Al-Mursalat
سورہ مرسلات
یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ٥٠ آیات ہیں۔
سورہ "مرسلات" کے مضامین
مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ "مکہ" میں نازل ہوا، لیکن بعض نے یہ تصریح کی ہے کہ آیہ ۴۸ "وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ"، "مدنی" ہے، اگرچہ انہوں نے اس چیز کی کوئی واضح دلیل پیش نہیں کی ہے اور اگر "رکوع" و "نماز" کا مسئلہ اس استنباط کا سبب بنا ہے تو یہ درست نظر نہیں آتا، کیونکہ مسلمان مدتوں مکہ میں نماز پڑھتے اور رکوع کرتے رہے۔ بہرحال، زیادہ تر مطالب جو اس سورہ میں بیان کیے گئے ہیں، وہ قیامت اور مکذبین و منکرین کی تہدید و انداز سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سورہ کے امتیازات میں سے یہ ہے کہ آیہ "وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ" ، "وائے ہے اس دن کی تکذیب کرنے والوں کے لیے" کا اس میں دس مرتبہ تکرار ہوا ہے، اور ہر مرتبہ نئے مطلب کے بعد ہے۔ کئی قسمیں کھانے کے بعد قیامت اور معاد کے سنگین اور سخت حوادث کی خبر دیتا ہے اور اس کے بعد اسی آیت کو ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے" اس کے بعد والے مرحلہ میں گزشتہ گنہگار اقوام کی غم انگیز سرگذشت ہے۔ اور تیسرے مرحلہ میں انسان کی خلقت کے خصوصیات کا گوشہ ہے۔ اور چوتھے مرحلہ میں زمین میں خدا کی نعمتوں کے ایک حصہ کا بیان ہے۔ اور پانچویں مرحلہ میں تکذیب کرنے والوں کے عذاب کے کچھ حصوں کی تشریح کرتا ہے۔ اسی طرح ہر مرحلہ میں ایک بیدار کرنے اور ہلا دینے والے مطلب کی طرف اشارہ کر کے، اس کے بعد اس آیت کا تکرار کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے ایک حصہ میں بہشت کی ان نعمتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جو پرہیزگاروں کو نصیب ہوئی ہیں، تاکہ انذار کو بشارت کے ساتھ ملا دے اور تہدید کو تشویق کے ساتھ۔ بہرحال، یہ تکرار سورہ رحمٰن کی بعض آیات کے تکرار کے مشابہ ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہاں گفتگو نعمتوں کے متعلق تھی اور یہاں زیادہ تر تکذیب کرنے والوں کے عذابوں کے بارے میں ہے۔ اس سُورہ کے لیے "مرسلات" کے نام کا انتخاب اس سورہ کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔
تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے آیا ہے: من قرء سورۃ والمرسلات کتب انہ لیس من المشرکین "جو شخص سُورہ مرسلات کو پڑھے گا تو یہ لکھا جائے گا کہ یہ مشرکین میں سے نیہں"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۱۲)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے: من قرأھا عرف اللہ بینہ و بین محمد (ص) "جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا تو خدا اے پیغمبرؐ کا آشنا (اور ہم جوار) بنا دے گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۱۲)۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ثواب اور فضیلت انہی لوگوں کے لئے ہے جو پڑھ کر غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں، اور اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ اصحابِ پیغمبرؐ میں سے بعض نے آنحضرتؐ کی خدمت میں عرض کیا اسرع الغیب الیک یا رسول اللہ (ص) "اے رسولِ خدا! آپ میں بڑھاپے کے آثار کتنا جلدی ظاہر ہو گئے ہیں"؟ آپؐ نے فرمایا: شیبتنی ھود، والواقعۃ والمرسلات وحمٓ یتساءلون "مجھے سُورہ ہود، واقعہ، مرسلات اور حم یتسائلون نے بوڑھا کر دیا ہے"۔ (بحوالہ: خصائل صدوق، "باب الاربعہ" حدیث ۱٠)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان تمام سورتوں میں قیامت کے حالات اور اس عظیم دادگاہ کے ہولناک مسائل بیان کیے گئے ہیں، اور یہی وہ امور تھے جنہوں نے پیغمبر کی روحِ مقدس میں اثر کیا۔ یہ بات واضح ہے کہ غور و فکر اور عمل کے لئے پختہ ارادہ کے بغیر جو تلاوت ہو، وہ اس قسم کا اثر نہیں چھوڑ سکتی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا کے وعدے حق ہیں، وائے ہے تکذیب کرنے والوں کے لیے
Tafsīr Nemūna · Vol. 11اس سورہ کے آغاز میں مقدمہ کے طور پر پانچ آیات میں پانچ قسمیں آئی ہیں، جن کے معنی کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ فرمایا ہے: "قسم ہے ان کی جو پے در پے بھیجے جاتے ہے"۔ (وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا)۔ (تشریحی نوٹ: "عر ف" یکے بعد دیگرے اور پے در پے کے معنی میں آیا ہے اور اصل میں "گھوڑے کے گردن کے بالوں" کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے پر پڑے ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس کی "اچھے اور جانے پہچانے کام" کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے)۔ "اور ان کی جو طوفان اور تیز آندھی کی طرح حرکت کرتے ہیں"۔ (فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا)۔ "اور قسم ہے ان کی جو پھیلاتے اور منتشر کرتے ہیں"۔ (وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا)۔ "اور ان کی جو جدا کرتے ہیں"۔ (فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا)۔ "اور ان کی جو بیدار کرنے والی آیات القاء کرتے ہیں"۔ (فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا)۔ "اتمام حجت یا ڈرانے کے لیے"۔ (عُذْرًا أَوْ نُذْرًا)۔ (تشریحی نوٹ: "عُذْرًا أَوْ نُذْرًا" پر نصب (زیر) کا اعراب مفعول لاجلہ کی بناء پر ہے اور بعض نے اسے حال سمجھا ہے)۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان سربستہ قسموں کا ـــــــــ جو اہم مسائل کی خبر دیتی ہیں ــــــــــ مفہوم کیا ہے؟ یہاں تین مشہور تفسریں ہیں۔ ۱- یہ پانچوں کی پانچوں قسمیں "آندھیوں اور طوفانوں" کی طرف اشارہ ہیں، جن کا طبیعیات کے بہت سے مسائل میں ایک مؤثر نقش ہے، اس قول کی بناء پر ان آیات کا مفہوم اس طرح ہو گا: قسم ہے ان ہواؤں کی جو پے در پے چلتی ہیں۔ اور قسم ہے ان طوفانوں کی جو تیزی کے ساتھ چلتی ہیں۔ اور قسم ہے ان کی جو بادلوں کو پھیلاتی اور منتشر کرتی ہیں اور بارش کے حیات بخش قطرات کو ان کے درمیان سے خشک سرزمینوں کی طرف بھیجتی ہیں۔ اور قسم ہے ان کی جو بادلوں کو بارش برسانے کے بعد پراگندہ کر دیتی ہیں۔ اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو اس پروگرام کے ساتھ انسانوں کو خدا کی یاد میں مصروف کر دیتی ہیں۔ (بعض نے "فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا" کو عذاب کے طوفانوں کی طرف بھی اشارہ سمجھا ہے، جو حیات بخش ہواؤں کی مدِّمقابل ہیں کہ وہ بھی اپنی نوعیت میں تذکرے اور بیداری کا سبب ہیں)۔ ۲- یہ تمام قسمیں "آسمانی فرشتوں" کی طرف اشارہ ہیں، یعنی قسم ہے ان فرشتوں کی جو پے در پے انبیاء کی طرف بھیجے جاتے ہیں (زیادہ فرشتے جو جانے پہچانے اور مشہور پروگراموں کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں)۔ اور قسم ہے ان کی جو طافانوں کی طرح پوری سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنے کاموں کے پیچھے جاتے ہیں۔ اور ان کی جو آسمانی کتابوں کی آیات کو پیغمبروں کے سامنے کھولتے اور نشر کرتے ہیں۔ اور ان کی جو اس عمل کے ساتھ حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں۔ اور ان کی جو حق تعالٰی کے ذکر اور اس کے احکام کو انبیاء پر القاء کرتے ہیں۔ ۳- پہلی اور دوسری قسم "ہواؤں اور طوفانوں" کے بارے میں ہے، اور تیسری، چھوتھی اور پانچویں قسم فرشتوں کے ذریعہ حق تعالٰی کی آیات کی نشر و اشاعت کے بارے میں اور پھر حق کو باطل سے جُدا کرنے اور اس کے بعد اتمامِ حجّت اور انذار کے مقصد سے خدا کے ذکر اور اس کے احکام کو پغمبروں پر القاء کے بارے میں ہے۔ وہ چیز جو تیسری تفسیر پر شاید بن سکتی ہے، اولاً آیات میں "واو" کے ذریعہ ان دو قسم کی قسموں کی جدائی ہے۔ جبکہ باقی کا "فاء" کے ذریعہ عطف ہوا ہے جو ان کے ارتباط اور تعلق کی نشانی ہے۔ ثانیاً ـــــــ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ــــــــــــ یہ تمام قسمیں ایک ہی مطلب کے لیے ہیں، جو ساتویں آیت میں بیان ہوا ہے، یعنی قیامت و معاد کی حقانیت و واقیعت، اور ہم جانتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک عظیم تغیر عالم میں پیدا ہو گا۔ ایک طرف تو شدید طوفان، آندھیاں، زلزلے اور ہلا دینے والے حوادث ہوں گے، اور اس کے بعد دوسری طرف عدلِ الیٰہی کی عدالت اور دادگاہ قائم ہو گی، جہاں فرشتے اعمال ناموں کو پھیلائیں گے اور نشر کریں گے، اور مومنین اور کفّار کی صفوں کو الگ اور جدا کر دیں گے اور اس سلسلہ میں حکم الہی کا القاء کریں گے۔ اگر اوپر والی پانچ قسمیں اس تفسیر کے مطابق بیان ہوں تو مقسم بہ یعنی وہ چیز جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے، مناسب ہو گی اور آخری تفسیر کو اس لحاظ سے برتری حاصل ہے۔ "فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا" کے جملہ میں ذکر یا تو ان علوم و معارف کے معنی میں ہے جو انبیاء کو القاء ہوئے ہیں، یا ان آیات کے معنی میں ہے جو ان پر نازل ہوئی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آیاتِ قرآنی میں خود قرآن کو بھی "ذکر" سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ سُورہ حجر کی آیہ ۶ میں آیا ہے، "وَقَالُواْ يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ" ــــــــــــ "(دشمن) کہتے تھے، اے وہ کہ جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو تو دیوانہ ہے"! "الملقیات" کی تعبیر جمع کی صورت میں ہے، حالانکہ وحی کا فرشتہ یعنی جبرئیل ایک سے زیادہ نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات قرآنی آیات کے نزول کے لیے فرشتوں کے بہت سے گروہ جبرئیل کے ہمراہ ہوتے تھے سورہ عبس کی آیہ ۱٥ میں بھی یہ آیا ہے "بِأَيْدِي سَفَرَةٍ" یعنی قرآنی آیاتِ خدا کے سفیروں (فرشتوں) کے ہاتھ پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئی ہیں"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قسمیں کس مقصد کے لیے ہیں، بعد والی آیت میں اس معنی سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتا ہے: "جو کچھ تمھیں وعدہ دیا جاتا ہے، وہ واقع ہو کر رہے گا"۔ (إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ)۔ بعث و نشور، ثواب و عقاب، حساب و جزا سب حق ہے اور ان میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ بعض نے اسے خدا کے تمام وعدوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے، چاہے وہ نیکیوں سے وعدے ہوں یا بدوں سے، دنیا میں ہوں یا آخرت میں، لیکن بعد والی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مراد وعدۂ قیامت ہے۔ (تشریحی نوٹ: "فاء" کا عطف بھی اسی مطلب کی تائید کرتا ہے)۔ اگرچہ اس آیت میں مسئلہ معاد پر کوئی استدلال نہیں ہوا ہے، اور صرف دعوے پر قناعت کی گئی ہے۔ لیکن مطلب کی عمدگی یہ ہے کہ گزشتہ قسموں میں ایسے مطالب آئے ہیں، جو خود معاد اور قیامت کے دلائل ہیں، منجملہ ان کے مردہ زمینوں کا بارشوں کے نزول کے ذریعہ زندہ ہونا، جو خود معاد کے منظر کا نمونہ ہے دوسرے پیغمبروں پر خدائی احکام و تکالیف کا نزول اور رسولوں کا بھیجنا، جس کا معاد کے بغیر کوئی مفہوم نہیں ہے، خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیامت کا وعدہ قطعی و یقینی ہے۔ اس مطلب کی نظیر سورہ ذاریات کی آیہ ۲۳ میں بھی آئی ہے: خدا فرماتا ہے: "فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ" "آسمان کے پروردگار کی قسم تمھاری روزی حق ہے"۔ "رب" کی قسم! جو پروردگار کی ربوبیّت اور عالمِ خلقت میں اس کی تدبیر کی طرف اشارہ ہے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ بندوں کو روزی کے بغیر نہ چھوڑے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس موجود دن کی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ موجود دن اس وقت آن پہنچے گا، جب ستارے صفحہ آسمان سے محو اور تاریک ہو جائیں گے"۔ (فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اور آسمان (آسمان کے ستارے) پھٹ جائیں گے"۔ (وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ)۔ "اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے"۔ (وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "طمست"، "طمس" (بروزن شمس) کے مادے سے کسی چیز کے آثار کو محو اور زائل کرنے کے معنی میں ہے، اور یہاں ممکن ہے ستاروں کی روشنی کے محو ہونے کی طرف اشارہ ہو، یا ان کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کی طرف، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے، جیسا کہ سورہ تکویر کی آیہ ۲ میں آیا ہے: وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ: "جب ستارے تاریک ہو جائیں گے"۔ اور "نفست"، "نسف" (بروزن حذف) کے مادہ سے، اصل میں غذا کے دانوں کو چھلنی میں ڈال کر ہلانے کے معنی میں ہے، تاکہ چھلکہ دانہ سے الگ ہو جائے اور یہاں پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور پھر ہوا میں بکھر جانے کے معنی میں ہے۔ اصولی طور پر قرآن کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا اختتام بہت ہی ہولناک اور سرکوبی کرنے والے حوادث کے ایک سلسلہ کے ساتھ ہو گا، اس طور پر کہ اس کے نظام کو کلی طور پر پراگندہ کر دےگا، اور عالمِ آخرت ایک نئے نظام کے ساتھ اس کی جگہ لے لے گا۔ یہ حوادث اتنے عجیب و غریب اور وحشت ناک ہوں گے کہ کسی بیان کے ساتھ ان کی وضاحت نہیں ہو سکتی، کیا وہ حوادث جو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اکھڑ پھینکیں گے اور انھیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرائیں گے کہ وہ گرد و غبار میں تبدیل ہو جائیں گے، اور دھنکی ہوئی اون کی صورت اختیار کر لیں گے، قابلِ تعارف ہیں۔ بعض مفسرین کے تعبیر کے مطابق یہ حوادث اتنے عظیم ہوں گے، کہ وہ عظیم ترین زلزلے جنھیں انسان نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے، ان کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے جیسے کہ چھوٹے چھوٹے پٹاخے ـــــــــــــ جنھیں بچے کھیلتے ہوئے چلاتے ہیں ـــــــــ بہت بڑے ایٹم بم کے مقابلہ میں۔ بہرحال، یہ قرآنی تعبیریں نظام ہائے آخرت اور دنیا کے نظاموں میں بہت زیادہ فرق کی دلیل ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــ اور اس کے بعد قیامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اور یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبروں کے لیے وقت معین ہو گا، کہ وہ اپنی اپنی باری پر آئیں، اور اپنی امتوں کے بارے میں شہادت دیں"۔ (وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ)۔ (تشریحی نوٹ: "اقّتت" اصل میں "وقت" کے مادہ سے "وقتت" تھا، جس میں واو مضموم ہمزہ کے ساتھ تبدیل ہو گئی اور یہ پروردگار کے رسولوں کے لیے "توقیت وقت" کے معنی میں ہے اور یہ معلوم ہے کہ وقت خود ان کیلیے معین نہیں ہو گا، بلکہ ان کے عمل یعنی ان کی شہادت کے لیے معین ہو گا، لہذا بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں مقدر ہے)۔ جیسا کہ سورہ اعراف کی آیہ ۶ میں آیا ہے، (فَلَنَسْئلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْئلَنَّ الْمُرْسَلِينَ)۔ "ہم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھجے گئے تھے، اور رسولوں سے بھی سوال کریں گے"۔ اس کے بعد مزید کہتا پے: "امتوں کے لیے ان رسولوں کی شہادت اور ان کی گواہی کو کس دن کے لیے تاخیر میں ڈالا گیا ہے"۔ (لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ)۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق "اجّلت" کی ضمیر انبیاء و رسل کی شہادت کی طرف لوٹتی ہے، جو گزشتہ آیت سے معلوم ہوتی ہے، لیکن بعض نے یہ کہا ہے یہ ان تمام امور کی طرف لوٹتی ہے جو انبیاء اور ان اخبار سے مربوط ہیں، جو انھوں نے ثواب و عقاب اور قیامت وغیرہ کے حوادث کے بارے میں دیئے ہیں، اور بعض نے ان تمام امور کی طرف اشارہ بھی سمجھا ہے جو گزشتہ آیات میں آئے ہیں، مثلاً ستاروں کا تاریک ہونا وغیرہ ....... لیکن واضح ہےکہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ آیت میں ضمیر کا مرجع اس کےساتھ متصل ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــ "جدائی کے دن کے لیے"۔ (لِيَوْمِ الْفَصْلِ)۔ حق سے باطل کی جدائی کا دن، مومنین کی صفوں کا کافروں کی صفوں سے جدا ہونے کا دن، اور نیکوکاروں کے بدکاروں سے جدا ہونے کا دن، اور سب کے بارے میں حق تعالٰی کی مطلق وضادت اور انصاف کا دن۔ یہ سوال و جواب اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، اور اس کے بارے میں کیسی معنی خیز اور منہ بولتی تعبیر ہوئی ہے، "جدائی کا دن"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے فرماتا ہے، "تو کیا جانے کہ یوم الفصل اور جدائیوں کا دن کیا ہے؟"۔ (وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ)۔ جہاں پیغمبر اس وسیع و عریض علم، اور ان تیزبین نگاہوں کے باوجود ـــــــــــ جو اسرار غیب کا مشاہدہ کرتی تھیں ـــــــــــــ اس دن کی عظمت کے البادہ و جہات کو ٹھیک طرح سے نہ جانتے ہوں تو باقی لوگوں کی ذمہ داری واضح ہے اور جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے، قیامت کے تمام باعظمت اسرار کا ادراک کرنا، ہم قفسِ دنیا کے قیدیوں کے لیے ممکن نہیں ہے، ہم تو صرف دور سے ان کا ایک سایہ سا دیکھتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیر بحث آیت میں، اس دن کی تکذیب کرنے والوں کو بہت سختی کے ساتھ تہدید کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔ (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ "ویل" کی بعض نے "ہلاکت" کے معنی میں، بعض نے "انواع و اقسام کے عذاب" کے معنی میں، اور بعض نے "جہنم کی ایک پُر عذاب وادی" کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ یہ لفظ عام طور پر افسوس ناک حوادثات کے بار میں استعمال ہوتا ہپے اور یہاں قیامت کے دن کی تکذیب کرنے والوں کی دردناک سرنوشت کی حکایت کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "ویل" کے معنی کے سلسلہ میں مزید وضاحت اور اس کا "دیس" اور "دہج" کے ساتھ فرق جلد ۱۳، سورہ ذاریات کی آیہ ۶٠ کے ذیل میں آیا ہے)۔ یہاں مکذبین سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ جو شخص قیامت اور خدا کی دادگاہِ عدل اور حساب و جزا پر ایمان نہ رکھتا ہو، وہ آسانی کے ساتھ ہر قسم کے گناہ اور ظلم و فساد کا مرتکب ہو سکتا ہے، لیکن اس دن پر ایمانِ راسخ، انسان کو ذمہ داری، احساس، مسئولیت، تقوٰی اور پرہیزگاری بخشتا ہے۔
ایک نکتہ ان قسموں کا مطلب!
اوپر والی آیات میں پہلے ہواؤں اور طوفانوں کی قسم کھائی گئی ہے، اور یہ اس اہم اثر کی وجہ سے ہے جو وہ عالمِ خلقت میں رکھتی ہیں: بادلوں کو چلاتی ہیں، اور پھر انھیں خشک اور مردہ زمینوں کی بلندی پر ایک دوسرے کے سات جوڑتی ہیں اور بارش برسانے کے بعد انھیں پراگندہ اور منتشر کر دیتی ہیں۔ نباتات کے بیجوں کو بکھیرتی ہیں، اور جنگلات اور چراگائیں وجود میں لاتی ہیں، بہت سے ہھولوں اور پھلوں کو بارور کرتی ہیں، اور حرارت و برورت کو زمین کے مختلف مقامات سے دوسرے مقامات کی طرف منتقل کرتی ہیں اور فضا میں اعتدال پیدا کرتی ہیں۔ زندہ اور آکسیجن سے بھری ہوئی ہوا کو کھیتوں اور صحراؤں سے شہروں کی طرف لے جاتی ہیں، اور گندی ہواؤں کو صاف کرنے کے لیے صحراؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔ سمندورں کے پانی کو متلاطم اور موّاج بناتی ہیں اور پانی کے اندر زندہ رہنے والی موجودات کے لیے پانی کو اوکسیجن سے پُر کرتی ہیں۔ ہاں! ہوائیں اور باد ہانے نسیم، دنیا میں عظیم اور حیات بخش خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان قسموں کا دوسرا حصہ جو فرشتوں کے ذریعہ نزولِ وحی کے پروگرام کی بات ہے، وہ بھی عالمِ معنی میں اس نسیم سے مشابہ ہے، جو عالم مادہ میں چلتی ہے، فرشتے، وحی کے کلمات کو، جو بارش کے قطروں کی طرح زندہ کرنے والے ہوتے ہیں، خدا کے پیغمبروں کے دلوں پر نازل کرتے ہیں، اور تقوٰی و معارفِ الٰہی کے پھل اور پھول دلوں میں اگاتے ہیں، اس طرح خدا نے عالمِ مادہ کی تربیت کرنے والوں کی بھی اور عالم معنی کی تربیت کرنے والوں کی بھی قسم کھائی ہے۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ تمام قسمیں اس دن کی واقعیت کے بیان کے لیے ہیں جس میں یہ تمام کوششیں ثمر بخش ہوں گی، جو قیامت کا دن اور یوم الفصل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ان تمام مظاہر قدرت کے باوجود پھر بھی تم معاد میں شک رکھتے ہو؟!
Tafsīr Nemūna · Vol. 11ان آیات میں بھی منکرین قیامت کو مختلف طریقوں سے خبردار کرتا ہے، اور گوناں گوں بیانات کے ساتھ انھیں غفلت کی گہری نیند سے بیدار کرتا ہے۔ پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور انھیں گزشتہ مصیبت زدہ اقوام کی سرزمین دکھاتا ہے، اور فرماتا ہے: "کیا ہم نے پہلی قوموں کو جنھوں نے کفر و انکار کی راہ اختیار کی تھی ہلاک نہیں کیا"۔ (أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ)۔ ان کے آثار نہ صرف صفحات تاریخ پر، بلکہ صفحہ روئے زمین پر بھی نمایاں ہیں، قوم "عاد" و "ثمود" اور "قوم نوح" و "قوم لوط" اور قوم "فرعون" جیسی اقوام، جن میں سے کوئی گروہ طوفان سے، کوئی گروہ صاعقہ (بجلی) سے، کوئی گروہ تیز آندھی سے، اور کوئی قوم زلزلہ اور آسمانی پتھروں کے عذاب سے نابود ہو گئی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ "پھر ہم بعد میں آنے والی قوموں کو جو اِن ہی جیسے اعمال رکھتی ہیں، ان کے پیچھے بھیج دیتے ہیں"۔ (ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ)۔ کیونکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی سنت ہے اور اس میں استثناء اور تبعیض نہیں ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک گروہ ایک جرم کی وجہ سے سزا دے اور اسی جرم کو دوسروں کے لیے پسند کرے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اس لیے بعد آیت میں مزید کہتا ہے: "ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں"۔ (كَذَلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ)۔ یہ آیت حقیقت میں "اقوام اوّلین" کی ہلاکت، اور ان کے بعد آنے والی اقوام کی ہلاکت کی دلیل کے طور پر بیان ہوئی ہے، کیونکہ خدائی عذاب میں، نہ تو انتقام جوئی کو پہلو ہوتا ہے، اور نہ ہی شخصی حساب کا تصفیہ، بلکہ وہ اصل استحقاق اور مقتضائے حکمت کے تابع ہوتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اوّلین سے مراد وہ قومیں ہیں جو ماضی بعید میں تھیں، مثلاً قومِ نوح و عاد و ثمود، اور آخرین سے مراد وہ قومیں ہیں جو ان کے بعد آئیں، مثلاً قومِ لوط و قوم فرعون۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "نتبعھم" فعل مضارع کی صورت میں آیا ہے، جبکہ "الم نھلک" ماضی کو معنی رکھتا ہے، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ "اولین" ان تمام گزری ہوئی قوموں کے لیے آیا ہے، جو عذابِ الٰہی کے ساتھ ہلاک ہوئیں، اور "اٰخرین" ان تمام کفّار کو شامل ہے، جو پیغمبرؐ کے زمانے میں تھے یا جو اس کے بعد عرصۂ وجود میں قدم رکھیں گے اور جرم و گناہ اور ظلم و فساد میں آلودہ ہوں گے۔ اور انجام کار نتیجہ نکالتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کیا کے لیے"۔ (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ "یومئذ" یہاں روزِ قیامت کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان کی اصلی اور اہم سزا اسی روز کے ساتھ مربوط ہے، اور یہ تکرار تاکید مطلب کے لیے ہے، اور یہ جو بعض نے احتمال دیا ہے۔ کہ یہ آیت عذابِ دنیا کو بیان کر رہی، اور اس کی مشابہ آیت کو اس سے پہلے آئی ہے وہ عذابَ آخرت کو بیان کرتی ہے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ پھر ان کا ہاتھ پکر کر عالمِ جنین کی طرف لے جاتا ہے اور خدا کی عظمت و قدرت، اور اس اسرار آمیز دنیا میں، اس کی نعمتوں کی کثرت ہمھیں دکھاتا ہے، تاکہ ایک طرف تو مسئلہ معاد و قیامت پر خدا کی قدرت سے آگاہ ہو جائیں اور دوسری طرف خود کو اس کی بے شمار نعمتوں کا مرہونِ سمجھیں، اور اس کے آستانے پر سر تعظیم جھکائیں۔ فرماتا ہے: "کیا ہم نے تمھیں پست اور ناچیز پانی سے پیدا نہیں کیا ہے؟"۔ (أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ "پھر ہم نے اسے مناسب، محفوظ، تیار و آمادہ قرارگاہ میں ٹہرایا"۔ (فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "قرار"، "محل استقرار" کے معنی میں ہے اور "مکین"، "محفوظ" کے معنی میں ہے، اور اصل میں "مکانت" سے ہے، جو تمکن کے معنی میں آیا ہے البتہ "مکانت" بعض اوقات "منزلت" کے معنی میں بھی آیا ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسی قرارگاہ، جس میں ہر لحاظ سے، حیات و زندگی اور انسانی نطفہ کی پرورش و رشدد محافظت کے لیے، تمام ضروریات موجود ہیں، اور وہ اس قدر عجیب و غریب، عمدہ اور موزوں ہیں کہ ہر انسان میں ڈالتے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "نطفہ کا اس محفوظ جگہ میں ٹھہرنا، ایک معیّن مدت تک جاری رہتا ہے"۔ (إِلَى قَدَرٍ مَّعْلُومٍ)۔ وہ مدّت جس کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا، ایسی مدّت جو بہت سے تغیرات، دگرگونیوں اور تحولات سے پُر ہے، جس میں نطفہ کو ہر روز حیات و زندگی کا ایک نیا لباس پہنایا جاتا ہے، اور اس کو اس مخفی جگہ میں تکامل و ارتقاء کے راستہ پر آگے بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد نتیجہ نکالتا ہے: "ہم اس کام پر قدرت رکھتے تھے کہ ایک بے قدر و قیمت، حقیر و ناچیز نطفہ سے، ایسا شریف اور کامل انسان بنا ڈالیں، "پس ہم کتنے اچھے قادر و توانا ہیں"۔ (فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ)۔ (۱۔تشریحی نوٹ: اس آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں "فتعم القادرون نحن"ہے۔ (اصطلاح کے مطابق مخصوص بالمدح محزوف ہے))۔ (۲۔تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے اس آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے "ہم نے نطفہ کی ضروری اندازہ گیریوں، مختلف مقدرات، اور جسم و جان میں خصوصیات کے ساتھ، تقدیر کی ہے، اور ہم اچھی تقدیر کرنے والے ہیں، لیکن یہ تفسیر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ــــــــــ کہ متن قرآن اور مشہور قرامت تشدید کے بغیر ہے ــــــــ بعید نظر آتی ہے۔ اگرچہ بعض نے یہ کہا ہے کہ ثلاثی مجرد کا مادہ بھی اندازہ کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ لیکن عام استعمالات میں لفظ "قادر" اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ (غور کیجیے))۔ یہ وہی دلیل ہے جس پر قرآن نے مسئلہ معاد کو ثابت کرنے کے لیے بارہا انحصار کیا ہے، منجملہ ان کے سُورہ حج کی ابتدائی آیات میں کہتا ہے"تم مردوں کے نئی زندگی کی طرف پلٹ آنے کی ، کیسے تردید کرتے ہو، حالانکہ تم اس انسان کی، ایک بے قدر و قیمت نطفہ سے خلقت میں، اس کی قدرت کا مشاہدہ کرتے ہو، جس کا ہر روز ایک معاد و قیامت ہے تو مٹی اور بے قدر و قیمت نطفہ میں کیا فرق ہے؟" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخر میں پھر اسی جملہ کا تکرار فرماتے ہوئے کہتا ہے: "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔ (وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ)۔ وائے ہے ان کے لیے جو اس کی قدرت کے یہ سب آثار دیکھتے ہیں، اور پھر بھی اس کا انکار کرتے ہیں۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتا ہیں: ایھا المخلوق السوی والنشا المرعی فی ظلمات الارحام، و مضاعفات الاستار، بدئت من سلالۃ من طین، وضعت فی قرار مکین، الی قدر معلوم، واجل مقسوم، تمور فی بطن امک جنینا، لا تحیر دعاء، ولا تسمع نداء ثم اخرجت من مقرک الی دار لم تشھدھا، ولم تعرف سبل منافعھا فمن ھداک لاجترار الغذاء من ثدی امک، وعرفک عند الحاجۃ مواضع طلبک وارادتک "اے وہ مخلوق! جسے مناسب جسم کے ساتھ محفوظ ماحول میں پیدا کیا گیا ہے، رحم کی تاریکیوں اور کئی کئی پردوں میں تیری خلقت کا آغاز گیلی مٹی کے جوہر سے ہوا ہے، اور ایک محفوظ قرارگاہ میں ایک وقت معلوم اور معیّن مدّت تک تجھے ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ دن جس میں تو اس طرح تھا، اور رحمِ مادر میں حرکت کرتا تھا، نہ تو تجھ میں جواب دینے کی قدرت تھی، اور نہ ہی کسی کی آواز سننے کی توانائی تھی، اس کے بعد تو اس قرار گاہِ سے ایسے گھر کی طرف آیا جسے تو نے ہرگز مشاہدہ نہیں کیا تھا، اور اس کے منافع کے راستے کو تو پہچانتا نہیں تھا۔ اب تو یہ بتا کہ تیری ماں کے پستان سے دودھ پینے کی ہدایت کس نے کی تھی؟ اور تجھے اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے طریقے کس نے بتائے تھے؟" (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۳)۔ ان آیات کے دوسرے حصہ میں خدا کی آفاقی آیات اور نشانیوں اور عظیم جہان میں اس کی نعمتوں اور مواہب کے ایک حصہ کو بیان کیا گیا ہے جو اس کی وسیع قدرت اور رحمت کی بھی ایک دلیل ہیں اور معاد کے امکان کی بھی ایک دلیل ہیں، جبکہ گزشتہ آیات میں خدا کی آیات انفسی اور خود انسان کی خلقت میں جو نعمتیں تھیں، ان کے بارے میں گفتگو تھی۔ فرماتا ہے: "کیا ہم نے زمین کو انسانوں کے اجتماع کا مرکز قرار نہیں دیا"۔ (أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا)۔ (تشریحی نوٹ: "کفاتًا" ، "نجعل" کا دوسرا مفعول ہے اور ایسا مصدر ہے جو اسمِ فاعل کے معنی میں آیا ہے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ "ان کی زندگی کی حالت میں بھی اور موت کی صورت میں بھی"۔ (أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا)۔ (تشریحی نوٹ: "احیاء" و امواتاً" ایک مخدوف مفعول کی ضمیر کا حال ہے اور تقدیر میں "کفاتاً لکم احیاءً وامواتاً" تھا)۔ "کفات" (بروزن کتاب) اور "کفت" (بروزن کشف) جمع کرنے اور کسی چیز کو ایک دوسری کے ساتھ ملانے کے معنی میں ہے، اور پرندوں کی سریع اور تیز پرواز کو بھی "کفات" کہا جاتا ہے، کیونکہ تیز پرواز کے وقت وہ اپنے پروں کو اکٹھے کر لیتے ہیں، تاکہ زیادہ تیزی کے ساتھ ہوا کو چیر کر آگے نکل جائیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ زمین تمام انسانوں کے لیے ایک قرارگاہ ہے، زندوں کو تو اپنے اوپر جمع کرتی ہے، اور ان کی تمام حاجتوں اور ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور ان کے مردوں کو بھی اپنے اندر جگہ دیتی ہے، کیونکہ اگر زمین مردوں کو دفن کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتی، تو ان سے پیدا ہونے والی عفونت اور بیماریاں تمام زندوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی کر دیتیں۔ ہاں! زمین ایک ماں کی طرح، جو اپنی اولاد کو اپنے گرد جمع کرتی ہے، اور اپنے پر و بال کے نیچے قرار دیتی ہے، انسانوں کو اپنے اوپر جگہ دیتی ہے، ان پر نوازش کرتی ہے، انھیں غذا کھلاتی ہے، لباس پہناتی ہے، گھر اور مسکن دیتی ہے اور اس کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ اور ان کے مردوں کو بھی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے اور جذب کر لیتی ہے، اور ان کے بُرے آثار کو ختم کر دیتی ہے۔ بعض نے "کفات" کی یہاں "پرواز سریع" کے ساتھ تفسیر کی ہے اور اس آیت کو سورج کے گرد زمین کی حرکت اور دوسری حرکات کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو نزولِ قرآن کے موقع پر قطعًا کشف نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اس کے بعد والی آیت یعنی "احیاءً و امواتًا" کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ خصوصًا ایک روایت میں آیا ہے کہ امیر المومنین علیؑ جب میدان صفین سے واپس لوٹ رہے تھے اور کوفہ کے قریب پہنچے تو جب آپ کی نظر مبارک کوفہ کے دروازے سے باہر قبرستان پر پڑی تو فرمایا: ھٰذا کفات الاموات ای مساکنھم "یہ مردوں کے کفات یعنی ان کے مسکن اور گھر ہیں" پھر آپ نے کوفہ کے گھروں پر نظر کی فرمایا: ھٰذا کفات الاحیاء "یہ زندوں کے گھر ہیں" اس کے بعد آپ نے اوپر والی آیات کی تلاوت فرمائی: أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴۱۷ (نقل از تفسیر علی بن ابراہیم))۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زندوں اور مردوں کے گھروں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد کرۂ زمین میں خدا کی ایک عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ہم نے اس میں ثابت استوار اور بلند پہاڑ قرار دئیے ہیں"۔ (وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "رواسی"، "راسیہ" کی جمع ہے، جو ثابت و پا برجا کے معنی میں ہے اور "شامخات"، "شامخ" کی جمع ہے جو بلند کے معنی میں ہے اور بعض عبارتوں میں جیسے "شمخ باتقۃ" تکبّر سے کنایہ ہے (مفردات راغب))۔ یہ پہاڑ جن کی چوٹیاں آسمان کی طرف سر نکالے ہوئے ہیں، اور ان کی جڑیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں، ایک طرف تو زمین کو زرہ کی مانند گھیرے ہوے ہیں، اور داخلی دباؤ اور خارجی مدد جزر سے پیدا ہونے والے دباؤ سے محفوظ رکھتے ہیں، اور دوسری طرف ہوا کے قشر کے زمین سے ٹکراؤ کو روکتے ہیں، اور ہوا میں پنجہ ڈال کر اس کو اپنے ساتھ گردش میں لاتے ہیں اور تیسری طرف عظیم طوفانوں اور آندھیوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس طرح کئی مختلف جہات سے اہل زمین کو سکون و آرام پہنچاتے ہیں۔ اسی آیت کے ذیل میں پہاڑوں کی برکات میں سے ایک اور برکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اور تمھیں ہم نے خشگوار پانی پلایا"۔ (وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا)۔ ایسا پانی جو تمھارے لیے بھی خوشگوار اور باعثِ حیات ہے اور تمھارے جانوروں، کھتیوں اور باغات کے لیے بھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمام خوشگوار پانی بارش سے ہیں، لیکن پہاڑوں کا بھی اس میں اہم ترین نقش و اثر ہے، بہت سے چشمہ اور ندی نالے پہاڑوں سے پھوٹتے ہیں اور بہت سے بڑے بڑے دریاؤں اور نہروں کا سرچشمہ برف کے وہ تہہ بہ تہہ تودے ہیں جو پہاڑوں کی چوٹی پر آ کر جم جاتے ہیں اور انسانوں کے پانی کے اہم ترین ذخائر بناتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیاں سطح زمین سے دور ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سرد ہوتی ہیں، اور سالہا سال تک برف کے ذخائر کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہیں، تاکہ وہ تدریجًا اور آہستہ آہستہ سورج کی حرارت سے پانی بن بن کر نہروں اور دریاؤں کی صورت میں جاری ہوتے رہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ اس حصہ کے آخر میں پھر فرماتا ہے: "وائے ہو اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔ (وَيْلٌ يوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ وہی لوگ جو حق تعالٰی کی قدرت کی ان تمام آیات اور نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اور خدا کی ان نعمتوں کو جن میں وہ غرق ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ قیامت اور دادگاہِ قیامت کا، جو اس کے عدل و حکمت کی مظہر ہے، انکار کرتے ہیں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 11tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 11تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نہ دفاع کرنے کی قدرت ہے نہ فرار کی راہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 11ان آیات میں قیامت کی تکذیب کرنے والوں اور اس عدلِ الٰہی کی دادگاہ کا انکار کرنے والوں کی اصلی اور آخری سرنوشت بیان ہوئی ہے، ایسا بیان جو انسان کو سچ مچ ایک گہری وحشت میں ڈبو دیتا ہے، اور مصیبت کے پہلوؤں کو واضح کرتا ہے۔ فرماتا ہے: "ان سے کہا جائے گا، بلا تامل اس چیز کی طرف چل پڑو، جس کا تم ہمیشہ انکار کیا کرتے تھے"! (انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ)۔ چلو اس جلانے والی جہنم کی طرف جس کا تم ہمیشہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ چلو ان انواع و اقسام کے عذابوں کی طرف، جنھیں تم نے اپنے اعمال کے ذریعہ پہلے سے فراہم کر رکھا ہے۔ "انطلقوا"، "انطلاق" کے مادہ سے، توقف کے بغیر چلنے کے معنی میں ہے، اور قید و بند سے ایک قسم کی آزادی بھی اس میں چھپی ہوئی ہے، اور یہ حقیقت میں عرصۂ محشر میں ان کی حالت کی وضاخت ہے کہ انھیں ایک طولانی مدّت تک حساب کے لیے روک لیا جائے گا، پھر ان کو چھوڑ دیں گے اور کہیں گے کہ توقف کیے بغیر دوزخ کی طرف چل پڑو۔ یہ گفتگو کرنے والا ممکن ہے خدا تعالٰی ہو، جو براہ راست ان سے خطاب کرے گا، یا عذاب کے فرشتے، بہرحال یہ ایک ایسا لب و لہجہ ہے جس میں گہری سرزنش ہے، جو خود ایک درد ناک اور جانکاہ عذاب ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس عذاب کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے: "تین شاخوں والے (آگ کے گلہ گھوٹنے والے دھوئیں کے) سایے کی طرف چلو"۔ (انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ)۔ ایک شاخ سر کے اوپر، ایک شاخ دائیں طرف اور ایک شاخ بائیں طرف، اور اس طرح سے یہ گہرا مر گبار دھوآں انھیں گھیر لے گا اور انھیں نگل جائے گا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ لیکن وہ آرام بخش سایہ نہیں ہو گا، اور دوزخیوں کو جہنم کی آگ کے شعلوں سے ہرگز نہیں بچائے گا"۔ (لاَّ ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ)۔ چونکہ وہ خود آگ ہی سے اٹھا ہے۔ ممکن ہے "ظل" (سایہ) کی تعبیر سے یہ تصور پیدا ہو کہ وہاں کوئی سایہ ہو گا، جو آگ کے شعلوں کے جلانے میں کچھ کمی کر دے لیکن یہ آیت اس غلط خیال کو باطل کرتے ہوئے کہتی ہے: یہ سایہ ہرگز وہ سایہ نہیں جس کا تم تصور کرتے ہو، یہ ایک ایسا سایہ ہے، جو جلانے اور گلہ گھوٹنے والا ہے، جو آگ کے گاڑھے دھوئیں سے اٹھتا ہے، اور شعلوں کی گرمی کو مکمل طور پر منعکس کر سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "اظلیل"، "ظل" کی صفت ہے اور اسی بناء پر حجرور ذکر ہوا ہے)۔ اس گفتگو کی شاہد سُورہ واقعہ کی آیات ہیں، جن میں اصحاب شمال کے بارے میں فرماتا ہے: فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍo وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍoلَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ: "وہ ہلاک کرنے والی ہواؤں اور جلانے والے پانی میں ہوں گے اور تہہ بہ تہہ دھوئیں کے آتش زا سایہ میں، ایسا سایہ جو نہ تو ٹھنڈا ہو گا اور نہ ہی آرام بخش" (سُورہ واقعہ ۴۲ ـــــــ۴۴)۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تین شاخیں ان کے تینوں اصولِ دین یعنی توحید و نبوت اور معاد کو جھٹلانے کا ردِعمل ہیں، کیونکہ معاد کی تکذیب، توحید و نبوت کی تکذیب سے جدا نہیں ہے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ گناہ کے تینوں اسباب، "قوت غضبیہ" ، "قوت شہویہ" اور "قوت وہمیہ" کی طرف اشارہ ہے، ہاں! وہ تاریک دھوآں شہوات کی تاریکیوں کا تجسم ہے۔ ز تاریکی خشم و شہوت حذر کن کہ از دود آن چشم دل تیرہ گردد! غضب چوں در آید رود عقل بیروں ہوی چوں شود چیرہ جان خیرہ گردو! ترجمہ: غضب اور شہوت کی تاریکی سے بچ؛ جس کے دھوئیں سے دل کی آنکھ اندھی ہو جاتی ہے جب غصہ آتا ہے، تو عقل خارج ہو جاتی ہے اور جب خواہش نفسانی غلبہ کرتی ہے، تو جان چندھیا جاتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس جلانے والی آگ کی ایک اور خصوصیّت کے سلسلہ میں مزید کہتا ہے: "وہ اپنے اندر سے ایسے شعلے باہر پھینکتی ہے، جو ایک بہت بڑے قصر کی مانند ہوتے ہیں"۔ (ِإِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ)۔ (تشریحی نوٹ: "شرر" (بروزن ضرر) "شرارہ" کی جمع ہے، جو ان چھوٹے چھوٹے اجزاء کے معنی میں ہے، جو آگ سے نکل کر ہوا میں اچھلتے ہیں، اور "شر" کے مادہ سے لیا گیا ہے)۔ وہ اس دنیا کی آگ کے شعلوں کی طرح نہیں ہوتے، جو بعض اوقات تو سوئی کے سرے کے برابر بھی نہیں ہوتے۔ "قصر" (محل) کی تشبیہ یہاں ایک پُر معنی تشبیہ ہے، شاید یہ تصور کیا جائے کہ زیادہ مناسب یہ تھا کہ یہ کہا جاتا کہ وہ شعلے پہاڑ کی طرح تھے، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پہاڑ ـــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے ـــــــــــ انواع اقسام کی برکات کا منبع ہیں اور میٹھے، خوش مزہ اور خوشگوار پانی کا سرچشمہ ہیں، یہ ستم گروں کے قصر اور محلات ہیں، جو جلانے والے شعلوں اور شرربار آگ کا سبب بنتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین مثلاً فخررازی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے "قصر" کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لکڑیاں ہیں، جنھیں سردیوں کے لیے بیابان سے کاٹ کر اکٹھا کیا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے اوپر جوڑ دیتے تھا۔ (لہذا بعید نہیں ہے کہ یہ تفسیر بھی اس بناء پر ہو کہ ایک دوسرے پر جڑی یوئی لکڑیوں کے انبوہ کا ایک بلند قصر سے تشبیہ دیتے تھے))۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد میں آیت میں اس جلانے والی آگ کے شعلوں اور چنگاریوں کی ایک دوسری صفت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ زرد رنگ کے اونٹوں کے مانند ہیں"۔ (كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "کانہ" کی ضمیر ممکن ہے "قصر" کی طرف لوٹے یا "شرر" کی طرف، لیکن چونکہ "شرر" جمع ہے، لہذا تاویل کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر یہ کہ ہم "شرر" کو اسم جمع سمجھ لیں)۔ "جمالۃ"، "جمل" کی جمع ہے، جو اونٹ کے معنی میں ہے، (جسے حجو حجارہ) اور "صفر" (بروزن قفل) "اصفر" کی جمع ہے جو زرد رنگ کی چیز کے معنی میں ہے، اور بعض اوقات تاریک اور سیاہی مائل رنگوں پر بولا جاتا ہے، لیکن یہاں وہی پہلا معنی ہی مناسب ہے کیونکہ آگ کے شعلے زرد اور سرخ مائل ہوتے ہیں۔ گزشتہ آیت میں ان شعلوں کو حجم کے لحاظ سے بہت بڑے قصر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس آیت میں کثرت، رنگ، سرعت حرکت اور ہر طرف پراگندہ اور بکھر جانے کے لحاظ سے زرد رنگ کے اونٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے، جو ہر طرف رواں دواں ہے۔ جہاں شعلے اس قسم کے ہوں تو یہ بات واضح ہے کہ خود وہ آگ جلانے والی کیسی ہو گی؟ اور اس ساتھ دوسرے کیسے کیسے دردناک عذاب ہوں گے؟ (خدا ہم سب کو اپنی رحمت اور لطف و کرم سے اس سے محفوظ رکھے)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیات کے اس حصہ کے آخر میں دوبارہ اسی تنبیہ کا تکرار کرتا ہے، اور فرماتا ہے "وائے ہے اس دن کے تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔ (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس ہولناک دن کے مشخصات اور امتیازات کی ایک اور فصل کو شروع کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "آج ایسا دن ہے کہ وہ کوئی بات نہیں کریں گے"۔ (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھیں کہ یہاں "یوم" تنوین کے بغیر ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی "لاینطقون" کے جملہ کے مفہوم کی طرف اضافت ہے)۔ ہاں! اس دن خدا مجرموں اور گنہگاروں کے منہ پر سکوت اور خاموشی کی مہر لگا دے گا، جیسا کہ سورۂ یٰس کی آیہ ۶٥ میں آیا ہے: "الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ" آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے" اور پھر جیسا کہ اسی آیت کے ذیل میں آیا ہے، "ان کے ہاتھ اور پاؤں کلام کرنے لگیں گے"۔ یہاں تک کہ قرآن کی دوسری آیات کے مطابق ان کی جلدیں بھی کلام کرنے لگیں گی، اور تمام باتیں بیان کر دیں گی"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور انھیں عذر خواہی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔ (وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "نیعتدون" کا جملہ مرفوع صورت میں کیوں آیا ہے، جبکہ قاعدہ کی رُو سے اسے منصوب ہونا چاہیے تھا، اور اس کی نون حذف ہونی چاہیے تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عذر خواہی کو ترک کرنے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی عذر ہی نہ ہو گا، یہ اذنِ الٰہی کے نہ ہونے کے سبب سے نہ ہو گا)۔ نہ تو انھیں بات کرنے کی اجازت ہو گی اور نہ ہی عذر خواہی اور اپنے آپ سے دفاع کرنے کی، کیونکہ وہاں تو تمام حقائق واضح و روشن ہیں، اور کہنے کی کوئی بات باقی نہیں ہے، ہاں! یہ پس پشت ڈالنے والی زبان، جس نے دنیا میں اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھایا، انبیاء کی تکذیب کی، اولیاء کا استہزا کیا اور مذاق اڑایا، حق کو باطل اور باطل کو حق کر کے پیش کرتی رہی، وہاں ان اعمال کی سزا کے طور پر اس پر قفل لگ جانا چاہیے، اور اسے بیکار ہو جانا چاہیے، اور یہ بات خود ایک عذاب اور درد ناک شکنجہ ہے کہ انسان میں اس قسم کے منظر میں اپنے آپ سے دفاع کرنے یا عذر خواہی کرنے کی قدرت نہ رہے۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ: "خدا اس سے برتر و عادل تر و بزرگ تر ہے کہ اس کا بندہ کوئی مناسب اور مدلل عذر رکھتا ہو، لیکن وہ اس کو عذر خواہی کی اجازت نہ دے، بلکہ درحقیقت ان کے پاس کسی قسم کا مناسب، مدلّل اور قابلِ قبول عذر ہوتا ہی نہیں، جسے وہ پیش کر سکیں۔ (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد ٥، ص ۴۹)۔ البتہ بعض قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں مجرمین بعض اوقات بات کریں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ــــــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ـــــــ قیامت میں بہت سے مواقف ہوں گے، جن میں سے بعض میں زبان بیکار ہو جائے گی، اور اعضاء و جوارح کی گواہی کی نوبت آئے گی، اور بعض دوسرے موافق میں زبان کھل جائے گی، اور وہ کچھ مطالب بیان کرے گی، جو ان کی شدید حسرت و اندوہ، سرگردانی اور بدبختی کی نشانی ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اور پھر اس مقطع کے آخر میں کہتا ہے: "وائے ہے اس دن کے تکذیب کرنے والوں کے لیے" (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ ایک دوسرے حصہ میں روئے سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوئے اور اس روز کے منظر کے عنوان سے کہتا ہے: "آج وہی جدائی کا دن ہے، جس میں ہم نے تمھیں اور گزشتہ لوگوں کو جمع کر دیا ہے"۔ (هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ)۔ آج ہم نے تمام لوگوں کو بغیر کسی استثناء کے، اوّلین سے لے کر آخرین تک، سب کو حساب دینے اور فصلِ خصومت کے لیے اس میدان اور عطیم دادگاہ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اب اگر میرے مقابلہ میں عذاب اور سزا کے چنگل سے فرار کرنے کی کوئی تدبیر تمھارے پاس ہے تو اسے انجام دو"۔ (فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ)۔ (تشریحی نوٹ: "فکیدون" میں "نون" مکسور ہے (نون کے نیچے زیر ہے) اور اس کی یہ زیر یاء متکلم کی جگہ ہے اور اصل میں "فکیدونی" تھا۔ "یاء" خزف ہو گئی اور کسرہ جو اس کی نشانی ہے باقی رہ گئی، اور ضمیر متکلم ظاہر آیات کے مطابق خدا کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے، اور یہ احتمال کہ یہ پیغمبرؐ کی ذات کی طرف لوٹے بہت بعید نظر آتی ہے)۔ کیا تم میری حکومت کی حدود سے فرار کر سکتے ہو؟ یا میری قدت پر غلبہ حاصل کر سکتے ہو؟ یا فدیہ دے کر آزاد ہو جانے کی طاقت رکھتے ہو؟ یا حساب لینے والے مامورین کو دھوکہ دینے کی قدرت رکھتے ہو؟ جو کام بھی تم سے ہو سکتا ہے اسے انجام دو، لیکن جان لو کہ تم سے کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں یہ امر اصطلاح کے مطابق (ایک عاجزی اظہار کرنے والا امر ہے) جو مقابل کے عجز و ناتوانی کو واضح کرنے کے لیے بیان کیا جاتا ہے، یہ اسی چیز کے مشابہ ہے جو قرآن مجید کے بارے میں آئی ہے کہ فرماتا ہے: "اگر اس چیز میں جو ہم نے اپنے بندوں پر نازل کی ہے تمھیں شک ہے تو اس جسی لے اؤ۔" "لید" (بروزن صید) جیسا کہ "راغب" ، "مفردات" میں کہتا ہے: ایک قسم کی تدبیر اور چارہ جوئی کے معنی میں ہے جو بعض اوقات قابلِ مذمت ہوتی ہے اور کبھی قابلِ تعریف و مدح، اگرچہ اس کا زیادہ تر استعمال مذموم موارد میں ہی ہوتا ہے (جیسا کہ زیر بحث آیت میں بھی اسی طرح ہے)۔ یقینًا اس دن ان سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دن ایک ایسا دن ہو گا کہ اس میں انسان کا ہاتھ ہر قسم کے وسائل و اسباب سے خالی ہو گا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیہ ۱۶۶ میں آیا ہے: "وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ: "ان سے سب اسباب منقطع ہو جائیں گے۔" قابل توجہ بات یہ کہ ایک طرف تو فرماتا ہے: "یوم الفصل" یعنی جدائیوں کا دن، اور دوسری طرف سے فرماتا ہے، وہ دن "یوم الجمع" یعنی اکٹھا ہونے کا دن ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک، ایک ہی جگہ پر انجام پائیں گے، پہلے ان سب کو اس عظیم دادگاہ میں جمع کریں گے، اور پھر وہ اپنے عقائد و اعمال کی بناء پر مختلف صفوں میں الگ الگ ہو جائیں گے، یہاں تک کہ وہ بھی جنت کی طرف روانہ ہوں گے، گوناگوں صفوں اور مختلف درجات میں ہوں گے، اور دوزخ کی طرف جانے والے بھی مختلف صفوں اور الگ الگ درجوں میں ہوں گے۔" ہاں: وہ دن حق کی باطل سے اور ظالم کی مظلوم سے جدائی کا دن ہو گا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پھر اسی تہدید آمیز اور بیدار کرنے والے جملہ کا تکرار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وائے ہے اس دن کے تکذیب کرنے والوں کے لیے" (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔
تفسیر اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کس بات پر ایمان لائیں گے؟!
ہم جانتے ہیں کہ قرآن کا پروگرام انذار کو بشارت کے ساتھ اور تہدید کو تشویق کے ساتھ ملاتا ہے، اور اسی طرح مومنین کی سرنوشت کو مجرموں کی سرنوشت کے مقابلہ میں بیان کرتا ہے، تاکہ مقابلہ کے قرینہ سے مسائل کا بہتر طریقہ پر ادراک ہو سکے۔ اسی سنت کی بنیاد پر اور والی آیات میں، قیامت میں مجرموں کی گونا گوں سزاؤں کو بیان کرنے کے بعد، اس دن پرہزگاروں کی کیفیت کے بارے میں ایک پُرمعنی اور مختصر سا اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تقوٰی اختیار کرنے والے لوگ کے درختوں کے سایہ میں اور چشموں کے درمیان ہوں گے" (إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ)۔ یہ اس حالت میں جبکہ مجرمین ــــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں معلوم ہو چکا ہے ـــــــــ گلہ گھونٹنے والے شرربار اور جلانے والے دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔ "ظلال" ، "ظل" کی جمع ہے جو سایہ کے معنی میں ہے، چاہے وہ سایہ دن میں درختوں کے سایہ کی طرح کا ہو، یا وہ سایہ ہو، جو رات کی تاریکی میں حاصل ہوتا ہے جبکہ "فیء" اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو صرف ایک نورانی مبدء کے مقابلے میں وجود میں آتا ہے، جیسا کہ سورج کے مقابلہ میں درختوں کا سایہ ہوتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ ان انواع و اقسام کے پھلوں کے درمیان ہوں گے، جن کی انہیں خواہش ہو گی"۔ (وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ)۔ یہ بات واضح ہے کہ پھلوں سایوں اور چشموں کا ذکر، ان پر خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ ہے، ایسا گوشہ جو اہل دنیا کی زبان میں بیان کرنے اور تصویر کشی کے قابل ہے، لیکن وہ نعمتیں جو بیان میں نہیں آ سکتیں، اور دنیا میں رہنے والوں کے دل و دماغ میں نہیں سما سکتیں، وہ اس سے کئی درجہ بلند و برتر ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــ قابلِ توجہ بات یہ کہ خدا کی اس مہمان سرا میں ان کی اعلٰی ترین طریقہ پر پذیرائی کی جائے گی، جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے کہ انھیں کہا جائے گا" کھاؤ اور مزے مزے لے لے کر پیؤ، یہ سب کچھ ان اعمال کے مقابلہ میں ہے جنھیں تم انجام دیاکرتے تھے"۔ (كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ یہ جملہ چاہے براہِ راست خدا کی طرف سے ان کو خطاب کرنے کے عنوان سے ہو، یا فرشتوں کے ذریعہ سے، ایک ایسے واضح لطف و محبت سے توام ہے، جو ان کی روح اور جان کی ایک غذا ہے۔ "بما کنتم تعلمون" (ان عمال کے مقابلہ میں جھنیں تم انجام دیا کرتے تھے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ نعمتیں کسی کو بغیر حساب کتاب کے نہیں دیتے، اور صرف دعوے، خیال اور تصوّر سے حاصل نہیں ہوتیں، یہ تو صرف اعمال صالح کے ذریعہ ہی ملتی ہیں۔ "ھنیء" (بروزن ملیح) "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق ہر وہ چیز ہے جس کے لیے شقت نہ کرنی پڑے، اور اس سے کوئی تکلیف اور پریشانی پیدا نہ ہو، اسی لیے گوارا اور خوش مزہ غذا اور پانی "ھنیء" کہا جاتا ہے، اور بعض اوقات خوشگوار زندگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنّت کے پھل، کھاتے اور مشروبات دنیا کے کھانے پانی کی طرح نہیں ہیں، جو بعض اوقات انسان کے بدن میں بُرے آثار چھوڑ دیتے ہیں، یا ان سے غیر مطلوب عوارض پیدا ہو جاتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کھانے اور پینے کا حکم کیا ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اباحت کو بیان کرتا ہے یا واقعًا امر و فرمان و حکم ہے؟۔ لیکن اس بات پر توجہ کرنی چاہیے کہ اس قسم کے اوامر، جو پذیرائی کے موقع پر دئیے جاتے ہیں، کہنے والے کی ایک قسم کی طلب و خواہش ہوتی ہے، جسے مہمان کی عظمت و احترام کے لیے بیان کیا جاتا ہے اور میزبان یہ چاہتا ہے کہ مہمان زیادہ سے زیادہ کھائے، تاکہ اس کا زیادہ احترام و اکرام ہو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں دوبارہ اسی مطلب پر تکیہ کرتا ہے کہ یہ نعمتیں کسی حساب و کتاب کے بغیر نہیں ملتیں، لہذا مزید کہتا ہے: "یقینًا ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں"۔ (إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنينَ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں "تقوٰی" کے مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے اور اس کے بعد والی آیت میں "عمل" پر اور اس آیت میں احسان و نیکوکاری پر۔ "تقوٰی" گناہ و فساد و شرک و کفر سے ہر قسم کا پرہیز، اور "احسان" ہر اچھے کام کو انجام دیتا ہےاور "عمل" بھی اعمالِ صالح کے بیان کے لیے ہے، تاکہ واضح ہو جائے کہ خدا کی نعمتوں کا پروگرام صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص ہے، نہ کہ ایمان کے جھٹے دعویداروں کے ساتھ، اور ہر قسم کے فساد سے آلودہ افراد کے ساتھ، اگرچہ وہ ظاہرًا اہلِ ایمان کی مسلک میں داخل ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــ آخر میں پھر تکرار کرتا ہے: "وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔ (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ وائے ہے ان کے لیے جو ان تمام نعمتوں اور محبتوں سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ اس محرومیّت کی حسرت کا دُکھ، دوزخ کی جلانے والی آگ سے کم نہیں ہو گا۔ ــــــــــــــــــــــــــ اور چونکہ معاد کا انکار کا ایک عامل، دنیا کی جلد گزر جانے والی لذّات، اور ان لذّتوں سے فائدہ اٹھانے کی بے قید و بند آزادی کی طرف میلان ہے، لہذا بعد والی آیت میں روئے سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوئے تہدید آمیز لب و لہجہ میں فرماتا ہے: "ان مختصر سے چند دنوں میں کھا لو اور فائدہ اٹھا لو، لیکن یہ جان لو کہ خدا کا عذاب تمھارے انتظار میں ہے، کیونکہ کہ تم مجرم ہو"۔ (كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ)۔ "قلیلاً" کی تعبیر ممکن ہے کہ دنیا میں انسان کی عمر کی مختصر مدّت کی طرف اشارہ ہے، اور اس جہان کی نعمتوں کے آخرت کی بے حساب نعمتوں کے مقابلہ میں ناچیز ہونے کی طرف بھی۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے یہ کہا ہے کہ یہ خطاب آخرت میں مجرمین سے کہا جائے گا، لیکن اس بات کی طرف توجّہ کرتے ہوئے کہ آخرت میں مجرموں کے لیے، زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی، کسی قسم کا تصوّر نہیں ہے، لہذا اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ یہ گفتگو دنیا میں ان سے خطاب ہے۔ حقیقت میں "متقین" اور پرہیزگار لوگوں کی آخرت میں انتہائی احترام کے ساتھ پذیرائی ہو گی اور "كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا" کے پُرلطف جملہ کے ساتھ ان سے خطاب ہو گا، لیکن دنیا پرست اسی دنیا میں "كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا" کے تہدید آمیز جملہ کے ساتھ مخاطب ہوئے ہیں۔ پرہیزگاروں سے فرماتا ہے: بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ: (یہ سب کچھ ان اعمالِ صالحہ کے مقابلے میں ہے جنھیں تم انجام دیا کرتے تھے) اور ان سے بھی کہتا ہے: انکم مجرمون: "یہ تہدید اس بناء پر ہے کہ تم مجرم ہو"۔ (تشریحی نوٹ: حقیقت میں اس آیت میں کچھ مخذوف ہے، اور مجمع البیان کے قول کے مطابق تقدیر میں اس طرح ہے: كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا فان الموت کائن لامحلۃ: لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تقدیر میں یوں ہو:کلوا و تمتعوا قلیلاً وانتظروا العذاب فانکم مجرمون)۔ اور بہرحال یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ عذابِ الٰہی کا سرچشمہ انسان کا جرم و گناہ ہی ہے، جو بےایمانی یا شہوتوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس تہدید کی ایک مرتبہ پھر: "وائے ہو اس دن کے تکذیب کرنے والوں کے لیے" (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ کے جملہ سے تکمیل کرتا ہے۔ وہی لوگ جو دنیا کے زرق و برق اور اس کی لذّتوں اور شہوتوں پر فریفتہ ہو گئے، اور انھوں نے عذابِ الٰہی کو اپنے لیے خرید لیا۔ ــــــــــــــــــــــــــــ بعد والی آیت میں ان کے انحراف، بدبختی اور آلودگی کے ایک اور عامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ بادۂ غرور سے ایسے سرمست ہیں، کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پروردگار کے سامنے رکوع کرو، تو وہ رکوع نہیں کرتے"۔ (وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ)۔ بہت سے مفسّرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت قبیلہ "ثقیف" کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن سے پیغمبرؐ نے فرمایا تھا کہ "تم نماز پڑھا کرو" اس پر انہوں نے یہ کہا تھا: ہم ہرگز کسی کے سامنے خم نہیں ہوں گے، اور یہ ہمارے لیے عیب ہے، تو پیغمبرؐ نے فرمایا: لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع ولا سجود "وہ دین جس میں رکوع و سجود نہ ہو کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا"۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱٠، ص ۴۱۹، اور اسی معنی کو "آلوسی" نے "روح المعانی" میں اور "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں، اور "زمخشری" نے "کشاف" میں، اور "روح البیان" نے زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے)۔ وہ نہ صرف رکوع اور سجدے کا انکار کرتے تھے، بلکہ یہ روحِ غرور نخوت ان کے تمام افکار اور زندگی میں نمایاں تھی، نہ تو وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے، اور نہ ہی پیغمبرؐ کے احکام مانتے تھے، نہ لوگوں کے حقوق کا رسمی طور پر اقرار کرتے تھے، نہ خالق کے سامنے تواضح تھی، اور نہ ہی مخلوق کے سامنے فروتنی و انکسار، حقیقت میں یہ دونوں عامل (غرور و شہوت پرستی) جرم و گناہ اور کفر و ظلم و طغیان کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں۔ بعض نے یہ احتمال دیا ہے یہ ارکعوا (رکوع کرو) کا خطاب انہیں قیامت کے دن ہو گا، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے، خصوصًا قبل و بعد کی آیات کو مدّنظر رکھتے ہوئے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــ اور اس کے بعد دسویں اور آخری بار اس سورہ میں فرماتا ہے: "وائے ہے اس دن کے تکذیب کرنے والوں کے لیے" (وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ)۔ ــــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیر بحث آیت میں، جو سورۂ "مرسلات" کی آخری آیت ہے، ایک عتاب آمیز لب و لہجہ کے ساتھ جو سرزنش سے پُر ہے ایک تعجّب آمیز استفہام کی صورت میں فرماتا ہے: "اگر وہ اس قرآن کے ساتھ، جس کی صداقت کے دلائل، اس کی تمام آیات سے نمایاں ہیں، اور اس کی حقانیّت اس کی تمام تعبیروں میں منعکس ہے، ایمان نہیں لاتے، تو پھر اس کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟"۔ (فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ)۔ جو شخص اس قرآن پر ایمان نہ لائے، جو اگر پہاڑوں پر نازل ہو جاتا، تو وہ لرزنے لگتے اور خشوع کرتے ہوئے پھٹ جاتے، تو وہ کسی آسمانی کتاب اور کسی عقلی دلیل کو تسلیم نہیں کرےگا، اور روحِ عناد اور ہٹ دھرمی کی نشانی ہے۔
ایک نکتہ
جیسا کہ ہم نے اس سُورہ کے آغاز میں اشارہ کیا تھا کہ اس میں "وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ" کے جملہ کا دس مرتبہ تکرار ہوا ہے اور یہ ایک اہم اور ہلا دینے والی واقعیّت پر تاکید کے لئے ہے، اور فصحاء و بلفاء کے کلام میں اس کے مشابہ جملے کثرت سے ملتے ہیں، جن کے بعض حصّوں کی، جن پر خدا میں عنایت اور تاکید مطلوب ہوتی ہے، شعر و نثر میں تکرار کرتے ہیں۔ لیکن بعض مفسّرین کا نظریہ یہ ہے کہ ان دس آیات میں سے، ہر ایک کسی نئے نکتہ کی طرف اشارہ ہے، جو اپنے سے قبل کے مطالب کی تکذیب سے مربوط ہے، اس بناء پر کوئی تکرار نہیں ہوئی ہے۔ ہم اس سورہ کو تفسیر "روح البیان" کے ایک جملہ کے ساتھ ختم کرتے ہیں، وہ کہتا ہے: یہ سورہ پیغمبر پر، مسجد "خیف" کے نزدیک ایک نماز میں، سر زمین "مٹی" میں نازل ہوا، اور میں نے خود اس غار کی زیارت کی ہے۔ خُداوندا! ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم ہرگز تیری آیات کی تکذیب سے آلودہ نہ ہوں۔ پَروردگارا! ہمیں غرور و نخوت اور ہوا ہوس سے، جو جرائم کے اصلی سرچشمے ہیں: محفوظ رکھ! بارِالٰھا! جس دن پرہیزگاروں کی تیرے جوارِ قرب میں پورے احترام کے ساتھ پذیرائی ہو رہی ہو گی۔ ہمیں ان کی صف میں قرار دینا۔ آمین یا ربّ العالمین