Sūra 18 · 110v
Chapter 18110 verses

Al-Kahf

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الكهف
الکہف

سوره کهف

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱۰ آیات ہیں

سورہٴ کہف کی فضیلت

رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات مروی ہیں، ان روایات میں سے اس سورہ کے مضامین کی بہت زیادہ اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ چند ایک روایات ذیل میں درج کی جا رہی ہیں: ۱۔ رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: کیا تمھیں ایسی سورہ کا تعارف کراوٴں کہ جو نازل ہوئی تو ستّر ہزار فرشتے اس کی نگرانی کر رہے تھے اور اس کی عظمت سے زمین و آسمان معمور تھے۔ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ سورہٴ کہف ہے، جو شخص جمعہ کے روز اس کی تلاوت کرے گا آئندہ جمعہ تک الله اسے بخش دے گا (ایک اور روایت کے مطابق آئندہ جمعہ تک الله اسے گناہ سے محفوظ رکھے گا) اور اسے ایسا نور عطا کرے گا کہ جو آسمان تک ضوفشاں ہو گا اور وہ شخص دجّال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان)۔ ۲۔ ایک اور روایت نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم ہی سے منقول ہے، آپؐ نے فرمایا: جو شخص سورہٴ کہف کی دس آیات حفظ کرے گا اسے دجّال نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور جو شخص اس سورہ کی آخری آیات حفظ کرے گا روزِ قیامت یہ اس کے لئے روشنی بن جائیں گی۔ (بحوالہ: مجمع البیان)۔ ۳۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: جو شخص ہر شب جمعہ سورہٴ کہف کی تلاوت کرے گا دنیا سے وہ شہید جائے گا اور شہداء کے ساتھ مبعوث ہو گا اور روزِ قیامت شہداء کی صف میں شمار ہوگا۔ (بحوالہ: مجمع البیان)۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآنی سوروں کی عظمت، ان کے روحانی اثرات اور اخلاقی برکات ان کے مضامین و مفاہیم کے لحاظ سے ہیں یعنی ان اثرات و برکات کے حصول کے لئے ان مفاہیم پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ہو گا۔ اس سورہ کے مضامین کا ایک نہایت اہم حصّہ چند با عظمت نوجوانوں کی داستان پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں نے اپنے زمانے کے طاغوت اور دجّال کے خلاف قیام کیا، نتیجتاً ان کی جان خطرے میں پڑ گئی اور وہ گویا موت کی سرحد تک آ پہنچے لیکن الله تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی، اس کی سچّی داستان کی طرف توجہ کی جائے تو ہو سکتا ہے وہ دل جو آمادہ ہو ان میں نورِ ایمان چمک اٹھے گا اور انھیں گناہوں، دجّالوں اور فاسد ماحول کی برائیوں سے بچا لے۔ اس سورہ میں عذابِ دوزخ کا ایسا تذکرہ ہے کہ انسان لرز کے رہ جاتا ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسا بُرا انجام مستکبرین کے انتظار میں ہے۔ اسی طرح اس سورہ میں ایک نہایت عمدہ مثال کے ذریعے علمِ الٰہی کی وسعت بیان کی گئی ہے۔ اگر انسان تمام امور کی طرف توجہ کرے تو ہو سکتا ہے شیاطین کے فتنوں سے محفوظ رہے، اس کے دل میں ایک روشنی چمک اٹھے اور وہ عصیاں و گناہ سے بچ جائے جس کے نتیجے میں آخرکار شہداء کے ساتھ محشور ہو۔

سورہٴ کہف کے مضامین

یہ سورہ الله کی حمد و ستائش سے شروع ہوتی ہے اور توحید، ایمان اور عملِ صالح کے ذکر پر تمام ہوتی ہے۔ دیگر مکّی سورتوں کی طرح اس سورہ کے مضامین بھی زیادہ تر مبداء و معاد اور بشارت و انذار پر مشتمل ہیں، نیز اس میں ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی ان سخت دنوں میں مسلمانوں کو ضرورت تھی، مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ حق پرست اگرچہ کتنے کم کیوں نہ ہوں اور حق پرستوں کو ماحول کی خرابی میں منحل نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ اکثریت ظاہراً کتنی ہی قوی اور طاقتور کیوں نہ ہو اور حق پرستوں کو ماحول کی خرابی میں منحل نہیں ہونا چاہیے اور اس بُرے ماحول کے خلاف قیام کرنا چاہیے، ان تھوڑے افراد میں جب تک طاقت ہو مقابلہ کریں اور طاقت نہ ہونے کی صورت میں انھیں چاہیے کہ ہجرت کر جائیں۔ اس میں دو افراد کی ایک اور داستان بھی ہے، ان میں سے ایک بہت زیادہ خوشحال اور دولت مند تھا لیکن ایمان کی دولت سے محروم تھا جبکہ دوسرا تہی دست تھا مکر مومن تھا، یہ تہی دست اپنی عزت وقار کو برقرار رکھتے ہوئنے ہمیشہ اس امیر شخص کو نصیحت و ارشاد کیا تھا لیکن جب اس پر کوئی اثر نہ ہوا تو اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا اور کامیابی کا راستہ بھی ہی ہے۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ابتدائی حالات کی مشکلات سے دوچار ہیں یا آئندہ کبھی جن مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے وہ جان لیں کہ سرمایہ داروں کا جوش و خروش وقتی ہوتا ہے، جیسا ایک با ایمان شخص کی تنگدستی۔ اس سورہ میں اگرچہ حضرت خضر(علیه السلام)کا نام نہیں آیا تاہم اس میں حضرت موسٰی(علیه السلام) اور حضرت خضر(علیه السلام) ایک واقعہ مذکورہ ہے۔ اس واقعے کے مطابق بعض کام ایسے تھے جو ظاہراً تو ٹھیک نہ معلوم ہوتے تھے مگر باطناً مصلحت پر مبنی تھے، حضرت موسی(علیه السلام)ٰ ان پر نہ کر سکے لیکن حضرت خضر(علیه السلام) نے وضاحت کی تو انہیں ان کی گہرائی کا پورا علم ہوا اور پھر اپنی بےتابی پر پشیمان ہوئے۔ اس واقعے میں بھی سب کے لیے یہ درس ہے کہ واقعات کو صرف ظاہری نظر سے نہ دیکھا کریں بلکہ ان کی گہرائی پر نظر کریں۔ اس سورہ میں حضرت ذوالقرنین کی داستان بھی مذکور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کیسے دنیا کے مشرق و مغرب کی سیر کی۔ دنیا کی مختلف قوموں سے ملے کہ جن کے رسم و رواج مختلف تھے۔ آخرکار وہ کچھ لوگوں کی مدد سے یا جوج و ماجوج کی سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے راستے میں آہنی دیوار کھڑی کر کے ان کے نفوذ کو ختم کردیا۔ (اس واقعے کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورت کے ذیل میں آئے گی)۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے مشرق و مغرب میں نفوذ کے لیے پوری بصیرت کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کریں اور ہر طرح کے یاجوج و ماجوج کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس میں متحد ہو جائیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اصحاب کہف، موسیٰ(علیه السلام) و خضر کا واقعہ اور خضر کا واقعہ اور حضرت ذوالقرنین کی داستان کہ جس کا اس سورہ میں ذکر ہے دیگر قرآنی واقعات کے برخلاف ان کا قرآن میں کسی اور جگہ کوئی ذکر نہیں آیا۔ صرف سورہ انبیاء کی آیہ ۹۶ میں یاجوج و ماجوج کے مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے تاہم حضرت ذوالقرنین کا نام اس میں نہیں آیا۔ بہرحال، یہ بات اس سورہ کی خصوصیات میں سے ہے۔ بہرکیف اس سورہ کے مضامین ہر لحاظ سے ثمر بخش اور ترتیب کنندہ ہے۔

1
18:1
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبۡدِهِ ٱلۡكِتَٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَل لَّهُۥ عِوَجَاۜ
حمد مخصوص ہے اللہ کیلئے جس نے اپنے (برگزیدہ) بندہ پر یہ (آسمانی) کتاب نازل فرمائی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہ رکھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
18:2
قَيِّمٗا لِّيُنذِرَ بَأۡسٗا شَدِيدٗا مِّن لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرًا حَسَنٗا
وہ کتاب کہ جو ثابت،مستقیم اور دوسری کتب کی نگہبان ہے، تاکہ اس کے شدید عذاب سے ڈرائے اور نیک عمل انجام دینے والے مومنین کو بشارت دے کہ ان کیلئے اچھا اجر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
18:3
مَّـٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدٗا
(یعنی وہی بہشت) جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
18:4
وَيُنذِرَ ٱلَّذِينَ قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗا
(نیز) انہیں ڈرائے کہ جو کہتے ہیں کہ خدا نے اپنے لئے بیٹا انتخاب کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
18:5
مَّا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٖ وَلَا لِأٓبَآئِهِمۡۚ كَبُرَتۡ كَلِمَةٗ تَخۡرُجُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبٗا
نہ انہیں ہرگز اس بات پر یقین ہے نہ ان کے آباؤ اجداد کو‘ یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے،یقیناً وہ جھوٹ کہتے ہیں۔

تفسیر اللہ اور قرآن کے ذکر سے آغاز

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

سورہ کہف قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی مانند اللہ کی حمد و ثنا سے شروع ہوتی ہے اور حمد چونکہ کسی اہم اور لائق تعریف کام پر ہوتی ہے لہٰذا ساتھ ہی نزول قرآن کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قرآن کہ ہر قسم کی کجی سے پاک ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تعریف ہے اس خدا کی جس نے اپنے بندے پر یہ آسمانی کتاب نازل کی کہ جس میں کسی قسم کا ٹیڑھ پن نہیں ہے (الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَنزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الْکِتَابَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَہُ عِوَجَا)۔ ایسی کتاب ہے کہ جو ثابت و مستحکم ہے، جو متعدل و مستقیم ہے، جو حقیقی انسانی معاشرے کے قیام کے لیے ہے اور جو تمام آسمانی کتب کی پاسدار ہے ( قَیِّمًا)۔ تاکہ بُرے کام انجام دینے والوں اور دل کے اندھوں کو اللہ کے عذاب شدید سے ڈرائے (لِیُنذِرَ بَاْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا)۔ ایسی جزاء کہ جو جاودانی ہے اور جس میں وہ تابعد رہیں گے(مَاکِثِینَ فِیہِ اَبَدًا)۔ اس کے بعد یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا مشرکین ہر قسم کے مخالفین کے ایک عمومی انحراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس آسمانی کتاب کا ایک ہدف یہ ہے کہ پیغمبر ان لوگوں کو ڈرائے کہ جو خدا کے لیے بیٹے کے قائل ہیں (وَیُنذِرَ الَّذِینَ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا)۔ یعنی عیسائیوں کو ڈرائے چونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں اور یہودیوں کو ڈرائے چونکہ ان کا عقیدہ کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور مشرکین کو ڈرائے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اس کے بعد اس قسم کے بےبنیاد عقائد کی اساس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: انہیں اپنے اس عقیدے کے بارے میں کوئی علم و یقین نہیں ہے اور اگر یہ اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کرتے ہیں تو ان کے آباؤ اجداد کا بھی یہی عالم تھا (مَا لَھُمْ بِہِ مِنْ عِلْمٍ وَلَالِآبَائِھِمْ)۔ تاہم یہ منہ سے بہت بڑی اور وحشتناک بات نکالتے ہیں (کَبُرَتْ کَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِھِمْ)۔ خدا کا جسم ہونا، خدا کی اولاد ہونا، خدا کو مادی احتیاجات ہونا مختصر یہ کہ خدا کا محدود ہونا یہ کیسی وحشتناک باتیں ہیں۔ جی ہاں یہ صرف جھوٹ بولتے ہیں (إِنْ یَقُولُونَ إِلاَّ کَذِبًا)۔

چند اہم نکات ۱۔ حمدِ الٰہی سے سورہ کی ابتداء

قرآن مجید کی پانچ سورتیں "الحمد للّٰہ" سے شروع ہوتی ہیں۔ ان پانچ سورتوں میں حمد الٰہی کے بعد زمین و آسمان کی خلقت (یا ملکیت) یا عالمین کی پرورش کا ذکر آیا ہے سوائے زیر بحث سورت کے۔ یہاں حمدِ الٰہی کے بعد رسول اللہؐ پر قرآن نازل ہونے کا ذکر آیا ہے۔ درحقیقت سورہٴ انعام، سبا، فاطر اور فاتحہ میں "کتابِ تکوین" کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں "کتاب تکوین" کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں "کتاب تدوین" کا ذکر کیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کتابوں یعنی عالم خلقت اور قرآن میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور یہ بات اس امر کو واضح کرتی ہے کہ قرآن سارے عالم خلقت جتنا وزن رکھتا ہے اور یہ بھی جہانِ ہستی کی سی نعمت ہے اور اصولی طور پر عالمین کی پرورش و تربیت کا مسئلہ کہ جو "الحمد لله رب العالمین" کے جملے میں آیا ہے، اس عظیم آسمانی سے فائدہ اٹھائے بغیر ممکن نہیں ہے۔

۲۔ مستحکم، مستقیم اور نگہبان۔ کتاب

"قیّم" (بروزن "سیّد") "قیام" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ یہاں یہ لفظ مستحکم، ثابت اور استوار کے معنی میں ہے۔ علاوہ ازیں، یہاں اس امر سے مراد ایسی کتاب ہے جو دوسری کتب کی محافظ و پاسداری ہو نیز ایسی کتاب کہ جو اعتدال و استقامت کی حامل ہو اور ہر قسم کی کجی اور ٹیڑھ پن سے پاک ہو۔ پہلے قرآن کو ہر قسم کی کجی سے پاک کہنے کے بعد اس لفظ سے قرآن کو توصیف کی گئی۔ گویا یہ قرآن کی استقامت، اس کے اعتدال۔۔۔۔۔ اور ہر قسم کے تضاد سے پاک ہونے پر تاکید بھی ہے، اس عظیم کتاب کے جاودانی پر دلالت بھی ہے اور اصالتوں کی محافظ ہونے کا مفہوم بھی دیتا ہے۔ نیز یہ ہر قسم کی کج روی سے اصلاح کرنے والی کتاب کا معنی بھی دیتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب احکامِ الٰہی اور انسانی عدالت و فضیلت کی نگہبانی کے لیے نمونہ بھی ہے۔ یہ صفت "قیّم" دراصل الله کی صفتِ "قیومیت" سے مشتق ہے جس کے مطابق خدا تمام موجودات اور اشیاء عالم کا محافظ و نگہبان ہے۔؎ مابہ تُو قائم چو تُو قائم بذات ہم تجھ سے قائم ہیں چونکہ تو قائم بالذات ہے۔ قرآن چونکہ خدا کا کلام ہے اس کی بھی یہی حالت ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کی آیات میں لفظ "قیّم" دین اسلام کی صفت کے طور پر کئی مرتبہ استعمال ہوٴا ہے۔ یہاں تک کہ رسول الله علیہ و آلہٖ وسلم کو حکم دیا گیا ہے: فَاَقِمْ وَ جْھَکَ لِلدِّینِ الْقَیِّمِ اپنے آپ کو قیّم، پاک اور مستقیم دین کے ساتھ ہم آہنگ کرو۔ (روم۔۴۳) سطور بالا میں "قیّم" کی تفسیر بیان کی گئی ہے، یہ دراصل تمام تفاسیر کا ایک جامع مفہوم ہے جو اس سلسلے میں مفسّرین نے بیان کی ہیں۔ کیونکہ بعض نے اسے اس کتاب کے معنی میں لیا ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہو گی۔ بعض نے گزشتہ کتب کی محافظ کے معنی میں لیا ہے۔ بعض نے امورِ دین کو برپا کرنے والی کتاب کے مفہوم میں لیا ہے اور بعض نے ایسی کتاب میں لیا ہے جس میں اختلاف و تضاد نہیں ہے۔ لیکن یہ تمام معانی اس جامع مفہوم میں جمع ہیں جو ہم نے بیان کیا ہے۔ بعض مفسّرین نے "لم یجعل عوجاً" کو الفاظِ قرآن کی فصاحت کے معنی میں لیا ہے جبکہ "قیًّما" کو بلاغت اور مفہوم کی استقامت کے معنی میں لیا ہے۔ (بحوالہ: روح المعانی، ج ١۵، زیر بحث آیت کے ذیل میں) البتہ اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے اور زیاہ تر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے تاکید کی مانند ہے۔ فرق یہ ہے کہ ”قیّم“ کا مفہوم زیادہ وسیع ہے یعنی ذاتی استقامت کے مفہوم کے علاوہ دوسروں کی پاسداری، اصلاح اور حفاظت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ (تشریحی نوٹ: "قَیّم" ترکیب نحوی کے لحاظ سے حال ہے اور اس میں عامل "انزل" ہے۔)

۳۔ خدا کے لیے اولاد کے قائل افراد کو خصوصی تنبیہ

مندرجہ بالا آیات میں وسیع اور مطلق طور پر انداز کے بعد ان لوگوں کو بالخصوص ڈرایا گیا ہے کہ جو خدا کے لیے اولاد کے قائل ہیں۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انحراف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ اعتقادی انحراف عیسائیوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ یہود و مشرکین بھی اس میں شریک تھے اور جب یہ قرآن نازل ہو رہا تھا تو یہ ایک طرح کا عمومی اعتقاد تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا عقیدہ روح توحید کو بالکل ختم کر دیتا ہے اور خدا کو مادی و جسمانی موجودات کی صف میں لے آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے لیے انسانی جذبات و احساسات کا قائل ہوٴا جائے، اس کے لیے شبیہ و شریک مانا جائے اور اسے حاجت مند شمار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ یونس کی آیہ ۶۸ میں ہے: قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَانَہُ ھُوَ الْغَنِی انہوں نے کہا کہ خدا کا بیٹا ہے، حالانکہ وہ غنی و بےنیاز ہے۔ سورہ مریم کی آیہ ۸۸ تا ۹۱ میں ہے: وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَانُ وَلَدًا ،لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا إِدًّا ،تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا ، اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَانِ وَلَدًا انہوں نے کہا کہ رحمن کا بیٹا ہے۔ تمہاری یہ بات بہت ہی ناموزاں اور سنگین ہے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑگر پڑیں کیونکہ تم خدا کے لیے بیٹے کے قائل ہو۔ یہ انتہائی سخت انداز کلام اس بات کی دلیل ہے کہ نتیجہ اور انجام بہت ہی بُرا ہے۔ اس کے منحوس اثرات بہت وسیع ہیں اور درحقیقت ہے بھی ایسا ہی کیونکہ اس نتیجہ یہ ہے کہ الله کو اوج عظمت سے نیچے لے آیا جائے اور اسے پست مادی موجودات کی صف میں لاکھڑا کیا جائے۔ (تشریحی نوٹ: تثلیث اور خدا کی اولاد ہونے کے مسئلہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد٢ ص٦۵٣ پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ (اردو ترجمہ))

۴۔ دعویٰ، بلا دلیل

انحرافی عقائد کا مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دعویٰ بلا دلیل کے مترادف ہیں۔ بعض اوقات یہ جھوٹے نعروں کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ کوئی نعرہ بلند کرتا ہے اور ایک نسل سے دوسرے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ یا بڑے بوڑھوں کے رسم و رواج کی صورت میں کوئی عقیدہ ایک نسل سے دوسرے نسل کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ ضمنی طور پر قرآن ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہر صورت میں ہم بے دلیل دعووٴں سے پرہیز کریں چاہے وہ کسی طرف سے اور کسی شخص کی جانب سے ہوں۔ مندجہ بالا آیات میں اس قسم کے کام کے بارے میں الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بہت بڑی اور وحشتناک بات ہے اور ایسی بات کو جھوٹ کا سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی بنیاد بات ہے کہ اگر مسلمان اپنی ساری زندگی میں اس کی پیروی کریں یعنی بلا دلیل نہ کچھ کہیں اور نہ کوئی بات قبول کریں اور پراپیگنڈا و دلیل سے عادی دعوؤں کی پرواہ نہ کریں تو ان بہت سی پریشانیاں اور مشکلات دور ہو جائیں۔

۵۔ عمل صالح ۔ ایک مسلسل طرزِ عمل

مندرجہ بالا آیات میں مومنین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے "عمل صالح" کو اس کا مسلسل اور دائمی طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے کیونکہ "یعملون الصالحات" فعل مضارع ہے اور ہم جانتے ہیں کہ فعل مضارع تسلسل اور دوام پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت میں ہونا بھی ایسا ہی چاہئے کیونکہ چند ایک نیک کام تو ہو سکتا ہے اتفاقاً یا بعض وجوہ کی بناء پر انجام پا جائیں لہٰذا وہ ہرگز حقیقی ایمان کے لیے دلیل نہیں ہو سکتے۔ حقیقی ایمان تو ایسا عملِ صالح ہے جس میں تسلسل اور دوام ہے۔

۶۔ جس نے اپنے "بندہ" پر کتاب نازل کی

زیر نظر آیات میں آسمانی کتاب کے نازل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: شکر ہے اس خدا کا جس نے اپنے "بندہ" پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ "بندہ" کی تعبیر انتہاہی فخریہ اور باعظمت ہے۔ یہ وصف اسی انسان کا ہو سکتا ہے جو واقعاً الله کا بندہ ہو جو اپنی ہر چیز کو اس سے وابستہ سمجھے۔ جس کی آنکھ اور کان اس کے حکم پر لگے ہوں۔ جو اس کے غیر کا تصور بھی نہ کرے۔ جو اس کی راہ کے علاوہ کسی راہ پر نہ چلے ایسے شخص ہی کو یہ افتخار اور اعزاز حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ اس کا پاکباز بندہ ہو۔

6
18:6
فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ إِن لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَسَفًا
اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم غم کے مارے اپنی جان دے بیٹھوگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
18:7
إِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى ٱلۡأَرۡضِ زِينَةٗ لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ أَيُّهُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗا
جو کچھ روئے زمین پر ہے اسے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں بہتر عمل کون کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
18:8
وَإِنَّا لَجَٰعِلُونَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيدٗا جُرُزًا
(لیکن یہ زیب و زینت پائیدار نہیں ہے) اور آخر کار ہم روئے زمین کو چٹیل میدان بنا دیں گے۔

تفسیر غم نہ کرو۔ یہ دنیا آزمائش گاہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں رسولِ اکرمؐ کی رسالت اور رہبری کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر پہلی آیت میں رہبری کی ایک نہایت اہم شرط کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے ہمدردی اور غمخواری۔ ارشاد ہوتا ہے: گویا تو اس شدت غم میں اپنی جان دے بیٹھے گا کہ یہ لوگ آسمانی کتاب پر ایمان نہیں لاتے (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلیٰ آثَارِھِمْ إِنْ لَمْ یُؤْمِنُوا بِھٰذَا الْحَدِیثِ اَسَفًا)۔

چند توجّہ طلب نکات

۱۔ "باخع" کا مفہوم: "باخع"، "بخع" (بروزن "نخل") کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے اپنے آپ کو شدتِ غم سے مار ڈالنا۔ ۲۔ "اسفاً" کا مطلب: "اسفا" غم و اندوہ کی شدت ظاہر کرتا ہے۔ یہ لفظ یہاں اس امر کی تاکید کے لیے ہے۔ ۳۔ "اٰثار" کا معنی: "اٰثار"، "اثر" کی جمع ہے۔ یہ دراصل نشان پا کے معنی میں ہے لیکن کسی چیز کی جو علامت باقی رہ جائے اسے بھی "اثر" کہتے ہیں۔ یہاں اس لفظ کا استعمال ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ یہ کہ کبھی انسان ایک جگہ سے چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر تو اس کے آثار باقی رہتے ہیں لیکن زیادہ وقت گزر جائے تو آثار بھی محو ہو جاتے ہیں یعنی تو ان کے ایمان نہ لانے سے اس قدر پریشان ہے کہ ان کے آثار محو ہونے سے پہلے تو اپنے آپ کو غم و اندوہ سے مار ڈالے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "آثار" سے مراد ان کے آثار و کردار ہوں۔ ۴۔ قرآن کے لیے لفظ "حدیث": قرآن کو "حدیث" کہنا اس کتاب کے تازہ نزول کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ اتنی زحمت بھی نہیں کرتے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں کہ جو تازہ نازل شدہ ہے اور جس کے مضامین نئے ہیں۔ یہ انتہائی بےخبری کی دلیل ہے کہ انسان کسی نئی چیز کے پاس سے لاپرواہی سے گزر جائے۔ ۵۔ غمخوار ہادی: آیاتِ قرآن اور تاریخ سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی رہبر لوگوں کی گمراہی پر کسی کے تصور سے زیادہ دکھی ہوتے تھے۔ ان کی آرزو تھی کہ لوگ ایمان لے آئیں چونکہ وہ دیکھ رہے ہوتے تھے کہ لوگ پیاسے ہیں، صاف و شفاف چشمے کے پاس بیٹھے ہیں اور پھر بھی پیاس کی شدت سے فریاد کناں ہیں۔ ہادیاں برحق اس حالت پر پریشان ہوتے، آنسو بہاتے، دعا کرتے اور رات دن کوشش کرتے تھے۔ چھپ چھپا کر بھی تبلیغ کرتے۔ کھلے بندوں بھی پیغامِ حق پہنچاتے۔ خلوت و جلوت میں فرد اور اجتماع کو دعوت دیتے۔ اس بات پر بہت ملول ہوتے کہ لوگوں نے سیدھی راہ کو چھوڑ کر ٹیڑھا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ان کے اندوہ کا یہ عالم ہوتا کہ کبھی ایسا لگتا کہ وہ اس غم میں جان دے بیٹھیں گے۔ واقعاً رہبر جب تک ایسا غمخوار نہ ہو رہبری کا عمیق مفہوم عملی جامہ نہیں پہن سکتا۔ بعض اوقات غم کی یہ حالت اس قدر شدید ہو جاتی کہ خود رسول اللہؐ کی جان خطرے میں پڑ جاتی اور ایسے میں اللہ تعالیٰ ان کی دلجوئی کرتا ہے اور انہیں تسلی دیتا۔ سورہ شعراء کی آیہ ۳ اور ۴ میں ہے: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ اَلاَّ یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ إِنْ نَشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ لَھَا خَاضِعِینَ تُو تو گویا اپنی جان دے ڈالے گا کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ غم نہ کر، ہم نے انہیں فاعلِ مختار بنایا ہے اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان کو ایسی آیت بھیجتے کہ ان کی گردن بلااختیار اس کے سامنے جھک جاتی۔ اگلی آیت میں اس عالم کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے میدان آزمائش ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ روئے زمین پر ہے اسے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے (إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِینَةً لَھَا)۔ ہم نے دنیا کو حسین بنایا ہے۔ اس کا ہر گوشہ دل کو کھینچتا ہے، نگاہوں کو دعوت دیدار دیتا ہے اور انسان میں مختلف احساسات کو ابھارتا ہے۔ جذبات کی یہ کشاکش، خوبصورت چیزوں کی یہ چمک دمک اور دلربا چہروں کی یہ جاذبیت انسان کے لیے آزمائش ہے۔ انسان کا ایمان، ارادے کی قوت اور معنویت فضیلت ہر چیز کا امتحان ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: تاکہ انہیں آزمائیں کہ ان میں سے بہتر عمل کون انجام دیتا ہے (لِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا)۔ بعض مفسرین نے "ما علی الارض" کا مفہوم علماء میں محدود کرنا چاہا ہے۔ بعض نے اس سے صرف مرد مراد لیے ہیں اور کہا ہے کہ زمین کی زینت یہی ہیں لیکن اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں روئے زمین کی تمام موجودات شامل ہیں۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ یہاں "احسن عملاً" کی تعبیر استعمال ہوئی ہے نہ کہ "اکثر عملاً" کی۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں حسن عمل اور عمل کی اعلیٰ کیفیت کی قدر و قیمت ہے نہ کہ کثرت و کمیت کی۔ بہرحال، یہ تمام انسانوں بالخصوص تمام مسلمانوں کے لئے ایک تنبیہ اور صدائے بیدار باش ہے اور انہیں متوجہ کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی دلربائیوں سے ضرب نہ کھائیں کیونکہ یہ دنیا تو میدان آزمائش ہے۔ ان دلفریب مظاہر سے دل لگانے کی بجائے حسن عمل کے بارے میں سوچیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ پائیدار نہیں ہے اور آخرکار نابود ہو جائے گی اور ہم روئے زمین کی تمام چیزوں کو ختم کر دیں گے "اور صفحہ ارض کو چٹیل میدان میں بدل کے رکھ دیں گے" (وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَیْھَا صَعِیدًا جُرُزًا)۔ "صعید"، "صعود" کے مادہ سے ہے۔ یہاں سطح زمین کے معنی میں ہے۔ وہ سطح کہ جس میں مٹی پوری طرح نمایاں ہو "جزر" اس زمین کو کہتے ہیں جس میں گھاس نہ اگتی ہو، گویا وہ اپنی گھاس کو کھا جاتی ہو۔ دوسرے لفظوں میں "جرز" اس زمین کو کہتے ہیں کہ خشک سالی کی وجہ سے جس کے پودے ختم ہو گئے ہوں۔ جی ہاں! یہ حسین اور دل انگیز مناظر کہ جو فصلِ بہار میں صحراؤں اور کوہساورں کے دامن میں دکھائی دیتے ہیں، پھولوں کی مسکراہٹیں، جھومتے ہوئے شجر، سرگوشیاں کرتے ہوئے پتے، ندی نالوں کے زمزے سب فصل خزاں میں ختم ہو جاتے ہیں درختوں کی شاخیں قربان ہو جاتی ہیں۔ ندی نالے خاموش ہو جاتے ہیں۔ غنچے خشک ہو جاتے ہیں۔ پتے مرجھا جاتے ہیں اور زندگی کی آواز چپ ہو جاتی ہے۔ انسانوں کی رنگین زندگی کا بھی یہی عالم ہے۔ یہ محل اور یہ فلک بوس عمارتیں، یہ رنگارنگ لباس یہ گوناں گوں نعمتیں، یہ خدّام اور یہ مقام و منصب سب ختم ہو جانے والی چیزیں ہیں۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ خشک و خاموش قبرستان کے سوا کچھ باقی نہیں ہو گا، اور یہ ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے۔

9
18:9
أَمۡ حَسِبۡتَ أَنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡكَهۡفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُواْ مِنۡ ءَايَٰتِنَا عَجَبًا
کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحابــــــــــ کہف و رقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
18:10
إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدٗا
وہ وقت یاد کرو جب جوانوں کے اس گروہ نے غار میں جا پناہ لی اور کہا :پروردگارا ! ہمیں اپنی رحمت سے نواز اور ہمیں راہ نجات فراہم کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
18:11
فَضَرَبۡنَا عَلَىٰٓ ءَاذَانِهِمۡ فِي ٱلۡكَهۡفِ سِنِينَ عَدَدٗا
ان کے کانوں پر ہم نے پردہ ڈال دیا اور وہ سالہا سال سوئے رہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
18:12
ثُمَّ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِنَعۡلَمَ أَيُّ ٱلۡحِزۡبَيۡنِ أَحۡصَىٰ لِمَا لَبِثُوٓاْ أَمَدٗا
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ واضح ہو جائے کہ ان دو گروہوں میں سے کسے اپنی نیند کی مدتــٔ خوب یاد ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مندرجہ بالا آیات کی مفسرین نے ایک شانِ نزول نقل کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے سرداروں نے انپے دو ساتھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی دعوت کی تحقیق کے لیے علماء یہود کے پاس مدینہ بھیجے۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا گزشتہ کتب میں اس سلسلے میں کوئی چیز ملتی ہے۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر علماء یہود سے رابطہ کیا۔ ان سے ملے اور قریش کی بات بیان کی، تو یہودی علماء نے کہا: تم محمّدؐ سے تین مسائل کے بارے میں سوال کرو۔ اگر اس نے سب کا کافی و دانی جواب دے دیا تو وہ خدا کی طرف سے رسول ہے۔ (بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر محمّدؐ نے دو سوالوں کا جواب کافی و دانی اور ایک سوال کا جواب اجمالی دیا تو پھر وہ رسول ہے)۔ انہوں نے بات جاری رکھی: سب سے پہلے پوچھنا کہ بہت مدت پہلے جو چند جوان اپنی قوم سے جدا ہو گئے تھے۔ وہ کون تھے؟ کیونکہ ان کی داستان اور جو ان کے ساتھ گزری بہت عجیب و غریب ہے۔ علماء یہود کہنے لگے: پھر سوال کرنا کہ وہ کون ہے جس نے پوری زمین کا چکر لگایا اور زمین کے مشرق و مغرب تک جا پہنچا۔ اس کا واقعہ کس طرح ہے۔ انہوں نے کہا: نیز یہ بھی پوچھنا کہ روح کی حقیقت کیا ہے؟ قریش کے نمائندے واپس مکہ سرداران قریش کے پاس پہنچ گئے اور کہا: ہم نے محمّدؐ کے سچ اور جھوٹ کی پہچان کا معیار پا لیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔ اس کے بعد وہ رسول اللہؐ کی خدمت میں پہنچے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: میں تمھیں کل جواب دوں گا۔ لیکن آپ(علیه السلام) نے انشاءاللہ نہ کہ۔ پندرہ دن گزر گئے لیکن اللہ کی طرف سے رسول اللہؐ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی اور جبرائیلؑ آپؐ کے پاس نہ آئے۔ اس پر اہلِ مکہ پراپیگنڈا کرنے لگے اور ہر طرح طرح کی غلط باتیں بنانے لگے۔ رسول اللہؐ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ آخرکار جبرائیل آئے اور خدا کی طرف سے سورہ کہف لائے۔ اس میں ان جوانوں کی داستان بھی تھی اس سیاحِ عالم کا واقعہ بھی تھا۔ علاوہ ازیں، آپ پر یہ آیہ "ویسئلونک عن الروح" بھی نازل ہوئی۔ آنحضرتؐ نے جبرئیل(علیه السلام) سے پوچھا: اتنی تاخیر کیوں کی تھی؟ انھوں نے کہا: مَیں آپؐ کے رب کے حکم کے علاوہ نازل نہیں ہو سکتا، مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ یاد دہانی ضروری ہے کہ مذکورہ تین سوالوں میں سے دو کے جواب اسی سورہ میں آئے ہیں لیکن روح سے متعلق آیت سورہٴ بنی اسرائیل میں گزر چکی ہے۔ اور ایسی مثالی قرآن میں اور بھی ہیں کہ ایک آیت ایک خاص مطلب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور رسول اللهؐ کے حکم پر اسے خاص سورت میں خاص مقام پر جگہ دی گئی۔

تفسیر اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہوتا ہے

گزشتہ آیات میں اس دنیا کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا تھا اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ یہ دنیا انسان کے لئے ایک آزمائش ہے، قرآن چونکہ عمومی حساس مسائل کے لئے کئی ایک مثالیں پیش کرتا ہے یا گزشتہ تاریخ سے نمونے پیش کرتا ہے لہٰذا یہاں بھی پہلے اصحابِ کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور ان کا ذکر نمونہٴ عمل کے پر کیا گیا ہے۔ چند بیدار فکر اور نوجوانوں تھے، وہ ناز و نعمت کی زندگی بسر کر رہے، انھوں نے اپنے عقیدے کی حفاظت اور اپنے زمانے کے طاغوت کے لئے ان سب نعمتوں کو ٹھوکر مار دی پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی، وہ غار کہ جس میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ اقدام کر کے انھوں نے راہِ ایمان میں اپنی استقامت اور پامردی ثابت کر دی۔ یہ بات لائق توجّہ ہے کہ اس مقام پر قرآن فنِ فصاحت و بلاغت کے ایک اصول سے کا م لیتے ہوئے پہلے افراد کی سرگذشت کو اجمالی طور پر بیان کرتا ہے تاکہ سننے والوں کا ذہن مائل ہو جائے، اس سلسلے میں چار آیات میں واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد چودہ آیات میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تم سمجھتے ہو کہ اصحابِ کہف و رقیم ہماری عجیب آیات میں سے تھے (اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا)۔ زمین و آسمان میں ہماری بہت سی عجیب آیات ہیں کہ جن میں ہر ایک عظمتِ تخلیق کا ایک نمونہ ہے۔ خود تمہاری زندگی میں عجیب اسرار موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک تمہاری دعوت کی حقانیت کی نشانی ہے اور اصحابِ کہف کی داستان مسلماً ان سے عجیب تر نہیں ہے۔ "اصحاب کہف" (اصحاب غار) کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنی جان بچانے کے لئے غار میں پناہ لی تھی جس کی تفصیل ان کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے آئے گی۔ لیکن "رقیم" دراصل "رقم" کے مادہ سے لکھنے کے معنی میں ہے۔ زیادہ تر مفسّرین کا نظریہ ہے کہ یہ اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے کیونکہ آخرکار اُس کا نام ایک تختی پر لکھا گیا اور اسے غار کے دروازے پر نصب کیا گیا۔ بعض اسے پہاڑ کا نام سمجھتے ہیں کہ جس میں یہ غار تھی اور بعض اس زمین کا نام سمجھتے ہیں کہ جس میں وہ پہاڑ تھا، بعض کا خیال ہے کہ یہ اُس شہر کا نام ہے جس سے اصحاب کہف نکلے تھے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ رہا بعض کا یہ احتمال کہ اصحابِ کہف اور تھے اور اصحابِ رقیم اور تھے۔ بعض روایات میں ان کے بارے میں ایک داستان بھی نقل کی گئی ہے، یہ ظاہر آیت سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ زیرِ نظر آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اصحابِ کہف و رقیم ایک ہی گروہ کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ ان دو الفاظ کے استعمال کے بعد صرف "اصحاب کہف" کہہ کر داستان شروع کی گئی ہے اور ان کے علاوہ ہرگز کسی دوسرے گروہ کا ذکر نہیں کیا گیا، یہ صورتِ حال خود ایک ہی گروہ ہونے کی دلیل ہے۔ جو افراد غار میں بند ہو گئے تھے ان میں سے تین کے بارے میں تفسیر نور الثقلین میں مشہور روایات ذکر ہوئی ہیں، ان میں سے ہر ایک نے خدا کو اپنے خالص عمل کا واسطہ دیا جس کی وجہ سے انھیں اس تنگ و تاریک مقام سے رہائی ملی، ان روایات میں "اصحاب رقیم" کے نام کی کوئی بات نہں ہے اگرچہ بعض کتب تفسیر میں اس عنوان کے تحت بات کی گئی ہے۔ بہرحال، اس میں شک نہیں کرنا چاہیئے کہ "اصحاب کہف ورقیم" ایک ہی گروہ کی طرف اشارہ ہے اور آیات کی شانِ نزول میں بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس وقت کا سوچو جب چند جوانوں نے ایک غار میں جا پناہ لی (إِذْ اَوَی الْفِتْیَةُ إِلَی الْکَھْفِ)۔ جب وہ ہر طرف سے مایوس تھے، انھوں نے بارگاہِ خدا کا رُخ کیا "اور عرض کی: پروردگارا! ہمیں اپنی رحمت سے بہرہ ور کر" (فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَھَیِّءْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا)۔ ایسی راہ کہ جس میں ہمیں اس تاریک مقام سے چھٹکارا مل جائے اور تیری رضا کے قریب کر دے، ایسی راہ کہ جس میں خیر و سعادت ہو اور ذمہ داری ادا ہو جائے۔ ہم نے ان کی دعا قبول، ان کے کانوں پر خواب کے پردے ڈال دیئے اور وہ سالہا سال تک غار میں سوئے رہے (فَضَرَبْنَا عَلیٰ آذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ سِنِینَ عَدَدًا)۔ پھر ہم نے انھیں اٹھایا اور بیدار کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے کون لوگ اپنی نیند کی مدّت کا بہتر حساب لگاتے ہیں (ثُمَّ بَعَثْنَاھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصَی لِمَا لَبِثُوا اَمَدًا)۔

چند اہم نکات

۱۔ "اوی الفتیة" کا مفہوم: "اوی"، "ماوی" کے سے لیا گیا ہے، اس کا معنی ہے "امن و امان کی جگہ" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ فاسد اور بُرے ماحول سے بھاگ کر یہ جوان جب غار میں پہنچے تو انھیں سکون و آرام محسوس ہوا۔ ۲۔ "فتیة"، "فتیٰ" کی جمع ہے، دراصل یہ نوخیز و سرشار جوان کے معنی میں ہے البتہ کبھی کبھار بڑی عمر والے ان افراد کے لئے بھی بولا جاتا ہے کہ جن کے جذبے جوان اور سرشار ہوں، اس لفظ میں عام طور پر جوانمردی حق کے لئے ڈٹ جانے اور حق کے حضور سرِتسلیم خم کرنے کا مفہوم بھی ہوتا ہے۔ اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے۔ امام(علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا: "فتی" کس کو کہتے ہیں؟ اُس نے جواباً فرمایا: "اما علمت ان اصحاب الکھف کانوا کلھم کھوٴلاء فسماھم الله فتیة بایمانھم" کیا تجھے نہیں پتہ کہ اصحاب کہف پکی عمر کے آدمی تھے لیکن الله نے انھیں "فتیہ" کہا ہے اس لئے کہ وہ الله پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: مَن آمَنَ بِاللهِ واتقیٰ فھو الفتیٰ جو الله پر ایمان رکھتا ہو اور تقویٰ اختیار کئے ہو وہ "فتی" (جوانمرد) ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۲۴۴، ۲۴۵) روضة الکافی میں امام صادق علیہ السلام سے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی منقول ہے۔ (بحوالہ: نورالثقلین، ج۳، ص۲۴۴، ۲۴۵) ٣۔ "من لدنک رحمة" کا مفہوم: اس کا معنی ہے: "تیری طرف سے رحمت" یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ جب انھوں نے غار میں پناہ لی تو دیکھا کہ کچھ ان کے بس میں نہیں رہا اور تمام ظاہری اسباب بیکار ہو گئے ہیں، ایسے میں انھیں صرف رحمت الٰہی کی امید تھی۔ ٤۔ "ضربنا علیٰ اٰذانھم" کا مطلب: "ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا" عربی میں یہ سُلانے کے لئے ایک لطیف کنایہ ہے۔ کسی شخص کے کان پر پردہ ڈالنا۔ گویا وہ کسی کی بات نہ سُنے اور اس پردے سے مراد نیند ہی کا پردہ ہے۔ اسی بنا پر حقیقی نیند وہی ہے جو انسان کے کانوں کو گویا بیکار کر دے، یہی وجہ ہے کہ سوئے ہوئے کسی انسان کو بیدار کرنا ہو تو اسے آواز دیتے ہیں تاکہ قوتِ شنوائی پر اثر ہو اور وہ بیدار ہو جائے۔ ۵۔ "عدد سنین" کا مطلب: اس کا معنی ہے "متعدد سال" یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ سالہا سال سوئے رہے، جیسا کہ اس واقعے کی تفصیل انشاء الله آئندہ آیات کی تفسیر میں آئے گی۔ ٦۔ "بعثناکم" کا مفہوم: یہ تعبیر ان کے بیدار ہونے کے بارے میں آئی ہے، شاید یہ لفظ اس لئے آیا ہے کہ ان کی نیند لمبی ہو گئی تھی کہ گویا موت کی طرف تھی اور ان کی بیداری قیامت اور بعد از موت اٹھنے کی مانند تھی۔ ٧۔ "لنعلم" کا مطلب: اس کا معنی ہے: "تاکہ ہم جان لیں" اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خدا کوئی نیا علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ایسی تعبیریں قرآن میں بہت آئی ہیں۔ ان کا مطلب ہے کہ خدا کو جو کچھ معلوم ہے وہ عملاً رونما ہو جائے یعنی ہم نے انھیں نیند سے بیدار کیا تاکہ یہ معنی عملی صورت اختیار کر لے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ٨۔ "ای الحزبین" کا مفہوم: اس سلسلے کی وضاحت آئندہ آیات سے ہو جائے گی۔ بات یہ ہے کہ جب وہ جاگے تو انھوں نے سونے کی مقدار کے بارے میں اختلاف کیا، بعض سمجھتے تھے کہ وہ ایک دن سوئے ہیں، بعض کا خیال تھا وہ آدھا دن سوئے ہیں حالانکہ وہ سالہا سال تک سوئے رہے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ "اصحاب رقیم" اور تھے اور "اصحاب کہف" اور تھے۔ یہ خیال بہت بعید ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں۔ (بحوالہ: یہ نظریہ "اعلام القرآن" کے صفحہ ۱۷۹ پر ذکر کیا گیا ہے۔)

13
18:13
نَّحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَأَهُم بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ ءَامَنُواْ بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنَٰهُمۡ هُدٗى
ہم تجھ سے ان کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں، وہ (اصحاب کہف) ایسے جوانمرد تھے کہ جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے انہیں مزید ہدایت فرمائی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
18:14
وَرَبَطۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ إِذۡ قَامُواْ فَقَالُواْ رَبُّنَا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَن نَّدۡعُوَاْ مِن دُونِهِۦٓ إِلَٰهٗاۖ لَّقَدۡ قُلۡنَآ إِذٗا شَطَطًا
ہم نے ان کے دل مضبوط کئے جبکہ انہوں نے قیام: کیا اور کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ـــ، ہم اس کے علاوہ ہرگز کسی کی پرستش نہیں کریں گے۔ اگر ہم ایسی بات کریں تو ہم نے بے ہودہ بات کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
18:15
هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمُنَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗۖ لَّوۡلَا يَأۡتُونَ عَلَيۡهِم بِسُلۡطَٰنِۭ بَيِّنٖۖ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا
ہماری اس قوم نے اللہ کی بجائے اوروں کو معبود بنا رکھا ہے۔ یہ لوگ ان معبودوں کیلئے کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے؟اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
18:16
وَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأۡوُۥٓاْ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ يَنشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَيُهَيِّئۡ لَكُم مِّنۡ أَمۡرِكُم مِّرۡفَقٗا
اور جس وقت ان لوگوں سے اور ان سے ’’کہ اللہ کی بجائے جن کی یہ پرستش کرتے ہیں ‘‘ تم کنارہ کشی اختیار کر لو، تو غار میں جا پناہ لو کہ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت (کا سایہ) کرے گا اور تمہارے لئے آسائش و نجات کی راہ کھول دے گا۔

تفسیر داستان اصحاب کہف کی تفصیل

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اجمالی طور پر واقعہ بیان کرنے کے بعد چودہ آیتوں میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ گفتگو کا آغاز یوں کیا گیا ہے: ان کی داستان، جیسا کہ کہا ہے، ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ)۔ ہم اس طرح سے واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی فضول بات، بےبنیاد چیزوں اور غلط باتوں سے پاک ہو گا۔ وہ چند جوانمرد تھے کہ جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت اور بڑھا دی تھی (إِنَّھُمْ فِتْیَةٌ آمَنُوا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنَاھُمْ ھُدًی)۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں "فتیہ"، "فتی" کی جمع ہے کہ جو نوخیز و سرشار جوان کے معنی میں ہے لیکن چونکہ جوانی میں انسان کا بدن قوی ہوتا ہے اس کے جذبات میں جوش و خروش ہوتا ہے۔ روحانی اعتبار سے دل نورِ حق قبول کرنے اور محبت، سخاوت اور عفو و درگزر کے جذبوں کے لئے زیادہ آمادہ ہوتا ہے لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ "فتی" اور "فتوت" اگر بڑی عمر والوں کے لئے بولا جائے تو مجموعی طور پر ان صفات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے لفظ "جوانمردی" اور "فتوت" فارسی زبان میں بھی انھیں مفاہیم میں استعمال ہوتے ہیں۔ آیات قران سے اجمالی طور پر اور تاریخ سے تفصیلی طور پر یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اصحابِ کہف جس دَور اور ماحول میں رہتے تھے اس میں کفر و بت پرستی کا دَور تھا، ایک ظالم حکومت کہ جو عام طور پر شرک، کفر، جہالت، عارت گری اور ظلم کی محافظ تھی لوگوں کے سروں پر مسلط تھی، لیکن یہ جوانمرد کہ جو ہوش و صداقت کے حامل تھے آخرکار اس دن کی خرابی کو جان گئے۔ انھوں نے اس کے خلاف قیام کا مصمم ارادہ کر لیا اور فیصلہ کیا کہ اگر اس دین کے خاتمے کی طاقت نہ ہوئی تو ہجرت کر جائیں گے۔ اسی لئے گزشتہ بحث کے بعد قرآن کہتا ہے: جب انھوں نے قیام کیا اور کہا کہ ہمارا رب آسمان و زمین کا پروردگار ہے، ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا (وَرَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کے علاوہ کسی معبود کی ہرگز پرستش نہیں کریں گے (لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِہِ إِلَھًا)۔ اگر ہم ایسی بات کریں اور اس کے علاوہ کسی کو معبود سمجھیں تو ہم نے بیہودہ اور حق سے دُور بات کہی (لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا)۔ "رَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ" سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ان کے دل میں توحید کی فکر پیدا ہوئی لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر سکتے تھے، خدا نے ان کے دلوں کو ڈھارس دی اور انھیں یہ طاقت بخشی کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور علی الاعلان صدائے توحید بلند کریں۔ کیا انھوں نے یہ اعلان سب سے پہلے اس دَور کے ظالم بادشاہ دقیانوس کے سامنے کیا یا عام لوگوں کے سامنے یا دونوں کے سامنے یا آپس میں ایک دوسرے کے سامنے؟ یہ بات صحیح طور پر واضح نہیں ہے لیکن "قَامُوا" کی تعبیر کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے یہ اعلان ظالم بادشاہ کے سامنے کیا۔ "شطط" (برورزن "وسط") حد سے نکل جانے اور بہت دور چلے جانے کے معنی میں ہے، لہٰذا وہ باتیں کہ جو حق سے بہت دور ہوں انھیں "شطط" کہا جاتا ہے اور یہ جو بڑے دریاوٴں کے ساحل کو "شط" کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پانی سے دُور اور بلند ہوتا ہے۔ ان باایمان جوانمردوں واقعاً توحید کے اثبات اور "اٰلھہ" کی نفی کے لئے واضح دلیل کا سہارا لیا اور وہ یہ کہ ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ آسمان و زمین کا کوئی مالک اور پروردگار ہے کہ وجود نظامِ خلقت جس کے وجود کی دلیل ہے اور ہم بھی اس عالمِ ہستی کا ایک حصّہ ہیں لہٰذا ہمارا پروردگار بھی وہی آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ اس کے بعد وہ ایک اور دلیل سے متوسل ہوئے اور وہ یہ کہ "ہماری اس قوم نے خدا کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں" (ھٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ آلِھَةً) تو کیا دلیل و برہان کے بغیر بھی اعتقاد رکھا جا سکتا ہے، "وہ ان کی الوہیت کے بارے میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے" (لَوْلَایَاْتُونَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطَانٍ بَیِّنٍ)۔ کیا تصور، خیال یا اندھی تقلید کی بناء پر یہ ایسا عقیدہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیسا کھلم کھلا اور عظیم انحراف ہے؟ "اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے" (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا)۔ یہ افتراء اپنے اوپر بھی ظلم ہے اور معاشرے پر بھی اپنے اوپر اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح بدبختی اور تباہی کے سپرد کر دیتا ہے اور معاشرے پر اس طرح کہ یہی عقیدہ وہ اس میں پیش کرتا ہے اور اسے بھی انحراف کی طرف کھینچتا ہے اور یہ ساحتِ اقدس پروردگار میں بھی ظلم ہے اور اس کے مقامِ بزرگ کی اہانت ہے۔ ان توحید پرست جواں مَردوں نے بہت کوشش کی کہ لوگوں کے دلوں سے شرک کا زنگ اتر جائے اور ان کے دلوں میں توحید کی کونپل پھوٹ پڑے لیکن وہاں تو بتوں اور بُت پرستی کا ایسا شور تھا اور ظالم بادشاہ نغمہٴ توحید ان کے حلق میں ہی اٹک کر رہ گیا تھا۔ لہٰذا انھوں نے مجبوراً اپنی نجات کے لئے اور بہتر ماحول کی تلاش کے لئے ہجرت کا عزم کیا۔ لہٰذا باہمی مشورے ہونے لگے کہ کہاں جائیں، کس طرف کو کوچ کریں، آپس میں کہنے لگے: "جب اس بت پرست قوم سے کنارہ کشی اختیار کر لو اور خدا کو چھوڑ کر جنھیں یہ پوچتے ہیں ان سے الگ ہو جاوٴ اور اپنا حساب کتاب ان سے جدا کر لو تو غار میں جا پناہ لو" (وَإِذْ اعْتَزَلْتُمُوھُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ فَاْوُوا إِلَی الْکَھْفِ)۔ تاکہ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت کا سایہ کر دے اور اس مشکل سے نکال کر تمہیں نجات کی راہ پر ڈال دے (یَنشُرْ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ رَحْمَتِہِ وَیُھَیِّءْ لَکُمْ مِنْ اَمْرِکُمْ مِرفَقًا) "یُھَیِّءْ"، "تھیہ" کے مادہ سے تیار کرنے کے معنی میں ہے۔ اور "مرفق" اس چیز کو کہتے ہیں جو آرام و راحت کا ذریعہ بنے۔ لہٰذا "یُھَیِّءْ لَکُمْ مِنْ اَمْرِکُمْ مِرفَقًا" کا معنی ہے "خدا تمھارے لئے راحت و آرام کا ذریعہ فراہم کر دے"۔ بعید نہیں کہ "نشر رحمة" گزشتہ جملے میں الله کے الطافِ معنوی کی طرف اشارہ ہو جبکہ دوسرا جملہ جسمانی و مادی نجات و آرام کی طرف اشارہ ہو۔

چند اہم نکات ۱۔ ایمان اور جوانمردی کا رشتہ

توحید پرستی اور اعلیٰ انسانی صفات ہمیشہ ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ توحید پرستی، اعلیٰ انسانی صفات کے لیے سرچشمہ کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے لیے باہمی تاثیر رکھتی ہیں۔ اسی بناء پر اصحابِ کہف کی داستان میں ہے: وہ ایسے جوانمرد تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے: راس الفتوة الایمان جوانمردی کا سرچشمہ ایمان ہے۔ بعض دیگر نے کہا ہے: الفتوة بذل الندی و کف الاذی و ترک الشکوی جوانمردی عطا و سخاوت، دوسروں کو اذیت پہنچانے سے احتراز اور مشکلات میں شکایت نہ کرنے کا نام ہے۔ بعض دیگر نے "فتوت" کی تفسیر یوں کی ہے: ھی اجتناب المحارم و استعمال المکارم جوانمردی نام ہے گناہوں سے پرہیز کا اور انسانی فضائل و مکارم کو بروئے کار لانے کا۔

۲۔ ایمان اور امدادِ الٰہی

مندرجہ بالا آیات میں متعدد مواقع پر یہ حقیقت بڑی صراحت سے ظاہر ہوتی ہے کہ اگر انسان پہلا قدم راہِ خدا میں اٹھا لے اور اس کے لئے قیام کرے تو خدا کی کمک اور امدادِ الٰہی اس کی طرف لپکتی ہے۔ ایک مقام پر ہے کہ "وہ ایسے جوانمرد تھے کہ جو ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔" ایک اور مقام پر ہے: "ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور انھیں توانائی بخشی"۔ اور آیات کے آخر میں بھی ہے کہ وہ رحمتِ الٰہی کے سایہ فگن ہونے اور راہِ نجات پانے کے انتظار میں تھے۔ قرآن کی دیگر آیات سے بھی اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً: وَالَّذِینَ جَاھَدُوا فِینَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا جو لوگ ہماری راہ میں کوشاں ہوں ہم انہیں اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔ (عنکبوت۔ آخری آیت) نیز سورہ محمد کی آیت ١٧میں ہے" والذین اھتدوا راوھم ھدی جو راہِ ہدایت پر گامزن ہوئے الله نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ راہِ حق میں بہت دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں اور لطفِ خدا وندی شاملِ حال نہ ہو تو مقصد تک پہنچنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ لطفِ خدا وندی اپنے حق طلب اور حق جُو بندے کو اس راہ میں ہرگز تنہا چھوڑتا۔

۳۔ ”غار“ کے نام کی ایک پناہ گاہ

"الکھف" میں الف لام شاید اس طرف اشارہ ہو کہ انھوں نے کسی دُور علاقے میں پہلے سے ایک غار کے بارے میں طے کر رکھا تھا کہ اگر ان کی تبلیغاتِ توحید کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پھر وہ اس آلودہ اور تاریک ماحول سے نجات پانے کے لئے اس میں پناہ لیں گے۔ "کھف" ایک معنی خیز لفظ ہے۔ اس سے انسان کی بالکل ابتدائی طرزِ زندگی کی طرف ذہن چلا جاتا ہے، وہ ماحول کہ جب راتیں تاریک اور سرد تھیں، روشنی سے محروم انسان جانکاہ درّوں میں زندگی بسر کرتے تھے، وہ زندگی جس میں مادی آسائشوں کا کوئی پتہ نہ تھا، جب نرم بستر تھے نہ خوشحالی۔ اب جب اس طرف توجہ کریں کہ تاریخ میں منقول ہے اصحابِ کہف اس دَور میں بادشاہ کے وزیر اور بہت بڑے اہلِ منصب تھے، انھوں نے بادشاہ اور اس کے مذہب کے خلاف قیام کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ناز و نعمت سے بھری اس زندگی کو چھوڑنا اور اس پر غار نشینی کو ترجیح دینا کس قدر عزم، حوصلے، دلیری اور جانثاری کا غماز ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی رُوح کتنی عظیم تھی۔ یہ غار تاریک، سرد اور خاموش ضرور تھی اور اس میں موذی جانوروں کا خطرہ بھی تھا لیکن یہاں نور و صفا اور توحید و معنویت کی ایک دنیا آباد تھی۔ رحمتِ الٰہی کے نور کی لکیروں نے اس غار کی دیواروں پر گویا نقش و نگار کر دیا تھا اور لطفِ الٰہی کے آثار اس میں موجزن تھے۔ اس میں طرح طرح کے مضحکہ خیز بُت نہیں تھے اور ظالم بادشاہ کا ہاتھ وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس کی فضا نے جہل و جرم کے دم گھُٹنے والے ماحول سے نجات عطا کر دی تھی اور یہاں انسانی فکر پر کوئی پابندی نہ تھی۔ فکر آزادی اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ موجود تھی۔ جی ہاں! ان خدا پرست جوانمردوں نے اس دنیا کو ترک کر دیا کہ و اپنی وسعت کے باوجود ایک تکلیف دہ زندان کی مانند تھی اور اُس غار کو انتخاب کر لیا کہ جو اپنی تنگی و تاریکی کے باوجود وسیع تھی۔ بالکل پاکباز یوسف(علیه السلام) کی طرح کہ جنھوں نے عزیزِ مصر کی خوبصورت بیوی کے شدید اصرار کے باوجود اس کی سرکش ہوس کے سامنے سر نہ جھکایا اور تاریک وحشتناک قیدخانے میں جانا قبول کر لیا۔ الله نے ان کی استقامت میں اضافہ کر دیا اور آخرکار انھوں نے بارگاہِ خداوندی میں یہ حیران کُن جملہ کہا: رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَھُنَّ اَصْبُ إِلَیْھِنَّ پروردگارا! زندان اپنی جانکاہ تنگی و تاریکی کے باوجود مجھے اس گناہ سے زیادہ محبوب ہے کہ جس کی طرف یہ عورتیں مجھے دعوت دیتی ہیں اور اگر تُو ان کے وسوسوں کو مجھ سے دفع نہ کرے تو مَیں ان کے دام گرفتار ہو جاوٴں گا۔ (یوسف۔۳۳)

17
18:17
۞وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗا
جب سورج نکلتا ہے تو تو دیکھے گا کہ ان کے (غار کے) دائیں طرف جھک کے نکلتا ہے، وقت غروب بائیں جانب کو اور وہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ پر موجود ہیں۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس شخص کی ہدایت اللہ کرے در حقیقت وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ بھٹکا دے تو پھر تجھے اس کا کوئی سرپرست و راہنما نہیں ملے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
18:18
وَتَحۡسَبُهُمۡ أَيۡقَاظٗا وَهُمۡ رُقُودٞۚ وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِۖ وَكَلۡبُهُم بَٰسِطٞ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِۚ لَوِ ٱطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارٗا وَلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبٗا
(اور اگر تو ان کو دیکھتا تو) سمجھتا کہ وہ بیدار ہیں حالانکہ وہ نیند میں مستغرق تھے اور ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ بدلواتے ہیں (تاکہ ان کا جسم صحیح و سالم رہے) اور ان کے کتے نے غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلا رکھے ہیں (اور نگہبانی کر رہا ہے) اور اگر تو انہیں دیکھتا تو بھاگ کھڑا ہوتا اور سرتاپا وحشت زدہ ہو جاتا۔

تفسیر اصحاب کہف کا اہم مقام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان دو آیات میں قرآن غار میں اصحابِ کہف کی عجیب و غریب زندگی کی کچھ تفصیلات بیان کر رہا ہے۔ ان کی زندگی کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ گویا کوئی شخص غار کے سامنے بیٹھا ہے اور غار میں سوئے ہوئے افراد کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

چھ نشانیاں اور خصوصیات

ان دو آیتوں میں غار اور اصحاب کہف کی چھ نشانیاں اور خصوصیات بیان کی گئی ہیں: ۱۔ غار کا دہانہ شمال کی طرف ہے اور غار چونکہ زمین کے شمالی نصف کرہ میں واقع تھی لہٰذا سورج کی روشنی مستقیم اس میں نہیں پڑتی تھی۔ جیسا کہ قران کہتا ہے: اگر تُو وقتِ طلوع سورج کو دیکھتا تو وہ غار کی دائیں جانب جھُک کے گزر جاتا ہے اور غروب کے وقت بائیں جانب (وَتَرَی الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَتَزَاوَرُ عَنْ کَھْفِھِمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ)۔ اس طرح سے ان پر سورج کی براہِ راست روشنی نہیں پڑتی رہتی تو ہو سکتا ہے کہ ان کے جسم بوسیدہ ہو جاتے۔ "تزاور" کی تعبیر کہ جو جھکنے کے معنی میں ہے، اس یہ نکتہ پنہاں ہے کہ گویا سورج اس بات پر مامور تھا کہ غار کی دائیں سمت سے گزرے۔ اسی طرح "تقرض" کی تعبیر کاٹنے کے معنی میں ہے، اس میں بھی ماموریت کا مفہوم موجود ہے، اس سے قطع نظر "تزاور"، "زیارت" کے مادہ سے ہے، اس میں بھی آغاز کی طرف اشارہ بھی موجود ہے کہ جو طلوع آفتاب کا مفہوم دیتا ہے اور "تقرض" قطع کرنے اور ختم کرنے کے معنی میں ہونے کے باعث غروب کا مفہوم دیتا ہے۔ غار کا دہانہ شمال کی طرف ہونے کی وجہ سے اس میں اچھی اور لطیف ہوائیں آتی تھیں کیونکہ یہ ہَوائیں عموماً شمال کی جانب سے چلتی ہیں، لہٰذا تازہ ہوا آسانی سے غار میں داخل ہو جاتی اور ایک تازگی قائم رکھتی۔ ۲۔ وہ غار کی ایک وسیع جگہ میں تھے (وَھُمْ فِی فَجْوَةٍ مِنْہُ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ غار کے دہانے پر موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو عموماً تنگ ہوتا ہے۔ وہ غار کے وسطی حصّے میں تھے تاکہ دیکھنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہیں اور سورج کی براہِ راست چمک سے بھی۔ یہاں قرآن سلسلہ گفتگو کو گویا روکتے ہوئے ایک معنوی نتیجہ بیان کرتا ہے کیونکہ اس ساری داستان کو ذکر اسی مقصد کے لئے کیا جا رہا ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہ الله کی نشانیوں میں سے ہے، جس کو الله ہدایت دے وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ بھٹکا دے اس کے لئے تجھے کوئی سرپرست و راہنما نہیں ملے گا (ذٰلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ مَنْ یَھْدِ اللهُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ وَلِیًّا مُرْشِدًا)۔ جی ہاں! جو لوگ راہِ خدا میں قدم اٹھاتے ہیں اور اس کی راہ میں جہاد کے لئے نکل پڑتے ہیں ہر قدم پر انھیں الله کا لطف و کرم حاصل ہوتا ہے، یہ لطف و کرم کام کی بنیاد ہی میسر نہیں آتا بلکہ اس کی جزئیات میں بھی شاملِ حال رہتا ہے۔ ۳۔ ان کی نیند عم نیند کی سی نہ تھی "اگر تُو انھیں دیکھتا ہو خیال کرتا کہ وہ بیدار ہیں حالانکہ وہ گہری نیند میں ہوئے سوئے تھے (وَتَحْسَبُھُمْ اَیْقَاظًا)۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ان کی آنکھیں بالکل ایک بیدار شخص کی طرح پوری طرح کھُلی تھیں، یہ استثنائی حالت شاید اس بناء پر تھی کہ موذی جانور قریب نہ آئیں کیونکہ وہ بیدار آدمی سے ڈرتے ہیں، یا اس کی وجہ یہ تھی کہ ماحول رعب انگیز رہے تاکہ کوئی انسان ان کے پاس جانے کی جرئت نہ کرے اور یہ صورتِ حال ان کے لئے ایک سِپر کا کام دے۔ ۴۔ اس بناء پر کہ سالہا سال سوئے رہنے کی وجہ سے ان کے جسم بوسیدہ نہ ہو جائیں "ہم انھیں دائیں بائیں کروٹیں بدلواتے رہتے تھے (وَھُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ) تاکہ ان کے بدن کا خون ایک ہی جگہ نہ ٹھہر جائے اور طویل عرصہ ایک طرف مرتکز ہونے کی وجہ سے ان کے اعصاب خراب نہ ہو جائیں۔ ۵۔ اس دوران ان میں "کُتّا کہ جو اُن کے ہمراہ تھا غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاوٴں پھیلائے ہوئے تھا اور پہرہ دے رہا تھا (وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیدِ)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے "وصید" ایسے کمرے اور اسٹور کے معنی میں ہے کہ جو پہاڑی علاقوں میں اموال و اسباب ذخیرہ کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے، یہاں یہ لفظ غار کے دہانے کے معنی میں ہے۔ اس سے پہلے ابھی تک قرآن آیات میں اصحابِ کہف کے کتّے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن قران واقعات کے دوران میں بعض اوقات ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جن سے دوسرے مسائل بھی واضح ہو جاتے ہیں، اسی طرح یہاں اصحابِ کہف کے کتّے کا ذکر آیا ہے، یہاں سے ظاہر ہوا کہ ان کے ہمراہ ایک کتّا بھی تھا جو ان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا اور ان کی حفاظت کرتا تھا۔ یہ کہ یہ کتا اُن کے ساتھ کہاں سے شامل ہوا تھا، کیا ان کا شکاری کتا تھا یا اس چرواہے کا کتا تھا کہ جس سے ان کی راستے میں ملاقات ہوئی تھا اور جب چرواہے نے انہیں پہچان لیا تھا تو اس نے اپنے جانور آبادی کی طرف روانہ کر دیئے تھے اور خود ان پاکباز لوگوں کے ساتھ ہو لیا تھا کیونکہ وہ ایک حق جو اور دیدار الٰہی کا طالب انسان تھا۔ اس وقت کتّا ان سے جدا نہ ہوا اور ان کے ساتھ ہو لیا۔ کیا اس بات کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ تمام عاشقانِ حق اس تک رسائی کے لیے اس کے راستے میں قدم رکھ سکتے ہیں اور کوئے یار کے دروازے کسی کے لیے بند نہیں ہیں۔ ظالم بادشاہ کے تائب ہونے والے وزیروں سے لے کر جرواہے تک بلکہ اس کے کتے تک کے لیے بارگاہ الٰہی کے دروازے کھُلے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ: "زمین و آسمان کے تمام ذرے، سارے درخت اور سب چلنے پھرنے والے ذکر الٰہی میں مگن ہیں، سب کے سر میں اس کے عشق کا سودا سمایا ہے اور سب دلوں میں اس کی محبت جلوہ گر ہے"۔ (بنی اسرائیل۔ ۴۴) ۶۔ غار میں اصحابِ کہف کام منظر ایسا رعب انگیز تھا کہ اگر تو انہیں جھانک کے دیکھ لیتا تو بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرا وجود سرتا پا خوفزدہ ہو جاتا (لَوْ اطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا)۔ یہ ایک ہی موقع نہیں کہ خدا تعالیٰ نے رعب اور خوف کو اپنے باایمان بندوں کے لئے ڈھال بنا دیا۔ سورہٴ آلِ عمران کی آیہ ۱۵۱ میں بھی ہے: سَنُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ کَفَرُوا الرُّعْبَ ہم جلد ہی کافروں کے دلوں پر رعب ڈال دیں گے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ٢ صفحہ٢٧۳ اور جلد ٤ صفحہ٤۰١ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔) دعائے ندبہ میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے منقول ہے: "ثمّ نصرتہ بالرعب" خدا وندا! پھر تُو نے اپنے پیغمبر کی مدد اس طرح سے کی کہ اُ س کے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ لیکن یہ رعب کہ جو اصحاب کہف کو دیکھنے والے کو سرتاپا لرزا دیتا، ان کی جسمانی حالت کے باعث تھا یا یہ کہ پُراسرار روحانی طاقت تھی کہ جو اس سلسلے میں کام کر رہی تھی۔ اس سلسلے میں آیاتِ قرآنی میں کوئی وضاحت نہیں ہے اگرچہ مفسّرین نے کئی قسم کی بحثیں کی ہیں لیکن وہ کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں ہیں اس لئے ہم ان سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ ضمناً "وَلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا" (تیرے وجود پر سرتاپا خوف چھا جاتا) درحقیقت "لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا" (اگر تُو انھیں دیکھتا تو بھاگ کھڑا ہوتا) کی علت ہے یعنی تُو اس لئے بھاگ اٹھتا کہ تُو وحشت زدہ ہو جاتا۔ بہرحال، جب کسی چیز میں الله کا ارادہ شامل ہو جائے تو بڑی معمولی سی چیزوں سے بڑے بڑے نتیجے پیدا ہو جاتے ہیں۔

19
18:19
وَكَذَٰلِكَ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَهُمۡۚ قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡۖ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۚ قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمۡ هَٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ أَحَدًا
اسی طرح ہم نے انہیں (نیند سے) اٹھا بٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں۔ان میں سے ایک نے کہا کتنی مدت سوئے ہو، انہوں نے کہا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ کہنے لگے تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی مدت سوئے ہو۔ تمہارے پاس جو سکہ ہے اب وہ دے کر کسی کو شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ سب سے پاکیزہ کھانا جہاں سے ملتا ہو وہاں سے وہ کھانے کیلئے کچھ لے آئے۔ لیکن اسے چاہئے کہ بڑی احتیاط سے کام لے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کو تمہارے بارے میں کچھ بتا بیٹھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
18:20
إِنَّهُمۡ إِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوكُمۡ أَوۡ يُعِيدُوكُمۡ فِي مِلَّتِهِمۡ وَلَن تُفۡلِحُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا
کیونکہ اگر انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا اپنے دین کی طرف پھیر لے جائیں گے اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر تم کبھی فلاح کا منہ نہیں دیکھ پاؤ گے۔

تفسیر ایک طویل نیند کے بعد بیداری

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

خدا نے چاہا تو آئندہ آیات کے ذیل میں ہم پڑھیں گے کہ اصحابِ کہف کی نیند اتنی لمبی ہو گئی کہ وہ تین سو نو (۳۰۹) سال تک سوئے رہے اور اُن کی نیند موت سے بالکل ملتی جلتی تھی اور ان کی بیداری بھی قیامت کی مانند تھی۔ لہٰذا زیرِ بحث آیات میں قرآن کہتا ہے: اور ہم نے انھیں اسی طرح اٹھا کھڑا کیا (وَکَذٰلِکَ بَعَثْنَاھُمْ)۔ یعنی اسی طرح کہ جیسے ہم اس پر قادر تھے کہ انھیں لمبی مدت تک سُلائے رکھتے انھیں پھر سے بیدار کرنے پر بھی قادر تھے۔ ہم نے انھیں نیند سے بیدار کر دیا "تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک نے پوچھا، تمھارا خیال ہے کتنی مدت سوئے ہو؟ (لِیَتَسَائَلُوا بَیْنَھُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ کَمْ لَبِثْتُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: ”لِیَتَسَائَلُوا“ میں جو لام ہے وہ اصطلاح میں لامِ عاقبت ہے نہ کہ لامِ علت، یعنی ان کے جاگنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی نیند کے مدت کے بارے میں ایک دوسرے پوچھنے لگے۔) انھوں نے کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصّہ (قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ)۔ اس میں تردد شاید انھیں اس لئے ہوا کہ جیسے مفسّرین نے کہا کہ وہ جب غار میں آئے تھے تو دن کا ابتدائی حصّہ تھا اور آ کر وہ سو گئے تھے اور جب اٹھے تو دن کا آخری حصّہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے انھوں نے سوچا کہ شاید ایک دن سو گئے ہیں اور جب انھوں نے سورج کی طرف دیکھا تو انھیں خیال آیا کہ شاید دن کا کچھ حصّہ سوئے ہیں۔ لیکن آخرکار چونکہ انھیں صحیح طرح سے معلوم نہ ہو سکا کہ کتنی دیر سوئے ہیں لہٰذا "کہنے لگے: تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کتنی دیر سوئے ہو" (قَالُوا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ)۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ بات ان میں سے بڑے نے کہی جس کا نام تملیخا تھا اور یہاں پر "قالوا" کہ جو جمع کا صیغہ ہے اس کا استعمال ایک معمول کی بات ہے۔ یہ بات انھوں نے شاید اس لئے کہی کہ ان کے چہرے مہرے سے، ناخنوں سے، بالوں سے اور لباس سے بالکل شک نہیں پڑتا تھا کہ وہ غیر معمولی طور پر نیند میں رہے ہیں بہرحال، انھیں بھوک اور پیاس کا احساس ہوا کیونکہ ان کے بدن میں جو غذا تھی وہ تو تمام ہو چکی تھی۔ لہٰذا پہلے پہلے انھوں نے یہی تجویز کیا کہ "تمھارے پاس چاندی کا جو سکّہ ہے اپنے میں سے ایک کو دو تاکہ وہ جائے اور دیکھے کہ کس کے پاس اچھی پاکیزہ غذا ہے اور جتنی تمھیں چاہیے تمھارے لئے لے آئے (فَابْعَثُوا اَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہِ إِلَی الْمَدِینَةِ فَلْیَنظُرْ اَیُّھَا اَزْکَی طَعَامًا فَلْیَاْتِکُمْ بِرِزْقٍ مِنْہُ)۔ "لیکن بہت احتیاط سے جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کو تمھارے بارے میں کچھ بتا بیٹھے" (وَلْیَتَلَطَّفْ وَلَایُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَدًا)۔ "کیونکہ اگر انھیں تمھارے بارے میں پتہ چل گیا اور انھوں نے تمھیں آ لیا تو سنگسار کر دیں گے یا پھر تمھیں اپنے دین (بُت پرستی) کی طرف موڑ لے جائیں گے" (إِنَّھُمْ إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اَوْ یُعِیدُوکُمْ فِی مِلَّتِھِمْ) "اور اگر ایسا ہو گیا تو تم نجات اور فلاح کا منہ نہ دیکھ پاو ٴگے" (وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا اَبَدًا)۔

چند اہم نکات ۱۔ پاکیزہ ترین غذا

یہ بات بہت جاذبِ نظر ہے کہ اس داستان میں ہم نے پڑھا ہے کہ اصحابِ کہف جب بیدار ہوئے تو ظاہر ہے کہ انھیں بہت بھوک لگ رہی تھی اور اس طویل مدت کے دوران میں ان کے جسم میں جو غذا تھی صرف ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے جسے کھانا لانے کے لئے بھیجا اسے نصیحت کی کہ ہر غذا نہ خرید لے بلکہ دیکھ بھال کر کھانا بیچنے والوں سے جو سب سے زیادہ پاکیزہ ہو اس سے لے کر آئے۔ بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ اس سے ذبح شدہ جانور کی طرف اشارہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں ایسے لوگ رہتے ہیں کہ جو نجس و ناپاک اور کبھی مردہ کا گوشت بیچتے ہیں یا بعض لوگوں کا کام ہی حرام کا تھا لہٰذا انھوں نے نصیحت کی کہ ایسے لوگوں سے کھانا نہ خریدانا۔ لیکن ظاہراً اس جملے کا وسیع مفہوم ہے کہ جس میں ہر قسم کی ظاہری اور باطنی پاکیزگی شامل ہے اور یہ دراصل راہِ حق کے تمام راہیوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ نہ صرف روحانی غذا کے بارے میں فکر کریں بلکہ اپنی جسمانی غذا کی پاکیزگی کا بھی خیال رکھیں کہ وہ ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہوں یہاں تک کہ زندگی کے مشکل ترین لمحات میں بھی اس بات کا فراموش نہ کریں۔ دورِ حاضر میں دنیا کے بہت سے لوگ اس حکم کی اہمیت سے کسی حد تک آگاہ ہو گئے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اُن کی غذا ہر قسم کی ظاہری آلودگی سے پاک ہو، وہ کھانے کی چیزوں کی ڈھک کر گندے ہاتھوں کی پہنچ سے دُور اور گرد و غبار سے بچا کر رکھتے ہیں، یہ کام بہت اچھا ہے لیکن اس پر قناعت نہیں کرنا چاہیے بکہ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ غذا حرام نہ ہو، ملاوٹ، دھوکا بازی اور ہر قسم کی باطنی آلودگی سے بھی پاک ہو۔ اسلامی روایات میں قبولیتِ دعا اور پاکیزگی دل کے لئے حلال غذا کی بہت تاکید کی گئی ہے، یہ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص رسول اللهؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: احبّ ان یستجاب دُعائی مَیں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو جائے۔ فرمایا: "طھّر ماکلک ولاتدخل بطنک الحرام اپنی غذا کو پاک رکھو اور دھیان رکھو کہ تمھارے بطن میں حرام داخل نہ ہونے پائے“۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ ج٤ ابواب دعا، باب ٦٧ حدیث نمبر٤۔ مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہ بقرہ کی آیت ١٨٦کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں)

۲۔ اصلاح کنندہ تقیہ

مندرجہ بالا آیات کے الفاظ سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اس بات پر زور دیتے تھے کہ اس ماحول میں کسی کو ان کی پناہ گاہ کا پتہ نہ چلے کہ مبادا وہ لوگ انھیں بُت پرستی کا مذہب اختیار کرنے پر مجبور کریں پا پھر انھیں بُری طرح قتل کریں اور سنگسار کر دیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی کسی کو خبر نہ ہو تاکہ آئندہ کی جدوجہد کے لئے کم از کم اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنی طاقت بچا کر رکھیں، یہ ایک قسم کا اصلاحی تقیہ ہے کیونکہ تقیہ کا مطلب ہے اپنی قوتوں کو فضول صرف کرنے سے بچانا اور اس کے لئے اپنے آپ کو چھپانا یا اپنے عقیدے کو چھپا کر اپنے آپ کو بچانا تاکہ ضرورت کے وقت موٴثر طریقے سے جدوجہد جا سکے۔ واضح ہے کہ جس مقام پر عقیدہ چھپانے سے ہدف اور پروگرام کو نقصان پہنچتا ہو وہاں تقیہ ممنوع ہے وہاں سب کچھ ظاہر کرنا چاہیے۔ لو بلغ ما بلغ پھر جو کچھ ہوتا ہے ہونے دو۔

۳۔ قرآن کا مرکز ”لطف“ ہے

مشہور یہ ہے کہ الفاظ کی گنتی کے لحاظ سے لفظ "وَلْیَتَلَطَّفْ" عین قرآن کا درمیان ہے، یہ ایک لطف خاص ہے اور بہت لطیف معنی کا حامل ہے کیونکہ یہ "لطف" اور "لطافت" کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہاں یہ لفظ احتیاط اور باریک بینی سے کام لینے کے معنی میں لیا گیا ہے، یعنی غذا لانے کے لئے جانے والا شخص اس طرح سے جائے کہ کسی شخص کو ان کے بارے میں کوئی خبر نہ ہو۔ بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ یہاں مراد غذا خریدنے میں لطافت سے کام لینا ہے یعنی معاملہ کرنے میں سخت گیری نہ کرے اور جھگڑا کھڑا نہ کر دے نیز بہترین چیز انتخاب کرے اور یہ بھی ایک لطف ہے کہ وسطِ قرآن کے لفظ میں لطف و تلطف کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس وقت ہم پروردگار کی عظیم توفیق سے پورے دس سال کے بعد قرآن مجید کی تفسیر کے نصف حصّہ تک پہنچ گئے ہیں، اس پر ہم الله تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس دوران اگرچہ ہم اور ہمارے ملک پر نہایت سخت حالات اور طوفان گزرے لیکن اس علاقے میں نورِ اسلام بجھا نہیں بلکہ اس کا دامن وسیع ہوا ہے نیز الله کا شکر ہے کہ اس تفسیر کے لکھنے میں کوئی وقفہ پیش نہیں آیا ہے۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ باقی ماندہ تفسیر (انشاء الله) زیادہ سُرعت کے ساتھ تکمیل کے مراحل طے کرے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ دس سال تھوڑی مدت نہیں ہوتے لیکن اب تک جو کام ہم نے اس تفسیر کے سلسلے میں انجام دیا ہے وہ بھی الحمد لله کوئی چھوٹا سا نہیں۔)

21
18:21
وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا
اور ہم نے اس طرح سے لوگوں کو ان کے حال سے مطلع کیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ (قیامت) حق ہے، دنیا کے ختم ہو جانے اور قیامت کے برپا ہو جانے میں کوئی شک نہیں۔اس وقت ان میں اس بارے میں نزاع پیدا ہو گیا (یعنی مخالفوں نے) کہا: ان پر عمارت بنا دیجائے(تاکہ لوگ یہ واقعہ بھول جائیں۔ وہ لو گوں کو بھی کہتے تھے کہ) ان کا رب ان کی کیفیت سے بہتر آگاہ ہے۔(لیکن جو اس واقعہ کو قیامت ومعاد کی دلیل سمجھتے تھے) انہوں نے کہا: ہم ان کے مدفن کے پاس ایک مسجد بنائیں گے(تاکہ انہیں بھلانہ جا سکے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
18:22
سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٞ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٞ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِۖ وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٞ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٞۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمۡ إِلَّا مِرَآءٗ ظَٰهِرٗا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدٗا
بعض کہتے ہیں کہ وہ تین افراد تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، بعض کہتے ہیں کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بلا دلیل باتیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ سات افراد تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دو کہ میرا رب ان کی تعداد سے بہتر آگاہ ہے، چند افراد کے سوا ان کی تعداد کو کوئی نہیں جانتا، لہٰذا ان کے بارے میں بغیر دلیل بات نہ کر،نہ ان کے بارے میں کسی سے سوال نہ کرو،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
18:23
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا
اور ہرگز یہ نہ کہو کہ میں کل فلاں کام انجام دوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
18:24
إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّي لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَٰذَا رَشَدٗا
مگر یہ کہ خدا چاہے اور اگر تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر اور کہہ :مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے زیادہ واضح (روشن) راستہ کی ہدایت کرے گا۔

تفسیر اصحاب کہف کے واقعے کا اختتام

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جلد ہی لوگوں میں ان عظیم جوانمردوں کی ہجرت کی داستان پھیل گئی۔ ظالم بادشاہ سیخ پا ہو گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی ہجرت یا بھاگ نکلنا لوگوں کی بیداری اور آگاہی کا سبب بن جائے۔ اُسے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں وہ دُور یا نزدیک کے علاقے میں جا کر لوگوں کو دینِ توحید کی تبلیغ کرنے لگیں اور شرک و بت پرستی کے خلاف جد و جہد شروع کر دیں۔ لہٰذا اس نے خاص افراد کو مامور کیا کہ انھیں ہر جگہ تلاش کیا جائے اور ان کا کچھ اتہ پتہ معلوم ہو تو گرفتاری کے لیے تعاقب کیا جائے اور انھیں سزا دی جائے۔ لیکن انھوں نے جتنی بھی کوشش کی کچھ نہ پایا اور یہ امر خود علاقے کے لوگوں کے لیے معمہ اور ان کے قلب و فکر کے لیے ایک خاص نقطہ بن گیا۔ نیز یہ امر کہ حکومت کے نہایت اہم چند اراکین نے ہر چیز کو ٹھوکر مار دی اور طرح طرح کے خطرات مول لے لیے شاید بعض لوگوں کی بیداری اور آگاہی کا سرچشمہ بن گیا۔ بہرحال، ان افراد کی یہ حیران کن داستان ان کی تاریخ میں ثبت ہو گئی اور ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہونے لگی اور اسی طرح اس مسئلے کو صدیاں گزر گئیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اُس پر کیا گزری جو غذا لینے کے لیے آیا۔ وہ شہر میں داخل ہوا تو اس کا منہ تعجب سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ شہر کی عمارتوں کی شکل و صورت تمام تبدیل ہو چکی تھی، سب چہرے ناشناس تھے، لباس نئے انداز کے تھے یہاں تک کہ لوگوں کی بول چال اور رسم و رواج بھی بدل چکے تھے۔ کل کے دیرانوں پر آج محل تھے اور جہاں پہلے تھے وہاں ویرانے ہی ویرانے تھے۔ شاید تھوڑی دیر کے لیے اس نے سوچا ہو کہ ابھی میں نیند میں ہوں اور یہ جو کچھ دیکھ رہا ہوں سب خواب ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں کو ملا۔ وہ سب چیزوں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ کیسی حقیقت ہے کہ جس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ وہ غار میں ایک یا آدھا دن سوئے ہیں تو پھر یہ اتنی تبدیلیاں اتنی مدت میں کیسے ممکن ہیں؟ دوسری طرف اس کا چہرہ مہرہ اور حالت لوگوں کے لیے بھی عجیب اور غیر مانوس تھی۔ اس کا لباس، اس کی گفتگو اور اس کا چہرہ سب نیا معلوم ہوتا تھا شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے پیچھے چل پڑے۔ اُس وقت لوگوں کا تعجب انتہا کو پہنچ گیا جب اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ اس کھانے کی قیمت ادا کرے جو اس نے خریدا تھا۔ دکاندار کی نگاہ سکے پر پڑی وہ تین سو سال سے زیادہ پرانے دَور کا تھا اور شاید اس زمانے کے ظالم بادشاہ دقیانوس کا نام بھی اس پراکنندہ تھا۔ جب اس نے وضاحت چاہی تو خریدار نے جواب میں کہا: میرے ہاتھ میں تو یہ سکّہ ابھی ہی آیا ہے۔ قرائن اور احوال سے لوگوں کو آہستہ یقین ہو گیا کہ یہ شخص تو انہی افراد میں سے ہے جن کا ذکر ہم نے تین سو سال پہلے کی تاریخ میں پڑھا ہے اور بہت سی محفلوں میں ہم نے جن کی پُر اسرار داستان سنی ہے۔ خود اسے بھی احساس ہوا کہ وہ اور اس کے ساتھی کسی گہری اور طولانی نیند میں مستغرق رہے ہیں۔ اس بات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں آن کی آن میں پھیل گئی۔ موٴرخین لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں ایک نیک اور خدا پرست بادشاہ حکومت کرتا تھا لیکن معاد جسمانی اور موت کے بعد مردوں کے جی اٹھنے کے مسئلہ پر یقین کرنا وہاں کے لوگوں کے لیے مشکل تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ انسان مرنے کے بعد پھر جی اٹھے گا لیکن اصحابِ کہف کی نیند کا واقعہ معاد جسمانی کے طرفداروں کے لیے ایک دندان شکن دلیل بن گیا۔ اسی لیے زیر نظر پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: جیسے ہم نے انھیں سلا دیا تھا اسی طرح انھیں اس گہری اور طویل نیند سے بیدار کیا اور لوگوں کو ان کے حال کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لیں کہ قیامت کے بارے میں خدا کا وعدہ حق ہے (وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ)۔ اور دنیا کے خاتمے اور قیام قیامت میں کوئی شک نہیں (وَاَنَّ السَّاعَةَ لَارَیْبَ فِیھَا)۔ کیونکہ صدیوں پر محیط یہ لمبی نیند موت سے غیر مشابہ نہیں ہے اور ان کا بیدار ہونا قبروں سے اٹھنے کی مانند ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سونا اور جاگنا کئی حوالوں سے مرنے اور پھر جی اٹھنے سے عجیب تر ہے کیونکہ وہ صدیوں سوئے رہے لیکن ان کا بدن بوسیدہ نہ ہوا جبکہ انھوں نے کچھ کھایا نہ پیا۔ تو پھر وہ اتنی لمبی مدت زندہ کس طرح رہے۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہر چیز اور ہر کام پر قادر ہے۔ ایسے منظر کی طرف نظر کی جائے تو موت کے بعد زندگی کا مسئلہ کوئی عجیب معلوم نہیں ہوتا بلکہ یقینی طور پر ممکن دکھائی دیتا ہے۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ جو شخص غذا لینے شہر میں آیا تھا اس نے یہ صورت دیکھی تو جلدی سے غار کی طرف پلٹا اور اپنے دوستوں کو سارا حال سنایا، وہ سب کے سب گہرے تعجب میں ڈوب گئے۔ اب انھیں احساس ہوا کہ ان کے تمام بچے، بھائی اور دوست کوئی بھی باقی نہیں رہا اور ان کے احباب و انصار میں سے کوئی نہیں رہا۔ ایسے میں ان کو یہ زندگی بہت سخت اور ناگوار لگی۔ لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ اس جہان سے ہماری آنکھیں بند ہو جائیں اور ہم جوارِ رحمتِ حق میں منتقل ہو جائیں۔ ایسا ہی ہوا۔ اس دنیا سے انھوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ ان کے جسم غار میں پڑے تھے کہ لوگ ان کی تلاش کو نکلے۔ اس مقام پر معادِ جسمانی کے طرفداروں اور مخالفوں کے درمیان کشمکش شروع ہو گئی۔ مخالفین کی کوشش تھی کہ لوگ اصحابِ کہف کے سونے اور جاگنے کے مسئلہ کو جلد بھول جائیں لہٰذا انھوں نے تجویز پیش کی کہ غار کا دروازہ بند کر دیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں ( إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا)۔ وہ لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہتے تھے کہ ان کے بارے میں زیادہ باتیں نہ کرو، ان کی داستان اسرار آمیز ہے "ان کا پروردگار ان کی کیفیت سے زیادہ آگاہ ہے"( رَبُّھُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ)۔ لہٰذا ان کا قصہ ان تک رہنے دو اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جبکہ حقیقی مومن کہ جنھیں اس واقعے کی خبر ہوئی اور جو اسے قیامت کے حقیقی مفہوم کے اثبات کے لئے ایک زندہ دلیل سمجھتے تھے، ان کی کوشش تھی کہ یہ واقعہ ہرگز فراموش نہ ہونے پائے۔ لہٰذا "انھوں نے کہا: ہم ان کے مدفن کے پاس مسجد بناتے ہیں۔" تاکہ لوگ انھیں اپنے دلوں سے ہرگز فراموش نہ کریں علاوہ ازیں، ان کی ارواح پاک سے لوگ استمداد کریں (قَالَ الَّذِینَ غَلَبُوا عَلیٰ اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَسْجِدًا)۔ اس آیت کی تفسیر میں کئی اور احتمال بھی پیش کیے گئے ہیں۔ "چند اہم نکات" کے زیرِ عنوان ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ اگلی آیت میں ان چند اختلافات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو اصحابِ کہف کے بارے میں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک ان کی تعداد کے بارے میں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا (سَیَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُھُمْ کَلْبُھُمْ)۔ "بعض کہتے ہیں وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا "(وَیَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُھُمْ کَلْبُھُم)۔ یہ سب بلا دلیل باتیں ہیں اور اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہیں (رَجْمًا بِالْغَیْبِ)۔ "اور بعض کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا" (وَیَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُھُمْ کَلْبُھُمْ)۔ "کہہ دے: میرا رب ان کی تعداد و بہتر جانتا ہے"( قُلْ رَبِّی اَعْلَمُ بِعِدَّتِھِمْ)۔ "صرف تھوڑے سے لوگ ان کی تعداد جانتے ہیں" ( مَا یَعْلَمُھُمْ إِلاَّ قَلِیلٌ)۔ قرآن نے ان جملوں میں اگرچہ صراحت سے ان کی تعداد بیان نہیں کی لیکن آیت میں موجود بعض اشاروں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ تیسرا قول صحیح اور مطابقِ حقیقت ہے کیونکہ پہلے اور دوسرے قول کے بعد ”رَجْمًا بِالْغَیْبِ“ (اندھیرے میں تیر مارنا) آیا ہے کہ جو ان اقوال کے بےبنیاد ہونے کی طرف اشارہ ہے لیکن تیسرے قول کے بارے میں نہ صرف ایسی کوئی تعبیر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: "کہہ دے: میرا رب ان ان کی تعداد سے بہتر طور پر آگاہ ہے" اور یہ بھی فرمایا گیا ہے" ان کی تعداد کو تھوڑے سے لوگ جانتے ہیں"۔ یہ جملے بھی اس تیسرے قول کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں۔ بہرحال، آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: استدلالی اور منطقی گفتگو کے علاوہ ان کے بارے میں بحث نہ کر (فَلَاتُمَارِ فِیھِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاھِرًا)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے "مِرَاء"، "مریة الناقة" (میں نے دودھ دوہنے کے لیے اونٹنی کا پستان ہاتھ میں پکڑا) سے لیا گیا ہے بعد ازاں کسی ایسی چیز کے بارے میں بحث کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جس میں شک ہو اور اکثر یہ لفظ باطل کی حمایت میں ہٹ دھرمی کی گفتگو کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ لفظ اس مفہوم کے لیے محدود نہیں ہے لیکن کسی بھی ایسی بات کے بارے میں بحث کے مفہوم میں آتا ہے کہ جس کے بارے میں شک ہو۔ "ظَاھِرًا" غالب، مسلط اور کامیاب کے معنی میں ہے۔ لہٰذا "فَلَاتُمَارِ فِیھِمْ إِلاَّ مِرَاءً ظَاھِرًا" کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے ساتھ اس طرح سے منتقی اور استدلالی گفتگو کر کہ تیری منطق کی برتری واضح ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ہٹ دھرم مخالفین سے علیحدگی میں بحث نہ کر کیونکہ اس طرح تو ان سے جو کچھ کہے گا وہ اس میں ردّ و بدل کریں گے لہٰذا ان سے کھلم کھلا لوگوں کی موجود گی میں بات چیت کر تاکہ وہ حقیقت میں تحریف و انکار نہ کر سکیں۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، اس گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وحی خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے "تو ان کے ساتھ بات کر کیونکہ اس سلسلے میں محکم ترین دلیل یہی ہے لہٰذا جو لوگ بغیر دلیل کے اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہیں ان سے اس بارے میں سوال نہ کر" ( وَلَاتَسْتَفْتِ فِیھِمْ مِنْھُمْ اَحَدًا)۔ اگلی آیت میں رسول اللہؐ کو ایک عمومی حکم دیا گیا ہے: کبھی نہ کہو میں کل یہ کام کروں گا (وَلَاتَقُولَنَّ لِشَیْءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا)۔" مگر یہ کہ خدا چاہے" (إِلاَّ اَنْ یَشَاءَ اللهُ)۔ یعنی آئندہ کی خبروں اور کاموں کے ارادے میں "انشاء الله" حتمی طور پر کہا کرو کیونکہ: اوّلاً: ارادہ کرنے میں ہرگز تم مستقل نہیں کیونکہ خدا نہ چاہے تو کوئی شخص بھی کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا لہٰذا یہ واضح کیا کرو کہ تمھاری قوت اس کی لایزال قوت سے ہے اور تمھاری طاقت سے وابستہ ہے اس لیے لازمی طور پر "انشاء الله" (اگر خدا نے چاہا تو) کہا کرو۔ ثانیاً: ایسا انسان کہ جس کی طاقت محدود ہو اور راہ میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا احتمال بھی ہو اس کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ آئندہ کی کوئی یقینی اور قطعی خبر دے جبکہ بعض اوقات اچانک غیر متوفق رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ایسی باتوں کے ساتھ "انشاء الله" کہنا چاہئیے۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ یہاں مراد یہ ہے کہ اس بات کی نفی کی جائے کہ انسان کو کاموں کی انجام دہی میں استقلال حاصل ہے لہٰذا اس آیت کا مفہوم یہ ہے: تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں کل یہ کام کروں گا۔ مگر یہ کہ خدا چاہے۔ البتہ اس تفسیر کا لازمہ یہ ہے کہ اگر ہم "انشاء الله" کا اضافہ کر دیں تو گفتگو مکمل ہو جائے گی لیکن یہ جملے کا لازمہ ہے نہ کہ متن اور اصل جملے کا مفہوم ہے، جیسا کہ پہلی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ پہلی تفسیر کی بنا پر "ان تقول" مقدر ماننا پڑے گا۔ تقدیر یوں ہو گی: "الا ان تقول انشاء اللّٰہ"؛ لیکن دوسری تفسیر میں تقدیر کی ضرورت نہیں ہے۔) زیر بحث آیات کے بارے میں ہم نے جو شانِ نزول نقل کی ہے وہ پہلی تفسیر کی تائید کرتی ہے کیونکہ رسول اللهؐ نے "انشاء الله" کہے بغیر اصحاب کہف سے متعلق سوال کرنے والوں کو جواب دیا تھا۔ اسی لیے ایک عرصے تک وحی الٰہی میں تاخیر ہو گئی تاکہ اس بارے میں آپ کو متوجہ کیا جائے اور آپ اس سلسلے میں سب کے لیے نمونہ بن جائیں۔ (تشریحی نوٹ: اس قسم کے خطاب جو ظاہراً پیغمبر اکرمؐ سے کیے گئے ہیں، میں مراد امت ہے لہذا شانِ نزول کا یہ حصہ کہ "آپؐ نے "انشاء اللہ" نہ کہا اس لیے کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا۔ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ (مترجم)) اس جملے کے بعد قرآن کہتا ہے: اگر تو بھول جائے تو پھر اپنے رب کو یاد کر (وَاذْکُرْ رَبَّکَ إِذَا نَسِیت)۔ یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ آئندہ کے امور کے بارے میں بات کرتے ہوئے "انشاء الله" کہنا بھول جائے تو جس وقت یاد آئے فوراً تلافی کرو اور "انشاء الله" کہو۔ یہ کہنے سے گزشتہ کی تلافی ہو جائے گی۔ اور کہہ: مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے زیادہ واضح راستے کی ہدایت کرے گا (وَقُلْ عَسیٰ اَنْ یَھْدِیَنِی رَبِّی لِاَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا)

چند اہم نکات ۱۔ ”رجماً بالغیب“ کا مفہوم

"رجم" دراصل "پتھر" یا "پتھر پھینکنے" کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کی تیر اندازی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ کبھی یہ لفظ کنائے کے طور پر الزام لگانا یا تہمت لگانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ نیز گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا۔ لفظ "بالغیب" اس معنی کی تاکید کے لیے ہے یعنی عدم موجودگی میں بغیر کسی ماخذ و دلیل کے کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے فارسی میں کہتے ہیں: تیر در تاریکی انداختن اندھیرے میں تیر مارنا۔ اندھرے میں عموماً تیر صحیح نشانے پر نہیں لگتا اسی طرح اس قسم کا فیصلہ بھی عموماً صحیح نہیں ہوتا۔

۲۔”وثامنھم کلبھم“میں واو

زیر نظر آیات میں "رابعھم کلبھم" اور "سادسھم کلبھم" دونوں جملے بغیر واوٴ کے آئے ہیں جبکہ "وثامنھم کلبھم" واوٴ کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور قرآن کی ہر تعبیر میں چونکہ کوئی نہ کوئی حکمت اور مقصد پوشیدہ ہے لہٰذا مفسرین نے اس واوٴ کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ شاید ان میں سے بہترین تفسیر یہ ہو کہ یہ واؤ آخری بات اور آخری حرف کی طرف اشارہ ہے۔ جیسے موجودہ زمانے کے ادب میں بھی یہ طریقہ عام ہو گیا ہے کہ چیزوں کو شمار کرتے وقت سب کو بغیر واؤ کے ذکر کرتے لیکن آخری کا ذکر لازمی طور پر واؤ کے ساتھ کرتے ہیں مثلاً: زید، عمر، حسن و محمّد آئے۔ (اردو میں واؤ کی بجائے "اور" استعمال ہوتا ہے (مترجم))۔ یہاں پر واؤ کلام کے اختتام اور آخری شخص یا چیز کے بیان کی طرف اشارہ ہے۔ یہی بات مشہور مفسّر ابن عباس سے منقول ہے۔ بعض دیگر مفسرین نے بھی اس کی تائید کی ہے نیز انھوں نے اسی واؤ سے اس امر کی تائید کے لیے بھی استفادہ کیا ہے کہ اصحابِ کہف کی حقیقی تعداد سات تھی کیونکہ اس کے علاوہ اقوال کو بےبنیاد قرار دے کر قرآن نے ان کی حقیقی تعداد کو آخر میں بیان کیا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین مثلاً فخر رازی اور قرطبی نے اس واؤ کی ایک اور تفسیر نقل کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: سات کا عدد غربوں میں ایک مکمل عدد شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے سات کے عدد تک بغیر واؤ کے ذکر کرتے ہیں لیکن جب اس عدد سے آگے بڑھتے ہیں تو واؤ استعمال کرتے ہیں کہ جو ابتدائے کلام کی دلیل ہے اسی لیے ادباءِ عرب کی زبان میں یہ "واوِ ثمانیہ" مشہور ہو گئی۔ آیاتِ قرآن میں بھی عموماً اسی طرح دیکھا گیا ہے۔ مثلاً سورہٴ توبہ کی آیت ۱۱۲ میں جہاں راہِ خدا کے مجاہدین کی صفات شمار کی گئی ہیں وہاں سات صفات تو واؤ کے بغیر آئی ہیں لیکن جب قرآن آٹھویں صفت پر پہنچتا ہے تو کہتا ہے: و النَّاہُونَ عَنِ المُنکَرِ وَ الحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّٰہِ اور برائیوں سے روکنے والے اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے۔ اسی طرح سورہ تحریم کی آیت ۵ میں ازدواجِ پیغمبر کی صفات بیان کرتے ہوئے ساتویں صف کے بعد آٹھویں صفت کا ذکر واؤ کے ساتھ کیا گیا ہے: ثَیِّنَاتٍ وَّاَبْکَارًا بیوائیں اور کنواریاں۔ نیز سورہٴ زمر کی آیت ۷۱ میں جہنم کے دروازوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: فَتِحَتْ اَبْوَابُہَا اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ لیکن دو آیتوں کے بعد جس وقت جنت کے دروازوں کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو فرمایا گیا ہے: وَ فَتِحَتْ اَبْوَابُہَا اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ کیا یہ اس بناء پر نہیں ہے کہ جہنم کے دروازے سات ہیں اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔ البتہ شاید یہ کوئی کلی قانون نہ ہو لیکن زیادہ تر مواقع پر ایسا ہی ہے۔ بہرحال، یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قرآن میں ایک واؤ تک کا وجود بھی کسی حساب کتاب کے تحت ہے اور کسی حقیقت کے بیان کے لیے ہے۔

۳۔ آرام گاہ کے پاس مسجد

تعبیرِ قرآن کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ آخرکار اصحابِ کہف نے زندگی کو خیرباد کہا اور سپردِ خاک ہوئے اور لفظ "علیھم" (ان پر) اس دعویٰ کی دلیل ہے۔ اس کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے ارادہ کیا کہ ان کی آرام گاہ کے پاس عبادت خانہ بنائیں۔ قرآن نے زیر بحث آیات میں ان کے اس ارادے کو موافقت کے لہجے میں بیان کیا ہے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بزرگانِ دین کی قبور کے احترام میں وہابیوں کے خیال کے برعکس مسجد اور عبادت خانہ بنانا نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اچھا اور پسندیدہ کام ہے۔ اصولی طور پر ایسی عمارتیں کہ جو اہم اور عظیم شخصیات کی یاد کو زنددہ رکھیں ان کی تعمیر کا سلسلہ ہمیشہ سے ساری دنیا کے لوگوں میں رہا ہے اور آج بھی ہے۔ دراصل اس کام سے ان بزرگوں کے بارے میں ایک طرح سے قدر دانی اور احسان شناسی کا اظہار ہوتا ہے نیز جیسے کام انھوں نے کیے ان کی طرف رغبت اور شوق دلانے کا مفہوم بھی اس میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف اس کام سے منع نہیں کیا بلکہ اسے جائز شمار کیا ہے۔ اس قسم کی عمارتوں کا وجودد ایسی شخصیتوں، ان کے کام اور ان کی تاریخ کے لیے ایک تاریخی سند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن انبیاء و مرسلین اور دیگر شخصیات کی قبریں نہیں ملتیں ان کی تاریخ بھی مشکوک ہو گئی ہے اور ایک سوال بن کر رہ گئی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس قسم کی عمارات ہرگز توحید کی نفی نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے وجود سے اس بات کی ذرہ بھر نفی ہوتی ہے کہ عبادت فقط اللہ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ احترام کرنا اور ہے اور عبادت کرنا اور ہے۔ البتہ یہ ایک طویل بحث ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے۔

۴۔ تمام چیزیں مشیّت الٰہی کے سہارے پر ہیں

آئندہ سے مربوط ارادے اور کام کے ساتھ "انشاء اللہ" کہنا نہ صرف بارگاہِ خدا وندی کے لیے ادب و احترام کا اظہار ہے بلکہ اس اہم حقیقت کا بیان بھی ہے کہ ہم اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں رکھتے، جو کچھ ہے اسی کی طرف سے ہے۔ مستقل بالذات خدا ہے اور ہم سب اسی کے سہارے پر ہیں۔ اگر ساری دنیا کی تلواریں چل پڑیں لیکن اللہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ ایک رگ بھی نہیں کاٹ سکتیں اور اگر اس کا ارادہ ہو تو ہر چیز تیزی سے واقع ہو جائے یہاں تک کہ وہ آئیے کو پتھر کے پہلو میں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ یہ درحقیقت "توحیدِ افعالی" کا مفہوم ہے یعنی اگرچہ انسان ارادہ، اختیار اور آزادی رکھتا ہے لیکن ہر چیز اور ہر کام اللہ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ تعبیر ہمیں کاموں میں خدا کی طرف زیادہ توجہ دلانے کے علاوہ طاقت و ہمت بھی بخشتی ہے اور عمل کی پاکیزگی اور صحت کی دعوت بھی دیتی ہے۔ چند ایک روایات میں ہے کہ اگر کوئی شخص آئندہ کے بارے میں کوئی بات انشاء اللہ کے بغیر کہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے اور اپنی حمایت اس سے اٹھا لیتا ہے۔ (بحوالہ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۵۴) امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث مروی ہے۔ اس میں ہے: امام(ع) نے ایک خط لکھنے کا حکم دیا۔ خط اختتام کو پہنچا تو آپ(ع) کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ امام(ع) نے دیکھا کہ اس میں "انشاء اللہ" نہیں تھا، تو فرمایا: "کیف رجوتم ان یتم ھٰذا و لیس فیہ استثناء، انظر و اکل موضع لا یکون فیہ استثناء فاستثنوا فیہ" تمھیں اس کے انجام پا جانے کی امید کیسے ہوئی جبکہ اس میں انشاء اللہ نہیں تھا۔ اس میں دیکھو جہاں جہاں پر (ضرورت ہے اور) نہیں ہے وہاں وہاں پر انشاء اللہ لکھو۔

۵۔ ایک سوال کا جواب

زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ نے اپنے رسولؐ سے فرمایا کہ جس وقت خدا کو بھول جاؤ اور پھر تمھیں یاد آئے تو اسے یاد کرو۔ (بحوالہ نورالثقلین، ج ۳ ص ۲۵۴) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر انشاء اللہ کہنے کی صورت میں اس کی مشیت پر بھروسہ نہ کرو تو جس وقت تمھیں یاد آئے اس کی تلافی کرو۔ اس آیت کی تفسیر میں اہلِ بیت علیہم السلام سے جو متعدد روایات منقول ہیں ان سے بھی اس مفہوم پر تاکید ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک سال گزر نے کے بعد بھی تمھیں یاد آئے انشاء اللہ نہیں کہا تھا تو گزشتہ کی تلافی کرو۔ (بحوالہ نورالثقلین، ج ۳ ص ۲۵۴) اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہؐ بھول گئے ہیں حالانکہ اگر ان کی فکر و نظر میں نسیان آ جائے تو ان کی گفتار اور اعمال پر کامل اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور انبیاء و آئمہ (ع) کے خطا اور نسیان سے معصوم ہونے کی یہی دلیل ہے یہاں تک کہ موضوعاتِ خارجیہ میں بھی۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بہت سی قرآنی آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ روئے سخن انبیاء کی طرف ہے لیکن مقصو و منظور عام لوگ ہوتے ہیں۔ اس بات سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی گفتگو کے لیے عربوں کی مشہور ضرب المثل ہے: "ایّاک اعنی واسمعی یا جارة" میری مراد تو ہے جو میرے پاس ہے اور اے پڑوسن تو بھی سن لے۔ (تشریحی نوٹ: فارسی میں اس کے متبادل یہ ضرب المثل ہے: "در بتو می گویم دیوار تو بشنو ۔" یعنی: "ائے دروازے تجھے کہتا ہوں اور ائے دیوار تو سن لے۔" اردو میں اس کے لیے یہ ضرب المثل ہے: کہوں دِھی کو بہو تو کان رکھیو ۔ نیز پنجابی زبان میں اس مفہوم کو شاید سب سے عمدہ ادا کیا گیا ہے: کہنیاں دھی نوں تے سنانیاں نونہہ نوں (ثاقب)) (بعض بزرگ مفسرین نے اس سوال کا ایک اور جواب دیا ہے جسے ہم سورہٴ انعام کی آیت ۶۸ کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ پانچویں جلد کی طرف رجوع کیجئے)۔

25
18:25
وَلَبِثُواْ فِي كَهۡفِهِمۡ ثَلَٰثَ مِاْئَةٖ سِنِينَ وَٱزۡدَادُواْ تِسۡعٗا
وہ اپنے غار میں تین سو سال سے نو سال اوپر ٹھہرے رہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
18:26
قُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُواْۖ لَهُۥ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَبۡصِرۡ بِهِۦ وَأَسۡمِعۡۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا يُشۡرِكُ فِي حُكۡمِهِۦٓ أَحَدٗا
کہہ دو: ان کے قیام کی مدت سے خدا زیادہ آگاہ ہے، آسمان اور زمین کے پوشیدہ امور سے وہی واقف ہے واقعاً وہ کیا خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔اسکے علاوہ ان کا کوئی ولی و سر پرست نہیں اور کوئی شخص اس کے حکم میں شریک نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
18:27
وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا
جو کچھ کتاب میں سے تیرے رب کی طرف سے تجھ پر وحی کیا گیا ہے اس کی تلاوت کر، کوئی اس کے فرمودات بدل نہیں سکتا اور اس کے علاوہ تجھے کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔

تفسیر اصحابِ کہف کی نیند

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں موجود قرائن سے اجمالاً معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف کی نیند بہت لمبی تھی۔ یہ بات ہر شخص کی حس جستجو کو ابھارتی ہے۔ ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ وہ کتنے برس سوئے رہے۔ زیرِ نظر آیات اس داستان کی قرآنِ حکیم میں آخری آیات ہیں۔ ان آیات میں تردد ختم کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ اپنی غار میں تین سو سے نو برس زیادہ سوئے رہے (وَلَبِثُوا فِی کَھْفِھِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا)۔ (تشریحی نوٹ: قواعد نحو کے مطابق یہاں "سنین" (جمع) کی بجائے "سنہ" (مفرد) آنا چاہیے لیکن چونکہ یہ بہت طویل نیند تھی اور برسوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تاکہ اس سے کثرت ظاہر ہو۔) اس لحاظ سے وہ کل تین سو نو سال غار میں سوئے رہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تین سو نو سال کہنے کے بجائے یہ جو کہا ۔۔۔ کہ نو سال اس سے زیادہ۔ یہ شمسی اور قمری سالوں کے فرق کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ شمسی حساب سے وہ تین سو سال رہے اور کہ جو قمری حساب سے تین سو نو سال ہوئے اور یہ تعبیر کا ایک لطیف پہلو ہے کہ ایک جزوی تعبیر کے ذریعے عبارت میں ایک اور وضاحت طلب حقیقت بیان کر دی جائے۔ (تشریحی نوٹ: شمسی اور قمری سال کا فرق گیارہ دن کا ہے۔ اگر گیارہ کو تین سے ضرب دیں اور پھر جواب کو قمری سال کے دنوں یعنی ۳۵۴ پر تقسیم کریں تو نتیجہ نو ہی ہو گا (البتہ جو کچھ باقی بچے گا وہ چونکہ ایک سال سے کم مدت ہے لہٰذا نظر انداز کرنے کے قابل ہے۔)) اس کے بعد اس بارے میں لوگوں کے اختلافِ آراء کو ختم کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: کہہ دے: خدا ان کے قیام کی مدت کو بہتر جانتا ہے (قُلْ اللهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا)۔کیونکہ آسمانوں اور زمین کے غیب کے احوال اس کے سامنے ہیں اور وہ ہر کس کی نسبت انھیں زیادہ جانتا ہے (لَہُ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔ اور جو کُل کائنات ہستی سے باخبر ہے کیونکر ممکن ہے کہ وہ اصحابِ کہف کے غار میں قیام کی مدت سے آگاہ نہ ہو۔ واقعاً وہ کیا خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے (اَبْصِرْ بِہِ وَاَسْمِعْ)۔(بحوالہ "ابصر بہ واسع"یہ تعجب کے صیغے ہیں اور عظمتِ خدا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں یعنی وہ اس قدر بینا اور شنوا ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔) لہٰذا آسمانوں اور زمین کے باسیوں کا اس کے علاوہ کوئی اور سرپرست نہیں ہے (مَا لَھُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَلِیٍّ)۔ یہ کہ "مَا لَھُم"کی ضمیر کِن لوگوں کی طرف لوٹتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ آسمان و زمین کے ساکنین کی طرف اشارہ ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ یہ اصحابِ کہف کی طرف اشارہ ہے یعنی اصحابِ کہف کا اس کے علاوہ کوئی ولی و سرپرست نہیں تھا۔ وہی تھا کہ جو اس ساری صورتِ حال میں ان کے ساتھ تھا اور ان کی حمایت کرتا تھا۔ البتہ اس سے پہلے جملے کی طرف توجہ کریں تو اس میں آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ احوال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے زیر بحث جملے کے بارے میں پہلی تفسیر زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اور کوئی شخص حکمِ خدا میں شریک نہیں ہے (وَلَایُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ اَحَدًا)۔ درحقیقت یہ اللہ کی ولایت مطلقہ کے بارے میں تاکید ہے کہ نہ کوئی اور عالمین پر ولایت رکھتا ہے اور نہ کوئی ولایت میں شریک ہے۔ یعنی استقلال و اشتراک دونوں لحاظ سے کوئی دوسرا اس عالمِ امکان کی ولایت میں نفوذ نہیں رکھتا۔ زیرِ نظر آخری آیت میں روئے سخن پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو کچھ کتاب خدا میں سے تجھ پر وحی کیا گیا ہے اس کی تلاوت کر (وَاتْلُ مَا اُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ)۔ اور ادھر اُدھر کی دروغ آمیز اور بےبنیاد باتوں کی پرواہ نہ کر۔ ان امور میں تجھے صرف وحی خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ کوئی چیز اس کی باتوں کو بدل نہیں سکتی۔ اور اس کی بات (اور اس کی معلومات) میں تبدیلی ممکن نہیں ہے(لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ)۔ اس کا علم اور کلام بندوں کے علم اور کلام کی طرح نہیں ہے کہ جو ہر روز نئے انکشافات اور آگاہی کی وجہ سے تبدیل ہوتا رہے۔ اسی لئے بندوں کے علم اور کلام پر سو فیصد اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے تجھے اس کے علاوہ کوئی اور پناہ نہیں ملے گی (وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِہِ مُلْتَحَدًا)۔ "مُلْتَحَدً"، "لحَد" (بروزنِ "مھد") اس گڑھے کے معنی میں ہے جو درمیان سے کسی ایک جانب جھکا ہو (اس لحد کی طرح جو قبر کے لیے بنائی جاتی ہے) اسی لیے "مُلْتَحَد" اس جگہ کو کہتے ہیں جس کی طرف انسان مائل ہو۔ بعد ازاں یہ لفظ ملجاء اور پناہ گاہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ زیرِ بحث آخری دو آیات میں کئی لحاظ سے تمام موجوداتِ عالم پر خدا کا احاطہٴ علمی بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ امور اس کے سامنے ہیں لہٰذا وہ ان سب سے آگاہ ہے۔ پھر یہ فرمایا گیا ہے: صرف وہی ولی و سرپرست ہے اور وہ سب سے زیادہ آگاہ ہے۔ نیز اضافہ کیا گیا ہے: کوئی بھی اس حکم میں شریک نہیں ہے کہ جس کے باعث اس کا علم محدود ہو۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس کے علم اور کلام میں تبدیلی نہیں ہوتی کہ اس کی قدر و قیمت اور ثبات میں کمی واقع ہو۔ آخری جملے میں ہے: "عالم میں واحد پناہ گاہ اسی کی ذات ہے" لہٰذا واضح ہے کہ وہ تمام پناہ لینے والوں سے آگاہ ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ داستانِ اصحابِ کہف احادیث کی روشنی میں

اصحابِ کہف کے بارے میں منابعِ اسلامی میں بہت زیادہ روایات دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے بعض اسناد کے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں۔ اسی لیے ان میں بعض میں باہم تضاد و اختلاف نظر آیا ہے۔ ایک روایت جو علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے وہ متن، مضمون اور آیاتِ قرآن سے ہم آہنگی کے اعتبار سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اصحابِ کہف و رقیم کے بارے میں فرمایا: وہ ایک جابر اور ظالم بادشاہ کے زمانے میں تھے۔ وہ بادشاہ اپنے ملک کے باسیوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا۔ جو شخص اس کی یہ دعوت قبول نہ کرتا اسے قتل کردیتا تھا۔ اصحابِ کہف باایمان افراد تھے اور خدائے بزرگ کی عبادت کرتے تھے (البتہ اس ظالم بادشاہ سے اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھے)۔ اس ظالم بادشاہ نے اپنے پایہٴ تخت کے دروازے پر کچھ لوگ مامور کر رکھے تھے۔ ان کے ذمہ تھا کہ شہر سے جانے والا ہر شخص وہاں پڑے ہوئے بتوں کو سجدہ کرنے پر مجبور تھا۔ جیسے بھی ہو سکا یہ باایمان افراد شکار کھیلنے کے بہانے شہر سے باہر آئے (ان کا پکا ارادہ تھا کہ اپنے اس شہر میں واپس نہ جائیں کہ جہاں کا ماحول بہت آلودہ تھا)۔ راستے میں ان کی ملاقات ایک چروا ہے سے ہو گئی انھوں نے اسے خدائے واحد کی طرف دعوت دی۔ اس نے قبول نہ کی لیکن تعجب کی بات ہے کہ چروا ہے کا کتا ان کے پیچھے ہو لیا اور پھر ان سے بالکل جدا نہ ہوا۔ وہ بت پرستی سے بھاگ کر نکلے تھے۔ دن ڈھل رہا تھا کہ ایک غار کے پاس پہنچے۔ وہ اس میں کچھ دیر استراحت کے لیے ٹھہر گئے۔ اللہ نے ان پر نیندد مسلط کر دی جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: ہم نے انھیں سالہا سال نیند میں مستغرق رکھا۔ وہ ایسے محوِ خواب رہے کہ وہ ظالم بادشاہ مر گیا۔ شہر کے لوگ بھی یکے بعد دیگرے دنیا سے چل بسے۔ دَور بدل گیا اور لوگ بھی بدل گئے۔ اس طویل نیند کے بعد اصحاب کہف جاگے تو ایک دوسرے سے اپنی نیند کی مدت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ ان کی نظر سورج پر پڑی تو وہ اونچا ہو چکا تھا تو کہنے لگے کہ ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے میں سے ایک سے کہا: یہ چاندی کا سکّہ لے جاوٴ اور چپکے سے شہر چلے جاوٴ، وہاں سے ہمارے لیے کھانا لے آوٴ لیکن خیال رکھنا کوئی تمھیں پہچان نہ لے کیونکہ انھیں ہمارے بارے پتہ چل گیا تو ہمیں قتل کر دیں گے یا اپنے دین کی طرف لے جائیں گے۔ وہ شخص شہر میں جا پہنچا لیکن شہر کا منظر تو اس کے خیال سے بالکل مختلف تھا اور لوگ بھی اس کے دیکھے بھالے نہ تھے۔ وہ ان کی زبان بھی اچھی طرح نہ سمجھتا تھا اور وہ بھی اس کی زبان پوری طرح نہ سمجھتے تھے۔ وہ پوچھنے لگے: تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟۔ آخرکار اس نے اپنا بھید بتا دیا (اس زمانے میں اس شہر کا حکمران خدا پرست) بادشاہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شخص کے ہمراہ غار کی طرف آیا۔ یہ لوگ غار کے دہانے پر پہنچے تو اندر دیکھنے لگے۔ بعض کہتے، کہ یہ تین افراد سے زیادہ نہیں ہیں اور ایک کتا ہے۔ بعض کہتے کہ یہ پانچ افراد ہیں اور چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہتے کہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ اس وقت ان پر خدا کی طرف سے ایک رعب سا چھا گیا۔ کوئی شخص غار میں داخل ہونے کی جرئت نہیں کرتا تھا سوائے اس شخص کے کہ جو انہی میں سے تھا۔ جب وہ غار میں گیا تو اس نے دیکھا کہ وحشت زدہ ہیں کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ظالم بت پرست بادشاہ دقیانوس کے آدمی غار کے دروازے پر آ پہنچے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھی نے انھیں ان کی طویل نیند سے آگاہ کیا اور ان سے کہا کہ خدا نے تمھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ یہ بات سنی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ خوشی کے مارے ان کے آنسوں نکل آئے۔ انھوں نے الله سے درخواست کی کہ ہمیں پہلی حالت کی طرف لوٹا دے۔ اس زمانے کے بادشاہ نے کہا بہتر ہے ہم یہاں ایک مسجد بنائیں کیونکہ وہ باایمان افراد تھے۔ امام علیہ السلام نے یہاں اضافہ فرمایا: سال میں دو مرتبہ ان کے پہلو بدلتے تھے اور ان کے کتے نے غار کے دہانے پر اپنے گلے پاوٴں پھیلائے ہوئے تھے (اور ان کی حفاظت کر رہا تھا)۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص٢٤٧ و ٢٤٨) اصحاب کہف کے بارے میں ایک تفصیلی حدیث حضرت علی(ع) سے منقول ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: پہلے وہ چھ افراد تھے۔ دقیانوس نے انھیں اپنا وزیر بنا رکھا تھا۔ وہ ہر سال ان کے لئے ایک دن عید کے طور پر مناتا تھا۔ ایک برس جبکہ عید کا دن تھا۔ اس کے بڑے بڑے فوجی افسر اس کی دائیں طرف اور خاص مشیر بائیں بیٹھے تھے۔ ایک فوجی کمانڈر نے اسے بتایا کہ ایران کا لشکر سرحدوں میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ سن کر اسے بہت دکھ ہوا۔ وہ اتنا پریشان ہوا کہ کانپنے لگا اور تاج اس کے سر سے گر پڑا۔ اس کے وزیروں میں سے ایک جس کا نام تلمیخا تھا، اس نے دل میں سوچا کہ اس شخص کو گمان تھا کہ یہ خدا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ اس قدر غمزدہ کیوں ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں تمام بشری صفات موجود ہیں۔ اس کے چھ کے چھ وزیر روزانہ ایک وزیر کے گھر جمع ہوا کرتے تھے۔ اس روز تلمیخا کی باری تھی۔ اس نے دوستوں کے لیے اچھا کھانا تیار کیا لیکن وہ پریشان دکھائی دیتا تھا۔ (کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا تھا اس کے دوست اس کی اس حالت کی طرف متوجہ ہوئے تو) اس نے کہا: میرے دل میں ایک بات ہے کہ جس کے باعث میرا کھانا پینا اور آرام جاتا رہا ہے۔ انھوں نے واقعہ پوچھا تو اس نے کہا: اس بلند آسمان پر میں نے بہت غور کیا ہے کہ یہ بغیر کسی ستون کے قائم ہے۔ جس نے اس میں سورج اور چاند کی صورت میں دو روشن نشانیاں رواں رواں کر رکھی ہیں اور اس کی سطح ستاروں سے سجا رکھی ہے اس کے بارے میں میں نے بہت غور کیا ہے۔ پھر میں نے اس زمین کی طرف دیکھا ہے اور اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ کس نے اسے پانی سے باہر نکالا اور پھیلایا ہے اور کس نے اس کی بےقراری کو پہاڑوں کے ذریعے قرار بخشا ہے۔ پھر میں نے اپنی حالت کے بارے میں سوچا ہے اور اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ کس نے مجھے رحم مادر سے باہر بھیجا ہے، کس نے مجھے پستان مادر سے خوشگوار دودھ بخشا ہے اور غذا دی ہے۔ الغرض کس نے مجھے پروان چڑھایا ہے۔ ان سارے مسائل کے بارے میں مَیں نے تو یہی سمجھا ہے کہ کوئی ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے، یہ سب کچھ پیدا کیا ہے اور وہ ان کے نظام چلاتا ہے۔ اور یہ دقیانوس نہیں کوئی اور ہے۔ وہ کہ جو مالک المولک بھی ہے، آسمانوں پر حاکم بھی، اس نے یہ باتیں جب صراحت اور خلوص سے کیں۔ جو کچھ اُس کے دل سے نکلا اُس کے دوستوں کے دل میں اتر گیا۔ اچانک وہ سب اس کے پاوٴں پر گر پڑے اور اس کی قدم بوسی کرنے لگے۔ انھوں نے کہا: الله نے تیرے ذریعے ہمیں گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف دعوت دی ہے۔ اب بتاوٴ ہم کیا کریں؟ تلمیخا اٹھا۔ اس نے اپنے باغ کی کھجوریں تین ہزار درہم میں بیچیں۔ وہ رقم اٹھائی اور پھر وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور شہر سے باہر کی طرف چل پڑے۔ جب وہ تین میل کا راستہ طے کر چکے تو تلمیخا نے کہا: بھائیو! بادشاہی اور وزارت تو گئی۔ اب خدا کی راہ کو ان قیمتی گھوڑوں کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے اتر آوٴ تاکہ اب اس راستہ کو پیدل طے کریں شاید خدا ہماری مشکلیں آسان کردے۔ انھوں نے گھوڑے چھوڑ دیے اور پیدل چل پڑے۔ اس روز انھوں نے تیزی سے سات فرسخ راستہ طے کر لیا مگر ان کے پاوٴں زخمی ہو گئے۔ ان کے پاوٴں سے خون بہہ رہا تھا کہ ان کی ملاقات ایک چروا ہے سے ہوئی۔ انھوں نے کہا: اے چرواہے! تمھارے پاس دودھ یا پانی کا گھونٹ ہے تو کچھ ہماری مہمانی کرو۔ چرواہے نے کہا: جو تمھیں پسند ہو وہ حاضر ہے لیکن تمھارے چہرے مجھے بادشاہوں والے لگتے ہیں۔ تم یہاں کس لیے آئے ہو میرا خیال ہے تم دقیانوس بادشاہ سے بھاگ کر آئے ہو۔ انھوں نے کہا: اے چرواہے! حقیقت یہ ہے کہ ہم جھوٹ نہیں بول سکتے لیکن اگر ہم سچ کہیں تو کیا تو ہمارے لیے کوئی مصیبت کھڑی تو نہیں کر دے گا؟ اس کے بعد انھوں نے چرواہے کو اپنی ساری کہانی سنائی۔ چرواہا ان کے ہاتھ پاوٴں چومنے لگا۔ اس نے کہا: بھائیو! جو کچھ تمھارے دل میں اتر گیا ہے وہ میرے دل میں بھی سما گیا ہے لیکن اتنی اجازت دو کہ یہ بھیڑ بکریاں میں ان کے مالکوں کے سپرد کر آوں! اور تم سے آ ملوں۔ وہ کچھ دیر رک گئے۔ چرواہا بھیڑ بکریاں پہنچا آیا۔ اس کا کتا اس کے ساتھ ہی تھا ان جوانوں نے کتے کو دیکھا تو بعض نے کہا: ڈر ہے کہ کہیں یہ بھونک کر ہمارا راز فاش نہ کر دے۔ لیکن انھوں نے جتنی بھی کوشش کی کہ اسے دور کریں وہ نہ مانا۔ گویا وہ کہتا تھا: مجھے رہنے دو میں دشمنوں سے تمھاری حفاظت کروں گا (میں بھی تمارے راستہ کا مسافر ہوں)۔ یہ ساتوں اپنی راہ پر چلتے رہے۔ کتا ان کے پیچھے پیچھے تھا یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ایک غار کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے۔ غار کے پاس انھوں نے چشمے اور پھلدار درخت دیکھے۔ انھوں نے پھل کھائے، پانی پیا اور سیراب ہوئے۔ رات کی تاریکی چھا گئی تو وہ غار میں پناہ گزیں ہوئے۔ کتے نے غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاوٴں پھلا دئیے اور پہرہ دینے لگا۔ یہ حالت تھی کہ خدا نے موت کے فرشتہ کو قبضِ الرواح کا حکم دیا (اور ان پر موت کی سی گہری نیند مسلط ہو گئی)۔ (بحوالہ سفینة البحار، ج۲، ص۳۸۲ (مادہٴ فکر)) دقیانوس کے بارے میں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ شہنشاہ روم تھا اس نے ۲۴۹ سے ۲۵۱ عیسوی تک حکومت کی۔ وہ عیسائیوں کا سخت دشمن تھا اور انھیں بہت اذیت پہنچاتا تھا۔ یہ حکومتِ روم کے عیسوی دین قبول کرنے سے پہلے کا زمانہ تھا۔

۲۔ ”غار“ کہاں ہے؟

یہ کہ اصحابِ کہف کس علاقہ میں رہتے تھے اور یہ غار کہاں تھی، اس سلسلے میں علماء اور مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ البتہ اس واقعے کے مقام کو صحیح طور پر جاننے کا اصل داستان، اس کی تربیتی پہلووٴں اور تاریخی اہمیت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں کہ جس کی اصل داستان تو ہمیں معلوم ہے لیکن اس کی زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں لیکن مسلّم ہے کہ اس واقعے کا مقام جاننے سے اس کی خصوصیات کو مزید سمجھنے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ بہرحال، اس سلسلے میں جو احتمالات ذکر کیے گئے اور جو اقوال نظر سے گزرے ہیں ان میں سے دور زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ واقعہ شہر "افسوس" میں ہوا اور یہ غار اس شہر کے قریب واقع تھی۔ ترکی میں اب بھی اس شہر کے کھنڈرات ازمیر کے قریب نظر آتے ہیں۔ وہاں قریب ایک قصبہ ہے جس کا نام "ایاصولوک" ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے "ینایر داغ" اب بھی اس میں ایک غار نظر آتی ہے جو "افسوس" شہر سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع غار ہے ۔کہتے ہیں اس میں سینکڑوں قبروں کے آثار نظر آتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اصحابِ کہف کی غار یہی ہے۔ جیسا کہ جاننے والوں نے بیان کیا ہے کہ اس غار کا دہانہ شمال مشرق کی جانب ہے۔ اس وجہ سے بعض بزرگ مفسرین نے اس بارے میں شک کیا ہے کہ وہی غار ہے حالانکہ اس یہی کیفیت اس کے اصلی ہونے کی موٴید ہے کیونکہ طلوع کے وقت سورج کا دائیں طرف اور غروب کے وقت بائیں طرف ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ غار کا دہانہ شمال یا کچھ شمال مشرق کی جانب ہو۔ اس وقت وہاں کسی مسجد یا عبادت خانہ کا نہ ہونا بھی اس کے وہی غار ہونے کی نفی نہیں کرتا کیونکہ تقریباً سترہ صدیاں گزرنے کے بعد ممکن ہے اس کے آثار مٹ گئے ہوں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ غار ہے کہ جو اُردن کے دارالحکومت عمان میں واقع ہے۔ یہ غار "رجیب" نامی ایک بستی کے قریب ہے۔ اس غار کے اوپر گرجے کے آثار نظر آتے ہیں۔ بعض قرائن کے مطابق ان کا تعلق پانچویں صدی عیسوی سے ہے۔ جب اس علاقے پر مسلمانوں کو غلبہ ہوا تو اسے مسجد میں تبدیل کر لیا گیا تھا اور وہاں محراب بنائی گئی تھی اور اذان کی جگہ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت موجود ہیں۔

۳۔ اس واقعے کے تربیتی اور تعمیری پہلو

اس عجیب و غریب تاریخی واقعے کو قرآن نے تمام طرح کے خرافات اور بےبنیاد باتوں سے پاک کر کے ٹھیک ٹھیک بیان کر دیا ہے۔ یہ واقعہ بھی قرآن کے دیگر تمام واقعات کی طرح تربیتی اور تعمیری نکات سے معمور ہے۔ تفسیر بیان کرتے ہوئے ہم نے ان نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجموعی طور پر ان نکات کی طرف اشارہ کیا جائے تاکہ ہم قرآن کے اصلی مقصد کے زیادہ قریب ہو جائیں۔ الف۔ اس داستان کا پہلا سبق تقلید کے بند توڑنا ہے۔ اس داستان کا تقاضا ہے کہ فاسد ماحول کے رنگ میں نہیں رنگے جانا چاہیے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ معاشرے کی اکثریت گمراہ تھی لیکن اس کے مقابلے میں جوانمرد اصحابِ کہف نے اپنی آزادی فکر کو گنوایا نہیں اور یہی امران کی نجات و فلاح کا سبب بن گیا۔ اصولی طور پر انسان کو معاشرہ ساز ہونا چاہیے نہ کہ اس کی برائیوں کا شریکِ کار سست، کمزور اور بےحیثیت لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں: خواہی نشوی رسوا ہم رنگِ جماعت شو اگر تم ذلیل نہیں ہونا چاہتے تو جیسے لوگ ہیں ویسے ہو جاؤ۔ جبکہ اہلِ ایمان اور حریتِ فکر رکھنے والے افراد کہتے ہیں: لوگوں کا ہم رنگ ہونا تیرے لیے باعثِ ننگ و عار ہے۔ ب۔ اس عبرت انگیز واقعے کا دوسرا سبق بُرے ماحول سے ہجرت اختیار کرنا ہے۔ ان کا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ تھا، خوشحال زندگی تھی، مادی نعمتیں ان کے لیے فراواں تھیں ان کے گھر بھرے پُرے تھے۔ ایسی زندگی کو انھوں نے ٹھکرا دیا اور اس غار میں جا ڈیرہ کیا کہ جہاں طرح طرح کی محرومیاں تھیں۔ یہ سب کچھ انھوں نے اس لیے کیا تاکہ اپنے ایمان کی حفاظت کر سکیں اور ظلم و جور اور کفر و شرک کی تقویت کا باعث نہ بنیں۔ (تشریحی نوٹ: اسلام میں ہجرت کی اہمیت اور اس کے فلسفے کے بارے میں ہم تفسیرِ نمونہ جلد چہارم ص ۸۵ (اردو ترجمہ) پر تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔) ج۔ اس داستان کا تیسرا درس تقیہ ہے۔ وہ تقیہ کہ جو تربیتی، اصلاحی اور تعمیری ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ شہر والوں کو ان کے بارے میں پتہ نہ چلے اور وہ اسی طرح پروہ اسرار میں رہ جائیں کہ مبادا ان کے جان بےکار ہیں ضائع چلی جائے یا انھیں جبری طور پر اس بُرے ماحول کی طرف پلٹا دیا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ تقیہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ انسان اپنے حقیقی مقام یا موقف کو ایسے مقام پر مخفی رکھے کہ جہاں ظاہر کرنا بے نتیجہ ہوتا کہ مقابلے کے لیے اور دشمن پر ضرب لگانے کے موقع کے لیے اپنی قوت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ (تشریحی نوٹ: تقیہ کے بارے میں "تقیہ ایک حفاظتی ڈھال ہے" کے زیرِ عنوان ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد ۲ ص ۲۹۵ (اردو ترجمہ)پر گفتگو کرچکے ہیں اور اس کے فقہی مدارک "القواعد الفقہیہ" میں ہم نے بیان کیے ہیں ۔) د۔ اللہ کی راہ میں سب انسان برابر ہیں۔ وزیرا اور چرواہا اکھٹے ہیں۔ بلکہ ان کی حفاظت کرنے والا کُتّا بھی ان کے ساتھ ہے۔ یہ بھی اس واقعے کا ایک درس ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مادی دنیا کے امتیازات اور مقام و منصب راہِ حق کے مسافروں کو ایک وسرے سے جدا نہیں کرتے اور راہِ توحید تمام انسانوں میں مساوات کا راستہ ہے۔ ھ۔ اس داستان کا ایک درس یہ بھی ہے کہ مشکلات کے مواقع پر اللہ کی طرف اس کے بندوں کی تعجب انگیز طور پر امداد کی جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے، جب معاشرے کے حالات ناسازگار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو سالہا سال سُلائے رکھا اور جب حالات سازگار ہوئے تو انھیں بیدار کر دیا۔ اور لوگوں نے ان کا توحید پرستوں کی حیثیت سے احترام کیا۔ نیز ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس طویل مدت میں ان کے جسموں کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا اور ان کے اندر ایک ایسا رعب پیدا کردیا کہ جس نے حملہ آوروں کے مقابلے میں ڈھال بن کر ان کی حفاظت کی۔ و ۔ اصحابِ کہف نے ان سخت ترین حالات میں بھی ہمیں پاکیزہ غذا کھانے کا درس دیا کیونکہ جسم انسان کی غذا کا انسانی روح، فکر اور دل پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان جب حرام اور ناپاک غذا سے آلودہ ہوتا ہے تو وہ راہِ خدا سے دور ہوجاتا ہے۔ ز۔ مشیتِ خداپر بھروسہ اور اعتماد ضروری ہے۔ اس کے لطف و کرم سے مدد طلب کرنا اور آئندہ کے امور کے لیے انشاء اللہ کہنا۔ یہ درس بھی ہم نے اس کے ضمن میں سیکھا ہے۔ ح۔ ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن انھیں جوانمرد (فتیة) کہہ کر یاد کر رہا ہے حالانکہ بعض روایات کے مطابق عمر کے لحاظ سے وہ جوان نہیں تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ پہلے وہ اس دَور کے ظالم بادشاہ کے وزیر تھے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اچھی خاصی عمر کے تھے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن جوانی کو جوانمردی کے اصول پر دیکھتا ہے یعنی قرآن پاکیزگی، جرات و ایثار کے حوالے سے جوانی کو ماپتا ہے۔ ط۔ اس واقعے سے ایک اور اصلاحی سبق یہ ملتا ہے کہ مخالفین سے سابقہ پڑے تو ضروری ہے کہ بحث منطقی بنیاد پر کی جائے۔ کیونکہ جب اصحاب کہف اس شرک آلودہ ماحول پر تنقید کرتے تو منطقی دلائل کا سہارا لیتے۔ اس کے کچھ نمونے ہم نے اسی سورہ کی آیات ۱۵ اور ۱۶ میں دیکھے ہیں۔ اصولی طور پر تمام انبیاء اور ہادیانِ الٰہی کا طریقِ کار یہ تھا کہ وہ مخالفین سے مقابلے اور آمنا سامنا ہونے کی صورت میں آزاد اور منطقی بنیاد پر گفتگو کرتے تھے۔ طاقت وہ صرف اسی صورت میں استعمال کرتے جب فتنہ و فساد کے خاتمے کے لیے منطقی بحث موٴثر نہ رہتی تھی یا یہ کہ جب مخالفین منطقی گفتگو میں رکاوٹ بن جاتے تھے۔ ی ۔ دسواں درس اس داستان کا معادِ جسمانی اور قیامت کے دن انسان کی حیاتِ نو کے امکان کا ہے۔ اس تشریح آئندہ مباحث میں تفصیل کے ساتھ آئے گی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس داستان کے تربیتی، اصلاحی اور تعمیری نکات انھیں میں منحصر ہیں لیکن ان دس درسوں میں سے ایک بھی ہو تو ایسی داستان بیان کرنے کے لیے کافی ہے چہ جائیکہ یہ سب موجود ہوں۔ بہرحال، مقصد خواہ مخواہ کی مشغولیت اور داستان گوئی نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو مجاہد، بہادر، باایمان، آگاہ اور شجاع بنانا ہے اور ان کی اصلاح کرنا ہے۔ اس کے لیے دیگر تبلیغی طریقوں کے علاوہ ایک یہ ہے کہ انسان کی گزشتہ تاریخ سے حقیقی نمونے پیش کیے جائیں۔

اصحابِ کہف کا واقعہ علمی اعتبار سے

یہ بات مسلّم ہے کہ اصحابِ کہف کا واقعہ کسی گزشتہ آسمانی کتاب میں نہیں تھا (چاہے وہ اصلی ہو یا موجودہ تحریف شدہ) اور نہ اسے ان کتابوں میں ہونا ہی چاہیے تھا کیونکہ تاریخ کے مطابق یہ واقعہ ظہورِ حضرت مسیح(ع) کے صدیوں بعد کا ہے۔ یہ واقعہ "دکیوس" کے دور کا ہے، جسے عرب "دقیانوس" کہتے ہیں۔ اس کے زمانے میں عیسائیوں پر سخت ظلم ہوتا تھا۔ یورپی موٴرخین کے مطابق یہ واقعہ ۴۹ تا ۲۵۱ عیسوی کے درمیان کا ہے۔ ان موٴرخین کے خیال میں اصحابِ کہف کی نیند کی مدت ۱۵۷ سال ہے۔ یورپی موٴرخین انھیں "افسوس کے سات سونے والے" کہتے ہیں (بحوالہ اعلامِ قرآن ص ۱۵۳-) جبکہ ہمارے ہاں انھیں "اصحابِ کہف" کہا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ "افسوس" شہر کہاں ہے؟ سب سے پہلے کن علماء نے ان سونے والوں کے بارے میں کتاب لکھی اور وہ کس صدی کے تھے؟ "افسوس" یا اُفْسُس ایشیائے کوچک کا ایک شہر تھا (موجودہ ترکی جو قدیم مشرقی روم کا ایک حصہ تھا) یہ دریائے کا ستر کے پاس "ازمیر" شہر کے تقریباً چالیس میل جنوب مشرق میں واقع تھا۔ یہ "الونی" بادشاہ کا پایہٴ تخت شمار ہوتا تھا۔ افسوس اپنے مشہور بُت خانے ارطامیس کی وجہ سے بھی عالمی شہرت رکھتا تھا۔ یہ دنیا کے سات عجائبات میں تھا۔ (بحوالہ قاموسِ مقدس ص ۸۷ سے ایک اقتباس۔) کہتے ہیں کہ اصحابِ کہف کی داستان پہلی مرتبہ پانچویں صدی عیسوی میں ایک عیسائی عالم نے لکھی۔ اس کا نام "ژاک" تھا۔ وہ شام کے ایک گرجے کا متولی تھا۔ اس نے سریانی زبان کے ایک رسالے میں اس کے بارے میں لکھا تھا۔ اس کے بعد ایک اور شخص نے اس کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کا نام "گوگویوس" تھا۔ ترجمے کا نام اس نے "جِلال شہداء" کا ہم معنی رکھا۔ (بحوالہ اعلامِ قرآن ص ۱۵۴-) اس سے ظاہر ہوتا ہے ظہورِ اسلام سے ایک دو صدیاں پہلے یہ واقعہ عسائیوں میں مشہور تھا اور گرجوں کی مجالس میں اس کا تذکرہ ہوتا تھا۔ البتہ جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے، اسلامی مصادر میں اس کی جو تفصیلات آئی ہیں وہ مذکورہ عیسائیوں کے بیانات سے کچھ مختلف ہیں۔ جیسے ان کے سونے کی مدت۔ کیونکہ قرآن نے صراحت کے ساتھ یہ مدت ۳۰۹ سال بیان کی ہے۔ یاقوت حموی نے اپنی کتاب "معجم البدان" ج ۳ ص ۸۰۶ پر، ابنِ خرداد بہ نے اپنی کتاب "المسالک و الممالک" ص ۱۰۶ تا ص ۱۱۰ میں اور ابوریحان بیرونی نے اپنی کتاب "الآثار الباقیہ" ص ۲۹۰ پر نقل کیا ہے کہ قدیم سیاحوں کی ایک جماعت نے شہر "آبس" میں ایک غار دیکھی ہے جس میں چند انسانی ڈھانچے پڑے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ بات اسی داستان سے مربوط ہو۔ سورہٴ کہف میں قرآن کے لب و لہجہ سے اور اس سلسلے میں اسلامی کتب میں منقول شانہائے نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ داستان یہودی علماء میں بھی ایک تاریخی واقعے کے طور پر مشہور تھی۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ طولانی نیند کا یہ واقعہ مختلف قوموں کے تاریخی ماخذ میں موجود رہا ہے۔ (بحوالہ معاد و جہان پس از مرگ ص ۱۶۳ تا ص ۱۶۵-) شہر افسوس میں سالہا سال تک سوئے رہنے والے اصحابِ کہف کی اس طویل نیند کے بارے میں ہو سکتا ہے کچھ افراد شک کریں کہ یہ بات سائنسی معیار پر پوری نہیں اترتی لہٰذا وہ اسے ایک افسانہ قرار دیں کیونکہ: اولاً: اس قسم کی طولانی عمر تو جاگتے افراد کے لیے بعید معلوم ہوتی ہے چہ جائیکہ سوئے ہوئے افراد کے لئے۔ ثانیاً: اگر یہ قبول کر لیا جائے کہ بیداری کے عالم میں ایسی عمر ممکن ہے تب بھی سوئے ہوئے تو ممکن معلوم نہیں ہوتی کیونکہ کھائے پیے بغیر اتنا طویل عرصہ انسان کیونکر زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر فرض کیا جائے کہ ایک انسان کو ہر روز کے لیے ایک کلو کھانا اور ایک لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو اصحابِ کہف کی عمر کے لیے سوٹن غذا اور ایک لاکھ لیٹر پانی کی ضرورت ہے اور اتنا ذخیرہ ایک بدن میں ممکن نہیں۔ ثالثاً: اگر ان تمام چیزوں سے صرف نظر بھی کر لیا جائے تو بھی انسانی بدن طویل عرصہ ایک جیسا کیسے رہ سکتا ہے انسانی آرگانزم Organism کے لیے اتنی طولانی مدت یقینا نقصان وہ ہے اور جسم کے اعضاء و اجزاء کا بہت سا حصّہ اتنے طویل عرصے میں ضرور ضائع ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے پہلی نظر میں ان اشکالات اور موانع کے باعث ایسا ہونا قابلِ عمل دکھائی دے۔ لیکن ایسا نہیں کیونکہ: اولاً: لمبی عمر کا مسئلہ کوئی غیر سائنسی نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کسی زندہ موجود کی عمر کی طوالت کے لئے سائنسی حوالے سے کوئی ایسا معیار نہیں ہے کہ جس کے باعث موت حتمی اور یقینی ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ صحیح ہے کہ انسان کے جسمانی قویٰ جس قدر بھی ہوں آخر محدود اور اختتام پذیر ہیں لیکن اِس کا یہ معنی نہیں کہ ایک انسانی بدن یا کسی اور زندہ شے کا بدن معمول سے زیادہ زندہ رہنے کی توانائی نہیں رکھتا۔ اس کی مثال پانی کی سی نہیں کہ جب اس کا درجہٴ حرارت سو تک پہنچ جاتا ہے تو وہ ابلنے لگتا ہے اور صفر تک پہنچ جاتا ہے تو برف بن جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ جب انسان سو، یا ڈیڑھ سو سال تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس کے دل کی دھڑکن بند ہو جائے اور اس پر موت طاری ہو جائے۔ بلکہ زندہ موجودات کی عمر کا تعلق زیادہ تر اس کی کیفیتِ زندگی اور اندازِ بود و باش سے ہے اور حالات کی تبدیلی سے مکمل طور پر قابلِ تغیّر ہے۔ اس بات کا زندہ شاہد یہ امر ہے کہ ایک طرف تو دنیا کے کسی سائنسدان نے انسانی عمر کے لیے کوئی معین معیار مقرر نہیں کیا جبکہ دوسری طرف تجربہ گاہوں میں یہ ثابت کی جا چکی ہے کہ بعض زندہ موجودات کی عمر دوگنا، کئی گنا یہاں تک کہ بارہ گنا اور اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ بلکہ اب تو امید بھی دلائی جا رہی ہے کہ بعض نئے عملی طریقے پیدا ہونے سے انسان کی عمر کی نسبت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ یہ تو طولِ عمر کے بارے میں گفتگو تھی۔ ثانیاً: اس طولانی نیند میں آب و غذا کے بارے میں اگر تو معمول کی نیند ہو تو ہو سکتا ہے کہ اعتراض کرنے والے کو حق بجانب سمجھا جائے کہ یہ بات سائنسی اصول سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ انسانی بدن میں اجزاء کی کمی بیشی نیند کی حالت میں عام حالت کی نسبت اگرچہ کم ہے پھر بھی اتنی طویل مدت میں تو بہت زیادہ ہو گی لیکن توجہ رہے کہ مادی دنیا میں ایسی نیندیں بھی ہیں کہ جن میں بدن کی غذا کا مصرف بہت کم ہوتا ہے اس کے لیے ان جانوروں کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جو موسم سرما میں سو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو ہم ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں:

بعض جانوروں کی سردیوں کی نیند

بہت سے جانور ایسے ہیں جو سارے موسم سرما میں سوئے رہتے ہیں۔ اسے سائنسی اصطلاح میں "سردیوں کی نیند" کہتے ہیں۔ ایسی نیند میں علاماتِ حیات تقریباً ختم ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا معمولی سا شعلہ روشن رہتا ہے۔ دل کی دھڑکن تقریباً رُک جاتی ہے اور اتنی خفیف ہو جاتی ہے کہ بالکل محسوس نہیں ہوتی۔ ایسے مواقع پر بدن کو ایک ایسے بڑے بھٹے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ جسے بجھا کر چھوٹا سا شعلہ بھڑکتا رہے۔ واضح ہے کہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے شعلوں کے لیے بھٹے کو جتنے تیل یا گیس کی خوراک کی ایک دن کے لیے ضرورت ہوتی ہے ایک خفیف سے شعلے کے لیے اتنی برسہا برس یا صدیوں کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ اس میں جلتے ہوئے بھٹے کی مقدار اور خفیف سے شعلے کی مقدار کے لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے۔ سائنس دان بعض جانوروں کی سردیوں کی نیند کے بارے میں کہتے ہیں: کوئی مینڈک جب سردیوں کی نیند میں ہو تو اسے اگر اس جگہ سے باہر نکال لیں تو مردہ معلوم ہو گا۔ اس کے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں ہوتی۔ اس کے دل کی حرکت اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ اس کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔ خون سرد جانوروں Cool Blooded Animal میں سے بہت سے ایسی سردیوں کی نیند سوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی طرح کے کیڑے مکوڑوں، حشرات الارض، گھونگھوں اور رینگنے والے جانوروں کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ بعض خون گرم جانوروں Warm Blooded Animal کی بھی سردیوں کی ایسی نیند ہوتی ہے۔ اس نیند کے عالم میں حیاتی فعالیتیں بہت سست پڑ جاتی ہیں اور بدن میں ذخیرہ شدہ چربی آہستہ آہستہ صرف ہوتی رہتی ہے۔(بحوالہ اقتباس از کتاب فرہنگنامہ (دائرۃ المعارف جدید فارسی) مادہ "زمستان خوابی") مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی نیند بھی ہے کہ جس میں غذا کی انتہائی کی ضرورت ہو جاتی ہے اور حیاتی فعالیتیں تقریباً صفر تک پہنچ جاتی ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہی صورتِ حال اعضا کو فرسودگی سے بچانے اور جانوروں کی طوالتِ عمر میں مدد کرتی ہے۔ اصولی طور پر جو جاندار احتمالاً سردیوں میں اپنی غذا حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لیے سردیوں کی نیند بہت غنیمت چیز ہے۔

ایک اور نمونہ۔ یوگا کے ماہرین:

یوگا کے ماہرین کے بارے میں دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے بعض کو یقین نہ کرنے والے حیرت زدہ افراد کی آنکھوں کے سامنے بعض اوقات تابوت میں رکھ کر ہفتہ بھر کی مدت کے لیے مٹی کے نیچے دفن کر دیتے ہیں اور مذکورہ مدت ختم ہونے کے بعد انھیں باہر نکالتے ہیں۔ ان کی مالش کی جاتی ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ معمولی کی حالت میں پلٹ آتے ہیں۔ اتنی مدت کے لیے اگر ضرورت غذا کا مسئلہ اہم نہ ہو بھی آکسیجن کا مسئلہ تو بہت اہم ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خلیے آکسیجن کے معاملے اتنے حساس اور ضرورت مند ہوتے ہیں کہ اگر چند سیکنڈ بھی اس سے محروم رہیں تو تباہ ہو جائیں۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک یو گی پورا ہفتہ کس طرح آکسیجن کی اس کمی کو برداشت کر لیتا ہے۔ ہم جو وضاحت کر چکے ہیں اس کی طرف تو جہ کرنے سے ایک سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں رہتا۔ بات یہ ہے کہ یو گی کے بدن کی حیاتی فعالیت اس عرصہ میں تقریباً رک جاتی ہے۔ اس دوران میں خلیے کو آکسیجن کی ضرورت اور اس کا مصرف بہت کم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ہوا جو تابوت کے اندر والے حصے میں ہوتی ہے بدن کے خلیوں کی ہفتہ بھر کی غذا کے لیے کافی ہوتی ہے۔

زندہ انسان کے بدن کو منجمد کر دینا:

جانداروں بلکہ انسان کو منجمد کر کے ان کی عمر بڑھانے کے بارے میں آج تو بہت سے نظریے اور بحثیں چل پڑی ہیں۔ ان میں بعض تو عملی جامہ بھی پہن چکی ہیں۔ ان نظریوں Theories کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ایک انسان یا حیوان کے بدن کو ایک خاص طریقے کے تحت صفر سے کم درجہ حرارت پر رکھ کر اس کی زندگی کو ٹھہرا دیا جائے، اس طرح سے کہ وہ واقعاً مر نہ جائے پھر ایک ضروری مدت کے بعد اسے مناسب حرارت دی جائے اور وہ حالت معمولی پر لوٹ آئے۔ ایسے کُرّے جو بہت دُور ہیں ان تک کا فضائی سفر جو کئی سو یا کئی ہزار سال تک کی مدت کا ہو سکتا ہے، کے لیے کئی منصوبے پیش کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہی ہے کہ خلا نورد کے بدن کو ایک خاص تابوت میں رکھ دیا جائے اور اسے منجمد کر دیا جائے اور جب سالہا سال کی مسافت کے بعد وہ مقررہ کُرّات کے قریب پہنچے تو ایک خودکار نظام کے تحت ایک تابوت میں حرارت پیدا ہو جائے اور خلا نورد حالتِ معمولی پر لوٹ آئے بغیر اس کے کہ اس کی عمر ضائع ہو۔ ایک سائنسی مجلے میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ حال ہی میں انسانی بدن کو لمبی عمر کے لیے منجمد کرنے کے بارے میں رابرٹ نیلسن نے کتاب لکھی ہے۔ سائنسی دنیا میں یہ کتاب بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور اس کے مندرجات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ مجلے کے اس مقالے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حال ہی میں اس عنوان کے تحت ایک خاص سائنسی شعبہ قائم ہو گیا ہے۔ مذکورہ مقالے میں لکھا گیا ہے: حیات جاوداں پوری تاریخ انسانی میں ہمیشہ انسان کا سنہرا خواب رہی ہے لیکن اب یہ خواب حقیقت میں بدل گیا ہے۔ یہ امر ایک نئے علم کی خوشگوار اور حیرت انگیز ترقی کا مرہونِ منت ہے اس علم کا نام کر یانک ہے۔ (یہ علم انسانی بدن کو منجمد کر کے زندہ رکھنے کے بارے میں ہے۔ اس کے مطابق انسان کے بدن کو منجمد کر کے اسے بچایا جا سکتا ہے یہاں تک کہ سائنسدان اسے پھر سے زندہ کر دیں)۔ کیا یہ بات قابلِ یقین ہے؟ بہت سے اہم اور ممتاز سائنسدان کئی پہلووٴں سے اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کئی کتا بیں مثلاً "لائف" اور "اسکوایر" چھپ چکی ہیں۔ پوری دنیا کے اخبارات پوری شد و مد سے اس مسئلے پر بحث کر رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں اب تجربات شروع ہو چکے ہیں۔ (بحوالہ مجلّہ "دانشمند" بہمن ماہ ۴۷، ص۴-) کچھ عرصہ ہوا کہ جرائد میں یہ خبر چھپی تھی کہ برفانی قطبی علاقے سے چند ہزار سال پہلے کی اور منجمد مچھلی ملی ہے جسے خود وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس مچھلی کو جب مناسب پانی میں رکھا گیا تو لوگ حیرت زدہ رہ گئے کہ وہ پھر سے جی اٹھی اور چلنے پھرنے لگی۔ واضح ہے کہ حالت انجماد میں علامات حیات موت کی طرح بالکل ختم نہیں نہیں ہو جائیں کیونکہ اس صورت میں بھی تو پھر زندگی نہیں مل سکتی بلکہ اس عالم میں حیاتی فعالیتیں بہت سست رفتار ہو جاتی ہیں۔ ان تمام باتوں سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسانی زندگی کو ٹھہرایا یا بہت ہی سست کیا جا سکنا ممکن ہے اور مختلف سائنسی تحقیقات اس امکان کی کئی حوالوں سے تائید کرتی ہیں۔ اس حالت میں غذا کا مصرف بدن میں تقریباً صفر تک جا پہنچتا ہے اور غذا کا تھوڑا سا ذخیرہ جو بدن میں موجود ہوتا ہے اس کی سست زندگی کے لئے طویل برسوں تک کافی ہو سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان نے قدرت کی بہت سی چیزیں دیکھ کر ویسی ہی ایجادات کی ہیں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ اصحابِ کہف کے واقعے سے انسان کے ذہن میں منجمد کرنے کی ایجاد ہو یا قدرت نے اسے منجمد کرنے کا اشارہ دیا ہو۔) غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے ہم ان باتوں کے ذریعے اصحاب کہف کی نیند کے اعجاز کے پہلو کا انکار نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سائنسی حوالے سے اس واقعے کو ہم ذہن کے قریب کر دیں کیونکہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اصحاب کہف ہماری طرح نہیں سوئے۔ جیسے ہم معمول کے مطابق رات کو سوتے ہیں ان کی نیند ایسی نہ تھی بلکہ وہ استثنائی پہلو رکھتی تھی۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ وہ ارادہٴ الٰہی کے ماتحت ایک طویل زمانے تک سوئے رہے۔ اس دوران نہ انھیں غذا کی کمی لاحق ہوئی اور نہ ان کے بدن کے اجزاء Organism کو کوئی نقصان پہنچا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سورہٴ کہف کی آیات سے ان کی سرگذشت کے بارے میں یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ ان کی نیند عام طریقے کی نیند اور معمول کی نیند سے بہت مختلف تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: وَتَحْسَبُھُمْ اَیْقَاظًا وَھُمْ رُقُودٌ ۔۔۔ِ لَوْ اطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا وہ ایسے لگتے تھے جیسے جاگ رہے ہوں (ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں) اگر تو انھیں دیکھتا تو گھبرا کے بھاگ اٹھتا اور تیرے پورے وجود پر خوف چھا جاتا۔ (کہف۔۱۸) یہ آیت اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی نیند عام کی سی نہ تھی بلکہ ایسی نیند تھی جو حالت موت کے مشابہ تھی ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ علاوہ ازیں، قرآن کہتا ہے: سورج کی روشنی ان کے غار کے اندر نہیں پڑتی تھی۔ نیز اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے کہ ان کی غار احتمالاً ایشیائے کوچک کے کسی بلند اور ٹھنڈے مقام پر واقع تھی ان کی نیند کے استثنائی حالات اور زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف قرآن کہتا ہے: وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ہم دائیں بائیں ان کے پہلو بدلتے رہتے تھے۔ (کہف۔۱۸) یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بالکل ایک ہی حالت میں نہیں رہتے تھے ایسے عوامل کہ جو ابھی تک ہمارے لیے راز ہیں ان کے تحت شاید سال میں ایک مرتبہ انھیں دائیں بائیں پلٹایا جاتا تھا تاکہ ان کے بدن کے آرگا نزم Organism میں کوئی نقص نہ پڑ جائے۔ اب جبکہ اس سلسلے میں کافی واضح علمی بحث ہو چکی ہے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے معاد اور قیامت کے بارے میں زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ ایسی طویل نیند کے بعد بیداری، موت کے بعد زندگی کے غیر مشابہ نہیں ہے۔ اس سے ذہن معاد اور قیامت کے امکان کے قریب ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب "معاد وجہان پس از مرگ" کی طرف رجوع فرمائیں)۔

28
18:28
وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطٗا
(اے پیغمبر متکبر دشمنوں کے مقابلے میں ) صبر و استقامت اختیار کر (اور) ان لوگوں کے ساتھ کہ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور صرف اس کی ذات کے خواہاں ہیں۔ حیات دنیا کی آرائش کی وجہ سے ہرگز اپنی آنکھیں ان سے نہ اٹھا اور ان لوگوں کی اطاعت نہ کر جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے،وہ کہ جنہوں نے ہوائے نفس کی پیروی کی ہے اور جن کے کام تجاوز پر مبنی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
18:29
وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَاۚ وَإِن يَسۡتَغِيثُواْ يُغَاثُواْ بِمَآءٖ كَٱلۡمُهۡلِ يَشۡوِي ٱلۡوُجُوهَۚ بِئۡسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا
اور کہہ دے کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے، جو چاہے ایمان لے آئے (اور اس حقیقت کو مان لے)اور جو چاہے کافر ہو جائے۔ ظالموں کیلئے ہم نے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی قناتیں انہیں ہر طرف سے گھیر لیں گی اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انہیں ایسا پانی پیش کیا جائے گا جو پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہو گا اور منہ کو بھون ڈالے گا،وہ کیا برا پانی ہے اور کیا برا ٹھکانا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
18:30
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ مَنۡ أَحۡسَنَ عَمَلًا
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل انجام دیئے تو ہم نیک لوگوں کی جزا ضائع نہیں کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
18:31
أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَيَلۡبَسُونَ ثِيَابًا خُضۡرٗا مِّن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۚ نِعۡمَ ٱلثَّوَابُ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقٗا
وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کا مسکن بہشت جاوداں ہے، ایسے باغات بہشت کے جن کے درختوں اور محلوں کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ وہ وہاں سونے کے کنگنوں سے سنوارے جائیں گے اور انہیں سبز رنگ کے نازک اور دبیز ریشم کے (فاخرہ) لباس پہنائے جائیں گے۔ وہ تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھی جزا ہے اور کیسی پیاری جگہ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مندرجہ بالا آیات میں سے کچھ کی شان نزول کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ کچھ سرمایہ دار متکبر، خود غرض اشراف خدمتِ رسولؐ میں حاضر ہوئے۔ وہ سلمان، ابوذر، صہیب اور خباب وغیرہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے: اے محمدؐ! اگر تو کسی محفل میں صدر نشین ہو اور ایسے افراد کہ جن کی بدبو انسانی مشام کو اذیّت پہنچاتی ہے اور جنھوں نے سخت اونی لباس پہن رکھے ہیں اپنے سے دور کر دے (یعنی مجلس میں اشراف اور بڑے لوگ ہوں) تو ہم تیرے پاس آئیں گے، تیری مجلس میں بیٹھیں گے اور تیری باتوں سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن ان لوگوں کے ہوتے ہوئے تو ہم یہاں نہیں بیٹھ سکتے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو حکم دیا گیا کہ ان پر فریب کھوکھلی باتوں کی طرف ہرگز مائل نہ ہوں اور زندگی کے ہر دور میں ہمیشہ باایمان، پاک دل افراد کے ساتھ رہیں کہ جو سلمان و ابوذر جیسے ہوں اگرچہ ان کا ہاتھ ثروت دنیا سے خالی ہو اور ان کا لباس کھُردرا ہو۔ ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللهؐ ان افراد کی تلاش کے لیے اٹھے۔ ( یہ مخلص مومنین ان سرمایہ داروں کی باتیں سن کر ناراض تھے اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر عبادت پروردگار میں مشغول ہو گئے تھے)۔ آخرکار رسول اللهؐ نے انھیں مسجد کے آخری حصّے میں پا لیا۔ وہ لوگ ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔ آپؐ نے فرمایا: حمد ہے اس خدا کے لیے جس نے موت سے پہلے یہ حکم دیا کہ تم جیسے لوگوں کے ساتھ رہوں۔ معکم المحیا و معکم الممات تمھارے ساتھ جینا اور تمھارے ساتھ مرنا ہی اچھا ہے۔ (بحوالہ مجمع البیان اور قرطبی۔ زیر بحث آیات کے ذیل میں)

تفسیر پاک دل غریب لوگ

اصحاب کہف کے واقعے نے ہمیں جو بہت سے درس دیئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسانوں کی قدر و قیمت کا معیار منصب، ظاہری مقام اور دولت و ثروت نہیں ہے۔ الله کی راہ میں وزیر اور چرواہا ایک ہی صف میں ہیں۔ زیر بحث آیات میں درحقیقت اسی اہم مسئلے کا ذکر ہے۔ ان میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے: ان افراد کے ساتھ رہو کہ جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور صرف اسی کی پاک ذات کے طلبگار ہیں (وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْھَہُ)۔ "وَاصْبِرْ نَفْسَکَ" (اپنے آپ کو صابر بنا)۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اللہؐ پر مستکبر دشمنوں اور بُرے اشراف کی طرف سے دباؤ تھا کہ غریب و فقیر مومنین کو اپنی بارگاہ سے دور کر دیں لہٰذا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس دباؤ کے مقابلے میں صبر و استقامت اختیار کرو اور ہرگز ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرو۔ "صبح و شام" کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر حالت میں اور زندگی بھر یادِ خدا میں محو رہتے ہیں۔ "یُرِیدُونَ وَجْھَہُ" (وہ اس کی ذات کے طلب گار ہیں)۔ یہ تعبیر ان کے خلوص اور اخلاص کی دلیل ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا سے صرف اسی کو چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہشت کی نعمتیں اگرچہ بہت عظیم ہیں مگر وہ اس کی خاطر اللہ کی بندگی نہیں کرتے اور جہنم کا غذاب اگرچہ بہت درد ناک ہے لیکن وہ اس کے خوف سے عبادتِ الٰہی نہیں کرتے بلکہ صرف اس کی پاک ذات کی خاطر اس کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کے دل کی آواز تو بس یہ ہے: ما از تو بغیر از تو نداریم تمنا ہم تجھ سے تیرے علاوہ کوئی تمنا نہیں رکھتے۔ اور یہ اللہ کی اطاعت، اس بندگی، اس کے عشق اور اس پر ایمان کا اعلےٰ ترین درجہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: "وجہ" کبھی "ذات" کے معنی میں آتا ہے اور کبھی "چہرے" کے معنی میں۔ اس قسم کے مواقع پر اس لفظ کے انتخاب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۲۰۵ (اردو ترجمہ) پر تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔) اس کے بعد تاکید کے طور پر گفتگو جاری ہے: یہ ایمان کہ جو ظاہراً فقیر سے ہیں، ان سے ہرگز اپنی آنکھیں نہ پھیرو اور دنیا کی زینتوں کی خاطر خدا سے بےخبر ان مستکبرین کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو (وَلَاتَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْھُمْ تُرِیدُ زِینَةَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ (تشریحی نوٹ: لاتَعد"، "عدا یعدوا" کے مادہ سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہو گا "ان سے آنکھیں ہی نہ ہٹا کہ دوسرے پر نگاہ پڑے"۔) مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: اور جن کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے ان کی اطاعت نہ کرو (وَلَاتُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا)۔ ان کی کہ جنھوں نے ہوائے نفس کی پیروی کی ہے (وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ)۔ وہی کہ جن کے سارے کام افراط پر مبنی ہیں۔ جو سوچ بچار اور غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور جن کے کام حد سے بڑھے ہوئے ہیں (وَکَانَ اَمْرُہُ فُرُطًا)۔ (تشریحی نوٹ: "فرط" حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے اور ہر وہ چیز جو اپنی حد سے نکل کر اسراف ہو جائے اسے "فرط" کہتے ہیں۔) یہ بات جاذب نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کی صفات کو ایک دوسرے کے مدِّمقابل رکھ دیا ہے۔ حقیقی مومنین۔ کہ جو تہی دست ہیں۔ ان کے دل عشق خدا سے سرشار ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کی یاد میں محو رہتے ہیں اور اس سے فقط اس کے طلبگار ہیں۔ لیکن دولت مند مستکبر یادِخدا سے بالکل غافل ہیں۔ ہوائے نفس کے علاوہ ان کی کوئی طلب نہیں۔ ان کے سارے کام اعتدال کی حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور وہ افراط و تجاوز سے کام لیتے ہیں۔ مذکورہ موضوع کی اس قدر اہمیت ہے کہ اگلی آیت میں قرآن صراحت کے ساتھ رسول اللهؐ سے کہتا ہے: کہدو کہ میرا تو یہ طریقِ کار ہے اور یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک حقیقت ہے جو چاہے ایمان لے آئے اور اس حقیقت کو قبول کر لے اور جو چاہے کافر ہو جائے ( وَقُلْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ)۔ لیکن یہ جان لو کہ یہ دنیا پرست ظالم کہ جو اپنی دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت پر اتراتے ہوئے سلمان و ابوذر جیسے لوگوں کے کھردرے لباس کا مذاق اڑاتے ہیں ان کا انجام بہت برا اور تاریک ہے کیونکہ "ہم نے ان ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کے بلند خیموں نے چاروں طرف سے انھیں گھیر رکھا ہے "(إِنَّا اَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِینَ نَارًا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا)۔ جی ہاں! وہ جب اس دنیاوی زندگی میں پیاسے ہوتے تو آواز دیتے اور خدام طرح طرح کے مشروبات ان کے سامنے لا حاضر کرتے لیکن "جہنم میں جب وہ پانی مانگیں گے انھیں ایسا پانی پیش کیا جائے گا جو ایسی پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا کہ اگر چہرے کے قریب ہو تو اسے بھون دے"۔ (وَإِنْ یَسْتَغِیثُوا یُغَاثُوا بِمَاءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوہَ)۔ (تشریحی نوٹ: "مُہل"(بروزن "قفل")۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے تہ نشین تیل کو کہتے ہیں کہ جو عام طور پر گندا، کثیف، گاڑھا اور بدذائقہ ہوتا ہے لیکن بعض مفسروں نے اس لفظ سے ہر قسم کی پگھلی ہوئی دھات مراد لیا ہے اور "یشوی الوجوہ"(چہروں کو بھون دیتا ہے)یہ تعبیر دوسرے معنی کی تائید کرتی ہے۔) یہ پینے کی کیا بری چیز ہے (بِئْسَ الشَّرَابُ)۔ اور دوزخ کتنا برا ٹھکانا ہے (وَسَائَتْ مُرْتَفَقًا)۔ (تشریحی نوٹ: "مرتفق"، "رفق" اور "رفیق"کے مادہ سے ہے۔ اس سے دوستوں کے جمع ہونے کی جگہ مراد ہے۔) غور کیجئے۔ وہ پانی کہ جو چہرے کے قریب ہو تو اسے بھون دے، کیا پینے کے قابل ہے؟ یہ اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ دنیا میں اچھے اچھے مشروبات پیا کرتے تھے جبکہ محروم اور مستضعف لوگوں کے دلوں کو جلایا کرتے تھے۔ اب یہ وہی آگ ہے جس نے یہ جسمانی شکل اختیار کرلی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ قرآن نے یہاں دولت مندوں اور ظالم و بےایمان مفاد پرستوں کے لیے جہنم میں بھی اس جہاں کے تکلفات کا ذکر کیا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ دنیا میں دولت مندوں کے جو "سرادق" یعنی بلند خیمے (یہ لفظ فارسی کے لفظ "سراپردہ"سے لیا گیا ہے) ہوتے ہیں ان میں غریبوں کا کوئی گزر نہیں۔ یہاں یہ امیروں کے عیش و نوش اور بادہ گساری کے لیے ہوتے ہیں لیکن وہاں ان کے بلند خیمے "دوزخ کے بلند بھڑکتے ہوئے شعلے" ہیں۔ یہاں ان کے عیش کدوں میں طرح طرح کے مشروبات ہیں اور جب وہ ساقی کو آواز دیتے ہیں تو وہ شراب کے رنگارنگ جام ان کے سامنے لا حاضر کرتے ہیں۔ دوزخ میں بھی ان کے لئے ساقی اور مشروبات موجود ہیں۔ لیکن وہاں کا مشروب پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا۔ یتیموں کے اشکِ سوزان اور محتاجوں کی آہِ آتشیں سے ابلتا ہوا پانی۔ جی ہاں وہاں جو کچھ ہے وہ یہاں کی کیفیتوں کا تجسّم ہے (پناہ بخدا)۔ قرآنِ حکیم کی روش چونکہ تطبیقی اور ترتیبی ہے لہٰذا خود غرض دنیا پرستوں کے اوصاف اور ان کا کیفرِ کردار بیان کرنے کے بعد حقیقی مومنین کی حالت اور ان کا انتہائی زیاہ اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے۔ پہلے مختصر طور پر اور پھر ذرا تفصیل سے ارشاد ہوتا ہے: وہ کہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ہم ان نیکوکاروں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کریں گے (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَانُضِیعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا)۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنّاتِ جاوداں ان کے لیے ہیں (اُوْلٰئِکَ لَھُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ)۔وہ باغاتِ بہشت کہ جن کے درختوں تلے نہریں رواں ہیں (تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ الْاَنْھَارُ)۔ وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ ہوں گے (یُحَلَّوْنَ فِیھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "اساور" ،"اسورہ" (بروزن "مَشورہ") کی جمع ہے اور خود "اسورہ"(بروزن "غبار" اور "کتاب")کی جمع ہے۔ اصل میں یہ فارسی لفظ ہستوار (کنگن) سے لیا گیا ہے۔ اسے عربی میں ڈھالنے کے بعد اس سے عربی کے فصل بھی مشتق ہوئے ہیں۔) اور وہ سبز رنگ کے نازک دبیز ریشم کے فاخرہ لباس زیبِ تن کیے ہوں گے (وَیَلْبَسُونَ ثِیَابًا خُضْرًا مِنْ سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ)۔ جبکہ وہ تختوں اور کرسیوں پر تکیہ لگائے ہوں گے (مُتَّکِئِینَ فِیھَا عَلَی الْاَرَائِکِ)۔ (تشریحی نوٹ: "ارائک"، "اریکة" کی جمع ہے۔ یہ اس تخت کو کہتے ہیں جو چاروں طرف سے سائبان کی طرح ڈھانپا گیا ہو۔ راغب کے بقول یہ اصل میں "اراک"سے ہے جو ایک مشہور درخت (پیلو)کا نام ہے، سے لیا گیا ہے کیونکہ عرب بعض اوقات اس درخت سے ایک خاص طرح کا سائبان بناتے تھے۔ یا یہ لفظ "اروک"سے لیا گیا ہے کہ جو اقامت اور توقف کرنے کے معنی میں ہے۔) واہ کیا کہنا! کیا اچھی چیز ہے (نِعْمَ الثَّوَابُ)۔ اور دوستوں کا کیسا اچھا اکٹھ ہے (وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا)۔

چند اہم نکات ۱۔ طبقاتی تفاوت۔ معاشرے کی عظیم مشکل ہے:

صرف یہی آیات نہیں کہ جو معاشرے کی امیر اور غریب کی تقسیم کے خلاف جنگ کر رہی ہیں بلکہ قرآن کی ایسی بہت سی آیات ہیں۔ ان میں سے بعض کا مطالعہ ہم کر چکے ہیں اور بعض آئندہ آئیں گی۔ وہ معاشرہ کہ جس میں ایک گروہ (جو ظاہر ہے اقلیت میں ہو گا) بڑی خوشحال زندکی گزار رہا ہو، ناز و نعمت میں غرق ہو، اسراف میں ڈوبا ہو اور ساتھ ہی طرح طرح کے مفاسد اور برائیوں میں آلودہ ہو جبکہ دوسرا گروہ جو کہ اکثریت میں ہے زندگی کی ابتدائی ضروریات سے بھی محروم ہو۔ یہ وہ معاشرہ ہے کہ جسے نہ اسلام پسند کرتا ہے اور نہ وہ حقیقی انسانی معاشرے کا رنگ رکھتا ہے۔ ایسے معاشرے میں کبھی سکون و اطمینان نہیں ہو سکتا۔ اس پر ہمیشہ ظلم و ستم، لوٹ کھسوٹ اور استعمار و استبداد کی حکمرانی ہو گی۔ ایسے معاشرے میں آزادیاں سلب ہوں گی۔ خونین جنگیں عموماً ایسے ہی معاشروں سے اٹھی ہیں اور ایسے معاشرے سے پریشانیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ اصولی طور پر یہ سب نعماتِ الٰہی آخر کیوں چند لوگوں کے ہاتھ میں ہوں اور معاشرے کی اکثریت طرح طرح کی محرومیوں، درد و رنج، بھوک اور بیماریوں میں ایڑیاں رگڑ رہی ہو۔ یقینا ایسا معاشرہ، کینہ، بغض، دشمنی، حسد، غرور، ظلم خود پرستی، استکبار اور تباہی کے ایسے ہی عوامل سے پر ہو گا۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عظیم انبیاء خصوصاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے نظام کے خلاف شدت اور مسلسل جہاد کیا تو اس کی بھی یہی وجہ ہے۔ ایسے معاشرے میں دولت مندوں کی محفلیں ہمیشہ تہی دستوں کی محفلوں سے الگ ہوتی ہیں۔ ان کے محلے الگ ہوتے ہیں، سیر و تفریح کے مراکز جدا ہوتے ہیں اور مل بیٹھنے کی جگہیں جدا ہوتی ہیں۔ (اگر غریبوں کے لیے بھی کوئی تفریح کی جگہ ہو تو وہاں کے طور طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں)۔ یہاں تک کہ ان کے قبرستان بھی جدا جدا ہیں۔ یہ تفاوت اور تفریق کہ جو انسانی تقاضوں کے خلاف ہے اور تمام انسانی قوانین کی روح کے خلاف ہے کسی مردِ خدا کے لیے قابلِ برداشت نہ تھی اور نہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں شدت سے یہ تفریق موجودہ تھی۔ یہاں تک کہ وہ لوگ رسولِ اسلامؐ کا سب سے بڑا عیب یہی سمجھتے تھے کہ سلمان و بوذر جیسے پا برہنہ اور تہی دست لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بھی بت پرست اشراف اور "بڑے لوگ" آپ(ع) پر یہی اعتراض کرتے تھے کہ: "پست لوگوں" (اراذل) نے کیوں تیری پیروی کی ہے؟ کیونکہ دل کے یہ اندھے بڑائی اور پستی کا معیار درہم و دینار کو سمجھتے تھے۔ قرآنی الفاظ میں: فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِینَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا۔ (ہود۔۲۷) ہم نے دیکھا ہے کہ ان خود پرست بےایمان لوگوں کو باایمان غربیوں کے ساتھ چند لمحے بھی بیٹھنا گوارا نہیں۔ اور تاریخ اسلام شاہد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے کیسے ان خود پرستوں کو ایک طرف کر کے محروم لوگوں کو مواقع فراہم کیے اور ان کے ذریعے ایک حقیقی توحیدی معاشرہ تشکیل دیا۔ وہ معاشرہ کہ جس میں صلاحیتیں بیدار ہوئیں اور معاشرے میں انسانی وقار کا معیار، انسانی کمالات، انسانی قدریں۔ تقویٰ، علم، ایمان، جہاد اور عمل صالح قرار دیا۔ آج بھی ایسے معاشروں کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے طرز عمل کو نمونہ بنایا جائے۔ تعلیم و تربیت اور صحیح قوانین کی بنیاد پر طبقاتی فکر و نظر کا خاتمہ کر دیا جائے اور ان صحیح قوانین کو پوری طرح سے رائج کیا جائے چاہے عالمی استکبار کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے اور وہ اس کی مخالفت کے لیے ہی کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ ہمیں جدوجہد کرنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ایک صحیح و سالم حقیقی انسانی معاشرہ ہرگز تشکیل نہیں پا سکتا۔

۲۔ دونوں جہانوں کی زندگی کا موازنہ

ہم نے بارہا کہا ہے کہ تجسیم اعمال قیامت سے مربوط ایک نہایت اہم مسئلہ ہے یعنی اس جہان میں کچھ ہو گا وہ اس جہان کی ایک بڑی کی ہوئی تصویر (ENLARGEA PICTURE) تکامل و ارتفاء ہے۔ ہمارے اعمال و افکار، معاشرتی طور طریقے، مختلف اخلاقی عادات و خصائل اس جہان میں مجسم ہوں گے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ زیر بحث آیات اس حقیقت کی زندہ تصویر ہیں۔ خود پرست اور ظالم دولت مند کہ جو اس جہان میں محلوں میں تکیہ لگائے ہوئے مےنوشی میں سرمست تھے اور جن کی کوشش تھی کہ ان کی ہر چیز غریب مومنین سے الگ ہو۔ وہ وہاں بھی بلند خیموں کے حامل ہوں گے لیکن وہ خیمے جلا ڈالنے والی آگ کے ہوں گے۔ کیونکہ ظلم درحقیقت آتشِ سوزان ہے کہ جو مستضعفین کے خرمن حیات اور سرمایہ امید کو جلا دیتی ہے۔ وہاں بھی انھیں مشروبات ملیں گے۔ وہاں شرابِ دنیا میں ان کو ملنے والا مشروب نہ فقط ان کی انتڑیوں کو جلا دے گا بلکہ پگھلی ہوئی دھات کی مانند جب وہ پینے کے لیے اپنا چہرہ اس کے قریب کریں گے تو وہ چہروں کو بھون دے گا۔ لیکن اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی پاکدامنی کی حفاظت کی اصولِ عدالت کا احترام کیا، ان چیزوں کو ٹھکرا دیا، سادہ زندگی پر قناعت کی اور اس دنیا کی محرومیوں کو اس لیے قبول کر لیا کہ عدل قائم ہو۔ وہاں ان کے لیے بہشتِ بریں کے باغات ہوں گے جن کے درختوں تلے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ فاخرہ لباس پہنے ہوں گے، زینت و رنگ اور شوق انگیز محفلیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ تجسم ہے ان کی پاک نیت کا کہ وہ یہ نعماتِ دنیا تمام بندگانِ خدا کے لیے چاہتے ہیں۔

۳۔ ہوا پرستی اور خدا سے غفلت

انسان کی روح میں خدا سمایا ہوتا ہے یا ہوائے نفس____ یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ نفس پرستی درحقیقت خدا سے غفلت کا سرچشمہ ہے۔ ہوا پرستی تمام اخلاقی اصولوں سے دوری کا سبب ہے۔ مختصر یہ کہ ہوا پرستی انسان کو خود محور بنا دیتی ہے اور دنیا کے تمام حقائق سے دور کر دیتی ہے۔ ایک نفس پرست انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہیں سوچتا۔ علم، آگاہی، ایثار، قربانی اور روحانیت کا اس کے لیے کوئی مفہوم نہیں۔ مندرجہ بالا آیات میں ہوا پرستی اور خدا سے غفلت کے درمیان رابطہ اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: وَلَاتُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ وَکَانَ اَمْرُہُ فُرُطًا پہلے خدا سے غفلت کا ذکر ہے اور پھر خواہشات کی پیروی گا۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ان کا نتیجہ تجاوز اور افراط بیان کیا گیا ہے جو مطلق کی صورت میں ہے۔ نفس پرست انسان ہمیشہ افراط میں گرفتار رہتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ جب وہ مادی لذتوں میں پڑتا ہے تو پھر زیادہ اور زیادہ کی طلب ہوتی ہے۔ کل ایک شخص نشہ آور چیز کی جس مقدار سے مست ہوتا تھا آج اتنی مقدار سے اسے نشہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تدریجاً اس کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ کل ایک شخص کو اپنے ساز و سامان کے ساتھ اگر نسبتاً ایک چھوٹی کوٹھی کافی معلوم ہوتی تھی تو آج وہ اسے کم سمجھتا ہے۔ انسان کی تمام خواہشات کا یہی عالم ہے یہاں تک کہ وہ اسی چکر میں اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔

۴۔ دوسرے جہاں میں لباسِ زینت

ممکن ہے بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دنیا کی زیب و زینت کی مذمت کی ہے لیکن مومنین کے لیے ایسی ہی زیب و زینت کا آخرت میں وعدہ کیا ہے۔ طلائی زیورات، باریک و دبیز ریشمی لباس اور خوبصورت تخت وغیرہ۔ اس سوال کے جواب میں پہلے ہم اس نکتے کی طرف توجہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم نے خود قرآن سے سیکھا ہے کہ معاد و قیامت کا ایک پہلو روحانی ہے اور ایک پہلو جسمانی بھی ہے۔ لہٰذا اس جہان کی لذتیں بھی دونوں طرح کی ہیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ وہاں کی روحانی لذتوں کا مقابلہ جسمانی لذتوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود اس حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا کہ اس جہاں کی نعمتیں ہمارے لیے ایک ہیولے کی طرح ہیں کہ جسے ہم دور سے دیکھ رہے ہوں۔ وہاں کی باتیں ہمارے لیے ایک اشارے کی مانند ہیں کیونکہ وہ جہان ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے شکمِ مادر میں موجود بچے کے لیے ہمارا یہ جہاں۔ ماں اپنے شکم کے بچے سے اس دنیا کے بارے میں کچھ کہہ سکے تو اس دنیا کی خوبصورتی، خورشیدِ درخشاں، ماہ تاباں، رواں چشموں، باغات، رنگ برنگے پھولوں اور ایسی دوسری چیزوں کے بارے میں کچھ اشارے ہی کیے جا سکیں گے۔ چونکہ عالمِ جنین میں بچے کو سمجھانے کے لیے کافی و دانی الفاظ نہیں ہیں۔ اسی طرح رحم دنیا میں ہماری نظر محدود ہے۔ یہاں واضح طور پر قیامت کی مادی معنوی نعمات کا پورا ادراک ممکن نہیں ہے۔ اس تمہیدی وضاحت کے بعد اب ہم اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں۔ الله تعالیٰ اس دنیا کی زیب و زینت کی مذمت اس لیے کرتا ہے کہ یہ دنیا محدود ہے اگر کوئی یہاں پر زیب و زینت میں پڑے گا تو ایسی زندگی کی فراہم کے لیے وہ طرح طرح کے ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو گا اور ایسی زندگی پانے کے بعد وہ غفلت میں جا پڑے گا۔ اس راستہ میں تفریقات اور طبقے پیدا ہو جاتے ہیں جن کے باعث کینے، حسد، عداوتیں اور بالآخر خون ریزیاں جنم لینی ہیں۔ لیکن اس جہان کی ہر چیز فراواں ہے۔ وہاں ایسی زینتوں کے حصول سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا اور نہ وہاں ان چیزوں کا حصول تفریق اور محرومیت کا سبب بنتا ہے، نہ وہاں اس سے کینہ اور نفرت ابھرتی ہے اور نہ معنویت و روحانیت سے معمور اس ماحول میں انسان خدا سے غافل ہوتا ہے۔ وہاں چیزوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے اور نہ ہی زقیبوں کے حسد کا۔ یہ چیز وہاں غرور و تکبر کا باعث بنتی ہے اور نہ خدا اور خلقِ خدا کی دوری کا۔ لہٰذا اہل بہشت عظیم روحانی نعمتوں کے ساتھ ساتھ اس جسمانی لذت سے کیوں محروم رہیں جبکہ اس کا کوئی ناپسندیدہ نتیجہ نہیں ہے۔

۵۔ سرمائے کی وجہ سرمایہ داروں کی قربت

زیر بحث آیات ہمیں جو ایک اور نکتہ سکھاتی ہیں یہ ہے کہ ہم گروہ کو ہدایت و ارشاد اس لیے ترک نہ کریں کہ وہ دولت مند ہے اور خوشحال زندگی گزرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے گرد سرخ لکیر نہیں کھینج دینا چاہیے بلکہ قابل مذمت یہ ہے کہ ہم ان کی مادی زندگی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے قریب ہوں اور قرآن کے بقول "ترید زینتہ الحیٰوة الدنیا" (تم دنیاوی زندگی کے طلبگار ہو) کے مصداق نہ بنیں۔ لیکن اگر مقصد ان کی ہدایت اور ارشاد ہو۔ یہاں تک کہ مقصد ان کے وسائل سے مثبت اور تعمیری معاشرتی و اجتماعی ضروریات کے لیے فائدہ اٹھانا ہو تو ان سے رابطہ قائم رکھنا نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں ہے بلکہ ضروری ہے۔

32
18:32
۞وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلٗا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ أَعۡنَٰبٖ وَحَفَفۡنَٰهُمَا بِنَخۡلٖ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعٗا
(اے رسول) ان سے دو شخصوں کی مثال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے قسم قسم کے انگوروں کے دو باغ دئیے تھے۔ ان کے گردا گرد کھجور کے درخت تھے اور ان دونوں کے درمیان اچھی با برکت کھیتی تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
18:33
كِلۡتَا ٱلۡجَنَّتَيۡنِ ءَاتَتۡ أُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِم مِّنۡهُ شَيۡـٔٗاۚ وَفَجَّرۡنَا خِلَٰلَهُمَا نَهَرٗا
دونوں باغ پھلتے پھولتے تھے اور ان کے بار آور ہونے میں کوئی کمی نہ تھی۔ ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
18:34
وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٞ فَقَالَ لِصَٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكۡثَرُ مِنكَ مَالٗا وَأَعَزُّ نَفَرٗا
اس باغ کے مالک کو خوب پیدوار ملتی تھی۔ لہٰذا جب وہ اپنے دوست سے بات کرنے لگا تو اس نے کہا میں دولت کے لحاظ سے تجھ سے برتر ہوں اور میرے پاس زیادہ طاقتور افراد ہیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
18:35
وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا
حالانکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا۔ پھر وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میرا خیال نہیں کہ یہ باغ کبھی اجڑ جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
18:36
وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا
مجھے توقع نہیں کہ قیامت برپا ہو گی اور اگر میں اپنے رب کی طرف پلٹ بھی گیا (اور قیامت آ بھی گئی) تو مجھے اس سے بہتر جگہ ملے گی۔

تفسیر مستضعفین کے مقابلے میں مستکبرین کا موٴقف

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا پرست کس طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ وہ تہی دست اور غریب مردانِ حق سے دور دور رہیں۔ ہم نے یہ بھی پڑھا ہے کہ دوسرے جہاں میں ان کا انجام کیا ہو گا۔ زیر بحث آیتوں میں دو دوستوں یا دو بھائیوں کی داستان مثال کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ ان میں سے ہر ایک مستکبرین اور مستضعفین کا ایک نمونہ تھا۔ ان کی طرزِ فکر اور ان کی گفتار کردار ان دونوں گروہوں کے موقف کا ترجمان تھا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے رسول! ان سے دو شخصوں کی مثال بیان کرو کہ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے۔ ان میں طرح طرح کے انگور تھے۔ ان کے گردا گرد کھجور کے درخت تھے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ ان دونوں باغوں کے درمیان ہری بھری کھیتی تھی (وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلًا رَجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاھُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمَا زَرْعًا)۔ ایسے باغ اور کھیتیاں جن میں ہر چیز خوب تھی۔ انگور بھی تھے، کھجوریں بھی تھیں۔ درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے اور کھیتیوں کے پودے خوب خوشہ دار تھے۔ ان دونوں باغوں میں کسی چیز کی کمی نہ تھی (کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ آتَتْ اُکُلَھَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَیْئًا)۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پانی جو ہر چیز کے لیے مایہٴ حیات ہے، خصوصاً باغات و زراعت کے لئے، انھیں فراہم تھا۔ کیونکہ دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی تھی (وَفَجَّرْنَا خِلَالَھُمَا نَھَرًا)۔ اس طرح سے ان باغات اور کھیتیوں کے مالک کو خوب پیداوار ملتی تھی (وَکَانَ لَہُ ثَمَرٌ)۔ دنیا کا مقصد پورا ہو رہا اور تُو کم ظرف اور بے وقعت انسان اپنی دنیاوی مراد پا کر غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ پہلے پہلے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ باغات کے اس مالک نے بھی اپنے دوست سے بات کرتے ہوئے کہا: میں دولت اور سرمائے کے لحاظ سے تجھ سے برتر ہوں، میری آبرو، غزت اور حیثیت تجھ سے زیادہ ہے (فَقَالَ لِصَاحِبِہِ وَھُوَ یُحَاوِرُہُ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَاَعَزُّ نَفَرًا)۔ اور افرادی قوت بھی میرے پاس بہت زیادہ ہے۔ مال و دولت اور اثر و رسوخ میرا زیادہ ہے۔ معاشرے میں میری حیثیت زیادہ ہے۔ تو میرے مقابلے میں کیا ہے اور تُو کس کھاتے میں ہے؟ آہستہ آہستہ اس کے خیالات بڑھتے چلے گئے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ دنیا کو جاودان، مال و دولت کو ابدی اور مقام وحشمت کو دائمی خیال کرنے لگا۔ وہ مغرور تھا حالانکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کر رہا تھا۔ ایسے میں اپنے باغ میں داخل ہوا اس نے ایک نگاہ سرسبز درختوں پر ڈالی جن کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے خم ہو گئی تھیں۔ اس نے اناج کی ڈالیوں کو دیکھا، نہر کے آبِ رواں کی لہروں پر نظر کی کہ جو چلتے چلتے درختوں کو سیراب کر رہا تھا۔ ایسے میں وہ سب کچھ بھول گیا اور کہنے لگا "میرا خیال نہیں کہ میرا باغ بھی کبھی اجڑے گا"(وَدَخَلَ جَنَّتَہُ وَھُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ قَالَ مَا اَظُنُّ اَنْ تَبِیدَ ھٰذِہِ اَبَدًا)۔ پھر اس نے اس سے بھی آگے کی بات کی۔ اس جہان کا دائمی ہونا چونکہ عقیدہٴ قیامت کے منافی ہے لہٰذا وہ انکارِ قیامت کا سوچنے لگا۔ اس نے کہا: میرا ہرگز نہیں خیال کہ کوئی قیامت بھی ہے (وَمَا اَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً)۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو بعض لوگوں نے جی بہلانے کے لیے بنا رکھی ہیں۔ پھر مزید کہنے لگا: فرض کیا قیامت ہو بھی اور میں اپنی اس حیثیت اور مقام کے ساتھ اپنے رب کے پاس جاؤں بھی تو یقیناً اس سے بہتر جگہ پاؤں گا (وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَی رَبِّی لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِنْھَا مُنقَلَبًا)۔ وہ ان خام خیالوں میں غرق تھا اور ایک کے بعد دوسری فضول بات کرتا جاتا تھا کہ اس کا باایمان ساتھی بول اٹھا۔ (اس نے جو باتیں کیں ان کا ذکر آئندہ آیات میں آرہا ہے)۔

37
18:37
قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلٗا
جب وہ یہ باتیں کر رہا تھا تو اس کے (مومن) دوست نے کہا :کیا تو اس خدا سے کافر ہو گیا ہے کہ جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور پھر تجھے پورا انسان بنا دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
18:38
لَّـٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا
لیکن میرا تو ایمان ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہیں دیتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
18:39
وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالٗا وَوَلَدٗا
جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ رحمت اللہ کی منشا سے ہے اور اس کے علاوہ کوئی قوت نہیں ہے۔اگر تو مجھے مال و اولاد کے لحاظ سے کم پاتا ہے (تو یہ کوئی اہم بات نہیں ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
18:40
فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدٗا زَلَقًا
بعید نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر عطافرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب ایسا نازل کر دے کہ جو اسے چٹیل میدان میں بدل ڈالے کہ جس پر پاؤں پھسل پھسل جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
18:41
أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرٗا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُۥ طَلَبٗا
یا اس کا پانی زمین کی تہوں میں ایسا اتر جائے کہ تو اسے پا بھی نہ سکے۔

تفسیر مستضعفین کا جواب

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں اس غرور، بےایمان، خود غرض دولت مند کی بےبنیاد باتوں کا جواب ا س کے مومن دوست کی زبانی دیا گیا ہے۔ پہلے ایک وہ خاموشی سے اس کوتاہ فکر انسان کی باتیں سنتا رہا تاکہ جو کچھ اس کے اندر ہے باہر آ جائے اور پھر ایک ہی بار اسے جواب دیا جائے۔"اُس نے کہا: کیا تو اس خدا سے کافر ہو گیا ہے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور پھر شخص بنایا (قَالَ لَہُ صَاحِبُہُ وَھُوَ یُحَاوِرُہُ اَکَفَرْتَ بِالَّذِی خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاکَ رَجُلًا)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ گزشتہ آیتوں میں مغرور شخص کی جو باتیں ہم نے پڑھی ہیں ان میں وجود خدا کا صریح انکار تو موجو نہیں ہے جبکہ ایک توحید پرست شخص اسے جو جواب دے رہا ہے ظاہراً تو سب سے پہلے اسے انکار خدا پر سرزنش کر رہا ہے اور اسے تخلیق انسان کے حوالے سے خدائے عالم و قادر کی طرف متوجہ کر رہا ہے کیونکہ تخلیقِ انسان دلائلِ توحید میں سے بہت واضح دلیل ہے۔ وہ خدا کہ جس نے ابتداء میں انسان کو خاک سے پیدا کیا۔ درختوں اور نباتات کی جڑوں نے زمین سے غذا حاصل کی۔ پھر نباتات حیوانات کی غذا بنے۔ انسان نے نباتات اور حیوانات سے غذا حاصل کی اور اس غذا کی قوت سے انسان کا نطفہ بنا۔ جس نے رحم مادر میں تکمیل کے مراحل طے کیے۔ وہ دنیا میں آیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک پورے انسان میں تبدیل ہو گیا۔ وہ انسان کہ جو موجودات زمین میں تمام سے برتر ہے جو سوچتا ہے، غور و فکر کرتا ہے، ارادہ کرتا ہے اور سب چیزوں کو اپنا مطیع بنا لیتا ہے۔ جی وہاں۔ ظاہر ایک بےحیثیت مٹی کا ایسے عجیب و غریب موجود میں تبدیل ہونا جس کی مشینری جسم روح کے پیچیدہ آلات پر مشتمل ہے۔ توحید کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ مفسّرین نے مذکورہ سوال کے جواب میں مختلف تفسیریں پیش کی ہیں، مثلاً: ۱۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس مغرور شخص نے صراحت کے ساتھ معاد اور قیامت کا انکار کیا ہے یا پھر اسے شک کی نظر سے دیکھا ہے جس کا لازمی نتیجہ انکار خدا ہے کیونکہ معاد جسمانی کے منکر درحقیقت قدرت خدا کے منکر ہیں۔ انھیں اس بات پر یقین نہیں کہ منتشر ہو جانے کے بعد مٹی پھر سے لباس حیات پہن سکے گی۔ لہٰذا اس باایمان شخص نے خاک سے انسان کی پہلی خلقت، پھر نطفے سے اس کی تخلیق اور پھر دوسرے مراحل کے حوالے سے اسے پروردگار کی بےپایاں قدرت کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لے کہ معاد کے کئی مناظر تو ہم ہمیشہ اپنی اسی زندگی میں دیکھتے رہتے ہیں۔ ۲۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے شرک اور کفر کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ مالکیت خود اس کی اپنی طرف سے ہے۔ یعنی وہ اپنے لیے مالکیت میں اس کا قائل تھا اور اپنی مالکیت کو جاودانی خیال کرتا تھا۔ ۳۔ تیسرا احتمال بھی بعید نظر نہیں آتا، وہ یہ کہ اس نے اپنی کچھ باتوں میں خدا کا انکار کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ساری باتیں بیان نہیں کیں۔ اس کا اندازہ اس باایمان شخص کی باتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اگلی آیت میں وہ صاحبِ ایمان کہتا ہے کہ اگر تو اللہ کا انکار کرتا ہے اور راہِ شرک اختیار کرتا ہے تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔ بہرحال، مذکورہ تینوں احتمالات آپس میں غیر مربوط نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے اس توحید پرست شخص کا اشارہ ان سب کی طرف ہو۔ اِس کے بعد اس باایمان شخص نے اس کے کفر اور غرور کو توڑنے کے لیے کہا: لیکن میرا تو ایمان ہے کہ اللہ میرا پروردگار ہے اور مجھے اس عقیدے پر فخر ہے (لَکِنَّا ھُوَ اللهُ رَبِّی)۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "لکنا" دراصل "لٰکن انا" تھا۔ پھر یہ دونوں الفاظ آپس میں مدغم ہو گئے تو یہ صورت ہو گئی۔) تو اس بات پر نازاں ہے کہ تیرے پاس باغات، کھیتیاں، پھل اور پانی فراوان ہیں لیکن مجھے اس پر فخر ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے، میرا خالق و رازق وہ ہے، تجھے اپنی دنیا پر فخر ہے اور مجھے اپنے عقیدہٴ توحید و ایمان پر۔ "اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہیں دیتا "(وَلَااُشْرِکُ بِرَبِّی اَحَدًا)۔ توحید اور شرک کا مسئلہ انسان کی سرنوشت میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو جاری ہے: "جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ نعمت اللہ کی منشا سے ہے" تو نے اسے اللہ کی جانب سے کیوں نہیں جانا اور اس کا شکر کیوں نہیں بجا لایا (وَلَوْلَاإِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "ماشاء اللہ" میں مخذوف ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہے: "ہٰذا ماشاء اللّٰہ"، یہ وہ چیز ہے کہ جو اللہ نے چاہی ہے۔ یا پھر یوں ہے: "ماشاء اللّٰہ کائن"، جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔) تو نے کیوں نہیں کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی کچھ طاقت نہیں (لَاقُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ)۔ اگر تو نے زمین میں ہل چلایا ہے، بیج بویا ہے، درخت لگائے ہیں، قلمیں لگائی اور تجھے ہر موقع پر سب کچھ میسر آیا ہے یہاں تک کہ تو اس مقام پہنچا ہے تو سب الله کی قدرت سے استفادہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ یہ تمام وسائل اور اصلاحتیں تجھے الله نے بخشی ہیں۔ اپنی طرف سے تو کچھ بھی تیرے پاس نہیں ہے اور اس کے بغیر تو کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: یہ جو تجھے نظر آتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم ہوں (تو یہ کوئی اہم بات نہیں ہے) (إِنْ تُرَنِی اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالًا وَوَلَدًا)۔ الله تیرے باغ کی نسبت مجھے بہتر عطا کر سکتا ہے (فعسیٰ ربی ان یؤتین خیراً من جنتک)۔ بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا آسمان سے تیرے باغ پر بجلی گرائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سرسبز و شاداب زمین ایسے چٹیل میدان میں بدل جائے کہ جہاں پاؤں پھسلتے ہوں (وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِیدًا زَلَقًا)۔ یا زمین کوحکم دے کہ وہ ہِل جائے اور "یہ چشمے اور نہریں اس کی تہہ میں ایسی چلی جائیں کہ پھر تو انھیں پا نہ سکے "(اَوْ یُصْبِحَ مَاؤُھَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیعَ لَہُ طَلَبًا)۔ "حُسبان" (بروزن "لقمان") دراصل "حساب" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ ایسے تیروں کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہ جنھیں چلاتے ہوئے شمار کیا جاتا ہے۔ نیز یہ ایسی سزا کے معنی میں بھی ہے کہ جو کسی حساب کتاب کے تحت ہو مندرجہ بالا آیت میں اس کا یہی مفہوم ہے۔ "صعید" اصل میں "صعود" سے لیا گیا ہے، اس سے مراد زمین کے اوپر کی تہہ ہے۔ "زلق" چٹیل میدان کو کہتے ہیں، جس پر کوئی گھاس پھونس نہ ہو اور جس پر انسان کا پاوٴں پھسل پھسل جائے۔ (یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ریت کو بہہ جانے سے روکنے کے لیے اور آبادیوں کو ریت کے طوفان میں دب جانے سے بچانے کے لیے کوشش کرتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں نباتات اور درخت اگائے جائیں۔ یعنی ایسے علاقوں میں "زلق" اور پھسلنے کی کیفیت کو اس طرح سے کنٹروں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے)۔ درحقیقت ا س باایمان اور توحید پرست شخص نے اپنے مغرور ساتھی کو خبردار کیا وہ ان نعمتوں سے دل نہ باندھ لے کیونکہ ان میں کوئی چیز بھی بھوسے کے قابل نہیں ہے۔ دراصل وہ کہتا ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یا کم از کم سنا ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آسمانی بجلی لمحہ بھر میں باغوں، گھروں اور کھیتیوں کو مٹی کے ٹیلوں یا بے آب و گیاہ زمین میں بدل کے رکھ دیتی ہے۔ نیز تو نے سنا ہے یا دیکھا ہے کبھی زمین پر ایسا زلزلہ آتا ہے کہ چشمے خشک ہو جاتے ہیں اور نہریں نیچے ہیں چلی جاتی ہیں اس طرح سے کہ وہ قابل اصلاح بھی نہیں رہتیں۔ جب تو ان چیزوں کو جانتا ہے تو پھر یہ غرور غفلت کس بنا پر؟ تو نے یہ منظرہ دیکھے ہیں تو پھر یہ دلبستگی آخر کیوں؟ تو یہ کہتا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ نعمتیں کبھی فنا ہوں گی اور تو یہ سمجھنا ہے کہ یہ ہمیشہ رہیں گی۔ یہ کیسی نادانی اور حماقت ہے؟

42
18:42
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا
(عذاب الٰہی آن پہنچا) اور اس کا سارا ثمرہ تباہ ہو گیا، اس کی جو لاگت آئی تھی اس پر وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ باغ کی حالت یہ تھی کہ اپنی ٹہنیوں پر اوندھا گرا پڑا تھا۔ اب وہ کہتا تھا: اے کاش! ہم نے کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہ دیا ہوتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
18:43
وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ فِئَةٞ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا
اور کوئی جتھا (اور گروہ) نہ تھا جو خدا کے سوا اس کی مدد کرتا، اور نہ وہ آپ اپنی کچھ مدد کر سکتا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
18:44
هُنَالِكَ ٱلۡوَلَٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّۚ هُوَ خَيۡرٞ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ عُقۡبٗا
اس وقت ثابت ہوا کہ ولایت (اور قدرت) حق تعالیٰ ہی کیلئے ہے، جس کے ہاں (اطاعت گزاروں کیلئے) بہتر ین ثواب اور بہترین انجام ہے۔

تفسیر اور ان کا انجامِ کار ---

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان کی آپس کی گفتگو ختم ہو گئی۔ اس خدا پرست شخص کی باتوں کا اس مغرور و بےایمان دولت مند کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اپنے اُنہی جذبات اور طرزِ فکر کے ساتھ اپنے گھر لوٹ گیا۔ اسے اس بات کی خبر نہ تھی کہ اس کے باغوں اور سرسبز کھیتیوں کی تباہی کے لیے اللہ کا حکم صادر ہو چکا ہے۔ اسے خیال نہ تھا کہ وہ اپنے تکبر اور شرک کی سزا اسی جہان میں پالے گا اور اس کا انجام دوسروں کے لیے باعث عبرت بن جائے گا۔ شاید اس وقت کہ جب رات کی تاریکی ہر چیز پر چھائی ہوئی تھی، عذابِ الٰہی نازل ہوا۔ تباہ کن بجلی کی صورت میں وحشتناک طوفان کی شکل میں یا ہولناک زلزلے کی صورت میں اللہ کا غذاب نازل ہوا۔ بہرحال، جو کچھ بھی تھا اس نے چند لمحوں میں ترو تازہ باغات، سربفلک درخت اور خوشوں سے لدی کھیتیاں درہم برہم اور تباہ کردیں "اور غذابِ الٰہی حکمِ خدا سے ہر طرف سے اس کے ثمرہ پر محیط ہوگیا اور اسے نابو کردیا"(وَاُحِیطَ بِثَمَرِہِ)۔ "احیط""احاطہ"کے مادہ سے ہے اور ایسے مواقع پر یہ گھیر لینے والے ایسے عذاب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مکمل نابودی ہے۔ دن چڑھا۔ باغ کا مالک باغ کی طرف چلا۔ سرکشی اس کے ذہن میں سمائی ہوئی تھی۔ وہ اپنے باغات کی پیداوار سے زیادہ فائدہ اٹھائے کی فکر میں تھا۔ جب وہ باغ کے قریب پہنچا تو اچانک اس نے وحشتناک منظر دیکھا۔ حیرت سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تاریکی چھاگئی اور وہ وہاں بےحس و حرکت کھڑا ہوگیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ یہ خواب دیکھ رہا ہے یا حقیقت۔ سب درخت اوندھے پڑے تھے۔ کھیتیاں زیر و زبر ہوچکی تھیں۔ زندگی کے کوئی آثار وہاں دکھائی نہ دیتے تھے۔ گویا وہاں کبھی بھی شاداب و سرسبز باغ اور کھیتیاں نہ تھیں۔ اس کا دل دھڑکنے لگا۔ چہرے کا رنگ اڑگیا۔ حلق خشک ہوگیا۔ اس کے دل و دماغ سے سب غرور و نخوت جاتی رہی۔ اسے ایسے لگا جیسے وہ ایک طویل اور گہری نیند سے بیدار ہوا ہے۔ وہ مسلسل اپنے ہاتھ مل رہا تھا۔ اسے ان اخراجات کا خیال آرہا تھا جو اس نے پوری زندگی میں ان پر صرف کیے تھے۔ اب وہ سب برباد ہوچکے تھے اور درخت اوندھے گرے پڑے تھے (فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْہِ عَلیٰ مَا اَنفَقَ فِیھَا وَھِیَ خَاوِیَةٌ عَلیٰ عُرُوشِھَا)۔ اس وقت وہ اپنی فضول باتوں اور بیہوہ سوچوں پر پشیمان ہوا۔وہ کہتا تھا: کاش میں نے کسی کو اپنے پرودگار کا شریک قرار نہ دیا ہوتا۔ اے کاش میں نے شرک کی راہ پر قدم نہ رکھا ہوتا (وَیَقُولُ یَالَیْتَنِی لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّی اَحَدًا)۔ زیادہ المناک پہلو یہ تھا کہ ان تمام مصائب و آلام کے سامنے وہ تن تنہا کھڑا تھا "خدا کے علاوہ کوئی نہ تھا کہ جو اس مصیبت عظیم اور اتنے بڑے نقصان پر اس کی مدد کرتا "(وَلَمْ تَکُنْ لَہُ فِئَةٌ یَنصُرُونَہُ مِنْ دُونِ اللهِ)۔ اور چونکہ اس کا سارا سرمایہ تو یہی تھا جو برباد ہو گیا تھا۔ اب اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ لہٰذا "وہ خود بھی اپنی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا "(وَمَا کَانَ مُنتَصِرًا)۔ درحقیقت اس واقعے نے اس کے تمام غرور آمیز تصورات و خیالات کو زمین بوس اور باطل کر دیا۔ کبھی تو وہ کہتا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ عظیم دولت و سرمایہ کبھی فنا ہو گا لیکن آج وہ اپنی آنکھوں سے اس کی تباہی دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف وہ اپنے خدا پرست اور باایمان دوست غرور و تکبر کا مظاہرہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تجھ سے زیادہ قوی ہوں۔ میرے یارو مددگار زیادہ ہیں لیکن اس واقعے کے بعد اس نے دیکھا کہ کوئی بھی اس کا مددگار نہیں ہے۔ اسے کبھی اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی بہت قوت ہے لیکن جب یہ واقعہ رونما ہوا اور اس نے دیکھا کہ کچھ بھی اس کے بس میں نہیں تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ اب وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے بس میں اتنا بھی نہیں کہ وہ اس نقصان کے کچھ حصّے کی بھی تلافی کر سکے۔ اصولی طور پر مال و دولت کے گرد و جمع ہو جانے والے لوگ تو مٹھاس پر مکھیوں کے جمع ہونے کی مانند ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ بُرے دنوں میں یہ لوگ اس کا سہارا بنیں گے لیکن جب مال و دولت ختم ہو جائے تو وہ بھی نظر نہیں آتے۔ کیونکہ ان کی دوستی کوئی قلبی اور روحانی بنیاد پر تو ہوتی نہیں وہ تو مادی ہوتی ہے اور جب مادی نعمت ختم ہو جاتی ہے تو وہ بھی دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن جو بھی ہوا اب تو وقت گزر چکا تھا اور کسی سنگین مصیبت کو دیکھ کر جو بیداری پیدا ہوتی ہے وہ تو اضطراری حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی بیداری تو فرعون اور نمرود جیسے افراد میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے بھی اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت اس نے کہا: "لم اشرک بربی احداً" کاش! میں اپنے رب کا کسی کو شریک نہ گرداننا۔ یہی بات تو اس کے دوست نے کہی تھی۔ لیکن اس کا یہ ایمان سلامتی کے ماحول میں تھا اور اس کا یہ اظہارِ مصیبت کے موقع پر تھا۔ "یہ وہ وقت تھا کہ یہ حقیقت پھر پایہٴ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ ولایت و قدرت خدا کے لیے ہے وہ خدا کہ جو عین حق ہے" (ھُنَالِکَ الْوَلَایَةُ لِلّٰہِ الْحَقِّ)۔ جی ہاں! اس موقع پر یہ پوری طرح واضح ہو گیا کہ تمام نعمتیں اس کی طرف سے ہیں اور جو کچھ اس کا ارادہ ہو وہی کچھ ہوتا ہے اور اس کے لطف و کرم پر بھروسہ کیے بغیر کچھ نہیں بنتا۔ جی ہاں وہی ہے کہ جس کے ہاں اطاعت گزاروں کے لیے بہترین جزاء و ثواب ہے اور بہترین عاقبت و آخرت ہے (ھُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَخَیْرٌ عُقْبًا)۔ پس اگر انسان کسی سے دل لگانا چاہتا ہے اور کسی پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے اور کسی سے جزاء کی امید باندھنا چاہتا ہے تو کیا ہی بہتر ہے کہ وہ خدا سے لَو لگائے، اس پر بھروسہ کرے اور اس کے لطف و احسان کی امید رکھے۔

چند اہم نکات ۱۔ دولت کا غرور

اس داستان میں ہم نے دولت کے غرور کی زندہ تصویر یکھی ہے اس میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ غرور کا انجام کیا ہے، وہ غرور کہ جس کی انتہا شرک اور کفر ہے۔ کم ظرف لوگ جب کسی مقام پر جا پہنچتے ہیں اور مقام و دولت کے لحاظ سے دوسروں پر کچھ برتری حاصل کر لیتے ہیں تو اکثر اوقات غرور کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان وسائل کے بل بوتے پر وہ دوسروں کے سامنے بڑے بنتے پھرتے ہیں۔ مکھیوں کی طرح بھنبھنانے والے لوگ جب ان کے گرد جمع ہو جائیں تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر ان کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا ہے۔ اسی کو قرآن۔ "انا اکثر منک مالاً و اعز نفراً" میں بیان کر رہا ہے۔ دنیا کا عشق رفتہ رفتہ ان میں یہ خیال پیدا کرنے لگتا ہے کہ یہ دنیا جاودان ہے اور پھر وہ یہ کہنے لگتے ہیں: "ما اظن ان تبید ہٰذہ ابداً" "میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی ختم ہو گا“۔ اگر انسان مادی نیا کی جاودانی کا قائل ہو جائے تو اس سے قیامت پر ایمان کی نفی ہوتی ہے لہٰذا ایسے لوگ کہنے لگتے ہیں: "وما اظن الساعة قائمة" "میرا نہیں خیال کہ کبھی قیامت بھی آئے گی"۔ ان کی خود پسندی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مقربِ بارگاہِ الٰہی سمجھنے لگتے ہیں اور سوچنے لگتے ہیں کہ خدا کے ہاں ان کا بہت زیاہ مقام و مرتبہ ہے اور کہنے لگتے ہیں کہ اگر ہمیں اللہ کی طرف واپس جانا بھی پڑا اور معاد و قیامت کا کوئی وجود ہوا تو پھر بھی وہاں ہمارا مقام یہاں سے بہتر ہو گا "ولئن رددت الیٰ ربّی لاجدنّ خیراً منھا منقلباً" یہ چار مراحل کم پیش تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تمام دنیا پرست اہلِ اقتدار اور طاقتوروں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے انحراف کا آغاز دنیا پرستی سے ہوتا ہے اور شرک، بت پرستی اور انکارِ قیامت پر ختم ہوتا ہے کیونکہ وہ مادی طاقت کو بُت کی طرح پو جتے ہیں اور اس کے علاوہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

۲۔ اس داستان کے چند سبق

یہ عبرت انگیز داستان مختصر سی ہے لیکن اس میں مذکورہ بہت بڑے درس کے علاوہ بھی بہت سے درس موجود ہیں۔ مثلاً: الف۔ مادی دنیا کی نعمتیں جتنی بھی زیادہ ہوں ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ ناپائیدار ہوتی ہیں، کڑکتی ہوئی بجلی چند لمحوں میں سالہا سال میں تیار کیے گئے باغوں اور کھیتیوں کو خاکستر بنا دیتی ہے۔ ان کی جگہ مٹی کے ٹیلوں اور پھسلنے والی زمین کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ تھوڑا سا زلزلہ زمین کے ان پانیوں اور چشموں کو نگل لیتا ہے جن پر زندگی اور اس کی برکتوں کا دارو مدار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پھر اصلاح کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔ ب۔ مادی مفادات کے لیے جو دوست انسان کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں وہ اس قدر بےاعتبار اور بےوفا ہوتے ہیں کہ اسی لمحے جب دنیاوی نعمتیں انسان سے جدا ہو رہی ہوتی ہیں وہ اس سے ایسے رخصت ہوتے ہیں جیسے پہلے ہی جانے کو تیار بیٹھے تھے۔ "وَلَمْ تَکُنْ لَہُ فِئَةٌ یَنصُرُونَہُ مِنْ دُونِ اللهِ"۔ ایسے واقعات ہم نے بارہا سنے یا دیکھے ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ الله کے علاوہ کسی سے دل نہیں باندھنا چاہئے۔ انسان کے باوفا اور سچے دوست وہی ہیں جن سے معنوی اور روحانی رشتہ ہو۔ ایسے ہی دوست ثروت و تنگدستی، بڑھاپے اور جوانی، تندرستی اور بیماری اور عزت ذلت کے ہر عالم میں دوست ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی محبت و مودت کا رشتہ موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔ ج۔ بلا و مصیبت کے بعد کی بیداری عام طور پر فضول ہوتی ہے۔ ہم نے بارہا کہا ہے کہ اضطراری بیداری انسان کے اندرونی انقلاب اور اس کے طرز عمل کی تبدیل کے لیے دلیل نہیں ہوتی اور نہ گزشتہ اعمال پر ندامت کی علامت ہوتی ہے بلکہ جب تختہ دار پر یا موج طوفان پر انسان کی نگاہ پڑتی ہے تو اس پر وقتی طور پر اثر ہوتا ہے۔ ایسے میں چند لمحوں کے لیے جبکہ اسے اپنی زندگی بھی چند لمحے دکھائی دیتی ہے وہ اپنے طرز عمل میں تبدیلی کا ارادہ کرتا ہے لیکن چونکہ یہ ارادہ اس کی روح سے نہیں اٹھا ہوتا لہٰذا اس طوفان کے گزرتے ہی اس کا یہ ارادہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے راستے کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ یہ جو سورہٴ نساء کی آیہ ۱۸ میں ہے کہ انسان جب موت کی نشانیاں دیکھتا ہے تو توبہ کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں، اس کی یہی وجہ ہے۔ اسی طرح قرآن سورہٴ یونس کی آیت ۹۰ اور ۹۱ میں فرعون کے بارے میں کہتا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا اور جب وہ دریا کی لہروں میں غوطے کھانے لگا تو اس نے پکارا میں بنی اسرائیل کے خدا، خدائے یکتا پر ایمان لایا ہوں لیکن اس کی یہ توبہ ہرگز قبول نہ ہوئی۔ فرعون کی اس توبہ کی عدم قبولیت کی بھی یہی وجہ ہے۔ د۔ نہ فقر ذلت کی دلیل ہے اور نہ ثروت عزت کی دلیل ہے۔ یہ بھی ایک درس ہے کہ جو ہم زیرِ بحث آیات سے حاصل کرتے ہیں جبکہ مادی معاشروں اور مادی مکتبِ فکر کے نزدیک تو فقر و ثروت ذلت و عزت کی دلیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے یتیم اور تہی دست ہونے پر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ قرآن مکّہ اور طائف کے کسی دولت مند پر کیوں نازل نہیں ہوا۔ ان کے الفاظ میں: لَوْلَانُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْآنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیمٍ۔ (زخرف۔ ۳۱) ھ۔ جب مال و مقام کی وجہ سے ایک آزاد انسان غرور کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے تو اگر وہ اپنی پیدائش کی تاریخ پر نظر کرے تو یہ زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ تو بےوقعت خاک تھا، ایک ناتوان نطفہ تھا پھر وہ اپنی ماں کے بطن سے اس حالت میں پیدا ہوا کہ بہت کمزور تھا۔ جیسا کہ قرآن زیرِ نظر آیات میں اس بےایمان دولت مند کا غرور ختم کرنے کے لیے گزرے ہوئے زمانے کی اسے یاد دلاتے ہے۔ اس کا باایمان دوست کہتا ہے: اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفة ثم سواک رجلاً و ۔ ان آیات میں عالمِ طبیعت کے ایک درس کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے، یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہرے بھرے باغوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "ولم تظلم منہ شیئاً" یعنی۔ پھل دینے میں ان باغوں نے جہانِ انسانیت پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ لیکن اس صاحب باغ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "و دخل جنتہ وہو ظالم لنفسہ" وہ اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہا تھا۔ قرآن کہنا یہ چاہتا ہے کہ اے انسان! جہاں خلقت پر نگاہ ڈال، پھلوں سے لدے ان درختوں اور ان ہری بھری کھیتیوں کے پاس جو کچھ ہے خلوص کے طبق میں رکھ کر تجھے پیش کر دیتی ہیں۔ ان میں خود غرضی ہے اور نہ بخل و حسد۔ جہان آفرینش ایثار اور بخشش کا منظر پیش کرتا ہے۔ جو کچھ زمین کے پاس ہے وہ بڑے ایثار کے ساتھ نباتات اور حیوانات کو پیش کر رہی ہے۔ نباتات اپنی ساری نعمتیں انسان اور دوسرے جانداروں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ سورج کی ٹکیہ روز بروز کمزور پڑ رہی ہے مگر نور افشانی کیے جارہی ہے۔ بادل برستے ہیں اور بادِ نسیم کی موجیں چلتی ہیں اور ہر طرف زندگی کی لہریں بکھیر دیتی ہیں۔ یہ نظام آفرینش ہے۔ لیکن۔ اے انسان! تو چاہتا ہے کہ تو اس عالم کا گلِ سر سبد بھی ہوا اور اس کے واضح قوانین کو بھی پامال کر دے۔ تیری آرزو ہے کہ تو ساری نعمتیں خود لے لے اور دوسروں کا حق بھی چھین لے۔

45
18:45
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا
انہیں حیات دنیا کیلئے یہ مثال دو کہ ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، اس سے زمین کی پود خوب پھلی پھولی،پھر کچھ عرصے بعد وہ خشک ہو گئی اور ہوا نے اسے ادھر ادھر بکھیر دیا، اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
18:46
ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ أَمَلٗا
مال و اولاد تو دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور با قیات الصالحات کا ثواب تیرے رب کے ہاں بہتر اور زیادہ امید بخش ہے۔

تفسیر زندگی کی ابتداء و انتہا کے لئے ایک مثال

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں مادی دنیا کی ناپایئدار نعمتوں کے بارے میں گفتگو تھی اور اس حقیقت کا ادراک چونکہ ۶۰ یا ۸۰ سال کی عمر میں عام افراد کے لیے آسان نہیں ہے لہٰذا قرآن نے زیرِ نظر آیت میں اس کے لیے ایک بڑی زندہ اور منہ بولتی مثال پیش کی ہے۔ یہ وہ مثال ہے جو لوگ اپنی زندگی میں عموماً دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ مثال مغرور و غافل افراد کو بیدار کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: حیاتِ دنیا کے لیے ان سے آسمان سے برسنے والے بارش کے قطروں کی مثال بیان کر (وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اَنزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ)۔ بارش کے یہ حیات بخش قطرے پہاڑوں، صحراوٴں اور میدانوں میں گرتے ہیں۔ زمین کے اندر موجودہ دانے جن میں صلاحیت ہوتی ہے ان میں ان قطروں سے جان پڑ جاتی ہے اور وہ اپنی زندگی کا ارتفائی سفر شروع کر دیتے ہیں۔ دانے اگرچہ سخت ہوتے ہیں ان کی جلد مضبوط ہوتی ہے لیکن وہ بارش کی نرمی کے ساتھ نرم ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے پودے پھوٹتے ہیں اور آخرکار شاخیں مٹی سے نکالتی ہیں۔ سورج چمکتا ہے، بادِ نسیم چلتی ہے، زمین میں مواد بھی مدد کرتا ہے اور یہ نورس شاخیں ان تمام عوامِل حیات سے قوت پا کر رشد و نمو کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ اس طرح سے "کچھ مدت بعد پودے ایک دوسرے سے مِل جُل جاتے ہیں ایسے کہ جیسے گلے مل رہے ہوں" (فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاَرْضِ)۔ کوہ و صحرا میں زندگی لہلہانے لگتی ہے۔ پھول اور پھل شاخوں کو زینت بخشے ہیں تو ہر طرف خوشیاں اور مسرتیں بکھر جاتی ہیں۔ لیکن یہ دلربا منظر زیادہ دیر نہیں رہتا۔ پھر بادِ خزاں چلنے لگتی ہے۔ موت کی گرد اُن کے سروں پر آ پڑتی ہے۔ ہوا خنک ہو جاتی ہے اور پانی کم ہو جاتا ہے "زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ مسکراتے ہوئے سر سبز و شاداب پودے پژمردہ اور بےفروغ شاخوں اور پتوں میں بدل جاتے ہیں" (اَصْبَحَ ھَشِیمًا)۔ (تشریحی نوٹ: "ھشیم"، "ھشم" کے مادہ سے توڑنے کے معنی میں لیا گیا ہے اور یہاں ایسی خشک گھاس پھونس کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جسے توڑ دیا گیا ہو۔) وہ پتے کہ جنھیں فصلِ بہار کی تیز ہوائیں بھی جدا نہیں کر سکتی تھیں آج اس قدر بےجان ہو گئے ہیں کہ "ہوا کے جھونکے انھیں جدا کر کے اِدھر اُدھر لیے پھرتے ہیں" (تَذْرُوہُ الرِّیَاحُ)۔ (تشریحی نوٹ: "تذروہ" مادہ "ذرو" سے منتشر کرنے اور بکھرنے کے معنی میں ہے۔) جی ہاں! خدا ہر چیز پر قادر تھا اور قادر ہے (وَکَانَ اللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ مُقْتَدِرًا)۔ مال و ثروت اور افرادی قوت کہ جو دنیاوی زندگی کے دو اصلی رکن ہیں، ان کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: مال و اولاد حیاتِ دنیا کی زینت ہیں (الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَةُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ یہ حیات دنیا کے شجر کی شاخوں کے پھول ہیں جن کی عمر بہت کم ہے۔ راہِ خدا میں رنگِ جاوداں نہ پالیں تو یہ بہت بے اعتبار ہیں۔ درحقیقت اس آیت میں دنیاوی زندگی کے سرمائے کے و اہم ترین حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دنیاوی زندگی کی باقی چیزیں انہی دو سے وابستہ ہیں۔ ایک اقتصادی قوت ہے اور دوسری افرادی قوت۔ ہر مادی مقصد تک پہنچنے کے لیے حتماً ان دو قوتوں کو جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خصوصاً گزشتہ زمانے میں جس شخص کے زیادہ بیٹے ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو زیادہ قوی محسوس کرتا تھا۔ گزشتہ آیات میں بھی جس بےایمان دولت مند کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنے مال اور افرادی قوت کا ذکر دوسروں کے سامنے بڑے غرور سے کرتا تھا اور کہتا تھا: "انا اکثر منک مالاً و اعز نفراً" "میرے پاس تجھ سے زیادہ مال اور زیادہ آدمی ہیں"۔ پہلے "بنون" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو "ابن" کی جمع ہے جس کا معنی ہے بیٹا۔ کیونکہ وہ بیٹیوں کو انسانی سرمایہ اور فعال قوت سمجھتے تھے نہ کہ بیٹیوں کو۔ بہرحال، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے باغات، کھیتیاں اور پانی کے چشمے چند لمحوں میں نابود ہو گئے جو ظاہراً بہت مستحکم دولت تھی۔ اولاد کی زندگی اور سلامتی بھی ہمیشہ خطرے میں ہونے کے علاوہ بعض اوقات وہ دشمن ہو جاتی ہے اور مددگار ہونے کی بجائے تکلیف رساں ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: باقیاتِ صالحات (پائیدار اور شائستہ کاموں اور نیکیوں کا) ثواب تیرے پروردگار کے ہاں بہتر اور زیادہ امید بخش ہے (وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اَمَلًا)۔ بعض مفسرین نے "باقیات الصالحات" کا بالکل محدود مفہوم بیان کیا ہے۔ مثلاً بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نمازِ پنجگانہ ہے۔ کچھ نے کہا ہے کہ اس سے یہ ذکر مراد ہے: "سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ ولا الٰہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر" اسی طرح بعض لوگوں نے دیگر محدود مفاہیم بیان کیے ہیں لیکن واضح ہے کہ اس تعبیر کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ ہر صالح اور اچھا عقیدہ، نظریہ، گفتار اور کردار شامل ہے کہ جو باقی رہ جاتا ہے اور جس کے اثرات و برکات لوگوں پر اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں اس سے نمازِ تہجد یا موٴدتِ اہلِ بیت مراد لی گئی ہے یہ بلاشبہ واضح مصادیق کا بیان ہے اور ان روایات سے یہ مراد نہیں کہ باقیات الصالحات کا مفہوم ان امور میں منحصر ہے خصوصاً ان روایات میں لفظ "مِن" استعمال ہوا ہے جو اِن کے ایک مفہوم کے ایک پہلو پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: "لا تستصغر مودتنا فانھا من الباقیات الصالحات" "ہماری محبت و مودت کو کم تر نہ سمجھو کہ یہ بھی باقیات الصالحات میں سے ہے"۔ ایک اور حدیث میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: تسبیحاتِ اربعہ پڑھنے میں تنگدلی نہ دکھاؤ کیونکہ یہ باقیات الصالحات میں سے ہے۔ یہاں تک کہ وہ ناپائیدار اموال اور اولاد کہ جو کبھی فتنے اور آزمائش کا باعث ہوتے ہیں اللہ کی راہ میں ہوں تو وہ بھی باقیات الصالحات کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں کیونکہ خدا کی پاک ذات جاوداں ہے اور جو چیز اس کے لیے اور اس کی راہ میں ہو وہ جاوداں ہو جاتی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ دنیا کی ناپائیدار خوشنمایاں

زیرِ نظر آیات میں ایک مرتبہ پھر معانی کو مثال کے پیرائے میں مجسم کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ عقلی حقائق جن کا ادراک شاید بہت سے لوگوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہے، قرآن مجید انھیں ایک زندہ اور واضح مثال کے ذریعے محسوسات کے قریب لے آتا ہے۔ قرآن انسانوں سے کہتا ہے: اپنی زندگی کا آغاز و انجام کا منظر ہر سال تم دیکھتے ہو۔ اگر تمھاری عمر ساٹھ سال ہے تو یہ منظر تم نے ساٹھ مرتبہ دیکھا ہے۔ تم دیکھتے ہوکہ ہر موسمِ بہار میں ویرانے، دل انگیز اور خوبصورت مناظر میں بدل جاتے ہیں اور ان کے ہر گوشے سے زندگی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن فصلِ خزاں میں سرسبز وادیاں ویرانوں اور صحراؤں میں بدل جاتی ہیں اور ان کے ہر گوشے سے موت کے آثار نمایاں نظر آنے لگتے ہیں۔ جی ہاں! تم بھی ایک دن بچے تھے، نوشگفتہ غنچے کی طرح۔ پھر تم جوان ہو جاتے ہو تر و تازہ اور کھلے ہوئے پھول کی مانند۔ پھر طوفانِ اجل تمھیں کاٹ دیتا ہے۔ پھر چند دنوں کے بعد تمھاری بوسیدہ مٹی طوفانوں کے دوش پر اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے۔ لیکن یہ واقعہ کبھی غیر طبیعی صورت میں بھی پیش آ جاتا ہے۔ بیچ راہ ہی میں بجلی یا طوفان اس زندگی کو ختم کر دیتا ہے، اس طرح سے جیسے سورہٴ یونس کی آیہ ۲۴ میں آیا ہے: إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ حَتَّی إِذَا اَخَذَتْ الْاَرْضُ زُخْرُفَھَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ اَھْلُھَا اَنَّھُمْ قَادِرُونَ عَلَیْھَا اَتَاھَا اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَھَارًا فَجَعَلْنَاھَا حَصِیدًا کَاَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ۔ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے طرح طرح کے نباتات اُگتے ہیں جنھیں انسان اور چوپائے کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ زمین اپنا حُسن و زیبائی ان سے لے لیتی ہے۔ ان کے مالک مطمئن ہوتے ہیں، کہ اچانک رات کو یادن کو ہمارا حکم آ پہنچتا ہے (ہم ان پر سردی یا بجلی کو مسلط کر دیتے ہیں) اور انھیں یوں کاٹ کے رکھ دیتے ہیں گویا وہ تھے ہی نہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیچ راہ میں پیش آنے والے حوادث ان نباتات کو تباہ نہیں کرتے اور وہ اپنا طبیعی سفر پورا کر لیتے ہیں البتہ ان کا انجام بہرحال، پژمردگی، پراگندگی اور فنا ہے، جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ لہٰذا دنیاوی زندگی اپنا طبیعی سفر پورا کرے یا نہ کرے جلد یا بدیر دستِ فنا اُس کا دامن آ پکڑے گا۔

۲۔ غرور شکن عوامل

ہم کہہ چکے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انھیں مادی نعمتیں میسر آتی ہیں تو وہ مغرور ہو جاتے ہیں اور یہ غرور انسانی سعادت کا بہت بڑا دسمن ہے۔ گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح غرور، شرک و کفر کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن جو ایک اعلیٰ تربیتی کتاب ہے، اس غرور کی کمر توڑنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتی ہے۔ کبھی وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ کبھی وہ مثالوں کے ذریعے مادی چیزوں کی ناپائیداری کو واضح کرتی ہے (جیسا کہ زیرِ بحث آیات میں کہا گیا ہے)۔ کبھی یہ خبردار کرتی ہے کہ ہو سکتا ہے تمہاری دنیا کے وسائل اور سرمائے ہی تمھارے لیے دشمن جاں ہو جائیں (جیسا کہ سورہٴ توبہ کی آیت ۵۵ میں ہے)۔ کبھی یہ تاریخ کے مغرور لوگوں کا انجام بیان کرتی ہے جیسا کہ قارون اور فرعون کا انجام بیان کر کے ان جیسے افراد کو خبردار کیا گیا ہے اور کبھی یہ انسان کو اس کے اس دور کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جب وہ ایک بےحیثیت نطفہ یا معمولی سی خاک تھا، کبھی وہ اس کے ایسے ہی مستقبل کو اس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کرتی ہے تاکہ وہ جان لے کہ ایسے کمزور و ناتواں آغاز و انجام کے درمیانی عرصے میں غرور و تکبر احمقانہ قدم ہے (جیسا کہ سورہٴ طارق کی آیت۶، سورہٴ سجدہ کی آیت ۱۸ اور سورہٴ قیامت کی آیت ۳۸ میں ہے)۔ شیطان پوری تاریخ میں بڑے بڑے جرائم کا باعث رہا ہے۔ قرآن شیطانی حربوں کی ناکامی کے لیے یہ تمام ذرائع استعمال کرتا ہے۔ مسلّم ہے کہ باایمان، یا ظرف اور حقیقت شناس انسان مقام و ثروت پا کر غرور جیسی عادت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نہ صرف یہ کہ وہ مغرور نہیں ہوتے بلکہ ان کے طرز عمل میں ذرہ بھر تبدیل نہیں آتی۔ وہ ثروت و حیثیت کو عیاریتاً والی ایسی چیز سمجھتے ہیں کہ ہوا کے ایک جھونکے سے گر پڑے۔

47
18:47
وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةٗ وَحَشَرۡنَٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ أَحَدٗا
اس دن کا سوچو جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین کھلے میدان کی طرح ہو گی اور ہم ان سب کو محشور کریں گے اور کسی کو نظر انداز نہیں کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
18:48
وَعُرِضُواْ عَلَىٰ رَبِّكَ صَفّٗا لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۭۚ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ أَلَّن نَّجۡعَلَ لَكُم مَّوۡعِدٗا
وہ سب صف بستہ تیرے رب کے حضور پیش ہوں گے، تم سب کو ہمارے پاس آنا پڑے گا جس طرح ابتدا میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا جب کہ تمہارا یہ گمان تھا کہ ہم تمہارے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کرینگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
18:49
وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ فَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَٰذَا ٱلۡكِتَٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَىٰهَاۚ وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرٗاۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدٗا
اور(سب انسانوں کے نامہ اعمال کی) کتاب وہاں رکھ دی جائے گی، تو تو گنہگاروں کو دیکھے گا کہ وہ اس میں جو کچھ لکھا ہے اسے دیکھ دیکھ کر ڈریں گے اور کہیں گے :ہائے ہماری شامت ! یہ کیسی کتاب ہے کہ جو کسی چھوٹے بڑے عمل کو حساب کئے بغیر نہیں چھوڑتی اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور تیرا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

تفسیر ہائے ہماری شامت! یہ کیسی کتاب ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں ایک خود پرست اور مغرور انسان کے بارے میں گفتگو تھی کہ جس نے اپنے تکبرّ کی وجہ سے قیامت کا انکار کر دیا تھا۔ زیر نظر آیات میں قیامت کی کیفیت کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تین مراحل کا ذکر ہے: پہلا مرحلہ انسانوں کے قبروں سے اٹھنے سے پہلے کا ہے۔ دوسرا مرحلہ قیامت کا ہے اور تیسرا مرحلہ اس کے بعد کا ہے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو جب (جہاں ہستی کا یہ نظام نئے نظام کے مقدمے کے طور پر درہم برہم ہو جائے گا اور) پہاڑ چلنے لگیں گے اور سطح زمین کی ساری اونچ نیچ ہو جائے گی۔ زمین کھلے میدان کی طرح ہو گی اور ہر چیز اس میں تم نمایاں دیکھو گے (وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَةً)۔ ان آیات میں ان حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آغاز قیامت میں رونما ہوں گے۔ یہ حوادث بہت زیادہ ہیں۔ قرآن حکیم کی آخری مختصر سورتوں میں ان کا خاص طور پر بہت ذکر ہے۔ انھیں "اشراط الساعة" (قیامت کی نشانیاں) کہا جاتا ہے۔ یہ سب نشانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ آج کی دنیا اور موجود عالم بالکل دگر گوں ہو جائے گا۔ پہاڑ چلنے لگیں گے اور پھر دکھائی نہ دیں گے۔ درخت اور عمارتیں گر پڑیں گی۔ زمین صاف اور ہموار ہو جائے گی۔ پھر زلزلے اسے درہم برہم کر دیں گے۔ سورج کی روشنی ختم ہو جائے گی اور چاند بےنور ہو جائے گا۔ ستاروں کے چراغ بجھ جائیں گے۔ پھر ان ویرانوں میں نئے جہان اور نئے زمین و آسمان تعبیر ہوں گے۔ انسان نئے سرے سے نئے زندگی آغاز کریں گے۔ مزید فرمایا گیا ہے: اس وقت ہم محشور کریں گے اور ان میں سے ہم کسی کو نظر انداز نہیں کریں گے (وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا)۔ "نغادر"، "غدر" کے مادہ سے کسی چیز کو ترک کرنے کے معنی میں ہے اسی لیے اپنے عہد و پیمان کو توڑنے والے شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے "غدر" کیا ہے اور یہ جو پانی کے گڑھے کو "غدیر" کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بارش کے پانی کی کچھ مقدار وہاں چھوڑ دی گئی اور ترک کر دی گئی ہوتی ہے۔ بہرحال، مذکورہ جملہ اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ معاد کا حکم سب کے لیے ہے اور اس سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگلی آیت میں قبروں سے انسانوں کے اٹھنے اور محشور ہونے کی کیفیت کے بارے میں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ سب ایک ہی صف میں تیرے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے (وَعُرِضُوا عَلیٰ رَبِّکَ صَفًّا)۔ ہو سکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ لوگوں کا ہر گروہ جو ایک عقیدے کا حامل ہے یا جن کے عمل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں وہ ایک صف میں ہوں گے یا یہ کہ سب کے سب کسی فرق اور امتیاز کے بغیر ایک صف میں ہوں گے۔ اور انھیں کہا جائے گا: تم سب کو ہمارے پاس اس طرح آنا پڑا جیسے ہم نے آغاز میں تمھیں پیدا کیا (لَقَدْ جِئْتُمُونَا کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اَوَّلَ مَرَّة)۔ نہ مال و ثروت کا کوئی پتہ ہے، نہ زر و زیور کی کوئی خبر ہے، نہ مادی امتیازات ہیں، نہ رنگا رنگ لباس ہیں اور نہ یاور و مددگار۔ بالکل اسی طرح جیسے ابتدئی آفرینش میں تھے، آج بھی اسی پہلی حالت میں ہو۔ لیکن تمھیں یہ گمان تھا کہ ہم تمھارے لیے کوئی وعدہ گاہ قرار نہیں دیں گے (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا)۔ اور یہ اس وقت ہوتا تھا جب مادی وسائل اور نعمتوں کا غرور تم پر چھا جاتا تھا۔ تمھیں دنیا جاوداں لگنے لگتی تھی اور آخرت کی فطری فکر اس میں چھپ جاتی تھی۔ اس کے بعد اس قیامت کبریٰ کے دوسرے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ کتاب وہاں رکھ دی جائے گی جو سب انسانوں کا نامہٴ اعمال ہے ( وَوُضِعَ الْکِتَاب)۔ گنہگار جب اس کے مندرجات سے آگاہ ہوں گے تو خوفزوہ ہو جائیں گے اور وحشت کے آثار تو ان کے چہرے پر دیکھے گا (فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیہِ)۔ تو اس وقت فریاد کریں گے اور کہیں گے: ہائے افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ جو کوئی چھوٹا بڑا عمل شمار کیے بغیر نہیں چھوڑتی (وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اَحْصَاھَا)۔ اس نے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا حساب رکھا ہے اور کسی چیز کو نظر انداز نہیں کیا۔ واقعاً یہ بھی کتنی وحشتناک ہے جن کاموں کو ہم نے بھلا دیا تھا اور ہم تو سوچتے تھے کہ ہم نے کوئی غلط کام کیاہی نہیں لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری جوابدہی کا وزن کتنا بھاری ہے اور ہمارا انجام تاریک ہے۔ اس تحریری سند کے علاوہ "تم اپنے سب اعمال کو حاضر پاوٴ گے" (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا)۔ نیکیاں، برائیاں، مظالم، عدل کے کام، فضول باتیں اور خیانتیں سب ان کے سامنے مجسّم ہوں گی۔ درحقیقت وہ اپنے کیے ہیں گرفتا ہوں گے "اور تیرا رب تو کسی پر ظلم نہیں کرتا"( وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا)۔ یہ تو ہی کام ہوں گے جو انھوں نے اس جہان میں انجام دیئے ہیں لہٰذا وہ شکوہ بھی اپنے آپ ہی سے کر سکتے ہیں۔

چند اہم نکات ۱۔ پہاڑ کیوں منہدم ہوں گے؟

ہم کہہ چکے ہیں کہ قیامت کے آغاز میں مادی دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ البتہ اس سلسلے میں قرآن میں مختلف تعبیریں دکھائی دیتی ہیں۔ زیرِ بحث آیات میں ہے: "نسیر الجبال" یعنی۔ ہم پہاڑوں کو حرکت میں لائیں گے اور انھیں چلائیں گے۔ یعنی تعبیر سورہٴ نباء کی آیت ۲۰ اور سورہٴ تکویر کی آیت ۳ میں بھی نظر آتی ہے۔ لیکن سورہٴ مرسلات کی آیت ۱۰ میں ہے: وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَت شدید طوفانوں کے باعث پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور الگ ہو جائیں گے“۔ جبکہ سورہ حاقہ کی آیت ۱۴ میں ہے: وَحُمِلَتْ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّةً وَاحِدَةً زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ جائیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے"۔ سورہ مزمل کی آیت ۱۴ میں ہے: یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتْ الْجِبَالُ کَثِیبًا مَھِیلاً وہ دن کہ جب زمین اور پہاڑوں میں لرزہ پیدا ہو گا اور پہاڑ ریت کے ملے ہوئے ٹیلوں کی طرح ہو جائیں گے۔ سورہٴ واقعہ کی آیت ۵،۶ میں ہے: وَبُسَّتْ الْجِبَالُ بَسًّا، فَکَانَتْ ھَبَاءً مُنْبَثًّا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور پھر گرد و غبار کی طرح بکھر جائیں گے۔ بالآخر سورہٴ قارعہ کی آیت ۵ میں ہے: وَتَکُونُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنفُوشِ اور پہاڑ رنگی ہوئی دُھنی ہوئی اُون کی مانند ہوں گے (کہ جو اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے)۔ واضح ہے کہ ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ پہاڑوں کے درہم برہم ہونے کے مختلف مراحل کی طرف مختلف اشارے ہیں۔ پہاڑ اس زمین کا محکم ترین اور مضبوط ترین حصّہ ہے۔ معاملہ ان کی حرکت اور چلنے سے شروع ہو گا۔ یہاں تک کہ وہ گرد و غبار بن کر یوں اڑیں گے کہ فضا میں ان کا صرف رنگ نظر آئے گا۔ یہ اتنی بڑی حرکت کیسے پیدا ہو گی، یقینا اس کا ہمیں علم نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ زمین کی کششِ ثقل وقتی طور پر اٹھالی جائے اور زمین کی دَوری حرکت کے سبب پہاڑ درہم برہم ہو جائیں اور فضاؤں میں بکھر جائیں۔ یا ہو سکتا ہے بڑے بڑے اٹیمی دھماکوں کے باعث زمین کے مرکز میں ایسی عظیم اور وحشتناک حرکت پیدا ہو جائے۔ بہرحال، یہ سب امور اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت ایک بہت بڑے انقلاب کی حامل ہے۔ عالم کے بےجان مادہ میں بھی انقلاب پیدا ہو گا اور انسانوں کی زندگی میں بھی۔ سب انسان جہانِ نو میں بلند تر زندگی شروع کریں۔ روح اور جسم تو اس دنیا میں بھی ہو گی لیکن وہاں اس کی بناوٹ ہر لحاظ سے وسیع تر اور کامل تر ہو گی۔ قرآن کی یہ تعبیر ضمنی طور پر انسان کو اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ باغ اور پانی تو معمولی چیز ہیں، بڑے بڑے پہاڑ تک ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔ اس طرح دنیا کی تمام کی تمام موجودات یہاں تک کہ جو بہت بڑی بڑی چیزیں ہیں سب کے لیے فنا ہے۔

۲۔ نامہٴ اعمال

زیرِ بحث آیات کے ذیل میں تفسیر المیزان میں ہے کہ تمام آیاتِ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ قیامت میں انسانوں کے لیے تین قسم کے اعمال نامے ہوں گے۔ پہلی قسم: تو وہ ایک ہی کتاب ہے جو اسب کے اعمال کے لئے رکھی گئی ہے۔ درحقیقت اس میں سب اولین و آخرین کے اعمال ثبت ہیں جیسا کہ زیر بحث آیات میں ہے: وَوُضِعَ الْکِتَاب اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ سب انسانوں کے حساب کتاب کے لیے ایک ہی کتاب ہو گی۔ دوسری قسم: وہ کتاب ہے جو ہر امت کے لیے ہو گی۔ ہر امت کے لیے ایک کتاب ہو گی کہ جس میں اس کے اعمال درج ہوں گے۔ جیسا کہ سورہٴ جاثیہ کی آیت ۲۸ میں ہے: کُلُّ اُمَّةٍ تُدْعیٰ إِلَی کِتَابِھَا ہر امت اپنی کتاب اور نامہٴ اعمال کی طرف بلائی جائے گی۔ تیسری قسم: وہ کتاب ہے کہ جو ہر انسان کے لیے الگ الگ ہے۔ جیسا کہ سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۱۳ میں ہے: وَکُلَّ إِنسَانٍ اَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابً--- ہر انسان کے نامہٴ اعمال کی جوابدہی ہم نے اسی کی گردن میں ڈالی ہے اور روزِ قیامت ہم اس کے لیے کتاب اور نامہٴ اعمال باہر نکالیں گے۔ (بحوالہ و تشریحی نوٹ: المیزان، ج١٣، ص۳٤٨۔ مفسر قرآنِ مجید، فیلسوف عالی قدر، عالمِ بزرگ اخلاق آیة اللہ علامہ طباطبائی انہی دنوں ہم سے جدا ہو گئے ہیں۔ ان کی یہ جدائی ہمارے لیے ایک بہت بڑا صدمہ اور نقصان ہے۔ وہ ایک ایسی عظیم ہستی تھے کہ جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی میں بہت ہی اہم اور قیمتی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ ہر قسم کی خودنمائی سے دور اسلامی معاشرے کی خدمت میں مصروف رہے۔ انھوں نے حوزہ علمیہ قم اور دورِ حاضر کے علما کے افکار میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اور بہت ہی بلند پایہ شاگردوں کی تربیت کی۔ انہوں نے بہت قیمتی آثار بطور یاد گار چھوڑے ہیں۔ خصوصاً ان کی گرانقدر تفسیر المیزان نے قرآن کریم کے نئے باب کھولے ہیں۔ یہ تفسیر، تفسیر کے اہم اسلامی علم کی طرف نئی لگن کا سبب بنی ہے۔ اللہ کرے ان کی روح غریق رحمت ہو اور ان کی یاد ہمیشہ احترام تکریم کے ساتھ دلوں میں باقی رہے۔ (آپ کی تاریخِ رحلت ۲۴ آبان ماہ ۱۳۶۰ ہجری شمسی، بمطابق ۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۲ ہجری قمری)۔ واضح ہے کہ یہ آیات ایک دوسری کے منافی نہیں ہیں کیونکہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ آدمی کے اعمال مختلف کتب میں درج ہوں۔ موجودہ زمانے میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ملک کے اداروں اور محکموں میں تفصیلات کے لیے ہر شخص کی الگ فائل ہوتی ہے اور پھر محکمے اور شعبے کے مجموعی ریکارڑ میں بھی اس کے بارے میں کوائف ہوتے ہیں اور اسی طرح سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ لیکن اس نکتے کی طرف توجہ رہے کہ قیامت میں انسانوں کے نامہٴ اعمال اس جہان کی عام فائلوں اور کتابوں کی طرح نہیں ہیں۔ وہ تو ایک منہ بولتا اور ناقابل انکار مجموعہ ہو گا۔ شاید وہ خود انسان کے اعمال کا فطری نتیجہ ہو۔ بہرحال، زیرِ بحث آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ خاص کتابوں میں درج ہونے کے علاوہ خود اعمال بھی وہاں مجسم ہوں گے اور حاضر ہوں گے (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا)۔ وہ اعمال جو بکھر جانے والی توانائیوں کی طرح اِس جہان میں نظروں سے محو ہو چکے ہیں حقیقت میں ختم نہیں ہوئے۔ (دورِ حاضر کے علم نے بھی ثابت کیا ہے کہ مادہ، توانائی اور کوئی کوشش ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کی شکل بدل جاتی ہے)۔ نیک اعمال جاذب اور خوبصورت شکل میں ظاہر ہوں گے اور بُرے اعمال بُرے اور بدصورت چہروں میں ظاہر ہوں گے۔ یہ اعمال ہمارے ساتھ ساتھ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ زیر بحث آیات کے آخری جملے میں فرمایا گیا ہے: "ولا یظلم ربک احداً" "تیرا رب اپنے بندوں میں سے کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا"۔ کیونکہ جزا اور سزا ان کے عمل کا ماحصل ہی ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے "وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا" کو نامہٴ اعمال کے مسئلہ پر تاکید سمجھا ہے اور کہا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اپنے نامہٴ اعمال کی کتاب میں اپنے تمام کاموں کو موجود اور لکھا ہوا پائیں گے۔ (بحوالہ فخر الدین رازی۔ تفسیر کبیر میں اور قرطبی۔ تفسیر الجامع میں۔) بعض دوسرے مفسرین اس آیت میں لفظ "جزا" کو مقدر سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے: اِس دن لوگ اپنے اعمال کی جزا کو حاضر اور موجود پائیں گے۔(بحوالہ فخر الدین رازی۔ تفسیر کبیر میں اور قرطبی۔ تفسیر الجامع میں۔) لیکن پہلی تفسیر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ تجسمِ اعمال کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں سورہٴ آل عمران کی آیت ۳۰ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے۔

٣۔ معاد پر ایمان کا تربیتی نتیجہ

قرآن واقعاً ایک عجیب تربیتی کتاب ہے۔ جب اس میں انسانوں کے سامنے قیامت کا منظر پیش کیا جاتا ہے کہ "وہ دن جب سب لوگ اللہ کی بارگاہِ عدل میں منظم طور پر صفیں باندھے پیش کیے جائیں گے"۔ ان کی مختلف صفیں ان کے عقائد و اعمال میں ہم آہنگی کی بناء پر ترتیب پائیں گی۔ ان کے ہاتھ تہی ہوں گے اور تمام دنیاوی تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ وہاں اجتماع کے باوجود وہ تنہا ہوں گے اور تنہائی کے باوجود اکٹھے ہوں گے اور اعمال نامے کھُلے ہوں گے۔ سب چیزیں بولیں گی اور انسانوں کے چھوٹے بڑے اعمال بتائیں گی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ خود اعمال و افکار میں جان پڑ جائے گی اور جسمانی شکل میں ظاہر ہوں گے ہر شخص کے گرد اس کے اعمال جسمانی صورت میں موجود ہوں گے۔ لوگ اپنے آپ میں اس طرح سے کھوئے ہوں گے کہ ماں کو بیٹے اور بیٹے کو ماں کا ہوش نہیں ہو گا۔ عدلِ الٰہی کی عدالت لگی ہو گی۔ عذابِ عظیم بدکاروں کے انتظار میں ہو گا۔ لوگ اس سے سخت وحشت زدہ ہوں گے۔ سانس سینیوں میں اٹکے ہوں گے اور آنکھیں پتھرائی ہوں گی۔ ایسی حالت میں ایمان واقعاً انسانی تربیت کے لیے کس قدر موٴثر ہے۔ ہوا و ہوس پر کنٹرول کے لئے یہ ایمان کس قدر مفید ہے۔ یہ ایمان انسان کو کس قدر آگاہی اور بیداری عطا کرتا ہے اور اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: اذ ا کان یوم القیامة دفع للانسان کتاب ثم قیل لہ اقرء - قلت فیعرف ما فیہ- فقال انہ یذکرہ فما من لحظة ولا کلمة ولا نقل قدم ولا شیءٍ فعلہ الا ذکرہ، کانّہ فعلہ تلک الساعة، و لذٰلک قالو یا ویلتنا ما لھٰذا الکتاب لا یغادر صغیرة ولا کبیرة الّا احصاھا۔ روزِ قیامت انسان کے ہاتھ میں اس کا نامہٴ اعمال تھمایا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا: پڑھو۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے امام(ع) سے پوچھا: جو کچھ اس نامہٴ اعمال میں ہو گا کیا وہ شخص اسے پہچان لے گا اور اسے یاد آ جائے گا۔ امام (ع) نے فرمایا: اسے سب کچھ یاد آ جائے گا۔ پلکوں کا جھپکنا، ہر لفظ کا ادا کرنا اور ہر قدم کا اٹھانا مختصر یہ کہ اس نے جو کام بھی انجام دیا اسے ایسے یاد آ جائے گا گویا اس نے ابھی انجام دیا ہے۔ لہٰذا لوگ فریاد کریں گے اور کہیں گے: ہائے افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کسی چھوٹے بڑے کام کو شمار کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ (بحوالہ نورالثقلین، ج ۳، ص ۲۶۷-) اس حقیقت پر ایمان کا تربیتی اثر کہے بغیر واضح ہے۔ واقعاً کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ انسان ایسے عالم پر ایمانِ قاطع رکھتا ہو اور پھر بھی گناہ کرے۔

50
18:50
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِي وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلٗا
اور(وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنوں سے تھا اس لئے وہ اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا‘(ا سکے باوجود تم) میری بجائے اسے اور اس کی اولاد کو اولیا بناتے ہو، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالم لوگ بہت برا بدل اپناتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
18:51
۞مَّآ أَشۡهَدتُّهُمۡ خَلۡقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ أَنفُسِهِمۡ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ ٱلۡمُضِلِّينَ عَضُدٗا
میں نے آسمانوں اور زمینوں کی خلقت کے وقت انہیں نہیں بلایا تھا اور نہ خود انہیں پیدا کرتے وقت انہیں شریک کیا تھا۔اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار نہیں بناتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
18:52
وَيَوۡمَ يَقُولُ نَادُواْ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُم مَّوۡبِقٗا
اس دن کا سوچو کہ جب اللہ کہے گاکہ اب انہیں آواز دو جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے (تاکہ وہ تمہاری مدد کو آئیں ) لیکن انہیں جتنا بھی پکاریں وہ ان کی کچھ نہ سنیں گے اور ہم ان دونوں کے درمیان مرکز ہلاکت بنا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
18:53
وَرَءَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٱلنَّارَ فَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمۡ يَجِدُواْ عَنۡهَا مَصۡرِفٗا
اور سارے مجرم(جہنم کی) آگ دیکھیں گے اور یقین کر لیں گے کہ انہیں آگ میں ڈالا جائیگا۔ آگ ان پر ڈالی جائے گی اور انہیں اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ سمجھائی نہ دے گی۔

تفسیر شیطانوں کو اپنا سر پرست نہ بناؤ

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

قرآن میں کئی مقامات پر خلقتِ آدم(ع) کی داستان بیان ہوئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ فرشتوں نے انھیں سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکمِ خدا کی مخالفت کی۔ جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں یہ تکرار ہمیشہ کسی مقصد کے پیش نظر ہے اور ہر موقع پر کوئی خاص نکتہ پنہاں ہوتا ہے۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ کسی ایک اہم واقعے کے مختلف پہلو ہوں اور جب بھی اس واقعے کا ذکر ہو تو کوئی ایک پہلو ملحوظ نظر ہو۔ گزشتہ مباحث میں مستکبر و مغرور دولت مندوں کے بارے میں ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ اس مثال میں تہی دست مستضعفین کے بارے میں ان کے خیالات بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے انجام کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دراصل روزِ اوّل سے غرور و تکبر ہی انحراف، کفر اور سرکشی کی بنیاد رہا ہے لہٰذا زیرِ بحث آیات میں ابلیس کا ذکر ہے کہ اُس نے حضرت آدم(ع) کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس امر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ شروع ہی سے غرور و تکبر کفر و سرکشی کا سرچشمہ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، اس داستان سے واضح ہوتا ہے کہ انحرافات کا باعث شیطانی وسوسے ہیں اور اس کے وسوسوں کے سامنے سر جھکا دینا کس قدر احمقانہ حرکت ہے کہ جس نے پہلے دن ہی سے ہماری دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ دن یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نافرمانی کی ( وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ)۔ اس استثناء سے ہو سکتا ہے یہ وہم پیدا ہو کہ ابلیس فرشتوں میں سے ہے حالانکہ فرشتے معصوم ہیں لہٰذا اس نے کیونکر سرکشی کی۔ اس لیے ساتھ فرمایا گیا ہے: وہ جنّوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کی اطاعت سے نکل گیا (کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہِ)۔ وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا لیکن اللہ کی بندنگی، اطاعت اور قرب کی وجہ سے اس نے فرشتوں کی صف میں جگہ پالی تھی۔ یہاں تک کہ شاید ان کا استاد ہو گیا تھا لیکن لمحہ بھر کے غرور، تکبر نے اسے ایسا گرایا کہ اُس کا تمام تر روحانی مقام جاتا رہا اور بارگاہِ خدا سے ٹھکرا دیا گیا اور وہ خدا کے نزدیک سب سے بڑھ کر قابلِ نفرت ہو گیا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: کیا اِس کے باوجود تم میری بجائے اسے اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست بناتے ہو (اَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِی)۔ حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں (وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ)۔ اُس نے تمھاری گمراہی اور تباہی کے لیے قسم کھا رکھی ہے اور تمھارے باپ کے بارے میں اس کی دشمنی پہلے روز ہی آشکار ہو گئی تھی۔ خدا کے بدلے شیطان اور اس کی اولاد کو اپنانا کتنا بُرا ہے (بِئْسَ لِلظَّالِمِینَ بَدَلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "بَدَلًا" ترکیب نحوی کے لحاظ سے تمیز ہے اور "بِئْسَ" کا فاعل شیطان اور اس کا لاؤ لشکر ہے یا شیطان اور اس کے لاؤ لشکر کی عبادت فاعل ہے-) واقعاً کس قدر بُری بات ہے کہ انسان عالم و آگاہ، رحیم و مہربان اور فیض رساں خدا کو چھوڑ کر شیطان اور اس کے حواریوں کو اپنا لے۔ یہ بدترین انتخاب ہے، کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک عقلمند انسان ایسے کو اپنا ولی، راہنما اور سہارا سمجھ لے کہ جس نے روزِ اول سے اس کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ اگلی آیت میں اس غلط خیال کے ابطال کے لیے ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: آسمانوں اور زمین کی خلقت کے وقت ہم نے ابلیس اور اولادِ ابلیس کو نہیں بلایا یہاں تک کہ ان کی اپنی تخلیق کے وقت بھی انھیں شریک نہیں کیا (مَا اَشْھَدْتُھُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلَاخَلْقَ اَنفُسِھِمْ)۔ کیونکہ اِس عالم کی خلقت میں ان کی مدد درکار تھی اور نہ اُنھیں آگاہ کیا جانا ضروری تھا۔ لہٰذا جس کا اس عالم کی آفرینش سے کوئی تعلق ہے اور نہ اپنی تخلیق میں کوئی دخل ہے اور نہ رموزِ خلقت کی جسے کچھ خبر ہے وہ ولایت و پرستش کے لائق کیسے ہو سکتا ہے اور اصولی طور پر اس کے بس میں ہے ہی کیا؟ وہ تو ایک ناتوان موجود ہے یہاں تک کہ خد اپنے مسائل سے نا آگاہ ہے تو پھر وہ دوسروں کی کیا رہبری کر سکتا ہے اور دوسروں کو مشکلات سے کیا نجات دلا سکتا ہے؟ آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: میں ہرگز گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا (وَمَا کُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّینَ عَضُدًا)۔ یعنی خلقت تو دوستی اور ہدایت کی بنیاد پر ہے لہٰذا جس کا کام ہی گمراہی کرنا ہو اس نظامِ خلقت کو چلانے میں اس کا دخل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو آفرینش و ہستی کے اس نظام کی بالکل مخالفت سمت میں گامزن ہے تو خرابیاں پیدا کرتا ہے اور ویرانیاں لاتا ہے نہ کہ اصلاح، تکامل اور ارتقاء کے لیے کچھ کرتا ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت ایک مرتبہ پھر خبردار کرتی ہے: اس وقت کا سوچو جب اللہ فرمائے گا کہ جنھیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے انھیں اب اپنی مدد کے لیے آواز دو (وَیَوْمَ یَقُولُ نَادُوا شُرَکَائِی الَّذِینَ زَعَمْتُمْ)۔ ایک عمر تم ان کا دم بھرتے رہے اور ان کے آستانے پر سجدہ کرتے رہے۔ اب جب کہ تمھیں عذاب کی موجوں نے گھیر لیا ہے تو انھیں آواز دو کہ ایک لمحے کے لیے تو تمھاری مدد کو آ جائیں۔ وہ لوگ گویا انہی دنیاوی افکار کے مطابق "انھیں پکاریں گے لیکن یہ خیالی اور جعلی معبود انھیں جواب تک نہیں دیں گے" چہ جائیکہ مدد کو آئیں (فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیبُوا لَھُمْ)۔ اور ان کے درمیان ہم مرکز ہلاکت بنائیں گے (وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَوْبِقًا)۔ (تشریحی نوٹ "موبق"، "وبوق" (بروزن "نبوع") کے مادہ سے ہے کہ جو ہلاکت کے معنی میں ہے اور "موبق" جائے ہلاکت کو کہتے ہیں۔) زیرِ بحث آخری آیت میں شیطان کے پیرو کاروں اور مشرکین کا انجام واضح کیا گیا ہے: اس دن گنہگار جہنم کی آگ دیکھیں گے (وَرَاَی الْمُجْرِمُونَ النَّارَ)۔ وہ آگ کہ جس کے بارے میں انھیں کبھی یقین نہ آتا تھا ان کے آنکھوں کے سامنے ہو گی۔ اس موقع پر انھیں اپنی گزشتہ غلطیوں کا انداز ہو گا "اور اب انھیں یقین آئے گا کہ وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور آگ ان پر ڈالی جائے گی" (فَظَنُّوا اَنَّھُمْ مُوَاقِعُوھَا)۔ پھر انھیں یقین آ جائے گا کہ اب اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے (وَلَمْ یَجِدُوا عَنْھَا مَصْرِفًا)۔ نہ ان کے خود ساختہ معبود ان کی فریاد کو پہنچیں گے نہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے بارے میں موٴثر ہو گی اور نہ جھوٹ، زر یا زور سے وہ جہنم کی آگ سے بچ سکیں گے، وہ آگ کہ جو ان کے اعمال و کردار نے ہکائی ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ "ظنوا" اگرچہ "ظن" کے مادہ سے ہے لیکن یہاں اور بہت سے دیگر مواقع پر یہ لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے اسی لیے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۴۹ میں حضرت طالوت(ع) کے ساتھی حقیقی مومنین اور ثابت قدم مجاہدین کہ جو جابر و ظالم جالوت کے خلاف جنگ کے لیے نکلے، ان کے بارے میں ہے: قَالَ الَّذِینَ یَظُنُّونَ اَنَّھُمْ مُلَاقُو اللهِ کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللهِ جو الله سے ملاقات پر ایمان رکھتے انھوں نے کہا کہ ایسا بہت مرتبہ ہوا ہے کہ چھوٹے سے (باایمان) گروہ نے بڑے گروہ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ضمناً لفظ "مواقعوھا" کہ جو "مواقعقہ" کے مادہ سے ہے ایک دوسرے پر واقع ہونے کے معنی میں ہے، اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بھی آگ میں گریں گے اور آگ بھی ان پر گرے گی، وہ بھی آگ میں داخل ہوں گے اور آگ بھی ان میں داخل ہو گی۔ کیونکہ قرآن کی دوسری آیات میں ہے کہ: گنہگار خود آگ کا ایندھن ہیں۔ (بقرہ۔۲۴)

چند اہم نکات ۱۔ کیا شیطان فرشتہ تھا؟

ہم جانتے ہیں کہ فرشتے معصوم ہیں۔ قرآن نے ان کی پاکیزگی اور عصمت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُونَ، لَایَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہِ یَعْمَلُونَ وہ خدا کے محترم و مکرم بندے ہیں۔ کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ (انبیاء۲۶،۲۷) اصولی طور پر ان کے جوہر میں عقل ہے اور شہوت نہیں ہے لہٰذا تکبر، خودپرستی اور گناہ پر اکسانے والی کوئی چیز ان میں نہیں ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں کہا گیا ہے کہ ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔ اسی طرح کا ذکر دوسری آیات میں بھی ہے۔ اس استثناء سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا جبکہ اس کی نافرمانی اور سرکشی پر نظر کی جائے تو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فرشتہ گناہان کبیرہ کا مرتکب ہو۔ خصوصاً جبکہ نہج البلاغہ کے بعض خطبات میں بھی ہے کہ:- ما کان الله سبحانہ لیدخل الجنة بشرا بامر اخرج بہ منھا ملکا ہرگز ممکن نہیں ہے کہ الله انسان کو ایسا کام کرنے پر بہشت میں بھیج دے جیسا کام کرنے پر اس نے ایک فرشتے کو بہشت سے نکال دیا تھا۔ [بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ)۔ یہ ابلیس کے غرور کی طرف اشارہ ہے۔ زیر نظر آیات نے اس سوال کو حل کر دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "کان من الجن" ابلیس جنوں کے گروہ میں سے تھا۔ جن ایسے موجودات ہیں جو ہماری نظروں سے پنہاں ہیں۔ وہ عقل و شعور بھی رکھتے ہیں اور شہوت و غضب بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ لفظ "جنّ" قرآن میں جہاں کہیں بھی آیا ہے اسی مخلوق کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسرین کہ جن کا نظریہ ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا وہ زیر بحث آیت میں آنے والے لفظ "جنّ" کا لغوی معنی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "کان من الجن" سے مراد یہ ہے کہ ابلیس دیگر فرشتوں کی طرح نظروں سے پنہاں تھا۔ حالانکہ یہ معنی بالکل خلاف ظاہرِ قرآن ہے۔ ہمارے دعویٰ کے ثبوت میں سے واضح دلیل یہ ہے کہ قرآن ایک طرف سے کہتا ہے: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ جنّ کوہم نے آگ کے مخلوق شعلے سے پیدا کیا۔ (رحمٰن۔۱۵) دوسری طرف سے جس وقت ابلیس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس سرکشی کے لیے یہ منطق پیش کی: خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ میری تخلیق تو نے آگ سے کی اور اسے تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ (اعراف۔۱۲) اس سے قطع نظر بحث آیات میں ابلیس کی "ذریہ" (اولاد) کا ذکر ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ فرشتوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ جو کچھ کہا گیا ہے اسے ملحوظ نظر رکھا جائے اور فرشتوں کے جوہر ساخت کو بھی پیش نگاہ رکھا جائے تو مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابلیس ہرگز فرشتہ نہیں تھا لیکن چونکہ ان کی صف میں شامل ہو گیا تھا اور اس نے الله کی اتنی عبادت کی تھی کہ مقربِ خدا، فرشتوں کے مقام تک جا پہنچا تھا لہٰذا جب آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی شامل تھا۔ اس لیے آیاتِ قرآن میں اس کی نافرمانی کا ذکر استثناء کی صورت میں آیا ہے نیز خطبہ قاصعہ میں اسے "ملک" مجازی طور پر کہا گیا ہے (غور کیجیے گا)۔ "عیون الخبار" میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے: سب فرشتے معصوم ہیں اور لطف پروردگار سے کفر اور برائیوں سے محفوظ ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: تو کیا ابلیس فرشتہ نہیں تھا؟ امامؑ نے فرمایا: نہیں جنّوں میں سے تھا۔ کیا تو نے ا لله کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ وہ فرماتا ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِاسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ کَانَ مِنَ الْجِن جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اور وہ جنوں میں سے تھا۔ (بحوالہ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۶۷-) ایک اور حدیث میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے ایک خاص صحابی کہتے ہیں: میں نے اما مؑ سے ابلیس کے بارے میں استفسار کیا کہ وہ فرشتوں میں سے تھا؟ آپ(ع) نے فرمایا: نہیں وہ تو جنّوں میں سے تھا لیکن فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس سے ان کے ساتھ تھا کہ وہ (اس کی عبادت اور قرب الٰہی کے سبب) سمجھتے تھے کہ وہ انہی کی نوع میں ہے لیکن خدا جانتا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہے۔ جس وقت سجدے کا حکم ہوا تو یہ بات ظاہر ہوئی (پردے ہٹ گئے اور ابلیس کی اہیت و حقیقت آشکار ہو گئی)۔ (بحوالہ نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۶۷-) ابلیس اور شیطان کے بارے میں ہم نے سورہٴ اعراف کی آیت ۱۱ تا ۱۸ (تفسیر نمونہ۶(۹۵) اردو ترجمہ) اور سورہٴ انعام کی آیت ۱۱۲ (تفسیر نمونہ۵ (۳۲۶) اردو ترجمہ) اور سورہٴ بقرہ کی آیت ۳۴ (تفسیر نمونہ جلد اوّل (۱۶۶) اردو ترجمہ) کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔

۲۔ گمراہوں کو تعاون کی دعوت نہیں دینا چاہئیے

زیر نظر آیات میں الله کے بارے میں گفتگو ہے اور گمراہوں میں سے اس کے لیے یاور و مددگار کی نفی کی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اصولی طور پر الله کسی معین و مددگار کا محتاج نہیں، چاہے کوئی گمراہ ہو یا نہ ہو لیکن یہ سب کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ اجتماعی کاموں میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی مدد حاصل کی جائے کہ جو خود بھی حق و عدالت کے راستے پر ہوں اور طلب اعانت کرنے والا بھی صحیح راستہ کے لئے مدد چاہے۔ ہم نے بہت دیکھا ہے کہ نیک افراد نے معاونین کے انتخاب کے وقت صحیح توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں بہت سی مشکلات، ناکامیوں اور انحراف سے دوچار ہوئے ہیں۔ انھیں گمراہوں اور گمراہ والوں نے گھیر لیا ہے اور یہ لوگ ان کے کام کو تباہی کی طرف لے گئے ہیں۔ آخرکار ایسے لوگوں نے ان کا سب کچھ برباد کر دیا ہے۔ واقعہٴ کربلا میں ہے کہ دَورانِ راہ سرورِ شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ملاقات عبیدالله بن حر سے ہو گئی۔ امام(ع)، عبیدالله سے ملنے کے لیے گئے تو اس نے آپ(ع) کا بہت احترام کیا لیکن جب امام(ع) نے اسے مدد کی دعوت دی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تو کوفے سے اسی لیے نکلا ہوں کہ اس جنگ سے کنارہ کش ہو جاوٴں۔ اس نے مزید کہا: میں جانتا ہوں کہ اگر ان لوگوں سے آپ نے جنگ کی تو سب سے پہلے آپ(ع) ہی مارے جائیں گے۔ البتہ یہ تلوار اور گھوڑا آپ(ع) کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ امام(ع) نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: جب تو اپنی جان بچاتا ہے تو ہمیں تیرے مال کی ضرورت نہیں۔ پھر آپ(ع) نے اس آیت کی تلاوت کی: وَمَا کُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّینَ عَضُدًا یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تو گمراہ کنندہ ہے لہٰذا تو اس قابل نہیں کہ تیرا یہ تعاون قبول کیا جائے۔ (بحوالہ نورالثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۶۸-) بہرحال، دوست اور مددگار کا نہ ہونا برے لوگوں سے مدد لینے اور انھیں اپنے گرد جمع کر لینے سے بہتر ہے۔

54
18:54
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا
اس قرآن میں ہم نے لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑا لو ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
18:55
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا
انسانوں کے ایمان لانے اور اپنے رب سے طلب مغفرت میں اس کے سوا کیا امر مانع ہے کہ وہ بھی سابقہ لوگوں کے سے انجام کے منتظر ہیں یا یہ کہ عذاب الٰہی کو دیکھنے کے منتظر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
18:56
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا
اور ہم نے رسولوں کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور کفار حق کو نیچا دکھانے، ہماری ان آیتوں اور سزاؤں کا مذاق اڑانے کیلئے جھگڑتے رہتے ہیں۔

تفسیر گویا وہ عذاب کے منتظر ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں گویا گزشتہ اور آئندہ کی بحثوں کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس قرآن میں ہم نے لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کی ہے(وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی ھٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَل)۔ گزشتہ لوگوں کی ہلا کر رکھ دینے والی تاریخ کے مختلف نمونے ہم نے پیش کیے ہیں۔ ہم نے ان کی زندگی کے دردناک واقعات اور تلخ و شیرین باتیں لوگوں کو بتائی ہیں اور مسائل کو ایسی نچلی سطح پر بیان کیا گیا ہے کہ آمادہ دل حق کو قبول کر لیں اور باقی لوگوں کے لیے اتمام حجت ہو جائے اور کسی ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن اس کے باوجود سرکش لوگ بالکل ایمان نہ لائے کیونکہ "انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے" (وَکَانَ الْإِنسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا)۔ "صرفنا" ’ "تصریف" کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے تبدیل کرنا، دگرگوں کرنا اور ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا۔ زیر بحث آیت میں اس لفظ کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے مختلف انداز میں اور ہر اس پیرائے جس میں تاثیر کا امکان تھا لوگوں سے گفتگو کی ہے۔ "جدل" اس گفتگو کو کہتے ہیں کہ جو جھگڑے اور دوسرے پر تسلط حاصل کرنے کے لیے ہو۔ لہٰذا "مجادلہ" دو آدمیوں کی آپس میں تُو تکرار اور کھینچا تانی کو کہتے ہیں جیسا کہ راغب نے کہا ہے: یہ لفظ "جدلت الحبل" (رسی کو مضبوطی سے بٹ دیا) سے لیا گیا ہے۔ گویا جو شخص اس انداز سے بات کرتا ہے وہ مدمقابل کے افکار کو زبردستی لپٹ میں لے لینا چاہتا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "جدال" دراصل کشتی لڑنے اور دوسرے کو زمین پر پٹخنے کے معنی میں ہے اور یہ لفظ لفظی اور زبانی جھگڑوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال، یہاں انسانوں سے مراد غیر تربیت یافتہ انسان ہیں۔ اس کی نظیر قرآن میں بہت ہے۔ اس سلسلے میں تفصیلی بحث ہم سورہٴ یونس کی آیت ۱۲ کے ذیل میں کر آئے ہیں (نمونہ، جلد ۶ص ۱۹۲ اردو ترجمہ)۔ اگلی آیت میں ہے: ایسی طرح طرح کی مثالیں پیش کی گئیں، ہلا دینے والے واقعات بیان کے گیے اور منطق و دلیل سے بات کی گئی۔ جس انسان کا دل صاف ہے اس پر ان چیزوں کو ضرور اثر کرنا چاہئے پھر بھی بہت سے ایسے گروہ ہیں کہ جو ایمان نہیں لائے "ہدایت الٰہی آ جانے کے بعد ایمان اور طلب مغفرت میں لوگوں کو سوائے اس کے کونسا امر مانع تھا کہ وہ گزشتہ لوگوں کے سے انجام کے منتظر تھے" (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُؤْمِنُوا إِذْ جَائَھُمَ الْھُدیٰ وَیَسْتَغْفِرُوا رَبَّھُمْ إِلاَّ اَنْ تَاْتِیَھُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِینَ)۔ اور یا پھر وہ اس بات کے منتظر تھے کہ عذاب الٰہی کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں (اَوْ یَاْتِیَھُمَ الْعَذَابُ قُبُلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "قبل" مقابلہ اور سامنے کے معنی میں ہے یعنی الٰہی کو وہ اپنے مقابلے اور سامنے دیکھیں۔ طبرسی نے مجمع البیان میں، ابو الفتوح نے روح الجنان میں اور آلوسی نے روح المعانی میں یہی احتمال ذکر کیا ہے کہ "قبیل" کی جمع "قبل" عذاب کی مختلف نوعیتوں کی طرف اشارہ ہے لیکن پہلا معنی زیاہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔) یہ آیت درحقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم اور مغرور لوگ ہرگز اپنے ارادے اور رغبت سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ صرف دو صورتوں میں ایمان لائیں گے۔ پہلی یہ کہ جیسے گزشتہ قوموں کو غذاب نے آ گھیرا تھا اسی طرح انھیں بھی آ گھیرے اور دوسری یہ کہ کم از کم یہ غذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ایسے اضطراری ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ایسی قوموں کو ہرگز ایسا کوئی انتظار نہ تھا بلکہ ان کی کیفیت ایسی تھی کہ گویا وہ اس انتظار میں ہوں اور یہ ایک قسم کا خوبصورت کنایہ ہے۔ جیسے ہم کسی سرکش آدمی سے کہیں کہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تجھے سزا ملے یعنی تجھے بہرحال، سزا ملے گی اور تو گویا سزا کے انتظار میں ہے۔ بہرحال، سرکش اور مغرور انسان کبھی اس حالت کو جا پہنچتا ہے کہ وحی آسمانی، انبیاء کی مسلسل تبلیغ، معاشرتی زندگی کے عبرت ناک درس اور گزشتہ لوگوں کی تاریخ۔ کوئی چیز بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ صرف خدا کی لاٹھی ہی سے اس کی عقل ٹھکانے آ سکتی ہے۔ لیکن نزولِ عذاب کے وقت تو توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور پھر لوٹ آنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔ اس کے بعد مخالفین کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی تسلی اور دلجوئی کے لیے فرمایا گیا ہے: تیری ذمہ داری تو صرف بشارت اور انداز ہے۔ ہم نے انبیاء و مرسلین کو بشارت و انداز کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں بھیجا (وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ایسے لوگ مخالفت کرنے لگیں اور مذاق اڑائیں "کافر اور ہٹ دھرم لوگ ہمیشہ غلط طور پر جھگڑتے رہے ہیں، اس زعم میں کہ حق کو ختم کر دیں اور قیامت و عذاب کے بارے میں ہماری آیتوں کا مذاق اڑائیں" (وَیُجَادِلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَمَا اُنْذِرُوا ھُزُوًا)۔ (تشریحی نوٹ "یدحضوا"، "ادحاض" کے مادہ سے ابطال اور زائل کرنے کے معنی میں ہے اور اصل میں یہ "دحض" سے لیا گیا ہے کہ جو لغزش کے معنی میں ہے۔) یہ آیت درحقیقت سورہٴ حج کی آیات ۴۲ تا ۴۵ کے مشابہ ہے۔ ان میں ہے: وَإِنْ یُکَذِّبُوکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُود--- اگر انھوں نے تیری تکذیب کی ہے تو تجھ سے پہلے قومِ نوح، عاد اور ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انبیاء جبر و اکراہ سے کام نہیں لیتے بلکہ ان کی ذمہ داری بشارت و انداز ہے۔ آخری ارادہ خود لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ وہ کفر و ایمان کے انجام کے بارے میں سوچ سمجھ لیں اور اپنے آزادانہ ارادے سے ایمان لائیں نہ یہ کہ غذابِ الٰہی کو سامنے پا کر اضطراری طور پر اظہارِ ایمان کریں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آزادی و اختیار کہ جو وسیلہٴ تکامل ہے اس سے زیاہ تر غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے اور طرفدارانِ باطل نے ہمیشہ حق سے جھگڑا کیا ہے۔ کبھی مغالطے پیدا کر کے اور کبھی مذاق اڑا کر انھوں نے چاہا ہے کہ دینِ حق کو ختم کر دیں لیکن جن کے دلوں کے دریچے حق کے لیے کھُلے تھے انھوں نے حمایتِ حق میں قیام کیا اور حق و باطل کی یہ جنگ پوری تاریخ میں جاری رہی ہے۔

57
18:57
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا
ان سے بڑھ کر کون ظالم ہے کہ جنہیں پروردگار کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھ سے کیا ہوتا ہے اسے بھول جاتے ہیں ان کے دلوں پر ہم نے پردہ ڈال دیا ہے تاکہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کان ہم نے بھاری کر دیئے ہیں (تاکہ انہیں آواز حق سنائی نہ دے) یہی وجہ ہے کہ اگر تم انہیں ہدایت کی طرف پکارو گے تو وہ ہرگز ہدایت حاصل نہیں کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
18:58
وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَۚ بَل لَّهُم مَّوۡعِدٞ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡئِلٗا
اور تیرا رب بخشنے والا،اور صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ انہیں ان کے اعمال کی سزا دینا چاہتا تو ان کے لئے فوراًعذاب بھیج دیتا،لیکن ان کے لئے ایک وعدہ گا ہ ہے کہ جہاں پہنچنے سے وہ رہ نہیں سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
18:59
وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدٗا
یہ قریہ اور آبادیاں (جنہیں تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو) وہ ہیں کہ جب انہوں نے ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا اور(پھر بھی) ان کی ہلاکت کے لئے ہم نے معیاد مقرر کی۔

تفسیر عذاب الٰہی میں جلدی نہیں ہوسکتی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں تاریک دل متعصب کافروں کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیرِ نظر آیات میں بھی وہی سلسلہ گفتگو جاری ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جنھیں ان کے رب کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہِ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ)۔ لفظ “تذُکِّر” (یاد دہانی) گویا اس طرف اشارہ ہے کہ انبیاء کی تعلیمات حقائق کی یاد آواری کی طرح ہیں۔ گویا یہ تعلیمات روحِ انسانی کی گہرائیوں میں موجود ہوتی ہیں اور انبیاء کا کام ان کے چہرے سے پردہ ہٹانا ہے۔ یہی مفہوم نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں بھی ہے: لیستادوھم میثاق فطرتہ و یذکروھم منسی نعمتہ و یحتجوا الیھم بالتبلیغ و یثیروا لھم دفائن العقول انبیاء کی بعثت کا ہدف یہ تھا کہ وہ انسانوں کو عہدِ فطرت پورا کرنے پر ابھاریں، انھیں خدا کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، تبلیغ کے ذریعے ان پر اتمامِ حجت کریں اور عقل کے پنہاں خزانے آشکار کریں۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ان دل کے اندھوں کو تین طرح سے بیداری کا درس دیا گیا ہے۔ اوّل: یہ کہ یہ حقائق تمھاری فطرت، وجدان اور روح سے مکمل آشنائی رکھتے ہیں۔ دوم: یہ کہ تمھارے رب کی طرف سے ہیں۔ سوم: یہ کہ یہ نہ بھول جاؤ کہ تم نے بہت سی غلطیاں کی ہیں اور انبیاء کی تعلیم کا مقصد ان کے اثرات کو دُور کرنا ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے "کیونکہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے گِرا دیئے ہیں تاکہ وہ سمجھ نہ پائیں اور ان کے کان بوجھل کر دیئے ہیں تاکہ وہ آوازِ حق سن نہ سکیں" (إِنَّا جَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ اَکِنَّةً اَنْ یَفْقَھُوہُ وَفِی آذَانِھِمْ وَقْرًا)۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں "اکنة"، "کنان" (بروزن "کتاب") کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے پردہ یا وہ چیز جو چھپا دینے والی ہو اور "وقر" کان کے بوجھل پن اور کم سننے کے معنی میں ہے۔) یہی وجہ ہے کہ "اگر تم انھیں حق کی طرف پکارو تو وہ ہرگز ہدایت قبول نہیں کریں گے" (وَإِنْ تَدْعُھُمْ إِلَی الْھُدیٰ فَلَنْ یَھْتَدُوا إِذًا اَبَدًا)۔ شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ اگر اللہ نے قوت ادراک اور قوت سماعت چھین لی ہے تو اس کی وجہ ہے "ما قدمت یداہ" (ان کے وہی اعمال جو انھوں نے خود کیے ہیں) اور یہ سزا خود انہی کے اعمال کا سیدھا نتیجہ ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں ان کے وہی بُرے اور شرمناک اعمال ہی ان کے دلوں پر پردے اور ان کے کانوں کے لیے بوجھل پن میں تبددیل ہو گئے ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ذکر قرآن کی بہت سی آیات میں ہے۔ مثلاً سورہٴ نساء کی آیت ۱۵۵ میں ہے: بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَلَایُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا۔ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہٰذا بہت کم لوگ ایمان لانے والے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اسلام کو مکتب جبر و اکراہ ثابت کرنے کے لیے بہانے تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے زیرِ بحث آیت کے دوسرے جملوں کو نظر میں نہیں رکھا اور اس کی تفسیر کرنے والی دیگر آیتوں کو بھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے اس کے ایک حصّے کے ظاہری لفظی معنی کا سہارا لے کر اپنا نقطہ نظر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ جیسے ہم نے بیان کیا ہے اس اشکال کا جواب پوری طرح واضح ہے۔ خدا کا تربیتی پروگرام ایسا ہے کہ وہ بغیر مہلت اور موقع دیئے ظالم بادشاہوں کی طرح فوراً سزا نہیں دیتا۔ اس کی وسیع رحمت کا تقاضا ہے کہ گنہگاروں کو زیادہ سے زیادہ مہلت دی جائے اور اصلاح کا موقع دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: تیرا رب بخشنے والا اور صاحبِ رحمت ہے (وَرَبُّکَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ)۔ اگر وہ انھیں سزا دینا چاہتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا (لَوْ یُؤَاخِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوا لَعَجَّلَ لَھُمَ الْعَذَابَ)۔ لیکن ان کے لیے ایک معیاد مقرر ہے کہ جب وہ پوری ہو گئی تو پھر وہ بچ کر نہیں جائیں گے (بَلْ لَھُمْ مَوْعِدٌ لَنْ یَجِدُوا مِنْ دُونِہِ مَوْئِلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "موئل"، "وئل" (بروزن "سرد") کے مادہ سے ملجا، پناہ گاہ اور ذریعہٴ نجات کے معنی میں ہے۔) اس کی بخشش کا تقاضا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو بخش دے اور اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے عذاب میں بھی جلدی نہ کرے، شاید وہ توبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں لیکن اس کی عدالت کا بھی تقاضا ہے کہ جب سرکشی انتہا کو پہنچ جائے تو پھر ان کا حساب بےباک کر دے۔ وہ فاسد و مفسد افراد کو جن کی اصلاح کی امید تک باقی نہ رہے اصولی طور پر ایسے لوگوں کی بقاء حکمت خلقت کی نظر سے کوئی معنی نہیں رکھتی لہٰذا ان کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ زمین ان کے وجود ناپاک سے پاک ہو جائے۔ آخر میں ایک اور یاد دہانی ہے۔ آیات کے اس سلسلے کے آخر میں گزشتہ ظالموں کا دردناک انجام یاد دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور یہ آبادیاں کہ جو ویرانوں میں بدل چکی ہیں، جب یہ لوگ ظلم و ستم کے مرتکب ہوئے تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا لیکن اس کے باوجود ہم نے انھیں عذاب کرنے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے ایک معیاد مقرر کی ہے (وَتِلْکَ الْقُریٰ اَھْلَکْنَاھُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَھْلِکِھِمْ مَوْعِدًا)۔

60
18:60
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِيَ حُقُبٗا
وہ وقت یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنے دوست سے کہا میں تلاش جاری رکھوں گا جبتک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں اگرچہ اس کیلئے مجھے طویل سفر جاری رکھنا پڑے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
18:61
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ سَرَبٗا
جس وقت وہ ان دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو انہیں اپنی مچھلی کا خیال نہ رہا (جو انہوں نے پکا کر کھانے کیلئے پکڑ رکھی تھی)اور وہ نکل بھاگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
18:62
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبٗا
آگے جا کر موسیٰ نے اپنے ہمسفر دوست سے کہا: لاؤ ہمارا کھانا لے آؤ۔ہم اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
18:63
قَالَ أَرَءَيۡتَ إِذۡ أَوَيۡنَآ إِلَى ٱلصَّخۡرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ ٱلۡحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُۥۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ عَجَبٗا
اس نے کہا :آپ کو یاد ہے کہ جب ہم نے اس پتھر کے پاس پناہ لی تھی (اور آرام کیا) تو میں مچھلی کے بارے میں بتانا بھول گیا تھا اور یہ بات شیطان نے میرے ذہن سے نکال دی تھی اور مچھلی عجیب طریقے سے دریا کی طرف چلتی بنی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
18:64
قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِۚ فَٱرۡتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصٗا
(موسیٰ نے)کہا :اسی کو تو ہم ڈھونڈھ رہے تھے پھر وہ اسے تلاش کرتے ہوئے اسی راستے سے واپس آئے۔

تفسیر خضر(ع) اور موسی(ع) کی حیرت انگیز داستان

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

مفسّرین نے ان آیات کی شان نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ کچھ اہل قریش رسول اللهؐ کی خدمت میں آئے۔ انھوں نے آپ سے اس عالم کے بارے میں سوال کیا کہ حضرت موسیٰ کو جس کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ آیات اسی ضمن میں نازل ہوئی ہیں۔ اصولی طور اِس سورت کہف میں تین واقعات بیان ہوئے ہیں۔ یہ تینوں ایک لحاظ سے ہم آہنگ ہیں۔ پہلا واقعہ ذوالقرنین کے بارے میں ہے، حضرت موسی(ع) اور حضرت خضر(ع) کی داستان ہے، تیسرا واقعہ ذوالقرنین کے بارے میں ہے جو بعد میں آئے گا۔ یہ تینوں واقعات ہمیں ہماری اس محدود زندگی سے باہر نکالتے ہیں جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جہان اسی میں محدود نہیں کہ جو کچھ ہمیں لگتا ہے اور نہ ہی واقعات کی حقیقت بس وہی ہے جو ہمیں معلوم ہوتی ہے یا جو ہم سمجھتے ہیں۔ بہرحال، اصحاب کہف کا واقعہ ایسے جوانمردوں کی کہانی ہے کہ جنھوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہر چیز کو ٹھوکر مار دی۔ حضرت موسی(ع) اور خضر(ع) کہ جو اس زمانے کے بڑے عالم تھے ان کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ یہ واقعہ نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت موسی(ع) جیسے اولوالعزم پیغمبر کہ جو اپنے ماحول کے آگاہ ترین اور عالم ترین فرد تھے، بعض پہلووٴں سے ان کا علم محدود تھا لہٰذا وہ اس سے درس لیں۔ استاد نے بھی ایسے درس دیئے کہ جن میں سے ہر ایک دوسرے سے عجیب تر ہے۔ اس داستان میں بہت سے اہم نکات پوشیدہ ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے دوست اور ساتھی جوان سے کہا کہ میں تو کوشش جاری رکھوں گا جب تک ”مجمع البحرین“ تک نہ پہنچ جاؤں، اگرچہ مجھے یہ سفر لمبی مدت تک جاری رکھنا پڑے (وَإِذْ قَالَ مُوسیٰ لِفَتَاہُ لَااَبْرَحُ حَتَّی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا)۔ اس آیت میں ”موسیٰ“ سے مراد بلاشبہ وہی مشہور اولوالعزم پیغمبر حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ مفسرین اس واقعے سے ابھرنے والے چند سوالات کا جواب تلاش نہیں کر پائے لہٰذا وہ مجبور ہوئے ہیں کہ کوئی اور موسیٰ فرض کریں حالانکہ قرآن نے جہاں کہیں ”موسیٰ“ کی بات کی ہے وہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہی مراد ہیں۔ بہت سے مفسرین اور بہت سی روایات کے مطابق آیت میں ”ِفَتَاہ“ سے مراد ”یوشع بن نون“ ہیں۔ وہ بنی اسرائیل کے رشید، شجاع اور باایمان جوانمرد تھے ۔ ہو سکتا ہے اُن کے لیے لفظ ”فتیٰ“ (جوان) انہی برجستہ صفات کی بناء پر ہو یا اس لیے کہ وہ حضرت موسیٰ(ع) کی خدمت کرتے تھے، ان کے ہمراہی اور ہم قدم تھے۔ ”مجمع البحرین“ کا مطلب ہے دو دریاؤں کا سنگم۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ ”بحرین“ سے یہاں کون سے دو دریا ہیں۔ اس سلسلے میں تین مشہور نظریے ہیں: ۱۔ خلیج عقبہ اور خلیج سویز کے ملنے کی جگہ۔ ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ احمر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک حصہ شمال مشرق کی طرف بڑھتا رہتا ہے اور دوسرا شمال مغرب کی طرف، پہلے حصے کو ”خلیج عقبہ“ کہتے ہیں اور دوسرے کو ”خلیج سویز“ اور یہ دونوں خلیجیں جنوب میں پہنچ کر آپس میں مل جاتی ہیں اور پھر بحیرہ احمر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ ۲۔ اس سے بحرِ ہند اور بحیرہ احمر کے ملنے کی طرف اشارہ ہے کہ جو ”باب المندب“ پر جا ملتے ہیں۔ ۳۔ یہ بحیرہ روم اور بحرِ اطلس کے سنگم کی طرف اشارہ ہے کہ جو شہر طنجہ کے پاس جبل الطارق کا تنگ دہانہ ہے۔ تیسری تفسیر تو بہت ہی بعید نظر آتی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ(ع) جہاں رہتے تھے وہاں سے جبل الطارق کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اس زمانے میں حضرت موسیٰ اگر عام راستے سے وہاں جاتے تو کئی ماہ لگ جاتے۔ دوسری تفسیر میں جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے اس کا فاصلہ اگرچہ نسبتاً کم بنتا ہے لیکن اپنی حد تک وہ بھی زیادہ ہے کیونکہ شام سے جنوبی یمن کا فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے۔ پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جہاں رہتے تھے وہاں سے یعنی شام سے خلیج عقبہ تک کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ ویسے بھی زیرِ نظر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) نے کوئی زیادہ سفر طے نہیں کیا تھا اگرچہ وہ مقصد تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ سفر کے لیے بھی تیار تھے (غور کیجئے گا)۔ بعض روایات میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ نظر آتا ہے۔ لفظ ”حقب“، ’’عرصہ دراز“ کے معنی میں ہے۔ بعض نے اس کی ۸۰ سال سے تفسیر کی ہے۔ اس لفظ سے حضرت موسیٰ(ع) کا مقصد یہ تھا کہ مجھے جس کی تلاش ہے میں اسے ڈھونڈھ کے رہوں گا چاہے اس مقصد کے لیے مجھے سالہا سال تک سفر جاری رکھنا پڑے۔ جو کچھ سطورِ بالا میں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) کو کسی نہایت اہم چیز کی تلاش تھی۔ وہ اس کی جستجو میں در بدر پھر رہے تھے۔ وہ عزم بالجزم اور پختہ ارادے سے اسے ڈھونڈھ رہے تھے۔ وہ ارادہ کیے ہوئے تھے کہ جب تک اپنا مقصود نہ پا لیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ حضرت موسیٰ(ع) جس کی تلاش پر مامور تھے اس کا آپ(ع) کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا اور اس نے آپ(ع) کی زندگی کا نیا باب کھول دیا۔ جی ہاں! وہ ایک مردِ عالم و دانشمند کی جستجو میں تھے۔ ایسا عالم کہ جو حضرت موسیٰ(ع) کی آنکھوں کے سامنے سے بھی حجاب ہٹا سکتا تھا اور انھیں نئے حقائق سے روشناس کروا سکتا تھا اور ان کے لیے علوم و دانش کے تازہ باب کھول سکتا تھا۔ ہم اس سلسلے میں جلد پڑھیں گے کہ اس عالمِ بزرگ کی جگہ معلوم کرنے کے لیے حضرت موسیٰ(ع) کے پاس ایک نشانی تھی اور وہ اس نشانی کے مطابق ہی چل رہے تھے۔ بہرحال، جس وقت وہ ان دو دریاؤں کے سنگم پر جا پہنچے تو ایک مچھلی کہ جوان کے پاس تھی اسے بھول گئے (فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا نَسِیَا حُوتَھُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا)۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ”سرب“ (بروزن ”جرب“) نشیب کی طرف جانے کے معنی میں ہے اور ”سرب“ (بروزن ”جرب“) نشیبی راستے کے معنی میں ہے ۔) یہ مچھلی جو ظاہراً ان کے پاس غذا کے طور پر تھی۔ کیا بھونی ہوئی تھی اور اسے نمک لگا ہوا تھا یا یہ تازہ مچھلی تھی کہ جو معجزانہ طور پر زندہ ہوکر اچھل کر پانی میں جا کر تیرنے لگی۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض کتب تفاسیر میں یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں آبِ حیات کا چشمہ تھا۔ اس کے کچھ قطرات مچھلی پر پڑگئے جس سے مچھلی زندہ ہو گئی۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ مچھلی ابھی پوری طرح مری نہ تھی کیونکہ بعض مچھلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو پانی سے نکلنے کے بعد بہت دیر تک نیم جاں صورت میں رہتی ہیں اور اس مدت میں پانی میں گر جائیں تو ان کی معمولی کی زندگی پھر شروع ہوجاتی ہے۔ آخر کار موسیٰ(ع) اور ان کے ہمراہی دو دریاؤں کے سنگم سے آگے نکل گئے تو لمبے سفر کے باعث انھیں خستگی کا احساس ہوا اور بھوک بھی ستانے لگی۔ اس وقت موسیٰ(ع) کو یاد آیا کہ غذا تو ہم ہمراہ لائے تھے لہٰذا انھوں نے اپنے، ہمسفر دوست سے کہا ہمارا کھانا لائیے۔ اس سفر نے بہت تھکادیا ہے (فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاہُ آتِنَا غَدَائَنَا لَقَدْ لَقِینَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا)۔ ”غَدَاء“نا شتے کو یادد دو پہر کے کھانے کو کہتے ہیں لیکن کتبِ لغت میں جو تعبیرات آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں ”غَدَاء“ صرف اس کھانے کو کہتے تھے جو دن کی ابتداء میں کھایا جاتا تھا کیونکہ یہ لفظ ”غَدَوة“ سے لیا گیا دن کے آغاز کے معنی میں ہے جبکہ موجودہ عربی زبان میں”غَدَاء“ ا ور ”تغدی“ د ن یا دن کے کھانے کو کہتے ہیں۔ بہرحال، یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) اور حضرت یوشع(ع) نے اتنا راستہ طے کرلیا تھا کہ جس پر سفر کا اطلاق ہوتا تھا لیکن یہی تعبیرات نشاندہی کرتی ہیں کہ سفر کچھ زیادہ طولانی نہ تھا۔ اس وقت ”ان کے ہمسفر نے انھیں خبردی کہ آپ کو یاد ہے کہ جب ہم نے اس پتھر کے پاس پناہ لی تھی (اور آرام کیا تھا) تو مجھے مچھلی کے بارے میں بتانا یاد نہ تھا اور شیطان ہی تھا جس نے یہ بات مجھ بھلادی تھی۔ ہوا یہ کہ مچھلی نے بڑے حیران کن طریقے سے دریا کی راہ لی اور پانی میں چلتی بنی “(قَالَ اَرَاَیْتَ إِذْ اَوَیْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا اَنْسَانِیہ إِلاَّ الشَّیْطَانُ اَنْ اَذْکُرَہُ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا)۔ (تشریحی نوٹ: ”وَمَا اَنْسَانِیہ إِلاَّ الشَّیْطَانُ اَنْ اَذْکُرَہُ“۔ یہ جملہ معترضہ ہے کہ جو بات کے بیچ میں آگیا ہے۔ یہ جملہ درحقیقت بھول جانے کی علت بیان کر رہا ہے اس لیے درمیان میں آگیا ہے۔ خصوصاً ایسے اشخاص کہ جنھیں کسی بزرگ تر شخصیت کی طرف سے عتاب و خطاب ہو رہا ہو معمولاً وہ علتِ اصلی کو اپنی گفتگو کے بیچ میں جملہ معترضہ کی صورت میں ذکر کر دیتے ہیں تاکہ اعتراض کم ہو جائے۔) یہ معاملہ چونکہ موسیٰ(ع) کے لیے اس عالمِ بزرگ کو تلاش کرنے کے لیے نشانی کی حیثیت رکھتا تھا لہٰذا ”موسیٰ(ع) نے کہا: یہی تو ہمیں چاہئے تھا اور یہی چیز تو ہم ڈھونڈتے پھرتے تھے“(قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ)۔ اور اُس وقت وہ تلاش کرتے ہوئے اسی راہ کی طرف پلٹے (فَارْتَدَّا عَلیٰ آثَارِھِمَا قَصَصًا)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) جیسے پیغمبر نسیاں کا شکار ہوجائیں کیونکہ قرآن کہتا ہے: ”نسیا حوتہما“ وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ علاوہ ازیں، یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ(ع) کے ہمسفر نے اپنی بھول کی نسبت شیطان کی طرف کیوں دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ جن مسائل کا تعلق احکام ِ الٰہی اور امورِ تبلیغی سے نہ ہو یعنی روز مرّہ کے عام مسائل ہوں ان میں نسیاں ہو جائے (خصوصاً ایسے موقع پر جہاں معاملے کا تعلق آزمائش سے ہو جیسا کہ اس موقع پر حضرت موسیٰ(ع) کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس کی تشریح بعد میں آئے گی)۔ (تشریحی نوٹ: یہ جواب اطمیان بخش نہیں ہے، خصوصاً شیعہ مسلک کے حوالے سے (مترجم))۔ باقی رہا آپ کے ہمسفر کا نسیاں کی نسبت شیطان کی طرف دینا۔ تو ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ مچھلی کا معاملہ اس عالمِ بزرگ کو پانے اور اس کی ملاقات سے مربوط تھا اور چونکہ شیطان ہر نیکی میں حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا چاہا کہ اس ملاقات میں انھیں دیر ہو جائے اور شاید اس کی بنیاد خود یوشع کی طرف سے پڑی ہوکہ اس کام میں جس قدر اہتمام اور احتیاط ضروری تھی وہ انھوں نے نہ کی ہو۔

65
18:65
فَوَجَدَا عَبۡدٗا مِّنۡ عِبَادِنَآ ءَاتَيۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَعَلَّمۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلۡمٗا
(وہاں )انہیں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ملا،وہ بند ہ کہ جسے ہم نے اپنی رحمت عطا فرمائی تھی اور جسے ہم نے اپنی طرف سے بہت سا علم دیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
18:66
قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدٗا
موسیٰ نے اس سے کہا: مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کی پیروی کروں تاکہ جو علم آپ کو عطا کیا گیا ہے اور جو باعث رشد و اصلاح ہے آپ وہ مجھے سکھلا دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
18:67
قَالَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اس نے کہا :تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
18:68
وَكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلَىٰ مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ خُبۡرٗا
اور جس چیز کے رموز سے تم آگاہ ہی نہیں ہو تو تم اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
18:69
قَالَ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرٗا وَلَآ أَعۡصِي لَكَ أَمۡرٗا
(موسیٰ نے) کہا انشاء اللہ مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی امر میں آپ کے حکم کی مخالفت نہیں کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
18:70
قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعۡتَنِي فَلَا تَسۡـَٔلۡنِي عَن شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ أُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرٗا
(خضرنے) کہا: اچھا اگر تم چاہتے ہو تو میرے پیچھے پیچھے آ جاؤ اور دیکھو کسی مسئلہ کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود (مناسب موقع پر) تم سے بیان کروں گا۔

تفسیر عظیم اُستاد کی زیارت

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جس وقت موسیٰ(ع) اور ان کے ہمسفر دوست مجمع البحرین اور پتھر کے پاس پلٹ کر آئے تو "اچانک ہمارے بندوں میں سے ایک بندے سے ان کی ملاقات ہو گئی۔ وہ بندہ کہ جس پر ہم نے اپنی رحمت کی تھی اور جسے ہم نے بہت سے علم و دانش سے نوازا تھا " (فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَیْنَاہُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاہُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا)۔ "وَجَدَا" کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اسی عالم کی تلاش میں تھے اور آخرکار انھوں نے اسے "پالیا"۔ "عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا" (ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ)۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ انسان کے لئے بہترین اعزاز و اعتماد یہ ہے کہ وہ خدا کا سچا بندہ ہو اور یہ مقامِ عبودیت ہی ہے کہ جہاں انسان پر رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے اور علوم کے دریچے اس کے دل کے سامنے کھل جاتے ہیں۔ "مِنْ لَدُنَّا" کی تعبیر بھی بتاتی ہے کہ اس عالم کا علم معمولی اور عام سا نہیں تھا بلکہ اس جہان کے ایسے اسرار و حوادث کی آگاہی کا ایک حصہ تھا کہ جنھیں صرف خدا جانتا ہے۔ "عِلْمًا" کی تعبیر نکرہ ہے اور نکرہ ایسے مواقع پر عموماً تعظیم کے لیے ہوتا ہے۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اس مرد عالم نے اس علم سے اچھا خاصا حصّہ پایا تھا۔ یہ کہ زیرِ بحث آیت میں "رحمة مِنْ عِندِنَا" سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں ذکر ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عمر طولانی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد شایانِ شان استعداد، عظمت روح اور شرح صدر ہو اور یہ خدا کی طرف سے اس جوانمرد کے لیے اس لیے ہو کہ وہ علمِ الٰہی کے حصول کا اہل ہو سکے۔ یہ کہ اس عالم کا نام ”خضر“ تھا۔ وہ پیغمبر تھا یا نہیں___ اس سلسلے میں ہم آئندہ صفحات میں بحث کریں گے۔ اس وقت حضرت موسیٰ(ع) نے بڑے ادب سے اس عالم بزرگ کی خدمت میں ”عرض کیا: کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کی پیروی کروں تاکہ جو علم آپ کو عطا کیا گیا ہے اور جو باعث رشد و صلاح ہے، مجھے بھی تعلیم دیں“ (قَالَ لَہُ مُوسیٰ ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلیٰ اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا)۔ ” رُشْدًا“ کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ علم ہدف و مقصد نہیں ہے بلکہ علم تو حصولِ مقصد کا ذریعہ اور خیر و صلاح کے حصول کا وسیلہ ہے۔ ا یسا ہی علم قدر و قیمت کا حامل ہے اور استاد سے ایسا ہی علم حاصل کرنا چاہیے اور یہی علم مایہٴ افتخار ہے۔ لیکن بڑے تعجب کی بات ہے کہ اس عالم نے موسیٰ(ع) سے کہا: تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکو گے (قَالَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیعَ مَعِی صَبْرًا)۔ ساتھ ہی اس کی وجہ اور دلیل بھی بیان کر دی اور کہا: ”تم اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہو جس کے اسرار سے تم آگاہ ہی نہیں“ (وَ کَیْفَ تَصْبِرُ عَلیٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِہِ خُبْرًا)۔ جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے یہ عالم اسرار و حوادث کے باطنی علوم پر دسترس رکھتا تھا جبکہ حضرت موسیٰ(ع) نہ باطن پر مامور تھے اور نہ ان کے بارے میں زیادہ آگاہی رکھتے تھے۔ ایسے مواقع پر ایسا بہت ہوتا ہے کہ حوادث کے ظاہر سے ان کا باطن مختلف ہوتا ہے۔ بعض اوقات کسی واقعے کا ظاہر احمقانہ اور ناپسندیدہ ہوتا ہے جبکہ باطن میں بہت مقدس، منطقی اور سوچا سمجھا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر جو شخص ظاہر کو دیکھتا ہے وہ اس پر صبر نہیں کر پاتا اور اس پر اعتراض کرتا ہے مخالفت کرنے لگتا ہے لیکن وہ استاد کہ جو اسرارِ دروں سے آگاہ ہے اور معاملے کے باطن پر نظر رکھتا ہے وہ بڑے اطمینان اور ٹھنڈے دل سے کام جاری رکھتا ہے اور اعتراض اور واویلے پر کان نہیں دھرتا بلکہ مناسب موقع کے انتظار میں رہتا ہے تاکہ حقیقت امر بیان کرے جبکہ شاگرد بےتاب رہتا ہے لیکن جب اسرار اس پر کھل جاتے ہیں تو اسے پوری طرح سکون و قرار آ جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ بات سن کر پریشان ہوئے۔ انھیں خوف تھا کہ اس عالم بزرگ کا فیض ان سے منقطع نہ ہو لہٰذا انھوں نے وعدہ کیا کہ تمام امور پر صبر کریں گے اور ”کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کام میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا“ (قَالَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللهُ صَابِرًا وَلَا اَعْصِی لَکَ اَمْرًا)۔ یہ کہہ کر حضرت موسیٰ(ع) نے پھر انتہائی ادب و احترام اور خدا کی حیثیت پر اپنے بھروسے کا اظہار کیا۔آپ نے اس عالم سے یہ نہیں کہا کہ میں صابر ہوں بلکہ کہتے ہیں: انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ لیکن چونکہ ایسے واقعات پر صبر کرنا کہ جو ظاہراً ناپسندیدہ ہوں اور انسان جن کے اسرار سے آگاہ نہ ہو کوئی آسان کام نہیں اس لیے اس عالم نے حضرت موسیٰ(ع) کو خبردار کرتے ہوئے پھر عہد لیا اور ”کہا اچھا اگر تم میرے پیچھے پیچھے آنا چاہتے ہو تو دیکھو! خاموش رہنا اور کسی معاملے پر سوال نہ کرنا جب تک کہ مناسب موقع پر میں خود تم سے بیان نہ کر دوں“ (قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیٍ حتیٰ احدث لک منہ ذکراً) (تشریحی نوٹ: "احدث لک منہ ذکراً" میں لفظ "احدث" کا مفہوم ہے کہ میں خود بات شروع کروں گا اور پہلے خود اس سے پردہ اٹھاؤں گا، تم بات نہ کرنا)۔

71
18:71
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِي ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَاۖ قَالَ أَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ أَهۡلَهَا لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔا إِمۡرٗا
پس وہ چل پڑے، یہاں تک کہ ایک کشتی پر سوار ہو گئے۔اس نے کشتی میں سوارخ کر دیا(تو موسیٰ نے) کہا :کیا آپ نے اس میں سوار لوگوں کو غرق کرنے کیلئے اس میں سوراخ کر دیا ہے؟ واقعاً آپ نے کیسابرا کام کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
18:72
قَالَ أَلَمۡ أَقُلۡ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اس نے کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
18:73
قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِي مِنۡ أَمۡرِي عُسۡرٗا
(موسیٰ نے کہا) اس بھول پر میرا مواخذہ نہ کریں اور اس امر پر مجھ پر سخت گیری نہ کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
18:74
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمٗا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا زَكِيَّةَۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٖ لَّقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـٔٗا نُّكۡرٗا
پس پھر وہ چل پڑے یہاں تک کہ ایک بچے کو دیکھا اس نے اس بچے کو قتل کر دیا(موسیٰ نے) کہا: کیا آپ نے ایک پاک انسان کو قتل کر دیا۔ جبکہ اس نے کسی کو قتل نہیں کیا؟آپ نے سچ مچ برا کام کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
18:75
۞قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اس (عالم) نے(پھر) کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر پاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
18:76
قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَيۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَٰحِبۡنِيۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّي عُذۡرٗا
(موسیٰ نے) کہا: اس کے بعد اگر میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیے کیونکہ پھر میری طرف سے آپ کے لئے کوئی عذر نہ ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
18:77
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهۡلَ قَرۡيَةٍ ٱسۡتَطۡعَمَآ أَهۡلَهَا فَأَبَوۡاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارٗا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥۖ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ أَجۡرٗا
پس وہ پھر چل پڑے۔ چلتے چلتے ایک بستی کے پاس پہنچے۔ انہوں نے ان (بستی والوں ) سے کھانا مانگا لیکن انہوں (بستی والوں ) نے (انہیں ) مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔(اس کے باوجود) انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی کہ جو گر رہی تھی (اس عالم نے) اس (دیوار) کو مرمت کر دی۔ تو (موسیٰ نے) کہا :کم از کم اس کام کی اجرت ہی لے لیتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
18:78
قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِي وَبَيۡنِكَۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا
اس (عا لم نے) کہا: اب تمہارے اور میرے درمیان جدائی کا وقت کا وقت آ گیا ہے لیکن میں جلد تمہیں اس چیز کے راز سے آگاہ کردونگا جس پر تم صبر نہیں کر سکے۔

تفسیر خدائی معلم اور یہ نا پسندیدہ کام؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

موسیٰ اس عالمِ ربانی کے ساتھ چل پڑے۔ چلتے چلتے ایک کشتی تک پہنچے اور اس میں سوار ہو گئے۔ (فَانطَلَقَا حَتَّی إِذَا رَکِبَا فِی السَّفِینَةِ)۔ یہاں سے ہم دیکھتے ہیں کہ اب قرآن تثنیہ کی ضمیر استعمال کرنے لگا ہے۔ یہ اشارہ ہے حضرت موسیٰ(ع) اور اس عالمِ بزرگوار کی طرف۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) کے ہمسفر یوشع کی ماموریت اس مقام پر ختم ہو گئی تھی اور وہ یہاں سے پلٹ گئے تھے یا پھر یہ ہے کہ وہ موجود تو تھے لیکن اس معاملے سے ان کا تعلق نہیں تھا لہٰذا انھیں یہاں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیاہ قوی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال، وہ دونوں کشتی پر سوار ہو گئے تو اس عالم نے کشتی میں سوراخ کر دیا (خَرَقَھَا)۔ جیسا کہ راغب نے مفرادت میں کہا ہے "خَرَق" کسی چیز کو بےسوچے سمجھے تباہ کرنے کی نیت سے چیرنے پھاڑنے کے معنی میں ہے اور اس عالم کا کام ظاہری طور پر یوں ہی لگتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ ایک طرف تو اللہ کے عظیم نبی بھی تھے لہٰذا انھیں لوگوں کی جان و مال کا محافظ بھی ہونا چاہیے تھا اور انھیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی کرنا چاہیے تھا اور دوسری طرف ان کا انسانی ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا اسے ایک طرف رکھا اور اس کام پر اعتراض کر دیا اور "کہا: کیا آپ نے اہلِ کشتی کو غرق کرنے کے لیے اس میں سوراخ کر دیا ہے۔ واقعاً آپ نے کس قدر بُرا کام انجام دیا ہے" (قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا)۔ اس میں شک نہیں کہ اس عالم کا مقصد کشتی والوں کو غرق کرنا نہ تھا لیکن اس عمل کا نتیجہ غرق ہونے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لہٰذا حضرت موسیٰ(ع) نے لامِ غایت کے ساتھ اسی طرف اشارہ کر دیا کیونکہ لام غایت مقصد بیان کرنے کے لیے آتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک شخص بہت کھانا کھاتا جائے تو اسے کہا جائے کہ کیوں اپنے آپ کو مارنا چاہتے ہو۔ یقیناً اس کا یہ مقصد تو نہیں کہ اپنے آپ کو مار ڈالے لیکن ہو سکتا ہے اس کے عمل کا یہی نتیجہ نکلے۔ "اِمر" (بر وزنِ "شِمر") حیرت انگیز اہم کام یا بہت برُے کام کو کہا جاتا ہے اور یہ کام واقعاً ظاہری طور پر تعجب انگیز اور بہت بُرا ہے۔ واقعاً یہ کام کتنا حیرت انگیز ہے کہ کسی کشتی میں بہت سے مسافر سوار ہوں اور اس میں سوراخ کر دیا جائے۔ بعض روایات میں ہے کہ اہلِ کشتی جلد ہی متوجہ ہو گئے اور انہوں نے اس سوراخ کو کسی ذریعے سے پرُ کر دیا لیکن اب وہ کشتی صحیح نہیں رہ گئی تھی۔ اس وقت اس عالم نے بڑی متانت کے ساتھ موسیٰ ؑپر نگاہ ڈالی اور "کہا: میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکو گے" (قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا)۔ اس واقعے کی اہمیت کے پیش نظر حضرت موسیٰ(ع) کی عجلت اگرچہ فطری تھی تاہم وہ پشیمان ہوئے۔ انھیں اپنا معاہدہ یاد آیا لہٰذا معذرت آمیز لہجے میں استاد سے "کہا: اس بھول پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے اور اس کام پر مجھ پر سخت گیری نہ کیجئے (قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا)۔ یعنی اشتباہ ہو گیا۔ اب وہ وقت گزر گیا ہے آپ اپنی بزرگی کی وجہ سے صرف نظر کریں۔ "لاتُرْھِقْنِی"، "ارھاق" کے مادہ سے قہر و غلبہ سے کسی چیز کو ڈھانپنے کے معنی میں ہے کبھی یہ تکلیف دینے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ زیر بحث جملے میں مراد یہ ہے کہ مجھ پر سختی نہ کیجئے اور مجھے تکلیف میں نہ ڈالیں اور اس کام کی وجہ سے اپنا فیض علم مجھ سے منقطع نہ کریں۔ ان کا دریائی سفر ختم ہو گیا۔ وہ کشتی سے اتر آئے۔ سفر جاری تھا۔ اثنائے راہ میں انھیں ایک بچہ ملا لیکن اس عالم نے کسی تمہید کے بغیر ہی اس بچے کو قتل کر دیا (فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلاَمًا فَقَتَلَه)۔ حضرت موسی(ع) سے پھر نہ رہا گیا۔ یہ نہایت وحشتناک منظر تھا۔ بلاجواز اور بےوجہ ایک بےگناہ بچے کا قتل، ایسی چیز نہ تھی کہ حضرت موسی(ع) خاموش رہ سکتے۔ آپ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے۔ غم و اندوہ اور غصے کا یہ عالم تھا کہ آپ نے پھر اپنے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے اب کے شدید تر اور واضح تر اعتراض کیا۔ یہ واقعہ بھی پہلے واقعے کی نسبت زیادہ وحشتناک تھا۔ وہ کہنے لگے: کیا آپ نے ایک بےگناہ اور پاک انسان کو قتل کر دیا ہے جبکہ اس نے کسی کو قتل نہیں کیا (قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ )۔ واقعاً آپ نے کیسا برا کام انجام دیا ہے (نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا)۔ لفظ "غُلَام" جوانِ نورس کے معنی میں ہے۔ وہ حد بلوغ کو پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو۔ جس نوجوان کو اس عالم نے قتل کیا تھا وہ حد بلوغ کو پہنچا ہوا تھا یا نہیں اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے۔ بعض نے "نَفْسًا زَکِیَّةً" (پاک اور بےگناہ انسان) کو اس بات کی دلیل قرار دیا ہے کہ وہ بالغ نہیں تھا۔ بعض نے دیگر نے "بغیر نفس" کی تعیبر کو اس بات کی دلیل بنایا ہے کہ وہ بالغ تھا کیونکہ قصاص صرف بالغ سے لیا جا سکتا ہے۔ البتہ آیت کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ "نُکْر" قبیح اور منکر کے معنی ہے ایسے کام کا نتیجہ بھی "امر" سے زیادہ ہے جو کشتی میں سوراخ کرنے کے واقعے کے لیے آیا ہے۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ ان کے پہلے کام نے چند لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور وہ لوگ جلد ہی متوجہ ہو گئے اور انھوں نے خطرے کو اپنے آپ سے دور کر دیا لیکن دوسرے کام میں ظاہراً وہ ایک جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس عالم بزرگوار نے پھر اپنے خاص اطمینان اور نرم لہجے میں وہی جملہ دہرایا: "کہا: میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے" (قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا)۔ پہلے اور اس جملے میں فرق یہ ہے کہ اس میں لفظ "لَک" کا اضافہ ہے کہ جو مزید تاکید کے لیے ہے یعنی میں نے یہ بات خود تم سے کہی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا عہد یاد آ گیا۔ انھیں بہت احساسِ شرمندگی ہو رہا تھا کیونکہ دو مرتبہ یہ پیمان ٹوٹ چکا تھا چاہے بھول کر ہی ایسا ہوا ہو۔ انھیں خیال آ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے استاد کی بات صحیح ہو کہ انھوں نے تو پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ابتداء میں ان کے کام موسیٰ کے لیے نا قابلِ برداشت ہوں گے۔ موسیٰ نے پھر غذر خواہی کے لہجے میں کہا کہ اس دفعہ بھی مجھ سے صرفِ نظر کیجیے اور میری بھول چوک کو نظر انداز کر دیجیے اور ”اگر اس کے بعد میں آپ کے کاموں کے بارے میں وضاحت کا تقاضا کروں (اور آپ پر اعتراض کروں) تو پھر بےشک مجھے نہ رکھیں اور اس صورت میں آپ میری طرف سے معذور ہوں گے“ (قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا)۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ(ع) کی انصاف پسندی، بلند نظری اور عالی ظرفی کی حکایت کرتا ہے اور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک حقیقت کے سامنے سر جھکا دینے والے تھے اگرچہ وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں۔ تین بارکی آزمائش سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ان دونوں کی ماموریت الگ الگ ہے اور اس کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ اس گفتگو اور نئے معاہدے کے بعد “موسیٰ(ع) اپنے استاد کے ساتھ چل پڑے۔ چلتے چلتے وہ ایک بستی میں پہنچے۔ انھوں نے اس بستی والوں سے کھانا مانگا لیکن بستی والوں نے انھیں مہمان بنانے سے انکار کر دیا” (فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا)۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت موسیٰ(ع) اور حضرت خضر(ع) کوئی ایسے افراد نہ تھے کہ اس بستی کے لوگوں پر بوجھ بننا چاہتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا زاد و توشہ راستے میں کہیں دے بیٹھے تھے یا پھر ختم ہو گیا تھا۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ بستی والوں کے مہمان ہو جائیں (یہ احتمال بھی ہے کہ اس عالم نے جان بوجھ کر لوگوں سے ایسا کہا ہو تاکہ حضرت موسیٰ(ع) کو ایک اور درس دیا جا سکے)۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ "قریة" قرآن کی زبان میں ایک عام مفہوم رکھتا ہے اور ہر قسم کے شہر اور آبادی کے معنی میں آیا ہے لیکن یہاں خصوصیت سے شہر مراد ہے کیونکہ چند آیات کے بعد اس کے لیے لفظ "المدینہ" آیا ہے۔ بہرحال، مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ یہ شہر کونسا تھا اور کہاں واقع تھا۔ ابنِ عباس سے منقول ہے کہ یہ شہر "انطاکیہ" تھا۔ (تشریحی نوٹ: "انطاکیہ" شام کے قدیم شہروں میں سے ہے۔ اس کا فاصلہ حلب سے ۹۶ کلو میٹر ہے اور اسکندرون سے ۵۹ کلو میٹر ہے۔ یہ علاقہ اناج کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ سویدتیہ بندرگاہ اسی علاقے میں ہے اور انطاکیہ سے ۲۷ کلو میٹر دور ہے۔ بحوالہ: دائرۃ المعارف فرید و جدی جلد ۱ ص ۸۳۵)۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں "ایلہ" شہر مراد ہے جو کہ آج کل ”ایلات“ نام کی مشہور بندرگاہ ہے اور بحیرہ احمر کے کنارے خلیج عقبہ کے نزدیک واقع ہے۔ بعض دوسروں کا نظریہ ہے کہ اس سے "ناصرہ" شہر مراد ہے کہ جو آج کل "ایلات" نام کی مشہور بندرگاہ ہے اور بحیرہ احمر کے کنارے خلیج عقبہ کے نزدیک واقع ہے۔ بعض دوسروں کا نظریہ ہے کہ اس سے ”ناصرہ“ شہر مراد ہے کہ جو فلسطین کے شمال میں واقع ہے اور حضرت عیسیٰ(ع) کی جائے پیدائش ہے۔ مرحوم طبرسی نے اس مقام پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث نقل کی ہے کہ جو آخری احتمال کی تائید کرتی ہے۔ مجمع البحرین کے بارے میں ہم کہہ چکے ہیں کہ اس سے مراد خلیج عقبہ اور خلیج سویز کا سنگم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شہر ناصرہ اور بندرگاہ ایلہ اس جگہ سے انطاکیہ کی نسبت زیادہ قریب ہیں۔ بہرصورت جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے استاد کے ساتھ اس شہر میں پیش آیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کے رہنے والے بہت بخیل اور کم ظرف لوگ تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شہر والوں کے بارے میں ایک حدیث منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: کانوا اہل قریة لئام وہ کمینے اور کم ظرف لوگ تھے۔ (بحوالہ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ قرآن کہتا ہے: اس کے باوجود انھوں نے اس شہر میں ایک گرتی ہوئی دیوار دیکھی تو اس عالم نے اس کی مرمت شروع کر دی اور اسے کھڑا کر دیا (فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ)۔ (تشریحی نوٹ: دیوار کی طرف ارادہ کی نسبت یقینی طور پر مجازی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایسی کمزور اور خستہ ہو چکی تھی کہ گویا اس نے گرنے کا ارادہ کر لیا تھا)۔ حضرت موسیٰ(ع) اس وقت تھکے ہوئے تھے۔ انھیں بھوک بھی ستا رہی تھی، کوفت الگ تھی۔ وہ محسوس کر رہے تھے، اس آبادی کے ناسمجھ لوگوں نے ان کی اور ان کے استاد کی ہتک کی ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھ رہے تھے، اس بےاحترامی کے باوجود حضرت خضر(ع) اس گرتی ہوئی دیوار کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے جیسے ان کے سلوک کی مزدوری دے رہے ہوں۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کم از کم استاد یہ کام اجرت لے کر ہی کرتے تاکہ کھانا تو فراہم ہو جاتا۔ لہٰذا وہ اپنے معاہدے کو پھر بھول گئے۔ انھوں نے پھر اعتراض کیا لیکن اب لہجہ پہلے کی نسبت ملائم اور نرم تھا۔ ” کہنے لگے:اس کام کی کچھ اجرت ہی لے لیتے“ (قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا)۔ درحقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سوچ رہے تھے کہ یہ عدل تو نہیں کہ انسان ان لوگوں سے ایثار کا سلوک کرے کہ جو اس قدر فرومایہ اور کم ظرف ہوں۔ دوسرے لفظوں میں نیکی اچھی چیز ہے مگر جب برمحل ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ برائی کے جواب میں نیکی کرنا مردان خدا کا طریقہ ہے لیکن وہاں کہ جہاں بروں کے لیے برائی کی تشویق کا باعث نہ ہو۔ (یعنی وہ ”شرافت خور“ نہ ہو)۔ اس مواقع پر اس عالم بزرگوار نے حضرت موسی(ع) سے آخری بات کہی کیونکہ گذشتہ تمام واقعات کی بناء پر انھیں یقین ہو گیا تھا کہ موسی(ع) ان کے کاموں کو برداشت نہیں کر سکتے لہٰذا فرمایا: ”لو اب تمھارے اور میرے درمیان جدائی کا وقت آ گیا ہے۔ جلد میں تمھیں ان امور کے اسرار سے آگاہ کروں گا کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے“ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا)۔ حضرت موسی(ع) نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ گذشتہ واقعے میں یہی بات وہ خود تجویز کر چکے تھے یعنی خود حضرت موسی(ع) پر یہ حقیقت ثابت ہو چکی تھی کہ ان کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن پھر بھی جدائی کی خبر موسی(ع) کے دل پر ہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگی۔ ایسے استاد سے جدائی کہ جس کا سینہ مخزن اسرار ہو، جس کی ہمراہی باعث برکت ہو اور جس کی ہر بات ایک درس ہو، جس کا طرز عمل الہام بخش ہو، جس کی پیشانی سے نور خدا ضوفشاں ہو اور جس کا دل علم الٰہی کا گنجینہ ہو۔ ایسے رہبر سے جدائی کا باعث رنج و غم تھی۔ لیکن یہ ایک ایسی تلخ حقیقت تھی جو موسی(ع) کو بہرحال، قبول کرنا تھی۔ مشہور مفسر ابوالفتوح رازی کہتے ہیں کہ ایک روایت ہے: لوگوں نے حضرت موسی(ع) سے پوچھا: آپ کی زندگی میں سب سے بڑی مشکل کونسی تھی؟ حضرت موسی(ع) نے کہا: میں نے بہت سختیاں جھیلی ہیں (فرعون کے دور کی سختیاں اور پھر بنی اسرائیل کے دور کی مشکلات کی طرف اشارہ ہے) لیکن کسی مشکل اور رنج نے میرے دل کو اتنا رنجور نہیں کیا جتنا حضرت خضر(ع) سے جدائی کی خبر نے۔ (بحوالہ تفسیر ابوالفتوح رازی، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ "تَاْوِیلِ"، "اول" (بروزن "قول") کے مادہ سے کسی چیز کو لوٹانے کے معنی میں ہے۔ لہٰذا ہر کام یا بات کو اس کے اصلی ہدف کی طرف لوٹا دیئے جانے کو تاویل کہتے ہیں اور خواب کی تعبیر کو بھی اسی لیے تاویل کہتے ہیں (جیسا کہ سورہٴ یوسف کی آیہ۱۰۰ میں آیا ہے): ھٰذَا تَاْوِیلُ رُؤْیَای۔ (تشریحی نوٹ: مزید توضیح کے لیے جلد۲ تفسیر نمونہ میں سورہ آل عمران کی آیہ ۷ کے ذیل میں رجوع کریں)۔

79
18:79
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٞ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبٗا
ہاں وہ کشتی کی بات! تو وہ کچھ مسکین و غریب افراد کی تھی جو اس سے دریا میں کام کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اس میں کوئی نقص ڈالدوں (کیونکہ) ایک ظالم بادشاہ ان کے پیچھے تھا کہ جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو زبردستی ہتھیا رہا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
18:80
وَأَمَّا ٱلۡغُلَٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَٰنٗا وَكُفۡرٗا
رہا وہ لڑکا،تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے۔ ہم نے پسند نہ کیا کہ وہ انہیں سر کشی اور کفر پر اکسائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
18:81
فَأَرَدۡنَآ أَن يُبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرٗا مِّنۡهُ زَكَوٰةٗ وَأَقۡرَبَ رُحۡمٗا
ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے میں انہیں پاک تر اور محبوب تر اولاد عطا فر ما دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
18:82
وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِي ٱلۡمَدِينَةِ وَكَانَ تَحۡتَهُۥ كَنزٞ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحٗا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ وَمَا فَعَلۡتُهُۥ عَنۡ أَمۡرِيۚ ذَٰلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرٗا
رہی اس دیوار کی بات، تو وہ اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا۔ان کا باپ نیک اور صالح شخص تھا،تیرا رب چاہتا تھا کہ وہ بالغ ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں اور یہ تیرے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کئے۔اور یہ تھا ان کاموں کا راز کہ جن پر تو صبر کی تاب نہ رکھتا تھا۔

تفسیر ان واقعات کا راز

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

جب حضرت موسی(ع) اور خضر(ع) کا جدا ہونا طے پا گیا تو ضروری تھا کہ یہ الٰہی استاد اپنے ان کاموں کے اسرار ظاہر کرے کہ حضرت موسیٰ(ع) جنھیں گوارا نہیں کر پائے تھے۔ درحقیقت ان سے ہمراہی کا فائدہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہی تھا کہ وہ ان تین عجیب واقعات کا راز سمجھ لیں اور یہی راز بہت سے مسائل کی تفہیم کے لیے کلید بن سکتا تھا اور مختلف سوالوں کا جواب اس میں پنہاں تھا۔ حضرت خضر نے کشتی والے واقعے سے بات شروع کی اور کہنے لگے: ہاں، تو وہ کشتی والی بات یہ تھی کہ وہ چند غریب و مسکین افراد کی مالکیت تھی۔وہ اس سے دریا میں کام کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس میں کوئی نقص ڈال دوں کیونکہ میں جانتا تھا کہ ایک ظالم بادشاہ ان کے پیچھے ہے اور وہ ہر صحیح سالم کشتی کو زبردستی ہتھیا لیتا ہے (اَمَّا السَّفِینَةُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُ اَنْ اَعِیبَھَا وَکَانَ وَرَائَھُمْ مَلِکٌ یَاْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْبًا)۔ گویا کشتی میں سوراخ کرنا ظاہراً برا لگتا تھا لیکن اس کام میں ایک اہم مقصد پوشیدہ تھا اور وہ تھا کشتی کے غریب مالکوں کو ایک غاصب بادشاہ کے ظلم سے بچانا کیونکہ اس کے نزدیک عیب دار کشتیاں اس کے کام کی نہ تھیں اور ایسی کشتیوں پر وہ قبضہ نہیں جماتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ یہ کام چند مسکینوں کے مفاد کی حفاظت کے لیے تھا اور اسے انجام پانا ہی چاہیے تھا۔ لفظ "وَرَاء" (پیچھے)۔ یقیناً یہاں مکانی پہلو نہیں رکھتا۔ یہ تعبیر یہاں کنائے کے طور پر آئی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ متوجہ ہوئے بغیر اس ظالم کے چنگل میں پھنس جاتے اور انسان چونکہ اپنے پس پشت ہونے والے واقعات سے بےخبر ہوتا ہے لہٰذا یہاں یہ تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ میرے قرض خواہ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور مجھے چھوڑتے نہیں۔ سورہٴ ابراہیم کی آیہ ۱۶ میں ہے: مِنْ وَرَائِہِ جَھَنَّمُ وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ o اور جہنم ان کے پیچھے ہے----- گویا جہنم ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہی "وَرَاء" کی تعبیر آئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: "وراء" کے معنی کے سلسلے میں تفسیرِ نمونہ جلد٦ سورہ ابراہیم آیہ ۱۶ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے)۔ ضمناً لفظ "مَسَاکِین" سے یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسکین وہ شخص نہیں ہے کہ جس کے پاس بالکل کوئی چیز نہ ہو بلکہ ایسے شخص کو بھی مسکین کہا جاتا ہے جس کے پاس اتنا مال ہو کہ جو اس کی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ انھیں مالی حوالے سے "مساکین" نہ کہا گیا ہو بلکہ طاقت کے حوالے سے وہ مسکین اور فقیر ہوں اور عربی زبان میں یہ تعبیر موجود ہے اور یہ مفہوم مسکین کے اصلی معنی سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس کے مطابق ساکن، کمزور اور ناتوان کو مسکین کہا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ میں ہے: مسکین ابن اٰدم--- تولمہ البقة و تقتلہ الشرقة و تنتنہ العرقة بےچارہ فرزند آدم --- مچھر اسے تکلیف پہنچا دیتا ہے۔ تھوڑا سا پانی گلے میں اٹکے تو اسے ہلاک کر دیتا ہے اور پسینہ اسے بدبودار بنا دیتا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ۔ کلمات قصار جملہ ۴۱۹)۔ اس کے بعد حضرت خضر(ع) لڑکے کے قتل کے مسئلے کی طرف آتے ہیں اور کہتے ہیں: "رہا وہ لڑکا، تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے۔ ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ وہ اپنے ماں باپ کو راہِ ایمان سے بھٹکا دے اور سرکشی و کفر پر ابھارے" (وَاَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ اَبَوَاہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِینَا اَنْ یُرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَکُفْرًا)۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ کافر و سرکش لڑکا اپنے مومن ماں باپ کو منحرف نہ کر دے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو زیادہ اذیت نہ دے۔ (تشریحی نوٹ:۔ پہلی تفسیر کے مطابق "یرھق" کے دو مفعول ہیں۔ پہلا "ھما" اور دوسرا "طغیاناً" اور دوسری تفسیر کی بنا پر "طغیاناً" اور "کفراً" مفعول لاجلہ (مفعول لہ) ہیں)۔ البتہ پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال، اس عالم نے اس لڑکے کو قتل کر دیا اور اس لڑکے کے زندہ رہنے کی صورت میں اس کے ماں باپ کو آئندہ جو ناگوار واقعات پیش آنے والے تھے انھیں اس قتل کی دلیل قرار دیا۔ انشاء اللہ ہم جلد اس داستان کے مختلف نکات پر تفصیلی بحث کریں گے اور حضرت خضر(ع) کے تمام کاموں کو احکام الٰہی اور منطقی حوالوں سے دیکھیں گے اور "جرم سے قبل قصاص" والے اعتراض کا جواب دیں گے۔ "خشینا" (ہمیں ڈر تھا کہ ایسا ہو گا)۔ یہ بہت معنی خیز تعبیر ہے۔ یہ تعمیر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ عالم اپنے آپ کو لوگوں کے مستقبل کا ذمہ دار سمجھتا تھا اور وہ اس بات کے لیے تیار نہ تھا کہ صاحبِ ایمان ماں باپ اپنی جوان اولاد کے انحراف کی وجہ سے مصیبت سے دوچار ہوں۔ ضمناً یہ بات بھی ہو جائے کہ لفظ "خشینا" (ہمیں خوف ہوا) یہاں "ہمیں اچھا نہ لگا" کے معنی میں آیا ہے کیونکہ علم و قدرت میں اس مقام کے حامل شخص کے لیے ایسے امور میں خوف و خطر نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں مقصد ناپسندیدہ کام سے بچنا ہے اور انسان اپنی فطرت کی بناء پر ناگوار امور سے بچنا چاہتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ لفظ یہاں "علمنا" (ہم نے چاہا) کے معنی میں ہو۔ ابنِ عباس سے بھی اس کا یہی مفہوم منقول ہے۔ یعنی: ہم نے جانا اور ہمیں معلوم ہوا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہ گیا تو اس کے ماں باپ کو ناگوار واقعہ دیکھنا پڑے گا۔ رہا یہ سوال کہ ایک شخص کے لیے جمع متکلم کی ضمیر کیوں استعمال ہوئی ہے۔ تو اس کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم قرآن میں ایسی ضمیر دیکھ رہے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں، اس کے علاوہ عربی زبان اور دوسری زبانوں کے محاورات میں بڑے لوگ کبھی گفتگو کرتے وقت جمع کی ضمیر استعمال کرتے ہیں اور یہ عام طور پر اپنے ماتحت افرا کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لیے مامور کرنے اور ایسے ہی دیگر مواقع پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے اور انسان اپنے ماتحت افراد کو۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کے بدلے زیادہ پاک اور زیادہ پر محبت اولاد عطا فرمائے (فَاَرَدْنَا اَنْ یُبْدِلَھُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاةً وَاَقْرَبَ رُحْمًا)۔ "اَرَدْنَا" (ہم نے ارادہ کیا) اور "رَبھما" (ان دونوں کا رب)۔ یہ دونوں یہاں معنی خیز تعبیریں ہیں اور ہم جلد ان کے مقصد سے آگاہ ہو جائیں گے۔ لفظ "زکٰوة" پاکیزگی اور طہارت کے معنی میں ہے اور اس کا یہاں وسیع مفہوم ہے اور اس میں ایمان اور عملِ صالح بھی شامل ہے۔ اس میں دینی امور بھی شامل ہیں اور دنیاوی بھی اور شاید یہ تعبیر حضرت موسیٰ(ع) کا جواب ہو کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ آپ نے "نفس زکیہ" کو قتل کر دیا ہے۔ حضرت خضر(ع) نے جواب میں کہا کہ نہیں وہ پاکیزہ نہ تھا بلکہ ہم چاہتے تھے کہ اللہ اس کی بجائے انھیں پاکیزہ اولاد عطا کرے۔ مختلف اسلامی کتب میں آنے والی احادیث میں یہ عبارت آئی ہے: ابدلھا اللّٰہ بہ جاریة ولدت سبعین نبیاً اللہ نے اس بیٹے کی جگہ انھیں ایک ایسی بیٹی عطا فرمائی کہ جس کی نسل سے ستر نبی پیدا ہوئے۔ (بحوالہ: نور الثقلین ج ۳ ص ۲۸۶ و ۲۸۷). آخری زیر بحث آیت میں تیسرے کام یعنی دیوار بنانے کے واقعے کا جواب ہے۔ اس عالم نے اس واقعے کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا: رہی دیوار کی بات۔ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ چھپا ہوا تھا اور ان کا باپ ایک نیک اور صالح شخص تھا (وَاَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِ یَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَةِ وَکَانَ تَحْتَہُ کَنزٌ لَھُمَا وَکَانَ اَبُوھُمَا صَالِحًا)۔ تیرا پروردگار چاہتا تھا کہ وہ بالغ ہو جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں (فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَبْلُغَا اَشُدَّھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنزَھُمَا)۔ یہ تو تیرے رب کی طرف سے رحمت تھی (رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ)۔ اور ان کے نیک ماں باپ کی وجہ سے میں مامور تھا کہ اس دیوار کو تعمیر کروں کہ کہیں وہ گِر نہ جائے اور خزانہ ظاہر ہو کر خطرے سے دوچار نہ ہو جائے۔ آخر میں انھوں نے چاہا کہ حضرت موسیٰ(ع) کا ہر قسم کا شک دور ہو جائے اور وہ یقین کر لیں کہ یہ سب کام ایک خاص منصوبے اور ذمہ داری کے تحت تھے۔ لہٰذا انھوں نے کہا: اور میں نے یہ کام خود سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم کے تحت انجام دیئے (وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ اَمْرِی)۔ جی ہاں! یہ تھے ان کاموں کے راز کہ جن پر صبر کی تم میں تاب نہیں تھی (ذٰلِکَ تَاْوِیلُ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا)۔

چند اہم نکات ۱۔ خضرؑ کی ماموریت تشریعی تھی یا تکوینی؟

یہ وہ اہم ترین مسئلہ ہے جس نے بزرگ علماء کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ تین واقعات کہ جو اس عالم کے ہاتھوں انجام پائے ان پر حضرت موسیٰ(ع) نے اعتراض کیا کیونکہ وہ باطن امر سے آگاہ نہ تھے لیکن بعد میں استاد نے وضاحت کی تو مطمئن ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ واقعاً کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر نقص پیدا کیا جا سکتا ہے، اس بناء پر کہ غاصب اسے لے نہ جائے۔ اور کیا کسی لڑکے کو اس کام پر سزا دی جا سکتی ہے کہ جو وہ آئندہ انجام دے گا۔ اور کیا ضروری ہے کہ کسی کے مال کی حفاظت کے لیے ہم مفت زحمت برداشت کریں۔ ان سوالات کے جواب میں ہمارے سامنے دو راستے ہیں: پہلا یہ کہ ان امور کو ہم فقہی احکام اور شرعی قوانین کی روشنی میں دیکھیں، بعض مفسّرین نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ انھوں نے پہلے واقعے کو اہم اور اہم تر قوانین پر منطبق سمجھا ہے اور کہا ہے کہ مسلم ہے کہ ساری کشتی اور پوری کشتی کی حفاظت اہم کام تھا جبکہ جزوی نقص سے حفاظت زیادہ اہم نہیں تھا۔ دوسرے لفظوں میں حضرت خضر(ع) نے کم نقصان کے ذریعے زیادہ نقصان کو روکا۔ فقہی زبان میں "افسد کو فاسد سے دفع کیا"۔ خصوصاً جبکہ یہ بات ان کے پیشِ نظر تھی کہ کشتی والوں کی باطنی رضا مندی انھیں حاصل ہے کیونکہ اگر وہ اصل صورتِ حال سے آگاہ ہو جاتے تو اس کام پر راضی ہو جاتے۔ (فقہی تعبیر کے مطابق حضرت خضر(ع) کو اس مسئلے میں "اذنِ فحوی" حاصل تھا)۔ اس لڑکے کے بارے میں مفسرین کا اصرار ہے کہ یقیناً وہ بالغ تھا اور وہ مرتد یا فاسد تھا لہٰذا وہ اپنے موجودہ اعمال کی وجہ سے جائز القتل تھا اور یہ جو حضرت خضر(ع) اپنے اقدام کے لیے اس کے آئندہ جرائم کو دلیل بناتے ہیں تو وہ اس بناء پر کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ مجرم ہے صرف یہ کہ اس وقت اس کام میں مبتلا ہے بلکہ آئندہ بھی اس سے بڑھ کر جرائم کا مرتکب ہو گا لہٰذا اس کا قتل قوانین شریعت کے مطابق تھا اور وہ اپنے افعال اور خود کردہ گناہوں کی وجہ سے جائز القتل تھا۔ رہا تیسرا واقعہ تو کوئی شخص کسی پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ تم دوسرے کے لیے کیوں ایثار کرتے ہو اور اس کے اموال کو بچانے کے لیے کیوں بیگار اٹھاتے ہو۔ ہو سکتا ہے یہ ایثار واجب نہ ہو لیکن مسلّم ہے کہ یہ اچھا کام ہے اور لائق تحسین ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ بعض مواقع پر سرحدِ وجوب تک پہنچ جائے، مثلاً کسی یتیم بچے کا بہت سا مال ضائع ہو رہا ہو اور تھوڑی سی زحمت کر کے اسے بچایا جا سکے تو بعید نہیں ہے کہ ایسے موقع پر کام واجب ہو۔ دوسرا راستہ اس بنیاد پر ہے کہ مذکورہ بالا توضیحات اگرچہ خزانے اور دیوار کے بارے میں لائق اطمینان ہوں لیکن جو جوان مارا گیا اس کے بارے میں مذکورہ وضاحتیں ظاہر آیت سے مناسبت نہیں رکھتیں کیونکہ اس کے قتل کا جو ظاہراً اس کے آئندہ کا عمل قرار دیا گیا ہے نہ کہ موجودہ عمل۔ کشتی کے بارے میں بھی مذکورہ وضاحت کسی حد تک قابلِ بحث ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی اور راہ اختیار کی جائے اور وہ یہ ہے: اسی جہان میں ہمیں دو نظاموں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ایک نظامِ تکوین ہے اور دوسرا نظامِ تشریع۔ یہ دونوں نظام اگرچہ کلی اصول میں تو ہم آہنگ ہیں لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جزئیات میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش خوف، اموال و ثمرات کے نقصان، اپنی اور عزیزوں کی موت اور قتل کے ذریعے کرتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ کون شخص ان حوادث و مصائب پر صبر و شکیبائی اختیار کرتا ہے۔ تو کیا کوئی فقیہ بلکہ کوئی پیغمبر ایسا کر سکتا ہے۔ یعنی اموال و نفوس، ثمرات اور امن کو ختم کر کے لوگوں کو آزمائے؟ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نبیوں اور صالح بندوں کو خبردار کرنے اور انھیں تنبیہ کرنے کے لیے کسی ترکِ اولیٰ پر بڑی مصیبتوں میں گرفتار کرتا ہے جیسا کہ حضرت یعقوبؑ مصیبت میں گرفتار ہوئے اس بات پر کہ انھوں نے بعض مساکین کی طرف کم توجہ دی یا حضرت یونس(ع) کو ایک معمولی ترکِ اولیٰ پر مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔ تو کیا کوئی حق رکھتا ہے کہ کسی کو سزا کے طور پر ایسا کرے۔ یا یہ کہ ہم دیکھتے ہیں کبھی اللہ تعالیٰ کسی انسان کی ناشکری کی وجہ سے اس سے کوئی نعمت چھین لیتا ہے مثلاً کوئی شخص مال ملنے پر شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا مال دریا میں غرق ہو جاتا ہے یا صحت پر شکر ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس سے صحت لے لیتا ہے تو کیا فقہی اور شرعی قوانین کی رو سے کوئی ایسا کر سکتا ہے کہ ناشکری کی وجہ سے کسی کا مال ضائع کر دے اور اس کی سلامتی کو بیماری میں بدل دے۔ ایسی مثالیں بہت زیادہ ہیں۔ یہ سب مثالیں مجموعی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ جہان آفرینش خصوصاً خلقتِ انسان اس احسن نظام پر استوار ہے کہ اللہ نے انسان کو کمال تک پہنچانے کے لیے کچھ تکوینی قوانین بنائے ہیں کہ جن کی خلاف ورزی سے مختلف نتائج مرتب ہوتے ہیں حالانکہ قانونِ شریعت کے لحاظ سے ہم ان قوانین پر عمل نہیں کر سکتے۔ مثلاً کسی انسان کی انگلی ڈاکٹر اس لیے کاٹ سکتا ہے کہ زہر اُس کے دل کی طرف سرایت نہ کر جائے لیکن کیا کوئی شخص کسی انسان میں صبر پیدا کرنے کے لیے یا کفران نعمت کی وجہ سے اس کی انگلی کاٹ سکتا ہے؟ (جبکہ یہ بات مسلّم ہے کہ خدا ایسا کر سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنا نظامِ احسن کے مطابق ہے)۔ اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ ہم دو نظام رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دونوں نظاموں پر حاکم ہے تو کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ اللہ ایک گروہ کو نظام تشریعی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مامور کرے اور فرشتوں کے ایک گروہ یا بعض انسانوں کو (مثلاً حضرت خضر(ع) کو) نظامِ تکوینی کو عملی شکل دینے پر مامور کرے (غور کیجئے گا)۔ اللہ تعالیٰ کے نظام تکوین کے لحاظ سے کوئی مانع نہیں کہ وہ کسی نابالغ بچے کو بھی کسی حادثے میں مبتلا کر دے اور اس میں اس کی جان چلی جائے کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا وجود مستقبل کے لیے بہت بڑے خطرات کا حامل ہو جیسا کہ بعض اوقات ایسے اشخاص کا باقی رہ جانا آزمائش وغیرہ کے حوالے سے مصلحت کا حامل ہوتا ہے۔ نیز کوئی مانع نہیں کہ اللہ مجھے آج کسی سخت بیماری میں مبتلا کر دے، اس طرح سے کہ میں گھر سے باہر نہ نکل سکوں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں گھر سے باہر نکلا تو خطرناک حادثہ پیش آ جائے گا اور وہ مجھے اس حادثے سے بچانا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس عالم میں مامورین کا ایک گروہ باطن پر مامور ہے اور ایک گروہ ظاہر پر مامور ہے۔ جو باطن پر مامور ہیں ان کے لیے اپنے اصول و وضوابط اور پروگرام ہیں اور جو ظاہر پر مامور ہیں ان کے لئے اپنے خاص اصول و ضوابط ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان دونوں پروگراموں کا اصلی اور کلی مقصد انسان کو کمال کی طرف لے جانا ہے اس لحاظ سے دونوں ہم آہنگ ہیں لیکن بعض اوقات جزئیات میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں طریقوں میں سے کسی میں بھی کوئی خود سری سے کوئی اقدام نہیں کر سکتا بلکہ ضروری ہے کہ وہ حقیقی مالک و حاکم کی طرف سے مجاز ہو لہٰذا حضرت خضر علیہ السلام نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا اور کہا: ما فعلتہ عن امری میں نے یہ کام خود سے ہرگز نہیں کیے۔ یعنی میں نے یہ کام حکم الٰہی کے مطابق اور اسی کے ضابطے اور طریقے کے مطابق انجام دیئے ہیں۔ اس طرح ان اقدامات میں جو ظاہری تضاد نظر آتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ(ع) حضرت خضر(ع) کے کاموں کو برداشت نہیں کر پاتے تھے تو یہ اسی بناء پر تھا کہ ان کی ماموریت اور ذمہ داری کا طریقہ جنابِ خضر(ع) کی ذمہ داری کے راستے سے الگ تھا لہٰذا جب انھوں نے حضرت خضر(ع) کا کام ظاہراً شرعی قوانین کے خلاف دیکھا تو اس پر اعتراض کیا لیکن حضرت خضر(ع) نے ٹھنڈے دل سے اپنا کام جاری رکھا اور چونکہ یہ دو عظیم خدائی رہبر مختلف ذمہ داریوں کی بناء پر ہمیشہ کے لیے اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے لہٰذا حضرت خضر(ع) نے کہا: ھٰذا فراق بینی و بینک یہ اب میرے اور تمہارے جدا ہونے کا مرحلہ آ گیا ہے۔

۲۔ خضر(ع)۔ کون تھے؟

جیسا کے ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت خضرؑ کا نام صراحت کے ساتھ قرآن میں نہیں لیا گیا اور حضرت موسیٰ(ع) کے دوست اور استاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: عبداً من عبادنا اٰتیناہ رحمة من عندنا و علمناہ من لدنا علماً ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ جسے ہم نے اپنی رحمت عطا کی اور جسے ہم نے اپنے علم سے نوازا۔ اس تعارف میں ان کے مقامِ عبودیت کا تذکرہ ہے اور ان کے خاص علم کو واضح کیا گیا ہے لہٰذا ہم نے بھی عالم کے طور پر ان کا زیادہ ذکر کیا ہے۔ لیکن متعدد روایات میں اس عالم کا نام "خضر" بتایا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہے کہ ان کا اصلی نام "بلیا ابن ملکان" تھا اور "خضر" ان کا لقب ہے کیونکہ وہ جہاں کہیں قدم رکھتے ان کے قدموں کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی تھی۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس عالم کا نام "الیاس" ہے۔ یہیں سے یہ تصور پیدا ہوا کہ ہو سکتا ہے "الیاس" اور "خضر" ایک ہی شخص کے دو نام ہوں لیکن مشہور و معروف مفسرین اور راویوں نے پہلی بات ہی بیان کی ہے۔ واضح ہے کہ یہ بات کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی کہ اس شخص کا نام کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک عالمِ ربانی تھے اور پروردگار کی خاص رحمت ان کے شاملِ حال تھی۔ وہ باطن اور نظامِ تکوینی پر مامور تھے اور کچھ اسرار سے آگاہ تھے اور ایک لحاظ سے موسیٰ(ع) بن عمران کے معلم تھے اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کئی لحاظ سے ان پر مقدم تھے۔ یہ کہ وہ پیغمبر تھے یا نہیں۔ اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں۔ اصول کافی جلد اوّل میں متعدد روایات ہیں کہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ "ذوالقرنین" اور "آصف ابن برخیا" کی طرح ایک عالم تھے۔ (بحوالہ: اصول کافی، ج۱، باب "ان الائمة بمن یشبہون فیمن مضی" ص ۲۱۰) جبکہ کچھ اور روایات ایسی بھی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقامِ بنوت کے حامل تھے اور زیرِ نظر روایات میں بھی بعض تعبیرات کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔ کیونکہ ایک موقع پر وہ کہتے ہیں: میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا۔ ایک اور مقام پر کہتے ہیں: ہم چاہتے تھے کہ ایسا ہو۔ نیز بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لمبی عمر کے حامل تھے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ کیا اس عالمِ بزرگوار کا واقعہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں میں بھی ہے؟ سوال کا جواب یہ ہے: اگر کتب سے مراد کتب عہدین (تورات و انجیل) ہیں، تو ان میں تو نہیں ہے لیکن بعض یہوی علماء کی کتابیں کہ جو گیارہویں صدی عیسوی میں مدّون ہوئی ہیں، ان میں ایک داستان نقل ہوئی ہے کہ جو حضرت موسیٰ(ع) کی مذکورہ داستان سے کچھ مشابہت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس داستان کے ہیرو "الیاس" اور "یوشع بن لاوی" ہیں کہ جو تیسری صدی عیسوی کے "تلمود" کے مفسرین میں سے تھے۔ یہ داستان اور کئی پہلوؤں سے بھی موسیٰ و خضر کی داستان سے مختلف ہے۔ بہرحال، مذکورہ داستان کچھ یوں ہے: یوشع نے خدا سے چاہا کہ اس کی الیاس سے ملاقات ہو۔ اس کی دعا پوری ہو گئی اور اسے الیاس سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ اس کی آرزو تھی کہ الیاس سے کچھ اسرار حاصل کرے۔ الیاس نے اُس سے کہا: تجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ انھیں برداشت کر پائے۔ لیکن یوشع نے اصرار کیا تو الیاس نے اس کی درخواست اس شرط پر قبول کر لی کہ وہ جو کچھ بھی دیکھے گا ہرگز سوال نہیں کرے گا اور اگر اس نے خلاف وزری کی تو اسے الگ ہونا پڑے گا۔ بہرحال، اس معاہدے کے بعد یوشع اور الیاس اکٹھے چل پڑے۔ دورانِ سفر وہ ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ صاحبِ خانہ بڑی گرم جوشی سے ان کی پذیرائی کرتا ہے۔ اس گھر والوں کے پاس دنیا کی چیزوں میں سے صرف ایک گائے تھی کوئی اور چیز ان کی ملکیت نہ تھی۔ وہ گائے کا دودھ بیچ کر گزر اوقات کرتے تھے۔ الیاس نے صاحب خانہ کو حکم دیا کہ گائے کو ذبح کر دے۔ یوشع کو اس کردار پر سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ اس کا سبب پوچھتا ہے۔ الیاس اسے معاہدہ یاد دلاتا ہے اور جدا ہونے کی دھمکی دیتا ہے۔ یوشع مجبوراً خاموش ہو جاتا ہے۔ وہاں سے وہ دونوں ایک اور بستی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ اس بستی میں پہنچ کر ایک مالدار آدمی کے گھر داخل ہوتے ہیں۔ اس گھر کی ایک دیوار گرنے کے قریب ہوتی ہے۔ الیاس خود مٹی کے کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اور اس دیوار کی مرمت کر دیتا ہے۔ وہاں سے وہ ایک اور بستی میں پہنچتے ہیں۔ اس گاؤں کے "چند لوگ" ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ وہ ان دونوں کی اچھی پذیرائی نہیں کرتے۔ الیاس نے کے لیے دعا کی کہ ان سب کو ریاست و امارات نصیب ہو۔ وہ چوتھی بستی میں پہنچتے ہیں تو ان کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے۔ الیاس ان کے لیے دعا کرتا ہے کہ ان میں سے صرف ایک کو ریاست نصیب ہو۔ آخرکار یوشع بن لاوی کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے وہ ان چار واقعات کے بارے میں سوال کرتا ہے تو الیاس کہتا ہے: پہلے گھر میں صاحبِ خانہ کی بیوی بیمار تھی۔ اگر وہ گائے صدقہ کے طور پر قربان نہ کی جاتی تو وہ عورت مر جاتی۔ دوسرے گھر میں دیوار کے نیچے ایک خزانہ تھا کہ جو ایک یتیم بچے کے لئے محفوظ رہنا چاہیے تھا۔ تیسری بستی کے سب لوگوں کے لیے ریاست کی دعا اس لیے کی کہ وہ پریشانی سے دوچار ہوں جبکہ اس کے برعکس چوتھی بستی کے ایک شخص کے لیے دعا کی تاکہ ان کے امور منظم اور بہتر طور پر انجام پائیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ تمام تر عبارت کتاب اعلام قرآن ص ۲۱۳ سے نقل کی گئی ہے)۔ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ یہ دونوں داستانیں ایک ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ یہودیوں نے جو داستان نقل کی ہے وہ قرآن کی موسیٰ(ع) و خضر(ع) کی داستان کے مشابہ ہے یا پھر موسیٰ(ع) و خضر(ع) کی داستان میں تحریف ہو کر یہ اس صورت میں باقی رہ گئی ہے۔

۳۔ خود ساختہ افسانے

حضرت موسی(ع) اور حضرت خضر(ع) کی داستان کی بنیاد وہی ہے کہ جو کچھ قرآن میں آیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سے منسلک کر کے بہت سے افسانے گھڑ لیے گئے ہیں۔ ان افسانوں کو اس داستان کے ساتھ خلط ملط کرنے سے اصل داستان کی صورت بھی بگڑ جاتی ہے۔ جاننا چاہئے کہ یہ کوئی پہلی داستان نہیں ہے جس کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے اور بہت سی سچی داستانوں کے ساتھ یہی ہاتھ کیا گیا ہے۔ لہٰذا حقیقت تک رسائی کے لیے قرآن کی ان تیئس آیتوں کو بنیاد قرار دیا جانا چاہئے جن میں داستان بیان ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ احادیث کو بھی اسی صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے جب وہ قرآن کے موافق ہوں۔ اگر کوئی حدیث اس کے برخلاف ہو تو یقیناً وہ قابل قبول نہیں ہے اور خوش قسمتی سے معتبر احادیث میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔

۴۔ کیا انبیاء کے لیے بھُول چُوک ممکن ہے؟

مندرجہ بالا واقعے میں ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھول گئے۔ پہلے تو اس مچھلی کو جو انھوں نے کھانے کے لیے رکھی تھی۔ دوسری اور تیسری مرتبہ آپ اپنے عالم دوست سے کیے گئے معاہدہ کو بھول گئے۔ ان امور کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انبیاء کے لیے نسیان ممکن ہے؟ بعض کا نظریہ ہے کہ انبیاء سے ایسے نسیان کا صدور بعید نہیں ہے کیونکہ یہ دعوت نبوّت کی بنیاد اور اصول سے مربوط ہے اور نہ اس کی فروع سے اور نہ ہی اس کا تعلق تبلیغ نبوت کے ساتھ ہے بلکہ اس کا تعلق صرف روز مرہ کی معمول کی زندگی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ مسلّم ہے یہ ہے کہ کوئی نبی نبوت کی دعوت اور اس سے متعلقہ امور میں ہرگز خطا و اشتباہ کا شکار نہیں ہوتا اور ان کا مقام عصمت انھیں اس قسم کی چیزوں سے محفوظ رکھتا ہے لیکن اس میں کیا مانع ہے کہ موسی(ع) کو جو بڑے اشتیاق سے اس عالم کی تلاش میں جا رہے تھے اپنے کھانے بھول گئے اور یہ ایک معمول کا مسئلہ ہے نیز اس میں کیا مانع ہے کہ کشتی میں سوراخ، نوجوان لڑکے کے قتل اور بخیلوں کے شہر کی دیوار کی بےوجہ تعمیر، جیسے بڑے واقعات نے ایسا ہیجان زدہ کیا کہ انھوں نے اپنے عالم دوست سے جو ذاتی عہد کیا تھا اسے بھول گئے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ ایک پیغمبر سے بعید ہے اور نہ مقام عصمت کے منافی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ نسیان یہاں مجازی معنی میں یعنی ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے کیونکہ انسان جب کسی چیز کو ترک کرتا ہے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اسے بھول گیا ہو اور اس کے بارے میں اس نے نسیان کیا ہو۔ حضرت موسی(ع) نے اپنی غذا کو اس لیے ترک کیا کیونکہ وہ اس بارے میں بےاعتناء تھے اور اپنے عالم دوست سے کیے ہوئے معاہدے کو انھوں نے اس لیے ترک کیا کیونکہ حوادث کو ظاہری حوالے سے دیکھنے کی وجہ سے اصلاً یہ بات ان کے لیے قابل قبول نہ تھی کہ کوئی شخص بلاوجہ لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچائے لہٰذا انھوں نے اعتراض کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا اور ان کے نزدیک یہ معاہدے کا مقام نہ تھا۔ لیکن واضح ہے کہ ایسی تفاسیر ظاہرِ آیات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ کسی نقلی دلیل کا ظہور مسلّم عقلی دلیل کے ساتھ ٹکرائے تو اس نقلی دلیل کی تاویل کی جائے گی مثلاً خدا کے بارے میں قرآن کی بہت سی آیات کا ظہور یہ ہے کہ وہ ہاتھ، آنکھیں، پہلو اور نفس رکھتا ہے یا معاذ الله وہ جسم رکھتا ہے لیکن چونکہ یہ امور اصول مسلمہ اور دلائل عقلیہ قطعیہ کے خلاف ہیں لہٰذا ان آیات کی تاویل کی جاتی ہے یعنی خلاف ظاہر معنی کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ معنی مجازی ہوتا ہے۔ اسی طرح انبیاء، اور آئمہ(ع) کا مطلقاً معصوم ہونا عقلاً ضروری ہے لہٰذا اس کے خلاف ظہورات کی تاویل کی جانا چاہئے۔ (مترجم))۔

۵۔ موسیٰ(ع) خضر(ع) کی ملاقات کو کیوں گئے؟

ابی بن کعب نے ابن عباس کی وساطت سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کی ایک حدیث اس طرح نقل کی ہے: ایک دن موسیٰ(ع) بنی اسرائیل سے خطاب کر رہے تھے۔ کسی نے آپ سے پوچھا: روئے زمین پر سب سے زیادہ علم کون رکھتا ہے۔ موسی(ع) نے کہا مجھے اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کے عالم ہونے کا علم نہیں۔ اس وقت موسی(ع) کو وحی ہوئی کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے کہ جو تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ اس وقت موسی(ع) نے درخواست کی کہ میں اس عالم کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر الله نے انھیں ان سے ملاقات کی راہ بتائی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج٦ ص ۴۸۱ (ہم نے روایت اختصار سے درج کی ہے)۔ ایسی ہی ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج۳ ص ۲۷۵)۔ یہ درحقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنبیہ تھی کہ اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود اپنے آپ کو افضل ترین نہ سمجھیں۔ لیکن یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ایک اولوالعزم، صاحبِ رسالت و شریعت شخص کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم نہیں ہونا چاہئے؟ اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اپنی ماموریت کی قلمرو میں، نظام تشریع میں اسے سب سے بڑا عالم ہونا چاہئے اور حضرت موسیٰ(ع) اسی طرح تھے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے نکتے میں بیان کیا ہے کہ ان کی ماموریت کی قلمرو ان کے عالم دوست کی قلمرو سے الگ تھی۔ ان کے عالم دوست کی ماموریت کا تعلق عالم تشریع سے نہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ عالم ایسے اسرار سے آگاہ تھے کہ جو دعوتِ نبوت کی بنیاد نہ تھے۔ اتفاقاً ایک حدیث کہ جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اس میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) حضرت خضر(ع) سے زیادہ عالم تھے یعنی علم شریعت میں۔ (بحوالہ: المیزان، ج۱۳ ص۳۸۳)۔ شاید اس سوال کا جواب نہ پانے کی وجہ سے اور نسیان سے مربوط سوال کا جواب نہ پانے کے سبب بعض نے ان آیات میں جس موسیٰ کا ذکر ہے اسے موسی بن عمران تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایک حدیث کہ جو حضرت علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس سے بھی یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا دائرہ کار اور قلمرو ایک دوسرے سے مختلف تھی اور ہر ایک دوسرے سے اپنے کام میں زیادہ عالم تھا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج۶ ص۴۸۰)۔ اس نکتے کا ذکر بھی مناسب ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: جس وقت کا موسی(ع) خضر(ع) سے ملے تو ایک پرندہ ان کے سامنے ظاہر ہوا۔ اس نے پانی کا ایک قطرہ اپنی چونچ میں لیا تو حضرت موسی(ع) سے خضر(ع) نے کہا: جانتے ہوں کہ پرندہ کیا کہتا ہے: موسی(ع) نے کہا: کیا کہتا ہے؟ خضر(ع) کہنے لگے: کہتا ہے: ما علمک و علم موسیٰ فی علم الله الا کما اخذ منقاری من الماء تیرا علم او رموسیٰ کا علم خدا کے علم کے مقابلے میں اس قطرے کی طرح ہے جو میں نے پانی سے چونچ میں لیا ہے۔ (یہ روایت تفسیر المیزان میں درالمنثور اور دیگر کتب کے حوالے سے یہ روایت درج کی گئی ہے)۔

۶۔ وہ خزانہ کیا تھا؟

اس داستان کے بارے میں ایک سوال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ خزانہ آخر کیا تھا جسے موسی(ع) کے عالم دوست پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے اور آخر اس باایمان شخص یعنی یتیموں کے باپ نے یہ خزانہ کیوں چھپا دیا تھا؟ بعض نے کہا ہے کہ وہ خزانہ مادی پہلو رکھتا تھا۔ بہت سی شیعہ سنّی روایات کے مطابق وہ ایک تختی تھی جس پر حکمت آمیز کلمات نقش تھے۔ اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ وہ حکمت آمیز کلمات کیا تھے۔ کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: یہ سونے چاندی کا خزانہ نہیں تھا۔ یہ تو صرف ایک تختی تھی جس پر یہ چار جملے ثبت تھے: لا الٰہ الا الله، من ایقن بالموت لم یضحک، و من ایقن بالحساب لم یفرح قلبہ، و من ایقن بالقدر لم یخش الا الله الله کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو موت پر یقین رکھتا ہے وہ (بےہودہ) نہیں ہنستا۔ اور جسے الله کی طرف سے حساب کا یقین ہے (اور اسے جوابدہی کی فکر ہے) وہ خوش نہیں رہتا۔ اور جسے تقدیر الٰہی کا یقین ہے وہ الله کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ (بحوالہ : نور الثقلین، ج۳ ص ۲۸۷) لیکن کچھ اور روایات میں آیا ہے کہ وہ سونے کی تختی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ پہلی روایات کا مقصد یہ ہے کہ وہ درہم و دینار کا ڈھیر نہ تھا کیونکہ "خزانہ" سے یہی مفہوم ذہن میں آتا ہے۔ بالفرض اگر ہم لفظ "کنز" کا ظاہری مفہوم یعنی زر و سیم کا ذخیرہ مراد لیں پھر بھی اس میں کو ئی اشکال نہیں۔ کیونکہ ایسا خزانہ اور ذخیرہ ممنوع ہے کہ جو ایسے بہت زیادہ گراں قیمت مال پر مشتمل ہو جو طویل مدت کے لیے جمع رکھا جائے جبکہ معاشرے کو اس کی بہت ضرورت ہو لیکن اگر مال کی حفاظت کے لیے، وہ مال جو معاملہ کی گردش میں ہے، ایک دن یا چند دن زیر زمین دفن کر دیا جائے (گزشتہ زمانے میں بےامنی کی وجہ سے اس کا معمول تھا یہاں تک کہ لوگ ایک رات کے لیے بھی اپنے اموال دفن کر دیتے تھے) اور بعد ازاں اس کا مالک کسی حادثے کی بناء پر دنیا سے چل بسے تو ایسا خزانہ ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے۔

۷۔ اس داستان سے حاصل ہونے والے درس

اس داستان سے ہمیں بہت سے سبق حاصل ہوتے ہیں مثلاً: (ا) عالم رہبر کی تلاش اور اس کے علم سے استفادہ کرنا اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ حضرت موسیٰ(ع) جیسے اولوالعزم پیغمبر نے اس کی تلاش میں اتنا سفر کیا اور یہ سب انسانوں کے لیے ایک نمونہ ہے، وہ جس مرتبہ کے بھی ہوں اور جس سن و سال کے اور انھیں جیسے بھی حالات درپیش ہوں۔ (ب) جو ہر علم الٰہی کا سرچشمہ عبودیت اور الله کی بندگی ہے۔ جیسا کہ زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے: عبداً من عبادنا اٰتیناہ رحمة من عندنا و علمناہ من لدنا علماً وہ ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ تھا اسے ہم نے اپنے خاص علم سے نوازا تھا۔ (ج) علم ہمیشہ عمل کے لیے حاصل کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت موسی(ع) اپنے عالم دوست سے کہتے ہیں: مما علمت رشداً مجھے ایسا علم سکھائیے جو راہِ مقصد میں میرے لیے مفید ہو۔ یعنی میں علم برائے علم نہیں چاہتا بلکہ حصول مقصد کے لیے علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ (د) کاموں میں جلد بازی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بہت سے امور کے لیے مناسب موقع کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے: الامور مرھونة باوقاتھا امور اپنے وقت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ خصوصاً زیادہ اہم مسائل میں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اسی بنا پر اس عالم نے اپنے کاموں کے اسرار حضرت موسیٰ(ع) سے مناسب وقت پر بیان کیے۔ (ھ) چیزوں اور واقعات کا ظاہری چہرہ بھی ہوتا ہے اور باطنی بھی۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ جو ہم اس داستان سے سیکھتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناگوار واقعات کے بارے میں ہمیں جلدبازی سے فیصلے نہیں کرنا چاہیے۔ کتنے ایسے واقعات ہیں کہ جو ہمیں ناپسند ہوتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے الله کا لطف خفی تھے۔ اسی بات کے بارے میں قرآن حکیم ایک جگہ کہتا ہے: عَسی اَنْ تَکْرَھُوا شَیْئًا وَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَعَسیٰ اَنْ تُحِبُّوا شَیْئًا وَھُوَ شَرٌّ لَکُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُون ہو سکتا ہے ایک چیز تمھیں ناپسند ہو حالانکہ وہ تمھارے فائدے میں ہو اور ممکن ہے ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہ تہارے لیے مضر ہو اور خدا جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (بقرہ۔۲۱۶) اس حقیقت کی طرف توجہ کے سبب انسان ناگوار واقعات و حوادث پر فوراً مایوس نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں ایک جاذبِ نظر حدیث امام صادق علیہ السلام سے منقول نظر سے گزرتی ہے۔ امام(ع) نے فرزند زرارہ (تشریحی نوٹ: زرارہ اپنے زمانے کے بزرگ فقہاء اور محدثین میں شمار ہوتے تھے انھیں امام سے بہت محبت تھی اور امام(ع) کو ان سے بہت لگاؤ تھا)۔ سے فرمایا: اپنے باپ سے میرا سلام کہہ کر یہ کہنا: بعض محفلوں میں جو تیری برائی بیان کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دشمن اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ ہم کس شخص سے اظہار محبت کرتے ہیں تاکہ اسے اس محبت کی وجہ سے تکلیف پہنچائیں کہ جو ہم اس سے رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم کسی کی مذمت کرتے ہیں تو وہ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ بعض اوقات اگر میں تیری عدم موجودگی میں تیری برائی کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو لوگوں میں ہماری ولایت و محبت کے حوالے سے مشہور ہو چکا ہے۔ اسی بناء پر ہمارے مخالفین تیری مذمت کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تجھ پر عیب لگاؤں تاکہ تجھ سے ان کا شر دور ہو۔ جیسا کہ الله موسیٰ(ع) کے دوست عالم کی زبانی فرماتا ہے: اَمَّا السَّفِینَةُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَ یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُ اَنْ اَعِیبَھَا وَکَانَ وَرَائَھُمْ مَلِکٌ یَاْخُذُ کُلَّ سَفِینَةٍ غَصْبًا--- "کشتی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ چند مسکینوں کی ملکیت تھی وہ اس سے دریا میں کام کرتے تھے۔ میں نے اس میں اس لیے عیب اور نقص ڈال دیا کہ ایک بادشاہ ان کے پیچھے تھا اور وہ سب کشتیوں کو زبردستی ہتھیا رہا تھا"۔ اس مثال کو اچھی طرح سمجھ لے لیکن خدا کی قسم تو لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے چاہے وہ زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ہیں۔ تو اس موجزان دریا میں بہترین کشتی ہے اور ظالم غاصب بادشاہ تیرے پیچھے ہے جس کی بڑی گہری نظر ہے کہ بحرِ ہدایت میں سے کونسی صحیح و سالم کشتیاں گزرتی ہیں تاکہ انھیں غصب کر لے۔ تم پر الله کی رحمت ہو زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ (بحوالہ: معجم رجال الحدیث، ج۷ ص ۲۲۷) (و) اعتراض کے ساتھ ساتھ حقیقتوں کا اعتراف۔ اس داستان کا ایک اور سبق ہے۔ حضرت موسیٰ(ع) نے تین بار نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے عالم دوست سے کیے گئے عہد کو نظر انداز کر دیا اور باوجود اس کے اس استاد کی جدائی انھیں سخت ناگوار تھی تاہم اس تلخ حقیقت کے سامنے انھوں نے ہٹ دھری سے کام نہیں لیا, اور ان کے اقدام کو حق تسلیم کیا۔ ان سے بڑی محبت اور خلوص کے عالم میں جدا ہوئے اور اپنے کام میں لگ گئے جبکہ اس دوستی اور رفاقت کے مختصر سے عرصے میں انھوں نے حقیقت کے عظیم خزانے جمع کر لیے تھے۔ انسان کو نہیں چاہیے کہ آخر عمر تک اپنی آزمائش میں لگا رہے اور ایسے مستقبل کے لیے اپنی زنذگی کو تجربہ گاہ نہ بنالے کہ جو ہرگز نہیں آئے گا۔ جب انسان کسی ایک چیز کو چند مرتبہ آزمالے تو پھر اس کے نتیجے کے سامنے سر جھکا دے۔ (ز) ماں باپ کے ایمان کا اولاد کے لیے اثر بھی اس داستان کا ایک اہم سبق ہے۔ حضرت خضر(ع) نے ایک نیک اور صالح باپ کی وجہ سے اس کی اولاد کی اس قدر حمایت اپنے ذمہ لے لی کہ جس قدر ہو سکتی۔ یعنی اولاد اپنے باپ کے ایمان اور امانت کی وجہ سے سعادت مند ہو سکتی ہے اور اس کی نیکی کا فائدہ اس کی اولاد کو پہنچ سکتا ہے۔ چند ایک روایات میں ہے کہ وہ مرد صالح ان یتیموں کا باپ نہیں تھا بلکہ ان کے دور کے اجداد میں شمار ہوتا تھا (جی ہاں! عمل صالح کی تاثیر اس قدر ہے)۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج ۳ ص ۲۸۹)۔ اس کے صالح ہونے کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی اولاد کے لیے معنویت کے خزانے اور حکیمانہ پند نصائح بطور یادگار چھوڑے۔ (ح) اس داستان کا ایک سبق یہ ہے کہ ماں باپ کو تکلیف پہنچانے سے عمر کم ہو جاتی ہے۔ جب ایسی اولاد موت کی مستحق ہے کہ جس نے آئندہ ماں باپ کو تکلیف پہنچانا ہے ان کے مقابلے میں سرکشی اور کفران اختیار کرنا ہے یا انہیں راہِ خدا سے منحرف کرنا ہے۔ تو پھر اس اولاد کی کیفیت بارگاہ الٰہی میں کیا ہو گی کہ جو اس وقت مشغول گناہ ہے۔ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ عمر کی کمی اور ترک صلہ رحمی (خصوصاً ماں باپ کو تکلیف پہنچانے) کے درمیان قریبی رشتہ ہے۔ ان میں کچھ روایات کا ذکر ہم اسی جلد میں سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت ۲۳ کے ذیل میں کر آئے ہیں۔ (ط) اس داستان کا ایک درس یہ ہے کہ لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔ بسا ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمارے بارے میں نیکی کرتا ہے چونکہ ہم باطن کار سے آگاہ نہیں ہوتے اس لیے اُسے دشمن خیال کرتے ہیں اور اس پر برہم ہوتے ہیں۔ خصوصاً ہم ان چیزوں کے بارے میں کم صبر اور بےحوصلہ ہوتے ہیں جنھیں نہیں جانتے۔ البتہ یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان ایسے امور کے بارے میں بےصبر ہوتا ہے کہ جن کا صرف ایک رخ اور ایک زاویہ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ بہرحال، یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ تمام پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے بھی ایک حدیث مردی ہے، آپ(ع) نے فرمایا: الناس اعداء ماجھلوا انسان جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ (بحوالہ:۔ نہج البلاغہ، حکم ۱۷۲) اسی بناء پر لوگوں کی سطح علم و آگہی جس قدر بلند ہو گی مسائل سے ان کا برتاؤ اتنا ہی منطقی ہوتا چلا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں صبر کی بنیاد علم و آ گہی ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ(ع) ایک لحاظ سے مضطرب اور ناراحت ہونے کا حق رکھتے تھے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان تینوں واقعات میں شریعت کے احکام کا بہت سا حصہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پہلے واقعے میں لوگوں کا مال محفوظ نہیں رہا دوسرے میں جان محفوظ نہیں رہی اور تیسرے میں مسائل حقوق خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ دوسرے میں انہوں نے دیکھا کہ ظاہراً لوگوں کے حقوق کے ساتھ منطقی برتاؤ نہیں ہوٴا لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس قدر پریشان ہوجائیں کہ اس عالم بزرگ سے باندھا عہد بھلادیں لیکن جب وہ باطن امر سے آگاہ ہوئے تو انہیں چین آگیا اور پھر کوئی اعتراض نہ کیا اور یہ بات خود اس امر کو واضح کرتی ہے کہ معاملات کے باطن سے مطلع نہ ہونا کس قدر پریشان کن ہے۔ ( ٰی) اس داستان سے ہم استاد اور شاگرد کے آداب بھی سیکھ سکتے ہیں۔ اس عالم زبانی اور حضرت موسیٰ(ع) کے درمیان ہونے والی گفتگو سے استاد اور شاگرد کے درمیان آداب کے سلسلے میں بہت سے نکات سامنے آتے ہیں۔ مثلاً: ۱۔حضرت موسی(ع) اپنے آپ کو حضرت خضر(ع) کے تابع قرار دیتے ہیں: اتبعک ۲۔ اور اس پیروی اور اتباع کے لیے حضرت موسیٰ(ع) اپنے استاد سے اجازت طلب کرتے ہیں: ہل اتبعک "کیا میں اپ کی اتباع کر سکتا ہوں؟" ۳۔ حضرت موسیٰ(ع) اپنی احتیاج علم اور استاد کے صاحب علم ہونے کا اقرار کرتے ہیں: علیٰ ان تعلمن تاکہ میں آپ سے علم حاصل کر سکوں۔ ۴۔ انکساری کا اظہار کرتے ہوئے حضرت موسیٰ(ع) اپنے استاد کا علم بہت زیادہ قرار دیتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ میں تو اس علم کا کچھ حصّہ حاصل کرنے حاضر ہوا ہوں۔ لفظ "ممّا" اس کی دلیل ہے۔ ۵۔ علم استاد کو علم الٰہی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں (علمت)۔ ۶۔ ان سے ارشاد و ہدایت کی خواہش کرتے ہیں (رشداً)۔ ۷۔ حضرت موسیٰ(ع) در پردہ اپنے استاد سے کہتے ہیں کہ جس طرح الله نے آپ پر لطف و کرم کیا ہے اور آپ کو تعلیم دی ہے آپ بھی مجھ پر یہ لطف کیجئے: (تعلمن ممّا علمت) ۸۔ "ہل اتبعک" سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شاگرد کو استاد کے پیچھے جانا چاہیے نہ کہ استاد کو شاگرد کے پیچھے (سوائے خاص مواقع کے)۔ ۹۔ حضرت موسیٰ بہت مقام بلند اور عظیم مقام کے حامل تھے۔ اولوالعزم نبی تھے اور صاحب رسالت و کتاب تھے اس کے باوجود انہوں نے اس انکساری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کردار ہر کسی سے کہہ رہا ہے کہ تو جو بھی ہے اور جو مقام بھی رکھتا ہے کسب علم و دانش کے موقع پر فروتنی اور انکساری سے کام لینا چاہیے۔ ۱۰۔ حضرت موسیٰ(ع) نے استاد سے عہد کرتے وقت قطعی اور یقینی لفظ استعمال نہیں کیے بلکہ کہا: ستجدنی انشاء الله صابراً انشاء الله آپ مجھے صابر پائیں گے۔ یہ الله کے حضور بھی ادب ہے اور استاد کے حضور بھی۔ کہ خلاف ورزی ہو جائے تو استاد کی ہتک احترام نہ ہو۔ ۱۱۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس عالم زبانی نے تعلیم و تربیت کے وقت انتہائی حلم و بردباری کا مظاہرہ کیا۔ موسیٰ جب ہیجان و اضطراب کے عالم میں اپنا عہد بھول جاتے تھے اور اعتراض کرنے لگتے تھے تو وہ بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوالیہ انداز میں صرف اتنا کہتے تھے: میں نہ کہتا تھا کہ میرے کاموں پر تم صبر نہ کر سکوں گے۔

83
18:83
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَن ذِي ٱلۡقَرۡنَيۡنِۖ قُلۡ سَأَتۡلُواْ عَلَيۡكُم مِّنۡهُ ذِكۡرًا
اور تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ عنقریب اس کی کچھ سر گزشت تم سے بیان کروں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
18:84
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا
ہم نے اسے روئے زمین پر قدرت و حکومت عطا فرمائی اور ہر طرح کے اسباب اس کے اختیار میں دیئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
18:85
فَأَتۡبَعَ سَبَبًا
پس اس نے ان اسباب سے استفادہ کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
18:86
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٖ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمٗاۖ قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنٗا
یہاں تک کہ وہ سورج کے مقام غروب تک پہنچا۔ اسے آفتاب ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے وہ سیاہ کیچڑ کے چشمہ میں ڈوب رہا ہو۔ وہاں اس نے ایک قوم کو آباد پایا۔ ہم نے کہا :اے ذوالقرنین! کیا تم انہیں سزا دینا چاہو گے یا اچھی جزا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
18:87
قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهُۥ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِۦ فَيُعَذِّبُهُۥ عَذَابٗا نُّكۡرٗا
وہ کہنے لگا :جن لوگوں نے ظلم کیا ہے انہیں تو ہم عنقریب سزا دیں گے اور وہ اپنے رب کی طرف پلٹ جائیں گے اور اللہ انہیں سخت سزا دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
18:88
وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَهُۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَسَنَقُولُ لَهُۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرٗا
رہا وہ شخص جو ایمان لے آئیگا اور نیک کام کرے گا وہ اچھی جزا پائے گا اور ہم اسے آسان کام کہیں (سونپیں ) گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
18:89
ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا
اس نے پھر ان اسباب سے کام لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
18:90
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلَىٰ قَوۡمٖ لَّمۡ نَجۡعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتۡرٗا
یہاں تک کہ وہ سورج کے مقام طلوع تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع کر رہا ہے جن کیلئے سورج کے سوا ہم نے کوئی ستر(اور لباس)قرار نہیں دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 91 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
18:91
كَذَٰلِكَۖ وَقَدۡ أَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرٗا
جی ہاں ! (ذوالقرنین کا معاملہ) ایسا ہی تھا اور اس کے پاس جو وسائل تھے ہم ان سے اچھی طرح آگاہ تھے۔

تفسیر ذوالقرنین کی عجیب کہانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اصحاب کہف کے بارے میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے کہا تھا کہ چند قریشیوں نے رسول اللهؐ کو آزمانا چاہا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مدینے کے یہودیوں کے مشورے سے تین مسئلے پیش کیے۔ ایک اصحابِ کہف کے بارے میں تھا، دوسرا مسئلہ روح کا تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان میں سے روح کے مسئلہ کا جواب سورہٴ بنی اسرائیل میں آیا ہے دوسرے دو سوالوں کا جواب زیر نظر سورہٴ کہف میں ہے۔ اب ذوالقرنین کی داستان کی باری ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں خود سورہٴ کہف میں تین واقعات کا ذکر ہے۔ یہ واقعات اگرچہ ظاہراً ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان میں ایک قدر مشترک ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ، موسیٰ(ع) اور خضر(ع) کی داستان اور ذوالقرنین کی کہانی۔ یہ سب ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جو ہمیں عام محدود زندگی سے باہر لے جاتے ہیں اور نشاندہی کرتے ہیں کہ عالم اور اس کے حقائق بس یہی نہیں کہ جو دیکھتے ہیں اور جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔ ذوالقرنین کی داستان ایسی ہے کہ جس پر طویل عرصے سے فلاسفہ اور محققین غور و خوض کرتے چلے آئے ہیں اور ذوالقرنین کی معرفت کے لیے انھوں نے بہت کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ہم ذوالقرنین سے مربوط آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ یہ کل سولہ آیتیں ہیں کیونکہ تاریخی تحقیق سے قطع نظر ذوالقرنین کی ذات خود سے ایک بہت ہی تربیتی درس ہے اور اس کے بہت سے قابل غور پہلو ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے بعد ذوالقرنین کی شخصیت کو جاننے کے لیے ہم آیات، روایات اور مورخین کے اقوال کا جائزہ لیں گے۔ دوسرے لفظوں میں پہلے ہم اس کی شخصیت کے بارے میں گفتگو کریں گے اور پہلا موضوع وہی ہے جو قرآن کی نظر میں اہم ہے۔ اس سلسلے کی پہلی آیت کہتی ہے: تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں: (وَیَسْاَلُونَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ)۔ کہہ دو عنقریب اس کی اس کی سرگذشت کا کچھ حصہ تم سے بیان کروں گا (قُلْ سَاَتْلُو عَلَیْکُمْ مِنْہُ ذِکْرًا)۔ "ساَتلو" میں جو "سین" ہے وہ مستقل قریب کے لیے آئی ہے حالانکہ اس بارے میں رسول اللهؐ نے ساتھ ہی گفتگو شروع کر دی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ ادب کے پیش نظر ہو۔ ایسا ادب کہ جس میں ترک عجلت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ایسا ادب کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا سے بات معلوم کر کے لوگوں کو بتائی جا رہی ہے۔ بہرحال، اس آیت کی ابتداء یہ بتاتی ہے کہ لوگ پہلے بھی ذوالقرنین کے بارے میں بات کیا کرتے تھے۔ البتہ اس سلسلے میں ان میں اختلاف اور ابہام پایا جاتا تھا۔ اسی لیے انھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلّم سے ضروری وضاحتیں چاہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ہم نے اسے زمین پر تمکنت عطا کی (قدرت، ثبات قوت اور حکومت بخشی) (إِنَّا مَکَّنَّا لَہُ فِی الْاَرْضِ)۔ اور ہر طرح کے وسائل و اسباب اس کے اختیار میں دیئے (وَآتَیْنَاہُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ سَبَبًا )۔ "سَبب" دراصل اس رسی کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے کجھور کے درختوں پر چڑھتے ہیں۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کے وسیلے اور ذریعے کے معنی میں بولا جانے لگا۔ بعض مفسرین نے اس لفظ کو کسی خاص مفہوم میں محدود کرنا چاہا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ آیت پوری طرح مطلق ہے اور وسیع مفہوم رکھتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ الله تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ہر چیز تک پہنچنے کے اسباب عنایت فرمائے تھے۔ "سَبَب" کے اس مفہوم میں عقل و درایت، انتظامی صلاحیت، طاقت و قوت، لشکر، افرادی قوت، مادی وسائل غرض ہر قسم کے ایسے مادی وسائل شامل ہیں جو مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھے۔ اس نے بھی ان سے استفادہ کیا (فَاَتْبَعَ سَبَبًا)۔ یہاں تک کہ وہ سورج کے مقام غروب تک پہنچ گیا (حَتَّی إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ)۔ وہاں اس نے محسوس کیا کہ سورج تاریک اور کیچڑ آلود چشمے یا دریا میں ڈوب جاتا ہے (وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِی عَیْنٍ حمئة)۔ (تشریحی نوٹ: "حمئة" دراصل سیاہ بدبودار کیچڑ کے معنی ہے دوسرے لفظوں میں یہ "تلچھٹ" کے معنی میں ہے (جس کا معنی ہے سیاہ مٹی جو کسی حوض یا نالے کی تہہ میں ہوتی ہے)۔ یہ لفظ نشاندہی کرتا ہے کہ ذوالقرنین جس علاقے میں پہنچے تھے وہاں بدبودار کیچڑ بہت زیادہ تھا۔ یہاں تک کہ غروب آفتاب کے وقت ذوالقرنین کو ایسا لگتا تھا جیسا سورج کا لے اس کیچڑ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسے دریا کے پاس سے گزرنے والے مسافروں اور وہاں رہنے والوں کو وقت غروب ایسا لگتا ہے جیسے سورج دریا میں غروب ہو رہا ہے اور طلوع کے وقت ایسا لگتا ہے جیسے دریا سے نکل رہا ہو)۔ وہاں اس نے ایک قوم کو دیکھا (کہ جس میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ تھے) (وَوَجَدَ عِنْدَھَا قَوْمًاً)۔ تو ہم نے ذوالقرنین سے کہا: کہ تم ہمیں سزا دینا چاہو گے یا اچھی جزاء (قُلْنَا یَاذَا الْقَرْنَیْنِ إِمَّا اَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا اَنْ تَتَّخِذَ فِیھِمْ حُسْنًا)۔ (تشریحی نوٹ: جملہ "اما ان تعذب----" ایسا لگتا ہے جیسے استفہامیہ ہو اگر اس کا ظاہر خبر یہ ہے) بعض مفسرین نے لفظ "قلنا" (ہم نے ذوالقرنین سے کہا) سے ان کی نبوت پر دلیل قرار دیا ہے لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس جملے سے قلبی الہام مراد ہو کہ جو غیر انبیاء میں بھی ہوتا ہے لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تفسیر زیادہ تر نبوت کو ظاہر کرتی ہے۔ ذوالقرنین نے "کہا: وہ لوگ کہ جنہوں نے ظلم کیے ہیں، انھیں توہم سزا دیں گے" (قَالَ امَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہ)۔" اور پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے اور الله انھیں شدید عذاب کرے گا۔ (ثُمَّ یُرَدُّ إِلَی رَبِّہِ فَیُعَذِّبُہُ عَذَابًا نُکْرًا)۔ (تشریحی نوٹ: "نکر"، "منکر" کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے، نامعلوم یعنی نامعلوم عذاب کہ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا)۔ یہ ظالم و ستمگر دنیا کا عذاب بھی چکھیں گے اور آخرت کا بھی۔ اور رہا وہ شخص کہ جو باایمان ہے اور عمل صالح کرتا ہے اسے اچھی جزاء ملے گی (وَاَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُ جَزَاءً الْحُسْنَی)۔ اور اسے ہم آسان کام سونپیں گے (وَسَنَقُولُ لَہُ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا)۔ اس سے بات بھی محبت سے کریں گے اور اس کے کندھے پر سخت ذمہ داریاں بھی نہیں رکھیں گے اور اس سے زیادہ خراج بھی وصول نہیں کریں گے۔ ذوالقرنین کی اس بیان سے گویا یہ مراد تھی کہ توحید پر ایمان اور ظلم و شرک اور برائی کے خلاف جد و جہد کے بارے میں میری دعوت پر لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہو گا جو اس الٰہی تعمیری پروگرام کو مطمئن ہو کر تسلیم کر لیں گے انھیں اچھی جزا ملے گی اور وہ آرام و سکون سے زندگی گزاریں گے جبکہ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہو گا جو دعوت سے دشمنی پر اتر آئیں گے اور شرک و ظلم اور برائی کے راستے پر ہی قائم رہیں گے انھیں سزا دی جائی گی۔ ضمناً یہ بھی عرض کر دیا جائے کہ۔ "من ظلم" کہ جو "من اٰمن و عمل صالحاً " کے مقابلے میں آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "ظلم" اِس جگہ شرک اور غیر صالح عمل کے معنی میں آیا ہے اور غیر صالح عمل دراصل شرک کے ناپاک درخت کا ایک کڑوا پھل ہے۔ ذوالقرنین نے اپنا مغرب کا سفر تمام کیا اور مشرق کی طرف جانے کا عزم کیا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے: جو وسائل اس کے اختیار میں تھے اس نے ان سے پھر استفادہ کیا (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا)۔ اور اپنا سفر اسی طرح جاری رکھا یہاں تک کہ سورج کے مرکز طلوع تک جا پہنچا (حَتَّی إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْس)۔ وہاں اس نے دیکھا سورج ایسے لوگوں پر طلوع کر رہا ہے کہ جن کے پاس سورج کی کرنوں کے علاوہ تن ڈھانپنے کی کوئی چیز نہیں ہے (وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلیٰ قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَھُمْ مِنْ دُونِھَا سِتْرًا)۔ یہ لوگ بہت ہی پست درجے کی زندگی گزارتے تھے یہاں تک کہ برہنہ رہتے تھے یا بہت ہی کم مقدار لباس پہنتے تھے کہ جس سے ان کا بدن سورج سے نہیں چھپتا تھا۔ بعض مفسرین نے اس احتمال کو بھی بعید قرار نہیں دیا کہ ان کے پاس رہنے کو کوئی گھر بھی نہ تھے کہ وہ سورج کی تپش سے بچ سکتے۔ (تشریحی نوٹ: بعض روایات اہل بیت(ع) میں پہلی تفسیر بیان ہوئی ہے اور بعض میں دوسری تفسیر آئی ہے اور یہ دونوں ایک دوسری کے منافی بھی نہیں ہیں (نور الثقلین ج ۳ ص ۳۰۶ ملاحظہ فرمائیے) اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ لوگ ایسے بیابان میں رہتے تھے کہ جس میں کوئی پہاڑ، درخت، پناہگاہ اور کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ وہ سورج کی تپش سے بچ سکتے گویا اس بیابان میں ان کے لیے کوئی سایہ نہ تھا۔ (بحوالہ: تفسیر "فی ظلال القرآن" اور تفسیر فخرالدین رازی، زیر بحث آٰیت کے ذیل میں)۔ بہرحال، یہ تمام تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ جی ہاں! ذوالقرنین کا معاملہ ایسا ہی ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ اس کے اختیار میں (اپنے اہداف کے حصول کے لیے) کیا وسائل تھے (کذٰلک وقد احطنا بما لدیہ خبراً)۔ بعض مفسرین نے آیت کی تفسیر میں یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ ذوالقرنین کے کاموں اور پروگراموں میں الله کی ہدایت کی طرف اشارہ ہے۔ (بحوالہ: المیزان، ج ۱۳ ص ۳۹۱)

92
18:92
ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا
اس نے پھر ان وسائل سے استفادہ کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
18:93
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيۡنَ ٱلسَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوۡمٗا لَّا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ قَوۡلٗا
(اور اسی طرح اپنا سفر جاری رکھا) یہاں تک کہ پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور وہاں ان دو گروہوں سے مختلف ایک ایسا گروہ پایا جس کے لوگ کوئی بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
18:94
قَالُواْ يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدّٗا
(وہ لوگ) کہنے لگے: اے ذوالقرنین ! یاجوج و ماجوج اس سر زمین پر فساد برپا کرتے ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ اگر اخراجات تجھے ہم فراہم کر دیں اور تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
18:95
قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيۡرٞ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا
(ذوالقرنین نے) کہا:اللہ نے جو میرے اختیار میں دیا ہے وہ(اس سے)بہتر ہے (جس کی تم پیشکش کرتے ہو) قوت و طاقت سے میری مدد کرو تاکہ تمہارے اور ان کے درمیان دیوار بنا دوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
18:96
ءَاتُونِي زُبَرَ ٱلۡحَدِيدِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا سَاوَىٰ بَيۡنَ ٱلصَّدَفَيۡنِ قَالَ ٱنفُخُواْۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَعَلَهُۥ نَارٗا قَالَ ءَاتُونِيٓ أُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرٗا
لوہے کی بڑی بڑی سلیں میرے پاس لے آؤ اور (انہیں ایک دوسرے پر چن دو) تاکہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ پوری طرح چھپ جائے اس کے بعد اس نے کہا (اس کے اطراف میں آگ روشن کرو اور) آگ کو دھونکو یہاں تک کہ (دھونکتے دھونکتے) انہوں نے لوہے کی سلوں کو سرخ انگارہ بنا کر پگھلا دیا اس نے کہا :(اب) پگھلا ہوا تانبا میرے پاس لے آؤ تاکہ اسے اس کے اوپر ڈالدوں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
18:97
فَمَا ٱسۡطَٰعُوٓاْ أَن يَظۡهَرُوهُ وَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ لَهُۥ نَقۡبٗا
(آخر کار اس نے ایسی مضبوط دیوار بنا دی کہ) اب وہ اس کے اوپر نہیں جا سکتے تھے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
18:98
قَالَ هَٰذَا رَحۡمَةٞ مِّن رَّبِّيۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّي جَعَلَهُۥ دَكَّآءَۖ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّي حَقّٗا
اس نے کہا :یہ میرے رب کی رحمت ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آن پہنچا تو اسے درہم برہم کر دے گا اورمیرے پروردگار کا وعدہ حق ہے۔

تفسیر ذوالقرنین نے دیوار کیسے بنائی؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

زیر نظر آیات میں حضرت ذوالقرنین کے ایک اور سفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کے بعد اس نے حاصل وسائل سے پھر استفادہ کیا (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) اور اس طرح اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا وہاں ان دو گروہوں سے مختلف ایک اور گروہ کو دیکھا۔ یہ لوگ کوئی بات نہیں سمجھتے تھے۔ (حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِھِمَا قَوْمًا لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلًا)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کوہستانی علاقے میں جا پہنچے۔ مشرق او رمغرب کے علاقے میں وہ جیسے لوگوں سے ملے تھے یہاں ان سے مختلف لوگ تھے۔ یہ لوگ انسانی تمدن کے اعتبار سے بہت ہی پسماندہ تھے کیونکہ انسانی تمدن کی سب سے واضح مظہر انسان کی گفتگوہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ "لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلًا" سے یہ مراد نہیں کہ وہ مشہور زبانوں میں سے کسی کو جانتے نہیں تھے بلکہ وہ بات کا مفہوم نہیں سمجھ سکتے تھے یعنی فکری لحاظ سے بہت پسماندہ تھے۔ اور یہ کہ وہ پہاڑ کہاں تھے؟ اس سلسلے میں ہم اس واقعے کے دیگر تاریخی اور جغرافیائی پہلووٴں کا جائزہ لیتے ہوئے تفسیری بحث کے آخر میں گفتگو کریں گے۔ اس وقت یہ لوگ یا جوج و ماجوج نامی خونخوار او رسخت دشمن سے بہت تنگ او رمصیبت میں تھے۔ ذوالقرنین کہ جو عظیم قدرتی وسائل کے حامل تھے، ان کے پاس پہنچے تو انھیں بڑی تسلی ہوئی۔ انھوں نے ان کا دامن پکڑ لیا اور " کہنے لگے: اے ذوالقرنین! یا جوج و ماجوج اس سرزمین پر فساد کرتے ہیں۔ کیا ممکن ہے کہ خرچ آپ کو ہم دے دیں اور آپ ہمارے او ران کے درمیان ایک دیوار بنا دیں" (قَالُوا یَاذَا الْقَرْنَیْنِ إِنَّ یَاْجُوجَ وَمَاْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلیٰ اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا)۔ وہ ذوالقرنین کی زبان تو نہیں سمجھتے تھے اس لیے ہو سکتا ہے یہ بات انھوں نے اشارے سے کی ہو یا پھر ٹوٹی پھوٹی زبان میں اظہار مدعا کیا ہو۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے درمیان مترجمین کے ذریعے بات چیت ہوئی ہو یا پھر خدائی الہام کے ذریعے حضرت ذوالقرنین نے ان کی بات سمجھی ہو جیسے حضرت ذوالقرنین بعض پرندوں سے بات کر لیا کرتے تھے۔ بہرحال، اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی تھی لیکن سوچ بچار،منصوبہ بندی، اور صنعت کے لحاظ سے وہ کمزور تھے۔ لہٰذا وہ اس بات پر تیار تھے کہ اس اہم دیوار کے اخرجات اپنے ذمہ لے لیں اس شرط کے ساتھ کہ ذوالقرنین اس کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی ذمہ قبول کر لیں۔ یا جوج و ماجوج کے بارے میں انشاء الله اس بحث کے آخر میں گفتگو کی جائے گی۔ اس پر ذوالقرنین نے انھیں جواب دیا: یہ تم نے کیا کہا؟ الله نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے، وہ اس سے بہتر ہے کہ جو تم مجھے دینا چاہتے ہو اور میں تمھارے مالی امداد کا محتاج نہیں ہوں (قَالَ مَا مَکَّنِی فِیہِ رَبِّی خَیْر)۔ تم قوت و طاقت کے ذریعے میری مدد کرو تاکہ میں تمھارے اور ان دو مفسد قوموں کے درمیان مضبوط اور مستحکم دیوار بنا دوں (فَاَعِینُونِی بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا)۔ "رَدْم" (بروزن "مرد") بنیادی طور پر پتھر کے ذریعے بھرنے کے معنی میں ہے لیکن بعد ازاں یہ لفظ وسیع معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب ہر قسم کی رکاوٹ اور دیوار کو "رَدْم" کہتے ہیں یہاں تک کہ اب کپڑے میں پیوند کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ"رَدْم" مضبوط اور مستحکم "سَد" کو کہتے ہیں۔(بحوالہ: یہ بات آلوسی نے روح المعانی میں، فیض کاشانی نے صافی میں اور فخر رازی نے تفسیر کبیر میں کہی ہے)۔ ا س تفسیر کے مطابق ذوالقرنین نے ان سے وعدہ کیا وہ ان کی توقع سے زیادہ مضبوط دیوار بنا دیں گے۔ ضمناً توجہ رہے کہ "سَد" بر وزن "قد" اور "سَد" (بروزن"خود") کا ایک ہی معنی ہے اور وہ ہے "دو چیزوں کے درمیان کوئی رکاوٹ" لیکن مفردات میں راغب نے لکھا ہے کہ ان دونوں لفظوں کے درمیان فرق ہے۔ "سَد" کو وہ انسان کی بنائی ہوئی رکاوٹ یا دیوار سمجھتے ہیں اور " سَد" کو فطری اور طبعی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔ پھر ذوالقرنین نے حکم دیا: لوہے کی بڑی بڑی سلیں میرے پاس لے آوٴ (آتُونِی زُبَرَ الْحَدِید)۔ " زُبَر"، " زُبَرة" (بروزن "غرفة") کی جمع ہے۔ یہ لو ہے کے بڑے اور ضخیم ٹکڑے کے معنی میں ہے۔ جب لوہے کی سلیں آ گئیں تو انھیں ایک دوسرے پر چننے کا حکم دیا "یہاں تک کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ پوری طرح چھپ گئی" (حَتَّی إِذَا سَاوَی بَیْنَ الصَّدَفَیْن)۔ "صدف" یہاں پہاڑ کے کنارے کے معنی میں ہے۔ اس لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ پہاڑوں کے دو کناروں کے درمیان ایک کھلی جگہ تھی اور یہیں سے یاجوج ماجوج داخل ہوتے تھے۔ ذوالقرنین نے پروگرام بنایا کہ اس خالی جگہ کو بھر دیا جائے۔ بہرحال، تیسرا حکم ذوالقرنین نے یہ دیا کہ آگ لگانے کا مواد ( ایندھن وغیرہ) لے آوٴ اور اسے اس دیوار کے دونوں طرف رکھ دو اور اپنے پاس موجود وسائل سے آگ بھڑکاوٴ اور اس میں دھونکو یہاں تک کہ لوہے کی سلیں انگاروں کی طرح سرخ ہو کر آخر پگھل جائیں (قَالَ انفُخُوا حَتَّی إِذَا جَعَلَہُ نَارًا)۔ درحقیقت وہ اس طرح لوہے کے ٹکروں کو آپس میں جوڑ کر ایک کر دینا چاہتے تھے۔ یہی کام آج کل خاص مشینوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔لوہے کی سلوں کو اتنی حرارت دی گئی کہ وہ نرم ہو کر ایک دوسرے سے مل گئیں۔ پھر ذوالقرنین نے آخری حکم دیا: کہا کہ پگھلا ہوٴا تانبا لے آوٴ تاکہ اسے اس دیوار کے اوپر ڈال دوں (قَالَ آتُونِی اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا)۔ اس طرح اس لوہے کی دیوار پر تابنے کا لیپ کر کے اسے ہوا کے اثر سے اور خراب ہونے سے محفوظ کر دیا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ سائنس کے مطابق اگر تانبے کی کچھ مقدار لوہے میں ملا دی جائے تو اس کی مضبوطی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ذوالقرنین چونکہ اس حقیقت سے آگاہ تھے اس لیے انھوں نے یہ کام کیا۔ ضمناً یہ بھی عرض کر دیا جائے کہ"قِطْر" کا مشہور معنی "پگھلا ہوا تانبا " ہی ہے لیکن بعض مفسرین نے اس کے معنی " پگھلا ہوا جست" کیا ہے جبکہ یہ خلاف مشہور ہے۔ آخرکار یہ دیوار اتنی مضبوط ہو گئی کہ اب وہ مفسد لوگ نہ اس کے اوپر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے ( فَمَا اسْتَطَاعُوا اَنْ یَظْھَرُوہُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَہُ نَقْبًا)۔ ذوالقرنین نے بہت اہم کام انجام دیا تھا۔ مستکبرین کی روش تو یہ ہے کہ ایسا کام کر کے وہ بہت فخر و ناز کرتے ہیں یا احسان جتلاتے ہیں لیکن ذوالقرنین چونکہ مرد خدا تھے لہٰذا انتہائی ادب کے ساتھ کہنے لگے: "یہ میرے رب کی رحمت ہے"(قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّی)۔ اگر میرے پاس اہم کام کرنے کے لیے علم و آگاہی ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر مجھ میں کوئی طاقت ہے اور میں بات کر سکتا ہوں تو وہ بھی اس کی طرف سے ہے اگر یہ چیزیں او ران کا ڈھالنا میرے اختیار میں ہے تو یہ بھی پروردگار کی وسیع رحمت کی برکت ہے۔ میرے پاس کچھ بھی اپنی طرف سے نہیں ہے کہ جس پر میں فخر و ناز کروں اور میں نے کوئی خاص کام بھی نہیں کیا کہ الله کے بندوں پر احسان جتاتا پھروں۔ اس کے بعد مزید کہنے لگے: یہ نہ سمجھنا کہ کوئی دائمی دیوار ہے” جب میرے پروردگار کا حکم آیا تو یہ درہم و برہم ہو جائے گی اور زمین بالکل ہموار ہو جائے گی (فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّی جَعَلَہُ دَکَّاءَ )۔ اور میرے رب کا، وعدہ حق ہے(وَکَانَ وَعْدُ رَبِّی حَقًّا)۔ یہ کہہ کر ذوالقرنین نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ اختتام دنیا اور قیامت کے موقع پر یہ سب کچھ درہم و برہم ہو جائے گا۔ البتہ بعض مفسرین نے وعدہٴ الٰہی کو انسانی علم کی ترقی کی طرف اشارہ سمجھا ہے یعنی علمی ترقی کے بعد پھر ناقابل عبور دیوار کا کوئی مفہوم نہیں رہے گا مثلاً ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایسی رکاوٹوں کو ختم کر دیں گے لیکن یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے۔

چند اہم نکات ۱۔ اس داستان کے ۱۲ تاریخی اور تربیتی نکات

ذوالقرنین کون تھے، مشرق و مغرب کی طرف انھوں نے کس طرح سفر کیا اور ان کی بنائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ اس سلسلے میں ہم انشاء الله بعد میں بحث کریں گے۔ قطع نظر اس کی تاریخ مطابقت کے، خود داستان بہت سے تربیتی اور تعمیری نکات کی حامل ہے۔ سب سے زیادہ ان نکات پر غور کیا جانا چاہیے اور یہی درحقیقت قرآن کا اصل مقصد ہے۔ ۱۔ اسباب کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں: پہلا درس کہ جو ہمیں یہ داستان سکھاتی ہے یہ ہے کہ اسباب و وسائل سے کام لیے بغیر عالم میں کچھ نہیں ہو سکتا لہٰذا الله تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو کام کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے اسباب و وسائل عطا کیے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے: و اٰتیناہ من کل شیءٍ سبباً ہم نے اسے ہر طرح کے اسباب عطا کیے۔ نیز فرمایا: فاَتبع سببا اُس نے بھی ان اسباب سے استفادہ کیا۔ لہٰذا جو لوگ توقع رکھیں کہ درکار اسباب و وسائل مہیا کیے بغیر کامیابی تک پہنچ جائیں وہ کہیں نہیں پہنچ سکتے، چاہے وہ ذوالقرنین ہی کیوں نہ ہوں۔ ۲۔ گاہے بڑی شخصیت بھی غروب ہو جاتی ہے: سورج کا کیچڑ آلود چشمے میں غروب ہو جانا اگرچہ فریبِ نظر کا پہلو رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود یوں لگتا ہے جیسے ہو سکتا ہے سورج اتنا بڑا ہونے کے باوجود کیچڑ بھرے چشمے میں چھپ سکتا ہے جیسے ایک باعظمت انسان اور ایک بلند مقام شخصیت بعض اوقات کسی ایک بڑی لغزش کی وجہ سے اپنے اپنے مقام سے گر جاتی ہے اور اس کی شخصیت نگاہوں سے غروب ہو جاتی ہے۔ ۳۔ تحسین اور سزا دونوں کی ضرورت ہے: کوئی حکومت اپنے اچھے لوگوں کی تحسین و تشویق کے بغیر اور خطا کاروں کو سزا دیئے اور باز پرس کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ اصول ہے جس سے حضرت ذوالقرنین نے استفاہ کیا اور کہا: جنھوں نے زیادتی اور ظلم کیا ہے انھیں ہم سزا دیں گے اور جو ایمان لائے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں انھیں ہم اچھی جزا دیں گے۔ حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کے نام ایک فرمان جاری کیا۔ یہ فرمان نظامِ مملکت کا ایک جامع دستور العمل ہے۔ اس مشہور حکم میں آپ(ع) فرماتے ہیں: ولا یکونن المحسن والمسیء عندک بمنزلة سواء فان فی ذٰلک ترھیداً لا ھل الاحسان فی الاحسان، و تدریبا لا ھل الاسائة علی الاسائة۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خط ۵۳) تیری نگاہ میں نیک اور بد کبھی ایک نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس طرح تو نیک لوگ اپنے کام سے بددل ہو جائیں گے اور بُرے بےپرواہ۔ ۴۔ اتنا بوجھ ڈالنا جو قابل برداشت ہو: عدل الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی پر اتنا بوجھ اور ذمہ داری ڈالی جائے کہ جو اس کے لیے تکلیف دہ نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ذوالقرنین نے تصریح کی، میں ظالموں کو سزا دوں گا اور نیک لوگوں کو اچھی جزا دوں گا اور پھر فرمایا: میں ان کے سامنے آسان پروگرام رکھوں گا۔ یعنی ان کے ذمہ آسان کام لگاؤں گا تاکہ وہ شوق اور رغبت سے یہ کام سرانجام دے سکیں۔ ۵۔ مختلف علاقے، مختلف حالات اور مختلف تقاضے: ایک وسیع اور ہمہ گیر مملکت مختلف علاقوں میں لوگوں کے مختلف حالات سے بےاعتناء نہیں رہ سکتی۔ ذوالقرنین کہ جو ایک حکومتِ الٰہی کے سر براہ تھے۔ ان کی مملکت کے مختلف خطوں میں مختلف قومیں بستی تھیں۔ ہر قوم کا اپنا رہن سہن اور تمدن تھا۔ ذوالقرنین ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے حسب حال سلوک کرتے اور ان سب کو گویا اپنے پروں کے نیچے رکھتے۔ ۶۔ ہر قوم کے مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: ایک قوم کہ جو قرآن کے بقول: لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلًا یعنی۔ بات تک نہ سمجھتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے اسے بھی اپنی نگاہ کرم سے دور نہیں رکھا اور جیسے بھی ممکن ہو ان کا درد دل سنا اور ان کی احتیاج کو پورا کیا۔ آپ نے ان کے اور ان کے دشمن کے درمیان مضبوط دیوار بنا دی، ظاہراً نظر نہیں آتا کہ حکوت کے لیے ایسی قوم کوئی فائدہ مند تھی اس کے باوجود حضرت ذوالقرنین نے ان کے ساتھ یہ حسن سلوک روا رکھا اور ان کے مسائل حل کیے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: اسماع الاصم من غیر تصخر صدقة ھنیئة اتنی بلند آواز سے بات کرنا کہ بہرہ شخص بھی سن لے، اچھے صدقے کی مانند ہے۔ بشرطیکہ یہ بلند آواز غصے کے طور پر نہ ہو۔ (بحوالہ: سفینۃ البحار، ج 2، لفظ صمم) ۷۔ امن صحیح معاشرے کے لئے بنیادی شرط ہے: ایک صحیح معاشرے کی زندگی کے لیے امن اولین اور اہم ترین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام امن اور مفسدین کو روکنے کے لیے حضرت ذوالقرنین نے بہت باعثِ زحمت کام اپنے ذمے لیا نہایت مضبوط دیوار کھڑی کر دی۔ ایسی دیوار جو تاریخ میں ضرب المثل ہو گئی۔ جیسے کہتے ہیں "دیوار سکندر کی طرح" (اگرچہ ذوالقرنین سکندر نہ تھے)۔ اسی بناء پر حضرت ابراہیم(ع) نے تعمیر کعبہ کے وقت اس سرزمین کے لئے جو چیز سب سے پہلے الله سے مانگی وہ نعمت امن و امان ہی تھی۔ آپ(ع) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: رَبِّ اجعَل ہٰذَا البَلَدَ اٰمِناً بار الٰہا! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ (ابراہیم۔ ۳۵) اسی لیے فقہ اسلام میں ان لوگوں کے لیے سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے جو معاشرے کے امن و امان کو خطرے میں ڈال دیں (سورہٴ مائدہ۔آیہ ۳۳ کی طرف رجوع کریں)۔ ۸۔ صاحب مسئلہ کو خود بھی شریک کار ہونا چاہیے: اس تاریخی واقعے سے ایک اور سبق یہ لیا جا سکتا ہے کہ جن کا کوئی مسئلہ ہے اور جو کسی درد میں مبتلا ہیں انھیں بھی اپنے مسئلے کے حل اور درد کے علاج میں شریک ہونا چاہیے کیونکہ: آہِ صاحبِ درد را باشد اثر جو خود درد میں مبتلا ہو اس کی آہ اثر رکھتی ہے۔ اسی لیے جنھوں نے وحشی قوموں کے حملے کی شکایت کی تھی سب سے پہلے حضرت ذوالقرنین نے انھیں حکم دیا کہ وہ لوہے کی سلیں لے آئیں۔ اس کے بعد آپ نے انہیں لوہے کی دیوار کے گرد آگ روشن کرنے کا حکم دیا۔ پھر پگھلا ہوا تانبا لانے کے لیے کہا تاکہ اسے لوہے پر لیپ دیا جائے۔ اصولی طور پر جنھیں کوئی مسئلہ درپیش ہو، جب کام ان کی شراکت سے انجام پاتا ہے تو ان کی صلاحتیں بھی ابھرتی ہیں، کام کی کوئی قدر و قیمت بھی ہوتی ہے اور پھر وہ اس کی حفاظت بھی کرتی ہیں کیونکہ اس میں ان کی زحمتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ضمنی طور پر اس سے یہ بھی اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ ایک پسماندہ قوم کو بھی جب کوئی صحیح سرپرست اور منصوبہ بندی میسر آ جائے تو وہ بھی بڑے اہم اور محیر العقول کام کر سکتی ہے۔ ۹۔ خدائی رہبر کی مادیات سے بےاعتنائی: ایک سبق اس داستان سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ ایک خدائی رہبر کو مال دنیا اور مادیات سے بےپرواہ اور بےاعتناء ہونا چاہیے اور جو کچھ الله نے اسے عطا کیا ہے اسی پر قناعت کرنا چاہیے۔ بادشاہ ہر طرف سے اور ہر کسی سے عجیب عجیب ہتھکنڈے استعمال کر کے مال جمع کرنے کی لالچ کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ذوالقرنین کو جب مال کی پیشکش کی گئی تو آپ نے یہ کہہ کر قبول نہ کی کہ: ما مکنی فیہ ربی خیر جو کچھ میرے رب نے مجھے دیا ہے وہ بہتر ہے۔ قرآن مجید میں واقعاتِ انبیاء میں ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ ان کی یہ بات بنیادی ہوتی تھی کہ ہماری دعوت تم سے کسی اجر و صلہ کے لیے نہیں اور ہم تم سے اجر کی خواہش نہیں کرتے۔ یہ بات قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلّم اور دیگر انبیاء کے بارے میں گیارہ مرتبہ دکھائی دیتی ہے۔ کبھی اس جملے کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ: ہماری جزا تو خدا کے ذمہ ہے۔ اور کبھی فرمایا گیا ہے: قُلْ لَااَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ ( الشوری۔23) میں تم سے اپنے اقرباء سے محبت و مودت کے علاوہ کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتا۔ اہل بیت(ع) سے مودت و محبت کا یہ تقاضا بھی دراصل آئندہ رہبری کی بنیاد کے طور پر ہے۔ ۱۰۔ کام ہر لحاظ سے ٹھوس اور مضبوط ہونا چاہیے: کام کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور پائیدار کرنا، اس داستان کا ایک اور سبق ہے۔ ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرنے کے لیے لوہے کی بڑی بڑی سلیں استعمال کیں اور انھیں آپس میں ملانے اور جوڑنے کے لیے آگ میں پگھلایا۔ نیز دیوار کو ہَوا، رطوبت، بارش وغیرہ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پر تانبے کا لیپ کر دیا تاکہ لوہا بوسیدہ اور زنگ زدہ نہ ہو۔ ۱۱۔تکبر۔ انسان کو زیبا نہیں: انسان کتنا بھی طاقتور اور صاحب قدرت ہو اور بڑے بڑے کام کر گزرے پھر بھی اسے ہرگز اپنے اوپر غرور اور ناز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ درس ہے جو حضرت ذوالقرنین نے سب کو دیا ہے۔ وہ ہر مقام پر قدرت پر بھروسہ کرتے تھے۔ جب دیوار مکمل ہو گئی تو انھوں نے کہا: ھٰذا رحمة من ربی یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ جب انھیں مالی کمک کی پیش کش ہوئی تو کہا: ما مکنی فیہ ربی خیر جو کچھ الله نے مجھے بخشا ہے وہ اس سے بہتر ہے۔ اور جب آپ نے اس مضبوط دیوار کے درہم برہم ہو جانے کی بات کی تو بھی پروردگار کے وعدہٴ حق کا سہارا لیا۔ ۱۲۔ اس جہان کی ہر چیز فنا پذیر ہے: آخرکار تمام چیزیں زائل ہو جائیں گی۔ اس جہان کی مضبوط ترین عمارتیں بھی آخرکار تباہ ہو جائیں گی، اگرچہ وہ لوہے اور فولاد کی بنی ہوں۔ یہ اس داستان کا آخری درس ہے۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے درس ہے جو عملی طور پر دنیا کو جاودانی سمجھتے ہیں اور مال جمع کرنے، منصب و مقام حاصل کرنے کے لیے کسی قانون اور قاعدے کی پرواہ نہیں کرتے اور دنیا کے لیے ایسی حریصانہ کوشش کرتے ہیں کہ گویا موت اور فنا ہے ہی نہیں۔ جبکہ دیوارِ ذوالقرنین تو معمولی چیز ہے، سورج اتنا بڑا ہونے کے باوجود خاموش اور فنا ہو جائے گا۔ پہاڑ اپنی اتنی مضبوطی کے باوجود دھنی ہوئی روئی کی مانند اڑ جائیں گے۔ ان سب چیزوں میں انسان تو بہت ہی کمزور سی مخلوق ہے۔ کیا اس حقیقت کے بارے میں غور و خوض انسان کو خود غرضیوں اور خود پرستیوں سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

۲۔ ذوالقرنین کون تھا؟

جس ذوالقرنین کا قرآن مجید میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں سے یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے مابین اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں جو بہت سے نظریات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے یہ تین زیادہ اہم ہیں: پہلا: بعض کا خیال ہے کہ اسکندر مقدونی ہی ذوالقرنین ہے لہٰذا وہ اسے سکندر ذوالقرنین کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس نے اپنے باپ کی موت کے بعد روم، مغرب اور مصر پر تسلط حاصل کیا۔ اس نے اسکندر یہ شہر بنایا۔ پھر شام اور بیت المقدس پر اقتدار قائم کیا۔ وہاں سے ارمنستان گیا۔ عراق و ایران کو فتح کیا۔ پھر ہندوستان اور چین کا قصد کیا۔ وہاں سے خراسان پلٹ آیا۔ اس نے بہت سے نئے شہروں کی بنیاد رکھی، پھر وہ عراق آ گیا اس کے بعد وہ شہر زور میں بیمار پڑا اور مر گیا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی عمر چھتیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ اس کا جسدِ خاکی اسکندریہ لے جا کر دفن کر دیا گیا۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں اور کامل، ابن اثیر، ج ۱، ص ۲۸۷۔ بعض کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بوعلی سینا نے اپنی کتاب الشفاء میں اس نظریے کا اظہار کیا)۔ دوسرا: مورخین میں سے بعض کا نظریہ ہے کہ ذوالقرنین یمن کا ایک بادشاہ تھا۔ (یمن کے بادشاہ کو ”تبع“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کی جمع "تبایعہ" ہے)۔ اصمعی نے اپنی تاریخ "عرب قبل از اسلام" میں، ابن ہشام نے اپنی مشہور تاریخ "سیرة" میں اور ابو ریحان بیرونی نے "الآثار الباقیہ" میں یہی نظریہ پیش کیا ہے۔ یہاں تک کہ یمن کی ایک قوم "حمیری" کے شعراء اور زمانہٴ جاہلبیت کے بعض شعراء کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے انھوں نے ذوالقرنین کے اپنے میں سے ہونے پر فخر کیا ہے۔ (بحوالہ: المیزان، ج ۱۳ ص ۴۱۴) اس نظریہ کی بناء پر ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی وہ دیوار مارب ہے۔ تیسرا: یہ جدید ترین نظریہ ہے جو ہندوستان کے مشہور عالم ابوالکلام آزاد نے پیش کیا ہے۔ ابوالکلام آزاد کسی دَور میں ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: فارسی میں اس کتاب کے ترجمہ کا نام "ذوالقرنین یا کورش کبیر" رکھا گیا ہے۔ بہت سے معاصر مفسرین اور مورخین نے اپنی کتب میں اس نظریے کی موافقت کی ہے اور اس پر اپنے خیالات کا تفصیل سے اظہار کیا ہے) اس نظریے کے مطابق ذوالقرنین، کورش کبیر بادشاہ ہخامنشی ہے۔ پہلے اور دوسرے نظریے کے لیے کوئی خاص تاریخی مدرک نہیں ہے۔ اس کے علاوہ قرآن نے ذوالقرنین کی جو صفات بیان کی ہیں ان کا حامل اسکندر مقدونی ہے نہ کوئی بادشاہ یمن۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسکندر مقدونی نے کوئی معروف دیوار بھی نہیں بنائی۔ رہی وہ یمن کی دیوار مارب، تو اس میں ان صفات میں سے ایک بھی نہیں جو قرآن کی ذکر کردہ دیوار میں ہیں۔ کیونکہ قرآن کے مطابق دیوارِ ذوالقرنین لوہے اور تانبے سے بنائی گئی ہے اور یہ دیوار وحشی اقوام کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی جبکہ دیوارِ مارب عام مصالحے سے بنائی گئی ہے اور اس کی تعمیر کا مقصد پانی کا ذخیرہ کرنا اور سیلابوں سے بچانا تھا۔ اس کی وضاحت خود قرآن نے سورہ سبا میں کی ہے۔ لہٰذا ہم اپنی بحث کو زیادہ تر تیسرے نظریے پر مرتکز کرتے ہیں۔ یہاں ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند امور کی طرف خوب توجہ دی جائے: (ا)۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ "ذوالقرنین" کا معنی ہے "دو سینگوں والا"۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ نام اس لیے پڑا کہ وہ دنیا کے مشرق و مغرب تک پہنچے کہ جسے عرب "قرنی الشمس" (سورج کے دو سینگ) سے تعبیر کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے ہوا کہ انھوں نے دو قرن زندگی گزاری یا حکومت کی۔ پھر یہ کہ قرن کی مقدار کتنی ہے، اس میں بھی مختلف نظریات ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے سر کے دونوں طرف ایک خاص قسم کا ابھار تھا اس وجہ سے ذوالقرنین مشہور ہو گئے۔ بعض کا نظریے یہ ہے کہ ان کا خاص تاج دو شاخوں والا تھا۔ اس کے علاوہ بھی نظریات ہیں، جن کا ذکر بات کو طویل کرے گا۔ بہرحال، ہم دیکھیں گے کہ ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں تیسرا نظریہ پیش کرنے والے یعنی ابوالکلام آزاد نے اپنے نظریے کے اثبات کے لیے اس لقب "ذوالقرنین" سے بہت استفادہ کیا ہے۔ (ب) قرآن مجید سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ممتاز صفات کے حامل تھے۔ الله تعالیٰ نے کامیابی کے اسباب ان کے اختیار میں دیئے تھے۔ انھوں نے تین اہم لشکر کشیاں کیں۔ پہلے مغرب کی طرف، پھر مشرق کی طرف اور آخر میں ایک ایسے علاقے کی طرف کہ جہاں ایک کہستانی درّہ موجود تھا۔ ان مسافرت میں وہ مختلف اقوام سے ملے۔ ان کی تفصیل آیات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ وہ ایک مردِ مومن موحّد اور مہربان شخص تھے۔ وہ عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ اسی بناء پر الله کا لطف خاص ان کے شاملِ حامل تھا۔ وہ نیکوں کے دوست اور ظالموں کے دشمن تھے۔ انھیں دنیا کے مال و ولت سے کوئی لگاؤنہ تھا۔ وہ الله پر بھی ایمان رکھتے تھے اور روزِ جزاء پر بھی۔ انھوں نے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی، یہ دیوار انھوں نے اینٹ اور پتھر کی بجائے لوہے اور تابنے سے بنائی (اور اگر دوسرے مصالحے بھی استعمال ہوئے ہوں تو ان کی بنیادی حیثیت نہ تھی)۔ اس دیوار بنانے سے ان کا مقصد مستضعف اور ستم رسیدہ لوگوں کی یاجوج و ماجوج کے ظلم و ستم کے مقابلے میں مدد کرنا تھا۔ وہ ایسے شخص تھے کہ نزول قرآن سے قبل ان کا نام لوگوں میں مشہور تھا۔ لہٰذا قریش اور یہودیوں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تھا، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: یسئلونک عن ذی القرنین تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ البتہ قرآن سے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو صراحت سے ان کے نبی ہونے پر دلادت کرے اگرچہ ایسی تعبیرات قرآن میں موجود ہیں کہ جو اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ آیات کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے بہت سی ایسی روایات منقول ہیں جن میں ہے کہ: وہ نبی نہ تھے بلکہ الله کے ایک صالح بندے تھے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص ۲۹۴، ۲۹۵ کی طرف رجوع کریں) (ج) یہ نظریہ کہ ذولقرنین۔ کورش کبیر۔ کو کہتے ہیں، اس کی دو بنیادیں ہیں: پہلی: یہ کہ اس کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرنے والے یہودی تھے یا یہودیوں کی تحریک پر قریش تھے۔ جیسا کہ ان آیات کی شان نزول کے بارے میں منقول روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں کتبِ یہود کو دیکھا جانا چاہیے۔ یہودیوں کی مشہور کتابوں میں سے کتاب دانیال کی آٹھویں فصل میں ہے: "بل شصّر" کی سلطنت کے سال مجھ دانیال کو خواب دکھایا گیا۔ جو خواب مجھے دکھایا گیا اس کے بعد اور خواب میں، مَیں نے دیکھا کہ میں ملک "عیلام" کے" قصر شوشان"میں ہوں۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں "دریائے ولادی" کے پاس ہوں۔ میں نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا کہ ایک مینڈھا دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کے دو سینگ تھے اور یہ بلند سینگ تھے۔ اور اس مینڈھے کو میں نے مغرب، مشرق اور جنوب کی سمت سینگ مارتے ہوئے دیکھا۔ کوئی جانور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا تھا اور کوئی اس کے ہاتھ سے بچانے والانہ تھا۔ وہ اپنی رائے پر ہی عمل کرتا تھا اور وہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔۔۔۔ (بحوالہ: کتاب دانیال، فصل ششم، پہلے سے چوتھے جملے تک) اس کے بعد اسی کتاب میں دانیال کے بارے میں ہے: جبریل اس پر ظاہر ہوا اور اس کے خواب کی یوں تعبیر کی: دو شاخوں والا مینڈھا جو تو نے دیکھا ہے وہ مدائن اور فارس (یا ماد اور فارس) کے بادشاہ ہیں۔ یہودیوں نے دانیال کے خواب کو بشارت قرار دیا۔ وہ سمجھے کہ ماد و فارس کے کسی بادشاہ کے قیام اور بابل کے حکمرانوں پر ان کی کامیابی سے یہودیوں کی غلامی اور قید کا دور ختم ہو گا اور وہ اہلِ بابل کے چنگل سے آزاد ہوں گے۔ زیادہ دیر نہ گزری کہ ”کورش“ نے ایران کی حکومت پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس نے ماد اور فارس کو ایک ملک کر کے دونوں کو ایک عظیم سلطنت بنا دیا۔ جیسے دانیال کے خواب میں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے سینگ مغرب، مشرق اور جنوب کی طرف مارے گا، کورش نے تینوں سمتوں میں عظیم فتوحات حاصل کیں۔ اس نے یہودیوں کو آزاد کیا اور فلسطین جانے کی اجازت دی۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ تورات کی کتاب اشعیا، فصل ۴۴، شمارہ ۲۸ میں ہے: اس وقت خصوصیت سے کورش کے بارے میں فرماتا ہے کہ میرا چرواہا وہی ہے، میری مشیت کو اس نے پورا کیا ہے۔ اور شلیم سے کہے گا کہ تو تعمیر ہو گا۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تورات کی بعض تعبیرات میں "کورش" کے بارے میں ہے کہ: عقاب مشرق اور مردِ تدبیر کہ جو بڑی دور سے بلایا جائے گا۔ (بحوالہ: کتاب اشعیا، فصل ۴٦، شمارہ۱۱) دوسری: بنیاد یہ ہے کہ انیسویں عیسوی صدی میں استخر کے قریب دریائے مرغاب کے کنارے کورش کا مجسمہ دریافت ہوا ہے۔ یہ ایک انسان کے قدر و قامت کے برابر ہے۔ اس میں کورش کے عقاب کی طرح کے دو پر بنائے گئے ہیں اور اس کے سر پر ایک تاج ہے۔ اس میں مینڈھے کے سینگوں کی طرح کے دو سینگ نظر آتے ہیں۔ یہ مجسمہ بہت قیمتی ہے اور قدیم فن سنگ سازی کا نمونہ ہے۔ اس نے ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ جرمنی کے ماہرین کی ایک جماعت نے صرف اسے دیکھنے کے لیے ایران کا سفر کیا۔ تورات کے مندرجات کو جب اس مجسمے کی تفصیلات کے ساتھ ملا کر دیکھا تو ابوالکلام آزاد کو مزید یقین ہوا کہ کورش کو ذوالقرنین (دو سینگوں والا) کہنے کی وجہ کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہو گیا کہ کورش کے مجسمے میں عقاب کے دو پر کیوں لگائے گئے ہیں۔ اس سے علماء کے ایک گروہ کے لیے ذوالقرنین کی تاریخی شخصیت پوری طرح واضح ہو گئی۔ ایک چیز کہ جو اس نظریے کی تائید کرتی ہے وہ کورش کے تاریخ میں لکھے گئے اخلاقی اوصاف ہیں۔ یونانی مؤرخ ہر و دوت لکھتا ہے: کورش نے حکم جاری کیا کہ اس کے سپاہی سوائے جنگ کرنے والوں کے کسی کے سامنے تلوار نہ نکالیں اور دشمن کا جو سپاہی اپنا نیزہ خم کر دے اسے قتل نہ کریں۔ کورش کے لشکر نے اس کے حکم کی اطاعت کی۔ اس طرح سے کہ ملت کے عام لوگوں کو مصائبِ جنگ کا احساس تک نہ ہوا۔ ہر و دوت اس کے بارے میں مزید لکھتا ہے: کورش کریم، سخی، بہت نرم دل اور مہربان بادشاہ تھا۔ اسے دوسرے بادشاہوں کی طرح مال جمع کرنے کی حرص نہ تھی بلکہ اسے یہ لالچ تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کرم و عطا کرے۔ وہ ستم رسیددہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا او ر جس چیز سے زیادہ خیر اور بھلائی ہوتی اسے پسند کرتا تھا۔ ایک اور مؤرخ ذی نو فن لکھتا ہے: کورش عاقل اور مہربان بادشاہ تھا۔ اس میں بادشاہوں کی عظمت، حکماء کے فضائل کے ساتھ ساتھ تھی۔ اس کی ہمت بلند تھی اور اس کا جود و کرم زیادہ تھا۔ اس کا شعار انسانیت کی خدمت تھا اور عدالت اس کی عادت تھا۔ تکبر کی بجائے انکساری کا مرقع تھا۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ کورش کی اس قدر تعریف و توصیف کرنے والے مؤرخین غیر ہیں، کورش کی قوم اور وطن سے ان کا تعلق نہیں ہے بلکہ اہل یونان کے لوگ کورش کی طرف دوستی اور محبت کی نظر سے نہ دیکھتے تھے کیونکہ کورش نے لید یا کو فتح کر کے اہل یونان کو بہت بڑی شکست دی تھی۔ اس نظریے کے حامی کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ذوالقرنین کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں وہ کورش کے اوصاف سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر، کورش نے مشرق، مغرب اور شمال کی طرف سفر بھی کیے ہیں۔ ان سفروں کا حال اس کی تاریخ میں تفصیلی طور پر مذکورہ ہے۔ یہ سفر قرآن میں ذکر کیے گئے ذوالقرنین کے سفروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ کورش نے پہلی لشکر کشی لید یا پر کی۔ یہ ایشیائے کوچک کا شمالی حصہ ہے۔ یہ ملک کورش کے مرکزِ حکومت سے مغرب کی طرف تھا۔ ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کا نقشہ سامنے رکھیں تو ہم دیکھیں گے کہ ساحل کے زیادہ تر حصے چھوٹی چھوٹی خلیجوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً ازمیر کے قریب کہ جہاں خلیج ایک چشمے کی صورت دھار لیتی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے مغرب کے سفر میں محسوس کیا کہ جیسے سورج کیچڑ آلود چشمے میں ڈوب رہا ہے۔ یہ وہی منظر ہے جو کورش نے غروب آفتاب کے وقت ساحلی خلیجوں میں دیکھا تھا۔ کورش کی دوسری لشکر کشی مشرق کی طرف تھی۔ جیسا کہ ہرودوت نے کہا ہے کہ کورش کا یہ مشرقی حملہ لید یا کی قتح کے بعد ہوا خصوصاً بعض بیابانی وحشی قبائل کی سرکشی نے کورش کو اس پر اکسایا۔ قرآن کے الفاظ میں: حَتَّی إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلیٰ قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَھُمْ مِنْ دُونِھَا سِتْرًا پھر وہ سورج کے مرکز طلوع جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع کر رہا ہے کہ جن کے پاس سورج کی کرنوں سے بچنے کے لئے کوئی سایہ نہ تھا۔ یہ الفاظ کورش کے سفرِ مشرق کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع کر رہا ہے کہ جن کے پاس اس کی تپش سے بچنے کیلئے کوئی سایہ نہ تھا۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم صحرا نورد تھی اور بیابانوں میں رہتی تھی۔ کورش نے تیسری چڑھائی شمال کی طرف قفقاز کے پہاڑوں کی جانب کی۔ یہاں تک کہ وہ پہاڑوں کے درمیان ایک درّے میں پہنچا۔ یہاں کے رہنے والوں نے وحشی اقوام کے حملوں اور غاتگری کو روکنے کی درخواست کی۔ اس پر کورش نے اس تنگ درّے میں ایک مضبوط دیوار تعمیر کر دی۔ اس درّے کو آج کل درّہ داریال کہتے ہیں۔ موجود نقشوں میں یہ "ولادی کیوکز" اور "تفلیس" کے درمیان دکھایا جاتا ہے وہاں اب تک ایک آہنی دیوار موجود ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو کورش نے تعمیر کی تھی۔ قرآن نے ذوالقرنین کی دیوار کے جو اوصاف بتائے ہیں وہ پوری طرح اس دیوار پر منطبق ہوتے ہیں۔ تیسرے نظریے کی تقویت کے لیے ہم نے خلاصے کے طور پر یہ کچھ بیان کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے کتاب "ذوالقرنین یا کوروش کبیر" اور "فرہنگ قصصِ قرآن" کی طرف رجوع فرمائیں)۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس نظریے میں بھی ابہام کے ابھی بہت سے پہلو موجود ہیں لیکن عملاً ذوالقرنین کی تاریخ کے بارے میں ابھی تک جتنے نظریے پیش کیے گئے ہیں اسے ان میں سے بہترین کہا جا سکتا ہے۔

۳۔ دیوارِ ذوالقرنین کہاں ہے؟

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ اسے مشہور دیوارِ چین پر منطبق کریں کہ جو اس وقت موجود ہے اور کئی سو کلو میٹر لمبی ہے لیکن واضح ہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تانبے سے نہیں بنی ہوئی اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے۔ وہ تو ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کئی سو کلو میٹر لمبی ہے اور اب بھی موجود ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوارِ مارب ہے کہ جو یمن میں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درّے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کے لیے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے اور ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے۔ جبکہ علماء و محققین کی گواہی کی مطابق سرزمین قفقاز میں دریائے خزر او ردریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے اس میں ایک ہی دیوار کی طرح کا درّہ موجود ہے جو مشہور درّہ داریال ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے۔ اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ وہیں قریب ہی "سائرس" نامی ایک نہر موجود ہے اور "سائرس" کا معنی "کورش" ہی ہے (کیونکہ یونانی "کورش" کو "سائرس" کہتے تھے)۔ ارمنی کے قدیم آثار میں اس دیوار کو "بھاگ گورائی" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لفظ کا معنی ہے "درہ کوروش" یا "معبرِ کورش" (کوروش کے عبور کرنے کی جگہ)۔ یہ سند نشاندہی کرتی ہے کہ اس دیوار کا بانی کوروش ہی تھا۔ (مزید وضاحت کے لیے کتاب "ذوالقرنین یا کوروش کبیر" اور "فرہنگ قصصِ قرآن" کی طرف رجوع فرمائیں)۔

۴۔ یاجوج ماجوج کون ہیں؟

قرآن مجید کی دو سورتوں میں یاجوج ماجوج کا ذکر آیا ہے۔ ایک زیرِ بحث آیات میں اور دوسرا سورہٴ انبیاء کی آیت ۹٦ میں۔ آیاتِ قرآن واضح طور پر گواہی دیتی ہیں کہ یہ دو وحشی خونخوار قبیلوں کے نام تھے۔ وہ لوگ اپنے ارد گرد رہنے والے پر بہت زیادتیاں اور ظلم کرتے تھے۔ تورات کی کتاب حز قیل فصل ۳۸ اور ۳۹ میں نیز کتاب "رویائے یوحنا" کی بیسویں فصل میں انہیں "گوگ" اور "ماگوگ" کہا گیا ہے کہ عربی میں جنہیں "یاجوج ماجوج" ہی کہا جائے گا۔ عظیم مفسر علامہ طباطبائی نے المیزان میں لکھا ہے کہ تورات کی ساری باتوں سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ماجوج یا یاجوج و ماجوج ایک یا کئی بڑے بڑے قبیلے تھے۔ یہ شمالی ایشیا کے دور دراز علاقے میں رہتے تھے۔ یہ جنگجو، غارت گر اور ڈاکو قسم کے لوگ تھے۔ ( بحوالہ: المیزان، ج ۱۳، ص۴۱۱)۔ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں لیکن دراصل یونانی زبان سے عبرانی میں منتقل ہوئے ہیں، یونانی میں ان کا تلفظ "گاگ" اور "ماگاگ" تھا دیگر یوروپی زبانوں میں بھی یہ الفاظ اسی شکل میں منتقل ہوئے ہیں۔ تاریخ کے بہت سے دلائل کے مطابق زمین کے شمال مشرق مغولستان کے اطراف میں گزشتہ زمانوں میں انسانوں کا گویا جوش مارتا ہوا چشمہ تھا۔ یہاں کے لوگوں کی آبادی بڑی تیزی سے پھلتی اور پھولتی تھی۔ آبادی زیادہ ہونے پر یہ لوگ مشرق کی سمت یا نیچے جنوب کی طرف چلے جاتے تھے اور سیلِ رواں کی طرح ان علاقوں میں پھیل جاتے تھے اور پھر تدریجاً وہاں سکونت اختیار کر لیتے تھے۔ تاریخ کے مطابق سیلاب کی مانند ان قوموں کے اٹھنے کے مختلف دور گزرے ہیں۔ ان میں ایک جملہ ان وحشی قبائل نے چوتھی صدی عیسوی میں آتیلا کی کمان میں کیا۔ اس حملے میں روم کا شاہی تمدن خاک میں مل گیا۔ ایک اور دور کہ جو ان کے حملوں کا تقریباً آخری دور شمار ہوتا ہے، وہ بارہویں صدی ہجری میں چنگیز خان کی سرپرستی میں ہوا۔ انہوں نے مسلمان اور عرب ممالک پر حملہ میں بغداد سمیت بہت سے شہر تباہ و برباد ہو گئے۔ کورش کے زمانے میں بھی ان کی طرف سے ایک حملہ ہوا۔ یہ تقریباً پانچ سو سال قبل مسیح کی بات ہے لیکن اس زمانے میں ماد اور فارس کی متحدہ حکومت معرضِ وجود میں آ چکی تھی لہٰذا حالات بدل گئے اور مغربی ایشیا ان قبائل کے حملوں سے آسودہ خاطر ہو گیا۔ لہٰذا یہ زیادہ صحیح لگتا ہے کہ یاجوج و ماجوج انہی وحشی قبائل میں سے تھے۔ جب کورش ان علاقوں کی طرف گئے تو قفقاز کے لوگوں نے درخواست کی کہ انہیں ان قبائل کے حملوں سے بچایا جائے۔ لہٰذا اس نے وہ مشہور دیوار تعمیر کی ہے جسے دیوار ذوالقرنین کہتے ہیں (تفصیل کے لئے مذکورہ کتابوں کی طرف رجوع کریں)۔

99
18:99
۞وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ يَمُوجُ فِي بَعۡضٖۖ وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَٰهُمۡ جَمۡعٗا
اس دن کہ(جب یہ دنیا ختم ہو جائیگی) ہم انہیں اس طرح سے چھوڑ دیں گے کہ وہ باہم موجزن ہونگے۔ اس روز صور پھونکا جائیگا اور ہم انہیں نئی زندگی عطا کرکے سب کو جمع کردیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 102 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
18:100
وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا
اس روز ہم جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 102 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
18:101
ٱلَّذِينَ كَانَتۡ أَعۡيُنُهُمۡ فِي غِطَآءٍ عَن ذِكۡرِي وَكَانُواْ لَا يَسۡتَطِيعُونَ سَمۡعًا
وہی جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا، جو مجھے یاد نہیں کرتے تھے اور وہی کہ جن کے کان تو تھے لیکن تاب سماعت نہ تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 102 کے تحت ملاحظہ کریں۔

102
18:102
أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِي مِن دُونِيٓ أَوۡلِيَآءَۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ نُزُلٗا
کیا کافروں کو یہ گمان ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا سر پرست بنا سکتے ہیں ؟اور ہم نے جہنم کو کافروں کی منزل قرار دے رکھا ہے۔

تفسیر بےایمانوں کا ٹھکانا

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

گزشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ یاجوج و ماموج کو روکنے کے لیے ایک دیوار بنائی گئی اور یہ دیوار قیامت کے موقع پر درہم و برہم ہو جائے گی۔ اسی مناسب سے زیر بحث آیات میں قیامت کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس روز کہ جب یہ دنیا ختم ہو جائے گی تو ہم انھیں چھوڑ دیں گے اور وہ باہم موجزن ہوں گے ( وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَمُوجُ فِی بَعْض)۔ " یَمُوجُ " اس موقع پر لوگوں کی کثرت کی وجہ سے استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ فلاں موقع پر لوگوں کا دریا موجزن تھا۔ یا پھر یہ لفظ اضطراب اور لرزنے کی طرف اشارہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اس دن لوگوں کے بدن پر کپکپی طاری ہو گی گویا ان کے جسم پانی کی لہروں کی طرح لرز رہے ہوں گے۔ البتہ ان دونوں تفسیروں میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اس تعبیر سے دونوں پہلو مرا د ہوں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس دن صور پھونکا جائے گا۔ ہم انہیں نئی زندگی بخشیں گے اور ان سب کو جمع کریں گے (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَجَمَعْنَاھُمْ جَمْعًا )۔ اس میں شک نہیں کہ تمام انسان اس میدان میں جمع ہوں گے اور کوئی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہو گا۔ "جمعنَاھُمْ جَمْعًا" کی تعبیر بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ آیات قرآن سے مجموعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کے اختتام اور دوسرے جہان کے آغاز میں دو بڑی عظیم تبدیلیاں عالم میں رونما ہوں گی۔ پہلی: عظیم تبدیلی یہ ہو گی کہ تمام موجودات اور انسان فنا ہو جائیں گے۔ یہ ایک ضرب کا پروگرام ہے۔ دوسری: عظیم تبدیلی معلوم نہیں کہ پہلے تحوّل و تغیر سے کتنی دیر بعد ہو گی اور وہ ہے مُردوں کا قبروں سے اٹھنا۔ یہ بھی ایک ضرب کا پروگرام ہے۔ قرآن نے "نُفِخَ فِی الصُّور" کہہ کر ان پروگراموں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انشاء الله ہم سورہٴ زمر کی آیت ۶۸ کے ذیل میں اس کی تفصیل بیان کریں گے۔ اس مقام پر ایک روایت ہے کہ جو اصبغ نباتہ نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کی ہے۔ امام نے "وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَمُوجُ فِی بَعْض" کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد قیامت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں، بحوالہ تفسیر عیاشی)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے یہ روایت اس کے منافی ہو کیونکہ ہم نے اسے فناء دنیا کا ایک مرحلہ قرار دیا ہے (جیسا کہ قبل اور بعد کی آیات کا ظاہری مفہوم نکلتا ہے)۔ لیکن ایک نکتے کی طرف توجہ سے یہ اشکال ختم ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات "یومِ قیامت" وسیع معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ جس میں قیامت کے مقدمات بھی شامل ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے مقدمات میں فناء دنیا کے مرحلے بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد کفار کے حالات کے بارے میں بات شروع ہوتی ہے۔ ان کی صفات جو ان کے انجام کی موجب ہیں، وہ بھی بیان کی گئی ہیں ان کے اعمال کا انجام بھی۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم اس روز جہنم ان کے سامنے پیش کر دیں گے (وَعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِلْکَافِرِینَ عَرْضًا)۔ جہنم اپنے طرح طرح کے عذاب اور مختلف دردناک سزاؤں کے ساتھ ان کے سامنے پوری طرح آشکار ہو گی۔ اسے دیکھنا بھی ان کے لیے دردناک اور جانکاہ عذاب ہے چہ جائیکہ گرفتارِ عذاب جہنم ہونا۔ یہ کون سے کافروں کا ذکر ہے اور وہ اس انجام کو کیوں پہنچیں گے، اس سلسلے میں قرآن ان کا یوں تعارف کرواتا ہے: وہی کہ جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا اور حق کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ انہیں میری یاد آتی (الَّذِینَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِی غِطَاءٍ عَنْ ذِکْرِی)۔ وہی کہ جن کے کان تو تھے لیکن تابِ سماعت نہ تھی (وَکَانُوا لَایَسْتَطِیعُونَ سَمْعًا)۔ دراصل وہ لوگ تلاش حق اور ادراکِ حقائق کا نہایت اہم وسیلہ کہ جو خوش بختی و بدبختی کا عامل ہے، بےکار کر چکے ہیں۔ یعنی ان کی د یکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان بیکار ہو چکے ہیں۔ غلط افکار، تعصب، کینہ پروری اور بری صفات کی وجہ سے ان کی بصارت اور سماعت گویا بےکار ہو چکی ہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ آنکھ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ان آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ لہٰذا انہیں میری یاد سجھائی نہیں دیتی تھی۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ چونکہ وہ غفلت کے پردے میں تھے اس لیے انہوں نے آثارِ الٰہی نہیں دیکھے۔ اس لیے حقیقت کو افسانہ سمجھ کر الله کو بھول چکے ہیں۔ جی ہاں! حق کا چہرہ آشکار ہے اور اس جہان کی ہر چیز انسان کے ساتھ انسان کے ساتھ بات کرتی ہے۔ صرف چشم بینا اور گوش شنوا کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یاد خدا کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو آنکھ سے دیکھی جائے۔ جو کچھ دیکھا جاتا ہے وہ اس کے آثار ہیں اور یہی آثار اس کی یاد کا سبب ہیں۔ اگلی آیت میں ان کے انحراف کی بنیادی وجہ بتائی گئی ہے۔ یہی وہ انحراف ہے جو دیگر انحرافات کا باعث ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا کافروں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ میری بجائے میرے بندوں کو اپنا ولی و سرپرست بنا سکتے ہیں (اَفَحَسِبَ الَّذِینَ کَفَرُوا اَنْ یَتَّخِذُوا عِبَادِی مِنْ دُونِی اَوْلِیَاءَ)۔ یہ بندے کہ جنہیں معبود بنایا گیا ہے مثلاً حضرت عیسیٰ اور فرشتے، ان کا مقام جس قدر بھی بلند ہو، کیا ان کے پاس کوئی چیز خود اپنی طرف سے بھی ہے کہ وہ کسی کی خدا کی بجائے سرپرستی کر سکیں یا اس کے برعکس جو کچھ بھی ان کے پاس ہے وہ بھی خدا کی طرف سے ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی اس کی ہدایت کے محتاج ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جو کافروں نے بھلا رکھی ہے اور شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: جہنم کو ہم نے کافروں کی منزل کے طور پر تیار کیا ہے اور اسی منزل پر ان کا استقبال ہو گا (إِنَّا اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکَافِرِینَ نُزُلًا)۔ "نُزُل" (بروزن "رُسُل") منزل کے معنی میں بھی آیا ہے اور اس چیز کے لیے بھی جو مہمان کی پذیرائی کے لیے تیار کی جائے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ پہلی چیز ہے کہ جو مہمان کو پیش کی جاتی ہے مثلاً شربت یا پھل وغیرہ کہ جو مہمان کو آنے سے پہلے پیش کرتے ہیں۔

103
18:103
قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَٰلًا
کہدو: کیا ہم تمہیں خبر دیں کہ زیادہ خسارے میں کون لوگ ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
18:104
ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا
وہ لوگ جن کی ساری کوششیں دنیوی زندگی میں بھٹک کے رہ گئی ہیں اور اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام انجام دے رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
18:105
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَلَا نُقِيمُ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَزۡنٗا
وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے آیات ربانی اور اللہ کی ملاقات کا انکار کیا ہے۔ اسی بناء پر ان کے سارے اعمال اکارت ہو گئے ہیں۔لہٰذا قیامت کے دن ان کیلئے ہم میزان حساب قائم نہیں کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
18:106
ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُواْ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَرُسُلِي هُزُوًا
ان کی سزا جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور یہ لوگ میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
18:107
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا
رہے وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے تو باغات فردوس ان کی منزل ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔

108
18:108
خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يَبۡغُونَ عَنۡهَا حِوَلٗا
جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی یہاں سے کہیں اور جانے کی خواہش نہیں کریں گے۔

تفسیر سب سے زیادہ خسارے میں کون لوگ ہیں؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

ان آیات میں اور ان کے بعد سورہ کے آخر تک بےایمان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں ان آیات میں بلکہ اس پوری سورت میں مختلف جگہوں پر بحثیں آئی ہیں انہیں جمع کر دیا گیا ہے۔ خصوصاً اصحابِ کہف، موسیٰ (علیه السلام) و خضر (علیه السلام) اور ذوالقرنین کی جد و جہد اور مخالفین کے مقابلے میں ان کے طرزِ عمل سے مربوط مباحث کا ان آیات میں ایک طرح سے نچوڑ آ گیا ہے۔ سب سے پہلے تو ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو زیادہ خسارے میں ہیں اور انسانوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں۔ لیکن سننے والوں کے احساسِ جستجو کو تحریک دینے کے لیے اس اہم مسئلے پر گفتگو سوالیہ انداز میں کی گئی ہے۔ رسول اللهؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ کہہ دو: کیا تمہیں ان لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں کہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ خسارے میں ہیں (قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِینَ اَعْمَالًا)۔ فوراً ہی خود جواب دیا گیا ہے تاکہ سننے والا زیادہ دیر تک متحیر نہ رہے۔ زیادہ خسارے میں وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوششیں حیاتِ دنیا میں بھٹک کے رہ گئی ہیں مگر پھر بھی ان کا خیال ہے کہ وہ اچھے کام انجام دے رہے ہیں (الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُونَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا)۔ یقیناً نقصان صرف یہ نہیں ہے کہ انسان مادی مفادات گنوا بیٹھے بلکہ حقیقی نقصان تو یہ ہے کہ انسان اصل سرمایہ ہی کھو دے۔ عقل و ہوش، خدا داد صلاحیتیں، عمر، جوانی اور صحت و سلامتی سے بڑھ کر کون سا سرمایہ ہو سکتا ہے۔ یہی چیزیں ہیں کہ جن کا ماحصل انسانی اعمال ہیں اور ہمارے عمل ہماری استعداد اور طاقت کی ایک مجسم شکل کے ہوتے ہیں۔ جب یہ قوتیں اور صلاحتیں بےہودہ اعمال کی شکل اختیار کر لیں تو گویا یہ سب ضائع ہو گئیں اور راہ گم کردہ ہو گئیں۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ انسان بہت زیادہ دولت لے کر بازار کو نکلے لیکن اسے راستے میں گنوا دے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ البتہ جب انسان سمجھ جائے کہ میں اپنا سرمایہ گنوا بیٹھا ہوں تو یہ نقصان زیادہ خطرناک نہیں کیونکہ یہ نقصان اس کے لیے آئندہ سبق بن جائے گا۔ یہ درس بعض اوقات اس کھو جانے والے سرمائے کے برابر ہوتا ہے اور کبھی اس سے بھی زیادہ قیمتی۔ ایسا کہ گویا اس نے کچھ نہیں گنوایا۔ لیکن حقیقی اور کئی گنا نقصان اس صورت میں ہے کہ انسان اپنا مادی اور روحانی سرمایہ کسی غلط اور کج راستے پر گنوا دے اور خیال کرے کہ اس نے اچھا کام لیا ہے، وہ اپنے کاموں سے نہ کوئی نتیجہ حاصل کرے، نہ اس نقصان سے کوئی سبق اور نہ ایسے کاموں کے تکرار سے بچے۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ یہاں "بِالْاَخْسَرِینَ اَعْمَالًا" کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں حالانکہ "‘اَخْسَرِینَ عَمَلًا" ہونا چاہئے تھا (کیونکہ تمیز عام طور پر مفرد ہوتی ہے)۔ ہو سکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ وہ ایک ہی بازارِ عمل میں نقصان کا شکار ہوئے بلکہ ان کا جہل مرکب زندگی کے تمام پہلوؤں اور تمام اعمال میں نقصان کا سبب بنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کسی ایک تجارت میں نقصان کر بیٹھتا ہے اور دوسرے کاروبار میں فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ سال کے آخر میں حساب کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا لیکن بدبختی یہ ہے کہ انسان جہاں بھی سرمایہ کاری کرتا ہے تمام شعبوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔ ضمناً "ضل" یعنی گم کر بیٹھنا اور بھٹک جانا کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کے اعمال بالکل ختم اور نابود نہیں ہو جاتے۔ جیسے مادہ اور توانائی ہمیشہ شکل بدلتے رہتے ہیں ختم نہیں ہوتے لیکن کبھی گم ہو جاتے ہیں۔ ان اعمال کے آثار چونکہ دکھائی نہیں دیتے اور ان سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو یہ گویا گمشدہ سرمایہ ہیں جو ہماری دسترس میں نہیں ہے اور نہ ہمارے کسی کام کا ہے۔ اس سلسلے میں کہ انسان کی نفسیاتی طور پر یہ کیفیت کیوں ہوتی ہے ہم "چند اہم نکات" کے ذیل میں بات کریں گے۔ اگلی آیات میں اس نقصان اٹھانے والے گروہ کی صفات اور عقائد و نظریات بیان کیے گئے ہیں اور چند ایسی صفات بیان کی گئی ہیں جو تمام بدبختیوں کی جڑہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی آیات کو للکارتے ہیں۔ (اُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ)۔ وہ ان آیات سے کفر کرتے ہیں کہ جو آنکھ کو بصارت اور کان کو شنوائی عطا کرتی ہیں، وہ آیات جو نور اور روشنی ہیں اور جو انسان کو اوہام کے ظلمات سے باہر نکال دیتی ہیں اور سرزمین حقائق کی طرف ہدایت کرتی ہیں۔ آیات الٰہی سے کفر اختیار کرنے اور خدا کو فراموش کرنے کے بعد وہ لقائے الٰہی کے بھی منکر ہو گئے ہیں (وَلِقَائِہِ)۔ جی ہاں! جب تک معاد پر ایمان مبداء پر ایمان کے ساتھ نہ ہو اور انسان یہ احساس نہ کر لے کہ کوئی طاقت اس کے اعمال کی نگران ہے اور سب اس کی عظیم، دقیق اور سخت عدالت میں پیش ہوں گے، وہ اپنے اعمال کی صحیح جانچ پرکھ نہیں کرے گا اور اس کی اصلاح نہیں ہو سکے گی۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: مبداء و معاد سے اسی انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہو گئے ہیں (فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ)۔ جیسے ایک تیز رفتار آندھی تھوڑی سی خاکستر کو نابود کر دیتی ہے۔ اور چونکہ ان کا کوئی ایسا عمل نہیں کہ جو ناپ تول کے لائق ہو یا جس کی کوئی اہمیت ہو لہٰذا ان کیلئے روزِ قیامت کوئی میزان قائم نہیں کی جائے گی (فَلَانُقِیمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا)۔ کیوں کہ وزن اور ناپ تول تو وہاں ہوتا ہے جہاں بساط میں کچھ ہو۔ جن کی بساط میں کچھ بھی نہیں ان کے لئے میزان اور ناپ تول کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے بعد ان کے انحراف، بدبختی اور نقصان کا تیسرا عامل بیان کیا گیا ہے نیز ان کا کیفرِ کردار بھی بتایا گیا ہے: ارشاد ہوتا ہے: ان کی سزا جہنم ہے، اس لیے کہ وہ کافر ہو گئے ہیں اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں (ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَرُسُلِی ھُزُوًا)۔ (تشریحی نوٹ: "ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ" کی ترکیب اور جمع بندی کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض "ذٰلِکَ" کو مبتدا اور "جَزَاؤُھُمْ" کو خبر اور "جَھَنَّمُ" کو "ذٰلِکَ" کا بدل سمجھتے ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے علماء مبتداء کو محذوف اور "ذٰلِک" کو اس کی خبر جانتے ہیں اور "جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ" کو بھی وہ دوسرا مبتداء خبر سمجھتے ہیں۔ ان کے لحاظ سے تقدیر یوں ہو گا: الامرذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ جَھَنَّمُ یعنی: "معاملہ کچھ یوں ہے کہ ان کی جزاء جہنم ہے۔" لیکن واضح ہے کہ پہلا بیان زیادہ مناسب ہے)۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف عقائد کے تین بنیادی اصولوں، توحید، نبوت اور قیامت سے کفر اختیار کیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان کا مذاق اڑایا ہے۔ ان آیات سے کفر اور ان کا کردار و انجام واضح ہو گیا کہ جو زیادہ خسارے میں ہیں۔ اب مومنین اور ان کے انجام کی باری ہے تاکہ دونوں کا موازنہ ہو جائے اور اس طرح صورت حال بالکل واضح ہو جائے۔ قرآن کہتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کے باغاتِ فردوس ان کی منزل ہے (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا)۔ جیسا کہ بعض بزرگ مفسرین نے کہا ہے "فردوس" ایسا باغ ہے جس میں تمام ضروری نعمتیں جمع ہیں اور اس طرح سے "فردوس" جنت کے بہترین باغوں میں سے ہے، اور کسی نعمت کا کمال تبھی ہو گا جب اسے زوال نہ ہو لہٰذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے: وہ ان باغاتِ بہشت میں سدار ہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا)۔ انسان کی طبیعت اگرچہ جدت پسند اور وہ ہمیشہ تنوع، تغیّر اور تبدیل چاہتا ہے لیکن فردوس کے باسی کبھی بھی نقل مکانی اور تبدیلی کی خواہش نہیں کریں گے۔ (لَایَبْغُونَ عَنْھَا حِوَلًا)۔ اس بناء پر کہ وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں موجود ہے یہاں تک کہ تنوع اور تکامل بھی۔ جیسا کہ "چند اہم نکات" کے ذیل میں ہم وضاحت کریں گے۔

چند اہم نکات ۱۔ ”اخسرین اعمالا“ کون لوگ ہیں؟

ہم نے اپنی اور دوسروں کی زندگی میں بہت دیکھا ہے کہ کبھی انسان غلط کام انجام دیتا ہے جبکہ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ اس نے اچھا اور اہم کام انجام دیا ہے۔ ایسا جہلِ مرکب لحظہ بھر کے لیے بھی ہو سکتا ہے، سال بھر کے لیے بھی اور عمر بھر کے لیے بھی۔ اور واقعاً اس سے بڑی بختی کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ نقصان میں ہیں تو اس کی وجہ واضح ہے۔ جو لوگ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں اکثر وہ اپنے غلط کام کی ایک حد مقرر کر لیتے ہیں اور بسا یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ حق کی طرف پلٹ آتے ہیں اور اس کی تلافی کے لیے توبہ کرتے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں۔ لیکن وہ گنہ گار کہ جو اپنے گناہ کو عبادت اور برے اعمال کو صالحات اور کجی کو درستی خیال کرتے ہیں وہ نہ صرف تلافی کے لیے کوشش نہیں کرتے بلکہ شدت کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھنے کی سعی کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا تمام تر سرمایہٴ وجود اس راستے پر صرف کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ قرآن نے ان لوگوں کے بارے میں کیا عمدہ الفاظ کہے ہیں: "اخسرین اعمالاً" جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں۔ اسلامی روایات میں "اخسرین اعمالاً" کی مختلف تفسیریں آئی ہیں ان میں سے ہر ایک اس وسیع مفہوم کے کسی واضح مصداق کی طرف اشارہ ہے اور یہ تفسیریں اس کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کر دیتیں۔ اصبغ بن نباتہ نے ایک حدیث امیرالمومنین علی علیہ السلام سے روایت کی ہے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام نے فرمایا: اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ پہلے یہ لوگ حق پر تھے بعد میں انہوں نے اپنے دین میں بدعتیں ایجاد کر لیں۔ یہ بدعتیں انہیں انحرافی راستے کی طرف لے جاتی ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نیک کام انجام دے رہے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ، ج ۳، ص ۳۱۲) ایک اور حدیث امام امیرالمومنینؑ ہی سے منقول ہے کہ مذکورہ بالا گفتگو کے بعد فرمایا:خوارجِ نہروان بھی ان سے کوئی زیادہ دور نہیں ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ، ج ۳، ص ۳۱۲) ایک اور حدیث میں خاص طور پر رہبانوں (تارک الدنیا مردوں اور عورتوں) اور مسلمانوں میں سے بدعتی گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (بحوالہ:تفسیر نور الثقلین ، ج ۳، ص ۳۱۲) بعض روایات میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں سے مراد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے منکر ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ، ج۳، ص ۳۱۱) راہب ایک عمر گرجے میں طرح طرح کی محرومیوں کے ساتھ گزار دیتے ہیں، شادی نہیں کرتے، اچھا لباس اور اچھا غذا ترک کر دیتے ہیں، گرجے میں بیٹھے رہنے کو ہر کام پر ترجیح دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کی یہ محرومیاں قربِ خدا کا باعث ہیں۔ کیا یہ لوگ "اخسرین اعمالاً" کا مصداق نہیں ہیں۔ کیا ممکن ہے کہ کوئی الٰہی دین عقل و فطرت کے قانون کے برخلاف انسان کو معاشرتی زندگی سے نکال کر گوشہ نشینی کی دعوت دے اور اس کام کو قربِ الٰہی کا سرچشمہ قرار دے۔ اسی طرح وہ لوگ کہ جنہوں نے اللہ کے دین میں کسی بدعت کی بنیاد رکھی ہے۔ توحید کی جگہ تثلیت کے عقیدے کو دے دی ہے اور اللہ کے بندے حضرت عیسیٰؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے دیا ہے اور اللہ کے پاک دین میں اسی طرح کی بدعتیں داخل کر دیں، اس گمان سے کہ وہ ایک خدمت انجام دے رہے ہیں۔ کیا ایسے لوگ دنیا کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے نہیں ہیں۔ نہروان کے تہی مغز اور عقل دشمن جو سب سے بڑے گناہ (مثلاً حضرت علیؑ اور مسلمانوں کے نیک افراد کو شہید کرنے کو) موجبِ تقرب خدا سمجھتے تھے، یہاں تک کہ جنت کو صرف اپنے لیے مختص سمجھتے تھے، کیا یہ سب سے زیادہ خسارے والے لوگ نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ آیت ایسا وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ بہت سی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ اقوام اس میں شامل ہیں۔ اب سوال سامنے آتا ہے کہ اس خطرناک حالت کا سرچشمہ کیا ہے؟ یقینا ان غلط خیالات کے اہم ترین عوامل میں شدید تعصب، غرور، ہٹ دھرمی، خود پرستی اور حبِّ ذات شامل ہے۔ کبھی دوسروں کی چاپلوسی، گوشہ نشینی اور اکیلے ہی خود سے فیصلہ کرنا بھی اس منزلت کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس حالت میں انسان کو اپنے تمام انحرافی اور برے اعمال و افکار اچھے لگتے ہیں اور وہ ان پر احساسِ ندامت کی بجائے احساسِ تفخر کرنے لگتا ہے جیسا کہ ایک اور جگہ قرآن فرماتا ہے: اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہُ سُوءُ عَمَلِہِ فَرَآہُ حَسَنًا کیا وہ شخص کہ جسے اپنے برے عمل بھلے لگتے ہیں اور وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے۔ (فاطر۔۸)۔ قرآن حکیم کی بعض دیگر آیتوں میں ان برائیوں کی تزئین کا عامل شیطان کو قرار دیا گیا ہے اور مسلّم ہے کہ انسانی وجود میں شیطان کا ظہور برے اخلاق اور غلط عادات ہیں۔ قرآن کہتا ہے: وَإِذْ زَیَّنَ لَھُمْ الشَّیْطَانُ اَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّی جَارٌ لَکُمْ۔ وہ وقت یاد کرو جب شیطان نے مشرکین کے اعمال کو ان کی نظر میں زینت دی اور (جنگِ بدر کے) میدان میں ان سے کہا کہ کوئی شخص تم پر فتح حاصل نہیں کر سکتا اور میں خود اس میدان میں تمہارے ساتھ شریک ہوں۔ (انفال۔۴۸) قرآن مجید فرعون کے مشہور برج کا واقعہ بیان کر کے کہتا ہے: کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہِ۔ اس طرح فرعون کو اس کا برُا عمل اچھا لگا (کہ وہ ایسے احمقانہ اور مضحکہ خیز کاموں کے ذریعے اللہ کا مقابلہ کرتا اور گمان کرتا کہ وہ کوئی اہم کام انجام دے رہا ہے)۔ (مومن۔۳۷)

۲۔ لقاء اللہ کیا ہے؟

بعض عالم نما بیہودہ افراد نے اس قسم کی آیات سے یہ مطلب نکالا ہے کہ اللہ کو دوسرے جہان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے یہاں لقائے الٰہی سے حسّی ملاقات مراد لی ہے۔ لیکن واضح ہے کہ حسّی ملاقات کے لیے جسم ضروری ہے اور جسم کے لیے محدود ہونا، محتاج ہونا اور فنا پذیر ہونا ضروری ہے اور ہر عقلمند جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات کا حامل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس میں شک نہیں کہ قرآنِ حکیم میں جہاں جہاں "ملاقات" اور "رؤیت" کی نسبت اللہ کی طرف دی گئی ہے وہاں ملاقات حسّی مراد نہیں ہے بلکہ شہودِ باطنی مراد ہے یعنی قیامت میں انسان آثارِ خداوندی کو ہر زمانے سے بہتر طور پر دیکھ سکے گا، اسے دل کی آنکھ سے دیکھ سکے گا اور وہاں اللہ پر اس کا ایمان شہودی ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ آیاتِ قرآن کے مطابق ہٹ دھرم ترین منکرین خدا قیامت میں اعتراف کر لیں گے کیونکہ انہیں انکار کی کوئی راہ سجھائی نہ دے گی۔ (تشریحی نوٹ: سورہٴ مومنین کی آیت۱۰۶ کی طرف رجوع کریں) بعض مفسرین نے اس تعبیر کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ وہاں انسان نعمتیں اور جزاء و ثواب دیکھے گا اور اسی طرح الله کے عذاب و سزا کا مشاہدہ کرے گا۔ انہوں نے درحقیقت نعمت و ثواب و جزاء کو مقدر سمجھا ہے۔ یہ دو تفاسیر اگرچہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں تاہم پہلی زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔

۳۔ اعمال کا وزن

اس امر کی ضرورت نہیں کہ اعمال کے وزن کے مسئلے کی قیامت میں تجسّمِ اعمال کے حوالے سے تفسیر کی جائے اور یہ کہیں کہ قیامت میں انسانی اعمال وزن والے جسم کی صورت اختیار کر لیں گے کیونکہ "وزن کرنا" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس میں ہر قسم کا اندازہ لگانا اور وزن کرنا شامل ہے مثلاً جن افرادکی کوئی حیثیت نہ ہوا نہیں بےوزن یا ہلکے لوگ کہتے ہیں حالانکہ مراد ان کی حیثیت کی نفی ہے نہ کہ ان کے وزن کی۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں "اخسرین اعمالاً" کے بارے میں فرمایا گیا ہے: روز قیامت ان کے لیے میزان و ترازو قائم نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ ایسی آیات بھی ہیں جو کہتی ہیں: وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَق اس روز وزن حق ہے۔ (اعراف۔ ۸) کیا یہ آیات ایک دوسرے کے منافی ہیں؟ یقیناً نہیں۔ کیونکہ وزن تو ان کے اعمال کا ہو گا جنہوں نے ایسے اعمال کیے ہیں جو وزن کرنے کے قابل ہیں لیکن وہ شخص کہ جس کا سارا وجود اور جس کے افکار و اعمال ایک مکھی کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے۔ اس کے لیے وزن کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی لیے رسول اکرم صلی علیہ و آلہ وسلم سے مروی ایک مشہور روایت ہے: انہ لیاتی الرجل العظیم السمین یوم القیامة لا یزن جناح بعوضة روزِ قیامت کچھ موٹے تازے افراد لائے جائیں گے جن کا وزن عدالت میں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہو گا۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں) کیونکہ اس جہان میں ان کی شخصیت، اعمال اور افکار سب کھوکلے ہوں گے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں مختلف قسم کے لوگ ہوں گے: ۱۔ وہ افراد کہ جن کی نیکیاں اتنی وزنی ہوں گی کہ ان کے وزن اور حساب کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ۲۔ وہ افراد کہ جن کے اعمال بالکل حبط اور باطل ہو جائیں گے یا پھر جن کے لیے کوئی نیکی ہو گی ہی نہیں کہ جس کے لیے میزان کی ضرورت پڑے۔ یہ لوگ بھی بغیر حساب کے جہنم میں داخل ہو جائیں گے۔ ۳۔ تیسرا گروہ ان افراد کا ہو گا جن کی کچھ نیکیاں ہوں گی اور کچھ بدیاں۔ میزان اور ترازو کی ضرورت ان کے لیے ہو گی اور شاید بیشتر لوگ اسی تیسری قسم میں شامل ہوں گے۔

۴۔ ”لا یبغون عنھا حولاً“ کی تفسیر:

"حِوَل" (بروزن "مِلل") مصدری معنی رکھتا ہے۔ اس کا معنی ہے۔ "تحول" اور نقل مکانی۔ جیسا کہ ہم نے آیات کی تفسیر میں کہا ہے کہ "فردوس"، "جنت کا ایسا باغ ہے جس میں سب نعماتِ الٰہی موجود ہیں اسی بناء پر فردوس اس جہان کی بہترین جگہ ہو گی۔ لہٰذا اس کے ساکنین وہاں سے نقل مکانی کی ہرگز تمنا نہ کریں گے۔ ہو سکتا ہے سوال کیا جائے کہ پھر تو وہاں کی زندگی یکسانیت اور جمود کا شکار ہو گی اور یہ خود ایک بہت بڑا عیب ہے۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ تحول و تکامل کا عمل اسی مقامِ دائمی پر جاری رہے۔ یعنی تکامل و ارتقاء کے اسباب وہاں موجود ہوں گے اور انسان نے اس جہان میں جو اعمال انجام دیئے ہیں اور اللہ نے اسے جو اس جہان میں نعمتیں عطا کی ہیں سب ہمیشہ تکامل پذیر رہیں گی۔ متعلقہ آیات کے ذیل میں انشاء اللہ تکاملِ انسان کے بارے میں ہم تفصیل سے بحث کریں گے نیز بہشت میں تکامل کا یہ عمل جاری رہنے سے متعلق گفتگو کریں گے۔

۵۔ فردوس کن کا مقام ہے؟

جیسا کہ کہا گیا ہے فردوس (تشریحی نوٹ: بعض کہتے ہیں کہ اصل میں یہ لفظ رومی زبان سے لیا گیا ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ یہ حبشہ کی زبان سے عربی میں منتقل ہوا ہے (بحوالہ: تفسیر فخر رازی اور تفسیر مجمع البیان)۔ جنت میں بہترین اور افضل ترن مقام ہے۔ زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ فردوس باایمان اور اعمالِ صالح انجام دینے والے لوگوں کا ٹھکانا ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ کیا جنت کے دوسرے علاقوں میں رہنے والا کوئی نہیں ہو گا کیونکہ غیر مومن تو جنت میں جاہی نہیں سکتا۔ اس سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ زیرِ نظر آیات ہر اس شخص کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں کہ جو باایمان ہے اور نیک کام کرتا ہے بلکہ ایمان اور عمل صالح کے لحاظ سے جو افراد بلند درجے پر فائز ہوں گے وہی فردوس میں داخل ہو سکیں گے۔ ظاہر آیت اگرچہ مطلق ہے لیکن فردوس کے مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو آیت کا مفہوم مقید و محدود ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سورہٴ مومنین میں جہاں فردوس کے وارثوں کی صفات بیان کی گئی ہیں وہاں مومنین کی نہایت اعلیٰ صفات کا ذکر ہے اور یہ صفات سب میں نہیں ہوتیں۔ یہ امر خود اس بات کے لیے قرینہ ہے کہ فردوس میں رہنے والے افراد ایمان اور عمل صالح کے علاوہ ممتاز صفات کے حامل ہوں گے۔ اسی بناء پر ایک حدیث کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہم پہلے نقل کر چکے ہیں، اس میں ہم نے پڑھا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: جب اللہ سے جنت کا تقاضا کرو تو خصوصیت سے فردوس کا تقاضا کرو کہ جو جنت کی جامع ترین اور اکمل ترین منزلوں میں سے ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ باایمان افراد کی ہمت ہر چیز کے بارے میں اور ہر حالت میں عالی ہونا چاہیے یہاں تک کہ بہشت کی تمنا میں بھی نچلے مراحل پر قناعت نہیں کرنا چاہیے اگرچہ نچلے مرحلے بھی نعماتِ الٰہی سے معمور ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس قسم کا تقاضا کرتا ہے تو ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ایسے مقام تک پہنچانے کے لیے تیار بھی کرے، بہترین انسانی صفات اپنائے اور صالح ترین اعمال سرانجام دے۔ لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کرے ہمیں جنت میں ٹھکانا مل جائے چاہے نچلے درجے میں ہی ہو، وہ سچے مومنین کی اعلیٰ ہمت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں ہیں۔

109
18:109
قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادٗا لِّكَلِمَٰتِ رَبِّي لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَٰتُ رَبِّي وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدٗا
کہہ! دو سمندر میرے پروردگار کے کلمات (لکھنے کیلئے) سیاہی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے (لیکن) میرے پروردگار کے کلمات ختم نہیں ہونگے، اگرچہ ایسے ہی (سمندر) ان کے ساتھ اور بڑھا دیئے جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

تفسیر آیت 110 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
18:110
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدَۢا
کہہ:دو میں تو تم جیسا بشر ہوں (البتہ میری خصوصیت یہ ہے کہ) مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے،اسے چاہئے کہ عمل صالح انجام دے اور کسی کو اپنے رب کی عبادت میں شریک نہ کرے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 3

اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ابنِ عباس سے منقول ہے: یہودیوں نے جب پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ آیت سنی: ما اوتیتم من العلم الا قلیلاً تمہیں تو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا یہ بات کیونکر صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور جسے تورات دی گئی ہے اس کے پاس خیر کثیر ہے اس وقت یہ (مندرجہ بالا پہلی) آیت نازل ہوئی (اور بتایا کہ ہمارے پاس جو علم ہے وہ اللہ کے لامتناہی علم کے مقابلے میں ناچیز ہے)۔ بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں نے پیغمبرِ اسلام سے کہا: خدا نے تجھے حکمت دی ہے۔ و من یوت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً (اور جسے حکمت دی گئی ہے اُسے تو خیرِ کثیر مل گیا) لیکن جب ہم تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تُو مبہم ساجواب دیتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اور اس نے نشاندہی کی ہے کہ انسان کے پاس جتنا بھی علم ہو اللہ کے ناپیدا کنار علم کے مقابلے میں ناچیز ہے)۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، ج٦، ص۴۱۰۷ اور ۴۱۰۸، زیر بحث آیت کے ذیل میں اور تفسیر صافی سورہ بنی اسرائیل آیت ۸۵ کے ذیل میں)۔

تفسیر جو لقائے الٰہی کی امید رکھتے ہیں

یہ آیات مستقل اور جاری بحث کا حصّہ ہیں اور ان کا تعلق اِس سورت کے تمام مباحث سے ہے۔ کیونکہ اس سورہ میں مذکورہ تینوں اہم واقعات نئے او رعجیب و غریب مطالب سے پردہ ہٹاتے ہیں۔ گویا قرآن ان آیات میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا کے علم کے مقابلے میں اصحابِ کہف، موسیٰ و خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سے آگاہی کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ تمام کائنات اور عالمِ ہستی کا ماضی، حال اور مستقل اس کے علم کا حصہ ہیں۔ بہرحال، قرآن زیرِ بحث پہلی آیت میں رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے کہتا ہے: کہہ دو: اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے سیاہی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے، میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے اگرچہ ہم ان جیسے سمندروں کا اضافہ بھی کر دیں (قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدا)۔ "مَدَدا" سیاہی کے معنی میں ہے یا پھر اس کا معنی ہے وہ رنگین مادہ جس کے ساتھ لکھا جائے۔ دراصل یہ لفظ "مد" بمعنی "کشش" سے لیا گیا ہے کیونکہ اس کی کشش سے خطوط آشکار اور واضح ہوتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: فخر الدین رازی نے "مداد" کے مفہوم کے بارے میں ایک اور معنی بھی نقل کیا ہے اور وہ ہے "ایسا تیل جو چراغ میں ڈالتے ہیں اور جو روشنی کا سبب بنتا ہے" غور سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں معانی کی بنیاد ایک ہی ہے)۔ "کلمات" (کلمہ کی جمع) ان الفاظ کے معنی میں ہے کہ جن کے ذریعے بات کی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہ لفظ ہے جو معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اس جہان کی ہر چیز کیونکہ پروردگار کے علم و قدرت پر دلالت کرتی ہے لہٰذا بعض اوقات ہر موجود پر "کلمة اللہ" کا اطلاق ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ تعبیر اہم اور باعظمت موجودات کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم کہتا ہے: إِنَّمَا الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللهِ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا إِلیٰ مَرْیَمَ "عیسیٰ اللہ کا کلمہ تھا کہ جو مریم کی طرف القاء کیا گیا"۔ (نساء۔ ۱۷۱) زیرِ بحث آیت میں بھی "کلمہ" اسی معنی میں ہے یعنی جہانِ ہستی کے موجودات کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک پروردگار کی گونا گوں صفات کی حکایت کرتا ہے۔ دراصل اس آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ عالمِ ہستی یہی کچھ ہے جو تم دیکھ رہے ہو یا جانتے ہو یا محسوس کرتے ہو بلکہ یہ کائنات اس قدر وسیع و عظیم ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور اس سے ان موجودات کا احصاء و شمار نہیں ہو پائے گا۔ اِس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ "البحر" یہاں جنس کا مفہوم رکھتا ہے۔ اسی طرح "ولو جئنا بمثلہ مددًا" میں لفظ "مثل" بھی جنس کا معنی دیتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر سمندروں کی مثل و مانند کا اضافہ بھی کر دیا جائے تو بھی کلمات الہی ختم نہیں ہوں گے۔ اسی ینا پر زیرِ بحث آیت سورہٴلقمان کی اس سے ملتی جلتی آیت سے کوئی تضاد نہیں رکھتی۔ سورہ ٴلقمان کی وہ آیت یہ ہے: وَلَوْ اَنَّمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللهِ۔ "روئے زمین کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر اور ان کے علاوہ سات سمندر اور سیاہی بن جائیں (تاکہ کلماتِ الٰہی کو لکھ سکیں) تو اس کے کلمات ہرگز ختم نہیں ہوں گے" (لقمان۔ ۲۷) یعنی یہ قلمیں گھِس جائیں گی اور ان سیاہیوں کا آخری قطرہ تک ختم ہو جائے گا لیکن جہان ہستی کے اسرار و حقایق ابھی باقی ہوں گے۔ ایک اہم بات کہ جس کی طرف اس مقام پر توجہ ضروری ہے یہ ہے زیرِ بحث آیت ماضی حال اور مستقبل کے لحاظ سے جہان ہستی کی وسعت کی غماز ہونے کہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم کی بھی ترجمان ہے کیو نکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ تمام چیزوں جو عالم ہستی کی وسعت میں تھیں، یا اس وقت میں اللہ تعالیٰ ان کا علمی احاطہ رکھتا ہے بلکہ اس کا علم چونکہ حضوری علم ہے اس لیے ان موجودات سے جدا نہیں ہو سکتا (غور کیجئے گا)۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلمیں بن جائیں تو ہرگز اس پر قادر نہیں کہ جو کچھ الله کے علم میں ہے اسے رقم کر سکیں۔

لامتناہی کی تصویر کشی

اس مقا م پر قرآن مجید نے لامتناہی تعداد کا تصور، الله کے علم بےپایان کا مفہوم اور جہانِ ہستی کی وسعت کو ہمارے افکار و اذہان سے قریب کرنے کے لیے بہت ہی فصیح و بلیغ انداز اختیار کیا ہے اور زندہ و جاندار اعداد سے استفادہ کیا ہے۔ لیکن کیا اعداد بھی زندہ اور مردہ ہوتے ہیں؟ جی ہاں! وہ اعداد جو ریاضیات میں استعمال ہوتے ہیں۔ صحیح اعداد کی دائیں طرف بہت سارے صفر لگا کر جو اعداد بنتے ہیں درحقیقت مردہ اعداد ہیں۔ وہ ہرگز کسی چیز کی عظمت مجسم نہیں کرتے۔ جن لوگوں کا ریاضیات سے تعلق ہے وہ جانتے ہیں اگر ایک کے دائیں طرف ایک کلو میڑ تک صفر لگا دیئے جائیں تو یہ بہت بڑا اور پریشان کن عدد بن جائے گا اور واقعاً اس کی بڑائی کا تصور مشکل ہے لیکن کن اشخاص کے لیے؟۔ ریاضی دانوں کے لیے۔ جبکہ عام لوگوں کے لیے اس سے کوئی عظمت محسم نہیں ہوتی۔ زندہ عدد وہ ہے جو جہاں تک خود آگے بڑھے ہماری فکر کو بھی اپنے ساتھ لے جائے اور جس طرح کی حقیقت ہے اسے اسی طرح نظروں کے سامنے مجسم کر دے۔ ایسا عدد زندہ ہے جو روح رکھتا ہو، عظمت رکھتا ہو اور زبان رکھتا ہو۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ عالم ہستی کی وسعت کی خاکی مخلوقات اس عدد سے بھی زیادہ ہیں کہ جس کی دائیں طرف ایک سو کلو میٹر تک صفر لگے ہوں بلکہ قرآن کہتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر و سیاہی بن جائیں تو قلمیں ختم ہو جائیں گی اور سیاہی تمام ہو جائے گی لیکن عالم ہستی کے حقائق و اسرار، موجودات عالم اور معلومات الٰہی ختم نہیں ہوں گی۔ خوب غور کیجئے۔ ایک قلم لکھنے کی کس قدر طاقت رکھتا ہے۔ پھر غور کیجئے۔ ایک درخت کی ایک چھوٹی سی شاخ سے کتنے قلم بنتے ہیں۔ پھر ایک تنومند بہت بڑے درخت سے کتنے ہزار یا کتنے لاکھ قلم بنیں گے۔ پھر روئے زمین پر باغوں اور جنگلوں میں موجود سارے درختوں پر ایک نظر ڈالیں اور ان سے جو قلم تیار ہو سکتے ہیں۔ ان کا انداز کیجئے۔ اب سوچیے۔ سیاہی کے ایک قطرے سے کتنے لفظ لکھے جا سکتے ہیں پھر اس عدد کو ایک تالاب کے قطروں سے ضرب دیجئے۔ اسی طرح ایک دریا، ایک سمندر کا حساب کیجئے اور آخرکار روئے زمین کے تمام دریاؤں اور سمندروں کے قطروں کا اندازہ کیجئے۔ اب دیکھئے کیسا عجیب و غریب عدد بنتا ہے۔ اس بات کی عظمت اور بھی واضح ہو گی جب ہم اس حقیقت کی طرف توجہ دیں کہ "سبع" (سات) کا عدد یہاں تعداد کے لیے نہیں بلکہ تکثیر کے مفہوم میں آیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے دریا اور سمندر اور بھی آ ملیں اور سیاہی بن جائیں تو بھی کلماتِ الٰہی ختم نہیں ہوں گے۔ غور کیجئے کہ یہ عدد کس قدر زندہ اور جاندار ہے۔ یہ وہ عدد ہے جو فکرِ انسانی کو اپنے ساتھ ساتھ لیے چلتا ہے اور لامتناہی عدد کی طرف آگے لے جاتا ہے۔ یہ ایسا عدد کہ ریاضی دان ہو یا کوئی ان پڑھ۔ اس کی عظمت کا ادراک کر سکتا ہے اور اس کی وسعت اور بڑائی سے آشنا ہو سکتا ہے۔ جی ہاں! علمِ خدا اس عدد سے بھی بالاتر ہے۔ اس کا علم۔ لامحدو اور بےانتہا ہے۔ ایسا علم کہ جس کی قلمرو۔ تمام عالمِ ہستی ہے۔ اِس میں تاریخ عالم کا ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی اور اس میں تمام اسرار و حقائق موجود ہیں۔ زیرِ نظر دوسری آیت سورہٴ کہف کی آخری آیت ہے۔ یہ دینی عقائد کے بنیادی اصولوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں توحید، رسالتِ پیغمبر اور معاد سب کا ذکر موجود ہے۔ درحقیقت سورہٴ کہف کی ابتدا بھی اسی سے ہوئی تھی۔ ابتداء میں بھی اللہ، وحی، عمل کی جزاء اور قیامت کے بارے میں گفتگو تھی۔ اس سورت کا اہم حصہ چونکہ انہی تین موضوعات پر مشتمل ہے اس لحاظ سے یہ آخری آیت اس سورت کا خلاصہ ہے۔ نبوت کے بارے میں پوری تاریخ انسانی میں بہت غلو اور مبالغہ ہوا ہے اس لیے قرآن کہتا ہے: کہہ دو: میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں۔ میرا امتیاز اور خصوصیت صرف یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے (قُلْ اِنَّما اَنا بَشَرٌ مِّثلُک یُوحٰی اِلَیَّ ) یہ کہہ کر قرآن نے ان تمام مشرکانہ خیالی امتیازات پر خطِ بطلان کھینچ دیا ہے کہ جو انبیاء کو مرحلہ بشریت سے مرحلہ الوہیت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جن مسائل کی انبیاء پر وحی ہوتی ہے ان میں سے مسئلہ توحید کی نشاندہی کی گئی ہے: مجھ پر وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہے (اَنَّما اِلٰہُکُم اِلٰہٌ وُاحِدٌ)۔ صرف اسی مسئلہ کی طرف اشارہ کیوں کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ توحید تمام عقائد اور انسانوں کے لیے تمام سعادت بخش انفرادی و اجتماعی پروگراموں کا نچوڑ ہے۔ ہم نے ایک اور جگہ بھی کہا ہے کہ توحید فقط اصولِ دین میں سے ایک اصل ہی نہیں بلکہ اسلام کے تمام اصول و فروع کی روح ہے۔ اگر دینی تعلیمات کو موتیوں کی لڑی کہا جائے تو توحید کو وہ دھاگا کہیں گے جو ان موتیوں کو باہم ملائے رکھتا ہے۔ لہٰذا کہنا چاہیے کہ توحید وہ روح ہے جو اس پیکرِ اسلام میں پھونکی گئی ہے۔ معاد و نبوت کی بحثوں میں یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ یہ مسائل توحید سے جدا نہیں ہیں یعنی اگر اللہ کو ہم اس کی صفات کے ساتھ پہچان لیں تو پھر ہم جان لیتے ہیں کہ ایسے خدا کو نبی بھیجنے چاہئیں نیز اس کی حکمت و عدالت کا تقاضا ہے کہ کوئی عدالت برپا ہو اور قیامت وجود پذیر ہو۔ اجتماعی مسائل ، پورا انسانی معاشرہ اور جو کچھ اس سے مربوط ہے اسے توحید و وحدت کے سائے میں ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے لوازمات سے آراستہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں ہے کہ: "لا الٰہ الّا اللّٰہ" پروردگار کا محکم قلعہ ہے جو شخص اس میں داخل ہو گیا وہ عذابِ الٰہی سے مامون ہو گیا۔ نیز ہم سب نے سن رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابتدائے اسلام میں فرماتے تھے: "قولوا لا الٰہ الّا اللّٰہ تفلحوا" اگر فلاح کے طالب ہو تو پرچمِ توحید کے تلے جمع ہو جاؤ۔ اس آیت کا تیسرا جملہ مسئلہ قیامت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور "فاء تفریع" کے ذریعے اسے مسئلہ توحید سے منسلک کر دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: لہٰذا جو شخص بھی اپنے رب کی لقاء کا امیدوار ہے اسے چاہیے کہ عملِ صالح انجام دے (فَمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا)۔ لقائے پروردگار دراصل اس کی ذاتِ پاک کا باطنی مشاہدہ ہے۔ یہ دل کی آنکھ اور داخلی بصیرت سے ہوتا ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں بھی حقیقی مومنین کے لیے یہ ممکن ہے لیکن یہ معاملہ چونکہ بہت روشن، زیادہ واضح ہو کر عمومیت اختیار کر لے گا لہٰذا قرآن میں یہ تعبیر زیادہ تر روزِ قیامت کے بارے میں استعمال ہوئی ہے۔ دوسری طرف یہ امر فطری ہے کہ اگر انسان کسی کے انتظار میں ہے اور اسے اس کی امید ہو تو وہ اس کے استقبال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے گا۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں فلاں چیز کے انتظار میں ہوں لیکن اس کے عمل میں اس کا اثر نہ ہو تو اس کا دعویٰ غلط ہے۔ اسی لیے "فلیعمل عملاً صالحاً" یہاں صیغہٴ امر آیا ہے۔ وہ امر کہ جو لقائے الٰہی کی امید اور انتظار کا لازمہ ہے۔ آخری جملے میں عمل صالح کی حقیقت کو مختصر طور پر اس طرح واضح کیا گیا ہے: کسی کو پروردگار کی عبادت میں شریک نہیں کرنا چاہیےٴ (وَلَایُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّہِ اَحَدً)۔ زیادہ واضح لفظوں میں۔ جب تک عمل میں خلوص پیدا نہ ہو وہ صالح نہیں ہو سکتا اور الٰہی اور خدائی رنگ اختیار نہیں کر سکتا۔ خلوصِ انسانی عمل کو گہرائی بخشتا ہے، نورنیت عطا کرتا ہے اور صحیح سمت دیتا ہے اور خلوص ختم ہو جائے تو عمل زیادہ تر ظاہری پہلو اختیار کر لیتا ہے اور اس کا جھکاؤ ذاتی مفاد کی طرف ہو جاتا ہے۔ ایسا عمل گہرائی اور صحیح سمت کھو بیٹھتا ہے۔ درحقیقت وہ عملِ صالح جس کا سرچشمہ رضائے الٰہی ہو اور جو اخلاص میں گوندھا ہوا ہو وہ لقائے الٰہی کا پاسپورٹ ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ عملِ صالح وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں تمام انفرای و اجتماعی مفید، اصلاحی اور تعمیری کام شامل ہیں چاہے وہ زندگی کے کسی پہلو سے متعلق ہوں۔

اخلاص یا عملِ صالح کی روح

اسلامی روایات میں "نیت" کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام کا یہ بنیادی اصول ہے کہ وہ ہر عمل کو اس کی نیت اور مقصد کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث ہے: "لا عمل الّا بالنیّة" نیت کے بغیر کوئی عمل نہیں۔ یہ حدیث اسی حقیقت کی ترجمان ہے۔ نیت کے بعد اخلاص کی باری آتی ہے۔ اگر وہ ہو، تو عمل بہت اہمیت اور قیمت رکھتا ہے ورنہ اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہو گی۔ اخلاص یہ ہے کہ محرکِ انسان ہر قسم کے غیر الٰہی شائبہ سے پاک ہو اور اسے "توحید نیت" کہتے ہیں یعنی ہر کام میں صرف رضائے الٰہی کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت کی شانِ نزول کے بارے میں منقول ہے: ایک شخص رسول اللہ (ص) کی خدمت میں آیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہؐ! میں راہِ خدا میں خرچ کرتا ہوں، صلہ رحمی کرتا ہوں اور یہ اعمال صرف اللہ کے لیے بجا لاتا ہوں لیکن جب لوگ میرے ان اعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے۔ میرے یہ اعمال کیسے ہیں؟ رسول اللہؐ خاموش رہے اور کچھ نہ کہا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس شخص کے سوال کا جواب دیا گیا (کہ صرف وہ عمل مقبول بارگاہِ الٰہی ہو گا کہ جو اخلاص کامل کے ساتھ بجا لایا جائے گا)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، مذکورہ بالا آیت کےذ یل میں، نیز تفسیر قرطبی، اسی آیت کے ذیل میں) اس میں شک نہیں کہ یہ روایت غیر اختیاری مسرت کی نفی نہیں کرتی بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی طرف سے کسی کام کی تعریف، اس کے کرنے کا سبب نہ ہو۔ اسلام میں اخلاص، عملِ خالص اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: "من اخلص للّٰہ اربعین یوماً فجر اللّٰہ ینابیع الحکمة من قلبہ علیٰ لسانہ" جو شخص چالیس دن اپنے اعمال خالص اللہ کے لیے انجام دے تو اللہ اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت و دانش کے چشمے جاری کر دے گا۔ (بحوالہ: سفینة البحار، ج ۱ ص ۴۰۸)۔ پروردگارا! تمام اعمال میں ہماری نیت کو اس طرح سے خالص کر دے کہ ہم تیرے علاوہ کسی کے لیے نہ سوچیں اور تیرے علاوہ کسی کے لیے قدم نہ اٹھائیں۔ اور اگر تیرے علاوہ کسی کو چاہیں تو وہ بھی تیری رضا کے لیے ہو اور اس لیے ہو کہ اس کا تجھ سے تعلق ہے۔ آمین یا رب العالمین

end of chapter