Al-Ahzab
سورۂ احزاب
یہ سورہ مدیںہ میں نازل ہوئی اس میں ٧۳ آیات ہیں
سورۂ احزاب کی وجہ تسمیہ اور فضیلت
یہ سوره باتفاق علمائے اسلام مدینہ میں نازل ہوا اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کی کل ٧۳ آیات ہیں اور چونکہ اس سورہ کا اہم حصہ جنگ احزاب (خندق) کے واقعہ کو بیان کرتا ہے، اس لیے اس کا یہ نام انتخاب ہوا ہے۔ اس سورہ کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں: "من قرء سورة الاحزاب وعلّمها اهله ۔۔۔۔۔ اعطى الامان من عذاب القبر" جو شخص سوره احزاب کی تلاوت کرے اور اپنے گھر والوں کو اس کی تعلیم دے تو وہ عذاب قبر سے مامون رہے گا"۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ٨ ص ۳۳۴ (ابتداء سوره احزاب))۔ اور امام صادقؑ سے بھی منقول ہے: "من کان كثير القرائة لسورة الاحزاب كان يوم القيامة فی جوار محمد (ص)، واله و ازواجه"۔ "جو شخص سورۂ احزاب کی زیادہ تلاوت کرتا ہے قیامت کے دن پیغمبرؐ اکرم اور ان کے خاندان والوں کے جوار میں رہے گا"۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ٨ ص ۳۳۴ (ابتداء سوره احزاب))۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کے فضائل اور اعزازات صرف بےرُوح اور ہر قسم کے فکر اور عمل سے عاری تلاوت کے ذریعہ حاصل نہیں ہوتے۔ ایسی تلاوت کی ضرورت ہے جو غور و فکر مرکز ہوا اور ایسا غور و خوض جو فکر انسانی کے افق کو اس طرح منور اور روشن کر دے کہ اس کا پر تو اس کے اعمال میں ظاہر ہو۔
سورۂ احزاب کے مندرجات:
یہ سورہ قرآن مجید کی مفید سورتوں میں سے ایک ہے اور اسلامی اصول و فروع کے سلسلہ میں مختلف النوع اور بہت ہی اہم مسائل کا ذکر کرتا ہے۔ جو مباحث اس سورہ میں آئے ہیں انھیں سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ (پہلا حصہ) سب سے پہلے یہ سورت پیغمبر اسلامؐ کو خدا کی اطاعت کرنے اور کفار کی پیروی اور منافقین کی پیش کشوں کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہے اور اطمینان دلاتا ہے کہ وہ ان کی تخریب کاریوں کے مقابلے میں اس کی حمایت فرمائے گا۔ (دوسرا حصہ) زمانہ جاھلیت کے کچھ خرافات مثلًا اظہار کا مسئلہ جسے طلاق اور عورت و مرد کے لیے ایک دوسرے سے جدائی کا ذریعہ سمجھتے تھے اور اسی طرح (تبنی) "منہ بولے بیٹے) کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس پر تنسیخ کھینچتا ہے اور قرابت داری کے رشتوں کو حقیقی اور فطری رشتوں تک محدود کرتا ہے۔ (تیسرا حصہ) جو اس سورت کا اہم ترین حصہ ہے، جنگی احزاب اور اس کے ہلا دینے والے حوادث، مسلمانوں کی کفار پر معجزانہ فتح و کامرانی منافقین کی تخریب کاری اور گوناں گوں بہانہ تراشی اور ان کی عہد شکنی سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں نہایت کی جامع اور جاذب نظر دستور اور احکام بیان ہوئے ہیں۔ (چوتها حصہ) ازواج پیغمبر اکرمؐ سے متعلق ہے کہ انھیں ہر چیز میں مسلمان عورتوں کے لیے اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں قرآن انھیں اہم دستور اور فرمان جاری کرتا ہے۔ (پانچواں حصہ) میں: "زنیب بنت حجش" کی داستان ہے جو ایک زمانہ تک پیغمبر کے منہ بولے بیٹے "زید" کی بیوی تھیں۔ پھر ان سے الگ ہو گئیں اور حکم خدا کے تحت پیغمبر سے ان کا عقدہ ہوا اور منافقین کے لیے دستاویز بن گئی قرآن اس سلسلہ میں بہانہ جو افراد کو قانع جواب دیتا ہے۔ (چھٹا حصہ) مسئلہ حجاب کی بات کرتا ہے، جس کا گزشتہ پانچ حصوں سے بھی قریبی رابطہ ہے اور تمام صاحب ایمان عورتوں کو اس اسلامی دستور کی پابندی کی تلقین کرتا ہے۔ (ساتواں حصه) اور آخری حصہ "معاد" جیسے اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس عرصہ عظیم میں راہ نجات اور اسی طرح عظیم انسان کی امانت یعنی اس کی ذمہ داری، فرائض کی بجا آوری اور ذمہ داری کی تشریح کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5مفسرین نے یہاں مختلف شان نزول نقل کیے ہیں جو تقریبًا ایک ہی موضوع پر دلالت کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے انھوں نے کہا ہے کہ آیات "ابوسفیان" اور بعض دوسرے کفر و شرک کے سرغنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ جنگِ "احد" کے بعد "پیغمبر اسلامؐ سے امان پا کر مدینہ میں داخل ہوئے اور "عبد اللہ بن ابی" اور اس کے کچھ دوسرے دوستوں کے ساتھ رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا "یا محمد! اپنے اور ہمارے خداؤں، لات و عزٰی و منات نامی بتوں کو برا بھلا کہنے سے رک جایئے اور کہیئے کہ وہ اپنے پرستش کرنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ تاکہ ہم بھی آپ سے لڑائی جھگڑے سے دستبردار ہو جائیں۔ پھر جو کچھ آپ اپنے خدا کی تعریف و توصیف کرنا چاہیں کریں، آپ آزاد ہیں"۔ اس پیش کش سے پیغمبر کو دکھ ہوا، حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ مجھے اجازت دیجئے تاکہ انہیں قتل کر دوں! پیغمبرؐ نے فرمایا "میں نے انھیں امان دی ہے۔ لہذا اس قسم کی کوئی چیز ممکن نہیں"۔ لیکن آپ نے حکم دیا کہ انھیں مدینہ سے باہر نکال دیا جائے تو اس موقع پر اوپر وہ آیات نازل ہوئیں اور پیغمبر کو حکم دیا کہ اس قسم کی کسی پیش کش کی پرواہ نہ کریں۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البيان، ذیل زیر بحث آیت اور تفاسیر)۔
تفسیر صرف وحی الٰہی پیروی کریں:
خطر ناک لغزشیں جو عظیم رہبروں کے راستوں میں قرار پائی ہیں، مخالفین کی طرف سے سودے بازی پر مبنی پیش کش ہوا کرتی ہیں۔ اور ایسے ہی موقع پر راہ راست سے ہٹا دینے والے خطوط رہبروں کے درپیش ہوتے رہتے ہیں اور دشمن کوشش کرتا ہے کہ انھیں راہ راست اور صراط مستقیم سے ہٹا دے اور یہ ان کے لیے ایک عظیم آزمائش ہوتی ہے۔ "مشرکین مکہ" اور "منافقین مدینہ" نے بارہا کوشش کی کہ سودے بازی پر مبنی پیش کشوں کے ذریعہ پیغمبر اسلامؐ کو "خط توحید" سے منحرف کر دیں۔ منجملہ ان کے وہی پیش کش ہے جو اوپر شان نزول میں ذکر ہو چکی ہے۔ لیکن سورہ احزاب کی پہلی آیات نے نازل ہو کر ان کی سازش کو ختم کر دیا (اور اس پر پانی پھیر دیا) اور پیغمبر کو دوٹوک انداز میں خط توحید کی روش کو کسی قسم کی سودے بازی کے کئے بغیر جاری رکھنے کا حکم دیا۔ یہ آیات مجموعی طور پر پیغمبر اکرمؐ کو چار اہم حکم د ے رہی ہیں: پہلا حکم:۔ تفوےٰ اور پرہیزگاری کے سلسلہ میں ہے، جو دوسرے تمام پروگراموں کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ فرماتا ہے۔ "اے پیغمبر! تقوٰے اختیار کرو: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ)۔ "تقوٰی" درحقیقت، وہی باطنی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس ہے۔ اور جب تک یہ احساس موجود نہ ہو انسان کسی بھی اصلاحی پروگرام کے حرکت نہیں کرتا۔ "تقوٰے" ہدایت اور آیات الٰہی سے بہرہ در ہونے اور فائدہ اٹھانے پر آمادہ کرنا ہے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی دوسری آیت میں ہم پڑھتے ہیں "ھدی للمتقین" یہ قرآن پر ہیزگاروں کے لیے سبب ہدایت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تقوےٰ کا آخری اور حقیقی مرحلہ ایمان اور احکام خداوندی پر عمل کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کو پہلا مرحلہ ان تمام مسائل سے پہلے قرار پاتا ہے کیونکہ انسان اگر اپنے اندر ذمہ داری کو احساس نہ کرے تو نہ پیغمبروں کی دعوت کی تحقیق کرنے کی زحمت کرتا ہے اور نہ ہی ان کی باتوں پر کان دھرتا ہے یہاں تک کہ "دفع ضرر متحمل" کا مسئلہ جسے علماء علم کلام و عقائد کرنے معرفتہ الٰہی کے لیے کوشش کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا ہے، حقیقت میں تقوٰی کی ایک شاخ ہے۔ دوسرا حکم: کفار و منافقین کی اطاعت کی نفی ہے، خدا فرماتا ہے۔ "کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو"۔ (وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ)۔ اس آیت کے آخر میں اس موضوع کی تاکید کے لیے کہتا ہے۔ "خدا عالم اور حکیم ہے"۔ (إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا)۔ اگر وہ آپ کو ان کی پیروی ترک کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ اس کے لامتناہی علم و حکمت کی بناء پر ہے، کیونکہ وہ جاتنا ہے کہ ان کی اس اطاعت اور سودے بازی میں کیا گیا دردناک مصائب اور کیسے کیسے بےشمار مفاسد پنہاں ہیں۔ بہرحال، تقوٰے اور احساس ذمہ داری کے بعد پہلا فرایضہ صفحہ قلب کو غیر خدا کی محبت سے صاف اور پاک کرنا ہے اوراس سرزمین سے مزاحمت کرنے والے کانٹوں کی بیخ کنی کرنا ہے۔ تیسرے حکم میں عقیدہ توحید کی تخم ریزی اور وحی الٰہی کی اتباع کرنے کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "جو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر وحی ہوتی ہے، اس کی پیروی کرو:" (وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ)۔ اور اچھی طرح خبردار رہو کہ "جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے:" (إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا)۔ اس بناء پر پہلے عفریت کو دل و جان سے نکالیں تاکہ اس میں فرشتہ آ سکے۔ کانٹوں کو ختم کریں تاکہ پھولوں کی تخم ریزی ہو سکے۔ طاغوت کو دور کر کے اس سے خود کو پاک کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی حکومت اور نظام الٰہی اس کی جگہ لے سکے۔ اور چونکہ اس راہ پر چلنے کے لیے مصائب و مشکلات بہت زیادہ ہیں، سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں۔ قدم قدم پر روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ لہذا چوتھے حکم کو اس شکل میں صادر کرتا ہے۔ "خدا پر توکل کرو اور ان لوگوں کی سازشوں سے نہ ڈرو": (وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ)۔ "اور یہی کافی ہے کہ خدا انسان کا ولی و حافظ اور مدافع و حامی ہے": (وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا)۔ اگر ہزار دشمن بھی آپ کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیں، لیکن چونکہ میں آپ کا دوست اور یاور ہوں لہذا دشمنوں سے بھی ہراساں نہ ہوں۔ اگرچہ ان آیات میں مخاطب پیغمبر کی ذات ہے، لیکن واضح ہے کہ یہ تمام مومنین اور تمام عالم اسلام کے لیے یکساں حکم ہے۔ یہ ہر دور اور ہر زمانہ کے لیے نجات بخش نسخہ ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے "یاایّها" کا خطاب ان موارد کے ساتھ مخصوص ہے جہاں مقصد سب لوگوں کی توجہ کو کسی مطلب کی طرف مبذول کرنا ہو اگرچہ مخاطب ایک ہی شخص ہو بخلاف "یا" کے خطاب کے جس کا عام طور پر اطلاق ایسے موارد میں ہوتا ہے، جہاں مراد مخاطب کی ذات ہوتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی جلد ٢٥ ص ١٩٠ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اور چونکہ زیر بحث آیات میں "یاایّها" سے خطاب شروع ہوا ہے لہذا ان آیات کے مقصد کی عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ عمومیت (سب) کے لیے ہونے کا ایک اور شاہد یہ ہے کہ "إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا" کا جملہ جمع کی صورت میں آیا بے یعنی "خدا تم سب کے اعمال سے آگاہ ہے"۔ اگر صرف پیغمبر مخاطب ہوتے تو کہا جاتا کہ خدا تیرے عمل سے آگاہ ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ کچھ کہے بغیر واضح ہے کہ پیغمبر کو یہ حکم دینے کا مقصد نہیں کہ آنجناب تقوٰی کے بارے میں یا کفار و منافقین کی اطاعت ترک کرنے کے مسئلہ میں کسی قسم کی کوتاہی سے کام لیتے تھے، بلکہ اس قسم کے احکام جہاں ایک طرف پیغمبر کے وظائف اور ذمہ داریوں کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے، وہاں پر تمام مومنین کے لیے درس بھی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر فضول دعوے:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات کے بعد جو پیغمبر کو حکم دیتی تھیں کہ صرف وحی الٰہی کی اتباع کریں، نہ کہ کفار و منافقین کی، تو زیر بحث آیات میں ان کی پیروی کے نتیجہ کو بیان کرتا ہے۔ ان کی پیروی انسان کو بڑی حد تک خرافات، باطل اور بےراہ روی کی دعوت دیتی ہے۔ جن میں سے تین موارد تو پہلی زیر بحث آیت میں بیان ہوئے ہیں۔ ابتدا میں فرماتا ہے "خدا نے کسی شخص کے لیے بھی دو دل اس کے وجود میں قرار نہیں دیئے": (مَّا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ)۔ مفسرین کی ایک جماعت نے آیت کے اس حصہ کے شان نزول میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں "جميل بن معمر" نامی کا ایک شخص تھا جو بلا کا حافظہ رکھتا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ میرے اندر "دو دل" ہیں جن میں سے ہر ایک سے محمد کی نسبت بہتر سمجھ رکھتا ہے۔ اس لیے مشرکین قریش سے "ذوالقلبين" (دو دل رکھنے والے) کا نام دیتے تھے۔ جنگ بدر کے دن جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو جمیل بن معمر بھی ان کے درمیان تھا۔ ابوسفیان نے اسے اس حالت میں دیکھا کہ اس کا ایک جوتا اس کے پاؤں میں تھا اور دوسرا ہاتھ میں لے کر بھاگ رہا تھا تو ابو سفیان نے اس سے کہا کیا بات ہے؟ اس نے کہا لشکر بھاگ گیا ہے۔ ابو سفیان نے پوچھا، پھر ایک جوتا ہاتھ میں اور دوسرا پاؤں میں کیوں کیے ہو؟ اس نے کہا سچ مچ میں تو اس طرف متوجہ ہی نہیں تھا۔ بلکہ سمجھتا تھا کہ دونوں جوتے میرے پاؤں میں ہیں (معلوم ہوتا ہے کہ ان سب دعووں کے باوجود اس طرح اپنے ہاتھ پاؤں گم کر چکا تھا کہ ایک دل کی مقدار بھی کوئی چیز نہیں سمجھتا تھا۔ البتہ ایسے مواقع پر دل سے مراد عقل ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" ذیل آیہ محل بحث اور "تفسیر قرطبی")۔ بہرحال، کفار و منافقین کی پیروی اور وحی الٰہی کی اتباع کو ترک کرنا انسان کو اس قسم کے بےہودہ اور فضول مطالب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر اس جملہ کا ایک نہایت ہی عمیق اورگہرا معنی بھی ہے اور یہ کہ انسان ایک سے زیادہ دل نہیں رکھتا اور یہ دل ایک معبود کے عشق کے علاوہ، کوئی گنجائش نہیں رکھتا۔ وہ لوگ جو شرک اور متعدد معبودوں کی دعوت دیتے ہیں ان کے متعدد دل ہونے چاہئیں تاکہ ہر ایک کو ایک معبود کے عشق کا مرکز بنائیں۔ اصولی طور پر انسان کی شخصیت ایک صحیح و سالم واحد انسانی شخصیت ہے اور اس کی فکر لائن بھی ایک ہے تنہائی اور اجتماع میں ظاہر و باطن میں اندر و باہر میں فکر و عمل میں غرض کہ سب میں ایک ہے اور اسے ایسا ہونا چاہیے، ہر قسم کا نفاق و دوگانگی انسان کے وجود پر ایک مسلط شدہ امر ہے اور اس کی طبیعت اور مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ چونکہ انسان ایک سے زیادہ دل نہیں رکھتا لہذا اسے چاہیے کہ اس کی مہر و محبت کا مرکز بھی ایک ہو اور ایک ہی قانون کے سامنے سرتسلیم نہ کرے۔ ایک ہی معشوق و محبوب کی الفت دل میں رکھتا ہو۔ ایک ہی مقررہ راستے پر زندگی کے سفر کو جاری رکھے۔ ایک گروہ اور ایک ہی جماعت سے ہم آہنگ ہو ورنہ یہ افتراق اور مختلف راستے اور پراگندہ مقاصد اسے ایک فطری راستہ سے ہٹ کر بےہودگی اور انحراف کی طرف کھینچ کر لے جائیں گے۔ اس لیے ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علیؑ سے اس آیت کی تفسیر میں ہم پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "لایجتمع حبّنا وحُبّ عدوّنا في جوف انسان، ان الله لم يجعل لرجل قلبين في جوفه، فيجب بهذا ويبغض بهذا فامّا مُحبنا فيخلص الحب لنا كما يخلص الذهب بالنار لاكدر فيه فمن ارادان فليمتحن قلبہ فان شارك في حبنا حب عدوّنا فليس منا ولسنا منه"۔ ہماری دوستی اور ہمارے دشمن کی دوستی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی، کیونکہ خدا نے ایک انسان کے لیے دو دل قرار نہیں دیئے ہیں کہ ایک ساتھ کسی کو دوست رکھے اور دوسرے کے ساتھ کسی کو دشمن؛ ہمارے دوست ہماری محبت میں خالص ہیں۔ جیسا کہ سونا کٹھالی سے نکل کر کندن بن جاتا ہے، جو شخص اس حقیقت کو جاننا چاہتا ہے وہ اپنے دل کی آزمائش کرے۔ اگر ہمارے دشمنوں کی محبت کا کچھ حصہ اس کے دل میں ہماری محبت کے ساتھ ملا ہوا ہے تو نہ وہ ہم سے ہے، نہ ہم اس سے۔ (بحوالہ: تفسیر "علی بن ابراہیم" مطابق نقل نور الثقلین جلد ۴ ص ٢۳۴)۔ اسی بناء پر ایک دل ایک ہی اعتقاد کا مرکز ہے اور وہ بھی ایک ہی عمل پروگرام پر عمل درآمد کرتا ہے کیونکہ ایسا نہیں بو سکتا کہ انسان حقیقتًا کسی چیز کا معتقد تو ہو لیکن عملی شکل میں اس سے جدا ہو۔ اور یہ جو بعض لوگ ہمارے زمانہ میں اپنے لیے مستعدد شخصيتوں کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے فلاں عملی سیاسی لحاظ سے انجام دیا اور فلاں دینی لحاظ سے اور فلاں کام اجتماعی نقطہ نظر سے، اس طرح سے وہ اپنے متضاد اعمال کی توجیہ کرتے ہیں۔ تو وہ بدکردار منافق ہیں جو چاہتے ہیں کہ قانون آفرینش و خلقت کو روند ڈالیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان کی زندگی کے مختلف پہلو ہیں لیکن ان سب پر ایک ہی قانون حاکم ہونا چاہیے۔ قرآن اس کے بعد زمانہ جاہلیت کی ایک اور بےہودہ رسم اور خرافات کو بیان کرتا ہے اور وہ "ظہار" کی خرافات ہے۔ مرد جس وقت اپنی بیوی سے ناراض ہو جاتے اور چاہتے کہ اس سے نفرت کا اظہار کریں تو اس سے کہتے (انت علىّ كظهر امی) تو میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہے"۔ اور اس بات ساتھ وہ اسے اپنی ماں کی طرح سمجھنے لگتے اور اس بات کو طلاق کے مانند خیال کرتے۔ قرآن اس آیت کے آخر میں کہتا ہے "خدا نے ہرگز تمہاری بیویوں کو جنہیں تم محل ظہار قرار دیتے ہو، تمہاری مائیں قرار نہیں دیا ہے اور ماؤں والے احکام ان کے لئے مقرر نہیں کیے: (وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ)۔ اسلام نے اس زمانہ جاہلیت کے پروگرام کو صرف مسترد ہی نہیں کیا بلکہ اس کے لیے سزا بھی مقرر کی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص یہ بات کہے وہ ضروری کفاره ادا کیے اپنی بیوی کے پاس نہیں جا سکتا اور اگر کفارہ بھی ادا نہ کرے اور بیوی کے پاس بھی نہ جائے تو بیوی "حاکم شریعت" کے ذریعہ سے اسے دو کاموں میں سے ایک کو قبول کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یا تو باقاعدہ طور پر اور قانون اسلام کے مطابق اسے طلاق دے کر اس سے الگ ہو جائے۔ یا کفاره ادا کر کے حسب سابق اپنی ازدواجی زندگی کو جاری رکھے۔ (تشریحی نوٹ: "ظہار" سے مربوط مسائل کے بارے میں مزید وضاحت انشاء اللہ سورہ مجادلہ کی اس سے مناسب آیات کے ذیل میں آئے گی)۔ آخر یہ کیا بات ہوئی کہ انسان اپنی بیوی سے یہ جملہ کہنے سے کہ "تو میری ماں کی طرح ہے" اس کو ماں کے حکم میں نے آئے؟ ماں اور بیٹے کا ایک فطری رابطہ ہوتا ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس لیے سوره مجادلہ کی آیت ٢ میں صراحت کہتا ہے: "إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا"۔ "ان کی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے انھیں جنم دیا ہے اور وہ بری اور باطل بات کہتے ہیں"۔ یہ بات کہنے سے اگر ان کا مقصد بیوی جدائی اختیار کرنا ہے۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا کہ اس سے طلاق کا کام لیتے تھے تو عورت سے علٰیحدگی اس غلط اور ناشائستہ قول کی محتاج نہیں ہے۔ کیا ایک درست اور یہ تعبیر کے ساتھ علیحدگی کے مسئلہ کو بیان نہیں کیا جا سکتا؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ظہار زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے سے جدائی کا سبب نہیں ہوتا تھا بلکہ عورت کو مطلق سرگردان کی حالت میں قرار دینا ہوتا تھا اگر واقعتًا ایسا ہی ہے تو یہ گھناؤنا اور تکلیف دہ فعل میں بن جاتا ہے کیونکہ ایک بےمعنی لفظ کے کہنے سے میاں بیوی کا باہمی رابطہ منقطع ہو جانا اور بغیر اس کے کہ عورت مطلقہ ہو، شوہر اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر فی ظلال" جلد نمبر ٦ ص ٥۳۴ (ذیل آیت زیر بحث))۔ پھر زمانہ جاہلیت کی تیسری بےہودہ اور فضول چیز کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے " خدا تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے حقیقی بیٹے قرار نہیں دیتا:(وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ)۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں معمول تھا کچھ لوگ چھوٹے بچوں کو اولاد کے طور پر انتخاب کر لیتے اور انھیں اپنا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور ایسا کرنے کے بعد تمام و حقوق جو ایک بیٹے کے کسی باپ پر ہوتے ہیں، اس کے قائل ہو جاتے تھے، وہ منہ بولے باپ کے وارث ہوتے اور منہ بولے ان کے وارث ہوتے۔ ایسے باپ کی بیوی بیٹے پر اور ایسے بیٹے کی بیوی باپ پر حرام ہو جاتی۔ اسلام نے غیر منطقی اور بےہودہ قواعد و ضوابط کو سختی سے مسترد کر دیا جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ پیغمبر نے اس غلط طور طریقے کی سرکوبی کے لیے اپنے منہ بولے بیٹے "زید بن حارثہ" کی بیوی سے مطلقہ ہونے کے بعد نکاح کر لیا تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ کھوکھلے الفاظ حقائق کو دگرگوں نہیں کر سکتے کیونکہ باپ بیٹے کا باہمی رابطہ ایک طبیعی اور فطری رابطہ ہوتا ہے جو الفاظ، عہد و پیمان اور نعرہ بازی سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ بعد میں ہم بتائیں گے کہ پیغمبر کا زید کی مطلقہ بیوی سے شادی کرنے کے باعث دشمنان اسلام نے ایک بہت بڑا جنجال کھڑا کر دیا اور ان کے غلط پروپیگنڈے کے لیے ایک دستاویز بن گیا، لیکن یہ سب کچھ زمانہ جاہلیت کی اس غلط رسم کو مٹانے کے لیے مہنگا ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے قرآن اس جملے کے بعد کہتا ہے۔" یہ ایسی بات ہے کہ جو تم زبان سے کہتے ہو:" (ذَلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ)۔ تم کہتے ہو فلاں میرا بیٹا ہے حالانکہ دل میں جانتے ہو کہ یقینًا ایسا نہیں ہے۔ آواز کی یہ لہریں صرف تمھارے منہ کی فضا میں گھوم پھر کر باہر نکل جاتی ہیں اور کسی بھی صورت میں یہ دل کی آواز نہیں ہوتی۔ یہ غلط اور فضول باتوں کے علاوہ، اور کچھ نہیں۔" لیکن خدا حق بات کہتا ہے اور راہ راست کی ہدایت کرتا ہے": (وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ)- حق بات اسے کہا جاتا ہے جو واقفیت عین کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو یا اگر کوئی طے شدہ معاملہ ہے تو وہ ہر لحاظ سے اس معاملہ کی تمام مصلحتوں سے ہم آہنگ ہوا اور معلوم ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ظہار"ایسا ناپسندیدہ مسئلہ یا" منہ بولا بیٹا" جو دوسروں کی اولاد کے حقوق کو بڑی حد تک پانمال کرتا تھا، نہ تو واقفیت عین رکھتا تھا اور نہ ہی کوئی ایسا طے شدہ معاملہ تھا جس میں مصلحت عامہ کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ اس کے بعد قرآن مزید تاکید اور اسلام کے صحیح اور منطقی خط کو واضح کرنے کےلیے یوں اضافہ کرتا ہے۔ "انھیں ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو کیونکہ یہ کام خدا کے نزدیک زیادہ عادلانہ ہے"۔ (ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ)۔ "اقسط" (زیادہ منصفانہ) کی تعبیر کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اگر انھیں منہ بولے باپ کے ساتھ پکارو تو منصفانہ فعل ہے اور حقیقی باپ کے نام سے پکارو تو زیادہ منصفانہ ہے، بلکہ جیسا کہ ہم بار کہہ چکے ہیں کہ "افعل التفضيل" کا صیغہ کبھی ایسے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے کہ طرف مقابل میں صفت کا بالکل وجود نہیں ہوتا۔ مثلًا کہا جاتا ہے: "انسان احتیاط کرے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالے تو بہتر ہے " تو اس بات کا یہ مفہوم نہیں کہ جان کو خطرے میں نہ ڈالنا اچھا ہے لیکن احتیاط کرنا اس سے بہتر اور زیادہ اچھا ہے، بلکہ مراد "اچھے" اور "برے" کا ایک دوسرے سے تقابل اور موازنہ ہے۔ اور "بہانے" کو دور کرنے کے لیے مزید کہتا ہے؟ اگر ان کے باپوں کو تم نہیں پہنچانتے تو وہ تمھارے دینی بھائی اور موالی ہیں": (فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ)۔ یعنی ان کے باپوں کو نہ پہچاننا اس چیز کی دلیل نہیں بنتا کہ دوسرے شخص کا نام "باپ" کے عنوان سے اس پر رکھ دیں بلکہ انھیں دیںی بھائی کے عنوان سے یا دوست اور آشنا کے طور پر خطاب کرو۔ "موالی" "مولا" کی جمع ہے اور مفسرین نے اس کے لیے متعد و معانی ذکر کیے ہیں۔ بعض نے اسے یہاں دوست کے معنی میں اور بعض نے آزاد شدہ غلام کے معنی میں لیا ہے۔ (کیونکہ بعض منہ بولے بیٹے غلام تھے جنھیں خرید کر آزاد کر دیا جاتا اور چونکہ وہ اپنے آقا کی توجہ کا مرکز ہوتے لہذا انھیں اپنے بیٹے کے طور پر پکارتے تھے)۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ "مولا" کی تعبیر اس قسم کے موارد میں کہ جہاں مقابلے میں آزاد شده غلام ہوں، اسی وجہ سے تھی کہ وہ آزادی کے بعد اپنا رابطہ اپنے مالک کے ساتھ برقرار رکھتے ایسا رابطہ جو قانونی لحاظ سے کئی ایک جہات میں رشتہ داری کا جانشین ہو جاتا اور "ولاء عتق" سے تعبیر کرتے۔ اس لیے اسلامی روایات میں ہے کہ "زید بن حارثہ" کو پیغمبر اکرمؐ کے آزاد کرنے کے بعد بھی "زید بن محمد" کے عنوان سے پکارا جاتا، یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا اور اوپر والا حکم لایا۔ اس کے بعد پیغمبرؐ نے اس سے فرمایا تو "زید بن حارثہ" ہے ۔ تو اب اسے لوگ "مولٰى رسول اللہ" (رسول کا آزاد کردہ) کہہ کر پکارتے تھے۔ (بحوالہ: "روح المعانی" جلد ٢١ ص ١۳١ ذیل آیہ محل بحث)۔ نیز علماء نے کہا ہے کہ ابو حذیفہ کا سالم نامی ایک غلام تھا جسے انھوں نے آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا جس وقت اوپر والی یہ آیت نازل ہوئی تو اسے "سالم" مولی حذیفہ کا نام دیا گیا۔ (تشریحی نوٹ: "روح البیان" ذیل آیہ محل بحث)۔ لیکن چونکہ انسان بھی گزشتہ عادت کے ماتحت با سبقت لسانی کی بناء پر یا بعض افراد کے نسبت میں اشتباہ کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ کسی کو اس کے باپ کے علاوہ، کسی اور سے نسبت دے دے اور یہ چیز انسان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ لہذا خدا وند عادل و حکیم ہے۔ ایسے شخص کو سزا نہیں دے گا۔ اس لیے آیت کے ذیل میں اضافہ کرتا ہے۔ "جس وقت اس موقع غلطی کے مرتکب ہو جاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے": (وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ)۔ لیکن جو کچھ تم جان بوجھ کر اور اپنے اراده و اختیار سے کہتے ہو، اس پر ضرور سزا دی جائے گی:" (وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین نے کہا ہے کہ لفظ "ما" یہاں "موصولہ" ہے اور اعراب کے لحاظ سے "مبتداء" ہے اور اس کی "خبر" محزوف ہے اور تقدیری طور پر اس طرح تھا "وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ فانكرتؤاخذون به")۔ "اور خدا ہمیشہ غفور و رحیم ہے (وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔ تمہارے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور سہو و نسیان اور خطاؤں کو معاف کر دے گا۔ لیکن اگر اس حکم کے نازل ہونے کے بعد تم نے عمدًا اس کی مخالفت کی اور افراد کو ان کے باپوں کے نام کے بغیر پکارا اور "منہ بولے بیٹے" اور منہ بولے باپ والی رسم کو جاری رکھا تو خدا تمھیں نہیں بخشے گا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ موضوع خطا ایسے موارو کو بھی شامل ہو گا جب انسان محبت کی بنیاد پر کسی سے کہتا ہے۔"میرے بیٹے"! یا احترام سے کہتا ہے۔ "میرے باپ"! البتہ یہ بات یہ صحیح ہے کہ تعبیرات گناہ نہیں ہے۔ لیکن خطاء کے عنوان سے نہیں بلکہ اس بناء پر کہ اس قسم کی تعبیرات کنایہ و مجاز کا پہلو رکھتی ہیں اور عام طور پر ان کا قرینہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہذا قرآن یہاں حقیقی تعبیرات کی نفی کرتا ہے نہ کہ مجازی کی۔ بعد والی آیت ایک اور اہم مسئلہ یعنی اس کے نظام "مواخات" کے ابطال کو پیش کرتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام نے ان کا تعلق مشرک رشتے داروں کے ساتھ کہ جو مکہ میں تھے، کلی طور پر توڑ دیا اور پیغمبرؐ نے حکم خدا سے مسئلہ اخوت و پیمان برادری ان کے درمیان کیا۔ اس طرح سے کہ "مہاجرین" و "انصار" کے درمیان (دو دو کر کے) پیمان اخوت و برادری باندھا گیا اور وہ دو حقیقی بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے وارث بنے لیکن یہ حکم عارضی اور صرف موجودہ سخت ترین حالات سے مخصوص تھا اور جس وقت اسلام نے وسعت پیدا کی ہے اور گزشتہ روبط تدریجًا برقرار ہوئے تو اب اس حکم کو باقی اور جاری رکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اُوپر والی آیت نازل ہوئی اور "نظام مواخات" کو جو نسب کا جانشین تھا باطل کیا۔ اوراث وغیرہ کے حکم کو حقیقی رشتہ داروں کے سات مخصوص کر دیا۔ اس بناء پر نظام اخوت و برادری اگرچہ ایک اسلامی نظام تھا (برخلاف منہ بولے بیٹے کے نظام کے جو ایک جاہلانہ نظام تها لیکن ضروری تھا کہ حد سے زیادہ خراب حالت کے برطرف ہونے کے بعد اسے باطل ہونا چاہیے تھا اور ایسا ہی ہوا۔ البتہ زیر بحث آیہ میں اس نکتہ کے ذکر سے پہلے دو اور احکام یعنی "مومنین کی نسبت پیغمبرؐ کا اولٰی ہونا" اور "پیغمبرؐکی بیویوں کا ماں کی ماننند ہونا" مقدمہ کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ فرماتا ہے "پیغمبر مومنین کی نسبت اور ان سے اولٰی ہیں"۔ (النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ)۔ "اور ان کی بیویاں مومنین کی مائیں شمار ہوتی ہیں": (وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ)۔ باوجود اس کے کہ پیغمبر بمنزلہ باپ کے اور ان کی بیویاں بمنزلہ ماؤں کے ہیں، لیکن کبھی بھی ان سے میراث نہیں لیتے تو کس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ منہ بولے بیٹھے وارث بنتے ہوں۔ پھر مزید کہتا ہے رشتہ دار ایک دوسرے کی نسبت مؤمینین و مہاجرین میں سے اس میں جو خدا نے مقرر کیا ہے اولٰی ہیں: (وَأُوْلُواْ الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ)۔ لیکن اس کے باوجود اس بناء پر کہ کلی طور پر مسلمانوں پر راستہ بند نہ کر دیں اور دوستوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے ساتھ ان کا کسی قسم کو کوئی تعلق یا لگاؤ ہو تو کوئی چیز بطور میراث چھوڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ وصیت کے طریق سے تہائی مال کی بابت ہی سہی آیت کے آخر میں مزہد کہتا ہے۔ "مگر یہ کہ تم چاہو کہ اپنے دوستوں کی نسبت کوئی نیک کام انجام دو" تو کوئی مانع نہیں ہے: (إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا)۔ اور آخری جملہ میں گزشتہ تمام احکام کی تاکید کے لیے یا آخری حکم کی تاکید کے لئے فرماتا ہے۔ "یہ حکم کتاب الٰہی میں (لوح محفوظ با قرآن مجید میں) لکھا جا چکا ہے": (كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا)۔ یہ تھا خلاصہ اوپر والی آیت کی تفسیر کا۔ اب ہم ان مذکورہ چار احکام میں سے ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ الف:- مومنین کی نسبت پیغمبر کے اولٰی ہونے سے کیا مراد ہے؟ قرآن نے اس آیت میں پیغمبر کے اولٰی ہونے کو مسلمانوں کی نسبت مطلق طور پر ذکر کیا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام اختیارات جو "انسان" اپنی بابت رکھتا ہے "پیغمبر" خود اس سے بھی والٰی ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے "امور اجتماعی کی تدبیر" کے مسئلہ میں یا "اولویت مسئلہ قضاوت" میں یا"حکم و فرمان کی اطاعت" کے ساتھ تفسیر کی ہے، لیکن حقیقت واقع یہ ہے کہ ان تین امور میں سے کسی ایک کی محدود کرنے کی دلیل ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اسلامی روایات میں اولویت کی مسئلہ "حکومت" سے مربوط مسائل میں بھی ہے تو درحقیقت اس اولٰویت کی ایک شاخ کو بیان کرنا مقصود ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ روایات "اصوال کافی" اور کتاب "علل الشرائع" میں آئی ہیں (تفسیر نور الثقلین ، جلد ۴ ص ٢۳٨ ، ٢۳٩ کی طرف رجوع فرمائیں")۔ لہذا کہنا چاہیے کہ پیغمبر اسلامؐ اجتماعی مسائل میں اور انفرادی و خصوصی مسائل میں بھی، حکومت سے مربوط مسائل میں بھی اقضاوت و دعوت سے متعلق مسائل میں بھی ہر انسان سے خود اس کی نسبت اولٰی تھے اور آپ کا ارادہ اور خواہش خود اس کے ارادہ اور خواہش پر مقدم ہے۔ اور اس مسئلہ میں حیران ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ پیغمبر معصوم ہوتا ہے اور خدا کا نمائنده سوائے معاشرے اور فرد کی خیر و اصلاح کے کچھ بھی مدنظر نہیں رکھتا اور کبھی بھی وہ ہوا و ہوس کا تابع نہیں ہوتا اور کسی وقت بھی اپنے مفادات کو دوسروں کے مفادات پر مقدم نہیں سمجھتا بلکہ اس کے برعکس مفادات کی کشش و تضاد اور ٹکراؤ کی صورت میں اس کا پروگرام ہمیشہ امت کے لیے ایثار و قربانی اور فدا کاری ہوتا ہے۔ یہ اولٰویت حقیقت میں مشیت الٰہی کی اولٰویت کی ایک شاخ ہے کیونکہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی جانب سے ہے۔ مزید برآں، انسان اس وقت ایمان کی بلندی پر پہنچ سکتا ہے۔ جب اس کا مضبوط ترین تعلق اپنی ذات کے ساتھ عشق و محبت خدا کے تابع ہو اور اسی طرح اس کے نمائندوں کے ساتھ عشق و محبت کے تایع ہو۔ اس لیے تو ہم ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: "لایؤمن احدكم حتٰی یکون هواه تبعًا لماجت به" "تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک حقیقت ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک اس کی خواہش اس چیز کے تابع نہ ہو جسے میں خدا کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ (بحوالہ: "تفسير (فى ظلال" ذیل آیات محل بحث)۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے: "والذي نفسي بيده لا يؤمن احدكم حتٰی اكون احب اليہ من نفسه وماله وولده والناس اجمين"۔ "قسم سے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک حقیقت ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک اس کے نزدیک خود اس سے اس کے مال و اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں"۔ (بحوالہ: "تفسير (فى ظلال" ذیل آیات محل بحث)۔ نیزیہ بھی خود آنحضرت سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "مامن مؤمن الا وانا اولى الناس به في الدنيا والاخرة"۔ "کوئی مومن نہیں جب تک کہ میں دنیا و آخرت میں اس کے نزدیک خود اس کی نسبت اولٰی نہ ہوں"۔ (بحوالہ: "صحیح بخاری" جلد ٩ ص ١۴٥ (تفسیر۳ احزاب، مسند احمد بن حنبل جلد ٢ ص ٢۳۴)۔ قرآن بھی اسی سوره احزاب کی آیت ۳٦ میں کہتا ہے: "وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ"۔ "کسی با ایمان مرد و عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کریں تو پھر وہ اپنی طرف سے کوئی اختیار رکھتا ہو"۔ ہم ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ اس بات کا یہ مقصد نہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو مکمل طور پر ایک فرد کی خواہشات کا پابند کر دیا ہے بلکہ اس بات کے پیش نظر کہ پیغمبر مقام عصمت کا حامل ہوتا ہے اور " وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى" (نجم ۔۳،۴) کا مصداق ہونے کی بناء پر جو کچھ بھی کہتا ہے، سب خدا کا فرمان ہوتا ہے اور اس کی ہی جانب سے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ باپ سے بھی زیادہ دل سوز اور مہربان ہے۔ یہ اولویت درحقیقت لوگوں کے مفاد اور ان کے حق میں ہے، حکومت اور اسلامی معاشرہ کو چلانے کی صورت میں بھی اور انسان کے شخص اور انفرادی مسائل میں بھی۔ اس بناء پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ اولٰویت پیغمبر کے کاندھوں پر عظیم مسئولیت اور ذمہ داری ہے۔ اسی لیے مشہور روایت میں کہ جو شیعہ اور اہل سنت کی کتب میں وارد ہوئی ہے۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: "انا اولى بكل مؤمن من نفسه، ومن ترك مالا فللوارث ومن ترك دینًا او ضياعًا فاليّ وعلىّ"۔ "میں ہر مومن کے لیے اس کی نسبت اولٰی ہوں، جو شخص اپنی طرف سے مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارث کے لیے ہے اور جو شخض قرض چھوڑ کر جائے یا اہل و عیال چھوڑ جائے تو ان کی کفالت میرے ذمہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: وسائل شیعہ جلد ١٧ ص ٥٥١ یہ بات امام صادقؑ سے پیغمبر گرامی اسلامؐ سے نقل ہوئی ہے اور یہی مضمون مختصر ہے فرق کے ساتھ تفسیر قرطبی اور رُوح المعانی میں زیر بحث آیات کے ذیل میں آیا ہے اور میں صحیح بخاری میں بھی ہے۔ دیکھو جلد ٦ ص ۴٥، (تفسير سورہ احزاب) میں آیا ہے)۔ (توجہ کرنا چاہیے کہ یہاں پر "ضیاع" اہل و عیال کے معنی میں ہے جو سرپرست کے بغیر رہ گئے ہوں اور "دین" کی تعبیر اس سے پہلے بھی اس معنی پر واضح قرنیہ ہے کیونکہ مراد مال کے بغیر قرض دار ہونا ہے۔ ب:- دوسرا حکم پیغمبر کی بیویوں کے سلسلہ میں ہے کہ وہ تمام مومین کے لیے (ماں کی حیثیت رکھتی ہیں البتہ معنوں اور روحانی مائیں ہیں جیسا کہ پیغمبر امت کے روحانی اور معنوی باپ ہیں۔ اس معنوی میں ربط اور رشتہ کی تاثیر صرف "حفظ احترام" اور پیغمبر کی بیویوں سے "ازدواج کی حرمت" کے سلسلہ میں ہے، جیسا کہ اسی سورہ کی آیات میں پیغمبر کی رحلت کے بعد ان کی ازواج سے نکاح کرنے کی تحریم کا صریح حکم آیا ہے۔ ورنہ مسئلہ میراث کے لحاظ سے اور اسی طرح دوسرے "نسبی" اور"سببی" محرمات کے لحاظ سے ذرہ برابر بھی نہیں رکھتا، یعنی مسلمان حق رکھتے ہیں کہ پیغمبر کی بیٹیوں کے ساتھ شادی کریں۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ حضرت علیؑ کی شادی آنحضرت کی دختر سے ہوئی یا آپ کی نواسیوں کی شادیاں حضرت جعفر طیار کے بیٹوں سے ہوئیں)۔ حالانکہ کوئی شخص اپنی ماں کی بیٹی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا، نیز محرمیت کا مسئلہ اور پیغمبر کی بیویوں کی طرف نگاه کرنا ان کے محارم کے سوا کسی شخص کے لیے بھی جائز نہیں تھا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے بی بی عائشہ سے کہا: "یا امہ" اے اماں۔ اس پر انھوں نے جواب دیا۔ میں تمھاری ماں نہیں ہوں، تمہارے مردوں کی ماں ہوں۔ (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" اور "روح المعانی " زبر بحث آیات کے ذیل میں)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس تعبیر کا مقصد نکاح کی حرمت ہے اور صرف امت کے مردوں کے بارے میں صادق ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ مسئلہ ازدواج کے علاده احترام اور بزرگ سمجھنے کا موضوع بھی پیش نظر ہے۔ اسی لیے مسلمان عورتیں بھی پیغمبر کی بیویوں کے احترام کے طور پراپنی کہہ کر خطاب کریں۔ اسی بات کا مشاہد خود قرآن ہے جبکہ کہتا ہے: "النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ"۔ پیغمبرؐ کی اولویت تمام عورتوں اور مردوں کی نسبت ہے اور بعد والے جملہ کی ضمیر بھی اسی عنوان کی طرف لوٹتی ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اسی لیے عبارت میں جو"أم سلمہ" (پیغمبر کی ایک بیوی) سے نقل ہوا ہے کہ وہ فرماتی ہیں۔ "انا ام الرجال منكم والنساء" "میں تمہارے مردوں اور عورتوں کی ماں ہوں"۔ (بحوالہ: "روح المعانی" ذیل آیات زیر بحث)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ کہ کیا "وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ"۔ "پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں شمار ہوتی ہیں" کی تعبیر اس کے ساتھ جو قبل کی چند آیات میں گزری ہے، تضاد نہیں رکھتی؟ کیونکہ وہاں فرماتا ہے۔: "وہ لوگ کہ جو کبھی اپنی بیویوں کو اپنی ماں کے بمنزلہ قرار دیتے ہیں، باطل بات کہتے ہیں۔ ان کی ماں صرف وہی ہے جس سے وہ متولد ہوۓ ہیں"۔اس حالت میں کس طرح کی بیویاں کہ جن سے مسلمان متولد نہیں ہوئے مائیں شمار ہوتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ کسی عورت کو ماں سے مخاطب کرنا یا تو جسمانی لحاظ سے ہوتا ہے یا روحانی لحاظ سے۔ جسمانی لحاظ سے تو یہ معنی صرف اس صورت واقعیت رکھتا ہے کہ انسان اس سے متولد ہوا ہو۔ اور یہ وہی چیز ہے جو گزشتہ آیات میں آئی ہے کہ انسان کی جسمانی ماں تو صرف وہ ہے کہ جس سے وہ پیدا ہوا ہے لیکن روحانی ماں باپ تو وہ ہیں جو ایک قسم کی معنوی حق پر رکھتے ہوں جس طرح پیغمبر جو امت کے روحانی باپ شمار ہوتے ہیں اور آپ ہی کی وجہ سے آپ کی بیویاں ماں کا احترام رکھتی ہیں۔ جو اعتراض زمانہ جاہلیت کے عربوں کی طرف "ظہار" کے بارے میں تھا، یہ تھا کہ جس وقت وہ اپنی بیویوں کو ماں کر کے مخاطب کرتے تو یقینًا ان کی مراد معنوی ماں نہ ہوتا۔ بلکہ ان کی مراد یہ ہوتی کہ وہ اپنی ماں کی طرح ہیں، اس لیے ایک قسم کی طلاق شمار کرتے تھے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جسمانی صورت میں الفاظ کے کہہ دینے سے ماں نہیں بن جاتی بلکہ اس کی شرط تولید جسمانی ہے۔ اس بناء پر ان کا یہ قول جھوٹ اور باطل تھا۔ لیکن پیغمبرؐ کی بیویوں کے بارے میں اگرچہ وہ جسمانی مائیں نہیں ہیں لیکن پیغمبر کے احترام کی وجہ سے وہ روحانی مائیں تھیں اور ایک ماں ایسا احترام رکھتی تھیں۔ اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن آیندہ کی آیات میں پیغمبر کی بیویوں سے شادی کرنے کو حرام قرار دیا ہے، وہ بھی درحقیقت پیغمبر کے احترام کی قسموں میں سے ایک ہے جیسا کہ اس کی وضاحت آگے چل کر تفصیل کے ساتھ آئے گی، انشاءاللہ البتہ اسلام میں ماں کی ایک اور قسم رضاعی ماں کے عنوان سے موجود ہے جس کی طرف سورة نساء کی آیت ٢۳ میں اشارہ ہوا ہے کہ "وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ... " تو درحقیقت وہ جسمانی ماں کی ایک قسم ہے۔ ج :- تیسرا حکم رشتہ داروں کی ایک دوسرے کی بابت میراث بارے میں اولویت کا مسئلہ ہے کیونکہ ابتداء اسلام میں کہ مسلمان ہجرت کی وجہ سے یا اپنا رشتہ اپنے اعزاء و اقارب سے کم کر چکے تھے تو میراث کا قانون "ہجرت" اور "مواخات" کی بنیاد پر منظم ہوا یعنی مہاجرین ایک دوسرے سے یا انصار سے جن سے برادری کا رشتہ چھوڑ چکے تھے، میراث لیتے تھے۔ یہ ایک عارضی حکم تھا جو اسلام کے وسعت پانے اور بہت سے گزشتہ رشتہ داری کے روابط کے برقرار ہو جانے سے ان کے اسلام لانے کی بناء پر اب اس حکم کے جاری رکھنے کی ضرورت نہیں تھی (آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سورہ احزاب ہجرت کے پانچویں سال جنگ احزاب کے سال نازل ہوا)۔ اس لیے اوپر والی آیت نازل ہوئی اور "أُوْلُواْ الْأَرْحَامِ" (رشتہ داروں) کی اولویت کو محکم کر دیا۔ البتہ کچھ قرائن موجود ہیں کہ یہاں اولویت سے مراد الزامی اولویت ہے نہ کہ استحبابی، کیونکہ علماء اسلام کا اجماع بھی اس معنی پرہے اور بہت کی روایات بھی جو اسلامی ماخذ میں وارد ہوئی ہیں، اس موضوع کو ثابت کرتی ہیں۔ یہاں اس نکتہ کی طرف بھی خوب غور کے ساتھ توجہ کرنا چاہیے کہ یہ آیت غیروں کی نسبت رشتہ داروں کی اولویت کو بیان کر رہی ہے۔ ناکہ میراث کے تین طبقات کی ایک دوسرے کی نسبت اولویت کے بیان کے لیے، دوسرے لفظوں میں یہاں "مفضل علیهم" مومنین و مہاجرین ہیں جو تین قرآن میں آئے ہیں: (مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ) اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا "بعض رشتہ دار دوسرے بعض سے میراث لینے میں غیر رشتہ داروں سے اولٰي ہیں"۔ باقی رہا یہ کہ رشتہ دار کس طرح میراث لیتے ہیں؟ اور کس معیار اور ضابطہ کے تحت؟ تو قرآن یہاں اس بارے میں ساکت ہے! اگرچہ سوره نساء کی چند آیات میں اس کے بارے تفصیل سے بحث ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اسی بنا پر بعض فقہاء کا طبقات میراث میں ایک دوسرے سے اولویت کی تعبیر کا استدلال درست نظر نہیں آتا، معلوم ہوتا کہ "اولی ببعض" میں حرف "با" اس قسم کی غلط فہمی کا سبب ہوا (اور بعض علماء نے گمان کر لیا ہے کہ یہاں پر "مفضل علیھم " (جن پر فضیلت دی گئی) بعض وارث ہیں، حالانکہ قرآن صراحت کے ساتھ (مفضل عليه) من المومنين و المهاجرين لایا ہے" البتہ اور الوالارحام کی تعبیر صرف یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ رشتہ داری ہی میراث کا معیار ہے اور جس قدر رشتہ داری کا درجہ بلند ہو گا اسے اتنا ہی حق حاصل ہو گا۔ (غور کیجئے گا))۔ د:- مگر یہ کہ اوپر والی آیت میں ایک استثناء کی شکل میں آیا ہے، دوستوں اور تعلق رکھنے والے افراد کو اموال سے بہرہ مند کرنا ہے جنہیں یادگار کے طور پر چھوڑ رہا ہے جو (اِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا) مگر یہ کہ اپنے دوستوں کے ساتھ تم نیکی کرنا چاہو" کے جملہ سے بیان ہوا ہے اور اس کا واضح مصداق وہی حکم وصیت ہے کہ جسے انسان اپنے تہائی مال کے حصے میں جس شخص کے بارے میں چاہے انجام دے سکتا ہے۔ اس طرح سے جب میراث کی عمارت رشتہ داری کی بنیاد پر استواری کی گئی اور گزشتہ رشتوں کی قائم مقام ہوئی، پھر بھی انسان کا رابطہ مکمل طور پر اپنے قلبی دوستوں اور مسلمان بھائیوں سے منقطع نہیں ہوتا۔ البتہ کیفیت و کمیت (مقدار اور تعداد) خود اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے لیکن پھر بھی اس کی شرط یہ ہے کہ مال کی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، البتہ اگر انسان وصیت نہیں کرتا تو اس کے تمام اموال اس کے رشتہ داروں کے درمیان میراث کے قوانین کے مطابق تقسیم ہوں گے اور ان کے لیے ثلث یعنی ایک تہانی مقصود نہیں ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ ہے "إِلَّا أَن تَفْعَلُوا" کے جملہ میں جو استثناد سے وہ استثنا منقطع ہے کیونکہ وصیت کا حکم میراث کے حکم سے علٰحیدہ ہے، لیکن ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اگر یہان استثنا متصل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ "أُوْلُواْ الْأَرْحَامِ" کا جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ رشتہ دار ان مالوں کی بابت جو میت سے باقی رہ جاتے ہیں، غیروں کی نسبت اولٰی ہیں۔ لیکن اگر وصبیت کی ہو تو اس صورت میں "موصی له" تہائی ترکہ کی حدود تک رشتہ داورں سے اولٰی اور زیادہ حق رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت میں استثناء کے مشابہ ہے جو آیات میرث میں "من بعد وصية....... میں آیا ہے)۔
ایک نکتہ
بہت سی روایات ائمہ اہل بیت سے اوپر والی آیت کی تفسیریں اولوا الارحام کے بارے میں نقل ہوئی ہیں کہ جن میں سے بعض میں یہ آیت "میراث مال" کے مسئلہ سے تفسیر ہوئی ہے جیسا کہ مفسرین کے درمیان مشہور ہے جبکہ بعض دوسری روایات میں "خلافت و ملوکیت کی میراث "خاندان پیغمبر اور ائمہ اہل بیتؑ کے لیے تفسیر ہونی ہے۔ منجملہ ان کے ہم ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے پڑھتے ہیں، جس وقت آپ سے اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوال ہوا تو امامؑ نے فرمایا: "یہ فرزندان حسینؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے"۔ اور جب راوی نے سوال کیا کہ کیا یہ میراث اموال سے متعلق نہیں ہے؟ تو امامؑ نے ارشاد کیا؟ "نہیں۔ یہ تو حکومت و ولایت کے بارے میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: ان احادیث کو مرحوم سید ہاشم بجرانی نے تفسیر برہان جلد ۳ ص ٢٩٢ ، اور ٢٩۳ میں نقل کیا ہے۔ منجملہ ان کے اوپر والی حدیث ہے اور سولہویں حدیث بھی اسی سلسلہ احادیث میں سے ہے)۔ واضح ہے کہ ان احادیث سے مراد میراث اموال کے مسئلہ کی نفی نہیں ہے بلکہ مراد اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ہے کہ میراث ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو میراث اموال کو بھی شامل ہے اور میراث خلافت حکومت کو بھی۔ اور یہ تو ارث بادشاہوں کے سلسلہ میں توارث سلطنت کی طرح نہیں ہے۔ بیاں تو شائستگی اور لیاقت کی بناء پر توراث ہے۔ اسی لیے ائمہ کی اولاد میں سے صرف ان افراد کی حالت کو شامل ہے جو اس شائستگی کے حامل ہیں؟ ٹھیک اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم اپنی اولاد کےلیے خدا سے چاہتے ہیں اور خدا ان سے کہتا ہے کہ امامت و ولایت تیری اولاد میں سے اس گروه تک نہیں پہنچے گی جو ظالموں کی صف قرار پاتے ہیں۔ بلکہ ان میں پاکیزہ افراد سے مخصوص ہے۔ نیز اس چیز کے مشابہ ہے جو زیارت میں شہداء راه خدا منجملہ امام حسینؑ کی قبر کے سامنے کھڑے ہو کر ہم کہتے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے حسینؑ کہ آپ آدمؑ کے وارث، نوحؑ کے وارث، ابراہیمؑ کے وارث، موسٰیؑ کے وارث و عیسٰیؑ و محمدؐ کے وارث ہیں۔ یہ میراث تو اعتقادی، اخلاقی معنوی اور روحانی پہلوؤں کے لحاظ سے میراث ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا محکم عہد و پیمان:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5چونکہ گزشتہ آیات میں پیغمبر اسلامؐ کے وسیع اختیارات "النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ" کے عنوان کے تحت بیان ہوئے، زیر بحث آیات میں پیغمبر اسلامؐ اور باقی عظیم انبیاءؑ کے زبردست اور سنگین فرائض کو بیان کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ اختیارات اور ذمہ داریاں لازم و ملزوم ہوتے ہیں اور میں جگہ "حقوق" موجود ہوں، وہاں فرائض بھی ہوتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہیں ہو سکتے۔ اس بناء پر اگرچہ یپغمبر اسلامؐ وسیع حق رکھتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں ان پر بھاری ذمہ داریاں بھی قرار دی گئی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "یاد کرو اس وقت کو، جب ہم نے پیغمبروں سے عہد و پیمان لیا۔ اسی طرح تجھ سے اور نوحؑ، ابراہیمؑ۔ موسٰیؑ اور عیسٰیؑ بن مریمؑ سے جی ہاں ان سب سے تم نے محکمہ پیمان لیا": (وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا)- اس طرح سے پہلے تو تمام انبیاء کو مسئلہ میثاق میں پیش کرتا ہے، پھر پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے نام لیے ہیں کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلامؐ کی ذات کا ذکر ان کی شرافت و عظمت کی وجہ سے جو وہ رکھتے ہیں آیا ہے۔ اس کے بعد چار دوسرے اولوالعزم پیغمبر زمانہ ظہور کی ترتیب کے ساتھ (نوح، ابراییم، موسٰی اور عیسٰی) ذکر ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ عہد و پیمان سب کے لیے عمومی تھا، جو تمام انبیاء سے لیا گیا جبکہ اوالوا العزم زیادہ تاکید کے ساتھ اس پیمان کے پابند تھے۔ ایسا پیمان جو "أَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا" کے جملہ کے ساتھ حد سے زیادہ تاکید کو ظاہر کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "میثاق" جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے، ایسے تاکید ہی پیمان کے معنی میں ہے جو قسم و عہد سے تو اُم ہو اس بناء پر "غیلظًا" کا ذکر اس معنی پر مزید تاکید کرتا ہے)۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں ہم جانیں کہ وہ کونسا تاکید ہی عہد و پیمان تھا جس کے تمام پیغمبر زیر بار ہیں؟ مفسرین نے اس مقام پر مختلف قسم کی گفتگو کی ہے، مجموعی طور پر جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ایک اصل کلی کی مختلف تو شاخیں ہیں اور وہ پیمان تمام مراحل میں فریضہ تبیلیغ و رسالت کی ادائیگی، لوگوں کی قیادت اور ہدایت کے فرائیضں کو پورا کرنا ہے۔ وہ پابند تھے اور ان کے فرائض میں شامل تھا کہ تمام انسانوں کو ہر چیز سے پہلے توحید کی دعوت دیں۔ نیز اس کے بھی پابند تھے کہ ایک دوسرے کی تائید کریں اور پہلے انبیاء اپنی امتوں کو پیغمبروں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کریں جیسا کہ بعد والے پیغمبر سابقہ انبیاء کی دعوت کی تصدیق و تائید کریں۔ خلاصہ یہ کہ سب کی دعوت کا رخ ایک ہو اور سب ایک ہی حقیقت کی تائید کریں اور امتوں کو ایک ہی پرچم کے گرد جمع کریں۔ اس بات کی شہادت باقی آیات قرآن میں بھی مل سکتی ہے سورة آل عمران کی آیت ٨١ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ)۔ (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا نے پیغمبروں (اور ان کے پیروکاروں) سے پختہ عهد و پیمان لیا کہ جس وقت میں تمھیں کتاب و حکمت دوں اور پھر تمہاری طرف ایک پیغمبر آئے گا جو اس خبر کی تصدیق کرے گا جو تمہارے ساتھ ہے تو اس پر ایمان لے آنا اور اس کی نصرت بھی کرنا۔ پھر(خدا نے) ان سے کہا کیا تم نے اس موضوع کا اقرار کر لیا اور اس پر پختہ عہد و پیمان باندھ لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا (جی ہاں) ہم نے اقرار کیا! تو خدا نے ان سے فرمایا (اس مقدس عہد و پیمان پر) گواہ رہو، میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔ اس طرح ایک اور معنی سورہ آل عمران کی آیت ١٨٧ میں بھی آیا ہے۔ جس میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا نے اہل کتاب سے عہد و پیمان لیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے آیات الہی کو بیان کریں اور انھیں ہرگز نہ چھپائیں۔ اسی طرح سے خدا نے انبیاء سے بھی محکم مہد و پیمان لیا ہے کہ لوگوں کو توحید خدا، دین خدا، دین حق اور اویان آسمانی کی وحدت کی طرف دعوت دی اور علماء اہل کتاب سے بھی کہ وہ جتنا ہو سکے دین الٰہی اور بیان کرنے کی کوشش کریں اور اسے چھپانے سے مکمل پرہیز کریں۔ بعد والی آیت بعثت انبیاء اور اس پختہ عہد و پیمان کے مقصد کو جو ان سے لیا گیا ہے اس طرح بیان کرتی ہے۔ "غرض یہ ہے کہ خدا سچوں کی صداقت کے بارے میں پوچھے اور کفار کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے" (لِّيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا)- یہاں "صادقین" سے کون لوگ مراد ہیں؟ اور یہ سوال کیسا سوال ہے؟ مفسرین نے اس کی بہت سی تفاسیر بیان کی ہیں، لیکن جو کچھ ان آیات اور قران کی دوسری آیات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ مومنین ہیں جو اپنے دعوؤں کی سچائی میں عملی ثبوت پیش کریں۔ دوسرے لفظوں میں آزمائش کے میدان اور خدائی امتحان میں سرخرو اور سرفراز ہوں۔ اس بات کا شاہد یہ ہے کہ: (ولًا:- "صادقين " کا کلمہ یہاں پر "کافرین" کے مقابلہ میں آیا ہے اور مقابلہ کے قرنیہ سے یہ معنی بخوبی سمھجا جا سکتا ہے۔ ثانیًا: اسی سوره (احزاب کی آیت ٢۳ میں یوں پڑھتے ہیں: "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" "مومنین میں سے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو اس عہد و پیمان میں سچے ہیں جو انہوں نے خدا کے ساتھ باندھا ہے اور اس عہد پر کار بند ہیں"۔ پھر فورًا ہی آیت نمبر٢۴ میں فرماتا ہے: "لِّيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِن شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ" "مقصد یہ ہے کہ صادقین کو ان کے صدقین کے بدلے اجر و جزاء دے اور جب چاہے منافقین کو عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے"۔ ثالثًا: سوره حجرات کی آیت پندرہ اور سورہ حشر کی آیت آٹھ میں "صادقین" کا اچھے طریقے سے تعارف ہوا ہے۔ چنانچہ سورہ حجرات ہے: "انما المؤمنون الذين امنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا باموالھم وانفسهم فی سبیل الله اولٰئک هم الصادقون"۔ "واقعی مومن وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے اور جنہوں نے جان و مال کے ساتھ راه خدا میں جہاد کیا۔ یہی صادقین ہیں۔ اور سورہ حشر میں فرماتا ہے: "للفقراء المهاجرين الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلًا من الله ورضوانًا وينصرون الله ورسوله اولئک هم الصادقون" "(وہ مال غنیمت جو جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آتا ہے ) مہاجر فقراء کے لیے بے، وہی جو اپنے گھروں اور مالوں سے باہر نکالے گئے ہیں، اس حالت میں کہ وہ پروردگار کے فضل و کرم اور اس کی رضا کے طالب ہیں، جو خدا اور اس کے رسول کی مدد کرتےہیں وہی" صادقین" ہیں"۔ اس طرح سے واضح ہو گیا کہ "صادقین" سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین خدا کی حمایت کے میدان میں جہاد، اور مشکلات کے سامنے استقامت اور ایستادگی، اور جان و مال کے خرچ کرنے میں اپنی صداقت اور راستگوئی کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے آیت کے معنی میں ایک اور احتمال بھی دیا ہے کہ " صادیق" سے مراد یہاں پر خود انبیاء ہیں، اور ان سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ انھوں نے کس حد تک اپنے عہد پیمان پر عمل کیا ہے؟ لیکن مذکوره بالا تینوں شواہد اور اس تفسیر کی نفی کرتے ہیں۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ ایک عام کلمہ ہے جس سے انبیاء اور مومنین دونواں مراد ہیں۔ لیکن جو تفسیر اوپر ذکر کی گئی ہے وہ اس سورہ کی آیات اور قرآن پاک دوسری آیتوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے)۔ رہا یہ سوال کہ "صادقین سے صدق کے متعلق سوال کرنے" سے کیا مراد ہے؟ تو جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اگر اس کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ آیا وہ اپنے اعمال میں خلوص نیت کو اور اپنے دعوے کی صداقت کو پایہ ثبوت تک پہنچاتے ہیں یا نہیں؟ راہ خدا میں خرچ کرنے میں جہاد میں، مشکلات کے مقابل میں، صبر و شکیبائی میں خصوصًا میدان جنگ کی سختیوں میں۔ یہ سوال کہاں اٹھایا جائے گا اور کہاں صورت پزیر ہو گا؟ آیت کا ظاہر تو یہ تو بتاتا ہے کہ یہ سوال بروز قیامت پروردگار عالم کی داد گاہ عدل میں ہو گا! قرآن کی متعدد آیات بھی قیامت کے دن اس قسم کے سوال کے تحقق کی کلی طور پر خبر دیتی ہیں لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ یہ سوال، عملی سوال کی حیثیت رکھتا ہو اور دنیا میں ہی صورت پذیر ہو۔ کیونكہ انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی تمام اہل ایمان مسئول قرار پاتے ہیں اور ان کا عمل اس سوال کا جواب ہے کہ کیا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر میدان احزاب میں کڑی آزمائش:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5یہ اور بعد والی آیات جو مجموعی طور پر سترہ آیات بنتی ہیں اور "مومنین" اور "منافقین" کے بارے میں خدا کی کڑی آزمائیش اور عمل کے سلسلہ میں ان کے صدق گفتار کے امتحان کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں، جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بحث ہو چکی ہے۔ یہ آیات تاریخ اسلام کے ایک اہم ترین حادثے یعنی جنگ احزاب کے متعلق گفتگو کرتی ہیں، ایسی جنگ جو تاریخ اسلام میں ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوئی اور اسلام و کفر کے درمیان طاقت کے موازنے کے پلڑے کو مسلمانوں کے حق میں جھکا دیا اور اس کی کامیابی آیندہ کی عظیم کامیابیوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کے بعد وہ کوئی خاص قابل ذکر کارنامہ انجام دینے کے قابل نہ رہ سکے۔ "یہ جنگ احزاب" جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گروہوں کی طرف سے ہر طرح کا مقابلہ تھا کہ اس دن کی پیش رفت سے ان لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑ گئے تھے۔ جنگ کی آگ کی چنگاری "بنو نضیر" یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف سے بھڑکی جو مکہ میں آئے اور قبیلہ "قریش" کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے پر اکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے۔ پھر قبیلہ "غطفان" کے پاس گئے اور انھیں بھی کار زار کے لیے آمادہ کیا۔ ان قبائل نے اپنے ہم پیمان اور حلیفوں مثلًا قبیلہ "بنی اسد" اور بنی سلیل" کو بھی دعوت دی اور چونکہ یہ سب قبائل خطرہ محسوس کیے ہوئے تھے، لہندا اسلام کا کام ہمیشہ کے لئے تمام کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا تاکہ وہ اس طرح سے پیغمبر کو شہید، مسلمانوں کو سرکوب، مدینہ کو غارت اور اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیں۔ مسلمانوں نے جب اپنے آپ کو ایک عظیم گروہ کے مقابل میں دیکھا تو حکم رسالت پناهؐ سے مشورہ کرنے بیٹھ گئے اور سب سے پہلے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پیش کش پر مدنیہ کے اطراف میں خندق کھودی گئی تاکہ دشمن اسے آسانی کے ساتھ عبور نہ کر سکے اور شہر لوٹ مار سے بچ جائے (اسی بناء پر اس جنگ کا ایک نام " جنگ خندق" بھی ہے)۔ مسلمانوں پر بہت سخت اور خطرناک لمحات گزر رہے تھے۔ جانیں لبوں تک آئی ہوئی تھیں، منافقین لشکر اسلام کے درمیان زبردست تگ دو میں پڑے ہوئے تھے۔ دشمن کا انبوہ کثیر اور اس کے مقابلہ میں لشکر اسلام کی کمی (لشکر کفر کی تعداد دس ہزار اور لشکر اسلام کی تین ہزار لکھی ہے) دشمن کی تیاری جنگی ساز و سامان اور ضروری وسائل کی فراہمی ایک سخت اور درناک مستقبل کو مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے مجسم کر رہے تھے۔ لیکن خدا چاہتا تھا کہ یہاں پیکر کفر پر آخری ضرب پڑے اور منافقین کو مسلمانوں کی صفوں سے جدا کر دے، سازشی عناصر کا بھانڈا پھوڑ دے اور سچے مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹی میں ڈالے۔ آخرکار یہ جنگ جیسا کہ اس کی تفصیل آگے آئے گی، مسلمانوں کی کامیابی پر منتج ہوئی، حکم خدا سے سخت آندھی چلی جس نے کفار کے خیمے، تمبو اور تمام بساط زندگی کو لپیٹ کر رکھ دیا، ان کے دلوں میں زبردست رعب و وحشت ڈال دی اور فرشتوں کی غیبی طاقتیں مسلمانوں کی مد د کے لیے بھیجیں۔ عمرو بن عبدو کے مقابلہ میں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ کی قدرت نمائی بھی عجیب و غریب خدائی طاقتوں کے مظاہرے کہ اضافہ ہوا اور مشرکین کوئی کارنامہ سرانجام دیئے بغیر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اوپر والی سات آیات میں مشرکین کی سرکوبی کرنے والا تجزیہ و تحلیل پیش کیا گیا ہے اور اسلام کی فیصلہ کن کامیابی اور منافقین کی سرکوبی کو احسن انداز میں بیان فرمایا ہے۔ یہ تھی جنگ احزاب کی ایک جھلک جو ہجرت کے پانچویں سال واقع ہوئی۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس تفصیل کا ایک اجمالی خاکہ بے جسے اسلامی مورخین نے منجلہ "ابن اثیر"، "کامل" میں درج کیا ہے)۔ یہاں سے ہم آیات کی تفسیر کی طرف جاتے ہیں اور اس جنگ کی دیگر تفصیلات اور نکات کو بحث کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔ قرآن اس ماجرا کو پہلے تو ایک ہی آیت میں خلاصہ کرتا ہے۔ پھر دوسری ٩ آیات میں اس کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے" اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو اپنے اوپر خدا کی عظیم نعمت کو یاد کرو، اس موقع پر جب کہ (عظیم) لشکر تمھاری طرف ائے (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ)۔ لیکن ہم نے ان پر آندھی اور طوفان بھیجے اور ایسے لشکر جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور اس ذرایعہ سے ہم نے ان کی سرکوبی کی اور انہیں تر بتر کر دیا: (فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا)۔ "اور خدا ان تمام کاموں کو جنہیں تم انجام دیتے ہو دیکھ رہا ہے (اور وہ کام بھی جو ہر گروہ نے اس عظیم میدان میں انجام دیئے) بصیر اور بینا ہے"۔ (وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا)-
چند قابل غور مطلب:
١- " اذكروا" کی تعبیر بتاتی ہے کہ یہ آیات جنگ کے اور کچھ وقت گزر جانے کے بعد نازل ہوئیں یعنی اب مسلمانوں کے لیے موقع تھا کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا تھا، اس کا اپنی فکر و نظر کے مطابق تجزیه و تحلیل کریں تاکہ اس کا گہرا اثر ہو۔ ٢- "جنود" کی تعبیر زمانۂ جاہلیت کے مختلف گردہ اور قبائل کی طرف اشارہ ہے (مثلا قریش، عظفان، بنی سلیم، بنی اسد، بنی فرازہ، بنی اشجع اور بنی مرہ) جن میں مدینہ کے اندر والا یہودیوں کا قبیلہ بھی ہے۔ ۳- "َجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا" سے مراد جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے آئے تھے، وہی وہ فرشتے تھے جن کا مومنین کی جنگ بدر میں مدد کرنا بھی صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة انفال ان کی آیہ ٩ کے ذیل میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ نظر آنے والا فرشتوں کا خدائی لشکر باقاعدہ طور پر میدان میں داخل ہوا اور وہ جنگ میں بھی مصروف ہوا ہو بلکہ ایسے قرائن موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ وہ صرف مومنین کے حوصلے بلند کرنے اور ان کا دل گرمانے کے لیے نازل ہونے تھے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نموںہ کی جلد ۴ ص مذکورہ آیت کے ذیل میں رجوع کریں)۔ بعد والی آیت جو جنگ احزاب کی بحرانی کیفیت، دشمنوں کی عظیم طاقت اور بہت سے مسلمانوں کی شدید پریشانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یوں کہتی ہے۔ "اس وقت کو یاد کرو جب وہ تمھارے شہر کے اوپر اور نیچے سے داخل ہو گئے۔ (اور مدینہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا) اور اس وقت کو جب آنکھیں شدت وحشت سے پتھرا گئی تھیں اور جان لبوں تک آئی ہوئی تھی اور خدا کے بارے میں طرح طرح کی بد گمانیاں کرتے تھے"۔ (إِذْ جَاؤُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا)۔ بہت سے مفسرين اس آیت میں لفظ "فوق" کو مدینہ کی مشرقی جانب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ "قبیلہ غطفان" ادھر سے وارد ہوا تھا۔ اور "أَسْفَلَ" (نیچے) کو مغرب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ "قریش اور ان کے ساتھی وہیں سے داخل ہوئے تھے۔ البتہ اس طرف تو کرتے ہوے کہ مکہ ٹھیک مدینہ کی جنوبی سمت میں واقع ہے لہذا مشرکین مکہ کے قبائل کو جنوب سے آنا چاہیے۔ لیکن شاید شہر مدینہ میں داخل ہونے کے راستے کی کیفیت کچھ اس طرح تھی کہ انھوں نے شہر کا تھوڑا سا چکر لگایا اور مغرب کی طرف سے شہر کے اندر آ گئے صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، اوپر والا جملہ اسلام کے مختلف دشمنوں کی طرف سے اس شہر کے محاصرہ کی طرف اشارہ ہے۔ "زَاغَتِ الْأَبْصَارُ" کے جملہ میں "لفظ "، "زاغت"، "زیغ" کے مادہ سے ایک طرف جھکاؤ کے معنی میں ہے جو ایسی حالت کی طرف اشارہ ہے جو زبردست خوف اور وحشت کی صورت میں انسان پر طاری ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی آنکھیں ہر طرف سے ہٹ کر ایک معین نقطہ پر ٹھر جاتی ہیں اور خیرہ ہو جاتی ہیں۔ "بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِر" (دل حلق تک پہنچ چکے تھے) کا جملہ ایک عمدہ جملہ ہے۔ جس طرح فارسی زبان میں بھی ہے کہ (اس کی جان لبوں تک پہنچ گئی) ورنہ دل جس کا ایک مخصوص معنی ہے یعنی جو خون کی تقسیم کا مرکز ہے کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہیں ہٹتا اور نہ ہی کبھی حلق تک پہنچتا ہے۔ اور "تَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا" کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کیفیت سے مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیے غلط قسم کے گمان پیدا ہو گئے تھے کیونکہ وہ ابھی تک ایمانی قوت کے لحاظ سے کمال کے مرحلہ تک نہیں، پہنچ پائے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ وہ شدت سے متزلزل ہوئے۔ شاید ان میں سے کچھ لوگ گمان کرتے تھے کہ آخر کار ہم شکست کھا جائیں گے اور اس قدرت و قوت کے ساتھ دشمن کا لشکر کامیاب ہو جائے گا، اسلام کے زندگی کے آخری دن آ پہنچے ہیں اور پیغمبر کا کامیابی کا وعدہ کبھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ یہ افکار و نظریات ایک عقیدہ کی صورت میں نہیں بلکہ ایک وسوسہ کی شکل میں بعض لوگوں کے دل کی گہرائیوں میں پیدا ہو گئے تھے بالکل ویسے ہی جیسے جنگی احد کے سلسلہ میں قران مجید ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے: "وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ"۔ یعنی تم میں سے ایک گروہ جنگ کے ان بحرانی لمحات میں صرف اپنی جان کی فکر میں تھا اور جاہلیت کے دور کے گمانوں کی مانند خدا کے بارے میں غلط گمان رکھتے تھے۔ (آل عمران۔ آیہ ١٥۴)۔ البتہ محل بحث آیت میں مخاطب یقینًا مسلمان ہیں اور"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ" کا جملہ جو اس سے قبل کی آیت میں ہے اس معنی کی دلیل ہے اور جنھوں نے اس کے مخاطب منافقین کو سمجھا ہے گویا انھوں نے یا تو اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی یا پھر خیال کیا کہ اس قسم کی بدگمانی ایمان اور اسلام کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ حالانکہ اس قسم کے انکار کا وسوسہ کی حد اور تک ظاہر ہونا اور وہ بھی سخت بحرانی حالات میں ایک فطری اور معمول کے مطابق بات ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے یہاں "ظمنون" کا عمومی معنی اچھے اور برے گمان لیا ہے، لیکن اس آیت میں اور اس سے بعد والی آیت میں موجود قرائن بتاتے ہیں کہ مراد برے گمان ہیں)۔ یہی وہ منزل تھی کہ خدائی امتحان کی بھٹی سخت گرم تھی جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے کہ "وہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ سخت بل گئے تھے" (هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا)۔ فطری امر ہے کہ جب انسان فکری طوفانوں میں گھر جاتا ہے تو اس کا جسم بھی ان طوفانوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، بلکہ وہ بھی اضطراب اور تزلزل کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب لوگ ذہنی طور پر پریشان ہوتے ہیں تو جہاں بھی بیٹھے ہوتے ہیں اکثر بےچین رہتے ہیں، ہاتھ ملتے رہتے ہیں اور اپنے اضطراب اور پریشانیوں کو اپنی حرکات سے ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اس شدید پریشانی کے شواہد میں سے ایک یہ بھی تھا جسے مورخین نے بھی نقل کیا ہے کہ عرب کے پانچ مشہور جنگجو پہلوان جن کا سرخیل عمرو بن عبدود تھا، جنگ کا لباس پہن کر اور مخصوص غرور اور تکبر کے ساتھ میدان میں آئے اور "هل من مبارز" (ہے کوئی مقابلہ کرنے والا؟) کی آواز لگانے لگے، خاص کرعمرو بن عبدود رجز پڑھ پڑھ کر جنت اور آخرت کا مذاق آڑا رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ" کیا تم نہیں کہتے ہو کہ تمھارے مقتول جنت میں جائیں گے؟ تو کیا تم میں سے کوئی بھی جنت کے دیدار کا شوقین نہیں ہے؟ لیکن اس کے ان نعروں کے مقابلہ میں لشکر پر بری طرح خاموشی طاری تھی اور کوئی بھی مقابلے کی جرات نہیں رکھتا تھا سوائے علی بن ابی طالبؑ کے جو مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو عظیم کامیابی سے ہم کنار کر دیا۔ اس کی تفصیل نکات کی بحث میں آئے گی۔ جی ہاں! اس طرح فولاد کو گرم بھٹی میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ نکھر جائے اسی طرح اوائل کے مسلمان بھی جنگ احزاب جیسے معرکوں کی بھٹی میں سے گزریں تاکہ کندن بن کر نکلیں اور حوادثات کے مقابل میں جرأت اور پامردی کا مظاہرہ کر سکیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر منافقین اور ضعیف الایمان میدانِ احزاب میں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ہم کہہ چکے ہیں کہ امتحان کی بھٹی جنگِ احزاب میں گرم ہوئی اور سب کے سب اس عظیم امتحان میں گھر گئے۔ واضح رہے کہ اس قسم کے بحرانی دور میں جو لوگ عام حالات میں ظاہرًا ایک ہی صف میں قرار پاتے ہیں، کئی صفوں میں بٹ جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک جماعت سچے مومنین کی تھی، ایک گروہ ہٹ دھرم اور سخت قسم کے منافقین کا تھا اور ایک گروہ اپنے گھر بار، زندگی اور بھاگ کھڑا ہونے کی فکر میں تھا۔ اور کچھ لوگوں کی یہ کوشش تھی کہ دوسرے لوگوں کو جہاد سے روکیں۔ اور ایک گروہ اس کوشش میں مصروف تھا کہ منافقین کے ساتھ اپنے رشتہ کو محکم کریں۔ خلاصہ یہ کہ ہر شخص نے اپنے باطنی اسرار اس عجیب "عرصه محشر" اور "یوم البروز" میں آشکار کر دیئے۔ گزشته آیات میں ضعیف الایمان مسلمانوں کی جماعت کے بارے میں اور برے وسوسوں اور بدگمانیوں کے بارے میں جو انھیں لاحق تھیں گفتگو ہو رہی تھی۔ اور قرآن پہلی زیربحث آیت میں منافقین اور دل کے بیمار لوگوں کے بارے میں گفتگو کو بیان کر رہا ہے۔ فرماتا ہے۔ "اس وقت کو یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دل بیمار تھے، کہتے تھے کہ خدا اور اس کے رسولؐ نے سوائے جھوٹے وعدوں کے ہمیں کچھ نہیں دیا: "(واذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرض ما وعدنا الله و رسوله الّاغرورًا)۔ جنگِ احزاب کی تاریخ میں آیا ہے کہ خندق کھودنے کے دوران میں جب ہر ایک مسلمان خندق کے ایک حصہ کو کھودنے میں مصروف تھا تو ایک مرتبہ پتھر کے ایک سخت اور بڑے ٹکڑے سے ان کا سامنا ہوا کہ جس پر کوئی ہتھوڑا کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا، حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی تو آنحضرت بنفس نفیس خندق میں تشريف لے گئے اور اس پتھر کے پاس کھڑے ہو کر اور ہتھوڑا لے کر پہلی مرتبہ ہی اس کے دل پر ایک مضبوط چوٹ لگائی کہ اس کا کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور اس سے ایک چمک نکلی جس پر آپؐ نے فتح و کامرانی کی تکبیر بلند کی۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے بھی تکبیر کہی۔ آپؐ نے ایک اور سخت چوٹ لگائی تو اس کا کچھ حصہ اور ٹوٹا اور اس سے بھی چمک نکلی۔ اس پر بھی سرور کونین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے تکبیر کہی اور مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی آخر کار آپ نے تیسری چوٹ بھی لگائی جس سے بجلی کوندی اور باقی ماندہ پتھر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پھر تکبیر کہی اور مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس موقع پر جناب سلمان فارسی نے اس ماجرہ کے بارے میں دریافت کیا تو سرکار رسالت مآبؐ نے فرمایا : "پہلی چمک میں میں نے"حیرہ" کی سر زمین اور ایران کے بادشاہوں کے قصر و محلات دیکھے ہیں اور جبرائیل نے مجھے بشارت دی ہے کہ میری امت ان پر کامیابی حاصل کرے گی۔ دوسری چمک میں "شام اور روم" کے سرخ رنگ کے محلات نمایاں ہوئے اور جبرائیلؑ نے پھر بشارت دی کہ میری امت ان پر فتح باب ہو گی۔ تیسری چمک میں مجھے"صنعا و یمن" کے قصور و محلات دکھائی دیئے اور جبرائیلؑ نے نوید وہی کہ میری امت ان پر بھی کامیابی حاصل کرے گی، اے مسلمانو! تمھیں خوشخبری ہو!! منافقین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا! کیسی عجیب و غریب باتیں ہیں اور کیا ہی باطل اور بےبنیاد پروپیگنڈا ہے؟ مدینہ سے حیرہ اور مدائن کسرٰی کو تو دیکھ کر تمہیں ان کے ہونے کی خبر دیتا ہے حالانکہ اس وقت تم چند عربوں کے چنگل میں گرفتار ہو (اور خود دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہو) تم تو بیت الحزر (خوف کی جگہ) تک نہیں جا سکتے (کیا ہی میں خیال خام) اور گمان باطل ہے)؟ تو اوپر والی آیت نازل ہوئی اور کہا کہ یہ منافق اور دل کے مریض کہتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسولؐ نے سوائے دھوکہ فریب کے ہمیں کوئی وعدہ نہیں دیا۔ (وہ پروردگار کی بےانتہا قدرت سے بےخبر ہیں)۔ (تشریحی نوٹ: کامل ابن اثیر جلد ۴ ص ١٠٩ سیرۃ ابن ہشام میں بھی یہی واقعہ مخصتر سے فرق کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرتؐ نے فرمایا، بجلی کی پہلی کوند میں میں نے فتح یمن کو دیکھا اور دوسری کوند میں فتح شام و مغرب اور تیسری چمک مشرق (سر زمین ایران) کی فتح کو مشاہدہ کیا ہے۔ تاریخی لحاظ سے بھی ان تینوں علاقوں کی فتح تربیتی طور پر ہم آہنگ ہے")۔ اس وقت اس قسم کی بشارت اور خوشخبری سوائے آگاہ اور باخبر مؤمنین کی نظر کے (باقی لوگوں کے لیے) دھوکا اور فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن پیغمبر کی ملکوتی آنکھیں ان آتشیں چنگاریوں کے درمیان سے جو کدالوں اور ہتھوڑوں کے خندق کھودنے کے لیے زمین پر لگنے سے نکلتی تھیں، ایران، روم اور یمن کے بادشاہوں کے قصور و محلات کے دروازوں کے کھلنے کو دیکھ سکتے تھے اور اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے ہوئے بھی اُمت کو بشارت دے سکتے تھے اور آئندہ کے اسرارو رموز سے پردے بھی اُٹھا سکتے تھے۔ شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ "الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ" سے مراد وہ منافقین ہی تو ہیں اور اس جملہ کا ذکر درحقیقت، "منافقین" کے لفظ کی وضاحت جو پہلے آ چکا ہے۔ نفاق کی بیماری سے بڑھ کر اور کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ کیونکہ صحیح و سالم اور خدائی فطرت رکھنے والے انسان کا صرف ایک ہی چہرہ ہوتا ہے دو یا دو سے زیادہ چہروں والا انسان بیمار ہوتا ہے جو ہمیشہ اضطراب، تضاد اور تناقض کا شکار ہوتا ہے۔ اس بات کی گواہ وہ آیت ہے جو سورہ بقرہ کی ابتداء میں آئی ہے اور منافقین کے بارے میں کہتی ہے: "فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّهُ مَرَضاً" (بقرہ۔ ١٠) ان کے دلوں میں ایک قسم کی بیماری ہے اور خدا (ان کے اعمال کی بناء پر) ان کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے۔ بعد والی آیت میں منافقین اور دل کے بیمار لوگوں میں سے ایک خطرناک کے گروہ کے حالات تفصیل سے بیان کرتا ہے جو دوسروں کی نسبت زیادہ خبیث اور آلوہ گناہ ہیں۔ چنانچہ کہتا ہے "اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے یثرب (مدینہ) کے رہنے والو! یہاں تمھارے رہنے کی جگہ نہیں ہے، اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ: (وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا)۔ خلاصہ یہ کہ دشمنوں کے اس انبوہ کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اپنے آپ کو معرکہ کا رزار سے نکال کر لے جاؤ اور اپنے آپ کو ہلاکت کے اور بیوی بچوں کو قید کے حوالے نہ کرو۔ اس طرح سے وہ چاہتے تھے کہ ایک طرف سے تو وہ انصار کے گروہ کو لشکر اسلام سے جدا کر لیں اور دوسری طرف سے انہی منافقین کا ٹولہ جن کے گھر مدینہ میں تھے۔ نبی اکرمؐ سے اجازت مانگ رہے تھے کہ وہ واپس چلے جائیں اور اپنی اس واپسی کیلئے حیلے بہانے بنا رہے تھے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے گھروں کے در و دیوار ٹھیک نہیں ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ اس طرح سے وہ میدان کو خالی چھوڑ کر فرار کرنا چاہتے تھے۔" (وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا)۔ لفظ "عوره"، "عار" سے ہے اور عورۃ اس چیز کو کہا جاتا ہے جسے ظاہر کرنا ننگ و عار کا باعث ہو۔ وہ شگاف جو گھر کی دیوار میں ظاہر ہوتے ہیں، اسی طرح سرحدوں کے نازک اور خطرناک مقامات اور وہ چیزیں جن سے انسان خوف کھاتا ہو، سب اسی زمرے میں آتے ہیں اور یہاں مراد وہ گھر ہیں جن کے قابل اطمینان در و دیوار نہ ہوں اور ہر وقت دشمن کے حملے کا خوف طاری رہتا ہو۔ منافقین اس قسم کا عذر پیشں کر کے یہ چاہتے تھے کہ وہ میدان جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں میں جا کر پناہ لیں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ قبیلہ "بنی حارثہ" نے کسی شخص کو حضور رسالت پناهؐ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور ان میں سے کسی کا گھر بھی ہمارے گھروں کی طرح نہیں اور ہمارے اور قبیلہ "غطفان" کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو مدینہ کی مشرقی جانب سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔ لہذا اجازت دیجئے تاکہ ہم اپنے گھروں کو پلٹ جائیں اور جا کر اپنے بیوی بچوں کا دفاع کریں تو سرکار رسالت نے انھیں اجازت عطا فرما دی۔ جب یہ بات انصار کے سردار "سعد بن معاذ" کے گوش گذار ہوئی تو انھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں عرض کیا "سرکار! انہیں اجازت نہ دیجیئے بخدا آج تک جب بھی کوئی مشکل درپیش آئی تو ان لوگوں نے یہی بہانہ تراشا، یہ جھوٹ بولتے ہیں"۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ واپس آ جائیں۔ "یثرب" مدینہ کا قدیمی نام ہے، جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس شہر کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے اس کا نام "یثرب" رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کا نام "مدینة الرسول" (پیغمبر کا شہر) پڑ گیا جس کا مخفف "مدینہ" ہے۔ اس شہر کے کئی ایک نام اور بھی ہیں۔ سید مرتضٰی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ان دو ناموں (مدینہ اور یثرب) کے علاوہ، اس شہر کے گیارہ اور نام بھی ذکر کیے ہیں، منجملہ ان کے "طیبہ"، "طابه"، "سكينه"، "محبوبه" مرحومہ" اور "قاصمه" ہیں۔ (اور بعض لوگ اس شہر کی زمین کو "یثرب" کا نام دیتے ہیں)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٨ ص ۳۴٦")۔ چند ایک روایات میں آیا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ "اس شہر کو یثرب نہ کہا کرو"۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یثرب اصل میں "ثرب" ( بروزن "ثرب" کے مادہ سے ملامت کرنے کے معنی میں ہے اور آپؐ اس قسم کے نام کو اس بابرکت شہر کے لیے پسند نہیں فرماتے تھے۔ بہرحال، منافقین نے اہل مدینہ کو "یا اہل یثرب" کے عنوان سے جو خطاب کیا ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس نام سے نفرت ہے۔ یا چاہتے تھے کہ اسلام اور "مدینۃ الرسولؐ" کے نام کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کریں۔ یا لوگوں کو زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کرائیں۔ بعد والی آیت میں خداوند عالم اس گروہ کے ایمان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "وہ اسلام کے اظہار میں اس قدر ضعیف اور ناتواں ہیں کہ اگر دشمن مدینہ کے اطراف و جوانب سے اس شہر میں داخل ہو جائیں اور مدینہ کو فوجی کنٹرول میں لے کر انہیں پیشں کش کریں کہ کفر و شرک کی طرف پلٹ جائیں تو جلدی سے اس کو قبول کر لیں گے اور اس راہ کے انتخاب کرنے میں ذرا سا بھی توقف نہیں کریں گے": (وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا)۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس قدر ضعیف، کمزور اور غیر مستقل مزاج ہوں کہ نہ تو دشمن سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہوں اور نہ ہی راہ خدا میں شہادت قبول کرنے کے لیے، ایسے لوگ بہت جلد ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اپنی راہ فورًا بدل لیتے ہیں۔ اسی بنا پر فتنہ کی لفظ سے مراد یہاں پر کفر و شرک ہی ہے جیسا کہ قران کی دوسری آیات مثلا سورہ بقرہ کی آیہ ١٩۳ جیسی آیات میں آیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں " فتنہ سے مراد مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے کہ اگر اس منافق ٹولے کو پیش کش کی جائے تو وہ فوراً اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے فتنہ پروازوں کے ساتھ تعاون کرنے لگ جائیں۔ لیکن یہ تفسیر "وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا.... " (کہ اگر مدینہ کے اطراف سے ان پر حملہ آور ہو جائیں ......) کے ظاہری جملہ سے سازگار نہیں ہے اور شاید اسی بناء پر اکثر مفسرین نے اس سے پہلے معنی کو منتخب کیا ہے۔ پھر قرآن اس منافق ٹولے کو عدالت کے کٹہرے میں لا کر کہتا ہے۔ "انھوں نے پہلے سے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا ہوا تھا کہ دشمن کی طرف پشت نہیں کریں گے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہتے ہوئے توحید، اسلام اور پیغمبر کے لیے دفاع میں کھڑے ہوں گے۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ خدا سے کیے گئے عہد و پیمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا"؟ (وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَكَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْؤُولًا)- بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس پیمان سے مراد وہی معاہدہ ہے جو "بنی حارثہ" نے جنگ احد کے دن خدا اور اس کے رسولؐ کے ساتھ کیا تھا جب کہ انھوں نے میدان سے پلٹنے کا ارادہ کیا تھا اور بعد میں پشیمان ہو گئے تھے اور عہد کیا تھا کہ پھر کبھی ان امور کے پیچھے نہیں جائیں گے۔ لیکن وہی لوگ جنگ احزاب کے میدان میں دوبارہ عہد شکنی کی فکر میں پڑ گئے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر"قرطبی" اور تفسیر "فی ظلال القرآن" زیر بحث آیات کے ضمن میں)۔ بعض نے اس عہد کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو جنگ بدر میں یا ہجرت پیغمبر سے پہلے عقبہ میں آنحضرتؐ سے باندھا تھا۔ (تشریحی نوٹ: "آلوسی" نے روح البیان میں اس قول کو نقل کیا ہے)۔ لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی آیت ایک ایسا وسیع مفہوم رکھتی ہے جو ان کے ان معاہدوں کو بھی شامل ہے اور دوسرے معاہدوں کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اصولی طور پر جو شخص ایمان لاتا اور رسول اسلامؐ کی بعیت کرتا ہے، درحقیقت، وہ آپؐ سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اسلام اور قران کا جان کی حد تک دفاع کر لے گا۔ یہاں پر عہد و پیمان پر زیاده تر زور اس لیے دیا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب تک بھی کیے گئے عہد و پیمان کا احترام کرتے تھے۔ تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ کوئی شخص اسلام کا دعوٰے کرنے کے بعد اپنے معاہدہ کو پامال کر ڈالے؟ جب خدا نے منافقین کی نیت کو فاش کر دیا کہ ان کا مقصد گھروں کی حفاظت کرنا نہیں، بلکہ میدان جنگ سے فرار کرنا ہے تو انہیں دو دلیلوں کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ پہلے تو پیغمبر سے فرماتا ہے۔ "کہہ دیجئے کہ اگر موت یا قتل ہونے سے فرار کرتے ہو تو یہ فرار تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اور تم دنیاوی زندگی کے چند دن سے زیاده فائدہ نہیں اٹھاؤ گے: (قُل لَّن يَنفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا)۔ فرض کرو کہ تم جان بچا کر فرار کر بھی گئے تو یہ دو حال سے خالی نہیں ہے۔ یا تو تمھاری اجل اور حتمی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔ تو تم جہاں بھی ہو گے۔ موت تمھارے دامن گیر ہو کر رہے گی۔ حتٰی کہ خود تمھارے اپنے ہی گھروں میں اور تمھارے بیوی بچوں کے پاس بھی تمھیں موت آ کر رہے گی۔ اندر یا باہر کا حادثہ تمھاری زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ اور اگر اجل نہیں آئی تو ذلت، خواری اور رسوائی کے ساتھ یہ چار روزہ دنیاوی زندگی بسر کرنے اور دشمن کے چنگل میں اسیر ہو جانے کے بعد عذاب الہی میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ درحقیقت، یہ بیان اس بیان سے ملتا جلتا ہے جو جنگ احد میں کمزور اساس منافقین کے ایک اور گروہ سے خطاب کی صورت میں نازل ہوا کہ: "قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ" یعنی: کہہ دیجیئے کہ اگرچہ تم اپنے گھروں میں بھی ہو، پھر بھی وہ لوگ جن کے لیے قتل ہو جانا مقدر ہو چکا ہے۔ تو ان کے بستروں تک پہنچ کر انہیں تہہ تیغ کر دیں گے۔ (آل عمران ۔ ١٥۴)۔ دوسرا یہ کہ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمھارا سارا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کی قدرت و مشیت کے دائرہ اختیار سے ہرگز بھاگ نہیں سکتے۔ "اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجیئے، کون شخص خدا کے ارادہ کے مقابلہ میں تمہاری حفاظت کر سکتا ہے، اگر وہ تمھارے لیے مصیبت یا رحمت چاہتا ہے؟" (قُلْ مَن ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُم مِّنَ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً)- جی ہاں! "وہ خدا کے علاوہ، کوئی سرپرست اور یار و مدد گار نہیں پائیں گے"۔ (وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا)- اب جبکہ تمام تقدیریں اس کے ہاتھ میں ہیں لہذا جہاد کے سلسلہ میں اس کا فرمان جو دنیا میں بھی اور اللہ کی بارگاہ میں بھی باعث عزت و سرفرازی ہے، دل و جان سے قبول کرو۔ یہاں تک کہ اگر تمہیں اس راہ میں شہادت بھی نصیب ہو جائے تو اس کا خنده پیشانی سے استقبال کرو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر روکنے والا ٹولہ:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس کے بعد منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جنگ احزاب کے میدان سے خود بھی کنارہ کش ہوا اور دوسروں کو بھی کنار کشی کی دعوت دیتا تھا۔ فرماتا ہے: "خدا تم میں سے اس گروہ کو جانتا ہے جو کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کو جنگ سے منحرف کر دیں": (قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ)۔ اور اسی طرح سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ ہماری طرف آؤ۔ "اور اس خطرناک سے جنگ سے دستبردار ہو جاؤ (وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا)۔ وہی لوگ جو اہل جنگ نہیں ہیں اور سوائے کم مقدار کے اور وہ بھی بطور جبر و اکراہ یا دکھاوے کہ جنگ کے لیے نہیں جاتے"۔ (وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا)۔ "معوّقين"، "عوق" (بروزن شوق) کے مادہ سے کسی چیز سے روکنے اور باز رکھنے کے معنی میں ہے۔ اور "باس" اصل میں سختی کے معنی میں ہے اور یہاں پر اس سے مراد "جنگ" ہے۔ اوپر والی آیت احتمالی صورت میں دو گروہوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک منافقین کے گروہ کی طرف جو مسلمانوں کی صفوں میں موجود تها ("منکم" کی تعبیر اس امر کی گواہ ہے) اور ان کی کوشش تھی کہ ضعیف الایمان مسلمانوں کو جنگ سے روکے رکھیں، یہ وہی "معوقین" تھے۔ دوسرے منافقین یا یہودیوں کے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جو میدان سے باہر بیٹھے ہوئے تھے اور جس وقت اسلام کے مجاہد سپاہیوں سے آمنا سامنا ہوتا تو کہتے کہ ہمارے پاس آ جاؤ اور اپنے آپ کو اس معرکہ سے نکال لو۔ (یہ وہی لوگ ہیں جن کی طرف دوسرے جملہ میں اشارہ ہوا ہے)۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ شاید یہ آیت ایک ہی گروہ کی دو مختلف حالتوں کا بیان ہو۔ وہ لوگ جب دوسروں کے درمیان ہوتے ہیں تو انھیں جنگ سے روکتے ہیں اور جب ایک طرف ہو جاتے ہیں تو دوسروں کو اپنی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ہم ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ ایک صحابی رسولؐ کسی ضرورت کے تحت میدان "احزاب" سے شہر میں آیا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بھائی کو دیکھا کہ اس نے اپنے سامنے روٹی، بھنا ہوا گوشت اور شراب رکھے ہوئے تھے، تو صحابی نے کہا، تم تو یہاں عیش و عشرت میں مشغول ہو اور رسول خدا نیزوں اور تلواروں کے درمیان مصروف پیکار ہیں۔ اس نے جواب میں کہا، اے بےوقوف! تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ اور مزے اڑاؤ۔ اس خدا کی قسم جس کی محمدؐ قسم کھاتا ہے وہ اس میدان سے ہرگز پلٹ کر واپس نہیں آئے گا۔ اور یہ عظیم لشکر جو جمع ہو چکا ہے اسے اور اس کے ساتھیوں کو زنده نہیں چھوڑے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی کہنے لگے تو جھوٹ بکتا ہے، خدا کی قسم میں ابھی رسول اللہؐ کے پاس جا کر تمھاری اس گفتگو سے باخبر کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں پہنچ کر تمام ماجرا بیان کیا تو اوپر والی آیت نازل ہوئی۔ اس شان نزول کی بناء پر "اخوانهم" (ان کے بھائی) کا لفظ ہو سکتا ہے کہ حقیقی بھائی کے معنی میں ہو یا پھر ہم مسلک کے معنی میں ہو جیسا کہ سورہ اسراء (بنی اسرائیل) کی آیت ٢٧ میں اسراف اور فضول خرچی کرنے والوں کو شیطانوں کے بھائی کا نام دیا گیا ہے": إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ"۔ بعد والی آیت میں فرماتا ہے "ان تمام رکاوٹوں کا باعث یہ ہے کہ وہ تمھاری بابت تمام چیزوں میں بخیل ہیں": (اشحة عليكم)۔ (تشریحی نوٹ: "اشحه"، "شح" کے مادہ سے "شحیح" کی جمع ہے۔ اس کا معنی سے ایسا بخل جس سے حرص ملا ہوا ہو۔ اور یہ لفظ اکثر مفسرین کے بقول یہاں محل اعراب کے لحاظ سے "حال" واقع ہو رہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیان علت کے مقام کے میں حال ہو۔ (غور کیجیئے گا)۔ نہ صرف میدان جنگ میں جان قربان کرنے میں کہ وسائل جنگ مہیا کرنے کے لیے مالی امداد اور خندق کھودنے کے لیے جسمانی امداد حتی کہ فکری امداد مہیا کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں؛ ایسا بخل جو حرص کے ساتھ مِلا ہوا ہوتا ہے اور ایسا حرص جس میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کے بخل اور ہر قسم کے ایثار سے دریغ کرنے کے بیان کے بعد ان کے ان دوسرے اوصاف کو جو ہر عہد اور ہر دور کے تمام منافقین کے لیے تقریبًا عمومیت کا درجہ رکھتے ہیں، بیان کرتے ہوئے کہتا ہے "جس وقت خوفناک اور بحرانی لمحات آتے ہیں تو وہ اس قدر بزدل اور ڈرپوک ہیں آپ دیکھیں گے کہ وه آپ کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان کی انکھوں میں ڈھیلے بےاختیار گردش کر رہے ہیں، اس شخص کی طرح جو جاں کنی میں متبلا بو": (فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ)۔ چونکہ وہ صحیح ایمان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی زندگی میں ان کا کوئی مستحکم سہارا ہے، جس وقت کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوتے ہیں تو کلی طور پر اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں گویا چاہتے ہیں کہ ان کی روح قبض ہو جائے۔ پھر مزید کہتا ہے" لیکن یہی لوگ جس وقت کہ طوفان رک جاتا ہے اور حالات معمول پر آ جاتے ہیں تو تمھارے پاس توقع لے کر آتے ہیں کہ گویا جنگ کے اصل فاتح یہی ہیں اور قرض خواہوں کی طرح پکار پکار کر اور سخت اور درشت الفاظ کے ساتھ مال غنیمت سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس میں سخت گیر، بخیل اور حریص ہیں (فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ)۔ "سلقوكم"، "سلق" (بروزن خلق) کے مادہ سے کسی چیز کو غیظ و غضب سے کھولنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، چاہے ہاتھ کا کھولنا ہو یا زبان کا۔ یہ تعبیر ان لوگوں کے بارے میں استعمال ہوئی ہے جو آمرانہ اور تحکمانہ لب و لہجے میں چیخ و پکار کر کسی چیز کو طلب کرتے ہیں۔ "السنة حداد" تیز و تند زبانوں کے معنی میں ہے اور یہاں سختی کے ساتھ بات کرنے سے کنایہ ہے۔ اس آیت کے آخر میں ان کی آخری صفت کی طرف جو واقع میں ان کی تمام بدبختیوں کی جڑ اور بنیاد ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے" وہ ہرگز ایمان نہیں لائے": (أُوْلَئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا)۔ "اور اسی بناء پر خدا نے ان کے اعمال نیست و نابود کر دیئے ہیں": (فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ)- کیونکہ ان کے اعمال ہرگز خدا کی منشاء اور ان کے خلوص پر مبنی نہیں ہیں اور "یہ کام خدا کے لیے بہت ہی آسان ہے": (وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا)۔ مجموعی طور پر ہم اس طرح نتیجہ نکالتے ہیں کہ "معوّقين" (باز رکھنے والے) ایسے منافق تھے جن کی یہ صفات تھیں: ١۔ بہت ہی کم تعداد کے علاوہ، باقی کوئی بھی اہل جنگ و جہاد نہیں تھے۔ ٢۔ وہ کبھی جان و مال کے لحاظ سے ابل ایثار و قربانی نہیں تھے۔ اور تھوڑی سے تھوڑی پریشانی کے متحمل بھی نہیں ہوتے تھے۔ ۳۔ طوفانی اور بحرانی لمحات میں شدت خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو کلی طور پر کھو بیٹھتے تھے۔ ۴۔ کامیابی کے موقع پر اپنے آپ کو تمام اعزازات کا وارث سمجھتے تھے۔ ٥۔ چونکہ وہ بےایمان تھے لہذا ان کے اعمال بھی بارگاہ الٰہی میں بےقدر و قیمت تھے۔ یہی حال ہر دور اور زمانہ کے ہر معاشرہ کے منافقین کا رہا ہے۔ قرآن مجید نے ان کی ظریفانہ انداز میں صفات بیان کی ہیں، جن کے ذریعہ ان کے ہم فکر لوگوں کو پہچانا جا سکتا ہے اور موجودہ دور میں ہم اس کے کتنے نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں!! بعد والی آیت اس گروہ کی بزدلی اور خوف کی زیادہ فصیح انداز میں تصویر کشی کرتے ہوئے کہتی ہے، "وہ اس قدر وحشت زدہ ہو چکے ہیں کہ احزاب اور دشمن کے لشکروں کے پراگندہ ہو جانے کے بعد بھی یہ تصور کرتے ہیں کہ ابھی وہ نہیں گئے": (يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا)۔ وحشتناک اور بھیانک تصور نے ان کی فکر پر سایہ ڈالا ہوا ہے۔ گویا کفر کی افواج پے در پے ان کی آنکھوں کے سامنے قطار در قطار جاری ہیں، ننگی تلواریں لیے اور نیزے تانے ان پر حملہ کر رہی ہیں۔ یہ بزدل، جھگڑالو، ڈرپوک منافق اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں، جب کسی گھوڑے کے ہنہنانے یا کسی اونٹ کے بلبلانے کی آواز سنتے ہیں تو مارے خوف کے لرزنے لگتے ہیں کہ شاید احزاب کے لشکر واپس آ رہے ہیں۔ آگے چل کر کہتا ہے "اگر احزاب دوبارہ پلٹ کر آ جائے تو وہ اس بات پر تیار ہیں کہ بیابان کا رخ کر لیں اور بادیہ نشین بدوؤں کے درمیان منتشر ہو کر پنہاں ہو جائیں": (وَإِن يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ)۔ ہاں، ہاں وہ چلے جائیں اور وہاں جا کر رہیں "اور ہمیشہ تمھاری خبروں کے جو یا رہیں": (يَسْأَلُونَ عَنْ أَنبَائِكُمْ)- ہر مسافر سے تمھاری ہر ہر پل کی خبر کے جویا رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں احزاب ان کی جگہ کے قریب آ جائیں اور ان کا سایہ ان کے گھر کی دیواروں پر آ پڑے اور تم پر یہ احسان جتلائیں کہ وہ ہمیشہ تمھاری حالت اور کیفیت کے متلاشی تھے۔ اور آخری جملہ میں کہتا ہے کہ "بالفرض وہ فرار بھی نہ کرتے اور تمھارے درمیان ہی رہتے، پھر بھی سوائے تھوڑی سی جنگ کے وہ کچھ نہ کرتے:" (وَلَوْ كَانُوا فِيكُم مَّا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا)۔ نہ ان کے جانے سے تم پریشان ہونا اور نہ ہی ان کے موجود رہنے سے خوشی منانا، کیونکہ نہ تو ان کی قدر و قیمت ہے اور نہ ہی کوئی خاص حیثیت، بلکہ ان کا نہ ہونا ان کے ہونے سے بہتر ہے۔ ان کی یہی تھوڑی سی جنگ بھی خدا کے لیے نہیں کہ لوگوں کی سرزنش اور ملامت کے خوف اور ظاہرداری یا ریاکاری کے لیے ہے کیونکہ اگر خدا کے لیے ہوتی تو اس کی کوئی حدو انتہا نہ ہوتی اور جب تک جان میں جان ہوتی وہ اسی میدان میں ڈٹے رہتے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کردار:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اب تک مختلف گروہوں اور ان کے جنگی احزاب میں کارناموں کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی جن میں ضعیف الایمان مسلمان، منافق لوگ، کفر و نفاق کے سرغنے اور جہاد سے روکنے والے شامل ہیں۔ قرآن مجید اس گفتگو کے آخر میں "سچے مؤمنین" ان کے بلند حوصلوں، یا مردوں، جراتوں اور اس عظیم جہاد میں ان کی دیگر خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اس بحث کی تمہید کو پیغمبر اسلامؐ کی ذات سے شروع کرتا ہے جو مسلمانوں کے پیشوا، سردار اور اسوہ کامل تھے، خدا کہتا ہے:"تمھارے لیے رسول اللہ کی زندگی اور (میدان احزاب میں) ان کا کردار ایک اچھا نمونه اور اسوہ کامل تھا، ان لوگوں کے لیے جو رحمت خدا اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں: (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا)- تمھارے لیے بہترین اسوہ اور نمونہ، نہ صرف اس میدان میں بلکہ ساری زندگی پیغمبر اسلامؐ کی ذات والا صفات ہے۔ آپ کے بلند حوصلے، صبر و استقامت، پائمردی، زیرکی، دانائی، خلوص، خدا کی طرف توجہ، حادثات پر کنٹرول، مشکلات اور مصائب کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنا، غرضکہ ان میں سے ہر ایک چیز مسلمانوں کے لیے نمونه کامل اور اسوۂ حسنہ ہے۔ وہ ایسا عظیم نا خدا ہے کہ جب اس کی کشتی سخت ترین طوفانوں میں گھر جاتی ہے تو ذرہ برابر بھی کمزوری، گھبراہٹ اور سراسیمگی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ وہ کشتی کا نا خدا بھی ہے اور اس کا قابل اطمینان لنگر اور چراغ ہدایت بھی۔ وہ اس میں بیٹھنے والوں کے لیے آرام و سکون کا باعث بھی ہے اور ان کے لیے راحت جان بھی۔ وہ دوسرے مومنین کے ساتھ مل کر کدال ہاتھ میں لیتا ہے اور خندق کھودتا ہے، بیلچے کے ساتھ پتھر اکٹھا کر کے خندق سے باہر ڈال آتا ہے، اپنے اصحاب کے حوصلے بڑھانے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کے لیے ان سے مزاح بھی کرتا ہے، ان کے قلب روح کو گرمانے کے حربے اور جوش و جذبہ دلانے والے اشعار پڑھ کر انھیں ترغیب بھی دلاتا ہے، ذکر خدا کرنے پر مسلسل اصرار کرتا ہے اور انھیں درخشاں مستقبل اور عظیم فتوحات کی خوشخبری دیتا ہے۔ انہیں منافقوں کی سازشوں سے متنبہ کرتا ہے اور ان سے ہمیشہ خبردار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ صحیح حربی طریقوں اور بہترین فوجی چالوں کو انتخاب کرنے سے لمحہ بھر بھی غافل نہیں رہتا۔ اس کے باوجود مختلف طریقوں سے دشمن کی صفوں میں شگاف ڈالنے سے بھی نہیں چوکتا۔ جی ہاں! وہ مومنین کا بہترین متقداء ہے اور ان کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ اس میدان میں بھی اور دوسرے تمام میدانوں میں بھی۔ "اسوه" (بروزن "عروہ") دراصل اس حالت کے معنی میں ہے جو انسان دوسرے کی پیروی کے وقت اپناتا ہے، دوسرے لفظوں میں کسی کی تأسی اور اقتداء کرنے کا دوسرا نام ہے، اس بناء پر اس کا معنی مصدری ہو گا تاکہ وصفی اور "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے کے پیغمبر خدا کی ذات میں اچھی اقتداء اور پیروی ہے۔ ان کی اقتداء کرنے سے اپنی راہوں کی اصلاح اور "صرامستقیم" کو اختیار کر سکتے ہو۔ جاذب نظریہ امر ہے کہ قرآن زیر بحث آیت میں اس اسوہ حسنہ کو ان اشخاص کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے جو تین خصوصیات کے حامل ہوں یعنی اللہ اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔ حقیقت میں مبداء اور معاد پر ایمان اس بات کا سبب ہے اور ذکر خدا اس کو دوام بخشتا ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ میں کہ جس کا دل اس قسم کے ایمان سے سرشار نہ ہو، وہ پیغمبر کے نقش قدم پر چل نہیں سکتا۔ نیز اس راہ پر چلتے ہوئے بھی اگر ہمیشہ ذکر خدا نہ کرے اور شیاطین کو اپنے سے نہ دھتکارے تو تاسی اور اقتداء کو جاری و ساری نہیں رکھ سکے گا۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باوجود اس جوانمردی اور شجاعت کے جو جنگ کے تمام میدانوں میں ان سے دیکھنے میں آئی تھی اور جس کی ایک زندہ مثال اسی جنگ احزاب میں بھی دیکھنے میں آئی، کہ جس کی طرف بعد میں اشاره ہو گا، ایک گفتگو میں فرماتے ہیں: " كنا اذا احمر البأس اتقينا برسول الله فلم يكن احد منا اقرب الى العدوّ منه"۔ "جب بھی جنگ کی آگ شعلہ ور ہوتی تو ہم رسول اللہؐ کی طرف پناہ لیتے اور ہم سے کوئی شخص بھی ان سے زیادہ دشمن کے قریب نہ ہوتا "۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار فصل غرائب جملہ")۔ اس مقدے اور تمہید کے بعد سچے مومنین کی حالت کو بیان کرتے ہوئے قرآن یوں فرماتا ہے: جس وقت مومنین نے احزاب کے لشکروں کو دیکھا تو نہ صرف یہ کہ ان پر گھبراہٹ طاری نہ ہوئی بلکہ کہا کہ یہ وہی چیز ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پہلی کرن آشکار ہو چکی ہے اور خدا اور اس کے رسولؐ نے سچ کہا ہے اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم کے علاوہ، کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کیا (وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا)۔ یہ کون سا وعدہ تھا جو خدا اور پیغمبر اکرمؐ نے کیا تھا؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو پہلے نبی کریمؐ نے کی تھی کہ عنقریب قبائل عرب اور تمھارے مختلف دشمن ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تمھاری طرف آئیں گے۔ لیکن جان لو کہ آخر کار فتح تمھاری ہو گی۔ مومنین نے احزاب کے ہجوم کو دیکھا تو یقین کر لیا کہ یہ پیغمبر کا وہی وعدہ ہے اور کہا کہ اب جبکہ وعدے کا پہلا حصہ وقوع پذیر ہو چکا ہے تو دوسرا حصہ یعنی فتح و کامرانی بھی یقینًا اس کے پیچھے پیچھے آئے گی۔ لہذا ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اضافہ ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ خدا نے سورۂ بقرہ کی آیت ٢١۴ میں مسلمانوں سے فرمایا تھا: "کیا تم گمان کرتے ہو کہ آسانی کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جاؤ گے، بغیر اس کے کہ کچھ حوادث مثل گزشتہ لوگوں کے حوادث کے تمھارے لیے ظاہر ہوں، وہی لوگ جو شدید پریشانیوں میں متبلا ہوئے اور اس طرح سے ان کا عرصہ حیات ان کے لیے تنگ ہوا کہ انہوں نے کہا کہ خدا کی مدد کہاں ہے"؟ خلاصہ یہ کہ ان سے کہا گیا تھا کہ تم آزمائش کی سخت کھٹالیوں میں آزمائے جاؤ گے، اور وہ اس احزاب کو دیکھ کر خدا اور رسولؐ کی گفتگو کی صداقت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا گیا۔ البتہ ان دونوں تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ خصوصًا جب اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ ایک تو اصل میں خدا کا وعدہ ہے اور دوسرا اس کے پیغمبر کا وعدہ ہے اور یہ دونوں چیزیں زیر بحث آیت میں بھی اکٹھی آئی ہیں۔ لہذا ان دونوں کو جمع کرنا نہایت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بعد والی آیت مومنین کے ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبر اکرمؐ کی اقتداء میں سب سے زیادہ پیش قدمی کرتے تھے، وہ خدا سے کیے ہوئے اپنے اس عہد و پیمان پر قائم تھے کہ وہ آخری سانس اور آخری قطره خون تک فداکاری اور قربانی کے لیے تیار ہیں۔ فرمایا گیا ہے: "مومنین میں ایسے بھی ہیں جو اس عہد و پیمان پر قائم ہیں جو انھوں سے خدا سے باندھا ہے ان میں سے کچھ نے تو میدان جہاد میں شربت شہادت نوش کر لیا ہے اور بعض انتظار میں ہیں": (مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ)۔ " اور انھوں نے اپنے عہد و پیمان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی۔ "اور نہ ہی ان کے قدموں میں لغزش پیدا ہوئی ہے: (وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا)۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے برعکس کہ جنہیں طوفان حوادث اِدھر سے اُدھر پھینک دیتے ہیں اور جو روزانہ اپنے ناتواں دماغ میں نت نئے اور ناپاک منصوبے پروان چڑھاتے رہتے ہیں، یہ ثابت الایمان مومن پہاڑ کی طرح محکم اور استوار ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جو عہد و پیمان انہوں نے اس کے ساتھ باندھا ہے: وہ ہرگز ٹوٹنے والا نہیں ہے"۔ لفظ "نحب" (بروزن "عهد") عہد، نذر اور پیمان کے معنی میں ہے اور کبھی موت کا خطرے یا تیز چلنے یا بلند آواز سے گریہ کرنے کے معنی میں میں آتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب، مجمع البیان اور لنسان العرب (نحب)")۔ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ یہ آیت کن افراد کے بارے میں ہے۔ اہل سنت کے مشہور عالم، حاکم ابو القاسم حِسکانی سند کے ساتھ حضرت علی علیه السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "فینا نزلت (رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ) فانا واللہ المنتظر وَمَا بَدَّلتُ تَبْدِيلًا"۔ آیۂ "رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بخدا میں ہی وہ شخص ہوں جو شهادت کا، انتظار کر رہا ہوں (اور قبل ازیں ہم میں سے حزه سید الشهداء جیسے لوگ مردانہ وار شربت شہادت نوش کر چکے ہیں) اور میں نے ہرگز اپنی روش اور اپنے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں کی اور اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان پر قائم ہوں۔ (بحوالہ: مجمع البیان آیہ زیربحث کے ذیل میں)۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ "من قضى نحبه" کا جملہ شهداء بدر و احد کی طرف اشارہ ہے اور "منهم من ینتظر" کا جملہ دوسرے سچے مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جو فتح یا شہادت کے انتظار میں تھے۔ "انس بن مالک سے بھی نقل ہوا ہے کہ ان کے چچا "انس بن نضر" جنگ بدر کے دن حاضر نہیں تھے۔ جنگ کے خاتمے پر جب انھیں معلوم ہوا تو انھوں نے سخت افسوس کیا کہ وہ اس جہاد میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟ تو اس وقت خدا کے ساتھ عہد کیا کہ اگر کوئی جنگ پیش آئی تو اس میں ضرور شریک ہوں گے اور جب تک جان میں جان ہے، میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ لہذا انھوں نے دوسری جنگ احد میں شرکت کی اور جس وقت کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو وہ ڈٹے رہے۔ بڑی بےجگری کے ساتھ لڑنے کے بعد مجروح ہوئے اور آخرکار درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر قرطبی، فی ظلال القرآن اور مجمع البیان (مختصر سے فرق کے ساتھ)۔ ابن عباس سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے کہا: "مِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ" کا جملہ حمزہ بن عبدالمطلب، باقی شہداء احد اور انس بن نضر اور ان کے ساتھیوں کی طرف اشارہ هے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ان تفسیروں کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ آیت کا ایک وسیع مفہوم ہے جو تمام ان شہداء اسلام پر محیط ہے جو جنگ احزاب سے پہلے شربت شہادت نوش فرما چکے تھے۔ اور منتظرین بھی تمام وہ لوگ ہیں جو فتح و کامرانی اور شہادت کے انتظار میں زندہ رہے ہیں، اور پہلے گروہ کے سردار حضرت حمزہ اور دوسرے کے سردار جناب علی بن ابی طالب قرار پاتے ہیں۔ اسی لیے تفسیر صافی میں آیا ہے: "ان اصحاب الحسين بكربلا كانوا كل من ارادالخروج ودع الحسين وقال! السلام عليك يا بن رسول الله! فيجيبه وعليك السلام ونحن خلفك، ويقرء: فمنهم من قضٰى نحبه و منهم من ینتظر" اصحاب امام حسینؑ میں سے جو بھی کربلا میں میدان کی طرف جانا چاہتا تو امام عالی مقام سے الوداع کرتا اور کہتا آپؑ پر سلام ہو اے فرزند رسول! (سلام و داع کرتا) تو امام بھی انہیں جواب دیتے اور پھر اس آیت کی تلاوت کرتے "فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ"۔ (بحوالہ: تفسیر صافی آیہ زیربحث کے ذیل میں)۔ کتب مقاتل سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسینؑ نے دوسرے شہداء مثلًا مسلم بن عوسجہ کے جنازہ کے پاس بھی اور جس وقت "عبدااللہ بن يقطر" کې خبر شهادت آپ کو ملی، اس وقت بھی اس آیت کو تلاوت فرمایا"۔ (بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد ۴ ص ٢٦٩)۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ آیت اس قسم کا وسیع مفہموم رکھتی ہے جو ہر زمانے کے تمام سچے مومنین پر محیط ہے۔ چاہے وہ ہوں جنہوں نے جام شہادت زیب تن کیا اور چاہے وہ ہوں جو بیغر کسی قسم کے تنزلزل کے اپنے خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہے اور جہاد و شہادت پر آمادہ رہے۔ بعد والی آیت میں مومنین اور منافقین کے اعمال کے نتیجے اور آخری ہدف کو ایک مختصر سے جملے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ "مقصد یہ ہے کہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کی وجہ سے جزائے خیر دے اور منافقین کو جب چاہے عذاب دے۔ اور (اگر وہ توبہ کریں) تو انہیں بخش دے اور ان کی توبہ قبول کرے۔ کیونکہ خدا غفور و رحیم ہے"۔ (لِّيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِن شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔ نہ تو مخلص مومنین کی سچائی اور وفاداری بغیر جزائے خیر کے رہے گی اور نہ ہی منافقین کی کمزوری اور تخریب کاری بغیر عذاب اور سزا کے رہے گی۔ قرآن توبہ کے دروازے اور بازگشت کی راہیں منافقین کے لیے کھلی رکھتا ہے، لہذا "أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ" کے جملہ کے ساتھ ان پر توبہ کے دروازے کھولتا ہے اور "غفور رحیم " کے ساتھ اپنی توصیف کرتا ہے تاکہ ایمان، صدق اور شرعی فرائض پر عمل درآمد کا جذبہ ان میں بیدار کیا جائے۔ چونکہ یہ جملہ منافقین کے غلط اعمال کے نتیجے کے طور پر ذکر ہوا ہے لہذا بعض بزرگ مفسرین نے اس سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ ممکن بعض اوقات ایک عظیم گنا آلودہ دلوں میں حق و حقیقت کی طرف حرکت، انقلاب اور بازگشت کا ذریعہ بن جائے اور وہ ایسی برائی بن جائے جو ایک خیر اور نیکی کا نقطۂ آغاز ٹھہرے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان آیه زیر بحث کے ذیل میں)۔ زیر بحث آخری آیت جنگ احزاب کے سلسلہ میں حرف آخر کی صورت میں اس بحث کو ختم کرتی ہے۔ مختصر سی عبارتوں میں اس ماجرے کو واضح طور پر سمیٹے ہوئے کہتی ہے۔ " خدا نے کافروں کو ایسی حالت میں واپس لوٹایا کہ ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز تھے، وہ غم و غصہ میں چل رہے تھے اور وہ کسی ایسے نتیجے پر نہ پہنچ سکے جو ان کے پیش نظر تھا"۔ (وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا)- "غیظ" کا معنی غصہ ہے، اور کبھی غم اور اندوہ کے معنی میں بھی آتا ہے، یہاں پر دونوں معانی مراد ہیں۔ لشکر احزاب، لشکر اسلام پر اپنی آخری فتح کا امیدوار تھا لیکن ناکام رہا اور غم و غصہ کی حالت میں اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گیا۔ یہاں پر "خیر" سے مراد جنگ میں کامیابی ہے۔ البتہ لشکر کفر کی کامیابی کبھی بھی خیر نہیں تھی لیکن قرآن ان کی سوچ کی عکسی کرتے ہوئے اسے "خیر" سے تعبیر کرتا ہے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس میدان میں کسی بھی قسم کی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوۓ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں "خیر" سے مراد مال ہے کیونکہ یہ لفظ کئی دوسرے مقامات پر بھی مال کے لیے بولا گیا ہے جن میں سے سورہ بقرہ کی آیت ١٨٠ بھی ہے جسے آیہ وصیت کہتے ہیں، اس میں ہے: "إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ" کیونکہ لشکر کفر کے حملے کے اصل مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مدینہ کی غنیمتوں کو حاصل کریں اور اسی سرزمین کو غارت کریں۔ لیکن "خیر" کے مفہوم کو یہاں" مال" کے معنی میں محدود کرنے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ یہاں پر اس سے ہر قسم کی کامیابی مراد ہے جسے وہ مدنظر رکھے ہوئے تھے اور مال بھی ان سے ایک تھا جس سے وہ محروم رہے۔ بعد والے جملہ میں قرآن مزید کہتا ہے۔ "خدا نے اس میدان میں مومنین کو جنگ سے بےنیاز کر دیا"۔ (وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ)۔ اس قسم کے اسباب و عوامل فراہم کیے کہ کسی قسم کی سختی پیش نہ آئی جس سے مومنین کا زیادہ نقصان ہوتا اور جنگ ختم ہو گئی، کیونکہ ایک طرف سے تو شدید طوفان اور سردی نے مشرکین کو درہم برہم کر دیا اور دوسری طرف خدا کے نظر آنے والے لشکر کے ذریعے رعب، خوف اور وحشت کو ان کے دلوں میں ڈال دیا اور تیسری طرف سے حضرت علی بن ابی طالب علیہ اسلام کی ضرب دشمن کے سب سے بڑے پہلوان عمرو بن عبدود پر پڑی جس سے وہ دیار عدم میں جا پہنچا۔ اس سے ان کی امیدوں اور آرزوؤں کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گری۔ یہ امر اس بات کا سبب ہوا کہ وہ مدینہ کا محاصر ترک کر کے اپنے اپنے قبائل کی طرف ناکام واپس پلٹ گئے۔ آیت کے آخری جملہ میں فرمایا گیا ہے۔ خدا قوی اور ناقابل شکست ہے (وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا)۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ "قوی" تو ہوں لیکن "عزیز" یعنی ناقابل شکست نہ ہوں یعنی ان پر زیادہ قوی شخص کامیاب ہو جائے۔ لیکن "ناقابل شکست طاقتور" صرف اور صرف خدا ہے جس کی طاقت اور قدرت لا متناہی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اس قسم کے بہت سخت اور خطرناک میدان میں اس قسم کی کا میابی مومنین کے نصیب کی کہ لڑائی، جنگ اور جان دینے تک کی نوبت بھی نہ آئی۔
جنگ احزاب کے چند اہم پہلو: ١۔ جنگ کی اهمیت:
جنگ احزاب جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں تمام قبائل اور مختلف اسلام دشمن طاقتیں نوخیز اسلام کی سرکوبی کے لیے متحد ہوئی تھیں۔ جنگ احزاب کفر کی آخری کوشش، ان کے ترکش کا آخری تیر اور شرک کی قوت کا آخری مظاہرہ تھا۔ اسی بنا پر جب دشمن کا سب سے بڑا پہلوان عمرو بن عبدو عالم اسلام کے دلیر مجاہد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلے میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "برز الایمان كله الى الشرك كله" "سارے کا سارا ایمان سارے کے سارے (کفر اور) شرک کے مقابلے میں آ گیا ہے"۔ (تشریحی نوٹ: بحارالانور کی جلد ٢٠ ص ٢١٥ میں یہ حدیث "کراجکی" سے نقل کی گئی ہے)۔ کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی دوسرے پر فتح کفر کی ایمان پر یا ایمان کی کفر پر مکمل کامیابی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ فیصلہ کن معرکہ تھا جو اسلام اور شرک کے مستقبل کا تعین کر رہا تھا۔ اسی بناء پر دشمن کی اس عظیم جنگ اور کارزار میں کمر ٹوٹ گئی اوراس کے بعد ہمیشہ کے لئے ابتکار عمل مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ دشمن کا ستارہ اقبال غروب ہو گیا اور اس کی طاقت کے ستون ٹوٹ گئے۔ اسی لیے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت رسول گرامیؐ نے جنگ احزاب کے خاتمے پر فرمایا: "الان نغزوهم ولا یغزوننا" "اب ہم ان سے جنگ کریں گے اور ان میں ہم سے جنگ کی سکت نہیں ہے"۔ (بحوالہ: تاریخ کامل ابن اثیر جلد ٢ ص ١٨۴)۔
٢- لشکروں کی تعداد:
بعض مؤرخین نے لشکر کفار کی تعداد دس ہزار سے زیادہ لکھی ہے۔ مقریزی اپنی کتاب "الامتاع" میں لکھتے ہیں: "صرف قریش نے چار ہزار جنگجوؤں، تین سو گھوڑوں اور پندرہ سو اونٹوں کے ساتھ خندق کے کنارے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔ قبیلہ بنی سلیم سات سو افراد کے ساتھ " مر الظهران" کے علاقہ میں ان سے آ ملا۔ قبیلہ بنی فراز و ہزار افراد کے ساتھ، بنی اشجع اور بنی مرہ کے قبائل میں سے ہر ایک چار چار سو افراد کے ساتھ پہنچ گیا۔ اور دوسرے قبائل نے بھی اپنے آدمی بھیجے جن کی مجموعی تعداد دس ہزار سے بھی زیاده بنتی ہے"۔ جبکہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ انہوں نے (مدینہ کے قریب) "سلع" نامی پہاڑی کے دامن کو جو ایک بلند جگہ تھی اپنے اصلی لشکرگاہ کے طور منتخب کیا تھا جو خندق پر اس طرح سے عادی تھی کہ وہ اپنے تیر اندازوں کے ذریعہ خندق سے آنے جانے والوں پر کنٹرول کر سکتے تھے۔ بہرحال، لشکر کفر نے مسلمانوں کا ہر طرف سے محاصرہ کر لیا اور ایک روایت کے مطابق بیسں دن دوسری کے مطابق پچیس دن اور بعض روایات کے مطابق ایک ماہ تک محاصرہ جاری رها۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٢٠ ص ٢٢٨)۔ باوجودیکہ دشمن مسلمانوں کی نسبت مختلف پہلوؤں سے برتری رکھتا تھا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، آخرکار ناکام ہو کر واپس پلٹ گیا۔
۳- خندق کی کھدائی:
جیسا کہ معلوم ہے کہ خندق کے کھودنے کا سلسلہ حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے وقوع پزیر ہوا۔ خندق اس زمانے میں ملک ایران میں دفاع کا موثر ذریعہ تھا اور جزیرۃ العرب میں اس وقت تک اس کی مثال نہیں تھی اور عرب میں اس کا شمار نئی ایجادات میں ہوتا تھا۔ اطراف مدینہ میں اس کا کھودنا فوجی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ خندق دشمن کے حوصلوں کو پست کرنے اور مسلمانوں کے روحانی تقویت کا بھی موثر ذریعہ تھی۔ خندق کے کوائف اور جزئیات کے بارے میں صحیح طور پر معلومات تک رسائی تو نہیں ہے البتہ مورخین نے اتنا ضرور لکھا ہے کہ اس کا عرض اتنا تھا کہ دشمن کے سوار جست لگا کر بھی اس کو عبور نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی گہرائی ایقینًا اتنی تھی کہ اگر کوئی شخص اس میں داخل ہو جاتا تو آسانی کے ساتھ دوسری طرف باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ علاوہ ازیں، مسلمان تیر اندازوں کا خندق والے علا قہ پراتنا تسلط تھا کہ اگر کوئی شخص خندق کو عبور کرنے کا ارادہ کرتا تو ان کے لیے ممکن تھا کہ اسے خندق کے اندر ہی تیر کا نشانہ بنا لیتے۔ رہی اس کی لمبائی تومشہور روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حضرت رسالت مآب صلی الہ علیہ و آلہ وسلم نے دس دس افراد کو چالیس ہاتھ (تقریبًا ٢٠ میٹر) خندق کھودنے پر مامور کیا تھا اور مشہور قول کے پیش نظر کہ لشکر اسلام کی تعداد تین ہزار تھی تو مجموعی طور پر اس کی لمبائی اندازًا بارہ ہزار ہاتھ (چھ ہزار میٹر) ہو گی۔ اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ اس زمانے میں نہایت بی ابتدائی وسائل کے ساتھ اس قسم کی خندق کھودنا بہت ہی طاقت فرسا کام تھا خصوصًا جب کہ مسلمان خوراک اور دوسرے وسائل کے لحاظ سے بھی سخت تنگی میں تھے۔ يقينا خندق کھودی بھی نہایت کم مدت میں گئی۔ یہ امر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ لشکر اسلام پوری ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے حملہ آور ہونے سے پہلے ضروری پیش بندی کر چکا تھا اور وہ بھی اس طرح سے کہ لشکر کفر کے مدنیہ پہنچنے سے تین دن پہلے خندق کی کھدائی کا کام مکمل ہو چکا تھا۔
۴- بہت بڑی آزمائش کا میدان:
جنگ احزاب عام مسلمانوں اور ان لوگوں کے لیے جو اسلام کے دعوے دار تھے، آزمائش کی عجیب کسوٹی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں کے لیے بھی جو کبھی کبھار دعوٰے تو غیر جانبدار ہونے کا کرتے تھے، لیکن باطنی طور پر دشمنان اسلام سے ملے ہوئے تھے۔ اس جنگ سے تینوں گروہ (سچے مومنین، ضيف الایمان اور منافقین) کا موقف ان کے اعمال و کردار کے ذریعے مکمل طور پر نمایاں ہو گیا اور اسلامی اقدار پورے طور پر آشکار ہو گئیں۔ ان تینوں نے جنگ احزاب کی گرم بھٹی میں اپنے مخلص ہو یا نہ ہونے کو ثابت کر دیا۔ اس حادثے کا طوفان اس قدر تند اور تیز تھا کہ کوئی بھی شخص جو کچھ اس کے دل میں تھا چھپا نہ سکا اور جن مطالب کے ظاہر ہونے کے لیے معمولی حالات میں سالہا سال کی ضرورت تھی وہ ایک مہینہ سے بھی کم مدت میں الم نشرح ہو کہ سامنے آ گئے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ پیغمبرؐ نے ___ اپنے صبر و استقامت، دلیرانہ مزاحمت، حوصلے، خدا پر توکل اور اپنے آپ پر اعتماد کا عظیم مظاہرہ کیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے خندق کھودنے میں ان کے ساتھ مواسات اور ہم کاری کر کے اور جنگ کے مشکلات برداشت کر کے آپؐ نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ جو کچھ آپ اس سے پہلے اپنی تعلیمات کی صورت میں لا چکے ہیں، ان پر آپ کو صدق دل سے یقین ہے اور آپ ان کے وفادار ہیں اور جو کچھ آپ لوگوں سے کہتے ہیں، اس پر پہلے خود عمل کرتے ہیں۔
٥- حضرت علیؑ کی تاریخی جنگ:
اس جنگ کا ایک اہم واقعہ حضرت علیؑ کا دشمن کے لشکر کے نامی گرامی ہے پہلوان عمرو بن عبدود کے ساتھ مقابلہ تھا۔ تاریخ میں آیا ہے کہ لشکر احزاب نے جن دلاوران عرب میں سے بہت طاقت ور افراد کو اس جنگ میں اپنی امداد کے لئے دعوت دے رکھی تھی، ان میں سے پانچ افراد زیادہ مشہور تھے: عمرو بن عبدود، عکرمہ بن ابی جہل، ببیرہ، نوفل اور ضرار یہ لوگ دوران محاصره ایک دن دست بدست لڑائی کے لیے تیار ہوئے، لباس جنگ بدن پر سجایا اور خندق کے ایک کم چوڑے حصے سے، جو مجاہدین اسلام کے تیروں کی پہنچ سے کسی قدر دُور تھا، اپنے گھوڑوں کے ساتھ دوسری طرف جست لگائی اور لشکر اسلام کے سامنے آکھڑے ہوئے، ان میں سے عمرو بن عبدود زیادہ مشہور اور نامور تھا۔ اس کی "کوئی ہے بہادر" کی آواز میدان احزاب میں گونجی اور چونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابلے کے لیے تیار نہ ہوا، لہذا وہ زیادہ گستاخ ہو گیا اور مسلمانوں کے عقاید اور نظریات کا مذاق اڑانے لگا اور کہنے لگا: تم جو کہتے ہو کہ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ہمارے مقتول جہنم میں تو کیا تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے میں بہشت بھیجوں یا وہ مجھے جہنم کی طرف روانہ کرے؟ اور اس موقع پر اس نے اپنے یہ مشہور اشعار پڑھے: ولقد بححت عن النداء بجمعكم هل من مبارز! ووقفت اذ جبن المشجع موقف البطل المناجز! ان السماحة والشجاعة في الفتی خیر الغرائز!! تمہارے اجتماع میں میں نے اتنا پکارا اور مبارز طلبی کی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں اس وقت ایسی جگہ پر کھڑا ہوں کہ بہادر نما جنگو شجاع اس کی جگہ پر کھڑا ہونے سے گھبراتے ہیں۔ جی ہاں! شرافت اور شجاعت جوانمردوں کی بہترین خصلتیں ہیں۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی الله علیه و اله وسلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص کھڑا ہو اور اس کے شر کو مسلمانوں کے سر سے دور کر دے۔ لیکن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی بھی اس کے ساتھ جنگ کے لیے آمادہ نہ ہوا تو آنحضرتؐ نے علی ابن ابی طالبؑ سے فرمایا:" یہ عمرو بن عبدود ہے"۔ حضرت علیؑ نے عرض کی حضور! میں بالکل تیار ہوں خواہ عمرو ہی کیوں نہ ہو۔ پیغمبر اکرمؐ نے ان سے فرمایا۔ میرے قریب آؤ: چنانچہ علی علیہ اسلام آپ کے قریب گئے اور آنحضرتؐ نے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور اپنی مخصوص تلوار ذوالفقار انہیں عطا فرمائی اور ان الفاظ میں انھیں دعا دی ": اللّٰهم احفظہ من بین يديه و من خلفه و عن يمينه وعن شمالہ ومن فوقہ ومن تحته۔ خدایا! علیؑ کے سامنے سے، پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے اور اوپر اور نیچے سے حفاظت فرما۔ حضرت علی علیہ السلام بڑی تیزی سے عمرو کے مقابلہ میں یہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں اترے۔ لاتعجلن فقد اتاک مجیب صوتک غير عاجز! ذونیة وبصيرة والصدق منجی كل فائز! انی لارجوان اقيم عليك نائحة الجنائز! من ضربة غلاء يبقى صوتها بعد الهزاهز! جلدی نہ کرو کیونکہ تیری پکار کا قوی اور طاقت ور جواب دینے والا اب آ گیا ہے۔ وہ شخص جو پاک نیت، شائستہ بصیرت اور فاتح انسان کے لیے نجات دینے والی صداقت رکھتا ہے- مجھے امید ہے کہ نوحہ کرنے والیوں کی نو حہ زاری تیرے جنازہ کے پاس بلند کراؤں گا۔ ایسی واضح ضربت سے کہ جس کی صدا جنگ کے میدانوں کے بعد بھی باقی رہے۔ اور ہر جگہ پہنچے۔ یہی وہ موقع تھا کہ پیغمبر ختمی المرتبت صلی الہ علیہ و آلہٖ وسلم نے وہ مشهور جملہ ارشاد فرمایا۔ "برز الایمان كله الي الشرك کله" پورے کا پورا ایمان پورے کے پورے کفر کے مقابلہ میں جا رہا ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٢٠ ص ٢١٥، ابن ابی الحدید: شرح نہج البلاغہ جلد ۴ ص ۳۴۴ حقاق الحق جلد ٦ ،٩ یہ روایت ان کتب کے حوالے سے درج کی گئی ہے)۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے پہلے تو اسے اسلام کی دعوت دی جسے اس نے قبول نہ کیا۔ پھر میدان چھوڑ کر چلے جانے کو کہا۔ اس پر بھی اس نے انکار کیا اور اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھا۔ آپؑ کی تیسری پیشکش یہ تھی کہ گھوڑے سے اتر آئے اور پیادہ ہو کر دست بدست لڑائی کرے۔ عمرو آگ بگولہ ہو گیا اور کہا کہ میں نے بھی سوچا بھی نہ تھا کہ عرب میں سے کوئی شخص مجھے ایسی تجویز دے گا۔ گھوڑے سے اتر آیا اور علی علیہ السلام پر اپنی تلوار کا وار کیا۔ لیکن امیر المومنینؑ نے اپنی مخصوص مہارت سے اس وار کو اپنی سپر کے ذریعے روکا۔ مگر تلوار نے سپر کو کاٹ کر آپؑ کے سر مبارک کو زخمی کر دیا۔ اس کے بعد حضرت على علیہ السلام نے ایک خاص حکمت عملی سے کام لیا۔ عمرو بن عبدود سے فرمایا، تو عرب کا زبردست پہلوان ہے، جب کہ میں تجھ سے تن تنہا لڑ رہا ہوں۔ لیکن تو نے اپنے پیچھے کن لوگوں کو جمع کر رکھا ہے۔ اس پر عمر نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے عمر کی پنڈلی پر تلوار کا وار کیا، جس سے وہ سر و قد زمین پر لیٹنے لگا۔ شدید گرد و غبار نے میدان کی فضا کو گھیر رکھا تھا۔ کچھ منافقین یہ سوچ رہے تھے کہ حضرت علیؑ، عمرو کے ہاتھوں شہید ہو گئے ہیں۔ لیکن جب انھوں نے تکبیر کی آواز سنی تو علیؑ کی کامیابی ان پر واضح ہو گئی۔ اچانک لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے سر مبارک سے خون بہہ رہا تھا۔ اور لشکر گاہ اسلام کی طرف خراماں خراماں واپس آ رہے تھے۔ جبکہ فتح کی مسکراہٹ آپؑ کے لبوں پر کھیل رہی تھی۔ اور عمر کا بےسر پیکر میدان کے کنارے ایک طرف پڑا ہوا تھا۔ عرب کے مشہور پہلوان کے مارے جانے سے لشکر احزاب اور ان کی آرزوؤں پر ضرب کاری لگی، ان کے حوصلے پست اور دل انتہائی کمزور ہو گئے۔ اس ضرب نے ان کی فتح کی آرزوؤں پر پانی پھیر دیا۔ اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس کامیابی کے بارے میں حضرت علیؑ سے ارشاد فرمایا: لم وزن الیوم عملک بعمل جميع امة محمد لرجع عملك على عملھم و ذاک أنه لم يبق بيت من المشركين الاوقد دخل ذلّ بقتل عمرو ولم يبق بيت من المسلمين الا وقد دخل عزّ بقتل عمرو! اگر تمھارے آج کل کے عمل کو ساری اُمّت محمد کے اعمال سے موازنہ کریں تو وہ ان پر بھاری ہوگا۔ کیونکہ عمرو کے مارے جانے سے مشرکین کا کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہا جس میں ذلت و خواری داخل نہ ہوئی ہو اور مسلمانوں کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں ہے جس میں عمرو کے قتل ہو جانے کی وجہ سے عزت داخل نہ ہوئی ہو"۔ (بحوالہ: بحارالانور، جلد ٢٠ ص ٢١٦)۔ اہل سنت کے مشہور عالم، حاکم نیشا پوری نے اس گفتگو کو نقل کیا ہے۔ البتہ مختلف الفاظ کے ساتھ اور وہ یہ ہے: "لمبارزة على بن ابی طالب لعمرو بن عبدود یوم الخندق افضل من اعمال أقتى الى يوم القيامة" (بحوالہ: مستدرک حاکم، جلد ۳ ص ۳٢)۔ یعنی علی ابن ابی طالب کی خندق کے دن عمرو بن عبدود سے جنگ میری امت کے قیامت کے اعمال سے افضل ہے"۔ آپ کے اس ارشاد کا فلسفہ واضح ہے، کیونکہ اس دن اسلام اور قرآن ظاہرًا نابودی کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، ان کے لیے زبردست بحرانی لمحات تھے۔ جس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فدا کاری کے بعد اس میدان میں سب سے زیادہ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا، اسلام کو اس خطرے سے محفوظ رکھا، قیامت تک اس کے دوام کی ضمانت دے دی، اس کی فدا کاری سے شجر اسلام کی جڑیں مضبوط ہو گئیں اور پھر اسلام عالمین پر پھیل گیا لہذا سب لوگوں کی عبادتیں اس کی مرہون منت قرار پا گئیں۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ مشرکین نے کسی آدمی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ عمرو بن عبدود کے لاشے کو دس ہزار درہم میں خرید لائے (شاید ان کا یہ خیال تھا کہ مسلمان عمرو کے بدن کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو سنگدل ظالموں نے حضرت حمزہ کے بدن کے ساتھ جنگ احد میں کیا تھا) لیکن رسول اکرمؐ نے فرمایا: اس کا لاشہ تمھاری ملکیت ہے۔ ہم مردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت عمرو کی بہن اپنے بھائی کے لاشے پر پہنچی اور اس کی قیمتی زرہ کو دیکھا کہ حضرت على عليہ السلام نے اس کے بدن سے نہیں اتاری تو اس نے کہا : "ما قتله الا كفو كريم" "میں اعتراف کرتی ہوں کہ اس کا قاتل کریم اور بزرگوار شخص ہی تھا"۔ (تشریحی نوٹ: اس حصے میں "احقاق الحق" جلد ٦، بحارالانوار، جلد ٢٠، تفسیر المیزان، جلد ١٦ ۔" حبیب السیر" جلد اول اور فروغ ابدیت جلد ٢ سے استفادہ کیا گیا ہے)۔
۶- پیغمبر اسلام کے فوجی اور سیاسی اقدام:
پیغمبر اکرمؑ کی اور مسلمانوں احزاب میں کامیابی کے بہت سے عوامل تھے ۔ اور شدید طوفان کے ذریعے ہوئی اور اس نے احزاب کی تمام بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ نیز پروردگار کے نظر نہ آنے والے لشکر، ان کے علاوہ، اور بھی فوجی اور سیاسی عوامل تھے جن میں سے اهم ترین عامل کی ذات پر ایمان اور عقیدہ تھا۔ بعض عوامل یہ تھے: (١) حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خندق کھودنے کی تجویز کو قبول کر کے عربوں کی جنگی تکنیک میں ایک نئے عنصر کا اضافہ گیا، جو اس زمانے موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی تکنیک تھی جس سے لشکر اسلام کے حوصلے بلند ہوۓ اور سپاه کفر کے چھکے چھوٹ گئے۔ (٢) عمرو بن عبدود کا اسلام کے عظیم اور مایہ ناز ہیرو علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہاتھوں مارا جانا اور اس کی موت لشکر احزاب کی امیدوں اور آرزوؤں پر پانی پھر جانا۔ (۳) لشکر اسلام کے باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت بنائے گئے مورچے اور مناسب فوجی تکنیک اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن شهر مدینہ میں داخل نہ ہو سکا۔ (۴) جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ کامیابی کا اہم ترین عامل ایمان اور اللہ کی ذات پاک پر توکل تھا۔ اس کا بیج مسلمانوں کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بویا تھا۔ اس طویل جنگ میں مسلسل آیات قرآن کی تلاوت ہوتی رہی اور رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی دلنشیں باتیں اہل ایمان کے سینوں میں ایمان و توکل کی آبیاری کرتی رہیں۔ (٥) پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا طرز عمل آپ کی عظیم روح اور نفس پراعتماد مسلمانوں کو قوت قلب اور تسکین خاطر عطا کر رہے تھے۔ (۶) اس پر مزید نعیم بن مسعود کی داستان لشکر احزاب میں تفرق ڈالنے اور اسے کمزور کرنے کا اہم اور موژ عامل تھی۔
٧- نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکر میں پھوٹ:
نعیم جو تازہ مسلمان تھے اور ان کے قبیلہ "غطفان" کو لشکر اسلام کی خبر نہیں تھی، وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ آپؐ مجھے جو حکم بھی دیں گے، میں حتمی کامیابی کے لیے اس پر کاربند رہوں گا۔ رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "تمہارے جیسا شخص ہمارے درمیان اور کوئی نہیں ہے۔ اگر تم دشمن کے لشکر میں پھوٹ ڈال سکتے ہو تو ڈالو، کیونکہ جنگ پوشیده تدابیر کا مجموعہ ہے"۔ نعیم بن مسعود نے ایک عمده تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ وہ بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس گیا جن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی دوستی تھی ان سے کہا بنی قریظہ! تم جانتے ہو کہ مجھے تمھارے ساتھ محبت ہے۔ انھوں نے کہا آپ سچ کہتے ہیں: ہم آپ کو اس بارے میں ہرگز کوئی الزام نہیں دیتے۔ نعیم بن مسعود نے کہا :قبیلہ قریش اور غطفان تمھاری طرح نہیں ہیں۔ یہ تمھارا اپنا شہر ہے۔ تمہارا! مال اولاد اور عورتیں یہاں پر ہیں اور تم ہرگز یہ نہیں کر سکتے کہ یہاں سے کوچ کر جاؤ۔ قریش اور قبیلہ غطفان محمدؐ اور ان کے اصحاب کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آئے ہوئے ہیں اور تم نے ان کی حمایت کی ہے جبکہ ان کا شہر کہیں اور ہے اور ان کے مال اور عورتیں بھی دوسری جگہ پر ہیں۔ اگر انھیں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گری کر کے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اگر کوئی مشکل پیش آ جائے تو اپنے شہر کو لوٹ جائیں گے، لیکن تم نے اور محمدؐ نے تو اسی شہر میں رہنا ہے اور یقینًا تم اکیلے ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، تم اس وقت تک اسلحہ نہ اٹھاؤ جب تک قریش سے کوئی معاہدہ نہ کر لو اور وہ اس طرح کہ وہ چند سرداروں اور بزرگوں کو تمھارے پاس گروی رکھ دیں تاکہ وہ جنگ میں کوتاہی نہ کریں۔ بنی قریظہ کے یہودیوں نے اس کو بہت سراہا۔ پھرنعیم مخفی طور پر قریش کے پاس گیا۔ ابوسفیان اور قریش کے چند سرداروں سے کہا کہ تم اپنے ساتھ میری دوستی کی کیفیت سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ ایک بات میرے کانوں تک پہنچی ہے، جسے تم تک پہنچانا میں اپنا فریضہ سمجھتا ہوں تاکہ خیر خواہی کا حق ادا کر سکوں لیکن میری خواہش یہ ہے کہ یہ بات کسی اور کو معلوم نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا تم بالکل مطمئن رہو۔ نعیم کہنے لگے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہودی محمدؐ کے بارے میں تمھارے طرز عمل سے اپنی براءت کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہودیوں نے محمد کے پاس قاصد بھیجا ہے اور کہلوایا ہے کہ ہم اپنے کیے پر پشیمان ہیں اور کیا یہ کافی ہو گا کہ ہم قبیلہ قریش اور غطفان کے چند سردار آپ کے لیے یرغمال بنا لیں اور ان کو بندھے ہاتھوں آپ کے سپرد کر دیں تاکہ آپ ان کی گردن اڑا دیں۔ اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ مل کر ان کی بیخ کنی کریں گے؟ محمد نے بھی ان کی پیش کش کو قبول کر لیا ہے۔ اس بناء پر اگر یہودی تمھارے پاس کسی کو بھجیں اور گروی رکھنے کا مطالبہ کریں تو ایک آدمی بھی ان کے سپرد نہ کرنا کیونکہ خطرہ یقینی ہے۔ پھر وہ اپنے قبیلہ غطفان کے پاس آئے اور کہا: تم میرے اصل اور نسب کو اچھی طرح جانتے ہو۔ میں تمھارا عاشق اور فریفتہ ہوا اور میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ تمہیں میرے خلوص نیت میں تھوڑا سا بھی شک و شبہ ہو۔ انھوں نے کہا: تم سچ کہتے ہو، یقینا ایسا ہی ہے۔ نعیم نے کہا: میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں لیکن ایسا ہو کہ گویا تم نے مجھ سے نہیں سنی۔ انھوں نے کہا: مطمئن رہو۔ یقینًا ایسا ہی ہو گا، وہ بات کیا ہے؟ نعیم نے وہی بات جو قریش سے کہی تھی، یہودیوں کے پشیمان ہونے اور یرغمال بنانے کے ارادے کے بارے میں حرف بحرف ان سے بھی کہہ دی اور انھیں اس کام کے انجام سے ڈرایا۔ اتفاق سے وہ (ماہ شوال ٥ھجری ٓکے) جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات تھی۔ ابوسفیان اور غطفان کے سرداروں نے ایک گروہ بنی قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا اور کہا: ہمارے جانور یہاں تلف ہو رہے ہیں اور یہاں ہمارے لیے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں کل صبح ہمیں حملہ شروع کرنا چاہیے تاکہ کام کو کسی نتیجے تک پہنچائیں۔ یہودیوں نے جواب میں کہا: کل ہفتے کا دن ہے اور ہم اس دن کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ علاوہ ازیں، ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر جنگ نے تم پر دباؤ ڈالا تو تم اپنے شہروں کی طرف پلٹ جاؤ گے اور ہمیں یہاں تنہا چھوڑ دو گے۔ ہمارے تعاون اور ساتھ دینے کی شرط یہ ہے کہ ایک گروہ گردی کے طور پر ہمارے حوالے کر دو۔ جب یہ خبر قبیلہ قریش اور غطفان تک پہنچی تو انہوں نے کہا: خدا کی قسم نعیم بن مسعود سچ کہتا تھا۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ لہذا انہوں نے اپنے قاصد یہودیوں کے پاس بھیجے اور کہا: بخدا ہم تو ایک آدمی بھی تمھارے سپرد نہیں کریں گے اور اگر جنگ میں شریک ہو تو ٹھیک ہے، شروع کرو۔ بنی قریظہ جب اس سے باخبر ہوئے تو انھوں نے کہا: واقعًا نعیم بن مسعود نے حق بات کہی تھی! یہ جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ کوئی چکر چلا رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوٹ مار کر کے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں اور ہمیں محمدؐ کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ جائیں۔ پھر انہوں نے پیغام بھیجا کہ اصل بات وہی ہے جو ہم کہہ چکے ہیں۔ بخدا! جب تک کچھ افراد گروی کے طور پر ہمارے سپرد نہیں کرو گے، ہم بھی جنگ نہیں کریں گے۔ قریش اور غطفان نے بھی اپنی بات پر اصرار کیا، لہذا ان کے درمیان میں اختلاف پڑ گیا۔ اور یہ وہی موقع تھا کہ رات کو اس قدر زبردست سرد طوفانی ہوا چلی کہ ان کے خیمے اکھڑ گئے اور دیگیں چولہوں سے زمین پر آ پڑیں۔ یہ سب عوامل مل ملا کر اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا اور فرار کو قرار پر ترجیح دینی پڑی۔ حتی کہ میدان میں ان کا ایک آدمی بھی نہ رہا۔ (بحوالہ: سیرۃ ابن ہشام جلد۳ ص ٢۴٠ (تلخیص کے ساتھ))۔
٨- حذیفہ کا واقعہ:
بہت سی تواریخ میں آیا ہے، حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ ہم جنگ خندق کے ایام میں بھوک اور تھکن، وحشت اور اضظراب سے اس قدر دو چار تھے کہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک رات (لشکر احزاب میں اختلات پڑ جانے کے بعد) پیغمبرؐ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو چھپ چھپا کر دشمن کی لشکر گاہ میں جائے اور ان کے حالات معلوم کر لائے تاکہ وہ جنت میں میرا رفیق اور ساتھی ہو۔ حذیفہ کہتے ہیں خدا کی قسم کوئی شخص بھی شدت و حشت، تھکن اور بھوک کے مارے اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حالت دیکھی تو مجھے آواز دی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا جاؤ اور میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آؤ۔ لیکن وہاں کوئی اور کام انجام نہ دینا یہاں تک کہ میرے پاس آ جاؤ۔ میں اسی حالت میں وہاں پہنچا جب کہ سخت آندھی چل رہی تھی اور طوفان برپا تھا اور خدا کا یہ لشکر انھیں تہس نہس کر رہا تھا۔ خیمے تیز آندھی کے سبب ہوا میں اُڑ رہے تھے۔ آگ بیابان میں پھیل چکی تھی۔ کھانے پینے کے برتن الٹ پلٹ گئے تھے۔ اچانک میں نے ابو سفیان کا سایہ محسوس کیا کہ وہ اس تاریکی میں بلند آواز سے کہہ رہا تھا: اے قریش! تم میں سے ہر ایک اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص کو اچھی طرح سے پہچان لے تاکہ یہاں کوئی بے گانہ نہ ہو، میں نے پہل کر کے فورًا ہی اپنے پاس بیٹھے وائے شخص سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا، میں فلاں ہوں، میں نے کہا بہت اچھا۔ پھر ابو سفیان نے کہا خدا کی قسم! یہ ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے، ہمارے اونٹ گھوڑے ضائع ہو چکے ہیں اور ببی قریظہ نے اپنا پیمان توڑ ڈالا ہے اور اس طوفان نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ پھر وہ بڑی تیزی سے اپنے اونٹ کی طرف بڑھا اور سوار ہونے کے لیے اسے زمیں سے اٰٹھایا۔ وہ اس قدر جلدی میں تھا کہ اونٹ کے پاؤں میں بندھی ہوئی رسی کو کھولنا بھول گیا۔ لہذا اونٹ تین پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ میں نے سوچا ایک ہی تیر سے اس کا کام تمام کر دوں ابھی تیر چلہ کمان میں جوڑا ہی تھا کہ فورًا آنحضرت کا فرمان یاد آ گیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کچھ کاروائی کیے بغیر واپس آ جانا، تمھارا کام صرف وہاں کے حالات ہمارے پاس لانا ہے لہذا میں واپس پلٹ گیا اور جا کر تمام حالات عرض کیے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے بار گاه ایزدی میں عرض کیا: "اللّٰھُمّ انت منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الأحزاب اللّٰهُمّ اهزمهم و زلزلهم"۔ "خداوندا: تو کتاب کو نازل کرنے والا اور سريع الحساب ہے، تو خود ہی احزاب کو نیست و نابود فرما! خدایا! انھیں تباہ کر دے اور ان کے پاؤں نہ جمنے دے"۔ (بحوالہ: بحاالانوار، جلد ٢٠ ص ٢٠٨)۔
٩- جنگ احزاب کے نتائج:
جنگ احزاب تاریخ اسلام میں ایک اہم موڑ اور سنگ میل ثابت ہوئی جس میں فوجی اور سیاسی اعتبار سے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ بطور خلاصہ اس جنگ کے مفید نتائج چند جملوں میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ الف - دشمن کی آخری کوششوں کا ناکام ہو جانا اور ان کی برتری کی آخری طاقت کا ٹوٹ جانا۔ ب - منافقین کی سازش کا شکار ہو جانا اور ان خطرناک داخلی دشمنوں کو مکمل طور پر بھانڈا پھوٹ جانا۔ ج - جنگِ احد کی شکست کی تلخ یادوں کی تلافی۔ د - دشمن کے دل میں مسلمانوں کی مزید طاقت اور ہیبت کا طاری ہو جانا۔ ھ - جو معجزات مسلمانوں نے اس میدان میں دیکھے ان کی وجہ سے ان کے حوصلوں کا بلند ہو جانا- و - مدینہ کے اندر اور باہر آنحضرتؐ کی حیثیت کا مسلم ہو جانا۔ ز - سرزمین مدینہ کا یہود بنی قریظہ کے شر سے صفایا کی راہ ہموار کرنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم "اسوہ" اور "قدوہ" ہیں:
ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں میں سے خدا کے بھیجے ہوئے افراد کا انتخاب اسی لیے ہوتا ہے کہ وہ امتوں کے لئے عملی نمونہ بن سکیں، کیونکہ انبیاء کی عملی تبلیغ اور دعوت کا اہم اور موثر ترین حصہ ان کی عملی دعوت ہوتی ہے۔ اسی بناء پر علماء اسلام مقام نبوت کے لیے عصمت کو ایک لازمی شرط سمجھتے ہیں اوراس کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ انھیں لوگوں کے لیے "اسوہ" اور مخلوق کے لئے "نمونہ" ہونا چاہیے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اقتداء اور پیروی کا جو حکم آیا ہے وہ مطلق صورت میں ہے۔ جو آپؐ کی زندگی کے ہر شعبے کو اپنے میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس کی شان نزول جنگ احزاب ہے لیکن شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی بھی اپنے ساتھ محدود نہیں کرتی۔ اس لیے ہم اسلامی احادیث میں دیکھتے ہیں کہ پیروی کے سلسلے میں اہم سے اہم اور معمولی سے معمولی مسائل کا ذکر ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "ان الصّبر علٰى ولاة الامر مفروض لقول الله عزوحل لنبيه (ص) فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل، وايجابه مثل ذلك علٰى اوليائه واهل طاعته، لقوله: لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة"۔ "صبر و شکیبائی اسلامی حکام پر واجب ہے کیونکہ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے، صبر کرو جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے صبر و شکیبائی اختیار کی ہے اور اسی چیز کو آپؐ کے دوستوں اور اطاعت گزاروں پر آپ کی پیروی کرنے کے حکم کے ساتھ واجب فرمایا ہے۔ (بحوالہ: نورا لثقلین جلد ۴ ص ٢٥٥ بحوالہ احتجاج طبرسی)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے مروی ہے کہ آپؑ نے نہ فرمایا: "جس وقت پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نماز عشا پڑھتے تو وضو کا پانی اور اپنی مسواک اپنے سرہانے ٓرکھ لیتے اور پانی کے برتن کو ڈھکنے سے ڈھانپ دیتے۔۔۔۔۔ پھرآپؑ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز تہجد کی کیفیت بیان فرمائی اور آخر میں فرمایا: "ولقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة" تمہارے لیے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اسوہ حسنہ ہے۔ (بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد١ ص ۳٥۶)۔ واقعًا اگر ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے اسوہ قرار دے دیں، آپؐ کے ایمان و توکل خلوص و شجاعت، نظم و نظامت، زہد و تقوٰی کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیں تو ہماری کایا پلٹ جائے اور ہماری زندگی روشن اور منور ہو جائے۔ آج سارے مسلمانوں پر خصوصًا باایمان اور پرجوش نوجوانوں پر فرض ہے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو حرف بحرف پڑھیں اور اسے دل میں جگہ دے کر ہر لحاظ سے اپنے لیے اسوہ و نمونه قرار دیں، کیونکہ سعادت کا اہم ترین وسیلہ اور کامیابی و کامرانی کی اصل کلید یہی ہے۔
خدا کو بہت یاد کرو:
خدا کو یاد کرنے کا حکم خصوصًا "ذکر کثیر" بارہا قرآنی آیات میں آیا ہے اور اسلامی روایات میں بھی اسے بہت زیاده اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کہ حضرت ابوذر سے ایک حدیث ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا : "عليک بتلاوة كتاب الله، و ذكر الله كثيرًا فانه ذكر لك في السماء ونور لک فی الارض "۔ تم قرآن کی تلاوت اور بہت یاد خدا لازم ہے کیونکہ اس کے سبب آسمانوں میں (فرشتے) تمہیں یاد کریں گے اور زمین میں تمھارے لئے نور ہو گا"۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۴ ص ٢٥٧ بحوالاخصال)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "اذا ذكر العبد ربّه الیوم مأة مرة كان ذلك كثيرا"۔ "جب انسان خدا کو دن میں سو مرتبہ یاد کرے تو یہ ذکر کنیر شمار ہو گا"۔ (بحوالہ: سفینۃالبحار، جلد ١ ص ۴٨۴)۔ نیز ایک اور حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "الا اخبركم بخير اعمالكم وأزكاها عند مليككم، وارفعها في درجاتكم، وخير لكم من الدينار والدرهم، وخير لكم من إن تلقوا عدوكم فتقتلونهم ويقتلونكم؟ قالوا: بلى يارسول الله! قال: ذكر اللہ كثيرًا" "کیا میں تمھیں تمہارے پروردگار کے ہاں بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین کاموں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ عمل جو تمھارا بالا ترین درجہ اور تمھارے لیے درہم و دینارسے بہتر ہو حتی کہ جہاد اور راہ خدا میں شہادت سے بھی بہتر ہے"۔ انہوں نے عرض کیا، ضرور۔ فرمایا : خدا کر زیادہ یاد کرنا۔ (بحوالہ: سفینۃالبحار، جلد ١ ص ۴٨۴)۔ لیکن ہرگز یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ ان تمام فضائل کے ساتھ ذکر پروردگار سے مراد صرف زبانی ذکر ہے بلکہ اسلامی روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اس سے مراد اس کے علاوہ، قلبی اور عملی ذکر بھی ہے، یعنی جس وقت انسان کو کسی حرام کام کے ارتکاب کا سامنا ہو تو خدا کو یاد کر کے اسے ترک کر دے۔ مقصد یہ ہے کہ خدا انسان کی تمام زندگی میں حاضر ناظر ہو اور نور پروردگار اس کی تمام زندگی میں جلوہ فگن ہو۔ ہمیشہ اس کی یاد میں مگن ہو اور اس کے فرمان کو نصب العین قرار دے۔ مجالس ذکرسے مرا د وہ مجالس ہیں، جہاں پر جاہلوں کا ایک گروہ اکٹھا ہو جائے اور خود ساختہ ذکر و انکار کا ورد شروع کر دے اور بدعتوں کو پھیلانے میں مصروف رہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بادروا الى رياض الجنة"؟ "جنت کے باغوں کی طرف جلدی بڑھو"۔ (بحوالہ: سفینۃالبحار، جلد ١ ص ۴٨۶)۔ تو صحابہ نے عرض کیا: "وما ریاض الجنة؟" "جنت کے باغات کیا ہیں؟" آپؐ نے فرمایا: "حُلَق الذّكر" "مجالس ذکر ہیں"۔ (بحوالہ: سفینۃالبحار، جلد ١ ص ۴٨۶)۔ اس سے مراد وہ مجالس ہیں جن میں علوم اسلامیہ کا احیاء ہو، تربیتی و اخلاقی پروگرام پیش ہوں جن میں انسانوں کی تربیت اور اصلاح کی جائے تاکہ گناہگار گناہوں سے بچ جائیں اور راہ خدا پر چلیں۔ (تشریحی نوٹ: "ذکر اللہ" کی اہمیت اور اس کے مفہوم کے سلسلہ میں، تفسیر نمونہ جلد ٥ ص ۶٥۳ (اردو ترجمہ) میں بھی تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ایک اور عظیم کامیابی:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5مدینہ میں یہودیوں کے تین مشهور قبائل رہتے تھے، بنی قریظہ، بنی النضیر اور بنی قینقاع- تینوں گروہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ آپؐ کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے، ان کے لیے جاسوسی نہیں کریں گے اور مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر امن و آشتی کی زندگی گزاریں گے لیکن قبیلہ بنی قینقاع نے ہجرت کے دوسرے سال اور قبیلہ بنی نضیر نے ہجرت کے چوتھے سال مختلف حیلول بہانوں سے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مقابلہ کے کیلئے تیار ہو گئے۔ آخر کار ان کی مزاحمت اور مقابلہ کی سکت ختم ہو گئی اور وہ مدینہ سے باہر نکال دیئے گئے۔ بنی قینقاع اذرعات شام کی طرف چلے گئے اور بنی نضیر کے کچھ لوگ تو خیبر کی طرف اور کچھ شام کی طرف چلے گئے۔ (بحوالہ: کامل ابن کثیر، جلد٢ ص ١٧۳ - ١۳٧)۔ اسی بناء پر ہجرت کے پانچویں سال جبکہ جنگی احزاب پیش آئی تو صرف قبیلہ بنی قریظہ مدینہ میں باقی رہ گیا تھا۔ اور جیسا کہ جنگ احزاب کی سترہ آیات کی تفسیر میں ہم نے کہا ہے، وہ بھی اس میدان میں اپنے معاہدہ کو توڑ کر مشرکین عرب کے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں کے مقابلے میں تلواریں سونت لیں۔ جب جنگ احزاب ختم ہو گئی اور قریش، بنی غطفان اور دیگر قبائل عرب بھی رسوا کن شکست کے بعد مدینہ سے پلٹ گئے تو اسلامی روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر لوٹ آئے اور جنگی لباس اتار کر نہانے دھونے میں مشغول ہو گئے تو اس موقع پر جبرائیلؑ حکم خدا سے آپؐ پر نازل ہوئے اور کہا، کیوں آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں جبکہ فرشتے ابھی تک آماده پیکار ہیں۔ آپؐ فورًا بنی قریظہ کی طرف جائیں اور ان کا کام تمام کریں۔ واقعًا بنی قریظہ کا حساب چکانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں تھا۔ مسلمان اپنی کامیابی پر خوش و خرم تھے، بنی قریظہ شکست کی شدید وحشت میں گرفتار تھے اور قبائل عرب میں سے ان کے دوست اور حلیف تھکے ماندے اور بہت ہی پست حوصلوں کے ساتھ شکست خوردہ حالت میں اپنے اپنے شہروں اور علاقوں میں جا چکے تھے اور کوئی نہیں تھا جو ان کی حمایت کرے۔ بہرحال، منادی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف سے ندا دی کہ نماز عصر پڑھنے سے پہلے بنی قریظہ کی طرف چل پڑو۔ مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو گئے اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی بنی قریظہ کے محکم و مضبوط قلعوں کو مسلمانوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا۔ پچیسں دن تک محاصرہ جاری رہا۔ اس کے بعد جیسا کہ نکات کی بحث میں آئے گا، ان سب نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے آپ کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا۔ ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا گیا اور مسلمانوں کی کامیابیوں میں ایک اور فتح کا اضافہ ہوا اور سرزمین مدینہ ہمیشہ کے لیے ان منافق اقوام اور زبردست ہٹ دھرم اعداء کے ناپاک وجود سے پاک ہو گئی۔ زیر بحث آیات اس ماجرا کی طرف مختصر اور بلیغ اشارہ کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیات کامیابی کے حصول کے بعد نازل ہوئیں اور اس ماجرے کا تذکرہ خدا کی عظیم نعمت اور عنایت کے طور پر ہوا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ "خدا نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کو جنہوں نے مشرکین عرب کی حمایت کی تھی، ان کے محکم و مضبوط قلعوں سے نیچے کھینچا"۔ (وَأَنزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن صَيَاصِيهِمْ)۔ "صياصي" جمع ہے "صيصیہ" کی جو مضبوط قلعوں کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اس لفظ کا دفاع کے ہر ذریعے پر اطلاق ہونے لگا، جیسے بیل کے سینگ یا مرغے کی ٹانگ والا کانٹا۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہودیوں نے اپنے قلعے مدینہ کے پاس بلند اور اونچی جگہ پر بنا رکھے تھے اور ان کے و بلند برجوں سے اپنا دفاع کرتے تھے "انزل" (نیچے لے آیا) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا کیا ہے۔ "خدا نے ان کے دلوں میں خوف اور رعب ڈال دیا": (وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ)۔ آخرکار ان کا معاملہ یہاں تک پہنج گیا کہ "تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کرتے تھے اور دوسرے کو اسیر بنا رہے تھے"۔ (فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا)۔ "اور ان کی زمینیں گھر اور مال و متاع تمھارے اختیار میں دے دیا"۔ (وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ)۔ یہ چند جملے جنگ بنی قریظہ کے عام نتائج کا خلاصہ ہیں۔ ان خیانت کاروں میں سے کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے، کچھ قید ہو گئے اور بہت زیاده مال غنیمت جس میں ان کی زمینیں، گھر، مکانات اور مال و متاع شامل تھا، مسلمانوں کو ملا۔ ان غنائم کو "ارث" سے تعبیر کرنا اس بناء پر ہے مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے میں کوئی زیادہ زحمت نہیں اٹھائی بلکہ آسانی کے ساتھ وہ تمام مال ان کے ہاتھ آ گیا جو یہودیوں نے سالہا سال کے عرصے میں ظلم اور بیداد گری اور لوٹ کھسوٹ کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ "اسی طرح وہ زمین بھی تھارے اختیار میں دے دی جس پر ہرگز تم نے قدم نہیں رکھا تھا"۔ (وَأَرْضًا لَّمْ تَطَؤُوهَا)۔ "اور خدا ہر چیز پر قادر و توانا ہے": (وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا)۔ " وَأَرْضًا لَّمْ تَطَؤُوهَا" سے مراد کون سی زمیں ہے؟ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے اسے سرزمین "خیبر" کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو بعد میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح بوئي۔ بعض نے سرزمین مکہ کی طرف اشاره سمجھا ہے۔ بعض اسے سرزمین "روم اور ایران" جانتے ہیں۔ اور بعض سب سرزمینوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو اس دن سے لے کر قیامت تک مسلمانوں کی قلم رو میں قرار پائیں گی۔ لیکن ان احتمالات میں سے کوئی بھی ظاہر آیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ آیت فعل ماضی کے قرینہ سے جو اس میں آیا ہے یعنی"اورثكم" اس بات کی شاہد ہے کہ یہ سرزمین اسی جنگ بنی قریظہ کے واقعے میں مسلمانوں کے تصرف میں آئی تھی۔ علاوہ ازیں، سرزمین مکہ ایسی نہیں تھی کہ جس میں مسلمانوں نے قدم نہ رکھا ہو جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ایسی زمین تمھارے قبضہ میں دی کہ جس میں تم نے قدم نہیں رکھا تھا۔ ظاہرًا یہ جملہ ان مخصوص باغات و اراضی کی طرف اشارہ ہے جو بنی قریظہ کے قبضے میں تھے اور کوئی بھی ان میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتا تھا۔ کیونکہ یہود اپنے اموال کی حفاظت اور اس کا زبردست خیال رکھتے تھے۔ نیز اگر اس فتح و کامیابی کے ماضی میں ہونے سے صرف نظر کر لیں تو بھی زیادہ مناسب زمین خیبر سے تعلق رکھتی ہے جو بہت ہی مختصر عرصے میں یہودیوں سے لے لی گئی تھی اور مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی تھی۔ (جنگ خیبر ہجرت کے ساتویں سال وقوع پذیر ہوئی تھی)-
چند اہم نکات ١- جنگ بنی قریظہ کے علل و اسباب:
قرآن مجید اس چیز پر گواہ ہے کہ اس جنگ کا اصل سبب بنی قریظہ کے یہودیوں کی جنگ احزاب میں مشرکین عرب کی حمایت تھی، کیونکہ خدا فرماتا ہے: "الَّذِينَ ظَاهَرُوهُم"، "وہ لوگ کہ جنہوں نے ان کی حمایت کی"۔۔۔۔ اس کے علاوہ، اصولی طور پر مدینہ کے یہودی دشمنان اسلام کا پانچواں ستوں ( FIFTH COLUMN) شمار ہوتے تھے۔ اسلام کے برخلاف پروپگنڈے میں کوشاں رہتے تھے اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، کہ یہودیوں کے تین قبائل، بنی قینقاع بنی نضیر اور بنی قریظہ میں سے آخری گروہ جنگ احزاب کے موقع پر مدینہ میں باقی رہ گیا تھا اور پہلا اور دوسرا گروہ بالترتیب ہجرت کے دوسرے اور چوتھے سال عہد شکنی کی وجہ سے مدینہ سے نکال دیئے گئے تھے۔ ضروری تھا کہ یہ تیسرا گروہ جنہوں نے سب سے زیادہ کھلی عہد شکنی کی تھی اور دشمنان اسلام سے الحاق کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا، انھیں ان کے پست اعمال کی وجہ سے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
٢- جنگ بنی قریظہ کے واقعات:
ہم بتا چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جنگ احزاب ختم ہوتے ہی مامور ہو گئے کہ بنی قریظہ کے یہودیوں کا حساب چکا دیں۔ لکھا ہے کہ مسلمانوں نے بنی قریظہ کے قلعوں کی طرف اس قدر جلدی کی کہ بعض لوگ اپنی نماز عصر سے بھی غافل ہو گئے اور مجبورًا انھیں بعد میں قضا بجا لانی پڑی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قلعوں کے محاصره کا حکم صادر فرمایا۔ پچیسں دن تک محاصرہ جاری رہا۔ قرآن کے فرمان کے مطابق خدا نے شدید رعب اور وحشت دشمنوں کے دلوں میں ڈال دی۔ کعب بن اسد کا شمار یہودیوں کے سرداروں میں ہوتا تھا۔ اس نے اپنی قوم سے کہا، مجھے یقین ہے کہ محمدؐ ہمیں اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہم جنگ نہ کریں۔ لہذا میری تین تجاویز ہیں، ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لو۔ پہلی تجویز تو یہ ہے کہ اس شخص کے ہاتھ میں باتھ دے کر اس پر ایمان لے آؤ اور اس کی پیروی اختیار کر لو۔ کیونکہ تم پر ثابت ہو چکا ہے کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اور اس کی نشانیاں تمھاری کتابوں میں پائی جاتی ہیں تو اس صورت میں تمھارے مال، جان اور اولاد اور عورتیں محفوظ ہو جائیں گی۔ وہ کہنے لگے کہ ہم ہرگز حکم تورات سے دست بردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کا متبادل اختیار کریں گے۔ اس نے کہا: اگر یہ تجویز قبول نہیں کرتے تو پھر آؤ اور اپنے بچوں اور عورتوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر ڈالو تاکہ ان کی طرف سے آسوده خاطر ہو کر میدان جنگ میں کود پڑیں اور پھر دیکھیں کہ خدا کیا چاہتا ہے؟ اگر ہم مارے گئے تو اہل و عیال کی جانب سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی اور اگر کامیاب ہو گئے تو پھر عورتیں بھی بہت بچے بھی بہت۔ وہ کہنے لگے کہ ہم ان بےچاروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیں؟ ان کے بعد ہمارے لیے زندگی کی قدر و قیمت کیا رہ جائے گی؟ کعب بن اسد نے کہا اگر یہ بھی تم نے قبول نہیں کیا تو آج چونکہ ہفتہ کی رات ہے، محمدؐ اور اس کے ساتھی یہ خیال کریں گئے کہ ہم آج رات حملہ نہیں کریں گے۔ انھیں اس غفلت میں ڈال کر ان پر حملہ کر دیں شاید کامیابی حاصل ہو جائے۔ وہ کہنے لگے یہ کام بھی ہم نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں ہفتہ کا احترام پامال نہیں کریں گے۔ کعب کہنے لگا: پیدائش سے لے کر آج تک تمھارے اندر عقل نہیں آ سکی۔ اس کے بعد انھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے بات کی کہ ابولبابہ کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان سے صلاح مشورہ کر لیں۔ جس وقت ابولبابہ ان کے پاس آئے تو یہودیوں کی عورتیں اور بچے ان کے سامنے گریہ و زاری کرنے لگے۔ اس بات کا ان کے دل پر بہت اثر ہوا۔ اس وقت لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ ہم محمد کے آگے ہتھیار ڈال دیں؟ ابولبابہ نے کہا ہاں اور ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا، یعںی تم سب کو قتل کر دیں گے۔ ابولبابہ کہتے ہیں، جیسے ہی میں وہاں سے چلا تو مجھے اپنی خیانت کا شدید احساس ہوا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم کے پاس نہ گیا، بلکہ سیدھا مسجد کی طرف چلا اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا میں اپنی جگہ سے اس وقت تک حرکت نہیں کروں گا جب تک خدا میری توبہ قبول نہ کر لے۔ آخر کار خدا نے اس کا یہ گناہ اس کی صداقت کی بناء پر بخش دیا۔ اور اسی سلسلے میں یہ آیت "وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ۔۔۔۔۔ نازل ہوئی۔ (توبہ ۔ ١٠٢) آخرکار بنی قریظہ کے یہودیوں نے مجبور ہو کر غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ جناب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کر دیں، کیا وہ تمھیں قبول ہے؟ وہ راضی ہو گئے۔ سعد بن معاذ نے کہا کہ اب وہ موقع آن پہنچا ہے کہ سعد کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو نظر میں رکھے بغیر حکم خدا بیان کرے۔ سعد نے جس وقت یہودیوں سے دوبارہ یہی اقرار لے لیا تو آنکھیں بند کر لیں اور جس طرف پیغمبر کھڑے ہوئے تھے ادھر رخ کر کے عرض کیا، آپ بھی میرا فیصلہ قبول کریں گے؟ آنحضرتؐ نے فرمایا، ضرور! تو سعد نے کہا، میں کہتا ہوں کہ جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ تھے (بنی قریظہ کے مرد) انھیں قتل کر دینا چاہیے، ان کی عورتیں اور بچے قید اور ان کے اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔ البتہ ان میں سے ایک گروہ اسلام قبول کرنے کے بعد قتل ہونے سے بچ گیا۔ (بحوالہ: سیرت ابن ہشام جلد ۳ ص ٢٢۴ اور کامل ابن اتیرج جلد ٢ ص ١٨٥ (کچھ تخلیص کے ساتھ)۔
۳- جنگ بنی قریظہ کے نتائج:
ظالم اور ہٹ دھرم گروہ پر فتح و کامرانی مسلمانوں کے لئے نہایت مفید نتائج کی حامل تھی۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: الف- مدینہ کا داخلی محاذ ختم ہو گیا اور یہودی جاسوسوں سے مسلمان آسودہ خاطر ہو گئے۔ ب- مدینہ کے اندر مشرکین عرب کے اڈے منہدم ہو گئے اور اندرونی شورش سے ان کی امیدیں ختم ہو گئیں۔ ج- جنگ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت سے مسلمانوں کی مالی بنیادیں مستحکم ہو گئیں۔ د -آئنده کی کامیابیوں کے لیے راہ ہموار ہو گئی، خصوصاً خیبر کی فتح کے لیے- ہ۔ مدینہ کے اندر اور باہر دوستوں اور دشمنوں کی نگاہ میں حکومت اسلامی کی حیثیت مستحکم ہو گئی۔
۴- آیات کی معنی خیز تعبیریں:
زیر نظر آیات میں مختلف تعبیریں دکهائی دیتی ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ اس جنگ میں قتل ہونے والوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے " فَرِيقًا تَقْتُلُونَ يعني" فَرِيقًا" کو "تَقْتُلُونَ" پر مقدم رکھا گیا ہے۔ حالانکہ قیدیوں کے بارے میں "فریقًا" کو اس کے فعل یعنی "تَأْسِرُونَ" سے موخر رکھا گیا ہے۔۔بعض مفسرین نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ قتل ہونے والے زیادہ یہودیوں کے سرغنے تھے۔ لیکن قید ہونے والے غیر معروف افراد تھے۔ علاوہ ازیں، یہ تقدیم و تاخیر سبب ہوئی کہ قتل اور قید جو دشمن پر کامیابی کے دو اہم عامل تھے ایک دوسرے کے ساتھ آ گئے ہیں اور ان کے درمیان تناسب اور تعلق کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ نیز پہلی زیربحث آیت میں، یہودیوں کو ان کے قعلوں سے نیچے لانا "وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ" (خدا نے ان کے دلوں میں رعب و وحشت ڈال دی) سے پہلے ذکر کیا ہے۔ حالانکہ فطری ترتیب اس کے برخلاف ہے یعنی پہلے رعب پیدا ہوتا ہے اور پھر ان محکم قلعوں سے نیچے آنا ہوتا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جو کچھ مسلمانوں کے لیے زیادہ اہم اور مسرورکن تھا اور ان کے اصل مقصد کو تشکیل دیتا تھا، وہ ان کے بہت ہی مستحکم قلعوں کا ٹوٹنا تھا۔ "وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ" کی تعبیر بھی اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ تم بغیر اس کے کہ اس جنگ کے لیے کچھ بھی زحمت برداشت کرتے، خدا نے ان کی زمینیں، گھر اور مال و دولت سب کچھ تمھارے اختیار میں دے دیا۔ آخری آیت میں خدا کی لازوال قدرت کا ذکر اور " وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا" اس طرف اشارہ ہے کہ اس نے ایک دن آندھی اور طوفان اور نظر نہ آنے والے لشکر کے ذریعہ احزاب کو شکست دی اور دوسرے دن رعب و وحشت کے لشکر سے ان کے حامیوں یعنی بنی قریظہ کے یہودیوں کا ستیاناس کر دیا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 31 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5مفسرین نے ان آیات کی کئی ایک شان نزول ذکر کی ہیں کہ جو نتیجہ کے لحاظ سے آپس میں قطعًا مختلف نہیں ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ چند جنگوں کے بعد بڑی مقدار میں غنیمتیں مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئیں تو ازواج پیغمبر نےآپؐ سے نفقہ میں اضافہ اور زندگی کے گوناگوں لوازم کے لیے مختلف تقاضے شروع کر دیئے۔ بعض تفاسیر کے مطابق حضرت أم سلمہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے خدمت گزاری کے لیے کنیز کا تقاضا کیا، میمونہ (رض) نے کوئی خاص لباس مانگا، زینب ښت حجش نے ایک خاص یمنی کپڑے کی فرمائش کی، حفصہ(رض) نے مصری جامہ طلب کیا، جویریہ (رض) نے ایک عمدہ لباس چاہا، سودہ (رض) نے خیبری گلیم کی درخواست کی۔ خلاصہ یہ کہ ہر ایک نے الگ الگ فرمائش کی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس قسم کی فرمائشوں کے سامنے جھک جانا جو عام طور پر ختم ہونے والی نہیں ہوتیں "ہیئتِ نبوت" کو کیسے انجام سے دوچار کر دیں گی لہذا آپ نے ان خواہشات کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور پورا مہینہ ان سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ یہاں تک کہ مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور دو ٹوک لیکن رحمت رأفت کے لہجہ کے ساتھ انھیں خبردار کیا کہ اگر زیب و زنیت سے آراستہ، دنیاوی زندگی چاہتی ہو تو تم پیغمبر سے الگ ہو سکتی ہو اور جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو اور اگر خدا، رسول اور روز جزاء سے وابستہ رہنا چاہتی ہو تو پیغمبر کے گھر کی سادہ پر افتخار زندگی پر قانع ہو جاؤ اور پروردگار کے عظیم اجر و ثواب سے حصہ لیتی رہو۔ اس طرح سے ازواج پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے توقع کا جو دامن پھیلایا ہوا تھا، اس کے ضمن میں محکم اور دوٹوک جواب دے دیا۔ اور انھیں پیغمبر کے گھر میں ٹھہرے رہنے اور الگ ہو جانے کے درمیان اختیار بھی عنایت فرما دیا۔
تفسیر سعادت ابدی یا دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ:
آپ بھولے نہیں ہوں گے کہ اس سورہ کی شروع کی آیات میں خداوند عالم نے عزت و افتخار کا تاج پیغمبر کی بیویوں کے سر پر رکھا ہے اور ان کا "ام المومنین" کے عنوان سے تعارف کروایا ہے۔ واضح رہے کہ ہمیشہ حساس اور افتخار آفريں مراتب کے ساتھ بھاری ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ ازواج رسولؐ کیونکر امہات المومنین ہو سکتی ہیں جب کہ ان کی قلب و نظر دنیا کی زیب و زنیت پر فریضۃ ہوں اور جب وہ یہ خیال کریں کہ اگر مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہو تو بادشاہوں کی بیویوں کی طرح اس کا بہترین حصہ انہیں مل جائے اور شہدا کی جاں نثاری اور مقدس خون کے صدقہ میں جو چیز ہاتھ آئی ہے اور ان کے حوالہ کی جائے۔ جبکہ کئی لوگ فقر و فاقہ کی زندگی بسر کر رہے ہوں؟ اس سے قطع نظر گزشتہ آیات کے مطابق نہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے لیے اسوه و نمونہ ہیں بلکہ ان کے گھر والوں کو بھی دوسرے خاندانوں کے لیے اسوہ اور ان کی بیویوں کو دامن قیامت تک کی باایمان عورتوں کے لیے مقتداء ہونا چا ہیئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کوئی بادشاہ نہیں ہیں کہ ان کا شان و شوکت والا حرم سرا ہو اور ان کی بیویاں قیمتی جواهرات اور زیب و زینت کی دوسری چیزوں سے لدی پھندی ہوں۔ شاید ابھی تک مکہ کے کچھ مسلمان جو مہاجر ہو کر مکہ سے مدینہ آئے تھے صفہ (وہ مخصوص تھڑا کہ مسجد نبوی کے ساتھ تھا) میں راتیں بسر کرتے تھے۔ اس شہر میں ان کا کوئی خانہ و کاشانہ نہیں تھا۔ ان حالات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم ہرگز اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ آپؐ کی بیویاں آپؐ سے اس قسم کی توقعات رکھیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بیویوں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سخت کلامی کی حد کر دی اور یہاں تک کہہ دیا: "لعلك تظن ان طلقتنا لانجد زوجًا من قومنا غيرك" "شاید آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ ہمیں طلاق دے دیں تو ہمیں اپنی قوم قبیلے میں کوئی شوہر نہیں ملے گا"۔ (بحوالہ: کنزالعرفاب، جلد ٢ ص ٢۳٨)۔ اس موقع پر نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم خدا کے حکم سے مامور ہوئے کہ وہ اس نظریہ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور ان کے سامنے ہمیشہ کے لیے پوزیشن واضح کر دیں۔ بہرحال، زیربحث آیات میں سے پہلی پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے: "اے پیغمبر! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیئے کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کی طلب گار ہو تو میں کسی لڑائی جگڑے بغیر کے کچھ ہدیہ دے کر تمہیں اچھے طریقے سے جدا کیے دیتا ہوں"۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا)۔ "امتعكن"، "متعہ" کے مادہ سے ہے اور جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی آیت ٢۳۶ میں کہہ چکے ہیں کہ اس سے مراد ہدیہ ہے جو عورت کے شایان شان ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ مقرر شده مہر پر مناسب ہدیہ دے دیں، اس قدر کہ وہ راضی اور خوش ہو جائیں اور ان کی علیحدگی دوستانہ ماحول میں ہو۔ "سراح" اصل میں "سرح" (بروزن "شرح") ایسی نبات کے معنی میں ہے جس کے پھل اور پتے ہوں، اور "سرحت الابل" کا معنی ہے" میں نے اونٹ کو چھوڑ دیا تاکہ وہ نباتات کے پتوں کو چرتا پھرے، بعد ازاں اس لفظ کا زیادہ اور وسیع معنی ہو گیا، یعنی ہر چیز اور ہر شخص کو ہر قسم کی رہائی دینا اور چھوڑ دینا۔ کبھی یہ لفظ طلاق دینے کیلئے کنایہ کے طور بھی آتا ہے۔ "تسريح الشعر" بالوں کو کنگی کرنے کے لیے بولا جاتا ہے کیونکہ اس میں بھی رہا کرنے اور چھوڑنے کے معنی پوشیدہ ہیں۔ بہرحال، زیربحث آیت میں "سراح جمیل" سے مراد عورتوں کو اس انداز سے طلاق دینا ہے جس میں نیکی اور بھلائی ہو اور کسی قسم کا لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ اس ضمن میں اسلامی فقہاء اور مفسرین نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ آیت میں اس سے مراد کیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے اپنی ازواج کو باقی رہنے اور جدا ہو جانے کے بارے میں جو اختیار دیا تھا، اگر وہ جدائی اختیار کر لیتیں تو کیا خود یہی امر طلاق شمار ہوتا اور صیغہ طلاق کے اجراء کی ضرورت نہ ہوتی؟ یا مراد یہ تھی کہ وہ ان دو راستوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کر لیں۔ اگر جدائی کو انتخاب کریں تو پیغمبر اکرم صلی اله علیہ و آلہٖ وسلم صیغه طلاق جاری کرتے ورنہ طلاق نہ ہوتی۔ اگر دیکھا جائے تو آیت ان دونوں امور میں سے کسی پر بھی دلالت نہیں کرتی اور بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت ازواج پیغمبر کو گھر میں رہنے یا گھر چھوڑ کر چلے جانے کے بارے میں اختیار دے رہی ہے۔ اور یہ حکم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے خاص ہے کیونکہ باقی لوگوں پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔ لیکن ان کا یہ نظریہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت اور آیات طلاق کو جب باہم ملایا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کی جدائی طلاق کے ذریعہ ہو گی۔ بہرحال، یہ مسئلہ شیعہ اور اہل سنت فقہاء کے درمیان اختلافی ہے اگرچہ دوسرا قول یعنی طلاق کے ذریعے جدا ہونا آیات کے ظاہری مفہوم کے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں، (اسرحکن" (میں تمھیں آزاد کر دوں) کی تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انھیں جدا کرنے پر اقدام فرماتے، خصوصًا جب کہا وہ "تسریح" قرآن مجید میں ایک اور جگہ بھی طلاق کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (بقرہ۔ ٢٢٩)۔ (بحوالہ: اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے فقہی کتب خصوصًا جواہر الکلام جلد ٢٩ ص ١٢۳ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے۔ لیکن اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر کو چاہتی ہو اور آخرت کے گھر کو، نیز مادی لحاظ سے سادہ زندگی (جس میں محرومیتیں بھی ہیں) پر قانع ہو تو خدا نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے عظیم جزاء اور اجر تیار کر رکھا ہے" (وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا)۔ درحقیقت، ان چند جملوں میں ایمان کی تمام بنیادیں اور مومن کا لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تو خدا پیغمبر اور روز قیامت پر ایمان و اعتقاد کا ذکر ہے اور دوسری اور عملی طور پر نیکوکارواں اور محسنین و محسنات کی صف میں قرار پانا تو اس بنا پر صرف خدا، آخرت کے گھر اور پیغمبر کے ساتھ عشق اور لگاؤ کا اظہار کافی نہیں ہے، عملی زندگی بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ اس طرح خدا نے ازواج پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذمہ داریوں کو جنہیں صاحب ایمان عورتوں کے لیے اسوہ اور نمونہ ہونا چاہیے، ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا ہے۔ یعنی زہد و پارسائی کا حامل ہونا اور دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ سے بے اعتنائی اور ایمان، عمل صالح اور روحانیت کی طرف خاص توجہ، اگر وہ ان صفات کی حامل ہیں تو پھر رہ جائیں اور رسول خدا کی زوجیت کے عظیم اعزاز کی حامل رہیں۔ ورنہ اپنی راہ لیں اور ان سے الگ ہو جائیں۔ اگرچہ اس گفتگو میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مخاطب ہیں، لیکن اپنے مضمون اور نتیجہ کے لحاظ سے سب پر محیط ہے، خصوصًا وہ لوگ جو مخلوق کی رہبری اور لوگوں کی پیشوائی کے مقام بلند پر فائز ہیں۔ ایسے افراد ہمیشہ دو راہے پر ہوتے ہیں کہ یا تو خوشحال زندگی تک پہنچنے کے لیے اپنی ظاہری حیثیت سے فائدہ اٹھائیں یا خدا کی رضا کے حصول اور مخلوق کی ہدایت کے لیے اپنے آپ کو ہر قسم کی محرومیوں کے لیے پیش کر دیں۔ پھر بعد والی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی سنگین ذمہ داریوں کو قرآن واضح عبارت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی آشکارا گناہ اور فحش و غلط کام انجام دے گی، اس کا عذاب دُگنا ہو گا اور یہ خدا کے لیے آسان ہے:۔ (يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا)۔ تم وحی کے گھر اور مرکز نبوت میں زندگی بسر کر رہی ہو، اسلامی مسائل کے سلسلہ میں تمھاری معلومات پیغمبر خدا سے ہمیشہ نزدیک رہنے کی بناء پر عام لوگوں سے زیادہ ہیں، علاوہ ازیں، تمہاری طرف دوسری عورتوں کی توجہ ہوتی ہے اور تم ان کے نزدیک نمونہ عمل ہوتی ہو۔ اس بناء پر خدا کی بارگاہ میں تمھارا گناہ بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہو گا کیونکہ ثواب اور عذاب معرفت اور معلومات کے مطایق ملتے ہیں، اسی طرح ماحول پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ تمھیں آگاہی بھی زیادہ ہے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے بھی تمھاری حیثیت بہت حساس ہے۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر تمھارے غلط اعمال ایک تو پیغمبر کو آزرده خاطر کریں گے اور دوسری طرف آنحضرت کی حیثیت کو مجروح کریں گے اور یہ بجائے خود ایک گناہ ہے جو دوسرے عذاب کا مستوجب ہوتا ہے۔ "فاحشة مبينة" سے مراد کھلے قسم کے گناہ ہیں اور واضح ہے کہ ان گناہوں کے مفاسد جو اہم شخصیت سے سرزد ہوتے ہیں، اس وقت زیادہ ہوتے ہیں جب وہ آشکارا اور ظاہر بظاہر ہوں۔ " "ضعف و مضاعف" کے بارے میں نکات کی بحث میں گفتگو ہو گی۔ باقی رہا یہ فرمان کہ "یہ کام خدا پر آسان ہے" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی بھی یہ گمان نہ کرنا کہ تمھیں سزا دینا خدا کے لیے کوئی مشکل کام ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے تمھارا رابطہ اس سے مانع ہو گا، جس طرح دنیا کا دستور ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور قریب کے رشتہ داروں کے گناہوں سے چشم پوشی کر لیتے ہیں یا انہیں بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ تو یہاں ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ یہ دو ٹوک فیصلہ ہے جو تم پر بھی نافذ ہے۔ البتہ اس کے برعکس کے بارے میں حکم ہوتا ہے۔" اور جو کوئی تم میں سے خدا اور پیغمبر کے سامنے خضوع اور اطاعت کرے اور عمل صالح بجا لائے تو ہم اس کو دوگنا اجر دیں گے اور اس کے لیے ہم نے قیمتی رزق فراہم کر رکھا ہے: (وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا)۔ "يقنت"، "قنوت" کے مادہ سے ہے جس میں خضوع و ادب سے ملی ہوئی اطاعت کا معنی پایا جاتا هے۔ (بحوالہ: مفردات راغب، مادہ قنوت)۔ اور قرآن یہ لفظ استعمال کر کے انہیں یہ جتانا چاہتا ہے کہ وہ فرمان خدا و رسول کی مطیع بھی ہوں اور شرط ادب بھی مکمل طور پر ملحوظ رکھیں۔ یہاں پھر ہمیں یہ نکتہ بھی ملتا ہے کہ صرف ایمان اور اطاعت کا دعوٰی کرنا کافی نہیں ہے بلکہ "وتعمل صالحًا" اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے آثار عمل میں بھی ظاہر ہوں۔ ٓ "رزق کریم" ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو تمام روحانی اور مادی نعمات الٰہی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس کا مفہوم "جنت" اس لیے کیا گیا ہے چونکہ بہشت ان تمام نعمات کا مرکز ہے۔
گناہ اور ثواب دوگنا کیوں؟
ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اوپر والی آیات اگرچہ پیغمبر کی ازواج کے بارے میں کہتی ہیں کہ اگر وہ خدا کی اطاعت کریں تو ان کا اجر کئی گنا ہے اور اگر کسی آشکارا گناہ کا ارتکاب کریں تو ان کی سزا کئی گناہ ملے گی۔ لیکن چونکہ اصل معیار تو مقام و مرتبہ اور اجتماعی حیثیت کا حامل ہوتا ہے لہذا یہ حکم ان افراد کے بارے میں بھی صادق آتا ہے جو معاشرے میں اچھی حیثیت اور مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کا تعلق صرف اپنی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ ان کا وجود دو جہات کا حامل ہوتا ہے۔ ایک جہت تو خود انھیں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے اور دوسری جہت معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہذا ان کی زندگی کا طرز عمل ہو سکتا ہے کہ کسی گروہ کو ہدایت یا کسی کو گمراہ کر دے۔ اسی بناء پر ان کے اعمال دوہرا اثر رکھتے ہیں یعنی ایک تو انفرادی اثر اور دوسرا اجتماعی۔ اسی لیے ان میں سے ہر عمل جدگانہ اجر یا سزا کا حامل ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "يغفر للجاهل سبعون ذنبًا قبل ان یغفر للعالم ذنب واحدً" "جاہل کے ستر گناه بخشے جائیں گے اس سے پہلے کہ عالم کا ایک گناہ بخشا جائے"۔ (بحوالہ: مفردات راغب، مادہ قنوت)۔ اس سے قطع نظر ہمیشہ علمی سطح اور سنرا و جزاء کے درمیان قریبی رابطہ رہا ہے جیسا کہ بعض احادیث میں آیا ہے: "ان الثواب على قدر العقل" "اجر انسان کی عقل و آگاہی سے ملتا ہے" (بحوالہ: اصول کافى، جلد اوّل ص ٩ کتاب العقل و الجہل)۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "انما يداق الله العباد في الحساب يوم القيامة على قدر ما أتاهم من العقول في الدنيا" "خداوند عالم قیامت کے دن بندوں کا حساب دنیا میں انہیں دی گئی عقل کے مطابق لے گا"۔ (بحوالہ: اصول کافى، جلد اوّل ص ٩ کتاب العقل والجہل)۔ یہاں تک کہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "عالم کی توبہ بعض مراحل میں قبول نہیں ہو گی (پھر اس آیہ شریفہ سے آپ نے استنا و فرمایا)۔ "إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ" (توبہ تو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو جہات سے اور نادانی سے برا کام انجام دیتے ہیں)۔ (نساء۔ ١٧)۔ (بحوالہ: اصول کافى، جلد اوّل ص ۳٧ (باب لزوم الحجۃ على العالم)۔ یہاں پر واضح ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے "مضاعف" یا "مرتين" کا مفہوم بیان ثواب و عقاب کی افزائش ہے۔ کبھی دوگنا اور کبھی اس سے زیادہ، بالکل ان اعداد کی طرح جن میں "کثرت" کا مفہوم ہوتا ہے۔ خصوصًا راغب اپنی كتاب مفردات میں "ضعف" کے معنی کے بارے میں کہتے ہیں: "صاعفته ضممت اليہ مثله فصاعدًا" "میں نے اسے مضاعف کیا یعنی اس کی مانند یا بیشتر اور کئی گنا کا اس میں اضافہ کیا"۔ (غور کیجئے گا) مذکورہ روایت جس میں ہم نے عالم و جاہل کے گناہ کے فرق کے بارے میں ستر تک کے برابر کا ذکر کیا ہے، اس مدعا پر ایک اور گواہ ہوا ہے۔ اصولی طور پر افراد کی اجتماعی حیثیت اور ان کا معاشرتی مرتبہ نیز معاشرے میں ان کا اسوہ اور نمونہ ان کی سزا و جزا میں کمی بیشی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس بحث کو ہم امام سجاد علیؑ بن الحسین علیہ السلام کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ کسی نے امام سے عرض کیا: "انكم اهل بیت مغفور لكم"۔ "آپ کا وہ خاندان ہے جسے خدا نے بخش دیا ہے"۔ امامؑ غصے میں آ کر فرمانے لگے: "نحن احری ان یجری فینا ما اجری الله في أزواج النبی(ؐ) من ان نكون كما تقول: أنانری لمحسننا ضعفين من الأجر ولمسيئنا ضعفين من العذاب، ثم قرء الايتين" "خداوند عالم نے جو حکم ازواج پیغمبر کے بارے میں جاری کیا ہے، ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں بھی جا رہی ہو، نہ اس طرح جیسے تو کہتا ہے۔ ہم اپنے نیکوکاروں کے لیے دوہرے اجر کے اور بدکاروں کے کیلئے دوگنا عذاب اور سزا کے قائل ہیں۔ پھر آپ نے شاہد کے طور پر زیربحث دو آیات کی تلاوت فرمائی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد٨ ص ۳٥۴ زیربحث آیت کے ذیل میں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ازواج نبیؐ کو کیسا ہونا چاہیے:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں ازواج پیغمبر کی حیثیت اور عظیم ذمہ داری کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں بھی یہ موضوع اسی طرح جاری و ساری ہے۔ ان چند آیات میں ازواج نبی کو سات اہم حکم دیے گئے ہیں۔ پہلے ایک مختصر سی تمہید میں فرمایا گیا ہے۔ "اے ازواج پیغمبر! اگر تقوٰی اپناؤ تو تم کسی عام عورت کی طرح نہیں ہو": (يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ)- ایک طرف رسول اللہؐ سے تمھاری نسبت ہے۔ دوسری طرف تم مرکز وحی میں موجود ہو، آیات قرآنی سنتی ہو اور تعلیمات اسلامی کو جانتی ہو۔ اس خاص حیثیت کا حامل ہونے کے باعث تم تقوے اور گناہ دونوں میں تمام عورتوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکتی ہو۔ اس بناء پر تم اپنی حیثیت کو پہچانو اور اپنی بھاری ذمہ داری کو طاق نسیاں کے سپرد نہ کرو اور جان لو اگر تم نے تقوٰی اختیار کیا تو بارگاہ خداوندی میں تمھارا بہت ہی مقام و مرتبہ ہو گا۔ اس مقدمے میں قرآن مخاطب کو اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے اور انھیں ان کے مقام یاد دلاتا ہے۔ اس کے بعد پہلا حکم عفت و پاکدامنی کے سلسلے میں صادر کرتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ ایک باریک نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ اس بارے میں دوسرے مسائل خود بخود واضح اور روشن ہو جائیں۔ چنانچہ قرآن فرماتا ہے: "اس بناء پر ہوس انگیز انداز سے بات نہ کیا کرو کہ جس سے دل کے بیمار تمھارے بارے میں للچانے لگیں": (فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ)۔ بلکہ بات کرتے وقت دو ٹوک، سپاٹ اور معمول کے مطابق گفتگو کرو۔ پست عورتوں کی سی گفتگو نہ کرو جو کوشش کرتی ہیں کہ ہیجان انگیز اور تحریک خیز گفتگو ہو جس کے باعث شہوت پرست افراد گناہ کی سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ "الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ" (وہ شخض کہ جس کے دل میں بیماری ہے) کی تعبیر یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ جنسی جذبات کا اعتدال اور مشروع حد میں ہونا عین سلامتی ہے اور جب اس حد سے گزر جائے تو پھر ایک قسم کی بیماری ہے۔ یہاں تک کہ وہ کبھی کبھار جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے جسے "جنسی جنون" سے تعبیر کرتے ہیں۔ دور حاضر میں ماہرین نے ان نفسیاتی بیماریوں کی اقسام کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جو اس طاقت کے حد اعتدال سے تجاوز اور مختلف جنسی آلودگیوں اور گندے ماحول میں پڑ جانے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ آیت کے آخر میں دوسرے حکم کی یوں تشریح کی گئی ہے: تمھیں ایسی شائستہ گفتار کرنا چاہیے جو خدا اور بنی کریمؐ دونوں کی رضا کے مطابق اور حق و عدالت سے مزين ہو"۔ (وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا)۔ حقیقت میں "لَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ" کا جملہ گفتگو کے انداز اور "قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا" گفتگو کے مطالب کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ "قول معروف" (اچھی اور شائستہ گفتگو) کا وسیع مفہوم ہے جو مذکوره معنی کے علاوہ، ہر قسم کی باطل، بے ہودہ، گناہ سے آلودہ اور حق کی مخالفت گفتار کی نفی ہے۔ یاد رہے کہ آخری جملہ ہو سکتا ہے کہ پہلے سے قبلہ کی وضاحت ہے۔ مبادہ کوئی یہ خیال کرے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا طرز تکلم غیر مردوں سے سخت یا خلاف ادب ہونا چاہیے، نہیں بلکہ ان کی گفتگو شائستہ، مودبانہ لیکن کسی تحریک آمیز پہلو کے بغیر ہونا چاہیے۔ تیسرا حکم عفت و پاکدامنی کے سلسلہ میں ہے، ارشاد ہوتا ہے "تم اپنے گھروں میں رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح لوگوں کے سامنے نہ آؤ "اور اپنے بدن اور اس کی زینت کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرو": (وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى)۔ "قرن"، "وقار" کے مادہ سے بوجھ کے معنی میں ہے اور گھروں میں ٹھہرے رہنے کے لیے کنایہ ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ" قرار" کے مادہ سے ہے، جو نتیجے کے مادہ سے ہے جو نتیجے کے لحاظ سے پہلے معنی ہے چنداں مختلف نہیں۔ (تشریحی نوٹ: البتہ اگر اس صورت میں جب کہ قرار کے مادہ سے ہو، اس کا فعل امر "اُقررن" ہو گا جس کی پہلی "راء" تخفیف کے عنوان سے حذف ہوئی ہے اور اس کا فتح قاف کی طرف منتقل ہوا ہے جس کی وجہ سے حمزہ وصل کی ضرورت نہیں رہی ۔ یہ " قرن" ہو گیا ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ "تبرج" کا معنی ہے لوگوں کے سامنے ظاہر ہونا اور "برج" کے مادہ سے لیا گیا ہے اور "برج" اس چیز کو کہتے ہیں جو سب کی نگاہوں کے سامنے ہو۔ باقی رہا یہ کہ جاہلیت اولٰی سے کیا مراد ہے؟ تو ظاہرًا اس سے مراد جاہلیت ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے پہلے تھی اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے کہ اس زمانے میں عورتیں ٹھیک طرح سسے پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ اپنے دوپٹے کا ایک حصہ اپنی پشت پر اس طرح ڈال لیتی تھیں جس سے ان کا گلا، سینہ اور گردن کا ایک حصہ اور گوشوارے دکھائی دیتے تھے۔ قرآن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کو اس قسم کے اعمال سے روکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک حکم ہے اور آیات کا ازواج پیغمبر کو مخاطب کرنا زیادہ تاکید کے لیے ہے۔ بالکل اس طرح جیسے کہ کسی دانشور سے کہیں کہ آپ تو ایک عالم میں جھوٹ نہ بولا کریں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسروں کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ ایک عالم کو زیادہ سختی کے ساتھ اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بہرحال، یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ کوئی دوسری جاہلبیت عربوں کی جاہلیت کی طرح درپیش ہے کہ جس کے آثار ہم قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق اپنی متمدن مادی دنیا میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ مفسرین کے سامنے چونکہ ایسی چیز نہ تھى لہذا وہ اس لفظ کی تفسیر میں مشقت میں پڑے رہے اور وہ آدمؑ اور نوحؑ کے درمیانی فاصلے کو "جاہلیت اولٰی" سے تعبیر کرتے تھے۔ یا پھر داؤدؑ اور سلیمانؑ کے عصر کے درمیانی فاصلے کو جاہلیت کہتے تھے جس میں عورتیں ایسا نفیسں لباس پہن کر باہر نکلتی تھیں، جس سے بدن جھلکتا تھا، اس طرح سے وہ اسلام سے پہلے والی جاہلیت کو "جاہلیت ثانیہ" سمجھتے ھے۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ان تمام باتوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ "جاہلیت اولٰی" وہی اسلام سے پہلے والی جاہلیت ہے کہ جس کی طرف قرآن میں کئی جگہوں پر ارشاد بھی ہوا ہے۔ (آل عمران ١۴۳، مائده ٥٠ اور فتح ١٢۶ ) اور "جاہلیت ثانیہ" وہ جاہلیت ہے جو بعد میں پیدا ہو گی (جیسا کہ ہمارا زمانہ ہے)۔ اس موضوع کی مزید تفصیل نکات کی بحث میں پیش کریں گے۔ آخر میں چوتھے، پانچویں اور چھٹے حکم کو بیان فرمایا گیا ہے۔ "تم (پیغمبر کی بیویو!) نماز قائم کرو، زکواة ادا کرو، خدا اوراس کے رسول کی اطاعت کرو"۔ (وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ)۔ اگر عبادات میں سے نماز اور زکوٰۃ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز خالق کے ساتھ اہم ترین رابطہ ہے اور زکوة بھی باوجود اس کے کہ ایک عظیم عبادت ہے، مخلوق خدا کے ساتھ ایک اور اٹوٹ رابطہ بھی ہے۔ باقی رہا "َأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ" تو یہ ایک کلی حکم ہے اور خدا کی طرف سے مقرر کردہ تمام امور پر جاری ہے۔ یہ تین احکام بھی واضح کرتے ہیں کہ زیربحث احکام ازواج نبیؐ کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لیے ہیں۔ اگرچہ ازواج بنیؐ کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ الله تعالی آیت کے آخر میں فرماتا ہے۔ "اے اہل بیت! خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ نجاست اور گناہ کو تم سے دور رکھے اور تمھیں ہر طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے"۔ (إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا)۔ "انما" کی تعبیر جو عام طور پر"حصر" کے لیے ہے اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نعمت خاندان پیغمبر اکرم علیہم السلام سے مخصوص ہے۔ لفظ "يريد" پروردگار کے اراده تکوینی کی طرف اشارہ ہے ورنہ ارادۂ تشریعی اہل بیت پیغمبر کے ساتھ مخصوص نہیں ہو گا، بلکہ سب لوگ بغیر کسی استثناء کے حکم شریعت کے تحت اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک رہیں۔ ہو سکتا ہے، کہا جائے کہ اردۂ تکوینی تو ایک قسم کے جبر کا موجب ہے، لیکن جب ان بحثوں کی طرف توجہ کی جائے جو انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے معصوم ہونے کے بارے میں کی جاتی ہیں تو اس بات کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور یہاں پر بطور خلاصہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ معصومین ایک طرف کو اپنے اعمال کی وجہ سے ایک قسم کی اکتسابی لیاقت کے حامل ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار کی طرف سے ذاتی اور وہبی لیاقت رکھتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے لیے نمونہ و اسوہ بن سکیں۔ دوسرے لفظوں میں معصومین کی ہمت تائیدات الٰہی اور اپنے پاک اعمال کی وجہ سے ایسی ارفع و اعلٰی ہے کہ گناہ پر قدرت و اختیار رکھنے کے باوجود گناہ کی طرف نہیں جاتے، یوں سمجھیئے کہ کوئی عقلمند قطعًا تیار نہیں ہو گا کہ آگ کا انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لے، باوجود یکہ اس میں نہ کوئی جبر ہے نہ اکراہ، بلکہ یہ ایسی حالت ہے جو کسی قسم کے جبر و اکراہ کے بغیر خود انسان کے وجود کے اندر سے اس کے علم و آگاہی اور فطری و طبعی مبادیات کی وجہ ابھرتی ہے۔ لفظ "رجس" ناپاک شی کے معنی میں ہے خواہ وہ انسان کے مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے ناپاک ہو یا عقلی علم کی وجہ سے یا شریعت کی رو سے یا ان سب وجوہ کے اعتبار ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے کتاب مفردات میں رجس کے مادہ میں مذکورہ بالا معنی اور اس کے چار قسم کے مصداق کو بیان کیا ہے)۔ یہ جو بعض نے "رجس" سے گناہ، شرک، بخل و حسد یا باطل اعتقاد وغیرہ مراد لیا ہے تو درحقیقت، یہ اس کے مصادیق کا بیان ہے ورنہ اس لفظ کا مفہوم عام اور وسیع ہے اور ہر قسم کی نجاست اس کے معنی میں شامل ہے، کیونکہ الف لام یہاں جنس پر دلالت کرتا ہے۔ "تطهير" کا معنی ہے پاک کرنا اور حقیقت میں نجاستوں اور ناپاکیوں کو دور کرنے کے بارے میں تاکید ہے۔ نیز اس کا مفعول مطلق کی شکل میں ہونا یہاں اس معنی کی ایک اور تاکید شمار ہوتا ہے۔ باقی رہی "اہل بیت" کی تعبیر تو تمام علماء اسلام اور مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ جناب پیغمبر کے اہل بیت کی طرف اشاره ہے یہی بات خود آیت سے ظاہر سے بھی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ "بیت" اگرچہ یہاں مطلق صورت میں ذکر ہوا ہے لیکن قبل و بعد کی آیات کے قرینے سے اس سے مراد پیغمبر اکرمؐ کا بیت اور گھر ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے "بیت" کو یہاں "بیت اللہ الحرام" اور کعبہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور اس کے اہل متقی افراد کو شمار کیا ہے۔ یہ بات آیات کے سیاق سے بہت ہی غیر مناسب ہے کیونکہ یہاں گفتگو پیغمبر اکرمؐ اور ان کے گھر کے بارے میں ہے نہ کہ وہ بیت اللہ الحرام کے متعلق اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کے لیے کوئی بھی قرینہ موجود نہیں ہے)۔ باقی رہا یہ کہ "اہل بیت پیغمبرؐ" سے مراد کون لوگ ہیں تو اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اسے ازواجِ پیغمبرؐ کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں اور قبل و بعد کی آیات کو جو ازواج کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس کا قرینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک مطلب کی طرف توجہ کرنے سے اس نظریہ کی نفی ہو جاتی ہے اور وہ ہے کہ وہ ضمیریں جو قبل و بعد کی آیات میں آئی ہیں سب کی سب جمع مونث کی شکل میں ہیں جب کہ آیت کے اس حصے"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا" کی ضمیریں سب جمع مذکر کی شکل میں ہیں اور یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں کوئی دوسرا معنی مراد ہے۔ اس لیے بعض دوسرے مفسرین نے اس سے وسیع تر نظریہ اختیار کرتے ہوئے آیت میں پیغمبر اکرمؐ کے سارے خاندان کو شامل سمجھا ہے چاہے وہ مرد ہوں یا آپ کی بیویاں۔ دوسری طرف بہت زیادہ روایات جو اہل سنت اور شیعہ منابع و مصادر میں وارد ہوئی ہیں ایک اور معنی دیتی ہیں اور پیغمبر اکرمؐ کے سارے خاندان کے شمول کی بھی نفی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس آیت میں مخاطب صرف پانچ افراد ہیں، یعنی حضرت پیغمبر اکرمؐ حضرت علیؑ و حضرت فاطمیہؑ، امام حسنؑ اور امام حسین علیہ الصلوة والسلام۔ تو اس قدر وافر مقدر میں نصوص کے ہوتے ہوئے ہر آیت کے مفہوم کی تفسیر کے لیے روشن قرینہ ہیں اس آیت کے لیے قابل قبول تفسیر وہی تیسرا معنی ہے یعنی آیت "خمسہ طیبہ"سے مختص ہے۔ یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت پیغمبر کی ازواج کی ذمہ داریوں کے ذکر کے بیچ میں یہ بات کیونکر آ گئی ہے کہ جس میں پیغمبر اکرمؐ کی بیویاں شامل نہیں ہیں؟ تو اس کا جواب بزرگ مفسرم مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس طرح دیتے ہیں: یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آیات قرآن میں ہم ایسی آیات کا سامنا کر رہے ہیں کہ جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہونے کے باوجود مختلف موضوعات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح قصحاء عرب کے کلام و اشعار میں بھی اس کے وافر نمونے ملتے ہیں۔ تفسیر المیزان کے عظیم مولف نے اس پر ایک اور جواب کا اضافہ کیا ہے کہ جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ...." کا جملہ ان آیات کے ساتھ نازل ہوا ہے، بلکہ روایات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ یہ حصہ علیحده نازل ہوا ہے، لیکن پیغمبر اکرمؐ کے دور میں آیات قرآن کی جمع آوری کے موقع پر یا اس کے بعد ان آیات کے ساتھ قرار دیا گیا ہے۔ اس سوال کا جو تیسرا جواب دیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن چاہتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی بیویوں سے کہے کہ تمھاری نسبت ایک ایسے گھرانے سے ہو گئی ہے کہ جس کے افراد معصوم ہیں تو جو کوئی شجر عصمت کے سائے میں اور معصومین کے مرکز میں اور وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ دوسروں کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ خبردار ہو اور اس بات کو نہ بھول جائے کہ جس کی نسبت ایسے خاندان سے ہو کہ جس میں پانچ پاک و معصوم ہستیاں موجود ہیں،اس کی ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں۔ خدا اور خلق خدا اس سے بہت سی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ انشاءاللہ ہم نکات کی بحث میں ان سنی و شیعہ روایات کے بارے میں تفصیل سے بحث کریں گے جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں۔ آخری زیربحث آیت میں ازواج پیغمبر کا ساتواں اور آخری حصہ بیان ہوا ہے اور ان سب خبردار اور متنبہ کیا گیا ہے کہ بہترین موقع انھیں میسر ہے اس سے استفادہ کریں اور حقائق اسلام سے آگاہی حاصل کریں، چناچہ فرمایا گیا ہے۔ "تمھارے گھروں میں خدائی آیات اور حکمت و علم کی تلاوت ہوتی ہے اسے یاد کرو" اور اس کے سائے میں اپنی اصلاح کرو، کیونکہ بہترین موقع تمھارے ہاتھ میں ہے"۔ (وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ)- تم وحی کے مقام اور نور قرآن کے مرکز و منبع موجود ہو، یہاں تک کہ اگر تم گھر میں بھی بیٹھی ہو تو بھی پیغمبر اسلامؐ کی زبانی تمھارے گھر کی فضا آیات سے گونج رہی ہے۔ لہذا تھمیں چاہئے کہ شایان شان طریقے سے اسلامی تعلیمات اور پیغمبرؐ کے ارشادات سے بہرہ مند ہو جب کہ رسول اللہؐ کا ہر سانس درس ہے اور ہر بات ایک راہ عمل متعین کرتی ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ "آیات اللہ" اور"حکمت" کے درمیان کیا فرق ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ دونوں الفاظ قران کی طرف اشارہ ہیں۔ البتہ "آیات" کی تعبیر اس کے اعجاز کے پہلو کو بیان کرتی ہے اور حکمت کی اس کے عمیق اور گہرے مفہوم اور علم کو بیان کرتی ہے۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ "آیت الله" آیات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور "حکمت" سنت پیمغبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے حکیمانہ پند و نصائح کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ دونوں تفاسیر آیت کے مقام و الفاظ سے مناسبت رکھتی ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے، کیونکہ "تلاوت" کی تعبیر آیات الٰہی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ علاوہ، ازیں، قرآن کی متعدد آیات میں آیات اور حکمت دونوں کے بارے میں نزول کی تعبیر آئی ہے۔ مثلًا سوره البقرہ کی آیت ٢۳١ (وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ) اسی طرح سوره نساء کی آیت ١١۳ میں بھی آیا ہے۔ خلاصہ کلام کے طور پر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: "خدالطیف و خبیر ہے"۔ (إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا)۔ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہایت ہی گہرے اور باریک مسائل سے بھی باخبر اور آگاہ ہے اور تمھاری نیتوں کو بھی اچھی طرح سے جانتا ہے اور تمھارے سینوں کے اندرونی اسرار سے بھی باخبر ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب "لطیف" کی تفسیر ایسی ذات سے کی جائے جو باریک ہیں اور ذره ذره سے باخبر ہو، اور اگر صاحب لطف مراد ہو تو یہ اس طرف اشارہ ہو گا کہ اللہ تم ازواج رسول کی نسبت لطف و رحمت رکھتا ہے اور تمھارے اعمال سے "خبیر" اور آگاہ ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "لطيف" آیات قرآنی کے اعجاز کی بناء پر ہے اور"خبیر" اس کے حکمت آمیز مضمون کی بناء پر ہے۔ اس کے باوجود ان معانی کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ سب مطالب مفہوم آیت میں جمع ہو سکتے ہیں۔
چند اہم نکات ١- آیت تطہیر عصمت کی واضح دلیل:
بعض مفسرین " رجس" کو آیت میں صرف شرک یا زنا جیسے گناہان کبیرہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جبکہ اس محدودیت کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ " الرجس" کا اطلاق (اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس کا الف اور لام، جنس کے لیے ہے) ہر قسم کی ناپاکی اور گناہ کا مفہوم لیے ہوئے ہے کیونکہ بر گناہ "رجس" ہے اسی لیے یہ لفظ قرآن میں "شرک"، "الکحل والے مشروبات"، "جوا"، "نفاق"، "حرام و ناپاک گوشت" اور اس قسم کی دوسری چیزوں کے معنی میں آیا ہے۔ (حج -۳٠، مائد ۔ ٩٠- ، توبہ- ١٢٥، انعام - ١۴٥)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدائی ارادہ تخلف ناپذیر ہے اور إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ" کا جملہ اس کے حتمی ارا دہ پر دلیل ہے خصوصًا "انّما" کے لفظ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو حصر اور تاکید کے لیے ہے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کا یہ قطعی ارادہ ہے کہ اہل بیتؑ ہر قسم کے رجس نجاست اور گناہ سے پاک ہوں اور اسی چیز کا نام عصمت ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں اراده الہی سے مراد حلال و حرام کے بارے میں اس کے احکام اور فرامین نہیں ہیں، کیونکہ یہ احکام تو سب کے لیے ہیں اور اہل بیتؑ سے اختصاص نہیں رکھتے۔ اس بناء پر وہ لفظ "انّما" کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ پس یہ مسلسل اور متواتر ارادہ ایک قسم کی خدائی امداد کی طرف اشارہ ہے جو اہل بیتؑ کی عصمت اور اس کے دوام و تسلسل کے لیے ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اراده و اختیار کی آزادی کے بھی منافی نہیں ہے جیساکہ ہم تشریح کر چکے ہیں۔ حقیقت میں آیت کا مفہوم وہی ہے جو "زیارت جامعہ"میں آیا ہے۔ "عصمكم الله من الذلل وامنكم من الفتن، وطهّركم من الدنس، وأذهب عنكم الرجس، وطهّركم تطهيرًا" " خدا نے لغزشوں سے تمھاری حفاظت کی اور انحراف و کج روی کے فتنے سے امان میں رکھا اور آلودگیوں سے پاک رکھا تم سے ہر قسم کی ناپاکیوں اور نجاستوں کو دور کیا اور جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے تمہیں پاک رکھا"۔ اس وضاحت کے بعد اوپر والی آیت کے عصمت اہل بیت پر دلالت کرنے میں شک و تردید نہیں کرنا چاہیے۔
٢- آیت تطہیر کن افراد کے بارے میں ہے؟
ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ ان آیات کے درمیان آئی ہے جو پیغمبر اکرمؐ ازواج سے مربوط ہیں لیکن اس کے سیاق کی تبدیلی ("جمع مونث" کی ضمائر کو "جمع مذکر" میں تبدیل کرنا) اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مضمون ان آیات سے بالکل الگ ہے۔ اسی بناء پر ان لوگوں کا نظریہ بھی درست نہیں جو آیت کو پیمغبر اکرمؐ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، حضرت حسن و حضرت حسین علیہم اسلام سے مخصوص نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے وسیع معنی کے قائل ہیں کہ آیت ان بزرگواروں کے بارے میں بھی ہے اور پیغمبراکرمؐ کی بیویوں کے بارے میں بھی۔ ہمارے پاس بہت سی روایات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ آیت صرف بزرگواروں کے ساتھ مخصوص ہے اور ازواج پیغمبر اس میں داخل نہیں ہیں اگرچہ شایان شان احترام کے لائق ہیں۔ ہم ذیل میں ان میں چھ روایات قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ (الف) کچھ روایات وہ ہیں جو خود پیغمبر اکرمؐ کی ازواج سے نقل ہوئی ہیں اور بتاتی ہیں کہ جس وقت پیغمبر اکرمؐ اس آیت شریفہ کے بارے میں بات کرتے تو ہم آپ سے سوال کرتیں کہ ہم بھی اس کے مخاطب ہیں تو آپؐ فرماتے کہ تم اچھی تو ہو لیکن اس میں شامل نہیں ہو۔ ان میں سے ایک روایت ثعلبی نے اپنی تفسیر میں جناب "ام سلمہ" سے نقل کی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ اپنے گھرمیں تھے کہ حضرت فاطمہؑ ریشمی کپڑا لائیں تو رسول اللہؐ نے فرمایا اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں حسنؑ و حسینؑ کو بلاؤ۔ فاطمہؑ انھیں بھی بلا لائیں، پھر ان سب نے مل کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد رسول اللہؐ نے ان پر عبا ڈال دی۔ اور کہا: "اللّٰهُم هؤلاء اهل بيتي و عترتی فاذهب عنهم الرجس وطهّرهم تطهيرًا" خداوندا یہ میرے اہل بیت ہیں اور میری عترت ہیں، ان سے ہر قسم کی نجاست دور رکھ اور انھیں پاک رکھ جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس موقع آیت "انما یرید اللہ" نازل ہوئی۔ میں نے کہا کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اے رسول خدا؟ فرمایا (انّک الى خير) "تو خیر اور نیکی پر ہے"، لیکن ان افراد کے زمرے میں شامل نہیں ہو۔ نیز ثعلبی حضرت عائشہ سے یوں نقل کرتے ہیں۔ "جس وقت بی بی عائشہ سے جنگ جمل کے بارے میں اور اس تباہ کن جنگ میں ان کے عمل دخل کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو (انھوں نے افسوس کے ساتھ) کہا یہ ایک تقدیر خداوندی تھی اور جب ان سے حضرت علیؑ کے بارے میں سوال ہوا تو کہا: "تسئلنى عن احبّ النّاس كان الى رسول اللهؐ و زوج احبّ الناس كان الى رسول الله لقد رأيت عليًا و فاطمة و حسنًا و حسينًا عليهم السلام و جمع رسول اللہ ( ؐ) بثوب علهم ثُمّ قال: اللّٰهُم هٰؤلاء اهل بيتي و حامتی فاذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرًا قالت، فقلت یارسول الله انا من اهلك قال تنحي فائك الى خير" "کیا مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھتے ہو جو رسول اللہؐ کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب اور آنحضرتؐ کے نزدیک محبوب ترین خاتون کے شوہر تھے، میں نے اپنی ان آنکھوں سے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ، حسینؑ کو دیکھا کہ پیغمبر اسلامؐ نے انہیں ایک کپڑے کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: خداوندا! یہ میرے اہل بیت اور میرے حامی و مددگار ہیں ان سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھ اور انھیں آلودگیوں سے ایسا پاک رکھ جیسا پاک رکھنے کا حق ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہؐ! کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟ فرمایا: پیچھے ہٹو! تم خیر پر ضرور ہو، لیکن ان میں شامل نہیں ہو۔ (بحوالہ: مجمع البيان، زیربحث آیت کے ذیل میں)۔ اس قسم کی روایات صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں اس کی آیت میں ازواج رسول، اہل بیت کا جزو نہیں ہیں۔ (ب) حدیث کساء کے بارے میں بہت سی روایات اجمالی طور پر وارد ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی اکرمؐ نے حضرت علیؑ، فاطمہؑ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا، یا وہ حضرات خود آپؐ کی خدمت میں آئے اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اوپر عبا ڈالی اور بارگاہ الہی میں عرض کیا: "خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ہر قسم کی رجس و آلودگی کو دور رکھ"۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ" مشہور عالم، حاکم حسکانی نیشاپوری نے "شواہد التنزیل" میں ان روایات کو متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے اور مختلف راویوں سے جمع کیا ہے۔ (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد ٢ ص ۳١)۔ یہاں پر یہ سوال توجہ طلب ہے کہ آخر اہل بیتؑ کو کساء کے نیچے جمع کرنے کا مقصد کیا تھا؟ جوابًا عرض ہے کہ گویا پیغمبر چاہتے تھے کہ اپنے اہل بیتؑ کو مکمل طور پر نمایاں اور ممتاز کر دیں اور بتا دیں کہ یہ آیت صرف انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مبادا کوئی شخص رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گھروں اور ان تمام افراد کو جو آپ کے خاندان میں تھے، اس آیت کا مصدق سمجھ لے، حتٰی کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا: "اللّٰهم هؤلاء اهل بیتی و خاصتي فاذهب عنهم الرّجس و طهرهم تطهيرًا" "خداوندا! میرے اہل بیت میں یہی ہیں، ان سے ہر قسم کی نجاسات کو دُور رکھ"۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور آیت زیر بحث کے ذیل میں)۔ (ج)ٍ بہت سی دوسری روایات میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم، چھ ماہ تک جب بھی صبح کی نماز کے وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو پکار کہتے: "الصلوة يا اهل البیت! انّما یریدالله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطيرًا" نماز کا وقت ہے اے اہل بیت! خدا چاہتا ہے ہر قسم کی نجاست اور پلیدی کو تم اہل بیت سے دور رکھے اور تمہیں ایسا ہی پاک رکھے، جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس حدیث کو حاکم حسکانی نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد٢ ص ١١)۔ ایک اور روایت میں ابو سعید خدری کے واسطے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے سلسلہ آٹھ یا نو ماہ تک جاری رکھا۔ (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد٢ ص ٢٨۔٢٩)۔ مذکورہ بالا حدیث کو ابن عباس نے بھی آنحضرتؐ سے نقل کیا ہے۔ (بحوالہ: درمنثور زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ نکته قابل توجہ ہے کہ اس آیت کا تکرار چھ، آٹھ یا نو تک مسلسل فاطمه زهرا علیها السلام کے گھر کے پاس اس بناء پر ہے تاکہ یہ بات مکمل طور پر واضح ہو جائے اور آئندہ کسی شخص کے لیے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے کہ یہ آیت صرف انہی ذوات مقدسہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن کے گھر کا صدر دروازہ مسجد نبوی میں اس وقت بھی کھلتا تھا، جب آنحضرتؐ کے حکم سے دوسروں کے دروازے مسجد کی طرف بند کر دیئے تھے، فطری بات ہے کہ بہت سے افراد ہمیشہ نماز کے وقت یہ بات وہاں پیغمبر کی زبان مبارک سے سنتے تھے۔ (غور کیجیئے گا) مقام تعجب ہے کہ اس کے باوجود بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے اور ازواج رسول بھی اس میں شامل ہیں جبکہ علما اسلام کی اکثریت خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت اسے پنجتن بی میں محدود سمجھتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر یہ آیت ازواج کے لیے بھی ہوتی تو زوجہ رسولؐ جناب عائشہ نے اپنی گفتگو کے دوران میں کسی نہ کسی مناسب موقع پر اس کا اظہار ضرور کیا ہوتا، کیونکہ روایات کے مطابق اانھوں نے اپنے فضائل اور آنحضرتؐ سے اپنے رابطے کو بیان کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، جبکہ اس سلسلہ میں ان سے کسی قسم کی کوئی چیز روایت نہیں ہوئی۔ (د) رسول النبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے مشہور صحابی حضرت ابو سعید خدری(رض) سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جو صراحت کے ساتھ گواہی دیتی ہیں کہ: "نزلت فی خمسة فی رسول الله وعلى وفاطمة والحسن والحسين۔ (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد ۴ ص ٢٥)۔ یعنی یہ روایت صرف انہی پاک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ روایات اس قدر زیادہ ہیں کی بعض محققین انہیں متواتر جانتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے ابھی بیان کیا ہے، اس کا مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ احادیت کے مآخذ اور راوی جو آیت کو صرف پنج تن پاک میں منحصر سمجھتے ہیں، اس قدر زیادہ ہیں کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، یہاں تک کہ "احقاق الحق" کی شرح میں ستر سے زیادہ احادیث اہل سنت کی مشہور کتابوں سے جمع کی گئی ہیں اور شیعی مآخذ میں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ (بحوالہ: احقاق الحق، جلد ٢ اور اس کے حواشی کی طرف رجوع کریں)۔ کتاب "شواہد التنزیل" کے موتف نے جو برادران اہلسنت کے مشہور علماء میں سے ہیں اس سلسلے میں ١۳٠، احادیث نقل کی ہیں۔ (بحوالہ: شواہد التنزیل، جلد ۴ ص ١٠ سے لے کر ص ٩٢ تک رجوع کریں)۔ ان سب امور سے قطع نظر بعض ازواج پیغمبرؐ نے اپنی زندگی کے دوران میں ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ جو ہرگز مقام عصمت کے لائق نہیں۔ مثلاً جنگ جمل کا واقعہ، جو امام اس وقت کے خلاف قیام تھا اور زبردست خون ریزی کا سبب بنا، بعض مورخین کے بقول اس جنگ میں ستره ہزار افراد مارے گئے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ واقعہ کسی بھی طرح قابل توجیہ نہیں ہے یہاں تک کہ ہم دیکھتے ہیں کی خود حضرت عائشہ بھی اس حادثے کے بعد اظہار ندامت کیا کرتی تھیں جس کا ایک نمونہ گزشتہ مباحث میں پیش کیا جا چکا ہے۔ حضرت عائشہ کا اسلام کی بزرگ ترین، فدا کار ترین اور با فضیلت ترین خاتون جناب خدیجۃ الکبریؑ پر تنقید کرنا تاریخ اسلام کے سینے میں اب تک محفوظ ہے۔ یہ عیب جوئی اسلام کے گرامی قدر رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اس قدر ناگوار گزری کہ شدت غضب سے آپ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور فرمایا۔ "خدا کی قسم مجھے اس سے بہتر بیوی نصیب نہیں ہوئی، وہ اس وقت ایمان لائیں جب باقی لوگ کافر تھے اور اس وقت سارا مال میرے سپرد کر دیا جب سب لوگ مجھ سے کٹے ہوئے تھے۔ (بحوالہ: صحیح بخاری اور صحیح مسلم، المراجعات ص ٢٢٩ خط ٧٢ کے مطابق)۔
۳- خدا کا ارادہ تشریعی ہے یا تکوینی؟
ہم نے آیت کی تفسیر کے دوران میں اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ" میں ارادہ سے مراد اراده تشریعی نہیں، بلکہ اردۂ تکوینی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذہن نشیں کریں کہ اراده تشریعی سے مراد خدا کے اوامر و نواہی ہیں۔ مثلًا خدا ہم سے نماز، روزه، حج و جہاد وغیرہ چاہتا ہے اور یہی ارادہ تشریعی ہے۔ معلوم ہوا کہ اردۂ تشریعی کا ہمارے اعمال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے نہ کہ خدا کے افعال کے ساتھ۔ حالانکہ زیر بحث آیت میں ارادے کا تعلق خدا کے فعل کے ساتھ ہے، قرآن کہتا ہے: خدانے ارادہ کیا ہے تم اہل بیت سے ہر قسم کی نجاست اور پلیدی کو دُور رکھے اس بناء پراس قسم کا ارادہ تکوینی ہونا چاہیے جو عالم تکوین میں خدا کی مشیت سے مربوط ہے۔ مزید برآں، پاکیزگی اور تقوٰے کے سلسلہ میں ارادہ تشریعي کا مسئلہ اہل بیتؑ کے ساتھ مخصوص نہیں رہتا، کیونکہ خدا نے تو سب لوگوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ پاک ہوں اور تقوٰے اختیار کریں اور اہل بیتؑ کے لیے کوئی اعزاز نہیں ہو گا کیونکہ تمام مکلف اسی حکم میں شامل ہیں۔ بہرحال، یہ موضوع یعنی ارادہ تشریعی نہ صرف یہ کہ ظاہراً آیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں بلکہ گزشتہ آیات کے ساتھ بھی کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ وہ سب احادیث ایک اعلی خصوصیت اور زبردست قدر و قیمت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں جو اہلبیتؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ "رجس" یہاں پر ظاہری نجاست کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ باطنی ناپاکیوں کی طرف اشارہ ہے اور اسے شرک و کفر اور منافی عفت اعمال وغیرہ میں محدود نہیں کیا جا سکتا اور ہرقسم کے اعتقادی، اخلاقی اور عملی گناہ اور آلودگیاں اس میں شامل ہیں۔ دوسرا نکتہ جس کی طرف غور سے توجہ کرنا چاہئے یہ ہے کہ اراده تکوینی جو خلقت آفرنیش کے معنی میں ہے یہاں مقتضی کے مفہوم میں ہے کہ علت تامہ کے معنی میں، جو موجب جبر و اکراہ اور باعث سلب اختیار ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مقام عصمت تقوائے الہی کی ایک حالت ہے جو پروردگار کی مدد سے انبیاء اور ائمہ میں پیدا ہوتی ہے، لیکن اس حالت کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ وہ گناہ نہ کر سکیں بلکہ وہ اس کام کی قدرت رکھتے ہیں لیکن اپنے ارادہ و اختيار کے ساتھ گناہ کے نزدیک نہیں جاتے۔ بالکل اس ماہر طبیب کی مانندہ کسی زہریلی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا کیونکہ وہ اس کے یقینی خطرات سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کی بصریت اور فکری و رُوحانی تقاضے اس امر کا سبب بنتے ہیں کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے دست بردار ہو جائے۔ یہاں اس نکتے کو یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ یہ خدائی تقوٰی اس کی خاص دین، عطیہ اور نعمت ہے تو اس نے انبیاء مرسلین اور آئمہ اطہار علیہم السلام کو عطا فرمایا ہے نہ کہ دوسرے لوگوں کو۔ لیکن توجہ رہے کہ خدا نے یہ اعزاز انھیں رہبری اور قیادت کی بھاری ذمہ داری نبھانے کی بناء پر عطا فرمایا ہے اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے اور یہ عین عدالت ہے، بعینہ اس خاص امتیاز کے مانند جو خدا نے آنکھ کے نازک اور بہت ہی حساس پردوں کو دیا ہے، جن سے سارا بدن فائده اُٹھاتا ہے۔ علاوہ ازیں، انبیاء اور آئمہ جس قدر اعزازات کے حامل ہیں اور عنایات الٰہیہ ان کے شامل حال ہیں اسی قدر ان کی ذمہ داری بھی سخت ہوتی ہے اور ان کا ایک ترک اولٰی ؑام افراد کے ایک عظیم گناہ کے برابر شمار ہوتا ہے۔ یہی امر عدالت الٰہی کو واضح کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ ارادہ مقتضی کی صورت میں ارادہ تکوینی ہے (نہ کہ علت تامہ) اور اس کے باوجود نہ تو موجب جبر ہے اور نہ ہی اعزاز کو سلب کرتا ہے۔
۴- بیسوی صدی کی جاہلیت:
جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت "الجاهلية الاولٰى" کی تفسیر کے سلسلے میں زیر بحث آیات میں شک و شبہ کا شکار ہوئی ہے۔ گویا وہ یہ باور نہیں کر سکے کہ ظہور اسلام کے بعد جاہلیت کی کوئی اور قسم بھی دنیا میں ظہور پذیر ہو گئی جس کے سامنے اسلام سے پہلے عربوں کی جاہلیت بھی شرما جائے گی لیکن آج کے زمانے میں یہ امر ہمارے لیے جو بیسویں صدی کی جاہلیت کے وحشت ناک مظاہر کے شاہد ہیں پورے طور پر حل شدہ ہے اور اسے قرآن مجید کی معجزانہ پیش گوئیوں میں سے ایک شمار کرنا چاہیے۔ اگر عرب جاہلیت اولٰی کے زمانے میں جنگ اور غارتگری کا بازار گرم رکھتے تھے اور بطور مثال متعدد بار بازار عکاظ احمقانہ خوں ریزی کا مرکز بنا جس میں کچھ افراد قتل ہو گئے تو ہمارے زمانے کی جاہلیت میں اسی عالمی جنگیں رونما ہوتی ہیں کہ بسا اوقات دو کروڑ افراد ان کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اوراس سے زیادہ تعداد میں لوگ مجروح اور معذور ہو جاتے ہیں۔ اگر جاہلیت عرب میں عورتیں "تبرج بزینت" کرتی تھیں اور اپنے دوپٹے کو اس انداز سے استعمال کرتیں کہ سینے، گلا، گردن کا ہار اور گوشوارے نمایاں ہو جاتے تو ہمارے زمانے میں ایسے کلب club بھی ہیں جنھیں" برہنوں کے کلب" کا نام دیا جاتا ہے (جن کا نمونہ انگلستان میں موجود ہے) ہم نہایت معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ ایسے کلبوں میں لوگ مادر زاد ننگے بن کر جاتے ہیں۔ ساحل سمندر کے پلازوں، سوئمنگ پولوں حتٰی کہ شارع عام پر ہونے والی اخلاقی باختگی ناقابل بیان ہے۔ اگر عربوں کی جاہلیت کے دور میں "زنان آلودہ ذوات الاعلام" (جھنڈے تلے والی بدمعاش عورتیں) جو گناہ کی دعوت کی غرض سے اپنے مکانوں پر جھنڈے نصب کر دیتی تھیں، موجود تھیں، تو ہماری صدی کی جاہلیت میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس بارے میں مخصوص روز ناموں میں ایسے مطالب شائع کرتے ہیں جن کے ذکر سے قلم شرما جاتا ہے اوراس کے مقابلے میں عربوں کی جاہلیت، شرافت نظر آتی ہے۔ قصہ کوتاه ہم ان مفاسد کی کیفیت کے بارے میں کیا کہیں جو ایمان سے خالی اس مادی و مشینی تمدن میں پائے جاتے ہیں جن کو بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور ہم اس مقدس تفسیر کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے ایسے لوگوں کی زندگی کی نشان دہی کرنے کے لیے مشتے نمونہ از خرے دار تھا جو خدا سے اپنا ناتہ توڑ لیتے ہیں اور ہزارہا دانش گاہوں، علمی مراکز اور مشہور دانش مندوں کے باوجود اخلاقی فساد کی دلدل میں پھنس چکے ہیں یا جنسی فساد کی منجدھار میں ڈوب چکے ہیں۔ حتٰی کہ خود انہی مراکز کے دانشور بھی ایسی تباہ کاریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5مفسرین کی ایک جماعت کے مطابق جس وقت جعفر بن ابی طالبؑ کی زوجہ جناب اسماء بنت عمیس اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ سے واپس لوٹیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئیں، سب سے پہلے جو انہوں نے سوالات کیے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ "کوئی چیز عورتوں کے بارے میں بھی قرآن مجید میں نازل ہوئی ہے؟" ازواج رسول نے جواب دیا کہ "نہیں" تو فورًا رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوئیں کہ یا رسول اللہ! کا کیا عورتیں خسارے کا شکار تو نہیں"؟ آنحضرت نے فرمایا :" وہ کیسے"؟ اسماء نے عرض کیا: "قرآن مجید میں مردوں کی طرح ان کے بارے میں کوئی فضیلت نہیں آئی"۔ چنانچہ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اطمینان دلایا کہ عورت اور مرد بارگاہ رب العزت میں قرب منزلت کے لحاظ سے یکساں حیثیت کے حامل ہیں اور ان کی فضلیت اور برتری اعتقاد، عمل اور اسلامی اخلاق کے لحاظ سے ہوتی ہے۔
تفسیر اسلام میں عورت کا مقام:
ازواج رسولؐ کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں گزشتہ آیات میں مذکورہ گفتگو کے بعد زیر نظر آیت میں عورتوں مردوں اور ان کی برجستہ صفات کے متعلق ایک اور مفید گفتگو ہو رہی ہے۔ ان کی دس اعتقادی، عملی اور اخلاقی صفات کو شمار کر کے ان کے عظیم اجر کو آیت کے آخر میں بیان کیا گیا ہے۔ ان دس صفات کا ایک حصہ ایمان کے مراحل کے بارے میں ہے (یعنی زبان سے اقرار، قلب و رُوح سے تصدیق اور ارکان کے ساتھ عمل)۔ اس کا دوسرا حِصّہ زبان و شکم اور جنسی شہوت پر کنٹرول کے بارے میں ہے کیونکہ تینوں عوامل انسان کی زندگی اور اخلاق کے لیے نہایت ہی موثر اور فیصلہ کن نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ ایک اور حصے میں محرومین کی حمایت اور سخت ترین حوادث میں استقامت یعنی صبر کا ذکر ہے جو ایمان کی جڑ ہے۔ آخر میں ان صفات کو اپنائے رکھنے اور انہیں دوام بخشنے یعنی ذکر پروردگار کے متعلق گفتگو چناچہ ارشاد ہوتا ہے: "مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں"۔ (إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ)۔ مومن مرد اور مومن عورتیں: (وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) اور وہ مرد جو حکم خدا کے مطیع اور پیروکار ہیں اور وہ عورتیں جو فرمان حق تعالٰی کی اطاعت کرتی ہیں: (وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ)۔ اگرچہ اس آیت میں مفسرین نے "اسلام" اور "ایمان" کو ایک ہی معنی میں لیا ہے لیکن واضح ہے کہ آیت میں تکرار اس بات کی نشاہدہی کرتا ہے کہ ان کے مرد دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو سورہ حجرت آیہ ١۴ میں آئی ہے: "قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ" "اعراب کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ ابھی تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم اسلام لائے ابھی تو ایمان تمھارے دل کی گہرائیوں میں اترا ہی نہیں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام وہ زبانی اقرار ہے جو انسان کو مسلمانوں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے اور اسی پر اسلامی احکام نافذ ہوتے ہیں، لیکن ایمان، دل کے ساتھ تصدیق کرنے کا نام ہے۔ اسلامی روایات میں بھی اس فرق کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے اسلام اور ایمان کے بارے میں آپؑ سے سوال کیا کہ کیا یہ دونوں میں مختلف ہیں؟ تو امامؑ نے جواب میں فرمایا: "جی ہاں ایمان، اسلام کے ساتھ ساتھ ہے لیکن ممکن ہے کہ اسلام، ایمان کے ساتھ نہ ہو۔ صحابی نے مزید وضاحت چاہی تو امام عالی مقام عليہ السلام نے فرمایا: "الاسلام شهادة أن لا اله الا الله والتصديق برسول الله صلى الله عليه و الهٖ وسلم، به حقنت الدماء، وعليه جرت المناكح والمواریث، وعلى ظاهره جماعة الناس، والايمان الھدي ومايثبت في القلوب من صفة الاسلام، وما ظهر من العمل به" (بحوالہ: - اصول کافی، جلد٢ ص ۴١ "ان الايمان يشرك الاسلام"۔ اسلام توحید کی شہادت اور رسالت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق ہے، جو شخص ان امور کا اقرار کرے، اس کی جان (حکومت اسلامی کی پناہ میں) محفوظ ہو گی اور مسلمانوں کا اس سے شادی بیاه جائز ہو گا اور وہ مسلمانوں کی میراث لے سکتا ہے، لوگوں کا ایک گروہ اس ظاہری اسلام ہی کا مصداق ہے، لیکن ایمان نور ہدایت اور ایسی حقیقت کا نام ہے جو دل میں جا گزیں ہوتی ہے اور ایسے اعمال سے عبارت ہے کہ جو ایمان کے پیچھے چلے آتے ہیں۔ "قانت"، "قنوت" کے مادہ سے ہے اور جس طرح ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ یہ ایسی اطاعت کے معنی میں ہے جس خضوع و خشوع پایا جاتا ہے۔ ایسی عبادت جو ایمان اور اعتقاد کے ساتھ بجا لائی جائے۔ یہ ایمان کے عملی پہلوؤں اور اس کے آثار کی جانب اشارہ ہے۔ اس کے بعد سچے مؤمنین کی ایک اہم ترین صفت یعنی زبان کی حفاظت کرنے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے اور سچے مرد اور سچی عورتیں"۔ (وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ)۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے ایمان کی استقامت اور درستی اس کی زبان کی استقامت پر منحصر ہے۔ چنانچہ ارشاد یوتا ہے: "لا يستقیم ایمان امرءحتی یستقیم قلبہ، ولایستقیم قلبه حتٰى يستقيم لسانہ" "انسان کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل درست نہ ہو، جب تک اس کی زبان درست نہ ہو اس کا دل درست نہیں ہوتا۔ چونکہ مشکلات کے مقابلے میں ایمان کی بنیاد صبرو شکیبائی ہے اور معنویت کے لحاظ سے صبر کا مقام و مرتبہ انسان کے بدن میں مثل"سر" کے ہے۔ لہذا ان کی پانچویں صفت کو یوں بیان کیا گیا ہے" اور صابر و شکیبا مرد اور صابرو با استقامت عورتیں"۔ (وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ)۔ ہم جانتے ہیں کہ اخلاق کے آفات اور اس کے مصائب میں تکبر و غرور اور حب جاء و مال بھی ہیں جب کہ اس کا متضاد "خشوع" ہے، لہذا چھٹی صفت یہ بتائی گئی ہے۔ اور با خشوع مرد اور با خشوع عورتيں"۔ (وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ)۔ (بحوالہ: محجۃ البيضاء جلد ٥ ص ١٥۳)۔ حب جاہ کے علاوہ، حب مال بھی ایک عظیم آفت ہے جس کے چنگل میں پھنس جانا ایک زبردست المیہ ہوتا ہے۔ بلکہ قید و بند سے کم نہیں ہوتا۔ اس کا متضاد "انفاق" اور حاجت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ اس لیے ساتویں صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے اور انفاق کرنے والے مرد اور انفاق کرنے والی عورتیں"۔ (وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ)۔ ہم عرض کر چکے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر انسان ان کے شر سے محفوظ ہو جائے تو بہت سے شرور اور اخلاقی آفات سے بچ جاتا ہے اور وہ ہیں زبان، شکم اور جنسی خواہشات پہلے حصہ میں چوتھی صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے، لیکن دوسرے اور تیسرے حصے میں سچے مومنین کی آٹھویں اور نویں صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "اور وہ مرد جو روزہ رکھتے ہیں اور وہ عورتیں جو روزہ رکھتی ہیں": (وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ)- اور وہ مرد ہر اپنے دامن کو فحش آلودگیوں سے بچاتے ہیں اور وہ عورتیں جو پاک دامن ہیں" (وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ)- اور آخر میں دسویں اور آخری صفت بیان کی گئی ہے کہ جس سے عام گزشتہ صفات کا دوام وابستہ ہے، ارشاد ہوتا ہے۔ "اور وہ مرد جو خدا کر زیادہ یاد کرتے ہیں اور وہ عورتیں جو خدا کو زیادہ یاد کرتی ہیں"۔ (وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ)۔ جی ہاں! وہ خدا کے ساتھ ہر حالت میں اور تمام مقامات پر غفلت اور بےخبری کے پردوں کو اپنے دل سے ہٹا دیتے ہیں شیاطین کے وسوسوں اور بےہودہ خیالات کو دُور کر دیتے ہیں۔ اور اگر ان سے کوئی لغزش سرزد ہو جاتی ہے، تو فوراً اس کی تلافی کر دیتے ہیں تاکہ خدا کے بتائے ہوئے صراط مستقیم سے ہٹ نہ جائیں "ذكر كثيرًا" سے کیا مراد ہے؟ اسلامی روایات اور مفسرین کی گفتگو میں اس کی مختلف تفسیریں بیان ہوئی ہیں جو بظاہر اس کا مصداق شمار ہوں گی اور اس لفظ کا وسیع مفہوم ان سب پر محیط ہو گا۔ منجملہ ان کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ایک مبارک حدیث ہے: "اذا ايقظ الرجل اهله من الليل فتوضا وصليا كتبا من الذاكرين الله كثيرًا والذّاكرات" جب کوئی مرد اپنی بیوی کو رات کے وقت بیدار کرے اور دونوں وضو کر کے نماز (تہجد) ادا کریں تو ان دونوں کا شمار ان مردوں اور عورتوں میں ہو گا جو خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان اور تفسیر قرطبی زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث حضرت امام صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں: جو شخص فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کی تسبیح رات کو پڑھے تو وہ اس آیت کا مصداق ہو گا۔ (بحوالہ: تفسير مجميع البيان اسی آیت کے ضمن میں)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ "ذکرکثیر" یہ ہے کہ: "قیام و قعود کی حالت میں اور بستر پر جاکر خدا کو یاد کیا جائے"۔ تفسیر جو بھی ہو ذکر ہہرحال فکر کی نشانی ہے اور فکر عمل کا مقدمہ اور تمہید ہے اور مقصد قطعًا فکر و عمل سے خالی ذکر نہیں ہے۔ آیت کے آخر میں ایسے مردوں اور عورتوں کے عظیم اجر کو اس طرح بیان کیا گیا۔ "خدا نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم فراہم کر رکھا گیا": (أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا)۔ خداوند عالم پہلے مرحلہ میں ان کے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے جو ان کی رُوح کی آلودگی کا موجب بنتے ہیں، پھر انہیں عظیم اجر عطا کرتا ہے۔ ایسا اجر جس کی عظمت خود اس کے علاوہ، کوئی نہیں جانتا۔ درحقیقت، ان میں سے ایک میں ناگوار حالات کی نفی کا اور دوسرے میں خوشگوار حالات کے پیدا کرنے کا پہلو موجود ہے۔ اجر کی تعبیر ویسے بھی اس کی عظمت کی دلیل ہے اور پھر اس کو "عظیم" کی صفت کے ساتھ موصوف کرنا اس عظمت کی تاکید ہے اور پھر اس عظمت کو مطلق اور بغیر کسی قید کے ذکر کرنا اس کی وسعت و امان کی ایک اور دلیل ہے۔ واضع رہے، جس چیز کو خداوند عظیم با عظمت شمار کرے وہ یقینًا انتہائی عظیم ہو گی۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "اعدّ" (آمادہ کر رکھا ہے) فعل ماضی کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جو یا تو اس اجر کے قطعی اور برخلاف نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ بہشت اور اس کی نعمتیں ابھی سے مومنین کے لیے تیار ہیں۔
خدا کی بارگاہ میں مرد اور عورت برابر ہیں:
بعض لوگ ہی خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے منزلت کا پلڑا مردوں کے لئے بھاری قرار دیا ہے اور اسلامی کارناموں میں عورتوں کو چنداں مقام و منزلت حاصل نہیں شاید انھیں یہ غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ اسلام میں بعض مقامات پر عورت اور مرد کے حقوق اور قوانین کے درمیان فرق ہے جن میں سے آپ کی اپنی علٰیحدہ وجہ اور خاص فلسفہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کے فرق سے قطع نظر کہ جن کی مخصوص معاشرتی حیثیت اور خاص طبعیی حالت ہوتی ہے، انسانی پہلو اور رُوحانی مقامات کے لحاظ سے اسلام کی نظر میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ مذکورہ بالا آیت اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کیونکہ مؤمنین کی خصوصیات اور اعتقادی، اخلاقی اور عمل کے اہم ترین بنیادی مسائل بیان کرتے وقت ترازو کے پلڑوں کے مانند مرد اور عورت کو ایک دوسرے شانہ بشانہ قرار دیا گیا ہے اور ہر دو کے لیے بغیر کسی تھوڑی سی بھی تفاوت اور فرق کے یکساں اجر بیان کیا گیا ہے۔ با الفاظ دیگر مرد اور عورت کے جسمانی فرق کے مانند ان کے روحانی فرق کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور واضح بات ہے کہ یہ فرق انسانی معاشرے کے نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ضروری ہے جس کے نتائج عورت اور مرد کے حقوق کے بعض قوانین میں مرتب ہوتے ہیں لیکن اسلام عورت کی انسانی شخصیت کے بارے میں بعض گزشتہ عیسائی علماء کی طرح یہ سوال نہیں کرتا کہ کیا عورت واقعًا انسان ہے اور آیا اس کے اندر بھی انسانی روح پائی جاتی ہے؟ اسلام نہ صرف اس قسم کے سوال نہیں کرتا، بلکہ انسانی روح کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان کسی قسم کے فرق کا بھی قائل نہیں ہے۔ اسی لیے ہم سورہ نحل کی آیہ ٩٧ میں پڑھتے ہیں: "مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ۔" "جو شخص نیک عمل کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، جبکہ وہ باایمان ہو تو ہم اس کو زندہ کریں گے اور اسے پاکیزہ زندگی بخشیں گے اور اسے اس کے بہترین عمل کا بدلہ دیں گے۔ اسلام عورت کے لیے اسی طرح اقتصادی آزادی کا قائل ہے۔ جس طرح مرد کے لیے، برخلاف گزشتہ بلکہ موجودہ زمانہ کے بہت سے قوانین کہ جن میں عورت کو کسی قسم کی اقتصادی آزادی نہیں دی گئی۔ اسی بناء پر اسلامی "علم الرجال" میں ہمیں ایسی صاحبان علم خواتین کا تذکرہ بھی ملتا ہے جو فقہا اور راویوں کی صف میں موجود ہیں اور جنھین ناقابل فراموش شخصیات کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ اگر ہم اسلام سے پہلے کی عرب تاریخ کی طرف لوٹیں اور اس معاشرے میں عورت کی کیفیت کے سلسلے میں تحقیق کریں کہ کس طرح وہ اپنے بہت سے بنیادی حقوق تک سے محروم تھی تو معلوم ہوگا کہ بعض اوقات تو وہ لوگ اس کے جینے کے حق کے قائل بھی نہیں تھے اور پیدا ہونے کے بعد اسے زندہ درگور کر دیتے تھے۔ اسی طرح اگر موجودہ دور میں عورت کی حالت دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ تمدن کے مٹھی بھر جھوٹے دعوے داروں نے عورت کو ایک بے جان کھلونا سمجھا ہوا ہے اور بس! یہیں پر پہنچ کر ہم اس امر کی تصدیق کریں گے کہ اسلام نے عورت کی کس قدر عظیم خدمت کی ہے اور عورت کی گردن پر اس کا کس حد تک حق بنتا ہے؟ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد نمبر١ میں سورة بقرہ کی آیت ۳٢٨ نام کے ذیل میں اور جلد ۶ میں سورہ نحل کی آیت ٩٧ کے ذیل میں بھی حبث کی گئی ہے)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اکثر اسلامی مؤرخین اور مفسرین کے مطابق زیر نظر آیات (رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد) زینب بنت حجش اور آنحضرتؐ سے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ زمانہ بعثت سے پہلے اور اس کے بعد جب کہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؑ نے پیغمبراسلامؐ سے شادی کی تو حضرت خدیجہ نے زید نامی ایک غلام خریدا، جسے بعد میں آنحضرتؐ کو ہبہ کر دیا۔ آپ نے اسے آزاد کر دیا چونکہ اس کے قبیلے نے اسے اپنے سے جدا کر دیا تھا، لہذا رسول رحمت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا، جسے اصطلاح میں متبنٰی کہتے ہیں۔ ظہور اسلام کے بعد زید کے بعد مخلص مسلمان ہو گیا اور اسلام کے ہر اول دستے میں شامل ہو گئے اور اسلام میں ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا۔ آخر میں جنگ موتہ میں ایک مرتبہ لشکر اسلام کے کمانڈر بھی مقرر ہوئے اور اسی جنگ میں شربت شہادت نوش کیا۔ جب سرکار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے زید کا عقد کرنا چاہا تو اپنی پھوپھی زاد، زینب بنت امیہ بنت عبدالمطلب سے اس کے لیے خواستگاری کی، زنیب نے پہلے تو یہ خیال کیا کہ آنخضرت اپنے لیے اسے انتخاب کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ خوش ہو گئی اور رضا مندی کا اظہار کر دیا، لیکن بعد میں جب اسے پتہ چلا کہ آپ کی یہ خواستگاری تو زید کے لیے تھی تو سخت پریشان ہوئی اور انکار کر دیا۔ ان کے بھائی عبداللہ نے بھی اس چیز کی سخت مخالفت کی۔ یہی وہ مقام تھا جس کے بارے میں زیر تبصرہ آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور زینب اور عبداللہ جیسے افراد کو تنبیہ کی کہ جس وقت خدا اور اس کا رسول کسی کو ضروری سمجھیں تو وہ مخالفت نہیں کر سکتے۔ جب انھوں نے یہ بات سنی تو سرِ تسلیم خم کر دیا۔ (البتہ آگے چل کر معلوم ہو گا کہ یہ شادی کوئی عام شادی نہیں تھی بلکہ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لیے ایک تمہید تھی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کسی باوقار اور مشہور خاندان کی عورت کسی غلام کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی، چاہے وہ غلام کتنا ہی اعلٰی قدرو قیمت کا مالک کیوں نہ ہوتا۔ لیکن یہ شادی زیادہ دیر تک نہ نبھ سکی اور طرفین کے درمیان اخلاقی ناچاقیوں کی بدولت طلاق تک نوبت جا پہنچی۔ اگرچہ پیغمبر اسلامؐ کا اصرار تھا کہ یہ طلاق واقع نہ ہو لیکن ہو کر رہی۔ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے شادی میں ان کا ناکامی کے تلافی کے طور پر زینب کو حکم خدا کے تحت اپنے حبالہ عقد میں لے لیا اور یہ بات یہیں پر ختم ہو گئی۔ لیکن دوسری باتیں لوگوں کے درمیان چل نکلیں جنہیں قرآن مجید نے بعض زیر بحث آیات کے ذریعے ختم کر دیا، جن کی تفصیل انشاءاللہ ابھی آئے گی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر قرطبی، تفسیرالمیزان، تفسیر فخرالرازی، تفسیر ظلال القرآن اور دوسری تفاسیر زیربحث آیات کے ذیل میں اسی طرح سیرۃ ابن ہشام، جلد اول ص ٢۶۴ اور کامل ابن اثیرجلد ١ ص٢٧٧)۔
تفسیر ایک بہت بڑی رسم ٹوٹتی ہے:
سب جانتے ہیں کہ اسلام کی رُوح تسلیم ہے اور وہ بھی حکم خدا کے سامنے غیر مشروط طور پر، یہ معنی قرآن کی مختلف آیات اور عبارات سے ظاہر ہوتا ہے، منجملہ ان کے مندرجہ بالا آیت ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کسی ایماندار مرد اور باایمان عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کو ضروری سمجھیں تو حکم خدا کے سامنے ان کا اپنا اختیار چلے"۔ (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ )۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنا ارادہ حق تعالٰی کے ارادے کے تابع کر لیں جیسا کہ ان کا وجود سراپا اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ "قضي" یہاں پر قضائے تشریعی" قانون، فرمان اور فیصلہ دینے کے معنی میں ہے اور واضح سی بات ہے کہ نہ تو خدا لوگوں کی اطاعت اور تسلیم کا محتاج ہے اور نہ ہی پیغمبر اکرمؐ کو ان سے کسی قسم طمع، بلکہ حقیقت میں خود ان لوگوں کو اپنا فائدہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اپنے علم و معرفت کے محدود ہونے کی وجہ سے وہ باخبر نہیں ہو پاتے لیکن خدا تو جانتا ہے اور اپنے پیغمبر کو حکم بھی دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سے ایک ماہر طبیب بیمار سے کہتا ہے کہ میں اس صورت میں تمہارا علاج کروں گا جب تم میری ہدایت کو بسر و چشم قبول کرو گے اور اپنی طرف سے خود مختار نہیں بنو گے۔ درحقیقت، یہ بات بیمار کے بارے میں طبیب کی دلی شفقت اور انتہائی دل سوزی کی دلیل ہوتی ہے اور خدا تو اس قسم کے طبیب سے بدرجہ ہا اولٰی اور برتر ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی کا شکار ہو گا"۔ (وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا)۔ وہ راہ سعادت کھو دے گا اور بےراہروی اور بدبختی کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے مہربان خدا اور اس کے رسولؐ کے فرمان کی پروا نہیں کی جو خیر و سعادت کا ضامن ہے۔ اس سے بڑھ کر اور واضح گمراہی کیا ہو سکتی ہے؟ اس کے بعد زید اور اس کی بیوی زینب کی اس مشہور داستان کو بیان کیا گیا ہے جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی کے حساس مسائل میں سے ایک ہے اور ازواج رسول کے مسئلہ سے مربوط ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اس وقت کو یاد کرو جب اس شخص کو جسے خدا نے نعمت دے رکھی تھی اور تم نے (بھی اے رسولؐ!) اسے نعمت دی تھی اور تم کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور خدا سے ڈرو"۔ (وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ)- نعمت خدا سے مراد وہی ہدایت اور ایمان کی نعمت ہے جو زید بن حارثہ کو نصیب ہوئی تھی اور پیغمبرؐ کے نعمت یہ تھی کہ آپ نے اسے آزاد کیا تھا اور اپنے بیٹے کی طرح اسے عزت بخشی تھی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زید اور زینب کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا تھا اور یہ جھگڑا اس قدر طول پکڑ گیا کہ نوبت جدائي اور طلاق تک جا پہنچی۔ اگر " تَقُولُ " کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ فعل مضارع ہے اور اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ آنحضرتؐ بارہا بلکہ ہمیشہ اسے نصیحت کرتے اور روکتے تھے۔ کیا زینب کا یہ نزاع زید کی سماجی حیثیت کی بناء پر تھا جو زینب کی معاشرتی حیثیت سے مختلف تھی؟ کیونکہ زینب کا ایک مشہور و معروف قبیلہ سے تعلق تھا اور زید آزاد شده تھا۔ یا زید کی اخلاقی سختیوں کی وجہ سے تھا؟ یا ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی، بلکہ دونوں میں روحانی اور اخلاقی موافقت اور ہماآہنگی نہیں تھی؟ کیونکہ ممکن ہے دو افراد اچھے تو ہوں لیکن فکر و نظر اور سلیقہ کے لحاظ سے ان میں اختلاف ہو جس کی بناء پردہ اپنی ازدواجی زندگی کو آیندہ کے لیے جاری نہ رکھ سکتے ہوں؟ بہرحال، مسئلہ اس حد تک پیچیدہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے۔" تم اپنے دل میں ایک چیز کو چھپائے ہوئے تھے جسے خدا آشکار کرتا ہے اور تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ خدا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرو": (وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ)۔ مفسرین نے اس مقام پر بہت سی باتیں کی ہیں اور بعض لوگوں کی تعبیرات میں لاپرواہی اور نافہمی کے سبب دشمن کے ہاتھ بہانے آ گئے، حالانکہ ان قرائن سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ آیات کے شان نزول اور تاریخ میں یہ بات موجود ہے کہ پیغمبر کی نظرمیں تھا کہ اگر ان میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی نہیں ہو پاتی اور نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے تو وه اپنی پھوپھی زاد زینب کی اس ناکامی کی تلافی اپنے ساتھ نکاح کی صورت میں کر دیں گے، اس کے ساتھ آپؐ کو یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ لوگ دو وجوہ کی بنا پر آپ پر اعتراض کریں گے اور مخالفین ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیں گے۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ زید آنحضرت کا منہ بولا بیٹا تھا، اور زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق بولے بیٹے کے بھی وہی احکام ہوتے تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بھی شادی کرنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ دوسری یہ کہ رسول اکرمؐ کیونکر اس بات پر تیار ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنے ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ سے عقد کریں جبکہ آپؐ کی شان بہت بلند و بالا ہے۔ بعض اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے یہ ارادہ حکم خداوندی سے کیا ہوا تھا اور آیت کے بعد والے حصے میں بھی اس بات کا قرینہ موجود ہے۔ اسی بناء پر یہ مسئلہ ایک تو اخلاقی اور انسانی مسئلہ تھا اور دوسرے یہ زمانہ جاہلیت کی دو غلط رسموں کو توڑنے کا ایک نہایت ہی مؤثر ذریعہ تھا۔ (یعنی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے ازدواج ۔ اور آزاد کردہ غلام کی مطلقہ سے عقد)۔ مسلم ہے کہ پیغمبرؐ کو ان مسائل میں نہ تو لوگوں سے ڈرنا چاہیے تھا اور نہ ہی فضا کے مکدر ہونے اور زہریلے پروپیگنڈا سے خوف زدہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بہرحال، کی فطری بات ہے کہ انسان اس قسم کے مواقع پر خصوصًا جہاں بیوی کے انتخاب کا مسئلہ ہو تو خوف و وحشت کا شکار ہو ہی جاتا ہے، خاص کر جب یہ احتمال ہو کہ ایک جنجال کھڑا ہو جائے گا اور آپؐ کے مقدس مشن کی ترقی اور اسلام کی پیش رفت کے لیے رکاوٹ کھڑی ہو جائے گی اور یہ بات ضعیف الایمان افراد کو متزلزل کر دے گی اور ان کے دل میں شکوک و شبات پیدا ہو جائیں گے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ جس وقت زید نے اپنی حاجت کو پورا کر لیا اور اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تو ہم اسے تمہاری زوجیت میں لے آئے تاکہ منہ بولے بٹیوں کے مطلقہ ہوںے کے مطلقہ ہونے کے بعد مومنین کو ان سے شادی کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو"۔ (فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا)۔ یہ کام ایسا تھا جسے انجام پا جانا چاہیے تھا "اور خدا کا فرمان انجام پا کر رہتا ہے": (وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا)۔ "أدعياء"، "دعی" کی جمع ہے جو منہ بولے بیٹے کے معنی میں ہے، "وطر" ضرورت اور اہم حاجت کے معنی میں ہے اور "زینب" کی طلاق اور جدائی کے بارے میں اس تعبر کا انتخاب حقیقت میں لطف بیان کی وجہ سے بے تاکہ "طلاق" کا لفظ جو عورتوں کے لیے بلکہ مردوں کے لیے بھی عیب ہے، صراحت کے ساتھ بیان نہ ہو، گویا یہ دونوں ایک دوسرے کے احتیاج مند تھے کہ ایک مدت تک مشترکہ زندگی بسر کریں اور جب یہ احتیاج ختم ہو گئی تو ان کے درمیان جدائی واقع ہو گئی۔ "زوّجنا كھا" (ہم اسے آپ کی تزویج میں لے آئے) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ازواج، خدا کی طرف سے تھا۔ اسی لیے تاریخ میں آیا ہے کہ "زینب" رسول خداؐ کی دوسری بیویوں پر فخر و مباہات کرتی اور کہتی تھیں: "زوجكن اهلكن وزوجني الله من السماء"۔ "پیغمبرؐ سے تمھارا نکاح تو تمھارے رشتہ داروں نے کیا لیکن میرا نکاح اللہ نے آنحضرت کے ساتھ آسمانوں میں کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: کامل ابن اثیر جلد ٢ ص ١٧٧ قابل توجہ امر یہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی زینب سے شادی پانچویں ہجری میں ہوئی (حوالہ مذکررہ))۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن ہر قسم کے شک و شبہ کو دور کرنے کے لیے پوری صراحت کے ساتھ اس شادی کا اصل مقصد بیان کرتا ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک کو توڑنے کے لیے تھی یعنی منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں سے شادی نہ کرنے کے سلسلے میں یہ خود ایک کلی مسئلہ کی طرف اشارے کہ پیغمبرؐ کا مختلف عورتوں سے شادی کرنا کوئی عام سی بات نہیں تھی، بلکہ اس میں کئی ایک مقاصد کا ذکرکرنا مقصود تھا جو آپؐ کے مکتب کے مستقبل میں انجام سے تعلق رکھتا تھا۔ "كَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا" کا جُملہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں دو ٹوک فیصلہ کر دینا چاہیے اور کرنے کا کام ضرور انجام پذیر ہونا چاہیے۔ ایسے مسائل میں جو کلی اور بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے سلسلسہ میں دنیا کے شور شرابے اور جنجال کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال دینا چاہیے۔ مذکورہ بالا آیت کی واضح تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے ضمن میں جو الزامات دشمن یا نادان دوست لگاتے ہیں، وہ بالکل بےبنیاد ہیں اور انشاء اللہ ہم نکات کی بحث میں اس بارے میں مزید وضاحت کریں گے۔ آخری زیر بحث آیت گزشتہ مباحث کی تکمیل کے سلسلے میں یوں کہتی ہے، "خدا نے جو چیز پیغمبر پر واجب کر دی ہے اس کے بارے میں ان کے لیے کسی قسم کی سختی اور حرج نہیں ہے": (مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ)۔ جب خداوند عالم انھیں کوئی حکم دیتا ہے تواس کے بارے میں کسی قسم کی رو رعایت جائز نہیں ہے۔ کسی قسم کے چون و چرا کے ہغیر اس پرعمل درآمد ہونا چاہیے۔ آسمانی رہبروں کو خدائی احکام کے اجراء میں اِدھر اُدھر کی باتوں پر بھی کان نہیں دھرنا چاہیے، غلط سیاسی فضا با غلط قسم کے آداب و رسوم جو ماحول پر چھائے ہوئے ہیں، مدّنظرنہیں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات اس قسم کے احکام انہی غلط رسومات کو مٹانے اور غلط اور رسوا کن بدعتوں کو قلع قمع کرنے کے لیے ہوتے ہیں، انہیں وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ (مائده۔ ٥۴) کا مصداق ہوتے ہوئے دنیا کی کسی سرزنش اور شور و غوغا خاطر میں نہ لا کر حکم انہی پر کاربند ہونا چاہیے۔ اصولی طور پر اگر ہم یہ چاہیں کہ جب تک فرمان خدا کے لیے سب کی رضا اور خوشنودی حاصل نہ کر لیں، اس وقت تک کچھ نہ کریں تو یہ بات قطعًا ناممکن ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صرف اس وقت راضی ہوتے ہیں جب ہم ان کی تمام خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کر لیں یا ان کے مکتب کے پیروکار ہو جائیں، جیسا کہ قرآن کہتا ہے۔ "وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ" یہود و نصاریٰ ہرگز تجھ سے راضی نہیں ہوں گے، جب تک تو ان کے دین کی غیر مشروط پیروی نہ کرے"۔ (بقرہ۔ ١٢٠) زیربحث آیت کے بارے میں بھی معاملہ کچھ اسی طرح کا تھا، کیونکہ جیسا یہ ہے کہہ چکے ہیں، رسول خدا صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کے زینب (رض) سے شادی کر لینے پر اس ماحول کے عام لوگوں کی نظر میں دو اعتراض تھے ایک تو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی جو ان کی نگاہ میں سگے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے کے مترادف تھا اور یہ ایسی بدعت تھی، جسے ہر حالت میں توڑنا چائیے تھا اور دوسرا ایک باوقار شخصیت یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جیسے شخص کا ایک آزاد شده غلام کی مطلقہ سے شادی کرنا۔ کیونکہ یہ چیز پیغمبر کو ایک غلام کے ہم پلہ قرار دیتی تھی اس غلط خیال کو بھی بہر صورت ختم ہونا چاہیے تھا اور اس کی جگہ انسانی اقدار کو لینا چاہیے تھی اور میاں بیوی کا "کفو" ہونا صرف ایمان، اسلام اور تقوٰے کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے تھا، اور یہی ہو کر رہا۔ اصولی طور پر کسی رسم و رواج کو توڑنے اور غیر انسانی آداب و رسوم کو ختم کرنے سے ہمیشہ ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے۔ لہذا پیغبروں کو کبھی ایسے ہنگاموں کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے بعد والے جُملہ میں فرمایا گیا ہے: انبیاء کے بارے میں یہ خدائی سنت گزشتہ امتوں میں بھی جاری رہ چکی ہے: (سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ)۔ گویا اسے رسول! صرف آپ ہی ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں، بلکہ تمام انبیاء غلط رسم و رواج کو توڑتے وقت ان مشکلات سے دوچار ہوۓ تھے۔ اس معاملہ میں بے سب سے بڑی مشکل صرف یہ نہیں تھی کہ ان دو غلط رسموں کو توڑا جائے، بلکہ آنحضرت کی شادی کا مسئلہ بیچ میں آ جانے کی وجہ سے عیب جوئی کے لئے دشمن کے ہاتھ میں ایک اور بہانہ بھی آتا تھا، جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔ اس قسم کے بنیادی مسائل کے فیصلہ کن ہونے کو ثابت کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: خدا کا حکم ہمیشہ جچا تلا اور صحیح صحیح پروگرام کے مطابق ہوتا ہے اور اسے نافذ العمل ہونا چاہیے "( وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا)۔ ہو سکتا ہے کہ "قدرًا مقدورًا" کی تعبیر فرمان الٰہی کے حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں حکمت اور مصلحت کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے دونوں معانی مراد لیے جائیں یعنی فرمان خدا حساب و کتاب پر مبنی بھی ہے اور وہ بغیر کسی حیل و حجت کے نافذ العمل بھی ہے۔ پھر مزےدار بات یہ ہے کہ تاریخی کتابوں میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے زینب سے ازواج کے سلسلے میں کھانے کی دعوت کا ایسا عمومی بندوبست کیا، جو اس سے پہلے کسی شادی کے موقع پر دیکھنے نہیں آیا تھا۔ (تشریحی نوٹ: عظیم مفسر طبرسی مرحوم "مجمع البیان" میں اس طرح نقل کرتے ہیں کہ: "فتزوجها رسول الله ..... وما اولم علی امرءة من نسائه ما اولم عليها، ذبح شاۃ واطعم النّاس الخبز واللحم ،حتّي امتد النهار۔ (مجمع البیان جلد ٨ ص ۳۶١))۔ اس طرح سے گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ آپ کسی طرح میں بے ہودہ اور فضول رسم و رواج سے مرعوب نہیں، بلکہ اس خدائی حکم کے نفاذ پر فخر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ کی نگاہ میں یہ بھی تھا کہ اس طرح سے زمانہ جاہلیت کی رسم کو توڑنے کی آواز تمام جزیرۃ العرب کے رہنے والوں کے کانوں تک پہنچ جائے۔
چند اہم نکات ١- جھوٹے افسانے:
پیغمبر اسلامؐ کی زینب کے ساتھ شادی کی داستان قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دی ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس کا ہدف منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کے ذریعے دور جاہلیت کی ایک رسم کو توڑنا تھا، اس کے باوجود دشمنان اسلام نے اسے غلط رنگ دے کر ایک عشقیہ داستان میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح سے انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی ذات والا صفات کو آلودہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور اس بارے میں مشکوک اور جعلی احادیث کا سہارا لیا ہے۔ ان داستانوں میں ایک یہ بھی ہے کہ جس وقت رسول اکرمؐ زید کی احوال پرسی کے لیے اس کے گھر گئے اور جونہی آپؐ نے دروازہ کھولا تو آپ کی نظر زینب کے حسن و جمال پر جا پڑی تو آپؐ نے فرمایا: "سبحان الله خالق النور تبارك الله احسن الخالقين"۔ "منزہ ہے وہ خدا جو نور کا خالق ہے اور جاوید و بابرکت ہے وہ اللہ جو احسن الخالقین ہے"۔ ان لوگوں نے اس جُملے کو زینب(رض) کے ساتھ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کے لگاؤ کی دلیل قرار دیا ہے، حالانکہ عصمت و نبوت کے مسئلے سے قطع نظر بھی اس قسم کے افسانوں کی تکذیب کے واضح شواہد ہمارے پاس موجود ہیں: پہلا یہ کہ حضرت زینب، رسول پاکؐ کی پھوپھی زاد تھیں اور خاندانی ماحول میں تقریبًا آپ کے سامنے بڑھی پلی تھیں اور آپؐ ہی نے زید کے لیے ان کی خواستگاری کی تھی۔ اگر زینب حد سے زیادہ حسین تھیں اور بالفرض اس کے حسن و جمال نے پیغمبر اکرمؐ کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کر لیا تھا تو نہ تو اس کا حسن و جمال ڈھکا چھپا تھا اور نہ ہی اس ماجرے سے پہلے ان کے ساتھ آنحضرتؐ کا عقد کرنا کوئی مشکل امر تھا۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو زینب کو زید کے ساتھ شادی کرنے سے دلچسپی نہ تھی، بلکہ اس بارے میں انہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار صراحت کے ساتھ بھی کر دیا تھا اور وہ اس بات کو کاملًا ترجیح دیتی تھیں کہ زید کی بجائے رسول اللہؐ کی بیوئی بنیں، کیونکہ جب آنحضرتؐ زید کے لیے زینب سے خواستگاری کرنے آئے تو وہ نہایت خوش ہو گئیں، کیونکہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ آپؐ ان سے اپنے لیے خواستگاری کی غرض سے تشریف لائے ہیں، لیکن بعد میں قرآن کی آیت کے نزول اور خدا و پیغمبر کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے زید کے ساتھ شادی کرنے پر راضی ہو گئیں۔ تو ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے توہم کی کونسی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ آپؐ زنیب کے حالات سے بےخبر تھے؟ یا آپ ان سے شادی کی خواہش رکھتے ہوئے بھی اقدام نہیں کر سکتے تھے؟ دوسرا یہ کہ جب زید نے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف رجوع کیا تو آپؐ نے بار بار اسے نصحیت کی اور طلاق دینے کے لیے روکا اور یہ چیز بجائے خود ان افسانوں کی نفی کا ایک اور شاہد ہے۔ پهر یہ کہ خود قرآن صراحت کے ساتھ اس شادی کا مقصد بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کی دوسری باتوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چوتھا امر یہ ہے کہ آیت بالا میں خداوند عالم اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے کہ زید کی مطلقہ بیوی کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی خاص بات تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم لوگوں سے ڈرتے تھے، جبکہ انھیں صرف خدا سے ہی ڈرنا چاہیے۔ خوف خدا کا مسئلہ واضح کرتا ہے کہ یہ شادی ایک فرض کی بجا آوری کے طور پر انجام پائی تھی کہ خدا کی ذات کے لیے شخصی معاملات کو ایک طرف رکھ دینا چاہئے تاکہ ایک خدائی مقدس ہدف پورا ہو۔ اگرچہ اس سلسلے میں کور دل دشمنوں کی زبان سے زخم اور منافقین کی افسانہ طرازی کا پیغمبر کی ذات پر الزام ہی کیوں نہ آتا ہو۔ پیغمبراکرمؐ نے حکم خدا کی اطاعت اور غلط رسم کو توڑنے کی پاداش میں یہ ایک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اب تک کر رہے ہیں۔ لیکن سچے رہبروں کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آ جاتے ہیں، جن میں انھیں ایثار اور فدا کاری کا ثبوت دینا پڑتا ہے، اور وہ اس قسم کے لوگوں کے اتہامات اور الزامات کا نشانہ بنتے رہتے ہیں، تاکہ اس طرح سے وہ اپنے اصل مقصد تک پہنچ جائیں۔ البتہ اگر پیغمبر گرامیؐ قدر نے زینب کو بالکل ہی نہ دیکھا ہوتا اور نہ ہی پہچانا ہوتا اور زینب نے بھی آپؐ کے ساتھ ازدواج کے بارے میں رغبت کا اظہار نہ کیا ہوتا اور زید بھی انھیں طلاق دینے پر تیار نہ ہوتے (نبوت و عصمت کے مسئلہ سے ہٹ کر) پھر تو اس قسم کی گفتگو اور ان توہمات کی گنجائش ہوتی، لیکن پیغمبر کی تو وہ دیکھی دکھائی تھیں لہذا ان تمام امکانات کی نفی کے ساتھ ان افسانوں کا جعلی اور من گھڑت ہونا واضح ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، نبی اکرمؐ کی زندگی کا کوئی لمحہ یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو زینب سے کوئی خاص لگاؤ اور رغبت ہو، بلکہ دوسری بیویوں کی طرح اور شاید ان میں سے بعض دوسری بیویوں کی نسبت ان سے کم رغبت رکھتے تھے اور ان افسانوں کی نفی پر یہ ایک اور دلیل ہے۔ آخری بات جس کی طرف ہم یہاں پر اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس غلط رسم کو مٹانا تو ضروری تھا، لیکن اس کی کیا ضرورت تھی کہ خود آنحضرت ہی اس کے لیے عملی اقدام اٹھائیں۔ آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ اس مسئلے کو قانون کی صورت میں بیان کر دیتے اور دوسروں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے شادی کرنے کی ترغیب دلاتے۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات ایک جاہلانہ اور غلط رسم کا خاتمہ خاص کر شادی بیاہ کے سلسلے میں اور وہ بھی ایسے افراد سے جو دنیا کی نگاہوں میں کم حیثیت ہوتے ہیں، صرف گفتگو سے ممکن نہیں ہوتا، بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر یہ کام اچھا ہے تو پیغمبر اسے خود کیوں نہیں انجام دیتے؟ اپنے آزاد شدہ غلام کی مطلقہ بیوی سے خود شادی کیوں نہیں کرتے؟ وغیره۔ اس قسم کے مواقع پر ایک عملی نمونہ اس طرح کے تمام اعتراضات کو ختم کر دیتا ہے، فیصلہ کن انداز میں وہ غلط رسم ٹوٹ جاتی ہے قطع نظر اس کے کہ یہ عمل بذات خود ایک قسم فدا کاری اور ایثار بھی تھا۔
٢- حق کے سامنے جھک جانا ہی عین اسلام ہے:
اس میں شک نہیں کہ انسان کا فکری اور روحانی استقلال اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہر کسی کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، کیونکہ وہ بھی اس کی طرح کا انسان ہے اور ہو سکتا ہے کہ کئی مسائل میں وہ (جس کے سامنے جھکایا جا رہا ہے) غلطی میں مبتلا ہو۔ لیکن جب مسئلے کا سلسلہ عالم اور حکیم خدا اور اس کے پیغمبر تک جا پہنچتا ہو، جو خدا کے حکم کے ساتھ بولتا اور اسی کے حکم کے مطابق قدم اٹھاتا ہو تو اب مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کرنا گمراہی کی دلیل ہو گا، کیونکہ اس کا حکم اور فرمان ہر قسم کے شائبہ تک سے پاک ہوتا ہے۔ نیز اس سے قطع نظر کہ اس کا فرمان خود انسان ہی کے مفاد میں ہوتا ہے اور خدا کی پاک ذات کو تو کوئی چیز بھی فائدہ نہیں پہنچاتی تو کیا پھر بھی ممکن ہے کہ کوئی عقلمند انسان اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اپنے مفادات اور صالح کو پامال کر دے؟ ان سب باتوں سے ہٹ کر، ہم اس کی ملکیت ہیں اور ہمارے پاسں جو کچھ بھی ہے، اس کا دیا ہوا ہے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ، اور کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ اس لیے قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات دکھائی دیتی ہیں جو اس مسئلے کی طرف اشاره کرتی ہیں۔ کوئی آیت کہتی ہے: "إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ" (النور۔٥١)۔ "انبیاء کے حقیقی پیروکار وہی لوگ ہیں جو خدا اور اس کے رسول کا حکم سن کر کہتے ہیں۔ ہم نے سنا اور اطاعت کی"۔ " فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا"۔ (نساء۔ ٦٥)۔ "تمہارے پروردگار کی قسم کی وہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے، جب تک کہ تجھے اپنے اختلافات میں حاکم اور فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کر لیں اور پھر تیرے کیے ہوئے فیصلے سے ذرہ برابر بھی ناراضی کا اظہار نہ کریں اور مکمل طور پر سر تسلیم خم کریں۔" کبھی قرآن کہتا ہے: "وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ۔" (نساء۔ ١٢٥) "کسی شخص کا دین اس شخص سے بہتر ہے جو اپنے پورے وجود کے ساتھ پروردگار کے سامنے جھک گیا جبکہ وه نیکوکار بھی ہے"۔ اصولی طور پر اسلام تسلیم کے مادہ سے لیا گیا ہے اور وہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ اس بناء ہر شخص جس قدر حق کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اسی قدر روح اسلام سے ہبرہ مند ہے۔ اس سلسلے میں لوگوں کی کئی قسمیں ہیں: ایک گروہ صرف ان امور میں فرمان حق تعالٰی کے سامنے جھکتا ہے، جن میں اس کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ درحقیقت، یہ لوگ مشرک ہوتے ہیں جنہوں نے اپنا نام "مسلم" رکھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کا کام "تومن ببعض ونكفر ببعض" کے مصداق احکام الٰہی ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہوتا ہے۔ حتی کہ اگر وہ ایمان بھی لاتے ہیں تو حقیقت میں اپنے مفاد کے لیے ایمان لاتے ہیں نہ کہ حکم خدا پر۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے، جن کا ارادہ اور خوابش خدا کے ارادے اور خواہش کے تابع ہوتی ہے۔ جس وقت ان کے مفادات فرمان حق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں تو وہ اپنے مفادات سے دستکش ہو کر فرمان خدا کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ یہی سچے مومن اور پکے مسلمان ہوتے ہیں۔ تیسرا گروہ مذکورہ دونوں گروہوں سے برتر اور افضل ہوتا ہے، یہ لوگ اصولی طور پر وہی کچھ چاہتے ہیں جو خدا چاہتا ہے اور وہی ارادہ کرتے ہیں جو خدا کرتا ہے۔ یہی ان کی تمنا اور منتہائے مقصود ہوتا ہے، وه اس مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ صرف اسی چیز کو پسند کرتے ہیں جسے خدا پسند کرتا ہے اور اس چیز سے نفرت کرتے ہیں، جس سے خدا نفرت کرتا ہے۔ یہی لوگ اس کی بارگاہ کے خواص، مخلصین اور مقربین ہوتے ہیں۔ جن کا سارے کا سارا وجود رنگ توحید میں رنگا ہوتا ہے، اس کی محبت میں غرق اور اس کے جمال میں محو ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلہ میں ایک اور بحث بھی جلد ٢ میں سورہ نساء کی آیہ ۶٥ کے ذیل میں ہو چکی ہے)۔
تفسیر سچے مبلغ کون ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 5پہلی زیر بحث آیت میں اس گفتگو کی مناسبت سے جو گزشتہ آیات میں سے آخری آیت میں پیغمبروں کے بارے میں گزری تھی، انبیاء کے عمومی فرائض میں سے ایک اہم ترین فرض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "وہ (گزشتہ انبیاء) ایسے لوگ تھے جو خدائی پیغامات کی تبلیغ کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اور خدا کے علاوہ، کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے"۔ (الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ)۔ آپؐ کو بھی پروردگار کے پیغاموں کی تبلیغ کے سلسلے میں کسی سے ذرہ بھر بھی نہیں گھبرانا چاہیے، خدا آپؐ کو حکم دیتا ہے، کہ ایک جاہلانہ رسم کو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لیں توڑیں اور یہ مطلقہ بیوی زینب کے ساتھ شادی کر لیں اور اس فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی پریشانی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ نہ گھبرانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ اصولی طور پر پیغمبروں کا کام بہت سے مراحل میں اس قسم کی رسومات کو توڑنا ہے۔ اگر وہ تھوڑے سے بھی خوف اور وحشت کا مظاہرہ کریں گے تو یقینًا اپنے فرائض کی بجا آوری میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ انھیں فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھنا چاہیے اور بدزبان لوگوں کی نازیبا باتوں کو برداشت کرنا چاہیے، لوگوں کی افواہوں اور شور و غوغا کرنے والے کمینہ فطرت اور مفسد لوگوں کی شازشوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔ سب حساب و کتاب خدا کے پاس ہے۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ "یہی کافی ہے کہ خدا خود بندوں کے اعمال کا محافظ، محاسب اور ان کی جزا دینے والا ہے"۔ (وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا)۔ اس راہ میں انبیاء کے ایثار و قربانی کے حساب کی بھی حفاظت کرتا ہے، اس کا اجر بھی دیتا ہے اور دشمن کی نازیبا گفتگو اور وہ سرائی کا محاسبہ کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔ حقیقت میں "كَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا" کیا جملہ اس امر کی دلیل ہے کہ خدائی رہبروں کو اپنے دین کی تبلیغ میں پریشانی اورخوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کی زحمتوں، تکلیفوں اورمشقتوں کا حساب کرنے اور جزاء دینے، والا خود خدا ہے۔
چند اہم نکات ١- تبلیغ سے مراد:
اس سے مراد ابلاغ اور پہنچانا ہے اور جب تبلیغ "رسالت اللہ" سے ربط پیدا کرے تو اس کا مفہوم یہ ہو جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے وحی کے ذریعے سے پیغمبروں کو تعلیم دی ہے وہی وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور اسے استدلال، انداز، بشارت اور وعظ نصیحت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کریں۔
٢- "خشیت" کا معنٰی:
اس کا معنی ایسا خوف ہے جب تعظیم کے اور احترام کے ساتھ ہو۔ اس بناء پر اس کا خوف کا معنی الگ ہو گا جس میں یہ خصوصیت، پانی جاتی ہو اور کبھی کبھار یہ لفظ مطلق خوف کے معنی میں بھی آتا ہے۔ محقق طوسیؒ کی بعض تالیفات میں ان دو الفاظ کے فرق کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جو درحقیقت، اس کے عرفانی معنی کی غماز ہے نہ کہ اس کے لغوی معنی کی۔ وہ کہتے ہیں "خشیت" اور "خوف" اگرچہ لغت میں ایک ہی معنی (یا تقریبًا ایک معنی) میں ہیں۔ لیکن صاحب دل کے افراد کے ان دونوں کے درمیان فرق ہے اور وہ یہ کہ "خوف" اس مجازات اور سزا سے باطنی خلش اور پریشانی کے معنی میں ہے کہ انسان گناہ کے ارتکاب یا اطاعت میں کوتاہی کی وجہ سے جس کی توقع رکھتا ہے اور یہ کیفیت اکثر لوگوں کی ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اس کے مراتب بہت مختلف ہیں اوراس کا اعلٰی مرتبہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن "خشیت" ایک ایسی کیفیت ہے جو خدا کی عظمت اور اس کی ہیبت کے ادراک اور اس کے فیض کے انوار سے دور اور محروم رہنے کے خوف سے کسی انسان پر طاری ہو جاتی ہے اور یہ ایسی حالت ہے جو سوائے ان لوگوں کے جو ذات پاک کی عظمت اور اس کے مقام کبریائی سے واقف ہیں اور انھوں نے اس کے قرب کی لذت چکھی ہوئی ہو، کسی اور کو حاصل نہیں ہوتی۔ اسی لیے قرآن نے اس حالت کو عالم آگا بندوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور کہا ہے: "انما یخشی الله من عباده العلماء" "اللہ سے خشیت کرنے والے بس علماء ہی ہیں۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البحرین مادہ "خشیت")۔
۳- ایک سوال کا جواب:
ہو سکتا ہے، کہا جائے کہ یہ آیت اس گزشتہ جملے کی متضاد ہے جو گزشتہ آیات میں بیان ہو چکا ہے، کیونکہ یہاں ہے کہ خدا کے انبیاء سرف خدا ہی سے ڈرتے ہیں کسی اور سے نہیں ڈرتے جبکہ گزشتہ آیات میں ہے کہ تم اپنے دل میں ایسی چیز چھپائے ہوئے تھے۔ جسے خدا نے آشکارا کر دیا۔ تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ تمہیں خدا سے ڈرنا چاہیے "وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ" لیکن دو نکات کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ اگر جناب پیغمبرؐ کو کسی قسم کا خوف تھا تو وہ صرف اس بناء پر کہ مبادا اس رسم کو توڑنا بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو جس کی وجہ سے وہ اپنے ایمان میں مبانی اسلام کے بارے میں مترلزل ہو جائیں۔ درحقیقت، اس قسم کی خشیّت کی بازگشت خوفِ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ انبیاء کرام خدائی پیغام کی تبلیغ میں ہرگز خوف اور وحشت کا شکار نہیں ہوتے لیکن اپنے ذاتی اور مخصوص مسائل میں ایسے خطرناک حالات سے دوچار ہونے کے وقت خوف و اضطراب کے اظہار، کیونکہ انسانی فطرت کے تقاضوں کے پیش نظر خوف اور وحشت کا اظہار اگر درجہ افراط کو نہ پہنچے تو کوئی عیب کی بات نہیں ہے، شجاع ترین افراد بھی اپنی زندگی میں اس قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ معیوب خوف تو وہ ہوتا ہے جو اجتماعی زندگی میں خدائی فریضہ کی انجام دہی اور ذمہ داریوں کے نبھانے کے وقت پیدا ہوتا ہے۔
۴- کیا انبیاء بھی تقیہ کرتے ہیں؟
کچھ لوگوں نے زیر بحث آیت سے یہ سمجھا ہے کہ انبیاء کے لیے تبلیغ رسالت کے فریضے میں تقیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے۔ "وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ"۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیے کہ "تقیہ" کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے ایک قسم کا نام "تقیہ خوفی" ہے جس کی مذکورہ بالا آیت میں انبیاء کی دعوت اور ابلاغ رسالت کے سلسلے میں نفی کی گئی ہے۔ لیکن تقیہ کی کچھ اور اقسام بھی ہیں جن میں سے ایک "تقیہ تحبیبی" اور "پوششی" ہے اور"تقیہ تحبیبی“سے مراد یہ ہے کہ انسان کبھی فریق مخالف کا دل جیتنے کے لیئے اپنے عقیدے کو چھپاتا ہے تاکہ اسے فکری و نظری طور پر اپنا ہم نوا بنا سکے۔ اور "تقیہ پوششی" سے مراد یہ ہے کہ کبھی ہدف اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے منصوبوں اور ان کے مقدمات کو چھپایا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ عام ہو جائیں اور دشمن ان سے آگاہ ہو جائیں میں تر ہو سکتا ہے کہ یہ منصوبے ناکام ہو جائیں۔ انبیاء کرام خصوصًا پیغمبر اسلامؐ کی زندگی تقیہ کی اس قسم سے بھری پڑی ہے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ بہت سے مواقع پر جب آپؐ میدان جنگ کی طرف روانہ ہوتے تو اپنے مقصد کو مخفی رکھتے، جنگ کے تمام منصوبے مکمل طور پر معرض خفا میں رہتے اور استثنار کا انداز یعنی مقصد کو چھپائے رکھنا جو تقیہ کی ایک قسم ہے، تمام مراحل میں نافذ ہوتا۔ بعض اوقات کسی حکم کے بیان کرنے میں ایک مرحلہ وار روش سے بھی استفادہ کرتے جو تقیہ کی ایک قسم ہے، مثلًا "تحریم ربا" (سُود کی حرمت) اور "شرب خمر" (شراب پینے) کا مسئلہ ہے تو یہ ایک ہی مرحلہ میں بیان نہیں ہوئے، بلکہ فرمان الٰہی سے کئی مراحل میں صورت پذیر ہوتے ہیں۔ یعنی زیادہ ہلکے مرحلے سے شروع ہو کر اپنے آخری اور اصلی حکم جا پہنچے۔ بہرحال، تقیہ کا ایک بہت ہی وسیع معنی ہے یعنی "مقصد کے حصول کو خطرے میں پڑنے سے بچانے کے لیے حقیقت کو چھپانا"۔ اور یہ ایسی چیز ہے اپنے تمام عقلائے عالم نے اپنایا ہوا ہے اور خدائی رہبر اپنے مقدس مشن کو کامیاب کرنے کے لیے کئی مراحل پر اپناتے ہیں۔ جبکہ توحید کے ہیرو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ جس دن بُت پرست لوگ عید کے مراسم کی ادئیگی کےلیے شہر سے باہر جا رہے تھے تو آپ نے اپنے مقصد کو مخفی رکھا تاکہ موقع سے فائدہ اٹھا کر بتوں کو پاش پاش کر دیں۔ نیز "مومن آل فرعون" نے حسّاس مواقع پر حضرت مُوسٰیؑ کی مدد کرنے اور انھیں قتل ہونے سے بچانے کےلیے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا جس کی وجہ سے قرآن نے انھیں عظمت کے ساتھ یاد کیا ہے۔ بہرحال، صرف" خوف والا تقیہ" ہی ہیغمبروں کے لیے جائز نہیں نہ کہ تقیہ کی دوسری اقسام بھی۔ اگرچہ اس سلسے میں بہت سخن ہائے گفتنی ہیں لیکن امام جعفر صادق علیہ اسلام کے ایک جامع فرمان کے ساتھ اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "التقية دیني و دین ابائی، ولا دین لمن لا تقيّة له والتقية ترس الله في الارض، لان مؤمن آل فرعون لو اظهر الاسلام لقتل"۔ "تقیہ میرا اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے۔ جو شخص تقیہ نہیں کرتا اس کا دین نہیں ہے، تقیہ خدا کی مضبوط ڈھال ہے کیونکہ اگر مومن آل فرعون اپنے ایمان کو ظاہر کرتے تو یقینًا قتل ہو جاتے (خطرہ کی صورت میں دین موسٰیؑ کی حفاظت کے سلسلے میں پیغام حق کا فریضہ انجام نہ پا سکتا)۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد٨ ص ٥٢١ سورہ مؤمن کی آیت ٢٨ کے ذیل میں)۔ تقیہ کے بارے میں ہم تفصیلی بحث جلد ٦ میں سورہ نحل کی آیت نمبر ١٠٦ کے ذیل میں کر چکے ہیں۔
٥- تبلیغی امور میں کامیابی کی شرط:
اوپر والی آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ تبلیغی مسائل میں ترقی کے لیے بنیادی شرط قاطعیت، خلوص اور خدا کے علاوہ، کسی سے نہ ڈرنا ہے۔ جو لوگ خدائی امور کے مقابلہ میں ہر کہ دمہ کی خواہشات اور مختلف گروہوں کے بےبنیاد رحجانات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنی ناشائستہ ناویلوں کے ذریعے حق و عدالت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ کبھی بنیادی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ کوئی نعمت ہدایت کی نعمت سے بڑھ کر نہیں ہے اور کوئی خدمت اس نعمت کو کسی انسان کو دینے سے افضل نہیں ہے، اسی بناء پر اس کا اجر و ثواب سب سے برتر ہے ـــــــــــــ ہم ایک حدیث میں امیر المومنین سے پڑھتے ہیں آپؐ نے فرمایا کہ: "جس وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا۔ جب تک کسی کو حق کی دعوت نہ دے دیں، اس وقت تک جنگ نہ کرنا"۔ "وایم الله لئن يهدی الله على يديك رجلًا خیر ممّا طلعت الشمس وغربت"۔ "یعنی خدا کی قسم اگر تمھارے ہاتھوں ایک شخص کو ہدایت مل جائے تو یہ تمھارے لیے ان تمام چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جن پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔" (بحوالہ: کافی و منقول از بحار الانواز جلد ٢ ص ۳۶١)۔ اس لیے ضروری ہے کہ سچے مبلغین لوگوں سے بے نیاز اور اعلٰی سے اعلٰی عہدے دار سے بےخوف ہو کر اپنا فریضہ تبلیغ انجام دیں۔ کیونکہ "نیاز" اور "خوف" ہی ان کے افکار و ارادہ پر ہر حالت میں اثر انداز ہوں گے۔ ایک مبلغ زباني"وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا" کے تقاضوں کے پیش نظر صرف یہ سوچتا ہے کہ اس کے اعمال کا حساب لینے والا صرف خدا ہے۔ اور یہی عرفان و آگاہی اسے اس نشیب فراز والے راستے میں مدد دیتی ہے۔
ختم نبوت
Tafsīr Nemūna · Vol. 5یہ آیت اس سلسلہ کی گفتگو کی آخری کڑی ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لیے خدا نے زید کی مطلقہ بیوی پیغمبر اکرمؐ کے عقد کے بارے میں بیان فرمائی ہے اور آخری جواب کے طور پر ایک مختصر لیکن جچا تلا جواب دیا گیا ہے۔ ضمنی طور پر ایک اور اہم حقیقت کو ایک خاص مناسبت کی بناء پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہے "ختم نبوت" کا مسئلہ۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ "محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں:" (مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ)۔ نہ زید کے اور نہ کسی اور کے اگر کسی دن لوگوں نے اسے محمد کے بیٹے کا نام دیا ہے تو یہ صرف ایک عادت اور دنیاوی رسم و رواج کے مطابق تھا، جسے اسلام کے آنے اور قرآن کے نازل ہو جانے کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، یہ فطری اور قرابت داری کا رابطہ نہیں ہے، البتہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کے حقیقی بیٹے بھی تھے، جن کا نام "قاسم"، "طیب"، "طاہر" اور "ابراہیم" تھا۔ لیکن مؤرخین کے مطابق وہ سب بالغ ہونے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسے۔ لہذا"رجال" (مردوں) کا نام ان پر صادق نہیں آتا۔ (بحوالہ: تفسیرقرطبي، و تفسیر المیزان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو بھی فرزند رسولؐ کہہ کر پکارا جاتا تھا، اگرچہ وہ بالغ بھی ہو گئے تھے۔ لیکن اس آیت کے نزول کے وقت ابھی بچے تھے، اسی بناء پر "مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ " کا جملہ فعل ماضی میں آیا ہے اور قطعی طور پر اس وقت سب کے حق میں صارق آتا ہے۔ اور اگر بعض تعبیرات میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے: "انا وعلى ابوا هذه الامة" "میں اور علی اس امت کے باپ ہیں۔" تو یقینًا اس سے مراد نسبی باپ نہیں بلکہ یہ رشتہ تعلیم و تربیت اور رہبری کی بنیاد پر ہے۔ ان حالات میں زید کی مطلقہ بیوی سے شادی جس کا فلسفہ قرآن نے صراحت کے ساتھ غلطہ رسوم کو توڑنا بیان فرمایا ہے، کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے موضوع بحث بنا کر ہر کوئی اس کے خلاف لب کشائی کرے یا اسے اپنے غلط مقاصد کے لیے کوئی دستاویز بنا لے۔ آگے چل کر مزید فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر کا رابطہ تمھارے ساتھ صرف رسالت اور خاتمیت کی بناء پر ہے کیونکہ "وہ خدا کے رسول اور خاتم الننیین ہیں": (وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ)۔ اسی بناء پر آیت کی ابتداء کلی طور پر نسبی رابطے کو منقطع کرتی ہے اور اس کی انتہا اس معنوی رابطے کو ثابت کرتی ہے جو رسالت اور خاتمیت سے پیدا ہوتا ہے اور یہاں سے ہی آیت کے آغاز اور اختتام کا تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ اس سے ہٹ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ہے كہ آنحضرتؐ باوجود یکہ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں، لیکن ان تعلق باپ کے بیٹے کے ساتھ سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ آپ کا تعلق ایک رسول کی حیثیت سے ہے جو امت کے ساتھ ہوتا ہے اور رسول بھی ایسا جو جانتا ہے کہ پھر کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ لہذا قیامت تک کی جو ضرورتیں امت کو درپیش آ سکتی ہیں، اچھی طرح سے اور انتہائی دل سوزی کے ساتھ انھیں پورا کرنا ہے۔ البتہ عالم اور آگاہ خدا نے بھی وہ تمام چیزیں جو اس سلسلے میں ضروری تھیں، آپ کے اختیار میں دے دیں، خواہ وہ اصولی ہوں، یا فروعی، کلی ہوں یا جزئی۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے "خدا ہر چیز سے عالم اور آگاہ تھا اور ہے۔" (وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "خاتم الانبیاء" کا معنی "خاتم المرسلین" بھی ہے۔ موجودہ دور کے نیا دین گھڑنے والے افراد مسئلہ ختم نبوت کو مخدوش کرنے کے لیے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ قرآن نے سرکار رسالت مآب کو "خاتم الانبیاء" کہا ہے "خاتم المرسلین" نہیں کہا، حالانکہ یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے کیونکہ رسالت کا درجہ نبوت کے درجہ سے بالاتر ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ہم کہیں کہ فلاں شخص سرزمین حجازمیں نہیں ہے تو یقینًا وہ مکہ میں نہیں ہو گا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ وہ مکہ میں نہیں ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ حجازکے کسی اور علاقہ میں ہو۔ اسی بناء پر اگر حضور گرامی کو "خاتم المرسلین" کا نام دیا جاتا تو تصور میں آ سکتا تھا کہ شاید وہ خاتم الانبیاء نہ ہوں، لیکن جب فرمایا گیا ہے کہ وہ "خاتم الانبیاء ہیں تو یقینًا خاتم المرسلین بھی ہیں، اور منطقی اصطلاح کے لحاظ سے "رسول" اور "نبی" کے درمیان "عام خاص مطلق" کی نسبت ہے۔ (ایک بار پھر غور کیجیے گا)۔
چند اھم نکات ١- "خاتم" کیا ہے؟
"خاتم" (بروزن "حاتم") ارباب لغت کی تصریحات کے مطابق اس چیز کے معنی میں ہے جس کے ذريعہ کسی چیز کو ختم کیا جائے یا جس سے کاغذات وغیرہ کی مہر لگائی جائے۔ قدیم زمانے سے یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ جس وقت کسی خط یا برتن یا گھر کے دروازہ کو بند کیا جاتا ہے تاکہ کوئی اسے کھول نہ سکے تو دروازے فقل (یا تالے) کے اوپر گوند جیسا مادہ رکھ کر اس پر مہر لگا دیتے ہیں، جسے موجودہ زمانے میں "لاکھ اور مہر" کہتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اس کے کھولنے کے لیے یقینًا لاکھ اور مہر کو توڑا جائے۔ اور جو مہر اس قسم کی چیزوں پر لگائی جاتی ہے اسے "خاتم" کہتے ہیں۔ چونکہ گزشتہ زمانے میں اس مقصد کے لیے کبھی کبھی سخت اور چکنی مٹی سے استفاده ہوتا تها لہذا لغت کی مشہور کتب میں "خاتم" کے معنی میں لکھا گیا ہے کہ "ما يوضع على الطينة" یعنی جو چیز مٹی پر لگائی جائے۔ (تشریحی نوٹ: لسان العرب اور قاموس اللغتہ "مادہ ختم" (الخاتم ما يوضع على الطینۃ) "خاتم" وہ چیز ہوتی ہے جو گیلی مٹی پر لگائی جاتی ہے)۔ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ یہ لفظ "ختم" کی اصل سے "اختتام" کے معنی میں لیا گیا ہے اور چونکہ مہر لگانے کا کام خاتمے اور آخر پر قرار پاتا ہے لہذا "خاتم" کا نام اس وسیلے اور ذریعے کو دیا گیا ہے۔ اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ "خاتم" کا ایک معنی انگوٹھی ہے تو وہ بھی اسی بناء پر ہے کہ بہت سے لوگ اپنی مہر کے نقوش اپنی انگوٹھیوں پر کندہ کرتے تھے اور انگوٹھی کے ذریعہ ہی خطوط وغیرہ پر مہر لگا دیتے تھے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام "آئمہ ہدٰی" اور دوسری شخصیتوں کے حالات کے ضمن میں ان کی انگوٹھی کے نقش کی گفتگو بھی ہوتی ہے۔ مرحوم کلینیؒ نے کتاب "کافی" میں امام جعفر صادق علیہ اسلام سے نقل کیا ہے: "ان خاتم رسول الله كان من فضة نقشه محمد رسول الله"۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی جس کا نقش "محمد رسول الله" تھا۔ (تشریحی نوٹ: اس روایت کو بیہقی نے بھی سنن کی جلد ١٠ ص ١۴٨ نقل کیا ہے)۔ بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ چھٹی ہجری کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے لیے نقش والی انگوٹھی بنوائی اور یہ اس لیے تھا کہ آپؐ سے صحابہ نے عرض کیا کہ بادشاہ ایسے خطوط کو نہیں پڑے جو مہر کے بغیر ہوتے ہیں۔ (بحوالہ: سفینۃ الحبار، جلد١ ص ۳٨٦)۔ كتاب "طبقات" میں بھی آیا ہے کہ جس وقت پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنی دعوت کو وسعت دینے اور روئے زمین کے سلاطین کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو حکم دیا کہ آپ کے لیے انگوٹھی تیار کی جائے جس پر "محمد رسول الله" کندہ ہو۔ چناچہ آپؐ اپنے خطوط پر اسی سے مہر لگاتے تھے۔ (بحوالہ: طبقات کبرٰی، جلد١ ص ٢٥٨)۔ اس بیان سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ خاتم کا موجودہ زمانے میں اگرچہ زینت اور زیور کے طور پر انگوٹھی پر بھی اطلاق ہوتا ہے لیکن اس کی اصل "ختم" سے لی گئی ہے جو"انتہا" کے معنی میں ہے اور اس زمانے میں ان انگوٹھیوں کو کہا جاتا تھا جن سے خطور پر مہر لگاتے تھے۔ علاوہ ازیں، یہ مادہ قرآن مجید میں بھی متعدد مواقع پر استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ ختم کرنے اور مہر لگانے کے معنی میں ہے۔ مثلًا: "الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ"(یٰسن۔ ٦٥)۔ "آج (قیامت کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے گفتگو کریں گے"۔ "خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ" "خدا نے ان (منافقین) کے دلوں اور کانوں مہر لگا دی ہے (اس لحاظ سے کوئی نصحیت اس پراثر نہیں کرتی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے"۔ (بقرہ ۔ ٧)۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاتمیت اور آپ پر سلسلہ انبیاءؑ ختم ہونے کے بارے میں زیر بحث آیت کی ولادت میں وسوسہ ڈالا ہے یا تو بالکل اس لفظ کے معنی سے بےخبر تھے یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیا ورنہ جو شخص عربی ادب سے تھوڑی بہت واقعیت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ لفظ "خاتم النبیين" واضح طور پر ختم نبوت پر دلالت کرتا ہے۔ اس صورت میں اگر اس تفسیر کے علاوہ، آیت کی کوئی تفسیرکی جائے توسبک، ہلکا اور بچگانہ مفہوم پیدا کرے گی۔ مثلًا اگر یہ کہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے انبیاء کی انگوٹھی تھے یعنی پیغمبروں کی زنیت شمار ہوتے تھے تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ انگوٹھی انسان کا ایک عام زینتی زیور ہوتی ہے جو کھی بھی انسان کے برابر اور ہم پلہ قرار نہیں پا سکتی۔ لہذا اگر آیت کی یہ تفسیر کریں گے تو پیغمبر اسلامؐ کو ان کے مقام و مرتبہ سے بہت گرا دیں گے۔ اس کے علاوہ، یہ معنی لغت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، اسی لیے تو بہ لفظ پورے قرآن میں آٹھ مقام پر جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے، ہر جگہ "ختم کرنے" اور "مہر لگانے" کے معنی میں آیا ہے۔
٢- ختم نبوت کے دلائل:
مندرجہ بالا آیت اگرچہ اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت کی دلیل اسی پر منحصر نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیات بھی اس معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور روایات تو کثرت سے موجود ہیں۔ منجملہ ان کے سورۂ انعام کی آیت ١٩ میں ہم پڑھتے ہیں: " وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ" "یہ قرآن مجھ پر وحی ہوا ہے تاکہ تمھیں اور ان دوسرے لوگوں کو جن تک یہ قرآن پہنچے میں ڈراؤں (اور خدا کی طرف دعوت دوں)۔ "وَمَن بَلَغَ " (تمام وہ لوگ جن تک یہ بات پہنچے) کی تعبیر کے مفہوم کی وسعت ایک طرف تو قرآن مجید اور پیغمبر اسلامؑ کی عالمی رسالت کو واضح کرتی ہے اور دوسری طرف ختم نبوت کو۔ دوسری آیات جو پیغمبر گرامی قدر کی عالمین کے لیے عمومی دعوت کو ثابت کرتی ہیں مثلًا: “تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا” "جاوید اور بابرکت بے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام اہل عالم کو ڈرائے"۔ (فرقان ۔ ١) اور مثلًا: "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا " (سبا۔ ٢٨) "ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر (تاکہ لوگوں کو جنت کی خوش خبری دیں اور جہنم سے ڈرائیں) اور ارشاد الٰہی: "قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا" "اے پیغمبر! کہہ دیجیئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں"۔ (اعراف۔ ١٥٨) "عالمین"، "ناس" اور "كافة" کے مفہوم کی وسعت بھی اس معنی کی موید سے اس سے قطع نظر کہ ایک تو اس پر علماء اسلام کا اجتماع ہے، دوسرے یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے اور تیسرے پیغمبر اسلامؐ اور دیگر پیشواؤں سے کثرت سے روایات ملتی ہیں جو اس مطلب کو بہت واضح کرتی ہیں۔ نمونہ کے طور پر ذیل کی چند روایات کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم پیغمبر اکرمؐ کی ایک مشہور حدیث میں پڑھتے ہیں جس میں آپؐ نے فرمایا ہے: "حلالي حلال الٰى يوم القيامة و حرامی حرام الٰی یوم القيامة"۔ "میرا حلال قیامت کی حلال ہے اور میرا حرام قیامت کے دن تک حرام ہے"۔ (بحوالہ: بحارالانور، جلد٢ ص ٢٦٠ باب، ۳١، حدیث ١٧)۔ یہ تعبیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک دنیا قائم سے شریعیت محمدیؐ بھی قائم و برقرار ہے۔ بعض مقامات پر مذکورہ بالا حدیث یوں بھی نقل ہوئی ہے : "حلال محمد حلال ابدًا الی یوم القيامة و حرامه حرام ابدًا الٰى يوم القيامة لايكون غيره ولا یجیء غیره"۔ " حلالِ محمد ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک حلال ہے اور آپؐ کا حرام کیا ہوا، ہمیشہ کے لئے قیامت کے دن تک حرام ہے۔ اس کے علاوہ، نہ کچھ ہو گا اور نہ ہی کوئی آئے گا۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد اوّل (وباب البدع و الرائی و المقائیس) حدیث ١٩)۔ ٢۔ مشہور حدیث "منزلت" جو اہل تشیع اور اہل سنت کی مختلف کتابوں میں حضرت علیؑ کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔ اس کے مطابق جب آنحضرت جنگ تبوک میں شرکت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے اور حضرت علیؑ کو مدینہ میں اپنی جگہ اپنا نائب بنایا تھا تو یہ حدیث مسئلہ خاتمیت کو بھی مکمل طور پر واضح کرتی ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: "أنت منی بمنزلة هارون من موسٰی الا انہ لانبیّ بعدی"۔ "یا علی! تم میرے نزیدک وہی منشیات رکھتے ہو جو ہارون کو موسٰی سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے" (اسی بناء پر تمہارے پاس سوائے نبوت کے ہارون کے باقی تمام مناصب موجود ہیں)۔ (تشریحی نوٹ: اس حدیث کو "محب الدین طبرسی" نے ذخائر العقبٰی ص ٧٩ و مطبوعہ مكتبہ القدس) میں، ابن حجر نے صوائق محرقہ ص ١٧٧ (مطبوعہ مکتبۃ القاہر) میں تاریخ بغداد جلد ٧، ص ۴٥٢ (مطبوعہ السعادۃ) میں اور دوسری کتب مثلًا، کنزالعمال، منتخب کنز العمال اور ینابیع المودة میں بھی نقل کیا ہے (حدیث منزلت کے سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے نمونہ کی جلد نمبر میں سوره اعراف آیت نمبر ١۴٢ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ ۳- حدیث بھی مشہور ہے اور اہل سنت کے بہت سے منابع میں نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے فرمایا: "مثلي ومثل الانبياء كمثل رجل بنی بنیانا فاحسنه واجملہ فجعل النّاس یطیفون بہ يقولون مارأينا بنيانا احسن من هذا الاهذه اللبنۃ، فكنت انا تلک اللبنة"۔ "گزشتہ انبیاء کے مقابلے میں میری مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو بہت ہی خوبصورت اور دلکش مکان تعمیر کرے، لوگ اس کے گرد پر لگائیں اور کہیں کہ اس سے بہتر کوئی عمارت نہیں، لیکن اس کی صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے اور میں وہی آخری اینٹ ہوں"۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں مختلف عبارتوں اور متعدد راویوں سے نقل ہوتی ہے یہاں تک کہ ایک جگہ پر اس کے ذیل میں ایک جملہ یہ بھی آیا ہے: "وأنا خاتم النبيين"۔ "میں خاتم الانبیاء ہوں"۔ ایک اور حدیث کے ذیل میں یہ جملہ بھی آیا ہے: "جئت فختمت الانبياء"۔ "میں آیا اور انبیاء ختم ہو گئے"۔ (بحوالہ: صحیح مسلم، جلد ۴ ص ١٧٩٠ و ص ١٧٩١ (باب ذکر کونہ خاتم النبین از کتاب الفضائل))۔ نیز یہ صحیح بخاری (کتاب المناقب) میں مسند احمد بن حنبل، سنن ترمذی، سنن نسائی اور کئی دوسری کتب میں منقول ہے اور نہایت ہی مشہور و معروف احادیث میں سے ہے۔ اسے شیعہ مفسرين، مثلًا مرحوم طبرسی اور اہل سنت مفسرین جیسے مرحوم قرطبی نے اپنی تفاسیر میں زیر بحث آیت کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ ۴- نہج البلاغہ کے بہت سے خطبات میں بھی ختم نبوت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جن میں سے خطبہ نمبر ١٧۳ ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یوں تعریف و توصیف کی گئی ہے: "امين وحيه وخاتم رسلہ، و بشیر رحمته ونذیر نقمه"۔ وہ حضرت محمد مصطفٰی وحی خدا کے امین پیغمبروں کے خاتم، رحمت کی بشارت دینے والے اور اس کے عذاب سے ڈرانے ولے تھے۔ نیز خطبہ نمبر ١۳۳ میں یوں فرمایا ہے: "ارسلہ علی حین فترۃ من الرسل، وتنازع من الالسن، فقفی به الرسل و ختم بہ الوحی"۔ "خدا نے انھیں گزشتہ انبیاء کے دور فترت کے بعد بھیجا، ایسے وقت میں جب مختلف مذاہب کے درمیان نزاع اور جھگڑا پیدا ہو گیا تھا، پس اللہ نے آپ کے ذریعے نبوت کی تکمیل فرمائی اور آپ ہی کے اور ذریعے وحی کو ختم کیا"۔ اور نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ گزشتہ انبیاء و مرسلین کے لائحہ عمل کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے: "الٰى ان بعث الله سبحانه محمدًا رسول الله لانجاز عدته و اتمام نبورته" "یہاں تک کہ خداوند تعالٰی و سبحانہ نے اپنے رسول حضرت محمدؐ کو اپنے وعدوں کی تکمیل اور سلسلہ نبوت کو ختم کرنے کے لیے مبعوث فرمایا"۔ ٥- حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر مبارک کے آخری حج اور آخری سال میں ایک جامع وصیت نام کی صورت میں لوگوں سے جو خطبہ بیان فرمایا، اس میں بھی ختم نبوت کے مسئلے کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا: "الا فليبلغ شاهدکم غائبكم لانبی بعدی ولا امة بعدكم" حاضرین غانیبین تک یہ بات ضرور پہنچا دیں کہ نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ ہی تمھارے بعد کوئی امت۔ پھر آپؐ نے اپنے باتھ آسمان کی طرف اس حد تک بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور بارگاہ خدا میں عرض کیا: "اللّهم اشھد انّي قد بلغت"۔ "خدایا گواہ رہنا کہ مجھے جو کچھ کہنا چاہیے تھا کہہ دیا ہے"۔ (بحوالہ: بحارالانور، جلد ٢١ ص ۳٨١)۔ ٦۔ ایک اور حدیث میں جو کتاب کافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، اس میں ہے : "ان الله ختم بنبیکم النبيين فلا نبي بعده ابدًا وختم بكتابكم الكتب فلاكتاب بعده ابدًا"۔ "خدا نے تمھارے پیغمبر کے ذریعے سلسلہ انبیاء کو ختم کر دیا ہے۔ اس بناء پر ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور تمھاری آسمانی کتاب کے ساتھ آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے، لہذا اس کے بعد ہرگز کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی"۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد اوّل)۔ اسلامی ماخذ میں اس سلسلے کی بہت زیادہ احادیث میں یہاں تک کہ کتاب "معالم النبوة" میں ١۳٥ احادیث علما اسلام کی کتب سے جمع کی گئی ہیں جو پیغمبر اور اسلام کے بزرگ پیشواؤں کی طرف سے اس سلسلہ میں بیان ہوئی ہیں۔ (بحوالہ: "معالم النبوۃ" نصوص خاتمیت)۔
۳- چند سوال اور ان کے جواب:
ختم نبوت کے سلسلے میں مختلف سوالات پیش آتے ہیں جن کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔
١- ختم نبوت، ارتقاء سے کیونکر ہم آہنگ ہے؟
پہلا سوال جو اس بحث میں سامنے آتا ہے کہ آیا ممکن ہے، انسانی معاشرہ متوقف ہو جائے اور کسی خاص منزل پر جا کر رک جائے؟ کیا انسانی تکامل اور ارتقاء کی کوئی حد و حساب بھی ہے یا نہیں؛ کیا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ موجودہ زمانے کے انسان گزشتہ دور کے لوگوں سے علم و دانش اور تمدن و ثقافت کے اعتبار سے فائق ہیں؟ تو ان حالات میں کیونکر ممکن ہے کہ دفتر نبوت کلی طور پر بند کر دیا جائے اور انسان اپنے ارتقائی مراحل میں نئے پیغمبروں کی رہبری سے محروم کر دیا جائے؟ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کبھی انسان اپنے فکر و تمدن کے بلوغ کے اس مرحلہ تک پہنچ سکتا ہے کہ آخری نبی، جو جامع اصول اور تعلیمات اسے دے، ان کی روشنی میں اسے کسی نئی شریعیت کی ضرورت نہ رہے، بلکہ انہی اصولوں سے استفادہ کرنے سے وہ اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ بعینہ اسی طرح جس طرح انسان تعلیم کے مختلف شعبوں میں نئے معلم اور مربی کا محتاج ہوتا ہے تاکہ مختلف تعلیمی ادوار گزار سکے لیکن جب ڈاکٹریٹ کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے اور کسی ایک علم یا چند علوم میں صاحب نظر مجتہد اور ماہر ہو جاتا ہے تو پھر اس منزل پر تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے نئے استاد کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس تعلیم کے بل بوتے پر اپنی تحقیقات میں لگا رہتا ہے جو سابقہ استادوں خاص کر آخری استاد کے پاس سے حاصل کی تھی۔ اس طرح سے وہ اپنے ارتقاء کے مراحل کو طے کرتا رہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں راستے کی مشکلات کو ان کلی اصولوں کے ذریعہ حل کرتا رہتا ہے جو اس نے آخری استاد سے حاصل کیے تھے۔ اس بناء پر یہ ضروری نہیں ہے کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ نت نیا دین آتا رہے(غور کیجئے گا)۔ باالفاظ دیگر، گزشتہ انبیاء میں سے ہر ایک نے انسان کے ارتقاء کے لیے کچھ نقشے اسے بتانے ہیں تاکہ وہ اس نشیب و فراز والے راستوں میں پیش رفت کر سکے، حتٰی کہ پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور تک اس میں ایسی اہلیت اور لیاقت پیدا ہو گئی ہے کہ اس آخری پیغمبرؐ کے لیے خدا کی طرف سے ایک مکمل اور جامع ترین نقشہ مل گیا جس کے ذریعے وہ راستے کی مشکلات کو حل کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک جامع اور مکمل نقشہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے نقشے کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ حقیقتًا اس تعبیر کا بیان یا وضاحت ہے جو ختم نبوت کے بارے میں روایات آئی ہیں، جن میں آنحضرتؐ کو قصر رسالت کی آخری اینٹ یا اس آخری اینٹ کا رکھنے والا بتایا گیا ہے۔ یہ سب دلائل تو کسی نئے دین کی نفی کے سلسلے میں تھے، رہا رہبری اور امامت کا مسئلہ جو ان قوانین اور اصول کے نفاذ کی مکمل نگرانی اور راہ ہدایت کے لیے لوگوں کی دستگیری کا نام ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور اس سے انسان کسی بھی وقت بےنیاز نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے سلسلہ نبوت کے خاتمے سے سلسلہ امامت ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ ان اصولوں کی تشریح اور وضاحت اور انھیں ظاہری وجود عطا کرنے کے لیے امامت کی بہرحال، ضرورت ہے جس سے استفادہ خدا کے کسی معصوم پیشوا اور رہبر کے بغیر ناممکن ہے۔
٢- ثابت قانون اور بدلتی ضرورتیں:
پہلے سوال میں پیشں ہونے والے نظریہ ارتقاء سے قطع نظر یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک جانتا ہے کہ مختلف زمان اور مکان کے تقاضے بھی مختلف ہوا کرتے ہیں۔ دوسروں لفظوں میں انسان کی ضروریات ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں، جبکہ خاتم الانبیاء کی شرایعت کے قوانین ثابت اور لازوال ہیں، تو کیا یہ قوانین ہر دور کے انسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا بھی اچھی طرح جواب دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر تمام اسلامی قوانین جزوی حیثیت کے حامل ہوتے اور ہر موضوع کے لیے علٰحیدہ علحیده جزوی احکام معین کیے ہوتے پھر تو اس سوال کی گنجائش تھی، لیکن چونکہ اسلام میں کچھ ایسے احکام بھی ہیں جن کے اصول کلی اور نہایت ہی وسیع دائرہ کے حامل ہیں جو بدلتی ہوئی ضروریات اور ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا اس قسم کے اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ مثلًا زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان قانونی رابطے بڑھ رہے ہیں اور ہر روز نئے نئے معاہدے وجود میں آ رہے ہیں جن کا قرآن کے نزول کے وقت بالکل وجود نہیں تھا، مثلًا اس زمانے میں "بیمہ" نام کی کوئی چیز نہیں تھی جس کی آج ایک نہیں، بلکہ کئی قسمیں ہیں۔ (تشریحی نوٹ: البتہ اسلام میں بہیہ سے ملتے جلتے کئی ایسے موضوع موجود ہیں، جو ایک خاص حد میں محدود ہیں، جیسے "ضامن جریرہ" کا مسئلہ ہے (قتل خطائے محض کی دیت کا عاقلہ (خاص قسم کے رشتہ داروں سے متعلق ہونا) لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ اس مسئلے سے صرف ملتا جلتا ہے)۔ اسی طرح مختلف قسم کی کمپنیاں ہیں جو موجودہ دور میں ضروریات زمانہ کے تحت معرض وجود میں آئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسلام میں ایک کلی اصول موجود ہے جو سوره مائدہ کی ابتدا میں "معاہوں پرعمل کرنا ضروری ہے" کی صورت میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ" "اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنے معاہدوں پر عمل کرو"۔ یہ حکم ہر قسم کے باہمی معاہدوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ البتہ اس کلی اصول کے لیے اسلام نے کچھ کلی شرائط بھی مقرر کی ہیں جنھیں مدنظر رکھنا ہو گا۔ اس بناء پر اس سلسلے میں ایک ثابت اور پائیدار کلیہ موجود ہے۔ اگرچہ اس کے مصادیق بدلتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ہر روز اس کا ایک نیا مصداق مل جائے۔ دوسری مثال اسلام میں "قانون لاضرر" کے نام سے ایک مسلم قانون موجود ہے اور اسلامی معاشرہ میں جو حکم بھی کسی کے لیے ضرر اور نقصان کا سبب بن رہا ہو، اس قانون کے ذریعے اس کا سدباب کیا جا سکتا ہے اور اس طرح سے بہت سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ان سب سے قطع نظر "معاشرتی نظام کی حفاظت اور واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے" اور "اہم ترین کو اہم پر مقدم کیا جائے"۔ یہ چند ایک مسائل ایسے ہیں جو بہت سے مشکل ترین مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ تمام وسیع اختیارات جو "ولایت فقیہ" کے ذریعے اسلامی حکومت کو حاصل ہیں، ان کے ذریعے اسلام کے کلی اصولوں کے اندر رہ کر ان مشکلات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ان امور میں سے ہر ایک کو تفصیل سے بیان کرنے کے لیے ایک لمبی تفصیل کی ضرورت ہے، خصوصًا جبکہ اجتہاد کا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے (اجتہاد کا معنٰی ہے اسلامی ماخذ سے اسلامی احکام کا استنباط) لیکن ہم یہاں اس تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ اس طرح سے ہم اپنے مقصد سے دور ہٹ جائیں گے، لیکن پھر بھی ہم نے اشارہ کر دیا ہے جو مذکورہ بالا اعتراض کا جواب ہو سکتا ہے۔
۳- غیبی فیض سے محرومی:
ایک اور سوال یہ ہے کہ وحی کا نزول ہو یا عالم غیب اور ماورا، طبیعت سے ارتباط،عالم بشریت کے لیے خدا کی طرف سے ایک بہت بڑا احسان اور اعزاز اور تمام سچے مومنین کے لیے امید کا دریچہ ہے۔ تو کیا اس ارتباط کا منقطع ہو جانا اور امید کے اس دریچے کا بند ہو جانا پیغمبر خاتمؐ کے بعد آنے والے انسانوں کے لیے ایک عظیم محرومی نہ ہو گئی؟ اس سوال کا جواب بھی ذیل کے نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے: اولًا وحی اور عالم غیب سے رابطہ درحقیقت، حقائق کے ادراک کے لیے ہے اور جب کہنے کی باتیں کہی جا چکی ہوں اور روز قیامت تک کی ضروریات کے تمام کلی اور جامع اصول پیغمبر اسلام علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں بیان ہو چکے ہوں تو پھر اس رابطہ کے منقطع ہو جانے سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو گا۔ ثانیًا: جو کچھ نبوت کے خاتمے کے بعد ہمیشہ کے منقطع ہو گیا ہے، وہ ہے "نئی شریعت کے لیے "وحی" یا "سابق شریعت کی تکمیل" نہ کہ عالم طبعیت کے ماورا ہر قسم کے رابطہ کا انقطاع، کیونکہ آئمہ علیہم اسلام کی عالم غیب سے رابطہ رکھتے ہیں اور وہ سچے مومنین بھی جو تہذیب نفس کے ذریعے اپنے دلوں سے حجابوں کو دور کر کے کشف و شہود کے مناصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ مشہور فيلسوف صدرا لمتالہین شیرازی "مفاتیح الغيب" میں یوں رقم طراز ہیں: "وحی" اس معنی کے لحاظ سے کہ فرشتہ ماموریت اور پیغمبر کے لیے کان اور دل پر نازل ہوتا ہے، تو یہ سلسلہ اگرچہ منقطع ہو چکا ہے اور کسی پر فرشتہ نازل نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کو کسی قسم کے فرمان کے نفاذ پر مامور کرتا ہے کیونکہ "اکملت لکم دینکم" کے حکم کے مطابق جو کچھ اس راستے سے انسان تک پہیچنا چاہیے تھا، وہ پہنچ چکا ہے، لیکن الہام و اشراق کا دروازہ ہرگز بند نہیں ہوا اور نہ ہی ہو گا کیونکہ اس دروازے کا بند ہونا ممکن بھی نہیں۔ (بحوالہ: مفاتیح الغیب ص ١۳)۔ اصولی طور پر یہ رابطہ نفس کے ارتقاء رُوح کی جلا اور باطن کے صفا کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ چیز صرف نبوت اور رسالت کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہوتی بلکہ جس وقت بھی اس کے مقدمات اور شرائط فراہم ہو جائیں، یہ معنوی رابطہ قائم ہو جاتا ہے اور بنی نوع انسان اس فیض سے نہ کبھی محروم تھی اور نہ ہی ہو گی۔ (غور کیجیئے گا)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا اور فرشتوں کا درود:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں پیغمبرِ اسلام کی سخت ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب مندرجہ بالا آیات میں اس تبلیغ کے دامن کو سارے معاشرے میں وسعت دینے کے لئے مومنین کی کچھ ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے اور ان سب کی طرف روئے سخن کرتے تو فرمایا گیا ہے۔ "اسے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو"۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا)۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو: (وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا)- چونکہ مادی زندگی میں ان کے لیے غفلت کے عوامل بہت زیادہ ہیں اور شیاطین کے وسوسوں کے تیر ہر طرف سے چل رہے ہیں۔ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے "ذکر کثیر" کے علاوہ، اور کوئی راستہ نہیں ہے"ذکر کثیر" اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے یہ ہے کہ پورے وجود کے ساتھ خدا کی طرف توجہ ہو، نہ کہ صرف زباني۔ ایسا ذکر کثیر ہے جو انسان کے تمام اعمال پر سایہ فگن ہو اور اس پر نور اور روشنی ڈال رہا ہو، اس طرح سے قرآن پاک تمام مومنین کو اس بات کا ذمہ دار ٹھراتا ہے کہ وہ ہر حالت میں یاد خدا میں مصروف رہیں۔ عبادت کے وقت اس حضور قلب او خلوص دل سے یاد کریں، اگر گناہ کے مقامات پر پہنچیں تو اسے یاد کر کے گناہوں سے اپنی آنکھیں بند کر لیں، اگر لغزش ہو جائے تو توبہ کریں اور راہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ نعمت کے وقت اسے یاد کریں، اس کے شکر گزار ہوں، بلا و مصیبت کے وقت اسے یاد کریں۔ صابر و شاکر رہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی یاد کو کبھی دل سے نہ بھلائیں جو زندگی کے ہر شعبہ میں صحیح اور الٰہی طرز عمل کا سبب ہے۔ ایک حدیث جسے صحیح ترمذی اور مسند احمد بن حنبل میں ابو سعید خدری کی وساطت سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے، میں ہے کہ لوگوں نے آنحضرتؐ سے سوال کیا: "ان العباد افضل درجة عند الله يوم القيامة"۔؟ "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کس بندے کا درجہ سب سے افضل اور سب سے بہتر ہو گا"؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: "الذاكرون الله كثيرًا" "جو لوگ خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں"۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "یا رسول الله!ومن الغازی فی سبيل الله" "یا رسول اللہ! کیا اس قسم کے لوگ راہ خدا میں جہاد کرنے والوں سے بھی بلند مقام کے مالک ہیں؟" آپؐ نے فرمایا: "لو ضرب بسيفة فی الكفار والمشركين حتی ینكسر ویختضب دمًا لكان الذّاكرون اللہ افضل درجة منه"۔ "اگر اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کے پیکر پر اس قدر ضربیں لگائیں کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہو جائے تب بھی وہ لوگ جو خدا کو زیاده یاد کرتے ہیں، ان سے افضل ہیں"۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان جلد ١۶ ص ۳٥۳ بحوالہ درمنثور)۔ کیونکہ خالص جہاد بھی خدا کے ذکر کثیر کے بغیر ناممکن ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کثیر ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اگر بعض روایات میں تسبیح حضرت فاطمه الزهرا سلام الله علیہا (۳۴ مرتبہ اللہ اکبر، ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ) اور مفسرین کے بعض اقوال میں نہ ذکر کثیر سے مراد صفات علیا، اور "اسمائے حسنٰی اور پروردگار کو ان چیزوں سے پاک بیان کرنا جو اس کے لائق نہیں یا اس قسم کے دوسرے امور ہیں تو یہ سب ذکر کے واضح مصداق کا بیان ہیں نہ کہ آیت کو مفہوم کو خصوصیت سے ان مصادیق میں سے کسی کے سا تھ محدود کر دیا جائے۔ جیسا کہ آیات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے "ہر صبح و شام تم خدا کی تسبیح" سے مراد یہ ہے کہ تسبیح کو دن رات جاری رکھا جائے اور ان دو اوقات کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنا دراصل دن کے آغاز اور اختتام کے طور پر ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی تفسیر نماز صبح و عصر وغیرہ سے کی ہے تو وہ بھی اس کا ایک مصداق ہے۔ اس طرح سے"خدا کا ذکر کثیر اور ہر صبح و شام اس کی تسبیح، اپنے پروردگار کی طرف دائمی توجہ اور اسے ہر عیب و نقص سے مبرا جانے بغیر نہیں ہو سکتی۔ نیز سب جانتے ہیں کہ خدا کی یاد انسان کی رُوح کے لیے اسی قدر اہم ہے جس قدر جسم کے لئے پانی اور غذا- چناچہ سورہ رعد کی آیت ٢٨ میں آیا ہے: " أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"۔ "آگاہ رہو کہ صرف خدا کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے"۔ دلوں کے سکون و اطمینان کا نتیجہ بھی وہی ہے جو سورۂ فجر کی آیت نمبر ٢٧ تا ۳٠ میں آیا ہے: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي"۔ "اے نفس مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جا، جب کہ تو رب سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے پھر میرے بندوں کے زمرے میں شامل ہو کر میری بہشت میں داخل ہو جا۔ بعد والی آیت درحقیقت، ذکر اور دائمی تسبیح کا نتیجہ اور علت غائی ہے، خدا فرماتا ہے۔ وہ وہی تو ہے جو تم پر درود و رحمت بھیجتا ہے۔ اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لئے رحمت کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ تمھیں وه جہالت، کفر اور شرک کی تاریکیوں سے ایمان، علم اور تقویٰ کے نور کی طرف رہنمائی کرے۔ (هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّور)۔ "کیونکہ وہ مومنین کی بابت رحیم و مہربان ہے" اور اسی بناء پر ان کی ہدایت اور رہبری اس نے اپنے ذمہ لے لی ہے اور اپنے فرشتوں کو بھی ان کی امداد پر مامور کیا ہے": (وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا)۔ "يصلي"، "صلاۃ" کے مادہ سے ہے، یہاں توجہ اور مخصوص عنایت کے معنی میں ہے، یہ عنایت خدا کے بارے میں تو نزول رحمت ہے اور فرشتوں کے بارے میں استغفار اور تقاضائے رحمت ہے۔ جیسا کہ سورۂ مومن کی آیت ٧ میں ہے: وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا" یعنی حاملین عرش مومنین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ بہرحال، یہ آیت ان مومنین کے لیے بشارت عظیم اور بڑی نوید ہے جو ہمیشہ خدا کی یاد میں رہتے ہیں، کیونکہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سیر و سلوک میں تنہا نہیں ہیں بلکہ لفظ "يصلی" فعل مضارع ہے جو استمرار [ہمیشگی/دوام] پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ مومنین ہمیشہ خدا اور اس کے فرشتوں کی رحمت کے زیر سایہ رہتے ہیں اور رحمت کے اس سائے میں ظلمت کے پردے شق ہوتے ہیں اور علم و حکمت، ایمان اور تقوے کا نور ان کے قلب و روح پر ضوفشانی کرتا ہے۔ جی ہاں! سالکین راہ حق کے لیے یہ آیت بہت بڑی بشارت ہے اور انھیں نوید دیتی ہے کہ محبوب کی طرف سے زبردست کشش موجود ہے تاکہ بےچارے عاشق کی کوششیں کسی نہ کسی نتیجہ تک پہنچ جائے۔ وہ راہ خدا میں مقدم اٹھانے والے مجاہدین کے لیے ضمانت ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا شمار خالص افراد کے زمرے میں ہوتا ہے جنہیں گمراہ کرنے سے شیطان نے پہلے دن ہی اپنے عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: "فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ"۔ "خداوندا! تیری عزت کی قسم، سب کو گمراہ کروں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ (ص۔ ٨٢-٨۳) "وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا" کے جملے میں "كان" فعل ماضی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی طرف سے ہمیشہ مؤمنین پر ایک خاص رحمت رہتی ہے اور یہ اس بات کی ایک اور تاکید ہے جو آیت کے آغازمیں ہے۔ یہ خدا کی خاص رحمت ہی ہے کہ وہ مومنین کو اوہام، شہوات اور شیطانی وسوسوں کی تاریکیوں سے نکال کر یقین واطمینان کے نور کی طرف راہنمائی کرتا ہے کیونکہ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ جو تو خطرات اور پیچیدہ راستہ کبھی طے نہ ہو سکے۔ موجودہ سلسلے کی آخری آیت میں مومنین کے مقام اور ان کی جزاء کی عمدہ اور مختصر عبارت میں تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدائی فرشتوں کا تحیہ ان کے لیے جس دن (قیامت) وہ اس سے ملاقات کریں گے، سلام ہے"۔ (تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ)- "تحيت" ماده "حیات" سے "سلامتی" اور "ایک اور زندگی" کے لیے دعا کرنے کے معنی میں ہے (مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ٢ ص ٥۳٢ کی طرف رجوع کریں)۔ یہ ایسا سلام ہے جو عذاب اور ہر قسم کے درد و رنج اور پریشانی سے محفوظ ہے اور سکون و اطمیان سے ملا ہوا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "تحیتهم" مومنین کو آپس میں درود و سلام پیش کرنے کی طرف اشارہ ہے، لیکن اگر گزشتہ آیات کو دیکھیں جن میں خدا اور ملائکہ کی اس جہان میں صلوٰۃ اور رحمت کی گفتگو تھی تو اس کا ظاہر یہ بتایا ہے کہ "یہ تحیہ" بھی اس کے فرشتوں کی جانب سے آخرت میں ہو گا۔ جیسا کہ سورہ رعد کی آیت ٢۳۔٢۴ میں ہے۔ "وَالْمَلاَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلاَمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ"۔ "اس دن فرشتے ان پر ہر دروازے سے دارد ہوں گے اور ان سے کہیں گے تمھارے صبرکی وجہ سے تم پر سلام ہو"۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طور واضح ہو جاتا ہے کہ "یوم یلقونہ" سے مراد قیامت کا دن جسے "لقاء اللہ کے دن" کا نام دیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ تعبہر قرآنی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ اس تحیہ کے بعد جو درحقیقت، آغاز کار سے مربوط ہے اس کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "خدا نے ان کے لیے بڑا قیمتی اجر فراہم کر رکھا ہے"۔ (وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيْمًا)- یہ ایک ایسا جملہ ہے جس میں اختصار کے باوجود تمام چیزیں جمع ہیں اور خدا کی تمام نعمتیں اور ہر قسم کی بخششیں اس میں چھپی ہوئی ہیں۔
چند ایک نکات ١- ہر حال میں خدا کی یاد:
جس وقت خدا کا نام لیا جاتا ہے، عظمت، قدرت، علم اور حکمت کی ایک دنیا کے دل میں روشن ہوتی ہے کیونکہ وہ اسماء حسنٰی اور اعلٰی صفات کے حامل، تمام کمالات کا مالک اور ہر قسم کے نقص و عیب سے منزه و مبرہ ہے۔ اس حقیقت کی حرف دائمی توجه انسانی روح کو نیکیوں اور پاکیزگیوں کی طرف راہنمانی کرتی ہے اور برائیوں اور قباحتوں حسے سے روکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی صفات کا عکس انسانی روح میں تجلی کرتا تو ہے، ایسے عظیم معبود کی طرف توجہ اس کی بارگاہ میں دائمی حضور کے احساس کا موجب بنتی ہے اور اس احساس کے ذریعے ہی گناہوں سے انسان کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ روز بروز ان سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اس کی یاد ہمیشہ اس کی نگرانی کی یاد آوری، اس کے حساب و کتاب اور جزا کی یاد، اس کے عدل و انصاف اور جنت و دوزخ کی یاد ہے ایسی یاد جو روح کوصفا اور دل کو نور و حیات عطا کرتی ہے۔ اسی بناء پر اسلامی روایت میں آیا ہے کہ ہر چیز کی ایک مقدار معین ہے، سوائے یاد خدا کے کہ جس کا کوئی حد و حساب نہیں۔ اصول کافی کی روایت کے مطابق امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "ما من شیءٍ الا وله حدّ ینتھی الیہ اِلَّا الذكر، فليس له حد ینتھی اليہ" ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے کہ جب وہ اس تک پہنچ جائے تو ختم ہو جاتی ہے، سوائے یاد خدا کے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ پھر مزید فرماتے ہیں: "فرض الله عزوجل الفرائض فمن ادّاھن فهو حدّھن، و شهر رمضان فمن صامہ فهو حده والحج فمن حج حده، الّا الذکر، فان الله عزوجلّ لم یرض منه بالقليل ولم يجعل له حدّا ينتهي اليه، ثم تلا: یا ایّها الذین امنوا اذکروا اللہ ذكرًا كثیرًا و سبحوہ بكرة واصیلًا"۔ "خدا نے واحب نمازوں کو فرض کیا ہے جو ان کو ادا کر دے اس نے ان کی حد کو پورا کر دیا، ماہ رمضان کے جو روزے رکھ لے اس کی حد انجام پا گئی، جو شخص (ایک مرتبہ) حج بجا لائے تو وہی اس کی حد ہے سوائے"ذکر خدا " کے کہ خدا اس کی قلیل مقدار سے راضی نہیں ہوتا اور اس کے کثیر کے لیے بھی کسی حد کا قائل نہیں۔ پھر آپ نے اپنی گفتگو کے شاہد کے طور پر آیہ" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا۔۔۔۔۔ تلاوت فرمائی۔ (بحوالہ: کافی جلد ٢ کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل))۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام اسی روایت کے ذیل میں اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیه السلام کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ آنجنابؐ "کثیر الذکر" تھے۔ جس وقت ہم ان کے ساتھ چل رہے ہوتے تو وہ ذکر خدا کر رہے ہوتے اور کھانا کھاتے وقت ذکر خدا میں مشغول رہتے، یہاں تک کہ جب لوگوں سے باتیں کہہ رہے ہوتے تو بھی ذکر خدا سے غافل نہ ہوتے ۔۔۔۔ " آخر میں یہ پرمغز حدیث اس جملہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے: "والبيت الذي يقرء فیہ القران، ویذكر الله عزوجل فيه تكثر بركته، وتحضرہ الملائكة، وتهجر منه الشياطين، و یضیء لاهل السماء كما يضيء الكوكب الدری لاهل الارض"۔ "جس گھر میں قرآن کی تلاوت اور خدا کی یاد ہو، اس میں برکت زیادہ ہوتی ہے فرشتے اس میں حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین اس سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، اور وہ گھر اہل آسمان کو یوں چمکتا دکھائی دیتا ہے، جیسے اہل زمین کو چمکتا ستارہ نظر آتا ہے"۔ (اس کے برعکس جس گھر میں تلاوت قرآن اور ذکر خدا نہیں ہوتا اس کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور فرشتے ہجرت کر جاتے ہیں اور شیاطین آپڑاؤ ڈالتے ہیں)۔ (بحوالہ: کافی جلد ٢ کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل))- یہ موضوع اس قدر اہم ہے کہ ایک حدیث میں یاد خدا کو دنیا و آخرت کی تمام خیر کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں: "من اعطی لسانا ذاكرًا فقد اعطى خير الدُنيا والآخرة"۔ "جس شخص کو خدا نے ذکر کرنے والی زبان عطا کی ہے گویا اس کو دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی ہے"۔ (بحوالہ: کافی جلد ٢ کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل))- یادِ خدا کی اہمیت کے سلسلے میں روایات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ہم چاہیں کہ ان سب کو یہاں جمع کر دیں تو ہم اپنے موضوع سے خارج ہو جائیں گے۔ اس گفتگو کو ہم حضرت صادق آلِ محمدؐ کی ایک مختصر مگر جامع حدیث ختم کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: "ومن اكثر ذكر الله عزوجل اظله الله في جنته"۔ "جو شخص زیادہ یاد خدا کرے تو خدا اسے اپنے لطف و کرم کے سائے میں بہشت بریں میں جگہ عطا فرمائے گا"۔ (بحوالہ: کافی جلد ٢ کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل))- (جو لوگ اس سلسلے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں اصول کافی جلد دوم کے ان ابواب کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو ذکر اللہ کے بارے میں ہیں، خصوصًا جس باب میں بتایا گیا ہے کہ اس شخص کو کبھی آفات و بلیات اپنا نشانہ نہیں بتاتے جو ذکر خدا کرتے ہیں)۔ اس بات کو ایک بار پھر دہرانا ضروری ہے کہ ان سب خیرات و برکات کا تعلق یقینًا ایسے لفظی ذکر اور حرکت زبان سے نہیں ہے جو غور و فکر اور عمل سے خالی ہو بلکہ مقصود وہ ذکر ہے جس سے فکر کے سوتے پھوٹتے ہوں اور جس کا ردعمل انسانی اعمال سے واضح ہو جیسا کہ روایات میں اس معنی کی تصریح ہوئی ہے۔ (بحوالہ: خصائل صدوق مطابق نقل تفسیر المیزان جلد ٧/۶ص ۳٥۳)۔
٢- لقاء اللہ کیا ہے؟
ہم نے کہا ہے کہ قرآن مجید میں عام طور پر یہ تعبیر قیامت کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ پروردگار کے بارے میں حسی ملاقات کوئی مفہوم نہیں رکھتی کیونکہ وہ جسم ہے، نہ ہی عوارض جسم کا حامل، لہذا بعض مفسرين مجبورًا اصطلاح کے مطابق یہاں مضاف کو مقدر مان کر کہتے ہیں کہ"لقاء ثواب اللہ" یا "خدا کے فرشتوں کی ملاقات" ہے، لیکن یہاں پر "لقاء" کو "لقاء اللہ" کے حقیقی اور دل کی آنکھ کے ساتھ دیکھنے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن تمام پردے ہٹ جائیں گے اور خدا کی عظمت اور اس کی نشانیاں ہر زمانے سے زیادہ روشن اور واضح طور پر جلوہ گر ہوں گی۔ انسان باطنی شہود اور دل کی آنکھوں کے اندر دیکھنے کے مقام پر پہنچ جائے گا اور ہر شخص اپنی معرفت اور عمل صالح کی مقدار کے مطابق اس شہود کے عالی مرحلے پر فائز ہو گا۔ اسی مناسبت سے جناب فخر رازی نے اپنی تفسیر میں نہایت ہی قابل توجہ بات بیان کی ہے جسے ہماری مذکورہ گفتگو کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس دُنیا میں انسان مادی امور اور تلاش معاش میں مستغرق ہونے کی وجہ سے عام طور پر خدا سے غافل ہو جاتا ہے لیکن قیامت میں جب یہ تمام امور برطرف ہو جائیں اور انسان فکر معاش سے بےنیاز ہو جائے گا تو اپنے پُورے وجود کے ساتھ پروردگار عالم کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور یہی "لقاء الله" کا معنی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر کبیر ازفخرالدین رازی۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یاد رہے جو کچھ ہم عرض کر چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض مفسرین نے یہاں پر جو موت اور فرشتہ موت سے ملاقات کے لمحے کی طرف اشارہ سمھجا ہے، نہ تو مذکوره آیات سے مناسبت رکھتا اور نہ ہی ان جیسی دوسری قرآنی آیات کی تعبیرات سے۔ خصوصًا "يلقونہ"میں مفعول کی ضمیر مفرد کی صورت میں آئی ہے جو اس ذات پاک خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے، جبکہ روح کو قبض کرنے والے فرشتوں کے لیے جمع کا صیغہ ہوتا ہے اور اس سے قبل کی آیت میں لفظ "ملائکہ" جمع کی صورت میں آیا ہے (مگر یہ کہ کوئی کلمہ مقدر مانا جائے)۔
۳- مؤمنین کی جزاء ابھی سے تیار ہے:
أَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيْمًا" کا جملہ واضح کرتا ہے کہ بہشت اور اس کی نعمتیں ابھی سے پیدا ہو چکی ہیں اور مومنین کے انتظار میں ہیں، لیکن ممکن ہے یہاں پر یہ سوال پیدا ہو کہ تیار رکھنا تو ایسے لوگوں کے لیے مناسب ہوتا ہے جو محدود قدرت کے مالک ہوتے ہیں اور مبادا ضرورت کے وقت فراہم کرنا چاہیں تو نہ کر پائیں لیکن پروردگار کی قدرت غير محدود ہے، وہ جس وقت کسی چیز کا ارادہ کرے تو حکم دیتا ہے "ہو جا" تو وہ فورًا ہو جاتی ہے وہاں ایسی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تو پھر اس آیت میں اور قران کی دوسری آیات میں تیار ہونے کا کیا مقصد ہے؟ ج: ایک نکتے کی طرف توجہ اس مُشکل کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو تیار کر کے رکھنا ہمیشہ قدرت کے محدود ہونے کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ کبھی دل کو گرمانے اور زیادہ سے زیاده ولی اطمینان اور بعض اوقات زیادہ سے زیادہ احترام و اکرام کی بناء پر ہوتا ہے۔ لہذا ہم کسی مہمان کو دعوت دیتے ہیں اور کچھ مدت پہلے اس کی تواضح کے وسائل تیار کرنے میں مصروف ہو جائیں، تو ہم اس کے لیے زیادہ احترام اور اہمیت کے قائل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کے آنے کے بعد تواضع اور پذیرائی کے وسائل مہیا کرنے میں لگ جائیں تو یہ خود ایک قسم کی بےاعتنائی، بے پرواہی اور ناقدری شمار ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات اس سے مانع نہیں ہو گی کہ باایمان افراد اپنی خود سازی، معرفت اور پاکیزگی عمل میں جتنی زیادہ کوشش کریں گے، خدا کی طرف سے اجر و ثواب بھی اتنا تکامل اور ارتقاء پیدا کرتا جائے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 48 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر رسول اللہؐ چراغِ فروزاں ہیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ان آیات میں روئے سخن پیغمبر اسلامؐ کی طرف ہے لیکن اس کے نتیجہ مومنین کے لیے ہے۔ اور آیات اُن گزشتہ آیات کی تکمیل کرتی ہیں جن میں مومنین کی بعض ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ان چار آیات میں سے پہلی دو آیات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پانچ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور دوسری دو آیات میں پانچ ذمہ داریوں اور فرائض کا تذکرہ ہے جو سب کے سب آپس میں مربوط اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے: "اے پیغمبرؐ ہم نے آپ کو شاہد اور گواہ کے طور پر بھیجا ہے": (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا)۔ آنحضرتؐ ایک طرف سے تو امّت کے اعمال پر گواہ ہیں کیونکہ آپؐ ان کے اعمال کو دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم ایک اور جگہ پڑھتے ہیں: "وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ" "کہہ دیجیئے کہ عمل کرتے رہو خدا، اس کا رسول اور مومنین (آئمه معصومینن) تمھارے اعمال کو دیکھتے ہیں"۔ (توبہ ۔ ١٠٥) پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ علیہم اسلام کے پاس امت کے اعمال کے پیش ہونے سے ان کے بارے میں ان کے علم و آگہی کی بات ثابت ہو جاتی ہے جس کی تفصیل اسی آیت کے ذیل میں، تفسیر نمونہ ہشتم میں آ چکی ہے۔ دوسری طرف آپ گزشتہ انبیاءؑ و پر شاہد ہیں جو خود اپنی امت کے گواہ تھے: "فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا"۔ "اس دن ان کی حالت کیسی ہو گی جس دن ہم ہر امت کے لیے ان کے اعمال پر گواہ طلب کریں گے اور آپ کو ان کے اعمال پر گواہ قرار دیں گے"۔ (نساء ۔ ۴١)۔ اور تیسری طرف آپ اپنے وجودِ مقدس، اوصاف حمیده، اخلاق حسنه، اصلاحی پروگرام، روشن ماضی اور اعمال صالح کی وجہ سے اپنے مکتب کی حقانیت اور پروردگار کی عظمت و قدرت کے گواہ ہیں۔ پھر دوسری اور تیسری صفت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:" ہم نے آپ کو بشارت دینے اور ڈرانے والا قرار دیا ہے": (وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا)۔ نیک لوگوں کو پروردگار عالم کے بےانتها اجر اور ہمیشہ کی سعادت و سلامتی اور قابل فخر کامیابی و کامرانی کی بشارت یعنی خوش خبری دینے والا اور کفار و منافقین کو خدا کے درد ناک عذاب، تمام وجودی سرمایوں کے ضیاع اور دنیا و آخرت میں بدبختی کے گڑھوں میں جا گرنے سے ڈرانے والا۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ خوف امید کو ہر جگہ ایک دوسرے سے ملا ہوا اور باہم مساوی ہونا چائے۔ کیونکه وجود انسانی کا آدھا حصہ تو فوائد کے حصول سے لگاؤ رکھتا ہے اور دوسرا نصف حصہ نقصان سے بچنے کی خواہش رکھتا ہے"بشارت" کا سبب پہلا حصہ اور"انذار" کا سبب دوسرا حصہ ہے۔ وہ لوگ جو اپنے منصوبوں کاموں میں صرف ایک حصے پر انحصار کرتے ہیں دراصل انھوں نے انسان کی حقیقت کو پہچانا ہی نہیں ہے اور نہ ہی انھوں نے اس کی اس حرکت کے اسباب و علل کوئی توجہ کی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں سورہ بقرہ کی آیت ١١٩ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث "دو اہم تربیتی اصول" کے عنوان سے کر چکے ہیں۔ (جلد اوّل دیکھیے)۔ بعد والی آیت رسول اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی اور پانچویں صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے"۔ ہم نے آپ کو اللہ کے حکم کے مطابق اس کی طرف دعوت دینے والا قرار دیا ہے اور روشنی عطا کرنے والا چراغ بھی": (وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا)-
چند قابل توجہ نکات ١- رسالت مآبؐ کا مقام شہود:
آپ کے تمام اوصاف سے پہلے آیت میں اس مقام کا ذکر ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مقام صرف پیغمبر کے وجود اور ان کی رسالت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسے کسی قسم کے تمہید اور مقدمہ کی ضرورت نہیں ہوتی اور جس وقت آپ اس مقام و منزلت پر منصوب ہو جائیں گے تو آپ کا مذکورہ بالا جہات سے شاہد ہونا مسلم ہو جائے گا، البته مقام "بشارت" و "انذار" دو ایسے مقامات ہیں جو اس کے بعد وجودی صورت اختیار کرتے ہیں۔
٢- خدا کی طرف دعوت کا مرحلہ:
یہ مرحلہ بشارت اور انذار کے بعد آتا کیونکہ بشارت و انذار افراد کو حق کے قبول کرنے پر آمادہ کرنے کا ذرایعہ ہے، جب ترغیب اور تنبیہ کے ذریعہ حق کو قبول کرنے کی آمادگی پیدا ہو جائے گی تو پھر خدا کی طرف دعوت شروع ہو گی، اور صرف ایسے ہی مقام پر دعوت مؤثر ہو گی۔
۳- دعوت اذنِ الٰہی سے:
باوجودیکہ آنحضرتؐ کے تمام کام خدا کے اذن و فرمان سے انجام پاتے ہیں لیکن یہاں پر صرف دعوت کو اذن پروردگار سے مقید کیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیا کا مشکل ترین اور اہم ترین کام کی طرف دعوت دینا ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کو ان کی خواہشات نفسانی کے برخلاف صحیح راستے پر چلانا ہوتا ہے۔ لہذا اس مرحلے پر خدا کے اذن و فرمان اور یاوری و مدد کو شامل حال ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے صحیح انجام کو پہنچے۔ ضمنًا یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ پیغمبرؐ اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ کہتے ہیں، اذن خدا سے کہتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ احتمال بھی ہے کہ "باذنہٖ" کی قید گزشتہ تمام اوصاف کی طرت لوٹتی ہو۔ لیکن آیت کا ظاہر یہ بتایا ہے کہ صرف "داعیا الى الله" کی طرف لوٹ رہی ہے)۔
۴- آپؐ کا سراجِ منیر ہونا:
"سراج" کا معنی "چراغ" اور "منیر" کا معنی "نور افشاں" ہے اور یہ پیغمبر گرامیؐ کے معجزات، حقانیت کے دلائل اور دعوت کی صداقت کی نشانیوں کی طرف اشارہ ہے۔ وہ ایسا روشن چراغ ہے جو اپنا گواہ خود آپ ہے تاریکیوں کو دُور کرتا ہے اور آنکھوں اور دلوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جس طرح "آفتاب آمد دلیل آفتاب" ہوتا ہے، ان کا وجود بھی ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔ یہ بات میں قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید میں چار مرتبہ لفظ سراج آیا ہے جن میں سے تین مقامات پر سورج کے معنی میں آیا ہے جن میں سے سورہ نوح کی آیت ١٦ میں فرمایا گیا ہے: "وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا" "خدا نے چاند کو آسمان کا نور اور سورج کو چراغ فروزاں قرار دیا ہے"۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کا "سراج" اصل میں چراغ کے معنی میں ہے جو گزشتہ زمانے میں فتیلے اور سرسوں کے تیل سے جلتا تھا اور وجود دور میں بجلی وغیرہ کی قوت سے نور اور روشنی کا سرچشمہ ہے، لیکن مفردات میں راغب کے بقول یہ لفظ تدریجًا نور اور روشنی کے ہر منبع پر بولا جائے گا اور سورج اس کا اطلاق اس بناء ہے کہ اس کا نور خود اسی کے اندر سے پھوٹتا ہے اور چاند کی طرح کسی اور منبع سے نور نہیں حاصل کرتا۔ پیغمبرِ گرامی صلی الله علیه و آلہٖ وسلم کا وجود گرامی آفتاب تاباں کی طرح ہے جو جہالت، شرک اور کفر کی ظلمتوں کو انسان کی روح کے افق سے دُور کرتا ہے، لیکن جس طرح نابینا افراد سورج کی روشنی سے استفادہ نہیں کر سکتے اور جس طرح چمگادڑ کی آنکھیں اس روشنی کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں اور وہ اس سے اپنے آپ کو چھپائے رکھتی ہے، اسی طرح دل کے اندھے اور ہٹ دھرم افراد بھی اس نور سے کبھی استفاده نہیں کر سکتے۔ نہ پہلے اور نہ اب اور ابو جہل جیسے لوگ اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں تاکہ رسول پاکؐ کے قرآن پڑھنے کی آواز نہ سن سکیں۔ ہمیشہ ظلمت اور تاریکی اضطراب اور وحشت کا سبب ہوتی ہے، جبکہ نور اور روشنی سکون اور اطمینان کا باعث جو رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بیابان کے درندے بھی عام طور پر رات ہی کی تاریکی میں اپنے ٹھکانوں سے باہر آتے ہیں۔ تاریکی انتشار کا سبب ہے اور نور اجتماع کا باعث ہے۔ اسی بناء پر اگر کسی تاریک رات میں بیابان کے اندر ایک چراغ روشن و کر دیا جائے تو تھوڑی دیر میں انواع و اقسام کے حشرات اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ روشنی اور نور درختوں کی نشو و نما، پھولوں کی پرورش، پھلوں کے پکنے غرضیکہ تمام حیاتی فعالیتوں کا سرمایہ ہے۔ ذاتِ پیغمبر کو ایک منبع نور کے ساتھ تشبیہ دنیا ان تمام مفاہیم کو ذہن میں منقش کر دیتا ہے۔ آپؐ کا وجود گرامی باعث سکون ہے، دین و ایمان کے چوروں اور معاشرے کے بےرحم ستم گر بھیڑیوں کے بھاگ جانے کا سبب ہے، دل کی تسلی کا سرمایا اور ایمان و اخلاق کی روحانی پرورش اور نشوونما کا ذریعہ ہے۔ غرضیکہ آپ ہی کے دم قدم سے زندگی اور اس کی چہل پہل کا مزہ ہے اور آپ کی تاریخ زندگی اس امر کا زندہ شاہد ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ زیربحث آیات میں سے دو آخری آیتوں میں آنحضرتؐ کی پانچ اہم ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ آپؐ کی پانچ صفات بیان کرنے کے بعد پہلے مرحلے پر فرمایا گیا ہے۔" مومنین کو بشارت دیجیئے کہ ان کے لیے خدا کی طرف سے فضل اور عظیم اجر ہے"۔ (وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا)۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر کی بشارت کا مسئلہ صرف نیک مومنین کے اعمال کے اجر و جزا تک ہی محدود نہیں بلکہ خداوند عالم اس پر اپنے فضل و کرم کی اس قدر بخشش کرے گا کہ عمل اور اجر کے درمیان توازن کا معیار بالکل بدل جائے گا، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات اس پر شاہد ناطق ہیں۔ قرآن ایک جگہ فرماتا ہے: من جاء بالحسنة فله عشر امثالها"۔ (انعام۔ ١٢٠)۔ قرآن دوسری جگہ فرماتا ہے: "مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ"۔ (بقرۃ ۔ ٢٦١)۔ جس کے مطابق کبھی راہِ خدا میں خرچ کرنے کا اجر سات سو گنا اور بھی ہزار گناہ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات ثواب اس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: "فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ" "کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس قدر ثواب اس کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو گا" (الم سجدہ ۔ ١٧)۔ اس طرح سے خدا کے ایک فضل و کرم کی طرف نشاندہی کی گئی ہے جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں آ سکتا بلکہ اس سے بھی بلند تر اور بالاتر ثواب کی نشان دہی کی گئی ہے۔ قرآن اس کے بعد دوسرے اور تیسرے حکم پیش کرتے ہوئے کہتا ہے۔ کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو": (وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ)- اس میں شک نہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہرگز کفار اور منافقین کی اطاعت نہیں کرتے تھے، لیکن معاملہ اس قدر اہم ہے کہ تاکید تو پیغمبر کو کی جا رہی ہے لیکن تنبیہ دوسروں کو، کیونکہ سچے رہبروں کو رستے میں جو اہم خطرات درپیش ہوتے ہیں وہ یا تو سودے بازی ہوتی ہے اور یا پھر ہتھیار ڈال دینا ہوتے ہیں اور ان خطرات کا سرچشمہ یا تو دھمکیاں ہوتی ہیں یا پھر مختلف طریقوں سے لالچ ہوتا ہے حتٰی کہ کبھی کھبار تو انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ان دو راستوں میں سے کسی ایک کو اپنا ہی لینا چاہیے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے رہبر کی تمام محنت ضائع ہو جاتی ہے اور تمام کوششوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ تاریخ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ کفار اور منافقوں کے مختلف گروہوں نے بارہا کوشش کی کہ پیغمبر اسلامؐ کو بھی مذکورہ صورت و حال سے دو چار کر دیں۔ چنانچہ کبھی تو انھوں نے کہا کہ بتوں کو بُرا بھلا نہ کہیں اور کبھی یہ پیش کش کی کہ ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں اور ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی۔ کبھی کہتے کہ ہمیں مزید ایک سال کی مہلت دیں کہ اسی طرح عمل جاری رکھیں، پھر آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ کبھی پیش کش کرتے کہ آپ ان غریبوں فقیروں کو اپنے اطراف سے ہٹا دیں تاکہ مالدار اور بااثر لوگ آپ کے ہم نوا بن سکیں۔ اور کبھی مالی امداد کی پیشکش کرتے کبھی عہدہ اور منصب و مقام اور خوبصورت عورتوں کی لالچ دیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں اسلام کی سریع اور تیز پیش رفت اور کفر و نفاق کی بیخ کنی کی راہ میں خطرناک چال تھی، اگر آپ ان میں سے کسی مطالبے کو مان لیتے یا اپنی طرف سے ذرہ بھر نرمی اور جھکاؤ کا اظہار کرتے تو اسلامی انقلاب کی بنیادی متزلزل ہو جاتیں، اس کی عمارت دھڑام سے گر جاتی اور آپ کی کوئی کوشش کسی بھی نتیجہ کو نہ پہنچ پاتی۔ پھر چوتھے اور پانچویں حکم میں فرمایا گیا ہے۔ "ان کے آزار اور تکلیف پہنچانے کی پرواہ نہ کریں، خدا پر توکل کریں۔ اور یہی کافی ہے کہ خدا آپ کا حامی اور دفاع کرنے والا ہے": (وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا)۔ آیت کا یہ حصہ واضح کرتا ہے کہ انھوں نے پیغمبر اسلامؐ پر جھکنے اور سر تسلیم خم کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈالا اور انواع و اقسام کے آزار و تکالیف سے دوچار کر دیا اور وه آزار کبھی کو زبان کے ذریعہ زخم لگا کر اور بد زبانی کر کے اور کبھی جسمانی طور پر دکھ پہنچا کر، کبھی آپؐ کا اور آپ کے اعوان و انصار کا اقتصادی محاصرہ کر کے، غرضیکہ انھوں نے اذیتیں پہچانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ البتہ مکہ میں قیام کے دوران اذیتوں کا طریقہ اور تھا اور مدینہ میں اور تھا۔ کیونکہ "اذی" ایک لفظ ہے جو آزار اور تکلیف کی تمام قسموں کی نشاندہی کرتا ہے۔ راغب مفردات میں کہتے ہیں کہ "اذی" ہر قسم کے ضرر کے معنی میں ہے جو کسی زندہ چیز یا اس سے وابستہ افراد کو پہنچے۔ وہ ضرر چاہے، جسمانی ہو یا جانی، دنیوی ہو آخروی۔ البتہ یہ لفظ قرآنی آیات میں خصوصیت کے ساتھ زبانی ایذاء اور تکلیف پہنچانے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلا سورہ توبہ کی آیت ٦١ میں ہے: "وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ"۔ "ان میں بعض لوگ پیغمبر کو اذیت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خوش یقین انسان ہیں اور ہر شخص کی بات پر کان دھرتے ہیں"۔ لیکن دوسری آیات میں یہ لفظ جسمانی تکلیف کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورة نساء کی آیہ نمبر ١٦ میں ہے: "وَاللَّذَانَ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا"۔ "وہ مرد اور عورتیں جو اس بُرے عمل (زنا) کا ارتکاب کرتے ہیں، انھیں آزار دو (ان پر شرعی حد جاری کرو)۔" تاریخ کہتی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور صدر اسلام کے مسلمانوں نے طرح طرح کی تکالیف کا پہاڑ کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کبھی کسی کے آگے نہیں جھکے۔ ننگ و عار کو تسلیم نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے مقاصد جلیلہ میں کامیاب و کامران ہو گئے۔ اس استقامت اور کامیابی کی وجہ صرف خدا پر توکل اور اس کی پاک ذات پر اعتماد تھا۔ وہ خدا جس کے ارادے کے آگے تمام مشکلات کافور ہو جاتی ہیں اور بقول شاعر: اگر تیغ عالم بجنbnد زجای نبرد رگی تانخواہد خدای "اگر ساری دنیا کی تلواریں حرکت میں آ جائیں، جب تک خدا نہ چاہے، کسی کی ایک رگ بھی نہیں کاٹ سکتیں۔" جی ہاں! انسان کا سہارا اور جائے پناہ اس قسم کا خدا ہونا چاہیے اور بس! جو کچھ تم کہہ چکے ہیں۔ اس سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ زیربحث آیت کا مضمون حکم جہاد سے منسوخ نہیں ہوا۔ (جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے) بلکہ ظاہر یہ ہے کہ آیات حکم جہاد کے کافی عرصہ بعد اور سورہ احزاب سے متعلق واقعات کے ضمن میں نازل ہوئي ہیں اور ہر دور میں واجب العمل اور لازم الاجراء ہیں تاکہ خدائی پیشوا اپنی تمام تر قوتیں مخالفین کےاذیت ناک کاموں کو اہمیت دینے میں صرف نہ کر دیں۔ کیونکہ اگر وہ ان کی پروا کریں گے اور اپنی فعال صلاحیتیں ان کے مقابلے میں صرف کر دیں گے تو دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ کیونکہ دشمن تو چاہتا ہی یہ ہے کہ مخالف کے اذہان و افکار کو الجھا دے تاکہ اس طرح سے اس کی طاقت ضائع کر دے یہی وہ منزل ہے جس کا واحد حل بےاعتنائی اور "دع اذاهم" والے فرمان پر عمل درآمد ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا پانچوں احکام جو آخری دو آیات میں ذکر ہوئے ہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ مؤمنین کو باایمان قوتوں کے جذب کرنے کے لیے بشارت دینا، کفار اور منافقین سے کسی قسم کی سودے بازی نہ کرنا اور نہ ہی ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، ان کے آزار و تکلیف کی پرواہ نہ کرنا اور خدا کی ذات پر توکل کرنا، مجموعی طور پر ان میں مقصد تک پہنچنے کا راز پوشیدہ ہے اور یہ راہ حق کے راہیوں کے لیے ایک مکمل اور جامع دستور العمل ہے۔
تفسیر طلاق کے کچھ احکام:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس سورہ (احزاب) کی آیات کو صاف طور مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بعض میں تو پیغمبرؐ کو خطاب کیا گیا ہے اور بعض میں تمام مؤمنین کو۔ اسی لیے کبھی "يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ" آیا ہے تو کبھی "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا"۔ ان آیات میں لازمی احکام ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پیغمبرؐ کی ذات بھی ان احکام میں مورد نظر تھی اور تمام مؤمنین بھی۔ زیر نظر آیت ان میں سے ہے، جن میں روئے سخن سب اہل ایمان کی طرف ہے، جبکہ گزشتہ آیات میں ظاہرًا روئے سخن صرف رسول کریمؐ کی طرف تھا اور پھر آیندہ آیات میں دوبارہ پیغمبر اکرمؐ کو خطاب کی نوبت آئے گی اور اس سے "لف و نشرِ مرتب" کی اصطلاح کے مطابق اس سورہ کا ایک حصہ تشکیل پاتا ہے۔ خدا فرماتا ہے: "اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، جس وقت ایمان دار عورتوں سے نکاح کرو اور ہم بستری سے پہلے ہی انہیں طلاق دے دو تو تمھاری وجہ سے ان پر کوئی عدت نہیں ہے کہ جس کا حساب تم مدنظر رکھو": (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا)۔ یہاں پر خدا مطلقہ عورتوں کی عدت کے حکم میں ایک استثناء بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر دخول سے، پہلے طلاق واقع ہو جائے تو پھر عدت رکھنا ضروری نہیں ہے۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے عدت کا حکم بیان ہو چکا ہے۔ "مؤمنات" کی تعبیر اس بات کی دلیل نہیں کہ غیر مومن یا غیر مسلم عورتوں سے نکاح کلی طور پر ممنوع ہے، ہو سکتا ہے کہ ان کی اولیت کی طرف اشارہ ہو، اسی بناء پر یہ آیت کتابیہ عورتوں سے نکاح موقف (متعہ) کی روایات اور مشہور فقہاء کے فتاوٰی سے متصادم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ "لكم" (تمھارے لیے) اور اسی طرح "تعتدّونها" (عدت کا حساب کرتے ہو) کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے، عورت کی عدت رکھنا دراصل مرد کا ایک قسم کا شمار ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ عورت واقع میں حاملہ ہو، اور عدت کو ترک کر کے دوسرے مرد سے ازدواج سبب بن جائے کہ بچے کی کیفیت غیر واضح ہو، لہذا مرد کا حق پامال ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، عدت کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مرد اور عورت دونوں کو اس بات کی فرصت مل جائے گی کہ اگر طیش اور غصے کی وجہ سے نوبت طلاق تک جا پہنچی ہو تو وہ اس مدت میں اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی بھی کر سکیں، یہ عورت اور مرد دونوں کا حق ہے۔ رہا یہ اعتراض جو بعض لوگ کرتے ہیں کہ اگر عدت مرد کا حق ہے تواس کو ساقط بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ اعتراض ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ فقہ میں بہت سے ایسے حقوق ہیں، جن کو ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ مثل اس حق کے جو میت کے پسماندگان کو اس کے مال میں حاصل ہوتا ہے یا وہ حق فقراء کو زکوۃ میں حاصل ہوتا ہے یا ان میں سے کسی ایک کو بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد ان عورتیں کے احکام میں سے ایک اور حکم کو بیان کرتا ہے، جن کو ہم بستری سے پہلے طلاق ہو جائے۔ اس کی طرف سورہ بقره میں بھی اشارہ ہو چکا ہے، فرمایا گیا ہے: انہیں، مناسب ہدیہ کے ساتھ) بہرہ مند کرو (فمَتِّعُوهُنَّ)- اس میں شک نہیں کہ عورت کو مناسب ہدیہ دینا اس مقام پر واجب ہوتا ہے، جہاں اس کے لیے مہر معین نہ ہوا ہو جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت ٢۳٦ میں آیا ہے: "لاَّ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنُّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ" تم پر گناہ نہیں ہے کہ اگر تم عورتوں سے اختلاط سے قبل یا تعیین مہر سے پہلے (کسی وجہ سے) طلاق دے دو، لیکن اس موقع پرانہیں (مناسب ہدیہ کے ساتھ )بہرہ مند کرو۔ اسی بناء پر زیر بحث آیت اگرچہ مطلق ہے اور ایسے مواقع بھی اس میں شامل ہیں جن میں مہر کا تعین ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ لیکن سورہ بقرہ کی آیت کے قرینے سے موجودہ آیت کو ایسے موقع کے لیے مخصوص کیا جائے گا، جہاں مہر مقرر نہ ہوا ہو، کیونکہ اگر مہر معین ہو چکا ہو۔ لیکن دخول نہ ہوا ہو تو آدھا مہر ادا کرنا واجب ہے(جیسا کہ سوره بقرہ کی آیت ٢۳٧ میں آیا ہے)۔ لیکن بعض مفسرین اور فقہاء نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ "مناسب ہدیہ دینے" کا حکم موجودہ آیت میں ایک عمومی حکم ہے۔ یہاں تک کہ وہ مواقع بھی شامل ہیں، جن میں مہر مقرر کیا گیا ہے، البتہ ایسے مواقع پر مستحب ہوتا ہے اور جن مقامات پر مقرر نہیں کیا گیا، وہاں پر واجب ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض آیات اور روایات میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مثلًا سورہ بقرہ کی آیت ٢۴١ اور اس سلسلے کی متعدد روایات و مسائل الشیعہ کی کتاب نکاح کے"ابواب مہور" میں سے باب ٥٠ (جلد نمبر١٥ ص ٥٩) میں بھی موجود ہیں، منجملہ ان کے ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "لكل مطلقۃ متعة الا المختلعة"۔ ہر مطلقہ کے لیے مناسب ہدیہ ہونا چاہیے، سوائے اس عورت کے جو اپنا مہر یا کوئی اور چیز دے کر طلاق لینے میں اپنے شوہر کی رضا مندی حاصل کرتی ہے)۔ اور اس ہدیے کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ قرآن مجید اسے اجمالًا بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ"۔ "مناسب ہدیہ"۔ (بقره ۔ ٢۳٦) اسی آیت میں میں مزید فرمایا گیا ہے: "عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ"۔ جو شخص استطاعت رکھتا ہے اس کی استطاعت کے مطابق جو تنگ دست ہے اس کی اپنی استطاعت کے مطابق۔ اسی بناء پر اگر اسلامی روایات میں گھر، ملازم اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا ذکر آیا ہے، یہ اس کلیے کے مصداق ہیں جو شوہر کی استطاعت اور بیوی کے حالات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ اسی آیت کا آخری حکم یہ ہے کہ "مطلقہ عورتوں کو مناسب طریقے پر رخصت کر دو اور ان سے اچھے انداز میں جدائی اختیار کرو:" (وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا)- "سراح جميل" کا معنی ہے محبت و احترام کے ساتھ علیحدہ کر دینا اور ہر قسم کی سختی، ظلم اور بےاحترامی سے اجتناب کرنا۔ خلاصہ یہ کہ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ٢٢٩ میں آیا ہے کہ "بیوی کو یا تومناسب طور پر اپنے پاس رکھنا چاہیے یا پھر خیر و خوبی کے ساتھ اسے رخصت کرنا چاہیے": "فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ" "زوجیت کو برقرار رکھنا بھی انسانی معیار کے مطابق ہونا چاہیے اور ایک دوسرے سے علیحدگی اور جدائی بھی۔ نہ یہ کہ جب شوہرعلٰیحدگی کا ارادہ کرے تو اپنی بیوی کے بارے میں ہر قسم کی بےمہری، ظلم و زیادتی، بدزبانی، سختی و درشتی کا مظاہرہ کرے، کیونکہ یہ یقینًا غیر اسلامی طریقہ کار ہے۔ بعض مفسرین نے"سراح جمیل" کو اسلامی تقاضوں کے مطابق طلاق انجام پانے کے معنی میں لیا ہے اور جو روایت علی بن ابراہیم کی تفسیر اور "عیون الاثبار" میں آئی ہے؛ اس میں بھی یہی معنی بیان ہوا ہے۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ "سراح جمیل" اس معنی محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس کا ایک واضح مصداق ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے "سرح جمیل" کو گھر سے باہر جانے کی اجازت اور نقل مکانی کے معنی میں سمجھا ہے۔ کیونکہ یہاں عورت عدت اور رکھنے کی پابند نہیں ہے۔ اسی بناء پر اس کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ وہ جہاں جانا چاہے جا سکے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "سراح جمیل" اور اس قسم کی دوسری تعبیرات قرآن کی دوسری آیات میں حتی کہ ان عورتوں کے بارے میں بھی جنہیں عدت گزارنی چاہیے وارد ہوئی ہیں۔ لہذا یہ معنی بعید نظر آتا ہے۔ "سراح" کے اصل اور لغوی معنی کے سلسلہ میں اور یہ کہ وہ کیوں متعارف اطلاقات میں چھوڑ دینے اور طلاق دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اسی سورہ احزاب کی آیہ ٢٨ کے ذیل میں ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔
تفسیر آپؐ کے لیے کن عورتوں سے نکاح جائز ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 5ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ کی آیات کا ایک حصہ پیغمبر اسلامؐ اور ان کی ذمہ داریوں کو "لف و نشرمرتب" کی صورت میں بیان کرتا ہے، لہذا گزشتہ آیت میں عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں کچھ احکام ذکر کرنے کے بعد یہاں رُوئے سُخن نبی پاکؐ کی طرف کرتے ہوئے سات ایسے مواقع کو بیان کیا گیا ہے، جہاں آنحضرت صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم کے لیے نکاح جائز ہے۔ ١- پہلے فرمایا گیا ہے۔ "اے پیغمبرؐ! ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویوں کو حلال کیا ہے جن کا حق مہر آپ ادا کر چکے ہیں": (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ)۔ ان بیویوں سے مراد بعد والے جملوں کے قرینے کے مطابق وہ عورتیں ہیں جن کی پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ کسی قسم کی رشتہ داری نہیں تھی، لیکن انھوں نے آپ سے نکاح کیا اور شاید حق مہر ادا کرنے کا مسئلہ بھی اسی بناء پر تھا، کیونکہ رسم تھی کہ غیر رشتہ داروں میں شادی کے موقع پر حق مہر نقد ادا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، حق مہر ادا کرنے میں جلدی کرنا خصوصًا اس صورت میں جب بیوی کو اس کی ضرورت ہو، بہتر ہے لیکن واجب نہیں ہے اور طرفین کی باہمی رضا مندی کی صورت میں شوہر کے ذمہ سارے کا سارا یا کچھ حصے کی ادائیگی ملتوی بھی کی جا سکتی ہے۔ ٢- "وہ کنیزیں جو غنائم اور انفال کے ذریعے خدا نے آپ کو بخشی ہیں"۔ (وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ)۔ "افاء الله"، "فيء" (بروزن شیء) کے مادہ سے ہے اور ایسے مال کو کہا جاتا ہے جو بغیر مشقت کے ہاتھ آئے۔ اسی لیے جنگی غنیمتوں اور اسی طرح انفال (قدرتی وسائل دولت، جو اسلامی حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کا کوئی فرد واحد مالک نہیں ہوتا، پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ راغب مفردات میں کہتے ہیں "فيء" بازگشت اور اچھی حالت کی طرف لوٹنے کے معنی میں ہے اور اگر "سایہ" کو "فيء" کہا جاتا ہے تو اس لیے کہ وہ برگشت اور لوٹنے کی حالت رکھتا ہے، آگے چل کرکہتے ہیں، بغیر کسی تکلیف اور محنت و مشقت کے حاصل شدہ مال کو بھی "فیء" کہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی تمام خیر و خوبی کے باوجود بھی سائے کی مانند عارضی اور ختم ہونے والا ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جنگی غنائم میں کبھی کبھی زحمت اور مشقت زیادہ اٹھانا پڑتی ہے۔ لیکن چونکہ پھر بھی دوسرے اموال کی نسبت سر دردی اور مشقت تھوڑی ہوتی ہے اور بعض اوقات بہت سے اموال ایک حملے میں ہاتھ آ جاتے ہیں، لہذا انہیں "فیء" کہتے ہیں۔ کیا یہ حکم آنحضرتؐ کی ازواج میں سے کسی کے بارے میں صادق آتاہے؟ اس ضمن میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آپ کی بیویوں میں سے ایک ماریہ قبطیہ غنائم میں سے اور دوسری ازواج "صفیہ" اور "جویریہ" انفال میں سے ہیں جنہوں پیغمبر اکرمؐ غلامی کی قید سے آزاد کر کے اپنی زوجیت کے لیے قبول فرمایا اور غلاموں کو تدریجًا آزاد کرنے اور ان کا انسانی مقام ان کی طرف لوٹانے کے لیے یہ امر بذات خود اسلام کے عمومی پروگراموں کا ایک حصہ تھا۔ ۳- "آپ کے چچا کی بیٹیاں، پھوپھیوں کی بیٹیاں، ماموؤں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے، یہ بھی آپ پر حلال ہیں"۔ (وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ)۔ تو اس طرح سے تمام رشتہ داروں میں سے صرف چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور اور خالہ زاد عورتوں سے اس شرط کے ساتھ اثر ازدواج جائز ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ ان چار گروہوں میں محدودیت واضح ہے، لیکن "مہاجرت" کی شرط اس لیے ہے، کیونکہ اس زمانہ میں ہجرت ایمان کی دلیل تھی اور ہجرت نہ کرنا کفر کی۔ یا اس بنا پر ہے کہ ہجرت انھیں زیادہ اعزاز دیتی تھی اورآیت میں بھی ان عالی مقام اور صاحب فضیلت عورتوں کو بیان کرنا مقصود ہے، جو آپ کی زوجیت کے لیے مناسب اور موزوں ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاروں مواقع جو یک کلی حکم کے طور پر آیت میں ذکر ہوئے ہیں، آیا پیغمبرؐ کی بیویوں میں مصداق خارجی بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ صرف ایک مقام جسے ذکر کیا جا سکتا ہے، وہ ہے آپ کا اپنی پھوپھی زاد زینب بنت حجش کے ساتھ نکاح، جس کی داستان اسی سورہ میں گزر چکی ہے، کیونکہ جناب زینب، حجش کی بیٹی تھیں اور حجش آنخضرتؐ کی پھوپھی کا شوہر تھا۔ (تشریحی نوٹ: یہاں پر "عم" مفردا اور "عمات" جمع کی صورت میں آیا ہے اسی طرح "خال" مفرد اور "خالات" جمع آیا ہے۔ مفسرین نے اس کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، جن کو فاضل مقدار نے کنز العرفان میں بھی نقل کیا ہے، لیکن سب سے بہتر وجہ یہ ہے کہ "عم" اور "خال" عام طور پرلغت عرب میں اسم جنس کی صورت میں استمال ہوئے ہیں۔ جبکہ "عمه" اور "خالہ" اس طرح نہیں ہیں اور یہ اہل لغت کا عام طریقہ ہے۔ جسے ابن العربی نے بھی نقل کیا ہے (دیکھو کنزالعرفان، جلد ٢ ص ٢۴١) اور آلوسی نے رُوح المعانی میں بھی اس وجہ کو باقی تمام وجوہات پر ترجیح دی ہے)۔ ۴- "جس وقت کوئی ایمان دار عورت اپنے آپ کو پیغمبر کے لیے ہبہ کر دے (اور اپنے لیے کسی قسم کے حق مہر کا مطالبہ نہ کرے) اگر پیغمبر چاہیں تو اس سے عقد کر سکتے ہیں"۔ (وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا)۔ "لیکن اے پیغمبر! اس قسم کا نکاح صرف آپ کے لیے جائز ہے نہ کہ باقی مومنین کے لیے": (خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ)۔ "ہم جانتے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں کون سا حکم مقرر کیا ہے"اوران کی مصلحتوں کا کیا تقاضا ہے": (قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ)۔ اسی بناء پر اگر ہم نکاح سے متعلق کچھ مسائل میں ان کے لئے بعض مواقع پر پابندی لگا دیتے ہیں تو اس کی بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اور ان میں سے ہر ایک حکم اور قانون باقاعد حساب و کتاب کے تحت ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ (فریضۂ رسالت کی ادائیگی کے سلسلے میں) آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو (اور آپ اس فریضہ کی بجا آوری میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں): (لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ)۔ "اور خدا بخشنے والا رحیم ہے": (وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔
چند اہم نکات ١- رسول اللہؐ کی ایک خصوصیت:
اس میں شک نہیں کہ "حق مہر کے بغیر بیوی بنانے" کی اجازت صرف پیغمبر اکرمؐ کو ہے اور یہ آپؐ کے مختصات میں سے ہے اور آیت بھی اس مسئلے میں بالکل واضح ہے۔ اسی بناء پر کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی عورت سے مہر (تھوڑا ہو یا زیادہ) کے بغیر عقد کرے۔ حتی کہ اگر صیغہ عقد جاری کرتے وقت حق مہر کا ذکر نہ کیا گیا ہو اور کسی قسم کا قرینہ بھی نہ ہو تو "مہر المثل" دینا چاہیے۔ "مہر المثل" سے مراد وہ حق مہر ہے جو اس جیسی عورتیں مختلف نوعیتوں کے تحت عام طور پر اپنے لیے مقرر کرتی ہیں۔
٢- اس حکم کا خارجی مصداق:
اس کلی حکم نے پیغمبر اسلامؐ کے بارے کوئی خارجی مصداق بھی پیدا کیا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض مفسرین مثلًا ابن عباس اور کچھ دوسرے حضرات کا نظریہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کیفیت کے ساتھ کسی عورت سے نکاح نہیں کیا اور مذکورہ بالا حکم آپ کے لیے ایک ایسا کلی حکم تھا جس سے کبھی بھی استفادہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے آپ کی ان تین چار ازواج کا نام لیا ہے، جو بغیر حق مہر کے آپ کی زوجیت آئیں۔ وہ "میمونہ بنت حارث" اور" زینب بنت خزیمہ، جن کا تعلق انصارسے تھا، بنی اسد کی ایک خاتون "ام شریک بنت جابر" اور "خولہ بنت حکیم" تھیں۔ بعض روایات میں آیا ہے جب خولہ اپنے آپ کو پیغمبر اکرم صلی علیہ و آلہٖ وسلم کے لیے بخش دیا تو جناب عائشہ کی صدائے احتجاج بلند ہوئی اور انھوں نے کہا: "مابال النساء یبذلن انفسهنّ بلامهر" ان عورتوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حق مہر کے بغیر اپنے آپ کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیتی ہیں؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لیکن جناب عائشہ نے حضرت رسالت مآب سے کہا: "معلوم ہوتا ہے کہ اللہ آپ کے مقصد کو بہت جلد پورا کر دیتا ہے۔ (یہ آپ پر ایک قسم کی طنز تھی)۔ تو آنحضرتؐ نے فرمایا: "و انک ان اطعت اللہ سارع فی هواك" "اگر تم بھی خدا کی اطاعت کرنے لگ جاؤ تو وہ تمھارے مقصد کو بھی جلد پورا کر دے"۔ (تشریحی نوٹ: تفسير مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔ تفسیر قرطبی میں بھی یہ جملہ آیا ہے: "والله ما اری ربّک الّايسارع في هواك" [یعنی:] "خدا کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ خدا نے آپ کی کسی خواہش کو جلد پورا نہ کیا ہو۔" اور آلوسی نے بھی "روح المعانی" میں مذکورہ آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے، چنانچہ اسی اس قسم کی نامناسب اور چبھتی ہوئی گفتگو کا مفہوم کسی پر پوشیدہ نہیں۔ لیکن آنحضرتؐ اپنی عظمت اور جلالت قدر کی وجہ سےاس موقع پر بھی بڑی خوش اسلوبی اور متانت سے گزر جاتے ہیں)۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کی خواتین تو صرف روحانی اعزاز حاصل کرنے کی خواہاں تھیں، جو صرف رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ ہی انھیں حاصل ہو سکتا تھا۔ اس لیے وہ بغیر کسی حق مہر کے آپ کی زوجیت کے لیے آمادہ ہو گئیں، لیکن جیسا کہ ہم نے ابھی کہا ہے کہ تاریخی طور پر اس قسم کا خارجی مصداق مسلم نہیں ہے۔ جو چیز مسلّم ہے وہ صرف یہ کہ خدا نے پیغمبر اکرمؐ کو اس قسم کی اجازت دے رکھی تھی رہا یہ سوال کہ اس کا فلسفہ کیا تھا؟ تو اس کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا۔
۳- ھبہ اور صیغہ کا نکاح:
اس آیت سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ صیغہ نکاح کا اجراء لفظ "ہبہ" کے ساتھ صرف پیغمبر کے ساتھ مخصوص تھا اور دوسرا کوئی بھی شخص اس قسم کے لفظ سے عقد نکاح جاری نہیں کر سکتا لیکن اگر عقد کا اجراء نکاح کے لفظ کے ساتھ انجام پائے تو پھر جائز ہے کہ حق مہر کا نام نہ لیا جائے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ حق مہر کے ذکر نہ کرنے کی صورت میں "مہر المثل" ادا کرنا چاہیے۔ (جس کی حقیقت وہی ہے جو مہر المثل کی تصریح میں گزر چکی ہے)۔
۴- تعدد ازواج کا فلسفہ:
مذکورہ بالا آیت کا آخری جُملہ واقع میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہٰ وسلم کے ان مخصوص احکام کے فلسفے کی طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ کہ پیغمبر کے کچھ ایسے مخصوص حالات ہوتے ہیں جو دوسروں کے نہیں ہوتے اور یہی فرق بعض دوسرے احکام میں بھی فرق کا سبب بن جاتا ہے۔ زیادہ واضح تعبیر میں قرآن کہتا ہے: مقصد یہ تھا کہ کچھ ان احکام کے ذریعے پیغمبر کے کاندھوں سے پابندیاں اور مشکلات ہٹا دی جائیں۔ یہ ایک ایسی لطیف تعبیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کا متعدد اور مختلف قسم کی عورتوں سے شادی کرنا درحقیقت، آپ کی زندگی کی اجتماعی اور سیاسی مشکلات کے ایک سلسلے کو حل کرنے کے لیے تھا۔ کیونکہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ جس وقت آنحضرتؐ نے ندائے اسلام بلند کی تو اس وقت آپؐ یکہ و تنہا تھے اور بہت مدت تک سوائے معدودے چند افراد کے آپ پر کوئی بھی ایمان نہیں لیا تھا۔ آپ اپنے زمانے اور ماحول کے تمام بیہودہ اور فضول نظریات اور عقاید کے خلاف ڈٹ گئے، سب نے جہاد کرنے کا اعلان کر دیا۔ لہذا فطری طور پر اس معاشرے کے تمام قبیلے اور قوم آپ کے خلاف متحد اور متفق ہو گئے۔ اب ضروری تھا کہ دشمنوں کے اس ناپاک اتحاد کو توڑنے کے لیے آپ اپنے وسائل بروئے کار لاتے۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مختلف قبائل کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرتے، کیونکہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کے درمیان محکم ترین رابطہ رشتہ داری کا رابطہ شمار ہوتا تھا اور کسی قبیلے کے داماد کو اس قبیلے والے ہمیشہ اپنے میں سے سمجھتے تھے اور اس کی حمایت کرنا اپنا فریضہ جانتے تھے اوراسے چھوڑ دینا گناہ تصور کرتے تھے۔ ہمارے پاس بہت سے قرائن موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ کی یہ شادیاں بہت سے موارد میں سیاسی اہمیت کی حامل تھیں اور بعض شادیاں مثلًا زینب کے ساتھ ازدواج زمانہ جاہلیت کی غلط رسوم کو توڑنے کے لیے تھی جس کی تفصیل اسی سوره کی آیت ۳٧ کے ذیل میں بیان کی جا چکی ہے۔ اور کچھ دوسری شادیاں متعصب لوگوں اور ہٹ دھرم قوموں کی دشمنی میں کمی کرنے یا ان سے دوستی پیدا کرنے کے لیے تھیں۔ واضح ہے کہ جو شخص ٢٥ سال کی عمر میں جو کہ عنفوان شباب کا دور ہوتا ہے، ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سے شادی کرتا ہے اور٥۳ سال کی عمر تک اسی بیوہ خاتون کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کرتا ہے اوراسی طرح وہ اپنی جوانی کی بہاریں گزارنے کے بعد جب بڑھاپے کی خزاں میں قدم رکھتا ہے تو متعدد شادیاں کرتا ہے۔ تو اس کا یہ عمل یقینًا کسی فلسفے سے خالی نہیں ہے اور کسی بھی حساب سے اسے جنسی لگاؤ سے متہم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود کہ متعدد شادیاں اس زمانے کے عربوں میں ایک عام اور معمول کا طریقہ تھا۔ بلکہ بعض اوقات پہلی بیوی دوسری بیوی کی خواستگاری کے لیے جایا کرتی تھی اور ازواج کی تعداد پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی اور پھر آنحضرتؐ کے لیے عالم جوانی میں متعدد شادیاں کرنے سے نہ کوئی اجتماعی اور معاشرتی مسئل حائل تھا نہ مالی حالت اور نہ ہی یہ کام کسی قسم کا کوئی عیب اور نقص شمار ہوتا تھا۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ تاریخ میں ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ہی "باکره" عورت سے شادی کی تھی جن کا نام عائشہ ہے، باقی سب بیویاں بیوہ تھیں، جو فطری طور پر جذبات کو ابھارنے کا باعث ہرگز نہیں بن سکتی تھیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٢٢ ص ١٩١)۔ بلکہ بعض تاریخوں میں یہاں تک بھی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے عقد تو بہت سی خواتین سے ہوا۔ لیکن بات عقد کی حد تک محدود رہی اور بس! حتٰی کہ کئی صورتوں میں تو صرف بعض قبائل کی عورتوں کی خواستگاری کو کافی سمجھا گیا ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٢٢ ص ١٩۳)۔ وہ لوگ صرف اسی حد تک خوش تھے اور فخر و مباہات کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی کسی عورت کو پیغمبرؐ کی زوجہ ہونے کا شرف اور اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس طرح سے ان کا معاشرتی تعلق پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ مزید مستحکم ہو جاتا اور وہ آنحضرتؐ کی حمایت اور ان کا دفاع کرنے میں زیادہ مصمم ہو جاتے۔ پھر یہ کہ انحضرتؐ یقینًا عقیم نہیں تھے۔ اس کے باوجود آپؐ نے جو اولاد چھوڑی ہے وہ نہایت ہی کم ہے۔ حالانکہ اگر ان عورتوں سے یہ شادیاں جنسی جذبے کی تسکین کے لیے ہوتیں تو چاہیے تھا کہ آپ کے ہاں کثیر تعداد میں اولاد ہوتی۔ نیز یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ان بیویوں میں سے بعض مثلًا حضرت عائشہ جس وقت آنحضرتؐ کی زوجیت میں آئیں تواس وقت بہت ہی کم سن تھیں اور کئی ساں گزارنے کے بعد ایک بیوی ہونے کے قابل ہوئیں، تو یہ امر واضح کرتا ہے کہ اس قسم کی "بیوی" سے شادی کرنے کا کچھ اور ہی مقصد تھا اور وہ وہی تھا، جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ اگرچه دشمنان اسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی متعدد ازواج کو اپنے مطلب کا ثبوت قرار دے کر اپنے شدید ترین معاندانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور کئی جھوٹے افسانے تراشے ہیں، لیکن ایک تو متعدد ازواج کے زمانے میں رسول اکرمؐ کی پیرانہ سالی، دوسرے ان خواتین کے سن اور قبائلی کیفیت اور تیسرے وہ قرائن جو ابھی بیان ہو چکے ہیں، اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں اور معاندین کی سازشوں کو طشت ازبام کر دیتے ہیں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اسی سورہ کی آیت ٢٨ اور ٢٩ کی تفسیر اور ان کی شان نزول کے بیان میں مفسرین کے بقول پیغمبر اکرمؐ کی بعض بیویوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمارے نان و نفقہ اور اخراجات میں اضافہ کیجیئے۔ (چونکہ ان کی نگاہ مال غنیمت پر لگی ہوئی تھی اور وہ یہ چاہتی تھیں کہ انہیں اس سے زیادہ ملنا چاہیے) اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور صراحت کے ساتھ ان کے گوش گزار کر دیا کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہیں تو ہمیشہ کے لیے پیغمبر سے الگ ہو جائیں اور اگر خدا، رسول و روز جزا کو چاہتی ہیں تو پھراسی سادہ زندگی کے ساتھ نباہ کریں۔ اس کے علاوہ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی کے اوقات کی تقسیم کے بارے میں بھی ان کے درمیان رقابت موجود تھی جو پیغمبر اکرمؐ کو تمام پریشانیوں اور اہم مصروفیات کے ساتھ ساتھ زبردست مشکلات سے دوچار کیے ہوئے تھی۔ اگرچہ آپ ان کے درمیان ضروری عدالت قائم رکھتے۔ لیکن پھر بھی وہ باتوں سے باز نہ آتی تھیں، لہذا زیر نظر آیت نازل ہوئی اور آنحضرتؐ کو ان کے درمیان اپنے اوقات کی تفسیم میں پوری پوری آزادی دی گئی اور ساتھ ہی انھیں بھی خبردار کیا گیا کہ خدائی حکم بے، لہذا اس سے نہ تو کسی کو پریشانی ہو اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا غلط نتیجہ اخذ کر سکیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان اور دوسری تفاسیر سے اقتباس)۔
تفسیر ایک اور مشکل آسان ہوتی ہے:
پیغمبر اسلامؐ جیسا عظیم خدائی رہبر جو سخت حوادث اور وسائل میں گھرا ہوا ہو اور اس کے دشمن اس کے خلاف خطرناک داخلی اور خارجی سازشوں میں مصروف ہوں تو وہ اپنی شخصی اور خصوصی زندگی کی طرف اپنی فکر کو زیادہ مشغول نہیں رکھ سکتا۔ اسے اپنی گھریلو زندگی نہیں نسبتًا سکون اور آرام کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ جن مشکلات کے انبوہ میں گھرا ہوا ہے ان کا حل سکون و اطمیان سے تلاش کر سکے۔ اگر کسی انسان کی خارجی زندگی آشفتگی کا شکار ہو اور گھریلو حالات بھی توجہ اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہوں تو ایسے طوفانی لمحات انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم ثبوت پیش کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی متعدد شادیاں زیادہ ترسیاسی اجتماعی اور انسانی ہمدردی کی بناء پر تھیں اور درحقیقت، کارِ رسالت کا ایک حصہ تھیں، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات عورتوں کے درمیان اختلاف اور ان کی معمول کی زنانہ رقابتیں رسول اللہؐ کے گھرمیں ایک طوفان کھڑا کر دیتیں اور آپ کی فکر اور ذہن کو اپنی طرف مبذول کر لیتیں۔ یہی وہ منزل ہے، جہاں خدا اپنے پیغمبرؐ کو ایک اور خصوصیت عطا فرماتا ہے جہاں سے روز روز کے جھگڑوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے آپ کو آسوده خاطر اور فارغ البال کر دیا گیا۔ چنانچہ اس آیت میں ہم پڑھتے ہیں: "اگر آپ چاہیں تو ان عورتوں میں سے ہر ایک (کے وقت) کو مؤخر کر کے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھیں تو ایسا کر سکتے ہیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دے سکتے ہیں": (تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ)- "ترجي"، "ارجاء" کے مادہ سے تاخیر کے معنی میں ہے اور "تووی"، "ایواء" کے مادہ سے کسی شخص کو اپنے پاس جگہ دینے کے معنی میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعدد ازواج کے سلسلے میں احکام اسلام کا حکم یہ بھی ہے کہ شوہر اپنے اوقات کو ان کے درمیان منصفانہ طور تقسیم کرے اور اگر ایک رات ان میں سے ایک کے ہاں ہے تو دوسری رات دوسری کے پاس رہے۔ اس سلسلے میں عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس موضوع کو اسلامی فقہ میں "حق قسم" کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اسلامؐ کے خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ طوفانوں اور بحرانوں سے بھرپور زندگی کے مخصوص حالات کی بناء پر مذکوره بالا آیت کی رُو سے "حق قسم" کی رعایت، آیت کے ذریعے آپ سے ساقط ہو گئی تھی۔ خصوصًا جب آپ مدینہ میں موجود تھے۔ بیویاں متعدد تھیں اور تقریبًا ہر ماہ آپ کو کسی نہ کسی مسلط کردہ جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ مذکورہ آیت نے آپ کو مکمل اختیار دے دیا کہ آپ جس طرح چاہیں اپنے اوقات کو تقسیم کر دیں۔ لیکن اس اختیار کے باوجود آپؐ کوشش کر کے عدل و مساوات فرماتے، تاریخ اسلام میں اس کی مکمل تصریح موجود ہے۔ اس خدائی حکم سے پیغمبر اکرمؐ کی بیویوں اور آپؐ کی داخلی زندگی کے ماحول کو سکون اور آرام ملا۔ اس کے بعد قرآن کہتا۔ "جس وقت ان میں سے بعض کو ایک طرف کر دیں اور پھر چاہیں کہ انھیں اپنے پاس جگہ دیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں": (وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ)۔ اس طرح سے نہ صرف یہ کہ ابتداء میں آپ کو اختیار ہے، بلکہ اسے جاری اور برقرار رکھنے میں بھی آپؐ کا یہ اختیار برقرار ہے اور اصطلاح کے مطابق اختیار کو "تخيیر استمراری" کہتے ہیں نہ کہ "تخییر ابتدائی" اور اس وسیع اور کھلے اختیارات کے حامل حکم کے بعد آپ کا اپنی بیویوں کے سلسلہ میں ہر کا عذر ختم ہو جاتا ہے اور آپ اپنی فکر کو مکمل طور پر رسالت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ ازواج پیغمبر کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں رسولؐ کی زوجہ ہونے کے اعزاز کے علاوہ، ایک اور اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ یہ کہ اوقات کی تقسیم کے سلسلے میں آنخضرتؐ کو جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، وہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لیں، جو ایک قسم کے ایثار اور فدا کاری کا کھلا ثبوت ہے اور اس طرح ان پر کوئی اعتراض وارد ہو سکتا ہے اور نہ بی یہ کوئی معیوب بات ہے۔ کیونکہ انہوں نے حکم خدا کو تسلیم کیا ہے، خدا فرماتا ہے۔ "یہ خدائی حکم ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے ہے، اور یہ کہ کبھی غمگین نہ ہوں، بلکہ آپ جو کچھ انہیں دیں وہ سب اسی پر راضی ہوں": (ذَلِكَ أَدْنَى أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ)۔ کیونکہ: اولًا: یہ ان سب کے لیے ایک عمومی حکم ہے اور اس میں کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا گیا۔ ثانيا: یہ حکم خدا کی طرف سے ہے جو نہایت اہم مصلحتوں کی بناء پر جاری کیا گیا ہے۔ اسی بناء پر انہیں یہ حکم خوشی خوشی قبول کر لینا چاہیے اور پریشانی کے بجائے اظہار مسرت کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو کوشش کرتے کہ تقسیم اوقات کے سلسلے میں عدل و مساوات کو مدّنظر رکھا جائے۔ البتہ چند ایک موارد ایسے بھی ملتے ہیں کہ جہاں پر مساوات کو نظرانداز کر دیا گیا، لیکن اس کا سبب کچھ خاص اور ہنگامی حالات تھے اور یہ ازواج رسولؐ کی خوشنودی کا ایک اور سبب تھا۔ کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ باوجودیکہ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو مکمل اختیارات حاصل ہیں، لیکن پھر بھی حتی الامکان مساوات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں اس سلسلے کلام کو اس جملے پر ختم کیا گیا ہے: جو کچھ تمھارے دلوں کے اندر ہے اسے خدا جانتا ہے اور وہ بندوں کے تمام اعمال اور مصلحتوں سے باخبر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حلیم بھی ہے اور بندوں کو عذاب و سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ (وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا)۔ جی ہاں خدا جانتا ہے کہ تم خدا کے کسی حکم پر دلی طور پرراضی ہو اور اسے تسلیم کرتے ہو اور کسی کو ناپسند کرتے ہو؟ وہ جاتا ہے کہ تم کن بیویوں کی طرف زیادہ میلان رکھتے ہو اور کن کی طرف تھوڑے مائل بو؟ اور ایسے میلانات کے موقع پر کسی اور طرح حکم خدا کا لحاظ کرتے ہو؟ اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون لوگ پوشیدہ جگہوں میں بیٹھ کر پیغمبر کے بارے میں اس قسم کے خدائی احکام پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور دل میں بھی آپ پر معترض ہیں اور کون خندہ پیشانی کے ساتھ ان سب کو قبول کرتے ہیں۔ اس بناء پر "قلوبكم" کی تعبیر بہت وسیع ہے۔ اس میں پیغمبر اسلامؐ اور ان کی بیویاں بھی شامل ہیں اور وه تمام مومنین بھی جو ان احکام کے ناتے تسلیم و رضا کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یا اعتراض اور انکار تو کرتے ہیں، لیکن اسے ظاہر نہیں کرتے۔
کیا یہ حکم آپؐ کی سب بیویوں کے بارے میں تھا؟
اسلامی فقہ خصائص پیغمبر کے باب میں یہ مسئلہ زیر بحث چلا آ رہا ہے کہ آیا بیویوں کے درمیان اوقات کی مساوی تقسیم پیغمبر اسلامؐ پر بھی اسی طرح واحب ہے جس طرح دوسرے مؤمنین پر یا نہیں اور یا آپؐ استثنائی اور اختیاری حکم کے حامل ہیں؟ ہمارے تمام فقہاء اور اہل سنت کے کچھ فقہا کے درمیان مشہور یہ ہے کہ آپؐ اس حکم سے مستثنٰی اور اس کی دلیل میں وہ زیر بحث آیت کو پیش کرتے ہیں، جس میں خدا کہتا ہے: "تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ"۔ "جسے آپ چاہیں تاخیر میں ڈال دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھ لیں"۔ کیونکہ یہ جُملہ پیغمبر اکرمؐ کی تمام ازواج کے بارے میں گفتگو کرنے کے بعد آیا ہے، لہذا اس بات کا متقاضی ہے کہ مجمع مؤنث کی ضمیر "هنّ" ان سب کی طرف لوٹے اور اسی مطلب کو فقہا اور بہت سے مفسرین نے قبول کیا ہے۔ لیکن بعض حضرات اس ضمیر کو ان بیویوں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں، جنہوں نے حق مہر کے بغیر اپنے آپ کو رسول اللہ کے سپرد کر دیا تھا۔ حالانکہ اولاً تو تاریخی اعتبار سے یہ ثابت نہیں کہ اس نے کوئی خارجی موضوع پیدا بھی کیا یا نہیں؟ اور بعض کا نظریہ ہے کہ صرف ایک ہی مورد تھا۔ جس میں صرف ایک خاتون اس صورت سے رسالت مآب کی زوجیت میں داخل ہوئیں، بہرحال، اصل مسئلہ تاریخی لحاظ سے ثابت اور مسلم نہیں۔ ثانیًا یہ تفسیر ظاہر آیت کے خلاف ہے اور علماء نے اس آیت کی شان نزول کا جو ذکر کیا ہے، اس سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی بناء پر قبول کر لینا چاہیے کہ مذکورہ بالا حکم عام ہے اور سب ازواج کے بارے میں ہے۔
تفسیر ازواج رسولؐ کے بارے میں ایک اور اہم حکم:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس آیت میں ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مربوط احکام میں سے ایک اہم حکم بیان ہوا ہے، خدا فرماتا ہے: "اس کے بعد آپ پر کوئی دوسری عورت حلال نہیں ہے اور آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ ان بیویوں کو دوسری بیویوں سے تبدیل کر لیں۔ اگرچہ ان کا حسن و جمال آپ کو بھلا لگے۔ سوائے ان عورتوں کے جو کنیز کی صورت میں آپ کے اختیار میں جائیں اور خدا ہر چیز پر ناظر اور نگہبان ہے: (لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا)۔ مفسرین اور فقہاء نے اس آیت کی تنفسیر میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور اسلامی مآخذ میں بھی اس بارے میں مختلف روایات آئی ہیں۔ ہم پہلے تو اس آیت کا ظاہر مطلب بیان کریں گے جو اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے باہمی ارتباء سے پیدا ہوتا ہے (قطع نظر اس کے کہ مفرین اس بارے میں کیا کہتے ہیں) پھر دوسرے مطلب کی طرف جائیں گے۔ "من بعد" کی تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ کے لیے کوئی نئی شادی حرام ہے، اسی بناء پر لفظ "بعد" یا "بُعد زمانی" کے معنی میں ہے، یعنی اس زمانے کے بعد آپؐ کے لیے کوئی نئی شادی حرام ہے۔ لہذا کسی نئی بیوی کو انتخاب نہ کریں، یا بعد اس کے کہ آپؐ نے اپنی بیویوں کو گزشتہ حکم خداوندی کے مطابق اختیار دے دیا ہے کہ یا تو آپؐ کے گھر میں سادہ زندگی گزاریں یا پھر علیحدہ ہو جائیں تو انھوں نے اپنی مرضی سے آپ کی زوجیت کو ترجیح دی ہے، تو اب اس کے بعد کسی کا اور عورت سے آپؐ کو شادی نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو طلاق دے کر کسی اور بیوی کو اختیار کریں۔ بالفاظ دیگر نہ تو ان کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ بیویوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
چند ایک نکات ١- اس حکم کا فلسفہ:
یہ حد بندی آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے لیے کوئی نقص شمار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ایسا حکم ہے، جس کا فلسفہ بہت ہی گہرا ہے، کیونکہ تاریخی شواہد کی بناء پر نبی اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر مختلف افراد اور قبائل کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہا تھا کہ آپ اپنی زوجیت کے لیے ان کا رشتہ قبول فرمائیں اور مسلمان قبائل کا ہر شخص اس بات پر فخر محسوس کرتا تھا کہ ان کے خاندان کی کوئی عورت پیغمبر اسلامؐ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو، یہاں تک کہ جیسا ابھی بیان ہو چکا ہے کہ بعض عورتیں حق مہر کے بغیر تیار تھیں کہ اپنے آپ کو "هبہ" کے عنوان سے آنحضرتؐ کے حلقہ ازدواج میں دے دیں اور غیر مشروط طور پر آپؐ سے شادی کر لیں۔ البتہ ان قبائل سے رشتہ ازدواج ایک حد تک آنحضرتؐ کی ذات اور ان کے سیاسی، سماجی اور اجتماعی مقاصد کے لیےگرہ کشا تھا، لیکن فطری بات ہے کہ کوئی چیز اگر حد سے گزر جائے تو خود ایک مشکل بن جاتی ہے چونکہ ہر قبیلے کی یہی خواہش تھی کہ آپؐ کو رشتہ دیں اور اگر نبی اکرمؐ بھی ان سب کی خواہشات کو پورا کرنے لگ جاتے اور کچھ عورتوں کو عقد کی صورت میں ان کی شادی اور بیاہ کی شکل میں اپنے دائرہ اختیار میں لے آتے تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہو جاتیں۔ اسی لیے تو خدائے حکیم ایک محکم قانون کے ذریعے آپ کو اس اقدام سے روک رہا ہے اور ہر قسم کے نئے ازدواج یا موجودہ عورتوں کی تبدیلی سے منع کر رہا ہے۔ اس دوران میں شاید کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے مقصود تک پہنچنے کے لیے یہ بہانہ بناتے تھے کہ آپ کی بیویاں عام طور پر بیواہ ہیں اور ان میں سن رسیدہ خواتین بھی پائی جاتی ہیں۔ جو حس و جمال سے محروم ہیں، لہذا مناسب ہے کہ آپؐ کسی حسین و جمیل عورت سے شادی کر لیں۔ قرآن خاص کر اس مسئلے کو مدّنظر رکھ کر یہ بات زور دے کر کہتا ہے کہ اگر صاحب جمال عورتیں بھی ہوں تب بھی آپؐ ان سے حق ازدواج نہیں رکھتے۔ علاوہ ازیں، حق شناسی کا تقاضا بھی ہے۔ کیونکہ آپ کی بیویوں نے آپ کے ساتھ جس وفا کا ثبوت دیا اور دنیا کی ہر چیز پرسادہ اور روحانی زندگی کو ترجیح دی، خدا ان کے مقام کی حفاظت کے لیے پیغمبر اکرمؐ کو اس قسم کا حکم دے رہا ہے۔ باقی رہا کنیزوں کے بارے میں آنجنابؐ کا مجاز و مختار ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور پاک درحقیقت، آزاد عورتوں کی وجہ و مشکلات میں مبتلا تھے۔ لہذا اس امر کی ضرورت نہیں تھی کہ اس حکم کو کنیزوں کے بارے میں بھی محدود کر دیا جائے۔ اگرچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس استثناء سے بھی استفادہ نہیں کیا گیا۔ یہ تھا وہ مفہوم جو آیت کے ظاہر سے واضح ہوتا ہے۔
٢- مخالف روایات:
متعدد روایات میں سے بعض تو سند کے لحاظ سے ضعیف اور بعض قابل غور ہیں ان کے مطابق "لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ" کا جملہ ان عورتوں کی طرف اشارہ ہے، جن کی تحریم سورہ نساء کی آیه ٢۳ اور ٢۴ میں بیان ہو چکی ہے (یعنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی اور خالہ وغیرہ) ان روایات کے بعض کے ذیل میں یہ صراحت ہوئی ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ کچھ عورتیں تو دوسرے لوگوں پر حلال ہوں، لیکن وہی رسالت مآبؐ پر حرام ہوں؟ کوئی عورت آپ پر حرام نہیں۔ سوائے ان کے جو سب پر حرام ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴، ص ٢٩۴ ، ٢٩٥)۔ البتہ بعید نظر آتا ہے کہ یہ آیت ان آیات کی طرف اشارہ ہو جو سورہ نساء میں گزر چکی ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان روایات میں سے بعض میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "من بعد" سے مراد سورہ نساء میں حرام شدہ عورتوں کے علاوہ، ہے۔ اس بناء پر بہتر ہے کہ ان روایات کی تفسیر سے چشم پوشی اختیار کی جائے جو اخبار احاد میں سے ہیں اور اصطلاحی الفاظ میں "اس کا علم اس کے اہل یعنی معصومین پر چھوڑ دیں"۔ کیونکہ وہ روایات ظاہر آیات کے ساتھ میل نہیں کھاتیں اور ہمیں آیت کے ظاہر پر عمل کرنے کا حکم اور مذکوره اخبار و روایات ظنی ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ بہت سے حلقوں کا نظریہ ہے کہ زیر بحث آیت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہر قسم کی نئی شادی کرنے کو حرام قرار دیا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور آپ کو ازدواج کی اجازت مل گئی۔ لیکن آپؐ نے اس سے استفادہ نہیں کیا۔ حتٰی کہ وہ اس آیت "إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ"۔۔۔ کو مذکورہ حکم کا ناسخ مانتے ہیں جو زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ لیکن ان کا نظریہ ہے کہ اگرچہ وہ آیات قرآن میں اس سے پہلے لکھی ہوئی ہے لیکن نازل اس کے بعد ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ فاضل مقداد "کنزالعرفان" میں نقل کرتے ہیں کہ علماء کے درمیان مشہور فتوٰی اور نظریہ یہی ہے۔ (بحوالہ: کنزالعرفان، جلد ٢ ص ٢۴۴)۔ یہ نظریہ ایک تو مذکورہ بالا روایات کے ساتھ واضح تضاد رکھتا ہے۔ دوسرے کا ظاہر آیات کے ساتھ بھی ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ آیات کا ظاہر بتاتا ہے کہ " إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ "والی آیت زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہوئی ہے اور نسخ کا مسئلہ قطعی و یقینی دلیل کا محتاج ہے۔ بہرحال، آیت کے ظاہر سے زیادہ قابل اطمینان اور واضح ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور آیت کے مطابق ہر قسم کی نئی شادی یا بیویوں کی تبدیلی، اس اوپر والی آیت کے نزول کے بعد پیغمبراکرمؐ کے لیے حرام ہو گئی تھی اور اس حکم میں بہت بڑی مصلحت پوشیدہ ہے جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔
٣- آیا نکاح سے پہلے عورت کو دیکھا جا سکتا ہے؟
مفسرین کی ایک جماعت نے "وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ" کے جملے کو اس مشہور حکم کی دلیل سمجھا ہے جس کی طرف اسلامی روایات میں اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اسے نکاح سے پہلے اس حد تک دیکھ سکتا ہے کہ جس سے اس کی شکل صورت اور جسمانی ساخت واضح ہو سکے۔ اور اس حکم کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اچھی طرح دیکھ بھال کر اپنی بیوی کا انتخاب کر سکے تاکہ بعد کی ندامت اور پشمانی سے بچ جائے جس سے عہد و پیمان کو خطرہ لائق ہو سکتا ہے، جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے جو شادی کرنا چاہتا تھا, فرمایا: "انظر اليها فانّۃ اجدر ان یدوم بینکما"، "پہلے سے اس عورت کو دیکھ لیں۔ کیونکہ یہ چیز سبب بنے گی کہ تمھارے درمیان مودت اور الفت پائiدار رہے"۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ٨ ص ٥۳٠۳)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا: "کیا مرد کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کی غرض سے اسے غور سے دیکھ سکتا اور اس کے چہرے اور پشت کی طرف نگاہ کر سکتا ہے؟ تو فرمایا: "نعم لا بأس أن ينظر الرّجل الى المرأة اذا ارادان يتزوجها ینظر إلى خلفها والى وجهها"۔ ہاں کوئی حرج نہیں کہ جس وقت انسان کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے اسے دیکھ لے اور اس کے چہرے اور پشت کی طرف نگاہ کرے۔ (بحوالہ: وسائل شیعہ، جلد ١۴ ابواب مقدمات النکاح باب ۳٦ حدیث ۳)۔ البتہ اس سلسلے میں احادیث بہت موجود ہیں۔ لیکن بعض میں یہ تصریح ہوئی ہے کہ اس موقع پر شہوت اور لذت کی غرض سے نگاہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ حکم ان مواقع کے ساتھ مخصوص ہے، جب انسان واقعًا اس عورت کے بارے میں تحقیقات کرنا چاہے۔ اگر اس میں مطلوبہ شرائط پائی جائیں تو اس سے شادی کرے گا لیکن اگر کسی نے ابھی تک شادی کا فیصلہ ہی نہیں کیا، تو وه صرف شادی کے احتمال یا جستجو کے نام پر عورتوں کی طرف نظر نہیں کر سکتا۔ البتہ بعض مفسرین نے زیر بحث آیت میں یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ ان نگاہوں کی طرف اشارہ ہے، جو اتفاقیہ طور کسی عورت پر جا پڑتی ہیں تو اس صورت میں یہ آیت مذکور حکم پر دلالت نہیں کرے گی، بلکہ اس حکم کا مسلک صرف روایات ہوں گی۔ لیکن "وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ" (اگرچہ ان کا حسن آپ کو بھلا معلوم ہو) کا جُملہ اتفاقیہ اور غیر ارادی نگاہوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔ لہذا اس کی دلالت اس سے پہلے والے حکم پر بعید نظر نہیں آتی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5اس آیت کی شان نزول کے بارے میں مفسرین نے یوں نقل کیا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے زینب بنت حجش سے ازدواج کے موقع پر دعوت ولیمہ کا اچھا خاصا بندوبست کیا۔ (ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اہتمام اس بناء پر تھا۔ تاکہ زمانہ جاہلیت کی اس غلط رسم کو توڑا جائے جو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی کے ساتھ نکاح کی حرمت کے سلسلے میں تھی اور اس رسم کو دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں ختم کر دیا جائے تاکہ معاشرے میں یہ مسئلہ پوری طرح واضح ہو جائے۔ نیز زمانہ جایلیت کی اس غلط رسم کو بھی ختم کر دیا جائے کہ آزاد کردہ غلاموں کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح معیوب ہے)۔ آنحضرت صلی اللہ علیه و آلہٖ وسلم کے خاص خادم انس کہتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپؐ کے اصحاب کو کھانے کی دعوت دوں چنانچہ میں نے سب کو دعوت دی اور وہ ٹولیوں کی صورت میں آ کر کھانا کھاتے اور حجرے سے باہر نکل جاتے۔ یہاں تک کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب کوئی شخص باقی نہیں رہ گیا ہے کہ جسے میں نے دعوت دی ہو اور وہ نہ آیا ہو تو آپؐ نے فرمایا بس ٹھیک ہے، اب دستر خوان بڑھاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا تو سب لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ لیکن تین افراد اسی طرح آپؐ کے حجرے میں بیٹھے رہے اور بحث و مباحت اور گفتگو میں مصروف ہو گئے۔ جب ان کی گفتگو لمبی ہو گی تو آنحضرت صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپؐ کے ہمراہ کھڑا ہو گیا تاکہ وہ لوگ متوجہ ہو جائیں اور اٹھ کر چلے جائیں، پیغمبر اکرم باہر آ گئے حتی کہ جناب عائشہ کے حجرے تک پہنچ گئے اور پھر لوٹ گئے۔ میں بھی آپؐ کی خدمت میں آیا اور دیکھا کہ وہ لوگ اسی طرح بیٹھے ہوئے ہیں تو زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اس قسم کے مسائل کے سلسلے میں ضروری احکام کی تعلیم دی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٨ ص ۳٦٦ آیہ مذکورہ کے ذیل میں)۔ نیز بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ہمسائے اور کبھی دوسرے لوگ معمول کے مطابق چیزيں عاریتًا لینے کے لیے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویوں کے پاس آتے۔ اگرچہ وہ اس زمانے کی سادہ زندگی کے مطابق کسی غلط کام کے مرتکب نہیں ہوتے تھے، لیکن ازواج رسول کی قدر و منزلت کے پیش نظر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ اور مومنین کو حکم دیا گیا کہ جب رسول اللہ کے ہاں ان کی کسی بیوی سے کوئی چیز لینا چاہیں تو پردے کی اوٹ سےلیں۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہؐ کے بعض مخالفین نے کہا: "پیغمبرؐ کیونکر ہماری بعض بیوہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لے آئے ہیں۔ بخدا جب اس دنیا سے ان کی آنکھیں بند ہوں گی تو ہم ان کی بیویوں سے شادی کریں گے۔ اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور آپؐ کے بعد آپؐ کی بیویوں سے شادی کی کلی طور پر ممانعت کر دی گئی اور اس سازش کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٨ ص ۳٦٦ - ۳٦٨)۔
تفسیر
اس آیت میں ایک بار پھر روئے سخن مومنین کی طرف ہے اور کچھ مزید احکام خصوصًا جو پیغمبر اکرمؐ اور خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معاشرت کے اداب سے متعلق ہیں۔ مختصر، واضح اور صریح جملوں میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو۔ پیغمبرؐ کے گھروں میں بغیر اجازت کے ہرگز داخل نہ ہونا مگر جب تمھیں کھانا کھانے کے لیے اجازت دے دی جائے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ صحیح وقت پر آؤ نہ یہ کہ پہلے سے آ جاؤ اور کھانے کے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہو": (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ)۔ (تشریحی نوٹ: "اناہ"، "انی، یأنی" کے مادہ سے کسی چیز کا موقع آ جانے کے معنی میں ہے، لیکن یہاں پر کھانے کی تیاری کے معنی میں ہے)۔ قرآن اس طرح سے معاشرت کے ایک اہم ادب کو بیان کرتا ہے اور وہ بھی ایسے ماحول میں جہاں پر اس کا بہت کم لحاظ رکھا جاتا تھا، اگرچہ گفتگو پیغمبر اکرمؐ کے گھر کے بارے میں ہے، لیکن مسلم ہے کہ یہ حکم آپؐ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی موقع پر کسی گھر میں بھی بغیر اجازت کے داخل نہیں ہونا چاہیے (جیسا کہ سورہ نور کی آیت ٢٧ میں بھی آیا ہے) حتی کہ خود پیغمبر اکرمؐ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ ہر وقت اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے گھر میں جاتے تو باہر کھڑے ہو کر اجازت لیتے۔ بلکہ ایک دن جابر بن عبداللہ انصاری آپؐ کے ساتھ تھے، جہاں آپؐ نے اپنے لئے اجازت مانگی وہاں جابر کے لیے بھی اجازت طلب کی اور پھر اندر گئے۔ (بحوالہ: کافی، جلد ٥ ص ٥٢٨)۔ علاوہ ازیں، جس وقت مدعوّین کو کھانے کی دعوت ہو تو انہیں وقت شناس ہونا چاہیے اور بےموقع و محل صاحب خانہ کے لیے اسباب زحمت فراہم نہیں کرنے جاہئیں۔ اس کے بعد دوسرے حکم کو پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے۔ "لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو اندر جاؤ اور جب کھانے سے فارغ ہو جا تو نکل جاؤ": (وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا)۔ یہ حکم درحقیقت، گزشتہ حکم کی تاکید اور تکمیل ہے۔ یعنی نہ تو اس گھر میں بےوقت داخل ہونا چاہیے، جہاں دعوت دی گئی ہے اور نہ ہی دعوت قبول کرنے میں بےپرواہی سے کام لینا چاہیے اور نہ ہی کھانا کھا لینے کے بعد بہت دیر تک وہاں بیٹھے رہنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ان امور کی خلاف ورزی میزبانی کے لیے موجب زحمت ہے اور اخلاقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ تیسرے حکم میں فرمایا گیا ہے۔" کھانا کھا لینے کے بعد دل لگی اور گفتگو کی مجلس پیغمبرؐ کے گھرمیں (اور کسی بھی دوسرے میزبان کے گھر میں) نہ جماؤ: (وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ)۔ البتہ ممکن ہے کہ خود میزبان اس قسم کی مجلس خلوص و محبت کا خواہاں ہو تو ایسی صورت اس حکم سے مستثنٰی ہے گفتگو وہاں کی ہے جہاں صرف کھانا کھانے کی دعوت دی گئی ہے کہ گپ شپ کی۔ تو اس قسم کے مقام پر کھانا کھا لینے کے بعد مجلسوں کو ترک کر دینا چاہیے، خصوصًا جبکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر جیسا گھر ہو۔ جو عظیم ترین خدائی فرائض کے انجام پانے کا مرکزہے۔ ضروری ہے کہ ایسے مقام اسباب زحمت فراہم نہ کیے جائیں، جن سے وقت ضائع بو، اس کے بعد حکم کی حلت کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ "یہ کام پیغمبر خدا کو اذیت و آزار پہنچاتا ہے، مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں۔ لیکن خدا حق بیان کرنے میں رورعایت سے کام نہیں لیتا": (اِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ)۔ البتہ رسول اللہؐ بھی ایسے مواقع پر بیان کرنے میں رو رعایت نہیں کرتے جو ذاتی نہیں ہوتے، کیونکہ یہ اچھا نہیں لگتا کہ انسان اپنے بارے میں آپ بات کرے۔ البتہ دوسروں کے بارے میں ہو تو بات کرنا بھی مناسب ہوتا ہے۔ یہ آیت بھی ایسے ہی موقع کی مناسبت سے ہے۔ اخلاقی اصولوں کا تقاضا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا دفاع خود نہ کریں بلکہ خدا ان کا دفاع کرے۔ پھرچوتھا حکم پردے کے سلسلے میں ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: "جس وقت ازواج رسول سے ضروریات زندگی کی کوئی چیز طلب کرنا چاہو تو پردہ کی اوٹ میں طلب کرو": (وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ)۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ عربوں اور بہت سے دوسرے لوگوں میں سے معمول تھا کہ بوقت ضرورت ضروریات زندگی کی کئی چیزیں وقتی طور پر ہمسایوں سے عاریتًا لی جاتی تھیں اور پیغمبر اکرمؐ کا گھر بھی اس طریقہ کار سے مستثنٰی نہیں تھا۔ کبھی کبھار لوگ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں سے بھی چیزیں عاریتًا کے لیتے واضح رہے کہ ازواج رسولؐ کی لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آنا (اگرچہ اسلامی حجاب کے ساتھ سہی) کوئی اچھی بات نہیں تھی، لہذا حکم ہو گیا کہ آیندہ کے لیے یا تو پردہ کے پیچھے سے آ کر چیز لیا کریں- با پھر دروازے کے پیچھے سے۔ یہاں پر جو نکته قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت تین "حجاب" سے مراد عورتوں کا عام پردہ نہیں، بلکہ اس پر ایک اضافی حکم ہے جو ازواج رسول کے ساتھ محصوص ہے اور وہ یہ کہ لوگ اس بات کے پابند تھے کہ آنحضرت صلی الله علیہ و آلہٖ وسلم اور کی خصوصی حرمت کے پیش نظر جب کبھی آپ کی بیویوں سے کوئی چیز لینا چاہیں تو پردے کے پیچھے سے لیا کریں اور ازواج رسولؐ پردے کے ساتھ بھی لوگوں کے سامنے نہ آیا کریں۔ البتہ یہ حکم ازواج رسولؐ سے مختص ہے اور عام عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔ یعںی وہ اسلامی حجاب کے ساتھ عام لوگوں کے سامنے آ سکتی ہیں۔ اس بات کا شاہد یہ ہے کہ لفظ "حجاب" روز مرہ کے استعمال میں عورت کے پردے کے معنی میں آتا ہے، لیکن لغت میں اس کا یہ مفہوم نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے فقہاء نے اسے اس مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ "حجاب" لغت میں کسی چیز کے معنی میں ہے جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہوتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: لسان العرب مادہ "حجب")۔ اسی بناء پر جو پرده انتڑیوں، دل اور پھیپھڑے کے درمیان موجود ہے اسے "حجاب حاجز" کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی یہ لفظ ہر جگہ پردہ یا رکاوٹ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلًا سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۴٥ میں ہے: "جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا"۔ "ہم نے تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پرایمان نہیں لاتے پوشیدہ پردہ قرار دیا ہے"۔ سورہ ص کی آیه ۳٢ میں ہے: " حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ" "یہاں تک کہ سورج افق کے پردے کے پیچھے پنہاں ہوا۔" نیر سورہ شورٰی کی آیت ٥١ میں آیا ہے: "وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ"۔ "کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ خدا اس سے بات کرے ۔ مگر وحی کے ذریعے یا پس پردہ (غیب) سے"۔ فقہاء کے کلمات میں قدیم الایام سے اب تک عورتوں کے پردے کے بارے میں عام طور پر "ستر" کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اسلامی روایات میں بھی یہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر آئی ہے اور عورتوں کے پردے کے بارے میں لفظ "حجاب" کا استعمال ایسی اصطلاح ہے جو زیادہ تر ہمارے زمانے میں رائج ہوئی ہے اور اگر کسی تاریخ میں یا روایت میں بھی مل جائے تو بہت کم ایسا ہو گا۔ دوسرا شاہد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خصوصی خادم انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں اس آیت حجاب کے بارے میں سب سے زیادہ آگاہیوں۔ کیونکہ جب جناب زینب کی پیغمبر اکرمؐ سے شادی ہو گئی اور وہ آپ کے گھر میں آ گئیں تو آپ نے دعوت ولیمہ کا بندوبست کیا، لوگوں نے کھانا کھا لیا، لیکن کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد اسی طرح بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ۔ تا۔ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ"۔ تو اس وقت پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ اٹھ کھڑے ہوۓ۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ٦ ص ١۴٩)۔ ایک اور روایت میں انس کہتے ہیں: "ارخی الستر بين و بينه" "پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور لوگوں نے جب یہ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوۓ اور منتشر ہو گئے"۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ٦ ص ١۴٩)۔ اسی بناء پر اسلام نے مسلمان عورتوں کو پردہ نشینی کا حکم نہیں دیا اور عورتوں کے بارے میں "پردہ نشین" یا اس قسم کی دوسری تعبیریں اسلامی حیثیت نہیں رکھتیں، جو کچھ کسی مسلمان عورت کے لیے ضروری ہے، وہی اسلامی پردہ ہے، لیکن ازواج رسول کا معاملہ کچھ اور ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن بہت زیادہ تھے اور مفاد پرست ٹولہ اسی ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کوئی موقع ہاتھ لگے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اپنی تہمت کا نشانہ بنائیں، تاکہ اس طرح سے سیاہ دل لوگوں کے ہاتھ میں دستاویز آ جائے۔ لہذا اُنھیں یہ خاص حکم دیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے کوئی چیز طلب کرتے وقت ان سے پردے کی اوٹ میں بات کیا کریں۔ خصوصًا "وراء" کی تعبیر اس معنی کی گواہ ہے۔ اسی لیے قرآن مجید اس حکم کے بعد اس کے فلسفے کو یوں بیان کرتا ہے۔ "یہ تمھارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے بہترہے": (ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ)۔ اگرچہ تعلیل کی یہ قسم استحبابی کے منافی نہیں لیکن "فاسئلوهن" میں امر کے وجوب میں ظہور کو بھی متزلزل نہیں کرتی کیونکہ اس قسم کی تعلیل بعض اوقات دوسرے واجب احکام میں بھی آئی ہے۔ پانچویں حکم کو اس صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ تم حق نہیں رکھتے کہ رسول خداؐ کو تکلیف پہنچا"۔ (وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ)- اگرچہ اذیت ناک اور تکلیف دہ عمل خود اسی آیت میں بیان ہو گیا ہے اور وہ ہے بےموقع و محل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے گھر جانا، کھانا کھا لینے کے بعد بیٹھ جانا اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرنا، اور شان نزول والی روایات میں بھی آیا ہے کہ بعض دل کے اندھوں نے قسم کھائی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں سے عقد کریں گے، یہ ایک اور تکلیف دہ بات تھی۔ لیکن آیت کا مفہوم ہر حالت میں عام ہے اور ہر قسم کی تکلیف اور اذیت پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ آخرمیں چھٹا اور آخری حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد آپ کی ازواج کے ساتھ شادی کی حرمت کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے: "تم ہرگز یہ حق نہیں رکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیویوں کو اپنے حلقہ ازدواج میں لاؤ، کیوں کہ یہ کام خدا کے نزدیک بہت بڑی جسارت والا ہے"۔ (وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا) یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا نے کس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیویوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد شادی کے حق سے محروم کر دیا۔ جبکہ بوقت وفات آپ کی کچھ بیویاں جوان بھی تھیں؟ اس سوال کا جواب حرمت کے فلسفے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ: اولا:- جیسا کہ آیت کی شان نزول سے معلوم ہو چکا ہے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے انتقام لینے اور آپ کی ذات اقدس ان کی توہین کرنے کے لیے اس قسم کا ارادہ کر چکے تھے۔ اس طرح سے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرتؐ کی عزت اور عظمت پر ضرب لگائیں۔ ثانیًا:- اگر یہ مسئلہ جائز ہوتا تو کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیوہ کو اپنے حلقہ زوجیت میں لے آنے کے بعد ممکن تھا کہ اس اقدام سے ناجائز مفاد حاصل کرتے اور اسے وہ معاشرے میں اپنی جھوٹی شہرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے یا اس عنوان سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے گھریلو حالات سے باخبر ہیں اور ان کی تعلیمات اور مکتب کی خصوصی معلومات انھیں حاصل ہیں۔ لہذا اسلام میں تحریف کا ارتکاب کرتے۔ یا منافق لوگ، معاشرے میں ایسی باتیں پھیلانا شروع کر دیتے ہو آنحضور کے شایان شان نہ تھیں۔ (غور کیجیئے گا)۔ اس متوقع خطرے کو اس وقت تقویت ملتی ہے، جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے بالکل تیار کر لیا تھا۔ حتی کہ بعض لوگوں نے اس کا زبانی طور پر اظہار بھی کر دیا تھا اور کچھ لوگوں نے شاید ابھی دل میں رکھا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں جن اشخاص کا بعض اہل سنت مفسرین نے یہاں پر نام لیا ہے ان میں سے ایک طلحہ بھی تھا۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ٨ ص ٥۳١٠)۔ وہ خدا جو نہاں اور آشکارا اسرار سے آگاہ ہے، اس نے اسے قبیح سازش کو ظاہر کرنے کے لیے ایک فیصلہ کن حکم صادر فرما دیا، جس سے ان تمام امور کا مکمل طور پر سدباب ہو گیا۔ اور اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو "ام المومنین" کا لقب دے دیا تاکہ لوگ جان لیں کہ ان سے عقد کرنا اپنی ماں سے ازدواج کرنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ وجوہات کی بناء پر واضح ہو جاتا ہے کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پرکیوں واجب قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ اس محرومیت کو خوشی خوشی گلے لگائیں؟ انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایسے اہم مسائل پیش آ جاتے ہیں، جن کی خاطر اس سے فدا کاری اور قربانی کی مثالیں قائم کرنا پڑتی ہیں اور اپنے بعض مسلم حقوق سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے، خاص طور جب عظیم اعزازات کے ساتھ عظیم اور سنگین ذمہ داریاں بھی ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے جب آپ سے عقد کر لیا تو انھیں ایک نہایت ہی عظیم اعزاز مل گیا۔ جب اس قدر عظیم اعزاز انہیں نصیب ہو گیا تو انہیں اسی قدر ایثار و قربانی کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے تھا۔ اسی بناء پر ازواج رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بعد اسلامی امہ کے درمیان نہایت ہی قابل احترام زندگی بسر کرتی رہیں اور اپنی اس کیفیت سے بہت ہی خوش تھیں اور نئے ازدواج سے محرومی کو اس اعزاز کے مقابلے میں حقیر اور ناچیز سمجھتی تھیں۔ خدا وند عالم دوسری آیت میں لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوۓ کہتا ہے۔ "اگر کسی چیز کو تم آشکار اور ظاہر کرو یا مخفی رکھو، خدا بہرحال ان تمام امور سے آگاہ ہے": (إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا)۔ یہ گمان نہ کرو کہ خدا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بارے میں اذیت ناک اور تکلیف دہ منصوبوں سے باخبر نہیں، وہ تو ان سے بھی باخبر ہے جنہوں نے دل کا حال زبان پر جاری کیا ہے اور ان سے بھی جو دل میں رکھتے تھے، غرض کہ سب کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور وہ شخص سے اس کے کام اور نیت کے مطابق سلوک کرے گا۔
چند نکات
چونکہ زیر بحث آیات میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف سے ایک دعوت کے اس موقعے پر مسلمانوں کے کچھ فرائض کا ذکر ہوا ہے۔ لہذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ "مہمان نوازی، مہمان کا حق اور میزبان کے فرائض" کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کا ایک گوشہ بیان کیا جائے۔
١- مہمان نوازی:
اسلام مہمان نوازی کے مسئلے کو خاص اہمیت دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں : "الضيف دليل الجنة"۔ مہمان جنت کا راہنما ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٦٠ (حدیث ١۴) باب ٩۳)۔ مہمان کی اہمیت اور احترام اس قدر زیادہ ہے کہ اسلام میں اسے ایک آسمانی ہدیہ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، ارشاد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہے: "اذا اراد اللہ بقوم خيرا اهدي اليهم ھدية، قالوا وما تلك الهدية؟ قال، الضيف، ینزل برزقه، ویرtحل بذنوب اهل البيت"۔ "جب خدا کسی قوم کی بہتری چاہتا ہے تو اس کی طرف انمول تحفہ بھیج دیتا ہے." لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم وہ انمول تحفہ کیا ہے? فرمایا: "مہمان، جو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور گھر والوں کے گناہ لے کر جاتا ہے اور وہ بخشے جاتے ہیں۔" (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٦٠ (حدیث ١۴) باب ٩۳)۔ قابل توجہ یہ ہے کسی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں۔ میرا طرز عمل یہ ہے کہ مکمل وضو کرتا ہوں نماز قائم کرتا ہوں، زکوۃ بر محل ادا کرتا ہوں اور مہمان کی خندہ پیشانی سے خدا کی خوشنودی کے لیے تواضع کرتا ہوں۔ تو آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا: "بخ، بخ، بخ، ما لجهنم عليك سبیل ان الله قد براك من الشح ان كنت كذلک"۔ "کیا کہنا، مرحبا، واه واه، جہنم کے راستے تم پر بند ہیں اور اگر تیری حالت یہی ہے تو خدا نے تجھے ہر قسم کے نخل سے پاک کر دیا ہے"۔ اس سلسلے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن اختصار کو مدِّنظر رکھ کر اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
٢- میزبانی میں سادگی:
اس ساری اہمیت کے باوجود جو مہمان کو حاصل ہے، پرتکلف اور انواع و اقسام کے کھانے کھلانا اسلام کی نظر میں نہ صرف یہ کہ اچھا کام نہیں، بلکہ باقاعدہ طور پر اس سے منع بھی کیا گیا ہے۔ اسلام کا یہ حکم ہے کہ میزبانی اور خاطر تواضع سادہ قسم کی ہو اور اس نے مہمانی اور میزبانی کے حقوق و فرائض کی نشاندہی کے طور پر ایک نہایت ہی منصفانہ حد بندی کر دی ہے اور وہ یہ میزبان کے پاس ہو کچھ موجود ہے اس سے پہلو تہی نہ کرے اور مہمان بھی اس سے زیادہ کی توقع نہ رکھے۔ اسی سلسلے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "المؤمن لايحتشم من اخيه، وما ادري ايهما اعجب؟ الذي يكلف اخاه اذا دخل عليه ان يتكلف له، اوالمتكلف لاخيه؟ "مومن اپنے مومن بھائی کے ساتھ بےتکلف ہوتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان دو میں سے کون سا شخص زیادہ عجیب ہے، آیا وہ جو اپنے بھائی کے پاس جا کر اسے تکلیف میں ڈال دیتا ہے با وہ جو خود سے مہمان کے لیے تکلف میں پڑ جاتا ہے؟ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٥١)۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "ان لا نتكلف للضيف ما ليس عندنا وان نقدم اليه ما احضرنا۔ "جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے اس کے لیے مہمان کے واسطے تکلف نہ کریں اور جو موجود ہے اس سے پہلو تہی نہ کریں"۔
۳- مہمان کا حق:
ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام کی نگاہ میں مہمان کی آسمانی تحفہ اور خدائی عنایت ہے۔ اس کی عزت بھی اسی طرح کرنا چاہیے، جس طرح اپنی عزت کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں انتہائی احترام ملحوظ خاطر رکھنا چایئے حتی کہ امیر المومنین علیہ اسلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: "من حق الضيف ان تمشی معه فتخرجه من حريمک الى البرّ"۔ "مہمان کے حقوق میں سے یہ ہے کہ اسے خدا حافظ کہنے کے لیے گھر کے دروانے تک جائیں۔ (بحوالہ: محجۃ البیضاء، جلد ۳ ص ٢٩ (باب ثالث))۔ اور تکلف میں پڑے بغیر اس کے آرام و آسائش کے وسائل فراہم کیے جائیں۔ حتی کہ ایک حدیث میں ہے کہ: "قال رسول الله ان من حق الضيف ان یعدّ له الخلال- (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٥٥۔)۔ "مہمان کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے خلال تک مہیا کریں"۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مہان کم گو اور شرمیلے ہوتے ہیں اسی بنا پر حکم دیا گیا ہے کہ ان سے کھانا کھانے کے بارے میں نہ پوچھا جائے بلکہ دستر خوان بچھا دیا جائے، اگر ضرورت ہو تو کھا لیں گے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "لاتقل لاخيک اذا دخل عليك اكلت الیو م شيئًا؟ ولكن قرب الیه ما عندک فأن الجواد كل الجواد من بذل ماعنده"۔ "جب تمھارا بھائی تمھارے پاس آئے تو اس سے یہ نہ پوچھو کہ آج تم نے کھانا کھایا ہے یا نہیں، بلکہ جو کچھ تمھارے پاس ہو، اس کے لیے حاضر کر دو۔ کیونکہ صحیح معنوں میں سخی وہی ہوتا ہے جو اس چیز کے خروج کرنے میں گریز نہ کرے جو اس کے پاس ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٥٥)۔ خدا کی بارگاہ میں میزبان کے فرائض میں سے یہ بھی ہے کہ جو کھانا اس نے تیار کیا ہے اسے حقیر نہ سمجھے، کیونکہ نعمت خدا جو بھی ہو معزز اور محترم ہوتی ہے۔ لیکن ضرورت مند اور تکلف کے دلدادہ لوگوں کے ہاں معمول ہے کہ دستر خوان کو جتنا بھی کھانوں سے، بھر دیں، پھر بھی کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ یا کہتے ہیں کہ آپ کے شایان شان کھانا تیار نہیں ہوا وغیرہ۔ اسی طرح مہمان کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اسے حقیر اور معمولی نہ سمجھے۔ ایک حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام اس فرماتے ہیں: "هلک امرؤ احتفر لأخيه ما یحضره وهلك امرو احتقر من اخيه ما قدّم الیہ"۔ "میزبان نے اپنے بھائی کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اگر وہ اسے حقیر سمجھے وہ ہلاک و (گمراہ) ہو گا۔ اسی طرح جو مہمان تیار شدہ چیز کو حقیر سمجھے وہ بھی ہلاک ہو گا"۔ (بحوالہ: محجۃ البیضاء، جلد ۳ ص ۳٠)۔ اسلام نے مہمان کی قدردانی اور احترام کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا گیا ہے کہ "جب مہمان تمھارے پاس آ جائے تو آنے پر اس کی مدد کرو، لیکن گھر سے جاتے وقت اس کی مدد نہ کرو، مبادا اس کے دل میں خیال آ جائے کہ آپ اس کے جانے کی ترکیبیں کر رہتے ہیں۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٥٥ (حدیث ٢٧))۔
۴- مہمان کی ذمہ داری:
ہمیشہ حقوق اور فرائض برابر کی حیثیت رکھتے ہیں، یعنی جس طرح مہمان کے لیے میزبان کی کچھ اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اسی طرح میزبان کی طرف سے مہمان پر بھی کچھ اہم ذمداریاں عاید ہیں، چنانچہ جو کچھ مذکورہ بالا احادیث میں بیان ہو چکا ہے، اس کے علاوہ، بھی مہمان کا فریضہ ہے۔ جو کچھ اسے صاحب خانہ اپنے گھرمیں پیش کرے، اسے قبول کرے، مثلًا جو کچھ بیٹھنے کے لیے حاضر کرے اسے قبول کرے، امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "اذا دخل احدكم على اخيه في رحله فليقعد حیث یأمر صاحب الرحل فان صاحب الرجل اعرف بعورة بيته من الداخل عليه"۔ جس وقت تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے گھر میں داخل ہو تو جہاں وہ بیٹھنے کے لیے کہے وہیں بیٹھ جائے، کیونکہ صاحب خانہ اپنے گھر کی کیفیت اور ان حصوں سے جنہیں آشکار نہیں ہونا چاہیے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ۴٥١)۔ خلاصہ یہ کہ مہمان نوازی اور میزبانی کے آداب و فرائض اور اسلامی معاشرے میں اس کی خصوصیات بہت بحث طلب ہیں۔ جو لوگ اس سلسلے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں، انہیں بحارالانوار کی جلد ١٧ کتاب العشرة کے باب ٨٨ سے لے کر٩۴ تک اور کتاب "محجۃ البيضاء جلد ۳ باب ۴ فضيلۃ الضیافۃ" کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مادیت پرستی کے اس دور میں یہ قدیم انسانی اور اخلاقی رسم محدود ہو کر رہ گئی ہے بلکہ بعض معاشروں میں تو قریبًا ختم ہو چکی ہے۔ اور شنید میں آیا ہے کہ جب وہاں کے لوگ اسلامی ممالک میں آتے ہیں اور ان علاقوں میں کھلے دل سے مہمان نوازی کے روح پرور مناظر دیکھتے ہیں اور مہمانوں کے ساتھ گرمجوشی اور مہر و محبت کے سلوک کا مشاہدہ کرتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں کہ کس طرح یہ لوگ اپنے گھر میں موجود زندگی کے بہترین وسائل اور قمیتی غذائیں ایسے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے وقف کر دیتے ہیں جن سے تھوڑا بہت رابط ہے یا جن سے سفر کے دوران مختضر سی آشنائی ہوئی ہے۔ لیکن اگر اسلامی روایات کو مدّنظر رکھا جائے کہ جن کا تھوڑا سا حصہ سے بیان ہوا ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس قدر ایثار و فداکاری کی کیا وجوہات ہیں اور پتہ چل جاتا ہے کہ اس بارے میں معنوی اور رُوحانی پہلو کو مدّنظر رکھا جاتا ہے، جو مادیت کے پرستاروں سوچ اور حساب سے بالاتر ہے۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ آیۂ حجاب (گزشتہ آیہ) کے نازل ہونے کے بعد ازواج رسولؐ کے آباء و اولاد اور دیگر رشتہ داروں نے آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا یا رسول اللہؐ! کیا ہم بھی ان کے ساتھ پردے کی اوٹ میں رہ کر بات کیا کریں؟ تو اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا کہ یہ حکم تمھارے لیے نہیں ہے۔
تفسیر قانون حجاب سے مستثنٰی موارد:
چونکہ گزشتہ آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیویوں کے حجاب کے بارے میں ایک مطلق حکم آیا تھا جس سے یہ گمان پیدا ہوتا تھا کہ ان کے محرم بھی اس حکم پرعمل کرنے کے پابند ہیں اور انھیں بھی ازواج رسولؐ سے پردے میں رہ کر ملاقات کرنا چاہیے تو اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس حکم کی تشریع کر دی گئی۔ خدا فرماتا ہے۔ "پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپ، اولاد، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، مسلمان عورتوں اور اپنے غلاموں کے ساتھ بغیر حجاب سے ملاقات کریں"۔ (لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ)۔ دوسرے لفظوں میں ان کے محرم جو ان چھ گروہوں پر منحصر ہیں، وہ مستثنٰی ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کچھ اور افراد بھی تو محرم ہیں جن کا ان چھ گروہوں میں نام نہیں آیا مثلًا چچے اور ماموں وغیرہ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قران مجید چونکہ اپنی فصاحت و بلاغت کو علٰی صورت میں محفوظ رکھتا ہے اور اصول فصاحت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی اضافی لفظ گفتگو میں نہ آنے پائے، لہذا یہاں پر چچاؤں اور ماموؤں کے ذکر سے اجتناب کیا ہے۔ کیونکہ بھتیجوں اور بھانجوں کے ذکر سے چچاؤں اور ماموؤں کا محرم ہونا واضح ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ محرمیت ہمیشہ دونوں طرف سے ہوتی ہے، جس طرح کسی کا بھتیجا اس کا محرم ہوتا ہے، اسی طرح وہ بھی بھیتجے کے ساتھ محرم ہو گی (اور معلوم ہے کہ ایسی عورت انسان کی پھوپھی شمار ہو گی)۔ نیز جس طرح بھانجا کسی کا محرم ہوتا ہے، اسی طرح وہ بھی بھانجے کی محرم ہو گی (اور معلوم ہے کہ ایسی عورت اس کی خالہ شمار ہو گی)۔ جس طرح پھوپھی اور خالہ بھتیجے اور بھانجے کی محرم ہو گی تو چچا اور ماموں بھی تو بھتیجی اور بھانجی کے محرم ہوں گے۔ (کیونکہ چچا اور پھوپھی، نیز ماموں اور خالہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے) اور یہ اس قرآن کے گہرے نکات میں سے ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ یہاں پر ایک اور سوال پیش آتا ہے کہ شوہر کا باپ اور شوہر کا بیٹا بھی تو عورت کے محرم شمار ہوتے ہیں تو پھر یہاں پر ان کا ذکر کیوں نہیں آیا، جبکہ سورۂ نور کی آیت ۳١ میں ان کو محرم کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیتیں گفتگو صرف آنحضرتؐ کی بیویوں کے بارے میں بے اور معلوم ہے ـــــــــــ کہ ان آیات کے نزول کے وقت نہ تو آپ کے والد گرامی زندہ تھے نہ ہی اجداد اور نہ ہی آپ کا کوئی بٹیا تھا۔ (پھر غور کیجیئے گا)۔ (تشریحی نوٹ: مورخین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تین بیٹوں کا ذکر کیا ہے، قاسم اور عبد اللہ (جن کا لقب طیب اور طاہر تھا، یہ دونوں حضرت خدیجہ کے بطن مبارک سے تھے اور مکہ میں بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور تیسرے حضرت ابراہیم تو آٹھویں ہجری کو پیدا ہوئے اور ١۶ یا ١٨ سے زیادہ زندہ نہیں رہے، بہرحال، ان میں سے کوئی بھی سوره احزاب کے نزول کے وقت کو موجود نہیں تھا۔ ابراہیم اس واقعے کے بعد اور بچپن ہی میں دنیا سے آنکھیں بند کر گئے۔ (اسد الغابہ اور تاریخ و رجال کی دوسری کتب کی طرف رجوع فرمائیں))۔ رضائی بھائی بہنوں اور اس قسم کے دیگر افراد کا ذکر نہ کرنا بھی اسی بناء پر ہے کہ دہ بھائی بہنوں اور دوسرے محروں کے ضمن میں شمار ہوتے ہیں، لہذا ان کا علٰیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ آیت کے آخر میں گفتگو کے لب و لہجہ کو "غائب" سے "خطاب" کی طرف تبدیل کر کے ازواج رسول کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے۔ "تقوی اختیار کرو، کیونکہ خدا ہر چیز سے آگاہ ہے"۔ اورکوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے"۔ (وَاتَّقِينَ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا)۔ کیونکہ حجاب اور اس قسم کے امور گناہ سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہیں اور بس۔ مقصود تو درحقیقت، وہی تقوٰی ہے۔ اگر وه نہ ہو تو یہ ذرائع بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ یہاں پر اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ "نسائھن" (ان کی عورتیں) ہم مذہب اور مسلمان عورتوں کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جس طرح سورہ نور کی تفسیر میں بتا چکے ہیں کہ مسلمان عورتوں کے لیے اچھا نہیں ہے کہ وہ غیرمسلم عورتوں کے سامنے بغیر پردہ کے آئیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ چیزیں اپنے شوہروں سے جا کر بیان کریں۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ٨، ص ٢۳٠ سے بعد کی طرف رجوع فرمائیں (اردو ترجمہ))۔ باقی رہا "مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ" کا جملہ تو جیسا سورہ نور کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ اس کا ایک وسیع مفهوم ہے جس میں کنیزیں بھی شامل ہیں اور غلام بھی، لیکن بعض روایات کے مطابق یہ حکم کنیزوں کے ساتھ مختص ہے۔ اسی بناء پر ممکن ہے کہ ان کا ذکر عورتوں کے کلی ذکر کے بعد اس لحاظ سے ہو کہ غیر مسلم کنیزیں بھی اس حکم میں شامل ہوں۔ (غور کیجیئے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آنحضرتؐ پر درود و سلام:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5(تشریحی نوٹ: یہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ ان آیات کی تفسیر کی ابتدا شب میلادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ماہ ربیع الاول ١۴٠۴ھ میں ہوئی ہے)۔ گزشتہ آیات میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس کی حرمت کی حفاظت کے لیے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف اور آزارنہ پہنچانے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور ان آیات میں پہلے تو رسول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خدا اور اس کے فرشتوں کا خصوصی و تعلق اور لگاؤ بیان کیا گیا ہے۔ پھر اسی سے متعلق مومنین کو حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہؐ کو دکھ پہنچانے والوں کے لیے دردناک عذاب اور ان کے منحوس انجام کی خبر دی گئی ہے۔ آخرمیں ان لوگوں کے عظیم گناہ کا تذکرہ کرتا ہے جو مومنین کو تہمت کے ذریعے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "خدا اور فرشتے نبی پر رحمت اور درود بھیجتے ہیں"۔ (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ)۔ رسول کرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا مرتبہ اس قدر بلند و بالا ہے کہ عالم ہستی کا آفرید گار اورحق تعالٰی کے فرمان کے مطابق اس کائنات کی تدبیر کرنے والے فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں۔ اب جبکہ ایسا ہے تو تم بھی اس وسیع پیغام سے ہم آہنگ ہو جاؤ۔ "اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ان پر درود بیجو اور انھیں سلام کرو اور ان کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کر دو"۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)۔ وہ عالم آفرینش کا ایک انمول گوہر ہیں اور اگر خدا کی مہربانی سے تمھیں میسر ہیں تو مبادا انہیں ارزاں سمجھ لو، مبادا اس کی عظمت اور مقام کو فراموش کر دو جو خدا اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہے، وہ ایک ایسا عظیم انسان ہے، جو تمھارے ہی درمیان کھڑا ہے، لیکن وہ ایک عام انسان نہیں بلکہ ایسا انسان ہے، جس کا وجود پوری کائنات کا خلاصہ ہے۔
چند قابل توجہ نکات
١- "صلات" کی جمع "صلوات " ہے اور جس وقت اس کلمہ کو خدا کی طرف نسبت دی جائے تو رحمت نازل کرنے اور رحمت بھیجنے کے معنی میں ہو گا اور جب اس کی نسبت فرشتوں اور مومنین کی طرف ہو تو پھر طلب رحمت کے معنی میں ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: راغب نے مفردات میں اس مفہوم کو دوسرے لفظوں میں پیش کیا ہے)۔ ٢- "یصلون" کو فعل مضارع کی صورت میں لانا اس کے استمرار کی دلیل ہے، یعنی ہمیشہ خدا اور فرشتے اس پر رحمت بھیجتے اور درود بھی بھیجتے ہیں مسلسل اور جاوداني رحمت اور درود۔ ۳- "صلوا" اور "سلموا" کے درمیان کیا فرق ہے؟ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے، لیکن جو کچھ ان دو الفاظ کے لغوی مفہوم اور قرآنی آیت کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ "صلوا" پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر طلب رحمت اور درودر بھیجنے کا حکم ہے۔ رہا "سلموا" تو وہ یا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے احکام اور فرامین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے معنی میں ہے جیسا کہ سورہ نساء کی آیت ۶٥ میں آیا ہے: "ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا" "مومن وہ ہیں جو آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں، حتی کہ آپ کے کسی فیصلے میں ذرہ بھر بھی ناراضی کا اظہار نہ کریں۔ ۔بلکہ مطلق طور پر تسلیم کر لیں"۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابوبصیر نے عرض کیا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے پر صلوات بھیجنے کو تو میں سمجھ گیا ہوں لیکن اس تسلیم کا کیا معنی ہے؟ تو امامؑ نے فرمایا: "هو التسلیم له فی الامور"۔ "ہر کام میں ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا"۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں اور دوسری حدیث شیعہ اور سنی کتابوں میں متعدد طریقوں سے قریب قریب ایک جیسی عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے)۔ یا پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم زپر"السلام علیک یا رسول الله" اور اس قسم کے کسی طریقے سے سلام بھیجنے کے معنی میں ہے، جس کا مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ خداوندی سے سلامتی کی درخواست کرنا ہے۔ ابو حمزه ثمالی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے کعب نامی ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر سلام کرنا تو ہم جانتے ہیں، لیکن صلوات کس طرح بھیجنی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو: "اللّٰهُمّ صلّ علٰؑی محمد و ال محمد كما صليت علٰى ابراهيم انك حميد مجید، و بارك على محمد وال محمد كما باركت علٰى ابراهيم واٰلِ ابراهيم انّکَ حمِيد مجيد"۔ اس حدیث سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم پر درود و صلٰوۃ کی کیفیت بھی واضح ہو جاتی ہے اور سلام کا معنی بھی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، انہی آیت کے ذیل میں یہ حدیث شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں متعدد طریقوں سے تقریبًا ایک جیسی عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے)۔ اگرچہ سلام کے یہ دونوں معانی مختلف نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں ایک ہی نقطے کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ اور وہ بے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے حضور قولی اورعملی تسلیم کیونکہ جو شخص ان پر سلام بھیجتا اور خدا سے ان کی سلامتی طلب کرتا ہے تو درحقیقت، وہ ان سے اپنے عشق اور محبت کا ثبوت دیتا ہے اور انھیں واجب الاطاعت پیغمبر کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ۴- یہ امر قابل توجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر صلوات بھیجنے کی کیفیت کے سلسلے میں بےشمار شیعہ اور سنی روایات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "محمد" پر صلواۃ بھیجتے وقت "آل محمد" کا اضافہ بھی کرو۔ درمنثور میں "صحیح بخاری" صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، ابن مردویہ اور دوسرے راویوں نے "کعب بن عجرہ" سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: "اما السّلام عليک فقد علمنا فكيف الصّلاة عليك؟" "آپ پر سلام کرنا تو تم جانتے ہیں، لیکن فرمایئے صلات کیسے بھیجی جائے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔ یوں کہو: "اللّٰهم صلّ علٰی محمد و علی ال محمد كما صلّيت على ابراهيم انّك حميد مجید، اللّٰھم بارك على محمد و علیٰ آٰلِ محمد كما باركت علٰى ابراهيم وعلیٰ ابراهيم انّک حميد مجيد"۔ سیوطی (تفسیر در منشور کے موتف) نے اس حدیث کے علاوہ، اٹھارہ دوسری احادیث بھی نقل کی ہیں، جن میں تصریح ہوئی ہے کہ صلوات میں "آل محمدؐ" کا بھی ذکر کرنا چاہیے۔ ان احادیث کو اہل سنت کی مشہور و معروف کتب اور صحابہ کی ایک جماعت سے نقل کیا گیا ہے، جن میں ابن عباسی، طلحہ، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابومسعود و انصاری، بریدہ ابن مسعود، کعب نن عجرہ اور امیر المومنین حضرت علیؑ شامل ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور آیہ مذکورہ کے ذیل میں (تفسیر المیزان جلد ١۶ ص ۳۶٥ ، ۳۶۶ کے مطابق)۔ برادران اہل سنت کی مشہور حدیث کی کتاب، صحیح بخاری میں اس بارے میں متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے قارئین کرام اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ۶ ص ١٥١)۔ صحیح مسلم میں بھی اس سلسلے میں دو روایات آئی ہیں۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ١ ص ۳٠٥ باب الصلاة على النبي)۔ تعجب کی بات ہے کہ اس کتاب باوجودیکہ ان دو احادیث میں محمد و آل محمد کا کئی بارباہم تذکرہ ہوا ہے، لیکن باب کا جو عنوان منتخب کیا گیا ہے وہ "باب الصلاۃ علی النبیؐ" (ذکر آل کے بغیر) ہے۔ (تشریحی نوٹ: پاکستان میں بھی ریڈیو، ٹی وی، اخبارات، کتب، رسائل اور تقاریر میں خصوصًا مولوی صاحبان جب آنحضرتؐ کا ذکر کرتے ہیں تو "صلی اللہ علیہ وسلم" ہی لکھتے اور بولتے ہیں۔ "آلہ" ادا نہیں کرتے۔ تعجب ہے (مترجم))۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اہل سنت اور متعدد شیعہ روایات میں "محمد" اور "آل محمد" کے درمیان لفظ "علٰی" کے ساتھ فاصلہ تک بھی نہیں ہے اور صلاۃ کی کیفیت اس طرح ہے اور صلاۃ کی کیفیت اس طرح ہے۔ "اللهم صل علٰى محمد وال محمد"۔ اس گفتگو کو ہم اسلام کے عظیم الشان پیغمبر کی ایک اور حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں "ابن حجر مکی اپنی کتاب صواعق محرقہ میں نقل کرتے ہیں کہ آنجناب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا تصلوا على الصلاة البتراء فقالوا وما الصلاۃ البتراء، قال تقولون اللهم صلّ على محمد، و تمسكون، بل قولوا اللّٰهُمّ صل على محمد و آل محمد"۔ "مجھ پر کبھی (ناقص اور) دم بریدہ صلوات نہ بھیجا کرو"۔ اصحاب نے عرض کی: حضور! وہ ناقص صلوٰۃ کیا ہے؟ فرمایا: اگر فقط "اللھم صل على محمد" کہو اور اس سے آگے نہ بڑھو اور رک جاؤ۔ بلکہ چاہیے کہ یوں کہا کرو: "اللهم صل على محمد و ال محمد"۔ (بحوالہ: صواعق محرقہ، ص ١۴۴)۔ انہی روایات کی بناء پر اہل سنت کے بزرگ فقہا کی ایک جماعت حضور ختمی مرتبت کے نام کے ساتھ "آل محمد" کے اضافہ کو نماز کے تشہد واجب سمجھتی ہے۔ تشریحی نوٹؒ: علامہ حلیؒ کتاب تذکرہ کی بحث تشہد میں اس قول کو تمام علماء شیعہ کے علاوہ، امام احمد بن حنبل اور بعض شافعیوں سے بھی نقل کرتے ہیں)۔ ٥- آیا رسالت مآب صلی الله علیہ و آلہ وسلم پر صلاة بھیجنا واجب ہے یا نہیں، اگر واجب بے تو کہاں کہاں واجب ہے؟ یہ وہ سوال ہے، جس کا جواب فقہا نے دیا ہے۔ تمام فقہا شیعہ اسے نماز میں پہلے اور دوسرے تشہد میں واجب سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ، باقی تمام مقامات پر مستحب جانتے ہیں۔ علاوہ، ان احادیث کے جو اہل بیت کے طریقوں سے اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں، کتب اہل سنت میں بھی وہ روایات کم نہیں جو وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور روایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں: "سمعت رسول اللہ يقول لا يقبل صلاة الا بطھور، وبالصلاة علّى"۔ "میں نے رسول اللہؐ سے سنا انھوں نے فرمایا کہ نماز طہارت اور مجھ پر درود بھیجے بغیر قبول نہیں ہو گی"۔ فقہاء اہل سنت میں سے امام شافعی دوسرے تشہد میں صلوٰۃ پڑھنا واجب سمجھتے ہیں اور امام احمد اور دوسرے کئی فقہا کے بارے میں دو طرح کی روایات نقل ہوئی ہیں، البتہ امام ابوحنیفہ جیسے بعض افراد سے واجب نہیں سمجھتے۔ (بحوالہ: تذکرہ علامہ حلی، جلد ١ ص ١٢۶)۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت امام شافعی اس فتوے کو اپنے شعر میں نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: یا اهل بیت رسول الله احبكم فرض من الله وفی القران انزله كفا كم، من عظیم القدر انكم من لم يصل عليكم لا صلاة له "اے اہل بیت رسول! تمھاری محبت خدا کی جانب سے قرآن میں واجب قرار دی گئی ہے"۔ "تمھارے مقام کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ جو شخص تم پر درود نہ بھیجے اس کی نماز باطل ہے"۔ (تشریحی نوٹ: "كتاب الغدیر" میں ان (اشعار کی نسبت امام شافعی کی طرف "شرح المواهب زرقانی" جلد ٧ ص ٧ میں ایک اورجماعت سے بھی نقل کی گئی ہے)۔ بعد والی آیت حقیقت میں گزشتہ آیت کے نقطہ مقابل کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے۔ "جو لوگ خدا اور اس کے رسول ایذا اورتکلیف پہنچاتے ہیں، خدا انھیں دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور ان کے لیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کیے ہوئے ہے"۔ (انّ الّذین یؤذون الله و رسوله لعنهم الله في الدنيا و الآخرة و اعدّلهم عذابًا مهینًا)۔ پروردگار کو ایذا پہچنانے سے کیا مراد ہے؟ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ مراد کفر و الحاد ہے، جو خدا کو عضبناک کرتا ہے کیونکہ خدا کے بارے میں آزار اور اذیت کا استعمال درحقیقت، خدا کے غضب کے علاوہ، کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ خدا کو ایذاء دینے سے مراد رسول خداؐ اور مومنین کو ایذاء پہنچانا ہو اور یہاں پر خدا کا ذکر اس مطلب کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔ لیکن پیغمبر اسلامؐ کی ایذاء کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر وہ کام شامل ہے جو آپ کو ایذاء پنچائے خواہ وہ کفر و الحاد ہو یا احکام الٰہی کی مخالفت، نیز آپ کی طرف نار و انسبتیں اور تہمتیں یا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم انھیں اپنے گھر دعوت دیں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے لیے زحمت اور مشقت پیدا کرنا۔ جیسا کہ اسی سورہ کی آیہ ٥۳ میں ابھی گزر چکا ہے۔ یعنی "إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ....." تمھارا یہ کام پیغمبر کو تکلیف دیتا ہے۔ یا وہ امر جو سورۃ توبہ کی آیت ۶١ میں آ چکا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مشفقانہ گفتگو کی وجہ سے دشمن آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ساده لوحی اور خوش فہمی کا الزام دیتے تھے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: "وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ"۔ "ان میں سے کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو نبی کو تکلیف پہچاتے اور کہتے کہ وہ خوش فہم انسان ہیں جو ہرایک کی بات پر کان دھر لیتا ہے"۔ اور اسی قسم کی دوسری باتیں۔ یہاں کی اس آیت کے ذیل میں وارد ہونے والی روایات سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ خاندان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خصوصًا حضرت علیؑ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی دختر نیک اختر حضرت فاطمه الزهرا علیها السلام کو تکلیف دینا بھی اسی آیت میں شامل ہے چنانچہ صحیح بخاری جزء پنجم میں آیا ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا۔ " فاطمۃ بضعة منّی فمن اغضبها أغضبي"۔ فاطمہ میرا جگر کا ٹکڑا ہے، جو شخص اسے غضب ناک کرے گا وہ مجھے غضب ناک کرے گا۔ (بحوالہ: صحیح بخاری، جزء ٥ ص ٢٠٠)۔ یہی حدیث صحیح مسلم میں اس طرح آئی ہے: "أن فاطمة بضعۃ منی یوذینی ما اذاها"۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے، وہ مجھے تکلیف دیتی ہے"۔ (بحوالہ: صحیح مسلم، جلد ۴ ص ١٩٠۳ (باب الفضائل فاطمہؑ))۔ آنحضرتؐ کا اس سے ملتا جلتا فرمان حضرت علی علیہ اسلام کے بارے میں بھی ہے: (بحوالہ: مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں)۔ باقی رہا زیر بحث آیت میں لفظ تو جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں، اس کا معنی ہے "رحمت خدا سے دوری" یہ بالکل رحمت اور صلوٰۃ کے مدمقابل ہے، جس کا بیان اس سے پہلی آیت میں ہو چکا ہے۔ "لعن" اور رحمت الٰہی سے دھتکارا جانا اور وہ بھی خود خدا کی طرف سے کہ جس کی رحمت بےپایاں اور وسیع ہے، درحقیقت، عذاب کی بدترین قسم ہے، خصوصًا جب کہ رحمت سے یہ دوری دنیا اور آخرت دونوں میں ہوا۔ (جیسا کہ اسی آیت میں ہے) اور شاید اسی بناء پر "لعن" کا ذکر" عذاب مہین" پہلے ہوا ہے"أعد" (تیار کر چکا ہے) کی تعبیر اس عذاب کی تاکید اور اہمیت کی دلیل ہے۔ اس سلسلے کی آخری آیت مومنین کی ایزاء کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور خدا اور پیغمبر کے بعد اس امر کی حد سے زیادہ اہمیت بتاتی ہے، خدا تعالٰی فرماتا ہے: "جو لوگ صاحب ایمان مردوں اور عورتوں کو اس کام کی وجہ سے جو انہوں نے انجام نہیں دیا آزار پہنچاتے ہیں وہ بہتان اور آشکارا گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں":(وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا)۔ کیونکہ مومن، ایمان کی وجہ سے خدا اور اس کے رسول کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اسی وجہ سے یہاں پر خدا اور رسول کے بعد اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ "بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے جب آزار و اذیت کا سبب ہو۔ یہیں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس وقت ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے جو حد، قصاص یا تعزیر کا موجب ہو تو پھر ان پر حدود و قصاص وغیرہ کے اجراء میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اسی طرح امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہ چیزیں شامل نہیں ہیں۔ "بهتان" کو "اثم مبین" پر مقدم کرنا اس کی اہمیت کی وجہ سے ہے، کیونکہ بہتان کا شمار عظیم ترین اذیتوں میں ہوتا ہے اور اس کا زخم نیزے اور خنجر کے زخم سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، جیسا کہ کسی عرب شاعر نے کہا ہے: جراحات السنان لها القيام ولایلتام ماجرح اللسان "نیزے کے زخم تو مندمل ہو سکتے ہیں، لیکن زبان کے زخم نہیں مل سکے"۔ اسلامی روایات میں اس بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہم پڑھتے ہیں۔ خداوند عزوجل ارشاد فرماتا ہے: "لياذن بحرب مني من اذا عبدی المؤمن"۔ "جو شخص میرے مومن بندے کو تکلیف پہنچاتا ہے، وہ میرے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد ٢، ص۳٥)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے لب ولہجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ رہتے تھے جب مومنین کے خلاف غلط افواہیں پھیلاتے اور ان کی طرف ناروا باتیں منسوب کرتے تھے (حتی کہ خود پیغمبر اسلامؐ بھی ان موذیوں کی زبان سے محفوظ نہیں رہ سکے تھے)۔ وہی لوگ جو دوسرے معاشروں خصوصًا موجودہ دور میں کم نہیں ہیں، ان کا کام نیک اور مقدس لوگوں کے خلاف سازشیں تیار کرنا، جھوٹ بولنا اور بہتان تراشی کرنا ہوتا بے۔ قرآن مجید انھیں اپنے سخت ترین حملوں کا نشانہ بناتا ہے اور ان کے اعمال کو بہتان اور واضح گناہ قرار دیتا ہے۔ بعد والی آیات میں بھی اس سلسلے میں بات ہو گی۔ ایک اور حدیث میں جسے امام رضا علیہ السلام اپنے جد امجد حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے بیان کرتے ہیں، اس طرح آیا ہے: "من بهت مؤمنا اومؤمنة اوقال فيه ماليس فیه اقامه الله تعالٰى يوم القيامة على تل من نارحتیٰ يخرج مما قاله فبه"۔ "جو شخص مومن مرد یا مومن عورت پر بہتان باندھے، یا اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کرے جو اس میں نہیں ہے۔ تو خدا اسے قیامت میں آگ کے ٹیلے پر قرار دے گا اور وہ اس وقت تک وہیں رہے گا، جب تک اپنے کیے کی سزا نہ پا لے"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧٥ ص ١٩۴)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر علی بن ابراہیم میں پہلی آیت کی شان نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ اس زمانے میں مسلمان عورتیں مسجد میں جا کر رسول پاکؐ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھیں، رات کے وقت جب وہ مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے جاتیں تو کچھ بےہودہ اور اوباش نوجوان ان کے راستے میں بیٹھ جاتے اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کر کے انھیں تکلیف پہنچاتے اور ان کا راستہ روکتے۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں حکم دیا گیا کہ وہ اچھی طرح سے پردہ کریں تاکہ واضح ہو سکے کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں اور کوئی شخص مزاحمت کے لیے بہانہ نہ بنا سکیں۔ اسی کتاب میں دوسری آیت کی شان نزول اس طرح لکھی ہے کہ مدینہ میں منافقین کا ایک ٹولہ تھا جس کا کام یہ تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم بعض موقعوں پر جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے بارے میں مختلف افواہیں پھیلاتا، کبھی کہتا کہ پیغمبر قتل ہو گئے ہیں، کبھی کہتا انھیں قید کر لیا گیا ہے، وہ مسلمان جو جنگ کرنے کی توانائی نہ رکھتے تھے اس سے انھیں سخت پریشانی ہوتی۔ جب پیغمبر اکرمؐ کے پاس اس امر کی شکایت کی گئی تواس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور ان افواہ پھیلانے والوں کو سختی سے تببیہ کر دی گئی۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۴ ص ۳٠٧ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم)۔
تفسیر زبردست انتباہ:
خداوند عالم نے گزشتہ آیات ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور مومنین کو ایذاء اور تکلیف پہنچانے کی ممانعت کے بعد یہاں پر اذیت کے ایک اور مورد کا ذکر کیا ہے اور اس سے نبٹنے کے دو طریقے بیان کیے ہیں۔ سب سے پہلے صاحب ایمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسا کام نہ کریں جس سے بدطینت لوگوں کے ہاتھ کوئی بہانہ آ سکے۔ اس کے بعد منافقین، چھیڑ خوانی کرنے والے اوباشوں اور افواہیں پھیلانے والے عناصر کو زبردست تنبیہ کی گئی ہے اور ایسی زبردست تنبیہ میں کی مثال قرانی آیات میں بہت کم ملے گی۔ پہلے حصہ میں فرمایا گیا ہے۔ "اے پیغمبر! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجیئے کہ اپنی چادریں اوپر اوڑھ لیا کریں تاکہ واضح ہو جائیں اور انہیں کوئی اذیت نہ پہنچا سکے"۔ (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ)۔ "یعرفن" (پہچانے جانے) سے کیا مراد ہے؟ مفسرین کے درمیان اس بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں۔ جو ایک دوسرے سے متضاد بھی نہیں ہیں۔ پہلا یہ کہ اس زمانے میں معمول تھا کہ کنیزیں سر اور گردن کو چھپائے بغیر گھر سے باہر نکلتی تھیں۔ اور چونکہ یہ کیفیت اخلاقی لحاظ سے اچھی نہیں تھی، لہذا کبھی کبھی اوباش اور بےہودہ قسم کے نوجوان ان سے چھیڑ خوانی کرتے تھے، لہذا یہاں پر آزاد مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اسلامی حجاب کی مکمل طور پر پابندی کریں تاکہ وہ کنیزوں سے جدا پہچانی جائیں اور بےہودہ اور اوباش افراد کے لیے چھیڑ خوانی کا کوئی بیان بنیں۔ واضح رہے کہ اس گفتگو کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اوباش اور بدقماش لوگوں کو کنیزوں سے چھیڑے چھاڑ کا حق حاصل ہو گیا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ بد فطرت لوگوں کے ہاتھوں میں کسی قسم بہانہ باقی رہنے نہ پائے۔ دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ مسلمان عورتیں پردے کے بارے میں سہل انگاری اور بےپروا ہی نہ برتیں، جیسا بعض لاابالی قسم کی عورتیں پردہ کے ہوتے ہوئے بھی بےپردہ ہوتی ہیں اور ان کے جسم کے زیادہ تر حصے نمایاں ہوتے ہیں۔ جو بےہودہ افراد کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ "جلباب" سے کیا مرادہے؟ مفسرین اور اربات لغت نے اس کے چند ایک معانی ذکر کیے ہیں: ١- "ملحقہ" (چادر) اور بڑا سا کپڑا جو دوپٹے سے بڑا ہوتا ہے اور سر اور گردن اور سینہ وغیرہ کو چھپا دیتا ہے۔ ٢- مقنعہ اور خمار (دوپٹہ اور اوڑھنی)۔ ۳- لمبا اور ڈھیلا ڈھالا کرتہ۔ (بحوالہ: ملاخطہ ہوں یہ کتب: لسان العرب، مجمع الجرين، مفردات راغب، قطر المحیط اور تاج العروس)۔ اگرچہ معانی آپس میں مختلف ہیں، لیکن ان سب کی قدر مشترک یہ ہے کے بدن کو ایسے کپڑے کے ذریعے چھپایا جائے۔ (توجہ رہے کہ "جلباب" جیم پر زبر اور زیر دونوں سے پڑھا جاتا ہے) لیکن زیادہ بہتر یہ نظر آتا ہے کہ اس سے مراد پہننے کا وہ کپڑا ہے جو دوپٹے سے بڑا اور چادر سے چھوٹا ہوتا ہے، جیسا کہ "لسان العرب" کے مؤتف نے بیان کیا ہے۔ اور "یدنین" (قریب کریں) سے مراد یہ ہے کہ عورتیں اوڑھنیوں کو اپنے بدن کے قریب کریں تاکہ وہ ٹھیک طرح سے نہیں چھپا سکے نہ یہ کہ اسے آزاد چھوڑ دیں کہ جو کبھی ہٹ جائے اور بدن نظر آنے لگے یعنی وہ اسے لپیٹے رکھیں۔ باقی رہی یہ بات کہ اس کے جملے سے بعض لوگ یہ استفادہ کرنا چاہتے ہیں کہ چہرے کو بھی چھپایا جائے، تو اس مفہوم کی کوئی دلیل نہیں ملتی اور بہت کم مفسرین نے اس آیت کے مفہوم میں چہرے کے چھپانے کو داخل سمجھا ہے۔ (تشریحی نوٹ: حجاب کے فلسفے اور اس کی اہمیت، اسی طرح ہاتھوں کے (کلائی تک استثناء کے) سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد ١۳ سورۂ نور کی آیہ ۳٠ ، ۳١ اس کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں)۔ بہرحال، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پردے کا حکم آزاد عورتوں کے لیے اس سے پہلے نازل ہو چکا تھا، لیکن بعض عورتیں ساده لوحی کی وجہ سے اس کی پابندی نہیں کرتی تھیں۔ اسی لیے یہ آیت تاکید کر رہی ہے کہ اس کی پابندی کرنے میں خوب توجہ سے کام لیں۔ چونکہ اس حکم کے نازل ہونے سے بعض صاحب ایمان عورتیں گزشتہ زمانے کی بابت فکر میں پڑ گئیں، لہذا آیت کے آخر میں اضافہ کیا گیا ہے:" خدا ہمیشہ غفور و ریحم" (وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔ اگر تم سے اب تک اس معاملے میں کوتائی ہوئی ہے تو چونکہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھی لہذا خدا تمھیں بخش دے گا۔ توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ اور عفت و پاک دامنی اور حجاب کے فریضے کو اچھی طرح انجام دو۔ صاحب ایمان عورتوں کو پردے کی پابندی کا حکم دینے کے بعد دوسرے مسئلے یعنی اوباش اور اراذل افراد کی تکلیف دہ کارروائیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ اگر منافقین اور بیمار دل لوگ نیز وہ افراد بھی جو مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں، اپنی کارستانیوں سے باز نہ آئے تو ہم بھی آپ کو ان کے خلاف اٹھائیں گے اور آپ کو ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ ایک مختصر سی مدت کے علاوہ، اس شہر میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے"۔ (لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا)۔ (تشریحی نوٹ: "قليلا" یہاں پرایک محذوف مستثنٰی ہے اور تقدیری طور پر اس طرح تھا: لایجاورنک زمانًا الا زمانًا قليلا)۔ "مرجفون"، "ارجاف" کے مادہ سے ہے اور ایسی افواہیں پھیلانے کے معنی میں ہے جو دوسروں کو دکھ دینے کے لیے گھڑی جائیں اور یہ کلمہ دراصل "ارجاف" یعنی اضطراب اور تزلزل کے معنی میں ہے اور چونکہ افواہیں عام لوگوں میں اضطراب پیدا کر دیتی ہیں، لہذا یہ لفظ ان کے لیے بولا جاتا ہے۔ "نغرینک"، "اغراء" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے، جس کا معنی ہے، کسی کام کے انجام دینے یا کسی چیز کے حاصل کرنے کی دعوت دینا، جس میں ترغیب و تشویق اور برانگیختہ کرنا بھی شامل ہے۔ آیت کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں تین گروہ تخریب کاری میں مشغول تھے، ان میں ایک ٹولہ اپنے ناپاک عزائم پورا کرنا چاہتا تھا اور یہ کام باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم اور منظم منصوبے کے تحت انجام دیتا تھا نہ کہ شخصی اور انفرادی صورت میں۔ پہلے تو وہ منافعین تھے جو اسلام کے خلاف اپنی سازشوں سے اسے تباہ کر دینا چاہتے تھے۔ دوسرے وہ اوباش اور آوارہ لوگ تھے، جنھیں قرآن پاک"دل کے بیمار" قرار دیتا ہے (الذين في قلوبهم مرض) جیسا کہ یہی تعبیر اسی سورة (احزاب) کی آیت ۳٢ میں بھی ہوا و ہوس کے مریض و شہوت پرست افراد کے بارے میں آئی ہے: "فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ"۔ "اے ازواج رسول! جس وقت بات کرو تو نرمی کے ساتھ بات نہ کیا کرو، وگرنہ دل کے مریض لوگ تمھارے بارے میں طمع کرنے لگ جائیں گے"۔ تیسرے وہ لوگ تھے، جن کا کام مدینہ میں افواہیں پھیلانا تھا خصوصًا ایسے مواقع پر جب پیغمبر خدا اور لشکر اسلام جنگ کو جاتے تو وہ مدینہ میں رہ جانے والے لوگوں کے حوصلے پست کرنے اور ان کے دلوں کو کمزور کرنے کے لیے رسول پاک اور مومنین کی شکست کی خبریں پھیلانا شروع کر دیتے تھے۔ بعض مفسرین کے بقول یہ یہودیوں کا گروہ تھا۔ بہرحال، قرآن مجید نے تینوں گروہوں کو زبردست سرزنش کی ہے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ تینوں تخریبی پروگرام منافقین کی کارستانیاں تھیں ان کو الگ الگ کر کے اس سے پیش کیا گیا تاکہ ان کے طریقہ واردات کو واضح کر کے بتا دیا جائے۔ بہرحال، قرآن کہتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے اس قبیح اور ناشائستہ کام کو جاری رکھا تو ان کے خلاف ایک عمومی حملے اور یورش کا حکم صادر کر دیں گے تاکہ مؤمنین کے ایک ہی مردانہ وار اقدام سے مدینہ کے تمام منافقین کی بیخ کنی ہو جائے اور پھر وہ کبھی اس شہر میں رہنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ اور جب وہ اس شہر سے نکال دیئے جائیں گے اور اسلامی حکومت کی حفاظت سے محروم ہو جائیں گئے "تو جہاں کہیں بھی ملیں گے دھر لیے جائیں گے اور قتل کر دیئے جائیں گے"۔ (مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا)۔ "ثقفوا "، "ثقف" اور "ثقافت" کے مادہ سے بڑی مہارت کے ساتھ کسی چیز کو حاصل کرنا یہ جو کلچر کو "ثقافت" کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی مفہوم کی بناء پر ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس عمومی حملے کے بعد کہیں بھی امان نہیں پا سکیں گے اور انھیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جآئے گا۔ آیا اس آیت سے مراد یہ ہے کہ انھیں مدینہ سے بام تلاش کر کے قتل کر دیا جائے؟ یا عمومی جلاوطنی کے حکم کے بعد اگر مدینہ میں رہ جائیں گے تو اس قسم کے انجام سے دوچار ہوں گے؟ اس بارے میں دو احتمال ہیں اور دونوں میں کسی قسم کا تضاد موجود نہیں، وہ اس لحاظ سے کہ اس سازشی، بیمار دل اور افواہیں پھیلانے والے تخریب کار ٹولے سے جب اسلامی حکومت اپنی حفاظت کی ذمہ داراٹھا لے گی تو انھیں مدنیہ سے نکل جانے کا حکم مل جائے گا تو پھر وہ وہیں پر رہ جائیں یا وہاں سے نکل جائیں، شجاع اور جاں بکف مسلمان انہیں کہیں بھی امان سے نہیں رہنے دیں گے۔ پھر آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے بلکہ "یہ خدا کی ہمیشہ سنت ہے جو گزشتہ اقوام میں بھی تھی۔" کہ جس وقت کوئی تخریب کار اور مفسد ٹولہ بےشرمی کا مظاہرہ کرے اور سازشیں کرنے میں حد سے بڑھ جاتا تھا تو ان کے لیے عمومی حملے کا حکم صادر ہو جاتا تھا: (سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ)۔ اور چونکہ یہ حکم ایک خدائی سنت ہے، لہذا اس میں کبھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی ٓ، کیونکہ "تم خدا کی سنت کے لیے کبھی تغیر اور تبدیلی نہیں پاؤ گے": (وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا)۔ یہ تعبیر حقیقت میں اس تنبیہ کو صحیح معنوں میں عملی جامہ پہنانے کو واضح کرتی ہے کہ وہ جان لیں کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی، لہذا انہیں چاہیے کہ یا تو اپنے شرمناک اعمال میں تبدیلی پیدا کریں یا پھر اس قسم کے دردناک انجام کے انتظار میں رہیں۔
چند ایک نکات ١- پہل خود سے کرنا چاہیے:
جو حکم ان آیات میں اسلامی حجاب کو مکمل طور پر ملحوظ رکھنے کے سلسلے میں آیا ہے اور قرآن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و الہٖ وسلم سے مخاطب ہے کہ یہ حکم پہنچا دو تو پہلے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ازواج کو مدنظر رکھا گیا ہے، پھر آپ کی اولاد بھی مومن عورتیں اور یہ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ جس کی اصلاح کا آغاز اپنے آپ اور اپنے کھانے سے کرنا چاہیے اور یہی لائحہ عمل بنی نوع انسان کے تمام مصلحین کے لیے ہے۔ بیویوں اور اولاد میں سے پہلے بیویوں کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ انسان کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہیں، جبکہ اولاد کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے شوہروں کے گھر منتقل ہو جاتی ہیں۔
٢- دونوں طریقوں سے بچاؤ:
چونکہ اجتماعی برائیوں کا عام طور پر ایک سبب نہیں ہوتا، بلکہ کئی اسباب ہوتے ہیں لہذا ان کی طرف سے مقابلہ ہونا چاہیے۔ مذکورہ بالا آیات میں بدمعاش اور آوارہ لوگوں کی شرارتوں سے نمٹنے کے لیے صاحب ایمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں، جس سے اُن کے ہاتھ کوئی بہانہ آ جائے اور دوسری طرف چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو زبردست سرزنش اور تنبیہ کے ساتھ روکا گیا ہے اور یہ ایک دائمی اور عمومی طریقہ ہے کہ دوست کی اصلاح کرنا چاہئے اور دشمن کی طاقت کے ساتھ مقابل کرنا چاہیے۔
۳- مسلمانوں کی طاقت ور پوزیشن:
ان آیات کی سخت اور طاقت پر مبنی تنبیہات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ جب بنی قرنیطہ کا ماجرا ختم ہو گیا اور مسلمانوں کے اس داخلی دشمن کی بیخ کنی ہو گئی تو مدینہ مسلمانوں کی پوزیشن پورے طور پر مستحکم ہو گئی۔ اب صرف ان منافقین کی طرف سے مخالفت ہوئی تھی جو بطور ناشناختہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے، یا پھر اوباش و آوارہ لوگ تھے یا پھر افواہیں پھیلانے والے، لہذا اس موقع پر آنحضرتؐ نے ان سے طاقت کی زبان میں بات کی اور خبردار کیا کہ اگر وہ اپنے زہریلے پروپیگنڈے اور ناپاک سازشوں سے دست بردار ہوئے تو ایک ہی حملہ سے ان کا حساب چکا دیا جائے گا، ٓچنانچہ اس فیصلہ کن اور سوچی سمجھی تنبیہ نے اپنا اثر دکھا دیا۔
۴- فساد کو جڑ سے کاٹ دو:
اسلام کے خلاف سازش کرنے والے منافقوں، مسلمالنوں کی ناموس سے چھیڑ خانی کرنے والوں اور افواہیں پھیلانے والوں کی فتنہ پروازیوں سے نمٹنے کے لیے مندرجہ بالا آیات نے جو طریقہ کار بتایا ہے، آیا وہ تمام زمانوں میں اور تمام اسلامی حکومتوں کے لیے بھی اپنا ناجائز ہے؟ اس بارے میں بہت کم مفسرین نے بحث کی ہے، لیکن یوں نظر آتا ہے یہ حکم باقی اسلامی احکام کی طرح کسی زمان و مکان اور اشخاص کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا۔ اگر واقعًا زہریلا پروپیگنڈہ اور سازش حد سے گزر جائے اور ایک تحریک کی صورت اختیار کر لے اور اسلامی معاشرے کو صحیح معنوں میں خطرات سے دوچار کر دے تو کیا حرج ہے کہ اسلامی حکومت مندرجہ بالا آیات کے حکم کو نافذ کر دے اور لوگوں کو فساد کی جڑیں کاٹنے کے لیے ایک جھنڈے تلے جمع کر لے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ اور اس قسم کے دوسرے امور خاص کر جنہیں تبدیل نہ ہونے والی سنت کہا گیا ہے؟ ان کا نفاذ انسان از خود نہیں کر سکتا بلکہ صرف اور صرف مسلمانوں کے ولی و سرپرست اور حاکم شریعت کی اجازت سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
٥- خدا کی اٹل سنتیں:
ان آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ قرآن نے خدا کی تبدیل نہ ہونے والی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بتائی ہے کہ سازشیں کرنے والوں کی بیخ کنی کے لیے ایک عمومی حملے کا حکم دیا ہے اور یہ چیز گزشتہ امتوں میں بھی تھی۔ اس جیسی تعبیر قرآن مجید کے ایک اور مقام پر بھی آئی ہے۔ منجملہ ان کے اس سورہ احزاب کی آیت ۳٨ میں زمانۂ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کی اجازت صادر کی گئی ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے عقد جائز ہے، پھر فرمایا گیا ہے: "پیغمبر کے لیے جرم اور گناہ نہیں ہے کہ وہ امر الٰہی کو نافذ کریں چاہے جو بھی ہو"۔ پھر مزید ارشاد ہوتا ہے: "سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا"۔ یہ پروردگار کی سنت ہے جو گزشتہ اقوام اور انبیائے ماسلف میں بھی تھی اور خدا کا فرمان ثابت اور اٹل معیار پر قائم ہے۔ سورہ فاطر کی آیت ۴۳ میں کفار اور مجرم اقوام کو ہلاکت کی تنبیہ کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: "فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا"۔ "کیا وہ اسی نجس انجام کا انتظار کرتے ہیں، کہ جس نے پہلی اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، لیکن آپ کبھی سنت الٰہی میں تبدیلی نہیں پائیں گے اور نہ ہی سنت الٰہی کے لیے کوئی تغیرہے۔" سورہ مومن کی آیت ٨٥ کے مطابق گزشتہ اقوام میں سے ہٹ دهرم کفار نے جب تباہ کن عذاب کا مشاہدہ کیا تو اس موقع پر ایمان کا اظہار کیا، لیکن ایسا ایمان ان کے لیے مفید ثابت نہ ہو سکا۔ ارشاد ہوتا ہے: "سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ"۔ "یہ خدائی سنت ہے جو گزشتہ زمانے میں بھی اس کے بندوں میں جاری ہو چکی ہے اور وہاں کفار نقصان اور خسارے میں گرفتار ہوئے"۔ نیز سوره فتح کی آیت ٢۳ میں مومنین کی کامیابی، کفار کی شکست اور جنگوں میں ان کے لیے یار و مددگار نہ ہونے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: " سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا"۔ "یہ پروردگار کی سنت ہے جو گزشتہ زمانے میں بھی تھی اور خدا کی سنت ہرگز تبدیل نہیں ہوتی"۔ نیز سورہ بنی اسرائیل کی آیت ٧٧ میں جہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلاوطن کرنے یا ان کا کام تمام کرنے کی سازش کو بیان فرمایا گیا ہے، اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: "اگر وہ اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے تو وہ بھی آپ کے بعد زیادہ دیر باقی نہ رہتے۔" سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا وَلاَ تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلاً"۔ "یہ ان پیغمبروں کی سنت ہے، جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے اور آپ ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھ پائیں گے"۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسے مواقع پر "سنت" سے مراد خدا کے "تشریعی" یا " تکونی" ثابت اور اساسی قوانین ہیں، جن کبھی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں عام تکون و تشریح میں خداوند عالم کے کچھ اصول و قوانین ہیں، ان میں کسی وقت بھی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور یہ انسانوں کے ساختہ و پرواختہ قوانین کی طرح تبدیلی کا شکار نہیں ہوتے۔ یہ قوانین اقوام گزشتہ پر بھی حکم فرما تھے اور آیندہ بھی نافذ رہیں گے۔ انبیاء کی مدد کرنا، کفارکو شکست دینا، خدائی احکام پر ضروری عمل کرنا خواہ ماحول اسے ناپسند کرے، عذاب الہی کے نازل ہونے کے وقت توبہ کا مفید نہ ہونا اور اس قسم کے دوسرے امور ان دائمی سنتوں کا حصہ ہیں۔ اس قسم کی تعبیریں ایک طرف تو راہ حق کے تمام راہیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انھیں سکون کی نعمت عطا کرتی ہیں اور دوسری طرف انبیاء کے اتحاد اور نظام پر حاکم قوانین کے یکساں ہونے کو واضح کرتی ہیں جو درحقیقت، دلائل میں توحید سے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قیامت کب آئے گی
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات اشرار اور منافقین کے بارے میں گفتگر کر رہی تھیں ان آیات میں ان کے تخریبی منصوبوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کبھی تو وہ استہزاء اور مسخرہ پن کے طور پر اور کبھی سادہ دل لوگوں کے دلوں میں شکوک و شہبات پیدا کر کے یہ سوال پیش کرتے تھے کہ قیامت ان اوصاف کے ساتھ جو محمدؐ بیان کرتے ہیں، کب برپا ہو گی؟ ارشاد ہوتا ہے۔ "لوگ آپ سے قیام قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔ (يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ)- یہ احتمال بھی ہے کہ بعض مومنین بھی تحقیق اور جستجو کی غرض سے یا معلومات میں آضافہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کا سوال کرتے ہوں، لیکن بعد والی آیات کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ پہلی تفسیر آیت کے معنی سے زیادہ قریب ہے۔ اس بات کی گواہ ایک اور آیت ہے جو اس بارے میں سورہ شوریٰ میں آئی ہے: "وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ۔" "آپ کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہو، لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس کے لیے جلدی کرتے ہیں البتہ مومنین اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔ (شوریٰ ١٧ ، ١٨)۔ اس کے بعد موجودہ آیت میں انھیں اس طرح جواب دیا گیا ہے۔ "اے پیغمبر! کہہ دیجیئے اس بات کا علم صرف خدا کے پاس ہے اور خدا کے علاوہ، دوسرا کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں"۔ (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ)۔ خواہ وہ انبیاء مرسل ہوں یا ملک مقرب کوئی بھی یہاں باخبر ہونے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ پھر فرمایا گیا ہے۔" آپ کو کیا معلوم شاید قیامت نزدیک ہو"۔ (وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا)۔ اسی بنا پر ہمیشہ قیامت کے انتظار میں رہنا چاہیے اور اصولی طور پر اس کے مخفی رہنے کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو امان میں نہ سمجھے اور قیامت کو دور خیال نہ کرے اور خود کو عذاب اور خدائی سزا سے محفوظ تصور نہ کرے۔ اس کے بعد کفار کو تنبیہ اور اس کے دردناک عذاب کی نوعیت کا ایک گوشہ پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔" خدا نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اور ان کے لیے جلانے والی آگ فراہم کر رکھی ہے"۔ (إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا)۔ "وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جلانے والی آگ میں رہیں گے اور اپنے لیے کوئی سرپرست اور مددگار نہ پائیں گے": (خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا)۔ خدا ہی تو ہے جو کسی کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ اپنے مقصد تک پہنچ جائے، لیکن قیامت کے دن کفار کا نہ تو کوئی ولی ہو گا اور نہ ہی کوئی نصیر۔ اس کے بعد قیامت میں ان کے دردناک عذاب کے ایک حصے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "اس دن کو یاد کرو، جب ان کے چہرے جہنم کی آگ کے سبب بدل جائیں گے": (يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ)۔ یہ تفسیر یا تو چہرے کے رنگ کے لحاظ سے ہو کہ کبھی وہ سرخ اور نیلے ہو جائیں گے اور کبھی زرد اور پژمردہ یا آگ کے شعلوں پر ہونے کے لحاظ سے، یعنی کبھی ان کی ایک سمت آگ پر ہو گی اور کبھی دوسری سمت۔ (أَطَعْنَا اللَّهَ) یہ وہ مقام ہے، جہاں ان کی حسرت بھری آہیں بلند ہوں گی "اور وہ فریاد کر کے کہیں گے اے کاش ہم نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی": (يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا)۔ اگر ہم اطاعت کرتے تو اس قسم کے درد ناک انجام سے دوچار نہ ہوتے۔ اور کہیں گے "پروردگارا! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تھی، انھوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے": (وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا)۔ (تشریحی نوٹ: "الرسولا" اور "السبيلا" کے آخر میں جو الف ہے "الف اطلاق" کہلاتا ہے (چونکہ الف لام ہے اور تنوین اکٹھے نہیں ہو سکتے) اور یہ آیتوں کے اواخر کی ہم آہنگی کے لیے ہے)۔ "ساده"، "سید" کی جمع ہے جو بڑے مالک کے معنی میں ہے، جس کے ذمہ اہم شہروں یا ملک کا نظم و نسق ہوتا ہے، اور "كبراء"، "كبير" کی جمع ہے اور بڑے لوگوں کے معنی میں ہے، خواه یہ بزرگی عمر کے لحاظ سے ہو یا علم کی وجہ سے یا معاشرتی طور پر۔ اس لحاظ سے لفظ "سادہ" معاشرے کے اہم افراد اور سرداروں کی طرف اشارہ ہے اور "كبراء" وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کے ماتحت رہ کر ان کے معاون اور مشیر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، وہ کہیں گے کہ حقیقت میں ہم نے خدا کی اطاعت کے بجائے سرداروں اور وڈیروں کی اطاعت کی تھی اور انبیاء کی اطاعت کے بجائے "کبراء" کی اطاعت کی تھی اسی لیے مختلف لغزشوں اور بدبختیوں کا شکار ہو گئے۔ واضح رہے کہ ان کے نزدیک "سیادت" اور "بزرگی" کا معیار صرف طاقت، لاٹھی، غیر شرعی مال و ثروت اور مکر و فریب تھا اور یہاں پر دو تعبیروں کا انتخاب اس لیے ہے کہ وہ کسی حد تک اپنے عذر کی توجہیہ کریں گے اور کہیں گے کہ ہم ان کے ظاہری جاہ و جلال اور رعب و دبدبہ سے مرعوب ہو گئے تھے۔ اس موقع پر گمراہ جہنمی غصے میں پاگل ہو جائیں گے اور خدا سے اپنے گمراہ کرنے والوں کے لیے سخت عذاب کا مطابہ کریں گے اور کہیں گے۔" خداوندا! انھیں دوگنا عذاب دے (ایک تو ان کی اپنی گمراہی پر اور دوسرا ہمیں گمرا کرنے پر: (رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ)۔ "اور ان پر بہت بڑی لعنت بھیج": (وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا)" یقیناً وه عذاب اور لعنت کے مستحق ہیں، لیکن "عذاب مضاعف" اور" لعن کبیر" کا استحقاق دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی وجہ سے رکھتے تھے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سورہ اعراف میں ہے کہ جس وقت یہ گمراه پیروکار اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے لیے کئی گنا عذاب کا تقاضا کریں گے تو ان سے کہا جائے گا: "لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ "۔ (اعراف آیت ۳٨)۔ "ان کے لیے بھی کئی گنا عذاب ہے اور تمھارے لیے بھی، لیکن تم جانتے نہیں ہو۔ (تشریحی نوٹ: قابل توجہ یہ ہے کہ زیر بحث کی آیات میں "ضعفین" اور سورۂ اعراف کی آیت "ضعف" آیا ہے۔ لیکن "ضعف" کے مفہوم میں غور کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ دونوں ایک ہی معنی کے حامل ہیں)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ائمہ کفر و ضلال کے عذاب کا کئی گنا ہونا واضح ہے۔ لیکن ان گمراہ پیروکاروں کے عذاب کا کئی گنا ہونا کس بناء پر ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک گناہ تو گمراہی کی وجہ سے ہو گا اور دوسرا گناہ ظالموں کو تقویت پہنچانے اور ان کی کمک کرنے کی وجہ سے ہو گا۔ کیونکہ ظالم لوگ اکیلے کسی کام کو آگے نہیں بڑھا سکتے، بلکہ ان کے یار و مددگار ان کے میدان کی آگ کو بھڑکانے اور ان کے ظلم و کفر کے تنور کو مزید گرم کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ پھر بھی باہمی تناسب سے پیشواؤں اور سرداروں کو عذاب زیادہ سخت اور دردناک تر ہو گا۔ اس بارے میں ہم اس سورہ کی آیت ۳٠ کی تفسیر میں زیادہ تفصیل کے ساتھ گفتگو کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر حضرت موسٰی علیہ السلام پر ناروا تہمتیں:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5گزشتہ آیات میں پیغبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے احترام اور آپ کو کسی قسم کی اذیت نہ دینے کے حکم کے فورًا بعد ان آیات میں روئے سخن مومنین کی طرف کر کے قرآن کہتا ہے"۔ اے وه لوگو جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسٰی کو اذیت پہنچائی۔ لیکن خدا نے موسٰی کو ان تمام ناروا نسبتوں سے مبرا اور پاک قرار دیا اوروہ بارگاہ خداوندی میں آبرومند عظیم منزلت کے مالک تھے": (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا)۔ اذیت پانے والے انبیا میں سے حضرت موسٰی علیہ السلام کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے جتنی تکلیف حضرت موسٰی علیہ السلام کو دی اتنی کسی اور نبی کو نہیں پہنچائی۔ پھر کچھ تکلیفیں ایسی تھیں جو ان منافقین کی تکلیفوں سے ملی جلتی تھیں جو وہ رسول السلام کو دیتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسٰی علیہ السلام کو تکلیف دینے سے کیا مراد ہے؟ قرآن مجید نے اسے کیوں مجمل طور پر بیان کیا ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں۔ جن میں سے یہ بھی ہیں: ١- ایک روایت کے مطابق حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ ایک پہاڑ کی چوٹی پر گئے اور حضرت ہارونؑ کی وہاں پر وفات ہو گئی۔ افواہیں پھیلانے والے بنی اسرائیلیوں نے ان کی موت کا الزام حضرت موسٰی پر رکھ دیا۔ مگر خدا نے حقیقت امر کو واضح کر دیا اور پروپیگنڈا کرنے والوں کی قلعی کھول دی۔ ٢- جیسا کہ سورہ قصص کی آخری آیات کے ذیل میں یہ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ مکار قارون نے زکوة سے بچنے اور فقراء و مساکین کے حقوق ادا نہ کرنے کے لیے ایک سازش تیار کی اور وہ یہ کہ ایک بدکار عورت کو تیار کیا گیا کہ وہ اپنے غیر مشروع روابط کے نام پر حضرت موسٰی علیہ السلام پر تہمت لگائے، لیکن خدا کی مہربانی سے نہ صرف یہ کہ سازش کارگر ثابت نہ ہوئی، بلکہ اس شیطانی منصوبے کے برخلاف اس عورت نے حضرت موسٰیؑ کی پاکدامنی کی گواہی دے کر قارون کی سازش کو طشت از بام کر دیا۔ ۳- حضرت موسٰی علیہ السلام کے دشمنوں کے ایک ٹولے نے انھیں جادو، جنون اور خدا پر جھوٹ کی تہمت باندھنے کا الزام دیا۔ لیکن خدا نے انھیں واضح معجزات کے ذریعے ان ناروا نسبتوں سے مبرا اور پاک قرار دے دیا۔ ۴- بنی اسرائیل کے جاہلوں کی ایک جماعت نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو برص وغیرہ جیسے چند ایک جسمانی عیوب سے مہتم کیا، کیونکہ آپ نہانے دھونے کے وقت اپنے کپڑے سے لوگوں کے سامنے نہیں اتارتے تھے، چنانچہ ایک دن انھوں نے نہانے کی غرض سے لوگوں سے دور جا کر کپڑے اتارے اور ایک پتھر پر رکھ دیئے اور وہ پھتر کپڑے لے کر چل دیا اور بنی اسرائیل نے ان کے بدن کو دیکھ لیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ ٥- بنی اسرائیل کی حیلہ سازی حضرت موسٰی علیہ السلام کی تکلیف کا ایک اور عامل تھی۔ کبھی تو وہ تقاضا کرتے کہ انھیں خدا کا دیدار کرایا جائے، کبھی کہتے کہ من و سلوٰی جیسی غذا ہمارے لیے مناسب نہیں ہے، کبھی کہتے کہ ہم اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں کہ بیت المقدس میں داخل ہو کر عمالقہ کے ساتھ جنگ کریں، تو اور تیرا پرودگار جاؤ اس جگہ کو فتح کرو۔ پھر ہم بعد میں آ جائیں گے۔ لیکن جو کچھ آیت کے معنی میں زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ آیت کی کلی اور جامع حکم بیان کرتی ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام کو اس کو مختلف طریقوں سے اذیت پہنچاتے تھے، جو مدینہ کے لوگوں کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی بعض اذتیوں کہ مشابہ تھیں، افواہیں پھیلاتے، طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے اور آپ کی ایک بیوی کی طرف ناروا نسبت جیسی اذیتیں کہ جس کی تفصیل سورہ نور کی تفسیر (تفسیر نمونہ جلد ٨ ذیل آیه ١١ تا ٢٠) میں گزر چکی ہے۔ یا جیسے وہ اعتراضات نے جو رسول اسلام صلی الله علیہ وسلم کے زینب(رض) سے ازدواج کے بارے میں تھے۔ یا وہ تکلیفیں جو آپ کے گھر میں آ کر پہنچاتے یا غیر مہذب طریقے سے آپ کو پکارنے کے سلسلے میں اذیتیں تھیں۔ باقی رہا سحر و جنون وغیرہ کی نسبت یا بدنی عیوب کی بات اگرچہ یہ تہمتیں حضرت موسٰیؑ کے بارے میں تھیں۔ لیکن "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" کا خطاب پیغمبر اسلام کے بارے میں مناسبت نہیں رکھتا، کیونکہ مومنین نے نہ تو ٓحضرت موسٰیؑ کو اور نہ ہی حضرت محمد مصطفٰےؐ کو سحر و جادو سے کبھی متہم کیا اور اس طرح جسمانی عیوب کا اتہمام بالغرض حضرت موسٰیؑ کے بارے میں تھا۔ اور خدا نے انھیں مبرا کیا، لیکن پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں تاریخ کوئی مثال پیش نہیں کرتی۔ بہرحال، اس آیت سے یہ استفادہ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ جس وقت کوئی شخص بارگاہ خداوندی میں آبرومند اور صاحب قدر و منزلت ہو تو خداوند عالم موذی لوگوں کی ناروا تہمتوں سے اس کا دفاع اور حمایت خود کرتا ہے۔ بشرطیکہ انسان کا اپنا دامن صاف ہو اور اللہ تعالی کے حضور اپنی آبرومندی کا بھی پاس کرے، تو وہ بھی یقینًا انسان کی پاک دامنی کو مناسب موقع پر ظاہر کر دیتا ہے۔ اگرچہ بدخواہ قسم کے لوگ تہمت لگانے میں ایڑی چوٹی کا زور ہی کیوں نہ لگا دیں۔ ہم نے اس بات کی تصدیق پاک دامن یوسف علیہ السلام کی داستان میں دیکھی ہے کہ کس طرح خدا نے انہیں عزیز مصر کی زوجہ کی خطرناک تہمت سے بری کر دیا۔ اسی طرح جناب عیسٰیؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کے بارے میں ہے کہ جن کے نوزاد شیر خوار نے ان کی پاکی داماں اور عفت کی گواہی دی اور ان بدطینت اسرائیلیوں کی زبان بند کر دی جو انھیں متہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب زمانہ پیغمبر کے مومنین سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ان کے بعد بھی عرصه وجود میں قدم رکھیں اور ایسا کام کریں کہ آپؐ کی روح مقدس کو رنجیدہ اور آزردہ کر دے، آپؐ کے دین کو حقیر سمجھیں، آپ کی تمام زحمات کو برباد کر دیں، آپؐ کی میراث کو بھلا دیں۔ تو یہ آیت ان کے لیے بھی ہو گی۔ اسی لیے بعض روایات جو اہل بیتؑ سے وارد ہوئی ہیں ان میں ہے کہ "جن لوگوں نے حضرت علیؑ اور ان کی اولاد کو تکلیف پہچائی سے وہ بھی اس آیت کے مشمول ہیں"۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۴ ص ۳٠٨)۔ اس آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں آخری بات یہ ہے کہ جب ہم خدا کے عظیم پیغمبروں کے حالات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ بھی جاہل اور منافق قسم کے لوگوں کی زبان کے زخم سے محفوظ نہیں تھے تو کسی کو ہہ تواقع نہیں رکھنا چاہیے، کہ پاک اور مومن لوگ اس قسم کے افراد سے محفوظ رہیں گے، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "ان رضا الناس لا يملك والسنتهم لاتضبط"۔ "نہ تو تمام لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی تمام لوگوں کا منہ بند کیا جا سکتا ہے"۔ اور آخر میں فرماتے ہیں: "کیا نھوں نے موسٰی علیہ السلام پر کئی طرح کی تہمتیں نہیں لگائیں اور انھیں تکلیف نہیں پہنچائی؟ یہاں تک کہ خدا نے انہیں تمام اتہامات سے بری قرار دے دیا۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ۴ ص ۳٠٩)۔
اعمال کی درستی کے لیے حق بات کیا کرو:
جب افواہ پھیلانے والوں اور زبان سے ایذا پہنچانے والوں کے بارے میں گفتگو ہو چکی تو اس کے بعد والی آیت ایک حکم صادر کرتی ہے جو درحقیقت، اس عظیم معاشرتی مسئلے کا علاج ہے، چنانچہ خدا فرماتا ہے "اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، خدا کا تقوٰی اختیار کرو اور حق بات کیا کرو (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا)۔ "سدید"، "سد" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے "محکم اور استوار" جس میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو سکے۔ اور وہ قول جو حق اور واقعے کے مطابق ہو، جو محکم ستد (بند) کی طرح باطل کی موجوں کو روک دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے "صواب" (درست) کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے جھوٹ اور لغو سے پاک ہونے، نیز بعض نے ظاہر اور باطن کے ہم آہنگ ہونے اور "ٗصلاح و رشاد" وغیرہ کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے۔ یہ سب معانی مذکورہ بالا جامع معنی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ بعد والی آیت "قول سدید" اور"حق بات" کا نتیجہ یوں بیان کرتی ہے۔ "خداوندا عالم تقوٰی اور حق بات کی بناء پر تمھارے اعمال کی اصلاح کرتا اور تمھارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے": (يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ)۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ، اصلاح زبان کی بنیاد اور حق بات کا سرچشمہ ہے اور حق بات اصلاح اعمال کے موثر عوامل میں سے ہے، اور اصلاح اعمال گناہوں کی بخشش کا سبب ہے کیونکہ: "إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ"۔ "نیک اعمال گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں"۔ (ہود۔ ١١۴) علماء اخلاق نے کہا ہے کہ زبان بدن کا سب سے زیادہ بابرکت عضو اور اطاعت، ہدایت اور اصلاح کا سب سے موثر وسیلہ ہے اور اس کے باوجو بدن کے سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ گناہگار کا عضو بھی شمار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ تیس گناہان کبیرہ اس چھوٹے سے عضو سے جنم لیتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: امام غزالی نے "احیاء العلوم" میں بیس ایسی لغزیشیں جو زبان سے سرزد ہوتی ہیں یا گناہان کبیرہ جن کا تعلق زبان سے ہوتا ہے ذکر کیے ہیں۔ ١- جھوٹ۔ ٢- غیبت۔ ۳- چغل خوری۔ ۴- زبان سے منافقت کا اظہار۔ ٥۔ بےجا مدح و ثنا (خوشامد)۔ ۶- بدزبانی اور گالی دینا۔ ٧- غنا اور غلط اشعار۔ ٨۔ مزاح میں حد سے تجاوز۔ ٩- مسخرہ پن اور استهزاء۔ ١٠- دوسروں کے راز فاش کرنا۔ ١١- وعدہ خلافی کرنا- ١٢۔ بےجا لعنت کرنا- ١۳- لڑائی جھگڑا۔ ١۴- باطل امور میں گفتگو۔ ١۶- زیادہ باتیں کرنا۔ ١٧- ایسے امور کے بارے میں گفتگو کرنا جو انسان سے متعلق نہیں ہیں۔ ١٨- شراب، جوا اور گناہ کی دوسری محفلوں میں تعریف کرنا۔ ١٩۔ ایسے مسائل کے بارے میں سوال اور جستجو جو انسان کے ادراک سے لرراه ہیں- ٢٠- بات کرنے میں تصنع و تکلیف سے کام لینا۔ اس کے علاوہ، دس اور چیزوں کا ہم اضافہ کرتے ہیں۔ ١- تہمت لگانا۔ ٢۔ جھوٹی گواہی دینا۔ ٣- فحاشی اور بےبنياد افواہیں پھیلانا۔ ۴- خود ستائی۔ ٥- بےجا اصرار۔ ٦۔ گفتگو میں سختی کرنا۔ ٧- زبانی ایذاء رسائی۔ ٨- ایسے شخص کی مذمت کرنا جو مذمت کا مستحق نہ ہو۔ ٩- زبان کے ساتھ کفران نعمت کرنا۔ ١٠- باطل کا پرچار)۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "لايستقيم ایمان عبد حتی يستقيم قلبه ولا يستقیم قلبه حتٰی يستقیم لسانه"۔ "کسی بندے کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل راست نہ ہو اور دل اس وقت تک سیدھا نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان سیدھی نہ ہو"۔ (بحوالہ: بحارالانوار، جلد ٧١ ص ٧٨)۔ ایک اور قابل توجہ حدیث ہے جو امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہے، آپؑ فرماتے ہیں: "ہر شخص کی زبان روزانہ صبح کے وقت تمام دوسرے اعضاء کی احوال پرسی اور خیریت دریافت کرتی ہے اور کہتی ہے: كيف اصبحتم؟" "تم نے کیسے صبح کی؟" وہ سب زبان کے اظہار محبت کے جواب میں کہتے ہیں: "بخیر ان تركتنا"! "خیریت ہے، اگر تو نے رہنے دی"۔ پھر وه مزید کہتے ہیں: تجھے ہم خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ ہمارا خیال رکھنا۔ "انما نثاب بک و نعاقب بک" "ہمیں تیرے ذریعے ثواب ملے گا اور تیری ہی وجہ سے عذاب"۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد٧١، ص٣٧٨)۔ اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں جو سب کی سب زبان کے انتہائی زیادہ اثرات پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انسانی نفوس کی تہذیب اور اصلاح اخلاق میں زبان کا بڑا کردار ہے۔ اسی بناء پر ایک حدیث میں ہے: "ما جلس رسول الله علٰى هذا المنبر قط الاتلا هذه الأیة: یا ایها الذین امنوا اتقوالله وقولوا قولا سديدا"۔ "جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس منبر پر تشریف فرما ہوتے، تو اس آیت کی تلاوت فرماتے: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور سچی بات کہو۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ١٦۔ ص ٣٧٦ بحوالہ تفسیر در منثور)۔ آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے۔ "جو شخص خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہو گا"۔ (وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا)۔ کونسی کامیابی اس سے بالاتر ہو گی کہ انسان کے اعمال پاک ہوں، اس کے گناہ بخشے جائیں اور بارگاہ رب العزت میں سرخرو اور سرفراز ہو کر پیش ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 5تفسیر آیت 73 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر نوع بشر کا بہت بڑا اعزاز:
Tafsīr Nemūna · Vol. 5سورہ احزاب کی یہ دونوں آخری آیات ان اہم مسائل کی تکمیل کرتی ہیں جو اس سورہ میں ایمان، عمل صالح، جہاد، ایثار، عفت و پاک دامنی، ادب اور اخلاق کے سلسلے میں آئے ہیں اور یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ انسان کس قدر ممتاز حیثیت کا مالک ہے کہ خدا کی عظیم ذمہ داری کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اپنے وجود کی قدر و قیمت کو نہ پہچانے اور اس سے جاہل ہو جائے تو کس طرح اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتا ہے اور اسفل السافلین میں جا گرتا ہے۔ پہلے تو انسان کے تمام عالم خلقت میں اہم ترین اور عظیم ترین اعزاز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "ہم نے اپنی امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی": (إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ)۔ لیکن عالم خلقت کے ان عظیم اور بڑے موجودات نے اس امانت کے بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیا اور اپنی ناتوانی کا اظہار کیا اور اس کام سے ڈرتے تھے: (فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا)- واضح ہے کہ ان کا انکار تکبر کی وجہ سے نہیں تھا، جیسا کہ شیطان اور آدم کو سجدہ کرنے سے اس کی روگردانی کرنے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے: أَبَى وَاسْتَكْبَرَ(بقرہ ۔ ٣۴) بلکہ ان کا انکار "اشفاق" یعنی ایسے خوف و ہراس کے ساتھ تھا، جس میں توجہ بھی تھی اور خضوع و خشوع بھی۔ لیکن اسی اثنا میں انسان جو عالم آفرنیش کا عجوبہ ہے، آگے بڑھا اور اس نے اس کو اپنے کندھوں پر اٹھالیا: (وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ)۔ لیکن افسوس کہ "اسی ابتداء ہی میں اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنی قدر و منزلت کو نہ پہچانا اور جو کچھ اس امانت کے اٹھانے کے لائق تھا، اسے انجام نہیں دیا"۔ (إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا)۔ عظیم مفسرین نے اس آیت کے سلسلے میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور "امانت" کے معنی کی حقیقت معلوم کرنے اور بیان کرنے میں بہت زیادہ کوشش کی ہے اور مختلف نظریات کا اظہار کیا ہے، جن میں سے ہم بہترین نظریہ کو ان قرائن کی جستجو سے منتخب کرتے ہیں، جو خود آیت میں چھپے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر معانی اور مفہوم سے لبریز اس آیت میں سے پانچ نکات زیادہ قابل غور ہیں۔ ١- "امانت الٰہی" سے کیا مراد ہے؟ ٢- اسے آسمان و زمین اور پہاڑوں کو پیش کرنے کا کیا مقصد ہے؟ ٣- کیوں اور کس طرح ان موجودات نے اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا؟ ۴- کس طرح انسان اس امانت کے بوجھ کا حامل ہوا؟ ٥- کیوں اور کس طرح وہ "ظلوم" اور "جہول" ٹهہرا؟ "امانت" کے متعلق مختلف تفاسیر ذکر ہوئی ہیں، جن میں سے یہ بھی ہے کہ: اس سے مراد ارادے کی آزادی اور اختیار ہے جو انسان کو باقی موجودات سے ممتاز اور نمایاں کرتی ہے یا مراد عقل ہے جس پر ثواب و عذاب کا دار و مدار ہوتا ہے "امانت سے مراد" صفت عبودیت کا کمال جو معرفت اور عمل صالح کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یا اس سے مراد "انسانی جسم کے اعضاء و جوارح" ہیں، مثلاً آنکھ خدا کی امانت ہے، جسے محفوظ رکھنا چاہیے اور اسے گناہ کی راہ میں صرف نہیں کرنا چاہیے۔ کان، ہاتھ، پاؤں اور زبان میں سے ہر ایک خدا کی امانت ہے، جن کی حفاظت کرنا ہر انسان پر واجب و لازم ہے۔ یا مراد "وہ امانتیں"ٓ ہیں جو انسان ایک دوسرے سے لیتے ہیں۔ اور "عہد و پیمان کو پورا کرنا" بھی مراد ہو سکتا ہے۔ یا مراد "اللہ کی معرفت" ہے۔ یا مراد "خدائی واجبات اور فرائض الٰہی ہیں مثلا نماز، روزہ اور حج وغیرہ۔ لیکن اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ بعض کو ایک دوسرے میں مدغم کیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں نے اصل مطلب کے کچھ حصوں کو اور بعض نے تمام گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ایک جامع جواب کے حصول کے لیے ہمیں انسان پر ایک نظر ڈالنا چاہیے کہ اس کے پاس کونسی ایسی چیز ہے، جو نہ تو آسمان اور زمین میں ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے پاس؟ انسان ایک ایسی مخلوق ہے، جس میں انتهائی زیادہ استعداد موجود ہے اور وہ اس استعداد سے استفادہ کرنے ہوۓ "خلیفۃ اللہ" کا مصداق اتم بن سکتا ہے اورکسب معرفت، تہذیب نفس اور کمالات کے ذریعے عزت و افتخار اور اعزازات کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے اور فرشتوں سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔ یہ استعداد اراده و اختیار کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا راستہ ہے جسے اس نے صفر سے شروع کیا ہے اور لامتناہی منزلِ مقصود کی طرف بڑھتا جا رہا ہے اور اپنے ہی ارادے اور اختیار سے اسے طے کرتا جا رہا ہے۔ آسمان و زمین اور پہاڑ بھی ایک طرح کی معرفت الٰہی کے حامل ہیں، وہ خدا کا ذکر اور تسبیح بھی کرتے ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے گڑگڑانے والے اور سجدہ گزار بھی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ذاتی، تکوینی اور جبری شکل میں ہے۔ اسی بناء پر ان کے وجود میں تکامل اور ارتقاء نہیں ہے۔ صرف ایک موجود ایسا ہے، جس کی نزولی اور صعودی قوس لامتناہی ہے اور غیر محدود طور پر ارتقائی بلندیوں تک پرواز کر سکتا ہے اور ان تمام کاموں کو اپنے اراده و اختیار سے انجام دیتا ہے اور وہ "انسان" ہے۔ یعنی یہ ہے وه خدائی امانت اٹھانے والا جس کے اٹھانے سے تمام موجودات نے انکار کر دیا۔ یوں اکیلے اس نے میدان میں اتر کر اسے اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ اسی لیے ہم بعد والی آیت میں دیکھتے ہیں کہ انسان کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے، مومن، کافر اور منافق۔ اسی بناء پر ایک مختضر سے جملے میں کہا جا سکتا ہے کہ امانت الٰہی وہی غیر محدود صورت میں ارتقائی قابلیت ہے، جس میں اراده اور اختیار کی آمیزش ہوتی ہے، جس سے وہ انسانیت کے کمال اور خدا کی خاص بندگی کے مقام تک پہنچ کر ولایت الٰہیہ کو قبول کرتا ہے۔ لیکن یہ کہ صرف اس امر کو "امانت" سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے، جبکہ ہماری ساری زندگی اور ہمارا سب کچھ خدا کی امانت ہے۔ درحقیقت، یہ چیز انسان کے اس اہم اور عظیم امتیاز کی بنا پر ہے، وگرنہ خدا کی باقی نعمتیں بھی اسی کی امانت ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں ان کی بہت ہی کم اہمیت ہے۔ یہاں پر امانت الٰہی کا ایک اور مفہوم لیا جا سکتا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ "امانت الٰہی" سے مراد "عہدہ اور ذمہ داری" کو قبول کرنا ہے۔ اسی لیے جن لوگوں نے امانت کو اراده و اختیار کی آزادی کی صفت سمجھا ہے، انھوں نے اس عظیم امانت کے صرف ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے اس کی تفسیر "عقل" یا "اعضاء بدن" یا "لوگوں کی آپس کی باتیں" یا "فرائض و واجبات" یا "تمام شرعی احکام کی ادائیگی بیان کی ہے، ان میں سے ہر ایک نے ایک عظیم پھل دار درخت کی صرف ایک شاخ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے اور اس کا ثمر حاصل کیا ہے۔ یا امانت کے پیش کرنے سے مراد اشیاء کا باہمی موازنہ کرنا ہے، یعنی جب اس امانت کا ان کی استعداد سے موازنہ کیا تو انھوں نے زبان حال کے ساتھ اس عظیم امانت کو قبول کرنے سے اپنی عدم اہلیت کا اعلان کیا۔ دوسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اور اس طرح سے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں نے زبان حال سے پکار کر کہا کہ "اس امانت کا بوجھ اٹھانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہاں سے تیسرے سوال کا جواب بھی واضح ہو گیا کہ کسی طرح ان موجودات نے اس عظیم امانت کے اٹھانے سے انکار کیا اور بڑے ادب کے ساتھ اپنا خوف و ہراس ظاہر کر دیا۔ یہیں سے ان کی اس امانت الٰہی کے اٹھانے کی کیفیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ کیونکہ انسان اس طرح سے پیدا کیا گیا بے جو ایفائے وعدہ اور ذمہ داری کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے، خدا کی ولایت کو قبول کر سکتا ہے، عبودیت اور کمال کے جادو پر گامزن ہو سکتا ہے اور اس راہ کو پروردگار کی مدد سے اپنے ہی پاؤں کے ساتھ طے کر سکتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعے پہنچنے والی متعدد اور روایات بتاتی ہیں کہ اس امانت الٰہی سے مراد "امیر المومنین علیؑ اور ان کی اولاد امجاد علیہم اسلام کی ولایت" ہے۔ تو اس کا مقصد یہ ہے کہ انبیاء کرامؑ اور ائمہ اطہارؑ کی ولایت درحقیقت، اس ولایت مطلق الٰہیہ کی ایک طاقتور شعاع ہے اور اولیاء خدا کی ولایت کو قبول کیے بغیر عبودیت تک رسائی اور ارتقاء کی جادہ پیمانئی قطعًا ناممکن ہے۔ امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے جب کسی نے "عرض امانت" والی آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: "الامانة الولاية من ادعاها بغیر حق كفر"۔ "امانت وہی ولایت ہی تو ہے، جس کا ناحق دعوٰی کرنے والا مسلمانوں کے زمرے سے خارج ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برھان، جلد ٣ ص ٣۴١ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال ہوا تو آپؑ نے فرمایا: "الامانة الولاية، والانسان ھو ابو الشرور المنافق"۔ "امانت وہی ولایت ہے اور انسانوں جس کی ظلوم و جہول سے توصیف کی گئی ہے، بہت سے گناہوں کا مرکتب اور منافق ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برھان، جلد ٣ ص ٣۴١ زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں پر اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ ہم سورة اعراف کی آیت ١٧٢ کے ذیل میں عالم ذر کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب خدا نے انسان سے عالم ذر میں توحید کا اقرار لیا تھا وہ انسان کی فطرت، استعداد اور سرشت کے ذریعے تھا۔ درحقیقت، عالم ذر، عالم استعداد و فطرت کا دوسرا نام ہے۔ اسی طرح خدائی امانت کے قبول کرنے کے بارے میں بھی یہی کہنا ہو گا کہ یہ قبولیت کسی مقررہ قاعدہ کلیہ کے تحت یا محض تکلف کی بناء پر نہیں تھی، بلکہ عالم استعداد کے مطابق ایک تکوینی قبولیت ہے۔ اب صرف ایک سوال باقی رہ جاتا اور وہ ہے انسان کے "ظلوم و جہول" ہونے کا مسئلہ۔ کیا انسان کی توصیف ان دو الفاظ کے ساتھ جو ظاہر طور پر اس کی مذمت کر رہے ہیں، اس امانت کے قبول کرنے ان کی وجہ سے ہے؟ یقینًا اس سوال کا جواب منفی ہے، کیونکہ اس امانت کو قبول کر لینا انسان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ اتنا بڑا اعزاز حاصل کر لینے کے بعد اس کی مذمت کی جائے؟ یا تو یہ توصیف اس بناء پر ہے کہ انسان نسیان کا شکار ہوتا ہے اور اپنی ذات پر ظلم کرتا رہتا ہے اور آدمیت کی قدر و منزلت سے ناآشنا ہے، جس کام کی ابتدا ہی سے نسل آدم میں "قابیل" کے ذریعے بنیاد پڑ چکی تھی اور قابیل کے نقش قدم پر چلنے والوں نے اسے آگے بڑھایا اور اب تک اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ انسان جسے عرش کی بلندیوں سے صدا آتی رہتی ہو، وہ بنی آدم جس کے سر پر "كرمنا" کا تاج سجایا گیا ہو، وہ انسان جو"إنی جاعلً في الارض خلیفة" کے مصداق زمین میں خدا کا نماینده ہو، وہ بشر جو معلم اور مسجود ملائکہ ہو وہ:ظلوم و جہول" نہیں تو اور کیا ہو گا کہ جو اپنی ان عظیم اقدار کو طاق نسیان میں رکھ کر خود کو اس عالم کا اسیر بنا لے اور شیاطین کی صف میں شامل ہو کر اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس انحرافي راستے پر چلنے والے لوگ عرصہ دراز سے چلے آ رہے ہیں۔ جو انسان کے "ظلوم و جہول" ہونے کی قوی دلیل ہے حتی کہ خود حضرت آدم علیہ السلام جو بسلسلہ آدمیت کی پہلی کڑی اور طہارت و عصمت کے مقام پر فائز تھے، اپنے اور ظلم کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ بارگاه خدا میں عرض کرتے ہیں: "رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ"۔ (سوره اعراف ۔ ٢٣) درحقیقت، اس عظیم امانت کی عظمت کے ایک گوشے کو فراموش کرنے کی بدولت ہی ان سے ترک اولٰی سرزد ہوا تھا۔ بہرحال، اعتراف کرنا پڑے گا کہ انسان جو ظاہرًا چھوٹی اور کمزور سی مخلوق ہے، لیکن تخلیق عالم کا ایک ایسا عجوبہ ہے، جس نے اس عظیم امانت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا ہے، جسے اٹھانے سے زمین و آسمان اور پہاڑ عاجز آ گئے تھے۔ ہاں اس کے مقام یہ عظمت اسی صورت میں ہے کہ وہ اپنے اس مقام کو بھول نہ جائے۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں کہا ہے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس اس امر کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ یہ آٰیت میں کسی چیز کی مقدار مانیں۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے اور انھوں نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے امانت پیش کرنے سے مراد ان میں رہنے والوں کے سامنے امانت پیش کرنا ہے، یعنی ملائکہ اور فرشتوں کے سامنے اسی بناء پر وہ کہتے ہیں کہ جن چیزوں سے امانت کو قبول کرنے سے انکار کیا انھوں نے اسے ادا کر دیا اور جنھوں نے سے قبول کیا انہوں نے خیانت کا ارتکاب کیا" یہ تفسیر نہ صرف تقدیر کی احتیاج کی بناء پر خلاف ظاہر ہے، بلکہ اس لحاظ سے بھی قابل اعتراض ہے کہ فرشتے بھی ایک طرح کی تکلیف پر عمل پیرا ہیں اور ایک حصہ امانت کے حامل ہیں، ان سب باتوں سے قطع نظر، پہاڑ میں رہنے والوں کو فرشتوں سے تعبیر کرنا عجیب و غریب ہی ہے۔ (غور کیجیئے گا))۔ بعد والی آیت حقیقت میں انسان کے سامنے اس امانت کو پیش کرنے کی علت ہے اور اس حقیقت کا بیان ہے کہ انسان اس عظیم خدائی امانت کا بار اٹھا لینے کے بعد تین حصوں میں بٹ گئے۔ منافق، مشرک اور مومن۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے۔ "مقصد یہ ہے کہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچائے نیر خدا صاحب ایمان مردوں اور باایمان عورتوں پر رحمت نازل کرے، خدا ہمیشہ سے غفور و رحیم ہے": (لِّيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا)۔ عربی قائدہ کے تحت "ليعذب" کی "لام" کونسی "لام" ہے؟ اس سلسلے میں دو احتمال ہیں؛ ١- ایک یہ کہ "لام غایت" ہے جو کسی چیز کے انجام کو بیان کرنے کے لیے ذکر ہوتی ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم یوں ہو گا: "اس امانت کو اٹھانے کا انجام یہ ہوا کہ ایک گروہ نے نفاق کی راہ اختیار کی اور ایک گروہ نے شرک کی، اور اس خدائی امانت میں خیانت کرنے کی وجہ سے اس کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس امانت کو ادا کرنے اور اپنے فرائض پر قائم رہنے کی بناء پر رحمت الٰہی کا مستحق قرار پایا"۔ ٢- دوسرا یہ کہ "لام علت" ہے اور اس میں ایک جملہ مقدر ہے۔ اس بناء پر آیت کی تفسیر یوں ہو گی: "امانت کو پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تمام انسان آزمائش کی کٹھالی میں قرار پائیں اور ہر شخص اپنے اپنے باطنی حالات کو ظاہر کر کے اپنے استحقاق کے مطابق جزا اور سزا پا سکے"۔
چند اہم نکات
١۔ اہل نفاق کو مشرکین پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ منافق اپنے آپ کو "امین" ظاہر کرتا ہے۔ حالانکہ وہ خائن ہوتا ہے۔ لیکن مشرک کی خیانت واضح ہے۔ اس لیے منافق عذاب کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ ٢- ان دونوں گروہوں کو مومنین پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ گزشتہ آیت کا آخری حصہ "ظلوم اور جہول" پر ختم ہوتا ہے اور"ظلوم و جہول" منافق اور مشرک کے ساتھ مناسب ہے۔ منافق "ظالم" اور مشرک "جاہل" ہے۔ ٣- لفظ "اللہ" منافقین اور مشرکین دونوں کے عذاب کے بارے میں ایک مرتبہ آیا ہے اور مومنین کی جزاء کے سلسلے میں بھی ایک مرتبہ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انجام کے لحاظ سے پہلے دونوں گروہ ایک جیسے ہیں اور مومنین کا معاملہ ان بالکل جدا ہے۔ ۴۔ مومنین کے بارے میں "جزا" کے بجائے "توبہ" کا لفظ آیا ہے۔ اس کی زیادہ تر وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں زیاده تر خوف اپنی ان لغزشوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کبھی کبھی ان سے سرزد ہوتی ہیں۔ لہذا خداوند تعالٰی انہیں اطمینان دلاتا ہے کہ ان کی لغزشوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ یا اس بناء پر ہے کہ خدا کا بندوں کی توبہ قبول کرنے کا مقصد اس کی رحمت کی طرف بازگشت ہوتا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ "رحمت" میں ہر قسم کی جزاء اور بخشش چھپی ہوئی بے۔ ٥- پروردگار کی "غفور و رحیم" کے ساتھ توصیف یا تو اس لیے ہے کہ یہ کلمہ "ظلوم" اور "جہول" کے مقابلے میں یا پھر مومن مردوں اور مومن عورتوں کے بارے میں توبہ کی مناسبت سے۔ اب جبکہ ہم فضل پروردگار سے سورہ احزاب کے اختتام کو پہنچ گئے ہیں، اس نکتے کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ اس سوره کے آغاز و انجام کی ہم آہنگی نہایت ہی قابل غور ہے۔ کیونکہ یہ سورہ (احزاب) پیغمبر کو خدا کا تقویٰ اختیار کرنے اور کفار منافقین کی اطاعت سے روکنے اور خدائے علیم و حکیم کی ذات پر تکیہ کرنے سے شروع ہوئی ہے اور انسان کی زندگی کے عظیم ترین مسئلے یعنی امانت الٰہی کے اٹھا لینے کے ذکر پر اور پھر انسانوں کو تین گروہوں (منافق، کافر اور مومن) میں تقسیم کرنے اور خدائے غفور و رحیم کا ذکر کرنے پر ختم ہوتی ہے۔ ان دونوں مباحث کے درمیان ان تینوں گروہوں سے متعلق گفتگو ہوئی ہے کہ انہوں نے امانت الٰپی کے ساتھ کس طرح سلوک کیا ہے؟ جو سب ایک دوسرے تکمیل اور ایک دوسرے کو واضح کرتی ہیں۔ پروردگار ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے، جنہوں نے تبری امانت کو خلوص دل کے ساتھ قبول کیا اور عشق کی حد تک اس کی حفاظت کی اور اپنے فریضے سے عہدہ برآ ہوئے۔ خداوندا! ہمیں ایسا مومن بنا، جس پر تیری رحمت اور مغفرت نازل ہوئی ہے۔ منافقین اور مشرکین سے قرار نہ دے کہ جو "ظلوم و جہول" ہونے کے باعث عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ خداوندا! اس دور میں جبکہ "احزاب کفر" درباره "مدینہ اسلام" کا محاصرہ کر چکے ہیں۔ ان پر اپنے غیظ و غضب کا خوفناک طوفان نازل فرما اور ان کے قصور و محلات کو ان کے سروں پر گرا دے اور ہمیں ایسی طاقت و استقامت عطا فرما کہ ان حساس لمحات میں پہاڑ کی طرح ڈٹ جائیں اور اپنے جان و دل سے "مدینہ اسلام" کی پاسداری کریں۔ آمین یا رب العالمین!