An-Nasr
سُورہ نصر
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳ آیات ہیں۔
سُورہ "نصر" کے مطالب اور اس کی فضیلت
یہ سُورہ مدینہ میں ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے اور اس میں ایک بہت بڑی کامیابی اور فتح عظیم کی بشارت ہے کہ اس کے بعد لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہوں گے، لہٰذا اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو تسبیحِ، حمدِ الٰہی اور استغفار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگرچہ اسلام میں بہت سی فتوحات ہوئی ہیں لیکن اُوپر والی بات کے پورا ہونے کے طور پر "فتح مکّہ" کے سوا اور کوئی فتح نہیں تھی۔ خصوصاً جبکہ بعض روایات کے مطابق عربوں کا نظریہ یہ تھا کہ اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کو فتح کر لیا اور وہ اس پر مسلّط ہو گئے، تو یہ ان کے حقانیت کی دلیل ہو گی، کیونکہ اگر وہ حق پر نہ ہوئے تو خدا انہیں اس قسم کی اجازت نہیں دے گا، جیسا کہ اس نے "ابرہہ" کے عظیم لشکر کو اس قسم کی اجازت نہیں دی تھی۔ اسی بناء پر مشرکینِ عرب فتح مکہ کے بعد گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ سُورہ "صلح حدیبیہ" کے بعد فتح مکہ سے دو سال پہلے، ہجرت کے چھٹے سال نازل ہوا۔ لیکن یہ بات، جس کے بارے میں بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کے دسویں سال حجة الوداع میں نازل ہوا، بہت ہی بعید ہے، کیونکہ اس سورہ کی تعبیریں اس معنی کے ساتھ سازگار نہیں ہے، کیونکہ یہ مستقبل سے مربوط ایک حادثہ کی خبر دیتا ہے نہ کہ گزشتہ کی۔ اس سُورہ کا ایک نام سورہ "تودیع" ہے۔ (تودیع یعنی خدا حافظ) کیونکہ اس میں ضمنی طور پر پیغمبرؐ کی رحلت کی خبر ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس کی اپنے اصحاب کے سامنے تلاوت کی تو سب کے سب بہت خوش اور مسُرور ہوئے، لیکن پیغمبر کے چچا عباس اس کو سُن کر رونے لگے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: اے چچا! جان آپ کیوں رو رہے ہیں؟ عرض کیا: میرا گمان یہ ہے کہ اس سُورہ میں آپؐ کی رحلت کی خبر دی گئی ہے تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "یہی بات ہے جو آپ کہہ ر ہے ہیں۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص۵۵۴۔ یہ مضمون متعدد روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ (المیزان جلد۲۰، ص۵۳۲))۔ اس بارے میں کہ یہ مطلب اس سُورہ کے کس جملہ سے معلوم ہوتا ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کیونکہ آیات کے ظاہر میں تو فتح اور کامیابی کی بشارت کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ ظاہراَ اس مفہوم کا اس بات سے استفادہ کیا گیا ہے کہ یہ سُورہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی رسالت آخرت کو پہنچ رہی ہے، آپ کا دین مکمل طور پر ثابت اور مستقر ہو چکا ہے اور یہ معلوم ہے کہ ایسی حالت میں سرائے فانی سے جہان باقی کی طرف رحلت کی توقع پورے طور پر قابل پیش بینی ہے۔ اِس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے: "من قرأھا فکانّما شھد مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم فتح مکہّ" "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا وہ اس شخص کے مانند ہے جو فتح مکہّ میں پیغمبرؐ کے ہمراہ تھا-" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۵۳)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "جو شخص سُورہ "إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ" کو نافلہ یا واجب نماز میں پڑھے گا خدا اس کو اس کے تمام دُشمنوں پر فتح یاب کرے گا اور وہ قیامت میں اس حالت میں وارد محشر ہو گا کہ اس کے ہاتھ میں ایک عہد نامہ ہو گا، جو بات کرے گا، خدا نے اسے اس کی قبر کے اندر سے باہر بھیجا ہے، اور وہ جہنم کی آگ سے امان نامہ ہے: (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۵۳)۔ کہے بغیر واضح ہے کہ یہ سب اعزاز و افتخار اور فضیلت اس شخص کے لئے ہے جو اس سورہ کو پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پیروی کرے اور ان کے راستے اور طریقہ پر چلے اور آپ کے دین و آئین اور سُنّت پر عمل کرے، نہ کہ صرف تصلقہ لِسانی پر قناعت کرے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جب اصلی کامیابی آن پہنچے
Tafsīr Nemūna · Vol. 16اِس سُورہ کی پہلی آیت جس میں فرماتا ہے: "جس وقت خدا کی مدد اور کامیابی آن پہنچے۔" (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ)۔ "اور تُو دیکھے گا کہ لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں" (وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا)۔ تو اس عظیم نعمت اور اس کامیابی اور نصرتِ الٰہی کے شکرانے کے طور پر اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاؤ اور اس سے بخشش طلب کرو کہ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا)۔ اِن تین مختصر اور پُر معنی آیات میں بہت سے ایسے نکات ہیں جن میں غور کرنے سے اس سُورہ کے اصلی ہدف کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ۱۔ پہلی آیت میں "نصرت" کی اضافت "خدا" کی طرف ہوئی ہے (نصر اللہ) صرف یہی ایک جگہ نہیں ہے کہ جہاں یہ اضافت نظر آ رہی ہے، بلکہ قرآن کی بہت سی آیات میں یہ معنیٰ منعکس ہے۔ منجملہ ان کے سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۴ میں آیا ہے۔ (أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّهِ قَرِيبٌ) "جان لو کہ خدا کی مدد قریب ہے۔" اور سُورہ آلِ عمران کی آیہ ۱۲۶ اور انفال کی آیہ ۱۰ میں آیا ہے۔ (وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ) "نصرت تو صرف خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔" یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نصرت و کامیابی ہر حال میں خدا کے ارادہ سے ہی ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے توانائیوں کو مجتمع کرنا اور قدرت و طاقت مہیا کرنا ضروری ہے، لیکن ایک موّحد آدمی نصرت کو خدا ہی کی طرف سے سمجھتا ہے اور اسی بناء پر کامیابی کی صورت میں مغرور نہیں ہوتا بلکہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ ۲۔ اس سُورہ میں پہلے نصرتِ الٰہی، پھر فتح و کامرانی اور اس کے بعد اسلام کے نفوذ و وسعت اور لوگوں کے خدا کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہونے کی بات کی گئی ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کی علّت و معلول ہیں۔ جب تک خدا کی نصرت اور مدد نہ ہو، فتح و کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور جب تک فتح و کامیابی حاصل نہ ہو اور راستہ کی رکاوٹیں دور نہ ہوں، لوگ گروہ در گروہ مسلمان نہیں ہوتے۔ البتہ ان تین مرحلوں کے بعد، جن میں سے ہر ایک بہت بڑی نعمت ہے، چوتھا مرحلہ شکر اور حمد و ستائش الٰہی کا آتا ہے۔ اور دوسری طرف سے خدائی نصرت اور کامیابی اس لیے ہے کہ اصل ہدف یعنی لوگوں کا خدا کے دین میں داخل ہونا اور عمومی ہدایت صورت پذیر ہو۔ ۳۔ "فتح" یہاں مطلق صورت میں بیان ہوا ہے اور ان قرائن کی بناء پر جن کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے، اس سے مُراد فتح مکہّ ہے، جس کا ایسا ہی ردِّعمل ہوا تھا اور واقعاَ فتح مکہّ نے تاریخ اسلام میں ایک نئی فصل کا اضافہ کیا، کیونکہ اس سے شرک کا اصلی مرکز تباہ و برباد ہو گیا، بت توڑ دیے گئے اور بت پرستوں کی اُمید مایوسی اور نا امیدی میں تبدیل ہو گئی، اور لوگوں کے لیے اسلام پر ایمان کے راستے میں جو روکاوٹیں تھیں وہ ہٹ گئی اسی بناء پر فتح مکہّ کو جزیرہ العرب میں اور اس کے بعد ساری دنیا میں اسلام کے ثبات و استقرار کا مرحلہ سمجھنا چا ہیئے۔ اور اسی لیے مشرکین کی جانب سے فتح مکہّ کے بعد (سوائے ایک موقع کے جس کی جلدی ہی سرکوبی ہو گئی) کسی قسم کا مقابلہ نظر نہیں آیا اور لوگ تمام علاقوں سے اسلام قبول کرنے کے لیے پیغمبر کی خدمت میں آئے تھے۔ ۴۔ تیسری آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو (اور طبعاَ سب مومنین کو) تین اہم حکم دیتا ہے جو حقیقت میں اس عظیم کامیابی کا شکرانہ اور نصرتِ الٰہی کے مقابلہ میں ایک مناسب عکس العمل ہے اور وہ تسبیح، حمد اور استغفار کا حکم ہے۔ "تسبیح" کا معنی خدا کو ہر قسم کے عیب و نقص سے منزّہ سمجھنا ہے۔ "حمد" صفاتِ کمالیہ کے ساتھ اس کی توصیف و تعریف کرنا ہے، اور "استغفار" بندوں کی کوتاہیوں اور تقصیروں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عظیم کامیابی اس بات کا سبب بنی ہے کہ شر کا آلودہ افکار میں کمی ہو، خدا کا کمال و جمال زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو اور راستہ سے بھٹکے ہوئے لوگ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ فتح عظیم سبب بنی ہے کہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ خدا اپنے اولیاء اور دوستوں کو تنہا چھوڑ دیتا ہے (اس نقص سے پاکیزگی) اور وہ یہ بھی جان لیں کہ خدا اپنے وعدوں کے انجام دینے پر توانا ہے۔ (اس کمال سے موصوف ہونا) اور بندے بھی اس کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے نقص کا اعتراف کریں۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ انسان میں کامیابی کے وقت غیر مطلوب ردِّعمل پیدا ہو جائے اور وہ "غرور و تکبرّ اور خود کو برتر سمجھنے" میں مبتلا ہو جائے یا دشمن سے"انتقام لینے اور ذاتی حساب چکانے" کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ یہ تینوں احکام اُسے اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ کامیابی کے حسّاّس لمحات میں خدا کی صفاتِ جلال و جمال کی یاد میں رہے، سب چیزوں کو اس کی طرف سے سمجھے اور استغفار میں مشغول ہو جائے تاکہ غرور و غفلت بھی اس سے زائل ہو اور وہ جذبہ انتقام سے بھی دُور رہے۔ ۵۔ مسلّمہ طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تمام انبیاء کی طرح "معصوم" تھے، پس یہ استغفار کا حکم کس لیے ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ یہ تو ساری امت کے یے ایک نمونہ و اسوہ اور دستور العمل ہے کیونکہ: اولاَ: اس طولانی مبارزہ کے طویل زمانہ میں، جو بہت زیادہ سالوں تک جاری رہا (تقریباَ بیس سال) اور مسلمانوں نے بہت سخت اور دردناک دن گزارے، بعض اوقات تو حادثات ایسے پیچیدہ ہو جاتے تھے کہ جانیں لبوں تک پہنچ جاتی تھیں اور بعض لوگوں کے افکار میں خدائی وعدوں کے بارے میں بُرے گمان پیدا ہو جاتے تھے، جیسا کہ قرآن جنگ "احزاب" کے بارے میں فرماتا ہے: وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا: "اور دل گلے تک آ گئے اور تم اللہ کے بارے میں (نا مناسب) گمان کرنے لگے۔ (احزاب۱۰) اَب جب کہ کامیابی حاصل ہو گئی ہے تو وہ اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ وہ سب بدگمانیاں اور بےتابیاں غلط تھیں، لہٰذا انہیں استغفار کرنا چا ہیئے۔ ثانیاَ: انسان چاہے جتنی بھی خدا کی حمد و ثنا کرے، پھر بھی وہ اس کے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا، لہٰذا اُسے حمد و ثنا کے آخر میں اپنی تقصیر و کوتاہی کی بناء پر "خدا کی بارگاہ میں" استغفار کرنا چاہیئے۔ ثالثاَ: عام طور پر کامیابیوں کے بعد شیطانی وسوسے شروع ہو جاتے ہیں اور ایک طرف "غرور" اور دوسری طرف "تندورئی اور انتقام جوئی" کی حالت پیدا ہو جاتی ہے لہٰذا اس موقع پر خدا کو یاد رکھنا چاہیئے اور مسلسل استغفار کرتے رہنا چاہیئے، تاکہ ان میں سے کوئی سی حالت بھی پیدا نہ ہو یا اگر پیدا بھی ہو تو بر طرف ہو جائے۔ رابعاَ: جیسا کہ ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کیا ہے اس کامیابی کا اعلان تقریباَ پیغمبرؐ کی ماموریت کے اختتام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی عمر کے پُورا ہونے اور لقائے محبوب کے لیے جانے کے اعلان کے معنی میں ہے اور یہ حالت "تسبیح" و "حمد" و "استغفار" سے مناسبت رکھتی ہے اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ اس سورہ کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس جملہ کا بہت زیادہ تکرار فرماتے تھے: "سبحانک اللّٰھم وبحمدک، اللھم اغفرلی انک انت التواب الرحیم: "خداوندا! تو پاک و منزّہ ہے، اور مَیں تیری حمد و ثنا کرتا ہوں۔ خدوندا! مجھے بخش دے کہ تو بہت ہی توبہ کو قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۵۴)۔ ۶۔ "إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا" کا جملہ مسئلہ استغفار کی علّت کا بیان ہے یعنی استغفار و توبہ کر کیونکہ خدا بہت ہی توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ ضمنی طور پر شاید اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جب خدا تمہاری توبہ کو قبول کر لیتا ہے تو تم بھی کامیابی کے بعد جہاں تک ہو سکے کوتاہی کرنے والوں کی توبہ کو قبول کر لو۔ اور جب تک ان سے مخالفت کا ارادہ یا سازش کے آثار ظاہر نہ ہو انہیں اپنے سے دُور نہ کرو۔ لہٰذا جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس فتح مکہّ کے ماجرے میں شکست خوردہ کینہ ور دشمنوں کے مقابلہ میں اسلامی رافت و رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہی کی سیرت نہیں ہے کہ آپ دشمن پر آخری اور اصلی فتح حاصل کرنے کے موقع پر تسبیح و حمد و استغفار میں مصروف ہو گئے، بلکہ سارے ہی انبیاء کی تاریخ میں یہ مطلب اچھی طرح نمایاں ہے۔ مثلاَ حضرت "یوسف" علیہ السلام جب مصر کے تختِ حکومت پر بیٹھے اور ایک طویل جدائی کے بعد ان کے ماں باپ اور بھائی ان سے آ کر ملے تو عرض کی: رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ: پروردگار! تو نے حکومت کا ایک بڑا حصّہ مجھے دیا ہے اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سرپرست ہے۔ مجھے مسلمان کی حیثیت سے موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملحق کرنا" (یوسف۔۱۰۱)۔ پیغمبر خُدا حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہٴ سبا کے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہا: "هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ": "یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں" (نمل۔۴۰)۔
ایک نکتہ فتح مکہّ میں اسلام کی عظیم ترین فتح:
فتح مکہّ نے۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے۔ تاریخ اسلام میں ایک نئی فصل کا اضافہ کیا ہے اور تقریباَ بیس سال کے بعد دشمن کی مقاومتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ حقیقت میں فتح مکہّ سے جزیرة العرب سے شرک و بُت پرستی کی بساط لپیٹ دی گئی اور اسلام دنیا کے دوسرے ممالک کی طرف حرکت کے لیے آمادہ ہوا۔ اِس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے عہد و پیمان اور صلح کے بعد کفّار نے عہد شکنی کی اور اس صلح نامہ کو نظر انداز کر دیا۔ اور پیغمبر کے بعض حلیفوں کے ساتھ زیادتی کی، آپ کے حلیفوں نے آنحضرت سے شکایت کی تو رسول اللہؐ نے اپنے حلفیوں کی مدد کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اور دوسری طرف مکہّ میں بت پرستی، شرک اور نفاق کا جو مرکز قائم تھا اس کے ختم ہونے کے تمام حالات فراہم ہو گئے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جسے ہر حالت میں انجام دینا ضروری تھا" اس لیے پیغمبر خداؐ کے حکم سے مکہّ کی طرف جانے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ فتح مکہّ تین مراحل میں انجام پائی:۔ پہلا مرحلہ مقدماتی تھا، یعنی ضروری قولہ اور توانائیوں کو فراہم کرنا، زمانہ کے موافق حالات کا انتخاب اور دشمن کی جسمانی رُوحانی قوّت و توانائی کی مقدار و کیفیّت کی حیثیت کے بارے میں کافی اطلاعات حاصل کرنا تھا۔ دُوسرا مرحلہ، فتح کے مرحلہ کو بہت ہی ماہرانہ اور ضائعات و تلفات یعنی نقصان کے بغیر انجام دینا تھا۔ اور آخری مرحلہ، جو اصلی مرحلہ تھا، وہ اس کے آثار و نتائج کا مرحلہ تھا۔ ۱۔ یہ مرحلہ انتہائی دقت، باریک بینی اور لطافت کے ساتھ انجام پایا، خصوصاَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مکہّ و مدینہ کی شاہراہ کو اس طرح سے قرق کر لیا تھا کہ اس عظیم آمادگی کی خبر کسی طرح سے بھی اہلِ مکہّ کو نہ پہنچ سکی۔ اس لیے انہوں نے کسی قسم کی تیاری نہ کی، وُہ مکمل طور پر غفلت میں پڑے رہے اور اسی وجہ سے اس مقدّس سر زمین میں اس عظیم حملے اور بہت بڑی فتح میں تقریباَ کوئی خون نہیں بہا۔ یہاں تک کہ وہ خط بھی، جو ایک ضعیف الایمان "مسلمان حاطب بن ابی بلتعہ" نے قریش کو لکھا تھا اور قبیلہ "مزینہ" کی ایک عورت "کفود" یا "سارہ" نامی کے ہاتھ مکہّ کی طرف روانہ کیا تھا، اعجاز آمیز طریقہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے لیے آشکار ہو گیا۔ علی علیہ السلام کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ تیزی سے اس کے پیچھے روانہ ہوئے، اُنہوں نے اس عورت کو مکہّ و مدینہ کی ایک درمیانی منزل میں جا لیا اور اس سے وہ خط لے کر خود اسے بھی مدینہ واپس لے آئے، جس کی داستان سُورہ ممتحنہ کی پہلی آیت کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکی ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر نمونہ" جلد۱۴، ص ۹)۔ بہرحال، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں اپنا ایک قائم مقام مقرر کر کے ہجرت کے آٹھویں سال ماہِ رمضان کی دس تاریخ کو مکہّ کی طرف چل پڑے، اور دس دن کے بعد مکہّ پہنچ گئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے راستے کے وسط میں اپنے چچا عباس کو دیکھا کہ وہ مکہّ سے ہجرت کر کے آپ کی طرف آ رہے ہیں۔ حضرتؐ نے ان سے فرمایا کہ اپنا سامان مدینہ بھیج دیجئے اور خود ہمارے ساتھ چلیں، اور آپ آخری مہاجر ہیں۔ ۲۔ آخرکار مسلمان مکہّ کے قریب پہنچ گئے اور شہر کے باہر، اطراف کے بیانوں میں اس مقام پر جسے "مرّالظہران" کہا جاتا تھا اور جو مکہّ سے چند کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ پر نہ تھا، پڑاؤ ڈال دیا۔ اور رات کے وقت کھانا پکانے کے لیے (یا شاید اپنی وسیع پیمانہ پر موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے) وہاں آگ روشن کر دی۔ اہلِ مکہّ کا ایک گروہ اس منظر کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے۔ ابھی تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور لشکرِ اسلام کے اس طرف آنے کی خبریں قریش سے پنہاں تھیں۔ اس رات اہلِ مکہّ کا سرغنہ ابو سفیان اور مشرکین کے بعض دوسرے سرغنے خبریں معلوم کرنے کے لیے مکہّ سے باہر نکلے۔ اس موقع پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے چچا عباس نے سوچا کہ اگر رسول اللہؐ قہر آلودہ طریقہ پر مکہّ میں وارد ہوئے تو قریش میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ سے اجازت لی اور آپؐ کی سواری پر سوار ہو کر کہا کہ میں جاتا ہوں، شاید کوئی مل جائے تو اس سے کہوں کہ اہل مکہّ کو اس ماجرے سے آگاہ کر دے تاکہ وہ آکر امان حاصل کر لیں۔ عباس وہاں روانہ ہو کر بہت قریب پہنچ گئے۔ اتفاقاَ اس موقع پر انہوں نے "ابو سفیان" کی آواز سنی جو اپنے ایک دوست "بدیل" سے کہہ رہا تھا کہ ہم نے کبھی بھی اس سے زیادہ آگ نہیں دیکھی۔ "بدیل نے" کہا: میرا خیال ہے کہ یہ آگ قبیلہ "خزاعہ" نے جلائی ہوئی ہے ابو سفیان نے کہا: قبیلہ خزاعہ اس سے کہیں زیادہ ذلیل و خوار ہیں کہ وہ اتنی آگ روشن کریں۔ اِس موقع پر"عباس" نے "ابو سفیان" کو پکارا۔ ابو سفیان نے بھی عباس کو پہچان لیا اور کہا سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے؟ عباس نے جواب دیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہیں جو دس ہزار مجاہدین اسلام کے ساتھ تمہاری طرف آ رہے ہیں۔ ابو سفیان سخت پریشان ہوا اور کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ عباس نے کہا: میرے ساتھ آؤ اور رسول اللہؐ سے امان لے لو ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے۔ اس طرح سے عباس نے "ابو سفیان" کو اپنے ہمراہ رسول اللہؐ کی سواری پر ہی سوار کر لیا اور تیزی کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں پلٹ آئے۔ وہ جس گروہ اور جس آگ کے قریب سے گزرتے وہ یہی کہتے کہ یہ تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے چچا ہیں جو آنحضرتؐ کی سواری پر سوار ہیں کوئی غیر آدمی نہیں ہے۔ یہاں تک وہ اس مقام پر آئے جہاں عمر ابنِ خطاب تھے۔ جب عمر بن خطاب کی نگاہ ابو سفیان پر پڑی تو کہا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تجھ (ابو سفیان) پر مسلط کیا ہے، اب تیرے لیے کوئی امان نہیں ہے اور فوراَ ہی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ سے (ابو سفیان) کی گردن اُڑانے کی اجازت مانگی۔ لیکن اتنے میں عباس بھی پہنچ گئے اور کہا: کہ اے رسولِ خداؐ میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: مَیں بھی سرِدست اُسے امان دیتا ہوں۔ کل آپ اسے میرے پاس لے آئیں۔ اگلے دن جب عباس اُسے پیغمبرؐ کی خدمت میں لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابو سفیان! وائے ہو تجھ پر، کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ تو خدائے یگانہ پر ایمان لے آئے۔ اُس نے عرض کیا: ہاں! اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اگر بتوں سے کچھ ہو سکتا تو میں یہ دن نہ دیکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "کیا وہ موقع نہیں آیا کہ تو جان لے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔" اُس نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ابھی اس بارے میں میرے دل میں کچھ شک و شبہ موجود ہے۔ لیکن آخرکار ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں میں سے دو آدمی مسلمان ہو گئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے عباس کو فرمایا: "ابو سفیان کو اس درہّ میں جو مکہّ کی گزر گاہ ہے، لے جاؤ تاکہ خدا کا لشکر وہاں سے گزرے اور یہ دیکھ لے۔" عباس نے عرض کیا: "ابو سفیان ایک جاہ طلب آدمی ہے، اس کو کوئی امتیازی حیثیت دے دیجئے۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: "جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے، جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ امان میں ہے، جو شخص اپنے گھر کے اندر رہے اور دروازہ بند کر لے وہ بھی امان میں ہے۔" بہرحال، جب ابو سفیان نے اس لشکرِ عظیم کو دیکھا تو اسے یقین ہو گیا کہ مقابلہ کرنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہی اور اس نے عباس کی طرف رُخ کر کے کہا: آپ کے بھتیجے کی سلطنت بہت بڑی ہو گئی ہے۔ عباس نے کہا: وائے ہو تجھ پر یہ سلطنت نہیں نبوت ہے۔ اس کے بعد عباس نے اس سے کہا کہ اب تو تیزی کے ساتھ مکہّ والوں کے پاس جا کر انہیں لشکر اسلام کا مقابلہ کرنے سے ڈرا۔ ابو سفیان نے مسجد الحرام میں جا کر پکار کر کہا: "اے جمعیت قریش! محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ تمہاری طرف آیا ہے، تم میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس کہ بعد اس نے کہا: جو شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے، جو شخص مسجد الحرام میں چلا جائے وہ بھی امان میں ہے اور جو شخص اپنے گھر میں رہتے ہوئے گھر کا دروازہ بند کرے وہ بھی امان میں ہے۔" اس کے بعد اس نے چیخ کر کہا: اے جمعیت قریش اسلام قبول کر لو تاکہ سالم رہو اور بچ جاؤ، اس کی بیوی "ہندہ" نے اس کی داڑھی پکڑ لی اور چیخ کر کہا: اس بُڈھے احمق کو قتل کر دو۔ ابو سفیان نے کہا: میری داڑھی چھوڑ دے۔ خدا کی قسم اگر تو اسلام نہ لائی تو تُو بھی قتل ہو جائے گی، جا کر گھر میں بیٹھ جا۔ اِس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم لشکر اسلام کے ساتھ روانہ ہوئے اور "ذوی طوی" کے مقام تک پہنچ گئے، وہی بلند مقام جہاں سے مکہّ کے مکانات صاف نظر آتے ہیں، پیغمبرؐ کو وہ دن یاد آ گیا جب آپ مجبور ہو کر مخفی طور پرمکہّ سے باہر نکلے تھے، لیکن آج دیکھ رہے ہیں کہ اس عظمت کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں، تو آپؐ نے اپنی پیشانی مبارک اونٹ کے کجاوے کے اوپر رکھ دی اور سجدہ شکر بجا لائے۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم "حجون" میں (مکہّ کے بلند مقامات میں سے وہ جگہ جہاں خدیجہؑ کی قبر ہے) اُترے، غسل کر کے اسلحہ اور لباسِ جنگ پہن کر اپنی سواری پر سوار ہوئے، سُورہ فتح کی قرات کرتے ہوئے مسجد الحرام میں داخل ہوئے اور آواز تکبیر بلند کی۔ لشکر اسلام نے بھی نعرئہ تکبیر بلند کیا تو اس سے سارے دشت و کوہ گُونج اٹھے۔ اس کے بعد آپ اپنے اُونٹ سے نیچے اترے اور بتوں کو توڑنے کے لیے خانہ کعبہ کے قریب آئے۔ آپ یکے بعد دیگرے بتوں کو سرنگوں کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: "جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، اور باطل ہے ہی مٹنے والا۔" کچھ بڑے بڑے بُت کعبہ کے اُوپر نصب تھے، جن تک پیغمبرؐ کا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ آپؐ نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپؐ کے دوش مبارک پر پاؤں رکھ کر اُوپر چڑھ جائیں اور بتوں کو زمین پر گرا کر توڑ ڈالیں۔ علیؑ نے آپؐ کے حکم کی اطاعت کی۔ اس کے بعد آپؐ نے خانہ کعبہ کی کلید لے کر دروازہ کھولا اور انبیاء کی ان تصویروں کو جو خانہ کعبہ کے اندر در و دیوار پر بنی ہوئی تھیں، محو کر دیا۔ ۳۔ اس سریع اور شاندار کامیابی کے بعد پیغمبرؐ نے خانہ کعبہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور وہاں پر موجود اہلِ مکہّ کی طرف رخ کر کے فرمایا: "اَب بتلاؤ تم کیا کہتے ہو؟ اور تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے بارے میں کیا حکم دوں گا؟ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ سے نیکی اور بھلائی کے سوا اور کوئی توقع نہیں رکھتے! آپ ہمارے بزرگوار بھائی اور آپ ہمارے بزرگوار بھائی کے فرزند ہیں۔ آج آپ برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، ہمیں بخش دیجئے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے اور مکہّ کے لوگ بھی بلند آواز کے ساتھ رونے لگے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "مَیں تمہارے بارے میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسفؑ نے کہی تھی کہ آج تمہارے اُوپر کسی قسم کی کوئی سرزنش اور ملامت نہیں ہے، خدا تمہیں بخش دے گا، وہ ارحم الراحمین ہے۔" (بحوالہ: سُورہ یوسف آیہ ۹۲)۔ اور اس طرح سے آپؐ نے ان سب کو معاف کر دیا اور فرمایا: "تم سب آزاد ہو، جہاں چاہو جا سکتے ہو۔" ضمنی طور پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ آپ کے لشکری کسی سے نہ اُلجھیں اور بالکل کوئی خون نہ بہایا جائے۔ ایک روایت کے مطابق صرف چھ افراد کو مستثنیٰ کیا گیا تھا جو بہت ہی بدزبان اور خطرناک لوگ تھے۔ یہاں تک کہ جب آپنے یہ سُنا کہ لشکرِ اسلام کے علمدار"سعد بن عبادہ" نے انتقام کا نعرہ بلند کیا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ: الیوم یوم الملحمة" آج انتقام کا دن ہے" تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا۔۔۔۔۔ جلدی سے جا کر اس علم کو لے لو اور اس سے علم لے کر یہ نعرہ لگاؤ کہ: الیوم یوم المرحمة "آج عفو و بخشش اور رحمت کا دن ہے۔" اور اسی طرح مکہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہو گیا، عفو و رحمتِ اسلامی کی اس کشش نے، جس کی انہیں بالکل توقع نہیں تھی، دلوں پر ایسا اثر کیا کہ لوگ گروہ در گروہ آ کر مسلمان ہو گئے، اس عظیم فتح کی صدا تمام جزائر عربستان میں جا پہنچی۔ اسلام کی شہرت ہر جگہ پھیل گئی اور مسلمانوں اور اسلام کی ہرجیت سے دھاک بیٹھ گئی۔ بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "لا الہ الا اللہ وحدہ وحدہ، انجز وعدہ و نصر عبدہ، وھزم الاحزاب وحدہ، الا ان کل مال اوماٴثرہ او دم تدعی فھو تحت قدمی ھاتین! "خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا و یگانہ ہے، یگانہ، اس نے آخرکار اپنے وعدے کو پورا کر دیا۔ اور اپنے بندے کی مدد کی، اور اس نے خود اکیلے ہی تمام گروہوں کو شکست دے دی۔ جان لو کہ ہر مال، ہر امتیاز، اور ہر وہ خون جس کا تعلق ماضی اور زمانہٴ جاہلیت سے ہے، سب کے سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں۔ (یعنی اب اس خون کے بارے میں، جو زمانہٴ جاہلیت میں بہایا گیا تھا، یا وہ اموال جو لوٹے گئے تھے، کوئی بات نہ کرنا) اور زمانہٴ جاہلیت کے تمام اعزازات اور امتیازات بھی باطل ہو گئے ہیں اور اس طرح تمام گذشتہ فائلیں بند ہو گئیں ہیں۔ یہ ایک بہت اہم اور عجیب قسم کی پیش نہاد تھی جس میں عمومی معافی کے فرمان سے حجاز کے لوگوں کو ان کے تاریک اور پر ماجرا ماضی سے کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں اسلام کے سائے میں ایک نئی زندگی بخشی جو ماضی سے مربوط کشمکشوں اور جنجالوں سے مکمل طور پر خالی تھی۔ اس کام نے اسلام کی پیش رفت کے سلسلہ میں حد سے زیادہ مدد کی اور یہ ہمارے آج اور آنے والے کل کے لئے ایک دستور العمل ہے۔ خدا وندا! تُو اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ اس دیرینہ عظمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سچے دوستوں کے زمرہ میں قرار دے۔ بارالٰہا! ہمیں ایسی توفیق مرحمت فرما کہ ہم دنیا میں عدلِ اسلامی حکومت کو اس طرح پھیلائیں کہ ساری دنیا کے لوگ فوج در فوج اسے دل و جان سے قبول کر لیں۔ آمین یا ربّ العالمین