نہ ہو۔ بہت سے لوگوں کے وعظ و نصیحت کا الٹا اثر نکلتا ہے کیونکہ اس میں دوسرے کی تحقیر و تذلیل پائی جاتی ہے یا اس میں وعظ و نصیحت کرنے والے کی بڑائی کا پہلو ہوتا ہے لہذا ’’موعظۃ‘‘ بھی مؤثر ہوتا ہے جب ’’حسنۃ‘‘ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اچھا اور عمدہ ہو۔ 3) اور مخالفین سے زیادہ اچھے طریقے سے مباحثہ کر(وَجَادِلْـهُـمْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ)۔ یہ تیسرا قدم ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے کہ جب کے ذہن میں پہلے سے غلط مسائل اور نظریات سمائے ہوئے ہوں۔ مناظرے اور مباحثے کے ذریعے ان کا ذہن ان کے نظریات سے پاک کرنا چاہیے تا کہ وہ حق قبول کرنے کے قابل ہو سکیں۔ واضح ہے کہ مجادلہ اور مباحثہ بھی تبھی مؤثر ہوتا جب وہ ’’بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ‘‘ ہو۔ جب وہ حق، عدالت، درستی، امانت اور صداقت کے ساتھ ہو جب اس میں کسی قسم کی تحقیر، توہین، غلط بیانی اور تکبر نہ ہو ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مختصر یہ کہ اس میں تمام انسانی اقدار کا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے۔ زیر نظر آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: تیرا رب ہر کسی سے بہتر جانتا ہے کہ کون لوگ اس کی راہ میں جھک گئے ہیں اور کن لوگوں نے ہدایت پائی ہے (اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمھاری ذمہ داری مذکورہ تین طریقوں کے مطابق حق کی طرف دینا ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ کون لوگ ہدایت پاتے ہیں اور کون لوگ گمراہی پر ڈٹے رہتے ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ انھیں خدا جانتا ہے اور بس۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس جملے میں مذکورہ بالا تین احکام کی دلیل بیان کی گئی ہو۔ یعنی اللہ نے منحرفین اور کج رو افراد کے بارے میں یہ جو تین حکم دیئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے گمراہوں کے لیے کون سی بات مؤثر ہے اور ہدایت کے لیے کون سا ذریعہ مناسب ہے۔ 4) اب تک تو اس بارے میں گفتگو تھی کہ مخالفین سے منطق، جذب و احساس اور معقول مباحثے کا طرزِ عمل اختیار کیا جائے لیکن معاملہ اگر اس سے بڑھ کر جھگڑے تک جا پہنچے اور مخالفین دستِ تجاوز دراز کریں اور انھیں سزا دینے کی نوبت آ جائے تو پھر انھیں اتنی سزا دو جتنی انھوں نے زیادتی کی ہے اس سے زیادہ نہیں (وَاِنْ عَاقَـبْتُـمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِـبْتُـمْ بِهٖ) 5) لیکن اگر صبر اختیار کرو اور عفو درگزر سے کام لو تو صبر کرنے والوں کے لیے یہ ہی بہتر طرزِ عمل ہے۔ (وَلَئِنْ صَبَـرْتُـمْ لَـهُوَ خَيْـرٌ لِّلصَّابِـرِيْنَ) بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت جنگِ اُحد کے دوران میں اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی دردناک کیفیت دیکھی۔ دشمن نے انھیں شہید کرنے پر بس نہیں کی تھی بلکہ ان کا سینہ اور پہلو بڑی بے دردی سے چیرے گئے ان کا جگر یا دل نکال لیا گیا ان کے کان اور ناک کاٹے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ بہت دُکھی ہوئے اور فرمایا: اللھم لک الحمد و الیک المشتکی وانت المستعان علی ما اری خدایا: حمد تیرے لیے ہے اور تیری ہی بارگاہ میں شکایت پیش کرتا ہوں اور جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس پر تو ہی میرا مدد گار ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: لئن ظفرت لامثلن ولامثلن ولامثلن اگر میں ان پر فتحیاب ہو گیا تو ان کا مثلہ کروں گا۔ ان کا مثلہ کرون گا۔ ان کا مثلہ کرون گا۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔ (تشریحی نوٹ: بعض روایات میں ہے کہ یہ جملہ بعض مسلمانوں نے کہا تھا کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو اس سے زیادہ تعداد میں مثلہ کریں گے ( بحوالحہ :تفسیر تبیان جلد ۶ ص ۴۴) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: وَاِنْ عَاقَـبْتُـمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِـبْتُـمْ بِهٖ ۖ وَلَئِنْ صَبَـرْتُـمْ لَـهُوَ خَيْـرٌ لِّلصَّابِـرِيْنَ رسول اللہ ﷺ نے فوراً عرض کیا: اصبر! اصبر ! خدایا؛ میں صبر کرون گا، میں صبر کروں گا۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر عیاشی اور تفسیر درالنثور، زیر آیت کے ذیل میں (جیسا کہ تفسیر المیزان میں نقل کیا گیا ہے)۔ شاید رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں یہ لمحہ کرب ناک ترین تھا لیکن پھر بھی آپ ﷺ کو اپنے اعصاب پر پورا کنٹرول تھا آپ ﷺ نے عفو و درگذر کا راستہ اختیار کیا۔ فتح مکہ کے واقعہ میں ہے کہ جس دن آپ ان سنگدلوں پر فتح یاب ہوئے تو عام معافی کا حکم صادر فرمایا اور جنگِ اُحد کے موقع پر اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عالی ظرفی انسانی جذبوں کا بہترین نمونہ دیکھنا چاہے تو واقعہ اُحد کو فتح مکہ کے واقعے کے ساتھ رکھ کر دیکھے اور ان دونوں کا آپس میں موازنہ کرے۔ شاید آج تک کسی کامیاب قوم نے کسی شکست خوردہ قوم کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا ہو کہ جو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے کامیابی کے بعد مشرکین مکہ سے کیا وہ بھی ایسے ماحول میں کہ جہاں انتقام کے جذبے لوگوں کے رگ و پے میں اترے ہوئے تھے اور نسل در نسل ان میں بغض و کینہ کے سلسلے میراث کے طور پر چلتے رہتے تھے اس معاشرے میں انتقام نہ لینا ایک بہت بڑا عیب سمجھا جاتا تھا۔ اس عالی ظرفی، عظمتِ کردار اور عفوو درگزر کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جاہل اور ہٹ دھرم بہت متاثر ہوئی اور ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ یہاں تک کہ قرآن کے مطابق۔ یدخلون فی دین اللہ افواجاً وہ لوگ فوج در فوج دینِ خدا میں داخل ہو گئے۔ 6) اگر عفو و درگذر اور صبر و شکیبائی کسی توقع کے بغیر ہو تو یقینی طور پر اثر ہوتی ہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یعنی صرف اللہ کی خاطر ہو ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ لہذا قرآن مزید کہتا ہے: صبر اختیار کر اور تیرا یہ صبر صرف اللہ کے لیے ہو اور یہ اس کی توفیق کے بغیر نہیں ہو سکتا (وَاصْبِـرْ وَمَا صَبْـرُكَ اِلَّا بِاللّـٰهِ)۔ کیا یہ انسان کے بس میں ہے کہ وہ ایسے جاں سوز مواقع پر قوتِ الٰہی اور روحانی جذبے کے بغیر صبر کرے جو اس مناظر کا سامنا کرے اور صبر کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ جی ہاں! یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہ سب کچھ خدا کے لیے ہو اور اس کی توفیق سے ہو۔ 7) تبلیغ اور دعوت الی اللہ کے راستے میں یہ تمام زحمات اٹھانے، عفو و درگزر کرنے اور صبر اختیار کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلے تو بھی مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ جتنا زیادہ ممکن ہو سکے حوصلے کے ساتھ ٹھنڈے دل سے تبلیغ کا سلسلہ جاری و ساری رکھنا چاہیے۔ اسی لیے تو ساتواں حکم یہ دیا گیا ہے: ان کی حالت پر کبیدہ خاطر نہ ہو (وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْـهِـمْ و)۔ یہ حزن و ملال کہ یقیناً ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے ہے۔ ہو سکتا اس سے دو میں سے ایک تنیجہ پیدا ہو۔ یا تو انسان ہمیشہ کے لیے بد دل ہو جائے یا وہ بے حوصلگی اور بے تابی کا اظہار کرے۔ لہذا حزن و ملال کی نہی درحقیقت، دونوں کی نہی ہے۔ یعنی راہِ حق کی دعوت دیتے ہوئے نہ بیتاب و مضطرب ہونا چاہیے اور نہ ہی مایوس و ناامید۔ 8) ان تمام اوصاف کے باوجود ہو سکتا ہے ہٹ دھرم دشمن سازش کا راستہ اپنائے اور خطرناک منصوبے بنائے تو ان حالات میں صحیح مؤقف وہی ہے کہ جو قرآن کہتا ہے: ان سازشوں پر پریشان اور تنگ دل نہ ہو (اَلَا تَكُ فِىْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُـرُوْنَ)۔ یہ سازشیں جس قدر بھی گہری، وسیع اور خطرناک ہوں تمھارا راستہ نہین روک سکتیں تم یہ خیال کرو ہمارا دائرہ تنگ ہوگیا ہے اور ہم ان سازشوں میں گھر چکے ہیں کیونکہ تمھارا سہارا خدا ہے تم ایمان و استقامت کی قوت سے عقل و دانش سے ان سازشوں کو ناکام کر سکتے ہو۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 9) ارشاد ہوتا ہے: اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے کہ جو تقوی اختیار کرتے ہیں (اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الَّـذِيْنَ اتَّقَوا)۔ ’’تقویٰ‘‘یہاں تمام جہات سے اور وسیع مفہوم میں ہے یہاں تک کہ دشمنوں کے مقابلے میں بھی تقوٰی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یعنی اپنے دشمنوں کے ساتھ اسلامی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ برتاؤ کرنا۔ قیدیوں کے ساتھ اسلامی طرزِ عمل اختیار کرنا، کج رو اور منحرف افراد کے ساتھ انصاف اور ادب کے اصولوں کا لحاظ رکھنا اور جھوٹ اور تہمت سے پرہیز کرنا۔ یہاں تک کہ دورانِ جنگ بھی اسلامی اصولوں پر عمل کرنا، تقوی اور اسلامی قوانین کا پاس کرنا۔ جنگ کے دوران میں نہتے اور دفاع نہ کر سکنے والے افراد پر حملہ نہ کرنا، بچوں اور کمزور بوڑھوں سے تعرض نہ کرنا۔ چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا، فصلوں کو تباہ نہ کرنا اور دشمن پر پانی بند نہ کرنا وغیرہ۔ مختصر یہ کہ دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ تقوی کی بنیاد پرسلوک کرنا چاہیے (البتہ بہت کم استثنائی مواقع ایسے ہیں جو اس حکم سے خارج ہیں)۔ 10) اور اللہ نے لوگوں کے ساتھ ہے جو نیکوکار ہیں (وَّالَّـذِيْنَ هُـمْ مُّحْسِنُـوْنَ)۔ جیسا کہ قرآن نے اپنی دیگر بہت سی آیات میں بھی کہا ہے بعض اوقات بدی کا جواب نیکی سے دینا چاہیے اور اس طریقے سے دشمن کو شرمسار کرنا چاہیے کیونکہ یہ طریقہ ان دشمنوں کو کہ جن کا سینہ دشمنی سے پر ہو اور ’’الو الخصام‘‘ کو مہربان اور مخلص دوست میں تبدیل کر دیتا ہے۔ احسان اور نیکی اگر بر محل اور برموقع ہو تو یہ جنگ کا ایک عمدہ طریقہ ہے تاریخِ اسلام میں اس حکمتِ عملی کے بہت سے مظاہر دکھائی دیتے ہیں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جو سلوک مشرکینِ مکہ کے ساتھ کیا، جوطرزِ عمل آپ ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل’’وحشی‘‘ سے روا رکھا جو مہربانی آپ ﷺ نے بدر کے قیدیوں پر کی اور جو سلوک آپ نے ان یہودیوں کے ساتھ کیا جنہوں نے آپ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں وہ سب اس کردار کے مظاہر ہیں۔ ایسے ہی بہت سے واقعات حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ ہدٰی علیھم السلام کی زندگی میں دکھائی دیتے ہیں ان واقعات سے اس اسلامی حکم کی وضاحت ہوتی ہے۔ نہج البلاغہ کا ایک مشہور خطبہ ہے جسے خطبہِ ہمام کہا جاتا ہے۔ ہمام ایک عابد و زاہد اور دانا شخص تھا۔ اس نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے پرہیزگاروں کی صفات کے بارے میں ایک جامع حکم کا تقاضا کیا تو امام نے صرف یہ آیت تلاوت فرمائی اور کہا: اتق اللہ واحسن ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون تقوٰیٓ الٰہی اختیار کرو اور نیکی کرو کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیز گار اور نیکوکار ہیں۔ اگرچہ اس عاشقِ حق سائل کی پیاس اس مختصر سے جواب سے نہ بجھی اور پھر تقاضا کیا تو نا چار امام علیہ السلام نے وضاحت سے جواب دیا اور پرہیزگاروں کی صفات کے بارے میں نہایت جامع خطبہ دیا۔ اس میں پرہیزگاروں کی سو سے زیادہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ تاہم امام کے پہلے مختصر جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت در اصل پرہیزگاروں کی صفات کا اجمال ہے گویا یہ پرزہیزگاروں کی کتابِ صفات کی فہرست ہے۔ یہ دس چیزیں مخالفین کے ساتھ طرزِ عمل کے اتمام اصلی اور فرعی خطوط واضح کر دیتی ہیں ان میں غوروفکر کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں تمام منطقی، احساساتی اور نفسیاتی طریقے اختیار کرنے کو کہا گیا ہے کہ جو مخالفین پر اثر انداز ہو سکیں۔ اس کے باوجود اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ صرف منطق و استدلال پر قناعت کرو بلکہ اسلام بہت سے مواقع پر ضروری قرار دیتا ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ہم میدانِ عمل میں نکلیں اور ان کی سختی کے جواب میں ضرورت کی صورت میں سختی سے جواب دیں اور ان کی سازشوں کو باطل کرنے کے لیے ان کا کوئی توڑ اور سد باب کریں البتہ اس مرحلے میں بھی عدالت، تقویٰ اور اسلامی اخلاق کا اصول فراموش نہ کیا جائے۔ اگر مسلمان اپنے مخالفین کے مقابلے میں اس ہمہ گیر طریقہ کار کا اختیار کرتے تو شاید آج اسلام ساری دنیا یا اس کے زیادہ تر حصے پر چھایا ہوا ہوتا۔

نعمتوں کی سورت۔۔۔۔ سورہٓ نحل کے بارے میں آخری بات

جیسا کہ ہم نے اس سورہ کی ابتداء میں کہا ہے اس سورہ میں جو چیز سب سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ خدا کی گوناگوں نعمات ہیں چاہے وہ مادی ہوں یا روحانی، ظاہری ہو یا باطنی اور انفرادی ہوں یا اجتماعی۔اس سورہ کو جو نعمتوں کی سورت کہا جاتا ہے تو وہ اسی لحاظ سے ہے۔ اس سورہ کی آیات کے مطالعے اور تحقیق سے ظٖاہر ہوتا ہے کہ اس میں تقریباً چالیش چھوٹی بڑی مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر ہے ہم انھیں ذیل میں فہرست وار پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تاکید کرتے ہیں کہ ان کا مقصد پہلے توحید اور عظمتِ خالق کی تعلیم ہے اور اس کے بعد ان نعمتوں کے خالق سے انسان کے میلان کو تقویت پہنچانا ہے اور احساسِ تشکر کو ابھارنا ہے۔ 1. تخلیقِ فلک (خلق السمٰوٰت)۔ 2. خلقتِ زمین (والارض)۔ 3. چوپایوں کی پیدائش (والانعام خلقھا)۔ 4. ان کی اُون اور چمڑے کے ذریعے لباس کی تیاری (لکم فیھا دف)۔ 5. جانوروں کے دیگر فائدے ( و منافع)۔ 6. جانورون کے گوشت سے استفادہ (ومنھا تأکلون)۔ 7. استقلالِ اقتصادی کے حسن سے فائدہ اٹھانا (ولکم فیھا جمال)۔ 8. نقل و حمل کے لیے جانوروں سے کام لینا (وتحمل اثقالکمــــــــــــــــــــــــــــــــــــ والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا)۔ 9. صراطِ مستقیم کی ہدایت (وعلی اللہ قصد السبیل)۔ 10. آسمان سے بارش کا نزول اور اس سے پینے کی دستیابی (وھو الذی انزل من السماء ماء لکم منہ شراب)۔ 11. اس سے چرا گاہوں کی نشوونما (ومنہ شجر فیہ تسیمون)۔ 12. اس سے فصلوں، زیتون، کھجور، انگور اور طرح طرح کے پھلوں کا اگنا (ینبت لکم بہ الزرع والزیتون والنخیل والاعناب ومن کل الثمرات)۔ 13. رات اور دن کا مسخر ہونا (وسخر لکم اللیل والنھار)۔ 14. سورج اور چاند کی تسخیر (والشمس والقمر)۔ 15. ستاروں کی تسخیر (والنجوم)۔ 16. گوناگوں مخلوق کہ جو زمین میں پیدا کی گئی ہے (وما ذرأ لکم فی الارض مختلفاً الوانہ)۔ 17. سمندروں میں موجود جانوروں کے گوشت اور جواہرات سے استفادہ کے لیے سمندروں کی تسخیر (وھوالذی سخر البحر لتأکلوا منہ لحماً طریاً وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا)۔ 18. سینہٓ آب پر کشتیوں کا چلنا (وتری الفلک مواخر فیہ)۔ 19. پہاڑوں کا پیدا کرنا کہ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں (والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم)۔ 20. دریاؤں اور نہروں کا پیدا کرنا (وانھارًا)۔ 21. آپس میں مربوط راستے پیدا کرنا (وسبلاً)۔ 22. راستے پہچاننے کے لیے علامات پیدا کرنا (وعلامات)۔ 23. رات کے وقت راستہ پہچاننے کے لیے ستاروں سے استفادہ کرنا (وبالنجم ھم یھتدون)۔ 24. آبِ باراں کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کرنا (واللہ انزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض بعد موتھا)۔ 25. خالص اور عمدہ دودھ پیدا کرنا کہ جو خون اور ہضم شدہ غذا کے درمیان میں سے نکلتا ہے (نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرث و دم لبناً خالصاً سائغاً للشاربین)۔ 26. کھجور اور انگور سے حاصل شدہ چیزیں (ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراً و رزقاً حسناً)۔ 27. شہد کہ جو شفا بخش غذا ہے (فیہ شفاء للناس)۔ 28. انسان کے لیے اس کی اپنی نوع میں سے ہمسر اور شریک حیات پیدا کرنا (واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجاً)۔ 29. اولاد جیسی نعمت (وجعل لکم من ازواجکم بنین و حفدۃ)۔ 30. طرح طرح کا پاکیزہ رزق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسیع مفہوم کے اعتبار سے (و رزقکم من الطیبات)۔ 31. سماعت کی نعمت (وجعل لکم السمع)۔ 32. آنکھوں کی نعمت (و الابصار)۔ 33. عقل و ہوش کی نعمت (و الافئدۃ)۔ 34. ٹھہرے ہوئے مسکن اور گھر (واللہ جعل لکم من بیوتکم سکناً)۔ 35. چلتے پھرتے گھر (خیمے)۔ (وجعل لکم من جلود الانعام بیوتاً)۔ 36. اسبابِ زندگی کہ جو اُون، کھال اور جانوروں کے بالوں سے بنائے جاتے ہیں (ومن اصوافھا و اوبارھا واشعارھا اثاثاً و متاعاً الٰی حین)۔ 37. سائے کی نعمت (واللہ جعل لکم مما خلق ظلالاً)۔ 38. پہاڑوں میں قابلِ اطمینان پناہ گاہوں کی نعمت (وجعل لکم من الجبال اکناناً)۔ 39. طرح طرح کے لباس جو انسان کو سردی اور گرمی سے بچاتے ہیں (وجعل لکم سرابیل تقیکم الحرّ)۔ 40. زرہ اور لباسِ جنگ جو دشمن کی ضربوں سے بچاتا ہے (و سرابیل تقیکم بأسکم)۔ اور نعمتوں کے اس سلسلے مین مزید فرمایا گیا ہے: کذٰلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون اس طرح سے اللہ اپنی نعمتیں تم پر تمام کرتا ہے تا کہ تم اس کے حکم پر سرتسلیم خم کرو۔

ںعمتوں کے ذکر کا مقصد

یاددہانی کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورہ میں اور قرآن کی دیگر مختلف آیات میں نعماتِ الٰہی کا ذکر احسان جتلانے اور نام حاصل کرنے جیسے امور کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ ان تمام چیزوں سے بالاتر ہے اور ہر شخص اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ یہ سب کچھ تعمیری، تربیتی اور اصلاحی مقاصد کے لیے ہے وہ مقاصد کہ جو انسان کو مادی اور روحانی اعتبار سے آخری ممکن حد تک کمال و ارتقاء عطا کرنے کے لیے ہیں۔ اس امر کے لیے واضح ترین دلیل وہ جملے ہیں کہ جو گزشتہ بہت سی آیات کے آخر میں آئے ہیں یہ سب تنوع کے باوجود انسان کی نشو و نما اور تربیت کے بارے میں ہیں اسی سورہ کی آیہ 14 میں سمندروں کی تسخیر بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: لعلکم تشکرون شاید کہ تم شکر کرو۔ آیت 15 میں پہاڑوں دریاؤں اور راستوں کی نعمت بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: لعلکم تھتدون شاید کہ تم ہدایت پا جاؤ آیت 44 میں عظیم ترین روحانی نعمت یعنی آیاتِ قرآن کے نزول کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: ولعلھم یتفکرون اور شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔ آیت 78 میں بہت اہم نعمت ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ شناخت و معرفت کے وسائل (کان، آنکھ اور عقل) کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے: لعلکم تشکرون شاید کہ تم شکر کرو۔ آیت 81 میں پروردگار کی نعمتوں کی تکمیل کی طرف اشارہ کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے: لعلکم تسلمون شاید کہ تم سر تسلیم خم کرو۔ آیت 90 میں عدل و احسان کو اختیار کرنے، فحشاء، منکر اور حکم کے خلاف جنگ کرنے کے احکام کے بعد فرمایا گیا ہے: لعلکم تذکرون شاید کہ تم تذکر حاصل کرو اور توجہ دو۔ درحقیقت، ان چھ مواقع پر پانچ مقاصد کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ 1. تشکر 2. ہدایت 3. تفکر 4. دعوتِ حق پر سرِ تسلیم خم کرنا 5. تذکر و یاد آوری یہ سب امور ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ انسان سب سے پہلے غوروفکر اور سوچ بچار کرتا ہے جب بھول جائے تو اسے یاد دلایا جاتا ہے اس کے بعد اس میں نعمت عطا کرنے والے کے لیے احساسِ تشکر بیدار ہوتا ہے اور وہ اس کے راستے کی ہدایت پاتا ہے اور آخر کار اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے۔ گویا پانچ مقاصد انسانی کمال کی زنجیر کی کڑیاں ہیں بلاشبہ اگر یہ راستہ صحیح طور پر طے کر لیا جائے تو اس کے خاطر خواہ نتائج نکلتے ہیں اور شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ان نعمتوں کے اجتماعی یا انفرادی صورت میں تذکرے کا مقصد کمال کے سوا اور کچھ نہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پروردگار ! تیری بے پایاں نعمتیں ہمارے سارے وجود پر محیط ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہم تیری نعمتوں میں غرق ہیں لیکن ابھی ہم نے تجھے پہچانا نہیں۔ بارِ الٰہا ! ہمیں ایسا ادراک اور ایسی نگاہ عطا فرما کہ جو تیرے عشق کے راستوں کو ہمارے لیے واضح کر دے۔ اور ایسی توفیق بخش کہ جو تیرے عشق ے راستے پیچ و خم میں ہماری مددگار ہو۔ اور ہمیں شکر گذاروں کی منزلِ مقصود تک پہنچا دے۔ خداوندا ! تو ہماری احتیاج و نیاز کو ہر کسی سے بہتر جانتا ہے اور ہمارے ذاتی تقاضوں کو خود ہم سے بہتر پہچانتا ہے۔ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے ہو جائیں جیسا تو چاہتا ہے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اس سے بہتر ہو جائیں کہ جو لوگ ہمارے متعلق سوچتے ہیں۔ معبودا ! اس وقت تری عظیم آسمانی کتاب کا یہ حصہ ختم ہو رہا ہے۔ ماہِ شعبان کا آخر ہے اور ہم تیری رحمت کے مہینہ رمضان المبارک کے آستانے پر آ پہنچے ہیں۔ اپنی خاص رحمت ہمارے شاملِ حال فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اس تفسیر کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ انک سمیع مجیب سورہٓ نحل کا اختتام ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ تفسیر نمونہ گیارہویں جلد کا اختتام آخر شعبان (۱۴۰۱) ہجری ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

end of chapter
An-Nahl (16) — Tafseer e Namoona