Maryam
سورہ مریم
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۹۸ آیات ہیں
اِس سُورہ کے مضامین
یہ سُورہ مضامین کے لحاظ سے چند اہم حصوں کی حامل ہے:۔ ۱۔ اس سورہ کا اہم ترین حصہ جناب زکریاؑ، حضرت مریمؑ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت یحییؑ اور توحید کے ہیرو حضرت ابراہیمؑ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیلؑ، حضرت ادریسؑ اور خدا وند تعالیٰ کے بعض دوسرے بزرگ انبیاء کے کچھ حالات پر مشتمل ہے کہ جو خاص تربیتی نکات کا حامل ہے۔ ۲۔ اس سورہ کا دُوسرا حصہ کو جو پہلے حصہ کے بعد سب سے اہم ہے وہ قیامت سے مربوط مسائل اور دوبارہ اُٹھائے جانے کی کیفیت، مجرموں کی سزا، پرہیز گاروں کی جزا اور اسی قسم کے دوسرے مسائل کے ساتھ مربوط ہے۔ ۳۔ ایک اور حصہ مواعظ و نصائح کا ہے کہ جو فی الحقیقت گزشتہ حصوں کی تکمیل کرتا ہے۔ ۴۔ آخری حصہ قرآن، خدا وند تعالیٰ سے اولاد کی نفی اور مسئلہ شفاعت سے مربوط اشارے ہیں کہ جو مجموعی طور پر نفوس انسانی کو ایمان، پاکیزگی اور تقویٰ کی طرف راہنمائی کے لئے ایک مؤثر تربیتی پروگرام پر مشتمل ہے۔
اس سورہ کی فضیلت
پیغمبر اکرمؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ:۔ جو شخص اس سورہ کو پڑھے اُسے ان اشخاص کی تعداد کے برابر کہ جنہوں نے زکریاؑ کی تصدیق یا تکذیب کی ہے اور اسی طرح سے یحییؑ، مریمؑ، عیسیٰؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، ابراہیمؑ، اسحقؑ، یعقوبؑ اور اسمٰعیلؑ (کی تصدیق یا تکذیب کی ہے) ان میں سے ہر ایک کی تعداد سے دس گنا نیکیاں خدا وند تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں درج کر دے گا۔ اسی طرح ان اشخاص کی تعداد کہ جو (جھوٹ اور تہمت کے طور پر) خدا کے لئے اولاد کے قائل ہوتے ہیں اور ان اشخاص کی تعداد کو جو خدا کے لئے اولاد کے قائل نہیں ہوئے سے دس گنا نیکیاں عطا کرے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان ذیل آیہ)۔ حقیقت میں یہ حدیث دو مختلف خطوط میں تحقیق اور کوشش کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ ان میں سے ایک انبیاء معصومین اور نیک لوگوں کی حمایت کا خط ہے اور دوسرا مشرکین، منحرفین اور گنہگاروں کے خلاف قیام کرنے کا راستہ ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ اتنے عظیم ثواب ان لوگوں کو نہیں دیئے جائیں گے کہ جو صرف الفاظ کو پڑھ لیں اور اس کے مطابق عمل نہ کریں بلکہ یہ مقدس الفاظ تو عمل کے لئے ایک مقدمہ اور تمہید ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:۔ جو شخص اس سورہ کو مسلسل پڑھتا رہے وہ اس دنیا سے نہیں جائے گا مگر یہ کہ خدا وند تعالیٰ اس سورہ کی برکت سے اُسے جان و مال اور اولاد کے لحاظ سے بےنیاز کر دے گا۔ (مجمع البیان ذیل آیہ)۔ یہ غنا اور بےنیازی انسان کے اس سورہ کے مفاہیم کو جان و دل سے اپنانے کا نتیجہ ہے اور یہ دراصل اس کے مفاہیم ہیں جو اس کے اعمال و گفتار کے اندر منعکس ہو رہے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت زکریا کی پراثر دعا
Tafsīr Nemūna · Vol. 3پھر اس سورہ کی ابتداء میں ہمیں حروف مقطعہ کا سامنا ہے "کھٰیٰعص" اور چونکہ ہم سابقا قرآن کی تین مختلف سورتوں (سورہ بقرہ ،سورہ آل عمران اور سورہ اعراف) کی ابتدا میں حروف مقطعہ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں لہذا ہم یہاں پر تکرار کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ پہلی جلد سورہ بقرہ کی ابتداء اور دوسری جلد سورہ آل عمران کی ابتداء اور چوتھی جلد سورہ اعراف کی ابتداء کی طرف رجوع فرمائیں)۔ جس بیان کی اس مقام پر ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی منابع و مصادر میں اس سورہ کے حروف مقطعہ کے بارے میں دو قسم کی روایات نظر آتی ہیں۔ پہلی روایات تو وہ ہیں کہ جو ان حروف مقطعہ میں سے ہر ایک کو خدا وند تعالیٰ کے عظیم اسماء حسنیٰ میں سے ایک ایک اسم کی طرف اشارہ قرار دیتی ہیں "کاف" اشارہ ہے "کافی" کی طرف کہ جو خدا وند تعالیٰ کا ایک عظیم نام ہے "ھ" اشارہ ہے "ھادی" کی طرف "یاء" اشارہ ہے "ولی" اور "عین" اشارہ ہے "عالم" کی طرف اور "ص" اشارہ ہے "صادق الوعد" (وہ جو اپنے وعدہ کا سچّا ہے)کی طرف (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص نمبر ۳۲۰)۔ دوسری قسم ان روایات کی ہے کہ جو ان حروف مقطعہ کی کربلا میں امام حسین (علیه السلام) کے قیام کی داستان کے ساتھ تفسیر کرتی ہیں ان کے مطابق "کاف" اشارہ ہے "کربلا" کی طرف "ھاء" اشارہ ہے خاندان پیغمبر اکرمؐ کے ہلاک اور شہید ہونے کی طرف اور "یا" یزید کی طرف اور "عین" مسئلہ عطش (پیاس) کی طرف اور "ص" امام حسین (علیه السلام) اور ان کے جانباز یار و انصار کے "صبر" و استقامت کی طرف۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص نمبر۳۲۰) البتہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن مجید کی آیات مختلف معانی کی حامل ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات گزشتہ اور آیندہ کے مفاہیم بیان کرتی ہیں کہ جو متنوع ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتے جبکہ اگر معنیٰ کو ایک تفسیر میں منحصر کر دیں تو ہو سکتا ہے کہ ہم آیت کی وضع کیفیت نزول اور اس کے زمانے کے لحاظ سے کئی ایک اشکال میں گرفتار ہو جائیں۔ حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد سب سے پہلی بات حضرت زکریاؑ کی داستان سے شروع ہوتی ہے۔ خدا فرماتا ہے: یہ یاد ہے اس رحمت کی جو تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی (ذکر رحمة ربک عبدہ زکریا)۔ (تشریحی نوٹ: درحقیقت لفظ "ذکر" محذوف مبتداء کی خبر ہے اور تقدیر اس کی اس طرح ہے: "ھذا ذکر رحمۃ ربک ") اس وقت جبکہ وہ کوئی فرزند نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشان اور غمناک تھے تو انہوں نے درگاہ خداکی طرف رخ کیا، اس وقت خلوت گاہ میں اور وہاں پر کہ جہاں کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا تھا اپنے پروردگار کو پکارا اور اس سے دعاکی (اذنادٰی ربہ نداء خفیاً)۔ اس نے کہا پروردگارا! میری ہڈیاں جو میرے جسم کا ستون اور میرے بدن کا محکم ترین اعضاء ہیں کمزور ہو گئی ہیں (قال رب انی وھن العظم منی) اور بڑھاپے کے شعلوں نے میرے سر کے تمام بالوں کو گھیر لیا ہے (واشتغل الراس شیباً ) بڑھاپے کے آثار کو ایسے شعلے سے تشبیہ دینا کہ جو تمام سر کو گھیر لے ایک جاذب نظر اور غمدہ تشبیہ ہے۔ کیوں کہ ایک طرف تو آگ کے شعلہ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ جلدی پھیل جاتا ہے اور جو کچھ اس کے اطراف میں ہو اسے گھیر لیتا ہے اور دوسری طرف اآگ کے شعلے ایک خاص قسم کی روشنی اور چمک کے حامل ہوتے ہیں اور دور سے توجہ مبندول کراتے ہیں اور تیسری طرف جس وقت آگ کسی جگہ کو گھیرتی ہے جو چیز اس سے باقی رہ جاتی ہے وہی خاکستر ہی ہو تی ہے۔ حضرت ذکریاؑ نے بڑھاپے کے گھیر لینے اور سر کے تمام بالوں کی سفیدی کو آگ کے شعلہ ور ہونے اور اس کے چمکنے اور سفیدی خاکستر کو اس کی جگہ پر باقی رہنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور یہ تشبیہ بہت ہی رسا اور زیبا تشبیہ ہے۔ اس کے بعد مزید کہتے ہیں:۔ میں ہرگز ان دعاؤں میں، جو میں نے تیری بارگاہ میں کبھی کی ہیں محروم نہیں پلٹا (ولم اکن بدعائک رب شقیاً) گزشتہ زمانے میں تو نے مجھے ہمیشہ دعاؤں کی اجازت و قبولیت کا عادی بنایا ہے اور مجھے محروم نہیں کیا۔ اب جبکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور ناتواں ہو گیا ہوں تو اب اور بھی زیادہ اس بات کا حقدار ہوں کہ تو دعا قبول فرمائے اور مجھے ناامید نہ پلٹائے۔ حقیقت میں "شقادت" یہاں پر تعب اور رنج و تکلیف کے معنیٰ میں ہے یعنی میں کبھی اپنی درخواستوں میں تجھ سے زحمت و مشقت میں نہیں پڑا کیونکہ وہ جلدی تیری بارگاہ میں قبول ہو جایا کرتی تھیں۔ اس کے بعد اپنی حاجت کی اس طرح تشریح کرتے ہیں: پروردگارا! میں اپنے بعد اپنے عزیز و اقاب سے خوفزدہ ہیں (ہو سکتا ہے وہ فتنہ فساد سے اپنے ہاتھ آلودہ کریں) اور میری بیوی بانجھ ہے، تو اپنی طرف سے مجھے ولی اور جانشین بخش دے۔ (وانی خفت الموالی من ورائی و کانت امراءتی عاقرا فھب لی من لدنک ولیّاٰ) ایسا جانشین کہ جو میرا بھی وارث بنے اور اسی طرح آل یعقوب کا بھی وارث ہو۔ پروردگارا! میرے اس جانشین کو اپنا پسندیدہ بنا۔ (یرثنی ویرث من اٰل یعقوب و اجعلہ ربّ رضیّاً)
چند اہم نکات: ۱۔ یہاں میراث سے کیا مراد ہے؟
مفسرین اسلام نے اس سوال کے بارے میں بہت بحث کی ہے۔ ایک گروہ کا یہ نظریہ ہے کہ یہاں ارث سے مراد مال کی میراث ہے، اور ایک گروہ اسے مقام نبوت کی طر ف اشارہ سمجھتا ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے، کہ اس سے ایک ایسا جامع معنیٰ مراد ہے جس میں دونوں مفاہیم شامل ہیں۔ بہت سے شیعہ علماء نے پہلے معنی کو انتخاب کیا ہے جبکہ علماء اہل سنّت کی ایک جماعت نے دوسرے معنی کو، اور بعض نے جیسا کہ سیّد قطب نے "فی ظلال" میں اور آلوسی نے "روح المعانی" میں تیسرے معنی کو انتخاب کیا ہے۔ جن لوگوں نے اسے ارث مال میں منحصر سمجھا ہے، انہوں نے یہ معنی مراد لینے میں لفظ "ارث" کے ظاہر سے استناد کیا ہے کیونکہ یہ لفظ جب تک دوسرے قرائن سے خالی ہو تو ارث مال ہی کے معنی دیتا ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کی چند ایک آیات میں یہ لفط معنوی امور میں استعمال ہوا ہے، تو یہ ان میں موجود قرائن کی بنا پر ہے: مثلاً سورہ فاطر کی آیت ۳۲:۔ ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا۔ ہم نے آسمانی کتاب کو اپنے بزگزیدہ بندوں کی طرف بطور ارث منتقل کیا ہے؟ علاوہ ازیں، چند ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل بہت سے ہدایا اور نذریں "احبار" (علماء یہود) کے لیے لاتے تھے اور حضرت زکریاؑ احبار کے سردار تھے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص نمبر ۳۲۳) اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت زکریاؑ کی زوجہ جو کہ حضرت سلمان (علیه السلام) بن داؤدؑ کی اولاد میں سے تھیں، حضرت سلمان (علیه السلام) اور داؤد (علیه السلام) کی مالی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے بہت سے اموال میراث میں پائے تھے۔ حضرت زکریا (علیه السلام) اس بات سے خوفزدہ تھے ،کہ مبادا یہ مال غیر صالح، مطلب پرست، ذخیرہ اندوز یا فاسق و فاجر افراد کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں اور وہ معاشرہ میں برائی کی ترویج کریں۔ لہذا اپنے پروردگار سے صالح اور نیک بیٹے کی درخواست کی تاکہ وہ ان اموال کی نگرانی کرے اور انہیں بہترین طریقہ سے خرچ کرے۔ وہ مشہور روایت، کہ جو پیغمبر اسلامؐ کی پاک بیٹی جناب فاطمہ زہرا (علیها السلام) سے فدک لینے کے سلسلے میں، خلیفہ اوّل کے سامنے، اس آیت سے استدلال کے بارے میں نقل ہوئی ہے، خود اس دعوے کی ایک شاہد ہے۔ مرحوم طبرسی کتاب احتجاج میں بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا (علیها السلام) سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ: جس وقت خلیفئہ اول نے فدک کو جناب فاطمہ (علیها السلام) سے چین لینے کا مصمم ارادہ کر لیا اور یہ خبر اس بی بی تک پہنچی تو آپؑ اس کے پاس آئیں اور اس طرح فرمایا: اے ابابکر! افی کتاب اللہ ان ترث اباک ولاارث ابی لقد جئت شیئا فریّا؟ افعلی عمد ترکتم کتاب اللہ ونبذتموہ وراء ظھورکم؟ اذ یقول فیما اقتص من خبر یحییٰ بن زکریا اذ قال ربّ ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من اٰل یعقوب۔ کیا یہ بات کتاب خدا میں لکھی ہوئی ہے کہ تو تو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ لوں۔ یہ تو عجیب و غریب چیز ہے، کیا تم لوگوں نے جان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اسے پس پشت ڈال دیا ہے؟ جبکہ وہ یحییٰ بن زکریاؑ کے قصّہ میں کہتا ہے کہ "زکریا نے کہا خدا وندا! تو مجھے اپنی طرف سے جانشین عطا فرما تاکہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو"۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص نمبر۳۲۴) لیکن وہ لوگ کہ جن کا یہ نظریہ ہے، کہ یہاں پر وہی معنوی معنی مراد ہے تو انہوں نے ایسے قرائن سے، جو خود آیت میں یا اس سے باہر ہیں تمسک کیا ہے مثلاً:۔ ۱۔ یہ کہ یہ بات بعید نظر آتی ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) جیسے عظیم پیغمبر اس سن و سال میں اپنی ثروت کے وارثوں کے بارے میں اس قدر فکرمند ہوں خصوصاً جبکہ "یرثنی ویرث من اٰل یعقوب" کے جملوں کے ذکر کرنے کے بعد اس جملہ کا اضافہ کرتے ہیں (واجعلہ ربّ رضیّاً) "خدا وند اسے اپنا پسندیدہ بنا" اس میں شک نہیں کہ یہ جملہ اس وارث کی معنوی صفات کی طرف اشارہ ہے۔ ۲۔ آیندہ آیات میں جہاں خدا وند تعالیٰ انہیں یحییٰ کے پیدا ہونے کی بشادت دیتا ہے وہاں عظیم معنوی مقامات کے منجملہ مقام نبوّت کا اس کے لیے ذکر کرتا ہے۔ ۳۔ سورہ آل عمران کی آیت ۳۹ میں جبکہ خدا وند تعالیٰ زکریا (علیه السلام) کی طرف سے فرزند کے تقاضے کی تشریح میں یہ اشارہ کرتا ہے کہ وہ اس وقت اس سوچ میں پڑے کہ جب انہوں نے جناب مریم (علیها السلام) کے مقامات اور مراتب کا مشاہدہ کیا کہ پروردگار کے لطف و کرم سے جنت کے کھانے اور پھل ان کی محراب عبادت پر آ جاتے تھے۔ ھنالک دعا زکریا ربہ قال ربّ ھب لی من لدنک ذریة طیبة انک سمیع الدعاء ۴۔ چند ایک احادیث میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ میراث یہاں معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کے امام صادق (علیه السلام) پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیه السلام) ایک ایسی قبر کے نزدیک سے گزرے کہ جس میں موجود شخص عذاب میں گرفتار تھا۔ اگلے سال بھی آپ کا گزر وہاں سے ہوا تو آپ نے ملاحظہ کیا کہ وہ صاحب قبر عذاب میں مبتلا نہیں ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے اس بارے سوال کیا تو ان کی طرف خدا وند تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ صاحب قبر کا ایک نیک بیٹا تھا اس نے ایک راستہ درست کیا تھا اور ایک یتیم کو پناہ دی تھی خدا وند تعالی نے اسے اس کے بیٹے کے اس عمل کی وجہ سے بخش دیا ہے اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا : خدا وند تعالیٰ کی اس کے مومن بندے کے لیے میراث یہ ہے کہ اسے ایسا بیٹا دے کہ جو اس کے بعد حکم خدا کا مطیع و فرنبردار ہو۔ اس کے بعد حضرت امام صادق (علیه السلام) نے اس حدیث کے نقل کرنے کے موقع پر حضرت زکریا (علیه السلام) سے متعلق آیت کی تلاوت فرمائی: ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من اٰل یعقوب واجعلہ ربّ رضیّا۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص نمبر ۳۲۳۔۳۲۴)۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ لفظ ارث کا ظاہری معنی وہی میراث اموال ہے تو وہ جواب میں کہیں گے یہ ظاہر ی معنی قطعی و یقینی نہیں ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا معنوی ارث میں استعمال ہوا ہے (مثلاً سورہ فاطر کی آیت ۳۲ اور سوہ مومن کی آیت۵)۔ علاوہ ازیں، اگر فرض کریں کہ خلاف ظاہر ہو تو قرائن بالا کے ہوتے ہوئے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔ لیکن پہلے نظریے والے استدلالات کا جواب دے سکتے ہیں کہ خدا وند تعالیٰ کے یہ عظیم پیغمبر اموال کے بارے میں ذاتی غرض سے پریشان نہ تھے بلکہ وہ اسے معاشرے کے لیئے برائی کا منبع نہیں بننے دینا چاہتے تھے۔ ان کی غرض یہ تھی کہ یہ صلاح و درستی کے راستے میں استعمال ہو کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، کہ (بنی اسرائیل) احبار و علماکے لیے بہت زیادہ ہدیے اور نذریں لاتے تھے کہ جو حضرت زکریا (علیه السلام) کے سپرد ہوتی تھیں اور شاہد بہت سے اموال ان کی بیوی کی طرف سے بھی کہ جو حضرت سلیمان (علیه السلام) کی اولاد میں سے تھی باقی رہ گئے تھے، اب یہ بات صاف طور پر واضح ہے کہ ان (اموال) کے اوپر ایک غیر صالح شخص کا ہونا عظیم مفاسد کا سبب ہوتا ہے۔ اور یہی چیز تھی کہ جس نے حضرت زکریا (علیه السلام) کو پریشان کر رکھا تھا۔ باقی رہیں حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے لئے معنوی صفات کہ جو اس آیت میں اور دوسری آیات قرآن میں ذکر ہوئی ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ اس بات کے منافی نہیں بلکہ وہ اس سے ہم آہنگ بھی ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ عظیم ثروت ایک مرد خدا پرست اور برگزیدہ الہیٰ کے ہاتھ میں جائے اور وہ اس سے معاشرے کو سعادت کی راہ پر چلانے کے لیے استفادہ کرے۔ لیکن ہمارے نظریے کے مطابق اگر ہم اوپر کی مجموعی بحث سے یہ نتیجہ نکالیں کہ لفظ یہاں پر وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں ارث اموال بھی شامل ہے اور مقامات معنوی کی میراث بھی تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہو گی کیونکہ ہر طرف کے لیے قرائن موجود ہیں اور قبل و بعد کی آیات اور تمام تر روایات کی طرف توجہ کرنے سے یہ تفسیر کامل طور پر صحیح مفہوم کے قریب نظر آتی ہے۔ باقی رہا (انی خفت الموالی من ورائی) "مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کا ڈر ہے" کا جملہ تو وہ دونوں معانی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ اگر فاسد اور برُے لوگ ان اموال میں صاحب اختیار ہو جاتے تو واقعاً یہ پریشان کرنے والی بات تھی اور اگر رہبری و ہدایت غیر صالح افراد کے ہاتھ جا پڑتی تو بہت ہی پریشانی اور مصیبت کا سبب بنتی۔ اس بنا پر حضرت زکریا (علیه السلام) کا خوف دونوں صورتوں میں قابل توجیہہ ہے۔ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا (علیه السلام) کی مشہور حدیث بھی اس معنی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
۲۔ اذنادٰی ربہّ نداء خفیاً کا مفہوم:
اس جملہ میں مفسرین کے لئے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ "نادٰی" بلند آواز سے دعا کرنے کے معنی میں ہے جبکہ "خفی" آہستہ و مخفی کے معنی میں ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے کہ "خفی" آہستہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ پوشیدہ اور مخفی کے معنی میں ہے، اس بناء پر یہ بات ممکن ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) نے اپنی خلوت گاہ میں کہ جہاں ان کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا خدا وند تعالیٰ کو بلند آواز میں پکارا ہو بعض نے کہا کہ ان کی یہ درخواست رات کی تاریکی اور وسط شب میں تھی کہ جس وقت لوگ خواب غفلت میں آرام کرہے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی جلد ۶، ذیل آیہ محل بحث)۔ نیز بعض نے (فخرج علی قومہ من المحراب) " زکریا (علیه السلام) اپنی محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے" کے جملہ کو، کہ جو آیندہ کی آیات میں آئے گا اس دعا کے خلوت گاہ میں ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان جلد۱۴، ذیل آیہ)۔
۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب:
"مجھے ایسا فرزند عنایت کر جو آل یعقوب کا وارث بنے، کا جملہ اس بناء پر ہے، کہ زکریا (علیه السلام) کی بیوی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی والدہ جناب مریمؑ کی خالہ تھی اور اس خاتون کا نسب حضرت یعقوبؑ تک پہنچتا تھا، کیونکہ وہ حضرت سلمان بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں جو "یہودا" فرزند یعقوب کی اولاد میں سے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان جلد ۶، ذیل آیت)۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر زکریا کی آرزو پوری ہو گئی
Tafsīr Nemūna · Vol. 3یہ آیات حضرت زکریا (علیه السلام) کی دعا کی بارگاہ پروردگار میں قبولیت کو بیان کر رہی ہیں۔ یہ ایسا استجابت و قبولیت تھی جو اس کے مخصوص لطف و عنایت سے آمیختہ تھی فرمایا گیا : اے زکریا! ہم تجھے ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں کہ جس کا نام یحییٰ ہے، ایسا لڑکا کہ جس کا پہلے کوئی ہم نام نہیں ہوا۔ (یا زکریا انا نبشرک بغلام اسمہ یحیی لم نجعل لہ من قبل سمیاً)۔ کس قدر جاذب اور عمدہ چیز ہے کہ خدا وند تعالیٰ اپنے بندہ کی دعا اس طرح قبول کرے، اور بشارت دے کر اس کی دعا کے نتیجے سے اسے آگاہ کرے اور فرزند کی درخواست میں ایک بیٹا عنایت کرے اور اس کا نام بھی خود ہی رکھ دے۔ اور مزید کہے کہ یہ فرزند کئی جہات سے منفرد ہے اور اس سے پہلے کوئی ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) کا ترجمہ اگرچہ ظاہراً اس معنی میں ہے کہ اب تک کوئی اس کا نام نہیں تھا۔ لیکن چونکہ محض نام کسی کی شخصیت کی دلیل نہیں ہے لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسم مسمّٰی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس جیسی امتیازی خصوصیات کا حامل اس سے پہلے کوئی نہیں ہوا جیسا کہ راغب نے مفردات میں صراحت کے ساتھ یہ معنی بیان کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت یحییٰ سے پہلے بہت سے بزرگ پیغمبر گزرے ہیں جو ان سے بالاتر اور افضل تھے۔ لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یحییٰ کچھ امتیازی خصوصیات رکھتے ہوں جو انہیں کے ساتھ مخصوص ہوں۔ جیسا کہ بعد میں اس کی طرف اشارہ ہو گا۔ لیکن حضرت زکریا (علیه السلام) چونکہ ایسے مطلوب تک پہنچنے کے لیے ظاہری اسباب کو کارآمد نہیں سمجھتے تھے لہذا انہوں نے بارگاہ پروردگار میں وضاحت کا تقاضا کیا۔ انہوں نے کہا پروردگارا! یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھے کوئی بیٹا نصیب ہو جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بھی سن و سال کے لحاظ سے اس حد کو پہنچ گیا ہوں کہ بالکل بوڑھا اور ناکارہ ہو گیا ہوں (قال رب انی یکون لی غلام و کانت امراء تی عاقرًاو قد بلغت من الکبرعتیاً) "عاقر" اصل میں عقر کے مادہ سے جڑ اور بنیاد کے معنی میں یا حبس یعنی بند ہو جانے کے معنی میں ہے اور یہ جو بانجھ عورتوں کو "عاقر" کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اولاد کے قابل نہیں رہی ہوتیں یا یہ کہ ان کے بچہ کی پیدائش بند ہو گئی ہوتی ہے۔ "عتی" اس شخص کو کہتے ہیں کہ زیادہ عمر ہو جانے کے سبب سے بدن خشک ہو گیا ہو۔ وہی حالت جو بہت زیادہ سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے انسان میں پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن بہت جلدی حضرت زکریا (علیه السلام) کو ان کے سوال کے جواب میں بارگاہ خدا وندی سے یہ پیغام مل گیا، فرمایا: معاملہ اسی طرح ہے کہ جیسا تیرے پروردگار نے کہا ہے اور یہ میرے لیے آسان بات ہے (قال کذالک قال ربک ھو علی ھین)۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ "کذالک" کا جملہ تقدیر میں (ا لامر کذالک) تھا یعنی مطلب اسی طرح ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کذالک کا تعلق بعد والے جملے کے ساتھ ہوا اور اس کا مفہوم یہ ہو کہ اس طرح تیرے پرودگار نے کہا ہے) یہ مسئلہ کوئی عجیب و غریب نہیں ہے کہ تجھ جیسے بوڑھے اور ظاہراً بانجھ بیوی سے بچہ پیدا ہو اور میں نے تجھے پہلے پیدا کیا تھا جبکہ تو کچھ نہیں تھا (وقد خلقتک من قبل و لم تک شیئا)۔ وہ خدا جو یہ قدرت و توانائی رکھتا ہے کہ بغیر کسی چیز کے تمام چیزوں کو پیدا کرے یہ کونسی تعجب کی بات ہے کہ اس سن و سال میں اور ان حالات میں تجھے فرزند عنایت کر دے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ پہلے آیات میں بشارت دینے والا اور کلام کرنے والا خدا وند عالم ہے لیکن یہ کہ تیسری زیر بحث آیت (قال کذالک قال ربک) میں گفتگو کرنے والا کون ہے۔ بعض اسے فرشتوں کی گفتگو سمجھتے ہیں کہ جو زکریا (علیه السلام) کو بشارت دینے کا ذریعہ بنے تھے اور سورہ آل عمران کی آیت ۳۹ کو اس کا گواہ سمجھا جا سکتا ہے:۔ فنادتہ الملائکۃ و ھو قائم یصلی فی المحراب ان اللہ یبشرک یحییٰ فرشتوں نے زکریا (علیه السلام) کو ندا دی جبکہ وہ محراب میں کھڑے ہوئے تھے اور مشغول نماز تھے کہ خدا تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے ان تمام جملوں کا کہنے والا خدا ہے اور کوئی دلیل ایسی نہیں ہے کہ ہم اس کے ظاہر کے خلاف معنی کریں۔ اگر فرشتے بشارت دینے کے واسطے تھے تو بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اصل پیغام کو اپنی طرف نسبت دے، خصوصاً جبکہ ہم اسی سورہ آل عمران کی آیہ۴۰ میں یہ پڑھتے ہیں: قال کذالک اللہ یفعل مایشآء خدا اسی طرح سے جو کچھ چاہتا ہے انجام دیتا ہے۔ بہرحال، حضرت زکریا (علیه السلام) بہت ہی مسرور ہوئے، نور امید نے ان کے سراپا کو گھیر لیا۔ لیکن یہ پیغام ان کی نظر میں بہت ہی اہم اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے والا تھا، لہذا خدا وند تعالیٰ سے اس کام کے لیے نشانی کا تقاضا کیا اور "کہا پروردگارا! میرے لئے کوئی نشانی قرار دے"۔ (قال رب اجعل لی اٰیة) اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت زکریا (علیه السلام) خدائی وعدہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ بالکل مطمئن تھے۔ لیکن جس طرح حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے جو معاد پر ایمان کامل رکھتے تھے زیادہ سے زیادہ اطمینان قلب کی خاطر اسی زندگی میں معاد کی صورت کا مشاہدہ کرنے کا تقاضا کیا تھا۔ اسی طرح زکریا (علیه السلام) نے بھی زیادہ سے زیادہ حصول اطمینان کے لئے اس قسم کی نشانی کا تقاضا کیا تھا۔ خدا وند تعالیٰ نے فرمایا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ تمہاری زبان صحیح و سالم ہے تم مکمل تین دن رات لوگوں سے گفتگو نہیں کر سکو گے اور تمہاری زبان صرف ذکر خدا اور اس سے مناجات کر سکے گے (قال اٰیایتک ان لا تکلم النّاس ثلاث لیال سویّاً)۔ لیکن یہ کتنی عجیب و غریب نشانی تھی یہ ایک ایسی نشانی تھی کہ جو ایک طرف تو اس کی مناجات و دعا کے ساتھ ہم آہنگ تھی اور دوسری طرف اس کو تمام مخلوق سے منقطع کر رہی تھی اور خدا کے ساتھ اس کا تعلق قائم کر رہی تھی تاکہ اس حال میں اس عظیم نعمت کا شکر بجا لائے اور اسے زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی حمد و ثناپر آمادہ کرے۔ یہ ایک واضح اور آشکار نشانی ہے کہ انسان صحیح و سالم زبان رکھتے ہوئے اور پروردگار کے ساتھ ہر قسم کی مناجات و حمد و ثنا کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود لوگوں سے بات کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس بشارت اور اس واضح نشانی کے بعد حضرت زکریا (علیه السلام) اپنی محراب عبادت سے لوگوں کے پاس آئے اور نہیں اشارہ کے ساتھ اس طرح کہا: صبح شام پروردگار کی تسبیح کرو (فخرج علیٰ قومہ من المحراب فاوحی الیھم ان سبحو بکرة عشیّاً)۔ کیونکہ وہ عظیم نعمت جو خدا وند تعالیٰ نے زکریا (علیه السلام) کو عطا فرمائی تھی اس کی وسعت پوری قوم کے لئے تھی اور ان سب کے مستقل پر اثر انداز ہونے والی تھی اسی بناء پر اس لائق تھی کہ اس نعمت کے شکرانے میں سب کے سب خدا وند تعالیٰ کی تسبیح کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور خدا وند تعالیٰ کی مدح و ثنا کریں اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ یہ عطا کہ جو ایک معجزہ تھی افراد بشر کے دلوں میں ایمان کی جڑیں راسخ کر سکتی تھی۔ یہ بھی ایک اور نعمت تھی۔
چند اہم نکات ۱۔ یحییٰ (علیه السلام)، عشق الٰہی میں سرشار پیغمبر:
حضرت یحییٰ (علیه السلام) کا نام سورہ آل عمران، انعام، مریم اور انبیاء میں مجموعی طور پر پانچ مرتبہ آیا ہے۔ وہ خدا وند تعالیٰ کے ایک عظیم پیغمبر تھے اور ان کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ بچپن میں مقام ِنبوت پر فائز ہوئے خدا وند تعالیٰ نے انہیں اس سن و سال میں ایسی روشن عقل اور اتنی تابناک فہم و فراست عطا فرمائی کہ وہ اس عظیم منصب کو قبول کرنے کے لائق قرار پائے۔ اس پیغمبر کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک کے بارے میں قرآن نے سورہ آل عمران کی آیہ۳۹ میں اشارہ کیا ہے اور ان کے "حصور" کے ساتھ توصیف و تعریف ہے۔ جیسا کہ ہم نے اسی آیت کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ "حصور"، "حصر" کے مادہ سے اس شخص کے معنی میں ہے کہ جو کسی جہت سے محاصرہ میں قرار پائے، اور اس مقام پر بعض روایات کے مطابق شادی سے اجتناب کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ کام ان کے لیے اس لحاظ سے امتیاز تھا کہ یہ ان کی انتہائی عفت و پاکیزگی کو بیان کرتا ہے یا وہ زندگی کے مخصوص حالات کی بناء پر دین الہی کی تبلیغ کے لیے متعدد سفروں پر جانے پر مجبور تھے اور عیسیٰ مسیح (علیه السلام) کی طرح مجرد زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ یہ تفسیر بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں "حصور" سے مراد وہ شخص ہے کہ جس نے دنیاوی خواہشات اور ہوس کو ترک کر دیا ہو اور درحقیقت یہ زہد کا ایک اعلیٰ مرحلہ ہو۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ مخص ترک ازدواج اکیلا باعث فضیلت نہیں ہو سکتا اور قانون اسلام نے ازدواج کے سلسلے میں تاکید کی ہے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد، ص۳۱۷ (اردو ترجمہ) میں ہم نے تفصیل سے بحث کی ہے)۔ بہرحال، منابع اسلامی اور منابع مسیح سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) حضرت عیسیٰ کی خالہ کے بیٹے تھے۔ منابع مسح میں تصریح ہوئی ہے، کہ حضرت یحییٰؑ نے حضرت عیسیٰؑ کو غسل تعمید دیا اور اسی لئے انہیں "یحییٰ تعمید دہندہ" کے نام سے پکارتے ہیں (غسل تعمید ایک مخصوص غسل ہے کہ جو عیسائی اپنے بیٹوں کو دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ انہیں گناہ سے پاک کرتا ہے) اور جب حضرت مسیح (علیه السلام) نے اعلان نبوت کیا تو حضرت یحییٰ (علیه السلام) ان پر ایمان لائے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) کوئی خاص آسمانی کتاب نہیں رکھتے تھے اور یہ جو بعد کی آیت میں ہم پڑ ھتے ہیں:۔ یایحییٰ خذ الکتاب بقوة اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو یہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی کتاب تورات کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ کچھ لوگ حضرت یحییٰؑ کے پیرو ہیں وہ ان کی طرف ایک کتاب کی نسبت بھی دیتے ہیں اور شاید "موحدصائبین" حضرت یحییٰؑ کے پیرو ہیں (بحوالہ: اعلام قرآن، ص ۶۶۷)۔ حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسٰی(علیه السلام) میں بعض چیزیں قدر مشترک تھیں انتہائی زیادہ زہد و تقویٰ، مذکورہ بالا اسباب کی بناء پر ترک ازدواج معجزانہ طور پر پیدا ہونا اور اسی طرح بہت ہی زیادہ قریبی نسب۔ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسینؑ اور حضرت یحییٰؑ میں بھی بعض باتیں مشترک تھیں، لہذا امام علی بن الحسین زین العابدین (علیه السلام) سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: خرجنا مع الحسین بن علی (ع )فما نزل منزلا ولا رحل منہ الا ذکریحییٰ بن زکریا و قتلہ، وقال ومن ھوان الدنیا علی اللہ ان راس یحییٰ بن زکریا اھدی الیٰ بغی من بغایا بنی اسرائیل ہم امام حسین (علیه السلام) کے ساتھ (کربلاکی طرف جاتے ہوئے) باہر نکلے تو امامؑ جس منزل میں نزول اجلال فرماتے یا اس سے کوچ کرتے تو یحییٰ (علیه السلام) اور ان کے شہید ہونے کو یاد کرتے اور فرماتے کہ خدا وند تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی بےقدری کے لیے یہی کافی ہے کہ یحییٰ بن زکریا (علیه السلام) کا سر بنی اسرائیل کے بدکاروں میں سے ایک بدکار کے پاس ہدیہ کے طور پر لایا گیا۔ (بحوالہ: نورالثقلین،ج ۳،ص ۳۲۴)۔ حضرت امام حسین (علیه السلام) کی شہادت بھی کئی ایک جہات سے حضرت یحییٰؑ کی شہادت کی مانند تھی۔ (حضرت یحییٰؑ کے قتل ہونے کی کیفیت ہم بعد میں بیان کریں گے)۔ امام حسین (علیه السلام) کا نام بھی حضرت یحییٰؑ کے نام کی طرح بےسابقہ تھا (اور پہلے کسی کا یہ نام بھی نہیں تھا) اور ان کی مدت حمل (جس وقت شکم مادر میں تھے) معمول کی نسبت بہت کم تھی۔
۲۔محراب
یہ ایک ایسی مخصوص جگہ ہوتی ہے کہ عبادت گاہ میں امام یا پیش نماز کے لیے مخصوص کر دی جاتی ہے اور اس کا نام رکھنے کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مادہ "حرب" حرب سے جو جنگ کے معنی میں ہے لیا گیا ہے کیونکہ محراب درحقیقت شیطان اور ہوائے نفس کے ساتھ مبارزہ اور جنگ کرنے کی جگہ ہے۔ دوسرے وجہ یہ کہ محراب لغت میں مجلس کے سب سے بلند مقام کے معنی میں لیا گیا ہے کیونکہ محراب کی جگہ عبادت گاہ کے اوپر والے حصّہ میں ہوتی تھی لہذا اسے یہ نام دیا گیا۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ، جو کچھ ہمارے ہاں معمول ہے، اس کے برعکس بنی اسرائیل میں "محرب" سطح زمین سے کچھ اوپر ہوتی تھی اور اس میں کچھ سیڑھیاں ہوتی تھیں اور اس کے چاروں طرف دیوار کھچی ہوئی ہوتی تھی، اس طرح سے کہ جو لوگ محراب میں ہوتے تھے وہ باہر سے دکھائی نہیں دیتے تھے، "فخرج علی قومہ من المحراب" کا جملہ جو ہم نے مذکورہ بالا آیات میں پڑھا ہے لفظ "علی" پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو کام عام طور پر اوپر کی سمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اس معنی کی تائید کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت یحییٰؑ کی عمدہ صفات:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا کہ خدا وند تعالیٰ نےکس طرح حضرت زکریا (علیه السلام) کو بڑھاپے میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سا فرزند سعید مرحمت فرمایا۔ اس کے بعد ہم ان آیات میں خدا وند تعالیٰ کا اہم فرمان یحییٰ (علیه السلام) سے خطاب کی صورت میں پڑھتے ہیں: اے یحییٰ (علیه السلام)! کتاب خدا کو مضبوطی سے پکڑ لو (یا یحییٰ خذ الکتاب بقوة)۔ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہاں کتاب سے مراد "تورات" ہے یہاں تک کہ انہوں نے اس سلسلہ میں اجماع و اتفاق کا دعویٰ کیا ہے (بحوالہ: تفسیر "آلوسی" اورتفسیر "قرطبی" کی طرف زیربحث آیہ کی ذیل میں رجوع کریں)۔ لیکن بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ وہ خود ایک مخصوص کتاب رکھتے تھے۔ (داؤد کی زبور کی طرح ) البتہ وہ ایسی کتاب نہیں تھی کہ جو کسی نئے دین یا جدید مذہب کو پیش کرتی ہو۔ (بحوالہ: تفسیر "المیزان" کی طرف زیر بحث آیہ کے ذیل میں رجوع کریں)۔ بہرحال، کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ آسمانی کتاب تورات اور اس کے مطالب و احکام کا اجراء مکمل اور قطعی صورت میں عزم راسخ اور آہنی ارادہ کے ساتھ کریں، اس ساری کتا ب پر عمل کریں ،اسے عام کرنے کے لئے ہر قسم کی مادی و روحانی اور انفرادی و اجتماعی قوّت سے فائدہ اٹھائیں۔ اصولی طور پر کسی کتاب اور کسی مکتب و مسلک کو اس کے پیروکاروں کی قوت، طاقت اور قابلیت کے بغیر جاری نہیں کیا جا سکتا ہے یہ تمام مومنین اور اللہ کی راہ کے تمام راہیوں کے لیے ایک درس ہے۔ اس حکم بعد ان دس نعمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو خدا نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھیں یا انہوں نے توفیق الہٰی سے کسب کی تھیں: ۱۔ ہم نے اس کو بچپن میں فرمان نبوت اور عقل و ہوش و درایت عطاکی (واٰتینٰہ الحکم صبیّا)۔ ۲۔ ہم نے اسے اپنی طرف سے بندوں کے لیے رحمت و محبت بخشی (و حنانا من لّدنا) "حنان" اصل میں رحمت، شفقت، محبت اور لوگوں کے ساتھ تعلق و میلان کے اظہار کے معنی میں ہے۔ ۳۔ ہم نے اسے روح و جان اور عمل کی پاکیزگی عطا کی (و زکوٰة)۔ مفسرین نے "زکوة" کے مختلف معانی کیے ہیں بعض نے اس کے عمل صالح سے، بعض نے اطاعت و اخلاق سے، بعض نے ماں باپ سے نیکی کرنے سے، بعض نے حسن شہرت سے اور بعض نے پیروکاروں کی پاکیزگی سے تفسیر کی ہے۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ لفظ زکوة ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں یہ تمام پاکیزگیاں شامل ہیں۔ ۴۔وہ پرہیزگار تھے اور جو بات فرمان پرودردگار کے خلاف ہوتی تھی اس سے دوری اختیار کرتے تھے۔ (وکان تقیّا)۔ ۵۔ اسے ہم نے اپنے ماں باپ کے ساتھ خوش گفتار نیکوکار اور محبت کرنے والا پایا (و برّا بوالدیہ)۔ ۶۔وہ خلق خدا سے خود کو برتر سمجھنے والا اور ظالم و متکبر نہیں تھا (ولم یکن جباراً)۔ ۷۔وہ معصیت کار اور گناہ سے آلودہ نہیں تھا (عصیا)۔ ۸ ،۹ ،۱۰۔ اور چونکہ وہ ان عظیم افتخارات اور عمدہ صفات کا مالک تھا، لہذا جس دن پیدا ہوا اس دن بھی اور جس دن اس کو موت آئے اس دن بھی اور جس دن وہ دوبارہ زندہ کر کے قبر سے اٹھایا جائے گا اس دن بھی، اس پر ہمارا درود و سلام ہو، (وسلام علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا)۔
چند اہم نکات ۱۔ آسمانی کتاب قوت و طاقت کے ساتھ پکڑ لو:
جیسا کہ ہم کہہ چکےہیں۔ "یا یحییٰ خذ الکتاب بقوة" کے جملے میں لفظ "قوة" مکمل طور پر ایک وسیع معنی رکھتا ہے جس میں تمام مادی معنوی اور روحانی و جسمانی قوتیں جمع ہیں اور یہ چیز خود اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ دین الہٰی اور اسلام و قرآن کی حفاظت کمزوری سستی و کاہلی، لنگڑے لولے بن کر پڑے رہنے اور غفلت شعاری کے ساتھ ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ قوت و طاقت اور قاطعیت کے طاقتور قلعے کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہاں پر مخاطب حضرت یحییٰ (علیه السلام) ہیں لیکن قرآن مجید کے دوسرے مواقع پر یہ تعبیر دوسرے لوگوں کے لیے بھی صادق آتی ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ سورہ اعراف کی آیہ ۱۴۵میں حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ تورات کو قوّت کے ساتھ پکڑیں۔ فخذھا بقوة اور سورہ بقرہ کی آیہ۶۳ اور ۹۳ میں یہی خطاب تمام بنی اسرئیل کے لیے ہے۔ خذوا مااٰتیناکم بقوْة اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عام حکم ہے جو سب کے لیے ہے نہ کہ کسی خاص شخص یا اشخاص کے لیے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہی مفہوم دوسرے لفظوں میں سورہ انفال کی آیہ۶۰ میں تمام مسلمانوں کے لےi بیان ہوا ہے: واعدوا لھم مااستطعتم من قوّة جس قدر قوّت و طاقت تمہارے بس میں ہو دشمنوں کو مرعوب کرنے کے لیے فراہم کرو۔ بہرحال، یہ آیہ ان سب لوگوں کا جواب ہے کہ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ کمزوری اور ضعف کے ساتھ کوئی کام سرانجام دیا جا سکتا ہے یا جو یہ چاہتے ہیں کہ تمام حالات میں حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے مشکلات کو حل کریں۔
۲۔ انسان کی سرنوشت کے تین مشکل دن:
"سلام علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیاً" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کی زندگی تاریخ میں اور اس کے ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے میں تین دن بہت سخت ہیں: ا۔ اس دنیامیں قدم رکھنے کا دن (یوم ولد) ب۔ موت اور عالم برزخ کی طرف منتقل ہونے کا دن (یوم یموت) ج۔ اور دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے کا دن (یوم یبعث حیا) اور چونکہ ان تین انتقالی دنوں میں فطرتا کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا خدا وند تعالیٰ ان میں اپنے مخصوص بندوں کو سلامتی اور عافیت عطا فرماتا ہے اور انہیں ان تینوں طوفانی مرحلوں میں اپنی حمایت کے جلو میں لے لیتا ہے۔ اگرچہ قرآن مجید میں یہ تعبیر صرف دو مقام پر آتی ہے ایک حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے بارے میں اور دوسرے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں لیکن حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے بارے میں قرآن مجید کی یہ تعبیر ایک خاص امتیاز رکھتی ہے، کیوں کہ یہاں اس بات کا کہنے والا خدا ہے جب کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے لئے کہنے والے خود حضرت عیسیٰ (علیه السلام) ہیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے کہ: ان اوحش مایقوم علی ھذا الخلق فی ثلاث مواطن: یوم یلد و یخرج من بطن امہ فیری الدنیا، ویوم یموت فیعاین الاٰخرة واھلھا، ویوم یبعث حیا، فیری احکاما لم یرھا فی دار الدیناو قد سلم اللہ علی یحییٰ فی ھذہ المواطن الثلاث وآمن روعتہ فقال وسلام علیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کے لئے وحشتناک ترین مرحلے تین ہیں:۔ "اول" وہ دن کہ جس دن وہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی نظر دنیا پر پڑتی ہے۔ "دوسرے" وہ دن کہ جس میں وہ مرتا ہے اور آخرت اور اہل آخرت کو دیکھتا ہے۔ "تیسرے" وہ دن کہ جس میں وہ قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور وہ ایسے احکام اور قوانین دیکھے گا۔ کہ جو اس جہان میں حکم فرما نہیں تھے۔ خدا وند تعالیٰ نے ان تینوں مرحلوں میں سلامتی کو حضرت یحییٰ کے شامل حال کیا ہے اور انہیں وحشتوں کے مقابلے میں امن و امان اور راحت و آرام دیا اور فرمایا: و سلام علیہ۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج ۳، ص۷) بار الٰہا! ان تینوں حساّس اور بحرانی مراحل میں ہمیں بھی سلامتی مرحمت فرما۔
۳۔ بچپن میں نبوت:
یہ درست ہے کہ انسان کی عقل کے ارتقاء کا دور عام طور پر ایک خاص حد پر ہوتا ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انسانوں میں ہمیشہ ہی بعض مستثنی افراد موجود رہے ہیں تو اس بات میں کونسا امر مانع ہے کہ خدا وند تعالیٰ (عقل کے ارتقاء کے) اس دور کو بعض بندوں کے لئے کچھ مصالح کی بناء پر زیادہ مختصر کر دے اور کم سے کم عرصہ میں اسے مکمل کر دے جیسا کہ بچوں کے لیے بولنا سیکھنے کے لیے عام طور پر ایک دو سال کا گزرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بالکل ابتدائی دنوں میں بات کی، اور وہ ایسی بات تھی جو بہت ہی پر معنی تھی اور معمول کے مطابق بڑی عمر کے شایان شان تھی جیسا کہ، انشااللہ، آئندہ آیات کی تفسیر میں بیان ہو گا۔ یہاں سے یہ بات واضح جاتی ہے، کہ وہ اشکال جو کچھ افراد نے شیعوں کے بعض آئمہ کے بارے میں کیا ہے، کہ ان میں سے بعض کم عمری میں مقام امامت پر کیسے پہنچ گئے، درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں امام جواد حضرت محمد بن علی النقی علیہ السلام کے ایک صحابی سے کہ جس کا نام علی بن اسباط تھا منقول ہے کہ: میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا (جب کہ آپ کا سن بہت چھوٹا تھا) میں ان کے قد و قامت میں گم ہو گیا تاکہ اسے اپنے ذہن میں بٹھا لوں اور جب میں واپس مصر لوٹ کر جاؤں تو اپنے دوستوں سے اس بات کے کم و کیف کو بیان کروں عین اسی وقت جب کہ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ حضرت بیٹھ گئے (گویا آپ نے میری تمام سوچ کا مطالعہ کر لیا تھا) میری طرف رخ کیا اور فرمایا : اے علی بن اسباط! خدا تعالیٰ نے مسئلہ امامت میں جو کام کیا ہے وہ اسی کام کی طرح ہے کہ جو نبوت میں کیا ہے وہ فرماتا ہے:۔ واٰتیناہ الحکم صبیاً "ہم نے یحییٰ کو بچپن میں فرمان نبوت و عقل و دانش عطا کی۔" اور کبھی انسانوں کے بارے میں فرماتا ہے: حتّی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنة۔۔۔۔۔ "جس وقت انسان کامل" عقل کی حد بلوغ "چالیس سال کو پہنچ گیا -- - " بناء بریں جس طرح یہ بات ممکن ہے کہ خدا وند تعالیٰ کسی انسان کو حکمت و دانائی بچپن میں عطا فرما دے اسی طرح اس کی قدرت میں ہے کہ چالیس سال کی عمر میں دے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد۳، ص۳۲۵)۔ ضمنی طور پر یہ آیت ان اعتراض کرنے والوں کے لیے ایک دندان شکن جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام مردوں میں سے پیغمبر اکرمؐ پر ایمان لانے والے پہلے شخص نہیں تھے کیونکہ وہ تو اس وقت دس سال کے تھے اور دس سالہ بچے کا ایمان قابل قبول نہیں ہے۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی یہاں پر غیرمناسب نہیں ہو گا کہ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے: آپ کے بچپن کے زمانہ میں کچھ بچے آپ کے پاس آئے اور آپ سے کہا: اذھب بنا نلعب ہمارے ساتھ آؤ تاکہ ہم مل کر کھیلیں۔ تو آپ نے جواب میں فرمایا: ما للعب خلقنا ہم کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ اسی سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے: واٰ تیناہ الحکم صبیاً البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں "لعب" سے مراد بیہودہ اور فضول قسم کی سرگرمیاں ہیں دوسرے لفظوں میں بیہودہ مشاغل میں مشغول ہونا ہے لیکن کبحی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھیل کود کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ ایسا مقصد کہ جو منطقی و عقلی ہو تو مسلّمہ طور پر ایسے کھیل کود اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
۴۔ حضرت یحییٰؑ کی شہادت:
نہ صرف حضرت یحییٰؑ کی پیدائش تعجب خیز تھی بلکہ ان کی موت بھی کئی لحاظ سے عجیب تھی اکثر مسلمان مئورخین اور اسی طرح مشہور مسیح منابع ان کی شہادت کے واقعہ کو اس طرح نقل کرتے ہیں (اگرچہ اس کی خصوصیات میں کچھ تھوڑا بہت تفاوت دکھائی دیتا ہے): حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اپنے زمانے کے ایک طاغوت کے اپنی ایک محرم سے غیر شرعی روابط کے خلاف آواز کی بناء پر شہید ہوئے۔ ہوا یہ کہ "ہیروویس" فلسطین کا ہوس پرست بادشاہ تھا وہ اپنے بھائی کی بیٹی "ہیرودیا" پر عاشق ہو گیا وہ بہت خوبصورت تھی اس کے حسن نے ا س کے دل میں عشق کی آگ بھڑکا دی۔ بادشاہ نے اس سے شادی کرنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ یہ خبر جب خدا وندتعالیٰ کے پیغمبر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو پہنچی تو انہوں نے صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ یہ شادی ناجائز ہے اور تورات کے احکام کے خلاف ہے اور میں ایسے کام کی اپنی پوری طاقت کے ساتھ مخالفت کروں گا۔ اس مسئلہ کی تمام شہر میں شہرت ہو گئی، اور یہ خبر اس لڑکی "ہیرودیا" کے کانوں تک بھی پہنچ گئی وہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو اپنے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگی اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ کسی مناسب موقع پر ان سے انتقام لے گی اور اپنی ہواد ہوس کی راہ سے اس رکاوٹ کو ہٹا دے گی۔ اس نے اپنے چچا کے ساتھ اپنے راہ و رسم میں اضافہ کر دیا اور اپنے حسن و جمال کو اس کے لیے جال بنا دیا اور اس پر اس طرح سے اثر انداز ہو گئی کہ ایک دن ہیرودیس نے اس سے کہا کہ تیری جو بھی آرزو ہے مجھ سے مانگ تو جو چاہے گی وہ تجھے ملے گا۔ ہیرودیا نے کہا: میں یحییٰ کے سر کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کیونکہ اُس نے مجھے اور تجھے بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ تمام لوگ ہماری عیب جوئی کر رہے ہیں۔ اگر تو یہ چاہتا ہے کہ میرے دل کو سکون حاصل ہو اور میرا دل خوش ہو تو تجھے یہ کام انجام دینا چاہیئے۔ ہیرودیس جو اُس عورت کا دیوانہ تھا، انجام پر غور کیے بغیر یہ کام کرنے پر تیار ہو گیا اور ابھی دیر نہ گزری تھی کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سر اس بدکار عورت کو پیش کر دیا۔ لیکن آخرکار اس کے لیے اس کام کے ہولناک نتائج نکلے۔ (تشریحی نوٹ: بعض اناجیل اور کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیرودیس نے اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ کہ جو تورات کے مطابق ممنوع تھی شادی کر لی تھی اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اسے اس کام پر سخت لعنت ملامت کی۔ اس کے بعد اس عورت نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کے ذریعے ہیرودیس کو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے پر اکسایا۔ (بحوالہ: انجیل متی باب ۱۴، انجیل مرقس باب ۶ بند ۱۷، اور اس کے بعد تک)۔ اسلامی روایات میں ہے کہ سالار شہیداں امام حسین علیہ السلام فرماتے تھے: دنیا کی پستیوں میں سے یہ امر ہے کہ یحییٰ بن زکریا (علیه السلام) کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کے لئے ہدیہ کے طور پر لے جایا گیا تھا۔ یعنی میرے اور یحییٰ کے حالات اس لحاظ بھی ایک دوسرے سے مشابہہ ہیں کیونکہ میرے قیام کا ایک ہدف میرے زمانے کے طاغوت یزید کے شرمناک اعمال کے خلاف قیام ہے۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی ولادت:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3حضرت یحییٰ (علیه السلام) کا قصہ بیان کرنے کے بعد حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی ولادت کی داستان اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیه السلام) کا قصہ شروع کیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں قصوں کے درمیان بہت قریبی تعلق ہے۔ اگر حضرت یحییٰ (علیه السلام) کی پیدائش ایک ایسے بوڈھے اور ضعیف باپ سے اور ایک ایسی ماں سے جو بانجھ تھی، عجیب تھی تو حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے ماں سے پیدا ہو جانا اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے۔ اگر بچپن میں عقل اور نبوت کے مقام تک پہنچنا حیرت انگیز ہے۔ تو گہوارے میں گفتگو کرنا اور وہ بھی کتاب نبوت کے بارے میں، اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے۔ بہرحال، یہ دونوں خدا وند تعالیٰ کی ایسی نشانیاں ہیں جو ایک دوسرے سے بڑی ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایسے اشخاص کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جو نسب کی حیثیت سے بہت ہی قریبی رشتہ رکھتے تھے۔ کیونکہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ کی بہن تھی اور یہ دونوں خواتین بانجھ اور عقیم تھیں اور دونوں صالح اور نیک فرزند کی آرزو میں زندگی بسر کر رہی تھیں۔ پہلی زیر بحث آیت کہتی ہے: آسمانی کتاب قرآن مجید میں مریم کی بات کرو کہ جس وقت اس نے اپنے گھر والوں سے جدا ہو کر مشرقی حصہ میں قیام کیا۔ و اذکرفی الکتاب مریم اذانتبذت من اھلھامکانا شرقیا درحقیقت وہ ایک ایسی خالی اور فارغ جگہ چاہتی تھی جہان پر کسی قسم کا کوئی شور و غل نہ ہو تاکہ وہ اپنے خدا سے راز و نیاز میں مشغول رہ سکے اور کوئی چیز اسے یاد محبوب سے غافل نہ کرے، اسی مقصد کے لیے اس نے عظیم عبادت گاہ بیت المقدس کی مشرقی سمت کو جو شاید زیادہ آرام و سکون کی جگہ تھی یا سورج کی روشنی کے لحاظ سے زیادہ پاک و صاف اور زیادہ مناسب تھی، انتخاب کیا۔ لفظ "انتبذت" نبذ کے مادہ سے ہے راغب کے قول کے مطابق، جو چیزیں ناقابل ملاحظہ ہوں انہیں دور پھینکے کے معنی میں ہے اور مذکورہ بالا آیت میں یہ تفسیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مریم نے متواضعانہ اور گنامی کی صورت میں اور ہر قسم کے ایسے کام سے خالی ہو کر، جو توجہ کو اپنی طرف لے جائے، سب سے کنارہ کشی اختیار کی اور خانہ خدا کی اس جگہ کو عبادت کے لیے چنا۔ اس وقت مریم (علیہا السلام) نے "اپنے اور دوسروں کے درمیان ایک پردہ ڈال لیا" تاکہ اس کی خلوت گاہ ہر لحاظ سے کامل ہو جائے۔ (فاتخذت من دونھم حجابا) اس جملے میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئی کہ پر وہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا۔ آیا اس مقصد کے لیے تھا کہ زیادہ شور و غل سے یکسوئی کے ساتھ پروردگار کی عبادت اور اس سے راز و نیاز کر سکے یا اس لیے تھا کہ نہائیں دھوئیں اور غسل کریں، آیت اس لحاظ سے خاموش ہے۔ بہرحال، اس وقت ہم نے اپنی "روح" (جو بزرگ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے) اس کی طرف بھیجی اور وہ بےعیب خوبصورت اور کامل انسان کی شکل میں مریم (علیہا السلام) کے سامنے ظاہر ہوئی (فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویّا)۔ ظاہر ہے ایسے موقع پر مریم (علیها السلام) کی کیا حالت ہو گی۔ وہ مریم (علیها السلام) کہ جس نے ہمیشہ پاکدامنی کی زندگی گزاری، پاکیزہ افراد کے دامن میں پرورش پائی اور تمام لوگوں کے درمیان عفت و تقویٰ کی ضرب المثل تھی، اس پر اس قسم کے منظر کو دیکھ کر کیا گزری ہو گی۔ ایک خوبصورت اجنبی آدمی اس کی خلوت گاہ میں پہنچ گیا تھا۔ اس پر بڑی وحشت طاری ہوئی فوراً پکاری کہ میں خدائے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں کہ مجھے تجھ سے بچائے اگر تو پرہیزگار ہے۔ (قالت انی اعوذ باالرحمن منک ان کنت تقیا) اور یہ خوف ایسا تھا کہ جس نے مریمؑ کے سارے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ خدائے رحمن کا نام لینا اور اس کی رحمت عامہ کے ساتھ توصیف کرنا ایک طرف اور اسے تقویٰ اور پرہیز گاری کی تشویق کرنا دوسری طرف، یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ اگر وہ اجنبی آدمی کوئی برا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کنڑول کرے اور سب سے بڑھ کر خدا کی طرف پناہ لینا، وہ خدا کہ جو انسان کے لیے سخت ترین حالات میں سہارا اور جائے پناہ ہے اور کوئی قدرت اس کی قدرت کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ حضرت مریم (علیه السلام) یہ بات کہنے کے ساتھ اس اجنبی آدمی کے ردّعمل کی منتظر تھیں۔ ایسا انتظار جس میں بہت پریشانی اور وحشت کا رنگ تھا، لیکن یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہ رہی، اس اجنبی نے گفتگو کے لیے زبان کھولی اور اپنی عظیم ذمہ داری اور ماموریت کو اس طرح سے بیان کیا اس نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں (قال انما انا رسول ربک)۔ اس جملہ نے اس پانی کی طرح جو آگ پر چھڑکا جاتا ہے حضرت مریم (علیها السلام) کے پاکیزہ دل کو سکون بخشا لیکن یہ سکون زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا کیونکہ اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: میں اس لئے آیا ہوں کہ تمیں ایک ایسا لڑکا بخشوں جو جسم و روح اور اخلاق و عادات کے لحاظ سے پاک و پاکیزہ ہو (لاھب لک غلاما زکیا)۔ یہ بات سنتے ہی مریم (علیها السلام) کانپ اٹھیں وہ پھر ایک گہری پریشانی میں ڈوب گئیں اور کہا کہ "یہ بات کیسے ممکن ہے کہ میرے کوئی لڑکا ہو حالانکہ کسی انسان نے اب تک مجھے چھوا تک نہیں اور میں ہرگز کوئی بدکار عورت بھی نہیں ہوں" (قالت انی یکون لی غلام ولم یمسنی بشرو لم اک بغیا)۔ وہ اس حالت میں صرف معمول کے اسباب کے مطابق سوچ رہی تھیں کیونکہ کوئی عورت صاحب اولاد ہو، اس کے لیے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ شادی کرے یا بدکاری اور انحرف کا راستہ اختیار کرے، میں تو خود کو کسی بھی دوسرے شخص سے بہتر طور پر جانتی ہوں نہ تو ابھی تک میرا کوئی شوہر ہے اور نہ ہی میں کبھی منحرف عورت رہی ہوں۔ اب تک تو یہ بات ہرگز سننے میں نہیں آئی کہ کوئی عورت ان دونوں صورتوں کے سوا صاحبِ اولاد ہوئی ہو۔ لیکن جلدی ہی اس نئی پریشانی کا طوفان بھی پروردگار عالم کے قاصد کی ایک دوسری بات سننے سے تھم گیا۔ اس نے مریم سے صراحت کے ساتھ کہا: "مطلب تو یہی ہے کیونکہ تیرے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ کام میرے لیے سہل اور آسان ہے" (قال کذالک قال ربک ھو علی ھین)۔ تُو تو اچھی طرح میری قدرت سے آ گاہ ہے، تو نے تو بہشت کے وہ پھل جو دنیا میں اس فصل میں ہوتے ہی نہیں اپنے محراب عبادت کے پاس دیکھے ہیں، تو نے تو فرشتوں کی وہ آوازیں سنی ہیں جو تیری پاکیزگی کی شہادت کے لیے تھیں۔ تجھے تو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرے جدِ امجد آدمؑ مٹی سے پیدا ہوئے۔ پھر یہ کیسا تعجب ہے جو تجھے اس خبر سے ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اُس نے مزید کہا: ہم چاہتے ہیں کہ اُسے لوگوں کے لیے آیت اور ایک معجزہ قرار دیں (ولنجعلہ اٰیة للناس)۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے اپنے بندوں کے لیے اپنی طرف سے رحمت قرار دیں (ورحمة منا)۔ بہرحال، یہ فیصلہ شدہ امر ہے اور اس میں گفتگو کی گنجائش نہیں ہے (وکان امراء مقضیا)۔
چند اہم نکات: ۱۔ روح خدا سے کیا مراد ہے؟
تقریباً تمام مشہور مفسرین نے یہاں پر رُوح کی خدا وند تعالیٰ کے بزرگ فرشتے جبرائیل سے تفسیر کی ہے اور اسے روح سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ روحانی ہے۔ وہ ایک ایسا وجود ہے جو حیات بخش ہے۔ چونکہ وہ انبیاء و مرسلین کے پاس خدا وند تعالیٰ کی رسالت کا پہنچانے والا ہے لہذا تمام لائق انسانوں کے لیے حیات بخش ہے اور یہاں پر رُوح کی خدا کی طرف اضافت اس رُوح کی عظمت و شرافت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اضافت ایک قسم اضافتِ تشریفیہ ہے۔ ضمنی طورپر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل کا نازل ہونا ابنیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، البتہ شریعت اور کتب آسمانی لانے کے لیے وحی کے عنوان سے صرف اُنہیں کے اوپر نازل ہوا کرتا تھا لیکن دوسرے پیغام پہنچانے کے لیے (جیسا کہ مذکورہ بالا پیغام حضرت مریمؑ کو پہنچایا) کوئی مانع نہیں ہے کہ ابنیاء کے علاوہ دوسروں کے سامنے بھی ظاہر ہو۔
۲۔ "تمثل" کیا ہے؟
"تمثل" اصل میں مادہ مثول سے کسی شخص یا چیز کے سامنے کھڑا ہونے کے معنی میں ہے، اس ممثل اس چیز کو کہتے کہ جو کسی دوسرے کی شکل میں ظاہر ہو۔ اس بنا پر "تمثل لھا بشراٰ سویا" کا مفہوم یہ ہے کہ وہ خدائی فرشتہ انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس گفتگو کا یہ معنی نہیں ہے کہ جبرئیل صورت اور سیرت کے اعتبار سے بھی ایک انسان میں بدل گیا تھا کیونکہ اس قسم کا انقلاب اور تبدیلی ممکن نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ (ظاہر) انسان کی شکل میں نمودار ہوا، اگرچہ اس کی سیرت وہی فرشتے جیسی تھی، لیکن حضرت مریم (علیها السلام) کو ابتدائی امر میں چونکہ یہ خبر نہیں تھی لہذا انہوں نے یہی خیال کیا تھا کہ ان کے سامنے ایک انسان ہے جو باعتبار صورت بھی انسان ہے اور باعتبار سیرت بھی انسان ہے۔ اسلامی روایات اور تواریخ میں "تمثل" اس لفظ کے وسیع معنی میں بہت نظر آتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ: جس دن مشرکین مکہ دارالندرہ میں جمع ہوئے تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نابود کرنے کے لیے سازش کر رہے تھے ابلیس ایک خیر اندایش و خیر خواہ بوڑھے آدمی کے لباس میں ظاہر ہوا اور سرداران قریش کو بہکانے میں مشغول ہو گیا۔ یا دوسری روایت یہ ہے کہ دنیا اور اس کی باطنی حالت حضرت علی علیہ السلام کے سامنے ایک حسین و جمیل دلربا عورت کی شکل میں ظاہر ہوئی، لیکن وہ آپ پر کچھ بھی اثر نہ کر سکی۔ یہ واقعہ مفصل اور مشہور ہے۔ تیسری روایات میں یہ بھی ہے کہ انسان کا مال و اولاد اور عمل موت کے وقت مختلف اور مخصوص چہروں میں اس کے سامنے مجسم ہوتے ہیں۔ چوتھے یہ کہ انسان کے اعمال قبر میں اور قیامت کے دن مجسم ہو کر ظاہر ہوں گے اور ہر عمل ایک خاص شکل میں ظاہر ہو گا۔ ان تمام مواقع پر تمثل کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز یا کوئی شخص ظاہری طور پر دوسرے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے نہ یہ کہ اس کا باطن یا اس کی ماہیت ہی تبدیل ہو جاتی ہے (بحوالہ: تفسیرالمیزان، جلد ۱۴، ص ۳۷)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر مریم (علیه السلام) سخت طوفانوں کے تھپڑوں میں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3"سرانجام مریم حاملہ ہو گئی" اور اُس موعود بچے نے اس کے رحم میں جگہ پائی (فحملتہ)۔ اس بارے میں کہ یہ بچہ کس طرح وجود میں آیا، کیا جبرئیل نے مریمؑ کے پیرہن میں پھونکا یا ان کے منہ میں، قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی اگرچہ مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بہرحال، اس امر کے سبب و ہ بیت المقدس سے کسی دور دراز مقام پر چلی گئی (فانتبذت بہ مکانا قصیا)۔ وہ اس حالت میں ایک امید وہم کے درمیان پریشانی و خوشی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ وقت گزار رہی تھی، کبھی وہ یہ خیال کرتی کہ آخرکار یہ حمل ظاہر ہو جائے گا، مانا کہ چند دن یا چند مہینے ان لوگوں سے دور رہ لوں گی اور اس مقام پر ایک اجنبی کی طرح زندگی بسر کر لوں گی مگر آخر کار کیا ہو گا۔ کون میری بات قبول کرے گا کہ ایک عورت بغیر شوہر کے حاملہ ہو گئی۔ سوائے اس کے کہ اس کا دامن آلودہ ہو، میں اس اتہام کے مقابلہ میں کیا کروں گی۔ واقعاً وہ لڑکی کہ جو سالہا سال سے پاکیزگی و عفت اور تقویٰ و پرہیز گاری کی علامت تھی اور خدا کی عبادت و بندگی میں نمونہ تھی، جس کے بچپنے میں کفالت کرنے پر بنی اسرائیل کے زاہد و عابد فخر کرتے تھے اور جس نے ایک عظیم پیغمبر کے زیر نظر پرورش پائی تھی، خلاصہ یہ ہے کہ جس کے اخلاق کی دھوم اور پاکیز گی کی شہرت ہر جگہ پہنچی ہوئی تھی اُس کے لیے یہ بات بہت ہی دردناک تھی کہ ایک دن وہ یہ محسوس کرے کہ اُس کا یہ سب معنوی سرمایہ خطرے میں پڑ گیا ہے، اور وہ ایک ایسی تہمت کے گرداب میں پھنس گئی ہے کہ جو بدترین تہمت شمار ہوتی ہے۔ ْاور یہ تیسرا لزرہ تھا کہ جو اس کے جسم پر طاری ہوا۔ لیکن دوسری طرف وہ یہ محسوس کرتی تھی کہ یہ فرزند خدا وند تعالیٰ کا موعود پیغمبر ہے۔ یہ ایک عظیم آسمانی تحفہ ہو گا، وہ خدا کہ جس نے مجھے ایسے فرزند کی بشارت دی ہے اور ایسے معجزانہ طریقے سے اسے پیدا کیا ہے مجھے اکیلا چھوڑے گا! کیا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس قسم کے اتہام کے مقابلہ میں میرا دفاع نہ کرے؟ میں نے تو اس کے لطف و کرم کو ہمیشہ آزمایا ہے اور اس کا دستِ رحمت ہمیشہ اپنے سر پر دیکھا ہے۔ اس بات پر کہ مریم (علیهاالسلام) کی مدت حمل کس قدر تھی، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، اگرچہ قرآن میں سر بستہ طور پر بیان ہوا ہے (پھر بھی) بعض نے اُسے ایک گھنٹہ، بعض نے نو گھنٹے بعض نے چھ ماہ بعض نے سات ماہ بعض نے آٹھ ماہ اور بعض نے دوسری عورتوں کی طرح نو مہینے کہا ہے، لیکن یہ موضوع اس واقعے کے مقصد پر اثر نہیں رکھتا۔ روایات بھی اس سلسلہ میں مختلف ہیں۔ اِس بارے میں کہ یہ جگہ "قصی" (دُور دراز) کہاں تھی، بہت سے لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ شہر "ناصرہ" تھا اور شاید اس شہر میں بھی وہ مسلسل گھر ہی میں رہتی تھیں اور بہت کم باہر نکلتی تھیں۔ جو کچھ بھی تھا مدّت حمل ختم ہوئی اور مریم کی زندگی کے طوفانی لمحات شروع ہو گئے انہیں سخت دردزہ کا آغاز ہو گیا۔ ایسا درد جو انہیں آبادی سے بیابان کی طرف لے گیا۔ ایسا بیابان جو انسان سے خالی، خشک اور بےآب تھا۔ جہاں کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ اگرچہ اس حالت میں عورتیں اپنے قریبی اعزّہ کی پناہ لیتی ہیں تاکہ وہ بچہ کی پیدائش کے سلسلہ میں ان کے مدد کریں، لیکن مریم کی حالت چونکہ ایک استثنائی کیفیت تھی، وہ ہرگز نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی ان کے وضع حمل کو دیکھے لہذا دردزہ کے شروع ہوتے ہی انہوں نے بیابان کی راہ لی۔ قرآن اس سلسلہ میں کہتا ہے: وضع حمل کا وہ درد اسے کھجور کے درخت کے پاس کھینچ کر لے گیا۔ (فاجائھا المخاض الی جذع النخلة)۔ "جذع النخلة" کی تعبیر: اس بات کو مدّنظر ہوئے کہ "جذع" درخت کے تنا کے معنی میں ہے، یہ نشاندہی کرتی ہے کہ: اس درخت کا صرف تنہ باقی رہ گیا تھا یعنی وہ خشک شدہ درخت تھا۔ (تشریحی نوٹ: "جذع" بروزن "ذبح" اصل میں "جذع" (بروزن منع) سے ہے جس کا معنی کاٹنا اور قطع کرنا ہے)۔ اِس حالت میں غم و اندوہ کا ایک طوفان تھا جو مریم (علیهاالسلام) کے پُورے وجود پر طاری تھا، انہوں نے محسوس کیا کہ جس لمحے کا خوف تھا وہ آن پہنچا ہے ایسا لحظہ کہ جس میں وہ سب آشکار ہو جائے گا جو اب تک چھپا ہوا ہے اور بےایمان لوگوں کی طرف سے ان پر تہمت کے تیروں کی بارش شروع ہو جائے گی۔ یہ طوفان اس قدر سخت تھا اور یہ باران کے دوش پر اتنا سنگین تھا کہ بےاختیار ہو کر بولیں، اے کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور بالکل بھلا دی جاتی۔ (قالت یالیتنی مت قبل ھذٰوکنت نسیا منسیا)۔ یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت مریم (علیها السلام) کو صرف آئندہ کی تہمتوں کا خوف ہی نہیں تھا کہ جو ان کے دل کو بےچین کیے ہوئے تھا، بلکہ انہیں سب سے زیادہ فکر اس بات کا تھا کہ دوسری مشکلات بھی تھیں۔ کسی دایہ اور ہمدم و مددگار کے بغیر وضع حمل، سنسان بیابان میں بالکل تنہائی، آرام کے لیے کوئی جگہ نہ ہونا، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لئے غذا کا فقدان اور نومولود کے لیے نگہداشت کے کسی وسیلے کا نہ ہونا یہ ایسے امور تھے کہ جنہوں نے انہیں سخت پریشان کرر کھا تھا۔ اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم (علیها السلام) نے ایمان اور توحید کی ایسی معرفت کے ہوتے ہوئے اور خدا وند تعالیٰ کے اتنے لطف و کرم اور احسانات دیکھنے کے باوجود ایسا جملہ زبان پر کیسے جاری کیا کہ "اے کاش میں مر گئی ہوتی اور فراموش ہو چکی ہوتی" انہوں نے اس وقت میں جناب مریم (علیها السلام) کی حالت کا تصور ہی نہیں کیا۔ اور اگر وہ خود ان مشکلات میں سے کسی چھوٹی سی مشکل میں بھی گرفتار ہو جائیں تو ان کے ایسے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے کہ انہیں خود اپنی بھی خبر نہ رہے گی اور وہ خود کو بھی بھول جائیں گے۔ لیکن یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہ رہی اور اُمید کا وہی روشن نقطہ جو ہمیشہ ان کے دل کی گہرائیوں میں رہتا تھا چمکنے لگا۔ یکایک ایک آواز اُن کے کانوں میں آئی جو اُن کے پاؤں کے نیچے سے بلند ہو رہی تھی اور واضح طور پر کہہ رہی تھی کہ غمگین نہ ہو۔ ذرا غور سے دیکھ تیرے پروردگار نے تیرے پاؤں کے نیچے ایک خوشگوار پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے۔ (فنادٰ ھامن تحتھا ان لاتحزنی قد جعل ربک تحتک سریا)۔ ایک نظر اپنے سر کے اوپر ڈالو اور غور سے دیکھو کہ کس طرح خشک تنہ بارآور کھجور کے درخت میں تبدیل ہو گیا ہے، کہ پھلوں نے اس کی شاخوں کو زینت بخشی ہے اور اس کھجور کے درخت کو ہلاؤ تاکہ تازہ کھجوریں تم پر گرنے لگیں (وھزی الیک بجدع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا)۔ اس لذیذ اور قوت بخش غذا میں سے کھاؤ اور اس خوشگوار پانی میں سے پیو (فکلی واشربی)۔ اور اپنی آنکھوں کو اس نومولود سے روشن رکھو (وقرّی عینا)۔ اور اگر آیندہ کے حالات سے پریشانی ہے تو مطمئن رہو۔ جب تم کسی بشر کو دیکھو اور وہ تم سے اس بارے میں وضاحت چاہے تو اشارہ کے ساتھ اس سے کہہ دینا کہ میں نے خدائے رحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے، خاموشی کا روزہ اور اس سبب سے میں آج کسی سے بات نہیں کروں گی (فاما ترین من البشر احدا فقولی انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلّم الیوم انسیا)۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ تم آپ اپنا دفاع کرو۔ وہ ذات کہ جس نے یہ مولود تمہیں عطا کیا ہے، اس نے تیرے دفاع کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد کر دی ہے اس لیے تم ہر طرح سے مطمئن رہو اور غم و اندوہ کو اپنے دل میں جگہ نہ دو۔ ان پے درپے واقعات نے جو ایک انتہائی تاریک فضا میں روشن شعلوں کی طرح چمکنے لگے تھے، ان کے دل کو پوری طرح روشن کر دیا تھا اور انہیں ایک سکون بخش دیا تھا۔
چند اہم نکات ۱۔ حضرت مریم (علیه السلام) کی مشکلات میں تربیت:
وہ حادثات جو اس مختصر سی مدّت میں حضرت مریم (علیها السلام) پر گزرے اور لطف خدا کے ایسے حیرت انگیز مناظر جو ان کے سامنے آئے، وہ مسلمہ طور پر اُنہیں ایک اولوالعزم پیغمبر کی پرورش کے لیے تیار کر رہے تھے۔ تاکہ وہ اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے اپنی مادری ذمہ داریوں کو اچھی طرح ادا کر سکیں۔ حادثات کی رفتار انہیں مشکلات کے آخری مرحلہ تک یہاں لے گئی یہاں تک کے انہیں اپنے اور زندگی کے اختتام کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ دکھائی نہ دیتا۔ لیکن اچانک ورق اُلٹ جاتا ہے اور تمام چیزیں ان کی مدد کے لیے دوڈ پڑتیں ہیں اور وہ ہر لحاظ سے آرام و سکون اور مطمئن ماحول میں قدم رکھ دیتیں۔ "ھزّی الیک بجذع النخلة" کا جملہ کہ جو حضرت مریم (علیها السلام) کو یہ حکم دے رہا ہے کہ وہ کھجور کے درخت کو ہلائیں تاکہ اس کے پھل سے فائدہ اٹھائیں، انہیں اور تمام انسانوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ زندگی کے سخت ترین لمحات میں بھی تلاش اور کوشش سے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ یہ بات اُن لوگوں کا جواب ہے کہ جو یہ سوچتے ہیں کہ اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ مریم (علیها السلام) اس حالت میں کہ انہیں ابھی ابھی وضع حمل ہوا تھا، اٹھیں اور کھجور کے درخت کو ہلائیں؟ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ وہ خدا جس کے حکم سے خشک درخت بھی بارآور ہو گیا، ہوا کو بھہیج دیتا تاکہ وہ درخت کی شاخوں کو ہلاتی اور مریم (علیها السلام) کے گردا گرد کھجوریں گراتی، یہ کیا ہوا کہ جب مریم (علیها السلام) صحیح و سالم تھیں تو جنت کے پھل ان کی محراب کے پاس آ جاتے لیکن اس وقت جبکہ وہ اس شدید مشکل میں گرفتار تھیں تو انہیں خود پھل چُننے پڑے؟ ہاں: مریم (علیها السلام) کو خدا وند تعالیٰ کا یہ حکم اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جب تک ہماری طرف سے حرکت نہیں ہو گی کوئی برکت نہیں ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں ہر شخص کو مشکلات کے وقت زیادہ کوشش کرنی چاہیے اور اس کے علاوہ وہ جو باتیں اس کی قدرت و طاقت سے باہر ہیں ان کے لیے خدا وند تعالیٰ کے حضور میں دعا کرے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا: برخیز و فشاں درخت خرما تا سیر شوی رسی ببارش کان مریم تا درخت نفشاند خرما نفتاد در کنارش
۲۔ مریم (علیه السلام) نے موت کی تمنا کیوں کی؟
اس میں شک نہیں ہے کہ خدا وند تعالیٰ سے موت کا تقاضا کرنا اچھا کام نہیں ہے لیکن کبھی انسان کی زندگی میں ایسے سخت حادثات بھی پیش آ جاتے ہیں کہ جس سے زندگی کا ذائقہ بالکل تلخ اور ناگوار ہو جاتا ہے۔ خصوصا ایسے مواقع پر کہ جہاں انسان، مقدس مقاصد یا اپنے شرف و حیثیت کو خطرے میں دیکھتا ہے اور دفاع کی طاقت نہیں رکھتا، ایسے مواقع پر بعض اوقات روحانی اذیت سے رہائی کے لیے موت کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اس قسم کے افکار جو شاید ہی مختصر سی مدت کے لیے صورت پذیر ہوئے تھے زیادہ دیر تک نہ رہے اور خدا وند تعالیٰ کے دو معجزات یعنی پانی کا چشمہ پھوٹنے اور کھجور کا خشک درخت بارآور ہوتے دیکھا تو تمام افکار برطرف ہو گئے، اور اطمینان و سکون کا نور ان کے دل پر چھا گیا۔
۳۔ ایک سوال کا جواب
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر معجزہ انبیاء اور آئمہ کے ساتھ مخصوص ہے تو پھر جناب مریم (علیها السلام) کے لیے ایسے معجزات کیونکر ظہور پذیر ہوئے۔ بعض مفسرین نے اس سوال کے جواب کے لیے ان کو حضرت عیسٰیؑ کے معجزات میں سے قرار دیا ہے کہ جو تمہید کے طور پر وقوع پذیر ہوئے تھے اور وہ انہیں "ارھاص" سے تعبیر کرتے ہیں (ارھاص مقدمہ کے طور پر ظاہر ہونے والے معجزے کے معنی میں ہے)۔ لیکن اس قسم کے جوابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معجزات کا ظہور انبیاء اور آئمہ کے علاوہ کسی کے لیے کوئی مانع نہیں رکھتا، یہ وہی چیز ہے کہ جیسے ہم کرامت کہتے ہیں۔ معجزہ وہ ہے کہ جس میں "تحدی" یعنی چیلنج ادّعائے نبوت و امامت کے ساتھ ہو۔
۴۔ خاموشی کا روزہ:
مذکورہ بالا آیات کا ظاہری مفہوم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مریم (علیها السلام) ایک خاص مصلحت کی خاطر خاموشی پر مامور تھیں اور خدا وند تعالیٰ کے حکم سے اس خاص مدّت میں بات کرنے سے اجتناب کر رہی تھیں تاکہ ان کا نومولود بچہ عیسٰی (علیه السلام) بات کرنے کے لیے لب کشائی کرے اور ان کی پاکیزگی کا دفاع کرے، کیونکہ یہ بات ہر لحاظ سے مؤثر تر اور بہت سے امور پر محیط تھی۔ لیکن آیت کی تعبیر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نذر سکوت (خاموشی کے روزے کی منت ماننا) اس قوم اور جمیعت کے لیے ایک جانا پہچانا نام تھا، اسی وجہ سے اس کام کے لیے انہوں نے جناب مریم (علیها السلام) پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ لیکن اس قسم کا روزہ شریعت اسلام میں مشروع اور جائز نہیں ہے۔ حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے: صوم السکوت حرام خاموشی کا روزہ حرام ہے (بحوالہ: وسائل اشیعہ،جلد ۷، ص ۳۹۰) یہ بات ظہور اسلام کے زمانے اور اس زمانے کی شرائط میں اختلاف اور فرق کی و جہ سے ہے۔ ہاں البتہ اسلام میں کامل روزہ کے آداب میں سے ایک بات یہ ہے کہ انسان روزے کی حالت میں اپنی زبان کو گناہ اور مکروہات کی آلودگی سے بچائے اور اسی طرح اپنی آنکھوں کو ہر قسم کی آلودگی سے بند رکھے، جیسا کہ ہم امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: ان الصوم لیس من الطعام والشراب وحدہ، ان مریم قالت انی نذرت للرحمن صوما، ای صمتا، فاحفظو السنتکم و غضوا ابصارکم ولاتحاسدوا ولاتنازعوا: روزہ صرف کھانے اور پینے سے ہی نہیں ہے، حضرت مریم (علیها السلام) نے کہا: کہ میں نے خدائے رحمن کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے یعنی خاموش رہنے کی، اس بناء پر (جب تم روزہ کی حالت میں ہو تو) اپنی زبان کی حفاظت کرو،: اپنی آنکھو ں کو ہر اس چیز سے کہ جس میں گناہ ہو بند رکھو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جھگڑ انہ کرو (بحوالہ: من لایحضرہ الفقیہ طبق نقل تفسیر نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۲)
۵۔ ایک قوت بخش غذا:
اس بات کہ مذکورہ بالا آیات میں صراحت کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے حضرت مریم (علیها السلام) کے لیے نومولود کی پیدائش کے وقت ان کی غذا رطب (کھجور) کو قرار دیا ہے، مفسرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عورتوں کے لیے وضع حمل کے بعد بہترین غذاؤں میں سے ایک رطب (تازہ کھجور) ہے۔ اسلامی احادیث میں اس مطلب کی طرف صراحت کے ساتھ اشارہ ہوا ہے: امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے: لیکن اول ما تاٰکل النفساء الرطب فان اللہ عزّو جل قال لمریم و ھزی الیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا۔ پہلی چیز جو عورت کو وضع حمل کے فوراً بعد کھانی چاہئے وہ رطب (تازہ کھجور) ہے کیونکہ خدائے عزوجل نے مریم (علیها السلام) سے فرمایا خرمے کے درخت کو ہلا تاکہ تازہ کھجویں تجھ پر گریں (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۰)۔ اسی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس غذا کا کھانا نہ صرف ماں کے لیے موئثر ہے بلکہ اس کے دودھ کے لئے بھی مفید ہے۔ یہاں تک کہ چند ایک روایات سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ عورت کے لیے بہترین غذا اور اس کی دوا رطب ہے: ماتاکل الحامل من شیء ولاتتداوی بہ افضل من الرطب (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۰) لیکن مسلمہ طور پر ہر چیز اور اسی طرح اس موضوع میں بھی اعتدال کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیئے، جیسا کہ بعض روایات میں بیان ہوا ہے، جو اسی بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ نیز یہ بھی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر تازہ کھجوریں نہ مل سکیں تو پھر عام کھجوروں سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ غذاؤں پر تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے: کھجور میں جو بکثرت شکر پائی جاتی ہے وہ ہر قسم کی شکر کی نسبت کامل تر ہے یہاں تک کہ بہت سے مواقع پر شوگر کے مریض بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہی ماہرین کہتے ہیں کہ انہوں نے کھجور میں۱۳ حیاتی اجزا، اور پانچ قسم کے وٹامن معلوم کیے ہیں کہ جنہوں نے مجموعی طور پر کھجور کو ایک بھرپور غذائی منبع کی صورت دے دی ہے (بحوالہ: اولین دانش گاہ و آخریں پیغمبر، جلد ۷، ص۶۵) نیز یہ بات ہم جانتے ہیں کہ ایسی حالت میں عورتوں کو قوت بخش اور وٹامن سے بھرپور غذاؤں کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ علم طب کی ترقی کے ساتھ ساتھ دوا کی حیثیت سے کھجور کی اہمیت بھی ثابت ہو گئی ہے کھجور میں کیلشیم موجود ہے کہ جو ہڈیوں کی مضبوطی کا اصل عامل ہے نیز اس میں فاسفورس بھی پایا جاتا ہے کہ جو مغز کو تشکیل دینے والے اصلی عناصر میں سے ہے اور اعصاب کے ضعف اور خستگی کو دور کرنے والا ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں پوٹاشیم بھی موجود ہے جس کی بدن میں کمی کو زخم معدہ کا حقیقی سبب سمجھا جاتا ہے (بحوالہ: اولین دانش گاہ آخرین پیغمبرؐ، جلد ۷، ص ۶۵)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت مسیح (علیه السلام) کی گہوارے میں باتیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3آخرکار حضرت مریم (علیها السلام) اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیابان سے آبادی کی طرف لوٹیں اور اپنی قوم اور رشتہ داروں کے پاس آئیں (فاتت بہ قومھا تحملہ)۔ جونہی انہوں نے ایک نومولود بچہ ان کی گود میں دیکھا تعجب کے مارے ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ لوگ کہ جو مریم (علیها السلام) کی پاکدامنی سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے تقویٰ و کرامت کی شہرت کو سن چکے تھے سخت پریشان ہوئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو شک و شبہ میں پڑ گئے اور بعض ایسے لوگ کہ جو فیصلہ کرنے میں جلد باز تھے انہوں نے اسے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہنے لگے اس بدکاری کے ساتھ تمہارے روشن ماضی کو بہت افسوس ہے اور صد افسوس اس پاک خاندان پر کہ جو اس طرح بدنام ہوا۔ کہنے لگے۔ اے مریمؑ! تو نے یقیناً بہت عجیب اور بُرا کام انجام دیا ہے (قالوا یامریم لقد جئت شیئا فریّا)۔ (تشریحی نوٹ: فری۔ کتاب مفردات میں راغب کے قول کی بناء پر عظیم یا عجیب کے معنی میں ہے اور اصل میں فری کے مادہ سے چمڑے کی (چادر خراب کرنے کیلئے) پارہ پارہ کرنے کے معنی میں ہے) بعض نے ان کی طرف رخ کیا اور کہا: "اے ہارون کے بہن تیرا باپ تو کوئی بُرا آدمی نہیں تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہیں تھی"۔ (یا اخت ھارون ما کان ابوک امرا سوء وما کانت امّک بغیّا)۔ ایسے پاک و پاکیزہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے ہم یہ تیر ی کیا حالت دیکھ رہے ہیں تو نے اپنے باپ کے طریقہ اور ماں کے چلن میں کونسی برائی دیکھی تھی کہ تو نے اس سے روگردانی کی! یہ بات کہ جو انہوں نے مریم (علیها السلام) سے کہی کہ "اے ہارون کی بہن" مفسرین کے درمیان مختلف تفاسیر کا موجب بنی ہے، لیکن جو بات سب سے زیادہ صحیح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہارون ایک ایسا پاک و صالح آدمی تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے درمیان ضرب المثل ہو گیا تھا۔ وہ جس شخص کا پاکیزگی کے ساتھ تعارف کروانا چاہتے تھے تو اس کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہارون کا بھائی ہے یا ہارون کی بہن ہے۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اس معنی کو ایک مختصر حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۳) ایک حدیث میں کہ جو کتاب "سعد العود" میں آئی ہے اس میں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے مغیرہ کو (عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے) نجران بھیجا تو عیسائیوں کی ایک جماعت نے قرآن پر اعتراض کے طور پر کہا: کیا تم اپنی کتاب میں یہ نہیں پڑھتے ہو "یااخت ھارون" حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہارون سے مراد حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے بھائی ہیں تو مریم (علیها السلام) اور ہارون کے درمیان تو بہت فاصلہ تھا۔ مغیرہ چونکہ جواب نہ دے سکا۔ لہذا اس نے اس بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا: تو نے ان کے جواب میں یہ کیوں نہ کہا کہ بنی اسرائیل کے درمیان یہ معمول تھا کہ نیک افراد کو انبیاء اور صالحین کے ساتھ نسبت دیا کرتے تھے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۳)۔ اس وقت جناب مریم (علیها السلام) نے خدا وند تعالیٰ کے حکم سے خاموشی اختیار کی، صرف ایک کام جو انہوں نے انجام دیا یہ تھا کہ اپنے نومولود بچے عیسٰیؑ کی طرف اشارہ کیا (فاشارت الیہ)۔ لیکن اس کام نے ان کے تعجب کو اور بھی برانگیختحہ کر دیا اور شاید ان میں سے بعض نے اس کو ان کے ساتھ ٹھٹھہ کرنے پر محمول کیا اور وہ غصے میں آ کر بولے: اے مریمؑ! ایسا کام کر کے تو اپنی قوم کا مذاق بھی اڑا رہی ہے۔ بہرحال، انہوں نے اس سے کہا: ہم ایسے بچے کے ساتھ کہ جو ابھی گہوارہ میں ہے کیسے باتیں کریں۔ (قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا) مفسرین نے لفظ "کان" کے بارے میں کہ جو ماضی پر دلالت کرتا ہے اس مقام پر بہت بحث کی ہے لیکن ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر یہ لفظ موجود وصف کے ثبوت و لزوم کے لیے ہے اور وہ واضح الفاظ میں انہوں نے جناب مریم (علیها السلام) سے یہ کہا ہم اس بچے سے کہ جو ابھی تک گہوارے میں ہے کیسے بات کریں؟ قرآن مجیدکی دوسری آیات اس معنی پر شاہد ہیں مثلاً: کنتم خیر امة اخرجت اللناس "تم بہترین امت ہو کہ جو انسان معاشرے کے فائدہ کے لیے وجود میں آئے ہو۔ (آل عمران۔آیت۱۱۰)۔ مسلمہ طور پر لفظ "کنتم" (تم تھے) یہاں پر ماضی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی معاشرے کے لیے ان صفات کے تسلسل اور ثبوت کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے "مھد" (گہوارہ) کے بارے میں بھی بحث کی ہے، کہ ابھی تک حضرت عیسٰی (علیه السلام) گہوارہ تک نہیں پہنچے تھے، بلکہ آیات کا ظاہر یہ ہے کہ حضرت مریم (علیها السلام) کے اس جمیعت کے پاس پہنچتے ہی، جبکہ حضرت عیسٰی (علیه السلام) ان کی آغوش میں تھے، ان کے اور لوگوں کے درمیان باتیں ہوئیں۔ لیکن لغت عربی میں لفظ "مھد" کے معنی کی طرف توجہ کرتے ہو ئے اس کے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ لفظ "مھد" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے ایسی جگہ کے معنی میں ہے کہ جو بچے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ چاہے وہ گہوارہ ہو یا ماں کی گود یا بستر اور مھد اور مھاد دونوں ہی لغت میں (المکان المھد الموطاء): (آرام اور سونے کے لیے) تیار کی ہوئی اور بچھی ہوئی جگہ کے معنی میں۔ بہرحال، وہ لوگ اس کی یہ بات سن کر پریشان ہو گئے، اور بلکہ شاید غضب ناک ہو گئے۔ جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا کہ اس کا تمسخر اور استہزاء کرنا، جادہ عفت و پاکدامنی سے اس کے انحرف کی نسبت ہمارے لیے زیادہ سخت اور سنگین تر ہے۔ لیکن یہ حالت زیادہ دیر تک قائم نہ رہی۔ کیونکہ اس نومولود بچے نے بات کرنے کے لیے زبان کھولی اور کہا: میں اللہ کا بندہ ہوں (قال انی عبداللہ) اس نے مجھے آسمانی کتاب مرحمت فرمائی ہے (اٰتانی الکتاب) اور مجھے پیغمبر قرار دیا ہے (وجعلنی نبیا)۔ اور خدا نے مجھے ایک بابرکت وجود قرار دیا ہے، خواہ میں کہیں بھی ہوں میرا وجود بندوں کے لیے ہر لحاظ سے مفید ہے (وجعلنی مبارکا اینما کنت) اور اس نے مجھے نماز پڑھتے رہنے اور زکوة دینے کی وصیت کی ہے (واو صانی بالصلوة و الزکوٰة ماد مت حیا) اور اس کے علاوہ اپنی والدہ کے بارے میں نیکوکار، قدردائی کرنے والا اور خیر خواہ قرار دیا ہے (و برّا بولدتی)۔ (تشریحی نوٹ: "بر" (باء پر زبر کے ساتھ) نیکوکار شخص کے معنی میں ہے جبکہ "بر" (باء کی زیرکے ساتھ) نیکوکاری صفت کے معنی میں ہے۔ اور اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ لفط اوپر والی آیت میں مبارکا پر عطف ہے نہ کہ صلوٰة و زکوة پر اور فی الواقع معنی اس طرح ہے ’(جعلنی برابوالدتی “ (مجھے اپنی والدہ کے لیے نیکوکار قرار دیا گیا ہے)۔ اور اس نے مجھے جبار و شقی قرار نہیں دیا ہے (ولم یجعلنی جبار اشقیا)۔ "جبار" اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے لیے تو لوگوں پر ہر قسم کے حقوق کا قائل ہو۔ لیکن کسی دوسرے کے لیے اپنے اوپر کسی بھی حق کا قائل نہ ہو۔ اس کے علاوہ "جبار" اس شخص کو بھی کہتے ہیں کہ جو غیض و غضب کے عالم میں لوگوں کو مارتا اور نابود کرتا ہو۔ اور فرمان عقل کی پیروی نہ کرتا ہے ہو یا وہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی کمی اور نقص کو تکبیر اور بڑائی کے دعوے کے ذریعہ پورا کرے۔ یہ ساری کی ساری صفات ایسی ہیں جو ہر زمانے کے طاغوتوں اور متکبرین سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں (تشریحی نوٹ: جبار کے بارے میں مزید وضاحت اور اس سوال کے جواب کے لیے کہ کس طرح خدا کی ایک صفت جبار ہے تفسیر نمونہ کی جلد نہم ص ۱۴۳ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔ "شقی" اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو مصیبت و بلا اور سزا کے اسباب اپنے لیے فراہم کرتا ہے اور بعض نے کہا اس سے مراد ایسا شخص ہے جو نصیحت قبول نہیں کرتا ظاہر ہے کہ یہ دونوں معانی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسٰی فرماتے ہیں: میرا دل نرم ہے اور میں اپنے آپ کو اپنے نزدیک چھوٹا سمجھتا ہوں (بحوالہ: تفسیر فخرالدین رازی ذیل آیہ زیر بحث) یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں صفات جبار و شقی کا نقطہ مقابل ہیں۔ آخر میں یہ نومولود کہتا ہے: "خدا کا مجھ پر سلام و درود ہو اس دن کہ جب میں پیدا ہوا اور اس دن کہ جب میں مروں گا اور اس دن کہ جب میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا"۔ (والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا)۔ جیسا کہ ہم نے حضرت یحییٰ (علیه السلام) سے مربوط آیات کی شرح میں بیان کیا ہے، یہ تین دن انسان کی زندگی میں۔ زندگی ساز اور خطرناک دن ہیں کہ جن میں سوائے لطف خدا کے سلامتی میسر نہیں ہوتی۔ اسی لیے حضرت یحییٰ کے بارے میں بھی یہ جملہ آیا ہے اور حضرت عیسٰی مسیح (علیه السلام) کے بارے میں بھی، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ پہلے موقع پر خدا وند تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے اور دوسرے موقع پر حضرت مسیح (علیه السلام) نے یہ تقاضا کیا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ قرآن کا حسن بیان اور ولادت عیسی (علیه السلام):
قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت اس قسم کے اہم مسائل میں خصوصیت کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔ دیکھیئے کس طرح قرآن اس قدر خرافات سے مخلوط اہم مسئلہ کو مختصر، گہری، زندہ، پُر معنی، منہ بولتی اور ناطق عبارتوں کے ساتھ پیش کرتا ہے اس طرح کہ ہر قسم کی خرافات اور بیہودہ باتوں کو اس سے علیحدہ اور دُور کر دیتا ہے۔ جاذب نظر بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں سات صفات، دو اعمال اور ایک دعا کا ذکر ہوا ہے۔ سات صفات کی تفصیل یہ ہے: پہلی صفت: خدا کا بندہ ہونا کہ جس کا ذکر تمام اوصاف کی ابتدا میں ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کا عظیم ترین مقام مقام عبودیت ہے۔ دُوسری صفت: اُس کے بعد کتاب آسمانی کا حامل ہونا ہے۔ تیسری صفت: مقام نبوت ہے (البتہ ہم جانتے ہیں کہ مقام نبوت کے لیے یہ بات لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ آسمانی کتاب کا حامل ہو)۔ چوتھی صفت: مقام عبودیت اور رہبری کے بعد مبارک ہونے کا بیان ہے یعنی معاشرے کی حالت کے لیے مفید ہونے کو پیش کیا گیا ہے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ مبارک کا معنی نفاع ہے (یعنی زیادہ نفع مند ہونا)۔ پانچویں صفت: ماں کے لیے نیکو کاری بیان کی گئی ہے۔ چھٹی اور ساتویں صفت: جبار و شقی نہ ہونا اور ان کے بجائے متواضع، حق شناس اور سعادت مند ہونا ہے۔ تمام کاموں میں سے صرف دو یعنی پروردگار عالم کی طرف سے نماز و زکوة کی وصیت کے بیان پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ان دونوں پروگراموں اور کاموں کی انتہائی اہمیت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں کام خالق و مخلوق کے ساتھ ارتباط کی رمز ہیں۔ ایک لحاظ سے تمام مذہبی پروگراموں کو انہیں دو میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان میں سے بعض انسان کا رشتہ مخلوق سے اور بعض خالق سے جوڑتے ہیں۔ اب رہ گئی وہ دُعا کہ جو وہ اپنے لیے کرتے ہیں اور وہ التجا جو وہ اپنی زندگی کے آغاز میں خدا سے کرتے ہیں، یہ ہے: یار ِخدایا! ان تین دنوں کو میرے لیے سلامتی والا قرار دے اول ولادت کا دن، دوسرے موت کا دن، تیسرے وہ دن جبکہ قیامت میں مجھے زندہ ہونا ہے اور مجھے ان تینوں حساس مرحلوں میں امن و امان مرحمت فرما۔
۲۔ ماں کا مقام:
اگرچہ حضرت عیسٰیؑ پروردگار عالم کے نافذ کردہ فرمان سے ماں سے، بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ لیکن یہ بات کہ مذکورہ بالا آیت میں وہ اپنے افتخارات کو گنتے ہوئے ماں کے لیے نیکوکاری کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات ماں کے مقام اور رتبہ کی اہمیت پر ایک روشن دلیل ہے۔ ضمنی طور پر یہ اس بات کی بھی نشان دہی ہے کہ یہ نومولود بچہ ایک معجزہ کے مطابق بول اٹھا ہے۔ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ انسا نوں کے لیے ایک نمونہ ہے کہ جو صرف ماں سے پیدا ہوا ہے اور اس میں باپ کا دخل نہیں ہے۔ بہرحال، اگرچہ آج کی دنیا میں ماں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ (سال میں) ایک دن کو روز مادر (ماں کا دن) کے نام سے مخصوص کر دیا گیا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مشینی تمدن کی وضع کچھ ایسی ہے کہ یہ ماں باپ کا اولاد سے ربط بہت ہی جلدی منقطع کر دیتا ہے۔ اس طرح سے بڑا ہونے کے بعد ادلاد میں یہ رابطہ احساس بہت ہی کم باقی رہتا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلام میں حیرت انگیز روایات ہیں جو مسلمانوں کو ماں کے مقام و مرتبہ کی اہمیت کے بارے میں بہت زیادہ وصیت کرتی ہیں۔ تاکہ صرف زبانی طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی وہ اس سلسلہ میں کوشش کریں۔ ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: یا رسول اللہ من ابر؟ قال امک، قال ثم من؟ قال امک، قال ثم من، قال امک، قال ثم من قال اباک۔ اے پیغمبر خدا! میں کس کے ساتھ نیکی کروں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ عرض کیا اس کے بعد کس سے؟ پھر فرمایا اپنی ماں سے۔ تیسری مرتبہ اس نے پھر عرض کیا اس کے بعد کس سے؟ فرمایا اپنی ماں سے۔ چوتھی مرتبہ جب اس سوال کو دہرایا تو آپؐ نے فرمایا: اپنے باپ سے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد ۱۵، ص ۲۰۷)۔ ایک اور حدیث میں یہ منقول ہے کہ ایک نوجوان جہاد میں شرکت کے لیے پیغمبرؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (چونکہ جہاد واجب عینی نہیں تھا اس لیے) رسول اللہؐ نے فرمایا: الک والدة قال نعم قال فالزمھا فان الجنة تحت قدمھا کیا تیری ماں زندہ ہے؟ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ماں کی خدمت میں رہو کیونکہ جنت ماؤں کے پاؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ (بحوالہ: جامع السعادات، جلد ۲، ص ۲۶۱)۔ اِس میں شک نہیں کہ اگر ہم اُن بےشمار زحمتوں کو، جو ماں حمل کے زمانے میں، وضع حمل تک پھر دودھ پلانے کے زمانے میں اور۔ دیکھ بھال کرنے میں اس کے بڑے ہونے تک برداشت کرتی ہے اور طرح طرح کے رنج اور دکھ میں راتوں کے جاگنے اور اس کی بیماریوں میں فرزند کے لیے کھلی آغوش کے ساتھ لگی رہنے کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ انسان اس راہ میں جس قدر بھی کوشش کرئے وہ ماں کے حقوق کے بارے میں قرضدار ہے۔ جاذبِ نظر بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ جناب اُمِ سلمہ پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: تمام افتخارات تو مردوں کے حصے میں آ گئے بیچاری عورتوں کا ان اعزازات میں کیا حصہ ہے؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلی اذا حملت المرئة کانت بمنزلة الصائم القائم المجاھد بنفسہ ومالہ فی سبیل اللہ فاذا وضعت کان لھا من الاجر ما لایدری احد ما ھو لعظمتہ، فاذا ارضعت کان لھا بکل مصّة کعدل عتق محرر من ولد اسمٰعیل فاذا فرغت من رضاعہ ضرب ملک کریم علی جنبھا وقال استئانفی العمل فقد غفر لک: ہاں (عورتیں بھی بہت سے اعزاز رکھتی ہیں) جس وقت عورت حاملہ ہوتی ہے تو وہ تمام مدت حمل میں روزہ دار، شب زندہ دار اور جان و مال کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے کی منزلت میں ہوتی ہے اور جس وقت اس کا وضع حمل ہوتا ہے، اللہ اس قدر اجر دیتا ہے کہ کوئی شخص عظمت کی بناء پر اس کی حد کو نہیں جانتا اور جس وقت وہ اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے تو خدا وند تعالیٰ بچے کی طرف سے ہر چوسنے کے مقابلے میں اولادِ اسمعیل (علیه السلام) میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر عطا کرتا ہے اور جس وقت بچے کے دودھ پلانے کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے تو خدا کے مکرم فرشتوں میں سے ایک اس کے پہلو پر ہاتھ مارتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے اعمال کو نئے سرے سے شروع کر کیونکہ خدا وند تعالیٰ نے تیرے سب گناہ بخش دیئے ہیں۔ (گویا تیرا نامہ عمل نئے سرے سے شروع ہو رہا ہے) (بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج۱۵، ص ۱۸۵)۔ تفسیر نمونہ کی جلد٦ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بھی ہم نے اس سلسلہ کی کچھ بحثیں کی ہیں۔
۳۔ باکرہ سے بچہ پیدا ہونا:
مذکورہ بالاآیات سے ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا علمی لحاظ سے یہ بات ممکن ہے کہ باپ کے بغیر بچہ پیدا ہو۔ کیا حضرت عیسٰی (علیه السلام) کا صرف اکیلی ماں سے پیدا ہونے کا مسئلہ اس بارے میں سائنس دانوں کی تحقیقات کے مخالف نہیں ہے؟ اِس میں شک نہیں کہ یہ کام معجزانہ طور پر ظہور پذیر ہوا تھا،لیکن موجووہ زمانے کا علم اور تحقیق اس قسم کے امر کے امکان کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کے ممکن ہونے کی تصریح کرتا ہے۔ خاص طور پر نر کے بغیر بچہ پیدا ہونا بہت سے جانوروں میں دیکھا گیا ہے اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ نطفے کے انعقاد کا مسئلہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے اس امر کے امکان کو عمومی حیثیت سے ثابت کرتا ہے۔ "ڈاکٹر الکیس کارل" مشہور فرانسی فزیالوجسٹ اور حیات شناس اپنی کتاب "انسان موجود ناشناختہ" میں لکھتا ہے: جس وقت ہم اس بارے میں غور کرتے ہیں کہ تولید مثل میں ماں باپ کا کتنا حصّہ ہے تو ہمیں "لوب"اور "باٹایون"کے تجربوں کو بھی نظر میں رکھنا چایئے کہ مینڈک کے بارور نہ ہوتے ہوئے چھوٹے سے تخم کو سپر ماٹوزا کے دخل کے بغیر ہی خاص ٹکنیک کے ذریعہ ایک جدید مینڈک کو وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ اس ترتیب سے کہ ممکن ہے کہ کیمسٹری یا فزکس کے ایک عامل کو "نر سیل" کا جانشین بنا دیا جائے لیکن ہر حالت میں ہمیشہ ایک عامل مادہ کا وجود ضروری ہے۔ اس بناء پر وہ چیز کہ جو سائنسی لحاظ سے بچے کے تولد میں قطعیت رکھتی ہے وہ ماں کے نطفہ (اوول ) کا وجود ہے ورنہ نر کے نطفہ (سپرماٹوزا) کی جگہ پر دوسرا عامل اس کا جانشین بنایا جا سکتا ہے۔ اسی بناء پر نر کے بغیر بچے کی پیدائش کا مسئلہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آج کی دنیا میں ڈاکٹروں کے نزدیک قابل قبول قرار پا چکی ہے، اگرچہ ایسا اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ مسئلہ خدا وند تعالیٰ کے قوانین آفرینش کے سامنے ایسا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکو ن: عیسٰی (علیه السلام) کی مثال خدا کے نزدیک آدمؑ جیسی ہے کہ اُسے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ بھی ایک کامل موجود ہو گیا۔ (اٰل عمران۔۵۹)۔ یعنی یہ خارق عادت اس خارق عادت سے زیادہ نہیں ہے۔
۴۔ نوزائیدہ بچہ کس طرح بات کر سکتا ہے؟
یہ بات کچھ کہے بغیر ظاہر ہے کہ معمول یہ ہے کہ کوئی نوزائیدہ بچہ تولد کے ابتدائی گھنٹوں یا دنوں میں بات نہیں کرتا، کیونکہ بات کرنا دماغ کی کافی نشونما اور اس کے بعد زبان و حنجرہ کے عضلات کا بڑھنا اور انسانی بدن کے مختلف اعضاء کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا محتاج ہے۔ اور ان امور کے لیے حسب معمول کئی مہینے گزرنے چاہیں تاکہ یہ بتدریج اور آہستہ آہستہ بچوں میں فراہم ہوں۔ لیکن پھر کوئی علمی دلیل اس امر کے محال ہونے پر ہمارے پاس نہیں ہے صرف یہ ایک غیر معمولی کام ہے اور تمام معجزات اسی قسم کے ہوتے ہیں یعنی سب ہی غیر معمولی کام ہوتے ہیں نہ کہ محال عقلی، اس امر کی تشریح ہم نے انبیاء کے معجزات کی بحث میں کر دی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کیا خدا کا بیٹا ممکن ہے؟
قرآن مجید سابقہ آیات میں عیسیٰ (علیه السلام) کی پیدائش کے واقعہ کی بہت ہی عمدہ اور روشن و واضح تصویر کشی کرنے کے بعد ان شرک آمیز باتوں اور خرافات کی نفی کرتے ہوئے جو ان لوگوں نے عیسی ٰ(علیه السلام) کے بارے میں کہی ہیں اس طرح کہتا ہے: "یہ ہے عیسی ٰ(علیه السلام) ابن مریم " (ذالک عیسی ابن مریم) اس عبارت میں ان کے مریم کا بیٹا ہونے پر خصوصیت کے ساتھ تاکید کرتا ہے۔ تاکہ یہی بات خدا کا بیٹا ہونے کی نفی کی تمہید اور مقدمہ بن جائے۔ اور اس کے بعد مزید کہتا ہے "وہ قول حق ہے کہ جس میں انہوں نے شک کا اظہار کیا ہے اور ہر ایک نے انحراف کی راہ اختیار کر لی ہے"۔ (قول الحق الذی فیہ یمترون)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملے کی ترکیب میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے، لیکن ادبی لحاظ سے اور گزشتہ آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بات زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ "قول الحق" مفعول ہے فعل محذوف کا اور "الذی فیہ یمترون" اس کی صفت ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا۔ "اقول قول الحق الذی فیہ یمترون" میں حق کی بات کہتا ہوں جس میں وہ شک کرتے ہیں) یہ عبارت درحقیقت حضرت عیسی ٰ(علیه السلام) کے بارے میں تمام گزشتہ مطالب کی صحت پر ایک تاکید ہے اور یہ کہ ان مطالب میں تھوڑی سی بھی غلطی نہیں ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ قرآن جو یہ کہتا ہے کہ: وہ اس بارے میں شک و شبہ میں ہیں، یہ حضرت مسیح (علیه السلام) کے دوستوں اور دشمنوں یا دوسرے الفاظ میں عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک طرف سے ایک گمراہ گروہ نے ان کی والدہ کی پاکیز گی میں شک و شبہ کیا، اور دوسری طرف سے ایک گروہ نے ان کے ایک انسان ہونے میں اظہار شک کیا، یہاں تک کہ پھر یہی گروہ مختلف شعبوں اور قسموں میں تقسیم ہو گیا۔ بعض نے انہیں صراحت کے ساتھ خدا کا بیٹا سمجھ لیا (روحانی و جسمانی اعتبار سے حقیقی بیٹا نہ کہ مجازی) اور اس کے ساتھ تین خداؤں اور تثلیث کا مسئلہ اٹھا۔ بعض نے مسئلہ تثلیث کو عقلی طور پر ناقابل فہم کہہ کر یہ اعتقاد رکھ لیا کہ اسے تعبد اً قبول کر لیا جائے اور بعض نے اس کی منطقی توجیہہ کے لیے بےبنیاد باتوں پر ہاتھ مارا۔ خلاصہ یہ کہ جب وہ حقیقت کو نہ پا سکے، یا جب انہوں نے حقیقت کو اختیار نہ کرنا چاہا تو افسانے کی راہ پر چل نکلے۔ (تشریحی نوٹ: نصاریٰ کی تثلیث اور اس بارے میں جو خرافات انہوں نے گھڑے ہیں ان کی مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد۲، سورہ نساء کی آیہ۱۷۱۔ص ٦۵۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔ اگلی آیت میں قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے: خدا کے لیے یہ امر ہرگز شائستہ نہیں ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، وہ ایسی باتوں سے پاک اور منزہ ہے (ما کان للہ ان یتخذ من ولد سبحانہ) بلکہ وہ تو جس وقت بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ (اذا قضی فانما یقول لہ کن فیکون)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صاحب فرزند ہونا۔ جیسا کہ عیسائی خدا کے بارے میں خیال کرتے ہیں۔ پروردگار عالم کے مقام مقدس سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ ایک طرف تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ اس کا جسم ہو، دوسری طرف سے محدودیت اور تیسری طرف سے احتیاج، خلاصہ یہ ہے کہ ان کے عقیدے کا نتیجہ خدا وند تعالیٰ کو اس کے مقام سے کھینچ کر عالم مادہ کے قوانین کے ماتحت لانا اور اسے ایک۔ ضعیف و محدود مادی وجود کے زمرہ میں قرار دینا ہے۔ وہ ایک خدا کو جو اس قدر قدرت و توانائی رکھتا ہے کہ اگر وہ ارادہ کرے تو اس وسیع و عریض عالم کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں کی مانند ہزار ہا عالم مخص اس کے ایک فرمان اور صرف اشارہ سے عالم ظہور میں آ جائیں۔ کیا یہ بات شرک نہیں ہے اور توحید و خدا شناسی سے انحراف نہیں ہے کہ ہم اسے ایک انسان کی طرف صاحب فرزند سمجھ لیں اور وہ بھی ایسا بیٹا کہ جو باپ کا ہم مرتبہ اور ہم پلہ ہو۔ "کن فیکون" کی تفسیر جو قرآن مجید کی آیات میں آٹھ مواقع پر آئی ہے، امر خلقت میں خدا وند تعالیٰ کی قدرت کی وسعت اور اس کے تسلط و حاکمیت کی بہت ہی عمدہ تصویر ہے فرمان "کن" کی تعبیر سے زیادہ مختصر نہیں ہو سکتا ہے اور کوئی نتیجہ "فیکون" سے زیادہ جامع نظر نہیں آتا۔ (خصوصا "فاء تفریح" کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو اس مقام پر فوری عمل درآمد کو ظاہر یکرتی ہے یہاں تک کہ اس مقام پر فاء تفریح فلاسفہ کی تعبیر کے مطابق تاخر زمانی پر بھی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ اسی تاخر رتبی کو بیان کرتی ہے جو معلول کے علت پر ترتب میں پائی جاتی ہے (غور کیجئے گا)۔
فرزند کی نفی یعنی خُدا سے ہر قسم کے احتیاج کی نفی:
اصولی طور پر زندہ موجودات کو اولاد و فرزند کی احتیاج کس لیے ہوتی ہے؟ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کی عمر محدود ہوتی ہے اور اس غرض سے کہ ان کی نسل منقطع نہ ہو اور ان کی حیات نوعی جاری و ساری رہے؛ لہذا ضرورت ہے اس بات کی کہ ان سے اولاد پیدا ہو۔ اجتمائی نقطہ نظر سے ایسے کام جن میں انسانی قوت کے اکٹھا مل کر سرانجام دینے کی ضرورت ہوتی ہے اس بات کا زیادہ سبب بنتی ہے کہ انسان کا تعلق فرزند کے ساتھ قائم رہے۔ اس کے علاوہ جذباتی و نفسیاتی ضرورتیں اور نتہائی کی وحشت کو دور کرنے کی احتیاج اسے اس کام کی دعوت دیتی ہے۔ لیکن اس خدا کے بارے میں کہ جو ازلی و ابدی ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اور نہ جذباتی و نفسیاتی احتیاج کا مسئلہ اس کی پاک ذات کے لیے کوئی مفہوم رکھتا ہے، کیا یہ امور تصور کیے جا سکتے ہیں؟ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ وہ لوگ جو خدا کے لیے فرزند کے قائل ہیں انہوں نے اس کا اپنے اوپر قیاس کر لیا ہے اور انہوں نے اس میں بھی وہی باتیں سمجھ لی ہیں کہ جن باتوں کو وہ اپنے اندر سمجھتے ہیں حالانکہ ہماری کوئی بھی چیز خدا کی مانند نہیں ہے (لیس کمثلہ شیء)۔ (تشریحی نوٹ: "کن فیکون" کے معنی کے بارے میں اور خدا سے نفی کے دلائل سے متعلق ہم جلد اول سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۶ اور ۱۱۷ کے ذیل میں بھی بحث کر چکے ہیں)۔
پہلی ہجرت کے بارے میں ایک اہم تاریخی نکتہ:
پہلی ہجرت جو اسلام میں واقع ہوئی وہ مسلمانوں کے ایک اچھے خاصے گروہ کی حبشہ کی طرف ہجرت تھی۔ یہ گروہ چند مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھا۔ انہوں نے مشرکین قریش کے چنگل سے رہائی پانے اور اسلام کے آئندہ کے پروگراموں پر عمل درآمد اور زیادہ سے زیادہ تیاری کرنے کے لیے حبشہ کے قصد سے مکہ کو چھوڑ دیا، اور جیسا کہ ان کا اندازہ تھا، وہاں پر انہیں یہ موقع مل گیا کہ امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اسلامی پروگراموں اور خودسازی کے کاموں میں مشغول ہو سکیں۔ یہ خبر مکہ میں قریش کے سرداروں تک بھی پہنچ گئی۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اپنے لیے خطرے کا الارم سمجھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ حبشہ مسلمانوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن جائے گا اور شاید وہ قوت و طاقت حاصل کرنے کے بعد مکہ کی طرف پلٹ آئیں، اور ان کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر دیں۔ صلاح و مشورہ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ فعال مردوں میں سے دو افراد کو منتخب کر کے نجاشی کے پاس بھیجیں تاکہ وہ وہاں پر مسلمانوں کے وجود کے خطرات کے بارے میں نجاشی کو تفصیل سے آگاہ کریں اور انہیں اس اطمینان و سکون کی سرزمین سے باہر نکال دیں۔ قریش نے عمرو بن عاص اور عبداللہ ابن ابی ربیعہ کو نجاشی اور اس کے لشکر کے بڑے بڑے افسروں کے لیے بہت سے ہدیوں اور تحفوں کے ساتھ روانہ کیا۔ ام سلمہ زوجہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم فرماتی ہیں کہ ہم جب سرزمین حبشہ میں پہنچے تو ہم نے نجاشی کا حسن سلوک دیکھا۔ ہمیں کسی قسم کی مذہبی پابندی نہیں تھی، کوئی ہمیں تکلیف نہیں پہنچاتا تھا۔ لیکن قریش نے اس مسئلہ سے آگاہ ہونے کے بعد دو آدمیوں کو بہت سے ہدایا و تحائف کے ساتھ بھیج کر انہیں یہ حکم دیا تھا کہ خود نجاشی سے ملاقات کرنے سے پہلے اس کے بڑے بڑے منصب داروں سے ملاقات کرنا اور ان کے ہدیے اور تحائف انہیں پیش کرنا، اس کے بعد نجاش کے ہدایا اور تحائف کو اس کی خدمت میں پیش کرنا اور اس سے یہ تقاضا کرنا کہ مسلمانوں کو ان سے کوئی بات کیے بغیر ان کے سپرد کر دیں۔ انہوں نے اس پروگرام پر پورا پورا عمل کیا۔ پہلے نجاشی کے منصب داروں سے مل کر انہیں یہ بتایا کہ:چند بےوقوف جوانوں کے ایک گروہ نے تمہارے سرزمین میں پناہ لے لی ہے، انہوں نے اپبا دین و آئین ترک کر دیا ہے اور تمہارے دین میں بھی شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے ایک نئے دین کو بدعت کے طور پر جاری کیا ہے جو ہمارے اور تمہارے لیے غیر معروف ہے۔ اشراف قریش نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ ہم ان کے شر کو اس ملک سے کم کر دیں اور انہیں ان کی قوم کی طرف واپس لوٹا دیں۔ انہوں نے منصب داروں سے یہ وعدہ لے لیا کہ جس وقت نجاشی ان سے مشورہ کرے تو وہ اس نظریے کی تائید کریں گے اور اس سے یہ کہیں گے کہ ان کی قوم ان کے حالات سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نجاشی کے دربار میں باریابی حاصل کی اور وہی پر فریب باتیں اس سے بھی کہیں۔ ان کا یہ پروگرام بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اور ان کی یہ پرفریب باتیں ان بکثرت ہدایا و تحائف کے ساتھ سبب بنی کہ نجاشی کے مصاحبین نے بھی ان کی تائید و تصدیق کر دی۔ اچانک ورق الٹا اور نجاشی سخت غضب ناک ہوا اور کہنے لگا خدا کی قسم میں ایسا کام نہیں کروں گا۔ یہ ایک ایسا گروہ ہیں کہ جنہوں نے میری پناہ لی ہے، اور انہوں نے میرے ملک کوا س کے امن و امان کی و جہ سے دوسرے ملکوں پر ترجیح دی ہے۔ جب تک میں انہیں دعوت نہ دے لوں اور تحقیق نہ کرلوں میں تمہاری اس تجویز پر عمل نہیں کروں گا۔ اگر واقعا معاملہ اسی طرح ہوا کہ جیسے یہ کہتے ہیں تو پھر میں انہیں ان دو افراد کے حوالے کر دوں گا او ر انہیں اپنے ملک سے نکال دوں گا ورنہ میری پناہ محبت میں خیر و خوبی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ جناب ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نجاشی نے کسی کو مسلمانوں کے پاس بھیجا۔انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ نجاشی سے کیا کہا جائے؟ ان سب کی رائے یہ ٹھہری کہ وہ صحیح صحیح حقیقت بیان کر دیں اور پیغمبر اکرم صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام اور اسلام کے پروگرام کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیں پھر جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے۔ وہ دن کہ جو اس دعوت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، وہ ایک عجیب و غریب د ن تھا۔عیسائی بزرگ اور مسیحی علماء بھی جو اپنے ہاتھوں میں مقدس کتابیں لیے ہوئے تھے اس مجلس میں مدعو کیے گئے تھے۔ نجاشی نے مسلمانوں کی طرف رخ کیا اورا ن سے پوچھا، یہ کونسا دین ہے کہ تم اپنی قوم سے بھی الگ ہو گئے ہو اور ہمارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو؟ جناب جعفر بن ابی طالب نے سلسلہ کلام شروع کیا اور کہا: اے بادشاہ! ہم ایک ایسا گروہ تھے جو جہالت اور بےخبری میں زندگی بسر کرتے تھے، بتوں کو پوجتے تھے مردار کا گوشت کھاتے تھے، برے اور سنگین کام انجام دیتے تھے،اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے بدی کرتے تھے، ہمسایوں کے ساتھ براسلوک کرتے تھے، طاقتور کمزورں کو کھا جاتے تھے، خلاصہ یہ کہ ہماری بدبختی بہت زیادہ تھی۔ یہاں تک کہ خدا وند تعالیٰ نے ہم ہی میں سے ایک پیغمبر کو مبعوث فرمایا کہ جس کے نسب کو ہم اچھی طرح سے پہچانتے تھے، اور اس کی صداقت، امانت اور پاکیزگی پر ہم ایمان رکھتے تھے اس نے ہمیں خدائے یگانہ کی طرف دعوت دی اور ہمیں حکم دیا کہ ہم پتھر اور لکڑی کی پرستش کو جنہیں ہمارے بڑے پوجا کرتے تھے چھوڑ دیں۔ اُس نے ہمیں سچ بولنے، ادائے امانت، صلہ رحمی، ہمسایوں سے نیکی کرنے کی کرنے کی ہدایت کی اور محرمات، خونریزی، برُے اور شرمناک اعمال، جھوٹی گواہی، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانے سے منع کیا ہے۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہم خدائے یگانہ کی پرستش کریں،کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں، نماز اور روزہ بجا لائیں اور زکوة ادا کریں۔ ہم اس پر یمان لے آئے ہیں اور ہم نے اس کے احکام پر عمل کیا ہے، لیکن ہماری قوم نے ہم پر ظلم اور زیادتی شروع کر دی، ہمیں تکلیفیں اور رنج پہنچائے اور اصرار کیا کہ ہم توحید کا عقیدہ چھوڑ کر شرک کی طرف پلٹ جائیں اور اپنی اسی سابقہ گناہ آلود زندگی میں مشغول ہو جائیں۔ جب انہوں نے ہمیں ہر طرح سے تنگ کیا اور ستایا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آگئے اور ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم آپ کے ہمسائے بن جائیں، اس امید کے ساتھ کہ کوئی شخص یہاں ہم پر ظلم ستم نہیں کرے گا۔ نجاشی فکر میں پڑ گیا۔جعفر کی طرف رخ کیا اور کہا: کیا اس شخص کی آسمانی کتاب کی کوئی چیز تجھے یاد ہے۔ جناب جعفر نے کہا: ہاں! نجاشی نے کیا:مجھے سناؤ۔ جناب جعفر نے جو عقل و دانش اور دولت ایمان کے مالا مال تھے، قرآن مجید کے مناسب ترین حصہ ّکو جو کہ سورہ مریم کی یہی ابتدائی آیات تھیں منتخب کیا۔ اور نجاشی اور تمام حاضریں کے لیے، کہ جو سب کے سب دین مسیح کے پیرو تھے،تلاوت کیا۔ کھیعص ذکر رحمة ربک عبد ہ زکریا…واذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا… جس وقت جناب جعفر (علیه السلام) نے ان آیات کی بہترین لحن اور پاک دل کے ساتھ قرائت کی تو اس کا نجاشی اور بزرگ مسیح علماء کی روح پر اتنا اثر ہوا کہ ان کی آنکھوں سے بےاختیار آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگی اور ان کے رخساروں پر گرنے لگیں۔ نجاشی نے ان کی طرف رخ کر کے کہا:خدا کی قسم! جو کجھ عیسیٰ مسیح(علیه السلام) لے کر آئے تھے وہ اور یہ آیات ان سب کا ایک ہی سرچشمہ اور ایک ہی منبع نور ہے۔جاؤ اور راحت اور آرام کے ساتھ زندگی بسر کرو، خدا کی قسم میں ہرگز آپ لوگوں کو ان دو افراد کے حوالے نہیں کروں گا۔ اس کے بعد قریش کے قاصدوں نے نجاشی کو مسلمانوں کی طرف سے بدگمان کرنے کے لیے اور تدبیریں بھی کیں لیکن وہ اس کی بیدار روح پر اثر انداز نہ ہو سکیں تو وہ مایوس اور ناامید ہو کر وہاں سے پلٹ ائے،ان کے ہدیے ان کو واپس کر دئیے گئے اور ان سے معذرت چاہی۔(بحوالہ: اقتباس از سیرت ابن ہشام،جلد اول ، ص ۳۵۶-۳۶۱)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قیامت، حسرت کا دن:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3مذکورہ صفات کے ساتھ اپنا تعارف کرانے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے مسئلہ توحید پر خاص طور پر عبادت کے سلسلہ میں تاکید کی اور کہا: خدا میرا اور تمہارا پروردگار ہے، پس تم اسی کی عبادت و پرستش کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔ (وان اللہ ربی و ربکم فاعبدوہ ھٰذاصراط مستقیم)۔ (تشریحی نوٹ: جملہ بندی اور ترکیب کے لحاظ سے یہ جملہ عیسیٰ (علیه السلام) کی گزشتہ باتوں پر عطف ہے جو "قال انی عبداللہ" سے شروع ہوئی ہیں اور اس جملہ پر ختم)۔ اس طرح حضرت عیسٰی (علیه السلام) نے اپنی زندگی کی ابتداء سے ہی ہر قسم کے شر کے اور دو یا دو سے زیادہ خداؤں کی عبادت و پرستش سے مبارزہ کیا اور ہر جگہ توحید پر تاکید کی۔ اس بناء پر تثلیث کے عنوان سے عیسائیوں کے درمیان آج جو کچھ نظر آتا ہے یہ قطعی طور پر حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بعد پیدا ہونے والی بدعت ہے۔ ہم اس کی تفصیل سورہ نساء کی آیت ۱۷۱ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد۳، ص ٦۵۳، (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں)۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے بیان ہوا ہو اس معنی میں کہ خدا انہیں اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو توحید فی العبادة کی دعوت دو اور اس کا صراط مستقیم کے عنوان سے تعارف کراؤ۔ لیکن قرآن مجید کی دوسری آیت اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ جملہ حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی گفتگو اور ان کی گزشتہ باتوں کا آخری حصہ ہے۔ سورہ زخرف کی آیہ۶۳ تا ۶۴ میں ہم پڑھتے ہیں۔ "ولماجاء عیسٰی بالبینات قال قد جئتکم بالحکمة ولابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ فاتقو اللہ واطیعون ان اللہ ھو ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم"۔ "اور جس وقت عیسٰی (علیه السلام) ان کے لیے واضح اور روشن دلائل لے کر آئے تو کہا کہ میں تمہارے لیے حکمت و دانش لے کر آیا ہوں، میں اس لیے آیا ہوں کہ جن باتوں میں تم اختلاف رکھتے ہو ان میں سے بعض امور کی تمہار ے لیے وضاحت کروں، پس تم خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے"۔ یہاں ہم تقریبا عین وہی جملہ دیکھ رہیں کہ جو عیسیٰ (علیه السلام) کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ (اسی قسم کا مضمون سورہ آل عمران کی آیہ۵۰، ۵۱ میں بھی آیا ہے)۔ لیکن اس تمام تاکید کے باوجود حضرت عیسٰی (علیه السلام) توحید اور خدائے یگانہ کی پرستش کے بار ے میں کیا کرتے تھے۔ "ان کے بعد ان کے پیروکاروں میں سے کئی گروہوں نے مختلف راستے اختیار کر لیے" (اور خاص طور پر عیسٰی (علیه السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے کئی قسم کے عقائد تراش لیے) (فاختلف الاحزاب من بینھم) قیامت کے عظیم دن کے مشاہدے سے ان کی حالت پر کہ جنہوں نے کفر و شرک کی راہ اختیار کی رائے ہے۔ (فویل للذین کفروا من مشھدیوم عظیم)۔ مسیحت کی تاریخ بھی اس بات کی اچھی طرح گواہی دیتی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسٰی (علیه السلام) کے بعد ان کے بارے میں اور مسئلہ توحید کے بارے میں کس حد تک اختلاف کیا۔ یہ اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ "قسطنطین" شہنشاہ روم نے "اسقفون" (مسیحت کے بڑے بڑے علماء) کا ایک اجتماع بلایا کہ جوان کے تین مشہور تاریخی اجتماعات میں سے ایک تھا کہ جس کے ارکان کی تعداد دو ہزار ایک سو ستر تک جا پہنچی۔ یہ سب کے سب ان کے بزرگوں میں سے تھے۔ جب حضرت عیسٰی (علیه السلام) کے بارے میں بحث شروع ہوئی تو موجود علماء نے اس کے بارے میں بالکل مختلف نظریات کا اظہار کیا اور ہر گروہ کا اپنا ایک الگ ہی عقیدہ تھا۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ وہ خدا ہے کہ جو زمین پر نازل ہوا ہے۔ ایک گروہ کو اس نے زندہ کیا اور بہت سے لوگوں کو موت دے دی۔ اس کے بعد آسمان کی طرف صعود کر گیا ہے۔ بعض دوسروں نے کہا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ تین اقانیم (تین مقدس ذوات میں سے) ایک تھا، باپ، بیٹا، اور رُوح القدس (باپ خدا۔ بیٹا خدا اور رُوح القدس)۔ بعض نے یہ کہا کہ وہ ان تین میں کا تیسرا ہے۔ خدا معبود ہے، وہ بھی معبود ہے اور اس کی ماں بھی معبود ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بندہ خدا ہے اور اس کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ دوسرے فرقوں نے بھی الگ الگ باتیں کیں۔ اس طرح سے کہ ان عقائد میں سے کسی پر بھی اتفاق نظر حاصل نہ ہوا۔ سب سے بڑی تعداد ایک عقیدے کے طرفداروں کی ۳۰۸ تھی کہ جس کو بادشاہ نے نسبتا اکثریت کے عقیدہ کے عنوان سے قبول کر لیا اور اس کا قانونی و رسمی عقیدے کے عنوان سے دفاع کرنا شروع کر دیا اور باقی عقیدوں کو چھوڑ دیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ توحید کا عقیدہ جس کے طرفداروں کی تعداد بہت ہی کم تھی اقلیت میں قرار پایا (بحوالہ: تفسیر فی ظلال، جلد ۵، ص ۴۳۶) چونکہ اصل توحید سے انحراف، عیسائیوں کا سب سے بڑا انحرف شمار ہوتا ہے، مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں ہم نے دیکھا کہ خدا وند تعالیٰ انہیں کس طرح سے تہدید کر رہا ہے، کہ وہ قیامت کے عظیم دن میں، سب لوگوں کی موجود گی میں اور پروردگار کی عدالت عادلہ کے سامنے بہت برے اور درد ناک انجام سے دوچار ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: "مشہد" اوپر والی آیت میں ممکن ہے کہ مصدر میمی "مشہور" کے معنی میں ہو یا اسم مکان زمان، محل یا زمانہ شہود کے معنی میں ہو ہر چند ان کے معانی مختلف ہیں، لیکن نتیجہ کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے)۔ بعد والی آیت میدان قیامت میں ان کی حالت کو بیان کر رہی ہے۔ اور یہ کہتی ہے کہ "اس دن جب ہمارے پاس آئیں گے تو ان کے کیسے سننے والے کان اور کیسی دیکھنے والی آنکھیں ہو جائیں گی۔ لیکن یہ ظالم آج جبکہ دنیا میں ہیں تو کھلی گمراہی میں ہیں (اسمع بھم والبصریوم یا توننالکن الظالمون الیوم فی ضلال مبین)۔ یہ بات واضیح ہے کہ نشاة آخرت، میں آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے ہٹ جائیں گے، اور کانوں کی سننے کی صلاحیت بہت زیادہ ہو جائے گی کیونکہ وہاں حق کے آثار دنیا کی نسبت کئی گنا زیادہ واضیح و آشکار ہوں گے۔ اصولی طور پر اس عدالت اور اعمال کے آثار کا مشاہدہ انسان کی آنکھوں اور کانوں سے غفلت کے پردے دور کر دے گا۔ یہاں تک کہ دل کے اندھے بھی آگاہ اور دانا ہو جائیں گے، لیکن کیا فائدہ کیونکہ یہ بیداری اور آگاہی ان کی حالت کے لیے مفید نہ ہو گی۔ بعض مفسرین نے "لکن الظالمون الیوم فی ضلال مبین" کے جملے میں لفظ "الیوم" قیامت کے دن کے معنی میں لیا ہے کہ جس سے آیت کا مفہوم یہ بن جاتا ہے: وہ وہاں بنیاد شنوا ہو جائیں گے لیکن یہ بینائی اور شنوائی اس دن ان کی حالت کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گی اور وہ واضیح گمراہی میں ہوں گے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے (تشریحی نوٹ: "الف و لام"، "الیوم" میں "عہد" کا الف لام ہے۔ لیکن پہلی تفسیر کے مطابق "عہد حضوری" اور دوسری تفسیرکے مطابق "عہد ذکری" ہے)۔ ایک مرتبہ پھر اس روز بےایمان اور ستمگر لوگوں کے انجام کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان دل کے اندھوں کو، جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے روز حسرت (قیامت کے دن) سے کہ جس میں تمام چیزیں اختتام کو پہنچ جائیں گی اور تلافی اور بازگشت کے لیے کوئی راستہ نہیں ہو گا، ڈرا (وانذرھم یوم الحسرة اذ قضی الامروھم فی غفلة وھم لایؤمنون)۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں قیامت کے دن کے کئی نام ہیں۔ ان میں سے ایک "یوم الحسرة" ہے کیونکہ اس دن نیکوکار بھی افسوس کریں گے کہ اے کاش ہم زیادہ سے زیادہ نیک اعمال بجا لائے ہوتے اور بدکار بھی افسوس کریں گے۔ کیونکہ نظروں کے سامنے تمام پردے ہٹ جائیں گے اور ہر شخص پر اعمال کے حقائق اور ان کے نتائج آشکار ہو جائے گے۔ بعض مفسرین نے "اذقضی الامر" کے جملے کو قیامت کے دن حساب کتاب، جزا و سزا اور تکلیف و ذمہ داری کے پروگراموں کے اختتام پذیر ہونے سے مربوط سمجھا جاتا ہے اور بعض اسے دنیا کے فنا ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت کا معنی اس طرح ہو گا: انہیں حسرت کے دن سے ڈراؤ وہ وقت جب کہ دنیا ان کی غفلت اور ایمان نہ لانے کی حالت میں اختتام کو پہنچ جائے گی۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر جبکہ ایک روایت میں "اذ قضی الامر" کی تفسیر امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوئی ہے: ای قضی علی اھل الجنة بالخلود فیھا،و قضی علی اھل النار بالخلود فیھا یعنی خدا وند عالم اہل جنت کے لیے (جنت میں) اور اہل جہنم کے لیے (جہنم میں) ہمیشہ ہمیشہ رہنے کا حکم صادر فرمایا گا (بحوالہ: مجمع البیان آیہ بالا کے ذیل میں)۔ آخری زیر بحث آیت تمام ظالموں اور ستمگروں کو خبردار کر رہی ہے کہ یہ اموال جو ان کے قبضے میں ہیں، ہمیشہ ان کے پاس نہیں رہیں گے، جیسا کہ خود ان کی زندگی جاودانی اور ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے بلکہ ان سب کا اصلی مالک خدا ہے۔ لہذا فرماتا ہے: ہم زمین کے بھی اور تمام ان لوگوں کے بھی جو اس پر رہتے ہیں وارث ہو جائیں گے اور آخر کار وہ سب کے سب ہماری طرف پلٹ کر آئیں گے۔ (انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون)۔ (تشریحی نوٹ: آیا یہ آیت قیامت کی طرف اشارہ ہے یا دنیا کے فنا ہونے کے وقت کی طرف؟ اگر یہ قیامت کی طرف اشارہ ہو تو یہ "والینا یرجعون" (ہماری طرف پلٹائے جائیں گے) کے جملے کے ساتھ مطابقت رکھتی۔ اور اگر دنیا کے ختم ہونے کے وقت کی طرف اشارہ ہو تو "ومن علیھا" (وہ کہ جو زمین کے اوپر ہیں) کے جملے کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی کیونکہ دنیا کے ختم ہونے کے وقت تو زمین پر کوئی زندہ نہیں ہو گا کہ جس کے بارے میں "من علیھا" کی تعبیر درست ہو۔ شاید اسی وجہ سے بعض مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے اس جملہ کا یہ معنی کیا ہے۔ "انا نحن نرث عنھم الارض" ہم ان کی طرف سے زمین کے وارث ہوں گے، لیکن یہ تفسیر بھی کچھ خلاف ظاہر ہے کیونکہ "من علیھا" کا واؤ کے ساتھ عطف ہوا ہے۔ ایک اور احتمال جو اس مقام پر موجود ہے وہ یہ ہے کہ "نرث" کا مفعول کبھی تو وہ شخص ہوتا ہے جو مال چھوڑ جاتا ہے، مثلاً: "وورث سلیمان داؤد" اور کبھی وہ اموال ہوتے ہیں کہ جو میراث کے طور پر باقی رہ جاتے ہیں، مثلاً: "نرث الارض" اور اوپر والی آیت میں دونوں تعبیریں آئی ہیں)۔ حقیقت میں یہ آیت سورہ مومن کی آیہ ۱۶ کی ہم وزن ہے کہ جو کہتی ہے: لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار آج (قیامت کے دن) کس کی ملکیت و حکومت ہے، ایک اکیلے غالب و مسلط خدا کی۔ اگر کوئی شخص اس حقیقت پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا معتقد ہو، تو پھر وہ کس لیے ان اموال اور تمام مادی چیزوں کے لیے کہ جو چند روز کے لیے ہمیں امانت کے طور پر سپرد کی گئی ہیں، اور بہت جلدی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گی، ظلم و ستم کرے گا اور حقیقت یا دوسرے لوگوں کے حقوق کو پامال کرنے کو جائز سمجھے گا۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ابراھیم (علیه السلام) کی مؤثر منطق:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی سرگذشت کے کچھ حصے کا تعلق ان کی والدہ جناب مریم (علیهاالسلام) کی زندگی کے ساتھ تھا۔ گزشتہ آیات میں اس کا ذکر تھا۔ اس کے بعد زیر بحث آیات اور آگے آنے والی آیات میں توحید کے ہیرو ابراہیم خلیل (علیه السلام) کی زندگی کے کچھ حصہ کا تذکرہ ہے۔ ان آیات میں تاکید کی گئی ہے کہ اس عظیم پیغمبر کی دعوت بھی۔ تمام رہبران الٰہی کی دعوت کی طرح۔ نقطئہ توحید ہی سے شروع ہوئی ہے۔ پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: اس کتاب (قرآن میں ابراہیم کو یاد کرو (و اذکرفی الکتاب ابراھیم)۔ کیونکہ وہ بہت ہی سچا مرد تھا، خدا کی تعلیمات و فرامین کی تصدیق کرنے والا تھا اور خدا کا پیغمبر تھا (انہ کان صدیقا نبیا) لفظ "صدیق" صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور ایسے شخص کے معنی میں جو بہت ہی سچا ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ ایسے شخص کے معنی میں ہے جو کبھی جھوٹ نہ بولتا ہو، یا اس سے بالاتر، جو جھوٹ بول ہی نہ سکتا ہو کیونکہ۔ اس نے ساری عمر سچ بولنے کی عادت بنا لی ہے۔ نیز بعض اسے ایسے شخص کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جس کا عمل اس کے قول اور اعتقاد کی تصدیق کرتا ہو۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام تقریباً ایک ہی معنی کے طرف لوٹتے ہیں۔ بہرحال، یہ صفت اس قدر اہمیت رکھتی ہے کہ اوپر والی آیت میں صفت نبوت سے بھی پہلے بیان ہوئی ہے۔ گویا یہ نبوت کو قبول کرنے کی لیاقت پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبروں اور وحی الٰہی کے حاملین میں جو عمدہ ترین اور بہتر صفت ہونی چائیے وہ یہی ہے کہ وہ خدا وند تعالیٰ کے فرمان کو بےکم و کاست خدا کے بندوں تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد ان کی اپنے باپ آزر کے ساتھ گفتگو بیان کی گئی ہے۔ (یہاں باپ سے مراد چچا ہے اور لفظ "ابا" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں۔ عربی لغت میں کبھی باپ کے معنی میں اور کبھی چچا کے معنی میں آتا ہے) (تشریحی نوٹ: اس بارے میں تفصیلی بحث جلد۳ ص ۲۹۳ تفسیر نمونہ (اردو ترجمہ) سورہ انعام کی آیہ ۷۴ میں ہو چکی ہے)۔ قرآن کہتا ہے: اس وقت جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا: اے بابا تو ایسی چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ ہی دیکھتی ہے اور نہ ہی تیری کوئی مشکل حل کر سکتی ہے (اذ قال یاابت لم تعبد ما لایسمع و لایبصر ولایغنی عنک شیئا)۔ یہ مختصر اور زور دار بیان شرک اور بت پرستی کی نفی کرنے والی دلیلوں میں سے ایک بہترین دلیل ہے۔ کیونکہ انسان کو پروردگار عالم کی معرفت کے بارے میں ابھارنے والی چیزوں میں سے ایک نفع و نقصان کا احتمال ہے۔ اسے علمائے عقائد "دفع ضررمحتمل" سے تعبیر کرتے ہیں۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ تو ایسے معبود کی طرف کیوں جاتا ہے جو نہ صر ف یہ تیری مشکل کو حل نہیں کر سکتا ہے، بلکہ وہ تو اصلا سننے اور دیکھنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا۔ دوسرے لفظوں میں عبادت ایسی ہستی کی کرنی چاہیئے کہ جو مشکلات حل کرنے کی قدرت رکھتی ہو، اپنے عبادت کرنے والے اور اس کی حاجت و ضروریات کو جانتی ہو اور دیکھ سن سکتی ہو۔ لیکن ان بتوں میں یہ تمام باتیں مفقود ہیں۔ درحقیقت ابرہیم (علیه السلام) یہاں اپنی دعوت اپنے چچا سے شروع کرتے ہیں، کیونکہ قریبی رشتہ داروں میں اثر و نفوذ پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس بات پر مامور ہوئے تھے کہ پہلے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دیں جیسا کہ سورہ شعرء کی آیہ ۲۱۴ میں ہمُ پڑھتے ہیں؛ و انذر عشرتک الاقربین۔ یعنی اپنے قریبیوں کو خوف خدا دلاؤ۔ اِس کے بعد ابراہیم واضح منطق کے ساتھ اسے دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس امر میں ان کی پیروی کرے۔ فرماتے ہیں: اے بابا! مجھے وہ علم و دانش ملی ہے جو تجھے نصیب نہیں ہوئی۔ اس بناء پر تو میری پیروی کر اور میری بات سن (یا ابت انی قد جائنی من العلم مالم یاتک فاتبعنی)۔ میری پیروی کر تاکہ میں تجھے سیدھی راہ کی طرف اشارہ کروں (اھد ک صراطا سویا)۔ میں نے وحی الہی کے ذریعہ سے بہت علم و آگہی حاصل کی ہے اور میں پورسے اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں خطا کے راستے پر نہیں چلوں گا تجھے بھی ہرگز غلط راستے کی دعوت نہیں دوں گا۔میں تیری خوش بختی و سعادت کا خواہاں ہوں تو میری بات مان لے تاکہ فلاح و نجات حاصل کر سکے اور اس صراط مستقیم کو طے کر کے منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ اِس کے بعد اس اثباتی پہلو کو منفی پہلو اور ان آثار کے ساتھ ملاتے ہوئے، کہ جو اس دعوت پر مترتب ہوتے ہیں، کہتے ہیں: اے بابا! شیطان کی پرستش نہ کر کیونکہ شیطان ہمیشہ خدائے رحمن کا نافرمان رہا ہے۔ (یاابت لاتعبد الشیطان ان الشیطان کان للرحمن عصیا)۔ البتہ ظاہر ہے کہ یہاں عبادت سے مراد شیطان کے لیے سجدہ کرنے اور نماز روزہ بجا لانے والی عبادت نہیں ہے بلکہ اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرنے کے معنی میں ہے اور یہ بات خود ایک قسم کی عبادت شمار ہوتی ہے۔ عبادت و پرستش کے معنی اس قدر وسیع ہیں کہ کسی کی باتوں کو عمل کرنے کی نیت سے سننا تک بھی اس کے معنی میں شامل ہے اور کسی کے قانون کو قابل نفاذ سمجھنا بھی اس کی ایک طرح کی عبادت و پرستش شمار ہوتی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث میں اس طرح نقل ہوا ہے: من اصغی الیٰ ناطق فقد عبدہ فان کان الناطق عن اللہ عزّوجل فقد عبد اللہ وان کان الناطق عن ابلیس فقد عبد ابلیس: جو شخص کسی بات کرنے والے کی بات کی طرف کان لگائے (تسلیم و رضا کے ساتھ) تو اس نے اس کی پرستش کی ہے۔ اگر یہ بولنے والا خدا کی طرف سے بول رہا ہے تو اس نے خدا کی عبادت کی ہے اور اگر بولنے والا ابلیس کی طرف سے بول رہا ہے تو (پھر اس سننے والے نے) ابلیس کی عبادت کی ہے (بحوالہ: سفینتہ البحار، جلد ۲، ص ۱۱۵ (مادہ عبد))۔ بہرحال، ابرہیمؑ اپنے چچا کو اس حقیقت کی تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں بغیر کسی قانون یا راستے کے نہیں چل سکتا (اب قانون یا راستے صرف دو ہی ہیں) یا قانون الہٰی اور صراط مستقیم ہے اور یا نافرمان و گمراہ شیطان کا قانون اور راستہ ہے۔ چاہیئے کہ انسان اس سلسلے میں ٹھیک طرح سے سوچ بچار کرے اور اپنے لیے پختگی کو اختیار کرے، اور اپنی خیر و صلاح کو تعصبات اور اندھی تقلید سے دُور رہتے ہوئے نظر لائے۔ ایک مرتبہ اسے شرک اور بت پرستی کے بُرے نتائج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے بابا! میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تیری اختیار کردہ شرک و بُت پرستی کے سبب خدائے رحمٰن کی طرف سے تجھ پر عذاب آئے اور تو اولیائے شیطان میں سے ہو جائے۔ (یا ابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن فتکون للشیطان ولیا)۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے چچا آزر کے سامنے یہ تعبیر بہت ہی جاذب نظر اور عہدہ ہے کہ ایک طرف اسے مسلسل "یا ابت" (اے بابا) کے خطاب سے کہ جو ادب و احترام کی نشانی ہے مخاطب کیے جا رہے ہیں اور دوسرے طرف "ان یمسک" کا جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) آزر کو معمولی سی تکلیف پہنچنے سے بےچین و پریشان ہیں، تیسری طرف سے "عذاب من الرحمن" کی تعبیر اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تیرا معاملہ اس شرک و بت پرستی کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ وہ خدا کہ جس کی رحمت عامہ سب چیزوں پر چھائی ہوئی ہے تجھ پر ناراض ہے اور وہ تجھے عذاب دے گا، اب دیکھ کہ تو کس قسم کا وحشتناک کام انجام دے رہا ہے۔ چوتھی طرف سے اسے متوجہ کیا کہ تیرا یہ ایک ایسا کام ہے کہ جس کا انجام شیطان کی دوستی کے زیر سایہ قرار پانا ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ دُوسروں پر اثر انداز ہونے کا طریقہ:
روایات کے مطابق آزر ایک بت پرست، بت تراش اور بت فروش آدمی تھا اور اس ماحول میں فساد کا ایک عظیم عامل شمار ہوتا تھا۔ حضرت ابرہیم (علیه السلام) اس سے گفتگو کی کیفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منحرف افراد پر اثر انداز ہونے کے لیے خشونت اور سختی اختیار کرنے سے پہلے منطق و دلیل کے طریقے سے استفادہ کرنا چاہیئے۔ منطق بھی ایسی جو احترام، محبت، شفقت اور ہمدردی کے انداز میں ہو اور ساتھ ساتھ اس میں قاطعیب بھی ہو۔ کیونکہ اس طریقہ سے بہت سے گروہ حق کے آگے سر تسلیم خم کر دیں گے، اگرچہ کچھ لوگ اس روش کے اختیار کرنے کے باوجود بھی اپنے مئوقف پر اڑے رہیں گے۔ یقیناً ان کا معاملہ الگ ہو گا اور ان کے ساتھ دوسرے قسم کا سلوک کرنا چاہیئے۔
۲۔ عالم کی پیروی کرنے کی اپیل:
ہم نے اوپر والی آیات میں پڑھا ہے کہ حضرت ابرہیم (علیه السلام) آزر کو اپنی پیروی کی دعوت دے رہے ہیں حالانکہ ان کا چچا سن و سال کے اعتبار سے قاعدتاً ان سے بہت بڑا تھا اور اس معاشرے کا نہایت معروف آدمی تھا۔ چچا کی طرف سے اپنی پیروی کے لیے وہ یہ دلیل دیتے ہیں: میں ایسے علوم کا حامل ہوں کہ جو تیرے پاس نہیں ہیں (قدجائنی من العلم مالم یاء تک)۔ یہ تمام لوگوں کے لیے ایک عمومی قانون ہے کہ جن امور سے وہ آ گاہ اور باخبر نہیں، ان میں وہ ان کی پیروی کریں جو آگاہ ہیں۔ یہ بات حقیقتاً ہر فن میں خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی طرف رجوع کرنے کو واضح کر رہی ہے اور ان میں سے ایک فروع احکام اسلامی میں مجتہد کی تقلید کا مسئلہ بھی ہے البتہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی بحث فروع دین کے مسائل سے مربوط نہیں تھی بلکہ وہ اصول دین کے سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ لیکن اس قسم کے مسائل تک میں بھی علماء اور دانشمندوں کی رہنمائی سے ہی استفادہ کرنا چاہیئے، تاکہ صراط سوی (درست راستے)کی طرف ہدایت حاصل ہو۔ وہ صراط سوی کہ جو صراط مستقیم ہی ہے۔
۳۔ رحمت اور یاد آوری کی سُورت:
اس سورہ میں حضرت مریم (علیه السلام) اور بزگ پیغمبروں کا قصّہ شروع کرتے وقت پانچ مرتبہ "اذکر" (یاد کرو) آیا ہے اور اس بناء پر اس سورہ کو یاد آوری کا سورہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ پیغمبروں اور عظیم مردوں اور عورتوں کی یاد آوری ہے اور توحید کے بارے میں ان کی جدوجہد اور شرک و بت پرستی اور ظلم و بیداد گری کے خلاف ان کی سعی و کوشش کی یاد آوری ہے۔ چونکہ عام طور پر ذکر، بھول جانے کے بعد یاد دلانے کے معنی میں ہے اس لیے ممکن ہے کہ اس واقعیت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ توحید کی بنیادوں اور مردان حق کا عشق اور راہ حق میں ان کی جدوجہد پر ایمان لانا، ہر انسان کی روح کی گہرئیوں میں اتر جاتا ہے اور ان کی باتیں کرنا واقعا ایک طرح کا ذکر اور یاد آوری ہے۔ خدا وند تعالی "رحمن" کے عنوان سے توصیف اس سورہ میں سولہ مرتبہ آئی ہے، کیونکہ یہ سورہ اپنے آغاز سے ہی رحمت کے ذکر کے ساتھ شروع ہوئی ہے۔ خدا کی زکریا (علیه السلام) پر رحمت، خدا کی مریمؑ اور مسیحؑ پر رحمت اور اس سورہ کا اختتام بھی اسی رحمت کے ساتھ ہے کیونکہ اس کے آخر میں فرمایا ہے۔ ان االذین اٰمنواعملو الصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح انجام دیئے خدائے رحمن ان کی محبت کو اپنے بندوں کے دل میں قرار دے دیتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شرک اور مشرکین سے دُوری کا نتیجہ:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی ان کے چچا کی ہدایت کے سلسلہ میں منطقی باتیں جو خاص لطف و محبت کی آمیزش رکھتی تھیں گزر چکی ہیں۔ آب آزر کے جوابات بیان کرنے کی نوبت ہے تاکہ ان دونوں کا آپس میں موازنہ کرنے سے حقیقت اور واقعیت ظاہر ہو جائے۔ قرآن کہتا ہے کہ نہ صرف ابراہیم (علیه السلام) کی دل سوزیاں اور ان کا مدلل بیان آزر کے دل پر اثر انداز نہ ہوس کا بلکہ وہ ان باتوں کو سن کر سخت برہم ہوا، اور اس نے کہا: "اے ابراہیمؑ کیا تو میرے خداؤں سے رُوگردان ہے (قال ارغب انت عن اٰلھتی یا ابراھیم)۔ اگر تو اِس کام سے باز نہیں آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا (لئن لم تنتہ لارجمنک)۔ "اور تو اب مجھ سے دُور ہو جا۔ میں پھر تجھے نہ دیکھوں (واھجر نی ملیا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اولاً آزر یہ تک کہنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ بتوں کے انکار، یا مخالفت اور ان کے بارے میں بدگمانی کا ذکر زبان پر لائے، بلکہ بس اتنا کہا: کیا تو بتوں سے روگردان ہے؟ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بتوں کے حق میں جسارت ہو جائے۔ ثانیاً ابراہیمؑ کو تہدید کرتے وقت اسے سنگسار تہدید کی۔ وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ جو "لام" اور "نون" تاکید ثقیلہ سے جو "لارجمنک" میں وارد ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ سنگسار کرنا قتل کرنے کی ایک بدترین قسم ہے۔ ثالثاً اس مشروط تہدید اور دھمکی پر ہی قناعت نہیں کی بلکہ اس حالت میں جناب ابراہیم (علیه السلام) کو ایک ناقابل برداشت وجود شمار کرتے ہوئے ان سے کہا کہ تو ہمیشہ کے لیے میری نظروں سے دور جا (ملیا)۔ مفردات میں راغب کے کہنے کے مطابق "املا" کے مادہ سے طولانی مہلت دینے کے معنی میں ہے اور یہاں اس کا مفہوم یہ کہ طولانی مدّت کے لیے ہمیشہ کے لیے مجھ سے دُور ہو جا۔ یہ تعبیر بہت ہی توہین آمیز ہے، کہ جسے سخت مزاج افراد اپنے مخالفین کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور فارسی زبان میں اس کی جگہ "گورت راگم کن" میں کہتے ہیں، یعنی نہ صرف اپنے آپ کو مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھپالے بلکہ کسی ایسی جگہ چلے جاؤ کہ میں تمہاری قبر تک کو بھی نہ دیکھوں۔ بعض مفسرین نے "لارجمنک" کو سنگسار کرنے کے معنی میں نہیں لیا بلکہ انہوں نے اس کی تفسیر بدگمانی کرنے یا متہم کرنے کے معنی میں کی ہے لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے۔ قرآن کریم کی تمام آیات کا مطالعہ، کہ جو اسی تعبیر کے ساتھ وارد ہوئی ہیں، اسی بات کی گواہی دیتا ہے کہ جو ہم نے کہی ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے تمام پیغمبروں اور آسمانی رہبروں کی مانند اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھا، اور تندی اور تیزی اور شدید خشونت و سختی کے مقابلہ میں انتہائی بزرگواری کے ساتھ کہا "تجھ پر سلام" (قال سلام علیک)۔ ممکن ہے کہ یہ سلام الودعی اور خدا حافظی کا سلام ہو، کیونکہ اس کے اور بعد کے جملے چند جملوں کے کہنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے آزر کو چھوڑ دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایسا سلام ہو کہ جو دعوی اور بحث کو ترک کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جیسا کہ سورہ قصص کی آیہ ۵۵ میں ہے: لنا اعمالنا و لکم اعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاھلین اب جبکہ تم ہماری بات قبول نہیں کرتے ہو، تو ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہار ے لیے، تم پر سلام ہے ہم جاہلوں کے ہوا خواہ نہیں ہیں۔ اس کے بعد مزید کہا: میں عنقریب تیرے لیے اپنے پروردگار سے بخشش کی درخوست کروں گا، کیونکہ وہ میرے لیے رحیم و لطیف اور مہربان ہے۔ (ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا)۔ حقیقت میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے آرز کی خشونت و سختی اور تہدید و دھمکی کے مقابلے میں اسی جیسا جواب دینے کی بجائے اس کے برخلاف جواب دیا اور اس کے لیے پروردگار عالم سے استغفار کرنے اور اس کے لیے بخشش کی دعا کرنے کا وعدہ کیا۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اس سے استغفار کا وعدہ کیوں کیا حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آزر ہرگز ایمان نہیں لایا اور مشرکین کے لیے استغفار سورہ توبہ کی صریح آیت ۱۱۳ کے مطابق ممنوع ہے۔ اس سوال کا جواب ہم سورہ توبہ کی اسی آیت کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ۵ ص ۷۲۹ اردو ترجمہ)۔ اس کے بعد یہ فرمایا کہ: میں تم سے (تجھ سے اور بت پرست قوم سے) کنارہ کشی کرتا ہوں اور اسی طرح ان سے بھی کہ جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو، یعنی بتوں سے بھی (کنارہ کشی کرتا ہوں) (واعتزلکم وماتدعون من دون اللہ)۔ اور میں تو صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میری دعا میرے پروردگار کی بارگاہ میں قبول ہوئے بغیر نہیں رہے گی۔ (وادعواربی عسٰے ان لااکون بدعاء ربی شقیا) یہ آیت ایک طرف حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے آزر کے مقابلے میں ادب کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس نے کہا کہ مجھ سے دور ہو جا تو ابراہیم (علیه السلام) نے بھی اسے قبول کر لیا اور دوسری طرف ان کی اپنے عقیدہ میں قابلیت اور یقین کو واضح کرتی ہے۔ یعنی وہ واضح کر رہے ہیں کہ میری تم سے یہ دوری اس بناء پر نہیں ہے کہ میں نے اپنے توحید پر اعتقاد راسخ سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ بلکہ اس بناء پر ہے کہ میں تمہارے نظریے کو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں، لہذا میں اپنے عقیدے پر اسی طرح قائم ہوں۔ ضمنی طور پر یہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے خدا سے دعا کروں تو وہ میری دعا کو قبول کرتا ہے لیکن تم بیچارے تو اپنے سے زیادہ بیچاروں کو پکارتے ہو۔ اور تمہاری دعا ہرگز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ تو تمہاری باتوں کو سننے تک نہیں۔ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنے قول کی وفا کی اور اپنے عقیدہ پر جتنا زیادہ سے زیادہ استقامت کے ساتھ رہا جا سکتا ہے، باقی رہے۔ ہمیشہ توحید کی منادی کرتے رہے۔ اگرچہ اس وقت کے تمام فاسد اور بُرے معاشرے نے ان کے خلاف قیام کیا لیکن وہ جناب بالاآخر اکیلے نہ رہے اور تمام قرون و اعصار میں بہت سے پیروکار پیدا کر لیے اس طور پر کہ دنیا جہاں کے تمام خدا پرست لوگ ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں۔ قرآن اس بارے میں کہتا ہے: جس وقت ابراہیمؑ نے ان بت پرستوں سے اور ان تمام چیزوں سے کہ جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کیا کرتے تھے کنارہ کشی اختیار کر لی تو ہم نے اسے اسحاقؑ سا بیٹا اور یعقوبؑ سا پوتا عطا فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے عظیم پیغمبر قرار دیا (فلما اعتزلھم ومایعبدون من دون اللہ وھبنا لہ اسحق و یعقوب و کلاجعلنا نبیا)۔ اگرچہ بہت زیادہ مدت گزر جانے کے بعد خدا وند تعالیٰ نے ابراہیم (علیه السلام) کو اسحق اور یعقوبؑ (اسحقؑ کا بیٹا) عطا فرمایا۔ لیکن بہرحال، یہ بزرگ انعام اسحقؑ جیسا بیٹا اور یعقوبؑ جیسا پوتا، کہ ان میں سے ہر ایک عالی مقام پیغمبر تھا اسی استقامت کا نتیجہ تھا کہ جو ابراہیم (علیه السلام) نے بتوں سے مبارزہ اور اس دین باطل سے کنارہ کشی کرنے میں اپنی طرف سے دکھائی۔ علاوہ ازیں، ہم نے انہیں اپنی رحمت کا ایک حصہ بخشا۔ (و وھبنا لھم من رحمتنا)۔ وہ خاص رحمت کو جو خالصین و مخلصین، مردان مجاہد اور راہ خدا میں مبارزہ کرنے والوں ہی کا حصّہ ہے۔ اور بالآخر "ہم نے اس باپ اور اس کے بیٹوں کے لیے تمام امتوں کے درمیان نیک نام‘ اچھی زبان اور اعلی مقام قرار دیا "وجعلنا لھم لسان صدق علیاً) درحقیقت یہ حضرت ابراہیمؑ کی اس درخواست کا جواب ہی کہ جو سورہ شعرا کی آیت ۸۴ میں بیان ہوئی ہے: واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین خدایا! میرے لیے آئندہ آنے والی امتوں میں لسان صدق (سچی زبان) قرار دے۔ واقع میں وہ چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیمؑ اور اُن کی اولاد کو اس طرح انسانی معاشرے میں سے نکال دیا جائے کہ ان کی کوئی خبر اور ان کا معمولی سا بھی اثر باقی نہ رہے اور وہ ہمیشہ کے لیے بھلا دیے جائیں۔ لیکن اس کے برعکس خدا تعالیٰ نے ان کے ایثار، فدا کاری اور اس رسالت کی ادائیگی میں ان کی استقامت کی وجہ سے کہ جو ان کے ذمہ تھی، ان کی شہرت کو ایسا بام عروج تک پہنچایا کہ ہمیشہ دنیا جہاں کے لوگوں کی زبان پر ان کا تذکرہ تھا اور اب تک ہے۔ وہ خدا شناسی و جہاد، پاکیزگی و تقویٰ، اور مبارزہ و جہاد کے اسوہ اور نمونہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ "لسان" (زبان) ایسے موقع پر ایک ایسی "یاد" کے معنی میں ہے جو انسان کی لوگوں کے درمیان رہ جائے اور جب ہم اس کی "صدق" کی طرف اضافت کریں اور (لسان الصدق) کہیں تو اس کا معنی اچھی یاد، نیک نامی اور لوگوں کے دلوں میں اچھا مقام ہے، اور جس وقت "علیا" کے لفظ کے ساتھ کہ جو عالی اور عمدہ کے معنی میں ہے ضمیمہ ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ کسی کی بہت ہی اچھی یاد لوگوں کے درمیان رہ جائے۔ یہ بات کیے بغیر ہی واضح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) اس درخواست سے یہ نہیں چاہتے کہ اپنے دل کی خواہش کو پورا کریں، بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ دشمن ان کی تاریخ زندگی کو کہ جو نہایت انسان ساز تھی فراموشی کی بھٹی میں نہ ڈال سکیں اور وہ زندگی جو عالم کے لوگوں کے لیے نمونہ بن سکتی ہے اسے کہیں ہمیشہ کے لیے لوگوں کے دلوں سے محو نہ کر دیں۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت میں یہ بیان ہوا ہے: لسان الصدق للمرء یجعلہ اللہ فی الناس خیر من المال یا کلہ و یورثہ: اچھی یاد اور نیک نامی کہ جو خدا کسی شخص کے لیے لوگوں کے درمیا ن قرار دے، اس فراواں دولت و ثروت سے بہتر و برتر ہے کہ جس سے انسان خود بھی فائدہ اٹھائے اور اسے میراث کے طور پر بھی چھوڑ جائے (بحوالہ: اصول کافی (مطابق نقل تفسیر نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۳۹) اصولی طور پر، روحانی پہلوؤں سے قطع نظر بھی بعض اوقات اچھی شہرت لوگوں کے درمیان خود انسان کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے عظیم سرمایا یہ ہو سکتی ہے کہ جس کے ہم نے بکثرت نمونہ دیکھے ہیں۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل (علیه السلام) کے وجود کی نعمت، کہ جو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے پہلے فرزند بزرگوار تھے، کیوں بالکل ہی بیان نہیں ہوئی جب کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) کا نام جو کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے پوتے تھے صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ لیکن قرآن میں ایک دوسرے مقام پر، حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے انعامات کے ضمن میں اسماعیل (علیه السلام) کے وجود کا بیان ہوا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی زبان سے کہتا ہے: الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمٰعیل و اسحق۔ شکر ہے اُس خدا کا کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحق بخشے۔ (ابرہیم۔۳۹)۔ اِس سوال کا جواب اس طرح ہے کہ وہ اس کے بعد کی دو تین آیات میں حضرت اسمٰعیل (علیه السلام) کا نام، ان کی بعض صفات کے ساتھ مستقل طور پر آیا ہے، اوپر والی آیت سے مقصود یہ ہے کہ اولاد ابراہیمؑ میں نبوت کے جاری رہنے اور تسلسل کو بیان کرے اور نشاندہی کرے کہ کس طرح یہ حسن شہرت، نیک نامی اور ان کی عظیم تاریخ، ان انبیاء کے ذریعے کہ جو ان کی اولاد میں سے یکے بعد دیگر آئے، تحقیق پذیر ہوئی اور ہم جانتے ہیں کہ طویل ادوار میں حضرت اسحق اور حضرت یعقوب (علیه السلام) کی اولاد میں سے پیغمب رآئے ہیں، اگرچہ اسمٰعیلؑ کی اولاد میں سے بھی تمام پیغمبروں میں سے سب سے بزرگ ترین پیغمبر یعنی پیغمبر اسلامؐ نے عرصہ ہستی میں قدم رکھا لیکن تسلسل اور یکے بعد دیگرے آتے رہنا اولادِ اسحق ؑمیں ہی تھا۔ اس لیے سورہ عنکبوت کی آ یہ ۲۷ میں بیان ہوا ہے: ووھبنا لہ اسحق و یعقوب و جعلنا فی ذریتہ النبوة و الکتاب ہم نے اُسے اسحقؑ و یعقوبؑ بخشے اور اس کی ذریت میں نبوت اور آسمانی کتاب قرار دی۔
تفسیر موسٰی ایک مخلص و برگریدہ پیغبر:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3زیر نظر تین آیات حضرت موسٰی (علیه السلام) کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کرتی ہیں، جو حضرت ابراہیمؑ کی ذریّت میں سے ہیں اور ان بزرگوار پر ہونے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں، جنہوں نے ابراہیم (علیه السلام) کے مسلک کی پیروی کرتے ہوئے اس کی تکمیل کی۔ پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف رُوئے سُخن کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اپنی آسمانی کتاب میں موسٰی کو یاد کرو (وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى)۔ اس کے بعد نعمتوں میں سے جو اللہ نے اس عظیم پیغمبر کو مرحمت فرمائی ہیں پانچ قسم کی نعمتوں کو بیان کیا گیا ہے: ۱۔ وہ خدا کی اطاعت اور بندگی کی وجہ اس مقام کو پہنچا کہ پروردگار نے اسے خاص اور پاک بنا دیا (إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا)۔ اور یقینی طور پر جو شخص ایسے مقام پر فائز ہو جائے وہ انحراف اور آلودگی کے خطرے سے محفوظ رہتا ہے، چونکہ شیطان خدا کے بندوں کو منحرف کرنے پر اپنے تمام تر اصرار کے باوجود اعتراف کرتا ہے کہ وہ "مخلصین" کو گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ "قال فبعز تک لاغو ینھم اجمعین الاعبادک منھم المخلصین" اس نے کہا تیری عزّت کی قسم تیرے تیرے مخلص بندوں کے سوا ان سب کو گمراہ کروں گا۔ (ص ٓ۸۲،۸۳) ۲۔وہ بلند مرتبہ پیغمبر اور رسول ہے۔ (وَكَانَ رَسُولاً نَّبِيًّا)۔ حقیقت رسالت یہ ہے کہ کسی کے ذمہ کوئی کام کیا جائے اور وہ اس ماموریت کی تبلیغ اور ادائیگی کا پابند ہو اور یہ وہ مقام ہے کہ جو ان تمام انبیاء کو حاصل تھا، جو دعوت دینے پر مامور تھے۔ "نبیا" کا یہاں اس پیغمبر کے بلند مقام اور رفعتِ شان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لفظ دراصل "نبوہ" (بروزن نغمہ) جو مقام کی رفعت و بلندی کے معنی میں ہے، سے لیا گیا ہے البتہ اس کی دوسری اصل بھی ہے کہ جو "نباء" سے خبر کے معنی میں ہے، کیونکہ پیغمبر خدا وند تعالی کی طرف سے خبر حاصل کرتا ہے اور دوسروں کو خبر دیتا ہے، لیکن یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ۳۔ بعد والی آیت موسیٰ (علیه السلام) کی رسالت کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں طرف سے بلند آواز میں پکارا (وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ)۔ اِس تاریک اور پُروحشت رات میں جبکہ وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین کے بیابانوں سے گزر کر مصر کی طرف جا رہے تھے، تو ان کی زوجہ کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہو گئی اور وہ خود ایک شدید سردی کی لپیٹ میں آ گیا اور ایک آگ کے شعلے کی تلاش میں جا رہا تھا کہ یکایک اور اچانک دور سے ایک بجلی چمکی اور ایک آواز آئی اور موسیٰ (علیه السلام) کو رسالت کا فرمان دیا گیا اور یہ اس کی زندگی کا عظیم ترین افتخار اور شیریں ترین لمحہ تھا۔ ۴۔ علاوہ ازیں، "ہم نے اسے قریب کیا (اپنا تقرب بخشا) اور اس سے گفتگو کی" (وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا) (تشریحی نوٹ: "نجی"، "مناجی" کے معنی میں وہ شخص ہے کہ جو دوسرے کے کان میں کوئی بات کہے، یہاں خدا نے پہلے موسیٰ کو دور کے فاصلے سے صدا دی، ان کے نزدیک آنے کے بعد ان سے "بخوی" (سرگوشی) میں بات کی۔ (یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ خدا نہ زبان رکھتا ہے اور نہ مکان بلکہ وہ فضا میں صوتی امواج پیدا کر دیتا ہے اور موسیٰ (علیه السلام) جیسے بندے کے ساتھ گفتگو کرتا ہے)۔ خدا وند تعالیٰ کی ندا ایک نعمت تھی اور ان سے تکلم و گفتگو دوسری نعمت۔ اور آخر میں ہم نے اپنی رحمت سے اسے ہارون جیسا بھائی عطا کیا کہ جو خود بھی پیغمبر تھا۔ (وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا)۔
چند اہم نکات: ۱۔ مخلص کسے کہتے ہیں؟
اُوپر والی آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ خدا نے موسیٰ (علیه السلام) کو اپنے "مخلص" (لام کی زبر کے ساتھ) بندوں میں سے قرار دیا اور یہ مقام جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے۔ بہت ہی باعظمت مقام ہے۔ یہ مقام ہے کہ جہاں خداکی طرف سے انسان کے لیے لغزشوں اور انحرفات سے بچنے کا گویا بیمہ ہو جاتا ہے، ایسا مقام جہاں شیطان کا کوئی اثر نہیں، یہ مقام مسلسل نفس کے ساتھ جہاد کرنے اور لگاتار خدا وند تعالی کے فرمان کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ علم اخلاق کے بزرگ علماء اس مقام کو بہت اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ "مخلصین" خاص صفات اور افتخارات کے حامل ہوتے ہیں جو انشااللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں آئیں گی۔
۲۔ رسول اور نبی میں فرق:
رسول دراصل اُس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کے ذمے کوئی ماموریت یا پیغام رسانی کا کام لگایا گیا ہو تاکہ وہ اس کو پہنچائے۔ اور "نبی" ایک تفسیر کی بناء پر اس شخص کے معنی میں ہے کہ جو وحی الٰہی سے آگاہ ہے اور اس کی خبر دیتا ہے اور دوسری تفسیر کی بناء پر ایک عالی مقام شخص کے معنی میں ہے (دونوں کا مادہ اشتقاق بیان ہو چکا ہے) یہ تو لغت کے لحاظ سے ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات اور روایات کی زبان کے لحاظ سے بعض کا نظریہ یہ ہے: رسول وہ شخص ہے کہ جو صاحب دین و آئین ہو اور تبلیغ کرنے پر مامور ہو۔ یعنی وحی الہٰی کو حاصل کر کے لوگوں کو اس کی تبلیغ کرے، باقی رہا "نبی" تو وہ وحی کو حاصل تو کرتا ہے لیکن تبلیغ کرنا اس کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ وہ وحی صرف اسی کی اپنی ذمہ داری انجام دینے کے لیے ہوتی ہے یا اگر لوگ اس سے سوال کریں تو وہ اس کا جواب دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں "نبی" اس آ گاہ طبیب کی طرح ہے کہ جو اپنے مقام پر بیماروں کی پذیرائی کے لئے آمادہ ہے لیکن وہ بیماروں کے پیچھے نہیں جاتا لیکن اگر بیمار اس کی طرف رجوع کریں تو پھر ان کا علاج کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔ لیکن رسول اُس طبیب کی مانند ہے کہ جو سیار ہے (یعنی بیمار کے پاس علاج کرنے کے لیے چل کر جاتا ہے) اور اُس تعبیر کے مطابق جو حضرت علی (علیه السلام) نے نہج البلاغہ میں پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں فرمائی ہے (طبیب دوّار بطبہ) (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۸)۔ وہ شہروں میں، دیہات میں، کوہ و دشت بیابان میں، ہر جگہ جاتا ہے تاکہ بیماروں کو تلاش کرے اور ان کا علاج کرے۔ وہ ایک ایسا چشمہ ہے کہ پیاسوں کے پیچھے دوڑتا ہے۔ وہ ایسا چشمہ نہیں ہے کہ جسے پیاسے تلاش کرتے پھریں۔ اور ان روایات سے کہ جو اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں اور مرحوم کلینی نے کتاب "اصول کافی" کے باب "طبقات الانبیا و الرسل" اور باب "الفرق بین النبی و الرسول" میں بیان کی ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے کہ جو حقائق وحی کو عالم خواب میں دیکھتا ہے (جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا خواب تھا) یا خواب کے علاوہ بیداری میں بھی وحی کے فرشتہ کی آواز سنتا ہے۔ لیکن رسول وہ ہوتا ہے کہ عالم خواب میں وحی حاصل کرنے اور فرشتہ کی آواز سننے کے علاوہ خود اس کا بھی مشاہدہ کرتا ہے (بحوالہ: اصول کافی، جلد اوّل، ص۱۳۳۔ ۱۳۴(چاپ دار الکتب الاسلامیہ)۔ البتہ ان روایات میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اُس تفسیر کے منافی نہیں جو ہم نے بیان کی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نبی و رسول کی ماموریت کا اختلاف و تفاوت وحی حاصل کرنے کے طریقہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہو اور دوسرے لفظوں میں ماموریت کا ہر مرحلہ وحی کے ایک مخصوص مرحلہ کے ساتھ ہو (غور کیجئے گا)۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اسمٰعیلؑ، صادق الوعد پیغمبر:
ابراہیم (علیه السلام) اور ان کی فدا کاریوں، اور اسی طرح موسیٰ کی زندگی کے بارے میں مختصر سا اشارہ کرنے کے بعد، قرآن ابراہیمؑ کے بزرگ ترین فرزند اسمٰعیل (علیه السلام) کے بارے میں، گفتگو شروع کرتا ہے، اور ابراہیم (علیه السلام) کی یاد ان کے فرزند اسمٰعیلؑ کی یاد کے ساتھ اور ان کے پروگراموں کی اسمٰعیل (علیه السلام) کے پروگراموں کے ساتھ تکمیل کرتا ہے۔ یہاں حضرت اسمٰعیل (علیه السلام) کی صفات میں سے پانچ صفات جو سب لوگوں کے لیے نمونہ بن سکتی ہیں بیان کی گئی ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اپنی آسمانی کتاب میں اسمٰعیلؑ کو یاد کرو (واذکر فی الکتاب اسمٰعیل)۔ وہ اپنے وعدوں میں سچّا تھا (انہ کان صادق الوعد)۔ اور عالی مقام پیغمبر تھا (وکان عند ربہ مرضیا)۔ وہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوة کا حکم دیتا تھا (وکان یامر اھلہ بالصلٰوة والزکوٰة)۔ وہ ہمیشہ اپنے پروردگار کی رضا کا حامل رہتا تھا (وکان عند ربہ مرضیا)۔ ان کے دو آیات میں صادق الوعد ہونا، عالی مقام پیغمبر ہونا، نماز کا حکم دینا اور خالق کے ساتھ ربط و تعلق رکھنا، زکوٰة کا حکم دینا اور مخلوق خدا کے ساتھ رابط برقرار رکھنا اور آخر کار ایسے کام انجام دینا کہ جن میں خدا وند تعالیٰ کی خوشنو دی حاصل ہو، خدا وند تعالیٰ کے اس عظیم پیغمبر کی صفات شمار ہوئی ہیں۔ عہد و پیمان کی وفا اور گھر والوں کی تربیت پر توجہ، ان دو فرائض الہٰی کی انتہائی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ا ن میں سے ایک مقام نبوت سے پہلے اور دوسرا بلافاصلہ مقام نبوت کے بعد ذکر ہوا ہے۔ حقیقتا جب تک انسان صادق نہ ہو، محال ہے کہ رسالت کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کیونکہ اس مقام و مرتبہ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وحی الہٰی کو بےکم و کاست اس کے بندوں تک پہنچائے۔ لہذا ان گنے چنے چند افراد تک نے بھی، کہ جو انبیاء کے لیے ان کی عمر کے کسی حصّہ میں مقام عصمت کا انکار کرتے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صادق ہونے کو ایک شرط اساسی کے طور پر قبول کر لیا ہے یعنی خبروں میں بھی صداقت و راستی، وعدوں میں بھی صداقت و راستی اور تمام چیزوں میں صداقت و راستی۔ ایک روایات میں ہے کہ یہ جو خدا وند تعالیٰ نے اسمٰعیل (علیه السلام) کو صادق الوعد شمار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے وعدہ کی وفا کرنے میں اس قدر پابند تھے کہ انہوں نے کسی آدمی سے ایک جگہ اس کے انتظار کا وعدہ کر لیا تھا، وہ شخص وہاں نہ آیا، لیکن اسمٰعیلؑ ایک سال تک اس کا انتظار کرتے رہے، اس طویل عرصے کے بعد جس وقت وہ وہاں آیا تو اسمٰعیلؑ نے فرمایا کہ میں ہمیشہ تیرے انتظار میں رہا (بحوالہ: اصول کافی، جلد دوم، ص ۸۶)۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس سے ہرگز یہ منظور نہیں ہے کہ اسمٰعیل (علیه السلام) نے اپنی زندگی کے دیگر کاموں کو ہی معطل کر دیا تھا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے دیگر پروگرام جاری رکھتے ہوئے مذکورہ شخص کا انتظار کرتے رہے۔ ایفائے عہدکے سلسلے میں (تیسری جلد ص ۶ ۲ اردو ترجمہ) سورہ مائدہ کی پہلی آیہ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کر آئے ہیں۔ دوسری طرف سے تبلیغ رسالت کا پہلا مرحلہ اپنے خاندان اور گھر والوں سے شروع کرنا ہے، کیونکہ وہ انسان کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اسی بناء پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی پہلے اپنی دعوت اپنی زوجہ گرامی قدر جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا اور اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی علیہ السلام سے شروع کی اور اس کے بعد "وانذر عشیرتک الاقربین" کے فرمان کے مطابق اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی (سورہ شعرا، آیہ ۲۱۴)۔ سورہ طٰہٰ کی آیہ ۱۳۲ میں بھی ہے: "وامر اھللک بالصلٰوة و اصطبر علیھا" اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز کی ادائیگی پر پابند رہو۔ ایک اور نکتہ جو یہاں قابل ذکر ہے یہ ہے کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی رضائے االہٰی کا حامل ہونے کے ساتھ توصیف، واقعتا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنے سارے امور رضائے الہٰی کے سانچے میں ڈھال رکھے تھے۔ اصولاً کوئی نعمت اس سے بالاتر نہیں ہے کہ انسان کا معبود مولا اور اس کا خالق اس سے راضی و خوشنود ہو اسی بناء پر سورہ مائدہ کی آیہ ۱۱۹ میں خدا کے مخصوص بندوں کے لیے بہشت جاودانی کا بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا گیا ہے: "رُضی اللہ عنھم و رضواعنہ ذٰلک الفوز العظیم" خدا اُن سے راضی و خوش ہوا اور وہ بھی اُس سے خوش ہوں گے اور یہ ایک عظٰیم کامیابی اور ایک بہت بڑی نجات ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد۳، ص ۲۷۱، (اردو ترجمہ) میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر یہ سچے پیغمبر تھے، لیکن۔۔۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 3اس سورہ کی یادآوریوں کے آخری حصّے میں، حضرت ادریس (علیه السلام) پیغمبر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اپنی آسمانی کتاب (قرآن) میں ادریس کو یاد کرو وہ صدیق اور پیغمبر تھا (واذکرفی الکتاب ادریس انہ کان صدیقا نبیا)۔ "صدیق" جیسا کہ پہلے بیان کر چکے ہیں بہت ہی سچ بولنے والے، خدا تعالیٰ کی آیات کی تصدیق کرنے والے اور حق و حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے شخص کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد بلند پایہ مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ہم نے اسے ایک بلند مقام تک پہنچا دیا (ورفعناہ مکاناعلیا)۔ اس بارے میں کہ اس سے حضرت ادریس کے مقام معنوی کی عظمت مراد ہے یا حسی مکان کی بلندی مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ہماری طرح بعض نے اس عظٰیم پیغمبر کے معنوی مقامات اور روحانی درجات کی طرف اشارہ سمجھا ہے بعض کا نظریہ ہے کہ خدا وند تعالیٰ حضرت ادریس (علیه السلام) کو حضرت عیٰسی (علیه السلام) کی طرح آسمان کی طرف لے گیا اور وہ (مکانا علیا) کی تعبیر کو اوپر والی آیت میں اسی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ لیکن لفظ "مکان" کا اطلاق معنوی مقامات کے معنی میں عام چیز ہے۔ سورہ یوسف کی آیہ ۷۷ میں ہے کہ حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہ جنہوں نے غلط کام انجام دیا تھا کہا: انتم شرّ مکانا تم مقام و منزلت کے لحاظ سے بدترین آدمی ہو۔ بہرحال، حضرت ادریس (علیه السلام) خدا وند تعالیٰ کے ایک بلند مقام اور عالی مرتبہ پیغمبر ہیں کہ جن کے حالات کی تفصیل نکات کے ضمن میں آئے گی۔ اس کے بعد ان تمام افتخارات و اعزازات کو، جو گزشتہ آیات میں عظیم انبیاء کے سلسلے میں اور ان کی صفات و حالات اور ان نعمتوں کے بارے میں جو خدا وند تعالیٰ نے انہیں فرمائی تھیں، اجتماعی صورت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا: وہ ایسے انبیاء تھے کہ جنہیں خدا نے اپنی نعمتوں سے نوازا تھا (اولٓئک الذین انعم اللہ علیھم من النبیین)۔ ان میں سے بعض آدم کی اولاد میں سے تھے اور بعض ان لوگوں کی اولاد میں سے تھے جو نوح کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے اور بعض ابراہیم او ر اسرائیل کی ذریت میں سے تھے۔ (من ذریة اٰدم و ممن حملنا نوح ومن ذریة ابرھیم و اسرائیل)۔ باوجود اس کے کہ یہ سب انبیاء آدم کی اولاد سے تھے ان کی کسی نہ کسی بزرگ پیغمبر سے نزدیکی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ذریت ابراہیم و اسرائیل سے یاد کیا ہے اور اس آیت کی ترتیب میں ذریت آدم سے مراد ادریس (علیه السلام) ہیں جو مشہور قول کی بناء پر نوح (علیه السلام) پیغمبر کے جدّ امجد تھے۔ نوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کی ادلاد سے مراد ابراہیم ہیں کیونکہ ابراہیم (علیه السلام) نوحؑ کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھے۔ اور ذریت ابراہیم سے مراد اسحق (علیه السلام) اور یعقوبؑ ہیں اور اسرائیل کی ذریت سے مراد موسٰی (علیه السلام)، ہارون (علیه السلام)، یحییٰ اور عیسٰی (علیه السلام) ہیں جن کے حالات اور بہت سی اعلیٰ صفات کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ اس کے بعد اس بحث کی ان عظیم انبیاء کے سچے پیروکاروں کی یاد سے تکمیل کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اور ان لوگوں میں سے کہ جنہیں ہم نے ہدایت کی ہے اور انہیں منتخب کیا ہے ایسے لوگوں ہیں کہ جب خدائے رحمن کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ خاک پر گر پڑتے ہیں اور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلتا ہے (وممن ھدینا واجبینا اذا تتلیٰ علیھم اٰیات الرحمن خروا سجدا وبکیا) (تشریحی نوٹ: "مسجد" ساجد (سجدہ کرنے والا) کی جمع ہے اور "بکیا" باکی (گریہ کرنے والا) کی جمع ہے)۔ بعض مفسرین نے "ممن ھدینا واجبتبینا…" کے جملے کو انہی انبیاء کے بارے میں کہ جن کی طرف آیت کے آغاز میں ارشارہ ہوا ہے ایک دوسرا بیان سمجھا ہے، لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے (تشریحی نوٹ: کیونکہ اگر یہ گزشتہ انبیاء کی طرف اشارہ ہو تو فعل مضارع "تتلی" جو آئندہ کے زمانہ کے ساتھ مربوط ہے، سے ہم آہنگ نہیں ہو گا۔ سوائے اس صورت کے کہ "کانوا" یا اسی جیسا کوئی لفظ مقدر سمجھیں، جو کہ خلاف ظاہر ہے)۔ اس بات کی گواہ وہ حدیث ہے کہ جو امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کہ آ پؑ نے اس کی تلاوت کے وقت فرمایا: نحن عنینا بھا اس آیت سے مراد ہم اہل بیت ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان محل آیہ کے ذیل میں)۔ ظاہر ہے کہ اس جملے سے ہرگز انحصار مراد نہیں ہے بلکہ یہ انبیاء کے سچے پیروکاروں کے واضح مصداق کا بیان ہے اور اہم نے اسی تفسیر نمونہ میں بارہا اس مطلب کے بہت سے نمونے پیش کیے ہیں۔ لیکن اِس حقیقت پر توجہ نہ کرنا اس بات کا سبب بنا کہ آلوسی جیسے مفسرین روح المعانی میں اشتباہ کا شکار ہو گئے اور اس حدیث پر طعن کرنے لگے اور اسے احادیث شیعہ کے معتبر نہ ہونے کی دلیل سمجھنے لگے اور یہی نتیجہ ان روایات کے واقعی مفہوم سے واقف نہ ہونے کا ہے کہ جو آیا ت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ: گزشتہ آیات میں حضرت مریم (علیها السلام) کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے، حالانکہ وہ انبیاء میں سے نہیں تھیں وہ بھی ان افراد میں سے ہیں کہ جو "من ھدینا" کے جملے ہر زمانہ میں اور ہر جگہ ایک یا کئی مصداق رکھتا تھا اور رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سورہ نساء کی آیہ ۶۹ میں بھی یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس میں خدا وند تعالیٰ کی نعمتوں کو صرف انبیاء تک منحصر نہیں کیا گیا بلکہ صدیقین و شہداء کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے: "فاولٓئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین و الشھداء" سورہ مائدہ کی آیہ ۷۵ میں بھی حضرت عیٰسی (علیه السلام) کی والدہ مریمؑ کو "صدیقہ" سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے: و امّہ صدیقة اس کے بعد اُس گروہ کے بارے میں کہ جو ابنیاء کے انسان ساز مکتب سے الگ ہو کہ ناخلف پیروکار بن گئے، گفتگو کی گئی ہے قرآن ان کے کچھ بُرے اعمال کو شمار کرتا ہے اور کہتا ہے: ان کے بعد ایسی ناخلف اولاد ہوئی کہ جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور شہوات کی پیروی کرنے لگے یہ لوگ جلد ہی اپنی گمراہی کی سزا پا لیں گے: (فخلف من بعدھم خلف اضاعو الصلٰوة واتبعوا الشھوات فسوف یلقون غیا)۔ "خلف" (بروزن برف) غیر صالح اولاد کے معنی میں ہے اور اصطلاحاً اس کو "ناخلف" کہتے ہیں جبکہ "خلف" (بروزن صدف) نیک اور صالح فرزند کے معنی میں ہے۔ ممکن ہے یہ جملہ اس گروہ کی طرف اشارہ ہو کہ جو نبی اسرائیل میں سے گمراہی کی راہ پر چل نکلا تھا انہوں نے خدا کو بھلا دیا تھا، خواہشات کی پیروی کو ذکر خدا پر ترجیح دینے لگ گئے تھے انہوں نے دنیا کو فساد سے بھر دیا اور آخر کار دنیا میں بھی انہوں نے اپنے بُرے اعمال کا نتیجہ دیکھ لیا اور آخر میں بھی ان کا نتیجہ دیکھیں گے۔ اِس بارے میں کہ اس مقا م پر "اضاعہ صلاة " سے مراد نماز کو ترک کرنا ہے یا اس کے وقت سے تاخیر کرنا ہے یا ایسے اعمال بجا لانا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں نماز ضائع ہو جائے، مفسرین نے مختلف احتمال پیش کیے ہیں لیکن آخری معنی ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اِس مقام پر تمام عبادات میں سے صرف نماز ہی کا ذکر کیوں کیا گیا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ نماز، جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان کو گناہوں سے روکتی ہے۔ جب یہ رکاوٹ دُور ہو جاتی ہے تو اس کا قطعی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خواہشات میں غرق ہو جاتا ہے۔ دُوسرے الفاظ میں جس طرح پیغمبروں نے اپنے مقام کے ارتقا کو یادِ خدا سے شروع کیا تھا اور جس وقت خدا کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ خاک پر گر جاتے تھے اور گریہ کرتے تھے، ان ناخلف پیروکاروں نے اپنے تباہی کا آغاز یادِ خدا کو بھلا دینے سے کیا۔ قرآن یہی چاہتا ہے کہ ایمان و حق کی طرف آنے کی راہ کھلی رکھے یہاں بھی ناخلف نسلوں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے: مگر وہ لوگ کہ جو توبہ کر لیں گے، ایمان لے آئیں گے اور عمل صالح انجام دیں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہو گا: (الا من تاب و امن وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنة ولایظلمون شیئا)۔ اِس بناء پر یہ بات نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دن خواہشات کی پیروی کر بیٹھے تو ہمیشہ کے لئے ہی اس کی پیشانی پر رحمتِ خدا سے مایوسی اور نااُمیدی کی مہر لگ جائے گی، بلکہ جب تک سانس باقی ہے اور انسان دنیا میں زندہ ہے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کُھلا ہوا ہے۔
چند نکات: ادریس (علیه السلام) کون تھے؟
بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق ادریس، نوح کے پردادا تھے ان کا نام توریت میں "اخنوخ" اور عربی میں ادریس ہے جیسے بعض "درس" کے مادہ سے سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قلم کے ساتھ خط لکھا۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انسان کو لباس سینے کا طریقہ سکھایا۔ اِس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن میں صرف دو مربتہ، وہ بھی مختصر سے اشاروں کے ساتھ، بیان آیا ہے۔ ایک انہیں زیر بحث آیات میں اور دوسرا سورہ انبیاء کی آیات ۸۵، ۸۶ میں۔ مختلف روایات میں ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جسے ہم پورے کا پورا معتبر نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے ہم مذکورہ اشارے پر قناعت کرتے ہوئے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ ۲۔ ایک حدیث میں کہ جو علمائے اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے، یہ کہا گیا ہے کہ پیغمبراکرمؐ نے جب آیہ "فخلف من بعد ھم خلف" کی تلاوت کی تو فرمایا: یکون خلف من بعد ستین سنة ا ضاعوا الصلوٰة واتبعوا الشھوات فسوف یلقون غیّا ثم یکون خلف یقرؤن القراٰن لایعدوا تراقیھم، و یقرء القراٰن ثلاثة مومن و منافق و فاجر: ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو نماز کو ضائع کر دیں اور شہوات میں غرق ہو جائیں گے اور بہت جلدی اپنی گمراہی کا نتیجہ پا لیں گے۔ ان کے بعد اور گروہ ظاہر ہو گا۔ یہ لوگ قرآن کو (بڑی شان کے ساتھ) پڑھیں گے۔ لیکن وہ ان کے شانوں سے اُوپر رہ جائے گا۔ کیونکہ نہ اس میں اخلاص ہو گا، نہ غور و فکر ہو گا، نہ عمل کرنے کے لیے سوچ بچار ہو گا بلکہ وہ ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر ہو گا۔ یا صرف الفاظ پر قناعت ہو گی اور اسی وجہ سے ان کے اعمال خدا کی بارگاہ میں نہ پہنچ پائیں گے (بحوالہ: تفسیرالمیزان، جلد ۱۴، ص ۸۴)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر ہم ساٹھ سال کی ابتداء پیغمبر اکرمؐ کی ہجرت سے لیں تو یہ ٹھیک وہ زمانہ بنتا ہے کہ جب یزید تخت سلطنت پر بیٹھا۔ اور سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور ان کے یار و انصار نے جام شہادت نوش فرمایا اور اس کے بعد باقی ماندہ زمانہ بنی امیہ اور بنی عباس کا دور ہے کہ جنہوں نے اسلام کے صرف نام پر قناعت کر لی تھی اور قرآن کے صرف الفاظ پر۔ ہم خدا سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم اس قسم کے ناخلف گروہ میں سے ہوں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 63 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جنّت کی توصیف:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3اِن آیات میں سے جنت اور جنتوں کی تعریف و توصیف کی گئی ہے جس کا بیان آیات گزشتہ میں آیا ہے۔ پہلے بہشت موعود کی اِس طرح توصیف کی گئی ہے، ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں کہ جن کا خدائے رحمن نے aپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے اور انہوں نے انہیں دیکھا نہیں ہے، (لیکن ان پر ایمان رکھتے ہیں) (جنات عدن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب)۔ خدا کا وعدہ حتمی طور پر پورا ہو کر رہے گا (انہ کان وعدہ ماتبیا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں توبہ ایمان اور عمل صالح کے بارے میں گفتگو تھی اور اس کے بعد بہشت کا وعدہ مفرد "جنت" کی صورت میں آیا تھا لیکن یہاں جمع "جنات" کی صورت میں ہے کیونکہ "جنت" اور حقیقت بہت زیادہ پر نعمت متعدد باغات کا مرکب ہے جو صالح مومنین کے لیے ہے۔ "عدن" کے ساتھ ان کی توصیف جو ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں ہے، اس امر کی دلیل ہے کہ "جنت" اس جہان کے باغات اور نعمتوں کی طرح نہیں ہے کہ جو زائل ہونے والی ہو کیونکہ جو چیز انسان کو اس جہان کی عظیم نعمتوں کے بارے میں پریشان کرتی ہے، یہ ہے کہ یہ سب آخر کار زوال پذیر ہیں لیکن "جنت" کی نعمتوں کے بارے میں یہ پریشانی نہیں ہے (تشریحی نوٹ: "عدن" لغت کے لحاظ سے اقامت کے معنی میں ہے اور یہاں یہ مفہوم رکھتا ہے کہ اس کے ساکن ہمیشہ اس میں مقیم رہیں گے)۔ "عبادہ" کا لفظ خدا کے مومن بندوں کے معنی میں ہے اور "بالغیب" کی تعبیر جو اس کے بعد ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، اس کے باوجود وہ ان پر ایمان رکھتے ہیں۔سورہ فجر کی آیہ ۳۰ میں بیان ہوا ہے: فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں وارد ہو۔ "بالغیب" کے معنی میں یہ احتمال بھی ہے کہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ یہاں تک کہ کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آئیں۔ اس کی نعمتیں کامل طور پر ہماری حس و ادراک سے غائب ہیں۔ وہ ایک ایسا جہان ہے جو ا س جہان سے برتر، وسیع تر اور بالاتر ہے۔ اس کا ہم صرف روحانی آنکھ کے ساتھ دُور سے دھندلا سا تصور ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بہشت کی عظیم نعمتوں میں سے ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ وہاں کوئی لغو اور بیہودہ بات ہرگز نہیں سنیں گے (لایسمعون فیھا لغوا)۔ نہ کوئی جھوٹ، نہ گالی گلوچ، تہمت، نہ زبان کے زخم، نہ کوئی تمسخر اور مذاق اڑانے کی بات، یہاں تک کہ کوئی بیہودہ بات نہیں ہو گی۔ صرف ایک چیز جو وہاں ہمیشہ کان میں آتی رہے گی وہ سلام (الا سلاما)۔ سلام: اپنے وسیع معنی میں جو اہل بہشت کی روح،فکر،کردار اور گفتار کی سلامتی پر دلالت کرتا ہے۔ ایسا سلام کہ جس نے اس ماحول کو ایک بہشت بنا دیا ہے اور ہر قسم کی اذیت و تکلیف اس سے ختم کر دی ہے۔ ایسا سلام جو امن و سلامتی کے ماحول کا ایک نمونہ اور صفا و صمیمیت، پاکیزگی و تقویٰ، صلح و آتشی اور آرام و سکون کے ماحول کی ایک نشانی ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی یہی حقیقت مختلف تعبیروں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ سورہ زمر کی آیہ۸۳ میں ہے۔ "و قال لھم خزنتھا سلام علیکم طبتم فادخلوھا خٰلدین" جنت کے خزینہ دار جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہیں گے: آپ پر سلام ہو، ہمیشہ خوش و خرم رہیں، پاک و پاکیزہ رہیں، آئیے تشریف لائیے، جنت میں داخل ہو جائیے، اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں قیام فرمائیے۔ سورہ ق کی آیہ۳۴ میں ہے: ادخلوھابسلام ذالک یوم الخلود سلام و سلامتی کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل کا دن ہے۔ نہ صرف فرشتہ ان پر اور وہ خود ایک دوسرے پر درود و سلام بھیجیں گے بلکہ خدا بھی ان پر درود و سلام بھیجے گا۔ جیسا کہ سورہ یٰسین کی آیہ ۵۷ میں اُن پر سلام بھیج رہا ہے: سلام قولا من رب رحیم تم پر سلام ہو یہ مہربان پروردگار کی طرف سے تم بہشتیوں پر ایک سلام ہے۔ کیا سلام و سلامتی سے معمور اس ماحول سے بڑھ کر باصفا اور زیبا تر اور بھی کوئی ماحول ہے؟ اِس نعمت کے بعد ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہر صبح و شام ان کی روزی بہشت میں ان کے لیے حاضر ہے۔ (ولھم رزقھم فیھابکرة وعشیا)۔ اِس جملے سے دو سوال پیدا ہوتے ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ کیا جنت میں صبح و شام ہوتی ہے؟ اِس سوال کا جواب اسلامی روایات میں اس طرح آیا ہے: اگرچہ بہشت میں ہمیشہ نور اور روشنی ہوتی ہے لیکن بہشتی اس کے نور اور سائے کے کم و زیادہ ہونے سے رات اور دن کی تشخٰیص کریں گے۔ دوسرا سوال: یہ ہے کہ آیات قرآن سے صاف ظاہر ہے کہ اہل بہشت جس نعمت اور جس روزی کی خواہش کریں گے ہمیشہ اور ہر وقت اسے حاصل کر سیکیں گے۔ یہ کونسا رزق ہو گا جو صرف صبح و شام انہیں ملے گا؟ اِس سوال کا جواب ایک لطیف حدیث سے کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوئی ہے، معلوم کیا جا سکتا ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں: و تعطیھم طرف الھدایا من اللہ لمواقیت الصلوٰة التی کانو ایصلون فیھافی الدینا۔ خدا وند تعالیٰ کی طرف سے ایسے عمدہ تحفے اور ہدیے انہیں اُن اوقات میں دیے جائیں گے جن اوقات میں وہ دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے (بحوالہ: تفسیر روح المعانی، ج ۱۶، ص ۱۰۳)۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممتاز ہدیے جن کی ماہیت و حقیقت کو قیاس اور اندازے سے بھی بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، ایسی قیمتی نعمتیں ہوں گی جو جنت کی عام نعمتوں کے علاوہ صبح شام انہیں بطور ہدیہ دی جائیں گی۔ کیا مذکورہ بالا آیت کی تعبیر اور مذکورہ بالا حدیث اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ اہل بہشت کی زندگی ایک ہی طرز پر نہیں ہو گی بلکہ ہر روز اور ہر صبح و شام نئی نئی نعمتیں اور تازہ بہ تازہ لطف ان کے شامل حال ہو گا؟ اور کیا اس بات کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہاں انسان کا ارتقا جاری رہے گا۔ اگرچہ وہ وہاں کوئی نیا عمل بجا نہیں لائے گا لیکن اپنے عقائد و اعمال کا جو مرکب اس نے جہان میں بنایا ہے اس کے ذریعے اپنی ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہے گا۔ جنت اور اس کی مادی روحانی نعمتوں کی اجمالی تعریف و توصیف کے بعد اہل جنت کا ایک مختصر سے جملے میں تعارف کرواتے ہوئے قرآن کہتا ہے: یہ وہی جنت ہے کہ جو ہم اپنے پر ہیزگار بندوں کو میراث کے طور پر دیں گے (تلک الجنة التی نورث من عبادنا من کانا تقیا)۔ گویا اتنی نعمتوں سے بھری جنت کے دروازے کی کلید "تقویٰ" کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ "عبادنا" (ہمارے بندوں) کی تعبیر میں ایمان و تقویٰ کی طرف خود ایک اجمالی اشارہ موجود ہے لیکن یہ ایسی جگہ نہیں ہے کہ جہاں اجمالی اشارہ کو کافی سمجھ لیا جائے، بلکہ یہاں صراحت کے ساتھ یہ حقیقت بیان ہونی چاہیئے کہ جنت صرف پرہیزگاروں کی جگہ ہے۔ یہاں پر لفظ "ارث" (میراث) کے ساتھ ہمیں سابقا پڑتا ہے جو عام طور پر ایسے مال کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی سے اس کی موت کے بعد کسی دوسرے تک پہنچتا ہے، حالانکہ جنت کسی کی ملکیت نہیں ہے اور ظاہری طور پر کسی کو کچھ پہنچنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اِس سوال کا جواب دو طریقے سے دیا جا سکتا ہے: ۱۔ "ارث" لغت میں "تملیک" کے معنی میں آیا ہے اور مرنے والے کے مال کے اس کے پسماندگان کی طرف منتقل ہونے پر منحصر نہیں ہے۔ ۲۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ما من احد الا ولہ منزل فی الجنة ومنزل فی النار فاما الکافر فیرث المومن منزلہ من النار و المومن یرث الکافر منزلہ من الجنة: ہر شخص کا بلااستثنا ایک مکان جنت میں ہوتا ہے اور ایک مکان جہنم میں ہوتا ہے، کافر تو جہنم میں مومنوں کے مکان کے مالک بن جائیں گے اور مومن کافروں کے مکان کے وارث ہو جائیں گے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد۲، ص ۳۱۔ اس سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد۴ میں ص ۱۱۱ (اُردو ترجمہ) پر بحث کر چکے ہیں)۔ اِس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ "وارثت" جس معنی میں حدیث میں آیا ہے وہ نسبی تعلق کی بناء پر نہیں ہے بلکہ عقائد و عمل تقویٰ کے زیر اثر ہے۔ بعض مفسرین نے مذکورہ بالا آیات کی جو شان نزول بیان کی ہے اس سے بھی اسی معنی کی تصدیق ہوتی ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے جس کا نام "عاص بن وائل" تھا اپنے مزدور کی اجرت (جو معلوم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان تھا) نہ دی اور طعنہ کے طور پر کہا: اگر وہ باتیں جو محمّد کہتا ہے حق ہیں تو ہم ہر شخص سے زیادہ جنت کی نعمتوں کے حقدار ہیں وہاں اس مزدور کی مزدوری پوری پوری ادا کریں گے تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور کہا: "یہ جنت حقیقی بندوں کے لیے مخصوص ہے"۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 65 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 3بہت سے مفسرین مذکورہ بالا آیت کی شان نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ چند دنوں تک وحی منقطع رہی اور خدائی وحی کا پیغام رساں جبرئیل پیغمبر اکرمؐ کے پاس نہ آیا۔ جب یہ مدت ختم ہو گئی اور جبرئیل پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوا، تو آپ نے اس سے فرمایا: تو نے دیر کیوں کر دی؟ میں تیرا بہت ہی مشتاق رہا۔ تو جبرئیل نے عرض کی، میں تو آ پ سے بھی زیادہ مشتاق تھا لیکن میں تو حکم کا پابند ہوں۔ جب مجھے حکم ملتا ہے میں تو اس وقت آتا ہوں اور جب مجھے کوئی حکم نہ ہو تو میں نہیں آتا (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۶، ص ۴۱۶۸ اور تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیہ کے ذیل میں (تھوڑے سے فرق کے ساتھ)۔
تفسیر ہم تو حکم کے بندے ہیں:
اگرچہ ان آیات کی ایک خاص شان نزول ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے، لیکن یہ اس بات کے مانع نہیں ہے کہ اس کا گزشتہ آیات کے ساتھ منطقی رابط و تعلق ہو کیونکہ یہ اس بات پر ایک تاکید ہے کہ جبرئیل جو کچھ گزشتہ آیات میں لے کر آیا ہے وہ سب کا سب بے کم و کاست خدا کی طرف سے ہے اور کوئی بات اس نے خود اپنی طرف سے نہیں کہی ہے۔ پہلی آیت قاصد وحی کی زبان کہتی ہے: ہم تیرے پروردگار کے فرمان کے بغیر نازل نہیں ہوتے۔ (وما نتنزل الا بامر ربک) سب کچھ اسی کی طرف سے ہے، اور ہم تو جان و دل برکف بندے ہیں، جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے (لہ مابین ایدینا وما خلفنا وما بین ذالک)۔ خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ و گزشتہ اور زمانہ حال، یہاں اور وہاں اور سب جگہ، دنیا و آخرت و برزخ سب کچھ پروردگار کی ذات پاک کے ساتھ متعلق ہے اور اسی کا ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ: تمہارا پروردگار نہ فراموش کرنے والا تھا اور نہ ہے (و ما کان ربک نسیا)۔ بعض مفسرین نے "لہ مابین ایدینا و ما خلفنا و ما بین ذالک" کی متعدد تفسیریں کی ہیں جو تقریبا گیارہ تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے وہ سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ سب تیرے پروردگار کے حکم سے ہے، جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کا پروردگار ہے، (رب السمٰوٰت والارض وما بینھما)۔ اب جبکہ یہ بات ہے اور تمام ہدایات اسی کے طرف سے ہیں تو پھر صرف اسی کی عبادت کرو (فاعبدہ)۔ ایسی عبادت کہ جو توحید و اخلاص کے ساتھ ہو، اور چونکہ اس راہ بندگی و اطاعت اور خدا کی خالص عبادت میں بہت زیادہ سختیاں اور مشکلات پیش آتی ہیں لہذا مزید ارشاد ہوتا ہے: اس کی عبادت کی راہ میں صابر رہ: (و اصطبر لعبادتہ)۔ اور آخر ی جملہ میں ہے: کیا تجھے خدا کا کوئی مثل و مانند نظر نہیں آتا ہے: (ھل تعلم لہ سمیا)۔ یہ جملہ درحقیقت اس بات پر ایک دلیل ہے جو اس سے پہلے جملے میں بیان ہوئی ہے، یعنی کیا اس پاک ذات کے لیے کوئی شریک اور مثل و مانند ہے کہ جس کی طرف تم سوال دراز کرو اور اس کی عبات کرو؟ لفظ "سمی" اگرچہ ہمنام کے معنی میں ہے لیکن یہ بات صاف طور پر واضح و روشن ہے کہ اس مقام پر صرف نام مراد نہیں ہے، بلکہ نام کا معنی و مفہوم مراد ہے، یعنی کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق، رازق، محئی، ممیت، ہر چیز پر قادر تمہیں مل سکتا ہے؟
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 3tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 3مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق پہلی آیات "ابی بن خلف" یا "ولیدین مغیرہ" کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو ایک بوسیدہ ہڈی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے ہوئے تھے اور اسے اپنے ہاتھ سے رگڑ کر ہوا میں بکھیر رہے تھے تاکہ اس کا ہر ذرّہ کسی نہ کسی گوشہ میں بکھر جائے، وہ کہتے تھے کہ محمّد کی طرف دیکھو جس کا گمان یہ ہے کہ خدا ہمیں مرنے اور اس ہڈی کی طرح ہماری ہڈیوں کو بوسیدہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہ بات قطعا ممکن نہیں ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور انہیں دندان شکن جواب دیا، ایسا جواب جو تمام انسانوں کے لیے ہر قرن اور ہر زمانے میں مفید اور سبق آموز ہے۔
تفسیر دوزخیوں کی کچھ توصیف:
گزشتہ آیات میں قیامت اور بہشت و دوزخ کے بارے میں بحث ہوئی تھی۔ زیر بحث آیات بھی اسی بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ پہلی آیت میں قیامت کا انکار کرنے والوں کی گفتگو کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے: انسان کہتا ہے کہ کیا مرنے کے بعد آئندہ زمانے میں قبر سے زندہ ہو کر باہر نکلوں گا (و یقول الانسان ء اذا ما متّ لسوف اخرج حیا)۔ البتہ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسی بات ممکن نہیں ہے لیکن "انسان" کے ساتھ تعبیر (خصوصاً الف اور لام کہ جو جنس کے طور پر آتے ہیں) جبکہ مناسب یہ تھا کہ اس کی بجائے "کافر" کہا جاتا۔ یہ بات شاید اس وجہ سے ہو کہ ابتداء میں یہ سوال کم و بیش ہر انسان کی طبیعت میں مخفی ہوتا ہے اور (موت کے بعد زندہ ہونے)کو سنتے ہی فورا استفہامی علامت اس کے ذین میں ابھر آتی ہے؟ بلافاصلہ اسی لب و لہجے اور اسی تعبیر کے ساتھ اسے جواب دیا گیا ہے: کیا انسان اس حقیقت کو یاد نہیں کر تاکہ ہم نے اس سے پہلے اسے (اس حال میں) پیدا کیا تھا جبکہ وہ مطلقا کوئی چیز ہی نہیں تھا (او لایذکر الانسان اناخلقناہ من قبل و لم یک شیئا)۔ یہاں بھی "الانسان" کی تعبیر ممکن ہے، اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ انسان کو اس خدا داد استعداد اور ہوش و حواس کے ساتھ ایسے سوال کے جواب میں خاموش ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیئے، بلکہ اسے چاہیئے کہ وہ اپنی خلقت کو یاد کر کے خود اس کا جواب دے، ورنہ اس نے اپنی "انسانیت" کی حقیقت کو استعمال نہیں کیا۔ یہ آیات بھی معاد سے مربوط بہت سی دوسری آیات کی طرح معاد جسمانی کو ثابت کر رہی ہیں ورنہ اگر یہ بنا ہوتی کہ صرف روح باقی ہے اور جسم کا دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا مطلوب نہ ہوتا تو پھر نہ اس سوال کا کوئی موقع تھا نہ اس جواب کا۔ بہرحال، قرآن نے معاد کو ثابت کرنے کے لیے جو دلیل اس مقام پر دی ہے،یہی دلیل قرآن میں دوسرے مواقع پر بھی بیان ہوئی ہے،ان میں سے ایک سورہ یٰسین میں ہے: اولم یر الانسان اناخلقناہ من نطفة فاذا ھو خصیم مبین و ضرب لنا مثلا ونسی خلقہ قال من یحی العظام وھی رمیم قل یحییھا الذی انشاھا اوّل مرّة وھو بکل خلق علیم کیا انسان یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر یہ نطفہ اپنے دفاع میں بولنے والے انسان کی شکل میں بدل گیا لیکن اس انسان نے اس حالت کے باوجود ہمارے لیے ایک مثال پیش کی اور اپنی پیدائش کو بالکل ہی بھُول گیا ہے،اس نے کہا کہ: اِن بوسیدہ ہڈیوں کو کون دوبارہ زندہ کرے گا تم کہہ دو کہ انہیں وہی خدا زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور وہ اپنی تمام مخلوقات کا علم رکھتا ہے۔ (یٰس۷۷ تا ۷۹) (تشریحی نوٹ: ہم اس دلیل کے سلسلے میں تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد میں۔ (اردو ترجمہ) "معاد کی مختصر ترین دلیل" کے حوالے سے بحث کر چکے ہیں (اور اسی طرح تفسیر نمونہ تیسری جلد کے۔ (اردو ترجمہ) سے آگے بھی)۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر ایک سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ دلیل درست ہو کہ جس شخص نے کوئی کام انجام دیا ہو وہ اسی جیسا اور کام بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو پھر ہم کچھ کاموں کو انجام دینے کے بعد انہی جیسے کاموں کو دوبارہ کرنے پر قادر کیوں نہیں ہوتے؟ "مثلا ہم بعض اوقات بہت عمدہ شعر کہہ لیتے ہیں یا بہت خوش لکھ لیتے ہیں لیکن بعد میں بہت کوشش کے باوجود ویسا کام نہیں کر سکتے"۔ اِس سوال پر ہمارا جواب یہ ہے کہ صحیح ہے کہ ہم اپنے اعمال اپنے ارادہ و اختیار سے انجام دیتے ہیں لیکن بعض اوقات غیر اختیاری امور کا ایک سلسلہ ہمارے بعض افعال کی خصوصیات پر اثر انداز ہوتا ہے کبھی ہمارے ہاتھوں کی غیر محسوس لرزش حروف کی دقیق شکل پر اثر انداز ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، ہماری قدرت و استعداد ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کبھی ایسے عوامل پیدا ہو جاتے ہیں کہ جو ہمارے تمام اندرونی قویٰ کو اکٹھا کر دیتے ہیں جس سے ہم ایک شاہکار پیدا کر سکتے ہیں لیکن بعض اوقات عوامل محرکہ کمزور ہوتے ہیں اور ہمارے تمام قویٰ مجتمع نہیں ہو پاتے اور اسی بنا پر دوسری مرتبہ کیا ہوا کام پہلی مرتبہ کیے ہوئے کام جتنا اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن وہ خدا جس کی قدرت کی کوئی حد نہیں ہے اس کے لیے اس قسم کے مسائل پیدا نہیں ہوتے وہ جو کام بھی انجام دے بالکل اسی جیسا بےکم و کاست دوبارہ سرانجام دے سکتا ہے۔ بعد والی آیت میں منکرین معاد اور بےایمان گنہگاروں کو انتہائی یقینی انداز میں تہدید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تیرے پروردگار کی قسم ہم سب کو ان شیاطین کے ساتھ کہ جو انہیں وسوسہ میں ڈالتے تھے یا ان سب کے معبود تھے، سب کو محشور کریں گے (فو ربک لنحشرنّھم والشیاطین)۔ پھر ہم ان سب کو جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے:۔ (ثم لنحضرنّھم حول جھنم جثیا)۔ یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بےایمان اور گنہگار لوگوں کی داد گاہ جہنم کے نزدیک ہے۔ "جثیا" کی تعبیر (اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "جثی" جاثی کی جمع، اس شخص کے معنی میں ہے کہ جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو) شاید یہ ان کے ضعیف و ناتوانی اور ذلت و خواری کی طرف اشارہ ہو۔ گویا ان میں سے یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ البتہ اس لفظ کے اور معنی بھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعض نے "جثی کو" گروہ گروہ" کے معنی میں تفسیر کیا ہے اور بعض نے انبوہ اور ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے مثلا مٹی اور پتھروں کے معنی میں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے۔ اس داد گاہ عدل میں چونکہ اولیت کا لحاظ رکھا جائے گا، لہذ بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم سب سے پہلے ان لوگوں کو گرفت میں لیں گے جو سب سے زیادہ سرکش اور سب سے بڑھ کر باغی ہیں۔ "ہم ہر گروہ اور جماعت میں سے ایسے افراد کو کہ جو خدائے رحمن کے سامنے سب سے زیادہ سرکش ہوں گے علیحدہ کر لیں گے" (ثم لننزعن کل شیعة ای ایھم اشد علی الرحمن عتیا) (تشریحی نوٹ: لفظ "شیعة" اصل لغت میں اس گروہ کے معنی میں ہے کہ جو کسی کی انجام دہی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعادن کریں اور مذکورہ بالا آیت میں اس تعبیر کا انتخاب ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ بےایمان اور گمراہ لوگ طغیان و سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا کرتے تھے ہم اور پہلے اسی گروہ کا حساب لیں گے کہ جو سب سے زیادہ سرکش تھے) وہی بےشرم لوگ کہ جنہوں نے خدائے رحمن کی نعمتوں تک کو بھلا دیا اور اپنے ولی نعمت کے مقابلے میں گستاخی، نافرمانی اور طغیان و سرکشی پر اتر آئے۔ ہاں: ہاں! یہی لوگ سب سے زیادہ جہنم کے سزاوار ہیں۔ پھر اسی معنی کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ہم ان لوگوں سے کہ جو جہنم کی آگ میں جلنے کے لیے اول نمبر پر ہیں، اچھی طرح آگا ہ ہیں۔ (ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولیٰ بھا صلیا)۔ ہم انہیں انتہائی وقت کے ساتھ چھانٹ کر نکال لیں گے اور اس میں کسی قسم کی غلطی یا اشتباہ نہیں ہو گا۔ "صلی" مصدر ہے کہ جو آگ روشن کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے اور اس چیز کے معنی میں بھی جسے آگ میں جلاتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کیا سب جہنم میں جائیں گے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 3مذکورہ بالا آیات بھی قیامت کی خصوصیات اور جزا و سزا کے بارے میں ہیں پہلے تو ایک ایسے مطلب کی طرف کہ جس کا سننا شاید اکثر لوگوں کے لیے حیرت انگیز ہو اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تم سب کے سب بلااستثنا جہنم میں جاؤ گے (وان منکم الا واردھا)۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک حتمی امر ہے اور ایک قطعی فیصلہ ہے: (کان علی ربک حتما مقضیا)۔ پھر ہم ان لوگو ں کہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا نجات دے دیں گے اور ظالموں اور ستمگروں کو جبکہ وہ کمزوری اور ذلت کی وجہ سے گھنٹوں کے بل کھڑے ہوں گے، اسی میں رہنے دیں گے (ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظالمین فیھا جثیا)۔ ان دونوں آیات کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان ایک بہت بڑی بحث ہے۔ اس بحث کی بنیاد یہ ہے "ان منکم الا واردھا" کے جملے میں "ورود" سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ "ورود" اس مقام پر نزدیک ہونے اور جھانکنے کے معنی میں ہے، یعنی تمام لوگ، اچھے اور برے بلااستثنا حساب کتاب کے لیے یا بدکاروں کے آخری انجام کا مشاہدہ کرنے کے لیے جہنم کے نزدیک آئیں گے، اس کے بعد خدا پرہیز گاروں کو نجات بخشے گا اور ستمگرورں کو اسی میں چھوڈ دے گا۔ وہ اس تفسیر کے لیے سورہ قصص آیہ ۲۳: ولماورد ماء مدین ۔ ۔ ۔ جس وقت موسیٰ مدین کے پانی کے پاس پہچنے ۔۔ ۔ سے استدلال کرتے ہیں کہ یہاں بھی "ورود" اسی معنی میں ہے۔ دوسری تفسیر کہ جسے اکثر مفسرین نے انتخا ب کیا ہے کہ "ورود" اس مقام پر دخول کے معنی میں ہے، اور اس طرح تمام انسان نیک و بد، بلااستثنا جہنم میں وارد ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ دوزخ نیک لوگوں پر سرو و سالم رہے گی، جیسا کہ نمرورد کی آگ ابراہیم پر سرد و سالم رہی: (یانار کونی بردا و سلاما علی ابرہیم)۔ کیونکہ آگ کا ان سے کوئی میل نہیں، اس لیے ان سے دور ہو جائے گی اور فرار کرے گی، اور جس جگہ وہ ٹھریں گے وہاں خاموش ہو جائے گی لیکن دوزخی چونکہ جہنم کی آگ کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں لہذا قابل اشتعال مادہ کی طرح جب وہ آگ کے قریب پہنچیں گے تو وہ فوراً بھڑک اٹھیں گے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس کام کا فلسفہ کیا ہے (جس کی ہم انشاء اللہ آگے چل کر تشریح کریں گے) بلاشک مذکورہ بالا آیات کا ظاہر دوسری تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔، کیونکہ ورود کا اصلی معنی دخول ہی ہے او راس معنی کے علاوہ معنی مراد لینے کے لیے قرینہ کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، "ثم ننجی الذین اتقوا" پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے" کا جملہ اسی طرح "نذر الظالمین فیھا" ستمگروں کو ہم اس میں رہنے دیں گے، کا جملہ یہ سب اسی معنی کے شاہد ہیں۔ اس کے علاوہ اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں بہت سی روایات بھی ہیں جو مکمل طور پر اسی معنی کی تائید کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت جابر بن عبداللہ انصاری سے اس طرح نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس آیہ کے بارے میں پوچھا، تو جابر نے اپنی دونوں انگلیوں کے ساتھ اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں نے جو اس مطلب اپنے ان دونوں کانوں سے جناب پیغمبرؐ سے سنا ہے اگر جھوٹ بولوں تو یہ دونوں بہرے ہو جائیں، آپ فرماتے تھے: الورود الدخول، لایبقی بر ولا فاجر لاید خلھا فیکون علی المومنین بردا وسلاماً کما کانت علی ابرہیم حتٰی ان للنا ر۔ او قال لجنھم۔ضجیجا من بردھا، ثم ننجی اللہ الذین التقو او نذر الظالمین فیھا جثیا: ورود یہاں دخول کے معنی میں ہے، کوئی نیکوکار یا بدکار نہیں مگر یہ کہ وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ آگ مومنین کے لئے سرد و سالم ہو جائے گی، جیسا کہ ابراہیم کے لئے ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ" آگ" یا "جہنم" (یہاں خود جابر کو لفظ کے بارے میں تردد ہوا ہے) سردی کی شدت سے فریاد کرے گی، پھر خدا پرہیزگاروں کو رہائی بخشے گا اور ظالموں کو ذلت کے ساتھ اسی میں چھوڑ دے گا (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳،ص ۳۵۲۔۳۵۳) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: "تقول النار للمومن یوم القیامہ جز، یامومن! فقد اطفا نورک لھبی": "روز قیامت آگ مومن سے کہے گی، مجھ سے جلدی گزر جا، کہ تیرے نور نے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۵۲۔۳۵۳)۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس معنی کی تصدیق ہوتی ہے۔ پُل صراط کے بارے میں جو پُر معنی تعبیر روایات میں بیان کی گئی ہے کہ وہ جہنم کے اوپر واقع ہے، بال سے زیادہ باریک ہے اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، اس تفسیر کا ایک دوسرا شاہد اور گواہ ہے (بحوالہ: تفسیر نورا لثقلین، جلد ۵، ص۵۷۲۔ آیہ "ان ربک لبا لمرصاد" (فجر۔۱۴) کے ذیل میں)۔ رہ گئی یہ بات جو بعض کہتے ہیں کہ سورہ انبیاء کی آیہ۱۰۱ پہلی تفسیر پر دلالت کرتی ہے۔ آیت یہ ہے: اولٓئک عنھا مبعدون وہ (مومنین) جہنم کی آگ سے دور ہوں گے۔ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ آیت تو مومنین کی دائمی جگہ اور ابدی مقام کے بارے میں بیان کر رہی ہے، یہاں تک کہ ہم اس سے بعد والی آیت میں یہ پڑھتے ہیں کہ: لایسمعون حسیسھا مومنین آگ کے شعلوں کی آواز تک بھی نہیں سنیں گے۔ اگر زیر بحث آیت میں "ورود" نزدیک ہونے کے معنی میں ہو تو نہ لفظ مبعدون کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور نہ ہی "لایسمعون حسیسھا" کے جملے کے ساتھ۔
ایک سوال کا جواب
صرف ایک سوال جو یہاں باقی رہ جاتا ہے یہ ہے کہ پروردگار کی حکمت کے لحاظ سے اس کام کا فلسفہ کیا ہے؟ اس کے علاوہ کیا مومنین کو اس کام سے کوئی تکلیف اور عذاب نہیں پہنچے گا؟ اس سوال کا جواب جو دونوں پہلوؤں سے اسلامی روایات میں آیا ہے، معمولی سے غور کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں دوزخ اور اس کے عذابوں کا مشاہدہ اس بات کے لیے ایک مقدمہ ہو گا کہ مومنین جنّت کی خدا داد نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لذّت حاصل کریں کیونکہ"عافیت کی قدر اسی کو ہوتی ہے جو کسی مصیبت میں گرفتار ہوا ہو"۔ (بالاضداد تعرف الاشیاء)۔ یہاں مومنین مصیبت میں گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ صرف مصیبت کا منظر دیکھیں گے اور جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالا روایات میں پڑھا ہے آگ ان پر سرد و سالم ہو جائے گی اور ان کا نور آگ کے شعلوں پر غالب آ جائے اور ان کو ماند کر دے گا۔ اس کے علاوہ آگ سے اتنی تیزی کے ساتھ گزریں گے ان پر معمولی سا اثر بھی نہ ہو گا، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبرؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: یرد الناس النار ثم یصدرون باعمالھم فاولھم کلمع البرق ثم کمر الریح ثم کحضر الفرس، ثم کالراکب، ثم کمشہ الرجل ثم کمشیہ: سب کے سب لوگ جہنم کی آگ میں جائیں گے، اس کے بعد اپنے اعمال کے مطابق اس سے باہر نکلیں گے، بعض بجلی کے کوندنے (چمکنے) کی طرح، ان کے بعد ان سے درجے والے تیز آندھی کی طرح، بعض گھوڑے تیز دوڑنے کی طرح، بعض معمولی سوار کی طرح، بعض تیز رو پیدل چلنے والے کی طرح، اور بعض معمولی رفتار سے چلنے والوں کی طرح (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۵۳)۔ علاوہ ازیں، دوزخی بھی اس منظر کے مشاہدہ سے کہ بہشتی اتنی تیزی کے ساتھ گزر رہے ہیں اور وہ اسی میں رہیں گے زیادہ سزا اور تکلیف محسوس کریں گے اور اس طرح سے دونوں سوالات کا جوب واضح ہو جاتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بے ایمان ظالموں کی منطق اور ان کا نجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 3گزشتہ آیات میں بےایمان ظالموں کے بارے میں بحث تھی زیر بحث آیات میں ان کی منطق اور انجام کے ایک گوشہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ پہلا گروہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم پر ایمان لایا تھا، ایسے پاک دل مستضعفین کا تھا جن کا ہاتھ دینا کے مال و منال سے خالی تھا۔ وہی مظلوم و محروم لوگوں کا گروہ جن کی ظالموں اور ستمگروں کے ہاتھوں سے نجات کی خاطر ادیان الہٰی آئے۔ بلند ہمت اور صاحبان ایمان مرد اور عورتیں جیسے بلال، سلمان، عمار، خباب، سمیہ،وغیرہ۔ چونکہ اس زمانے کے جاہلانہ معاشرے میں۔ہر دوسرے جاہلانہ معاشرے کی طرح۔قدر و قیمت کا معیار وہی زر و زیور، دولت و ثرت، مقام و منصب اور ظاہری ہیت تھی لہذا نضربن حارث اور اسی جیسے ستمگار ثروت مند لوگ غریب و فقیر مومنین پر فخر و ناز کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہماری حیثیت اور شخصیت کی نشانی تو ہمارے ساتھ موجود ہے اور تمہاری کوئی حیثیت و شخصیت نہ ہونے کی نشانی وہی تمہارا فقر و فاقہ اور تمہاری محرومیت ہے۔ وہ کہتے تھے کہ یہی بات ہماری حقانیت اور تمہارے حق پر ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ قرآن پہلی زیر بحث آیت میں کہتا ہے: جس وقت ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو مغرور و ستمگر کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں گروہوں (ہم اور تم) میں سے کونسا گروہ مرتبہ و مقام کے لحاظ سے بہتر ہے، اور کس کی محبت و مشاورت کی محفلیں سج دھج میں بہتر ہیں اور کس کی سخاوت زیادہ ہے: (و اذا تتلی علیھم اٰیاتنابینات قال الذین کفروا للذین اٰمنوا ای الفریقین خیر مقاما واحسن ندیا)۔ خصوصاً اسلامی روایات میں منقول ہے کہ یہ سرمایہ دار نہایت خوبصورت لباس پہن کر اور خوب سج دھج کر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے آگے چلتے تھے اور حقارت اور تمسخرآمیز نگاہ سے ان کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ جی ہاں! ہر زمانے میں اس طبقے کا یہی چلن رہا ہے۔ "ندی" اصل میں "ندی" بمعنی رطوبت سے لیا گیا ہے اور بعد ازاں فصیح اور سخنور لوگوں کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ کیونکہ کلام کرنے کے لیے لعاب دہن کا کافی ہونا بھی ضروری ہے۔ لہذا"ندا" آپس میں بیٹھ کر باتیں کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا ہے یہاں تک کے جس محفل میں کچھ لوگ باہمی محبت کے طور پر جمع ہوں یا مشاورت کے لیے مل بیٹھیں اسے "نادی" کہا جانے لگا ہے۔ مکہ میں ایک جگہ تھی جہاں سرداران مکہ جمع ہوتے تھے اور اسے "دارالندوہ" کہتے تھے۔یہ لفظ بھی اسی مفہوم میں لیا گیا ہے۔ ضمنی طور پر کبھی سخاوت و بخشش کو "ندی" سے تعبیرکرتے ہیں (بحوالہ:مفردات راغب مادہ " ندی")۔ مذکورہ بالا آیت ممکن ہے کہ ان سب کی طرف اشارہ ہو یعنی ہماری گرم جوشی کی محفل میں تمہاری نسبت زیادہ دلکشی ہے، اور ہماری دولت و ثروت، شان و شوکت اور ہمارے لباس تم سے زیادہ جاذب نظر ہیں اور گفتگو اور فصیح و بلیغ اشعار تم سے بہتر ہیں۔ لیکن قرآن انہیں ایک بہت مدلل قاطع اور خاموش کر دینے والا جواب دیتا ہے: گویا انہوں نے بشر کی گزشتہ تاریخ کو بھلا دیا ہے "ان سے پہلے بےشمار قومیں ایسی تھیں کہ جن کا مال دولت اور وسائل زندگی ان سے بہتر تھے اور وہ لوگ ظاہری شان و شوکت کے اعتبار سے بھی ان سے زیادہ آراستہ و پیراستہ تھے لیکن ہم نے ان ستم کاروں اور ظالموں کو نابود کر دیا " (و کم اھلکنا قبلھم من قرن ھم احسن اثاثا ورئیا) (تشریحی نوٹ: "اثاثا" مال و متاع اور زینت دنیا کے معنی میں ہے اور "ریی ء" ہیت و منظر کے معنی میں ہے)۔ کیا ان کا مال و دولت، ان کی زرق برق محفلیں، ان کے فاخرہ لباس اور خوبصورت چہرے ان سے خدا کے عذاب کو روک سکتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں بارگاہ خدا میں ان کی حیثیت اور مقام کی دلیل تھیں تو پھر وہ ایسے برے انجام سے کیوں دوچار ہوئے۔ دنیا کی شان و شوکت ایسی پائیدار ہے کہ ہوا کے ایک معمولی جھونکے سے نہ صرف اس کا دفتر الٹ جاتا ہے بلکہ کبھی اس کا طومار ہی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ "قرن" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی (تفسیر نمونہ ‘جلد۳ ‘ ص ۲۸۴ (اردو ترجمہ) پر) بیان کیا ہے، عام طور پر ایک طولانی زمانہ کے معنی میں ہے، لیکن چونکہ "اقتران"کے مادہ سے (نزدیکی کے معنی میں) لیا گیا ہے، لہذا ایسی قوم و جمعیت جو ایک ہی زمانہ میں جمع ہو، کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد قرآن انہیں ایک اور تنبیہ کرتا ہے کہ تم ان سے یہ کہہ دو کہ اے بےایمان ظالموں! تم یہ گمان نہ کر لینا کہ یہ تمہارا مال و دولت مایہ رحمت ہے، بلکہ اکثر اوقات یہ عذاب الہٰی کی دلیل ہوتا ہے "جو شخص گمراہی میں مبتلا ہے اور اسی راستے پر چلتے رہنے پر مصر ہے، خدا اسے مہلت دیتا ہے اور یہ خوشحال زندگی اسی طرح جاری و ساری رہتی ہے"۔ (قل من کان فی الضلالة فلیمدد لہ الرحمن مدا)۔ "(یہ مہلت) اس زمانے تک (ہو گی) کہ یہ خود اپنی آنکھوں سے خدا کے وعدوں کو دیکھ لیں، اس دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب"(حتٰی اذا راَوا مایوعدون اما العذاب و اما الساعة)۔ "اس دن انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کی جگہ اور محفل زیادہ بری ہے اور کس کا لشکر زیادہ کمزور ہے" (فیعلمون من ھو شر مکانا واضعف جندا)۔ درحقیقت اس قسم کے منحرف افراد کہ جو پھر ہدایت کے قابل نہیں ہیں، اس بات پر توجہ رکھیں کہ قرآ ن "من کان فی الضلالة" کہتا ہے جو گمراہی میں استمرار کی طرف اشارہ ہے۔۔۔۔۔۔ اس نقطہ نظر سے کہ وہ خدا کا درد ناک ترین عذاب دیکھیں، بعض اوقات خدا انہیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دیتا ہے، جو ان کے لیے غرور و غفلت کا سبب بھی بن جاتی ہیں اور عذاب الہٰی ان نعمتوں کے سلب ہونے کو اور بھی زیادہ درد ناک بنا دیتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو بعض قرآنی آیات میں تدریجی سزا کے عنوان سے بیان کیا گئی ہے (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ چوتھی جلد میں سورہ اعراف کی آیات ۱۸۲،۲۸۳، کی طرف رجوع فرمائیں)۔ "فلیمدد لہ الرحمن مدا" کا جملہ اگرچہ صیغہ امر کی صورت میں ہے لیکن یہ خیر کے معنی میں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا انہیں مہلت اور پے در پے نعمتیں عطا کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے اسی امر کے معنی میں لیا ہے جو یہاں نفرین کے مفہوم میں ہے یا خدا پر اس قسم کا سلوک کرنے کے لازم ہونے کے معنی میں ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں "عذاب" کا لفظ اس قرینہ کی بناء پر کہ وہ "الساعة" کے مقابلہ میں آیا ہے، عالم دنیا میں خدا کے عذابوں کی طرف اشارہ ہے، ایسے عذاب جیسے طوفان نوح، زلزلہ اور آسمانی پتھر جو قوم لوط پر نازل ہوئے یا ایسے عذاب جو مومنین اور حق کے مورچوں میں جہاد کرنے والوں کے ذریعہ ان کے سروں پر نازل ہوتے ہیں۔جیسا کہ سورہ توبہ کی آیہ۱۴ میں بیان ہوا ہے: قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم: اُ ن سے جنگ کرو کیونکہ خدا تمہارے ہاتھوں سے ان پر عذاب کرے گا۔ "الساعة" یہاں یا تو اختتام دنیا کے معنی میں ہے یا قیامت میں خدائی عذابوں کے معنی میں (دوسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے)۔ یہ ستمگروں اور دنیا کی شان و شوکت اور لذّت کے شیدائیوں کا انجام ہے۔ لیکن جن لوگوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی خدا ان کی ہدایت میں مزید اضافہ کر دیتا ہے (ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی)۔ یہ بات واضح ہے کہ ہدایت کے کئی درجے ہوتے ہیں، جس وقت انسان اس کے ابتدائی درجوں کو خود سے طے کر لیتا ہے تو خدا اس کی مدد فرماتا ہے اور اسے اعلیٰ سے اعلیٰ درجوں پر فائز کر دیتا ہے اور پھلدار درختوں کی مانند جو ہر روز اپنے ارتقا کاایک نیا مرحلہ طے کرتے ہیں یہ ہدایت پانے والے بھی اپنے ایمان اور عمال صالح کے مطابق ہر روز ایک اونچے سے اونچے مرحلہ میں قدم رکھتے چلے جاتے ہیں۔ آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جنہوں نے دنیا میں ناپائیدار زیب و زینت پر بھروسہ کر لیا تھا اور ان کے ذریعہ دوسروں پر فخر کیا کرتے تھے قرآن یہ جواب دیتا ہے: وہ آثار و اعمال صالح جو انسان سے باقی رہ جاتے ہیں تیرے پروردگار کی بارگاہ میں ان کا ثواب بیش تر اور ان کا انجام زیادہ قیمتی ہے۔(والباقیات الصا لحات خیر عند ربک ثوابا و خیر مردّا) 1( تشریحی نوٹ: "مرد" (بر وزن نمد ) دال کی تشدید کے ساتھ یا تو مصدر ہے ردّا اور بازگشت کے معنی میں،یا اسم مکان ہے (مقام باز گشت) کے معنی میں کہ جس سے یہاں جنت مقصود ہے،لیکن احتمال آیت کے معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ایک بیہودہ اور انحرافی خیال:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایمان و پاکیزگی اور تقویٰ ان کے لیے مناسب نہیں ہے اور ان کی وجہ سے وہ دنیا سے محرم رہ جاتے ہیں جب کہ ایمان و تقویٰ کو چھوڑ دینے سے دنیا ان کا رخ کر لیتی ہے اور وہ مالدار ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچ خواہ سادہ لوحی اور خرافات کی پیروی کی وجہ سے ہو یا خدائی عہد و پیمان اور ذمہ داریوں سے دور بھاگنے کے لیے ایک بہانہ ہو، یہ جو کچھ بھی ہو ایک خطرناک طرز فکر ہے۔ بعض اوقات یہ دیکھنے میں آیاہے کہ ایسا گمان کرنے والے بےایمانوں کی مال و دولت اور کچھ مومنین کے فقر و فاقہ کو اپنی اس بیہودہ سوچ کے لیے ایک دستاویز بنا لیتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ مال جو ظلم و کفر کرنے اور تقویٰ کے اصولوں کو چھوڑنے سے انسان کو ملتا ہے نہ وہ سبب افتخار ہے اور نہ ہی ایمان و پرہیزگاری مشروع اور مباح کاموں کے راستے میں کسی طرح سے رکاوٹ بنتے ہیں۔ بہرحال، ہمارے زمانے کی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی کچھ نادان لوگ موجود تھے جو اس قسم کی سوچ رکھتے تھے یا کم از کم اس طرح کا اظہار کرتے تھے۔ قرآن زیر بحث آیات میں۔۔۔۔ اس بحث کی مناسبت سے جو کفار اور ظالموں کے سلسلہ میں اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اس طرز فکر اور اس کے انجام کے بارے میں بیان کر رہا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو ہماری آیات کو جھٹلاتا ہے، اور ان سے کفر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے بہت زیادہ مال و اولاد حاصل ہو گا۔(افرایت الذی کفر باٰیاٰتنا و قال لاوتین مالا وولدا) (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کی ایک شان نزول بیان کی ہے وہ یہ کہ ایک مومن نے جس کا نام "خباب"تھا ایک مشرک سے جس کانام "عاص بن وائل" تھا سے اپنا دیا ہوا قرضہ واپس لینا تھا۔مقروض نے استہزا کے طور پر اس سے کہا: دوسرے جہان میں جب میں مال و اولاد پیدا کروں گا تو تیرا قرض ادا کر دوں گا لیکن ہمارے خیال میں یہ شان نزول زیر بحث آیت کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی خاص طور پر جبکہ اوالاد کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ دارآخرت میں اولاد نہیں ہو گی علاوہ ازیں، بعد کی آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ جس مال کا وہ ذکر کرتا ہے اس کے تو ہم وارث ہو جائیں گے اس تعبیر سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کے اموال ہیں نہ کہ آخرت کے۔بہرحال، مفسرین کی ایک جماعت نے اس شان نزول کی بناء پر آیت کو آخرت کی طرف اشارہ سمجھا ہے لیکن حق وہی ہے کہ جوبیان کیا جا چکا ہے)۔ اس کے بعد قرآن انہیں اس طرح جواب دیتا ہے: کیا وہ اسرار غیب سے آگاہ ہو گیا ہے یا اس نے اس بارے میں خدا سے کوئی عہد و پیمان لے لیا ہے۔ (اطلع الغیب ام اتخذ عند الرحمن عھدا)۔ اس قسم کی پیشین گوئی تو وہی شخص کر سکتا ہے، اور وہی شخص مال و اولاد کے ہونے کے ساتھ کفر کے کسی رابطہ کا قائل ہو سکتا ہے کہ جو اسرار غیب سے آگاہ ہو، کیونکہ ہمیں تو ان دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نظر نہیں آتا یا پھر اس نے خدا سے کوئی عہد و پیمان لیا ہو جبکہ اس قسم کی بات بھی بےمعنی ہے۔ اس کے بعد قطعی الفاظ کے ساتھ قرآن مزید کہتا ہے: ایسا نہیں ہے (کفر و بےایمانی ہرگز کسی کے مال و اولاد میں زیادتی کا سبب نہیں ہو گی) "ہم عنقریب جو کچھ وہ کہتا ہے اسے لکھ لیں گے "۔ (کلا سنکتب مایقول)۔ ہاں یہ بات ممکن ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں بعض سادہ لوح افرد کے انحرف کا سبب بن جائیں، یہ سب باتیں ان کے نامہ اعمال میں لکھ لی جائیں گی۔ اور اس پر ہم عذاب کو دائمی بنا دیں گے (پے درپے اور یکے بعد دیگرے عذاب) (ونمد لہ من العذاب مدا)۔ ممکن ہے یہ جملہ آخرت کے دائمی و دوامی عذاب کی طرف اشارہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان عذابوں کی طرف اشارہ ہو جو اسی دنیا میں اس کے کفر و بےایمانی کی وجہ سے دامن گیر ہوں گے۔ یہ احتمال بھی قابل ملاحظہ ہے کہ یہی مال و اولاد جو غرور و گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں خود اس کے لیے ایک دائمی عذاب بن جائیں گے۔ (مال و اولاد کے بارے میں) وہ جس چیز کا ذکر کر رہا ہے اس کے تو ہم وارث بن جائیں گے اور قیامت کے دن وہ یکّہ و تنہا ہمارے پاس آئے گا (ونرثہ مایقول ویاتینا فردا)۔ ہاں انجام کار یہ ہے کہ وہ ان تمام مادی وسائل کو یہیں چھوڑ کر چلتا بنے گا اور پروردگار کی داد گاہ عدل میں خالی ہاتھ حاضر ہو گا۔ اس وقت اس کی حالت یہ ہو گی کہ اس کا نامہ اعمال گناہوں سے سیاہ اور نیکیوں سے خالی ہو گا۔ وہاں پر وہ دنیا میں اپنی ان بےبنیاد کہی ہوئی باتوں کا نتیجہ دیکھ لے گا۔ بعد والی آیت میں ان کی بت پرستی کے ایک اور سبب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: انہوں نے خدا کے سوا کچھ اور معبود اپنے لیے بنا رکھے ہیں تاکہ وہ خدا کی بارگاہ میں ان کی عزّت کا سبب بنیں (واتخذوا من دون اللہ اٰلھة لیکونوا لھم عزّا)۔ تاکہ وہ خدا کی بارگاہ میں ان کی شفاعت کریں، اور مشکلات میں ان کی مدد کریں لیکن یہ کتنی ناسمجھی اور خام خیالی کی بات ہے؟ جیسا کہ انہوں نے سمجھا ہے ہرگز ایسا نہیں ہے نہ صرف یہ کہ بت ان کے لیے باعث عزّت نہیں ہوں گے بلکہ وہ تو ذلت اور عذاب کا سرچشمہ ہیں۔ اسی وجہ سے "جلد ہی یعنی قیامت کے دن یہ معبود ان عبادت کرنے والوں کے منکر ہو جائیں گے اور ان سے اعلان بیزاری کریں گے، بلکہ ا ن کے خلاف ہو جائیں گے"۔ (کلا سیکفرون بعبادتھم ویکونون علیھم ضدا)۔ یہ جملہ بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ جو سورہ فاطر کی آیہ ۱۳،۱۴ میں بیان ہوا ہے: والذین تدعون من دونہ ما یملکون من قطمیر ان تدعوھم لایسمعوا دعائکم …و یوم القیامة یکفرون بشرککم جنہیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ کسی حقیر سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری باتوں کو نہیں سنتے اور وہ روز قیامت تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے۔ نیز سورہ احقاف کی آیہ۶ میں ہے: "و اذا حشر الناس کانوا لھم اعداء" جس وقت لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے تو یہ معبود ان کے دشمن ہو جائیں گے۔ بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جبکہ پردے ہٹ جائیں گے اور تمام حقائق آشکار ہو جائیں گے اور بتوں کی عبادت کرنے والے خود کو رسوا اور ذلیل دیکھیں گے تو و ہ بتوں کی عبادت کرنے کا انکار کر دیں گے اور ان کے خلاف باتیں کریں گے جیسا کہ آیہ ۲۳ سورہ انعام میں بیان ہوا ہے کہ بت پرست قیامت میں کہیں گے: "واللہ ربنا ما کنا مشرکین" اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم ہرگز مشرک نہیں تھے۔ لیکن پہلی تفسیر آیت کے ظاہر کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے، چونکہ بتوں کی عبادت کرنے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے معبود ان کے لیے باعث عزّت ہوں لیکن آخرکار وہی ان کے خلاف ہو جائیں گے۔ البتہ وہ معبود کہ جو فرشتوں، شیطانوں اور جنوں کی مانند عقل و شعور رکھنے والے ہیں ان کی وضع تو ظاہر و روشن ہے لیکن ایسے معبود کہ جو بےجان ہیں، ممکن ہے کہ اس دن حکم خدا سے باتیں کرنے لگیں اور اپنی عبادت کرنے والوں سے اپنی بیزاری کا اعلان کریں۔ وہ حدیث کہ جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اس سے بھی اسی تفسیر کی تائید ہوئی ہے کیونکہ امام (علیه السلام) مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یکون ھٰؤلاء لذین اتخذوھم الھة من دون اللہ ضدا یوم القیامة، ویتبرؤن منھم ومن عبادتھم الیٰ یوم القیامة: قیامت کے دن معبود کہ جو خدا کے علاوہ انہوں نے بنا رکھے تھے وہ ان کے خلاف ہو جائینگے اور ان سے اور ان کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ جاذب توجہ یہ ہے کہ اس حدیث کے ذیل میں عبادت کی حقیقت کے بارے میں ایک مختصر اور جامع و پرمعنی جملہ منقول ہے: لیس العبادة ھی السجود ولا الرکوع، انماھی طاعة الرجال، من اطاع مخلوقا فی معصیة الخالق فقد عبدہ: "عبادت صرف سجدے اور رکوع کا ہی نام نہیں ہے، بلکہ عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کی اطاعت کرنے لگے، جو شخص خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت کرے تو یہ اس نے اس کی پرستش و عبادت کی ہے اور اس کا انجام بھی وہی مشرکین اور بت پرستوں کے انجام جیسا ہو گا (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۵۷)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شفاعت کیسے لوگ کر سکتے ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 3اِس بحث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو گزشتہ آیات میں مشرکین کے بارے میں بیان ہوئی ہے، زیر بحث آیات درحقیقت ان کے انحراف کے بعض علل و اسباب اور پھر ان کی بدبختی اور بُرے انجام کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اس حقیقت کو بھی ثابت کرتی ہیں کہ دوسرے معبود نہ صرف ان کی عزّت و وقار کا باعث نہیں تھے بلکہ وہ تو ان کی بدبختی اور ذلت کا سبب بن گئے ہیں۔ پہلے فرمایا گیا: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں غلط راستوں پر جن پر وہ چل رہے ہیں تیز کر دیں بلکہ تہ و بالا کر دیں (الم ترانا ارسلنا الشیاطین علی الکافرین توء زھم ازّا)۔ "از" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے اصل میں دیگ میں ابال آنے اور جو کچھ اس کے اندر ہے ابال کی شدّت کے وقت اس کے زیر و زبر ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیاطین ان پر اس طرح سے مسلط ہو جائیں گے کہ جس راستے پر وہ چاہیں گے انہیں چلا دیا جائے گا اور جس شکل میں چاہیں گے انہیں متحرک کر دیں گے اور انہیں تہ و بالا کر دیں گے۔ یہ بات واضح ہے۔۔۔۔اور ہم نے بارہا کہا ہے۔۔۔۔کہ شیاطین کا انسانوں پر مسلط ہونا جبری اور بےخبری کا تسلط نہیں ہے، بلکہ یہ خود انسان ہی ہے کہ جو شیاطین کو اپنے قلب و روح کے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے، ان کی بندگی کاطوق اپنے گلے میں ڈالتا ہے اور ان کی اطاعت کو قبول کرتا ہے جیسا کہ قرآن سورئہ نحل کی آیہ ۱۰۰ میں کہتا ہے: انما سلطانہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون شیطان کا تسلط صرف ان ہی لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو اس کی ولایت و حکومت کو قبول کرتے ہیں اور جو اسے اپنابُت اور معبُود بناتے ہیں۔ اس کے بعد روئے سخن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا: ان کے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لو ہم ان کے تمام اعمال کو انتہائی باریکی کے ساتھ شمار کر لیں گے (فلاتعجل علیھم انمانعد لھم عدا)۔ اور ان سب کو اس دن کے لیے کہ جس دن عدل الہٰی کی داد گاہ قائم ہو گی، ثبت اور محفوظ کر لیں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ان کی زندگی کے دنوں کو شمار کرنا، بلکہ ان کے سانسوں کو گننا ہو، یعنی ان کی بقاء کی مدّت مختصر ہے اور شمار کرنے میں آ جاتی ہے کیونکہ کسی چیز کا معدود اور گنا ہوا ہونا عام طور پر اس کے تھوڑے اور مختصر ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ایک روایت میں(انما نعد لھم عدّا) کی تفسیر کے بارے میں امام صادق علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے سوال کیا: " تیری نظر میں اس آیت میں پروردگار کی مراد کس چیز کو شمار کرنا ہے"؟ اس نے جواب میں عرض کیا: "دنوں کی تعداد"۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا: "اولاد کی عمرکے دنوں کا حساب تو ماں باپ بھی رکھتے ہیں۔ ولکنہ عدد الانفاس۔ اس کے شمار کرنے سے مراد سانسوں کی گنتی ہے" (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۵۷)۔ امام کی یہ تعبیر ممکن ہے کہ پہلی یا دوسری یا دونوں تفسیروں کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، اس آیت میں بیان کردہ مطالب میں غور و خوض انسان کو ہلا کے رکھ دیتا ہے کیونکہ یہ اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ ہماری ہر چیز یہاں تک کہ ہمارے سانس بھی حساب شدہ اور گنی ہوئی ہیں اور ایک دن ہمیں ان سب کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اس کے بعد "متقین" اور "مجرمین" کی آخری منزل کو مختصر اور فصیح عبارت میں اس طرح بیان کرتا ہے: " ہم نے ان تمام اعمال کو اس دن کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے جس دن ہم پرہیزگاروں کو عزّت و احترم کے ساتھ خدا وند رحمان کی طرف جنت اور اس کے انعامات کی طرف اجتماعی طور پر رہنمائی کریں گے (یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا)۔ "وفد" بروزن "وعد" اصل میں ایسے گروہ یا ہیئت کو کہتے ہیں جو اپنی مشکلات کے حل کے لیے بزرگوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے نزدیک مکرم و محترم قرار پاتے ہیں۔اس بناء پر یہ لفظ ضمنی طور پر احترام کا مفہوم اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ پرہیزگار سوراریوں پر سوار ہوں گے اور بہت ہی عزّت و احترام کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ امام صادق علیہ اسلا م فرماتے ہیں، کہ علی علیہ السلام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت "یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا" کی تفسیر پوچھی تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا: "یا علی الوفد لایکون الا رکبانا اولٓئک رجال اتقوا اللہ عزو جل، فاحبھم و اختصھم ورضی اعمالھم فماھم متقین" "اے علی!"وفد" مسلمہ طور پر ایسے افراد کو کہتے ہیں کہ جو سواریوں پر سوار ہوں وہ ایسے افراد ہیں کہ جنہوں نے تقویٰ کو اختیار کیا ہے، خدا نے انہیں دوست بنایا ہے اور نہیں اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے اور ان کے اعمال سے راضی ہو کر انہیں متقین کا نام دیا ہے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۵۹)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے: ہم پرہیزگاروں کو خدائے رحمن کی طرف لے جائیں گے، جب کہ بعد والی آیت میں مجرموں کی طرف ہانکنے کی بات ہے۔کیا یہ زیادہ مناسب نہیں تھا کہ رحمان کے بجائے یہاں جنت کہا جاتا لیکن یہ تعبیر حقیقت میں ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ پرہیزگار وہاں جنت سے بھی زیادہ بلند مقام پر فائز ہوں گے، وہ قرب خدا کے مقام اور اس کے خاص جلوؤں کے نزدیک ہوں گے اور خدا کی رضا جو بہشت سے بھی بہت بڑ ھ کرہے حاصل کر لیں گے، (وہ تعبیریں جو اوپر بیان کردہ حدیث میں پیغمبر اکرمّ سے نقل کی گئی ہیں وہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں "ہم مجرموں کو اس حالت میں کہ وہ پیاسے ہوں گے جہنم کی طرف ہانکیں گے" (ونسوق المجرمین الی جھنم وردا) جیسا کہ پیاسے اونٹوں کو پانی کی طرف ہانکتے ہیں لیکن یہاں پانی نہیں بلکہ آگ ہو گی۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ لفظ "ورد" انسانوں یا جانوروں کے ایسے گروہ کے معنی میں ہے کہ جو پانی کے گھاٹ پر آتے ہیں، چونکہ یہ گروہ یقینی طور پر پیاسا ہوتا ہے لہذا مفسرین نے اس تعبیر کو یہاں پیاسوں کے معنی میں لیا ہے۔ کتنا فرق ہے ان لوگوں کے درمیان کہ جنہیں عزّت و احترام کے ساتھ خدائے رحمن کی طرف لے جایا جائے گا اور فرشتے ان کے استقبال کے لیے دوڑ رہے ہوں گے اور ان پر درود و سلام بھیج رہے ہوں گے اور اس گروہ کے درمیان کہ جنہیں تشنہ کام جانوروں کی طرح جہنم کی آگ کی طرف ہانک رہے ہوں گے جبکہ وہ سر نیچے کیے ہوئے، شرمسار، رسوا اور حقیر ہوں گے۔ اور اگر وہ یہ تصور کرتے ہوں کہ وہاں شفاعت کے ذریعے کسی جگہ پہنچ سکتے ہیں، تو انہیں جان لینا چاہیئے کہ "وہ ہرگز وہاں شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے" (لایملکون الشفاعة)۔ نہ تو کوئی اور ان کی شفاعت کرے گا اور نہ وہ بطریق اولیٰ اس بات پر قادر ہوں گے کہ خود کسی دوسرے کی شفاعت کریں۔ صرف اُنہی لوگوں کو شفاعت کا اختیار ہو گا کہ جو خدائے رحمن کے ہاں کوئی عہد و پیمان رکھتے ہوں گے۔ (الا من اتخذ عند الرحمن عھدا)۔ صرف یہی لوگ ایسے ہوں گے کہ جنہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت حاصل ہو سکے گی، یا ان کا مرتبہ و مقام اس سے بھی بالاتر و برتر ہے اور یہ قدرت و اختیار رکھتے ہیں کہ ایسے گنہگاروں کی کہ جو شفاعت کے لائق ہیں شفاعت کریں۔
"عھد" کا معنی کیا ہے؟
مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ مذکورہ بالا آیت جو یہ کہتی ہے "صرف انہی لوگوں کو شفاعت کا اختیار ہو گا جو خدا کے ہاں کوئی عہد رکھتے ہے کہ: عہد سے کیا مراد ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ: "عہد" سے مراد پرودگار پر ایمان، اس کی وحدانیت و یگانگی کا اقرار اور خدا کے پیغمبروں کی تصدیق ہی ہے۔ بعض نے کہا کہ یہاں "عہد" سے مراد حق تعالیٰ کی وحداینت کی شہادت، اور ایسے لوگوں سے بیزاری ہے کہ جو خدا کے مقابلے میں کسی پناہ گاہ اور قدرت کے قائل ہیں۔ اسی طرح "اللہ" کے سوا کسی اور سے امید نہ رکھنا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی کے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کے جواب میں فرمایا: من دان بولایة امیرالمومنین والائمة من بعدہ فھو العھد عند اللہ: جو شخص امیرالمومنین اور ان کے بعد آئمہ اہل بیت کی ولایت کا عقیدہ رکھتا ہو، یہ خدا کے نزدیک عہد ہے (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳، ص ۳۶۲)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و اآلہ وسلم سے منقول ہے: عہد کی حفاظت پانچوں وقت کی نمازوں کی حفاظت ہی ہے (المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں، بحوالہ درمنثور)۔ مختلف اسلامی میں منابع میں بیان کردہ مذکورہ بالا روایات کے مطالعہ اور ان میں غور و خوض کرنے سے اور اسی طرح بزرگ اسلامی مفسرین کے اقوال سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ خدا کے نزدیک عہد۔۔۔جیسا کہ اس کے لغوی معنی سے معلوم ہوتا ہے۔۔۔ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں پروردگار سے ہر قسم کا رابطہ اور اس کی معرفت و اطاعت اور اسی طرح اولیائے حق سے وابستگی اور ہر قسم کا عمل صالح جمع ہے۔ اگرچہ ہر روایت میں اس کے ایک حصّہ یا ایک واضح و روشن مصداق کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ لہذا ایک اور حدیث میں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وصیّت کرنے کی کیفیت کے بیان میں نقل ہوئی ہے تقریبا تمام اعتقادی مسائل جمع ہیں، اس میں آپ فرماتے ہیں: مسلمان کو چاہیئے کہ موت سے پہلے اس طرح وصیّت کرے اور کہے: پروردگار! تو ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے، تو رحمان و رحیم ہے، میں اِس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، تو واحد و یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، محمدّ تیرا بندہ اور تیرا بھیجا ہوا، "رسول"ہے، بہشت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت اور حساب و کتاب حق ہے، اعمال کی جانچ کے لیے میزان حق ہے، دین اسی طرح ہے جیسا کہ تو نے بیان کیا ہے اور اسلام وہی ہے جس کی شریعت تُو نے مقرر فرمائی ہے، (حق) بات وہی ہے کہ جو تو نے کہی ہے، قرآن اسی طرح ہے کہ جیسے تُو نے نازل کیا ہے، تو حق اور آشکار خدا ہے۔ پروردگارا! محمدّ کو ہماری طرف سے بہترین جزا دے اور اُن پر اور اُن کی آل پر درود و سلام بھیج۔ پروردگارا! مشکلات میں تو ہی میرا سرمایہ اور شدائد میں تو ہی میرا یاور و مددگار ہے۔ تو ہی میرا ولی نعمت ہے، تو ہی میرا اور میرے آباؤ اجداد کا معبود ہے، تو ایک چشم زدن کے لیے بھی مجھے میرے حال پر نہ چھوڑ اگر تو مجھے خود میرے حال پر چھوڑ دے گا تو میں بُرایئوں سے نزدیک اور نیکیوں سے دُور ہو جاؤں گا، اے میرے خدا! تو ہی قبر میں میرا مونس بن جا اور میرے لیے ایک عہد قرار دے جسے میں قیامت کے دن کھلا ہوا دیکھوں۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمّ نے فرمایا: ان حقائق کا اعتراف کرنے کے بعد جو کچھ انسان ضروری سمجھے وصیّت کرئے۔ اس وصیت کی تصدیق سورہ مریم۔ کی اس آیت میں ہے: لایملکون الشفاعة الا من اتخذعند الرحمن عھدا یہ ہے عہد و وصیت… (بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیہ کے ذیل میں)۔ یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مذکورہ بالا مطالب کو عربی یا فارسی (یا کسی بھی زبان میں) اوراد کی طرح پڑھے یا لکھے بلکہ خلوص دل کے ساتھ ا ن پر ایمان رکھتا ہو۔ ایسا ایمان کہ جس کے آثار اس کی زندگی کے پورے طرز عمل میں دکھائی دیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا اور اولاد کا ہونا؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 3چونکہ گزشتہ آیات میں مشرکین کے انجام کے بارے میں گفتگو تھی لہذا بحث کے آخر میں شرک کی ایک شاخ یعنی خدا کی اولاد ہونے کے اعتقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی قباحت اور برائی کو نہایت قاطع انداز میں واضح کیا گیا ہے: انہوں نے کہا کہ خدائے رحمن نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا لیا ہے۔(قالوا اتخذ الرحمن ولدا)۔ نہ صرف عیسائی یہ عقید ہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسٰی(علیه السلام) خدا کے بیٹے ہیں بلکہ یہودی بھی حضرت عزیر کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے تھے نیز بت پرست فرشتوں کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ رکھتے تھے اورانہیں خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے (تشریحی نوٹ:حضرت عزیرکے بارے میں سورہ توبہ کی آیہ ۳۰ اور فرشتوں کے بارے میں سورہ زخرف کی آیہ ۱۹ میں گفتگو آئی ہے)۔ اس کے بعد انتہائی سخت لہجے میں فرمایا گیا ہے:تم نے یہ کیسی بری اور سخت بات کی۔(لقد جئتم شیئا ادّا)۔ " ادّ" (بروزن "ضد") اصل میں ایسی بُری اور کریہہ آواز کو کہتے ہیں کہ جو شدید صوتی امواج کی گردش کی وجہ سے اونٹ کے گلے سے نکل کر کان تک پہنچے۔ بعد ازاں اس لفظ کا بہت ہی برے اور وحشتناک کاموں پر اطلاق ہونے لگا۔ چونکہ یہ ناروانسبت اصل توحید کے خلاف ہے، کیونکہ نہ کوئی اس کامثل و نظیر ہے اور نہ ہی اسے اولاد کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ جسم اور جسمانیت کے عوارض رکھتا ہے۔گویا تمام عالم ہستی جس کی بنیاد توحید پر قائم ہے اس ناروانسبت سے وحشت و اضطراب میں ڈوب جائے گا۔ لہذا بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے: قریب ہے کہ اس بات پر آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ شدّت سے ساتھ گر پڑیں۔ (تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ھدّا)۔ پھر تاکید کے لیے اور موضوع کی اہمیت کے بیان کی خاطر کہتا ہے: اس لیے کہ انہوں نے خدائے رحمن کے لیے بیٹے کا ادعا کیا ہے۔(ان دعوا للرحمن ولدا)۔ درحقیقت انہوں نے خدا کو کسی طرح سے پہچانا ہی نہیں ورنہ وہ یہ جان لیتے کہ " خدائے رحمن کے لیے ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے"۔ (وماینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا)۔ انسان چند چیزوں میں سے کسی ایک کے لیے اولاد کی خواہش کرتا ہے یا تو وہ اس بناء پر کہ اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے لہذا اسے بقاء نسل کے لئے تولید مثل کی ضرورت ہے۔ یا وہ کمک اور یار و مددگار کا طلب ہے کیونکہ اس کی قوت و طاقت محدود ہے یا اسے تنہائی سے وحشت ہے لہذا اسے کسی مونس کی تلاش ہے۔ لیکن خدا کے بارے میں ان مطالب کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نہ تو اس کی قدرت محدود ہے، نہ اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے، نہ اس کے وجود میں ضعف و کمزوری کانام و نشان ہے، نہ تنہائی کا کوئی احساس اور نہ ہی اسے کوئی ضرورت و احتیاج ہے۔ علاوہ ازیں، اولاد کا ہونا، جسم ہونے اور بیوی رکھنے کی دلیل ہے اور یہ تمام باتیں اس کی پاک ذات سے بعید ہیں۔ اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: آسمانوں میں اور زمین میں کوئی بھی ہے سب اس کے بندے ہیں اور اس کے تابع فرمان ہیں (ان کل من فی السمٰوٰت والارض الا اٰتی الرحمن عبدا)۔ اور باوجود اس کے کہ تمام بندے اس کے مطیع اور تابع ہیں،اسے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود وہی اس کے نیاز مند اور محتاج ہیں۔ وہ ان سب پر محیط ہے اور ان کی تعداد کو پوری طرح سے جانتا ہے۔(لقد احصاھم وعدھم عدا)۔ یعنی اس بات کا ہرگز تصور نہ کرنا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنے بندوں کا اس نے حساب رکھاہو گا۔ اس کا علم اس قدر وسیع و عریض ہے کہ نہ صرف وہ ان کے اعداد و شمار جانتا ہے بلکہ ان کی تمام خصوصیات سے بھی آگاہ ہے نہ تو وہ اس کی حکومت کی حدود سے بھاگ کر باہر نکل سکتے ہیں، اور نہ ہی ان کے اعمال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی ہے۔ وہ سب کے سب قیامت کے دن یکہ و تنہا اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ (وکلّھم اٰتیہ یوم القیامة فردا)۔ اس بناء پر مسیح(علیه السلام) بھی، عزیر بھی، فرشتے بھی اور تمام کے تمام انسان بھی اس کے اس ہمہ گیرحکم میں شامل ہیں۔ اس حالت میں یہ بات کس قدر نامناسب ہے کہ ہم اس کے لیے اولاد کا عقیدہ رکھ کر اور اس کی ذات پاک کو عظمت کی بلندیوں سے اس قدر نیچے لے آئیں اور اس کے صفات جلال و جمال کا انکار کر دیں (تشریحی نوٹ: خدا کے بیٹے کی نفی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد او ل سورہ بقر ہ کی آیہ ۱۱۶کے ذیل میں اور آٹھویں جلد سورہ یونس آیہ ۶۸ کے ذیل میں بھی بحث کی گئی ہے)۔
چند اہم نکات ۱۔ اب بھی اُسے خدا کا بیٹا خیال کرتے ہیں:
مذکورہ بالا آیت میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ قاطع ترین الفاظ میں خدا کی اولاد ہونے کی نفی کرتا ہے یہ وہ آیات ہیں جو چودہ سو سال پہلے کا واقعہ بیان کر رہی ہیں جبکہ آج کے زمانے میں اور علم و دانش کی دنیا میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو حضرت عیٰسی (علیه السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔مجازی بیٹا نہیں بلکہ حقیقی بیٹا اور اگر ان کی کچھ تحریروں میں جو تبلیغی مقصد سے لکھی گئی ہی اور اسلامی علاقو ں کے لیے خاص طور پر ترتیب دی گئی ہیں،اس بیٹے کو اعزازی یا مجازی بیٹا کہا گیا ہے تو وہ ان کی کتب اعتقادی کے اصلی متون سے کسی طرح بھی موافق نہیں ہے۔ یہ معاملہ مسیح(علیه السلام) کے خدا کے بیٹا ہونے تک مخصر نہیں ہے بلکہ وہ تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو مسلمہ طور پر تین خداؤں کے معنی میں ہے اور ان کے حتمی و یقینی عقائد میں سے ہے،مسلمان چونکہ اس قسم کی شرک آمیز بات سننے سے وحشت کرتے ہیں لہذا انہوں نے اسلامی علاقوں میں اپنے لب و لہجہ کو تبدیل کر دیا ہے اور اسے تشبیہ اور مجاز کی قسم قرار دیتے ہیں (مزید وضاحت کے لیے قاموس کتاب مقدس کی طرف " مسیح اور تین اقانیم" کے بارے میں رجوع کریں)۔
۲۔آسمان پھٹ کر ریزہ ریرہ کیسے ہوں گے؟
مذکورہ بالا آیت میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ "قریب ہے کہ آسمان اس ناروا نسبت سے پَھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر پڑیں" اِس سے کیا مراد ہے؟ اس سے یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کی تعبیرات کے مطابق،عالم ہستی کا مجموعہ ایک قسم کی حیات اور عقل و شعور رکھتا ہے اور کئی آیات کے مطابق خدا تعالیٰ کی شان اقدس کی طرف یہ ناروا نسبت دینے سے پورا عالم سخت وحشت میں پڑ جاتا ہے۔جیسے سورہ بقرہ کی آیہ ۷۴میں ہے: و ان منھا لما یھبط من خشیة اللہ بعض پتھر خوف خدا سے پہاڑوں سے گر پڑتے ہیں۔ اور جیسے سورہ حشر کی آیہ ۲۱ میں ہے: لوانزلناھذا القراٰن علیٰ جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیة اللہ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر نازل کر دیتے تو وہ خدا کے خوف سے پھٹ جاتے۔ یا پھر یہ اس بات کی انتہائی زیادہ قباحت اور برائی کی طرف اشارہ ہے۔عربی اور فارسی زبان میں ایسی مثالیں عام ملتی ہیں مثلاً ہم کہتے ہیں تو نے ایسا کام کیا ہے کہ گویا آسمانوں اور زمین کو میرے سر پر گرا دیا ہے۔ انشاء اللہ ہم اس بارے میں متعلقہ آیات کے ذیل میں پھر بھی بحث کریں گے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 3تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ایمان محبوبیت کا سرچشمہ ہے:
Tafsīr Nemūna · Vol. 3مذکورہ بالا تین آیات میں جو سورہ مریم کی آخری آیات ہیں ہر اہل ایمان، مومنین اور بےایمان ستمگروں کی بات ہو رہی ہو اور قرآ ن اور اس کی بشارتوں اور اس کی تنبیہوں سے متعلق گفتگوہے۔درحقیقت یہ پہلی بحثوں کا تازہ نکات کے ساتھ ایک نچوڑ ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے۔ خدا وند رحمان ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا (إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا)۔ بعض مفسرین اس آیت کو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں، اور بعض اسے تمام مومنین کے لیے عام کہتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا ان کے دشمنوں کے دلوں ِمیں ان کی محبت ڈال دے گا اور یہ محبت ان کے لیے ایک ایسی ڈوری بن جائے گی جو انہیں ایمان کی طرف کھینچ لائے گی۔ بعض نے اسے مومنین کی ایک دوسرے سے محبت کے معنی میں سمجھا ہے کہ جو قدرت و قوت اور اتحاد کا سبب ہو گی۔ بعض نے اس سے آخرت میں مومنین کی ایک دوسرے سے دوستی کی طرف اشارہ خیال کیاہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کاآپس میں اتنا تعلق ہو جائے گا کہ وہ ایک دوسرے کا دیدار کر کے انتہائی خوشی اور سرور محسوس کریں گے۔ لیکن اگر ہم وسعت نظر کے ساتھ آیت کے وسیع مفاہیم پر غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ آیت کے مفہوم میں یہ تمام تفسیریں جمع ہیں اور ان میں آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے۔ اس کا اصلی نکتہ یہ ہے کہ "ایمان اور عمل صالح" ایک غیر معمولی قوت جذب و کشش رکھتے ہیں۔ خدا کی واحدنیت اور انبیاء کی دعوت پر ایمان و اعتقاد کی چمک انسان کے قلب و رُوح، فکر اور گفتار و کردار میں، اعلیٰ انسانی اخلاق، تقویٰ، پاکیزگی، سچائی، امانت، شجاعت، ایثار و درگزر کی صورت میں جلوہ گر ہے اور عظیم مقناطیسی قوتوں کی مانند اپنی طرف کھینچے والی ہے۔ یہاں تک کہ ناپاک اور گناہ سے آلودہ لوگ بھی پاک لوگوں سے خوش رہتے ہیں اور اپنے ہی جیسے ناپاک لوگوں سے نفرت کرتے ہیں اس بناء پر مثال کے طور پر جب بیوی یا شوہر یا کسی شریک کار کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں تو تاکید کرتے ہیں کہ وہ پاک و نجیب، امین اور اچھے کردار کا ہو۔ یہ فطری بات ہے، اور حقیقت میں یہ پہلی جزا ہے کہ جو خدا مومنین اور صالحین کو دیتا ہے، تاکہ جس کا دامن دنیا سے لے کر آخری جہان تک کھنچا ہوا ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس قسم کے پاک لوگ جب دنیا سے آنکھ بند کرتے ہیں تو بہت سی آنکھیں ان کے لیے رو رہی ہوتی ہیں چاہے وہ ظاہری طور پر کم حیثیت دکھائی دیتے ہوں اور کوئی اجتماعی مقام و منزلت نہ رکھتے ہوں تمام لوگ ان کا خلاء محسوس کرتے ہیں اور سب لوگ اپنے آپ کو ان کے سوگ میں ڈوبا ہوا پاتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ بعض اس آیت کو امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بارے میں سمجھتے ہیں اور بہت سی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے تو بلاشک و شبہ اس کا اعلیٰ درجہ اور بلند ترین مقام اس امام متقین کے ساتھ مخصوص ہے (چند اہم نکات کے ذیل میں ہم ان روایات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے) لیکن یہ امر اس بات سے مانع نہیں ہو گا کہ دوسرے مرحلوں میں تمام مومنین اور صالحین بھی اس محبت و مجوبیت کا مزہ چکھیں اور اس مودت الہٰی سے کچھ حصّہ حاصل کریں۔ اور یہ امر اس میں بھی مانع نہیں ہو گا کہ دشمن بھی اپنے دلوں میں ان کے لیے محبت و احترام محسوس کریں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ:۔ ان اللہ اذا حب عبدا ًدعا جبرئیل، فقال یاجبرئیل انی احب فلانا فاحبہ، قال فیحبہ جبرئیل ثم ینادی فی اھل السماء ان اللہ یحب فلاناً فاحبوہ، قال فیحبہ اھل السمآء ثم یوضع لہ القبول فی الارض! وان اللہ اذا aبغض عبدا دعا جبرئیل، فقال یا جبرئیل انی ابغض فلانا faبغضہ، قال جبرئیل، ثم ینادی فی اھل السمآء ان اللہ یبغض فلانا فابغضوہ، قال فیبغضہ اھل السمآ ء ثم یوضع لہ البغضاء فی الارض! خدا جس وقت اپنے بندوں میں سے کسی سے محبت کرتا ہے تو اپنے عظیم فرشتے جبرئیل سے کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو محبوب رکھتا ہوں تُو بھی اسے دوست رکھ تو جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ آسمانوں میں منادی کرتا ہے کہ اے اہلِ آسمان خدا وندِ عالم فلاں شخص کو پسند کرتا ہے۔ تم بھی اسے محبوب رکھو تو اس کے بعد تمام اہل آسمان اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس محبت کی قبولیت کا عمل زمین پر جاری ہوتا ہے۔ اور جب خدا کسی کو دشمن رکھتا ہے تو وہ جبرئیل سے کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اُس سے دشمنی رکھو تو جبرئیل اس سے دشمنی رکھتے ہیں پھر وہ اہلِ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ خدا فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے تم بھی اس سے دشمنی رکھو تو تمام اہل آسمان اس سے متنفر ہو جاتے ہیں اس کے بعد اس تنفر کا عمل زمین پرجاری ہوتاہے۔(تشریحی نوٹ: یہ حدیث بہت سے مشہور منابع حدیث اور اس طرح بہت سی کتب تفسیر میں آئی ہے لیکن ہم نےاس متن کا انتخا ب کیا ہے کہ جو تفسیر فی ظلال کی پانچویں جلد ص ۴٠٤ میں "احمد" اور مسلم "اور" بخاری سے نقل ہوا ہے)۔ اِس کے بعد قرآن کی طرف جو ایمان اور عمل صالح کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے قرآن کو تیری زبان پر آسان کر دیا ہے تاکہ تو پرہیزگاروں کو اس کے ذریعہ بشارت دے اور سخت مزاج اور ہٹ دھرم دشمنوں کو ڈرائے (فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین و تنذر بہ قوما لُدّا)۔ "لدّ" (لام کی پیش اور دال کی شدکے ساتھ) الد کی جمع ہے (عدد کے وزن پر) جو ایسے دشمن کے معنی میں ہے جو سخت دشمنی رکھتا ہو اور ایسے اشخاص کے لیے بولا جاتا ہے جو دشمنی کرنے میں متعصب، ہٹ دھرم اور بےمنطق ہوں۔ زیر بحث آخری آیت میں جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کی دلجوئی کے لیے (خصوصاً اِس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت مسلمان انتہائی سخت دباؤ میں تھے) اور تمام ہٹ دھرم دشمنوں کو تنبیہ اور تہدید کے لیے قرآن کہتا ہے: ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی بےایمان اور گنہگار قوموں کو ہلاک و نابود کیا ہے، وہ اس طرح نابود اور بھولی بسری ہو گیئں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ "اے پیغمبر! کیا تو ان میں سے کسی کو محسوس کرتا ہے یا ان کی کوئی خفیف سی آواز سنتا ہے" (وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھل تحس منھم من احد او تسمع لھم رکزاً)۔ " رکز" آہستہ آواز کے معنی میں ہے۔اور جن چیزوں کو زمین میں چھپاتے ہیں انہیں"رکاز " کہا جاتا ہے یعنی یہ ستمگر قومیں اور حق و حقیقت کے سخت دشمن اس طرح سے درہم برہم ہوئے کہ ان کی خفیف سی آواز تک بھی سنائی نہیں دیتی۔
چند اہم نکات: ۱۔ مومنوں کے دلوں میں علی (علیه السلام) کی محبت:
شیعہ کتب کے علاوہ اہل سنّت کی حدیث و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں متعدد روایات کو جو آیہ: " إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا " کی شان نزول میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں، ان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ آیت آغاز میں علی علیہ السلام کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔ ان میں سے علامہ زمخشری نے کشاف میں، سبط بن الجوزی نے تذکرہ میں گنجی شافعی اور قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں، محب الدین طبرسی نے ذخائر العقبیٰ میں نیشاپوری نے اپنی مشہور تفسیر میں، ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں، سیوطی نے درالمنثور میں،ھیشمی نے صواعق المحرقہ میں اور آلوسی نے رُوح المعانی میں یہی شان نزول نقل کی ہے۔اُن میں سے کچھ اس طرح ہیں: ۱۔" ثعلبی تفسیر میں، "براء بن عازب" سے اس طرح نقل کرتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: قل اللھم اجعل لی عندک عھدا، واجعل لی فی قلوب المومنین مودة، فانزل اللہ تعالی: ان الذین اٰمنو و عملوا الصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا۔ کہو خدا وندا! میرے لیے اپنے ہاں عہد قرار دے اور مومنین کے دلوں میں میری محبت ڈال دے تو اس وقت آیہ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا نازل ہوئی (بحوالہ: احقاق الحق، جلد ۳، ص ۸۳ تا ۸۶ بحوالہ تفسیر ثعلبی)۔ عین یہی عبارت یا تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بہت سی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ ۲۔ بہت سی اسلامی کتابوں میں یہی معنی ابن عباس سے نقل ہو اہے، وہ کہتے ہیں: "نزلت فی علی بن ابی طالب" ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا" قال محبة فی قلوب المومنین ، یعنی آیہ ان الذین آمنو۔۔۔۔۔ علی ابن ابی طالبؑ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کا معنی یہ ہے کہ خدا آپ کی محبت مومنین کے دلوں میں ڈال دے گا (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ۱۶ ، ص ۱۳۰ اور مجمع بیان، جلد ۶، ص ۵۳۳ ، اور نہج البلاغہ کلمات قصار ۴۵)۔ ۳۔ کتا ب "صواعق" میں محمد بن حنفیہ سے اس آیت کی تفسیر میں اس طرح نقل ہوا ہے: لایبقی مومن الا و فی قلبہ وُدّ لعلی ولاھل بیتہ کوئی مومن ایسا نہ ملے گا کہ جس کے دل میں علیؑ اور ان کے اہل بیتؑ کی محبت نہ ہو (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ۱۶ ، ص ۱۳۰ اور مجمع بیان، جلد ۶، ص ۵۳۳ ، اور نہج البلاغہ کلمات قصار ۴۵)۔ ۴۔ شاید اسی بنا پر صحیح اور معتبر روایت میں خود امیرالمومنین علی علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے: لو ضربت خیشوم المومن بسیفی ھذا علی ان یبغضنی ماابغضنی ولو صببت الدنیا بجماتھا علی المنافق علی ان یحبنی مااحبنی و ذالک انہ قضٰی فانقضی علی لسان النبی الامی انہ قال لایبغضک موئمن ولایحبک منافق: اگر میں اپنی تلوار مومن کی ناک پر ماروں کہ وہ مجھ سے دشمنی رکھے تو وہ ہرگز میرا دشمن نہیں ہو گا اور اگر میں ساری دنیا(اور اس کی نعمتیں) منافق کو دے ڈالوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہیں رکھے گا۔ یہ اِس بناء پر ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے ایک قطعی حکم کے ساتھ مجھ سے فرمایا ہے : اے علیؑ! کوئی مومن تجھ سے دشمنی نہیں رکھے گا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہ کرے گا۔ (بحوالہ: رُوح المعانی،جلد ۱۶، ۱۳۰ ،اور مجمع البیان، جلد۶ ، ص ۵۳۳ ، اور نہج البلاغہ کلمات قصار۔ ۴۵) ۵۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں ایسی بلند آواز کے ساتھ کہ جسے لوگ سنتے تھے، امیر المو منین علی علیہ السلام کے حق میں اس طرح دعا فرماتے تھے: اللھم ھب لعلی المودة فی صدورالمومنین، والھیبة و العظمة فی صدورالمنافقین فانزل اللہ ان الذین اٰمنوا… خدا وند! علی کی محبت مومنین کے دلوں میں ڈال دے اور اسی طرح اس کی عظمت و ہیبت منافقین کے دلوں میں بٹھا دے۔تو اس وقت یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔ (بحوالہ: نورالثقلین، جلد ۳ ، ص ۴۶۳)۔ بہرحال، جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے، علی علیہ اسلام کے بارے میں اس آیت کا نزول ایک کامل اور اکمل نمونے کے عنوان سے ہے اور یہ تمام مومنین کے لیے، سلسلہء مراتب کے ساتھ، مفہوم کے اعتبار سے عام ہونے میں مانع نہیں ہو گا۔
۲۔ ”یسرناہ بلسانک“ کی تفسیر:
" یسرناہ "، " تیسیر" کے مادہ سے "تسہیل" (سہل اور آسان کرنے) کے معنی میں ہے۔ خدا اس جملے میں فرماتا ہے: " ہم نے قرآن کو تیری زبان پر آسان بنا دیا تاکہ تو پرہیزگاروں کو بشارت دے اور سخت قسم کے دشمنوں کو ڈرائے" یہ آسانی ممکن ہے کہ مختلف جہات سے ہو: ۱۔ اِس لحاظ سے کہ قرآن فصیح اور رواں عربی زبان میں ہے کہ جس کا لہجہ اور آواز کانوں کو بھلی لگتی ہے اور زبان کے لیے اس کی تلاوت آسان ہے۔ ۲۔ اِس لحاظ سے کہ خدا نے اپنے پیغمبرؐکو آیاتِ قر آن کے بارے میں ایسی لیاقت اور گرفت عطا کی تھی کہ آسانی کے ساتھ ہر جگہ پر ہر مشکل کے حل کے لیے اس سے استفادہ کرتے تھے اور ہمیشہ مومنین کے سامنے اس کی تلاوت کرتے تھے۔ ۳۔ مطالب و معانی کے لحاظ سے جو انتہائی گہرے اور پُر مایہ ہیں وہ سمجھتے میں "سہل" سادہ اور آسان ہیں۔اصولی طور پر وہ تمام کے تمام عظیم اور اعلیٰ حقائق جو معانی کو سمجھنے کی سہولت کے ساتھ ان محدود الفاظ کے قالب میں ڈھالے گئے ہیں خود اس بات کی نشانی ہیں کہ جو مذکورہ بالاآیت میں بیان ہوا ہے اور جو امداد الہیٰ کے زیر اثر صورت پذیر ہوا ہے۔ سورہ قمر میں متعدد آیات میں یہ جملہ دہرایا گیا ہے: و لقد یسّرنا القراٰن للذکر فھل من مدّکر ہم نے قرآن کو تذکّر اور یاد دہانی کے لیے آسان کیا ہے ، تو کوئی پند و نصیحت لینے والا ہے؟ پروردگارا! ہمارے دل کو نُورِ ایمان کے ساتھ اور ہمارے تمام وجود کو عمل صالح کے نور کے ساتھ روشن کر دے۔ ہمیں مومنین و صالحین خصوصاً امام المتقین امیرالمومنین علی علیہ السلام کے دوستوں میں سے قرار دے ہماری محبت تمام مومنین کے دلوں میں ڈال دے۔ بار الٰہا! ہمارا عظیم اسلامی معاشرہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے اور اتنے وسیع مادی و معنوی وسائل رکھنے کے باوجود دشمنوں کے پنجے، میں گرفتار ہے اور آپس کے انتشار اور پھوٹ کی وجہ سے کمزور ہو گیا ہے۔ تو مسلمانوں کو ایمان اور عمل صالح کی مشعل کے گرد اکھٹا کر دے۔ خدا وندا! جس طرح تو نے پہلے زمانے کے سرکشوں اور جابروں کو ایسا ہلاک و محو اور نابود کیا ہے کہ اُن کی بِھنک بھی کانوں میں نہیں پڑتی اِسی طرح ہمارے زمانہ کی سُپر طاقتوں کو بھی نیست و نابود کر دے۔ اُن کے شر کو مستضعفین کے سروں سے ٹال دے اور مستکبر ین کے خلاف مومنین کی جد و جہد کو حتمی کامیابی سے ہمکنار کر دے۔ ا