Sūra 79 · 46v
Chapter 7946 verses

An-Nazi'at

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
النازعات
النازعات

سورۂ نازعات

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۶ آیات ہیں۔

سورہِ نازعات کے مضامین اور اس کا دائرہِ فکر

یہ سورہ مثل سورہ نباء کے معاد کے مسائل سے محور کے گرد گردش کرتا ہے اور مجموعہ اس کا چھ حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ ۱- سب سے پہلے ایسی قسموں کے ساتھ تاکید جو مسئلہ معاد سے تعلق رکھتی ہیں، قیامت کے عظیم دن کے تحقّق پر تاکید کی گئی ہے۔ ۲- اس سے بعد کے مرحلہ میں اس دن کے ہولناک اور وحشت ناک بعض مناظر کی طرف اشارہ ہے۔ ۳۔ ایک اور حصّہ میں مختصر سا اشارہ حضرت موسٰیؑ کے قضیہ اور سرکش فرعون کی سرنوشت کی طرف ہے جو پیغمبر(ص) اور مومنین کی تسلّی کا باعث بھی ہے اور سرکش مشرکین کے لیے تنبیہ بھی اور اس طرف بھي اشارہ ہے کہ معاد و قیامت کا انکار انسان کو کن گناہوں میں گرفتار کرتا ہے۔ ۴- بعد والے حصہ میں آسمان و زمین میں قدرتِ خدا کے مظاہر کے کچھ نمونے ہیں جنہیں خود امکانِ معاد اور حیات بعد الممات کے لیے دلیل شمار کیا جا سکتا ہے۔ ٥۔ ایک مرتبہ پھر اس عظیم دن کے وحشت ناک حوادث اور سرکشوں کے انجام اور نیکوکاروں کے اجر کی تشریح کرتا ہے۔ ۶۔ سورہ کے آخر میں اس حقیقت کی تاکید ہے کہ کوئی شخص بھی اس دن کی تاریخ سے باخبر نہیں ہے لیکن اس قدر مسلّم ہے کہ وہ نزدیک ہے۔ اس سورہ کے لیے نازعات کے نام کا انتخاب اس کی پہلی آیت کی وجہ سے ہے۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: (من قرأ سورة "والنازعات" لم یكن حبسه و حسابه يوم القيامة الّا کقدر صلٰوة مكتوبة حتّٰى يدخل الجنة)۔ "جو شخص سورہ نازعات کو پڑھے تو قیامت کے دن اس کا توقف و حساب روزانہ کی ایک نماز پڑھنے کی مقدار کے برابر ہو گا، اس کے بعد وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲۸)۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: (و من قرأها لم يمت الّاريّان و لَم يبعثه الله الّا ريّان ولم يدخله الجنة الّا ريّان)۔ "جو شخص اس سورہ کو پڑھے تو وہ اس دنیا سے سیراب ہو جائے گا اور خدا اسے سیراب ہی محشور کرے گا اور سیراب ہی جنت میں داخل کرے گا۔" (حق تعالٰی کی رحمت بےپایاں سے سیراب)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲۸)۔ مسلّم ہے کہ جو شخص اس سورہ کے مضمون کو جس کی دل ہلا دینے والی آیتیں سوئی ہوئی ارواح کو بیدار کرتی ہیں اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں، اپنے دل میں جگہ دے اور اس پُرخلوصِ دل سے عمل کرے تو وہ مذکورہ اجر پائے گا۔ یقینًا وہ افراد اس اجر کو نہیں پا سکیں گے جو صرف الفاظ کے پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

1
79:1
وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا
قسم ہے ان فرشتوں کی جو مجرموں کی ارواح ان کے جسموں سے شدت کے ساتھ کھینچتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
79:2
وَٱلنَّـٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا
اور وہ فرشتے جو مومنین کی ارواح نرمی و مدارات کے ساتھ نکالتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
79:3
وَٱلسَّـٰبِحَٰتِ سَبۡحٗا
اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو حکم الٰہی کے اجراء میں جلدی کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
79:4
فَٱلسَّـٰبِقَٰتِ سَبۡقٗا
اور پھر ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
79:5
فَٱلۡمُدَبِّرَٰتِ أَمۡرٗا
اور وہ جو امور کی تدبیر کرتے ہیں۔

تفسیر اُن انتھک فرشتوں کی قَسم

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

ان آیات میں پانچ موضوعات کی قسم کھائی گئی ہے اور ان قَسموں کا مقصد مسئلہ معاد و قیامت کی حقانیّت اور اس کے تحقق کو بیان کرنا ہے۔ فرماتا ہے: "ان کی قسم جو سختی سے کھینچتے اور اکھاڑتے ہیں۔" (وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا)۔ اور ان کی قسم جو راحت و آرام کے ساتھ جدا کرتے ہیں۔ (وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا)۔ اور ان کی قسم جو سرعت و تیزی سے چلتے ہیں۔ (وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا)۔ اور وہ جو اچھی طرح سبقت لے جاتے ہیں۔ (فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا)۔ اور وہ جو امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ (فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا)۔ اس سے پہلے کہ ہم ان آیات کی تفسیر پیش کریں جو الفاظ ان میں استعمال ہوئے ہیں مناسب ہے کہ باریک بینی کے ساتھ ان کی وضاحت کی جائے۔ "نازعات" ، "نزع" کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی کسی چیز کو اس جگہ سے اکھاڑنا یا کھینچنا ہیں، مثلاً كمان کو تیر پھینکتے وقت کھینچنا۔ کبھی کبھی یہ لفظ معنوی امور میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دل سے عداوت اور محبت کا نزع اس کے اکھاڑ پھینکنے کے معنی میں ہے۔ (بحوالہ: مفردات راغب مادہ "نزع")۔ "غرق" (ر کے زبر کے ساتھ) (بروزنِ شفق) بہت سے اربابِ لغت کے بقول پانی میں ڈوب جانے کے معنی دیتا ہے کبھی کبھی کسی شدید حادثہ میں مبتلا ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے اور غرق بروزن فرق بقول ابن منظور (در لسان العرب) ایک اسم ہے جو مصدر کا جانشین ہوا ہے اور اغراق کے معنی میں ہے، اغراق کے معنی اصل میں آخری نقطہ تک کمان کو کھینچنے کے ہیں۔ اس کے بعد مبالغہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اوپر والی آیت میں آیا ہے وہ غرق ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کسی کام کو اس کی ممکن حد تک انجام دینے کے معنوں میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: کتاب لسان العرب، تفسير مجمع البیان، تفسیر کشاف اور مجمع البحرین سے رجوع کیا جائے)۔ "ناشطات" ، "نشط" (بروزن ہشت) کے مادہ سے اصل میں گرہ کھولنے کے معنی میں ہے جو آسانی سے کھل جاتی ہے۔ اور وہ کنویں جن کی گہرائی کم ہے اور ان میں سے ڈول آسانی سے ایک ہی دفعہ میں باہر آجاتا ہے انہیں انشاط کہا جاتا ہے اور بطور کلّی یہ لفظ ہر قسم کی اس حرکت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سہولت کے ساتھ انجام پا جائے۔ "سابحات" ، "سبح" (بروزن سطح) کے مادہ سے پانی یا ہوا میں سریع و تیز حرکت کے معنوں میں ہے۔ اس لیے پانی میں نہانے یا گھوڑے کے تیز چلنے یا تیزی سے کسی کام کے پیچھے جانے کو کہا جاتا ہے۔ تسبیح جو خدا کو ہر عیب و نقص سے پاک شمار کرنے کے معنی میں ہے، وہ بھی اسی سے لی گئی ہے۔ گویا جو شخض تسبیح کرتا ہے وہ پروردگار کی عبادت کی راہ میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔ "سابقات" ، "سبقت کے مادہ سے، آگے نکل جانے کے معنی میں ہے۔ چونکہ گوئے سبقت لے جانا عام طور پر تیز چلنے کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے کبھی کبھی اس مادہ سے سرعت اور تیزی کے مفہوم کا فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ "مدبرات" تدبیر کے مادہ سے کسی چیز کی عاقبت اور انجام کے بارے میں غور و فکر کرنا اور سوچنا ہے۔ چونکہ عاقبت اندیشی اور آئندہ کے بارے میں سوچنا کام کے احسن طریقہ پر انجام پانے کا سبب ہوتا ہے لہذا لفظ تدبیر اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اب اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کچھ ان آیات کے الفاظ کے معنی کے بارے میں کہا گیا ہے ہم تفسیر کی طرف رُخ کرتے ہیں۔ یہ پانچ قسمیں جو ابتدا میں ابہام کے ہالے میں گِھری ہوئی ہیں اور ابہام بھی ایسا جو بہت زیادہ غور و فکر کا متقاضی ہے، ذہن و فکر کو نئی جولانی عطا کرتا ہے اور باریک بینی و مطالعہ کا تقاضا کرتا ہے، وہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ کن افراد یا چیزوں کی طرف اشارہ ہیں۔ مفسرین نے اس سلسلہ میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور بہت سی تفسیریں کی ہیں جن میں سے عمدہ تفسیریں تین محوروں کے گرد گھومتی ہیں۔ ۱- ان قسموں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار و مجرمین کی ارواح کو قبض کرنے پر مامور ہیں جو ان روحوں کو بڑی شدت سے کفار و مجرمین کے جسموں سے نکالیں گے۔ وہ ارواح و نفوس جو حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر بالکل آمادہ نہ تھے۔ اور وہ فرشتے جو مومنین کی روحیں قبض کرنے پر مامور تھے جو مدارات، نرمی اور نشاط کے ساتھ انہیں جدا کرتے ہیں۔ وہ فرشتے جو فرمان الٰہی کے اجراء میں سرعت کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو امورِ عالم کی اس کے فرمان کے ماتحت تدبیر کرتے ہیں۔ ۲- یہ قَسمیں اشارہ ہیں آسمان کے تاروں کی طرف جو ہمیشہ ایک افق سے اکھاڑے جاتے ہیں اور دوسرے افق کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ آہستہ آہستہ چلتا ہے اور دوسرا گروہ تیزی سے راستہ طے کرتا ہے۔ یہ سب عالمِ بالا کے سمندر میں تیر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہیں اور آخرکار ان تاثیروں کی بناء پر جو ان ستاروں میں ہے (جیسے سورج اور چاند کے نور کی تاثیر کرہ زمین میں) وہ خدا کے فرمان سے امورِ جہان کی تدبیر کرتے ہیں۔ ۳- مراد جنگجو، غازی یا مجاہدین راہ خدا کے گھوڑے ہیں جو اپنے گھروں اور وطنوں سے اکھڑ جاتے ہیں اور جدا ہو جاتے ہیں اس کے بعد نشاط، نرمی اور آرام کے ساتھ میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہیں اور جنگی امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ مفسرین نے ان تفاسیر کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے۔ پانچ قَسموں میں سے کچھ کو ایک تفسیر سے اور دوسرے حصہ کو دوسری تفسیر سے لیا ہے لیکن کلام کی بنیاد وہی مذکورہ بالا تین تفسیریں ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے چوتھا احتمال پیش کیا ہے۔ موجودات کی طبیعی، ارادی اور صنعتی حرکتوں کی قسم مراد لیا ہے۔ مثلاً ایک نطفہ اپنی اصلی جگہ جو باپ کا صلب ہے وہاں سے اکھڑ کر رحم مادر میں داخل ہو کر قرار پاتا ہے تو اپنی رفتار کر آہستہ آہستہ جاری رکھتا ہے اور تیز ہو جاتا ہے اور نطفے کے مواد حیاتی ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور آخرکار مکمل انسان بنا دیتے ہیں اور اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ حرکات ارادی میں بھی انسان پہلے ارادہ کرتا ہے پھر آہستہ سے چل پڑتا ہے، پھر تیز ہو جاتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے سبقت حاصل کرے۔ آخر میں اپنے امر اور اجتماعی زندگی کی تدبیر کرتا ہے۔ اسی طرح صنعتی وسائل مثلاً ہوئی جہاز اپنی حرکت میں ان تمام مراحل کو طے کرتا ہے۔ (لیکن اس تفسیر کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے))۔ جن کے درمیان کوئی تضاد موجود نہیں ہے۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ اوپر والی آیات سے ان سب کی طرف اشارہ ہو لیکن ان سب میں سے پہلی تفسیر، ان نکات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو ذیل میں درج کیے جائیں گے، زیادہ مناسب ہے۔ پہلے یہ کہ یہ تفسیر روزِ قیامت سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ سورہ کی تمام آیات اس مفہوم کو لیےہوئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ سورہ مرسلات کی ان ہی جیسی آیات سے مناسبت رکھتی ہیں جو آغاز میں ہیں۔ ایک بات بھی ہے کہ (فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا) کا جملہ زیادہ تر فرشتوں سے مناسبت رکھتا ہے جو امر خدا سے کاروبار جہاں کی تدبیر کرتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی اس کے اوامر کی انجام دہی سے روگردانی نہیں کرتے۔ (لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ) (انبیا / ۲۷)۔ خصوصاً یہ کہ تدبیر امور کا مسئلہ یہاں بصورتِ مطلق بیان ہوا ہے اور اس میں کوئی قید و شرط نہیں لگائی گئی ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر، ائمه معصومین(ع) سے کچھ روایات ان آیات کی تفسیر میں مروی ہیں جو انہی معانی سے مناسبت رکھتی ہیں۔ منجمله دیگر روایات کے ایک روایت ہمیں حضرت علیؑ کی ملتی ہے کہ آپ نے (وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا) کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: "اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روحیں نہایت شدت کے ساتھ ان کے جسموں سے نکالیں گے جس طرح تیرانداز کمان کو آخری مرحلہ تک کھینچتا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص ۴۹۷، حدیث ۴)۔ ایسے ہی معاني انہی جناب سے والناشطات، والسابحات اور فالمدبرات کی تفسیر میں نقل ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص ۴۹۷، حدیث ۷ ، ۸ ، ۱۲)۔ البتہ اسی تفسیر کو زیادہ کلّی اور زیادہ عمومی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مومنین اور کفار کی روحوں کا قبض ہونا ممکن ہے کہ اس کا ایک مصداق ہو، لیکن اس کے تمام مضامین کو صرف اسی عنوان میں محدود کر دینا مناسب نہیں، جیسا کہ اس طرح کہا جائے کہ ان قسموں سے مراد تمام تر وہ فرشتے ہیں جو خدا کے تمام اوامر کا اجراء کرتے ہیں اور یہ اجرا پانچ مرحلوں میں تحقق پاتا ہے۔ پہلا مرحلہ پہلی شدید حرکت اور دو ٹوک ارادہ اور فیصلہ، اس کے بعد آہستہ آہستہ چل پڑنا، پھر اس میں سرعت اور تیزی اور ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنا اور آخری امور کی تدبیر اور کاموں کو ترتیب دینا۔ لیکن بہرحال فرشتوں کا پروگرام کفار و مومنین کی ارواح کو قبض کرنے کے سلسلہ میں اس مفہوم کلّی کا ایک مصداق ہے اور سورہ کے آئندہ مباحث کے لیے ایک تمہید شمار ہوتا ہے جو معاد کے بارے میں ہیں۔

دو سوالوں کا جواب

یہاں دو سوال باقی رہ جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ نازعات اور ناشطات جمع مؤنث ہیں تو کس مناسبت سے یہاں استعمال ہوئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ پہلی قسم واوِ قسم کے ساتھ شروع ہوئی ہے لیکن چوتھی اور پانچویں قسم میں اس کی جگہ 'ف' ہے جو عطف یا تفریع کے لیے آتی ہے۔ پہلے سوال کے جواب میں اس نکتہ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ نازعات نازعة کی جمع ہے جس کے معنی فرشتوں کے ایک طائفہ کے ہیں جو اس پروگرام کو انجام دیتا ہے۔ اسی طرح "ناشطات" اور باقی جمع کے صیغے۔ اور چونکہ طائفہ ایک مؤنث لفظی ہے لہذا اس کی جمع اسی شکل میں آئی ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ سبقت لے جانا حرکتِ سریع کا نتیجہ ہے جو سابحات سے معلوم ہوتی ہے اور تدبیر امور بھی اسی مجموع حرکت کا نتیجہ ہے۔ آخری بات جو یہاں کہنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ یہ تمام قَسمیں ایک مطلب کو بیان کرنے کے لیے ہیں جو صراحت کے ساتھ آیت میں بیان نہیں ہوا، لیکن قرینہ کلام سے بعد والی آیات سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ کہے "ان امور کی قسم تم سب آخرکار مبعوث و محشور ہو گے اور قیامت و معاد حق ہے۔" (تشریحی نوٹ: تقدیر میں اس طرح ہے "لتبعثن یوم القیامۃ و لتحشرن و لتحاسبن")۔

6
79:6
يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ
جس دن وحشت ناک زلزلے ہر چیز کو لر زا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
79:7
تَتۡبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ
اور اس کے پیچھے دوسرا حادثہ ( صیحہ عظیم ) رونما ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
79:8
قُلُوبٞ يَوۡمَئِذٖ وَاجِفَةٌ
دل اس روز سخت مضطرب ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
79:9
أَبۡصَٰرُهَا خَٰشِعَةٞ
اور ان کی آنکھیں خوف کی شدت کی وجہ سے دھنسی ہوئی ہوں گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
79:10
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرۡدُودُونَ فِي ٱلۡحَافِرَةِ
( لیکن آج) وہ کہتے ہیں کیا ہم نئی زندگی کی طرف پلٹ جائیں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
79:11
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا نَّخِرَةٗ
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے ( ممکن ہے کہ ہم زندہ ہوں ؟)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
79:12
قَالُواْ تِلۡكَ إِذٗا كَرَّةٌ خَاسِرَةٞ
وہ کہتے ہیں اگر قیامت ہے تو نقصان دہ باز گشت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
79:13
فَإِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ
لیکن یہ باز گشت صرف ایک عظیم صیحہ (فریاد) سے واقع ہوگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
79:14
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ
اچانک سب کے سب زمین پر ظاہر ہو جائیں گے۔

تفسیر معاد صرف ایک عظیم چنگھاڑ سے رونما ہو گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

بعد اس کے کہ قیامت کا وقوع گزشتہ آیات میں تاکیدی قسموں کے ساتھ ایک امر حتمی و یقینی کی صورت میں بیان ہوا، زیرِبحث آیات میں اس عظیم دن کی نشانیوں اور حوادث کی تشریح کر کے فرماتا ہے: "یہ قبروں سے اٹھنا ایسے دن ہو گا جس میں وحشتناک زلزلے ہر چیز کو لرزہ براندام کر دیں گے۔" (يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ)۔ "پھر دوسرا عظیم حادثہ رونما ہو" (تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ)۔ "راجفہ"، "رجف" (بر وزن کشف) کے مادہ سے اضطراب اور شدید لرزے کے معنوں میں ہے اور چونکہ فتنہ انگیز خبریں معاشرہ کے اضطراب کا سبب ہوتی ہیں لہذا انہیں اراجیف کہتے ہیں۔ "رادفه" ، "ردف" (بروزن حرف) کے مادہ سے ایسے شخص یا چیز کے معنوں میں ہے جو دوسری چیز یا شخص کے پیچھے ہو، اسی لیے اس شخص کو جو مرکب پر دوسرے کے پیچھے بیٹھے اسے ردیف کہتے ہیں۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ راجفہ سے مراد وہی پہلا صیحہ ہے یا پہلے صور کا پھونکا جانا ہے جو عالم کو فنا کرنے والی ناقوس ہے اور ایسا زلزلہ ہے جو دنیا کو فنا کر کے رکھ دے گا اور رادفہ دوسرا صیحہ یا دوسرے صور کا پھونکا جانا ہے جس سے قیامت کا برپا ہونا اور نئی زندگی کی طرف بازگشت متعلق ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیئے کہ رجف کا مادہ فعل متعدی کی شکل میں بھی آتا ہے اور فعل لازم کی شکل میں بھی۔ پہلی شکل میں راجفہ اس عظیم زلزلے کے معنی میں ہے جس میں زمین اور تمام موجودات لرزنے لگیں گے۔ دوسری صورت میں راجفہ خود زمین کے معنوں میں ہے جو لرزنے لگے گی۔ (غور کیجئے))۔ اس بنا پر آیت اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ زمر کی آیت ۶۸ میں آئی ہے۔ (وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُم قِيَامٌ يَنظُرُونَ) صور پھونکا جائے گا اور وہ تمام لوگ جو زمین اور آسمانوں میں ہیں، مدہوش ہو جائیں گے اور مر جائیں گے، سوائے اس کے جسے خدا چاہے گا۔ اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ اچانک سب کھڑے ہو کر حساب کے انتظار میں ہوں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ راجفہ اس زلزلے کی طرف اشارہ ہے جو زمین کو لرزہ براندام کر دے گا اور رادفہ وہ زلزلہ ہے، جو آسمانوں کو درہم برہم کر دے گا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس دن وہ دل سخت اور مضطرب ہوں گے۔" (قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ)۔ مجرموں، گنہگاروں اور سرکشی کرنے والوں کے دل شدید طور پر لرز رہے ہوں گے اور وہ حساب و کتاب اور جزا و سزا کے منتظر ہوں گے۔ "واجفه"، "وجف" (بروزنِ حذف) کے مادہ سے اصل میں سرعتِ سیر کے معنی میں ہے اور "اوجفت البعير" اس مقام پر کہا جاتا ہے جہاں انسان اونٹ کو بہت تیز چلانے لگے اور چونکہ تیز چلنا اضطراب کا باعث ہے اس لیے یہ لفظ شدتِ اضطراب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ اندرونی اضطراب اس قدر شدید ہو گا کہ اس کے آثار گنہگاروں کے سارے وجود میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے، "ان کی آنکھیں شدتِ خوف و ہراس سے نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں گی" (أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: ابصارها کی ضمیر قلوب کی طرف لوٹتی ہے جو یہاں نفوس و ارواح کے معنی میں ہیں اور یہ اضافت اس بناء پر ہے کہ انسانی حواس کے تاثرات سب اس کی روح اور ان سے متعلق ہیں اور اضطراب و وحشت کا منبع جو آنکھوں میں و وحشت ہے جو روح پر سایہ فگن ہے)۔ "اس دن آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں گی اور حرکت نہیں کر سکیں گی اور خیرہ ہوں گی۔ گویا وہ لوگ شدتِ خوف سے اپنی نگاہ گم کر دیں گے۔ اب گفتگو کو قیامت سے دنیا کی طرف لے آیا ہے اور فرماتا ہے: "ان سب چیزوں کے باوجود وہ اس دنیا میں کہتے ہیں کیا ہم دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔" (يَقُولُونَ أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ)۔ "حافرہ"، حفر کے مادہ سے زمین کے کھودنے کے معنی میں ہے اور جو اس کھودنے کا اثر باقی رہ جاتا ہے اسے حفر کہتے ہیں۔ گھوڑے کے سُم کو حافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ زمین کو کھودتا ہے۔ اس کے بعد حافرہ کنایہ کے طور پر پہلی حالت میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ انسان جس راستے سے جاتا ہے، زمین کو اپنے پاؤں سے کھودتا ہوا جاتا ہے اور اس طرح اس کے پاؤں کے نشان باقی رہ جاتے ہیں اور جب واپس لوٹتا ہے تو انہیں پہلے نشانات پر قدم رکھتا ہے اس لیے یہ لفظ پہلی حالت کے معنی میں آیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیئے کہ اسم فاعل یہاں اسم مفعول کے معنی میں ہے اور حافرہ محفور کے معنی میں ہے)۔ بعد والی آیت ان کی باتوں کو نقل کرتے ہوئے کہتی ہے: کیا جس وقت ہم بوسیدہ اور پراگندہ ہڈیوں کی شکل میں ہو گئے تو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹیں گے۔" (أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ "(أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً نرد احیاء)" یا (ءانا لمبعوثون)۔ یہ وہی چیز ہے جس پر منکرین معاد و قیامت ہمیشہ انحصار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات باور نہیں کی جا سکتی کہ ریزہ ریزہ ہو جانے والی بوسیدہ ہڈی دوبارہ بدن میں لباسِ حیات پہنے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ اس صورت حال اور ایک زندہ وجود کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ دیکھتے تھے۔ وہ گویا فراموش کر چکے تھے کہ ابتداء میں بھی اسی خاک سے پیدا ہوئے تھے۔ "نخرہ" صفت مشبہ ہے (نخر بروزن نخل) کے مادہ سے اور اسی طرح (بروزن شجر) اصل میں بوسیدہ اور کھوکھلے درخت کے معنوں میں ہے۔ جب ہوا چلتی ہے تو وہ آواز دیتا ہے۔ وہ آواز جو ناک میں گردش کرتی ہے اُسے نخیر کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لفظ ہر بوسیدہ اور ٹوٹے پھوٹے وجود کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ منکرینِ معاد صرف اسی پر قناعت نہیں کرتے بلکہ معاد کا مذاق اڑاتے ہیں اور تمسخر کے انداز میں کہتے ہیں: " اگر قیامت ہوتی ہے تو یہ نقصان دہ بازگشت کا سبب ہے، ہماری حالت اس روز سخت اور درد ناک ہو گی۔" (قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ)۔ دوسرا احتمال جو اس آیت کی تفسیر میں ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات مذاق کے طور پر نہیں بلکہ سنجیدگی سے ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر دوبارہ زندگی کی طرف واپس لوٹنا ہے تو ایک فضول اور بے ہودہ قسم کا لوٹنا ہے اور یہ نقصان دہ ہے۔ اگر زندگی اچھی چیز ہے تو کیا ہی بہتر ہو کہ خدا اس زندگی کو باقی رکھے اور اگر بُری ہے تو پھر بازگشت کس لیے ہے۔ (أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "حافرہ" گڑھے کے معنوں میں ہے۔ وہ بھی تفسیر کے لئے قرینہ بن سکتا ہے، لیکن مفسرین کے درمیان جو مشہور ہے وہ پہلی تفسیر ہے۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ گزشتہ آیات میں "يقولون" کی تعبیر آئی ہے جو ان کی جانب سے اس بات کی تكرار اور استمرار کی نشانی ہے۔ لیکن "قالوا" (انہوں نے کہا) کی تعبیر زیر بحث آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس بات کی وہ ہمیشہ تکرار نہیں کرتے تھے۔ یہ بات ان سے کبھی کبھار سرزد ہوتی تھی اور یہ نکتہ ہے اس تعبیر کے مختلف ہونے کا۔ ان آیات کے آخر میں ایک مرتبہ پھر قیام قیامت اور حشر کے برپا ہونے کے مسئلہ کی طرف رُخ کرتے ہوئے دو ٹوک اور سرکوبی کرنے والے انداز میں فرماتا ہے: "یہ بازگشت صرف ایک صیحہ اور عظیم فریاد سے واقع ہو گی" (فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ)۔ اچانک سب کے سب کھڑے ہو جائیں گے (فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ)۔ یہ کام پیچیدہ اور مشکل نہیں ہے جب بھی بحکم خدا دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا اور زندگی کی اذان دی جائے گی تو تمام مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں ایک ہی مرتبہ جمع ہو جائیں گی اور ان میں جان پڑ جائے گی اور سب قبروں سے نکل کر باہر آ جائیں گے۔ "زجرة" اصل میں اس فریاد اور بلند آواز کے معنی میں ہے جو کسی کے ہانکنے کے لیے نکالی جاتی ہے اور یہاں دوسرے نفخے کے معنوں میں ہے۔ "زجرة واحدة " کی تعبیر کا انتخاب ان دونوں الفاظ کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے قیامت کے تیزی سے اور ناگہانی طور پر برپا ہونے اور خدا کی قدرت کے سامنے اس کے نہایت آسان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے کہ قیامت کے فرشتے یا صور اسرافیل کی ایک تحکمانہ آواز مُردوں کے بدن کو زندگی کا لباس پہنا دے گی اور وہ عرصۂ حشر میں حساب کتاب کے لیے حاضر ہو جائیں گے۔ "ساهرة" ، "سهر" (بروزن سحر) کے مادہ سے شب بیداری کے معنوں میں ہے اور چونکہ وحشت ناک حوادث رات کی نیند اڑا دیتے ہیں، پھر قیامت کی زمین نہایت دہشت انگیز ہے اس لیے عرصہء حشر کے لیے لفظ، ساھرہ، صرف کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ "ساهرہ" ہر بیابان کو کہتے ہیں چونکہ اصولی طور پر تمام بیابان وحشت ناک ہوتے ہیں گویا وحشت کی بنا پر رات کی نیند اڑا دیتے۔ (بحوالہ: لسان العرب مادہ سھر اور مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲۹، تفسیر قرطبی، جلد ۱٠، ص ۶۹۹)۔

15
79:15
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
کیا تجھ تک موسیٰ کی داستان نہیں پہنچی ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
79:16
إِذۡ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوًى
جس وقت اس کے پروردگار نے سر زمین مقدس طویٰ میں اس کو پکارا اور کہا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
79:17
ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
فر عون کی طرف جا کہ وہ سر کش و باغی ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
79:18
فَقُلۡ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ
اور اس سے کہہ! کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
79:19
وَأَهۡدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخۡشَىٰ
اور میں تجھے تیرے پروردگار کی طرف ہدایت کروں تاکہ تو اس سے ڈرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
79:20
فَأَرَىٰهُ ٱلۡأٓيَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰ
اس کے بعد موسیٰ نے اسے(فرعون کو) عظیم معجزہ دکھایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
79:21
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
لیکن اس نے تکذیب اور نافرمانی کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
79:22
ثُمَّ أَدۡبَرَ يَسۡعَىٰ
پھر پشت پھیری اور اس نے ( دین موسیٰ کو مٹانے کی ) مسلسل کو شش کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
79:23
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
اور جادوگروں کو جمع کیا اور لوگوں کو دعوت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
79:24
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ
اور کہا میں تمہارا بہت بڑا پروردگار ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
79:25
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلۡأٓخِرَةِ وَٱلۡأُولَىٰٓ
اس لئے اللہ نے اسے آخرت کے اور دنیاکے عذاب میں گرفتار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
79:26
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ
اس میں عبرت ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

تفسیر فرعون کہتا تها که میں تمہارا بہت بڑا خدا ہوں

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

نسبتًا تفصیلی بیانات کے بعد جو گزشتہ آیات میں مسئلہ معاد اور مشرکین کے انکار و مخالفت کے بارے میں آئے تھے زیرِ بحث آیات میں تاریخ کے ایک بہت بڑے سرکش یعنی فرعون اور اس کی دردناک سرنوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ مشرکینِ عرب بھی جان لیں کہ ان سے زیادہ طاقتور افراد بھی خدا کے غضب اور عذاب کے مقابلہ میں تاب مقاومت نہ لا سکے، اور وہ مومنین کو بھی جوش دلائے کہ وہ دشمن کی ظاہری طاقت کی برتری سے دل میں خائف نہ ہوں، اس لیے کہ ان کو درہم برہم کرنا اور ان کی سرکوبی کرنا خدا کے لیے بہت آسان ہے۔ پہلے یہاں سے شروع کرتا ہے: "کیا تجھ تک موسٰی کی داستان پہنچی ہے؟" (هَلْ أتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى)- قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے مقصد کلام کو استفهام کے ساتھ شروع کرتا ہے تاکہ سننے والے کے شوق کو بیدار کرے اور وہ اس عبرتناک داستان کو سننے کے لیے آمادہ ہو۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "جس وقت اس کے پروردگار نے اسے سرزمین مقدس طویٰ میں پکارا" (إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى)۔ (تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین نے اذ کو "حدیث" کے لیے ظرف زمان سمجھا ہے۔ البتہ یہ اس صورت میں صحیح ہےکہ جب حدیث خود حادثہ کے معنی میں ہو نہ کہ حادثہ کی حکایت کے معنی میں ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "اذ" فعل محذوف کے لیے ظرف ہو اور تقدیر میں (اذکر اذ ناداه ... ) ہو۔ (غور کیجئے))۔ "طوى " ہو سکتا ہے کہ مقدس سرزمین کا نام ہو جو شام میں مدین و مصر کے درمیان واقع تھی اور وحی کا پہلا شعلہ اسی بیابان میں موسٰی کے دل پر نازل ہوا۔ یہی تعبیر سورہ طٰہٰ میں بھی آئی ہے جہاں موسٰی ایک ندا سنتے ہیں جو کہتی ہے: (إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى) "مَیں تیرا پروردگار ہوں۔ اپنے جوتے اتار دے کہ تُو وادی مقدس طویٰ میں ہے۔" (طہ / ۱۲)۔ یا "طویٰ" طی کے مادہ سے ہے اور وصفی معنی رکھتی ہے جو لپیٹنے کے معنی میں ہے، گویا وہ زمین پاکیزگی و برکت میں لپٹی ہوئی ہے، یا راغب کے بقول ضروری تھا کہ حضرت موسٰیؑ ایک طولاني راستہ طے کریں یہاں تک کہ وحی کے لیے آمادہ ہوں لیکن خدا نے اس راستے کو ان کے لیے لپیٹ دیا تھا اور اس کو مقصد کے قریب کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ پیغام جو خدا نے موسٰی کو اس سرزمینِ مقدس میں دیا تھا اس کی طرف دو مختصر اور پُرمعنی جملوں میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "فرعون کی طرف جا کہ اس نے سرکشی کی ہے۔" (اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى)۔ "اور اس سے کہہ کیا تُو چاہتا ہے کہ پاک و پاکیزہ ہو جائے۔" (فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَى أَن تَزَكَّى)۔ اور پاک ہونے اور محبوب کی ملاقات کے قابل ہونے کے بعد میں اپنے پروردگار کی طرف تجھے ہدایت کروں تاکہ تُو اس سے ڈرے اور غلط دعویٰ سے الگ ہو جائے۔ (وَأَهْدِيَكَ إِلَى رَبِّكَ فَتَخْشَى)۔ چونکہ ضروری ہے کہ ہر دعوت فکر دلیل کے ہمراہ لائے، اس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "موسٰی نے اس گفتگو کے بعد اس کو عظیم معجزہ دکھایا۔" (فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَى)۔ (تشریحی نوٹ: مسلّم ہے کہ اس وادی مقدس میں اس خطابِ الٰہی اور اس عظیم معجزے کے دکھانے کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا قرآن نے اختصار کے پیش نظر دوسرے مطالب یہاں حذف کر دیئے ہیں اور وہ سب تقدیر میں ہیں)۔ یہ معجزہ چاہے عصا کا عظیم اژدہے میں تبدیل ہونا ہو، یا یدِ بیضا ہو، یا دونوں ہوں (اس بنا پر الف لام (الْآيَةَ الْكُبْرَى) میں جنس کی طرف اشارہ ہو) جو کچھ جو بھی تھا موسٰی کے عظیم معجزات میں سے تھا کہ جس پر آغاز تبلیغ میں انحصار کیا ہے۔ ان چار آیات میں جاذب نظر نکات یہ ہیں جن کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ ۱- فرعون کی طرف جانے کی علت فرعون کی سرکشی ہے اور یہ چیز بتاتی ہے کہ انبیاء کے مبعوث ہونے کا ایک عظیم مقصد سرکشی کرنے والوں کی ہدایت یا ان کے سا تھ دو ٹوک مبارزہ تھا۔ ۲۔ فرعون کو دعوت فکر دینے کے لیے نہایت نرم اور خیر خواہانہ تعبیر کے ساتھ حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے: "اس سے کہہ کیا تو میل اور رغبت رکھتا ہے کہ تُو پاک و پاکیزہ ہو جائے (مطلق پاکیزگی جو شرک و کفرسے پاکیزگی بھی ہے اور ظلم و فساد کی ناپاکی سے بھی) اس تعبیر کے مشابہ جو سورہ طٰہٰ کی آیت ۴۴ میں آئی ہے۔ (فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا) "اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرو۔" ۳۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ انبیاء کی رسالت کا مقصد انسانوں کا پاک کرنا ہے اور ان کی طرف پہلی فطری طہارت کو لوٹانا ہے۔ یہ نہیں کہتا کہ مَیں تجھے پاک کروں بلکہ کہتا ہے کہ تُو پاکیزگی کو قبول کرے۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ پاک ہونا اپنی خواہش کے نتیجے میں ہو، نہ یہ کہ باہر سے اس پر یہ بات لادی جائے۔ ۴- پاک ہونے کے بعد ہدایت کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے خود کو پاک و صاف کیا جائے پھر کُوئے دوست میں قدم رکھا جائے۔ ٥- ربك (تیرا پروردگار) کی تعبیر حقیقت میں اس نکتہ کی تاکید ہے کہ مَیں تجھے ایسی ذات کی طرف لے جاؤں گا جو تیرا ملک، مربی اور پروش کرنے والا ہے تو پھر کیوں راہِ سعادت سے گریز کرتا ہے۔ ۶- خدا ترسی خدا کی طرف سے ہدایت کا نتیجہ ہے۔ جی ہاں شجرِ توحید و ہدایت کا ثمر یہی ہے کہ انسان جان لے کہ اسے خدا کے سامنے حاضر ہو کر جوابدہ ہونا ہے، اس لیے کہ خوفِ خدا کبھی معرفت خدا کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، اسی لیے تو سورہ فاطر کی آیت ۲۸ میں ہم پڑھتے ہیں (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ) صرف علماء اور صاحبانِ معرفت ہی خدا سے ڈرتے ہیں۔ ۷- حضرت موسیؑ سب سے پہلے اس کی شفقت آمیز ہدایت کی طرف جاتے ہیں۔ اس کے بعد عقلی و منطقی ہدایت کرتے ہیں بذریعہ آیت کبریٰ، یعنی بہت بڑا معجزہ دکھا کر۔ اور یہ مؤثرترین راہِ تبلیغ ہے۔ پہلے خیر خواہی اور محبت کے انداز سے مقابل کو متاثر کرے اور پھر استدلال و حجت کے ساتھ اسے قائل کرے۔ اب دیکھیں کہ فرعون نے اس لطف و محبت اور اس منطق و بیان زیبا اور آیتِ کبریٰ کے دکھانے کے مقابلہ میں کیا رویہ اختیار کیا۔ یہ سرکش خیرہ سر، مرکب غرور سے بالکل نیچے نہیں اترا۔ اور جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے اس نے موسٰیؑ کی دعوتِ فکر کی تکذیب کی اور پروردگار کی نافرمانی کی (فَكَذَّبَ وَعَصَى)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ تکذیب عصیان و نافرمانی کی تمہید ہوتی ہے جس طرح تصدیق ایمان و اطاعت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اس پر بھی قناعت نہیں کی اور موسٰیؑ کی دعوت فکر کے مقابلہ میں وہ صرف الگ ہی نہیں، بلکہ اس نے پشت پھیری اور بلا تامل موسٰیؑ سے لڑنے اور ان کے دین کو برباد کرنے کی کوشش کرنے لگا (ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى)۔ (تشریحی نوٹ: ثم کی تعبیر جو عام طور پر دو حادثوں کے درمیان فاصلہ کے لیے آتی ہے ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ فرعون نے ایک مدت کا فاصلہ دیا ہو تاکہ اس کے موسٰیؑ سے مبارزہ کرنے کا نقشہ مکمل طور پر مضبوط اور تیار ہو جائے)۔ اور چونکہ موسٰیؑ کا معجزہ اس کی ساری سرکشی کی طاقت کو خطرہ میں ڈالتا تھا، اس لیے اس نے اپنے مامورین ہر شہر میں بھیجے تاکہ وہ جادوگروں کو جمع کریں اور لوگوں میں منادی کریں کہ وہ موسٰیؑ اور جادوگروں کا مقابلہ دیکھیں (فَحَشَرَ فَنَادَى)۔ اگرچہ قرآن نے یہاں لفظ حشر کو مطلق بیان کیا ہے لیکن سورہ اعراف کی آیت ۱۱۱ ، ۱۱۲ (وَأَرْسِلْ فِي الْمَدَآئِنِ حَاشِرِينَoيَأْتُوكَ بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ) کے قرینہ سے اور نادٰی کی تعبیر سے جو اگرچہ مطلق ہے ظاہراً فرعون کے لوگوں کو جمع کرنے اور اس مقابلے کے منظر کو دیکھنے کی دعوت دینے کی طرف اشارہ ہے اور سورہ شعراء کی آیت ۳۹ (وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ) "اور لوگوں سے کہا گیا تم جمع ہو گے۔" کے قرینے سے بھی۔ پھر بھی ان سازشوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بدترین تعبیروں کے ساتھ عظیم ترین دعویٰ کرتے ہوئے کہا: مَیں تمهارا بہت بڑا پروردگار ہوں (فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى)۔ واقعی عجیب سی بات ہے کہ یہ خیرہ سر طاغي و سرکش جب مرکب غرور و تکبر و خود پرستی پر سوار ہوتے ہیں تو پھر کسی مقام پر رُکنے کا نام نہیں لیتے، حتٰی کہ دعوٰیٰ خدائی پر بھی قناعت نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ خداؤں کے خدا ہو جائیں۔ یہ بات ضمنی طور پر اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تم بتوں کی پوجا کرتے ہو تو وہ اپنی جگہ پر محترم سہی لیکن میں افضل ترین ہوں اور تمہارا معبود ہوں۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ فرعون سورہ اعراف کی آیت ۱۲۷ کی شهادت سے (أَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُواْ فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ) کیا تُو موسٰیؑ اور اس کی قوم کو اجازت دیتا ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو اپنی حالت پہ چھوڑ دیں۔ فرعون جو ایک بت پرست تھا لیکن یہاں دعوٰی کرتا ہے میں تمھارا بہت بڑا پروردگار ہوں یعنی وہ اپنے آپ کر اپنے معبود سے بهی بالاتر خیال کرتا ہے۔ یہ ہیں سرکشوں کی بیہودہ گوئیاں۔ اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک جگہ صرف الوہیت کا دعوٰی کرتا ہے۔ (مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرِي)۔ مَیں اپنے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں جانتا۔ (قصص / ۳۸)۔ لیکن زیر بحث آیت میں ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہے اور ربوبیت کا دعوٰیٰ کرتا ہے اور کہتا ہے مَیں تمہارا پروردگار ہوں۔ یہ ہے لائحہ عمل ان ہلکے دماغ والے مغروروں کا۔ بہرحال فرعون نے اپنی سرکشی کو آخری مرحلہ تک پہنچایا اور بہت زیادہ دردناک عذاب کا مستحق ہوا۔ فرمان الٰہی آن پہنچا اور وہ اور اس کی ظلم و فساد کی قوت درہم برہم ہو گئی۔ اس لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: خدا نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں گرفتار کیا (فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى)۔ (تشریحی نوٹ: نکال منصوب ہے "بنزع الخافض" اور تقدیر میں "فاخذه الله بنكال الأخرة" تھا۔ یہ احتمال بهی ہے کہ اخذ کا مفعول مطلق ہو جو "نکّل" کے معنی میں ہے (باب تفعیل کا فعل ماضی ہے) اور معنی کے لحاظ سے "نكل اللہ به نكال الأخرة" ہے)۔ "نکال" (بروزن ضلال) کے معنی اصل میں ضعف و ناتوانی اور عجز کے ہیں۔ اسی لئے اس شخض کے بارے میں جو رقم کی ادائیگی کا خکم نہ دے، کہتے ہیں کہ اس نے نکول کیا۔ "نکل" (بروزن فکر) اس بھاری زنجیر کو کہتے ہیں جو انسان کو کمزور کر دے اور چلنے سے روک دے۔ چونکہ عذاب الٰہی بھی ناتوانی کا باعث ہے اور دوسرے افراد کو ارتکاب گناہ سے روکتا ہے اسی لیے اسے "نکال" کہا گیاہے۔ "نکال الأخرة" کی تعبیر سے قیامت کے اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو فرعون اور اس کے پیروکاروں پر نازل ہو گا اور چونکہ وہ اہم ترین ہے لہذا اُسے مقدم سمجھا گیا ہے۔ اولٰی سے مراد دنیاوی عذاب ہے جو فرعون پر نازل ہوا اور اس نے فرعون کے سب یار و انصار کو دریائے نیل میں غرق کر دیا۔ یہاں اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ الاولٰی سے مراد وہ پہلا کلمہ اور لفظ ہے جو فرعون نے اپنی سرکشی کے راستے میں کہا اور الوہیت کا دعوی کیا ۔ (قصص / ۳۸) اور "الأخرة" آخری کلمہ اور لفظ کی طرف اشارہ ہے جو اس نے کہا اور ربوبیت اعلٰی کا دعوٰی کیا۔ خدا نے اسے ان دونوں کفر آمیز دعوؤں کی سزا اس دنیا میں دی۔ یہ معنی ایک حدیث میں امام محمد باقرؑ سے منقول ہیں۔ امام نے مزید فرمایا ہے کہ ان دونوں جملوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا (اور خدا نے انتہائی اتمام حجت کے لیے) اس مدت میں اس پر عذاب نازل نہیں کیا۔ یہ تفسیر اخذ کے لفظ کے ساتھ، جو فعل ماضی ہے اور بتاتا ہے کہ یہ سزا مکمل طور پر دنیا میں واقع ہوئی اور اس کے بعد کی آیت جو اس واقعہ کو درسِ عبرت شمار کرتی ہے زیادہ موافق ہے۔ انجام کار آخری زیرِ بحث آیت میں اس واقعہ کی تکمیل سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس موسٰی اور فرعون کی داستان اور اس کے انجام کو پہنچنے میں، ان کے لیے جو خدا سے ڈرتے ہیں ایک عظیم درس عبرت ہے، (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَى)۔ یہ آیت اچھی طرح بتاتی ہے کہ اس قسم کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو خوفِ خدا اور احساس ذمہ داری کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عبرت حاصل کرنے والی نظر رکھتے ہیں اور اچھائی اور بُرائی سے درسِ عبرت لینا جن کا اصول ہے۔ جی ہاں! یہ تھی فرعون جیسے سرکش کی سرنوشت تاکہ رؤسائے مشرکینِ عرب میں جو فرعون تھے اور وہ دوسرے لوگ جو ہر زمانے میں فرعون کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں، اپنا حساب و کتاب دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ یہ تاریخ کا قطعی فرمان اور خدا کی نہ بدلنے والی سنت ہے۔

ایک نکتہ قرآن کی فصاحت کا ایک گوشہ

مندرجہ بالا آیات میں غور و فکر کرنے سے قرآن کی انتہائی فصاحت و بلاغت نظر آتی ہے۔ ان چند مختصر سطروں میں موسٰیؑ و فرعون کے تمام واقعہ کا خلاصہ، محرک رسالت، مقصدِ رسالت، تزکیہ کا وسیلہ، دعوتِ فکر کی کیفیت، ردِ عمل کی کیفیت، فرعون کی سازش کی کیفیت، اس کے فضول اور بے بنیاد دعووں کا نمونہ اور آخرکار اس مست بادہُ غرور کو ملنے والی دردناک سزا اور آخری درس عبرت کا فائدہ تمام بیدار مغز انسانوں کو پہنچا ہے، یہ سب موجود ہے۔

27
79:27
ءَأَنتُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُۚ بَنَىٰهَا
کیا موت کے بعدتمہاری تخلیق مشکل ہے یا آسمان کی تخلیق جس کی اللہ نے بنیاد رکھی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
79:28
رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّىٰهَا
اس کی چھت کو بلند کیا ور اسے منظم کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
79:29
وَأَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَأَخۡرَجَ ضُحَىٰهَا
اور اس کی رات کو تاریک اور دن کو آشکار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
79:30
وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ
اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
79:31
أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا
اس میں سے اس کا پانی نکالا اور اس کی چراگاہ کو تیار کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
79:32
وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا
اور پہاڑوں کو ثابت و محکم کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
79:33
مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ
یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لئے ہے۔

تفسیر تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمانوں کی؟ (معاد پر ایک دوسری دلیل)

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

حضرت موسٰیؑ اور فرعون کی سرگزشت تمام سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کے لیے ایک درسِ عبرت کے طور پر پشں کرنے کے بعد دوبارہ معاد اور قیامت کے مسئلہ کی طرف لوٹتا ہے اور عالمِ ہستی میں اپنی غیر متناہی قدرت کے نمونے امکانِ معاد کے لیے ایک دلیل کے طور پر بیان کرتا ہے اور انسانوں کو جو لامحدود نعمتیں اس نے دی ہیں ان کے کچھ حصوں کی تشریح کرتا ہے تاکہ شکر گزاری کے اس احساس کو جو خدا کی معرفت کا سرچشمہ ہے انسانوں کے دل میں بیدار کرے۔ پہلے منکرین معاد کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ایسے استفہام کے طور پر جو تنبیہ کا پہلو لیے ہوئے ہے فرماتا ہے: "کیا تمھاری تخلیق (موت کے بعد زندگی کی طرف بازگشت زیادہ مشکل ہے یا اُس باعظمت آسمان کی تخلیق جس کی خدا نے بنیاد رکھی ہے۔" (أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا)۔ (تشریحی نوٹ: یہ آیت حقیقت میں محذوف رکھتی ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (ام السماء أَشَدُّ خَلْقًا) اور "بناها" ایک جملہ مستانفہ ہے اور بعد میں آنے والی آیت کا مقدمہ ہے)۔ یہ گفتگو حقیقت میں ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔ وہ کہتے تھے۔ (أَئِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ)۔ "کیا ہم پہلی حالت کی طرف پلٹ جائیں گے۔" یہ آیت کہتی ہے کہ ہر انسان ادراک و شعور کے کسی مرحلہ میں بھی ہو وہ جانتا ہے کہ اس بلند آسمان کی تخلیق، یہ تمام عظیم کُرے اور لاتعداد کہکشائیں، ان کی تخلیق صاف طور پر بتاتی ہے کہ انسان کی تخلیق ان کے مقابلہ میں کوئی شے نہیں ہے۔ لہذا جو یہ قدرت رکھتا ہو وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرنے سے کس طرح عاجز ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس عظیم آفرینش کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "آسمان کی چھت کو اس نے بلند کیا اور اُسے منظم و مرتب و موزوں کیا۔" (رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا)۔ "سمك" (بروزن سقف) کے معنی اصل میں بلندی کے ہیں۔ یہ چھت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ فخر رازی کی تفسیر کبیر میں ہے کہ کسی چیز کی بلندی کا جب اوپر والی سمت سے نیچے کی طرف اندازہ لگائیں تو اُسے عمق کہتے ہیں اور اگر نیچے کی طرف سے اوپر کا اندازہ لگائیں تو اسے سمک کا نام دیا جاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی / جلد ۳۱، ص ۴۶)۔ "سواها" تسویہ کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی کسی چیز کی تنظیم اور اُسے موزوں بنانے کے ہیں۔ یہ اشارہ ہے اس عظیم و دقیق نظم و ضبط کی طرف جو تمام آسمانی کرات میں کار فرما ہے۔ اگر سمک سے مراد چھت ہو تو پھر ہَوا کے خطہ کی طرف اشارہ ہے جس نے محفوظ و محکم چھت کی طرح اطرافِ زمین کو گھیر رکھا ہے اور اُسے آسمان کی طرف سے آنے والے منتشر پتھروں کے حملے سے، اور ایسی شعاؤں سے، جو موت کا سبب بن سکتی ہیں، محفوظ کر رکھا ہے۔ بعض مفسرین مندرجہ بالا تعبیر کو آسمان کے کرّوی ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے اس نے اطراف زمین کو گھیر رکھا ہے اور وہ اس لیے کہ تسویہ اس سقف کے مرکز اصلی یعنی اجزائے زمین کے مساوی فاصلہ کی طرف اشارہ ہے جو کرویت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ آیت آسمان کے بلند ہونے اور ہم سے آسمانی کُرّوں کے بہت زیادہ طویل اور آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرنے والے فاصلہ کی طرف اشارہ ہے اور اطراف زمین کی محفوط سقف کی طرف بھی اشارہ ہے۔ بہرحال یہ آیت اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ مومن کی آیت ٥۷ میں آئی ہے (لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ اہم ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس کے بعد اس عظیم عالم کے ایک اہم ترین نظام کی، یعنی نور و ظلمت کے نظام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس کی رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا۔" (وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا)۔ جن میں سے ہر ایک، انسان اور دوسرے زندہ موجودات کی زندگی میں، عام اس سے کہ وہ حیوان ہوں یا نباتات بہت گہرا اثر رکھتا ہے۔ نہ تو انسان نور و روشنی کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے کیونکہ تمام برکتیں اور رزق کی نعمتیں اس کی حس و حرکت کے ساتھ وابستہ ہیں، نہ ظلمت کے بغیر اس کی زندگی ممکن ہے جو اس کے سکون و آرام کی رمز ہے۔ (تشریحی نوٹ: زندہ موجودات کی زندگی میں نور و ظلمت کے اہم آثارکے سلسلہ میں جلد ۸، ص ۳۴۳ و جلد ۱۲، ص ۴۱ و جلد ۱۶ ص ۱۴۶ پر ہم تفصیلی بحثیں کر چکے ہیں)۔ "اغطش" ، "غطش" (بروزن عرش) کے مادہ سے تاریکی کے معنی دیتا ہے۔ لیکن راغب مفردات میں کہتا ہے کہ اس کی اصل "اغطش" سے لی گئی ہے جو اس شخص کے معنی میں ہے جو اپنی آنکھ میں نور کم رکھتا ہو۔ اور ضحیٰ اس موقع کے معنوں میں ہے جب سورج کی روشنی آسمان و زمین میں پھیلتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: قابلِ توجہ یہ ہے کہ "لیلھا" کی ضمیر اور"ضحاها" کی ضمیر آسمان کی طرف لوٹتی ہے اور نور و ظلمت کی نسبت آسمان کی طرف اس بنا پر ہے کہ اس کا منبع آسمانی ہے)۔ اس کے بعد آسمان سے زمین کا رُخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "زمین کو اس کے بعد پھیلایا (اور بچھایا)- (وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا)- "دحا" ، "دحو" (بروزن محو) کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی ہیں پھیلانا۔ بعض مفسرین نے اسے کسی چیز کو اس کی اصل سے ہلانے کے معنی میں لیا ہے اور چونکہ یہ دونوں معافی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں لٰہذا ایک ہی روحِ كلام رکھتے ہیں۔ بہرحال "دحو الارض" سے مراد یہ ہے کہ ابتداء میں تمام سطح زمین کو اس پانی نے گھیر رکھا تھا جو پہلی سیلابی بارش سے حاصل بوا تھا۔ پانی آہستہ آہستہ زمین کے گڑھوں میں جگہ لیتا گیا، خشکیوں نے پانی کے نیچے سے سر نکالا اور روز بروز اس میں وسعت پیدا ہوتی گئی، یہاں تک کہ موجودہ حالت میں نمودار ہو گئی (یہ مسئلہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد پیدا ہوا)۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے بعد ذالك کی تعبیر جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہے اس کی تفسیر "اس کے علاوہ" کی ہے۔ اب آیت کے معنی یہ بنتے ہیں کہ جو گزشتہ آیات میں آیا ہے، زمین کو بچھایا اور پھیلایا)۔ زمین کو بچھانے اور زندگی کے لیے اس کے آمادہ ہو جانے کے بعد پانی اور نباتات کی بات درمیان میں لایا ہے اور فرماتا ہے: "خدا نے زمین سے اس کے پانی کو نکالا اور اسی طرح اس کی چراگاہوں کو" (أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا)۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ پانی زمین کی نفوذ پذیر کھال کے درمیان چھپا ہوا تھا۔ اس کے بعد چشموں اور نہروں کی شکل میں جاری ہوا۔ یہاں تک کہ دریاؤں اور سمندروں کی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔ "مرعی" اسم مکان ہے اس کے معنی چراگاہ ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے اسے مصدر میمی کے طور پر لیا ہے جسں کے معنی چرنے کے ہیں لیکن مناسب وہی مذکورہ بالا معانی ہیں)۔ اصل میں "رعی" سے حیوان کی حفاظت و نگهبانی کے معنی لیے جاتے ہیں چاہے غذا کے لحاظ سے ہو یا دیگر جہات سے، اسی لیے مراعات، مخافظت و نگہبانی اور تدبیر امور کے معنی میں آیا ہے اور مشہور حدیث (كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته) بھی یہی بتاتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کو خود پر لازم سمجھیں۔ (بحوالہ: مفردات راغب مادہ "رعی")۔ لیکن چونکہ مختلف عوامل زمین کے آرام و سکون کو درہم برہم کر سکتے تھے، علاوہ دوسرے عوامل کے مثلاً بڑے بڑے مستقل طوفان اور مد و جزر جو زمین کی سطح پہ چاند سورج کی کشش سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح زلزلے جو زمین کے اندر پگھلنے والے مواد کے دباؤ سے معرضِ وجود میں آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کو خدا نے پہاڑوں کے اس طاقتور جال کے ذریعہ، جس نے تمام روئے زمین کو گھیر رکھا ہے، کنٹرول میں رکھا اور زمین کو سکون و آرام دیا۔ اسی لیے فرماتا ہے: "اور پہاڑوں کو زمین میں ثابت و محکم کیا" (وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "ارسی" از مادہ "رسو" (بروزن رسم ) ثابت ہونے کے معنی میں ہے اور "ارسی" اس کے متعدی معانی کو بتاتا ہے یعنی پہاڑوں کو ثابت قدم رکھا)۔ انسانوں کی زندگی اور سکون و آرام میں پہاڑوں کے گہرے اثرات کے بارے میں تفصیلی بحث ہم سورہ رعد کی آیت ۳ کے ذیل میں (جلد ٥، ص ۶۲۴) کر چکے ہیں۔ آخر میں فرماتا ہے: "ان سب چیزوں کو اس نے اس لیے انجام دیا تاکہ تمہارے فائدہ اٹھانے کا سبب ہو اور اور تمہارے چوپایوں کے لیے وسیلہ و ذریعہ ہو۔" (مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ) – جی ہاں! آسمان کو بلند کیا، نور و ظلمت کا نظام قائم کیا، زمین کو بچھایا اور پھیلایا اور اس سے پانی اور نباتات کو نکالا، پہاڑوں کو زمین کی حفاظت کا نگهبان قرار دیا اور انسان کی زندگی کے تمام وسائل فراہم کیے اور سب کو انسان کا فرمانبردار قرار دیا تاکہ انسان زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے اور غافل نہ رہے اور ان تمام فرمانبرداروں کا پاس کرتے ہوئے جو اللہ نے اس کے لیے پیدا کیے ہیں فرمانِ الٰہی کا فرمانبردار ہو۔ یہ سب ایک طرف مسئلہ معاد کے اثبات کے لیے اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور دوسری طرف معرفتِ توحید کی راہ میں اس کی عظمت کی دلیلیں ہیں۔

34
79:34
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ
جس وقت وہ عظیم حادثہ رونما ہوگا(یعنی قیامت آ جائے گی)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
79:35
يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ
تو اس دن انسان اپنی کوشش کو یاد کرنے لگے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
79:36
وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
اور جہنم ہر دیکھنے والے کے لئے ظاہر ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
79:37
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
لیکن جس شخص نے سر کشی کی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
79:38
وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا
اور اس نے دنیا کی زندگی کو مقدم رکھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
79:39
فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ
یقیناً جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
79:40
وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ
اور جو شخص اپنے پروردگار کے مرتبہ و مقام سے واقف ہے اور اس نے اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
79:41
فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ
جنت اس کی جگہ ہے۔

تفسیر وہ جو اپنے نفس کو هوا و هوس سے باز رکهیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

اس اشارہ کے بعد جو گزشتہ آیات میں معاد کے بعض دلائل کے بارے میں گزرا، زیرِ بحث آیات میں قیامت، اس میں خدا سے ڈرنے والوں اور ہوائے نفس کے پرستاروں کی سرنوشت کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جس وقت وہ عظیم حادثہ رونما ہو گا تو نیکوکاروں اور بدکاروں میں سے ہر ایک اپنے اعمال کی جزا کو پہنچے گا" (فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى)۔ (تشریحی نوٹ: "اذا" شرطیہ ہے اور اس کی جزا بعض مفسرین کے بقول بعد والی آیات میں (فَأَمَّا مَن طَغَى... وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ) آئی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی جزا کو اس طرح محذوف کیا جائے جو بعد والی آیات سے معلوم ہوتی ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے "فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى يجزی كل انسان بما عمل"۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ اس کی جزا يوم يتذكر الانسان سے معلوم ہوتی ہے لیکن یہ احتمال بعید ہے)۔ "طامة" ، "طم" (بروزن فن) کے مادہ سے پُر کرنے کے معنوں میں آتا ہے اور وہ چیز جو اعلٰی ہو اسے "طامة" کہتے ہیں اسی لیے سخت حوادث اور عظیم مصائب و مشکلات سے پُر ہیں ان پر بھی طامۃ کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں قیامت کی طرف اشارہ ہے جو ہولناک حوادث سے پُر ہے۔ اس کی انتہائی توصیف کے ساتھ اس بےمثال حادثہ کی اہمیت و عظمت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ عظیم حادثہ جس وقت وقوع پذیر ہو گا سب کے سب خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں گے اور انسان اپنی کوشش اور اپنے اعمال کو خواہ وہ اچھے ہوں یا بُرے، یاد کرے گا۔" (يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ مَا سَعَى)۔ لیکن اعمال کا یہ یاد کرنا انہیں فائدہ نہ دے گا۔ اگر انسان دنیا کی طرف واپس لوٹنے اور گزشتہ اعمال کی تلافی کرنے کے لیے مہلت طلب کرے گا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور اس مطالبہ کے جواب میں کلّا کہیں گے۔ اگر توبہ کرے گا اور اپنے اعمالِ بد کی معافی مانگے گا تو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا کیونکہ توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوں گے۔ لہذا سوائے آہ بھرنے کے اور افسوس کرنے کے کوئی اور چارہ کار نہ ہو گا اور بقول قرآن اگر وہ دونوں ہاتھوں کو دانتوں سے بھی کاٹیں گے تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ "وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ" (فرقان - ۲۷)۔ توجہ کرنی چاہیئے کہ يتذکر فعل مضارع ہے اور عام طور پر استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اس روز انسان اپنے اعمال کو مسلسل یاد کرے گا۔ یہ اس بنا پر کہ اس روز انسان کی روح اور اس کے قلب کے آگے سے پردے اٹھ جائیں گے اور تمام پوشیدہ حقائق اس پر آشکار ہو جائیں گے۔ اس کے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "اس دن جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے آشکار ہو گا" (وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَى)۔ جہنم اس وقت بھی موجود ہے، بلکہ سورہ عنکبوت کی آیت ٥۴ (وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ)۔ کے مطابق کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، لیکن عالمِ دنیا کے پردے اس کی رؤیت سے مانع ہیں ۔ وہ دن جو ہر چیز کے آشکار ہونے کا دن ہو گا، اسی روز جسم ہر چیز سے زیادہ آشکار ہو گا ۔ "لِمَن يَرَى" کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ جہنم اس دن اس قدر آشکار ہو گا کہ ہر شخص بلا استثناء اسے دیکھے گا۔ وہ کسی سے مخفی نہ ہو گا۔ نہ اچھے لوگوں سے، نہ بُرے لوگوں سے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ جملہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اس دن چشم بینا رکھتے ہوں گے کیونکہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۲۴ کے مطابق بعض لوگ اس دن نابینا محشور ہوں گے (وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى) لیکن پہلے معنی جنہیں تمام مفسرین نے قبول کیا ہے زیادہ مناسب نظر آتے ہیں، اس لیے کہ جہنم بدکاروں کے لیے خود عذاب ہے، کئی گُنی سزا ہے اور ایک گروہ کا محشر میں نابینا ہونا ممکن ہے بعض مواقف میں ہو نہ کہ تمام مواقف میں۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلہ میں مزید وضاحت جلد۷، سُورہ طٰہٰ کی آیت ۲۴ کے ذیل میں ہو چکی ہے)۔ باقی رہا وہ شخص جو سرکشی کرے (فَأَمَّا مَن طَغَى)۔ اور دنیاوی زندگی کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔ (وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا) - تو یقینًا جہنم اس کی جگہ اور ملجا و ماویٰ ہے۔ (فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى) ۔ (تشریحی نوٹ: آیت میں محذوف ہے اور تقدیر میں "هي المأوى له يا هي مأواہ" ہے اور ضمیر وضاحت کی بنا پر حذف ہوئی ہے)۔ پہلے جملے میں ان کے عقیدہ کے خراب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے کہ طغیانی و سرکشی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا خدا کی معرفت نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ جو شخص خدا کو اس کی عظمت کے ساتھ پہچان لے تو وہ اپنے آپ کو بہت خفیف اور چھوٹا دیکھے گا اور کبھی بھی جادۂِ عبودیت سے انحراف نہیں کرے گا۔ دوسرا جملہ ان کے عملی فساد کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ طغیان و سرکشی سبب بنتے ہیں کہ انسان دنیا کی جلد ختم ہو جانے والی لذتوں اور اس کی چمک دمک کو زیادہ قیمتی سمجھے اور ہر چیز پر انھیں ترجیح دے۔ یہ دونوں درحقیقت ایک دوسرے کے علت و معلول ہیں۔ طغیان اور عقیدہ کا خراب ہونا فسادِ عمل اور دنیا کی ناپائیدار زندگی کو ہر چیز پر ترجیح دینے کا سرچشمہ ہے۔ آخرکار یہ دونوں جہنم کی جلا دینے والی آگ ہیں۔ حضرت علیؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں (ومن طغٰی ضل علٰى عمل بلا حجة) جو شخض سرکشی کرے وہ گمراہ ہو جائے گا اور ایسے اعمال کرے گا جن کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد٥، ص٥٠۶، حدیث۴۳)۔ یہ چیز خود کو بڑا سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اس طرح اپنی تمام خواہشات کو بغیر کسی منطقی دلیل قبول کر لیتا ہے اور اس کے لیے اوج(قدر و قیمت) کا قائل ہوتا ہے۔ اس کے بعد جنّتیوں کے اوصاف کو مختصر اور بہت ہی پُرمعنی جملوں میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور باقی رہا وہ شخص جو اپنے پروردگار کے مرتبہ سے ڈرے اور نفس کو ہوا و ہوس سے روکے..." (وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى)۔ "تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے" (فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى)۔ جی ہاں جنتی ہونے کی پہلی شرط خوف ہے جو معرفت سے پیدا ہو۔ پروردگار کے مقام کو پہچاننا اور اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرنا۔ دوسری شرط جو حقیقت میں پہلی شرط کا نتیجہ اور معرفت و خوف کے درخت کا ثمر ہے، وہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کو زیرِ تسلط رکھا جائے اور اسے سرکشی نہ کرنے دی جائے، اس لیے کہ ہوائے نفس تمام گناہوں، مفاسد اور بدبختیوں کا سرچشمہ ہے۔ یہ بدترین اور قابلِ نفرت بُت ہے جسے معبود بنا لیا گیا ہے۔ (ابغض اله عبد علٰى وجه الارض الهٰوی) یہاں تک کہ وجود انسان میں شیطان کے نفوذ کا ذریعہ بھی ہوائے نفس ہے۔ اگر یہ اندرونی شیطان اور بیرونی شیطان ہم آہنگ نہ ہوں اور اندرونی شیطان اس پر دروازہ نہ کھولیں تو اس کا وارد ہونا ممکن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن کہتا ہے (إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ)۔ "تجھے کبھی بھی میرے بندوں پر تسلط حاصل نہ ہو گا مگر وہ گمراہ جو تیری پیروی کرتے ہیں۔" (حجر/ ۴۲)۔

چند نکات ۱- مقامِ رب کیا ہے

قابلِ توجہ یہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں فرماتا ہے: "جو شخص اپنے پروردگار کے مقام سے ڈرے۔" یہ نہیں فرماتا: "جو اپنے پروردگار سے ڈرے" یہ کہ مقام سے کیا مراد ہے اس سلسلہ میں متعدد تفاسیر ہیں۔ ۱۔ پہلی تفسیر یہ ہے کہ اس مقام سے مراد مختلف مواقف قیامت ہیں جن میں انسان بارگاہ خداوندی میں حساب و کتاب کے لیے ٹھہرے گا۔ اس تفسیر کی بنا پر "مقام ربه" کے معنی (مقامه عند ربه) انسان کا بارگاہِ خدا میں کھڑا ہونا ہیں۔ ۲۔ مراد خدا کا علم اور تمام بندوں کے بارے میں اس کا مقام مراقبت و نگهبانی ہے جیسا کہ سورہ رعد کی آیت ۳۳ میں آیا ہے (أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ) کیا وہ جو سب کے سروں پر کھڑا ہے اور سب کے اعمال کا نگہبان ہے اس شخص کی طرح ہے جو یہ صفت نہیں رکھتا۔ اس تفسیر کی دوسری شاہد وہ حدیث ہے جو امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے (من علم أنّ اللّه عزّ و جلّ يراه و يسمع ما يقوله و يفعله من خير أو شرّ فيحجزه ذلك عن القبيح من الأعمال، فذلك الّذي خاف مقام ربّه و نهى النّفس عن الهوى) جو شخص جانتا ہے کہ خدا اسے دیکھتا ہے اور جو کچھ یہ کہتا ہے اُسے وہ سنتا ہے اور جو خیر و شر یہ انجام دیتا ہے اس سے وہ آگاہ ہے اور یہ توجہ اسے قبیح اعمال سے روکتی ہے، تو وہ ایسا شخص ہے جو اپنے پروردگار کے مقام سے خائف ہے اور اس نے اپنے آپ کو ہوائے نفس سے باز رکھا ہے۔ ۳۔ مراد اس کا مقام عدالت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ذات مقدس خوف کا سبب نہیں ہے۔ خوف اس کی عدالت کا ہے اور حقیقت میں یہ خوف اس کے عدل کے ساتھ اپنے اعمال کے موازنہ سے محسوس ہوتا ہے جیسا کہ مجرم لوگ ایک عادل قاضی کو دیکھ کر لرزنے لگتے ہیں اور محکمہ عدالت کا نام سن کر ان کو وحشت ہونے لگتی ہے جبکہ بےگناہ شخص نہ اس سے خوف کھاتا ہے اور نہ اسے وحشت ہوتی ہے۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ سب معانی آیت میں موجود ہوں۔

۲- طغیان اور دنیا پرستی کے درمیان ربط

حقیقت میں مندرجہ بالا مختصر قسم کی آیات انسان کے اصول سعادت و شقاوت کی خوب صورت اور شائستہ طریقہ سے تصویر کشی کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ انسان کی شقاوت اس کی سرکشی اور دنیا پرستی میں ہے اور سعادت خوف خدا اور ترکِ ہوا و ہوس میں ہے۔ انبیاء و اولیاء کی تمام تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی چیز ہے۔ ایک حدیث امیر المؤمنین علیؑ سے منقول ہے: (ان اخوف ما اخاف عليكم اثنان اتباع الهوٰى و طول الامل فاما اتباع الهوى فیصد عن الحق و اما طول الأمل فينسي الأخرة)- "زیادہ ہولناک چیزیں جن کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے وہ دو ہیں، ہوائے نفس کی پیروی اور طویل آرزوئیں۔ ہوا و ہوس کی پیروی تو تمہیں حق سے روک دے گی اور طویل آرزوئیں آخرت کو فراموشی کے سپرد کر دیں گی۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۴۲)۔ خواہش کی پرستش انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس کے بُرے اعمال کو اس کی نظر میں مزین کر کے پیش کرتی ہے اور تمیز کی حِسّ، جو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور انسان و حیوان میں وجہ امتیاز ہے اس سے چھین لیتی ہے اور اس کو اپنی ذات میں مشغول رکھتی ہے۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت یعقوبؑ جیسے روشن ضمیر پیغمبر نے اپنے نالائق بیٹوں سے کہی تھی (بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا) (یوسف / ۱۸)۔ یہاں باتیں بہت سی ہیں بہتر ہے کہ ابلبیت علیهم السلام کی احادیث میں سے دو حدیثوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جن میں سب کہنے کی باتیں کہی گئی ہیں، ہم اس بحث کو ختم کریں۔ امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں: الجنة محفوفة بالمکارہ والصبر فمن صبر على المكارہ في الدنيا دخل الجنة وجهنم محفوفة باللذات والشهوات فمن اعطى نفسها لذتها وشهوتها دخل النار: "جنت پریشانیوں، صبر و شکیبائی اور استقامت میں گِھری ہوئی ہے جو شخص پریشانیوں کے مقابلے میں (اور خواہشات کو ترک کرنے میں) دنیا میں صبر و شکیبائی سے کام لے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور جہنم غیر شرعی لذتوں اور سرکش خواہشات میں گھری ہوئی ہے جو شخص اپنے نفس کو ان لذتوں اور خواہشوں کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دے، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔" (بحوالہ: نور الثقلين، جلد ٥، ص ٥٠۷، حدیث ۴۶)۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: لاتدع النفس و هواها فان هواها في رداها وترك النفس وما تھوی داءها وکف النفس عما تھوی دواءها: "نفس کو ہوا ہوس کے ساتھ نہ چھوڑ، اس لیے کہ بوائے نفس، نفس کی موت کا سبب ہے، اور نفس کو اس کی ہوا کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دینا اس کی بیماری ہے اور اس کو ہوا و ہوس سے روکنا اس کی دوا ہے۔" (بحوالہ: نور الثقلين، جلد ٥، ص ٥٠۷، حدیث ۴٥)۔ نہ صرف جہنم خواہش کی پرستش کا نتیجہ ہے بلکہ دنیا کے جلانے والے جہنم مثلاً بد امنی، بدنظمی، جنگیں، خونریزیاں، لڑائیاں وغیرہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔

۳- صرف دو گروہ

مندرجہ بالا آیات میں دو گروہوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ دنیا پرست طغیان و سرکشی کرنے والے اور صاحب تقوٰی خدا کا خوف کرنے والے۔ پہلے گروہ کی دائمی جگہ جہنم اور دوسرے گروہ کی جاودانی جائے سکونت جنت بنائی گئی ہے۔ البتہ یہاں ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔ وہ مومنین جو عمل کے لحاظ سے کچھ کوتاہیوں کا شکار ہیں، اگر خدا انہیں معاف کرے تو وہ جنت والے گروہ سے ملحق ہو جائیں گے اور اگر معافی نہ ملے تو دوزخ میں جائیں گے لیکن ان کا ٹھکانہ وہاں نہیں ہو گا۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہے۔

42
79:42
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا
تجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کس زمانہ میں واقع ہوگی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
79:43
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَىٰهَآ
تجھے اس کی یاد آوری سے کیا کام؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
79:44
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ
اس کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
79:45
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا
تیرا کام صرف ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
79:46
كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا
وہ اس دن جب قیامت کو دیکھیں گے تو اس طرح محسوس کریں گے گویا ان کا توقف ( دنیا اور برزخ میں ) سوائے عصر کے وقت یا صبح کے وقت سے زیادہ نہیں تھا۔

تفسیر قیامت کی تاریخ صرف خدا جانتا ھے

Tafsīr Nemūna · Vol. 12

ان مطالب کے بعد جو قیامت کے بارے میں اور اس روز جو نیکوں اور بدکاروں کا حال ہو گا اس کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں آئے، ان آیات میں معاد کے بارے میں مشرکین اور منکرین کے ہمیشہ سوال کرنے کو موضوع بناتے ہوئے فرماتا ہے: "تجھ سے قیامت سے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کب برپا ہو گی۔" (يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "مرسا" مصدری معنی میں ہے اور اسم زمان، اسم مکان اور اسم مفعول کے معنی میں آتا ہے۔ مادہ "ارساء" سے، البتہ یہاں مصدری معنی رکھتا ہے اور وقوع و ثبوت اور پابرجا ہونے کے معنوں میں ہے۔ یہ تعبیر کشتی کے لنگر انداز ہونے اور اسی طرح پہاڑوں کے روئے زمین پر حالت ثبات میں ہونے کے بارے میں بھی آئی ہے۔ مثلاً (وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَا) (ہود ۔ ۴۱)۔ قرآن اس سوال کے جواب میں، انہیں سمجھانے کے لیے کہ کوئی شخص بھی قیامت کے وقوع سے واقف نہیں ہے اور نہ ہو گا، پیغمبرؐ کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے: "تجھے اس بات کی یاد آوری سے کیا سروکار۔" (فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا)۔ یعنی وقوعِ قیامت کی تاریخ تجھ سے بھی پنہاں ہے چہ جائیکہ دوسرے۔ یہ اس علمِ غیب میں سے ہے جو ذاتِ پرورگار کے مختصات میں سے ہے اور اس حقیقت کی اور کسی کو خبر نہیں ہے۔ بارہا ہم نے کہا ہے کہ منجملہ ان مطالب کے جو سب سے پوشیدہ ہیں قیامِ قیامت کا وقت بھی ہے اس لیے کہ اس کا تربیتی اثر اس کے پوشیدہ ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر یہ بات معلوم ہو اور اس کا زمانہ دُور کا ہو، تو سب غفلت کا شکار ہو جائیں گے اور اگر نزدیک ہو تو برائیوں سے پرہیز، آزادی و اختیار کی گرفت سے باہر ہو گا اور ان دونوں صورتوں میں تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے اور احتمال پیش کیے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ تُو زمانہ قیامت بیان کرنے کے لیے مبعوث نہیں ہوا، تُو اس لیے مبعوث ہوا ہے کہ اصل وجود کی اطلاع دے نہ کہ لمحۂ وقوع کی۔ دوسرے یہ کہ تیرا کام قیامت کے نزدیک ہونے کو بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایا: (بعثت انا والساعة كهاتين) "میرا قیام اور قیامت کا قیام ان دو کی طرح ہے۔" (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۲۹، ص ۲۹۔ یہ بات تفسیر مجمع البیان، قرطبی، فی ظلال اور دوسری تفسیروں میں بھی سورہ محمد کی آیت ۱۸ کے ذیل میں مذکور ہے)۔ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "قیامت کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہے۔" (إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَاهَا)- صرف وہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔ کوئی دوسرا فرد اس سے آگاہ نہیں ہے اور قیامِ قیامت کی آگاہی کے لیے ہر طرح کی سعی و کوشش بےفائدہ ہے۔ یہ وہی مفہوم ہے جو سورہ لقمان کی آیت ۳۴ میں بھی آیا ہے۔ (إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) "قيامت کے وقوع کے زمانے اور وقت کا علم صرف خدا کو ہے۔" سورہ اعراف کی آیت ۱۸۷ میں فرماتا ہے: (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي) "کہہ دے اس کا علم میرے پروردگار کو ہے۔" بعض نے کہا ہے کہ اوپر والے جملے سے یہ مراد ہے کہ قیامت کا تحقّق اور انجام پانا خدا کے اختیار میں ہے۔ اور حقیقت میں اس چیز کے لیے جو گزشتہ آیت میں آئی ہے بیان علت کے برابر ہے۔ ان دونوں تفسیروں کے جمع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ مزید وضاحت کے لیے فرماتا ہے: "تیرا کام صرف ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔" (إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا)- تیری ذمہ داری ڈرانا اور خبردار کرنا ہے اور بس، باقی رہا وقت کا تعین کرنا تو وہ تیرے فرائض میں داخل نہیں ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ڈرانے کو کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتا ہے جو اس عظیم دن کا خوف و ہراس رکھتے ہیں۔ اور یہ اس مفہوم کے مشابہ ہے جو سورہ بقرہ کی دوسری آیت میں آیا ہے (ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ) اس آسمانی کتاب میں کوئی شک و تردّد نہیں ہے، یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت کا سبب ہے۔ اس قسم کی تعبیریں اس طرف اشارہ ہیں کہ جب تک حق جوئی، حق طلبی اور پیشِ خدا احساس ذمہ داری کی روح انسان میں موجود نہ ہو تو وہ نہ تو کتب آسمانی کی تحقیق کرتا ہے اور نہ معاد و قیامت کی اور نہ وہ انبیاء و اولیاء کی طرف سے کی جانے والی تخویف پر توجہ کرتا ہے۔ اس سورہ کی آخری آیت میں اس حقیقت کو پیش کرنے کے لیے کہ قیامت کے آنے میں زیادہ وقت باقی نہیں ہے ارشاد فرماتا ہے: "جب قیامت کا دن دیکھیں گے تو اس طرح محسوس کریں گے گویا ان کا توقف اس جہاں میں عصر کے وقت یا صبح کے وقت سے زیادہ نہیں تھا" (كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا)۔ دنیا کی مختصر سی عمر اسی تیزی سے گزر جائے گی اور برزخ کا دور بھی اس تیزی سے گزر جائے گا کہ وہ قیامت میں خیال کریں گے کہ یہ سارا زمانہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ امر بھی ذاتی طور پر صحیح ہے کہ عمرِ دنیا بہت ہی مختصر اور جلد گزر جانے والی ہے اور قیامت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے بھی تمام جہان کی عمر اس کے مقابلہ میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں ہے۔ "عشية" عصر کے معنوں میں اور ضحٰی اس موقع پر بولا جاتا ہے جب سورج اوپر آ جائے اور اس کی شعائیں پھیل جائیں۔ بعض آیاتِ قرآنی میں آیا ہے کہ قیامت میں جب مجرمین عالمِ برزخ یا دنیا میں توقف کی مقدار کے بارے میں گفتگو کریں گے تو بعض دوسروں سے کہیں گے کہ تم نے صرف دس دن رات عالم برزخ میں توقف کیا ہے۔ (يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا) ( طٰہٰ / ۱٠۳)۔ لیکن جو بہتر غور و فکر کریں گے وہ کہیں گے تم نے صرف ایک دن کے برابر برزخ میں توقف کیا ہے (أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا)۔ (سورہ طہ/١۰۴)۔ ایک دوسری جگہ مجرمین سے نقل کرتا ہے کہ جب قیامت برپا ہو گی تو مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت سے زیادہ توقف نہیں کیا (وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ) (روم / ٥٥)۔ ان تعبیروں کا اختلاف اس بنا پر ہے کہ جو چاہتے ہیں اسی مدت کے مختصر ہونے کو ایک خاص اندازہ کے ساتھ ظاہر کریں ان میں سے ہر ایک اپنے احساسات کو ایک الگ تعبیر کے ذریعہ بیان کرتا ہے۔ ان سب کا ایک بات میں اشتراک ہے اور وہ اس جہان کی عمر کا قیامت کی عمر کے مقابلہ میں مختصر ہونا ہے۔ یہ ایسا مفہوم ہے جو انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور خوابِ غفلت سے بیدار کرتا ہے۔ پروردگار! ہم سب کو عالمِ برزخ میں، اس دنیا میں اور اس عظیم دن امن و امان اور سکون و اطمینان عطا فرما۔ پروردگار! کوئی شخص بھی اس عظیم دن کی سختیوں سے رہائی حاصل نہیں کر سکتا سوائے اس طرح کہ تیرا لطف و کرم ہو جائے۔ یہ اپنا خاص لطف و کرم فرما۔ بارالٰہا! ہمیں ایسے افراد میں سے قرار دے جو تیرے مقام سے خائف ہیں اور جو اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکتے ہیں اور بہشت بریں جن کا ملجا و ماویٰ ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ سطور ان ساعات و لمحات میں ضبط تحریر میں آئیں جب ہر لمحے عراق کی بعثی حکومت کی طرف سے بمباری کا اور بےخانماں لوگوں کے دفن ہو جانے کا احتمال تھا۔ اس تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے ایک بمباری میں اس شہر مقدس میں تقریبًا ایک سو پچاس مسلمان خصوصًا بے گناہ بچے شہید ہوئے تھے لیکن مسلّم ہے کہ ظلم و ظالم کی عمر کوتاہ ہوتی ہے)۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter
An-Nazi'at (79) — Tafseer e Namoona