Al-Muzzammil
سورہ مزمل کے مضامین و مطالب
سورہ کی آیات کا لب و لہجہ یہ بتاتا ہے کہ یہ "مکی" سورتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس طرح اس کے "مدینہ" میں نزول کا احتمال، جیسا کہ بعض نے کہا ہے، بعید نظر آتا ہے۔ لیکن آغاز و انجام کی آیات کے لب و لہجہ کا فرق یہ بتاتا ہے کہ ان آیات کے درمیان قابلِ ملاحظہ زمانہ کا فاصلہ تھا۔ جسے بعض مفسرین نے "آٹھ ماہ"، بعض نے "ایک سال" اور بعض نے "دس سال" تک لکھا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر "درالمنثور" جلد 6 ص 276 و "مجمع البیان" جلد 10 ص 377) اس سورہ کی بہت سی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ اس وقت نازل ہوا جب پیغمبرؐ اپنی اعلانیہ دعوت کا آغاز کر چکے تھے اور مخالفین آپ کے مقابلہ میں مخالفت اور تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا پیغمبرؐ کو یہ حکم ملتا ہے کہ اس مرحلہ میں نرمی اور مدارات سے کام لیں۔ اس لیے یہ احتمال کہ تمام سورہ پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں نازل ہوا ہے، بہت بعید نظر آتا ہے، ممکن ہے اس کی ابتدائی آیات اس طرح کی ہوں، لیکن مسلمہ طور پر اس کی تمام آیات اس طرح کی نہیں ہیں، کیونکہ اس کی تعبیریں اسلام کے پھیلنے اور کم از کم مکہ کی حد تک مخالفین کی مخالفت اور مبارزہ کے لیے قیام کی نشاندہی کرتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آغاز دعوت کے تین سالوں میں، اس قسم کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ وہ شانِ نزول، جو اس سورہ یا اس کی آیات کے ایک حصہ کے لیے روایات میں بیان کی گئی ہے، وہ بھی مختلف ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب پیغمبرؐ پر سب سے پہلی وحی ہوئی اور پیغامِ الٰہی پہنچا، آپ وحشت زدہ ہو کر خدیجہ کے پاس آئے (چونکہ جسمانی ناراحتی محسوس کر رہے تھے لہٰذا کچھ آرام کرنا چاہا) اور فرمایا: "مجھے کپڑا اوڑھا دو"۔ اس موقع پر جبرئیل نازل ہوئے اور "یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّل" کا پیغام پیغمبر کے لیے لائے۔ (بحوالہ: روح المعانی" جلد 28 ص 101، اور "نورالثقلین" جلد 5 ص 446)۔ جبکہ دوسری روایات میں یہ آیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ پیغمبر اپنی دعوت کو آشکار اور ظاہر کر چکے تھے اور "قریش" "دارالندوہ" جمع ہوئے تاکہ وہ پیغمبرؐ کے معاملہ میں غور و فکر کریں اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی نام اور شعار (نعرہ) کا انتخاب کریں، بعض نے کہا کہ وہ "کاہن" ہے، لیکن ایک گروہ نے اس پیش نهاد کی مخالفت کی، بعض دوسروں نے کہا وہ "مجنون" ہے، لیکن پھر ایک گروہ نے مخالفت کی، بعض نے "ساحر" کے عنوان کو ترجیح دی، تو اسے بھی انہوں نے قبول نہ کیا۔ آخرکار انہوں نے کہا، جو کچھ بھی ہے "وہ دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتا ہے (اس بنا پر ساحر ہے)"۔ اس کے بعد مشرکین اس جلسہ سے منتشر ہو گئے۔ یہ بات پیغمبرؐ تک پہنچی تو آپؐ نے اپنے آپ کو ایک چادر میں لپیٹ لیا (اور آرام کرنے لگے)۔ اس وقت جبرئیل آئے "یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّل" اور "یٰاَیُّہَا الْمُدَّثِّر" کو آپ کے پاس آ کر پڑھا۔ (بحوالہ: نورالثقلین: جلد6، ص276)۔ نتیجہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، یہ سورہ ظاہرًا مکہ میں نازل ہوئی ہے، اور یقینی طور پر اس کا ایک حصہ اسلام کے علانیہ اظہار اور نسبتاً مکہ میں نفوذ کے بعد نازل ہوئی ہے، اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ سورہ کی کچھ ابتدائی آیات اول بعثت میں نازل ہوئی ہوں۔ بہرحال اس سورہ کے مضامین کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا حصہ: سورہ کی ابتدائی آیات ہیں، جو پیغمبرؐ کو عبادت اور تلاوت کے لیے رات کو قیام کی دعوت دیتی ہیں، اور ایک سنگین اور سخت پروگرام کو قبول کرنے کے لیے آمادگی پر آمادہ کرتی ہیں۔ دوسرا حصہ: انہیں صبر و شکیبائی اور اس خاص علاقہ میں مخالفین کے ساتھ مقاومت و مقابلہ اور مدارات و نرمی کی دعوت دیتا ہے۔ تیسرےحصہ میں: معاد و قیامت کے بارے میں مباحث ہیں، اور موسیٰ بن عمران کو فرعون کی طرف بھیجنے اور اس کی سرکشی اور پھر اس کے دردناک عذاب کو بیان کیا گیا ہے۔ چوتھے حصہ میں: ان سخت احکام کو، جو سورہ کی ابتدا میں رات کے وقت قیام کے سلسلہ میں آئے تھے، مسلمانوں کی مشکلات کی بنا پر ان میں تخفیف کرتا ہے۔ اور پانچویں حصہ میں: یعنی اس سورہ کے آخری حصہ میں دوبارہ تلاوتِ قرآن، نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے اور اُمّت کی راہ میں خرچ کرنے اور استغفار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے آیا ہے: من قرا سورۃ المزمل رفع عنہ العسر فی الدنیا والاٰخرۃ " جو شخص سورہ مزمل کو پڑھے گا تو دنیا و آخرت کی سختیاں اس سے اٹھ جائیں گی"۔ ( بحوالہ: مجمع البیان" جلد 10 ص 375) اور ایک دوسری حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْمُزَّمِّلِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ أَوْ فِي آخِرِ اللَّيْلِ كَانَ لَهُ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ شَاهِدَيْنِ مَعَ سُورَةِ الْمُزَّمِّلِ وَ أَحْيَاهُ اللَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَ أَمَاتَهُ مِيتَةً طَيِّبَةً " جو شخص سورہ مزمل کو دوسری نمازِ عشاء (نمازِ عشاء ہی مراد ہے، کیونکہ بعض اوقات مغرب کو پہلی عشاء کہا جاتا ہے) یا آخر شب میں پڑھے، تو رات اور دن اور اسی طرح یہ سورہ قیامت کے دن اس کے گواہ ہوں گے اور خدا اسے پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ موت دے گا"۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد 10 ص 375)۔ یقیناً یہ عظیم فضائل اس صورت میں ہیں جبکہ سورت کے مضامین: رات کے قیام، قرآن کی تلاوت، صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور انفاق پر عمل کیا جائے گا نہ کہ وہ تلاوت جو عمل سے خالی ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے کھڑا ہو جا
Tafsīr Nemūna · Vol. 11جیسا کہ اس سورہ کے آغاز کے لب و لہجہ سے پتا چلتا ہے، یہ پیغمبرؐ کو استقامت کے لیے اور ایک عظیم و سنگین ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے آمادگی کی ایک آسمانی دعوت ہے کہ جسے پہلے سے خود کو تیار کیے بغیر انجام دنیا ممکن نہیں ہے ، فرماتا ہے :"اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے"۔ (يَآ اَيُّـهَا الْمُزَّمِّلُ)۔ (تشریحی نوٹ: "مزمل" اصل میں "متزمل" تھا۔ "تزمل" کے مادہ سے جس کا معنی اپنے اوپر کپڑا لپیٹنا اور "زمیل" جو ہم ردیف کے معنی میں ہے(وہ شخص جو کسی کے پیچھے سواری پر ہو) اور اس کے بعد رفیق اور ساتھی کے معنی میں آیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ ارتباط اور قریبی تعلق رکھتا ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "رات کو، تھوڑے سے حصہ کے سوا قیام کیا کر"۔(قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "آدھی رات یا اس میں سے تھوڑا کم کر دے"۔(نِّصْفَهٝٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ "یا آدھی رات پر کچھ اضافہ کردے"۔(اَوْ زِدْ عَلَيْهِ)۔ " اور قرآن کو انتہائی غور وخوض سے اور انتہائی وضاحت و فصاحت کے ساتھ تلاوت کیا کر"۔(وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَـرْتِيْلًا)۔ قابل توجہ بات یہ ہےکہ ان آیات میں مخاطب، پیغمبرؐ ہیں لیکن "یا ایھا الرسول" اور "یا ایھا النبی" کے عنوان سے نہیں بلکہ "یا ایّھاالمزمل" کے عنوان سے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اپنے اوپر کپڑا لپیٹ کر گوشۂ تنہائی میں بیٹھ رہنے کا دور نہیں ہے ، بلکہ یہ کھڑے ہونے اور خود کو تیار کرنے اور عظیم رسالت کو انجام دینے کے لیے آمادگی کا دور ہے۔ اور اس کام کے لیے رات کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ: اولاً دشمنوں کی آنکھ اور کان نیند کی حالت میں ہیں، اور ثانیاً زندگی کے کاروبار بند ہیں، اور اس بناء پر انسان غوروفکر اور تربیتِ نفس کے لیے زیادہ سے زیادہ آمادگی رکھتا ہے۔ اسی طرح اس پروگرام کے لیے متن اصلی کے عنوان سے "قرآن" کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ یہ اس سلسلہ کے تمام ضروری اسباق کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور یہ ایمان کی تقویت، استقامت، تقوٰی اور پرورشِ نفوس کا بہترین وسیلہ ہے۔ "ترتیل" کی تعبیر جو اصل میں موزوں "تنظیم" و "ترتیب" کے معنی میں ہے اور یہاں آیاتِ قرآنی کو تاُنی (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) ضروری نظم، حروف کی صحیح ادائیگی ، الفاظ کو وضاحت کے ساتھ پڑھنا ، آیات کے مفاہیم میں دقت و تأمل اور ان کے نتائج میں غوروفکر کرنا ہے۔ واضح رہے کہ قرآن کی اس طرح سے تلاوت انسان کو معنوی نشوونما، اخلاقی شہامت اور تقوٰی وپرہیزگاری سرعت کے ساتھ بخش سکتی ہے اور اگر بعض مفسرین نے اس کی نماز پڑھنے کے معنی میں تفسیر کی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کا ایک اہم حصہ "تلاوتِ قرآن" ہی ہے۔ "قم اللیل" کے جملہ میں "قیام" کی تعبیر، سونے کے مقابلہ میں کھڑا ہونے کے معنی میں ہے، نہ کہ صرف پاؤں پر کھڑا ہونے کے معنی میں ہے۔ لیکن ان آیات میں "شب زندہ داری" کی مقدار کے بارے میں جو مختلف تعبیریں آئی ہیں، وہ حقیقت میں "اختیار" کو بیان کرنے کے لیے ہیں، اور وہ پیغمبرؐ کو یہ اختیار دیتی ہین کہ آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ بیدار رہیں اور قرآن کی تلاوت کریں ، پہلے مرحلہ میں "ساری رات" سواۓ تھوڑی سی مقدار کے ذکر کرتا ہے، اور اس کے بعد اس میں تحفیف کرکے آدھی رات تک پہنچاتا ہے، اور اس کے بعد آدھے سے بھی کم ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے "دو تہائی" "آدھی" اور "ایک تہائی" رات کے درمیان تخییر مراد ہے۔ اس ایت کے قرینہ سے جو اسی سورہ کے آخر میں آۓ گی، جس میں فرماتا ہے : (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ)۔ ضمنی طور پر سورہ کے آخر کی اسی آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبرؐ اس رات کے قیام میں اکیلے نہیں تھے، بلکہ مومنین کا ایک گروہ بھی اس خود سازی و تربیت اور آمادگی کے پروگرام میں پیغبرؐ کے ساتھ تھا اور انھوں نے اس راہ میں آپ کو ایک اسوہ اور نمونہ کے طور پر قبول کیا ہوا تھا۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ بعض راتوں کے سوا تمام راتوں میں قیام کیا کر ، اور اس طرح سے استثناء رات کے حصوں میں نہیں ہے، بلکہ راتوں کے افراد میں ہے۔ لیکن یہ تفسیر " لیل" کے مفرد ہونے اور "نصف" (آدھی) اور اس سے کمتر کی تعبیر کے ساتھ درست نظر نہیں آتی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس سخت اور اہم حکم کے"ہدف نہائی" اور "مقصد اصلی" کو اس طرح بیان کرتا ہے: "ہم عنقریب ایک سخت بات تجھ کو القاء کریں گے"۔(اِنَّا سَنُلْقِىْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا)۔ اگرچہ مفسرین "قول ثقیل" کے بارے میں الگ الگ بیان رکھتے ہیں، جو مسئلہ کے ایک ہی پہلو کو پیش کرتے ہیں ، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کا سنگین ہونا، جس سے بلا شک و شبہ قرآن مجید مراد ہے، مختلف پہلوؤں سے ہے۔ آیات کے مفہوم اور مطالب کے لحاظ سے سنگین ۔ دلوں کے تحمل کے لحاظ سے سنگین۔ یہاں تک کہ خود قرآن کہتا ہے : (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٝ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّـٰهِ): " اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر نازل کرتے، تو تُو اسے خاشع اور شگافتہ دیکھتا" (حشر ــــــــ 21) وعدوں اور وعیدوں، ذمہ داریوں اور مسئولیتوں کے بیان کے لحاط سے سنگین۔ تبلیغ اور دعوت کی راہ کی مشکلات کے لحاظ سے سنگین۔ ترازوۓ عمل اور عرصۂ قیامت میں سنگین اور آخر میں پروگرام پیش کرنے اور اس کے مکمل اجراء کے لحاظ سے سنگین، ہاں ! اگرچہ قرآن کا پڑھنا سہل و آسان اور زیبا و دلنشین ہے لیکن اس کے مفاد اور معانی کو عمل میں لانا اسی نسبت سے سنگین اور مشکل ہے، خصوصًا پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں، اور آپ کے مکہ میں قیام کرنے کے وقت ، جب ماحول کو جہالت، بت پرستی اور خرافات کے تیرہ و تاریک بادلوں نے گھیر رکھا تھا، لیکن پیغمبراکرامؐ اور ان کے تھوڑے سے ساتھی، قرآن مجید کی تربیت سے مدد لیتے ہوۓ ، اور نمازِ شب سے اعانت طلب کرتے ہوۓ اور پروردگار کی پاک ذات کے تقرب سے استفادہ کرتے ہوۓ ان تمام مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے اور اس "قول ثقیل" کے بار کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیا۔ ــــــــــــــــــــــــــ
جند نکات: 1۔تلاوتِ قرآن اور دعا و عبادت کے لیے رات کو اٹھنا
ہم بیان کر چکے ہیں کہ اگرچہ ان آیات میں مخاطب پیغمبرؐ کی ذاتِ اقدس ہے، لیکن سورہ کا متن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مومنین بھی اس پروگرام میں پیغمبرؐ کی ذات کے ساتھ ہیں۔ اب بحث صرف یہ ہے کہ یہ قیام اور شب زندہ داری، پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں سب پر واجب تھی یا نہیں؟ بعض مفسرین کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ امر واجب تھا، بعد میں سورہ کی آخری آیت نے آ کر اس حکم کو منسوخ کر دیا اور اس میں تقریباً ایک سال کا فاصلہ تھا۔ یہاں تک کہ بعض کا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ حکم پنجگانہ نمازوں کی تشریع سے پہلے تھا اور جب پنجگانہ نمازیں مشروع قرار دے دی گئیں تو اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ لیکن ـــــــــ جیسا کہ مرحوم "طبرسی" نے بھی "مجمع البیان" میں نقل کیا ہے ـــــــــ اس سورہ کی آیات کے ظاہر میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جو "نسخ" کے اوپر دلیل ہو اور بہتر یہی ہے کہ یہ قیام و عبادت مستحب اور سنت مؤکدہ ہے اور اس میں ہرگز وجوب کا پہلو تھا ہی نہیں، سوائے پیغمبر اکرمؐ کی ذات کے لیے، کیونکہ قرآن کی بعض دوسری آیات کے مطابق نمازِ شب آپؐ پر واجب تھی اور اس میں کوئی مانع اور حرج نہیں کہ یہ مسئلہ پیغمبرؐ کے لیے واجب اور مسلمانوں پر مستحب ہو، اور اس سے قطعِ نظر اوپر والی آیات میں جو کچھ آیا ہے وہ "نمازِ شب" میں منحصر نہیں ہے۔ کیونکہ نماز شب تو آدھی رات یا دو تہائی رات یا ایک تہائی رات تک کو بھی شامل نہیں رکھتی۔ جو کچھ آیت میں بیان ہوا ہے وہ تو ترتیل قرآن کے لیے اٹھنا ہے۔ اس بنا پر یہ کام ابتدا میں مستحب مؤکد کی صورت میں تھا اور اس کے بعد اس میں تخفیف کر دی گئی اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہر کام کے آغاز میں، خصوصاً ایک عظیم انقلاب کی ابتداء میں، ہمیشہ زیادہ قوت و توانائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ پیغمبر اور مسلمانوں کو اس قسم کا فوق العادہ حکم دیا گیا ہو کہ وہ رات کا زیادہ حصہ بیدار رہیں اور اس جدید پروگرام اور اس کی انقلابی تعلیمات سے آشنا ہوں، اور اس سے آگاہی کے علاوہ خود کو اس پر عمل کرنے کے لیے روحانی طور پر تیار کریں۔
2۔ ترتیل کا معنی
اوپر والی آیات میں جس چیز پر تکیہ کیا گیا ہے وہ قرآن کی قراءت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ "ترتیل" کا مسئلہ ہے۔ "ترتیل" کی تفسیر میں معصومینؑ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں، جن میں سے ہر ایک اس کے وسیع ابعاد و جہات میں سے کسی ایک جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک حدیث میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے: بَیِّنْهُ بَیانًا وَلَا تَهُذَّهُ هَذَّ الشِّعْرِ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرَ الرَّمْلِ، وَلَكِنِ افْزَعْ بِهِ القُلُوبَ القَاسِیَۃَ، وَلَا يَكُونَ هَمُّ أَحَدِكُمْ آخِرَ السُّورَۃِ۔ "ترتیل" یعنی اس کو واضح طور پر بیان کر، نہ تو اشعار کی طرح جلدی اور یکے بعد دیگرے پڑھ، اور نہ ہی ریت کے ذروں کی طرح اس کو بکھیر دے، لیکن اس طرح پڑھ کہ اس سے سخت اور سنگین دلوں کو نرم کردے، اور انھیں بیدار کردے، ہرگز تمہارا مقصد یہ نہ ہو کہ تم لازمی اور حتمی طور پر آخر سورہ تک پہنچو اور اسے ختم کرکے رہو (بلکہ اہم بات یہ ہے کہ تم آیات کے مطالب اور معانی سمجھو)۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد 10 ص 378، یہ حدیث اصول کافی جلد 2 - باب "ترتیل القرآن بالصوت الحسن" اور دوسری کتابوں میں بھی مختصر فرق کے ساتھ آئی ہے)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے "ترتیل" کی تفسیر میں آیا ہے: إِذَا مَرَرْتَ بِآیَۃٍ فِیهَا ذِكْرُ الجَنَّۃِ فَاسْأَلِ اللهَ الجَنَّۃَ، وَإِذَا مَرَرْتَ بِآیَۃٍ فِیهَا ذِكْرُ النَّارِ فَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنَ النَّارِ۔ "جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جنت کا ذکر ہو تو رُک کر خدا سے جنت کا سوال کرو (اور اس کے لیے دعا کرو) اور جب تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو خدا سے اس سے پناہ مانگو (اور خود کو اس سے دور رکھو)"۔ (بحوالہ: وہی مدرک) ایک اور روایت میں اسی امام سے آیا ہے کہ آپ نے "ترتیل" کی تفسیر میں فرمایا: هُوَ أَنْ تُمَكِّثَ فِیهِ وَتُحَسِّنَ بِهِ صَوْتَكَ۔ "ترتیل" یہ ہے کہ تو آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور انھیں اچھی آواز میں پڑھے"۔ ایک اور حدیث میں انھیں حضرت سے اس طرح نقل ہوا ہے: إِنَّ القُرْآنَ لَا يُقْرَأُ هَذْرَمَۃً، وَلَكِنْ يُرَتَّلُ تَرْتِیلًا، إِذَا مَرَرْتَ بِآیَۃٍ فِیهَا ذِكْرُ النَّارِ وَقَفْتَ عِنْدَهَا وَتَعَوَّذْتَ بِاللهِ مِنَ النَّارِ۔ "قرآن کو جلدی جلدی، سرعت اور تیزی کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے۔ بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے، جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو وہاں رک جاؤ، اور خدا سے جہنم کی آگ کی پناہ مانگو"۔ (بحوالہ: نورالثقلین" جلد 10 ص 447)۔ اور آخری بات یہ کہ پیغمبر کے حالات میں نقل ہوا ہے کہ آنحضرتؐ آیات کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے پڑھتے اور اپنی آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ (بحوالہ:مجمع البیان" زیر بحث آیت کے ذیل میں) یہ روایات اور دوسری روایات جو اسی مفہوم کی اصولِ کافی، نورالثقلین، درمنثور اور حدیث و تفسیر کی تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ آیاتِ قرآنی کو اس طرح نہیں پڑھنا چاہیے جو مطالب و مضامین اور پیام سے خالی ہوں، بلکہ ان تمام امور کی طرف توجہ رکھنی چاہیے جو پڑھنے اور سننے والوں میں اس تاثیر کو گہرا کردے، اور اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ اللہ کا پیام ہے اور اس کا مقصد اس کے مطالب و مضامین کو تحقق بخشنا (اور عملی جامہ پہنانا) ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان اس واقعیت سے بہت دور ہو گئے ہیں، اور انھوں نے قرآن کے صرف الفاظ پر اکتفا کرلیا ہے اور ان کا مقصد صرف سورت اور قرآن کو ختم کرنا ہوتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ یہ جانیں کہ یہ آیات کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ اور کس پیام کی تبلیغ کر رہی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کے الفاظ بھی محترم ہیں، اور ان کو پڑھنا بھی فضیلت رکھتا ہے، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ الفاظ اور تلاوت ان کے مطالب و مضامین کو بیان کرنے کا مقدمہ اور تمہید ہے۔
3۔ نماز شب کی فضلیت
یہ آیات دوبارہ شب زندہ داری، نماز شب، اور اس وقت ــــــــــــــ جبکہ غافل لوگ خوابِ غفلت میں پڑے سوئے ہوئے ہوتے ہیں ـــــــــ قرآن کی تلاوت کی اہمیت کو گوشزد کرتی ہیں، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ رات کو عبادت کرنا، خصوصاً سحر کے وقت، اور طلوعِ فجر کے نزدیک، روح کی صفائی، تہذیبِ نفوس اور انسان کی معنوی تربیت، پاکیزگیِ قلب، دل کی بیداری، ایمان و ارادہ کی تقویت اور انسان کے دل و جان میں تقویٰ کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں حد سے زیادہ اثر رکھتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ کی آزمائش سے، انسان اس کے آثار واضح طور پر اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ اسی بناء پر آیاتِ قرآنی کے علاوہ روایاتِ اسلامی میں بھی اس مطلب پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: "ان من روح اللہ تعالیٰ ثلاثۃ: التہجد باللیل و افطار الصائم و لقاء الاخوان" (تین چیزیں خدا کی مخصوص عنایات میں سے ہیں: شبانہ عبادت (نماز تہجد)، روزہ داروں کو افطار کرانا اور مسلمان و مؤمن بھائیوں کی زیارت و ملاقات کرنا)۔ (بحوالہ: بحارالانوار" جلد … ص 143)۔ ایک اور حدیث میں انہی جناب سے آیا ہے کہ آپ نے آیہ "ان الحسنات یذہبن السیئات" (نیک کام برے کاموں کے اثر کو زائل کر دیتے ہیں) کی تفسیر میں فرمایا: "صلاۃ اللیل تذہب بذنوب النہار" (نماز تہجد دن کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے)۔ (بحوالہ: بحارالانوار" جلد … ص 143) سورہ اسراء کی آیہ 79 کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلہ میں ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں اور ہم نے وہاں پر نمازِ تہجد کی اہمیت کے بارے میں بہت عمدہ روایات نقل کی ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ" جلد 12 ص 227)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
رات کے وقت کی عبادت کا اثر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیات اسی طرح رات کی عبادت اور رات کی تاریکی میں قرآن کی تلاوت کے ذریعے، معنوی تعلیمات کے سلسلہ میں بحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور حقیقت میں جو کچھ گزشتہ آیات میں بیان ہوا ہے، یہ اس کی دلیل کے طور پر آئی ہیں۔ "یہ عبادت اور رات کی تلاوت کا حکم اس بنا پر ہے کیونکہ (عبادت اور تعلیم کا) یہ پروگرام زیادہ مضبوط اور زیادہ استقامت والا ہے"۔ (اِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِىَ اَشَدُّ وَطْئًا وَّاَقْوَمُ قِيْلًا)۔ (تشریحی نوٹ "ناشئۃ" اسم فاعل ہے لیکن یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ مصدر ہو "عافیۃ" کی طرح)۔ "ناشئۃ" "نشء" (بروزن نثر) کے مادہ سے "حادثہ" کے معنی میں ہے، اور یہ بات کہ یہاں اس سے کیا مراد ہے اس کی تین تفاسیر بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ اس سے مراد رات کی گھڑیاں ہیں، جو کہ یکے بعد دیگرے حادث ہوتی ہیں، یا خصوصیت کے ساتھ آخر شب اور سحر کی گھڑیاں ہیں۔ دوسری یہ ہے کہ اس سے مراد نماز و عبادت اور تلاوت کے لیے قیام کا پروگرام ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے فرمایا: "ھی القیام فی آخر اللیل الی صلاۃ اللیل" اس سے مراد آخر شب میں نماز تہجد کے لیے قیام کرنا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 378)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے اس آیہ کی تفسیر میں آیا ہے: "قیامہ عن فراشہ لا یرید الا اللہ" اس سے مراد بستر سے کھڑا ہونا ہے جس کا مقصد خدا کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ (بحوالہ: نور الثقلین جلد 5 ص 448 حدیث 16)۔ تیسری یہ ہے کہ اس سے مراد "معنوی و روحانی حالات" اور "ملکوتی نشاط و جذبہ" ہے، جو انسان کے دل و جان میں، رات کی ان مخصوص گھڑیوں میں پیدا ہوتا ہے جس کے اثرات روحِ انسانی میں زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور ان کا دوام زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ البتہ یہ تفسیر اور اس سے پہلے والی تفسیر ایک دوسرے کی لازم و ملزوم ہیں اور یہ مناسب ہے کہ یہ دونوں ہی آیت میں جمع ہوں۔ "وطئًا" اصل میں قدم رکھنے اور اسی طرح موافقت کرنے کے معنی میں ہے۔ "اشد وطئًا" کی تعبیر یا تو مشقت و زحمت کے معنی میں ہے جو زمانہ قیام اور عبادت میں ہوتی ہے یا پھر ثابت و راسخ تاثیرات کے معنی میں ہے جو عبادت کے سائے میں انسان کی روح اور جان میں پیدا ہوتی ہے (البتہ دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ زیادہ موافقت کے معنی میں ہو جو ان لمحات میں انسان کے دل، آنکھ اور کان کے درمیان ہوتی ہے اور ان سب کے اجتماع سے عبادت کی راہ پیدا ہوتی ہے۔ "اقوم" "قیام" کے مادہ سے محکم و مضبوط اور زیادہ صاف کے معنی میں ہے اور "قیل" بات کرنے کے معنی میں ہے، یہاں ذکر خدا اور تلاوت قرآن کی طرف اشارہ ہے۔ مجموعی طور پر یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو "شبانہ عبادت" اور سحرگاہی دعا و ثنا، اور ایسے لمحات میں جبکہ ہر وقت کی نسبت دلی فراغت کے اسباب زیادہ فراہم ہوتے ہیں ــــــــــــــــــــ محبوب کے ساتھ راز و نیاز کی رساترین باتوں کو اپنی معنی خیز تعبیروں کے ساتھ بیان کرتی ہے اور اسی طرح سے انسان کی تہذیب نفس اور روح و جان کی پرورش میں اس کی تاثیر کو بیان کرتی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کی روح ان لمحات میں دعا و مناجات اور ذکر و فکر کے لیے ایک خاص قسم کی آمادگی رکھتی ہے۔ ــــــــــــــــــــ بعد والی آیات میں مزید کہتا ہے: "یہ اس بناء پر ہے کہ دن میں تو تمہیں مسلسل اور بہت زیادہ سعی و کوشش جدوجہد کرنی پڑے۔ (اِنَّ لَكَ فِى النَّـهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا)۔ تم ہمیشہ مخلوق کی ہدایت اور پروردگار کی رسالت کی تبلیغ اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے مشکلات کو حل کرنے میں لگے رہتے ہو، اور عبادت اور مناجات کے لیے کافی وقت نہیں ملتا، لہذا اس کے بجائے رات کو عبادت کیا کرو۔ ایک اور احتمال بھی جو آیت کی تفسیر میں موجود ہے اور کئی جہات سے زیادہ بہتر اور قبل و بعد کی آیات کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے یہ ہے کہ چونکہ تم دن بھر میں سنگین وظائف، بھاری ذمہ داریوں اور بہت زیادہ جدوجہد کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہو، لہذا تمہیں رات کی عبادت کے ساتھ خود کو تقویت دینی چاہیے اور ان عظیم فعالیتوں کے لیے اس قیام شب کے ذریعہ ضرور تیار ہونا چاہیے۔ "سبح" (بروزن "مدح") اصل میں حرکت اور آمد و رفت کے معنی میں ہے اور بعض اوقات تیرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ گویا وہ انسانی معاشرے کو ایک بے کراں سمندر سے تشبیہ دیتا ہے، جس میں ایک گروہ کثیر غرق ہونے کی حالت میں ہے، اس کی امواجِ خروشاں ہر طرف حرکت میں ہیں، سرگرداں کشتیاں اس میں پناہ گاہ تلاش کرتی پھرتی ہیں اور پیغمبر اسلامؑ اس سمندر میں غرق ہونے والوں کے لیے، اکیلے نجات دہندہ ہیں اور آپ کا قرآن اس سمندر میں اکیلی نجات کی کشتی ہے۔ اس عظیم تیراک کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی شبانہ عبادت کے ذریعہ اس روزانہ کی عظیم ماموریت اور رسالت کے لیے آمادہ کرے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ رات کی عبادت کے قیام کے حکم، اور اس کے عمیق اور گہرے آثار کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد پانچ احکام کا، جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرو اور اس کا ذکر کرو"۔ (وَاذْكُرِ اسْـمَ رَبِّكَ)۔ مسلمہ طور پر اس سے مراد صرف خدا کے نام کا ذکر کرنا نہیں ہے بلکہ معنی کی طرف توجہ ہے، کیونکہ لفظی ذکر قلبی یاد کا ایک مقدمہ اور تمہید ہے اور قلبی ذکر روح و جان کو صفا بخشتا ہے اور دل میں معرفت و تقویٰ کے نہال کی آبیاری کرتا ہے۔ "رب" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس وقت تم اس کے مقدس نام کا ورد کرو تو اس کی بے پایان نعمتوں اور اپنے لیے اس کی مسلسل تربیت کی طرف توجہ رکھو۔ ایک مفسر نے پروردگار کے ذکر کے کچھ مراحل بیان کیے ہیں۔ پہلا مرحلہ اس کے نام کے ذکر کا ہے، جس کی طرف زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ اس کے بعد والے مرحلہ میں اس کی پاک ذات کی دل میں یاد آوری کی نوبت آتی ہے، جو سورہ اعراف کی آیہ 205 میں بیان ہوئی ہے "وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِىْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً" "اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع اور خوف کے ساتھ یاد کرو"۔ آخر کار تیسرا مرحلہ آن پہنچتا ہے، اس مرحلہ میں خدا کی ربوبیت کے مرحلہ سے اوپر چلا جاتا ہے اور خدا کے صفاتِ جمال و جلال کے مجموعہ کے مقام تک ــــــــــــــــ جو اللہ میں جمع ہے ــــــــــــــ پہنچ جاتا ہے، جیسا کہ سورہ احزاب کی آیہ 41 میں فرماتا ہے: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّـٰهَ ذِكْرًا كَثِيْـرًا "اے ایمان لانے والو! خدا کو کثرت سے یاد کیا کرو" اور اس طرح سے یونہی یہ ذکر جاری و ساری رہے گا اور مرحلہ بہ مرحلہ تکامل و ارتقاء پیدا کرتا رہے گا اور ذکر کرنے والوں کو اوجِ کمال تک پہنچا دے گا۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی" جلد 20، ص 177(اقتباس)۔ دوسرے حکم میں فرماتا ہے: "خدا ہی کے ساتھ اپنے دل کو لگاؤ اور اس کے غیر سے امید کو قطع کر لو اور خلوص کے ساتھ عبادت کے لیے کھڑے ہو جاؤ"۔ (وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا)۔ (تشریحی نوٹ: قاعدہ کے مطابق یہاں" مفعول مطلق"ہونا چاہیے جو باب "تفعل"کا مصدر ہے، لیکن اس کی جگہ یہاں پر باب تفعیل کا مصدر آیا ہے۔ یہ امر اس بات کے علاوہ کہ یہ آیات کے آخر میں ہم آہنگی کو محفوظ رکھتا ہے۔ ممکن ہے ایک لطیف نکتہ کی طرف اشارہ بھی ہو اور وہ یہ کہ " انقطاع الی اللہ" نہ سارےکا سارا اکتسابی ہے اور نہ ہی تمام کا تمام موہوبی، کیونکہ اس میں ایک طرف تو پرہیز گار بندہ کی سعی و کوشش شرط ہے اور دوسری طرف سے پروردگار کا لطف)۔ "تبتل" "بتل" (بروزن حتم) کے مادہ سے اصل میں انقطاع کے معنی میں ہے اور اسی لیے مریم کو "بتول" کہا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے لیے کوئی شوہر انتخاب نہیں کیا اور اگر بانوۓ اسلام فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کو بھی بتول کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ کی تمام عورتوں سے اعمال و رفتار اور معرفت کے لحاظ سے جدا اور برتر تھیں اور انقطاع الی اللہ کی حالت تک پہنچی ہوئی تھیں۔ بہرحال "تبتل" یہ ہے کہ انسان اپنے پورے دل کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو اور اللہ کے سوا ہر کسی سے منقطع ہو جائے، اور اپنے اعمال صرف اسی کے لیے بجا لائے اور اخلاص میں غرق ہو۔ اور اگر ایک روایت میں پیغمبر گرامی اسلام سے یہ نقل ہوا ہے کہ: لا رھبانیۃ، ولا تبتل فی الاسلام "اسلام میں نہ تو رہبانیت ہے اور نہ ہی تبتل"۔ (بحوالہ:مفردات" و مجمع البحرین" مادہ "تبتل")۔ تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح سے ترکِ دنیا کرنا، جو عیسائی راہبوں میں رائج ہے، وہ اسلام میں موجود نہیں ہے۔ وہ ترکِ دنیا کے لیے شادی بیاہ کو بھی ترک کرتے ہیں اور ہر قسم کی اجتماعی فعالیت کو بھی، لیکن اگر واقعی اور حقیقی مسلمان، قلب اجتماع میں زندگی بسر کرنے کے باوجود تمام تر خدا ہی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ بعض روایات میں، آئمہ معصومین سے نقل ہوا ہے کہ "تبتل" کا معنی حالتِ نماز میں ہاتھ کو بلند کرنا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین،جلد 5 ص، 45 حدیث 24) لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ حقیقت میں اخلاص اور انقطاع الی اللہ کے ایک مظہر کا بیان ہے۔ بہرحال پروردگار کی وہ یاد اور یہ اخلاص، مخلوقِ خدا کی ہدایت کے سنگین و سخت پروگرام میں مردانِ خدا کا عظیم سرمایہ ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد تیسرے حکم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہی مشرق و مغرب کا پروردگار، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسے اپنا محافظ اور کارساز مانو"۔ (رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا)۔ یہاں "ذکر اللہ" اور "اخلاص" کے مرحلہ کے بعد، توکل اور تمام کاموں کو خدا کے سپرد کرنے کا مرحلہ آتا ہے، یعنی جہانِ ہستی کا سارا مجموعہ، اسی کی حکومت و ربوبیت کے زیر تسلط ہے اور پرستش کے لائق وہی یکہ و تنہا معبود ہے۔ یہ تعبیر حقیقت میں، توکل بر خدا کے موضوع پر، ایک دلیل کے طور پر آئی ہے۔ انسان اس پر توکل کیسے نہ کرے اور اپنے معاملات کو اس کے سپرد کیوں نہ کرے، حالانکہ اس وسیع عالمِ ہستی میں اس کے علاوہ کوئی اور حاکم، فرمانروا، منعم، مربی اور معبود نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری چوتھے اور پانچویں حکم میں فرماتا ہے: "دشمن جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر و شکیبائی اختیار کرو اور ان سے شائستہ اور عمدہ طریقہ سے دوری اختیار کرو"۔ (وَاصْبِـرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُـمْ هَجْرًا جَـمِيْلًا)۔ اور اس طرح سے یہاں "صبر" اور "ہجران" کا مقام آ پہنچتا ہے، کیونکہ حق کی طرف دعوت کی راہ میں، دشمنوں کی بدگوئی اور ان کا اذیت و آزار پہنچانا بہت زیادہ ہے، اور اگر باغبان کوئی پھول توڑنا چاہتا ہے تو اسے کانٹے کی زبان کے مقابلہ میں صبر کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بعض اوقات یہاں بے اعتنائی اور دوری ضروری ہوجاتی ہے، تاکہ ایک تو ان کے شر سے محفوظ رہے، دوسرے اس طرح سے انہیں ایک سبق بھی دے، لیکن یہ ہجراں و دوری، تربیتی پروگراموں اور خدا کی طرف تبلیغ و دعوت کے قطع کرنے کے معنی میں نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح سے اوپر والی آیات، پیغمبر اسلامؐ اور ان تمام لوگوں کے لیے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں ایک جامع اور کامل نسخہ دیتی ہیں کہ وہ رات کی عبادات اور بوقت سحر پروردگار سے دعا و مناجات سے مدد حاصل کریں اور پھر اس پودے کی یادِ خدا، اخلاص، توکل، صبر اور ہجرانِ جمیل کے پانی سے آبیاری کریں۔ کیسا جامع اور عمدہ نسخہ ہے؟ "رب المشرق و المغرب" (مشرق و مغرب کے پروردگار) کی تعبیر تمام عالمِ ہستی پر اس کی حاکمیت و ربوبیت کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ ہم روزمرہ کی تعبیروں میں کہتے ہیں: فلاں شخص نے زمین کے مشرق و مغرب پر تسلط جمالیا ہے، یعنی تمام روئے زمین کو، نہ کہ صرف مشرق و مغرب کے نقطہ کو۔ "ھجر جمیل" (شائستہ دوری و جدائی)، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ دلسوزی اور حق کی طرف دعوت و تبلیغ سے تو ہم ہجران و دوری کے معنی میں ہے، جو خاص خاص علاقوں میں ایک تربیتی روش شمار ہوتی ہے اور دوسرے علاقوں میں "جہاد" کے مسئلہ کے ساتھ بالکل منافات نہیں رکھتی، کیونکہ ہر ایک کی ایک جگہ ہے اور ہر نقطہ کا ایک مقام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ دوری بے اعتنائی نہیں ہے، بلکہ خود ایک قسم کی اعتناء اور پرواہ کرنا ہے۔ بہرحال یہ جو بعض نے اوپر والی آیت کو آیات جہاد سے منسوخ سمجھا ہے، صحیح نہیں ہے۔ مرحوم "طبرسی" "مجمع البیان" میں اس آیہ کے ذیل میں کہتے ہیں: وفی ھٰذا دلالۃ علی وجوب الصبر علی الاذی، لمن یدعوا الی الدین و المعاشرۃ باحسن الاخلاق واستعمال الرفق لیکونوا اقرب الی الاجابۃ "یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مبلغین اور قرآن کی طرف دعوت دینے والے تکالیف اور اذیتوں میں صبر اختیار کریں، اور حسن خلق و مدارات کے ساتھ لوگوں میں معاشرت کریں، تاکہ ان کی باتیں جلدی قبول ہوں۔"( بحوالہ: "مجمع البیان" جلد 10 ص379)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ان مستکبرین کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دے
Tafsīr Nemūna · Vol. 11گزشتہ آیات میں سے آخری آیت میں دشمنان اسلام کی کارشکنیوں، ناروا باتوں اور اذیت و آزار کی طرف اشارہ تھا۔ زیر بحث آیات میں انھیں خدا کی طرف سے، دنیا و آخرت کے عذابوں کی شدید تہدیدیں اور دھمکیاں دی گئی ہیں اور انھیں اپنے شوم و منحوس پروگراموں میں تجدید نظر کی دعوت دی ہے اور صدر اول کے مسلمانوں کی ان دشمنوں کے سخت ہجوم کے مقابلہ میں دلداری کی ہے اور انھیں پامردی بخشی ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "مجھے ان تکذیب کرنے والے، ثروت مند اور صاحبان نعمت افراد کے ساتھ (بدلہ لینے کے لیے) چھوڑ دے اور انھیں تھوڑی سی مہلت دے دے" (وَذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْـهُـمْ قَلِيْلًا)۔ یعنی اس کا مدمقابل تو نہیں ہے، میں ہوں! ان کی سزا و عذاب کا معاملہ خود مجھ پر چھوڑ دے، اور تھوڑی سی انھیں مہلت دے دے، تاکہ اتمام حجت بھی ہو جائے اور وہ اپنی ماہیت کو ظاہر و آشکار بھی کر دیں، اور اپنی پشت کو بارِ گناہ سے سنگین اور بوجھل کر لیں، تو اس وقت میرا عذاب ان کا گلا دبا لے گا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ مسلمان طاقتور ہو گئے اور انھوں نے جنگ بدر و حنین و احزاب وغیرہ میں اپنی سخت اور توڑنے والی ضربیں دشمن کے پیکر پر لگائیں، نیز زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ سرکشی کرنے والے دنیا سے چلتے بنے اور برزخ میں عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور قیامت کا عذاب بھی ان سے کچھ دور نہیں ہے۔ ضمنی طور پر "اولی النعمة" (صاحبان نعمت) کی تعبیر مال و دولت اور مادی امکانات و وسائل کی زیادتی سے پیدا ہونے والے غرور و غفلت کی طرف اشارہ ہے، جو ایسے لوگوں کو اکثر دامن گیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی طول تاریخ میں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ جیسا کہ قرآن شاہد و گواہ ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ گروہ ہمیشہ مخالفین کی صف اول میں رہا ہے۔ حقیقت میں یہ آیت سورہ سبا کی آیت 34 کے مشابہ ہے، جو کہتی ہے:(وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْـرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَآ اِنَّـا بِمَآ اُرْسِلْتُـمْ بِهٖ كَافِرُوْنَ)" ہم نے کسی شہر و دیار میں کوئی انذار کرنے والا نہیں بھیجا، مگر یہ کہ ان کے مترفین (جو ناز و نعمت میں مست تھے) نے کہا: تم جس چیز کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس سے کافر ہیں، انکار کرتے ہیں۔" حالانکہ اس قسم کے افراد کو دوسروں سے پہلے منادیان حق کی دعوت پر لبیک کہنا چاہیے، تاکہ اس طریقہ سے ان سب خدائی نعمتوں کا شکر بجا لائیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اسی تہدید کو جاری رکھتے ہوئے اور زیادہ صریح صورت میں کہتا ہے: "ہمارے پاس غکَل و زنجیر اور جہنم کی آگ ہے"۔ (اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِـيْمًا)۔ "انکال" "نَکَل" (بروزن فکر) کی جمع ہے اور بوجھل زنجیروں کے معنی ہے اور اصل میں "تَكَل" کے مادہ سے، ضعف و ناتوانی کے معنی میں لیا گیا ہے اور چونکہ وہ زنجیر جو ہاتھ پاؤں اور گردن میں ڈالتے ہیں، انسان کو حرکت کرنے سے روک دیتی ہے، اور ناتواں بنا دیتی ہے، اس لیے یہ لفظ "زنجیر" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہاں! بے قید و شرط آزادی اور اس ناز و نعمت کے مقابلہ میں جو اس دنیا میں رکھتے تھے، وہاں ان کا حصہ قید اور آگ ہوگی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور گلوگیر ہونے والی غذا اور دردناک عذاب ہے"۔ (وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّعَذَابًا اَلِيْمًا)۔ وہ غذا، ان کی دنیا کی چرب و شیریں غذاؤں سے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو آسانی کے ساتھ گلے سے نیچے اتر جاتی تھیں اور مزے دار ہوتی تھیں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ برعکس ہو گی اور اس جہان کے خودغرض، مغروروں اور مستکبرین کی بے حساب آسائش کے مقابل میں دردناک زندگی ہوگی۔ اگرچہ سخت اور گلوگیر غذا خود ایک دردناک عذاب ہے لیکن اس کے عذاب الیم کو الگ ذکر کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آخرت کے عذاب الیم کے ابعاد و جہات اور مختلف پہلو، شدت و عظمت کے لحاظ سے خدا کے علاوہ کسی اور کو معلوم نہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن ایک مسلمان اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا، اور پیغمبر کان دھر کر سن رہے تھے کہ اچانک اس شخص نے چیخ ماری اور بے ہوش ہوگیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد10 ص 380)۔ ایک اور حدیث میں یہ آیا ہے کہ خود پیغمبر اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے اور آپ کی ایسی حالت ہوئی۔ (بحوالہ: روح المعانی، جلد 29، ص107) یہ غذا گلوگیر کیوں نہ ہوگی؟ جبکہ سورہ غاشیہ کی آیہ 6 میں آیا ہے: (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ) "ان کی غذا جانگداز کانٹوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگی"۔ اور سورہ دخان کی آیہ 43، 44 میں آیا ہے:(اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِيْمِ) "زقوم کا درخت (وہی تلخ، بدبودار، بد ذائقہ، کڑوا اور مار ڈالنے والا پودا) گنہ گاروں کی غذا ہے"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس دن کی تشریح کرتے ہوئے جس میں یہ عذاب ظاہر ہوں گے، فرماتا ہے: "اس دن ہو گا جس دن زمین اور پہاڑ شدت سے لرزنے لگیں گے اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ ہوں گے کہ ریت کے تودوں کی طرح نرم ہوجائیں گے۔" (يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا)۔ "کثیب" تہ بہ تہ پڑی ہوئی ریت (ٹیلہ) کے معنی میں ہے اور "مَھیل" "ھَیل" (بروزنِ کیل) کے مادہ سے، ریت اور آٹے جیسی کسی نرم چیز کو دوسری چیز پر ڈالنا، یہاں وہ نرم ریت مراد ہے جسے کبھی قرار نہیں ہوتا۔ اس معنی کی بناء پر قیامت میں اس طرح سے بکھر جائیں گے کہ ایسی نرم ریت کی صورت اختیار کرلیں گے کہ اگر اس پر پاؤں رکھیں گے تو اس میں دھنس جائیں گے۔ قیامت کے دن کے لیے قرآن نے پہاڑوں کی قسمت کے بارے میں مختلف تعبیریں بیان کی ہیں جو سب کی سب ان کی نابودی اور ان کے نرم خاک میں تبدیل ہو جانے کی حکایت کرتی ہیں (پہاڑوں کی نابودی کے مختلف مراحل کی مزید تشریح اور اس سلسلے میں قرآن کی مختلف تعبیریں سورہ طٰہ کی آیہ 105 کے ذیل میں آئی ہیں)۔ اس کے بعد پیغمبرؐ کی بعثت اور منہ زور عربوں کی مخالفت کا موسٰی بن فرعون کے مقابلہ میں قیام سے موازنہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے تمھاری طرف ایسا ہی ایک پیغمبر بھیجا ہے جو تم پر گواہ ہے، جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا"۔ (اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا)۔ اس کا ہدف و مقصد تمھاری ہدایت اور تمھارے اعمال پر نظر رکھنا ہے، جیسا کہ موسٰی بن عمران کا ہدف فرعون اور فرعونیوں کی ہدایت اور ان کے اعمال پر نظر رکھنا تھا۔ "لیکن فرعون اس رسول کی مخالفت کے لیے کھڑا ہو گیا تو ہم نے بھی اسے شدید عذاب اور سزا میں گرفتار کر دیا"۔ (فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنَاهُ اَخْذًا وَبِيْلًا)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نہ تو اس کا عظیم لشکر ہی اسے خدا کے عذاب سے بچا سکا اور نہ ہی مملکت کی وسعت اور حکومت کی قدرت اور ان کے دولت مند اس کام کو روک سکے، اور آخر کار وہ سب کے سب نیل کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں میں ــــــــــ جن پر وہ فخر کیا کرتے تھے ـــــــ غرق ہو گئے، جبکہ تم جو ان سے بہت ہی پست سطح پر ہو اور تعداد اور تیاری کے لحاظ سے فرعون اور فرعونیوں سے درجے زیادہ ضعیف ہو، اپنے بارے میں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیا سوچتے ہو؟ اور اس مختصر سے مال اور افراد پر کس طرح سے مغرور ہوتے ہو؟ "وبیل"، "وبل" کے مادہ سے اصل میں شدید اور سنگین بارش کے معنی میں ہے اور اس کے بعد ہر شدید و سنگین چیز پر اس کا اطلاق ہوا ہے، خصوصاً عذاب کے بارے میں اور زیرِ بحث آیت میں بھی شدتِ عذاب کی طرف ہی اشارہ ہے، گویا لوگوں کو شدید بارش کی طرح اپنے طوفان اور بارش میں قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد پیغمبرِ اسلامؐ کے زمانہ کے کفار کی طرف روۓ سخن کرتے ہوئے، انھیں اس طرح خبردار کرتا ہے: "اگر تم کافر ہو گئے، تو اپنے آپ کو خدا کے شدید عذاب سے کس طرح بچا سکوگے، وہ دن ایسا جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا"۔ (فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُـمْ يَوْمًا يَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبًا)۔ (تشریحی نوٹ: "يَوْمًا" "تَتَّقُونَ" کا مفعول ہے، اور اس دن سے بچنے کا معنی، اس دن کے عذاب سے بچنا ہے، بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ "تَتَّقُونَ" کا ظرف یا "كَفَرْتُمْ" کا مفعول ہے، لیکن یہ دونوں بعید نظر آتے ہیں۔) ہاں! اس دن کا عذاب اتنا زیادہ سنگین، شدید، ہولناک اور کمرشکن ہے، جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا، اور اس کی شدت سے کنایہ ہے۔ آخرت کا عذاب تو اتنا آسان ہے، بعض نقل کرتے ہیں کہ اسی دنیا میں بعض اوقات جب انسان حد سے زیادہ شدید سختی اور تنگی سے گزرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلدی اس کے بال سفید ہو گئے ہیں۔ بہرحال اوپر والی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بالفرض اگر تم اس جہاں میں فرعونیوں کی طرح نابود کرنے والے عذاب میں گرفتار نہ بھی ہوئے، تب بھی قیامت اور قیامت کے عذاب کا ذکر کیا کرو گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعض والی آیت میں اس وحشتناک دن کے بارے میں مزید حال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "اس دن آسمانی کُرے پھٹ جائیں گے اور خدا کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا"۔ (اَلسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌ بِهٖ ۚ كَانَ وَعْدُهٝ مَفْعُوْلًا)۔ قیامت اور "اشراطُ الساعۃ" کی بہت سی آیات (وہ واقعات جو اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز میں، صورت پذیر ہوں گے) عظیم انفجارات، شدید زلزلوں اور سریع تبدیلیوں کا حال بیان کرتی ہیں جبکہ زیرِ بحث آیت ان کے صرف ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب آسمان اور آسمانی کُرے، اس عظمت کے باوجود اس دن کے عظیم حوادث کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے تو اس ضعیف و ناتواں انسان سے کیا ہوسکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ:"شيب" (بروزنِ سیب) "أشیب" کی جمع ہے جو "بوڑھے" کے معنی میں ہے اور اصل میں "شَيب" (بروزنِ عیب) کے مادہ سے لیا گیا ہے اور شَيب بالوں کے سفید ہونے کے معنی میں ہے ؎3 "مُنفَطِر" "انفطار" کے مادہ سے انشقاق اور پھٹ جانے کے معنی میں ہے اور "بِهٖ" کی ضمیر "يوم" کی طرف لوٹتی ہے، یعنی آسمان اس دن کی وجہ سے پھٹ جائے گا (توجہ رہے کہ "سماء" مذکر کی صورت میں بھی اور مؤنثِ مجازی کی صورت میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس بحث کے آخر میں تمام گزشتہ تنبیہوں اور اندازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جو کچھ بیان کیا گیا ہے، یہ نصیحت اور یاد دلانے کے لیے ہے"۔ (اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ)۔ تم راستہ کا انتخاب کرنے میں آزاد ہو: "اور جو شخص چاہے کہ اس کی ہدایت ہو اور وہ سعادتِ ابدی کا طالب ہو تو وہ اپنے پروردگار کی طرف راستہ انتخاب کرلیتا ہے"۔ (فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا)۔ اگر اس راستہ کو طے کرنا جبر و اکراہ کے ذریعہ ہو تو وہ نہ کوئی افتخار کی بات ہے اور نہ ہی فضیلت کی، فضیلت کی بات تو یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے اس راستہ کا انتخاب کرے اور پھر اسے طے کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خدا نے راہ اور جہت کی نشاندہی کر دی ہے اور دیکھنے والی آنکھ اور روشنی بخشنے والا سورج اختیار میں دے دیا ہے اور لوگوں کو یہ صلاحیت بخش دی ہے کہ وہ اس کے فرمان کی اطاعت میں ارادہ و اختیار کے ساتھ عمل کریں۔ اس بارے میں کہ "اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ" (یہ نصیحت اور یادآوری ہے) کا جملہ کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ مفسرین نے کئی احتمال دیئے ہیں: کبھی تو انھوں نے یہ کہا ہے کہ یہ ان مواعظ کی طرف اشارہ ہے جو گزشتہ آیات میں آئے ہیں اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ پوری سورت کی طرف اشارہ ہے یا قرآن کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ حکم نماز اور رات کی عبادت کی طرف اشارہ ہو جو اس سورہ کی پہلی آیات میں آئے ہیں، اور اس میں مخاطب پیغمبر تھے، یہ جملہ چاہتا ہے کہ اسے باقی مسلمانوں کے لیے وسعت دے کر عام کر دے ، اس بناء پر بعد والے جملے میں بھی "سبیل" (راستہ) سے مراد نمازِ تہجد ہی ہے، جو پروردگار کی طرف اہم راستوں میں سے ہے، جیسا کہ سورہ دہر کی آیہ 26 میں رات کی عبادت کا حکم دینے کے بعد (وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٝ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًا) مختصر سے فاصلہ کے بعد فرماتا ہے (اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) جو بالکل وہی زیرِ بحث آیت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان جلد 20 ص 147) یقیناً یہ ایک مناسب تفسیر ہے لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہو اور اس سورہ میں جتنے انسان ساز پروگرام ہیں تمام کو احاطہ کیے ہوئے ہو، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک نکتہ عذاب الہی کے چار مرحلے
ـاوپر والی آیات میں مغرور اور نعمت میں مست تکذیب کرنے والوں کو چار دردناک عذابوں کی تہدید کرتا ہے : طوق اور زنجیریں : (انکال) جہنم کی جلانے والی آگ : (جحیم) سخت گلوگیر ہونے والی مرگبار غذایئں : (وطعامًا ذاغصۃ) اور دوسرے انواع و اقسام کے دردناک عذاب جو انسانی فکر میں بھی نہیں آ سکتے : (وعذابًا الیمًا) یہ سزائیں حقیقت میں اس دنیاوی زندگی میں ان کی وضع و کیفیت کا نقطہ مقابل ہیں۔ ایک طرف ایسی آزادی کا ملنا جس کی کوئی حد اور سرحد نہ ہو ۔ دوسری طرف سے مرفہ اور خوشحال زندگی۔ تیسری طرف خوشگوار غذائیں اور کھانے ۔ چوتھی طرف سے انواع و اقسام کے ارام اور آسائشیں اور چونکہ ان تمام چیزوں کو دوسروں کے حقوق پر ظلم و تجاوز اور کبر و غرور اور خدا سے غفلت کی قیمت پر حاصل کیا ہے، لہذا وہ قیامت میں اس قسم کی سرنوشت میں گرفتار ہوں گے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ
جتنا تمھارے لیے ممکن ہے اتنا قرآن پڑھو
Tafsīr Nemūna · Vol. 11یہ آیت جو اس سورہ کی طویل ترین آیت ہے بہت سے ایسے مسائل پر مشتمل ہے جو گزشتہ آیات کے مضامین کی تکمیل کرتے ہیں، اس بارے میں کہ یہ آیت اس سورہ کی ابتدائی آیات کے احکام کی ناسخ ہے، یا یہ ان کی توضیح و تفسیر ہے، اور اسی طرح یہ کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ ان سوالات کا جواب آیت کی تفسیر کے بعد واضح ہوجاتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تو اور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے، تقریبًا رات کی دوتہائی یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتا ہے۔ خدا اس سے آگاہ کیوں نہ ہو گا، جبکہ رات اور دن کا اندازہ وہی کرتا ہے"۔ (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "نصفہ" اور "ثلثہ" کا عطف "ادنیٰ" پر ہے نہ کہ "ثلثی اللیل" پر۔ اس بناء پر اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ تقریباً رات کی دوتہائی یا ٹھیک آدھی رات کی مقدار یا ایک تہائی رات۔ ضمنی طور پر توجہ کرنی چاہیے کہ لفظ "ادنیٰ" عام طور پر نزدیک مکان کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں قریبی زمانہ کی طرف اشارہ ہے)۔ یہ اسی حکم کی طرف اشارہ ہے جو سورہ کے آغاز میں پیغمبر کو دیا گیا ہے۔ صرف ایک چیز جس کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس عبادت شبانہ میں مومنین کا ایک گروہ بھی پیغمبر کے ہمراہ ہوتا تھا (ایک استجابی حکم کے عنوان سے یا احتمالًا ایک وجوبی حکم کی بناء پر، کیونکہ آغاز اسلام کے حالات کا تقاضا ہی یہ تھا کہ وہ تلاوت قرآن کے ذریعہ، جو انواع و اقسام کے اعتقادی، عملی اور اخلاقی درسوں پر مشتمل ہے، اور اسی طرح عبادات شبانہ کے ذریعہ اپنی تربیت اور اصلاح کریں، اور اسلام کی تبلیغ اور اس کے دفاع کے لیے خود کو آمادہ اور تیار کریں)۔ لیکن جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، بہت سے مسلمان ایک تہائی، آدھی رات اور دوتہائی رات کا حساب رکھنے میں مشکل میں گرفتار ہو جاتے تھے (اور اس وجہ سے کبھی تو وہ ساری رات بیدار رہتے تھے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے، یہاں تک کہ ان کے پاؤں عبادت شبانہ میں ورم کرجاتے تھے)۔ لہٰذا خدا نے ان پر اس حکم میں تخفیف کر دی اور فرمایا: "وہ جانتا ہے کہ تم مذکورہ مقدار کا پورے طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے، اس بناء پر اس نے تمہیں بخش دیا، لہٰذا اب قرآن میں سے جتنی مقدار تمہارے لیے میسر اور آسان ہو اتنی تلاوت کرو"۔ (ۚ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ)۔ "لن تحصوہ" "احصاء" کے مادہ سے شمار کرنے کے معنی میں ہے، یعنی تم پورے طور پر وقت کے ساتھ رات کا وقت دوتہائی، آدھی رات اور ایک تہائی کی مقدار کے لحاظ سے تعین نہیں کر سکتے اور زحمت میں پڑ جاتے ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس کام پر سال کے سارے دنوں میں مداومت نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں بھی جب کہ کئی وسائل کے ذریعہ موقع پر نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں، سارے سال میں ان مقداروں کی وقت کے ساتھ تعین ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خصوصًا رات اور دن میں مسلسل فرق پڑتے رہنے کے ساتھ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کوئی آسان کام نہیں۔ "تاب علیکم" کے جملہ کو اکثر مفسرین نے "اس تکلیف اور ذمہ داری کی تخفیف" کے معنی میں بیان کیا ہے، نہ کہ "گناہ سے توبہ" کے معنی میں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جب وجوب کا حکم اٹھ جائے تو پھر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے اور نتیجہ میں خدا کی بخشش کے مانند ہو گا۔ اس بارے میں کہ "فاقرءوا ما تیسر من القراٰن" (جو کچھ قرآن میں سے تمہارے لیے میسر ہو، پڑھو) کے جملہ سے کیا مراد ہے؟ بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے اس کی نماز تہجد سے تفسیر کی ہے، کیونکہ اس میں حتمی طور پر قرآنی آیات پڑھی جاتی ہیں اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہی تلاوت قرآن ہے، چاہے وہ نماز کے اندر نہ ہو۔ اس کے بعد بعض نے اس کی مقدار پچاس آیات، بعض نے سو آیات اور بعض نے دو سو آیات کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ لیکن ان میں سے کسی بھی تعداد کے لیے کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جتنی مقدار سے انسان زحمت و تکلیف میں نہ پڑے اتنا قرآن پڑھے۔ یہ بات واضح ہے کہ "تلاوت قرآن" سے مراد یہاں وہ تلاوت ہے جو درس و خود سازی اور ایمان و تقویٰ کی پرورش میں تعلیم کے عنوان سے ہو۔ اس کے بعد اس تخفیف کے لیے ایک دلیل کے بیان کو پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "خدا جانتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ بیمار بھی ہو گا اور دوسرا گروہ تحصیل معاش اور راہِ خدا میں جہاد کرے گا۔ یہ امور اس چیز سے مانع ہوں گے کہ رات کی عبادت کو اس حساب اور نصاب کو جو پہلے متعین ہوا ہے، ہمیشہ کے لیے انجام دیتے رہو"۔ (عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُم مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِى الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ)۔ اور یہی چیز اس پروگرام میں تخفیف کا ایک سبب ہے، لہٰذا دوبارہ تکرار کرتا ہے: "اب جبکہ ایسا ہے تو جس قدر تمہارے لیے ممکن ہے اور جتنی تم میں طاقت ہے بس اتنا رات کو قرآن تلاوت کرو"۔ (فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ)۔ یہ بات واضح ہے کہ بیماری اور ضروری سفروں اور اللہ کی راہ میں جہاد کا ذکر نمایاں عذر کی تین مثالوں میں سے ہے، لیکن انہیں تک منحصر نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ چونکہ خدا جانتا ہے کہ تم دن میں زندگی کے مختلف مشکلات میں گرفتار ہو گئے اور یہ چیز اس سنگین پروگرام کو دائمی رکھنے میں مانع ہے۔ لہٰذا اس نے تمہارے لیے اس میں تخفیف کر دی ہے۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ حکم اس چیز کو، جو سورہ کے آغاز میں آئی ہے، منسوخ کرتا ہے؟ یا اس کے لیے استثنائی صورت میں ہے؟ آیات کا ظاہر حکم سابق کے نسخ کو بتاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ضروری تھی کہ یہ پروگرام ایک مدت رہے، اور وہ جاری رہا، اور اس حکم کا مقصد، جو ایک موقت اور فوق العادہ پہلو رکھتا تھا، وہ حاصل ہوگیا اور اس مدت کے ختم ہونے کے بعد، تخفیف کی صورت میں باقی رہ گیا۔ کیونکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ معذور افراد کے موجود ہونے کی وجہ سے، اس حکم کی سب کے لیے تخفیف ہوگئی، نہ کہ صرف معذور لوگوں کے لیے۔ اس طرح سے یہ استثناء نہیں ہوسکتی، بلکہ اسے نسخ ہونا چاہیے (غور کیجیے)۔ یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ: کیا قرآن میں سے ممکن مقدار کی تلاوت، جس کا اس آیت میں دو مرتبہ امر ہوا ہے، واجب ہے یا مستحب ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ یقینی طور پر مستحب ہے اور بعض نے وجوب کا احتمال دیا ہے، کیونکہ قرآن کی تلاوت، توحید کے دلائل، ارسال رسل اور اس آسمانی کتاب کے اعجاز سے آگاہی اور باقی واجبات دین کی تعلیم حاصل کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ اس بناء پر تلاوت قرآن مقدمہ واجب ہے لہٰذا یہ واجب ہوگیا۔ لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ اس صورت میں ضروری نہیں ہے کہ قرآن کو رات کو ہی پڑھے، یا نماز تہجد کے درمیان پڑھے۔ بلکہ ہر مکلف (بالغ و عاقل) پر واجب ہے کہ بمقدار لازم، تعلیم و تربیت اور اصول و فروغ اسلام سے آگاہی کے لیے، اور اسی طرح قرآن کو محفوظ رکھنے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے تلاوت کرے، بغیر اس کے کہ کوئی خاص وقت اور زمانہ اس میں پیش نظر ہو۔ لیکن حق بات یہ کہ "فاقرءوا ......." کے جملہ میں ظاہر امر وجوب ہے (جیسا کہ اصول فقہ میں بیان ہوا ہے)۔ مگر یہ کہ کہا جائے کہ یہ "امر" عدم وجوب پر فقہاء کے اجماع کی بناء پر ایک امر استجابی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آغاز اسلام میں تو حالات و شرائط کی بناء پر یہ تلاوت اور شبانہ عبادت واجب تھی اور بعد میں مقدار کے لحاظ سے بھی اور حکم کے لحاظ سے بھی اس میں تخفیف کر دی گئی ہے اور اس نے ایک استجابی حکم کی صورت اختیار کرلی ہے اور وہ بھی اتنا جتنا کہ آسانی سے ہو سکے۔ لیکن بہرحال پیغمبر اسلام پر نماز تہجد کا وجوب آخر عمر تک ثابت رہا (تمام آیات قرآن اور روایات کے قرینہ سے)۔ ایک روایت میں امام باقر سے آیا ہے: "دوتہائی رات یا آدھی رات یا ایک تہائی رات سے مربوط حکم منسوخ ہوگیا ہے، اور اس کی جگہ "فاقرءوا ما تیسر من القراٰن" قرار پایا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین جلد 5 ص 451)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں تین قسم کے عذر بیان کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک تو جسمانی پہلو رکھتا ہے (بیماری) اور دوسرا مالی پہلو رکھتا ہے (معاش کے لیے مسافرت) اور تیسرا دینی پہلو رکھتا ہے (راہِ خدا میں جہاد)۔ لہٰذا بعض نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاش کی تلاش اور اس کے لیے کوشش کرنا، جہاد فی سبیل اللہ کے ہم ردیف ہے۔ اور اس جملہ کو اس بات کی دلیل سمجھا ہے کہ خاص یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ مکہ میں جہاد کا وجوب نہیں تھا۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ فرماتا ہے: "سَيَكُوْنُ" (عنقریب ہو گا)، ممکن ہے یہ جملہ آئندہ زمانہ میں تشریع جہاد کی خبر ہو۔ یعنی چونکہ کچھ عذر تو تم زمانہ حال میں رکھتے ہو اور کچھ اور عذر آئندہ تمہارے لیے پیدا ہو گا۔ اس لیے یہ حکم دائمی صورت میں نہیں آیا۔ آیت کے مکی ہونے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا۔ اس کے بعد اس آیت کے آخر میں چار اور احکام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور خود سازی کا جو پروگرام پیش کیا گیا ہے، اس کی اسی چیز کے ذریعہ تکمیل کرتا ہے؛ فرماتا ہے: "نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو، اور مستحب انفاق کرنے سے اللہ کو قرضِ حسنہ دو، اور (یہ جان لو) کہ جو کارِ خیر تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو، تم اسے اللہ کے ہاں بہترین صورت میں عظیم ترین اجر کے ساتھ پاؤ گے"۔ (وَاَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَاَعْظَمَ اَجْرًا)۔ "اور استغفار کرو، اللہ سے بخشش طلب کرو کہ اللہ غفور و رحیم ہے"۔ (وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۖ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ)۔ یہ چاروں حکم (نماز، زکوٰۃ، مستحب انفاق اور استغفار) تلاوت کے حکم اور قرآن میں تدبر کے ضمیمہ کے ساتھ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو ماقبل کے جملوں میں بیان ہوا تھا ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مجموعی طور پر خود سازی کا ایک مکمل پروگرام پیش کرتے ہیں، جو ہر عصر و زمانہ میں خصوصًا آغازِ اسلام میں ناقابلِ انکار تأثیر رکھتا تھا اور رکھتا ہے۔ یہاں "نماز" سے مراد پنجگانہ نمازیں ہیں اور "زکوٰۃ" سے مراد زکوٰۃ واجب ہے اور "قرضِ حسنہ" دینے سے مراد وہی مستحب انفاق اور خرچ ہیں، اور یہ انتہائی بزرگوارانہ تعبیر ہے جس کا اس سلسلے میں تصور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ تمام ملکیتوں کا مالک اس شخص سے قرض مانگ رہا ہے، جس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہے، تاکہ اس طریقے سے انفاق و ایثار اور اس عملِ خیر کے ذریعہ کسبِ فضیلت کا شوق بڑھے اور اس طریقے سے اس کی تربیت ہو اور وہ تکامل و ارتقاء حاصل کرے۔ ان احکام کے آخر میں استغفار کا ذکر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان اطاعتوں کی انجام دہی کی وجہ سے خود کو انسانِ کامل سمجھ بیٹھو، اور اصطلاح کے مطابق خود کو طلب گار تصور کرنے لگو؛ بلکہ تمہیں ہمیشہ اپنے آپ کو مقصر شمار کرنا چاہیے اور بارگاہِ خدا میں عذر و معذرت کرتے رہنا چاہیے، ورنہ جو کچھ اس کی خداوندی کے لائق اور سزاوار ہے وہ کوئی شخص بھی بجا نہیں لا سکتا۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ ان احکام پر اس لیے تأکید کی گئی ہے تاکہ یہ تصور نہ کر لیا جائے کہ اگر شبانہ قیام اور تلاوتِ قرآن میں تخفیف کر دی گئی تو باقی پروگرام اور دینی احکام میں بھی اثر انداز ہوں گے، بلکہ وہ اسی طرح اپنی حالت پر باقی ہیں۔(بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد 20 ص 156)۔ ضمنی طور پر زکوٰۃ واجب کے ذکر کو یہاں اس آیت کے مدنی ہونے کی ایک اور دلیل قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ زکوٰۃ کا حکم مدینہ میں تشریع ہوا تھا نہ کہ مکہ میں۔ لیکن بعض نے کہا ہے کہ اصل حکمِ زکوٰۃ مکہ میں ہی نازل ہوا تھا، لیکن اس کا نص اور اس کی مقدار بیان نہیں ہوئی تھیں؛ وہ چیز جو مدینہ میں تشریع ہوئی وہ زکوٰۃ کے نصاب اور مقدار کا مسئلہ تھا۔ پہلے فرماتا ہے: "تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تو اور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے، تقریبًا رات کی دوتہائی یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتا ہے۔ خدا اس سے آگاہ کیوں نہ ہو گا، جبکہ رات اور دن کا اندازہ وہی کرتا ہے"۔ (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "نصفہ" اور "ثلثہ" کا عطف "ادنیٰ" پر ہے نہ کہ "ثلثی اللیل" پر۔ اس بناء پر اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ تقریباً رات کی دوتہائی یا ٹھیک آدھی رات کی مقدار یا ایک تہائی رات۔ ضمنی طور پر توجہ کرنی چاہیے کہ لفظ "ادنیٰ" عام طور پر نزدیک مکان کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں قریبی زمانہ کی طرف اشارہ ہے)۔
چندنکات: 1۔عقیدت کے ساتھ عملی آمادگی کی ضرورت
اہم اجتماعی کاموں کو انجام دینے کے لیے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خاص طور پر زندگی کے تمام حالات میں ایک وسیع و عریض انقلاب پیدا کرنے کے لیے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہر چیز سے پہلے ایک انسانی پختہ اور مصمم طاقت کی ضرورت ہے، جو اس کام کے لیے، راسخ اعتقاد، مکمل آگاہی، ضروری علمی و فکری تعلیمات اور اخلاقی تربیت کے ساتھ بنی ہو۔ اور یہ ایسا دقیق کام تھا جسے پیغمبر اسلامؐ نے، مکہ میں بعثت کے ابتدائی سالوں میں، بلکہ اپنی عمر کے سارے عرصہ میں انجام دیا اور اسی بناء پر اور اسی محکم بنیاد کی وجہ سے، اسلام کے پودے نے سرعت کے ساتھ نشوونما پائی، کونپلیں پھوٹیں اور شاخ و برگ نکالے۔ جو کچھ اس سورہ میں آیا ہے، وہ اس حساب شدہ اور جچے تلے پروگرام کا ایک زندہ اور بہت منہ بولتا نمونہ ہے، دو تہائی رات یا کم از کم ایک تہائی رات کی عبادت نے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو تلاوت اور قرآن مجید کی آیات میں غوروخوض کے ساتھ مقرون تھی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مسلمانوں کی روح میں عجیب و غریب تاثیر پیدا کر دی اور انھیں "قول ثقیل" اور "سجل طویل" کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کر دیا۔ یہ رات کی حرکات اور "شبانہ ناشئات" جو قرآنی تعبیر کے مطابق "اشد وطئًا" اور "اقوم قیلًا" تھیں، آخر کار انھوں نے اپنا کام دکھایا اور محروم عوام اور مستضعف طبقات کا ایک چھوٹا سا گروہ اس طرح کا بن گیا کہ انھوں نے جہان کے ایک عظیم حصہ پر حکومت کرنے کی لیاقت پیدا کرلی۔ اور آج بھی اگر ہم مسلمان چاہیں کہ اپنی دیرینہ عظمت و قدرت کو دوبارہ حاصل کرلیں تو وہ راستہ یہی راستہ ہے اور وہ پروگرام یہی پروگرام ہے۔ ہمیں ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم ایسے افراد کے ساتھ، جو فکر و نظر اور ایمان کے لحاظ سے ضعیف و ناتواں ہیں، ایسے افراد جنھوں نے ضروری علمی اور اخلاقی تربیت حاصل نہیں کی، "یہودیوں" کے تسلط اور غلبہ کو اسلامی ممالک کے اندر سے باہر نکال پھینکیں گے اور جھوٹی جنایت کار سپر طاقتوں کے ہاتھ کو اسلامی ممالک تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے، لیکن "آنجا کہ کس است یک حرف بس است" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
2۔ غور و فکر کے ساتھ تلاوت قرآن
روایاتِ اسلامی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ تلاوتِ قرآن کی فضیلت زیادہ پڑھنے سے نہیں ہے بلکہ اچھی طرح سے پڑھنے اور اس میں سوچ بچار اور غور و فکر کرنے سے ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات کے ذیل میں، جو یہ حکم دیتی ہے کہ قرآن میں جتنا تمھارے لیے میسر ہے، اتنا پڑھو "فاقرء وا ما تیسر منہ" ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا سے آئی ہے کہ آپ نے اپنے جدامجد سے اس طرح نقل فرمایا ہے: ما تیسر منہ لکم فیہ خشوع القلب و صفاء السر "بس اتنا پڑھو جس میں خشوعِ قلب، صفائے باطن اور روحانی و معنوی نشاط حاصل ہو"۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد 10 ص 286اس کیوں نہ ہو جبکہ تلاوت کا ہدف اور مقصدِ اصلی تعلیم و تربیت ہے۔ اور اس سلسلہ میں روایات بہت ہیں۔
معاش کی تلاش، جہاد کے ہمردیف
ایک فقیر، بھوکی اور دوسروں کی محتاج قوم ہرگز استقلال، عظمت اور سربلندی حاصل نہیں کر پائے گی اور اصولی طور پر "جہادِ اقتصادی" "دشمن کے ساتھ جہاد" کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود کا ایک جملہ نقل ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں: ایما رجل جلب شیئًا الی مدینۃ من مدائن المسلمین، صابرًا محتسبًا، فباعہ بسعر یومہ، کان عند اللہ بمنزلۃ الشھداء، ثم قرا "واٰخرون یضربون فی الارض"....... " جو شخص کچھ مال مسلمانوں کے شہر میں لے جائے اور اس راہ میں اپنی زحمتوں کو خدا کے لیے محسوب کرے اور پھر اس کو اس دن کی عادلانہ قیمت میں فروخت کر دے تو ایسا شخص خدا کی بارگاہ میں شہیدوں کی منزلت رکھتا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے سورہ مزمل کی آخری آیت کے اس جملہ کو شاہد کے عنوان سے تلاوت کیا '(واٰخرون یضربون فی الارض)۔(تشریحی نوٹ: مجمع البیان " تفسیر ابوالفتوح رازی" و تفسیر قرطبی " زیر بحث آیت کے آیل میں ، ضمنی طور پر ایک دوسری حدیث سے جو اس کے مشابہ ہے اور تفسیر قرطبی میں رسول اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تھی ، بلکہ یہ پیغبرؐ سے لی تھی)۔ ــــــــــــــــــــــ خداوندا! ہمیں تمام ابعاد و جہات میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بارالٰہا! ہم سب کو رات کے قیام، اور قرآن کریم کی تلاوت اور اس آسمانی کتاب کے نور کے سایہ میں اپنی اصلاح کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگارا! ہمارے اسلامی معاشرے کو اس مضامین سے پر، سورہ سے ہدایت حاصل کرنے کے ساتھ شائستہ مقام اور دیرینہ عظمت تک پہنچا! آمین یا رب العالمین۔