Sūra 09 · 129v
Chapter 09129 verses

At-Tawbah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
التوبة
التوبہ

سورہٴ توبہ

یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۲۹ آیات ہیں

چند اہم نکات ۱۔ سورہ کا نام

سورہ توبہ کے بارے میں چند اہم نکات اس سورہ کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے ان نکات کی طرف توجہ ضروری ہے: ۱۔ سورہ کا نام: مفسّرین نے اس سورہ کے کئی نام ذکر کیے ہیں جن کی تعداد دس سے زیادہ ہے۔ ان میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں: برائت، توبہ اور فاضحہ۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک واضح دلیل ہے۔ "برائت" نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی ابتداء پیمان شکن مشرکین سے خدا کی برائت اور بیزاری سے ہوتی ہے۔ اسے "توبہ" اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں توبہ کے متعلق بہت گفتگو کی گئی ہے۔ اس کا نام "فاضحہ" اس جہت سے ہے کہ اس کی مختلف آیات منافقین کی رسوائی، فضاحت اور ان کے اعمال سے پردہ اٹھانے کا سبب بنیں۔

۲۔ مختصر تاریخِ نزول

مدینہ میں رسول اللہ پر نازل ہونے والی یہ آخری سورہ ہے یا آخری سورتوں میں سے ہے اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس کی ۱۲۹ آیات ہیں۔ اس کے نزول کی ابتداء سن ۹/ہجری قمری میں بیان کی جاتی ہے۔ سورہ کی آیات کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا کچھ حصّہ جنگِ تبوک سے پہلے، کچھ جنگ کی تیاری کے وقت اور کچھ جنگ سے واپسی پر نازل ہوا۔ شروع سے لے کر آیت ۲۸ تک کا حصّہ مراسم حج کا موقع آنے سے پہلے نازل ہوا اور جیسا کہ انشاء اللہ اس کی تشریح میں آئے گا اس کی ابتدائی آیات جو باقی ماندہ مشرکین سے متعلق تھیں مراسمِ حج میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے توسط سے لوگوں کو پہنچائی گئیں اور آپ(ع) نے ان کی تبلیغ فرمائی۔

۳۔ مضامین و مشتملات

یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب اسلام جزیرہ عرب میں اوج و بلندی حاصل کر چکا تھا اور مشرکین آخری شکست کھا چکے تھے۔ اس لیے اس کے مضامین خاص اہمیت کے حامل ہیں اور اس میں حساس اور بلند امور زیر بحث آئے ہیں۔ اس کے اہم حصّے بچے کھچے مشرکین اور بت پرستوں کے بارے میں ہیں۔ ان سے رابطہ توڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے جو معاہدے تھے انہیں لغو قرار دینے کے سلسلے میں گفتگو ہے کیونکہ وہ بار بار اپنے معاہدوں کو توڑ چکے تھے۔ یہ احکام اس لیے ہیں تاکہ باقی ماندہ بت پرستی اسلامی ماحول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ نیز اسلام نے چونکہ وسعت پیدا کر لی تھی اور دوشمنوں کی صفیں تتربتر ہو چکی تھیں لہٰذا کچھ لوگوں نے اپنے چہرے بدل لیے اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہو گئے تاکہ وہ موقع ہاتھ آتے ہی اسلام پر ضرب کاری لگائیں۔ اسی صورت حال کے پیش نظر اس سورة کا دوسرا اہم حصّہ منافقین اور ان کی سرنوشت کے بارے میں ہے۔ اس میں مسلمانوں کو شدت سے متنبہ کیا گیا ہے اور منافقین کی نشانیاں گنوائی گئی ہیں۔ اس سورہ کا ایک اور حصّہ راہِ خدا میں جہاد کے بارے میں ہے کیونکہ اس حساس موقع پر اس حیات بخش امر سے غافل رہنا مسلمانوں کے ضعف، پسماندگی یا شکست کا باعث ہو سکتا تھا۔ ایک اور اہم حصّہ اس سورہ کا گذشتہ مباحث کی تکمیل کے حوالے سے ہے۔ اس میں ان کے حقیقت توحید سے انحراف کے بارے میں گفتگو ہے اور ان کے علماء نے رہبری اور ہدایت کے فریضے سے جو رخ پھیر رکھا ہے اس سے متعلق ہے۔ نیز کچھ آیات میں جہاد سے مربوط مباحث کی مناسبت سے مسلمانوں کو اتحاد اور اپنی صفوں کو مجتمع کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ کمزور دل اور سست قسم کے افراد جو مختلف بہانوں سے فریضہ جہاد سے کتراتے تھے انہیں شدید سرزنش اور ملامت کی گئی ہے اور اس کے برعکس، پہلے مہاجرین اور دیگر سچے مومنین کی مدح و ثنا کی گئی ہے۔ اسلامی معاشرہ اس وقت وسعت اختیار کر چکا تھا اور بھی کئی امور کی اصلاح کی ضرورت تھی اسی مناسبت سے اس سورہ میں زکوٰة سے متعلق بحث بھی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، ارتکازِ دولت اور خزانہ سازی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تحصیلِ علم کے لازمی ہونے کا ذکر ہے اور جاہل و نادان افراد کے لیے وجوبِ تعلیم کی یاددھانی کروائی گئی ہے۔ مندرجہ بالا مباحث کے علاوہ کچھ اور مباحث بھی ہیں مثلاً رسول اللہ کی ہجرت کا واقعہ، حرام مہنیوں کا مسئلہ جن میں جنگ کرنے کی ممانعت ہے، اقلیتوں سے جزیہ لینے کا معاملہ اور اس قسم کے دیگر مسائل کسی مناسبت سے بیان ہوئے ہیں۔

۴۔ سورہ کی ابتداء میں "بسم اللہ" کیوں نہیں ہے؟

جس کیفیت میں سورہ شروع ہو رہی ہے وہ خود اس سوال کا جواب ہے۔ درحقیقت اس سورہ کا آغاز پیمان شکن دشمنوں سے اعلان جنگ اور اظہار بیزاری کے ساتھ ہوا ہے اور ان کے خلاف ایک محکم اور سخت روش اختیار کی گئی ہے اور اس گروہ کے بارے میں خدا کے غیض و غضب کو بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ صورت حال "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے مناسبت نہیں رکھتی جو صلح، دوستی، محبت،خدا کی رحمانیت و رحمیت کا اظہار ہے۔ یہ بات ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم طبرسی حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: لم تنزل بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم علیٰ راٴس سورة برآئة، لانّ بسم اللّٰہ للاٴمان و الرحمة و نزلت برآئة لرفع الاٴمان و السیف فیہ اس سورہ کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نازل نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بسم اللہ امان ورحمت کے لیے ہے اور یہ سورہ امان کے خاتمے اور تلوار اٹھانے کے لیے ہے)۔ بعض حضرات کا نظریہ ہے کہ یہ سورت درحقیقت سورہٴ انفال کا تسلسل ہے کیونکہ سورہٴ انفال میں عہد و پیمان کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور اس سورہ میں پیمان شکنوں کے معاہدوں کو لغو قرار دینے کی بات کی گئی ہے لہٰذا ان دو کے درمیان "بسم اللہ" نہیں آئی۔ اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت بھی منقول ہے۔ (تشریحی نوت: مرحوم طبرسی نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے: "الانفال و برآئة واحدة" انفال اور برائت ایک ہی سورہ ہے)۔ اس میں کوئی ما نع نہیں کہ "بسم اللہ" کے ترک کرنے کی دونوں وجوہات ہوں جن میں سے ایک کی طرف پہلی روایت میں اور دوسری کی طرف دوسری روایت میں اشارہ ہوا ہے۔

سورہ کی فضیلت اور تعمیری اثرات

اسلامی روایات میں اس سورہ اور سورہ ا نفال کی تلاوت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ(ع) نے فرمایا : "من قرء برآئة والاٴنفال فی کلّ شہر لم یدخلہ نفاق اٴبداً و کان من شیعة اٴمیرالموٴمنین حقّاً" جو شخص ہر ماہ انفال اور برائت پڑھے اس میں روحِ نفاق داخل نہیں ہو گی اور وہ امیرالمومنین کے حقیقی شیعوں میں سے ہو گا۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ روایات میں مختلف سورتوں کو پڑھنے کی جو بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ سوچ بچار کیے بغیر اور عمل کے بغیر بس پڑھ لینے ہی سے غیر معمولی آثار مرتب ہو جائیں گے۔ مثلاً جو شخص برائت اور انفال کے الفاظ ان کے تھوڑے بہت معانی اور مفہوم سمجھے بغیر پڑھے یہ نہیں ہے کہ وہ نفاق سے دُور اور حقیقی شیعوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ بلکہ درحقیقت یہ روایت فرد اور معاشرے کے لئے سورة کے تعمیری، اصلاحی اور تربیتی مضامین کے اثر کی طرف اشارہ ہے کہ جو معنی سمجھے بغیر اور عمل کے لئے آمادگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ان دونوں سورتوں میں حقیقی مسلمانوں اور منافقوں کی صفوں اور ان کی زندگی کے اصلی خطوط کو واضح کیا گیا ہے اور جو عمل کے مردِ میدان ہیں نہ کہ باتوں کے ان راستے کو مکمل طور واضح کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ان کی تلاوت ان کے مضامین سمجھنے اور عملی زندگی میں انھیں اپنانے پر ہی غیر معمولی اثر پیدا کر سکتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن اور اس کی نورانی آیات کو ایک جادو اور منتر کی طرح سمجھتے یں درحقیقت وہ اس تربیت کنندہ اور انسان ساز کتاب سے بیگانہ اور ناواقف ہیں۔ جن مختلف نکات کی طرف اس سورة میں اشارہ ہوا ہے ان کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: سورہٴ برائت اور سورہٴ توحید ستر ہزار ملائکہ کی معیّت میں مجھ پر نازل ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک دونوں سورتوں کی اہمیت کے بارے میں وصیّت کرتا تھا۔

۶۔ ایک حقیقت جسے چھپانے کی کوشش ہوتی ہے

تقریباً تمام مفسِّرین اور موٴرّخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب یہ سورت ابتدائی آیات کے ساتھ تازل ہوئی اور اس میں ان معاہدوں کو لغو قرار دیا گیا ہے جو مشرکین نے رسول الله سے کر رکھے تھے تو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس فرمان کی تبلیغ کے لئے یہ سورة حضرت ابوبکر کو دی تاکہ وہ حج کے موقع پر مکہ جا کر عوام کے سامنے پڑھیں، بعدازان یہ سورة آپ نے اُن سے لے کر حضرت علی علیہ السلام کو دے دی اور حضرت علی علیہ السلام اس تبلیغ پر مامور ہوئے اور انھوں نے مراسمِ حج تمام لوگوں کے سامنے ابلاغِ رسالت کی۔ اس واقعہ کی اگرچہ مختلف جزئیات اور شاخیں بیان کی گئی ہیں لیکن اگر ہم ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کریں تو ہم حقیقت واضح ہو جائے گی: ۱۔ احمد بن حنبل کی روایت: اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل اپنی کتاب "مسند" میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں: رسول الله نے فلاں شخص (مراد حضرت ابوبکر ہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں واضح ہو گا) کو بھیجا اور اسے سورہٴ توبہ دی (تاکہ حج کے موقع پر وہ اسے لوگوں تک پہنچائے) پھر علی(ع) کو اس کے پیچھے بھیجا اور وہ سورہ اس سے لے لی اور فرمایا: لایذھب بھا الا رجل منّی واٴنا منہ اس سورہ کی تبلیغ صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ (بحوالہ: مسند احمد، ج۱، ص۲۳۱، طبع مصر) ۲۔ احمد بن حنبل کی ایک اور روایت: اسی کتاب میں انس بن مالک سے منقول ہے: رسول الله نے ابوبکر کو سورہٴ برائت کے ساتھ بھیجا لیکن جب وہ "ذی الحلیفہ" (جس کا دوسرا نام مسجد شجرہ ہے جو مدینہ سے ایک فرسخ پر واقع ہے) پہنچے تو فرمایا: "لاتبلغھا الا اٴنا اٴو رجل من اھل بیتی فبعث بھا مع علی" اس سورہ کا ابلاغ سوائے میرے یا اس شخص کے جو میرے اہلِ بیت میں سے ہو کوئی نہیں کر سکتا۔ پھر آپ نے وہ سورہ علی ع کو دے کر بھیجا۔(مسند احمد، ج۳، ص۲۱۲) ۳۔ ایک مزید روایت: اسی کتاب میں ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب رسول الله نے سورہٴ برائت ان کے ساتھ بھیجی تو آپ نے عرض کیا: میں خطیب نہیں ہوں۔ رسول الله ص نے فرمایا: اس کے بغیر چارہ نہیں کہ میں اسے لے کر جاوٴں یا آپ۔ حضرت علی علیہ السلام نے کہا: جب معاملہ اس طرح ہے تو پھر میں لے کر جاتا ہوں۔ اس پر رسول الله نے فرمایا: "انطلق فانّ الله یثبت لسانک ویھدی قلبک جاوٴخدا تمھاری زبان کو ثابت رکھے گا اور دل کو ہدایت کرے گا۔ پھر رسول الله نے اپنا ہاتھ علی(ع) کے منھ پر رکھا (تاکہ اس کی برکت سے ان کی زبان گویا اور فصیح ہو)(بحوالہ: مسند احمد بن جنل، ج۱، ص۱۵۰) ۴۔ خصائص نسائی کی روایت: اہل سنت کے مشہور امام نسائی اپنی کتاب "خصائص" میں زید بن سبیع سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول الله نے سورہٴ برائت ابوبکر کے سے ساتھ اہلِ مکہ کی طرف بھیجی پھر انھیں (حضرت علی(ع) کو) اُن کے پیچھے بھیجا اور کہا: ا س سے خط لے لو۔ علی(ع) نے راستے میں ابوبکر کو جا لیا اور ان سے خط لے لیا۔ ابوبکر محزون ومغموم واپس ہوئے اور پیغمبر سے عرض کی: "اٴنزل فیّ شیء" (کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے کہ آپ نے مجھے معزول کر دیا ہے؟) رسول الله نے فرمایا: نہیں اور مزید فرمایاکہ: "الآ انّیٰ امرت اٴن اٴبلغہ اٴنا اٴو رجل من اٴھل بیتی" (مگر یہ کہ مجھے مامور کیا گیا ہے کہ میں خود تبلیغ کروں یا میرے اہل بیت میں سے کوئی مرد تبلیغ کرے۔(بحوالہ: خصائص نسائی، ص۲۸) ۵۔ نسائی کی ایک اور روایت: نسائی نے خصائص میں اور سند کے ساتھ عبد الله بن ارقم سے یوں نقل کیا ہے: رسول الله نے سورہٴ برائت حضرت ابوبکر کے ساتھ بھیجی جب وہ کچھ راستہ طے کر چکا تو علی(ع) کو بھیجا اور انھوں نے ابوبکر سے سورت لے لی اور اسے اپنے ساتھ (مکہ کی طرف) لے گئے اور ابوبکر نے اپنے دل میں ایک طرح کی پریشانی محسوس کی (اور خدمتِ پیغمبر میں پہنچے تو) رسول الله نے فرمایا: "لایوٴدّی عنّی الّا اٴنا او رجلٌ منّی"(خصائص نسائی، ص۲۸) ۶۔ ابک کثیر کی روایت: مشہور عالم ابن کثیر اپنی تفسیر میں احمد بن حنبل سے اور وہ حنش سے اور وہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: جس وقت سورہٴ برائت کی دس آیات رسو ل الله پر نازل ہوئیں تو آپ نے ابوبکر کو بلایا اور انھیں آیات کی تلاوت کے لئے اہلِ مکہ کی طرف بھیجا، پھر آپ نے کسی کو بھیج کر مجھے بلوایا اور فرمایا ابوبکر کے پیچھے جاوٴ اور جہاں کہیں بھی اس سے جا ملو اس سے خط لے لو---- ابوبکر، پیغمبر کی طرف آئے اور پوچھا کہ کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے؟ پیغمبر نے فرمایا: نہیں "ولٰکن جبرئیل جائنی فقال لن یوٴدی الّا اٴنت اٴو رجل منک" (لیکن جبرئیل میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ یہ ذمہ داری آپ )یا وہ مرد جو آپ سے ہے کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا)۔( بحوالہ: تفسیر ابن کثیر ج۲، ص۳۲۲) ۷۔ ابن کثیر کی ایک اور روایت: بعینہ یہی مضمون ابن کثیر نے زید بن یسیغ سے بھی نقل کیا ہے۔(بحوالہ: تفسیر ابن کثیر ج۲، ص۳۲۲) ۸۔ ایک روایت مزید: اہلِ سنت کے اسی عالم (ابن کثیر) ہی نے اس حدیث کو دوسری سند سے حضرت ابوجعفر محمد(ع) بن علی(ع) بن حسین(ع) بن علی(ع) (امام باقر(ع)) سے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔(بحوالہ: جامع الاصول، ج۹، ص۴۷۵) ۹۔ علامہ ابن اثیر کی روایت: اہلِ سنت کے ایک اور عالم علامہ ابن اثیر نے "جامع الاصول" میں ترمذی کی وساطت سے انس بن مالک سے نقل کیا ہے: رسول الله نے سورہٴ برائت ابوبکر کے ساتھ روانہ کی، پھر انھیں بلایا اور فرمایا: لاینبغی لاٴحدٍ اٴن یبلغ ھٰذہ الّا رجل من اھلی، فدعا علیّاً فاٴعطاہ ایّاہ کسی کے لئے مناسب نہیں کہ اس سورہ کی تبلیغ کرے مگر وہ شخص جو میر ے اہل بیت میں سے ہو۔ پھر آپ نے علی ع کو بلایا اور سورہ ان کے سپرد کی۔ ۱۰۔ محب الدین طبری کی روایت: اہل سنّت کے عالم محب الدین طبری اپنی کتاب "ذخائر العقبیٰ" میں ابو سعید یا ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں: رسول الله نے ابوبکر کو امر حج کی نظارت پر مامور کیا۔جس وقت وہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو علی(ع) کے اونٹ کی آواز سنی اور انھیں پہچان لیا اور سمجھ لیا کہ وہ انہی کی تلاش میں آئے ہیں اور کہا کہ آپ کس لئے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: خیریت ہے، رسول الله نے سورہٴ برائت کو میرے ساتھ بھیجا ہے۔ اس وقت ابوبکر واپس آگئے (اور پیغام رسانی کی اس تبدیلی پر پریشانی کا اظہار کیا) تو رسول الله نے فرمایا: "لایبلغ عنّی غیری اٴو رجل منّی یعنی علیّاً" میری طرف سے میرے علاوہ کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا مگر وہ شخص جو مجھ سے ہے آپ کی مراد علی(ع) تھے۔(بحوالہ: ذخائر العقبیٰ، ص۶۹) دوسری روایت میں تصریح ہوئی ہے کہ رسول الله نے اپنا اونٹ حضرت علی علیہ السلام کو دیا تاکہ اس پر سوار ہو کر آپ مکہ جائیں اور اس دعوت کی تبلیغ کریں، اثنائے راہ میں جب ابوبکر نے اونٹ کی آواز سنی تو پہچان لیا۔ یہ روایات اور مندرجہ بالا حدیث در اصل ایک ہی مطلب پیش کرتی ہیں اور وہ یہ کہ اونٹ خود پیغمبر اکر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا تھا جو اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام کو دیا گیا تھا کیونکہ ان کی ذمہ داری نہایت اہم تھی۔ اہل سنت کی دوسری بہت سی کتب میں یہ حدیث بعض اوقات مسند اور گاہے مرسل نقل ہوئی ہے۔ اور یہ ایسی حدیث ہے جس کی اصل میں کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بعض روایات کے مطابق جو طرق اہل سنت سے وارد ہوئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر جب ان آیات کی تبلیغ کے منصب سے معزول ہوئے تو "امیر الحاج " کی حیثیت سے مکہ آئے اور وہ حج کے معاملے پر نگران تھے۔

توضیح اور تحقیق

یہ حدیث بڑی وضاحت سے حضرت علی علیہ السلام کی ایک عظیم فضیلت ثابت کرتی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی دوسری احادیث کی طرح یہ بھی سرد مہری کا شگار ہوگئی ہے۔ بعض لوگوں کی کوشش ہے کہ اس کی قیمت بالکل گرا دیں یا اس کی اہمیت کم کر دیں۔ اس کے لئے انہوں نے اِدھر اُدھر بہت ہاتھ پاوٴں مارے ہیں۔ مثلاً: ۱۔ کبھی موٴلف المنار کی طرح احادیث میں صرف وہ حصّہ بیان کی گیا ہے جس میں مراسمِ حج پر حضرت ابوبکر کی نظارت سے گفتگو ہے لیکن حضرت ابوبکر سے سورہٴ برائت لینے کے بارے میں اور وہ گفتگو جو رسول الله نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کی ہے سے متعلق خاموشی اختیار کی ہے؛ حالانکہ ان احادیث میں سے اگر بعض اس بارے میں خاموش ہیں تو یہ بات اس امر کی دلیل نہیں بنتی کہ جو احادیث اس سلسلے میں بحث کرتی ہیں ان سب کو نظر انداز کر دیا جائے۔ تحقیقی روش کا تقاضا ہے کہ وہ تمام احادیث پر توجہ دیں چاہے وہ ان کے میلان اور پہلے سے کئے گئے فیصلے کے برخلاف کیوں نہ ہوں۔ ۲۔ کبھی کچھ حضرات ان میں سے بعض احادیث کی سند کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ مثلاً وہ حدیث جو سماک اور حنش تک جا پہنچی ہے (اس سلسلے میں بھی مفسّر مذکور کا نام بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے) حالانکہ اس حدیث کے ایک یا دو ہی طریق سے سند تو نہیں اور اس کے راوی سماک اور حنش پر ہی تو منحصر نہیں بلکہ یہ حدیث متعدد طرق سے ان کی معتبر کتب میں آئی ہے۔ ۳۔ کبھی بعض لوگ متنِ حدیث کے بارے میں تعجب انگیز توجیہیں کرتے ہیں ؛ مثلاً کہتے ہیں اگر رسول الله نے سورہ کی تبلیغ کا حکم حضرت علی(ع) کو دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں یہ رسم تھی کہ معاہدے کو لغو قرار دینے کا اعلان خود متعلقہ شخص کرے یا اس کے خاندان کاکوئی فرد۔ حالانکہ اوّل تو متعدد طرقِ حدیث میں تصریح ہوئی ہے کہ رسول الله نے فرمایا کہ جبرئیل میرے لئے یہ حکم لے کر آیا ہے یا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق میں جو سطور بالا میں ذکر ہوئے ہیں ہم پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اگر تم یہ کام نہ کرو تو پھر مجھے خود یہ کام کرنا پڑے گا ۔ تو کیا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے چچا یا آپ کے رشتہ داروں میں سے یا کوئی اور مسلمانوں میں موجود نہیں تھا کہ اگر علی(ع) نہ جاتے تو پھر خود پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہی یہ اقدام کرتے۔ تیسری بات یہ ہے کہ خود اس امر کے لئے کہ یہ عربوں کی رسم تھی کہ انہوں نے کسی قسم کا کوئی مدرک، حوالہ یا دلیل پیش نہیں کی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث میں توجیہ کے لئے اپنے میلان کے مطابق تخمینے قائم کئے گئے ہیں ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض معتبر طرق میں ہے: ”لایذھببھا الّا رجل منّی واٴنا منہ“ اسے کوئی نہیں لے جا سکتا مگر میں یا جو مرد مجھ سے ہو۔ یہ اور اس جیسے اور جملے جو متنِ روایات میں موجود ہیں نشاندہی کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ، حضرت علی علیہ السلام کو اپنی طرح اور اپنے آپ کو ان کی طرح جانتے تھے (جیسا کہ آیہٴ مباہلہ میں آیا ہے)۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر تعصبات اور پہلے سے کئے گئے فیصلے اور ذہنوں میں بٹھائے گئے عقائد ایک طرف کردیئے جائیں تو __________ رسول الله نے اس کام سے تمام صحابہ پر علی(ع) کی فضیلت وبرتری کو مشخص ومعیّن کیا ہے ۔”وان ھٰذا الّا بلاغ“۔

1
9:1
بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
خدا اور اس کے رسول کا یہ اعلان بیزاری ان مشرکین کیلئے ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 2 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
9:2
فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ
اس کے باوجود چار ماہ (تک تمہیں مہلت ہے کہ) زمین میں (آزادانہ) چلو پھرو اور جان لو تم خدا کو عاجز و ناتواں نہیں کر سکتے اور (یہ بھی جان لو) خدا کا فروں کو ذلیل و خوار کرنے والا ہے۔

مشرکین کے معاہدے لغو ہو جاتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

دعوتِ اسلام کے گرد وپیش مختلف گروہ موجود تھے جن میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس کے حالات مدنظر رکھ کر سلوک کرتے تھے۔ ایک گروہ ایسا تھا کہ جس کا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کوئی پیمان نہ تھا اور رسول الله کا بھی اس سے کوئی عہد وپیمان نہ تھا ۔ کچھ دوسرے گروہوں نے حدیبیہ وغیرہ میں رسول الله سے دشمنی کا ترک کرنے کا پیمان باندھ لیا تھا، ان معاہدوں میں سے بعض تو معینہ مدت کے حامل تھے اور بعض کی کوئی مدت نہ تھی۔ اس دوران بعض قبائل کہ جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے پیمان باندھا تھا یک طرفہ طور پر بغیر کسی جواز اور وجہ کے اسلام دشمنوں سے واضح طور پر تعاون کر کے اپنے معاہدے توڑ دیئے تھے یا رسول اسلام ص کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے تھے۔ مثلاً بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کر لیا تھا۔ رسول الله نے بھی ان کے مقابلے میں شدّت عمل کا رویہ اختیار کر لیا تھا اور ان تمام کو مدینہ سے نکال باہر کیا تھا لیکن کچھ معاہدے ایسے تھے جو ابھی تک پوری طرح باقی تھے چاہے وہ محدودیت والے ہوں یا بغیر مدت کے تعین کے۔ زیرِ نظر پہلی آیت تمام بت پرستوں کے لئے اعلان کرتی ہے کہ ان کا مسلمانوں سے جو معاہدہ ہے وہ لغو ہو گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا اور اس کے پیغمبر کا یہ اعلانِ بیزاری ان مشرکین سے ہے کہ جن کے ساتھ عہد وپیمان باندھا تھا (بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِینَ عَاھَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ)۔ اس کے بعد انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اس مدت میں سوچ بچار کر لیں اور اپنی کیفیت کو واضح کر لیں اور چاہ ماہ بعد یا تو بت پرستی کے مذہب سے دستبردار ہو جائیں یا جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ فرمایا گیا ہے: ”چار ماہ آزادانہ طور پر زمین پر جہاں چاہو چلو پھر“ لیکن اس کے بعد حالات مختلف ہو جائیں گے (فَسِیحُوا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْھُرٍ)۔(تشریحی نوٹ: ”سیحوا“ ”سیاحت“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے اطمینان سے چلنا پھرنا اور گردش کرنا)۔ ”لیکن یہ جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اور عاجز نہیں کر سکتے اور نہ اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکتے ہو“ (وَاعْلَمُوا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ)۔ نیز یہ بھی جان لو کہ بالآخر خد کو کفار مشرکین اور بت پرستوں کو ذلیل وخوار اور رسوا کرے گا“ (وَاَنَّ اللهَ مُخْزِی الْکَافِرِینَ)۔

چند قابلِ توجہ نکات ۱۔ کیا یک طرفہ طور پر معاہدہ کالعدم کر دینا صحیح ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں ایفائے عہد اور معاہدوں کی پابندی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم یہ حکم دے رہا ہے کہ مشرکین سے کیا گیا معاہدہ یکطرفہ طور پر فسخ ہو گیا ہے۔ ذیل کے امور کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسے اسی سورہ کی آیت ۷ اور ۸ میں تصریح ہوئی ہے کہ بلاوجہ اور بلاتمہید معاہدوں کو اسی طرح لغو قرار نہیں دیا گیا تھا، بلکہ ان کی طرف معاہدہ توڑنے کے واضح قرائن اور نشانیاں موجود تھیں اور وہ اس بات پر تیار تھے کہ طاقت حاصل ہونے کی صورت میں مسلمانوں سے کئے گئے معاہدوں کی ذرّہ بھر پرواہ کئے بغیر ان پر کاری ضرب لگائیں۔ یہ بات بالکل منطقی ہے کہ اگر انسان دیکھے گا کہ دشمن اپنے آپ کو عہد شکنی کے لئے تیار کر رہا ہے اور اس کے اعمال میں ایسی کافی علامات اور قرآئن نظر آ رہے ہوں تو اس سے پہلے کہ وہ غفلت میں پکڑا جائے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کر کے اس کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو معاہدے خاص حالات میں کسی قوم یا ملت پر ٹھونسے جائیں اور وہ انھیں قول کرنے پر مجبور ہو تو کیا حرج ہے کہ طاقت حاصل ہونے کے بعد ایسے معاہدے یک طرف طور پر لغو کر دے۔ بت پرستی کوئی دین تھا نہ کوئی عاقلانہ فکر بلکہ ایک بیہودہ، موہوم اور خطرناک روش تھی کہ جسے آخرکار معاشرے سے ختم کیا جانا تھا۔ اب اگر بت پرستوں کی طاقت ابتداء میں جزیرہٴ عرب میں اس قدر تھی کہ پیغمبر اسلام مجبور تھے کہ ان سے صلح اور عہد وپیمان کریں تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ طاقت کے حصول کے بعد ایسے ٹھونسے ہوئے عہد وپیمان کو جو منطق، عقل اور درایت کے خلاف ہیں وہ قائم رکھیں۔، یہ بالکل اس طرح ہے کہ طاقت کے ایک عظیم مصلح گائے پرستوں میں ظاہر ہو اور اس طریقے کو ختم کرنے کے لئے وسیع تبلیغات شروع کرے اور جب دباؤ میں ہو تو مجبوراً ان سے ترکِ مخاصمت اور ترک جنگ کا معاہدہ کرے لیکن جب اس کے کافی پیروکار ہو جائیں تو قیام کرے اور کہنہ افکار کو صاف کرنے کے لئے فعّالیت کرے اور اپنے معاہدے کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کم صرف مشرکین کے ساتھ مخصوص تھا اور اہلِ کتاب یا دیگر قوّتیں جو جزیرہٴ عرب کے اطراف میں آباد تھیں ان سے کئے گئے معاہدوں کا رسول الله کی آخر عمر تک احترام کیا گیا۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکین کے معاہدوں کو غفلت کی حالت میں منسوخ نہیں کر دیا گیا بلکہ انھیں چار مہینوں کی مہلت دی گئی اور حجاز کے عوامی اجتماع کے مرکز میں عید قربان کے دن خانہٴ کعبہ کے پاس اس امر سے تمام لوگوں کو باخبر کیا گیا تاکہ انھیں غوروفکر کرنے کے لئے زیادہ سے مہلت اور موقع مل جائے اور شاید اس طرح وہ اس بیہودہ مذہب سے دستبردار ہو جائیں جو پس ماندگی، پراکندگی، جہالت اور خباثت کا سبب ہے۔ خداوند تعالیٰ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ انھیں غفلت میں رکھے اور ان سے فکرونظر کی مہلت سلب کر لے یہاں تک کہ اگر وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو انھیں اپنے دفاع کے لئے قوت وطاقت مہیا کرنے کے لئے کافی وقت دیا جائے تاکہ وہ ایک غیر عادلانہ جنگ میں گرفتار نہ ہو جائیں۔ اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم تربیت اور اصولِ انسانی کو ملحوظ نہ رکھتے تو چار ماہ کی مہلت دے کر کبھی دشمن کو بیدار نہ کرتے اور جنگی طاقت مہیا کرنے اور تیاری کے لئے انھیں کافی وقت نہ دیتے بلکہ کسی ایک دن یک طرفہ طور پر معاہدہ توڑ کر بغیر کسی تمہید کے ان پر حملہ کر کے ان کی بساط اُلٹ دیتے۔ اسی بناپر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے بت پرستوں نے ان چار ماہ کی مہلت سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی تعلیمات کا زیادہ مطالعہ کر کے آغوش اسلام میں آگئے۔

۲۔ یہ چار مہینے کب سے شروع ہوئے؟

اس سوال کے جواب میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن جو کچھ مندرجہ بالا آیات سے ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ ان کی ابتداء اس وقت ہوئی جب سے یہ اعلان عام لوگوں کے سامنے پڑھا گیا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ عید قربان کے روز دس ذ الحجہ کو پڑھا گیا تھا۔ اس بناپر اس کی مدت اگلے سال کے ماہ ربیع الثانی کی دس تاریخ کو ختم ہوئی تھی۔ امام صادق علیہ السلام سے جو حدیث نقل ہوئی ہے وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے۔(بحوالہ: تفسیرز برہان، ج۲، ص۱۰۳)۔

3
9:3
وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
یہ آگاہی ہے خدا اور اس کے پیغمبر کی طرف سے تمام لوگوں کو حج اکبر (عید قربان) کے دن کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بے زار ہیں ان حالات میں اگر توبہ کرو تو تمہارے نفع میں ہے اور اگر رو گردانی کرو تو جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اور عاجز نہیں کر سکتے (اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نہیں نکل سکتے) اور کافروں کو درد ناک سزا اور عذاب کی خوشخبری دیدو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
9:4
إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ثُمَّ لَمۡ يَنقُصُوكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَمۡ يُظَٰهِرُواْ عَلَيۡكُمۡ أَحَدٗا فَأَتِمُّوٓاْ إِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ إِلَىٰ مُدَّتِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
مگر مشرکین میں سے وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس میں ان سے کوئی فروگزاشت نہیں ہوئی اور تمہارے خلاف انہوں نے کسی کو تقویت نہیں پہنچائی ان کا معاہدہ اس کی مدت ختم ہونے تک محترم شمار کر و کیونکہ خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے۔

جن کا معاہدہ قابلِ احترام ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں مشرکین کے معاہدوں کے منسوخ ہونے کی بات بہت زیادہ تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن انھیں آگاہ کرنے کی تاریخ بھی معین کرتے ہوئے کہتا ہے: حجِ اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کو یہ آگاہی دی جاتی ہے کہ خدا اور اس کا رسول مشرکین سے بیزار ہیں (وَاَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ اَنَّ اللهَ بَرِیءٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ)۔ (تشریحی نوٹ: ”وَاَذَانٌ ----“ کے جملہ کا عطف ”بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ “ پر ہے، اس جملے کی ترکیب میں اور احتمالات بھی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ زیادہ ظاہر ہے)۔ درحقیقت، خدا چاہتا ہے کہ سرزمین مکہ میں اس عظیم دن میں عمومی اعلان کے ذریعے دشمن کے لئے بہانہ جوئی کے تمام راستے بند کر دے اور بدگوئی کرنے والوں اور فسادیوں کی زبان کاٹ دے تاکہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں غفلت میں رکھا گیا اور ہم پر بزدلانہ حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”إِلَی الْمُشْرِکِینَ“ کے بجائے ”إِلَی النَّاسِ“ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ضروری تھا کہ وہ تمام لوگ جو اس دن مکہ میں تھے یہ پیغام سن لیں کہ مشرکین کے علاوہ دوسرے بھی اس امر پر گواہ ہوں۔ اس کے بعد روئے سخن خود مشرکین کی طرف کرتے ہوئے تشویق وتہدید کے ذریعے ان کی ہدایت کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اگر توبہ کر لو اور خدا کی طرف پلٹ آوٴ اور بت پرستی کے مذہب سے دستبردار ہو جاوٴ تو تمھارے فائدے میں ہے (فَإِنْ تُبْتُمْ فَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ) یعنی دینِ توحید کو قبول کرنا تمھارے لئے، تمھارے معاشرے کے لئے اور تمھاری دنیا وآخرت کے لئے فائدہ مند ہے اور اگر اچھی طرح سوچ بچار کر لو تو اس کے سائے میں تمھاری تمام بے سروسامانیاں ختم ہو جائیں گی اور یہ نہیں کہ اس میں خدا اور اس کے رسول کا کوئی فائدہ ہے۔ اس کے بعد متعصب اور ہٹ دھرم مخالفین کو تنبیہ کے طور پر کہا گیا ہے: اگر اس فرمان سے جو خود نہیں نکل سکتے (وَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ) اور اس آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو مقابلے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: بت پرست کافروں کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو (وَبَشِّرِ الَّذِینَ کَفَرُوا بِعَذَابٍ اَلِیمٍ) جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے یہ ان مشرکین کے معاہدوں کو یک طرف طور پر منسوخ کیا گیا تھا جن سے معاہدہ شکنی پر آمادگی کی نشانیاں ظاہر ہو چکی تھیں۔ لہٰذا بعد والی آیت میں ایک گروہ کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر مشرکین کا وہ گروہ کہ جس سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی اور نہ ہی تمھارے کسی مخالف کو انہوں نے تقویت پہنچائی ہے (إِلاَّ الَّذِینَ عَاھَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ لَمْ یَنقُصُوکُمْ شَیْئًا وَلَمْ یُظَاھِرُوا عَلَیْکُمْ اَحَدًا)۔ ”معاہدے کی مدت کو تمام ہونے تک اس گروہ کے ساتھ ایفا کرو“ (فَاَتِمُّوا إِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ إِلیٰ مُدَّتِھِمْ) ”کیونکہ خدا پرہیزگاروں کو اور انھیں جو ہر قسم کی پیمان شکنی اور تجاوز سے اجتناب کرتے ہیں دوست رکھتا ہے“ (إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ)۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ حج اکبر کونسا ہے؟

بعض مفسّرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ حج اکبر سے مراد کون سا دن ہے اور بہت سی روایات جو اہل بیت(ع) سے اور اہل سنت کے طرق سے منقول ہیں، اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دسویں ذی الحجہ اور عید قربان کا دن ہے۔ دوسرے لفظوں میں ”یوم النحر“ (قربانی کا دن) مراد ہے۔ چار ماہ کی مدت کا ربیع الثانی کی دس تاریخ کو ختم ہونا اس کے مطابق جو اسلامی منابع اور کتب میں آیا ہے اس پر ایک اور دلیل ہے۔ علاوہ ازیں، عید قربان کے دن اصل میں اعمال حج کا اصلی اور بنیادی حصّہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر اسے روز حج کہا جا سکتا ہے۔ باقی رہا یہ کہ اسے ”اکبر“ کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال تمام گروہ چاہے وہ مسلمان ہوں یا بت پرست (پرانے رواج کے مطابق) سب نے مراسمِ حج میں شرکت کی تھی لیکن یہ کام اس کے بعد بالکل موقوف ہو گیا۔ مندرجہ بالا تفسیر اسلامی روایات میں آئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: ”انّما سمّی الاکبر لانّھا کانت سنة حج فیھا المسلمون والمشرکون ولم یحج المشرکون بعد تلک السنة“(ج۱، ص۱۸۴)۔ اس کے علاوہ ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد مراسمِ حج ہیں، مراسمِ عمرہ کے مقابلے میں کہ جسے ”حجِ اصغر“ کہا جاتا ہے۔ کچھ روایات میں یہ تفسیر بھی بیان ہوئی ہے اور کوئی مانع نہیں کہ ”حج اکبر“ کہنے کی دونوں وجوہات ہوں۔ (تشریحی نوٹ: اسی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: ”ھو یوم النحر و الاصغر العمرة“(ج۲، ص۱۸۶)۔

۲۔ حضرت علی ع نے کونسے ۴ اعلان کیے

قرآن نے خدا کی مشرکین سے بیزاری کو اگرچہ اجمالی طور پر بیان کیا لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں میں یہ چار اعلانات کر دیں: ۱۔ مشرکین کے ساتھ معاہدے منسوخ ہو گئے ہیں۔ ۲۔ مشرکین آئندہ سال مراسم حج میں شرکت کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ۳۔ ننگے لوگوں کا طواف کرنا ممنوع ہے (یہ کام اس وقت مشرکین میں رائج تھا)۔ ۴۔ خانہ خدا میں مشرکین کا داخلہ ممنوع ہے۔(تشریحی نوٹ: بعض روایات میں چوتھا اعلان یہ بیان گیا ہے کہ مشرکین بہشت میں داخل نہیں ہوں گے)۔ تفسیر ”مجمع البیان“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اُس سال مراسم حج میں خطبہ پڑھا اور فرمایا: (لایطوفن بالبیت عریان ولا یحجن البیت مشرک ومن کان لہ فھو الیٰ مدتہ ومن لم یکن لہ مدة فمدتہ اربعة اٴشھر) ”آج کے بعد کوئی برہنہ خانہٴ خدا کا طواف نہیں کر سکتا اور کوئی بت پرست مراسم حج میں شریک نہیں ہونے کا حق نہیں رکھتا، وہ لوگ جن کا پیغمبر سے کیا ہوا معاہدہ اپنی مدت پر باقی رکھتا ہے وہ معاہدہ اپنی معیّنہ مدت تک قابل احترام ہے، وہ لوگ جن کے معاہدوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے ان کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے“۔ بعض دوسری روایات میں چوتھے موضوع یعنی بت پرستوں کے خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکنے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

۳۔ کن کا معاہدہ وقتی تھا؟

موٴرخین اور بعض مفسّرین کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی کنانہ کے ایک گروہ سے ترکِ مخاصمت اور ترکِ جنگ کے معاہدے کی مدت میں نو ماہ باقی تھے اور چونکہ وہ پیمان کے وفادار رہے تھے اور انہوں نے دشمنانِ اسلام کی مدد نہیں تھی لہٰذا رسول الله نے بھی معاہدے کی مدت ختم ہونے تک اُسے نبھایا۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، ج۵، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ بعض دوسرے علماء نے قبیلہ بنی خزاعہ کو بھی اس گروہ کا حصّہ قرار دیا ہے کہ جس کا عہد وپیمان ایک مدت کے لئے تھا۔(بحوالہ: تفسیر المنار، ج۱۰، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔

5
9:5
فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلۡأَشۡهُرُ ٱلۡحُرُمُ فَٱقۡتُلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡ وَخُذُوهُمۡ وَٱحۡصُرُوهُمۡ وَٱقۡعُدُواْ لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٖۚ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
جب حرام مہینے ختم ہو جائیں تو مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر دو اور انہیں قید کر لو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر کمین گاہ میں ان کی راہ میں بیٹھ جاؤ اور جب وہ توبہ کر لیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو انہیں چھوڑ دو کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
9:6
وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ
اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن سکے اور اس میں غور و فکر کر سکے پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دو کیونکہ وہ بے علم اور ناآگاہ گروہ ہے۔

شدّت عمل اور سختی ساتھ ساتھ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہاں مشرکین کے لئے دی گئی چار ماہ کی مہلت ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور مشرکین کے بارے میں سخت ترین حکم صادر ہوا ہے ارشاد ہوتا ہے: جب حرام مہینے ختم ہو جائیں تو مشرکین کو جہاں پاوٴ قتل کر دو (فَإِذَا انسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوھُمْ)۔(تشریحی نوٹ: ”انسلخ“ مادہٴ ”انسلاخ“ سے، باہر جانے کے معنی میں ہے اور اس کی اصل ”سلخ الشاة“ یعنی ”اس نے بکری کا چمڑا اتارا“ ہے)۔ اس کے بعد حکم دیا گیا ہے: ”انھیں قتل کر دو“ (وَخُذُوھُمْ) ”اور ان کا محاصرہ کر لو“ (وَاحْصُرُوھُمْ)۔ ”اور ہر جگہ ان کی کمین میں بیٹھ جاوٴ اور ان کے راستے مسدود کر دو“ (وَاقْعُدُوا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ)۔(تشریحی نوٹ: ”مرصد“ ”رصد“ کے مادہ سے راہ یا کمین گاہ کے معنی میں ہے)۔ یہاں ان کے بارے میں چار سخت احکام نظر آتے ہیں: ۱۔ ان کے راستے مسدود کر دو۔ ۲۔ ان کا محاصرہ کر لو۔ ۳۔ انھیں قید کر لو اور۔ ۴۔ انھیں قتل کر دو۔ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ چاروں امور ایک حکمِ تخییری کی صورت میں نہیں ہیں، بلکہ گرد وپیش، زمان ومکان اور لوگوں کے حالات واوضاع دیکھ کر فیصلہ کیا جانا چاہیے اور ان امور میں سے جو مناسب سمجھا جائے اس پر عمل کیا جانا چاہیے اور اگر قتل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ ہو تو انھیں قتل کرنا جائز ہے۔ یہ شدید طرزِ عمل اس بنا پر ہے کہ اسلام کا منصوبہ یہ ہے کہ روئے زمین پر بت پرستی کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ آزادی مذہب کا معاملہ یعنی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کرنا، آسمانی ادیان اور اہلِ کتاب یعنی یہود ونصاریٰ وغیرہ پر منحصر ہے اور اس میں بت پرست شامل نہیں ہیں کیونکہ بت پرستی کوئی دین و مذہب نہیں کہ جس کا احترام کیا جائے بلکہ یہ تو پستی، بیہودگی، کجروی اور بیماری ہے جسے ہر حالت میں اور ہر قیمت پر جڑ سے نکال پھینکنا چاہیے۔ لیکن یہ شدّت وسختی اس معنی میں نہیں کہ ان کے لئے لوٹ آنے کا راستہ ہی بند کر دیا جائے بلکہ وہ جس حالت میں اور جس وقت چاہیں اپنی جہت اور نظریہ بدل سکتے ہیں۔ لہٰذا فوراً ہی مزید حکم دیا گیا ہے: اگر وہ توبہ کریں، حق کی طرف پلٹ آئیں، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو اور ان سے مزاحمت نہ کرو (فَإِنْ تَابُوا وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَخَلُّوا سَبِیلَھُمْ)۔ اور اس صورت میں پھر وہ باقی مسلمانوں سے بالکل مختلف نہیں ہیں اور تمام احکام و حقوق میں ان کے ساتھ شریک ہیں کیونکہ ”خدا بخشنے والا اور مہربان ہے“ اور جو کوئی اس کی طرف پلٹ آئے وہ اسے اپنے رحمت سے نہیں دھتکارتا (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ ایک اور حکم کے ذریعے اگلی آیت میں اس موضوع کی تکمیل کی گئی ہے تاکہ اس میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہ جائے کہ اس حکم سے اسلام کا ہدف توحید اور حق وعدالت کے دین کو عام کرنا ہے نہ کہ استعمار اور استثمار اور دوسروں کے اموال اور زمینوں پر قبضہ کرنا۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے: اگر کوئی بت پرست تم سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو تاکہ وہ خدا کی بات سنے (وَإِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللهِ) یعنی ان سے انتہائی نرمی کا سلوک کرو اور اسے سوچ بچار کا موقع دو تاکہ وہ آزادنہ طور پر تمھاری دعوت کے مختلف پہلووٴں کا مطالعہ کرے۔ اب اگر اس کے دل میں نورِ ہدایت چمکا تو اسے قبول کر لے گا۔ مزید فرمایا گیا ہے: ”مدتِ مطالعہ ختم ہونے پر اسے اس کی جائے امان تک پہنچا دو“ تاکہ اثنائے راہ میں کوئی اس سے معترض نہ ہو (ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہُ)۔ آخر میں اس اصلاحی حکم کی علت یوں بیان کی گئی ہے: یہ اس لئے کہ وہ بے خبر اور لاعلم گروہ ہے (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَایَعْلَمُونَ)۔ اس بنا پر اگر علم وآگہی کے حصول کے دروازے ان پر کھل جائیں تو یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ بت پرستی سے جو کہ جہالت ونادانی کی پیداوار ہے نکل آئیں اور خدا اور توحید کی راہ پر گامزن ہو جائیں جو کہ علم ودانش کا تقاضا ہے۔ شیعہ وسنی کتب میں منقول ہے: جب بت پرستوں کے معاہدے منسوخ ہونے کا اعلان ہو گیا تو ایک بت پرست نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: اے فرزندِ ابوطالب! اگر یہ چار مہینے گزر جانے کے بعد ہم میں سے کوئی شخص پیغمبر سے ملاقات کرنا چاہے اور ان کے سامنے کچھ مسائل پیش کرے یا خدا کا کلام سُنے تو کیا وہ امان میں ہے؟ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ہاں کیونکہ خدا فرماتا ہے: وَإِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ----(بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۱۰۶، اور تفسیر فخر الدین رازی، ج۵، ص۲۲۶)۔ اس طرح سے پہلی آیت سے جو بہت زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے دوسری آیت کے نرمی کے ساتھ مل کر ایک اعتدال کی صورت پیش کرتی ہے۔ تربیت کا طریقہ یہی ہے کہ ہمیشہ سختی اور نرمی کو باہم ملایا جاتا ہے تاکہ اس سے ایک شفا بخش معجون تیار کی جائے۔

چند اہم نکات

۱۔ ”اشھر حرم“ سے یہاں کیا مراد ہے؟ اگرچہ بعض مفسّرین نے یہاں پر بہت کچھ کہا ہے لیکن گذشتہ آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہری مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ وہی مہلت کے چار مہینے ہیں جو مشرکین کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن کی ابتداء دس ذی الحجہ ۹ھ سے ہوتی ہے اور انتہا ۱۰/ ربیع الثانی ۱۰ھ کو ہوتی ہے۔ بہت سے محققین نے اسی تفسیر کو اپنایا ہے اور زیادہ اہمیت کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کئی ایک روایات میں بھی اس کی تصریح ہوئی ہے۔( تفسیر نور الثقلین، ج۲، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں اس ضمن میں چند احادیث نقل کی گئی ہیں)۔ ۲۔ کیا نماز اور زکوٰة قبولیتِ اسلام کی شرط ہے؟ مندرجہ بالا آیات سے پہلی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بت پرستوں کی توبہ کی قبولیت کے لئے نماز اور زکوٰة ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی بنا پر اہلِ سنت کے بعض فقہاء نے نماز اور زکوٰة ترک کرنے کو کفر کی دلیل سمجھا ہے۔ لیکن یہ حق ہے کہ ان دو عظیم اسلامی احکام کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام مواقع جہاں اسلام کا دعویٰ مشکوک نظر آئے جیسے اُس زمانے میں بت پرستوں کے معاملے میں عام طور پر ایسا ہی تھا، وہاں ان دو عظیم فرائض کی انجام دہی کو ان کے اسلام کی نشانی سمجھا جائے۔ یا ہو سکتا ہے کہ مراد ہو کہ نماز اور زکوٰة کو دو خدائی قوانین کے طور پر قبول کریں اور ان کے سامنے سرجھکائیں اور انھیں باقاعدہ تسلیم کریں اگرچہ عملی طور پر وہ کوتاہی کرتے ہوں۔ یہ مفہوم اس لئے سمجھا گیا ہے کیونکہ ہمارے پاس بہت سے دلائل موجود ہیں کہ انسان صرف نماز اور زکوٰة ترک کرنے سے کفار کی صف میں شمار نہیں کیا جا سکتا اگرچہ اس کا اسلام بہت ہی ناقص ہوتا ہے۔ البتہ اگر ترکِ زکوٰة اسلامی حکومت کے خلاف قیام کے طور پر ہو تو وہ سببِ کفر ہے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے جو ہمارے زیرِ بحث موضوع سے مربوط نہیں ہے۔ ۳۔ ایمان علم کا ثمر ہے: مندرجہ بالا آیات سے یہ نکتہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بے ایمانی کا اہم عامل جہالت ہے اور ایمان کا بنیادی سرچشمہ علم وآگہی ہے لہٰذا لوگوں کی ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ انھیں مطالعہ اور غورو فکر کے کافی وسائل مہیا کئے جائیں تاکہ وہ راہ حق کو سمجھ سکیں نہ یہ کہ اندھا دھند اور کورانہ تقلید میں اسلام قبول کریں۔

7
9:7
كَيۡفَ يَكُونُ لِلۡمُشۡرِكِينَ عَهۡدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ فَمَا ٱسۡتَقَٰمُواْ لَكُمۡ فَٱسۡتَقِيمُواْ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
مشرکین کیلئے اللہ اور اس کے رسول کے ہاں کس طرح عہد و پیمان ہو گا (جب کہ وہ بار ہا اپنا معاہدہ توڑنے کیلئے تیار ہوئے ہیں ) مگر وہ کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ کیا ہے (یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے معاہدے کو محترم سمجھا) جب تک وہ تمہارے ساتھ وفا دار رہیں تم بھی وفاداری کرو کیونکہ خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
9:8
كَيۡفَ وَإِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ لَا يَرۡقُبُواْ فِيكُمۡ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ يُرۡضُونَكُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَتَأۡبَىٰ قُلُوبُهُمۡ وَأَكۡثَرُهُمۡ فَٰسِقُونَ
کس طرح (ان کے معاہدے کی کوئی قدر و قیمت ہو) حالانکہ اگر وہ تم پر غالب آ جائیں تو نہ تم سے رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد و پیمان کا۔ اپنی زبان سے تو تمہیں خوش رکھتے ہیں لیکن ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
9:9
ٱشۡتَرَوۡاْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
انہوں نے خدا کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا اور (لوگوں کو) اس کی راہ سے منحرف کر دیا وہ برے اعمال بجا لاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
9:10
لَا يَرۡقُبُونَ فِي مُؤۡمِنٍ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُعۡتَدُونَ
(نہ صرف تمہارے بارے میں بلکہ) ہر با ایمان شخص کے بارے میں وہ رشتہ داری اور عہد وپیمان کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ تجاوز (اور زیادتی)کرنے والے ہیں۔

حد سے بڑھ جانے والے پیمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ آپ گذشتہ آیات میں دیکھ چکے ہیں کہ ایک خاص گروہ کے علاوہ اسلام نے تمام مشرکین اور بت پرستوں کے معاہدوں کو فسخ کر دیا۔ انھیں صرف چار ماہ کی مہلت دی گئی تاکہ وہ اپنا ارادہ واضح کر لیں۔ اب ان محل بحث آیات میں اس کام کی علت بیان کی گئی ہے۔ پہلے استفہامِ انکاری کے طور پر قرآن کہتا ہے: کیسے ممکن ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے ہاں مشرکوں کا کوئی پیمان ہو (کَیْفَ یَکُونُ لِلْمُشْرِکِینَ عَھْدٌ عِنْدَ اللهِ وَعِنْدَ رَسُولِہِ) یعنی وہ ان اعمال اور ایسے غلط افعال کے ہوتے ہوئے یہ توقع نہ رکھیں کہ پیغمبر یک طرفہ طور پر ان کے معاہدوں کی پابندی کریں گے۔ اس کے بعد فوراً ایک گروہ جو ان کے غلط کردار اور پیمان شکنی میں شریک نہیں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: مگر وہ لوگ کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد الحرام کے پاس عہد کیا (إِلاَّ الَّذِینَ عَاھَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) ”جب تک یہ لوگ تمھارے ساتھ کئے گئے اپنے معاہدے کے وفادار ہیں تو تم بھی عہد نبھاوٴ (فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا) کیونکہ خدا پرہیزگاروں اور ان لوگوں کو جو ہر قسم کی پیمان شکنی سے اجتناب کرتے ہیں دوست رکھتا ہے:(إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ)۔ اگلی آیت میں یہی بات زیادہ صراحت اور تاکید سے بیان ہوئی ہے اور دوبارہ استفہام انکاری کی صورت میں کہا گیا ہے: کیسے ممکن ہے کہ ان کے پیمان کا احترام کیا جائے حالانکہ اگر وہ آپ پر غالب آ جائیں تو نہ تو تم سے کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ عہد وپیمان کا پاس کریں گے (کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً)۔ ”الّ“ رشتہ داری اور عزیز داری کے معنی میں ہے۔ بعض نے اس کا معنی ”عہد و پیمان“ بیان کیا ہے۔ پہلی صورت میں مراد یہ ہے کہ قریش اگرچہ رسول الله اور کچھ مسلمانوں کے رشتہ دار تھے لیکن جب وہ خود اس بات کی ذرّہ بھر پرواہ بھی نہیں کرتے اور رشتہ داری کا احترام نہیں کرتے تو پھر کیسے یہ توقع رکھتے ہیں کہ رسول الله اور مسلمان ان کا لحاظ کریں اور دوسری صورت میں لفظ ”ذمّہ“ کی تاکید ہے کہ جو عہدو پیمان کے معنی میں شمار ہوتا ہے۔ راغب کتاب مفردات میں اس لفظ کی اصل ”الیل“ بمعنی درخشندگی اور روشنائی قرار دیتا ہے کیونکہ مستحکم معاہدے اور نزدیک کی رشتہ داریاں خاص درخشندگی کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ان کی دلنشیں باتوں اور بظاہر خوبصورت الفاظ سے کبھی دھوکا نہ کھانا کیونکہ ”وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنے منھ سے راضی کریں لیکن ان کے دل اس کا انکار کرتے ہیں (یُرْضُونَکُمْ بِاَفْوَاہِھِمْ وَتَاْبیٰ قُلُوبُھُمْ)۔ ان کے دل کینہ، انتقام جوئی، سنگدلی، عہد شکنی اور رشتہ داری سے بے اعتنائی سے معمور ہیں اگرچہ وہ اپنی زبان سے دوستی اور مجبت کا اظہار کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں اس امر کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اور ان میں سے زیادہ تر فاسق اور نافران ہیں (وَاَکْثَرُھُمْ فَاسِقُونَ)۔ اگلی آیت میں ان کے فسق اور نافرمانی کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے: انہوں نے آیاتِ خدا کا کم قیمت پر سودا کیا ہے اور اپنے وقتی مادی اور حقیر مفادات کے لئے لوگوں کو راہِ خدا سے باز رکھا ہے (اشْتَرَوْا بِآیَاتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِہِ)۔ ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ ابوسفیان نے ایک کھانا تیار کیا اور کچھ لوگوں کو دعوت دی تاکہ اس طریقے سے رسول الله کے خلاف ان کی عداوت کو ابھار سکے۔ بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا آیت کو اس واقعے کی طرف اشارہ سمجھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ ایک وسیع مفہوم ہے جس میں یہ واقعہ اور ان بت پرستوں کے دیگر واقعات بھی شامل ہیں کہ جنھوں نے اپنے وقتی مفادات کی حفاظت کے لئے آیاتِ خدا سے آنکھیں پھیرلی تھیں۔ بعد میں مزید فرمایا گیا ہے: مشرک کیسا بُرا عمل بجالاتے ہیں (إِنَّھُمْ سَاءَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ انہوں نے خود کو بھی سعادت ہدایت اور خوش بختی سے محروم کیا اور دوسروں کے لئے بھی سدِّراہ ہوئے اور اس سے بدتر کونسا عمل ہوگا کہ انسان اپنے گناہ کا بوجھ بھی اپنے دوش پر لے لے اور دوسروں کے گناہوں کا وزن بھی خود ہی اٹھالے۔ زیرِ نظر آخری آیت میں گذشتہ گفتگو کی پھر تاکید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے: یہ مشرک ایسے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ پہنچ سکیں تو کسی صاحبِ ایمان شخص کے بارے میں یہ رشتہ داری اور پیمان کا تھوڑا سا پاس نہیں کریں گے (لَایَرْقُبُونَ فِی مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَاذِمَّةً)۔ ”کیونکہ اصولی طور پر یہ لوگ تجاوز اور زیادتی کرنے والے ہیں (وَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُعْتَدُونَ)۔ صرف تمھارے بارے میں ہی ان کا یہ رویہ نہیں بلکہ جس شخص پر بھی ان کا بس چلے گا یہ دستِ تجاوز دراز کریں گے۔ مندرجہ بالا آیت کا مضمون اگرچہ گذشتہ آیات کی بحث کی تاکید معلوم ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایک فرق اور اضافہ موجود ہے اور وہ یہ کہ گذشتہ آیات میں گفتگو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے اصحاب اور ان مسلمانوں کے بارے میں تھی جو آپ کے گرد وپیش تھے لیکن اس آیت میں ہر صاحبِ ایمان شخص کے بارے میں بات ہو رہی ہے، یعنی صرف تم ان کی نگاہ میں کوئی خصوصیت نہیں رکھتے بلکہ جو شخص مومن ہو اور آئینِ توحید کا پیرو ہو یہ اس کے سخت دشمن ہیں اور پھر کسی چیز کا لحاظ نہیں کرتے لہٰذا اصل میں ایمان اور حق کے دشمن ہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن بعض گذشتہ اقوام کے بارے میں کہتا ہے: وَمَا نَقَمُوا مِنْھُمْ إِلاَّ اَنْ یُؤْمِنُوا بِاللهِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ ”وہ صرف اس بنا پر مومنین پر سختی کرتے تھے کہ وہ عزیز وحمید خدا پر ایمان رکھتے ہیں“ (بروج/۸)

دو اہم نکات ۱۔ مسجد حرام کے پاس کن سے معاہدہ ہوا؟

”إِلاَّ الَّذِینَ عَاھَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ سے کون مراد ہیں؟ اس جملے میں معاہدے فسخ کرنے کے اعلان سے ایک گروہ کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کونسا گروہ مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن گذشتہ آیات کی طرف توجہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے وہی قبائل مراد ہیں جو اپنے عہدوپیمان کے وفادار رہے یعنی بنو ضمرہ اور بنو خزیمہ وغیرہ سے جیسے قبائل۔ درحقیقت یہ جملہ گذشتہ آیات کی تاکید کی حیثیت رکھتا ہے یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بیدار رہیں اور ان گروہوں کا معاملہ ان سے مختلف رکھیں جن کے معاہدے فسخ ہو گئے ہیں۔ ریا یہ سوال کہ جو کہا گیا ہے کہ ”جنھوں نے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ کیا ہے“ اس سے کیا مراد ہے؟ ممکن ہے کہ یہ اس بنا پر ہو کہ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ سرزمین حدیبیہ پر جو معاہدہ کیا تھا اس میں مشرکین عرب میں سے دوسرے گروہ بھی شامل ہو گئے تھے۔ مثلاً وہ قبائل جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ ہوا ہے اور یہ مقام مکہ سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے اور یہ معاہدہ ۶/ہجری میں ہوا۔ مشرکین نے اس معاہدے کے ذریعے مسلمانوں سے ترک مخاصمت کا عہد کیا لیکن مشرکین قریش نے اپنا معاہدہ توڑ دیا اور پھر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گئے؛ جبکہ ان سے وابستہ دوسرے گروہ مسلمان تو ہوئے مگر معاہدہ بھی نہ توڑا اور چونکہ سرزمین مکہ اپنے اطراف میں ایک وسیع علاقہ پر مشتمل ہے جس کا نصف قطر تقریباً ۴۸ میل بنتا ہے، لہٰذا یہ تمام علاقے مسجد الحرام کا جزء سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ سورہٴ بقرہ کی آیہ۱۹۶ میں حج تمتع اور اس کے احکام کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ذٰلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ اَھْلُہُ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ”یہ احکام اس شخص سے مربوط ہیں کہ جس کا گھر اور گھر والے مسجد الحرام کے پاس نہ ہوں“ روایات اور فقہا کے فتاویٰ کی تصریح کے مطابق حج تمتع کے احکام ان لوگوں کے لئے ہیں کہ جن کا فاصلہ مکہ سے ۴۸ میل سے زیادہ ہو۔ اس بنا پر کوئی مانع نہیں کہ صلح حدیبیہ جو مکہ سے ۱۵ میل کے فاصلے پر انجام پائی ”عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ کے عنوان سے ذکر ہو۔ رہی وہ بات جو بعض مفسرین نے کہی ہے کہ مندرجہ بالا استثناء مشرکینِ قریش سے مربوط ہے اور قرآن مجید نے ان کے معاہدے کو جو انہوں نے حدیبیہ میں کیا تھا محترم شمار کیا ہے، درست نظر نہیں آتی۔ کیونکہ پہلے مشرکین قریش کی معاہدہ قطعی اور مسلم تھی۔ اگر وہ پیمان شکن نہیں تھے تو پھر کون پیمان شکن تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال کا ہے جبکہ مشرکینِ قریش نے آٹھویں سال فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ اس لئے مندرجہ آیات جو ہجرت کے نویں سال میں نازل ہوئیں وہ ان کے متعلق نہیں ہو سکتیں۔

۲۔ کیا پیمان شکنی کے ارادے پر ہی ایمان لغو کر دیا گیا؟

جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ مندرجہ بالا آیات سے یہ مراد نہیں ہے انہوں نے صرف پیمان شکنی کا ارادہ ہی کیا تھا اور جب مسلمانوں کو طاقت وقدرت حاصل ہو گئی تو مشرکین کا پیمان شکنی کا ارادہ ہی معاہدے کے لغو قرار دیئے جانے کا جواز بن گیا۔ بلکہ وہ بارہا اپنے اسی طرز فکر کا عملی مظاہرہ کر چکے تھے کہ جب بھی انھیں موقع ملے گا تو وہ معاہدے کی طرف توجہ کئے بغیر مسلمانوں پر ضربِ کاری لگائیں گے اور یہی صورت حال معاہدے کو لغو کرنے کے لئے کافی ہے۔

11
9:11
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
اگر وہ توبہ کریں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنی آیات کی تشریح ایسے لوگوں کیلئے کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
9:12
وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ
اور اگر وہ معاہدے کے بعد اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن و طنز کریں تو آئمہ کفر سے جنگ کرو اس لئے کہ ان کا کوئی عہد و پیمان نہیں شاید وہ دستبردار ہو جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
9:13
أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوۡمٗا نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ وَهَمُّواْ بِإِخۡرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍۚ أَتَخۡشَوۡنَهُمۡۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَوۡهُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
کیا اس گروہ کے ساتھ کہ جس نے اپنا عہد و پیمان توڑ دیا ہے اور جو (شہر سے) پیغمبر کے اخراج کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں تم جنگ نہیں کرتے ہو حالانکہ پہلے انہوں نے (تم سے جنگ کی) ابتداء کی تھی کیا ان سے ڈرتے ہو؟ جب کہ اللہ زیادہ سزا وار ہے کہ اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
9:14
قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ
ان سے جنگ کرو کہ اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دینا چاہتا ہے اور انہیں رسوا کرے گا اور مومنین کے ایک گروہ کے سینہ کو شفا بخشے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
9:15
وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوبِهِمۡۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور ان کے دلوں کے غیظ و غضب کو لے جائے گا اور اللہ جس شخص کی چاہتا ہے(اور اسے اہل سمجھتا ہے) توبہ قبول کر لیتا ہے اور خدا علیم و حکیم ہے۔

دشمن سے جنگ کرنے سے کیوں ڈرتے ہو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

فصاحت وبلاغت کے فنون میں سے ایک یہ ہے کہ زیادہ اہمیت رکھنے والے مطالب کی تاکید کے لئے اور انھیں دل میں اتارنے کے لئے تکرار کی جاتی ہے۔ چونکہ اسلامی ماحول میں بت پرستی کے پیکر پر آخری ضرب لگانے اور اس کے بچے کچھے آثار ختم کرنے کا معاملہ بہت ہی اہم تھا، اس لئے گذشتہ مطالب کو قرآن مجید میں مندرجہ بالا آیات میں نئے انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ ان میں نئے نکات بھی موجود ہیں جو صورتِ تکرار سے بات کو نکال لیتے ہیں اگرچہ یہ تکرار درست ہی کیوں نہ ہو۔ پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے: اگر مشرکین توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں (فَإِنْ تَابُوا وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ)۔ آیت کے آخر میں مزید کہا گیا ہے: ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیات کی تشریح کرتے ہیں جو علم وآگہی رکھتے ہیں (وَنُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔ گذشتہ آیات میں اس بارے میں گفتگو تھی کہ اگر وہ توبہ کریں اور نماز اور زکوٰة کے اسلامی فرائض بجا لائیں تو ان سے مزاحمت نہ کرو۔ ”فَخَلُّوا سَبِیلَھُم“ لیکن بیان فرمایا گیا ہے: وہ تمھارے دینی بھائی ہیں یعنی دیگر مسلمانوں اور ان کے درمیان احترام ومحبت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں جیسا کہ بھائیوں کے درمیان فرق نہیں ہوتا۔ یہ بات مشرکین کی روح، فکر اور جذبات کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے بہت موٴثر ہے کہ ایک مرحلے میں مزاحمت نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کے بارے میں ایک بھائی کے سے حقوق کی سفارش کی گئی ہے۔ لیکن اگر وہ اسی طرح اپنی عہد شکنی جاری رکھیں اور اپنے معاہدے روند ڈالیں اور تمھارے دین کی مذّمت کریں اور اپنا غلط پراپیگنڈہ جاری رکھیں تو پھر تم اس کافر گروہ کے پیشواوٴں سے جنگ کرو (وَإِنْ نَکَثُوا اَیْمَانَھُمْ مِنْ بَعْدِ عَھْدِھِمْ وَطَعَنُوا فِی دِینِکُمْ فَقَاتِلُوا اَئِمَّةَ الْکُفْرِ)۔ کیونکہ اب ان کے عہد وپیمان کی کچھ بھی قدر وقیمت نہیں ہے (إِنَّھُمْ لَااَیْمَانَ لَھُمْ)۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے تم سے دشمنی ترک کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے لیکن وہ یہ معاہدہ بار بار توڑ چکے ہیں اور آئندہ بھی اسے توڑنے کو تیار ہیں۔ لہٰذا اس صورت میں اس معاہدے کا کوئی اعتبار اور قیمت نہیں ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ وہ اس شدّت عمل پر نظر رکھیں اور اس طرف بھی توجہ دیں کہ بازگشت کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ وہ اپنے کئے پر نادم ہوں اور اس سے دستبردار ہو جائیں (لَعَلَّھُمْ یَنتَھُونَ)۔ اس سے اگلی آیت میں مسلمانوں میں تحریک پیدا کرنے کے لئے اور اس حیات بخش حکم کے سلسلے میں ان کی روح اور فکر سے ہر طرح کی سستی اور خوف وتردد دور کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: تم ان لوگوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے جنھوں نے اپنے معاہدے توڑ دیئے ہیں اور انہوں نے پیغمبر کو اپنی سرزمین سے نکال دینے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے (اَلَاتُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَکَثُوا اَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ)۔ تم نے جنگ کی اور معاہدے کو لغو قرار دینے کی ابتداء نہیں کی کہ تم پریشان اور ناراحت ہو بلکہ ”جنگ اور پیمان شکنی کی ابتداء تو انھو ں نے کی ہے“ (وَھُمْ بَدَئُوکُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ )۔ اور اگر تم میں سے بعض کا جنگ سے تردد خوف وہراس کی وجہ سے ہے تو بالکل بے جا ہے ”کیا تم ان بے ایمان افراد سے ڈرتے ہو حالانکہ خدا زیادہ سزاوار ہے کہ اس سے اور اس کی مخالفت سے ڈرو، اگر تم سچ مچ ایمان رکھتے ہو“ (اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ اگلی آیت میں مسلمانوں سے یقینی کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ان سے جنگ کرو کہ خدا انھیں تمھارے ہاتھوں سزا دے گا (قَاتِلُوھُمْ یُعَذِّبْھُمْ اللهُ بِاَیْدِیکُمْ)۔ نہ صرف سزا دے گا بلکہ ”انھیں رسوا اور ذلیل وخوا کرے گا“ (وَیُخْزِھِمْ) اور تمہیں ان پر کامیاب کرے گا (وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ)۔ اور اس طرح سے مومنین کے ایک گروہ کے دلوں کو شفا بخشے گا جو اس سنگدل گروہ کے دباوٴ اور سخت مصیبت میں تھا اور اس راہ میں قربانیاں دے چکا تھا ”اور ان کے دل کے زخموں پر اس طرح سے مرہم رکھے“ (وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ”قوم مومنین“ سے مراد بنی خزاعہ کے مومنین کا ایک گروہ ہے جن پر قبیلہ بن بکر کے بت پرستوں کے ایک گروہ نے بزدلانہ حملہ کیا تھا اور غفلت میں انھیں نقصان پہنچایا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یمن کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن جب مکہ میں آئے تو بت پرستوں کی طرف سے ان پر ظلم وستم ڈھایا گیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ عبارت ان تمام لوگوں کے بارے میں ہو جو کسی طرح بھی بت پرستوں کی طرف سے ظلم وایذاء کا ہدف بنے اور بت پرستوں نے جن کے دلوں کا خون کیا۔ اگلی آیت میں مزید کہا گیا ہے کہ تمھاری کامیابی اور ان کی شکست کے ذریعے ”مومنین کے دلوں کا غیظ وغضب ٹھنڈا کرے گا“ (وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوبِھِمْ)۔ ہو سکتا ہے یہ جملہ گذشتہ جملے ”وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ“ کی تاکید کے طور پر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مختلف ہو اور گذشتہ جملہ اس طرف اشارہ ہو کہ اسلام کی کامیابی کے ذریعے وہ دل جو سالہا سال سے اسلام اور رسولِ اسلام کے لئے تڑپتے تھے، ناراحت، پریشان اور بیمار تھے وہ اچھے ہو جائیں گے اور دوسرا جملہ اس طرف اشارہ ہو کہ وہ دل جو عزیز واقرباء کو کھو دینے اور طرح طرح کے آزار اور ظلم سہنے کی وجہ سے ناراحتی اور بے آرامی میں تھے، سنگدل دشمنوں کے مارے جانے سے راحت وآرام حاصل کریں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا جس شخص کو چاہتا ہے (اور مصلحت دیکھتا ہے) اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے (وَیَتُوبُ اللهُ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ)ن اور خدا توبہ کرنے والوں کی نیتوں سے آگاہ ہے اور اُس نے ان کے لئے اور پیمان شکنوں کے بارے میں جو احکام دیے ہیں وہ حکیمانہ اور بامصلحت ہیں (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ ضمنی طور پر آخری جملے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے آئندہ ان میں سے بعض درِ توبہ داخل ہو جائیں لہٰذا متوجہ رہیں کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے گا اور ان کے بارے میں شدّتِ عمل جائز نہیں ہے۔ نیز یہ ایک بشارت ہے کہ آئندہ اس قسم کے افراد مسلمانوں کی طرف آئیں گے اور ان کی روحانی آمادگی کی وجہ سے خدا کی توفیق ان کے شاملِ حال ہو گی۔ بعض مفسّرین نے آخری آیات کو کاملاً قرآن کی ترغیب کی خبروں میں سے قرار دیا ہے اور انھیں رسول الله کی دعوت کی صداقت کی نشانی سمجھا ہے، کیونکہ ان میں جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے ویسا ہی عملاً ہوا ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ عہد شکن گروہ کون سا ہے؟

اس گروہ سے کون افراد مرادہیں، اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے یہودیوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ بعض ان قوموں کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں جو بعد ازاں مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوئیں؛ مثلاً ایران اور روم کی حکومتیں۔ بعض یہاں کفارِ قریش مراد لیتے ہیں اور بعض نے ان افراد کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو مسلمان ہو کر مرتد ہو گئے۔ لیکن آیات کا ظاہر واضح گواہی دیتا ہے کہ موضوع سخن مشرکین اور بت پرستوں کا وہی گروہ ہے جس نے اس وقت بظاہر مسلمانوں سے دشمنی ترک کرنے کا عہد وپیمان کر رکھا تھا لیکن عملی طور پر اپنے معاہدے توڑ چکا تھا اور یہ اطراف مکہ یا حجاز کے باقی علاقوں کے مشرکین کا گروہ تھا۔ یہ احتمال کہ اس سے یہودی مراد ہوں بہت بعید ہے کیونکہ ان آیات کی تمام مباحث مشرکین کے گرد گھومتی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس سے مراد قبیلہ قریش ہو کیونکہ قریش اور ان کے سرغنہ ابوسفیان نے ۸/ہجری میں فتح مکہ کے بعد ظاہراً اسلام قبول کر لیا تھا جبکہ زیرِ بحث سورت ۹/ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ نیز یہ احتمال بھی آیات کے مفہوم سے بہت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اور روم کی حکومتیں مراد ہوں کیونکہ آیات ایک موجود معاملے اور جنگ کے متعلق گفتگو کر رہی ہیں نہ کہ آئندہ کے کسی معاملے یا لڑائی جھگڑے کے متعلق، علاوہ ازیں، انہوں نے رسول الله کو وطن سے بھی نہیں نکالا تھا۔ نیز یہ احتمال بھی بعید ہے کہ اس سے مراد مرتدین ہوں کیونکہ اس وقت تاریخ مرتدین کے کسی طاقتور گروہ کی نشاندہی نہیں کرتی کہ جس سے مسلمان جنگ کرنا چاہتے ہوں۔ علاوہ ازیں ”ایمان“ (جو ”یمین“ کی جمع ہے) اور اسی طرح لفظ ”عہد“ ظاہراً ترکِ مخاصمت کے پیمان کے معنی میں ہے نہ کہ اسلام قبول کرنے میں (غور کیجئے گا)۔ لہٰذا اگر بعض اسلامی روایات میں یہ آیت جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والوں (ناکثین) اور ان جیسوں پر منطبق کی گئی ہے تو وہ اس بنا پر نہیں کہ یہ آیات ان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ آیت کی روح اور اس کا حکم ناکثین اور ان سے مسابہت رکھنے والے ایسے گروہوں پر صادق آتا ہے جو ان کے بعد ہوں گے۔ صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر اس سے مراد وہ معاہدہ شکن بت پرست لوگ ہیں کہ جن کے متعلق گذشتہ آیات میں گفتگو ہوئی ہے تو یہاں کہا گیا ہے کہ : ”وَإِنْ نَکَثُوا اَیْمَانَھُمْ“ (یعنی اگر وہ اپنے معاہدوں کو توڑ دیں) حالانکہ انہوں نے تو عملاً اپنے عہد وپیمان توڑ دیے تھے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ جملے سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ عہد شکنی جاری رکھیں اور اپنے کلام سے دستبردار نہ ہوں تو پھر تمہیں ان سے جنگ کرنا چاہیے۔ جیسے ہم ”اھدنا الصراط المستقیم“ کا معنی کرتے ہیں کہ "خدایا ہمیں اسی طرح سیدھے راستے پر گامزن رکھ اور ہماری ہدایت برقرار اور جاری رکھ"۔ ہماری اس بات کا شاہد یہ ہے کہ "ان نکثوا ایمانھم" کا جملہ ”إِنْ تَابُوا“ کے مدّ مقابل ہے یعنی معاملہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہے: یا وہ توبہ کریں گے اور شرک وبت پرستی سے دستبردار ہو جائیں گے اور راہِ خدا پر آ جائیں گے یا یہ کہ وہ اپنے طور طریقے جاری رکھیں گے۔ پہلی صورت میں وہ تمھارے بھائی ہیں؛ جبکہ دوسری صورت میں تمہیں ان سے جنگ کرنا چاہیے۔

۲۔ کفر کے پیشواوں سے جنگ

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں یہ نہیں کہا گیا کہ کافروں سے جنگ کرو؛ بلکہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیڈروں اور پیشواوٴں کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہو۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عامة الناس تو اپنے لیڈروں اور زعماء کے پیروکار ہوتے ہیں لہٰذا نشانہ ہمیشہ پیشواوٴں کو ہونا چاہیے۔ تمہیں گمراہی، ضلالت اور ظلم وفساد کے سرچشموں کو بند کرنا چاہیے اور ایسے درختوں کی جڑوں کو کاٹنا چاہیے۔ جب تک وہ خود موجود ہیں ان کے پیروکاروں سے مقابلے اور جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ علاوہ ازیں، یہ تعبیر ایک طرح کی بلند نگہی، عالی ہمتی اور شجاعت و مردانگی کی دلیل ہے کہ اصل مدّمقابل پر نظر رکھی جائے۔ لہذا کہا گیا ہے کہ اپنے تئیں ان سے مقابلے کےلیے تیاری کرو، نہ کہ ان کے چھوٹے چھوٹے افراد سے مقابلے کےلیے۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض نے اس تعبیر سے سردارانِ قریش کی طرف اشارہ سمجھا ہے حالانکہ ان میں سے کچھ تو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور (ابوسفیان جیسے) باقی رہ گئے تھے وہ فتح مکہ کے بعد ظاہراً اسلام لے آئے تھے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ مسلمانوں کی صفوں میں شامل تھے۔ لہٰذا اس وقت ان سے مقابلے کا کوئی مفہوم نہ تھا۔ آج بھی قرآن کا یہ اہم حم اپنی پوری قوت سے باقی ہے کہ ظلم وفساد اور استعمار واستثمار کو ختم کرنے کے لئے ان کے سرغنوں اور پیشواوٴں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور عام لوگوں کے مقابلے میں قیام کا کوئی فائدہ نہیں (غور کیجئے گا)۔

۳۔ دینی اخوت و بھائی چارہ

إِخْوَانُکُمْ فِی الدِّین“ کا مفہوم: مندرجہ بالا آیت میں یہ ایک لطیف ترین تعبیر ہے جسے ایک معاشرے کے افراد میں مساوات کے لئے بیان کیا جا سکتا ہے اور یہ محبت و مہربانی کا محکم ترین رشتہ ہے کیونکہ واضح ترین اور نزدیک ترین رشتہ جو انسانوں میں مکمل مساوات کا حامل ہے وہ دو بھائیوں کا رشتہ ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طبقاتی شگافوں اور قومی ونسلی بتوں نے اس اسلامی اخوت کو ختم کر دیا ہے جو تمام دشمنوں کے لئے رشک اور حسد کا باعث تھا۔ کل کے بھائی آج ایک دوسرے سے اس طرح صف آرا ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ بعض اوقات تو ایک دوسرے کو یوں قتل کرتے ہیں کہ جیسا سلوک ایک دشمن دوسرے دشمن سے نہیں کرتا۔ ہماری موجودہ پسماندگی کے اسرار میں سے ایک یہ صورتحال بھی ہے۔

۴۔ صرف خدا سے ڈرو

”اَتَخْشَوْنَھُمْ“ کا مفہوم اس کا مطلب ہے ”کیا تم ان سے ڈرتے ہو“ اس سے اجمالی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو جہاد کے اس حکم سے ڈرتا تھا یا تو دشمن کی طاقت اور قوت سے خوفزدہ تھا یا پھر پیمان شکنی کے گناہ سے ڈرتا تھا۔ قرآن انھیں صراحت سے جواب دیتا ہے کہ تمہیں ان کمزور انسانوں سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ حکمِ پروردگار کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں، اپنی پیمان شکنی سے ڈرنا بے جا ہے کیونکہ انھو ں نے پہلے ہی خود اس کے مقدمات فراہم کر دیئے ہیں اور اس سلسلے میں انہی نے پیش قدمی کی ہے۔

۵۔ اخراج رسول ص کے ارادے سے کیا مراد ہے؟

”ھَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ“ کا مطلب: اس کا معنی ہے ”انہوں نے پیغمبر کو نکلانے کا ارادہ کیا۔“ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ ظاہراً یہ ہجرت کے موقع پر رسو الله کو مکہ کی طرف نکالے جانے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ پہلے ہی ارادہ رکھتے تھے اس کے بعد ان کا ارادہ بدل گیا اور پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا لیکن الله کے حکم سے رسول الله اسی رات مکہ سے نکل آئے۔ بہرحال، اس معاملے کا ذکر ان کی پیمان شکنی کے طور پر نہیں، بلکہ بت پرستوں کے جرائم میں سے ایک ہولناک ارادے کی وضاحت کے طور پر ہے کہ جس میں قریش بھی شریک تھے اور دوسرے قبائل بھی؛ ورنہ بت پرستوں کی عہد شکنی تو دیگر ذرائع سے واضح ہو چکی تھی۔

۶۔ ایک غلط استدلال

ایک تعجب انگیز بات یہ ہے کہ جبری مکتبِ فکر کے پیروکاروں نے ”قَاتِلُوھُمْ یُعَذِّبْھُمْ اللهُ بِاَیْدِیکُمْ---“ سے اپنے نظریہ کے لئے استدلال کیا حالانکہ ہم اپنا ذہن تعصّبات سے خالی کر لیں تو مندرجہ بالا آیت ان کے مقصود پر ذرّہ بھر بھی دلالت نہیں کرتی اور اس کی صورت بالکل ایسی ہے جیسے ہم کسی کام کے لئے اپنے ایک دوست کے پاس جائیں اور کہیں کہ ہمیں امید ہے کہ خدا اس کام کی اصلاح تمھارے ہاتھ سے کر دے گا۔ اس بات کا یہ مفہوم نہیں کہ تم یہ کام کرنے میں مجبور ہو، بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا نے اسے تمھارے اختیار میں رکھا ہے اور تمہیں پاک نیّت دی ہے کہ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم ارادے کی آزادی سے یہ کام انجام دے سکتے ہو۔

16
9:16
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تمہیں (تمہاری حالت) پر چھوڑ دیا جائیگا جب کہ ابھی جہاد کرنے والے اور خد ااور اس کے رسول کو چھوڑ کر محرم راز بنانے والے ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز نہیں ہوئے؟ (اس کیلئے آزمائش لازمی ہے) اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے۔

صرف ایمان کا دعوی کر لینے سے سب کچھ درست نہیں ہو جاتا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس آیت میں مسلمانوں کو ایک اور طریقے سے جہاد کی تشویق وترغیب دلا کر انھیں اس سلسلے میں ان کی اہم ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ تمہیں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ صرف ایمان کا دعویٰ کر لینے سے تمام چیزیں درست اور ٹھیک ہو جاتی ہیں، بلکہ صدقِ نیت، گفتار کی درستی اور ایمان کی حقیقت دشمنوں سے جنگ کر کے واضح ہوتی ہے۔ جنگ بھی ایسی جو ہر قسم کے نفاق سے پاک مخلصانہ طور پر ہو۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہیں تمھاری حالت پر چھوڑ دیا جائے گا اور تم میدانِ آزمائش میں سے نہیں گزرو گے جب کہ ابھی تم میں سے مجاہدین اور وہ لوگ جنھوں نے خدا، رسول اور مومنین کو چھوڑ کر کسی اور کو محرم راز بنا لیا ہے، ایک دوسرے سے مشخص اور ممتاز نہیں ہوئے (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوا وَلَمَّا یَعْلَمْ اللهُ الَّذِینَ جَاھَدُوا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللهِ وَلَا رَسُولِہِ وَلَا الْمُؤْمِنِینَ وَلِیجَةً)۔(تشریحی نوٹ: ”اَم“ حرف عطف ہے، اس کے ذریعہ ایک استفہامی جملے کو دوسرے استفہامی جملے سے ملاتے ہیں اور اس طرح سے وہ استفہام کا معنی دیتا ہے۔ البتہ وہ ہمیشہ دوسرے استفہام کے پیچھے ہوتا ہے، مندرجہ بالا آیت میں اس کا عطف ”الا تقاتلو---“ کے جملے پر ہے جو آیہ۱۳ میں گزرا ہے)۔ ”وَلِیجَة“ مادہ ”ولوج“ سے داخل ہونے کے معنی میں ہے اور ایسے اشخاص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی انسان کا محرم راز ہو اور اس کے کاموں کو چلانے والا ہو۔ اس کا معنی تقریباً ”بطانة“ جیسا ہے۔ درحقیقت، مندرجہ بالا جملہ مسلمانوں سے دو مطالب گوش گزار کرتا ہے اور وہ یہ کہ صرف اظہار ایمان سے کام ٹھیک نہیں ہوتے اور افراد کی شخصیت واضح نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سلسلے میں دوطرح سے لوگوں کی آزمائش کی جاتی ہے: ایک، تو راہ خدا میں شرک وبت پرستی کے آثار مٹانے کے لئے جہاد کرنا اور دوسرا، منافقوں اور دشمنوں سے ہر طرح کا رابطہ اور ہمکاری ترک کرنا کہ جس میں سے پہلا کام ہے خارجی دشمنوں کو باہر نکالنا ہے اور دوسرا ہے داخل دشمنوں کو باہر نکالنا۔ ”وَلَمَّا یَعْلَمْ اللهُ“ (حالانکہ ابھی تک خدا نہیں جانتا) ___ اس جملے کی نظیر دوسری آیاتِ قرآنی میں بھی نظر آتی ہے۔ دراصل، اس کا معنی ہے ”ابھی تک ثابت نہیں ہوا“ اور ایسی تعبیر عموماً تاکید کے مواقع میں استعمال ہوتی ہے ورنہ عقلی دلائل اور بہت سی آیات کے مطابق خدا تو ایسی تمام چیزوں سے آگاہ تھا، آگاہ ہے اور آگاہ رہے گا۔ یہ آیت درحقیقت، سورہٴ عنکبوت کی پہلی آیت جیسی ہے جہاں فرمایا گیا ہے: اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُتْرَکُوا اَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَھُمْ لَایُفْتَنُونَ کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انھیں ان کی حالت پر چھو ڑدیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہو گی۔ نیز سورہٴ آل عمران کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ خدا کی آزمائشیں کوئی انجانی چیز جاننے کے لئے نہیں ہیں، بلکہ تربیت، فروغ استعداد اور انسان کی اندرونی صلاحیتوں اور اسرار کو ابھارنے اور آشکار کرنے کے لئے ہیں۔ آیت کے آخر میں خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اور تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو کام بھی تم انجام دیتے ہو خدا اُس سے باخبر ہے (وَاللهُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ)۔ مبادا کچھ لوگ یہ خیال کر بیٹھیں کہ خدا منافقین اور دشمنوں سے ان کے خفیہ روابط سے بے خبر ہے۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ سب چیزوں کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور اس کے مطابق اپنے بندوں سے سلوک کرے گا۔ آیت کے طرزِ بیان سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کے اسلامی ماحول میں کچھ لوگ نووارد تھے اور نفسیاتی طور پر وہ جہاد کے لئے تیار نہیں تھے۔ یہ گفتگو ان کے بار ے میں ہے ورنہ سچّے مجاہدین تو بارہا جہاد کے میدانوں میں اپنی کیفیت واضح کر چکے تھے۔

17
9:17
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
مشرکین یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں حالانکہ اپنے کفر کے ذریعے وہ اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں انہی کے اعمال نابود (اور بے قیمت) ہو گئے ہیں اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
9:18
إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَـٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ
اللہ کی مساجد کو صرف وہ شخص آباد کرتا ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے نماز قائم کرتا ہے زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا ہو سکتا ہے ایسا گروہ نجات پا جائے۔

مسجدیں آباد رکھنا ہر کسی کے بس میں نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جب مشرکین سے معاہدہ فسخ ہونے کا اور ان سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو اس کے بعد بعض لوگوں میں جو ممکنہ باتیں زیرِ بحث آ سکتی تھیں ان میں سے ایک سوال یہ بھی ممکن تھا کہ اس عظیم گروہ کو ہم کیوں دھتکار دیں اور انھیں مراسم حج کی ادائیگی کے لئے مسجد الحرام میں قدم رکھنے کی اجازت کیوں نہ دیں حالانکہ ان میں ان کی شرکت ہر لحاظ سے رونق کا سبب ہے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مسجد الحرام کی عمارت میں رونق کی صورت میں ان کی طرف سے ایک اہم امداد حاصل ہے اور معنوی آبادی کے طور پر بھی ان کی طرف سے ایک کمک حاصل تھی کیونکہ خانہٴ کعبہ کے گرد ان کی جمعیت زیادہ ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں سے ایسے بیہودہ اور بے بنیاد افکار کا جواب دیتی ہیں۔ پہلی ہی آیت میں تصریح کی گئی ہے: مشرکین یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ الله کی مساجد کو آباد کریں جبکہ وہ صراحت سے اپنے کفر کی گواہی دیتے ہیں (مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ شَاھِدِینَ عَلیٰ اَنفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ)۔ ان کا اپنے کفر کی گواہی دینا ان کی باتوں سے بھی آشکار ہے اور ان کے اعمال سے بھی، یہاں تک کہ ان کا طرزِ عبادت اور ان کے مراسمِ حج بھی اس امر پر شاہد ہیں۔ اس کے بعد اس حکم کی دلیل اور فلسفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان لوگوں کے اعمال نیست ونابود اور برباد ہو جائیں گے اور خدا کی درگاہ میں کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتے (اُوْلٰئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ)۔ اسی بنا پر وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے (وَفِی النَّارِ ھُمْ خَالِدُونَ)۔ ان حالات میں نہ تو مسجد الحرام وغیرہ کی آبادی اور تعمیر کے لئے ان کی کوششیں کوئی قدر وقیمت رکھتی ہیں اور نہ ہی خانہ کعبہ کے اطراف میں ان کا اژدہام کوئی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا پاک اور منزہ ہے اور اس کے گھر کو بھی پاک وپاکیزہ ہونا چاہیے اور غلیظ اور گندے لوگوں کا ہاتھ خانہ خدا اور مسجد سے بالکل دور ہونا چاہیے۔ اگلی آیت میں اس گفتگو کی تکمیل کے لئے مساجد اور مراکز عبادت کو آباد کرنے والوں کے لئے پانچ اہم شرائط بیان کی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: صرف وہ لوگ الله کی مساجد کو آباد کرتے ہیں جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں (إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ)۔ اس میں پہلی اور دوسری شرط کی طرف اشارہ ہے۔ یہ شرائط اعتقادی اور بنیادی پہلو رکھتی ہیں، جب تک یہ دونوں نہ ہوں انسان سے کوئی بھی پاک، شائستہ اور خالص عمل سرزد نہیں ہو سکتا، بلکہ اگر ظاہراً شائستہ ہو بھی تو باطن طرح طرح کی ناپاک اغراض سے آلودہ ہو گا۔ اس کے بعد تیسری اور چوتھی شرط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: (وَاَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَی الزَّکَاةَ) یعنی خدا اور روزِ جزا پر اس کا ایمان فقط دعویٰ کی حد تک اور زبانی نہ ہو بلکہ وہ اپنے پاک اعمال کے ذریعے اس کی تاکید کرے، اس کا خدا سے رشتہ بھی مستحکم ہو اور نماز کو صحیح طریقے سے انجام دے۔ مخلوق خدا سے بھی اس کا تعلق ہو اور زکوٰة ادا کرے۔ آخر میں آخری شرط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اور خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے (وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ)۔ اس کا دل عشقِ خدا سے معمور ہو اور صرف اس کے فرمان کے سامنے احساسِ ذمہ داری رکھتا ہو اور اس کے مقابلے میں کمزور بندوں کو اس سے بہت چھوٹا سمجھتا ہو کہ وہ اس کی سرنوشت، اس کے معاشرے، اس کے مستقبل، اس کی کامیابی، اس کی پیش رفت اور آخر میں اس کے مرکزِ عبادت کی آبادی میں کوئی تاثیر رکھتے ہوں۔ آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ گروہ جو ایسی صفات کا حامل ہے ہو سکتا ہے کہ ہدایت پالے اور اپنے مقصد تک پہنچ جائے اور مساجدِ خدا کی تعمیر اور آبادی کے لئے کوشش کرے اور اس کے عظیم نتائج سے بہرہ ور ہو (فَعَسیٰ اُوْلٰئِکَ اَنْ یَکُونُوا مِنَ الْمُھْتَدِینَ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ مساجد کی آبادکاری سے مراد کیا ہے؟ ۲۔ عمل صالح کا سرچشمہ صرف ایمان

۱۔ مساجد کی آبادی سے کیا مراد ہے؟ کیا مساجد کی آبادی سے مراد ان کی تاسیس وتعمیر ہے یا ان میں اجتماع کرنا اور ان کے اجتماعات میں شرکت مراد ہے؟ اس آیت کو عُمران مساجد کی آیت کہتے ہیں۔ بعض مفسّرین نے اس کی تفسیر کے سلسلے میں ان دو میں سے صرف ایک کو انتخاب کیا ہے حالانکہ اس لفظ کا وسیع ہے جس میں یہ تمام امور شامل ہیں۔ مشرکین اور بت پرست نہ تو مساجد میں شرکت کا حق رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی تعمیر کا بلکہ یہ تمام امور مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پانا چاہییں۔ ان آیات سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو نہیں چاہیے کہ وہ مساجد کی تعمیر کے لئے مشرکین کی بلکہ غیر مسلموں میں سے کسی کی بھی مدد حاصل کریں کیونکہ پہلی آیت اگرچہ مشرکین کے بارے میں گفتگو کرتی ہے لیکن دوسری آیت کہ جو لفظ ”إِنَّمَا“ سے شروع ہوتی ہے، مسجدوں کی تعمیر کو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کر دیتی ہے۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ مساجد کے متولی اور نگران بھی پاکیزہ ترین افراد میں سے منتخب ہونے چاہییں نہ کہ ناپاک اور بُرے لوگ مال وثروت، مقام ومنصب یا معاشرے میں اثر ورسوخ کی وجہ سے منتخب ہو جائیں۔ جیسا کہ متاسفانہ بعض علاقوں میں رائج ہے کہ ایسے لوگ ان مراکزِ عبادت اور اسلامی اجتماعات کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں، تمام ناپاک ہاتھوں کو ان تمام مقدس مراکز سے منقطع کیا جانا چاہیے۔ جس دن سے جابر حکمرانوں، گناہ آلود سرمایہ داروں اور بدکرداروں نے مساجد اور اسلامی مراکز کی تعمیر میں ہاتھ ڈالا ہے اس دن سے ان کی روحانیت اور اصلاحی پروگرام مسخ ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب کیسی بہت سی مساجد نے مسجدِ ضرار کی صورت اختیار کر لی ہے۔

۲۔ عمل صالح کا سرچشمہ صرف ایمان

ہو سکتا ہے بعض لوگ یہ سوچتے ہوں کہ اس میں کیا حرج ہے کہ غیر مسلموں کے سرمائے سے ان مراکز کی تعمیر اور آبادی کے لئے فائدہ اٹھا لیا جائے، لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس بنیادی نکتے کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ اسلام ہر مقام پر عمل صالح کو شجر ایمان کا ثمر شمار کرتا ہے۔ عمل ہمیشہ انسان کی نیت اور عقیدے کا سایہ ہے اور وہ ہمیشہ اس شکل وصورت اور رنگ وڈھنگ کو اپناتا ہے، ناپاک نیتوں سے ممکن نہیں کہ پاک عمل وجود میں آئے اور اس کا نتیجہ اور ثمر مفید صورت میں نکلے کیونکہ عمل نیت کی بازگشت ہے۔

۳۔ بہادر محافظ

”وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ“ (خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا) یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ مساجد کی تعمیر، آبادی اور نگہداری شجاعت وبہادری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ مقدس اسلامی مراکز انسان سازی کے مراکز اور تربیت کی اعلیٰ درسگاہوں میں اسی صورت میں تبدیل ہوں گے جب ان کے بانی اور محافظ اور شجاع ہوں گے کہ جو خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں، کسی مقام ومرتبہ اور قوت سے متاثر نہ نہیں ہوں گے کہ جو ان میں خدائی پروگراموں کے علاوہ کوئی کام نہیں ہونے دیں گے۔

۴۔ کیا صرف مسجد الحرام مراد ہے؟

”وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ“ (خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا) یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ مساجد کی تعمیر، آبادی اور نگہداری شجاعت وبہادری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ مقدس اسلامی مراکز انسان سازی کے مراکز اور تربیت کی اعلیٰ درسگاہوں میں اسی صورت میں تبدیل ہوں گے جب ان کے بانی اور محافظ اور شجاع ہوں گے کہ جو خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں، کسی مقام ومرتبہ اور قوت سے متاثر نہ نہیں ہوں گے کہ جو ان میں خدائی پروگراموں کے علاوہ کوئی کام نہیں ہونے دیں گے۔ ۴۔ کیا اس سے صرف مسجد الحرام مراد ہے؟ بعض مفسّرین نے مندرجہ آیات کو مسجدالحرام سے مخصوص قرار دیا ہے جبکہ آیت کے الفاظ عام ہیں اور ایسی تشخیص کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے اگرچہ مسجد الحرام جو کہ عظیم ترین اسلامی مسجد ہے اس کا مصداقِ اوّل ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تھی زیادہ تر یہی مسجد محلِ نظر تھی لیکن یہ بات تخصیصِ آیات کی دلیل نہیں بن سکتی۔

۵۔ تعمیر مساجد کی اہمیت

مسجد بنانے کی اہمیت کے بارے میں اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام سے اور اہل سنّت کے طرق سے بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ان سے تعمیر مسجد کی بے حد اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: مَن بَنیٰ مَسْجِداً وَلَو کَمَفْحَصِ قطَاة بَنَی اللهُ لَہُ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ جو شخص کوئی مسجد بنائے اگرچہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہو تو خدا جنت میں اس کے لئے ایک گھر بنائے گا۔(تشریحی نوٹ: یہ حدیث کتاب وسائل کے باب ۸ میں ہے جوکہ احکامِ مساجد کے ابواب میں سے ہے اور اسی طرح المنار جلد۱۰، ص۲۱۳ پر ابن عباس سے منقول ہے)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم سے منقول ہے: من اٴسرج فی مسجد سراجاً لم تزل الملائکة و حملة العرش یستغفرون لہ مادام فی ذلک المسجد ضوئہ جو شخص مسجد میں چراغ روشن کرے جب تک اس چراغ کی روشنی رہے گی فرشتے اور حاملینِ عرشِ الٰہی اس کے لئے استغفار اور دعائے خیر کرتے رہیں گے۔(بحوالہ: کتاب کنز العرفان، ج۱، ص۱۰۸، بحوالہ کتاب محاسن، ص۵۷)۔ لیکن آج کے زمانے میں جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ مساجد کی معنوی آبادی اور تعمیر ہے۔ دوسرے لفظوں میں جتنی ہم مسجد کو اہمیت دیتے ہیں اس سے زیادہ اہلِ مسجد، نگران مسجد اور محافظین مسجد کو اہمیت دینا چاہیے۔ ہر طرف سے اسلامی تحریک مسجد سے اٹھنا چاہیے، مسجد کو تہذیب نفس اور لوگوں کی آکاہی وبیداری کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔ ماحول کو پاکیزہ بنانے اور ورثہٴ اسلامی کے دفاع کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کرنے کا مرکز مسجد کو ہونا چاہیے۔ خصوصیت سے اس طرف توجہ کرنا چاہیے کہ مسجد صاحبِ ایمان نوجوانوں کے لئے مرکز بنے نہ یہ کہ صرف آگے بیٹھنے والوں اور بیکار لوگوں کا مرکز بنی رہے۔ مسجد معاشرے کے فعال ترین طبقوں کا مرکز ہونا چاہیے نہ کہ ناکارہ اور خوابیدہ افراد کا مرکز۔

19
9:19
۞أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
کیا حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے کا عمل اس شخص کے عمل کی طرح قرار پا سکتا ہے جو خد اور روز جزا پر ایمان لایا ہے اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے (یہ دونوں ) اللہ کے ہاں ہر گز برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
9:20
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ
وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے راہ خدا میں جہاد کیا خدا کے ہاں ان کا مقام و منزلت بلند ہے اور وہ عظیم نعمت پر فائز ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
9:21
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُم بِرَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَرِضۡوَٰنٖ وَجَنَّـٰتٖ لَّهُمۡ فِيهَا نَعِيمٞ مُّقِيمٌ
پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت خوشنودی اور ایسے باغات بہشت کی بشارت دیتا ہے جن میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
9:22
خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
وہ ان باغوں (اور ان نعمتوں ) میں رہیں گے کیونکہ خدا کے ہاں عظیم اجر وثواب ہے۔

آیات کا حضرت علی ع کی شان میں نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیات کے شان نزول کے بارے میں شیعہ اور سُنی کتب میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں، ان میں سے جو زیادہ صحیح نظر آتی ہے اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ اہل سنّت کے مشہور عالم حاکم ابوالقاسم حسکانی نقل کرتے ہیں کہ شیبہ اور عباس میں سے ہر ایک دوسرے پر افتخار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام ان کے پاس سے گزرے اور کہا کہ کس چیز پر فخرومباہات کر رہے ہو؟ عباس نے کہا مجھے ایسا امتیاز حاصل ہے کہ جو کسی کے پاس نہیں اور وہ ہے خانہٴ خدا کے حاجیوں کو پانی پلانا۔ شیبہ نے کہا کہ میں مسجد الحرام کو تعمیر کرنے والا ہوں اور (خانہ کعبہ کا کلید دار ہوں)۔ حضرت علی(ع) نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں کم سن ہونے کے باوجود تم پر ایسا افتخار اور امتیاز رکھتا ہوں کہ جو تم نہیں رکھتے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کونسا افتخار اور امتیاز ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا: میں نے تلوار سے جہاد کیا یہاں تک کہ تم خدا اور رسول پر ایمان لے آئے۔ عباس غصّے میں آ کر کھڑے ہو گئے اور دامن کو کھینچتے ہوئے رسول الله کی تلاش میں نکلے۔ (آپ ملے تو آپ سے شکایت کے طور پر) کہنے لگے: کیا آپ دیکھتے نہیں کہ علی مجھ سے اس قسم کی بات کرتا ہے۔ رسول الله نے فرمایا: علی کو بلاوٴ۔ جب حضرت علی علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا: تم نے اپنے چچا (عباس) سے کوئی ایسی بات کیوں کی ہے۔ حضرت علی(ع) نے عرض کیا: یا رسول الله! اگر مجھ سے انھیں تکلیف پہنچی ہے تو میں نے تو ایک حقیقت بیان کی تھی، کوئی حق بات پر ناراض ہوتا ہو تو اور کوئی خوش ہوتا ہو تو ہو۔ اس موقع پر جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: یا محمد! آپ کے پروردگار نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیات ان کے سامنے پڑھیے: اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَ---- (کیا حاجیوں کو سیراب کرنا اور مسجد الحرام کی آبادی خدا اور روزِ جزا پر ایمان لانے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کی مانند قرار دیتے ہو؟ یہ ہرگز ایک دوسرے کے مساوی نہیں ہیں۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں(- یہی روایت مضمون کے تھوڑے اختلاف کے ساتھ اہل سنّت کی بہت سی کتب میں منقول ہے۔ مثلاً تفسیر طبری، ثعلبی، اصحابِ النزول واحدی، تفسیر بغدادی، معالم التنزیل علامہ بغوی، مناقب ابن مغازلی، جامع الاصول ابن اثیر، تفسیر فخر رازی اور دیگر کتب۔(حدیث کی مزید وضاحت کے لئے اور اس کے مدارک کے مشخصات کے بارے میں احقاق الحق جلد۳، ص۱۲۲تا۱۲۷ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ بہرحال، مندرجہ بالا حدیث مشہور ومعروف احادیث میں سے ہے یہاں تک کہ متعصب افراد نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ ہم ان آیات کی تفسیر مکمل کرکے دوبارہ اس کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

معیارِ فضیلت

ان آیات کی اگرچہ مخصوص شان نزول ہے، تاہم یہ گذشتہ آیات کی بھی تکمیل کرتی ہیں اور ایسی شان مثالیں قرآن مجید میں بہت سی ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا خانہ خدا کے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کی تعمیر کرنے کو اس شخص کے کام طرح قرار دیتے ہو جو خدا اور روزِ جزا پر ایمان رکھتا ہے اور راہِ خدا میں جہاد کرتا ہے، یہ دونوں خدا کے ہاں کسی طرح بھی برابر اور یکساں نہیں ہیں اور خدا ظالم وستمگر کو ہدایت نہیں کرتا (اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاھَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لَایَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ)۔ ”سقایة“، مصدر بھی ہے جس کا معنی پانی دینا اور اس وسیلے اور پیمانے کے معنی میں بھی ہے جس سے پانی پلاتے ہیں (جیسا کہ سورہٴ یوسف آیہ۷۰ میں آیا ہے) نیز یہ بڑے برتن یا حوض کے معنی میں بھی آیا ہے کہ جس میں پانی ڈالتے ہیں، مسجد الحرام میں زمزم اور خانہ کعبہ کے درمیان ایک جگہ ہے جو ”سقایة العباس“ کے نام سے مشہور ہے۔ وہ یہاں ایک بڑا برتن رکھ دیتے تھے کہ جس میں سے حاجی پانی لیتے تھے۔ تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہٴ اسلام سے پہلے ”سقایة الحاج“ کا منصب خانہ کعبہ کی کلید برداری کے منصب کے ہم پلّہ تھا اور اہم ترین منصب شمار ہوتا تھا۔ ایّام حج میں حاجیوں کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ وہ سرزمین بھی ایسی ہے جہاں خشک اور جلا دینے والی گرمی ہے جہاں پانی کم ہے اور سال کے زیادہ تر دنوں میں جہاں گرم ہوا چلتی رہتی ہے۔ اس سے ”سقایة الحاج“ کے منصب کی خاص اہمیت واضح ہو جاتی ہے اور جو شخص اس معاملے کا سرپرست ہوتا وہ فطری طور پر مقام وحیثیت کا حامل ہوتا کیونکہ حاجیوں کی خدمت ایک زندہ خدمت شمار ہوتی تھی۔ اسی طرح مسجد الحرام کی کلید برداری کا منصب رکھنے والے اور اس کی تعمیر وآبادی کی خدمت انجام دینے والے شخص یا اشخاص کا بے حد احترام کیا جاتا تھا کیونکہ زمانہٴ جاہلیت میں بھی مسجد الحرام کو مقدس ترین اور عظیم ترین مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ ان تمام چیزو ں کے باوجود قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ان تمام کاموں سے برتر اور بالاتر ہے۔ اگلی آیت میں تاکید اور توضیح کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کر چکے ہیں وہ بارگاہ خداوندی میں برتر اور عظیم تر مقام رکھتے ہیں (الَّذِینَ آمَنُوا وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْفَائِزُونَ)۔ اگلی آیت میں خدا ان تین اہم کاموں (ایمان، ہجرت اور جہاد) کے بدلے میں ان کے لئے تین اہم انعام بیان کرتا ہے: ۱۔ انھیں اپنی وسیع رحمت کی بشارت دیتا ہے (یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْہُ)۔ ۲۔ انھیں اپنی رضامندی اور خوشنودی سے بہرہ مند کرتا ہے (وَرِضْوَانٍ)۔ ۳۔ جنت کے ایسے باغات ان کے اختیار میں دے دیتا ہے کہ جن کی نعمتیں دائمی ہیں (وَجَنَّاتٍ لَھُمْ فِیھَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ)۔ اگلی آیت میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا اَبَدًا)۔ کیونکہ خدا کے پاس عظیم واجر وثواب ہے کہ جو وہ بندوں کے اعمال کے بدلے میں انھیں بخشے گا (إِنَّ اللهَ عِنْدَہُ اَجْرٌ عَظِیمٌ)۔

دو اہم نکات ۱۔ تحریفِ تاریخ

جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی شان نزول میں پڑھ چکے ہیں، اس روایت کے مطابق کہ جو بہت سی مشہور تین کتب اہلِ سنّت میں منقول ہوئی ہے یہ آیات حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اور ان کے فضائل میں نازل ہوئی ہیں اگرچہ ان کا مفہوم عام اور وسیع ہے (اور ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ شان نزول آیات کے مفہوم شان نزول آیات کی مفہوم کومحدود نہیں کرتی) لیکن بعض مفسّرین اہل سنت نہیں چاہتے کہ حضرت علی علیہ السلام کے لیے جاذب نظر فضائل ثابت ہوں؛ حالا نکہ وہ آپ کو اپنا چوتھا عظیم پیشوا مانتے ہیں۔ گویا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ ان مدارک ومآخذ کے سامنے جو حضرت علی علیہ السلام کی بے حد خصوصیات اور امتیازات ثابت کرتے ہیں، سرِ تسلیم خم کر لیں تو ممکن ہے شیعہ لوگ ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور اس بات پر ہر طرف سے ان کا دائرہ تنگ کر دیں کہ کس بنا پر تم دوسروں کو حضرت علی(ع) پر مقدم سمجھتے ہو۔ لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر لیتے ہیں اور جتنا ان سے ممکن ہو ایسی احادیث پر سند کے حوالے سے اعتراضات کرتے ہیں اور اگر سند میں دست اندازی کی کوئی گنجائش نظر نہ آئے تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کی دلالت کو مخدوش کر دیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے تعصبات ہمارے اس زمانے تک جاری ہیں یہاں تک کہ ان کے بعض روشن فکر علماء بھی ان سے بچ نہیں سکے۔ میں بھول نہیں سکتا وہ گفتگو جو میری ایک اہل سنّت عالم سے ہوئی، جب بات چیت کے دوران اس قسم کی احادیث پر گفتگو چل نکلی تو انہوں نے ایک عجیب بات کہی۔ انہوں نے کہا: میرا نظریہ ہے کہ شیعہ اپنے مذہب کے تمام اصول وفروع ہمارے منابع، مدارک اور کتب سے ثابت کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں مذہب شیعہ کے لئے کافی مقدار میں احادیث موجود ہیں جو ان کے نفع میں ہیں ۔ لیکن اس بنا پر کہ وہ ان تمام منابع ومدارک سے بالکل نجات حاصل کر لیں کہنے لگے: میرا نظریہ ہے کہ ہمارے سابقہ لوگ خوش باور افراد تھے اور جن احادیث کو وہ سن لیتے تھے اپنی کتب میں نقل کر دیتے تھے، اب ان تمام چیزوں کو جو وہ لکھ گئے ہیں ہم آسانی سے قبول نہیں کر سکتے (واضح رہے کہ ان کی گفتگو ان کی کتب صحاح، مسانیدِ معتبرہ اور درجہٴ اوّل کے بارے میں بھی تھی)۔ میں نے ان سے کہا: یہ محققانہ طریقہ نہیں کہ انسان کسی مذہب کو پہلے سے وراثتاً قبول کرے اور اس کے بعد ہر وہ حدیث جو اس مذہب کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھے اور جو حدیث اس سے تطبیق نہ کرے اسے یقین سابق کی خوش باوری خیال کر لے چاہے وہ معتبر حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس طرزِ فکر کی بجائے آپ دوسری راہ انتخاب کر لیں۔ پہلے اپنے آپ کو ہر قسم کے موروثی عقائد سے پاک کر لیں پھر منطقی مدارک کو سامنے رکھ کر صحیح عقیدے کو اختیار کریں۔ آپ اچھی طرح سے ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ کیوں اور کس بنا پر ان مشہور ومعروف احادیث کو جو حضرت علی علیہ السلام کے بلند وبرتر مقام کے بارے میں ہیں اور دوسروں پر ان کی برتری ثابت کرتی ہیں، کے بارے میں اس طرح سے سرد مہری اختیار کی جاتی ہے۔ بلکہ ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو انھیں بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ان کے متعلق سرے سے بات ہی نہیں کی جاتی؛ جیسے اس قسم کی احادیث اصلاً موجود ہی نہ ہوں۔ مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں اب ہم مشہور مفسّر صاحب المنار کی گفتگو بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے زیرِ نظر آیات کی شانِ نزول کے بارے میں مذکورہ روایت کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے اور اس کی بجائے ایک اور روایت جو آیات کے مضمون پر بالکل منطبق نہیں ہوتی اور جسے ایک مخالفِ قرآن روایت کے باعث پھینک دینا چاہیے تھا، معتبر جانا ہے۔ یہ روایت وہ ہے جسے انہوں نے نعمان بن بشیر سے نقل کیا ہے۔ نعمان کہتا ہے کہ میں منبر رسول کے پاس چند صحابہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک کہنے لگا: میں اسلام لانے کے بعد کسی عمل کو اس سے بلند وبرتر نہیں سمجھتا کہ خانہٴ خدا کے حاجیوں کو سیراب کروں۔ دوسرا کہنے لگا: مسجد الحرام کی تعمیر اور اسے آباد کرنا ہر عمل سے بلند تر ہے۔ حضرت عمر نے انھیں یہ گفتگو کرنے سے منع کیا اور کہا:- رسولِ خدا کے منبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عمر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: لیکن جب میں نمازِ جمعہ پڑھ لوں گا تو رسولِ الله کے پاس جاوٴں گا اور ان سے تمھارے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کروں گا جس کے متعلق تم اختلاف کر رہے ہو۔ (نماز کے بعد حضرت عمر، رسول الله کے پاس گئے اور سوال کیا) تو اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔( تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۱۵)۔ حالانکہ یہ روایت مختلف جہات سے زیرِ بحث آیات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور ہم جانتے ہیں کہ جو روایت خلافِ قرآن ہو اسے دور پھینک دینا چاہیے۔ مذکورہ روایت کے ضمن میں مندرجہ ذیل پہلو قابلِ غور ہیں: الف: مندرجہ بالا آیات میں جہاد، سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام میں موازنہ نہیں ہوا بلکہ بلکہ موازنہ میں ایک طرف سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام ہے اور دوسری طرف خدا اور روزِ جزا پر ایمان اور جہاد ہے۔ یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ کچھ افراد ان اعمال کا جو وہ زمانہٴ جاہلیت میں انجام دے چکے تھے ایمان اور جہاد کا موازنہ تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج سے ہے۔ ب: دوسری بات یہ ہے کہ ”وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ“ کا جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ پہلے گروہ کے اعمال ظلم سے ملے ہوئے تھے اور یہ اس صورت میں ہو گا جب وہ حالتِ شرک میں واقع ہوئے ہوں کیونکہ قرآن کہتا ہے: اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان/۱۳) ج: زیرِ بحث دوسری آیت کہتی ہے: وہ افراد جو ایمان لائے اور انہوں نے جہاد کیا وہ بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ افراد ان لوگوں سے جو ایمان، ہجرت اور جہاد نہیں رکھتے برتر ہیں۔ اور یہ صورت نعمان والی روایت سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ اس روایت کے مطابق گفتگو کرنے والے سب مومن اور مسلمان تھے اور شاید وہ ہجرت اور جہاد کے مرحلے میں شریک ہو چکے تھے۔ د: گذشتہ آیات میں مساجد کی آبادی کے سلسلے میں مشرکین کے اقدام کرنے کے متعلق گفتگو تھی (مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ ) جبکہ زیرِ بحث آیات جو ان کے بعد آئی ہیں اسی موضوع کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان آیات کا موضوع بحث حالتِ شرک میں تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج ہے۔ یہ بات نعمان والی روایت کے مطابق نہیں ہے۔ ان تمام دلائل کے مقابلے میں جو بات کہی جا سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ”اٴعظم درجة“ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ عمل کے موازنہ اور مقابلہ میں شریک طرفین اچھے افراد ہیں؛ اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے سے بہتر ہے۔ لیکن اس کا جواب واضح ہے کیونکہ افعل التفضیل (صفت تفصیلی) زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب موازنہ کی ایک طرف واجد فضیلت اور دوسری طرف صفر ہو۔ مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کہتے ہیں کہ دیر سے پہنچنا بالکل نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔ اب اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مقصد تک بالکل نہ پہنچنا اور نابودی اچھی چیز ہے لیکن دیر سے پہنچنا اس سے بہتر ہے۔ یا یہ کہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں: وَالصُّلْحُ خَیْرٌ صلح جنگ سے بہتر ہے۔ (نساء/۱۲۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کوئی اچھی چیز ہے۔ یا اسی طرح قرآن میں ہے: وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ بندہٴ مومن مشرک سے بہتر ہے۔ (بقرہ/۲۲۱) تو کیا بت پرست بھی کوئی خیر اور فضیلت رکھتا ہے۔ اسی طرح سورہٴ توبہ آیہ۱۰۸ میں ہے: لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُومَ فِیہِ وہ مسجد کہ جس کی بنیاد پر تقویٰ پر رکھی گئی ہے (مسجد ضرار سے جسے منافقین نے تفرقہ ڈالنے کے لئے بنایا تھا) عبادت کے لئے زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ شائستہ ہے۔ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ مسجد ضرار میں عبادت کرنے میں کوئی شائستگی نہیں ہے۔ اس قسم کی تعبیریں قرآن مجید، کلماتِ عرب اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ ہیں۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس تمام گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نعمان بن بشیر والی روایت چونکہ قرآن کے مضمون کے برخلاف ہے، لہٰذا پھینک دینا چاہیے اور جو ظاہری آیات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے وہی مشہور حدیث ہے جو بحث کی ابتداء میں شانِ نزول کے زیرِ عنوان ہم نے بیان کی ہے اور یہ اسلام کے عظیم پیشوا حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک فضیلت ہے۔ خداوند تعالیٰ ہم سب کو حق کی اور ایسے رہنماوٴں کی پیروی پر ثابت قدم رکھے اور کھلی آنکھ اور کان عطا فرمائے اور تعصب سے دُور فکر عنایت کرے۔

۲۔ مقام رضوان کیا ہے؟

مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام رضوان ان عظیم نعمات اور مقامات میں سے ہے جو خدا تعالیٰ مومنین اور مجاہدین کو بخشتا ہے۔ یہ مقام باغاتِ بہشت، جنت کی جاوداں نعمتوں اور پروردگار کی وسیع رحمت سے الگ الگ چیز ہے اس مسئلے کی مزید تشریح انشاء الله اسی سورت کی آیہ ۷۲ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیا ہے: وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اَکْبَرُ

23
9:23
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اے ایمان والو ! جس وقت تمہارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو انہیں اپنا ولی (اور دوست‘ یاور اور سہارا)قرار نہ دو اور جو انہیں اپنا ولی قرار دیں وہ ظالم ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
9:24
قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
کہہ دو: اگر تمہارے آباؤ اجداد‘ اولاد‘ بھائی‘ ازواج اور تمہارا قبیلہ اور وہ اموال جو تمہارے ہاتھ لگے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تمہیں ڈر ہے وہ تمہارے پسندیدہ گھر تمہاری نظر میں اللہ‘ اس کے پیغمبر اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تم پھر انتظار کرو کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرے اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

ہدف اور خدا پر ہر چیز قربان ہے۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخری وسوسہ اور بہانہ جو بت پرستوں کے مقابلے میں حکم جنگ کے بارے میں ہو سکتا ہے اور بعض تفاسیر کے مطابق پیدا ہوا، یہ تھا کہ وہ سوچتے تھے کہ ایک طرف مشرکین اور بت پرستوں کے درمیان ان کے قریبی عزیز اور وابستہ لوگ موجود تھے۔ کبھی باپ مسلمان ہو جاتا اور بیٹا مشرک رہ جاتا اور کبھی برعکس، اولاد راہِ خدا پر چل نکلتی اور باپ اسی طرح شرک کی تاریکی میں رہ جاتا۔ یونہی بھائیوں، میاں بیوی اور خاندان کے بارے میں صورت تھی۔ اب اگر تمام مشرکین کے ساتھ جنگ کرنا مقصود ہوتا تو پھر اس کا تقاضا یہ ہوتا کہ اپنے رشتہ داروں اور قوم وقبیلہ کو بھول جائیں ۔ دوسری طرف ان کا زیادہ تر سرمایہ اور تجارت مشرکین کے ہاتھ میں تھا۔ لہٰذا وہ مکہ آتے جاتے اور اس کی ترقی کے لئے کام کرتے۔ تیسری بات یہ تھی کہ مکہ میں ان کے گھر تھے جو اچھی حالت میں نسبتاً آباد تھے کہ جو ہو سکتا تھا کہ مشرکین سے جنگ کی صورت میں ویران ہو جائیں یا ممکن تھا کہ مراسم حج سے مشرکین کے معطل ہو جانے کی وجہ سے ان کی کوئی قدر وقیمت نہ رہتی اور وہ بے سود ہو جاتے۔ مندرجہ بالا آیات کی نظر ایسے اشخاص ہی کی طرف ہے اور دو ٹوک انداز میں انھیں صریح جواب دیتی ہیں، پہلے فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! جب تمھارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان پر مقدم رکھیں تو انھیں اپنا دوست، مددگار ولی اور سرپرست قرار نہ دو (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّخِذُوا آبَائَکُمْ وَإِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَاءَ إِنْ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْإِیمَانِ)۔ پھر تاکید کے طور پر مزید کہا گیا ہے: تم میں سے جو لوگ مدد اور دوستی کے لئے ان کا انتخاب کریں وہ ستمگر ہیں (وَمَنْ یَتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاُوْلٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ)۔ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا کہ انسان حق سے بیگانوں اور حق کے دشمنوں سے دوستی رکھ کر اپنے اوپر، اس معاشرے پر جس میں وہ رہتا ہے اور خدا کے بھیجے ہوئے رسول پر ظلم کرے۔ اگلی آیت میں اس امر کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر اس کی تشریح تاکید اور تہدید کی صورت میں کی گئی ہے، روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو اگر تمھارے باپ، اولاد، بھائی، ازواج، خاندان اور قبیلہ اور تمھارے جمع کردہ اموال اور تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں خوف ہے اور اچھے امکانات جو تمہیں پسند ہیں تمھاری نظر میں خدا، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ خدا کی طرف سے سزا اور عذاب تمہیں آلے (قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوھَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ وَجِھَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہِ)۔ ان امور کو رضائے الٰہی اور جہاد پر ترجیح دینا چونکہ ایک قسم کی نافرمانی اور واضح فسق ہے اور مادی زندگی کے رزق وبرق سے دلبستگی رکھنے والے ہدایت الٰہی کی اہلیت نہیں رکھتے لہٰذا آیت کے آخر میں مزید ارشاد ہوتا ہے: خدا فاسق گروہ کو ہدایت نہیں کرتا (وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ)۔ تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں اس طرح منقول ہے: ”لما اذن امیر المومنین ان لا یدخل المسجد الحرام مشرک بعد ذٰلک جزعت قریش جزعاً شدیداً وقالوا ذھبت تجارتنا، وضاحت عیالنا، وخرجت دورنا، فانزل الله فی ذٰلک (یا محمد)إِنْ کَانَ آبَائُکُمْ--- “ جب حضرت امیر المومنین علی(ع) نے (مراسم حج کے دوران) اعلان کیا کہ اس کے بعد کوئی مشرک مسجد الحرام میں داخلے کا حق نہیں رکھتا تو قریش (کے مومنین) نے فریاد بلند کی اور کہنے لگے: ہماری تجارت ختم ہو گئی اور ہمارے اہل وعیال تباہ ہو گئے اور ہمارے گھر ویران ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ”إِنْ کَانَ آبَائُکُمْ--- “ مندرجہ بالا آیات میں اصلی سچّے ایمان کوشرک ونفاق سے آلودہ ایمان کو الگ الگ کرکے دکھایا گیا ہے اور حقیقی مومنین اور ضعیف الایمان افراد کے درمیان حد فاصل مقرر کر دی گئی ہے اور صراحت سے کہا گیا ہے کہ ہشت پہلو مادی زندگی کا سرمایہ کہ جس کے چار حصّے نزدیکی رشتہ داروں (ماں باپ، اولاد، بہن بھائیوں اور میان بیوی) سے مربوط ہیں، ایک حصّہ گروہ اجتماعی اور عشیرہ وقبیلہ سے، ایک حصّہ جمع کردہ اموال سے، ایک حصّہ اچھے مکانوں سے مربوط ہے انسان کی نظر میں خدا، رسول، جہاد اور فرمانِ خدا کی اطاعت سے بڑھ کر قیمتی اور گراں بہا ہے یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دین پر قربان کرنے کو تیار نہیں تو معلوم ہوتا ہے اس میں حقیقی اور کامل ایمان پیدا نہیں ہوا ۔ حقیقتِ ایمان وروح ایمان اپنی تمام قدروں کے ساتھ اسی دن روشن ہو گی جس روز ایسی فداکاری اور قربانی میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ علاوہ ازیں، جو لوگ ایسے ایثار وفداکاری پر آمادہ نہیں ہیں درحقیقت اپنے اوپر اور معاشرے پر ظلم کرتے ہیں یہاں تک کہ جس چیز سے وہ ڈرتے ہیں اسی میں جا گریں گے کیونکہ جو قوم تاریخ کے ایسے لمحوں اور مقامات پر ایسی فداکاریوں کے لئے تیار نہیں ہے جلد یا بہ دیر اسے شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور وہی عزیز واقارب اور مال ودولت جن سے دلبستگی کی وجہ سے حہاد سے اجتناب کرتے ہیں خطرے میں پڑجائیں گے اور دشمن کے چنگل میں نیست ونابود ہو جائیں گے۔

قابل توجہ نکات ۱۔ ہدف عزیز تر ہو:

جو کچھ آیاتِ بالا میں فرمایا گیا ہے اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ عزیز واقارب سے دوستی اور محبت کے رشتے توڑلیے جائیں اور اقتصادی سرمائے کی پرواہ نہ کی جائے اور نہ یہاں انسانی جذبات کو ترک پر ابھارا گیا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب زندگی میں دوراہا آ جائے تو بیوی، اولاد، مال ودولت، مقام ومنزلت، گھر اور گھرانے کے عشق کو حکمِ خدا کے اجراء اور جہاد کی طرف رغبت سے مانع نہیں ہونا چاہیے اور ان چیزوں کو انسان کے مقدس ہدف اور مقصد میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر دوراہے پر نہ کھڑا ہو اور ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ نہ ہو تو پھر دونوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ سورہٴ لقمان کی آیہ۱۵ میں بت پرست ماں باپ کے بارے میں ہے: وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلی اَنْ تُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوفًا اگر وہ اصرار کریں کہ تو جس چیز کو خدا کا شریک نہیں جانتا اسے خدا کا شریک قرار دے تو ہرگز ان کی اطاعت نہ کرنا لیکن دنیاوی زندگی میں ان سے اچھا سلوک کرو۔

۲۔ ”فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہِ“کا ایک اور مفہوم :

اس کی ایک تو تفسیر وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں یعنی خدا کی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے تہدید ہے جو اپنے مادی مفاد کو رضائے الٰہی پر مقدم شمار کرتے ہیں اور چونکہ یہ تہدید اجمالی طور پر بیان ہوئی ہے لہٰذا اس کا اثر بیشتر اور زیادہ وحشت انگیز ہے اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے انسان اپنے کسی ماتحت سے کہے کہ اگر تو نے اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کی تو میں بھی اپنا کام کروں گا ۔ اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا کہتا ہے کہ اگر تم اس قسم کے ایثار کے لئے تیار نہ ہوئے تو خدا اپنے پیغمبر کی فتح وکامرانی کا حکم اس راستے سے دے گا جسے وہ جانتا ہے اور جس طریقے سے اس نے ارادہ کیا ہے اس کی مدد کرے گا، جیسے سورہٴ مائدہ کی آیت ۵۴ میں ہے: یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَاْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّونَہُ--- اے ایمان والو! تم میں سے جوشخص اپنے دین سے مرتد ہو جائے وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ خدا عنقریب ایک گروہ لائے گا جو خدا سے محبت کرتا ہے اور خدا بھی اس گروہ سے محبت کرتا ہے۔

۳۔ ماضی اور حال میں اس حکم کی کیفیت:

ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہ خیال کریں کہ جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں بیان ہوا ہے وہ پہلے مسلمانوں سے مخصوص ہے اور اس کا تعلق گذشتہ تاریخ سے ہے حالانکہ یہ بہت بڑا اشتباہ ہے۔ یہ آیات گذشتہ، آج اور آئندہ سب ادوار کے مسلمانوں پر محیط ہیں۔ اگر وہ جہاد اور فداکاری کے لئے محکم ایمان نہ رکھتے ہوں، تیار نہ ہوں، ضرورت کے وقت ہجرت پر تیار نہ ہوں اور اپنے مادی مفاد کو رضائے الٰہی پر مقدم سمجھیں اور بیوی، اولاد، مال ودولت اور عیشِ حیات سے زیادہ دلبستگی کی وجہ سے ایثار وقربانی سے کوئی تعلق نہ رکھتے ہوں تو ان کا مستقبل تاریک ہے؛ نہ صرف مستقبل بلکہ اُن کا حال بھی خطرے میں ہے اور ان کا سب گذشتہ افتخار، میراث اور امتیاز ختم ہو جائے گا۔ ان کی زندگی کے منابع اور مراکز دوسروں کے ہاتھ لگ جائیں گے اور ان کے لئے زندگی کا کوئی مفہوم نہیں ہو گا کیونکہ زندگی ایمان اور ایمان کے زیر سایہ جہاد سے عبارت ہے۔ مندرجہ بالا آیات کی ایک شعار کے طور پر تمام مسلمانوں بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم دی جانا چاہیے اور ان میں فداکاری، مبارزہ اور ایمان کی روح زندہ ہونا چاہیے، انھیں چاہیے کہ وہ اپنی میراث کی حفاظت کریں۔

25
9:25
لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ
اللہ نے بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کی (اور تم دشمن پر کامیاب ہوئے) اور حنین کے دن (بھی مدد کی) جب کہ تمہارے لشکر کی کثرت تعداد نے تمہیں گھمنڈ میں ڈال دیا لیکن (اس کثرت نے) تمہاری کوئی مشکل حل نہ کی اور زمین پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تو (دشمن کو) پشت دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
9:26
ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ
پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکون اطمینان اپنے رسول اور مومنین پر نازل کیا اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
9:27
ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
پھر اللہ جس شخص کی چاہے (اور اسے اہل دیکھے) توبہ قبول کرتا ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر صرف کثرت کسی کام کی نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو راہِ خدا میں شرک وبت پرستی کی جڑ اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر قسم کی فداکاری کی دعوت دیتا ہے اور وہ اشخاص کہ جن کی روح کو بیوی اولاد، قوم وقبیلہ اور مال وثروت کی محبت نے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ فداکاری اور جہادکے لئے تیار نہیں ہیں انھیں شدید خطرے کا الارم دیتا ہے۔ اس کے بعد محل بحث آیات میں ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر رہبر ورہنما کو چاہیے کہ وہ حسّاس مواقع پر اپنے پیروکاروں کو اس کی طرف متوجہ کرے اور وہ یہ ہے کہ اگر مال واولاد کا عشق ضعیف الاعتقاد گروہ کے کچھ افراد کو مشرکین کے خلاف جہاد کے لئے پیش قدمی سے روکے تو سچّے مومنین کا گروہ اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ جب ان کی تعداد کم تھی (مثلاً جنگ بدر میں) ان دنوں خدا نے انھیں تنہا نہیں چھوڑا اور نہ اُس دن جس روز ان کی جمعیت زیادہ تھی (مثلاً جنگِ حنین کے میدان میں) اور کثرتِ تعداد نے ان کے درد کا مداوا نہ کیا، بلکہ ہر حالت میں خدا کی مدد ان کی کامیابی کا سبب بنی۔ اسی لئے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدا نے بہت سے مقامات پر تمھاری مدد کی (لَقَدْ نَصَرَکُمْ اللهُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَةٍ)۔ ”مواطن“ ”موطن“ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ایسی جگہ جسے انسان دائمی طور پر یا وقتی طور اقامت کے لئے منتخب کرے لیکن اس کے معانی میں سے ایک جنگ کا میدان بھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگی فوجی تھوڑی یا زیادہ مدت کے لئے وہاں قیام کرتے ہیں۔ مزید فرمایا گیا ہے: اور حنین کے دن تمھاری مدد کی جب اپنی زیادہ جمعیت کی وجہ سے تم اترانے لگے تھے (وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ)۔ اس جنگ میں لشکرِ اسلام کی تعداد بارہ ہزار تھی، بعض نے دس یا آٹھ ہزار لکھی ہے لیکن مشہور اور صحیح روایات بارہ ہزار کی تائید کرتی ہیں اور اُس وقت تک کسی اسلامی جنگ میں اتنی کثیر تعداد نے شرکت نہیں کی تھی۔ چنانچہ بعض مسلمانوں نے غرور کے انداز میں کہا: ”لن نغلب الیوم“ یعنی اتنی فوج کے ہوتے ہوئے ہم ہرگز شکست نہیں کھائیں گے۔ لیکن جیسا کہ انشاء الله ہم جنگ حنین کی تفصیل میں بتائیں گے کہ لشکر کی یہ کثیر تعداد جس میں ایک گروہ نئے مسلمانوں کا تھا اور جن کی ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی لشکر کے فرار اور ابتدائی شکست کا سبب بنا مگر آخر کار انھیں لطفِ خداوندی کے سبب نجات ملی۔ اس ابتدائی شکست کے بارے میں قرآن مزید کہتا ہے: زمین اپنی پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوئی (وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ) پھر تم دشمن کو پشت دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے (ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ)۔ ایسے موقع پر جب کہ مسلمان فوج سرزمینِ حنین پر تتر بتر ہو چکی تھی اور چند ایک افراد کے سوا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے بھاگ جانے کی وجہ سے سخت ناراحت تھے ”خدا نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی طرف سے سکون واطمینان نازل کیا“ (ثُمَّ اَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلیٰ رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ)۔ اور اسی طرح تمھاری تقویت اور مدد کے لئے ایسے لشکر بھیجے جنھیں تم نہیں دیکھتے تھے (وَاَنزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْھَا)۔ جیسا کہ ہم جنگ بدر سے مربوط آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ اس غیر مرئی خدائی لشکر کا نزول صرف مسلمانوں کی تقویتِ روح اور ثبات قدم کے لئے تھا ورنہ فرشتوں اور غیبی طاقتوں نے کوئی جنگ نہیں کی تھی ۔( تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لئے اسی جلد میں سورہٴ انفال کی آیہ ۹ تا ۱۲ کے ذیل میں دیکھئے۔) آخر میں جنگ حنین کا اصلی نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا نے بے ایمان اور بت پرست لوگوں کو سزا دی (کچھ لوگ مارے گئے کچھ گرفتار ہو گئے اور کچھ بھاگ کر مسلمانوں کی دسترس سے نکل گئے) (وَعَذَّبَ الَّذِینَ کَفَرُوا)۔ اور بے ایمان لوگوں کی یہی سزا ہے (وَذٰلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ)۔ اس کے باوجود کافر قیدیوں اور بھگوڑوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا کہ اگر وہ مائل ہوں تو خدا کی طرف پلٹ آئیں اور دین حق قبول کر لیں۔ لہٰذا آخری زیرِ بحث آیت میں ارشاد ہوتا ہے: پھر اس واقعہ کے بعد خدا جس کے لئے چاہے (اور جسے واقعی توبہ کے لئے تیار دیکھے اور اہل پائے) اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے (ثُمَّ یَتُوبُ اللهُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ) ”یتوب“ جو فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ توبہ اور باز گشت کے دروازے اسی طرح ان کے سامنے کھلے ہیں کیونکہ ”خدا بخشنے والا اور مہربان ہے“ وہ کبھی توبہ کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا اور اپنی وسیع رحمت سے کسی کو ناامید نہیں کرتا(وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ جنگ حنین، ایک عبرت انگیز معرکہ:

”حنین“ شہر طائف کے قریب ایک علاقے کا نام ہے۔ یہ جنگ چونکہ اس زمین پر لڑی گئی۔ لہٰذا غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہو گئی۔ قرآن میں اسے ”یومِ حنین“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس جنگ کو ”غزوہ اوطاس“ اور ”غزوہٴ ہوازن“ بھی کہتے ہیں (”اوطاس“ اسی علاقے کی زمین کا نام ہے اور ”ہوازن“ ایک قبیلے کا نام ہے جو اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف برسرِپیکار تھا)۔ کامل میں ابن اثیر نے لکھا ہے کہ اس جنگ کی ابتداء یوں ہوئی کہ ”ہوازن“ جو بہت بڑا قبیلہ تھا اسے فتح مکہ کی خبر ہوئی تو اس کے سردار مالک بن عوف نے افراد کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ممکن ہے فتح مکہ کے بعد محمد ان سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ وہ کہنے لگے کہ مصلحت اس میں ہے کہ اس سے قبل کہ وہ ہم سے جنگ کرے ہمیں قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سرزمین ”ہوازن“ کی طرف چلنے کو تیار ہو جائیں ۔( بحوالہ : کامل ابن اثیر، ج۲، ص۲۶۱-) اس جنگ کے مواقع اور کلیات میں موٴرخین کے درمیان تقریباً اختلاف نہیں ہے لیکن اس کی تفصیلات کے بارے میں طرح طرح کی روایات نظر آتی ہیں جو ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتیں، جو کچھ ہم ذیل میں اختصار سے درج کر رہے ہیں یہ اس روایت ے مطابق ہے جو طبرسی مرحوم نے مجمع البیان میں ذکر کی ہے ۔ سنئہ 8 ہجری رمضان المبارک کے آخری دن تھے یا شوال کا مہینہ تھا کہ قبیلہ ہوازن کے سردار مالک بن عوف کے پاس جمع ہوئے اور اپنا مال، اولاد اور عورتیں بھی اپنے ساتھ لے آئے تاکہ مسلمانوں سے جنگ کرتے وقت کسی کے دماغ میں بھاگنے کا خیال نہ آئے، اس طرح سے وہ سرزمین اوطاس میں وارد ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے لشکر اسلام کا بڑا علم باندھ کر علیؑ کے ہاتھ میں دیا اور وہ تمام افراد جو فتح مکہ کے موقع پر اسلامی فوج کے کسی دستے کے کمانڈر تھے آنحضرت کے حکم سے اسی پرچم کے نییچے حنین کے میدان کی طرف روانہ ہوئے۔ رسول الله کو اطلاع ملی کہ صفوان بن امیہ کے پاس ایک بڑی مقدار میں زرہیں ہیں، آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے سو زرہیں عاریتاً طلب کیں۔ صفوان نے پوچھا : واقعاً عاریتاً ہیں یا غصب کے طور پر۔ رسول الله نے فرمایا: یہ عاریتاً ہیں اور ہم ان کے ضامن ہیں کہ صحیح وسالم واپس کریں گے۔ صفوان نے زرہیں عاریتاً پیغمبر اکرم کو دے دیں اور خود بھی آنحضرت کے ساتھ چلا۔ فوج میں دو ہزار ایسے افراد تھے جنھوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدینِ اسلام تھے جو پیغمبر اکرم کے ساتھ فتح مکہ کے لئے آئے تھے۔ یہ تعداد مجموعتاً بارہ ہزار بنتی ہے۔ یہ سب میدانِ جنگ کی طرف چل پڑے۔ مالک بن عوف ایک مردِ جری اور ہمت وحوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالیں اور پہاڑ کی غاروں میں، درّوں کے اطراف میں اور درختوں کے درمیان لشکرِ اسلام کے راستے میں کمین گاہیں بنائیں اور جب اوّل صبح کی تاریکی میں مسلمان وہاں پہنچیں تو اچانک اور ایک ہی بار ان پر حملہ کر دیں اور اسے فنا کر دیں۔ اس نے مزید کہا: محمد کا ابھی تک جنگجو لوگوں سے سامنا نہیں ہوا کہ وہ شکست کا مزہ چکھتا۔ رسول الله اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز صبح پڑھ چکے تو آپ نے حکم دیا کہ سرزمینِ حنین کی طرف چل پڑیں۔ اس موقع پر اچانک لشکرِ ہوازن نے ہر طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ دستہ جو مقدمہٴ لشکر میں تھا (اور جس میں مکہ کے نئے نئے مسلمان بھی تھے) بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے سبب باقی ماندہ لشکر بھی پریشان ہو کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ خداوند تعالٰی نے اس موقع پر دشمن کے ساتھ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا اور وقتی طور پر ان کی نصرت سے ہاتھ اُٹھا لیا کیونکہ مسلمان اپنی کثرتِ تعداد پر مغرور تھے۔ لہٰذا ان میں شکست کے آثار آشکار ہوئے۔ لیکن حضرت علیؑ جو لشکر اسلام کے علمبردار تھے وہ مٹھی بھر افراد سمیت دشمن کے مقابلے میں ڈتے رہے اور اسی طرح جنگ جاری رکھے رہے۔ اس وقت پیغمبر اکرم قلبِ لشکر میں تھے، رسول الله کے چچا عباس بنی ہاشم کے چند افراد کے ساتھ آپ کے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے۔ یہ کل افراد نو سے زیادہ نہ تھے دسویں اُم ایمن کے فرزند ایمن تھے۔ مقدمہ لشکر کے سپاہی فرار کے موقع پر رسول الله کے پاس سے گزرے تو آنحضرت نے عباس کو جن کی آواز بلند اور زوردار تھی کو حکم دیا کہ اس ٹیلے پر جو قریب ہے چڑھ جائیں اور مسلمانوں کو پکاریں: یا معشر المھاجرین والاٴنصار! یا اصحاب سورة البقرة! یا اھل بیعت الشجرة!الیٰ این تفرون ھٰذا رسول الله- اے مہاجرین وانصار!، اے سورہٴ بقرہ کے ساتھیو!، اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کہاں بھاگے جارہے ہو؟ رسول الله تو یہاں ہیں ۔ مسلمانوں نے جب عباس کی آواز سنی تو پلٹ آئے اور کہنے لگے: لبیّک! لبیّک! خصوصاً لوٹ آنے میں انصار نے پیش قدمی اور فوجِ دشمن پر ہر طرف سے سخت حملہ کیا اور نصرتِ الٰہی سے پیش قدمی جاری رکھی یہاں تک کہ قبیلہ ہوازن وحشت زدہ ہو کر ہر طرف بکھر گیا۔ مسلمان مسلسل ان کا تعاقب کر رہے تھے۔ لشکرِ دشمن میں سے تقریباً ایک سو افراد مارے گئے۔ ان کے اموال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور کچھ ان میں سے قیدی بنا لئے گئے۔(بحوالہ: مجمع البیان، ج۵، ص۱۷تا ۱۹ ) لکھا ہے کہ اس تاریخی واقعہ کے آخر میں قبیلہ ہوازن کے نمائندے رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ پیغمبر اکرم نے ان سے بہت محبت والفت فرمائی۔ یہاں تک کہ ان کے سربراہ مالک بن عوف نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ آپؐ نے اس کا مال اور قیدی اسے واپس کر دیئے اور اس کے قبیلہ کے مسلمانوں کی سرداری بھی اس کے سپرد کر دی ۔ درحقیقت، ابتدا میں مسلمانوں کی شکست کا اہم عامل غرور وتکبر جو کثرت فوج کی وجہ سے ان میں پیدا ہو گیا تھا، اس کے علاوہ دو ہزار نئے مسلمانوں کا وجود تھا جن میں سے بعض فطری طور پر منافق تھے، کچھ ان میں مالِ غنیمت کے حصول کے لئے شامل ہو گئے تھے اور بعض بغیر کسی مقصد کے ان میں شامل ہو گئے تھے۔

۲۔ بھاگنے والے کون تھے؟

اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ میدان حنین میں سے اکثریت ابتداء میں بھاگ گئی تھی جو باقی رہ گئے تھے ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق دس تھی اور بعض نے تو ان کی تعداد چار بیان کی ہے۔ بعض نے زیادہ سے زیادہ سو افراد لکھے ہیں ۔ بعض مشہور روایات کے مطابق چونکہ خلفاء بھی بھاگ جانے والوں میں سے تھے لہٰذا بعض اہل سنّت مفسّرین نے کوشش کی ہے کہ اس فرار کو ایک فطری چیز کے طور پر پیش کیا جائے۔ المنار کے موٴلف لکھتے ہیں : جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی سخت بوچھاڑ کی تو جو لوگ مکہ سے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے اور جن میں منافقین اور ضعیف الایمان بھی تھے اور جو مالِ غنیمت کے لئے آ گئے تھے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے میدان میں پشت دکھائی تو باقی لشکر بھی فطری طور پر مضطرب اور پریشان ہو گیا وہ بھی معمول کے مطابق نہ کہ خوف وہراس سے، بھاگ کھڑے ہوئے اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک گروہ فرار ہو جائے تو باقی بے سوچے سمجھے متزلزل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کا فرار ہونا پیغمبر کی مدد ترک کرنے اور انھیں دشمن کے ہاتھ میں چھوڑ جانے کے طور پر نہیں تھا کہ وہ خدا کے غضب کے مستحق ہوں۔( بحوالہ: تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۶۲، ۲۶۳، ۲۶۵) ہم اس بات کی تشریح نہیں کرتے اور اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں ۔ اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ صحیح بخاری جو اہل سنّت کی معتبر ترین کتب میں سے ہے میں اس میدان میں مسلمانوں کی شکست اور فرار سے متعلق گفتگو میں منقول ہے: فاذا عمر بن الخطاب فی الناس، وقلت ماشاٴن الناس، قال امر الله، ثم تراجع الناس الیٰ رسول الله--- اچانک عمر بن خطاب لوگوں کے درمیان تھے میں نے کہا لوگوں نے کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا الله کی مرضی ایسی تھی، پھر لوگ پیغمبر کی طرف پلٹ آئے۔(بحوالہ: تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۶۲، ۲۶۳، ۲۶۵) لیکن اگر ہم اپنے پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو چھوڑ دیں اور قرآن کی طرف توجہ دیں تو ہم دیکھیں گے کہ قرآن بھاگنے والوں میں کسی گروہ بندی اور تفریق کا قائل نہیں بلکہ سب کی مساوی مذمت کر رہا ہے کہ جو بھاگ گئے تھے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان دو جملوں میں کیا فرق ہے جن میں سے ایک یہ مندرجہ بالا آیات میں ہے: ”ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ“ پھر تم پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور دوسرا جملہ کہ جو سورہٴ انفال آیہ۱۶ میں گزرا ہے جہاں فرمایا گیا ہے: وَمَنْ یُوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ جو شخص دشمن سے پشت پھیرے وہ غضبِ پروردگار میں گرفتار ہو گا مگر وہ دشمن پر حملہ کرنے کی غرض سے یا مجاہدین کے گروہ کے ساتھ آملنے کے لئے اپنی جگہ بدل لے۔ لہٰذا اگر ان دو آیات کو دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ثابت ہو گا کہ اس دن چند ایک مسلمانوں کے سوا باقی تمام ایک عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے زیادہ سے زیادہ یہ کہ بعد میں انہوں نے توبہ کرلی اور پلٹ آئے۔

۳۔ ایمان واطمینان

”سکینة“ در اصل ”سکون “ کے مادہ سے ہے، یہ ایک طرح کے اطمینان وسکون کی حالت کے معنی میں ہے کہ جو انسان سے ہر طرح کا شک وشبہ اور خوف ووحشت دور کرے اور اسے سخت اور دشوار حوادث کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے۔ ”سکینة“ کا ایمان کے ساتھ قریبی تعلق ہے یعنی یہ ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ صاحبانِ ایمان جب خدا کی بے پایاں قدرت کو یاد کرتے ہیں اور اس کے لطف ورحمت پر نظرکرتے ہیں تو اُمید کی ایک لہر ان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہ جو ”سکینة“ کو بعض روایات میں ”ایمان“ کہا گیا ہے(بحوالہ : تفسیر برہان، ج۲، ص۱۱۴) اور بعض روایات میں ”انسان(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۱ ) کی شکل وصورت میں نسیم بہشت“ مراد لیا گیا ہے تو ا ن سب کی باز گشت اسی معنی کی طرف ہے۔ قرآن مجید کی سورہٴ فتح آیہ۴ میں ہے: ھُوَ الَّذِی اَنْزَلَ السَّکِینَةَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِھِمْ وہ ذات وہ ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکینةکو نازل کیا تاکہ ان کے ایمان میں ایمان کا اضافہ ہو۔ بہرحال، یہ غیر معمولی نفسیاتی کیفیت ایک خدائی اور آسمانی نعمت ہے جس کے باعث انسان مشکل ترین حوادث بھی برداشت کر لیتا ہے اور اطمینان وثبات قدم کی ایک دنیا اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ قرآن محل بحث آیات میں یہ نہیں کہتا کہ ”ثمّ انزل الله سکینة علی رسولہ وعلیکم“ (پھر خدا نے اپنے رسول اور تم پر سکینة نازل کی) حالانکہ اس سے پہلے تمام جملوں میں ”کم“ کا لفظ خطاب کے لئے آیا ہے جبکہ یہاں ”علی الموٴمنین“ کہا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ منافقین اور وہ جو میدان جہاد میں طالب دنیا تھے اس سکینہ اور اطمینان میں ان کا کوئی حصّہ نہیں تھا اور یہ نعمت صرف صاحبانِ ایمان کو نصیب ہوئی ۔ روایات میں ہے کہ یہ نسیم جنّت انبیاء اور خدا کے رسولوں کے ساتھ ہوا کرتی تھی(بحوالہ : تفسیر برہان، ج۲، ص۱۱۲) یہی وجہ ہے کہ ایسے حوادث کے موقع پر جن میں کسی شخص کو خود پر کنٹرول نہیں رہتا ان کی روح مطمئن ہوتی ہے اور ان کا عزم راسخ، آہنی اور غیر متزلزل ہوتا ہے۔ میدان حنین میں پیغمبر اکرم پر سکینةکا نزول جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس اضطراب کو رفع کرنے کے لئے تھا جو آپؐ کو ان لوگوں کے بھاگ جانے کی وجہ سے تھا۔ ورنہ آنحضرت تو اس معرکہ میں مضبوط پہاڑ کی طرح ڈٹے ہوئے تھے اور اسی طرح حضرت علیؑ اور مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بھی ثابت قدم تھا۔

۴۔ "مواطن کثیرة" کا مفہوم:

مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ ”مواطن کثیرة“(بہت سے میدانوں) میں خداوند تعالٰی نے مسلمانوں کی نصرت کی ۔ وہ جنگیں کہ جن میں رسول الله موجود تھے اور شریک جنگ ہوئے اور وہ جنگیں جن میں آپؐ شامل تو تھے لیکن خود آپ نے جنگ نہیں کی اور اسی طرح وہ جنگ جس میں لشکرِ اسلام دشمن کے آمنے سامنے ہوا مگر آپ اس میں موجود نہیں تھے ان کی تعداد کے بارے میں موٴرخین میں اختلاف ہے لیکن بعض روایات جو طرقِ اہل بیت سے ہم تک پہنچی ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اسّی(۸۰) ہے۔ کافی میں منقول ہے کہ ایک عباسی خلیفہ کے بدن میں زہر سرایت کر گیا تھا۔ اس نے نذر مانی کہ اگر وہ اس سے بچ گیا تو کثیر مال فقراء کو دے گا۔ جب وہ صحت یاب ہو گیا تو وہ فقہاء جو اس کے گردوپیش تھے انہوں نے مال کے مبلغ میں اختلاف کیا لیکن کسی کے پاس کوئی واضح مدرک اور دلیل نہ تھی۔ آخرکار انہوں نے نویں امام حضرت محمد بن علی التقی علیہماالسلام سے سوال کیا۔ آپؑ نے جواب میں فرمایا کہ کثیر سے مراد اسّی (۸۰) ہے۔ جب اس کی علت پوچھی گئی تو آپ نے زیرِ نظر آیت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہم نے اسلام وکفر کی جنگوں کی تعداد شمار کی ہےکہ جن میں مسلمان کامیاب ہوئے ہیں تو ان کی تعداد اسّی بنی ہے۔(بحوالہ : تفسیرنور الثقلین، ج۲، ص۱۹۷)

۵۔ ایک سبق:

ایک نکتہ جس کی طرف آج کے مسلمانوں کو ضرور توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ حنین جیسے حوادث سے سبق حاصل کریں اور جان لیں کہ کثرتِ تعداد اور انبوہِ جمعیت کبھی بھی ان کا غرور اور فریب کا سبب نہ بنے کیونکہ صرف زیادہ جمعیت سے کام نہیں بنتا۔ اہم مسئلہ تو تربیت یافتہ مومنین اور عزمِ راسخ رکھنے والے افراد کا ہے چاہے ان کی تعداد مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ ایک چھوٹے سے گروہ نے جنگ حنین میں سرنوشت بدل کے رکھ دی جب کہ غیر آزمودہ، غیر تربیت یافتہ کثیر تعداد شکست وہزیمت کا سبب بن چکی تھی ۔ اہم بات یہ ہے کہ افراد میں ایمان، استقامت اور ایثار کی روح کو پروان چڑھنا چاہیے تاکہ ان کے دل خدائی سکینة کے مرکز قرار پائیں اور وہ زندگی کے سخت ترین طوفانوں میں بھی پہاڑ کی طرح سے جمے رہیں اور مطمئن اور پرسکون ہوں۔

28
9:28
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اے ایمان والو !بے شک مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہیں جا سکتے اور اگر فقر و فاقہ سے ڈرتے ہو تو خدا اپنے فضل سے جب چاہے گا تمہیں بے نیاز کر دے گا۔ بے شک اللہ دانا و حکیم ہے۔

تفسیر مشرکین کو مسجد میں داخلے کا حق نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے سنئہ ۹ھ مراسم حج میں مکہ کے لوگوں تک جو چار احکام پہنچائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آئندہ سال کوئی مشرک مسجد الحرام میں داخل ہونے اور خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ مندرجہ بالا آیت اس امر اور اس کے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد انھیں مسجد الحرام کے قریب نہیں آنا چاہیے (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا)۔ کیا یہ آیت مشرکین کے نجس ہونے پر فقہی مفہوم کے لحاظ سے دلیل ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں فقہاء اور مفسّرین میں اختلاف ہے۔ آیت کے معنی کی تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ پہلے لفظ ”نجس“ (بروزن ”ہوس“) پر بحث کی جائے۔ یہ لفظ مصدری معنی رکھتا ہے اور تاکید ومبالغہ کے طور پر صفت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ راغب نے مفردات میں اس لفظ کے معنی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ”نجاست“ اور ”نجس“ ہر قسم کی ناپاکی کے معنی میں ہے اور وہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک حسّی اور دوسری باطنی ۔ طبرسی ”مجمع البیان“ میں کہتے ہیں کہ ہر وہ چیز کہ جس سے انسان کی طبیعت متنفر ہو اسے ”نجس“ کہا جاتا ہے۔ اس لئے یہ لفظ بہت سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اس کا ظاہری نجاست اور آلودگی کا مفہوم نہیں ہوتا۔ مثلاً ایسی تکلیف اور درد کہ جس کا علاج دیر میں ہو عرب اسے ”نجس“ کہتے ہیں۔ پست اور شریر اشخاص کے لئے بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے۔ بڑھاپے اور بدن کی کہنگی وفرسوگی کو بھی ”نجس“ کہتے ہیں ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مشرکین کو نجس اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا جسم پلید ہے جیسے خون، پیشاب اور شراب نجس ہوتے ہیں یا یہ کہ بت پرستی کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے ان میں ایک قسم کی باطنی پلیدگی ہے۔ اس طرح سے کفار کی نجاست ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لئے ہمیں دوسری ادلّہ تلاش کرنا پڑ یں گی۔ اس کے بعد ان کوتاہ فکر افراد کو جواب دیا گیا ہے جو یہ اظہار کرتے تھے کہ اگر مشرکین کا مسجد الحرام میں آنا جانا بند ہو گیا تو ہمارا کاروبار اور تجارت بند ہو جائے گی اور ہم فقیر ہو کر رہ جائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے: فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو اگر خدا نے چاہا تو عنقریب تمہیں اپنے فضل وکرم کے ذریعہ بےنیاز کر دے گا (وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ ان شاء)۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اُس نے مسلمانوں کو بہترین طور پر بے نیاز کر دیا اور زمانہٴ پیغمبر ہی میں اسلام کے پھیلاوٴ اور وسعت سے خانہٴ خدا کے زائرین کا ایک سیلاب مکہ کی طرف اُمڈ آیا اور آج تک اسی طرح جاری وساری ہے ۔ مکہ جو جغرافیائی لحاظ سے نامناسب ترین حالات سے دوچار ہے، جو چند خشک اور سنگلاخ بے آب وگیاہ پہاڑوں کے درمیان موجود ہے، اس کے باوجود ایک بہت ہی آباد شہر ہے اور تجارت کا اہم مرکز ہے۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا علیم و حکیم ہے (إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) اور وہ جو بھی حکم دیتا ہے حکمت کے مطابق ہوتا ہے اور وہ نتائج سے مکمل طور پر آگاہ اور باخبر ہے۔

29
9:29
قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو نہ تو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز جزا پر اور نہ اسے حرام سمجھتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دین حق قبول کرتے ہیں ‘ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے خضوع و تسلیم کے سا تھ جزیہ دینے لگیں۔

تفسیر اہلِ کتاب کے بارے میں ہماری ذمہ داری

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں بت پرستوں سے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داری یبان کی گئی ہے. زیر بحث آیت اور آئندہ آیات میں اہلِ کتاب کے بارے میں مسلمانوں کی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔ ان آیات میں درحقیقت اسلام کے ایسے احکام ہیں جو مسلمانوں اور مشرکین کے بارے میں اسلامی احکام کا حد وسط ہیں کیونکہ اہلِ کتاب ایک آسمانی دین کی پیروی کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ایک پہلو سے مشرکین کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر اسلام انھیں قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا حالانکہ جو بت پرست مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کے لئے یہ اجازت دیتا تھا کیونکہ پروگرام یہ ہے کہ روئے زمین سے بت پرستی کی بیخ کنی کی جائے۔ لیکن اہلِ کتاب کو اس صورت میں مسلمانوں کے قریب آنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ پُرامن مذہبی اقلیت کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آمیز زندگی بسر کریں، اسلام کا احترام کریں، مسلمانوں کے خلاف تحریکیں نہ چلائیں اور مخالفِ اسلام پراپیگنڈا نہ کریں۔ پُرامن بقائے باہمی کا اصول تسلیم کرنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ حکومت اسلامی کو جزیہ کی ادائیگی کریں جو ان میں سے ہر شخص پر ایک طرح کا ٹیکس ہے اور یہ سالانہ ایک مختصر سی رقم بنتی ہے۔ اس کی حدود وشرائط انشاء الله آئندہ مباحث میں بیان کی جائیں گی۔ ورنہ دوسری صورت میں اسلام ان سے جنگ کی اجازت دیتا ہے۔ اس شدت عمل کی دلیل زیرِ بحث آیت کے تین جملوں میں واضح کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جو لوگ خدا اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے ان سے جنگ کرو (قَاتِلُوا الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَابِالْیَوْمِ الْآخِرِ)۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جیسے اہل کتاب کس طرح خدا اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے حالانکہ ظاہراً ہم دیکھتے ہیں وہ خدا کو بھی مانتے ہیں اور قیامت کو بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایمان خرافات اور بے بنیاد عقائد سے مملو ہے۔ ان کے مبداء اور حقیقتِ توحید کے بارے میں ایمان کے سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ، جیسا کہ بعد کی آیات میں آئے گا حضرت عزیر(ع) کو خدا کا بیٹا جانتے تھے اور عیسائی عموماً حضرت مسیح(ع) کی الوہیت اور تثلیث پر ایمان رکھتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ آئندہ آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ ”شرک فی العبادة“ میں گرفتار تھے اور عملی طور پر اپنے مذہبی علماء اور پیشواوٴں کی پرستش کرتے تھے، گناہوں کی بخشش جو خدا کے ساتھ مخصوص ہے وہ ان سے چاہتے تھے اور خدائی احکام میں تحریف کرنے کے بعد تحریف شدہ احکام کو باقاعدہ مانتے تھے۔ باقی رہا معاد و قیامت کے بارے میں ان کا ایمان تو وہ تحریف شدہ ایمان تھا۔ کیونکہ معاد کو وہ معادِ روحانی میں منحصر سمجھتے تھے جیسا کہ ان کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا مبداء اور معاد دونوں پر ان کا ایمان مخدوش ہے۔ اس کے بعد ان کی دوسری صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ محرماتِ خداوندی کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور جسے خدا اور اس کا پیغمبر حرام کر چکے تھے اُسے حرام شمار نہیں کرتے تھے(وَلَایُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُہُ)۔ ہو سکتا ہے کہ ”رسولہ“ (اس کا رسول) سے مراد حضرت موسیٰؑ یا حضرت عیسیٰؑ ہوں کیونکہ وہ لوگ اپنے دین کے محرمات کے بھی عملی طور پر وفادار نہیں ہیں۔ بہت سے ایسے اعمال جو حضرت موسیٰؑ یا حضرت عیسیٰ ؑکے دین میں حرام دیئے گئے ہیں ان کا ارتکاب کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات انھیں حلال قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ”رسولہ“ سے مراد پیغمبر اسلام ہوں یعنی یہ جو ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ خدا نے پیغمبر اسلام کے ذریعے حرام کیا ہے اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے اور ہر قسم کے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ احتمال زیادہ قرینِ نظر ہے اور اس کی شاہد اسی سورت کی آیت ۳۳ ہے جس کی عنقریب تفسیر بیان کی جائے گی، جس میں فرمایا گیا ہے: ھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْھُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو دینِ حق کی ہدایت کے لئے بھیجا ۔ علاوہ ازین، قرآن مجید میں جہاں لفظ ”رسولہ“ بطور مطلق بولا جائے وہاں اس سے مراد پیغمبر اسلام ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر اگر مراد خود انہی کا پیغمبر ہوتا تو پھر مفرد کی صورت میں نہ کہتا بلکہ تثنیہ یا جمع کی صورت میں کہتا کیونکہ ان کا اپنا رسول تھا یا رسل تھے جیسا کہ سورہٴ یونس کی آیہ۱۳ میں آیا ہے: وَجَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ یعنی۔۔۔ ان کے رسول اُن کے لئے واضح دلائل لائے تھے۔ ایسی تعبیر قرآن کی دیگر آیات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ممکن ہے کہا جائے کہ اس صورت میں یہ آیت توضیحِ واضحات میں سے ہو گی کیونکہ واضح ہے کہ غیرمسلم دینِ اسلام کے تمام محرمات کو قبول نہیں کرتے لیکن توجہ کرنا چاہیے کہ ان صفات کو بیان کرنے کا مقصد ان کے خلاف جہاد کے جائز ہونے کی علت بیان کرنا ہے، یعنی ان سے جہاد اس لئے جائز ہے کہ وہ محرماتِ اسلامی کو قبول نہیں کرتے اور بہت سے گناہوں میں آلودہ ہیں۔ لہٰذا اگر وہ جنگ اور مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور ایک پُرامن اقلیت بن کر نہ رہیں تو پھر ان سے جنگ کی جا سکتی ہے۔ آخر میں ان کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : وہ پورے طور پر دینِ حق قبول نہیں کرتے (وَلَایَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ)۔ اس جملے کے بارے میں گذشتہ دونوں احتمالات ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ ”دین حق“ سے مراد ”دین اسلام“ ہی ہے کہ جس کی طرف چند آیات کے بعد اشارہ کیا گیا ہے۔ محرمات اسلامی پر اعتقاد نہ رکھنے کی بات کر کے اس بات کا پیمان خاص کے بعد عام بات بیان کرنے کی طرح ہے یعنی پہلے بہت سے محرمات میں ان کے آلودہ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ آلودگی خصویت سے چبھنے والی ہے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ در اصل یہ لوگ دین حق کے سامنے سرنگوں ہی نہیں ہیں یعنی ان کے ادیان راہِ حقیقی سے منحرف ہو چکے ہیں۔ وہ بہت سے حقائق فراموش کر چکے ہیں اور ان کی بجائے اپنے دین میں بہت سے خرافات شامل کر چکے ہیں۔ لہٰذا یا تو وہ ارتقائی اور کامل تر انقلابِ اسلام کو قبول کر لیں اور اپنی مذہبی فکر کی نئی دنیا بنا لیں اور یا کم از کم پُرامن اقلیت کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ رہیں اور صلح آمیز شرائط زندگی قبول کر لیں ۔ یہ تین اوصاف جو درحقیقت ان سے جہاد کے جواز بیان کرنے کے لئے ہیں، ان کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ حکم ان کے بارے میں ہے جو اہلِ کتاب ہیں (مِنَ الَّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ)۔ اصطلاح کے مطابق لفظ ”من“ یہاں بیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ۔ دوسرے لفظوں میں قرآن کہتا ہے کہ (افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ) تمام گذشتہ آسمانی کتب کے پیروکار ان مذہبی انحرافات میں گرفتار ہیں اور یہ حکم ان سب کے بارے میں ہے۔ اس کے بعد ان کے اور بت پرستوں کے درمیان فرق ایک ہی جملے میں بیان کر دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جب تک جزیہ ادا نہ کرنے لگ جائیں یہ جنگ جاری رہے گی (حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَھُمْ صَاغِرُونَ)۔ ”جزیة“ ”جزاء “کے ماد ہ سے ہے اس سے مراد وہ مال ہے جو اُن غیر مسلموں سے لیا جائے جو حکومت اسلامی کی پناہ میں رہیں، اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ یہ مال اپنی جان ومال کی حفاظت کے بدلے جزاء کے طور پر حکومت اسلامی کو دیتے ہیں۔ اس لفظ کا یہ مفہوم راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے۔ ”صاغر“ ”صغر“ (بروزن ”پسر“) کے مادہ سے ہے اور یہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنے چھوٹے ہونے پر راضی ہو اور مندرجہ بالا آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ جزیہ ادا کرنا دین اسلام اور قرآن کے سامنے اظہارِ خضوع کے طور پر ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ پُرامن بقائے باہمی کی علامت اور حاکم اکثریت کے سامنے ایک صلح مند محترم اقلیت کی حیثیت کی نشانی کے طور پر ہے یہ جو بعض مفسرین نے اس کی تفسیر اہلِ کتاب کی تحقیر وتوہین کے طور پر کی ہے وہ نہ تو لفظ کے لغوی مفہوم سے ظاہر ہوتی ہے اور نہ ہی تعلیماتِ اسلامی کی روح سے یہ بات مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی مذہبی اقلیتوں سے سلوک کے بارے میں دیگر احکام جو ہم تک پہنچے ہیں ان سے مناسبت رکھتی ہے۔ ایک اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اگرچہ شرائط کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے کیونکہ اس سے ایسی شرائط معلوم ہوتی ہیں مثلاً وہ اسلامی معاشرے میں خلافِ اسلام تعلیمات اور پراپیگنڈا نہیں کریں گے، مسلمان کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے اور مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کریں گے کیونکہ ایسے کام خضوع، تسلیم اور ہمکاری ک مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتے۔

جزیہ کیا چیز ہے؟

جزیہ یہ ایک طرح کا اسلامی ٹیکس ہے جو افراد سے متعلق ہوتا ہے نہ کہ اموال اور زمینوں سے۔ دوسرے لفظوں میں جزیہ فی کس سالانہ ٹیکس ہے۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل غیر عربی ہے اور قدیم فارسی لفظ ”کزیت“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ایسا ٹیکس جو فوج کی تقویت کے لئے لیا جائے لیکن بہت سے علماء کا نظریہ ہے کہ یہ خالص عربی لفظ ہے اور جیسا کہ ہم پہلے نقل کر چکے ہیں کہ ”جزاء“ کے مادہ سے اس مناسب سے لیا گیا ہے کہ مذکورہ مالیہ اس تحفظ اور امنیت کی جزاء اور بدل ہے جو اسلامی حکومت مذہبی اقلیتوں کو فراہم کرتی ہے۔ جزیہ اسلام سے پہلے بھی تھا۔ بعض کا نظریہ ہے کہ سب سے پہلے ساسانی شاہ نوشیرواں نے جزیہ وصول کیا لیکن اگر اس بات کو درست نہ بھی سمجھا جائے تب بھی کم از کم یہ بات مسلم ہے کہ نوشیرواں وہ شخص تھا جس نے اپنی قوم سے جزیہ لیا تھا اور وہ ہر اس شخص سے جو حکومت کا کارندہ نہیں تھا اور اُس کی عمر بیس سے پچاس سال تک تھی۱۲، ۸، ۶ یا ۴ درہم کے فرق سے فی نفر ٹیکس وصول کیا کرتا تھا۔ ان مالیات کا فلسفہ یہ لکھا گیا ہے کہ کسی ملک کے وجود، آزادی اور امن کی خفاظت اس ملک کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا جب ایک گروہ اس فریضے کی انجام دہی کے لئے قیام کرے اور دوسرا گروہ کسب وکار میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجاہدین کی صف میں شامل نہیں ہو سکتا تو پھر کسب وکار میں مشغول گروہ کا فریضہ ہے کہ وہ فوج اور محافظانِ امن وامان کے اخراجات فی کس سالانہ ٹیکس کی صورت میں ادا کرے۔ ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جو قبل از اسلام اور بعد از ظہورِ اسلام کے ادوار میں جزیہ کے بارے میں اس فلسفہ کی تاکید کرتے ہیں ۔ انوشیرواں کے زمانہ میں جزیہ دینے والوں میں (بیس سے پچاس سال تک کا) سن وسال کا مذکورہ معیار ہماری اس بات کا شاہد ہے کہ کیونکہ اس عمر کے افراد درحقیقت عمر کے اس گروپ سے مربوط تھے جو ہتھیار اٹھانے اور امن وامان اور ملک کے استقلال کی حفاظت میں شریک ہونے کی طاقت رکھتا تھا لیکن کاروبار میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اس کے بجائے جزیہ دیتے تھے۔ دوسرا گروہ یہ ہے کہ اسلام میں جزیہ مسلمانوں پر نہیں ہے کیونکہ سب پر جہاد واجب ہے اور ضرورت کے وقت سب کو میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے میں جانا پڑے گا لیکن مذہبی اقلیتوں کے لئے چونکہ جہاد میں شرکت کرنا معاف ہے۔ لہٰذا اس کے بجائے انھیں جزیہ دینا چاہیے تاکہ اس طرح وہ اسلامی ملک کی سالمیت کی حفاظت میں شریک ہوں جس میں وہ آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں نیز مذہبی اقلیتوں کے بچوں، عورتوں بوڑھوں اور نابیناوٴں کو جزیہ معاف ہے، یہ بھی اسی امر کی ایک اور دلیل ہے۔ سطورِ بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے جزیہ صرف ایک قسم کی مالی امداد ہے جو اہلِ کتاب اس ذمہ داری کے بدلے میں دیتے ہیں جو مسلمان ان کی جان ومال کی حفاظت کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ جزیہ کو ایک قسم کا ”حق تسخیر“ شمار کرتے ہیں وہ اس کی روح اور فلسفے کی طرف توجہ نہیں رکھتے۔ ان لوگوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کی کہ اہلِ کتاب جب اہل ذمہ کی شکل میں ہوں تو حکومتِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ انھیں ہر قسم کے تعرض اور آزار سے محفوظ رکھے۔ نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کے بدلے میں آرام اور چین کی زندگی گزارتے ہیں اس کے علاوہ ان پر میدان جنگ میں شرکت اور دفاعی وحفاظتی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی نسبت ان کی ذمہ داری کس قدر کم ہے۔ یعنی وہ سال بھر میں معمولی سی رقم ادا کرکے اسلامی حکومت کی تمام خوبیوں سے استفادہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ اس سلسلے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں جبکہ حوادث وخطرات کا سامنا انھیں نہیں کرنا پڑ تا ۔ اس فلسفے کی تائید کرنے والے واضح دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان عہدناموں میں جو اسلامی حکومت کے دوران مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے مابین ہوتے تھے اس امر کی تصریح موجود ہے کہ اہلِ کتاب کی ذمہ داری ہو گی وہ جزیہ ادا کریں اور اس کے بدلے میں مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ ان کی حفاظت کریں یہاں تک کہ اگر کوئی بیرونی دشمن ان کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور انھیں آزار پہنچانے کے درپے ہو تو اسلامی حکومت اہلِ کتاب کا دفاع کرے گی ۔ ایسے عہدنامے بہت سے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم بطور نمونہ ذیل میں بیان کرتے ہیں۔ یہ عہدنامہ خالدبن ولید نے اطرافِ فرات کے عیسائیوں سے کیا تھا، عہدنامے کا متن یہ ہے: ”ھٰذا کتاب من خالد بن ولید لصلوبا ابن نسطونا وقومہ انّی عاھدتک علی الجزیة والمنعة، فلک الذمة والمنعة، وما منعناکم فلنا الجزیة والّا، کتب سنة اثنیٰ عشرة فی صفر“- (بحوالہ : تفسیر المنار جلد 10 صفحہ 294) یہ خط ہے خالد بن ولید کی طرف سے صلوبا ابن نسطونا (عیسائیوں کے سردار) اور اس کی قوم کےلئے۔ میں تم سے معاہدہ کرتا ہوں جزیہ اور دفاع پر کہ جس کے مقابلے میں تم ہماری حمایت میں آجاوٴگے اور جب تک ہم تمھاری حمایت کرتے رہیں گے ہم جزیہ لینے کا حق رکھتے ہیں ۔ یہ عہدنامہ ۱۲ھ ماہ صفر میں لکھا گیا ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ تاریخ میں ہے جب ان ی حفاظت میں کوتاہی ہو جاتی تو انہیں جزیہ واپس کر دیا جاتا یا اصلاً لیا ہی نہ جاتا۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ جزیہ کی مقدار معین نہیں تھی اور اس کی مقدار کا تعین جزیہ دینے والوں کی طاقت کو دیکھ کر کیا جاتا تھا اور یہ مقدار کبھی کبھی تو ایک دینار سالانہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات عہد ناموں میں یہ شرط ہوتی تھی کہ جزیہ دینے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق جزیہ دیں۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اس تمام سے طرح طرح کے اعتراضات اور زہر افشانیاں جو اس اسلامی حکم کے سلسلے میں کی گئی ہیں ختم ہو جائیں گی اور اس سے ثابت ہو جائے گا یہ ایک عادلانہ اور منطقی حکم ہے۔

30
9:30
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
اوریہودیوں نے کہا کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بات جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں ایسی ہے جو گذشتہ کافروں کی بات کے مشابہ ہے (اور ان پر خدا کی لعنت ہو) وہ کس طرح سے جھوٹ بولتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
9:31
ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
وہ خدا کے مقابلے میں علماء اور راہبوں (تارکین دنیا) کو ہی معبود قرار دیتے ہیں اور اسی طرح مریم کے بیٹے مسیح کو۔ حالانکہ انہیں حکم دیا گیاہے کہ ایک ہی معبود جس کے سوا کوئی معبود نہیں،کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں وہ اس سے پاک و منزہ ہے کہ جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
9:32
يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نور خدا کو بجھا دیں لیکن خدا اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ کافر اسے ناپسند کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
9:33
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ
وہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غلبہ دے اگرچہ مشرک ناپسند کرتے ہیں۔

تفسیر اہل کتاب کی بت پرستی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں مشرکین کے سلسلے میں بحث تھی۔ یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے اور کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ مذہبِ بت پرستی کی بساط الٹ دی جائے۔ پھر اہلِ کتاب کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ چند شرائط کے ماتحت مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آمیز زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر ان کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ زیرِ بحث آیات میں اہلِ کتاب خصوصاً یہود ونصاریٰ کی مشرکین اور بت پرستوں سے جو مشابہت پائی جاتی ہے اسے بیان کیا گیا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ اگر اہلِ کتاب کے بارے میں بھی کسی حد تک سخت گیری عمل میں لائی گئی ہے تو وہ بھی توحید سے ان کے انحراف، ایک طرح سے ”عقیدہ میں شرک“ اور ایک لحاظ سے ”عبادت میں شرک“ کی وجہ سے ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہودیوں نے کہا ہے عزیر خدا کا بیٹا ہے (وَقَالَتْ الْیَھُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ) اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا بیٹا ہے (وَقَالَتْ النَّصَاریٰ الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ)۔ یہ ایسی بات ہے جو وہ صرف زبان سے کہتے ہیں جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں (ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاہِھِمْ)۔ ان کی گفتگو گذشتہ مشرکین کی گفتار سے مشاہت رکھتی ہے (یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ)۔ خدا انھیں قتل کرے، اپنی لعنت میں گرفتار کرے اور اپنی رحمت سے دور کرے، وہ کس طرح کا جھوٹ بولتے ہیں اور حقائق میں تحریف کرتے ہیں (قَاتَلَھُمْ اللهُ اَنَّی یُؤْفَکُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات ۱۔ عزیر کون ہیں؟

عربی زبان میں ”عزیر“ انہی کو کہا جاتا ہے جو یہودیوں کی لغت میں ”عزرا“ کہلاتے ہیں۔ عرب چونکہ جب غیر زبان کا کوئی نام اپناتے ہیں تو عام طور پر اس میں تبدیلی کر دیتے ہیں، خصوصاً اظہار محبت کے لئے اسے صیغہٴ تصغیر میں بدل لیتے ہیں۔ ”عزرا“ کو بھی ”عزیر“ میں تبدیل کیا گیا ہے جیسا کہ ”عیسیٰ“ کے اصل نام کو جو دراصل ”یسوع“ تھا اور ”یحییٰ“ کو جوکہ ”یوحنا“ تھا بدل دیا۔(تشریحی نوٹ: جیساکہ عربی مباحث میں آیا ہے کہ تصغیر سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو چھوٹی نوع کو بیان کرنے کے لئے اس کے اصل صیغہ سے ایک خاص صیغہ بنایا جاتا ہے۔ مثلاً ”رجل“ (مرد) کی تصغیر ”رجیل“ (چھوٹا مرد) ہے البتہ بعض اوقات اس کا لفظ استعمال چھوٹے ہونے کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اس شخص یا چیز سے اظہار محبت کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ انسان اپنے بیٹے سے اظہار محبت کرتا ہے۔) بہرحال، عزیر یا عزرا یہودیوں کی تاریخ میں ایک خاص حیثیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض ملت وقوم کی بنیاد اور اس کی جمعیت کی تاریخ کی درخشنگی کی نسبت ان کی طرف دیتے ہیں۔ درحقیقت حضرت عزیر نے اس دین کی بڑی خدمت کی ہے کیونکہ بخت النصر کے واقعہ میں جو بابل کا بادشاہ تھا یہودیوں کی کیفیت اس کے ہاتھوں درہم برہم ہو گئی۔ ان کے شہر بخت النصر کی فوج کے ہاتھ آ گئے، ان کا عبادت خانہ ویران ہو گیا اور ان کی کتاب تورات جلا دی گئی ۔ ان کے مرد قتل کر دیئے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر کے بابل کی طرف منتقل کر دیئے گئے اور وہ تقریباً ایک سو سال وہیں رہے۔ پھر جب ایران کے بادشاہ کورش نے بابل فتح کیا تو عزرا جو اس وقت کے یہودیوں کے ایک سردار اور بزرگ تھے اس کے پاس آئے اور اسے ان کے بارے میں سفارش کی۔کورش نے ان سے موافقت کی کہ یہودی اپنے شہروں کی طرف پلٹ جائیں اور نئے سرے سے تورات لکھی جائے۔ اسی بنا پر ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے ہیں ۔(بحوالہ : المیزان، ج۹، ص۲۵۳ اور المنار، ج۱۰، ص۳۲۲) اسی امر کے سبب یہودیوں کے ایک گروہ نے انھیں ”ابن الله“ (الله کا بیٹا) کا لقب دیا۔ اگرچہ بعض روایات سے مثلاً احتجاج طبرسی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ لقب حضرت عزیر کے احترام کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اسی روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اسلام نے ان سے پوچھا کہ اگر تم نے حضرت عزیر کا ان عظیم خدمات کی وجہ سے احترام کرتے ہو اور اس بناء پر انھیں اس نام سے پکارتے ہو تو پھر یہ لقب حضرت موسیٰ کو کیوں نہیں دیتے جبکہ انہوں نے حضرت عزیر کی نسبت تمھاری بہت زیادہ خدمت کی ہے تو وہ اس کا کوئی جواب نے دے سکے اور نہ ہی اس کا کوئی جواب تھا۔(بحوالہ : نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۵) بہرحال، اس نام سے بعض لوگوں کے اذہان میں احترام سے بالاتر صورت ہو گئی اور جیسا کہ عوام کی روش ہے کہ اس سے اپنی فطرت کے مطابق حقیقی مفہوم لیتے تھے اور انھیں واقعاً خدا کا بیٹا خیال کرتے تھے کیونکہ ایک تو حضرت عزیر نے انھیں دربدر کی زندگی سے نجات دی تھی اور دوسرا تورات لکھ کر ان کے دین کو ایک نئی زندگی بخشی تھی۔ البتہ ان سب کا یہ عقیدہ نہ تھا لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ خصوصیت سے جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھا کی یہی طرز فکر تھی یہی وجہ ہے کہ کسی تاریخ میں یہ نہیں ہے کہ انہوں نے زیرِ بحث آیت کو سن کر اس سے انکار کیا ہو یا انہوں نے کوئی آواز بلند کی ہو اگر ایسا نہ ہوتا تو یقیناً وہ کوئی ردِّ عمل ظاہر کرتے۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ آج یہودیوں میں ایسا عقیدہ موجود نہیں ہے اور کوئی شخص حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتا تو پھر قرآن نے کیوں اس کی نسبت ان کی طرف دی ہے؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام یہودی ایسا عقیدہ رکھتے ہوں البتہ یہ مسلم ہے کہ آیات قرآن نزول کے وقت یہودیوں میں ایسے عقائد رکھنے والے موجود تھے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کبھی کسی نے مذکورہ نسبت کا انکار نہیں کیا صرف روایات کے مطابق اس کی توجیہ کی جاتی تھی اور حضرت عزیر کو ابن الله کہنے کو ایک طرح کا احترام قرار دیتے تھے۔ اس لئے کہ جب پیغمبر اسلام نے یہ اعتراض کیا کہ کیا پھر ایسا ہی احترام حضرت موسیٰ کے بارے میں کیوں نہیں کرتے تو وہ جواب سے عاجز رہ گئے تھے۔ بہرکیف، جب کسی عقیدے کی نسبت کسی قول کی طرف دی جائے توضروری نہیں کہ اس کے تمام افراد اس سے متفق ہوں بلکہ اگر ایک قابلِ توجہ تعداد ایسا عقیدہ رکھتی ہو تو کافی ہے۔

۲۔ مسیح(ع) خدا کے بیٹے نہ تھے

عیسائیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ حضرت عیسیؑ کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس کا نام صرف احترام کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنی میں ان پر اطلاق کرتے ہیں اور صراحت سے اپنی کتابوں میں کہتے ہیں کہ مسیح کے علاوہ اس کا حقیقی معنی کسی اور پر اطلاق جائز نہیں اور جیسا کہ ہم (جلد چہارم صفحہ۱۷۶تا۱۸۴ اردو ترجمہ میں) کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیحؑ نے کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا، وہ تو اپنا تعارف صرف خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہونے کی حیثیت سے کرواتے تھے اور اصولاً اس کی کوئی وجہ نہیں کہ باپ بیٹے کا رابطہ جو کہ عالم مادہ اور عالم ممکنات کے ساتھ مربوط ہے وہ خدا اور کسی شخص کے درمیان موجود ہو۔

۳۔ یہ خرافات دوسروں سے اخذ کئے گئے

مندرجہ بالا آیت میں قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ان کجرویوں میں گذشتہ بت پرستوں کی طرح ہیں اور ان سے شاہت رکھتے ہیں ۔ وہ بعض خداوٴں کو باپ اور بعض کو خدا کا بیٹا یہاں تک کہ بعض کو ماں خدا اور بیوی خدا جانتے تھے۔ ہندوستان، چین اور قدیم مصر کے بت پرستوں کے اصولِ عقائد میں ایسے ہی افکار دکھائی دیتے ہیں۔ یہی افکار بعد ازاں یہودیوں اور عیسائیوں میں داخل ہو گئے تو گویا انہوں نے ان میں بت پرستوں ہی کی تقلید کی ہے۔ دورِ حاضر میں بعض محققین اس فکر میں ہیں کہ عہدین (تورات، انجیل اور ان سے متعلق کتب) کے مندرجات کا بدھ مذہب اور برہمنوں سے موازنہ کیا جائے اور ان کتب کے مضامین کی جڑیں اُن کے عقائد میں تلاش کی جائیں اور یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ انجیل اور تورات کے بہت سے معارف بدھ مذہب اور برہمنوں کے خرافات پر منطبق ہوتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے واقعات وحکایات جو انجیل میں ہیں بعینہ وہی ہیں کہ جو ان دو مذہب میں نظر آتے ہیں۔

۴۔ "قاتلھم الله" کا مفہوم

”قاتلھم الله“ گرچہ اصل میں اس معنی میں ہے کہ خدا ان سے جنگ کرے یا خدا انھیں قتل کر دے۔ لیکن جیسا کہ طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ جملہ لعنت سے کنایہ ہے یعنی خدا انھیں اپنی رحمت سے دُور رکھے۔ اگلی آیت میں (اعتقادی شرک کے مقابلے میں) ان کے عملی شرک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ”شرک در عبادت“ کی نشاندہی کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہود ونصاریٰ نے پروردگار کے مقابلے میں اپن علماء اور راہبوں کو اپنا خدا قرار دیا (اتَّخَذُوا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ)۔ نیزمسیح ابن مریم کو بھی مرتبہ الوہیت پر فائز مانا (وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ)۔ ”اٴحبار“ ”حبر“ کی جمع ہیں اور ”رھبان“”راھب“ کی جمع ہے۔ ”حبر“ عالم ودانشمند کو کہتے ہیں اور راہب ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے ترکِ دنیا کے طور پر دیر یا گرجے میں سکونت اختیار کر رکھی ہو اور مشغول عبادت رہتا ہو۔

کیا یہود و نصاری اپنے پیشواوں کی عبادت کرتے تھے؟

اس میں شک نہیں ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے علماء اور راہبوں کو سجدہ نہیں کرتے تھے اور نہ ان کے لئے نماز، روزہ یا دیگر عبادات انجام دیتے تھے لیکن چونکہ انہوں نے غیرمشروط طور پر اپنے آپ کو ان کی اطاعت میں دے رکھا تھا یہاں تک کہ حکمِ خدا کے خلاف بھی جو احکام وہ دیتے تھے انھیں واجب العمل سمجھتے تھے۔ اس اندھی اور غیر منطقی پیروی کو خدا نے عبادت سے تعبیر کیا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں یہ معنی بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اما والله ما صاموا لھم ولاصلوا ولٰکنھم احلوا لھم حراما وحرموا علیھم حلالاً فاتبعوھم وعبدوھم من حیث لایشعرون. خدا کی قسم! وہ (یہود ونصاریٰ) اپنے پیشواوٴں کے لئے روزہ نماز نہیں بجا لائے، لیکن ان کے پیشواوٴں نے ان کے لئے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیا اور انہوں نے اسے قبول کر لیا، ان کی پیروی کی اور توجہ کئے بغیر ان کی پرستش کی ۔(بحوالہ : مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں اور نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۹) ایک اور حدیث میں ہے: عدی بن حاتم کہتا ہے: میں رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ صلیب میری گردن میں تھی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی! یہ بت اپنی گردن سے اتار دو۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں آپ کے مزید قریب گیا تو میں نے سُنا کہ آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے: اتَّخَذُوا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اربابا.... جب آپ نے آیت تمام کی تو میں نے عرض کیا: ہم کبھی اپنے پیشواوٴں کی پرستش نہیں کرتے، آپ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ حلالِ خدا کو حرام اور حرامِ خدا کو حلال کرتے ہیں اور تم ان کی پیروی کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، اس پر آپ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان مذکورہ آیت ے ذیل میں زیر نظر آیت کے ذیل میں ) اس امر کی دلیل واضح ہے کہ کیونکہ قانون بنانا خدا کا کام ہے اور اس کے علاوہ کوئی حق نہیں رکھتا کہ کوئی چیز لوگوں کے لئے حلال یا حرام کرے اور اسے قانون قرار دے، جو کام لوگ کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ وہ قوانین کو کشف کریں اور جہاں ضرورت ہو مصادیق پر ان کی تطبیق کریں ۔ اس لئے اگر کوئی شخص قوانین الٰہی کے خلاف قانون بنائے اور کوئی اسے باقاعدہ مان لے اور بلا چون وچرا اسے قبول کر لے تو گویا وہ غیر خدا کے لئے خدا کے مقام کا قائل ہوا ہے اور یہ ایک طرح کا عملی شرک اور بت پرستی ہے اور دوسرے لفظوں میں غیر خدا کی عبادت ہے۔ قرائن سے نتیجہ نکلتا ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوٴں کے لئے اس قسم کے اختیارات کے قائل تھے کہ وہ بعض اوقات قوانینِ الٰہی میں جہاں مصلحت دیکھیں تبدیلی کر دیں اور اب بھی گناہ بخشنے کا طریقہ عیسائیوں میں رائج ہے۔ وہ پادری کے سامنے گناہ کا اعتراف کر لیں تو وہ کہتا ہے: میں نے بخش دیا ۔(بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد دوم میں اہلِ کتاب کی انسان پرستی کے بار ے میں ہم نے کچھ وضاحتیں کی ہیں (دیکھئے: صفحہ۳۸۹، اردو ترجمہ). دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عیسائی کی طرف سے حضرت عیسی(ع) کی پرستش اور یہودیوں کی طرف سے اپنے پیشواوٴں کی پرستش کی نوعیت میں فرق ہے۔ عیسائی حقیقتاً حضرت مسیح(ع) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے جبکہ یہودی اپنے پیشواوٴں کی غیرمشروط اطاعت کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے تھے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت نے بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے اور ان کا حساب ایک دوسرے سے الگ رکھا ہے۔ آیت کہتی ہے: اتَّخَذُوا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ پھر حضرت مسیح(ع) کا ذکر جدا کیا گیا ہے: وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ قرآنی تعبیرات میں ہر طرح کی باریکیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ آخر میں اس معاملے کی تاکید کی گئی ہے کہ یہ سب انسان پرستیاں بدعت اور جعلی مسائل میں سے ہیں اور کبھی بھی ان کا حکم نہیں دیا گیا کہ اپنے لئے ایک خدا بنالو بلکہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک تنہا خدا کی پرستش کرو (وَمَا اُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا إِلَھًا وَاحِدًا)۔ وہ معبود کہ جس کے علاوہ کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں (لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ)۔ وہ معبود جو منزہ ہے اس سے جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں (سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ)۔

ایک اصلاحی درس

قران مجید مندرجہ بالا آیت میں اپنے پیروکاروں کو ایک بہت ہی قیمتی درس دیتا ہے اور توحید کا ایک اعلیٰ ترین مفہوم اس سلسلے میں دلنشین کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی مسلمان یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی انسان کی بلاشرط اطاعت قبول کر لے کیونکہ یہ کام اس کی پرستش کے مساوی ہے۔ تمام اطاعتیں اطاعتِ الٰہی میں محدود ہونا چاہئیں اور حکم انسانی کی پیروی اس وقت تک ہی جائز ہے جب تک قوانینِ خداوندی کے مخالفت نہ ہو چاہے حکم دینے والا انسان کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو۔ ایسا اس لئے ہے کہ بلاشرط اطاعت عبادت کے مساوی ہے اور بت پرستی اور عبودیت کی ایک شکل ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے مسلمان اس اہم اسلامی حکم سے دور ہونے اور انسانی بت بنا لینے کی وجہ سے تفرقہ بازی، پراگندگی، استعمار اور استثمار کا شکار ہو گئے ہیں۔ جب تک یہ بت نہیں توڑے جائیں گے اور انھیں دور نہ کیا جائے گا اس وقت تک بے سروسامانیاں اور پریشانیاں برطرف نہیں ہو سکتیں ۔ اصولی طور پر ایسی بت پرستی زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کہ جس میں پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کیا جاتا تھا سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ وہ بے روح بت اپنے پجاریوں کا کبھی استعمال نہیں کرتے تھے لیکن انسان جب بتوں کی جگہ لیتے ہیں تو وہ اپنی خود غرضی کی بناء پر اپنے پیروکاروں کو اپنی قید کی زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں اور انھیں ہر طرح کی پستی اور بدبختی میں مبتلا کرتے ہیں ۔ زیرِ بحث آیات میں سے تیسری میں قرآن نے یہودیوں اور عیسائیوں یا تمام مخالفینِ اسلام یہاں تک کہ مشرکین کی بھی جان توڑ اور بے نتیجہ کوششوں کو ایک جاذب نظر تشبیہ کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نورِ خدا کو خاموش کر دیں لیکن خدا کا ارادہ ہے کہ اس نورِ الٰہی کو اس طرح وسیع اور کامل کردے یہاں تک کہ وہ تمام دنیا پر چھاجائے اور تمام لوگ اس کے سائے سے مستفید ہوں اگرچہ کافروں کو یہ ناپسند ہے (یُرِیدُونَ اَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَیَاْبَی اللهُ إِلاَّ اَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ)۔

چند اہم نکات ۱۔ نور سے تشبیہ:

اس آیت میں دینِ خدا، قرآن اور تعلیمات اسلامی کو نور اور روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نور زندگی، حرکت، نشو ونما اور روئے زمین پر آبادی کا سرچشمہ اور ہر قسم کے حُسن وزیبائی کا منشاء ہے۔ اسلام بھی تحرک آفرین دین ہے اور انسانی معاشرے کو تکامل و ارتقا کی راہ میں آگے لے جاتا ہے اور ہر خیر ووبرکت کا منبع ہے۔ دشمنوں کی کاوشوں کو بھی پھونکوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بات کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ انسان نورِ آفتاب کی طرح کی روشنی کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے اور ان کی کوششوں کے حقیر اور ناچیز ہونے کی تصویر کشی کے لئے اس سے عمدہ اور رساتر تعبیر نظر نہیں آتی۔ درحقیقت، حضرتِ حق کے لئے بے پایاں ارادے اور لامتناہی قدرت کے مقابلے میں عاجز وناتواں مخلوق کی کوششیں اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔

۲۔ نور خدا کو بجھانے کی مساعی کا دو مرتبہ ذکر:

نورِ خدا کو بجھانے کی کوششوں کا ذکر قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے۔ ایک زیرِ بحث آیت میں اور دوسرا سورہٴ صف کی آیہ۸ میں۔ دونوں مقامات پر یہ بات دشمنانِ اسلام کی مساعی پر تنقید کے طور پر ہے لیکن ان دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق نظر آتا ہے۔ زیر بحث آیت میں ہے: ”یریدون اٴن یطفئوا“ جبکہ سورہٴ صف میں ہے: ”یریدون لیطفئوا“ تعبیر کا یہ فرق یقیناً کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے۔ مفردات میں راغب ان دونوں تعبیرات کے فرق کی وضاحت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ پہلی آیت میں بغیر مقدمہ ووسیلہ کے بجھانے کی طرف اشارہ ہے لیکن دوسری آیت میں مقدمات واسباب کے ذریعے بجھانے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ اسباب کے بغیر یا پورے وسائل کے ساتھ نورِ حق کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۳۔ "یاٴبیٰ" کا مفہوم:

”یاٴبیٰ“ مادہٴ ”اباء“ سے ہے اس کا مطلب ہے سختی سے کسی چیز سے روکنا اور منع کرنا۔ یہ تعبیر دینِ اسلام کی تکمیل اور پیش رفت کے لئے پروردگار کے حتمی ارادے اور مشیت کا ثبوت دیتی ہے اور اس دین کے مستقبل کے بارے میں تمام مسلمانوں کو ایک ولولہ اور امید دلاتی ہے۔ اگر مسلمان واقعی اور حقیقی مسلمان ہوں۔

اسلام کی عالمگیر حکومت

آخرکار زیرِ بحث آیت میں مسلمانوں کو اسلام کے عالمگیر ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ گذشتہ آیت کی بحث جس کا مقصد یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کی جان توڑ کوششیں بار آور نہیں ہوں گی۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے صراحت سے فرمایا گیا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر کامیابی اور غلبہ دے اگرچہ مشرکین اسے پسند نہیں کرتے (ھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْھُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ)۔ ہدایت سے مراد روشن دلائل اور واضح براہین ہیں جو دین اسلام میں موجود ہیں اور دینِ حق سے مراد یہی دین ہے جس کے اصول اور فروع حق ہیں۔مختصر یہ کہ اس کی تاریخ، اس کے مدارک اور اس کا حاصل سب حق ہے اور بلاشبہ وہ دین جس کے مضامین بھی حق ہیں اور جس کے دلائل، مدارک اور تاریخ سب روشن ہیں اسے آخرکار تمام ادیان پر غالب اور کامیاب ہونا چاہیے۔ رفتارِ زمانہ، علم کی پیشرفت اور روابط کی آسانی کے ساتھ ساتھ زہریلے پراپیگنڈا کا پردہ ہٹتا جائے گا اور حقائق کا چہرہ آشکار ہوتا چلا جائے گا اور مخالفین حق اس کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں وہ سب ختم ہو جائیں گی۔ یوں دینِ حق تمام جگہوں پر محیط ہو جائے گاچاہے حق کے دشمن نہ چاہیں اور چاہے اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئیں کیونکہ ان کی حرکتیں راہِ تاریخ کے خلاف ہیں اور سننِ آفرینش کی ضد ہیں۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ ہدایت اور دین حق سے کیا مراد ہے؟

یہ مندرجہ بالا آیت میں قرآن کہتا ہے: ”اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْھُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ “ یہ گویا تمام ادیانِ عالم پر اسلام کی کامیابی کی دلیل کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جب پیغمبر اسلام کی دعوت کا مضمون اور متن مبنی بر ہدایت ہے اور عقل ہر مقام پر اس کی گواہی دے گی۔ نیز جب اصول وفروع حق کے موافق اور حق کے خواہاں ہیں تو ایسا دین فطری طور پر تمام ادیان پر کامیابی حاصل کرے گا ۔ ہندوستان کے ایک دانشور کے بارے میں مرقوم ہے کہ وہ یک مدت تک مختلف عالمی ادیان کا مطالعہ کرتا رہا اور ان کے بارے میں اس نے تحقیق کی اور آخرکار بہت زیادہ مطالعہ کرنے کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا اور انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: ”میں مسلمان کیوں ہوا“۔ اس میں اس نے تمام ادیان کے مقابلے میں اسلام کی خوبیاں واضح کی ہیں۔ اہم ترین امور جنھوں نے اس کی توجہ جذب کی ان میں سے ایک کے بارے میں وہ کہتا ہے: اسلام وہ واحد دین ہے جس کی تاریخ ثابت وبرقرار اور محفوظ ہے۔ وہ تعجب کرتا ہے کہ یورپ نے ایک ایسا دین کیونکر اپنا رکھا ہے کہ جس میں اس کے لانے والے کو ایک انسان کے مقام سے بالاتر جا کر اسے اپنا خدا قرار دے لیا ہے جبکہ اس کی کوئی مستند اور قابلِ قبول تاریخ نہیں ہے۔(بحوالہ: المنار، ج۱۰، ص۳۸۹.) وہ لوگ جنھوں نے اپنے سابقہ دین کو ترک کرکے اسلام قبول کیا ہے اگر ان کے اظہارات اور خیالات کا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس دین کی انتہائی سادگی، اس کے مبنی بر دلائل احکام، اس کے اصول وفروع کے استحکام اور اس کے پیش کردہ انسانی قوانین سے متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے دیکھا ہے کہ اس کے قوانین ومسائل ہر قسم کی بیہودگی سے پاک ہیں اور ان میں ”حق“ و ”ہدایت“ کا نور جلوہ گر ہے۔

۲۔ منطقی غلبہ یا طاقت کا غلبہ؟

اس سلسلہ میں کہ اسلام کس طرح تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرے گا اور کامیاب ہو گا اور یہ کامیابی کس صورت میں ہو گی مفسّرین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے صرف منطقی واستدلالی کامیابی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ہو چکا ہے کیونکہ منطق واستدلال کی نظر سے موجودہ ادیان کا اسلام سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں ہے۔ لیکن لفظ "اظہار“ جس کا مادہ ”لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّینِ....“ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اگر اس کا قرآن کے دیگر مواقع پر مطالعہ کیا جائے اور جہاں جہاں یہ مادہ استعمال ہوا ہے اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ مادہ زیادہ ترجسمانی غلبہ اور ظاہری قدرت کے لئے آتا ہے۔ جیساکہ اصحابِ کہف کے واقعہ میں ہے: إِنَّھُمْ إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اگر وہ (دقیانوس اور اس کا لشکر) تم پر غلبہ حاصل کر لیں تو تمہیں سنگسار کریں گے۔(کہف/۲۰) نیز مشرکین کے بارے میں ہے: کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً جب وہ تم پر غالب آ جاتے ہیں تو رشتہ داری، قرابت اور عہدہ پیمان کا لحاظ نہیں کرتے۔(توبہ/۸) بدیہی امر ہے کہ ایسے مواقع پر غلبہ منطقی نہیں ہوتا بلکہ عملی اور عینی ہوتا ہے۔ بہرحال، زیادہ صحیح یہ ہے کہ مذکورہ غلبہ اور کامیابی کو ہر قسم کا غلبہ سمجھا جائے کیونکہ یہ معنی مفہوم قرآن سے بھی زیادہ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ وہاں مطلق طور پر غلبہ کا ذکر ہے۔ یعنی ایک دن ایسا آئے گا جب اسلام منطق واستدلال کے لحاظ سے بھی اور ظاہری نفوذ اور حکومت کے حوالے سے بھی تمام ادیان عالم پر کامیابی حاصل کرے گا اور سب اس کے تحت شعاع اور زیرِ نگین ہوں گے۔

۳۔ قرآن اور قیامِ مہدی ع

مندرجہ بالا آیت جو بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ سورہٴ صف میں بھی آئی ہے اور کچھ فرق کے ساتھ اس کا تکرار سورہٴ فتح میں بھی ہوا ہے ایک اہم واقعہ کی خبر دیتی ہے، جس کی اہمیت اس تکرار کا سبب بنی ہے اور جو اسلام کے عالمگیر ہونے کی خبر دیتی ہے۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے زیرِ بحث آیت میں کامیابی کو ایک علاقے کی اور محدود کامیابی کے معنی میں لیا ہے کہ جو رسول الله کے زمانے میں یا آپ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت میں کسی قسم کی قید اور شرط نہیں ہے اور یہ ہر لحاظ سے مطلق ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے معنی کو محدود قرار دیا جائے۔ آیت کا مفہوم اسلام کی تمام پہلووٴں سے تمام ادیانِ عالم پر کامیابی کی خبر دیتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرکار اسلام تمام کرہٴ زمین پر محیط ہو جائے گا اور تمام عالم پر کامیاب ہو گا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا یہ حتمی وعدہ تدریجاً اور آہستہ آہستہ عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔دنیا میں اسلام کی تیز رفتار ترقی، یورپ کے مختلف ممالک میں اسے باقاعدہ تسلیم کر لیا جانا، امریکہ اور افریقہ میں اس کا نفوذ، بہت سے دانشوروں اور غیر دانشوروں کا قبولِ اسلام اور اس کے دیگر عوامل نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام عالمی ہونے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ البتہ مختلف روایات جو منابع اسلامی میں وارد ہوئی ہیں ان کے مطابق اس پرورگرام کا تکامل اس وقت ہو گا جب حضرت مہدی علیہ السلام ظہور کریں گے اور اسلام کے عالمی پرورگرام کو تحقق بخشیں گے اور عالمی طور پر اسے نافذ کریں گے۔ مرحوم طبرسی ”مجمع البیان“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں آپؑ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ان ذٰلک یکون عند خرج المھدی فلایبقیٰ احداً الّا اقرّ بمحمد (ص) اس آیت میں جو وعدہ کیا گیا ہے مہدی آلِ محمدؐ کے ظہور کے وقت صورت پذیر ہو گا۔ اس دن کوئی شخص روئے زمین میں نہیں ہو گا مگر یہ کہ وہ حضرت محمدؐ کی حقانیت کا اقرار کرے گا ۔ نیز اسی تفسیر میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لایبقیٰ علیٰ ظھر الاٴرض بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ کلمة الاسلام “ دنیا میں کوئی بھی گھر جو پتھر اور مٹی کا، چادر اور خیمے کا اور اُون اور بالوں سے بنا ہو باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ خدا نامِ اسلام اس میں داخل کر دے گا۔ نیز صدوق کی کتاب اکمال الدین میں امام صادق علیہ السلام سے اس کی آیت کی تفسیر میں یوں منقول ہے: واللّٰہ ما نزل تاویلھا بعد ولا ینزل تاٴویلھا حتّیٰ یخرج القائم فاذا خرج القائم لم یبق کافر باللّٰہ العظیم (نورالثقلین،ج۲،ص ۲۱۱) خدا کی قسم اس آیت کے مضمون نے عملی صورت اختیار نہیں کی اور ایسا صرف اس زمانے میں ہو گا جب ”قائم“خروج کریں گے اور جب وہ قیام کریں گے تو ساری دنیا میں کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو خدا کا انکار کرے۔ اسی مضمون کی اور احادیث بھی پیشوایان اسلام سے نقل ہوئی ہیں اور بعض مفسرین نے بھی اس آیت کے ذیل میں یہی تفسیر ذکر کی ہے لیکن یہ امر تعجب خیز ہے کہ المنار کے مولف نے نہ صرف یہ کہ اس تفسیر کو قبول نہیں کیا بلکہ حضرت مہدیؑ کے بارے میں احادیث چونکہ زیر نظر آیت سے مناسبت رکھتی ہیں اس لئے اس نے ان پر بحث تو کی ہے لیکن شیعوں سے اپنے مخصوص تعصب کی بناء بزدلانہ حملوں کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور حضرت مہدیؑ سے مربوط احادیث کا سرے سے انکار کرتے ہوئے انہیں متضاد اور غیر قابل قبول قرار دے دیا ہے۔ اس کے گمان میں وجود مہدیؑ کا عقیدہ صرف شیعوں سے یا جو شیعوں کی طرف ہیں انہی سے مربوط ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر اس نے وجود مہدیؑ کے عقیدے کو پسماندگی اور تنزل کا ایک عامل قرار دے دیا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہم مجبور ہیں کہ کچھ اختصارسے ظہور مہدیؑ سے مربوط روایات کا ذکر کریں۔ نیز اسلامی معاشرے کی ترقی اور ظلم وجور کے خلاف قیام میں اس عقیدے کے اثرات پر بحث کریں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ جب ایک دروازے سے تعصب داخل ہوتا ہے تو علم ودانش دوسرے دروازے سے بھاگ جاتے ہیں۔ اس بحث سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ مذکورہ مفسر اگرچہ اسلامی مسائل میں بہت معلومات رکھتا ہے لیکن تعصب کے اس کمزور پہلو کی وجہ سے اس نے واضح حقائق کو کس طرح الٹی نظر سے دیکھا ہے۔

ظہور مہدی ع اور اسلامی روایات

اگر چہ سنی شیعہ علما ء نے بہت سی کتب میں قیام مہدی ؑسے متعلق احادیث لکھی ہیں لیکن ہماری نظر میں کوئی چیز اس خط سے بڑھ کر گویا اور جچی تلی نہیں ہیں جو چند علماء حجاز نے ایک سائل کے جواب میں لکھا ہے۔ لہٰذا ہم اس کا بعینہ ترجمہ قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ لیکن پہلے ہم یہ بات یاد دلا دیں کہ قیام مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسی ہیں کہ کسی اسلامی محقق نے چاہے وہ کسی گروہ اور مذہب کا پیرو کار ہو ان کے تواتر کا انکار نہیں کیا ۔ اب تک اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ان کے مولفین نے بالاتفاق عالمی مصلح یعنی حضرت مہدی (ع) سے مربوط احادیث کی صحت کو قبول کیا ہے۔صرف معدودے چند افراد مثلا ابن خلدون اور احمد امین مصری نے ان اخبار و روایات کے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے صدور کے بارے میں شک و تردید کی ہے۔ البتہ ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کام پر ابھارنے والی چیز ان اخبار کا ضعف نہیں تھا بلکہ ان کا خیال تھا کہ حضرت مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جن پر آسانی سے یقین نہیں کیا جا سکتا؛ یا اس بنا پر کہ وہ صحیح اور غیر صحیح روایات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے تھے یا انہیں ان کی تفسیر نہیں مل سکی۔ بہرحال، ضروری ہے کہ پہلے اس مسئلے میں اس جواب کو پیش کیا جائے جو”رابطہ عالم اسلامی“ کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ جب کہ”رابطہ عالم اسلامی“عالم اسلام کے انتہائی سخت گیر افراد، یعنی وہابیوں پر مشتمل ہے۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ ظہور مہدی (ع) کا معاملہ ایسا ہے جس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ ہمارے نظریے کے مطابق اس چھوٹے سے رسالہ میں ضروری مدارک کو اس طرح سے جمع کر دیا گیا ہے کہ کسی شخص کو ان کے انکار کی جراٴت نہیں ہے اور اگر سخت گیر وہابی حضرات نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے تو اس کی بھی وجہ اس کے ناقابل انکار مدارک ہی ہیں ۔ تقریبا ایک سال پہلے( تشریحی نوٹ : تفسیر کی یہ جلد 1400 ہجری میں شائع ہوئی) ابو محمد نامی ایک شخص نے کینیا سے ”رابطہ عالم اسلامی“ سے مہدی (ع) منتظر کے بارے میں سوال کیا۔ رابطہ کے سربراہ محمد الصالح القزاز نے اس کے جواب میں ضمنا تصریح کی ہے کہ ابن تیمیہ جو مذہب وہابی کابانی ہے نے بھی ظہور مہدی (ع) سے مربوط احادیث کو قبول کیا ہے۔ مذکورہ رسالے کا متن حجاز کے دورِ حاضر کے پانچ مشہور علماء نے تیار کیا ہے۔ اس رسالے میں حضرت مہدی (ع) کے نام کی وضاحت کی گئی ہے اور ان کے ظہور کا مقام مکہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد لکھا گیا ہے: دنیا میں فتنہ وفساد کے ظہور اور کفر وظلم کے پھیل جانے پر خدا وند عالم اس (مہدی (ع))کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح معمور کر دے گا جس وہ ظلم وجور سے بھری ہو گی۔ وہ ان بارہ خلفاء راشدین میں سے آخری ہے جن کے متعلق پیغمبر نے کتب صحاح میں خبر دی ہے۔ مہدی (ع) سے مربوط احادیث بہت سے صحابہ نے پیغمبر سے نقل کی ہیں۔ ان صحابہ میں سے عثمان بن عفان، علی ابن ابی طالب، طلحہ ابن عبیداللہ، عبدالرحمن ابن عوف، قرة بن اساس مزنی، عبداللہ ابن حارث، ابوہریرہ، حذیفہ بن یمان، جابر ابن عبداللہ، ابو امامہ، جابر ابن ماجد، عبداللہ ابن عمر، انس ابن مالک، عمران ابن حصین اور ام سلمہ شامل ہیں ۔ یہ افراد ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے روایات مہدی (ع) کو نقل کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت افراد موجود ہیں۔ خود صحابہ سے بھی بہت سی باتیں منقول ہیں کہ جن میں ظہور مہدی(ع) سے متعلق گفتگو کی گئی ہے کہ جنہیں احادیث پیغمبر کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے نہیں ہے کہ جس کے بارے میں اجتہاد کے ذریعے کچھ کہا جا سکے(لہٰذا ظاہر ہے کہ یہ باتیں بھی انہوں نے پیغمبر سے سن کر کی ہیں)۔ مزید لکھا ہے: مذکورہ بالا احادیث جو پیغمبر سے نقل ہوئی ہے اور صحابہ کی گواہی جو یہاں حدیث کا حکم رکھتی ہے بہت سی مشہور اسلامی کتب اور احادیث کی بنیادی کتب میں آئی ہے چاہے وہ سنن و معاجم ہوں یا مسانید، ان میں سے سنن ابو داود، سنن ترمزی، ابن عمرو الدانی ، مسند احمد ،ابن یعلی وبزاز، صحیح حاکم، معاجم طبرانی کبیر ومتوسط، رویانی و دار قطنی اور ابو نعیم نے اخبار المہدی میں، خطیب نے تاریخ بغداد میں اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء کی کتب میں یہ روایات موجود ہیں۔ اس کے بعد مزید لکھا ہے: بعض علماء اسلام نے اس سلسلے میں مخصوص کتب تالیف کی ہیں جن میں ابو نعیم کی ”اخبار المہدی“، ابن حجر ہیثمی کی ”القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر“، شوکانی کی”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر والدجال والمسیح“، ادریس عراقی مغربی کی”المہدی“ اور ابو العباس ابن عبد المومن کی” الوھم المکنون فی الرد علی ابن خلدون“ شامل ہیں۔ اور آخری شخص جس نے اس سلسلے میں مفصل بحث کی ہے وہ اسلامی یونیور سٹی مدینہ کا سربراہ ہے جن نے مذکورہ یونیورسٹی کے مجلہ کے چند شماروں میں اس مسئلے پر بحث کی ہے۔ مزید لکھا ہے: قدیم اور جدید بزرگان اور علماء اسلام کی ایک جماعت نے بھی اپنی تحریروں میں تصریح کی ہے کہ مہدی کے سلسلے میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں(اور وہ کسی طرح سے قابل انکار نہیں ہیں) ان میں سے السخاوی نے کتاب”فتح المغیث“ میں، محمد ابن احمد سفاوینی نے ”شرح العقیدہ “ میں، ابوالحسن الابری نے”مناقب شافعی“ میں، ابن تیمیہ نے”کتاب فتاواش“ میں، سیوطی نے”الحاوی“ میں، ادریس عراقی نے مہدی (ع) کے بارے میں اپنی تالیف میں، شوکانی نے ”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر“ میں، محمد جعفر کنانی نے ”نظم التناثر“ میں اور ابو العباس ابن عبدالمومن نے” الوھم المکنون“ میں تصریح کی ہے۔ اس بحث کے آخر میں لکھا گیا ہے: صرف ابن خلدون ہے جس نے چاہا ہے کہ مہدی (ع) سے مربوط احادیث پر ایک بے بنیاد اور جعلی حدیث کے سہارے اعتراض کرے اور وہ جعلی حدیث ہے: لا مھدی الا عیسیٰ(عیسیٰ کے علاوہ کوئی مہدی نہیں) لیکن بزرگ ائمہ اور علماء اسلام نے اس کے قول کو رد کیا ہے۔خصوصا ابن عبدالمومن نے تو اس کے نظریے کے خلاف ایک خصوصی کتاب لکھی ہے کہ جو تیس سال پہلے مشرق ومغرب میں پھیل چکی ہے۔ حفاظ احادیث اور بزرگ علماء حدیث نے بھی تصریح کی ہے کہ مہدی (ع) کے بارے میں روایات ”صحیح“ اور ”حسن“ احادیث پر مشتمل ہیں اور ان کا مجموعہ متواتر ہے اس لئے ظہور مہدی کا اعتقاد رکھنا (ہرمسلمان پر واجب ہے) اور یہ اہل سنت والجماعت کے عقائد کا جز شمار ہوتا ہے اور سوائے نادان، جاہل یا بدعتی افراد کے اس کا کوئی انکار نہیں کرتا ۔ محمد منتصر کنانی مدیر ادارہ مجمع فقہی اسلامی

انتظار ظہور مہدی (ع) کے تربیت کنندہ اثرات

گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات میں کوئی وارداتی پہلو نہیں رکھتا بلکہ ان بہت زیادہ قطعی ویقینی امور میں سے ہے جو بانی اسلام سے بالذات لئے گئے ہیں اور سب اسلامی مکاتب ومذاہب اس سلسلے میں متفق ہیں اور اس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں ۔ اب ہم موجودہ اسلامی معاشروں کی کیفیت میں اس انتظار کے اثرات کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس قسم کے ظہور پر ایمان انسان کو خواب و خیال کی دنیا میں لے جاتا ہے کہ جس سے وہ اپنی موجودہ حیثیت سے غافل ہو جاتا ہے اور ہر قسم کے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے یا یہ کہ واقعا یہ عقیدہ ایک قسم کے قیام اور فرد اور معاشرے کی تربیت کی دعوت ہے؟ کیا یہ عقیدہ تحرک کا باعث ہے یا جمود کا؟ اور کیا یہ عقیدہ مسئولیت ذمہ داری کا احساس ابھارتا ہے یا ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے فرار کا باعث بنتا ہے؟ خلاصہ یہ کہ کیا یہ فکری صلاحیتوں کو شل کر دینے والی چیز ہے یا بیدار کرنے والی؟ ان سوالات کی وضاحت اور تحقیق سے پہلے ایک نکتے کہ طرف پوری توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ بہت زیادہ اصلاح کنندہ قانون اور اعلیٰ ترین مفاہیم جب جاہل، نالائق اور غلط فائدہ اٹھانے والے افراد کے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ انہیں اس طرح مسخ کر دیں کہ وہ اصلی مقصد کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا کریں اور وہ ان کے ہدف سے الٹ راہ پر چل نکلیں۔ ایسے امور کی بہت سی مثالیں اور نمونے موجود ہیں اور مسئلہ انتظار کے ساتھ بھی جیسا کہ ہم دیکھیں گے یہی سلوک ہوا ہے۔ بہرحال، ہر قسم کے اشتباہ سے بچنے کے لئے ہم بقول”باید آب را ازسرچشمہ گرفت“(یعنی پانی خود سرچشمہ سے حاصل کرنا چاہیے)اس موضوع کو بھی سر چشمہ سے حاصل کرتے ہیں تاکہ راستے کی نہروں اور کھایوں کی آلود گی سے بچایا جا سکے۔ یعنی ہم ”انتظار“ کی بحث میں براہ راست اسلام کے اصلی متون کو تلاش کریں گے اور ان مختلف روایات پر بحث کریں گے جو مختلف لب ولہجہ میں مسئلہ انتظارکی تاکید کرتی ہیں تاکہ اصلی مقصد اور ہدف تک پہنچ سکیں ۔ اب نہایت غور سے ان چند روایات کی طرف توجہ کیجئے: ۱۔ کسی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان برحق کی ولایت رکھتا ہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: ھو بمنزلة من کان مع القائم فی فسطاطہ۔ ثم سکت ھنیئة۔ ثم قال: ھو کمن کان مع رسول اللّٰہ۔ وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمے میں(اس کی فوج کے سپاہیوں میں )ہو۔ پھر آپ(ع) نے کچھ توقف کیا، پھر فرمایا: اسی شخص کی طرح ہے جو پیغمبر اسلام کے ساتھ (ان کے معرکوں میں) شریک ہو۔(بحوالہ: بحار الانوار،ج۱۳،ص۱۳۶(چاپ قدیم) بحوالہ محاسن برقی)۔ بعینہ یہی مضمون بہت سی روایات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ منقول ہے۔ ۲۔بعض روایات میں یہ عبارت آئی ہے: بمنزلة الضارب بسیفہ فی سبیل اللّٰہ یعنی: وہ اس شخص کی طرح ہے جو راہ خدا میں شمشیر زن ہو۔ ۳ ۔بعض روایات میں عبارت یوں ہے: کمن قارع مع رسول اللّٰہ بسیفہ۔ یعنی: وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا کے ساتھ ہو کر دشمن کے دفاع پر تلوار مارے۔ ۴۔ بعض دیگر روایات میں ہے: بمنزلة من کان قائدا تحت لواء القائم۔ یعنی: وہ اس شخص کی طرح ہے جو قائم(مہدی)کے پرچم تلے ہو۔ ۵۔ بعض دوسری روایات میں ہے: بمنزلة المجاھد بین یدی رسول اللہ۔ یعنی: وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ کی موجود گی میں جہاد کرے۔ ۶۔ بعض روایات میں ہے: بمنزلة من استشھد مع رسول اللّٰہ ۔ یعنی: وہ اس شخص کی طرح ہے جو پیغمبر کی معیت میں شہید ہو۔ ان چھ روایات میں ظہور مہدی (ع) کے انتظار کے بارے میں سات تشبیہیں آئی ہیں۔ ان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف ان کا رابطہ اور مشابہت مسئلہ انتظار سے ہے اور دوسری طر ف اس انتظار کا تعلق دشمن کے ساتھ جہاد اور مقابلے کی آخری صورت سے ہے (غور کیجئے گا )۔ ۷۔ کئی ایک روایات میں ایسی حکومت کے انتظار کو بلند ترین عبادات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ یہ مضمون رسول اللہ سے مروی بعض احادیث میں اور امیر المومنین حضرت علی (ع) کے بعض فرمودات میں نقل ہوا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے: افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اللّٰہ عزوجل۔ میری امت کے افضل ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے۔(بحوالہ: بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۷، بحوالہ کافی) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: افضل العبادة انتظار الفرج۔ زیادہ فضیلت والی عبادت ظہور کا انتظار کرنا ہے۔(بحوالہ: بحارالانوار، ج۱۳، ص۱۳۶، بحوالہ کافی) یہ حدیث یہاں عمومی مفہوم رکھتی ہے، ”انتظار فرج“ کو یہاں چاہے وسیع معنی میں لیں یا عظیم عالمی مصلح کے ظہور کا انتظار سمجھیں، دونوں صورتوں میں زیر بحث موضوع کے حوالے سے انتظار کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ یہ تمام تعبیریں اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں کہ ایسے انقلاب کا انتظار ہمیشہ وسیع اور ہمہ گیر جہاد سے منسلک ہوتا، اس بات کو نظر میں رکھنا چاہئے تاکہ انتظار کا مفہوم سمجھ کر ہم ان سب تعبیروں سے ایک نتیجہ اخذ کر سکیں۔

انتظار کا مفہوم

لفظ”انتظار“ ایسے شخص کی کیفیت پر بولا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اس سے بہتر کیفیت کے ایجاد کرنے میں لگا ہو۔ مثلا وہ بیمار جو صحت کے انتظار میں یا وہ باپ جو سفر پر گئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں، بیمار بیماری پر پریشان اور دکھی ہوتا ہے اور باپ بیٹے کے فراق میں پریشان ہوتا ہے، دونوں بہتر حالت کی کوشش میں ہوتے ہیں، اسی طرح وہ تاجر جو کاروبار کی بدحالی پر پریشان ہو اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے انتظار میں ہو، ایسے تاجر کی دو حالتیں ہوتی ہیں ایک موجودہ حالت پر پریشانی اور ناپسندیدگی اور دوسرا بہتر حالت کے لئے کوشش ۔ اس بنا پر حضرت مہدی(ع) کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار بھی دو عناصر کا مرکب ہے: ۱۔ ”نفی“ کا عنصر اور دوسرا”اثبات“ کا عنصر، منفی عنصر موجودہ حالت کی ناپسندیدگی ہے اورمثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے۔ اب اگر یہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سرچشمہ بن جائیں گے۔ ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خود سازی، اپنی مدد آپ اور عوام کی واحد عالمی حکومت کی تشکیل کے لئے جسمانی اور روحانی طور پر تیاری کرنا ہے۔ اور اگر ہم اچھی طرح غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن ، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں ۔ ”انتظار“ کے حقیقی اور اصلی مفہوم کی طرف توجہ کریں تو مندرجہ بالا متعددروایات میں جو انتظار کی جزا اور نتیجہ بتایا گیا ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے اور سمجھ آتا ہے کہ کس طرح حقیقی انتظار کرنے والے کبھی ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو مہدی (ع) کے کیمپ میں یا ان کے پرچم کے نیچے یا اس شخص کی طرح قرار پاتے ہیں جو راہ خدامیں تلوار چلائے یا جو اپنے خون میں غلطاں ہو اور یا جو شہید ہو جائے۔ کیا یہ حق و عدالت کی راہ کے مختلف مراحل اور مجاہدہ کے مخلتف درجات کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ جو مختلف لوگوں کو ان کی تیاری اور انتظار کے درجے کی مناسبت سے حاصل ہوتے ہیں۔ یعنی جس طرح راہ خدا کے مجاہدین کی فداکاری اور اس کے نتیجہ و اثر کے مختلف درجے ہوتے ہیں اسی طرح انتظار کے خودسازی اور آمادگی کے بھی بالکل مختلف درجے ہوتے ہیں۔”مقدمات“ اور نتائج کے لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے مشابہت ہوتی ہے دونوں جہاد ہیں۔ دونوں کے لئے تیاری اور خود سازی کی ضرورت ہے۔ جو شخص ایسی حکومت کے قائد کے کیمپ میں ہوں یعنی ایک عالمی حکومت کے فوجی مرکز میں ہو وہ ایک غافل اور جاہل شخص نہیں ہو سکتا اور نہ وہ لاابالی پن کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ ایسے مرکز میں ہرکوئی نہیں آ سکتا۔ یہ جگہ تو ان افراد کے لئے ہے جو حقیقتاً اس حیثیت، مقام اور اہمیت کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح جس شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور وہ اس قائد انقلاب کے سامنے اس کی صلح و آشتی اور عادلانہ حکومت کے مخالفین سے جنگ کرے تو اس میں روحانی اور فکری جنگی لحاظ سے پوری آمادگی اور تیاری ہونا چاہئے۔ ظہور مہدی(ع) کے انتظار کے حقیقی اثرات سے مزید آگاہی کے لئے حسب ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں: انتظار۔۔۔ یعنی بھرپور تیاری میں اگر ظالم اور ستمگر ہوں تو کیسے ممکن ہے اس شخص کا انتظار کروں کہ جس کی تلوار ستمگروں کے خون سے سیراب ہو گی۔ میں اگر گناہ آلود اور ناپاک ہوں تو میں کیوں کر ایسا انقلاب کا منتظر ہوں گا جس کا پہلا شعلہ ناپاک لوگوں کے دامن کو لپکے گا۔ وہ لشکر جو ایک عظیم جہاد کے انتظار میں ہے وہ اپنے سپاہیوں کی جنگی تربیت کو آخری حد تک پہنچائے گا اوران میں انقلاب کی روح پھونک دے گا اور کمزوری کے ہر نقطے کی اصلاح کرے گا ۔ کیوںکہ انتظار کی کیفیت ہمیشہ اس ہدف اور مقصد کے مطابق ہوتی ہے جس کے ہم انتظار میں ہوتے ہیں ۔ ایک عام مسافر کے آنے کا انتظار ۔ ایک بہت ہی عزیز دوست کے لوٹ آنے کا انتظار۔ درخت سے پھلوں کے اتارنے کے موسم کا انتظار۔ فصل کی کٹائی کے موسم کا انتظار۔ ان میں سے ہر انتظار میں ایک طرح کی آمادہ گی اور تیاری شامل ہوتی ہے۔ مہمان کے لئے گھر کو تیار کرنا پڑتا ہے، اس کی پذیرائی اور خدمت کے ذرائع مہیا کرنا پڑتے ہیں۔ پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کے لئے ضروری سازوسامان، درانتی اور متعلقہ مشین وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو فراہم کرنا پڑتی ہے۔ اب غور کریں کہ وہ جو ایک عظیم عالمی مصلح کے قیام کا انتظار کر رہے ہیں وہ درحقیقت صورت حال کو یکسر پلٹ دینے والے انقلاب اور ایک تحول کا انتظار کر رہے ہیں کہ جو پوری انسانی تاریخ میں سب سے بڑا اور سب سے بنیادی انسانی انقلاب ہو گا۔ وہ انقلاب کہ جو گذشتہ انقلابوں کے برعکس علاقائی نہیں ہو گا بلکہ ہمہ گیر اور سب کے لئے ہو گا اور انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر محیط ہو گا۔ وہ انقلاب سیاسی ، ثقافتی، اقتصادی اور اخلاقی ہر حوالے سے انقلاب ہو گا۔

انتظار کا پہلا فلسفہ

اس قسم کا تحول ہر چیز سے پہلے آمادہ اور تیار عناصر کا محتاج اور انسانی قدروقیمت کا حامل ہے۔ اسے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو پوری دنیا میں وسیع اصلاحات کابھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں۔ پہلی منزل میں اس عظیم پروگرام کو عملی شکل دینے میں تعاون کرنے کی فکر اور آگاہی کی سطح بلند کرنے کی ضرورت ہے اور روحانی فکری آمادگی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تنگ نظری، کوتاہ بینی، کج فکری، حسد، بچگانہ اور غیر عاقلانہ اختلافات اور ہر قسم کا نفاق و انتشار حقیقی انتظار کرنے والوں کے شایان شان نہیں ۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی انتظار کرنے والا اس قسم کے اہم پروگرام کا فقط تماشائی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اسے چاہئے کہ وہ ابھی سے حتمی طور پر انقلابیوں کی صف میں شامل ہو جائے۔ اس انقلاب کے نتائج پر ایمان اسے ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ وہ مخالفین کی صف میں کھڑا ہو۔ دوسری طرف موافقین کی صف میں کھڑا ہونے کے لئے بھی پاک اعمال، پاکیزہ روح، کافی دلیری اور آگاہی کی ضرورت ہے۔ میں اگر فاسد، خراب اور نادرست ہوں تو ایسے نظام کے ایام کو کیسے یاد کر سکتا ہوں جس میں فاسد، خراب اور نادرست افراد کی کوئی حیثیت نہ ہو گی بلکہ وہ تو اس میں ٹھکرا دئےے جائیں گے اور قابل نفرت ہوں گے۔ کیا یہ انتظار فکر وروح اور جسم وجان کی پاکیزگی کے لئے کافی نہیں ۔ وہ لشکر جو آزادی بخش جہاد کے انتظار میں وقت گزار رہا ہے یقینا مکمل طور پر آمادہ اور تیار ہو گا، وہ ہتھیار جو ایسے میدان جنگ کے لئے مناسب اور ضروری ہے اسے مہیا رکھے گا۔ ایسا لشکر ضرور مورچہ بند رہے گا۔ اپنے افراد کی تیاریوں میں اضافہ کرتا رہے گا اور اپنے فوجیوں کے دلوں کو مضبوط کرے گا اور ایسے جہاد اور مقابلے کے لئے اپنے ہر سپاہی کے دل میں عشق اور شوق زندہ رکھے گا۔ جو لشکر اس طرح سے تیار نہ ہو وہ کبھی منتظر نہیں رہ سکتا اور اگر تیار رہنے کا دعویٰ کرے توجھوٹ ہے۔ ایک عالمی مصلح اور مربی کا انتظار تمام جہانوں کی مکمل فکری، اخلاقی، مادی اور روحانی اصلاح کی آمادگی کا مفہوم رکھتا ہے۔ اب آپ سوچئے کہ ایسی آمادگی اور انتظار کس قدر انسان ساز اور تربیت کنندہ ہے۔ تمام روئے زمین کے اصلاح اور تمام مظالم اور خرابیوں کا خاتمہ کوئی مذاق نہیں اور نہ یہ کوئی آسان کام ہے۔ ایسے عظیم مقصد کی تیاری اس کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ یعنی تیاری بھی اس پروگرام کی گہرائی اور گیرائی کے مطابق ہوناچاہیے۔ ایسے انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے عظیم مصمم اردوں والے، بہت قوی اور شکت ناپذیر، انتہائی پاک باز، بلند نظر، پوری طرح تیار اور گہری نگاہ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ایسے مقصد کے لئے خودسازی اور اپنی عمیق ترین تربیت کی ضرورت ہے۔ ایسے ہدف کے لئے بہت سے اخلاقی، فکری اور اجتماعی منصبوں پر عمل درآمد نا گزیر ہے۔ یہ ہے حقیقی انتظار کا مفہوم تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسا انتظار انسان ساز اور اصلاح کنندہ نہیں ہے؟

دوسرا فلسفہ: اجتماعی کاوشیں

سچے انتظارکرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیونکہ جس عظیم اور بھاری پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایسا پروگرام ہے جس میں تمام عناصر انقلاب کو شرکت کرنا ہو گی لہٰذا کام گروہی اور اجتماعی صورت میں ہونا چاہیے۔ مساعی اور کاوشیں ہم آہنگ ہونا چاہئیں۔اس ہم آہنگی کی گہرای اور وسعت اس عالمی انقلاب کے پروگرام کی عظمت کے مطابق ہونا چاہیے۔۔ کہ جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں۔ ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسروں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے،کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے اور جو بھی نقصان زدہ جگہ ہو اس کی مرمت کرے اور کمزور حصے کو تقویت پہنچائے کیوںکہ میدان جنگ میں موجود تمام مجاہدین کی فعال اور ہم آہنگ شرکت کے بغیر ایسے پروگرام کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا حقیقی انتظار کرنے والے نہ صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بھی اصلاح کریں ۔ یہ ہے ایک عالمی مصلح کے قیام کے انتظار کا ایک اور تعمیری اور تربیتی اثر اور یہ ہے فلسفہ ان تمام فضیلتوں کا جو ایک سچے انتظار کرنے والے کے لیے شمار کی گئی ہیں۔

تیسرا فلسفہ: خراب ماحول کا مقابلہ

حضرت مہدی(ع) کے انتظار کا ایک اور اثر ماحول کے مفاسد میں گھل مل جانا اور برائیوں کے سامنے ہتھیا نہ ڈالنا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب کوئی برائی عام ہو جاتی ہے اور سب کو گھیر لیتی ہے۔ اکثریت یا جماعت کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف چلا جاتا ہے تو بعض اوقات نیک لوگ ایک سخت قسم کی نفسیاتی تنگی میں پھنس جاتے ہیں ۔۔اس گھٹن میں وہ اصلاح سے مایوس ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے اور اب اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی، اب اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش اور جدوجہد فضول ہے۔ ممکن ہے ایسی ناامیدی اور مایوسی آہستہ آہستہ انہیں برائی اور ماحول کی ہمرنگی کی طرف کھیچ لے جائے اور وہ اپنے آپ کو ایک صالح اقلیت کے طور پر فاسد اکثریت کے مقابلے میں محفوظ نہ رکھ سکیں اور دوسروں کے رنگ میں نہ رنگے جانے کو رسوائی کا سبب سمجھیں۔ تنہا جو چیز ان میں امید کی روح پھونک سکتی ہے، انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماحول میں گھل مل جانے سے روک سکتی ہے۔۔۔وہ ہے مکمل اصلاح کی امید ۔صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کر سکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جد وجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی قوانین میں بخشش سے مایوسی کو بھی بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ نا سمجھ اور بے خبر افراد تعجب کریں کہ رحمت خدا سے مایوسی کو اس قدر اہمیت کیوں دی گئی ہے، یہاں تک کہ بہت سے گناہوں سے اسے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ تو اس کا فلسفہ درحقیقت یہی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس گنہگار کو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ تلافی کی فکر کرے یا کم از کم گناہ کو جاری رکھنے سے دستبردار ہو جائے اور اس کی منطق یہ ہے کہ اب جب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے تو چاہے ایک قد کے برابر ہو چاہے سو قد کے برابر ہو۔وہ سوچتا ہے کہ میں دنیا میں رسوا ہو چکا ہوں، اب دنیا کا غم فضول ہے۔ سیاہی سے بڑھ کر کوئی رنگ نہیں۔ آخر جہنم ہے۔ میں تو ابھی سے اسے اپنے لئے خرید چکا ہوں، اب دوسری کسی چیز سے کیا ڈروں۔ اسی طرح کی دیگر باتیں اسے گناہ کے راستے پر باقی رکھتی ہیں ۔ مگر۔۔۔ جب اس کے لئے امید کا دریچہ کھلا ہو، عفو الٰہی کی امید ہو اور موجود کیفیت کے بدل جانے کی توقع ہو، تو اس کی زندگی میں ایک طرح کا میدان پیدا ہو گا جو اسے راہ گناہ سے لوٹ آنے اور پاکیزگی و اصلاح کی طرف واپسی کی دعوت دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فاسد افراد کی اصلاح کے لئے امید کو ہمیشہ ایک موثر تربیتی عامل سمجھا گیا ہے، اسی طرح وہ نیک افراد جو خراب ماحول میں گرفتار ہیں، امید کے بغیر اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ خلاصہ یہ کہ دنیا جس قدر فاسد اور خراب ہو گی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جو معتقدین پر زیادہ روحانی اثر ڈالے گی۔ برائی اور خرابی کے طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ وعدہ وصل چوں شد نزدیک آتش عشق تیز تر گردد یعنی: وعدہ وصل کا لمحہ جوں جوں نزدیک ہوتا جاتا ہے، آتش عشق اتنی تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ اس کے مطابق مقصد انہیں قریب تر نظر آئے گا اور بربرائی جنگ کرنے میں ان کی کوشش یا اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں اضافہ ہو گا اور مزید شوق و ولولہ پیدا ہو گا ۔ گذشتہ مباحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انتظار جمود کا باعث صرف اس صورت میں بنتا ہے جب اس کے مفہوم کو مسخ کر دیا جائے یا اس میں تحریف کر دی جائے جیسا کہ مخالفین کے ایک گروہ نے اس میں تحریف کر دی ہے اور موافقین کے ایک گروہ نے اسے مسخ کر دیا ہے لیکن اگر اس کے حقیقی مفہوم میں افراد اور معاشرہ اس پر عمل کریں تو انتظار تربیت، خود سازی، تحرک اور امید کا ایک اہم عامل اور داعی ثابت ہو گا ۔ قیام مہدی(ع) کے بارے میں واضح مدارک میں سے ایک یہ آیت ہے: وعد اللّٰہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحٰت لیستخلفنھم فی الارض۔ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ روئے زمین کی حکومت ان کے قبضے میں دے گا۔ اس آیت کے ذیل میں اسلام کے ہادیوں سے منقول ہے کہ: ھو القائم واصحابہ۔ (یعنی یہ جن سے خدا نے وعدہ کیا ہے) وہ قائم(حضرت مہدی(ع)) اور آپ کے اصحاب ہیں۔(بحوالہ: بحار الانوار، طبع قدیم،ج۱۳،ص۱۴) ایک اور حدیث میں ہے: نزلت فی المھدی(ع)۔ یعنی: یہ آیت حضرت مہدی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس آیت میں حضرت مہدی (ع) اور ان کے یار وانصار کا تعارف اس عنوان سے کروایا گیا ہے: الذین آمنوا منکم وعملوا الصٰلحٰت. یعنی: وہ جو تم میں سے ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے۔ لہٰذا اس عالم انقلاب کا قائم ہونا اور عالم وجود میں آنا ایک مستحکم ایمان کے بغیر جو ہر قسم کے ضعف، کمزوری اور ناتوانی کو دور کر دے، کے بغیر ممکن نہیں۔ نیز نیک اعمال جو اصلاح عالم کا راستہ کھول دیں، کے بغیر بھی ممکن نہیں۔ اور وہ لوگ جو اسے پروگرام کے انتظار میں ہیں انہیں اپنی آگاہی، علم اور ایمان کی سطح بھی بلند کرنا ہو گی اور اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش بھی کرنا ہو گی۔ صرف وہی لوگ ایسی حکومت میں ہم قدم اور ہم کام ہونے کی خوشخبری کے مستحق ہیں نہ کہ وہ لوگ جو ظلم وستم کا ساتھ دیں اور نہ ہی وہ جو ایمان اور عمل صالح سے بیگانہ ہوں اور نہ ڈرپوک اور بزدل لوگ جو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہر چیز سے یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں اور نہ ہی سست،بےحال اور بےکار لوگ جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں اور اپنے معاشرے کے مفاسد اور خرابیوں پر سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان سے مقابلے کی کچھ بھی کوشش نہیں کرتے۔ یہ ہے قیام مہدی (ع) کے انتظار کا معاشرے میں تعمیری اور اصلاحی اثر۔

34
9:34
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ
اے ایمان والو! (اہل کتاب کے) بہت سے علما اور راہب لوگوں کا مال باطل طور پر کھاتے ہیں اور (انہیں ) خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ جو سونا چاندی کا خزانہ جمع کرکے (اور چھپا کر) رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی بشارت دے دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
9:35
يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ
ایک دن ایسا آئے گاکہ یہ سونے اور چاندی (کے سکے)جہنم کی آگ میں پگھلائے جائیں گے، پھر ان سے ان کے چہروں ‘ پہلوؤں اور پشتوں کو داغا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے کہ جسے تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا پس چکھو اس چیز کو جسے اپنے لئے تم نے ذخیرہ کیا تھا۔

کنز اور ذخیرہ اندوزی منع ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں یہود ونصاریٰ کے مشرکانہ اعمال کے متعلق گفتگو تھی کہ جو اپنے علماء کے لئے ایک طرح الوہیت کے قائل تھے۔ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ وہ نہ صرف مقام الوہیت نہیں رکھتے، بلکہ مخلوق کی رہبری کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ اس کا شاہد ان کی طرح طرح کی غلط کاریاں ہیں۔ یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اہل کتاب کے علماء اور راہب لوگوں کے مال باطل طور کھاتے ہیں اور مخلوق کو خالق کی راہ سے روکتے ہیں(یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ کَثِیرًا مِنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُونَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ)۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ جس طرح قرآن کی سیرت ہے، یہاں حکم یہودیوں کے تمام علماء اور راہبوں پر جاری نہیں کیا گیا بلکہ ”کثیرا“ کی تعبیر در حقیقت، صالح اور نیک اقلیت کے استثناء کے لئے ہے اور ایسا ہی دیگر آیات قرآن میں بھی نظر آتا ہے کہ جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ وہ کس طرح لوگوں کا مال فضول بغیر کسی جواز کے اور قرآنی تعبیر کے مطابق باطل طریقے سے کھاتے تھے تو اس سلسلے میں کم و بیش دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے اور کچھ باتیں تواریخ میں بھی آئی ہیں۔ ایک بات تو یہ تھی کہ وہ حضرت مسیح (ع) اور موسیٰ (ع) کی تعلیمات کے حقائق چھپاتے تھے تاکہ لوگ نئے دین(اسلام) کے گرویدہ نہ ہوں تاکہ ان کے مفادات خطرے میں نہ پڑیں اور ان کے تحفے اور ہدیے منقطع نہ ہوں جیسا کہ سورہ- بقرہ کی آیات 41،79 اور 174 میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ دوسری بات یہ تھی کہ لوگوں سے رشوت لے کر حق کو باطل اور باطل کو حق قرار دے دیتے تھے۔ طاقتوروں اور زور والوں کے فائدے میں باطل فیصلے صادر کرتے تھے جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ 41 میں اس طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان کی غیر شرعی آمدنی کا ایک اور طریقہ بھی تھا اور یہ کہ وہ ”بہشت فروشی“ اور”گناہ بخشی“ کے نام پر لوگوں سے بہت سی رقم وصول کرتے تھے اور بہشت اور بخشش جو صرف خدا کے اختیار میں ہے، کا کاروبار کرتے تھے، اس معاملے پر تاریخ مسیحیت میں بہت شور مچا ہے اور جنگ وجدال ہوئے ہیں۔ باقی رہا ان کا راہ خدا سے لوگوں کو روکنے کا معاملہ تو وہ واضح ہے کیوں کہ وہ آیات الٰہی میں تحریف کرتے تھے یا اپنے مفادات حفاظت کے لئے انہیں چھپاتے تھے بلکہ جس کسی کو بھی اپنے مقام اور مفاد کا مخالف پاتے، اس پر تہمت لگاتے اور ”مذہبی“ تفتیش کی عدالت “قائم کرتے اور بدترین طریقے باز پرس کرتے ، اس کے خلاف فیصلہ کرتے اور اسے سزا دیتے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر انہوں نے یہ اقدام نہ کئے ہوتے اور وہ اپنے پیروکاروں کو اپنی لالچ اور ہوا و ہوس پر قربان نہ کرتے تو آج بہت سے گروہ دین حق یعنی اسلام کو دل وجان سے قبول کر چکے ہوتے، لہٰذا یہ بات کھلے بندوں کہی جا سکتی ہے کہ لاکھوں انسان جو کفر کی تاریکی میں باقی رہ گئے ہیں ان کا گناہ انہی کی گردن پر ہے۔ اس وقت بھی کلیسا اور یہودیوں کے مراکز اسلام کے بارے میں عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے اور آج بھی کیسی عجیب وغریب وحشتناک تہمتیں پیغمبر اسلامﷺ پر لگانا روا سمجھتے ہیں۔ یہ کام اتنا وسع اور عام ہے کہ مسیحیوں کے بعض روشن فکر علماء نے صراحت سے اس کا اعتراف کیا ہے کہ گرجا کی اسلام کے خلاف بزدلانہ حملوں کی یہ سنت بھی اس بات کا باعث ہے کہ اہل مغرب ایسے پاک و پاکیزہ دین سے بے خبر ہیں۔ اس کے بعد قرآن یہود ونصاریٰ کے پیشواؤں کی دنیا پرستی کی بحث کی مناسبت سے ذخیرہ اندوزوں کے بارے میں عمومی قانون بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے چھپا کر رکھتے ہیں اور انہیں راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو (وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَایُنفِقُونَھَا فِی سَبِیلِ اللهِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیمٍ)۔ ”یکنزون“ کا مادہ ہے”کنز“( بر وزن اور بر معنی ”گنج“)یعنی خزانے کو” کنز“ کہتے ہیں جو دراصل جمع کرنے اور کسی چیز کے اجزا کو اکٹھا کرنے کے لئے بولا جاتا ہے۔اسی لئے جس اونٹ پر زیادہ گوشت ہو، اسے ”کناز اللحم“ کہتے ہیں۔ بعد ازاں یہ لفظ جمع کرنے، حفاظت کرنے اور قیمتی اموال واشیاء کو چھپا کر رکھنے کے معنی میں بولا جانے لگا۔ لہٰذا اس کے مفہوم میں جمع کرنا، حفاظت اور کبھی چھپا کر رکھنا بھی پنہاں ہوتاہے۔ ”ذھب“ کا معنی ہے”سونا“ اور فضہ“ کا معنی ہے ”چاندی“۔ جیسا کہ طبرسی نے مجع البیان میں نقل کیا ہے، بعض علماء لغت نے ان دو الفاظ کے بارے میں جاذب نظر تعبیر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جو سونے کو ”ذھب“ کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اور اس کے لئے بقا نہیں ہے (یاد رہے کہ لغت میں”ذھاب“ کا مادی جانے کے معنی میں ہے) اور یہ جو چاندی کو ”فضة“ کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جلد ہی پراگندہ اور متفرق ہوجاتی ہے(کیوں کہ”انفضاض“ لغت میں پراگندگی کے میںہے ، ایسی دولت وثروت کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے ایسا نام ہی کافی ہے۔ جس دن سے انسانی معاشرے وجود میں آئے ہیں، مختلف اجناس مبادلہ کے طور پر لینے کا طریقہ انسانوں رائج تھا۔ ہر شخص اپنی کھیتی باڑی اور نقدی وغیرہ میں سے ضرورت سے زیادہ اموال کو بیچتا تھا لیکن شروع شروع میں ہمیشہ جنس کا جنس سے تبادلہ ہوتا تھا کیوں کہ پیسہ روپیہ بھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ جنس کا جنس سے مبادلہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تا تھا کیوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے تھے جو اپنی ضرورت سے زیادہ مال بیچنا چاہتے تھے لیکن انہیں اس وقت کسی چیز کی ضرورت نہ ہوتی تھی جسے وہ خرید لیتے مگر وہ یہ چاہتے کہ اسے کسی چیز میں تبدیل کریں تاکہ جب چاہیں، اس سے اپنی ضرورت کی اجناس فراہم کر سکیں یہاں سے ”کرنسی“کے ایجاد کا مسئلہ پیدا ہوا۔ چاندی اور اس سے زیادہ اہم سونے کی پیدائش نے اس فکر کوجنم دیا۔ یوں ان دو دھاتوں نے کم قیمت اور زیادہ قیمت کی کرنسی کی شکل اختیار کرلی اور ان کے ذریعے سے تجارت اور معاملات کا کام تیزی سر انجام پانے لگا۔ اس بنا پر کرنسی کا اصلی فلسفہ وہی کامل تر اور تیز تر اقتصادی مبادلات کے پہیوں کی گردش ہے اور جو لوگ نقدی کو خزانے کی صورت میں چھپالیتے ہیں وہ نہ صرف اقتصادی ٹھہراؤ اور معاشرے کے منافع کے نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کا عمل کرنسی کی ایجاد کے فیصلے کے بالکل برخلاف ہے۔ مندرجہ بالا آیت نے صراحت سے ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے اموال راہ خدا میں اور بندگان خدا کے مفاد کی راہ میں لگائیں اور انہیں جمع کرکے رکھنے، ذخیرہ کرنے اور گردش سے الگ کرنے سے پرہیز کریں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو انہیں دردناک عذاب کا منتظر رہنا چاہئے۔ یہ دردناک عذاب صرف قیامت کے دن کی سخت سزا نہیں ہے بلکہ اس دنیا کی وہ سخت سزائیں بھی اس مفہوم میں شامل ہیں جو اقتصادی توازن بر قرار نہ رہنے کی وجہ سے اور طبقاتی اختلافات پیدا ہونے کے باعث پیش آتی ہیں۔ گذشتہ زمانے کے لوگ اگر اس اسلامی حکم کی اہمیت سے آشنا نہیں تھے تو آج ہم پوری طرح اس کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ وہ خرابیاں جو انسان کو دامن گیر ہوتی ہیں، خود پرست اور بے خبر لوگوں کی ثروت اندوزی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، مصائب وآلام، جنگیں اور خون ریزیاں جو ظاہر ہو رہی ہیں، کسی سے ان کی وجہ مخفی نہیں ہے۔

"کنز"، کتنی دولت کا کہتے ہیں؟

مفسرین کے درمیان زیر بحث آیت کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ضروریات زندگی سے زیادہ ہر قسم کی ثروت اندوزی ”کنز“ شمار ہوتی ہے اور اس آیت کے مطابق حرام ہے یا یہ کہ یہ حکم آغاز اسلام اور حکم زکوٰة کے نزول سے پہلے کے زمانے سے مربوط ہے اور پھر زکوٰة کا حکم نازل ہونے سے ختم ہو گیا ہے؟ یا یہ کہ جو کچھ واجب ہے، وہ زکوٰة کی ادائیگی ہے نہ کہ اس کے علاوہ کچھ اور۔ اس بنا پر جب انسان کوئی مال جمع کر لے اور ہر سال باقاعدگی سے اس کے اسلامی مالیات یعنی زکوٰة ادا کر دے تو وہ زیر نظر آیت کی زد میں نہیں آتا ۔ بہت سی روایات میں جو شیعہ اور سنی کتب میں آئی ہیں، ان میں تیسری تفسیر ہی نظر آتی ہے۔ مثلا ایک حدیث میں پیغمبر اکرمﷺ سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: ای مال ادیت زکوٰتہ فلیس بکنز۔ یعنی ۔ جس مال کی تو زکوٰة ادا کر دے، وہ کنز نہیں ہے۔ (بحوالہ: المنار، جلد ۱۰، ص ۴۰۴)۔ نیز روایت ہے کہ جب مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر معاملہ سخت ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنی اولاد کے لئے کوئی چیز بچا کے نہیں رکھ سکتا اور ان کے مستقبل کے لئے کچھ نہیں بنا سکتا۔ آخرکار انہوں نے پیغمبر اکرمﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ان اللّٰہ لم یفرض الزکوٰة الا لیطیب بھا مابقی من اموالکم وانما فرض المواریث من اموال تبقی بعدکم۔ خدا نے زکوٰة کو واجب نہیں کیا مگر اس لئے کہ تمہارے باقی اموال تمہارے لئے پاک ہو جائیں لہٰذا میراث کا قانون ان اموال کے لئے قرار دیا ہے جو تمہارے بعد رہ جائیں گے۔(بحوالہ: المنار، جلد ۱۰، ص ۴۰۴)۔ یعنی مال جمع کرنا اگر باکل ممنوع ہوتا تو پھر قانون میراث کا موضوع ہی باقی نہیں رہتا تھا۔ کتاب امالی شیخ میں بھی پیغمبر اکرمﷺ سے یہی مضمون نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوٰة ادا کر دے تو اس کا باقی مال کنز نہیں ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۲، ص ۳۱۳)۔ منابع اسلامی میں کچھ اور روایات بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ظاہرا اور پہلی نظر میں جن کا مضمون مندرجہ تفسیر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان میں سے ایک حدیث وہ ہے جو مجمع البیان میں حضرت علی (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ما زاد علی اربعة اٰلاف فھو کنز ادی زکوٰتہ او لم یودھا وما دونھا فھی نفقة فبشرھم بعذاب الیم۔ جو کچھ چار ہزار (درہم) سے (کہ ظاہراجس سے مراد سال بھر کا خرچ ہے)زیادہ ہو۔ وہ کنز ہے۔ چاہے اس کی زکوٰة ادا کردی ہو یا نہ کی ہو اور جو کچھ اس سے کم ہو وہ نان نفقہ اور ضروریات زندگی میں شمار ہو گا۔ ان ثروت اندوزوں کو دردناک عذاب کی بشارت دو۔(بحوالہ: مجمع البیان،آیہ مذکورہ کے ذیل میں اور نورالثقلین، ج۲،ص۲۱۳) کافی میں معاذ بن کثیر سے منقول ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے امام صادق (ع) سے سنا کہ وہ کہتے تھے : ہمارے شیعہ اس وقت تو آزاد ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اسے راہ خدا خرچ کریں (اور باقی ان کے لئے حلال ہے) لیکن جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو تمام خزانوں اور جمع شدہ ثروتوں کو حرام قرار دیں گے تاکہ وہ سب مال ان کے پاس لے آئیں اور انہیں وہ دشمنوں کے مقابلے میں کام لائیں اور یہی مفہوم ہے اس کلام خدا کا جو وہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: (وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّة۔۔۔) (بحوالہ: نورالثقلین، ج۲، ص۲۱۳۔) جناب ابوذر (رض) کے حالات زندگی میں بھی بار بار اور بہت سی کتب میں یہ بات منقول ہے کہ وہ یہ آیت شام میں معاویہ کے سامنے صبح و شام پڑھتے تھے اور بلند آواز میں پکارتے تھے: بشر اھل الکنوز بکی فی الجباہ وکی بالجنوب وکی بالظھور ابداً حتیٰ یتردد الحر فی اجوافھم۔ خزانہ رکھنے والوں کو بشارت دے دو کہ اس مال سے ان کی پیشانیاں، ان کے پہلو اور ان کی پشتیں داغی جائیں گی یہاں تک کہ تپش کی سوزش ان کے وجود کے اندر تک پہنچ جائے گی۔(بحوالہ: نورالثقلین، ج۲، ص۲۱۴؛ البرہان، ج۱، ص۱۲۲)۔ نیز حضرت عثمان کے سامنے ابوذر (رض) کا اس آیت سے استدلال نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا نظریہ تھا کہ یہ آیت مانعین زکوٰة سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے بارے میں بھی ہے۔ مندرجہ بالا تمام احادیث کو سامنے رکھا جائے اور آیت کو بھی ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عام حالات میں یعنی ایسے مواقع پر جب معاشرہ ناگوار اور خطرناک حالات دوچار نہ ہو اور لوگ معمول کی زندگی سے بہرور ہوں تو صرف زکوٰة کی ادائیگی کافی ہے اور باقی مال ”کنز“ شمار نہیں ہو گا۔(البتہ توجہ رہے کہ اصلی طور دوکت کمانے میں اگر اسلامی قوانین کو ملحوظ رکھا جائے تو اس صورت میں حد سے زیادہ مال ومنال جمع نہیں ہو پاتا کیوں کہ اسلام نے اس قدر قیود وشرائط عائد کی ہیں کہ ایسے مال کا حصول عام طور پر ممکن ہی نہیں ہے) لیکن اگر حالات معمول کے مطابق نہ ہوں اور ایسے مواقع ہوں جب اسلامی معاشرے کے مفاد میں یہ واجب اور ضروری ہو تو حکومت اسلامی مال کی جمع آوری پر حد بندی کرسکتی ہے اور اسے محدود کرسکتی ہے(جیسا کہ ہم حضرت علی (ع) کی روایت میں پڑھ چکے ہیں) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسلامی حکومت عالم اسلام کی بقاء کے پیش نظر تمام جمع شدہ اموال اور ذخائر پیش کرنے کا مطالبہ کر دے جیسا کہ امام صادق (ع) کی روایت میں قائمؑ کے زمانے کے بارے میں آیا ہے۔ اس روایت کی علت کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہ باقی زمانوں پر بھی محیط ہو گی کیوں کہ امام (ع) فرماتے ہیں: فلیستعین بہ علی عدوہ وہ اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد لیں گے۔ لیکن ہم اس بات کو دہراتے ہیں کہ ایسا صرف اسلامی حکومت کے اختیار میں ہے اور وہی ضروری مواقع پر ایسے اقدامات کر سکتی ہے(غورکیجئے گا)۔ باقی ابوذر (رض) کا واقعہ تو ہو سکتا ہے وہ بھی اسی صورت حال کے پیش نظر ہو کیوں کہ اس وقت کے اسلامی معاشرے میں اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ دولت اور سرمایہ مرتکز اور جمع نہ ہو۔ اس وقت ایسا کرنا اسلامی معاشرے کے تحفظ، بقاء اور سالمیت کے خلاف تھا۔ یا ہو سکتا ہے کہ ابوذر (رض) بیت المال کے اموال کے بارے میں کہتے ہوں جو عثمان اور معاویہ کے ہاتھ میں تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسے اموال مستحق اور حاجت مند افراد کے ہوتے ہوئے لمحہ بھر کے لئے بھی جمع نہیں رکھے جا سکتے بلکہ یہ مستحقین تک پہنچنے چاہئیں اور اس معاملے کا زکوٰة کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ہے۔ خصوصا ان حالات میں جب کہ تمام اسلامی تواریخ، جن میں شیعہ سنی سب تاریخیں شامل ہیں، گواہی دیتی ہیں کہ حضرت عثمان نے بیت المال میں سے بہت سی دولت اپنے رشتے داروں میں بانٹ دی تھی اور معاویہ نے بیت المال ہی سے ایک ایسا محل تعمیر کیا تھا جس نے ساسانیوں کے محلات کے افسانوں کو زندہ کر دیا تھا۔ ایسے میں ابوذرؓ کو حق پہنچتا تھا کہ انہیں فرمان الٰہی یاد دلاتے۔

حضرت ابوذر رضی اللہ اور اشتراکیت

ہم جانتے ہیں کہ تیسرے خلیفہ پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک ابوذر کی ظالمانہ جلاوطنی ہے۔ انہیں بری آب و ہوا کے مقام ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں آخرکار یہ عظیم صحابی اور راہ اسلام کے فداکار مجاہد اس دنیا سے چل بسے۔ ابوذرؓ وہ شخص کہ جس کے بارے میں پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا: آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا نہ ہی زمین نے کسی ایسے کو اٹھایا جو ابوذرؓ سے بڑھ کر سچا ہو۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان سے ابوذرؓ کا اختلاف مال کی تمنا اور کسی مقام ومنصب کی آرزو کی بنیاد پر نہ تھا کیوں کہ ابوذرؓ پارسا اور آزاد انسان تھے۔ ان کے اختلاف کا سرچشمہ صرف تیسرے خلیفہ کی بیت المال کے بارے میں فضول خرچی، اپنی قوم اور قبیلہ پر ان کی بے پناہ نوازشات اور اپنے حامیوں پر ان کی بے شمار بخشش تھی۔ ابوذرؓ مالی مسائل کے بارے میں خصوصا جن کا تعلق بیت المال سے ہوتا، بہت ہی سخت گیر تھے اور چاہتے تھے کہ تمام لوگ اس سلسلے میں پیغمبر اسلامﷺ کی روش اپنائیں مگر ہم جانتے ہیں کہ خلیفہ سوم کے دور میں صورت حال مختلف تھی۔ بہرحال، اس عظیم صحابی کی صریح اور قطعی باتیں خلیفہ سوم کو ناگوار گزریں۔ انہیں نے پہلے تو انہیں شام کی طرف بھیج دیا مگر ابوذرؓ وہاں زیادہ صراحت اور زیادہ قاطعیت سے معاویہ کے کرتوتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ ابن عباس کہتے ہیں: معاویہ نے عثمان کو لکھا: اگر آپ کو شام کی ضرورت ہے تو ابوذرؓ کو واپس بلا لیں کیوں کہ اگر وہ یہاں رہ گئے تو یہ علاقہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ عثمان نے خط لکھا اور ابوذرؓ کے حاضر ہونے کا حکم صادر کیا اور بعض تواریخ کے مطابق معاویہ نے حکم دیا کہ ابوذرؓ کو مدینہ بھیجنے کے لئے ایسے افراد مامور کئے جائیں جو رات دن انہیں مدینہ کی راہ پر چلاتے رہیں اور انہیں لمحہ بھر آرام نہ کرنے دیں ۔ یہاں تک کہ جب ابوذرؓ مدینہ میں پہنچے تو بیمار ہو گئے اور چونکہ ان کا مدینہ میں رہنا بھی کاروبار خلافت کے لئے گوارا نہ تھا، لہٰذا انہیں ربذہ کی طرف بھیج دیا گیا اور وہیں ان کی وفات ہو گئی ۔ جو لوگ اس سلسلے میں خلیفہ سوم کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، وہ بعض اوقات ابوذرؓ پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ اشتراکی نظریہ رکھتے تھے اور تمام مال کو اللہ کا مال سمجھتے تھے اور شخصی ملکیت کا انکار کرتے تھے۔ یہ اتہام نہایت عجیب ہے۔ کیا باوجودیکہ قرآن صراحت سے خاص شرائط کے ساتھ تمام شخصی ملکیتوں کو محترم سمجھتا ہے اور باوجودیکہ ابوذرؓ رسول اللہﷺ کے نزدیک ترین افراد میں سے تھے اور انہوں نے قرآن کے دامن میں پرورش پائی تھی اور آسمان کے نیچے ان سے زیادہ سچّا کوئی پیدا نہیں ہوا تھا، پھر ان کی طرف ایسی نسبت کس طرح دی جا سکتی ہے؟ دور دراز کے بادیہ نشین تو اس اسلامی حکم کو جانتے تھے اور انہیں نے تجارت اور میراث وغیرہ سے مربوط آیات سن رکھی تھیں تو پھر کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کے نزدیک ترین شاگرد اس حکم سے بے خبر ہوں۔ کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات ہے کہ ہٹ دھرم متعصبین نے خلیفہ سوم کے برائت کے لئے ان پر اس قسم کی تہمت لگائی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ معاویہ کے طرز عمل کے دفاع میں یہ اتہام باندھا ہے، اب بھی کچھ لوگ آنکھ کان بند کرکے اس بات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! ابوذرؓ آیات قرآنی سے راہنمائی لے کر خصوصا ”آیہ کنز“ سے ہدایت حاصل کرتے ہوئے یہ نظریہ رکھتے تھے اور صراحت کے ساتھ اس نظرئیے کا اظہار کرتے تھے کہ اسلامی بیت المال بعض لوگوں کی خصوصی ملکیت نہیں بننا چاہئے۔ ان کا نظریہ تھا کہ وہ اموال جن میں محروموں اور حاجت مندوں کا حق ہے اور جنہیں تقویت اسلام کے لئے اور مفاد مسلمین کے لئے صرف ہونا چاہئے وہ کسی کو اپنے تئیں حاتم طائی ثابت کتنے کے لئے یا تعمیر محلات کے افسانوں کو زندہ کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئیں۔ علاوہ ازیں،، ابوذرؓ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جس دور میں مسلمان انتہائی تنگدستی میں مبتلا ہیں ثروت مندوں کو بھی سادہ تریں زندگی پر قناعت کرنا چاہئے اور اپنے مال میں سے انہیں کچھ راہ خدا میں کرچ کرنا چاہئے۔ اگر ابوذرؓ کا کوئی گناہ تھا تو یہی تھا لیکن رائے مورخین ، بنی امیہ اور چاپلوس اور دین فروش راویوں نے اس مرد مجاہد کا چہرہ بگاڑنے اور مسخ کرنے کے لئے ایسی ناروا تہمتیں ان پر لگائی ہیں۔ ابوذرؓ کا دوسرا ”گناہ“ یہ تھا کہ امیرالمومنین (ع) کے ساتھ خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ یہ”گناہ“ اکیلا ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ بنی امیہ کے جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والے اپنی شیطانی طاقت، ابوذرؓ کی حیثیت کو داغدار کرنے کے لئے صرف کریں لیکن ان کا دامن اس طرح سے پاک تھا اور ان کی سچائی اور اسلامی مسائل سے آگاہی اس قدر واضح اور روشن تھی کہ جس نے ان سب جھوٹوں کو ذلیل ورسوا کر دیا۔ ان میں سے عجیب ایک عجیب افتراء جو خلیفہ سوم کو بری کرنے کے لئے ابوذرؓ پر باندھا گیا ہے، طبقات ابن سعد میں منقول ہے وہ یہ کہ: جب ابوذرؓ ربذہ میں تھے، اہل کوفہ کا گروہ آپ کے پاس آیا، اس نے کہا: اس شخص(یعنی، عثمان)نے آپ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کیا آپ تیار ہیں کہ پرچم بلند کریں اور ہم اس پرچم تلے اس کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ ابوذرؓ نے کہا: نہیں، اگر عثمان مجھے مشرق سے مغرب کی طرف بھیج دے، تب بھی میں اس کا تابع فرمان رہوں گا۔(بحوالہ: تفسیر المنار، 10،ص 406) ان جعل سازوں نے اس طرف توجہ نہ کی کہ اگر وہ خلیفہ کے اتنے ہی تابع فرمان تھے تو پھر ان کی اتنی مزاحمت کیوں کرتے کہ ان کا مدینہ میں رہنا خلیفہ پر گراں ہو جاتا کہ جسے وہ کسی طرح برداشت نہ کر پائے۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز وہ بات ہے جس کی طرف المنار کے مولف نے زیر بحث آیت کے ذیل میں ابوذرؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔ وہ یہ کہ ابوذرؓ کا واقعہ نشاندہی کرتا ہے کہ صحابہ کے زمانے میں خصوصا حضرت عثمان کے دور میں اظہار رائے کی کس قدر آزادی تھی، علماء کا کتنا احترام ہوتا تھا اور خلفاء ان سے کتنی محبت کرتے تھے۔ یہاںتک کہ معاویہ کو جرات نہ ہوئی کہ وہ ابوذرؓ سے کچھ کہے بلکہ اپنے لئے حاکم بالا یعنی خلیفہ کو لکھا اور ان سے حکم لیا۔ واقعا تعصب کیا کچھ نہیں کرتا۔ کیا ربذہ کی گرم، خشک اور جلا دینے والی سرزمین جو موت اور آگ کی سرزمین تھی، کی طرف جلا وطن کرنا علماء کے لئے آزادی فکر اور احترام محبت کا نمونہ تھا؟۔ کیا اس عظیم صحابیؓ کو موت کی وادی میں دھکیل دینا حریت عقیدہ کی دلیل ہے؟ اگر معاویہ عوام کے افکار کے سیلاب کے خوف سے اکیلا ابوذرؓ کے بارے میں کوئی منصوبہ نہ بنا سکا تو یہ اس کی طرف سے ان کے احترام کی علامت ہے؟ اس واقعہ کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ خلیفہ کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ ابوذرؓ کی جلاوطنی ”مفسدہ کو دور کرنے کے لئے مصلحت کے مقدم ہونے“کے قانون کے مطابق ہے کیوں کہ اگرچہ ابوذرؓ کے مدینہ میں رہنے کی بڑی مصلحتیں اور فائدے تھے اور لوگ ان کے علم ودانش سے بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے مگر عثمان کا نظریہ یہ تھا کہ ان کا غیر لچکدار طرز فکر اور اموال کے بارے میں ان کا سخت رویہ مفاسد اور خرابیوں کا سرچشمہ ہے، لہٰذا ان کے وجود کے فائدوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے انہیں مدینہ سے باہر بھیج دیا اور چونکہ ابوذرؓ اور عثمان، دونوں مجتہد تھے، لہٰذا یہاں کسی کے عمل پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔(المنار، ج 10 ،ص 407) واقعا ہمیں معلوم نہیں کہ ابوذرؓ کے مدینہ میں رہنے سے کیا خرابی پیدا ہوتی تھی؟ کیا لوگوں کو سنت پیغمبرﷺ کی طرف پلٹانا خرابی کا باعث تھا ؟ حضرت ابوذرؓ نے آخر پہلے اوردوسرے خلیفہ کی مالی منصبوبہ بندی جو عثمان کے طرز عمل سے مختلف تھی، پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ تو کیا لوگوں کو صدر اسلام کے مالی لائحہ عمل کی طرف پلٹانا فساد کا باعث تھا؟ کیا ابوذرؓ کو جلا وطن کرنا اور ان کی حق گو زبان کو منقطع کرنا اصلاح کا سرچشمہ تھا؟ کیا حضرت عثمان کے طرز عمل سے خصوصا مالی امور میں ان کے طریقہ کار سے اتنا عظیم دھماکہ نہیں ہوا جس کی بھینٹ وہ خود بھی چڑھ گئے؟ کیا یہ مفسدہ تھا اور اسے ترک کرنا مصلحت تھا ؟ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جب تعصب ایک دروازے داخل ہوتا ہے تو عقل دوسرے دروازے سے رخصت ہو جاتی ہے۔ بہرحال، اس عظیم صحابی کا طرز عمل کسی منصف مزاج محقق پر پوشیدہ نہیں ہے اور کوئی ایسا منطقی راستہ نہیں کہ خلیفہ سوم کی اس آزار اور تکلیف کے بارے میں برائت ہو سکے جو ان سے حضرت ابوذرؓ کو پہنچی۔

ارتکاز دولت کی سزا

بعد والی آیت میں ایسے افراد کے لئے دوسرے جہان کی اس سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ سکے جہنم کی جلا دینے والی آگ میں پگھلائے جائیں گے اور پھر ان سے ان کی پیشانی، پہلو اور پشت کو داغا جائے گا (یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْھَا فِی نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوَی بِھَا جِبَاہُھُمْ وَجُنُوبُھُمْ وَظُھُورُھُم)، ایسی حالت میں عذاب کے فرشتے ان سے کہیں گے کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم نے اپنے لئے ذخیرہ کیا تھا اور خزانے کی صورت میں رکھا تھا اورراہ خدا میں محروم لوگوں پر خرچ نہیں کیا تھا (ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنفُسِکُمْ)، اب چکھو اسے جسے تم نے اپنے لئے ذخیرہ کیا تھا اور اس کے برے انجام کو پاؤ (فَذُوقُوا مَا کُنتُمْ تَکْنِزُون)۔ یہ آیت اس حقیقت کی دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ انسانوں کے اعمال فنا نہیں ہوتے اور اسی طرح باقی رہتے ہیں اور وہی دوسرے جہان میں انسانوں کے سامنے مجسم ہوں گے اور اس کے سرور ومسرت یا رنج و تکلیف کا سبب بنیں گے۔ اس بارے میں کہ مندرجہ بالا آیت میں تمام اعضائے بدن میں سے صرف پیشانی، پشت اور پہلو کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن جناب ابوذرؓ سے منقول ہے۔ وہ کہتے تھے: یہ اس بنا پر ہے کہ جلا دینے والی حرارت اس فضا میں اور ان کے سارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے: (حتیٰ یتردد الحر فی اجوافھم)۔(بحوالہ: نورالثقلین، ج۲،ص۲۱۴) نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس بنا پر ہے کہ محرومین کے مقابلے میں وہ ان تین اعضاء سے کام لیتے تھے۔ وہ کبھی ان سے منہ پھراتے، کبھی بے اعتنائی کے طور پر ان کے سامنے آنے سے کتراتے اور کبھی ان کی طرف پشت پھیر لیتے۔ لہٰذا ان کے بدن کے یہ تین حصے اس سیم وزر سے داغے جائیں گے جو انہوں نے جمع کر رکھا تھا۔ اس بحث کے آخر میں مناسب ہے کہ ایک ادبی نکتے کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے جو آیت میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت میں ہے: یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْھَا ۔یعنی اس دن آگ سکوں کے اوپر ڈالی جائے گی تاکہ وہ گرم اور جلانے کے قابل ہو جائے حالانکہ عام طور پر اس قسم کے مواقع پر لفظ”علیٰ“ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے:”یحمی الحدید“۔ یعنی لوہے کو گرم کرتے ہیں۔ عبارت کی تبدیلی شاید سکوں کے بہت زیادہ جلانے کی طرف اشارہ ہو کیوں کہ اگر سکوں کو آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ اس قدر سرخ اور گرم نہیں ہوتے جتنا کہ وہ آگ کے نیچے گرم ہوتے ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ سکوں کو آگ میں ڈالیں گے بلکہ کہتا ہے انہیں آگ کے نیچے رکھیں گے تاکہ وہ اچھی طرح پگھل جائیں اور پھر جلا سکیں اور یہ ایسے سنگدل سرمایہ داروں کو سزا دینے کے لئے نہایت سخت تعبیر ہے۔

36
9:36
إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک اللہ کی (آفرینش کی) کتاب میں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بارہ ہے کہ جن میں سے چارمہینے ماہ حرام ہیں (ان میں جنگ کرنا ممنوع ہے) یہ (اللہ کا) ثابت آئین ہے لہٰذا ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو (اور ہر قسم کی خون ریزی سے پرہیز کرو) اور مشرکین کے ساتھ (جنگ کے وقت) سب مل کر جنگ کرو جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
9:37
إِنَّمَا ٱلنَّسِيٓءُ زِيَادَةٞ فِي ٱلۡكُفۡرِۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُحِلُّونَهُۥ عَامٗا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامٗا لِّيُوَاطِـُٔواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّواْ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُۚ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوٓءُ أَعۡمَٰلِهِمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
نسیٔ (حرام مہینوں میں تقدم و تأخر مشرکین کے) کفر میں زیادتی ہے کہ جس کی وجہ سے کافر (مزید) گمراہ ہو جاتے ہیں ایک سال اسے حلال اور دوسرے سال اسے حرام کر دیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی تعداد کے مطابق ہو جائے کہ جنہیں خدا نے حرام کیا ہے (اور ان کے خیال میں چار کا عدد پورا ہو جائے) اور اس طرح سے خدا کے حرام کردہ کو حلال شمار کریں ان کے برے اعمال ان کی نظر میں زیبا ہو گئے ہیں اور اللہ کافروں کی جماعت کو ہدایت نہیں کرتا۔

لازمی جنگ بندی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

سورہ میں چونکہ مشرکین سے جنگ کے بارے میں تفصیلی مباحث آئی ہیں لہٰذا زیر نظر دو آیات میں بحث کے دوران جنگ اور اسلامی جہاد کے ایک اور قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے، حرام مہینوں کے احترام کا قانون۔ پہلے فرمایا گیا ہے : خدا کے ہاں کتاب خلقت میں اس دن سے جب اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے مہینوں کی تعداد بارہ ہے( إِنَّ عِدَّةَ الشُّھُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِی کِتَابِ اللهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ) ”کتاب اللّٰہ“کی تعبیر، ہو سکتا ہے قرآن مجید یا دیگر آسمانی کتب کی طرف اشارہ ہو لیکن ”یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْض“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ موزوں یہی لگتا ہے کہ یہ کتاب آفرینش اور کتاب جہان ہستی کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، جس دن سے نظام شمسی نے موجودہ شکل اختیار کی ہے، سال اور مہینے موجود ہیں۔ سال عبارت ہے سورج کے گرد زمین کے ایک مکمل دورے سے اور مہینہ عبارت ہے کرہ ماہتاب کے زمین کے گرد ایک مکمل دورے سے اور ہر سال کرہ آفتاب کے ایسے ۱۲ دورے ہوتے ہیں۔ یہ درحقیقت، ایک قیمتی طبیعی اور ناقابل تغیر تقویم ہے کہ جو تمام انسانوں کی زندگی کو ایک طبیعی نظام بخشی ہے اور ان کے تاریخی حسابات کو بڑے اچھے طریقے سے منظم کرتی ہے اور یہ نوع انسانی کے لئے خدا کی ایک عظیم نعمت شمار ہوتی ہے جیسا سورہ بقرہ کی آیہ۸۹کے ذیل میں تفصیل سے بحث ہو چکی ہے، آیت یوں ہے: یسئلونک عن الاھلة قل ھی مواقیت للناس والحج اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے :”ان بارہ مہینوں میں سے چار حرام ہیں“ کہ جن میں ہر قسم کی جنگ و جدال حرام ہے(منھا اربعة حرم) بعض مفسرین کے مطابق ان چار مہینوں میں جنگ کی حرمت حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کے دور سے ہے اور یہ حرمت زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بھی پوری قوت سے ایک سنت کے طور پر موجود تھی اگرچہ میلانات اور ہوا و ہوس کے مطابق کبھی کبھی وہ ان مہینوں کو آگے پیچھے کر لیتے تھے لیکن اسلام میں یہ ماہ غیر متغیر ہیں، ان میں تین مہینے یکے بعد دیگرے ہیں اور وہ ہیں ذی القعدة، ذی الحجة اور محرم۔ ایک ماہ الگ اور وہ رجب ہے۔ عربوں کی اصطلاح میں تین ماہ ”سرد“ (یکے بعد دیگرے) اور ایک ماہ ”فرد“(اکیلا)ہے۔ اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کی حرمت اس صورت میں ہے جب جنگ دشمن کی طرف ٹھونسی ہوئی نہ ہو، ورنہ اس میں شک نہیں کہ دوسری صورت میں مسلمانوں کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے رہنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں ماہ حرام کی حرمت مسلمانوں کی طرف سے زائل نہیں کی گئی بلکہ اسے دشمن کی طرف سے توڑا گیا ہے(جیسا کہ اس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیہ ۱۹۴ میں گزر چکی ہے)۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: یہ دین و آئین ثابت، قائم و دائم اور ناقابل تغیر ہے نہ کہ غلط رسم جو عربوں میں تھی، وہ پائیدار ہے کہ وہ اپنی خواہش اور ہوا و ہوس سے اسے آگے پیچھے کر دیتے تھے(ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیّم)۔ چند ایک روایات (تفسیر برہان، ج۲،ص ۱۲۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ چار ماہ جنگ کی یہ حرمت دین ابراہیمی کے علاوہ یہود ونصاریٰ اور باقی آسمانی ادیان میں بھی تھی اور (”ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیّم“)۔ ہو سکتا ہے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو یعنی یہ کہ پہلے سے ایک قانون مستقل اور ثابت طور پر موجود تھا۔ اس کے بعد کہا گیا ہے: ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم روا نہ رکھو اور ان کا احترام زائل نہ کرو اور اپنے تئیں دنیا کی سزاؤں اور آخرت کے عذابوں میں مبتلا نہ کرو(فَلَاتَظْلِمُوا فِیھِنَّ اَنْفُسَکُمْ)۔ لیکن چونکہ ادھر ممکن ہے کہ ان چار مہینوں میں حرمت جہاد دشمن کے لئے فائدہ اٹھانے کا سبب بنے اور اسے مسلمانوں پر حملے کرنے پر ابھارے، لہٰذا اگلے جملے میں مزید فرمایا گیا ہے: مشرکین کے ساتھ سب مل کر جنگ کرو جیسا کہ وہ سب اکٹھے ہو کر تم سے جنگ کرتے ہیں(وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّةً)، یعنی باوجودیکہ وہ مشرک ہیں اور شرک وبت پرستی اختلاف و انتشار کا سرچشمہ ہے لیکن وہ ایک ہی صف میں تم سے جنگ کرتے ہیں اور تم موحد یکتا پرست ہو اور توحید ،دین، اتحاد و یک جہتی ہے، لہٰذا تم زیادہ حق رکھتے ہو کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت کلمہ کی حفاظت کرو اور ایک ہی آہنی دیوار کی طرح دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو جاؤ۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے: اور جان لو کہ اگر پرہیزگار بنو گے اور تعلیمات اسلامی کے اصولوں پر پوری طرح سے عمل پیرا ہو گے تو خدا تمہاری کامیابی کی ضمانت دیتا ہے کیوں کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے(وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ)۔ زیر نظر دوسری آیت میں زمانہ جاہلیت کی ایک غلط سنت یعنی مسئلہ نسئی(حرام مہینوں کو آگے پیچھے کر دینا)کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: حرام مہینوں کو ادل بدل کر دینا ایسا کفر ہے جو ان کے کفر میں زیادتی کا سبب ہے (إِنَّمَا النَّسِیءُ زِیَادَةٌ فِی الْکُفْرِ) اس عمل کے ذریعے بے ایمان لوگ مزید گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں(یُضَلُّ بِہِ الَّذِینَ کَفَرُوا)۔ وہ ایک سال ایک ماہ کو حلال شمار کرتے ہیں اور دوسرے سال اسی ماہ کو حرام قرار دے لیتے ہیں تاکہ اپنے گمان میں اسے خدا کے معین کردہ حرام مہینوں کی تعداد پر منطبق کریں یعنی جب ایک حرام مہینے کو حذف کر دیتے ہیں تو اس کی جگہ دوسرا مہینہ مقرر کر لیتے ہیں تاکہ چار ماہ کی تعداد مکمل ہو جائے(یُحِلُّونَہُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَہُ عَامًا لِیُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللهُ)، حالانکہ اس برے مضحکہ خیز عمل سے حرام مہینوں کی حرمت کا فلسفہ بالکل ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ اس طرح حکم خدا کو اپنی خواہشات کا بازیچہ بنا دیتے ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام پر بڑے خوش اور راضی ہیں کیوں کہ ان کے برے اعمال ان کی نگاہ میں بڑے زیبا ہو چکے ہیں(زُیِّنَ لَھُمْ سُوءُ اَعْمَالِھِمْ)۔ جیساکہ آگے آئے گا، وہ شیطانی وسوسوں سے حرام مہینوں کو ادل بدل کر دیتے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اس کام کو تدبیر زندگی اور معیشت کے لئے مفید خیال کرتے یا جنگ اور جنگ کی تیاری کے لئے اچھا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ طویل جنگ بندی سے جنگی مہارت کم ہو جاتی ہے لہٰذا آتش جنگ بھڑکائی جائے۔ خدا بھی ان لوگوں کو، جو ہدایت کی اہلیت نہیں رکھتے، ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے اور ان کی ہدایت سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے کیوں کہ خدا کافر گروہ کو ہدایت نہیں کرتا (وَاللهُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ حرام مہینوں کا فلسفہ: ان چار مہینوں میں جنگ کو حرام قرار دینا طویل المدت جنگوں کے خاتمے کا طریقہ اور صلح و آشتی کی دعوت دینے کا ذریعہ ہے کیوں کہ اگر جنگجو افراد سال میں چار مہینے ہتھیار زمین پر رکھ دیں اور تلواروں کی جھنکار اور بموں کے دھماکوں کی آواز خاموش ہو جائے اور غور و فکر کا موقع مل جائے تو جنگ ختم ہو جانے کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔ کسی کام کو جاری و ساری رکھنا، اسے چھوڑ کر نئے سرے سے شروع کرنے سے ہمیشہ مختلف ہوتا ہے، نیز پہلے کی نسبت کئی درجے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ویت نام کی بیس سالہ جنگوں کی وہ کیفیت بھلائی نہیں جا سکتی جب نئے عیسوی سال کی آمد کے موقع پر صرف چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کے لئے کس قدر زحمت اٹھانا پڑتی تھی لیکن اسلام اپنے پیروکاروں کے لئے ہرسال چار ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کئے ہوئے ہے اور یہ خود اسلام کی امن پسندی کی ایک نشانی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، اگر دشمن اس اسلامی قانون سے غلط فائدہ اٹھانا چاہے اور حرام مہینوں کی حرمت کو پائمال کر دے تو پھر مسلمانوں کو اس کا ویسا ہی جواب دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ۲۔ زمانہ جاہلیت میں ”نسئی“کا مفہوم اور فلسفہ: ”نسیٴ“ (بروزن کثیر)”نساء“کے مادہ سے تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہے (اور خود یہ لفظ اسم مصدر یا مصدر ہو سکتا ہے)، وہ لین دین کہ جس میں قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی جائے، اسے ”نسیہ“کہتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کبھی کبھی کسی ماہ حرام کو موخر کر دیتے تھے یعنی مثلا محرم کے بجائے صفر کا انتخاب کر لیتے تھے۔ اس کا طریقہ اس طرح تھا کہ بنی کنانہ کا کوئی ایک سردار مراسم حج میں منیٰ کے مقام پر نسبتا ایک بڑے اجتماع میں لوگوں کے تقاضے کے بعد کہتا: میں ماہ محرم کو اس سال مؤخر کرتا ہوں اور اس کے لئے ماہ صفر کا انتخاب کرتا ہوں ۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ پہلا شخص، جس نے اس طریقے کا آغاز کیا عمرو بن لحی تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس کام کا آغاز کرنے والا قلمس تھا جس کا تعلق بنی کنانہ سے تھا۔ بعض کے خیال میں ان کی نگاہ میں اس کام کا فلسفہ یہ تھا کہ بعض اوقات مسلسل تین ماہ کی پابندی (یعنی ذی القعدہ،ذی الحجہ اور محرم) انہیں مشکل لگتی تھی اور وہ اسے اپنے خیال میں جذبہء جنگ کی کمزوری کا باعث سمجھتے اور خیال کرتے کہ یہ سپاہیوں کی کارکردگی رک جانے کا سبب ہے کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ غارت گری، خونریزی اور جنگ سے ایک عجیب سا لگاؤ رکھتے تھے اور اصلی طور پر جنگ وجدال ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا اور ان کے پے در پے تین ماہ کی جنگ بندی ایک طاقت فرسا امر تھا۔ لہٰذا وہ کوشش کرتے تھے کہ کم از کم ماہ محرم کو ان تین مہینوں سے جدا کر لیں ۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کبھی ماہ ذی الحجہ گرمیوں میں آجاتا رتھا اور اس سے معاملہ ان کے لئے مشکل ہو جاتا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ حج اور اس کے مراسم زمانہء جاہلیت کے عربوں کے لئے عبادت میں منحصر نہ تھے۔ یہ عظیم مراسم حضرت ابراہیم (ع)کے زمانے سے بطور یادگار چلے آ رہے تھے۔ یہ ایک عظیم کانفرنس شمار ہوتی تھی جو ان کی تجارت اور کاروبار کی رونق کا سبب بھی تھی۔ انہیں اس عظیم اجتماع سے بہت سے فوائد نصیب ہوتے تھے لہٰذا وہ ماہ ذی الحجہ کو اس کی جگہ سے اپنی خواہش اور رغبت کے مطابق تبدیل کر دیتے تھے اور اس کی جگہ موسم میں کوئی دوسرا مہینہ مقرر کر دیتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہ صحیح ہوں۔ بہرحال یہ عمل سبب بنتا کہ آتش جنگ اسی طرح بھڑکتی رہتی اور حرام مہینوں کا مقصد پامال ہو جاتا۔ یوں مراسم حج اس کے اور اس کے ہاتھ میں کھلونا اور ان کے مادی مفادات کا ذریعہ بن گئے۔ قرآن اس کام کو کفر کی زیادتی شمار کرتا ہے کیوں کہ ان کے ”اعتقادی شرک اور کفر“کے علاوہ اس حکم کو ٹھکرا کر وہ ”عملی کفر“ کا ارتکاب کرتے تھے۔ خصوصاً جب اس کام کی وجہ سے وہ دو حرام عمل بجا لاتے تھے۔ ایک یہ کہ حرام خدا کو انہوں نے حلال کیا ہوا تھا اور دوسرے یہ کہ حلال خدا کو انہوں نے حرام کر رکھا رتھا۔ ۳۔ دشمن کے مقابلے میں وحدت کلمہ: مندرجہ بالا آیات میں قرآن حکم دیتا ہے کہ دشمن سے جنگ کرنے کے موقع پر مسلمان متفق ہو کر ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ان سے جنگ کریں۔ اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سیاسی ،ثقافتی، اقتصادی اور فوجی میدان میں بھی اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں تیار کریں اور وہ صرف ایسی وحدت سے، جس کا سرچشمہ توحید اسلامی کی روح ہے، دشمن پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وہی حکم ہے جو مدت ہوئی، طاق نسیاں ہو چکا ہے اور یہی بات مسلمانوں کے انحطاط اور پسماندگی کی علت ہے۔ ۴۔ برے کام کیوں کر زیبا معلوم ہوتے ہیں؟: جب تک انسان برے راستے پر گامزن نہ ہو، اس کا وجدان اچھی طرح سے اچھائی اور برائی کی تمیز کر سکتا ہے لیکن جب وہ جان بوجھ کر جادہء گناہ پر چل نکلے اور غلط کاری کی راہ پر قدم رکھ لے تو وجدان کی روشنی مدہم پڑ جاتی ہے اور بات رفتہ رفتہ یہاں تک جاپہنچتی ہے کہ گناہ کی قباحت اس لئے آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے اور اگر وہ اسے کام جاری رکھے تو آہستہ آہستہ برے کام اس کی نظر میں اچھے اور اچھے کام برے لگنے لگتے ہیں اوراسی بات کی طرف زیر نظر آیات میں اور متعدد دیگر آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض اوقات”برے اعمال کی تزئین “کی نسبت شیطان کی طرف دی جاتی ہے۔ مثلا سورہ نحل کی آیہ۶۳ میں ہے: فَزَیَّنَ لَھُمْ الشَّیْطَانُ اعمالھم اور کبھی فعل مجہول کی صورت میں ذکر ہوئی ہے۔ جیسا کہ زیر نظر آیت میں ہے۔ اس کا فاعل ہو سکتا ہے، شیطانی وسوسے ہوں یا پھر سرکش نفس ہو۔ کبھی یہ نسبت”شرکاء“ (یعنی بتوں)کی طرف دی گئی ہے۔ اس کی مثال سورہ انعام کی آیہ۱۳۷ ہے یہاں تک کہ کبھی خدا کی طرف بھی نسبت دی گئی ہے۔ مثلا سورہ نمل کی آیہ۴ میں ہے: إِنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَیَّنَّا لَھُمْ اَعْمَالَھُمْ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں مزین کر دیا۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کے امور کی خدا کی طرف نسبت اس بنا پر ہے کہ یہ چیزیں ان کے عمل کی خاصیت شمار ہوتی ہے اور تمام چیزوں کے خواص اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ نیز ہم کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی نسبتیں انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی سے مخالفت نہیں رکھتیں۔ ۔

38
9:38
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمۡ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلۡتُمۡ إِلَى ٱلۡأَرۡضِۚ أَرَضِيتُم بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا مِنَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ فَمَا مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
اے ایمان والو ! جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں جہاد کے لئے نکل پڑو تو کیوں زمین پر اپنا بوجھ ڈال دیتے ہو (سستی کرتے ہو) کیا تم آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو حالانکہ حیات دنیا کی متاع آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی ہیں مگر بہت ہی کم۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
9:39
إِلَّا تَنفِرُواْ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيۡـٔٗاۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
اگر میدان جہاد کی طرف حرکت نہ کرو تو تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ مقرر کر دے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ابن عباس اور دوسرے صحابہ سے منقول ہے کہ مندرجہ بالا آیات جنگ تبوک کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب پیغمبر اکرمﷺ طائف سے مدینہ کی طرف لوٹے اور لوگوں کو رومیوں سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔ اسلامی روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ عام طور پر جنگ کی بنیادی باتیں اور تفصیلات مسلمانوں کے سامنے واضح نہیں کیا کرتے تھے تاکہ اسلام کے فوجی راز دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں لیکن تبوک کے معاملے کی صورت مختلف تھی۔ لہذا پہلے سے آپؐ نے انہیں بتایا کہ ہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مشرقی روم کی سلطنت سے جنگ مشرکین مکہ یا یہود خیبر سے جنگ کی طرح کوئی آسان کام نہ تھا۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ مسلمان اس عظیم مشکل کے لئے پورے طور پر اپنے آپ کو تیار کریں۔ علاوہ ازیں، مدینہ اور سرحد روم کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا۔ مزید برآں گرمی کا موسم تھا اور غلوں اور پھلوں کی فصل کی کٹائی کے دن بھی تھے۔ یہ تمام امور یکجا ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کی طرف جانا بہت زیادہ مشکل ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ بعض رسول اللہﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے میں متردد تھے اور گو مگو کی کیفیت میں تھے۔ ان حالات میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور قاطع انداز میں سختی کے ساتھ مسلمان کو تنبیہ کی۔ اس کیفیت کے خطرے سے انہیں خبر دار کیا اور انہیں اس عظیم معرکے کے لئے تیار کیا۔(تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں، فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے روح المعانی میں اس شان نزول کو اجمالی طور پر بیان کیا ہے)۔

دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف روانگی

جیسا کہ ہم شان نزول میں کہہ چکے ہیں، مندرجہ بالا آیات جنگ تبوک کے بارے میں ہیں۔ تبوک مدینہ اورشام کے درمیان ایک علاقہ ہے جو آجکل سعودی سرحد شمار ہوتا ہے۔ اس زمانے میں مشرقی روم کی سرحد کے قریب تھا۔ وہ حکومت اس وقت شامات پر قابض تھی۔(تشریحی نوٹ: تبوک کا فاصلہ مدینہ سے 610 کلومیٹر اور شام سے 692 کلومیٹر بیان کیا جاتا ہے)۔ یہ واقعہ نو ہجری یعنی فتح مکہ سے تقریبا ایک سال بعد رونما ہوا،مقابلہ چونکہ اس وقت کی ایک عالمی سپر طاقت سے تھا، نہ کہ عرب کے کسی چھوٹے بڑے گروہ سے، لہٰذا بعض مسلمان اس جنگ میں شرکت سے خوف زدہ تھے۔ اس صورت حال میں منافقین کے زہریلے پراپیگنڈا اور وسوسوں کے لیے ماحول بالکل سازگار تھا اور وہ بھی مومنین کے دلوں اور جذبات کو کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کر رہے تھے۔ پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کا موسم تھا۔ جن لوگوں کی زندگی تھوڑی سی کھیتی باڑی اور کچھ جانور پالنے پر بسر ہوتی تھی، یہ ان کی قسمت کے اہم دن شمار ہوتے تھے کیونکہ ان کی سال بھر کی گزر بسر انہی چیزوں سے وابستہ تھی۔ جیسا کہ ہم کہ آئے ہیں، مسافت کی دوری اور موسم کی گرمی بھی روکنے والے عوامل کی مزید مدد کرتی تھی۔ اس موقع پر آسمانی وحی لوگوں کی مدد کے لیے آ پہنچی اور قرآنی آیات یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں اور ان منفی عوامل کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ زیر بحث پہلی آیت میں قرآن، جس قدر ہو سکتی ہے، اتنی سختی اور شدت سے جہاد کی دعوت دیتا ہے۔کبھی تشویق سے، کبھی سرزنش کے لہجے میں اور کبھی دھمکی کی زبان میں ان سے بات کرتا ہے اور انہیں آمادہ کرنے کے لئے ہر راستہ اختیار کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں، میدان جہاد کی طرف حرکت کرو تو تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہو اور بوجھل پن دکھاتے ہو( یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیلَ لَکُمْ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الْاَرْضِ) ” اثَّاقَلْتُم“، ”ثقل“کے مادہ سے بوجھ کے معنی میں ہے۔” اثَّاقَلْتُم إِلَی الْاَرْضِ“وطن میں رہ جانے کی خواہش اور میدان جہاد کی طرف حرکت نہ کرنے کے لئے کنایہ ہے یا پھر مادی زرق و برق دنیا سے چمٹے رہنے کے لئے کنایہ ہے۔ دونوں صورتوں میں بہرحال مسلمانوں کے ایک گروہ کی یہ حالت تھی۔ سب ایسے نہ تھے۔ سچے مسلمانوں اور راہ خدا میں جہاد کے عاشقوں کی یہ حالت نہ تھی۔ اس کے بعد ملامت آمیز لہجے میں قرآن کہتا ہے: کیا آخرت کی وسیع اور دائمی زندگی کی بجائے اس دنیاوی، پست اور نا پائیدار زندگی پر راضی ہو گئے ہو (اَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَة) حالانکہ دنیاوی زندگی کے فوائد اور مال متاع آخرت کی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بہت ہی کم ہے (فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِیل)۔ ایک عقل مند انسان ایسے گھاٹے کے سودے پر کیسے تیار ہو سکتا ہے اور کیوں کر وہ ایک نہایت گراں بہا متاع اور سرمایہ چھوڑ کر ایک ناچیز اور بے وقعت متاع کی طرف جا سکتا ہے؟ اس کے بعد ملامت کی بجائے ایک حقیقی تہدید کا انداز اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: اگر تم میدان جنگ کی طرف حرکت نہیں کرو گے تو خدا درد ناک عذاب کے ذریعے تمہیں سزا دے گا( إِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیمًا)۔ اور اگر تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے کنارہ کش ہونے اور میدان جہاد سے پشت پھیرنے سے اسلام کی پیش رفت رک جائے گی اور آئینہ الٰہی کی چمک ماند پڑ جائے گی تو تم سخت اشتباہ میں ہو۔کیوں کہ خدا تمہارے بجائے ایسے صاحبان ایمان کو لے آئے گا جو عزم صمیم رکھتے ہوں گے اور فرمان خدا کے مطیع ہوں گے (وَیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ) وہ لوگ کہ جو ہر لحاظ سے تم سے مختلف ہیں۔ نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ ان کا ایمان، ارادہ، دلیری اور فرماں برداری بھی تم سے مختلف ہے لہٰذا ”اس طرح تم خدا اور اس کے پاکیزہ دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“ (وَلَاتَضُرُّوہُ شَیْئًا)۔ یہ ایک حقیقت ہے نہ کہ ایک خالی گفتگو، یا دور دراز کی آرزو کیوں کہ ”وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“ اور جب وہ اپنے پاک آئین کی کامیابی کا ارادہ کرے گا تو اس میں کلام نہیں کہ اسے عملی جامہ پہنا دے گا( وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر)۔

چند اہم نکات

۱۔ جہاد پر سات تاکیدیں: مندرجہ بالا آیات میں سات طریقوں سے مسئلہ جہاد پر تاکید کی گئی ہے۔ ۱ ۔ اہل ایمان کو اس کے لئے خطاب کیا گیا ہے۔ ۲ ۔ میدان جہاد کی طرف حرکت کا حکم دیا گیا ہے۔ ۳۔ ”فی سبیل اللّٰہ“ کی تعبیر استمال کی گئی ہے۔ ۴ ۔ آخرت کے بدلے دنیا کا ذکر استفہام انکاری کی صورت میں کیا گیا ہے۔ ۵۔ جہاد سے کنارہ کشی پر ”عذاب الیم“ کی دھمکی دی گئی ہے۔ ۶۔ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ تمہیں منظر سے ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آیا جائے گا۔ ۷۔ خدا کی لامتناہی قدرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ہے کہ تمہاری سستیاں امور الٰہی کی پیشرفت میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ جو نقصان بھی ہوا، وہ تم ہی کو دامن گیر ہو گا۔ ۲۔ دنیا کی دلبستگی جہاد کے لئے سد راہ ہے: مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی سے دل بستگی مجاہدین کو امر جہاد میں سست کردیتی ہے۔ سچے مجاہدین کو پاکباز، زہد پیشہ اور زرق وبرق دنیا سے بے پرواہ ہونا چاہیے۔ امام علی بن حسین (ع) اسلامی حکومت کی سرحدوں کے محافظین کے لئے کی گئی دعا میں کہتے ہیں: وانسھم عند لقائھم العدو ذکر دنیاھم الخداعة وامح عن قلوبھم خطوات المال الفتون بارالہا! جب وہ دشمن کے مقابل ہوں تو اس پر فریب دنیا کے ذکر و فکر کو ان سے دور رکھ اور فتنہ انگیز دلکش اموال کی اہمیت ان کے صفحہء دل سے محو کر دے (تاکہ وہ تیرے عشق سے لبریز دل کے ساتھ تیرے لئے جنگ کریں)۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم دنیا و آخرت کی کیفیت کو اچھی طرح پہچانتے ہوں تو ہم جان لیں گے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا اس قدر محدود اور حقیر ہے کہ ان کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں پیغمبر خداﷺ سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپؐ نے فرمایا ہے: واللّٰہ ماالدنیا فی الآخرة الا لما یجعل احدکم اصبعہ فی الیم ثم یرفعھا فلینظر بم ترجع بخدا آخرت کے مقابلے میں دنیا اس طرح ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنی انگلی دریا میں ڈبوئے اور پھر اسے نکال لے اور دیکھے کہ دریا کا کتنا پانی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ ۳۔ آیت میں کس گروہ کی طرف اشارہ ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت میں جس گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ ایرانی ہیں۔ بعض یہاں یمن کے لوگ مراد لیتے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک گروہ نے اسلام کی پیشرفت میں اپنی بے انتہا جرائت و استقامت سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ بعض ان لوگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جنہوں نے ان آیات کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا اور دل و جان سے اس کی راہ میں فداکاری کی۔

40
9:40
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِي ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيۡهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٖ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلسُّفۡلَىٰۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِيَ ٱلۡعُلۡيَاۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگر اس کی مدد نہیں کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا (جیسا کہ اس نے مشکل ترین لمحات میں اسے تنہا نہیں چھوڑا) اس وقت جب کفار نے انہیں (مکہ سے) نکال دیا جب کہ وہ دو میں سے دوسرے تھے ان کے ساتھ صرف ایک شخص اور تھا جب وہ دونوں غار میں تھے تو وہ ہمسفر سے کہہ رہے تھے غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے تو اس موقع پر خدا نے اپنا سکینہ (اور اطمینان) ان پر بھیجا اور ان کی ایسے لشکروں سے تقویت کی جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کی گفتار (اور ہدف) کو پست قرار دیا (اور انہیں شکست سے دو چار کیا) اور خدا کی بات اور اس کا دین بلند (اور کامیاب) ہو ااور خدا عزیز و حکیم ہے۔

حسا س ترین لمحات میں خدا نے اپنے پیغمبر کو تنہا نہیں چھوڑا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ وضاحت کی جا چکی ہے، گذشتہ آیات میں جہاد کے مسئلے پر متعدد حوالوں سے تاکید کی گئی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ یہ گمان نہ کرو کہ اگر تم جہاد اور پیغمبر ﷺکی مدد سے کنارہ کش ہو گئے تو اس کا پروگرام اور اسلام زمین بوس ہو جائے گا۔ زیر بحث آیت اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہے: اگر اس کی مدد کرو گے تو وہ خدا جس نے سخت ترین حالات اور پیچیدہ ترین مواقع پر معجزانہ طور پر اس کی مدد کی ہے، قدرت رکھتا ہے کہ پھر اس کی مدد کرے (إِلاَّ تَنصُرُوہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللهُ)۔ (تشریحی نوٹ: ادبی نقطہ نظر سے اس جملے میں کچھ محذوف ہے اور اصل میں یہ اس طرح تھا” إِلاَّ تَنصُرُو ینَصَرَہُ اللهُ“کیوں کہ فعل ماضی جس کا مفہوم گذشتہ زمانے میں واقع ہو چکا ہو، جزائے شرط نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ فعل ماضی ایسا ہو جو مضارع کا معنی دیتا ہو)۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ پیغمبر اکرمﷺ کو قتل کرنے کی ایک خطرناک سازش تیار کر چکے تھے۔ جبکہ سورہ انفال کی آیہ 30 کے ذیل میں اس کی تفسیر گزر چکی ہے۔ تفصیلی غور و خوض اور منصوبہ بندی کے بعد انہوں نے آخری فیصلہ یہ کیا تھا کہ عرب کے مختلف قبائل کے بہت سے شمشیر زن رات کے وقت رسول اللہﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیں اور صبح سب مل کر آنحضرتؐ پر حملہ کریں اور بستر پر ہی تلواروں سے ان کے جسم مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ پیغمبر اکرمﷺ، جو حکم خدا سے اس سازش سے آگاہ ہو چکے تھے، مکہ سے باہر جانے اور مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے تیار ہوئے لیکن ابتدا میں کفر کی دسترس سے محفوظ رہنے کے لئے غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے جو مکہ کے جنوب میں مدینہ کے راستے کی مخالف سمت میں تھا۔ اس سفر میں ابوبکر بھی آنحضرت کے ساتھ تھے۔ دشمن نے رسول اللہﷺ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مایوس ہو کر پلٹ گئے۔ رسول اللہﷺ تین راتیں اور دن غار میں ٹھہرے رہے۔ جب دشمن کے پلٹ جانے کا اطمینان ہو گیا تو رات کے وقت عام راستے سے ہٹ کر مددینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ چند دنوں میں آپ صحیح و سالم مدینہ پہنچ گئے اور اس طرح تاریخ اسلام میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ مندرجہ بالا آیت اس تاریخی سفر کے ایک حساس ترین موقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: خدا نے اپنے پیغمبرﷺ کی اس وقت مدد کی جب کافروں نے انہیں نکال باہر کیا( إِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا)۔ البتہ کفار کا ارادہ انہیں مکہ سے خارج کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ آپ کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے لیکن ان کے کام کے نتیجے میں چوں کہ پیغمبر خداﷺ کو مکہ سے باہر نکل جانا پڑا لہٰذا یہ نسبت ان کی طرف دی گئی ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: یہ اس حالت میں تھا کہ آپ دو میں سے دوسرے تھے (ثَانِیَ اثْنَیْنِ)، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے ساتھ صرف ایک ہی شخص تھا۔ یہ چیز اس پر خطر سفر میں آپ کی انتہائی تنہائی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ابوبکر آپ کے ہمسفر تھے، جس وقت ان دونوں نے غار (یعنی غار ثور ) میں پناہ لی (إِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ)۔ اس موقع پر پیغمبرﷺ کے ساتھی اور ہمسفر کو خوف اور وحشت نے گھیر رکھا تھا اور پیغمبرﷺ نے اسے تسلی دی اور کہا؛ غم نہ کھاؤ۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ (إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا) اس وقت اللہ نے سکون و اطمینان کی روح آپ پر نازل کی جو وہ حساس اور پر خطر لمحات میں اپنے پیغمبرﷺ پر نازل کیا کرتا تھا (فَاَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ) اور آپ کی ایسے لشکروں سے مدد کی جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے تھے۔( وَاَیَّدَہُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْھَا)۔ یہ غیبی لشکر، ہو سکتا ہے کہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہو جو خوف وخطر سے بھر پور اس سفر میں پیغمبرﷺ کے محافظ ہوں یا ان کی طرف جو بدر، حنین وغیرہ کے میدانوں میں آپ کی مدد کے لئے آئے تھے۔ آخر میں خدا تعالیٰ نے کفار کے طرز عمل ، ہدف اور مکتب کو پست قرار دیا ہے اور الٰہی منصوبہ بندی اور کلام کو بلند قرار دیا ہے( وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُوا السُّفْلَی وَکَلِمَةُ اللهِ ھِیَ الْعُلْیَا)۔ اور ساتھ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کی سازش ناکام ہو کر رہ گئی۔ ان کے بیہودہ مذہب کی بساط الٹ گئی۔ خدا کا نور ہر جگہ آشکار ہوا اور چمکنے لگا اور پیغمبر اسلامﷺ کو تمام جہات میں کامیابی نصیب ہوئی۔ ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ ”خدا قادر بھی ہے اور حکیم و دانا بھی“۔ وہ اپنی حکمت کے ذریعے اپنے پیغمبرﷺ کو کامیابی کی راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اپنی قدرت سے ان کی مدد کرتا ہے ( وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔

داستان یار غار

اس سفر میں حضرت ابوبکر کے پیغمبر اکرمﷺ کے ساتھ ہونے کے بارے میں جو سر بستہ اشارات مندرجہ بالا آیت میں کئے گئے ہیں، اس پر شیعہ اور سنی مفسرین میں بہت سے مباحث پیدا ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض نے افراط کی راہ اختیار کی ہے اور بعض نے تفریط کا راستہ اپنایا ہے۔ فخرالدین رازی نے اپنے مخصوص تعصب کی بنا پر اپنی تفسیر میں کوشش کی ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے حضرت ابوبکر کی بارہ فضیلتیں ثابت کرے۔ اس میں فضائل کی تعداد زیادہ ثابت کرنے کے لئے اس نے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں۔ اس تفسیر کی صورت یہ ہوگئی ہے کہ تفصیل بیان کرنا شاید ضیاعِ وقت کا مصداق ہو۔ جب کہ بعض دوسرے لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اس آیت سے حضرت ابوبکر کی متعدد مذمتیں معلوم ہوتی ہیں۔ پہلے یہ دیکھنا ہے کہ کیا لفظ ”صاحب“ فضیلت کی دلیل ہے؟ ظاہرا ایسا نہیں ہے کیوں کہ لغت کے لحاظ سے صاحب کے مطلقا معنی ”ہمنشین“ اور ”ہمسفر“ کے ہیں۔ چاہے ہمنشین و ہمسفر اچھا ہو یا برا، جیسا کہ سورہ کہف کی آیہ 37 میں ان دو افراد کا واقعہ آیا ہے کہ جن میں سے ایک صاحب ایمان اور خدا پرست تھا اور دوسرا بے ایمان اور مشرک تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: قال لہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب اس ساتھی نے اس سے کہا: کیا تو اس خدا کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا ہے؟ بعض یہ بھی اصرار کرتے ہیں کہ ”علیہ“ کی ضمیر جو ””فانزل اللّٰہ سکینتہ علیہ“کے جملے میں آئی ہے، حضرت ابوبکر کی طرف لوٹتی ہے کیوں کہ پیغمبر اکرمﷺ کو سکینہ اور اطمینان کی ضرورت نہیں تھی۔ اس لئے اس کا نزول ان کے ہمسفر (ابوبکر) کے لئے تھا۔ جب کہ بعد والے جملے میں:”وایدہ بجنودلم تروھا(اس کی غیر مرئی لشکر سے مدد کی)، اس کی طرف توجہ کی جائے اور دونوں میں مرجع ضمیر کے ایک ہونے کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ”علیہ“کی ضمیر بھی رسول اللہﷺ کی طرف لوٹتی ہے۔ نیز یہ اشتباہ ہے کہ ہم تصور کریں کہ سکینہ کا تعلق حزن وملال کے مواقع سے ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا آیا ہے کہ ”سکینہ“ذات پیغمبرﷺ پر نازل ہوئی جب آپ سخت اور مشکل حالات سے دوچار ہوئے، ان میں سے ایک واقعہ حنین ہے جس کے بارے میں اسی سورہ کی آیہ 26 میں ہم پڑھ چکے ہیں : ثم انزل اللّٰہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین یعنی ، پھر اللہ نے اپنی سکینہ اپنے رسولﷺ اور مومنین پر نازل کی۔ نیز سورہ فتح کی آیہ 62 میں ہے: فانزل اللّٰہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین جب کہ ان دونوں آیات سے متعلق حزن وملال اور غم واندوہ کے متعلق کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ حالات کی پیچیدگی کی بات ہوئی ہے۔ بہرحال، آیات قرآنی نشان دہی کر رہی ہیں کہ نزول سکینہ سخت مشکلات کے وقت ہوتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ غار ثور میں رسول اللہﷺ سخت لمحات میں وقت گزار رہے تھے۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ”بجنود لم تروھا“(اس نے اس کی ایسے لشکر سے مدد کی جسے تم نہیں دیکھ سکتے تھے) یہ جملہ ابوبکر کے بارے میں ہے جب کہ اس آیت کی ساری بحث جو کہ خدا کی مدد و نصرت کے محور پر گھومتی ہے، سب پیغمبرﷺ کے بارے میں ہے اور قرآن چاہتا ہے کہ واضح کرے کہ پیغمبرﷺ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر اس کی مدد نہ کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا۔ لہٰذا جس شخص کے گرد تمام بحث گھومتی ہے، اسے چھوڑکر ایسے شخص کی تلاش کیوں کی جائے کہ جس کا ذکر اتباع اور پیروی کے حوالے سے آیا ہے۔ یہ صورت حال نشاندہی کرتی ہے تعصبات یہاں تک حائل ہو گئے ہیں کہ بعض لوگوں کی توجہ آیت کے معنی کی طرف بھی نہیں گئی۔

41
9:41
ٱنفِرُواْ خِفَافٗا وَثِقَالٗا وَجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
سب کے سب میدان جہاد کی طرف چل پڑو چاہے سبک بار ہو یا سنگین بار اور اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ راہ خدا میں جہا دکرو اور اگر تم جان لو تو یہ تمہارے نفع میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
9:42
لَوۡ كَانَ عَرَضٗا قَرِيبٗا وَسَفَرٗا قَاصِدٗا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلشُّقَّةُۚ وَسَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ يُهۡلِكُونَ أَنفُسَهُمۡ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
اور ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے کہ اگر غنائم نزدیک (اور دسترس میں ) ہوں اور سفر آسان ہو تو (دنیاوی طمع میں ) تیری پیروی کرتے ہیں لیکن اب جب کہ (میدان تبوک کا) سفرہے (تو رو گردانی کرتے ہیں ) اور عنقریب قسم کھائیں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم تمہارے ساتھ چل پڑتے (لیکن ان اعمال اور ایسے صریح جھوٹ سے) اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

تن پرور لالچی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ہم کہہ چکے ہیں کہ جنگ تبوک ایک استثنائی کیفیت رکھتی تھی اور اس کے لئے ایسے امور ضروری تھے جو بہت مشکل اور پیچیدہ تھے۔ اسی بنا پر چند ضعیف الایمان یا منافق افراد اس میدان میں شرکت کرنے سے لیت ولعل کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں خدا تعالیٰ نے ایک گروہ کو سرزنش کی ہے کہ جب جہاد کا فرمان صادر ہوتا ہے تو بوجھل کیوں ہو جاتے ہو (اور سستی کیوں دکھاتے ہو)؟ نیز فرمایا ہے کہ جہاد کا حکم تمہارے فائدے میں ہے۔ ورنہ خدا ایسا کر سکتا ہے کہ بے ارادہ اور تن پرور افراد کے بجائے شجاع، بہادر، صاحب ایمان اور عزم راسخ والے افراد لے آئے بلکہ یہاں تک کہ ان کے بغیر بھی وہ قدرت رکھتا ہے کہ اپنے پیغمبرﷺ کی حفاظت کرے جیسا کہ غار ثور اور لیلة المبیت والے واقعے میں حفاظت کی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ مکڑی کے جالے کے چند تار جو غار کے دہانے پر تنے ہوئے تھے، اس بات کا سبب بن گئے کہ ہٹ دھرم اور سرکش دشمن کی فکر ہی بدل جائے اور وہ غار کے دھانے سے ہی پلٹ آئے اور رسول اللہﷺ صحیح و سالم رہے۔ جب خدا عنکبوت کے چند تاروں کے ذریعے نوع بشر کی تاریخ کا دھاربدل سکتا ہے تو اسے اِس کی یا اُس کی مدد کی کیا ضرورت ہے کہ وہ ناز نخرے دکھاتے رہیں۔ در حقیقت، یہ تمام احکام خود ان کی ترقی اور تکامل کے لئے ہیں نہ کہ خدا کو ان کی حاجت ہے۔ اس گفتگو کے بعد قرآن دوبارہ مومنین کو جہاد کی طرف ہر پہلو سے دعوت دے رہا ہے اور سستی دکھانے والوں کو سرزنش کر رہا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: تم سب کے سب میدان جہاد کی طرف چل پڑو چاہے سبک بار ہو، چاہے بوجھل(انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا)۔ ”خفاف“ جمع ہے ”خفیف“ کی اور ”ثقال“ جمع ہے”ثقیل“ کی اور یہ دونوں لفظ ایک جامع مفہوم رکھتے ہیں جس میں انسان کی تمام تر کیفیات اور حالات شامل ہیں۔ چاہے انسان جوان ہو یا بوڑھا، مجرد ہو یا شادی شدہ، اس کے افراد خانہ کم ہوں یا زیادہ، غنی ہو یا فقیر، ابتلا میں ہو یا مصیبت میں، اس کی زراعت، باغ اور تجارت ہو یا نہ ہو، ہر صورت اور ہر حالت میں، ہر مقام اور ہر حیثیت میں اس پر لازم ہے کہ جب فرمان جہاد صادر ہو، بس اسی آزادی بخش دعوت پر لبیک کہے۔ دوسرے ہر کام سے آنکھیں بند کر لے اور تلوار بکف میدان جنگ کی طرف چل کھڑا ہو۔ یہ جو بعض مفسرین نے ان دو الفاظ کو مندرجہ بالا معانی میں سے فقط ایک میں محدود قرار دیا ہے، اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ دراصل ان میں سے ہر لفظ اس وسیع مفہوم کا مصداق ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: راہ خدا میں مالوں اور جانوں سے جہاد کرو(وَجَاھِدُوا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنفُسِکُمْ)، یعنی ہر پہلو سے جہاد کرو کیوں کہ ایسے طاقتور دشمن کے مقابلے میں، جو اس دور کی سپر طاقت سمجھا جاتا ہے، اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں تھی۔ لیکن اس بنا پر کہ پھر بھی کسی کو اشتباہ نہ ہو کہ یہ قربانی اور فداکاری خدا کے لئے فائدہ مند ہے، فرمایا گیا ہے: یہ تمہارے فائدے میں ہے اگر تم جانو( ِ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ)۔ یعنی اگر تم جان لو کہ جہاد سربلندی اور عزت کی کلید ہے اور ذلت اور کمزوری کے خاتمے کا ذریعہ ہے۔ اگر تم جان لو کہ کوئی قوم جہاد کے بغیر دنیا میں حقیقی آزادی اور عدالت تک نہیں پہنچ سکتی اور اگر تم جان لو کہ رضائے خدا، دائمی سعادت اور طرح طرح کی نعمات الٰہی تک پہنچنے کی راہ اسی عمومی مقدس نہضت اور ہمہ پہلو فدا کاری میں ہے۔ اس کے بعد بحث کا رخ سست ، کاہل اور کمزور ایمان والے افراد کی طرف موڑا گیا ہے۔ یہ لوگ اس عظیم معرکے میں شرکت سے بچنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بناتے تھے۔ اس سلسلے میں رسول اللہﷺ سے فرمایا گیا ہے: اگر مال غنیمت دسترس میں ہوتا اور سفر نزدیک کا ہوتا تو متاع دنیا کے لئے یہ بہت ہی جلد تیری دعوت پر لبیک کہتے اور اس بچھے ہوئے دسترخوان پر بیٹھنے کے لئے بھاگ دوڑ کرتے(لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ)۔(تشریحی نوٹ: ”عرض“ اس عارضی چیز کو کہتے ہیں جو جلد زائل ہوجاتی ہے اور جسے دوام حاصل نہیں ہوتا۔ عام طور پر دنیا کی مادی نعمتوں کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے اور ”قاصد“ سہل و آسان کے معنی میں ہے کیوں کہ اصل میں یہ لفظ”قصد“ کے مادہ سے ہے اور عموما لوگ اپنے قصد کو آسان مسائل میں سمجھتے ہیں) لیکن اب جب کہ سفر دور کا ہے، سستی دکھاتے ہیں اور بہانے بناتے ہیں۔(وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْھِمْ الشُّقَّةُ)۔(تشریحی نوٹ: ”شقة“ ایسی سنگلاخ یا دور دراز راہوں کو کہتے ہیں کہ جنہیں عبور کرنے کے لئے بڑی مشقت اور زحمت درکار ہوتی ہے)۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ صرف بہانے نہیں بناتے بلکہ ”جلدی سے تمہارے پاس آجاتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو آپ کے ساتھ ہم بھی نکلتے“( وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوْ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُم)۔ اور اگر آپ دیکھتے ہیں کہ ہم اس معرکے میں آپ کے ساتھ شرکت نہیں کر رہے ہیں تو اس کی وجہ ہماری معذوری اور عدم قدرت ہے اور ہم مختلف مسائل میں گرفتار ہیں۔ ”ان اعمال اور ان دروغ گوئیوں کی وجہ سے درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ (یُھْلِکُونَ اَنفُسَھُمْ)۔ لیکن خدا جانتا ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں(وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّھُمْ لَکَاذِبُونَ)۔ وہ مکمل طور پر طاقت رکھتے ہیں لیکن چوںکہ کام اتنا آسان نہیں ہے بلکہ کٹھن اور مشکل ہے، لہٰذا وہ جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ امر جنگ تبوک اور زمانہ رسولﷺ سے مخصوص نہیں بلکہ ہر معاشرے میں بیکار، سست اور کاہل یا منافقین، لالچی اور ابن الوقت لوگوں کا ایک گروہ ہوتا ہے جو ہمیشہ منتظر رہتا ہے کہ کامیابی اور ثمرات کے لمحات آپہنچیں گے تو اس وقت وہ پہلی صف میں آ کھڑے ہوں گے اور شور مچانے لگیں گے، گریبان چاک کریں گے، اپنے آپ کو مبارز اور مجاہد اول قرار دیں گے اور اپنا تعارف دلسوز ترین افراد میں سے کروائیں گے تاکہ بغیر زحمت کے دوسروں کی کامیابی کے ثمرات سے بہرہ ور ہوں لیکن یہی مبارز، مجاہد، سینہ چاک اور دلسوز، مشکل حوادث کے موقع پر کسی نہ کسی طرف بھاگ کھڑے ہوں گے اور اپنے فرار کے لئے عذر و بہانے تراشیں گے۔ کوئی خود بیمار ہو گیا ہو گا، کسی کا بیٹا بستر بیماری پر پڑا ہو گا ، کسی کی بیوی وضع حمل میں مبتلا ہو گی، کوئی آنکھیں کمزور ہونے کی بات کرے گا اور کوئی مقدمات کی تیاری میں لگا ہو گا۔ اسی طرح کے بیسیوں بہانے ہوں گے لیکن بیدار اور روشن دل رہبروں پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کی شناخت شروع میں کروا دیں اور اگر یہ لوگ قابل اصلاح نہ ہوں تو انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔

43
9:43
عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
خدا نے تمہیں بخش دیا کہ تم نے انہیں اجازت کیوں دی اس سے پہلے کہ جو راست گو ہیں تیرے لئے واضح ہوں اور تم جھوٹوں کو پہچان لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
9:44
لَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
وہ جو خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں تم سے کبھی بھی (راہ خدا میں ) اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے سے رخصت نہیں چاہیں گے اور خدا پرہیزگاروں کو (اچھی طرح سے) پہچانتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
9:45
إِنَّمَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱرۡتَابَتۡ قُلُوبُهُمۡ فَهُمۡ فِي رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُونَ
صرف وہ لوگ تم سے رخصت چاہیں گے جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک و تردد میں ہیں لہٰذا وہ اپنے تردد میں سر گرداں ہیں۔

کوشش کرو کہ منافقین کو پہچان لو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کا ایک گروہ پیغمبرﷺ کے پاس آیا اور طرح طرح کے عذر و بہانے کرنے لگا۔ یہاں تک کہ قسم کھا کر انہوں نے اجازت چاہی کہ انہیں میدان تبوک میں شرکت سے معذور سمجھیں اور پیغمبر اکرمﷺ نے اس گروہ کو اجازت دے دی۔ زیر بحث پہلی آیت میں خدا وند عالم اپنے پیغمبرﷺ کو تنبیہ کے انداز میں کہتا ہے: خدا نے تمہیں بخش دیا کہ تم نے انہیں جہاد میں شرکت سے رخصت کیوں دی (عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اَذِنتَ لَھُمْ)، کیوں ایسا نہ ہونے دیا کہ راست گو لوگ جھوٹوں سے ممتاز ہو جائیں اور تم ان کی کیفیت جان لیتے (حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ)۔ اس بارے میں کہ مذکورہ تنبیہ جس کے ساتھ عفو الٰہی کا ذکر ہے، کس بات کی دلیل ہے؟ کیا یہ کوئی غلط کام تھا یا صرف کوئی ’’ترک اولیٰ‘‘ تھا یا کچھ بھی نہ تھا؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے تو ایسی تیزی دکھائی ہے کہ رسول اللہﷺ کے مقام مقدس تک میں جسارت اور بے ادبی کی ہے اور یہاں تک کہ اس آیت کو آپ سے صدور گناہ کے امکان کی دلیل قرار دیا ہے۔ ان لوگوں نے کم از کم اتنا ادب بھی ملحوظ نہیں رکھا جو خود خدائے عظیم نے اپنے پیغمبر کے بارے میں روا رکھا ہے کہ پہلے ”عفو “ کی بات کی گئی ہے، پھر تنبیہ کی گئی ہے۔ اس طرح سے یہ لوگ عجیب گمراہی میں جا پڑے ہیں۔ انصاف یہ ہے کہ اس آیت میں پیغمبر اکرمﷺ سے گناہ کے صدور کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہاں تک ظاہر آیت میں بھی ایسی کوئی دلیل نہیں کیوں کہ تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ چاہے انہیں اجازت دیتے یا نہ دیتے، منافقین کا وہ گروہ جنگ تبوک میں شرکت نہ کرتا اور بالفرض شرکت کرتا بھی تو مسلمانوں کے کسی کام نہ آتا بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی کرتا۔ جیسا کہ بعد آیت میں ہے : لو خرجوا فیکم مازادوکم الّا خبالا اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑتے تو شر ، فساد، چغل خوری، سخن چینی اور نفاق پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہ کرتے۔_________ ( توبہ: 47) اس لئے اگر پیغمبر اکرمﷺ نے انہیں اجازت دے دی تو مسلمانوں کا کائی مفاد ضائع نہیں ہوا۔ صرف جو بات اس میں موجود تھی، وہ یہ تھی کہ اگر آپ انہیں اجازت نہ دیتے تو ان کی قلعی ذرا پہلے کھل جاتی اور لوگ پہلے ہی ان کی کیفیت سے آشنا ہوجاتے لیکن اس کام سے کوئی ارتکاب گناہ نہیں ہوا۔ شاید اسے فقط”ترک اولیٰ“ کہا جا سکے۔ اس معنی میں کہ ان حالات میں اور منافقین کے قسم کھانے اور اصرار کرنے کی صورت میں پیغمبر اکرمﷺ کی طرف سے انہیں اجازت دینا اگرچہ کوئی برا کام نہ تھا مگر اذن نہ دینا اس سے بہتر تھا تاکہ یہ لوگ جلدی پہچانے جائیں۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ تنبیہ اور مذکورہ خطاب کنایہ کے طور پر ہو۔ یہاں تک کہ اس میں ترک اولیٰ بھی نہیں ہے بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ منافقین میں روح منافقت کو ایک لطیف پیرائے میں کنایہ کی صورت میں بیان کیا جائے۔ اس امر کو اس مثال میں واضح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کیجئے ایک ظالم چاہتا ہے کہ آپ کے بیٹے کے منہ پر طمانچہ رسید کرے۔ آپ کا ایک دوست اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو آپ کو نہ صرف اس کام پر دکھ نہیں ہو گا بلکہ آپ خوش بھی ہوں گے لیکن آپ ظالم کے باطن کی بدی ثابت کرنے کے لئے آپ غصے کے انداز میں اپنے دوست سے کہیں گے کہ تم نے اسے چھوڑا کیوں نہیں کہ وہ طمانچہ مارتا تاکہ تمام لوگ اس سنگدل منافق کو پہچان لیتے۔ آپ کا مقصد اس بیان سے صرف اس کی سنگدلی اور نفاق کا اثبات ہے جب کہ ظاہرا یہ دفاع کرنے والے دوست کی سرزنش ہے۔ اور بات جو آیت کی تفسیر میں باقی رہ جاتی ہے، یہ ہے کہ کیا رسول اللہﷺ منافقین کو نہیں پہچانتے تھے کہ خدائے تعالیٰ کہہ رہا ہے: چاہیے یہ تھا کہ تم انہیں اجازت نہ دیتے تا کہ ان کی کیفیت تمہارے لئے واضح ہوجاتی۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو پیغمبر اکرمﷺ معمول کے علم کے طریقے سے اس گروہ کی کیفیت سے آشنا نہیں تھے اور علم غیب موضوعات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ معمول کے مدارک سے ان کی کیفیت واضح ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ پیغمبرﷺ جان لیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ مقصد یہ ہو کہ تمام مسلمان آگاہ ہو جائیں اگرچہ روی سخن پیغمبر اکرمﷺ کی طرف ہے۔ اس کے بعد مومنین اور منافقین کی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو خدا اور روز آخر ت پر یقین رکھتے ہیں، وہ اپنے مالوں اور اپنی جان سے راہ خدا میں جہاد کرنے سے تم سے کبھی رخصت نہیں چاہیں گے( لَایَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اَنْ یُجَاھِدُوا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنفُسِھِمْ)۔ بلکہ جب فرمان جہاد صادر ہو گا، بغیر لیت و لعل اور سستی کے اس کی طرف بھاگیں گے اور یہی خدا پر ایمان، اس کی طرف سے عائد ذمہ داریوں پر ایمان اور آخرت کی عدالت پر ایمان انہیں اس راہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہ ایمان عذر تراشی اور بہانہ جوئی کی راہ ان کے سامنے بند کر دیتا ہے۔ خدا پرہزگاروں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور ان کی نیت اور اعمال سے مکمل طور پر آگاہ ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: میدان جہاد میں شرکت نہ کرنے کی اجازت تم سے وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے (إِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر)، ان کے عدم ایمان ہی پر زور دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل مضطرب اور تردد میں گرفتار ہیں (وَارْتَابَتْ قُلُوبُھُمْ)۔ لہٰذا وہ اس شک اور تردد کی بنا ء پر کبھی قدم آگے بڑھاتے ہیں اور کبھی پلٹ آتے ہیں اور ہمیشہ تحیر و سرگردانی میں رہتے ہیں اور اسی وجہ سے بہانے تراشنے اور پیغمبرﷺ سے اجازت حاصل کرنے کے منتظر رہتے ہیں (فَھُمْ فِی رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُون)۔ مندرجہ بالا صفات اگر چہ فعل مضارع کی صورت میں ذکر ہوئی ہیں لیکن ان کا مقصد منافقین اور مومنین کی صفات و حالات بیان کرنا ہے اور اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کا کوئی فرق نہیں۔ بہرحال، مومنین اپنے ایمان کے زیر سایہ عزم صمیم اور غیر متزلزل ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے راستے کو روشنی میں دیکھا ہے۔ ان کا مقصد واضح اور ہدف متعین ہے۔ اسی بنا پر وہ عزم راسخ کے ساتھ بلاتردد سیدھے قدموں سے آگے کی طرف جاتے ہیں اور منافقین کا ہدف چوں کہ تاریک اور غیر مشخص ہے، وہ حیرت و سرگردانی میں گرفتار ہیں اور وہ ہمیشہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے فرار کے لئے بہانے تراشتے رہتے ہیں۔ یہ دونوں نشانیاں صدر اسلام اور میدان تبوک کے مومنین اور منافقین سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ آج بھی سچے مومنین کو جھوٹے دعویداروں کی انہی دو صفات کو دیکھ کر پہچانا جا سکتا ہے۔ مومن شجاع اور مصمم ارادے والا ہوتا ہے اور منافق بزدل، ڈرپوک، متحیر اور بہانہ تراش ہوتا ہے

46
9:46
۞وَلَوۡ أَرَادُواْ ٱلۡخُرُوجَ لَأَعَدُّواْ لَهُۥ عُدَّةٗ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيلَ ٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
اگر وہ چاہتے تھے کہ (میدان جہاد کی طرف) نکلیں تو اس کیلئے وسیلہ فراہم کرتے لیکن خدا ان کے نکل پڑنے کو ناپسند کرتا تھا (لہٰذا اپنی توفیق ان سے سلب کر لی) اور انہیں سے روک لیا اور ان سے کہا گیا کہ قاعدین (بچوں بوڑھوں اور بیماریوں ) کے ساتھ بیٹھ رہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
9:47
لَوۡ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمۡ إِلَّا خَبَالٗا وَلَأَوۡضَعُواْ خِلَٰلَكُمۡ يَبۡغُونَكُمُ ٱلۡفِتۡنَةَ وَفِيكُمۡ سَمَّـٰعُونَ لَهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
اگر تمہارے ساتھ (میدان جہاد کی طرف) نکل پڑتے تو اضطراب اور شک و تردد کے سوا تمہارے لئے کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور بہت جلدی تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کرتے (تفرقہ و نفاق پیدا کرتے) اور تمہارے درمیان (سست اور کمزور افراد ہیں ) جو ان کی بات کو زیادہ قبول کرنے والے ہیں اور خدا ظالموں سے باخبر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
9:48
لَقَدِ ٱبۡتَغَوُاْ ٱلۡفِتۡنَةَ مِن قَبۡلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ ٱلۡأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَظَهَرَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
انہوں نے اس سے قبل بھی فتنہ انگیزی کیلئے اقدام کیا ہے اور تمہارے لئے کئی ایک کام دگرگوں کئے ہیں اور انہیں خراب کیا ہے یہاں تک کہ حق پہنچا اور خدا کا فرمان آشکار ہوا (اور تم کامیاب ہو گئے) جب کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔

منافقین کے جھوٹ اور افتراء کی ایک اور نشانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا: واللّٰہ یعلم انھم لکٰذبون۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ زیر نظر آیات میں اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے ان کے جھوٹ اور افتراء کی ایک اور نشانی بیان کی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے: یہ اگر سچ کہتے ہیں اور جہاد میں شرکت کے لئے تیار ہیں اور صرف تمہارے اذن کے منتظر ہیں تو انہیں چاہیے کہ جہاد کے تمام وسائل ہتھیار، سواری اور جو کچھ ان کی طاقت میں ہے، اسے فراہم کریں۔ جب کہ ان میں تو ایسی کوئی آمادگی نظر نہیں آتی (وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاَعَدُّوا لَہُ عُدَّةً)۔ یہ تاریک دل اور بے ایمان افراد ہیں کہ خدا جن کو جہاد کے پر افتخار میدان میں ناپسند کرتا ہے۔ لہٰذا اس نے اپنی توفیق ان سے سلب کی ہے اور انہیں باہر نکلنے سے باز رکھا ہے (وَلَکِنْ کَرِہَ اللهُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ)۔(تشریحی نوٹ: ”ثبطھم“،”تثبیط“ کے مادہ سے ہے اور یہ انجام کار سے روکنے کے معنی میں ہے)۔ اس بارے میں یہ گفتگو کس طرف سے ہے؟ خدا کی طرف سے یا پیغمبرﷺ کی طرف سے یا یہ خود ان کے اپنے نفس اور باطن کی آواز ہے، مفسرین میں اختلاف ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک تکوینی حکم ہے جو ان کے تاریک اور گندے باطن سے اٹھا ہے اور ان کے فاسد عقیدے اور برے اعمال کا تقاضا ہے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مقتضائے حال کو امر یا نہی کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر عمل اور نیت کا ایک اقتضاء ہے جو خواہ نخواہ انسان کو دامن گیر ہوتا ہے اور تمام لوگ اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ بڑے کاموں اور راہ خدا میں قدم اٹھائیں۔ یہ توفیق خدا اسے نصیب کرتا ہے جن میں نیت کی پاکیزگی، آمادگی اور خلوص ہوتا ہے۔ بعد والی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا میدان جہاد میں شریک نہ ہونا نہ صرف مقام افسوس نہیں بلکہ شاید خوشی کا مقام ہے کیوں کہ وہ نہ فقط یہ کہ کوئی مشکل دور نہیں کرتے بلکہ اس نفاق، بے ایمانی اور اخلاقی انحراف کی روح کی وجہ سے نئی مشکلات کا باعث ہوتے ہیں۔ در اصل یہاں مسلمانوں کو ایک عظیم درس دیا گیا ہے کہ کبھی بھی بڑے لشکر اور زیادہ تعداد کی فکر میں نہ رہیں بلکہ اس فکر میں رہیں کہ مخلص اور با ایمان افراد کا انتخاب کیا جائے، چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کی لئے کل بھی یہی درس تھا، آج بھی یہی درس ہے اور آئندہ بھی یہی درس ہو گا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اگر وہ تمہارے ساتھ (تبوک کے لئے) روانہ ہوتے تو ان کا پہلا منحوس اثر یہ ہوتا کہ وہ اضطراب اور شک و تردد کے علاوہ تم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے(لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالًا)۔ ”خبال“ کا معنی ہے ”اضطراب اور تردد“ اور ’خبل“ (بروزن”اجل“) جنون کے معنی میں ہے اور”خبل“ (بروزن”طبل“) اعضاء کے فاسد ہونے کے معنی میں ہے۔ اس بنا پر اس فاسد باطن، جو شک و تردد و بزدلی کی آماجگاہ ہے، کے ساتھ اگر وہ میدان میں آجاتے تو سپاہ اسلام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور فساد پھیلانے کے سوا اور کچھ نہ کرتے۔ علاوہ ازیں، وہ بڑی سرعت سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ افراد لشکر میں نفوذ حاصل کریں، نفاق وتفرقہ پیدا کریں اور اتحاد کے رشتوں کو کاٹ دیں(وَلَاَوْضَعُوا خِلَالَکُمْ یَبْغُونَکُمْ الْفِتْنَةَ)۔(تشریحی نوٹ: ”اوضعوا“، ”ایضاع“ کے مادہ سے حرکت میں تیزی کے معنی میں ہے اور یہاں سپاہ اسلام میں نفوذ میں تیزی کے مفہوم میں ہے، نیز ”فتنہ“یہاں اختلاف اور تفرقہ کے معنی میں ہے)۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطرے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ متوجہ رہیں کہ کمزور ایمان والے افراد تمہارے درمیان موجود ہیں جو ان منافقوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں(وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَھُمْ)۔ ”سماع “ اس شخص کو کہتے ہیں جس میں پذیرائی اور شنوائی کی حالت زیادہ ہو اورجو تحقیق اور غور و خوض کے بغیر ہر بات کا اعتبار کر لے۔ لہٰذا قوی ایمان مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کمزور گروہ پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ گرگ صفت منافقین کا لقمہ نہ بن جائیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ”سماع“ جاسوس کے معنی میں ہو یعنی تمہارے درمیان کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو منافقین کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :”خدا ستم گروں کو پہچانتا ہے“ وہ جو علی الاعلان اور وہ جو چھپ کر اپنے اوپر یا معاشرے پر ظلم کرتے ہیں، اس کی دید گاہ علم سے مخفی نہیں ہیں(وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ) اگلی آیت میں پیغمبر اکرمﷺ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ یہ منافقین سم پاشی اور تخریب کاری میں مشغول ہیں۔ یہ پہلے بھی ایسی کاروائیوں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی اپنے مقصد کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں(لَقَدْ ابْتَغَوْا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ)۔ یہ جنگ احد کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی راستے ہی سے پلٹ آئے تھے اور رسول اللہﷺ کی مدد سے انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا یا دیگر مواقع کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں انہوں نے رسول اللہﷺ کی ذات یا مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں کہ جن کا ذکر تاریخ اسلام میں موجود ہے۔ انہوں نے تمہارے بہت سے کام خراب کئے اور سازشیں کیں تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دیں اور انہیں جہاد سے باز رکھیں اور تمہارے ارد گرد کوئی باقی نہ رہے(وَقَلَّبُوا لَکَ الْاُمُورَ)، لیکن ان کی سازش اور کوشش کا کوئی اثر نہ ہوا اور ان سب کی سازشیں نقش بر آب ہو گئیں اور ان کا وار خالی گیا۔”آخر کارفتح حاصل ہوئی اور حق واضح ہو گیا“(حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَھَرَ اَمْرُ اللهِ) ”جب کہ وہ تمہاری پیشرفت اور کامیابی کو ناپسند کرتے تھے" (وَھُمْ کَارِھُونَ)، لیکن پرورگار کے ارادہ اور مشیت کے مقابلے میں بندوں کی خواہش اور ارادہ کچھ بھی اثر نہیں رکھ سکتا۔ خدا چاہتا تھا کہ تمہیں کامیاب کرے اور تیرے دین کو ساری دنیا تک پہنچائے اور جتنی بھی رکاوٹیں ہوں، انہیں راستے سے ہٹا دے۔ آخر اس نے یہ کام کر دکھایا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم جانیں کہ جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے، وہ دوسرے مطالب کی طرح پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے سے مخصوص نہیں ہے۔ ہر معاشرے میں ہمیشہ منافقین کا ایک گروہ موجود ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے کہ حساس اور تاریخ ساز لمحات میں زہریلی باتوں کے ذریعے لوگوں کے افکار خراب کر دے، وحدت کی روح کا خاتمہ کر دے اور ان کے نظریات میں شکوک و شبہات پیدا کر دے لیکن اگر معاشرہ بیدار ہو تو مسلم ہے کہ نصرت الٰہی سے ان کی تمام سازشیں اور منصوبہ بندیاں بے اثر ہو جائیں گی اور ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے کیوں کہ اس نے اپنے دوستوں سے کامیابی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ مسلمان مخلصانہ جہاد کریں اور ہوشیاری کے ساتھ ان داخلی دشمنوں پر نظر رکھیں۔

49
9:49
وَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ ٱئۡذَن لِّي وَلَا تَفۡتِنِّيٓۚ أَلَا فِي ٱلۡفِتۡنَةِ سَقَطُواْۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ
ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دو (تاکہ ہم جہاد میں شرکت نہ کریں ) اور ہمیں گناہ میں گرفتار نہ کرو آگاہ رہو کہ وہ (ابھی سے) گناہ میں گر چکے ہیں اور جہنم کفار پر محیط ہے۔

شان نزول جدّ ابن قیس-منافق

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

کچھ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب پیغمبر اسلامﷺ مسلمانوں کو جنگ تبوک کے لئے تیار کر رہے تھے اور اس کے لئے جانے کی دعوت دے رہے تھے، بنی سلمہ قبیلے کا ایک سردار جدّ بن قیس آپ کی خدمت میں آیا۔ یہ منافقین میں سے تھا۔ اس نے عرض کی: اگر آپ اجازت دیں تو میں اس میدان جنگ میں حاضر نہ ہوں کیوں کہ مجھے عورتوں سے بہت پیار ہے۔ مخصوصا اگر میری نظر رومی لڑکیوں پر جاپڑی تو ہو سکتا ہے میں دل ہار بیٹھوں اور ان پر عاشق ہوجاؤں اور میدان سے ہاتھ کھینچ لوں۔ اس پر پیغمبر اکرمﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں اس شخص کے کردار کی مذمت کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ نے بنی سلمہ کے ایک گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا : تمہارا سردار اور بڑا کون ہے؟ انہوں نے کہا: جد بن قیس، لیکن وہ بخیل اور ڈرپوک شخص ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بخل سے بڑھ کر کونسا درد ہے؟ پھر فرمایا-: تمہارا سردار وہ سفید رو جوان بشر بن براء ہے(جو کہ بہت سخی اور کشادہ رو انسان ہے)۔

بہانہ تراش منافقین

مندرجہ بالا شان نزول نشاندہی کرتی ہے کہ انسان جب چاہے ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار پھینکے تو اپنے لئے کسی نہ کسی طرح بہانہ بنا ہی لیتا ہے۔ جیسے جدّ بن قیس منافق نے میدان جہاد میں شرکت نہ کرنے کا کیا عذر گھڑا تھا اور وہ یہ تھا کہ؛ ہو سکتا ہے کہ خوبصورت رومی لڑکیاں اس کا دل لوٹ لیں اور وہ جنگ نہ کر سکے اور ”اشکال شرعی“ میں گرفتار ہوجائے۔ جد بن قیس جیسا ہی ایک جابر حکمران کے کارندے کا موقف ہے جو کہتا تھا کہ اگر ہم لوگوں پر سختی اور تشدد نہ کریں تو ہم جو تنخواہ لیتے ہیں، وہ ”شرعا“ ہمارے لئے اشکال رکھے گی۔ یعنی اس اشکال سے بچنے کے لئے ہمیں مخلوق خدا پر ظلم و ستم کرنا چاہیے۔ بہرحال، قرآن یہاں روئے سخن پیغمبر اسلامﷺ کی طرف کئے ہوئے اس قسم کے رسوا اور ذلیل بہانہ جو لوگوں کے جواب میں کہتا ہے: ان میں بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دے دیجئے کہ ہم میدان جہاد میں حاضر نہ ہوں اور ہمیں (خوبصورت رومی لڑکیوں کا فریفتہ کر کے) گرفتار گناہ نہ کیجئے (وَمِنْھُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلَاتَفْتِنِّی)۔ آیت کی تفسیر اور شان نزول میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جد بن قیس یہ بہانہ کرکے کہ میری بیوی، بچے اور اموال کا کوئی سرپرست نہیں، جہاد سے بچنا چاہتا تھا۔ بہرحال، قرآن ایسے لوگوں کے جواب میں کہتا ہے: آگاہ رہو کہ وہ ابھی سے فتنہ، گناہ اور حکم خداکی مخالفت میں گھر چکے ہیں اور جہنم نے کافروں کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے( اَلَافِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیطَةٌ بِالْکَافِرِینَ)۔ یعنی وہ بے ہودہ معذرتوں کی وجہ سے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ بعد میں آلودہ گناہ ہوں، ابھی سے گناہ میں گھرے ہوئے ہیں اور جہنم ان پر محیط ہے۔ وہ جہاد کی طرف روانگی کے بارے میں خدا اور رسولﷺ کے صریح حکم کو پاؤں تلے روند رہے ہیں کہ شاید کہیں شبہ میں گرفتار نہ ہو جائیں۔

چند اہم نکات

۱۔ منافقوں کی ایک پہچان: ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے طرز استدلال اور عذر بہانوں پر غور کیا جائے کہ جو وہ اپنی لازمی ذمہ داریوں کی انجام دہی کو ترک کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ان عذر بہانوں کی کیفیت ان کے باطن کو اچھی طرح واضح کردیتی ہے۔ وہ زیادہ تر جزوی، ناچیز، حقیر اور کبھی مضحکہ خیز امور کا سہارا لیتے ہیں تاکہ وہ اہم اور کلی امور کو نظر انداز کر دیں اور بزعم خود اہل ایمان کو غافل کرنے کے لئے ان کی سطحی فکر کا سہارا لیتے ہیں۔ شرعی مسائل اور خدا اور رسولﷺ کے حکم کو بیچ میں کھینچ لاتے ہیں حالانکہ وہ گناہ میں غوطہ زن ہیں۔ شمشیر بکف پیغمبر اکرمﷺ اور ان کے دین کے خلاف دوڑ پڑتے ہیں۔ ۲۔”وان جھنم لمحیطة بالکٰفرین“ کا مفہوم: اس جملے کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جہنم کے اسباب و عوامل یعنی گناہوں نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ آئندہ کے حتمی اور یقینی حوادث کے ذکر کی طرح ہے جنہیں ماضی یا حال کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ یعنی قطعی اور یقینی طور پر جہنم انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس جملے کی تفسیر اس کے حقیقی معنی کے ساتھ کی جائے اور ہم کہیں کہ اسی وقت جہنم موجود ہے۔ اس جہان کے باطن میں جہنم موجود ہے اور وہ جہنم میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اسے تاثیر کا فرمان صادر نہیں ہوا جیسا کہ بہشت بھی اس وقت موجود ہے اور اس جہان کے باطن اور اس کے اندر سب پر محیط ہے، بہشتی چونکہ بہشت سے مناسبت رکھتے ہیں، اس لئے اس سے مربوط ہیں اور دوزخی چونکہ دوزخ سے مناسبت رکھتے ہیں، اس لئے ان کا دوزخ سے ربط ہو گا۔(تشریحی نوٹ: اس بحث کی ایک مبسوط تشریح ہے۔ اس کا مطالعہ آپ کتاب ”معاد وجہان پس از مرگ“ کے باب”بہشت و دوزخ “ میں کر سکتے ہیں)۔

50
9:50
إِن تُصِبۡكَ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡۖ وَإِن تُصِبۡكَ مُصِيبَةٞ يَقُولُواْ قَدۡ أَخَذۡنَآ أَمۡرَنَا مِن قَبۡلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمۡ فَرِحُونَ
اگر تجھے کوئی اچھائی پہنچے تو وہ انہیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے سے مصمم ارادہ کر رکھا ہے(کہ ان سے جدا رہیں ) اور وہ خوش و خرم پلٹ جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
9:51
قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوۡلَىٰنَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
کہہ دو کوئی حادثہ ہمارا رخ نہیں کرتا مگر جو کچھ خدا نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہ ہمارا مولیٰ اور سر پرست ہے اور مومنین صرف خدا پر توکل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
9:52
قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحۡدَى ٱلۡحُسۡنَيَيۡنِۖ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٖ مِّنۡ عِندِهِۦٓ أَوۡ بِأَيۡدِينَاۖ فَتَرَبَّصُوٓاْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ
کہہ دو کیا ہمارے بارے میں دو نیکیوں (فتح یا شہادت) میں سے کسی ایک کے علاوہ تمہیں کوئی توقع ہے لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے تمہیں (اس جہان میں ) یا ہمارے ہاتھ سے (اس جہان میں ) عذاب پہنچے گا اب جب کہ معاملہ ایساہے تو تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

منافقین کی ایک اور صفت اور نشانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیر نظر آیات میں منافقین کی ایک صفت اور نشانی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ بحث جو گذشتہ اور آئندہ آیات میں منافقین کی نشانیوں کے سلسلہ میں آئی ہے یہ اسی کے ضمن میں ہے۔ پہلے کہا گیا ہے:۔اگر تجھے کوئی اچھائی پہنچے تو وہ نا راحت ہو جاتے ہیں اور انہیں برا لگتا ہے( إِنْ تُصِبْکَ حَسَنَةٌ تَسُؤْھُمْ )۔ یہ ناراحتی اور دکھ ان کی باطنی عداوت اور ایمان کے فقدان کی دلیل ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص تھوڑا سا ایمان بھی رکھتا ہو اور وہ پیغمبر خدا یا کسی عام صاحب ایمان شخص کی کامیابی پر رنجیدہ ہو۔ – ”لیکن اگر اس مقابلے میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے اور تم کسی مشکل میں مبتلا ہو جاؤ تو خوش ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے سے ایسے حالات کی پیش بینی کر رہے تھے اور ہم نے تو مصمم ارادہ کر رکھا تھا“ اور خودکو ہلاکت کے اس گڑھے سے بچا چکے تھے( وَإِنْ تُصِبْکَ مُصِیبَةٌ یَقُو لُوا قَدْ اَخَذْنَا اَمْرَنَا مِنْ قَبْل)۔”اور جب وہ اپنے گھروں کو پلٹ جاتے ہیں تو تمہاری شکست، مصیبت یا پریشانی پرخوش ہوتے ہیں(وَیَتَوَلَّوا وَھُمْ فَرِحُونَ)۔ یہ دل کے اندھے منافقین ہر موقع سے فا ئدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی عقل کے بارے میں لاف زنی کرتے ہیں کہ یہ ہماری دانشمندی تھی کہ ہم نے فلاں میدان میں شرکت نہ کی اور وہ مشکلات جو دوسروں کو عقل نہ ہونے کی وجہ سے دامن گیر ہوئیں، ہم ان میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جامے میں پھولے نہیں سماتے۔ لیکن اے پیغمبر ! تم انہیں دو طرح سے جواب دو، ایسا جواب جو دندان شکن اور منطقی ہے۔ پہلے ان سے کہو کہ ہمیں کوئی حادثہ پیش نہیں آتا مگر وہ کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے، وہ خدا جو ہمارا مولا، سرپرست، حکیم اور مہربان ہے اور جو ہماری بھلائی کے سوا ہمارے لئے کچھ مقدر نہیں کرتا(قُلْ لَنْ یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللهُ لَنَا ھُوَ مَوْلَانَا)۔ جی ہاں ! اہل ایمان فقط خدا پر توکل کرتے ہیں (وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ)۔ اہل ایمان صرف اس کے عاشق ہیں، اسی سے نصرت طلب کرتے ہیں ، اپنی پیشانی اسی کی چوکھٹ پر رکھتے ہیں اور ان کی پناہ گاہ اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔ یہ بہت بڑا اشتباہ ہے کہ جس میں منافقین گرفتار ہیں، وہ خیال کرتے ہیں وہ اپنی معمولی سی عقل اور ناتواں فکر سے تمام مشکلات اور حوادث کی پیش بینی کر لیتے ہیں اور خدا کے لطف ورحمت سے بے نیاز ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی تمام ہستی حوادث کے کسی عظیم طوفان کے سامنے ایک تنکے کی مانند ہے یا کسی بیابان میں گرمیوں کی کسی جلادینے والی دوپہر میں پانی کے ایک قطرے کی طرح ہے، اگر لطف الٰہی شامل حال نہ ہو تو کمزور سا انسان کچھ نہیں کر سکتا ۔ ”اور اے پیغمبر! تم انہیں جواب دو کہ تم ہمارے بارے میں کیا توقع رکھتے ہو سوائے اس کے کہ دو میں سے ایک سعادت ہمیں نصیب ہو جائے“ یا ہم دشمنوں کو تہس نہس کر دیں گے، اور میدان جنگ سے کامیابی کے ساتھ پلٹ آئیں گے اور یا مارے جائیں گے اور عزت وافتخار سے جام شہادت نوش کریں گے ان دو صورتوں میں جو بھی پیش آئے ہمارے لئے افتخار ہے اور ہماری آنکھوں کی روشنی ہے ( قُلْ ھَلْ تَتَربَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ )۔" لیکن اس کے برعکس ہم تمہارے بارے میں دو میں سے ایک سیاہ دن اور بدبختی کی توقع رکھتے ہیں یا اس جہان میں تم عذاب الٰہی میں مبتلا ہو گے اور یا ہمارے ہاتھوں تم ذلیل ونابود ہو گے" (وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اَنْ یُصِیبَکُمْ اللهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِہِ اَوْ بِاَیْدِینَا)۔ ”جب معاملہ اس طرح ہے تو تم بھی منتظر رہو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں“ تم ہماری خوش بختی اور سعادت کا انتظار کرو اور ہم تمہاری بد بختی کے انتظار میں ہیں (فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ تقدیر اور ہماری کاوشیں

اس میں شک نہیں ہماری سرنوشت جس قدر ہمارے کام، کوشش اور جستجو سے مربوط ہے وہ تو خود ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ قرآنی آیات بھی صراحت سے یہ بات بیان کر رہی ہیں ۔مثلاً وان لیس للانسان الا ما سعیٰ۔ انسان کے حصے میں اس کی کوشش اور سعی کے سوا کچھ نہیں ۔ ( نجم۔۳۹) اسی طرح یہ بھی ہے: کل نفس بما کسبت رھینة۔ ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے۔ (مدثر۔۳۸) اسی طرح دیگر آیات بھی ہیں (اگر چہ سعی و کوشش کی تاثیر بھی سنن الٰہی کے مطابق اور اس کے فرمان کے تحت ہی ہے)۔ لیکن ہماری کدوکاوش سے ماورا اور ہماری قدرت سے جو کچھ متجاوز ہے اس میں صرف دست قدرت کافرما ہے اور جو کچھ قانون علیت کے تقاضے کے مطابق مقدر ہوا ہے وہ انجام پذیر ہوکے رہے گا اور یہ سب کچھ پروردگار کی مشیت، علم اور حکمت کے مطابق انجام پاتا ہے۔ البتہ صاحب ایمان اور خدا پرست افراد کہ جو اس کے علم وحکمت اور لطف ورحمت پر ایمان رکھتے ہیں ان تمام مقدرات کو ”نظام احسن“ اور بندوں کی مصلحت کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ہر شخص اپنی حاصل کردہ اہلیت اور صلاحیتوں کے مطابق مقدر رکھتا ہے۔ ایک منافق، ڈرپوک، سست مزاج اور منتشر جمعیت کو فنا ہی ہونا ہے اور یہ اس کی حتمی سرنوشت ہے لیکن ایک صاحب ایمان، آگاہ متحد اور عزم صمیم رکھنے والی جمعیت کی سرنوشت کامیابی کے سوا کچھ نہیں ۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیات نہ ارادہ اختیار کی آزادی کے منافی ہے اور نہ ہی انسانوں کی جبری سرنوشت اور ان کی کاوشوں کے بے اثر ہونے پر دلیل ہیں۔

۲۔ مومنین کی لغت میں شکست کا لفظ نہیں

زیر بحث آخری آیت میں ایک عجیب پختہ اور محکم منطق بیان کی گئی ہے، اسی منطق میں مسلمانوں کی تمام کامیابیوں کا حقیقی راز پنہاں ہے اور اگر پیغمبر اسلام اس کے علاوہ کوئی تعلیم اور حکم نہ بھی رکھتے ہوتے تو یہی ان کے پیروکاروں کی کامیابی کی ضمانت کے لئے کافی تھا۔ آپ نے شکست اور ناکامی کا مفہوم ان کے صفحہ روح سے مٹا دیا تھا اور ان پر ثابت کیا تھا کہ تم ہر حالت میں کامیاب ہو، تم مارے جاؤ تو کامیاب ہو اور دشمن کو قتل کر دو تب بھی کامیاب ہو۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں کہ جس راستے پر بھی جاؤ منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے، کجی،الجھنیں اور گرنے کی جگہ تمہارے راستے میں نہیں، تمہارا ایک راستہ شہادت کی طرف جاتا ہے کہ جو ایک صاحب ایمان انسان کا اوج افتخار ، آخری معراج اور بالا ترین نعمت ہے اس سے بڑھ کر افتخار اور نعمت کا انسان کے لئے تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ جو خدا کے ساتھ جان کا سودا کرے اور اس کے بدلے ایک ایسی جاودانی حیات حاصل کرے جو جوار الٰہی میں ناقابل توصیف نعمات سے مالامال ہو۔ دوسرا راستہ دشمن پر کامیابی ہے، اس کی شیطانی طاقت کو درہم برہم کرنا ہے اور انسانی ماحول کو ظالموں ، ستم گروں اور بدکاروں کے شر سے پاک وصاف کرنا ہے اور یہ بھی ایک عظیم فیض اور مسلم افتخار ہے۔ وہ سپاہی جو اس جذبے سے میدان جنگ میں آتا ہے کبھی فرار اور دشمن کو پشت دکھانے کی نہیں سوچتا۔ ایسا سپاہی کسی شخص اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا ۔ خوف ووحشت، اضطراب اورشک وتردد اس کے وجود میں راہ نہیں پاتا ۔ جو لشکر ایسے سپاہیوں پر مشتمل ہوتے ہیں وہ ناقابل شکست ہوتا ہے۔ ایسا جذبہ صرف تعلیمات اسلامی سے پیدا کیا جا سکتا ہے اور اج بھی اگر صحیح تعلیم وتربیت سے یہ منطق دوبارہ مسلمانوں میں اتاردی جائے تو تمام پسماندگیوں اور شکستوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ وہ لوگ جو پہلے مسلمانوں کی پیش رفت اور آج کے مسلمانوں کی پسماندگی کے علل واسباب کا مطالعہ اور تحقیق کرتے ہیں اور اسے ایک عجیب معمّہ سمجھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ آئیں اور مندرجہ بالا آیت پر تھوڑی سی غوروفکر کریں، انہیں اس آیت سے واضح جواب مل جائے گا ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں جب منافقین کی دو شکستوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے تو اس کی الگ الگ تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن جب مومنین کی دو کامیابیوں کا ذکر کیا گیا ہے انہیں سربستہ چھوڑ کر گفتگو آگے بڑھا دی گئی ہے گویا یہ دو کامیابیاں ایسی روشن، واضح اور آشکار ہیں کہ جن کی تشریح کی بالکل ضرورت نہیں اور یہ بلاغت کا ایک خوبصورت اور لطیف نکتہ ہے جو مندرجہ بالا آیت میں استعمال کیا گیا ہے۔

۳۔ منافقین کی دائمی صفات

ہم دوبارہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ان آیات کوتاریخی حوالے سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں جاننا چاہیے یہ ہمارے لئے گذشتہ اور آئندہ دور کے لئے ایک درس ہے۔ عموماً کوئی بھی معاشرہ چھوٹے یا بڑے منافقین کے ایک گروہ سے خالی نہیں ہوتا اور ان کی صفات تقریبا ایک جیسی ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی طرز کے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نادان اور بے وقوف ہوتے ہیں اور اس کے باوجود خودپرست اور متکبر ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا عقلمند اور سمجھدار سمجھتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ لوگوں کے راحت و آرام میں رنج ہوتا ہے اور وہ ان کی پریشانیوں پر خوشحال اور خندہ زن ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ فضول خیالات اور شک وتردد میں کھوئے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں اور ایک پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سچے مومنین ہیں جو لوگوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اوران کے غم میں شریک ہوتے ہیں وہ کبھی اپنے علم اورفہم و فراست پر ناز نہیں کرتے اور کبھی اپنے آپ کو لطف الٰہی سے بے نیاز نہیں سمجھتے۔ وہ عشق خدا سے لبریز رہتے ہیں اور اس راہ میں کسی حادثے اور مشکل سے نہیں ڈرتے۔

53
9:53
قُلۡ أَنفِقُواْ طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمۡ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
کہہ دو کہ تم چاہے میلان اور رغبت سے خرچ کرو چاہے اکراہ سے، تم سے ہر گز قابل قبول نہیں، کیونکہ تم فاسق ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
9:54
وَمَا مَنَعَهُمۡ أَن تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقَٰتُهُمۡ إِلَّآ أَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمۡ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
ان کے انفاق کے قبول ہونے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی مگر یہ کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کے منکر تھے نماز نہیں بجا لاتے تھے مگر کسالت اور سستی کے ساتھ اور انفاق نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
9:55
فَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
اور ان کے مال و اولاد کی کثرت تجھے تعجب میں نہ ڈالے اللہ چاہتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب کرے اور وہ حالت کفر میں ہی مر جائیں۔

تفسیر منافقین کی کچھ اور نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہ آیات منافقین کی کچھ اور نشانیوں اور ان کے کام کے انجام کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور انہیں واضح کرتی ہے کہ کس طرح سے ان کے اعمال بے روح اور بے اثر ہیں اور ان سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ نیز نیک اعمال میں سے چونکہ راہ خدا میں خرچ کرنا (یعنی زکٰوة کی ادائیگی اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے )اور نماز کا قیام (خالق ومخلوق کے درمیان رشتے کی حیثیت سے )خاص مقام رکھتے ہیں لہٰذا خصوصیت کے ساتھ ان دو حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! انہیں کہہ دو چاہے ارادہ و اختیار سے راہ خدا میں خرچ کرو اور چاہے کراہت و مجبوری اور شخصی واجتماعی رکھ رکھاؤ کی وجہ سے تم منافقین سے کسی حالت میں کچھ قبول نہیں کیا جائے گا(قُلْ اَنفِقُوا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا لَنْ یُتَقَبَّلَ مِنْکُمْ)۔(تشریحی نوٹ: ”انفقوا“ اگرچہ صیغہ امر کی شکل میں ہے لیکن مفہوم شرط رکھتا ہے یعنی اگرتم خرچ کرو چاہے اختیار سے یا مجبوری سے تم سے قابل قبول نہیں ہو گا۔) اس کےبعد اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیونکہ تم فاسق گروہ ہو( إِنَّکُمْ کُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِینَ)۔تمہاری نیتیں غلیظ ، تمہارے اعمال ناپاک اور تمہارے دل تاریک ہیں اور خدا صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو پاک و پاکیزہ ہو اورجسے ایک پاکیزہ شخص تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ انجام دے۔ واضح ہے کہ ” فسق“ یہاں کوئی عام اور معمولی گناہ نہیں ہے کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ انسان کسی گناہ کا مرتکب ہو لیکن اس کے باوجود ایک نیک عمل بھی انجام دے دے بلکہ یہاں مراد اس سے کفر و نفاق ہے یا ان کے نفاق کا ریاکاری سے آلودہ ہونا ہے۔ اس میں بھی کوئی مانع نہیں کہ مندرجہ بالا جملے میں”فسق“ اپنے وسیع مفہوم کے لحاظ سے دونوں معانی میں ہو جیسا کہ بعد والی آیت بھی اس حصے کی وضاحت کرے گی۔ اگلی آیت میں ان کے خرچ کئے ہوئے مال کے قابل قبول نہ ہونے کی دوبارہ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے انفاق اور مخارج کے قبول ہونے میں اس کے سوا کوئی امر مانع نہیں کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کے منکر اور کافر ہیں اور ہر وہ کام جس میں خدا پر ایمان اورتوحید پریقین شامل نہ ہو بارگاہ خداوندی میں قابل قبول نہیں ہے( وَمَا مَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقَاتُھُمْ إِلاَّ اَنَّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَبِرَسُولِہ)۔ قرآن نے بارہا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اعمال صالح کے قبول ہونے کی شرط ایمان ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی عمل ایمان کی بنا پر سرزد ہو اور ایک مدت کے بعد عمل کرنے والا شخص کفر کی راہ اختیار کر لے تو اس کا عمل حبط، نابود اور بے اثر ہوجائے گا(اس سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۲ میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں) (دیکھئے صفحہ ۶۶ اردو ترجمہ)۔ ان کے انفاق اور مالی اخراجات قبول نہ ہونے کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی عبادات کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ نماز بجانہیں لاتے مگر کسالت وناراحتی کے ساتھ اور بوجھ سمجھتے ہوئے( وَلَایَاْتُونَ الصَّلَاةَ إِلاَّ وَھُمْ کُسَالَی)، جیسے کہ وہ خرچ بھی بس کراہت ومجبوری کے عالم میں کرتے ہیں (وَلَایُنفِقُونَ إِلاَّ وَھُمْ کَارِھُونَ)۔ درحقیقت دو وجوہات کی بنیاد پر ان کے خرچ شدہ اموال قابل قبول نہیں ہوئے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ حالت کفر اور عدم ایمان میں سرزد ہوئے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کراہت اور مجبوری کے عالم میں خرچ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ان کی نماز بھی دو وجوہ سے قبول نہیں ہوئی ایک کفر کی وجہ سے اور دوسرا کسالت اور ناپسندیدگی کی حالت میں ادائیگی کے سبب۔ مندرجہ بالا جملوں میں منافقین کی کیفیت ان کے بے ثمر اعمال کے لحاظ سے بیان کی گئی ہے اس کے باوجود ان میں ان کی ایک اور نشانی بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ حقیقی مومنین کو عبادت میں ان کی خوشی اور نشاط کے سبب اور نیک اعمال سے ان کی رغبت اور خلوص کی بنا پراچھی طرح پہچانا جا سکتا ہے جیسا کہ منافقین کو ان کے اعمال کی انجام دہی کے رنگ ڈھنگ سے پہچانا جا سکتا ہے کیونکہ عام طور پر وہ سرد مہری، بے رغبتی، ناراحتی اور کراہت سے کار خیر انجام دینے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں گویا کوئی شخص جبراً ان کا ہاتھ پکڑے انہیں کار خیر کی طرف لیے جا رہا ہو۔ واضح ہے کہ پہلے گروہ کے اعمال چونکہ عشق الٰہی کی بنا پر سرزد ہوتے ہیں اور ان میں دلسوزی ہوتی ہے لہٰذا ان اعمال کے آداب و قواعد کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن دوسرے گروہ کے اعمال میں چونکہ کراہت، ناپسندیدگی اور بے رغبتی ہوتی ہے لہٰذا وہ ناقص، ٹوٹے پھوٹے اور بے روح ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے اسباب وعلل کا اختلاف ان کی مختلف شکلیں صورتیں اختیار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ آخری آیت میں روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرمیا گیا ہے:”ان کے مال و اولاد کی کثرت تجھے تعجب میں نہ ڈال دے“ اور تم یہ نہ سوچنے لگ جاؤ کہ اس کے باوجودکہ وہ منافق ہیں انہیں یہ سب نعمات الٰہی کیونکر میسر ہیں( فَلَاتُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَااَوْلَادُھُمْ ) کیونکہ یہ چیزیں ظاہرا تو ان کے لے نعمات ہیں لیکن حقیقت میں خدا چاہتاہے کہ اس طرح انہیں دنیاوی زندگی میں معذب کرے اور ان چیزوں سے بے انتہادل بستگی کی وجہ سے وہ کفر اور بے ایمانی کی حالت میں مرجائیں(إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنفُسُھُمْ وَھُمْ کَافِرُونَ)۔ درحقیقت وہ ان اموال واولاد (اقتصادی اور افرادی قوت) کے ذریعے دو راستوں سے معذّب ہوں گے۔ پہلا تو یہ کہ عام طور پر ایسے افراد کی اولاد غیر صالح ہوتی ہے اورمال بے برکت ہوتا ہے جوکہ دنیاوی زندگی میں ان کے لئے رنج والم کا باعث بنتے ہیں۔ کیا یہ بات باعث رنج الم نہیں کہ شب وروز ایسی اولاد کے لئے کوشش کی جائے جو ننگ و عار اور پریشانی کا باعث ہے اور ایسے مال کی حفاظت میں جان جوکھوں میں ڈالی جائے جو گناہ کے راستے سے کمایا ہے۔ دوسری طرف یہ لوگ چونکہ ان اموال اور اولاد سے لگاؤ رکھتے ہیں اور آخرت کی پرنعمت اور وسیع دنیا اور موت کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا اس سب مال متال سے آنکھیں بند کر لینا ان کے لئے مشکل ہے یہاں تک کہ انہی چیزوں پر ایمان رکھ کر کفر کے ساتھ دنیا سے چلے جاتے ہیں اور سخت ترین حالت میں جان دیتے ہیں۔ مال و اولاد اگر پاک اور صالح ہوں تو نعمت ہے اور رفاہ وآسائش کا سبب ہے اور اگر ناپاک اور غیر صالح ہوں تو رنج وتکلیف اور عذاب الیم ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ کیا منافقین خوشی سے خرچ کرتے ہیں: بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ پہلی آیت کے شروع میں یہ کیسے کہہ دیا گیا ہے کہ چاہے اختیار سے خرچ کرو چاہے مجبوری سے، تم سے قبول نہیں ہو گا جب کہ دوسری آیت کے آخر میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ صرف کراہت اور مجبوری کے عالم ہی میں خرچ کرتے ہیں۔ کیا یہ دونوں آیتیں ایک دوسرے کے منافی ہیں؟ ایک مطلب کی طرف متوجہ ہوا جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت کی ابتدا درحقیقت ایک ”قضیہ شرطیہ “ کی صورت میں ہے یعنی اگراطاعت یا اکراہ کی صورت میں خرچ کرو، جس صورت میں بھی ہو قابل قبول نہیں ہو گا اور ہم جانتے ہیں کہ قضیہ شرطیہ وجود شرط کی دلیل نہیں ہے یعنی فرض کریں کہ وہ میل ورغبت اور اختیار وارادہ سے بھی خرچ کریں تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں چونکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ لیکن دوسری آیت میں ”قضیہ خارجیہ“ کو بیان کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ ہمیشہ اکراہ اور ناپسندیدگی ہی سے خرچ کرتے ہیں(غور کیجئے گا)۔ ۲۔ صرف نماز روزہ کافی نہیں: دوسرا درس جو مندرجہ بالا آیات سے حاصل کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ صرف لوگوں کی نماز، روزہ اور زکٰواة پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے کیوںکہ منافقین نماز بھی پڑھتے ہیں اور ظاہرا راہ خدا میں خرچ بھی کرتے ہیں بلکہ منافقوں کی نمازوں اور سخاوتوں کو سچے مومنین کے پاک اور مصلحانہ اعمال الگ پہچاننا چاہیے اور اتفاق کی بات ہے کہ غور کرنے اور تحقیق وجستجو سے ظاہر عمل سے بھی عموما پہچان ہو جاتی ہے۔ حدیث میں ہے : لا تنظروا الی رکوع الرجل وسجودہ فان ذالک شیء اعتادہ ولو ترکہ استوحش ولکن انظروا الی صدق حدیثہ واداء امانتہ۔ کسی کے لمبے لمبے رکوع اور سجدوں کو نہ دیکھو کیوںکہ ہو سکتا ہے یہ عادتی عبادت ہو جسے چھوڑنے سے اسے پریشانی ہوتی ہو بلکہ اس کی راست گوئی اور امانت کی ادائیگی پر نظر رکھو کیوںکہ سچائی ، راستی اور امانت کا سرچشمہ ایمان ہے جبکہ عادتی رکوع وسجود کفر ونفاق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

56
9:56
وَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمۡ لَمِنكُمۡ وَمَا هُم مِّنكُمۡ وَلَٰكِنَّهُمۡ قَوۡمٞ يَفۡرَقُونَ
وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو بے حد ڈرپوک ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
9:57
لَوۡ يَجِدُونَ مَلۡجَـًٔا أَوۡ مَغَٰرَٰتٍ أَوۡ مُدَّخَلٗا لَّوَلَّوۡاْ إِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُونَ
اگر انہیں کوئی پناہ گاہ یا غاریں یا کوئی زیر زمین راستہ مل جائے تو وہ اس کی طرف چل پڑیں حالانکہ وہ تیزی میں بھاگ کھڑے ہوں گے۔

تفسیر منافقین کی ایک اور نشانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیات میں منافقین کے اعمال اور حالات کے بارے میں ایک اور نشانی بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں (وَیَحْلِفُونَ بِاللهِ إِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ )، "حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی چیز میں تمہارے مواقف ہیں؛ بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو بےحد ڈرپوک ہیں" اور شدت خوف ہی کے باعث اپنے کفر کو چھپاتے ہیں اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں گرفتارِ بلا نہ ہو جائیں(وَمَا ھُمْ مِنْکُمْ وَلَکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَفْرَقُونَ)۔ "یفرقون" مادہ "فرق" (بر وزن "شفق")سے ہے اور اس کا معنی ہے شدت خوف و ہراس، راغب نے "مفردات" میں کہا ہے کہ یہ مادہ اصل میں تفرقہ، جدائی اور پراگندگی کے معنی میں ہے، گویا اس طرح ڈرتے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ ان کا دل متفرق اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ درحقیقت باطن میں چونکہ ان کا کوئی سہارا نہیں لہٰذا ہمیشہ کے لئے خوف و ہراس اور شدید وحشت میں گرفتار ہیں اور اسی خوف و وحشت کی وجہ سے جو کچھ ان کے باطن میں ہے اس کا کبھی اظہار نہیں کر پاتے اور چونکہ خدا سے نہیں ڈرتے اس لئے ہر چیز سے ڈرتے ہیں اور ہمیشہ وحشت زدہ رہتے ہیں جب کہ سچے اور حقیقی مومن ایمان کے سائے میں سکون واطمینان اور ایک خاص شہامت وجراٴت سے رہتے ہیں۔ بعد والی آیت میں مومنین سے ان کے شدید بغض، عداوت اور نفرت کو مختصر سی عبارت میں لیکن رسا اور واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسے ہیں کہ اگر کوئی پناہ گاہ (مثلاً مستحکم قلعہ) انہیں مل جائے یا پہاڑوں کی غاروں تک ج اسکتے ہوں یا انہیں زیر زمین کوئی راستہ مل جائے تو جتنا جلدی ہو سکے اس کی طرف کھڑے ہوں تاکہ وہ تم سے دور ہو کر اپنے کینہ اور عداوت کو ظاہر کر سکیں (لَوْ یَجِدُونَ مَلْجَاً اَوْ مَغَارَاتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَیْہِ وَھُمْ یَجْمَحُونَ)۔ "ملجاء" کا معنی ہے "پناہ گاہ" مثلا کوئی مستحکم قلعہ یا اس قسم کی کوئی جگہ۔ "مغارات" جمع ہے "مغارہ" کی جس کا معنی ہے "غار"۔ "مدخل" کا معنی ہے پوشیدہ اور چھپے ہوئے راستے، مثلا وہ نقب جو زیر زمین لگاتے ہیں اور اس کے کسی جگہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ "یجمحون"، "جماح"کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے تیزی اور شدت کے ساتھ چلنا کہ جیسے کوئی چیز روک نہ سکے، مثلا سرکش اور منہ زور گھوڑے کا دوڑنا کہ جسے روکا نہ جاسکتا ہو، اسی اسے گھوڑے کو "جموح" کہتے ہیں۔ بہرحال، یہ ایک واضح ترین اور نہایت عمدہ تعبیر ہے جو قرآن منافقین کے خوف ووحشت کے بارے میں یا ان کے بغض و نفرت کے سلسلے میں بیان کرتا ہے کہ اگر انہیں پہاڑوں یا زمین پر کوئی راہ فرار مل جائے تو خوف یا دشمنی کی وجہ سے تم سے دور ہو جائیں لیکن چونکہ ان کی قوم وقبیلہ اور مال وثروت تمہارے علاقے میں ہے لہٰذا مجبور ہیں کہ خون جگر پی کر تم میں رہ جائیں۔

58
9:58
وَمِنۡهُم مَّن يَلۡمِزُكَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنۡ أُعۡطُواْ مِنۡهَا رَضُواْ وَإِن لَّمۡ يُعۡطَوۡاْ مِنۡهَآ إِذَا هُمۡ يَسۡخَطُونَ
ان میں ایسے لوگ ہیں جو غنائم (کی تقسیم) کے بارے میں تم پر اعتراض کرتے ہیں اگر ان میں سے انہیں دے دیں تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیں تو ناراض ہو جاتے ہیں (چاہے ان کا حق ہو یا نہ ہو)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
9:59
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ رَضُواْ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤۡتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ
لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ جو خدا اور اس کا رسول انہیں دیتا ہے اور کہیں کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول اپنے فضل میں سے ہمیں بخشے گا اور ہم صرف اس کی رضا چاہتے ہیں (اگر ایسا کریں تو ان کے فائدے میں ہے)۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر در منثور صحیح بخاری، نسائی اور بعض دیگر محدثین سے نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم کچھ غنائم(یا ان جیسے) اموال کی تقسیم میں مشغول تھے کہ قبیلہ بنی تمیم میں سے ایک شخص "ذوالخویصرہ " آپہنچا اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگا : یا رسول اللہ عدل وانصاف سے کام لیں۔ رسول اللہ نے فرمایا : وائے ہو تجھ پر، اگر میں عدالت نہ کروں تو پھر کون عدالت کرے گا۔ عمر نے چیخ کر کہا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ رسول اللہ نے فرمایا : اسے اس کی حالت پر چھوڑ دو، اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ تم اپنی نماز روزہ ان کے مقابلے میں ناچیز سمجھو گے لیکن اس کے باوجود وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے کہ جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور اس قسم کے افراد کو نصیحت کی گئی۔

بے منطق خود غرض افراد

مندرجہ بالا پہلی آیت میں منافقین کی ایک اور حالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ہرگز اپنے حق پر راضی نہیں ہوتے اور ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ بیت المال سے اور عمومی منافع سے جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، چاہئے مستحق ہوں یا نہ ہوں، ان کی دوستی اور دشمنی اسی محور کے ارد گرد گھومتی ہے، جو شخص ان کی جیب بھر دے اس پر راضی ہیں اورجو شخص عدالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسرے کا حق نہ دے تو اس سے ناراض ہو جاتے ہیں، حق وعدالت کا ان کی لغت میں کوئی مفہوم نہیں ہے اور اگر کوئی مفہوم ہے تو ان کی نظر میں عادل وہ شخص ہے جو انہیں زیادہ سے زیادہ دے اور ظالم ان کی نظر میں وہ شخص ہے جو دوسروں کا حق ان سے لے لے۔ دوسرے لفظوں میں ان میں ہر طرح کے اجتماعی شعور کا فقدان ہے اور وہ صرف انفرادی حوالے سے سوچتے ہیں اور صرف اپنے ہی مفادات پیش نظر رکھتے ہیں اور وہ تمام چیزوں کو صرف اسی زاوےے سے دیکھتے ہیں، لہٰذا فرمایا گیا ہے:" ان میں سے بعض صدقات کی تقسیم کے معاملے میں تم پر عیب لگاتے اور اعتراض کرتے ہیں" اور کہتے ہیں کہ آپ نے عدالت کو ملحوظ نظر سے نہیں رکھا (وَمِنْھُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ)، لیکن حقیقت میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے مفادات پر نظر رکھتے ہیں "اگر انہیں کچھ حصہ دے دیا جائے تو راضی اور خوش ہیں" اور تمہیں عدالت کرنے والا سمجھتے ہیں چاہے وہ استحقاق نہ رکھتے ہوں(فَإِنْ اُعْطُوا مِنْھَا رَضُوا)، "لیکن اگر کوئی چیز انہیں نہ دی جائے تو سیخ پا اور ناراض ہو جاتے ہیں" اور تم پر بے عدالتی کی تہمت لگاتے ہیں(وَإِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْھَا إِذَا ھُمْ یَسْخَطُونَ)۔ لیکن اگر وہ اپنے حق پر راضی ہو جائیں اور جو کچھ خدا اور اس کا پیغمبرؐ انہیں دیتا ہے اس پر راضی رہیں اور کہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے اگر مزید ضرورت پڑی تو خدا اور پیغمبرؐ اپنے فضل و کرم سے عنقریب ہم پر بخشش کریں گے، ہم صرف اسی کی رضا چاہتے ہیں اور اس سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے مال سے بے نیاز کر دے اگر وہ ایسے کریں تو ان کے فائدے میں ہے(وَلَوْ اَنَّھُمْ رَضُوا مَا آتَاھُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ سَیُؤْتِینَا اللهُ مِنْ فَضْلِہِ وَرَسُولُہُ إِنَّا إِلَی اللهِ رَاغِبُون)۔

آج کے مسلمان معاشروں میں ایسے لوگ

کیا آج کل اسلامی معاشروں میں اس قسم کے لوگ نہیں پائے جاتے؟ کیا تمام لوگ اپنے جائز حق پر قانع ہیں؟ اور جو انہیں ان کے حق کے مطابق دے کیا سب لوگ اسے عدالت پیشہ سمجھتے ہیں؟ یقینا ان سوالات کا جواب منفی ہے، انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی بھی بہت سے ایسے افراد ہیں جو حق اور عدالت کا میعار صرف اپنے ذاتی مفادات کو سمجھتے ہیں اور اپنے حقوق پر قناعت نہیں کرتے، اگر کوئی سب کو خصوصا محروم لوگوں کو ان کا جائز حق دینا چاہے تو ایسے افراد شور مچانا شروع کر دیتے ہیں لہٰذا ضرورت نہیں کہ منافقین کی پہچان کے لئے صفحات تاریخ ہی کی ورق گردانی کی جائے، ایک نگاہ اپنے گرد و پیش پر ڈال لیں بلکہ ہم اپنے اوپر ہی نظر ڈال لیں تو اپنی اور دوسروں کی کیفیت معلوم ہو جائے گی۔ پروردگارا: روح ایمان ہم میں زندہ کر دے،شیطانی فکر اور نفاق ہم میں سے محو کر دے اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ اپنے آپ کو اس طرح آراستہ کریں کہ صرف اپنے حق پر قناعت کریں نہ دوسروں پر ظلم کریں اور نا ہی دوسرے کے حقوق غصب کرنے کو عدالت سمجھیں، ہمیشہ عدالت خواہاں رہیں اور عدالت کا اجراکریں۔

60
9:60
۞إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
زکوٰۃ فقیروں ‘ مسکینوں کے لئے اور ان لوگوں کیلئے جو اس کے جمع کرنے میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور ان افراد کے واسطے ہے جن کی تالیف قلوب کیلئے اقدام کیا جائے، غلاموں کی آزادی کیلئے اوراللہ (کے قوانین کی تقویت) کی راہ میں اور راستے میں رہ جانے والے مسافروں کیلئے ہے اور یہ ایک (اہم) خدائی فریضہ ہے اور خدا دانا و حکیم ہے۔

مصارف زکوٰة اور اس کی تفصیلات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سلسلے میں تاریخ اسلام میں دو دور نمایاں دکھائی دیتے ہیں ایک مکہ کے قیام کا زمانہ جس میں رسول اکرمؐ اور مسلمانوں کی توجہ افراد کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ پر لگی ہوئی تھی۔ دوسرا مدینہ منورہ کا ہے جس میں رسولؐ اللہ نے حکومتِ اسلامی کی تشکیل اور تعلیمات اسلامی کو اس صالح حکومت کے ذریعے عملی صورت دینے اور جاری کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں شک نہیں کہ حکومت کی تشکیل کے وقت ایک ابتدائی اور نہایت ضروری مسئلہ بیت المال کی تشکیل ہے تاکہ اس کے ذریعے حکومت کی اتقصادی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور یہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کا ہر ایک حکومت کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ جیساکہ ہم ان شاءاللہ اس کے بعد اشارہ کریں گے کہ زکوٰة کا حکم پہلے مکہ مکرمہ میں بھی نازل ہوا تھا۔ لیکن اس میں زکوٰة کی رقم کا بیت المال میں جمع کرنا واجب نہ تھا۔ بلکہ لوگ اسے خود ادا کرتے تھے۔ لیکن مدینہ منورہ میں اسے جمع کرنے اور مرکزیت دینے کا حکم خداوند عالم کی طرف سے سورہ توبہ کی آیت ۱۰۳ میں نازل ہوا۔ زیر بحث آیت جس کے بارے میں یہ تسلیم شدہ ہے کہ وہ زکوٰة حاصل کرنے کو واجب قرار دینے والی آیت کے بعد ہے (اگرچہ قرآن میں اس کا ذکر پہلے بھی کیا گیا ہے ) زکوٰة کے مختلف مصارف بیان کرتی ہے۔ قابل توجہ یہ ہے کہ اس آیت کے شروع میں لفظ " انما " ہے جو حصر پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض خود غرض اور جاہل یہ امید رکھتے تھے کہ وہ استحقاق کے بغیر زکوٰة میں سے کچھ حصہ وصول کر لیں مگر لفظ" انما" نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے کی دو آیتوں سے یہی معنی نکلتے ہیں کہ بعض لوگ رسول اللہ پر اعتراض کرتے تھے کہ آپ زکوٰة کا کچھ حصہ ہمارے اختیار میں کیوں نہیں دیتے؟ یہاں تک کہ وہ محرورمی کی صورت میں آگ بگولہ ہو جاتے لیکن اس کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے۔ بہرحال، مندر جہ بالاآیت واضح طور پر زکوٰة کے واقعی اور حقیقی مصارف بیان کرکے تمام بے جا توقعات کو ختم کر رہی ہے اور ان مصارف کی آٹھ قسمیں مقرر کرتی ہے: ۱ ۔ فقراء : سب سے پہلے واضح کرتی ہے " صدقات و زکوٰة فقیروں کے لئے " (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ)۔ ۲۔ مساکین ۳۔ "عاملین " زکوٰة جمع کرنے والے (وَالْعَامِلِینَ عَلَیْہَا)۔ یہ جماعت اس عملے اور کار کنان کی ہے جو زکوٰة جمع کرتے اور اسلامی بیت المال کا انتظام و انصرام کرتے ہیں۔ جو کچھ ان کو دیا جاتا ہے وہ درحقیقت ان کی مزدوری ہے۔ ۴ ۔ "موٴلفة قلوبھم" یعنی وہ لوگ جس میں اسلام کی ترقی کے لئے کوئی مضبوط روحانی جذبہ نہیں ہے لیکن مالی تشویق کے ذریعے ان کی تالیف ِ قلوب ہو سکتی ہے ان کی محبت حاصل کی جا سکتی ہے۔ "وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُہُمْ" کی مزید توضیح بعد میں آئے گی۔ ۵۔ غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے (وَفِی الرِّقَابِ)۔ یعنی زکوٰة کا ایک حصہ ایک حصہ غلامی کے خلاف جہاد کرنے اور ا سکے خلاف انسانیت کام کو ختم کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ نیز جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غلاموں کے بارے میں اسلام کا پروگرام ان کی تدریجی آزادی ہے۔ جس کا آخری نتیجہ تمام غلاموں کو آزادی دلانا ہے۔ بغیر اس کے کہ معاشرے کی طرف سے کوئی ناپسند یدہ ردِّ عمل کیاجائے یہ بھی اسی پروگرام کا ایک حصہ ہے کہ زکوٰة کا ایک حصہ اس مقصد کے لئے مختص کیا جا تا ہے۔ ۶۔ ایسے قرض داروں کے قرض کی ادائیگی جو کسی جرم و خطا کے بغیر قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اسے ادا رکر نے کی طاقت نہیں رکھتے (وَالْغَارِمِینَ) ۷۔ خدا کے راستے میں (وَفِی سَبِیلِ اللهِ )۔ جیسا کہ ہم مذکورہ آیت کے آخر میں اشارہ کریں گے کہ اس سے مراد تمام راستے ہیں جن سے دین الہٰی کو وسعت ملتی ہو اور تقویت ملتی ہو، مثلاً جہاد اور تبلیغ وغیرہ۔ ۸۔ وہ جو سفر میں محتاج ہو جائیں (وَاِبْنِ السَّبِیلِ)۔ یعنی ایسے مسافر جو کسی وجہ سے راستے میں رہ جائیں اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے حسب ضرورت زاد راہ اور سواری نہ رکھتے ہوں۔ اگرچہ وہ فقیر اور نادار نہ ہوں۔ مگر وہ چوری، بیماری یا مال گم ہونے یا کسی اور سبب سے اس حالت میں مبتلا ہوں۔ اس قسم کے افراد کو زکوٰة سے اس قدر رقم دی جائے کہ وہ اطمنان سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکیں۔ آیت کے آخر میں تاکید کے عنوان سے گذشتہ مصارف کے بارے میں فرمایا گیا ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے (فَرِیضَةً مِنْ اللهِ)۔ اس میں شک نہیں کہ یہ فریضہ انتہائی جچا تلا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی بہتری کے لئے جامع ہے کیونکہ خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔

چند اہم نکات

۱۔ "فقیر" اور "مسکین" میں فرق: مفسرین میں اس امر کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ فقیر اور مسکین کا ایک ہی مفہوم ہے۔ اس لئے تاکید کے طور پر مذکورہ بالا آیت میں دو الفاظ آئے ہیں۔ اس بنا پر مصارف زکوٰة سات ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ اکثر مفسرین اور فقہا نے دوسرے احتمال کو مانا ہے اور اس نظریہ کے طرفداروں نے بھی ان دونوں لفظوں کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے لیکن جو زیادہ قرین نظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فقیر وہ شخص ہے جو زندگی کو تنگی ترشی سے گذارتا ہو باوجود اس کے کہ کوئی کام کاج بھی کرتا ہو اور کبھی کسی سے سوال نہ کرتا ہو لیکن مسکین وہ شخص ہے جو زیادہ ضرورت مند ہو اور کوئی کام بھی نہ کرسکتا ہو اس لئے ہر ایک سے سوال کرتا ہو۔ شاید یہ بات مسکین کی بنیادی معنی سے لی گئی ہے یہ لفظ " سکون " کے مادہ سے ہے۔ یعنی اس قسم کا فرد شدید ناداری کی وجہ سے زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہے۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں لفظوں کے استعمال کو قرآن مجید میں دیکھنے سے اسی معنی کی تائید ہو تی ہے چنانچہ ہم سورہٴ بلد کی آیت ۱۶ میں پڑھتے ہیں :۔ اَو مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَة یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلائے۔ سورہٴ نساء کی آیت ۸ میں ہے:۔ "و اذا حضر القسمة اولوا القربیٰ و الیتامیٰ والمساکین فارزقوھم" جس وقت رشتہ دار، یتیم اور مسکین ورثے کے وقت موجود ہو تو اس میں سے کچھ نہ کچھ انھیں دے دو۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مساکین سے مراد سوالی ہیں جو کبھی کبھی ایسے موقع پر آ نکلتے ہیں۔ سورہٴ قلم کی آیت ۲۴ میں ہے:۔ ان لا یدخلنھا الیوم علیکم مسکین آج کوئی مسکین تمہاری کھیتی باڑی کے احاطہ میں داخل نہ ہونے پائے۔ جو سوال کرنے والوں کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح "اطعام مسکین" یا "طعام مسکین" کی تعبیر قرآن مجید کی بہت سی آیا ت میں ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ مساکین وہ بھوکے لوگ ہیں جو کھانے کے ایک وعدہ تک کہ محتاج ہیں۔ جبکہ فقیر کا لفظ جن جن آیات قرآنی میں آیا ہے ان سے بخوبی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ ان آبرومند لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو نادار تو ہیں مگر کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔ مثلاً سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۳ میں ہے:۔ للفقرآء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا یسطتیعون ضرباً فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف۔ ایسے فقیروں پر خرچ کرنا چاہئیے جو خدا کے راستے میں گرفتار ہوئے ہیں اور اپنی ظاہری حالت ایسی اچھی رکھتے ہیں کہ جاہل ان کی عزتِ نفس کو دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ مالدار اور خوشحال ہیں۔ ان تمام چیزوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس روایت میں جو محمد بن مسلم نے حضرت امام صادق علیہ السلام یا امام محمد باقر علیہ السلام نے نقل کی ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت- سے " فقیر" اور "مسکین" کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: الفقیر الذی لایسئل و المسکین الذی ھو اجھد منہ الذی یسئل۔ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا ہے اور مسکین کی حالت اس سے زیادہ سخت ہوتی ہے وہ ایسا شخص ہے جو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور مانگتا ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیوہ جلد ۶ ص ۱۴۴ ابواب مستحقین زکوٰة باب ۱ حدیث ۲) یہی مضمون ایک دوسری حدیث میں ابو بصیر کے ذریعے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے اور ہر دو احادیث مفہوم مذکورہ بالا کی تصریح کرتی ہیں۔ البتہ کچھ قرائن اس کے خلاف بھی گواہی دیتے ہیں لیکن اگر تمام قرائن پیش نظر رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ ۲۔ کیا زکوٰة آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کی جائے گی؟ بعض مفسرین اور فقہاءکا یہ نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ زکوٰة کا مال آٹھ حصوں میں مساوی مساوی تقسیم کیا جائے اور ہر ایک حصہ اپنے ہی مصرف میں خرچ کیا جائے مگر یہ کہ مالِ زکوٰة کی مقدار اتنی کم ہو کہ وہ آٹھ حصوں میں نہ باٹا جا سکے۔ لیکن فقہاء کی بہت بڑی اکثریت اس نظر یہ کی حامی ہے کہ مندر جہ بالا آٹھ اصناف ایسی ہیں کہ جن میں زکوٰة کو صرف کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں تقسیم کرنا واجب نہیں ہے۔ حضرت رسول اکرم، آئمہ اطہار علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی سیرت قطعی بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے علاوہ ازیں، چونکہ اسلامی مالیات میں سے ایک مالیہ ہے اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اسے رعایا سے وصول کرے اور اس کے نفاذ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سے اسلامی معاشرے کی گوناگوں ضروریات پوری ہوں اس لئے فطرتاً اس کے مصرف کی کیفیت آٹھوں مصارف میں سے ایک طرف اجتماعی ضروریات سے وابستہ ہے اور دوسری طرف اسلامی حکومت کی فکرو نظر سے۔ ۳۔زکوٰة کس وقت وجب ہوئی تھی؟ قرآن کی مختلف آیات مثلاً اعراف ۱۵۶، نمل ۳، لقمان ۴، سورہٴ حم السجدہ آیت ۷ سے جو سب کی سب مکی ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وجوب زکوٰة کا حکم مکہ مکرمہ میں نازل ہوا اور مسلمان اس اسلامی فرض کی بجا آوری کے پابند تھے لیکن جب رسول اللہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اور اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی تو فطری طور پر بیت المال کے قیام کی ضرورت پڑی چنانچہ خداوند عالم کی طرف سے آپ کو حکم ملا کہ آپ مسلمانوں سے خود زکوٰة وصول کریں (نہ کہ وہ خود اپنے رائے اور مرضی سے اسے صرف کریں) آیہٴ شریفہ :۔ خذ من اموالھم صدقہ ان کے مال سے زکوٰة لو ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (توبہ۔ ۱۰۳) اسی مو قع پر نازل ہوئی۔ اور مشہور یہ ہے کہ یہ حکم ہجرت کے دوسرے سال میں آیا تھا۔ اس کے بعد زکوٰة کے مصارف جز یاتی تفصیل کے ساتھ اس آیت میں نازل ہوئے جس پر ہم بحث کررہے ہیں۔ یعنی سورہٴ توبہ کی آیت ۶۰ اور یہ کوئی تعجب کی با ت نہیں ہے کہ زکوٰة لینے کاحکم آیت ۱۰۳ میں آیا ہے اور ا س کے مصارف کا تذکرہ ہجرت کے نویں سال آیت ۶۰ میں ہوا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آیات قرآن کو جمع ترتیب، تاریخ نزول ِ قرآن کے مطابق نہیں ہے بلکہ حکم رسول سے ہر ایک آیت مناسب مقام پر رکھی گئی ہے۔ ۴۔ "موٴلفة قلبھم" سے مراد کون لوگ ہیں؟ جو کچھ "موٴلفة قلوبھم" کی تعبیر سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مصارف زکوٰة میںسے کچھ روپیہ ان اشخاص پر خرچ کیا جاتا ہے کی تالیف قلب مقصود ہوتی ہے لیکن کیا ان سے مراد وہ کا فر اور غیر مسلم، ہیں جن کو جہاد میں مدد پر آمادہ کرنے کے لئے زکوٰة دی جاتی ہے ؟ یا اس میں ضعف الایمان مسلمان بھی شامل ہیں؟ جس طرح ہم فقہی مباحث میں کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت اور اسی طرح چند ایک روایات جو اس سلسلے میں ہیں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہیں۔ اور یہ ان تمام لوگوں کے بارے میں ہیں جن کو مال دینے سے اسلام اور اہل اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کے صرف کافروں کے لئے ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ۵۔ اسلام میں زکوٰة کی اہمیت اور اثر :۔ اس امر کے پیش نظر کے اسلام صرف اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتبِ فکر کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا۔ بلکہ وہ ایک ایسے جامع دستور و آئین کے طور پر ظہور میں آیا ہے جس میں تمام مادی اور روحانی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے۔ نیز جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام نے پیغمبرؐ کے عہد سے ہی حکومت کی بنیاد رکھی، اسی طرح السام محروم لوگوں کی حمایت اور طبقاتی فاصلوں سے جنگ آزمائی پر خاص توجہ دیتا ہے تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بیت المال اور زکوٰة کی کس قدر اہمیت ہے۔ کیونکہ زکوٰة بیت المال کی آمدنی کا ایک سر چشمہ ہے اور یہ اس سلسلے میں اہم ترین کردار کرنے والے امور میں سے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں ایسے بیکار، بیمار، یتیم، لاوارث اور محتاج و معذور افراد ہوتے ہیں کن کی امداد کرنا از بس ضروری ہے۔ نیز دشمن کے حملے کے وقت سرفروش مجاہدین کی ضرورت ہے جن کے اخراجات حکومت بر داشت کرتی ہے۔ اسی طرح اسلامی حکومت کے ملازمین عدلیہ، نشر و اشاعت کے وسیلوں اور دینی مراکز میں سے بھی ہر ایک کےلئے سرمایے کی ضرورت پڑتی ہے جو منظم اور اطمنان بخش مالی وسائل کے بغیر نہیں چل سکتے۔ اسی بنا پر اسلام میں زکوٰة جو مالی وسائل کی ایک قسم ہے اور جو آمدنی، تولید مال اور منجمد دولت پر لاگو مالیات میں شمار ہوتی ہے، ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں تک کہ یہ اہم ترین عبادت کے ہم پلہ قرار پائی ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ ہوا ہے۔ حد یہ ہے کہ زکوٰة کو قبولیتِ نماز کی شرط قرار دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ روایاتِ اسلامی حکومت کسی شخص یا چند افراد سے زکوٰة کا مطالبہ کرے اور وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور زکوٰة دینے سے انکار کر دیں تو وہ شمار ہوں گے اور ان پر پند و نصا ئح کا کوئی اثر نہ ہو تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنا بھی جائز ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ "من منع قیراطاً من الزکوٰة فلیس ھو بموٴمن، ولا مسلم ولا کرامة " جو شخص مال زکوٰة سے ایک قیراط(جو کہ چار رتی دانوں کے برابر وزن ہے ) نہ دے تو وہ مومن ہے اور نہ مسلمان اور نہ اس کی کوئی قدر و قیمت ہے۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ ج۶، ص۲۰ باب ۴ حدیث ۹)۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں زکوٰة کی حدود اور اس کی مقدار ایسی حکمت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے کہ اگر تمام مسلمان مالِ زکوٰة کی صحیح اور مکمل ادائیگی کریں تو اسلامی حکومت میں کوئی شخص فقیر اور نادار نہیں رہے گا۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ولو ان الناس ادوا زکوٰة اموالھم مابقی مسلم فقیرا محتاجا۔۔۔۔ و ان الناس ما افتقروا، ولا احتاجوا ولاجاعوا، ولا عروا، الا بذنوب الاغنیآء اگر تمام لوگ اپنے اپنے مال کی زکوٰة دیں تو کوئی مسلمان فقیر و محتاج نہ رہے گا اور لوگ مالداروں کے گناہوں کی وجہ سے ہی فقیر، محتاج اور بھوکے ننگے ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ ج ۶ ص۴ (باب ۱ حدیث ۶ ابواب زکوٰة)۔ نیز روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی اصل ملکیت کی حفاظت اور اس کی بنیادوں کی مضبوطی کا سبب ہے۔ اسی طرح اگر لوگ اس اہم بنیادی اسلامی فریضة کو بھلا دیں تو مختلف گروہوں کے درمیان اس قدر دوری ہو جائے گی کہ اہل ثروت کا مال خطرے میں پڑ جائے گا حضرت موسی بن جعفرؑ فرماتے ہیں : حصنوا اموالکم بالزکوٰة اپنے مال کی زکوٰة دے کر محفوظ کرلو۔ وسائل ج۶ ص ۶ (باب ۱ حدیث ۱۱ ابواب زکوٰة )۔ یہی مضمون حضرت پیغمبرؐ اکرم اور امیر المومنین علیہ السلام سے بھی دوسری احادیث میں منقول ہے۔ مزید معلوم مات کے لئے وسائل الشیعہ کی چھٹی جلد کے ابواب ایک، تین، چار، اور پانچ کی طرف رجوع فر مائیے۔ ۶۔ "لام" اور "فی"کا فرق:۔ آخری نکتہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے کہ آیت میں چار گروہوں کے ساتھ لفظ "لام " لگایا گیا ہے (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبھُمْ )۔ یہ عام طور پر ملکیت کی نشانی ہے۔ دوسرے چار گروہوں کے لئے لفظ "فی" آیا ہے (وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ )۔یہ "فی" زیادہ مصرف کے بیان کے لئے ہے۔ (تشریحی نوٹ: خیال رہے کہ دو مقامات پر "فی" صراحت کے ساتھ ہے اور دو جگہ مجرور"فی" پر عطف ہے۔ جیسے "لام" کا ایک جگہ پر ذکر ہے اور باقی اسی پر عطف ہے۔ مفسرین میں اس اختلاف تعبیر کی تفسیر میں اختلاف ہے)۔ بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے چار گروہ زکوٰة کے مالک ہیں اور دوسرے چار گروہ مالک نہیں صرف جائز ہے کہ زکوٰة ان پر صرف کی جائے۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ تعبیر کا یہ اختلاف ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے چار گروہ زیادہ مستحق ہیں کیونکہ لفظ " فی " ظرفیت کے بیان کےلئے ہے۔ یعنی یہ چار زکوٰة کے ظرف ہیں اور زکوٰة ان کی مظروف ہے جبکہ پہلے گروہ ایسے نہیں ہیں لیکن ہم نے یہاں ایک اور احتمال کو انتخاب کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ چھ گروہ فقراء، مساکین، عاملین، موٴلفہ قلوبھم، غارمین اور ابن سبیل جن کا ذکر فی کے بغیر ہے۔ برابر ہیں اور ایک دوسرے پر عطف ہیں اور دوسرے دو گرہ جو کہ "فی الرقاب" اور "فی سبیل اللہ" ہیں اور جو لفظ "فی" کے ساتھ ہیں وہ ایک مخصوص شکل رکھتے ہیں۔ شاید یہ تعبیر کا فرق اس لحاظ سے وہ کہ چھ گروہ تو مالک زکوٰة ہو سکتے ہیں اور خود اور خود انھیں زکوٰة دی جا سکتی ہے (یہاں تک کہ ایسے مقروض لوگ جو اپنا قرض ادا نہ کر سکیں البتہ اس صورت میں جبکہ یہ اطمنان ہو کہ وہ اسے اپنے قرض کی ادائیگی خرچ کریں گے ) لیکن باقی دونوں زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے۔ اور نہ خود انھیں دی جائے گی بلکہ ان کے لئے خرچ کی جائے گی۔ مثلاً غلاموں کو مالِ زکوٰة سے خرید کر آزاد کیا جائے۔ واضح ہے کہاس طرح زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے۔۔ اسی طرح وہ مواقع کہ جو"فی سبیل اللہ"کے مفہوم میں آتے ہیں۔ مثلا جہاد کا سازو سامان اور اسلحہ مہیا کرنا یا مسجد بنانا اور دینی مراکز قائم۔ اس قسم کے امور میں کوئی بھی زکوٰة کا مالک نہیں ہے بلکہ وہ اس کے مصرف ہیں۔ غرضیکہ تعبیر کا یہ فر ق اس بات کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ قرآنی تعبیرات کس قدر جچی تلی ہیں۔

61
9:61
وَمِنۡهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلنَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٞۚ قُلۡ أُذُنُ خَيۡرٖ لَّكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِينَ وَرَحۡمَةٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ خوش باور اور ہمہ تن گوش ہیں کہہ دو کہ اس کا خوش فہم ہونا تمہارے فائدے میں ہے (لیکن جان لو) وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور (صرف) مومنین کی تصدیق کرتا ہے اور تم میں سے ان لوگوں کیلئے رحمت سے جو ایمان لائے ہیں جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔

شان نزول یہ خوبی ہے عیب نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آیت مذکورہ کی کئی ایک شانِ نزول بیان کی گئی ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ لوگ ایک دوسرے کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت رسول اکرم کے متلعق نازیبا اور ناپسندیدہ باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا "ایسا نہ کرو" کیونکہ ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں یہ باتیں محمدؐ کے کان تک نہ پہنچ جائیں اور کہیں وہ ہمیں برا بھلا نہ کہے (اور لوگوں کو ہمارے خلاف نہ ابھارے ) ان میں سے ایک نے جس کا نام"جلاس " تھا کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہم جو چاہیں گے اور اگر اس کے کانوں تک یہ بات پہنچ گئی تو ہم اس کے پاس جا ئیں گے اور انکار کر دیں گے اور وہ ہماری بات قبول کر لیں گے کیونکہ محمدؐ خوش باور اور قول کو تسلیم کرنے والا ہے اور جو شخص جو بات بھی کہے اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس وقت آیتِ بالا نازل ہوئی اور اس کے ذریعے انھیں جواب دیا گیا۔

تفسیر

اس آیت میں جیسا کہ اس کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ایک یا کئی افراد کے بارے میں گفتگو ہے جو پیغمبرؐ اکرم کو اپنی باتوں سے تکلیف پہنچاتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ خوش باور اور قول کا اعتبار کرنے والا ہے (وَمِنْھمْ الَّذِینَ یُؤْذُونَ النَّبِیَّ وَیَقُولُونَ ہُوَ اُذُنٌ )۔ "اُذُن" اصل میں کان کے معنی میں ہے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان لوگوں کو جو دوسروں کی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اصطلاحاً (فارسی میں) انھیں"گوشی" کہتے ہیں ان کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے(تشریحی نوٹ: اردو میں اسے "ہمہ تن گوش" بھی کہا جاتا ہے۔ (مترجم) وہ لوگ حقیقت میں رسول اکرم کی ایک خوبی کو جس کا ایک رہبر میں ہو نا نہایت ضروری ہے، ایک برائی کے لباس میں پیش کرتے تھے اور وہ اس حقیقت سے بےخبر تھے کہ ایک محبوب رہبر کے لئے ضروری ہے کہ انتہائی لطف و محبت کا مظاہرہ کرے اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو عذر اور معذرت کو قبول کرے اور ان کے عیب چھپائے۔ مگر وہاں نہیں جہا ں اس کا برا اثر پڑے۔ اسی لئے قرآن اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر پیغمبرؐ تمہاری باتوں کی طرف کان دھرتا ہے اور تمہارے عذر قبول کرتا ہے اور تمہارے گمان میں ہمہ تن گوش اور جلدی اعتماد کرنے والا ہے، تو یہ بات تمہارے فائدے میں ہے (قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ )۔کیونکہ اس طرح وہ تمہاری عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے اور تمہارے وقار کو ٹھیس نہیں لگاتا اور تمہارے خیالات و جذبات کو مجروح نہیں کرتا اور اس طریقے سے تمہاری محبت، اتحاد اور وحدت کے لئے کوشاں ہے۔ کیونکہ اگر وہ فوراً پردہ اٹھا دیتا اور جھوٹوں کو ذلیل و رسوا کرتا تو تمہارے لئے بڑی کٹھن صورت حال ہوتی۔ علاوہ ازیں، اگر ایک جماعت کے عزت و آبرو ختم ہو جاتی تو پھر اس کے لئے توبہ اور باز گشت کا راستہ بند ہو جاتا۔ اور و ہ گنہ گار لوگ جو ہدایت کے قابل تھے بدکاروں کی صف میں جا کھڑے ہوتے اور پیغمبرؐ کے پاس سے دور ہوتے جاتے۔ ایک ہمدرد اور مہر بان قائد کو جبکہ وہ پختہ کار اور دانا بھی ہے، ان سب باتوں کو سمجھنا چاہئیے لیکن ایسی بہت سی چیزوں کو زبان پر نہیں لانا چاہئیے تاکہ وہ افراد جو تربیت کی اہلیت رکھتے ہیں انکی تربیت ہو جائے اور ا س کے مکتب سے نہ بھاگیں اور لوگوں کے اسرار بھی ظاہر نہ ہوں۔ اس کا آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا عیب جوئی کرنے والوں کے جواب میں کہتا ہے: "ایسا نہیں ہے کہ وہ سب کی باتوں کو قابل اعتنا سمجھتا ہے بلکہ سمجھتا ہے بلکہ وہ ایسی باتوں پر کان دھرتا ہے جو تمہارے فائدے میں ہوں یعنی خدا کی وحی کو سنتا ہے، مفید تجویز پر کان دھرتا ہے اور لوگوں کی عذر خواہی ایسے مواقع پر قبول کرتا ہے جبکہ وہ ان کے اور معاشرے کے مفاد میں ہو"۔ (تشریحی نوٹ: درحقیقت، تفسیر اول کی بنا پر "اذن خیر" جو کہ مضاف مضاف الیہ ہے، صفت موصوف کی طرف اضافت کی قسم سے ہے اور دوسری تفسیر کی بنا پر وصف کی طرف اجافت کے قبیل سے ہے۔ پہلے احتمال کی بنا پر عبارت کے معنی اس طرح ہوں گے " وہ تمہارے لئے بات کو قبول کرنے والا اور اچھا سخن پذیر ہے اور دوسرے احتمال کی بنا پر اس کا مفہوم یہ ہے "وہ اچھی باتوں کو تمہارے فائدے اور نفع کے لئے سنتا ہے")۔ اس کے بعد اس وجہ سے کہ عیب جوئی کرنے والے کہیں اس بات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا ئیں اور اسے سند قرار نہ دے لیں یہ اضافہ فرماتا ہے: وہ خدا اور اس کے احکامات پر ایمان رکھتا ہے اور سچے مومنوں کی باتوں پر کان دھرتا ہے، انھیں قبول کرتا اور ان پر اقدام کرتا ہے (یُؤْمِنُ بِاللهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ )۔ یعنی حقیقت میں پیغمبرؐ دو قسم کے پروگرام رکھتے ہیں ایک ظاہر کی محافظت اور پردہ دری سے اجتناب اور دوسرا عمل کا مرحلہ۔ پہلے مرحلے میں آپ سب کی باتوں کو سنتے ہیں اور بظاہر انکار نہیں۔ لیکن عمل کے مقام میں ان کی توجہ صرف احکاماتِ خدا اور سچے مومنین کی تجاویز اور باتوں کی طرف ہوتی ہے اور حقیقت پسند قائد کو ایسا ہی ہو نا چاہئیے۔ کیونکہ معاشرے کے مفادات کا تحفظ اس طریقے کے بغیر ممکن نہیں اس لئے خداوندِ عالم بلا فاصلہ فرماتاہے: وہ تم میں سے مومنین کےلئے رحمت ہے (وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ )۔ اس مقام پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ ہم چند آیات میں پڑھتے ہیں کہ پیغمبرؐ رحمة للعالمین ہیں (سورہٴ انبیاء ۱۰۷) لیکن مذکورہ آیت کہتی ہے کہ آپ صرف مومنین کے لئے رحمت ہیں۔ کیا وہ عمومیت اس تخصیص کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے؟ مگر ایک نکتہ کی طرف توجہ دینے دے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رحمت کے کئی درجات اور مراتب ہیں جن میں ایک مرتبہ قابلیت اور استعداد ہے اور دوسرا مرتبہ فعلیت ہے۔ مثلاً بارش اللہ کی رحمت ہے یعنی یہ قابلیت اور اہلیت اس کے سب قطروں میں پائی جاتی ہے کہ وہ خیر و برکت، نشو ونما اور حیات کا سبب بنیں۔ لیکن یہ تسلیم شدہ ہے کہ اس رحمت کے آثار کا ظہور صرف انہی زمینوں پر ہوتا ہے جو اس کے قابل ہوں اس وجہ سے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بارش کے سب قطرے" رحمت " ہیں اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ بارش کے یہ قطرے اہل اور قابل زمینوں کے لئے باعث رحمت ہیں۔ پہلا جملہ اہلیت اور قابلیت کی طرف اور دوسرا جملہ وجود اور فعلیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح حضرت پیغمبرؐ اکرم قابلیت اور استعداد کی رو سے تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں لیکن آپ عملی طور پر مومنین کے لئے مخصوص ہیں۔ اب یہاں پر ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ کو اپنی باتوں سے اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں اور ان کی عیب جوئی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے یہ ٹھیک ہے کہ حضرت رسول اکرم ان کے بارے میں ایک ذمہ داری رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بزرگانہ اور فراخدلانہ برتاؤ کریں اور انھیں رسوا نہ کریں۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے اعمال کی سز انہ پائیں گے۔لہٰذا آیت کے آخر میں قرآن فرماتا ہے: وہ لوگ جو رسولِ خدا کو اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے (وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیم)۔

62
9:62
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوكُمۡ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ إِن كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ
وہ تمہارے سامنے خدا کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خوش رکھیں حالانکہ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کو راضی کریں اگر(وہ سچ کہتے ہیں اور) ایمان رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
9:63
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدٗا فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡخِزۡيُ ٱلۡعَظِيمُ
کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرے اس کیلئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ ایک بڑی رسوائی ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر نظر دونوں آیتیں گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہیں اور یہ طبعا اور فطرتاً اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہیں۔لیکن مفسرین کی ایک اور جماعت نے ان دونوں آیات کے بارے میں ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب جنگِ تبوک کی مخالفت کرنے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں تو منافقوں میں سے ایک نے کہا: خدا کی قسم ! یہ لوگ ہمارے بزرگ اور اشراف ہیں اور جو کچھ محمد ان کے بارے میں کہتا ہے سچ ہے تو پھر یہ چوپایوں سے بھی گئے گذرے ہیں۔ ایک مسلمان نے یہ بات سن کر کہا : خدا کی قسم ! جو کچھ آنحضرت کہتے ہیں وہ حق ہے اور تو چوپائے سے بھی بدتر ہے۔ جب یہ بات رسول اکرمؐ کے پاس پہنچی تو آپ نے کسی کو اس منافق کو بلانے کے لئے بھیجا اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ بات کیوں کہی ہے؟ تو اس نے قسم کھا کر کہا: میں نے یہ بات نہیں کہی۔ وہ مرد مومن جو اس کے خلاف تھا اسی نے یہ بات جا کر حضور سے کہی تھی اس نے دعا کی:۔خداوند! تو خود سچے کی تصدیق اور جھوٹے کی تکذیب فرما۔ اس وقت یہ آیاتِ مندرجہ بالانازل ہوئیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کھرا کر دیا۔

تفسیر منافقین کی ایک نشانی

منافقین کی ایک اور کھلی نشانی اور عمل بد یہ ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کر رہا ہے کہ وہ اپنی بدکرداری کو چھپانے کے لئے اپنی بہت سی کرتوتوں کا انکار کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں اور چاہتے تھے کہ جھوٹ موٹ قسموں کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دیتے رہیں اور انھیں اپنے آپ سے راضی رکھیں۔ مندرجہ بالا آیتوں میں ایک طرف قرآن اس بر عمل سے پردہ اٹھا کر ان کو ذلیل کرتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو بتادیتا ہے کہ وہ ان کی جھوٹی قسموں میں نہ آئیں۔ پہلے کہتا ہے: وہ تمہارے سامنے خدا کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خو ش رکھیں (یَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ لِیُرْضُوکُمْ)۔ ظاہر ہے کہ ان قسموں سے ان کا مقصد حقیقت بیان کرنا نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مکر و فریب سے حقیقت کا چہرہ تمہاری نظروں میں مسخ کر دیں اور اپنا مقصد حاصل کر لیں۔ اگر ان کا نصب العین اور مقصد یہ ہوتا کہ واقعاً سچے مومنین کو اپنے سے راضی کریں تو اس سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبرؐ کو راضی کر لیں۔حالانکہ انھوں اپنے کردار اور عمل سے خدا و رسول کو سخت ناراض کیا ہے۔ لہٰذا قرآن کہتا ہے: اگر وہ سچ کہتے ہیں اور ایماندار ہیں تو مناسب یہ ہے کہ وہ خدا اور پیغمبرؐ کو راضی کریں (وَاللهُ وَرَسُولُہُ اَحَقُّ اَنْ یُرْضُوہُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ)۔ قابل غور امر یہ ہے کہ اس جملے میں چونکہ خدا اور اس کے رسول کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تو قاعدے کے لحاظ سے ضمیر کو تثنیہ ہونا چاہئیے لیکن اس کے باوجود ضمیر "واحد" استعمال ہو ئی ہے (مراد یرضوہ کی ضمیر ہے) حقیقت میں اس تعبیر کا اشارہ اس طرف ہے کہ پیغمبرؐ کی رضا اور خدا کی رضا جدا جدا نہیں ہے اور رسول اسی چیز کو پسند کرتے ہیں جسے خداوند عالم پسند کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ "توحید افعالی" کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ خدا کے مقابلے میں اپنی طرف سے استقلال نہیں رکھتے۔ ان کی خو شی اور ناراضی سب خدا کے لئے ہے۔ ان کا سب کچھ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔ چند ایک روایات میں ہے کہ پیغمبرؐ اکرم کے زمانے میں ایک شخص نے اثنائے گفتگو میں یوں کہا: من اطاع اللہ ورسولہ فقد فاز و من عصاھما فقد غوی جس نے خدا اور اس کے پیغمبرؐ کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوا اور جس نے ان دونوں کی مخالفت کی وہ گمراہ ہوا۔ جب پیغمبرؐ نے یہ بات سنی کہ اس نے خدا اور پیغمبرؐ کو ایک درجے میں رکھا ہے اور تثنیہ کی ضمیر استعمال کی ہے تو آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا : بئس الخطیب انت ھلا قلت من عصی اللہ و رسولہ تم برے خطیب ہو تم نے اس طرح کیوں نہیں کہا کہ جو شخص خدا اور اس کے پیغمبرؐ کی نافرمانی کرے (بلکہ تم نے تثنیہ کی ضمیر استعمال کی ہے اور کہا ہے کہ جو ان دونوں کو حکم نہ مانے )۔(بحوالہ: تفسیر ابو الفتح رازی، آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ اس کے بعد کی آیت میں قرآن ایسے منافقوں کو سخت دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے: "کیا وہ نہیں جانتے کہ جو خدا اور اس کے رسول کی مخالفت اور دشمنی کرے اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (اَلَمْ یَعْلَمُوا اَنَّہُ مَنْ یُحَادِدْ اللهَ وَرَسُولَہُ فَاَنَّ لَہُ نَارَ جَھَنَّمَ خَالِدًا فِیہَا)۔اس کے بعد تاکید کے طور پر فرماتا ہے: یہ بڑی ذلت و رسوائی ہے (ذَلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیمُ)۔ "یحادو"، "محادة" کے مادہ سے ہے اور "حد" کی اصل سے ہے جو کنارہ، طرف اور کسی چیز کی انتہا کے معنی میں آتا ہے۔ چونکہ مخالفت اور دشمن افراد ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے ہیں اس لئے یہ "محادہ" کا مادہ عداوت اور دشمنی کا مفہوم رکھتا ہے جیسا کہ ہم روز مرہ کی گفتگو میں لفظ "ظرفیت" مخالفت اور دشمنی کے معنی میں بولتے ہیں۔

64
9:64
يَحۡذَرُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُورَةٞ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلِ ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ مُخۡرِجٞ مَّا تَحۡذَرُونَ
منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی آیت ان کے خلاف نازل ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھیدوں کی انہیں خبر دے دے کہہ دیجئے کہ استہزاء اور مذاق کر لو جس کا تمہیں ڈر ہے خدا اسے ظاہر کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
9:65
وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ
اگر تم ان سے پوچھو (کہ تم یہ برے کام کیوں کرتے ہو) تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مذاق کرتے ہیں۔ تو کہہ دو کہ کیا تم خدا، اس کی آیات اور اس کے پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہو ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
9:66
لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ إِن نَّعۡفُ عَن طَآئِفَةٖ مِّنكُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَةَۢ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
(کہہ دو) معذرت نہ کرو (وہ فضول ہے اس لئے کہ) تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو (توبہ) کی وجہ سے معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو عذاب میں مبتلا کریں گے کیونکہ وہ مجرم تھے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مذکورہ بالا آیتوں کی مختلف شانِ نزول نقل ہو ئی ہیں ان سب کا تعلق جنگ تبوک کے بعد منافقوں کی حرکتوں اور شرارتوں سے ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ منافقوں کی ایک جماعت نے خفیہ میٹنگ میں حضرت رسول اکرم کے قتل کی سازش کی۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جنگِ تبوک سے واپسی پر راستے کی ایک گھاٹی میں چپکے سے صورت بدل کر گھات میں رہیں گے اور جب رسول اللہ اپنی اونٹنی پر گذریں گے تو اونٹنی کو بدکائیں گے اور رسول اللہ کو قتل کر دیں گے۔ خدا نے اپنے پیغمبرؐ کو اس سازش کو اطلاع کر دی۔ آپ نے حکم دیا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ نگرانی کرے اور ان لوگوں کو تتر بتر کر دے جب حضرت رسول اکرم اس گھاٹی پر پہنچے تو آپ کی اونٹنی کی مہار حضرت عمار کے ہاتھ میں تھی اور حذیفہ اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے۔ رسول اللہ نے حذیفہ سے فرمایا کہ ان کی سواریوں کے منہ پر (چابک)مارو اور انھیں بھگا دو۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب آپ گھاٹی سے صحیح سلامت نکل آئے تو حضرت نے حذیفہ سے فرمایا تو نے انھیں پہنچانا نہیں؟ تو اس نے عرض کیا " نہیں میں نے تو ان میں سے کسی کو نہیں پہچانا۔ اس کے بعد حضرت پیغمبرؐ ان سب کے نام گنوائے۔ حذیفہ نے عرض کیا جب صور ت حال یہ ہے تو آپ ایک گروہ کو کیوں یہ حکم نہیں دیتے کہ وہ جا کر انھیں قتل کر دے۔ آپ نے فرمایا : میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ عرب یہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں پر کامیاب ہو گیا تو انھیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ یہ شانِ نزول حضرت امام محمد باقرؑ سے نقل ہوئی ہے اور حدیث و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں آئی ہے۔ ایک دوسری شانِ نزول یہ لکھی ہےکہ جب منافقوں نے جنگ تبوک میں دشمن کے مقابلے میں حضرت کی جگہ دیکھی تو مذاق کے طور پر کہنے لگے کہ یہ شخص گمان کرتا ہے کہ شام کے محل اور شامیوں کے مضبوط قلعے فتح کرے گا، یہ تو قطعی طور پر محال ہے۔ خداوند عالم نے اپنے پیغمبرؐ کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ نے حکم دیا کہ اس گروہ کا راستہ بند کر دیا جائے اس کے بعد آپ نے ا نھیں بلایا اور لعنت ملامت کی اور فرمایا کہ تم نے لوگوں سے یہ باتیں کی ہیں انھوں نے معافی مانگی کہ اس سے ہمارا کوئی خاص مقصد نہ تھا ہم تو مذاق کررہے تھے اور اس با ت پر قسم کھائی۔

تفسیر منافقین کا خطرناک پروگرام

گذشتہ آیات سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ منافق کس طرح قوت کے اسباب کو کمزوری کے ذرائع سمجھتے تھے اور مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلاف ڈالنے کےلئے پروپیکنڈے کرتے تھے۔ جن آیات پر بحث کی جارہی ہے ان میں ان کے منصوبوں اور طریق کار کے ایک اور حصے کی طرف اشارہ ہے پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا پیغمبرؐ اکرم کو منافقوں کی سازشوں سے بچانے کے لئے بعض اوقات ان کے اسرار سے پردہ اٹھا دیتا ہے اور ان سے مسلمانوں کی جماعت کو آگاہ کر دیتا تھا تاکہ وہ چوکنے ہو جائیں اور ان کے دھوکے میں نہ آئیں اور وہ بھی اپنی حیثیت کی طرف متوجہ رہیں اور اپنے دست و پا سمیٹ کر رکھیں۔ اس وجہ سے منافق اکثر اوقات خوف زدہ اور حیران و پریشان رہتے تھے۔ چنانچہ قرآن ان کی اس حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "منافق ڈرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو اس سے انھیں (مسلمانوں کو)آگاہ کر دے (یَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْہِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُھُم بِمَا فِی قُوبِھمْ)۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ پھر بھی انتہائی دشمنی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیغمبرؐ کے کاموں کا مذاق۱ڑانے سے باز نہیں آتے تمسخر اڑانے کا سلسلہ ترک نہیں کرتے لہٰذا خدا اس آیت کے آخر میں اپنے پیغمبرؐ سے فرماتا ہے: ان سے کہہ دو تم سے جتنا ہو سکے مذاق اڑاؤ، لیکن جان لو کہ جس چیز کا تمہیں خوف ہے خدا اسے ظاہر کر دے گا اور تمہیں ذلیل و رسوا کرکے رہے گا (قُلْ اسْتَہْزِوٴا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ)۔ البتہ استہزؤا " (ہنسی مذاق اڑاو) تہدید کی قبیل سے فعل امر ہے جیسے انسان اپنے دشمن سے کہتا ہے۔ جس قدر دکھ تکلیف تو پہنچا سکتا ہے پہنچا لے ہم ا س کا ایک ہی مرتبہ جواب دیں گے۔ اس قسم کی باتیں دھمکی کے موقع پر کی جاتی ہیں۔ ضمنی طور پر توجہ دیجئے تو اوپر والی آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ منافق دل میں پیغمبرؐ کی دعوت کی سچائی کو اچھی طرح جانتے تھے اور خدا سے آنحضرت کے ارتباط سے وہ خوب واقف تھے۔ لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرمی اور دشمنی کی وجہ سے ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے مخالفت کرتے تھے۔ اسی وجہ سے قرآن کہتا ہے: منافقوں کواس بات کا ڈر تھا کہ کہیں ان کے خلاف قرآنی آیا ت نازل ہوں اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو طشت از بام کر دیں۔ اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ " تنزل علیھم " کامطلب یہ نہیں ہے کہ اس قسم کی آیتیں منافقین پر نازل ہوتی تھیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ ان کے بارے اور ان کے خلاف تھیں اگرچہ حضرت رسول اکرمؐ پر نازل ہوتی تھیں۔ خدا اس کے بعد میں آنے والی آیت میں منافقین کے ایک اور منصوبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔ " اگر ان سے پوچھو کہ تم نے اس قسم کی غلط بات کیوں کی ہے اور اس قسم کی غلط حرکت کیوں کی ہے؟ تو کہتے ہیں کہ ہم دل لگی اور ہنسی مذاق کرتے تھے اور اس سے ہماری کوئی غرض نہ تھی (وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ )۔(تشریحی نوٹ: "خوض"(بر وزن"حوض" ) جیسا کہ کتب لغت میں ہے، آہستہ آہستہ پانی میں داخل ہونے کے معنی میں ہے بعد ازں بطور کنایہ مختلف کاموں میں داخل ہونے کے معنی میں بولا جانے لگا لیکن قرآن میں زیادہ تر بر کام شروع کرنے یا قبیح اور بری باتوں کا سلسلہ شروع کرنے کے مفہوم میں آیا ہے)۔ اصل میں یہ ایک انوکھی راہ فرار تھی۔ سوچ سمجھ کر سازشیں کرتے تھے اور زہریلی باتیں اس ارادے سے کرتے کہ ان کا راز ظاہر نہ ہو اور ان کا منحوس مقصد پورا ہو گیا تو اپنی دلی مراد پالیں گے اور اگر بھانڈا پھوٹ گیا تو اپنے آپ کو ہنسی مذاق کے پر دے میں چھپا لیں گے اور جھوٹ موٹ بہانہ بازیاں کرکے رسول اکرم اور لوگوں کی طرف سے سزا اور رد عمل سے بچ جائیں گے۔ اس زمانے کے منافق بلکہ ہر زمانے کے منافقوں کے منصوبے ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اس طریقے سے وہ بہت سے فائدے اٹھاتے ہیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن مقاصد کے وہ سختی سے پابند ہو تے ہیں انھیں عام مذاق اور دل لگی کے لباس میں پیش کرتے ہیں اگر اپنا مقصد پا لیا تو کیا کہنے ورنہ مذاق اور خوش طبعی کے بہانے سزا کے چنگل سے بچ جاتے ہیں۔ لیکن قرآن انھیں یقینی سزا دینے کا اعلان کرتا ہے اور رسالتِ مآب کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو کیا تم خدا، اس کی آیتوں اور ا س کے رسول کا مذاق اڑاتے ہو اور اس سے استہزا اور دل لگی کرتے ہو (قُلْ اَبِاللهِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنتُمْ تَسْتَہْزِئُونَ)۔یعنی کیا ہر ایک سے مذاق کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ خدا، پیغمبرؐ اور آیات قرآن کے ساتھ بھی؟ کیا پختہ ترین اسلامی اصول بھی ہنسی مذاق کے لائق ہیں؟ کیا حضرت رسول کرام کی اونٹنی کو بدکانا اور بھگانا اور اس خطرنا ک گھاٹی میں پیغمبرؐ کا گرنا۔ ایسی چیزیں ہیں جن کو مذاق کے پردے میں چھپایا جا سکے؟ یا آیات خداوندی کا مذاق اڑانا اور پیغمبرؐ کی آئندہ کامیابیوں کی پیش گوئیوں پر پھبتیاں کسنا بھی مزاح سمجھا جا سکتا ہے یہ سب باتیں گواہی دیتی ہیں کہ وہ خطرناک ارادے رکھتے تھے جنھیں ان پردوں میں چھپانا چاہئیے تھے۔ اس کے بعد خدا وند عالم نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم یدا ہے ہ منافقوں سے صراحت کے ساتھ کہہ دو کہ "ان فضول اور جھوٹے حیلے بہانوں سے باز آجاوٴ"(لاَتَعْتَذِرُوا )۔ " کیونکہ تم نے ایما ن کے بعد کفر کی راہ اختیار کرلی ہے (قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ )۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ بالا گروہ سے منافقوں کی صف میں نہ تھا بلکہ یہ لوگ کمزور ایمان رکھنے والوں کی صف میں تھے لیکن مندرجہ بالا واقعہ کے بعد انھوں نے کفر کا راستہ اختیار کر لیا۔ مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جماعت اس سے پہلے بھی منافقوں کے صف میں داخل تھی لیکن کیونکہ ان سے ظاہر بظاہر کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی اس لئے پیغمبرؐ اور مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ ان سے مومنوں کا سا سلوک کریں لیکن جب جنگِ تبوک کے واقعہ کے بعد پردہ ہٹا اور انکا کفر و نفاق ظاہر ہو گیا تو انھیں اس امر سے خبردار کیا گیا کہ تم آئندہ مومنین کی صف میں شمار نہ ہو گے۔ آخر کار آیت کو اس جملے پر ختم کیا گیا ہے: اگر ہم تم سے ایک جماعت کو بخش دیں تو دوسرے گروہ کو اس بنا پر کہ وہ مجرم ہے سزا دیں گے (إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْکُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِاَنَّہُمْ کَانُوا مُجْرِمِینَ)۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ ہم ایک گروہ کو ان کے جرم و خطا کی پاداش میں سزا دیں گے یہ اس بات کی دلیل ہے ایسے لو گ قابل معافی ہیں جنھوں نے گناہ اور جرم کی نشانیوں کو توبہ کے پانی سے دھو ڈالا ہے۔ آئندہ آیات مثلاً آیات مثلاً آیہ ۷۴ میں بھی اس بات کا قرینہ پایا جاتا ہے۔ اس آیت کے ضمن میں بہت سی روایتیں ہیں جو اس امر کی حخایت کرتی ہیں کہ ان منافقوں میں سے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہو چکا ہے بعض اپنے کئے پر پشمان ہوئے اور انھوں نے توبہ کی۔ لیکن کچھ دوسرے منافقو اپنے طریقے پر ڈٹے رہے۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۲۳۹ ملاحظہ فرمائیے۔

67
9:67
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ بَعۡضُهُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمُنكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَقۡبِضُونَ أَيۡدِيَهُمۡۚ نَسُواْ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمۡۚ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی گروہ سے ہیں وہ برے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو (سخاوت و بخشش) سے باندھ لیتے ہیں انہوں نے خدا کو فراموش کر دیا ہے اور خد انے ان کو بھلا دیا ہے یقیناً منافق فاسق ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
9:68
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ هِيَ حَسۡبُهُمۡۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّقِيمٞ
خد انے منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کیلئے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہی ان کے لئے کافی ہے اور خد انے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور ان کیلئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
9:69
كَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنكُمۡ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرَ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا فَٱسۡتَمۡتَعُواْ بِخَلَٰقِهِمۡ فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَٱلَّذِي خَاضُوٓاْۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
(تم منافق لوگ) ان افراد کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے وہ تم سے زیادہ طاقت ور تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے تم سے بڑھ چڑھ کر تھے انہوں نے (دنیا میں ) ہوا و ہوس اور گناہ کے ذریعے اپنے حصے سے استفادہ کیا تم نے بھی (اسی طرح) اپنے حصے سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ انہوں نے استفادہ کیا تھا تم (کفر نفاق اور مومنین کا مذاق اڑانے میں ) مگن ہو جیسے وہ مگن تھے لیکن آخر کار ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ملیا میٹ ہو گئے اور وہ خسارے میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
9:70
أَلَمۡ يَأۡتِهِمۡ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَقَوۡمِ إِبۡرَٰهِيمَ وَأَصۡحَٰبِ مَدۡيَنَ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتِۚ أَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
کیا انہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے قوم نوح‘ عاد‘ ثمود اور ابراہیم کی قوم اور اصحاب مدین (قوم شعیب) اور وہ شہر جو تہ و بالا ہوئے تھے (قوم لوط) کہ جن کے پیغمبر ان کی طرف روشن اور واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تھے۔خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔

تفسیر منافقوں کی نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیتوں میں بھی اسی طرح منافقین کے چال چلن اور نشانیوں کے بارے میں بحث ہے۔ پہلی زیر بحث آیت میں خداوند عالم ایک امر کلی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ نفاق کی روح مختلف شکلوں میں ظاہر ہو اور مختلف چہروں میں دکھائی دے ہو سکتا ہے شروع شروع میں متوجہ نہ کرے۔ خاص طور پر ہو سکتا ہے کہ روحِ نفاق کا اظہار ایک مرد کی نسبت ایک عورت میں مختلف طرح سے ہو۔ لیکن نفاق کے چہروں کے تغیر و تبدل سے دھوکا نہیں کھانا چاہئیے بلکہ غور و فکر کرنے سے بخوبی یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ وہ سارے صفات کے ایک ہی سلسلے میں جو ان کے قدر مشترک سمجھی جاتی ہے، شریک ہیں۔ اس لئے قرآن کہتا ہے: منافق مرد اور منافق عورتیں ایک ہی قماش کے ہیں (الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضھُمْ مِنْ بَعْضٍ)۔ اس کے بعد ان کی پانچ صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے: پہلی اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو برائیوں پر ابھارتے ہیں اور نیکیوں سے روکتے ہیں (یَاْمُرُونَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْھَوْنَ عَنْ الْمَعْرُوفِ)۔ یعنی بالکل سچے مومنین کے الٹ جو ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے طریقے سے معاشرے کی اصلاح اور اسے نجاست اور گناہ سے پاک کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ منافق ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر جگہ پر فساد پھیل جائے اور معروف اور نیکی معاشرے سے خم ہو جائے تاکہ وہ اس قسم کے ماحول میں اپنے برے مقصد بہتر طریقے سے حاصل کر سکیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دینے والا ہاتھ نہیں رکھتے بلکہ اپنے ہاتھوں کو باندھے ہوئے ہیں نہ وہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور نہ محروم اور بے کس لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے رشتہ دار اور دوست آشنا بھی ان کی مالی مد د سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے (وَیَقْبِضُونَ اَیْدِیَھُمْ)۔ واضح ہے کہ چونکہ وہ آخرت پر اور نفاق کے نتیجے اور جزا پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس لئے مال خرچ کرنے میں بہت ہی بخیل ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے برے اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے زیادہ مال خرچ کرتے ہیں یا ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر سخاوت اور بخشش کرتے ہیں لیکن وہ خدا کے نام خلوصِ دل سے کبھی کوئی نیک کام نہیں کرتے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ ان کے تمام کام، گفتار اور کردار بتاتے ہیں کہ وہ خدا کو بھول چکے ہیں، نیز ان کے طرز زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ " خدا نے بھی ان کو اپنی برکات، توفیقات، اور نعمات سے فراموش کر دیا ہے " اور ان دونوں فراموشیوں کے آثار ان کی زندگی سے آشکار ہیں (نَسُوا اللهَ فَنَسِیھُم)۔ واضح ہے کہ" نسیان "کی نسبت خدا کی طرف واقعی اور حقیقی بھلا دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ بھال دینے والے شخص کا سا سکوک کرتا ہے۔ یعنی انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور رکھتا ہے۔ یہ معاملہ روز مرہ کی زندگیوں میں بھی پایا جاتا ہے مثلا ًہم کہتے ہیں کہ چونکہ تو اپنی ذمہ داری کو بھول چکا ہے لہٰذا ہم بی مزدوری اور بدلے کے وقت تجھے بھول جائیں گے یعنی مزدوری اور بدلہ نہیں دیں گے یہی مفہوم روایاتِ اہل بیتؑ میں بار ہا بیان ہوا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۲۳۹، ۲۴۰ ملاحظہ فرمائیں)۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ یہ منافق فاسق ہوتے ہیں اور طاعتِ خداوندی کے دائرے سے خارج ہیں (إِنَّ الْمُنَافِقِینَ ھُمْ الْفَاسِقُونَ)۔ جو چکھ مندرجہ بالا آیت میں منافقین کی مشترکہ صفات کے بارے میں کہا جا چکا ہے وہ ہر زمانے میں دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے زمانے کے منافق اپنے خود ساختہ نئے اور جدید چہروں کے باوجود مذکورہ اصولوں کی رو سے گذشتہ صدیوں کے منافقوں کی طرح ہیں وہ برائی اور فساد کی طرف ابھارتے ہیں اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں بخیل اور کنجوس بھی ہیں اور اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں میں خدا کو بھول چکے ہیں وہ قانون شکن اور فاسق بھی ہیں اور نرالی بات یہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے باوجود خدا پر ایمان اور دینی اصولوں اور اسلامی بنیادوں پر یقینِ محکم کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد آیت میں ان کی سخت اور دردناک سزا اس مختصر سے جملے میں بیان کی گئی ہے: خدا منافق مردوں، منافق عورتوں، تمام کافروں اور بے ایمان افراد کے لئے جہنم کی آگ کا وعدہ کرتا ہے (وَعَدَ اللهُ الْمُنَافِقِینَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَھَنَّم)۔ وہ جلانے والی آگ کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے(خَالِدِینَ فِیھَا) اور یہی ایک سزا جو طرح طرح کے عذاب لئے ہوئے ہے ان کے ئے کافی ہے (ھِیَ حَسْبُھُمْ)۔ دوسرے لفظوں میں انھیں کسی سزا کی ضرورت نہیں کیونکہ جہنم میں ہر قسم کا جسمانی اور روحانی عذاب موجود ہے۔ اور آیت کے آخر میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ "خدا نے انھیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور ہمیشہ کا عذاب ان کے نصیب میں ہے" (وَلَعَنَھُمْ اللهُ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ)۔ بلکہ یہ خدا سے دوری خود عظیم ترین عذاب اور دردناک ترین سزا شمار ہوتی ہے۔

تاریخ کا ذکر اور درس عبرت

اس آیت میں منافقین کی جماعت کو بیدار کرنے کےلئے ان کے چہرے کے سامنے تاریخ کا آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور ان کی زندگی کا گذشتہ باغی منافقوں سے مقابلہ اور موازنہ کرکے مؤثر درسِ عبرت دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہےکہ: "تم گذشتہ منافقوں کی طرف ہو اور اسی برے راستے اور بد سرنوشت کے پیچھے پڑے ہوئے ہو" (کالّذین مِنْ قَبْلِکُمْ)۔انہی لوگوں کی طرح جو قوت و طاقت میں تم جیسے زیادہ اور مال و دولت کی رو سے تم سے بہت آگے تھے (کانوا اشدّ منکم قوة و اکثر اموالاً و اولاداً)۔ دنیا میں و ہ اپنے حصہ میں سے شہوتِ نفسانی، گندگی، گناہ، فتنہ فساد اور تباہ کاریوں سے بہرہ ور ہوتے ہوئے۔ تم بھی جو اس امت کے منافق ہو گزرے ہوئے منافقین کی طرح ہی حصہ دار ہو (فاستمعوا بخلاقھم فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بِخَلَاقِھِمْ )۔ "خلاق" لغت میں نصیب اور حصہ کے معنی میں ہے جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے یہ "خلق" سے لیا گیا ہے (یعنی اس جہت سے انسان اپنا نصیب اپنے خلق و خو کے مطابق اس دنیا میں حاصل کرتا ہے)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: تم کفر و نفاق میں اور مومنین کا مذاق اڑانے میں مگن ہو جیسا کہ ان امور میں وہ لوگ ڈوبے ہوئے تھے (وَخُضْتُمْ کَالَّذِی خَاضُوا )۔ (تشریحی نوٹ: "کالذی خاضوا" در اصل " کالذی خاضوا فیہ " ہے یا دوسرے لفظوں میں آج کل کے منافقین کے فعل کی تشبیہ گذرے ہوئے منافقین کے فعل سے ہے جیسے کہ گذشتہ جملے میں ان کے نعمات الہٰی سے راہ شہوت و خواہشات میں فائدہ اٹھانے کو گذرے ہوے منافقوں کے طرز عمل سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس بنا پر یہ ایک شخص سے تشبیہ نہیں ہے کہ ہم مجبورہو کر" الذی " کو " الذین " (یعنی مفرد کی جمع ) کے معنی میں لیں بلکہ عمل کو عمل سے تشبیہ دی گئی ہے)۔ آخر میں عہد پیغمبرؐ کے منافقوں اور دنیا کے سب منافقوں کو بیدار کرنے کے لئےگزرے ہوئے منافقین کا انجام دو جملوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دنیا و آخرت میں سب اعمال تباہ و برباد ہوئے ہیں اور برباد ہوں گے اور انھیں اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں ملے گا (اُوْلَئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ)۔ دوسرا یہ کہ وہ اصلی اور حقیقی نقصان اٹھانے والے ہیں (وَاُوْلَئِکَ ھُمْ الْخَاسِرُونَ)۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے منافقہ عمل سے وقتی اور عارضی محدود فائدے حاصل کریں لیکن اگر ہم صحیح طور پر توجہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ وہ اس طریقے سے نہ دنیا میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں انھیں کوئی فائدہ ہو گا۔ جیسا کہ اقوام گذشتہ کی تاریخ اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ کس طرح نفاق کی بدبختیان ان سے وابستہ ہو کر رہ گئیں اور انھیں زوال اور نیستی کی طرف لے گئیں اور ان کے برے انجام اور بری عاقبت نے عالم ِ آخرت میں ان کی بدبختی ظاہر اور واضح کر دی۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ باوجود تما م وسائل اور مال اولاد کے ہوتے ہوئے کامیابی تک نہ پہنچ سکے اور ان کے سب اعمال بے بنیاد ہونے کی وجہ سے اور نفاق کے زیر اثر نابود ہو گئےتو پھر تم جو کہ قوت اور طاقت کے لحاظ سے کمتر ہو اس قسم کی بد قسمتی اور بد انجامی میں اور بھی بر طرح سے پھنسو گے۔ اس کے بعد خدا وند عالم پیغمبرؐ اسلام کی طرف بات کا رخ موڑتے ہوئے استفہام انکاری کے طور پر یوں فرماتا ہے: "کیا منافقوں کا یہ گروہ گذشتہ امتوں قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم ابراہیم اور اصحاب مدیَن (قوم شعیب) اور قوم لوط کے ویران و برباد شہروں کے حال سے باخبر نہیں ہے "(اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاہِیمَ وَاَصْحَابِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکَاتِ (تشریحی نوٹ: "موٴتفکات"، "اتفاک" کے مادہ سے انقلاب، تبدیلی اور زیر و زبر ہ ونے کے معنی میں ہے۔ یہ قوم لوط کے شہروں کی طرف اشارہ ہے جو زلزلہ کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے تھے)۔ یہ قومیں جن کا ایک عرصہ تک دنیا کے اہم حصوں پر اقتدار تھا۔ ان میں سے ہر ایک تباہ کاری، نافرمانی، سرکشی، بے انصافی، طرح طرح کے ظلم و ستم اور فساد کی وجہ سے کسی نہ کسی عذاب ِ الہٰی میں گرفتار ہوئی۔ قوم نوح طوفان کی تباہ کن موجوں سے اور قومِ عاد (قوم ہود) تیز اور وحشت ناک آندھیوں کے ذریعے، قوم ثمود (قوم صالح ) ویران گر زلزلوں سے، قوم ابراہیم گوناگوں نعمتوں کی محرومی سے، اصحاب مدین (قوم شعیب) آگ برسانے والے بادل سے اور قوم لوط اپنے شہروں کے زیر و زبر ہونے سے تباہ و برباد ہوئی۔ صرف ان کے بے جان جسم اور بوسیدہ ہڈیاں مٹی کے نیچے یا پانی کی موجوں میں باقی رہ گئیں۔ یہ وہ دل دہلانے والے واقعات ہیں جن کامطالعہ اور آگاہی ہر اس انسان کو جو ذرا سا بھی احساس رکھتا ہے جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اگرچہ خدا نے کبھی بھی انھیں اپنے لطف و کرم سے محروم نہیں رکھا اور ان کے نبیوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے بھیجا (اَتَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالبَیِّنَاتِ)۔لیکن انھوں نے ان خدا رسیدہ بزرگوں کے کسی موعظہ اور نصیحت پر کان نہ دھرے اور مخلوقِ خدا کی نصیحت و ہدایت کی راہ میں ان کی ناقابلِ برداشت تکلیفوں کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی۔ اس بنا پر خدا نے کبھی ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم و جور روا رکھا۔ (فَمَا کَانَ اللهُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلَکِنْ کَانُوا اَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ)۔

71
9:71
وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ولی (اور مددگار) ہیں وہ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خداا و رسول کی اطاعت کرتے ہیں خدا عنقریب ان پرر حمت کرے گا بے شک خدا توانا و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
9:72
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے جنت کے باغوں کا وعدہ کیا ہوا ہے جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے اور عدن کی جنتوں میں (ان کیلئے) پاکیزہ مکانات ہیں اور خدا کی رضا اور خوشنودی ان سب سے برتر و بہتر ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر سچے مومنوں کی نشانیاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیتوں میں منافق مردوں اور عورتوں کی مشترکہ علامتیں بیان کی گئیں تھیں۔ جن کا خلاصہ پانچ حصوں میں ہوتا ہے۔ ۱۔ بری چیزوں کا حکم دینا ۲۔ اچھی چیزوں سے روکنا ۳۔ کنجوسی اور بخیلی ۴۔ خدا کو بھول جانا ۵۔ حکم خدا کی نافرمانی۔ ان آیات میں مومن مردوں اور عورتوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں اور وہ بھی پانچ حصوں ہی میں ہیں اور بالکل منافقوں کی صفات کے مقابلے میں ہیں آیت یہاں سے شروع ہوتی ہے: " ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دوست ولی اور مددگار ہیں (وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْضٍ)"۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ منافقین کے لئے لفظ "اولیاء" نہیں آیا بلکہ "بعضھم من بعض" ہے جو بظاہر غرض و غایت کی وحدت اور صفات و کردار کی یکسانیت کی دلیل دکھائی دیتا ہے یہ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگرچہ منافق ایک ہی صف میں ہیں اور ان کے مختلف گروہ ایک ہی قسم کے منصوبوں اور پروگراموں میں مصروف ہیں پھر بھی ان میں محبت، مودت اور ولایت کی روح موجود نہیں۔ جب ان کی شخصی اغراض خطرے میں پڑ جاتی ہیں تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی بے ایمانی کرتے ہیں۔ اسی بنا پر سورہٴ حشر کی آیت ۱۴ میں پڑھتے ہیں :۔ " تحسبھم جمیعاً و قلوبھم شتیّٰ " تم انھیں متفق اور متحد سمجھتے ہو، حالانکہ ان کے دل پراکندہ اور مختلف ہیں۔ خدا وند عالم اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد مومنین کی صفات کی جزئیات کی تشریح کرتا ہے۔ ۱۔ پہلے فرماتا ہے: وہ لوگوں کی نیکی کی طرف بلاتے ہیں (یَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ)۔ ۲۔لوگوں کو بد ی، برائی اور گناہ سے روکتے ہیں (وَیَنْھَوْنَ عَنْ الْمُنکَرِ)۔ ۳۔ وہ منافقوں کے برخلاف جنھوں نے خدا کو بھلا رکھا تھا "نماز قائم کرتے ہیں" اور خدا کو یاد کرتے ہیں اور ا س کی عبادت اور ذکر سے دل کو روشن اور عقل کو بیدار اور خبردار کیے ہوئے ہیں (وَیُقِیمُونَ الصَّلَاةَ)۔ ۴۔ وہ منافقوں کے برخلاف جو کنجوس اور بخیل لو گ تھے، اپنے مال کا ایک حصہ راہِ خدا میں اور خلقِ خدا کی فلاح و بہبودی اور معاشرے کی تشکیلِ نوکے لئے خرچ کرتے ہیں (وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ)۔ ۵۔ منافق، فاسق اور سرکش ہیں اور خداوند علام کے حکم کی پیروی نہیں کرتے لیکن مومن خدا اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں (وَیُطِیعُونَ اللهَ وَرَسُولَہ)۔ اس آیت کے آخر میں خدا وند عالم نتیجے اور بدلے کے طور پر مومنوں کے پہلے امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: خدا عنقریب ان پر اپنی رحمت نازل کرے گا (اُوْلَئِکَ سَیَرْحَمُھُمْ الله)۔ لفظ "رحمت " جس کا ایک مقام پر ذکر ہوا ہے ایک بہت وسیع مفہوم کھتا ہے جو دین و دنیا کی ہر قسم کی خیر و برکت اور نیکی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ لفظ اصل میں منافقین کی حالت کی ضد ہے یعنی خدا نے ان پر لعنت کی ہے اور انھیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔ بے شک مومنین سے خدا کا وعدہِ رحمت یقینی اور اطمینان بخش ہے کیونکہ وہ قدرت رکھتا ہے اور دانا و حکیم بھی ہے نہ وہ کسی سبب کے بغیر وعدہ کرتا ہے اور نہ ہی جب وعدہ کرتا ہے تو ا س کے پورا کرنے سے عاجز ہے (إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ بعد والی آیت خدا کی اس وسیع رحمت کے ایک حصہ کی جو ایماندار لوگوں کے لئے ہے۔ تشریح کرتی ہے۔ اس میں اس رحمت کے مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں کا تذکرہ ہے۔ شروع میں فرماتا ہے: خدا ایمان دار مردوں اور عورتوں سے ایسے بہشت کے باغوں کا وعدہ کرتا ہے جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھَارُ)۔ اس عظیم نعمت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ زوال، فنا اور جدائی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا)۔ ان پر اللہ کا دوسرا احسان یہ ہو گا کہ خدا انھیں بہشتِ عدن کے مرکز میں پاکیزہ مسکن اور شاندار مکان عطا فرمائے گا (وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ)۔ لغت میں "عدن" کے معنی مکان اور جگہ میں ٹھہرنے اور زندگی گذارنے کے ہیں۔ اس لئے "معدن" کسی خاص مواد کی بقاء کی جگہ کے معنی میں بولا جاتا ہے اس بنا پر"عدن" کامفہوم و مطلب خلود (ہمیشگی) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے لیکن کیونکہ گذشتہ جملہ میں خلود کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے تو اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ "جناتِ عدن" پروردگار کی بہشت کا ایک خاص مقام ہے۔جو دیگر سب بہشتوں سے ممتاز ہے۔ اسلامی حدیثوں اور مفسرین کی تفسیر میں یہ امتیاز مختلف شکلوں میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ پیغمبرؐ اسلام کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عدن دار اللہ التی لم ترھا عین ولم یخطر علی قلب بشر، لا یسکنھا غیر ثلاثة النبیین و الصدیقین و الشہدآء" عدن خدا کا وہ گھرجسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ اس کا خیال کسی دل و دماغ میں آیا ہے اور اس میں صرف تین گروہ سکونت پذیر ہو ں گے۔ انبیاء صدیقین (وہ جنھوں نے انبیاء کی تصدیق کی ہے اور ان کی حمایت کی ہے) اور شہداء"۔ (بحوالہ:مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ کتاب خصا ئل میں حضرت رسول اکرم سے اس طرح مروی ہے:۔ من سرہ ان یحیا حیاتی و یموت مماتی ویسکن جنتی التی واعدنی اللہ ربی، جنات عدن فلیوال علی بن ابی طالب علیہ السلام و ذریتہ علیھم السلام من بعدہ۔ "جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی مجھ جیسی اور موت بھی مجھ جیسی ہو تو اسے چاہئیے کہ و ہ علی بن ابی طالب اور ان کی اولاد سے محبت کرے"۔(بحوالہ: نور الثقلین ج ص ۲۴۱ بحوالہ کتاب خصال)۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جنات عدن بہشت بریں کے ایسے باغات ہیں جن میں رسالت مآب اور ان کے خاص پیروکاروں کی ایک جماعت مقیم ہو گی۔ یہی مضمون ایک اور حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ جنات عدن پیغمبرؐ اسلام کی قیام کا مقام ہے۔ اس کے بعد خداوند عالم ان کی روحانی نعمتوں اور جزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: خدا کی رضا اور خوشنودی جو ان سچے مومنوں کی نصیب ہو گی سب سے بر تر اور عظیم ہے (وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اَکْبَرُ)۔ کوئی اس روحانی لذت اور خوشی کے احساس کی جسے ایک انسان خدا کی طرف متوجہ ہونے سے پاتا ہے، تعریف و توصیف نہیں کر سکتا۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق اس روحانی لذت کا ایک گوشہ سب بہشتوں اور ان کی گوناگون نعمتوں اور بے پایاں آسائشوں سے برتر اور بالاتر ہے۔ البتہ ہم اس دنیا کے قفس میں اور اس کی محدود زندگی میں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتے؛ چہ جائیکہ اس عظیم روحانی اور معنوی نعمت کو سمجھ سکیں۔ البتہ اس دنیا کے روحانی اور مادی فرق کی ایک د ھندلی سی تصویر کھینچ سکتے ہیں۔ مثلاً جو لذت مسلسل فراق و جدائی کے بعد ایک مخلص اور مہربان دوست کی ملاقت سے ملتی ہے یا ایک خاص روحانی خوشی جو لگاتار کئی ماہ و سال صرف کرنے کے بعد کسی پیچیدہ مسئلہ کے حل ہونے سے حاصل ہو۔ وہ کسی مادی غذا اور مادی لذتوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک بات یہ بھی واضح ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مومنین اور نیک لوگوں کی جزا اور ثواب بیان کرتے وقت صرف مادی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور معنوی جذبات کا اس میں کوئی ذکر اور خبر نہیں ہے وہ اشتباہ اور غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ مندرجہ بالا جملے میں خدا کی رضا جو خصوصیت کےساتھ لفظ "نکرہ" کے ساتھ بیان کی گئی ہے، خدا وندعالم کی خوشنودی کے ایک خاص گوشے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ بہشت کی تمام مادی نعمتوں سے افضل و اعلیٰ ہے اور یہ چیز اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ معنوی جزا کس قدر قیمتی اور اہم ہے۔ البتہ اس کی برتری کاسبب واضح اور روشن ہے کیونکہ حقیقت میں روح ایک گوہر کی مانند ہے اور جسم صدف کی طرح ہے، روح حاکم ہے اور جسم محکوم، روح کا ارتقاء اصلی اور بنیادی مقصد ہے جب کہ جسم کی تکمیل وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اسی بنا پر روح کی تمام شعائیں جسم سے زیادہ وسیع ہیں اور روحانی لذتوں کا قیاس جسمانی لذتوں پر نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح روحانی مصیبتیں اور تکالیفیں جسمانی آلام ومصائب کے مقابلے میں بدرجہا دردناک ہیں۔ آیت کے آخر میں تمام مادی اور روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے (ذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔

73
9:73
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرو ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور ان کا (انجام اور) ٹھکانا برا ہے۔

تفسیر کافروں اور منافقوں سے جنگ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار اس آیت میں کافروں اور منافقوں کے مقابلے میں شدت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے پیغمبرؐ ! کفار ومنافقین کے ساتھ جہاد کرو(یَااَیّھَا النَّبِیُّ جَاھد الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ)۔" اور ان کے مقابلے میں سخت اور شدید طریقہ اختیار کرو" (وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ)۔ یہ تو ان کی بنیادی سزا ہے اور آخرت میں ان کے رہنے کی جگہ دوزخ ہے۔ جو بد ترین انجام اور برا ٹھکانا ہے (وَمَاْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ)۔ البتہ کافروں کے مقابلے میں جہاد کا طور طریقہ تو بالکل واضح ہے اور وہ ہر پہلو سے جہاد ہے۔ خصوصاً مسلح جہاد۔ لیکن منافقوں سے جہاد کے طریقوں میں اختلاف ہے۔ کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ رسول اکرم منافقوں سے مسلح جہاد نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ منافق وہ شخص ہے جو ظاہری طور پر مسلمانوں کی صف میں ہو اور بظاہر تمام آثار اسلام کا پابند ہو۔ اگرچہ باطنی طور پر اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ چنانچہ ہم بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ ایمانِ حقیقی نہیں رکھتے لیکن کیونکہ وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اس لئے ہم ان سے غیر مسلموں کا سا برتاؤ نہیں کر سکتے۔ بنابریں، جس طرح اسلامی روایات اور مفسرین کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے منافقوں سے جہاد کرنے سے مراد اور طرح کی جنگ ہے جو مسلح جنگ کے علاوہ ہے۔ مثلاً مذمت، سرزنش، تہدید اور انھیں رسوا کرنا۔ شاید "واغلظ علیھم" اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہاں آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ جب تک منافقوں کی حقیقت اور ان کے خفیہ منصوبے منظر عام پر نہ آ جائیں ان کے بارے میں مسلمانوں سے متعلق احکام پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن جب ان کی حالت اچھی طرح معلوم ہو جائے تو پھر ان پر کفار حربی کا حکم لاگو ہو جائے گا اور اس صورت میں ان سے مسلح جنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن جو بات اس احتمال کو کمزور کرتی ہے وہ ہے کہ اس حالت میں "منافق" کے لفظ کا اطلاق اس پر درست نہیں ہے۔ بلکہ اب وہ کافر حربی کی صف میں ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ منافق وہ ہے جس کا ظاہر اسلام ہو اور باطن کفر۔

74
9:74
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدۡ قَالُواْ كَلِمَةَ ٱلۡكُفۡرِ وَكَفَرُواْ بَعۡدَ إِسۡلَٰمِهِمۡ وَهَمُّواْ بِمَا لَمۡ يَنَالُواْۚ وَمَا نَقَمُوٓاْ إِلَّآ أَنۡ أَغۡنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضۡلِهِۦۚ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيۡرٗا لَّهُمۡۖ وَإِن يَتَوَلَّوۡاْ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَا لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
منافق خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ (پیغمبرؐ کے پس پشت) انہوں نے (تکلیف دہ) باتیں نہیں کیں حالانکہ یقیناً انہوں نے کفر آمیز باتیں کی ہیں اور اسلام لانے کے بعد وہ کافر ہو گئے ہیں اور انہوں نے (ایک خطرناک کام کا) پکا ارادہ کیا تھا جسے وہ نہ کر سکے وہ صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول نے صرف اپنے فضل (اور کرم) سے بے نیاز کر دیا ہے (اس کے باوجود بھی) اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کیلئے بہتر ہے اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو خدا انہیں دنیا و آخرت میں درد ناک سزا دے گا اور وہ روئے زمین پر نہ کوئی ولی و حامی رکھتے ہیں اور نہ ہی یارو مدد گار۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس آیت کی شان، نزول کے بارے میں مختلف روایتیں نقل ہوئی ہیں جو سب کی سب یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بعض منافقوں سے اسلام اور پیغمبرؐ کے بارے میں تکلیف دہ باتیں کی تھیں اور اپنے راز فاش ہونے کے بعد انھوں نے جھوٹی قسم کھائی تھی کہ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ غرض انھوں نے اسلام کے خلاف جو سکیم بنائی تھی وہ ناکام ہو گئی۔ ان کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ منافقوں میں سے جلاس نامی ایک شخص نے جنگِ تبوک کے موقع پر نبی اکرم کے بعض خطبے سن کر ان کا سختی سے انکار کر دیا تھا اور آپ کو جھٹلایا تھا۔ مدینہ میں آنے کے بعد ایک شخص عامربن قیس جس نے یہ باتیں سنی تھیں، پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جلاس کی باتیں بیان کیں، لیکن جب وہ خود مدینہ میں آیا تو اس نے اس کے بارے میں صاف انکار کر دیا۔ اس پر حضرت رسالتمآب نے دونوں کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں منبر کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھائیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہے۔ دونوں نے قسم کھائی۔ مگر عامر نے عرض کیا کہ اے خدا ! اپنے پیغمبرؐ پر آیت نازل فرما!اور جو شخص سچا ہے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے اور اس پر پیغمبرؐ اور مومنین نے آمین کہی جبرئیل نازل ہوئے اور مندرجہ بالاآیت پیغمبرؐ کی خدمت میں لائے جس وقت " فان یتوبوا یک خیراً لھم "(اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے ) کا جملہ آیا تو "جلاس" نے کہا: اے خدا کے رسول ! پروردگار نے مجھ سے چاہی ہے اور میں گناہ پر پچھتا رہا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ حضور نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ نیز جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں مفسرین نے نقل کیا ہے کہ منافقوں کے ایک گروہ کو پکا ارادہ کیا ہو اتھا کہ جنگ تبوک سے واپسی پر راستے میں ایک درّے سے گذرتے ہوئے پیغمبرؐ کی اونٹنی کو بدکائیں گے تاکہ پیغمبرؐ اکرم پہاڑ کے اوپر سے درّے میں گر جائیں، لیکن آنحضرت وحی کے ذریعے اس واقعہ سے آگاہ ہو گئے اور ان کی سازش کو نقش بر آب کرکے رکھ دیا۔ ناقہ کی مہار عمار کے ہاتھ میں دی اور "حذیفہ" پیچھے سے ناقہ کو ہانک رہے تھے تاکہ سواری پورے طور قابو میں رہے۔ یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ دوسرے راستے سے آئیں تاکہ منافق نہ لوگوں کے ہجوم میں چھپ سکیں اور نہ اپنی سازش پر عمل کر سکیں۔ جس وقت آپ نے اس رات کی تاریکی میں کچھ لوگوں کی اپنے پیچھے درّے سے آنے کی آواز سنی تو آپ اپنے بعض ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ فوراً ان منافقوں کو پلٹا دیں۔ وہ تقریباً بارہ یا پندرہ افراد تھے اور ان میں سے بعض نے اپنے منہ چھپا رکھے تھے۔ جب انھوں نے کہ ہم اپنے منصوبہ کو عملی جامعہ نہیں پہنا سکے تو وہ چھپ گئے لیکن پیغمبرؐ نے انھیں پہچان لیا اور ایک ایک کر کے سب کے نام اپنے صحابہ کرام کو گنوائے۔( تشریحی نوٹ: اقتباس از تفسیر مجمع البیان، تفسیر المنار، تفسیر روح المعانی اور دیگر تفاسیر)۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ آیت منافقوں کے کارناموں کی طرف اشارہ کر رہی ہے ایک ان کی نامناسب گفتگو اور دوسرا ان کی ناکام سازش اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں شانِ نزل ایک ساتھ صحیح ہیں۔

تفسیر خطر ناک سازش

اس آیت کا گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق بخوبی واضح ہے کیونکہ یہ سب آیتیں منافقوں کے بارے میں ہیں۔ البتہ اس آیت میں ان کے ایک اور عمل سے پردہ اٹھا لیا گیا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے راز فاش ہو رہے ہیں تو واقعات کا انکار کر دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنی بات سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھا لیتے ہیں۔ پہلے خدا فرماتا ہے: منافقین قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے اس قسم کی باتیں پیغمبرؐ کے بارے میں نہیں کہیں (یَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا)۔ حالانکہ انھوں نے یقینی طور پر کفر آمیز باتیں کی ہیں (وَلَقَدْ قَالُوا کَلِمَةَ الْکُفْرِ)۔اس طرح انھوں نے اسلام قبول کرنے اور اس کا اظہار کرنے کے بعد کفر کا راستہ اختیار کیا (وَکَفَر بَعْدَ إِسْلَامِھِمْ)۔البتہ وہ پہلے بھی مسلمان نہیں تھے کہ اب کافر ہو گئے ہیں بلکہ صرف ظاہری طور پر ہی مسلمان تھے۔ جسے انھوں نے کفر کا اظہار کرکے توڑ ڈالا۔ اس ظاہری اور دکھلاوے کے اسلام کو بھی انھو ںے کفر کا اظہار کرکے درہم برہم کر دیا ہے اس سے بھی بڑھ کر وہ خطرناک ارادہ لیے ہوئے تھے جن تک نہیں پہنچ سکے (وَھَمُّوا بِمَا لَمْ یَنَالُوا)۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ ارادہ "لیلة العقبة" پیغمبرؐ کو شہید کرنے کا ہو جس کی تشریح شان نزول میں ہوچکی ہے یا ان کے تمام کاموں کی طرف اشارہ ہو جنہیں وہ اسلامی معاشرے کے تباہ و برباد کرنے اور فساد و نفاق پید اکرنے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے انجام دیتے تھے لیکن انھیں کبھی بھی کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ مختلف حوادث میں مسلمانوں کی تیاری اور بیداری کے سبب منافق اور ان کے منصوبے پہچانے جاتے تھے۔ مسلمان ہمیشہ ان کی تاک میں لگے رہتے تھے تاکہ ان سے کوئی بات سنیں اور ا س کی پیش بندی اور ضروری کاروائی کےلئے حضور کی خدمت میں عرض کر دیں۔ یہ بیداری اور بر محل اقدامات اور ان کے ساتھ ساتھ نزول آیات اور خدا کی تصدیق منافقوں کی رسوائی اور ان کی سازشوں کی ناکامی کا سبب بنتی تھی۔ بعد والے جملہ میں اس لئے کہ منافقوں کے کرتوت اور نمک حرامی کا گھٹیا اور برائی پوری طرح واضح ہو جائے، مزید فرمایا گیا ہے:۔ اصل میں انھوں نے پیغمبرؐ سے کوئی غلط کام نہیں دیکھا تھا نہ اسلام نے انھیں کوئی نقصان پہنچایا تھا بلکہ اس کے برعکس وہ حکومت اسلامی کے سایہ میں طرح طرح کی مادی اور روحانی نعمتوں سے بہرہ ور ہوئے تھے۔ اس بنا پر وہ اصل میں ان نعمتوں کا انتقام لے رہے تھے جو خدا اور اس کے پیغمبرؐ نے اپنے فضل و کرم سے انھیں استغناء کی حد تک دی تھیں (وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ اَنْ اَغْنَاھُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ مِنْ فَضْلِہ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ امر قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں اگرچہ خدا اور پیغمبرؐ دونوں کے فضل کے متعلق ذکر ہے: "من فضلہ" لیکن اس میں ضمیر واحد استعمال ہوئی ہے نہ کہ تثنیہ کی شکل میں۔ اس تعبیر کا سبب وہی ہے جس کی طرف ہم گذشتہ چند آیتوں میں اشارہ کر چکے ہیں۔ اس قسم کی تعبیریں حقیقتِ توحید کو ثابت کرنے کےلئے ہیں اور یہ کہ تمام کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اگر حضرت رسول اکرم کام کرتے ہیں تو وہ کوئی کام کرتے ہیں تووہ بھی اس کے حکم سے ہے اور ان کاکام اس کے ارادے اور مشیت سے الگ نہیں ہے)۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے فضل اور رسول اکرم کی انتہائی مہربانی سے انھیں بے نیاز کر دینا، پھر ان کی ضرورتوں اور حاجتوں کا پورا کرنا کوئی ایسی چیز نہ تھی جو منافقوں کو اس پر ابھارے کہ وہ اس اچھے برتاؤ کا انتقام لیں بلکہ چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ حق شناسی اور شکر گذاری سے کام لیتے لیکن ان بے وفا اور کمینے لوگوں نے خدمت و نعمت کا جواب جرم اور زیادتی سے دیا۔ یہ بڑی خوب صورت اور بہترین تعبیر ہے جو بہت سی باتوں اور تحریروں میں استعمال ہوتی ہے جیسے ایک شخص کی ہم نے سالہاسال تک کی خدمت کی ہو اور اس کے بعد وہ خیانت کرے اس موقع پر کہتے ہیں کہ ہمارا گناہ صرف یہ ہے کہ ہم نے تجھے پناہ دی، تیری حفاظت کی اور بہت زیادہ محبت کی۔ اس کے بعد جیسا کہ قرآن کی سیرت ہے، لوٹ آنے کا راستہ ان کے لئے کھلا رکھتے ہوئے کہتا ہے: اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے (فان یتوبوا یک خیراً لھم)۔ یہ اسلام کی حقیقت بینی، تربیت کے اہتمام اور ہر قسم کی سختی اور نامناسب سلوک کے خلاف جنگ کی نشانی ہے۔ یہاں تک کہ ان منافقوں کے لئے جنھوں نے رسول اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور کفر آمیز باتیں کیں اور تکلیف وہ توہیں کی نہ صرف صلح اور توبہ کی راہ کھلی رکھی ہے بلکہ انھیں توبہ کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ اصل میں اسلام کا حقیقی چہرہ ہے لیکن وہ لوگ کتنے ہیں جو اسلام کے اس خوبصورت اور حقیقی چہرے کا تعارف دباؤ اور سختی کے دین کے ساتھ کراتے ہیں۔ کیا آج کی دنیا میں کوئی مہربان اور نرم خو حکومت مل سکتی ہے جو اپنے خلاف سازش کرنے والوں کے ساتھ ایسی مہربانی اور محبت کرنے کو تیار ہے جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ نفاق انگیز منصوبہ بنانے والوں میں ایک نے یہ بات سن کر توبہ کرلی اور پیغمبرؐ نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ اس کے باوجود اس بنا پر کہ کہیں وہ لوگ اس نرمی کو کمزوری پر محمول نہ کریں انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر "وہ اپنی روش سے باز نہ آئے اور توبہ سے منہ نہ پھیر لیا تو خدا انھیں دنیا و آخرت میں دردناک سزا دے گا (وَإِنْ یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْھُمْ اللهُ عَذَابًا اَلِیمًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ)۔ اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہو سکتا ہے خدا کی سزا کے مقابلے میں کوئی ان کی مدد کرے گا تو وہ انتہائی غلطی پر ہیں کیونکہ وہ روئے زمین پر کسی کو اپنا ولی، سر پرست اور یار و مددگار نہ بنائیں گے (وَمَا لَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر)۔ البتہ ان کی آخرت کی سزا اور عذاب تو واضح ہے باقی رہا ان کے لئے دنیاوی عذاب تو وہ رسوائی، خواری اور بدبختی وغیرہ ہے۔

75
9:75
۞وَمِنۡهُم مَّنۡ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنۡ ءَاتَىٰنَا مِن فَضۡلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ اگر خدا ہمیں اپنے فضل و کرم سے رزق دے تو ہم یقیناً صدقہ دیں گے اورشکر گذاروں میں سے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
9:76
فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُم مِّن فَضۡلِهِۦ بَخِلُواْ بِهِۦ وَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
لیکن جب اس نے اپنے فضل سے انہیں بخش دیا تو انہوں نے بخل کیا اور نافرمانی کی اور وہ رو گرداں ہو گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
9:77
فَأَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقٗا فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهُۥ بِمَآ أَخۡلَفُواْ ٱللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ
اس عمل نے ان کے دلوں میں نفاق (کی روح) کو اس دن تک کیلئے جب وہ خدا کے سامنے ہوں گے باقی رکھا کیونکہ انہوں نے خدا سے کئے ہوئے وعدے سے انحراف کیا ار وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
9:78
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے بھیدوں اور سر گوشیوں کو جانتاہے بے شک خدا سب چھپی ہوئی باتوں سے آگاہ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مفسرین میں مشہور ہے کہ یہ آیتیں ایک انصاری ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں نازل ہوئی وہ ایک غریب آدمی تھا۔ روزانہ مسجد میں آیا کرتا تھا کہ اصرار تھا کہ رسول اکرم دعا فرمائیں کہ خدا اس کو مالامال کر دے۔حضورﷺ نے اس سے فرمایا:۔ قلیل توٴدی شکرہ خیر من کثیر لاتطیقہ مال کی تھوڑی مقدار جس کا تو شکر ادا کر سکے اس مال کی کثرت سے بہتر ہے جس کا تو شکرانہ ادا نہ کر سکے،کیا یہ بہتر نہیں کہ خدا کے پیغمبر کی پیروری کرے اور سادہ زندگی بسر کرے۔ لیکن ثعلبہ مطالبہ کرتا رہا اور آخر کار اس نے پیغمبر اکرم سے عرض کیا کہ میں آپ کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر خدا نے مجھے دولت عطا فرمائی تو میں اس کے تمام حقوق ادا کروں گا۔ چنانچہ آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ ایک روایت کے مطابق زیا دہ وقت نہیں گذرا تھا کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جو بہت مال دار تھا، فوت ہو گیا اور اسے بہت سی دولت ملی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے ایک بھیڑ خریدی جس سے اتنی نسل بھی کہ جس کی دیکھ بھال مدینہ میں نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لے انھیں مدینہ کے آس پاس کی آبادیوں میں لے گیا اور مادی زندگی میں اس قدر مصروف اور مگن ہو گیا کہ نماز جماعت تو کیا جمعہ کی نماز میں بھی نہیں آتا تھا۔ ایک مدت کے بعد رسول اکرم نے زکوٰة وصول کرنے والے خادم کو اس کے پاس زکوٰة لینے کے لئے بھیجا لیکن اس کم ظرف کنجوس نے نہ صرف خدائی حق کی ادائیگی میں پس و پیش کیا، بلکہ شریعت پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ حکم جزیہ کی طرح ہے یعنی ہم اس لئے مسلمان ہوئے تھے کہ جزیہ سے بچ جائیں۔اب زکوٰة دینے کی شکل میں ہم میں اور غیروں مسلموں میں کون سا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ حالانکہ اس نے نہ جزیہ کا مطلب سمجھا تھا اور نہ زکوٰة کا اور اگر اس نے سمجھا تھا تو دنیا پرستی اسے حقیقت کے بیان اور اظہار حق کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ غرض جب حضرت رسولِ اکرم نے اس کی باتیں سنیں تو فرمایا :۔ یا ویح ثعلبہ! یا ویح ثعلبہ! ”وائے ہو ثعلبہ پر، ہلاکت ہو ثعلبہ پر“۔ اس وقت مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ان آیتوں کے لئے بھی شانِ نزول منقول ہیں جو کم و بیش ثعلبہ کی داستان سے ملتی جلتی ہیں۔ مذکورہ شانِ نزول اور آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص یا اشخاص پہلے منافقوں کی صف میں شامل نہ تھے لیکن اس قسم کی اعمال اور کردار کی وجہ سے ان کی ساتھ مل گئے۔

تفسیر منافق کم ظرف ہوتے ہیں

دراصل یہ آیتیں منافقوں کی ایک بڑی صفت کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بے بس، ناتواں اور فقر وپریشانی کے وقت تو اس طرح ایمان کا دم بھرتے ہیں کہ کوئی شخص یہ باورہی نہیں کر سکتا کہ وہ کسی دن منافقوں کی صف میں جا کھڑے ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کی جو وسیع ذرایع آمدنی اور وسائل رکھتے ہیں اس بات پر مذمت کرتے ہیں کہ وہ اپنی وسائل سے محروم لوگوں کو کیوں فائدہ نہیں پہنچاتے۔ لیکن جب وہ خود صاحبِ ثروت ہو جاتے ہیں تو اپنے ہاتھ سمیٹ لیتے ہیں اور دنیا پرستی میں ایسے ڈوب جاتے ہیں کہ خدا کے ساتھ کئے ہوئے سب وعدوں کو بھول جاتے ہیں؛ یعنی ان کی شخصیت بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی سوچ میں یکسر تغیر آ جاتا ہے۔ اور یہی وہ کم ظرفی ہے جس کا نتیجہ دنیا پرستی، کنجوسی اور خود غرضی ہے۔یوں روح نفاق ان کو اس طرح سے جکڑ لیتی ہے کہ ان کےلئے واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑتی۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: بعض منافقین ایسے ہیں جنھوں نے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا کہ اگر وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں کچھ عطا فرمائے گا تو ہم یقینا ضرورت مندوں کی مدد کریں گے۔ اور نیکوں میں سے ہو جائیں گے۔(وَمِنْھُمْ مَنْ عَاھَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِہِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُونَنَّ مِنْ الصَّالِحِین)۔ لیکن یہ باتیں وہ اس زمانے میں کیا کرتے تھے جب ان کا ہاتھ خالی تھا مگر وقت خدا نے اپنے فضل و کرم سے انھیں مالا مال کر دیا تو انھوں نے بخل کیا اور نافرماں اور روگرداں ہو گئے(فَلَمَّا آتَاہُمْ مِنْ فَضْلِہِ بَخِلُوا بِہِ وَتَوَلَّوا وَہُمْ مُعْرِضُونَ)۔ اس پیمان اور بخل کا یہ نتیجہ نکلا کہ روحِ نفاق دائمی طور پر مضبوطی کے ساتھ ان کے دل میں راسخ ہو گئی اور اب وہ تا قیامت اور اس کے وقت تک جب وہ خدا سے ملیں گے باقی رہے گی (فَاَعْقَبھُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبھِمْ إِلَی یَوْمِ یَلْقَوْنَہُ)۔اور یہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے جو وعدہ خداوند عالم سے کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اس لئے کہ ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے (بِمَا اَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوہُ وَبِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ )۔ آخر میں ان کی مذمت کو سرزنش کے طور پر کہا گیا ہے کہ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے بھیدوں کو جانتا ہے اور ان کی سرگوشیوں کو سنتا ہے اور وہ خدا سن سے غائب اور چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے (اَلَمْ یَعْلَمُوا اَنَّ اللهَ یَعْلَمُ سِرَّھُمْ وَنَجْوَاھُمْ وَاَنَّ اللهَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ)۔

چند اہم نکات

۱۔ "فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبِہِمْ"سے بخوبی روشن ہے کہ بہت سے گناہوں اور برائیاں یہاں تک کہ کفر و نفاق ایک دوسرے کی علت اور معلوم ہیں کیونکہ مندرجہ بالا جملہ صراحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ ان کا بخل اور وعدہ شکنی اس بات کا سبب بنی ہے کہ نفاق ان کے دلوں میں طرح طرح کی سازشوں اور فتنوں کا بیج بوئے۔ یہی صورت دوسرے گناہوں اور غلط کاموں کی ہے۔ اس لئے بعض کتب میں ہے کہ کبھی کبھی بڑے گناہوں کی وجہ سے انسان دنیا سے بےایمان ہو کر اٹھتا ہے۔ ۲۔ "یوم یلقونہ" جس کی ضمیر "خدا" کی طرف لوٹتی ہے، سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ "لقآء اللہ" اور اسی قسم کی دوسری تعبیریں عام طور پر قرآن میں قیامت ہی کے بارے میں آئی ہیں یہ درست ہے کہ موت واقع ہونے کے ساتھ ہی عمل کا دور شروع ختم ہو جاتا ہے اور اچھے برے کاموں کا نامہ عمل بند ہو جاتا ہے لیکن ان کے آثار اسی طرح قیامت تک باقی رہیں گے۔ البتہ بعض مفسریں نے یہ بھی لکھا ہے کہ "یلقونہ" کی ضمیر بخل کی طرف لوٹتی ہے یعنی جب تک وہ اپنے بخل کا نتیجہ دیکھیں گے سزا پائیں گے۔ اسی طرح یہ احتمال بھی ہے کہ پروردگار کی ملاقات سے مراد موت کا لمحہ ہے مگر یہ سب احتمالات آیت کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہیں اور ظاہری مفہوم وہی ہے جو ہم لکھ چکے ہیں۔ اس چیز کے بارے میں کہ پروردگار عالم کی ملاقات سے کیا مراد ہے۔ سورہٴ بقرہ کی آیت۴۶ کے ضمن میں جلد اوّل (ص ۱۸۳ اردو ترجمہ ) میں ہم نے بحث کی ہے اسے ملاحظہ کیجئے۔ ۳۔ زیر نظر آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ توڑنا اور جھوٹ بولنا منافقوں کی صفاست ہیں اور یہ منافق ہی ہیں جو خدا کے ساتھ اپنے وعدوں کی بڑی تاکید کے ساتھ باندھتے ہیں پھر انھیں پاؤں کے نیچے روند ڈالتے ہیں یہاں تک کہ اپنے پروردگار سے جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک مشہور حدیث جو رسول اکرم سے منقول ہے بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ حضور نے فرمایا: للمنافق ثلاث علامات اذا حدث کذب و اذا وعدہ خلف و اذا ائتمن خان منافق کی تین علامتیں ہیں۔ ۱ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ ۲ جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا۔ ۳۔ جب اس کے پاس امانت رکھیں تو اس میں خیانت کرتا ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں) یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا داستان (ثعلبہ کا واواقعہ) میں تینوں نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ اس نے جھوٹ بولا، وعدہ توڑا اور اس مال میں سے جو خدا نے اپنی امانت کے طور پر دیا تھا خیانت بھی کی۔ مندرجہ بالا حدیث زیادہ تاکید کے ساتھ کتاب کافی میں حضرت امام جعفر صادق کے ذریعے حضرت رسول اکرم سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: ثلاث من کن فیہ کان منافقاً و ان صام و صلی وزعم انہ مسلم من اذا ائتمن خان اذا حدث کذب و اذا وعد اخلف جس شخص میں یہ تین چیزیں ہوں وہ منافق ہے چاہے وہ روزہ اور نماز کا پابند ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔ ۱۔ امانت میں خیانت کرے۔ ۲۔ بات کرے تو جھوٹ بولے اور ۳۔ وعدہ کرکے پھر جائے۔ (بحوالہ:سفینة البحار ج ۲ ص ۶۰۷)۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھی ایسے گناہ بعض ایماندار لوگوں سے بھی ہوں مگر پھر وہ توبہ کر لیں۔ لیکن ان گناہوں کا تسلسل اور ہمیشگی روح، نفاق اور منافقت کی نشانی ہے۔ ۴۔ اس نکتہ کو ذہن نشین کرنا بھی ضروری ہے کہ جو کچھ ہم نے مندرجہ بالا آیتوں میں پڑھا ہے وہ صرف ایک گذرے ہوئے زمانہ سے متعلق تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی اخلاقی اور اجتماعی حقیقت کا بیان ہے جس کے بے شمار نمونے ہر زمانے اور ہر معاشرے میں کسی استثناء کے بغیر پائے جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آس پاس نگاہ ڈالیں (یہاں تک کہ ہم اپنے آپ کو دیکھیں) تو "ثعلبہ بن ھاطب" کے اعمال اور اس کی سوچ کے نمونے ہمیں مختلف مذہبی چہروں میں ملیں گے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو عام حالات یا غربت میں پکے اور مخلص مومنین کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں تمام مذہبی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں، ہر اصلاحی پرچم کے نیچے ماتم کرتے ہیں اور حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں، نیک کام کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں ہر فساد اور برائی کا مقابلہ کرنے کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔ لیکن جب دن بدلتے ہیں اور صاحب ثروت ہو جاتا ہیں،کوئی عہدہ یامقام انھیں حاصل ہو جاتا ہے تو اچانک ان کا چہرہ بدل جاتا ہے خدا ور دین کے بارے میں ان کا شور اور عشق سوزاں مدھم پڑجاتا ہے اور اب وہ اصلاحی اور تربیتی پروگروموں میں نظر نہیں آتے۔ نہ حق کے لئے گر یبان چاک کرتے ہیں اور نہ اب وہ باطل کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ پہلے جب ان کی حیثیت نہ تھی اور نہ معاشرے میں انھیں کوئی مقام حاصل تھا تو خدا اور مخلوقِ خدا کے ساتھ طرح طرح کے وعدے کرتے تھے کہ اگر کسی دن ہمیں وسائل مل گئے اور ہم کسی مقام پر پہنچ گئے تو یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ صاحبِ ثروت و اقتدار پر اپنے فرائض انجام نہ دینے پر ہزاروں اعتراض کرتے تھے لیکن جس روز جب خود ان کی حالت بدلی تو سب عہدو پیمان بھول گئے اور سب اعتراضات اور نکتہ چینیاں برف کی طرح پانی ہو گئیں۔ بے شک یہ کم ظرفی منافقوں کی ایک واضح صفت ہے۔ نفاق، دوزخی شخصیت اور دوغلہ پن کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی تاریخِ حیات، شخصیت کی دو رنگی اور دورخی کا بہترین نمونہ ہے۔ اصولی طور پر صاحبِ ظرف انسان میں دوغلہ پن نہیں پایا جاتا۔ نیز اس میں شک نہیں کہ ایمان کی طرح نفاق کے بھی کئی مراحل نہیں۔ بعض لوگوں کی روح میں یہ بری عادت اس طرح راسخ ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں خدا پر ایمان کی طرح نفاق کے بھی کئی مراحل ہیں۔ بعض لوگوں کی روح یہ بری عادت اس طرح راسخ ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں خدا پر ایمان کوئی اثر باقی نہیں رہتا اگرچہ وہ اپنے آپ کو مومنین کی صف میں شامل سمجھتے ہیں۔ جو شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے جبکہ ظاہراً وہ سچا ہے کیا وہ دو پہلو اور دو چہرے رکھنے والا منافق نہیں ہے۔ جو شخص ظاہری طور پر امین ہے اور اسی وجہ سے لوگ اس کا اعتبار کرتے ہیں اور اپنی امانتیں اس کے سپرد کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان میں خیانت کرتا ہے کیا و ہ دوزخی شخصیت کا حامل نہیں ہے اسی طرح وہ لوگ عہد و پیمان باندھتے ہیں لیکن کبھی اس کی پاسداری نہیں کرتے۔ کیا ان کا یہ عمل منافقوں کا سا نہیں ہے؟ انسانی معاشروں کےلئے ایک عظیم ترین مصیبت اور پس ماندگی کا ایک عامل ایسے منافقوں کا وجود ہے اگر ہم آنکھیں بند نہ کر لیں اور اپنے آپ سے جھوٹ نہ بولیں تو ایسے بہت سے ثعلبہ صفت منافقین ہمیں اپنے گرد و پیش اور اسلامی معاشروں میں نظر آئیں گے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان سب عیوب، ننگ و عار اور اسلامی تعلیمات کی روح سے دوری کے باوجود ہم اپنی پس ماندگی کا گناہ اسلام کی گردن پر ڈالتے ہیں۔

79
9:79
ٱلَّذِينَ يَلۡمِزُونَ ٱلۡمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهۡدَهُمۡ فَيَسۡخَرُونَ مِنۡهُمۡ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنۡهُمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ عبادت گزار مومنین کے صدقات کی عیب جوئی کرتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں جو تھوڑی سی مقدار سے زیادہ کی دسترس نہیں رکھتے خدا ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
9:80
ٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ أَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ إِن تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِينَ مَرَّةٗ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
ان کیلئے استغفار کر ویانہ کرو (یہاں تک کہ) اگر ان کیلئے ستر مرتبہ بھی استغفار کرو تو خدا انہیں ہر گز نہیں بخشے گا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور اللہ فاسقوں کے گروہ کو ہدایت نہیں کرے گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات کی شانِ نزول کے ضمن میں حدیث اور تفسری کی کتابوں میں روایات نقل ہوئی ہیں۔ ان تمام روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے رادہ کر رکھا تھا کہ دشمن کے مقابلے کےلئے (احتمالاً جنگ تبوک کے لئے) لشکر اسلام کو تیار کریں۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے تعاون کی ضرورت تھی۔جب آپ نے اپنے نظریے کا اظہار کیا تو جو لوگ توانائی رکھتے تھے انھوں نے زکوٰة یا بلاعوض مدد کے طور پر لشکر اسلام کی قابل قدر خدمت کی۔ جو مسلمان مزدور پیشہ تھے ان کی آمدنی تھوڑی تھی۔ ان میں سے ابو عقیل انصاری یا سالم بن عمیر انصاری نے رات کے وقت کنوئیں سے پانی نکال کر اضافی طور پر مزدوری کی اور اس طرح دو من کھجوریں جمع کیں۔(تشریحی نوٹ: یہ ایران کے مروجہ اوزان کے لحاظ سے ہے۔ ایرانی من مختلف اوزان کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر "تبریزی" من ۳ کلوگرام کے مساوی ہے، "ری" کا من ۱۲ کلوگرام کے مساوی ہے اور سرکاری من ۱۸ کلوگرام کے مساوی ہے)۔ ان میں سے ایک من اپنے گھر والوں کےلیے رکھ دیں اور ایک من خدمتِ پیغمبرؐ میں لے آئے۔ اس طرح انھوں نے ایک عظیم اسلامی مقصد کے لئے بظاہر معمولی سی خدمت انجام دی۔ اسی طرح اور مزدور پیشہ مسلمانوں نے لشکر اسلام کی خدمت کی۔ عیب جو منافقین ان دونوں گروہوں پر اعتراض کرتے تھے جن لوگوں نے زیادہ خد مت کی تھی انھیں ریاکار کہتے تھے اور جنھوں نے ظاہراً تھوڑی مدد کی تھی ان تمسخر اڑاتے تھے کہ کیا اسلام کو اس قسم کی مدد کی ضرورت ہے؟ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں سخت دھمکی دی گئی اور عذابِ الٰہی سے ڈرایا گیا۔

منافقین کی ایک اور غلط حرکت

ان آیات میں منافقین کی ایک عمومی صفت کی طرف اشارہ ہوا وہ یہ کہ وہ ہٹ دھرم، بہانہ جو، اور معترض اور کام بگاڑنے والے ہوتے ہیں، غیر مناسب جوڑ توڑ سے ہر مثبت کام کی تحقیر کرتے ہیں اور اسے برا کرکے پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو نیک کام کی انجام دہی میں سست کریں اور دوسرا ان کے افکار و نظریات میں بدگمانی کے بیج بوئیں تاکہ اس طرح معاشرے میں اصلاحی اور مفید کاموں کا سلسلہ بند ہو جائے۔ قرآن مجید شدت سے ان کی اس غیر انسانی روش کی مذمت کرتا ہے اور مسلمانوں کو اس سے آگاہ کرتا ہے تاکہ لوگ ایسی بدگمانیوں کا شکار نہ ہوں اور منافقین کو بھی معلوم ہو جائے کہ اسلامی معاشرے میں ان کی سازشیں رنگ نہیں لا سکتیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ جو نیک مومنین کے صدقات اور صدقِ دل سے کی گئی امداد میں سے عیب ڈھونڈھتے ہیں اور خصوصاً جوان نادار اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں جو تھوڑی سی مدد کے علاوہ طاقت نہیں رکھتے خدا ان کا مذاق اڑاتا ہے اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے (الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لاَیَجِدُونَ إِلاَّ جُھْدَھُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْھُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْھُمْ وَلَہمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ )۔ "یلزون"، "لمز"(بر وزن"طنز")کے مادہ سے عیب جوئی کے معنی میں ہے اور مطوعین" مادہ "طوع" (بروزن"موج") سے اطاعت کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر یہ لفظ نیک لوگوں کےلئے اور ان کے لیے استعمال ہوتا ہے جو واجبات کے علاوہ مستحبات بھی بجا لاتے ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کچھ لوگوں کی عیب جوئی کرتے تھے اور کچھ کا مذاق اڑاتے تھے۔ واضح ہے مذاق ان افراد کا اڑاتے تھے کہ جو لشکر اسلام کی صرف تھوڑی سی امداد کی طاقت رکھتے تھے اور یقینا عیب جوئی ان افراد کی کرتے تھے جو ان کے بر عکس بہت زیادہ امداد کرتے تھے۔ زیادہ امداد کرنے والوں کو ریاکاری کا الزام دیتے تھے اور کم امداد کر سکنے والوں کی تحقیر کرتے تھے۔ بعد والی آیت میں ان منافقین کی سزا کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے اور انھیں آخری وارننگ دی گئی ہے۔ روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو یہاں تک کہ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار اور طلبِ بخشش کرو تو بھی انھیں ہرگز نہیں بخشے گا (اسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لاَتَسْتَغْفِرْلَھُمْ إِنْ تَسْتَغْفِر لَھمْ سَبْعِینَ مَرَّةً فَلَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَھُم)۔ کیونکہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور کفر کی راہ اختیار کی ہے اور اسی کفر نے انھیں نفاق کی پستی اور برے انجام سے دوچار کیا ہے (ذَلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ)۔ اور واضح ہے کہ خدا کی ہدایت ایسے لوگوں کی میسر آئے گی جو حق طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں اور حقیقت کے متلاشی ہیں۔ لیکن خدا فاسق، گنہگار اور منافق افراد کو ہدایت نہیں کرتا(وَاللهُ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ کام کی اہمیت کیفیت سے ہے کمیت سے نہیں: آیاتِ قرآنی کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اسلام کسی مقام پر بھی"کثرتِ عمل" پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ اس سے ہر جگہ "کیفیت عمل" کو اہمیت دی ہے۔ اسلا م کی نظر میں خلوص اور پاک نیت کی بہت زیادہ قیمت ہے۔ مندرجہ بالا قرآن کی اس منطق کا ایک نمونہ ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک مسلمان کارکن ایک چھوٹے سے کام کےلئے رات بھر نہیں سویا۔ اس کا دل عشق خدا، اخلاص اور احساس مسئولیت سے معمور تھا۔ اسی لئے وہ اسلامی معاشرے کی مشکلات کے حل کے لیے کام میں لگا رہا اور اس طرح اس نے اسلامی فوج کے لیے ایک من کھجور مہیا کی۔ اس نے حساس لمحات میں اسلام کی جو خدمت کی قرآن نے اسے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور جو لوگ ایسے بظاہر چھوٹے اور درحقیقت بڑے اعمال کی تحقیر کرتے ہیں ان کی سخت مذمت کی ہے قرآن کہتا ہے: " دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے" اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ایک صحیح معاشرے میں مشکلات کے وقت سب لوگوں کو احساس ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ ان مواقع پر صرف اہل اقتدار و ثروت کی طرف نہیں دیکھنا چاہئیے کیونکہ اسلام کا تعلق سب سے ہے اور سب کو چاہئیے کہ اس کی حفاظت کے لیے دل و جان سے کوشش کریں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنی طاقت کے حساب سے دریغ نہ کرے مسئلہ زیادہ اور کم نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری اور اخلاص کا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبرؐ اکرم سے سوال ہوا: ایّ الصدقة افضل کون سا صدقہ افضل ہے۔ آپ نے فرمایا: جھد المقل کم آمدنی والے اشخاص کی توانائی کی مقدار ۲ ۔منا فقین کی صفات ہر دور میں ایک جیسی ہیں: مندرجہ بالا آیات میں زمانہ پیغمبرؐ کے منافقین کے بارے میں ہم نے جو صفت پڑھی ہے۔ صفات کی طرح اسی زمانہ کے منافقین سے مخصوص نہیں ہے۔یہ صفت ہر دور کے منافقین کی پست صفات میں سے ایک ہے وہ اپنی بدنیتی کے مخصوص مزاج کے ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ ہر مثبت کو غلط انداز میں پیش کر کے بے اثر کر دیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر نیک شخص کی کسی نہ کسی طرح حو صلہ شکنی کریں اور اسے کارِ خیر کی انجام دہی میں سست کر دیں۔ یہاں تک کہ وہ کم آمدنی والے افراد کی خدمت کی اہمیت کو کم کرکے پیش کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کےلئے ان کے کام کا تمسخر اڑاتے ہیں وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں تاکہ تمام مثبت کار کردگیاں ختم ہو جائیں اور وہ اپنے برے مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔ آگاہ اور بیدار مغز مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر زمانے میں ان کی قبیح سازش کی طرف متوجہ رہیں۔ ان کے بالکل برعکس قدم اٹھائیں معاشرے کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسی خدمات جو ظاہراً چھوٹی ہوں لیکن خلوص دل سے انجام پائی ہوں ان کی زیادہ قدردانی کریں تاکہ چھوٹا بڑا اپنے کام میں شوق و ذوق اور دلجمعی سے مگن رہے۔ نیز سب مسلمانوں کو منافقین کی اس تباہ کن سازش سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ہمت نہ ہاریں۔ ۳۔ "سخر اللہ منھم" کا مفہوم: اس کا لفظی معنی ہے "خدا ان سے تمسخر کرتا ہے" لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا بھی ان جیسے کام انجام دیتا ہے بلکہ جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ استہزاء کرنے والوں کو سزا دے گا یا ان سے ایسا سلوک کرے گا کہ تمسخر اڑانےوالوں کی طرح ان کی تحقیر و تذلیل ہو۔ ۴۔ "سبعین " سے مراد: اس میں شک نہیں کہ "سبعین" (ستر) کاعدد زیر نظر آیت میں کثرت کے لیے ہے نہ کہ تعداد کے لیے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کامفہوم یہ ہے کہ ان کے لیے جتنی بھی استغفار کریں خدا انھیں نہیں بخشے گا۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم سو مرتبہ بھی اصرار کرو تو میں قبول نہیں کروں گا اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ایک سو ایک مرتبہ اصرار کرو تو پھر قبول کر لوں گا بلکہ مراد یہ ہے کہ بالکل قبول نہیں کروں گا۔ ایسی تعبیر فی الحقیقت تاکید مطلب کے لیے ہوتی ہے اسی لئے سورۃ منافقون آیہ ۶ میں یہ بات نفی مطلق کی صورت میں ذکر ہوئی ہے، جہاں فرمایا گیا ہے: سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم اس میں کوئی فرق نہیں کہ تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یانہ کرو خدا انھیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ اس بات پر ایک اور شاید وہ علت ہے جو آیت کے ذیل میں ذکر ہوئی ہے اور وہ یہ کہ " انھوں ن خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے اور خدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا"۔ واضح ہے کہ ایسے افراد کے لیے جتنی استغفار اور طلب بخشش کی جائے ان کی نجات کا سبب نہیں ہو سکتی۔ تعجب کی بات ہے کہ اہل سنت کی طرق سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہؐ نے فرمایا : لازیدنّ فی الاستغفار لھم علی سبعین مرة : رجاء منہ ان یغفر اللہ لھم، فنزلت: سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم۔ خدا کی قسم ! میں ان کے لیے ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا اور اس امید پر کہ خدا انھیں بخش دے اور اس وقت (سورہ منافقوں کی ) یہ آیت نازل ہوئی(جس میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے ) کچھ فرق نہیں چاہے ان کے لیے استغفار کرو چاہے نہ کرو خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا۔(تشریحی نوٹ: اسی مضمون کی متعدد روایات تفسیر طبرسی ج۱۰ ص ۱۳۸ پر جمع کی گئی ہیں)۔ مندرجہ بالا روایت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہؐ نے مندرجہ بالا آیت میں ستر کے عدد سے تعداد مراد لی لہٰذا فرماتا ہے کہ " میں ان کے لیے ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا۔ حالانکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں زیر بحث آیت خصوصاً اس علت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جو اس کے ذیل میں آئی ہے ہمیں وضاحت سے سمجھاتی ہے کہ ستر عدد کثرت کے مفہوم میں آیا ہے اور یہ نفی مطلق کے لیے کنایہ ہے اور اس میں تاکید مضمر ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا روایات چونکہ قرآن کے مخالفت ہیں لہٰذا ہرگز قابل قبول نہیں ہیں خصوصاً جبکہ ہماری نظر میں ان کی اسناد بھی معتبر نہیں ہیں۔ مذکرہ بالا روایات کی واحد توجیہ یہ کی جا سکتی ہے (اگرچہ خلافِ ظاہر ہے) کہ رسول اللہ مندرجہ بالا آیات کے نزول سے پہلے یہ جملہ فرمایا کرتے تھے اور جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے سے صرفِ نظر کر لیا۔ اس بارے میں ایک اور روایت نقل ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالا روایات بنیاد یہی روایت ہو جو "نقل بالمعنی" کی وجہ سے غلط ملط ہو گئی ہو۔ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : لو علمت انہ لو زدت علی السبعین مرة غفر لھم لفعلت اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے سے خدا انھیں بخش دے گا تو میں ایسا کرتا۔ اس کا مفہوم (خصوصاً لفظ "لو" کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو امتناع کے لیے ہے) یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خدا انھیں نہیں بخشے گا لیکن میرا دل بندگان خدا کی ہدایت اور ان کی نجات کے شوق سے اس قدر لبریز ہے کہ اگر بالفرض ستر مرتبہ سے زیادہ مرتبہ استغفار کرنے سے ان کی نجات ہو سکتی تو میں ایسا ہی کرتا۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت کا مفہوم واضح ہے اور جو حدیث ان کے بر خلاف ہو اس کی یا توجیہ و تاویل کرنا پڑے گی یا اسے پھینک دینا ہو گا۔

81
9:81
فَرِحَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓاْ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُواْ لَا تَنفِرُواْ فِي ٱلۡحَرِّۗ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرّٗاۚ لَّوۡ كَانُواْ يَفۡقَهُونَ
(جنگ تبوک سے) کنارہ کشی کرنے والے جو رسول خدا کی مخالفت سے خوش ہیں اور وہ راہ خدا میں اپنے اموال اور جان سے جہاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے (اور ایک دوسرے سے اور مومنین سے) کہتے ہیں کہ اس موسم گرما میں (میدان کی طرف) حرکت نہ کریں انہیں کہہ دو کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے اگر تم میں سمجھ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
9:82
فَلۡيَضۡحَكُواْ قَلِيلٗا وَلۡيَبۡكُواْ كَثِيرٗا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
انہیں چاہئے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں یہ ان کارکردگیوں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 83 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
9:83
فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٖ مِّنۡهُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِيَ أَبَدٗا وَلَن تُقَٰتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّاۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٖ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَٰلِفِينَ
جب اللہ تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تجھ سے (میدان جہاد کی طرف) خروج کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم کبھی میرے ساتھ خروج نہیں کرو گے اور میری معیت میں کبھی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے کیونکہ گھروں میں بیٹھ رہنے پر تم پہلے ہی راضی ہو چکے ہوپھر اب بھی منہ موڑنے والوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھ جاؤ۔

منافقین کی ایک اور غلط حرکت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی منافقین کے افکار و اعمال کا ذکر جاری ہے تاکہ مسلمان واضح طور پر اس گروہ کو پہچان لیں اور ان کے غلط منصوبوں اور سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ جنھوں نے (تبوک میں) جہاد میں شرکت نہیں کی اور بے ہودہ بہانے بنا کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور اپنے گمان میں انھوں نے میدانِ جنگ میں خطرات پر سلامتی کو دی ترجیح دی، وہ رسول خداؐ کے خلاف اس عمل پر خوش ہیں(فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ)۔ اور راہ خدا میں مال و جان سے جہاد کرنے اور مجاہدین کے عظیم اعزازات و افتخار ات حاصل کرنے کو ناپسند کرتے ہیں (وَکَرِھُوا اَنْ یُجَاھِدُوا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنفُسِھِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ)۔ انھوں نے میدان جہاد میں شر کت نہ کرنے پر قناعت نہیں کی بلکہ وہ شیطانی وسوسوں سے دوسروں کو بھی بد دل کرنے یا پھیرنے کی کوشش میں تھے۔ انھوں نے دوسروں سے کہا: موسم گرما کی اس جلا دینے والی گرمی میں میدان جنگ کی طرف نہ جاؤ(وَقَالُوا لاَتَنفِرُوا فِی الْحَرِّ)۔ درحقیقت، وہ ایک تو مسلمانوں کے ارادوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا اپنے جرم میں بہت سے افراد کو شریک کرنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد قرآن پیغمبرؐ اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انھیں دوٹوک الفاظ میں اور تنبیہ کرتے ہوئے " کہہ دو کہ دوزخ کی جلا دینے والی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے اگر تم سمجھو(قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ کَانُوا یَفْقَھُونَ)۔ لیکن وہ کمزور ایمان اور ناسمجھی کی وجہ سے توجہ نہیں کرتے کہ کیسی جلانے والی آگ ان کے انتظار میں ہے، ایسی آگ کہ جس کی چھوٹی سی چنگاری دنیا کی ہر قسم کی آگ سے زیادہ جلا دینے والی ہے۔ بعد کی دو آیتیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ اس گمان میں ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے، جہاد سے دور رہنے والے اور مجاہدین کے حوصلے پست کرنے سے وہ اپنے ہدف کو پہنچ گئے لہٰذا وہ قہقہے لگاتے ہیں جیسا کہ ہر دور کے منافقین کرتے رہے ہیں لیکن قرآن انھیں خطرے سے ڈراتے ہوئے کہتا ہے: انھیں تھوڑا ہنسنا چاہئیے اور زیادہ رونا چاہئیے (فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیراً)۔ ہاں انھیں رونا چاہئیے اپنے تاریک مستقبل پر اور ان دردناک سزاؤں پر جو ان کے انتظار میں ہیں انھیں رونا چاہئیے اس بنا پر کہ وہ واپسی کے راستے کے تمام پلوں کو برباد کر چکے ہیں۔ انھیں رونا چاہئیے کہ وہ اپنی تمام تر استعداد اور زندگانی کا سرمایہ دے کر اپنے لئے رسوائی اور بدبختی خرید چکے ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ یہ ان کے اعمال کی سزا ہے جو وہ انجام دیتے تھے (جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ)۔ ہم نے جو کچھ کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اس جہان میں ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔ کیونکہ آگے ان کے لیے ایسی دردناک سزا ہے کہ اگر اس سے آگاہ ہو جائیں تو بہت روئیں اور ہنسیں بہت کم۔ لیکن بعض مفسرین نے اس جملے کے معنی کے متعلق ایک اور احتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنا بھی ہنسیں دنیا کی عمر اتنی تھوڑی ہے کہ وہ پھر بھی کم ہے اور آخرت میں وہ اتنا روئیں گے کہ دنیاوی گریہ و زاری اس کے مقابلے میں بہت حقیر ہے۔ لیکن پہلی تفسیر ظاہر آیت سے اور تقریر و تحریر میں استعمال ہونے والی اس سے مشابہ تعبیرات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے خصوصاً جب کہ دوسری تفسیر کا لازمہ یہ ہے کہ صیغہ امر اخبار کے معنی میں ہو اور یہ خلافِ ظاہر ہے۔ ایک مشہور حدیث میں کہ جسے بہت سے مفسرین نے پیغمبرؐ اکرم سے نقل کیا ہے، آپ نے فرماتے ہیں: "لو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا و لبکیتم کثیراً " اگر اسے جو (قیامت کی ہولناک سزاؤں کے متعلق )جانتا ہوں تم بھی جانتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ یہ حدیث بھی پہلے معنی پر ایک شاہد ہے (غور کیجئے گا)۔ زیر بحث آخری آیت میں منافقین کی ایک اور سوچی سمجھی خطرناک روش کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی غلط کام کو ظاہر بظاہر انجام دیتے ہیں تو اپنی براٴت کے لیے تلافی کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح اپنی بدعات اور خلافِ اسلام حرکات کو چھپانے کی کو شش کرتے ہیں۔ آیت کہتی ہے: جس وقت خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تجھ سے جہاد کے دوسرے میدان میں شرکت کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی میدان جہاد میں شرکت نہ کر سکو گے اور میری معیت میں کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے (فَإِنْ رَجَعَکَ اللهُ إِلَی طَائِفَةٍ مِنْھُمْ فَاسْتَاْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِی اَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِی عَدُوًّا )۔ یعنی رسول اللہ انھیں ہمیشہ کے لیے مایوس کر دیں اور واضح کر دیں کہ ان کی حنا رنگ نہیں لائے گی اور کبھی کوئی ان کے فریب میں نہیں آئے گا اور کیا ہی اچھا ہوکہ وہ مکر و فریب کہ یہ جال کہیں اور لے جائیں کیونکہ یہاں اب کوئی ان کے دام فریب میں نہیں آئے گا۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ "طآئفة منھم" (ان میں سے ایک گروہ)کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ سب ایسا کرنے کو تیار نہ تھے اور دوسرے جہاد میں شرکت پر آمادگی کا اظہار سے سب نے نہیں کیا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے بعض اس قدر رسوا اور شرمندہ تھے کہ وہ اس رسول اللہؐ کی خدمت میں پیش ہو کر اپنی یہ تجویز ہی پیش نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد ان کی پیش کش قبول نہ کرنے کی دلیل یوں بیان کی گئی ہے: میدانِ جہاد سے کنارہ کشی کرنے اور گھروں میں بیٹھ رہنے پر تم پہلے بھی راضی ہو چکے ہو پھر اب بھی منہ موڑنے والوں کے ساتھ مل جاؤ اور ان کے ساتھ گھروں میں بیٹھ جاؤ(إِنَّکُمْ رَضِیتُمْ بِالْقُعُودِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ)۔

84
9:84
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ إِنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمۡ فَٰسِقُونَ
ان میں سے جو بھی مر جائے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ اور اس کی قبر پر (دعا اور طلب بخشش کیلئے) کھڑا نہ ہو کیونکہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور جب وہ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
9:85
وَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
ان کے اموال اور اولاد تیرے لئے باعث تعجب نہ ہوں (کیونکہ یہ ان کیلئے نعمت نہیں بلکہ) خدا چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے انہیں دنیا میں عذاب کرے اور ان کی روحیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

چند توجّہ طلب نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

۱۔ دوسرے جہاد میں شرکت کی پیش کش کی حقیقت: اس میں شک نہیں کہ اگر یہ منافقین جہاد سے ایک مرتبہ منہ موڑنے کے بعد پشمان ہوتے، توبہ کر لیتے اور اپنے سابقہ گناہوں کی تلافی کے لیے دوسرے جہاد میں شرکت کی پیش کش کرتے تو خداوند تعالیٰ ان کی پیش کش قبول کر لیتا اور رسول اللہ ان کی درخواست رد نہ کرتے۔ اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ پیش کش بھی ایک طرح کی شیطنت اور منافقت تھی۔ دراصل، یہ اپنے مکر وہ چہرے کو چھپانے اور سابقہ اعمال جاری رکھنے کی ایک تکنیک تھی۔ ۲۔لفظ "خالف" کا مفہوم: یہ لفظ "متخلف" کے معنی میں ہے جو کہ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے کہ جو عذر و معذرت کے ساتھ یا بغیر کسی عذرکے میدان جہاد میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ "خالف" مخالفت کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ تم بھی چلے جاؤ اور مخالفوں کے ہم آواز بن جاؤ اس لفظ کا ایک مفہوم "فاسد" بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ "خلوف"،"فساد"کے معنی میں ہے اور "خالف" لغت میں "فاسد" کے معنی میں آیا ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اس لفظ سے تمام مذکورہ معانی مراد ہوں کیونکہ منافقین اور ان کے ساتھی ان تمام صفات رذیلہ کے حامل تھے۔ ۳۔ دور حاضر میں ہماری ذمہ داری اور منافقین کی روش: اس امر کی ہم دوبارہ یادہانی ضروری سمجھتے ہیں کہ دور حاضر کے مسلمان بھی اپنے معاشرے کے منافقین جو گذشتہ ادوارکے منافقین کی روش پر گامزن ہیں کے بارے میں رسول اللہ کے اسی محکم طریقے کی پیروی کریں اور ایک دفعہ ان کے دامِ فریب میں آنے کے بعد دوسری مرتبہ ان سے دھو کا نہ کھائیں اور ان کے مگر مچھ کے آنسوؤں کو کوئی اہمیت نہ دیں کیونکہ: " کیونکہ ایک مسلمان ایک ہی جال میں دو مرتبہ نہیں پھنستا"۔

منافقین کے بارے میں زیادہ اقدام

جب منافقین نے کھلے بندوں جہاد سے منہ موڑ کر خود پردے چاک کر دیے اور ان کامعاملہ واضح ہو گیا تو خداوند تعالٰی نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا کہ وہ زیادہ صریح اور زیادہ مستحکم طریقے سے اقدام کریں تاکہ دوسروں کے دماغ سے ہمیشہ کےلئے نفاق اور منافق سازی کی فکر نکل جائے اور منافقین بھی جان لیں کہ اسلامی معاشرے میں ان کے لیے کوئی جگہ اور مقام باقی نہیں رہا۔ لہٰذا قرآن فرماتا ہے(منافقین میں سے) جو کوئی بھی مر جائے اس کی نماز کبھی نہ پڑھو(ولا تصل علی احد منھم مات ابداً)۔ اور کبھی بھی اس کی قبر کے پاس طلب بخشش کے لیے کھڑا نہ ہو (ولا تقم علی قبرہ)۔ فی الحقیقت یہ منافقین سے ایک قسم کی منفی اور مؤثر جنگ ہے کیونکہ ان وجوہ کی بنا پر بیان کر چکے ہیں رسول اللہ قانونی طور پر ان کے قتل اور اسلامی معاشرے کو اس طریقے سے ان کے وجود سے پاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتے تھے لیکن انھیں کافی حد تک بے اعتبار کرنے، کنارہ کش کرنے اور اسلامی معاشرے سے نکال باہر پھینکنے کے لیے مقابلے کے ایسے منفی طریقے بہت مؤثر تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک سچا مومن زندگی میں بھی محترم ہے موت کے بعد بھی اس لئے اسلام نے اس کے غسل، کفن اور دفن کا حکم دیا ہے تاکہ اسے زیادہ اور خاص احترامات کے ساتھ سپردِخاک کیا جائے یہاں تک کہ اسے دفن کرنے کے بعد اس کی قبر کے پاس آ کر اس کے احتمالی گناہوں اور لغزشوں کی خدا سے بخشش طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب یہ مراسم اگر کسی شخص کے لیے انجام نہ دیے جائیں تو یہ گویا اسے اسلامی معاشرے سے باہر نکال کر پھینکنے کے مترادف ہے اور اگر اس شخص کو مسترد کر دینے والی شخصیت پیغمبرؐ اکرم کی ہو ارو اس مسترد شدہ شخص کے مقام پر ایک سخت ضرب ہو گی۔ درحقیقت، یہ سرد جنگ اور مقابلے کا ایک جچا تلا طریقہ ہے۔ دور حاضر میں بھی منافقین کے بارے میں مسلمانوں کو ایسے طریقوں سے کام لینا چا ہئیے یعنی جب تک کچھ افراد اظہار اسلام کرتے ہیں اور ظواہر اسلام کے پابند ہیں تو ان سے ایک مسلمان جیسا سلوک کیا جائے اگرچہ ان کا باطن کچھ اور ہو۔ لیکن اگر وہ خود پردے چاک کر دیں اور اپنا نفاق ظاہر کر دیں تو پھر ان سے اسلام سے بیگانہ افراد کا سا سلوک کرنا چاہیئے۔ آیت کے آخر میں ایک بار پھر اس حکم کی دلیل واضح کی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے: " یہ حکم اس بنا پر ہے کہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر اختیار کیا ہے "(إِنّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ)۔ "اور جب یہ لوگ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق اور فرمانِ خدا کے مخالف تھے "وہ نہ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور نہ ہی توبہ کے پانی سے انھو ں نے اپنا گناہ آلودہ دامن دھو یا ہے (وَمَاتُوا وَھُمْ فَاسِقُونَ)۔ ممکن ہے اس مقام پر مسلمانوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر منافقین سچ مچ رحمت الہٰی سے اس قدر دور ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان سے محبت اور لگاؤ رکھیں تو پھر خدا نے ان سے اس قدر اظہار محبت کیوں کیا ہے اور یہ سب مال اور اولاد (اقتصادی اور افرادی قوت) انھیں کیوں دی ہے۔ اگلی آیت میں روئے سخں پیغمبرؐ کی طرف کرتے ہوئے خداوند تعالٰی نے اسی سوال کا جواب دیا ہے: ان کے اموال و اولاد تمہیں کبھی بھی معلوم نہ ہوں (وَلاَتُعْجِبْکَ اَمْوَالھُمْ وَاَوْلَادُھُمْ)۔کیونکہ ظاہر بین لوگ انھیں خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں لیکن "خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور وہ حالتِ کفر میں مریں (إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اَنْ یُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنفُسُھُمْ وَھُمْ کَافِرُونَ)۔ اس آیت کی نظیر اسی سورہ کی آیہ ۵۵ بھی ہے یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتصادی اور افرادی وسائل غیر صالح افراد کے ہاتھ میں ہوں تو نہ صرف سعادت بخش نہیں ہیں بلکہ اکثر اوقات دردِ سر، مصیبت اور بدبختی کا سبب بھی ہیں کیونکہ ایسے نہ اپنے مال کو برمحل صرف کرتے ہیں کہ ان سے مفید اور اصلاحی نفع حاصل کر سکیں اور نہ ہی ان کی اولاد صحیح راہ پر چلنے والی، صاحب ایمان اور تربیت یافتہ ہوتی ہے کہ جو ان کی آنکھوں کا نور بن سکے اور ان کی زندگی کی مشکلات حل کر سکے ان کے اموال زیادہ تر ہلا ک کر دینے والی سرکش ہوا و ہوس کے لیے فتنہ و فساد پید اکرنے کے لیے اور ظلم کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لیے صرف ہوتے ہیں۔ یہ دراصل خدا فراموشی اور زندگی کے بنیادی مسائل سے غفلت کے سبب ہے ان کی اولاد بھی ظالموں اور فاسد لوگوں کی خدمت میں لگ جاتی ہے اور آخر کار مصیبت ہی کا باعث ہوتی ہے۔ البتہ جو لوگ دولت اور افرادی قوت کو بنیاد ی چیز خیال کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسے کس طرح صرف کرنا چاہیئے دور سے تو ان کی زندگی بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ان کی اصل زندگی کو ہم قریب سے دیکھیں اور اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ ان وسائل سے کس طرح استفادہ کیا جانا مقصود ہے تو ہم تصدیق کریں گے کہ وہ خوش بخت لوگ نہیں ہیں۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ شان نزول کی اختلافی روایات: پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں تعدد روایات وارد ہوئیں ہیں جو باہم اختلاف رکھتی ہیں۔ ان میں سے کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مشہور منافق عبد اللہ بن ابی مر گیا تو پیغمبرؐ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا کی۔ یہاں تک کہ اپنا پیراہن کفن کے طور اسے پہنایا توآیت نازل ہوئی اور پیغمبرؐ اکرم کو ایسے عمل کی تکرار سے روکا گیا۔ جب کہ دوسری روایات سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ رسول اللہؐ اس کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ جبرئیل نازل ہوئے اور آپ کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی اور آپ کو اس کا م سے منع کیا۔ کچھ اور روایات سے ظاہر ہوتا ہے نہ تو رسول اللہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور نہ ہی آپ ایسا کوئی ارادہ رکھتے تھے بلکہ عبد اللہ کے خاندان کی تشویق کے لیے صرف اپنا پیراہن کفن کے طور بھیجاجب لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے جبکہ وہ بے ایمان شخص ہے تو آپ نے فرمایا : میرا پیراہن اس لئے کے عذاب الہٰی سے نجات کا باعث نہیں ہو گا لیکن مجھے امید ہے کہ اس عمل کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ کے بعد قبیلہ خزرج کے بہت سے افراد مسلمان ہو گئے یہ روایات چونکہ آپس میں بہت اختلاف رکھتی ہیں اس لئے ہم ان سے شانِ نزول کی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہیں خصوصاً جبکہ بعض مفسرین کے بقول عبد اللہ بن ابی کی موت ۹سن ہجری میں واقع ہوئی اور زیر نظر آیات تقریباً ۸ سن ہجری میں نازل ہوئیں۔(بحوالہ: المیزان جلد ۹ ۳۸۵)۔ لیکن جو بات قابل انکار نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آیت کے لب و لہجہ سے یوں لگتا ہے کہ رسول اللہ اس کے نزول سے پہلے منافقیین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور ان کی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے کیونکہ وہ ظاہراً مسلمان تھے۔ (تشریحی نوٹ: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی منافقین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے مگر صرف چار تکبیریں کہتے تھے یعنی آخری تکبیر جو میت پر دعا کرنے سے مربوط ہے اس سے صرف نظر کر لیتے تھے۔ یہ روایت اس صورت میں قابل قبول ہو سکتی ہے کہ محل آیت میں "لاتصل" کا معنی "دعا نہ کرو" لیا جائے۔ لیکن اگر اس کا مطلب ہے "نماز نہ پڑھو" تو پھر یہ روایت مخالفِ قرآن ہے؛ اس لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ "لاتصل" کا ظاہری معنی "نماز نہ پڑھو" ہی ہے۔ لہٰذا ہم اسلامی حکم کی رو سے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے جن کا نفاق ظاہر ہو اور ایک ایک مہم روایت کی وجہ سے ہم مندرجہ بالا آیت سے دست بردار نہیں ہو سکتے)۔ مگر اس آیت کے نزول کے بعد یہ طریقہ بالکل متروک ہو گیا۔ ۲۔ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا : زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور ان کے لیے دعا کرنا جائز ہے آیت میں نہی منافقین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس بناپر آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ مومنین کی قبور کی زیارت کرنا یعنی ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا جائز ہے۔ البتہ زیر بحث آیت مومنین کی قبور سے متوسل ہونے اور ان کی برکت سے خدا سے کسی حاجت کا تقاضا کرنے کے مسئلے میں خاموش ہے اگرچہ اس امر کا جائز ہونا روایاتِ اسلامی کی نظر سے مسلم ہے۔

86
9:86
وَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٌ أَنۡ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُواْ مَعَ رَسُولِهِ ٱسۡتَـٔۡذَنَكَ أُوْلُواْ ٱلطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ وَقَالُواْ ذَرۡنَا نَكُن مَّعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
اور جب کوئی سورت نازل ہو کہ خد اپر ایمان لے آؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان (منافقین) میں سے جو توانائی رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں بیٹھ رہنے والوں (جن پر جہاد معاف ہے) کے ساتھ چھوڑ دیجئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
9:87
رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ
وہ اس بات پر راضی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے لہٰذا وہ نہیں سمجھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
9:88
لَٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ جَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡخَيۡرَٰتُۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
لیکن رسول اور وہ افراد جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کیا ہے اور سب نیکیاں ان کیلئے ہیں اور وہی کامیاب ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
9:89
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اللہ نے ان کیلئے جنت کے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے (درختوں کے) نیچے سے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ کیلئے رہیں گے اور یہ بہت بڑی اور عظیم کامیابی ہے۔

پست ہمت افراد اور سچے مومنین

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں گفتگو ہے البتہ یہاں ان کی بدکاریوں کا سچے مومنین کے نیک کاموں سے موازنہ کیا گیا ہے اور اس سے ان کا انحراف اور بے چارگی زیادہ واضح ہوتی ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جس وقت کو ئی سورت جہاد کے بارے میں نازل ہوتی ہے اور لو گوں کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے (یعنی کہتی ہے کہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو اور اسے مستحکم کرو) اور پیغمبرؐ کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ایسے موقع پر صاحبِ قدرت منافقین کہ جو جسمانی اور مالی طور پر میدان جنگ میں شر کت کی استعداد رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ میدانِ جہاد میں شر کت نہ کریں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں (کہ جہاد میں شرکت سے معاف ہیں) کے ساتھ رہنے دیجئے(وَإِذَا اُنزِلَتْ سُورَةٌ اَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاھِدُوا مَعَ رَسُولِہِ اسْتَاْذَنَکَ اُوْلُوا الطَّوْلِ مِنْھُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَکُنْ مَعَ الْقَاعِدِینَ)۔ "طول" (بروزن "قول") مالی وسائل کے معنی میں آیا ہے اس بنا پر "اولوا الطول" سے مراد وہ افراد ہیں جو میدانِ جنگ میں شرکت کے لیے کافی مادی طاقت رکھتے تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان ناتوان افراد کے ساتھ رہ جائیں جو جنگ میں شرکت کے لیے مالی اور جسمانی طور پر کافی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ اس لفظ کی اصل "طول" (بروزن "پول") ہے جو کہ "عرض" کی ضد ہے اور ان دونوں معانی کی آپس میں مناسبت واضح ہے۔ کیونکہ مالی اور جسمانی توانائی ایک طرح سے طاقت اور قدرت کی کششِ دوام اور طول کو ظاہر کرتی ہے۔ اگلی آیت میں قرآن ان کی اس جملے کے ذریعے مذمت و ملامت کرتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں (رَضُوا بِاَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے "خوالف" "خالفة" کی جمع ہے اس کا مادہ "خلف" ہے جس کا منعی ہے پیٹھ پیچھے۔ اسی بنا پر عورتوں کو جو مردوں کے کے گھر سے باہر چلے جانے کے بعد گھر میں باقی رہ جاتی ہیں "خالفہ" کہا جاتا ہے۔ زیر بحث آیت میں "خوالف" سے مراد تمام لوگ ہیں جو کسی وجہ سے میدان جنگ میں شرکت کرنے سے معذور ہیں چاہے وہ عورتیں ہوں یا بوڑھے مرد، بیمار ہوں یا بچے۔ بعض احادیث میں جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مار کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: گناہ اور نفاق کے زیر اثر وہ اس مر حلہ تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے اسی بنا پر وہ کچھ نہیں سمجھتے (وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لاَیَفْقھُونَ)۔ سورہ بقرہ کی ابتدا میں ہم نے دل پر مہر لگانے کے مفہوم پر بحث کی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد اول ص۱۰۰ (اردو ترجمہ) اگلی آیت میں اس کے مد مقابل گروہ کی صفات و خصوصیات کا ذکر ہے جو کہ بالکل منافقین کی صفات و خصوصیات کے برعکس ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا ہے (لَکِنْ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ جَاھَدُوا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنفُسِھِمْ)۔ اور ان کا انجام کار یہ ہوا کہ طرح طرح کی سعادتین، کامیابیاں اور دونوں جہانوں کی مادی و روحانی خیرات انھیں نصیب ہوئیں (وَاُوْلَئِکَ لھُمْ الْخَیْرَاتُ )اور یہی لوگ کامیاب ہیں (وَاُوْلَئِکَ ھُمْ الْمُفْلِحُونَ)۔ لفظ "الخیرات" جمع کا صیغہ ہے جس پر "الف لام" بھی ہے اور اس سے عمومیت کا استفادہ ہوتا ہے یہ ایک ایسی جامع تعبیر ہے کہ جو ہر قسم کی کامیابی، نعمت اور خیر کا مفہوم لیے ہوئے ہے چاہے وہ مادی ہو یا روحانی۔ علم معانی بیا ن میں جو قواعد بیان ہوئے ہیں ان کے مطابق ان دونوں جملوں کی تعبیرات گواہی دیتی ہیں کہ کامیاب صرف یہی لوگ ہیں اور اسی طرح جو ہر قسم کی خیر و سعادت کا استحقاق رکھتے ہیں صرف یہی لوگ ہیں، وہی جو اپنے پورے وجود اور وسائل کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایمان اور جہاد اکھٹے ہو جائیں تو پھر ہر طرح کی خیر و برکت اس کے ساتھ ہو گی اور ان دونوں کے بغیر نہ کوئی راستہ فلاح کی طرف جاتا ہے نہ ہی مادی و معنوی نعمات میں کوئی حصہ ملتا ہے۔ یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ ان دونوں گروہوں کی صفات کے تقابل سے معلوم ہو تا ہے کہ منافق فقدانِ ایمان اور گناہ میں بہت زیادہ آلودگی کی وجہ سے نادان اور جاہل ہیں اور اسی بنا پر عالی ہمتی سے محروم ہیں جو کہ فہم، شعور اور آگہی کی پیداوار ہے وہ اس بات پر راضی ہیں کہ بیماروں اور بچوں کے ساتھ رہ جائیں اور میدانِ جہاد میں شرکت کے فضائل اور افتخارات کے باوجود اس کا انکار کر دیں۔ جب کہ ان کے مقابلے میں اہل ایمان ایسی روشن نگاہی، فہم وادراک اور عالی ہمتی رکھتے ہیں کہ مشکلات سے نجات کی راہ تمام تر وسائل کے ساتھ جہاد میں شرکت میں سمجھتے ہیں۔ یہ وہی عظیم درس ہے جو قرآن نے اپنی بہت ہی آیات میں ہمیں دیا ہے اور پھر بھی ہم اس سے غافل ہیں۔ زیر بحث آیت میں دوسرے گروہ کی کچھ اخروری جزاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا نے ان کے لیے باغاتِ بہشت تیا ر کر رکھے ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری کی گئی ہیں (اَعَدَّ اللهُ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ )۔تاکیداً فرمایا گیا ہے کہ یہ نعمت اور عنا یات عاریتاً اور فنا پذیر نہیں ہے بلکہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا)۔ اور یہ عظیم کامیابی ہے (ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔ "اعدلھم" (خدا نے ان کے لیے تیار کیا ہے) یہ تعبیر موضوع کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس احترام کی نشانی ہے جو اس گروہ کو خدا کے نزدیک حاصل ہے یعنی اس نے پہلے سے یہ نعمات و عنا یات ان کے لیے تیار کر کھی ہیں۔

90
9:90
وَجَآءَ ٱلۡمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور اعراب میں سے (معذور لوگ) تیرے پاس آئے ہیں کہ انہیں جہاد میں نہ جانے کی اجازت دی جائے لیکن وہ لوگ جنہوں نے خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ جھوٹ بولا ہے (بغیر کسی عذر کے اپنے گھر میں ) بیٹھ گئے ہیں عنقریب ان لوگوں کو جو کافر ہو گئے ہیں (اور معذور نہیں تھے) درد ناک عذاب پہنچے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ مباحث بہانہ جو اور عذر تراش منافقین کے بارے میں تھیں اسی مناسبت سے اس آیت میں جہاد میں پیچھے رہ جانے والے دو گروہوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو واقعا معذور تھا۔ پہلا گروہ وہ ہے جس نے بغیر کسی عذر کے سرکشی کے طور پر اس عظیم ذمہ داری سے روگردانی کی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: بادیہ نشین اعراب کا ایک گروہ جو میدان جہاد میں شرکت سے معذور تھا تیرے پاس آیا ہے تاکہ اسے اجازت دی جائے اور معاف رکھا جائے (وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنْ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ )۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا اور اس کے رسول کے سامنے جھوٹ بولا ہے اور بغیر کسی عذر کے اپنے گھر میں بیٹھ گئے ہیں اور میدان میں نہیں گئے(وَقَعَدَ الَّذِینَ کَذَبُوا اللهَ وَرَسُولَہُ )۔ آیت کے آخر میں دوسرے گروہ کو شدت کے ساتھ تہدید کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے: ان میں سے جو کافر ہوا ہے عنقریب وہ دردناک عذاب میں گرفتار ہو گا (سَیُصِیبُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے یہی مفہوم آیت میں موجود قرائن سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دئیے گئے ہیں اور دوسری طرف لفظ "منھم" نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دونوں گروہ تمام کے تمام کافر نہیں تھے ان میں دو قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ "معذّرون" حقیقی معذور تھے۔ لیکن اس تفسیر کے مقابلے میں اس آیت کی دو اور تفسیریں بھی کی گئی ہیں: پہلی یہ کہ " معذرون" سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہا د سے فرار کے لیے فضول، بے ہودہ اور جھوٹے بہانے تراشتے تھے، اور دوسرے گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عذر تراشی کی بھی زحمت نہیں دیتے تھے اور جہاد کے بارے میں کھل کے حکم خدا کی نافرمانی کرتے تھے چاہے وہ سچے ہوں یا جھوٹے۔ مگر قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ "معذرون" میراد حقیقی معذور ہی ہیں۔

91
9:91
لَّيۡسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرۡضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ مِن سَبِيلٖۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
ضعفاء، بیمار اور وہ جو جہاد کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رکھتے ان پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہوں نے میدان جہاد میں شرکت نہیں کی جب کہ وہ خدا اور اس کے رسول سے خیر خواہی کریں اور جو کچھ طاقت رکھتے ہیں اس سے دریغ نہ کریں کیونکہ نیکو کار لوگوں سے مواخذہ نہیں ہو سکتا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
9:92
وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ قُلۡتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ تَوَلَّواْ وَّأَعۡيُنُهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ
نیز ان پر بھی اعتراض نہیں جو جب تیرے پاس آئے کہ تو انہیں (میدان جہاد کیلئے) سواری فراہم کر دے تو تو نے کہا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے کہ جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ (تیرے پاس سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے وہ راہ خدا میں خرچ کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
9:93
۞إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ وَهُمۡ أَغۡنِيَآءُۚ رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
مواخذہ کی راہ ان کیلئے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں جبکہ وہ بے نیاز ہیں (اور کافی وسائل رکھتے ہیں ) وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جانے پر راضی ہو گئے ہیں اور خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہٰذا وہ کچھ نہیں جانتے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

پہلی آیت کے بارے میں منقول ہے کہ پیغمبرؐ اکرم کے مخلص اصحاب میں سے ایک نے آپؐ سے عرض کیا: میں ایک بوڑھا، نابینا اور عاجز شخص ہوں یہاں تک کہ میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میدان جہاد میں لے جائے تو کیا میں جہاد میں شرکت نہ کروں تو معذور ہوں؟ پیغمبرؐ اکرم خاموش رہے تو پھر پہلی آیت نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کو اجازت دی گئی ہے اس شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا افراد تک پیغمبرؐ اکرم کو اطلاع دیے بغیر جہاد میں شرکت سے پہلو تہی نہیں کرتے تھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ شاید ان کا وجود اس حالت میں بھی مجاہدین کی تشویق یا کثرتِ لشکر کے لیے مفید ہو وہ رسول اللہؐ سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں پوچھتے تھے۔ دوسری آ یت کے بارے میں بھی روایات میں ہے کہ غریب انصار سے سات افراد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقاضا کیا کہ انھیں جہاد میں شرکت کے لیے وسائل مہیا کیے جائیں لیکن چونکہ پیغمبرؐ اکرم کے پاس انھیں مہیا کرنے کے لیے وسائل نہ تھے تو آپ نے انھیں نفی میں جواب دیا۔ وہ اشک آلودہ نگاہوں سے آپ کی بار گاہ سے گئے اور بعد میں "بکاؤن" (رونے والے) کے نام سے مشہور ہوئے۔

وہ معذور جو عشق جہاد میں آنسو بہاتے تھے

تمام گروہوں کی کیفیت واضح کرنے کے لیے ان آیات میں جہاد میں شرکت کے لحاظ سے ان کے معذور ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ایک واضح تقسیم بندی کی گئی ہے۔ ان میں پانچ گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے چار تو واقعاً معذور ہیں اورایک گروہ منافق اور غیر معذور ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ضعیف و ناتوان ہیں (بڑھاپے کے سبب بینائی نہ ہونے کے باعث یا ایسی کسی اور وجہ سے) اسی طرح بیمار اور وہ لوگ جن کے پاس میدان جہاد میں شرکت کے لیے وسائل نہیں ہے ان پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ اس واجب اسلامی پروگرام میں شرکت نہ کریں (لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلاَعَلَی الْمَرْضَی وَلاَعَلَی الَّذِینَ لاَیَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ)۔ ان تین گروہوں کے لیے ہر قانون میں معافی ہے اور عقل و منطق بھی اس کی تائید کرتی ہے اور مسلم ہے کہ اسلامی قوانین کسی مقام پر بھی عقل و منطق سے جدا نہیں ہیں۔ لفظ "حرج" اصل میں کسی چیز کے مرکز اجتماع کے معنی میں ہے اور چونکہ اجتماع اور جمیعت کا تنگی ضیقِ مکان اور جگہ کی تنگی سے تعلق ہے لہٰذا یہ لفظ تنگی، ناراضی اور مسئولیت کے معنی میں آیا ہے۔ زیر بحث آیت میں یہ لفظ آخری معنی یعنی مسئولیت، جوابدہی اور ذمہ داری کے معنی میں آیا ہے۔ اس کے بعد ان کی معافی کے حکم کے لیے ایک اہم شرط بیان کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہ اس صورت میں ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولؐ کے لیے کسی مخلصانہ خیر خواہی سے دریغ نہ کریں (إِذَا نَصَحُوا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ)۔یعنی اگرچہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لیکر میدان جنگ میں نہیں جا سکتے۔ لیکن وہ یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنی گفتار و عمل سے مجاہدین کے شوق کو ابھاریں اور جہاد کے ثمرات و نتائج شمار کرکے ان کے جذبات کو تقویت پہنچائیں اور اس کے برعکس جتنا ہو سکے دشمن کے دلوں کو کمزور کریں اور ان کی شکست کے مقدمات کی فراہمی میں کوتا ہی نہ کریں۔ یہ مفہوم اس لئے ہے کہ کیونکہ لفظ "نصح" جو اصل میں اخلاص کے معنی میں ہے ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں ہر قسم کی خیر خواہی اور مخلصانہ اقدام کا مفہوم پنہاں ہے اور چونکہ یہاں جہاد کا معاملہ درپیش ہے، لہٰذا اس سے مراد ایسی کوششیں ہیں جو اس سلسلے میں درکار ہیں۔ بعد میں اس امر کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے:ایسے افراد نیک لوگ ہیں اور نیکوکاروں کے لیے ملامت، سر زنش، سزا اور مواخذہ کا کوئی راستہ نہیں ہے (مَا عَلَی الْمُحْسِنِینَ مِنْ سَبِیلٍ)۔ آیت کے آخر میں خداوند تعالیٰ کی دو عظیم صفات بیان کی گئی ہیں یہ بھی دراصل ان تین گروہوں کی معافی کی ایک دلیل کے طور پر بیان ہو ئی ہیں ارشاد ہوتا ہے: خدا غفور اور رحیم ہے (وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ "غفور"، "غفران" کے مادہ سے مستور اور پوشیدہ کرنے کے معنی میں ہے یعنی خدا اس صفت کے تقاضا کی بنا پر معذور اور ناتواں افراد کے کام پر پردہ ڈال دیتا ہے اور ان کے عذر قبول کر لیتا ہے۔ اور خدا کا "رحیم" ہونا مقتضی ہے کہ وہ شاق اور مشکل ذمہ داری کسی پر نہ ڈالے اور اسے معاف رکے یہ لوگ اگر میدانِ جہاد میں حاضر ہونے پر مجبور ہوتے تھے یہ امر خدا کی غفوریت اور رحمیت سے مناسبت نہ رکھتا۔ یعنی غٖور و رحیم خدا انھیں یقینا معاف رکھے گا۔ چند ایک روایات جو مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کی ہیں، ان سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ معذور لوگوں کو نہ صرف یہ کہ اس ذمہ داری سے رخصت دی گئی ہے اور ان سے سزا بر طرف کر دی گئی ہے بلکہ میدان جہاد میں شرکت کے لیے انھیں جو قدرِ اشتیاق ہے اس کے حساب سے وہ جزا ثواب اور اعزازات میں بھی مجاہدین کے ساتھ شریک ہیں جیسا کہ پیغمبرؐ اکرم سے منقول ایک حدیث میں بھی ہے کہ جس وقت آپ جنگِ تبوک سے واپس آئے اورمدینے کے قریب پہنچے تو فرمایا: اس شہر میں تم کچھ ایسے افراد کو چھوڑ گئے تھے جو تمام راستے میں تمہارے ساتھ ساتھ جو قدم تم نے اٹھا اور جو مال تم نے اس راہ میں خرچ کیا اور جس زمین سے تم گذرے وہ تمہارے ہمراہ تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! وہ جس طرح ہمارے ساتھ تھے جب کہ وہ مدینہ میں تھے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا : اس بنا پر کہ وہ کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کرسکے (لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ تھے )۔(بحوالہ: المیزان جلد ۹ صفحة ۳۸۶ بحوالہ در المنثور)۔ اس کے بعد چوتھے گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے جہاد میں شرکت سے معافی دی گئی ہے، فرمایا گیا ہے: اسی طرح اس گروہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں جو تیرے پاس آیا تو انھیں میدانِ جہاد میں شرکت کے لیے سواری فراہم کر دے اور تونے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ جس پر تمہیں سوار کروں تو مجبوراً وہ تیرے پاس سے اس حالت میں گئے کہ ان کی آنکھیں اشکبار تھیں اور یہ آنسو اس غم میں تھے کہ ان کے پاس راہ خدا میں خرچ کرنے کےلئے کچھ نہ تھا (وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلھُمْ قُلْتَ لاَاَجِدُ مَا اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوا وَاَعْیُنُھُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ)۔ "تفیض"، "فیضان" کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے پُر ہونے کے نتیجہ میں گرنا۔ جب انسان کو تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی تکلیف اور دکھ زیادہ شدید نہ ہو تو آنکھیں آنسوؤں سے پر ہو جاتی ہیں لیکن آنسو جاری نہیں ہوتے لیکن اگر دکھ اور تکلیف شدید ہو جائے تو اشک رواں ہو جاتے ہیں۔ یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اصحابِ پیغمبرؐ جہاد کے اس قدر مشتاق اور عاشق تھے کہ نہ صرف معافی مل جانے پر خوش نہ تھے بلکہ اس طرح آنسو بہا رہے تھے جیسے ان کا کوئی بہترین عزیز اور دوست کھو گیا ہو۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ چوتھا گروہ تیسرے سے علٰیحدہ نہیں جس کا ذکر گذشتہ آیت میں ہوا ہے لیکن اس کا ایک خاص امتیاز ہے اور اس گروہ کی قدر دانی کے لیے مستقل ایک آیت میں ان کی کیفیت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ: ۱۔ انھوں اس پر قناعت نہیں کی کہ ان کے پاس جہاد میں شرکت کے وسائل نہیں تو بیٹھے رہیں بلکہ وہ رسولؐ کے پاس آئے اور سواری کے لیے ان سے اصرار کیا۔ ۲۔ جب رسول اللہؐ نے انھیں نفی میں جواب دیا تو نہ صرف یہ کہ معافی ملنے پر وہ خوش نہیں ہوئے بلکہ بہت دکھی اور پریشان ہوئے۔ ان دو وجوہ کی بناء پر خداوند تعالٰی نے ان کا خاص طور پر الگ سے ذکر کیا ہے۔ آخری آیت میں پانچویں گروہ کی حالت بیان کی گئی ہے یعنی وہ کہ جن کے پاس بارگاہ الہٰی کے لیے کوئی عذر نہیں تھا، فرما یا گیا ہے: مواخذہ اور سزا کی راہ صرف ان لوگوں کے سامنے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ جہاد میں شرکت نہ کریں جب کہ اس کا م کے لیے ان کے پاس کافی اور ضروری وسائل موجود ہیں اور وہ بالکل بے نیاد ہیں ((إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَسْتَاْذِنُونَکَ وَہُمْ اَغْنِیَاءُ )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان کے لیے یہ ننگ و عار کافی ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ ناتواں، بیمار اور معذور افراد کے ساتھ مدینہ میں رہ جائیں اور جہاد میں شرکت کے اعزاز سے محروم رہیں (رَضُوا بِاَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ)۔ اور یہ سزا بھی ان کے لیے کافی ہے کہ خدا نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے فکر و ادراک کی قدرت ان سے چھین لی اور ان کے دلوں پر مہر لگادی اور اس بناء پر وہ کچھ نہیں جانتے (وَطَبَعَ اللهُ عَلَی قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لاَیَعْلَمُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات

مجاہدین کا جذبہ و شہادت: ان آیات سے مجاہدین اسلام کے قوی اور عالی جذبے کا اظہار ہوتا ہے کہ کس طرح ان کے دلوں میں جہاد و شہادت کا عشق موجزن تھا وہ اس اعزاز کو ہر اعزاز پر مقدم سمجھتے تھے۔ اسی سے اس وقت اسلام کی تیز رفتار پیش رفت اور اس وقت ہماری پسماندگی کی اہم عوامل سامنے آتے ہیں۔ ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ جہاد میں شرکت سے معافی پر جن کی آنکھوں میں برسات کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں ان کے ان لوگوں کے برابر ہو جائیں جو جہاد میں شر کت نہ کرنے کے لیے بہانے تراشتے ہیں۔ اگر ایمان کی وہی روح آج بھی زندہ ہو جائے، عشق اور جذبہ شہادت دلوں میں پھر سے موجزن ہو جائے تو آج بھی کامیابی اور پیش رفت اسی طرح سے ہو جیسے آغاز اسلام میں تھی بدبختی یہی ہے کہ ہم نے فقط اسلام کا ظاہری لباس پہن رکھا ہے، اور اسلام ہمارے وجود کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ پھر بھی ہم اپنے آپ کو آغاز اسلام کے مسلمانوں کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ۲۔ جہاد کے کئی مراحل ہیں: زیر بحث آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو مجاہدین کی ہمکاری سے مکمل طور پر معافی نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ جو افراد بیمار ہیں یا نابینا ہیں یا فطری طور پر ہتھیار اٹھانے اور میدانِ جہاد میں شرکت کی طاقت نہیں رکھتے انھیں بھی چاہئیے کہ وہ زبان سے یا کسی اور طرح سے تبلیغ کے ذریعے مجاہدین کو شوق دلائیں اور ان کی معاونت کریں ایسے لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے اور بالکل ایسے امور سے کنارہ کش نہیں ہونا چاہیئے۔ درحقیقت جہاد کے کئی مرحلے ہیں اور اس کے ایک مرحلے سے معذور ہونا دوسرے مراحل سے معذور ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ ۳۔ ایک وسیع قانون کا سرچشمہ: "ما علی المحسنین من سبیل" (نیکو کاروں سے مواخذہ کی کوئی راہ نہیں) یہ جملہ فقہی مباحث میں ایک وسیع قانون کا سرچشمہ ہے اس قانون سے علماء نے بہت سے احکام اخذ کئے ہیں۔ مثلاً اگر کسی امین شخص کے ہاتھ سے کوئی امانت بغیر کسی افراط و تفریط کے تلف ہو جائے تو ایسا شخص نقصان کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں دیگر دلائل کے علاوہ اس آیت کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت مجاہدین کے بارے میں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ آیت کا کسی ایک واقعہ کے بارے میں ہونا اس کی عمومیت کو ختم نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی ایک مسئلہ کے بارے میں ہونا اسے ہر گز اسی میں محدود نہیں کرتا۔

94
9:94
يَعۡتَذِرُونَ إِلَيۡكُمۡ إِذَا رَجَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡۚ قُل لَّا تَعۡتَذِرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ قَدۡ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنۡ أَخۡبَارِكُمۡۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
جس وقت تم (جنگ تبوک سے) ان کی طرف (جنہوں نے جہاد سے تخلف کیا ہے) لوٹ کر آؤ گے تو تم سے عذر خواہی کریں گے۔ (اے رسول) کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز (تمہاری باتوں ) پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہاری خبروں سے آ گاہ کیا ہے اور اللہ اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھیں گے پھر تم اس کی طرف پلٹ جاؤ گے جو پنہاں اور آشکار سے آگاہ ہے اور وہ تمہیں اس سے آگاہ کرے گا اور اس کی جزا دے گا جو کچھ تم انجام دیتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
9:95
سَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ إِذَا ٱنقَلَبۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ إِنَّهُمۡ رِجۡسٞۖ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
عنقریب جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تو وہ تمہارے لئے قسم کھائیں گے کہ ان سے اعراض (اور صرف نظر) کرو تم ان سے اعراض کرو (اور منہ پھیر لو) کیونکہ وہ پلید ہیں اور ان کے رہنے کی جگہ جہنم ہے ان اعمال کی سزا میں جو وہ انجام دیتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 96 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
9:96
يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ لِتَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡۖ فَإِن تَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرۡضَىٰ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ
وہ قسم کھا کے تم سے چاہتے ہیں کہ ان سے راضی ہو جاؤ۔ اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو اللہ فاسقین کے گروہ سے راضی نہیں ہو گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جن کی تعداد اسی (80) سے زیادہ تھی کیونکہ جب آپؐ جنگ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ نے حکم دیا کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نہ بیٹھے اور نہ ان سے گفتگو کرے اور جب انھوں نے اپنے آپ کو معاشرے کے شدید دباؤ میں دیکھا تو معذرتین کرنے لگے۔ اس پر مندر جہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں ان کی حقیقت واضح ہو گئی ہے۔ تفسیر جھوٹی معذرتوں اور قسموں پر اعتبار نہ کرو یہ آیات بھی منافقین کے شیطانی اعمال کے بارے میں ہیں یکے بعد دیگرے ان مختلف کاموں سے پر دہ اٹھایا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے ریاکارانہ اعمال اور ظاہری دل پذیر باتوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جب تم (جنگِ تبوک سے ) مدینہ کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تو منافقین تمہارے پیچھے آئیں گے اور معذرت کریں گے (یَعْتَذِرُونَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْھِمْ )۔ "یعتذرون" فعل مضارع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند تعالٰی نے پیغمبرؐ اکرم اور مسلمانوں کو پہلے ہی سے اس بات سے آگاہ کر رکھا تھا کہ بہت جلد منافقین جھوٹ موٹ عذرخواہی کرتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے لہٰذا جواب دینے کا طریقہ بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا۔ پھر پیغمبرؐ اکرم کی طرف مسلمانوں کے رہبر کی حیثیت سے روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: منافقین سے کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہرگز تمہاری باتوں پر ایمان نہیں لائیں گے (قُلْ لاَتَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ )۔"کیونکہ خدا نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کر دیا ہے"۔ لہٰذا ہم تمہاری شیطانی سازشوںسے اچھی طرح باخبر ہیں (قَدْ نَبَّاَنَا اللهُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ)۔لیکن اس کے باوجود تمہارے لئے بازگشت اور توبہ کی راہ کھلی ہے۔ عنقریب خدا اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھے گا (وَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ )۔ آیت کی تفسیر کے ضمن میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس جملے سے توبہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آئندہ بھی خدا اور اس کا رسول (وحی کے مطابق ) تمہارے اعلام اور سازشوں سے آگاہ ہو ں گے اور انہیں نقش بر آب کر دیں گے لہٰذا نہ تم آج کچھ کر سکتے ہو اور نہ کل۔ لیکن پہلی تفسیر ظاہرا آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ضمنی طور پر آپ متوجہ رہیں کہ اس جملے کے بارے میں اور امت کے تمام اعمال اس کے پیغمبرؐ کے سامنے پیش ہونے کے مسئلے کے متعلق ہم اسی سورہ کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کریں گے۔ بعد میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارے تمام اعمال اور تمہاری نیتیں ثبت اور محفوظ ہو جائیں گی "پھر تم اس کی طرف پلٹ جاؤ گے جو تمہارے پنہاں اور آشکار امور کو جانتا ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے آگاہ کرے گا"۔ اور تمہیں ان کی جزا دے گا (ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ )۔ بعد والی آیت میں دوبارہ منافقین کی جھوٹی قسموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: و ہ تمہیں فریب دینے کے لیے عنقریب قسم کا سہارا لیں گے اور جب ان کی طرف لوٹو گے تو خدا کی قسم کھائیں گے کہ ان سے صرف نظر کر لو اور اگر ان سے کوئی خطا ہو ئی ہے تو انھیں معاف کر دو(سَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیھِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْھُمْ )۔ درحقیقت وہ ہر دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ کبھی بہانوں سے اپنے آپ کے بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ کبھی اعتراف گناہ کریں گے اور عفوو در گزر کا تقاضا کریں گے۔ وہ سوچتے ہیں کہ شاید کسی طریقے سے تمہارے دلوں میں جگہ پیدا کر لیں۔ لیکن تم کسی طرح سے بھی ان سے اثر نہ لینا اور "ان سے منہ پھیر لو" البتہ ناراضی کے اظہار کے طور پر نہ کہ عفو و بخشش کے طور پر (فَاَعْرِضُوا عَنْھُمْ) وہ اعراض کا تقا ضا کرتے ہیں لیکن درگذر کے معنی میں۔ تم بھی اعراض کرو مگر انکار کے معنی میں۔ یہ دونوں تعبیریں مشابہ ہیں اور بالکل متضاد معانی پیش کرتی ہیں۔ اس انداز کی لطافت اور خوبصورتی اہل ذوق سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے بعد تاکید، توضیح اور دلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے: کیونکہ وہ لوگ پلید ہیں اور ایسی نجس موجودات سے منہ پھیر نا ہی چاہئیے (إِنّھُمْ رِجْسٌ)۔۔ اور چونکہ ایسے ہیں لہٰذا ان کے لیے جہنم کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ہو سکتا(وَمَاْوَاھُمْ جَھَنَّمُ)۔ کیونکہ جنت میں نیک پا ک لوگوں کی جگہ ہے نہ کہ پلید اور گندے لوگوں کی۔ لیکن " یہ سب کچھ اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے خود انجام دئیے ہیں (جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )۔ زیر بحث آخری آیت میں ان کی ایک اور قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ " وہ اصرار کرکے اور قسم کھا کے چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی اور خوش ہو جاؤ(یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ )۔ پہلی آیت میں جس قسم کا ذکر ہے وہ اس بنا پر تھی کہ مومنین عملاً انھیں ملامت نہ کریں۔ لیکن اس آیت میں جس قسم کا تذکرہ ہے وہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ عملی پہلو کے علاوہ مومنین سے دلی طور پر بھی ان سے خوش ہو جائیں۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خداوند تعالٰی اس مقام پر یہ نہیں فرماتا ہے کہ " تم ان سے راضی نہ ہونا " بلکہ یہاں موجود تعبیر سے تہدید کی بو آتی ہے، فرمایا گیا ہے: اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو خدا فاسقین کی قوم سے کبھی راضی نہیں ہو گا (فَإِنْ تَرْضَوْا عَنھُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ)۔ اس میں شک کہ دینی اور اخلاقی طور پر وہ مسلمانوں کو خوش نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ اس طرح مسلمانوں کے دل کی ناراضی دور کرنا چاہتے تھے تاکہ آئندہ ان کے عمل سے محفوظ رہیں۔ لیکن "لا یرضیٰ عن القوم الفاسقین" کہہ کر خداوند تعالٰی مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے کہ یہ فاسق ہیں لہٰذا مسلمانوں کو ان سے ہرگز راضی نہیں ہونا چاہئیے۔ یہ فقط ان کی پر فریب چالیں ہیں۔ لہٰذا بیدار ہو تاکہ ان کے جال میں نہ پھنس جاؤ۔ کیا ہی اچھا ہوکہ ہر زمانے میں مسلمان منافقین کی شیطانی اور جانی پہچانی سازشوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ ان کے سامنے اپنے پرانے پر فریب طریقے استعمال نہ کر سکیں اور اس طرح کہیں وہ اپنے برے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے پائیں۔

97
9:97
ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا وَنِفَاقٗا وَأَجۡدَرُ أَلَّا يَعۡلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
بادیہ نشین عربوں کاکفر اور نفاق شدید تر ہے اور جو کچھ اللہ نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا ہے اس کی حدود (اور سرحدوں ) کی جہالت کے وہ زیادہ حق دار ہیں اور خدا دانا و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
9:98
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
ان بادیہ نشین عربوں میں سے (کچھ لوگ) جو کچھ (راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں اسے تاوان شمار کرتے ہیں اور تمہارے بارے میں درد ناک حوادث کی توقع رکھتے ہیں (حالانکہ) درد ناک حوادث ان کیلئے ہیں اور خدا سننے والا اور دانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 99 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
9:99
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرۡبَةٞ لَّهُمۡۚ سَيُدۡخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
بادیہ نشین عربوں میں سے کچھ اور لوگ خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے خدا کے ہاں قرب اور پیغمبر کی دعاؤں کا باعث سمجھتے ہیں۔ آگاہ ہو کہ یہ ان کے تقرب کا باعث ہیں خدا بہت جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کر دے گا کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

سنگ دل اور صاحبِ ایمان بادیہ نشین

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گزشتہ آیات میں منافقین مدینہ کے بارے میں گفتگو تھی۔ ان آیات میں اسی مناسبت سے بادیہ نشین منافقین کی نشانیوں اور افکار کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخلص اور سچے بادیہ نشین مومنین کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ شاید اس وجہ سے کہ مسلمانوں کو خبردار کیا جائے کہ وہ کہیں یہ خیال نہ کریں کہ منافقین صرف اس شہر میں رہتے ہیں، بتایا گیا ہے کہ بادیہ نشین منافقین ان سے بھی سخت تر ہیں۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں پر ان منافقین کی طرف سے بار ہا حملے ہوئے ہیں۔ لشکر اسلام کی پے در پے فتوحات کے سبب کہیں ایسا نہ ہو کہ اس خطرے کو نظر انداز کر دے۔ بہرحال پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: بادیہ نشین اعراب (تعلیم و تربیت سے دوری اور آیاتِ الہٰی اور پیغمبر کے ارشادات نہ سننے کی وجہ سے ) کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں (الْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَنِفَاقًا)۔"اسی وجہ سے وہ ان فرامین و احکام کی حدود کی جہالت کے زیادہ حق دار ہیں جو خدا نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں (وَاَجْدَرُ اَلاَّ یَعْلَمُوا حُدُودَ مَا اَنزَلَ اللهُ عَلَی رَسُولِہِ)۔ "اعراب" جمع کا معنی رکھنے والے لفظوں میں سے ہے لیکن لغت عرب کے لحاظ سے اس کا مفرد نہیں ہے جیساکہ علماء لغت مثلاً قاموس، صحاح اور تاج العروس کے مؤلف اور دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ لفظ صرف بادیہ نشین عربوں پر بولا جاتا ہے اور ا س کے مفرد کے لیے یاء نسبت کے ساتھ "اعرابی" کی صورت میں بولتے ہیں۔ اس بناء بہت سے لوگوں کے تصور کے برخلاف "اعراب"، "عرب" کی جمع نہیں ہے۔ "اجدر"، "جدار"کے مادہ سے دیوار کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظہ ہر مرتفع اور مناسب چیز کے لیے بولا جانے لگا اس وجہ سے عام طور پر "اجدر" زیادہ شائستہ اور مناسب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے:خدا دانا اور حکیم ہے یعنی اگر بادیہ نشین عربوں کے بارے میں اس قسم کا فیصلہ کرتا ہے تو خاص مناسبت کے سبب ہے کیونکہ ان کا ماحصول ایسی صفات رکھتا ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )۔لیکن اس بناء پر کہ کہیں یہ وہم پیدا نہ ہو کہ تمام بادیہ نشین عرب یا دنیا کے سب بادیہ نشین ان صفات کے حامل ہوتے ہیں، بعد والی آیت میں ان میں سے دو مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ار شاد ہوتا ہے: "ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو جب کوئی چیز راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو نفاق یا کمزور ایمان کی (تشریحی نوٹ: "مغرم" جیسا کہ مجمع البیان میں آیا ہے "غرم" (بروزن "جرم") کے مادہ سے ہے۔ در اصل یہ کسی چیز کے لازم ہونے کے معنی میںة ے بعد ازاں قرض خواہ اور مقروض کو "غریم" کہا جاتا ہے جو ایک دوسرے کو نہیں چھوڑتے اور لازمی طور پر ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے ہیں "غرامت"بھی اسی مناسبت سے استعمال ہوتا ہے کہ جو انسان کے لیے لازمی ہوتا اور جب تک ادا نہ کرلے وہ اس سے جد انہیں ہوتی۔ عشق شدید کو بھی "غرام " کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کی روح میں اس طرح اترتا ہے کہ جدا نہیں ہوتا اور "مغرم" اور "غرامت" کا ایک ہی معنی ہے)۔ ان کی ایک صفت یہ ہے کہ "ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہیں مشکلات گھیر لیں اور بدبختی اور ناکامی تمہیں آ لے" (وَیَتَرَبَّصُ بِکُمْ الدَّوَائِرَ)۔ "دوائر"، "دآئرۃ" کی جمع ہے اور اس کا معنی مشہور ہے لیکن وہ سخت اور دردناک حوادث انسان کا احاطہ کر لیتے ہیں عرب انہیں "دآئرہ" کہتے ہیں اورجمع کی حالت میں "دوآئر" کہتے ہیں۔ درحقیقت، وہ لوگ تنگ نظر، بخیل اور بہت حاسد ہیں اپنے بخل ہی کی وجہ سے وہ راہِ خدا میں ہر طرح کی مالی خدمت کی نقصان شمار کرتے ہیں اور اپنے حسد کی وجہ سے وہ دوسروں کے لیے مشکلات اور مصائب کے انتظار میں رہتے ہیں۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے ظہور مشکلات اور نزول، بلا کا انتظار نہ کریں اور تمہارے ان کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ یہ مشکلات، ناکامیاں بدبختیاں صرف اس منا فق، بے ایمان، جاہل، نادان، تنگ نظر اور حاسد گروہ کی تلاش میں ہیں (عَلَیْھِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ)۔ (تشریحی نوٹ: یہ جملہ حصر ک امعنی دیتا ہے یعنی برے حوادث پس انھی دامن گیر ہوتے ہیں اور یہ انحصار اس بناء پر ہے کہ "علیھم " جو خبر ہے مبتداء سے مقدم ہے)۔ آخر میں آیت کو اس جملے پر ختم کیا گیا ہے کہ "خدا سننے والا اور جاننے والا ہے" (وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔ان کی باتوں کو بھی سنتا ہے اور ان کی نیتوں اور مافی الضمیر سے بھی آگاہ ہے۔ آخری آیت میں دوسرے گروہ یعنی بادیہ نشینوں میں سے مخلص مومنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان کا ہے جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (وَمِنْ الْاَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ)۔ اسی بنا پر وہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کو بھی نقصان اور زیاں نہیں سمجھتے بلکہ اس جہان میں دوسرے جہان میں خدا کی وسیع جزا اور ثواب کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس کا کو قریبِ الہٰی کا ذریعہ، پیغمبرؐ کی توجہ اور دعا کا باعث سمجھتے ہیں جوکہ افتخار اور عظیم برکت ہے (وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ)۔ یہاں خداوند تعالٰی ان کے طرزِ فکر کی بڑی تاکید سے تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: آگاہ رہو کہ یقینا ان کا یہ انفاق اور خرچ بار گاہِ خدا میں قرب کا باعث ہیں (اَلاَإِنّھَا قُرْبَةٌ لَھُمْ)۔ اور اسی بناء پر "خدا انھیں بہت جلد اپنی رحمت میں داخل کر دے گا" (سَیُدْخِلُھُمْ اللهُ فِی رَحْمَتِہِ)۔ اگر ان سے کچھ لغزشیں ہو تو ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے انھیں بخش دے گا "خدا بخشنے والا اور مہربان ہے" (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس آیت میں جو پے در پے تاکیدیں نظر آتی ہیں بہت جالب توجہ ہیں۔ لفظ "الا" اور "ان" دونوں تاکید کے لیے ہیں اس کے بعد "سید خلھم اللہ فی رحمتہ"کاجملہ اور خاص طور پر اس میں لفظ"فی" رحمتِ خدا میں غوطہ زن ہونے کا ظاہر کرتا ہے۔ بعد میں آخری جملہ بھی "ان" سے شروع ہوتا ہے اور خدا کی شفقت و مہربانی کی صفات "غفورا رحیم" کا ذکر کرتا ہے یہ یہ سب اس گروہ کے لیے خداوند تعالٰی کے انتہائی لطف و رحمت کا بیان ہے انھوں نے تعلیم و تربیت سے محروم ہونے اور آیات الہٰی اور ارشادات پیغمبرؐ تک کافی رسائی نہ ہونے کے باوجود جان و دل سے اسلام قبول کیا ہے ا ور مالی وسائل نہ رکھنے کے باوجود (کہ جو ان کی بادیہ نشینی کا لازمہ ہے) وہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ شاید اس بناء پر یہ لوگ شہروں میں رہنے والے اور ہر طرح کے وسائل رکھنے والے افراد کی نسبت قدردانی کے زیادہ حق دار ہیں۔ اس نکتہ کی جانب خصوصیت سے توجہ درکار ہے کہ منافق اعراب کے بارے میں "علیھم دآئرة السوء" استعمال ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بدبختیاں ان پر محیط ہیں۔ لیکن باایمن اور فداکار اعراب کے لیے "فی رحمتہ" استعمال ہوا ہے جو ان پر رحمتِ الہٰی کے محیط ہونے کوبیان کرتا ہے ایک گروہ کو بد بختی نے گھیر رکھا ہے اور دوسرے پر رحمتِ الہٰی احاطہ کئے ہوئے ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ آبادی کے بڑ ے مراکز: عظیم معاشروں اور آبادی کے بڑے مراکز کو اسلام جو اہمیت دیتا ہے وہ مندرجہ بالا آیت سے واضح ہو جاتی ہے یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے پس ماندہ ماحول سے اٹھا ہے کہ جس سے تمدن کی بو بھی نہ آتی تھی اس کے باوجود وہ تمدن کے اصلاحی عوامل کی خاص اہمیت کا قائل ہے اور ا س کی اس بات پر نظر ہے کہ جو لوگ شہر سے دور افتادہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں وہ ایمان اور مذہبی معلومات میں اس لئے پیچھے ہیں کہ ان کے پاس تعلیم و تربیت کے لیے کافی وسائل اور مواقع نہیں ہیں۔ لہٰذا نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے: و الزموا السواد الاعظم فان ید اللہ مع الجماعة بڑے مراکز سے لازماً وابستہ رہو کیونکہ خدا کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۷)۔ لیکن اس بات کا مفہو م یہ نہیں کہ سب لوگ شہروں کا رخ کر لیں اور دیہات جو شہروں کی آبادی کا باعث ہیں انھیں ویران کر دیں بلکہ اس کے برعکس چاہئیے کہ شہروں سے علم و دانش دیہات کی طرف لائی جائے اور دیہات میں تعلیم و تربیت، دین و ایمان اور بیداری و آگاہی کے فروغ اور تقویت کی کوشش کی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر دیہی عوام کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور انہیں شہری علوم و آداب، کتب آسمانی کی آیات اور پیغمبرؐ خدا اور ہادیان برحق کی تعلیمات سے محروم رکھا جائے تو کفر و نفاق انھیں تیزی سے گھیر لے گا۔ دیہاتی لوگ صحیح تعلیم و تربیت زیادہ قبول کرتے ہیں کیونکہ ان میں صاف دل اور پاک فکر افراد زیادہ ہوتے ہیں جنھیں کسی کا ہاتھ نہیں لگا ہوتا اور ان میں شہری شیطنتیں اورسازشیں کم ہوتی ہیں۔ ۲۔ بادیہ نشین شہری: "اعرابی" اگرچہ "بادیہ نشین" کے معنی میں ہے لیکن اسلامی روایات میں اس کا ایک وسیع تر مفہوم لیا گیا ہے بالفاظ دیگر اس کا اسلامی مفہوم کسی علاقے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ طرزِ فکر اور منطقہ فکری سے مربوط ہے جو لوگ اسلامی آداب و سنن اور تعلیم و تربیت سے دور ہیں، اگرچہ شہر میں رہتے ہوں اعرابی ہیں اور اسلامی آداب و سنن سے آگاہ بادیہ نشین بھی اعراب نہیں ہیں۔ امام جعفر صادق سے منقول ایک مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: "من لم یتفقہ منکم فی الدین فھو اعرابی" تم میں سے جو شخص اپنے دین سے آگاہ نہیں، اعرابی ہے۔(بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج۲ صفحہ ۲۵۴)۔ یہ فرمان ہماری مندرجہ بالا گفتگو پر ایک واضح گواہ ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: من الکفر التعرب بعد الھجرة ہجرت کے بعد بادیہ نشینی اور تعرب کفر ہے۔ نیز نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے منقول ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب میں سے معصیت کار لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے: و اعلموآ انکم صرتم بعد الھجرة اعراباً۔ جان لو کہ تم ہجرت کے بعد اعرابی ہو گئے ہو۔ (نہج البلاغہ خطبہ ص ۱۹۲) مندرجہ بالا دو احادیث میں اعرابی ہونے کو ہجرت کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے۔ اگر ہم اس طرف توجہ کریں کہ ہجرت کا وسیع مفہوم بھی مکانی اور علاقائی پہلو نہیں رکھتا بلکہ اس کی بنیاد محور کفر سے فکر کو محور ایمان کی طرف منتقل کرنا ہے تو اس سے اعرابی ہونے کا معنی بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اسلامی آداب و سنن سے جاہلیت کے آداب و رسول کی طرف پھر جانا۔ ۳۔ قربِ الہٰی کا مفہوم: مندرجہ بالا آیات میں باایمان بادیہ نشین کے بارے میں ہے کہ وہ اپنے نفاق اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کو قربِ خدا کا سبب سمجھتے ہیں خصوصاً جبکہ لفظ" قربات " آیا ہے کہ جو کہ جمع اور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ اس میں کئی قرب تلاش کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ قربِ خدا سے مراد قربتِ مکان اور مکانی نزدیکی نہیں ہے بلکہ مقام و مرتبہ اور قدر و منزلت کی نزدیکی ہے یعنی اس کی طرف جانا جو کمالِ مطلق ہے اور اس کی صفاتِ جمال و جلال کا سایہ اپنی روح و فکر پر ڈالنا۔

100
9:100
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
مہاجرین و انصاری میں سے پیش قدمی کرنے والوں اور ان کی پیروی کرنے والوں سے خدا خوش ہے اور وہ (بھی) خدا سے راضی ہیں اور اس نے ان کے لئے باغات بہشت فراہم کئے ہیں کہ جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور یہ عظیم کامیابی ہے۔

چند اہم نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

کبھی کہتے ہیں کہ عورتوں میں پہلی مسلمان خدیجہ تھیں، مردوں میں پہلے مسلمان ابو بکر تھے اور بچوں میں پہلے مسلمان علی تھے۔ یوں در اصل وہ اس امر کی اہمیت کم کرنا چاہتے ہیں (یہ تعبیر مشہور اور معتصب مفسر مؤلف المنار نے زیر بحث آیت کے ذیل میں ذکر کی ہے)۔ حالانکہ اول تو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں حضرت علی علیہ السلام کی اس وقت کم سنی سے اس امر کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی خصوصاً جب کہ قرآن حضرت یحییٰ کے بار ے میں کہتا ہے: و اٰتینا ہ الحکم صبیاً۔ ہم نے اسے بچپن کے عالم میں حکم دیا (مریم - ۱۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے کہ وہ بچپن کے عالم میں بھی بول اٹھے اور جو افراد ان کے بارے میں شک کرتے تھے اس سے کہا: انی عبد اللہ، اٰتانی الکتاب وجعلنی نبیاً میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے آسمانی کتاب دی اور مجھے نبی بنا یا ہے۔ (مریم ۳۰) ایسی آیات کو اگر ہم مذکورہ حدیث سے ملا کر دیکھیں کہ جس میں آپ نے حضرت علی (ع)کو اپنا وصی،خلیفہ اور جانشین قرار دیا ہےاور واضح ہو جاتا ہے کہ صاحب المنار کی متعصبانہ گفتگو کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر تاریخی لحاظ سے مسلم نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام لانے والے تیسرے شخص ہیں بلکہ تاریخ و حدیث کی بہت سی کتب میں ان سے پہلے بہت سے افراد کہ اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ بحث ہم اس نکتہ پر ختم کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع) نے خود اپنے ارشادات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میں پہلا مومن پہلا مسلمان اور رسول اللہؐ کے ساتھ پہلا نماز گزا رہوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام و حیثیت کو واضح کیا ہے، یہ بات آپ سے بہت سی کتب میں منقول ہے۔ علاوہ ازیں، ابن ابی الحدید مشہور عالم ابوجعفر اسکافی معتزلی سے نقل کرتا ہے کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر اسلام میں سبقت رکھتے تھے اگر یہ امر صحیح ہے تو پھر خود انھوں نے اس سے کسی مقام پر اپنی فضیلت کا استدلال کیوں نہیں کیا اور نہ ہی ان کے حامی کسی صحابی نے ایسا دعویٰ کیا ہے۔(بحوالہ: الغدیر ج۲ ص ۲۴۰) ۴۔ کیا تمام صحابہ نیک اور صالح تھے؟ اس امر کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ علماء اہلسنت عام طور پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اللہؐ کے تمام اصحاب پاک، نیکو کار،صالح،شائستہ اور اہل جنت تھے۔ زیر بحث آیت کو بعض لوگ اس دعویٰ کی قطعی دلیل قرار دیتے ہیں۔اسی مناسبت سے ہم بات دوبارہ اس اہم بات کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں کہ جو اسلامی مسائل میں بہت سی خرابیوں اور اختلافات کا سرچشمہ ہے۔ بہت سے اہل سنت مفسرین زیر نظر آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں: حمید بن زیاد کہتا ہے کہ میں محمد بن کعب قرظی کے پاس گیا میں نے اس سے کہا کہ رسول اللہؐ کے اصحاب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو کہ اس نے کیا کہا: جمیع اصحاب رسول اللہؐ (ص) فی الجنة محسنھم و مسیئھم یعنی رسول اللہؐ کے تمام اصحاب جنتی ہیں چاہے وہ نیکوکار ہو یا گناہ گار میں نے کہا : "یہ بات تم کہاں سے کہہ رہے ہو"؟ اس نے کہا اس آیت کو پڑھو"والسابقون الاولون من المہاجرین و الانصار" وہاں تک جہاں فرماتا ہے "رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ"۔ اس نے مزید کہا: لیکن تابعین کے بارے میں ایک ہے اور وہ یہ کہ تابعین صحابہ کی صرف نیک کاموں میں پیروی کریں (تابعین صرف اسی صورت میں اہل نجات ہیں لیکن صحابہ کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں)۔ (بحوالہ: تفسیر المنار اور تفسیر کبیر از فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں) لیکن یہ دعویٰ بہت سے دلائل کی بناء پر غیر قابل قبول ہے کیونکہ اول تو زیر نظر آیت میں مذکورہ حکم تابعین کے بارے میں بھی ہے اور تابعین سے مراد جیساکہ ہم اشارہ کرچکے ہیں وہ تمام لوگ ہیں جو سابقین مہاجرین و انصار کی روش اور طریقے کی پیروی کرتے ہیں۔ اس بناء پر تو تمام امت بغیر کسی استثناء کے اہل نجات ہونا چاہئیے۔ باقی رہا یہ کہ محمد بن کعب والی روایت میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ خدا نے تابعین کے لیے "احسان" کی شرط عائد کی ہے یعنی وہ صحابہ کے صرف اچھے طور طریقوں کی پیروی کریں نہ کہ ان کے گناہوں کی یہ بات نہایت عجیب مباحث میں سے ہے کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ فرع کو اصل سے بڑھادیا جائے صحابہ کے تابعین کے لیے جب اعمال صالح میں پیروی شرط نجات ہے تو بطریق اولیٰ یہ شرط خود صحابہ کےلئے بھی ہونی چاہیے۔ باالفاظ دیگر خداوند تعالیٰ زیر نظر آیت میں کہتا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی ان تمام مہاجرین و انصار اور ان کے تابعین کےلئے ہے جن کی زندگی کا لائحہ عمل صحیح ہو نہ یہ کہ سب مہاجرین و انصار سے وہ راضی ہے چاہے وہ اچھے ہوں یا برے لیکن تابعین کےلئے اس کی رضا مشروط ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ بات عقل سے سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ عقل اصحاب پیغمبرؐ کے لیے دوسروں کی نسبت کسی امتیاز کی قائل نہیں ہوئی۔ ابوجہل میں اور ان افراد میں جو آنحضرت کے دین پر ایمان لا کر منحرف ہو گئے ہیں کیا فرق ہے؟ وہ اشخاص جو رسول اللہؐ کے صدیوں بعد دنیا میں آئے اور راہ اسلام میں ان کی فداکاری اور جانبازی پہلےاصحابِ رسول سے کمتر نہیں بلکہ ان کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے پیغمبراکرم کو دیکھے بغیر پہچانا اور ان پر ایمان لائے کیسے اللہ کی رحمت اور خوشنودی انھیں حاصل نہ ہو گی۔وہ قرآن جوکہتا ہے کہ تم میں سے زیادہ صاحبِ شرف اور صاحب تکریم خدا کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ پر ہیزگار ہے وہ اس غیر منطقی تبعیض اور ترجیح کو کیسے پسند کر سکتا ہے وہ قرآن جواپنی مخلتف آیا ت میں ظالموں اور فاسقوں پر لعنت کرتا ہے اور انہیں عذاب الٰہی کا مستحق شمار کرتا ہے وہ کس طرح عذاب الہٰی سے صحابہ کی غیر منطقی مصونیت اورتحفظ کی تائید کر سکتا ہے کیا قرآن کی ایسی لعنتیں اور دھکمیاں قابل استناء ہیں اور ایک گروہ ان سے خارج ہے؟ آخر کیوں اور کس لئے؟ تمام چیزوں سے قطع نظر کیا ایسا فیصلہ صحابہ کو ہر قسم کے گناہ اور نافرمانی کی اجازت دینے کے مترادف نہیں ہے؟ تیسرا یہ کہ ایسا فیصلہ اسلامی تاریخ سے کسی طرح بھی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ بہت سے لوگ تھے جو ایک دن انصار و مہاجرین کے ساتھ تھے بعد ازاں اس راستے سے منحرف ہو گئے اور رسول اللہؐ ان سے خفا و ناراض ہوئے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہؐ کی ناراضگی غضب ِخدا کا باعث ہے کیا گذشتہ آیا ت میں ہم نے ثعلبہ بن حاطب انصاری کی داستان نہیں پڑھی کہ وہ کس طرح منحرف ہو گیا اور مغضوب پیغمبرؐ ہو گیا۔زیادہ وضاحت سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ اصحاب رسول سب کے سب کسی قسم کے گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے تھے اور ہر معصیت سے معصوم اور پاک تھے تو یہ واضحات کے انکار کے مترادف ہے۔ اگر مراد یہ ہے کہ انھوں نے گناہ تو کیے ہیں اور غلط اعمال بھی انجام دیے لیکن پھر بھی خدا ان سے راضی ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا نے گناہ پر رعایت دی ہے۔ طلحہ و زبیر کے جو ابتداء میں رسول اللہؐ کے اصحاب خاص میں سے تھے اور اسی طرح عائشہ جو رسول اللہؐ کی زوجہ تھیں انہیں جنگ جمل کے سترہ ہزار مقتول مسلمانوں کے خون سے کون بری الذمہ قرار دے سکتا ہے؟ کیا خدا ان خونریزیوں پر راضی تھا؟ علی (ع) کی مخالفت جو خلیفہ رسول تھے فرض کریں کہ ان کی خلافت منصوص نہ تھی۔مگر کم از کم وہ امت کے اجماع و اتفاق سے تو چنے گئے تھے۔ ان کے خلاف اور ان کے اصحابِ با وفا کے خلاف تلوار کھینچنا کیا ایسا عمل تھا، جس پر خدا راضی تھا؟حقیقت یہ ہے کہ "تنزیہ صحابہ" ایک مفروضہ ہے جس کے طرفدارں نے اس بات پر اصرار کر کے اور دباؤ ڈال کر اس اسلام کے پاکیزہ چہرے کو بگاڑ دیا ہے جو ہر مقام پر شخصیت کی میزان ایمان اور عمل صالح کو قرار دیتا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ خدا کی رضا اور خشنود ی جس کا ذکر زیر نظر آیت میں ہے چند امور کے ضمن میں ہے اور وہ ہیں ہجرت نصرت، ایمان اور عمل صالح۔تمام صحابہ اور تابعین جب تک ان کے مطابق رہے خدا کی رضا ان کے شامل حال رہی اور جس دن کوئی ان سے دور ہو گیا اس دن وہ رضائے الٰہی سے بھی دور ہو گیا۔ جوکچھ ہم نے کہا اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ متعصب مفسریعنی مؤلف المنار نے شیعوں کی اس بات پر جو سر زنش کی ہے وہ تمام صحابہ کی پاکیزگی اور درستی کا اعتقاد نہیں رکھتے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ شیعوں نے اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کیا کہ انھوں نے حکمِ عقل، شہادت، تاریخ اور قرآن کی گواہی کو قبول کیا ہے اور متعصب افراد کے فضول اور نادرست امتیازات پر کان نہیں دھرا۔

101
9:101
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡۖ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٖ
بادیہ نشین اعراب جو تمہارے اطراف میں ہیں ان میں ایک جماعت منافقین کی ہے اور (خود) اہل مدینہ میں سے بھی ایک گروہ نفاق کا سخت پابندی ہے انہیں تم نہیں پہچانتے اورہم انہیں پہچانتے ہیں عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ اس کے بعد وہ قیامت میں عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

قرآن مجید بحث کا رخ دوبارہ منافقین کی طرف موڑ رہا ہے، فرمایا گیا ہے: ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے شہر (مدینہ) کے اطراف میں ہیں ایک گروہ منافقین کا موجود ہے (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُونَ)۔ یعنی صرف داخلی منافقین پر توجہ نہ رکھو بلکہ ہوشیار رہ کر باہر کے منافقین پر بھی نگاہ رکھو۔ان کی خطر ناک کارگذاریوں پر نظر رکھو اور ان پر بھی۔ لفظ "اعراب" جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے عام طور بادیہ نشین عربوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے: خود مدینہ میں اور اس شہر کے رہنے والوں میں ایک گروہ ان لوگوں کا ہے کہ جن کا نفاق سرکشی کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور وہ اس کے سخت پابند ہیں اور اس میں تجربہ کار ہیں (وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ)۔ "مردودا" مادہ "مرد" (بر وزن "سرد") سے ہے اس کا مطلب ہے مطلق طغیان سرکشی اور بیگانگی۔ اصل میں یہ "برہنگی" اور "تجرد" کے معنی میں آیا ہے۔ اسی بنا پر جن لڑکوں کے چہروں پر بال نہ اگے ہوں انھیں "امرد" کہتے ہیں۔"شجرة مرداء" ایسے درخت کو کہتے ہیں جس پر بالکل پتے نہ ہوں اور "مارد" ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اطاعت حکم سے بالکل نکل گیا ہو۔ بعض مفسرین اور اہل لغت نے اس مادہ کا ایک معنی "تمرین" بھی بیان کیا ہے ("تاج العروس" اور"قاموس"میں بھی اس کا ایک معنی "تمرین" ذکر ہوا ہے)۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ کسی چیز سے مطلق تجرد اور مکمل خروج بغیر تمرین کے ممکن ہیں نہیں۔ بہر حال یہ منافقین حق و حقیقت سے اس قدر عاری اور اپنے کام میں اتنے ماہر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سچے مسلمانوں میں اس طرح شامل رکھتے ہیں کہ کسی کو ان کے منافق ہونے کا پتہ نہیں۔ داخلی اور خارجی منافقین کے بارے میں تعبیر کا یہ فرق جو زیر نظر آیت میں دکھائی دیتاہے گویا اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ داخلی منافق اپنے کام میں زیادہ ماہر ہیں لہٰذا وہ طبعاً زیادہ خطرناک ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان پر کڑی نظر رکھیں اگرچہ خارجی منافقین سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئیے۔ اسی لئے اس کے بعد بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے: تم انھیں نہیں پہچانتے لیکن ہم انھیں پہچانتے ہیں (لاَتَعْلَمھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ)۔البتہ یہ پیغمبرؐ کے عمومی علم کی طرف اشارہ ہے مگر یہ اس بات کے منافی نہیں کہ وحی اور تعلیم الہٰی کے ذریعے آپ ان کے اسرار سے پوری طرح واقف تھے۔ آیت کے آخر میں اس گروہ کے لیے سزا اور سخت عذاب کو یوں بیان کیا گیا ہے: ہم عنقریب انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے اور اس کے بعد و ہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے (سَنُعَذِّبُھُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیم)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ "عذاب عظیم"روز قیامت کے عذاب اور سزاؤں کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ کہ اس سے پہلے دو عذابوں کا جو ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے اور انھوں نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن زیادہ تر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک عذاب وہی اجتماعی سزا جو ان کی رسوائی اور ان کے اسرار منکشف ہو جانے کے بعد تمام معاشرتی وقار اور اہمیت کھو جانے کی صورت میں ہو گا اس کا ذکر شاید گذشتہ آیا ت میں موجود ہے اور بعض احادیث میں بھی آیا ہے کہ جب ان لوگوں کا معاملہ خطرناک مراحل تک پہنچ جا تا تو رسول اللہؐ ان کا تعارف کروا دیتے یہاں تک کہ انھیں مسجد سے بھی نکال دیتے۔ ان کے لیے دوسری سزا اور عذاب وہی ہے جس کی طرف سورہٴ انفال کی آیہ ۵۰ میں اشارہ ہو چکا ہے۔ جہاں فرما یا گیا ہے: ولو تریٰ اذ یتوفی الذین کفروا الملآئکة یضربون وجوھھم و ادبارھم الخ اگر تو کافروں کو اس وقت دیکھے جب موت کے فرشتے ان کی جان لے رہے ہوں کہ کس طرح فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر مار رہے ہیں اور انھیں سزا دے رہے تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہو گا – یہ احتمال بھی ہے کہ دوسرا عذاب اندرونی اذیت اور روحانی سزا اور تکلیف کی طرف اشارہ ہو کہ جو مسلمانوں کی ہر طرف سے کامیابی کے زیر اثر انھیں پہنچتی ہے۔

102
9:102
وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُواْ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
اور دوسرے گروہ نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے اور صالح اور غیر صالح اعمال کو آپس میں ملا دیا ہے امید ہے خدا ان کی توبہ قبول کر لے کیونکہ اللہ غفور و رحیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیر نظر آیت کی شانِ نزول کے بارے میں کئی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے اکثر میں ابولبابہ انصاری کا نام ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس نے دو یا کچھ اصحاب پیغمبرؐ کے ساتھ مل کر جنگ تبوک میں شر کت نہ کی لیکن جب ان افراد نے وہ آیات سنیں جو متخلفین کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں تو بہت پریشان اور پشیمان ہوئے اور اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہؐ نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ آپ کو بتایا گیا کہ انھوں نے قسم کھائی ہے کہ اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں چھڑائیں گے جب تک کہ خود رسول اللہؐ آ کر انھیں نہ چھوڑ دیں۔رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ یہ کام نہیں کروں گا مگر یہ کہ خدا مجھے اس کی اجازت دے۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نا زل ہوئی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی۔ اس پر رسول اللہ نے آکر انھیں مسجد کے ستونوں سے کھول دیا۔ اس کے شکرانے کے طور پر انھوں نے اپنا سارا مال رسول اللہ کی خدمت میں پیش کر دیا اور عرض کیا یہ وہی مال و اسباب ہے جس سے دل بستگی کی خاطر ہم نے شریک جہاد ہونے سے گریز کیا تھا۔ یہ سب کچھ ہم سے قبول کرکے راہِ خدا میں خرچ کیجئے۔ پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا : ابھی تک اس کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ بعد والی آیت نازل ہوئی اور آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے اموال میں سے کچھ حصہ لے لیں اور بعض روایات کے مطابق تیسرا حصہ قبول کرنے کا حکم ہوا۔ کچھ اور روایات میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت ابولبابہ کے بارے میں بنی قریظہ کے واقعہ کے سلسلہ میں ہے قریظہ یہودی تھے انھوں نے ابولبابہ سے مشورہ کیا کہ کیا ہم پیغمبرؐ کا فیصلہ مان لیں یا نہ۔ اس نے کہا کہ اگر تم نے ان کا فیصلہ مان لیا تو آنحضرت (ع) تم سب کے سر اڑا دیں گے۔ اس کے بعد ابولبابہ اپنی اس بات پر پشیمان ہوا اور توبہ کی اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا۔ اس کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی اور خداوند تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ (بحوالہ:مجمع البیان اور دیگر تفاسیر زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔

توبہ کرنے والے

گذشتہ آیت میں مدینہ داخلی اور خارجی منافقین کی کیفیت بتائی گئی تھی ان یہاں ایک گناہ گار مسلمان گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انھوں نے توبہ کی اور اپنے برے اعمال کی تلافی کے لیے اقدام کیا۔ ارشاد ہوتا ہے: ان میں سے ایک گروہ نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے (وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِھِمْ) اور انھوں نے اچھے اور برے اعمال کو آپس میں ملا دیا ہے (خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: امید ہے خدا ان کی توبہ قبول کر لے اور اپنی رحمت ان کی طرف پلٹا دے (عَسَی اللهُ اَنْ یَتُوبَ عَلَیْھِمْ)۔" کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے" اور وسیع و عریض رحمت کا مالک ہے (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ مندرجہ بالا آیت میں "عسیٰ"کی تعبیر آئی ہے یہ عموماً کامیابی اور ناکامی کے اکٹھے احتمال کے مواقع پر آتی ہے یہ شاید اس بناء پر ہے کہ انھیں امید و بیم اور خوف و رجاء کے درمیان رکھا جائے کیونکہ یہ دونوں کیفیتیں تکامل اور ارتقاء اور تربیت کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "عسیٰ " کی تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ توبہ، ندامت اور پشیمانی کے علاوہ انھیں دیگر شرائط کو بھی پورا کرنا چاہئیے اور اپنے نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ کی تلافی کرنا چاہئیے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ کہ آیت اللہ کو غفران و رحمت کے ذکر سے مکمل کیا گیا ہے، اس میں امید کا پہلو غالب ہے۔ یہ با ت بھی واضح ہے کہ آیت اگرچہ ابولبابہ کے بارے میں یا جنگِ تبوک کے دیگر متخلفین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس سے آیت کا وسیع معنی محدود نہیں ہو جاتا بلکہ آیت ان تمام افراد کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو نیک و بد اعمال کو خلط ملط کر دیتے ہیں اور پھر اپنے برے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیں اسی لئے بعض علماء سے منقول ہے انھوں نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت نہایت امید بخش آیاتِ قرآن میں سے ہے کہ جس نے گناہ گاروں کے لیے کئی دروازے کھول دئیے ہیں اور توبہ کرنے والوں کو اپنی طرف دعوت دی ہے۔۔

103
9:103
خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
ان کے اموال میں سے صدقہ زکوٰۃ لے لو تاکہ انہیں اس کے ذریعے پاک کرو اور ان کی تربیت کرو (اور زکوٰۃ لیتے وقت) انہیں دعا دو کیونکہ تمہاری دعا ان کے سکون کا باعث ہے اور خداسننے والا اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
9:104
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَأۡخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
کیا وہ جانتے نہیں کہ صرف خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
9:105
وَقُلِ ٱعۡمَلُواْ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
کہہ دو ! عمل کرو، اللہ‘ اس کا رسول اور مومنین تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں اور عنقریب اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے کہ جو پنہاں اور آشکار کو جانتا ہے اور تمہیں اس چیز کی خبر دے گا جو کچھ تم کرتے ہو۔

زکوٰة فرد او رمعاشرے کو پا ک کرتی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

پہلی زیر نظر آیت میں ایک اہم اسلامی حکم یعنی زکوٰة کی طرف اشارہ ہوا ہے اور رسول اللہؐ کو ایک عمومی قانون کے طور پر حکم دیا گیا ہے کہ ان کے اموال سے صد قہ یعنی زکوٰة وصول کرو (مِنْ اَمْوَالِھمْ صَدَقَةً)۔ لفظ "من" جو تبعیض کے لیے ہے نشاندہی کرتا ہے کہ زکوٰة مال کا ایک حصہ ہوتا ہے پورا مال نہیں اور نہ ہی اس کا پورا حصہ زکوٰة قرار پاتا ہے۔ اس کے بعد زکوٰة کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی فلسفہ کے دو پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس طرح سے تو انھیں پا ک کرتا ہے اور نشوونما دیتا ہے (تُطَھِّرُہُمْ وَتُزَکیھِمْ بِھَا)۔ انھی اخلاقی رذائل، دنیا پرستی اور بخل سے پاک کرتا ہے اور انسان دوسری، سخاوت اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کے لیے نشوونما دیتا ہے۔ اس سے قطع نظر معاشرے کے ایک طبقے کی محرومیت سے جو خرابیاں، افلاس، گناہ اور طبقاتی تفاوت جنم لیتی ہے۔ اسے الہٰی فریضہ انجام دے کر ختم کرو اور معاشرے کو ان آلودگیوں سے پا ک کردو۔ علاوہ بر ایں، اجتماعی وابستگی، نمو، اقتصادی پیش رفت ایسے ہی کاموں سے ہوتی ہے۔ اس بناء پر زکوٰة کا حکم ایک طرف سے معاشرے اور فرد کو پاک کرتا ہے اور دوسری طرف انسانوں میں فضیلت کے بیج کی نشو و نما کرتا ہے۔ نیز معاشرے کی پیش رفت کا سبب بھی ہے اور زکوٰة کے بارے میں پیش کی جا سکنے والی یہ بہترین تعبیر ہے۔ یعنی ایک طرف سے یہ آلودگیوں کو دھو ڈالتی ہے دوسری طرف ارتقاء و تکامل کا ذریعہ ہے۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ "تطھرھم" کا فاعل زکوٰة ہو اور "تزکیھم" کا فاعل پیغمبرؐ اکرم ہوں۔ اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہو گا کہ زکوٰة انھیں پاک کرتی ہے اور اس کے ذریعے تو آپﷺ ان کی نشو ونما کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا فاعل ذاتِ پیغمبرؐ ہے۔ جیسا کہ ہم نے ابتداء میں معنی کیا ہے اگرچہ نتیجہ کے لحاظ سے ان دونوں تعبیروں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے ۺ جس وقت وہ زکوٰة ادا کریں تو ان کے لیے دعا کرو اور ان پر درود بھیج دو(وَصَلِّ عَلَیھِمْ)۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ واجب ذمہ داریاں ادا کرنے پر بھی لوگوں کی قدردانی کی جانا چاہئیے اور خصوصیت سے معنوی اور نفسیاتی طریقے سے انھیں تشویق دلانی چاہئیے۔ لہٰذ اروایات میں ہے کہ جب رسول اللہؐ کی خدمت میں زکوٰة لے کر آتے تھے تو آپ "اللھم صلّ علیھم " کہہ کر ان کے لیے دعا کرتے تھے۔ بعد میں مزید فرمایا گیا ہے: تمہارا یہ دعا کرنا اور درود بھیجنا ان کے قلبی سکوں کا سرمایہ ہے (إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَھُمْ)۔ کیونکہ اس دعا سے ان کے قلب و روح پر رحمتِ الہٰی کا نزول ہوتا ہے اور وہ اسے محسوس کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، رسول اللہ یا ان کے جانشین لوگوں کی جو قدردانی کرتے ہیں اور ان کے مال کی زکوٰة لیتے ہیں تو انھیں ایک قسم کا روحانی اور فکری سکون پہنچاتے ہیں یعنی اگر ظاہراً وہ ایک چیز دے بیٹھے ہیں تو اس سے بہتر چیز انھوں نے حاصل کی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ مالیات پر مامور افراد کی ذمہ داری ہو کہ وہ لوگوں کا شکریہ ادا کریں لیکن یہ ایک مستحب حکم اسلامی لائحہ عمل میں موجود انسانی اقدار کے گہرے احترام کو واضح کرتا ہے۔ آیت کے آخر میں گذشتہ بحث کی مناسبت سے ارشاد ہوتا ہے: خدا سننے والا اور جاننے والا ہے (وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔وہ پیغمبرؐ کی دعا بھی سنتا ہے اور زکوٰة دینے والوں کی نیت کو بھی جانتا ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ قبول کی گئی زکوٰة: گذشتہ آیات کے بارے میں جو شانِ نزول ہم نے ذکر کی ہے اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیا ت سے قریبی تعلق رکھتی ہے جن کا ربط ابولبابہ اور اس کے ساتھیوں کی توبہ کے واقعہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی توبہ قبول ہونے کے شکرانے پر اپنا سب مال رسول اللہؐ کی خدمت میں لے آئے اور آپ نے ان کے مال میں سے کچھ حصہ لے لیا لیکن یہ شانِ نزول ا س کے منافی نہیں کہ آیت زکوٰة کے بارے میں ایک عمومی حکم رکھتی ہو اور یہ جو بعض مفسرین نے ان دونوں کے درمیان تضاد خیال کیا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ہم نے باقی آیات اور ان کی شان، نزول کے بارے میں کئی مرتبہ کہا ہے۔ ایک ہی سوال باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کے مطابق رسول اللہؐ نے ابولبابہ اور اس کے ساتھیوں کے مال میں سے ایک تہائی حصہ قبول کیا تھا جب کہ زکوٰة کی مقدار کسی مقام پر بھی ۳/۱نہیں ہے۔ گندم، جو، خرما اور کشمش میں دسواں حصہ ہوتا ہے اور کبھی بیسواں۔ سونا اور چاندی میں ڈھائی (۲/۱۔۲) فیصد زکوٰة ہوتی ہے اور گائے، گوسفند اور اونٹ میں بھی زکوٰة کی مقدار ایک تہائی نہیں بنتی۔ لیکن اس سوال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہؐ نے ان کے اموال میں سے ایک حصہ زکوٰة کے طور پر اور باقی ان کے گناہوں کے کفارے کے طور پر وصول کیا۔ اس بناء پر آپؐ نے ان سے واجب زکوٰة لی اور کچھ مقدار انھیں گناہوں سے پاک کرنے کے لیے قبول کی جس کی کل مقدار ان کے اموال کا ۳/۱ حصہ بنتی ہے۔ ۲۔ "خذ"کا مفہوم: اس کا معنی ہے "لے لو۔" یہ حکم اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی حکومت کا سر براہ لوگوں سے زکوٰةلے سکتا ہے نہ یہ کہ وہ منتظر رہے کہ اگر لوگ چاہیں تو ادا کریں اور اگر نہ چاہیں تو نہ کریں۔ ۳۔ "صل علیھم"کے حکم کی عمومیت: "صل علیھم" اگرچہ رسول اللہؐ سے خطاب ہے مگر واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی حکم ہے (کیونکہ کلی قانون یہ ہے کہ پیغمبرؐ کی خصوصیات کو دلیل خاص کا ذریعہ ہو نا چاہئیے)۔ لہٰذا بیت المال کے ذمہ دار اور نگران ہر زمانے میں زکوٰة دینے والوں کو "اللھم صلی علیھم" کہہ کر دعا دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اہل سنت میں سے کچھ متعصب افراد آلِ نبی پر درود و صلٰوة کو بالکل جائز نہیں سمجھتے۔ یعنی اگر کوئی کہے "اللھم صلّ علی علیّ امیر المومنین" یا "صلّ علی فاطمة الزھرآء " تو اسے ممنوع شمار کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ان لوگوں کی اہل بیت رسالت سے دشمنی اس حد تک ہے کہ آنحضرت کے لیے بھی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں اور "صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" نہیں کہتے؛ جب کہ رسول اللہؐ نے خود آل کے ذکر کے بغیر صلوٰت کو "دُم کٹی صلوات" قرار دیا ہے۔ خدا وند عالم مسلمانوں کو عظلمت اہلِ بیت (ع) کا اقرار کرنے کی توفیق عطا فرمائے (مترجم) حالانکہ ایسی دعا ممنوع ہونے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے نہ کہ جواز کے لیے دلیل کی احتیاج ہے۔ علاوہ ازیں، جیسا کہ سطور بالا میں ہے قرآن صراحت سے اجازت دیتا ہے کہ عام افراد کے بارے میں ایسی دعا کی جائے، چہ جائیکہ اہل بیت رسولؐ، جانشینان، پیغمبرؐ اور اولیاءِ الٰہی کے لیے۔ لیکن کیا کیا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات تعصبات قرآنی آیات بھی سمجھنے نہیں دیتے۔ بعض گنہ گار مثلاً جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے رسول اللہؐ سے اصرار کرتے تھے کہ آپ ان کی تو بہ قبول کر لیں۔ اس سلسلے میں زیر بحث دوسری آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ توبہ قبول کرنا رسول کا کام نہیں ہے " کیا وہ جانتے نہیں کہ خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے" (اَلَمْ یَعْلَمُوا اَنَّ اللهَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِہِ)۔وہ نہ فقط توبہ قبو ل کرنے والا ہے بلکہ زکوٰة یا دوسرے صدقات جو گناہ کے کفارہ کے طور پر یا پروردگار کے تقرب کے لیے دئیے جاتے ہیں وہ بھی خدا ہی لیتا ہے (وَیَاْخُذُ الصَّدَقَاتِ)۔ اس میں شک نہیں کہ زکوٰة و صدقات پیغمبرؐ، امام اور مسلمانوں کے پیشوا وصول کرتے ہیں یا مستحق افراد لیتے ہیں۔ بہرصورت، بظاہر ان سے یہ چیزیں خدا نہیں لیتا۔ لیکن چونکہ پیغمبرؐ اور ہادیانِ بر حق کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے (اس لئے کہ وہ خدا کے نمائدے ہیں) تو گویا خدا ہی ان صدقات کو وصول کرتا ہے اس طرح ضرورت مند بندے جو خدا کی اجازت اور فرمان سے ایسی مدد قبول کرتے ہیں۔ درحقیقت، اسی کے نمائندے ہیں اس طرح ان کا ہاتھ بھی خدا ہی کا ہاتھ ہے یہ ایک انتہائی لطیف چیز ہے جو زکوٰة کے اس اسلامی حکم کی عظمت و شکوہ کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اس عظیم خدائی فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کو شوق دلانے کے علاوہ اس طرح سے انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ زکوٰة و صدقات ادا کرنے میں انتہائی ادب و احترام ملحوظ نظر رکھیں کیونکہ لینے والا خدا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوتاہ فکری سے یہ تصور کر لیا جائے کہ ضرورت مند شخص کی تحقیر و تذلیل میں کوئی حرج نہیں یا اسے اس طرح زکوٰة دی جائے کہ اس کی شخصیت مجروح ہو بلکہ اس کے برعکس، چاہئیے کہ یہ انکساری کے ساتھ اپنے ولی نعمت کے سامنے ادب کے اظہار کے ساتھ زکوٰة اس کے مستحق تک پہنچائی جائے۔ رسول اکرمؐ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ان الصدقة تقع فی ید اللہ قبل ان تصل الیٰ ید السآئل صدقہ حاجت مند کے ہاتھ میں جانے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتا ہے۔(بحوالہ: تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی)۔ دوسری حدیث میں امام سجاد (ع) سے منقول ہے: ان الصدقة لاتقع فی ید العبد حتیٰ تقع فی ید الرب صدقہ بندے کے ہاتھ میں اس وقت تک نہیں پہنچتا جب تک کہ پہلے پروردگار کے ہاتھ میں نہ جائے (پہلے خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے پھر بندے کے ہاتھ میں جاتا ہے) یہاں تک کہ ایک روایت میں ہے: اس بندے کے تمام اعمال فرشتے اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں سوائے صدقہ کے کہ جو براہِ راست خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے۔ (بحوالہ:تفسیر برہان زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی)۔ یہی مضمون جو مختلف تعبیروں کے ساتھ ہم نے روایات اہل بیتؑ میں پڑھا ہے اہل سنت کے طرق سے بھی ایک اور تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا : ما تصدق احدکم بصدقة من کسب حلال طیب ولاتقبل اللہ الا الطیب الا اخذھا الرحمن بیمینہ و ان کانت تمرة فتربوا فی کف الرحمن حتیٰ تکون اعظم من الجبل۔ تم میں سے کوئی شخص حلال کمائی میں سے صدقہ نہیں دے گا - اور البتہ خدا حلال کے علاوہ قبول نہیں کرت- مگر یہ کہ خدا اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لے گا۔ اگر خرمے کا ایک دانہ ہو۔ پھر وہ خدا کے دست قدرت میں بڑھنا شروع ہو گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جائے گا۔(بحوالہ: تفسیر المنار ج ۱۱ ص ۳۳۔ یہ حدیث طرق اہلِ بیت سے امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔ بحار الانوار ج۹۶ ص ۱۴۳ طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں) یہ حدیث معنی خیز تشبیہات اور کنایہ جات سے معمور ہے۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں انسانی خدمت اور حاجت مندوں کی مدد کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہو تی ہے۔ احادیث میں اس ضمن میں کئی ایک اور تعبیرات بھی آئی جو بڑی جاذبِ نظر اور اہم ہیں۔ ان میں مکتب اسلام کے پرورش یافتہ افراد کو حاجت مندوں کو مدد دیتے ہوئے ایسا منکر بنا کر پیش کیا گیا ہے گویا حاجت مندوں نے مدد قبول کرکے ان پر احسان کیا ہے اور انھیں اعزاز و افتخار سے نوازا ہے۔ مثلاً بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ معصومین بعض اوقات حاجت مند کو صدقہ دینے سے پہلے احترام اور تعظیم کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھ کا بوسہ لیتے یا یہ کہ پہلے وہ مال حاجت مند کو دے دیتے پھر اسے لے کر بوسہ لیتے اور سونگھتے پھر اسے واپس کر دیتے چونکہ وہ دستِ خدا کے روبرو ہوتے تھے لیکن وہ لوگ ان تعلیمات سے کس قدر دور ہیں کہ جو اپنے ضرورت مند بھائیوں یا بہنوں کی تھوڑی سی مدد کرتے ہوئے ان کی تذلیل کرتے ہیں یا ان سے سختی یا بے اعتنائی سے پیش آتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات بے ادبی سے ان کی طرف پھینکتے ہیں۔ البتہ جیسا کہ اپنے مقام پر ہم نے کہا ہے کہ اسلام اپنی پوری کوشش کرتا ہے کب پورے اسلامی معاشرے میں کوئی فقیر اورحاجت مند نہ رہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں کچھ آبرومند و ناتواں، ننھے یتیم اور بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو کمانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ضروری ہے کہ بیت المال اور متمکن افراد کے ذریعے انتہائی ادب و احترام سے ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (وَاَنَّ اللهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ)۔

توبہ اور اس کی تلافی

جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ گناہ پر صرف ندامت اور پشیمانی کانام نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ندامت کے ساتھ ساتھ اصلاح اور تلافی بھی شامل ہو۔ ممکن ہے یہ تلافی بھی شامل ہو۔ ممکن ہے یہ تلافی ضرورت مندوں کی بلا عوض امداد کی صورت میں ہو؛ جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں اور ابولبابہ کے واقعہ میں ہم نے پڑھا ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ گناہ مالی امور سے متعلق ہو یا کسی اور سے متعلق، جیسا کہ ہم جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے مسئلہ میں پڑھ چکے ہیں۔ درحقیقت مقصد یہ ہے کہ گناہ سے آلودہ روح کو نیک، صالح اور شائستہ عمل سے دھو یا جائے اور اسے پاک کیا جائے اور پہلی اور فطری پاکیز گی کو لوٹایا جائے۔ بعد والی آیت میں گذشتہ مباحث کے بارے میں نئی شکل میں تاکید کی گئی ہے۔ پیغمبرؐ اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس امر کی تبلیغ کریں اور کہیں کہ اپنے اعمال اور ذمہ داریاں انجام دو اور جان لو کہ خدا، اس کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال کو دیکھیں گے (وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی تصور نہ کرے کہ اگر وہ کسی خلوت کے مقام پر یا کسی جماعت کے اندر کوئی عمل انجام دیتا ہے تو وہ علم خدا کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہے بلکہ خدا کے علاوہ وہ پیغمبرؐ اور مومنین بھی اس سے آگاہ ہیں۔ اس حقیقت کی طرف توجہ اور اس پر ایمان اعمال اور نیتوں کے پا ک رہنے کے لیے بہت مؤثر ہے۔ عام طور پر اگر انسان یہ احساس کرے کہ اسے ایک آدمی دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی کیفیت ایسی بنا لے گا کہ جو قابل اعتراض نہ ہو چہ جائیکہ اسے یہ احساس ہو کہ خدا و رسول اور مومنین اس کے اعمال سے باخبر ہیں۔ عنقریب تم ایسی ہستی کی طرف لوٹ جاؤ گے جو مخفی اور آشکار سے آگاہ ہے اور وہ تمہیں تمہارے عمل کی خبر دے گا اور اس کے مطابق جزا دے گا (وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ اعمال پیش ہونے کا مسئلہ: بہت سی روایات اور خبریں جو آئمہ سے پہنچی ہیں ان کے پیش نظر اہل بیتؑ کے پیروکاروں کا یہ مشہور و معروف عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ ہدیؑ تمام امت کے اعمال سے آگاہ ہوتے ہیں یعنی خداوند تعالیٰ مخصوص طریقوں سے امت کے اعمال ان کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اس سلسلے میں منقول روایات بہت زیادہ ہیں اور شاید حد تواتر تک ہوں۔ ہم نمونے کے طور پر ان میں سے مختلف قسم کی چند روایات ذیل میں درج کرتے ہیں۔ امام صادقؑ سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: تعرض الاعمال علی رسول اعمال العباد کل صباح، ابرارھا و فجارھا۔ فاحذروھا، و قول اللہ عزوجل و قل اعملوا فسیری اللہ علمکم و رسول و سکت۔ لوگوں کے تمام اعمال ہر روز صبح کے وقت رسول خدا کے سامنے پیش ہوتے ہیں، چاہے وہ نیک لوگوں کے اعمال ہوں یا برے لوگوں کے؛ لہذا متوجہ رہو (اور اس سے ڈرو) اور خداوند تعالی کے ارشاد " وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ" کا یہی مفہوم ہے۔ یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد ۱، ص ۱۷۹۔ باب عرض الاعمال)۔ ۲ - امام محمد باقرؑ سے ایک اور حدیث منقول ہے جس میں آپؑ فرماتے ہیں ان الاعمال تعرض علی نبیکم کل عشیۃ الخمیس فلیستح احدکم ان تعرض علی نبیہ العمل القبیح۔ تمہارے تمام اعمال ہر جمعرات کو عصر کے وقت رسولِؐ خدا کے پاس پیش ہوتے ہیں، لہذا اس بات پر شرم کرو کہ تمھاری طرف سے کوئی برا عمل خدمتِ پیغمبرؐ میں پیش ہو۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد2 صفہ 158)۔ ۳۔ نیز ایک اور روایت امام علی بن موسیٰ رضاؑ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے آپؑ کی خدمت میں عرض کیا میرے لیے میرے گھر والوں کے لیے دعا کیجیے۔ تو آپؑ نے فرمایا: تو کیا میں دعا نہیں کرتا، واللہ ان اعمالکم لتعرض علی فی کل یوم و لیلۃ (خدا کی قسم تمھارے اعمال ہر روز و شب میرے سامنے پیش ہوتے ہیں) راوی کہتا ہےکہ یہ بات مجھ پر گراں گزری، امام متوجہ ہوئے اور مجھ سے فرمایا: اما تقرء کتاب اللہ عزوجل "و قل اعملوا فسیری اللہ علمکم و رسولہ والمؤمنون" وھو علی بن ابی طالب۔ کیا تو نے کتاب نہیں پڑھی جو کہتی ہے: "عمل کرو، خدا اس کے رسول اور مومنین تمھارے عمل کو دیکھتے ہیں"۔ خدا کی قسم مومنین سے مراد علی ابن ابی طالب (اور ان کی اولاد میں سے باقی امام) ہیں۔ ( بحوالہ: اصول کافی جلد1 ص 171( باب عرض الاعمال)۔ البتہ بعض روایات میں صرف رسولؐ اللہ کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کچھ میں حضرت علیؑ کے بارے میں اور بعض میں پیغبر اکرمؐ اور تمام آئمہ کا ذکر ہے۔ اسی طرح کچھ روایات صرف جمعرات کو عصر کے وقت اعمال پیش ہونے کے بارے میں ہیں۔ بعض میں ہر روز اعمال پیش ہونے کا تذکرہ ہے، کچھ میں ہفتہ میں دو مرتبہ، بعض میں ہر ماہ کے شروع میں اور بعض میں موت کے وقت اور قبر میں رکھے جانے کے وقت کا ذکر ہے۔ واضح ہے کہ یہ روایات آپس میں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ سب صحیح ہوں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے بہت سے اداروں میں ہر روز کی کار گزاری روزانہ، ہفتہ کی کارگزاری ہفتے کے آخر میں اور مہینے کے آخر میں اور سال کی کارگزاری مہینے یا سال کے آخر میں اعلیٰ افسروں کو پیش کی جاتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا خود زیر نظر آیت اور اس کی تفسیر میں وارد روایات سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے یا جیسا کہ اہل سنت کے مفسرین نے کہا ہے کہ آیت ایک عام مسئلے کی طرف اشارہ کر رہی ہے وہ یہ کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے چاہے نہ چاہے ظاہر ہو ہی جاتا ہے اور خدا کے علاوہ پیغمبرؐ اور تمام مومنین عام طریقوں ہی سے اس سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیے کہ انصاف یہ ہے کہ خود آیت میں اس کے بارے میں کچھ شواہد موجود ہیں۔ پہلا، یہ کہ آیت مطلق ہے اور اس میں تمام اعمال شامل ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ تمام اعمال معمول کے طریقوں سے رسولؐ اللہ اور مومنین پر آشکار نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ بہت سے غلط اعمال مخفی طور پر انجام پاتے تھے اور اکثر اوقات پوشیدہ رہ جاتے تھے یہاں تک کہ بہت اچھے اعمال بھی اسی طرح چھپے رہتے تھے۔ اگر ہم یہ دعوٰی کریں کہ تمام نیک اعمال میں سے اکثر سب پر واضح ہو جاتے تھے تو یہ ایک بے ہودہ بات ہو گی۔ لہذا لوگوں کے اعمال سے رسولؐ اللہ کی اور لوگوں کی آگاہی غیر معمولی طریقوں اور خدائی تعلیم ہی سے ہو سکتی ہے۔ دوسرا، یہ کہ آیت کے آخر میں ہے: "فینبئکم بما کنتم تعلمون" (خدا تمہیں قیامت میں اس سے آگاہ کرے گا جو تم عمل کرتے تھے)۔ اس میں شک نہیں کہ اس جملے کے مفہوم میں انسان کے تمام اعمال شامل ہیں چاہے وہ مخفی ہوں یا آشکار اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ آیت کی ابتداء اور آخر میں "عمل" کا ایک ہی مفہوم ہے۔ لہذا آیت کی ابتداء میں آشکار و مخفی تمام اعمال کے بارے میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ان تمام سے آگاہی معمول کے طرق سے ممکن نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا آخری حصہ تمام اعمال کی جزاء کے بارے میں ہے۔ اس لیے آغاز بھی خدا، رسولؐ اور مومنین کی تمام اعمال سے آگاہی سے متعلق ہے۔ ایک آگاہی کا مرحلہ ہے اور دوسرا جزاء کا اور بات دونوں میں ایک ہی موضوع سے متعلق ہے۔ تیسرا یہ کہ "مومنین" کا ذکر اسی صورت میں صحیح ہے کہ مراد سب اعمال ہوں اور غیر معمولی طریقوں سے معلوم ہوں۔ ورنہ جو اعمال آشکار اور واضح ہیں وہ تو مومنین اور غیر مومنین سب دیکھتے ہیں۔ یہاں سے ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد سب صاحب ایمان افراد نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ مخصوص افراد ہیں جو حکم خدا سے اسرار غیبی سے آگاہ ہیں یعنی رسول اللہؐ کے حقیقی جانشین۔ ایک اہم نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اعمال کے پیش ہونے کا مسئلہ اس کے معتقدین کے لیے بہت زیادہ تربیتی اثر رکھتا ہے کیونکہ جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ خدا جو کہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے اس کے علاوہ پیغمبرؐ اکرمؐ اور ہمارے محبوب پیشوا ہر روز یا ہر ہفتے میرے ہر عمل سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا آگاہ ہو جاتے ہیں تو بلا شبہ ہم زیادہ احتیاط کریں گے اور اپنے اعمال کی طرف متوجہ رہیں گے؛ بالکل اسی طرح جیسے کسی ادارے میں کام کرنے والوں کو معلوم ہو کہ ہر روز ہر ہفتے ان کے تمام پوری تفصیل سے اعلیٰ افسروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ ان سب سے باخبر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے کاموں کو بڑی توجہ سے انجام دیں گے۔ ۲۔ کیا روئیت یہاں دیکھنے کے معنی میں ہے؟ بعض مفسرین میں مشہور ہے کہ "فسیری اللہ عملکم" میں روئیت معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ علم کے معنی میں؛ کیونکہ اس کا ایک سے زیادہ مفعول نہیں ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر روئیت علم کے معنی میں ہو تو اس کےلیے دو مفعول چاہئیے ہوں گے۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ روئیت کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے یعنی محسوسات کا مشاہدہ نہ کہ علم یا معرفت۔ یہ بات خدا کے بارے میں تو جو ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور تمام محسوسات پر احاطہ رکھتا ہے قابلِ بحث نہیں لیکن پیغمبرؐ اور آئمہ (ع) کے متعلق بھی کوئی مانع نہیں کہ وہ خود اعمال کو دیکھیں کہ جب ان کے سامنے پیش ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی اعمال فانی نہیں ہیں بلکہ قیامت تک باقی رہیں گے۔ ۳۔ "عنقریب خدا اعمال دیکھے گا" سے کیا مراد ہے: اس میں شک نہیں کہ خدا اعمال سے پہلے ہیں ان سے آگاہ ہے اور یہ جو آیت میں "فسیری اللہ" یعنی: "عنقریب تمہارے اعمال دیکھے گا" آیا ہے، یہ اعمال کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے وجو د اور تحقیق کے بعد ہو گی۔

106
9:106
وَءَاخَرُونَ مُرۡجَوۡنَ لِأَمۡرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيۡهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
ایک اور گروہ فرمان خدا سے نکل گیاوہ یا تو انہیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کر لے گا (جس کے وہ لائق ہوں گے) خدا دانا و حکیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگِ تبوک سے واپس رہ جانے والے تین اشخاص ہلال بن امیہ، مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک کے بارے میں ہے کہ جن کی پشیمانی کی تشریح اور توبہ کی کیفیت اسی سورہ کی آیہ ۱۱۸ کے ذیل میں آئے گی۔ کچھ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت بعض کفار کے بارے میں ہے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف جنگوں میں عظیم شخصیتوں مثلاً سید الشہداء حضرت حمزہ اور ایسے دیگر افراد کو شہید کیا تھا۔ اس کے بعد وہ شرک سے دستبردار ہو گئے اور دین اسلام کی طرف آ گئے۔ تفسیر اس آیت میں ایک اور گنہ گار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان لوگوں کا انجام صحیح طور پر واضح نہیں ہے نہ تو وہ ایسے ہیں کہ رحمت الہٰی کے مستحق سمجھے جائیں اور نہ ایسے ہیں کہ ان کی بخشش سے بالکل مایوس ہو جایا جائے لہٰذا قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے: ایک اور گروہ کا معاملہ فرمانِ خدا پر موقوف ہے یا وہ انھیں سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْھِمْ )۔ "مرجون" کا مادہ "ارجاء" سے ہے۔ یہ تاخیر اور توقف کے معنی میں ہے۔اصل میں یہ "رجاء " سے لیا گیا ہے۔جس کا معنی امید ہے۔اس لحاظ سے کہ بعض اوقات انسان کسی کام کو کسی ہدف کے ماتحت تاخیر میں ڈال دیتا ہے یہ لفظ تاخیر کے معنی میں آیا ہے لیکن ایسی تاخیر جس میں امید شامل ہو۔ حقیقت میں یہ لوگ نہ تو ایسے پا ک مضبوط ایمان اور نیک اعمال کے مالک ہیں کہ انھیں سعادت مند اور اہل نجات سمجھا جا سکے اور نہ ہی ایسے آلودہ اور منحرف ہیں کہ ان کے رخ پر سرخ خط کھینچ دیا جائے اور انھیں بدبخت سمجھ لیا جائے یہاں تک کہ (ان کے روحانی مقام و مرتبہ کے مطابق) لطف الہٰی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ خدا ان کے ساتھ حساب کتاب کے بغیر کو ئی سلوک نہیں کرے گا۔ بلکہ علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا کیونکہ "خدا علیم و حکیم ہے "(وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے ا س کے بارے میں مفسرین نے بہت کم ہی کہیں جامع بحث کی ہے سوال یہ ہے کہ اس گروہ میں اور اس گروہ میں جس کی حالت اسی سورہ کی آیہ ۱۰۲ میں گذر چکی ہے کیا فرق ہے دونوں گروہ گناہ گار تھے اور دونوں نے اپنے گناہ سے توبہ کی۔ پہلے گروہ نے اپنے گناہ کا اعتراف کرکے پشمانی کا اظہار کیا اور دوسرے گروہ کے بارے میں"اما یتوب علیھم" سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بھی توبہ کی۔ اسی طرح دونوں گروہ رحمت الہٰی کی توقع رکھتے تھے۔ اور دونوں خوف و رجاء کے درمیان تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم دو طریقوں سے ان دونوں گروہوں میں فرق کر سکتے ہیں۔ ۱۔ پہلے گروہ نے فوراً توبہ کی اور کھلے بندوں پشیمانی کی علامت کے طور پر آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا جیسے ابولبابہ کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ مختصر یہ کہ انھوں نے اپنی ندامت کا اظہار صراحت کے ساتھ کیا اور بدنی اور مالی طور پر ہر قسم کی تلافی کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کر دی۔ جبکہ دوسرے گروہ کے افراد ایسے تھے جنھوں نے اپنی پشیمانی کی ابتداء میں اپنی کیفیت ظاہر نہیں کی اگرچہ وہ دل میں پشیمان ہوئے تھے اور انھوں نے گذشتہ کی تلافی کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ حقیقت میں وہ چاہتے تھے کہ سادگی اور آسانی سے اپنے گناہوں سے گذر جائیں۔ ان کی واضح مثال وہ تین افراد تھے جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ ہوا ہے۔ ان کی حالت کی وضاحت عنقریب آئے گی یہ لوگ خوف و رجاء کے درمیان تھے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے حکم دیا کہ لوگ ان سے علیحدہ رہیں اور ان سے روابط منقطع رکھیں۔ اس طرح وہ معاشرے کے شدید دباوٴ کا شکار تھے اور آخر کار وہ مجبور ہوئے کہ پہلے گروہ کا سا راستہ اختیار کریں۔ ایسے اشخاص کی توبہ کی قبولیت کا اعلان چونکہ آیت نازل ہو نے کی صورت میں ہوا لہٰذا پیغمبرؐ اکرم اس مدت تک وحی کے انتظار میں تھے یہاں تک کہ پچاس دنوں میں یا اس سے کم مدت میں ان کی توبہ قبول ہوئی اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے گروہ کے بارے میں جب تک انھوں نے اپنی روش کو تبدیل نہیں کیا "واللہ علیم حکیم "کا جملہ آیا ہے۔ کہ جس میں توبہ قبول ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ البتہ باعث تعجب نہیں کہ بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں خصوصاً نزول آیات کے زمانے میں صرف ندامت و پشیمانی توبہ قبول ہونے کے لئے کافی نہ ہو۔ بلکہ تلافی کے لئے اقدام، واضح طور پر گناہ کا اعتراف اور اس کے بعد آیت کا نزول توبہ قبول ہونے کے لئے شرط ہو۔ ۲۔ دوسرا فرق جو ممکن ہے دونوں گروہوں کے درمیان ہو یہ ہے کہ پہلے گروہ نے اگرچہ ایک عظیم اسلامی فریضہ یعنی جہاد سے تخلف کیا تھا یا بعض جنگی اسرار دشمن کو بتائے تھے تاہم ان کے ساتھ سید الشہداء حمزہ کے قتل جیسے عظیم گناہوں سے آلودہ نہ تھے اس لئے ان کی توبہ اور تلافی کے لئے آمادگی کے بعد خداوند تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی لیکن جناب حمزہ کا قتل ایسا گناہ نہ تھا جس کی تلافی ہو سکے۔ اس لئے اس گروہ کی نجات حکمِ خدا سے وابستہ تھی کہ وہ انھیں اپنی عفو و بخشش سے نوازتا ہے یا انھیں سزا اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ بہرحال، پہلا جواب آیت کی شان نزول کے بارے میں مروی ان روایات سے مطابقت رکھتا ہے جو محل بحث آیت کو جنگ تبوک سے متخلف تین افراد کے ساتھ ربط رکھتی ہیں دوسرا جواب ان روایات سے موافقت رکھتا ہے جو طرق اہل بیتؑ سے پہنچی ہیں اور جن میں ہے کہ یہ آیت حمزہ، جعفر اور اس قسم کے دیگر افراد کے بارے میں ہے۔(تشریحی نوٹ: ان روایات کو جاننے کے لئے تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۲۶۵ اور تفسیر بر ہان جلد۲ ص ۱۰۶ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ اگر صحیح غور و فکر کیا جائے تو یہ دونوں جوابات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ آیت کی تفسیر میں دونوں ہی مراد ہوں۔

107
9:107
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدٗا ضِرَارٗا وَكُفۡرٗا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادٗا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
(مزید برآں ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائے اور کفر کو (تقویت دینے کیلئے) اور مومنین میں تفرقہ ڈالنے کی خاطر اور ایسے افراد کے لئے کمین گاہ مہیا کرنے کیلئے جنہوں نے پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی ہے مسجدبنائی ہے وہ قسم کھاتے ہیں کہ ہمارا مقصد سوائے نیکی (اور خدمت) کے اور کچھ نہیں لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
9:108
لَا تَقُمۡ فِيهِ أَبَدٗاۚ لَّمَسۡجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقۡوَىٰ مِنۡ أَوَّلِ يَوۡمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِۚ فِيهِ رِجَالٞ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُطَّهِّرِينَ
اس میں ہر گز قیام (اور عبادت) نہ کرنا۔ وہ مسجد جو روز اول سے تقویٰ کی بنیاد پر بنی ہے زیادہ حق رکھتی ہے کہ تم اس میں قیام (اور عبادت) کرو اس میں ایسے مرد ہیں جو پاک و پاکیزہ رہنا پسند کرتے ہیں اور خدا پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
9:109
أَفَمَنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقۡوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٍ خَيۡرٌ أَم مَّنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٖ فَٱنۡهَارَ بِهِۦ فِي نَارِ جَهَنَّمَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
کیا وہ شخص جس نے اس کی بنیاد تقویٰ الٰہی اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہے بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اس کی بنیاد گرنے والی اور کمزور جگہ پر رکھی ہے کہ جو اچانک جہنم کی آگ میں گر جائے گی اور خدا ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
9:110
لَا يَزَالُ بُنۡيَٰنُهُمُ ٱلَّذِي بَنَوۡاْ رِيبَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
لیکن یہ بنیاد جو انہوں نے رکھی ہے ان کے دلوں میں ہمیشہ شک اور تردد کے ذریعہ کے طور پر باقی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں (اور وہ مر جائیں ) ورنہ یہ چیز ان کے دلوں سے نہیں نکلے گی اور خدا دانا و حکیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیر نظر آیات منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہیں۔ جنہوں نے اپنی منحوس سازشوں کی تکمیل کے لئے مدینہ میں ایک مسجد قائم کی تھی جو بعد میں"مسجد ضرار"کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ بات تمام اسلامی مفسرین اور بہت سی کتب حدث و تاریخ نے ذکر کی ہے،اگرچہ اس کی تفصیلات میں کچھ فرق نظرآتا ہے۔ مختلف تفاسیر اور احادیث سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے پیش نظر اس واقعہ کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: کچھ منافقین رسولؐ اللہ کے پاس آئے عرض کیا: ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم قبیلہ بنی سالم کے درمیان، مسجد قبا کے قریب ایک مسجد بنا لیں تاکہ ناتواں، بیمار اور بوڑھے جو کوئی کام نہیں کر سکتے اس میں نماز پڑھ لیا کریں۔ اسی طرح راتوں میں بارش ہوتی ہے ان میں جو لوگ آپ کی مسجد میں نہیں آسکتے اپنے اسلامی فریضة کو اس میں انجام دے لیا کریں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبر خدا جنگ تبوک کا عزم کر چکے تھے آنحضرؐت نے انھیں اجازت دے لیا کریں۔ انھوں نے مزید کہا : کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود آکر اس میں نماز پڑھیں؟ بنی اکرم نے فرمایا: اس وقت تو میں سفر کا ارادہ کر چکا ہو ں البتہ واپسی پر خدا نے چاہا تو اس مسجد میں آ کر نماز پڑھوں گا۔ جب آپؐ جنگ تبوک سے لوٹے تو یہ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے :ہماری در خواست ہے کہ آپ ہماری مسجد میں آکر نماز پڑھائیں اور خدا سے دعا کریں ہمیں برکت دے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ابھی آنحضرت مدینہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوئے تھے اس وقت وحی خدا کا حامل فرشتہ نازل ہوا اور مندرجہ بالا آیات لایا اور ان کے کرتوت سے پردہ اٹھایا۔ اس کے فوراً بعد رسول اللہؐ نے حکم دیا کہ مذکورہ مسجد کو جلا دیا جائے اور اس کے باقی حصے کو مسمار کر دیا جائے اور اس کی جگہ کوڑا کرکٹ ڈال جایا کرے۔ ان لوگوں کے ظاہراً کام کو دیکھا جائے تو ہمیں شروع میں تو اس حکم پر حیرت ہو گی کہ کیا بیماروں اور بوڑھوں کی سہولت کے لئے اور اضطراری مواقع کے لئے مسجد بنانا برا کام ہے جبکہ یہ ایک دینی اور انسانی خدمت معلوم ہوتی ہے؟ کیا ایسے کام کے بارے میں یہ حکم صادر ہوا ہے؟ لیکن اگر ہم اس معاملہ کی حقیقت پر نظر کریں گے تو معلوم ہو گا کہ یہ حکم کس قدر بر محل و جچا تلا تھا۔ اس کی وضاحت یہ کہ ابو عامر نامی ایک شخص نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور راہبوں کے مسلک سے منسلک ہو گیا تھا۔ اس کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا۔ قبیلہ خزرج میں اس کا گہرا رسوخ تھا۔ رسولؐ اللہ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمان آپ کے گرد جمع ہو گئے تو ابوعامر جو خود کبھی پیغمبر کے ظہور کے خبر دینے والوں میں سے تھا نے دیکھا کہ اس کے گردا گرد سے لوگ چھٹ گے ہیں اس پر وہ اسلام کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ مدینہ سے نکلا اور کفار کے پاس پہنچا اس نے ان سےپیغمبرؐ اکرم کے خلاف جنگ کے لئے مدد چاہی اور قبائل عرب کو بھی تعاون کی دعوت دی۔ وہ خود مسلمانوں کے خلاف جنگ احد کی منصوبہ بندی میں شریک رہا تھا اور راہنمائی کرنے والوں میں سے تھا۔ اس نے حکم دیا کہ لشکر کی دو صفو ں کے در میان گڑھے کھودے جائیں۔ اتفاقاً پیغمبر اسلام ایک گڑھے میں گر پڑے، آپ کی پیشانی پر زخم آئے اور دندانِ مبارک ٹوٹ گئے۔ جنگ احد ختم ہوئی، مسلمانوں کو اس میدان میں آنے والی مشکلات کے باوجود اسلام کی آواز بلند تر ہوئی اور ہر طرف صدائے اسلام گونجنے لگی۔ تو مدینہ سے بھاگ گیا اور بادشاہ روم ہرقل کے پاس پہنچا تاکہ اس سے مدد چاہے اور مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر مہیا کرے۔ اس نکتے کا بھی ذکر ضروری ہے کہ ان کی ان کارستانیوں کی وجہ سے پیغمبرؐ اسلام نے اسے "فاسق" کا لقب دے رکھا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ موت نے اسے مہلت نہ دی کہ اپنی آرزو ہرقل سے کہتا لیکن بعض دوسری کتب میں ہے کہ وہ ہرقل سے جا کر ملا اور اس کے وعدوں سے مطمئن اور خوش ہوا۔ بہرحال، اس نے مرنے سے پہلے مدینہ کے منافقین کو ایک خط لکھا اور انھیں خوشخبری دی کہ روم کے ایک لشکر کے ساتھ وہ ان کی مدد کو آئے گا۔ اس نے انھیں خصوصی تاکید کی کہ وہ اس کے لئے ایک مرکز بنائیں تاکہ اس کے آئندہ کی کا گذاریوں کے لئے وہ کام دے سکے لیکن ایسا مرکز چونکہ مدینہ میں اسلام دشمنوں کی طرف سے اپنے نام پر قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ لہٰذا منافقین نے مناسب یہ سمجھا کہ مسجد کے نام پر بیماروں اور معذروں کی مدد کی صورت میں اپنے پروگرام کو عملی شکل دیں۔ آخر کار مسجد تعمیر ہو گئی یہاں تک کہ مسمانوں میں سے مجمع بن حارثہ (یامجمع جاریہ) نامی ایک قرآن فہم نوجوان کو مسجد کی امامت کے لئے بھی چن لیا گیا لیکن وحی الٰہی نے ان کے کا م سے پردہ اٹھا دیا۔ یہ جو پیغمبرؐ اکرم نے جنگ تبوک کی طرف جانے سے قبل ان کے خلاف سخت کار روائی کا حکم نہیں دیا اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ایک تو ان کی حقیقت زیادہ واضح ہو جائے اور دوسرا یہ کہ تبوک کے سفر میں اس طرف سے کوئی اور ذہنی پریشانی نہ ہو۔ بہرحال، جو کچھ بھی تھا رسولؐ اللہ نے نہ صرف یہ کہ مسجد میں نماز پڑھی بلکہ بعض مسلمانوں (مالک بن خشم، معنی بن عدی اور عامر بن سکر یا عاصم بن عدی) کو حکم دیا کہ مسجد کو جلا دیں اور پھر اس کی دیواروں کو مسمار کروا دیا۔ اور آخر کار اسے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ قرار دے دیا۔(بحوالہ: مجمع البیان، تفسیر ابو الفتوح رازی، تفسیر المنار، تفسیر المیزان، تفسیر نور الثقلین اور دیگر کتب)۔

مسجد کے روپ میں بت خانہ

گذشتہ آیات میں مختلف مخالف گروہوں کی کیفیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔زیر بحث آیات ایک اور گروہ کا تعارف کرواتی ہیں۔ یہ لوگ بڑے ماہرانہ منصوبہ اور سازشوں کے تحت میدان میں داخل ہوئے اللہ کی رحمت مسلمانوں کے شاملِ حال ہوئی اور ان کا یہ منصوبہ اور سازش نقش برآب ہو گئی۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: ان میں سے ایک گروہ نے مدینہ میں ایک مسجد بنائی۔ مسجد کے مقدس نام کے پیچھے انھوں نے اپنے منحوس مقاصد چھپا رکھے تھے(وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا)۔(تشریحی نوٹ: مفسرین نے اس جملے کی ترکیب کے سلسلے میں اگرچہ ادبی لحاظ سے مختلف نظریات پیش کئے ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ گذشتہ جملوں پر عطف ہے جو منافقین کے بارے میں ہیں اور اس کی تقدیر یہ ہے " منھم الذین اتخذوا مسجداً"(۔ اس کے بعد ان کے چار طرح کے مقاصد کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے: ا۔ ایک مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں (ضِرَارًا)۔ "ضرار" کا معنی ہے "جان بوجھ کر نقصان پہنچانا"۔ دعویٰ تو یہ کرتے تھے کہ ان کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہے اور وہ بیمار اور ناتواں لوگوں کو مدد کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت وہ اس کے برعکس اپنے کاموں سے پیغمبرؐ اسلام کا خاتمہ اور مسلمانوں کی سرکوبی چاہتے تھے یہاں تک کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو اسلام ہی کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ ۲۔ دوسرا مقصد ان کا کفر کی بنیادوں کو تقویت پہنچانا تھا۔ وہ ان لوگوں کو اسلام سے پہلے کی سی حالت پر پلٹا دینا چاہتے تھے۔ (وَکُفْرًا)۔ ۳۔ وہ مسلمانوں میں صف میں تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ اس مسجد میں کچھ لوگ جمع ہونے لگتے تو اس سے مسجد قبا جو اس کے نزدیک تھی یا مسجد نبوی جو اس سے کچھ فاصلے پر تھی، کی رونق ختم ہو جاتی (وَتَفْرِیقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِینَ)۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے، اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے درمیان فاصلہ اتنا کم نہیں ہو نا چاہئیے کہ دوسری مسجد کے اجتماع پر اثر انداز ہو۔ اس بناء پر وہ لوگ جو قومی تعصب یا ذاتی اغراض کی بنیاد پر مسجد کے پاس ایک مسجد بنا لیتے ہیں اور یوں مسلمانوں کے اجتماعات کو منتشر کرتے ہیں اور ان کے اس اقدام سے دوسری مساجد کی صفیں خالی، بے رونق اور بے روح ہو جاتی ہیں وہ اہداف اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ ۴۔ ان کا آخری مقصد یہ تھا کہ ایسے شخص کے لئے ایک مرکز قائم کریں جو پہلے سے خدا اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھا اور اس کے سابقہ برے کارنامے لوگوں پر واضح تھے اور وہ اس مرکز سے اپنے منصوبوں کی تکمیل چاہتا تھا(وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَہُ مِنْ قَبْلُ)۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام برے اغراض اور منحوس مقاصد کو انھوں نے ایک خوب صورت اور پرفریب لباس میں چھپا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ وہ قسم کھاتے تھے کہ ہمارا نیکی کرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد اور ارادہ نہیں (وَلَیَحْلِفُنَّ إِنْ اَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی )۔ منافقین کا ہر دور اور زمانے میں یہی دستور رہا ہے وہ اپنے مقا صد کو خوشنما پردوں میں چھپا ئے رکھتے ہیں اور عام لوگوں کو منحرف کرنے کےلئے طرح طرح کی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن قرآن مزید کہتا ہے: وہ خدا جو سب کے اندرونی رازوں سے واقف ہے اور جس کے لئے غیب و شہود یکساں ہے، گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ جھوٹے ہیں (وَاللهُ یَشْہَدُ إِنّھُمْ لَکَاذِبُونَ )۔ اس جملے میں ان تکذیب کے لیے مختلف تاکیدیں نظر آتی ہیں: پہلی یہ کہ یہ جملہ اسمیہ ہے۔ دوسری یہ کہ لفظ "ان" تاکید " کے لئے۔ تیسری یہ کہ "لکٰذبون" میں لام ابتداء اور تاکید کے لئے۔ چوتھی یہ کہ فعل ماضی کی جگہ "کٰذبون" کا آنا ان کے جھوٹ بولنے کے استمرار اور دوام کی دلیل ہے۔ اس طرح سے خداوند تعالیٰ ان کی بڑی بڑی قسموں کی شدید ترین طریقے سے تکذیب کرتا ہے۔ بعد والی آیت میں اس حیات بخش حکم کی مزید تاکید کے لئے خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: اس مسجد میں ہرگز قیام نہ کرو اور اس میں نماز نہ پڑھو (لاَتَقُمْ فِیہِ اَبَدًا)۔ بلکہ اس مسجد کی بجائے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس مسجد میں عبادت قائم کرو جس کی بنیاد پہلے تقویٰ پر رکھی گئی ہے (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُومَ فِیہِ)۔ نہ یہ کہ یہ مسجد جس کی بنیاد روز اول ہی سے کفر،نفاق، بے دینی اور تفرقہ پر رکھی گئی ہے۔ لفظ "احق" (یعنی زیادہ مناسب اور سزا وار) اگرچہ افضل التفضیل ہے لیکن یہاں لیا قت اور اہلیت کے لئے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کے معنی میں نہیں آیا، بلکہ مناسب، لیاقت اور عدم لیاقت کے موازنہ کے لئے آیا ہے۔ قرآنی آیات، احادیث اور روز مرہ میں ایسی گفتگو کے بہت سے نمونے موجود ہیں۔مثلاً بعض اوقات ناپاک اور برے آدمی سے ہم کہتے ہیں کہ پاکیزگی اور اچھا کام کرنا تیرے لئے بہتر ہے اس بات کا یہ معنی نہیں کہ ناپاک رہنا اور برے کام کرنا اچھا ہے لیکن اس سے بہتر پاک رہنا اور نیک کام کرنا ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ پاکیزگی اور نیکی اچھی چیز ہے اور ناپاکی اور برائی بُری چیز چیز ہے۔ مفسرین نے کہا ہے کہ جس مسجد کے بارے میں مندرجہ بالا جملے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ پیغمبرؐ اس میں نماز پڑھیں اس سے مراد مسجد قبا ہے کہ جس کے قریب منافقین نے مسجد ضرّار بنائی تھی۔ البتہ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی یا وہ تمام مساجد ہوں کہ جن کی بنیاد تقویٰ پر ہو لیکن "اول یوم" (روز اول) کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ مسجد قبا پہلی مسجد تھی جو مدینہ میں بنائی گئی۔(بحوالہ: کامل ابن ایثر جلد ۲ ص۱۰۷) پہلا احتمال ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ دوسری مساجد مثلاً مسجد نبوی کے لئے بھی یہ لفظ مناسب ہے۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، مردوں کا ایک گروہ اس میں مشغولِ عبادت ہے جو پسند کرتا ہے کہ اپنے آپ کو پاکیزہ رکھے اور خدا پاکزاد لوگوں کو دوست رکھتا ہے (فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ اَنْ یَتَطَھرُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطّھِّرِینَ)۔ اس سلسلے میں اس پاکیزگی سے مراد ظاہری اور جسمانی پاکیزگی ہے یا معنوی اور باطنی پاکیزگی، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تفسیر تبیان اور مجمع البیان میں اس آیت کے ذیل،میں رسولؐ اللہ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ہے کہ آپ نے مسجد قبا والوں سے فرمایا: ما ذا تفعلون فی طھرکم فان اللہ تعالیٰ قد احسن علیکم الثناء، قالوا الغسل اثر الغائط تم اپنے آپ کو پاک کرتے وقت کیا کام انجا م دیتے ہوکہ خدا نے تمہاری اس طرح سے مدح و ثناء کی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اپنے پائیخانہ کے اثر کو پانی سے دھوتے ہیں۔ اسی مضمون کی روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے ایسے مصداق کے لئے اس قسم کی روایات مفہومِ آیت کو منحصر کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ آیت کا ظہور مطلق ہے اور یہ گواہی دیتا ہے کہ طہارت یہاں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اس میں شرک و گناہ کے آثار سے روح کی پاکیزگی اور جسمانی کثافتوں کے آثار سے جسم کی پاکزگی سب شامل ہیں۔ زیر بحث تیسری آیت میں دو گروہوں کے مابین موازنہ کیا گیا ہے ایک گروہ مومنین کا ہے جو مسجد قبا کی طرح کو مساجد کو تقویٰ کی بنیاد پر بناتے ہیں اور دوسرا گروہ منافقین کا ہے جو مسجد کو کفرو نفاق اور تفرقہ و فساد کی اساس پر تعمیر کرتے ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جس نے مسجد کی بنیاد تقویٰ، حکم الٰہی کی مخالفت سے پرہیز اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے رکھی ہے بہتر یا وہ شخص جس نے اس کی بنیاد کمزور اور گر جانے والی جگہ پر جہنم کے کنارے رکھی ہے جو عنقریب جہنم میں گر جائے گی(اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہُ عَلَی تَقْوَی مِنْ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہُ عَلَی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْھَارَ بِہِ فِی نَارِ جَھَنَّم)۔ "بنیان"مصدر ہے اور اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی بنیاد اور عمارت۔ "شفا" کسی چیز کے کنارے یا کنگرہ کو کہتے ہیں۔ "حرف" نہر یا کنوئیں کا وہ حاشیہ اور کنارہ ہے جس کے نچلے حصے کو پانی نے خالی کر دیا ہو۔ "ہار" اس کمزور شخص یا کمزور عمارت کو کہتے ہیں جو گر رہی ہو۔ مندرجہ بالا تشبیہ منافقین کے کام کی بے ثباتی اور کمزوری کو اور اہل ایمان کے کام اور لائحہ عمل کے استحکام اور بقا کو روشن اور واضح کر رہی ہے۔ مومن کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک عمارت بنانے کے لئے بڑی مضبوط زمین منتخب کرے اور اس کی بنیاد بھی مضبوط اور قابل اطمنان مصالح سے رکھے۔ دوسری طرف مناطق کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی عمارت دریا کے کنارے ایسی جگہ بنائے جس کے نچلے حصہ کی مٹی سیلاب بہا لے گیا ہو اور جو ہر وقت گر نے کو تیار ہو۔ نفاق کی بھی یہی صورت ہے اس کا بھی ظاہر ہے اور باطن کچھ نہیں اسی طرح اس عمارت کا بھی ظاہر ہے لیکن جس کی کوئی اساس نہیں یہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ اہل نفاق کا مکتب و مذہب بھی اپنے کھلے باطن کے باعث کسی بھی وقت تباہی اور رسوائی کے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ پرہیزگار یاور رضائے الہٰی کو طلب کرنا یعنی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا، جہانِ خلقت اور اسرار حیات سے ہم قدم ہونا بلا شبہ بقاء اور ثبات کاعامل ہے۔لیکن نفاق یعنی حقائق سے بے گانگی اور قوانینِ فطرت سے بغاوت بلا شبہ زوال اور فنا کاعامل ہے۔ منافقین چونکہ اپنے آپ سے بھی ظلم کرتے ہیں اور معاشرے ست بھی لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے، خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔(وَاللهُ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )۔ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے، ہدایتِ خداوندی یعنی مقصد تک پہنچنے کے لئے مقد مات کی فراہمی صرف ان کے لئے ہے۔ جو اس کا استحقاق اور اہلیت رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ظالم جن میں یہ اہلیت نہیں ہے یہ لطف و کرم ہرگز ان کے شامل حال نہیں ہوتا کیونکہ خدا حکیم ہے اور اس کی مشیت حساب وکتاب پر مبنی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیر نظر آخری آیت میں منافقین کی ہٹ دھرمی ڈھٹائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح اپنے کام میں ہٹ دھرم ہیں اور نفاق و کفر کی تاریکی میں اس طرح سے سرگرداں ہیں کہ جو عمارت وہ خود کھڑی کرتے ہیں وہ شک و تردد کے عامل کے طور پر یا شک و تردد کے نتیجہ کے طور پر ان کے دلوں میں باقی رہ جاتی ہے مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور وہ موت کی آغوش میں چلے جائیں (لاَیَزَالُ بُنْیَانُھُمْ الَّذِی بَنَوْا رِیبَةً فِی قُلُوبِھِمْ إِلاَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُھُمْ)۔ وہ ہمیشہ حیرت و سرگردانی کے عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ مرکز نفاق اور مسجد ضرار جو انھوں نے بنائی تھی ایک ہٹ دھرمی اور تردد کے عامل کی صورت میں ان کی روح میں اسی طرح باقی تھی۔ اگرچہ رسولؐ اللہ نے عمارت کو جلوا دیا تھا اور مسمار کروا دیا تھا؛ لیکن ایسے تھا جیسے اس کا نقش ان کے شک زدہ دل سے کبھی زائل نہ ہو گا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اور خدا دانا و حکیم ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔ خداوند تعالیٰ نے اگر رسولؐ اللہ کو ان کے خلاف اقدام کا حکم دیا اور ان کی ایسی عمارت کو مسمار کرنے کے لئے کہا کہ جو ظاہر حق کے لئے تھی تو یہ اس لئے تھا کہ وہ بنانے والوں کی بری نیتوں سے، بد باطنی اور اس عمارت کی حقیقت سے آگاہ تھا۔۔ یہ حکم عین حکمت و مصلحت کے مطابق تھا اس کا مقصد اسلامی معاشرے کی بھلائی اور درستی تھا۔ یہ نہیں کہ یہ کوئی جلد بازی کا فیصلہ تھا اور نہ ہی یہ غیض کا نتیجہ تھا۔

چند اہم نکات: ۱۔ عظیم درس

مسجد ضرار کا واقعہ تمام مسلمانوں کے لئے پوری زندگی میں ایک درس ہے۔ کلامِ خدا اور عمل رسول واضح طور پر نشان دہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کو کبھی بھی ایسا ظاہر بین بھی نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ صرف ظاہر ی طور پر کاموں کے حق بجانب ہونے پر نظر رکھیں اور ان کے اصلی اغراض و مقاصد سے بے خبر اور لاتعلق رہیں۔ مسلمان وہ ہے جو نفاق اور منافق کو ہر وقت، ہر جگہ، ہر لباس میں اور چہرے میں پہچان لے۔ اگر چہ دین و مذہب کے چہرے اور قرآن مسجد کی حمایت کے لباس ہی میں کیوں نہ ہو۔ مذہب سے مذہب کے خلاف فائدہ اٹھا ناکوئی نئی چیز نہیں۔ استعمار گروں، جابر حکمرانوں اور منافقوں کے طور طریقے ہمیشہ ہر معاشرے میں یہی رہے ہیں۔ اگر لوگ کسی خاص مطلب کی طرف جھکاوٴ رکھتے ہیں تو وہ پہلے انھیں اسی جھکاوٴ سے غافل کرتے ہیں اور پھر اپنے استعماری مقاصد بروئے کار لاتے ہیں؛ یہاں تک کہ وہ مذہب کے خلاف مذہب ہی کی قوت سے مدد لیتے ہیں۔ اصولی طور پر جعلی پیغمبروں اور باطل مذاہب گھڑنے کا یہی فلسفہ تھا کہ اس راستے سے لوگوں کے مذہبی جھکاوٴ اور میلان کو اپنی پسند کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ واضح ہے کہ مدینہ کے ماحول میں، وہ بھی رسول اللہ کے زمانے میں جب اسلام اور قرآن لوگوں میں بہت زیادہ نفوذ کر چکا تھا، اسلام کے خلاف کھلے بندوں جنگ ممکن نہ تھی بلکہ ضروری تھا کہ بے دینی کو دین کے پیکٹ میں پیش کیا جائے اور باطل کو حق لباس پہنا کر لایا جائے تاکہ سادہ دل لوگوں کو کھینچا جا سکے اور یوں برے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ لیکن سچا مسلمان وہ نہیں جو ایسا سطحی اور سادہ ہو کہ ایسے ظواہر سے دھوکا کھا لے۔ اسے چاہئیے کہ ایسے کاموں کے عوامل، ان کے پیچھے کارفرما ہاتھوں اور دوسرے قرائن کو سامنے رکھ کر ان کی حقیقت معلوم کرے اور ظاہری چہرے کے پیچھے لوگوں کے باطنی چہرے کو بھی دیکھے۔ مسلمان وہ نہیں جو ہر پکار کو صرف یہ دیکھ کر قبول کر لے کہ یہ حق کی آواز ہے چاہے وہ جس گلے سے بھی نکل رہی ہو اور نہ وہ مسلمان ہے جو اپنی طرف بڑھنے والے ہر ہاتھ کو پکڑ لے۔ ہر کام جو ظاہر دینی ہو اسے دیکھتے ہیں اس کے ہم قدم ہو جائے، اسلام کے نام پر لہرانے والے ہر جھنڈے کے نیچے ماتم کناں ہو جائے اور مذہب کےنام پر بننے والی ہر عمارت کی طرف مائل ہو جائے۔ مسلمان کو ہوشیار، آگاہ، حقیقت شناس، مستقبل پر نظر رکھنے والا اور تمام معاشرتی مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرنے کے قابل ہونا چاہئیے۔ چاہیئے کہ وہ فرشتوں کے لباس میں جنّوں کو پہچان لے۔ چرواہے کے لباس میں بھڑئیے کو پہچان لے اور اپنے آپ کو دوست نما دشمنوں سے مقابلے کے لئے تیار کرے۔ اسلام میں ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ ہر چیز سے پہلے نیتوں اور ارادوں کو دیکھا جائے۔ اسلام کی نظر میں ہر عمل کی قدر و قیمت اس کی نیت کے ساتھ وابستہ ہے، نہ کہ اس کے ظاہر کے ساتھ۔ نیت اگرچہ ایک باطنی چیز ہے تاہم ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنی نیت صرف دل میں رکھے رہے اور اس کا اثر اس کے عمل میں ظاہر نہ ہو اگرچہ وہ راز داری میں بڑا ماہر اور استاد ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ اتنا با عظمت مقام یعنی مسجد اور خانہٴ خدا ہونے کے باوجود اسے جلانے کا حکم کیوں دیا؟ وہ مسجد جس کی ریت کا ایک ذرہ باہر نہیں جا سکتا، اسے کیوں تباہ کر دیا اور وہ مقام کہ اگر نجس ہو جائے تو فوراً پاک کرنا چاہئیے اسے شہر کی گندگی پھینکنے کا مقام کیوں قرار دیا؟ ان سب سوالا ت کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ مسجد ضرار، مسجد ہی نہ تھی، درحقیقت، وہ بت خانہ تھا۔ مقدس جگہ نہ تھی، افتراق اور نفاق کا مرکز تھا۔ خدا کا گھر نہ تھا، بلکہ شیطان کا گھر تھا۔ ظاہر، نام اور نقاب کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدل سکتے۔ یہ ہے وہ عظیم درس جو مسجد ضرار کی داستان نے ہر دور کے تمام مسلمانوں کو دیا ہے۔ اس بحث سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی اسلام کی نظر اس قدر اہمیت ہے کہ اگر ایک مسجد کا دوسری مسجد کے قریب بنانا مسلمانوں کی صفوں کے درمیان تفرقہ بازی، اختلاف اور شگاف پیدا ہونے کا باعث ہو تو وہ تفرقہ انداز مسجد غیر مقدس ہے۔

۲۔ صرف نفی کافی نہیں

دوسرا درس جو ہمیں مندرجہ بالا آیات سے ملتا ہے یہ ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ مسجد ضرار میں نماز نہ پڑھو بلکہ اس مسجد میں نماز پڑھو جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ یہ "نفی" اور "اثبات" اسلام کے اصلی شعار "لاالہ الا اللہ" سے لے کر اس کے ہر چھوٹے بڑے پروگرام میں جلوہ گر ہے۔ یہ امر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ ہمیشہ ہر نفی کے ساتھ ایک اثبات ہونا چاہئیے تاکہ وہ خود جامہ عملی پہنے۔ اگر ہم لوگوں کو برائی کے مراکز میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے مقابلے میں پاک و پاکیزہ مراکز قائم کریں جو معاشرے اور جمیعت کی روح کی تسکین کا باعث ہوں۔ اگر غلط تفریح سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ہمیں صحیح تفریح کے مواقع فراہم کرنا چاہییں۔ اگر ہم سامراجی مدارس اور تعلیمی ادراروں میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ صحیح مراکزِ تعلیم و تربیت مہیا کریں۔ اگر ہم بےحیائی اور بےعفتی کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں نوجوانوں کےلئے شادی کے آسان وسائل فراہم کرنا چاہییں۔ وہ لوگ جو اپنی تمام تر قوت "نفی" میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے لائحہ عمل میں اثبات کا کوئی نام و نشان نہیں، انھیں یقین کر لینا چاہئیے کہ ان کی نفی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے کیونکہ سنتِ خلقت ہے کہ تما غرائز اور جذبات کو صحیح راستے سے سیراب کیا جائے۔ کیونکہ اسلام کا یہ مسلمہ طریقہ ہے کہ "لا" کو "الاّ" کے ساتھ باہم ہونا چا ہئیے تاکہ اس سے حیات بخش توحید پیدا ہو سکے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ وہ درس ہے کہ جسے بہت سے مسلمان فراموش کر چکے ہیں اور پھر بھی شکایت کرتے ہیں کہ اسلامی پروگراموں میں پیش رفت کیوں نہیں ہوتی؛ حالانکہ ان کے خیالات کے برعکس، اسلام کا پروگرام نفی میں منحصر نہیں ہے اگر وہ نفی اور اثبات کو ساتھ ساتھ رکھتے تو اسلامی پیش رفت حتمی اور یقینی ہوتی۔

۳۔ دو بنیادی شرطیں

تیسرا قیمتی درس جو ہمیں مسجد ضرار کے واقعہ سے اور زیر بحث آیت سے ملتا ہے یہ ہے کہ ایک فعال اور مثبت دینی اور اجتماعی مرکز وہ ہے جو دو مثبت عناصر سے تشکیل پائے۔ پہلا، یہ کہ اس کی بنیاد اور مقصد پاک ہو (اسس علی التقویٰ من اوّل یوم)۔ دوسرا، یہ کہ اس کے حامی اور نگہبان پاک، صالح، صاحب ایمان، مضبوط دل اور مخلص ہوں (فیہ رجال یحبون ان یتطھروا(۔ ان دو بنیادی ارکان کے بغیر نتیجہ اور مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

111
9:111
۞إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَۚ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقۡتُلُونَ وَيُقۡتَلُونَۖ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ وَٱلۡقُرۡءَانِۚ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِۚ فَٱسۡتَبۡشِرُواْ بِبَيۡعِكُمُ ٱلَّذِي بَايَعۡتُم بِهِۦۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
خدا مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید فرماتا ہے تاکہ (ان کے بدلے) ان کیلئے جنت ہو (اس طرح سے کہ) وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں یہ سچا وعدہ اس کے ذمہ ہے جو اس نے تورات‘ انجیل اور قرآن میں ذکر فرمایا ہے اور خدا سے بڑھ کر اپنا وعدہ وفا کرنے والا کون ہے؟ اب تمہارے لئے خوش خبری ہے اس خرید و فروخت کے بارے میں جو تم نے خدا سے کی ہے اور یہ (تمہارے لئے) عظیم کامیابی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
9:112
ٱلتَّـٰٓئِبُونَ ٱلۡعَٰبِدُونَ ٱلۡحَٰمِدُونَ ٱلسَّـٰٓئِحُونَ ٱلرَّـٰكِعُونَ ٱلسَّـٰجِدُونَ ٱلۡأٓمِرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مومن وہ ہیں جو توبہ کرنے والے‘ عبادت کرنے والے‘ حمد و ثنا کرنے والے‘ سیاحت کرنے والے‘ رکوع کرنے والے‘ سجدہ کرنے والے‘ نیکی کا حکم دینے والے‘ برائی سے روکنے والے اور خدائی حدود (اور سرحدوں ) کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو خوشخبری دو۔

ایک بے مثال تجارت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں چونکہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے لہٰذا ان دو آیات میں ایک عمدہ مثال کے ساتھ صاحب ایمان مجاہدین کے بلند مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مثال میں خدا نے اپنا خریدار کی حیثیت سے تعارف کروایا ہے ارشاد ہوتا ہے: خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں اور اس مال و متاع کے بدلے انھیں جنت دے گا(إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اَنفُسَمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لھُمْ الْجَنَّةَ)۔ ہر خرید و فروخت کے معاملے میں پانچ بنیادی اراکین ہوتے ہیں جو یہ ہیں :۔ ۱۔ خرید ار ۲۔ بیچنے والا ۳۔ مال و متاع ۴۔ قیمت اور ۵۔ معاملہ کی سند۔ اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔اپنے آپ کو خریدار، مومنین کو بیچنے والا، مومنین کی جانوں اور مالوں کو مال متاع اور جنت کو اس معاملے کی قیمت قرار دیا ہے البتہ اس مال و متاع کو ادا کرنے کی طرز کے لئے ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے یعنی " وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں اور دشمنانِ حق کو قتل کرتے ہیں یا اس راہ میں قتل ہو جاتے ہیں اور جامِ شہادت نوش کرتے ہیں " (یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ )۔ درحقیقت، خدا کا ہاتھ میدان جہاد میں صرف ہونے والے متاعِ جان و مال کو لینے کے لئے کھلا ہے۔ اس کے بعد پانچویں رکن کی طرف اشارہ ہے جو کہ معاملے کی محکم سند ہے فرمایا گیا ہے: یہ خدا کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں آیا ہے (وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ)۔ البتہ "فی سبیل اللہ"کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ خدا ان جانوں، مساعی اور مجاہدات کا خریدار ہے جو اس راہ میں صرف ہوتی ہیں۔ یعنی خدا ہر اس کوشش کا خریدار ہے جو حق و عدالت کے لئے ہو اور جو انسانوں کو کفر ظلم اور فساد کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے ہو۔ اس کے بعد قرآن اس عظیم معاملے کے لئے تاکید کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: خدا سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے (وَمَنْ اَوْفَی بِعھْدِہِ مِنْ اللهِ)۔یعنی اگرچہ ا س معاملے کی قیمت فوراً ادا نہیں کی جائے گی تاہم بیع نسیہ (تشریحی نوٹ: بیع نسیہ یہ ہے کہ جو چیز بیچی جائے وہ تو خریدنے والے کو دے دی جائے لیکن اس کی قیمت بعد میں ادا کرنا ہو۔مترجم ) کے خطرات میں نہیں کیونکہ خدا اپنی قدرت اور بے نیازی کے سبب ہر شخص کی نسبت اپنے عہد و پیمان کو زیادہ پورا کرنے والا ہے۔ نہ وہ بھولتا ہے اور نہ ادا کرنے سے عاجز ہے اور نہ ہی وہ کئی کام حکمت و مصلحت کے خلاف کرتا ہے کہ اس سے پریشان ہو اور نہ ہی نعوذ باللہ وہ کوئی غلط بات کہتا ہے۔ لہذا وعدہ پورا کرنے کے بارے میں اور وعدہ کے مطابق قیمت ادا کرنے سے متعلق کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ سب سے زیادہ جالبِ نظر امر یہ ہے کہ ا س معاملے کے مراسم کی انجام دہی کے بعد کہ تجارت کرنے والوں کا معمول ہے کہ دوسرے کو مبارکبا دی جاتی ہے، خداوند تعالیٰ معاملے کو سود مند قرار دیتے ہوئے کہتا ہے: تمہیں خوشخبری ہو اس معاملہ پر جو تم نے انجام دیا ہے (فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ)۔ (تشریحی نوٹ: فاستبشروا "مادہ"، "بشارت" دراصل "بشرہ" یعنی چہرہ کے معنی سے لیا گیا ہے اور خوشی کی طرف اشارہ ہے جس کے آثار چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اور یہ تم سب کے لیے عظیم کامیابی ہے۔(وَذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔ ایسی نظیر دوسری عبارتوں میں بھی آئی ہے۔ مثلاً سورہ صف کی آیات ۱۰، ۱۱، ۱۲، میں فرمایا گیا ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنوا ھل ادلکم علی تجارة تنجیکم من عذاب الیم تؤمنون باللہ و رسولہ و تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم و انفسکم ذاٰلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یغفر لکم ذنوبکم ویدخلکم جنٰات تجری من تحتھا الانھار و مسٰکن طیبة فی جنات عدن ذٰلک الفوز العظیم۔ یعنی اے ایمان والو! کیا تمہیں ایسی تجارت کی رہبری کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاوٴ اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم جانو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایسی بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جنات عدن میں رہنے کی پاکیزہ جگہیں ہوں گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہاں انسان پروردگار کے اس لطف پر حیرت میں ڈوب جاتا ہے وہ خدا جو تمام عالم ہستی کا مالک ہے اور تمام جہاں آفرینش پر حاکمِ مطلق ہے اور ہر شخص کے پاس جو کچھ ہے اسی کی طرف سے ہے جب وہ اپنی ہی عطا کردہ نعمتیں اپنے بندوں سے خریدنے پر آتا ہی ہے تو انھیں ہزارہا گنا قیمت پر خریدتا ہے۔ زیادہ عجیب تو یہ بات ہے کہ جہاد جو انسان کی اپنی سر بلندی اور ہر قوم و ملت کی کامیابی و افتخار کا ذریعہ ہے اور اس کے ثمرات آخرکار خود انسان ہی کو حاصل ہوتے ہیں اسے اس متاع کی ادائیگی کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے۔ نیز اگرچہ ضروری ہے مال و متا ع اور قیمت کے درمیان کچھ توازن ہونا چاہیے لیکن اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے اور ایک ناپائیدار متاع جو بہرحال فنا ہونے والی سے (چاہے بیماری کے بستر پر ختم ہو جائے یا میدان جنگ میں) اس کے بدلے سعادت ابدی عطا کرتا ہے۔ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اگرچہ خدا تمام سچوں سے زیادہ سچا ہے اور اسے کسی سند اور ضمانت کی احتیاج نہیں، اس کے باوجود وہ اپنے بندوں کے لئے اہم ترین اسناد اور ضمانتیں پیش کرتا ہے۔ پھر اس عظیم معاملہ کے آخر میں انھیں مبارک دیتا ہے اور بشارت دیتا ہے کیا اس سے بالاتر کسی لطف و کرم اور محبت و رحمت کا تصور ہو سکتا ہے اور کیا کوئی معاملہ اس سے بڑھ کر سود مند ہو سکتا ہے۔ اسی لئے ایک حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ جب زیر نظر آیت نازل ہوئی تو پیغمبرؐ اکرم مسجد میں تھے آپؐ نے اس آیت کو بلند آواز میں تلاوت کیا، اور لوگوں نے تکبیر کہی۔ انصار میں سے ایک شخص سامنے آیا۔ اس نے بڑے تعجب سے پیغمبرؐ سے پوچھا: کیا واقعاً یہ آیت تھی جو نازل ہو ئی ہے۔ پیغمبرؐ نے فرمایا:ہاں وہ انصاری کہنے لگا : بیع ربیح لانقیل ولا نستقیل یعنی یہ نفع کا معاملہ ہے اور اگر ہم سے چاہا گیا کہ اس سودے کو واپس کر دیں تو ہم قبول نہیں کریں گے۔(بحوالہ: تفسیر المیزان بحوالہ در المنثور)۔ جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ ایک آیت میں ایک بات کو اجمال کے ساتھ پیش کرتا ہے اور بعد والی آیت میں اس کی تشریح و توضیح کرتا ہے۔ دوسری محلِ بحث آیت میں مومنین جو خدا کے پاس اپنی جان و مال بیچنے والے ہیں، کا واضح صفات کے ساتھ کا تعارف کرواتا ہے: ۱۔ وہ توبہ کرنے والے ہیں اپنے قلب و روح کی آلودگی کو توبہ کے پانی سے دھوتے ہیں (التَّائِبُونَ)۔ ۲۔ وہ عبادت کرنے والے ہیں خدا سے راز و نیاز کے ذریعے اور اس کی پاک ذات کی پرستش سے خود سازی کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ (الْعَابِدُونَ)۔ ۳۔ وہ پروردگار کی مادی اورمعنوی نعمتون پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں (الْحَامِدُونَ)۔ ۴۔ وہ ایک مرکز عبادت سے دوسرے مرکز کی طرف آتے جاتے ہیں (السَّائِحُونَ)۔اسی طرح ان کا عبادت کے ذریعے خودسازی کا لائحہ عمل محدود ماحول میں منحصر نہیں رہتا اور کسی خاص علاقے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کے لئے ہر جگہ پروردگار کی عبادت خودسازی اور تربیت کا مرکز موجود ہے اور جہاں کہیں بھی اس سلسلے میں کوئی درس مل سکتا ہو وہ اس کے طالب ہیں۔ "سائح" اصل میں "سیح" اور "سیاحت" کے مادہ سے جاری رہنے اور استمرار کے معنی میں لیا گیا ہے۔ یہ کہ زیر نظر آیت میں "مسائح " سے مراد کس قسم کی سیاحت اور استمرار مراد لی ہے۔ رسول اللہ کی ایک حدیث میں ہے:۔ سیاحة امتی فی المساجد میری امت کی سیر و سیاحت مساجد میں ہے۔(بحوالہ :تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ) بعض نے "صائح " کو "صائم" (یعنی روزہ دار) کے معنی میں لیا ہے کیو نکہ روزہ پورے دن میں ایک مسلسل کام ہے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا ہے:۔ ان السائحین ھم الصائمون سائحون روزہ دار ہی ہیں۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین اور دیگر تفاسیر ) بعض دوسرے مفسرین نے سیاحت کو روئے زمین میں سیر و گردش، عظمتِ خدا کے آثار کا مشاہدہ، انسانی معاشروں کی پہچان اور مختلف اقوام کی عادات و رسول اور علوم دانش سے آشنائی جو کہ انسانی افکار کو زندہ اور پختہ کرتی ہے، سمجھا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین سیاحت کو میدان جہاد اور دشمن سے مقابلے کے لئے سیر و حرکت کے معنی میں سمجھتے ہیں اس سلسلے میں وہ اس مشہور حدیثِ رسول کو شاہد قرار دیتے ہیں، کہ: ان سیاحة امتی الجھاد فی سبیل اللہ میری امت کی سیر و سیاحت اللہ کی راہ میں جہا د کرنا ہے۔ ( بحوالہ: تفسیر المیزان اور تفسیر المنار، محل ِ بحث آیت کے ذیل میں )۔ کچھ نے اسے جہان ہستی، عوامل سعادت اور اسباب شکست سے مربوط عقل و فکر کی سیر کے معنی میں سمجھا ہے۔ لیکن قبل اور بعد کے جو اوصاف شمار کیے گئے ہیں ان کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام معانی میں پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم نظر آتا ہے۔ اگرچہ تمام معانی بھی اس لفظ سے مراد لئے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام مفاہیم سیر و سیاحت کے مفہوم میں جمع ہیں۔ ۵۔ وہ عظمت الٰہی کے سامنے رکوع کرتے ہیں (الرَّاکِعُونَ)۔ ۶۔ وہ اس کے آستانہ پر جبّہ آسائی کرتے ہیں (السَّاجِدُونَ)۔ ۷۔ وہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دیتے ہیں (الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ)۔ ۸۔ وہ صر ف نیکی کی دعوت دینے کا فریضہ ادا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کی برائی اور منکر سے بھی جنگ کرتے ہیں (وَالنَّاہُونَ عَنْ الْمُنکَرِ)۔ ۹۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کے بعد اپنی آخری اور زیادہ اہم اجتماعی ذمہ داری یعنی حدود خداندی کی حفاظت، اس کے قوانین کا اجراء اور حق و عدالت کے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں (وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ)۔ یہ نو صفات بیان کرنے کے بعد خداوند تعالیٰ دوبارہ ایسے سچے اور مکتب ایمان و عمل کے تربیت یافتہ مومنین کو تشویق دلاتا ہے اور پیغمبرؐ اکرم سے کہتا ہے: ان مومنین کو بشارت دو: (وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِینَ)۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس چیز کی بشارت ہے یا دوسرے لفظوں میں بشارت بطور مطلق آئی ہے لہٰذا وہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جس میں ہر طرح کی خیر وسعادت شامل ہے یعنی انھیں ہر خیر، ہر سعادت، ہر افتخار اور ہر اعزاز کی بشارت دو۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ ان نو قسم کی صفات میں سے بعض(چھ پہلی صفات) خودسازی اور افراد کی تربیت کے ساتھ مربوط ہیں اور ان کا دوسرا حصہ (ساتویں اور آٹھویں صفت) اجتماعی فرائض سے متعلق ہے اور معاشرے کو پاک رکھنے کی طرف اشارہ ہے اور آخری صفت سب لوگوں کی ذمہ داری بیان کر رہی ہے اور وہ ہے صالح حکومت کا قیام اور مثبت سیاسی امور میں بھر پور شر کت۔

113
9:113
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
پیغمبر اور مومنین کیلئے مناسب نہیں تھا کہ مشرکین کے لئے (اللہ سے) بخشش طلب کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر روشن ہو گیا کہ یہ لوگ اصحاب دوزخ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 114 کے تحت ملاحظہ کریں۔

114
9:114
وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوۡعِدَةٖ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوّٞ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنۡهُۚ إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَأَوَّـٰهٌ حَلِيمٞ
اور ابراہیم کی استغفار اپنے(بمنزلہ)باپ (چچا آزر) کے لئے صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھی کہ جو اس سے کیا گیا تھا تاکہ اسے ایمان کی طرف ترغیب دیں لیکن جب اس (ابراہیم) پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو اس سے بیزاری کی کیونکہ ابراہیم مہربان اور بردبار ہے۔

دشمنوں سے لاتعلقی ضروری ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

پہلی آیت ایک اچھی اور قطعی تعبیر کے ساتھ پیغمبرؐ اور مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار سے منع کرتی ہے اور کہتی ہے: مناسب نہیں کہ پیغمبرؐ اور صاحب ایمان افراد مشرکین کے لئے طلب مغفرت کریں (مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ )۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر اور عمومیت کے لئے مزید کہا گیا ہے: یہاں تک کہ وہ ان کے نزدیکی ہی کیوں نہ ہوں (وَلَوْ کَانُوا اُوْلِی قُرْبَی)۔ اس کے بعد اس امر کی دلیل بیان کی گئی ہے: جب مسلمانوں پر واضح ہو گیا کہ مشرکین اہل جہنم ہیں اب ان کے لئے طلب مغفرت کے کوئی معنی نہیں ہیں (مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحَابُ الْجَحِیم)۔ یہ بالکل فضول کام اور نامناسب آرزو ہے۔ کیونکہ مشرک کسی طرح بھی قابل بخشش نہیں ہے اور جو شرک کی راہ پر ہیں ان کے لئے راہ نجات کا تصور نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں، استغفار اور طلب بخشش ایک طرح سے مشرکین کے ساتھ محبت، وابستگی اور لگاوٴ کا اظہار بھی ہے اور یہ وہ چیز ہے جس سے قرآن میں بارہا منع کیا گیا ہے۔ قرآن سے آگاہ اور آشنا مومنین نے چونکہ اس آسمانی کتاب میں پڑھ رکھا تھا کہ حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے چچا آزر کے لئے استغفار کی تھی تو ممکن تھا ان کے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا کہ آزر مشرک تھا اور اگر یہ کام ممنوع ہے تو خدا کے اس عظیم پیغمبرؐ نے کیوں انجام دیا؟ لہٰذا زیر نظر آیت میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ابرہایم کی استغفار اپنے بات (کے بمنزلہ چچا) کے لئے ایک وعدہ کی بنا پر تھی جو انھوں نے ا س سے کیا تھا لیکن جب وہ ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو انھوں نے اس سے بیزاری اختیار کرلی اور پھر ا س کے لئے استغفار نہیں کی (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَھِیمَ لِاَبِیہِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَہَا إِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اَنَّہُ عَدُوٌّ لِلَّہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ)۔ آیت کے آخر میں قرآن مزید کہتا ہے: ابراہیم وہ تھے جو بار گاہ خدا میں خاضع اور غضب الہٰی سے خائف بزرگوار تھے اور حلیم و بردبار تھے۔ (ان ابراھیم لاوّاہ حلیم)۔ ہو سکتا ہے یہ جملہ ابراہیم (ع) کے آزر کے لئے استغفار کرنے کے وعدہ کی دلیل کے طور پر ہو کیونکہ ایک تو آپ حلیم و بردبار تھے اور دوسری صفت آپ کی "اواہ" بیان ہو ئی ہے جو بعض تفاسیر کے مطابق رحیم اور رحمن کے معنی میں ہے۔ ان صفات کا تقاضا تھا کہ آپ آزر کی ہدایت کےلیے زیادہ کوشش کرتے اگرچہ وہ وعدہٴ استغفار اور اس کے گذشتہ گناہوں کےلئے طلب بخشش کی صورت میں ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا جملہ اس امر کے لئے ہو کہ حضرت ابراہیم (ع) میں جو خشوع و خضوع تھا اور آپ میں خدا کی مخالفت کا جو خوف تھا اس کی وجہ سے وہ حق کے دشمنوں کے لئے استغفار کرنے کو بالکل تیار نہ تھے۔ بلکہ یہ کام اس زمانے سے مخصوص تھا جب آپ کو آزر کی ہدایت کی امید تھی لہٰذا صرف ا س کی دشمنی واضح ہوتے ہی آپ نے اس کام سے صرف نظر کر لیا۔ اگر سوال ہو کہ اس وقت مسلمانوں کو کیسے معلوم ہو گیا کہ ابراہیم (ع) نے آزر کے لئے استغفار کی تھی تو ہم جواب میں کہیں گے سورہٴ توبہ کی یہ آیات، جیسا کہ ہم ابتداء میں اشارہ کر چکے ہیں پیغمبرؐ خدا کی عمر کے آخری حصے میں نازل ہوئی تھیں جبکہ مسلمان پہلے سے سورہٴ مریم کی آیت ۴۷ پڑھ چکے تھے۔ اس میں ہے کہ حضرت ابراہیم (ع) نے "ساٴستغفرک ربی" کہہ کر آزر سے استغفار کا وعدہ کیا تھا۔ اور یہ بات مسلم ہے کہ خدا کا پیغمبرؐ کسی سے فضول اور بلاوجہ وعدہ نہیں کرتا اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کی وفا بھی کرتا ہے۔ نیز سورہٴ ممتحنہ کی آیت ۴ میں بھی وہ پڑھ چکے تھے کہ حضرت ابراہیم کی استغفار صراحت سے آئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: و اغفر لابی انہ کان من الضآلّین (الشعراء۔۸۶)

چند اہم نکات: ۱۔ ایک جعلی روایت

کئی سنی مفسرین نے صحیح بخاری، مسلم اور دیگر کتب سے سعید بن مسیب کے واسطے سے اس کے باپ سے ایک جعلی رویات نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ جب ابو طالبؑ کی موت کا وقت آیا تو پیغمبرؐ اکرم ان کے پاس گئے جبکہ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ ان کے پاس بیٹھے تھے تو پیغمبرؐ اکرم نے ان سے فرمایا: اے چچا آپ"لا الہ الّا اللہ" کہیں تاکہ میں اس کے ذریعے پروردگارکے ہاں آپ کی شفاعت کروں۔ اس وقت ابوجہل اور عبد اللہ بن امیہ نے ابو طالب کی طرف رخ کیا اور کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ (اپنے باپ) عبد اللہ کے دین سے منہ پھیر لو۔ پیغمبر خدا نے ان سے وہی بات بار بار کہی۔ مگر ابوجہل اور عبد اللہ وہی کہتے ہوئے روکتے رہے۔ آخری بات جو ابو طالب نے کہی وہ یہ تھی۔ "عبد المطلب کے دین پر" اور "لا الہ الا اللہ" کہنے سے اجتناب کیا۔ اس وقت یغمبرؐ اکرم نے فرمایا: میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے اس سے روکا جائے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی"ما کان للنبی و الذین اٰمنوا" (بحوالہ: تفسیر المنار اور اہل سنت کی دیگر تفاسیر) اس حدیث میں جعلی ہونے کی نشانیاں صاف نظر آ رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مفسرین اور محدثین کے درمیان مشہور ہے کہ سورہٴ براٴت ۹ ھ میں نازل ہوئی بلکہ بعض کے نظرئیے کے مطابق یہ آخری سورت ہے جوپیغمبرؐ اکرم پر نازل ہوئی۔ جبکہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ جناب ابوطالب کی وفات مکہ میں رسولؐ اللہ کی ہجرت سے پہلے ہوئی ہے۔ اسی واضح تضاد کی بناء پر متعصبین مثلاً صاحب المنار نے ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ کبھی کہا ہے کہ یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی، ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں ۹ہجری میں۔ اس بے دلیل دعویٰ سے انھوں نے اپنے خیال میں اس واضح تضاد کو برطرف کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ آیت مکہ میں وفات ابوطالب کے وقت نازل ہوئی ہو۔ پھر بعد میں رسولؐ اللہ کے حکم سے سورہٴ توبہ میں رکھ دی گئی ہو جبکہ یہ دعویٰ بھی بالکل دلیل سے عاری ہے۔ کیا بہتر نہ تھا کہ بجائے ایسے بے سند توجیہات کرنے مذکورہ روایت اور اس کی صحت میں تردد کیا جاتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ حضرت ابوطالب کی وفات سے پہلے خداوند تعالیٰ قرآن کی چند آیات میں مسلمانوں کو مشرکین کی دوستی اور محبت سے منع کر چکا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ استغفار کرنا دوستی اور محبت کے اظہار کا ایک واضح ترین مصداق ہے اس کے باوجود کسی طرح ممکن ہے کہ ابو طالب دنیا سے مشرک کے طور پر چلے جائیں اور پھر رسولؐ اللہ قسم کھائیں کہ میں تو اسی طرح تمہارے لئے استغفار کرتا رہوں گا جب تک خدا مجھے اس سے منع نہ کر دے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ فخرالدین رازی اس کا تو انکار نہیں کر سکا کہ یہ آیت باقی سورہ توبہ کی آیات کی طرح مدینہ میں پیغمبرؐ اکرم کی آخری عمر میں نازل ہوئی ہے لیکن ایسے مسائل میں اپنے مشہور تعصب کی بناء پر ایک اور توجیہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسو ل اللہ ابو طالب کی وفات کے بعد اسی طرح مسلسل سورہ توبہ کے نزول تک ان کے لئے استغفار کرتے رہے۔ یہاں تک ایک مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں منع کیا گیا۔ اس کے بعد کہتا ہے: اس میں کیا حرج ہے کہ یہ چیز پیغمبرؐ اور مومنین کے لئے اس وقت تک جائز ہو۔ اگر فخرالدین رازی اپنے آپ کو تعصب کی قید سے آزاد کر لیتا تو اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو جاتا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ پیغمبرؐ اکرم اتنی طویل مدت تک ایک مشرک شخص کے لئے استغفار کریں جبکہ بہت سی قرآنی آیات جو اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں۔ مشرکین کے ساتھ ہر قسم کی محبت اور دوستی کی مذمت کر چکی تھیں۔(تشریحی نوٹ۔ سورہ ٴ نساء مسلماً سورہ براٴت سے پہلے نازل ہوئی اس کی آیت ۱۳۹ میں اور سورہ آلِ عمران بھی براٴت سے پہلے نازل ہوئی اس کی آیت ۳۸ میں صراحت سے کفار سے دوستی اور محبت کرنے کو منع کیا گیا ہے اور خود اسی سورہ توبہ کی زیر بحث آیت سے پہلے کی آیات میں خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر سے بالصراحت کہتا ہے:۔ ان (کفار) کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو خدا انھیں نہیں بخشے گا)۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ اکیلا شخص جس نے یہ روایت نقل کی ہے وہ سعید بن مسیب ہے اور اس کی امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی مشہور ہے۔ اس بناء پر اس کی بات پر حضرت علیؑ ان کے والد اور ان کی اولاد کے بارے میں ہرگز اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ امینی نے مذکورہ بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد واقدی سے ایک بات نقل کی ہے جو قابل توجہ ہے۔ واقدی کہتا ہے: سعید بن مسیب حضرت امام سجاد علی بن الحسین علیہ السلام کے جنازے کے قریب سے گذرا اور ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی (اور ایک فضول عذر کے ساتھ) اس کام سے اجتناب کیا لیکن ابن حزم کے بقول جب لوگوں نے اسے پوچھا کہ کیا تم حجاج کے پیچھے نماز پڑھتے ہو یا نہیں تو اس نے کہا کہ ہم حجاج سے بدتر کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ جیسا کہ اسی تفسیر کی پانچویں جلد میں ہم کہہ آئے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ حضرت ابوطالب پیغمبرؐ اسلام پر ایمان لے آئے تھے۔ اس سلسلے میں ہم نے واضح مدرک اور دلائل پیش کئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ جو کچھ جناب ابو طالب کے ایمان نہ لانے کے بارے میں کہا گیا ہے وہ ایک بہت بڑی تہمت ہے۔ تمام شیعہ علماء اور بہت سے سنی علماء مثلاً ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں قسطلانی نے ارشاد الباری میں اور زینی وحلان نے تفسیر حلبی کے حاشیہ پر اس امر کی تصریح کی ہے۔ ایک باریک بین محقق اگر اس لہر کی طرف توجہ کرے جو بنی امیہ کے حکام کی طرف سے حضرت علیؑ کے خلاف سیاسی مقاصد کے تحت اٹھی تھی تو وہ اچھی طرح اندازہ لگا سکتا ہے کہ جو شخص بھی آپ سے رشتہ اور تعلق رکھتا تھا وہ اس سازش سے امان میں نہیں تھا۔ درحقیقت، حضرت ابو طالب کا اس کے علاوہ کوئی گناہ نہیں تھا کہ وہ اسلام کے عظیم پیشوا علی بن ابی طالب علیہ السلام کے باپ تھے۔ کیا ان لوگوں نے ابوذر جیسے عظیم مجاہدِ اسلام پر حضرت علیؑ سے عشق و محبت اور مکتب عثمان سے مقابلے کی وجہ سے ایسی تہمتیں نہیں لگائیں۔ حضرت ابوطالب جو ساری زندگی پیغمبرؐ اسلام کے حامی اور ان کے محافظ رہے اور آپ ہر طرح سے فرمانبرداری کرتے رہے، ان کے ایمان کے سلسلے میں مزید اطلاع کے لئے اسی تفسیر کی جلد پانچ کے صفحہ ۱۶۶تا صفحہ ۱۷۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔

۲۔ حضرت ابراہیم نے آزر سے استغفار کا وعدہ کیوں کیا؟

دوسرا سوال جو یہاں سامنے آتا ہے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے چچا آزر سے استغفار کا وعدہ کیونکر کیا جبکہ زیر بحث آیت اور قرآن کی دیگر آیات کے مطابق آپ نے یہ وعدہ پورا کیا، حالانکہ وہ ہرگز ایمان نہیں لایا اور وہ مشرکوں اور بت پرستوں میں سے تھا اور ایسے افراد کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے۔ اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کو توقع تھی کہ انتظار تھا کہ اس طریقے سے آزر، ایمان اور توحید کی طرف مائل ہو جائے گا اور ان کی استغفار حقیقت میں یہ تھی کہ خداوند اسے ہدایت کر اور اس کے گذشتہ گناہوں کو بخش دے لیکن جب آزر نے حالت شرک میں اپنی آنکھیں دنیا سے بند کیں اور حضرت ابراہیم کے لئے مسلم ہو گیا کہ وہ پروردگار کی دشمنی میں امر ہے اور اب اس کی ہدایت کی کوئی گنجائش نہیں رہی تو آپ نے اس کے لئے استغفار کو ختم کر دیا۔ اس معنی کے مطابق مسلمان بھی اپنے مشرک دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے، جب تک وہ بقید حیات ہیں اور ان کی ہدایت کی امید ہو سکتی ہے استغفار کریں یعنی خدا سے ان کے لئے ہدایت اور بخشش دونوں طلب کریں لیکن جب وہ حالتِ کفر میں مر جائیں تو ان کے لئے اب استغفار کا کوئی موقع نہ رہے گا۔ باقی رہا یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ امام صا دقؑ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آزر اسلام لے آیا تو اس کے لئے استغفار کریں گے(نہ کہ اسلام لانے سے پہلے) اور جس وقت ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو آپ نے اس سے بیزاری اختیار کی۔ اس بناء پر ابراہیم کا وعدہ مشروط تھا اور چونکہ شرط پوری نہ ہوئی اس لئے انھوں نے کبھی اس کے لئے استغفار نہیں کی۔ یہ روایت مرسل اور ضعیف ہونے کے علاوہ ظاہر یا صریح آیاتِ قرآن کے مخالف ہے کیونکہ زیر بحث آیت کا ظہور یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے استغفار کی۔ سورہٴ شعراء کی آیت ۸۶ میں صراحت سے ہے کہ ابراہیمؑ نے خدا سے اس کی بخشش کا تقاضا کیا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: واغفر لابی انہ کان من الضآلّین اس کا دوسرا شاہد وہ مشہور جملہ ہے جو ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ جن تک آزر زندہ تھا حضرت ابراہیم نے بار ہا اس کے لئے استغفار کی لیکن جب وہ حالتِ کفر میں مر گیا اور اس کی دینِ حق سے عداوت مسلم ہو گئی تو آپ بھی اس کام سے رک گئے۔ بعض مسلمان چونکہ اپنے بزرگ مشرکین کے لئے جو حالت کفر میں مر گئے تھے استغفار کرنا چاہتے تھے لہٰذا قرآن نے صراحت کے ساتھ انہیں منع کیا اور تصریح کی ابراہیم کا معاملہ بالکل ان سے مختلف تھا وہ تو آزر کی زندگی میں اور اس کے ایمان کی امید پر ایسا کرتے تھے نہ کہ اس کی موت کے بعد۔

۳۔ دشمنوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ لینا چاہیے

زیر بحث آیت کوئی واحد آیت نہیں ہے جو مشرکین سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کرنے کی بات کرتی ہے۔ بلکہ قرآن کی متعدد آیات سے یہ امر اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کا رابطہ، رشتہ داری، قطع تعلق اور عدم رشتہ داری مکتبی اور مذہبی بنیادوں پر ہونا چاہئیے اور یہ رشتہ (خدا پر ایمان اور اس قسم کے شرک اور بت پرستی سے مقابلہ) مسلمانوں کے تمام روابط پر حاوی ہونا چاہئیے کیونکہ یہ رشتہ داری بنیادی ہے اوریہ رابط تمام اجتماعی اور معاشرتی امور پر حاکم ہے۔ سطحی اور ظاہری رشتے ناتے اس کی ہرگز نفی نہیں کر سکتے۔ یہ درس کل کے لئے بھی تھا اور آج کے لئے بھی ہے۔یہ ہر زمانے اور ہر دور کے لئے ایک سبق ہے۔

115
9:115
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
ایسا نہ تھا کہ اللہ کسی قوم کو ہدایت (اور ایمان لے آنے) کے بعد سزا دے مگر یہ کہ جس سے انہیں بچنا چاہئے اسے ان کے لئے بیان کر دے (اور وہ اس کی مخالفت کریں ) کیونکہ خدا ہر چیز سے دانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 116 کے تحت ملاحظہ کریں۔

116
9:116
إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
آسمانوں اور زمین کی حکومت اس کیلئے ہے (وہ) زندہ کرتا اور مارتا ہے اور خدا کے علاوہ کوئی ولی اور مدد گار نہیں ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کچھ مسلمان فرائض، و واجبات کے نزول سے پہلے اس دنیا سے چل بسے۔ کچھ لوگ رسولؐ اللہ کی خدمت میں آئے اور ان کے انجام کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا ان کا خیال تھا کہ شاید فوت شدہ مسلمان عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں کیونکہ انھوں نے یہ فرائض انجام نہیں دئیے تھے اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس با ت کی نفی کی گئی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، محل آیت کے ذیل میں)۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت سابقہ آیات میں وارد صریح ممانعت سے پہلے مسلمانوں کے مشرکین کے لئے استغفار کرنے اور ان سے اظہار محبت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی اور انھیں اطمینان دلایا ہے کہ ان کی استغفار جو خدا کی ممانعت سے پہلے تھی اس پر ان کا مواخذہ نہیں ہو گا۔

واضح حکم کے بعد سزا

مندرجہ بالا پہلی آیت ایک عمومی قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی عقل بھی تائید کرتی ہے اور وہ یہ کہ جب تک خدا کوئی حکم بیان نہ فرمائے اور شریعت میں اس کے بارے میں وضاحت نہ آ جائے کسی شخص کو اس کے سلسلے میں سزا نہیں دے گا دوسرے لفظوں میں مسئولیت اور جوابدہی ہمیشہ احکام بیان کرنے کے بعد ہے اس چیز کو علمِ اصول میں "قاعدہ قبحِ عقاب بلا بیان" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ابتداء میں فرما یا گیا ہے: ایسا نہ تھا کہ خدا کسی گروہ کو ہدایت کے بعد گمراہ کر دے جب تک جس چیز سے اسے پرہیز کرنا چاہئیے وہ اس سے بیان نہ کر دے (وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ ھَدَاھُمْ حَتَّی یُبَیِّنَ لَھُمْ مَا یَتَّقُونَ)۔ "یضل" اصل میں گمراہ کرنے کے معنی میں ہے یا جیسا کہ بعض مفسرین کو احتمال ہے اس سے مراد "گمراہی کا حکم لگانا" ہے؛ جیسے تعدیل اور تفسیق۔ عدالت اور فسق۔ عدالت اور فسق کا حکم لگانے کے معنی میں ہیں۔ (تشریحی نوٹ :بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف باب تفعیل ہے جو کبھی حکم لگانے کے معنی میں بھی آتا ہے؛ حالانکہ ایسا نہیں ہے، یہ حکم "باب افعال" میں بھی دیکھا گیا ہے۔ مثلا کمیت شاعر کا مشہور شعر ہے کہ جو اس نے خاندانِ رسالت سے اپنے عشق کے اظہار کےلیے کہا ہے۔ اس میں ہے:۔ و طائفة قد اکفرونی بحبکم یعنی ایک گروہ نے آپ کی محبت کی وجہ سے مجھ پر کفر کا حکم لگایا ہے۔ اس مصرعہ میں بابِ افعال، حکم لگانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے) یا [پھر "یضلّ] روز قیامت ثواب و جزا کے راستے سے گمراہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو دراصل سزا دینے کے مفہوم میں ہو گا یا پھر "اضلال" سے مراد، وہی ہے جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں اور و ہ ہے نعمتِ توفیق سلب کرنا اور انسان کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دینا۔ اس کا نتیجہ طریق ہدایت سے گمراہی اور سرگردانی ہے۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ گناہوں کا تسلسل زیادہ گمراہی اور طریق ہدایت سے دور رہنے کا سرچشمہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: قرآن میں ہدایت و ضلالت کے معنی کے بارے میں مزید و ضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۴۰ تا ص ۱۴۱(اردو ترجمہ )کی طرف رجوع کریں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا : خدا ہر چیز کو جانتا ہے (إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ)۔یعنی خدا کے علم کا تقاضا ہے کہ جب تک اس نے کسی کے بارے میں اپنے بندوں سے کچھ کہا نہیں اس کے بارے میں کسی کو جوابدہ نہ سمجھے اور اس سے مواخذہ نہ کرے۔

ایک سوال اور اس کا جواب

بعض مفسرین اور محدثین کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا آیت اس پر دلیل کہ مستقلات عقلیہ جب تک شرعی طریق سے بیان نہ ہوں کوئی شخص ان کے بارے میں مسؤلیت نہیں رکھتا (مستقلات عقلیہ ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اچھائی یا برائی کو انسان حکمِ شریعت کے بغیر اپنی عقل سے سمجھ لیتا ہے مثلاً ظلم کی بدی، عدالت کی اچھائی یا چوری، جھوٹ، تجاوز اور قتل نفس وغیرہ کی برائی) گویا ان کے خیال کے مطابق تمام احکامِ عقلی کی حکمِ شریعت کے ذریعہ تائید ہونا چاہئیے تاکہ لوگوں کی ان کے بارے میں مسؤلیت ہو۔ اس خیال کی بناء پر شریعت کے نزول سے پہلے لوگ مستقلات عقلیہ کے بارے میں کوئی بھی جوابدہی نہں رکھتے تھے لیکن اس کا خیال بطلان واضح ہے کیونکہ جملہ "حتیٰ یبین لھم" (یہاں تک کہ ان کےلیے آشکار ہو جائے) ان کا جواب دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ آیت اور ایسی آیات ان مسائل سے مربوط ومخصوص ہے جو پردہٴ ابہام میں ہیں اور بیان و وضاحت کے محتاج ہیں اور یہ مسلم ہے کہ مستقلات عقلیہ کے بارے میں یہ بات نہیں ہو سکتی کیونکہ ظلم برا ہے اور عدالت اچھی ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جو وضاحت کا محتاج ہو۔ جولوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ اس طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اگر یہ بات صحیح ہو تولوگوں پر ضرور ی نہیں رہتا کہ انبیاء کی دعوت پر لبیک کہیں اور ان کی صداقت معلوم کرنے کے لئے دعویٴ نبوت کے مدعی اور اس کے معجزات کا مطالعہ کریں کیونکہ ان کےلیے تو ابھی پیغمبرؐ کی سچائی اور حکم الٰہی واضح نہیں ہوا(لہٰذا ضروری نہیں کہ وہ ان کے دعویٰ کی تحقیقی کریں اور ان کا مطالعہ کریں۔ لہٰذا جیسے مدعیانِ نبوت کے دعویٰ کا مطالعہ عقل و خرد کے حکم سے واجب ہے اور اصطلاح کے مطابق مستقلات عقلیہ میں سے ہے، ایسے ہیں دیگر مسائل جنھیں عقل و خرد وضاحت سے پہچانتی ہے، واجب الاتباع ہیں۔ اس گفتگو کی شاہد وہ تعبیر ہے جو طرق اہل بیت (ع) کی بعض احادیث میں نظر آتی ہے۔ کتابِ توحید میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: حتیٰ یعرفھم مایرضیہ و ما یسخطہ یعنی ـــــــــــــ خد اکسی کو عذاب نہیں کرتا جب تک اسے سمجھا نہ لے کہ کونسی چیزیں اس کی رضا کا سبب ہیں اور کون سی اس کے غضب کا موجب ہیں۔(بحوالہ: تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ صفحہ ۲۷۶)۔ بہرحال، یہ آیت اور اس قسم کی دیگر آیات ایک کلی حکم اور اصولی قانون کی بنیاد شمار ہوتی ہیں اور وہ یہ کہ جب تک کسی چیز کے وجوب یا حرمت کے لئے ہمارے پاس دلیل نہ ہو اس کے بارے میں ہماری کوئی مسؤلیت نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے لئے تمام چیزیں جائز اور مباح ہیں مگر یہ کہ ان کے وجوب یا حرمت کے لئے کوئی دلیل موجود ہو۔ اسی بات کو "اصل براٴت" کہتے ہیں۔ بعد والی آیت میں اس مسئلہ پر تاکید کے حوالے سے کہا گیا ہے: آسمانوں اور زمینوں کی حکومت خدا کے لئے ہے (إِنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ موت و حیات کانظام اس کے قبضہ قدرت میں ہے وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے (یُحْیِ وَیُمِیتُ)۔ اس بناء پر "تمہارا خدا کے علاوہ کوئی ولی، سرپرست، دوست اور یاور نہیں ہے" (وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیرٍ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عالم ہستی کی تمام قدرتیں اور تمام حکومتیں اس کے ہاتھ میں اور اس کے زیر فرمان ہیں۔ تم اس کے غیر کا سہارا نہ لو۔ غیر خدا کو پناہ گاہ قرار نہ دو اور استغفار وغیرہ کے ذریعے خدا کے دشمنوں سے اپنی محبت کا رشتہ قائم اور محکوم کرو۔ ۔

117
9:117
لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلۡعُسۡرَةِ مِنۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّهُۥ بِهِمۡ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
اللہ نے اپنی رحمت پیغمبر اور (اسی طرح ان) مہاجرین و انصار کے شامل حال کی کہ جنہوں نے عسرت و شدت کے وقت (جنگ تبوک میں ) ان کی پیروی کی کہ جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل حق سے منحرف ہو جائیں (اور وہ میدان جنگ سے پلٹ آئیں ) اس کے بعد اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی وہ ان پر مہربان و رحیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 118 کے تحت ملاحظہ کریں۔

118
9:118
وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ أَنفُسُهُمۡ وَظَنُّوٓاْ أَن لَّا مَلۡجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيۡهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ لِيَتُوبُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
(اسی طرح) ان تین افراد (پر لطف و کرم کیا)جو (مدینہ میں ) رہ گئے تھے اور انہوں نے تبوک میں شرکت نہیں کی تھی (اور مسلمانوں نے ان سے قطع روابط کر لیا تھا) یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی (اور عالم یہ تھا کہ) انہیں اپنے وجود میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی تھی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا کی طرف سوائے اس کے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اس وقت خدا نے اپنی رحمت ان کے شامل حال کی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی کیونکہ خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

شان نزول: ایک عظیم درس

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مفسرین نے کہا ہے کہ پہلی آیت جنگ تبوک کے بارے میں اور اس میں مسلمانوں کو پیش آمدہ مشکلات کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ مشکلات اس قدر تھیں کہ کچھ لوگوں نے پلٹ آنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن خدا کا لطف و کرم اور ا س کی توفیق ان کے شامل حال ہوئی اور وہ اسی طرح سے جمے رہے۔ جن افراد کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک ابوحیثمہ ہے جو اصحابِ پیغمبرؐ میں سے تھا، منافقین میں سے نہ تھا لیکن سستی کی وجہ سے پیغمبرؐ اکرم کے ساتھ میدانِ تبوک میں نہ گیا۔ اس واقعہ کو دس دن گزر گئے۔ ہوا گرم اور جلا دینے والی تھی، ایک دن اپنی بیویوں کے پاس آیا انھوں نے ایک سائبان تان رکھا تھا، ٹھنڈا پانی مہیا کر رکھا تھا اور بہترین کھانا تیار کر رکھا تھا۔ وہ اچانک غور و فکر میں ڈوب گیا اور اپنے پیشوا رسولؐ اللہ کی یاد اسے ستانے لگی۔ اس نے کہا:۔ رسولؐ اللہ ــــــ کہ جنھوں نے کبھی گناہ نہیں کیا اور خدا ان کے گذشتہ اور آئندہ کا ذمہ دار ہے: بیابان کی جلا ڈالنے والی ہواوٴں میں کندھے پر ہتھیار اٹھائے اس دشوار گذار سفر کی مشکلات اٹھا رہے ہیں اور ابوحیثمہ کو دیکھو کہ ٹھنڈے سائے میں تیار کھانے اور خوبصورت بیویوں کے پاس بیٹھا ہے، کیا یہ انصاف ہے؟ اس کے بعد اس نے اپنی بیویوں کی طرف رخ کیا اور کہا: خدا کی قسم تم میں سے کسی کے ساتھ میں بات نہ کروں گا اور سائبان کے نیچے نہیں بیٹھوں گا جب تک پیغمبرؐ سے نہ جا ملوں۔ یہ بات کہہ کر اس نے زاد راہ لیا، اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور چل کھڑا ہوا۔ اس کی بیویوں نے بہت چاہا کہ اس سے بات کریں لیکن اس نے ایک لفظ نہ کہا اور اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ تبوک کے قریب جا پہنچا۔ مسلمان ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ کوئی سوار ہے جو سڑک سے گذر رہا ہے ْ لیکن پیغمبرؐ اکرم نے فرمایا : اے سوار تم ابوحیثمہ ہو تو بہتر ہے۔ جب وہ قریب پہنچا اور لوگوں نے اسے پہچان لیا تو کہنے لگے جی ہاں! ابو حیثمہ ہے۔ اس نے اپنا اونٹ زمین پر بٹھایا اور پیغمبرؐ اکرم کی خدمت میں سلام عرض کیا اور اپنا ماجرا بیان کیا۔ رسول اللہ نے اسے خوش آمدید کہا اور اس کے حق میں دعا فرمائی۔ اس طرح وہ ایک ایسا شخص تھا جس کا دل باطل کی طرف مائل ہو گیا تھا لیکن اس کی روحانی آمادگی کی بناء پر خدا نے اسے حق کی طرف متوجہ کیا اور اسے ثباتِ قدم بھی عطا کیا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسری آیت کے بارے میں ایک شان نزول منقول ہے ا س کاخلاصہ یہ ہے: مسلمانوں میں سے تین افراد کعب بن مالک، مراہ بن ربیع اور بلال بن امیہ نے جنگ تبوک میں شر کت نہ کی اور انھوں نے پیغمبرؐ خدا کے ہمراہ سفر نہ کیا لیکن وہ منافقین میں شامل نہیں ہونا چاہئیے تھے بلکہ ایسا انھوں نے سستی اور کاہلی کی بناء پر کیا تھا۔ تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ وہ اپنے لئے نادم اور پشیمان ہو گئے۔ جب رسول اللہ میدان تبوک سے مدینہ لوٹے تو وہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معذرت کی لیکن رسولؐ اللہ نے ان سے ایک لفظ تک نہ کہا اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ کوئی شخص اس سے بات چیت نہ کرے وہ ایک معاشرتی دباوٴ کاشکار ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان کے چھوٹے بچے اور عورتیں رسول اللہ کے پاس آئیں اور اجازت چاہی کہ ان سے الگ ہو جائیں، آپ نے انھیں علیحدگی کی اجازت تو نہ دی لیکن حکم دیا کہ ان کے قریب نہ جائیں۔ مدینہ کی فضا وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی۔ وہ مجبور ہو گئے کہ اس اتنی بڑی ذلت اور رسوائی سے نجات حاصل کرنے کے لئے شہر چھوڑ دیں اور اطراف مدینہ کے پہاڑوں کی چوٹی پر جا کر پناہ لیں۔ جن باتوں نے ان کے جذبات پر شدید ضرب لگائی ان میں سے ایک یہ تھی کہ کعب بن مالک کہتا ہے: میں ایک دن بازار مدینہ میں پریشانی کے عالم میں بیٹھا تھا کہ ایک شامی عیسائی مجھے تلاش کرتا ہوا آیا۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا تو بادشاہ غسان کی طرف سے ایک خط میرے ہاتھ میں دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ اگر تیرے ساتھی نے تجھے دھتکار دیا ہے تو ہماری طرف چلے آوٴ۔ میری حالت منقلب اور غیر ہو گئی اور میں نے کہا وائے ہو مجھ پر میرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ دشمن میرے بارے میں لالچ کرنے لگے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ان کے اعزا و اقارب ان کے پاس کھانا لے آتے مگر ان سے ایک لفظ بھی نہ کہتے۔ کچھ مدت اسی صورت میں گزر گئی اور وہ مسلسل انتظار میں تھے کہ ان کی توبہ قبول ہو اور کوئی آیت نازل ہو جو ان کی توبہ کی دلیل بنے۔ مگر کوئی خبر نہ تھی۔ اس دوران ان میں سے ایک کے ذہن میں یہ بات آئی اور اس نے دوسروں سے کہا کہ اب جبکہ لوگوں نے ہم سے قطع تعلق کر لیا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ ہم بھی ایک دوسرے سے قطع تعلق کر لیں (یہ ٹھیک ہے کہ ہم گنہ گار ہیں لیکن مناسب ہے کہ دوسرے گنہ گار سے خوش اور راضی نہ ہوں) انھوں نے ایسا کیا یہاں تک کہ ایک لفظ بھی ایک دوسرے سے نہیں کہتے تھے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتا تھا۔اس طرح پچاس دن انھوں نے توبہ و زاری کی اور آخر کار ان کی توبہ قبول ہو گئی۔ اس پر مندرجہ بالا آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، سفینۃ البحار اور تفسیر ابوالفتوح رازی)۔

گنہ گاروں کے لئے معاشرتی دبا وٴ

یہ آیات بھی جنگ تبوک سے متعلق اور اس عظیم اسلامی واقعے کے بارے میں مختلف مطالب پر مشتمل ہیں۔ پہلی آیت میں پروردگار کی اس لامتناہی رحمت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حساس لمحات میں پیغمبرؐ اور مہاجرین و انصار کے شامل حال ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا کی رحمت پیغمبرؐ اور ان کے مہاجرین و انصار کے شامل حال ہوئی جو شدت اور بحران کے موقع پر آنحضرتؐ کی پیروی کرتے ہیں (لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھاجِرِینَ وَالْاَنصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَةِ الْعُسْرَةِ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ رحمت الہٰی اس وقت شامل حال ہوئی جب شدت حوادث اور پریشانیوں کے دباوٴ کی وجہ سے قریب تھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ راہ حق سے پھر جائے (اور تبوک سے واپسی کا ارادہ کر لے) (مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْھم)۔ دوبارہ تاکید کی گئی ہے: اس صورتِ حال کے بعد اللہ نے اپنی رحمت ان کے شامل حال کر دی اور ان کی توبہ قبول کر لی کیونکہ وہ مومنین پر مہر بان اور رحیم ہے (ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ إِنَّہُ بِھِمْ رَئُوفٌ رَحِیمٌ)۔اس نے نہ صرف س عظیم گروہ پر اپنی رحمت نازل کی کہ جو جہاد میں شریک ہوا بلکہ ان تین افراد پر بھی اپنا لطف و کرم کیا جو جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے اس لئے مجاہدین انھیں پیچھے چھوڑ گئے تھے (وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِینَ خُلِّفُوا)۔لیکن یہ لطف الہٰی انھیں آسانی سے میسر نہیں آیا بلکہ ایسا اس وقت ہوا جب یہ تین افراد (کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ جن کے بارے میں شانِ نزول میں بتایا جا چکا ہے) شدید معاشرتی دباوٴ میں رہ چکے تھے اور تمام لوگوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا "یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی"(حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمْ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ )۔اور ان کے سینے اس طرح سے غم اندوہ سے معمور تھے کہ گویا "انھیں اپنے وجود میں بھی جگہ نہ ملتی تھی" اور عالم یہ تھا کہ انھوں نے ایک دوسرے سے بھی رابطہ منقطع کر لیا تھا (وَضَاقَتْ عَلَیھِمْ اَنفُسُھُم)اس طرح ان پر تمام راستے بند ہو گئے تھے "اور انھوں نے یقین کر لیا تھا کہ اس کی طرف بازگشت کے علاوہ غضبِ خدا سے بچنے کے لئے کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے" (وَظَنُّوا اَنْ لاَمَلْجَاَ مِنْ اللهِ إِلاَّ إِلَیْہِ)۔ "دوبارہ رحمتِ خدا ان کے شامل حال ہوئی"۔ اور اس رحمت نے ان کے لئے حقیقی اور مخلصانہ توبہ اور بازگشت ان کے لئے آسان کر دی (ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوبُوا)۔ کیونکہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔(إِنَّ اللهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ)۔

چند اہم نکات: ۱۔ تاب اللہ علی النبی سے کیا مراد ہے؟

محل بحث پہلی آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ خدا نے پیغمبرؐ، مہاجرین اور انصار پر توجہ کی اور ان کی توبہ قبول کی اس میں شک نہیں کہ معصوم پیغمبرؐ کا تو گناہ ہی نہ تھا کہ خدا اس پر توجہ کرتا اور اس کی توبہ قبول کرتا، اگرچہ اہل سنت کے بعض مفسرینِ حدیث نے مندرجہ بالا تعبیر کو جنگ تبوک کے واقعہ میں پیغمبرؐ سے کوئی لغزش ہونے کی دلیل قرار دیا ہے لیکن خود اس آیت میں اور قرآن کی دوسری آیات میں غو ر و غوض کیا جائے تو یہ تفسیر غلط معلوم ہوتی ہے ــــــــــــــــــ کیونکہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ پروردگار کی توبہ کا معنیٰ ہے"اس کا اپنی رحمت کے ساتھ لوٹ آنا اور بندوں کی طرف توجہ کرنا" اور اس کے مفہوم میں گناہ یا لغزش نہیں ہے؛ جیسا کہ سورہٴ نساء میں بعض احکامِ اسلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: یرید اللہ لیبین لکم و یھدیکم سنن الذین من قبلکم و یتوب علیکم و اللہ علیم حکیم خدا چاہتا ہے کہ تم سے اپنے احکام بیان کرے اور جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کی اچھی سنت اور روش کی تمہیں ہدایت کرے اور تم پر "توبہ" کرے اور خدا عالم و حکیم ہے۔ اس آیت میں اور اس سے پہلے گناہ اور لغزش کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ بلکہ اس آیت کی تصریح کے مطابق گفتگو احکام بیان کرنے کے حوالے سے اور گذشتہ لوگوں کی اچھی طرح سنتوں کی ہدایت کے بارے میں ہو رہی ہے یہ چیز خود نشان دہی کرتی ہے کہ یہاں توبہ کا معنی ہے بندوں کے لئے رحمتِ الٰہی کا شمول۔ دوسری بات یہ ہے کہ کتبِ لغت میں بھی توبہ کا ایک یہی معنی مذکور ہے۔ مشہور کتاب قاموس میں توبہ کا ایک معنی اس طرح ذکر ہوا ہے: رجع علیہ بفضلہ و قبولہ یعنی ــــــــــــــــ اس کی طرف لوٹا اپنے فضل و قبول کرنے سے۔ تیسری بات یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں مومنین کے صرف ایک گروہ کے انحرافِ حق کا ذکر ہے حالانکہ خدائی توبہ سب کے لئے قرار دی گئی ہے یہ امر نشان دہی کرتا ہے کہ یہاں خدائی توبہ گناہ پر بندوں کی معذرت قبول کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہاں اس سے مراد خدا کی خاص رحمت ہے جو ان سخت لمحات میں پیغمبرؐ اور تمام مومنین کی مدد کے لئے آئی۔ اس میں مہاجرین و انصار میں سے کسی کے لئے استثناء نہیں ہے اور اس رحمت نے انھیں جہاد میں ثابت رکھا۔

۲۔ جنگ تبوک کو ساعۃ العسرۃ کیوں کہا گیا؟

لفظ "ساعت" لغت کے اعتبار سے وقت کے ایک حصہ کو کہتے ہیں، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ البتہ زیادہ لمبے زمانے کو ساعت نہیں کہا جا سکتا ہے اور"عسرت" مشقت اور سختی کے معنی میں ہے۔ تاریخ اسلام نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمان کبھی بھی جنگ تبوک کے موقع کی طرح مشکل صورتِ حال، دباوٴ اور زحمت میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ ایک تو سفر تبوک سخت گرمی کے عالم میں تھا۔ دوسرا خشک سالی نے لوگو ں کو تنگ اور ملول کر رکھا تھا اور تیسرا اس وقت درختوں سے پھل اتارنےکے دن تھے اوراسی پر لوگوں کی سال بھر کی آمدنی کا انحصار تھا۔ ان تمام چیزوں کے علاوہ مدینہ اور تبوک کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا اور مشرقی روم کی سلطنت کا انھیں سامنا تھا جو اس وقت کی سپر پاور تھی۔ مزید بر آں، سواریاں اور رسد مسلمانوں کے پاس اتنا کم تھا کہ بعض اوقات دو افراد مجبور ہوتے تھے کہ ایک ہی سواری پر باری، باری سفر کریں۔ بعض پیدل چلنے والوں کے پاس جوتا تک نہیں تھا اور وہ مجبور تھے کہ وہ بیابان کی جلانے والی ریت پر پابرہنہ چلیں۔ آب وغذا کی کمی کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات خرمہ کا ایک دانہ چند آدمی یکے بعد دیگرے منہ میں رکھ کر چوستے تھے یہاں تک کہ اس کی صرف گھٹلی رہ جاتی پانی کا ایک گھونٹ چند آدمیوں کو مل کر پینا پڑتا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اکثر مسلمان قوی اور مستحکم جذبہ رکھتے تھے اور تمام مشکلات کے باوجود رسولِؐ خدا کے ہمراہ دشمن کی طرف چل پڑے اور اس عجیب استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کرکے ہر دور کے تمام مسلمانوں کے لئے انھوں نے ایک عظیم درس یادگار کے طور پر چھوڑا۔ ایسا درس جو تمام نسلوں کے لئے کافی ہے یہ درس عظیم اور خطرناک دشمنوں پر کامیابی کا وسیلہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایسے افراد تھے جن کے دل کمزور تھے اور یہی کمزور دل واپس لوٹ جانے کی فکر میں تھے ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے۔ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم "یزیغ"، "زیغ" کے مادہ سے ہے اس کامطلب ہے حق سے باطل کی طرف انحراف۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثریت کے عالم جذبات نے اور لطفِ پروردگار نے انھیں بھی اس فکر سے پلٹا دیا اور وہ بھی راہِ حق کے مجاہدین میں شامل ہو گئے۔

۳۔ تین افراد کےلیے "خلّفوا" کی تعبیر

مندرجہ بالا آیات میں سست اور سہل انگار تین افراد کے بارے میں "خلفوا" کی تعبیر آئی ہے یعنی " انھیں پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا"۔ یہ تعبیر یا تو اس بناء پرہے کہ جب ایسے افراد سستی کرتے تو مسلمان انھیں پیچھے چھوڑ جاتے اور ان کی پر واہ کے لئے بغیر میدانِ جہا د کی طرف پیش قدمی کر جاتے تھے اور یا اس بناء پرہے کہ جس وقت وہ عذر خواہی کے لئے پیغمبرؐ اکرم کے پاس آئے تو آپ نے ان کا عذر قبول نہ کیا اور ان کی توبہ قبول کرنے کو پس پشت ڈال دیا۔

۴۔ دائمی اور عظیم سبق

زیر بحث آیات سے جو اہم مسائل معلوم ہوتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ مجرموں اور فاسدوں کو معاشرتی دباوٴ اور بائیکاٹ کے ذریعے سزا دینے سے متعلق ہے۔ ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ جنگِ تبوک سے پیچھے رہ والے افراد سے بائیکاٹ سے وہ کیسی سختی، تنگی اور دباوٴ میں مبتلا ہوئے یہ بائیکاٹ ان کے لئے ہر قسم کے قید خانے سے سخت تر تھا یہاں تک کہ اس اجتماعی بائیکاٹ کی وجہ سے ان کی جان لبوں تک آپہنچی اور وہ ہر طرف سے ناامید ہو گئے اس طریقے سے اس وقت کے مسلمانوں کے معاشرے پر اس کا ایسا وسیع اثر ہوا کہ اس کے بعد بہت کم افراد ایسی جراٴت کرتے تھے کہ وہ ایسے گناہ کے مرتکب ہوں۔ ایسی سزا سے نہ تو قید خانوں کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے نہ ایسی سزاوٴں پر کوئی خرچ اٹھتا ہے نہ ایسی سزا سستی و کاہلی کو جنم دیتی ہے اور نہ ہی برے اخلاق کو پنپنے دیتی ہے لیکن اس کی تاثیر ہر قید خانہ سے زیادہ اور بہت ہی دردناک ہے۔ درحقیقت، یہ ایک بائیکاٹ اور معاشرے کی طرف سے ایسے برے اور فاسد افراد کے خلاف منفی جنگ ہے جو حساس ذمہ داریوں کی ادائیگی سے منہ موڑ لیتے ہیں اگر مسلمان ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے لوگوں کے خلاف اس طرح کا اقدام کریں تو انھیں کامیابی حاصل ہونا یقینی ہو جائے۔ اس طرح سے مسلمان اپنے معاشرے کو پا ک کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج کے اسلامی معاشروں میں ایسے جرائم سے چشم پوش اور سازش کاری تقریباً ایک ہمہ گیر بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف یہ کہ ایسے افراد کو روک نہیں سکتی بلکہ انھیں ان کے برے اعمال میں مزید دلیر اور لاپرواہ کر دیتی ہے۔

۵۔ جنگ تبوک سے مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی

"تبوک" کا مقام ان تمام مقامات سے دور تھا جہاں پیغمبرؐ اکرم نے اپنی جنگوں میں پیش قدمی کی۔ "تبوک" میں ایک محکم اور بلند قلعہ کا نام تھا۔ جو حجاز اور شام کی سرحد پر واقع تھا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو سرزمین تبوک کہتے تھے۔ جزیرہ نما عرب میں اسلام کے تیز رفتار نفوذ کی وجہ سے رسولؐ اللہ کی شہرت اطراف کے تمام ممالک میں گونجنے لگی۔ باوجودیکہ وہ اس وقت حجاز کی اہمیت کی قائل تھے لیکن طلوعِ اسلام اور لشکر اسلام کی طاقت کہ جس نے حجاز کو ایک پر چم تلے جمع کر لیا، نے انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں ڈال دیا۔ مشرقی روم کی سرحد حجاز سے ملتی تھی۔ اس حکومت کو خیال ہوا کہ کہیں اسلام کی تیز رفتار ترقی کی وہ پہلی قربانی نہ بن جائے۔ لہٰذا اس نے چالیس ہزار کی زبردست مسلح فوج جو اس وقت کی روم جیسی طاقتوں کے شایان شان تھی، اکھٹی کی اور اسے حجاز کی سرحد پر لا کھڑا کیا۔ یہ خبر مسافرو ں کے ذریعے پیغمبرؐ اکرم کے کانوں تک پہنچی۔ رسول اللہ نے روم اور دیگر ہمسایوں کو درس عبرت دینے کے لئے توقف کیے بغیر تیاری کا حکم صادر فرمایا۔ آپ کے منادیوں نے مدینہ اور دوسرے علاقوں تک آپ کا پیغام پہنچایا۔ تھوڑے ہی عرصے میں تیس ہزار افراد رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ ان میں دس ہزار سوار اور بیس ہزار پیادہ تھے۔ موسم بہت گرم تھا، غلے کے گودام خالی تھے، اس سال کی فصل ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی۔ان حالات میں سفر کرنا مسلمانوں کے لئے بہت ہی مشکل تھا۔ لیکن چونکہ خدا اور رسول کا فرمان تھا لہٰذا ہر حالت میں سفر کرنا تھا اور مدینہ اور تبوک کے درمیان پر خطر، طول صحرا کو عبور کرنا تھا۔ اس لشکر کو چونکہ اقتصادی طور پر بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس کا راستہ بھی طولانی تھا راستے میں جلانے والی زہریلی ہوائیں چلتی تھیں سنگریزہ اڑتے تھے جھکڑ چلتے تھے سواریاں بھی کافی نہ تھیں، اس لئے یہ "جیش العسرة" (یعنی سختیوں والا لشکر)کے نام سے مشہور ہوا۔ ا س نے تمام سختیوں کو جھیلا اور ماہ شعبان کی ابتداء میں ہجرت کے نویں سال سرزمین تبوک میں پہنچا جبکہ رسول اللہ حضرت علیؑ کو اپنی جگہ پر مدینہ میں چھوڑ آئے تھے۔ یہ واحد غزوہ ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام شریک نہیں ہوئے۔ رسولؐ اللہ کا اقدام بہت ہی مناسب اور ضروری تھا کیونکہ بہت احتمال تھا کہ بعض پیچھے رہنے والے مشرکین یا منافقین جو حیلوں بہانوں سے میدانِ تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے رسولؐ اللہ اور ان کی فوج کی طویل غیبت سے فائدہ اٹھائیں اور مدینہ پر حملہ کر دیں۔ عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں اور مدینہ کو تاخت و تاراج کر دیں لیکن حضرت علی (ع) کا مدینہ میں رہ جانا ان کی سازشوں کے مقابلے میں ایک طاقتور بند تھا۔ بہرحال، جب رسولؐ اللہ تبوک میں پہنچے تو وہاں آپ کو رومی فوج کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ عظیم سپاہ اسلام چونکہ کئی جنگوں میں اپنی عجیب و غریب جراٴت و شجاعت کا مظاہرہ کر چکی تھی جب ان کے آنے کی خبر رومیوں کے کانوں تک پہنچی تو انھوں نے اسی کو بہتر سمجھا کے اپنے ملک کے اندر چلے جائیں اور اس طرح سے ظاہر کریں کہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر روم کی سرحدوں پر جمع ہو نے کی خبر ایک بے بنیاد افواہ سے زیادہ کچھ نہ تھی کیونکہ وہ ایک ایسی خطرناک جنگ شروع کرنے سے ڈرتے تھے کہ جس کا جواز بھی ان کے پاس کوئی تھا لیکن لشکر اسلام اس طرح سے تیز رفتاری سے میدان تبوک میں پہنچنے سے دشمنان اسلام کو کئی درس سکھائے۔ مثلاً: ۱۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ مجاہدین اسلام کا جذبہ جہاد اس قدر قوی ہے کہ وہ اس زمانے کی نہایت طاقتور فوج سے نہیں ڈرتے۔ ۲۔ بہت سے قبائل اور اطراف، تبوک کے امراء پیغمبرؐ اسلام کی خدمت میں آئے اور آپ سے تعرض اور جنگ نہ کرنے کے عہد و پیمان پر دستخظ کیے اس طرح مسلمان ان کی طرف سے آسودہ خاطر ہو گئے۔ ۳۔ اسلام کی لہریں سلطنتِ روم کی سرحدوں کے اندر تک چلی گئیں اور اس وقت کے ایک اہم واقعے کے طور پر اس کی آواز ہر جگہ گونجی اور رومیوں کے اسلام کی طرف متوجہ ہونے کے لئے زمین ہموار ہو گئی۔ ۴۔ یہ راستہ طے کرنے اور زحمتوں کو بر داشت کرنے سے آیندہ شام کا علاقہ فتح کرنے کے لئے راہ ہموار ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ آخر کار یہ راستہ طے کرنا ہی ہے۔ یہ عظیم فوائد ایسے تھے کہ جن کے لئے لشکر کی زحمت بر داشت کی جا سکتی تھی۔ بہرحال، پیغمبرؐ اکرم نے اپنی سنت کے مطابق اپنی فوج سے مشورہ کیا کہ پیش قدمی جاری رکھی جائے یا واپس پلٹ جایا جائے۔ اکثریت کی رائے یہ تھی کہ پلٹ جانا بہتر ہے اور یہ اسلامی اصولوں کی روح سے زیادہ مناسبت رکھتا تھا خصوصاً جبکہ اس وقت طاقت فرسا سفر اور راستے کی مشقت و زحمت کے باعث اسلامی فوج کے سپاہی تھکے ہوئے تھے اور ان کی جسمانی قوت مزاحمت کمزور پڑ چکی تھی۔ رسولؐ اللہ نے اس رائے کو صحیح قرار دیا اور لشکر اسلام مدینہ کی طرف لوٹ آیا۔

119
9:119
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اے ایمان والو ! خدا (کے احکام کی مخالفت) سے ڈرو اور سچوں کا ساتھ دو۔

سچوں کا ساتھ دو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں متخلفین اور جنگ سے منہ موڑنے والوں کے بارے میں گفتگو تھی۔ متخلفین وہ لوگ تھے جنھوں نے خدا اور رسول سے کئے ہوئے عہد کو توڑ ڈالا وہ لوگ جو عملی طور پر خدا اور قیامت پر اپنے اظہار ایمان کی تکذیب کر چکے تھے اور ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں نے قطع روابط کرکے انھیں کس طرح سے تنبیہ کی۔ زیر بحث آیت میں ان کے مدّ مقابل دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رابطہ سچے لوگوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ جو اپنے عہد پر قائم ہیں، مستحکم رکھو۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! حکم خدا کی مخالفت سے بچو(یَااَیّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ)۔اور اس بناء پر کہ اہل ایمان تقویٰ کی پر پیچ وخم راہ کو غلطی اور انحراف کے بغیر طے کر سکیں، مزید فرمایا گیا ہے سچوں کا ساتھ دو (وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ)۔ اس بارے میں"صادقین" کون ہیں، مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن اگر ہم راستے کو مختصر کرنا چاہیں تو ہمیں خود قرآن کو طرف رجوع کرنا چاہیئے جس نے متعدد آیات میں "صادقین" کی تفسیر کی ہے۔ سورہٴ بقرہ میں ہے:۔ لیس البر ان تولّوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ولٰکن البر من اٰمن باللہ و الیوم الاٰخر و الملآئکة و الکتاب و النبیین و اٰتیّ المال علیٰ حبہ ذوی القربیٰ و الیتٰمیٰ و المسٰاکین و ابن السبیل و السآئلین و فی الرقاب و اقام الصلٰوة و اٰتی الزکوٰة و الموفون بعھدھم اذا عٰھدوا و الصابرین فی الباٴسآء و الضرٓاء و حین الباٴس اولٰٓئک الذین صدقوا و اولٰٓئک ھم المتقون (بقرہ۔ ۱۷۷) اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلے میں مسلمانوں کو زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد نیکی کی حقیقت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے۔ خدا روز قیامت، ملائکہ، آسمانی کتب اور انبیاء پر ایمان لانا۔ اس کے بعد فرمایا: راہ خدا میں حاجت مندوں اور محروم لو گوں پر خرچ کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا، عہد و پیمان پورا کرنا اور جہاد کے وقت مشکلات کے سامنے صبر و استقامت دکھانا۔ ان سب چیزوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں وہ صاد ق اور پرہیزگار ہیں۔ اسی طرح صادق وہ ہے جو تمام مقدسات پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں عمل بھی کرتا ہو۔ سورہٴ حجرات آیہ ۱۵ میں ہے: انما المومنون الذین اٰمنوا باللہ و رسولہ ثم لم یرتابوا وجاھدوا باموالھم و انفسھم فی سبیل اللہ اولٰئک ھم الصادقون۔ یعنی: مومن صرف وہ لوگ ہیں جو خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائیں، اس کے بعد شک نہ کریں اور)اس کے علاوہ( اپنے مالوں اور اجانوں سے راہ خدا میں جہاد کریں، یہی لوگ سچے ہیں۔ اس آیت میں بھی صدق اور سچائی کو ایمان اور عمل کا ایسا مجموعہ قرار دیا گیا ہے جس میں کسی قسم کا تردد اور تخلف نہ ہو۔ سورہ حشر کی آیت ۸ میں ہے: للفقراء المھاجرین الذین اکرجوا من دیارھم و اموالھم یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا و ینصرون اللہ و رسولہ اولئک ھم الصآدقون یعنی___ (اس مال میں) ان مفلس مہاجروں کا (حصہ) ہے جو اپنے گھروں سے اور مالوں سے دور کر دئیے گئے (اور جو) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ اس آیت میں وہ محروم مومنین کہ جنھوں نے تمام مشکلات کے باوجود پامردی اور استقامت دکھائی اور اپنے گھر بار اور مال و منال سے زبردستی الگ کر دیے گئے اور جن کا ہدف رضائے الہٰی اور نصرت، پیغمبرؐ کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ انھیں "صادقین" قرار دیا گیا ہے۔ ان تمام آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ صادقین وہ ہیں جو پروردگار پر ایمان لانے کے نتیجے میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے انجام دیتے ہیں نہ شک و تردد کا شکار ہوتے ہیں، نہ پاؤں پیچھے ہٹاتے ہیں، نہ ہی ہجومِ مشکلات سے گھبراتے ہیں بلکہ مختلف طرح سے فداکاری کے کے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان صفات کے کئی مداج اور مراتب ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ سب سے بالا درجے پر فائز ہوں جنھیں ہم "معصوم" کہتے ہیں اور بعض نچلے مراحل میں ہوں۔

کیا صادقین سے مراد صرف معصومین ہیں؟

جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے "صادقین" کا مفہوم اگرچہ وسیع ہے مگر بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہاں مراد صرف معصومین ہیں۔ سلیم بن قیس ہلالی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین علیہ السلام کچھ مسلمانوں سے محوِ گفتگو تھے۔ آپ نے ان سے دیگر باتوں کے علاوہ فرمایا : میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تمہیں معلو م ہے کہ جب خدا نے (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ) کا حکم نازل کیا تو سلمان نے عر ض کیا: اے خدا کے رسول! کیا اس سے مراد عام ہے یا خاص؟ تو رسول اللہ نے فرمایا: اس حکم کے مامور اور ذمہ دار تمام مومنین ہیں لیکن "صادقین" کا مفہوم مخصوص ہے میرے بھائی علی کے لئے اور روز قیامت تک اس کے بعد اوصیاء کے لئے۔ جب علی (ع) نے یہ سوال کیا تو حاضرین نے کہا : جی ہاں! یہ بات ہم نے رسول اللہ سے سنی تھی۔(بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰)۔ نافع نے عبد اللہ بن عمر سے اس آیت کی تفسیر میں یوں نقل کیا ہے: خدا نے پہلے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خدا سے ڈریں، اس کے بعد فرمایا ہے: " کُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ "یعنی مع محمد و اھل بیتہ (محمد اور ان کے اہل بیت کا ساتھ دو)۔(بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰)۔ اہل سنت کے بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار مندرجہ بالا روایت کے ذیل میں اس طرح نقل کیا ہے کہ "مع محمد و اصحابہ" (محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ) لیکن مفہوم آیت کی طرف توجہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام ہے اور ہر زمانے کے لئے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ رسولؐ اللہ کے صحابہ ایک محدود زمانھے میں تھے لہٰذا عبد اللہ بن عمر سے جو روایت شیعہ کتب میں آئی ہے، صحیح تر دکھائی دیتی ہے۔ تفسیر برہان کے مصنف نے اسی طرح کا مضمون اہل تسنن کے طرق سے نقل کیا ہے اور کہا ہے: موفق ابن احمد نے اپنی اسناد ابنِ عباس سے مندر جہ بالا آیت کے ذیل میں اس طرح سے نقل کیا ہے: وھو علی بن ابی طالب یعنی_______ وہ علی بن ابی طالب ہیں۔ اس کے بعد کہتا ہے: یہی مطلب عبد الرزاق نے کتاب رموز الکنوز میں درج کیا ہے۔ (بحوالہ :تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۱۰۰) زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ "تقویٰ اختیار کرو" اور اس کے بعد سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا ہے اگر "صادقین" کا مفہوم آیت میں عام ہوتا اور تمام سچے اور با استقامت مومنین اس میں شامل ہوتے تو کہا جاتا "وکونوا مع الصادقین" یعنی سچوں میں سے رہنا نہ کہ "سچوں اے ساتھ دو"(غور کیجئے گا)۔ یہ امر خود اس بات کا قرینہ ہے کہ "صادقین" آیت میں ایک خاص گروہ کے لئے آیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ساتھ دینے سے مراد ساتھ رہنا نہیں بلکہ بلا شبہ اس سے مراد ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا کسی غیر معصوم کی پیروی اور نقش قدم پر چلنے کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے دیا جا سکتا ہے کیا یہ خود اس امر پر دلیل نہیں کہ صادقین سے مراد صرف "معصومین" ہیں۔ لہٰذا جو کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے اگر غور و خوض کریں تو وہی مفہوم خود آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ بات جانبِ توجہ ہے کہ معروف مفسر فخر رازی نے جو تعصب اور شک پیدا کرنے میں مشہور یہ حقیقت قبول کی ہے (اگرچہ زیادہ تر اہل سنت مفسرین اس مسئلہ سے خاموشی سے گذر گئے ہیں ) وہ کہتا ہے: خدا مومنین کو سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے لہٰذا آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ جائز الخطاء ہیں وہ کسی معصوم کی پیروی کریں تاکہ اس پیروی کے ذریعے خطاء سے محفوظ رہیں اور یہ مفہوم ہر دور کے لئے ہونا چاہئیے اور زمانہٴ پیغمبرؐ میں اسے مخصوص کرنے کے لئے کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن بعد میں مزید کہتا ہے: ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہی ہے اور ہر زمانے میں معصوم ہونا چاہئیے، لیکن ہم اس معصوم کو مجموعِ امت سمجھتے ہیں نہ کہ کوئی ایک فرد۔ بالفاظ دیگر یہ آیت اجماعِ مومنین کی حجیّت اور مجموع امت کے خطا نہ کرنے کی دلیل ہے۔(بحوالہ: تفسیر فخر رازی ج۱۶ ص ۲۲۰، ص ۲۲۱)۔ یوں فخررازی آدھا راستہ تو ٹھیک طرح سے طے کر لیا لیکن باقی نصف راہ میں اشتباہ کا شکار ہو گیا اگر وہ ایک نکتے کی طرف توجہ کرتاجو متن آیت میں موجود ہے تو باقی نصف راستہ بھی صحیح طرح سے طے کر لیتا اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اگر صادقین سے مراد ساری امت ہے تو خود یہ پیرو بھی اس مجموع کا جز ہے اور یوں دراصل پیروکار پیشوا کا حصہ ہو جائے گا اور تابع و متبوع کا اتحاد اور ایک ہونا لازم آئےگا حالانکہ ظاہر آیت یہ ہے کہ پیروکار اور ہیں اور پیشوا اور ہیں یعنی تابعین اور متبوعین جد اجدا اور علیحدہ علیحدہ ہیں (غور کیجئے گا)۔ خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو ہر زمانے میں موجود معصوم پر دلالت کرتی ہیں۔ ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ "صادقین" جمع ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر زمانے میں متعدد معصوم ہوں۔ اس سوال کا جواب بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ مخاطب صرف ایک زمانے کے لوگوں نہیں ہیں بلکہ آیت تمام زمانوں کے لئے ہے لہٰذا گفتگو متعدد معصومین کے بارے میں ہو گی نہ کہ ایک فرد کے بارے میں۔ اس امر کا بولتا ہوا گواہ یہ ہے کہ زمانہٴ رسول میں سوائے آنحضرت کے کوئی اور واجب الاطاعت نہ تھا۔ جبکہ آیت مسلمہ طور پر اس زما نے مومنین کے لئے بھی تھی۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ جمع سے مراد ایک زمانے کے افراد نہیں بلکہ جمع زمانوں کے مجموعہ کے لئے ہے۔

120
9:120
مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
مناسب نہیں کہ اھل مدینہ اور بادیہ نشین جو اس کے اطراف میں ہیں اللہ کے رسول سے اختلاف کریں اور اپنی جان بچانے کیلئے ان کی جان سے لا پرواہی کریں یہ اس لیے ہے کہ انہیں کوئی پیاس نہیں لگے گی‘ نہ خستگی ہو گی نہ راہ خدا میں بھوک لگے گی‘ نہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کے غضب کا موجب ہو‘ اور نہ وہ دشمن سے کوئی ضرب کھاتے ہیں مگر یہ کہ اس کی وجہ سے ان کیلئے اچھا عمل لکھا جاتا ہے کیونکہ خدا نیک لوگوں کی اجرت (اور جزا) ضائع نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 121 کے تحت ملاحظہ کریں۔

121
9:121
وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةٗ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةٗ وَلَا يَقۡطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
اور وہ کسی چھوٹے یا بڑے مال کو (راہ خدا میں ) خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین کو (میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے یا اس سے پلٹے ہوئے) عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کیلئے لکھا جاتا ہے تاکہ خدا ان کی بہترین اعمال کے لحاظ سے انہیں جزا دے۔

مجاہدین کو مشکلات پر جزا ضرور ملے گی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

گذشتہ آیات میں جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں سرزنش آئی تھی۔ زیر بحث دو آیات اس سلسلے میں ایک کلی قانون کے طور پر آخری اور بنیادی بحث کرتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: مدینہ کے لوگ اور بادیہ نشین جو اس مرکز اسلام شہر کے اطراف میں زندگی بسر کرتے ہیں انھیں حق نہیں پہنچتا کہ رسولؐ اللہ سے اختلاف کریں اور انھیں چھوڑ کر بیٹھ جائیں (مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِینَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ)۔ اور نہ انھیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت کو رسولؐ کی جان کی حفاظت پر مقدم رکھیں (وَلاَیَرْغَبُوا بِاَنفُسِھِمْ عَنْ نَفْسِہِ)۔ کیونکہ امت کے رہبر، اللہ کے رسول اور ملت اسلام کی بقا اور حیات کی علامت ہیں انھیں اکیلا چھوڑ دینا نہ صرف پیغمبرؐ کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ دینِ خدا اور خود مومنین کا وجود اور حیات کا بھی حقیقتاً خطرے میں پڑ جائے گی۔ درحقیقت، قرآن ایک جذباتی بیان کے ذریعے تمام اہلِ ایمان کو پیغمبرؐ کی حفاظت کرنے پر ابھارتا ہے اور مشکلات و مصائب میں ان کی حمایت اور دفاع کی ترغیب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہاری جان اس کی جان سے عزیز تر نہیں ہے اور نہ تمہاری زندگی اس کی حیات سے زیادہ قیمتی ہے۔ کیا تمہارا ایمان اس کی جازت دیتا ہے کہ وہ ہستی جو بہت ہی زیادہ پر ارزش ہے اور جس کا وجود تمہاری نجات اور رہبری کے لئے، وہ خطرے میں پڑ جائے اور تم سلامت طلب اپنی جان اس کی جان بچانے کے لئے اس کی راہ میں قربانی سے دریغ کرو۔ مسلم ہے کہ مدینہ اور اطراف مدینہ کے لئے تاکید اس بنا پر ہے کہ اس زمانے میں مرکز اسلام مدینہ میں تھا ورنہ یہ حکم نہ مدینہ اور اس کے اطراف کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ ہی پیغمبرؐ خدا کے ساتھ مخصوص ہے۔ تمام مسلمانوں کی ہر دور میں ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہبروں کو اپنی جان کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ گرامی اور عزیز سمجھیں اور ان کی حفاظت کی کوشش کریں اور مشکلات میں انھیں اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ ان کے لئے خطرہ پوری امت کے لئے خطرہ ہے۔ اس کے بعد اس اجر و جزا کی طرف اشارہ ہے جو ہر قسم کی مشکلات کا مجاہدانہ مقابلہ کرنے سے مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے ان مشکلات میں سے سات اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے: ۱۔ "یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں کوئی پیاس نہیں لگتی"(ذَلِکَ بِاَنَّھُمْ لاَیُصِیبُھُمْ ظَمَاٴ)۔ ۲۔ "نہ انھیں کوئی خستگی اور تھکان ہوتی ہے" (وَلاَنَصَبٌ)۔ ۳۔ "نہ راہ خدا میں انھیں کوئی بھوک دامن گیر ہوتی ہے" (وَلاَمَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللهِ)۔ ۴۔ "نہ کفار کے غیظ و غضب کی وجہ سے کسی خطرے سے دوچار ہوتے ہیں "(وَلاَیَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ )"۔ ۵۔ "اور نہ انھیں دشمن کی طرف سے کوئی ضرب لگتی ہے" (وَلاَیَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا)۔ مگر یہ کہ اس کے ساتھ ان کے لئے عمل صالح لکھاجاتا ہے (إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ بِہِ عَمَلٌ صَالِحٌ)۔مسلم ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے انھیں ایک ایک کر کے جزا اور اجر ملے گا، کیونکہ خدا نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے (إِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)۔ ۶۔ اسی طرح "وہ تھوڑا یا زیادہ مال راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے" (وَلاَیُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً)۔ ۷۔ اور میدان جہاد میں جاتے ہوئے لوٹتے ہوئے وہ کسی سرزمین کو عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ یہ تمام قدم اور یہ اخراجات ان کے لئے ثبت ہو جاتے ہیں اور لکھ لئے جاتے ہیں" (وَلاَیَقْطَعُونَ وَادِیًا إِلاَّ کُتِبَ لَھُمْ)۔ تاکہ آخر خدا اعمال کے لحاظ سے انھیں بدلہ اور جزا دے (لِیَجْزِیَھُمْ اللهُ اَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات: ۱۔ "لاینالون من عدوّ نیلا"کا مفہوم

جیسا کہ سطور بالا میں ذکر ہوا ہے اس جملے اکثر مفسرین نے یہ مراد لیا ہے کہ مجاہدین راہِ خدا میں دشمن سے بھی تکلیف اٹھائیں چاہے وہ زخم کی صورت میں ہو یا قید و بند کی صورت میں یا پھر قتل ہونے کی صورت میں ہو خدائی جز ا کے لئے ان کے نامہٴ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور ہر ایک کی مناسبت سے انھیں اجر ملے گا۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت مجاہدین کی مشکلات شمار کر رہی ہے یہی معنی مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر خود اس جملے کی ترکیب بندی کا سہارا لیں اور اس کے الفاظ کی مناسبت سے اس کی تفسیر کریں تو پھر اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ پیکر دشمن پر جب بھی ضرب لگاتے ہیں ان کے نامہ عمل میں لکھی جائے گی کیونکہ "نال من عدوہ" لغت میں دشمن پر ضب لگانے کے معنی میں ہے لیکن پوری آیت کے لئے توجہ گذشتہ تفسیر کے لئے قرینہ ہے۔

۲۔ "احسن ما کانوا یعلون" سے کیا مراد ہے؟

اس جملے کی دو تفسیروں ذکر کی گئی ہیں ایک یہ کہ لفظ"احسن" ان کے افعال کی صفت ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی جزا کی صفت ہے۔ پہلی صفت ہم نے اوپر انتخاب کی ہے یہی ظاہر آیت سے بھی زیادہ منافق ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ایسے مجاہدین کے اعمال ان کی زندگی کے بہترین اعمال قرار دئیے گئے ہیں اور خدا ان کی جزا ان کے تناسب کے لحاظ سے دے گا۔ دوسری تفسیر لفظ "احسن" کے بعد لفظ "من" کی تقدیر کی محتاج ہے اس کے مطابق خدائی جزا ان کے اعمال سے بہتر اور بالاتر قرار دی گئی ہے۔ اس کے مطابق جملے کی تقدیر اس طرح ہو گی :لیجزیھم اللہ احسن مما کانوا یعملون۔ یعنی جو کچھ وہ انجام دے چکے ہیں خدا انھیں اس سے بہتر جزا دے گا۔

۳۔ قرآن، ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہے

مندرجہ بالا آیات صرف گذشتہ مسلمانوں کے لئے نہ تھیں بلکہ آج کے بھی اور ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہر جہاد میں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں لیکن جب مجاہدین قلب و روح کو خدا پر ایمان اور ا س کے عظیم وعدوں سے روشن کریں اور جان لیں کہ ہر سانس، ہر بات اور ہرقدم جو ا س کے راستے میں اٹھائیں گے وہ ضائع نہیں ہو گا بلکہ اس کا حساب بغیر کسی کم و کاست کے انتہائی باریک بینی سے محفوظ ہے اور خدا انھیں ان کے بدلے میں انھیں بہترین اعمال شمار کرتے ہوئے اپنے لطف کے بحرِ بیکراں سے مناسب ترین جزا دے گا تو ان حالات میں وہ مشکلات برداشت کرنے سے کبھی نہیں گھبرائیں گے اور مشکلات کی کثرت سے نہیں ڈریں گے اور جہاد کتنا ہی طولانی، کھٹن اور حادثات سے معمور ہو وہ کسی قسم ضعف ہو وہ کسی قسم کی ضعف اور سستی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

122
9:122
۞وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ
مناسب نہیں کہ سب مومنین (میدان جہاد کی طرف) کوچ کریں ہر گروہ میں سے ایک طائفہ کیوں کوچ نہیں کرتا (اور ایک حصہ باقی نہیں رہتا) تاکہ دین اور اسلام کے معارف و احکام سے آگاہی حاصل کریں اور اپنی قوم کی طرف بازگشت کے وقت انہیں ڈرائیں تاکہ وہ (حکم خدا کی مخالفت سے) ڈریں اور رک جائیں۔

شانں نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مرحوم طبری نے مجمع البیان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ اکرم میدان جہاد کی طرف روانہ ہوئے تو سب مسلمان آپ کے ساتھ نکل پڑتے۔ پیچھے معذور افراد اور منافقین رہ جاتے لیکن جب کچھ آیات منافقین کی نازل ہوئیں اور خصوصاً جنگ تبوک سے منہ موڑنے والوں کو جس طرح سے وعید و ملامت نے آ گھیرا اس سے مومنین جہاد کے میدانوں میں شرکت کے لئے اور زیادہ پختہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ وہ جنگیں جن میں پیغمبرؐ ذاتی طور پر شرکت نہیں کرتے تھے ان میں شرکت کے لئے بھی سب نکل پڑتے تھے اور رسولؐ اللہ کو تنہا چھوڑ دیتے تھے۔ اس صورت حال کے پیش نظر مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں بتایا گیا کہ ضرورت کے علاوہ مناسب نہیں کہ سب مسلمان میدان جنگ کی طرف جائیں بلکہ ایک گروہ مدینہ کی طرف جائے او ر مدینہ میں جانے والے رسولؐ اللہ سے اسلامی معارف و احکام کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے مجاہد دوستوں کو واپس آنے کے بعد تعلیم دیں۔ اس عظیم مفسر نے اس مضمون کی ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے: اصحاب پیغمبرؐ میں سے کچھ افراد تبلیغ دین کے لئے بادیہ نشین قبائل کے پاس گئے۔ بادیہ نشینوں نے ان کی آمد کو پسند کیا اور ان سے اچھا سلوک کیا لیکن بعض نے ان پر اعتراض کیا کہ تم لوگ کیوں رسولؐ اللہ کو چھوڑ کر ہمارے پاس آ گئے ہو۔ یہ بات سن کر وہ پریشان اور افسردہ ہوئے اور پیغمبرؐ خدا کی خدمت میں پلٹ آئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی او ران کے تبلیغی کام کی تائید کی اور ان کی پریشانی کو دور کیا۔ تفسیر تبیان میں اس آیت کی ایک اور شانِ نزول بھی نقل ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جب بادیہ نشین لوگ مسلمان ہو گئے تو احکامِ اسلام معلوم کرنے کے لئے سب کے سب مدینہ کی طرف چل پڑے اس سے مدینہ میں اجناس کی قیمتیں چڑھ گئیں اور کئی اور مشکلات پیدا ہو گئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں حکم دیا گیا کہ ضروری نہیں کہ تم سب سے اپنے شہر اور گھروں کو خالی چھوڑ کر معارف اسلام سمجھنے کے لئے مدینہ آجاؤ بلکہ اگر کچھ لوگ آ جائیں تو کافی ہے۔

جہالت اور دشمن کے خلاف جہاد

زیر نظر آیت، جہاد کے سلسلے میں گذشتہ آیات سے تعلق رکھتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مسلمان کے لئے حیاتِ آفرین کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ کہ جہاد بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس سے پیچھے رہ جانا ننگ و عار اور گناہ ہے لیکن بعض مواقع پر جہاں ضرورت تقاضا نہیں کرتی کہ تما م مسلمان میدانِ جہاد میں شرکت کریں خصوصاً ان مواقع پر جب پیغمبرؐ خود مدینہ میں رہ جائیں تو "مناسب نہیں کہ سب جہا د کے لئے چل پڑیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی ہر جماعت کے دو حصے ہوں۔ ایک حصہ فریضہ جہاد کو انجام دے اور دوسرا حصہ مدینہ میں رہ کر اسلام کے معارف کی تعلیم حاصل کرے "(وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُوا کَافَّةً فَلَوْلاَنَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْھُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقھُوا فِی الدِّینِ)۔اور جب ان کے دوست مجاہدین میدان سے پلٹ کر آئیں تو خدا کے احکام و فرامین کی انھیں تعلیم دیں اور انھیں ان کی مخالفت سے ڈرائیں"(وَلِیُنذِرُوا قَوْمَھُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْھِمْ )۔ہو سکتا ہے اس طرح سے فرمان خدا کی مخالفت سے پرہیز کریں اور اپنے فرائض انجام دیں"(لَعَلَھُمْ یَحْذَرُونَ)۔

چند قابل توجہ امور: 1-آیت کی تفسیر میں مختلف احتمالات

آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا ہے وہ مشہور شانِ نزول میں مطابقت رکھنے کے علاوہ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی دیگر ہر تفسیر کی نسبت زیادہ موافق ہے۔ ایک چیز البتہ یہاں قابل غور ہے اور وہ یہ کہ "کل فرقة طائفة" کے بعد "لتبقی طائفة" (ایک گروہ باقی رہے ) مقدر سمجھا جائے یعنی ہر جماعت میں سے ایک گروہ چلا جائے اور ایک گروہ رہ جائے آیت میں موجود قرائن کی طرف توجہ کی جائے تو اس سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی (غور کیجئے گا)۔ لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ آیت میں کسی قسم کی تقدیر نہیں ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ واجب کفائی ہے طور پر میدانِ جہاد میں جائے اور وہاں اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے دشمنوں پر مسلمانوں کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے جو کہ اس دین کی عظمت و حقانیت کا نمونہ ہے اور واپسی پر یہ آگاہی اپنے دوستوں کو منتقل کرے۔(تشریحی نوٹ: قرطبی کے مطابق یہ تفسیر طبری نے اپنی تفسیر میں انتخاب کی ہے۔ بعض مفسرین نے بھی احتمال کے طور پر آیت کے ذیل میں اسے ذکر کیا ہے)۔ تیسرا احتمال بعض دوسرے مفسرین نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ مباحث جہاد سے الگ، آیت ایک مستقل حکم بیان کر رہی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ واجب کفائی کے طور پر ان کی ہر جمیعت میں سے ایک گروہ اٹھ کھڑا ہو جو اسلامی تعلیمات و معارف حاصل کرنے کے لئے اسلام کے عظیم مراکز کی طرف جائے اور علوم حاصل کرنے کے بعد اپنے شہروں اور گھروں کو پلٹ آئے اور دوسروں کو ان کی تعلیم دے۔ (یہ تفسیر تبیان میں شیخ کی بیان کی گئی شانِ نزول سے مطابقت رکھتی ہے)۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے پہلی تفسیر آیت کے مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور اگرچہ تمام معانی مراد لینا بھی زیادہ بعید نہیں ہے۔(تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ ہمارے نزدیک کسی لفظ کا یک سے زیادہ معانی میں استعمال ہونا صحیح ہے)۔

۲۔ ایک اشکال اور اس کا جواب

بعض نے خیال کیا ہے کہ اس آیت اور گذشتہ آیات کے درمیان ایک طرح کا اختلاف زیر بحث آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ سب کو میدانِ جہاد میں شرکت کا حکم دیا گیا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کی سخت سرزش کی گئی ہے۔ لیکن زیر بحث آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ سب لوگ میدانِ جہاد کی طرف نہ چل پڑیں۔ لیکن واضح ہے کہ یہ دونوں حکم مختلف حالات کے پیش نظر دئیے گئے ہیں مثلاً تبوک کے موقع پر جبکہ روم کی شاہی حکومت کی طاقتور فوج کا سامنا تھا، وہاں اس کے علاوہ چارہ ہی نہ تھا کہ تمام مسلمان چل ؛پڑیں خصوصاً ایسے مواقع پر جبکہ رسولؐ اللہ خود مدینہ میں رہ جائیں تو مدینہ خالی نہیں چھوڑنا چاہیے اور اس صورت میں احتمالی خطرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ نیز اسلامی احکام و معارف کے حصول سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات میں کوئی نسخ نہیں ہے اور بعض نے جو یہ خیال کیا ہے وہ اشتباہ ہے۔

۳۔"تفقہ فی الدین" کا وسیع مفہوم

اس میں شک نہیں کہ "تفقہ فی الدین" سے مراد تمام اسلامی معارف و احکام کا حصول ہے چاہے ان کا تعلق اصول دین سے ہو یا فروع دین سے کیونکہ تفقہ کے مفہوم میں یہ تمام امور جمع ہیں۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت اس بات پر واضح دلیل ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ واجب کفائی انجام دینے کے لئے تمام اسلامی مسائل میں تحصیل علم کرے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسلامی احکام کی تبلیغ کےلئے مختلف علاقوں کی طرف جائے، خصوصاً اپنی قوم اور جمیعت کی طرف آئے اور اسے اسلامی مسائل سے آشنا کرے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت کے اسلامی مسائل کے تعلیم و تعلم کے وجوب پر ایک واضح دلیل ہے دوسرے لفظوں میں تعلیم حاصل کرنا بھی واجب ہے اور تعلیم دینا بھی۔ آج کی دنیا اگر جبری تعلیم پر فخر کرتی ہے تو قرآن نے چودہ سو سال پہلے اس سے بھی بڑھ کر معلمین پر بھی یہ کام فرض کیا ہے۔

۴۔ اجتہاد اور تقلید کے جواز پر استدلال

بعض علماء اسلام نے زیر نظر آیت سے مسئلہ جواز تقلید پر استدلال کیا ہے۔ کیونکہ تعلیماتِ دین حاصل کرنا اور مسائل فروع کو دوسروں تک پہنچانا اور سننے والوں کے لئے ان کی لازمی طور پر پیروی کرنا__ یہی ــــــ تقلید ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ زیر بحث آیت صرف فروع دین سے بحث نہیں کرتی اور اس کے مفہوم میں مسائلِ اصول بھی شامل ہیں لیکن بہرحال، فروع دین اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ واحد اعتراض جو یہاں نظر آتا ہے یہ ہے کہ اس وقت اجتہاد اور تقلید کی بات نہیں تھی اس زمانے میں جو لوگ مسائل دین سیکھتے اور اسے دوسروں تک پہنچاتے ان کی کیفیت ہمارے زمانے کے مسائل بیان کرنے والے حضرات کی سی نہ تھی نہ وہ مجتہدین کی سی حیثیت رکھتے تھے یعنی پیغمبرؐ اکرم سے مسائل معلوم کرکے بعینہ بغیر کسی قسم کے اظہارِ نظر کے دوسروں کے سامنے نقل کر دیتے تھے۔ اگر ہم اس طرف توجہ دیں کہ اجتہاد اور تقلید کا ایک وسیع مفہوم ہے تو مندرجہ بالا اعتراض کا جواب مل سکتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ علم فقہ کو جو موجود ہ وسعت حاصل ہے یہ اس زمانے میں نہ تھی اور مسلمان آسانی سے پیغمبرؐ اکرم سے مسائل معلوم کر لیتے تھے لیکن اس کے باوجود ایسا نہ تھا کہ تمام بزرگانِ اسلام ہمارے زمانے کے مسائل بیان کرنے والے حضرات کی طرح ہوں۔ ان میں سے بہت سے افراد قضاوت یا امارت کی ذمہ دایوں کی ادائیگی کے لئے دوسری جگہوں کی طرف جایا کرتے تھے۔ فطرتا انھیں کچھ ایسے مسائل پیش آتے تھے جو بعینہ انھوں نے پیغمبرؐ اکرم سے نہ سنے تھے۔ لیکن وہ آیا ت قرآن کے عمومات اور اطلاق سے استفادہ کرتے تھے۔ مسلماً وہ کلیات کی تطبیق جزئیات پر کرتے تھے۔عملی اصطلاح میں "ردّ فروع بر اصول"اور "ردّ اصول بر فروع " سے ان مسائل کے احکام سمجھتے تھے اور یہ ایک قسم کا سادہ اور آسان اجتہاد تھا (غور کیجئے گا)۔ مسلم ہے کہ یہ کام اور ایسے معاملات رسولؐ اللہ کے زمانے میں تھے۔ اس طرح سے اجتہاد کی بنیاد صحابہ میں موجود تھی اگرچہ تمام اصحاب اس مد میں آتے تھے۔ زیر نظر آیت چونکہ عمومی مفہوم رکھتی ہے لہٰذا مسائل بیان کرنے والے افراد کی بات قبول کرنے اور مجتہدین کا قول قبول کرنے کے دونوں مفہوم اپنے دامن میں لئے ہوئے۔ اس طرح آیت کی عمومیت سے جوازِ تقلید پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔

۵۔ تعلیم اور تعلّم کی اہمیت

ایک اور اہم مسئلہ جو آیت سے معلوم کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم اور تعلّم کا ایک خاص احترام اور اہمیت ہے یہاں تک کہ اسلام مسلمانوں پر لازم قرار دیتا ہے کہ سب کے سب میدانِ جنگ میں شرکت نہ کریں بلکہ ایک گروہ ٹھہر جائے اور معارف اسلام حاصل کرے یعنی جہالت کے خلاف جہاد کرنا دشمن کے خلاف جہاد کرنے کی طرح فرض ہے اور ایک کی دوسرے سے کم اہمیت نہیں ہے بلکہ جب تک جہالت کے خلاف جہاد کرنے میں کامیاب نہ ہوں دشمن سے جہاد میں کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ جاہل قوم ہمیشہ شکست خوردہ ہوتی ہے۔ ایک معاصر مفسر نے اس آیت کے ذیل میں ایک جالبِ نظر بات بیان کی ہے۔ وہ کہتا ہے: " میں طرابلس میں تحصیل علم میں مشغول تھا ایک دن وہاں کا ڈپٹی کمشنر جو معارفِ اسلامی کے بارے میں خود بھی اچھی آگاہی رکتھا تھا، مجھ سے کہنے لگا :۔ "حکومت کس بناء پر علماء اور علوم دینی کے طلباء کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے جب کہ یہ مقدس خدمت شرعی طور پر سب پر واجب ہے اور علوم دین کے طلبہ اس دینی فریضہ کی انجام دہی کے لئے دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ حق رکھتے ہیں، کیا یہ کام غلط نہیں ہے؟" فوراً زیر نظر آیت مجھے یاد آئی اور میں نے بغیر کسی تمہید کے کہا: "اس معاملے کی بنیاد قرآن میں موجود ہے اور اس سلسلے میں وہ کہتا ہے کہ اگر ایک گروہ جہاد کرے اور ایک گروہ علم حاصل کرے"۔ اسے اس جواب سے بہت لطف آیا، خصوصاً جب کہ اس نے مجھ جیسے ابتدائی طالب علم سے یہ جواب سنا جب کہ میں نے ابھی تازہ تازہ ہی تحصیلِ علم کا سلسلہ شروع کیا تھا۔(بحوالہ: المنار ج۱۱ ص ۷۸)۔

123
9:123
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
اے ایمان والو ! ان کفار کے ساتھ جنگ کرو جو تمہارے زیادہ قریب ہیں (اور دور کا دشمن تمہیں نزدیک کے دشمن سے غافل نہ کر دے) اور وہ تم میں شدت اور سختی محسوس کریں اور جان لو خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

قریب کے دشمن کی خبر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جہاد کے بارے میں جاری مباحث کے ضمن میں زیر نظر آیت میں دو مزید احکام بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے روئے سخن مومنین کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! ان کفار سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں (یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِینَ یَلُونَکُمْ مِنْ الْکُفَّارِ)۔ یہ درست ہے کہ تمام دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں کوئی امتیاز نہیں لیکن جنگی ٹیکنیک کے لحاظ سے بلا شبہ پہلے قریب ترین دشمن کے خلاف جنگ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ قریب کے دشمن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے اسلام کی طرف دعوت دینے اور دین حق کی طرف ہدایت کرنے کے وقت بھی زیادہ نزدیک ہے ان سے آغاز کیا جانا چاہیے۔ رسولؐ اللہ نے حکم خدا سے اپنی دعوت کا آغاز اپنے رشتہ داروں سے کیا تھا اس کے بعد مکہ کے لوگوں کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد سارے جزیرہٴ عرب کی طرف مبلّغ بھیجے اور پھر ساری دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھے اور بلا شبہ یہ طریقہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے۔ البتہ ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ضرور ہوتے ہیں ممکن ہے کچھ ایسے امور خلافِ معمول پیش آ جائیں کہ دور کا دشمن بہت زیادہ خطرناک ہو لہٰذا پہلے اس کی سرکوبی کے لئے جانا پڑے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ایک استثناء ہے نہ کہ ایک کلی قانون۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ قریب کے دشمن سے نپٹنا زیادہ ضروری ہے اس کے دلائل واضح ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قریب کے دشمن کا خطرہ دورکے دشمنوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہماری آگاہی اور اطلاعات قریب کے دشمن کے بارے میں زیادہ ہوتی ہیں اور یہ خود کامیابی کے لیے ممدو معاون ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ دور والے دشمن کی طرف جانا اور نزدیک والے دشمن کو آزاد چھوڑ دینا اس خطرے کا باعث بھی ہو سکتا ہے کہ قریب والا دشمن پیچھے سے حملہ کر دے یا مرکزِ اسلام خالی ہونے کی صورت میں اسے درہم برہم کر دے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ نزدیک کے دشمن کے مقابلے میں وسائل اور ساز و سامان نسبتاً کم درکار ہوتا ہے اور قریبی محاذ پر قبضہ کرنا مقابلہ نسبتاً آسان ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر اور ایسی دیگر وجوہات کے پیش نظر ایسے دشمن کو دفع کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت زیر نظر آیت نازل ہو ئی اس وقت اسلام تقریبا سارے جزیرہٴ عرب کو اپنے زیر نگین کر چکا تھا اس بناء پر اس وقت نزدیک ترین دشمن مشرقی روم کی حکومت ہی تھی کہ جس کے مقابلے کےلئے مسلمان تبوک کی طرف گئے تھے۔ اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ زیر نظر آیت اگرچہ مسلح جنگ اور فاصلہٴمکانی کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے لیکن بعید نہیں کہ آیت کی روح منطقی جنگوں اور معنوی فاصلوں کے بارے میں بھی حکم دیتی ہو یعنی مسلمان دشمنوں سے منطقی اور تبلیغاتی مقابلے کے لئے پہلے ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں جن کا خطرہ اسلامی معاشرے کے لئے بہت نزدیک ہو۔ مثلاً ہمارے زمانے میں الحاد اور مادیت کا خطرہ تمام معاشروں کو دستک دے رہا ہے۔ لہٰذا باطل مذاہب سے مقابلے کی نسبت اس کے مقابلے کومقدم رکھنا چاہیے یہ نہیں کہ انھیں بھلا دیا جائے۔ بلکہ تیز حملے کا رخ زیادہ خطرناک گروہ کی طرف ہونا چاہیے یا مثلاً فکری یا سیاسی اور اقتصادی استعمار سے مقابلے کے پہلے درجے میں رکھنا چاہیے۔ جہاد کے متعلق آیت بالا میں دوسرا حکم شدت عمل کا ہے۔ آیت کہتی ہے: دشمنوں کو تم میں ایک طرح کی سختی کا احساس ہونا چاہیے (وَلْیَجِدُوا فِیکُمْ غِلْظَةً)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ قیام کے لئے اور دشمن کا سختی سے مقابلہ کرنے کے لئے صرف باطنی شجاعت و شہامت اور قلبی آمادگی کافی نہیں ہے بلکہ اپنی اس آمادگی اور شدت کا دشمن کے سامنے اظہار بھی ہونا چاہیے تاکہ اسے معلوم ہو کہ تم میں ایسا جذبہ موجود ہے اور یہی چیز اس کی عقب نشینی اور شکست کا باعث بن جائے اور دوسرے لفظوں میں قوت اور طاقت کا ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ دشمن کے مقابلے میں طاقت کا اظہار بھی ہونا چاہیے۔ اسی لئے تاریخ اسلام میں ہے کہ جس وقت مسلمان مکہ میں خانہٴ کعبہ کی زیارت کےلیے آئے تو پیغمبرؐ اکرم نے انھیں حکم دیا کہ طواف تیزی کے ساتھ کریں بلکہ دوڑیں اور ان دشمنوں کے سامنے جو انھیں دیکھ رہے ہیں شدت و سرعت اور اپنی قوت و طاقت کا مظاہرہ کریں۔ نیز فتح مکہ کے واقعہ میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت حکم دیا کہ سب مسلمان بیابان میں آگ روشن کریں تاکہ مکہ کے لوگ لشکراسلام کی عظمت اور کثرت سے آشنا ہوں اور ایسا ہی ہوا یہ چیز ان کے دلوں پر اثر انداز ہوئی۔ آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ کفار مکہ کے سربراہ ابو سفیان کو ایک جگہ کھڑا کر کے طاقتور لشکر اسلامی کو ایک ایک دستہ کر کے اس کے سامنے سے گزارا جائے۔ آخر میں قرآن مسلمانوں کو ان الفاظ میں فتح و کامرانی کی نوید دیتا ہے: جان لو خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ)۔ ہو سکتا ہے یہ تعبیر مزید برآں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ شدتِ عمل کو پرہیزگاری کے ساتھ ہونا چاہیے اور حدودِ انسانی سے کسی صورت میں بھی تجاوز نہیں کیا جانا چاہیئے۔

124
9:124
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ فَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنٗاۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَزَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض (دوسروں سے) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ ان سے کہہ دو! جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اس سے ان کا ایمان بڑھا ہے اور وہ(خدا کے فضل و کرم سے) خوش ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 125 کے تحت ملاحظہ کریں۔

125
9:125
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا إِلَىٰ رِجۡسِهِمۡ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
لیکن جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی ناپاکی پر ناپاکی ہی کا اضافہ ہوا ہے اور وہ دنیا سے اس حالت میں گئے ہیں کہ وہ کافر تھے۔

آیات قرانی کی تاثیر۔ پاک اور ناپاک دلوں پر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

منافقین اور مومنین کے بارے میں گذشتہ مباحث کی مناسبت سے ان دو آیات میں ان دونوں گروہوں کی ایک واضح نشانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافقین ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ سورت نازل ہونے سے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا ہے (وَإِذَا مَا اُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْھُمْ مَنْ یَقُولُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ھَذِہِ إِیمَانًا)۔(تشریحی نوٹ: "اذا ما انزلت"میں لفظ "ما" درحقیقت، "ما زائدہ" ہے اور تاکید کے لئے ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ "ما صلہ" ہے جو حرف شرط یعنی "اذا" کو اس کی جزا پر مسلط کرتا ہے اور جملے کی تاکید کرتا ہے)۔ ایسی باتیں کرکے وہ قرآن کی سورتوں کی عدم تاثیر اور ان کے بارے میں بے اعتنائی کا اظہار کرنا چاہتے تھے وہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ آیات کسی اہم اور قابلِ توجہ مفہوم کی حامل نہیں ہیں۔ لیکن قرآن انھیں قطعی لب و لہجہ میں جواب دیتا ہے اور لوگوں کے دو گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتا ہے: رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، تو ان آیات کا نزول ان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے اور ان کے چہروں سے مسرت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں (فَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا فَزَادَتْھُمْ إِیمَانًا وَھُمْ یَسْتَبْشِرُونَ)۔"لیکن جن کے دلوں میں نفاق، جہالت اور عناد اور حسد کی بیماری ہے ان کی ناپاکی پر ایک ناپاکی کا اضافہ ہو جاتا ہے" (وَاَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا إِلَی رِجْسِھِمْ)۔آخر کار وہ کفر اور بے ایمانی کی حالت میں اس دنیا سے جائیں گے (وَمَاتُوا وَھُمْ کَافِرُونَ)۔

چند قابل توجہ نکات ۱۔ قرانی آیات کے مختلف لوگوں پر مختلف اثرات

قرآن کی مندرجہ بالا دو آیات اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں کہ صرف حیات بخش تعلیمات اور اچھا لائحہ عمل ہی کسی فرد یا گروہ کی سعادت کے لئے کافی نہیں، بلکہ اس کے مقدمات کی فراہی اور بنیادوں کا مہیا ہونا بھی ایک بنیادی شرط سمجھا جانا چاہیے۔ قرآنی آیات بارش کے حیات بخش قطروں کی طرح ہیں جو باغ میں سبزہ زار اگاتے ہیں، تھور والی زمین میں خس و خاشاک۔ جو لوگ تعلیم اور ایمان کے جذبے سے اور حقیقت سے عشق کے ساتھ ان کی طرف دیکھتے ہیں وہ ہر سورت بلکہ ہر آیت سے نیا درس لیتے ہیں۔ جو ان کے ایمان کی پرورش کرتا ہے اور ان میں انسانیت کی واضح صفات کو تقویت پہنچا تا ہے۔ لیکن جو لوگ ہٹ دھرمی، غرور اور نفاق کے تاریک شیشوں کے پیچھے ان آیات کی طرف دیکھتے ہیں وہ نہ صرف ان سے فائدہ اٹھاتے بلکہ ان کے کفر اور عناد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر نئے فرمان کے بارے میں وہ نئی نافرمانی اور نیا گناہ کرتے ہیں، ہر حکم کے بارے میں نئی سرکشی اور ہر حقیقت کے سامنے نئی ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے وجود میں عصیان، نافرمانیاں اور ہٹ دھرمیاں تہ در تہ جمع ہو جاتی ہیں اس طرح ان کی روح میں ان بری صفات کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ آخر کار وہ حالت کفر میں مر جاتے ہیں اور واپسی کا راستہ ان کے لئے بالکل بند ہو جاتا ہے۔ ایک اور تعبیر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی تربیتی پر وگرام میں فاعل کی فاعلیت کافی نہیں ہے، بلکہ روحِ قبولیت اور قابل کی قابلیت بھی بنیادی شرط ہے۔

۲۔"رجس" کا مفہوم

لغت میں "رجس" کا معنی ہے "پلید" اور "ناپاک" وجود اور راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ پلیدی چار قسم کی ہے۔ ۱۔ طبیعت کے لحاظ سے، ۲۔ عقل و فکر کے زاویہ سے، ۳۔شریعت کے حوالے سے اور۔ ۴۔ کبھی تمام پہلووٴں سے۔ البتہ اس میں شک نیہں کہ وہ پلیدی جو نفاق، ہٹ دھرمی اور حق کے مقابلے میں شدت سے پیدا ہو تی ہے، ایک قسم کی باطنی اور معنوی ناپاکی ہے جس کا اثر آخر کار انسان کے تما م وجود، گفتار اور کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔

۳۔ "وھم یستبشرون" کا مطلب

لفط "بشارت" کی اصل کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ جملہ ایسے سرور اور خوشی کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیات قرآنی کا تربیتی اثر مومنین میں اس قدر آشکار تھا کہ اس کی علامات فوراً ان کے چہروں میں نمایاں ہو جاتی تھیں۔

۴۔ دل کی بیماری

مندرجہ بالا آیات میں نفاق اور اس کی گندگی صفات کو دل کی بیماری کہا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ "قلب" ایسے مواقع پر روح اور عقل کے معنی میں ہے اور دل کی بیماری ان مواقع رذائل اور روحانی انحرافات کے معنی میں ہے اور یہ تعلیم نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کی روح اور عقل اگر صحیح و سالم ہو تو ان بری صفات میں سے کوئی بھی اس کے وجود میں اپنی جڑیں پید انہیں کر سکتی اور ایسا اخلاق جسمانی بیماری کی طرح طبیعت کے بر خلاف ہو گا۔ لہٰذا ایسی صفات سے آلودگی اصلی طبعی راستے سے انحراف اور روحانی بیماری کی دلیل نہیں ہیں۔ (تشریحی نوٹ: دل کی بیماری اور قرآ ن میں اس کے مفہوم کے بارے میں ہم جلد اول ص ۹۹ (اردو ترجمہ) پر ایک اور بحث کر چکے ہیں)۔

۵۔ ایک درس

مندرجہ بالا آیت ہم سب مسلمانوں کو ایک عجیب درس دیتی ہے یہ آیات اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہیں کہ جب کوئی قرآنی سورت نازل ہوتی ہے تو پہلے مسلمانوں میں ایک تازہ روح پیدا ہو جاتی تھی اور انھیں نئی تربیت حاصل ہوتی تھی، اس طرح کہ اس کے آثار بہت جلد ان کے چہروں سے نمایاں ہو جاتے تھے حالانکہ آج کل ہم بظاہر مسلمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ایک سورت پڑھ کر ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ قرآن ختم کر کے بھی ان پر تھوڑا سا اثر بھی دکھائی نہیں دیتا۔ تو کیا قرآن کی سورتیں اور آیتیں اپنا اثر کھو بیٹھی ہیں یا پھر افکار کی آلودگی، دلوں کی بیماری اور ہمارے برے اعمال کے حجابوں نے ہمارے دلوں کو اثر پذیر بنا دیا ہے؟ ایسی حالت پر ہمیں خدا سے پناہ مانگنا چاہیے اور اس کے درگاہ پاک سے پہلے وقت کے مسلمانوں کے دل عطا ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔

126
9:126
أَوَلَا يَرَوۡنَ أَنَّهُمۡ يُفۡتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٖ مَّرَّةً أَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُونَ
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ سال میں ایک یا دومرتبہ ان کی آزمائش ہوتی ہے؟ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور متوجہ نہیں ہوتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
9:127
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ هَلۡ يَرَىٰكُم مِّنۡ أَحَدٖ ثُمَّ ٱنصَرَفُواْۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ
اور جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے ان منافقین میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟(اور باہر چلے جاتے ہیں )اور اللہ نے ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں اور بے علم ہیں۔

پھر منافقین کی سرزنش

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور انھیں سرزنش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہےکہ:کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہرسال ایک یا دو مرتبہ انھیں آزمایا جاتا ہے (اَوَ لاَیَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُونَ فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ)۔ تعجب کی بات ہے کہ ان پے در پے آزمائشوں کے باجود غلط راستوں پر چلنے سے بعض نہیں آتے اور توبہ نہیں کرتے اور متذکر نہیں ہوتے (ثُمَّ لاَیَتُوبُونَ وَلاَھُمْ یَذَّکَّرُونَ)۔ اس سلسلے میں اس آزمائش سے کیا مراد ہے جس کا سالانہ ایک یا دو مرتبہ تکرار ہوتا ہے۔ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض انھیں بیماریاں قرار دیتے ہیں۔ بعض بھوک، ننگ اور دوسری سختیاں مراد لیتے ہیں۔ بعض جہاد کے میدانوں میں عظمتِ اسلام کے آثار اور حقانیتِ پیغمبرؐ کا مشاہدہ سمجھتے ہیں کیونکہ منافقین ماحول کی مجبوری کے باعث ان میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض منافقین کے بھید کھل جانا مراد لیتے ہیں۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت کے آخر میں ہے کہ "وہ متذکر نہیں ہوتے" اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی ایسی آزمائش ہونا چاہیے جو ان لوگوں کی بیدار ی کا باعث ہو۔ نیز تعبیر آیت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آزمائش ان عمومی آزمائشوں سے الگ ہے جن کا عام لوگوں کو اپنی زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ چوتھی تفسیر یعنی ان کے برے اعمال سے پردہ اٹھنا اور ان کے باطن کا ظاہر ہونا، آیت کے مفہوم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ زیر بحث آیت میں آزمائش ایک جامع مفہوم رکھتی ہو جس میں یہ تمام امور شامل ہوں۔ ان کے بعد انکار آمیز حرکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو وہ آیات خداوندی سن کر کیا کرتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: جب کوئی قرآن کی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اس کے بارے میں حقارت اور انکار کی نظر سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے وہ آنکھوں کی حرکات سے ظاہر کرتے ہیں کہ انھیں کس قدر پریشانی ہے (وَإِذَا مَا اُنزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُھُمْ إِلَی بَعْضٍ)۔ انھیں تکلیف اور پریشانی اس وجہ سے ہے کہ کہیں اس سورت کا نزول ان کے لئے کوئی نئی رسوائی اور ذلت فراہم نہ کر دے یا اس وجہ سے ہے کہ کورِ باطنی کے باعث وہ اس میں سے کچھ سمجھ نہیں پاتے اور انسان اس چیز کا دشمن ہے جسے وہ نہیں جانتا۔ بہرحال، وہ پختہ ارادہ کر لیتے ہیں کہ مجلس سے باہر نکل جائیں تاکہ یہ آسمانی زمزمے نہ سنیں البتہ انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں نکلتے وقت کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ لہٰذا آہستہ سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی ہماری طرف متوجہ تو نہیں ہے" کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے"(ھَلْ یَرَاکُمْ مِنْ اَحَدٍ)۔ جب انہیں اطمینان ہو جاتا ہے کہ لوگ پیغمبرؐ اکرم کی گفتگو سننے میں مشغول ہیں اور ان کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو وہ مجلس سے باہر نکل جاتے ہیں (ثُمَّ انصَرَفُوا)۔ "ھَلْ یَرَاکُمْ مِنْ اَحَدٍ" (کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے) یہ جملہ وہ زبان سے کہتے یا آنکھوں کے اشارے سے __ ا شارے کی صورت میں"نظر بعضھم الیٰ بعض" کا جملہ اس کے ساتھ مل کر ایک ہی مفہوم بیان کرتا ہے اور حقیقت میں "ھل یراکم من احد" ان کے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی تفسیر ہے۔ آیت کے آخر میں اس بات کی علت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کلماتِ خدا سننے پر اس لئے بے کیف اور پریشان ہوتے ہیں کہ "خدا نے ان کے دلوں کو ان کی ہٹ دھرمی، عناد اور گناہوں کی وجہ سے حق سے پھیر دیا ہے (اور وہ حق سے دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں) کیونکہ وہ بے فکر اور ناسمجھ افراد ہیں (صَرَفَ اللهُ قُلُوبَھُمْ بِاَنّھُمْ قَوْمٌ لاَیَفْقَھُونَ)۔ "صَرَفَ اللهُ قُلُوبَھُم"کے بارے میں مفسرین نے دو احتمالات ذکر کیے ہیں: پہلا، یہ کہ یہ جملہ خبریہ ہے؛ جسیا کہ ہم نے اوپر تفسیر کی ہے اور دوسرا، یہ کہ یہ جملہ انشائیہ ہے اور نفرین اور بدعا کے معنی میں ہے۔ یعنی خدا نے ان کے دل حق سے منصرف کر دیے ہیں۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح دکھائی دیتا ہے۔

128
9:128
لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
تم میں سے تمہاری طرف رسول آیا کہ جسے تمہاری تکالیف اور رنج و الم ناگوار ہیں اور جو تمہاری ہدایت پر اصرار کرتا ہے اور مومنین پر رؤف و مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔

129
9:129
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ
اگر وہ (حق سے) منہ پھیر لیں (تو تم پریشان نہ ہو جانا)۔کہہ دو کہ خدا میری کفایت کرے گا اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں نے اس پر توکل کیا ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار (اور مالک) ہے۔

نازل ہو نے والی آخری آیات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بعض مفسرین کے بقول زیر نظر آیات رسول اللہ پر نازل ہونے والی آخری آیات ہیں۔ سورہٴ براٴت ان پر ختم ہو رہی ہے۔ یہ آیات فی الحقیقت ان تمام مسائل کی طرف اشارہ ہیں جو اس سورہ میں گزر چکے ہیں، کیونکہ، ایک طرف تو ان میں تمام لوگوں کو چاہے وہ مومن ہو ں، یا منافق کہا گیا ہے کہ پیغمبر اور قرآن کی طرف سے سخت گیریاں اور ظاہری سختیاں جن کے نمونے اس سورہ میں آئے ہیں سب اس لئے ہیں کہ پیغمبر کو ان کی ہدایت، تربیت، تکامل اور ارتقاء سے عشق ہے۔ دوسری طرف پیغمبر اکرم کو بھی خبر دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی سرکشی اور نافرمانیوں پر جن کے بہت سے واقعے اس سورہ میں گذرے ہیں پریشان اور کبیدہ خاطر نہ ہوں اور یہ یقین رکھیں کہ خدا وند عالم ہر حالت میں ان کا پشتیبان، دوست اور یاور ہے۔ لہٰذا پہلی آیت میں روئے سخن لوگوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پیغمبر جو خود تمہی سے ہے تمہاری طرف آیا ہے (لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنفُسِکُمْ )۔ آیت میں "منکم" کی بجائے "من انفسکم" یہ خصوصیت سے پیغمبر اکرم کے لوگوں سے شدت ارتباط کی طرف اشارہ ہے گویا وہ خود لوگوں کی جان کا ایک ٹکڑا ہے اور معاشرے کی روح کا ایک حصہ پیغمبر کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے تمام دکھ درد جانتا ہے، ان کی مشکلات سے آگاہ ہے اور پریشانی اور غم و اندوہ میں ان کا شریک ہے______ ان حالات میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان کے فائدے کے سوا کوئی بات کہے اور حقیقت میں یہ پیغمبر کی پہلی صفت ہے جو مندرجہ بالا آیات میں پیغمبر اکرم کے لئے ذکر ہوئی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ بعض مفسرین جو نسلی اور عربی تعصبات کے زیر اثر تھے انھوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مخاطب عرب نسل کے لوگ ہیں یعنی پیغمبر اس نسل میں سے تمہاری طرف آیا ہے۔ ہمارے نظرئیے کے مطابق اس آیت کے لئے ذکر ہونے والی یہ بدترین تفسیر ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ چیز کا قرآن میں ذکر تک نہیں ہے وہ نسل پرستی ہے کیونکہ قرآن میں تمام جگہوں پر "یا ایھا الناس"، "یا ایھا الذین اٰمنوا" اور اس قسم کے دیگر الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے اور کسی جگہ پر بھی "یا ایھا العرب" اور "یا قریش" وغیرہ کا وجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آخری حصہ میں ارشاد ہوتا ہے: وہ مومنین پر روٴف اور مہر بان ہے "بالمومنین روٴف رحیم"۔ یہ جملہ بھی وضاحت سے اس کی تفسری کی نفی کرتا ہے کیونکہ تمام مومنین کے بارے میں ہے چاہے وہ کسی قوم و ملت او رکسی نسل و خاندان سے ہوں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بعض متعصب علماء قرآن کو اس کے عالمی اور انسانی مرتبے سے نیچے لے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے چھوٹے سے نسلی دائرے میں محصور اور محدود کر دیا جائے۔ بہرحال، "من انفسکم"کی صفت بیان کرنے کے بعد رسول اللہ کی چار ممتاز صفات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ صفات لوگوں کے میلانات کی تحریک کے لئے ان کے احساساو جذبات کو جذب کرنے کے لئے گہرا اثر رکھتی ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: تمہیں کوئی بھی تکلیف، ضرر اور نقصان پہنچے، پیغمبر کے لئے سخت اور ناراضی کا باعث ہے (عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّم)۔ یعنی وہ نہ صرف تمہاری تکلیف سے خوش نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس تکلیف سے الگ نہیں رہ سکتا۔ وہ تمہارے رنج و غم سے رنجیدہ ہوتا ہے اور اگر تمہاری ہدایت اور طاقت فرسا، پر زحمت جنگوں پر اصرار کرتا ہے تو وہ بھی تمہاری نجات اور ظلم، گناہ اور بد بختی کے چنگل سے تمہاری رہائی کے لئے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ "وہ تمہاری ہدایت سے سخت لگاوٴ رکھتا ہے" اور تمہاری ہدایت سے عشق رکھتا ہے (حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ)۔ لغت میں "حرص" کا معنی ہے " کسی چیز سے شدید لگاوٴ رکھنا "۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث میں بطور اطلاق کہا گیا ہے کہ "تم پر حریص ہے"۔ نہ ہدایت کے بارے میں بات کی گئی ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کے بارے میں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اسے تمہاری ہر طرح کی سعادت پیش رفت، ترقی اور خوش بختی سے عشق ہے (اصطلاح میں کہتے ہیں کہ "متعلق کا خذف ہو نا عموم کی دلیل ہے")۔ اس کے بعد تیسری اور چوتھی صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ مومنین کے لئے روٴف و رحیم ہے (بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ)۔ لہٰذا اگر وہ مشکل اور طاقت فرسا حکم دیتا ہے تو یہ بھی اس کی طرف سے ایک طرح کی محبت اور لطف ہے یہاں تک کہ گرمیوں کے موسم میں طاقتور دشمن کے مقابلے میں جنگ تبوک کے لئے بھوک اور پیاس کے ساتھ طویل اور جلانے والے بیا بانوں سے گذرنا بھی اس کے مہر و محبت کی علامت ہے۔ "روٴف" اور "رحیم" میں کیا فرق ہے؟___ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہترین تفسیر یہ ہے کہ روٴف فرمانبرداروں کے لئے مخصوص محبت و لطف کی طرف اشارہ ہے جب کہ رحیم گناہ گاروں کے لئے رحمت کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ یہ دونوں الفاظ جب الگ الگ ہوں ہوتو ہو سکتا ہے کہ ایک ہی معنی میں استعمال ہوں لیکن جہاں ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوں تو بعض اوقات دو مختلف معانی دیتے ہیں۔ بعد والی آیت میں جو کہ اس سورہ کی آخری آیت ہے، پیغمبراکرم کی دلجوئی کرتے ہوئے کہ وہ لوگوں کی سرکشیوں اور نافرمانیوں سے ملول نہ ہوں فرمایا گیا ہے: اگر حق سے منہ نہ پھیر لیں تو پریشان نہ ہو اور کہہ دے کہ "خدا میرے لئے کافی ہے" کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِی)۔ "وہی خد اکہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے" لہٰذا وہی اکیلا پناہ گاہ ہے (اللهُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ھُو)۔ جی ہاں میں نے صرف اسی معبود پر تکیہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دل باندھا ہے اور اپنے کام اسی کے سپرد کئے ہیں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْت)۔ اور وہی عرش عظیم کا مالک اور پر وردگار ہے (وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ)۔ عرش، عالم بالا ماوائے طبیعت اپنی پوری عظمت کے ساتھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ا س کی حمایت و کفالت میں ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ مجھے اکیلا چھوڑ دے اور دشمن کے مقابلے میں میری مدد نہ کرے؟ کیا کوئی قدرت اس کی قدرت کے مقابلے میں ٹھہر سکتی ہے یا کوئی رحمت و مہر بانی اس کی رحمت و مہر بانی اس کی رحمت و مہر بانی سے بالاتر تصور ہو سکتی ہے؟ خد ایا! اس وقت جبکہ ہم یہ سورہ ختم کر رہے ہیں اور یہ سطور لکھ رہے ہیں دشمنوں نے ہمیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے اور ہماری رشید اور بہادر قوم ظلم، برائی اور استبداد کے خاتمے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ تمام صفوں اور طبقوں میں ایسا بینظیر اتحاد و اتفاق پیدا ہو گیا ہے جس کا تصور نہیں ہوتا تھا؛ یہاں تک کہ ننھے ننھے بچے بھی اس جہاد میں شریک ہیں اور کوئی بھی کسی قسم کی فداکاری اور قربانی سے دریغ نہیں کر رہا ہے__ پروردگار! تو ان تمام چیزوں کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے، تو مہر و محبت کا مر کز ہے، تو نے مجاہدین سے کامیابی اور کامرانی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ پس اپنی نصرت و مدد قریب کر دے اور ہمیں آخری اور مکمل فتح عطا فرما اور ان پیاسوں اور عاشقوں کو ایمان، عدل اور آزادی کے شفاف پانی سے سیراب فرما! "انّک علیٰ کل شیء قدیر" (بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے)۔ (تشریحی نوٹ: یہ حصہ انقلاب اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے شاہ کے خلاف قیام کے زمانے میں لکھا گیا ہے)۔

end of chapter