Sūra 03 · 200v
Chapter 03200 verses

Aal-e-Imran

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
آل عمران
آل عمران

سوره آل عمران

یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۲۰۰ آیات ہیں

شانِ نزول

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اسِّی سے کچھ زیادہ آیات نجران کے عیسائی نمائندوں کے بارے میں ہیں جنہیں اسلام کے بارے میں تحقیق کے لئے مدینہ بھیجا گیا تھا۔ وہ ساٹھ افراد تھے، ان میں سے چودہ نجران کے اشراف اور معزین شمار ہوتے تھے۔ ان چودہ میں سے تین سردار تھے وہاں کے عیسائی اپنے کاموں اور مشکلات میں انہی تین سے رجوع کرتے تھے۔ ان میں سے ایک عاقب تھا جسے عبدالمسیح بھی کہتے تھے، وہ اپنی قوم کا امیر اور رئیس بھی شمار ہوتا تھا، اس کی قوم کبھی اس کے نظریے اور رائے کی مخالفت نہیں کرتی تھی دوسرے کا نام سید تھا اسے ایہم بھی کہتے تھے خاطر تواضع اور سفر کے انتظامی امور کی سرپرستی بھی کرتا تھا اور عیسائیوں کے لئے بہت قابل اعتماد تھا تیسرا شخص ابو حارثہ تھا جو عالم تھا اور نہایت بااثر تھا عیسائیوں نے کئی ایک گرجے اس کے نام سے بنا رکھتے تھے، اسے تمام مذہبی مسیحی کتب یاد تھیں۔ ساٹھ افراد کا یہ گروہ قبیلہ بنی کعب کے لباس میں مدینہ آیا اور مسجد نبوی میں پہنچا۔ اس وقت نبی اکرمﷺ مسلمانوں کے ہمراہ نماز عصر ادا فرما چکے تھے۔ ان ساٹھ افراد کے خوبصورت زرق برق اور پرکشش لباس پہن رکھے تھے، ایک صحابی نے بقول: ہم نے کبھی کوئی نمائندہ ایسے بنے ٹھنے نہیں دیکھے تھے۔ (تشریحی نوٹ: یمن کے شمالی کوہستان میں ایک مقام صنعاء ہے ،صنعاء سے دس منزل دور قبیلہ ہمدان کی زمینیں تھیں۔ جاہلیت کے زمانے میں اس قبیلے کا ایک بت تھا ۔ اس کا نام اس قبیلہ نے ” یعوق “ رکھا تھا۔ اس قبیلے کی بستی کونجران کہتے تھے، معجم البلدان یاقوت حموی کے بقول نجران چند مقامات کا نام ہے)۔ وہ مسجد میں پہنچے تو یہ ان کی نماز کا وقت تھا۔ انہوں نے اپنے مراسم کے مطابق ناقوس بجایا اور مشرق کی طرف رخ کرکے نماز میں مشغو ل ہو گئے۔ کچھ اصحاب نے انہیں روکنا چاہا لیکن آپؐ نے فرمایا: تم ان سے سرو کار نہ رکھو۔ نماز کے بعد عاقب اور سید نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئے اور آپؐ سے گفتگو کرنے لگے۔ آپؐ نے انہیں دینِ اسلام قبول کرنے اور بار گاہ خداوندی میں سرتسلیم خم کرنے کی دعوت دی۔ عاقب اور سید کہنے لگے: ہم آپ سے پہلے اسلام لا چکے ہیں اور بارگاہ الہٰی میں سرتسلیم خم کر چکے ہیں۔ پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: تم کس طرح دین حق پر ہو جبکہ تمہارے اعمال بتاتے ہیں کہ تم خدا کے سامنے سرتسلیم جھکائے ہوئے نہیں ہو کیونکہ تم خدا کے لئے بیٹے کے قائل اور حضرت عیسی (ع) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہو۔ صلیب کی پوجا اور پرستش کرتے ہو اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہو جبکہ یہ سب امور دین حق کے خلاف ہیں ۔ عاقب او ر سید نے کہا: اگر حضرت عیسیٰ (ع) خدا کے بیٹے نہیں تو ان کا باپ کون تھا؟ نبی کریمؐ نے فرمایا: کیا تم یہ بات مانتے ہو کہ ہر بیٹا باپ سے شباہت رکھتا ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں کہ ہمارا خدا ہر چیز پر محیط ہے، قیوم ہے اور موجودات کو روزی دینا اُس کے ذمہ ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں ایسا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا حضرت عیسیٰ (ع) میں یہ اوصاف تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہیں اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے؟ کہنے لگے: ہاں ہم جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جو کچھ حضرت عیسیٰ (ع) کو خدا نے بتایا کیا وہ ان کے علاوہ اپنی طرف سے کسی چیز کو جانتے تھے؟ وہ بولے: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہوکہ ہمارا خدا وہی ہے جس نے شکم مادر میں حضرت عیسیٰ (ع) کو جیسے چاہا بنایا؟ کہنے لگے :ہاں ایسا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں کہ حضرت عیسیٰ کو ان کی والدہ باقی بچوں کی طرح جسم میں اٹھائے رہیں اور پھر انہیں باقی ماؤں کی طرح جنم دیا اور حضرت عیسیٰ ولادیت کے بعد دیگر بچوں کی طرح غذا کھاتے تھے؟ وہ کہنے لگے: ہاں ایسے ہی تھا۔ اَس پر آپؐ نے فرمایا: تو پھرحضرت عیسیٰ (ع) خدا کے بیٹے کیسے ہو گئے جب کہ اُس سے کوئی شباہت نہیں رکھتے؟ گفتگو یہاں تک پہنچی تو سب کے سب خاموش ہو گئے۔ اس وقت اس سورة کی اسسّی سے کچھ اوپر آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں بعض معارف اور کچھ اسلامی پروگراموں کی وضاحت کی گئی ہے۔(بحوالہ المیزان ، ج۲ ، ص۱۲)

1
3:1
الٓمٓ
ال م

اس سورہ کے اہم موضوعات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ سورہ باتفاقِ مفسرین دو سو آیات پر مشتمل ہے۔ اس نے تمام آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔ آل عمران کے واقعے کی مناسبت سے اس کانام سورہ آل عمران رکھا گیا ہے، یہ واقعہ آیت ۳۲ کے بعد سورہ میں موجود ہے۔ اس سورہ کے اہم موضوعات ہیں۔ • ایمان، • اسلام، • اسلام کی حمایت اور وسعت میں استقامت و پا مردی، • یہود و نصاریٰ سے منطقی مقابلہ، • مسلمانوں کے لئے متعدد تربیتی درس، • اسلام کی پیش رفت اور • باطل عقائد کی نفی۔ اِس سورہ کے مطالب ایک دوسرے سے اس طرح مربوط اور متناسب ہیں گویا سب آیات ایک وقت میں نازل ہوئی ہیں اب اس سورہ کی ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کی جاتی ہے۔

تفسیر

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
3:2
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُ
خدائے یکتا کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ و پائیدار اور نگہبانی کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
3:3
نَزَّلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ
(وہی ذات ہے)جس نے تم پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یہ کتاب گذشتہ کتب کی نشانیوں پر منطبق ہوتی ہے۔اور تورات و انجیل کو اتارا ۔

ا ل م ۔ کمپیوٹر کے ذریعے حروف مقطعات کی تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قرآن کے حروفِ مقطعات کے بارے میں سورہٴ بقرہ کی ابتداء ضروری توضیحات پیش کی جا چکی ہیں، اب ان کی تکرار کی ضرورت نہیں۔ یہاں پر ہم ان کے بارے میں ایک قابل توجہ نظریہ پیش کریں گے۔ یہ نظریہ حال ہی میں ایک مصری عالم نے پیش کیا ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم انہیں یہاں مکمل طور پر بیان کرتے ہیں، البتہ اس کی صحت یا کسی قسم کے بارے میں فیصلہ کرنا بہت زیادہ تحقیق کا محتاج ہے جو شاید آئندہ آنے والے لوگوں کے ذمے ہے ہم اسے یہاں فقط ایک نظریے کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ مشہو مصری مجلہ ” آخر ساعة“ جو ایشیا کا بڑا مجلہ شمار ہوتا ہے نے مصر ہی کے ایک مسلمان عالم کی کچھ آیات قرآن مجید کے بارے میں کمپیوٹر کی مدد سے تیار کی گئی عجیب و غریب تحقیق پیش کی ہے۔ اس نے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ تحقیقات کیمسٹری (ع)ڈاکٹر رشاد خلیفہ کی تین سالہ مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تحقیقات نے ایک دفعہ پھر اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب ذہن انسانی کی پیداوار نہیں ہے اور انسان کے بس کی بات نہیں کہ اس کی مثل پیش کر سکے۔ ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے یہ تحقیقات امریکی ریاست میسوری کے شہر سانٹ لویس میں کی ہیں، وہ اب بھی غذا سازی کی ایک امریکی کمپنی میں بطور مشیر کام کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی حیرت انگیز تحقیقات کی تکمیل کے لئے مدتوں کمپیوٹر سے استفادہ کیاہے ۔ ان کمپیوٹرز کا کام کرنے کا ایک سیکنڈ کا کرایہ دس ڈالر تھا جو وہاں کے بعض مسلمانوں کی مدد سے ادا کیا گیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فارسی جرائد میں مذکورہ سائنسدان سے مصری خبر نگار کی گفتگو ناقص اور غیر مکمل صورت میں شائع ہوئی ہے فارسی دان طبقہ اس سے پوری طرح بات نہیں سمجھ پایا۔ لہٰذا ہم نے ضروری سمجھا کہ خبر کے اصلی منبع سے رجوع کیا جائے تاکہ اس بحث کا مکمل تجزیہ و تحلیل کیا جا سکے۔ البتہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس وقت ہمارا مقصد اس نظریے کی تائید نہیں بلکہ اس سے ہم آئندہ تحقیق کرنے والوں کے ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔ مذکورہ پروفیسر نے اپنی تمام تر مساعی قرآن کے حروف مقطعات جو (ق ا ل م یٰس) کی شکل میں ہیں کے سمجھنے پر صرف کی ہیں۔ اُس میں پیچیدہ حسابات Calculationsکی مدد سے ثابت کیا ہے کہ جس سورہ کے شروع میں یہ حروف آئے ہیں اس سورہ کے دیگر حروف سے ان کا نزدیکی تعلق ہے (غور کیجئے گا )۔ کمپیوٹر سے صرف سورتوں کے حروف کی تعداد اور ان کی نسبت معلوم کرنے کے لئے (اصطلاحاً) ایک فیصد حروف سے مدد لی گئی ہے نہ یہ کہ اس سے قرآنی آیا ت کی تف سیر چاہی گئی ہے لیکن یہ مسلم ہے کمپیوٹر کے بغیر یہ بات کسی انسان کے بس کی نہ تھی کہ وہ سالہا سال تک اِن حسابات کو کرتا رہتا ۔ اب ہم مذکورہ سائنسدان کے انکشافات پیش کرتے ہیں: ۔ ڈاکٹر رشاد کہتا ہے:ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں۔ ان میں سے چھیاسی مکہ میں اور اٹھائیس مدینہ میں نازل ہوئیں ہیں ان ۲۹/ سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مجموعی طور پر یہ تمام حروف ۱۴/ ہیں جب کہ عربی حروف ابجد کی تعداد ۲۸ ہے۔گویا یہ ان کا نصف ہوئے۔ حروف مقطعات میں آنے والے حروف یہ ہیں۔ ا ۔ ح۔ ر۔ س ۔ ص۔ ط۔ ق۔ ک۔ م ۔ ن۔ ھ۔ ی ۔ انہیں بعض اوقات حروفِ نورانی بھی کہتے ہیں۔ ڈاکٹر رشاد مزید کہتاہے: میں سالہا سال سے جاننا چاہ رہا تھا کہ یہ حروف جو ظاہراً ایک دوسرے سے الگ ہیں اور سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں، ان کے معانی کیا ہیں۔ عظیم مفسرین کی تفاسیر و آراء دیکھیں لیکن تسلی نہ ہوئی لہٰذا خدا سے مدد مانگی اور مطالعہ میں محو ہو گیا۔ اچانک یہ سوچ پیدا ہوئی کہ شاید ان حروف اور جس سورہ کے شروع میں یہ موجود ہیں ان کے حروف کے درمیان کوئی رابطہ پایا جاتا ہو لیکن چودہ نورانی حروف اور ۱۱۴ جودہ سوروں کے بارے میں تحقیق ہر ایک کی نسبت کا تعین اور دیگر بہت سے حسابات کمپیوٹر کے بغیر ممکن نہ تھے لہٰذا پہلے مذکورہ حروف کو قرآن کی چودہ سورتوں میں علیحدہ علیحدہ کیا گیا اور پھر سورت کے تمام حروف کو ترتیب دے کے کمپیوٹر کے سپرد کیا گیا تاکہ ان کی مدد سے آئندہ حسابات کئے جاسکیں۔ یہ کام اور دیگر ضروری امور دو سال کے عرصے میں انجام پائے۔ اس کے بعد کمپیو ٹر پرمذکورہ حسابات کے لئے پورا ایک سال کام کرتا رہاتو بہت ہی درخشاں نتیجہ برآمد ہوا ۔ تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ تعجب انگیز حقائق سے پردہ اٹھا جنہوں نے دیگر پہلووٴں کے علاوہ علم ریاضی کے اعتبار سے حروف قرآن کی نسبت کے بارے میں قرآنی اعجاز کو مکمل طور پر واضح کر دیا۔ کمپیوٹر نے ہمیں بتایا کہ ان چودہ حروف کی۱۱۴سورتوں میں ہر ایک سے کیا نسبت ہے۔ مثلاً حساب کے بعد ہم نے دیکھا کہ ”ق“ جو قرآن کے نورانی حروف میں سے ہے۔سورہ فلق میں اس کا سب سے زیادہ حصہ ہے، یہ حصہ ۵۔۶۷ فیصد ہے اور یہ نسبت قرآن کی سورتوں میں اول نمبر پر ہے (البتہ سورہ ق اس میں شامل نہیں ہے) اِس کے بعد سورہ قیامٰۃ جس میں ق کی نسبت ۷۔۳۹ فیصد ہے پھر سورہ و الشمس ہے جس میں یہ تناسب ۶۔۳۹ فیصد ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سورہ قیامة اور و الشمس میں یہ فرق سو میں سے ایک ہزار کا ہے، اسی ترتیب سے قرآن کی تمام ۱۱۴ سورتوں میں سے ہم نسبت ہم نسبت معلوم کر سکیں گے ۔ اور بہ نسبت اسی ایک حرف کے بارے میں نہیں بلکہ تمام نورانی حروف کے بارے میں ہر ایک سورت کے تمام حروف کی نسبت ایک ایک کر کے معلوم کی جا سکتی ہے۔ اب ہم ان جاذب نظر نتائج کا ذکر کرتے ہیں جو ان حسابات(CALCULATIONS) سے سامنے آئے ہیں۔ ۱۔حرف ق کی نسبت سورہ ق میں قرآن کی دوسری سورتوں کے مقابلے میں بلا استثناء سب سے زیادہ ہے یعنی ۲۳ سالوں کے دوران میں جو ۱۱۳ سورتیں نازل ہوئیں،ان میں حرف ق سورہ ق کی نسبت کم استعمال ہوا واقعاً یہ امر بہت حیران کن ہے کہ ایک انسان ۲۳سال کے طویل عرصے میں اپنی گفتگو کے حروف کی تعداد کا اس قدر خیال رکھے اور اس کے باوجود آزادانہ اور بلا تکلف گفتگو کرتا ہے۔ مسلم ہے کہ یہ کام ایک انسان کے بس سے باہر ہے یہاں تک کہ ایک عظیم ترین ریاضی دان بھی کمپیوٹر کی مدد کے بغیر اس کا حساب نہیں رکھ سکتا ۔ یہ تمام چیزیں نشاندہی کرتی ہیں کہ نہ صرف قرآن کی سورتیں اور آیات بلکہ حروف بھی ایک خاص نظام اور حساب کے تحت ہیں اور اس پر صرف خدا ہی قادر ہے۔ اسی طرح حسابات سے معلوم ہوتا ہے کہ حرف ص کی سورہ ص میں یہی پوزیشن ہے یعنی اس میں اس کی مقدار سورہ کے باقی حروف کی نسبت قرآن کی دیگر سورتوں میں اس کی نسبت سے زیادہ ہے۔ اسی طرح سورہ حجر کے علاوہ حرف ن کی سورہ ”ن و القلم “ میں نسبت دیگر سورتوں میں اس کی نسبت زیادہ ہے لیکن سورہ حجر میں اس کی نسبت سورہ ن و القلم میں اس کی نسبت سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ سورہ حجر ان سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا”ال ر “سے ہوتی ہے۔ بعد میں ہم دیکھیں گے کہ وہ سورتیں جن کی ابتدا ” ال ر“ سے ہوتی ہے وہ سب کی سب ایک سورت شمار ہوں گی اور اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں مطلوبہ نتیجہ دستیاب ہو گا یعنی ان تمام سورتوںمیں حرف ن کی نسبت۔ اس کی سورہ ن و القلم میں نسبت سے کم ہو جائے گی۔ ۲۔ ا ل م ص ۔ یہ چار حروف سورہ اعراف کی ابتداء میں آتے ہیں اب اگر اس سورہ میں آنے والے تمام ال م ص جمع کئے جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کی نسبت اس سورہ کے دیگر حروف کے ساتھ ان کی نسبت دوسری سورتوں میں دیگر حروف سے زیادہ ہے۔ اسی طرح (ال ر )یہ چار حروف سورہ رعد کی ابتدا میں آئے ہیں ان کی بھی یہی ہے حالت ہے۔ یونہی (ک ھ ی ع ص)یہ پانچ حروف سورہ مریم کے آغاز میں آئے ہیں ان کا بھی ہی حساب ہے۔ یہاں مسئلے کے ایک نئے رخ سے ہمارا سامنا ہوتا ہے کہ ایک جدا حرف ہی ان آسمانی کتاب میں ایک خاص نظم کے تحت نہیں بلکہ ایک سے زیادہ حروف بھی اسی حیرت انگیز وضع میں اس میں موجود ہیں۔ ۳۔ اب تک توصرف ایک سورہ کے شروع میں آنے والے حروف کا ذکر تھا لیکن وہ حروف؎ِ مقطعات جو ایک سے زیادہ حروف کے آغاز میں آئے ہیں مثلاً (ال ر ۔ یا ۔ ال م) تو وہ اندر ایک اور مشکل حساب سموئے ہوئے ہیں ، اور وہ یہ کہ جن سور توں میں یہ حروف آتے ہیں مثلاً ( ال م ) چھ سورتوں کے آغاز میں ہے تو ان چھ سورتوں میں ان حروف کے مجموعے کا تناسب دیگر حروف سے دیکھنا ہو گا۔ ہم دیکھیں گے یہ نسبت ان حروف کی دیگر ہر سورۃ میں ان کی نسبت سے زیادہ ہے۔ یہاں مسئلے نے پھر ایک توجہ طلب صورت اختیار کرلی ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف قرآن کی ہر سورت کے حروف ایک معین ضابطے اور حساب کے تحت ہیں بلکہ مشابہ سورتوں کے مجموعی حروف بھی ایک ہی ضابطے اور نظام کے مطابق ہیں۔ ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد سورتیں کیوں ( ال م ۔یا ۔ال م ر ) سے شروع ہوتی ہیں گویا ایسا اتفاقاً یا بلا وجہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر رشاد نے پیچیدہ ترین حسابات” ح م “ پر مشتمل سورتوں کے بار ے میں پیش کئے ہیں ہم اختصار کے پیشِ نظر ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر رشاد نے اس ضمن میں اور کچھ قابل توجہ نکات پیش کئے ہیں جنہیں بعض نئے نتیجہ بخش نکات کے اضافے کے ساتھ ہم قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:۔

۱) قرآن مجید کے اصلی رسم الخط کی حفاظت کریں

وہ کہتے ہیں یہ تمام حسابات اسی صورت میں صحیح ہیں جب ہم قرآن کے اصلی اور قدیمی رسم الخط پر ہاتھ نہ ڈالیں ورنہ حساب خراب ہو جائے گا۔ مثلاً اسحاق، زکوة اور صلوٰة کی صورت میں لکھیں نہ کہ اسحاق، زکات اور صلات کی شکل میں۔

(۲) قرآن مجید میں عد ِم تحریف کی ایک اور دلیل

یہ تحقیقات نشاندہی کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں ایک لفظ بلکہ ایک حرف کی بھی کمی یا زیادتی نہیں ہوئی ورنہ یقینی طور پر ہمارے حسابات موجود ہ قرآن میں یہ نتا ئج پیش نہ کر سکتے۔

(۳) پر معنی اشارات

قرآن حکیم کی بہت سی سورتیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوئی ہے ان میں ان حروف کے بعد قرآن کی حقانیت اور عظمت کا ذکر آیا ہے مثلاً ” الٓمّ ذٰلک الکتاب لاریب فیہ “ یہ بذاتِ خود مذکورہ حروف کے اعجاز قرآن ہونے کی طرف ایک اشارہ ہے۔

حاصل کلام

اس ساری بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ۲۳سال میں پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والے حروفِ قرآن بہت دقیق اور منظم حسابات کے حامل ہیں اور الف، با اور دیگر تمام حروف کا ہر سورة کے مجموعی حروف سے علم ریاضی کے حوالے سے گہرا تعلق ہے ایسے حسابات انسان کمپیوٹر کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ دانشمندِ مذکور کی تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لہذا نقائص سے خالی نہیں ہیں۔ ابھی انہیں انہی کے ذریعے یا دیگر دانشمندوں کے ذریعہ پایہٴ تکمیل تک پہنچنا چاہئیے۔ ” اللہ لا ٓالہ الاّ ھو الحیُّ القیوم“ اللہ یگانہ و یکتا ہے، جاوداں اور قائم رہنے والا معبود ہے اور تمام چیزیں اسی کے وجود سے وابستہ ہیں۔ اس آیة کی شرح و تفسیر سورہ بقرہ کی آیہ ۲۵۵ میں گذر چکی ہے۔ ”نزل علیک الکتاب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ و انزل التّورٰة و الانجیل من قبل ھدیً لّلناس“ اس آیت میں پیغمبر اسلامؐ مخاطب ہیں۔ فرمایا گیا ہے: وُہ خدا جو پائندہ اور قیوم ہے اس نے تم پر ایسا قرآن نازل کیا ہے جس میں حق و حقیقت کی نشانیاں ہیں اور یہ نشانیاں ان کے علاوہ بھی ہیں جن کی بشارت گذشتہ انبیاء اور آسمانی کتب( تورات، انجیل)نے دی ہے اور گذشتہ انبیاء اور آسمانی کتب نے قرآن اور قرآن لانے کے بارے میں جو گفتگو کی ہے اس نے اس کی بھی تصدیق کی ہے وہ وہی خدا ہے جس نے تورات اور انجیل کو نوع بشر کی راہنمائی اور ہدایت کے لئے نازل کیا ہے۔

چند اہم نکات ١- حق کا مفہوم

:”حق “ کا معنی اصل میں ” مطابقت“ اور ” ہم آہنگی“ ہے اسی لئے جو چیز واقعیت سے مطابقت رکھتی ہے اسے حق کہتے ہیں۔ یہ جو خداوند تعالی کو حق کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ذاتِ مقدس عظیم ترین واقعیت ہے کہ جو قابل انکار نہیں۔ واضح تر الفاظ میں۔۔ حق یعنی وہ ثابت اور مضبوط امر جس میں باطل کے لئے کوئی راستہ نہ ہو۔ محل بحث آیت میں ”باء“ اصطلاح میں مصاحبت کے لئے ہے۔ یعنی اے پیغمبر!خدا نے تم پر ایسا قرآن نازل کیا ہے جو واقعیت کی نشانیوں کے ہمراہ اور ان سے ہم آہنگ ہے۔

٢۔ توریت کیا ہے

”توراة“ طبرانی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے ”شریعت اور قانون“۔ یہ لفظ خدا کی طرف سے حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل ہونے والی کتاب کے لئے بولاجاتا ہے، نیز بعض اوقات عہد عتیق کی کتب کے مجموعے کے لئے اور کبھی کبھی تورات کے پانچوں اسفار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہودیوں کی کتب کے مجموعے کو عہد عتیق کہتے ہیں۔ اس میں تورات اور چند دیگر کتب شامل ہیں۔ تورات کے پانچ حصے ہیں جنہیں سفر پیدائش، سفر خروج، سفر لاویان، سفر اعداد اور سفر تثنیہ کہتے ہیں، اس کے موضوعات یہ ہیں: (۱) کائنات، انسان اور دیگر مخلوقات کی خلقت ، (۲)حضرت موسیٰ (ع) بن عمران ، گذشتہ انبیاء اور نبی اسرائیل کے حالات اور ، (۳) اِس دین کے احکام کی تشریح۔ عہد عتیق کی دیگر کتابیں در اصل حضرت موسیٰ (ع) کے بعد موٴرخین کی تحریر کردہ ہیں، ان میں حضرت موسیٰ بن عمران کے بعد کے نبیوں، حکمرانوں اور قوموں کے حالات بیان کئے ہیں۔ یہ تعبیر کہے واضح ہے کہ تورات کے پانچوں اسفار سے اگر صرف نظر کرلیا جائے تو دیگر کتب میں سے کوئی کتاب بھی آسمانی کتاب نہیں ہے۔ خود یہودی بھی اس کا دعویٰ نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ حضرت داوٴد سے منسوب زبور جسے وہ مزامیر کہتے ہیں، حضرت داوٴد کے مناجات اور پند و نصائح کی تشریح ہے۔ رہی بات تورات کے پانچوں سفروں کی تو ان میں ایسے واضح قرائن موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی آسمانی کتابیں نہیں ہیں بلکہ وہ تاریخی کتب ہیں جو حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے بعد لکھی گئی ہیں کیونکہ ان میں حضرت موسیٰ (ع) کی وفات، ان کے دفن کی کیفیت اور ان کی وفات کے بعد کچھ حالات مذکور ہیں۔خصوصاً سفر تثنیہ کے آخر ی حصے میں یہ بات وضاحت سے ثابت ہوتی ہے کہ یہ کتاب حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی وفات سے کافی مدت بعد لکھی گئی ہے۔ علاوہ از یں اِن کتب میں بہت سی خرافات اور ناروا باتیں انبیاء و مرسلین سے منسوب کردی گئی ہیں، بعض بچگانہ باتیں بھی ہیں جو ان کے خود ساختہ اور جعلی ہونے پر گواہ ہیں نیز بعض تاریخی شواہد بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصلی تورات غائب ہوگئی اور پھر حضرت موسیٰ بن عمران کے پیروکاروں نے یہ کتابیں تحریر کیں۔(بحوالہ مزید وضاحت کے لئے ” الھدی الیٰ دین المصطفیٰ “ (عربی)” الرحلة المدرسیة ( عربی) رہبر سعادت ( فارسی) اور قرآن و آخری پیغمبر(فارسی ) اور ان جیسی دیگر کتب کا مطالعہ کریں)۔

٣۔ انجیل کیا ہے؟

”انجیل “ اصل میں یونانی لفظ ہے، اس کا معنی ہے ” بشارت“ یا جدید تعلیم “۔ یہ اس کتاب کا نام ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن نے محل آیت اور دیگر آیات جن میں حضرت عیسیٰ کی کتاب کانام لیا ہے، یہ لفظ مفرد ہی استعمال ہوا ہے اور اسے خدا کی طرف سے نازل شدہ قرار دیا ہے۔ اب وہ بہت سی انا جیل جو عیسائیوں میں مروّج ہیں، وحی الٰہی نہیں ہیں۔ ان انا جیل میں یہ چار زیادہ مشہور ہیں: (١) لوقا، (۲)مرقس ،(۳) متی اور ( ۴) یوحنا (تشریحی نوٹ: یہ چاروں منصفین کے نام ہیں)۔ ان کے وحی الہٰی نہ ہونے کا خود عیسائی بھی انکار نہیں کرتے۔ موجودہ انجلیس سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں یا ان کے شاگردوں کی ہیں اور آپ سے کافی مدت بعد لکھی گئی ہیں۔ عیسائیوں کا دعویٰ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کے شاگردوں نے یہ اناجیل الہام الہٰی سے لکھی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عہد جدید اور اناجیل کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے ان کے مصنفین سے واقفیت حاصل کریں۔ عیسائیوں کی اہم ترین مذہبی کتاب عہد جدید کا مجموعہ ہے جس پر تمام عیسائی فرقے ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے ایمان رکھتے ہیں۔ عہد جدید کا مجموعہ قدیم کے تیسرے حصّے سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ ۲۷ متفرق کتب و رسائل پر مشتمل ہے۔ یہ بالکل مختلف موضوعات کی حامل ہیں۔ ان کی ترتیب یہ ہے: (۱) انجیل متیٰ: متی۔”متی“ (تشریحی نوٹ: بروزن حتیٰ) معنی ہے خدا بخش ہے)حضرت مسیح (ع) کے بارہ شاگردوںمیں سے ایک تھا۔ یہ انجیل اس نے ۳۸ء میلادی میں یا بعض کے نظریے کے مطابق ۰ ۵ء میلادی سے لے کر ۶۰ء میلادی کے درمیان لکھی۔ (قاموس مقدس، ص ۷۸۳). (۲) انجیل مرقس: کتاب قاموس مقدس کے صفحہ ۷۹۲ پر ہے کہ مرقس (بر وزن "ھرمز" یا بر وزن "مردم" دونوں طرح سے لکھا گیا ہے) حواریوں میں سے نہ تھا۔ اس نے اپنی انجیل پطرس کی زیر نگرانی تصنیف کی، مرقس ۶۸ء میلادی میں قتل ہو گیا۔ (۳) انجیل لوقا: لوقا پولس رسول کا رفیق اور ہمسفر تھا۔ پولس نے حضرت عیسیٰ کی وفات کے ایک عرصہ بعد عیسائیت قبول کی۔ یہ آپ کے زمانے میں متعصب یہودی تھا۔ لوقا کی وفات ۷۰ءء میلادی کے قریب ہوئی۔ قاموس مقدس کے مولف نے اپنی تالیف کے صفحہ ۷۷۲پر لکھا ہے کہ انجیل لوقا کی تالیف عام خیال کے مطابق تقریباً ۶۳ء ء میلادی میں ہوئی۔ (۴) انجیل یوحنا: یوحنا مسیح (ع) کے شاگردوں میں سے تھا اور پولس کا دوست اور ہمسفر تھا۔ موٴلفِ مذکور کے بقول اس کی تالیف زیادہ تر ناقدین کے نزدیک پہلی صدی کے آخری حصّے میں لکھی گئی۔(قاموس مقدس، ص ۹۶۶). یہ اناجیل عموماً حضرت مسیح (ع) کو سولی دیے کانے اور اس کے بعد کے حوادث کے ذکر سے معمور ہیں، اس سے اچھی طرح ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب اناجیل حضرت مسیح (ع) کے سالہا سال بعد لکھی گئی ہیں اور ان میں کوئی بھی کتاب آسمانی نہیں جو حضرت مسیح (ع) پر نازل ہوئی ہو۔ (۵) اعمال رسولانہ: صدر اوّل میں حضرت عیسیٰ کے حواری اور مبلغین کے اعمال۔ (۶) ۱۴ رسالے: مختلف افراد اور اقوال کے نام پولس کے خطوط۔ (۷)رسالہٴ یعقوب: عہد جدید کی ستائیس کتب و رسائل میں سے یہ بیسواں رسالہ ہے۔ (۸) پطرس کے خطوط: یہ عہد جدید کے اکیسویں اور بائیسویں رسالے پر مشتمل ہیں۔ (۹) یوحنا کے خطوط: یہ تین رسالوں پر مشتمل ہیں ۲۳۔ ۲۴۔ ۲۵رسالوں میں یہی خطوط ہیں۔ (۱۰) نامہ یہودا: یہ عہد جدید کا چھبیسواں رسالہ۔ (۱۱) مکاشفہ یوحنا: یہ عہد جدید کا آخری حصّہ ہے۔ لہٰذا عیسائی مورخین کی تصریح، نیز اناجیل اور عہد جدید کی دیگر کتب و رسائل کے مطابق ان میں سے کوئی بھی آسمانی کتاب نہیں ہے۔ مزید یہ کہ تمام کتب حضرت عیسیٰ کے بعد لکھی گئی ہیں۔ اس گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حضرت مسیح (ع) پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب درمیان میں سے اٹھ گئی ہے اور آج دستیاب نہیں ہے۔ اس کے کچھ حصّے جو حضرت مسیح (ع) کے شاگردوں نے اپنی اناجیل میں بیان کئے ہیں باعث تاٴسف ہے کہ ان میں بھی خرافات شامل ہو چکی ہیں۔ رہی بعض کی یہ بات کہ مسلمانوں کو موجودہ اناجیل اور تورات کی صحت میں شک نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ قرآن نے ان کی تصدیق کی ہے اور ان کی صحت کی گواہی دی ہے تو اس کا جواب جلد اوّل میں اس آیت کے ذیل میں آچکا ہے۔ وَ اٰمِنُوا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ۔ ( بقرہ:۴) ” وَاَنْزَلَ الفُرقَان“ تورات و انجیل کے ذکر کے بعد آیت کے اس حصّے میں نزول قرآن کا تذکرہ ہے۔ قرآن کو فرقان کہنے کہ وجہ یہ ہے کہ ”فرقان“ لغت میں ” حق کی باطل سے تمیز کا ذریعہ “ کے معنی میں ہے اور ہروہ چیز جو حق کو باطل سے ممتاز کردے اسے فرقان کہتے ہیں اسی لئے جنگ بدر کے روز کو قرآن نے ” یوم الفرقان “ (بحوالہ انفال ۴۱)قرار دیا ہے، کیونکہ اس دن ایک بے سرو سامان چھوٹا سا لشکر اپنے سے کئی گنا بڑے کیل کانٹے سے لیس اور طاقتور دشمن پر کامیاب و کامران ہوا۔ اِس طرح حضرت موسیٰ (ع) کے دس معجزات کو بھی فرقان (بقرہ ۵۳)کہا گیا ہے، یونہی عقل و خرد اور روشن فکری کو بھی فرقان کہا جاتا ہے: (”اِنْ تَتقوا اللہ یجعل لکم فرقاً“- انفال ۲۹) محل بحث آیت میں بھی اسی جہت سے فرقان کہا گیا ہے کہ قرآن حق کو باطل سے ممتاز کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ بعض اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے قرآن پوری آسمانی کتاب کا نام ہے جب کہ فرقان اس کی ان آیات کے مجموعے کو کہتے ہیں جن میں عملی احکام ، حلال و حرام اور انفرادی و اجتماعی منصوبوں کو ذکر ہے۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین، ج2، ص37)

4
3:4
مِن قَبۡلُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلۡفُرۡقَانَۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ
اور اس سے قبل (تورات و انجیل کو نازل کیا) لوگوں کی ہدایت کے لیے۔اور حق و باطل میں تمیز کرنے والی کتاب (قرآن مجید) کو نازل کیا۔ جو لوگ آیات الٰہی کے منکر ہو گئے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور خدا سخت انتقام لینے والا ہے۔

اتمام حجت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

خدا کی طرف سے آیات کے نزول اور انبیاء کے دعویٰ کی صداقت پر عقل و فطرت کی گواہی کے بعد بلاشبہ انہیں قبول کر لینا چاہئیے، لہٰذا جو لوگ تمام امور کے باوجود مخالفت کرتے ہیں تو اس کا سبب ہٹ دھرمی اور سرکشی کے علاوہ کچھ نہیں اور عقل و وجدان انہیں مستحق عذاب قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں منکرین آیات کو شدید اور دردناک عذاب کی تہدید کرتا ہے۔ ”وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انْتِقَامٍ“ لغت میں ”عزیز“ہر مشکل چیز کے معنی میں ہے۔ وہ سر زمین جسے عبور کرنا سخت مشکل ہو اسے ”عزاز“ کہتے ہیں۔ جو چیز کمیابی کی وجہ سے مشکل سے ملتی ہو اسے ”عزیز“ کہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ کوئی شخص اس پر غلبہ کی قدرت نہیں رکھتا اور ہر کوئی اس کا ارادہ کرکے رہ جاتا ہے۔ کافروں کو آگاہ کرنے کے لئے یہ تہدید اور دھمکی بالکل حقیقی اور حتمی ہے اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا قادر ہے اس لئے کوئی شخص اس کی دھمکیوں پر عمل در آمد کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا کیونکہ جیسے وہ رحیم اور مہربان ہے جو لوگ رحمت کے قابل نہیں ان کے لئے اس کے پاس عذاب شدید ہے اور ان کے لئے وہ صاحب انتقام ہے۔ آج کی اصطلاح میں ” انتقام “ زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں لوگ خلاف ورزیوں کے مقابلے میں معاف نہیں کرتے یا دوسرے اشتباہات کی بناء پر ویسا ہی بدلہ لینے کی بجائے انسان کو عفو و در گزر کا راستہ اختیار کرنا چاہئیے لیکن حقیقت میں انتقام لغوی طور پر اس معنی میں نہیں ہے بلکہ گناہگار کو سزا دینے کے معنی میں ہے اور مسلم ہے کہ مغرور، ستمگروں ، گناہگاروں کو سزا دینا نہ صرف پسندیدہ کام ہے بلکہ ان سے صرفِ نظر کرنا عدالت و حکمت کے خلاف ہے۔

5
3:5
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخۡفَىٰ عَلَيۡهِ شَيۡءٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ
زمین و آسمان میں کوئی چیز بھی خدا پر مخفی نہیں رہتی (اس لیے ان کی تدبیر کرنا بھی اس کے لئے مشکل نہیں ہے)۔

خداوند تعالی کا بےپایان علم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت درحقیقت گذشتہ آیات کے مفاہیم کی تکمیل کرتی ہے کیونکہ ہم گذشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ خدا جاوداں اور قیوم ہے۔ جہانِ ہستی کی تدبیر اور انتظام اُس کے ہاتھ میں ہے۔ مسلم ہے کہ یہ کام قدرت و علم کا محتاج ہے لہٰذا گذشتہ آیت کے آخر میں اس کی قدرت مطلقہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اور یہ آیت اس کے بے پایاں علم کی طرف اشارہ کرتی ہے اور کہتی ہے: زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ کے لئے مخفی اور مستور نہیں۔ یہی مضمون قرآن کی دیگر بہت سی آیات میں بھی آیا ہے۔ پروردگار کے وسعت علم کی دلیل واضح ہے کیونکہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اس لئے کہ اس کا وجود بے پایاں وغیر محدود ہے کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے لہٰذا اگرچہ وہ محل و مقام نہیں رکھتا ہے، تمام چیزوں پر محیط ہے۔ خدا کا یہ احاطہٴ وجودی اور ہر جگہ پر اس کے حاضر ہونے کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ تمام چیزوں اور جگہوں کے متعلق اس کا علم کامل ہے اور وہ بھی علم حضوری نہ کہ علم حصولی ۔ (تشریحی نوٹ: علم حضوری کا مطلب یہ ہے کہ جس کا علم ہے یا جو معلوم ہے اس کی ذات عالم کے سامنے حاضر ہو لیکن علم حضوری میں معلوم کی شکل و صورت اور نقش و نگار عام کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔ مثلاً اپنی ذات کے متعلق ہمارا علم علم حضوری ہے کیونکہ ہماری ذات خود ہمارے سامنے حاضر ہے لیکن باقی موجودات کے بارے میں ہمارا علم علم حصولی ہے کیونکہ ہمارے سامنے تو ان کا فقط نقش و نگار اور شکل و صورت ہی حاضر ہے)۔

6
3:6
هُوَ ٱلَّذِي يُصَوِّرُكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ كَيۡفَ يَشَآءُۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
(اللہ)وہ ذات ہے جو ماؤں کے رحم میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت بناتا ہے (اسلئے) اس توانا اور حکیم خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

جنین کے مراحل۔ تخلیق کا شاہکار

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اِس آیت میں خدا کی قدرت، دانائی اور حکمت کا شاہکار بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ شکم مادر میں انسا ن کی صورت بناتا ہے۔ واقعاً یہ امر تعجب خیز اور حیرت انگیز ہے کہ رحم کے اندر خدا انسان کے مختلف خط و خال بناتا ہے طرح طرح کی استعداد پیدا کرتا ہے، کئی قسم کی صفات عطا کرتا ہے اور جبلت و سرشت کی تشکیل کرتا ہے۔ علم جنین شناسی کی ارتقاء نے آج کی دنیا میں اس آیت کے مفہوم کی عظمت کو بہت اجاگر کر دیا ہے۔ ابتداء میں جنین ایک خلیے (Cell) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی شکل و صورت ہوتی ہے نہ اعضا و جوارح۔ اس میں کوئی طاقت و توانائی بھی نہیں ہوتی۔ پھر وہ عجیب سرعت سے رحم کے مخفی خانے میں ہر روز نئی شکل اور نیا نقش و نگارا پناتا ہے۔ جیسے نقش و نگار کے ماہرین اس کے پاس بیٹھے ہیں اور شب و روز اس پر کام کررہے ہیں اور اس ناچیز ذرّے سے تھوڑے ہی عرصے میں ایک انسان بنا ڈالتے ہیں، وہ انسان جس کا ظاہر بہت ہی آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے اور اس کے وجود کے اندر صاف ستھرے، پیچیدہ دقیق اور حیرت انگیز کارخانے نظر آنے لگتے ہیں۔ اب اگر مراحل جنین کی فلم لی جائے (جیسا کہ لی بھی گئی ہے ) اور انسان کی آنکھوں کے سامنے یہ منظر یکے بعد دیگرے گزرتے رہیں تو انسان کو عظمت خلقت اور قدرتِ خالق سے ایک نئی آشنائی ہو گی اور وہ بے اختیار کہہ اٹھے گا۔ زیبندہ ستائش، آن آفرید گاری است کآر و چنین دل آویز ، نقشی زماء وطینی وہ خالق لائق تعریف ہے جو ایسا دلآویز نقش پانی اور مٹی سے بنا لایا ہے۔ اور تعجب کی بات ہے کہ یہ تمام نقش و نگار پانی پر ہیں جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نقش و نگار نہیں ہو سکتے! کہ کردہ است در آب صورت گری؟ یہ کون ہے کہ جس نے پانی پر صورتیں بنائی ہیں؟ یہ امر قابل توجہ ہے کہ انعقادِ نطفہ کے بعد جبین اپنی پہلی شکل اختیار کر لیتا ہے تو تیزی سے تقسیم و افزائش کے عمل سے گزرتا ہے اور پھر شہ توت کے ایک پھل کی طرح ہوجاتا ہے جس کے چھوٹے چھوٹے دانے ایک دوسرےسے ملے ہوتے ہیں۔ اسے مرولاکہتے ہیں۔ عین اِس پیش رفت کے موقع پر خون کا ایک لوتھڑا جسے جفت کہتے ہیں اس کے قریب ارتقائی حالت میں ہوتا ہے۔ ایک طرف سے جفت دو شر یانوں اور ایک ورید کے ذریعے مال کے دل سے ملا ہوتا ہے اور دوسری طرف بند ناف کے ذریعے جنین سے مربوط ہوتا ہے اور جنین خونِ جفت سے غذا حاصل کرتا ہے کیونکہ غذائی مواد خونِ جفت میں موجود ہوتا ہے، غذا ملنے، ارتقائی سفر طے کرنے اور خلیوں کا باہر کی طرف رخ کرنے سے مرولا کا اندرونی حصّہ آہستہ آہستہ خالی ہوجاتا ہے جسے بلاسٹولا کہتے ہیں۔ زیادہ دقت نہیں گزرتا کہ بلاسٹولا کے خلیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اب بلا سٹولا دو تہوں والے تھیلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پھر وہ اپنے اندر کی طرف سکڑ نا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں بچہ دو حصّوں یعنی سینہ اور شکم میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس مرحلے تک تمام خیلے ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور ظاہرا ً ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس مرحلے کے بعد جنین کی صورت بننے لگتی ہے اور اس کے اجزاءمیں آئندہ انجام پانے والے کاموں کی مناسبت سے تغیر آنے لگتا ہے۔ نئے تانے بانے بننے لگتے ہیں اور نئی مشینیں حرکت میں آجاتی ہیں اور خیلوں کا ایک ایک گروپ بن کر کسی ایک مشین کو اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ مثلاً اعصاب کی مشین، گردش، خون اور معدے کا عمل وغیرہ اس کے نتیجے میں جنین رحم کے مخفی خانے میں ایک موزوں انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تکامل جنین اور ا س کے مختلف مراحل کی تفصیل انشاءاللہ سورہ مومنون کی آیت ۱۲ کے ذیل میں پیش کی جائے گی۔ ابتدائے سورہ میں جو شان نزول بیان کی گئی ہے اسے نگاہ میں رکھیں تو اس آیت کا مقصدواضح ہوجاتا ہے اس میں حضرت عیسیٰ (ع)کی پیدائش اور عیسائیوں کے عقائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب خود عیسائی قبول کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (ع) شکم مادر میں پروان چڑھے اور انہوں نے خود اپنے تئیں پیدا نہیں کیا؛ لہٰذا وہ کسی پید اکرنے والے کی مخلوق ہیں کہ جس نے عالم رحم میں اس طرح سے ان کی ہئیت و صورت بنائی ہے۔ اس لئے کیسے ممکن ہے کہ حضرت مسیح (ع) خدا ہوں۔ ”لآ الٰہ الاّ ھو العزیز الحکیم “۔ اس جملے میں تاکید کی گئی ہے کہ حقیقی معبود صرف خدائے قادر و حکیم ہے جو نہ صرف رحم مادر میں پانی کے قطرے پر خوبصورت اور نئی نئی شکلیں بناتا ہے بلکہ اس کی قدرت و حکمت پوری کائنات پر محیط ہے اس لیے حضرت مسیح (ع) جیسی مخلوق کو کس طرح معبود قرار دیا جا سکتا ہے وہ مخلوق کہ جو اپنے سارے وجود اور ہستی میں تمام مراحل میں ا س کی قدرت وحکمت کی محتاج ہے۔

7
3:7
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ وَٱلرَّـٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
وہ ذات وہ ہے کہ جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیات محکم (صریح اور واضح) ہیں جو اس کتاب کی بنیاد ہیں اور کچھ آیات متشابہ ہیں لیکن جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ انگیزی کرتے رہیں اور ان کی (غلط) تفسیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی تفسیر اللہ اور علم میں راسخ لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور یہ (راسخون فی العلم) وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور دانشمند لوگوں کے سوا کوئی ادراک حقیقت نہیں کر سکتا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر نور الثقلین (ج۱ ، ص ۳۱۳) میں معانی الاخبار کے حوالے سے امام باقر علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے کہ یہودیوں کے چند افراد حی بن احظب اور اس کے بھائی کے ہمراہ پیغمبر اسلامﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حروفِ مقطعہ (ال م)کی بنیاد پر کہنے لگے کہ ابجد کے حساب سے الف مساوی ہے ایک کے ، لام برابر ہے ۳۰ کے اور میم مساوی ہے ۴۰ کے۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کی امّت کی بقاء کا زمانہ اکہتر برس سے زیادہ نہیں ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ ان کے غلط فہمی کے ازالے کے لئے فرمایا: تم صرف ” الٓمّٓ“ الف لام میم کا حساب کیوں کرتے ہو، کیا قرآن میں ”الٓمٓصٓ“ ” الٓرٰ“ اور دیگر حروف مقطعہ نہیں ہیں۔ اگر یہ حرف میری امّت کی بقا کی مدت کی طرف اشارہ ہیں تو پھر سب کا حساب کیوں نہیں کرتے ہو(جب کہ ان حروف سے تو کچھ اور مراد ہے) بہرحال اس واقعے پر مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی۔ تفسیر ”فی ظلال القراٰن “میں اس آیت کی ایک اور شان نزول بھی منقول ہے جو نتیجے کے اعتبار سے پہلی شان نزول ہیں ہم آہنگ ہے اور وہ یہ ہے کہ نجران کے کچھ عیسائی پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح (ع) کے بارے میں قرآنی تعبیر ”کلمة اللہ و روحہ“ کو اپنے حق میں دلیل قرار دیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنے عقیدہ تثلیث اور حضرت عیسیٰ (ع) کے خدا ہونے کے اپنے نظر یے کے لئے اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اور ان آیات کو نظر انداز کردیں جو پوری صراحت سے خدا کے لئے ہر قسم کے شریک اور شبیہ کی نفی کرتی ہیں اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔

۱۔ محکم و متشابہ آیات سے کیا مراد ہے؟

اس آیت میں محکم و متشابہ آیات کا ذکر ہے اور اس میں اہل ایمان اور بے ایمان لوگوں کے بار ے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ان آیات سے کس طرح وابستگی اختیار کرتے ہیں۔ آیت کے عمیق اور گہرے مطالب سے آگاہ ہی کے لئے مندرجہ ذیل نکات کا واضح ہونا ضروری ہے: (۱) محکم و متشابہ آیات سے کیا مراد ہے؟ لفظ ”محکم“ در اصل ”احکام“ سے لیا گیا ہے جس کا معنیٰ ہے ممنوع قرار دینا۔ اسی لئے پائیدار اور استوار چیزوں کو ”محکم“ کہتے ہیں۔ چونکہ نابودی اور تباہی کے عوامل ان سے دور ہوتے ہیں۔ واضح اور قطعی باتیں جو ہر مخالف احتمال کو اپنے سے دور کردیں بھی ”محکم“ کہلاتی ہیں۔ اِس لئے آیات محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کا مفہوم اس قدر ہے کہ ان کے معنی میں گفتگو اور بحث و تمحیص کی گنجائش نہ ہو۔ مثلاً ”قل ھواللہ احد“ ”لیس کمثلہ شیءٌ“ ”اللہ خالق کل شیءٌ “ ”للذّکر مثل حظ الانثیین“۔ اور ایسی ہی دیگر ہزاروں آیات ہیں جو عقائد، احکام، مواعظ اور تاریخ کے بارے میں ہیں اور سب کی سب ”محکمات“ ہیں۔ یہ”محکمات“قرآن میں”ام الکتاب “کے نام سے موسوم ہیں یعنی یہی وہ آیات ہیں جنہیں اصل مرجع، مفسر اور دیگر آیات کی وحاضت کرنے والی کہا جا سکتا ہے۔ لفظ ”متشابہ “ سے در اصل ایسی چیز مراد ہے جس کے مختلف حصّے ایک دوسرے سے شباہت رکھتے ہوں۔ اِسی لیے وہ جملے اور کلمات جس کے معانی پیچیدہ ہوں اور بعض اوقات ان کے بارے میں مختلف احتمالات پیدا ہو جائیں” متشابہ“ کہلاتے ہیں متشابہات قرآن سے ایسی ہی آیات مراد ہیں۔یعنی وہ آیات جن کے معانی پہلی نظر میں پیچیدہ ہیں اور ابتداء میں ان میں کئی احتمالات دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ آیات ِ محکمات کی طرف توجہ کرنے سے ان کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ مفسرین نے ”محکم“ اور متشابہ کے بارے میں اگرچہ بہت سے احتمالات پیش کیے جاتے ہیں لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ ان دونوں الفاظ کے اصل معانی سے بھی مطابقت رکھتا ہے اور شان نزول اور اس آیت کے ذیل میں وارد ہونے والی روایات جن میں ان کی تفسیر بیان کی گئی ہے کے بھی مطابق ہے ۔ نیز خود محل بحث آیت سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ مذکورہ آیت میں ہے کہ خود غرض لوگ متشابہ آیات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں واضح ہے کہ ایسے لوگ انہی آیات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں جن کی پہلی نظر میں متعدد تفاسیر ہوسکتی ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشابہ کا وہی مفہوم ہے جو ہم اُوپر بیان کر چکے ہیں۔ متشابہ آیات کے لئے ہم ان آیات کے نمونے پیش کرتے ہیں جو صفاتِ خدا اور معا د کی کیفیت سے مربوط ہیں مثلا: ”ید اللہ فوق ایدیھم“ (خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے)۔ یہ قدرت خدا کے بارے میں ہے ”واللہ سمیع علیم“۔ – ( خدا سننے والا او رجاننے والا ہے) یہ علم الہٰی کی طرف اشارہ ہے۔ ”و نضع الموازین القسط لیوم القیامة “ ( بحوالہ الانبیاء: ۴۷) (قیامت کے دن ہم عدالت کے ترازو مقرر کریں گے) یہ اعمال کے ناپ تول کے ذریعے کے متعلق ہے۔ واضح ہے کہ خدا کا ہاتھ کسی خاص عضو کے مفہوم میں ہیں ہے۔ یونہی اس کا سننا بھی کسی کان کے وسیلے سے نہیں ہے اور نہ ہی اعمال کو تولنے کے لئے اس کے پاس کوئی ایسا ترازو ہے جس کے ہم عادی ہیں بلکہ یہ سب قدرت و علم اور اعمال کی قدر و قیمت کے مفاہیم کی طرف اشارہ ہے۔ اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ محکم اور متشابہ قرآن میں ایک اور مفہوم کے لئے بھی استعمال ہوئے ہیں۔ سورہ ٴہود کے شروع میں ہے: ”کتاب احکمت اٰیٰتہ“ اِس آیت میں تمام آیاتِ قرآن کو محکم کہا گیا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ آیاتِ قرآن ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور باہم پیوستہ ہیں۔ سورہ الزمر آیہ ۲۳ میں ہے: ” کتاباً متشابھاً“ یعنی وہ کتاب کہ جس کی تمام آیات متشابہ ہیں۔ یہاں متشابہ سے مراد ہے کہ اس کتاب کی آیات درستی اور حقیقت کے لحاظ سے ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ محکم اور متشابہ کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جویائے حقیقت کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے پروردگار کے ارشادات کو سمجھنے کے لئے تمام آیات کو ایک جگہ رکھے اور اگر کچھ آیات کے ظواہر میں پہلی نظر میں کوئی ابہام یا پیچیدگی دکھائی دے تو دوسری آیات کو سامنے رکھتے ہوئے اسے دور کرے اور اس طرح ان آیا ت کی حقیقت تک پہنچے۔ آیت محکمات درحقیقت بڑی شاہراہوں کی مثل ہیں اور متشابہات ذیلی اور چھوٹے راستوں کی مانند ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر انسان کبھی چھوٹے اور ذیلی راستوں کے بارے میں حیران و سر گرداں ہوں تو وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ پہلے شاہراہ تک پہنچ جائے اور وہاں سے اپنے راستے کا پھر سے صحیح طریقے سے تعین کر لے۔ محکمات کو ام الکتاب قرار دینا بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کیونکہ لفظ ” ام “ لغت میں ہرچیز کی اصل اور اساس کے معنی میں ہے ماں کو ام کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ خاندان کی جڑ ہوتی ہے اور حوادث و مشکلات میں وہی اولاد کی پناہ گاہ بھی ہوتی ہے۔ اس لئے محکمات دیگر آیات کے لئے اساس، جڑ اور ماں کی حیثیت رکھتی ہیں۔

۲۔ قرآن کی کچھ آیات متشابہ کیوں ہیں ؟

اس کے باوجود کہ قرآن نور، روشنی اور حق ہے، ایک واضح کلام ہے اور تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے۔ اس میں متشابہ آیات کیوں ہیں اور بعض آیات کے مفاہیم ایسے پیچید ہ کیوں ہیں کہ فتنہ انگیز لوگوں کے لئے غلط مقاصد کے حصول کا سبب بنتے ہیں۔ یہ موضوع بہت اہمیت کا حامل ہے اور گہرے غور و فکر کا مقتضی ہے۔ ہو سکتا ہے مجموعی طور پر مندرجہ ذیل وجوہات قرآن میں آیات متشابہات کا سبب اور راز ہوں۔ (۱) انسانوں کی گفتگو میں استعمال ہونے والے الفاظ اور جملے روز مرّرہ کی ضروریات کے ماتحت ہوتے ہیں اس لئے جب ہم انسان کی محدود مادی زندگی کے دائرے سے باہر نکلیں اور مثلاً خالق کائنات کے بارے میں گفتگو کریں جو ہر جہت سے لامحدود ہے تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہمارے الفاظ ان معانی کے لئے سانچے اور قالب کا کام نہیں دیتے تاہم وہی الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہیں اگرچہ یہ الفاظ مختلف پہلووٴں سے ناقابل اور نارسا ہیں۔ الفاظ کی ہی نارسائی متشابہاتِ قرآن کے اہم حصّے کا سرچشمہ ہے۔ یہ آیات اسی مفہوم کے ادراک کے لئے نمونہ ہیں۔ ”ید اللّہ فوق ایدیھم“ ”الرحمٰن علی العرش استوٰی“ ”الیٰ ربّھا ناظرة“ ان آیات کی تفسیر اپنے مقام پر آئے گی، سمیع و بصیر جیسی تعبیرات بھی اسی قبیل سے ہیں۔ ان کی تفسیر آیات محکمات کی طرف رجوع کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ (ii) بہت سے حقا ئق دوسرے جہان یا عالم ماوائے طبیعت سے مربوط ہیں۔ یہ حقائق ہماری فکر و نظر کے افق سے دور ہیں۔ زمان و مکان کی قید میں محدود ہونے کی وجہ سے ہم ان کی گہرائی کا ادراک نہیں کر سکتے۔ اس لئے ہمارے افکار کی نارسائی اور ان معانی کے افق کی بلندی بعض آیات کے متشابہ ہونے کا دوسرا سبب ہے۔ اس کی مثال بعض وہ آیات ہیں جن کا تعلق قیامت وغیر ہ سے ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی بچے کو عالم جنین میں اس دنیا کے حالات بتانا چاہے۔ اگر بات نہ کر سکے تو بڑی کوتاہی ہے اور اگر کچھ کہے تو مجبور اً مطالب کو سربستہ اور اجمالی صورت میں ادا کرے گا ۔ کیونکہ سننے والا اس حالت میں زیادہ استعداد نہیں رکھتا۔ (iii) قرآن میں متشابہات کا ایک مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی فکر و نظر کو زیادہ سے زیادہ لایا جائے اور فکری تحرک پیدا ہو۔ ہمیشہ پیچیدہ فکری مسائل مفکرین کے افکار کی تقویت کے لئے پیش کیے جاتے ہیں تاکہ وہ مسائل کے حل کے لئے زیادہ سے زیادہ تفکر و تدبر اور تحقیق و جستجو سے کام لے سکیں۔ (iv) ایک اور نکتہ جو قرآن میں متشابہات کی موجود گی کے لئے ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات بھی حس کی تائید کرتی ہیں یہ ہے کہ قرآن میں ایسی آیات خدائی پیشواوٴں، پیغمبر اکرمؐ اور ان کے اوصیاء کی شدید احتیاج کو واضح کرتی ہیں اور یہ اس طرح ہیں یہ ہے کہ احتیاج علمی لوگوں کو مجبور کرے گی کہ وہ ان کی جستجو اور تلاش کریں اور عملی طور پر ان کی رہبری تسلیم کریں۔ اس طرح دیگر علوم اور دیگر مشکلات بھی انہیں سے راہنمائی حاصل کریں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے درسی کتب میں کچھ مسائل کی تشریح معلم اور استاد کے ذمے کی جاتی ہے تاکہ طالب علم استاد سے اپنا رابطہ منقطع نہ کرلے اور یوں اس ضرورت کے ماتحت تمام چیزوں میں اس کے افکار سے راہنمائی حاصل کرے۔ درحقیقت ایسی روایات قرآن کے بارے میں پیغمبر اسلامؐ کی مشہور و صیّت کا مصداق ہیں: ”انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و اھل بیتی و انھما لن یفترقا حتّیٰ یرد علیّ الحوض“۔ ”یعنی میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں خدا کی کتاب اور اپنے اہل بیت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن کوثر کے کنارے مجھ تک پہنچیں گے۔ (”بحوالہ مستدرک حاکم “جلد سوم، صفحہ ۴۸“)

3۔تاویل کسے کہتے ہیں؟

”تاٴویل “ کے معنی کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن حقیقت کے نزدیک یہ ہے کہ ”تاٴویل“ کا اصلی لغوی معنی ہے ”کسی چیز کو پلٹانا“ اِ س لیے ہر کام یا بات کو اس کے آخری مقصد اور ہدف تک پہنچا دینے کو” تاٴویل “ کہتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص کچھ اقدام کرتا ہے جس کا اصلی ہدف واضح نہیں ہے لیکن آخر میں اسے معین کر دے تو اس چیز کو ”تاٴ ویل“ کہیں گے۔ جیسے حضرت موسیٰ (ع) اور ایک عالم کے واقعے میں ہے کہ عالم سفر کے دوران میں ایسے کام انجام دیے جن کا مقصد واضح نہیں تھا(مثلاً کشتی میں سوراخ کرنا) اس پر حضرت موسیٰ (ع) پریشان ہوئے لیکن جب اس عالم نے اختتامِ سفر پر اپنا مقصد بیان کیا اور کہا میرا مقصد تو کشتی کو غاصب و ظالم باد شاہ سے نجات دلانا تھا اور مزید کہا۔ ”ذٰلک تاٴویل مالم تسطع علیہ صبراً“ یہی وہ مقصد تھا جس پر تم صبر نہ کر سکے (بحوالہ: الکہف، ۸۲) یونہی اگر کوئی شخص کوئی خواب دیکھے جس کا نتیجہ واضح نہ ہو۔ پھر کسی سے پوچھے یا کوئی منظر دیکھنے سے اسے اس خواب کی تعبیر معلوم ہو جائے تو اسے تاٴویل کہاجائے گا۔ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے مشہور خواب دیکھا جب وہ خارجی دنیا میں عمل میں آیا اور اصطلاح کے مطابق انتہاء کی طرف پلٹ آیاتو آپؑ نے فرمایا۔ ”ھٰذا تاٴویل روٴیای من قبل “ یہ اس خواب کی انتہا اور نتیجہ ہے جو میں نے دیکھا تھا ۔ (بحوالہ: یوسف۱۰۰) اس طرح جب کوئی انسان ایسی بات کہے کہ جس میں مخصوص مفاہیم و اسرار مخفی ہوں تو اس کے حقیقی مقاصد کو ” تاٴویل“ کہیں گے۔ محل بحث آیت میں بھی ”تاٴویل“ سے یہی مراد ہے یعنی قرآن میں کچھ ایسی آیات ہیں جن کے معانی و اسرار گہرے ہیں البتہ منحرف افکار اور مفاسد اغراض رکھنے والے لوگ اس کی غلط تفسیر اور معنی گھڑ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو یا دوسروں کو غافل رکھنے کے لئے اس سےکام لیتے ہیں۔ اس بناء پر ”ابتغا ء تاٴویلہ“ سے مراد یہ ہے کہ وہ آیت کی ”تاٴویل“ اس کی اصل صورت کے علاوہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں ”ابتغا ء تاٴویلہ علیٰ خلاف الحقّ“۔ جیسا کہ ہم آیت کے شان نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے قرآن کے حروف ِ مقطعات سے غلط فائدہ اٹھا تے ہوئے ان کا یہ معنی کر دیا کہ دین اسلام کی مدت کم ہے۔ اس طرح عیسائیوں نے ”روحٌ مّنْہ“سے حضرت عیسی ٰ کی الوہیت پر استدلال شروع کر دیا۔ یہ تمام چیزیں ”تاٴویل بغیر حق“ اور آیت کو غیر واقعی اور غلط ہدف و مقصد کی طرف پھیرنے کے مفہوم میں داخل ہیں۔

۴۔”راسخون فی العلم“ کون ہیں

یہ تعبیر قرآن مجید میں دو مقامات پر استعمال ہوئی ہے۔ ایک تو اسی مقام پر اور دوسرا سورہٴ نساء آیہ ۱۶۲ میں جہاں فرمایا گیا ہے۔ ”لٰکن الراسخون فی العلم منھم و الموٴ منون یوٴمنون بما انزل الیک و ما انزل مب قبلک “ ”علم میں راسخ اہل کتاب میں سے اور اہل ایمان ( بھی) اس پر ایمان رکھتے ہیں جو کچھ تم سے پہلے نازل ہوا ہےاور جو کچھ تم سے پہلے نازل ہوا ہے۔“ اس لفظ کے لغوی معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو علم و دانش میں ثابت قدم اور صاحب ِ نظر ہی ۔ البتہ اس لفظ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں تمام علماء اور مفکرین شامل ہیں تاہم ان میں کچھ ایسے ممتاز افراد ہیں جن میں ایک مخصوص درخشندگی اور روشنی ہوتی ہے جو طبعاً اس لفظ کے درجہ اول کے مصادیق قرار پاتے ہیں اور جب کبھی یہ لفظ ادا ہو۔ سب سے پہلے نگاہیں انہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ یہ جو کئی ایک روایات میں ”راسخون فی العلم“ سے پیغمبر اسلامؐ اور آئمہ ہدیٰ علیہم السلام مراد لیے گئے ہیں تو اس کی یہی وجہ ہے، ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہو چکے ہیں کہ قرآن کی آیات اور الفاظ وسیع مفاہیم رکھتے ہیں۔ بہرحال اس کے مصادیق میں سب سے پہلے اس مفہوم کے غیر معمولی اور فوق العادہ قابلیت رکھنے والے افراد ہی آتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات اس کی تفسیر میں فقط انہی کا نام آتا ہے۔ اصول کافی میں امام باقر (ع) یا امام صادق (ع) سے روایت ہے۔ فرمایا: رسولِ خداؐ راسخون فی العلم میں سب سے بلند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی آپؐ پر نازل فرمایا آپ اس کی تاویل و تنزیل سے واقف تھے۔ خدا نے آپ پر کوئی ایسی چیزنازل نہیں کی جس کی تاویل آپ کو نہ سکھائی ہو اور آپ کے اوصیاء بھی قرآن کی سب تاویل و تنزیل کو جانتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی او رروایات بھی اصول کافی اور دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں جنہیں نور الثقلین اور البرھان کے موٴلفین نے اس آیہ کے ذیل میں جمع کیا ہے اور جیسا کہ کہا جاچکا ہے کہ راسخون فی العلم سے جہاں جہاں پیغمبر اسلامؐ اور آئمہ ہدیٰ ؑ مراد لئے گئے ہیں وہاں اس کے وسیع مفہوم کی نفی نہیں ہوجاتی۔ اسی لئے ابن عباس سے منقول ہے وہ کہتے ہیں: میں بھی راسخون فی العلم میں سے ہوں۔ البتہ ہر شخص قرانی اسرار و تاویل سے اپنے علم کے مطابق ہی آگاہ ہو گا اور جن کے علم کا سرچشمہ پروردگار کا علم بےکنار ہے یقیناً وہ تمام اسرارِ قرآن اور تمام تر تاویلاتِ قرآن سے آشنا ہیں جب کہ ان کے علاوہ دوسرے لوگ تو کچھ اسرار سے واقف ہیں۔ یہاں مفسرین اور علماء ایک اہم بحث کرتے ہیں وہ یہ کہ کیا ”راسخون فی العلم“ ایک مستقل جملے کی ابتداءہے یا عطف سے ”الاّ اللہ“ سے منسلک ہے۔ دوسرے لفظوں میں: کیا آیت کا معنی یہ ہے کہ: قرآن کی تاویل خدا اور راسخون فی العلم کے علاوہ کوئی نہیں جانتا یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی تاویل صرف اللہ ہی جانتا ہے، باقی رہے راسخون فی العلم تو وہ کہتے ہیں اگرچہ آیاتِ متشابہ کی تاویل ہمیں معلوم نہیں تا ہم ہم ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور وہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں۔ ان دونوں نظر یات کے طرفداروں نے اپنے اپنے موقف کی تائید کے لئے شواہد پیش کئے ہیں لیکن جو چیز آیت میں موجود قرائن اور مشہور رویات سے ہم آہنگ ہے یہ ہے کہ ”الراسخون فی العلم“ کا عطف ”الل “ پر ہے اور یہ آپس میں منسلک ایک ہی جملہ ہے کیونکہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بہت بعید ہے کہ قرآن میں کچھ ایسی آیات بھی ہوں کہ جن کے اسرار خداوند تعالی کے علاوہ کوئی نہ جانتا ہو۔ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا یہ آیات لوگوں کی تر بیت اور ہدایت کے لئے نازل نہیں ہوئیں۔ اگر اسی لئے نازل ہوئی ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ خود پیغمبر اکرمؐ کہ جن پر قرآن نازل ہوا ہے وہ ان کے معانی اور تاویل سے بےخبر ہوں کیونکہ یہ تو بالکل اسی طرح ہو گا کہ ایک شخص کوئی ایسی کتاب لکھے کہ جس کے بعض جملوں مفہوم خود اس کے علاوہ کوئی نہ سمجھ سکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں: کبھی نہیں دیکھا کہ مفسرین اور علماء اسلام کسی آیت کی تفسیر پر بحث کرنے میں احتراز کریں اور یہ کہیں کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جس کے حقیقی معنی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا بلکہ سبھی ہمیشہ قرآن کے اسرار و معانی معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر مقصد یہ ہے کہ راسخون فی العلم جس چیز کو نہیں جانتے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں تو پھر زیادہ مناسب یہ تھا کہ ایمان میں راسخ وہ لوگ ہیں، کیونکہ علم میں راسخ ہونا تو تاویل قرآن سے آگاہی سے مناسبت رکھتا ہے نہ کہ عدم آگاہی اور سر تسلیم خم سے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ بہت سی روایات جو اس آیت کی تفسیر میں منقول ہیں سب کی سب تائید کرتی ہیں کہ ”راسخون فی العلم“ وہ لوگ ہیں جو آیات قرآنی کی تاویل کو جانتے ہیں۔ ان دلائل کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عطف لفظ ”اللہ“ پر ہے اور”و الراسخون فی العلم“نئے جملے کا آغاز نہیں ہے۔ جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ نہج البلاغہ کے خطبہ ”اشباح“ کا ایک جملہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ الراسخون فی العلم آیات کی تاویل سے ناواقف ہیں اور وہ اپنے عجز و ناتوانی کا اعتراف کرتے ہیں: ”و اعلم ان الراسخین فی العلم ھم الذین اغناھم عن اقتحام السدد المضروبة دون الغیوب الاقرار بجملةما جھلوا تفسیرہ من الغیب المحجوب“۔ اور جان لوکہ راسخین فی العلم وہ ہیں جو اسرار غیبی کے مقابلے میں اعتراف عجز کرتے ہیں اور وہ ان اسرار کی تفسیر سے عاجز ہیں اسی عجز نے انہیں اس سلسلے میں کاوش و کوشش سے بےنیاز کر دیا ہے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ خطبہ ۹۰) یہ جملہ بعض ان روایات سے متفق معلوم نہیں ہوتا جو خود حضرت امیر المومنین (ع) سے ہی منقول ہیں اور جن میں آپ (ع) نے ”راسخون فی العلم“ کا عطف ”اللہ“ پر قرار دیا ہے اور انہیں قرآنی تاویل سے آگاہ بتا یا ہے اور پھر،مندر بالا دلائل پر بھی یہ منطبق نہیں (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین ج و ص ۳۵ کی طرف رجوع فرمائیں) لہٰذا ضروری ہے کہ خطبہ اشباح کے اس جملے کی ایسی توجیہ کی جائے جو ہمارے پاس موجود دیگر مدارک سے اختلاف نہ رکھتی ہو۔ (نہج البلاغہ کا یہ جملہ در اصل راسخون فی العلم کی عظمت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے علم کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کا اندازکرتے ہیں اور اس کے سامنے اپنے عجز کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ بات صحیح ہے کہ ہے کہ یہ جملہ قرآن میں ” راسخون فی العلم کے تاویل قرآن سے ناواقف ہونے کے کسی مفروضہ مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔ مترجم) ۔

نتیجہ ٴ کلام

زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی آیات کی دو قسم کی ہیں: ۱۔ ایک وہ کہ جن کا مفہوم اس طرح مفہوم واضح اور روشن ہے کہ ان سے کسی قسم کے انکار، ان کی توجیہ اور ان سے غلط فائدہ اٹھانے کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ انہیں محکمات کہتے ہیں۔ ۲۔ دوسری قسم کی آیا ت وہ ہیں جن کے مطالب کی سطح بلند ہے یا ان میں ایسے عوالم کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جو ہماری دسترس کے باہر ہیں مثلاً عالم غیب، جہان ِحشر و نشر اور صفاتِ خدا وغیرہ۔ ان آیات کا حقیقی معنی، اسرار اور ان کی کنہ حقیقت کا ادراک مخصوص علمی سر مائے کا محتاج ہے، انہیں متشابہات کہتے ہیں۔ منحرف اور کج رو افراد عموماً کوشش کرتے ہیں کہ آیات متشابہات سے غلط مقصد حاصل کریں ان کی خلافِ حق تفسیر کریں تاکہ لوگوں میں فتنہ انگیزی کریں اور انہیں راہ حق سے گمراہ کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور راسخین فی العلم ان آیات کے اسرار کو جانتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ان کی تشریح کرتے ہیں۔ وہ اپنے وسیع علم کی روشنی میں آیات متشابہات کا آیات محکمات کی طرح ادراک کرتے ہیں اور اس بناء پر سب کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام آیات ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں کیونکہ سب آیات چاہے محکم ہوں یا متشابہ ان کے علم و دانش کے سامنے واضخ اور روشن ہیں۔ ”یقولون اٰمنّا بہ کلّ مّن عند نا ربّنا“۔ علم میں راسخ ہونا سبب بنتا ہے کہ انسان اسرار ِ قرآن سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہوتا ہے البتہ جو علم و دانش کے لحاظ سے پہلے درجے پرفائز ہیں، یعنی پیغمبر اکرمؐ اور آئمہ ہدیٰ علیہم السلام، تو وہ تمام اسرار سے آگاہ ہیں جب کہ باقی ہوگ اپنے علم و فضل کی مقدار کے برابر میں سے کچھ چیزیں جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء بھی خدا کے بھیجے ہوئے معلمین سے اسرارِ قرآن حاصل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ ”وما یذکر الاّ اولوا الباب“۔ یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان حقائق کو صرف صاحبان ِ عقل و خرد اور اہل فکر و نظر ہی کانتے ہیں۔ یہی لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں محکم و متشابہ آیات کیوں موجود ہیں اور یہی لوگ سمجھتے ہیں کہ آیات متشابہ کو محکم آیات کے سامنے رکھ کر معانی معلوم کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے امام علی بن موسیٰ علیہما السلام سے منقول ہے، آپ (ع) نے فرمایا: ”من ردّ متشابہ القرآن الیٰ محکمة ھدیً الیٰ صراطٍ مستقیم“۔ جو شخص آیاتِ متشابہ کو آیات محکم کی طرف پلٹا تا ہے اس نے سیدھے راستے کی طرف ہدایت حاصل کی ہے ۔ (بحوالہ: تفسیر صالحی، آیہ محل بحث کے ذیل میں)

8
3:8
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
(راسخین فی العلم کہتے ہیں ) پالنے والے ہمارے دلوں کو سیدھے رہنے کی ہدایت کے بعد منحرف نہ کر دے اور اپنی طرف سے ہم پر رحمت فرما کیونکہ تو ہی بخشنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
3:9
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ
اے ہمارے پروردگار ! تو لوگوں کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک و تردد نہیں ہے کیونکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ممکن ہے کہ آیات متشابہ اور ان کے حقیقی اسرار و رموز لوگوں کے لئے مقامِ لغزش ہو جائیں لہٰذا اہل ایمان، راسخین فی العلم اور صاحبان ِ فکر و نظر آیات کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اپنی علمی سرمائے سے کام لینے کے علاوہ اپنے خدا کی پناہ اور سہارا بھی حاصل کرتے ہیں اور یہ دونوں آیات جو راسخون فی العلم کی زبان سے نقل ہوئی ہیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ علم میں راسخ، آگاہ اور فکر و نظر کے حامل لوگ ہمیشہ اپنے قلب و روح کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ ٹیڑھے راستوں کی طرف مائل نہ ہوں اور وہ اس راہ میں خدا سے مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ علمی غرور تکبر کے باعث شکست سے ہمکنار ہو گئے ہیں اور کج راستوں میں سرگرداں ہیں وہ خالق کی عظمت، اپنی خلقت اور کم علمی کو فراموش کر بیٹھے ہیں اور اپنے پروردگار کی ہدایت سے محروم ہو گئے ہیں۔ لیکن اہل ایمان اور صاحبان اور صاحبان فکر و نظر کہتے ہیں "رَبَّنَا لاَتُزِغْ قُلُوبَنَا" علاوہ از یں افکار و نظر یات کو کنٹرول کرنے کے لئے معاد اور قیامت کے اعتقاد سے بڑھ کر کوئی چیز موٴثر نہیں راسخین فی العلم مبداء و معاد کے عقیدے کے ذریعے اپنے افکار کو اعتدال پر رکھتے ہیں۔ وہ حد سےگزرے ہوئے رجحانات اور جذبات سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہ لغزش کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک درست اور بے رحم مزاحم فکر و نظر کے ذریعے صحیح راستے کو دیکھتے ہیں اور اس پر چلتے ہیں۔ ہاں ایسے ہی افراد آیات ِ الہٰی سے مکمل طور پر استفادہ کر سکتے ہیں۔ درحقیقت، پہلی آیت مبداء کے بارے میں ان کے کامل ایمان کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت معاد کے بارے میں ان کے راسخ عقیدے کا اظہار ہے۔

10
3:10
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ وَقُودُ ٱلنَّارِ
جو لوگ کافر ہو گئے ہیں انہیں مال و دولت اور اولاد خدا سے بے نیاز نہیں کر سکتے (اور وہ انہیں اس کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتے) اور وہ جہنم کی آگ کا ایندھن ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
3:11
كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
(انکار حقائق اور تحریف میں ) ان کی عادت آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کی طرح ہے انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور خدا نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی اور خدا شدید العقاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں محکم اور متشابہ آیات کے ساتھ کفار، منافقین اور مومنین کے رویّے کی تشریح کی گئی ہے، اس کے بعد اب فرمایا گیا ہے: اگر ہٹ دھرم کافر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مال و دولت اور آل اولاد دوسرے جہاں میں انہیں بچا سکتے ہیں تو وہ سخت اشتباہ میں ہیں، ممکن ہے یہ اس جہاں میں وقتی طور پر کچھ حوادث کے مقابلے میں انسان کے کام آجائیں لیکن پروردگار کے مقابلے میں اس دنیا میں اور دوسرے جہاں میں ان کی کوئی حیثیت نہیں لہٰذا یہ چیزیں کسی غرور اور جراٴتِ گناہ کا باعث نہیں بننا چاہئیں۔ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے وہ جلا ڈالنے والی آگ میں گرفتار ہوں گے جس کا وہ خود ایندھن بنیں گے۔ " و اولٰئک ھم وقود النار " (یعنی وہ جہنم کی آگ کا ایندھن ہیں)۔ مندرجہ بالا تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی آگ کے شعلے گناہگاروں کے وجود کے اندر سے اٹھیں گے اور انہیں کا وجود ان میں آگ لگا دے گا نہ کہ کوئی چیز۔ البتہ کچھ آیات ایسی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دوزخ کا ایندھن گناہگاروں کے علاوہ پتھر بھی ہوں گے لیکن جیسے جلد اول سورہ بقرہ آیہ ۲۴ کے ذیل میں کہا جا چکا ہے کہ ممکن ہے ان سے وہ بت مراد ہوں جو وہ پتھر سے بناتے تھے۔ اس طرح جہنم میں آگ ان کے وجود سے، باطل اعمال سے اور جھوٹے معبودوں سے شعلے بن کر نکلے گی۔

کداٴب آل فرعون

"داٴب" اصل میں "سیر و حرکت کے دائم و قائم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور ہر " مسلسل کام اور عادت" کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔ مندر جہ بالا دوسری آیت میں پیغمبر اکرمؐ کے دور کے کفار کی حالت کو آل فرعون اور ان سے پہلی قوموں کی غلط اور مستقل عادت و سیرت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وہ لوگ آیاتِ خدا کی تکذیب کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ان گناہوں کی وجہ سے گرفت کی اور و ہ اسی جہاں میں سخت سزا اور عذاب میں مبتلا ہوئے۔ درحقیقت یہ پیغمبر اکرمؐ کے زمانے کے ہٹ دھرم کافروں کو تنبیہ ہے کہ وہ آل فرعون اور ان سے پہلی قوموں کی حالت کو نظر میں رکھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ یہ صحیح ہے کہ خدا ارحم الراحمین ہے لیکن اپنے مقام پر اور بندوں کی تربیت کے لئے وہ شدید العقاب بھی ہے لہٰذا پروردگار کی وسیع رحمت کہیں کسی کے لئے غرور و تکبر کا باعث نہ بن جائے۔ لفظ "داٴب"سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کے مقابلے میں ان کی ہٹ دھر می کا یہ غلط انداز اور تکذیبِ آیات الہٰی ان کی عادت بن چکی تھی۔ اسی لئے انہیں سخت سزا اور عذاب سے ڈرایا گیا ہےکیونکہ جب تک گناہ اور تجاوز کسی کی عادت اور راہ رسم نہ بن جائے اس کا لوٹ آنا آسان ہے اور اس کی سزا نسبتاً کم ہے لیکن جب وہ وجود ِ انسانی میں نفوذ کرلے تو پھر لوٹ آنا مشکل ہے اور اس کی سزا بھی سخت ہے لہٰذا کیا ہی اچھا ہے کہ کافر گناہگار جب کہ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا غلط راستے سے لوٹ آئیں۔

12
3:12
قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ سَتُغۡلَبُونَ وَتُحۡشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
جو کافر ہو گئے ہیں ان سے کہ دیجئے جنگ احد کی وقتی فتح پر خوش نہ ہو جاؤ عنقریب تم مغلوب ہو جاؤ گے (اور پھر آخرت میں ) جہنم کی طرف محشور ہو گے اور وہ کس قدر بری جگہ ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جنگ بدر اور اس میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد بعض یہودی کہنے لگے: جس رسول ِ امّی کی تعریف و توصیف ہم نے اپنی مذہبی کتاب تورات میں پڑھی ہے کہ وہ کسی جنگ میں مغلوب نہیں ہو گا وہ یہی پیغمبر ہے۔ اس پر بعض دوسرے کہنے لگے جلدی نہ کرو ، دوسری جنگ اور کوئی اور واقعہ پیش آلینے دو، پھر فیصلہ کرنا۔ جب جنگ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو وہ کہنے لگے: بخدا یہ وہ پیغمبرنہیں جس کی بشارت ہماری کتاب میں دی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد صرف یہی نہیں کہ مسلمان نہ ہوئے بلکہ ان کے رویے میں مزید سختی آگئی اور وہ مسلمانوں سے اور دور ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے رسول خداؐ سے جو لڑائی جھگڑا نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا تھا اسے بھی معینہ مدت سے پہلے توڑ دیا۔ کعب بن اشرف کی ہمراہی میں ان کے ساٹھ سوار مکہ پہنچے اور اسلام کے خلاف جنگ کے لئے مشرکین سے معاہدہ کر کے مدینہ واپس آ گئے۔ اس دوران میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں انہیں دندان شکن جواب دیا گیا اور کہا گیا کہ نتیجہ تم کام کے انجام پر اخذ کرنا اور یہ جان لو کہ تم سب مغلوب ہو جاوٴ گے۔

تفسیر- ایک صریح پیشین گوئی

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو صراحت سے بشارت دی ہے کہ وہ تمام دشمنوں پر فتح یاب ہوں گے نیز کفار سے کہا گیا ہے کہ تم اس دنیا میں بھی شکست کھاوٴ گے اور مغلوب ہو گے اور دوسرے جہاں میں بھی تمہارا انجام بہت برا ہو گا۔ آیت کی شان نزول کو دیکھیں تو یہ آیت جنگ اُحد کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جب مسلمان ظاہری طور پر اپنی طاقت اور اثر کھو چکے تھے جب کہ دشمنان اسلام اپنے باہمی اتحاد اور معاہدوں کی وجہ سے دیدنی قدرت و طاقت حاصل کرچکے تھے ایسے میں مستقبل قریب کے بارے میں ”ستغلبون“ (تم عنقریب مغلوب ہو جاوٴ گے) کہہ کر ایک صریح پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس لئے اس آیت کو اعجاز قرآن والی آیت میں شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں آئندہ امور کے بارے میں ایک واضح خبر دی گئی ہے اور وہ ان حالات میں جب کافروں اور یہودیوں پر مسلمانوں کی کامیابی بالکل واضح نہ تھی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آیت کی صداقت ثابت ہوگئی، مدینہ کے یہودی بنی قریظہ اور بنی نضیر تباہ و برباد ہو گئے اور جنگ خیبر میں ان کی طاقت کا اہم ترین مرکز ختم ہ وگیا۔ او رمشرکین مکہ بھی فتح کے بعد ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گئے۔

13
3:13
قَدۡ كَانَ لَكُمۡ ءَايَةٞ فِي فِئَتَيۡنِ ٱلۡتَقَتَاۖ فِئَةٞ تُقَٰتِلُ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَأُخۡرَىٰ كَافِرَةٞ يَرَوۡنَهُم مِّثۡلَيۡهِمۡ رَأۡيَ ٱلۡعَيۡنِۚ وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهِۦ مَن يَشَآءُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ
جب دو گروہ (جنگ بدر میں ) آمنے سامنے آئے تو اس میں تمہارے لیے نشانی اور درس عبرت تھا ایک گروہ راہ خدا میں جنگ کر رہا تھا اور دوسرا کافروں کا گروہ تھا ان (کافروں ) کو (مومنین) اپنی تعداد سے دو گنا نظر آ رہے تھے اور خدا جسے چاہتا ہے اپنی مدد سے اس کی تائید کرتا ہے اور اس میں صاحبان نظر کے لئے عبرت ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت جنگِ بدر کی صورت حال کے بارے میں نا زل ہوئی ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں ستتر مہاجر تھے اور دو سو چھتیس انصار، مہاجرین کا پرچم حضرت علی (ع) کے ہاتھ میں تھا اور انصار کے پرچم بردار سعد بن عبادہ تھے۔ اس عظیم معرکہ کے لئے ان کے پاس صرف ستّر اونٹ، دو گھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں، دوسری طرف دشمن کی فوج ہزار افراد کے متجاوزتھی۔ اس کے پاس کانی ودانی اسلحہ تھا اور ایک سو گھوڑے تھے۔ اس جنگ میں بائیس مسلمان شہید ہوئے۔ ان میں چودہ مہاجر اور آٹھ انصار تھے دشمن کے ستر افراد مارے گئے اور ستّر افراد ہی قید ی ہوئے۔ اس طرح مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور یوں مکمل کامرانی کے ساتھ وہ مدینہ کی طرف پلٹ آئے۔ زیر نظر آیت واقعہ بدر ہی کا ایک پہلو بیان کرتی ہے۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں کفار کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ مال و ثروت اور کثرتِ تعداد پر مغرور نہ ہوں۔ اس آیت میں اس سلسلے کا ایک زندہ شاہد بیان کیا گیا ہے اور انہیں دعوت دی گئی ہے کہ وہ بدر کے تاریخ ساز واقعے سے درسِ عبرت حاصل کریں۔ "قد کان لکم اٰیة فی فئتین التقتا ......." وہ اِس بات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے کہ جنگی ساز و سامان سے عاری ایک چھوٹا سا لشکر لیکن پختہ ایمان والوں پر مشتمل اپنے سے کئی گنا بڑے جنگی وسائل سے آراستہ لشکر پر فتحیاب ہو گیا، اگر مال و دولت اور کثرتِ تعداد بغیر ایمان کے اثر انداز ہو سکتی تو جنگ بدر میں اپنا دکھاتی جبکہ وہاں تو نتیجہ بر عکس رہا۔ "یَرَوْنَھُمْ مِثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ"۔ آیت کے اس حصے میں فرمایا گیا ہے: میدان جنگ میں کافروں کو مومنین اپنی تعداد سے زیادہ دکھائی دیتے تھے یعنی اگر ان کی تعداد ۳۱۳ تھی تو چھ سو سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ (تشریحی نوٹ:یہ تفسیر اس نظریے کی بنیاد پر ہے کہ ” یرون“ کفار کے بارے میں ہے اور ”ھم“ کی ضمیر کا اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے اور یہی آیت کا واضح مفہوم بنتا ہے ، اگر چہ مفسرین نے ضمیروں کے مرجح کے بارے میں اور احتمالات بھی بیان کئے گئے ہیں)۔ یہ مسلمانوں کی کامیابی کے لئے خدا ئی امداد تھی کیونکہ خدا اپنے مجاہد اور مومن بندوں کی کئی طرح سے مدد کرتا ہے۔ ایسا ظاہری پہلو سے بھی فطری اور طبیعی نظر آتا ہے کیونکہ جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں نے دشمنوں پر کمر توڑ ضربیں لگائیں اس لئے کہ وہ قوتِ ایمان اور تربیت ِ اسلامی سے آراستہ تھے، دشمنوں نے یہ دیکھا تو وہ اتنے مرعوب اور وحشت زدہ ہوئے کہ سمجھنے لگے کہ مسلمانوں کے ساتھ اتنی ہی طاقت اور آملی ہے اور پہلی قوت سے دوگنا طاقت سے وہ میدان جنگ پر قابض ہو گئے ہیں اور جب کہ دشمنان ِ اسلام جنگ شروع ہونے سے پہلے اس نتیجے کا خیال تک بھی نہ کر سکتے تھے اور مسلمان ان کو اصل تعداد سے بھی کم لگتے تھے۔ سورہ انفال کی آیت ۴۴ میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ آیت مندرجہ بالا تفسیر کی تائید کرتی ہے:۔ "و اذ یرکموھم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلاً و یقللکم فی اعینھم لیقضی اللہ امراً کان مفعولاً"۔ وہ وقت یاد کروجب میدان ِ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو تمہاری تعداد کم کرکے دکھائی تاکہ وہ اس جنگ سے منہ نہ پھیریں جس کا انجام ان کی شکست ہے) اور انہیں بھی تمہاری نظر میں کم کرکے دکھایا ( تاکہ اس تاریخی اور فیصلہ کن جنگ میں تمہارے دل بھی کمزور نہ ہوں) لیکن جنگ شروع ہوتے ہیں معاملہ دگر گوں ہو گیا اور مسلمان جتنے تھے دشمن کو اس سے زیادہ نظر آنے لگے اور یہ ان ( دشمنوں) کی شکست کا ایک عامل تھا۔ بدر کی تاریخی جنگ کے بارے میں سورہ انفال کی آیہ ۴۱ سے لے کر ۴۵ تک کی تفسیر میں انشاءاللہ تفصیل سے بحث کریں گے۔ "و اللہ یوٴیّد بنصرہ من یشاء" اِس جملے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے غلبہ او رکامیابی عطا کرتا ہے البتہ جیسا کہ ہم متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں مشیتِ الٰہی بغیر کسی وجہ اور بنیاد کے عمل میں نہیں آتی بلکہ ہمیشہ اس کی کوئی حکمت و مصلحت ہوتی ہے اور یہ لوگوں کی اہلیت کی حدود میں محدود ہوتی ہے یعنی جو تائید کی لیاقت رکھتے ہیں انہی کی تائید کی جاتی ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بدر کے تاریخی واقعے میں تائیدِ الٰہی اور مسلمانوں کی کامیابی کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ فوجی لحاظ سے کامیابی تھی اور دوسری منطقی پہلو سے۔ فوجی کامیابی اِ س لحاظ سے تھی کہ ایک چھوٹا سا لشکر جس کے پاس جنگی ساز و سامان نہیں تھا ایسے لشکر پر غالب آ گیا جو تعداد میں کئی گنا زیادہ تھا اور بے پناہ سازو سامان سے لیس تھا اور منطقی کامیابی اس حوالے سے تھی کہ خداوند تعالی نے جنگ ہونے سے پہلے ہی صراحت سے مسلمانوں کو اس میں کامیابی کی خبر دے دی تھی۔ "إِنَّ فِی ذَلِکَ لَعِبْرَةً لِاُوْلِی الْاَبْصَارِ"۔ آٰیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ جو لوگ چشم بصیرت رکھتے ہیں اور حقائق کو صحیح طور پر دیکھتے ہیں وہ اہل ایمان کی اِس کامیابی کو اس حوالے سے دیکھتے اور پہچانتے ہیں کہ کامیابیوں اور کامرانیوں کا اصل سرمایہ ایمان اور صرف ایمان ہے اور پھر وہ اس سے درسِ عبرت حاصل کرتے ہیں۔

14
3:14
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلۡمَـَٔابِ
مادی چیزوں میں سے عورتیں اولاد اور مال جو سونے چاندی کے ڈھیروں پر مشتمل ہو منتخب گھوڑے جانور اور زراعت لوگوں کی نظر میں پسندیدہ بنا دیئے گئے ہیں یہ چیزیں اگر انسان کے اصلی مقاصد کے لئے ذریعہ بنیں پھر بھی پست (مادی) زندگی کا سرمایہ ہیں اور انجام نیک (اور عالی زندگی) خد اکے پاس ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں بتا یا گیا ہے کہ انسان کا حقیقی سر مایہ ایمان ہے نہ کہ مال و دولت اور کثرت اولاد وافراد ۔ اب یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیوی بچے اور مال و ثروت اس جہان کی مادی زندگی کے لئے سرمایہ ہیں۔ یہ انسان کا اصلی مقصد اور ہدف نہیں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان وسائل کے بغیر روحانی و معنوی سعادت کی راہ بھی طے نہیں کی جاسکتی لیکن اس راہ میں ان سے کام لینا اور چیز ہے اور (وسیلہ نہ سمجھتے ہوئے) ان وابستگی اور ان کی پرستش دوسری چیز ہے۔ اس آیت میں چند قابل توجہ نکات ہیں جن کا ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ امور مادی کو کس نے زینت دی ہے؟

"زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ"______ (تشریحی نوٹ: ”شہوات" ۔ شہوت کی جمع ہے جس کامعنی ہے کسی چیز سے شدید لگاوٴ اور تعلق رکھنا ” لیکن مندرجہ بالا آیت میں "شہوات" مشخصات" کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور "مشہیات" ان چیزوں کو کہتے ہیں جن میں تعلق اور لگاوٴ ہو) ___ یہ جملہ فعل مجہول کی شکل میں آیا ہے اس میں کہا گیا ہے: بیوی بچوں اور مال و دولت سے لگاوٴ اور ان سے محبت کو لوگوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنایا گیا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پسندیدہ بنانے والا اور انہیں لوگوں کی نظروں میں زینت دینے والا کون ہے۔ بعض مفسرین کا نظر یہ ہے کہ یہ شیطانی ہوا و ہوس ہے جو انہیں لوگوں کی نگاہوں میں پسندیدہ بناتی ہے وہ سورہ نمل کی آیت ۲۴ سے استدلال کرتے ہیں جس میں فرما یا گیا ہے : "زیّن لھم الشیطان اعمالھم"۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دی ہے۔ ایسی اور بھی آیات موجود ہیں۔ لیکن یہ استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ محل بحث آیت میں اعمال کے بارے میں گفتگو نہیں ہے۔ بلکہ اس میں مال، عورتوں اور اولاد کے بارے میں گفتگو ہے۔ آیت کی صحیح تفسیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ زینت دینے والا خدا ہی ہے اور یہ قوت اس نے انسان کی فطرت و طینت میں ودیعت کی ہے۔ کیونکہ خدا ہی انسان میں اولاد اور مال و دولت کی محبت پیدا کرتا ہے تاکہ اسے آزمائے ، اسے کمال و ارتقاء عطا کرے اورتربیت کے راستے میں آگے لے جائے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے۔ "انّا جعلنا ما علی الارض زینةً لّھا لنبوھم ایّھم احسن عملا ۔": ہم نے زمین کی تمام چیزوں کو ان کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ ان کی اخلاقی تربیت ہو سکے یعنی اس محبت و دلبستگی سے صرف سعادت ، اصلاح اور تعمیر کے لئے فائدہ اٹھائیں نہ یہ کہ فتنہ و فساد اور تباہی و بر بادی کے لئے انہیں کا میں لائیں ۔ (بحوالہ کہف ۔ ۷) یہ امر قابل ذکر ہے کہ زیر نظر آیت میں پہلے ازدواج اور اولاد کا ذکر ہے۔ آج کے ماہرین ِ نفسیات بھی کہتے یں کہ جنسی پہلو انسان کے قوی ترین غرائز او راندرونی تقاضوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی تاریخ اور دورِ حاضر بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ بہت سے معاشرتی حوادث کا سرچشمہ اسی انسانی خواہش سے اٹھنے والے طوفان تھے۔ اِس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ زیر بحث آیت اور ایسی دوسری آیات بیوی بچوں اور مال و دولت سے معتدل محبت اور لگاوٴ کی مذمت نہیں کرتیں کیونکہ معنوی اور روحانی مقاصد و اہداف کی پیش رفت مادی مسائل کے بغیر ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں قانون شریعت کبھی قانون فطرت سے متضاد نہیں ہو سکتا اور قانونِ فطرت قابل ِ مذمت نہیں ہوتا ہاں البتہ ایسا عشق و محبت جو افراط کی حد کو پہنچ جائے۔ بہ الفاظ دیگر پرستش و عبادت بن جائے وہ قابلِ مذمت ہے۔

۲۔"الْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ"اور "وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ"سے کیا مراد ہے؟

"قناطیر"، "قنطار" کی جمع ہے۔ "قنطار" کا معنی ہے "محکم چیز" بعد ازاں یہ لفظ، زیادہ مال کے لئے استعمال ہونے لگا۔ پل کو "قنطرة " اس کی مضبوطی کے پیش نظر اور باہوش افراد کو "قنطر" ان کی فکر و نظر کے استحکام کی وجہ سے کہتے ہیں۔ "مقنطرة " اسم مفعول ہے اس کا معنی ہے "کئی گنا" اور "مکرر"۔ یہ دونوں الفاظ کا اکٹھا ذکر تاکید کے لئے ہے جیسے۔ جیسے آج کل فارسی میں کہتے ہیں: فلان کس صاحب آلاف و الوف می باشد (فلاں شخص ہزاروں اور ہزاروں کا مالک ہے) یعنی اس کے پاس بہت مال و دولت ہے۔ بعض نے ”قنطار“کے لئے ایک معین حد بیان کی ہے اور کہاہے کہ ”قنطار “ ستر ہزار سونے کے دینار کو کہتے ہیں۔ کچھ نے ایک لاکھ دینار بتایا ہے اور بعض بارہ ہزار درہم کہتے ہیں اور کچھ کے نزدیک ”قنطار“ سو نے چاندی کے سکوں سے بھری ہوئی تھیلی کو کہتے ہیں۔ ایک روایت میں جو امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے منقول ہے کے مطابق قنطار سونے کی وہ مقدار ہے جو ایک گائے کی کھال کو بھر دے۔ حقیقت میں اس کا ایک وسیع مفہوم ہے اور وہ ہے زیادہ اور کثیر مال۔ ” خیل “ اسم جمع ہے اور اس کا معنی ہے ”گھوڑے“ اور گھڑ سوار “دونوں بیان کئے گئے ہیں البتہ زیر نظر آیت میں اس سے مراد ”گھوڑے “ ہی ہے۔ ”مسومة “ در اصل ”ممتاز “ کے معنی ہے، ممتاز ہونا یہاں جسم اور چہرے کے متناسب ہونے کے لحاظ سے ہے یا تربیت یافتہ ہونے اور میدان ِ جنگ میں سواری کے لئے آمادہ ہونے کے حوالے سے ہے۔ اس مطالعے سے یہ نتیجہ نکلا کہ محل بحث آیت میں چھ چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو زندگی کا اہم سر مایہ ہیں اور وہ یہ ہیں: ۱) بیوی ۲) اولاد ۳) مال و دولت ۴) بہترین سواریاں اور گھریلو ضرورت کے جانور (”انعام “) ۵) زراعت اور فصلیں یہ سب مادی زندگی کے بنیادی اراکین ہیں۔

۳۔ دنیا کی متاع حیات سے کیا مراد ہے؟

متاع ایسی چیز کو کہتے ہیں جس میں انسان لطف اندوز ہوتا ہو اور حیات ِ دنیا سے مراد پست زندگی ہے اس بناء پر ”متاع الحیٰوة الدنیا “ کا معنی یہ ہو گا کہ اگر کوئی شخص ان چھ امور سے بنیادی ہدف کے طور پر عشق کرے اور انہیں راہ ِ حیات میں وسیلہ نہ سمجھے تو اس نے اپنے آپ کو پست زندگی کے سپرد کر دیا۔ حیاتِ دنیا ( پست زندگی) دراصل اس زندگی کے ارتقاء اور تکامل کی طرف اشارہ ہے اس طرح اس جہاں کی زندگی تو پہلا مرحلہ بن جاتی ہے اسی لئے آیت کے آخر میں اعلیٰ ترین انسان کے انتظار میں ہے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”و اللہ عندہ حسن الماٰب“ یعنی نیک انجام تو خدا کے پاس ہے۔

15
3:15
۞قُلۡ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيۡرٖ مِّن ذَٰلِكُمۡۖ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
کہہ دیجئے کیا تمہیں ایسی چیز سے آگاہ کروں جو اس (مادی سرمائے) سے بہتر ہے جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی ہے ان کے پروردگار کے پاس (دوسرے جہان) میں ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور خوشنودی خدا انہیں نصیب ہو گی اور خدا (بندوں کے امور کو) دیکھنے والا ہے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
3:16
ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
وہی لوگ کہتے ہیں ا ے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں پس ہمیں بخش دے اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
3:17
ٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ
وہی جوپامردی اور استقامت دکھاتے ہیں، سچ بولتے ہیں، خدا کے حضور خضوع کرتے ہیں، (اور اس کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ا ور اوقات سحر میں (عبادت اور آخر شب میں ) استغفار کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان میں پہلی آیت انسانی تکامل و ارتقا کے لئے بلندی کی راہوں کو واضح کرتی ہے۔اسی طرف گذشتہ آیت کے آخر میں اشارہ ہوا تھا اس آیت میں فرمایا گیا ہے کیا تمہیں اس چیز کی خبر دوں جو محدود، مادی اور پست زندگی سے بالاتر اور بہتر ہے وہ جہان ابدی کی زندگی ہے جو پرہیزگار اور خود دار افراد کے انتظار میں ہے جس میں تمام اِس جہان کی نعمتیں موجود ہیں لیکن وہ زیادہ کامل صورت میں ہیں اور عیب و نقص سے پاک ہیں۔ وہاں ایسے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے اس جہان کے برعکس پانی بہتا ہے اور منقطع نہیں ہوتا۔ ”جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ“۔ اس جہان کی نعمتیں تو بہت جلد گذر جاتی ہیں اور ناپائیدار ہیں لیکن وہاں کی نعمتیں ابدی ہیں ( خَالِدِینَ فِیہَا خَالِدِینَ فِیہَا) اس جہان کی بیویاں یہاں کی حسین عورتوں کے برعکس جسمانی و روحانی اعتبار سے بہت پاکیزہ ہوں گی اور ان میں کوئی ناپاکی و تیر گی نہیں ہو گی ”وَاَزْوَاجٌ مُطَہَّرَة“۔ یہ سب چیزیں پرہیز گاروں کے انتظار میں ہیں اور ان تمام بالاتر معنوی نعمتیں ہیں جو تصورسے ماوراء ہیں جنہیں آیت میں ”وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ وَاللهُ““ (یعنی خوشنودیٴ خدا) سے تعبیر یا گیا ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ آیت”اوٴُ نبِّئُکم“ سے شروع ہوتی ہے۔ جس کامعنی ہے ”کیا تمہیں آگاہ کروں “ایک طرف یہ جملہ استفہامیہ ہے جو انسان کی بیدار فطرت سے جواب طلب کرتا ہے تاکہ سننے والے پر اس کا اثر زیادہ گہرا ہو اور دوسری طرف سے یہ لفظ ” انباء “ کے مادہ سے ہے اور خبر دینے کے معنی میں لیا گیا ہے جو عموماً اہم ترین اور قابل توجہ خبروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ درحقیقت قرآن اس آیت میں صاحب ایمان افراد کو خبر دیتا ہے کہ اگر وہ غیر شرعی لذتوں، سرکشی اور گناہ آلود ہوس سے صرف نظر کر لیں تو اس کا معنی لذّت سے محرومی نہیں ہو گا کیونکہ وہ راہ سعادت میں جائز لذّت حاصل کر سکنے کے علاوہ دوسرے جہاں کی لذتوں سے بھی بہرہ مند ہوں گے جو اس جہاں کی طرح ہیں لیکن بلند تر بھی ہیں اور پر نقص و عیب سے مبراء بھی۔

کیا جنت میں مادی لذَّتیں بھی ہیں

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مادی لذتیں اسی دنیا میں منحصر ہیں اور اخروی دنیا میں ان کا نام نشان نہیں ہو گا اور یہ جو آیات ِ قرآنی میں باغات بہشت، طرح طرح کے پھل اور میووں، جاری پانی اور بہترین بیویوں کا تذکرہ ہے۔ یہ معنوی مقامات و انعامات کے ایک سلسلے سے کنایہ ہیں اور یہ تعبیر یں ۔ ”کلّم الناس علیٰ قدر عقولھم “۔ یعنی لوگوں سے ان کے فکری معیار کے مطابق بات کرو ، کے مصداق بیان فرمائی گئی ہیں۔ اِس خیال کا جواب یہ ہے کہ جب بہت سی صریح آیاتِ قر آنی کے پیش نظر معاد جسمانی ثابت ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ جسمانی اور روحانی تقاضوں کے مطابق نعمتیں بھی ہوں البتہ ان کی سطح ضرور بلند ہونی چاہئیے اور اتفاق کی بات ہے کہ اس آیت میں دونوں کی نشاندہی کی گئی ہے، معاد جسمانی کی طرف بھی اشارہ ہے اور روح اور معاد ِ ارواح کی مناسبت سے بھی اشارہ موجود ہے۔ جو لوگ اس جہان کی تمام نعمتوں کو معنوی نعمتوں کے لئے کنایہ سمجھتے ہیں وہ دراصل آیاتِ قرآنی کے ظاہری مفاہیم میں تاویل بھی کرتے ہیں اور وہ معاد جسمانی اور اس کے لوازمات کو بھی بالکل فراموش کیے ہوئے ہیں۔ ”و اللہ بصیرٌ بالعباد“۔ یعنی خدا اپنے بندوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے، ہو سکتا ہے یہ جملہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ خداوند تعالی دوسرے جہان میں انسانی جسم کے تقاضوں سے آگاہ ہے اور وہ ان تقاضوں کو بطریق احسن پورا کرے گا ۔ ”الذین یقولون ربّنا انّنا۔۔۔۔۔“ گذشتہ آیت میں بتا یا گیا تھا کہ پرہیز گار آخرت کی نعمتوں سے مالامال ہیں، اس آیت میں اور بعد والی آیت میں پر ہیز گار کاروں کا تعارف کرواتے ہوئے ان چھ نمایاں صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۱۔ وہ دل و جان سے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہیں اور ایمان نے ان کا دل روشن کر دیا ہے۔ اسی لئے وہ سختی سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں اور وہ اپنے گناہوں کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ خدا سے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور دوزخ سے نجات کی خواہش کرتے ہیں ”فاغفرلنا ذبوبنا و قنا عذاب النار “۔ ۲۔اپنے معاملات میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں اور انہیں انجام تک پہنچاتے ہیں۔ گناہ کو ترک کرتے ہیں اور انفرادی و اجتماعی مشکلات کا سینہ تان کے مقابلہ کرتے ہیں (”الصّابرین“)۔ ۳۔ سچ بولتے ہیں صحیح کردار کے مالک ہیں ، جن چیزوں کا دل سے اعتقاد رکھتے ہیں انہیں پر عمل کرتے ہیں اور وہ نفاق ، جھوٹ، مکرو فریب اور خیانت سے دور رہتے ہیں (”وَالصَّادِقِینَ “)۔ ۴۔ خدا کی بندگی اور عبودیت کی راہ میں ہمیشہ خضوع اور فروتنی سے کام لیتے ہیں (”وَالْقَانِتِینَ“)۔( تشریحی نوٹ: قنت کا معنی خدا کے سامنے خضوع بھی ہے اور طاعت و بندگی میں دوام و استمرار بھی) ۵۔ مال ہی نہیں بلکہ جو مادی و روحانی نعمتیں انہیں میسر ہیں وہ انہیں راہ ِ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اس طرح سے اجتماعی و معاشرتی مشکلات اور بیماریوں کا مداوا کرتے ہیں۔ ۶۔ وقت سحر اور آخر شب یعنی جب سکون اور مخصوص صفا و خلوس کا ماحول تمام جگہوں پر محیط ہو، جب بےخبر لوگ خواب غفلت میں ہوں اور مٹھی نیند سو رہے ہوں، جب ساری دنیا کا شور و شین خاموش ہو چکا ہو اورمردانِ خدا کے افکار اور زندہ دلوں میں عالم ہستی کی اصلی قدریں نمایاں ہو رہی ہوں وہ یاد خدا کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اُس کی باعظمت بارگاہ میں استغفار طلب بخشش کرتے ہیں، پروردگار کے نور و جلال کے پر تو میں محو ہوتے ہیں اور ان کے وجود کے سب ذرّے باہم زمزمہٴ توحید گنگنا رہے ہوتے ہیں۔ (”وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْاَسْحَارِ“)۔ امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:۔ جو شخص نماز وتر میں ۷۰ مرتبہ ”استغفر اللہ ربّی و اتوب الیہ“ پڑھے اور ایک سال تک اس عمل کی پابندی کرے خداوند تعالی اسے وقت سحر استغفار کرنے والوں(یعنی (”وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْاَسْحَار“)میں سے قرار دے گا اور یقینا اسے اپنی عفو بخشش سے نوازے گا۔

سحر کیا ہے

سَحَر(”بروزن بشر“) دراصل”پوشیدہ اور پنہاں ہونے“کے معنی میں ہے، رات کے آخری حصّے میں چونکہ تمام چیزوں پر ایک خاص قسم کی پوشیدگی غالب آ جاتی ہے لہٰذا اس کا نام سحر رکھ دیا گیا ہے۔ لفظ ”سَحَر“ (بروزن ”شعر“) بھی ایسے مادے سے ہے۔ ”ساحر“ اور جادوگر چونکہ ایسے کام کرتا ہے جن کے اسرار دوسروں سے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لئے اس کے عمل کو "سَحَر" کہتے ہیں۔ اہل عرب انسان اور حیوان کی سانس کی نالی کو بھی بعض اوقات "سَحَر" کہتے ہیں اور یہ بھی اندر والے حصے کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شب و روز کے اوقات میں سے صرف وقت ”سح“ کا تذکرہ کیوں ہے جب کہ بارگاہ الہٰی میں ہر حالت میں توبہ و استغفار مطلوب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سحر وہ وقت ہے کہ جب سکون، آرام اور خاموشی ہوتی ہے، مادی کام معطل ہوتے ہیں اور استراحت کے بعد نشاط اور خوشی کا ایک عالم ہوتا ہے یہ صورت حال اور ماحول انسان کو زیادہ سے زیادہ بارگاہِ الہٰی میں توبہ و انابت کے لئے آمادگی بخشتا ہے۔ تجربے سے اس کیفیت کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے یہاں تک کہ بہت سے علماء اور دانشور علمی مسائل کے حل کے لئے اسی وقت سے استغفار کرتے ہیں کیونکہ وقتِ ”سَحَر“ انسانی فکر و روح کا چراغ دیگر اوقات کی نسبت زیادہ روشن اور درخشندہ ہوتا ہے عبادت و استغفار کی روح توجہ اور حضورِ قلب ہے لہٰذا لمحات سحر میں عبادت و استغفار زیادہ گرانبہا اور عزیز تر ہے۔

18
3:18
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
خدا گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور فرشتے اور اہل علم و دانش (سب) گواہی دیتے ہیں ا س عالم میں کہ (خدا تعالیٰ عالم ہستی میں ) عدالت قائم کیے ہوئے ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو کہ غالب و توانا بھی ہے اور حکیم ودانا بھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کی یکتائی خود پرورگار کی شہادت ہے، پھر ملائکہ کی گواہی اور پھر علماء، دانشوروں اور ان لوگوں کی شہادت ہے، جو نور علم و فکر سے عالمِ دنیا کے حقائق پر نظر رکھتے ہیں۔ (”شَہِدَ اللهُ اَنَّہُ لاَإِلَہَ إِلاَّ ہُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَاُوْلُوا الْعِلْمِ“)۔ یہاں چند امور کی طرف توجہ ضروری ہے۔

۱۔ خدا کی اپنی یکتائی پر شہادت سے کیا مراد ہے

خداوند تعالی ٰ کی شہادت سے مراد عملی اور فعلی شہادت ہے نہ کہ قولی یعنی خداوند تعالی نے جہان آفرینش کو پیدا کیا۔ اس میں ایک نظام قائم ہے، ہر جگہ اس کے قوانین ایک سے ہیں اور اس کا ایک ہی پروگرام ہے۔ حقیقت میں ایک اکیلا اپنے سے وابستہ یگانہ نظام بذات خود نشاندہی کرتا ہے کہ پیدا ہونے والا معبود اس جہاں میں ایک سے زیادہ نہیں ہے اور سب مخلوقات کا یک ہی منبع اور سرچشمہ ہے۔ اس بناء پر ایک ہی نظام کی ایجاد ، ذات الہٰی کی یگانگت اور یکتائی پر ایک شہادت ہے۔ دوسری طرف فرشتوں اور علماء کی شہادت قولی پہلو رکھتی ہے کیونکہ ان میں سے ہر کوئی حسب حال کلام کے ذریعے اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ ایک لفظ کے مختلف مفاہیم کی اور بھی بہت سی مثالیں آیات قرآنی موجود ہیں:۔ مثلاً ”اِنَّ اللَّہَ وَ مَلائکتہ یُصَلّونَ عَلیٰ النبیِّ “ یعنی اللہ اور ا س کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ (بحوالہ احزاب ۔۵۶)۔ اس میں خدا کی طرف سے درود بھیجنے اور ملائکہ کی طرف سے درود بھیجنے کے اورٍ معنی ہیں۔ خدا کی طرف سے رحمت بھیجنا ہے اور فرشتوں کی طرف سے رحمت بھیجنے کا تقاضا ہے۔ البتہ فرشتوں کی گواہی عملی پہلو میں بھی فرق رکھتی ہے کیونکہ وہ صرف اسی کی پرستش کرتے ہیں اور کسی اور معبود کے سامنے تسلیم خم نہیں کرتے۔

۲۔ قیام بالقسط کیا چیز ہے۔

ادبی اصطلاح کے مطابق "شہد" فعل ہے، اس کا فاعل "اللہ" ہے اور قائماًبالقسط اس سے حال ہے۔ یعنی خداوند تعالی اپنی یکتائی کی گواہی اس عالم میں دیتا ہے کہ عالم ہستی میں عدالت قائم کئے ہوئے ہے اور واقعاً ٰ یہ جملہ اس کی شہادت کی دلیل ہے کیونکہ عدالت کی حقیقت یہ ہے کہ درمیانہ اور مستقیم راستہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتا، جیسا کہ سورہ انعام کیاآیت ۱۵۳ میں ہے: "اِنّ اللَّہَ ھٰذا صراطی مستقیماً فاتّبعوہ ولاتتبعوا التبل فتفرّق بکم عن سبیلہ"۔ اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی اتباع کرو اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ لگو وہ تمہیں اس کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ اس آیت میں خدا کے ایک راستے کو ذکر ہے اور منحرف اور بھٹکے ہوئے متعدد راستے بتائے گئے ہیں کیونکہ، صراط مستقیم ، مفرد ہے اور کج راستوں کا ذکر جمع کے صیغے سے کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عدالت ہمیشہ ایک ہی نظام سے ہوتی ہے اور ایک ہی نظام کا ہونا مبداء واحد کا پتہ دیتا ہے۔ اس لیے عالم آفرینش میں حقیقی عدالت اپنے مفہوم میں پیدا کرنے والے کی یکتا ئی پر دلیل ہے ( غور کیجئے گا)۔

۳۔ علماء کی حیثیت و وقعت

اس آیت میں حقیقی علماء کو فرشتوں کا ہم پلہ قرار دیا گیا ہے اوریہ بات دوسروں کی نسبت علماء کے امتیاز کو ظاہرکرتی ہے آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علماء کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے حقائق پرمطلع ہوتے ہیں اور اس طرح سے خدا کی یگانگے کا اعتراف کرتے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ واضح ہے کہ آیت تمام علماء کے بارے میں ہے اور وہ روایات جو اس آیت کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں ان میں جو ” اولوا العلم “ سے آئمہ اطہار مراد لیا گیا ہے تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ حضرات اولوا العلم کے واضح ترین مصداق ہیں۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں جابر بن عبد اللہ انصاری کی وساطت سے پیغمبر اسلام کا ایک فرمان نقل کیا ہے کیا ہے ، آپ (ع) نے فرمایا : ”ساعة من عالِم یتکی ء علیٰ فراشہ ینظر فی علمہ خیر مّن عبادۃ العابد سبعین عاماً“۔ عالم کی وہ ایک ساعت وہ جس میں اپنے علم میں فکر ونظر کرنے کے لئے بستر پر تکیہ لگائے ایک عابد کی ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ آیت میں ” لآ الہ الاّ ھو“ کے جملے کا تکرار ہے۔، یہ گویا اِس طرف اشارہ ہے کہ جیسے ابتداء میں خدا فرشتوں اور علماء کی شہادت آئی ہے اِ س طرح جو شخص بھی سنے اسے چاہئیے کہ وہ بھی ان کی شہادت کے ساتھ ہم آواز ہو جائے اور معبود کی وحدت کی گواہی دے۔ لا الہ الا اللہ ، خدا کے حق کی ادائیگی ہے اور اس کی توحید کا اظہار ہے۔ لہٰذا ” عزِیزٌ“ و حکیم“ دو اسماء الہٰی پر ختم ہوا ہے کیونکہ عدالت کا قیام قدرت وحکمت کا محتاج ہے اور وہ خدا ہی ہے جو پر چیز پر قادر ہے اور تمام چیزوں سے آگاہ ہے اس لئے وہی جہانِ ہستی میں عدالت قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جن پر رسول اکرم نے ہمیشہ خصوصی نظر رکھی اور آپ بار ابر مختلف مواقع پر اس کی تلاوت فرماتے رہے۔ زبیر بن عوام کا کہنا ہے: عرفہ کی رات میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر تھا۔ میں نے سنا کہ آپ بار بار اس آیت کی تلاوت کرتے تھے۔ (بحوالہ: تفسری مجمع البیان ، ج۲۔ص۴۲۱)۔

19
3:19
إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
اللہ کے نزدیک دین اسلام (اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا) ہے جن کے پاس آسمانی کتاب تھی انہوں نے علم و آگاہی کے بعد بھی اختلاف پیدا کیا اور وہ بھی اپنے درمیان ظلم و ستم کی بناء پر اور جو آیات خدا سے کفر اختیار کرے تو پھر خدا سریع الحساب ہے۔

تفسیر حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی روح دین ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

"دِین" کا معنی ہے"جزاء"،"پاداش"، حکم کی اطاعت" اور "پیروی"۔ مذہبی اصطلاح میں دین عبارت ہے ان عقائد، قوانین اور آداب سے جن کے ذریعے انسان دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ نیز انفرادی و اجتماعی اور اخلاقی و تربیتی لحاظ سے صحیح راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ”اِ سلام “ ”تسلیم “ کے معنی میں ہے اور یہاں مراد خدا کے سامنے تسلیم ہونا ہے، اس لئے ”انّ الدِّین عند الاسلام“ کا معنی یہ ہو گا کہ بار گاہ الہٰی میں حقیقی دین اس کے فرمان اور حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور دراصل روح دین تمام ادوار میں حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کسی دوسری چیز کا نام نہیں البتہ چونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دین و آئین اس کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا ۔ اس لئے اس کے لیے اسلام کے نام کا انتخاب ہوا۔ نہج البلاغہ کے کلماتِ قصارمیں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا اس حقیقت کے بارے میں عمیق اور گہرے مفہوم پر مبنی یہ جملہ مقصد کو واضح کرتا ہے: ”لا نسبن الاسلام نسبة لم ینسبھا احد قبلی: الاسلام ھو التّسلیم، و التَّسلیم ھو الیقین، و الیقین ھو التّصدیق ھو التّصدیق، و التّصدیق ھو الاقرار، و الاقرار ھو الاداء، و الاداء ھو العمل ۔“ اس عبارت میں امام علیہ السلام نے پہلے فرمایا ہے: ” میں چاہتا ہوں اسلام کی ایسی تفسیر بیان کروں جو کسی نے نہ کی ہو۔ اس کے بعد آپ (ع) نے اسلام کے چھ مرحلے بیان فرمائے ہیں جو یہ ہیں:: ۱۔ اسلام حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ ۲۔ تسلیم یقین کے بغیر ممکن نہیں (کیونکہ یقین کے بغیر تسلیم اندھا دھند تسلیم ہے عالمانہ نہیں) ۳۔ یقین تصدیق کا دوسرا نام ہے (یعنی علم و دانائی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اعتقاد اور تصدیق قلب ضروری ہے۔ ۴۔ تصدیق ہی اقرار ہے (یعنی قلب و روح سے تصدیق کافی نہیں بلکہ جراٴت و ہمت سے اس کا اظہار بھی کرنا چاہئیے۔ ۵۔ اقرار ذمہ داری کو پورا کرنا ہے، اقرار تو زبان تک محدود ہوتا ہے، اصل تو مسئولیت اور ذمہ داری کو قبول کرنا ہے) ۔ ۶۔ مسئولیت کو قبول کرنا ادائیگی اور عمل ہی کو کہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی وقت و توانائی کو فقط گفتگو، بیانات، جلسوں اور کانفرنسوں ہی میں صرف کرکے رہ جاتے ہیں اور باتوں سے آگے نہیں بڑھتے وہ نہ اپنی ذمہ داری کو قبول کیے ہوئے ہیں اور نہ روحِ اسلام سے واقف ہیں۔ اسلام کے تمام پہلووں کو مدّنظر رکھنے والی یہ واضح ترین تفسیر ہے۔ ”وما اختلف الذین اوتوا الکتاب الاّمن بعد ما جائھم العلم بغیاً بینھم“۔ اس جملے میں قرآن نے مذہبی اختلافات کے سر چشمے کا تذکرہ کیا ہے اور فرمایا ہے: وہ لوگ جو حقیقت سے آگاہ تھے اِ س کے باوجود انہوں نے دین ِ خدامیں اختلاف پیدا کیا ان کے اس عمل ک اسبب طغیان ، سر کشی ، ظلم و ستم اور حسد کے علاوہ کچھ نہیں تھا کیونکہ ہر آسمانی دین ہمیشہ واضح مدارک سے منسلک ہوتا ہے جن وجہ سے متلاشیان حقیقت کے لئے کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ مثلاً پیغمبر اسلامؐ کے لئے واضح معجزات، کھلی نشانیوں اور روشن دلائل کے علاوہ جو آپ کے دین میں موجود تھے اور آپؐ کی حقانیت کے گواہ تھے۔ گذشتہ کتب آسمانی میں مذکور آپؐ کے اوصاف اور نشانیاں بھی موجود تھیں اور ان کتب کے کچھ حصّے ان کے پاس تھے بھی اور انہی کے پیش نظر ان کے علماء آپؐ کے ظہور سے قبل آپؐ کے ظہور کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن آپؐ کی بعثت کے بعد انہیں اپنے فوائد معرض خطر میں نظر آنے لگے اس لیے ظلم و ستم اور طغیان و سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے وہ سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا۔ ”فمن یّکفر باٰیات اللہ فانّ اللّہ سریع الحساب“۔ آیات کے آخر میں ایسے لوگوں کا مال کار بیان کیا گیا: وہ لوگ جو آیات الہٰی کو ٹھکرادیتے ہیں، اپنے اعمال کا مکمل نتیجہ حاصل کریں گے، خداوند تعالی ان کے اعمال کا بہت جلد حساب کرے گا۔ سریع الحساب کے مفہوم کے بارے میں اسی جلد میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۰۲ کے ذیل میں بحث کی جاچکی ہے، اس سے رجوع فرمائیں۔

مذہبی اختلافات کا سرچشمہ

ضمنی طور پر اس آیت سے ایک جالب نظر بات معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ زیادہ تر مذہبی اختلافات کا سرچشمہ جہالت، نادانی اور بےخبری نہیں ہے بلکہ، سرکشی، ظلم، انحراف حق اور ذاتی مفادات ہی ا س کی پیشتر وجوہات ہوتی ہیں۔ اگر سب لوگ عموماً اور علماء خصوصاً تعصب، کینہ پروری،تنگ نظری، ذاتی مفادات اور اپنے حقوق سے تجاوز سے بارز رہیں اور حقیقت شناسی اور عدالت سے کام لیتے ہوئے احکام الہٰی کا مطالعہ کریں تو انہیں شاہراہ حق بہت ہی واضح دکھائی دے گی اور اختلاف بہت تیزی سے حل ہو جائیں گے۔ یہ آیت درحقیقت ان لوگوں کا دندان شکن جواب ہے جو کہتے ہیں کہ مذہب لوگوں میں اختلاف پیدا کرتا ہے اور اس کی وجہ تاریخ میں بہت سی خون ریزیاں ہوئی ہیں، یہ لوگ دراصل، مذہب اور” مذہبی تعصبات اور انحرافی افکار “ میں فرق نہیں کرپائے کیونکہ اگر مذاہب کے احکام و قوانین کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ سب ایک ہی ہدف اور مقصد کے درپے ہیں اور سب سعادتِ بشر کے لئے آئے ہیں اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ آسمانی ادیان اصل میں آسمان سے برسنے والے بارش کے قطروں کی طرح ہیں۔ بارش کے سب قطرے حیات بخش ہیں لیکن وہ شوردار اور تلخ زمینوں پر پڑتے ہیں تو مختلف رنگوں اور ذائقوں بدل جاتے ہیں اور ان اختلاف کا بارش سے تعلق نہیں بلکہ اِن کا تعلق تو زمینی کثافتوں اور آلودگیوں سے ہے۔ ادیان کے سلسلہٴ تکامل پر آخری بات یہ ہے کہ ان میں سے آخری دین کامل تر ہے۔

20
3:20
فَإِنۡ حَآجُّوكَ فَقُلۡ أَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
اگر وہ تم سے گفتگو اور جھگڑے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں (تو ان سے مجادلہ نہ کرو) اور کہہ دو ! میں اور میرے پیروکار خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور جو اہل کتاب یہودی و نصاریٰ ہیں اور جو ان پڑھ (مشرکین) ہیں ان سے کہہ دو کیا تم بھی تسلیم ہوئے ہو ؟ اگر وہ( فرمان خدا اور منطق حق کے سامنے) سر تسلیم خم کر دیں تو ہدایت پا لیں اور اگر روگردانی کریں (تو تم پریشان نہ ہو کیونکہ) تم پر تو ابلاغ رسالت (کی ذمہ داری) ہے اور خدا بندوں کے (عقائد و اعمال) دیکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

لغت میں ”محاجّہ“ بحث، مباحثہ، گفتگو، استدلال اور کسی عقیدے کے دفاع کو کہتے ہیں۔ یہ فطری امر ہے کہ ہر دین کے طرفدار اپنے مقصد اور عقیدے کا دفاع کرتے ہیں اس سلسلے میں اپنے آپ کو حقدار قرار دیتے ہیں اس لحاظ سے قرآن رسول اللہؐ سے کہتا ہے: ہو سکتا ہے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ وغیرہ) تم سے بحث کریں اور کہیں کہ تم حق کے سامنے تسلیم ہیں اور حق کی طرفداری کے معنی میں اسلام کے پیروکار ہیں، یہاں تک کہ وہ اس بارے میں اپنی استقامت و پائیداری کا مظاہرہ کریں جیسا کہ نجران کے عیسائیوں نے بھی پیغمبر اسلام ؐسے ایسی ہی گفتگو کی تھی۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلامؐ کو یہ حکم نہیں دیا کہ اہل کتاب سے بحث مباحثہ اور گفتگو ہی نہ کی جائے بلکہ یہاں ایک اور حکم دیا گیا ہے جس کے مطابق جب بحث آخری مرحلے تک پہنچ جائے تو اس وقت نہ ان کی راہنمائی کی ضرورت ہے نہ مخاصمت و مجادلہ کی۔ بہترین راستہ یہ ہے کہ انہیں کہیں کہ میں اور میرے پیروکار خدا کے سامنے تسلیم کئے ہوئے ہیں اور حق کے پیروکار ہیں اور پھر مشرکین سےکہیں کہ اگر وہ بھی خدا کے سامنے تسلیم کئے ہوئے ہیں اور حق کے پیروکار ہیں اور پھر مشرکین سے کہیں کہ اگر وہ بھی خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور پیرو حق ہیں تو انہیں چاہئیے کہ منطقی گفتگو کے سامنے سر جھکا دیں اور اس صورت میں اُن سے بحث و مباحثہ اور گفتگو کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس مقام پر گفتگو بےمحل اور بےاثر ہے اور تبلیغ رسالت کے علاوہ کوئی چیز تم پر لازم نہیں ہے۔ ”فان اسلموا فقد اھتدوا و ان تولّوا فانّما علیک البلاغ“ خداوند تعالی اپنے بندوں کے اعمال و افکار کو دیکھتا ہے ”و اللہ بصیر بالعباد“ اس مقام پر چند نکات قابل توجہ ہیں: ۱۔ آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہٹ دھرم افراد سے بحث مباحثے سے پرہیز کرنا چاہئیے جو صحیح منطق کو تسلیم نہیں کرتے۔ ۲۔ ”امیین“(تشریحی نوٹ: امّی اُسے کہتے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو)۔سے اِس آیت میں مراد ”مشرکین“ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذکر بھی کتاب (یہود و نصاریٰ) کے مقابلے میں آیا ہے اور ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے وہ پڑھنے لکھنے پر مجبور ہوتے۔ ۳۔ اِس آیت سے مکمل طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کا طریقِ کار فکر و نظر اور عقیدہ ٹھونسنا نہیں تھا، بلکہ آپؐ کی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں پر حقائق آشکار ہو جائیں اور پھر انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ خود حق کی پیروی کے لئے عزم صمیم کریں۔

21
3:21
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَيَقۡتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡقِسۡطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
جو لوگ آیات خدا سے کفر کرتے ہیں انبیاء کو نا حق قتل کرتے ہیں ا ور عدل کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں انہیں درد ناک عذاب کی بشارت دیجئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
3:22
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
وہ ایسے لوگ ہیں جن کے نیک اعمال (ان عظیم گناہوں کی وجہ سے) دنیا اور آخرت میں تباہ ہو گئے ہیں اور ان کا کوئی یارو مددگار نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اِن دو آیتوں میں پہلے ان تین عظیم گناہوں کا ذکر ہے: ۱۔ آیاتِ الہٰی کفر اختیار کرنا، ۲۔ انبیاء کو ناحق قتل کرنا اور ۳۔ انبیاء و مرسلین کے پروگرام کی حفاظت کرنے والوں اور لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کر دینا۔ اس کے بعد ان کے لئے تین سزاوٴں اور بدبختیوں کا تذکرہ ہے جو یہ ہیں: ۱۔ ”فبشر ھم بعذاب ٍ الیم“۔ (انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیجئے) اِس جملے میں ان کے لئے سخت سزا کا ذکر ہے۔ ۲۔ بعد والی آیت میں ہے: ”اولٰئک الّذین حبطت اعمالھم فی الدّنیا و الآخرة“۔ (یعنی ان لوگوں کے اعمال اِس دنیا میں اور آخرت میں نابود اور اکارت ہو جائیں گے) اِس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو نیک اعمال وہ انجام دے چکے ہیں وہ بھی ان کے عظیم گناہوں سے متاٴثرہوں گے اور اپنی تاثیر کھو بیٹھیں گے اور ضائع ہو جائیں گے۔ ۳۔ آخر میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں ملنے والی سخت سزا اور شدید عذاب کے مقابلے میں کوئی بھی شخص ان کی حمایت کرنے والا نہیں ہو گا یعنی وہ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بھی محروم رہیں گے”وما لھم من نّاصرین“۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۶۱ کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی عجیب تاریخ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ آیات الہٰی کے انکار کے علاوہ انبیاء کو قتل کرنے میں بھی بڑی جسارت کا مظاہرہ کرتے تھے اوران مجاہدوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے جو انبیاء کی حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے لیکن مسلم ہے کہ یہ حکم اور سزا ان کے لئے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ان تمام اقوام کے بارے میں ہے جو ان جیسے افعال و اعمال بجا لاتی ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ اہل عدل انبیاء کے ساتھ ساتھ: آیت میں عدالت کا حکم دینے والوں او رنیک حق کام اور حق کی دعوت دینے والوں کا تذکرہ انبیاء کے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ خدا سے کفر کرنے والوں نیز انبیاء اور اہل عدل کو قتل کرنے والوں کو ایک سطح پر قرار دیا گیا ہے اور یہ چیز واضح کرتی ہے کہ اسلام نے معاشرے میں عدالت کے قیام کے لئے کس قدر اہتمام کیا ہے۔ دوسری آیت سے ایسے صالح افراد کو قتل کرنے والوں کے لئے شدید عذاب اور سزا کا پتہ چلتا ہے ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ”حبط“ (حبط “ کے مسئلے کے بارے میں تحقیق کے لئے سورہ بقرہ کی آیت ۲۱۷کی تفسیر سے رجوع کریں )۔سب گناہوں کے لئے نہیں بلکہ ایسے شدید اور سخت گناہوں کے بارے میں ہے جو نیک اعمال کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے اشخاص کی شفاعت سے محرومی ان کے گناہوں کی شدت کے بارے میں ایک اور دلیل ہے۔ ۲۔ ناحق قتل” بغیر حق “ سے مراد نہیں کہ حق کے ساتھ پیغمبروں کو قتل کیا جا سکتا ہے بلکہ مراد ہے کہ انبیاء کا قتل ہمیشہ ناحق اور ظالمہ فعل ہے۔ اصطلاح میں ”بغیر حق“ کے الفاظ “قید تو ضیحی“ کے طور پر ہیں اس لیے تاکید کے لئے ہیں۔ ۳۔ ”بشارت“ کا مفہوم: ”بشارت“ لفظ در اصل نشاط انگیز خبروں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ان کا اثر انسانی ”بشرہ“ اور صورت پر ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اور دیگر آیات میں عذاب موقع پر ا س لفظ کا استعمال درحقیقت ایک قسم کی تنبیہ ہے اور گنہ گاروں کے افکار و نظر یات پر استہزاء ہے۔ ایسی گفتگو ہمارے روز مرّہ میں بھی مروج ہے۔ جب کوئی برا کام انجام دیتا ہے تو سرزنش اور استہزاء کے طور پر کہتے ہیں: ”ہم تجھے اس کا اجر اور بدلہ دیں گے “۔

23
3:23
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ حصہ ہے اور ان میں فیصلے کے لئے انہیں کتاب خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے لیکن (علم و آگاہی کے باوجود) ان میں سے ایک فریق نے رو گردانی کی جب کہ وہ (قبول حق سے) اعراض کیے ہوئے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
3:24
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
( ان کا) یہ (عمل) اس بناء پر تھا کہ وہ کہتے تھے کہ چند دن کے سوا (جہنم کی) آگ ہم تک نہیں پہنچے گی اور (خدا پر باندھے گئے) اس افتراء نے انہیں بہت مغرور کر دیا تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
3:25
فَكَيۡفَ إِذَا جَمَعۡنَٰهُمۡ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
پس اس وقت ان کی کیا حالت ہو گی جب ہم ان کو ایک ایسے دن (قیامت) جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے اکٹھا کریں گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیاجائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہو گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول: رسول اللہؐ کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد زنائے محصہ()مرتکب ہوئے۔ باوجودیکہ تورات میں ایسے اشخاص کو سنگ سار کرنے کا حکم تھا، چونکہ یہ مرد عورت اشراف میں سے تھے اس لئے ان پر یہ حکم جاری کرنے میں توقف برتا گیا اور تجویز ہو اکہ پیغمبر اسلامؐ سے رجوع کیا جائے اور ان سے فیصلہ حاصل کیا جائے۔ انہیں توقع تھی کہ آپؐ کی طرف سے کم سزا معین ہو گی لیکن رسول اللہؐ نے بھی ان کے لئے وہی سزا معین فرمائی۔ اس فیصلے پر بعض یہودیوں اور ان وڈیروں میں سے بعض نے اعتراض کیا اور اس بات کا انکار کر دیا کہ یہودی مذہب کے مطابق یہ فیصلہ درست ہے۔ پیغمبراکرمؐ نے فرمایا : یہ موجودہ تورات ہی تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کر دے گی۔ انہوں نے قبول کرلیا۔ ابن صوریا ان کا ایک عالم تھا۔ اسے فدک سے مدنیہ بلایا گیا تھا۔ پیغمبر اکرمؐ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا: تو ابن صوریا ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم یہودیوں میں اعلم علماء ہو؟ اس نے کہا: وہ یہی سمجھتے ہی۔ پیغمبراکرمؐ نے حکم دیا کہ اس کے سامنے تورات کا وہ حصہ رکھا جائے جس میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ چونکہ پہلے سے باخبر تھا اس لیے جب تورات کی اس کا آیت پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے بعد کے جملے پڑھ دیے۔ عبدالله بن سلام جو پہلے سعودی علماء میں سے تھا اور مسلمان ہو گیا تھا، وہاں موجود تھا۔ وہ ابن صوریا کی اس پردہ پیشی پر متوجہ ہو کر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ اس جملے سے ہٹا دیا اور متن تورات میں سے اسے پڑھا اور کہا کہ تورات کہتی ہے: یہودیوں کے لیے ضروری ہے جب کوئی عورت اور مردہ زنائے محصنہ کے مرتکب ہوں اور ان کے جرم کا کافی ثبوت موجود ہو تو انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ اس کے بعد پیغمبراکرمؐ نے حکم دیا کہ ان کے دین کے مطابق مذکورہ سزا ان دو مجرموں پر جاری کی جائے۔ اس پر یہودیوں کی ایک جماعت سیخ پا ہوگئی، زیر نظرآیت اسی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس وقت موجودہ تورات میں سفر اور لادیان کی بیسویں فصل کے دسویں جملے میں ہے : اور جو شخص کسی غیر کی عورت سے زناکرے (مثلاً) اپنے ہمسائے کی بیوی سے زناکرے تو چاہیئے کہ زانی اور زانیہ کو قتل کر دیا جائے۔ اس عبارت میں اگرچہ سنگسار کا حکم صراحت سے نہیں ہے لیکن انہیں قتل کر دینے کی اصل سزا کا حکم ہے. ممکن ہے پیغمبر اسلامؐ کے زمانے کے نسخوں میں دو عبارت موجود ہو)۔

تفسیر

ان آیات میں صراحت سے اہل کتاب کی چند خیانتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کیسے حیلہ جوئی اور بےبنیاد مطالب کے ذریعے حدودالٰہی کے نفاذ سے بغاوت کرتے تھے، حالانکہ ان کے پاس موجود آسمانی کتاب صراحت سے حکم بیان کر چکی ہوتی تھی کہ اپنی مذہبی کتاب میں موجود حکم کے سامنے سرتسیلم نہ کر دیں "الم تر الى الدين اوتوا نصيبا من الكتب يدعون الى كتب الله ليحكم بينهم "۔ لیکن انہوں نے صریحًا اس کی مخالفت کی اور مخالفت بھی ایسی جسے اعراض، سرکشی اور احکام خدا پر نکتہ چینی کہا جانا چاہیئے "ثم يتولی فريق منهم وهم معرضون"۔ " اوتوا نصيبًا من الكتب" سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جو تورات اور انجیل یہود و انصارٰی کے پاس موجودتھی وہ ساری حقیقی تورات اور انجیل نہ تھی بلکہ یہ تو اس کا صرف ایک حصہ تھا اور ان دونوں آسمانی کتابوں کا بیشتر حصہ یا غائب تھا یا پھر تحریف شدہ تھا۔ اس آیت کی قرآن کی دیگر آیات کی تائید کرتی ہیں۔ نیز تاریخی شواہد بھی اس کے مؤید ہیں۔ دوسری آیت میں ان کی مخالفت اور روگردانی کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی ایک باطل اور غلط فکر تھی اور وہ یہ کہ وہ ایک بلنداور ممتاز خاندان سے ہیں۔ آج بھی وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور بہت سی تحریریں ان کی نسل پرستی کی شاہد ہیں۔ ان کا اعتقاد تھا کہ پروردگار عالم سے ان کا ایک خاص تعلق ہے یہاں تک کہ وہ اپنے تئیں خدا کے بیٹے کہتے تھے۔ جیسا کہ سوره مائدہ آیہ اٹھارہ میں ان کی زبان سے قرآن نے نقل کیا ہے۔ "نحن ابنؤ الله وأحباؤه"۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے خاص دوست ہیں۔ اسی لیے وہ خدائی سزا کے مقابلے میں ایک قسم کی معنویت کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ اس سے محفوظ رہیں گے اور اس امر کو خدا کی طرف سے بھی منسوب کرتے تھے لہذا ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں سے گنہگار افراد بھی قیامت میں چند دنوں کے سوا عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔جیسا کہ محل بحث آیات میں بھی ہے: "قالوالن تمسنا النار الا ايامًا معدودات"۔ إن ایام معدود سے مراد یاتو وہ چالیس دن تھے جن میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی عدم موجودگی میں انہوں نے گوساله پرستی شروع کردی تھی، یہ ایسا گناہ تھا کہ وہ خود بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے تھے یا پھر اس سے مراد ان کی زندگی کے معدود اور گنے چنے دن تھے کہ جن میں انہوں نے بہت زیادہ واضح اور ناقابل انکار گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور وہ خود بھی ان گناہوں کی توجیہ اور پردہ پوشی نہ کر سکتے تھے۔ خدا کی طرف منسوب یہ جھوٹے اور جعلی امتیازات رفتہ رفتہ ان کے عقائد کا جز بن گئے جس سے وہ مغرور ہو گئے تھے یہاں تک کے احکام خدا کی مخالفت اور قانون شکنی میں بھی بےباک ہو گئے تھے (وغرهم في دينهم ما كانوا يفترون)۔ تیسری آیت میں قرآن ان تمام باطل خیالات پر خط بطلان کھینچتا ہے اور کہتا ہے: ایک روز یقینًا پروردگار کی بارگاه عدل میں دیگر انسانوں کی طرح پیش ہوں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا سامنا کرے گا چونکہ وہ اپنے ہی اعمال کا سامنا کریں گے اور اپنے ہی اعمال کا نتیجہ پائیں گے اس لیے انہیں جب بھی سزا ملے گی اس میں ان پر کسی قسم کا ظلم و ستم نہیں ہو گا کیونکہ یہ سب ان کے کئے کا ماحصل ہو گا "و وفيت كل نفس ماكسبت رھم يظلمون"۔ "ما کسبت" سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ قیامت کے دن کی جزا و سزا اور دوسرے جہان کی خوش بختی و بدنیتی مصرف انسانی اعمال سے وابستہ ہے اور اس میں کوئی اور چیز موثر نہیں ہے۔ اس حقیقت کی طرف بہت سی آیات مجیدہ میں اشارہ ہوا ہے۔

دوسوال اور ان کا جواب

کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کوئی جھوٹ بولے یا خدا پر افترا باندھے اور پھر خود ہی اس کے زیر اثر آجائے اور اس کے نتیجے میں مغرور ہو جائے جیسا کہ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے؟ کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وجدان کو دھوکا اور فریب دینے کا مسئلہ آج کل نفسیات کے مسلمہ مسائل میں سے ہے بعض اوقات قوت فکر و نظر و جدان کو غافل کر دیتی ہے اور حقیقت کے چہرے کو بگاڑ دیتی ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ بڑے بڑے گناہوں مثلًا قتل. چوری یا طرح طرح کی برُی عادات میں ملوث افراد اپنے اعمال کی قباحت کو اچھی طرح جاننے کے باوجود وجدان کی جھوٹی تسکین کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ وہ لوگوں پر کئے گئے ظلم کا انہیں مستحق قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنی ضررساں عادتوں کی توجہیہ کرتے ہیں۔ زندگی کی ناہمواریوں اور معاشرے کی طاقت فرسا مشکلات کا نام لے کر اپنے لیے منشیات کے استعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جھوٹے امتیازات اہل کتاب کی گذشتہ نسلوں نے گھڑے تھے اور بعد کی نسلیں جو اس سے آگاہ نہیں تھیں انہوں نے اسے بلاتحقیق صحیح عقیدت کے طور پر اپنا لیا۔ 2- یہ بھی سوال کیا جا سکتا ہے کہ محدود عذاب اور سزا کا عقیدہ تو مسلمانوں میں بھی موجود ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حقیقی مسلمان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب الٰہی میں مبتلا نہیں رہیں گے اور آخر کار ان کا ایمان ان کی نجات کا سبب بنے گا۔ توجہ رہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ ایک گنہ گار اور طرح طرح کے جرائم میں آلودہ مسلمان صرف چند دن عذاب الٰہی میں مبتلا رہے گا بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ سالہا سال تک گرفتار سزا رہے گا اور اس کی سزا کی اصل مدت خدا تعالی ہی بہترجانتا ہے ممکن ہے اس کے انسان کی وجہ سے اس کی سزا دائمی اور ابدی نہ ہو اور اگر واقعًا مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد ہوں جو یہ سمجھتے ہوں کر وہ اسلام، پیغمبراکرمؐ اور آئمہ اطہارؑ پر ایمان کے نام پر ہر طرح کا گناہ کرنے کے مجاز ہیں اور اس پر انہیں چند روز کے علاوہ سزا نہیں ہو گی تو وہ بہت بڑے اشتباہ کا شکار ہیں اور روح اسلام اور تعلیمات اسلامی سے دور رہیں۔ ہم اس معاملے میں مسلمانوں کے لئے امتیاز کے قائل نہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر امت کے افراد جو اپنے اپنے زمانے کے پیغمبر پر ایمان رکھتے تھے مگر کسی گناہ کے مرتکب ہو گئے ہوں تو وہ بھی اس قانون کے تحت آتے ہیں چاہے وہ کسی قوم یا قبیلے سے ہوں جب کہ یہودی صرف بنی اسرائیل کے لئے اس امتیاز کے حامل ہیں اور دیگر اقوام عالم کے لئے وہ ایسے کسی قانون کو نہیں مانتے۔ قرآن اُن کے اس جھوٹے امتیاز کا جواب دیتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت 18 میں کہتا ہے۔ "بل أنتم بشر ممن خلق"۔ تم بھی دیگر انسانوں کی طرح ہو ۔

26
3:26
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِي ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُۖ بِيَدِكَ ٱلۡخَيۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
کہیے بارالٰہا! حکومتوں کا مالک تو ہے تو ہی جسے چاہتا ہے کہ حکومت بخشتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت لے لیتا ہے جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے تمام خوبیاں تیرے ہاتھ میں ہیں کیونکہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 27 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
3:27
تُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۖ وَتُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَتُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّۖ وَتَرۡزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ
(خداوندا تو ہی) رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتاہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مشهور مفسر طبری نے مجمع البیان میں اس سلسلے میں دو شان نزول بیان کی ہیں اور ہر دو ایک ہی حقیقت کی شاندہی کرتی ہے۔ ذیل میں دونوں شان نزول پیشں کی جاتی ہے۔ 1- پیغمبر اکرمؐ نے مکہ فتح کر لیا تو مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ بہت جلد ایران اور روم بھی پرچم اسلام کے نیچے ہوں گے۔ یہ بات سنی تو منافقین کہ جن کے دل ابھی نور ایمان سے روشن نہیں ہوئے تھے اسے مبالغہ آمیز کہنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے۔ محمدؐ نے مدینہ اور مکہ کو کافی نہیں سمجھا اور ایران و روم کی لال بھی رکھتا ہے۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ 2- جب پیغمبر اکرمؐ مدینے کے باہر مسلمانوں کے ساتھ خندق کھود رہے تھے، مسلمان نہایت نظم و نسق اور انہماک سے دستوں میں منقسم ہو کر خندق کھودنے میں مصروف تھے تاکہ دشمن کے آنے سے پہلے یہ دفاعی کام پایۂ تکمیل کو پہنج جائے۔ اچانک خندق میں سے ایک سفید اور سخت پتھر نکلا جسے مسلمان ہلانے اور توڑنے میں ناکام ہو گئے۔ سلمان پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا، آنحضرتؐ خندق میں اترے، سلمان سے کدال لی اور زور سے پتھر پر ماری۔ کدال پتھر لگی تو ایک شعلہ نکلا۔ اس پر پیغمبراکرمؐ نے کامیابی کی تکبیر بلند کی مسلمان بھی آپؐ کے ہم آواز ہوئے اور ہر طرف سے تکبیر بلند ہوئی۔ نبی اکرمؐ نے دوسری دفعہ کدال پتھر پر ماری تو پھرشعلہ نکلا اور کچھ پتھر ٹوٹ گیا۔پیغمبر اکرمؐ اور مسلمانوں نے پھر تکبیر بلند کی، تکبیر کی آواز سے فضا گونج نے اٹھی۔ آپؐ نے تیسری مرتبہ کمال بلند کی اور باقی پتھر پر زور سے ماری پھر شعلہ نکلا جس سے چاروں طرف چمک پھیلی اور باقی پتھر بھی ٹوٹ گیا اور پھر تیسری مرتبہ تکبیر کی آواز خندق میں گونجی۔ 3- سلمان نے عرض کیا: آج میں نے آپؐ سے یہ عجیب و غریب چیز دیکھی ہے۔ 4- پیغمبر اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: پہلی مرتبہ شعلہ نکلا تو اس میں میں نے حیرہ اور مدائن کے محلات دیکھے اور میرے بھائی جبرئیلؑ نے مجھے بشارت دی کہ وہ پرچم اسلام کے نیچے آئیں گے۔ دوسرے شعلے میں میں نے روم کے محلات دیکھے اور جبرئیلؑ نے بشارت دی کہ وہ میرے پیروکاروں کے قبضے میں آئیں گے اور تیسرے شعلے میں میں نے صنعاء اور یمن کے محلات دیکھے اس پر جبرئیلؑ نے بشارت دی کہ مسلمان انہیں بھی فتح کر لیں گے۔ اسی لیے میں نے تکبیر کہی۔ اے مسلمانو! تمہیں مبارک ہو۔ مسلمان تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور خدا کا شکر ادا کرتے تھے لیکن منافقین کے چہرسے بگڑ گئے اور وہ مغموم ہو گئے۔ وہ اعتراض کرنے لگے: کیسی غلط آرزو ہے اور کیسا محال وعدہ ہے حالانکہ اس وقت تو انہوں نے اپنی جان کے خطرے سے دفاعی حالت اختیار کر رکھی ہے، خندق کھود رہے ہیں، اس چھوٹے دشمن سے بھی جنگ کے قابل نہیں ہیں اور سر میں دنیا کے عظیمم ملکوں کی فتح کا سودا سمایا ہوا ہے۔ اس موقع پر محل بحث آیات نازل ہوئیں جن میں ان منافقین کو جواب دیاگیا ہے۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں مشرکین اور اہل کتاب کے بارے میں گفتگو تھی کہ وہ کیسے ملک اور عزت کو اپنے لیے مخصوص جانتے ہیں اور خود کو اسلام سے بے نیاز سمجھتے ہیں۔ اب ان آیات میں خداوند عالم ان کے اس زعم باطل کو غلط ثابت کرتا ہے اور فرمایا ہے: خدا ہی ہر ملک و سلطنت کا مالک ہے ، خیر و نیکی اس کے قبضے میں ہے، وہ قدرت مطلقہ ہے اور ہر حالت میں اُسی کی پناہ حاصل کرنا چاہیئے۔ موجودات کا حقیقی مالک وہی ہے جو ان کا خالق و پروردگار ہے، جیسا کہ سورہ مومن کی آیہ 62 میں ہے: "ذلكم الله ربكم خالق كل شي" : یہ خدا جو تمہارا پروردگار ہے، تمام چیزوں کا خالق ہے وہ وہی ہے جو جسے چاہتا ہے ملک و سلطنت بخش دیتا ہے اور جس سے چاہتاہے لے لیتا ہے، وہی عزت دیتا ہے اور وہی جسے چاہتا ہے خاکِ ذات میں بٹھادیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس کے زیر فرمان ہے۔ وہ اپنے افعال میں مجبور نہیں ہے۔ وہ فاعل مختار ہے نہ کہ فاعل مجبور۔ بناکہے واضح ہے کہ مشیت و ارادہ سے ان آیات میں یہ مراد نہیں کہ وہ بغیر کسی حساب کتاب کے یا بغیر کسی وجہ کے کسی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور کسی سے کوئی چیزلے لیتا ہے جبکہ اس کی مشیت حکمت سے وابستہ ہے جہان خلقت کا پورا نظام اور عالم انسانیت کا سارا پروگرام اس کی مصلحت و حکمت کے تحت چل رہا۔ اس لیے وہ جو کام بھی کرتا ہے اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہترین اور صحیح ترین ہوتا ہے۔ " بيدك الخير انك علٰی كل شي قدير": لفظ "خير" کا فارسی میں متبادل ہے "بہتر" - یہ افضل التفضیل اور ایک چیز کی دوسری پر برتری بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے تاہم ہراچھے امر کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ مثلًا سوره بقره آیه 221 میں ہے: "ولعبد مؤمن خير من مشرك"۔ بت پرست کی نسبت بنده مومن سے شادی کرنا بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ مشرک میں تو کوئی اچھائی اور خوبی نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اچھا ہے اور مومن اس سے بہتر ہے۔ افضل التفضيل کے مفہوم میں بھی بعض اوقات یہ بات آجاتی ہے مثلًا سورہ یوسف کی آیه ۳۳ میں حضرت یوسف کی زبانی فرمایاگیا ہے: "رب السجن أحب إلي مما يدعون الیه : یعنی - پروردگار ! یہ شرمناک عمل زنا جس کی مجھے مصر کی عورتیں دعوت دے رہی ہیں اس سے قید مجھے زیادہ محبوب ہے۔ واضح ہے زنا کوئی ایسا عمل نہیں کہ جو حضرت یوسفؑ کی نظر میں محبوب ہو کہ اسے قید سے زیادہ محبوب قرار دیا جائے اس بناء پر افضل التفصيل ٓصرف موازنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگرچہ ایک طرف وہ صفت بالکل موجود نہ ہو اور فقط دوسری طرف پائی جاتی ہو۔ "بيدك الخير" یہ الفاظ دو حوالوں سے یہ بتاتے ہیں کہ تمام خیرات اور اچھائیاں خداوند تعالٰی میں منحصر ہیں ۔ 1- لفظ خیر کے ساتھ الف اور لام ہے اور یہاں اسے الف لام استغراق کہتے ہیں۔ 2- یہاں مبداء الٰہی "خير" بعد میں ہے اور "بیدک" جو اس کی خبر ہے وہ پہلے ہے۔ اور یہ دونوں چیزں حصر کی دلیل ہیں۔ اس لیے ان الفاظ کا معنی کچھ یوں ہو گا : تمام نیکیاں تیرے ہی قبضہ قدرت میں ہیں۔ "بيدك الخير" سے ضمنًا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خداوند تعالٰی ہرقسم کی خیر اور سعادت کا سرچشمہ ہے ۔ وہ عزت بخشتا يا ذلت دیتا ہے تو یہ سب کچھ قانونِ عدالت کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں کچھ بھی"شر" نہیں ہوتا۔ " إنك على كل شئ قدير" یہ جملہ گذشتہ حصے کی دلیل کے طور پر آیا ہے۔ یعنی جب خدا قدرت مطلقہ کا مالک ہے تو پھر کوئی اشکال اور شبہ نہیں ہے کہ تمام نیکیاں اور اچھائیاں اس کے ارادے کے ماتحت ہوں گی۔

صالح اور غیرصالح حکومتیں

یہاں ایک اہم مسئلہ درپیشں ہو گا اور وہ یہ کہ ممکن ہے مندرجہ بالا آیت سے کچھ لوگ یہ نتیجہ اخذ کریں کہ جس شخص کو بھی حکومت ملتی ہے اور جس سے بھی حکومت کھو جاتی ہے سب ارادہ الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاریخ میں گزرنے والے چنگیز اور ہٹلر جیسے جابر اورستمگر حکمرانوں کی حکومت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی جائے۔ اتفاق ہے کہ تاریخ کہتی ہے کہ یزید بن معاویہ نے اپنی شرمناک اور ظالمانہ حکومت کے جواز اور توجہیہ کے لئے اسی آیت سے استدلال کیا تھا۔(بحوالہ: المیزان بحوالہ ارشاد از شیخ مفید)۔ یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس اعتراض کے جواب میں آیت کی مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت خدائی حکومتوں سے مخصوص ہے یا پیغمبر اکرمؐ کی حکومت کے قیام اور قریش کی خاطر حکومتوں کے اختتام سے مخصوص ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ آیت ایک کلی اور عمومی مفہوم کی حامل ہے جس کے مطابق تمام اچھی اور بری حکومتیں خداوند تعالٰی مشیت اور ارادے کے مطابق ہیں مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ خداوند عالم نے اس دنیا میں کامیابی اور پیش رفت کے لئے عوامل و اسباب کا ایک سلسلہ پیدا کیا ہے۔ (المیزان بحوالہ ارشاد از شیخ مفید) اور ان آثار سے فائدہ اٹھانا ہی مشیت خدا ہے، اس لیے خدا کی مشیت سے مراد وہ آثار ہیں جوان عوامل و اسباب میں پیدا کیے گئے ہیں۔ اب اگر چنگیز، یزید اور فرعون جیسے ظالم اور غیر صالح افراد کامیابی کے ان وسائل سے استفادہ کریں اور کمزور، پسماندہ اور بزدل قومیں اپنے آپ کو ان کے سپرد کردیں اور ان کی شرمناک حکومت کو گوارا کر لیں تو یہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کہاوت ہے: ہر قوم اسی حکومت کی لائق ہے جو اس پرقائم ہے۔ اگر قومیں بیدار ہوں اور جابر و قاہر بادشاہوں سے یہ اسباب چھین کر صالح اور اہل ہاتھوں میں دے دیں اور عادلانہ حکومتیں قائم کریں تو یہ بھی ان کے اعمال کا نتیجہ ہے جو الٰہی اسباب و عوامل سے استفادہ کے طریقے سے وابستہ ہے۔ درحقیقت یہ آیت تمام افراد اور تمام انسانی معاشروں کی بیداری کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ وہ ہوشیار رہیں اور اس سے پہلے کہ غیرصالح افراد ان عوامل کے ذریعے معاشرے کے حساس منصب سبنھال لیں اور تمام اہم مورچوں پر قبضہ کر لیں، یہ خود کامیابی کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔ "تولج الليل في النهار وتولج النهار في اليل": "ولوج" لغت میں اور دن کو رات میں داخل کرنا ہے، آیت کہتی ہے. اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ قرآن مجید میں آٹھ دیگر مقامات پربھی اس بات کا تذکرہ موجودہے۔ اس آیت سے مراد وہی تدریجی اور حسی تبدیلی ہے جو سال بھر میں رات دن میں ہم دیکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی اس کره ارض کے محور کے اپنے مدار سے جھکاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو ۲۳ درجے سے کچھ زیادہ ہے اور اس سے سورج کی کرنوں کے زاویے بھی بدل جاتے ہیں۔ اسی لیے بلادشمالي (خط استواء سے اوپر والے حصے) میں سردیوں کی ابتداء میں دن بڑھنے لگتے ہیں اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس گرمیوں کے آغاز میں راتیں بڑھنے لگتی ہیں اور دن چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور سردیوں کی ابتدا ءتک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب کہ بلاد جنوبی (خط استوا کے نیچے والے حصے) میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اس لیے خداوند تعالٰی ہمیشہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے یعنی ایک میں کمی کرتا ہے اور دوسرے میں اضافہ کر دیتا ہے ممکن ہے کہا جائے کہ خط استوا ، کے اوپر اور اس طرح قطب شمالی اور قطب جنوبی کے اصلی نقطے میں رات دن تمام سال برابر رہتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر رونما نہیں ہوتا۔ خط استوا پر سال بھررات دن بارہ بارہ گھنٹے کے اور قطب شمالی اور جنوبی میں سال میں ایک رات چھ ماہ کی اور ایک دن چھ ماہ کا ہوتا ہے، اس لیے یہ آیت عمومی پہلو نہیں رکھتی۔ اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ حقیقت میں خط استواء ایک فرضی خط کے سوا کچھ نہیں اور لوگ ہمیشہ سے خط استوا کے اس طرف یا اس طرف زندگی بسر کرتے چلے آ رہے ہیں اس طرح نقطۂ قطب بھی فرضی نقطے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا اور شمالی و جنوبی قطب میں رہنے والے لوگوں کی زندگی، (اگر و ہاں کوئی رہتا ہو تو یقینًا قطب کے حقیقی نقطے سے وسیع ترجگہ میں ہو گی اس بناء پر دونوں صورتوں میں رات اور دن کو اختلاف موجود ہے۔ ممکن ہے اس آیت کا مندرجہ بالا مفہوم کے علادہ ایک اور معنی بھی ہو اور وہ یہ کرہ ارض میں فضا کے طبقات کی وجہ سے اس میں اچانک رات اور دن پیدا نہیں ہوتے کہ بلکہ فجر اور شفق سے شروع ہو کر دن آہستہ آہستہ پھیلتا جاتا ہے اور رات کا آغاز مشرق کی سرخی سے ہوتا ہے اور تد ریجًا تمام جگہوں پر تاریکی چھا جاتی ہے۔ رات اور دن میں تدریجی تبدیلی جس حوالے سے بھی ہو انسان اور کرہ ارض کے دیگر موجودات کےلئے فائدہ مند ہے، سبزوں، فصلوں اور بہت سے جانداروں کی پرورش سورج کی تدریجی روشنی اور حرارت کی مرہون منت ہے۔ آغاز بہار سے جوں جوں دھوپ کی شدت اور حدت میں اضافہ ہوتا ہے نباتات اور حیوانات اپنے تکامل کے نئے نئے مرحلے طے کرتے ہیں اور انہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت شب و روز کے تدریجی سفر سے پوری ہوتی ہے اور یہاں وہ اپنے ارتقاء کے آخری نقطے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر رات اور دن ایسے ہوتے تو بہت سے نباتات او حیوانات نشوونما اور رشد و تکامل سے محروم رہ جاتے اور چار موسموں کا تصور بھی نہ ہوتا کیونکہ وہ بھی اختلاف لیل ونہار اور سورج کی کرنوں کے بدلتے ہوئے زاویوں کے مرہون منت ہیں- یوں انسان فطری طور پر موسموں کے اختلاف کے فوائد سے بے بہرہ رہ جاتا۔ اسی طرح اگر آیت کے دوسرے مفہوم کو پیش نظر رکھیں کہ رات اور دن تدریجی طور پر تبدیل ہوتے ہیں ناگہانی طور پر نہیں اور شفق، طلوع صبح صادق اور طلوع آفتاب رات اور دن کے درمیان ظہور پذیر ہوتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ رات اور دن کا یہ تدریجی عمل زمین میں رہنے والوں کے لئے ایک عظیم نعمت ہے کیونکہ اس طرح وہ آہستہ آہستہ تاریکی یا روشنی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور یہی صورت ان کی جسمانی اور اجتماعی کیفیت میں سازگار ہے جب کہ دوسری صورت بہت سی پریشانیوں کا سبب بن سکتی تھی۔ "وتخرج الحي من الميت و تخرج الميت من الحي"۔ یہ تعبیر بھی قرآن کی کئی ایک آیات میں موجود ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: خدا زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ زندہ کو مردہ سے نکالنے سے مراد بےجان موجودات سے حیات کو پیدا کرنا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب زمین زندگی کو قبول کرنے کے قابل ہوئی تو زنده موجودات بے جان مادہ سے معرض وجود میں آئے۔ علاوہ ازیں ہمارے بدن میں اور تمام عالم کے زندہ و موجودات میں بےجان مواد خلیوں ( CELLS) کا جز بن کر موجود میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ زنده موجودات سے مردہ وجود کی پیدائش کا عمل بھی ہماری آنکھوں کے سامنے جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ آیت درحقیقت موت و حیات کے دائمی قانون تبادل کی طرف اشارہ ہے جو بہت عام اور بہت پیچیدہ ہے اس کے باوجود نہایت جاذبِ نظر اور عجیب ترین قانون ہے جو ہم پر حکمران ہے۔ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی ہے جو گذشتہ تفسیر کی نفی نہیں کرتی اور وہ ہے معنوی و روحانی زندگی اور موت کا مسئلہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات اس کے برعکس بےایمان افراد جو حقیقی زنده ہیں بےایمان افراد جو دراصل مردہ ہیں سے معرض وجود میں آتے ہیں اور بعض اوقات اس کے برعکس بےایمان افراد اہل ایمان سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ قرآن نے معنوی زندگی اور موت کو متعدد آیات میں ایمان اور کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق قرآن قانون توارث کی بنیادوں کو منہدم کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جب کہ دانشور اسے طبیعت کے قطعی قوانین میں سے سمجھتے ہیں۔ انسان طبیعت کے بےجان موجودات کی طرح نہیں ہے کیونکہ یہ موجودات مختلف عوامل کے زیر اثر مجبور ہیں جب کہ انسان ارادے کی آزادی کا حامل ہے اور یہ بذات خود اللہ کی ایک قدرت نمائی ہے کہ وہ کافر کی اس اولاد سے آثار کفر محو کر دیتا ہے جو واقعاً مومن بننا چاہے اور مومن کی اس اولاد سے آثارآیمان دھوڈالتا ہے جو کافر بننا پسند کرے۔ ارادے کا یہ استقلال جو ہر طرح کے مساعد و نامساعد حالات میں توارث پر غالب آجاتا ہے، اسی کی طرف سے ہے۔ یہی مفہوم پیغمبراسلامؐ کی ایک روایت میں ہم تک پہنچا ہے۔ تفسير درمنشور میں سلمان فارسی سے منقول ہے: رسول اللہؐ نے "تخرج الحي من الميت "..... کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی مومن کو کافر کی صلب سے اور کافر کو مومن کی صلب سے نکالتا ہے۔ "وترزق من تشاء بغير حساب" اصطلاح کے مطابق یہ جملہ" خاص" کے بعد "عام" کے قبیل میں سے ہے۔ گذشتہ جملوں پر خدا کی طرف سے بندوں کو رزق دینے کے چند نمونے بیان ہوئے تھے اور اس جملے میں مسئلہ عمومی صورت میں بیان کیاگیا ہے جس میں ہر طرح کے رزق اور تمام عطیات کا ذکر آگیا ہے یعنی نہ صرف یہ کہ عزت، حکومت، موت اور زندگی خدا کے قبضہ قدرت میں ہے بلکہ ہر روزی، نعمت اور عنایت اسی کی طرف سے ہے۔ "بغير حساب" اس طرف اشارہ ہے کہ عنایات خداوند کے دربار اس قدر وسیع اور گہرے ہیں کہ وہ جتنی بھی مقدار جسے بھی بخش دے ان میں کچھ فرق نہیں آتا اور وہ حساب رکھنے کا محتاج نہیں کیونکہ حساب تو وہ رکھتے ہیں جن کا سرمایہ محدود ہو اور اس کے کم یا ختم ہو جانے کا خوف ہو لیکن وہ خدا جو عالم وجود و کمالات کا بے کنارسمندر ہے اسے کم ہونے کا خوف ہے نہ اس سے کوئی حساب لینے والا ہے اور نہ ہی اسے حساب کی ضرورت ہے۔ جو کچھ کہاگیا ہے اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جملہ ان آیات کی نفی نہیں کرتا جن میں تقدیر الٰہی ، حساب کتاب، لوگوں کی لیاقت و اہلیت اور خلقت کی حکمت تدبیر کا تذکرہ ہے۔

جبر واکراہ کی نفی

یہاں مختصر طور پر اس نکتے کی یاد دہانی ضروری ہے کہ قانون اور آفرنیش، حکم عقل اور دعوت انبیاء کی نظر سے ہر شخص سعادت و خوش بختی، عزت و ذلت اور رزق کے حصول کے لئے کوشش کرنے میں آزاد اور مختار ہے، تو پھر مندرجہ بالا آیت میں ان چیزوں کی نسبت خداوند تعالی کی طرف کیونکر دی گئی ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عالم آفرنیش اور افراد بشر کے پاس جو عنایات، عطیات، توانائیاں اور صلاحتیں ہیں سب کا اصلی سرچشمہ خدا ہے، اسی نے عزت اور خوش بختی کے تمام ذرائع لوگوں کے اختیار میں دیے ہیں۔ اسی نے اس دنیا کے لئے ایسے قوانین وضع کیے ہیں کہ جنہیں ٹھکرا دینے کا نتیجہ ذلت ہے اس لیے ان تمام کی نسبت اس کی طرف دی جا سکتی ہے، لیکن یہ نسبت انسان کے ارادے کی آزادی کی نفی نہیں کرتی کیونکہ یہ انسان ہی ہے جو اللہ کی ان عنایات اور عطیات سے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے ذریعے صحیح یا غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔

28
3:28
لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ
اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور سر پرست نہ بناؤ اور جو شخص ایسا کرے گا اس کا کسی چیز میں اللہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان سے(اور اہم تر مقاصد کیلئے) تقیہ کرو اور خدا تمہیں (اپنی نا فرمانی سے) ڈراتا ہے اور (تمہاری) بازگشت خدا کی طرف ہے۔

تفسیر- غیروں سے رشتہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

" اولیاء" "ولی" کی جمع ہے۔ یہاں اس کا معنی ہے حامی، مددگار ہم پیمان، یار اور یادر۔ یہ آیت فی الواقع مسلمانوں کو ایک اہم سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی درس دیتی ہے کہ وہ غیروں سے دوست، حامی و مددگار یا کسی اور حوالے سے کوئی ربط نہ رکھیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں، دلکش تقریروں، بظاہر گہری او مخلصانہ محبت سے دھوکا نہ کھائیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اہل ایمان اور بامقصد زندگی گزارنے والوں نے اس طرح سے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ استعمار اور سامراج کی تاریخ کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں کی نظر میں دوستی غم گساری اور انسان دوستی کے لباس میں اثر و نفوز پیدا کیا ہے۔ یہاں تک کہ لفظ "استعمار" جس کا معنی ہے "آبادی کی کوشش کرنا" اسی مفہوم کی نشاندہی کرتا ہے کہ استعمارگر ہمیشہ استعمار شدہ معاشرے کی جڑوں میں اپنے پنجے مضبوط کرنے کے بعد وہاں کے عوام پر بےدری سے ٹوٹ پڑتے ہیں اور ان کا سب کچھ لوٹ لے جاتے ہیں۔ اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر آیت میں شدید تہدید اور دھمکی آئی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص اپنے تئیں غیروں کے سپرد کردے گا وہ خدا سے ہر قسم کا رابط منقطع کرے گا۔ " من دون المؤمنين" اس طرف اشارہ ہے کہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی میں ہر شخص مجبور ہے کہ اس کے کچھ دوست احباب ہوں لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دوستی اور سرپرستی کے لئے ایمان والوں کا ہی انتخاب کریں اور ان کی جگہ کافروں سے رشتے استوار نہ کریں۔ " فليس من الله في شي ءٍ " اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو افراد دشمنان خدا سے دوستی اور ہم کاری کرتے ہیں وہ کسی چیز میں خدا سے مربوط نہیں ہیں یعنی وہ فرمان الٰہی، خدا پرستوں اور فرمان خدا کے پیرو کاروں سے بیگانے ہیں اور ان سے ہر لحاظ سے ان کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ "إلا أن تتقتوا منهم تقتة"۔ اس جملے کے ذریعے مندرجہ بالا حکم میں استثناء کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ تقیہ کے موقع پر حرج نہیں کہ مسلمان اپنی جان کی حفاظت کے لئے یا ایسے اور امور میں بےایمان افراد سے دوستی کا اظهار کریں اور آخر میں دو مزید جملوں سے مندرجہ بالا حکم کی تاکید کی گئی ہے:- "ویحذركم الله نفسه"۔ یعنی خدا تمہیں اپنی سزا اورغضب سے ڈراتا ہے۔ " و الى الله المصير" یعنی - تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور اگر تم نے دشمنوں سے دوستی کرلی تو اپنے اعمال کا نتیجہ بہت جلد دیکھ لو گے۔

"تقیہ" ایک حفاظتی ڈھال ہے

یہ صحیح ہے کہ کبھی انسان اعلی ترین مقاصد مثلًا حفظ شرافت، تقویت حق اور باطل کی کمر توڑنے کے لئے اپنی جان عزیز تک فدا کر نے کو تیار ہوتا ہے لیکن کیا کوئی عقلمند بغیر کسی اہم مقصد کے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو جائز کہہ سکتا ہے اسلام نے صراحت سے اجازت دی ہے کہ جب انسان کی جان و مال اور عزت و آبرو خطرے میں ہو اور اظہار حق سے کوئی اہم نتیجہ اور فائدہ بھی حاصل نہ ہوتا ہو تو وقتی طور پر اظہار حق نہ کیا جائے اور اپنے فرائض مخفی طور ادا کرلیے جائیں جیساکہ مندرہ بالا آیت میں قرآن نے یاد دلایا ہے ایک اور تعبیر کے ذریعے سورہ نحل آیه 106 میں ہے "الا من أكره وقلبہ مطمئن بالإيمان"۔ مگر جو شخص مجبور ہو جائے (اور اپنے ایمان کے خلاف کسی چیز کا اظہار کردے) جب کہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ تاریخ اور حدیث کی اسلامی کتابوں نے عمار، ان کے والد اور والدہ کی سرگذشت کو فراموش نہیں کیا کہ وہ بت پرستوں کے چنگل میں پھنس گئے تھے۔ انہوں نے انہیں سخت اذیت میں مبتلا کر دیا اور کہتے تھے کہ اسلام سے بیزاری کا اظہار کریں۔ عمارکے مال باپ نہ مانے اور مشرکین کے ہاتھوں قتل ہو گئے لیکن عمار نے ان کے کہنے کے مطابق اظہار کر دیا بعد میں خدائے بزرگوار کے خوف سے روتے ہوئے پیغمبراکرامؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپؐ نے ان سے فرمایا: "ان عادوا لك فعد لهم"۔ اگر پھر پکڑے جاؤ تو وہ جو کہیں کہہ دینا یوں آپؐ نے عمار کے اضطراب اور گریہ کو سکون بخشا۔ جس نکتے کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے یہ ہے کہ تمام مقامات پر "تقیه" کاحکم ایک جیسا نہیں بلکہ وہ کبھی واجب ہے، کبھی حرام ہے اور کبھی مباح ہے۔ "تقیه" اس حالت میں واجب ہوتا ہے جب بغیر کسی اہم فائدے کے انسان کی جان خطرے سے دوچار ہو لیکن جهاں "تقيه"باطل کی ترویج، لوگوں کی گمراہی اور ظلم وستم کی تقویت کا باعث ہو وہاں حرام اور ممنوع ہے۔ اسی بنیاد پر اس سلسلے میں کیے گئے تمام اعتراضات کا جواب دیا جائے گا۔ حقیقت میں اعتراض کرنے والے تحقیق کرتے تو انہیں پہ پتا چلتا کہ یہ شیعوں کا ہی عقیدہ نہیں بلکہ مسئلہ "تقیه" اپنی جگہ پرایک قطعی حکم عقل ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔(بحوالہ:اقتباس از کتاب آئین ما ص 364) دنیا کے تمام عقلمند جب کبھی اپنے آپ کو اسی دوراہے پر پاتے ہیں جہاں یا تو انہیں اپنے عقیدے کو چھپانا پڑتا ہے یا عقیدے کا اظہار کرکے اپنی جان، مال اور عزت کو خطرے سے دوچار کرنا پڑتا ہے تو اگر عقیدے کا اظہار کرتا جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی کی قیمت رکھتا ہو تو وه فداکاری کی راہ کو درست سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کا واضح فائدہ نظرنہ آئے تو پھر عقیدے کو چھپانا بہتر سمجھتے ہیں۔

"تقیه"مقابلے کی دوسری صورت

مذہبی، اجتماعی اور سیاسی مقابلوں کی تاریخ میں ایسے واقعات درپیش آتے ہیں کہ جب ایک حقیقت کا دفاع کرنے والے کھلم کھلا مقابلہ کریں تو وہ خود، ان کا نظریہ، مکتب اور مذہب نابودی کا شکار ہو جائے یا کم از کم خطرے میں پڑ جائے۔ اس کی مثال بنی امیہ کی غاصب حکومت کے زمانے میں شیعیان علیؑ کی حالت ہے۔ ایسے موقع پر صحیح اور عاقلانه راه یہ ہے کہ اپنی توانائیاں ضائع نہ کی جائیں اور اپنے مقدس مقاصد و اہداف کے لئے غیر واضح اور مخفی طور پر مقابلہ جاری رکھا جائے۔ "تقيه" درحقیقت ایسے مکاتب فکر اور ان کے پیروکاروں کے لئے ایسے لمحات میں مقابلے کی ایک تبدیل شده شکل کا نام ہے۔ یہ طریقہ انہیں تباہی سے بچا سکتا ہے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع دیتا ہے۔ جو لوگ بے سوچے سمجھے "تقیه" پر قلم بطلان پھیر دیتے ہیں نجانے ایسے مواقع کے لئے ان کے پاس کیا طریق کار ہے۔ کیا نابود اور ختم ہوجانا اچھا ہے یا مقابلے کو صحیح اور منطقی صورت میں باقی رکھنا ۔ دوسری راہ کو "تقیه" کہتے ہیں اور پہلی صورت کو کوئی شخص میں تجویز نہیں کر سکتا۔

29
3:29
قُلۡ إِن تُخۡفُواْ مَا فِي صُدُورِكُمۡ أَوۡ تُبۡدُوهُ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
کہیے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اسے چھپائے رکھو یا آشکار کر دو خدا (بہر حال) اسے جانتا ہے او ر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے وہ اس سے آگاہ ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیت میں کفار سے تعاون و دوستی کرنے اور ان پر اعتمار و بروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں البته "تقیه" کے مقام کے لئے اس حکم میں استثناء رکھا گیا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ بعض مواقع پر تقینہ کا نام لے کر غلط طور پر کفار سے دوستی کر لیں یا اس میں اپنا سرپرست بنا لیں دوسرے لفظوں میں تنقید کے مفہوم سے غلط فائدہ اٹھائیں اور اس کا نام لے کر دشمنان اسلام سے تعلقات استوار کر لیں اس لیے محل بحث آیت میں ایسے افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خداوند تعالٰی کے لامتناہی علم کو فراموش نہ کریں کیونکہ خداوند تعالٰی تو سینوں میں چھپے ہوئے اسرار سے ظاہری امور کی طرح واقف ہے۔ درحقیقت یہ آیت لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے کہ خداوند تعالٰی دلوں کے رازوں کو جانتا ہے، یہ اشاره کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اسرار سے آگاہ ہے بلکہ یہ تو اس کے علم بےپایاں کا ایک مختصر سا گوشہ ہے اس کا علم تو زمین اور آسمانوں کی وسعتوں پر محیط ہے اور اس کے علاوہ وہ توانا بھی ہے اور گناہگاروں کو سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے " والله على كل شيء قدير"۔

30
3:30
يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٖ مُّحۡضَرٗا وَمَا عَمِلَتۡ مِن سُوٓءٖ تَوَدُّ لَوۡ أَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهُۥٓ أَمَدَۢا بَعِيدٗاۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ
وہ دن کہ جب ہر شخص اپنے انجام دیئے ہوئے نیک کام کو موجود پائے گا اور خواہش کرے گا کہ (کاش) اس کے اور اس کے برے کاموں کے درمیان زیادہ زمانی فاصلہ ہوتااور خدا تمہیں (اپنی نافرمانی) سے ڈراتا ہے اور اس کے باوجود اللہ تمام بندوں پر مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت روزِ قیامت نیک و بد اعمال کے حاضر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ آیت کہتی ہے: تمام لوگ بلا ستتثناء جو بھی نیک وبد انجام دے چکے اُس دن موجود پائیں گے بس فرق یہ ہو گا کہ نیک اعمال کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور بُرے اعمال دیکھ کر وحشت وپریشانی میں مبتلا ہو جائیں گے اور چاہئیں گے کہ یہاں سے دُور رہیں۔ لغت میں "امد" کا معنی ہے "محدود زمانہ "ابد" اور "امد" میں فرق یہ ہے کہ "ابد" غیر محدود زمانے کو کہتے ہیں اور "امد" محدود زمانے کو اور اکثر اوقات "امد" انتہائے زمانہ کے مفہوم میں آتا ہے اگرچہ بعض اوقات مطلقاً "محدود زمانہ" کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں بہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ گنہ گار آرزو کریں گے کہ ان کے اور ان کے بُرے اعمال کے درمیان زیادہ زمانے کا فاصلہ ہو اور یہ اپنے کردار سے ان کی انتہائی بیزاری کا اظہار ہے کیونکہ تنفر اور بیزاری۔ کے اظہار کے لئے مکانی فاصلے کی نسبت زمانی فاصلہ زیادہ موزوں بلکہ مکانی فاصلے میں حاضر ہوجانے کا احتمال زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ زمانی فاصلے میں اس کا احتمال بالکل نہیں ہے مثلاً عالمی جنگلوں کے دوران میں جو شخص میدان جنگ سے دور زندگی بسر کرتا تھا وہ بھی تھوڑا بہت پریشانی اور اضطراب کا شکار ہوتا تھا۔ لیکن جو لوگ زمانی اعتبار سے ان جنگوں مسے دور ہیں انہیں ان سے پریشانی کا کوئی احساس نہیں۔ بعض مفسرین نے اگرچہ "امد" کو یہاں مکانی فاصلے کے مطہوم میں لیا ہے لیکن لغت میں ظاہراً یہ لفظ اس معنی کے لئے نہیں پہنچا۔ جسے گنہ گار تو خداوند تعالی لوگوں کو اپنے حکم کی نافرمانی سے ڈراتا ہے اور پھر بندوں پر اپنی مہربانی کا ذکر کتا ہے یوں لگتا ہے کہ آیت کے یہ دونوں حصے سنت قرآنی کے مطابق خوف اور امید کا ایک امتزاج ہیں لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ دوسرا حصہ " واللہ روف بالعباد"۔ پہلے حصے "ویحذرکم اللہ نفسہ"۔ کے لئے تاکید ہو۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہیے کہ میں تجھے اس کام کے خطرناک انجام سےڈراتا ہوں اور چونکہ میں تجھ پر مہربان ہوں لہذا تجھے خطرے سے باخبر کر رہا ہوں۔ اگر مجھے تجھ سے محبت نہ ہوتی تو تجھے اس خطرے سے آگاہ نہ کرتا۔

تجسم اور حصور اعمال قرآن کی نظر میں

محل بحث آیت میں قرآن وضاحت سے قیامت کے دن اعمال کے مجسم ہوتے اور حاضر ہونے کے امر کو پیش کرتا ہے۔ "تجد" وجدان ـپانا)، ضد ہے۔"نقدان" (نابود ہونا) کی۔ "خبر" اور "سوء" دونوں الفاظ یہاں نکرہ کی صورتے میں ہیں جو عمومی مفہوم دیتے ہیں یعنی روز قیامت انسان اپنے اچھے برے اعمال چاہے کم مقدار میں ہی کیوں نہ ہوں اپنے حاضر پائے گا۔ بعض چاہتے ہیں کہ اس آیت کی اور اس جیسی دیگر آیات کی یہ توجہیہ کریں کہ اعمال کے حضور سے مراد یہ ہے کہ ان کی جزا یا سزا حاضر ہو گی یا اس سے مراد اعمال نامہ ہے کہ جس میں تمام اعمال ثبت ہوں گے لیکن واضح ہے کہ یہ توجہیات آیت کے ظاہری مفہوم سے میل نہیں کھائیں کیونکہ آیت وضاحت سے بتاتی ہے کہ قیامت کے دن انسان خود عمل کو موجود پائے گا اور آیت میں ہے گنہ گار آرزو کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے انجام دیے ہوئے برے عمل کے درمیان جدائی پیدا ہو جائے یہاں بھی خود عمل زیر بحث ہے کہ کہ نامہ اعمال اور نہ ہی عمل کی جزا وسزا۔ اس ضمن میں دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ گنہ گار پسند کرے گا کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان زیادہ فاصلہ ہو جائے گا اور اپنے عمل کی نابودی کی آرزو ہرگز نہیں کرے گا۔ یہ امر نشاندہی کرتاہے کہ اعمال کی نابودی اور خاتمے کا امکان نہیں ہے۔ اسی بناء پر وہ اس کی تمنا نہیں کرے گا۔ بہت سی دوسری آیات بھی اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔ مثلاً سورہ کہف کی آیت 49میں ہے۔ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا "قیامت کے دن گنہ گار اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائی گے اور خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا۔" سورہ زلزال کی آیہ 7اور 8یوں ہے: فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُO وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُO "جو شخص نیک یا برا عمل انجام دے گا، کتنا ہی کم ہو اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔" جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ بعض مفسرین کبھی کبھار ان آیات میں لفظ "جزا" کو "مقدر" مانتے ہیں حالانکہ یہ آیات کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہے۔ بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا دوسری دنیا کی کھیتی ہے اور انسان کا عمل اس سونے کی طرح ہے جسے کہ ان زمین میں ڈالتا ہے پھر اسی دانے میں رشد اور نشوونما پیدا کرتی ہے اور اسی دانے کو بہت سے اضافے کے ساتھ اٹھاتا ہے۔ انسان کے اعمال میں بھی بہت سی تبدیلیاں اور تغیرات رونما ہوں گے اور پھر وہ خود اس کی طرف پلٹ آئیں گے اور یہ عمل قیامت کا لازمہ ہے۔ جیسا کہ خداوند عالم سورہ شوریٰ آیہ 20میں فرماتا ہے: مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ "جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اس کی کھیتی میں ہم اضافہ کریں گے۔" بعض دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہاں کے نیک عمل دوسرے جہان میں نور اور روشنی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ منافقین اس نور کے لئے مومنین سے تقاضا کریں گے اور کہیں گے: "انظرونا نقتبس من نور کم" ٹھہرو! تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھالیں جواب میں ان سے کہا جائے گا: "ارجعوا وراء کم فالتمسوا نوراً۔" لوٹ جاؤ اور دنیا میں جا کر یہ نور حاصل کرو۔ (حدید۔12) یہ اور اس جیسی بہت سی آیات بتاتی ہیں کہ قیامت کے دن ہم اپنے اسی عمل کو کامل تر صورت میؒں پائیں گے۔ اس کا نام تجسم اعمال ہے جس کے علماء اسلام قائل ہیں۔ اسلام کے عظیم پیشواؤں سے اس ضمن میں بہت سی روایات منقول ہیں جو اسی مفہوم پر وکالت کرتی ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک کو نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایک شخص نے پیغمبر اسلامؐ سے نصیحت کی فرمائش کی تو آپؐ نے فرمایا: "لا بدلک یا قیس! من قرین یدفن معاک وھو حی وانت میّت فان کان کریماً اکرمک وان کان لءیما اسلمک ثم لا یحشر الا معک ولا تحشر الامعہ ولا تسئل الا عنہ فلا تجعلہ الا صالحاً فانہ ان صلح انست بہ وان فسد لا تستر حش الا منہ وھو فعلک۔" "اس سے سفر نہیں کہ تیرا ایک ہم نشین ہے جو موت کے بعد تیرے ساتھ ہی دفن ہو گا لیکن وہ زندگہ ہو گا اور تو مردہ۔ اگر وہ نیک اور محترم ہوا تو تیرا احترام اور عزت کرے گا اور اگر وہ پست اور کمینہ ہوا تو تجھے حوادث کے سپرد کردے گا۔ وہ تیرے علاوہ کسی اور کے ساتھ محشور نہیں ہو گا اور تو بھی میدان قیامت میں اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں آئے گا۔ تجھ سے اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ لہذا کوشش کرو کہ اسے بہتر شکل میں انجام دو کیونکہ وہ درست ہوا تو تو اس سے مانوس رہے گا ورنہ اس کے علاوہ کسی اور سے تجھے وحشت نہ ہو گی اور وہ تیرا عمل ہے۔(بحوالہ: بحار، چھاپ کمپانی، جلد2، ص257) اس بحث کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ اعمال کی جزا وسزا کی کیفیت کے بارے میں تحقیق کی جائے۔

جزا وسزا کے بارے میں علماء کے نظریات

اعمال کی جزا اور سزا کے بارے میں علماء کے مختلف عقائد ونظریات ہیں جو یہاں بیان کیے جاتے ہیں: ۱۔بعض کا عقیدہ ہے کہ اعمال کی جزا اس دنیا کی جزا وسزا کی طرح طے شدہ امور کی مانند ہے۔ یعنی جیسے اس دنیا میں ہر بُرے کام کے لئے قانون بنانے والوں کی طرف سے ایک سزا معین ہے اسی طرح خدا نے بزرگ وبرتر نے ہر عمل کے لئے ایک خاص سزا یا جزا معین کررکھی ہے۔ یہ نظریہ اجر، مزدوری اور مقرر شدہ سزاؤں کا سا ہے۔ ۲۔بعض کا اعتقاد ہے کہ تمام سزائیں اور جزائیں نفس اور روحِ انسانی کی پیدا وار ہیں جنہیں انسانی روح بغیر اختیار کے اس دنیا میں پیدا کرتی ہے کیونکہ نیک اور بد اعمال روحِ انسانی میں اچھے اور برے ملکات پیدا کر دیتے ہیں۔ اور یہ ملکات انسانی ضمیر اور ذات کا جز بن جاتے ہیں اور ان ملکات میں سے ہر ایک اپنے حسب حال نعمت یا عذاب کی ایک شکل بنا لیتا ہے۔ جن لوگوں کا باطن اس دنیا میں اچھا ہے ان کا تعلق اچھے افکار وتصورات سے رہتا ہے اور ناپاک افراد سوتے جاگتے باطل افکار اور بُرے تصورات میں مشغول رہتے ہیں یہی ملکات قیامت کے دن نعمت وعذاب اور راعت وتکلیف کی تخلیق کریں گے دوسروں لفظوں میں جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی سزاؤں کے بارے میں جو کچھ بھی ہم پڑھتے ہیں وہ انسان کی اچھی بُری صفات کی مخلوق ہیں کوئی دوسری چیز نہیں۔ ۳۔بزرگ علماء اسلام نے ایک اور راہ انتخاب کی ہے اور اس کے لئے آیات وروایات میں سے بہت سے شواہد پیش کئے ہیں، ان کے موقف کا خلاصہ یہ ہے: ہمارا ہرکردار، اچھا ہو یا بُرا ایک دنیاوی شکل وصورت رکھتا ہے جس کا ہم مشاہد کرتے ہیں اور ایک اس کی اُخروی شکل وصورت ہے جو اس وقت عمل میں چھپی ہوئی ہے اور قیامت کے دن تغیر وتبدل کے بعد وہ اپنی دنیاوی شکل وصورت کھو بیٹھے گا اور ایک نئی شکل میں سامنے آئے گا جو عمل کرنے والے کے لئے راحت وسکون یا آزاد وتکلیف کا باعث ہو گی۔ ان تینوں مذکورہ نظریات میں سے آخری نظریہ بہت سی قرآنی آیات سے مطابقت اور موافقت رکھتا ہے۔ ان کے اعمال صلاحیتوں اور توانائیوں کی مختلف شکلیں ہیں۔ قانون بقائے مادہ کی ترمیم شدہ شکل کے مطابق توانائی (ENERGY)کبھی ختم نہیں ہوئی اور ہمیشہ اس دنیا میں رہتی ہے اگرچہ ظاہراً ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ختم ہو چکی ہے۔ ان اعملا کی بقاء اور ابدیت کی وجہ سے قیامت میں ہر شخص حساب کتاب کے وقت اپنے تمام اعمال دیکھ سکے گا چاہے اسے تکلیف ورنج ہو یا آرام وسکون۔ انسانی ذرائع اور وسائل ابھی تک اس قابل نہیں ہو سکے کہ وہ چند ایک کے سوا گذشتہ لمحات کے بارے میں حقائق معلوم کر سکیں۔ (تشریحی نوٹ: ماضی قریب میں ہمارے سائنسدانوں نے "اینفراروٹ" نامی ایک دوربین ایجاد کی ہے جو گزرے ہوئے چند لمحوں کی تصویر لے سکتی ہے۔یہ نئی مشین ہیٹ سسٹم Heat System))کے ذریعے کام کرتی ہے۔ یہ اجسام سے نکلنے والی لہروں کو جذب کرتی ہے اور مخصوص ٹرمو گرام کے ذریعے انہیں سرد اور گرم دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے پھر انہیں واضح یا تاریک تصویروں کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ (روز نامہ کیہان، شماروہ ۷۸۸۸، سال ۱۳۴۸) اس ذریعے سے جرم کے وقوع اور کیفیت کو معلوم کیا جا سکتا ہے اور مجرموں کے گذشتہ کردار کی تصویر ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور ان کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوجانا ہے)۔ لیکن مسلم ہے کہ اگر کوئی کامل تر آلہ وجود میں آجائے یا نگاہ اور ادراک زیادہ کامل ہوں تو ہو سکتا ہے کہ جو کچھ گذشتہ زمانے میں ہو چکا ہے۔ ہم اسے محسوس کر سکیں اور جان سکیں۔ البتہ اس میں بھی کوئی مضائفہ اور مانع نہیں کہ بعض جزائیں اور سزائیں طے شدہ قوانین کے حوالے سے ہوں۔

تجسم اعمال آج کے علم کی روشنی میں

گذشتہ اعمال کے مجسم ہونے کے امکان کے ثبوت کے لئے ہم آج کے طبیعات کے مسلمہ اصول سے استفادہ کر سکتے ہیں جس کے مطابق مادہ توانائی میں تبدیل ہوجاتا ہے مادہ اور توانائی کے بارے میں طبیعات(Phaysics)کا جدید نظریہ یہ ہے کہ مادہ اور توانائی ایک حقیقت کے دو مظہر ہیں ، مادہ متراکم اور منضبط توانائی ہے جو مخصوس حالات میںتوانائی میں بدل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک گرام مادہ میں چھپی ہوئی توانائی میں (Explosion) کی طاقت تیس ہزار ٹن ڈائنا میٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نتیجہ ہوا کہ مادہ اور توانائی ایک ہی حقیقت کے دو مختلف روپ ہیں اور ان کی بقاء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ بعید نہیں کہ پھیلی ہوئی توانائیاں دوبارہ مل جائیں اور جسم کی صورت اختیار کر لیں۔ اصلاح اور راستی کی راہ پر صرف شدہ توانائیاں اور ظلم و جود کے راستے پر صرف شدہ توانائیاں آپس میں مل کر قیامت کے دن ایک خاص جسمانی صورت میں ڈھل سکتی ہیں۔ اس میں کوئی مانع نہیں کہ نیک اعمال جاذبِ نظر اور خوبصورت مادی نعمتوں کی شکل اختیار کر لیں اور برے اعمال سزا اور عذاب کے سانچوں میں ڈھل جائیں۔

31
3:31
قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
کہہ دیجئے ! اگر خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تاکہ خدا بھی تمہیں اپنا دوست بنا لے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
3:32
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ
کہہ دیجئے ! خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اگر روگردانی کریں تو خدا کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اِن آیات کے بارے میں مجمع البیان اور المنار میں دو شان نزول مذکور ہیں: پہلی : یہ کہ کچھ افراد نے پیغمبر اکرمؐ کے سامنے پروردگار کی محبت کا دعویٰ کیا اور جب کہ وہ احکام الہٰی پر کم عمل کرتے تھے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔ دوسری: یہ کہ نجران کے کچھ عیسائی مدینے میں پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی گفتگو کے دوران میں کہنے لگے ہم اگر حضرت مسیح(ع) کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہماری خداسے محبت ہے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا گیا۔

تفسیر حقیقی محبت

پہلی آیت کہتی ہے کہ محبت ایک قلبی تعلق ہی کا نام نہیں بلکہ انسان کے عمل میں اس کے آثار دکھائی دینے چاہئیں۔ جو شخص پروردگار سے محبت کا مدعی ہے اس کے لئے پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ پیغمبر اور اللہ کے بھیجے ہوئے کی پیروی ” إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی“ حقیقت میں محبت کا یہ فطری اثر ہے کہ وہ انسان کو محبوب اور اس کی خواہشات کی طرف کھینچ لے جاتی ہے البتہ کمزور محبتیں بھی ہوسکتی ہیں کہ جن کی شعاع دل سے باہرنہ پر سکے لیکن ایسی محبتیں اس قدر حقیر ہیں کہ انہیں محبت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ایک حقیقی محبت یقیناً عملی آثار کی حامل ہوتی ہے اور ایسی محبت محب کا محبوب سے ضرور تعلق قائم کر دیتی ہے، محبوب کی آرزووٴں کی راہ میں ثم بخش ہوتی ہے اور ا س کی آرزووٴں کی تکمیل کے لئے محب کو سعی و کوشش کے لئے ایستادہ کر دیتی ہے۔ اس بات کی دلیل اور وجہ واضح ہے کیونکہ انسان کا کسی سے عشق اور لگاوٴ یقینا اس لیے ہے کہ اسے اس میں کوئی کمال نظر نہیں آتا ہے۔ انسان کبھی کسی ایسی چیز سے عشق و محبت نہیں کرتا جس میں کوئی نقطہٴ کمال نہ ہو، اس لئے خدا سے انسان کی محبت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے کمال کا منبع اور سرچشمہ ہے، اس لئے مسلم ہے کہ ایسی ہستی کے تما م پروگرام اور احکام بھی کامل ہوں گے، ان حالات میں کیسے ممکن ہے کہ جو انسان تکامل و ارتقاء و ارتقاء کا حقیقی عاشق ہو وہ ان پروگراموں سے منہ پھیر لے اور اگر وہ روگرداں ہوجاتا ہے تو یہ اس کے عشق و محبت کی عدم صداقت کی نشانی اور علامت ہے۔ یہ آیت نجران کے عیسائیوں اور زمانہٴ رسول کے مدعیان محبت کے بار ے میں ہی نہیں بلکہ یہ تمام ادوار کے لئے اسلام کی ایک منطق ہے۔ وہ لوگ جو رات دن عشق الٰہی یا پیشوایان اسلام مجاہدین ِ راہ خدا اور صالحین سے محبت کا دم بھرتے ہیں لیکن عمل کی دنیا میں ان سے کچھ بھی مشابہت نہیں رکھتے ان کی حیثیت جھوٹے دعویداروں سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ لوگ سر تا پا گناہوں سے آلودہ ہیں اور اس کے باوجود اپنے دل کو خدا، رسول، امیر المومنین (ع) اور عظیم پیشواوٴں کے عشق سے لبریز سمجھتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان، عشق اور محبت کا تعلق صرف دل سے ہے اور عمل سے ان چیزوں کا کوئی ربط نہیں وہ اسلام کی منطق سے بالکل لاتعلق ہیں۔ معانی الاخبار میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ”ما احبّ اللہ من عصاہ “ جو گناہ کرتا ہے وہ خدا کو دوست نہیں رکھتا۔ اس کے بعد آپ (ع) نے یہ مشہور اشعار پڑھے: تعصی الالہ و انت تظھر حبّہ ھٰذا لعمرک فی الفعال بدیع لو کان حبّک صادقاً لاطعتہ انّ المحب لمن یحب مطیع یعنی تو خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے باوجود اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ مجھے اپنی جان کی قسم یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ اگر تیری سچی محبت ہوتی تو تُو اس کی اطاعت کرتا۔ کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس کے حکم کی پیروی کرتا ہے۔ ” یُحْبِبْکُمْ اللهُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔“ قرآن پاک اس جملہ میں کہتا ہے: اگر تم نے خدا سے محبت رکھی اور اس کے آثار تمہارے عمل اور زندگی پر مرتب ہوئے تو خدا تمہیں دوست رکھے گا اور اس دوستی کے اثرات حسبِ حال تم پر آشکار ہوں گے، وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اپنی رحمت تمہارے شامل حال کردے گا۔ خدا کی طرف سے متبادل دوستی کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ وہ ایسی ہستی ہے جو ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے اور بحر بےکنار ہے، جو موجود بھی تکامل و ارتقاء کی راہ میں قدم اٹھائے گا اس کے اس پسندیدہ عمل کی وجہ سے خداوند تعالی بھی اس سے محبت کا رشتہ قائم کرے گا۔ اس آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محبت ایک طرفہ نہیں ہوسکتی کیونکہ ہر محبت محب کو دعوت دیتی ہے کہ وہ عملاً محبوب کی حقیقی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس طرح محبوب کو بھی اس سے ضرور محبت ہو گی۔ ممکن ہے یہاں سوال کیا جائے کہ اگر محب ہمیشہ محبوب کے فرمان کو بجا لائے تو پھر اس کے ذمہ تو گناہ ہی کو ئی نہ ہو گا کہ جسے بخشے جانے کی بات کی جائے لہٰذا َیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ کی یہاں کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ممکن ہے یہ جملہ گذشتہ گناہوں کی بخشش کی طرف اشارہ ہو۔ دوم یہ کہ محب محبوب کی ہمیشہ نافرمانی نہیں کرتا لیکن شہوات و خواہشات کی سرکشی کی وجہ سے ممکن ہے کبھی کبھی اس سے لغزش بھی سر زد ہو جائے جو ہمیشہ فرماں بردار رہنے کی وجہ سے بخش دی جائے گی۔

دین اور محبت

پیشوایان اسلام سے متعدد روایات میں منقول ہے کہ دین محبت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان میں سے ایک روایت خصال اور کافی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”ھل الدین الاّ الحبّ ، ثم تلا ھٰذہ الاٰیة: ” اِنْ کنتم تحبّون اللہ فاتّعونی“۔ کیا دین محبت کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”قل اطیعوا اللہ و الرسول“۔ ان روایات میں سے مراد یہ ہے کہ روح دین اور حقیقت دین اصل میں ایمان باللہ اور عشق الہٰی ہی ہے۔ وہ ایمان و عشق کہ جس کی شعاع تمام وجود انسانی کو روشن کر دیتی ہے اور اس کے تمام اعضاء جوارح اور قوتِ بدن اس کے زیراثر آجاتے ہیں اور اس کا ظاہری اور روشن اثر یہ ہے کہ انسان فرمانِ خدا کی اطاعت کرنے لگتا ہے۔ ”اطیعوا اللہ و اطیعوا الرّسول “۔ اس آیت میں گذشتہ آیت کی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: چونکہ تم پروردگار کی محبت کے دعویدار ہو اِس لئے فرمان خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور اگر تم نے اس سے روگردانی کی تو یہ پروردگار سے محبت نہ کرنے کی نشانی ہو گی اور خدا ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ”فان تولّوا فانّ اللہ لا یحب الکافرین“۔ ضمناً ”اطیعوا اللہ و اطیعوا الرّسول“۔سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور رسول کی اطاعت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور خدا کی اطاعت رسول کی اطاعت ہے۔ اسی لئے گذشتہ آیت میں صرف اطاعت رسول کی بات کی گئی ہے یہاں خدا اور رسولؐ دونوں کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے۔ ”فان تولّوا فانّ اللہ لا یحب الکافرین“۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اگر یہ لوگ روگردانی کریں اور دوستی کے تقاضوں پر عمل نہ کریں تو یہ اظہار محبت میں سچے نہیں ہیں اور خدا پر ایمان نہیں لائے۔ لہٰذا فطری بات ہے کہ خدا ایسے اشخاص کو دوست نہیں رکھتا۔

33
3:33
۞إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحٗا وَءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمۡرَٰنَ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
اللہ نے آدم ،نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو سب جہانوں پر منتخب کر لیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
3:34
ذُرِّيَّةَۢ بَعۡضُهَا مِنۢ بَعۡضٖۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(جو پاکیزگی تقویٰ اور فضیلت کے اعتبار سے) وہ ایسے فرزند (اور خاندان) تھے کہ بعض کو بعض میں انتخاب کیا گیا اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت سے حضرت مریم اور ان کے آباوٴ اجدادکی داستان شروع ہوتی ہے۔ ”اصطفیٰ“ لغت کے لحاظ سے ”صفو“ (بر وزن ”عفو“) سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”خالص چیز“ اہل عرب صاف و شفاف پتھرکو بھی ”صفا “ خالص اور پاکیزہ ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں، اس بناء پر ”اصطفاء“ کا معنی ہے” خالص چیز کے ایک حصّے کو منتخب کرنا “۔ قرآن حکیم مندرجہ بالا آیت میں کہتا ہے: خدا نے آدم، نوح، خاندان ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر منتخب کرلیا ہے۔ یہ چناوٴ ممکن ہے تکوینی طور پر بھی ہو اور تشریعی اعتبار سے بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقت کو شروع ہی سے ممتاز قرار دیا ہے اگرچہ اس امتیاز کے باوجود راہ حق کے انتخاب میں مجبور نہ تھے بلکہ اپنے ارادہ اور اختیار سے یہ راستہ طے کررہے تھے لیکن ان کی اس مخصوص خلقت و آفرینش نے ان میں نوع بشر کی ہدایت کی صلاحیت پیدا کردی تھی اور پھر فرمان خدا کی اطاعت، تقویٰ و پرہیز گاری اور انسانوں کی راہنمائی کے راستے میں جدو جہد کرنے کی وجہ سے ایک طرح کا اکتسابی امتیاز بھی انہیں حاصل ہو گیا جو ان کے ذاتی امتیاز سے مل گیا اور وہ برگزیدہ انسانوں کی حیثیت سے ظاہر ہوئے۔

پیغمبروں کا امتیاز

یہاں یہ سوال سامنے آتاہے کہ انبیاء کو حاصل ہونے والا ذاتی امتیاز اگر انہیں راہ حق پر چلنے کے لئے مجبو ر نہ کرتا تھا اور یہ امر اختیار و ارادہ کے مسئلے کے بھی منافی نہیں بہرحال ایک طرح کی تبعیض تو ضرور ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی خلقت جو صحیح نظام سے ہم آہنگ ہو، اس میں ایسا فرق قابل قبول ہوتا ہے (غور کیجئے گا) مثلاً انسانی بدن ایک منظم خلقت ہے اور اس کے نظام کو صحیح رکھنے کے لئے اعضاء و جوارح میں فرق ہونا چاہئیے ورنہ انسانی بدن کے تمام خلیے CELLSٓٓآنکھ کے اندرونی پردوں کی سی نزاکت، پنڈلی کی ہڈی کے خلیوں جیسی طاقت، دماغ کے خلیوں کی سی حساسیت یا دل کے جیسی دھڑکن رکھتے ہوتے تو یقیناً بدن کی عمارت گر جاتی۔ ضروری ہے کہ دماغ جیسے خلیے بدن میں ہوں جو جسم کے عضلات اور اعضاء کی رہبری کی ذمہ داری سنبھالیں ہڈیوں کے محکم خلیوں کو بھی ہونا چاہیئے جو بدن کی استقامت کے ضامن ہوں، حساس خلیے بھی چاہئیں جو چھوٹے چھوٹے حوادث سے آگاہ ہوں اور متحرک خلیے بھی درکار ہیں جو حرکت پیدا کریں۔ کوئی شخص نہیں کہتا کہ تمام جسم و دماغ اور مغز کیوں نہیں یا مثلاً گھاس کے خلیے پھول پتوں کی سی نزاکت، لطافت اور زیبائی کیوں نہیں رکھتے کیونکہ یہ کیفیت تو گھاس کی ساخت کو ہی ختم کر دیتی۔ قابل توجہ نکتہ یہاں یہ ہے کہ ذاتی امتیاز جو ایک منظم نظام کے لئے انتہائی ضروری ہے، آسان کام نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری اور مسئولیت منسلک ہے جو اتنی ہی عظیم ہے جس قدر یہ امتیاز زیادہ ہے، یہ بھاری ذمہداری خلقت کے ترازو کے دونوں پلڑوں میں اعتدال برقرار رکھتی ہے یعنی جس قدر پیغمبر اور ہادی نوع بشر سے امتیاز رکھتے ہیں اسی قدر ذمہ داری اور مسئولیت بھی رکھتے ہیں اور دوسروں کی ذمہ داری بھی اپنے امتیاز کے لحاظ سے کم ہے۔ علاوہ از ایں بار گاہ الہٰی میں تقرب کے لئے انسان کے ذاتی امتیازات ہرگز کافی نہیں بلکہ انہیں اکتسابی امتیازات کے ہمراہ ہونا چاہئیے۔

چند اہم نکات

(۱) آل ابراہیم: آیت خدا کے تمام برگزیدہ بندوں کا ذکر نہیں کررہی بلکہ ان میں سے صرف بعض کی طرف اشارہ کر رہی ہے لہٰذا اگر بعض انبیاء جو مذکورہ خاندانوں سے نہیں، یہ آیت ان کے برگزیدہ نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے ۔ ساتھ یہ بھی توجہ رہے کہ آل ابراہیم میں موسیٰ (ع) بن عمران (ع) ، پیغمبر اسلام اور آپ کے خاندان کے بر گزیدہ افراد بھی شامل ہیں کیونکہ وہ سب اولاد ابراہیم میں سے ہیں۔ ۲۔ لفظ آل ”کا مفہوم: مفردات میں راغب نے لکھا ہے کہ ”اٰل“ ”اہل“ سے لیا گیا ہے اور فرق یہ ہے کہ ”اٰل“ عام طور پر بزرگ اور شریف افراد کے نزدیکی رشتہداروں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ”اہل“زیادہ وسیع معنی نہیں رکھتا ہے اور سب کے لئے بولا جاتا ہے، اسی طرح ”آل“ کی اضافت انسانوں کے لئے ہوتی ہے لیکن ”اہل“ُ کی اضافت زمان و مکان اور دوسری ہر طرح کی چیزوں کے لئے مستعمل ہے۔ مثلاً کہتے ہیں ”اہل شہر“ لیکن ”آل شہر“ کہتے۔ ۳۔ آل عمران اور آل ابراہیم کے مفہوم کی حدود: بغیر کہے ہی واضح ہے کہ آل ابراہیم اور آ ل عمران کو چن لینے سے یہ مراد نہیں کہ ابراہیم اور عمران کی ساری اولاد برگزیدہ ہے کیونکہ ممکن ہے ان کی اولاد میں کفار تک موجود ہوں بلکہ اس سے مراد ان کے خاندان او ر دود مان سے کچھ برگزیدہ ہستیاں ہیں۔ ۴۔ عمران کون ہیں: مندرجہ آیت میں مذکور ”عمران“ حضرت مریمؑ کے باپ ہیں حضرت موسیٰؑ کے والد نہیں کیونکہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی عمران کا نام آیاہے وہاں حضرت مریمؑ کے والد ماجد ہی مراد ہیں بعد کی آیات جو حضرت مریمؑ کے حالات کے بارے میں ہیں وہ بھی اس بات کی شاہد ہیں۔ ۵۔ عصمت انبیاء اور آئمہ دلیل: اہل بیت علیہم السلام کے حوالے سے پہنچنے والی متعددروایات، میں اس آیت سے انبیاء اور آئمہ کی عصمت پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ خداوند تعالی کبھی بھی گناہ، شرک، کفر اور فسق سے آلودہ افراد کو منتخب نہیں کرتا بلکہ ایسے لوگوں کو منتخب کرتا ہے جو آلودگیوں سے کنارہ کش اور معصوم ہوں۔ البتہ آیت سے عصمت کے متعدد مراحل بھی معلوم ہوتے ہیں۔ ۶۔ تکامل انواع پر استدلال: ماضی قریب کے بعض موٴلفین نے اس آیت سے تکامل انواع پر استدلال کیا ہے۔ ان نظر یہ ہے کہ حضرت”آدم“اوّل بشر نہ تھے بلکہ ان کے زمانے میں بہت سے انسان موجود تھے جن میں سے خداوند تعالی نے حضرت آدم (ع) کو منتخب فرما لیا اور ان کی اولاد میں سے ممتاز نسل کو وجود بخشا اس نظریہ کے حامل ”علی العالمین“ کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت آدم (ع) کے دو ر میں ”عالمین“یعنی ”انسانی معاشرہ “ موجود تھا اس لئے اس بناء پر یہ ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پہلا انسان لاکھوں سال قبل پیدا ہوا ، وہ بھی باقی حیوانات کی طرح ارتقاء اور تکامل کی منزلیں طے کرتا رہا اس لئے آدم(ع) ایک برگزیدہ انسان تھے۔ اس گفتگوکے مقابلہ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس کی وجہ سے ہم یہ سمجھیں کہ ”عالمین“ سے مراد یہاں حضرت آدم (ع) کے ہم عصر انسان تھے بلکہ ممکن ہے عالمین سے مراد یہاں تمام انسانی ادوار کے انسان ہوں۔ اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہو گا: خدا نے تمام انسانی معاشروں میں انسانوں کی طویل تاریخ میں سے جنہیں منتخب فرمایا ان میں پہلے آدم (ع)، پھر نوح(ع)، پھر آل ابراہیم “اور” آل عمران“ ہیں چونکہ یہ سب منتخب افراد مختلف زمانوں میں تھے اس سے ہم سمجھے کہ عالمین سے مراد تمام زمانوں اور ادوار کا انسانی معاشرہ ہے۔ اس سے ضروری نہیں کہ ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ حضرت آدم (ع) کے زمانے میں بہت سے انسان موجود تھے جن میں سے حضرت آدم (ع) چنے گئے تھے(غور کیجئے گا) ذرّیة بعضھا من بعض“ ”ذریت“ کا معنی ہے ”چھوٹی اولاد ۔ لیکن کبھی کبھی بلاواسطہ یا بالواسطہ کی تمام اولاد کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے(”ذریّة کا مادہ” ذرہ “بروزن (ہمّہ )ہے اور اس کا معنی ہے آفرینش اور خلق کرنا) اس آیت میں قرآن اس بات کی طرف اشا رہ کرتا ہے کہ یہ منتخب افراد، اسلام،پاکیزگی، تقویٰ اور نوع بشر کی راہنمائی کے لئے کوشش کے لحاظ سے ایک جیسے تھے اور ایک ہی کتاب کے مختلف نسخوں کی مانند تھے جیسے ان میں سے ایک دوسرے کا اقتباس لیا گیا ہو”بعضھا من بعض“۔ “وَاللّہُ سمیعٌ العلیم “ آیت کے آخر میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خداوند تعالی ان کی کوشش اور فعالیت دیکھنا ہے، ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کے اعمال سے آگاہ ہے، اس جملے میں چنے ہوئے افراد کی خداوند تعالی اور مخلوق خدا کے بارے میں شدید ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ضمنی طور پر آیت حضرت آدم (ع) کے علاوہ اوالعزم پیغمبروں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کیونکہ حضرت نوح کا ذکر تو صراحت سے موجودہے اور آل ابراہیم میں خود ابراہیم، موسیٰ (ع) عیسیٰ (ع) اور پیغمبراسلامؐ بھی شامل ہیں، نیز آل عمران میں حضرت مریم (ع) اور حضرت مسیح(ع) کی طرف مکرّر اشارہ ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ زیر نظر آیت ان کے حالات کی تفصیل کے لئے مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے۔

35
3:35
إِذۡ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ عِمۡرَٰنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِي بَطۡنِي مُحَرَّرٗا فَتَقَبَّلۡ مِنِّيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
(وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا خداوندا ! جو کچھ میرے رحم میں ہے میں اسے تیری نذر کرتی ہوں تاکہ وہ (تیرے گھر کی خدمت کیلئے) آزاد ہو۔ اور تو یہ مجھ سے قبول فرما لے کہ تو سننے اور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
3:36
فَلَمَّا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي وَضَعۡتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ وَلَيۡسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلۡأُنثَىٰۖ وَإِنِّي سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ وَإِنِّيٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
لیکن جب اسے جنم دیا تو دیکھا (تو وہ لڑکی تھی) عرض کیا خداوندا! میں نے لڑکی کو جنم دیا لیکن خدا اس سے آگاہ تھا کہ اس نے کیا جنم دیا ہے (پھر اس نے کہا) لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے (وسوسوں سے) تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

تفسیر حضرت مریمؑ کی ولادت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیت میں آل عمران کا ذکر تھا اور ان آیات میں عمران (ع) کی بیٹی مریم (ع) کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی ہے۔ ان آیات میں اس عظیم خاتون کی ولادت، پرورش اور زندگی کے دیگر اہم واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاریخ اسلامی روایات اور مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنہ اوراشیاع دو بہنیں تھیں۔ پہلی حضرت عمران کے نکاح میں آئیں حضرت عمران بنی اسرائیل کی بہت اہم شخصیت تھے۔ دوسری کو اللہ کے ایک نبی زکریا (ع) نے اپنی زوجیت کے لئے منتخب فرمایالیا۔( کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران بھی پیغمبر تھے اور ان پر بھی وحی نازل ہوتی تھی۔توجہ رہے کہ یہ عمران حضرت موسیٰ ؑکے والد نہیں۔ان دونوں میں کوئی اٹھارہ سال کا فاصلہ ہے) کئی سال گزر گئے، حسنہ کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ ایک روز وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھی تھیں دیکھا کہ ایک پرندہ اپنے بچوں کو غذا دے رہا ہے، یہ منظر دیکھا تو اولاد کی خواہش ان کے دل میں آگ کی طرح بھڑک اٹھی۔ انہوں نے خلوص ِ دل سے بارگاہ خداوندی میں بیٹے کی درخواست کی۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا یہ مخلصانہ دُعا ہدف اجابت کو پہنچی اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسنہ کے شوہر حضرت عمران کی طرف وحی کی تھی کہ انہیں ایک بابرکت لڑکا عطا کیا جائے گا۔ جو علاج مریضوں کو شفا دے گا۔ حکم خدا سے مردوں کو زندہ کرے گا اور بنی اسرائل کے لئے پیغمبری کے فرائض بھی سر انجام دے گا۔ انہوں نے یہ واقعہ اپنی بیوی حسنہ سے بیان کیا وہ حاملہ ہوئیں تو ان کا خیال تھا یہی وہ لڑکا ہے جو اس وقت ان کے رحم میں ہے۔ وہ بے خبر تھی کہ ان کے رحم میں تو اس لڑکے کی والدہ جناب مریمؑ ہیں اسی لئے انہوں نے نذر کی تھی کہ بیٹے کو خانہ خدا بیت المقدس کا خدمت گذار بنائیں گی، پیدائش ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لڑکی تھی۔ اب وہ پریشان ہوئیں۔ سوچنے لگیں کہ کیا کروں کیونکہ بیت المقدس کی خدمت تو لڑکے کیا کرتے ہیں۔ قبل ازیں کبھی کسی لڑکی کو بیت المقدس کی خدمت گزاری کے لئے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔ اب ہم آیات کی تفسیرکی طرف لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس واقعے کے آخری حصے کو قرآن نے کیسے بیان کیا ہے۔ ”اذ قالت امرات عمران.......“ اس آیت میں زوجہ عمران کی نذر کا تذکرہ ہے۔ وہ حاملہ ہوئیں تو انہوں نذر کی کہ اپنے بچے کو بیت المقدس کا خدمت گزار بنائیں گی کیونکہ اللہ نے ان کے شوہر عمران کو جو اطلاع دی تھی اس سے وہ یہ سمجھے بیٹھی تھیں کہ ان ہاں لڑکا ہو گا، اس لئے انہوں لفظ ”محرّراً“ استعمال کیا۔ اور ” محرّرة“ نہیں کہا انہوں خدا سے درخواست کی کہ وہ ان کی نذر قبول کرے ”فتقبل منّی انّک انت السمیع العلیم “۔ ” محرّر“ ”تحریر“ کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”آزاد کرنا“ اس زمانہ میں یہ لفظ ایسی اولاد کے لئے بولا جاتا تھا جو عبادت خانے کی خدمت کے لئے معین کی جائے تاکہ وہ عبادت خانے کی صفائی اور دوسری خدمات سرانجام دیں اور فراغت کے وقت پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں۔”محرّر“ ان خدمت گزاروں کو اس لئے کہتے تھے وہ ماں باپ کی ہر قسم کی خدمت سے آزاد ہوتے تھے اور عبادت خانہ کی خدمت کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے تھے۔ بعض کہتے ہیں جب بچے خدمت کے کچھ قابل ہوجاتے بالغ ہونے تک ماں باپ کی نگرانی میں خدمت سرانجام دیتے تھے اور بعد ازاں خود سے کام کرنے لگتے۔ چاہتے تو عبادت خانہ میں اپنا کام ختم کرکے باہر چلے جاتے اور چاہتے تو کام جاری رکھتے۔ ”فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّی وَضَعْتُہَا اُنْثَی“۔ اِس آیت میں بچی کی ولادت کے بعد حضرت مریمؑ کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے پریشان ہو کر کہا: خداوندا !میں نے بچی کو جنم دیا ہے اور تو جانتا ہے کہ جو نذر میں نے کی ہے اس کے لئے لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہوسکتی اور لڑکی لڑکے کی طرح ان فرائض کو انجام نہیں دے سکتی۔ ”ولیس الذکر کالا نثیٰ“۔ اس آیت میں موجود قرائن اور آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی رویات سے معلوم ہوتا ہے کہ ”الیس الذکر کالانثیٰ“۔(لڑکا لڑکی کی طرح نہیں)یہ جملہ حضرت مریم کی والدہ کا ہے نہ کہ کلام خدا ہے لیکن قاعدةً حضرت مریم کی والدہ کو کہنا چاہئیے تھا ”لیس الانثیٰ کالذکر“ لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہے ”کیونکہ انہوں نے تو لڑکی کو جنم دیا تھا نہ کہ لڑکے کو۔ اس لفظ سے ممکن ہے کہ اس جملے میں تقدیم و تاخیر ہو۔ جیساکہ اہل عرب غیر اہل عرب کے کلام میں ہوتا ہے ہو سکتا ہے وضع حمل کے وقت پیش آنے والی اچانک پریشانی کے سبب بے سمجھے یوں کہہ دیا ہو کیونکہ وہ تو لڑکے کی آس لگائے بیٹھی تھیں تاکہ وہ بیت المقدس کا خدمت گزار بنے۔ اسی رجحان کے پیش نظر ممکن ہے بے ساختہ انہوں نے پہلے بیٹے کا ذکر کیا ہو حالانکہ جملہ بندی اور مولود کا تقاضا تھا کہ وہ بیٹی کا نام پہلے لیتیں۔ آیت میں ”واللہ اعلم بما وضعت“۔ (خد ابہتر جانتا ہے کہ عمران کی بیوی نے کیا جنم دیا ہے) اصطلاح میں جملہ معترضہ ہے۔ یعنی ضرورت نہ تھی کہ مریم کی والدہ کہتی کہ خدایا! میں نے تو لڑکی کو جنم دیا ہے کیونکہ خدا تو جانتا ہی تھا کہ اس نے کیا جنم دیا ہے وہ شروع سے انعقاد نطفہ اور رحم مادر کے تمام مرحلوں سے آگاہ ہے۔ ”و انّی سمّیتھا مریم “۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریمؑ کا یہ نام ان کی والدہ کے ذریعے سے وضع حمل کے وقت ہی رکھ دیا گیا تھا، یاد رہے کہ مریم لغت میں ”عبادت گذار خاتون“ کو کہتے تھے۔ یہ نام حضرت مریم (ع) کی پاکباز والدہ کے اس انتہائی عشق اور لگاوٴ کامظہر ہے جو انہوں نے اپنے بچے کو عبادت الٰہی کے لئے وقف کرنے کے لئے تھا لہٰذا انہوں نے نام رکھنے کے ساتھ ہی خدا سے درخواست کی کہ وہ اس نومولود بچی اور اس کی آئندہ اولاد کو شیطانی وسوسوں سے بچائے رکھے اور انہیں اپنے لطف و کرم کی پناہ میں رکھے۔ ” ”وَإِنِّی اُعِیذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔“

37
3:37
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٖ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنٗا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّاۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ
اس کے پروردگار نے اس (مریم) کو خوشی سے قبول فرما لیا اور اس کے وجود (کے پودے) کو خوب اچھی طرح پروان چڑھایا زکریا کو ان کا کفیل بنایا جب زکریا وہاں داخل ہوتے خاص غذا وہاں موجود پاتے اس سے پوچھتے یہ کہاں سے لائی ہو؟ وہ کہتی یہ خدا کی طرف سے ہے خدا جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات حضرت مریمؑ کی ولادت کے بارے میں تھیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خداتعالیٰ نے مریم (ع) کو حسنِ قبول سے نوازا اور ان کی پرورش اچھے پودے کی طرح کی۔ درحقیقت جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ جناب مریم کی والدہ کو یقین نہیں آتا تھا سکہ کسی لڑکی کو خانہٴ خدا بیت المقدس کی خدمت کے لئے قبول کرلیا جائے گا لہٰذا وہ چاہتی تھیں کہ ان کے شکم میں جو بچہ ہے وہ لڑ کا ہو کیونکہ قبل از ایں کبھی کسی لڑکی کو اس مقصد کے لئے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ خداوند تعالی نے اس پاکیزہ لڑکی کو پہلی مرتبہ اس روحانی اور معنوی خدمت کے لئے قبول کرلیا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں: قبولیت کی کی نشانی یہ تھی کہ حضرت مریم (ع) بیت المقدس کی خدمت کے دوران میں ماہواری میں کبھی مبتلا نہیں ہوئیں کہ انہیں اس روحانی مرکز سے دور ہونا پڑا۔ممکن ہے اس نذر کی قبولیت اور جناب مریمؑ کا قبول بارگاہ ہونا، اس کے بارے میں ان کی والدہ کو الہام کے ذریعے مطلع کیا گیا ہو۔ ”انبات“ یعنی ”اگنا“یہ تعبیر حضرت مریمؑ کی نشوونما اور پرورش کے بارے میں ان کی معنوی، روحانی، اخلاقی پہلووٴں کے تکامل اور اتقاء کی طرف اشارہ ہے ضمناً یہ جملہ ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کا کام ”انبات“ یعنی اگانا ہے پھولوں اور پودوں کے بیج میں اہل بیت اور استعداد مخفی ہوتی ہے اور باغبان کی نگرانی میں پرورش پاتے ہیں اور خود کو آشکار کرتے ہیں، اسی طرح انسانی وجود میں بھی ہر قسم کی انسانی صلاحتیں رکھ دی گئی ہیں اگر انسان اپنے تئیں تربیت کے لئے خدائی نمائندوں اور باغِ انسانیت کے باغبانوں کے سپرد کردے تو وہ بہت جلد تربیت حاصل کر لیتا ہے اور اس کی پنہاں استعداد ظاہر ہوجاتی ہے اور یوں ”انبات“ کا مفہوم حقیقت کا روپ دھار لیتاہے۔ ”وکفلھا زکریّا“۔ ” کفالت“ کا معنی ہے ”کسی چیز کو دوسری میں ضم کرنا“ اسی مناسبت سے ان افراد کو کافل ” یاکفیل “ کہتے ہیں جو چھوٹے بچوں کی سرپرستی اپنے ذمّے لے لیں کیونکہ وہ درحقیقت پنے آپ کو اس کے ساتھ منضم کر لیتے ہیں۔ یہ مادہ جب ثلاثی مجرد یعنی ”کفل “بغیر شد کے)صورت میں استعمال ہوتو کفالت اور سرپرستی کو اپنے ذمے لینے کا مفہوم دیتا ہے اور جب ثلاثی مزیدکی صورت میں ” کفّل“ شد کے ساتھ) استعمال ہوتو کسی کے لئے کفیل منتخب کر نے کا مفہوم دیتا ہے۔ اس جملے میں قرآن کہتا ہے: خدا نے زکریا کو مریم کی کفالت کے لئے منتخب کیا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ تاریخ میں آیاہے مریم کے والد ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ ان کی والدہ انہیں یہودی علماء کے پاس بیت المقدس میں لے آئیں اور کہا کہ یہ بچی بیت المقدس کا ہدیہ ہے، اس کی سرپرستی تم میں سے کوئی اپنے ذمے لے لے۔ علماء بنی اسرائیل نے اس سلسلے میں آپس میں گفتگو کی۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ مریم کی سرپرستی کا افتخار اور منصب اسے نصیب ہو۔ اس مقصد کے لئے معاملہ مخصوص مراسم سے گزرا جن کی تفصیل اسی سورہ کی آیہ ۳۳ کی تفسیر میں آئے گی اور آخر کار ان کی کفالت کے لئے حضرت زکریا (ع) کا انتخاب عمل میں آیا۔ ”کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا“ ”محراب“ مادہ ”حرب“ سے ہے جس کا معنی ہے ”جنگ“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مقام پر شیطان، سرکش خواہشات اور ہوس کے خلاف جنگ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے اسے محراب کہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ”محراب “اصولی طور پر مجلس کی بالائی اور اوپر والی جگہ کے معنی میں ہے اور چونکہ محراب کو عبادت خانے کی اوپر والی جگہ پر بنایا جاتا ہے، اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں محراب کی کیفیت ہمارے ہاں سے مختلف تھی وہ محراب سطح زمین سے بلند بناتے تھے اور اس کے لئے سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں اور اس کے اطراف کو کمرے کی دیواروں کی طرح بناتے تھے تاکہ اسے محفوظ کر دیا جائے اور جو لوگ محراب کے اندر ہوتے وہ باہر سے بہت کم نظر آتے تھے۔ حضرت مریمؑ حضرت زکریا(ع) کی سر پرستی میں پروان چڑھیں اور خدا کی عبادت و بندگی میں اس طرح مستغرق ہوئیں کہ ابن عباس کے بقول جب وہ نو سال کی ہوئیں تو دن کو روزہ رکھتیں اور رات کو عبادت کرتیں۔ پرہیز گاری اور معرفت الہٰی میں انہوں نے اتنی ترقی کی کہ اس دور کے احبار اور پارسا علماء سے بھی سبقت لے گئیں۔(بحوالہ:مجمع البیان “ ج۲ ، ص ۴۳۶) حضرت زکریا (ع) ان محراب کے پاس آکر دیکھتے تو خاص غذائیں وہاں پڑی ہوتیں۔ انہیں بہت حیرانی ہوتی۔ ایک دن پوچھنے لگے: ” ”یامریم انّی لک ھٰذا “۔ ؎مریم! یہ غذا کہاں سے لائی ہو۔ مریم بولیں: ”قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ“ یہ خد اکی طرف سے ہے اور وہ تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔ یہ غذا کیسی تھی؟ اور جناب مریم (ع) کے لئے کہاں سے آئی تھی؟ اس بارے میں آیت میں کچھ بیان نہیں کیا گیا لیکن بہت سی شیعہ و سنی کتب کی روایات سے جو تفسیر عیاشی وہ غیر میں مذکور ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت کے پھلوں کی ایک قسم تھی جو بے موسم حکم پروردگار سے جناب مریم (ع) کے محراب کے پاس پہنچ جاتے اور یہ بات کوئی باعث ِ تعجب نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنے کسی پرہیزگا ربندے کی یوں پذیرائی کرے۔ یہاں رزق سے مراد بہشت کی ایک غذا ہے اور یہ بات آیت میں موجود قرائن سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ”رزقاً“یہاں نکرہ کی صورت میں ہے اور یہ اس با ت کی علامت ہے کہ وہ کوئی خاص قسم کی غذا تھی جو حضرت زکریا (ع) کے لئے انجانی تھی اور دوسری نشانی خود حضرت مریم (ع) کا جواب ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور تیسری دلیل ہے حضرت زکریا (ع)کا جوش میں آنا اور پروردگار سے فرزند کی آرزو کرنا جس کے بارے میں بعد والی آیت میں اشارہ کیا گیا۔ لیکن صاحب المنار اور دیگر مفسرین کا اعتقاد ہے کہ ”رزقاً“ سے مراد یہی عام دنیا کی غذائیں ہیں کیونکہ ابن حریر نے لکھا ہے:۔ بنی اسرائیل قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، اناج کی بڑی کمی تھی، حضرت زکریا (ع) مریم (ع) کے مصارف برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے عالم میں قرعہ ڈالا گیا، قرعہ نجار نامی ایک شخص کے نام نکلا۔ وہ بڑے فخر سے اپنی پاکیزہ آمدنی میں سے حضرت مریم (ع) کے لئے غذا مہیّا کرتا تھا زکری(ع) ان کے محراب کے پاس جاتے تو ایسے شدید حالات میں ان کے پاس ایسی غذادکھ کر انہیں تعجب ہوتا۔ جناب مریم (ع) ان سے کہتیں: خدا نے ان حالات میں ایک صاحب ِ ایمان کے ذمے یہ کام کر دیا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ تفسیر نہ قرآن پاک میں موجود قرائن سے موافقت رکھتی ہے اور نہ ہی ان رویات سے موافقت ہے جو آیت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک روایت امام باقر (ع) سے منقول ہے جسے تفسیر عیاشی میں درج کیا گیا ہے ہم یہاں اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ ” ایک روز پیغمبر اکرم (ع) جناب فاطمہ زہرا (ع)کے گھر تشریف لائے، حالت یہ تھی کہ کئی روز سے ان کے ہاں ٹھیک سے کھانا بھی میسر نہ تھا اچانک آپ نے ان کے پاس مخصوص غذا دیکھی۔ آپ نے پوچھا: ”یہ کھانا کہاں سے آیا ہے َ“؟ حضرت فاطمہؑ نے عرض کیا: ”خدا کے ہاں سے، کیونکہ وہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے “ اس پر پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: ”یہ واقعہ حضرت زکریا (ع) کے واقعے کی طرح ہے، وہ جناب مریم (ع) کے محراب کے پاس آئے تھے وہاں کھانے کی کوئی چیز دیکھی تو پوچھنے لگے یہ کھانا کہاں سے آیاہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ خدا کے ہاں سے آیا ہے ۔“(بحوالہ: تفسیر نو ر الثقلین ۔ ج۱) ”بغیر حساب“ کے مفہوم کے بارے میں سورة بقرة کی آیہ ۳۰۳ اور اس سورہ کی آیہ ۲۷ کے ذیل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں۔

38
3:38
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥۖ قَالَ رَبِّ هَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةٗ طَيِّبَةًۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ
(جب مریم میں یہ لیاقت و اہلیت دیکھی) اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور عرض کی خداوند اپنی طرف سے مجھے(بھی) پاکیزہ فرزند عطا فرما کہ تو دعا کو سننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
3:39
فَنَادَتۡهُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٞ يُصَلِّي فِي ٱلۡمِحۡرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيَىٰ مُصَدِّقَۢا بِكَلِمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدٗا وَحَصُورٗا وَنَبِيّٗا مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
جب وہ محراب میں مشغول عبادت تھا تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہا خدا تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے وہ خدا کے کلمہ مسیح کی تصدیق کرے گا رہبر و رہنما ہو گا ہوا وہوس سے دور ہو گا پیغمبر ہو گا، اور صالحین میں سے ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
3:40
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَقَدۡ بَلَغَنِيَ ٱلۡكِبَرُ وَٱمۡرَأَتِي عَاقِرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ
اس نے عرض کیا۔پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ مجھے بڑھاپے نے آ لیا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے فرمایا: اسی طرح خدا جو کام چاہتا ہے انجام دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت زکریاؑ کی بیوی اور جناب مریمؑ کی والدہ آپس میں بہنیں تھیں، اتفاق کی بات ہے کہ دونوں ابتداء میں بانجھ تھیں۔جناب مریم (ع) کی والدہ کو ایسی لائق بیٹی نصٰب ہوئی، حضرت زکریا (ع) نے حضرت مریم (ع) کے خلوص اور حیران کن خصوصیات کو دیکھا تو آرزو کی ان کی بھی مریمؑ جیسی پاکیزہ اور پرہیزگار اولاد ہو جس کا چہرہ عظمت الہٰی اور توحید کی علامت ہو۔ حضرت زکریا(ع) اور ان کی بیوی کی طویل زندگی اسی طرح گذر چکی تھی ظاہری طبعی قوانین اور فطرت کے نقطہٴ نظر سے یہ بعید نظر آتا تھا کہ اب ان کی کوئی اولاد ہو لیکن عشق الہٰی اور مریم (ع) کے محرابِ عبادت کے پاس بت موسم کے پھل دیکھنے کا اثر تھا کہ حضرت زکریا (ع) کے دل میں ابھی امید پیدا ہوئی اور انہوں نے بڑھاپے کے موسم میں خواہش کی کہ ان کے وجود کی شاخ پر بھی فرزند کی صورت میں میوہ پیدا ہو جائے لہٰذا جب وہ عبادت اور مناجات میں مشغول تھے انہوں نے خداوند تعالی سے فرزند کا تقاضا کیا ”قال ربِّ ھب لی من لّدنک ذرّیةً طیبةً انّک سمیع الدّعآء“ یعنی خداوندا! مجھے پاکیزہ فرزند عطا فرما کہ تو بندوں کی دعائیں سننے والا ہے۔ ” فَنَادَتْہُ الْمَلاَئِکَةُ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمِحْرَاب“۔ زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ زکریا (ع) کی دعا قبول ہوگئی۔ وہ محراب عبادت میں مناجات کررہے تھے اور مشغو ل عبادت تھے کہ خد انے فرشتوں نے انہیں آواز دی اور بشارت دی کہ خداوند تعالی انہیں بہت جلد ایک بیٹا دے گا جس کا نام یحییٰ ہو گا اور جو ان صفات کا حامل ہو گا۔ ۱۔ وہ حضرت مسیح (ع) پر ایمان لائے گا اور اپنے ایمان سے انہیں تقویت پہنچائے گا ۔ (”مصدّقاً بکلمةٍ مِنَ اللَّہ“) یاد رہے کہ اس آیت میں اور بعض دیگر آیات میں جن کا ذکر آگے آئے گا ” کلم“ سےمراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے حضرت یحییٰ (ع) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ ماہ بڑے ہیں اور پہلے شخص ہیں جنہوں نے جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور چونکہ وہ لوگوں میں پاکیزگی اور زہد و تقویٰ کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت رکھتے تھے لہٰذا جب حضرت مسیح (ع) کی طرف ان کی رغبت، حضرت عیسیٰ (ع) کی دعوت و نبوت کی طرف لوگوں کی توجہ کے لئے بہت موٴثر ثابت ہوئی۔ ۲۔ علم و عمل کے لحاظ سے معاشرہ کی رہبری ان کے ذمے ہو گی (” وسیداً“) علاوہ ازیں وہ اپنے تئیں سرکش ہوا و ہوس اور دنیا پرستی سے محفوظ رکھیں گے، (” وحصوراً “)۔ ”حَصُور“ مادہ”حصر“سے ہے، اس کا معنی ہے وہ شخص جو کسی حوالے سے اپنے آپ کو محاصرے میں رکھے۔ کبھی یہ لفظ عدم ازدواج اور شادی نہ کرنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں اس لفظ سے یہی دوسرا مفہوم مراد لیا ہے نیز بعض روایات میں بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ۳۔ وہ خد اکے پیغمبر اور صالحین میں سے ہوں گے۔

کیا شادی نہ کرنا باعثِ فضیلت ہے

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر حصور کا معنی شادی نہ کرنا ہے تو کیا یہ عمل کسی انسان کے لئے امتیاز اور خصوصیت شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں حضرت یحییٰ (ع) کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے۔ اس جواب یہ ہے کہ اول تو ہمارے پاس کوئی یقینی دلیل نہیں کہ آیت میں ”حصور“سے مراد شادی کو ترک کرنا ہے نیز اس سلسلے میں منقول روایت سند کے لحاظ سے مسلم نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ لفظ ”حصور“ آیت میں شہوات، ہوا و ہوس اور دنیا پرستی کو ترک کرنے کے معنی میں ہو اور زہد کی ایک صفت کے لحاظ سے ہو۔ دوسری بات یہ کہ ممکن ہے حضرت یحییٰ (ع) بھی حضرت عیسیٰ (ع) کی طرح زندگی کے خاص حالات کی وجہ سے اور دین کے لئے باربار سفر کرنے کی وجہ سے مجرد زندگی گزار نے پر مجبور ہوں۔ اس لئے یہ سب کے لئے کلی قانون نہیں ہو سکتا اور خدا نے ان کی یہاں اس صفت سے اس لئے تعریف کی ہے کہ انہوں نے خاص حالات کے باعث شادی نہیں کی اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو گناہ سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور وہ کسی طرح بھی گناہ سے آلودہ نہیں ہوئے، قانون ازدواج تو کلی طور پر ایک فطری قانون ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بھی اس فطری قانون کے خلاف کوئی حکم جاری کرے اس لئے اسلام یا کسی اور دین میں شادی نہ کرنا کوئی اچھا کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔

یحییٰ (ع) اور عیسیٰ (ع)

”یحییٰ “ ”حیٰوة “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے زندہ رہتا ہے ” اور یہ اس عظیم پیغمبر کا نام رکھا گیا تھا ۔ زندگی سے یہاں مراد مادی اور معنوی دونوں طرح کی زندگی ہے جو ایمان، منصبِ نبوت اور خدا سے ربط کے زیر سایہ ہو۔ سورہ مریم کی آیہ۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند تعالی نے حضرت یحییٰ (ع) کی پیدا ئش سے قبل ہی یہ نام ان کے لئے انتخاب فرمایا تھا۔ ”یازکریآ انّا نبشرک بغلام اسمہ یحییٰ لم نجعل لہ من قبل سمیاً“۔ ”اے زکریا !ہم تجھے ایک فرزندکی بشارت دیتے ہیں جس کانام یحییٰ ہے اور قبل ازیں کسی یہ نام نہیں تھا “۔ جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے یحییٰ کی تولد کی خواہش حضرت زکریا (ع) کے دل میں جناب مریم (ع) کی روحانی پیش رفت دیکھ کر پیدا ہوئی۔ یہ بات یہاں جالب نظر ہے کہ اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کو ایک ایسا بیٹا عطا فرمایا جو کئی لحاظ حضرت مریم (ع) کے بیٹے سے مشابہت رکھتا ہے۔ مثلاً : ________________بچپن میں بعثت نبوت کے لحاظ سے، __________________نام کے مفہوم کے اعتبار سے________کیونکہ حضرت عیسیٰ (ع)اور یحییٰ (ع) دونوں کا معنی ہے ” زندہ رہتا ہے “ اور ________________اللہ تعالیٰ نے دونوں پر پیدائش، موت اور حشرو نشر تین مواقع پر درود و سلام بھیجا ہے۔ ”قَالَ رَبِّ اَنَّی یَکُونُ لِی غُلاَمٌ......“ ملائکہ نے یحییٰ کی پیدائش کی بشارت دی تو حضرت زکریا تعجب میں پڑ گئے اور بار گاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے: خداوندا! کیسے ممکن ہے کہ مجھ سے بچہ ہو جبکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ جواب میں وحی آئی : ”خدا اسی طرح جو کچھ چاہے انجام دے لیتا ہے“۔ اس آیت میں حضرت زکریا (ع) اپنے بڑھاپے کا ذکر کرتے ہیں کہتے ہیں: ” وقد بلغنی الکبر“ (بڑھاپا مجھ تک آپہنچا ہے) لیکن سورہ مریم کی آیت ۸ میں ان کا یہ قول درج ہے۔ ”و قد بلغت من الکبر عتیّاً“ ۔ میں بڑھاپے کے آخری درجے تک جا پہنچا ہوں تتعبیر کا اختلاف یہ اس لئے ہے کہ جیسے انسان بڑھاپے کی طرف جاتا ہے گویا بڑھاپا اور موت بھی دوسری طرف سے اس کی تلاش میں آگے بڑھتی ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اذاکنت فی ادبار و الموت فی اقبال فما اسرع الملتقی“۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ ،کلمات قصار۔ ۲۸) ”چونکہ تم عمر کے آخری حصہ کی طرف جارہے ہواور موت تمہاری طرف بڑھ رہی ہے اس لئے کس قدر جلدی تم ایک دوسرے سے مل جاوٴ گے۔ “ ” غلام“ لغت میں ”جوان لڑکے“ کو کہتے ہیں ”عاقر“ ”عقر“ سے ہے، اس کا معنی ہے ”جڑ اور بنیاد“ اس کا ایک معنی ”حبس“ بھی ہے، یا بانجھ عورتوں کو اس لئے ”عاقر “ کہتے ہیں کہ ان کا معاملہ آخر تک پہنچ چکا ہوتا ہے یا یہ کہ وہ بچہ جننے سے رک چکی ہوتی ہیں یعنی محبوس ہو چکی ہوتی ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زکریا(ع) کا تعجب اور حیرانی کس بناء پر تھی جبکہ خداوند تعالی کی بےپایاں قدرت پر بھی ان کی نظر تھی۔ قرآن کی دیگر آیات پر نظر کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (ع) معلوم کرنا چاہتے تھے کہ ایک بانجھ عورت جو کئی سال سے ماہانہ عادت بھی چھوڑ چکی تھی اس کے ہاں بچہ پیدا ہونا کیونکر ممکن ہے، اس میں کیا تغیر و تبدل ہو گا کیا پھر سے جوان یا ادھیڑ عمر کی عورتوں کی طرح انہیں ماہواری آنے لگے کی یا وہ کسی اور طرح سے بچے کی پیدائش کے قابل ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں قدرتِ خداوندی پر ایمان شہود اور مشاہدے سے الگ چیز ہے، حضرت زکریا (ع) در اصل چاہتے تھے کہ ایمان درجہٴ شہادت تک پہنچ جائے۔ یہ بات حضرت ابراہیم (ع) کے پرندوں کے واقعے سے ملتی جلتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معاد اور قیامت پر ایمان تو تھا لیکن وہ اس طرح اطمینان حاص کرنا چاہتے تھے۔ یہ فطری امر ہے کہ انسان جب طبعی قوانین کے خلاف کسی امر کا سامنا کرتا ہے تو وہ غور و فکر میں پڑجاتا ہے اور اسے خواہش ہوتی ہے کہ اس کےلئے کوئی حسیِ دلیل حاصل کرے۔

41
3:41
قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمۡزٗاۗ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ كَثِيرٗا وَسَبِّحۡ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ
(حضرت زکریانے) عرض کی پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے کہا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ توتین دن تک لوگوں سے گفتگو نہ کرسکے گا مگر اشارے سے ۔ اور (اس عظیم نعمت پر شکرانے کے طور پر) اپنے پروردگار کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہاں حضرت زکریا(ع) حضرت یحییٰؑ کی ولادت کی بشارت پر کسی نشانی کی درخواست کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس عجیب و غریب واقعہ پر حضرت زکریا (ع) کا اظہار تعجب اور پروردگار سے کسی نشانی کا تقاضا کسی طرح سے بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بےاعتمادی کی دلیل نہیں ہے۔ خصوصاً جب کہ ” کذٰلک اللہ یفعل من یشآء “۔ (اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے) کہہ کر بشارت الہٰی کی تاکید بھی کی جاچکی ہے۔ حضرت زکریا (ع) چاہتے تھے کہ اس امرسے ان کا ایمان، ایمان شہودی کا درجہ حاصل کرلے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا دل ایمان سے مالا مال ہو جائے جیسے حضرت ابراہیم (ع) نے مشاہدہ حسّی کے ذریعے اطمینان کے حصول کی خواہش کی تھی، وہ بھی اس مرحلے تک جا پہنچیں۔ ”قَالَ آیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ اَیَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا “۔ ”رمز “ اصل میں ہونٹوں سے اشارہ کرنے کو کہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ کی جانے والی گفتگو کو بھی ”رمز “ کہتے ہیں ۔ تدریجاً ”رمز “ کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی ہے اور اب ہر ایسی بات، اشارہ اور نشانی کو رمز کہا جانے لگا ہے جو صریح اور مخفی طور پر ہو۔ خداوند تعالی نے حضرت زکریا (ع) کی یہ درخواست بھی قبول فرمالی اور ان کے لئے ایک نشانی مقرر فرمائی گئی کہ ان کی زبان کسی طبیعی عامل کے بغیر تین دن کے لئے بےکار ہو گئی۔ وہ عام گفتگو نہ کر سکتے تھے لیکن خداوند تعالی کے ذکر اور اس کی تسبیح کے وقت ان کی زبان بغیر کسی تکلیف کے کام کرتی تھی۔ یہ عجیب و غریب کیفیت تمام امور پر اللہ کی قدرت کے لئے ایک نشانی تھی۔ وہ خدا جو بند زبان کو اپنے ذکر کے وقت کھول دینے کی طاقت رکھتا ہے وہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ کسی بانجھ رحم سے ایک ایسا باایمان بچہ پیدا کر دے جو ذکر پروردگار کا مظہر ہو اسی سے اس نشانی کا اس چیز سے ربط ظاہر ہوجاتا ہے جو حضرت زکریا (ع) چاہتے تھے۔ یہی مضمون سورہ ٴ مریم کی ابتدائی آیات میں بھی ہے۔ ممکن ہے اس نشانی میں ایک اور نکتہ پنہاں ہو اور وہ یہ کہ اس مسئلے میں جناب زکریا (ع) کا زیادہ اصرار اور نشانی کا تقاضا اگر چہ فعل حرام اور مکروہ نہ تھا لیکن بہرحال ترکِ اولیٰ سے کچھ مشابہ ضرور تھا اسی لئے خداتعالیٰ کی طرف سے ایسی نشانی دی گئی جو قدرت نمائی بھی تھی اور ترک اولیٰ پر تنبیہ اور اشارہ بھی تھا۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا پیغمبروں کی زبان کی بندش ان کے مقام نبوت اور تبلیغی فریضے سے مناسبت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں کیونکہ یہ بات اس وقت فریضہ نبوت سے مناسبت رکھتی جب اس کا عرصہ طویل ہوتا، ایسی تھوڑی سی مدت جس میں پیغمبر اپنی امت سے الگ ہو کر عبادت ِخدا میں مشغول رہے تو کچھ غیر مناسب نہیں جبکہ وہ اس مدت میں بھی ضروری امور اشارے سے بتا سکتے تھے یا آیاتِ خدا کے ذریعے حقائق سمجھا سکتے تھے کیونکہ آیا ت خدا تو ذکر پروردگار شمار ہوتی تھیں اور اتفاق کی بات ہے کہ ا نہوں نے یہ کام بھی اور اشارے سے لوگوں کو ذکر خدا کی تبلیغ کی۔ ”وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْإِبْکارِ“۔ ”لفظ ”عشی“ عموماً”دن کے آخری لمحات“کےلئے استعمال ہوتا ہے جیسے ”دن کی ابتدائی گھڑیوں“کو ”اِبکار “ کہتے ہیں اور بعض کا نظریہ ہے کہ ابتدائے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک ”عشی “ ہے اور طلوع فجر کی ابتداء سے لے کر زوال تک ”اِبکار“ ہے ۔ (”المصحف المفتر“از فرید وجدی ، محل بحث آیت کے ذیل میں)۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ دونوں لفظ زیادہ تر پہلے معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس جملے میں قرآن نے بتایا ہے کہ خداوند تعالی نے حضرت زکریا (ع) کو پروردگار کی تسبیح اور ذکر کاحکم دیا۔ جب آپ کی زبان بند ہو چکی تھی ایسے میں یہ تسبیح اور ذکر اس بات کی بھی نشانی تھی کہ خداوند تعالی بند امور کو کھولنے کی قدرت رکھتا ہے نیز خدا کے عظیم عطیّے پر شکر گزاری کے حوالے سے یہ ایک ذمہ داری بھی تھی۔ سورہٴ مریم کی ابتدائی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا (ع) نے خود ہی اس پروگرام پر عمل نہیں کیا بلکہ اشارے سے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی کیونکہ خداوند تعالی کی اس بخشش و عطا کا تعلق ان کے معاشرے سے تھا اور حضرت یحییٰ کی صورت میں انہیں ایک لائق قیادت نصیب ہو رہی تھی۔ اس لئے انہیں دعوت دی گئی کہ صبح اور عصر کے وقت پروردگار کی تسبیح اور ذکر میں مشغول رہیں۔ درحقیقت یہ سب کے لئے شکر و تسبیح کے دن قرار پائے تھے۔

42
3:42
وَإِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَٱصۡطَفَىٰكِ عَلَىٰ نِسَآءِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
(اور وہ وقت یا دکرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم !خد انے تجھے چنا ‘پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برتری اور فضیلت دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
3:43
يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّـٰكِعِينَ
اے مریم !( اس نعمت کے شکرانے کے طور پر) اپنے پروردگار کے سامنے خضوع کرو سجدہ بجا لاؤ اور رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں جناب عمران (ع) اور ان کی بیوی کے متعلق بحث تھی، اب حضرت مریم (ع) کا نام بھی لیا گیا ہے اور ان آیات میں ان کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے اس طرف اشارہ ہوا ہے کہ فرشتوں نے مریم سے باتیں کیں (”و اذقالت الملائکة یا مریم .......“)یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ ممکن ہے فرشتے پیغمبروں کے علاوہ دوسرے انسانوں سے بھی گفتگو کریں نیز یہ جملہ حضرت مریم کے بلند مرتبے کی بھی حکایت کرتا ہے۔ فرشتے حضرت مریم (ع) کو بشارت دیتے ہیں کہ خدا نے انہیں برگزیدہ کیا اور چن لیا ہے اورانہیں پاک قرار دیا ہے یعنی تقویٰ، پرہیزگاری ، ایمان اور عبادت کے نتیجے میں وہ خدا کے برگزیدہ اور پاک لوگوں میں سے ہوگئی ہیں اور انہیں حضرت عیسیٰ (ع) جیسے پیغمبر کی پیدائش کے لئے چن لیا گیا ہے۔ ”وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاءِ الْعَالَمِینَ “۔ ”وَاصْطَفَاکِ “کا تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا تجھے ہے: خدا نے تجھے جہان کی عورتوں میں سے چن لیا ہے اور تجھے سب پر برتری عطا کی ہے۔ آیت کا پہلا حصہ جناب مریمؑ کی اعلیٰ انسانی صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور برگزیرہ انسان کے طور پر آپ کا نام لیتا ہے اور دوسرے حصے میں ”وَاصْطَفَاکِ“ ان کے اپنے زمانے کی تمام برتری کی طرف اشارہ ہے۔ (ص 115 رہ گیا ہے ) نماز پڑھو، وضو کرو اور پاک و کیزہ رہو۔ یعنی ان تمام فرائض کو انجام دو کیونکہ واو سے جو عطف ہو وہ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا۔ علاوہ از یں رکوع و سجود و اصل میں عجز اور خضوع کے معنی میں ہے اور عام رکوع و سجود کے مصادیق میں سے ایک شمار ہوتے ہیں۔

44
3:44
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۚ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يُلۡقُونَ أَقۡلَٰمَهُمۡ أَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ
یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں ا ور جب وہ اپنی قلمیں (قرعہ اندازی کے لئے پانی میں )پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت اور سر پرستی کون کرے اور اس وقت (بھی) جب اس کی سر پرستی کا افتخار اور منصب حاصل کرنے کے لئے علماء آپس میں مصروف کشمکش تھے تم موجود نہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جیسا کہ گذشتہ آیات کی تفسیر میں کہا جا چکا ہے جناب مریمؑ کی والدہ پیدائش کے بعد اپنی نوزائیدہ بچی کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر عبادت خانے میں لے آئیں۔ وہاں بنی اسرائیل کے علماء اور بزرگوں سے کہنے لگیں: یہ نومولود بچی خانہٴ خدا کی خدمت کے لئے نذر کی گئی ہے اس کی سر پرستی اپنے ذمے لے لیں۔ جناب مریم (ع) چونکہ حضرت عمران (ع) کے خاندان سے تھیں اور یہ ایک بزرگ خاندان تھا اس لئے بنی اسرائیل کے علماء اور عباد ان کی سرپرستی کا منصب حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنے کا ان اتفاق ہو گیا، وہ ایک نہر کے کنارے گئے وہاں انہوں نے اپنی قرعہ ڈالنے کی لکڑیاں پیش کیں۔ ان میں سے ہر ایک لکڑی یا قلم پر ان میں سے ایک ایک کا نام لکھا گیا۔ جو قلم پانی میں ڈوب جاتی اس کا قرعی نکلتا صرف جس کی قلم سطح آب پر رہتی اس کے نام قرعہ شمار ہوتا، جس قلم پر حضرت زکریا (ع) کانام تھا پہلے پانی کی گہرائی میں چلی گئی اور پھر پانی پر ابھر آئی۔ یوں حضرت مریم (ع) سر پرستی کا منصب حضرت زکریا (ع) کے حصّے آیا اور حقیقت میں بھی وہی اس کام کے لئے اہل تر تھے کیونکہ ایک تو وہ پیغمبر خدا تھے اور دوسرا ان کی بیوی حضرت مریم کی خالہ تھیں۔ مندرجہ بالا آیت اس واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کررہی ہے فرمایا گیا ہے: مریم (ع) کی جو کچھ سرگذشت ہم نے تمہیں بیان کی ہے یہ غیب کی خبروں میں سے ہے کیونکہ یہ واقعہ اس طرح سے خرافات سے پاک گذشتہ تحریف شدہ کتب میں بھی کہیں موجود نہیں تھا اس لئے آسمانی وحی ہی اس کی سند بن سکتی تھی (”ذٰلک من انبآء ا لغیب نوحیہ الیک“)۔۔ پھر اس واقعے کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مریم (ع) کی سرپرستی کے تعین کے لئے جب وہ اپنی قلمیں پانی میں ڈال رہے تھے تم موجود نہیں تھے (وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ إِذْ یُلْقُونَ اَقْلاَمَهم اَیُّهم یَکْفُلُ مَرْیَم) یونہی جب وہ کفالتِ مریمؑ پر جھگڑ رہے تھے تو تم پاس نہ تھے اور یہ سب کچھ تم پر صرف وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے۔ اختلاف دور کرنے کا آخری طریقہ قرعہ اندازی ہے۔

اختلاف دور کرنے کا آخری طریقہ قرعہ اندازی ہے۔

زیر نظر آیت اور سورہ صافات میں حضرت یونس (ع) کے بارے میں موجود آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل حل کرنے کے لئے یا تنازعے میں معاملہ آخری حد تک پہنچ جانے پر جب جھگڑا ختم کرنے کا کوئی راستہ سجھائی نہ دے تو قرعہ اندازی سے مدد لی جاسکتی ہے، ان آیات کے ساتھ ساتھ پیشوایان اسلام سے منقول روایات بھی اس سلسلے میں موجود ہیں۔ انہی آیات و روایات کے باعث فقہی کتابوں میں ”قاعدہ قرعہ“ فقہی قواعد و اصول میں سے ایک کے طور پر زیر بحث آنے لگا۔ لیکن جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے کہ قرعہ اندازی فقط بےبسی اور مسئلے کے حل کی کوئی دوسری صورت باقی نہ رہ جانے کی صورت میں ہی کی جا سکتی ہے، اس لئے مسئلہ کے حل کے لئے اور راستہ نکل آنے کی صورت میں قرعہ سے مدد لی جاسکتی۔ قرعہ نکالنے کے لئے اسلام میں کوئی خاص طریقہ معین نہیں ہے بلکہ تیر کی لکڑیوں، سنگریزوں یا کاغذ کا اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی کے خلاف سازش یا کسی کو نقصان پہنچنے کا احتمال باقی نہ رہے۔ واضح ہے کہ اسلام میں قرعہ اندازی کے ذریعے کا دوبار، لین دین اور معاملہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کام کوئی مشکل مسئلہ نہیں جسے حل کرنے کے لئے قرعہ کو ذریعہ بنایا جائے اور ایسی آمدنی جائز نہیں ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ قرعہ لوگوں کے تنازعات اور اختلافات سے ہیں مخصوص نہیں بلکہ اس سے دیگر مشکلات کے حل میں بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ مثلاً جیسا کہ احادیث میں ایا ہے کہ اگر کوئی کسی بھی سے بدفعلی کرے اور پھر اسے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دے۔ اب اگر اسے پہچانا نہ جاسکے تو قرقہ اندازی کے ذریعے ان میں سے ایک بھیڑ نکال لی جائے اور اس کا گوشت کھانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ سارے ریوڑ کو چھوڑ دینا تو بڑے نقصان کا باعث بنے گا اور پھر ان سب کا گوشت کھانا بھی جائز نہیں۔ یہاں قرعہ اس مشکل کو حل کرتا ہے۔

45
3:45
إِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٖ مِّنۡهُ ٱسۡمُهُ ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيهٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
وہ وقت( یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! خدا اپنی طرف سے تجھے ایک کلمہ اور (با عظمت شخصیت) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے وہ دنیا وآخرت میں مقام و عظمت کا مالک ہو گا اور وہ مقربین میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں حضرت مسیح (ع) کی ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ فرشتوں کی طرف سے جناب مریم (ع) کو بشارت دینے سے شروع ہوتا ہے۔ فرشتے خدا کی طرف سے جناب مریمؑ کو خوشخبری دیتے ہیں کہ خدا انہیں ایک بچہ دے گاجس کانام مسیح عیسی بن مریم (ع) ہو گا۔ وہ دنیا و آخرت میں مقام و عظمت کامالک ہو گا۔ اور بار گاہ الہٰی کے مقربین میں سے ہو گا (” إِذْ قَالَتْ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ إِنَّ اللهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَم“)۔

چند اہم نکات

۱۔ عیسیٰ (ع) کو کلمہ کیوں کہا گیا؟: اس آیت میں اور دو مزید آیات میں حضرت مسیح (ع) کو ” کلمہ“ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ تعبیر عہد جدید کی کتب میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ حضرت عیسیٰ (ع) کو ”کلمۃ“ کیوں کہا گیا ہے لیکن زیادہ تر یہی نظر آتا ہے کہ اس کا سبب ان کی غیر معمولی پیدائش ہے جو اس فرمان الہٰی کی مصداق ہے:۔ ”انّمآ امرہٓ اذا رادا شیئاً ان یقول لہ کن فیکون“ اس کا امر تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتی ہے۔ ( یس ٓ۔ ۸۲) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ولادت سے پہلے خداوند تعالی نے ان کی والدہ کو ایک کلام کے ذریعے بشارت دی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس تعبیر کی وجہ یہ ہوکہ لفظ ” کلمۃ “ قرآن کی اصطلاح میں مخلوق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً: ”قل لوکان البحر مداداً لکمات ربّی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربّی ولو جئنا بمثلہ مددا ۔“ کہہ دیجئے: میرے پروردگار کے کلمات لکھنے کے لئے اگر دریا سیاہی بن جائیں تو وہ ختم ہو جائیں گے لیکن میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں اگر چہ انہی جتنے اور دریابھی ان میں شامل ہو جائیں ۔ ( کہف ، ۱۰۹) ۔ اس آیت میں کلمات خدا سے مراد مخلوقاتِ خدا ہی ہے اور چونکہ حضرت”مسیحؑ “ خدا کی عظیم مخلوقات میں سے ایک تھے اس لیے ان پر ” کلمۃ “ کا اطلاق ہوا ہے۔ ضمناً اس میں حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کے دعویداروں کا جواب بھی آ گیا ہے۔ ۲۔ حضرت عیسیٰؑ کو مسیح کیوں کہتے ہیں؟: ممکن ہے یہ اس لئے ہو کہ ” مسیح “کامعنی ہے ”مسح کرنے والا ”مسح شدہ “ اور وہ ناقابل علاج بیماروں کے بدن پر ہاتھ پھیر کر حکمِ خدا سے اسے شفایاب کر دیتے تھے۔ اس افتخار اور عظمت کی ان کے لئے پہلے سے پیش گوئی کی گئی تھی اس لئے خداوند تعالی نے ولادت سے پہلے ہی ان کا نام مسیح رکھ دیا۔ یا یہ اس بناء پر ہے کہ خداوند تعالی نے انہیں ناپاکی او رگناہ سے مسح یعنی پاک رکھا۔ ۳۔ عیسیٰؑ مریم کے بیٹے ہیں: قرآن اس آیت میں صراحت سے حضرت عیسیٰ (ع) کو جناب مریم (ع) کے بیٹے کی حیثیت سے متعارف کروایا ہے تاکہ یہ حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کے دعویداروں کے لئے جواب ہو کیونکہ جو ماں سے پیدا ہوتا ہے، عالم جنین کے تغییرات میں سے گزرتا ہے اور عالم مادہ کے تغیرات و تحولات میں داخل ہے وہ کس طرح خدا ہو سکتا ہے خدا تو تمام تغیرات اور تبدیلیوں سے بالاتر ہے۔

46
3:46
وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗا وَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور ادھیڑ عمر میں گفتگو کرے گا اور وہ صالحین میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اب اس آیت میں حضرت عیسیٰؑ کی گہوارہ میں گفتگو کا تذکرہ ہے کیونکہ جیسا کہ سورہ مریم میں آئے گا وہ اپنی والدہ سے تہمت دور کرنے کے لئے گہوارے میں بول اٹھے اور فصیح زبان میں خدا کے حضور اپنے مقام بندگی اور مقام ِ نبوت کا آشکار کیا۔ اور چونکہ ممکن نہیں کہ پیغمبر ناپاک اور آلودہٴ رحم سے پیدا ہو اس لیے اس اعجاز کے ذریعے اپنی والدہ کی پاکیزگی کو ثابت کیا۔ توجہ رہے کہ ”مہد“ نوزائیدہ بچے کے سونے اور آرام کرنے کے لئے تیار کی جانے والی چیزیا جگہ کوکہتے ہیں۔ فارسی میں یہ ”گہوارہ“ کے مفہوم کے قریب قریب ہے البتہ ” گہوارہ“ پورے طور پر ”مہد “ کا ہم معنی نہیں کیونکہ گہوارہ میں حرکت کا مفہوم بھی پوشیدہ ہے لیکن مہد ہر ایسی جگہ کو کہتے ہیں جو نوزائیدہ بچے کے لئے بنائی جائے۔ ضمناً اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح (ع) اپنی ولادت سے لے کر ادھیڑ عمر تک حق بات کہتے رہیں گے۔ گویا تمام عمر مخلوق کو تبلیغ و ہدایت کے لئے قدم اٹھاتے رہیں گے اور ایک لمحے کے لئے بھی آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ بھی توجہ رہے کہ ” کھولة“ ” کھل “ کے مادہ سے ہے اور یہ ” بوڑھے“ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ادھیڑ عمر افراد کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماء لغت نے صراحت کی ہے کہ ۲۴ سے لے کر ۵۱ سال تک درمیانی زمانہ کہولت ہے۔ اس سے کم عمر والے کو ”شاب“کہتے ہیں اور اس سے زیادہ عمر والے کو ” شیخ “ کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (ع) کے بارے میں یہ تعبیر گویا ایک قسم کی پیش گوئی ہے کہ وہ اس دنیا میں دوبارہ آئیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تواریخ کے مطابق ۳۳ سال عمر میں حضرت عیسیٰؑ لوگوں کے درمیان سے اٹھ گئے اور آسمان کی طرف صعود کیا اور یہ امر ان تمام روایات سے ہم آہنگ ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں میں پلٹ آئیں گے اور آنجبابؑ کی تائید کریں گے۔ آیت کے آخر میں حضرت عیسیٰؑ کی مختلف صفات کے تذکرے کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ صالحین میں سے ہوں گے (و من الصالحین)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح ہونا بہت بڑا عزاز اور افتخار ہے اور صالح کے مفہوم میں تمام انسان قدر یں مجتمع ہیں۔

47
3:47
قَالَتۡ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
(مریم نے) کہا پروردگار ! مجھ سے بچہ کیونکر ہو گا جب کہ کسی شخص نے مجھے چھوا نہیں (جواب میں ) فرمایا خدا اسی طرح جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم جانتے ہیں کہ یہ جہاں عالم اسباب ہے۔ خداوند تعالی نے خلقت کے عمل کو اس طرح سے جاری فرمایا ہے کہ ہر موجود عوامل کے ایک سلسلے کے بعد ہی دائرہ وجود میں قدم رکھتا ہے مثلاً ایک بچے کے پیدا ہونے کے لئے شادی بیاہ جنسی ملاپ اور ” اسپر“ اور ” اودل “ کا باہمی پیوند ضروری ہے۔ اس لیے یہ باعث تعجب نہیں کہ بہت جلد صاحبِ فرزند ہونے کی بشارت پر مریم (ع) حیران و پریشان ہوگئیں۔ انہوں نے سوال کیا: میرے خدا: کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھ سے بچہ پیدا ہو جب کہ کسی بشر نے مجھے مس تک نہیں کیا۔ ” قَالَتْ رَبِّ اَنَّی یَکُونُ لِی وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَر“۔ خدا نے فوراً فرشتوں کے ذریعے انہیں خبر دی: خدا جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یعنی جہاں طبیعت کا نظام خدا کا پیدا کردہ ہے، اس کے تابع فرمان ہے، وہ جب چاہے اسے دگرگوں کرسکتا ہے اور غیر ماد ی علل و عوامل سے سبھی موجودات کو پیدا کرسکتا ہے” و کذالک اللہ یخلق مایشآء۔ “ اس کے بعد اس بات کی تکمیل کے لئے فرماتا ہے: جب وہ کسی چیز کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ فوراً ہوجاتی ہے ” اذا امراً فانّما یقول لہ کن فیکون۔ “کن فیکون “۔ سرعت آفرینش کی طرف اشارہ ہے۔ واضح ہے کہ لفظ ” کن “ درحقیقت خدا کے حتمی ارادے کا بیان ہے ورنہ اسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے یعنی کسی چیز کے بارے میں اس کا صرف ارادہ ہو اور فرمان ِ آفرینش صادر ہو تو اسے فوراً لباس وجود پہنادیتا ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ (ع) کی خلقت کے بارے میں لفظ ” یخلق“ (خلق کرتا ہے) استعمال ہوا ہے جب کہ گذشتہ چند آیات میں حضرت یحییٰ (ع) کی آفرینش کے بارے میں لفظ ”یفعل“ (انجام دیتا ہے) استعمال کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے تعبیر کا یہ اختلاف ان دو پیغمبروں کی خلقت کے اختلاف کی طرف اشارہ ہو کہ ایک معمول کے مطابق اور دوسرا غیر معمولی طریقے سے عالم وجود میں آیا ہے۔

48
3:48
وَيُعَلِّمُهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ
اور اسے کتاب و دانش اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
3:49
وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَنِّي قَدۡ جِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ أَنِّيٓ أَخۡلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ وَأُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأۡكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور اسے رسول کی حیثیت سے بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا (جو ان سے کہے گا) میں پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایا ہوں میں گیلی مٹی سے پرندے جیسی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے نیز مادر زاد اندھے کو اور برص میں مبتلا لوگوں کو شفا دیتا ہوں مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو اس کی تمہیں خبر دیتاہوں بے شک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

تفسیر حضرت مسیح ع کی صفات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

سابقہ آیات میں حضرت عیسی علیہ السلام کی جو ۴ صفات بیان ہوئیں [ دنیا و آخرت میں آبرومند ہونا، مقربین میں سے ہونا، پنگھوڑے میں گفتگو کرنا اور صالحین میں سے ہونا) ان کے تسلسل میں ان آیات میں قرآن اس عظیم پیغمبر کی ۲ ديگر صفات کہ جو بذات خود چند مہم اوصاف کا مجموعه ہیں، ان کی طرف اشاره کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: " (وَ يُعَلِّمُهُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْراةَ وَ الْإِنْجِيلَ). پہلے كتاب و حكمت اور دانش سکھانے کی طرف به طور كلى اشاره کرتا ہے اور پھر اس كتاب و حكمت کے ۲ روشن مصداق يعنى تورات اور انجيل کو بيان کرتا ہے۔ یہ بڑی واضح سی بات ہے کہ جو افراد خدا طرف سے لوگوں کی پدایت کے لئے مامور ہوتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے میں علم دانش کے ذریعے لوگوں کو دعوت دیں، اور زندہ و انسان ساز آئین و قوانین پیش کریں۔ پھر دوسرے مرحلے میں خدا سے اپنے ارتباط کے لئے واضح اسناد دکھائیں اور یوں خدا کی طرف سے اپنے منصوب ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ اس مقصد کے لئے ہر پیغمبر اپنے زمانے کے ترقی یافتہ علوم کی قسم کے معجزے سے لیس ہوتاتھا کہ جہان ماوراءء طبیعت سے ان کا ارتباط زیادہ واضح ہو جائے اور ہر زمانے کے علماء ان کے مقابلے میں اپنے عجز کی وجہ سے ان کی دعوت کی حقانیت کا اعتراف کریں۔ یہ بات ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا: ہر پیغمبر کے پاس کچھ نہ کچھ معجزات کیوں ہوتے ہیں، اس سوال کے جواب میں آپ (ع) نے وضاحت فرمائی جس کا خلاصة کچھ یوں ہے: حضرت موسیٰ کے زمانے میں جادوگر بہت زیادہ تھے۔ حضرت موسیٰ (ع) نے ایسا عمل انجام دیا جس کے مقابلے میں تمام جادوگر عاجز آگئے۔ حضرت مسیح (ع) کے زمانے اور دعوت موقع پر اطباء بیماروں کے علاج کے معالجے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ جناب عیسیٰ (ع)نے لاعلاج بیماروں کو مادی وسائل کے بغیر شفا دے کر اپنی حقانیت کو ثابت کر دیا۔ پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں خطباء، شعراء اور سخنور بہت زیادہ فصاحت و بلاغت کے مالک تھے اور اب سب نے قرآنی فصاحت و بلاغت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ (بحوالہ: بحار، ج ۵، ص ۱۹ ) مندرجہ بالا آیت میں حضرت مسیح (ع) کی ماموریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔ خداوند عالم نے پہلے فرمایا ہے: خدا نے اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دی (”ویعلمہ الکتاب و الحکمة۔ “ اور اس کے بعد کتاب و حکمت کے مصداق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فرمایا: تو ریت و انجیل سکھائی (”و التوراة و الانجیل“) اس کے بعد بنی اسرائیل کے منحرف لوگوں کی ہدایت کے لئے ان کی ماموریت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کیونکہ وہ ان دنوں طرح طرح کے خرافات، آلودگیوں اور اختلافات میں گرفتار تھے، فرمایا: ”و رسولاً الیٰ بنی اسرآئیل“ (تشریحی نوٹ: اس جملے میں ایک فعل تقدير میں ہے؛ جیسے "يجعله"- اس تقدیر کے حوالے سے چند اور احتمالات بھی بیان ہوئے ہیں‏)۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے ابتداء میں یہ لگتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے ذمہ صرف بنی اسرائیل کو دعوت دیتا تھا لیکن یہ ان کے اوالعزم ہونے کی نفی نہیں ہے کیونکہ اولو العزم پیغمبر وہ ہے جو نیا دین و آئین لے کر ائے اگرچہ اس کی ماموریت عالمی نہ ہو۔ تفسیر نورالثقلین میں حضرت عیسیٰ (ع) کی ماموریت عالمی تھی اور نبی اسرائیل میں منحصر ماموریت کے بارے میں ایک روایت بھی منقول ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، ج ۱، ص ۳۴۳)۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی ماموریت عالمی تھی اور بنی اسرائیل میں منحصر نہ تھی۔ البتہ وہ کہتے ہیں کہ جن کی ہدایت ان کے ذمے تھی ان میں بنی اسرائیل پہلی صف میں تھے۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اولوالعزم کے معنی میں رویات نقل کی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی دعوت جہانی اور پوری دنیا کے لئے ہونی چاہئیے۔ (بحوالہ: بحار، ج ۱۱، ص ۳۲ ) درحقیقت انبیاء کی دعوت زندگی کی طرف دعوت ہے اس لئے مندرجہ بالاآیت میں حضرت مسیح (ع) کے معجزات کی تفصیل کے موقع پر سب سے پہلے حکم خدا سے بےجان چیزوں میں زندگی پیدا کرنے کا تذکرہ ہے اور حضرت عیسیٰ (ع) کی زبا نی فرمایا گیا ہے۔ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایاہوں، میں گیلی مٹی سے پرندے کی شکل کی کوئی چیز بناتا ہوں اور اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے۔ حکم خدا سے ایجاد حیات کا مسئل کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام زندہ موجودات مٹی اور وجود میں آئے ہیں، زیادہ سے زیادہ اسے تدریجی تحول و تغیر کہہ سکتے ہیں اور یہ تبدیلی عرصہ دراز میں وقوع پذیر ہے تو کیا مانع ہے کہ خداوند تعالی تمام عوامل کو جمع کردے اور وہ تمام مراحل تیزی سے صورت پذیر ہو جائیں اور مٹی زندہ موجود میں بدل جائے، جبکہ یہ معجزہ پیش کرنے والے کا ربط ماواء الطبیعات اور پروردگار کی لامتناہی قدرت کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد ان بیماروں کے علاج کا تذکرہ ہے جن کا علاج بہت مشکل ہے یا جو معمول کے طریقوں سے قابلِ علاج نہیں ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: میں مادر زاد اندھے اور ابرص، (برص اور سفید داغ والی بیماری میں مبتلا لوگوں کا علاج کرسکتا ہوں اور مردوں کو بھی لباسِ حیات پہنا سکتا ہوں۔ واضح رہے کہ یہ امور خصوصاً اس زمانے کے اطباء اور علماء کے لئے ناقابل انکار معجزات تھے۔ بعد کے مرحلے میں لوگوں کے پوشیدہ اسرار کی خبر دینے کی بات کی گئی ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی انفرادی اور شخصی زندگی سے کچھ ایسے اسرار اور راز ہوتے ہیں جن سے دوسرے لوگ آگاہ نہیں ہوتے۔ اب اگر کوئی شخص کسی قسم کے سابقہ روابط کے بغیر ایسے امور کی اطلاع دے دے مثلا ً جو کھانے انہوں نے کھا ئیں ہیں ان کی خبر دے یا جو کچھ انہوں نے پس انداز کر رکھا ہے اس کی تمام تفصیلات بتادے تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے غیبی منبع و مصدر سے الہام حاصل کیا ہے۔ جناب مسیح (ع) کہتے ہیں؟: میں ان امور سے آگاہ ہوں او ر تمہیں ان کی خبر دیتا ہوں۔:۔ ”وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِی بُیُوتِکُمْ“ آخر میں فرمایا گیا ہے: ان تمام چیزوں میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم صاحب ایمان ہوں اور حقیقت کے متلاشی ہو:۔ ”إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ ۔“

کیا یہ معجزات باعث تعجب ہیں ؟

تفسیر المنار کے موٴلف اور دیگر مفسرین مصر ہیں کہ آیت بالا میں مذکور معجزاتی امور جو حضرت مسیح (ع) کے بارے میں قرآن میں بیان کئے ہیں کی کچھ نہ کچھ توجیہ کی جانا چاہئیے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی (ع) نے تو فقط دعوی کیا تھا کہ میں حکم خدا سے ایسا کر سکتا ہوں لیکن عملی طور پر یہ کام ہرگز انجام نہیں دئے، حالانکہ کہ اگر فرض کریں اس آیت میں یہ احتمال ہو پھر بھی سورہٴ مائدہ آیہ ۱۱۰ میں ہے: ”و اذ تخلق من الطین کھیئة الطیر۔۔۔“ (اے عیسیٰ)خد اکی نعمتوں میں سے ایک نعمت تم پر یہ بھی تھی کہ تم گیلی مٹی سے پرندہ بناتے تھے، اس میں پھونکتے تھے اور وہ حکم خدا سے زندہ ہو جاتا تھا۔ لہٰذا مندرجہ بالا دلیل قابلِ قبول نہیں کیونکہ سورہٴ مائدہ کی مذکورہ آیت تو پوری صراحت سے ان کے عملاً کر گزرنے کا ذکر ہے۔ علاوہ ازایں ایسی تو جیہات پر اصرار کے لئے کوئی وجہ بھی نہیں کیونکہ اگر مراد انبیاء کے خارقِ عادت افعال کا انکار ہے تو قرآن نے بہت سے مواقع پر اس کی تصریح کی ہے اور بالفرض ایک آدھ جگہ پر توجیہ کر بھی لیں تو بقیہ مواقع پر کیا کریں گے۔ اس سب پہلووٴں سے صرف نظر کرتے ہوئے جب ہم خدا کو تمام قوانین فطرت و طبیعت پر حاکم جانتے ہیں نہ کہ ان کا محکوم تو پھر کیا مانع ہے کہ اس کے حکم سے استثنائی مواقع پر طبیعت کے معمول کے قوانین میں غیرمعمولی طریقے سے تبدیلی وقوع پذیر ہو جائے۔ اگر وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ امر خدا کی توحید افعالی، اس کی خالقیت اور لاشریک ہونے کے ساتھ سازگار نہیں تو قرآن نے اس کا جواب دیا ہے کہ کیونکہ تمام جگہوں پر ان واقعات کے وقوع کو حکم خدا سے مشروط دیا ہے یعنی کوئی شخص بھی اپنی ذاتی قوت و طاقت کے ذریعے ایسے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا مگر یہ کہ خدا اور اس کی بےپایاں قدرت کو منظور ہو اور یہ عین توحید ہے شرک نہیں۔

50
3:50
وَمُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعۡضَ ٱلَّذِي حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡۚ وَجِئۡتُكُم بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
اور میں تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں اس کی جو تورات میں سے مجھ سے پہلے تھا اور (میں آیا ہوں تاکہ) بعض چیزیں جو( ظلم و گناہ کی وجہ سے) تم پر حرام تھیں انہیں حلال کروں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایا ہوں اس لیے تم خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت حضرت عیسیٰؑ کی زبان سے یوں نقل ہوئی ہے: میں تورات کی تصدیق کرنے، اس کے مبانی و اصول محکم کرنے کے لیے آیا ہوں اس لیے بھی کہ دین موسیٰ میں جو بعض حد بندیاں (مثلا اونٹ کا گوشت، کچھ حیوانات کی چربیاں، بعض پرندے اور مچھلیاں ممنوع تھی) تمہاری خلاف ورزیوں کی وجہ سے تھیں انہیں تمہارے لیے مباح کروں۔ جیسا کہ سورہ نساء کی آیہ ۱۶۰ کی تفسیر میں آئے گا گروہِ یہود کی ہٹ دھرمی اور سرکشی کی وجہ سے کچھ پاکیزہ نعمتیں وقتی طور پر ان پر حرام ہو گئی تھیں: فبظلم من الذین ھادوا حرّمنا علیھم طیّبات احلّت لھم۔ یعنی: پس ان کے ظلم کی وجہ سے ان یہودیوں پر اللہ نے بہت سی پاکیزہ چیزیں حرام قرار دے دی تھیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ کی رسالت اور اس عظیم پیغمبر کے ظہور پر قدردانی کے طور پر وہ ممانعتیں ختم کر دی گئیں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ کی زبانی ایک جملہ جو گذشتہ آیت میں آیا تھا اس کا تکرار کیا گیا ہے: میں خدا کی طرف سے اپنی دعوت کی صداقت کےلیے ایک نشانی لایا ہوں اس بناء پر یہ ہونا چاہیے کہ خدا سے ڈرو اور میرے احکام کی پیروی کرو: "و جئتکم باٰیۃ مّن ربکم فاتقوا اللہ و اطیعون۔"

51
3:51
إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ
خدا میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت سے اور قرآن کی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) ہر قسم کے ابہام اور اشتباہ کے خاتمے کے لئے اور اس لیے کہ آپ استثنائی ولادت کو آپ کی الوہیت پر سند نہ سمجھ لیں بار بار کہتے تھے: اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ نیز میں اس کا بندہ ہوں اور اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ اس کے برخلاف موجودہ تحریف شدہ انجیلوں میں حضرت مسیح (علیه السلام) کی زبان سے خدا کے بارے میں ”باپ“ کا لفظ نقل کیا گیا ہے۔ قرآ ن میں ایسے مقامات پرلفظ”رب“ یا اس جیسے الفاظ نقل ہوئے ہیں ”انّ اللہ ربّی و ربّکم“۔ اور یہ چیز دعوائے الوہیت کے خلاف اور اس کے مقابلے میں حضرت مسیح ؑکی انتہائی توجہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ آخر میں زیارہ تاکید کے لئے فرمایا:”فاعبدوہ“ یعنی خدا کی پرستش اور عبادت کرو نہ کہ میری اور یہ توحید و یگانہ پرستی ہی سیدھی راہ ہے۔

52
3:52
۞فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنۡهُمُ ٱلۡكُفۡرَ قَالَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ
حضرت عیسیٰ نے ان سے کفر (اور مخالفت) کو دیکھا تو کہا کون خدا کی طرف (اور اس کے دین کے لئے )میرا یاور و مددگار بنے گا ؟ حواریین (جو ان کے مخصوص شاگرد تھے) کہنے لگے ہم خدا کے یاور و مددگار ہیں اس پر ایمان لاتے ہیں اور آپ (بھی) گواہ رہیں کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اہل یہود حضرت عیسیٰؑ کے آنے سے پہلے حضرت موسیٰؑ کی پیشین گوئی اور بشارت کے مطابق حضرت مسیحؑ کے ظہور کے منتظر تھے لیکن جب انہوں نے ظہور فرمایا اور بنی اسرائیل کے ایک ستمگر اور منحرف گروہ کو اپنے منافع خطرے میں نظر آئے تو صرف تھوڑے سے لوگ آپ کے گرد جمع ہوئے اور جن لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت مسیح (علیه السلام) کی دعوت قبول کرنے اور احکام خدا کی پیروی سے ان کی حیثیت اور قدر و منزلت خطرے سے دوچار ہو جائےگی انہوں نے قوانین الہٰی کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیا۔ دلیل وبر ہان سے انہیں کافی دعوت دینے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) اس نتیجے پرپہنچے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مخالفت اور گناہ پر مصر ہے اور وہ کسی انکار اور کجروی سے دستبردار نہیں ہو گا لہٰذا انہوں نے پکار کر کہا: کون ہے جو دین خدا کی حمایت اور میرا دفاع کرے ”فَلَمَّا اَحَسَّ عِیسَی مِنْهم الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِی إِلَی الله “ صرف تھوڑے سے افراد نے اس کا مثبت جواب دیا۔ یہ چند پاک باز افراد تھے جنہیں قرآن نے حواریین کا نام دیا ہے۔ انہوں نے حضرت مسیح (علیه السلام) کو پکار کر جواب دیا اور ہر قسم کی مدد کی ان کے مقدس مقاصد کی پیش رفت کی راہ میں دفاع کرنے سے دریغ نہ کیا۔ حواریین نے حضرت عیسیٰؑ کی ہر طرح سے مدد کا اعلان کیا اور جیسا کہ قرآن نے مندرجہ ذیل آیت میں اُن سے نقل کیا ہے کہنے لگے: ”قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ آمَنَّا بِاللهِ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُون“َ۔ ”ہم خدا کے یار و مدد گا رہیں، خدا پر ایمان لائے ہیں اور آپ کو اپنے اسلام پر گواہ بناتے ہیں “۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی دعوت کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ ہم آپ کے مدد گار ہیں بلکہ اپنی انتہائی توحید پرستی اور خلوص کے ثبوت کے لئے اورمقصد کے لئے ان کی بات کسی شرک کی بو نہ آئے، وہ کہنے لگے: ہم خدا کے مددگار اور ساتھی ہیں اور اس کے دین کی مدد کریں گے اور آپ کو اس حقیقت پر گواہ بناتے ہیں۔ گویا وہ بھی یہ محسوس کرتے تھے کہ منحرف اور کج رو افراد آئندہ حضرت مسیح (علیه السلام) الوہیت کا دعویٰ کریں گے لہٰذا وہ ان کے ہاتھوں میں کوئی دلیل نہیں دینا چاہتے تھے۔

حواری کون تھے؟

"حواریین" "حواری" کی جمع ہے اس کا مادہ "حو" ہے جس کا معنی ہے ”دھونا اور سفید کرنا“ کبھی کبھی یہ لفظ ہر سفید چیز کے لئے بھی بولا جاتا ہے اسی لئے سفید کاغذ کو عرب لوگ ”حواری“ کہتے ہیں بہشت کی حوروں کو بھی ان کے سفید رنگ کی وجہ سے ”حوریہ“ کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے شاگردوں کو ”حواری“ کیوں کہا گیا ہے، اس کے لئے بہت سے احتمالات پیش کئے گئے ہیں مگر جو چیز زیادہ قرین ِ عقل ہے اور دین کے عظیم رہبروں سے منقول احادیث میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ وہ پاک دل لوگ تھے اور روحِ باصفا کے مالک تھے اس کے علاوہ وہ دوسروں کے افکار کو پاکیزہ اور روشن کرنے، لوگوں کے دامن کو آلودگی اور گناہ سے دھونے اور انہیں پاک کرنے میں بہت کوشاں رہتے تھے۔ عیون الرضا میں امام علی بن موسیٰ علیہما السلام سے منقول ہے: آپ (علیه السلام) سے سوال کیا گیا۔ حواریین کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ”بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اُن کا مشغلہ کپڑے دھونا تھا لیکن ہمارے نذدیک اس کی علت یہ ہے کہ انہوں نے خود بھی گناہ کی آلودگی سے پاک رکھا ہوا تھا اور دوسروں کو بھی پاک کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔

حواری قرآن اور انجیل کی نظر میں

قرآن نے سورہ صف آیہ ۱۴ میں حواریوں کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ان کے ایمان کا تذکرہ کیا ہے لیکن انجیل میں حواریوں کے بارے میں جو جملے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں لغزش کرتے تھے۔ انجیل متی اور لوقا کے باب ۶ میں حواریوں کے نام اس طرح بیان کئے ہیں۔ ۱۔ پطرس ۲۔ اندر یاس ۳۔ یعقوب ۴۔ یوحنا ۵۔ فیلوپس ۶۔ بر تو لوطا ۷۔ توما ۸۔ متی ۹۔ یعقوب ابن حلفا ۱۰۔ شمعون ( جن کا لقب غیور تھا ) ۱۱۔ یہودا ( جو یعقوب کے بھائی تھے ) ۔ ۱۲۔ یہودائے اسخر یوطی (جس نے حضرت عیسیٰؑ سے خیانت کی) مشہور مفسر طبرسی جمع البیان میں لکھتے ہیں: حواری حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ جب ابھی انہیں بھوک کیا پیاس لگتی، حکم خدا سے آب و غذا ان کے لئے مہیا ہوجاتا۔ وہ اسے اپنے لئے عظیم افتخار اور بڑا اعزاز سمجھتے۔ اور وہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) سے پوچھتے: کیا ہم سے بڑ ھ کر بھی کوئی افضل و بالاترہے۔ تو کہتے: ہاں ، افضل منکم من یعمل بیدہ ویاٴکل من کسبہ۔ (یعنی وہ شخص تم سے افضل ہے جو اپنے ہاتھ سے کماتا ہے اور اپنی کمائی کھا تا ہے، اس کے بعد وہ لوگوں کے کپڑے دھوتے تھے اور اس کام سے اجرت لیتے تھے۔ ( یو ںعملاً انہوں نے سب لوگوں کو درس دیا کہ کام اور کوشش کرنا ننگ و عار نہیں ہے) ۔

53
3:53
رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
پروردگار ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے (تیرے) رسول کی پیروی کی ہے ہمیں گواہوں کے زمرے میں لکھ لے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

حضرت مسیح (علیه السلام) کی دعوت قبول کرنے کے بعد حواریوں نے ان کا ساتھ دیا، ان کی مدد کی اور انہیں اپنے ایمان پر گواہ بنایا پھر بارگاہ الہٰی کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا ایمان پیش کیا اور کہنے لگے: پروردگار! جو کچھ تو نے بھیجا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں (”رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ“) لیکن ایمان کا چونکہ دعویٰ ہی کافی نہیں تھا، اس لئے ساتھ ہی آسمانی احکام پر عمل کرنے اور پیغمبر خدا ( حضرت عیسیٰ (علیه السلام)) کی پیروی کا ذکر کرنے لگے اور کہنے لگے: ہم نے تیرے بھیجے ہوئے مسیح کی پیروی کی ( وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ“) اور یہ ہمارے ایمان راسخ کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ اس لئے کہ جب ایمان روح انسانی میں اتر جاتا ہے تو اس کے عمل میں منعکس ہوتا ہے اور عمل کے بغیر ممکن ہے دعویٰ صرف خیالی ایمان ہو اور حقیقی و واقعی ایمان نہ ہو۔ اس کے بعد انہوں نے تقاضا کیا کہ خدا ان کے نام اور شہادت دینے والوں اور گواہوں کے زمرے میں شمار کرے (”فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِینَ“)۔ یہ گواہ وہی لوگ ہیں جو ان دینا میں امتوں کی رہبری کرتے ہیں اور قیامت میں لوگوں کے نیک و بداعمال کے گواہ ہوں گے۔

54
3:54
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ
اور(مسیح کے دشمنوں نے) سازش کی اور خدا نے چارہ جوئی کی اور خدا بہترین چارہ جوئی کرنے والا ہے۔

تفسیر خدائی مکر سے کیا مراد؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

حواریّون“ کے ایمان کا تذکرہ کرنے کے بعد اب اس میں یہودیوں کی شیطانی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انہوں نے مسیح کو نابود کرنے، ان کی آواز کو خاموش کرنے اور ان کے دین کی پیش رفت روکنے کے لئے کئی مکر و فریب اور سازشیں کیں لیکن خدا کی تدبیر اور چارہ جوئی ان سب مکاریوں اور سازشوں سے بالاتر اور زیادہ موٴثر تھی۔ قرآن میں اس جیسی کئی ایک آیات دیکھائی دیتی ہیں جن میں مکر کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے۔(مثلا سورہ انفال کی آیت ۳۰، سورہ نمل کی آیت ۵۰ اور بعض دوسری آیات) لغت عرب میں ”مکر “ کا معنی اس سے بہت مختلف ہے جو اس کا معنی آج کی فارسی میں ہے۔ فارسی میں آج کل ”مکر“ شیطانی سازشوں اور زیاں کاریوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لغتِ عرب کے اصول معانی میں ”مکر“ ہر طرح کی ”چارہ جوئی “ کو کہتے ہیں جو اچھی طرح بھی ہوتی ہے اور کبھی بری بھی۔ مفردات راغب میں ہے۔ ”المکر صرف الغیر عمّا یقصد “۔ مکر یہ ہے کہ کسی کو اس کے مقصد سے ہٹا دیا جائے۔ (اس سے قطع نظر کہ اس کا مقصد اچھا ہے یا برُا) قرآن مجید میں بھی ”مکر “ کبھی لفظ ”خیر “ کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً ”واللہ خیر الماکرین “۔ یعنی خدا بہترین چارہ کوئی کرنے والا ہے۔ اور کبھی لفظ” سئی“ (یعنی ۔ برُا) کے ساتھ مذکورہ ہے، مثلاً ”ولایحیق المکر السسّی ء الاّ باھلہ“۔ یعنی بری سازش اور سوچ اپنے اہل کے علاوہ کسی کا احاطہ نہیں کرے گی۔ ( فاطر ۔۴۳) اس بناء پر محل بحث آیت سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے دشمن اپنی شیطانی سازشوں کے ذریعے اس کی خدا ئی دعوت کی راہ رکاوٹ پیدا کر نا چاہتے تھے لیکن خدا تعالی نے اپنے پیغمبر کی جان کی حفاظت اور اس کے دین کی پیش رفت کے لئے تدبیر کی اور ان کے نقشے نقش پر آب ثابت ہوئے۔

55
3:55
إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
( وہ وقت یاد) کرو جب خدا نے عیسی سے کہا میں تمہیں لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان سے پاک کروں گا اور جو لوگ تیری پیروی کرتے ہیں انہیں ان لوگوں سے یوم قیامت تک کے لئے برتر قرار دوں گا جو کافر ہو گئے ہیں پھر تمہاری بازگشت میری طرف ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم نے کہا ہے کہ یہودیوں نے بعض جرائم پیشہ عیسائیوں کو مدد سے حضرت مسیح (علیه السلام) کے قتل کا مصمم ارادہ کرلیا تھا لیکن خداوند تعالی نے ان کی سازشوں کو نقش بر آب کر دیا اور اپنے پیغمبر کو ان کے چنگل سے رہائی بخشی۔ اس آیت میں خداوند تعالی نے اس سے پہلے جو احسان حضرت مسیح (علیه السلام) پر کیا اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اے عیسیٰؑ میں تمہیں لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا(”اِنّی متوفیک و رافعک الیّ“)۔ سورہٴ نساء کی آیت ۱۵۷ سے استفادہ کرتے ہوئے مفسرین میں یہ مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) قتل نہیں ہوئے اور خدا انہیں آسمان کی طرف لے گیا۔ لیکن خود عیسائی موجود اناجیل کے مطابق کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ قتل ہوئے اور بعد از آں انہیں دفن کر دیا گیا، پھر وہ مردوں کے درمیان سے اٹھے، تھوڑی مدت زمین پر رہے اور آسمان کی طرف اٹھ گئے۔ المنار کے مولف کی طرح بعض مفسرین اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح (علیه السلام) قتل ہوئے اور خدا صرف ان کی روح کو آسمان کی طرف لے گیا۔ اس بارے میں ضروری گفتگو اور یہ کہ ان دو نظریوں میں سے کونسا حق ہے اس سلسلے میں بحث انشاء اللہ سورہ نساء کی آیت ۱۵۷ کے ذیل میں آئے گی۔ یہاں جس بات کی طرف توجہ ضروری ہے، یہ ہے کہ محل بحث آیت عیسیٰؑ کی موت پر دلالت نہیں کرتی اگرچہ یہ تصور کرتے ہیں کہ ”متوفّیک “کا مادہ ہے ”وفات“ اور یہ موت کے معنی میں ہے۔ اس لئے ان کا خیا ل ہے کہ جو عقیدہ مسلمانوں میں مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے وفات نہیں پائی اور وہ زندہ ہیں اس مفہوم کے منافی ہے کہ حالانکہ احادیث بھی اس عقیدہ کی تائید کرتی ہیں نیز، فوت ہاتھ سے نکل جانے کے معنی میں ہے اور توفی (بروزن ترقی ) ”وفی“کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے ”کسی چیز کی تکمیل کرنا“ عہد و پیمان پر عمل کرنے کو ”وفا “ بھی تکمیل کرنے اور اسے انجام تک پہنچانے کی وجہ سے کہتے ہیں۔ اسی بناء پر اگر کوئی شخص کامل طور پر اپنا حق دوسرے سے اپنی تحویل میں لے لے تو عرب کہتے ہیں ”توفی دینہ“ یعنی اپنا حق پورا پورا وصول کرلیا۔ آیات قرآنی میں بھی ”توفی“ بارہا ”لینے“ کے معنی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ”وھو الذی یتوفٰکم بالیل و یعلم ما جرحتم بالنھار“۔ وہ ذات وہ ہے جو تمہاری روح کو رات کے وقت لے لیتی ہے اور جو کچھ تم دن کو انجام دیتے ہوئے اس سے آگاہ ہے ۔ ( انعام ۔ ۶۰) اس آیت میں نیند کو ”توفی روح“ کہا گیا ہے۔ یہی معنی سورہ زمر کی آیہ ۴٢ میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی متعدد دیگر آیات میں بھی لفظ ”توفی“ ”لینے“ کے معنی میں نظر آتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ”توفی“ بعض اوقات ”موت“ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے لیکن وہاں بھی درحقیقت موت کے مفہوم میں نہیں بلکہ روح کو اپنی تحویل میں لینے کے معنی میں ہے۔ اصولی طور پر ”توفی “ کے معنی میں ”موت“پوشیدہ نہیں ہے، اور ”فوت“ کا مادہ”وفی “ کے مادہ سے بالکل جدا ہے۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے ا س کی طرف توجہ کرتے ہوئے محل بحث آیت کی تفسیر پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے:۔ اے عیسیٰؑ میں تجھے اپنی تحویل میں لے لوں گا، تجھے، اٹھالے جاوٴں گا اور یہ مفہوم حضرت عیسیٰؑ کی حیات اور زندگی پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی موت پر (غور کیجئے)۔ ”و مطھّرک من الذین کفروا“۔ پروردگار نے حضرت عیسیٰؑ سے جو خطاب فرمایا اس جملے میں ا س ایک حصہ آیا ہے۔ ارشاد ہے: جو کافر ہیں ان سے میں تمہیں پاک و پاکیزہ رکھوں گا ۔ اس پاکیزگی سے مراد بےایمان، ناپاک اور حق و حقیقت سے ہٹے ہوئے افراد کے چنگل سے نجات دینا ہے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ ناروا تہمتوں سے پاک کیا جیسا کہ سورہ فتح میں پیغمبر ِ اسلامؐ کے بارے میں ہے:۔ ”انّا فتحنالک فتحاً مبیناً لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک و ما تاخّر“۔ ”ہم نے تمہیں واضح کامیابی عطا فرمائی تاکہ خدا تمہارے گذشتہ اور آئندہ گناہ بخش دے (اور تمہیں ان تہمتوں سے جو گناہ کی شکل میں دشمنوں نے تم سے باندھ دی تھیں، پاک رکھے) ( فتح ۔ ۱،۲) یہ بھی ممکن ہے کہ پاک کرنے سے مراد حضرت مسیحؑ کو اس آلودہ ماحول سے باہر نکالنا ہو اور اس جملے سے پہلے والے جملے سے بھی یہی معنی مناسبت رکھتا ہے۔ ”وَجَاعِلُ الَّذِینَ اتَّبَعُوکَ فَوْقَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ “ اس کے بعد فرما یا گیا ہے: تیرے پیروکاروں کو قیامت تک کے لئے کافروں پر برتری دوں گا۔ یہ ایک بشارت ہے جو....... خدا نے حضرت مسیح (علیه السلام) اور ان کے پیروکاروں کو دی تاکہ جو راہ انہوں منتخب کی تھی اس پر چلتے رہنے کے لئے ان میں ولولہ پیدا ہو۔ درحقیقت یہ آیت قرآن کی معجزنمائیوں اور غیبی پیشین گوئیوں میں سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح کے پیروکار ہمیشہ یہویوں پر جوکہ مسیح (علیه السلام) کے مخالف تھے۔ برتر رہیں گے۔ آج کی دنیا میں ہم یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہودی اور صہیونی عیسائیوں سے وابستگی اس پر بھروسہ کئے بغیر ایک دن بھی سیاسی اور سماجی طور پر زندہ نہیں رہ سکتے۔ واضح ہے کہ ”الذین کفروا“۔ سے مراد وہی یہودی ہیں جنہوں نے حضرت مسیحؑ کا انکار کیا۔

کیا اہل یہود اور مسیح (علیه السلام) کا دین باقی رہے گا

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ اس آیت کے مطابق یہود و نصاریٰ قیامت تک اس دنیا میں رہیں گے اور ان مذاہب کے پیروکار ہمیشہ موجود رہیں گے جب کہ ظہور حضرت ”مہدی علیہ السلام“سے مربوط اخبار اور روایات ہم پڑھتے ہیں کہ آپ تمام ادیان پر غالب آئیں گے اور آپ پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔ اس سوال کا جواب مذکورہ روایات پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت ”مہدی علیہ السلام“کے بارے میں مروی روایات میں ہے کہ کوئی گھر،شہر اور بیابان ایسا نہیں رہے گا جس میں توحید داخل نہ ہو۔ یعنی اسلام ایک باقاعدہ اور عمومی دین کی حیثیت سے دنیا کو اپنے اندر سمولے گا اور اس وقت کی حکومت ایک اسلامی حکومت کے طور پر ابھرے گی اور اسلامی قوانین کے علاوہ دنیا پر کسی چیز کی حکمرانی نہیں ہو گی۔ لیکن اس سے کوئی مانع نہیں کہ یہود و نصاریٰ کی ایک اقلیت حضرت ”مہدی علیہ السلام “ کی حکومت کے زیر سایہ ”اہل ذمہ“ کی حیثیت سے موجود ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ”مہدی علیہ السلام“ لوگوں کو جبری طور پر اسلام کی طرف نہیں کھینچیں گے بلکہ منطق دلیل کے بل بوتے پر آگے بڑھیں گے اور آپ کی طاقت تو نظام عدل کے قیام، ظالم حکومتوں کو سر نگوں کرنے اور دنیا کو زیر پر چم اسلام لانے کے لئے استعمال ہو گی، نہ کہ آپ لوگوں کو اپنا دین قبول کرنے پر مجبور کریں گے ورنہ تو آزادی اور اختیار کا کوئی مفہو م نہیں رہے گا۔ ” ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیمَا کُنْتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ “۔ جو کچھ گذشتہ جملوں میں کہا جا چکا ہے وہ اس جہان کی کامیابیوں کے بارے میں تھا لیکن آخری فیصلہ جو دراصل اعمال کے نتائج پر مبنی ہے اس کا ذکر اس جملے میں کیا گیا ہے۔ فرمایا: تم سب میری طرف پلٹ آوٴ گے اور میں تمہارے اور ان چیزوں کے درمیان جن میں تم اختلاف کرتے ہو دفیصلہ کروں گا۔

56
3:56
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَأُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
رہے وہ لوگ جو کافر ہو گئے ہیں (ا ور انہوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود اس کا انکار کر دیا ہے) انہیں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کروں گا اور ان کے یاورو مددگار نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
3:57
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل انجام دیئے ہیں تو خدا انہیں ان کا پورا پورا اجر وثواب دے گا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
3:58
ذَٰلِكَ نَتۡلُوهُ عَلَيۡكَ مِنَ ٱلۡأٓيَٰتِ وَٱلذِّكۡرِ ٱلۡحَكِيمِ
یہ جو کچھ ہم تیرے لئے پڑھتے ہیں تیری حقانیت کی نشانی اور حکیمانہ تذکرہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”فَاَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا فَاُعَذِّبُهم عَذَابًا شَدِیدًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهم مِنْ نَاصِرِینَ“۔ یہ ذکر کرنے کے بعد لوگوں کی بازگشت اللہ کی طرف ہے اور وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اب اس آیت میں اس قضاوت کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ افراد جو کافر ہیں اور حق و عدالت کے مخالف ہیں، جیسے وہ اس دنیا میں دردناک عذاب اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے اس جہاں میں بھی ان کی یہی حالت ہو گی اور کوئی بھی اس کی حمایت اور مدد نہیں کرے گا۔ ”وَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَیُوَفِّیہِمْ اُجُورَهم“ لیکن جو ایمان لائے ہیں اور عمل صالح بجالاتے ہیں وہ لوگ اپنا پورا پورا اجر و ثواب حاصل کریں گے اور خدا کبھی ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”واللہ لایحب الظالمین “۔ پہلی آیت میں عذاب خدا کی طرف بھی اشارہ ہوا تھا اس سے ہم ضمنا! یہ استفادہ کرتے ہیں کہ کفار (جن سے یہاں یہودی مراد ہیں) اس جہان میں بھی پرشانیوں اور مصیبتوں گرفتار رہیں گے۔ یہودی قوم کی تاریخ اس دعویٰ پر گواہ ہے۔ ان پر دوسری حکومتوں کے تفوق کا یہ ایک اثر ہے کہ جس کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ” ذٰلک نتلوہ علیک من الاٰ یات و الذّکر الحکیم “۔ حضرت مسیح (علیه السلام) کی سرگذشت اور ان کی عجیب و غریب تاریخ کے ایک گوشے کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن پیغمبر اسلامؐ کی طرف ہے۔ فرماتا ہے: اور جو کچھ ہم نے تیرے سامنے پڑھا ہے وہ تیری دعوت و رسالت کی صداقت کی آیات اور نشانیاں ہیں اور حکمت آمیز یاد آوری ہے جو آیات ِ قرآن کی صورت میں تجھ پرنازل ہوئی اور یہ وہ آیات محکم ہیں جو ہر قسم کے ہزل، باطل اور خرافات سے پاک ہیں اور حقائق کو واضح کرتی ہیں۔

59
3:59
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے جسے خدا نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے کہا ہو جا تو وہ فورا ہو گیا اس لیے باپ کے بغیر مسیح کی ولادت ہر گز ان کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
3:60
ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
یہ چیزیں تیرے پروردگار کی طرف سے حقائق ہیں لہٰذا تم تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جیسا کہ سورہ کی ابتدا ء میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے اس سورہ کی کافی آیات نجران کے عیسائیوں کے سوال کے جواب کے طور پر نازل ہوئیں۔ وہ ایک ساٹھ رکنی وفد کی صورت میں پیغمبر اسلامؐ کے پاس مدینہ میں آئے۔ اس میں ان کے چند نمائندہ روٴسا اور بزرگ شامل تھے۔ اُنہوں نے جو مسائل پیغمبر اکرمؐ کے سامنے پیش کیے ان میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ وہ پوچھنے لگے کہ آپ ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: خدائے یگانہ کی طرف اور یہ کہ میں اس کی طرف سے ہدایتِ مخلوق کی رسالت کے منصب پر فائز ہوں نیز یہ کہ مسیح (علیه السلام) اس کے بندوں میں سے ایک تھے، حالاتِ بشری رکھتے تھے اور دوسرے لوگوں کی طرح غذا کھاتے تھے۔ انہوں نے یہ بات نہ مانی اور باپ کے بغیر حضرت عیسیٰؑ کی ولاد ت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے ان کی الوہیت کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا گیا۔ لیکن جب وہ یہ جواب قبول کرنے پر بھی تیار نہ ہوئے تو انہیں مباہلہ کی دعوت دی گئی، جس کی تفصیل عنقریب بیان کی جائے گی۔

تفسیر

پہلی آیت میں ایک مختصر اور واضح استدلال ہے جس میں نجران کے عیسائیوں کے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے بارے میں دعویٰ الوہیت کا جواب ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیه السلام) باپ کے بغیر پیدا ہوئے تو یہ امر اس کی دلیل کبھی نہیں بن سکتا کہ وہ خدا بیٹے یا خود خدا تھے،کیونکہ یہ بات تو حضرت آدم (علیه السلام) کے بارے میں عجیب ترین صورت میں محقق اور ثابت ہو چکی ہے۔ وہ تو ماں باپ دونوں کے بغیر دنیا میں آئے تھے۔ اس لئے جیسے حضرت آدم(علیه السلام) کی مٹی سے پیدائش کوئی تعجب کی بات نہیں اور خدا جو کام انجام دینا چاہے اس کا فعل اور ارادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح حضرت عیسیٰؑ کا اپنی والدہ سے بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی محال مسئلہ نہیں ہے بلکہ آدم کی پیدا ئش کئی لحاظ سے زیادہ تعجب خیز ہے۔ پس اگر بغیر باپ کے حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش ان کی الوہیت کی دلیل ہے تو حضرت آدم اس امر کے زیادہ مستحق ہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں پہلے حضرت آدم (علیه السلام) کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”خلقہ من ترابٍ“ (یعنی اسے مٹی سے پیدا) دوسرے جملوں کے قرینے سے، اس جملے سے مراد حضرت آدم (علیه السلام) کے جسم اور مادی پہلو سے ان کی خلقت ہے۔ اس کے بعد دوسرے جملے میں ان کی اور روح کی خلقت کی طرف کرتے ہوئے فرمایا:”ثم قال لہ کن فیکون“ (پھر اس سے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا) یعنی حکم خلقت کے ساتھ حیات اور روح آدم کے قالب میں پھونک دی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حضرات عوالم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، عالم خلق(عالم مادہ) اور عالمِ امر (عالم ماورائے مادہ ) اور یہ دونوں ہی فرمانِ خدا کے تابع ہیں ارشاد الہٰی ہے: ”الا لہ الخلق و الامر “ ” آگاہ رہو کہ عالم خلق و امر اسی کی طرف سے ہے۔ ( اعراف۔۵۴) پھر اس بات کی تاکید کے طور پر فرمایا: جو کچھ ہم نے مسیح کے بارے میں تم پر نازل کیا ہے، یہ پروردگار کی طرف سے ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بارے میں اپنے اندرکسی قسم کے تردد کو جگہ نہ د ینا۔ ”الحق من رّبک“۔ اس جملے کے بارے میں مفسرین نے دو احتمالات پیش کئے ہیں:۔ پہلا:۔ یہ کہ یہ جملہ مبتداء اور خبر سے مرکب ہے۔ یعنی الحق مبتداء ہے اور من ربّک خبر ہے۔ اس بناء پر اس کا معنی یہ ہو گا: حق ہمیشہ تیرے پروردگار ہی کی طرف سے ہو گا کیونکہ حق کا معنی ہے واقعیت اور واقعیت عین ہستی وجود ہے اور تمام ہستیاں اور وجود اس کے وجود سے ہیں اور باطل عدم و نیستی ہے جو اس کی ذات سے بیگانہ ہے۔ دوسرا:یہ کہ یہ جملہ مبتداء محذوف کی خبر ہے جو کہ” ذٰلک الاخبار“ ہے۔ یعنی یہ خبریں جو آپ کو بتائی گئی ہیں ، سب پروردگار کی طرف سے حقائق ہیں۔ یہ دونوں مفاہیم آیت کے لئے مناسب ہیں۔

61
3:61
فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡاْ نَدۡعُ أَبۡنَآءَنَا وَأَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ
اس علم و دانش کے بعدجو عیسی ٰکے بارے میں تمہارے پاس پہنچاہے پھر بھی کوئی تم سے جھگڑے تو اسے کہہ دو آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو بلاؤپھر مباہلہ کریں گے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں گے۔

تفسیر مباہلہ کیا ہے؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

"مباہلہ" دراصل، "بھل" کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے "چھوڑ دینا" اور کسی کی قید و بندکو ختم کر دینا۔ اسی بناء پر جب کسی جانور کو اس کے حال پر چھوڑ دیں اور اس کے پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تاکہ اس کا نو زائیدہ بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے تو اسے "باھل" کہتے ہیں۔ دعا میں "ابتھال" تضرع و زاری اور کام خدا کے سپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ کبھی کبھار یہ لفظ ہلاکت، لعنت اور خدا سے دوری کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اس کے حال پر چھوڑ دینا منفی نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ یہ تو تھا "مباہلہ" کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو اوپر والی آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو اشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسئلے میں اختلافَ رائے رکھتے ہوں، ایک جگہ جمع ہو جائیں، بارگاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے۔

دعوتِ مباھلہ

مندرجہ بالا آیت میں خداوند تعالی نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی کوئی شخص تم سے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے ”مباہلہ کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچوں، عورتوں اور نفسوں کو بلاوٴ پھر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کر دے۔ ”مباہلہ “ کی یہ صورت شاید قبل از ایں عرب میں مروج نہ تھی اور ایک ایسا راستہ ہے جو سوفی صد پیغمبر اکرمؐ کے ایمان اور دعوت کی صداقت کا پتہ دیتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ جو کامل ارتباط کے ساتھ خدا پر ایمان نہ رکھتا ہو اور ایسے میدان کی طرف آئے اور مخالفین کو دعوت دے کہ آوٴ! اکھٹے درگاہ خدا میں چلیں، اس سے درخواست کریں اور دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا کردے اور پھر یہ بھی کہے کہ تم عنقریب اس کا نتیجہ دیکھ لو گے کہ خدا کس طرح جھوٹوں کو سزا دیتا ہے اور عذاب کرتا ہے۔ یہ مسلم ہے کہ ایسے میدان کا رخ کرنا بہت خطرناک معاملہ ہے کیونکہ اگر دعوت دینے والے کی دعا قبول نہ ہوئی اور مخالفین کو ملنے والی سزا کا اثر واضح نہ ہو اتو نتیجہ دعوت دینے والے کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ہو گا۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک عقلمند اور سمجھدار انسان نتیجے کے متعلق اطمنان کئے بغیر اس مرحلے میں قدم رکھے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے دعوتِ مباہلہ اپنے نتائج سے قطع نظر، آپؐ کی دعوت کی صداقت اور ایمان قاطع کی دلیل بھی ہے۔ اسلامی روایات میں ہے کہ “مباہلہ“ کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئے اور آپؐ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کر لیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کر لیں۔ مشورے کی یہ بات ان کی نفساتی حالت کی چغلی کھاتی ہے۔ بہرحال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد شور و غل، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ ”مباہلہ“ کے لئے آئیں تو ڈرا نہ جائے اور مباہلہ کر لیا جائے کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور وغل کا سہارا لیا جائے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیں بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جان لینا چاہئیے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صورت میں ان سے ”مباہلہ “ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطرناک ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسائی میدان مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر ؐاپنے بیٹے حسین (علیه السلام) کو گود میں لئے حسن (علیه السلام) کا ہاتھ پکڑے اور علی (علیه السلام) و فاطمہ (علیه السلام) کو ہمراہ لئے آپہنچے ہیں اور انہیں فرمارہے ہیں کہ جب میں دعا کرو، تم آمین کہنا۔ عیسائیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہائی پریشان ہوئے اور مباہلہ سے رک گئے اور صلح و مصالحت کے لئے تیار ہو گئے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہو گئے۔ ”فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ.......“ گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کی نفی پر استدلال تھا۔ اب اس آیت میں پیغمبر اکرمؐ کوحکم دیا گیا ہے کہ اگر اس علم و دانش کے بعد بھی جو تمہارے پاس پہنچا ہے کچھ لوگ تم سے لڑیں جھگڑیں تو انہیں مباہلہ کی دعوت دو اور اس سے کہو کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم بھی اپنے بیٹوں کو بلاوٴ، ہم اپنی عورتوں کو دعوت دیتے یں تم بھی اپنی عورتوں کو بلاوٴ اور ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں تم بھی اپنے نفسوں کو دعوت دو پھر ہم مباہلہ کریں گے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں گے۔ بغیر کہے یہ بات واضح ہے کہ مباہلہ سے مراد یہ نہیں کہ طرفین جمع ہو ں، ایک دوسرے پر لعنت و نفرین کریں اور پھر منتشر ہو جائیں کیونکہ یہ عمل تو نتیجہ خیز نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ دعا اور نفرین عملی طور پر اپنا اثر ظاہر کرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذا ب میں مبتلا ہو جائے۔ اس آیت میں مباہلہ کا نتیجہ تو بیان نہیں کیا گیا لیکن چونکہ یہ طریقہ ٴ اکار منطق و استدلال کے غیر موثر ہونے پر اختیار کیا گیا تھا اس لئے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ مقصود صرف دعا نہ تھی بلکہ اس کا خارجی اثر پیش نظر تھا۔

عظمت اہل بیت کی ایک زندہ سند

شیعہ اور سنی مفسرین اور محدثین نے تصریح کی ہے کہ ”اٰیہٴ مباہلہ ٴ اہل بیتِ رسول کی شان میں نازل ہوئی ہے اور رسول (صلی الله علیه و آله وسلم) جن افراد کو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ کی طرف لے گئے تھے وہ صرف ان کے بیٹے امام حسن(علیه السلام) اور امام حسین (علیه السلام)، ان کی بیٹی فاطمہ زہرا (علیه السلام) اور حضرت علی علیہ السلام تھے، اس بناء پر آیت میں ”ابنائنا “ سے مراد صرف امام حسن (علیه السلام) اور حسین (علیه السلام) ہیں۔ ”نسائنا “ سے مراد جناب فاطمہ (علیه السلام) ہیں اور ”انفسنا “ سے مراد صرف حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ اہل سنت کے بعض مفسرین جو بہت کم تعداد میں ہیں اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث کا انکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً موٴلفِ”المنار“ نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے:۔ یہ تمام روایات شیعہ طریقوں سے مروی ہیں۔ ان کا مقصد معین ہے۔ انہوں نے ان احادیث کی نشر و اشاعت اور ترویج کی کوشش کی ہے، جس سے بہت سے علماء اہل سنت کو بھی اشتباہ ہو گیا ہے۔ لیکن اہل سنت کی بنیادی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ان میں سے بہت سے طریقوں کا شیعوں یا ان کی کتابوں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں اور اگر اہل سنت کے طریقوں سے مروی ان ان احادیث کا انکار کیا جائے تو ان کی باقی احادیث اور کتب بھی درجہٴ اعتبار سے گر جائیں گی۔ اس حقیقت کو زیادہ واضح کرنے کے لئے اہل سنت کے طریقوں سے کچھ روایات ہم یہاں پیش کریں گے۔ قاضی نور اللہ شوستری اپنی کتاب ِ نفیس ”احقاق الحق “ کی جلد سوم طبع جدید صفحہ ۴۶ پر لکھتے ہیں: ”مفسرین اس سلسلے میں متفق ہیں کہ ”ابنائنا“ سے اس آیت میں امام حسن (علیه السلام) اور امام حسین (علیه السلام) مراد ہیں، ”نسائنا“ سے ”حضرت فاطمہ (علیه السلام) مراد ہیں اور ’’ انفسنا“ میں حضرت علی (علیه السلام) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے “ اس کے بعد کتاب مذکور کے حاشیہ پر تقریباً ساٹھ بزرگان اہل سنت کی فہرست دی گئی ہے جنہوں نے تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ اہل بیت ِؑ رسولؐ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ ان کے نام اور ان کی کتب کی خصوصیات صفحہ ۴۶ سے لے کر صفحہ ۷۶ تک تفصیل سے بیان کی گئی ہے ان شخصیتوں میں سے یہ زیادہ مشہور ہیں۔ ۱۔ مسلم بن حجاج نیشاپوری۔ مولف صحیح مسلم جو نامور شخصیت ہیں اور ان کی حدیث کی کتاب اہل سنت کی چھ قابل اعتماد صحاح میں سے ہے ملاحظہ ہو مسلم، ج۷، ص ۱۲۰۔ طبع مصر زیر اہتمام محمد علی صبیح۔ ۲۔ احمد بن حنبل نے اپنی ”مسند“ میں لکھا ہے ملاحظہ ہو جلد۱، صفحہ ۱۸۵ طبع مصر۔ ۳۔ طبری نے اپنی مشہور تفسیر میں اسی آیت کے ضمن میں لکھا ہے دیکھئے جلد ۳، ص ۱۹۲، طبع میمنیہ۔ مصر۔ ۴۔ حاکم نے اپنی”مستدرک “ میں لکھا ہے، دیکھئے جلد ۳ ، ص ۱۵مطبوعہ حیدر آباد دکن۔ ۵۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی“ ،کتاب” دلائل النبوة“ ص ۲۹۷، مطبوعہ حیدر آباد دکن۔ ۶۔ واحدی نیشاپوری “ ، کتاب ”اسباب النزول “ ،ص ۷۴،طبع ہندیہ ۔ ۷۔ فخر رازی “ نے اپنے مشہور تفسیر کبیر میں لکھا ہے، دیکھئے جلد ۸ ، ص ۸۵، طبع بہیہ ، مصر۔ ۸۔ ابن ایثر ، ” جامع الاصول “ ، جلد ۹، ص ۴۷۰ ، طبع سنة المحدیہ ، مصر۔ ۹۔ ابن جوزی ” تذکرة الخواص“ ، صفحہ ۱۷، طبع نجف ۔ ۱۰۔ قاضی بیضاوی ، نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے ، ملاحظہ کریں جلد۲ م ص ۲۲ طبع مصطفیٰ محمد ، مصر ۔ ۱۱۔ آلوسی نے تفسیر ” روح المعانی “ میں لکھا ہے دیکھئے جلد سوم، ص۱۶۷، مطبوعہ منیر یہ۔ مصر۔ ۱۲۔ معروف مفسر طنطاوی نے اپنی تفسیر ” الجواہر “ میں لکھا ہے، جلد ۲، ص۱۲۰۔ مطبوعہ مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر۔ ۱۳۔ زمخشری نے تفسیر ” کشاف“ میں لکھا ہے، دیکھئے جلد۱، ص ۱۹۳، مطبوعہ مصطفیٰ محمد ، مصر۔ ۱۴۔ حافظ احمد ابن حجر عسقلانی “، الاصابة“، جلد ۲، ص ۵۰۳، مطبوعہ مصطفی محمد ، مصر۔ ۱۵۔ ابن صباغ، فصول المہمّہ“، ص۱۰۸، مطبوعہ نجف ۔ ۱۶۔ علامہ قر طبی، ’ الجامع الاحکام القرآن“ ،جلد ۳، ص ۱۰۴، مطبعہ مصر ۱۹۳۶۔ ”غایة المرام “ میں ”صحیح مسلم “ کے حوالے سے لکھا ہے:۔ ایک روز معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کہا: تم ابو تراب،( علی (علیه السلام)) کو سب و شتم کیوں نہیں کرتے۔ وہ کہنے لگا۔ جب سے علی (علیه السلام) کے بارے میں پیغمبرؐ کی کہی ہوئی تین باتیں مجھے یاد آئی ہیں، میں نے اس کام سے صرف نظرکرلیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو پیغمبر نے صرف فاطمہ (علیه السلام) حسن (علیه السلام) اور حسین(علیه السلام) اور علی (علیه السلام) کو دعوت دی۔ اس کے بعد فرمایا” اللھم ھٰولاء اھلی “) یعنی خدایا ! یہ میرے نزدیکی اور خواص ہیں) ۔ تفسیر کشاف کے موٴلف اہل سنت کے بزرگوں میں سے ہیں۔ وہ اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں۔ ”یہ آیت اہل کساء کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے قوی ترین دلیل ہے “۔ شیعہ مفسرین، محدثین اور موٴرخین بھی سب کے سب اس آیت کے ”اہل بیت “کی شان میں نازل ہونے پر متفق ہیں چنانچہ ” نورالثقلین“ میں اس سلسلے میں بہت سے روایات نقل کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب ”عیون اخبار الرضا “ ہے، اس میں ایک مجلسِ مناظرہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جو مامون نے اپنے دربار میں منعقد کی تھی۔ اس میں ہے کہ امام علی(علیه السلام) بن موسیٰ رضا (علیه السلام) نے فرمایا:۔ خدا نے اپنے پاک بندوں کو آیت مباہلہ میں مشخص کر دیا ہے اور اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے: ”فمن حاجّک فیہ من بعد ماجاء ک من العلم فقل۔۔۔۔۔۔ “ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر علی (علیه السلام) ، فاطمہ (علیه السلام)، حسن (علیه السلام) اور حسین (علیه السلام) کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے لے گئے اور یہ ایسی خصوصیت اور اعزاز ہے کہ جس میں کوئی شخص اہل بیت (علیه السلام) پر سبقت حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایسی منزلت ہے جہاں تک کوئی شخص بھی نہیں پہنچ سکا او ریہ ایسا شرف ہے جو اس سے پہلے کو ئی حاصل نہیں کر سکا۔ (بحوالہ نور الثقلین “ جلد ۱ ۔ صفحہ ۳۴۹۔ ” برھان “ جلد ۱ ، صفحہ ۲۹۰، تفسیر ” عیاشی “ جلد ۱ ؛صفحہ ۱۷۷، ” بحار “ طبع ہندیہ جلد ۲۰۔ صفحہ ۵۱۔ اور جلد ۶؛ ص۶۵۲)۔ تفسیر ”برہان “، ”بحار الانوار“ اور تفسیر ”عیاشی “ میں بھی اس مضمون کی بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو تمام اس امر کی حکایت کرتی ہیں کہ مندرجہ بالا آیت ”اہل بیت “ کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

اس مقام پر ایک مشہور اعتراض کیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض فخر الدین رازی اور بعض دوسرے لوگوں نے کیا ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ”ابنائنا“ (ہمارے بیٹے ) سے مراد ”حسن (علیه السلام) و حسین (علیه السلام)“ ہوں جب کہ ” ابنائنا “ جمع ہے اور (عربی میں)جمع کا لفظ دو کے لئے نہیں ہوتا، اس طرح کیسے ممکن ہے” نسآئنا“ہماری عورتیں جو جمع کا لفظ ہے صرف شہزادیٴ اسلام فاطمہ (علیه السلام) کے لئے ہو او ریوں ہی ” انفسنا“ سے صرف علی(علیه السلام) مراد ہوں؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہاں جمع کا صیغہ کیو ں آیا ہے؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ پہلی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ بہت سی احادیث، بہت سے مشہور منابع اور معتبر اسلامی کتب میں جن میں شیعہ سنی سب شامل ہیں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت ” اہل بیت “ کے حق میں نازل ہوئی ہے او ران میں تصریح کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ سوائے علی(علیه السلام) ، فاطمہ (علیه السلام) ، حسن (علیه السلام) اور حسین (علیه السلام) کے کسی کو مباہلہ کے لئے نہیں لے گئے۔ یہ بات آیت کی تفسیر کے لئے خود ایک واضح قرینہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ منجملہ ان قرائن کے جو آیاتِ قرآن کی تفسیر کرتے ہیں ایک سنت اورقطعی شانِ نزول بھی ہے۔ اس بناء پر مذکورہ اعتراض کی ذمہ داری فقط شیعوں پر نہیں ہے بلکہ تمام علماء اسلام کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ دوسری بات یہ کہ جمع کے صیغہ کا مفرد یا تثنیہ پر اطلاق کوئی نئی بات نہیں۔ قرآن اور قرآن کے علاوہ ادبیاتِ عرب بلکہ ادبیات غیر عرب میں ایسا کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک قانون بیان کرتے وقت یا کوئی عہد نامہ لکھتے وقت حکم کلی شکل میں اور جمع کے صیغے کےساتھ آتا ہے۔ مثلاً کسی عہد نامہ میں یوں لکھا جاتا ہے:۔ اس کے اجرا کے ذمہ دار عہد نامہ پر دستخظ کرنے والے اور ان کے بیٹے ہوں گے۔ حالانکہ ممکن ہے کہ طرفین میں سے ایک طرف صرف ایک یا دو بیٹے ہوں اور ایسا ہونا قانون یا عہد کے صیغہ جمع کے منافی نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ مرحلے دو ہیں۔ایک مرحلہ قرار داد اور دوسرا مرحلہ اجراء، مرحلہٴ قرار داد میں بعض اوقات الفاظ ضمع کی صوت میں آتے ہیں تاکہ وہ تمام مصادیق پر منطبق ہوں لیکن مرحلہٴ اجراء میں ممکن ہے مصداق ایک ہی فرد ہو اور ایک فرد کا ہونا مسئلے کے کلی ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ دوسرے لفظو ں میں پیغمبر اکرمؐ نصاریٰ سے طے کی گئی قرارداد کے مطابق ذمہ دار تھے کہ اپنے مخصوص خاندان کے تمام فرزند، عورتیں اور وہ تمام اشخاص جو آپ کی جان کے بمنزلہ ہو انہیں اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے لاتے لیکن ان کا مصداق دو بچوں، ایک خاتون اور ایک مرد کے سوا کوئی نہ تھا (غور کیجئے گا ) ۔ آیات قرآن میں ایسے متعدد مواقع ہیں جہاں عبارت میں جمع کا صیغہ آیا ہے لیکن اس کا مصداق کسی جہت سے ایک ہی فرد ہے۔ مثلاً سورہٴ آل عمران، اایہ ۱۷۳۔ میں ہے:۔ ”الّذین قال لھم النّاس انّ النّاس قد جمعوا لکم فاخشوھم“۔: وہ افراد جنہیں لوگوں نے کہا کہ دشمنوں نے (تم پر حلمء کے لئے ) اکٹھ کرلیا ہے، ان سے ڈرو“ مفسرین کی ایک جماعت نے تصریح کی ہے کہ یہاں ”النّاس “ سے مراد ”نعیم بن مسعود“ ہے جس نے ابو سفیان سے کچھ مال لے رکھا تھا تاکہ مسلمانوں کو مشرکین کی طاقت سے ڈرایا جائے۔ اسی طرح سورہ آل عمران آیہ ۱۸۱میں ہے:۔ ”لقد سمع اللہ قول الّذین قالوآ انّ اللہ فقیر و نحن اغنیاء“۔ خدا نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے تھے: خدا فقیر ہے اور ہم تونگر و بے نیاز ہیں، اسی لئے اس نے ہم سے زکوٰة کا مطالبہ کیا ہے “۔ مفسرین کی ایک جماعت کی تصریح کے مطابق آیت میں ”الذین“ سے مراد ”حی بن اخطب" یا "فنحاص“ ہے۔ ایک اور با ت یہ ہے کہ کبھی مفرد کے لئے جمع کا صیغہ اس کی بزرگی کے اظہار کے لئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں ہے۔ ”انّ ابراہیم کان امّة قانتاً للہ: ابراہیم بارگاہ الٰہی میں خضوع کرنے والی امت تھے۔ (بحوالہ: نحل ۔۱۲۰)

بیٹی کی اولاد

آیہ مباہلہ سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی کی اولاد بھی ”ابن“ (بیٹا) کہا جاتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اس کے برعکس مرسوم تھا کہ صرف بیٹے کی اولاد کو اپنی اولاد سمجھا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ: بنونا بنو ابنائنا وبناتنا بنوھنّ ابناء الرجال الاَباعد یعنی___________ ہماری اولاد تو فقط ہمارے پوتے ہیں۔ رہے ہمارے نواسے تو وہ دوسروں کی اولاد ہیں نہ کہ ہماری۔ بیٹوں اور عورتوں کو انسانی معاشرے کا حقیقی حصّہ سمجھنے کی طرز فکر بھی اسی غلط سنّتِ جاہلیت کی پیدا وار تھی۔ وہ عورتوں کو اپنی اولاد کی نگہداری کے لئے فقط ظرف سمجھتے تھے۔ جیسا کہ ان کے شاعر نے کہا ہے:۔ و انّما امّھات الناس اوعیة مستودعات و للانساب آباء یعنی ــــــ لوگوں کی مائیں ان کی پرورش کے لئے ظروف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اورنسب کے لئے تو صرف باپ ہی پہچانے جاتے ہیں۔ اسلام نے اس طرز فکر کی شدید نفی کی اور اولاد کے احکام پوتوں اور نواسوں پر ایک ہی طرح سے جاری کئے۔ سورہ انعام آیہ ۸۴ اور ۸۵ میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی اولاد کے بارے میں ہے: ” ومن ذرّ یّتہ داود و سلیمان و ایّوب و یوسف و موسیٰ و ھارون و کذالک نجزی المحسنین و زکریا و یحییٰ و عیسیٰ و الیاس کلّ من الصالحین“۔ ”اور اولاد ابراہیم میں سے داوٴد، سلیمان، ایوب،یوسف، موسیٰ اور یارون تھے اور اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزاء دیتے ہیں، نیز زکریا، یحییٰ اورعیسیٰ (علیه السلام)(بھی تھے) جو سب کے سب صالحین میں سے تھے۔“ اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی اولاد میں سے شمار کیا گیا ہے حالانکہ وہ بیٹی کی اولاد تھے اور جو شیعہ سنّی روایات امام حسن (علیه السلام) اور امام حسین (علیه السلام) کے بارے میں مذکور ہیں ان میں بارہا ” ابن رسول اللہ “ (فرزند رسول) کا لفظ ان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ وہ آیات جن میں ایسی عوتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح حرام ہے ان کے لئے فرمایا گیا ہے: ”وحلائل ابنائکم “۔ یعنی .......تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔ فقہائے اسلام کے درمیان یہ مسئلہ مسلم ہے کہ بیٹوں، پوتوں اور نواسوں کی بیویاں انسان پر حرام ہیں اور وہ سب مندرجہ بالا آیت میں داخل ہیں۔

کیا مباہلہ ایک عمومی حکم ہے؟

اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں مسلمانوں کو مباہلے کی دعوت دی گئی بلکہ روئے سخن پیغمبر اسلامؐ کی طرف تاہم یہ بات مخالفین کے مقابلہ میں مباہلے کے عمومی حکم سے مانع نہیں۔ یعنی جب دلائل پیش کرنے کے باوجود دشمن مصر ہوں اور ہٹ دھرمی کا ثبوت دیں تو کامل تقویٰ اور خدا پرستی کے حامل اہل ایمان انہیں مباہلے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ اسلامی منابع میں اس ضمن میں مذکورہ روایات سے بھی اس حکم کی عمومیت ثابت ہو تی ہے۔ تفسیر نور الثقلین، جلد ۱ صفحہ ۳۵۱ میں امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: مخالفین تمہاری حق کی باتیں قبول نہ کریں تو انہیں دعوت مباہلہ دو۔ راوی کہتا ہے: میں نے سوال کیا کہ کیسے مباہلہ کریں۔ فرمایا:۔ تین دن تک اپنی اخلاقی اصلاح کرو۔ راوی مزید کہتا ہے:۔ ”میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا روزہ رکھو اور غسل کرو، جس سے مباہلہ کرنا چاہتے ہو اسے صحرا میں لے جاو۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں اس کے دائیں ہاتھ میں ڈالو اور اپنی طرف سے ابتداء نہ کرو اور کہو: خداوندا ! تو سات آسمانوں اور سات زمینوں کا پروردگار ہے اور پوشیدہ اسرار سے ا ٓگاہ ہے اور رحمن و رحیم ہے، میرے مخالف نے اگر حق کا انکار کیا ہے اور باطل کا دعویٰ کیا ہے تو آسمان سے اس پر بلا و مصیبت نازل فرما اور اسے دردناک عذاب میں مبتلا کر دے: اس دعا کو دہراوٴ اور کہو: یہ شخص اگر حق کا انکار کرتا ہے اور باطل کا دعویدار ہے تو آسمان سے اس پر بلا نازل کردے اور اسے عذاب میں مبتلا کر دے۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے فرمایا: زیادہ وقت نہیں گرے گا کہ اس دعا کا نتیجہ آشکار ہو گا خد اکی قسم میں نے ہرگز ایسا شخص نہیں پایا جو تیار ہو کہ ا س کے ساتھ اس طرح مباہلہ کیا جائے۔ ضمنی طور پر اس آیت سے ان لوگوں کو بھی جواب مل جاتا ہے جو بے سوچے سمجھے اسلام کو مردوں کا دین قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں عورتیں کسی شمار میں ہیں۔ لیکن یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ خاص مواقع پر اسلامی مقاصد کی پیش رفت کے لئے عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ دشمن سے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑی ہوتیں تھیں۔ بانوئے اسلام جناب فاطمہ زہرا(علیه السلام) ان کی دختر نیک اختر جناب زینب کبریٰ اور ایسی خواتین جو ان کے نقش قدم پر چلیں ان کی زندگی کے درخشان صفحات اس حقیقت پر گواہ ہیں۔

62
3:62
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡقَصَصُ ٱلۡحَقُّۚ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
یہ (حضرت عیسیٰ کی) حقیقی سر گذشت ہے (اور ان کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا بے بنیاد ہے) اور خدائے یگانہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور خدا توانا و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”قصص“ مفرد ہے اور ”قصة“ کے معنی میں ہے۔ دراصل یہ لفظ ”قص“ کے مادہ سے ہے اور کسی چیز کی جستجو کرنے کے معنی میں لیاگیا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ بن عمران کے واقعہ میں ہے۔ ”و قالت لاختہ قصیہ“ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی والدہ نے ان کی بہن سے کہا: موسیٰ (علیه السلام) کی جستجو میں جاو۔ ( القصص : ۱۱) یہ جو خون کے بدلے کو ”قصاص“کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح مقتول کے حق کی جستجو کی جاتی ہے۔ گذشتہ واقعات اور گزرے ہوئے لوگوں کی تاریخ بھی ان کے حالاتِ زندگی کی جستجو ہے اسی لئے ان کے واقعہ کو ”قصّہ“ کہتے ہیں۔ حضرت مسیح (علیه السلام) کی زندگی کے حالات بیان کرنے کے بعد مندرجہ بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں ہم نے جو تفصیل بیان کی ہے وہ ایک واقعیت اور حقیقت ہے جو پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس لئے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں الوہیت، خدا کا بیٹا یا اس کے بجائے ( معاذ اللہ!)غیر شرعی بچہ قرار دینے کے سب دعوے بے بنیاد اور بے ہودہ ہیں۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر مزید کہا گیا ہے: جو ذات پرستش کے لائق ہے وہ صرف خداوند تونا و حکیم ہے اور خدا نے علاوہ کسی کے لئے اس منصب کا قائل ہونا غیر مناسب اور خلافِ حقیقت ہے۔

63
3:63
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُفۡسِدِينَ
اگر (ان دلائل کے باوجود وہ قبول حق سے) رو گردانی کرتے ہیں تو جان لو کہ خدا فساد کرنے والوں سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

آیت کہتی ہے کہ مسیح (علیه السلام) کے بارے میں قرآن کے منطقی دلائل کے باوجود اور دعوتِ مباہلہ کے بعد بھی اگر وہ حق کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھتے ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ طالب حق نہیں بلکہ ناروا تعصبات، سر کشی، ہواو ہوس اور اندھی تقلید میں گرفتار ہیں اور ان کا کام بہرصورت معاشرے میں فساد پیدا کرنا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جو گروہ حق کے واضح ہوجانے کے باوجود اپنی ڈھٹائی ترک نہیں کرتا وہ حق کا متلاشی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ طالبِ فساد ہے اور کا مقصد لوگوں کے صحیح عقائد کی بنیادوں کو کھوکھلا اور خراب کرنا ہے۔

64
3:64
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ
کہیے اے اہل کتاب آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ سوائے خدائے یگانہ کے کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور ہم میں سے بعض خدا کو چھوڑ کر بعض دوسروں کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں جب (وہ اس دعوت سے) روگردانی کریں تو کہیے گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔

تفسیر- وحدت کی طرف دعوت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قرآن نے سب سے پہلے عیسائیوں کو گزشتہ آیات کے ضمن میں منطقی استدلال پیش کیا اور ان کی مخالفت کے بعد دعوتِ مباہلہ دی۔ جب اس دعوت سے ان پر کافی نفسانی اثر ڈالا تو چونکہ وہ مباہلے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور شرائط ذمہ قبول کر لیں تو ان کی اس روحانی آمادگی سے استفادہ کرتے ہوئے پھر استدلال شروع کیا لیکن یہ استدلال پہلے سے بہت مختلف ہے۔ گزشتہ آیات میں اسلام کی دعوت اس کی تمام تر خصوصیات کے ساتھ تھی لیکن اس آیت میں اسلام اور اہل کتاب کے مشترک نقاط کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ حقیقت میں اس طرز استدلال سے قرآن ہمیں لکھتا ہے کہ اگر لوگ اس بات پر تیار نہیں کہ تمہارے تمام مقدس اہداف و مقاصد میں تمہارا ساتھ دیں تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھ جاوٴ اور کوشش کرو کہ کم از کم جس قدر تمہارے ساتھ وہ اشتراکِ ہدف رکھتے ہیں اتنا ہی ان کی ہمکاری حاصل کرلو اور اسے مقدس اہداف و مقاصد کی پیش رفت کے لئے بنیاد قرار دو۔ مندرجہ بالا اہل کتاب کے لئے (وحدت و اتحاد) کی پکار ہے اور انہیں کہتی ہے کہ تم دعوٰیٰ کرتے ہو بلکہ اعتقاد رکھتے ہو کہ مسئلہ ”تثلیث“ (تین خداوں کا عقیدہ ) ” توحید“ کے عقیدے کے منافی نہیں اس لئے تثلیث میں وحدت کے قائل ہو اور اس طرح یہودی شرک آلود باتوں کے باوجود اور عزیز کو خدا کا بیٹا جاننے کے باوجود توحید کے مدعی ہیں یوں تم سب کے سب اصل میں اپنی ”تو حید“ کو مشترک سمجھتے ہیں اس لئے آوٴ ہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اس مشترک بنیاد کو مستحکم کریں اور ایسی غیر مناسب تفسیروں سے اجتناب کریں جن کا نتیجہ شرک ہو اور توحید خالص سے دوری ہو۔ ”و لا یتّخذ بعضا بعضاً ارباباً مّن دُون اللّہ “۔ آیت کی ابتداء میں دو مرتبہ مسئلہ توحید کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک ”الا تعبد الاّ اللہ “۔ یعنی ___آوٴ خد اکے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور دوسرا ”لانشرک بہ شیئاً“۔ (یعنی___کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں، اب زیر نظر جملے میں تیسری دفعہ اس اصل کا تذکرہ ہے لیکن زیادہ صراحت اور ذمہ داری کے حقیقی نقطے پر انگلی رکھ کر، کیونکہ جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم میں سے بعض کو نہیں چاہئیے کہ بعض دوسروں اپنا معبود اور پروردگار قرار دے لیں۔ ممکن ہے یہ تعبیر ان دو مطالب میں سے ایک کی طرف اشارہ ہو: پہلا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام)جو انسان اور ہمارے ممنوع ہیں انہیں الوہیت کے عنوان سے نہیں پہچانا جانا چاہئیے۔ دوسرا یہ کہ منحرف اور کج رو علماء جو اپنے مقام سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور خدا کے حلال و حرام کو اپنی مرضی سے بدلتے ہیں انہیں سند نہیں سمجھنا چاہئیے اور نہ ان کی پیروی کرنا چاہئیے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب میں ایک ایسا گروہ بھی تھا جو احکام خدا کی اپنے منافع اور تعصبات کے مطابق تحریف کرتا تھا۔منطق اسلام کی نظر سے جو شخص ایسے افراد کی جان بوجھ کر بلا مشروط پیروی کرے اس نے ایک قسم کی عبودیت اور ان کی پرستش کی ہے۔ اس کے لئے روشن دلیل موجود ہے کیونکہ قانون بنایا اور حلال و حرام کی تشریع خدا سے مربوط ہے جو شخص کسی اور کو اس سلسلے میں صاحب اختیار سمجھے اس نے اسے خدا کا شریک قرار دیا۔ مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ: ”عدی بن عادل پہلے عیسائی تھا۔ پھر اسلام لے آیا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اس نے لفظ ”ارباب“ سے یہ سمجھا کہ قر آن کہتا ہے کہ اہل کتاب اپنے بعض علماء کی پرستش کرتے ہیں۔ لہٰذا اس نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں عرض کیا: گذشتہ زمانے میں ہم کبھی اپنے علماء کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے تھے کہ وہ اپنی مرضی سے احکام خدا مین تغیر و تبدل کرتے ہیں اور پھر بھی تم ان کی پیروی کرتے تھے۔ عدی نے کہا: جی ہاں۔ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: یہی پرستش و عبادت ہے۔ (بحوالہ ”مجمع البیان“ اوپر کی آیت کے بار ے میں ۔ تفسیر ”نور الثقلین “ جلد اوّل صفحہ ۲۵۳)۔ درحقیقت اسلام غلامی اور فکری استعمار کو ایک قسم کی عبودیت و پرستش سمجھتا ہے اور اسلام نے جس شدت سے شرک اور بت پرستی کا مقابلہ کیا ہے اسی شدت سے فکری استعمار سے بھی جنگ کی ہے کیونکہ یہ بھی بت پرستی کی مانند ہے۔ توجہ رہے کہ ”ارباب“ جمع کا صیغہ ہے اس بناء پر اس آیت سے صرف حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی پرستش کی نہی نہیں ہوتی۔ لیکن ممکن ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی عبودیت سے بھی نہی ہو اور منحرف و کجر و علماء کی عبودیت سے بھی۔ ”فاِن تولّوا فقولوا اشھدوا بانّا مسلمون“۔ اگر وہ لوگ توحید کے مشترک نقطے کی طرف منطقی دعوت کے بعد منہ پھیر لیں تو انہیں کہنا چاہئیے کہ گواہ رہنا کہ ہم تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور تم نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں جان لو کہ کون لوگ حق کے متلاشی ہیں اور کون متعصب اور ہٹ دھرم۔ اس وقت انہیں ”اشھدوا بانّا مسلمون“۔ (یعنی یعنی گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں) کے جملے سے خطرے کا الارم دو کہ حق سے تمہاری روگردانی اور دوری ہم پر کچھ بھی اثر نہیں رکھتی اور ہم اس طرح اپنے ( اسلام کے )راستے پر چلتے رہیں گے، صرف خدا کی عبادت رکیں گے، صرف اس کے قوانین قبول کریں گے(اور پختگی سے پہچانیں گے) اور ہمارے درمیان کسی بشر کی پرستش کا کسی شکل و صورت میں وجود نہیں ہو گا۔

پیغمبر اکرم کے خطوط دنیا کے بادشاہوں کے نام

تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سر زمین حجاز میں اسلام کافی نفوذ کر چکا تو پیغمبر اکرم ﷺنے اس زمانے کے بڑے بڑے حکمرانوں کے نام کئی ایک خطوط روانہ کئے۔ ان میں بعض خطوط میں مندرجہ بالا آیت کا سہارا لیا گیا ہے، جس میں آسمانی ادیان کی قدر و مشترک کا تذکرہ ہے۔ ان میں سے بعض اہم خطوط کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱۔ مُقَوْقَس کے نام خط

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ من __ محمد بن عبد اللہ الیٰ__ المقوقس عظیم القبط، سلامٌ علیٰ من اتبع الھدیٰ، اما بعد: فانّی ادعوک بدعایة الاسلام، اسلم تسلم، یوٴتک اللہ اجرک مرّتین فان تولّیت فانّما علیک اثم القبط، ________ یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمة سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الاّ اللہ و لانشرک بہ شیئاً وّ لا یتّخذ بعضنا بعضاً ارباباً مّن دون اللہ فانّ تولّوا فقولوا اشھدوا بانّا مسلمون“۔ اللہ کے نام سے جو بخشنے والا اور برا مہر بان ہے۔ از ___ محمد بن عبد اللہ بطرف ___ قبطیوں کے مقوقسِ بزرگ حق کے پیرو کار کاروں پر سلام ہو۔ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آو تاکہ سالم رہو۔ خدا تجھے دو گناہ اجر دے گا ( ایک خود تمہارے ایمان لانے پر اور دوسرا ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہاری پیروی کر کے ایمان لائیں گے) اور اگر تونے قانون اسلام سے روگردانی کی تو قبطیوں کے گناہ تیرے ذمہ ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: قبطی قوم مصر میں آباد تھی) __ ائے اہل کتاب! ہم تمہیں ایک مشترک بنیادکی طرف دعوت دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور ہم میں سے بعض دوسرے بعض کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں اور جب وہ دینِ حق سے روگردانی کریں توان سے کہو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ (مکاتیب الرسول، ج ۱ ص ۷۷) جب مقوقس مصر کا حاکم تھا پیغمبر اسلامؐ نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور حکام کو خطوط لکھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی۔ حاطب ابن ابی بلتعہ کو آپؐ نے حاکم مصر مقو قس کی طرف یہ خط دے کر روانہ کیا۔ پیغمبرؐ کا سفیر مصر کی طرف روانہ ہوا۔ اسے اطلاع ملی کہ حاکم مصر اسکندریہ میں ہے۔ لہٰذا وہ اس وقت کے ذرائع آمد و رفت کے ذریعے اسکندریہ پہنچا اور مقوقس کے محل میں گیا۔ حضرتؐ کا خط اسے دیا۔ مقوقس نے خط کھول کر پڑھا کچھ دیر تک سوچتا رہا۔ پھر کہنے لگا: ”اگر واقعاً محمدؐ کا بھیجا ہوا ہے تو اس کے مخالفین اسے اس کی پیدائش کی جگہ سےباہر نکالنے میں کیوں کامیاب ہوئے اور وہ مجبور ہوا کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرے؟ ان پر نفرین اور بدعا کیوں نہیں کی تاکہ وہ نابود ہو جاتے؟“ پیغمبرؐ کے قاصد نے جواباً کہا: ”حضرت عیسیٰ (علیه السلام) خدا کے رسول تھے اور آپ بھی ان کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے جب ان کے قتل کی سازش کی تو آپ(علیه السلام) نے ان پر نفرین اور بد دعا کیوں نہیں کی تاکہ خدا انہیں ہلاک کر دیتا؟ یہ منطق سن کر مقوقس تحسین کرنے لگا اور کہنے لگا:۔ ”احسنت انت حکیم من عند حکیم“ ”آفرین ہے، تم سمجھدار آدمی ہو اور ایک صاحبِ حکمت کی طرف سے آئے ہو“۔ حاطب نے پھر گفتگو شروع کی اور کہا:۔ ”آپ سے پہلے ایک شخص( یعنی فرعون) اس ملک پر حکومت کرتا تھا۔ وہ مدتوں لوگوں پر اپنی خدائی کا سودا بیچتا رہا۔ بآلاخر اللہ نے اسے نابود کر دیا تاکہ اس کی زندگی آپ کے لئے باعثِ عبرت ہو لیکن آپ کوشش کریں کہ آپ کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہٴ عبرت نہ بن جائے“۔ ”پیغمبرؐ اسلام نے ہمیں پاکیزہ دین کی طرف دعوت دی ہے۔ قریش نے ان سے بہت سخت جنگ کی اور ان کے مقابل صف آراء ہوئے، یہودی بھی کینہ پروری سے ان کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے اور اسلام سے زیادہ نزدیک عیسائی ہیں“۔ ” مجھے اپنی جان کی قسم جیسے حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی نبوت کی بشارت دی تھی اس طرح حضرت عیسیٰ (علیه السلام) حضرت محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کے مبشر تھے۔ ہم آپ کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں جیسے آپ لوگوں نے تو ریت کے ماننے والوں کو انجیل کی دعوت دی تھی۔ جو قوم پیغمبرِ حق کو سنے اسے چاہئیے کہ اس کی پیروی کرے۔ میں نے محمدؐ کی دعوت آپ کی سر زمین پر پہنچا دی ہے۔ مناسب یہی ہے کہ آپ اور مصری قوم یہ دعوت قبول کر لے“۔ حاطب کچھ عرصہ اسکندریہ ہی میں ٹھہرا تاکہ رسول اللہ کے خط کا جواب حاصل کرے۔ چند روز گزر گئے۔ ایک دن مقوقس نے حاطب کو اپنے محل میں بلایا اور خواہش کی کہ اسے اسلام کے بارے میں کچھ مزید بتایا جائے۔ حاطب نے کہا: ”محمدؐ ہمیں خدائے یکتا کی پرستش کی دعوت دیتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ روز و شب میں پانچ مرتبہ اپنے پروردگار سے قریبی رابطہ پیدا کریں اور نماز پڑھیں، سال میں ایک ماہ روزے رکھیں، خانہٴ خدا (مرکز توحید) کی زیارت کریں، اپنے عہد و پیمان پورے کریں، خون اور مردار کھانے سے اجتنا ب کریں“۔ علاوہ از ایں حاطب نے پیغمبرؐ اسلام کی زندگی کی بعض خصوصیات بھی بیان کیں۔ مقوقس کہنے لگا: یہ تو بڑی اچھی نشانیاں ہیں، میرا خیال تھا کہ خاتم النبیین سر زمینِ شام سے ظہور کریں گے جو انبیاء کی سر زمین ہے۔ اب مجھ پر واضح ہوا کہ وہ سر زمینِ حجاز سے مبعوث ہوئے ہیں۔“ اس کے بعد اس نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ وہ عربی زبان میں اس مضمون کا خط تحریر کرے: محمد بن عبد اللہ __کی طرف قبطیوں کے بزرگ مقوقس__کی جانب سے ”آپ پر سلام ہو۔ میں نے آپ کا خط پڑھا، آپ کے مقصد سے باخبر ہوا اور آپ کی دعوت کی حقیقت کو سمجھ لیا، میں یہ تو جانتا تھا کہ ایک پیغمبر ظہور کرے گا لیکن میرا خیال تھا کہ وہ خطہٴ شام سے مبعوث ہو گا۔ میں آپ کے قاصد کا احترام کرتا ہوں۔“ پھر خط میں ان ہَدیوں اور تحفوں کی طرف اشارہ کیا جو اس نے آپ کی خدمت میں بھیجے۔ خط اس نے ان الفاظ پر تمام کیا: ”اور آ پ پر سلام ہو“(بحوالہ: مکاتیب رسول، صفحہ ۱۰۰) تاریخ میں ہے کہ مقوقس نے کوئی گیارہ ہدیے پیغمبر اکرم کے لئے بھیجے۔ تاریخ اسلام میں ان کی تفصیلات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک طبیب بھی تھا تاکہ وہ بیمار ہونے والے مسلمانوں کا علاج کرے۔ نبی اکرمؐ نے دیگر ہدیے تو قبول فرما لیے لیکن طبیب کو قبول نہ کیا اور فرمایا: ”ہم ایسے لوگ ہیں کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہیں کھاتے اور سیر ہونے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ یہی چیز ہماری صحت و سلامتی کے لیے کافی ہے۔ شاید صحت کے اس عظیم اصول کے علاوہ پیغمبر اسلامؐ اس طبیب کی وہاں موجودگی کو درست نہ سمجھتے ہوں کیونکہ وہ ایک متعصب عیسائی تھا لہٰذا آپ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی اور مسلمانوں کی جان کا معاملہ اس کے سپرد کر دیں۔ مقوقس نے جو سفیرِ پیغمبرؐ کا احترام کیا، آپؐ کے لیے ہدیے بھیجے اور خط میں نام محمدؐ اپنے نام سے مقدم رکھا یہ سب اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ اس نے آپؐ کی دعوت کو باطن میں قبول کر لیا تھا یا کم از کم اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ لیکن اس بناء پر کہ اس کی حیثیت اور وقعت کو نقصان نہ پہنچے ظاہری طور پر اس نے اسلام کی طرف اپنی رغبت کا اظہار نہ کیا۔

۲۔ قیصر روم کے نام خط

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم من..... محمد بن عبد اللہ الیٰ...... ھر قل عظیم الروم سلام ٌ علیٰ من اتّبع الھدیٰ_____ امّا بعد؛ فانّی ادعوک بدعایة الاسلام اسلم تسلم، یوٴتک اللہ اجرک مرّتین فان تولّیت فانّما علیک اثم الاریسین_____"یآاھل الکتٰب تعالوا الیٰ کلمةٍ سوآءٍ بیننا و بینکم الاّ نعبد الاّ اللہ ولا نشرک بہ شیئاً وّلا یتّخذ بعضناً ارباباً من دون اللہ فان تولّوا فقو لوا اشھدوا بِانّا مسلمون"۔ خدائے رحمن ورحیم کے نام سے از ......محمد بن عبداللہ بطرف.........ہرقل بادشاہ روم "اس پر سلام ہے جو ہدایت کی پیروی کرے______ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آوٴ تاکہ امام میں رہو۔ خدا تجھے دو گناہ اجر دے گا (ایک تیرے ایمان لانے کا اور دوسرا ان لوگوں کا جو تیری وجہ سے ایمان لائیں گے) اور اگر تو نے روگردانی کی تو اریسٰیوں۔ کا گناہ بھی تیری گردن پر ہو گا______ اسے اہل کتاب ہم تمہیں مشترک بنیاد کی طرف دعوت دیتے ہیں کہ غیر خدا کی عبادت نہ کرو اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو۔ ہم میں سے بعض، دوسرے بعض کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں اگر وہ دین حق سے سرتابی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو ہم تو مسلمان ہیں"۔ قیصر کے پاس نبی اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کا پیغام پہنچانے کے لیے وجیہ کلبی مامور ہوا سفیر پیغمبرؐ عازم روم ہوا۔ قیصر کے دارالحکومت قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے اسے معلوم ہوا کہ قیصر بیت المقدس کی زیارت کے ارادے سے قسطنطنیہ چھوڑ چکا ہے۔ لہٰذا اس نے بصری کے گورنر حارث بن ابی شر سے رابطہ پیدا کیا اور اسے اپنا مقصد سفر بتایا۔ ظاہر اً پیغمبر اکرمؐ نے ابھی اجازت دے رکھی تھی کہ وجیہ وپ خط حاکم بصری کو دے دے تاکہ وہ اسے قیصر تک پہنچا دے۔ سفیر پیغمبرؐ نے گورنر سے رابطہ کیا تو اس نے عدی بن حاتم کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ وجیہ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف روانہ ہو جائے اور خط پہنچا دے۔ حمص میں سفیر کی قیصر سے ملاقات ہوئی لیکن ملاقات سے قبل شاہی کارکنانوں نے کہا: "تمہیں قیصرکے سامنے سجدہ کرنا پڑے گا ورنہ وہ تمہاری پروہ نہ کرے گا “۔ وجیہ ایک سمجھدار انسان تھا ، کہنے لگا:۔ "میں ان غیر مناسب رسموں کو ختم کرنے کے لئے اتنا سفر کر کے آیا ہوں۔ میں اس مراسلہ کو بھیجنے والے کی طرف سے آیا ہوں تاکہ قیصر کو یہ پیغام دوں کہ بشر پرستی کو ختم ہونا چاہئیے اور خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہیں ہونی چاہئیے اس عقیدے کے باوصف کیسے ممکن ہے کہ میں غیر خدا کے لیے سجدہ کروں"۔ پیغمبرؐ کے قاصد کی قومی منطق سے وہ بہت حیران ہوئے۔ درباریوں میں سے ایک نے کہا: "تمہیں چاہئیے کہ خط بادشاہ کی میز پر رکھ کر چلے آوٴ اس میز پر رکھے ہوئے خط کو قیصر کے علاوہ کوئی نہیں اٹھا سکتا ۔" وجیہ نے اس کا شکریہ ادا کیا، خط میز پر رکھا اور خود واپس چلا گیا۔ قیصر نے خط کھو لا۔ خط نے جو بسم اللہ سے شروع ہوا تھا اسے متوجہ کیا اور کہنے لگا۔ "حضرت سلیمان (علیه السلام) کے خط کے سوا آج تک میں نے ایسا خط نہیں دیکھا" اس نے اپنے مترجم کو بلایا تاکہ وہ خط پڑھے اور اس کا ترجمہ کرے۔ بادشاہ ِ روم کو خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے خط لکھنے والا ہی نبی ہو جس وعدہ انجیل اور تورات میں کیا گیا ہے۔ وہ اس جستجو میں لگ گیا کہ آپؐ کی زندگی کی خصوصیات معلوم کرے، اس نے حکم دیا کہ شام کے پورے علاقے میں چھان بین کی جائے، شاید محمد کے رشتہ داروں میں سے کوئی شخص مل جائے جو ان کے حالات سے واقف ہو، اتفاق سے ابوسفیان اور قریش کا ایک گروہ تجارت کے لئے شام آیا ہوا تھا۔ شام اس وقت سلطنت روم کا مشرقی حصہ تھا۔ قیصر کے آدمیوں نے ان سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بیت المقدس لے گئے، قیصر نے ان سے سوال کیا:۔ کیا تم میں سے کوئی محمدؐ کا نزدیکی رشتہ دار ہے؟ ابو سفیان نے کہا:۔ میں اور محمدؐ ایک ہی خاندان سے ہیں اور ہم چوتھی پشت میں ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ پھر قیصر نے اس سے کچھ سوالات کئے۔ دونوں میں یوں گفتگو ہوئی:۔ قیصر: اس کے بزرگوں میں سے کوئی حکمران ہواہے؟ ابوسفیان: نہیں قیصر: کیا نبوت کے دعویٰ سے پہلے وہ جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتا تھا؟ ابوسفیان: ہاں محمدؐ راست گو اور سچا انسان ہے۔ قیصر: کونسا طبقہ اس کا مخالف ہے اور کونسا موافق؟ ابوسفیان: اشراف اس کے مخالف ہیں، عام اور متوسط درجے کے لوگ اسے چاہتے ہیں۔ قیصر : اس کے پیروکار میں سے اس کے دین سے کوئی پھیرا بھی ہے؟ ابوسفیان: نہیں قیصر: کیا اس کے پیروکار روز بروز بڑھ رہے ہیں؟ ابوسفیان: ہاں اس کے بعد قیصر نے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے کہا : "اگر یہ باتیں سچی ہیں تو وہ یقیناً پیغمبر موعود ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ ایسے پیغمبر کا ظہور ہو گا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ قریش میں سے ہو گا، میں تیار ہوں کہ اس کے لئے خضوع کرو اور احترام کے طور پر اس کے پاوٴں دھووٴں(تشریحی نوٹ: یہ احترام کے اظہار کا ایک طریقہ تھا جو ان دنوں مروج تھا)۔ میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ اس کا دین اور حکومت سر زمین روم پر غالب آئے گی۔" پھر قیصر نے وجیہ کو بلایا اور اس سے احترام سے پیش آیا۔ پیغمبر اکرمؐ کے خط کا جواب لکھا اور آپؐ کے لئے وجیہ کے ذریعے ہدیہ بھیجا اور آپؐ کے نام اپنے خط میں آپؐ سے اپنی عقیدت اور تعلق کا اظہار کیا۔ (بحوالہ مکاتیب الرسول، ج۱، ص ۱۰۹)۔

65
3:65
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اے اہل کتاب ! (حضرت) ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل ہوئی ہیں کیا تم عقل و فکر نہیں رکھتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
3:66
هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
تم تو وہی ہو جو اس چیز کے بارے میں گفتگو کرتے تھے جس کے بارے میں آگاہ ہوتے تھے اب ان چیزوں کے بارے میں گفتگو کیوں کرتے ہو جن سے آگاہ نہیں ہو خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
3:67
مَا كَانَ إِبۡرَٰهِيمُ يَهُودِيّٗا وَلَا نَصۡرَانِيّٗا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفٗا مُّسۡلِمٗا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ مخلص موحد اور مسلمان شخص تھے اور وہ ہر گز مشرکین میں سے نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
3:68
إِنَّ أَوۡلَى ٱلنَّاسِ بِإِبۡرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا ٱلنَّبِيُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۗ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ابراہیم سے اولیت (اور زیادہ نسبت) رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں (اور ان کے دور میں ان کے مکتب کے وفا دار تھے اور اس طرح) یہ پیغمبر اور وہ لوگ جو (اس پر) ایمان لائے ہیں۔ اور خدا مومنین کا ولی اور سر پرست ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یٰآ ھل الکتٰب لم یحآجّون فیۤ ابراہیم .............. "تاریخ کے مطالعہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہودی ظہور اسلام کے وقت ہی سے اس دین سے خاص دشمنی اور عداوت رکھتے تھے۔ اسلام کے نفوذ، پھیلاوٴ اور اس جدید دین کے ذریعے دین مسیح کے منسوخ ہو جانے سے عیسائیوں کا ایک گروہ بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ لوگ کبھی کبھی بحث مباحثے، حجت بازی اور جھگڑے کے لئے اپنے وفادار افراد کو نبی اکرمؐ کے پاس بھیجتے تھے اور وہ اس طرح اپنے دین کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان امور میں سے ایک یہ تھا کہ وہ سب کے سب کوشش کرتے کہ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو اپنے میں سے ثابت کریں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) تمام مذاہب کے پیروکاروں میں معظم و محترم سمجھے جاتے تھے۔ یہودی مدعی تھے کہ وہ ان میں سے ہیں اور ان کے دین کے پیرو ہیں۔ یہی دعویٰ عیسائی بھی کرتے تھے۔ مندرجہ بالا آیت میں قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ اصولی طور پر خدا کے مبارزو مجاہد پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں تمہارا جھگڑا اور گفتگو ہی بیکار ہے کیونکہ وہ تو سالھا سال حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ سے پہلے ہو گزرے ہیں اور تورات و انجیل ان کے کئی سال بعد نازل ہوئیں۔ ("وَمَآ اُنْزِلَتْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِیلُ إِلاَّ مِنْ بَعْدِہِ") کیا یہ چیز معقول ہے کہ گذشتہ پیغمبر اپنے سے بعد والے دین کا پیروکار ہو اَفَلاَ تَعْقِلُونَ )کیا تم تفکر و تعقل نہیں کرتے۔ "ھآ اَنْتُمْ ہَؤُلاَءِ حَاجَجْتُمْ فِیمَا لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِیمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہ عِلْم فلم تحآجون فیما لیس لکم بہٖ علم" یہاں خداوند تعالی انہیں سرزنش کرتا ہے کہ اپنے مذہب سے مربوط مسائل جن کا تمہیں علم تھا ان کے بارے میں تم نے گفتگو اور بحث کی ہے (اور تم نے دیکھ لیا جن مباحث کے بارے میں تمہارے خیال میں علم تھا ان میں بھی تم کیسے کیسے اشتباہات میں مبتلا اور حقیقت سے دور تھے واقع میں تمہارا علم جہل مرکب تھا۔ اس کے باوجود جس چیز کی تمہیں خبر نہیں اس کے بارے میں بحث مباحثہ کرتے ہو اور نتیجے کے طور پر تم ایسا دعویٰ کرتے ہو جو کسی تاریخ کے مطابق درست نہیں۔ اس کے بعدآیت کے آخر میں گذشتہ مطالب کی تاکید کے لئے اور بعد والی آیت کی بحث کی طرف متوجہ کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: خدا جانتا ہے اور تم جانتے "وَاللهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ" "مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلاَنَصْرَانِیًّا ......." یہاں صراحت سے ان کے دعووٴں کا جواب دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے: ابراہیم یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ پاک اور خالص موحّد تھے اور خدا کے حضور سر تسلیم خم کئے ہوئے تھے اور کبھی تمہاری طرح شریک ِ خدا کے قائل نہیں ہوئے تھے۔ توجہ رہے کہ لفظ "حنیف" مادہ "حنف" (بروزن "انف") سے ہے اور ایسے شخص یا چیز کے معنی میں بولا جاتا ہے جو کسی طرف مائل ہو اور قرآن کی زبان میں ایسے شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو اپنے زمانے کے باطل دین سے منہ موڑ کر دین حق کی طرف مائل ہو۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی "حنیف" کے لقب سے توصیف کی ہے کیونکہ انہوں نے تقلید اور تعصب کے پردے چاک کردئے تھے آپ (علیه السلام) ایسے ماحول اور زمانے میں ہرگز بتوں کے سامنے نہیں جھکے جو بت پرستی میں غرق تھا لیکن زمانہ جاہلیت کے بت پرست عرب بھی اپنے کو ابراہیمؑ کے دین "حنیف" کے لقب سے توصیف کی ہے کیونکہ انہوں تقلید اور تعصب کے پردے چاک کر دئے تھے آپ ایسے ماحول اور زمانے میں ہرگز بتوں کے سامنے نہیں جھکے جو بت پرستی میں غرق تھا لیکن زمانہ جاہلیت کے بت پرست عرب بھی اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے دین "حنیف" پر سمجھتے تھے اور یہ بات اتنی مشہور تھی کہ اہل کتاب انہیں "حنفاء"کہتے تھے یوں لفظ "حنیف" کا بالکل متضاد معنی پیدا ہو گیا تھا اور ان کی نظر میں یہ لفظ بت پرستی کا مترادف اور ہم معنی ہو چکا تھا لہٰذا خداوند عالم نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی "حنیف" کے عنوان سے توصیف کرنے کے بعد "مسلماً " اور "وماکان من المشرکین"۔ کہہ کر ہر قسم کے دوسرے احتمال کی نفی کردی۔

حضرت ابراہیم (علیه السلام) کس طرح مسلمان تھے

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو دین ِموسیٰ (علیه السلام) و عیسی (علیه السلام) کا پیرو کار نہیں کہا جا سکتا تو بطریق اولیٰ انہیں مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ تو ان ادیان سے پہلے تھے، پھر قرآن ان کا تعارف "مسلم" کے طور پر کیوں کروا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں مسلم صرف پیغمبرؐ اسلام کے پیروکاروں کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اسلام کا ایک وسیع معنی ہے اور خدا کے حضور تسلیم مطلق، توحید کامل، نیز ہر قسم کے شرک اور دوگانہ پرستی سے پاک کے معنی میں ہے اور اسی کے حضرت ابراہیم (علیه السلام)علمبردار تھے۔

مکتب و ہدف کا رشتہ

إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ....... خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں اہل کتاب کی باتوں کے خاتمے کے لیے قرآن نے یہاں ایک بنیادی بات کی ہے نیز ان میں سے ہر ایک انہیں اپنے میں سے سمجھتا تھا اور شاید زیادہ تر اس عظیم پیغمبر سے قرابت کے مسئلہ کا سہارا لیتے تھے یا نسب و قومیت کو ان سے قربت کی دلیل سمجھتے تھے اس لیے قرآن نے وضاحت کی ہے کہ انبیاء سے دوستی او ر ارتباط صرف ایمان اور ان کی پیروی کے ذریعہ ہوتا ہے، اس بناء پر ابراہیم (علیه السلام)سے زیادہ وفادار ہیں چاہے وہ لوگ جو ان کے زمانے میں موجود تھے ”للذین اتبعوہ“ اور چاہے وہ لوگ جو ان کے بعد مکتب اور پروگرام کے وفادار رہے۔ مثلاً پیغمبر اسلامؐ اور آپؐ کے پیروکار۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ انبیاء کا احترام ان کے مکتب و مذہب کی وجہ سے تھا نہ کہ ان کی قوم، قبیلے اور نسب کے سبب۔ لہٰذا ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے مشرکانہ عقائد کی وجہ سے حضر ت ابراہیم (علیه السلام) دعوت کی سب سے اہم بنیاد ہی سے منحرف ہو گئے ہیں جب کہ پیغمبر اسلامؐ اور مسلمان اس بنیاد پر قائم ہیں اور اس اصل کو اسلام کے تمام اصول و فروع میں وسعت دیتے ہوئے اس کے مخلص ترین وفادار ہیں۔ اس لئے یہ اعتراف کرنا چاہئیے کہ ابراہیم (علیه السلام) سے زیادہ قریب یہ لوگ ہیں نہ کہ وہ۔ مندرجہ بالا آیت میں انبیاء سے رابطے کے لئے صرف مکتب و ہدف سے ربط کو دلیل شمار کیا گیا ہے اور کسی اور چیز کو نہیں لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پیشوایان اسلام سے مروی روایات میں صراحت سے اسی کا سہارا لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک روایت تفسیر ”مجمع البیان” اور ”نو ر الثقلین“ میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ”انّ اولی النّاس بالانبیاء اعملھم بما جاء وا بہ ثمّ تلا ھٰذہ الاٰیة۔ و قال انّ ولی محمدؐ من اطاع اللہ و ان بعدت لحمتہ و انّ عدوّ محمد من عصی اللہ و ان قربت قرابتہ۔“ ”انبیاء سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگ وہ ہیں جو ان احکام پر سب سے زیادہ عمل کرتے ہیں محمدؐ کا دوست وہ ہے جو فرمان خدا کی اطاعت کرتا ہے اگرچہ نسبی طور پر وہ آپ سے دور ہو اور محمدؐ کا دشمن وہ ہے جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے اگرچہ وہ محمدؐ کا نزدیکی قرابت دار ہو “ ”و اللہ ولی المومنین “۔ آیت کے آخر میں خدا کے عظیم پیغمبروں کے مکتب کے حقیقی پیروکاروں کو بشارت دی گئی ہے کہ خدا ان کا ولی، سرپرست، محاظ، یاور اور نگہبان ہے۔

69
3:69
وَدَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يُضِلُّونَكُمۡ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
اہل کتاب (یہود) کا ایک گروہ چاہتا تھا کہ تمہیں گمراہ کر دے لیکن وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ بعض یہودیوں کی کوشش تھی کہ پاک دل مسلمانوں میں سے مشہور افراد مثلاً معاذ اور عمار وغیرہ کو اپنے دین کی طرف دعوت دیں اور شیطانی وسوسوں کے ذریعے انہیں اسلام سے موڑ لیں۔ اس پرمندرجہ بالاآیت نازل ہوئی جس کے ذریعے تمام مسلمانوں کو اس سلسلے میں خطرے سے باخبر کیا گیا ہے۔

تفسیر

” ودّت طّآ ئفةٌ من اہل الکتاب لو یضلونکم “۔ جیسا کہ شان نزول میں اشارہ کیا جا چکا ہے کہ دشمنان اسلام خصوصاً یہودی مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کے نزدیکی صحابہ کے بارے میں بھی وہ خواہشمند تھے کہ انہیں اسلام سے پھیر لیں ظاہر ہے کہ اگر وہ رسول اللہؐ کے قریبی صحابہ میں سے ایک بار چند افراد ہی کو برگشتہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو اسلام پر ایک عظیم ضرب پڑتی اور دوسروں کو متزلزل کرنے کے لئے فضا ہموار ہو جاتی۔ مندرجہ بالا آیت میں دشمنوں کی اس سازش سے باخبر کیا گیا ہے۔ نیز انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اس بےجا کوشش سے دست کش ہو جائیں۔ اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ مکتب پیغمبرؐ میں ان مسلمانوں کی تربیت اس حساب اور آگاہی سے ہوئی ہے کہ ان کے لَوٹ جانے کا کوئی احتمال نہیں۔ انہوں نے اسلام کو دل و جان سے اپنا لیا ہے انہوں نے اس عظیم انسانی مکتب سے گہرا قلبی لگاوٴ پیدا کرلیا ہے اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا دشمن انہیں گمراہ نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو فقط اپنے تئیں گمراہ کرتے ہیں اور اس لئے کہ وہ شبہات پیدا کرتے ہیں، اسلام اور پیغمبرؐ کی طرف غلط نسبتیں دیتے ہیں یوں وہ خود بدنیتی کی روح اپنے وجود میں پروان چڑھاتے ہیں، زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص عیب جوئی اور اعتراض کرنے ہی میں مصروف رہتا ہے اسے نقاطِ قوت دکھائی نہیں دیتے یا پھر تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نورانی نقاط بھی اسے تاریک معلوم ہوتے ہیں اس امر میں اصرار کے نتیجہ میں روز بروز وہ حق سے دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے، اس لیے قرآن کہتا ہے:۔ (”وَمَا یُضِلُّونَ إِلاَّ اَنْفُسَهم وَمَا یَشْعُرُونَ “)۔ ”و ما یشعرون“۔ یعنی وہ شعور اور توجہ نہیں رکھتے، یہ جملہ اس نفسانی نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی انسان اپنے آپ سے آشنا نہیں ہوتا اور وہ اپنی باتوں کے زیر اثر بھی ہو جاتا ہے۔ جب کہ وہ کوشش کرتا ہے کہ جھوٹ اور تہمت کے ذریعے دوسروں کو گمراہ کرے تو وہ اپنے آپ کو بھی اس کے اثرات سے بچا سکتا اور یہ غلط باتیں آہستہ آہستہ خود اس کے قلب و جان پر اثر کرنے لگتی ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ غلط بات اس کا راسخ عقیدہ بن جاتی ہے۔ ایسی باتوں کو اختیار کر کے وہ خود گمراہ ہوجاتا ہے۔

70
3:70
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَأَنتُمۡ تَشۡهَدُونَ
اے اہل کتاب ! کیوں آیات خدا سے کفر کرتے ہو جب کہ (ان کی صحت و صداقت) کی گواہی (بھی) دیتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 71 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
3:71
يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَلۡبِسُونَ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اے اہل کتاب حق کو باطل سے کیوں ملاتے ہو اور (انہیں مشتبہ کرتے ہو تاکہ لوگ سمجھ نہ سکیں ا ور گمراہ ہو جائیں )ا ور حقیقت چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

” یَااَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللهِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُونَ۔“ یہاں بھی روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے کہ وہ اپنی دشمنی اور ہٹ دھرمی سے کیوں دست کش نہیں ہوتے اور توریت و انجیل میں پیغمبر اسلامؐ کی نشانیاں پڑھنے اور ان سے علم و آگاہی رکھنے کے باوجود انکار کی راہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ” یَااَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ“۔ دوبارہ اہل کتاب کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ کیوں حق و باطل کو ایک دوسرے سے ملا دیتے ہیں اور علم رکھنے کے باوجود حقیقت کو کیوں چھپاتے ہیں اور توریت و انجیل کی وہ آیات جن میں پیغمبر اسلامؐ کا تعارف کروایا گیا ہے اور جو ان کی حقانیت کی نشانیاں ہیں انہیں کیوں چھپاتے ہیں۔ درحقیقت پہلی آیت میں علم و آگاہی کے باوجود راہ حق سے خود ان کے انحراف پر مواخدہ کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں دوسرے لوگوں کو منحرف کرنے پر۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۴۲ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلے میں گفتگو کر چکے ہیں۔ وہ آیت مندرجہ بالا آیت کے مشابہ ہے:

72
3:72
وَقَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ ءَامِنُواْ بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَجۡهَ ٱلنَّهَارِ وَٱكۡفُرُوٓاْ ءَاخِرَهُۥ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
اہل کتاب (یہود) کی ایک جماعت نے کہا (جاؤ اور) جو کچھ مومنین پر نازل ہوا ہے (ظاہراً)دن کی ابتداء میں اس پر ایمان لے آؤ اور دن کے آخر میں کافر ہو جاؤ (اور لوٹ آؤ) شاید وہ۔ برگشتہ ہو جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
3:73
وَلَا تُؤۡمِنُوٓاْ إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمۡ قُلۡ إِنَّ ٱلۡهُدَىٰ هُدَى ٱللَّهِ أَن يُؤۡتَىٰٓ أَحَدٞ مِّثۡلَ مَآ أُوتِيتُمۡ أَوۡ يُحَآجُّوكُمۡ عِندَ رَبِّكُمۡۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ
اور سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتا ہے اور کسی پر ایمان نہ رکھو کہو کہ ہدایت تو وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو۔ یہ نہ سمجھنا کہ کسی کو تمہاری طرح آسمانی کتاب دی جائے گی یا یہ کہ تمہارے پروردگار کے دربار میں کوئی تم سے بحث کر سکے گا ۔کہہ دو کہ فضل نبوت عقل اور منطق کی عطا کسی میں منحصر نہیں ہے بلکہ وہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور خدا واسع (وسیع عطیات و عنایات کا مالک) اور آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
3:74
يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے اور اللہ عظیم عنایات و فضل کا مالک ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض گذشتہ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ خیبر اور دیگر مقامات کے بارہ یہودی علماء نے مل کر بعض مومنین کا ایمان متزلزل کرنے کے لئے ایک سازش بنائی۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ ایک صبح پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں جائیں اور ظاہراً ایمان لے آئیں، اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کریں لیکن دن کے آخر میں اس دین سے پلٹ آئیں اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے تو کہیں کہ ہم نے محمدؐ کی صفات کو قریب سے دیکھا ہے لیکن جب اپنی دینی کتب کی طرف رجوع کیا ہے یا اپنے علماء سے مشورہ کیا ہے تو دیکھا ہے کہ ان کی صفات اور طور طریقے اس سے مطابقت نہیں رکھتے جو کچھ ہماری کتب میں ہے لہٰذا ہم اپنے دین کی طرف پلٹ آئے ہیں۔ یہو دی علماء کا خیال تھا کہ اس طرح بعض مسلمان کہیں گے کہ چونکہ یہ لوگ ہماری نسبت آسمانی کتب کا زیادہ علم رکھتے ہیں اس لیے جو کچھ یہ کہتے ہیں یقیناً سچ اور حق ہے اور یوں وہ متزلزل ہو جائیں گے۔ آیت کے متعلق ایک اور شانِ نزول بھی مذکور ہے۔ لیکن درج بالا شان نزول آیت کے معنی سے زیادہ نزدیک ہے۔

تفسیر

مندرجہ بالا آیت یہود یوں کی ایک اور تباہ کن سازش سے پردہ اٹھاتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا ایمان متزلزل کرنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرتے تھے۔ ایک گروہ کے اراکین، جنہیں قرآن نے ”طآئفةٌ مّن اہل الکتاب“ کہا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: آوٴ اور جو کچھ مسلمانوں پر نازل ہوا ہے دن کے آغاز میں اس پر ایمان لے آئیں اور دن کے آخر میں اس سے پلٹ آئیں۔ بعید نہیں کہ دن کے آغاز و اختتام سے مراد اتنی کم مدت ہو کہ لوگ کہہ سکیں کہ وہ اسلام کو دور سے کچھ اور سمجھتے تھے لیکن نزدیک سے کچھ اور پایا ہے۔ اس لئے بہت ہی جلد پلٹ آئے ہیں ان کا خیال تھا کہ یہ سازش یقینی طور پر ضعیف الاعتقاد لوگوں پر کافی اثر کرے گی خصوصاً اس لحاظ سے کہ وہ لوگ علماء یہود میں سے ہیں اور سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ آسمانی کتابوں اور آخری پیغمبر کی نشانیوں سے پوری واقفیت رکھتے ہیں ان کا خیال تھا کہ ایمان و کفر کم از کم نئے مسلمانوں کے اعتقاد کی بنیادیں تو ضرور ہلادے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنی ماہرانہ سازش کی کامیابی کی بہت امید تھی اور ”لعلھم یر جعون“ ان کی اسی امید کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ”و لا توٴمنوآ الاّ لمن تبع دینکم۔“ انہوں تاکید کی ہے تمہارا ایمان فقط ظاہری ہونا چاہئیے اور تمہارا رشتہ صرف اپنے دین کے پیرو کاروں سے ہونا چاہئیے۔ بعض تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کے یہودیوں نے مدینہ کے یہودیوں کو وصیت کی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان لوگوں کے زیر اثر آ جاوٴ جو پیغمبر اسلامؐ کے زیادہ قریب ہیں اور ان پر ایمان لے آوٴ کیونکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ تھا کہ نبوت صرف نسل یہود میں رہے گی اور کوئی پیغمبر ظہور کرے تو اسے یہودیوں میں سے ہونا چاہئیے۔ بعض مفسرین نے ”لاتوٴمنوا“ کو ”ایمان “ کے مادہ سے اعتماد و اطمنان “ کے معنی میں لیا ہے، کیونکہ لغوی طور بھی اس کا یہی معنی ہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ سازش بالکل مخفی ہونا چاہئیے اسے سوائے یہودیوں کے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بیان نہ کرو تاکہ راز فاش نہ ہو جائے اور یہ پروگرام نقش بر آب ہو کر نہ رہ جائے۔ مندرجہ بالا آیت کے ذریعے خداوند تعالی نے یہودیوں کی اس خفیہ سازش سے پردہ اٹھا کر انہیں رسوا کیا تاکہ مومنین کے لئے بھی یہ درس عبرت ہو اور مخالفین کے لئے بھی ذریعہ ہدایت بنے۔ ”قل انّ الھدیٰ ھدی اللہ “ یہ جملہ اصطلاح میں ایک جملہٴ معترضہ ہے جو پروردگار کی طرف سے ہے جب کہ اس سے پہلے اور بعد والے جملے میں یہودیوں کی گفتگو نقل کی گئی ہے۔ یہودیوں کی گفتگو کے درمیان زیر نظر جملے میں خداوند تعالی نے انہیں ایک مختصر اور جامع جواب دیا ہے کہ ہدایت تو خدا کی طرف سے ہے اور وہ کسی خاص نسل اور قوم میں منحصر نہیں ہے اور کوئی ضروری نہیں کہ پیغمبر صرف یہود میں سے ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ جنہیں پروردگار کی ہر قسم کی ہدایت میسر ہے وہ ان سازشوں سے متزلزل نہیں ہوں گے اور یہ تخریبی منصوبے ان پر انداز نہیں ہوسکتے۔ ”اَنْ یُؤْتَی اَحَدٌ مِثْلَ مَا اُوتِیتُمْ اَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ“ یہ یہودیوں کی گفتگو کا آخری حصہ ہے۔ اس جملے کی ابتدء میں ولاتصدقوا (اعتراف اور اعتماد نہ کر) مقدر ہے۔ (تشریحی نوٹ: اگر گذشتہ حصے میں ”لاتوٴمنوا“ (اطمنان نہ کرو) کے معنی میں ہو تو ”اَنْ یُؤْتَی اَحَدٌ مِثْلَ مَا اُوتِیتُمْ اَوْ یُحَاجُّوکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ“کے دونوں ہو سکتا ہے اس پر معطوف ہوں) ۔ اس بناء پر اس جملے کا معنی یہ ہو گا کہ کبھی یہ باور نہ کرو ساری دنیا کے لوگوں میں سے کوئی شخص وہ افتخار اور امتیاز اور آسمانی کتب جو تمہیں نصیب ہیں، لے سکے گا اور یہ بھی باور نہ کرو کہ کوئی شخص روز قیامت در گاہِ خداوندی میں تم سے مباحثہ اور گفتگو کر کے تمہیں مغلوب کر سکے گا کیونکہ تم دنیا کی بہترین قوم اور خاندان ہو نیز نبوت، عقل، درایت، منطق اور استدلال صرف تمہارے پاس ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہودی اس فضول منطق کے ذریعے خدا سے اپنا ارتباط ظاہر کرتے اور تمام قوموں سے اپنے تئیں بر تر سمجھتے تھے اسی لئے بعد والے جملے میں خداوند تعالی نے انہیں صراحت سے جواب دیا ہے۔ ”قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ۔“ کیئے کہ مقام نبوت ہو، عقلی و منطقی استدلال ہو کا کوئی اور امتیاز، سب فضل و عطا کی طرف سے ہے وہ جسے چاہتا ہے اور اہل سمجھتا ہے اسے نوازتا ہے۔ کسی نے اس سے عہد و پیمان نہیں لے رکھا اور نہ ہی کوئی اس سے قرابت یا رشتہ داری رکھتا ہے اس کا جود و عطا واسع ہے اور استحقاق کے مواقع سے وہ علیم و آگاہ ہے۔ ”یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ “َ اس آیت میں بھی گذشتہ بحث کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا جسے چاہتا ہے اور اہل سمجھتا ہے اپنی مخصوص رحمتوں سے نوازتا ہے (اور مقام نبوت و منصب رہبری بھی اس کی رحمتوں میں سے ہیں) اور کوئی شخص انہیں محدود نہیں کرسکتا اور ہر حالت میں عنایات، عطیات اور فضل عظیم اسی کی طرف سے ہے۔

پرانی سازشیں

مندرجہ بالا آیات دراصل قرآن کی پر اعجاز آیات ہیں جو یہودیوں اور دشمنان اسلام کے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہیں اور ان کی صدر اوّل میں مسلمانوں متزلزل کرنے سازشوں کو فاش کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے مسلمان بیدار ہو گئے اور دشمن کے تباہ کن وسوسوں سے بچ گئے، اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو گا کہ موجودہ دور میں بھی اسلام کے خلاف ایسے منصوبہ بنتے رہتے ہیں، دشمن کے ذرائع ابلاغ جو پوری دنیا میں سب سے قوی ہیں اس سلسلے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ دشمنوں کی کوشش ہے کہ اصل اسلام خصوصاً ان کی نوجوان نسل کے افکار کو اسلامی عقائد سے متزلزل کر دیں وہ اس کے لئے عالم، دانشور، مورّخ، سائنسداں، صحافی یہاں تک کہ فلمی اداکار کا بھیس بھی استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ حقیقت نہیں چھپاتے کہ ان کے پراپیگنڈا کا مقصد مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانا نہیں بلکہ ان کا ہدف نوجوانوں کو اسلامی عقائد سے برگشتہ کرنا ہے اور انہیں اپنے دین اور ثقافت کے مفاخر سے لاتعلق کرنا ہے۔ قرآن آج مسلمانوں کو ان سازشوں سے ہوشیار رہنے کی دعوت دیتا ہے۔

75
3:75
۞وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
اور اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر تم انہیں بہت سی دولت بطور امانت دو تو وہ تمہیں لوٹا دیں گے اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ایک دینار بھی سپرد کرو تو وہ تمہیں ہر گز واپس نہ کریں گے مگر اس وقت تک جب تک تم ان کے سر پر کھڑے رہو (اور ان پر مسلط رہو) یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم امیین (یہودیوں کے علاوہ)کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں اور خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

تفسیر غزوہ احمر کے مطالب کا ضمیمہ

یہ آیت غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کا ضمیمہ ہے۔ لفظ ”ذٰلکم“ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں کو فوج قریش کی طاقت سے ڈراتے تھے تاکہ ان کے دلوں کو کمزور کریں۔ اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہے کہ نعیم بن مسعود یا کاروان عبدالقیس کا عمل فقط ایک شیطانی عمل ہے جو شیطان کے دوستوں کو ڈرانے کے لئے ہے یعنی ایسے وسوسے صرف شیطان کے دوستوں پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اہل ایمان اور ثابت قدم لوگ ایسے وسوسوں سے کبھی اثر نہیں لیتے۔ اس بناء پر جب تم شیطان کے پیرو نہیں ہو تو تمہیں ان وسوسوں سے متزلزل نہیں ہونا چاہیے۔ نعیم بن مسعود کا کارواں عبدالقیس کو اس لئے شیطان قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کا عمل واقعاً شیطانی تھا اور یہ اس کے الہام اور وسوسہ سے ظہور پذیر ہوا تھا۔ قرآن و احادیث میں ہر برے اور غلط کام کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے چونکہ ایسے ہر کام کا انجام شیطانی وسوسوں کا سا ہے۔ یا شیطان سے مراد خود وہی افراد ہیں اور یہ ان مواقع میں سے ایک ہے جہاں لفظ شیطان اپنے انسانی مصداق کے لے استعمال ہوتا ہے کیونکہ شیطان کا ایک وسیع معنیٰ ہے اور اس کے مفہوم میں تمام گمراہ کرنے والے شامل ہیں، وہ انسان ہوں یا غیر انسان۔ جیسا کہ سورہ انعام آیة ۱۱۲ میں ہے: و کذٰلک جعلنا لکل نبی عدواً شیطینَ الانس والجنِّ یعنی اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانی اور جناتی شیطانوں میں سے دشمن قرار دئیے ہیں۔ ”وَ خافُونِ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنین“ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو مجھ سے اور میرے حکم کی نافرمانی سے ڈرو یعنی ایمان اور غیر خدا کا خوف ان دونوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ہے: فمن یوٴمن بربہ فلا یخاف بخساً ولا رھقاً یعنی جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لے آتا ہے وہ کسی نقصان اور طغیان سے نہیں ڈرتا۔ (جن۔ ۱۳) اس بنا پر اگر کسی دل میں غیر خدا کا خوف پیدا ہو تو یہ ایمان کا کامل نہ ہونے کی دلیل ہے اور شیطانی سوسوں کے نفوذ کی نشانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس بیکار عالم ہستی میں پناہ گاہ صرف خدا ہےاور صرف وہی موثر بالذات ہے اور اس کی قدرت کے مقابلے میں کسی کی کوئی قدرت نہیں۔ اصولی طور پر مومنین اپنے ولی یعنی خدا کا مشرکین و منافقین کے ولی یعنی شیطان سے موازنہ کریں تو یہ بات ان پر قطعاً واضح ہو جائے گی کہ خدا کے مقابلے میں اس کی کچھ قدرت و طاقت نہیں ہے اس لئے اہل ایمان کو معمولی سی پریشانی بھی نہیں ہونی چایئے۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں کہیں ایمان نفوذ کر جاتا ہے لازمی طور پر وہاں جراٴت و شجاعت بھی نفوذ کرتی ہے۔

76
3:76
بَلَىٰۚ مَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ وَٱتَّقَىٰ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
جی ہاں جو شخص اپنے عہد و پیمان پورے کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے خدا پرہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت دو یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک امین اور صحیح آدمی تھا اور دوسرا خائن اور پست فطرت۔ پہلا شخص عبداللہ بن سلام تھا۔ اس کے پاس ایک دولت مند ۱۲۰۰ وقیہ (تشریحی نوٹ: اوقیہ: جمع اواقی، رحل کے بارھویں حصّے کو کہتے ہیں جو سات مثقال کے برابر ہوتا ہے)۔ سونا بطور امانت رکھا۔ عبداللہ نے وہ سب معین موقع پر واپس کر دیا۔ دوسرا شخص ضحاص بن عازورا تھا۔ ایک قریشی نے اس کے پاس ایک دینار بطور امانت رکھا۔ ضخاص نے اس میں خیانت کی۔ اس کی خیانت کی وجہ سے خداوند تعالی نے زیرِ نظر آیت میں اس کی مذمت کی ہے۔ بعض کہتے ہیں پہلا جملہ نصاریٰ کی ایک جماعت کے بارے میں ہے اور خیانت کرنے والے یہودی تھے۔ اگر آیت ان دونوں واقعات کے متعلق ہو تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگرچہ زیادہ قرآنی آیات خاص مواقع پر نازل ہوئی ہیں لیکن وہ عمومی پہلو بھی رکھتیں ہیں اور اصطلاح کے مطابق موقع و محل سے مختص نہیں ہیں۔

تفسیر

یہ آیت اہل کتاب کے ایک اور چہرے سے نقاب پلٹتی ہے اور وہ یہ کہ بعض یہودی عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ دوسروں امانتوں کی حفاظت کے جواب وہ نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ سمجھتے تھے کہ انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ امانتوں کو اپنی ملکیت بنا لیں۔ وہ کہتے تھے: ہم اہل کتاب ہیں۔ پیغمبر ہم میں سے ہیں اور آسمانی کتاب ہمارے پاس ہے لہٰذا دوسرو ں کے اموال ہمارے لئے کوئی احترام نہیں رکھتے۔ یہ خیال ان کے ہاں اتنا مسلم تھا کہ وہ اعتقادی اور مذہبی رخ اختیار کر چکا تھا۔ ”وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِب“ یعنی وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔ یہ جملہ ان کے اسی رخ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہودی کہتے تھے ہم عربوں کے مال میں تصرف کرنے اور انہیں غصب کرنے کے مجاز ہیں کیونکہ وہ مشرک ہیں اور حضرت موسیٰ کے پروگرام پر عمل نہیں کرتے۔ یہاں بات کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہودیوں کا عربوں سے اقتصادی معاہدہ تھا اور وہ عربوں سے تجارت کرتے تھے۔ جب عرب اسلام لے آئے تو یہودیوں نے ان کے حقوق کی ادائیگی سے انکار کر دیا اور یہ استدلال پیش کیا کہ معاملہ کے وقت تم ہمارے مخالف نہیں تھے، اب جب کہ تم نے نیا مذہب اختیار کر لیا ہے تمہارا حق ساقط ہو گیا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ آیت تصریح کرتی ہے کہ تمام اہل کتاب اس غیر انسانی طرزِ فکر کے موافق نہیں تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض لوگ دوسروں کے حقوق ادا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ قرآن ہرگز نہیں چاہتا کہ ایک گروہ کی غلط کاری کی بناء پر سب کی مذمت کی جائے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے: ”وَمِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنطَارٍ یُؤَدِّہٓ إِلَیْکَ وَمِنْهم مَنْ إِنْ تَاْمَنْہُ بِدِینَارٍ لاَیُؤَدِّہٓ إِلَیْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَائِمًا۔“ یعنی بعض اہل کتاب ایسے کہ اگر انہیں کثیر دولت بھی امانت کے طور پر دی جائے تو وہ واپس کر دیں گے اور کچھ زیادہ طاقتور ہو۔ (تشریحی نوٹ: ”قنطار“ کے معنی کے سلسلے میں اسی سورہ کی آیہ ۱۴ کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے)۔ ”اِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَائِمًا“۔ یعنی جب تک تم ان کے سر پر مسلط نہ رہو) آیت کے اس حصے سے یہود یوں کے بارے میں ایک کلی اصول بھی معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں وہ طاقت و قدرت کے علاوہ کسی طریقے کو نہیں پہچانتے۔ مسلمانوں کے پاس ان سے اپنی حقوق کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ طاقت حاصل کریں اسی طرح یہودی ان کے حقوق ادا کرنے کے لئے آمادہ ہو سکیں گے۔ حالیہ سالوں میں ایشیا میں جو بہت سے حوادث رونما ہوئے ہیں انہوں نے یہ حقیقت پایہٴ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ عالمی رائے عامہ دنیا بھر کے لوگوں کے افکار و نظریات اور حق و عدالت اور ایسی کوئی چیز ہمارے دشمنوں کے لئے کوئی مفہوم نہیں رکھتی اور وہ صرف طاقت کے سامنے جھکتے ہیں، کسی اور چیز کو خاطر میں نہیں لاتے اور یہ ان کے قابل توجہ حقائق میں سے ایک ہے جن کی قرآن میں پیش گوئی کی گئی ہے۔ ”ذَلِکَ بِاَنَّهم قَالُوا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیِّینَ سَبِیلٌ“ اس جملے میں ان کی وہ منطق بیان کی گئی ہے جو وہ دوسروں کا مال کھانے کے لئے اختیار کئے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ ”اھل الکتاب “امّیین“ (مشرکین اور عرب جو عموماً لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے) برتری رکھتے ہیں لہٰذا کوئی حرج نہیں اگر اہل کتاب ان کے مال کو اپنی ملکیت بنا لیں، ان کا عقیدہ تھا کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا یہاں تک کہ جھوٹ امتیاز کی وہ خدا کی طرف نسبت دیتے تھے۔ مسلم ہے کہ یہ منطق تو امانت کرنے سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ خود کو اس معاملے میں حق بجانب سمجھتے تھے۔ قرآن ان کے جواب میں صراحت سے کہتا ہے: ۔ ”وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَهم یَعْلَمُونَ“۔ یعنی وہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کی طرف ناروا نسبت دیتے ہیں۔ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کی آسمانی کتب میں دوسروں کے مال میں خیانت کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی لیکن وہ اپنے برے اعمال کی توجیہ کے لئے ایسی دروغ سازی کرتے ہیں اور اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہیں۔ ”بَلَی مَنْ اَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ“۔ عربی میں ”بلیٰ“ کسی مطلب کے ثابت کرنے کے لئے آتا ہے لیکن عام طور پر ایسے موقع پر آتا ہے کہ جہاں سوال منفی صورت میں ہو۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے۔ ”الستُ بربِّکم“ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ ”قالوا بلیٰ“ انہوں نے کہا ہاں۔ جیسے لفظ ”نعم“ اثبات کے لئے آتا ہے مثلاً فھل و جدتم ماوَعَد رَبّکُم حقاً قالوا نعم“ کیا جس چیز کا تمہارے پروردگار نے وعدہ کیا اسے تم نے حقیقی طور پر پا لیا انہوں نے کہا ہاں۔ (اعراف۔۴۴) مذکورہ آیت یہودیوں کے کلام کی نفی ہے۔ وہ کہتے تھے: ”لیس علینا فی الامیینَ سبیل“ (یعنی غیر اہل کتاب کا مال کھانا ہمارے لئے حرام نہیں ہے) یہ کہہ کر وہ اپنے آپ کو عملی طور پر آزاد سمجھتے تھے۔ اسی بےدلیل اور غیر مناسب دعوے کی بنیاد وہ دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس دور میں بھی جو لوگ انسانوں کی قسمت سے کھیل رہے ہیں، انسانی حقوق پامال کرتے ہیں اور تمام اصول اور معاہدے ان کے لئے بازیچہ اطفال ہیں اور انہیں فقط اپنی خوشحالی سے غرض ہے، شاید یہ بھی اسرائیلی منطق پر کار بند ہیں۔ اس کے بر عکس قرآن نسلی اور شخصی پہلووٴں کو اہم نہیں سمجھتا اور خدا کے حقیقی دوست انہیں قرار دیتا ہے جو گناہ سے دور رہتے ہیں، معاشرے کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور اپنے مقام و منصب سے غلط فائدہ نہیں اٹھاتے۔ آیت میں دراصل انسان کی حقیقی قیمت اور خدا کی دوستی کی میزان ایفائے عہد بالخصوص امانت میں خیانت نہ کرنے اور ہر موقع پر تقویٰ اختیار کئے ہنے کو قرار دیا ہے: ”مَنْ اوفیٰ بعھدہ و اتّقیٰ فَانّ اللہ یحب المتقینَ“۔ آج بھی ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ان منصب کے پیروکار کی ایک جماعت دنیا کے دیگر انسانوں کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتی ہے اور دوسروں کے مال و دولت اور تمام چیزوں کو اپنے لئے مباح سمجھتی ہے۔ یہ شواہد ان سے متعلقہ مقالوں اور مختلف کتب میں جمع کئے گئے ہیں۔ شوق رکھنے والے لوگ، ان سے رجوع کر سکتے ہیں۔

ایک اشکال اور اس کی وضاحت

ممکن ہے یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ اسلام میں بھی دوسروں کے مال کے متعلق یہی حکم نظر آتا ہے کیونکہ اسلام اجازت دیتا ہے کہ مسلمان دوسروں کے اموال کو اپنی ملکیت بنا لیں۔ بلاشبہ اسلام کی طرف ایسی نسبت دینا تہمت ہے کیونکہ اسلام کے قطعی احکام میں سے ہے کہ امانت میں خیانت کرنا جائز نہیں چاہے وہ مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی یہاں تک کہ وہ مشت و بت پرست ہی کی کیوں نہ ہو۔ ایک مشہور حدیث میں امام سجاد (علیه السلام) سے منقول ہے: ”علیکم بِادآءِ الامانةِ فوَالذی بعثَ محمداً بالحق نبیّاً لو ان قاتل ابی الحسین بن علی بن ابی طالب ائتمننی علی السّیفِ الذی قتلہ بہ لادیتہ الیہ “۔: ( بحوالہ امالی صدوق :صفحہ ۱۴۹)۔ امانت ادا کرنا تم سب پر لازم ہے قسم ہے اس خدا کی جس نے محمدؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا۔ اگر میرے والد حسین بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) کا قاتل وہی تلوار جس سے اس نے انہیں شہید کیا ہے میرے پاس بطور امانت رکھتا (اور میں قبول کر لیتا) تو (بھی) میں اس کی امانت اسے ادا کرتا۔ دوسری روایت میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:۔ ”انّ اللہ لم یبعث نبیاً قط الاّ بصدقِ الحدیثِ و ادآءُ الامانةِ موٴدئاً الیٰ البرِّ و الفاجرِ“(بحوالہ: ”مشکوٰة الانوار“ بہ نقل از ”سفینة البحار“) خدا نے کسی پیغمبر کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ ہر نیک و بد کے ساتھ راست گوئی اور امانت کی ادائیگی اس کے پروگراموں میں شامل تھی۔ اس لئے جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں یہودیوں کی طرف سے امانت میں خیانت کرنے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، کسی طرح بھی مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور مسلمان ذمہ دار ہیں کہ وہ بلااستثنا کسی کی امانت میں خیانت نہ کریں۔

77
3:77
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشۡتَرُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَأَيۡمَٰنِهِمۡ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَـٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
جو لوگ خدا سے باندھا ہوا عہد و پیمان اوراپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا خدا ان سے بات نہیں کرے گا قیامت کے دن ان کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں کرے گا انہیں (گناہ سے) پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض علماء یہود نے جن میں ابو رافع، حی بن احظب اور کعب بن اشرف شامل تھا، جب دیکھا کہ ان کی اجتماعی حیثیت یہودیوں کے درمیان خطرے میں ہے تو کوشش کی کہ تورات میں آخری پیغمبر کے بارے میں جو نشانیوں تھیں اور تورات کے جو نسخے خود انہوں نے لکھے تھے ان میں تحریف کردیں یہاں تک کہ وہ اس بات پر قسم بھی کھا جاتے کہ وہ تحریف شدہ جلے خدا کی طرف سے ہیں۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں شدت سے خطرے کا الارم دیا گیا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت اشعث بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جو جھوٹے طریقے سے کسی کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور اس کے لئے جب وہ جھوٹی قسم کھانے پر آمادہ ہوا تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ اس پر اشعث ڈر گیا اور اعترافِ حق کرلیا اور زمین اس کے مالک کو واپس کر دی۔

تفسیر

اس آیت میں یہود اور اہل کتاب کی بعض غلط کاریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ البتہ آیت چونکہ عمومی صورت میں ہے اس لئے ان سب کے بارے میں ہے جن میں یہ صفات موجود ہیں۔ آیت کہتی ہے:۔ جو لوگ خدا سے باندھے ہوئے عہد و پیمان اور اس کے مقدس نام کی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں وہ متعدد سزاوٴں میں گرفتار ہوں گے: پہلی یہ کہ وہ عالم آخرت کی بےشمار نعمتوں سے قابل ملاحظہ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ”اُولٰٓئِکَ لاخلاقَ لھمّ۔“ دوسری یہ کہ خداوند تعالی روز قیامت صاحبان ایمان سے گفتگو کرے گا لیکن ایسے افراد سے کوئی کلام نہیں کرے گا۔ ”وَ لا ینظرُ اِلَیھِم یَوم القَیَامَةِ“َ چوتھی چیز یہ کہ اس طرح انہیں گناہوں کی آلودگیوں سے پاک نہیں کرے گا ”ولا یزکیھم“۔ پانچویں چیز یہ کہ اسی بناء پر ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا ”ولھم عذاٌب الیم“۔ ”ثمناً قلیلاً“۔ (کم قیمت) سے مراد یہ ہے کہ انہیں عظیم گناہوں کے بدلے جو بھی مادی قیمت حاصل ہو جائے کم اور ناچیز ہے اگرچہ وہ وسیع حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ واضح ہے کہ خدا کی گفتگو سے مراد زبان سے مراد گفتگو نہیں ہے کیونکہ خداوند تعالی جسم و جسمانیت سے منزہ و مبرّا ہے بلکہ اس سے مراد دل میں الہام کے ذریعے گفتگو ہے یا فضا میں صوتی موجوں کو ایجاد کرناہے جیسے حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے شجر ِ ِ طور سے گفتگو سنی تھی۔ جس نکتے کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ عہد شکنی اور جھوٹی قسموں سے پیدا ہونے والے نتائج جن کا آیت میں ذکر ہے خدا قرب و بعد کے تدریجی مراحل ہیں۔ جو شخص خدا کے قریب ہوجاتا ہے اور اس کے قرب کی بساط پر قدم رکھتا ہے پہلے تو معنی عنایات کا ایک سلسلہ اس کے شامل حال ہوتا ہے اور جب زیادہ نزدیک ہوجاتا ہے تو خدا اس سے گفتگو کرتا ہے۔ جب اور زیادہ قریب ہوتا ہے تو خدا اس پر نظر رحمت کرتا ہے اس کے نتیجے میں وہ دردناک عذاب سے نجات پاتا ہے اور ا س کی نعمتوں میں مستغرق ہو جاتا ہے لیکن جو لوگ عہد شکنی کرتے ہیں اور پروردگار کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں وہ ان تمام نعمات و برکات سے محروم ہو جاتے ہیں اور مرحلہ بمرحلہ دور ہوتے جاتے ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۷۴ بھی زیر نظر آیت سے کئی لحاظ سے مشابہ ہے اس کے ذیل میں اس آیت کے مفہوم کے بارے میں کئی ایک وضاحتیں آ چکی ہیں۔

78
3:78
وَإِنَّ مِنۡهُمۡ لَفَرِيقٗا يَلۡوُۥنَ أَلۡسِنَتَهُم بِٱلۡكِتَٰبِ لِتَحۡسَبُوهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
ان (یہود) میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو (خداکی) کتاب کی تلاوت کے وقت اپنی زبان یوں پھیرتے ہیں کہ تم گمان کرنے لگو کہ (جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں ) کتاب خدا میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب خدا میں سے نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ صراحت سے کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے جب کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”یلون“ ”لیّ“ (بروزن ”حیّ“ ) سے ہے۔ اس کا معنی ہے پیچ و خم، کھانا۔ یہ آیت درحقیقت گذشتہ آیات کی تاکید کے طور پر آئی ہے۔ اس کی شان نزول بھی گذشتہ آیات کے شان نزول کے مشابہ ہے۔ یہود یوں کا ایک گروہ کتاب خدا پڑھتے وقت اپنی زبان کو پیچ و خم دیتا ہے اور ٹیڑھا کرتا ہے۔ یہ تعبیر کلام خدا میں تحریف کرنے سے خوبصورت کنایہ ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ یہ کام ایسے ماہرانہ طریقے سے انجام دیتے ہیں کہ تمہیں گمان ہو گا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں خدا کی طرف سے نازل شدہ آیات ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ (لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ) وہ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ صراحت سے کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے نازل شدہ ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے(”وَیَقُولُونَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ الله“)۔ قرآن دوبارہ کہتا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں اشتباہ نہیں ہوا بلکہ وہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور جانتے بوجھتے ہوئے وہ یہ بہتان باندھتے ہیں (”وَیَقُولُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَهم یَعْلَمُونَ“)۔

79
3:79
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤۡتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادٗا لِّي مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ
کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ خدا آسمانی کتاب، حکم اور نبوت اسے دے اور پھر وہ لوگوں سے کہتا پھرے کہ خدا کو چھوڑ کر میری عبادت کرو (بلکہ وہ کہے) خدا والے بنو جیسا کہ کتاب خدا کی تعلیم ہے اور جیسے تم نے درس پڑھا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 80 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
3:80
وَلَا يَأۡمُرَكُمۡ أَن تَتَّخِذُواْ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرۡبَابًاۚ أَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡكُفۡرِ بَعۡدَ إِذۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ
اور نہ یہ کہ تمہیں حکم دے کہ فرشتوں اور انبیاء کو اپنا پروردگار بنا لو تو کیا وہ تمہیں کفر کی طرف دعوت دیتا ہے جب کہ تم مسلمان ہو چکے ہو۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان دو آیات کے بارے میں دو شان نزول مذکور ہیں پہلی۔ ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ہم دوسروں کی طرح آپ پر سلام کرتے ہیں حالانکہ ہماری نظر میں ایسا احترام کافی نہیں۔ ہم تقاضا کرتے ہیں کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ آپ کا امتیاز ملحوظ رکھیں اور آپ کو سجدہ کر لیا کریں۔ پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: سجدہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ اپنے پیغمبر کا ایک بشر کے طور پر احترام کرو لیکن ان (انبیاء) کا حق پہچانو اور ان کی پیروی کرو۔ دوسری ۔ ابو رافع ایک یہودی تھا۔ ایک مرتبہ وہ نجران کے عیسائیوں کی طرف سے وفد کے قائد اور سرپرست کے ساتھ خدمت پیغمبرؐ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اور آپ کو مقام الوہیت پر فائز سمجھیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ پیغمبرؐ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الولہیت کی مخالفت اس بناء پر کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ان کا کوئی حصہ نہیں لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کے لئے بھی مقام الوہیت کو تسلیم کر لیا جائے تو وہ خود بخود مخالفت چھوڑ دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تجویز پیغمبر اکرمﷺ کو بدنام کرنے اور عوام کو منحر ف کرنے کے لئے پیش کی گئی ہے۔ بہرحال پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: معاذاللہ کیسے ممکن ہے کہ میں اجازت دوں کہ کوئی شخص ربّ واحد کے علاوہ کسی کی عبادت کرے خدا نے ہرگز مجھے ایسے معاملے کے لئے مبعوث نہیں کیا۔

تفسیر

اس سے پہلے ہم توجہ دلا چکے ہیں کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی بُری عادات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ حقائق میں تحریف کر دیا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلامٰ کے بارے میں ان کا الوہیت کا دعویٰ انہی تحریفات میں سے ایک ہے۔ وہ کہتے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود ان بات کا حکم دیا ہے۔ بعض لوگ چاہتے تھے کہ یہی موہوم خیا ل وہ پیغمبر اسلامؐ کی پرستش کی تجویز پیش کرنے والے ایسے تمام افراد کو صریح اور قطعی جواب دیا ہے۔ آیت کہتی ہے کہ پیغمبر اسلامؐ، کسی اور نبی یا فرشتوں، میں سے کسی کی عبادت نہیں ہو سکتی اور اگر اہل کتاب یہ خیال کرتے یں کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے انہیں اپنی عبادت کی دعوت دی ہے تو وہ اشتباہ کرتے ہیں۔ ”مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُؤْتِیَہُ اللهُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُوا عِبَادًا لِّی مِنْ دُونِ اللهِ“ کسی انسان کو حق نہیں پہنچتا کہ خدا اسے آسمانی کتاب، علم و دانش اور نبوت سے نوازے اور وہ لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دے، حالانکہ تمام انبیاء نے بالاتفاق لوگوں کو ایک اکیلے خدا کی عبادت کی دعوت دی ہے۔ یہ آیت نفی مطلق کے معنی میں ہے۔ یعنی خدا کی طرف سے بھیجے گئے لوگ جنہیں علم و حکمت کا وافر حصہ بخشا گیا ہے کسی وقت بھی بندگی اور عبودیت کے مرحلے سے تجاوز نہیں کریں گے۔ خدا کے بھیجے ہوئے رہبر ہمیشہ عام لوگوں کی نسبت بارگاہ الہٰی میں زیادہ منکسر اور خاضع رہتے ہیں لہٰذا وہ بندگی اور توحید کی شاہراہ نہیں چھوڑ سکتے اور لوگوں کو شرک کے گڑھے میں نہیں پھینک سکتے۔ ”وَلَکِنْ کُونُوا رَبَّانِیِّینَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُونَ“۔ ”رَبَّانِیِّین“ جمع ہے ”ربّانی“ کی، یہ لفظ ایسے شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا رشتہ اور ربط پروردگار سے محکم اور مضبوط ہو۔ چونکہ یہ لفظ ”ربّ“ کے مادہ سے ہے اس لئے اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو دوسروں کی تدبیر اصلاح اور تربیت کرے عرب ادب کے قواعد کی رو سے یہ لفظ ”منسوب“ ہے البتہ ”یاءِ نسبت“ کی اضافت کے وقت اس میں ”اَلِفْ“ کا اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ ”بحرین“ سے منسوب بہ کو ”بحرانی“ کہتے ہیں۔ یہاں بھی اسی صورت میں ”ربّانی“ کہا گیا ہے۔ مندرجہ بالا جملے میں قرآن کہتا ہے: انبیاء کو زیبا نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیں ان کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ لوگوں کو آیات الہٰی کی ”تعلیم“ دیں اور حقائق کی ”تدریس کے ذریعہ لوگوں کو علماء ربّانی بنا دیں اور وہ ایسے لوگ تیار کریں جو خدا کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور علم و دانش اور معرفت کے سوا کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا مقصد فقط افراد کی تربیت کرنا نہ تھا بلکہ ان کا کام مطمئن، تربیت کرنے والے مختلف گروہوں کے لئے رہبر تیار کرنا تھا، یعنی ایسے افراد تیار کرنا نہ تھا بلکہ ان کا مطمئن، تربیت کرنے والے اور مختلف گروہوں کے لئے رہبر تیار کرنا تھا۔ یعنی ایسے افراد تیار کرنا جن میں سے ہر کوئی ایک وسیع علاقے کو اپنے علم، ایمان اور دانش سے روشنی بخشے۔ اوپر والی آیت میں پہلے مسئلہ تعلیم کا ذکر ہے۔ پھر تدریس کا تذکرہ ہے۔ ان دو الفاظ میں یہ فرق ہے کہ تعلیم ایک وسیع و عریض معنیٰ کا حامل ہے۔ اس میں گفتار و کردار کے ذریعے پڑھے لکھے یا ان پڑھ ہر طرح کے لوگوں کو تعلیم دینا شامل ہے لیکن تدریس ایسی تعلیم کے لئے بولا جاتا ہے جس کا تعلق کتاب اور کاغذ سے ہو اور اصطلاح کے لحاظ سے تعلیم سے ”اخص“ اور خصوصی ہے۔ ”وَلاَیَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلاَئِکَةَ وَالنَّبِیِّینَ اَرْبَابًا“ اس آیت کی گفتگو گذشتہ بحث کی تکمیل ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے: جیسے انبیاء لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے اسی طرح انہیں فرشتوں اور دیگر انبیاء کی عبادت کی دعوت بھی نہیں دیتے۔ ایک طرف تو یہ جملہ مشرکین عرب کا جواب ہے، جو فرشتوں کو خداکی بیٹیاں سمجھتے تھے اور یوں ان کی ایک طرح سے ربوبیت کے قائل تھے، یونہی یہ ”صَائِبِین“ کا جواب بھی ہے جو اپنے آپ کو حضرت” یحییٰ (علیه السلام) “کا پیرو کار بتاتے تھے اور فرشتوں کا مقام پرستش کی حد تک اوپر لے جاتے تھے۔ دوسری طرف یہ یہودیوں کا بھی جواب ہے جو حضرت ”عزَیر (علیه السلام)“ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے اور یوں ان کے لئے ربوبیت کے قائل تھے اور اس عقیدے کو پیغمبرانِ خدا کی طرف منسوب کرتے تھے۔ آیت ان سب کا جواب دیتی ہے کہ یہ بات کسی پیغمبر کے شایان شان ہرگز نہیں کہ وہ لوگوں کو غیر خدا کی ربوبیت کی طرف دعوت دے۔ ”اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔“ آخر میں فرمایا: کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر تمہیں کفر کی دعوت دے جب کہ تم اسلام اور توحید کا راستہ اپنا چکے ہو۔ کہے بغیر واضح ہے کہ یہاں اسلام سے مراد دیگر بہت سے مواقع کی طرح اس کا وسیع معنی ہے یعنی فرمانِ خدا، ایمان اور توحید کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ یعنی کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایسا پیغمبر ہو جو پہلے تو لوگوں کو ایمان اور توحید کی دعوت دے اور پھر انہیں شرک کی راہ دکھائے یا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک پیغمبر دیگر تمام انبیاء کی زحمتوں کو برباد کر دے جنہوں نے اسلام کی دعوت دی ہے اور وہ لوگوں کو کفر و شرک کی طرف کیسے راغب کر سکتا ہے۔ ضمنی طور پر آیت عصمتِ انبیاء اور فرمان خدا سے ان کے انحراف نہ کرنے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مشہور قرائت میں جس کے مطابق قرآن کا موجودہ متن ہے ”ولایامُرَکم“ کا جملہ منصوب (راء پر زبر کے ساتھ) پڑھا جاتا ہے۔ اور حقیقت میں اس کا تعلق گذشتہ آیت کے ” اَنْ یّوتیہُ الللہ“ سے ہے اور یہ اس پر عطف ہے اور یہاں پر ”لا“ گذشتہ آیت میں آنے والے ”ما“ کی تاکید ہے جو نافیہ ہے۔ اس بناء پر اس جملے کا معنی کچھ یوں ہو گا)۔

بشر پرستی ممنوع ہے

مندرجہ بالا آیات پوری صراحت سے غیر خدا کی ہر قسم کی پرستش، بالخصوص بشر پرستی کو ممنوع قرار دیتی ہیں اور انسان میں آزادی و استقلال کی روح پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ روح ہے جس کے بغیر انسان، انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔ طویل انسانی تاریخ میں ایسے بہت سے افراد ہو گزرے ہیں جو اقتدار تک پہنچنے سے پہلے معصومانہ چہرہ رکھتے تھے اور لوگوں کو حق، عدالت، حریت، آزادی اور ایمان کی دعوت دیتے تھے لیکن جن ان کے اقتدار کی بنیادیں معاشرت میں مستحکم ہو گئیں تو آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا اور وہ شخص پرستی کی طرف مائل ہوئے اور لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دینے لگے۔ درحقیقت دعوتِ حق اور دعوت باطل دینے والوں کی پہچان کا یہی ایک راستہ ہے کہ جو حق کی دعوت دینے والے جن کے سر کردہ افراد انبیاء (علیه السلام) اور آئمہ علیہم السلام ہیں اقتدار پا لینے کے بعد بھی پہلے کی طرح لوگوں کو دین و انسانیت کے مقدس مقاصد کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں توحید، یگانہ پرستی اور آزادی کی دعوت شامل ہے لیکن باطل کی دعوت دینا ہے اور وہ لوگوں کو ایک قسم کی اپنی عبودیت کی تشویق و ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے گرد بے حیثیت لوگ جمع ہو جاتے ہیں جن کام خوشامد اور چاپلوسی ہوتا ہے اور وہ غرور و کم ظرفی کے ذریعے ایسی چیزوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک جاذب نظر حدیث حضرت علی(علیه السلام) سے منقول ہے۔ یہ حدیث آنجناب (علیه السلام) کے حقیقی روحانی چہرے کو واضح کرتی ہے اور یہ ہماری بحث کے لئے شاہد بھی ہے۔ جب امام عالی مقام (علیه السلام) عراق کے سرحدی شہر انبار میں پہنچے تو کچھ کسان اپنے مروّجہ طریقے کے مطابق آپ(علیه السلام) کے سامنے سجدہ میں گر پڑے۔ امام علیہ السلام نے نہ صرف یہ کہ اس فعل کو ناپسند کیا بلکہ بہت زیادہ غضبناک ہوئے اور انہیں کہنے لگے: ”ما ھٰذا الذی صنغتموہ؟“ تم نے یہ کیسا کام انجام دیا ہے؟ فقالوا: ”خلق منا نعظم بہ امرائنا“ وہ کہنے لگے: یہ کام ہم اپنے بادشاہوں اور امراء کی تعظیم کے طور پر انجام دیتے ہیں۔ فقال: ”و اللہ ما ینتفع بھٰذا امرائکم و انکم لتشقون علی انفسکم فی دنیاکم و تشقون بہ فی اخرتکم ومآ اخسر المشقة وراء ھا العقاب، و اربح الدعة معھا الامان من النار۔“(بحوالہ نہج البلاغة، کلمات قصار ۳۷) آپ (علیه السلام) نے فرمایا: بخدا تمہارے امراء اور حکام کو اس عمل سے کوئی فائدہ نہیں پہچنتا اور تم اپنے آپ کو اس سے دنیا میں رنج و تکلیف میں مبتلا کرتے ہوئے اور آخرت میں بد بختی میں گرفتار کرتے ہو ۔ کس قدر نقصان دے ہے وہ تکلیف و مشقت کہ جس کے بعد عذابِ خدا بھی اور کس قدر فائدہ بخش ہے وہ آرام و آزادی جس کے ساتھ آتشِ جہنم سے بھی امان حاصل ہو۔

81
3:81
وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيۡتُكُم مِّن كِتَٰبٖ وَحِكۡمَةٖ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مُّصَدِّقٞ لِّمَا مَعَكُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ قَالَ ءَأَقۡرَرۡتُمۡ وَأَخَذۡتُمۡ عَلَىٰ ذَٰلِكُمۡ إِصۡرِيۖ قَالُوٓاْ أَقۡرَرۡنَاۚ قَالَ فَٱشۡهَدُواْ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
وہ وقت(یاد کرو) جب خدا نے انبیاء سے یہ تاکیدی عہد و پیمان لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دے دوں اس کے بعد تمہارے پاس ایک پیغمبر آئے جو اس کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے تو اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا (پھر خدا نے) کہا کیا اس چیز کا اقرار کرتے ہو اور اس پر تاکیدی عہد و پیمان باندھتے ہو انہوں نے کہا (جی ہاں ) ہم اقرار کرتے ہیں (خدا نے) کہا پس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

مقدس عہد و پیمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ“: یہ آیت ایک عمومی بنیاد کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گذشتہ انبیاء اور ان کی اقتداء میں ان کے پیروکاروں نے خداوند تعالی سے ایک عہد و پیمان باندھا تھا اور وہ یہ کہ وہ بعد میں آنے والے انبیاء و رسل کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے اور ان پر ایمان لانے کے علاوہ ان کے اہداف و مقاصد کی پیش رفت کے لئے ان کی کسی قسم کی مدد سے دریغ نہیں کریں گے۔ دراصل جیسے انبیاء اور ان کی امتیں گذشتہ انبیاء اور ان کے دین کا احترام کرتے تھے اس طرح گذشتہ انبیاء اور ان کی امتوں پر آنے والے انبیاء کے بارے میں ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ آیات قرآن میں بارہا پیغمبرانِ خدا کے مقاصد کی وحدت کی طرف اشارہ ہوا ہے، زیر نظر آیت بھی اس امر کا زندہ نمونہ ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں کہا گیا ہے: خدا نے انبیاء سے میثاق لیا تھا۔ ”میثاق دراصل وثوق“ کے مادہ سے اور اس کا معنی ہے ”ایسی چیز جو اطمنان اور اعتماد کا سبب بنے“ عام طور پر”تاکیدی عہد و پیمان“ کو میثاق کہتے ہیں۔ انبیاء سے پیمان لینا فطری طور پر ان کے پیروکاروں سے بھی پیمان لینے کے مترادف ہے۔ مذکورہ عہد و پیمان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی ایسا پیغمبر آئے جس کی دعوت ان کی دعوت سے ہم آہنگ ہو اور یوں اس کی حقانیت ثابت ہو جائے تو انہیں چاہئیے کہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی مدد کریں۔ اس بات کی تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: ”قَالَ اَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ إِصْرِی“ (تشریحی نوٹ: ”اِصرٌ“: لغت میں تاکیدی عہد و پیمان کو کہتے ہیں جسے توڑنا سخت سزا کا موجب ہو)۔ یعنی کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور میرے عہد کو قبول کرتے ہو اور کیا اپنے پیرو کاروں سے اس سلسلے میں تم نے پیمان لیا ہے؟ انہوں نے اس کے جواب میں کہا: جی ہاں! ہم اعتراف کرتے ہیں ”قَالُوا اَقْرَرْنَا“۔ پھر خداوند تعالی نے اس امر کی تاکید کے لئے انہیں دوبارہ فرمایا: تم اس امر پر گواہ رہو اور میں بھی تم پر اور تمہارے پیروکاروں پر گواہ ہوں (”قَالَ فَاشْہَدُوا وَاَنَا مَعَکُمْ مِنْ الشَّاہِدِینَ“)۔

چند اہم نکات

(۱) میثاق کی وسعت: کیا مندرجہ بالا آیت صرف گذشتہ انبیاء کی بشارتوں اور پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں ان سے عہد و پیمان میں منحصر ہے یا ہر اس پیغمبر کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے پیغمبر کے بعد آیا۔ آیات کا ظہور توکلی اور عمومی مفہوم کا حامل ہے اگرچہ خاتم الانبیاءؐ اس کے واضح تر اور روشن تر مصداق ہیں اور قرآن کے مفاہیم کی روح سے بھی یہی وسیع اور عمومی مفہوم مناسبت رکھتا ہے۔ لہٰذا اگر بعض روایات جو یہ تصریح نظر آتی ہے کہ اس سے مراد پیغمبر اسلامؐ ہیں تو وہ دراصل اس کے ایک واضح مصداق کے طور پر آیت کی تفسیر ہے نہ یہ کہ اس طرح آیت اسی مفہوم میں منحصر ہوگئی ہے۔ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں حضرت علی (علیه السلام) نے نقل کیا ہے: خدا نے جب آدمؐ اور دوسرے انبیاء کو پیدا کیا تو ان سے عہد لیا کہ جب محمد(علیه السلام) مبعوث ہو تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ (بحوالہ تفسیر کبیر ، جز ہفتم : صفحہ ۱۳۱)۔ (۲)دو اولو العزم پیغمبر ایک زمانے میں ہو سکتے ہیں؟ آیت کے مضمون کی طرف توجہ رکھتے ہوئے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے کہ ایک اولوالعزم پیغمبر کے زمانے میں دوسرا اولوالعزم پیغمبر مبعوث ہو اور اس کی ذمہ داری ہو تو وہ دوسرے پیغمبر کی پیروی کرے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسے آیت کی تفسیر میں اشارہ کیا گیا ہے کہ عہد و پیمان صرف انبیاء سے نہیں لیا گیا بلکہ ان کے پیروکاروں سے بھی لیا گیا ہے اور درحقیقت انبیاء سے عہد لینے سے مراد ان کی امتوں اور نسلوں سے عہد لینا ہے جو ان کے بعد وجود میں آئی ہیں اور بعد والے نبی کے زمانے کو پاتی ہیں اور فرض کیا اگر خود انبیاء بھی آنے والے انبیاء کے زمانے کو پائیں تو وہ ان پر ایمان لائیں گے یعنی پیغمبرانِ خدا اپنے اہداف و مقاصد اور دعوت میں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہیں اور ان کی آپس میں کوئی جنگ نہیں ہے۔ (۳) آیت انبیاء کے جانشینوں کے بارے میں بھی ہے: اس آیت کے سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ اگرچہ انبیاء کے بارے میں ہے لیکن واضح ہے کہ ان کے جانشینوں پر بھی صادق آتی ہے کیونکہ ان کے سچّے جانشین ان سے جدا نہیں ہیں اور سب کے سب ایک ہی مقصد رکھتے ہیں۔ انبیاء ہمیشہ اپنے جانشینوں کا تعارف کرواتے تھے، ان کی بشارت دیتے تھے اور لوگوں کو ان پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ ہماری تفسیر وحدت کی کتب میں اس آیت کے ذیل میں چند روایات میں .......”وَلِتَنْصُرُنَّہ“ سے حضرت علی (علیه السلام) کی مدد کرنا مراد لیا گیا ہے اور اس میں مسئلہ ولایت کو بھی شامل قرار دیا گیا ہے تو وہ درحقیقت اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بات کہے بغیر نہیں رہنا چاہئیے کہ مندرجہ بالا آیت کے بارے میں مفسرین اور اہل ادب نے ترکیب نحوی کے حولاے سے بحث کی ہے۔ (تشریحی نوٹ: ”لمَّآ اٰتیتکم“ میں بعض ”مَا“ موصولہ اور مبتداء قرار دیتے ہیں، لام، کو توطہٴ اور ”لَتُوٴمِنُنَّ بہ“ کو خبر سمجھتے ہیں کچھ لوگ ”مَا“ کو شرطیہ زمانیہ اور ”لَتُوٴمِنُنَّ بہ وَ لَتَنْصُرُنّہ“ کو اس کی جزا سمجھتے ہیں، یہی دوسرا احتمال آیت کے معنی سے زیادہ قریب ہے)۔

مزاحم تعصبات

تاریخ نشان دہی کرتی ہے کہ ایک دین کے پیروکار آسانی سے اپنے دین سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتے اور خدا کی طرف سے نئے مبعوث ہونے والی انبیاء کے سامنے آسانی سے سرتسلیم خم نہیں کیا کرتے بلکہ جمود اور بڑی شدت سے اپنے قدیم دین پر جمے رہتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں گویا اسے اپنا اور اپنے آپ کو اس کا سمجھتے ہیں اور اسے چھوڑ دینے کو اپنی ملی اور قومی بربادی خیال کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ بہت مشکل سے نیا دین قبول کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ تاریخ میں مذکور بہت سی جنگو ں اور دردناک حوادث کا سرچشمہ قوموں کا یہی خشک تعصب اور پرانے ادیان پر اڑے رہنا ہے حالانکہ تکامل و ارتقائکا قانون مقتضی ہے کہ ادیان یکے بعد دیگرے آتے رہے ہیں اور انسان کو خدا شناسی، حق و عدالت، ایمان، اخلاق، انسانیت اور فضیلت کی راہ میں آگے لے جاتے رہیں تاکہ وہ آخری دین تک پہنچ جائیں جو کہ خاتم الادیان ہے اور اس کے بچے کی طرح یہ راستہ طے کریں جو تعلیم و تربیت کے مدارج یکے بعد دیگرے طے کر کے فارغ التحصیل ہو جاتا ہے۔ واضح ہے کہ اگر پرائمرری پڑھنے والے بچے پرائمری اسکول سے ایسا لگاوٴ اور تعصب پیدا کر لیں کہ ہائی اسکول میں جانے ہی سے انکار کر کر دیں تو اس کا نتیجہ قافلہٴ ترقی میں جمود اور پسماندگی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ زیر نظر آیت میں گذشتہ انبیاء اور ان کی امتوں سے مستحکم عہد و پیمان پر جو اصرار اور تاکید موجود ہے وہ گویا ایسے تعصّبات، جمود اور ہٹ دھرمی سے اجتناب و ااحتراز ہی کے لئے تھا لیکن بہت افسوس کا مقام ہے کہ ان تمام تاکیدوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ پرانے ادیان کے پیروکار آسانی سے جدید حقائق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے۔ اس سوال کے ضمن میں کہ دین اسلام کیوں اور کیسے خاتم مذاہب اور آخری دین ہے، سورہ احزاب کی آیہ۴۰ کے ذیل میں انشاءاللہ تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

82
3:82
فَمَن تَوَلَّىٰ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
اس بناء پر جو شخص اس (مستحکم پیمان) کے بعد منہ پھیر لے وہ فاسقین میں سے ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں قرآن کہتا ہے: ان سب تاکیدوں، اصرار اور مستحکم عہد و میثاق کے بعد بھی جو لوگ پیغمبر اسلامؐ جیسے نبی پر ایمان لانے سے روگردانی کریں، جن کے ظہور کی نشانیاں گذشتہ کتب میں آ چکی ہیں تو وہ لوگ فاسق اور حکم کے خدا سے خارج ہیں۔

83
3:83
أَفَغَيۡرَ دِينِ ٱللَّهِ يَبۡغُونَ وَلَهُۥٓ أَسۡلَمَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ
کیا وہ لوگ دین خدا کے علاوہ کوئی چیز چاہتے ہیں (اس کا دین تو اسلام ہے) اور تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اختیار یا مجبوری سے اس کے سامنے تسلیم ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
3:84
قُلۡ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ
کہہ دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس پر (بھی) جو ہم پر، ابراہیم پر، اسماعیل پر، اسحق پر، یعقوب پر اور اسباط پر نازل ہوا ہے اور اس پر جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس کے (فرمان) کے سامنے تسلیم ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
3:85
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور جو کوئی اسلام کے علاوہ اپنے لیے کوئی دین انتخاب کرے تو وہ اس سے قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں سے ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”اَفَغَیْرَ دِینِ اللهِ یَبْغُونَ“ گذشتہ آیات میں اب تک گذشتہ مذاہب کے بارے میں تفصیلی بحث ہوئی ہے اب یہاں سے اسلام کے بارے میں بحث شروع ہوتی ہے اور اہل کتاب اور دیگر گذشتہ ادیان کے پیروں کاروں کی توجہ اس کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔ زیرنظر آیات میں سے پہلے میں قرآن کہتا ہے: کیا یہ لوگ خدا کے دین کے سوال کوئی اور چیز چاہتے ہیں، خدا کا دین تو قوانین الہٰی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ بات کامل اور جامع صورت میں پیغمبر اسلامؐ کے دین میں موجود ہے لہٰذا وہ اگر دینِ حقیقی کی تلاش میں ہیں تو انہیں مسلمان ہو جانا چاہئیے۔

اسلام تمام موجودات عالم کا دین ہے

”وَلَہُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ .......“ قرآن نے ایک مرتبہ پھر اسلام کو ایک زیادہ وسیع معنی میں پیش کیا ہے۔ تمام آسمانوں اور زمین والے یا آسمان و زمین میں موجود تمام موجود تمام موجودات مسلمان ہیں اور وہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں، زیادہ سے زیادہ طوعاً و کرھاً(اختیار یا جبر سے) کی تعبیر کا مطلب ہے کہ پروردگار کے فرمان کے سامنے سر جھکانا کبھی ”اختیاری“ اور ”تشریعی قوانین“ کے ذریعے ہوتا ہے اور کبھی ”اجباری“ اور تکوینی قوانین“ کے ذریعے۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ عالم ہستی میں خدا کے احکام دو طرح کے ہیں۔ اس کے فرامین کا ایک سلسلہ طبیعی قوانین اور مافوق طبیعی کا ہے جو اس جہان کے مختلف موجودات پر حکومت کرتے ہیں اور سب مجبور ہیں کہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور وہ لمحہ بھر کے لئے بھی ان قوانین سے روگردانی نہیں کر سکتے اور اگر خلاف ورزی کریں تو ہو سکتا ہے کہ محو اور نابود ہو جائیں۔ یہ فرمانِ خدا کے سامنے ”اسلام و تسلیم“ کی ایک قسم ہے۔ سورج کی شعائیں دریاوٴں پر پڑتی ہیں، پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے، بادل کے ٹکڑے ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں، بارش کے قطرے آسمان سے گرتے ہیں، درخت ان سے نشوونما پاتے ہیں ان سے پھول کھلتے ہیں۔ یہ سب کے سب ”مسلمان “ہیں کیونکہ ان میں سے لہر ایک آفرینش و فطرت کے معین کردہ قانون کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ فرمان خدا کی دوسری قسم کا نام حکم تشریعی ہے یعنی وہ قوانین جو آسمانی شریعتوں اور انبیاء (علیه السلام) کی تعلیمات میں موجود ہیں ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے یعنی ”طوعاً“ مثلاً مومنین اور دوسرا مجبوری کی حالت میں یعنی ”کرھاً“ مثلاً کافرین تکوینی قوانین کے لحاظ سے۔ اس بناء پر اگرچہ کفار کچھ احکام خدا کے سامنے اسلام قبول کرنے سے روگردانی کرتے ہیں لیکن بعض احکام قبول کئے بغیر انہیں کوئی چارہ نہیں، اس لئے خدا کے تمام قوانین دینِ حق کے سامنے وہ بالکل سرتسلیم خم کیوں نہیں کرتے۔(تشریحی نوٹ: ضمناً توجہ رہے کہ زیر نظر آیت میں ”طوعاً و کرھاً“ کے الفاظ ذوی العقول کے بارے میں ہیں اور یہاں ان کا مفہوم سورہ فصلت آیہ ۱۱ میں آنے والے انہی الفاظ سے مختلف ہے وہاں ان کا تعلق صرف غیر ذوی العقول سے ہے۔ اس بارے میں متعلقہ آیت کے ذیل میں گفتگو کی جائے گی)۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے جسے بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے اور وہ مندرجہ بالا تفسیر کی نفی نہیں کرتا۔ وہ یہ ہے کہ صاحبِ ایمان لوگ اطمنان کے عالم میں رضا و رغبت اور اختیار کے ساتھ خدا کی طرف جاتے ہیں اور بےا یمان لوگ صرف مصیبت، ابتلا اور سخت مشکلات کے وقت اس کی طرف بھاگتے ہیں اور اسے پکارتے ہیں جب کہ عام حالات میں اس کے لئے شرکاء کے قائل ہوتے ہیں لیکن ان سخت اور حساس لمحات میں اس کے علاوہ کسی کو پہچانتے ہیں نہ پکارتے ہیں۔ ”وَإِلَیْہِ یُرْجَعُونَ“ آیت کے گذشتہ حصے میں مبداء کی طرف متوجہ ہونے کے لئے گفتگو تھی، جو ایک فطری چیز ہے اور اب اس جملے میں معاد کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اپنے مقام پر فطری ہے کیونکہ تمام اقوام و ملل موت کو تسلیم کرتی ہیں۔ اصل توحید غرضِ خلقت اور حکمتِ پروردگار کی طرف نظر رکھیں تو موت کا مطلب نابودی اور فنا ہرگز نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا مطلب ایک قسم کا تکامل اور ارتقاء ہے اور یہ ایک زیادہ وسیع ماحول میں قدم رکھنے کا دوسرا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کی طرف بازگشت ہے۔ ”قُلْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ“ اس آیت میں خداوند تعالی نے پیغمبر اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جو کچھ پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لانے کے علاوہ ان تمام آیات اور تعلیمات پر بھی عقیدہ رکھو جو گذشتہ انبیاء پر نازل ہوئیں اور کہو کہ ہم ان میں حقانیت اور خدا سے ارتباط کے لحاظ سے کسی قسم کے فرق کے قائل نہیں ہیں۔ ہم سب کو حقیقی طور پر (خدا کا نمائندہ) سمجھتے ہیں، سب خدا کے بھیجے ہوئے رہبر ہیں، سب مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور ہم حکم خدا کے سامنے ہر لحاظ سے تسلیم ہیں۔ لہٰذا اس طرح سے ہم تفرقہ اندازی سے اپنا ہاتھ کھینچے ہوئے ہیں۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۶ زیر نظر آیت سے پوری مشابہت رکھتی ہے، اس میں کافی وضاحت کی جا چکی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمومہ کی جلد اول کی طرف رجوع کیجئے)۔ ”وَمَنْ یبتغ غیر الاسلامِ دیناًفَلنْ یقبلَ منہُ“ لفظ ”یبتغ“ ”ابتغآء“ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے کوشش اور جستجو کرنا، یہ شایستہ اور ناشایستہ ہر موقع کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں یہ لفظ بحث کو نتیجہ پر پہنچا نے کے لئے استعمال ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ حقیقی دین اور آئین ”اسلام“ ہی ہے یعنی حکم خدا کے سامنے ”سرتسلیم“ کرنا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نسل، زبان، قومی تعصبات اور ایسی تمام چیزوں سے بالاتر ہے اور جو لوگ ایسی واقعیت کے علاوہ کسی چیز کو دین کے طور پر مان لیں وہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے بدلے انہیں سزا بھی دی جائے گی:” ” وَہُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِینَ“....... یعنی وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہو گا، کیونکہ اس نے اپنے وجود کا سرمایہ غیر مناسب خرافات و تقلید، جاہلانہ تعصبات اور نسل پرستی کے عوض بیچ دیا ہے، مسلم ہے کہ ایسے معاملے میں وہ نقصان و زیان ہی میں مبتلا ہو گا اور قیامت میں انسانی وجود کے سرمائے کے نقصان کا نتیجہ محروموں اور سزا و عذاب کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ انشاءاللہ سورہٴ حُجرات کی آیہت ۱۴ کے ذیل میں ”اسلام“ اور ”ایمان“ کے درمیان فرق پر بحث کی جائے گی۔

86
3:86
كَيۡفَ يَهۡدِي ٱللَّهُ قَوۡمٗا كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ وَشَهِدُوٓاْ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقّٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
خدا ان لوگوں کو کیونکر ہدایت کرے جو ایمان لانے، رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور ان کے لئے واضح نشانیاں آ جانے کے بعد کفر کریں اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
3:87
أُوْلَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمۡ أَنَّ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةَ ٱللَّهِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ، ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
3:88
خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
وہ ہمیشہ اس لعنت میں (مبتلا) رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہو گی اور انہیں مہلت نہیں دی جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
3:89
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
مگر وہ لوگ کہ جو بعد ازاں توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں کیونکہ خدا بخشنے والا اور رحیم ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

(مدینہ کے مسلمانوں میں سے) ایک انصاری حارث بن سوید تھا۔ اس کے ہاتھوں ہذر بن زیاد نامی ایک بےگناہ قتل ہو گیا۔ وہ سزا کے خوف سے مرتد ہو گیا اور مکہ کی طرف بھاگ گیا، مکہ میں پہنچا تو اپنے کام سے سخت پشمان ہوا اور سوچنے لگا اب کیا کروں۔ اس نے سوچ سوچ کر فیصلہ کیا کہ ایک آدمی کو مدینہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجوں تاکہ وہ پیغمبر اکرمؐ سے سوال کریں کہ کیا اس کے لئے لوٹنے کا کوئی راستہ ہے یا نہیں۔ اس مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں چند خاص شرائط کے ساتھ اس کی توبہ قبول ہونے کا تذکرہ ہے۔ حارث بن سوید پیغجمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، دوبارہ اسلام لایا اور آخری عمر تک اسلام کا وفادار رہا۔ اس کے پیرکاروں میں سے گیارہ افراد بھی اسلام سے پھر گئے تھے وہ اپنی حالت پر باقی رہے۔ تفسیر درّ منثور اور بعض دوسری تفاسیر میں زیر نظر آیات کی کچھ اور شانِ نزول نقل کی گئی ہیں جو مذکورہ شان نزول سے زیادہ فرق نہیں رکھیں۔

تفسیر

”کَیْفَ یَہْدِی اللهُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ وَشَہِدُوا اَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَائَهم الْبَیِّنَات۔“ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور پھر اس سے پھر گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اصطلاح میں ”مرتد“ کہتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے خدا مدد نہیں کرتا کیونکہ ان لوگوں نے واضح علامات کے ذریعے پیغمبر کو پہچان لیا ہے اور اس کی رسالت کی گواہی دی ہے۔ یہ لوگ اسلام سے عدول کر کے اور اس سے پھر کر ظالم اور ستمگر بن گئے ہیں اور خدا ظالموں اور ستمگروں کی ہرگز ہدایت نہیں کرتا (وَاللهُ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ)۔ ”اُوْلَئِکَ جَزَاؤُهم اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَةَ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِین“۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی سزائیں بیان کی گئی ہے جو پہچاننے کے بعد حق و عدول کرتے ہیں اور وہ ہے پروردگار، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت۔ ”لعن“ اصل میں دھتکارنے اور غیظ و غضب کے ساتھ دور کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا پروردگار کی لعنت کا مطلب اس کی رحمت سے دوری ہے۔ باقی رہا فرشتوں اور لوگوں کی لعنت تووہ غصّہ، تنفر اور معنوی طور پر سے یا پروردگار کی رحمت سے دور ہونے کی بددعا ہے۔ ایسے لوگ درحقیقت فساد اور گناہ میں اس طرح سے ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں کہ تمام عقلمندوں اور سارے جہان کے بامقصد افراد چاہے انسان ہوں یا فرشتے سب کے تنفر کا ہدف بن جاتے ہیں۔ ”خَالِدِینَ فِیہَا لاَیُخَفَّفُ عَنْهم الْعَذَابُ وَلهم یُنْظَرُونَ“۔ اس آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ صرف عمومی لعنت کا مرکز نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ لعنت کا شکار رہیں گے۔ درحقیقت شیطان کی طرح ہیں جو ہمیشہ لعنت میں گرفتار رہتا ہے۔ مسلم ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ دردناک اور ناقابل تخفیف عذاب میں مبتلا ہوں گے اور انہیں کسی قسم کی مہلت نہیں دی جائے گی۔ ”إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَاَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ“۔ یہ آیت مندرجہ بالا احکام میں استثنائی صورت بیان کرتی ہے۔ اس آیت نے ایسے افراد کے لوٹ آنے کی راہ کھول دی ہے لیکن بہت سی دیگر آیاتِ قرآنی کی طرح مسئلہ تو بہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد گذشتہ غلط کاریوں کی تلافی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ”و اصلحوا“ کے ذریعے یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ توبہ صرف گذشتہ گناہ پر پشمانی اور آئندہ نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ برے اعمال کی تلافی کی جائے۔ اسی لئے بعض آیات میں توبہ کے بعد ایمان اور عمل صالح کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ مثلاً: ”لِمَنْ تابَ وَ اٰمنَ و عَمِلَ صالِحا۔“ طٰہٰ: ۸۲ مگر وہ شخص جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل صالح انجام دے۔ ورنہ اس کی توبہ کامل و مکمل نہیں ہے۔ ایسے افراد بخشش اور رحمتِ خدا کے حقدار ہوں گے۔ فَاِنّ اللّہ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ“۔

کیا مرتد کی توبہ قبول ہو جاتی ہے

مندرجہ بالا آیت اور شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول کر کے اس سے پلٹ جائیں دو قسم کے ہیں: "مرتہ فطری" "مرتدِ ملی" فطری مرتد وہ ہے جو مسلمان باپ یا ماں سے پیدا ہو یا بعض کے بقول جبن اس کا نطفہ ٹھہرے تو اس کا باپ یا ماں مسلمان ہوں۔ پھر وہ اسلام قبول کرے اور اس کے بعد اس سے پلٹ جائے۔ ملی مرتد وہ ہے جو کافر ماں باپ سے پیدا ہو اور مسلمان ہو کر پھر کافر ہو جائے۔ مرتد ملی کو توبہ قبول ہو جاتی ہے اور حقیقت میں اس کی سزا کم ہے کیونکہ وہ مسلمان سے پیدا نہیں ہوا لیکن مرتد فطری کے بارے میں اس سے سخت حکم ہے اگرچہ وہ توبہ کرلے اور یہ توبہ بارگاہ الہٰی میں قابل قبول بھی ہو لیکن اگر اس کی یہ کیفیت اسلامی عدالت میں ثابت ہو جائے تو اس کے قتل کا حکم دیا جائے گا اور اس کا مال میراث کے طور پر اس کے مسلمان وارثوں کو مل جائے گا اور اس کی بیوی اس سے الگ ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کی توبہ بھی ایسے احکام کو نہیں ٹال سکتی۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ سختی صرف "مرتد فطری" کے لئے ہے۔ وہ بھی اگر مرد ہو۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس سختی پر تعجب کریں اور اسے روح اسلام کے منافی ناقبل انعطاف سختی قرار دیں لیکن درحقیقت اس حکم کا ایک بنیادی فلسفہ ہے اور وہ ہے اسلامی حکومت کے اندرونی اور داخلی محاذ کی حفاظت اور اسے پراگندگی اور اغیار و منافقین کے اثرات سے بچانا کیونکہ مرتد ہونا دراصل اسلامی سلطنت کی طرز زندگی کے خلاف ایک قسم کا قیام ہے۔ آج کی دنیا کے بہت سے قوانین میں بھی اس کی سزا قتل ہے۔ اگر لوگوں کو اجازت دے دی جائے کہ جب جی چاہے خود کو مسلمان ظاہر کریں اور جب ان کا جی چاہے اس سے استعفیٰ دے دیں تو بہت جلد اسلام کا داخلی محاذ کھوکھلا ہو جائے گا۔ یوں دشمنوں اور ان کے ناپاک عوامل کے لئے نفود کی راہ کھل جائے گی اور سارا اسلامی معاشرہ ہرج مرچ اور فتنہ فساد کا شکار ہو جائے گا۔ اس بناء پر مذکورہ حکم حقیقت میں ایک سیاسی حکم ہے جو اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کی حفاظت کے لئے ضروری ہے اور اغیار کے ہاتھوں اور ان کے عوامل سے بچاؤ کے لئے ناگزیر ہے۔ علاوہ ازیں جو شخص اسلام جیسے دین کو تخلیق کرنے اور قبول کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور کسی دوسرے دین کی طرف چلا جائے تو عموماً اس کا صحیح اور قابل توجیہہ سبب نہیں ہو سکتا لہذا ایسا شخص سخت سزا کا مستحق ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں عورتوں کے لئے نسبتاً نرم حکم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں تمام سزاؤں میں تخفیف موجود ہے۔

90
3:90
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّن تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ
جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہیں اور پھر کفر میں بڑھ گئے ہیں تو ان کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں ہو گی اور وہ (واقعاً) گمراہ ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جیسا کہ سابقہ آیات کی شان نزول میں اشارہ ہوا ہے حارث بن سوید اور اس کے گیارہ ساتھی بوجوہ اسلام سے پلٹ گئے تھے۔ حارث تو پشمان ہوا اور توبہ کر کے پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں واپس آ گیا لیکن دوسرے افراد اس کے ساتھ لوٹ کر نہ آئے اور اس کی دعوت کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مکہ میں رہیں گے اور محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کے خلاف کام کرتے رہیں گے اور ہمیں امید ہے کہ انہیں شکست ہو گی، اگر ہمارا مقصد پورا ہو گیا تو کیا ہی اچھا ہے۔ ورنہ توبہ کا راستہ تو کھلا ہی ہے، جب چاہیں گے توبہ کر لیں گے اور محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کی طرف پلٹ آئیں گے اور وہ بھی ہماری توبہ قبول کر لیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے۔ اس کے مطابق مذکورہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو پیغمبر اسلامؐ کے ظہور سے قبل لوگوں کو آپؐ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور آپ سے ایمان اور وفا داری کا اظہار کرتے تھے لیکن بعثت کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ کافر ہو گئے بلکہ آپؐ کے مقابلے پر آ کھڑے ہوئے۔

بے فائدہ توبہ

”إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهم“ گذشتہ آیات میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی جو واقعاً اپنے انحرافی راستے اور کج روی پر پشمان ہو گئے تھے اور انہوں نے حقیقتاً توبہ کرلی تھی لیکن اس آیت میں ایسے اشخاص کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے مرحلہ پر ایمان لائے، پھر کافر ہو گئے اور اپنے کفر پر ڈٹ گئے اور اس پر مصر ہیں اس لئے کسی وقت بھی احکام حق کی پیروی کے لیے تیار نہیں مگر یہ کہ معاملہ ان کے لئے مشکل ہو جائے اور اطاعت و تسلیم کے علاوہ انہیں کوئی راستہ نظر نہ آئے۔ خدا ایسے افراد کی توبہ قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ اختیاری طور پر راہِ حق پر قدم نہیں رکھتے بلکہ جب وہ اہل حق کا غلبہ دیکھتے ہیں تو ظاہراً پشمان ہو کر توبہ کا اظہار کرتے ہیں اس بناء پر ان کو توبہ ظاہری ہے جو قبول نہیں ہو گی۔ آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ ایسے افراد جب اپنے آپ کو موت چوکھت پر دیکھتے ہیں اور عمر کے آخری ایام میں ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ پشمان ہوں اور واقعاً توبہ کر لیں لیکن پھر بھی ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ جیسا کہ ہم بعد میں بتائیں گے ایسے اوقات میں توبہ کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے یہ مراد ہو کہ کفر کی حالت میں عام گناہوں سے توبہ کرنا ناقابل قبول نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ گہری اور شدید آلودگیوں کے ہوتے ہوئے سطحی آلوگیوں کو دھو ڈالنا موٴثر نہیں ہے۔ یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ آیت کی نظر ان سب پر ہو۔ اگرچہ پہلا احتمال گذشتہ آیات اور شانِ نزول کے حوالے سے زیادہ سازگار ہے۔ ”وَ اُوْلَئِکَ هم الضَّالُّونَ“۔ وہ حقیقی گمراہ ہیں کیونکہ وہ راہ خدا اور ایمان کی طرح توبہ کا راستہ بھی کھو چکے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی آمادگی، اخلاص اور بر موقع قلب و روح کی پاکیزگی کے بغیر توبہ کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔

91
3:91
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡ أَحَدِهِم مِّلۡءُ ٱلۡأَرۡضِ ذَهَبٗا وَلَوِ ٱفۡتَدَىٰ بِهِۦٓۗ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور حالت کفر میں مر گئے ہیں زمین اگر سونے سے پر ہو اور وہ اسے فدیہ کر دیں تو بھی ان سے یہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یاور و مددگار نہیں۔

فصول کفارہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَ مَاتُوا وَ هم کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِلْءُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَ لَوْ افْتَدَی بِہ“ یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں ہے جنہوں نے حالت کفر میں زندگی گزاری ہے اور اسی حالت میں دنیا سے چلے گئے ہیں، قرآن کہتا ہے: جو لوگ راہ حق واضح ہو جانے کے باوجود طغیان اور سرکشی کا راستہ اختیار کئے رہے ہیں اور حقیقتاً سرتسلیم خم نہیں کرتے ان کی بخششیں اور عطیات قابلِ قبول نہیں ہوں گے اور ان کے لئے راہ نجات نہیں ہے اگرچہ وہ تمام زمین کو سونے سے پر کر کے راہ خدا پر خرچ کر دیں۔ واضح ہے کہ اتنا ڈھیر سارا سونا خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی بخشش کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو قلب و روح کی آلودگی اور حق سے دشمنی کے ہوتے ہوئے ان کے لئے موٴثر نہیں ہے ورنہ واضح ہے کہ اگر ساری زمین سونے سے پر ہو جائے تو سونے کی قدر و قیمت مٹی کے برابر ہو جائے گی اس بناء پر مندرجہ بالا جملہ اس معاملے کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے ہے۔ اس بارے میں کہ اس انفاق اور خرچ کرنے سے مراد اس جہان میں انفاق کرنا ہے یا دوسرے جہاں میں تو اکثر مفسرین نے دونوں احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن آیت کا ظہور دوسرے جہاں سے ربط رکھتا ہے یعنی حالت کفر میں مر جانے کے بعد اگر فرض کریں کہ زمین کی بہت بڑی دولت و ثروت ان کے اختیار میں ہو اور وہ خیال کریں کہ اس جہان کی طرح اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو سزا سے بچالیں گے تو یہ ان کا بہت بڑا اشتباہ ہو گا اور یہ مالی جرمانہ اور فدیہ ان کی سزا کی کیفیت پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا۔ ”اُوْلَئِکَ لَهم عَذَابٌ اَلِیمٌ وَمَا لَهم مِنْ نَاصِرِین“ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے اور اس عظیم سزا سے بچانے کے لئے انہیں کوئی حامی و مددگار نہیں مل سکے گا اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت بھی انہیں میسر نہ ہو گی۔

92
3:92
لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ
تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ) میں خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہو گا

ایمان کی ایک نشانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“لفظ ”بَرّ“ عربی زبان میں وسعت کا ہم معنیٰ ہے اسی لئے وسیع صحرا کو ”بَرّ“ (باکی فتح کے ساتھ) کہاتا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے ان نیک کاموں کو بِر(باکی زیر کے ساتھ) کہتے ہیں جن کا ثمرہ و نتیجہ عام اور وسیع ہو اور دوسروں تک پہنچے، ”بِر“ ”خیر“ کے درمیان لغت عرب کے لحاظ سے یہ فرق ہے کہ ”بِر“ وی نیک کام ہوتا ہے جو توجہ اور قصد و اختیار کے ساتھ ہو لیکن ”خیر“ ہر قسم کی نیکی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ خواہ وہ کسی توجہ اور التفات کے بغیر کی گئی ہو۔ مندرجہ بالا آیت میں فرمایا گیا ہے تم لوگ اس وقت ”بر“ اور نیکی کی حقیقت کو نہیں پا سکتے جب تک اس چیز میں سے راہ خدا میں خرچ نہ کرو جس سے تم محبت کرتے ہو۔ اس آیت میں لفظ ”بر“ کے متعلق مفسرین حضرات نے تفصیلی گفتگو کی ہے بعض نے اس کا معنیٰ بہشت بتایا ہے اور بعض کے نزدیک یہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا ہم معنیٰ ہے جب کہ ایک زمرہٴ مفسرین نے اس سے نیک جزاٴ امراد لی ہے۔ لیکن قرآنی آیات سے مفہوم ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بر ایک وسیع معنی میں ہے جس میں تمام نیکیاں خواہ ایمان ہو یا پاک عمل شامل ہیں، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ سے معلوم ہوتا ہے ”لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَھْدِہِمْ إِذَا عَاھَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَاْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَاْسِ اُوْلَئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَاُوْلَئِکَ ھمْ الْمُتَّقُون۔“ یعنی ..... نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق و مغرب کی طرف پھیر لو۔ نیک لوگ تو وہ ہیں جو اللہ، یوم آخرت، ملائکہ، کتاب اور انبیاء پر ایمان لائے اور انہوں نے اس کی محبت میں رشتہ داروں، یتیموں اور فقیروں کو (اپنا) مال دیا اور اسی طرح مسافروں کے لئے سوال کرنے والوں کے لئے اور غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے اپنا مال خرچ کیا، نماز قائم کی اور زکوٰة ادا کی اور جب وہ عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں وہ فقر، بیماری اور جنگ میں صبر کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ راستباز اور پرہیزگار ہیں۔ مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالم، روز جزاء اور انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا، حاجتمندوں کی مدد کرنا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، عہد پورا کرنا اور مشکلات و حوادث کا استقامت اور پامردی سے مقابلہ کرنا یہ سب بِرّ کے شعبے شمار ہوتے ہیں۔ بنا براین حقیقی نیک لوگوں کا مقام حاصل کرنے کے لئے بہت سی شرائط ہیں ان میں سے ایک شرط ان اموال میں سے راہ خدا میں خرچ کرنا جن سے انسان کا ولی لگاوٴ ہو کیونکہ خدا کے ساتھ حقیقی عشق و محبت انسانیت و اخلاق کا احترام اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہو جہاں ایک طرف مال و ثروت یا مقام و منصب ہو جو کہ انسان کو اپنی طرف کھینچے ہیں اور اس کے مقابلے میں دوسروں طرف خدا، حقیقت، انسانی ہمدردی اور نیکو کاری ہو۔ اگر اس نے پہلی جانب سے صرف دوسری جانب کو اختیار کیا تو اس سے اس کے عشق اور لگاوٴ کا علم ہو سکتا ہے۔

آیات قرآنی کا مسلمانوں کے دلوں پر اثر

قرآن کریم کی آیات کا مسلمانوں کے دلوں پر اتنا گہرا اثر ہوتا تھا کہ آیات کے نازل ہوتے ہی ان کے اثرات ظاہر ہو جاتے تھے۔ اسی ضمن میں مذکورہ آیت کے متعلق تواریخ اور اسلامی تفسیروں میں یہ واقعات لکھے گئے ہیں: ۱۔ ایک صحابیٴ رسول ابو طلحہ انصاری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مدینہ منّورہ میں اس کا کھجوروں کا ایک بہت ہی صاف ستھرا اور خوبصورت باغ تھا۔ پورے مدینہ میں اس کا چرچا تھا۔ اس باغ میں صاف و شفاف پانی کا ایک چشمہ تھا۔ جس وقت پیغمبر اکرمؐ اس باغ میں تشریف لاتے تو وہ پانی نوش فرماتے اور اس سے چلو بھرتے۔ ان تمام خصوصیات کے علاوہ ابو طلحہ اس سے بہت زیادہ آمدنی حاصل کرتا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد وہ آنحضرتؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ میرے اموال میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب صرف یہی باغ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے راہ خدا میں خرچ کر دوں تاکہ یہ میرے لئے توشہٴ آخرت بنے یہ سن کر آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’بَخٍ بَخٍ لَکَ مَالٌ رابحٌ لک۔“ آفرین۔ آفرین تجھ پر یہ ایسی ثروت ہے کہ جو تیرے لئے نفع مند ہو گی۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا میرا مشورہ ہے کہ اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابو طلحہ نے آپؐ کے حکم کی تعمیل کی اور اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔ (بحوالہ مجمع البیان، صحیح مسلم و بخاری)۔ ۲۔ ایک دن ابوذر کے ہاں مہمان آیا ابوذر انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ انہوں نے مہمان سے معذرت طلب کی کہ میں اپنی ابتلاء کی وجہ سے خود تیری پذیرائی نہیں کر سکتا۔ میرے چند اونٹ فلاں مقام پر موجود ہیں زحمت کر کے ان میں سے ایک بہترین اونٹ لے آوٴ (تاکہ اسے تمہارے لئے نحر کردوں)۔ وہ ایک کمزور اونٹ لے آیا۔ جناب ابوذر نے اس سے کہا کہ تو نے میرے ساتھ خیانت کی، یہ اونٹ کس لئے لے کر آئے ہو؟ اس نے جواب میں یہ سوچا کہ دوسرے اونٹ کی کبھی آپ کو ضرورت پڑ جائے گی۔ تو ابوذر نے کہا کہ مجھے ان کی اس وقت کے لئے ضرورت ہے جب میری آنکھیں اس جہان فانی سے بند ہوں گی) کیا ہی اچھا ہے کہ اس دن کے لئے سامان کر لوں)۔ خدا فرماتا ہے کہ: ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ ۳۔ ہارون رشید کی زوجہ کے پاس قرآن مجید کا ایک بہترین قیمتی نسخة تھا جوزر و جواہرات سے مزین و مرصّع تھا اور وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی۔ ایک روز قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت ”لن تناالبر ...“ پر پہنچی تو آیت پڑھتے ہیں وہ درطہٴ حیرت میں پڑ گئی اور اپنے دل میں خیال کرنے لگی کہ اس قرآن مجید سے میرے نزدیک کوئی چیز بہتر نہیں ہے لہٰذا اسے راہ خدا میں خرچ کرنا چاہئیے اس نے جواہر فروشوں کو بلوا کر اس کی زیب و زینت کی چیزیں اور جواہرات فروخت کر دئے اور ان کی قیمت سے مجاز کے بیابانوں میں بادیہ نشینوں کے لئے پانی مہیا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آج بھی ان میں سے کچھ کنویں موجود ہیں اور اسی کے نام سے منسوب ہیں۔

93
3:93
۞كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَـٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
تمام (پاک) غذائیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں سوائے ان کے جنہیں اسرائیل (یعقوب) نے تورات کے نزول سے پہلے اپنے لیے حرام قرار دیا تھا (مثال کے طور پر اونٹ کا گوشت جو ان کے لیے ضرر رساں تھا) ان سے کہو اگر تم (اپنے اعتراض میں ) سچے ہو تو لاؤ تورات اور اسے پڑھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔

94
3:94
فَمَنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
ا س کے بعد بھی جو لوگ اپنی گھڑی ہوئی جھوٹی باتیں خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں وہی در حقیقت ظالم ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
3:95
قُلۡ صَدَقَ ٱللَّهُۗ فَٱتَّبِعُواْ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
کہہ دو اللہ نے سچ فرمایا (اور یہ ابراہیم کے پاک دین میں نہیں تھا) لہٰذا تم یکسو ہو کر ابراہیم کے آئین کی پیروی کرو جو حق پسند تھے اور یقیناً ابراہیم شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مفسرین کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں نے پیغمبر اکرمؐ پر خصوصیت کے ساتھ دو اعتراض کئے تھے: ۱۔ پیغمبر اسلامؐ نے اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام کیوں نہیں قرار دیا جبکہ یہ نہ صرف ابراہیم (ع) بلکہ حضرت نوح (ع) کے دین میں بھی حرام تھے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے یہودی بھی اسے حرام سمجھتے تھے۔ ۲۔ رسول اکرمؐ کیونکر گذشتہ انبیاء خصوصاً حضرت ابراہیم (ع) کے وفادار ہو سکتے ہیں حالانکہ تمام پیغمبر بیت المقدس کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس کی طرف نماز پرھتے تھے۔ لیکن ختمی مرتبت نے اس کی بجائے کعبہ کو قبلہ بنا لیا۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کی پہلی بات کا جواب دیا گیا ہے اور آئندہ آیات ان کے دوسرے اعتراض کا جواب دیں گی۔

تفسیر

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی إِسْرَائِیلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَاْتُوا بِالتَّوْرَاةِ“۔ مندرجہ بالا آیت مکمل وضاحت کے ساتھ یہودیوں کے ان خیالات کو رد کرتی ہے جو وہ کھانے کی پاک اور حلال اشیاء (مثلاً اونٹ کا دودھ اور گوشت) کے متعلق رکھتے تھے۔ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ابتداء میں یہ تمام اشیاء بنی اسرائیل کے لئے حلا ل و جائز تھیں سوائے ان اشیاء کے جن کو اسرائیل (یہ حضرت یعقوب (ع) کا دوسرا نام تھا) نے اپنے اوپر حرام قرار دی تھیں۔ اس آیت میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ حضرت یعقوب (ع) نے کونسی غذا کس سبب سے حرام قرار دی تھی لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت یعقوب (ع) اونٹ کا گوشت کھاتے تھے تو آپ پر عرق النساء (تشریحی نوٹ: عرق النساء ایک اعصابی مرض ہے اس کی وجہ سے کمر اور پاوٴں کے اعصاب میں تکلیف ہوتی ہے جس سے بعض اوقات انسان چل پھر نہیں سکتا)۔ کا شدید حملہ ہوتا۔ لہٰذا انہوں نے اس غذا سے ہمیشہ کے لئے اجتناب کرنے کا ارادہ کر لیا اور آپ کی اتباع میں آپ کے پیروکاروں نے بھی اس سے اجتناب کیا اور یہ بات ان کے اذھان میں پختہ ہو گئی لہٰذا انہوں نے اسے حرام سمجھا اور اسے ایک دینی حکم کی طرح کی طرف سے منسوب کیا۔ قرآن کریم کی مذکورہ آیت ان کے اس خیال کر غلط قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ یہ صرف ان کی تہمت ہے۔ اس آیت کے دوسرے حصہ من قبل ان تنزل التوراة سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ تورات سے پہلے کوئی پاکیزہ غذا بنی اسرائیل پر حرام نہ تھی البتہ تورات کے نازل ہونے اور حضرت موسیٰ (ع) کی آمد کے بعد یہودیوں کے ظلم و ستم کے نتیجہ میں کچھ پاک چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔ ”قل فاٴتوا بالتوراة فاتلوھا ان کنتم صادقین“۔ اس جملے میں خداوند عالم نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا ہے کہ وہ یہودیوں کو دعوت دیں کہ وہ اسی موجودہ تورات کو لے آئیں اور اسے کھول کر پڑھیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ان اشیاء کی حرمت کے بارے میں ان کا فتویٰ غلط ہے۔ لیکن وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس لئے کہ انہیں یقین تھا کہ تورات میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں ہے اور یہ صرف ان کی تہمت ہے۔ ”فَمَنْ افْتَرَی عَلَی اللهِ الکَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ فَاُوْلَٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ“۔ جب وہ لوگ تورات کو لانے پر آمادہ نہ ہوئے اور خدا ان کا بہتان باندھنا مسلم ہو گیا تو اس آیت میں انہیں خبردار کیا گیا کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ظالم و ستمگر ہیں۔ ایک طرف وہ اپنے آپ کو خدائی سزا اور عذاب میں گرفتار کر کے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ جھوٹ و مکرو فریب سے اور لوگوں کو بھی سیدھی راہ سے بھٹکا کر دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔

موجودہ تورات میں گوشت کی حرمت

موجودہ تورات سفر ”لادیان“ گیارھویں فصل میں حلال و حرام کے بارے میں اس طرح کا حکم موجود ہے: جگالی کرنے والے اور پھٹے ہوئے سُم والے جانوروں کو نہ کھاوٴ اور اونٹ باوجود یہ کہ وہ جگالی کرتا ہے مگر اس کا سُم پھٹا ہوا نہیں ہے، وہ تمہارے لئے حرام ہے۔ مذکورہ جملوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اونٹ کا گوشت اور باقی پھٹے ہوئے سُم والے جانوروں کو حرام جانتے تھے۔ لیکن دین ابراہیم (ع) اور نوح(ع) میں ان کی حرمت پر کسی قسم کی دلیل نہیں ملتی۔ ممکن ہے یہ چیزیں ان غذاوٴں میں سے ہوں جو یہودیوں پر سزا کے طر پر حرام کی گئی ہوں۔ ”قُلْ صَدَقَ اللهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ“۔ جب تم نے دیکھ لیا کہ میں اپنی دعوت میں سچا اور راست گو ہوں تو تم میرے دین کی پیروی کرو جو کہ ابراہیم کا پاک اور بے آلائش دین ہے۔ کیونکہ وہ ضعیف تھا یعنی باطل ادیان کو چھوڑ کر حق کی طرف مائل تھا اور اس کے احکام میں پاک غذاوٴں کے متعلق ایک حکم بھی انحرافی اور بے دلیل نہیں تھا اور وہ ہرگز مشرکین میں سے نہیں تھا اور یہ جو مشرکین عرب اپنے کو دین ابراہیم (ع) کا پیرو سمجھتے ہیں بالکل لغو اور بےمعنی ہے۔ بت پرست کہاں اور بت شکن کہاں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر اس جملہ کو دہرایا گیا ہے کہ ابراہیم (ع) مشرکین میں سے نہیں تھے۔ کیونکہ پہلے ہی اشارہ کیا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے بت پرست اپنے آپ کو دین ابراہیم (ع) کا پیرو سمجھتے تھے اور وہ اس دعویٰ میں اتنے سخت تھے کہ دوسرے لوگ حنفاء ( ابراہیم کے پیروکار) کے طور پر ان کا تعارف کراتے تھے۔ اس لئے قرآن بار بار اس بات کی نفی کرتا ہے۔

96
3:96
إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ
پہلا گھر جو لوگوں (اور خدا سے تضرع و خضوع) کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ سر زمین مکہ میں ہے جوبابرکت ہے اور دنیا کے لیے ہدایت و رہبری کا سبب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 97 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
3:97
فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ مَّقَامُ إِبۡرَٰهِيمَۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اس میں واضح و آشکار نشانیاں ہیں ان میں سے مقام ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہو وہ امان میں ہے اور جو لوگ اس کی طرف جانے کی قدرت رکھتے ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ خدا کے لئے (اس کے) گھر کی زیارت کریں اور جو کوئی کفر کرے (حج ترک کرے اس نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا) تو پھر خدا تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

لوگوں کے لئے پہلا گھر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”إِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا “۔ جیسا کہ گذشتہ آیات کے ضمن میں کہا جا چکا ہے کہ یہودیوں کو پیغمبر اسلامؐ پر دو اعتراض تھے جن میں سے پہلے کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے۔ دوسرا اعتراض ان کو یہ تھا کہ بیت المقدس کو خانہ کعبہ پر بر تری حاصل ہے۔ اس کا جواب مندرجہ بالا آیات میں دیا جا رہا ہے۔ آیت بتلا رہی ہے کہ اگر کعبہ کو مسلمانوں کے قبلہ کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ چونکہ روئے زمین پر وجود میں آنے والا یہ خدا کا پہلا گھر اور سب سے پہلی عبادت گاہ ہے۔ اس سے قبل دعا اور پروردگارِ عالم کی عبادت کا کوئی مرکز نہیں تھا۔ صرف یہی ایسا گھر ہے جو انسانی معاشرہ کے لئے ایسے نقطہ پر وجود میں لایا گیا ہے جو اجتماعیت کا مرکز ہے اور پربرکت مقام ہے۔ اسلامی تاریخ کے مصادر بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خانہ کعبہ حضرت آدم (ع) کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے۔ جب طوفان نوح (ع) میں اسے نقصان پہنچا تو حضرت ابراہیم (ع) نے اسے ازسر نو تعمیر کیا۔ بنا برایں قبلہ کی حیثیت سے اس پہلے خانہ ٴ توحید کا انتخاب دوسرے ہر مقام سے زیادہ مناسب ہے۔ البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں خانہ کعبہ جس کا دوسرا نام بیت اللہ ہے کا تعارف لوگوں کے گھر کے طور پر کرایا گیا ہے۔ اس تعبیر سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ جو کچھ خدا کے نام پر ہے اور اس کے لئے ہے اسے لوگوں اور اس کے بندوں کی خدمت کے لئے استعمال کرنا چاہتے اور جو کچھ بندگانِ خدا کی خدمت کے لئے وہ خدا کے لئے ہے۔ اس آیت سے ضمنی طور پر خدا کے اصلاحی پروگراموں میں سبقت کرنے کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اسی لئے تو آیت بالا میں خانہ کعبہ کی پہلی فضیلت اس کا سب سے پہلا ہونے کو قرار دیا گیا ہے۔ یہیں سے حجر اسود کے احترام کے بارے میں ہونے والے اعتراض کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے کیونکہ ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس پتھر کے ٹکڑے کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے کہ سارا سال کئی لاکھ انسان ان کا بوسہ لینے اور اسے مس کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کام کو ایک تاکیدی مستحب کے طور پر کیوں خانہ کعبہ کی زیارت کے پروگرام میں شامل کیا گیا؟ لیکن اس پتھر کی مختصر تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس میں ایک ایسی خصوصیت ہے جو پوری دنیا کے کسی پتھر میں پیدا نہیں ہو سکتی اور وہ یہ کہ یہ ایک انتہائی سابق ترین چیز ہے جو عمارتی مصالح کے طو پر مرکز عبادت میں نصب کی گئی ہے۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ صفحہ ٴ ہستی کی تمام عبادت گاہوں تک کہ خانہ کعبہ کی بھی بار ہا نو تعمیر ہوئی ہے اور جو مصالح ان کی تعمیر میں لگائیں گئے ہیں وہ تبدیل ہو گئے صرف یہی پتھر کا ٹکڑا ہے جو ہزار ہا سالوں کے گزرنے کے باوجود ابھی تک اس قدیم ترین عبادت گاہ میں اپنی جگہ قائم ہے۔اس لئے دراصل اس کی اہمیت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ خدا کی راہ میں اور لوگوں کی خدمت میں سب سے قدیم ہے۔ علاوہ ازیں یہ پھر مختلف زبانوں کے مومنین کی بےشمار نسلوں کی ایک خاموش تاریخ ہے۔ یہ پتھر عظیم انبیاء ٴ اور خدا کے خاص بندوں سے وابستگی کی یاد کو زندہ کرتا ہے جنہوں نے اس کے پاس کھڑے ہو کر خدا کی بارگاہ میں دعا اور تضرع و زاری کی ..... اس مقام پر ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ گذشتہ آیت یہ بتلا رہی ہے کہ یہ سب سے پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس سے مقصود عبادت و پرستش کا پہلا گھر ہے۔ لہٰذا اس آیت سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ اس سے پہلے رہاش کے کچھ گھر زمین میں موجود ہوں اور یہ تعبیر ان لوگوں کا واضح جواب ہے جو (تفسیر النساء کے موٴلف کی طرح) یہ کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (ع) کے ہاتھوں سے بنا ہے اور وہ حضرت آدم (ع) کے ہاتھ سے بننے کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلم ہے کہ ابراہیم (ع) سے قبل بھی عبادت گاہ اور پرستش کی جگہ موجود تھی اور ان سے پہلے حضرت نوح(ع) کی طرح دیگر انبیاء اس سے استفادہ کرتے تھے۔ اس بنا پر یہ کیسے ممکن ہے کہ خانہ کعبہ جو کہ دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ ہے حضرت ابراہیم (ع) کے ہاتھوں سب سے پہلے بنا ہو۔

”بکّہ“ سے کیا مراد ہے؟

”بکّہ“ اصل میں ”بک“ (بروزن ”فک“) مادہ سے اژدھام اور اجتماع کے معنیٰ میں ہے اور خانہ کعبہ یا وہ زمین جس میں خانہ کعبہ موجود ہے اسے ”بکہ“ یہاں لوگوں کے اژدھام اور اجتماع کی وجہ سے کہا جاتا ہے یہ بھی بعید نہیں کہ پہلے اس کا یہ نام نہ ہو لیکن جب یہ عبادت کے لئے قائم ہو چکا ہو اسے یہ نام دیا گیا ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں منقول ہے کہ مکہ پورے شہر کا نام ہے اور بکہ اس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں کعبہ بنا ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ بکہ دراصل مکہ ہی ہے اور اس کی ”میم“ یہاں ”باء“ سے بدل گئی ہے جیسے ”لازم“ اور ”لازب“ دونوں عربی زبان میں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ خانہ کعبہ اور اس کی زمین کو بکہ کے ساتھ موسوم کرنے کے سلسلہ میں ایک اور وجہ بیان کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس لفظ کا معنیٰ ہے نخوت و غرور کو دور کرنا۔ چونکہ اس عظیم مرکز میں ہر قسم کے امتیازات یکسر ختم ہو جاتے ہیں اور سرکش و مغرور لوگوں کو بھی یہاں عام لوگوں کی طرح تضرع و زاری کے لئے کھڑا ہونا چاہئیے اس طرح ان تکبر و غرور ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لئے اس مقام کو بکہ کہا جاتا ہے۔

مسجد الحرام کی توسیع

پیغمبر اسلامؐ کے زمانے سے لے کر جس قدر مسلمان بڑھتے گئے تو فطری طور پر خانہ کعبہ کے زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ لہٰذا حکامِ وقت کی طرف سے مسجد الحرام کی بھی توسیع ہو تی رہی۔ تفسیر عیاشی میں منقول ہے کہ عباسی خلیفہ منصور کے زمانے میں حجاج کی کثرت کی بناء پر پروگرام بنایا گیا ہے کہ ایک دفعہ پھر مسجد الحرام کو وسیع کیا جائے۔ خلیفہ نے ان لوگوں کو بلایا جن کے گھر مسجد کے ارد گرد تھے تاکہ ان کے گھر خرید لئے جائیں لیکن وہ کسی قیمت پر بھی انہیں بیچنے کے لئے تیار نہ ہوئے، منصور بڑی مشکل میں گرفتار ہوا کیونکہ ایک طرف وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ طاقت کے زور سے ان کے گھر خراب کرے کیونکہ اس کا اچھا اثر نہ ہوتا اور دوسری طرف وہ لوگ اپنے گھر دینے کے لئے تیار بھی نہ تھے۔ اس سلسلے میں اس نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے استفسار کیا۔ آپ (ع) نے فرمایا کہ اس بارے چنداں فکر کی ضرورت نہیں اس ضمن میں واضح دلیل موجود ہے جس سے تم استدلال کر سکتے ہو۔ اس نے پوچھا وہ کونسی دلیل ہے۔ فرمایا کلام ِ خدا ۔ پوچھنے لگا کلامِ الہٰی میں کہاں سے استدل لایا جا سکتا ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا کہ آیت: ”ان اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکاً “سے استدلال کیا جا سکتا ہے کیونکہ خداوند تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ خانہ کعبہ ہے۔ اس لئے کہ اگر خانہ کعبہ سے پہلے ان کے گھر یہاں موجود ہوتے تو خانہ کعبہ کے اطراف ان کی ملکیت میں ہوتے لیکن خانہ کعبہ ان سے پہلے ہے تو یہ حریم (جہاں تک خانہ کعبہ کے زائرین کی ضرورت ہے) کعبہ سے تعلق رکھتا ہے۔ منصور نے ان لوگوں کو بلواکر ان کے سامنے اسی انداز سے استدلال کیا وہ یہ سن کر لاجواب ہو گئے اور کہنے لگے جس طرح آپ کی مرضی ہو ہم آپ کی موافقت کریں گے۔ اسی تفسیر میں یہ بھی منقول ہے کہ اس قسم کا واقعہ مہدی عباسی کے دور میں پیش آیا۔ اس نے اس دور کے فقہاء سے رجوع کیا۔ ان سب نے کہا کہ اگر گھروں کے مالک اس پر راضی نہ ہوں توغصب شدہ جگہ کو مسجدالحرام میں داخل کرنا مناسب نہیں۔ علی بن یقطین نےاس مسئلہ کو حضرت امام موسیٰ بن جعفر(ع) سے حل کرانے کے لئے اجازت چاہی۔ مہدی نے والی مدینہ کو لکھا کہ وہ اس مشکل کا حل امام موسیٰ کاظم (ع) سے طلب کرے۔ حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا لکھو۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم اگر خانہ کعبہ پہلے بنا ہے اور لوگ بعد میں اس کے اطراف و کنار میں سکونت پذیر ہوئے ہیں تو اس کے اطراف کی فضا کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے اور اگر لوگوں کی سکونت وہاں خانہ کعبہ سے پہلے تھی تو وہ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔“ جب یہ جواب مہدی عباسی کو موصول ہوا تو اس کو اتنی مسرّت ہوئی کہ اس نے وہ پروانہ لے کر اسے بوسہ دیا اور حکم دیا کہ ان کے گھروں کو مسمار کیا جائے۔ گھروں کے مالک برافرختہ ہو کر موسیٰ بن جعفر (ع) کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ مہدی کو خط لکھیں کہ وہ گھروں کی قیمت انہیں واپس کردے۔ حضرت (ع) نے اس کی خواہش پوری کر دی اور مہدی نے بھی انہیں راضی کیا۔ یہ دو روایات ایک باریک استدلال پر مشتمل ہیں جو حقوق کے بارے میں مروجہ قوانین سے بھی مطابقت رکھتا ہے البتہ جب تک یہ احتیاج ضرورت کا پہلو پیدا نہیں کرتی دوسرے لوگ بھی اس کے جوار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن جب ضرورت ہو تو اس کے حق اولویت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

خانہ کعبہ کی خصوصیات

ان دو آیات میں پہلی عبادت گاہ ہونے کے علاوہ خانہ کعبہ کی چار اور خصوصیات بیان ہوئی ہیں: مبارکاً مبارک کا معنی بابرکت اور فائدہ مند ہے۔ کعبہ اس لحاظ سے مبارک ہے کہ وہ مادی اور روحانی دونوں طرح سے بہت ہی برکت والی زمین پر واقع ہے۔ اس مقدس سرزمین کی روحانی برکتیں، خدانی جذبات حرکت و جنبش اور خصوصاً حج کے موقع پر وحدت و اتحاد کی فضا کے آثار کسی سے پوشیدہ نہیں اور اگر صرف حج کی ظاہری رسومات اور شکل و صورت کے پہلو پر اکتفاء نہ کی جائے بلکہ اس کی روح اور فلسفہ زندہ ہو تو اس کی حقیقی برکت مزید واضح اور روشن ہو گی۔ اگرچہ یہ سرزمین مادی لحاظ سے خشک اور بے آب و گیاہ ہے اور طبعی طور پر وہ کسی طرح بھی کوائف زندگی سے مناسبت نہیں رکھتی پھر بھی طویل عرصے سے یہ ایک آباد اور متحرک شہر رہا ہے۔ خصوصاً تجارت کے لئے شروع سے اس کی مرکزیت قائم ہے۔ ھدی للعالمین کعبہ عالمین کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے اور لوگ دور افتادہ علاقوں سے خشکی کے اور دریائی راستوں کے روندتے ہوئے اس عظیم عبادت گاہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور شان و شوکت سے ان مراسم حج میں شریک ہوتے ہیں جو حضرت ابراہیم (ع) کے زمانے سے مروّج ہیں۔ حتی کے زمانہ جاہلیت کے عرب بھی خانہ کعبہ کا احترام کرتے تھے اور مراسم حج کو دین ابراہیم (ع) سمجھ کر بجا لاتے تھے اگرچہ اس میں انہوں نے اپنی کچھ خرافات بھی کر لی تھیں اور اپنے ان ناقص مراسم کے باوجود کافی حد تک اپنے غلط کاموں سے وقتی طور پر ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔ اس طرح سب لوگ حتی بت پرست بھی اس عظیم گھر کی ہدایات سے بہرہ ور ہوتے تھے۔ اس مقدس گھر کی روحانی اور معنوی کشش سب کو مجبوراً متاٴثر کرلیتی ہے۔ فِیہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاہِیمَ اس گھر میں خدا پرستی۔ توحید اور روحانیت و معنویت کی واضح نشانیاں نظر آتی ہیں ان میں ایک اس کا دوام اور بقاء ہے ان طاقتور دشمنوں کے مقابلہ میں جو اس کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ دوسری نشانی حضرت ابراہیم (ع) جیسے عظیم المرتبت پیغمبر کے وہ آثار ہیں جو اس کے قرب و جوار میں باقی رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر زمزم، صفا و مروہ، رکن (تشریحی نوٹ: کعبہ کے چاروں کونوں کو رکن کہتے ہیں)، حطیم (تشریحی نوٹ: حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان کی جگہ کو حطیم کہتے ہیں، حطیم اس لئے کہتے ہیں کہ یہاں اژدہام بہت ہوتا ہے اور یہ حضرت آدم (ع) کی توبہ کی جگہ بھی ہے)، حجر اسود اور حجر اسماعیل (تشریحی نوٹ: حجر اسماعیل ایک محصوص جگہ ہے جو شمال مغرب میں قوس کی شکل میں ہے)۔، ان میں سے ہر ایک گذشتہ زمانوں کی ایک مجسم تاریخ ہے جو ان کی عظیم اور دائمی یادوں کو زندہ رکھتی ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک مقام ابراہیم (ع) کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ایسی جگہ جہاں حضرت ابراہیم (ع) کی تعمیر کعبہ اور مراسم حج کی انجام دہی یا عام لوگوں کو ان عظیم مراسم کے پورا ہونے کی دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔ بہرحال یہ ان اہم ترین قدیم نشانیوں میں سے ہے جو بےنظیر قربانیوں کی یادوں اور ان کے اخلاص و جامعیت کو زندہ کرتی ہیں۔ مقام ابراہیم سے مراد خاص وہی جگہ ہے جہاں اس وقت وہ مخصوص پتھر ہے جس میں حضرت ابراہیم (ع) کے قدم کا نقشِ مبارک ہے یا اس سے تمام حرم مکہ مراد ہے اور یا تمام مواقف حج ہیں۔ اس سلسلہ میں مفسرین حضرات کے نظرات مختلف ہیں۔ لیکن اصول کافی میں امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت منقول ہے جو پہلے احتمال کی تائید کرتی ہے۔ ومن دخلہ کان امنا۔ حضرت ابراہیم (ع) نے تعمیر کعبہ کے بعد شہر مکہ کے لئے جائے امن ہونے کی خداوند عالم سے درخواست کی تھی اور یہ دعا مانگی تھی: خدایا! اس زمین کو جائے امن و امان قرار دے (ابراہیمْ ۳۵) خداوند عالم نے حضرت ابراہیم (ع) کی دعا کو مستجاب کیا اور اسے ایک مرکزِ امن قرار دیا۔ یہ جگہ روح کے آرام و اطمنان اور ان لوگوں کے امن و امان کا سبب ہے جو وہاں آتے ہیں اور اس سے روحانی تقویت حاصل کرتے ہیں اور مذہبی قوانین کے لحاظ سے اس کی امنیت اس طرح محّرم شمار ہوتی ہے کہ وہاں ہر قسم کی جنگ و جدال اور مقابلہ و مبارزہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ بالخصوص اسلامی نقطہٴ نظر سے کعبہ ایک جائے امن اور پناہ گاہ کے حوالہ سے پہچانا جاتا ہے یہاں تک حکم ہے کہ اس خطہٴ ارض میں رہنے والے جانور بھی امن امان میں ہونے چاہئیں اور کسی کو ان سے سروکار نہیں ہونا چاہئیے اور جو انسان اس میں جا کر پناہ گاہ حاصل کریں وہ بھی امن و امان میں ہیں۔ حتی کہ قاتل اور جارح ہی کیوں نہ ہوں ان سے بھی یہاں تعرض نہیں کیا جا سکتا، مگر خانہ کعبہ کے احترام سے غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے اور مظلوم لوگوں کے حقوق پامال نہ ہوں۔ اگر مجرم افراد وہاں جا کر پناہ لیں تو حکم یہ دیا گیا ہے کہ ان پر کھانے پینے میں سختی کی جائے تاکہ وہ مجبور ہو کر وہاں سے باہر نکلیں ااور انہیں حدود حرم سے باہر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا اس جملے میں تمام لوگوں کو حج کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اور اسے لوگوں کے ذمہ خدائی قرض قرار دیا گیا ہے، چنانچہ وَلِلَّہِ عَلَی النَّاس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لئے لوگوں کے ذمہ ہے۔ لفظ ”حج“ کے لغوی معنی ”قصد و ارادہ“ ہیں اسی مناسبت سے کو ”محجة“ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ انسان کو اپنے مقصد تک پہنچا دیتا ہے اور دلیل و برہان کو حجت اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ مقصود کو روشن کر دیتی ہے۔ باقی یہ بات کہ ان مخصوص رسومات کو حج سے کیوں تعبیر کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں مراسم میں شرکت کے لئے چلتے وقت خانہ خدا کی زیارت کا قصد کیا جاتاس ہے۔ اسی بناء پر آیتِ مذکورہ میں حج کی اضافت بیت کی طرف ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی اس بات کی طرف اشاہ کیا گیا ہے کہ حج کے مراسم پہلی دفعہ حضرت ابراہیم (ع) کے دور میں رائج ہوئے اور اس کے بعد ایک سنت کی شکل اختیار کی۔ یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔ بعد ازاں اسلام نے اس سے جاہلیت کے خرافات کو دور کر کے اسے خالص اور مکمل حج کی شکل دی۔ (تشریحی نوٹ: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حج پہلی دفعہ دس ہجری میں فرض ہوا ۔ اسی سال پیغمبر اکرم (ص) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ تمام جگہ کے لوگوں کو اطلاع دیں اور انہیں خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے آمادہ کریں۔ مراسمِ عمرہ اس سے پہلے بھی پیغمبر اکرمؐ اور کچھ مسلمان ادا کر چکے تھے)۔ البتہ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ اور دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے ہے کہ فریضہٴ حج حضرت آدم (ع) کے زمانے سے شروع ہوا تھا لیکن اس نے حضرت ابراہیم (ع) کے زمانے میں مزید دستوری شکل اختیار کی ہے۔ ہر وہ شخص جو استطاعت حاصل کر لیتا ہے اس پر زندگی بھر میں صرف ایک مرتبہ حج واجب ہوتا ہے اور مندرجہ بالا آیت بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اس میں حکم مطلق ہے اور اس سے ایک دفعہ کی انجام دہی سے اطاعت ہو جاتی ہے۔ حج کے وجوب کے لئے صرف ایک شرط لگائی گئی ہے اور وہ ہے استطاعت و قدرت۔ جیسا کہ اشارہ ہو رہا ہے: من استطاع الیہ سبیلاًجو خانہ کعبہ کی طرف جانے کی قدرت رکھتا ہو۔ البتہ اسلامی روایات اور فقہی کتب میں استطاعت کی تفسیر میں یہ چیزیں شامل کی گئی ہیں زاد راہ، سواری، جسمانی توانائی راستے میں امن اور حج سے واپسی کے بعد گزر اوقات کی طاقت، لیکن دراصل یہ سب چیزیں اس آیت میں مندرج ہیں کیونکہ اصل میں استطاعت کے معنی ہیں توانائی اور قدرت اور اس میں یہ تمام امور شامل ہیں۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ قانون دیگر اسلامی قوانین کی طرح صرف مسلمانوں کے لئے مختص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اسے انجام دیں اور مشہور اصول ”الکفار مکلفون بالفروع کما انھم مکفون بالاصول (کفار فروعات کے بھی اسی طرح مکلف ہیں جس طرح اصول کے) کی تائید مذکورہ آیت اور دیگر دلیلوں سے بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ ان اعمال و عبادات کی صحت کی شرط یہ ہے کہ پہلے وہ اسلام قبول کریں اور اس کے بعد انہیں انجام دیں لیکن یہ مخفی نہ رہے کہ اسلام قبول نہ کرنا ان ذمہ داریوں کی جوابدہی کو نہیں روکتا۔ ان عظیم مراسم کی اہمیت، فلسفہ حج اور اس کے انفرادی و اجتماعی آثار پر سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۴ سے لے ۲۰۳ تک تفصلی گفتگو ہو چکی ہے۔ (تشریحی نوٹ: متعلقہ آیات کے ضمن میں تفسیر نمونہ کی دوسری اور پہلی جلد کا مطالعہ فرمائیں)۔

حج کی اہمیت

و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین آیت کے آخری حصہ میں حج کی تاکید و اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد ہو رہا ہے کہ جو لوگ کفر اختیار کر کے اس خدائی حکم کی پرواہ نہ کریں اور اس کی مخالفت کریں تو وہ خود اپنے تئیں نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ خدا تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ لفظ کفر کے اصلی معنیٰ چھپانے کے ہیں اور دینی اصطلاح میں اس کا ایک وسیع معنیٰ ہے کیونکہ حق سے ہر طرح کی مخالفت اس میں شامل ہے چاہے مرحلہٴ اصول میں ہوں یا فروعی احکام میں۔ اب اگرچہ اس کا استعمال اصول کی مخالفت میں ہونے لگا ہے مگر یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ اسی میں منحصر ہے چنانچہ آیت مذکورہ میں ترک حج کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی بنا پر حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں اس آیت میں کفر کا مفہوم ترکِ حج بیان فرمایا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایمان کی طرح کفر کے بھی کئی مدارج و مراحل ہوتے ہیں جن میں ہر ایک مخصوص احکام کا حامل ہے۔ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونے سے کفر و ایمان سے مربوط آیات و روایات کے بہت سے اشتباہات دور ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر سود کھانے والوں کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۵ میں اور جادوگروں کے متعلق سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں کفر کالفظ آیا ہے تو اس سے بھی یہی مقصود ہے۔ بہرصورت اس آیت سے دو مطلب نکل سکتے ہیں: پہلا یہ کہ حج زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کے ترک کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مرحوم صدوقؒ نے کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں رسالمآبؐ سے روایات بیان کی ہے کہ آپؑ سے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: یاعلی تارک الحج و ھو مستطیع کافر یقول اللہ تبارک و تعالیٰ و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین یا علی! من سوف الحج حتی یموت بعثہ اللہ یوم القیامة یہودیا او نصرانیا۔ اے علی (ع) جو شخص حج کو ترک کرے باوجودیکہ وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ کافر شمار ہو گا۔ کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ استطاعت رکھنے والے لوگوں پر خدا کے گھر کی طرف حج بجا لانے کے لئے جانا لازمی اور ضروری ہے اور جو کفر اختیار کرے (یعنی اسے چھوڑ دے) تو اس نے اپنا نقصان کیا ہے اور خدا سے بے نیاز ہے۔ اے علی(ع) ! جو حج میں تاخیر کرے یہاں تک کہ دنیا سے چل بسے تو خدا اسے قیامت کے دن یہودی یا نصرانی محشور کرے گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس اہم فریضہ کی انجام دہی تمام دینی پروگراموں کی طرح لوگوں کی تربیت اور نفع کے لئے ہے اور خدا جو تمام سے بے نیاز ہے یہ اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔

98
3:98
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعۡمَلُونَ
(اے پیغمبر ! ان سے) کہو اے اہل کتاب !تم کیوں (دیدہ و دانستہ) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کا شاہد حال ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔

99
3:99
قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ تَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَأَنتُمۡ شُهَدَآءُۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
کہو: اے اہل کتاب! یہ کیا ہے کہ جو کوئی اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے تم اسے اللہ کی راہ سے روکتے ہو اور اسے ٹیڑھی چال چلانا چاہتے ہو حالانکہ تم حقیقت حال سے بے خبر نہیں ہو یاد رکھو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
3:100
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَرُدُّوكُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ كَٰفِرِينَ
اے ایماندارو ! اگر تم اہل کتاب! میں کسی گروہ (کہ جن کا کام نفاق اور تمہارے درمیان کینہ و عداوت کی آگ بھڑکانا ہے) کی باتوں پر کار بند ہو گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ تمہیں ایمان سے کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
3:101
وَكَيۡفَ تَكۡفُرُونَ وَأَنتُمۡ تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمۡ رَسُولُهُۥۗ وَمَن يَعۡتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدۡ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم (اب پھر) کفر کی راہ اختیار کرو جب کہ تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں اور اس کا رسول (تعلیم و رہنمائی)کے لئے تم میں موجود ہے (لہٰذا خدا سے تمسک رکھو)اور یاد رکھو کہ جو کوئی مضبوطی سے اللہ کا ہو رہا تو بلا شبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی ۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات کے شان نزول کے سلسلے میں جو کچھ شیعہ اور سنی تصنیفات میں نقل ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ شامی بن قیس ایک یہودی تھا۔ وہ ضعیف العمر، تاریک دل اور کفر و عناد میں کم نظیر تھا ایک دن وہ مسلمانوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ اوس و خزرج جو سالہا سال ایک دوسرے کے خالف نبرد آزما رہے ان کے بعض افراد انتہائی صلح و آشتی اور محبت و خلوص سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ مجلس کی فضا انس و محبت سے معطر ہے اور شدید اختلافات کی جو آگ زمانہ جاہلیت میں ان میں شعلہ زن تھی وہ یکسر بجھ چکی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر وہ حسد کے مارے جل اٹھا اور اپنے دل میں کہنے لگا کہ اگر یہ لوگ حضرت محمدﷺ کی پیروی کر کے اتنے آگے بڑھتے رہے تو یہودیت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ اسی دوران اس کے ذہن میں ایک سازش آئی اور اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ وہ ان کے ایک گروہ سے میل جول رکھے اور اوس و خزرج کے درمیان خونیں واقعات کی یاد تازہ کرے اور ان کی نظروں کے سامنے ان واقعات کی تصور کشی کرے۔ اتفاقیہ یہودی نوجوان کی یہ سازش کارگر ثابت ہوئی اور مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے سننے سے وہی باتیں کرنے لگا یہاں تک کہ اوس وخزرج کے بعض لوگ ازسرنو ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے لگے۔ قریب تھا کہ کہ بجھی ہوئی دیرینہ آگ پھر سے شعلہ زن ہو۔ پیغمبر اکرمؐ کو اس واقعہ کا علم ہوا۔ آپؐ فوراً چند مہاجرین لے کر ان کی تلاش میں نکلے اور دل ہلا دینے والے مواعظہ ونصائح سے انہیں بیدار کیا ان لوگوں نے جب آپؐ کی اطمینان بخش گفتگو سنی تو اپنے ارادوں سے باز آ گئے اور سامان حرب و ضرب زمین پر ڈال کر باہم بغل گیر ہو گئے اور بہت روئے اب وہ سمجھ گئے کہ یہ دشمنان اسلام کی ایک سازش تھی۔ اور صلح و آتشی نے دوبارہ زندہ ہونے والے کینوں کو ختم کر ڈالا۔ اس موقع پر اوپر کی چار آیتیں نازل ہوئیں۔ جن میں سے پہلی دو آیات میں گمراہ کرنے والے یہودیوں کی مذمت کی گئی اور بعد کی وہ آیات میں مسلمانوں کو بیدار کیا گیا۔

نفافق ڈالنے والے

قل یاھل الکتاب لم تکفرون بایات اللہ واللہ شہید علی ما تعلمون۔ اس آیت میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے جن سے مراد یہاں یہودی ہیں۔ اس ضمن میں خدا اپنے حبیب کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کچھ ملامت اور سرزنش کے لب ولہجہ میں پوچھئے کہ اللہ کی آیات سے ان کے کفر کا سبب کیا ہے؟ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ خدا ان کے اعمال سے واقف ہے۔ آیات سے مراد یا تو وہ آیات ہیں جو تورات میں پیغمبر اسلامؐ کی نشانیوں کے بارے وارد ہوئی تھیں یا سب آیات و معجزات ہیں جو پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئے تھے اور جو آپؐ کی حقانیت کی ترجمانی کرتے تھے۔ قل یا اھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ من امن تبغونھا عوجا وانتن شہداء۔ اس کے بعد خداوند عالم ان کی سرزنش کرتا ہے کہ اگر تم خود حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو تو دوسروں کو راہِ حق سے منحرف کرنے پر اصرار کیوں کرتے ہو اور خدائی راہِ مستقیم کو غلط طریقے سے پیش کیوں کرتے ہو حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ تم سب سے پہلے خدا کی آواز پر لبیک کہتے کیونکہ اس پیغمبرؐ کے متعلق تمہاری کتابوں میں پہلے سے نوید دی گئی تھی لیکن تم اس سنگین ذمہ داری سے پہلوتہی کر کے دوسروں کو منحرف کرتے ہو۔۔۔۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ وماللہ بغافل عما تعلمون۔ آیت کے آخر میں انہیں دھمکی دی گئی ہے کہ خدا ہرگز تمہاری کارستانیوں سے غافل نہیں ہے۔ شاید خدا کے غافل نہ ہونے کی تعبیر پر ہے اس بناء پر ہو کہ یہودی اپنے غلط مقاصد کی برابری کے لئے زیادہ تر مخفی اور پوشیدہ سازشوں کا سہارا لیتے تھے جو غافل اور جاہل افراد میؐں زُود اثر ثابت ہوئی تھیں۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ اگر بعض لوگ غفلت اور بے خبری کی وجہ سے ان قبیح سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو خدا جو ان کے پوشیدہ اور نہاں اسرار سے آگاہ ہے ان سے بے خبر نہیں اور اس کی سزا تمہارے انتظار میں ہے۔ یَااَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تُطِیعُوا فَرِیقًا مِنْ الَّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ کَافِرِینَ ۔ اس کے بعد روئے سخن غافل مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے ان کو متتبہ کیا گیا کہ اگر وہ دشمن کی زہر آلود باتوں میں آگئے، انہیں اپنے درمیان رخنہ اندازی کرنے کی اجازت دی اور ان کے وسوسوں سے متاثر ہوئے تو بعید نہیں کہ ان سے ایمان کا رشتہ ختم ہو جائے اور وہ کفر کی طرف پلٹ جائیں۔ کیونکہ دشمن اول تو یہ کوشش کرتا ہے کہ ان کے درمیان دشمنی و عدالت کی آگ بھڑکائے اور انہیں ایک دوسرے سے لڑوا دے۔ لیکن یہ مسلم ہے کہ وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے وسوسوں کو جاری و ساری رکھتا ہے تاکہ انہیں اسلام سے مکمل طور پر بیگانہ کردے۔ گذشتہ بیان سے عیاں ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں کفر کی طرف پلٹ جانے سے مراد ”حقیقی کفر اور اسلام سے مطلق بیگانگی“ ہے اور ممکن ہے کہ کفر سے مراد زمانہ جاہلیت کی دشمنیاں اور عداوتیں ہوں جو کفر کا حصہ ہیں۔ کیونکہ ایمان محبت اور اخوت کا سرچشمہ ہے اور کفر پر گندگی اور عداوت کا منبع ہے۔ و کیف تفکرون و انتم تتلیٰ علیکم اٰیات اللہ و فیکم رسولہ۔ اس کے بعد مومنین سے ایک تعجب خیز سوال ہوتا ہے کہ کس طرح ممکن ہے کہ تم کفر کی راہ اختیار کرو حالانکہ پیغمبر بھی تمہارے درمیان موجود ہیں اور آیات خدا کی بھی مسلسل تلاوت ہوتی ہے اور بارانِ وحی کے حیات بخش قطرات تمہارے دلوں پر پڑتے ہیں۔ حقیقت میں یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ گمراہ ہوں تو زیادہ تعجب نہیں۔ باعث تعجب تو یہ ہے کہ جو افراد پیغمبر کی صحبت میں بیٹھتے ہیں اور ہمیشہ عالم وحی سے ان کا تعلق رہتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ گمراہ ہو جائیں اور اگر ایسے لوگ گمراہ ہوں تو یہ خود ہی کوتاہی کرنے والے ہیں اور اس کا عذاب بہت درد ناک ہو گا۔ ان آیات کے آخر میں مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے وسوسوں سے چھٹکارہ حاصل کریں اور صراطِ مستقیم کی ہدایت کے لئے پروردگار عالم کا دامن تھام لیں اور اس کی پاک ذات اور قرآن مجید کی مقدس آیات سے تمسک رکھیں اور انہیں صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ جو شخص خدا سے تمسک رکھے اسے راہ راست کی ہدایت حاصل ہو جائے گی۔ یہ آیات کئی لطیف نکات سے معمور ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ پہلی آیات جہاں روئے سخن یہودیوں کی طرف ہے میں بالواسطہ خطاب کیا گیا ہے کیونکہ پیغمبرؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان سے کہیں، جس پر لفظ”قل “ (کہہ دو) دلالت کرتا ہے لیکن آخری دو آیات جہاں خطاب مومنین سے ہے، میں خطاب بلاواسطہ ہے اسی وجہ سے اس کی ابتداء لفظ قل سے نہیں کی گئی اور اس سے صاحبِ ایمان لوگوں پر خدا کا لطف و کرم ظاہر ہوتا ہے۔

102
3:102
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ
اے ایماندارو ! اللہ سے ڈرو اس طرح جو ڈرنے کا حق ہے اور دیکھو ! دنیا سے نہ جاؤ مگر اس حالت میں کہ اسلام پر ثابت قدم ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 103 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
3:103
وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَآءٗ فَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦٓ إِخۡوَٰنٗا وَكُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
اور دیکھو ! سب مل جل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور جدا جدا نہ ہو جاؤ۔ اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا فرمائی ہے اس کی یاد سے غافل نہ ہو جانا۔ تمہارا حال یہ تھا کہ آپس میں تم ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن اس کے فضل و کرم سے ایسا ہوا کہ بھائی بھائی بن گئے اور تم بھڑکتی آگ کے کنارے تھے پس اس نے وہاں تمہیں بچا لیا۔ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ معلوم ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ میں دو بڑے قبیلے"اوس" اور "خزرج" موجود تھے جن کے مابین سالہا سال سے جنگ وجدال اور خون ریزی کا سلسلہ جاری تھا۔ گاہے گاہے ایک دوسرے سے الجھ پڑتے اور ایک دوسرے کو جانی و مالی نقصان پہنچاتے تھے۔ پیغمبر اکرمؐ کی برکات میں سے ایک یہ تھی کہ آپؐ نے ہجرت مدینہ کے بعد اسلام کے ذریعہ ان کے درمیان صلح و صفائی اور اخوت و محبت کا رشتہ قائم کیا۔ یوں مدینہ میں مسلمانوں کا ایک طاقتور گروہ ابھرنے لگا لیکن چونکہ اختلافات کی جڑیں بہت زیادہ گہری اور مضبوط تھیں اور اتحاد کا رشتہ نیا نیا قائم ہوا تھا۔ لہذا کبھی کبھی چند ایک اسباب کے نتیجے میں بھولے ہوئے اختلافات پھر بھڑک اٹھتے تھے۔ گذشتہ آیات میں ایک ماہر دشمن کی تحریک سے اختلافات کا ایک واقعہ پیش کیا جا چکا ہے لیکن ان آیات میں ایک اور کی طرف اشارہ کیا گیا۔ یہ نادان دوستوں اور جاہلانہ تعصبات سے پیدا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ اوس اور خزرج کے دو آدمی جن کا نام "ثعلبہ بن غنم" اور "اسعد بن زرارہ" تھا۔ کسی مقام پر آمنے سامنے ہوئے اور ان میں ہر ایک قبول اسلام کے بعد ملنے والے سرمایہ افتخار کو شمار کرنے لگا۔ ثعلبہ نے کہا (خزیمہ بن ثابت اور حنظلہ (غسیل الملائکہ) جو مسلمانوں کے لئے باعث افتخار ہیں، ہم میں سے ہیں اور اسی طرح عاصم بن ثابت اور سعد بن معاذ بھی ہماری نسل سے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسعد بن زرارہ جو قبیلہ خزرج سے تھا، کہنے لگا قرآن کریم کی نشر وا شاعت اور تعلیم قرآن کا شرف ہمارے ہی قبیلے کے چار افراد کو حاصل ہے، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابو زید اور اہل مدینہ کے رئیس وخطیب سعد بن عبادہ بھی ہم میں سے ہیں۔ رفتہ رفتہ معاملہ نازک صورت اختیار کرتا گیا اور دونوں قبیلے اس واقعہ سے آگاہ ہوئے اور اسلحہ سے لیس ہو کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ اب دوبارہ جنگ کی آگ بھڑکنے اور ان کے خون سے زمین رنگین ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ پیغمبرؐ کو اس کی اطلاح ہوئی تو حضرتؐ فوراً وہاں تشریف لائے اور آپؐ نے اپنے بیان اور حسن تدبیر سے اس خطرناک صورت حال کو ختم کیا اور ان کے درمیان صلح و صفائی ہو گئی۔ اسی موقع پر مذکورہ آیات کا نزول ہوا اور ایک حکم عمومی کے طور پر ان کو ایک موثر اور تاکیدی بیان کے ذریعے اتحاد و اتفاق کی دعوت دی۔

تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت

یٰٓاایّھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ اس آیت میں پہلے تقویٰ کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اتحاد کی دعوت کے لئے تمہید بنے۔ درحقیقت تقویٰ کی دعوت کسی اخلاقی اور عقیدے کی مدد لئے بغیر بے اثر یا کم اثر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اس آیت میں کوشش کی گئی ہے کہ اختلاف اور پراکندگی کے عوامل ایمان اور تقویٰ کے ذریعے کمزور کیئے جائیں اور اس لئے ایماندار افراد کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ سب کے سب خدا سے ڈرو اور تقویٰ اور پرہیز گاری کا حق ادا کرو.....— ”حق تقویٰ“ سے کیا مراد ہے؟ اس ضمن میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ حق تقویٰ پرہیزگاری کا آخری درجہ ہے جس میں ہر قسم کے گناہ و ھیان اور حق سے انحراف کرنے سے پرہیز کرنا شامل ہے۔ اسی لئے تفسیر ”در منثور“ میں پیغمبر اکرمؐ اور”تفسیر عیاشی“ اور ’معانی الاخبار“ میں امام جعفر صادق (ع) سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (ع) نے حقِّ تقویٰ کی تفسیر میں فرمایا: (ان یطاع فلا یعصی و یذکر فلا ینسی و یشکر فلا یکفر) یعنی حق تقویٰ یہ ہے کہ ہمیشہ اس کے فرامین کی اطاعت کی جائے اور کبھی اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور ہمیشہ اسے یاد رکھو اور کبھی بھی اسے فراموش نہ کرو اور اس کی نعمتوں پر شکرگزار رہو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ........ ظاہر اور واضح ہے کہ یہ حکم باقی احکام الہٰی کی طرح انسان کی ہمت و طاقت سے وابستہ ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت اور سورہ تغابن کی آیت ۱۶ فاتّقوا اللہ مااستطعتم (جتنا ہو سکے پرہیزگاری اختیار کرو) ان دونوں آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے ان دو آیات کے تضاد کے بارے میں اور یہ ان میں سے ایک دوسری کی ناسخ ہے، گفتگو بےبنیاد ہے، البتہ دوسری آیت حقیقت میں اصطلاحی لحاظ سے پہلی آیت کی تخصیص ہے اور اسے انسان کی توانائی کی مقدار سے مقید کرتی ہے۔ چونکہ ظاہراً قدماء کے ہاں لفظ نسخ تخصیص پر بھی بولا جاتا تھا۔ لہٰذا ممکن ہے ان لوگوں کی نسخ سے مراد تخصیص ہی ہو۔ ولا تمو تن الا و انتم مسلمون۔ حقیقت میں یہ جملہ اوس و خزرج اور تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ہوشمندی سے رہیں۔ صرف اسلام قبول کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس سے اہم بات یہ ہے کہ ایمان و اسلام کی زندگی کے آخری لمحات تک محفوظ رکھیں اور زمانہ جاہلیت کے کینہ کی بجھی ہوئی آگ اور بیہودہ غیر معقول تعصبات کی پیروی میں اپنے ایمان اور پاک اعمال کو بربادی کی بھینٹ نہ چڑھا دیں تاکہ آخرت میں انجام بدبختی سے ہمکنار نہ ہو لہٰذا اس بات کی تاکید کی گئی کہ خیال رکھنا کہ دنیا سے ایمان و اسلام کے بغیر نہ جانا۔

اتحاد کی دعوت

و اعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا۔ اس آیت میں مسئلہ اتحاد اور ہر قسم کے اختلاف اور تفرقہ بازی سے اجتناب کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے سبھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جاوٴ۔ حبل اللہ (اللہ کی رسی) سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے اس کے متعلق کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے، بعض کے نزدیک اس سے مراد قرآن ہے اور بعض اس سے مراد اسلام لیتے ہیں۔ کچھ حضرات کے نزدیک خاندان رسالت اور ائمہ معصومین (ع) مراد ہیں۔ جو روایات پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ اہل بیت (ع) سے نقل ہوئی ہیں ان میں بھی کئی تعبیرات نظر آتی ہیں جیسا کہ تفسیر درمنثور میں پیغمبر اکرمؐ اور معانی الاخبار میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ حبل اللہ قرآن کریم ہے اور تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ اللہ کی رسّی سے مراد آل محمد (ع) ہیں اور لوگوں کو ان سے تمسک کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔ لیکن ان احادیث اور تفاسیر میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ اللہ کی رسی سے مراد ہر قسم کا ذریعہ ہے جو ذات پاک کے ساتھ ربط رکھتا ہے۔ چاہے وہ وسیلہ اسلام ہو یا قرآن یا پیغمبر اور ان کے اہل بیت (ع)۔ باالفاظِ دیگر تمام وہ چیزیں جو ذکر ہو چکی ہیں ارتباطِ خدا کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں۔

”حبل اللہ“ کی تعبیر کا مقصد

توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ ان مامور کو حبل اللہ سے تعبیر کرنے سے ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ انسان عام حالات میں جب کہ کوئی مرّبی اور رہنما نہ ہو، طبیعت کے درّے، سرکش سرشت کی گہرائیوں اور جہل و نادانی کے تاریک کنویں میں پڑا رہتا ہے۔ اس پستی سے نجات حاصل کرنے اور تاریک کنویں سے باہر نکلنے کے لئے ایک مضبوط رسّی کی ضرورت ہے جسے وہ پکڑ سکے اور اس سے باہر آ سکے۔ یہ مضبوط رسی وہ خدائی رابطہ ہے جو قرآن اس کے لانے والے اور ان کے حقیقی جانشینوں تک پہنچتا ہے اوریہ لوگوں کو مادیت کی پستی سے نکال کر معنویت اور روحانیت کے عروج تک پہنچا دیتا ہے۔

کل کے دشمن اور آج کے دوست

اس کے بعد قرآن کریم اتحاد اور اخوت کے عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مسلمانوں کو گذشتہ افسوس ناک حالت پر غور و فکر کرنے اور اس پراکندگی کا اس اتحاد اور وحدت کے ساتھ تقابل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: تمہیں نہیں بھولنا چاہئیے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن خداوند عالم نے اسلام و ایمان کی بر کت سے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے انس پیدا کیا اور تم آج بھائی بھائی بن گئے۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ اس آیت میں لفظ نعمت کو مکرر لایا گیا ہے اور اس طرح سے اتفاق و اخوت کی نعمت کی اہمیت ان کے گوش گذار کی گئی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خدا نے مونین کی تالیفِ قلوب کو اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے تمہارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کردی۔ اس تعبیر سے اسلام کے ایک اجتماعی معجزہ کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اگر عربوں کی سابقہ عداوت پر غور کیا جائے کہ کس طرح سالہا سال سے ان کے دلوں میں گہرے کینے بھرے ہوئے تھے اور کس طرح ایک معمولی سے مسئلے پر ان کے درمیان خونیں جنگ کی آگ بھڑک اٹھی تھی، خصوصاً اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ عموماً نادان، ان پڑھ اور نیم وحشی افراد ہٹ دھرم ہوتے ہیں اور آسانی سے گذشتہ چھوٹے چھوٹے مسئلے کو نسیاں پر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اس صورت میں عظیم اسلام کے اجتماعی معجزہ کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عام اور روز مرّہ کے طور طریقوں سے یہ ممکن نہیں تھا کہ اس قسم کی کینہ پرور نادان قوموں کی ایک ملت بنائی جائے اور انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا جائے۔ مندرجہ بالا امر (کینہ پر عرب قبائل کے درمیان وحدت اور بھائی چارہ) کی اہمیت علماء مورخین حتی کہ غیر مسلم موخین کی نظر سے مخفی نہیں رہی اور سب نے بڑے تعجب خیز انداز سے اس کا ذکر کیا ہے۔ جان ڈیون پورٹ، مشہور انگریز عالم رقمطراز ہے: ” ..... محمد جیسے ایک عالم عرب نے اپنے ایک چھوٹے منتشر کردہ، برہنہ اور افلاس زدہ ملک کو ایک متحرک اور منظم معاشرے میں تبدیل کر دیا اور روئے زمین کی اقوام کے درمیان انہیں نئے صفات اور تازہ اخلاق کے ساتھ متعارف کرایا اور تیس سال سے کم عرصے میں اس طرز و روش نے حاکم قسطنطنیہ کو مغلوب کر دیا اور سلاطین ایران کو نیست و نابود کر دیا، شام، بین النہرین اور مصر کو مسخر کیا اور ان کی فتوحات اور اوقیانوسں اطلس سے لے کر دریائے خرز اور سیحون تک جا پہنچیں۔ (بحوالہ” عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“ از جان ڈیون پورٹ، فارسی ترجمہ از سید غلام رضا سعیدی، صفحہ ۷۷)۔ تومال کارل لکھتا ہے: ”خداوند عالم نے اسلام کے ذریعے عربوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف ہدایت کی۔ ایک بےحرکت اور منجمد قوم کہ جس کی نہ کوئی آواز تھی اور نہ حرکت محسوس ہوتی تھی سے ایک ملت پیدا کی جسے گمنامی سے شہرت، سستی سے بیداری، پستی سے بلندی اور عجز و ناتوانی سے قوت و توانائی کی طرف لے گیا۔ ان کی روشنی چار دانگ عالم میں ضیاء پاشی کرنے لگی۔ اعلان اسلام کو ابھی ایک صدی نہیں ہوئی تھی کہ مسلمانوں نے ایک قدم ہندوستان اور دوسرا قدم سرزمین اندلس میں رکھا اور آخرکار اس مختصر سی مدت میں اسلام نصف کرہٴ ارض پر ضوافشانی کرنے لگا۔ (بحوالہ نقشہ ہائی استعمار “از محمد محمود صواف، صفحہ ۳۸۔”) "ڈاکٹر گوستاد لوبون“ نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا: ”اس حیرت انگیز حادثہ یعنی اسلام سے قبل کہ جس نے عرب قوم کو جہانگیری اور نئے معانی کے اخلاق کے روپ میں ہمارے سامنے پیش کیا عربستان کا علاقہ نہ تاریخ و تمدن کی جزء سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی وہاں علم یا مذہب کا نام و نشان تھا۔ (بحوالہ تاریخ تمدن اسلام و عرب از گوستاد لوبون)۔ ایک ہندو دانشمند اور سیاستدان نہرو اس بارے میں لکھتا ہے: ”عربوں کی سرگذشت اور داستان کہ وہ کس تیز رفتاری سے ایشاء، یورپ اور افریقہ پر چھا گئے اور عالی شان و عظیم تمد اور ثقافت کو انہوں نے جنم دیا، انسانی تاریخ میں ایک عجیب و غریب چیز ہے .....-- نئی توانائی اور جدید فکر کہ جس نے ان کو بیدار کیا اور انہیں اطمنانِ نفس اور قدرت سے نواز وہ دین اسلام تھا۔ (بحوالہ نگاہی بہ تاریخ جہان، جلد ۱، صفحہ۳۱۷)۔ و کنتم علی شفا حفرة من النار فانقذ کم منھا شفا کے لغوی معنی خندق یا کنویں کا کنارہ ہے اور شاید لب پر بھی ”شفہ“ کا ____ اطلاق اسی مناسبت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح اس لفظ کا استعمال بیماری سے تندرست ہونے کے لئے بھی اسی مناسبت سے ہے کہ انسان سلامتی اور تندرستی کے کنارے پر آ پہنچا ہے۔ مندرجہ بالا جملے میں خداوند تعالی ارشاد فرماتا ہے: تم گذشتہ زمانے میں آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ ہر آن ممکن تھا کہ تم اس میں گر جاوٴ اور تمہارا سب کچھ خاکستر ہو جائے لیکن خداوند عالم نے تمہیں نجات نخشی اور ہلاکت کے اس گڑھے سے امن و امان کے نقطہ کی طرف تمہاری رہنمائی کی جو اخوت و محبت کا نقطہ تھا۔ آیت میں آگ سے مراد جہنم کی آگ ہے یا اس دنیا کی، اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن پوری آیت پر توجہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑوں سے کناریہ ہے جو ہر لحظہ زمانہ جاہلیت میں کسی نہ کسی بہانہ عربوں میں بھڑک اٹھتی تھی۔ قرآن مجید اس جملے میں زمانہ جاہلیت کے خطرناک حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر لحظہ جنگ اور خونریزی کا خطرہ ان کے سروں پر منڈلاتا رہتا تھا اور خداوند عالم نے نور اسلام کی برکت سے انہیں اس حالت سے نجات دی۔ یہ مسلم ہے کہ انہوں نے اس خطرناک حالت سے خلاصی پا کر جہنم کی جلانے والی آگ سے بھی نجات پالی۔ کذٰلک یبین اللہ لکم اٰیاتہ لعلکم تھتدون۔ آیت کے آخر میں مزید تاکید کی گئی ہے کہ خدا اسی طرح اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تمہاری ہدایت ہو جائے۔ اس بناء پر آخری مقصد اور غرض تمہاری ہدایت و نجات ہے اور چونکہ یہ تمہارے منافع اور سرنوشت کا معاملہ ہے لہٰذا جو کچھ کہا گیا اسے زیادہ سے زیادہ اہمیت دو۔

قوموں کی بقاء کے لئے اتحاد کی اہمیت

ان باتوں کے باوجود کہ جو اتحاد کے اعجاز اًمیز اثر کے بارے میں اجتماعی مقاصد اور معاشروں کی بلندی کی طرف پیش رفت کے سلسلے میں کہی گئی ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ ابھی تک اس واقعی اثر نہیں پہچانا گیا۔ عصر حاضر میں دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے بند باندھے گئے ہیں جو زیادہ صنعتی توانائیوں کی بدولت ہیں اور وہ وسیع و عریض زمینوں کی آبیاری اور روشنی کا سبب بنے ہیں۔ اگر صحیح طور سے غور و فکر کیا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ اتنی بڑی قدرت صرف ناچیز تلاش بارش کے قطرات کے ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کی قدرت کے نتیجہ کے علاوہ اور کچھ نہیں، یہیں سے ہم انسانوں کے اتحاد اور مل کر کوشش کرنے کی اہمیت سے واقف ہو سکتے ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ اور دیگر بزرگ اسلامی رہنماوٴں سے اکثریت میں مختلف عبارات کے ذریعے اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر رسو ل اللہؐ فرماتے ہیں: ”الموٴمن للموٴمن کالبنیان یشد بعضہ بعضاً“ مومنین ایک دوسرے کے لئے ایک عمارت کے اجزاء کی مانند ہیں کہ جن میں ہر ایک جزء دوسرے جز کی مضبوطی سے نگہبانی کرتا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”الموٴمنون کالنفس الواحدة“ مومنین ایک نفس و روح کی طرح ہیں۔ آپؐ نے مزید فرمایا: مثل الموٴمن فی توادھم و تراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی بعضہ تداعی سائرة السھر و الحمی۔ صاحبان ایمان، افراد دوستی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے، اور نیکی کرنے میں ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ جب ان میں ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی اعضاء و جوارح کو قرار و آرام نہیں آتا۔ (بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد ۲، صفحہ ۴۵)۔

104
3:104
وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی باتوں کی طرف دعوت دینے والی ہو وہ نیکی کا حکم دے برائی سے روکے اور بلاشبہ ایسے ہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 105 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
3:105
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
اور دیکھو ! ان لوگوں کی سی چال نہ چلنا جو( دین الٰہی پر اکٹھے رہنے کی بجائے) الگ الگ ہو گئے اور باوجود یہ کہ (کتاب اللہ) کی روشن دلیلیں ان کے سامنے آ چکی ہیں باہم دگر اختلافات میں پڑ گئے پس ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

تفسیر حق کی دعوت اور فساد کا مقابلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنْ الْمُنْکَرِ وَ اُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ۔ امت اصل میں مادہ ”ام“ سے ہے جس کا معنی ہر وہ چیز جس کا دوسری چیزیں ضمیمہ ہوں۔ اسی بنا پر امت ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جن کے درمیان وحدت کا پہلو ہو۔ اس میں فرق نہیں کہ وحدت زمانی ہو یا مکانی یا مقصد میں وحدت ہو، لہٰذا متفرق اور پراکندہ اشخاص کو امت نہیں کہا جا سکتا۔ • گذشتہ آیات اخوت و وحدت کے بارے میں ہیں۔ اب اس آیت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو حقیقت میں ایک اجتماعی زرہ کے مانند ہے اور جو جمیعت کی حفاظت کرتی ہے۔ کیونکہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو تو مختلف عوامل جو ”اجتماعی وحدت“ کی بقاء کے دشمن ہیں دیمک کی طرف اندر سے معاشرے کی جڑوں کو کھاتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتے ہیں۔ اسی لئے وحدتِ اجتماعی کی حفاظت عوام کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ • آیت بالا میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان ایک ایسا گروہ ہونا چاہئیے جو ان دو اجتماعی عظیم ذمہ داریوں کو انجام دے۔ لوگوں کو نیکی کی دعوت دے اور برائیوں سے منع کرے اور آیت کے آخری حسے میں باقاعدہ تصریح ہوئی ہے کہ فلاح و نجات صرف اسی راستے سے ممکن ہے۔

ایک اہم سوال اور اس کا جواب

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”منکم امة“ کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ یہ امت بعض مسلمانوں میں سے تشکیل پاتی ہے نہ کہ سب کے سب یہ کام کریں۔ تو اس طرح سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری عمومی پہلو کھو بیٹھے گی۔ بلکہ وہ صرف ایک خاص گروہ کی ذمہ داری ہو گی اگرچہ انتخاب اور جمیعت کو ترتیب دینا تمام لوگوں کا فرض ہے بالفاظ دیگر یہ واجب کفائی ہے نہ کہ واجب عینی۔ حالانکہ قرآن مجید کی دیگر آیات سے ثابت ہوتا ہےکہ یہ دونوں ذمہ داریاں عمومی پہلو رکھتی ہیں۔ یعنی واجب عینی ہیں نہ کہ کفائی، مثلاً بعد میں آنے والی آیات میں ارشاد ہوتا ہے: کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ تم انہیں اچھی چیزوں کا حکم دیتے ہو اور بری چیزوں سے روکتے ہو۔ اسی طرح سورہ عصر میں ارشاد ہوتا ہے: تمام لوگ خسارے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان رکھنے کے ساتھ صالح عمل کرتے ہیں اور حق و صبر کی وصیت کرتے ہیں۔ ان جیسی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ذمہ داریاں کسی خاص گروہ کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ عام ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے: ان جیسی تمام آیات میں غور و خوض کر کے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے۔ کیونکہ ان سے پتہ چلتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کے دو مرحلے ہیں۔ ایک انفرادی مرحلہ ہے، اس میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنہا دوسروں کے اعمال کی نگہداشت کرے اور دوسرا مرحلہ اجتماعی ہے اس کے لئے ایک گروہ کا فریضہ ہے کہ وہ معاشرتی خرابیوں کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو کر مشترکہ طور ہر کوشش کرے۔ پہلی قسم میں ہر شخص پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس طرح تمام لوگ ذمہ دار ہوں گے اور چونکہ اس میں انفرادی پہلو ہے لہٰذا اس کی روشنی فرد کی توانائی تک محدود ہے۔ لیکن دوسری واجب کفائی ہے۔ یہ چونکہ ایک گروہ کی ذمہ داری ہے لہٰذا اس کا دائرہ اثر بھی وسیع ہے اور اس لئے فطری طور پر یہ کام حکومت اسلامی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دو صورتیں (خرابی اور فساد کا مقابلہ کرنا اور حق کی طرف دعوت دینا) اسلامی قوانین کا شاہکار شمار ہوتی ہیں۔ حکومت اسلامی کے نظام میں تقسیم کار کا معاملہ، اجتماعی حالت اور حکومتی اداروں کی صورت حال ایک نگران گروہ کے وجود کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ گذشتہ ادوار میں اسلامی ممالک میں اس آیت کی روشنی میں برائیوں کو روکنے اور اجتماعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے ایسے ادارے تشکیل پاتے رہے ہیں۔ آج کل بھی حجاز وغیرہ میں ایسے ادارے موجود ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ایسے ادارے عموماً برائے نام شرعی ہیں اور اکثر ان کی حالت حکومت کے عام اداروں سے بھی بدتر ہے (مترجم) ایسے اداروں کو حسبہ اور ان کے مامورین کو محتسب یا ”آمرین بمعروف“ کہتے ہیں۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں میں ہونے والے ہر قسم کے برے کام کو روکیں اور حکومتی اداروں میں ہونے والے ہر قسم کے ظلم و فساد کی روک تھام کریں اور اسی طرح لوگوں میں نیک اور پسندیدہ کاموں کا شوق پیدا کریں۔ وسیع اختیارات کے حامل ان اداروں کا وجود محدود قدرت کے حامل فرد کے لئے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنے سے کوئی تضاد نہیں رکھتا۔ چونکہ یہ بحث قرآن مجید کی اہم مباحث میں سے ہے اور بہت سی آیات میں اس کا تذکرہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ یہاں اس کے بعض پہلووٴں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

چند اہم نکات: (۱) معروف اور منکر:

معروف کے اصلی حروف ع، ر، ف، (عرف) ہیں اور کے لغوی معنیٰ ہیں ”پہچانے ہوئے“ اور منکر کے معنیٰ ہیں ”نہ پہچانے ہوئے“ یہ لفظ انکار سے ہے، گویا اس مناسبت سے نیک کاموں کو پہچانتے ہوئے امور اور ناپسنددیدہ کاموں کا نہ پہچانے ہوئے کاموں سے تعارف کرایا گیا ہے کیونکہ انسان کی پاک فطرت پہلی قسم سے آشنا و آگاہ ہے اور دوسری قسم سے ناآشنا ہے۔

( ۲) کیا امر بالمعروف ایک عقلی حکم ہے:

بعض علماء اسلام کا خیال ہے کہ ان دو ذمہ داریوں کا وجوب نقلی دلیل سے ثابت ہے اور عقل سے اس کا کوئی سروکار نہیں اور عقل اس بات کا حکم نہیں دیتی کہ انسان کسی دوسرے کو ایسے کام سے روکے جس کا نقصان صرف کرنے والے کو پہنچتا ہو۔ لیکن اجتماعی معاشرت تعلقات اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کوئی برا کام انسانی معاشرے میں کسی خاص نقطہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ آگ کے شعلوں کی طرح پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے یہ عقل کا فیصلہ ہے کہ ان دو ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ بالفاظ دیگر سوسائٹی میں کوئی چیز انفرادی ضرر کی حامل نہیں۔ ہر انفرادی ضرر میں یہ امکان ہے کہ وہ اجتماعی نقصان کی صورت اختیار کر لے۔ اسی بناء پر عقل و منطق معاشرے کے افراد کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے گرد و پیش کی فضا کو پاک و صاف رکھنے کے لئے ہر قسم کی جستجو اور کوشش کریں۔ اتفاق سے بعض احادیث بھی اس بات کی غمازی کرتی ہیں جیسا کہ رسول اسلامؐ نے ارشاد فرمایا: ایک گناہگار دوسرے لوگوں کے درمیان اس شخص کی مانند ہے جو ایک کشتی میں کچھ لوگوں کے ساتھ سوار ہو جب وہ کشتی سمندر کے پیچ میں پہنچے تو وہ کہاڑی سے اس جگہ سوراخ کرنے لگے جہاں وہ بیٹھا ہوا ہے اور جب دوسرے لوگ اس کے اس فعل پر اعتراض کریں تو وہ یہ جواب دے کہ میں تو صرف اپنی جگہ پر یہ کام کر رہا ہوں۔ اس وقت اگر دوسرے لوگ اس کو اس خطرناک کام سے نہ روکیں تو چند لمحوں میں سمندر کا پانی کشتی میں داخل ہو جائے گا اور ایک دم سب کے سب غرق ہو جائیں گے۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس واضح مثال کے ذریعے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے منطقی ہونے کی تصویر کشی کی ہے اور معاشرے کے لئے ہر فرد کی نگرانی کے حق کو ایک فطری حق قرار دیا ہے۔

(۳) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت:

قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بہت سی معتبر احادیث اور اسلامی مصادر میں بھی ان دو عظیم اجتماعی و ظائف کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ جن میں ان خطرات اور برے نتائج کی نشاندہی کی گئی ہے جو ان دو ذمہ داریوں کے ترک کرنے کی صورت میں جنم لیتے ہیں۔ جیسا کہ امام محمد با قر (ع) سے مروی ہے کہ: ان الامر بالمعروف و النھی عن المنکر فریضہ عظیمہ بھا تقام الفرائض و تاٴمن المذاہب و تحل المکاسب و ترد المظالم و تعمر الارض و ینتصف من الاعداء و یستقیم الامر۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عظیم خدائی فریضہ ہے۔ باقی فرائض انہی کی بدولت قائم ہوتے ہیں۔ اُن کی وجہ سے راستے محفوظ رہتے ہیں، لوگوں کو کسب و کار حلال ہوتا ہے اور لوگوں کے حقوق انہی کی وجہ سے واپس ملتے ہیں اور ان کے سبب زمین آباد رہتی ہے، دشنوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور انہی کے طفیل تمام کام چلتے رہتے ہیں۔ (بحوالہ وسائل، کتاب امر بالمعروف و نہی عن المنکر، باب: حدیث۶، صفحہ۴۹۵) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ اَمَرَ بِالمَعْرُوفِ وَ نھیٰ عَنْ المُنْکَرِ فَھُوَ خَلِیْفَةُ اللّٰہِ فِی اَرضہ وَخَلِیفَةُ رسولِ اللّٰہِ وَ خَلِیْفَةُ کتابِہ جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے وہ زمین پر خدا، اس کے رسول اور اس کی کتاب کا جانشین ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ عظیم فریضہ ہر چیز سے پہلے ایک خدائی پروگرام ہے، انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتب کا نزول سب کے سب اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ایک شخص پیغمبرؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپؐ منبر پر جلوہ افروز تھے اس نے پوچھا ”مَنْ خَیرُ النّاسِ“ تمام لوگوں میں سے بہتر کون ہے۔ آپؐ نے فرمایا: آمرھم بالمعروف و انھاھم عن المنکر و اتقاھم للہ و ارضاھم جو سب سے زیادہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا ہو اور جو زیادہ پرہیزگار ہو اور جو خوشنودیٴ خدا کی راہ میں زیادہ قدم بڑھانے والا ہو۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرو ورنہ خدا کسی ستم گر ظالم کو تم پر مسلط کرے گا۔ جو نہ تمہارے بوڑھوں کا احترام کرے گا اور نہ بچوں پر رحم کرے گا۔ تمہارے نیک اور صالح لوگ دعا کریں گے لیکن مستجاب نہیں ہو گی۔ وہ خدا سے مدد طلب کریں گے لیکن خدا ان کی مدد نہیں کرے گا یہاں تک کہ اگر وہ لوگ توبہ کریں گے تو خدا ان کے گناہ معاف نہیں کرے گا۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں) یہ سب کچھ اس گروہ کے اعمال کی عکاسی ہے جو اس عظیم معاشرتی ذمہ داری کو پورا نہیں کریں گے کیونکہ جب عمومی نگرانی کے بغیر معاملات کی باگ ڈور نیک لوگوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو برُے اور اہل لوگ معاشرے کے ہر میدان پر قابض ہو جائیں گے۔ مندرجہ بالا حدیث میں ان کی توبہ کی عدم قبولیت کا یہ مطلب ہے کہ برائیوں کے مقابلہ میں مسلسل خاموشی کی وجہ سے دعا کوئی اثر نہیں رکھتی مگر یہ کہ وہ اپنے عمل میں تجدیدِ نظر کریں۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وما اعمال البر کلھا و الجھاد فی سبیل اللہ عند الامر بالمعروف و النھی عن المنکر الا کنفشة فی بحر لجی “تمام نیک کام یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد بھی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک گہرے سمندر میں تھوکنے اور پھوکنے کا مانند ہے۔(بحوالہ: نہج البلاغہ، کلمات قصار، صفحہ٣۷٤) اس قدر تاکید کا سبب یہی ہے کہ یہ دو عظیم ذمہ داریاں باقی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کے اجراء کی ضامن ہیں اور ان کی روح شمار ہوتی ہیں۔

(۴) کیا امر بالمعروف سلب آزادی کا سبب ہے؟:

اس سوال کے جواب میں یہ کہنا مناسب ہے کہ اگرچہ یہ بات مسلم ہے کہ افرادِ بشر کے لئے مل جل کر رہنا ان گنت فوائد و برکات کا حامل ہے حتیٰ کہ اس قسم کی خوبیوں نے انسان کو اجتماعی زندگی پر مجبور کر دیا ہے لیکن ساتھ ہی انسان کو چند امور کا پابند کیا گیا ہے لیکن چونکہ اجتماعی زندگی کے بےشمار فوائد کے مقابلہ میں اس قسم کی پابندیاں معمولی ہیں لہٰذا انسان روز اول سے ان پابندیوں کو قبول کرکے اجتماعی زندگی کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔ چونکہ زندگی میں حیاتِ انسانی کا نظام ایک دوسرے سے مربوط ہے اور اصلاحی طور سے معاشرے کے افراد ایک دوسرے کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے ہیں لہٰذا دوسروں کے اعمال پر نظارت و نگرانی کا حق فطری اور اجتماعی زندگی کی خصوصیت کا حق ہے جیسا کہ اس مفہوم کو رسالتمآبؐ کی سابقہ ایک حدیث میں عمدہ طور سے بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس فریضہ ہی انجام دہی سے نہ صرف انفرادی آادی سلب نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو ہر فرد بشر کا ایک فطری حق ہے جو اسے دوسروں کے مقابلے میں حاصل ہے۔

(۵) کیا امربالمعروف سے کوئی حرج تو پیدا نہیں ہوتا ؟:

اس مقام پر ایک اور سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب تمام اجتماعی امور میں دخیل و شریک ہیں اور ایک دوسرے کے اعمال کے نگراں و محافظ ہیں تو کیا اس سے معاشرے میں گونا گوں مسائل کھڑے نہ ہو جائیں گے اور کیا یہ چیز ذمہ دار یوں کو تقسیم اور معاشرے میں الگ الگ جوابدہی کے برخلاف نہیں ہے؟ اس سوال کے جوبا کے متعلق گذشتہ بیان سے بھی یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے دو مرحلے ہیں۔ ایک مرحلہ جو کہ عمومی پہلو رکھتا ہے۔ اس کا دائرہ محدود ہے اور یہ صرف یا دھانی، پند و نصیحت، نقد و تنقید اور اس قسم کی چیزوں تک محدود ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ ایک زندہ معاشرے کے تمام افراد برائیوں کے بارے میں اس قسم کے جوابدہی رکھتے ہیں۔ لیکن دوسرا مرحلہ جو ایک خاص گروہ سے متعلق ہے اور وہ حکومتِ اسلامی کے ذمہ داری شمار ہوتا ہے، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے بایں معنی کہ اگر اس میں سختی کی ضرورت پڑے یہاں تک کہ قصاص وہ حدود تک معاملہ پہنچ جائے تو بھی یہ گروہ حاکم شرعی اور کار پرواز ان حکومت ِ اسلامی کی نگرانی میں اپنا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ بنابر یں امربالمعروف او رنہی عن المنکر کے مختلف مراحل اور ہرایک کی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ان سے معاشرے میں حرج و مرج اور فسادات پیدا نہیں ہوتے بلکہ مردہ معاشرے میں جان پیدا ہو جاتی ہے۔

(۶) امر بالمعروف تلخی اور سختی نہیں:

بحث کے آخر میں اس نکتہ کی یادہانی ضروری ہے کہ اس ذمہ داری سے عہدہ برآمد ہونے، فریضہ خدائی کی طرف دعوت دینے اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے میں حسن نیت اور پاکیزگی مقصد کو نہیں بھولنا چاہئیے اور سوائے ضرورت کے ہر موقع پر صلح و صفائی کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئیے اور اس فریضہ کی انجام دہی میں خشونت اور سختی سے اجتناب کرنا چاہئیے..... لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ اس کی انجام دہی میں خشونت آمیز انداز اپناتے ہیں اور بعض اوقات وہ برے اور چھبنے والے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کا امر بالمعروف نہ یہ کہ اچھے اثرات نہیں چھوڑتا بلکہ بعض اوقات الٹا اثردکھاتا ہے۔ حالانکہ پیغمبر اکرمﷺ اور ائمہ ہدایٰ (ع) کی سیرت طیبہ نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ان دو فرائض کی انجام میں انتہائی محبت و پیار اور لطف و کرم سے کام لیتے تھے۔ اسی بناء پر بڑے سخت مزاج افراد بھی بہت جلد ان کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے تھے۔ تفسیرالمنار میں اس آیت کے ذیل میں لکھا گیا ہے کہ: ”ایک نوجوان خدمت رسولؐ میں حاضر ہوا۔ اس نے پوچھا کہ اے رسول خداؐ کیا اجازت ہے کہ میں زنا کر لوں۔ اس بات پر وہاں کے لوگ برافروختہ ہو گئے اور ادھر اُدھر سے اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی لیکن آپؐ نے بڑے تحمل اور نرمی سے فرمایا : میرے قریب آوٴ: وہ اُن کے قریب آیا اور آنحضرتؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔ حضرت نے محبت او رپیار کے لہجے میں اس سے پوچھا کہ کیا تو اس پر راضی ہے کہ تیری ماں کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ اس نے نفی میں جواب دیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس طرح دوسرے لوگ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کی ماں کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تو اپنی بیٹی کے ساتھ اس عمل پر راضی ہے۔ کہا نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ اس طرح دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ اس فعل پر راضی نہیں ہیں۔ آپؐ نے پھر پوچھا کہ اپنی بہن کے ساتھ اس کام کو پسند کرتے ہو۔ نوجوان نے انکار کیا اور سوال پر مکمل طور پر نادم ہوا بعد ازاں اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اس کے لئے دعا کی اور فرمایا: خدایا؛ اس کے دل کو پاک کر اور اس کے گناہ کو معاف کر اور اس کے دامن کو معصیت کی آلودگی سے صاف رکھ۔ اس واقعہ کے بعد اس نوجوان کے نزدیک سب سے زیادہ نفرت کا کام زنا تھا یہ نہی عن المنکر میں ملائمت اور نفرت کا ثمرہ ہے۔ ولا تکونوا کالذین تفرقوا و اختلفوا من بعد ماجآء ھم البینات اس آیت میں ازسرنو مسئلہ اتحاد اور تفرقہ بازی سے اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو گذشتہ اقوام مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح تفرقہ اور اختلاف کی راہ اختیار کرنے اور اپنے لئے عظیم عذاب مول لینے سے ڈراتی ہے اور درحقیقت انہیں اختلاف اور تفرقہ بازی کے بعد گذشتہ لوگوں کی تاریخ کے مطالعہ کی دعوت دیتی ہے۔ ان آیات میں اتحاد پر اصرار کرنے اور تفرقہ نفاق سے اجتناب کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے معاشرے میں بھی ایسا ہونے والا ہے کیونکہ جہاں کہیں کسی چیز سے ڈرانے میں اصرار کیا جاتا ہے وہ اس کے وقوع کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ نے یہ پیشینگوئی کی تھی اور صراحت سے مسلمانوں کو یہ خبر دی تھی کہ یہودی قوم حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ۷۱ اور عیسائی ۷۲ فرقوں میں بٹ گئی تھی اور میری امت میرے بعد ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی (تشریحی نوٹ: یہ روایت مختلف شیعہ سنی طریقوں سے مروی ہے۔ شیعہ طریقوں سے یہ روایت خصال، معانی، احتجاج، مالی صدوق، اصل سلیم بن قیس اور تفسیر عیاشی میں منقول ہے اور سنی طریقوں سے یہ روایت در منشور، جامع الاصول اور طلل ونحل میں نقل ہوئی ہے) ظاہری طور سے ۷۰ کا عدد کثرت کی طرف اشارہ ہے اور اصطلاح کے مطابق اس سے صرف کسی چیز کی کثرت سمجھی جاتی ہے نہ کہ صحیح تعداد یعنی یہودیوں میں ایک فرقہ حق تھا اور بہت سے گروہ باطل پرست تھے۔ عیسائیوں کے درمیان باطل پرست فرقوں کی کثرت ہو گئی اور مسلمانوں میں ان سے بھی زیادہ فرقے بن جائیں گے۔ قرآن مجید اور پیغمبر اکرمؐ کی اس پیشین گوئی کے مطابق مسلمان آنحضرتؐ کی وفات کے بعد صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے اور مذہبی عقائد بلکہ اصل دین کے معاملے میں پراگندہ ہو گئے یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے۔ نوبت بایں جا رسید کہ بعض اوقات تلوار زنی سب و شتم اور ایک دوسرے پر لعنت سے دریغ نہ کیا گیا۔ معاملہ اتنا سنگین ہوتا گیا کہ بعض مسلمان ایک دوسرے کی جان و مال کو حلال سمجھنے لگے اور مسلمانوں کے درمیان اتنی عداوت اور دشمنی پھیل گئی کہ کچھ مسلمان کفارہ سے جا ملے اور اپنے دینی بھائیوں سے جنگ و جدال کرنے پر تل گئے۔ یوں اتحاد وحدت جس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر تھا، اختلاف و انتشار میں بدل گئی۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ وہ شقاوت و بدبختی میں مبتلا ہو گئے اور اپنی عظمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اولالٰئک لھم عذاب عظیم جو لوگ واضح دلیلوں کے بعد بھی دین اختلاف کرتے ہیں، وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس میں کلام نہیں کہ اختلاف و انتشار کا فوری نتیجہ ذلت و خواری کے سوال کچھ نہیں اور ہر قوم کی ذلت و خواری کے راز کو ان کے اختلاف و نفاق میں تلاش کرنا چاہئیے۔ وہ معاشرہ جس کی قدرت و توانائی کی بنیاد اس کے ارکان کی تفرقہ بازی کے تیشہ سے پاش پاش ہو جائے، ان کی سر زمین ہمیشہ غیروں کی جولانگاہ بن جاتی ہے اور کسی سامراجی حکومت کے قلمرو میں داخل ہو جاتی ہے۔ واقعاً یہ کتنا بڑا عذاب ہے۔ باقی رہا آخرت کا عذاب تو جیسا قرآن نے بھی بیان کیا ہے وہ عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ تفرقہ ڈالنے والوں کے انتظار میں ہے۔

106
3:106
يَوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوهٞ وَتَسۡوَدُّ وُجُوهٞۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡوَدَّتۡ وُجُوهُهُمۡ أَكَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
( نفاق ڈالنے والوں پر وہ عظیم عذاب) اس دن ہو گا جب کچھ چہرے سفید اور کچھ سیاہ ہو جائیں گے وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے( ان سے کہا جائے گا) کیا تم ایمان (اور سایہ اخوت میں آنے) کے بعد کافر ہو گئے تھے تو (اب) اپنے کئے ہوئے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
3:107
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبۡيَضَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فَفِي رَحۡمَةِ ٱللَّهِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
لیکن وہ جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر نورانی اور تاریک چہرے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہ اس تنبیہ کے بعد کہ جو گذشتہ آیات میں تفرقہ بازی، اور کفر و جاہلیت کے زمانہ کے آثار کی طرف پلٹ جانے کے بارے میں کی گئی تھی، ان دو آیات میں ان کے آخری نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کسی طرح کفر، نفاق و جاہلیت کی طرف پلٹ جانا روسیاہی کا سبب ہے اور کسی طرح اسلام و ایمان اور اتحاد و خلوص سفید روئی کا سبب ہے۔ مندرجہ بالا آیات تصریح کر رہی ہیں کہ روز قیامت کچھ چہرے نورانی ہوں گے اور کچھ تاریک جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، ان سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان لاننے کے بعد کفر کیوں اختیار کیا اور اسلام کے زیر سایہ اتحاد و اخوت کی راہ اپنانے کے بعد نفاق و جاہلیت کہ راہ کیوں اختیار کی۔ ان کے مقابلہ میں وہ مومنین جو متحد و متفق رہے ہوں گے دریائے رحمت الہی میں ڈوب جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے وہاں راحت و آرام کی زندگی بسر کریں گے۔ کئی دفعہ یہ یاد دہانی کرائی جا چکی ہے کہ دوسرے جہان میں انسان کی زندگی کے حالات و کیفیات اور جزا و سزا اس جہان کے اعمال اور افکار کے مجسمے ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں اس جہان میں جو کام بھی انسان سے سرزد ہوتا ہے وہ روح کی گہرائیوں میں وسیع اثرات مرتب کرتا ہے۔ ممکن ہے اس دنیا میں اسے نہ سمجھا جا سکے، لیکن قیامت میں یہ حقیقی صورت میں جلوہ گر ہوں گے اور کیوں کہ وہاں پر روح کی حاکمیت و تجلی زیادہ ہو گی اس لئے اس کے آثار جسم پر بھی مرتب ہوں گے۔ جیسا کہ اس جہان کا ایمان و اتحاد سفید روئی کا سبب ہے اور اس کے برعکس بےایمان لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ اگلے جہان میں یہ مجازی سفیدی اور سیاہی حقیقی شکل اختیار کرے گی اور لوگ روشن یا سیاہ محشور ہوں گے۔ قرآن کی دیگر آیات بھی اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ مثلاً جو لوگ بار بار گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے بارے میں قرآن ارشاد فرماتا ہے: کاَنمآ اُغشیتُ وجوھھم قطعاً مّن الّلیلِ مُظلماً (یونس:۲۷ ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے تاریک ٹکڑوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ و یومَ القِیٰمة ترَی الّذینَ کذبوا علیٰ اللّہ وجوھھم مُسوَدّۃٌ (زمر:۶۰) قیامت کے دن تو ان لوگوں کو دیکھے گا جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں اور یہ سب کچھ ان کے کئے ہوئے اعمال کی پاداش ہے۔

108
3:108
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتۡلُوهَا عَلَيۡكَ بِٱلۡحَقِّۗ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلۡمٗا لِّلۡعَٰلَمِينَ
کتاب کی یہ برحق آیات ہیں جنہیں ہم تیرے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا ہر گز عالمین کے لئے ظلم و ستم کا ارادہ نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 109 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
3:109
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اور( کس طرح ممکن ہے کہ خدا ظلم چاہے جبکہ) جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ اس کی ملکیت میں ہے اور تمام کاموں کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تِلْکَ آیاتُ اللَّہِ نَتْلُوہا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَ مَااللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعالَمینَ مندرجہ بالا آیت گذشتہ مطالب اتحاد و اتفاق، ایمان و کفر، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور ان کے نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خدا کی برحق آیات ہیں جو ہم تیرے سامنے پڑھتے ہیں اور ان احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو کچھ لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے ان کے اعمال کی پاداش ہے اور خداوند تعالیٰ کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ یہ وہی برے اثرات ہیں جو انھوں نے اپنے ہاتھ سے فراہم کئے ہیں۔ وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاَرْضِ وَ إِلَی اللَّہِ تُرْجَعُ الْاُمُورُ یہ آیت خدا کے ظالم نہ ہونے پر دلیل پیش کرتی ہے: پہلی یہ کہ وہ خدا جو ان تمام کا خالق و مالک ہے، اس کے بارے میں طلم کا تصور نہیں ہو سکتا کیونکہ ظلم و زیادتی تو وہ کرتا ہے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو جو دوسروں کے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے حاصل کرنے کے لئے وہ ظلم کا ارتکاب کرتا ہے۔ دوسری دلیل یہ کہ ظلم و ستم کا تصور اس کے بارے میں ہو سکتا ہے جس کی خوشنودی حاصل کئے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا ہو لیکن اس ذات کے بارے میں ظلم و ستم چہ معنیٰ کہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی کام وقوع پذیر ہو سکتا اور تمام امور کائنات کا آغاز و انجام اسی کی ذات سے وابستہ ہے۔

110
3:110
كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ وَلَوۡ ءَامَنَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۚ مِّنۡهُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
تم وہ بہترین قوم تھے جسے لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور خدا پر ایمان لے آؤ اور اگر دیگر اہل کتاب (اس پروگرام اور واضح آئین پر) ایمان لے آئیں تو ان کے لئے فائدہ ہے لیکن ان میں سے تھوڑے ہی صاحب ایمان ہیں ورنہ اکثر فاسق ہیں۔

تفسیر فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے اور دعوت حق کی یاد دہانی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اس آیت میں امربالمعروف و نہی عن المنکر اور خدا پر ایمان رکھنے کی دعوت کا اعادہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ آیت ۱۰۴ کے ذیل میں کہا گیا ہے یہ آیت بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ایک اجتماعی فریضہ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ جبکہ گذشتہ آیت اس کے ایک خاص مرحلہ کو بیان کیا تھا جو خصوصی اور واجب کفائی ہے اور اس کی تفصیل و تشریح بیان کی جا چکی ہے۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو بہترین امت کہا گیا ہے جسے معاشرہ کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے ہیں اور خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اصلاح ایمان، دعوت حق اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کئے بغیر ممکن نہیں۔ ضمنی طور پر اس سے یہ پتا چلتا ہے کہیہ دو عظیم فرائض دینِ اسلام میں جو وسعت رکھتے ہیں وہ گذشتہ ادیان میں نہ تھی اور امت کا بہترین ہونا واضح ہے کیونکہ یہ آخری آسمانی دین کی حامل ہے اور آخری دین تکامل کی اساس پر کامل ترین دین ہے۔ مندرجہ بالا دو آیات میں مزید دو نکات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے: پہلا نکتہ یہ ہے کہ ”کنتم“ (تم تھے) فعل ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے یعنی تم گذشتہ زمانہ میں بہترین امت تھے اس لفظ کے بارے میں اگرچہ مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں، لیکن اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ فعل ماضی کی تعبیر تاکید کے لئے ہے اور قرآن مجید میں اس قسم کی تعبیرات کثرت سے موجود ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس مقام پر امربالمعروف و نہی عن المنکر کو ایمان خدا پر مقدم کیا گیا ہے جس نے ان دو عظیم خدائی فرائض کی اہمیت و عظمت مترشح ہوتی ہے۔ علاوہ ازایں ان دو فرائض کی انجام دہی دائرہٴ ایمان پھیلانے اور تمام انفرادی و اجتماعی قوانین کے اجراء کی ضامن ہے اور عملی طور پر اجراء قانون کا ضامن خود قانون پر مقدم ہوتا ہے۔ تمام باتوں کو چھوڑ کر اگر ان دو فرائض کو انجام نہ دیا جائے تو دلوں میں ایمان کی جڑیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور اس کے ستون بھی گر جاتے ہیں۔ اسی سبب سے انہیں ایمان پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس بیان سے اس بات کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ مسلمان اس وقت تک ایک ممتاز امت شمار ہوتے رہیں گے جب تک نیکی کی دعوت دینے اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کرنے کو فراموش نہیں کریں گے اور جب انہوں نے اس سے صرفِ نظر کر لیا نہ یہ بہترین امت رہیں گے اور نہ انسانی معاشرے کے لئے فائدہ مند۔ اس بات کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئے کہ اس آیت میں تمام مسلمانوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہی انداز و روش ہے۔ کچھ لوگوں نے اس سے مہاجرین یا سابق مسلمان مراد لئے ہیں لیکن اس پر کوئی دلیل موجود نہیں۔ وَ لَوْ آمَنَ اَہْلُ الْکِتابِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ اَکْثَرُ ہُمُ الْفاسِقُونَ بعد ازاں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مذہب جو اس طرح روشن ہے اور وہ قوانین جو اس قدر باعظمت ہیں ان کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بنا برایں اگر اہل کتاب (یہودی و نصاری) ان باتوں پر ایمان لے آئیں تو ان کا اپنا ہی فائدہ ہے، لیکن بہت افسوس کا مقام ہے کہ ان کی اقلیت نے جاہلانہ تعصّب پر ٹھوکر مار کر کھلے دل سے اسلام قبول کی ہے جبکہ ان کی اکثریت فرمان خداوندی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے متعلق اپنی کتب میں موجود بشارتوں کی بھی پرواہ نہیں کی اور وہ اپنے کفر و تعصب پر اس طرح ڈٹے رہے۔

111
3:111
لَن يَضُرُّوكُمۡ إِلَّآ أَذٗىۖ وَإِن يُقَٰتِلُوكُمۡ يُوَلُّوكُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ
اور وہ تمہیں ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی آزار و اذیت کے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تمہیں پیٹھ دکھا کر (بھاگ) جائیں گے اس کے بعد کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔

112
3:112
ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيۡنَ مَا ثُقِفُوٓاْ إِلَّا بِحَبۡلٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبۡلٖ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَسۡكَنَةُۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ
وہ جہاں کہیں ہوں گے ان پر ذلت و رسوائی کی مہر لگی ہوئی ہے مگر یہ کہ وہ خدا سے رابطہ قائم کریں یا لوگوں سے وابستگی کے ذریعے (ادھر ادھر سے مدد حاصل کر لیں )۔اور وہ خدا کے غضب میں گھرے ہوئے ہیں اور بیچارگی کی مہران پر ثبت ہو چکی ہے کیونکہ وہ آیات خداوندی کا انکار کرتے تھے اور خدا کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے یہ سب کچھ ان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور وہ تجاوز کرتے ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جب بعض سرداران یہود مثلاً عبداللہ بن سلام اپنے رفقاء کے ہمراہ دین اسلام میں داخل ہو گئے تو یہودیوں کے بعض سرداران کے پاس آئے اور انہیں سرزنش و ملامت کی یہاں تک کہ انہیں دھمکی دی اور کہا کہ تم اپنے آباوٴ اجداد کا دین چھوڑ کی اسلام کیوں لے آئے ہو۔ ا س پر مندرجہ ذیل آیات انہیں اور باقی مسلمانوں کو مژدہ سنانے کے لئے نازل ہوئیں۔

تفسیر

لَنْ یَضُرُّوکُمْ إِلاَّ اَذیً وَ إِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْاَدْبارَ ثُمَّ لا یُنْصَرُونَ بعض مسلمان اپنی سابقہ کافر قوم کے ہاتھوں مصیبت میں مبتلا تھے وہ انہیں قبولِ اسلام پر سرزنش و ملامت کرتے تھے اور بعض اوقات انہیں دھمکیاں دیتے تھے یہ آیت انہیں بشارت دیتی ہے کہ مخالفین آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور بہت کم ضرر پہنچاتے سکتے ہیں اور بدکلامی سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتے۔ ان دونوں آیات میں درحقیقت مسلمانوں کے لئے چند پیشین گوئیاں اور خوش خبریاں ہیں جو تمام کی تمام حضور کے دور میں ظاہر ہوئیں: ۱۔ اہل کتاب کو کوئی قابل اعتنا ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور ان کے معمولی نقصانات دیرپا نہیں ہوں گے۔ (لَنْ یَضُرُّو کُمْ إِلاَّ اَذیً) ۲۔ جب وہ مسلمانوں کے ساتھ میدان کا رزار میں نبرد آزما ہوں گے تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور آخری فتح و کامیابی مسلمانوں کو نصیب ہو گی اور یہودیوں کی حمایت کے لئے کوئی نہیں کھڑا ہو گا۔ (وَ إِنْ یُقاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الْاَدْبارَ ثُمَّ لا یُنْصَرُونَ)۔ ۳۔ یہ کبھی اپنے پاوٴں پر کھڑے نہیں ہوں گے اور ہمیشہ ذلیل و خوار رہیں گے مگر یہ کہ اپنے پروگرام کو تبدیل کریں اور خدا کی راہ پر چلیں یا دوسرے لوگوں سے مل جائیں اور وقتی طور پر ان کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں (ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ ما ثُقِفُوا)۔ بہت جلد یہ تینوں وعدے نبی اکرمؐ کے زمانہ میں پورے ہو گئے خصوصاً حجاز کے یہودی (بنی قریظہ، بنی نضیر، بنی قینقاع، بنی مصطلق اور خیر کے یہودی) کئی مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوئے اور بالآخر سب شکست سے دوچار ہو کر روپوش ہو گئے۔ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ ما ثُقِفُوا إِلاَّ بِحَبْلٍ مِنَ اللَّہِ وَ حَبْلٍ مِنَ النَّاس۔ ثقفوا کامادہ ثقف (بر وزن سقف) ہے۔ اور ثقافت کے لغوی معنی کسی چیز کو مہارت کے ساتھ پالنے کے ہیں اور جس چیز کو انسان باریک بینی اور مہارت کے ساتھ حاصل کر لے اس ثقافت کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے اس جملے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جہاں کہیں ہوں ذلت کی موت ان کی پیشانی پر ثبت ہو چکی ہے۔ اگرچہ ان آیات میں یہودیوں کا نام لے کر ان کو نہیں پکارا گیا، تاہم سورہٴ بقرہ کی آیت۴۱ / اور ان آیات کے قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ بھی یہودیوں کے بارے میں ہے۔ اس کے بعد اس جملہ کے ذیل میں کہا گیا ہے کہ صرف دو صورتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ اس ذلت کی مہر کو مٹا سکتے ہیں۔ پہلی صورت خدا کی طرف بازگشت اور اس سے رشتہ جوڑنا ہے اور اس کے سچے دین پر ایمان لانا ہے (الا بحبل من اللہ) یا لوگوں سے وابستگی اور ان کا سہارا لینا ہے (و حبل من الناس)۔ اگرچہ ان دو تعبیرات (حبل من اللہ و حبل من الناس) کے بارے میں مفسرین نے کئی احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن جو کچھ کہا گیا ہے وہ آیت کے معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیوں کہ جس وقت ”حبل من اللہ“ (خدا سے ارتباط ) ”و حبل من الناس“ (لوگوں سے ارتباط) کے مقابلہ میں ہو تو اس سے دو مختلف معنی مراد ہوں گے نہ یہ کہ ان میں سے ایک ایمان لانے کے معنی میں ہے اور دوسرا مسلمانوں کی طرف سے امن و امان ہونے کے معنی میں۔ بنا برایں آیت کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہو گا کہ یا تو وہ اپنی زندگی کے پروگرام پر تجدید نظر کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں اور اپنے افکار سے شیطنت و کینہ پروری کو مٹا دیں اور یا لوگوں سے وابستگی پیدا کر کے اپنی نفاق آلود زندگی کو جاری رکھیں۔ وَ باؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَةُ باوا لغت میں رجوع کرنے اور سکونت کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ خلاف ورزیوں کی بناء پر خدا کی سزا کی مستحق ہو گئی ہے اور وہ غضب خداوندی کو اپنی منزل مقصود قرار دے چکی ہے۔ ”مسکنت“ کے معنی ہیں ”بیچارگی“ بالخصوص ایسی سخت بیچارگی جس سے چھٹکارہ حاصل کرنا مشکل ہو اور یہ ”سکونت“ کے مادہ سے ہے۔ کیونکہ مسکین افراد کمزوری اور احتیاج کی وجہ سے اپنی جگہ سے حرکت کی قدرت نہیں رکھتے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ مسکین کا معنیٰ صرف مال و دولت کی وجہ سے محتاج نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی کمزوری اور ناتوانی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ مسکنت و ذلت میں یہ فرق ہے کہ ”ذلت “ دوسروں کی طرف سے وارد ہوتی ہے جبکہ ”مسکنت“ کسی شخص کی ذاتی اور اندرونی کم مائیگی و کم بینی کا معنیٰ دیتی ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا معنی یہ ہے کہ یہودی اول تو اپنی کارستانیوں کی وجہ سے دوسروں کی طرف سے دھتکارے گئے ہیں اور غضب خدا میں گرفتار ہوئے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہ ان کے لئے ایک ذاتی صفت بن گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ تمام امکانات کے باوجود احساس حقارت میں مبتلا ہیں۔ اس لئے اس جملہ میں کوئی استثناء موجود نہیں ہے۔ ذلِکَ بِاَنَّہُمْ کانُوا یَکْفُرُونَ بِآیاتِ اللَّہِ وَ یَقْتُلُونَ الْاَنْبِیاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ۔ آیت کے آخری حصے میں یہودیوں کی بد بختی کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اگر ایسی بد بختی میں گرفتار ہیں تو اس کی وجہ نسلی و خاندانی ہے نہ کہ دوسرے خصوصیات، بلکہ یہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اول تو یہ خدا کی آیات کا انکار کرتے تھے اور ثانیاً یہ کہ پیشوایان خلق اور نجات دہندگان بشر کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ مختلف نوعیت کے گناہوں، ظلم و ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا اور باقی لوگوں کے منافع پر تجاوز کرنے میں مبتلا تھے اور مسلم ہے کہ جو قوم اس قسم کے اعمال کا ارتکاب کرے گی، اس کی حالت بھی ان سے مشابہ ہو گی۔

یہودیوں کی عبرت ناک داستان

یہودیوں کی تاریخ گذشتہ آیات کے مطالب و مفاہیم کی مکمل تائید کرتی ہے اور ان کی موجودہ حالت بھی اس کی بشرت دیتی ہے۔ ان آیات میں ضُرِبَتْ عَلَیْہِم الذلة (ان پر مہر ذلت لگ چکی ہے) تشریعی حکم نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین اس کے قائل ہیں بلکہ یہ تکوینی ہے اور تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو قوم گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہو اور جن کا پروگرام دوسروں کے حقوق پر ہاتھ ڈالنا اور بشریت کے رہنماوٴں کو قتل کرنے پر مشتمل ہو ان کا انجام کار یہی ہو گا، مگر یہ کہ وہ اپنی طرزِ زندگی میں تبدیلی پیدا کریں اور اس راستہ سے پلٹ آئیں اور یا دوسرے لوگوں رابطہ قائم کر کے چند روزہ زندگی گذار لیں۔ جو واقعات اس دور میں اسلامی ممالک میں رونما ہو رہے ہیں یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں صہیونیت کا ایک خاص مقام حاصل کرنا، انہیں دوسروں کی مالیت حاصل کرنا اور بہت سے دیگر عوامل جن کی وجہ سے انہیں مقام حاصل ہے، یہ سب امور اس حقیقت کے شاہد ہیں جو ان آیات سے معلوم ہوتی ہے۔ شاید گزشتہ تلخ تجربات اور ان کی تاریخ کی راہ کو بدل دیا ہے یہ باعث نہیں کہ وہ اپنے پروگرام میں تجدید نظر کریں اور وہ دیگر اقوام کے ساتھ صلح و آشتی کے ساتھ پیش آئیں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کر کے ان کے ساتھ صلح آمیز زندگی گذاریں۔

113
3:113
۞لَيۡسُواْ سَوَآءٗۗ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ أُمَّةٞ قَآئِمَةٞ يَتۡلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُونَ
وہ سب برابر نہیں ہیں اہل کتاب میں ایک گروہ ایسا ہے جو (حق و ایمان کے ساتھ) قائم ہے اور وہ اوقات شب میں مسلسل حالت سجدہ میں آیات خدا کی تلاوت کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

114
3:114
يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
وہ خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں اور نیک کاموں کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں اور وہ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 115 کے تحت ملاحظہ کریں۔

115
3:115
وَمَا يَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَلَن يُكۡفَرُوهُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
جو نیک اعمال وہ سر انجام دیتے ہیں انہیں ہر گز نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور خدا پرہیز گاروں کو جانتا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

کہا جاتا ہے کہ جب عبداللہ بن سلام جو ایک یہودی عالم تھا۔ کچھ لوگوں کے ہمراہ مسلمان ہوا تو یہودیوں کے سرداروں کو بہت رنج پہنچا اور وہ اس بات کے درپے ہو گئے کہ انہیں شرارت کا الزام دیں تاکہ یہ لوگوں کی نگاہ میں گر جائیں تاکہ ان کا عمل دوسروں کے لئے نمونہ اور قابل تقلید نہ بنے لہٰذا علماءِ یہود نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم صرف شریر لوگ مسلمان ہوئے ہیں اگر وہ صحیح لوگ ہوتے تو اپنے آباوٴ اجداد کا دین نہ چھوڑتے اور ملت یہود کے ساتھ خیانت نہ کرتے۔ خداوند عالم نے ان آیات کو نازل کر کے ان کا دفاع کیا ہے۔

تفسیر

”لَیْسُوا سَواءً مِنْ اَھْلِ الْکِتابِ اُمَّةٌ قائِمَةٌ یَتْلُونَ آیاتِ اللَّہِ آناءَ اللَّیْلِ “(تشریحی نوٹ: آناء، دراصل ”انا“ بروزن ”وفا“) کی جمع ہے اور ”انا“ (بروزن ”فنا“) کا معنیٰ ہے اوقات)۔ گذشتہ آیت میں یہودیوں کے برُے افراد کی شدید مذمت کے بعد قرآن کریم اس آیت میں عدالت کے پیش نظر اور ان کے اچھے افراد کے حقوق کے احترام کی وجہ سے اور یہ حقیقت بتانے کے لئے، کہ ان سب کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا، کہا کہ اہل کتاب تمام کے تمام ایک جیسے نہیں بلکہ تباہ کار افراد کے مقابلے میں ایسے نیک طینت افراد بھی موجود ہیں جو خدا کی اطاعت اور ایمان پر ثابت قدم ہیں وہ ہمیشہ نیم شب کو آیات خدا کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور عظمت پروردگار کے سامنے سر بسجود ہو جاتے ہیں اور خدا و روز جزاء پر ایمان رکھتے ہیں، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ وہ صالح اور باایمان افراد ہیں۔ اسی طرح بجائے اس کے کہ خدا یہودی نسل کی کلی طور پر مذمت کرے اور ان کی مخالفت کرے یا ان کے خون کو برا کہے، صرف ان کے برُے اعمال کی نشاندہی کرتا ہے اور ان افراد کی تعظیم و تکریم کرتا ہے اور اچھائی سے یاد کرتا ہے جنہوں نے فاسد اکثریت سے جدا ہو کر حق و ایمان کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے اور یہی اسلام کی روش ہے کہ کبھی رنگ یا نسل و قبیلہ کو مدنظر نہیں رکھتا بلکہ وہ صرف لوگوں کے عقائد اور ان کے اعمال کو نظر میں رکھتا ہے۔ ضمناً چند ایک روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آیات صرف عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھیوں کے لئے منحصر نہیں بلکہ ان کے علاوہ نجران کے چالیس عیسائی، حبشہ کے بائیس افراد اور آٹھ رومی بھی اس آیت کے مصداق ہیں اور اہل کتاب کی وسیع تعبیر اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ”وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ“ یہ آیت دراصل پہلی آیات کی تکمیل کرتی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے نیک اعمال کی بہترین جزا ہو گی یعنی گذشتہ عمر میں اگرچہ غلطیوں کے مرتکب رہے ہوں، جب انہوں نے اپنی روش بدلی اور پرہیزگاروں کی صف میں شامل ہو گئے تو یہ اپنے نیک اعمال کا ثمرہ دیکھ لیں گے اور خدا کی طرف سے ہرگز ناقدری نہیں پائیں گے۔ ”واللہ علیم بالمتقین“ باوجود یہ کہ خدا تمام چیزوں کو جاننے والا ہے، اس جملہ میں خصوصیت سے کہتا ہے کہ خداوند عالم پرہیزگاروں سے آگاہ ہے اور یا یہ تعبیر پرہیزگار لوگوں کی اقلیت غمازی کرتی ہے۔ خصوصاً پیغمبر کے زمانے کے یہودیوں میں سے تو یہ راستہ اختیار کرنے والے بہت ہی اقلیت میں تھے اور یہ فطری بات ہے کہ اس قسم کے کم تعداد افراد نظر میں نہیں رہتے لیکن پروردگار عالم کے وسیع علم کی تیز نگاہ سے یہ لوگ ہرگز مخفی نہیں رہیں گے اور خدا ان سے آگاہ ہے۔ ان کے نیک اعمال کم ہوں یا زیادہ ہرگز رائیگاں نہیں ہوں گے۔

116
3:116
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ ہر گز اپنے اموال اور اولاد کے ذریعے اللہ کے عذاب و سزا سے نہیں بچ سکتے وہ اہل جہنم ہیں اور ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 117 کے تحت ملاحظہ کریں۔

117
3:117
مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَثَلِ رِيحٖ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٖ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَأَهۡلَكَتۡهُۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنۡ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
جو کچھ وہ اس دنیاوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں وہ جلانے والی (گرم) ہوا کی مانند ہے جو اس قوم کی زراعت پر چل پڑے جس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ پس وہ اسے نیست و نابود کر دے خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”إِنَّ الَّذینَ کَفَرُو الَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوالُہُمْ وَ لا اَوْلادُہُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئا“ گذشتہ آیت میں جن حق جو اور باایمان افراد کی ستائش کی گئی ہے۔ ان کے مقابلہ میں بےایمان اور ستمگر لوگ ہیں ان کی حالت ان دو آیات میں بیان کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے، وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ ہرگز اپنے مال و دولت اور اولاد کی کثرت کے گھمنڈ میں خدا کی سزا سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے کیونکہ روز جزاء صرف نیک عمل، صدق و ایمان اور خلوص نیت ہی انسان کے کام آئے گی نہ کہ اس جہان کے مادی امتیازات۔ ”یوم لا ینفع مال و لا بنون الامن اتی اللّہ بقلب سلیم“ اس دن مال اولاد ذرہ برابر فائدہ نہیں دیں گے مگر یہ کہ وہ پاک و صاف دل لے کر بارگاہ الہی میں حاضر ہو۔ (الشعراء آیہ ۸۸ ۔۸۹) مادی وسائل میں سے صرف دولت اور اولاد کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے ہوا ہے کہ اہم ترین مادی سرمایہ ایک تو افرادی قوت ہے جس کی طرف اولاد سے اشارہ کیا گیا ہے اور دوسرا اقتصادی سرمایہ ہے اور دیگر مادی وسائل کا سرچشمہ یہی دونوں چیز ہیں۔ قرآن واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ صرف مال و متاع اور افرادی قوت کے بل بوتے پر خدا کے ہاں امتیاز حاصل نہیں کیا جا سکتا اور انہی پر بھروسہ کرنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے مگر یہ کہ انہیں ایمان اور خلوص نیت کے ساتھ صحیح راستوں میں خرچ کیا جائے، ورنہ بصورت دیگر ان کے مالکوں کا انجام کار دائمی عذاب ہے۔ (اُولئِکَ اَصْحابُ النَّارِ ہُمْ فیہا خالِدُونَ)۔ ”مَثَلُ ما یُنْفِقُونَ فی ہذِہِ الْحَیاةِ الدُّنْیا کَمَثَلِ ریحٍ فیہا صِرٌّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ صر اور اصرارایک ہی اصل سے ہیں اور ان کے معنیٰ شدت کے ساتھ جڑواں چیز کو باندھنے کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد ہوا کی شدت و سختی ہے چاہے وہ ہوا جلانے والی ہو یا ٹھنڈی اور خشک کرنے والی۔ اس آیت میں ان کی ریاکارانہ سخاوت اور خرچ کرنے کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے اور ایک بہترین مثال کے ذریعے ان کے انجام کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ قرآن کریم کفار کے خرچ کرنے کو سخت قسم کی جلا دینے والی یا بہت سرد اور خشک کر دینے والی ہوا سے تشبیہ دیتا ہے جو کسی زراعت پر چل پڑے اور اسے خشک کر دے۔ البتہ ہوا کی فطرت و طبیعت جلا دینے والی نہیں ہے چنانچہ نسیم و بہار شگوفوں پر نوازش کرتی ہے۔ غنچوں کے دہن کو کھول دیتی ہے اور درختوں کے سانچوں میں روح پھونک کر انہیں بار آور کر دیتی ہے۔ اسی طرح انفاق اور خرچ کرنے کا سرچشمہ بھی ایمان و خلوص ہو تو اسی طرح ثمر آور ہے۔ وہ اجتماعی مشکلات کو بھی حل کر دیتا ہے اور احسان کرنے والے کے دل میں ایک دیرپا اثر بھی چھوڑ جاتا ہے اور اس کے قلب میں اچھی صفات اور فضائل کے سرچشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ لیکن اگر یہ حیات آفرین باد نسیم طوفان بن جائے یا بہت زیادہ ٹھنڈی ہوا میں تبدیل ہو جائے تو وہ جس پھول اور سبزہ پر چلے گی اسے تباہ کر دے گی۔ بےایمان اور گناہ آلود افراد کا چونکہ انفاق میں صحیح مقصد نہیں ہوتا اس لئے خود نمائی اور ریا کاری کی روح کو جلانے والی خشک ہوا ان کے انفاق کی زراعت پر چل پڑتی ہے اس قسم کے اخراجات نہ اجتماعی مشکلات کا سدّباب کر سکتے ہیں (چونکہ زیادہ تر یہ بےجا صرف ہوتے ہیں) اور نہ خرچ کرنے والے کے لئے کوئی اخلاقی ثمرہ دیتے ہیں۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ ارشاد ہوا ہے: حرث قوم ظلموا یعنی اس جلانے اور خشک کرنے والی ہوا کا نشانہ ایسے لوگوں کی زراعت ہے جو اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ زراعت کے لئے وقت اور جگہ کے انتخاب میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور انہوں نے ایسی زمین میں تخم ریزی کی ہے کہ جو طوفانی ہواوٴں کی زد میں تھی اور ایسا وقت چنُا ہے جو گرم ہوا کے چلنے کا تھا۔ اس طرح انہوں نے اپنے اوپر خود ظلم کیا ہے۔ یوں ہی بےایمان افراد انفاق کرتے وقت اور جگہ کے انتخاب میں اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اور اپنا سرمایہ نامناسب مقام پر برباد کرتے ہیں۔ گذشتہ تفصیل اور آیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تشبیہ درحقیقت دو علیحدہ علیحدہ چیزوں کے درمیان ہے ایک تو ان کے انفاق کو بے موقع و بےمحل زراعت سے تشبیہ دی گئی ہے اور دوسری خرچ کرنے کی وجہ اور علت کو ٹھنڈی اور جلانے والی ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بنا بر ایں آیت میں کچھ تقدیر ضرور ہے اور ”مثل ماینفقون“ کے معنی یہ ہیں کہ ان کے انفاق کے اسباب و علل کی مثال خشک، سرد اور جلانے والی ہوا کی طرح ہے (غور کیجئے گا)۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ان اموال کی طرف اشارہ کرتی ہے جو دشمنان اسلام دین کو تباہ و برباد کرنے کے لئے صرف کرتے تھے اور اس کے ذریعے وہ مخالفین اسلام کو رسول اسلامؐ کے خلاف اکساتے تھے یا وہ اموال مراد ہیں جو یہودی اپنے علماء کو کتب آسمانی میں تحریف کرنے کے عوض دیتے تھے۔ لیکن واضح ہے کہ آیت کے مفہوم میں عمومیت ہے اور یہ ان لوگوں کے علاوہ اس قسم کے باقی افراد کے لئے بھی ہے۔ ”وَ ما ظَلَمَہُمُ اللَّہُ وَ لکِنْ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ“ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے کہ خدا نے اس سلسلہ میں ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور وہ اپنا سرمایہ خود برباد کرتے ہیں کیونکہ فاسد اور برے کام کا نتیجہ فاسد اثر کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

118
3:118
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ
اے ایمان والو ! اپنوں کے علاوہ کسی کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانے کے بارے میں کوتاہی نہیں کریں گے وہ تمہاری تکلیف پر خوش ہوتے ہیں ان کے دل کی دشمنی اور عداوت ان کے منہ سے نکل پڑتی ہے اور جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی شدید تر ہے ہم نے آیات (اور ان سے محفوظ رہنے کی تدابیر) تمہارے لیے واضح کر دی ہیں بشرطیکہ تم عقل و خرد سے کام لو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 120 کے تحت ملاحظہ کریں۔

119
3:119
هَـٰٓأَنتُمۡ أُوْلَآءِ تُحِبُّونَهُمۡ وَلَا يُحِبُّونَكُمۡ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۚ قُلۡ مُوتُواْ بِغَيۡظِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
تم عجیب لوگ ہو کہ انہیں دوست رکھتے ہو لیکن وہ تمہیں دوست نہیں رکھتے۔ حالانکہ تم تمام آسمانی کتب پر ایمان رکھتے ہو اور جس وقت وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو شدید غیظ و غضب سے اپنی انگلیاں کاٹنے لگ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو خدا سینوں میں چھپے ہوئے (اسرار) سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 120 کے تحت ملاحظہ کریں۔

120
3:120
إِن تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡ وَإِن تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٞ يَفۡرَحُواْ بِهَاۖ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔاۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
اگر تمہیں کوئی راحت ملتی ہے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں لیکن تم اگر ان کے مقابلے میں ثابت قدمی اور پرہیزگاری اختیار کرو گے تو ان کی سازشیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں خدا اس چیز پر احاطہ رکھتا ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کچھ مسلمان یہودیوں سے قرابتداری و ہمسائیگی رشتہٴ رضاعت یا قبل اسلام کے عہدو پیمان کی وجہ سے دوستی رکھتے تھے اور ان کے ساتھ اس خلوص و محبت سے پیش آتے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں کے بھید ان پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اس طریقہ سے یہودی مسلمانوں کے رازوں سے آگاہ ہو جاتے تھے حالانکہ وہ اندرونی طور پر مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اگرچہ ظاہری طور پر اپنے آپ کو ان کے دوست ظاہر کرتے تھے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی کہ چونکہ وہ لوگ تمہارے دین میں نہیں آئے اس لئے انہیں اپنا راز دار نہ بناوٴ کیونکہ وہ تمہارے بارے میں کسی برائی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کی خواہش ہے کہ تم ہمیشہ مصیبت میں رہو۔

تفسیر اغیار کو راز داں نہ بناوٴ

”یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِکُمْ ۔۔۔۔۔۔۔“ ”بطانت“ کے لغوی معنیٰ ہیں نچلا لباس اور اس کے مقابلہ میں ”ظہارہ“ (اوپر کا لباس) ہے یہاں یہ رازداں سے کنایہ ہے اور ”خیال“ اصل میں کسی چیز کے نیست و نابود ہونے کے معنیٰ میں ہے اور زیادہ تر ان نقصانات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو عقل انسانی پر اثر انداز ہوں۔ گذشتہ آیات میں مسلمانوں اور کفار کا تقابل کیا گیا۔ اس آیت میں ایک حساس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور حسین و لطیف تشبیہ کے ذریعے تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنے ہم مسلک افراد کے علاوہ کسی کو اپنا دوست اور ہمراز ہونا چاہیے کیونکہ وہ مسلمانوں کو گذند پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے (لایالونکم خبالا)۔ سابقہ دوستی ہرگز ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی کہ وہ مذہب و مسلک کی بنا پر تمہاری تکلیف و نقصان کا نہ سوچیں بلکہ ان کی ہمیشہ خواہش یہ ہے کہ تم غم و اندوہ میں مبتلاء رہو (ودّوا ما عنتم)۔ وہ عموماًاپنی رفتار و گفتار میں احتیاط برتتے ہیں اور سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں تاکہ تم پر ان کے راز فاش نہ ہوں اور نہ کی مخفی باتوں کا تمہیں علم ہو ۔لیکن اس کے باوجود دشمنی و عداوت کے آثار ان کی باتوں سے ٹپکتے ہیں اور کبھی کبھار لاشعوری طور پر کچھ باتیں ان کی زبان پر آ جاتی ہیں جو ان کے دلوں میں آگ کی چنگاریوں کی مانند ہیں اور ان کی وجہ سے ان کے باطن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ (قد بدت البغضاء من افواھھم)۔ آیت وہ حقیقت بیان کر رہی ہے جس کی طرف حضرت علی علیہ السلام نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا ہے کہ: ”ما اضمر احد شیئاالاظھر فی صفحات وجھہ او فلتات لسانہ“ کوئی شخص اپنے باطن میں کسی راز کو نہیں چھپا سکتا مگر یہ کہ وہ اس کے چہرے کے رنگ اور اکھڑی اکھڑی، توجہ سے خالی باتوں سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس سے خداوند عالم نے دشمنوں کے باطن کو پہچاننے کے طریقہ کی نشاندہی کی ہے اور ان کی اندرونی باتوں کے متعلق فرماتا ہے کہ جو کچھ عداوت اور دشمنی وہ اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کئی درجہ زیادہ ہے جس کا وہ زبان سے اظہار کرتے ہیں (وما تخفی صدورھم)۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے یہ آیات اس لئے بیان کیں کہ ان میں تدبر کرنے سے تم دوست، دشمن کو بآسانی سمجھ سکو گے اور دشمنوں کے شر سے خلاصی حاصل کر لو گے (قد بینا لکم الآیات ان کنتم تعقلون)۔ ہا اَنْتُمْ اُولاءِ تُحِبُّونَہُمْ وَ لا یُحِبُّونَکُمْ وَ تُؤْمِنُونَ بِالْکِتابِ کُلِّہِ۔۔۔۔۔۔ اے گروہ مسلمین! تم ان سے قرابت، ہمسائیگی یا کسی اور سبب سے دوستی کا رشتہ قئم کرتے ہو مگر اس سے غافل ہو کہ وہ تمہیں ہرگز دوست نہیں رکھتے۔ حالانکہ تم اللہ کی طرف سے کردہ تمام آسمانی کتب پر ایمان رکھتے ہو (چاہے وہ تمہاری کتاب ہو یا ان کی آسمانی کتب) لیکن وہ تمہاری آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ ”وَ إِذا لَقُوکُمْ قالُوا آمَنَّا وَ إِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَیْکُمُ الْاَنامِلَ مِنَ الْغَیْظِ۔۔ “اہل کتاب کا یہ گروہ دوغلا پن کرتا ہے جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم تمہارے دین کی تصدیق کرتے ہیں لیکن جب علیحدگی میں ہوتے ہیں تو کینہ و عداوت اور غصہ سے اپنی انگلیوں کی پوریں کاٹتے ہیں (قُلْ مُوتُوا بِغَیْظِکُمْ)۔ کہہ دو! اپنے غصہ میں جل مرو اور یہ غیظ و غضب مرتے دم تک تم سے جدا نہیں ہو گا۔ ”إِنَّ اللَّہَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور“ تم ان کی کیفیت سے آگاہ نہیں ہو لیکن وہ خدا ان کی خبر رکھتا ہے کیونکہ وہ دلوں میں چھپے ہوئے بھیدوں سے واقف ہے۔ إِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْہُمْ وَ إِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَةٌ یَفْرَحُوا بِہا۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں ان کے بغض و کینہ کی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ اگر تمہیں فتح و کامیابی نصیب ہو تو وہ ناخوش ہوتے ہیں اور تمہیں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ مسرور ہوتے ہیں۔ ”وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا لا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئاً إِنَّ اللَّہَ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطٌ۔ لیکن اگر تم ان کی کینہ پروریوں کے مقابلہ میں صبر سے کام لو خوددار و پرہیزگار ہو جاوٴ تو وہ اپنی خائن سازشوں کے ذریعے تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکتے کیونکہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اس پر خدا مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ بنا برایں آیت کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے دشمنوں کی برُی سازشوں سے بچنے کے لئے استقامت، ہوشیاری اور تقویٰ شرط ہے اور اسی صورت میں ان سے مامون رہنے کی ضمانت دی گئی ہے۔

مسلمانوں کے لئے تنبیہ

خداوند عالم اس آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو اپنا عزیز نہ سمجھیں اور مسلمانوں کی راز کی باتیں ان کے سمنے ظاہر نہ کریں۔ یہ خطرے کی نشاندہی عمومی شکل میں ہے، ہر زمانہ اور ہر حالت میں مسلمانوں کو اس تنبیہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے لیکن تاٴسف ہے کہ قرآن کے بہت سے ماننے والے اس تنبیہ سے غفلت برتتے ہیں اور اس کے نتیجے بہت سی مشکلات میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ عصر حاضر میں بھی مسلمانوں کے گرد وپیش ایسے خفیہ دشمن ہیں جو اپنے آپ کو ان کا دوست ظاہر کرتے ہیں اور ظاری طور پر مسلمانوں کی حمایت کا دم بھرتے ہیں لیکن ان کی کارستانیاں ان کا جھوٹ ظاہر کر تی ہیں۔ مسلمان ان کے ظاہر سے دھوکا کھا کر ان پر اعتماد کرتے ہیں۔حالانکہ وہ مسلمانوں کے لئے پریشانی اور روسیاہی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور ان کی راہ میں کانٹے بچھا کر ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں گذشتہ چند سالوں میں مسلمان دو بڑی جنگوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ پہلی جنگ میں انہیں درد ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ دوسری جنگ میں وہ واضح کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے اور دشمنوں کا وحشت ناک رعب اور ناقابل شکست ہونے کا افسانہ صحرائے سینا اور جولان کی پہاڑیوں کے معرکے میں پہلے دن دفن ہو گیا اور مسلمانوں نے پہلی مرتبہ کامیابی کا ذائقہ چکھا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا کہ اس مختصر سی مدت میں حالات دگرگوں ہو گئے۔ اس سوال کے لئے ایک طویل و عریض جواب کی ضرورت ہے لیکن اس شکست و کامیابی کا ایک موٴثر عامل یہ تھا کہ پہلی جنگ میں اغیار جن میں سے بعض ظاہراً دوستی کا دم بھرتے تھے مسلمانوں کے جنگی منصوبوں سے واقف نہیں تھا اور یہی ان کی کامیابی کا راز تھا اور یہ اس حکم قرآنی کی عظمت کی بیّن دلیل تھی۔

121
3:121
وَإِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ أَهۡلِكَ تُبَوِّئُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلۡقِتَالِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور( یاد کرو) وہ وقت جب تم صبح کے وقت اپنے گھر والوں سے مومنین کے لئے لشکر جنگ انتخاب کرنے باہر نکلے خدا سننے اور جاننے والا ہے (جنگ کے بارے میں جوبعض لوگوں نے باتیں کیں خدا سب کو جانتا ہے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔

122
3:122
إِذۡ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمۡ أَن تَفۡشَلَا وَٱللَّهُ وَلِيُّهُمَاۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
اور (یا د کرو) وہ وقت جب تم میں سے دو گروہوں نے سستی کا مظاہرہ کرنے کا مصمم ارادہ کیا (اور چاہا کہ وہ راستے سے پلٹ جائیں ) اور خدا ان کا مددگار تھا (کہ وہ اس فکر سے باز آ جائیں ) اور اہل ایمان کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”وَ إِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّءُ الْمُؤْمِنِینَ مَقاعِدَ لِلْقِتالِ وَ اللَّہُ سَمیعٌ عَلیمٌ۔“ یہاں سے ایک اہم اور وسیع اسلامی واقعہ یعنی جنگ احد کے بارے میں آیات شروع ہوئی ہیں۔ گذشتہ آیات کے قرائن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیات جنگ احد کے بعد نازل ہوئیں ہیں اور اس وحشتناک کے بعض پہلووٴں کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور بہت سے مفسرین کا بھی یہی نظریہ ہے۔ سب سے پہلے یہ پیغمبرؐ کے مدینہ سے کوہ احد کے دامن میں لشکر گاہ کے انتخاب کے لئے باہر آنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبرؐ یاد کرو! اس دن کو کہ صبح کے وقت تم اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر مدینہ سے باہر آئے تاکہ دشمن سے جنگ کرنے کے لئے مومنین کے لئے کوئی لشکر گاہ تیار کر سکو۔ اس روز مسلمانوں کے درمیان چہ میگوئیاں ہوئیں اس کی طرف ہم واقعے احد کی تفصیل میں اشارہ کریں گے۔ مقام جنگ کے انتخا ب کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف تھا کہ آیا مدینہ میں ہو یا باہر اور رسالتمابؐ نے اکثریت کے نظریہ کو قبول کر لیا اور لشکر گاہ شہر سے باہر کوہ احد کے دامن میں منتقل کر دی۔ فطری طور پر ان میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے کچھ باتیں دل میں چھپا رکھی تھی اور کئی وجوہات کی بنا پر انہیں ظاہر کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ ”وَ اللَّہُ سَمیعٌ عَلیمٌ۔“ کا جملہ گویا ان سب کی حالت کی غمازی کرتا ہے کہ خدا تمہاری باتوں کو بھی سنتا ہے اورتمہارے مخفی بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ”إِذْ ہَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ اس جملہ کا روئے سخن اس ماجرے کے ایک اور پہلو کی طرف ہے اور وہ یہ کہ اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ (تاریخ کے مطابق قبیلہ اوس میں سے بنو سلمہ اور خزرج میں سے بنو حارثہ) نے پختہ ارادہ کر لیا کہ وہ جنگ سے پہلوتہی کرتے ہوئے ایک راستے سے مدینہ کی طرف پلٹ آئیں گے اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ مدینہ کے اندر جنگ کرنے کے حق میں تھے لیکن پیغمبر اکرمؐ نے اس بات کو قبول نہ کیا علاوہ ازایں جیسا کہ واقعے کی تفصیل سے ہو جائے گا کہ عبداللہ بن سلول تین سو یہودیوں کے ہمراہ لشکر اسلام میں آیا تھا اور اس صورتحال کی وجہ سے وہ لوگ بھی مدینہ کی طرف واپس آ گئے۔ اس بات نے دو مسلمان گروہوں کے لوٹ جانے کے پختہ ارادوں کو متزلزل اور کمزور کر دیا لیکن جیسا کہ آیت کے ذیل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں گروہ اپنے ارادہ سے پلٹ آئے اور دیگر مسلمانوں سے آ ملے۔ اس لئے قرآن کہتا ہے کہ ”وَ اللَّہُ وَلِیُّہُما وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ“۔ یعنی خدا ان دو گروہوں کا معاون و مددگار ہے اور اہل ایمان کو خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ضمنی طور پر اس بات کی طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے کہ واقعہ احد کا ذکر ان آیات کے بعد جو کفار پر اعتماد نہ کرنے کے بارے میں تھیں۔ اس زندہ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی گذر چکا ہے اور بعد میں بھی تفصیل کے ساتھ بتائیں گے کہ پیغمبر اکرمؐ نے ان یہودیوں کو اجازت نہ دی جو بظاہر مسلمانوں کی حمایت کے لئے کھرے ہوئے تھے اور وہ اسلامی لشکر گاہ میں ٹھہرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ پھر بھی بیگانے تھے اور ان نازک حالات میں ان کا مسلمانوں کے ساتھ ہونا مناسب نہ تھا۔

جنگِ اُحد اسباب جنگ

اس مقام پر ضروری ہے کہ پہلے جنگ احد کے مجموعی واقعات کا تزکرہ کیا جائے۔ روایات اور اسلامی تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کفار مکہ جنگ بدر میں شکست خوردہ ہوئے اور ستر مقتول ستر قیدی چھوڑ کر مکہ کی طرف پلٹ گئے تو ابوسفیان نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی عورتوں کو مقتولین بدر پر گریہ و زاری نہ کرنے دیں کیونکہ آنسو غم و اندوہ کو دور کر دیتے ہیں اور اس طرح محمدؐ کی دشمنی اور عداوت ان کے دلوں سے زائل ہو جائے گی۔ ابوسفیان نے خود یہ عہد کر رکھا تھا کہ جب تک جنگ بدر کے قاتلوں سے انتقام نہ لے لے اس وقت تک وہ اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کرے گا۔ بہرحال قریش ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے اور انتقام کی صدا شہر مکہ میں بلند ہو رہی تھی۔ ہجرت کے تیسرے سال قریش تین ہزار سوار اور دو ہزار پیدل فوج کے ساتھ بہت سا سامان جنگ لے کر آپؐ سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلے اور میدان جنگ میں ثابت قدمی سے لڑنے کے لئے اپنے بڑے بڑے بت اور اپنی عورتیں بھی ہمراہ لے آئے۔

جناب عباس کی بروقت اطلاع

حضرت رسول خداؐ کے چچا حضرت عباس جو ابھی مسلمان (تشریحی نوٹ: ابھی ظاہراً مسلمان نہیں ہوئے تھے) نہیں ہوئے تھے اور قریش کے درمیان ان کے ہم مشرب اہم مذہب تھے۔ لیکن اپنے بھتیجے سے فطری محبت کی بناء پر جب انہوں نے دیکھا کہ قریش کا ایک طاقتور لشکر پیغمبرؐ سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلا ہے تو فوراً ایک خط لکھا اور قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی کے ہاتھ مدینہ بھیجا۔ عباس کا قاصد بڑی تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب آپؐ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؐ نے سعد بن ابی کو پیغام پہنچایا اور حتیٰ الامکان اس واقعے کو پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی پیغمبرؐ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا جس دن عباس کا قاصد آپؐ کو موصول ہوا آپؐ نے چند مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مکہ مدینہ کے راستے پر جائیں اور لشکر کفار کے کوائف معلوم کریں۔ آپؐ کے دو نمائندے ان کے حالات معلوم کر کے بہت جلدی واپس آئے اور قریش کی قوت و طاقت سے آنحضرتؐ کو مطلع کیا اور یہ بھی اطلاع دی کہ یہ طاقتور لشکر خود ابوسفیان کی کمان میں ہے۔ پیغمبر اکرمؐ نے چند روز کے بعد تمام اصحاب اور اہل مدینہ کو بلایا اور ان درپیش حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے میٹنگ کی۔ اس میں عباس کے خط کو بھی ہیش کیا گیا اور اس کے بعد مقام جنگ کے بارے میں رائے لی گئی۔ اس میٹنگ میں ایک گروہ نے رائے دی کہ جنگ دشمن سے مدینہ کی تنگ گلیوں میں کی جائے کیونکہ اس صورت میں کمزور مرد، عورتیں بلکہ کنیزیں بھی مددگار ثابت ہو سکیں گی۔ عبد اللہ بن ابی نے تائیداً کہا یا رسول اللہؐ! آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم اپنے قلعوں اور گھروں میں ہوں اور دشمن ہم پر کامیاب ہو گیا ہو۔ اس رائے کو آپؐ بھی اس وقت کی مدینہ کی پوزیشن کے مطابق بنظر استحسان دیکھتے تھے کیونکہ آپؐ بھی مدینہ ہی میں ٹھرنا چاہتے تھے لیکن نوجوانوں اور جنگجو لوگوں کا ایک گروپ اس کا مخالف تھا۔ چنانچہ سعد بن معاذ اور قبیلہ اوس کے چند افراد نے کھڑے ہو کر کہا اے رسول خداؐ! گذشتہ زمانہ میں عربوں میں سے کسی کو یہ جراٴت نہ تھی کہ ہماری طرف نظر کرے جبکہ ہم مشرک اور بت پرست تھے، اب جبکہ ہمارے درمیان آپؐ کی ذات ستودہ صفات موجود ہے۔ کس طرح وہ ہمیں دبا سکتے ہیں اس لئے شہر سے باہر جنگ کرنی چاہئے۔ اگر ہم میں سے کوئی مارا گیا تو وہ جام شہادت نوش کرے گا اور اگر کوئی بچ گیا تو اسے جہاد کا اعزاز و افتخار نصیب ہو گا۔ اس قسم کی باتوں اور جوش شجاعت نے مدینہ سے باہر جنگ کے حامیوں کی تعداد کو بڑھا دیا یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی کی پیش کش سرد خانے میں جا پڑی۔ خود پیغمبرؐ نے بھی اس مشورہ کا احترام کیا اور مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کے طرفداروں کی رائے کو قبول فرما لیا اور ایک صحابی کے ساتھ مقام جنگ کا انتخاب کرنے کے لئے شہر سے باہر تشریف لے گئے آپؐ نے کو احد کا دامن لشکر گاہ کے لئے انتحاب کیا کیونکہ جنگی نقطہ نظر سے یہ مقام زیادہ بہتر تھا۔

مسلمانوں کی دفاعی تیاریاں

جمعہ کے دن آپؐ نے یہ مشورہ لیا اور نماز جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہوئے آپؐ نے حمد و ثنا کے بعد مسلمانوں کو لشکر قریش کے آنے کی اطلاع دی اور فرمایا کہ تہ دل سے جنگ کے لئے آمادہ ہو جاوٴ اور پورے جذبہ سے دشمن سے لڑو تو خداوند قدوس تمہیں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرے گا اورا سی دن آپؐ ایک ہزار افراد کے ساتھ لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپؐ خود لشکر کی کمان کر رہے تھے۔ مدینہ سے نکلنے سے قبل آپؐ نے حکم دیا کہ لشکر کے تین علم بنائیں جائیں جن میں ایک مہاجرین اور دو انصار کے ہوں۔ پیغمبر اکرمؐ نے مدینہ اور احد کے درمیانی فاصلہ کو پاپیادہ طے کیا اور سارے اور سارے راستہ لشکر کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ خود لشکر کی صفوں کو منظم و مرتب رکھا تاکہ وہ ایک ہی صف میں مارچ کریں۔ ان میں سے کچھ ایسے افراد کو دیکھا جو پہلی دفعہ آپؐ کو نظر پڑے۔ پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں، بتایا گیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی کچھ یہودی ہیں اور اس مناسبت سے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے میں مشرکین سے مدد نہیں لی جا سکتی مگر یہ کہ یہ اسلام قبول کر لیں۔ یہودیوں نے اس شرط کو قبول نہ کیا اور سب مدینہ کی طرف پلٹ آئے۔ یوں ایک ہزار میں سے تین سو افراد کم ہو گئے۔ (بحوالہ سیرت جلی، جلد ۲، واقعہ جنگ احد)۔ لیکن مفسرین نے لکھا ہے کہ چونکہ عبداللہ بن ابی کی رائے کو رد کیا گیا تھا اس لئے وہ اثنائے راہ میں تین سو سے زیادہ افراد کو لے کر مدینہ کی طرف پلٹ آیا۔ بہرصورت پیغمبر اکرمؐ لشکر کی ضروری چھان پھٹک (ہیودیوں یا بن ابی کے ساتھیوں کو نکالنے) کے بعد سات سو افراد کو ہمراہ لے کر کوہ احد کے دامن میں پہنچ گئے اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کی صفوں کو آراستہ کیا۔ عبداللہ بن جبیر کو پچاس ماہر تیر اندازوں کے ساتھ پہاڑ کے درہ پر تعینات کیا اور انہیں تاکید کی کہ وہ کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں اور فوج کے پچھلے حصہ کی حفاظت کریں اور اس حد تک تاکید کی کہ اگر ہم دشمن کا مکہ تک پیچھا کریں یا ہم شکست کھا جائیں اور دشمن ہمیں مدینہ تک جانے پر مجبور کر دے پھر بھی تم اپنا مورچہ نہ چھوڑنا۔ دوسری طرف سے ابوسفیان نے خالد بن ولید کو منتخب سپاہیوں کے ساتھ اس درہ کی نگرانی پر مقرر کیا اور انہیں ہر حالت میں وہیں رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ جب اسلامی لشکر اس درہ سے ہٹ جائے تو فوراً لشکر اسلام پر پیچھے سے حملہ کر دو۔

آغاز جنگ

دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف بستہ ہو کر جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے اور یہ دونوں لشکر اپنے نوجوانوں کو ایک خاص انداز سے برانگیختہ کرتے تھے۔ ابوسفیان کعبہ کے بتوں کے نام لے کر اور خوبصورت عورتوں کے ذریعے اپنے جنگی نوجوانوں کی توجہ مبذول کر کے ان کو ذوق و شوق دلاتا تھا جب کہ پیغمبر اسلام خداؐ کے اسم مبارک اور انعامات اعلیٰ کے حوالے سے مسلمانوں کو جنگ کی ترغیب دیتے تھے۔ اچانک مسلمانوں کی صدائے اللہ اکبر سے میدان اور دامن کوہ کی فضا گونج اٹھی جبکہ میدان کی دوسری طرف قریش کی لڑکیوں نے دف اور سارنگی اشعار گا گا کر قریش کے جنگجو احساسات کو ابھارا۔ جنگ کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں نے ایک شدید حملہ سے لشکر قریش کے پرخچے اڑا دئے اور وہ حواس باختہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور لشکر اسلام نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ خالد بن ولید نے جب قریش کی یقینی شکست دیکھی تو اس نے چاہا کہ درہ کے راستے سے نکل کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کیا جائے۔ لیکن تیر اندازوں نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا قریش کے قدم اکھڑتے دیکھ کر تازہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے دشمن کو شکست خوردہ دیکھ کر مال غنیمت جمع کرنے کے لئے اچانک اپنی پوزیشن چھوڑ دی۔ ان کی دیکھا دیکھی درہ پر تعینات تیر اندازوں نے بھی اپنا مورچہ چھوڑ دیا۔ ان کے کمانڈر عبداللہ بن جبیر نے انہیں آپؐ کا حکم یاد دلایا مگر سوائے چند (تقریباً دس افراد) کے کوئی اس اہم جگہ پر نہ ٹھہرا۔ حکم پیغمبرؐ کی مخالفت کا نتیجہ یہ نکلا کہ خالد بن ولید نے درہ خالی دیکھ کر بڑی تیزی سے عبداللہ بن جبیر پر حملہ کیا اور اسے اس کے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں نے ہر طرف چمکیلی تلواروں کی تیز دھاروں کو اپنے سروں پر دیکھا تو حواس باختہ ہو گئے اور اپنے آپ کو منظم نہ رکھ سکے۔ قریش کے بھگوروں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ بھی پلٹ آئے اور مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اسی موقع پر لشکر اسلام کے بہادر افسر سید الشہدا حضرت حمزہ (ع) نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ سوائے چند شمع رسالت کے پروانوں کے باقی مسلمانوں نے وحشت زدہ ہو کر میدان کو دشمن کے حوالہ کر دیا۔ اس خطرناک جنگ میں جس نے سب سے زیادہ فدا کاری کا مظاہرہ کیا اور پیغمبر پر ہونے والے ہر حملہ کا دفاع کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے۔ حضرت علی (ع) بڑی جراٴت اور بےجگری سے جنگ کر رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی تلوار ٹوٹ گئی اور پیغمبر اکرمؐ نے اپنی تلوار آپ (ع) کو عنایت فرمائی جو ذوالفقار کے نام سے مشہور ہے۔ بالآخر آپؐ ایک مورچہ میں ٹھہر گئے اور حضرت علی (ع) مسلسل آپؐ کا دفاع کرتے رہے یہاں تک کہ بعض مورخین کی تحقیق کے مطابق حضرت علی (ع) کے جسم کو ساٹھ زخم آئے اور اسی موقع پر قاصد وحی نے پیغمبرؐ سے عرض کیا: اے محمدؐ! یہ ہے مواسات و معانت کا حق۔ تو آپؐ نے فرمایا (ایسا کیوں نہ ہو کہ) علیؑ مجھ سے ہے اور میں علیؑ سے ہوں۔ تو جبرائیلؑ نے اضافہ کیا: میں تم دونوں سے ہوں۔ امام صادق (ع) ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے قاصد وحی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ ”لا سَیفَ الاّ ذُوالفقَار وَلاَ فتیٰ الاّ علی“ (ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں اور علیؑ کے سوا کوئی جوانمرد نہیں)۔ اس اثنا میں یہ آواز بلند ہوئی کہ محمدؐ قتل ہو گئے۔

کون پکارا کہ محمدؐ قتل ہو گئے ہیں

بعض سیرت نگار رقمطراز ہیں کہ ابن قمعہ نے اسلامی سپاہی مصعب کو پیغمبرؐ سمجھ کر اس پر کاری ضرب لگائی اور بآواز بلند کہا: لات و عزیٰ کی قسم محمدؐ قتل ہو گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افواہ چاہے مسلمانوں نے اڑائی یا دشمن نے لیکن مسلمانوں کے لئے نفع رسان ثابت ہوئی اس لئے کہ جب آواز بلند ہوئی تو دشمن میدان چھوڑ کر مکہ کی طرف چل پڑے ورنہ قریش کا فاتح لشکر جو حضور کے لئے دلوں میں کینہ رکھتا تھا اور انتقام لینے کی نیت سے آیا تھا کبھی میدان نہ چھوڑتا۔ قریش کے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشکر نے میدان جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد ایک رات بھی صبح تک وہاں نہ گذاری اور اسی وقت مکہ کی طرف چل پڑے۔ پیغمبرؐ کی شہادت کی خبر نے بعض مسلمانوں میں زیادہ اضطراب و پریشانی پیدا کر دی۔ جو مسلمان اب تک میدان کار زار میں موجود تھے، انہوں نے اس خیال سے کہ دوسرے مسلمان پراگندہ نہ ہوں، آنحضرتؐ کو پہاڑ کے اوپر لے گئے تاکہ مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ آپؐ بقیہ حیات ہیں۔ یہ دیکھ کر بھگوڑے واپس آ گئے اور آنحضرتؐ کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو گئے آپؐ نے ان کو ملامت اور سرزنش کی کہ تم نے ان خطرناک حالات میں کیوں فرار کیا، مسلمان شرمندہ تھے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا: اے رسول خداؐ! ہم نے آپؐ کی شہادت کی خبر سنی تو خوف کی شدت سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ یوں مسلمانوں کو جنگ احد میں جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا مسلمانوں کے ستر افراد شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہو گئے لیکن مسلمانوں کو اس شکست سے بہت بڑا درس ملا جو بعد کی جنگوں میں ان کی کامیابی و کامرانی کا سبب بنا، آیندہ آیات میں انشاء اللہ اس کا ذکر آ جائے گا۔

123
3:123
وَلَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدۡرٖ وَأَنتُمۡ أَذِلَّةٞۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
خدا نے بدر میں تمہاری مدد کی ( جب کہ تم ان کی نسبت ناتواں تھے) پس خدا سے ڈرو تاکہ تم اس کی نعمت کا شکر ادا کرنے والوں میں شمار رہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

124
3:124
إِذۡ تَقُولُ لِلۡمُؤۡمِنِينَ أَلَن يَكۡفِيَكُمۡ أَن يُمِدَّكُمۡ رَبُّكُم بِثَلَٰثَةِ ءَالَٰفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ
جس وقت تم مومنین سے کہتے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار ملائکہ (آسمان سے) اتار کر تمہاری مدد کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

125
3:125
بَلَىٰٓۚ إِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَيَأۡتُوكُم مِّن فَوۡرِهِمۡ هَٰذَا يُمۡدِدۡكُمۡ رَبُّكُم بِخَمۡسَةِ ءَالَٰفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ
ہاں !(آج بھی) اگر تم صبرو استقامت اور پرہیزگاری اختیار کرو اور جب دشمن تم پر چڑھ آئے گا تو خدا پانچ ہزار مخصوص نشان رکھنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

126
3:126
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ لَكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦۗ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ
لیکن یہ سب کچھ تو صرف تمہیں بشارت دینے کے لئے اور تمہارے اطمینان کی خاطر ہے ورنہ کامیابی تو فقط خدائے توانا و حکیم کی طرف سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 127 کے تحت ملاحظہ کریں۔

127
3:127
لِيَقۡطَعَ طَرَفٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡ يَكۡبِتَهُمۡ فَيَنقَلِبُواْ خَآئِبِينَ
(یہ وعدہ جو خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہے) اس لیے ہے تاکہ لشکر کفار کے ایک حصہ کو قطع کر دے یا انہیں ذلت کے ساتھ پلٹائے تاکہ وہ مایوس ہو کر کو پلٹ جائیں۔

تفسیر جنگ کا خطرناک مرحلہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جنگ اُ حد کے اختتام پر مشرکین کا فتحیاب لشکر بڑی تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف پلٹ گیا لیکن راستہ میں انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ انہوں نے اپنی کامیابی کو ناقص کیوں چھوڑ دیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مدینہ کی طرف پلٹ جائیں اور اسے غارت وتاراج کر دیں اور اگر محمدؐ زندہ ہوں تو انہیں قتل کر دیں تاکہ ہمیشہ کے لئے اور مسلمانوں کی فکر ختم ہو جائے۔ اسی بناء پر انہیں واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا اور درحقیقت جنگ اُحد کا یہ خطرناک مرحلہ تھا کیونکہ کافی مسلمان شہید اور زخمی ہو چکے تھے اور فطری طور پر وہ ازسرنو جنگ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ جبکہ اس کے برعکس اس مرتبہ دشمن مضبوط جذبہ کے ساتھ جنگ کر سکتا تھا اور اس کا حتمی نتیجہ حاصل کر سکتا تھا۔ اس بات کی اطلاع جلد ہی آپؐ تک پہنچ گئی۔ اگر اس موقع پر آپؐ غیر معمولی جراٴت اور بےمثال ہمت کا مظاہرہ نہ کرتے تو تاریخ اسلام یہیں پر ختم ہو جاتی یہ آیات اس نازک مرحلہ پر نازل ہوئیں اور ان سے مسلمانوں کے جذبے کو تقویت پہنچی۔ اس کے فوراً بعد آپؐ کی طرف سے مشرکین جانے کا ایک حکم ہوا۔ یہاں تک کہ جنگ کے زخمی (جن میں حضرت علی (ع) بھی تھے جنہیں ساٹھ سے زیادہ زخم آئے تھے) بھی دشمن سے لڑنے کے لئے آمادہ ہو گئے اور مدینہ سے چل پڑے یہ خبر سرداران قریش تک پہنچی اور وہ مسلمانوں کے اس عجیب و غریب جذبہ سے وحشت زدہ ہوئے اور سوچنے لگے کہ شاید تازہ دم فوج مدینہ سے مسلمانوں کے ساتھ آملی ہے اور ہو سکتا ہے کہ نئی جنگ کا نتیجہ ان کے لئے نقصان کا باعث ہو۔ لہذا انہوں نے اپنی سابقہ کامیابی پر اکتفا کرنے اور مکہ کی طرف پلٹ جانے میں ہی بہتری سمجھی اور وہ تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف چل پڑے۔ ”وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۔“ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ آیات مسلمانوں کے جذبے کو تقویت دینے کے لئے نازل ہوئیں اور ان میں پہلے مسلمان کی میدان (تشریحی نوٹ: ”بدر“ ایک شحص کا نام تھا۔ وہ مکہ و مدینہ کے درمیانی علاقہ میں رہتا تھا۔ اس کا ایک کنواں تھا۔ اسی کے نام سے اس علاقے کا نام بھی ”بدر“ ہو گیا لغوی لحاظ سے ”بدر“ ”پر“ اور ”کامل“ کو کہتے ہیں، اسی لئے چودھویں کے چاند کو بھی بدر کہتے ہیں)۔ بدر کی کامیابی طرف اشارہ کیا گیا تاکہ اس کے ذکر سے ان کے دلوں میں آئندہ کے لئے جوش و جذبہ بڑھ جائے۔ ارشاد ہوا کہ خدا نے تمہیں بدر میں کامیابی سے سرفراز فرمایا جب کہ تم دشمن کی نسبت کمزور تھے تو تعداد اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے تمہارا اور دشمن کا کوئی تقابل ہی نہ تھا (تمہاری تعداد ۳۱۳ اور بہت کم ساز و سامان تھا جب کہ مشرکین کے پاس بہت زیادہ سامان تھا اور ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی) ان حالات میں تم خدا سے ڈرو اور اپنے پیشوا (پیغمبر اکرمؐ ) کی حکم عدولی کو نہ دہراوٴ تاکہ اس طرح سے اس کی گونا گوں نعمات کا شکر بجا لاوٴ (فَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ)۔ ”إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنینَ اَلَنْ یَکْفِیَکُمْ اَنْ یُمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِکَةِ ۔۔۔۔۔۔“ بعد ازاں میدان بدر میں فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کرنے کے واقعہ کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس دن کو فراموش نہ کرو جب پیغمبرؐ نے تم سے کہا تھا کہ کیا تمہاری مدد کے لئے تین ہزار فرشتے کافی نہیں ہیں۔ ”بَلی إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا وَ یَاْتُوکُمْ مِنْ فَوْرِہِمْ (تشریحی نوٹ: ”فور“ کا اصل معنیٰ ہے دیگ وغیرہ کا جوش اور ابال۔ اسی مناسبت سے تیزی سے انجام پذیر ہونے والے کاموں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے یعنی جیسے دیگ میں ابال سے کھانے والی چیز تیزی سے اوپر نیچے آتی ہے یہ کام بھی اسی طرح انجام پذیر ہوا ہے)۔ ہذا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ۔۔۔۔۔ ۔“ ہاں! اگر آج بھی پائداری اور استقامت کا مظاہرہ کرو، قریش کے مقابلہ میں نکلو، تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو اور گذشتہ کی طرح فرمان رسول کی مخالفت نہ کرو تو اس صورتحال میں اگر مشرکین تیزی کے ساتھ تمہاری طرف پلٹ آئیں تو خدا پانچ ہزار مخصوص نشانیوں والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ ”وَ ما جَعَلَہُ اللَّہُ إِلاَّ بُشْری لَکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُکُمْ بِہِ وَ مَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِاللَّہِ ۔۔۔۔۔۔۔۔“ لیکن یہ بات یاد رہے کہ تمہاری مدد کے لئے ملائکہ کی آمد تو صرف تمہاری تشویق، اطمینان قلب اور تقویت جذبہ کے لئے ہے۔ ورنہ کامیابی تو صرف خدا کی طرف سے ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور تمام کاموں میں اس کی حکمت کار فرما ہے۔ وہ کامیابی کے راستے بھی جانتا ہے اور اسے جاری کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ ”لِیَقْطَعَ طَرَفاً مِنَ الَّذینَ کَفَرُوا اَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوا خائِبینَ۔“ اگرچہ مفسرین حضرات اس آیت کی تفسیر میں اختلافات کے شکار ہیں لیکن اگر سابقہ آیات کی طرح خود آیات اور موجودہ تاریخ سے مدد لی جائے تو اس آیت کی تفسیر بھی واضح ہوتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ یہ جو دشمن سے نئی جنگ کرنے کی صورت میں فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کا وعدہ کیا گیا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ لشکر مشرکین کے حصہ کو قطع کر دے اور انہیں ذلت کے ساتھ پلٹا دے۔ آیت میں ”طرف“ کا معنی ٹکڑا ہے اور ”یکبتھم“ کبت سے ہے جس کے معنی کسی کو زبر دستی اور ذلیل کر کے واپس کرنے کے ہیں۔ اس مقام پر فرشتوں کا مسلمانوں کی مدد کرنا، اس کی کیفیت اور اس کی ضرورت کے سلسلہ میں چند سوالات ہو سکتے ہیں جن کا جواب شرح و بسط کے ساتھ سورہٴ انفال آیت ۷ تا ۱۲ کے ذیل میں پیش کیا جائے گا۔

128
3:128
لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٌ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡ أَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَإِنَّهُمۡ ظَٰلِمُونَ
کسی قسم کا اختیار (کفار اور جنگ سے فرار کرنے والے مسلمانوں کے فیصلے کے بارے میں ) تمہیں نہیں ہے مگر یہ کہ خدا چاہے کہ انہیں در گزر کر دے یا سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بہت اختلاف ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ یہ آیت جنگ اُحد کے بعد نازل ہوئی اور اس کے واقعات سے متعلق ہے۔ سابقہ آیات بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ البتہ آیت کی تفسیر میں دو باتیں توجہ طلب ہیں پہلی یہ کہ آیت مستقل ایک جملہ ہے لہٰذا ”اویتوب“ کا معنی ”الاّ ان یتوب علیھم“ ہے۔ اس آیت کا مطلب یوں بنتا ہے کہ ان کے انجام کار کے بارے میں تم کچھ نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا انہیں بخش دے یا اس ظلم کی وجہ سے انہیں سزا دے اور لفظ ”انہیں“ سے مراد کفار ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ حتیٰ کہ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے دندان مبارک کو شہید کیا اور جبیں مبارک کو زخمی کر دیا یا وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے میدان کارزار سے فرار کیا اور جنگ کے اختتام پر نادم و پشیماں ہوئے اور آپؐ سے معافی طلب کی۔ آیت بتلا رہی ہے کہ ان کے عفو و بخشش یا سزا و عذاب خدا کے ہاتھ میں ہے اور پیغمبر اکرمؐ حکم خدا کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیتے۔ دوسری تفسیر اس طرح کی گئی ہے ”لیس لک من امر شیءٍ“ جملہ معترضہ ہے (جس کا پہلے اور بعد والے جملوں سے ربط نہ ہو) اور جملہ ”او یتوب علیھم“ کا عطف” او یکبتھم“ پر ہے۔ اس صورت میں دونوں آیات کا مفہوم یہ ہو گا کہ خدا کامیابی کے اسباب تمہارے قبضہ میں دے دے گا اور کفار کے لئے چار قسم کا انجام مقرر کرے گا یس لشکر مشرکین کے ایک حصہ کو نیست و نابود کر دے گا یا انہیں کسی ذریعے سے واہس جانے پر مجبور کرے گا یا انہیں شائشتگی اور توبہ کی صورت میں بخش دے گا اور یا انہیں ظلم کی وجہ سے سزا دے گا۔ خلاسہ یہ کہ ان کے ہر گروہ کے ساتھ عدالت و حکمت کا برتاوٴ روا رکھے گا اور تم ان کے بارے میں اپنی طرف سے کسی قسم کا اقدام نہیں کر سکتے۔ اس آیت کی شان نزول روایات میں مختلف انداز سے پیش کی گئی ہے۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ جب جنگ اُحد میں آنحضرتؐ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور جبین مبارک زخمی ہوگئی اور مسلمانوں کو بہت سخت نقصان پہنچا تو پیغمبرؐ کفار کے امروز و فردا کے متعلق سوچنے لگے کہ یہ لوگ کس طرح راہِ ہدایت پر آئیں گے اور فرمایا: ”کیف یفلح قوم فعلوا ھٰذا بنبیھم و ھو یدعو ھم الیٰ ربھم“ یہ گروہ کیسے فلاح پائے گا جس نے اپنے پیغمبرؐ سے یہ سلوک کیا جبکہ وہ انہیں خدا کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس مقام پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور پیغمبرؐ کو تسلی و تشفی دی گئی کہ آپؐ ان کی ہدایت کے جوابدہ نہیں ہیں بلکہ آپؐ کی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔

ایک اشتباہ اور اس کا ازالہ

یہاں دو نکات توجہ طلب ہیں: (۱) نابغہٴ روزگار مفسر مولف ”المنار“ کا فدیہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو حصول کامیابی کے لئے مادی وسائل سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں ایک ناقابل فراموش درس دیتی ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا انہیں کامیابی کی نوید سنا دیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان مادی وسائل، سامان حرب ضرب اور منصوبہ بندی کو فراموش کر دیں اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کامیابی کے لئے پیغمبرؐ کی دعا کا انتظار کریں پیغمبرؐ کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: ”لیس لک من امر شیءٍ“ یعنی کامیابی کا معاملہ تیرے سپرد نہیں بلکہ وہ مشیت ایزدی کے تابع ہے۔ لہٰذا خدا نے ان کے لئے جو راستے مقرر کئے ہیں ان سے استفادہ کیا جائے اور پیغمبر کی دعا بھی اگرچہ موثر ہے لیکن اس میں استثنائی پہلو موجود ہے اور وہ معین موقع کے ساتھ مخصوص ہے۔ موٴلف موصوف کی یہ گفتگو اگرچہ منطق و حکمت سے لبریز ہے لیکن یہ آیت ان کے مطالب سے مناسبت نہیں رکھتی جو کفار کی سزا یا توبہ کے بارے میں ہیں۔ لہٰذا اسے اس آیت کی تفسیر نہیں کہا جا سکتا۔ (۲) یہ آیت مخالفین اسلام کے بارے میں عفو و بخشش یا سزا کے متعلق پیغمبرؐ سے ہر قسم کے اختیارات سلب کر رہی ہے۔ لیکن یہ اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ عفو و درگذر کے لئے دعا اور شفاعت موٴثر ہیں۔ کیونکہ آیت بالا کا مقصد یہ ہے کہ آپؐ خود سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے البتہ خداوند تعالیٰ کے حکم و اذن سے معافی دے سکتے ہیں اور سزا بھی دے سکتے ہیں اور کامیابی کے عوامل بھی فراہم کر سکتے ہیں حتیٰ کہ پروردگار عالم کے اذن و اجازت سے حضرت عیسیٰؑ کی طرح مُردوں کو بھی زندہ کر سکتے ہیں۔ جو لوگ جملہ ””لیس لک من امر شیءٍ“ کے حوالے سے پیغمبر اکرمؐ کی طاقت کا انکار کرتے ہیں اور ان کے سبب اختیارات پر اصرار کرتے ہیں، انہوں نے درحقیقت قرآن کی دیگر آیات کو فراموش کر دی ہے قرآن مجید سورہٴ نساء آیت ۶۴ میں کہتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا اگر وہ لوگ جب اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے، تمہارے پاس آ جاتے اور معافی طلب کرتے اور پیغمبرؐ ان کے لئے طلب مغفرت کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔ اس آیت کی رو سے آپؐ کی استغفار کو گناہ کی بخشش کا ایک عامل شمار کیا گیا ہے۔ آئندہ کے مباحث میں مناسب آیات کے ذیل میں اس مطلب پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔

129
3:129
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے( اور مناسب سمجھتا ہے) بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دے دیتا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

درحقیقت یہ آیت گذشتہ آیت کی تاکید ہے کہ بخشنا اور سزا دینا پیغمبرؐ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ حکم خداوندی کے تابع ہے آسمانوں اور زمیں کی حکومت جس کے قبضہٴ قدرت میں ہے پیدا کرنا اسی خدا کا کام ہے۔ ”واللہ غفورٌ رّحیم “ باوجودیکہ اس کا عذاب بہت ہی سخت ہے وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔کوئی حرج نہیں کہ ہم یہاں ایک مسلم اسکالر پر از حکمت گفتگو کی طرف اشارہ کریں جو سخت ہونے کے باوجود بعض سوالوں کا جواب ہے۔ مفسر عالی قدر (علامہ )طبرسی ۺاس آیت کے ذیل میں رقمطراز ہیں کہ ایک عالم سے پوچھا گیا کہ خداوند عالم کس طرح اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کی بناء پر باوجود اپنی وسیع و بےپایاں رحمت کے عذاب دے گا تو اس عالم نے جواب دیا کہ خدا کی رحمت اس کی حکمت کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس کی حکمت کا سرچشمہ ہمارے جذبہٴ ترحم کی طرح احساسات اور رقت قلبی نہیں ہے بلکہ اس کی رحمت ہمیشہ اس کی حکمت سے وابستہ ہوتی ہے اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ معصیت کاروں کو (سوائے خاص موارد کے )سزا دی جائے۔

130
3:130
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے ایماندارو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ خدا سے ڈرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔

131
3:131
وَٱتَّقُواْ ٱلنَّارَ ٱلَّتِيٓ أُعِدَّتۡ لِلۡكَٰفِرِينَ
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 132 کے تحت ملاحظہ کریں۔

132
3:132
وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
اور خد اور پیغمبر کی اطاعت کرو تاکہ رحمت (الٰہی) تمہارے شامل حال ہو۔

تفسیر قرآنی آیات کا ایک دوسرے سے ربط

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

گذشتہ آیات میں جنگ اُحد کے واقعات اور بہت سے درس موجود ہیں جو مسلمانوں نے عبرت آموز واقعے سے حاصل کئے لیکن زیر نظر تین اور بعد والی چھ آیات چند ایک اقتصادی، اجتماعی اور تربیتی پروگراموں پر مشتمل ہیں اور ان نو آیات کے بعد پھر از سرنو جنگ اُحد کا تذکرہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ انداز بیان بعض لوگوں کے لئے باعث تعجب ہو۔ لیکن بنیادی امر پر توجہ کرنے سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے: قرآن کوئی کلاسیکی کتاب نہیں ہے جو کئی فصول و ابواب کی حامل ہو اور اس کے ابواب و فصول کے درمیان ایک خاص ربط ملحوظ رکھا گیا ہو بلکہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو تیئس سال کی مدت میں مختلف تربیتی ضروریات کے مطابق مختلف اوقات و مقامات میں قسط وار نازل ہوتی رہی ایک دن واقعہ احد پیش آتا ہے اور مختلف جنگی پروگرام چند ایک آیات کے ضمن میں بتائے جاتے ہیں اور دوسرے روز ایک اقتصادی مسئلہ درپیش آتا ہے مثلاً سود یا حقوق کا مسئلہ سامنے آ چلا ہے مثلاً شادی بیاہ سے متعلق مسائل یا ایک تربیتی اور اخلاقی معاملہ درپیش ہوتا ہے مثلاً توبہ اور پھر کئی ایک آیات کا نزول ہوتا ہے۔ البتہ تمام سورتیں اور آیات قرآن ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور وہ یہ کہ سب کی سب ایک انسان سازی اور اعلیٰ ترین سطح کے ایک تربیتی پروگرام کو پیش نطر رکھے ہوئے ہیں اور ایک پرامن مادی اور روحانی لحاظ سے ترقی یافتہ معاشرہ کی تشکیل کے لئے نازل ہوئیں ہیں۔ لہٰذا اگر مندرجہ بالا آیات قبل و بعد کی آیات سے کوئی خاص ربط نہیں رکھتیں تو اس کی یہی وجہ ہے۔

سود خوری کی حرمت کے چند مراحل

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کا یہ طریقہ ہے کہ وہ معاشرے کی ایسی برائیاں جن کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں ان کی بیخ کنی کرنے کے لئے آہستہ آہستہ زمین ہموار کرتا ہے اور لوگوں کو تدریجاً ان کے مفاسد سے آگاہ کرتا ہے اور جب قرآنی احکام قبول کرنے کے لئے آمادگی حاصل ہو جائے قانون تصریحی شکل میں بیان کر دیتا ہے (خصوصاً ایسے مواقع پر جہاں گناہ سے آلودگی کا امکان بہت زیادہ ہو)۔ یہ بھی واضح ہے کہ دنیائے عرب زمانہ جاہلیت میں سود خوری میں شدت سے ملوث تھی، خصوصاً مکہ کا گرد و نواح سود خوروں کا مرکز تھا اور ان کی بہت سی قبیح اجتماعی برائیوں کا سبب یہی برا کاروبار تھا۔ بنا برایں قرآن مجید نے سود خوری ختم کرنے کے لئے حرمت کا حکم چار مراحل میں بیان کیا ہے: (۱) پہلے پہل سود کے بارے میں سورہٴ روم آیت ۳۹ میں ایک اخلاقی نصیحت پر زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: ”وَ ما آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُوَا فی اَمْوالِ النَّاسِ فَلا یَرْبُوا عِنْدَ اللَّہِ وَ ما آتَیْتُمْ مِنْ زَکاةٍ تُریدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَاُولئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُونَ“ یعنی صرف کوتاہ نظر افراد کی نگاہ میں سود کھانے والوں کی ثروت میں سود لینے سے زیادتی ہوتی ہے لیکن خدا کے ہاں اس میں کوئی زیادتی نہیں ہوتی بلکہ زکوٰة اور راہ خدا میں خرچ کرنا دولت و ثروت کی زیادتی کا باعث ہے۔ (۲) سورہٴ نساء آیہٴ ۱۶۱ میں یہودیوں کی غلط رسوم و عادات پر تنقید کرتے ہوئے ان کی سود خوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ”و اخذھم الربٰوا و قد نھوا عنہ“ ان کی برُی عادت یہ تھی کہ وہ سود کھاتے تھے حلانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ (۳) زیر بحث آیت میں جیسا کہ اس کی تفسیر کے ذیل میں بتایا جائے گا، سود کی حرمت کا صریح حکم ذکر ہوا ہے لیکن سود کی صرف ایک قسم کی طرف جو بہت برُی قسم ہے۔ اشارہ ہوا ہے۔ (۴) آخر میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۷۵ سے لے کر ۲۷۹ تک ہر قسم کی سود خوری کی شدت سے ممانعت کا اعلان کیا گیا ہے اور اسے خدا سے جنگ کرنے کے متراف قرار دیا گیا ہے۔ ”یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَاْکُلُوا الرِّبَوا اَضْعافاً مُضاعَفَةً“ اس آیت میں سود کی قبیح ترین قسم کی حرمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ”اَضْعافاً مُضاعَفَةً“ (چند در چند) کی تعبیر موجود ہے۔ ربائے فاعش سے مراد یہ ہے اصل سرمایہ ہی اضافی سود کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہے۔ یعنی سود پہلے مرحلے میں اصل سرمایہ میں جمع ہو جائے اور آئندہ اصل سرمایہ میں سود جمع ہونے پر جو سرمایہ بنا ہے اس پر سود لگے اور اسی ترتیب سے ہر مرتبہ کا سود اضافی سرمایہ بن کر گذشتہ سرمایہ میں جمع ہوتا جائے اور سرمایہ کی نئی رقم تشکیل دیتا جائے۔ اس طرح قلیل مدت میں ایک دوسرے پر سود کی زیادتی کی وجہ سے مقروض کے قرضہ کا مجموعہ اصل قرضہ سے کئی گنا زیادہ ہو جائے اور اس کی زندگی مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے۔ جیسا کہ روایات و تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ اگر مقروض قرض کی مدت ختم ہونے پر قرض نہیں ادا کر سکتا تھا تو قرض خواہ سے تقاضا کرتا کہ وہ سود اوراصل قرض کا مجموعہ نئے سرمائے کی شکل میں اسے بطور قرض دے دیے اور اس کا سود لے۔ ہمارے دور میں بھی اس قسم کی ظالمانہ سود خوری کثرت سے رائج ہے۔ ”ًوَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ“۔ آیت کے آخر میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے: اگر فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہو تو تقویٰ اپناوٴ اور اس گناہ سے بچو۔ ”وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتی اُعِدَّتْ لِلْکافِرینَ“۔ یہ آیت ازسرنو تقویٰ کی تاکید کرتی ہے اور اس آگ سے جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ڈراتی ہے۔ لفظ ”کافرین“ کے ساتھ تعبیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر سود خوری ایمان کے ساتھ سازگار نہیں ہے اور سود خوروں کے لئے بھی اس آگ کا ایک حصہ ہے جو کفار کی منتظر ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی آگ بنیادی طور پر کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ باقی رہے گناہگار اور معصیت کا تو ان کے لئے اس اتنا ہی حصہ ہے جتنا وہ کفار سے شباہت اور ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ”وَ اَطیعُوا اللَّہَ وَ الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ“۔ گذشتہ آیت کی دھمکی اس تشویق اور ترغیب کے ساتھ تکمیل پاتی ہے جو اس آیت میں مطیع اور فرمانبرداروں کے لئے ہے کہ خدا اور رسول کی اطاعت کرو اور سود خوری چھوڑ دو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہو۔

133
3:133
۞وَسَارِعُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ أُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِينَ
ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور جنت کے لئے جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 136 کے تحت ملاحظہ کریں۔

134
3:134
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلۡكَٰظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
(متقین) وہ لوگ (ہیں ) جوتنگی اور کشادگی میں خرچ کرتے ہیں،اپنا غصہ پی جاتے ہیں،لوگوں کی خطاؤں سے در گزر کرتے ہیں اور خدا نیکو کار لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 136 کے تحت ملاحظہ کریں۔

135
3:135
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً أَوۡ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ ذَكَرُواْ ٱللَّهَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ لِذُنُوبِهِمۡ وَمَن يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمۡ يُصِرُّواْ عَلَىٰ مَا فَعَلُواْ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
اور (متقین) وہ لوگ ہیں کہ جب وہ کسی عمل بدکاارتکاب کریں یا اپنے اوپر ظلم کریں تو خدا کو یاد کرتے ہیں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں اور خدا کے سوا گناہوں کو بخشنے والا کون ہے اور وہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 136 کے تحت ملاحظہ کریں۔

136
3:136
أُوْلَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَجَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ
ان کی جزا پروردگار کی بخشش اور وہ باغات بہشت ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے اور یہ عمل کرنے والوں کے لئے کتنا اچھا معاوضہ ہے

تفسیر سعادت کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

”و سارعوا الیٰ مغفرة من ربک“ ”وسارعوا“ سارعت سے ہے جس کے معنی ہیں کسی مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے دو یا دو سے زیادہ افراد کی کوشش۔ نیک کاموں میں یہ قابل ستائش ہے اور برے کاموں میں مذموم۔ گذشتہ آیات کے بعد کہ جو بدکاروں کو جہنم کی تہدید اور نیک لوگوں کو رحمت الہی کی تشویق کرتی ہیں۔ اس آیت میں نیک لوگوں کی کوشش اور جستجو کو معنوی مقابلہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس کا آخری مقصد خدا کی بخشش اور بہشت کی دائمی و ابدی نعمات ہیں اور قرآن کہتا ہے کہ اس مقصد تک رسائی کے لئے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرو۔ درحقیقت قرآن ایک نفسیاتی پہلو کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ انسان اگر کسی کام کی انجام دہی میں تنہا ہو تو عموماً اس کام کو وہ حسب عادت تاخیر سے پایہٴ تکمیل تک پہنچاتا ہے لیکن اگر اس میں مقابلے کا پہلو ہو اور مقابلہ بھی ایسا جس میں ایک بیش بہا انعام پر داوٴ لگایا گیا ہو تو وہ اپنی تمام تر قوت و توانائی صرف کرتا ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف پیش رفت کرتا ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس مقابلہ کا پہلا مقصد مغفرت قرار دیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر معنوی مقام تک رسائی گناہوں کی آلودگی سے پاک و صاف ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے اپنے آپ کو گناہ سے پاک کیا جائے اور اس کے بعد مقام تقریب الٰہی کی طرف قدم اٹھایا جائے۔ ”وجنت عرضھا السمٰوٰت والارض“ اس معنوی مقابلہ کا دوسرا ہدف بہشت ہے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ (یہ مخفی نہ رہے کہ اس آیت میں عرض سے مراد علم ہندسہ کی اصطلاح نہیں ہے کہ عرض طول کے مقابلہ میں ہو، بلکہ اس سے مراد وسعت اور پھیلاوٴ ہے)۔ اس طرح قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت جتنی ہے اور سورہٴ حدید کی آیت ۲۱ میں یہی تعبیر معمولی فرق کے ساتھ ہے۔ ”سابِقُوا إِلی مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُہا کَعَرْضِ السَّماءِ وَ الْاَرْضِ“ اس آیت میں مسارعت کی بجائے صراحت کے ساتھ لفظ مسابقت آیا ہے اور سماء مفرد کی شکل میں ہے اور اس کے ساتھ الف لام جنس کے اعتبار سے ہے جو یہاں عموم کا مفہوم دے رہا ہے اور کاف سے تشبیہ معلوم ہوتی ہے بایں طور پر کہ محل بحث آیت میں تصریح کے ساتھ کہا گیا ہے کہ بہشت کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت کے برابر ہے لیکن سورہ ٴ الحدید کی آیت میں ہے کہ اس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے مانند ہے لیکن دونوں تعبیروں کا معنی و مفہوم ایک ہے آیت کے آخر میں اس بات تصریح کی گئی ہے کہ یہ بہشت اس عظمت کے ساتھ پرہیزگاروں کے لئے تیر کی گئی ہے۔ ”اعدت للمتقین“ اب یہاں یہ سوال ذہن میں اُٹھ سکتا ہے: اولاً یہ کہ کیا جنت و جہنم پیدا ہو چکے ہیں اور وہ وجود خارجی رکھتے ہیں یا بعد میں لوگوں کے اعمال کے حساب سے ایجاد ہوں گےَ ثانیاً یہ کہ اگر وہ خلق ہو چکے ہیں تو وہ کہاں ہیں (توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کہتا ہے کہ صرف جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے)۔

کیا جنت و دوزخ اس وقت موجود ہیں؟

اکثر علماء اسلام کا عقیدہ ہے کہ یہ دونوں اس وقت وجود خارجی رکھتے ہیں اور قرآنی آیات کا ظاہری معنیٰ بھی اس کی تاکید کرتا ہے۔ نمونے کے طور پر: (۱) محل بحث آیت اور دیگر کثیر آیات میں ”اُعِدّت“ (تیار کی جا چکی ہے) استعمال ہوا ہے یا بعض دوسری تعبیرات جو اسی مادہ سے ہیں جو بعض مقامات پر بہشت کے بارے میں اور بعض جگہ دوزخ کے بارے میں آئی ہیں۔ (بحوالہ سورہ توبہ آیت ۸۹ و آیت ۱۰۰، سورہ فتح آیت ۶، بقرہ آیت ۲۴، آل عمران ۱۳۱ و ۱۳۳، سورہ الحدید آیت ۲۱ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہشت و دوزخ اس وقت تیار موجود ہیں اگرچہ انسانوں کے نیک و بد اعمال کے نتیجہ میں ان میں وسعت پیدا ہوتی رہتی ہے (غور کریں) (۲) معراج سے متعلق سورہ النجم کی آیات میں یوں ہے: وَ لَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً اُخْری۔ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَہی۔ عِنْدَہا جَنَّةُ الْمَاْوی۔ دوسری مرتبہ پیغمبرؐ نے جبرئیلؑ کو سدرة المنتہٰی کے پاس دیکھا جہاں دائمی جنت ہے (والنجم ۔۱۳ تا۱۵)۔ یہ تعبیر جنت کے وجود پر دوسری شہادت ہے۔ (۳) سورہ تکاثر آیت۵،۶،۷ میں ارشاد ہوتا ہے: کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیَقینِ ۔لَتَرَوُنَّ الْجَحیمَ ۔ثُمَّ لَتَرَوُنَّہا عَیْنَ الْیَقینِ۔ اگر تمہیں علم الیقین ہوتا تو دوزخ کا مشاہدہ کرتے پھر اسے عین الیقین کے ساتھ دیکھتے۔ معراج سے مربوط اور دیگر آیات میں بھی اس مسئلہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رہے کہ عالم آخرت کی جنت اس سے مختلف ہے جس میں حضرت آدم (ع) رہے تھے۔ کیونکہ وہ حضرت آدم(ع) کی خلقت سے قبل موجود تھی)۔

جنت اور دوزخ کہاں ہیں

اس بحث کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دونوں موجود ہیں تو کہاں ہیں اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے: پہلا یہ کہ جنت و جہنم اس دنیا کے باطن میں موجود ہیں۔ ہم زمین و آسمان اور دوسرے مختلف کرات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن ان کے اندر موجود جو دنیائیں ہیں انہیں ہم نہیں دیکھ پاتے کہ جہاں کثرت سے موجودات ہیں جو ہماری آنکھوں کی قوت ادراک سے ماوراء ہیں اور آیات کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْیَقینِ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحیمَ۔ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ چند ایک احادیث سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ بعض بندگان خدا اس جہان میں اتنی قوت و بینائی رکھتے تھے کہ وہ یہاں رہ کر جنت و جہنم کو اپنی حقیقت بین نگاہوں سے دیکھ سکتے تھے۔ مزید توضیح کے لئے ایک مثال دی جا سکتی ہے۔ ایک طاقتور ریڈیائی آلہ (آواز کی لہریں بھیجنے والا آلہ) کسی خطہٴ ارض میں موجود ہو جو فضائی لہروں کی مدد سے پوری دنیا میں تلاوت قرآن کا دل آویز زمزمہ بہت ہی دلنشین اور روح پرور آواز سے نشر کر رہا ہو۔ اسی طرح کا ایک اور آلہ زمین کے کسی خطہ میں موجود ہو جو بہت ہی پریشان کن آواز دوسری فضای لہروں میں پھیلا دے۔ جس وقت ہم ایک مقام پر بیٹھتے ہوں تو اپنے ارد گرد لوگوں کی آواز تو ہم سن لیتے ہیں لیکن ان دو لہروں کا احساس تک نہیں ہوتا جو فضائے عالم میں پرواز کر رہی ہیں۔ لیکن اگر ان کو گرفت میں لینے والی مشین موجود ہو تو فوراً ہمارے کانوں میں پڑ جائیں گی اگرچہ عام حالت میں ہمارے کان اسی کے سننے سے عاجز ہوتے ہیں۔ گذشتہ مثال اگرچہ کئی لحاظ سے ناقص ہے تاہم جنت و دوزخ جیسے باطنی امور کی تصویر کشی کے لئے کافی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ عالم آخرت اور جنت و جہنم میں اس عالم مادی پر احاطہ کئے ہوئے ہیں اور یہ اس کے اندر جنین مانند ہیں جو اس دنیا کے اندر ایک علیحدہ مستقل عالم میں رہتا ہے اور وہ اس عالم سے جدا نہیں اسی طرح عالم دنیا بھی عالم آخرت کے اندر واقع ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جو جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے مساوی قرار دی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی نظر میں زمین اور آسمان سے زیادہ وسیع چیز کوئی اور نہیں۔ لہٰذا قرآن نے جنت کی وسعت و عظمت کی تصویر کشی زمین و آسمان کی وسعت کے حوالہ سے کی، اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا۔ جیسا کہ اگر شکم مادر میں ایک بچہ ہو اور ہم چاہیں کہ اس سے گفتگو کریں تو ایسی منطق میں اس سے بات کریں گے کہ جو اس کے لئے قابل ادراک ہو۔ گذشتہ تبصرہ سے ہمارے اس سوال کا جواب بھی روشن ہو جاتا ہے کہ اگر جنت کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو پھر جہنم کہاں ہے؟ کیونکہ پہلے جواب کی رو سے دوزخ بھی اس جہان کے اندر ہے اور اس جہان میں ان دونوں کے موجود ہونے میں کوئی اشکال نہیں (جیسا کہ آواز کی لہریں بھیجنے والی مشین کی مثال میں اس کا ذکر ہو چکا ہے) باقی رہا دوسرا جواب کہ جنت و دوزخ اس جہان پر محیط ہیں تو یہ کچھ زیادہ روشن ہے کیونکہ ممکن ہے کہ جنت اور دوزخ دونوں اس جہان پر محیط ہوں اور جنت کچھ زیادہ وسیع ہو۔

پرہیزگاروں کی نشانیاں

”الَّذینَ یُنْفِقُونَ فِی السَّرَّاءِ وَ الضَّرَّاءِ ۔۔۔۔۔۔“ گذشتہ آیت میں پرہیزگاروں کو دائمی جنت کی نوید سنائی گئی تھی، اس لئے اس آیت میں ان کا تعارف کرایا جا رہا ہے اور ان کی پانچ اعلیٰ امتیازی خصوصیات بیان کی گئیں ہیں: ۱۔ وہ ہر حالت میں خرچ کرتے ہیں چاہے وہ آرام و فراخ دستی میں ہوں یا پریشانی اور محرومیت میں مبتلا ہوں۔ وہ اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ دوسروں کی مدد کرنے اور نیکی کا جذبہ ان کی روح کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہے۔ اسی بناء پر وہ ہر حالت میں اس کے لئے عملی طور پر تیار ہوتے ہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ آسودگی کی حالت میں خرچ کرنا سخاوت جیسی بلند صفت کی نشاندہی نہیں کرتا البتہ وہ لوگ جو ہر حالت میں ضرورت مندوں کو نوازتے ہیں، وہ اس کا بین ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ ان میں یہ صفت راسخ ہے۔ ہاں! اس مقام پر ذہنوں میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ تنگدستی کی حالت میں انسان کیونکر خرچ کر سکتا ہے؟ لیکن اس سوال کو جواب واضح ہے کہ تنگدست افراد بھی اپنی قدرت کے مطابق دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ثانیاً یہ کہ خرچ و انفاق صرف مال و ثروت میں منحصر نہیں ہیں بلکہ خدا کے ہر عطیہ سے اس کا تعلق ہے۔ چاہے مال و ثروت ہو، نعمت علم و دانش ہو یا دیگر نعمات الٰہی۔ اس عمل سے خدا چاہتا ہے کہ صاحبان دولت کے علاوہ قربانی و فداکاری کی روح غریبوں کے دلوں میں بھی پروان چڑھ جائے تاکہ وہ بسیار اخلاقی برائیوں سے دور ہوں جو بہت زیادہ ہیں اور جن تمام کا سرچشمہ بخل ہے۔ اس مقام پر ان لوگوں کا جواب موجود ہے جو راہ خدا میں قلیل امداد کو کم سمجھتے ہیں۔ ان کے اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک امداد پر علیحدہ علیحدہ نظر رکھتے ہیں ورنہ یہی تھوڑی تھوڑی امداد دیں اگر جمع کی جائیں مثال کے طور پر ایک ملک کے تمام رہنے والے امیر و غریب تھوڑے تھوڑے پیسے بندگان خدا کے لئے جمع کریں تو وہ بڑے سے بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔ علاوہ ازایں انفاق کا اخلاقی اور روحانی اثر زیادہ خرچ کرنے سے نہیں ہے بلکہ اس کے تمام اثرات انفاق ترنے والے کی نیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہاں پرہیزگاروں کی پہلی عمدہ صفت انفاق (راہ خدا میں خرچ کرنا) ذکر ہوئی ہے کیونکہ یہ وآیات سود خوروں اور سامراجیوں کے مدمقابل صفات کو بیان کر رہی ہیں کہ جن کا ذکر گذشتہ آیات میں ہو چکا ہے۔ علاوہ ازایں خوشی اور تنگدستی کی حالت میں مال و دولت کی قربانی تقویٰ کی واضح ترین علامت ہے۔ ۲۔ والکاظمین الغیظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں۔ ”کظم“ کے لغوی معنیٰ پانی بھری مشک کے دھانے کو باندھنے کے ہیں اور کنایہ کے طور پر ان لوگوں کی صفت بیان کی جاتی ہے کہ جو آتش غیظ و غضب سے بھرے ہوئے ہوں لیکن اسے استعمال نہ کریں۔ لفظ غیظ کا معنی شدت غضب ہے جو ایک روحانی ہیجان ہے جو طبیعت کے خلاف چیزوں کو دیکھ کر انسان پر طاری ہو جاتا ہے اور انسان کو آپے سے باہر کر دیتا ہے غصہ کی حالت خطرناک ترین حالت ہوتی ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے تو ایک دیوانگی کا عالم ہوتا ہے اور اعصابی نظام کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ جس سے معاشرہ میں بہت سے جرائم نمودار ہوتے ہیں۔ اس لئے درج بالا آیت میں پرہیزگاروں کی دوسری صفت غصہ کو پی جانا ظاہر کی گئی ہے۔ حضرت رسول خداؐ فرماتے ہیں: ”من کظم غیظاً و ھو قادر علی انفاذہ ملاہ اللہ امنا و ایماناً“ جو شخص اپنے غصے کو پی جائے جبکہ اسے استعمال کرنے پر قادر ہو تو خدا اس کے دل کو امن و ایمان کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ غصہ پی جانا انسان کی معنوی اور روحانی ترقی اور ایمان کی پختگی کے لئے بہت موٴثر ہے۔ ۳۔ والعافین عن الناس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ غصہ کو پی جانا (اپنے مقام پر) بڑی بڑی اچھی خوبی ہے لیکن یہ انسان کے دل کو بغض و کینہ سے پاک نہیں کرتا لہٰذا بغض و کینہ کی برائی ختم کرنے کے لئے ان دونوں (غصہ کو پی جانا اور درگذر کرنا) کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ البتہ ایسے افراد سے درگذر کرنا مراد ہے کہ جو اس کے اہل ہوں۔ ۴۔ واللہ یحب المحسنین۔۔۔۔۔ اور وہ نیکی کرنے والے (لوگ ہونے کی وجہ سے) اللہ کو محبوب ہیں۔ اس حصہ میں عفو و بخشش بلندتر مرحلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور زنجیر کی کڑیوں کی طرح ترقی و تکامل کے مراتب کی تصویر کشی کی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ انسان نہ صرف اپنا غصہ پی جائے اور عفو و بخشش سے کینہ کے داغ دل سے دھو ڈالے بلکہ برائی کے مقابلہ میں احسان اور نیکی کر کے (جہاں مناسب ہو) مدمقابل کے دل سے بھی دشمنی کی بیخ کنی کر دے اور اس کے دل میں نرمی پیدا کر دے تاکہ پھر کبھی اس قسم کا حادثہ سر نہ اٹھائے۔ خلاصہ یہ کہ پہلے غصے کے مقابلہ میں اپنے اوپر قابو پانے کا حکم ہے اس کے بعد اپنے دل کو پاک و صاف کرنے کا فرمان ہے اور آخر میں مدمقابل کے دل کو پاک کرنے کا ارشاد ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو شیعہ اور سنی کتب میں موجود ہے وہ یہ کہ ایک دفعہ حضرت امام علی بن حسین زین العابدین (ع) کی ایک کنیز نے فوراً کہا: خدا قرآن میں فرماتا ہے۔ ”وَ الْکاظِمینَ الْغَیْظَ“ امام نے فرمایا: میں نے اپنا غصہ پی لیا اور اس نے عرض کیا: ”وَ الْعافینَ عَنِ النَّاسِ“ امام نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کر دیا خدا تجھے معاف کرے۔ اس نے پھر کہا: ”وَ اللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ“ امام نے فرمایا: میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کر دیا۔ یہ حدیث اس بات پر واضح شاہد ہے کہ مذکورہ تین مراحل میں سے ہر ایک دوسرے سے بلند تر ہے۔ ۵۔ وَ الَّذینَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً ۔۔۔۔۔ وہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔ ”لفظ فاحشہ“ فحش یا فحشاء سے ہے جس کا معنی ہے ہر وہ عمل جو بہت ہی برا ہو اور یہ مفہوم عفت و پاک دامنی کے منافی اعمال میں منحصر نہیں ہے کیونکہ اصل میں یہ حد سے تجاوز کے معنیٰ میں ہے جس میں ہر طرح کا گناہ شامل ہے۔ درج بالا آیت میں پرہیزگاروں کی ایک اور صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ یہ لوگ گذشتہ مثبت صفات سے متصف ہونے کے علاوہ اگر کسی گناہ کے مرتکب ہو جائیں تو فوراً یاد خدا میں پڑ جاتے ہیں اور توبہ کر کے پھر کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب تک یاد خدا میں مشغول ہے وہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اور وہ گناہ کا اس وقت مرتکب ہو جاتا ہے جب کلی طور پر اس کا دل یاد خدا سے خالی ہو اور وہ محو غفلت ہو۔ لیکن پرہیزگار افراد میں یہ غفلت زیادہ عرصہ نہیں رہتی بلکہ وہ بہت جلدی یاد خدا میں مصروف ہو جاتے ہیں اور گذشتہ کمی کی تلافی کر لیتے ہیں اور اس وقت وہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور صرف اسی سے گناہوں کی بخشش طلب کرنا چاہیے۔ ”و من یغفر الذنوب الا اللہ“ کون ہے خدا کے علاوہ جو گناہوں کو بخشتا ہے۔ اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ آیت میں فاحشہ کے علاوہ اپنے اوپر ظلم کرنے کا بھی ذکر ہوا ہے (او ظلموا انفسھم) ممکن ہے ان دونوں میں فرق یہ ہو کہ فاحشہ گناہان کبیرہ اور ظلم سے گناہان صغیرہ مراد ہوں۔ آیت کے آخری حصہ میں تاکیداً کہا گیا ہے (وَ لَمْ یُصِرُّوا عَلی ما فَعَلُوا وَ ہُمْ یَعْلَمُون)۔ اور وہ علم و آگاہی کی صورت میں گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ اس آیت کے ذیل میں حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ”الاصرار ان یذنب الذنب فلا یستغفر اللہ ولا یحدث نفسہ بتوبة فذٰلک الاصرار“ گناہ پر اصرار کرنا یہ ہے کہ انسان گناہ کرے اور اس کے بعد استغفار نہ کرے اور توبہ کی فکر میں نہ رہے یہ ہے گناہ پر اصرار۔ (بحوالہ تفسیر عیاشی زیر نظر آیت کے ضمن میں)۔ کتاب امالی صدوق میں امام جعفر صادق (ع) سے ایک پر معنی حدیث منقول ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ جب درج بالا آیت نازل ہوئی اور توبہ کرنے والوں کو خدا کی طرف سے بخشش کی خوش خبری دی گئی تو ابلیس بہت ہی پریشان ہو گیا اس نے بلند آواز سے اپنے تمام یار و انصار کو بلا کر ایک اجلاس منعقد کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس دعوت کی وجہ پوچھی تو اس نے اس آیت کے نزول کی بناء پر اظہار پریشانی کیا تو اس کے ایک ہمنوا نے کہا کہ میں انسانوں کو اس گناہ کی دعوت دے دے کر اس آیت کو بےاثر کر دوں گا۔ ابلیس نے اس کی تجویز کو قبول نہ کیا ایک دوسرے نے اس قسم کی پیشکش کی کہ وہ بھی منظور نہ ہوئی کہ اس کے دوران ایک کہنہ شق شیطان کہ جس کا نام وسواس خناس تھا، کہنے لگا کہ میں اس مشکل کو حل کرتا ہوں۔ ابلیس نے پوچھا کیسے؟ وہ کہنے لگا اولاد آدم کو وعدوں اور امیدوں کے ساتھ گناہ میں آلودہ کروں گا اور جب وہ گناہ کے مرتکب ہو جائیں گے تو ان کے دلوں سے یاد خدا کو دور کروں گا۔ ابلیس نے کہا: یہی راستہ درست ہے اور یہ ذمہ داری رہتی دنیا تک اس کے سپرد کر دی۔ واضح ہے کہ سہل انگاری اور شیطانی وسوسوں کا نتیجہ فراموش کاری ہے اور صرف وہ لوگ اس میں گرفتار ہوتے ہیں جو اس کے سامنے سر جھکا دیں اور اصطلاح کے مطابق وسواس خناس کے ساتھ قریبی تعلق استوار کر لیں۔ لیکن بیدار مغز اور کامل ایمان کے حامل لوگ اس بات پر کڑی نظر رکھتے ہیں کہ جب کبھی ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اولین ہر موقع پر اس کے آثار کو توبہ و استغفار کے ذریعے دھو ڈالتے ہیں اور اپنے دل کے دریچے شیطان اور اس کے لشکر کے لئے بند کر دیتے ہیں اس طرح وہ ان میں داخل نہیں ہو پاتے۔ ”اُولئِکَ جَزاؤُہُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَ جَنَّاتٌ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہارُ خالِدینَ فیہا“ اس آیت میں ان پرہیزگاروں کی جزا اور اجر بیان کیا گیا ہے (کہ جن کی صفات گذشتہ آیت میں بیان ہو چکی ہیں)۔ وہ پروردگار کی بخشش اور بہشت بریں ہے، جس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (اور ایک لحظہ کے لئے ان سے پانی منقطع نہیں ہوتا) وہ جنت کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ درحقیقت اس مقام پر پہلے تو معنوی اور روحانی نعمات مغفرت، قلب و روح کو پاکیزہ کرنے اور روحانی ترقی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس کے بعد مادی نعمات کی طرف اشارہ کی گیا ہے اور آخر میں کہا گیا ہے کہ ”و نعم اجر العالمین“ یہ کیسی ہی اچھی جزا اور اجر ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے جو کہ مرد میدان ہیں نہ کہ سست و بیکار افراد جو ہمیشہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں میں لاپرواہی برتتے ہیں۔

137
3:137
قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنٞ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
تم سے پہلے کچھ سنتیں موجود تھیں (اور ہر قوم کی سرنوشت ان کے اعمال و صفات کے مطابق تھی اور تمہارا حال بھی ان کا سا ہے) زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ آیات خدا کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 138 کے تحت ملاحظہ کریں۔

138
3:138
هَٰذَا بَيَانٞ لِّلنَّاسِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ
یہ بیان ہے لوگوں کے لئے اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے۔

تفسیر گذشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

قرآن مجید کا ایک انفرادی اسلوب ہے کہ یہ گذشتہ ادوار کو موجودہ اور زمانہ حاضر کو گذشتہ تاریخ سے مربوط کرتا ہے اور حقائق کو سمجھنے کے لئے موجودہ نسل کا گذرے ہوئے لوگوں کے ساتھ فکری و ثقافتی ربط لازمی اور ضروری قرار دیتا ہے کیونکہ ان دو زمانوں (ماضی اور حال) کے پختہ ارتباط سے آنے والوں کی ذمہ داری واضح ہوتی ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں کہتا ہے کہ ”قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسیرُوا فِی الْاَرْضِ“ خدا کی کچھ سنتیں (تعلیمات) گذشتہ اقوام میں تھیں۔ جو ہرگز صرف ان کے لئے مخصوص نہ تھیں اور وہ قوانین زندگی کے سلسلہ کی ایک شکل میں تمام گذرے ہوئے اور آنے والوں کے لئے جاری ہوتی تھیں۔ ان سنتوں میں مومن و مجاہد اور متحد و بیدار مغز افراد کی پیشرفت اور بلند پروازی کی نشاندہی کی گئی ہے اور اسی طرح بےایمان اور گناہ کی نجاست سے آلودہ اقوام کی شکست و ریخت کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے جو کہ تاریخ بشریت میں ثبت ہے۔ تاریخ ہر قوم کے لئے زندگی سے کم اہمیت نہیں رکھتی۔ یہ تاریخ کا کمال ہے کہ وہ گذشتہ لوگوں کو اخلاقی خصوصیات ان کے برے بھلے کا اور ان کے نظریات و افکار ہمارے سامنے دہراتی ہے اور مختلف معاشروں کی ترقی و تنزلی اور کامیابی و ناکامی کے اسباب کی نشاندہی کرتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ لوگوں کی تاریخ انسانی معاشروں کی معنوی و روحانی زندگی کا آئینہ ہے اور آنے والوں کی بیداری کا سبب ہے۔ بنا بریں قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جاوٴ زمین میں چلو پھرو اور گزشتہ قوموں، سربراہوں، سرکش فرعونوں اور جبار بادشاہوں کی طاغوتیت اور بربریت کے آثار میں غور و فکر کرو اور ددیکھو کہ جب انہوں نے خدا کا انکار کیا اور خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور زمین میں ظلم و فساد کی بنیاد رکھی تو ان کا انجام کیا ہوا۔ گذشتہ لوگوں کے آثار آنے والوں کے لئے پندو نصیحت کا سامان ہیں اور لوگ ان سے مستفید ہو کر زندگی کی راہ سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

جہاں گردی

گذشتہ لوگوں کی کے جو نشانات زمین کے مختلف خطوں میں قدیم ادوار سے باقی ہیں، وہ زندہ اسناد اور بولنے والی تاریخ ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق لکھی ہوئی تاریخ کی نسبت ان سے زیادہ بہرہ ور ہو سکتے ہیں کیونکہ ان نشانات سے ہم ان اقوام کی جسمانی ساخت، ان کا زاویہ فکر اور ان کی قدرت و عظمت کو بآسانی جان سکتے ہیں جبکہ صفحات تاریخ صرف وقوع پذیر واقعات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ ستمگروں کے محلات کی ویرانی، اہرام مصر کی تعجب خیز عمارتیں، بابل کے برج، کسریٰ کے محل، قوم سبا کے آثار تمدن اور اس طرح کی بیسوں نشانیاں جو اس عالم کے گوشہ وکنار میں بکھری پڑی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نشانی زبان حال سے ان لوگوں کی تاریخ بیان کرتی ہے اور بےزبانی کی زبان میں باتیں کرتی ہے۔ یہ حقیقت اس وقت آشکار ہو جاتی ہے جب کوئی نکتہ سنج شاعران محلات کے خرابوں میں جا کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنی روح میں ایک اضطراب محسوس کرتا ہے اور ہیجان انگیز اشعار کہتا ہے، جیسا کہ خاقانی اور دوسرے عالمی شہرت یافتہ شعراء نے کسریٰ وغیرہ کے ٹوٹے پھوٹے محلات کے اندر سے یہ آوازیں دل کے کانوں سے سنی ہیں اور انہیں ادبی شاہکاروں کی زینت بنایا ہے۔ (تشریحی نوٹ: خاقانی اپنے ایک مشہور قصیدے میں جبکہ وہ ایوان مدائن میں آنسو بہا رہا تھا، کہتا ہے: بردیدہ من خندید کا ینجاز چہ می گوید خندند برآن دیدہ کاینجا نشود گریان یعنی وہ میری آنکھوں پر ہنسا کہ یہاں کیوں روتی ہیں اور وہ ان آنکھوں پر ہنستی ہیں جو یہاں نہ روئیں۔ معروف عالم مرحوم شیخ: بیوروی تختِ جمشید کے سامنے کہے ہوئے اپنے مشہور قصیدے میں کہتے ہیں: جم عبرت مردم شد، افسرزش گم شد سرخشت سرخم شد، ہاں ای سرباہش ہاں یہ تخت جمشید آج باعث عبرت ہے کہ آج اس پر بیٹھنے والا حاکم موجود نہیں ہے۔ این پند خموشان است گر پند زبان خواہی رو آیہ ”اور ثنا“ از مکتب قرآن خواں یہ تو خاموش لوگوں کی نصیحت ہے اور اگر تو زبان کی نصیحت چاہتا ہے تو مکتب قرآن سے ”اور ثنا“ کی آیت پڑھ)۔ ان زندہ تاریخی آثار میں سے ایک کا مطالعہ کرنا ضیغم تاریخی کتاب پڑھنے کے برابر ہے یہ مطالعہ انسان کی روحانی بیداری کے لئے ایک موٴثر چیز ہے کیونکہ جب ہم ان آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اچانک ایسا لگتا ہے کہ ان ویرانوں میں زیر خاک بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو گئی ہیں اور پہلے جوش ولولہ کا مشاہدہ کر رہی ہیں لیکن جب ہم دوبارہ ان کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو انہیں خاموش فراموش شدہ دیکھتے ہیں۔ ان دو خالتوں کا موازنہ اس راز کو طشت ازبام کرتا ہے کہ خود سر افراد کتنے کوتاہ نظر ہیں کہ جو بہت جلدی گذر جانے والی ہوسرانیوں کے لئے ہزارہا بدکاریوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس لئے قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ مسلمان روئے زمین پر سیر و سیاحت کریں اور گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کر کے ان سے عبرت حاصل کریں۔ اسلام میں بھی جہاں گردی اور سیر و تفریح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن آج کے ہوس پرست سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گذشتہ لوگوں کے آثار و انجام کے مطالعہ اور گوشہ ہائے عالم میں عظمت خدا کے مشاہدہ کے لئے اور اسی کا نام قرآن نے ”سیردانی الارض“ رکھا ہے اور کئی ایک آیات میں اس کا حکم دیا ہے۔مثلاً ۱۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُجْرِمینَ یعنی ان سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔ (نمل۔۶۹) ۲۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بدءَ الْخلقَ یعنی کہو کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ خدا نے کیسے تخلیق کی۔ (عنکبوت۔۲۰) ۳۔ اٴفَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہا ۔۔۔۔ (حج ۔۴۶) کیا یہ لوگ روئے زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے دل اس سے کچھ عقل حاصل کرتے یہ آیت کہتی ہے کہ یہ معنوی اور روحانی سیاحی اور زمین کی سیر انسان کے دل کو دانائی، آنکھوں کو بینائی اور کان کو سماعت عطا کرتی ہے اور اسے سکوت و جمود سے خلاصی دلاتی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اسلامی حکم و قانون بہت سے دیگر قوانین کی طرح طاق نسیاں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اب مسلمان اسے بھی نظر التفات سے نہیں دیکھتے یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنی فکر کا دائرہ صرف گرد و پیش تک محدود رکھا ہے۔ وہ گویا اس عالم کے علاوہ کسی اور عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور دنیا کے اجتماعی انقلابات و وسائل سے بےخبر ہیں اور ان جزوی اور کم اثر کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ہے جو اصولی اور بنیادی کاموں کے مقابلہ میں خاص قدرت و قیمت نہیں رکھتے۔ اس دنیا میں پوپ اور عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری صدیوں کی گوشہ نشینی اور علیحدگی کے بعد زمین کی سیر و سیاحت کے لئے نکلتے ہیں تاکہ وہ ضروریات زمانہ کو سمجھیں۔ تو اس صورت میں کیا مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہیے اور اپنے محدود فکری تنگ دائرہ سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ عالم اسلام اور مسلمانوں میں ایک انقلاب و حرکت کار فرما ہو۔ ہذا بَیانٌ لِلنَّاسِ وَ ہُدیً وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقینَ۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جو کچھ گذشتہ آیت میں بیان ہو چکا ہے وہ تمام انسانوں کے لئے ایک واضح اعلان اور تمام پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور وعظ و نصیحت کا ایک بہترین ذریعہ یعنی باوجود یہ کہ یہ بیانات تمام انسانوں کے لئے ہمہ گیر پہلو رکھتے ہیں لیکن ان سے ہدایت کا ثمر صرف پرہیزگار ہی حاصل کر سکتے ہیں۔

139
3:139
وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور سست نہ ہو جاؤ اور حزن و ملال نہ کرو اور تم ہی بر تر ہو اگر تم ایمان والے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 143 کے تحت ملاحظہ کریں۔

140
3:140
إِن يَمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٞ فَقَدۡ مَسَّ ٱلۡقَوۡمَ قَرۡحٞ مِّثۡلُهُۥۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمۡ شُهَدَآءَۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اگر تمہیں (میدان احد میں ) زخم لگے ہیں (اور تمہیں نقصان پہنچا ہے) تو اس گروہ کو بھی (میدان بدر میں ) اسی طرح زخم لگ چکے ہیں اور(ہم شکست و کامیابی کے) ان دنوں کو لوگوں میں الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں (کیونکہ یہ اس جہان کی زندگی کی خاصیت ہے) یہ اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ پہچانے جائیں اور خدا تم میں سے(شہداء) قربان ہونے والوں کو منتخب کر لے اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 143 کے تحت ملاحظہ کریں۔

141
3:141
وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَيَمۡحَقَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور اس لئے کہ خدا صاحب ایمان لوگوں کو خالص قرار دے (اور وہ الگ ہو جائیں ) اور کافروں کو رفتہ رفتہ نابود کر دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 143 کے تحت ملاحظہ کریں۔

142
3:142
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَيَعۡلَمَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
کیا تمہارا گمان ہے کہ تم (صرف دعویٰ ایمان کی بناء پر) جنت میں داخل کر دیئے جاؤ گے جبکہ ابھی تک خدا نے تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جدا نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 143 کے تحت ملاحظہ کریں۔

143
3:143
وَلَقَدۡ كُنتُمۡ تَمَنَّوۡنَ ٱلۡمَوۡتَ مِن قَبۡلِ أَن تَلۡقَوۡهُ فَقَدۡ رَأَيۡتُمُوهُ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ
اور تم موت (اور راہ خدا میں شہادت) کی تمنا کرتے تھے جبکہ ابھی تمہارا اور اس کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا اور پھر تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تمہیں وہ نظر آ رہی تھی (لیکن تم اپنے تئیں اس کے حوالے کرنے کو تیار نہ تھے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان آیات کی شان نزول کے بارے میں کئی ایک روایات ہیں۔ مجموعی طور پر ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان آیات کا ضمیمہ ہیں جو جنگ احد کے بارے میں پہلے آچکی ہیں۔ یہ آیات جنگ اُحد کے اسباب و نتائج کا بہترین تجزیہ پیش کرتی ہیں اور ضمنی طور پر مسلمانوں کی روحانی تقویت اور ان کی تسلی کا سامان بھی فراہم کرتی ہیں۔ کیونکہ جیسا بیان کیا گیا ہے کہ جنگ اُحد کچھ مسلمانوں کی نافرمانی اور جنگی اصولوں سے انحراف کی وجہ سے شکست پر منتج ہوئی اور اس میں اسلام کی چند درخشاں شخصیات نے جام شہادت نوش فرمایا جن میں سے سرفہرست پیغمبر اکرمؐ کے چچا حضرت حمزہؑ کا نام گرامی آتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ اسی رات اپنے صحابہ کے ہمراہ شہداء کی لاشوں کے قریب گئے۔ شہدا کی ارواح مقدسہ کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپؑ ایک ایک شہید کی لاش مبارک کے پاس بیٹھتے اور گریہ کرتے بعد میں ان سب کی لاشوں کو کوہ اُحد کے دامن میں بہت ہی رنج و ملال کے ساتھ دفن کیا گیا۔ ان حساس لمحات میں درج بالا آیات کا نزول ہوا کیونکہ اس موقع پر مسلمان روحانی تقویت اور شکست کے نتائج سے معنوی فائدہ حاصل کرنے کے شدید محتاج تھے۔

تفسیر جنگ اُحد کے نتائج

وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ۔ ”تہنو“، ”وہن“ کے مادے سے لیا گیا ہے۔ وہن لغت میں ہر قسم کی سستی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق جسم سے ہو یا ارادہ ایمان سے۔ اس آیت میں پہلے تو مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک جنگ میں شکست کی وجہ سے تم میں سستی اور کمزوری پیدا ہو اور تم محزون ہو کر آخری کامیابی سے مایوس ہو جاوٴ۔ کیونکہ بیدار مغز افراد جس طرح کامیابیوں سے استفادہ کرتے ہیں اسی طرح شکست سے بھی درس حاصل کرتے ہیں اور اس کے سائے میں کمزوری کے نقاط اور شکست کی وجوہات تلاش کرتے ہیں اور انہیں دور کر کے آخری کامیابی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ”اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ۔“ (تم ہی برتر ہو اگر تم میں ایمان ہو) ایک بہت ہی پر معنی جملہ ہے۔ یعنی تمہاری شکست درحقیقت روح ایمان اور اس کے آثار کھو بیٹھنے کی وجہ تھی۔ اگر تم فرمان خدا اور رسول کو پائے نافرمانی سے نہ روندتے تو اس قسم کی مصیبت میں گرفتار نہ ہوتے۔ تاہم تمہیں رنج و ملال نہیں ہونا چاہئے اگر راہ ایمان پر ثابت قدم رہے تو آخری فتح تمہاری ہو گی اور ایک میدان میں شکست سے دوچار ہونے کا معنی حتمی شکست نہیں ہے۔ إِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ۔ ”قرح“ کا معنی ایسا زخم ہے جو بدن میں کسی خارجی عامل کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس آیت میں ایک دوسرا درس آخری کامیابی تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کو دیا جا رہا ہے کہ تمہیں دشمن سے کمتر تو نہیں ہونا چاہیے۔ وہ سخت سنگین شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ ان کے ستر آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بہت سے لوگ زخمی اور قید ہوئے تھے۔ بایں ہمہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے نہیں رہے بلکہ میدان احد میں تمہاری غفلت کی وجہ سے انہوں نے اپنی شکست کی تلافی کی ہے۔ اب اگر تم اس میدان میں شکست کھا گئے ہو تو تم بھی نقصان کی تلافی کئے بغیر نہ جاوٴ اسی لئے ارشاد ہوا ہے کہ اگر تمہیں زخم لگے ہیں تو ان کو بھی اس طرح کے زخم لگے ہیں۔ بنا برایں تمہاری سستی اور غم اندوہ کی وجہ کیا ہے۔ بعض مفسرین اس آیت میں زخموں سے مراد کفار کے وہ زخم لیتے ہیں جو انہیں جنگ اُحد میں لگے تھے۔ لیکن پہلے تو یہ زخم مسلمانوں کے زخموں جیسے نہیں تھے۔ لہٰذا یہ لفظ مثلہ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے اور دوسرا یہ کہ یہ بعد کے جملہ کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتے جس کی تفسیر عنقریب آ جائے گی۔ وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُداوِلُہا بَیْنَ النَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ یَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَداءَ اس حصہ میں پہلے ایک سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ انسانی زندگی میں تلخ و شیریں حوادث آتے رہتے ہیں کہ جن میں سے کسی کے لئے پائیداری نہیں ہے۔ فتوحات و ناکامیاں، قدرتیں اور ناتوانیاں سب کی اطاعت بدلتی رہتی ہے۔ لہٰذا ایک میدان کی شکست اور اس کے آثار کو پائیدار نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ شکست کے عوامل اور اسباب کا مطالعہ کر کے ان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے استفادہ کیا جائے اور اسے کامیابی سے بدلا جائے دنیا میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ اور زندگی اپنے اصول کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے اور خدا ان ایام کو لوگوں کے درمیان گردش دیتا رہتا ہے تاکہ ان حواث و واقعات میں سے سنت تکامل آشکار ہو جائے۔ (تشریحی نوٹ: ”ایام“، ”یوم“ کی جمع ہے۔ ”یوم“ کا معنی ہے ”دن“۔ لوگوں کی کامیابی کے زمانے کو بھی ایام کہا جاتا ہے۔ ”ندا و لھا“ ”معاولہ“ سے ہے اس کا معنی ہے ایک چیز کو مختلف لوگوں کے درمیان گردش دینا)۔ بعد ازاں ان ناگوار واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ”و لیعم اللہ الذین اٰمنوا“ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ صاحبان ایمان افراد ایمان کے دعویداروں سے الگ ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں جب تک درد ناک واقعات کسی قوم میں واقع ہوں تو ان کی صفیں ایک دوسرے سے مشخص نہیں ہوں گی کیونکہ کامیابیاں لوگوں کو غفلت کی نیند سلا دیتی ہیں جبکہ شکستیں تیار افراد کے لئے بیدار کرنے والی ہوتی ہیں اور ان کی قدر و قیمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ”ویتخذ منکم شہداء“ میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس شکست کے نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ تم راہ اسلام میں شہادتیں اور قربانیاں پیش کرو اور جان لو کہ یہ پاک دین و آئین تمہیں مفت میں نہیں مل گیا مبادا آئندہ اسے تھوڑی سی قیمت پر دے بیٹھو۔ جو قوم مقدس مقاصد اور اہداف کے لئے قربانی نہ دے، وہ انہیں کم تر سمجھتی ہے لیکن جب ان کے لئے قربانیاں دے آئندہ نسلیں بھی انہیں عظمت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لفظ شہدا سے مراد یہاں گواہ ہوں یعنی خدا چاہتا ہے کہ اس حادثہ سے تم میں سے کچھ گواہ لے لے کہ کس طرح نافرمانیوں کا انجام شکست ہوا کرتا ہے اور آئندہ جب کبھی انہیں اس قسم کے حادثوں کا سامنا ہو یہ گواہ ان کے لئے معلم کا کردار ادا کریں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ اس لئے ان کی حمایت بھی نہیں کرے گا۔

پرورش و تربیت کا میدان

ولیمحص اللہ الذین اٰمنوا۔۔۔۔۔۔ ”لیمحص“ تمحیص کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کے ہر نقص و عیب سے پاک و صاف کرنا ”یمحق“ مادہ محق (بروزن مرد) سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کا آہستہ آہستہ کم ہونا۔ اسی مناسبت سے مہینہ کی آخری رات کو ”محاق“ کہا جاتا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ چاند کی روشنی کم اور ختم ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں جنگ اُحد کے ایک اور فطری نتیجہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ اس قسم کی شکستیں جماعتوں کی کمزوری اور عیوب کے پہلو واضح کرتی ہیں اور ان عیوب کو دُور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ اس معرکہ حق باطل میں باایمان افراد کو خالص قرار دے اور انہیں کمزوری کے نقاط کی نشاندہی کرے تاکہ وہ آئندہ کی اس قسم کی آزمائش کی کھٹالی سے گذر کر اپنی ہوشیاری کا اندازہ لگا لیں جیسا کہ حضرت علی (ع) کا ارشاد ہے: ”فی تقلب الاحوال یعلم جواھر الرجال“ حالات کی دگرگونی اور زندگی کے کٹھن حوادث میں لوگوں کے جوہر کا پتہ چلتا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں سے باخبر ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بعض شکستیں ایسی اصلاح پر ہوتی ہیں کہ جن کے اثرات انسانی معاشروں میں ظاہری خواب اور کامیابیوں سے کئی درجے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ تفسیر ”المنار“ کا موٴلف اپنے استاد مصر کے عظیم مفتی محمد عبدہ سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کو خواب میں دیکھا اور آپؐ نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے میدان احد میں فتح و شکست کا مختار قرار دیا جاتا تو میں اس میدان میں شکست کو ترجیح دیتا کیونکہ یہ شکست تاریخ اسلام میں اصلاح کنندہ عامل بن گئی۔ ”و یمحق الکافرین“ یہ جملہ درحقیقت پہلے جملہ کا نتیجہ ہے کیونکہ جب مومنین حوادث کی کھٹالی میں مضبوط اور پاک ہو گئے تو ان میں کفر و شرک کی برائی کو دور کرنے اور اپنے معاشرہ کو ان گندگیوں سے پاک کرنے کی کافی آمادگی پیدا ہو گئی یعنی پہلے خود پاک ہونا چاہیے اور پھر دوسروں کو پاک کرنا چاہیے۔ حقیقت میں جس طرح کہ چاند اپنی جلوہ گری کے ساتھ آہستہ آہستہ کم روشن ہو جاتا ہے اور وہ حالت محاق میں چلا جاتا ہے، اسی طرح کفر و شرک اور ان کے حامیوں کی عظمت مسلمانوں کی مضبوطی پاکیزگی سے زوال پذیر ہو گئی۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذینَ جاہَدُوا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصَّابِرینَ۔ قرآن مجید واقعہ اُحد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے ایک فکری اشتباہ کی تصحیح کرتا ہے کہ تم یہ خیال کرتے ہو کہ جہاد میں استقامت کا مظاہرہ کئے بغیر بہشت بریں میں قیامت پذیر ہو جاوٴ گے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ اس معنوی سعادت کے اندر داخل ہونا صرف مسلمان کہلوانے یا عمل کے بغیر صرف عقیدہ سے ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو معاملہ نہایت سہل ہوتا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے اور جب تک حقیقی عقائد کی میدان عمل میں عکاسی نہ ہو کوئی شخص بھی ان سعادتوں سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ آزمائش کی منزل پر (حق و باطل کی) صفیں ایک دوسرے سے ممتاز ہو جاتی ہیں اور مجاہد و مہاجر بےقیمت و بےارزش افراد سے ممتاز نظر آتے ہیں۔

کھوکھلی باتیں

وَ لَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوہُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُونَ۔ جنگ بدر میں بعض مسلمانوں کی پرافتخار شہادت کے بعد بعض مسلمان جب باہم مل بیٹھتے تو ہمیشہ شہادت کی آرزو کرتے اور کہتے کاش یہ اعزاز میدان بدر میں ہمیں بھی نصیب ہوتا۔ یقیناً ان میں کچھ لوگ سچے بھی تھے لیکن ان میں ایک جھوٹا گروہ بھی تھا جس نے اپنے آپ کو سمجھنے میں اشتباہ کیا بہرحال زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ جنگ احد کا وحشتناک معرکہ درپیش ہوا تو ان سچے مجاہدین نے بہادری سے جنگ کی اور جام شہادت نوش کیا اور اپنی آرزو کو پا لیا لیکن جھوٹوں کے گروہ نے جب لشکر اسلام میں شکست کے آثار دیکھے تو وہ قتل ہونے کے ڈر سے بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ آیت انہیں سرزنش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ تم ایسے لوگ تھے کہ جو دلوں میں آرزو اور تمنائے شہادت کے دعویدار تھے، پھر جب تم نے اپنے محبوب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔

جنگ اُحد میں شکست کے اسباب کا مختصر جائزہ

اوپر کی آیات میں بعض ایسی قابل توجہ تعبیرات نظر آتی ہیں جن میں سے ہر ایک جنگ اُحد کی شکست کے کسی نہ کسی راز سے پردہ اٹھاتی ہے۔ مختصراً یہ کہ چند ایک ایسے عوامل موجود تھے کہ جن کی بنا پر یہ دل خراش اور عبرت آموز حادثہ رونما ہوا۔ ۱۔ بعض نومسلموں معانی اسلام کے ادراک میں اشتباہ پیدا ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ صرف ایمان کا اظہار ہی کامیابی کے لئے کافی ہے۔ لہٰذا تمام جنگوں میں غیبی امداد کے ذریعے خدا ان کی حمایت کرے گا۔ اس طرح انہوں نے کامیابی کے فطری عوامل، صحیح منصوبہ سازی اور ضروری مسائل فراہم کرنے کے سلسلہ میں سنت الٰہی کو پس پشت ڈال دیا۔ ۲۔ فوجی نظم و ضبط کی پابندی نہ کرنا، پیغمبر اکرمؐ کا تاکیدی فرمان تھا کہ تیر انداز اپنے حساس مورچے پر ڈٹے رہیں۔ اس فرمان کی مخالفت اس شکست کا موثر عامل بنی۔ ۳۔ نومسلموں کی دنیا پرستی کہ جنہوں نے جنگی غنائم کی جمع آوری کو دشمن کا پیچھا کرنے پر ترجیح دی اور اسلحہ اتار کر غنیمت حاصل کرنے کے لئے چل پڑے حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ راہ خدا میں جہاد کرتے وقت ان باتوں کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیے۔ ۴۔ تکبر اور غرور جو جنگ بدر کی کامیابی سے پیدا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ دشمن کی طاقت کو اپنے اذہان سے نکال بیٹھے تھے اور اس کے ساز و سامان کو معمولی سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ اس شکست کا چوتھا اہم عامل تھا۔ یہ وہ کمزور پہلو تھے جنہیں اس شکست کے کھولتے ہوئے پانی سے دھونے کی ضرورت تھی۔

144
3:144
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُۚ أَفَإِيْن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَ ٱنقَلَبۡتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡۚ وَمَن يَنقَلِبۡ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۚ وَسَيَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلشَّـٰكِرِينَ
محمدؐ صرف خدا کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہو گزرے ہیں کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے (او ر ان کی وفات کے بعد اسلام کو چھوڑ کر کفر و بت پرستی کے زمانہ کی طرف پلٹ جاؤ گے) اور جو شخص پلٹ جائے گا وہ ہر گز خدا کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا اور خدا تعالیٰ عنقریب شکر گزاروں کو جزا دے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 145 کے تحت ملاحظہ کریں۔

145
3:145
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِ كِتَٰبٗا مُّؤَجَّلٗاۗ وَمَن يُرِدۡ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَن يُرِدۡ ثَوَابَ ٱلۡأٓخِرَةِ نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَاۚ وَسَنَجۡزِي ٱلشَّـٰكِرِينَ
اور کوئی شخص حکم خدا کے بغیر نہیں مرتا یہ معین شدہ سر نوشت ہے (اس بناء پر پیغمبر اور دوسرے لوگوں کی وفات سنت الٰہی ہے) تو جو شخص بھی دنیا کا ثواب اور جزا چاہتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ہم اسے دیں گے اور جو آخرت کا ثواب اور جزا چاہتا ہے تو اس میں اسے عطا کریں گے اور عنقریب شکرگزاروں کو جزا دیں گے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت بھی جنگ احد کے ایک حادثہ کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ جس وقت جنگ کی آگ مسلمانوں اور بت پرستوں کے درمیان شعلہ زن تھی، اچانک ایک آواز بلند ہوئی اور کسی نے کہا: ”میں نے محمدؐ کو قتل کر دیا“ یہ ٹھیک اس وقت کی بات ہے جب ایک شخص عمر بن قیمشہ حارثی نے ایک پتھر آنحضرتؐ کی طرف پھینکا اور پیغمبرؐ کی پیشانی اور دندان مبارک شہید ہو گئے۔ نچلا لب پھٹ گیا اور آپؐ کا رخسار مبارک لہولہان ہو گیا۔ (تشریحی نوٹ: بعض تواریخ میں ہے کہ چند آدمیوں نے مل کر آنحضرتؐ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں آپؐ کو یہ زخم آئے)۔ اس موقع پر ایک دشمن چاہتا تھا کہ آپؐ کو قتل کر دے۔ اس دوران لشکر اسلام کے ایک علمدار مصعب بن عمیر ان کے حملوں کو تو روک دیا لیکن خود شہید ہو گیا۔ اس کی شکل چونکہ پیغمبرؐ سے ملتی جلتی تھی تو دشمن نے یہی گمان کیا کہ پیغمبر خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں۔ یہ آواز فضائے عالم میں گونج اٹھی اس آواز سے جتنا بت پرستوں کے جذبات پر مثبت اثر پیدا ہوا اتنا ہی مسلمانوں میں عجیب اضطراب پیدا ہو گیا۔ چنانچہ ایک کثیر گروہ کے ہاتھ پاوٴں جواب دے گئے اور وہ بڑی تیزی سے میدان جنگ سے نکل گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے سوچا کہ پیغمبر تو شہید ہو گئے ہیں لہٰذا اسلام ہی کو خیرباد کہہ دیا جائے اور بت پرستوں کے سرداروں سے امان لی جائے۔ لیکن ان کے مقابلہ میں فدا کاروں اور جانثاروں کی بھی ایک قلیل جماعت تھی جن میں حضرت علی (ع)، ابودجانہ اور طلحہ جیسے بہادر لوگ موجود تھے جو باقی لوگوں کو پامردی اور استقامت کی دعوت دے رہے تھے۔ ان میں سے انس بن نضر کو لوگوں کے درمیان آیا اور کہنے لگا؛ اے لوگو! اگر محمدؐ شہید ہو گئے ہیں تو محمدؐ کا خدا قتل نہیں ہوا۔ چلو اور جنگ کرو اسی نیک اور مقدس ہدف کے حصول کے لئے درجہ شہادت پر فائز ہو جاوٴ۔ یہ گفتگو تمام کرتے ہی انہوں نے دشمن پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ تاہم جلدی ہی معلوم ہو گیا کہ پیغمبر اکرمؐ سلامت ہیں اور اطلاع اشتباھاً دی گئی تھی۔ مندرجہ بالا آیت اسی مقام پر نازل ہوئی اور اس نے پہلے گروہ کی مذمت کی۔

تفسیر شخصیت پرستی کی ممانعت

وَ ما مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَإِنْ ماتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اَعْقابِکُمْ: جنگ اُحد کے واقعات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ آیت مسلمانوں پر ایک اور حقیقت واضح کرتی ہے وہ یہ کہ اسلام شخصیت پرستی کا دین نہیں ہے اور فرض کر لیں کہ اگر پیغمبرؐ اس میدان جنگ میں جام شہادت نوش فرماتے تب بھی مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ لڑائی کو جاری رکھتے کیونکہ پیغمبرؐ کی (طبعی) وفات یا شہادت سے اسلام کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اب تک باقی رہنے والا دین حق ہے۔ شخصیت پرستی ایک خطرناک مسئلہ ہے جو مقصد لڑائی کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی خاص شخص چاہے وہ پیغمبر خاتمؐ ہی کیوں نہ ہوں سے بے مقصد کی وابستگی کا معنی یہ ہے کہ جب وہ شخص اس دنیا سے چلا جائے تو پیشرفت کی کوشش اوراس کی تلاش ختم ہو سکتی ہے اور یہ اجتماعی رشد و ترقی کے نہ ہونے کی ایک واضح نشانی ہے۔ شخصیت پرستی سے مقابلہ آپؐ کی حقانیت اور عظمت کی ایک اور نشانی ہے کیونکہ اگر آپؐ نے اپنی ذات کے لئے قیام کیا ہوتا تو آپؐ اس فکر کو لوگوں میں فروغ دیتے کہ تمام چیزیں ان کے وجود سے وابستہ ہیں اور اگر وہ درمیان سے چلے جائیں تو تمام چیزیں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ لیکن آپؐ جیسے صحیح اور سچے رہبر کبھی اس قسم کے افکار لوگوں میں پنپنے نہیں دیتے بلکہ سختی کے ساتھ ان کی بیخ کنی کرتے ہیں اور انہیں اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ ہمارا مقصد ہماری ذات سے بلند ہے اور وہ ہمارے چلے جانے سے نابود نہیں ہو گا۔ لہٰذا قرآن صراحت کے ساتھ اوپر کی آیت میں اعلان کرتا ہے کہ محمدؐ صرف خدا کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں ان سے پہلے بھی بھیجے ہوئے افراد تھے جو دنیا سے چل بسے کیا اگر وہ دنیا سے وفات پا جائیں یا قتل ہوں تو تم الٹے پاوٴں پھر جاوٴ گے اور بت پرستی کا راستہ اختیار کرو گے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ آیت میں رجعت قہقہری (پیچھے کی طرف پلٹنے) کے لئے ”انْقَلَبْتُمْ عَلی اَعْقابِکُمْ“ کے الفاظ لائے گئے ہیں کیونکہ اعقاب جو کہ عقب (بر قزن خشن) کی جمع ہے اس کا معنی ایڑی ہے اور یہ رجعت قہقہری کی واضح تصویر کشی ہے۔ وَ مَنْ یَنْقَلِبْ عَلی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللَّہَ شَیْئاً اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ پیچھے کی طرف پھر جائیں اور کفر و بت پرستی کے دور کی طرف لوٹ جائیں وہ صرف اپنے آپؐ کو نقصان پہنچا رہے ہیں نہ کہ خدا کو۔ کیونکہ اس عمل سے نہ صرف ان کی نیک بختی جاتی رہتی ہے بلکہ جو کچھ اب تک کما چکے ہیں وہ بھی تیزی کے ساتھ اپنے ہاتھ سے دے بیٹھیں گے۔ وَ سَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرینَ آیت کے آخر میں اس قلیل جماعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو تمام مشکلات اور پیغمبر اکرمؐ کی خبر شہادت عام ہونے کے باوجود جہاد سے دست بردار نہیں ہوئی۔ اس میں ان کی جد و جہد کو سراہا گیا اور ان کا تعارف شاکرین اور نعمات الہٰی سے بہرہ ور ہونے والے اشخاص سے کرایا گیا ہے اور ارشاد ہوتا ہے؛ خدا ان شکر گزاروں کو اچھی جزا دے گا۔ اس آیت نے تمام مسلمانوں اور ہر زمانہ کے لوگوں کے لئے شخصیت پرستی کا مقابلہ کرنے کا ایک نصیحت آموز درس دیا ہے کہ بامقصد مسائل کبھی ایک یا کئی محدود اشخاص سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ وہ کئی ایک اصول اور ابدی پروگرام کے گرد گھومتے ہیں اور افراد کے بدلنے یا ان کے فوت ہو جانے سے انہیں معطل نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ خدا کے عظیم پیغمبر ہی کیوں نہ ہوں اور اصولی طور پر ایک مذہب اور پروگرام کی بقا کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اس لئے کہ جو پروگرام اور مشن کسی شخص واحد سے مربوط ہوتے ہیں وہ تا دیر نہیں رہتے بلکہ بہت جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر اسلامی اداروں کے پروگرام ابھی تک اشخاص سے قائم ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ درج بالا آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اداروں کو داغ بیل اس طرح ڈالیں کہ وہ لائق و فائق افراد سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں تاہم وہ کسی شخص سے وابستہ نہ رہیں۔ وَ ما کانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّہِ کِتاباً مُؤَجَّلاً جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ میدان اُحد میں پیغمبرؐ کی شہادت کی بےبنیاد خبر بہت سے مسلمانوں کو وحشت و اضطراب میں ڈالا یہاں تک کہ وہ میدان چھوڑ گئے بلکہ بعض تو اسلام سے ہی علیحدہ ہونا چاہتے تھے اس لئے ازسرنو اس آیت میں اس گروہ کے لئے تنبیہ اور بیداری کے لئے ارشاد ہوا ہے کہ موت خدا کے ہاتھوں میں ہے اور اس کے ہاں ہر شخص کے لئے مقرر شدہ وقت ہے جس سے وہ بھاگ نہیں سکتا۔ بنا بریں اگر پیغمبرؐ اس میدان میں جام شہادت نوش فرما لیتے تو سوائے ایک سنت الٰہی انجام پانے کے اور کوئی بات نہیں تھی لیکن ان حالات میں مسلمانوں کو وحشت و اضطراب میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ لڑائی جاری نہ رکھیں اور دوسری طرف میدان جنگ سے فرار موت سے خلاصی نہیں دلا سکتا جیسا کہ میدان جنگ میں شریک ہونا بھی انسان کی موت کو پہلے نہیں لا سکتا۔ اس لئے جان کی حفاظت کے لئے میدان جنگ سے فرار چہ معنی دارد؟ اجل اور اس طرح اجل ”حتمی“ اور ”معلق“ کے درمیان فرق پر سورہٴ انعام میں ہم سیر حاصل تبصرہ کریں گے۔ وَ مَنْ یُرِدْ ثَوابَ الدُّنْیا نُؤْتِہِ مِنْہا وَ مَنْ یُرِدْ ثَوابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِہِ مِنْہا آیت کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ انسان کی کوشش کبھی ضایع نہیں ہوتی۔ اگر کسی کا مقصد صرف مادی فوائد تک محدود ہو اور مقصد جنگ احد کے بعض سپاہیوں کی طرح صرف مال غنیمت جمع کرنا ہو تو بالآخر کچھ نہ کچھ اس سے بہرہ ور ہو گا لیکن اگر اس کا مقصد عظیم ہو اور حیات جاودانی اور انسانی فضائل کی راہ میں کوشش کی جائے تو پھر بھی اپنے مقصد تک پہنچ جائے گا۔ بنا بریں جب دنیا یا آخرت کا حصول دونوں ہی کوشش کے محتاج ہیں تو پھر انسان اپنے وجود کے سرمایہ کو بلند ترین اور پائیدار راستہ میں صرف نہ کرے۔ اس کے بعد دوبارہ تاکیداً کہا گیا کہ ہم بہت جلد شکر گزاروں کو جزا دیں گے (و سنجزی الشاکرین) قابل توجہ امر یہ ہے کہ گذشتہ آیت میں یہی جملہ فعل غائب کی شکل میں ذکر ہوا تھا اور یہاں فعل متکلم کی صورت میں ہے جس سے وعدہٴ خداوندی کی انتہائی تاکید ہوتی ہے اور سادہ الفاظ میں خدا کہتا ہے کہ ان کی جزا کا میں ضامن ہوں۔ تفسیر مجمع البیان میں امام باقر (ع) سے اس آیت کے ذیل میں منقول ہے: حضرت علی (ع) کو اُحد کے دن اکسٹھ زخم لگے تھے اور پیغمبرؐ نے ”ام عطیہ“ کو حکم دیا کہ وہ دونوں حضرت علی (ع) کے زخموں کا علاج کریں تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ وہ حالت پریشانی میں آنحضرتؐ کی خدمت میں عرض کرنے لگیں کہ حضرت علی (ع) کے بدن کی کیفیت یہ ہے کہ ہم جب ایک زخم باندھتی ہیں تو دوسرا کھل جاتا ہے اور ان کے بدن کے زخم اس قدر زیادہ اور خطرناک ہیں کہ ہم ان کی زندگی کے بارے میں پریشان ہیں تو حضرت رسول خداؐ اور کچھ دیگر مسلمان حضرت علی (ع) کی عیادت کے لئے ان کے گھر آئے جبکہ ان کے بدن پر زخم ہی زخم تھے تو پیغمبر اکرمؐ اپنے دست مبارک کو ان کے جسم سے مس کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص راہ خدا میں اس حالت کو دیکھ لے وہ اپنی ذمہ داری کے آخری درجہ کو پہنچ چکا ہے اور جن جن زخموں پر آپؐ ہاتھ رکھتے تھے وہ فوراً مل جاتے تھے تو اس وقت حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ الحمد للہ کہ ان حالات میں میدان جنگ سے نہیں بھاگا اور دشمن کو پشت نہیں دکھائی۔ خدا نے ان کی کوشش کی قدردانی کی اور قرآن کی دو آیات میں آپ (ع) کی اور مجاہدین اُحد میں سے دیگر قابل تقلید افراد کی فدا کاریوں کی طرف اشارہ کیا ”و سنجزی اللہ الشاکرین“ اور دوسرے مقام پر ارشاد ہوا (و سنجزی الشاکرینن)۔۔

146
3:146
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيّٖ قَٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٞ فَمَا وَهَنُواْ لِمَآ أَصَابَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا ٱسۡتَكَانُواْۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اور کتنے پیغمبر تھے جن کی معیت میں بہت سے خدا والوں نے جنگ کی تو انہوں نے راہ خدا میں پہنچنے والی مصیبت کے مقابلے میں سستی نہیں کی اور نہ وہ کمزور و ناتواں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سر جھکایا اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔

147
3:147
وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
ان کی گفتگو صرف یہ تھی کہ پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمارے کاموں میں زیادتی سے صرف نظر فرما ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کفار پر کامیابی عطا کر۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 148 کے تحت ملاحظہ کریں۔

148
3:148
فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ ٱلۡأٓخِرَةِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
لہٰذا خدا نے دنیا اور آخرت کا حسن ثواب انہیں دیا اور خدا نیک کار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

تفسیر گذشتہ زمانوں کے مجاہدین

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

و کاٴین من نبی۔۔۔۔۔ ”کاٴین“ کے معنی ہیں کتنے زیادہ اور ادب کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ لفظ کاف تشبیہ اور ”این“ سے مرکب ہے کہ جو اب ایک ہی کلمہ بن چکا ہے اور پہلے اجزاء کا انفرادی معنی متروک ہو گیا اور اس کا معنی ہو گیا ہے ”کتنے زیادہ“ ”ربّیون“ ربّی (بر وزن ملی) کی جمع ہے اور ربی اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس کا خدا سے مضبوط اتصال ہو جو صاحب ایمان، عالم، صابر اور مخلص ہو۔ جنگ اُحد کے واقعات کے بعد اوپر کی آیت گذشتہ زمانہ کے مجاہدین اور اصحاب انبیاء کی قوت، شجاعت پختگی ایمان اور استقامت کی یاد دلا کر مسلمانوں کو شجاعت اور فدا کاری کی تشویق و ترغیب دلاتی ہے اور ضمنی طور پر میدان سے فرار کرنے والوں کی سرزنش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ بہت سے انبیاء ایسے تھے جن کے یار و انصار کی صف میں خدا پرست مجاہد موجود تھے۔ اس کے بعد ان کا طرز عمل یوں بیان کرتی ہے: وہ انبیاء کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، بہت کٹھن مشکلات میں انہوں نے سستی اور ناتوانی نہیں دکھائی اور دشمن کے سامنے کبھی سرخم نہیں کیا اور نہ ہی اپنے آپؐ کو ان کے سپرد کیا (ما ضعّفوا وما استکانوا) اور واضح ہے کہ خدا ایسے ہی افراد کو پسند کرتا ہے جو لڑائی میں پیچھا نہیں دکھاتے (واللہ یحب الصابرین)۔ وہ لوگ جو کبھی سستی یا لغزشوں کی وجہ سے دشمن کے سامنے مشکلات میں گھر جاتے تھے تو بجائے اس کے کہ میدان ان کے حوالہ کر دیں یا اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا ان کے دماغ میں کفر و ارتداد کی خلش پیدا ہو، وہ بارگاہ خداوندی سے صبر و استقامت اور پامردی کی درخواست کرتے تھے اور کہتے تھے۔ ”رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَ إِسْرافَنا فی اَمْرِنا وَ ثَبِّتْ اَقْدامَنا وَ انْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرینَ“۔ پرور دگارا! ہمارے گناہوں کو بخش دے ہماری جلد بازی سے درگزر فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر کامیابی عطا کر۔ وہ اس قسم کے طرز فکر عمل سے خدا سے جلد اپنی جزا اور ثواب حاصل کرتے تھے اس دنیا کی جزا بھی جو دشمن پر فتح و کامرانی ہے اور دوسرے جہان کی جزا ثواب بھی۔ ”فَآتاہُمُ اللَّہُ ثَوابَ الدُّنْیا وَ حُسْنَ ثَوابِ الْآخِرَةِ“ آیت کے آخر میں انہیں نیکی کاروں میں شمار کر کے ارشاد ہوتا ہے:ِ وَ اللَّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ ۔خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے۔ اس طرح سے خدا تازہ مسلمانوں کے لئے گذشتہ امتوں کے مجاہدین کے پروگراموں اور مشکلات کے مقابلہ میں ان کے طرز عمل کا ذکر ایک درس کے طور پر کر رہا ہے۔ اوپر کی آیات ان چیزوں کے علاوہ کئی اور نکات بھی واضح کرتی ہیں: ۱۔ جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا جا چکا ہے کہ صبر کے معنی ہیں استقامت و پامردی۔ اس لئے اس آیت میں اسے ضعف اور تسلیم کے مقابلہ میں لایا گیا ہے اور ضمناً صابر اور نیکو کار شخص کے سامنے ہزارہا مشکلات کھڑی ہیں۔ اگر اس میں استقامت نہ ہو گی تو وہ بہت جلد ہی اپنا کام چھوڑ دے گا۔ ۲۔ حقیقی مجاہد بجائے اس کے کہ وہ اپنی شکست کا سبب دوسرے کو قرار دے یا اسے وہمی عوامل کا نتیجہ قرار دے، وہ اپنی ذات میں اس کا سرچشمہ تلاش کرتے ہیں اور اپنے اشتباہات کی تلافی کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ شکست کا لفظ اپنی زبان پر بھی نہیں لاتے اور اس کے بجائے اپنے نفسوں پر زیادتی کا ذکر کرتے ہیں بخلاف ہمارے کہ ہم آج کی دنیا میں کوشش کرتے ہیں کہ ضعف و کمزوری کے پہلو کو نظر انداز کر دیں جو ہماری ناکامیوں کا سرچشمہ ہیں اور ان سب کو خارجی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم کبھی ان کمزوریوں کو ختم نہیں کر سکتے۔ ۳۔ درج بالا آیت میں دنیاوی جزا کو ”ثواب الدنیا“ کہا گیا ہے جبکہ آخرت کی جزا کو ”حسن ثواب الآخرة“ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آخرت کی جزا دنیاوی جزا سے بہت زیادہ امتیاز رکھتی ہے کیونکہ دنیاوی جزا کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو وہ آخر فنا ہو جائے گی اور خلاف مزاج چیزوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو گی۔ جب کہ آخرت کی جزا سر تا پا بہتر۔ خالص اور ہر قسم کی تکلیف سے پاک ہو گی۔

149
3:149
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ
اے ایمان والو ! اگر ان لوگوں کی اطاعت کرو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تمہیں پیچھے کی طرف دھکیل دیں گے اور آخر کار تم نقصان اٹھانے والے ہو جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 151 کے تحت ملاحظہ کریں۔

150
3:150
بَلِ ٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلنَّـٰصِرِينَ
( وہ تمہارا سہارا نہیں ہیں بلکہ) تمہارا سہارا اور سرپرست خدا ہے اور وہ بہترین مدد گار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 151 کے تحت ملاحظہ کریں۔

151
3:151
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
عنقریب ہم ان کے دل میں جنہوں نے کفر اختیار کیا، رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے ان چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جن کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوئی اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کا ٹھکانا کس قدر برا ہے۔

تفسیر بار بار خطرے سے آگاہی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِنْ تُطیعُوا الَّذینَ کَفَرُوا یَرُدُّوکُمْ عَلی اَعْقابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خاسِرینَ۔ یہ آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح جنگ اُحد کے واقعات کا تجزیہ و تحلیل کرتی ہیں اور اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جنگ اُحد کے ختم ہونے کے بعد دشمنان اسلام زہریلے پروپیکنڈا سے نصیحت کے بھیس میں مسلمانوں کے درمیان منافرت و اختلاف کا بیج بوتے تھے اور چند مسلمانوں کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں اسلام سے بدظن کرنا چاہتے تھے شاید یہودی اور عیسائی بھی اس کام میں منافقین کے شریک تھے۔ جیسا کہ جنگ اُحد میں بھی پیغمبر اکرمؐ کی شہادت کی بےبنیاد افواہ پھیلا کر مسلمانوں کی نفسیات کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی آیت مسلمانوں کو کفار کی پیروی کرنے سے ڈراتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر تم کفار کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں پیچھے کی طرف دھکیل دیں گے اور تعلیمات اسلام کے زیر سایہ روحانی، معنوی اور مادی ترقی کے بعد تمہیں پہلے نقطہ کی طرف گرا دیں گے جو کفر و فساد ہے اور اس وقت تمہیں بہت زیادہ نقصان پہنچے گا کیونکہ اس سے زیادہ خسارہ اور کیا ہو گا کہ انسان اسلام کو کفر سے اور سعادت کو شقاوت سے اور حق کو باطل سے بدل ڈالے۔ اس کے بعد انہیں تسلی دیتے ہوئے تاکید کی گئی ہے تمہار ابہت بڑا مددگار موجود ہے۔ (بَلِ اللَّہُ مَوْلاکُمْ وَ ہُوَ خَیْرُ النَّاصِرینَ) خدا تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مددگار ہے جو کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا جبکہ دوسرے مددگار شکست و ریخت سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ سَنُلْقی فی قُلُوبِ الَّذینَ کَفَرُوا الرُّعْبَ۔ یہاں جنگ اُحد کے بعد مسلمانوں کے معجزانہ طور پر نجات پانے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی نصرت و حمایت کا ایک موقع یاد دلاتا ہے۔ آئندہ کے لئے بھی ان کا جوش ابھارا گیا ہے اور کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے کیونکہ جیسا بیان ہو چکا ہے کہ مکہ کے بت پرست جنگ اُحد میں شاندار کامیابی حاصل کر چکے تھے اور ظاہراً لشکر اسلام مغلوب ہو چکا تھا اب چاہئے تو یہ تھا کہ وہ میدان کی طرف پلٹ آتے اور مسلمانوں کی باقی ماندہ قوت کو کچل دیتے۔ مدینہ کو تاخت و تاراج کرتے۔ پیغمبرؐ کی بےبنیاد خبر شہادت سے مطلع ہونے کے بعد انہیں قتل کر دیتے اور اس بارے میں کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوتے لیکن خدا نے ان کے دلوں میں عجیب خوف ڈال دیا ایسا خوف و ہراس جو کفر و بت پرستی کا خاصہ ہے۔ یہ خوف ان میں اتنا جاگزیر ہوا کہ روایات کے مطابق جس وقت وہ میں احد سے پلٹ کر مکہ کے قریب پہنچے تو ایک شکست خوردہ لشکر کی صورت میں نظر آتے تھے۔ آیت کہتی ہے: ”ہم بہت جلد ہی کفار کے دلوں میں خوف ڈال دیں گے“(یعنی جس طرح جنگ اُحد کے موقع پر تم دیکھ چکے ہو) اسی طرح آئندہ کے لئے بھی یہی امید رکھو۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ ان کے دلوں میں رعب و خوف کا سبب یوں بیان کیا گیا ہے: بِما اَشْرَکُوا بِاللَّہِ ما لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطاناً یعنی اس وجہ سے انہوں نے بلا دلیل بہت سی چیزوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا۔ درحقیقت جو بےہودہ لوگ دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے اور رائی کو پہاڑ بنا لیتے ہیں اور پتھر اور لکڑی کو اپنا معبود سمجھتے ہیں وہ حوادث زمانہ کے مقابلہ سے عاجز ہوتے ہیں کیونکہ وہ بہت بڑی ہوتی ہے اور وہ اس سے لرزہ براندام ہو جاتے ہیں جیسا کہ آج کی دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے صاحبان اقتدار معمولی سے واقعہ پر پریشان ہو جاتے ہیں اور رائی کو پہاڑ سمجھ لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے لئے محکم اور مضبوط سہارے کا انتخاب نہیں کیا ہوتا۔ وَ مَاْوہُمُ النَّارُ وَ بِئْسَ مَثْوَی الظَّالِمینَ۔ یہ افراد اپنے اور معاشرے پر ظلم کرتے ہیں اس بنا پر ان کے لئے سوائے (جہنم کی) آگ کے کوئی پناہ گاہ نہیں اور وہ کیسی بری پناہ گاہ ہے۔

دشمن کا خوف زدہ ہونا کامیابی کا ایک راستہ ہے

بہت سی روایات میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ فرمایا کرتے تھے کہ خداوند عالم کی طرف سے مجھے عطا کی گئی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ: وہ دشمن کے دل میں خوف ڈال کر مجھے کامیابی سے نوازتا ہے۔ (بحوالہ کتاب خصال اور مجمع البیان سے رجوع کیجئے)۔ یہ بات جنگ میں کامیابی کے ایک اہم عامل کی طرف اشارہ ہے جو آج کل کے زمانہ میں خصوصی توجہ کے لائق ہے کہ کامیابی کا اہم ترین عامل مجاہد کا جذبہ ہوتا ہے اور جتنا موثر یہ عامل ہے اتنا ان کی انفرادی قوت اور ساز و سامان کی زیادتی بھی موثر نہیں۔ اسلام روح ایمان کو تقویت بخشتا ہے جہاد کے لئے عشق و دولت پیدا کرتا ہے۔ اعزاز شہادت کی تمنا پیدا کرتا ہے اور خدائے قادر پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے اسلام اس روح اور جذبہ کی پرورش اپنے مجاہدین میں اعلیٰ ترین طریقہ سے کرتا ہے۔ جبکہ خرافات کے متوالے بت پرست جن کا سہارا بےشعور بےارادہ اور بےجان بت تھے اور جو معاد و قیامت اور حیات بعد موت کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے، جن کے افکار بیہودگیوں سے آلودہ تھے ان کا جذبہ کمزور اور ناتواں تھا اور مسلمانوں کی ان پر کامیابی کا موثر عامل یہی روحانی امتیاز تھا۔

152
3:152
وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
خدا نے تم سے اپنا وعدہ (جنگ احد میں دشمن پر کامیابی) کا سچ کر دکھایا جبکہ (ابتداء جنگ احد میں ) تم دشمنوں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے اور یہ کامیابی جاری تھی یہاں تک کہ تم سست ہو گئے (اور مورچوں کو چھوڑنے لگے۔ اور) آپس میں نزاع کرنے لگے اور جو( دشمن پر غلبہ) تم چاہتے تھے وہ تمہیں دکھایا لیکن اس کے بعد تم نے نافرمانی کی تم میں سے بعض دنیا کے خواہشمند تھے اور بعض آخرت کے خواہاں تھے پھر خدا نے تمہیں ان سے پھیر دیا اور (تمہاری فتح شکست سے بدل گئی) تاکہ تمہارا امتحان لے اور اس نے تمہیں معاف کر دیا اور خدا مومنین کے لیے فضل کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 154 کے تحت ملاحظہ کریں۔

153
3:153
۞إِذۡ تُصۡعِدُونَ وَلَا تَلۡوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٖ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ فِيٓ أُخۡرَىٰكُمۡ فَأَثَٰبَكُمۡ غَمَّۢا بِغَمّٖ لِّكَيۡلَا تَحۡزَنُواْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا مَآ أَصَٰبَكُمۡۗ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
( یاد کرو وہ وقت) جب تم پہاڑ پر چڑھ رہے تھے (اور تمہارا ایک گروہ بیابان میں بکھرا ہوا تھا) اور تم پیچھے رہ جانے والوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور پیغمبر پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے اس کے بعد تم پر پے در پے مصائب آئے اور یہ اس لیے تھا (تاکہ جنگی غنائم )کے ہاتھ سے چلے جانے سے تم غمگین نہ ہو اور نہ ہی ان آلام کی وجہ سے جو تم پر آ پڑے ہیں اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 154 کے تحت ملاحظہ کریں۔

154
3:154
ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ وَطَآئِفَةٞ قَدۡ أَهَمَّتۡهُمۡ أَنفُسُهُمۡ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ ظَنَّ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ مِن شَيۡءٖۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ يُخۡفُونَ فِيٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبۡدُونَ لَكَۖ يَقُولُونَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٞ مَّا قُتِلۡنَا هَٰهُنَاۗ قُل لَّوۡ كُنتُمۡ فِي بُيُوتِكُمۡ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَتۡلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمۡۖ وَلِيَبۡتَلِيَ ٱللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
پھر اس غم و اندوہ کے بعد امن و آرام کا تم پر سایہ نازل کیا اور یہ ایک اونگھ کی صورت میں تھا جو (واقعہ احد کی بعد والی رات میں ) تم میں سے ایک گروہ کو عارض ہوئی تھی لیکن ایک دوسرے گروہ کو اپنی جان کی فکر تھی اور (انہیں نیند نہیں آئی تھی) وہ لوگ خدا کے بارے میں زمانہ جاہلیت کے سے برے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا کامیابی کا کچھ حصہ ہمیں نصیب ہو گا کہہ دو (تمام کامیابیاں اور) کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنے دل میں کچھ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جن کا تمہارے سامنے اظہار نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ اگر کامیابی میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو ہم قتل نہ ہوتے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو وہ لوگ کہ قتل ہونا جن کی قسمت میں تھا وہ (دشمن) ان کے بستروں پر آ پڑتے(اور انہیں قتل کر دیتے) اور یہ اس لیے کہ خدا تمہارے سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کی آزمائش کرے اور تمہارے دلوں میں جو (ایمان) ہے اس کے خلوص کو پرکھے اور تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ ہے اللہ اس سے با خبر ہے۔

تفسیر کامیابی کے بعد شکست

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جنگ اٗحد کے واقعات میں گزر چکا ہے کہ مسلمان ابتداء جنگ میں اتحاد اور بڑی دلیری کے ساتھ لڑے اور جلد ہی کامیاب ہو گئے اور دشمن کا لشکر پراکندہ و منتشر ہو گیا جس سے سارے لشکر اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن کوہ عینین کے درے میں عبداللہ بن جبیر کی سرکردگی میں لڑنے والے تیر اندازوں کی نافرمانی اور ان کے حساس مورچے کو چھوڑنے اور دوسرے لوگوں کی مال غنیمت جمع کرنے کی مشغولیت سے ورق ہی الٹ گیا اور لشکر اسلام زبردست شکست سے دوچار ہوا۔ کافی شہید دے کر اور بہت نقصان اٹھا کر جب مسلمان مدینہ کی طرف پلٹ آئے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کیا خدا نے ہم سے فتح کامیابی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ پھر اس جنگ میں ہمیں کیوں شکست ہوئی؟ اس پر مندرجہ بالا آیات میں جواب دیا گیا اور شکست کے اسباب کی نشاندہی کی گئی۔ اب ہم آیات کی تفصیلی تفسیر کی طرف آتے ہیں۔ وَ لَقَدْ صَدَقَکُمُ اللَّہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ (تشریحی نوٹ: تحسونھم۔ مادہ حس سے ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کے حواس ختم کر دینا اور اسے قتل کر دینا۔ یعنی تم انہیں قتل کرتے تھے)۔ بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذا فَشِلْتُمْ۔ (تشریحی نوٹ: ”اذا “یہاں پر شرطیہ نہیں ”حین “ اور ”وقت“ کے معنی میں ہے) اس جملہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ کامیابی کے بارے میں خدا کا وعدہ بالکل درست تھا اور اس کی وجہ ہی سے تم ابتداء جنگ میں کامیاب ہوئے اور حکم خدا سے تم نے دشمن کو تتر بتر کر دیا۔ کامیابی کا یہ وعدہ اس وقت تک تھا جب تک تم اسقتامت و پامردی اور فرمان پیغمبرؐ کی پیروی سے دست بردار نہیں ہوئے اور شکست کا دروازہ اس وقت کھلا جب سستی اور نافرمانی نے تمہیں آ گھیرا۔ یعنی اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کامیابی کا وعدہ بلا شرط تھا تو تمہاری بڑی غلط فہمی ہے بلکہ کامیابی کے تمام وعدہ فرمان خدا کی پیروی کے ساتھ مشروط ہیں۔ البتہ یہ خدا نے مسلمانوں سے اس جنگ میں کامیابی کا وعدہ کب کیا تھا، اس بارے میں دو احتمال ہیں۔ پہلا یہ کہ مراد عمومی وعدے ہیں جو خدا کی طرف سے مسلمانوں کو دشمنوں پر کامیابی کے بارے میں دئے جا چکے تھے۔ دوسرا یہ کہ پیغمبرؐ خدا کی صریحی طور پر جنگ اُحد سے پہلے وعدہ دے چکے تھے اور ان کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے۔ وَ تَنازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ما اَراکُمْ ما تُحِبُّونَ۔ اس میں کوہ عینین کے تیراندازوں کی طرف اشارہ ہے اور ان کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ وہ تیرانداز جو پہاڑ کے درے پر تھے ان میں مورچہ چھوڑنے کے بارے میں اختلاف پڑ گیا اور ان میں بیشتر نے نافرمانی اور مخالفت کی۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے کہ جیسی تمہاری آرزو تھی ویسی ہی نظروں میں سما جانے والی کامیابی دیکھ لینے کے بعد تم نے راہ عصیان اختیار کی اور حقیقت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تم نے جو لازمی تھی وہ کوشش کی لیکن اس کو برقرار رکھنے کے لئے تم نے استقامت اور پامردی نہیں دکھائی اور ہمیشہ کامیابیوں کی حفاظت کرنا ان کے حصول سے زیادہ مشکل ہوا کرتا ہے۔ مِنْکُمْ مَنْ یُریدُ الدُّنْیا وَ مِنْکُمْ مَنْ یُریدُ الْآخِرَةَ اس موقع پر تم میں سے ایک گروہ دنیا چاہتا تھا وہ مال غنیمت اکھٹا مرنے لگا جبکہ دوسرا گروہ جس میں عبداللہ بن جبیر اور دیگر تیرانداز شامل تھے جو ثابت قدم رہے وہ آخرت اور خدائی جزا و ثواب کے خواہاں تھے۔ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ یہاں ورق الٹ گیا اور خدا نے تمہاری کامیابی کو شکست سے بدل ڈالا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور تمہیں تنبیہ کرے اور تمہاری تربیت کرے۔ وَ لَقَدْ عَفا عَنْکُمْ وَ اللَّہُ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنینَ اس کے بعد خدا نے تمہاری ان سب نافرمانیوں سے درگذر کیا جب کہ تم سزا کے مستحق تھے کیونکہ خداوند عالم مومنین کے لئے ہر قسم کی نعمتوں کو فرو گذار نہیں کرتا۔ إِذْ تُصْعِدُونَ (تشریحی نوٹ: ”تصدون“ مادہ اصعاد سے ہے۔ مفردات میں راغب کے بقول اس کا معنی ہے زمینوں پر چلنا یا اوپر کی طرف جانا جبکہ صعود کا معنی صرف اوپر کی طرف جانا ہے۔ آیت میں یہ لفظ شاید اس لئے آیا ہے کہ بھاگنے والوں میں کچھ پہاڑ پر چڑھ گئے تھے اور بعض بیاباں میں سرگرداں تھے)۔ وَ لا تَلْوُونَ عَلی اَحَدٍ وَ الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فی اُخْراکُمْ (تشریحی نوٹ: ”اخریکم“ یہاں ”ورائکم“ کے معنی میں ہے یعنی تمہارے پیچھے)۔ اس آیت میں خداوند تعالی مسلمانوں کے لئے جنگ اُحد کے انجام کا نقشہ کھینچتا ہے اور فرماتا ہے: یاد کرو اس وقت کو جب تم ہر طرف منتشر تھے اور بھاگ رہے تھے اور پیچھے کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے کہ تمہارے باقی بھائی کس حالت میں ہیں جبکہ پیغمبرؐ پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے: الیّ عباد اللہ الیّ عباد اللہ فانی رسول اللہ خدا کے بندوں میری طرف پلٹ آوٴ میں خدا کا رسول ہوں لیکن تم میں سے کوئی ان کی پکار پر کان نہیں دھرتا تھا۔ فاثابکم غما بغمٍّ اس وقت یکے بعد دیگر غم و اندوہ تم پر ٹوٹے کیونکہ تم ایک طرف جنگ میں شکست، کئی افسروں اور بہادر سپاہیوں کی شہادت اور کئی زخمیوں کے غم میں مبتلا تھے تو دوسری طرف پیغمبر اکرمؐ کی خبر شہادت کے پھیل جانے کی پریشانی اور پھر ان کے زخمی ہونے کا غم تھا اور یہ سب کچھ مخالفتوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ تھا۔ لِکَیْلا تَحْزَنُوا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا ما اَصابَکُمْ۔ غم و اندوہ کا یہ سیلاب اس لئے تھا کہ اب تم مال غنیمت ہاتھ سے جانے پر غمگین نہ ہونے پاوٴ اور کامیابی کی راہ میں جو مشکلات اور زخم تمہیں پہنچے ہیں ان کی فکر کرو۔ وَ اللَّہُ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ۔ خدا تمہارے اعمال سے آگاہ تھا اور پوری طرح سے اطاعت کرنے والوں، حقیقی مجاہدین اور اسی طرح بھاگنے والوں کی کیفیت جانتا تھا۔ بنا بریں تم میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو فریب نہ دے اور جو کچھ جنگ اُحد میں ہوا ہے اس کے برخلاف دعویٰ نہ کرے اور اگر واقعاً تم پہلے گروہ میں داخل ہو تو خدا کا شکر ادا کرو ورنہ گناہوں سے توبہ کرو۔

زمانہ جاہلیت کے وسوسے

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُعاساً (تشریحی نوٹ: ”امنہ“ کا معنی ہے امن و امان اور نعاس کا مطلب ہے ہلکی سی نیند یا اونگھ)۔ واقعہ اُحد کی بعد والی رات بہت دردناک اور اضطراب انگیز تھی۔ مسلمان سمجھتے تھے کہ قریش کے فاتح سپاہی دوبارہ مدینہ کی طرف پلٹ آئیں گے اور مسلمانوں کے باقی ماندہ مقابلہ کی طاقت ختم کر دیں گے اور شاید کسی طور پر بت پرستوں کے واپس آنے کی خبر بھی انہیں آ پہنچی تھی اور یہ مسلم تھا کہ اگر وہ پلٹ آتے تو جنگ کا خطرناک ترین مرحلہ پیش آتا۔ اس دوران مجاہدین اور فرار کرنے والوں میں سے پشیمان افراد جنہوں نے توبہ کر لی تھی اب پروردگار کے لطف و کرم پر اعتماد رکھتے تھے اور آئندہ کے لئے پیغمبر اکرمؐ کے وعدوں پر مطمئن تھے۔ اس حالت وحشت میں وہ آرام کی نیند سو گئے تھے جبکہ جنگی لباس میں ملبوس اور ہتھیاروں سے لیس تھے لیکن منافق، ضعف الایمان اور بزدل گروہ ساری رات فکر و پریشانی میں مبتلا رہا اور بادل نخواستہ حقیقی مومنین کی پہرہ داری کرتا رہا۔ درج بالا آیت رات کی اس کیفیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پھر اُحد کے دن ان تمام غم و اندوہ کے بعد تم پر امن و امان اور راحت و آرام نازل کیا اور یہ وہی ہلکی پھلکی نیند تھی جو تم میں سے ایک گروہ کو آئی۔ لیکن ایک ایسا گروہ بھی تھا کہ جسے صرف اپنی جان کی فکر تھی وہ لوگ سوائے اپنی جانیں بچانے کے اور کوئی چیز نہیں سوچتے تھے۔ اس لئے وہ راحت و آرام سے محروم ہو گئے تھے۔ یہ ایمان کا ایک اہم تریں ثمرہ ہے کہ مرد مومن اس دنیا میں بھی راحت و آرام سے رہتا ہے جبکہ بےایمان یا منافق اور کمزور ایمان والے افراد کبھی بھی اس کا ذائقہ نہیں چکھتے۔ بعد ازاں قرآن منافقین اور کمزور ایمان والے افراد کی گفتگو اور طرز فکر کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: یظنون بااللہ غیر الحق ظن الناہیة ۔ وہ خدا کے بارے میں زمانہ جاہلیت کا غلط اور ناحق گمان رکھتے اور اپنی گفتگو میں کہتے شاید پیغمبرؐ کے وعدہ غلط ہی ہوں۔ اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو کہتے تھے۔ ”ھل لنا من الامر من شیءٍ“ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ اس دل خراش کیفیت کے بعد ہمیں کامیابی نصیب ہو یعنی بہت ہی بعید یا ناممکن ہے قرآن ان کو جواباً کہتا ہے: ”قل ان الامر کلہ للہ“ کہ دو، جی ہاں! کامیابی تو خدا کے ہاتھ میں ہے، اگر وہ چاہے اور تمہیں اس لائق سمجھے تو کامیابی نصیب کرے۔ وہ اب بات کو ظاہر کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جو وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے تھے کیونکہ وہ اس سے ڈرتے تھے کہ کہیں کفار کی صف میں ان کا شمار نہ ہو۔ یخفون فی انفسھم مالا یبدون لَکَ گویا ان کا خیال تھا کہ جنگ اُحد کی شکست دین اسلام کے ناحق ہونے کی علامت ہے۔ اسی لئے وہ کہتے تھے لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا ۔ یعنی مگر ہم حق پر ہوتے اور کامیابی ہمارے نصیب میں ہوتی تو یہاں ہمارے اتنے لوگ نہ مارے جاتے۔ خداوند عالم ان کے جواب میں دو چیزوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے یہ کہ یہ تصور نہ کرو کہ کوئی شخص میدان جنگ کے سخت حوادث سے بھاگ کر موت سے بچ سکتا ہے (جبکہ ان کا استقبال کرنا چاہئے) جن کی اجل آ گئی ہے چاہے وہ اپنے گھروں میں رہ جائیں ان کے بستر پر دشمن آ پڑیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے (قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ) اصولی طور پر وہ قوم جس کی اکثریت کے خلاف شکست کا فیصلہ اس کی سستی کی وجہ سے کیا گیا ہو وہ آخرکار موت کا ذائقہ چکھے گی تو کیا ہی اچھا ہے کہ وہ میدان جہاد میں دشمن کی ضرب سے پُر افتخار مقابلے میں اسے لبیک کہے نہ یہ کہ بستر پر ذلت آمیز طریقہ سے اس کا کام تمام کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ یہ حوادث رونما ہونے چاہیئں تاکہ دلوں میں جو کچھ ہے وہ آشکار ہو جائے۔ علاوہ ازیں لوگوں کی آہستہ آہستہ تربیت ہو اور ان کی نیتیں خالص، ایمان پختہ اور دل پاک ہوں (وَلِيَبْتَلِيَ اللّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ) آیت کے آخر میں کہا گیا ہے: وَاللّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ یعنی خدا مینوں کے بھیدوں کو جانتا ہے اسی بنا پر وہ صرف لوگوں کے اعمال پر نگاہ نہیں رکھتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ان کے دلوں کو بھی آزمائے اور انہیں شرک، نفاق، شک اور تردٗد کی ہر قسم کی آلودگی سے پاک کر دے۔

155
3:155
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ مِنكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ إِنَّمَا ٱسۡتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُواْۖ وَلَقَدۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٞ
وہ لوگ جنہوں نے دو گروہوں کے آمنے سامنے ہونے کے دن (جنگ احد کے روز) فرار کیا انہیں شیطان نے ان کے چند گناہوں کی وجہ سے بہکا دیا اور خدا نے انہیں معاف کر دیا خدا بخشنے والا اور بردبار ہے۔

تفسیر ایک گناہ دوسرے گناہ کا سرچشمہ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ان الذين تولوا منکم... یہ آیت بھی جنگ اُحد کے واقعات سے متعلق مسلمانوں سے ایک اور درحقیقت بیان کرتی ہے اور وہ کہ جو لغزشیں انسان سے شیطانی وسوسوں کے باعث صادر ہوتی ہیں، وہ دراصل ان گذشتہ گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی روحانی کمزوریوں کو نتیجہ ہوتی ہیں۔ جو انسان کے لیے دوسرے گناہوں کی راہ ہموار کرتی ہیں راہ پاک و پاکیزہ دل میں شیطانی توہمات کبھی اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وہ لوگ جو میدان اُحد سے فرار کر گئے شیطان نے انہیں چند ایک گناہوں کی وجہ سے پھیلا دیا مگر خدا نے انہیں بخش دیا اور خدا بخشنے والا اور حلیم ہے۔ یوں خدا ان کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ آئندہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں وہ پہلے اپنے دل کو گناہ سے پاک کریں۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس گناہ مراد وہی دنیا پرستی، مال غنیمت کو جمع کرنا اور دوران جنگ پیغمبرؐ کی حکم عدولی کرنا ہو یا دوسرے گناہ مراد ہوں جن کے وہ جنگ اٗحد سے پہلے مرتکب ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی ایمانی قوت کمزور کر دی تھی، مفسر عظیم مرحوم طبرسی اس آیت کے ذیل میں ابوالقاسم بلخی سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن (پیغمبر کے علاوہ) سوائے تیرہ افراد کے تمام بھاگ گئے تھے اور ان تیرہ میں سے آٹھ انصار اور پانچ مہاجر تھے۔ جن میں سے حضرت علی (ع) اور طلحہ کے علاوہ باقی ناموں میں اختلاف ہے البتہ دونوں کے بارے میں تمام کا اتفاق ہے کہ انہوں نے فرار نہیں کیا۔

156
3:156
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ إِذَا ضَرَبُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ كَانُواْ غُزّٗى لَّوۡ كَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِيَجۡعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسۡرَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
اے ایماندارو ! تم کفار کی مانند نہ ہو جاؤ کہ جب ان کے بھائی سفر پر یا جنگ کے لئے جاتے ہیں (اور مر جاتے ہیں یا قتل ہو جاتے ہیں ) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور قتل نہ ہوتے (تم ایسا نہ کہو) تاکہ خدا یہ حسرت ان کے دلوں میں رکھ دے اور زندہ کرنے والا اور مارنے والا خدا ہے اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 158 کے تحت ملاحظہ کریں۔

157
3:157
وَلَئِن قُتِلۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ
اور اگر تم راہ خدا میں قتل ہو جاؤ یا مر جاؤ (تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا) کیونکہ خدا کی رحمت اور مغفرت ان تمام چیزوں سے جو انہوں نے (ساری زندگی میں ) جمع کیا ہے بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 158 کے تحت ملاحظہ کریں۔

158
3:158
وَلَئِن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ
اور اگر تم مر جاؤ یا قتل ہو جاؤ تو خدا کی طرف پلٹ جاؤ گے (لہٰذا تم فنا نہیں ہو گے)

تفسیر منافقین کی مفاد پرستی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یا اَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَکُونُوا کَالَّذینَ ۔۔۔۔۔۔۔ واقعہٴ احد دو لحاظ سے مسلمانوں کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے پہلی یہ کہ واقعہ اس وقت کے تمام حالات و کیفیات کا آئینہ دار ہے جس میں مسلمانوں کی حقیقی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے اور انہیں اپنی کیفیت کی اصلاح کرنے پر ابھارا گیا اور کمزور پہلووٴں کو بہتر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی بنا پر قرآن نے اس واقعہ کو نہایت اہتمام سے بیان کیا ہے۔ بہت سی گذشتہ اور آئندہ آیات میں بھی اس واقعہ سے تربیت کے لئے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ واقعہ دشمنوں اور منافقوں کے لئے زہر پاشی کا کام دیتا تھا اس لئے بہت سی آیات میں اس کو زائل کیا گیا ہے مندرجہ بالا آیات بھی ایسی ہی ہیں۔ مذکورہ آیات منافقین کی تخریبی کارروائیوں کو ناکام بنانے اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے پہلے صاحب ایمان افراد سے خطاب کرتی ہیں کہ تم کفار کی طرح نہ ہو جاوٴ کہ جس وقت ان کے بھائی سفر پر یا جنگ لڑنے کے لئے جاتے ہیں اور وہ قتل ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ افسوس اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ اگرچہ وہ یہ باتیں ہمدردی کے بھیس میں کرتے ہیں لیکن ان زہریلی باتوں سے بچو اور ایسے جملے زبان پر نہ لاوٴ۔ لِیَجْعَلَ اللَّہُ ذلِکَ حَسْرَةً فی قُلُوبِہِم: اگر تم مومنین ان کی گمراہ کن باتوں سے متاثر ہوئے اور ایسی ہی باتیں کیں تو فطری طور پر تمہارے جذبے ماند پڑ جائیں گے اور میدان جنگ کی طرف جانے سے اور راہ خدا میں سفر سے رک جاوٴ گے اور اس طرح لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن تم ایسا نہ کرو اور مضبوط جذبے کے ساتھ میدان جہاد میں جاوٴ تاکہ ایسی حسرت منافقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے رہ جائے۔ اس کے بعد قرآن ان کی زہر آلود باتوں کے تین منطقی جواب دیتا ہے: ۱۔ موت و حیات ہر حالت میں اللہ کے دست قدرت میں ہے، سفر اور جنگ کرنے سے اس کی قطعی و یقینی حالت نہیں بدل سکتی اور خدا بندوں کے سب اعمال سے آگاہ ہے۔ (وَ اللَّہُ یُحْیی وَ یُمیتُ وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیرٌ)۔ ۲۔ اب اگر تم راہ خدا میں مر جاوٴ اور منافقین کے خیال کے مطابق تم پر موت جلد آ پڑے تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ پروردگار کی رحمت و مغفرت ان اموال سے بدرجہا بہتر ہے جو تم یا منافقین اپنی زندگی میں جمع کرتے ہیں (وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّہِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ)۔ اصولی طور پر ان دونوں کا آپ میں تقابل نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن ان کی پشت ذہنیت مال و دولت اور چند روزہ زندگی کو اعزاز جہاد شہادت پر ترجیح دیتی تھی، اس لئے اس کے علاوہ چارہ نہیں تھا کہ کہا جاتا کہ جن اموال کو کفار شہوت بھری زندگی اور دنیا پرستی کے جنون میں جمع کرتے ہیں، اس سے وہ اعزار وحاصل کہیں بہتر ہے جو تم راہ شہادت اور راہ خدا میں مر جانے سے پاتے ہو۔ ۳۔ موت کا معنی فنا اور نابودی نہیں ہے جس سے تم اتنے پریشان ہوتے ہو بلکہ موت دوسری زندگی کے لئے ایک دریچہ ہے جو بہت وسیع اور جاوداں ہے (وَ لَئِنْ مُتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَی اللَّہِ تُحْشَرُونَ)۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان آیات میں سفر میں مر جانے کو شہادت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان سفروں سے مراد وہ سفر تھے جنہیں وہ خدا کے لئے کیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر میدان جنگ یا تبلیغی پروگراموں کے لئے سفر کرنا وغیرہ ۔ اس دور کے سفر مشکلات و مصائب سے پر ہوتے تھے بیماریاں بھی آ گھیرتی تھیں لہذا ان میں مر جانا میدان جہاد میں مرنے سے کم نہیں ہوتا تھا۔ البتہ بعض مفسرین نے اس سے تجارتی سفر مراد لیا ہے لیکن یہ معنی اس آیت سے بہت بعید ہے کیونکہ یہ حصول مال کا ایک ذریعہ تھا اور کافروں کو ایسے سفر پر کیا افسوس ہو سکتا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بات جنگ احد کے بعد مسلمانوں میں کمزوری پیدا کرنے کے لئے موثر نہیں ہو سکتی تھی نیز اس سلسلہ میں مسلمان اگر کافروں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو ان کے لئے باعث حسرت و یاس نہیں ہو سکتا تھا۔ لہذا یہاں سفر میں مرنے سے مراد وہ سفر ہے جو میدان جہاد کی طرف تھا یا دیگر اسلامی مقاصد کے لئے۔

159
3:159
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ
رحمت الٰہی کے سبب تم ان کے سامنے نرم (اور مہربان ہو) اور اگر تم سخت خو ہوتے تو وہ تم سے دور ہو جاتے لہٰذا انہیں معاف کر دو اور ان کے لئے مغفرت طلب کرو او ر کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرو لیکن مصمم ارادہ کر لو تو (پھر ڈٹ جاؤ اور) خدا پر توکل کرو کیونکہ خدا توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔

160
3:160
إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
اگر خدا تمہاری مدد کرے تو کوئی بھی تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور اگر وہ تمہاری مدد سے دستبردار ہو جائے تواس کے علاوہ کون تمہاری مدد کرنے والا ہے اور مومنین کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہئے۔

تفسیر عام معافی کا حکم

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّہِ لِنْتَ لَہُمْ اگرچہ اس آیت میں گرد و پیش کے حوالہ سے عمومی پروگراموں سے متعلق جو کام پیغمبرؐ کو دئے گئے لیکن شان نزول کے لحاظ سے ان کا تعلق جنگ احد کے ساتھ ہے کیونکہ جو لوگ واقعہ اُحد کے دوران جنگ سے فرار ہو گئے تھے، وہ پیغمبرؐ کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے ندامت و پشیمانی کے عالم میں معافی کی درخواست کی تو خداوند تعالی نے اس آیت میں پیغمبرؐ سے انہیں عام معافی دینے کے لئے فرمایا لہذا یہ آیت نازل ہوتے ہی آپؐ نے فراخ دلی سے توبہ کرنے والے خطا کاروں کو معاف کر دیا۔ درج بالا آیت میں پیغمبراکرمؐ کی ایک بہت بڑی خوبی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم پروردگار عالم کے لطف و کرم کے سبب سے ان پر مہربان ہو گئے اور اگر تم ان کے لئے سنگ دل بخت مزاج اور تندخو ہونے اور عملاً ان پر لطف و عنایت نہ کرتے تو وہ تمہارے پاس بکھر جاتے ”خظ“ لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی باتیں تیز اور سخت ہوں اور غلیظ القلب اسے کہتے ہیں جو سنگ دل ہو اور لطف و مجت کا عملی اظہار بھی نہ کر سکے۔ اس بنا پر ان دونوں میں سختی کا معنی پایا جاتا ہے لیکن اول الذکر گفتگو میں سختی کرنے اور موخر الذکر کام میں سختی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ گویا خداوند تعالی نادانوں اور گنہگاروں کے لئے پیغمبر اکرمؐ کی کامل نرم دلی اور لطف و عنایت کا ذکر کرتا ہے۔ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَہُمْ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائیے اور انہیں اپنے دامن عفو میں جگہ دیجئے اور اس جنگ میں انہوں نے جو بےوفائیاں آپ سے کی ہیں اور جو تکالیف آپ کو پہنچائی ہیں، ان کے لئے ان کی مغفرت طلب کیجئے اور میں خود ان کے لئے تم سے سفارش کرتا ہوں کہ انہوں نے جو مخالفتیں کی ہیں، مجھ سے ان کی مغفرت طلب کرو دوسرے لفظوں میں جو تم سے مربوط ہے اسے تم معاف کر دو اور جو مجھ سے ربط رکھتا ہے اسے میں بخش دیتا ہوں۔ آنحضرتؐ نے فرمان خدا پر عمل کرتے ہوئے ان تمام کو عام معافی دے دی۔ واضح ہے کہ عفو و درگزر کرنے کے لئے یہ ایک اہم اور بہت مناسب موقع تھا اور اگر آپ ایسا نہ کرتے تو لوگوں کے بکھر جانے کے لئے فضا ہموار تھی۔ وہ لوگ جو اتنی بری شکست کا سامنا کر چکے تھے اور بہت سے مقتول و مجروح پیش کر چکے تھے (اگرچہ یہ سب کچھ ان کی اپنی غلطی ہوا تاہم) ایسے لوگوں کو محبت، دل جوئی اور تسلی کی ضرورت تھی تاکہ ان کے دل اور جسم کے زخم پر مرہم لگ سکے اور وہ ان سے جانبر ہو کر آئندہ کے معرکوں کے لئے تیار ہو سکیں۔ اس آیت میں ہر رہبر و رہنما کے لئے ایک ناگزیر صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے ان لوگوں سے درگزر کرنا، نرم مزاجی سے کام لینا اور محبت و مہربانی سے پیش آنا جن سے غلطی سرزد ہوئی ہو اور وہ بعد میں پشیمان ہوئے ہوں۔ اس لئے ظاہر ہے اگر ایک رہبر سخت مزاج اور تند خو ہو اور محبت و ہمدردی کے جذبے سے سرشار نہ ہو تو وہ بہت جلد اپنے اپنے پروگراموں میں ناکام ہو جائے گا اور لوگ اس کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے اور وہ رہبری کی ذمہ داری سے بحسن خوبی عہدہ برا نہ ہو سکے گا۔ اسی لئے نہج البلاغہ کے کلمات قصار میں حضرت علی (ع) کا ایک فرمان ہے: ”آلة الریاسة سعة الصدر“ ”رہبری فراخ دلی کے ذریعے ہونی چاہیے۔“

مشورہ کرنے کا حکم

”وشاورھم فی الامر“ عام معانی دینے کے بعد ان کی شخصیتوں کی حیات تازہ اور فکری و روحانی طور پر انہیں پھر سے زندہ کرنے کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے مختلف کاموں میں مشورہ کیجئے اور ان کی رائے اور نظریہ معلوم کیجئے اور ان کی رائے اور نظریہ معلوم کیجئے یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ پیغمبر اکرمؐ نے جنگ اُحد کے شروع میں مختلف کاموں میں مشورہ کیا تھا کہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہئے۔ ان میں سے اکثر کا نظریہ یہ تھا کہ کوہ اُحد کے دامن میں لشکر گاہ اور پڑاوٴ ہونا چاہیے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نکتہ نظر کے نتائج اچھے نہ نکل سکے اس لئے عمومی طور یہ رائے ابھری کہ پیغمبر اکرمؐ کو آئندہ کس سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن قرآن اس طرز فکر کا جواب دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ پھر بھی ان سے مشورہ کیجئے گا اگرچہ ان کے مشورے کئی مقامات پر مفید ثابت نہیں ہوئے تاہم کلی طور پر مشورہ کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہوتے ہیں اور انفرادی و اجماعی تربیت اور شخصیت کی سطح کو بلند کرنے میں اس کے فوائد نقصانات سے کہیں بالاتر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیغمبرؐ کن مسائل میں لوگوں سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ اگرچہ آیت ”شاورھم فی الامر“ لفظ امر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ہر قسم کا کام شامل ہے۔ لیکن مسلم ہے کہ آپؐ احکام الٰہی میں ان سے مشورہ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انہیں وہ وحی الٰہی کے تابع کرتے تھے۔ اس بنا پر مشورہ کا دائرکار صرف ان احکام کے اجراء طرز و طریقہ اور ان کو عملی جامہ پہنانے تک محدود ہوتا تھا دوسرے لفظوں میں آپؐ صرف اجرائے قانون کے طریقہ کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ معلوم کر لیتے تھے۔ قانون بنانے میں کبھی کسی سے مشورہ نہ کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرتؐ کوئی پروگرام ان کے سامنے پیش کرتے تو مسلمان یہ پوچھتے تھے کہ کیا یہ حکم الٰہی ہے جس میں اظہار رائے کی گنجائش نہ ہو یا قوانین کے اجرا سے مربوط ہے جس کے لئے وہ لوگ اپنا نظریہ پیش کر سکیں اور امر دوسری قسم کا ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے پیش کرتے ورنہ قبول کر لیتے چنانچہ جنگ بدر میں مسلمان آپؐ کے حکم کے مطابق ایک مقام پر پڑاوٴ ڈالنا چاہتے تھے تو ایک صحابی ”جناب بن منذر“ نے پوچھا کہ کیا اس مقام کو خدا کے حکم سے منتخب کیا گیا ہے یا آپؐ کی رائے ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں کوئی خاص حکم تو نہیں آیا تو اس نے مختلف وجوہ پیش کیں اور کہا کہ یہ جگہ مناسب نہیں آپؐ حکم دیجئے کہ لشکر اسلام یہاں سے چل پڑے اور پانی کے قریب پڑاوٴ ڈالے۔ آنحضرتؐ نے اس کی رائے کو پسند کیا اور اس کے مطابق عمل فرمایا۔ (بحوالہ تفسیر المنار جلد ۴ صفحہ ۱۰۰( ظاہر ہے اصولی طور پر یہ روایت درست معلوم نہیں ہوتی ۔ مترجم))

اسلام میں مشورہ کی اہمیت

مشورہ اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ پیغمبر اکرمؐ وحی آسمانی سے قطع نظر ایسی قوت فکر کے مالک تھے کہ انہیں کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت نہ تھی، پھر بھی آپؐ مسلمانوں کو مشورہ کی اہمیت بتلانے کے لئے قانون سازی کو چھوڑ کر دیگر عام معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے تاکہ ان کی قوت فکر و نظر پروان چڑھ سکے اور خصوصیت کے ساتھ صاحب الرائے افراد کی قدر افزائی کیا کرتے تھے یہاں تک کہ بعض دفعہ ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کی رائے کو ترجیح دیا کرتے تھے جیسا کہ ایک واقعہ جنگ احد کے تذکرہ میں پیش کیا گیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبرؐ کی اسلامی پروگراموں میں کامیابی کا ایک اہم راز ان کا یہی طرز عمل تھا۔ اصولی طور پر جو لوگ اپنے اہم کاموں کو ایک دوسرے کے صلاح مشورہ سے انجام دیتے اور متعلقہ امور کے ماہر غور و خوض کے بعد ان کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں اس کے برعکس جو لوگ اپنے آپؐ کو دوسروں کے صلاح مشورہ سے بےنیاز سمجھتے ہیں وہ کتنے ہی بڑے صاحب فکر و نظر کیوں نہ ہوں زیادہ تر خطرناک اور المناک اشتباہات میں گرفتار ہو جاتے ہیں علاوہ ازیں مشورہ سے بےنیازی کی وجہ سے عامةالناس میں شخصیت کا وقار ختم ہو جاتا ہے اور افکار و نظریات کی ترویج میں رکاوٹ پڑ جاتی ہے اور موجود استعدادیں ختم ہو جاتی ہیں اور اس طرح کسی ملت کا بہت بڑا انسانی سرمایہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مزید برآں جو شخص اپنے کام دوسروں کی صلاح مشورہ سے کرتا ہے اگر وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائے تو دوسرے لوگ اس کو حسد کی نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ دوسرے لوگ اس کی کامیابی کو اپنی طرف سے ہی سمجھتے ہیں اور عموماً انسان اس کام سے حسد نہیں کرتا جسے اس نے خود انجام دیا ہو اور اگر وہ کبھی شکست کھا جائے تو وہ دوسروں کے اعتراضات کا نشانہ نہیں بنتا کیونکہ کوئی شخص اپنے کام کے نتیجہ پر اعتراض نہیں کرتا نہ صرف یہ کہ اعتراض نہیں کرتا بلکہ ہمدردی اور غمخواری بھی کرتا ہے۔ مشورہ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان دوسرے افراد کی شخصیت کی قدر و قیمت اور ان کی دشمنی اور دوستی کا اندازہ بھی لگا لیتا ہے اور یہ چیز کامیابی کے لئے درکنار شناسائی و آشنائی کا سبب بھی بنتی ہے۔ اسلامی روایات میں مشورہ کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ایک حدیث میں رسول خداؐ نے فرمایا: ”ما شقی عبد قط بمشورة ولا سعد باستغناء رای“ کوئی شخص ہرگز مشورہ سے بدبخت اور استبداد رائے سے خوش بخت نہیں ہو سکتا۔ (بحوالہ تفسیر ابو الفتوح رازی)۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا: ”من استبد برایہ ھلک و من شاور الرجال شارکھم فی عقولھم“ جو شخص استبداد رائے رکھتا ہو وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور جو بڑے لوگوں سے مشورہ کرتا ہے وہ ان کی عقل میں شریک ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ نہج البلاغہ) پیغمبر اکرمؐ نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا: ”اذا کان امرائکم خیارکم و اغنیائکم سمحائکم و امرکم شوری بینکم فظھرُ الارض خیر لکم من بطنھا و اذا کان من امرائکم شرارکم و اغنیائکم بخلائکم ولم یکن امرکم شوری بینکم فبطن الارض خیر لکم من ظھرھا“ جس وقت تمہارے حاکم نیک لوگ ہوں اور تمہارے امیر سخی لوگ ہوں اور تمہارے کام مشورہ سے انجام پائیں تو اس وقت زمین کا ظاہری حصہ باطنی کی نسبت تمہارے لئے بہتر ہے (یعنی یہ زمین جینے کے قابل ہے) لیکن اگر تمہارے حکمران برے ہوں، دولت مند بخیل ہوں اور کام ایک دوسرے کے مشورہ سے نہ ہوتے ہوں تو اس وقت تمہارے لئے زمین کا نچلا (باطنی) حصہ، بالائی، حصہ سے بہتر ہے۔ (بحوالہ تفسیر ابو الفتوح رازی) یہ مسلم ہے کہ ہر شخص سے مشورہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بعض اوقات ان میں کمزوری کے پہلو ہوتے ہیں جن کی بنا پر ان کا مشورہ بدبختی اور پسماندگی کا سبب بن سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے مشورہ نہ کرو۔ ۱۔ بخیل افراد سے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے بخشش اور دوسروں کی مدد کرنے سے روکیں گے اور فقر و غربت سے ڈرائیں گے (لا تدخلن فی مشورتک بخیلا یعدل بک عن الفضل و یعدک الفقر)۔ (بحوالہ نہج البلاغہ فرمان بنام مالک اشتر) ۲۔ بزدلوں سے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے اہم کاموں کی انجام دہی سے روکیں گے (ولا جبانا ًیضعفک عن الامور)۔ (بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی)۔ ۳۔ حریص افراد سے مشورہ نہ کرنا کیونکہ وہ دولت کی طمع میں تمہیں ظلم و ستم کی طرف رغبت دلائیں گے (ولا حریصاً یزین لک الشرة بالجور)۔

جس سے مشورہ کیا جائے اس کی ذمہ داری

جس طرح اسلام میں مشورہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی اسی طرح ان افراد کے بارے میں احکام ہیں جن سے مشورہ کیا جاتا ہے مثلاً یہ کہ خیر خواہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ مشورہ میں خیانت کرنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے یہاں تک کہ یہ حکم غیر مسلموں کے لئے بھی ہے کہ وہ مشورہ طلب کریں تو ان سے کسی قسم کی خیانت نہ کی جائے اور جو صحیح رائے ہو وہی انہیں دی جائے۔ امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل شدہ ”رسالہ حقوق“ میں آپؐ نے فرمایا: ”و حق المستشیر ان علمت لہ رایاً اشرف علیہ وان لم تعلم ارشدتہ الی من یعلم وحق المشیر علیک ان لا تتھمہ فیما لا یوافقک من رایہ“ تجھ سے مشورہ کرنے والے کا حق یہ ہے کہ اگر کوئی نظریہ رکھتے ہو تو اسے بتا دو اور اگر اس کام کے بارے میں تجھے علم نہیں تو اسے ایسے شخص کی طرف رہنمائی کرو جو جانتا ہے اور مشورے دینے والے کا حق تجھ پر ہے کہ جس نظریئے میں وہ تمہارا موافق نہیں ہے اس میں اس پر تہمت تراشی نہ کرو۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۱ صفحہ ۴۰۵)۔

حضرت عمر کی مجلس شوریٰ

اہل سنت کے مفسرین درج بالا آیت کے ذیل میں حضرت عمر کی اس چھ رکنی مشاورتی کمیٹی کا تذکرہ کرتے ہیں تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لئے تشکیل دی تھی یہ لوگ مندرجہ بالا آیت اور مشورہ کی تمام روایات کو اسی واقعہ پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ اس موضوع کے متعلق عقائد کی کتابوں میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے لیکن یہاں چند ایک نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امام اور جانشین پیغمبرؐ کا انتخاب صرف اللہ کے حکم سے ہونا چاہیے کیونکہ اسے بھی پیغمبرؐ کی طرح عصمت اور ایسے دیگر کمالات کا حامل ہونا چاہیے کہ جن کا علم صرف خدا کے پاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح پیغمبرؐ کو مشورے سے منتخب نہیں کیا جا سکتا ہے اسی طرح امام کا انتخاب بھی مشورہ سے ناممکن ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ افراد کی مجلس شوریٰ میں ہرگز مشورے کے تقاضوں اور شرائط کو پورا کرتی کیونکہ اگر مقصود تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنا تھا تو اسے چھ افراد میں منحصر کرنے کا کیا معنی ہے اور اگر مقصد امت کے صاحبان فکر و نظر سے مشورہ کرنا تھا تو وہ صرف چھ نہیں تھے۔ امت کے دانا اور اہل رائے افراد مثلاً سلمان جو خود حضرت پیغمبر اکرمؐ کے مشیر تھے اسی طرح ابوذر، مقداد، ابن عباس اور ان جیسے دیگر افراد مجلس شوریٰ میں شامل تھے۔ مجلس مشاورت کی ہیئت مشاورت کی بجائے ایک سیاسی چال زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر مشورے کے لئے صاحبان اثر و رسوخ کو جمع کرنا مقصود تھا تاکہ دوسرے لوگ ان کی رائے قبول کر لیں پھر بھی ہیئت درست نہ تھی کیونکہ کئی ایک اہم شخصیتیں ان میں شامل نہ تھیں مثلاً سعد بن عبادہ جو انصار کے سربراہ تھے، ابوذر غفاری جو قبیلہ غفار کی ایک عظیم شخصیت تھے اور ان جیسے دیگر افراد اس مجلس مشاورت سے الگ تھلگ تھے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مجلس شوریٰ کے لئے بڑی سخت اور سنگین شرائط مقرر کی گئیں تھی اور مخالفین کو موت کی دھمکی تک دی گئی تھی حالانکہ اسلام کے مشاورت اصولوں اور طریقوں میں ایسی کسی چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

آخری فیصلہ کا مرحلہ

فاذا عزمت فتوکل علیٰ اللہ مشورہ کرتے وقت نرم مزاجی اور محبت سے کام لینا چاہیے لیکن جب پختہ ارادہ کر لیا جائے تو اتنا ہی مضبوط بھی ہونا چاہیے اور اپنے آپؐ کو ہر قسم کے تردد اور اختلاف آراء سے دور رکھتے ہوئے مصمم ارادہ کر لینا چاہیے۔ اسی کو قرآن مجید نے مندرجہ بالا آیت میں عزم سے تعبیر کیا ہے اور یہی تصمیم قاطع ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں جمع (و شاورھم) کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے لیکن آخری فیصلہ پیغمبر اکرمؐ کے ذمہ کر دیا گیا اور یہاں واحد کا صیغہ (عزمت) استعمال ہوا ہے۔ جمع مفرد کا یہ فرق ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ اجتماعی معاملات کے مختلف پہلووٴں کا مل جل کر اور اجتماعی صورت میں جائزہ لینا چاہیے اور تحقیق کرنا چاہیے لیکن جب ایک چیز کو درست سمجھ لیا جائے تو پھر اس کے اجراء کے لئے ایک ہی ارادے کو کام میں لانا چاہیے ورنہ ہرج مرج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اگر ایک پروگرام پر کسی ایک سرپرست کی بجائے کسی رہبروں کے ذریعہ عمل درآمد ہو تو یقینی طور پر وہ اختلاف اور شکست سے دوچار ہو گا۔ اسی بناء پر آج کی دنیا میں بھی مشورہ تو اجتماعی طور پر ہوتا ہے لیکن فیصلہ کا نفاذ ایسی حکومتوں کے ذریعہ ہوتا ہے جس کے پروگرام ایک شخص کے زیر نظر رہ کر انجام پاتے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ پختہ ارادہ کرتے ہوئے خدا پر توکل کرنا چاہیے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ عمومی اسباب و وسائل فراہم ہو جانے کے بعد خدا کی لامتناہی قدرت سے مدد طلب کرنا فراموش نہ ہو جائے۔ البتہ توکل کا یہ مطلب نہیں کہ انسان مادی دنیا میں خدا کے عطا کردہ اسباب و وسائل کو کام میں نہ لائے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ ایک عرب نے اپنے اونٹ کے پاوٴں نہیں باندھے تھے اور اسے محافظ کے بغیر چھوڑ دیا تھا اور اسے وہ خدا پر توکل کرنا سمجھتا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا : اعقلھا و توکل یعنی پہلے اس کا پاوٴں باندھو اور پھر توکل کرو۔ یہاں آیت میں یہ مقصد ہے کہ انسان عالم مادی کی چار دیواری اور اپنی محدود قدرت و توانائی پر انحصار نہ کرے اور اپنی نگاہیں پروردگار کی حمایت و لطف پر لگائے رکھے۔ یہ مخصوص توجہ انسان کو امن و سکون، اطمینان اور عظیم روحانی تقویت سے ہمکنار کرتی ہے جو مشکلات کے عالم میں انسان کے لئے بہت موثر ہوتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل مسئلہ توکل اور عالم طبیعت سے استفادہ کرنے کے زیر عنوان انشاء اللہ سورہ طلاق کی آیت ۳ و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ۔کے ذیل میں پیش کی جائے گی۔ ان اللہ یحب المتوکلین بعد والی آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ خدا توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توکل کا مرحلہ مکمل مشورہ کرنے اور تمام امکانی وسائل جو انسانی اختیار میں ہیں سے استفادہ کرنے کے بعد آتا ہے۔

توکل کا نتیجہ

ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم وان یخذ لکم فمن ذا الذی ینصرکممن بعدہ یہ گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے اس میں خدا پر توکل کے سلسلہ میں ایک نکتہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہے لہذا وہ جس کی حمایت کرے گا دوسرا کوئی بھی اس پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ ذات جو ایسی تمام کامیابیوں کا سرچشمہ ہے اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔ یہ آیت اہل ایمان کو ترغیب دلاتی ہے کہ ہر قسم کے ظاہری وسائل میسر ہونے کے باوجود خداوند تعالی کی ناقابل شکست قدرت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ دراصل گذشتہ آیت میں روئے سخن پیغمبرؐ کی طرف تھا اور انہیں حکم دیا گیا تھا لیکن اس آیت میں تمام مومنین مخاطب ہیں۔ انہیں فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہؐ کی طرح خدا کی ذات پاک پر بھروسہ کریں۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: و علیٰ اللہ فلیتوکل الموٴمنون۔ یعنی مومنین کو صرف ذات خدا پر توکل کرنا چاہیے۔ بنا کہے واضح ہے کہ خداوند تعالی مومنین کی حمایت یا عدم حمایت بلاوجہ نہیں کرتا بلکہ ان کی اہلیت کے مطابق ہی کرتا ہے۔ جو خدا کے حکم کو پاوٴں تلے روندتے ہیں اور مادی و روحانی توانائیاں فراہم کرنے سے غافل رہتے ہیں خدا کی مدد اور حمایت ان کے لئے نہیں ہوتی مگر جو لوگ صف بستہ خالص نیت اور عذم راسخ سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تمام ممکنہ دیگر وسائل بھی دشمن کے مقابلہ میں فراہم کرتے ہیں انہی کے سر پر خدا کا دست حمایت ہوتا ہے۔

161
3:161
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
اور ممکن نہیں ہے کہ کوئی پیغمبر خیانت کرے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ رو زقیامت اسی چیز کے ہمراہ (میدان حشر میں ) پیش ہو گا پھر ہر شخص کو وہ کچھ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہو گا (ا س بناء پر) ان پر ظلم نہیں ہو گا۔

تفسیر ہر قسم کی خیانت ممنوع ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وما کان لنبی ان یغل اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ اُحد کے سلسلے کی آیات کے بعد آئی ہے اور ان روایت پر نظر رکھتے ہوئے جو صدر اول کے مفسرین نے نقل کی ہیں، یہ آیت جنگ اُحد کے سپاہیوں کی بعض بےبنیاد عذر تراشیوں کے جواب میں ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ جنگ اُحد کے بعض تیر انداز جب اپنا حساس مورچہ مال غنیمت جمع کرنے کے لئے چھوڑنا چاہتے تھے تو ان کے سردار نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ مورچہ نہ چھوڑیں اور ساتھ ہی اس سے کہا کہ رسول خداؐ تمہیں مال غنیمت سے محروم نہیں رکھیں گے لیکن ان دنیا پرستوں نے اپنے اصلی چہرے چھپانے کے لئے کہا کہ ہمیں یہ ڈر ہے کہ پیغمبرؐ تقسیم غنائم میں نظر انداز کر دیں گے لہذا ہمیں اپنے لئے خود ہاتھ پاوٴں مارنے چاہئیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنا مورچہ چھوڑا اور مال غنیمت سمیٹنے لگ گئے اور پھر وہ دردناک حوادث پیش آئے جن کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: کیا تم گمان کرتے ہو کہ پیغمبرؐ تم سے خیانت کریں گے جبکہ ممکن نہیں کہ کوئی پیغمبؐر خیانت کرے (وما کان لنبی ان یغل) ۔(تشریحی نوٹ: یہ لفظ ”غلل“ سے خیانت کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اصل میں ”غلل“ کا معنی ہے پانی کا تدریجی اور مخفی طور پر درختوں کی جڑوں میں پہنچنا۔ خیانت چونکہ مخفی طور پر اور تدریجاً ہوتی ہے اس لئے اسے بھی ”غلول“ کہتے ہیں۔ تشنگی سے پیدا ہونے والی اندرونی حالت کو بھی ”غلیل“ اسی وجہ سے کہتے ہیں)۔ اس آیت میں خداوند عالم نے ساحت مقدس انبیاء کو خیانت سے کاملاً منزہ قرار دیا ہے۔ ارشاد فرماتا ہے: بنیادی طور پر ایسی چیز نبوت کے شایان شان ہی نہیں یعنی خیانت کا نبوت سے کوئی جوڑ نہیں اگر پیغمبؐر خائن ہو تو پھر رسالت الہی کی ادائیگی اور تبلیغِ احکام میں اس پر اطمینان نہیں کیا جا سکتا۔ بغیر کہے واضح ہے کہ اس آیت میں انبیاء سے ہر قسم کی خیانت کی نفی کی گئی ہے اس کا تعلق مال غنیمت کی تقسیم سے ہو یا لوگوں کی امانت کی حفاظت سے یا پھر وحی حاصل کرنے اور اسے بندگان خدا تک پہنچانے سے۔ تعجب ہے کہ جو شخص پیغمبرؐ کو وحی الٰہی کے بارے میں امین سمجھتا ہو کیسے گمان کر سکتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ جنگی مال غنیمت کے بارے میں ناروا حکم دے گا یا اسے اس کے حق سے محروم کر دے گا۔ البتہ واضح ہے کہ خیانت کی کسی شخص کو اجازت نہیں چاہے ہو پیغمبرؐ ہو یا کوئی اور، لیکن جنگ اُحد کے بہانہ سازوں کی گفتگو چونکہ پیغمبرؐ کے بارے میں تھی لہٰذا آیت بھی پہلے انبیا کے متعلق بات کرتی ہے اور پھر مزید کہتی ہے: و من یغلل یاٴت بما غل یوم القیامة۔ یعنی جو شخص بھی خیانت کرے گا وہ روز قیامت اس چیز کا بار اپنے دوش پر بطور سند اٹھائے ہوئے حاضر ہو گا جس میں اس نے خیانت کی ہو گی یا میدان محشر میں یا میدان محشر میں اسے اپنے ساتھ لائے گا۔ اس طرح وہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا ہو گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دوش پر اٹھا لانے یا اپنے ساتھ لے آنے سے مراد یہ نہیں کہ بعینہ وہی چیز اٹھا لائیں گے بلکہ یہاں اس کی جواب دہی کا بوجھ مراد ہے لیکن قیامت میں انسانی اعمال مجسم ہونے کے مسئلے کی طرف نظر کی جائے تو اس تفسیر کی ضرورت باقی نہیں رہتی بلکہ جیسے مندرجہ بالا آیت کا ظاہری مفہوم شاہد ہے بعینہ وہی چیزیں بطور سند خیانت کاروں کے دوش پر ہوں گی یا ان کے ہمراہ ہوں گی جن میں نیانت کی گئی ہے۔ ثم توفی کل نفس ما کسبت و ھم لا یظلمون پھر ہر شخص کو وہ کچھ دیا جائے گا جو اس نے انجام دیا ہے یا کسب کیا ہے یعنی لوگ اپنے اعمال کو بعینہ وہاں پائیں گے لہذا اس بنا پر کسی شخص پر ظلم و ستم نہیں ہو گا کیونکہ ہر شخص کو وہ کچھ مل جائے گا جو اس نے حاصل کیا تھا یا کمایا تھا، چاہے اچھا ہو یا برا۔ مندرجہ بالا آیت اور وہ احادیث جو پیغمبر اکرمؐ پر خیانت کا الزام لگانے کی مذمت کے ضمن میں صادر ہوئیں انہوں نے مسلمانوں پر عجیب تربیتی اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان کی تاثیر تھی کہ ان سے چھوٹی چھوٹی خیانت بھی سرزد نہیں ہوتی تھی خصوصا مال غنیمت اور دیگر مالی معاملات میں ہوتا یہ تھا کہ بہت قیمتی غنائم کم حجم ہونے کے باوجود جن مین خیانت کرنا کچھ مشکل نہ تھا، مکمل پیغمبر اکرمؐ اور آپؐ کے بعد برسر کار حکام کے پاس بغیر دست برد کے لائے جاتے تھے اور یہ ہنر دیکھنے والے کے لئے تعجب خیز امر تھا۔ یہ وہی زمانہ جاہلیت کے وحشی اور غارت گرعرب تھے جو تعلیمات اسلامی کے نتیجہ میں انسانی تربیت کے اس درجہ پر پہنچ گئے تھے۔ گویا میدان محشر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ جس میں اموال میں خیانت کرنے والوں کو سب کے سامنے اس عالم میں پیش کیا جائے گا کہ وہ اموال ان کے دوش پر ہوں گے جن میں انہوں نے خیانت کی ہو گی۔ یہی وہ ایمان تھا جو انہیں اس قدر بیدار کرتا تھا کہ وہ خیانت کا خیال بھی ترک کر دیں۔ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے: جب مسلمان مدائن میں داخل ہوئے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے ایک مسلمان مال غنیمت میں سے ایک نہایت قیمتی چیز مال غنیمت جمع کرنے والوں کے پاس لے آیا۔ وہ اس چیز کو دیکھ کر تعجب کرنے لگے اور اس سے کہنے لگے: ہم نے آج تک اس قسم کی قیمتی چیز نہیں دیکھی۔ پھر انہوں نے اس سے پوچھا: تم نے اس میں سے کچھ کیا بھی ہے؟ وہ کہنے لگا: خدا کی قسم اگر یہ خدا کے لئے نہ ہوتا تو میں ہرگز اسے تمہارے پاس نہ لاتا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ شخص بڑی روحانی شخصیت کا حامل ہے۔ پھر انہوں نے اس سے خواہش کی کہ وہ اپنا تعارف کروا دے۔ وہ کہنے لگا: بخدا میں ہرگز تم سے اپنا تعارف نہیں کرواوٴں گا، کہیں تم میری تعریف و توصیف کرنے لگو میں نہیں چاہتا کہ دوسرے میری تعریف کریں لیکن میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس کی جزا و ثواب پر راضی ہوں۔ (بحوالہ تاریخ طبری، جزو ۴، صفحہ ۱۶)

162
3:162
أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
وہ جو رضائے خدا کی پیروی کرے کیا وہ اس کی مانند ہے جو خشم و غضب خدا کی طرف لوٹے اور جس کی جائے قرار جہنم ہے جس کا انجام بہت ہی برا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 163 کے تحت ملاحظہ کریں۔

163
3:163
هُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
ان میں سے ہر ایک کے لئے درگاہ خدا میں درجہ و مقام ہے اور جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اسے دیکھتا ہے۔

تفسیر جہاد میں شرکت نہ کرنے والے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اٴفمن اتبع رضوان اللہ۔ آیات گذشتہ میں جنگ اُحد کے مختلف پہلووٴں اور اس کے نتائج پر بحث ہو چکی ہے۔ اب باری ہے منافقین اور ان کمزور ایمان والے مسلمانوں کی جو منافقین کی اتباع کرتے ہوئے میدان جنگ میں حاضر نہ ہوئے۔ روایات میں ہے کہ جب پیغمبر اکرمؐ نے جنگ اُحد کے لئے چلنے کا حکم صادر فرمایا تو منافقین کا ایک گروہ اس بہانے شامل نہ ہوا کہ بقول ان کے انہیں جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا یقین نہیں تھا۔ بعض کمزور ایمان والے مسلمان بھی ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ زیر نظر آیت ان کی اسی حاکت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے: وہ لوگ جو حکم خداوندی کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں کیا وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو غضب خدا کی طرف لوٹ گئے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم اوران کا انجام کار برُا اور تکلیف دہ ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ھم درجات عند اللہ۔ یعنی ان میں ہر کوئی بارگاہ الہی میں درجہ اور اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ نہ فقط یہ کہ تن پرور منافق اور مجاہدین آپس میں فرق رکھتے ہیں بلکہ ہر شخص جوان دو صفوں میں سے کسی میں کھڑا ہے فداکاری و جانبازی یا نفاق و حق دشمنی میں فرق کا ایک خاص درجہ رکھتا ہے جو صفر سے شروع ہو کر حد تصور سے بالاتر تک جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک روایت میں حضرت امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ہر درجے کے درمیان آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے جتنا فاصلہ ہے۔ (بحوالہ تفسیر نور الثقلین، جلد ۱، صفحہ ۴۰۶)۔ ایک اور روایت میں ہے: اہل بہشت درجات بالا میں رہنے والوں کو اس طرح دکھیں گے جیسے آسمان پر ستارہ دکھائی دیتا ہے۔ (بحوالہ تفسیر مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں)۔ البتہ توجہ رہے کہ عموماً درجہ سیڑھیوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے انسان بلند نقطے کی طرف جاتا ہے انہیں ”درک“ (بر وزن مرگ) کہا جاتا ہے۔ اسی لئے سورہٴ بقرہ آیة ۲۵۳ میں انبیاء کے بارے میں ہے: و رفع بعضھم فوق بعض درجات سورہٴ نساء آیة ۱۴۵ میں منافقین کے بارے میں ہے: ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار لیکن زیر بحث آیت میں کیونکہ دونوں گروہوں کے متعلق گفتگو ہے اس لئے مومنین سے متعلقہ تعبیر اختیار کی گئی اور لفظ ”درجہ“ استعمال کیا گیا (اس طرز بیان کو ادبی اصطلاح میں تغلیب کہتے ہیں)۔ آیت کے آخرمیں فرمایا گیا ہے: واللہ بصیر بما یعملون۔ یعنی خدا سب کے اعمال دیکھتا ہے اور کامل طور پر جانتا ہے کہ ہر شخص اپنی نیت، ایمان اور عمل کے لحاظ سے کس درجہ کا اہل ہے۔

ایک موثر طریقہٴ تربیت

قرآن مجید میں دینی، اخلاقی اور اجتماعی معارف سے مربوط حقائق کو سوال کے قالب میں ڈھالا گیا ہے اور اس مسئلہ کے دونوں پہلو سننے والے کے سامنے پیش کر دئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی عقل و فکر سے ایک کو انتخاب کر لے یہ طریقہ جسے غیر مستقیم کہنا چاہیے تربیتی امور میں بہت موثر ہوتا ہے کیونکہ انسان عموماً مختلف امور میں سے سب سے زیادہ اہمیت اپنے افکار و نظریات کو دیتا ہے۔ جب کوئی مسئلہ ایک قطعی اور حتمی صورت میں پیش کیا جائے تو بعض اوقات انسان اس کے مقابلے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایک اجنبی فکر کی حیثیت سے دیکھتا ہے لیکن جب اسے سوال کی صورت میں پیش کیا جائے اور اس کا جواب وہ اپنے وجدان اور دل کے اندر سے سنے تو اسے اپنی فکر اور اپنی رسائی سمجھتا ہے اور اسے ایک جانی پہچانی فکر کی حیثیت سے قبول کرتا ہے لہذا اس کے مقابلہ کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ طرز تعلیم بالخصوص ہٹ دھرم لوگوں اور بچوں کے لئے موثر ہے۔ قرآن مجید میں اس طرح سے بہت کام لیا گیا ہے، اس کے چند نمونے یہ ہیں۔ ۱ ۔ ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون یعنی ۔ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں۔ ( زمر ۔۹) ۲۔ قل ھل یستوی الاعمیٰ و البصیر اٴفلا تتفکرون۔ یعنی ۔ کہیے: کیا نا بینا اور بینا برابر ہیں، کیا تم سوچتے نہیں۔ ( انعام۔ ۵۰) ۳۔ قل ھل یستوی الاعمیٰ و البصیر ام ھل تستوی الظلمٰت و النور۔ یعنی ۔ کہیے: کیا نابینا اور بینا برابر ہیں، آیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہیں۔ (رعد ۔۱۶)

164
3:164
لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
خدا نے مومنین پر احسان کیا (انہیں ایک عظیم نعمت بخشی) جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر مبعوث کیا جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے وہ واضح گمراہی میں تھے۔

تفسیر نبوّت: خدا کی بہت بڑی نعمت

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنینَ إِذْ بَعَثَ فیہِمْ رَسُولاً مِنْ اَنْفُسِہِمْ اس آیت میں عظیم ترین نعمت ۔۔۔۔یعنی ”بعثت پیغمبر اسلامؐ“ کے متعلق گفتگو ہے۔ حقیقت میں یہ ان سوالات کا جواب ہے جو نو مسلموں کے دل میں جنگ اُحد کے بعد اٹھتے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم ان مشکلات و مصائب میں کیوں گرفتار ہوں۔ قرآن انہیں کہتا ہے: اگر تمہیں اس راہ میں نقصان اٹھانا پڑا ہے تو یہ نہ بھول جاوٴ کہ اللہ نے تمہیں ایک بہت بڑی نعمت عطا کی ہے، اس نے پیغمبرؐ مبعوث کیا ہے جو تمہاری تربیت کرتا ہے اور تمہیں کھلی گمراہیوں سے روکتا ہے، اس عظیم نعمت کی حفاظت کے لئے تم جتنی بھی کوشش کرو اور تمہیں جتنی بھی قیمت دینا پڑے حقیر ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس کا ذکر ”لقد من اللہ علیٰ المومنین“ (خدا نے مومنین پر احسان کیا ہے) سے شروع ہوتا ہے، جو ابتدائی نظر میں مناسب معلوم نہیں ہوتا لیکن ”منت“ کے اصلی معنی کی طرف توجہ دی جائے تو مطلب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ مفردات میں راغب کہتا ہے کہ یہ لفظ در اصل ”من“ سے ہے جس کا معنی ہے ”وہ پتھر جن سے چیزوں کو تولا جاتا ہے“ اسی لئے ہر قیمتی چیز اگر وہ عملی پہلو رکھتی ہو تو سے منت کہتے ہیں یعنی کسی نے دوسرے کو عملی طور پر عظیم نعمت عطا کی ہو تو اس کا استعمال بالکل زیبا اور مناسب ہے لیکن اگر کوئی اپنے چھوٹے سے کام کو باتوں سے بڑا کر کے دکھائے تو یہ انتہائی برا اور قبیح ہے لہذا احسان جتلانا جو برا اور مذموم ہے وہ باتوں میں اپنے احسانات کو بڑا شمار کرنا ہے لیکن اس احسان کا تذکرہ جو عظیم نعمتوں کی عطا ہو، مناسب اور زیبا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پروردگار نے مومنین پر احسان کیا یعنی انہیں عظیم نعمتیں عطا کی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف مونین کا ذکر کیوں کیا گیا ہے جبکہ بعثت پیغمبرؐ تو تمام نوع بشر کی ہدایت کے لئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نتیجہ اور تاثیر کے لحاظ سے صرف مومنین ہی اس عظیم نعمت سے استفادہ کرتے ہیں اور عملاً اسے اپنے سے مخصوص کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے؛ پیغمبر کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ خود انہی کی جنس اور نوع بشر میں سے ہے (من انفسھم ) وہ فرشتوں یا دیگر نوع کی مخلوق میں سے نہیں ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ ضروریات بشر کو مکمل طور سے جان سکے اور انسانوں کو دکھ درد، مشکلات و مصائب اور مسائل زندگی کو لمس کر سکے اور یوں ان کی تربیت کے لئے اقدام کرنے کی طرف خود متوجہ ہو سکے۔ علاوہ ازیں انبیاء کے تربیتی پروگرام کا اہم ترین حصہ ان کی اپنی زندگی اور عملی تبلیغات تھیں۔ ان کے اعمال تربیت کے لئے بہترین نمونہ اور ذریعہ تھے۔ کیونکہ ”عمل کی زبان“ سے ہر زبان میں بہتر تبلیغ کی جا سکتی ہے اور یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب تبلیغ کرنے والا سننے والے کی ہم جنس ہو۔ اس کی جسمانی، طبیعی اور روحی بناوٹ ایک سی ہو۔ مثلاً اگر انبیاء ملائکہ کے ہم جنس ہوتے تو لوگوں کی طرف سے یہ سوال باقی رہتا کہ اگر وہ گناہ نہیں کرتے تو کیا اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ شہوت و غضب اور ہر طرح انسانی احتیاجات بشری غرائز و سرشت کے حامل نہیں ہیں اور یوں انبیاء کا عملی تبلیغات کا پروگرام ختم ہو کر رہ جاتا۔ اسی لئے انبیاء کا انتخاب انسانوں میں سے انہی حاجات، ضروریات، غرائز اور طبائع کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ وہ سب کے لئے نمونہ عمل بن سکیں۔ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِہِ وَ یُزَکِّیہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ۔ پھر فرمایا پیغمبر نے ان کے سامنے تین اہم پروگرام پیش کئے ہیں: پہلا ان کے سامنے پروردگار عالم کی آیات پڑھنا، تلاوت کرنا اور ان کے کانوں اور افکار کو ان آیات سے آشکار کرنا۔ دوسرا تعلیم ۔۔۔یعنی ان حقائق کو ان کی روح تک پہنچانا۔ تیسرا تزکیہ نفس یعنی اخلاقی و انسانی ملکات کی تربیت اور نشوونما، چونکہ اصلی ہدف تربیت ہے لہذا آیت میں اس کا ذکر تعلیم سے پہلے آیا ہے حالانکہ فطری تربیت کے لحاظ سے تعلیم تربیت پر مقدم ہے۔ وہ لوگ جو انسانی حقائق سے بالکل دور ہیں وہ تربیت کا اثر آسانی سے قبول نہیں کرتے بلکہ ایک مدت تک ان کے کانوں کو ارشادات الہی سے آشنا کرنا پڑے گا اور ان میں پہلے سے موجود وحشت و اجنبیت کو دور کرنا پڑے گا پھر تعلیم کا مرحلہ شروع ہو گا اور اس کے بعد تربیت کی باری آئے گی جو کہ سارے پروگرام کا ماحصل ہے۔ ممکن ہے آیت میں تزکیہ سے مراد شرک، باطل عقائد اور بےہودہ خصائل اور بری حیوانی عادات کی آلودگی سے پاک کرنا ہو کیونکہ جب تک انسان کا باطن ان غلاظتوں سے پاک نہ ہو تو ممکن نہیں کہ وہ کتاب الہی اور حقیقی حکمت و دانائی کی تعلیم کے لئے آمادہ ہو سکے۔ جیسے ایک تختی پر موجود برے نقوش جب تک صاف نہ ہو جائیں اس پر خوبصورت اور دلکش نقوش بجا طور پر ثبت نہیں ہو سکتے۔ اس لیے مندرجہ بالا آیت میں تزکیہ نفس کو تعلیم یعنی بلند اور اعلیٰ اسلامی معارف پر مقدم کیا گیا ہے۔ وَ إِنْ کانُوا مِنْ قَبْلُ لَفی ضَلالٍ مُبینٍ۔ ایک عظیم نعمت کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب اس سے فائدہ حاصل کرنے کے زمانے کا اس سے قبل کے زمانے سے موازنہ کیا جائے اور ان دونوں کا فرق جان لیا جائے۔ زیر نظر جملے میں کہتا ہے: اسلام سے قبل کے زمانے پر ایک ناگاہ کرو تمہاری کیا حالت تھی اور تمہارے ایام کیسے گزر رہے تھے اور اب کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہو۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ قرآن زمانہ جاہلیت کی کیفیت کو ”ضلٰل مبین“ یعنی ”واضح گمراہی“ قرار دیتا ہے کیونکہ گمراہی و ضلالت کی کئی قسمیں ہیں۔ بعض گمراہیاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان آسانی سے ان کے باطل ہونے کو نہیں سمجھ سکتا اور کھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص تھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہو فوراً سمجھ لیتا ہے۔ دنیا کے لوگ اور خصوصا جزیرة العرب کے رہنے والے پیغمبر اسلامؐ کی بعثت کے زمانے میں واضح ضلالت و گمراہی میں مبتلا تھے۔ ناجائز کاروبار، بدبختی، جہل و نادانی اور طرح طرح کی معنوی آلودکیوں نے اس زمانے میں تمام دنیا کو گھیر رکھا تھا اور یہ غیر مناسب کیفیت کسی پر بھی ڈھکی چھپی نہ تھی۔

165
3:165
أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
(جنگ احد میں ) تم پر مصیبت آئی جبکہ جنگ بدر میں اس سے دو گنا (دشمن) پر بھی تم غالب آ چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی ہے ؟ کہہ دو کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے (کہ تم نے جنگ احد کے میدان میں حکم پیغمبر کی مخالفت کی) خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر جنگ اُحد پر ایک اور نظر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

اس آیت میں واقعہ اُحد پر ایک اور نگاہ ڈالی گئی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض مسلمان جنگ کے المناک نتائج پر غمگین اور پریشان تھے اور بار بار اپنی پریشانی کا اظہار کرتے تھے۔ خداوند عالم مندرجہ بالا آیت میں ان سے تین نکات کا ذکر کرتا ہے۔ ۱۔ تم صرف ایک ہی جنگ کے نتائج سے پریشان نہ ہو جاوٴ بلکہ جتنی مرتبہ دشمن سے مقابلہ ہوا ہے اس کا موازنہ کرو۔ اگر اس میدان میں تم پر مصیبت آئی ہے تو دوسرے میدان (بدر) میں اس سے دوگنا دشمن پر تم بھی غالب آ چکے ہو کیونکہ انہوں نے اُحد میں تمہارے ستر آدمی شہید کئے ہیں جب کہ تم میں سے کوئی قید نہیں ہوا لیکن جنگ بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل کئے اور ستر ہی گرفتار کئے تھے۔ اَوَ لَمَّا اَصابَتْکُمْ مُصیبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِثْلَیْہا۔۔۔ حقیقت میں ”قد اصبتم مثلیھا“ یعنی تم نے دشمن کو دوگنا نقصان پہنچایا تھا۔ ایک جواب ہے جو سوال سے پہلے آیا ہے۔ ۲۔ تم کہتے ہو کہ یہ مصیبت ہمیں کہاں سے دامن گیر ہوئی۔ ”قلتم انّ ھٰذا“ لیکن اے پیغمبر! ان سے کہئے: اس مصیبت کا باعث تم خود ہو عوامل شکست کو اپنی ہی ذات میں تلاش کرو۔ (قل ھو من عند انفسکم) تم ہی تو تھے جنہوں نے حکم پیغمبرؐ کی مخالفت میں کوہ عینین کا حساس مورچہ چھوڑ دیا اور تمہی نے جنگ ختم ہونے سے پہلے اور اس کے حتمی فیصلے سے قبل مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا اور تم ہی دشمن کے نئے حملے کے وقت میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ تمہاری یہی کوتاہیاں اور گناہ اس شکست اور اتنے لوگوں کے قتل کا سبب بنیں۔ ۳۔ اب آئندہ تمہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا ہر چیز پر قادر و توانا ہے اور اگر تم اپنی کمزوریوں کی تلافی کر لو تو اس کی حمایت تمہارے شامل حال ہو گی (ان اللہ علیٰ کل شیء قدیر)۔

166
3:166
وَمَآ أَصَٰبَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيَعۡلَمَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور اس روز (احد کے دن) جب دو گروہ (مومنین و کفار) آپس میں نبردآزما ہوئے تو تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ حکم خدا اور (قانون مکافات) کے مطابق تھی اور اس بناء پر تھی کہ اہل ایمان پہنچانے جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 167 کے تحت ملاحظہ کریں۔

167
3:167
وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُواْۚ وَقِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ قَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدۡفَعُواْۖ قَالُواْ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالٗا لَّٱتَّبَعۡنَٰكُمۡۗ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَئِذٍ أَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡإِيمَٰنِۚ يَقُولُونَ بِأَفۡوَٰهِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُونَ
اور (یہ بھی وجہ تھی) کہ جن لوگوں نے منافقت کی ہے وہ پہچانے جائیں وہ جنہیں کہہ دیا گیا تھا کہ آؤ اور راہ خدا میں جنگ کرو یا (کم از کم) اپنے حریم کا دفاع کرو انہوں نے کہا اگر ہمیں یقین ہوتا کہ واقعا ً جنگ ہو گی تو ہم تمہاری پیروی کرتے (لیکن ہمیں تو پتہ ہے کہ جنگ نہیں ہو گی) وہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ نزدیک تھے وہ اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے تھے جو ان کے دل میں نہیں ہوتا تھا اور خدا اس چیز کو جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں

تفسیر مختلف گروہوں کو الگ الگ پہچانا جانا چاہیے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مندرجہ بالا آیت یہ بات یاد دلاتی ہے کہ (اُحد کی طرح) جو مصیبت بھی پیش آتی ہے ایک تو یہ کہ وہ بلاسبب نہیں ہوتی دوسر ا یہ کہ وہ آزمائش کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے اس آیت میں سچے مجاہدین اور منافقین یا کمزور ایمان لوگوں کی صفوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا ذکر ہے۔ اسی لئے آیت کے پہلے حصہ میں فرمایا گیا ہے: وَ ما اَصابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعانِ فَبِإِذْنِ اللَّہِ ۔ ۔ ۔ ۔ اُحد کے دن جب مسلمانوں کا بت پرستوں سے آمنا سامنا ہوا اس وقت جو کچھ تم پر گزرا وہ حکم خدا سے تھا اور اسی کی مشیت اور اردے سے ظہور پذیر ہوا۔ خلقت کے عمومی قانون کے مطابق ہر واقعے کی کوئی نہ کوئی علت ہوتی ہے اور بنیادی طور پر یہ جہان علل و اسباب کی دنیا ہے اور یہ ایک ثابت و دائمی اصول ہے اور اس کے مطابق بھی کہ جو فوج بھی میدان جنگ میں سستی کرے گی اور مال و دولت اور غنیمت کی لالچ میں پڑ جائے گی اور اپنے ہمدرد حاکم کا حکم فراموش کر دے گی تو وہ شکست کھا جائے گی۔ اس بنا پر اذن اللہ (حکم خدا) سے مراد اس کا وہی ارادہ و مشیت ہے جو قانون علیت کی شکل میں عالم ہستی پر حکم فرما ہے۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا ہے: وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنینَ وَ لِیَعْلَمَ الَّذینَ نافَقُوا ۔ ۔ ۔ اس جنگ کا ایک مقصد یہ تھا کہ مونین اور منافقین کی صفیں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور صاھب ایمان اور کمزور ایمان والوں میں امتیاز ہو سکے۔ واقعہ احد میں مسلمانوں میں سے تین گروہ نمایاں ہو گئے: پہلا اس میں چند محدود افراد تھے جو آخری لمحوں تک ثابت قدم رہے اور دشمن کے جم غفیر کے سامنے آخری دم تک ڈٹے رہے۔ ان میں سے بعض نے جام شہادت نوش کیا اور بعض شدید زخمی ہوئے۔ دوسرا یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں اضطراب اور تزلزل پیدا ہو گیا تھا اور وہ آخر تک استقامت نہ دکھا سکے اور بالآخر بھاگ کھڑے ہوئے۔ تیسرا یہ منافقین کا گروہ تھا۔ یہ لوگ راستے ہی سے واپس لوٹ گئے تھے، طرح طرح کے بہانے کر کے جنگ سے منہ موڑ گئے اور مدینہ کی طرف پلٹ گئے۔ ہم جلد ہی ان کے بہانوں کا تذکرہ کریں گے۔ یہ گروہ عبداللہ بن ابی سلول اور اس کے تین سو ساتھیوں پر مشتمل تھا۔ اگر اُحد میں سخت معرکہ پیش نہ آتا تو یہ صفیں کبھی الگ الگ نہ ہوتیں اور ہر گروہ کے لوگ اپنی مخصوص صفات کے باوجود کسی معین صف میں نہ سمجھے جاتے اور ممکن تھا کہ دعویٰ کرتے وقت ہر شخص اپنے آپ کو بہترین مومن قرار دیتا۔ درحقیقت آیت میں دو چیزوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پہلی جنگ اُحد کی شکست کی علت فاعلی اور دوسری اس کی علت غائی اور اس اک آخری نتیجہ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں فرمایا گیا ہے: لیعلم الذین نافقوا (تاکہ وہ لوگ پہچانے جائیں جنہوں نے نفاق کیا ہے)۔ یہ نہیں فرمایا: لیعلم المنافقین (تاکہ منافقین پہچانے جائیں)۔ دوسر ے لفظوں میں نفاق کا ذکر فعل کی صورت میں ہوا ہے صفت کے طور پر نہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ نفاق ابھی تک ان سب میں صف ثابت کے طور پر نہیں تھا۔ اسی لئے تاریخ اسلام میں ہے کہ ان میں سے بعض کو توبہ کی توفیق نصیب ہوئی اور وہ مومنین کی صفوں میں وابستہ ہو گئے۔ اس کے بعد قرآن اس گفتگو کا تذکرہ کرتا ہے جو جنگ سے قبل منافقوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی۔ فرمایا: وَ قیلَ لَہُمْ تَعالَوْا قاتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ اَوِ ادْفَعُوا ایک مسلمان (ابن عباس کے قول کے مطابق عبد اللہ بن عمر بن حزام) نے جب دیکھا کہ عبداللہ بن ابی سلول اپنے ساتھیوں کے ساتھ لشکر اسلام سے کنارہ کش ہو کر مدینہ کی طرف پلٹنے کی طرف مصمم ارادہ کر چکا ہے تو اس سے کہا: آوٴ خدا کے لئے اور اس کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم جو خطرہ تمہارے وطن اور قوم و قبیلہ کو درپیش ہے اس کا ہی دفاع کرو۔ مگر ان لوگوں نے ایک بےہودہ بہانہ کیا اور کہنے لگے: لو نعلم قتا لاً لا تبعنا کم ۔ہمیں اگر معلوم ہوتا کہ جنگ ہو گی تو ہم بےدریغ تمہاری پیروی کرتے، ہمارا خیال ہے کہ یہ سختی کسی جنگ اور خوں ریزی کے بغیر ختم ہو جائے گی۔ ایک اور مفہوم کے مطابق منافقین کہنے لگے: اگر ہم اسے جنگ سمجھتے تو تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہماری نگاہ میں تو یہ جنگ نہیں بلکہ ایک طرح کی خودکشی ہے کیونکہ لشکر اسلام اور کفار میں جو عدم توازن نظر آ رہا ہے اس کے پیش نظر ان سے جنگ کرنا عقلمندی کا کام نہیں خصوصاً جبکہ لشکر اسلام کے پڑاوٴ کی جگہ بھی نامناسب ہے۔ بہرحال یہ باتیں بہانے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی تھیں۔ جنگ کا ہونا بھی تعیینی تھا اور مسلمان ابتداء میں کامیاب اور فتح مند بھی ہو گئے تھے۔ اب اگر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو یہ ان کے اپنے اشتباہات اور خلاف ورزیوں کا نتیجہ تھا۔ خدا تعالی نے فرمایا: وہ جھوٹ بولتے ہیں، ہُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْہُمْ لِلْإیمانِ۔۔۔ ااس روز وہ ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ اس جملہ سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفر و ایمان کی کئی درجے ہیں جو انسان کے عقیدے اور طرز عمل سے وابستہ ہیں۔ یَقُولُونَ بِاَفْواہِہِمْ ما لَیْسَ فی قُلُوبِہِم۔۔۔ وہ زبان سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے اور ان کی نیت ان کی گفتگو سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ انہوں نے اپنی اس تجویز میں اصرار کرتے ہوئے کہ جنگ مدینے کے اندر ہونی چاہیے، یا دشمن کے حملوں کے خوف سے اور یا پھر اسلام سے لاتعلق ہونے کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہیں کی۔ وَ اللَّہُ اَعْلَمُ بِما یَکْتُمُونَ۔ لیکن خدا اس سے مکمل طور پر آگاہ ہے جو کچھ منافقین چھپائے ہوئے ہیں اور وہ اس جہان میں بھی ان کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے مقاصد سے آگاہ کرتا ہے اور آخرت میں بھی ان کا حساب چکائے گا۔

168
3:168
ٱلَّذِينَ قَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ وَقَعَدُواْ لَوۡ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُواْۗ قُلۡ فَٱدۡرَءُواْ عَنۡ أَنفُسِكُمُ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
(منافقین) وہ ہیں جنہوں نے اپنے بھائیوں سے ان کی حمایت سے دستکش ہو کر کہا کہ اگر وہ ہماری پیروی کرتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو (اگر تم موت کا وقت بتا سکتے ہو تو) پھر موت کو اپنے آپ ہی سے دور کر لو اگر تم سچے ہو۔

تفسیر منافقین کی بےبنیاد باتیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

منافقین خود بھی جنگ اُحد سے کنارہ کش رہے اور دوسروں کے حوصلے کم کرتے رہے اور پھر مجاہدین واپس آئے تو انہیں سرزنش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر تم ہماری بات مانتے تو تمہارے آدمی قتل نہ ہوتے۔ مندرجہ بالا آیت میں قرآن ان کی اس بےبنیاد بات کا جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: الَّذینَ قالُوا لِإِخْوانِہِمْ وَ قَعَدُوا۔۔۔ یعنی جنہوں نے جنگ سے کنارہ کشی کی اور اپنے بھائیوں سے کہا کہ اگر ہماری اطاعت کی ہوتی تو تم قتل نہ ہوتے۔ ان سے کہیے: اگر تم آئندہ کے حوادث کی پیش بینی کر سکتے ہو تو اپنے آپ ہی سے موت دور کر لو، اگر سچے ہو۔ یعنی حقیقت میں تمہارا دعویٰ ہے کہ تم عالم غیب ہو اورآنے والے حوادث سے باخبر ہو، تو ایسا دعویٰ کرنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ موت کے علل و عوامل کی پیش بینی کرتے ہوئے انہیں بیکار کر دے، کیا تم میں یہ قدرت و طاقت ہے۔ پھر اگر تم میدان جہاد اور راہ افتخار میں قتل نہیں ہوتے تو کیا عمر جاوداں مل جائے گی اور کیا تم موت کو ہمیشہ کے لئے اپنے سے دور کر سکتے ہو۔ جب تم موت کے مسلم قانون کو ختم نہیں کر سکتے تو پھر ذلت کے بستر پر کیوں مرتے ہو اور میدان جہاد میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے عزت سے جام شہادت نوش کیوں نہیں کرتے۔ زیر نظر آیت میں ایک اور قابل غور نکتہ بھی ہے اور وہ یہ کہ مومنین کو بھائی کہا گیا ہے جبکہ مومن ہرگز منافق کا بھائی نہیں ہے۔ دراصل یہ انہیں ایک قسم کی سرزنش ہے کہ تم تو مومنین کو اپنا بھائی سمجھتے تھے تو پھر ان حساس لمحوں میں ان کی حمایت سے دست کش کیوں ہو گئے ہو۔ اسی لئے ”اخوانھم“ کے فورا بعد بلافاصلہ لفظ ”قعدوا“ (جنگ سے بیٹھ گئے) آیا ہے، تو کیا انسان برادری کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور پھر ایک دم اپنے بھائی کی حمایت چھوڑ کر بھی بیٹھ جاتا ہے۔

169
3:169
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ
راہ خدا میں قتل ہونیوالوں کے بارے میں ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ وہ مر دہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے روزی پاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 171 کے تحت ملاحظہ کریں۔

170
3:170
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِهِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
وہ خدا کی عطا کردہ فراواں نعمتوں پر خوش ہیں اور وہ (مجاہد) کہ جو ان سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان سے ابھی آ کر نہیں ملے ان کے بارے میں بھی خوش ہیں کہ نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ ملال۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 171 کے تحت ملاحظہ کریں۔

171
3:171
۞يَسۡتَبۡشِرُونَ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور وہ خدا کی نعمت اور اس کے فضل سے خوشیاں منا رہے ہیں اوربے شک اللہ مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تفسیر زندہٴ جاوید

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بعض مفسرین کے نزدیک مندرجہ بالا آیات شہدائے اُحد کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں اور بعض دوسرے سمجھتے ہیں کہ یہ شہدائے بدر سے متعلق ہیں لیکن حق یہ ہے کہ گذشتہ آیات سے ان کا ربط ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ اُحد کے بعد نازل ہوئیں ہیں لیکن ان کا عمومی مفہوم بھی ہے جو تمام شہداء جن میں بدر کے چودہ شہدا بھی شامل ہیں پر محیط ہے۔ اسی لئے امام محمد باقر (علیه السلام) سے یاک حدیث میں منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: یہ آیات شہداء بدر و اُحد، ہر دو کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (بحوالہ نورالثقلین جلد ۱، صفحہ ۴۰۹ بحولہ عیاشی)۔ ابن مسعود پیغمبر سے روایت کرتے ہیں: خدا نے شہداء اُحد کی ارواح کو خطاب کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا آرزو ہے تو انہوں نے کہا: پروردگار ہم اس سے زیادہ کیا آرزو کر سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کی نعمتوں میں مستغرق ہیں اور تیرے عرش کے سائے میں رہتے ہیں، ہمارا تقاضا صرف یہ ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں۔ اس پر خدا نے فرمایا: میرا اٹل فیصلہ ہے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا کی طرف نہیں پلٹے گا۔ (تشریحی نوٹ: عموماً ایسا ہی ہوتا ہے البتہ بعض مواقع استثنائی حیثیت رکھتے ہیں جیسے امام زمانہ کے دور حکومت میں رجعت (مترجم)) انہوں نے عرض کیا: جب ایسا ہی ہے تو ہماری تمنا ہے کہ ہمارا سلام پیغمبر اسلامؐ کو پہنچا دے، ہمارے حالات ہمارے پسندگان کو بتا دے اور انہیں ہماری حالت کی بشارت دے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں۔ بہرحال یوں لگتا ہے کہ جنگ اُحد کے بعد کچھ کمزور ایمان لوگ بیٹھ جاتے اور اپنے ان دوستوں اور عزیزوں کا افسوس کرتے جو اس جنگ میں شہید گئے تھے اور کہتے کہ وہ کیوں مارے گئے اور ختم ہو گئے۔ خصوصاً جب انہیں کوئی نعمت ملتی اور ان کی عدم موجودگی کے خیال سے انہیں بہت دکھ ہوتا۔ وہ اپنے آپ سے کہتے کہ ہم تو ایسے ناز و نعمت سے بہرہ ور ہیں لیکن ہمارے بھائی بیٹے قبروں میں سوئے یوئے ہیں اور ان کے ہاتھ بالکل خالی ہیں۔ ایسے افکار اور ایسی باتیں نہ فقط یہ کہ درست اور واقع کے مطابق نہ تھیں بلکہ رہ جانے والوں کے جذبوں کو بھی کمزور کرنے کا باعث تھیں۔ زیر نظر آیات نے ایسے افکار پر خط بطلان کھینچ دیا اور شہیدوں کے بلند مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا۔ یہاں روئے سخن فقط پیغمبرؐ کی طرف ہے تاکہ دوسرے خود اندازہ کر لیں۔ آیت کے اس حصہ کا مفہوم ہے کہ اے پیغمبرؐ! یہ گمان ہرگز نہ کیجئے کہ جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں وہ مردہ ہیں۔ بلْ اَحْیاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ۔ بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں سے نعمتیں حاصل کرتے ہیں۔ یہاں زندگی سے مراد برزخ کی زندگی ہے جو موت کے بعد کے زمانے میں ارواح کو حاصل کرتی ہے۔ یہ مادی و جسمانی زندگی نہیں۔ البتہ یہ زندگی شہداء سے مخصوص نہیں اور دیگر بہت سے لوگ بھی اس زندگی کے حامل ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض محقیقین دو طرح کے لوگوں کے لئے حیات برزخ کے قائل ہیں ایک بہت زیادہ نیک اور دوسرے بہت زیادہ برُے)۔ لیکن شہیدوں کی زندگی چونکہ بہت انوع و اقسام کی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ علاوہ ازیں آیت میں موضوع سخن شہداء ہی ہیں اس لئے صرف انہی کا نام لیا گیا ہے اور وہ اس قدر حیات معنوی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں گویا برزخ میں رہنے والے باقی لوگوں کی زندگی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کے بعد شہداء کی حیات برزخ کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ۔فَرِحینَ بِما آتاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ۔ ۔ ۔ وہ فراواں نعمتیں جو خدا نے اپنے فضل و کرم سے انہیں دی ہیں ان سے وہ خوش حال ہیں۔ ان کی دوسری مسرت اپنے ان بھائیوں کے بارے میں ہے جنہوں نے میدان جنگ میں جام شہادت نوش نہیں کیا اور ان سے مل نہیں پائے۔ وہ ان کے مقامات اور اجر و ثواب کو اس جہان میں اچھی طرح دیکھتے ہیں اس بنا پر وہ مسرور اور شاداں ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے: وَ یَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ (تشریحی نوٹ: استبشار کا معنی ہے بشارت پانا یا خود نعمت حاصل کرنے پر خوش ہونا یا دوستوں کے نعمت پانے پر مسرور ہونا اور اس کا معنی بشارت دینا نہیں ہے)۔ اس کے بعد فرماتا ہے: اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لا ہُمْ یَحْزَنُونَ۔ یعنی شہداء محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مجاہد بھائی ان چیزوں کے بارے میں کوئی غم نہیں کرتے جو وہ بعد از موت دنیا میں چھوڑ آئے ہیں اور نہ ہی انہیں قیامت اور اس کے وحشتناک حوادث کا خوف ہے۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ شہداء اپنے ان مجاہد بھائیوں کے مقامت بلند دیکھ کر خوش ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ نہیں مل سکے اور اس کے علاوہ انہیں خود بھی آئندہ کا کوئی خوف اور گذشتہ کا غم نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: دوسرے الفاظ میں پہلی تفسیر کی رو سے ”اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لا ہُمْ یَحْزَنُونَ“۔ کی ضمیریں دنیا میں رہ جانے والوں کی طرف لوٹتی ہیں جبکہ دوسری تفسیر کی رو سے خود شہداء کی طرف لوٹتی ہیں)۔ یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّہِ وَ فَضْلٍ یہ آیت درحقیقت ان بشارتوں کی زیادہ تاکید اور توضح ہے جو شہادت کے بعد شہداء کو حاصل ہوئی ہیں۔ وہ دو وجوہ کی بناء پر خوش اور مسرور ہیں: پہلی یہ کہ وہ خدا کی نعمتیں پا لیتے ہیں، نعمتیں ہی نہیں بلکہ اس کا فضل جس کا معنی ہے ان نعمتوں کی زیادتی اور تکرار۔ دوسری یہ کہ وہ دیکھتے ہیں کہ خدا مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا نہ شہیدوں اور سچے مجاہدین جو جام شہادت نوش نہیں کر سکے، کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے۔ وَ اَنَّ اللَّہَ لا یُضیعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنینَ۔ درحقیقت جو کچھ انہوں نے پہلے سنا ہوا تھا اب وہ اسے واضح طور پر دیکھیں گے۔

روح کی بقاء کا شاہد

جو آیات صراحت کے بقائے روح پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے زیر نظر آیات بھی ہیں جو موت کے بعد حیات شہداء کے بارے میں ہیں۔ بعض نے یہ جو احتمال دیا ہے کہ حیات سے مراد ان کی مجازی زندگی ہے اور مقصد ان کے زحمات کے آثار اور نام و نشان کی بقا ہے یہ مفہوم آیات کے معنی سے بہت بعید ہے۔ یہ مفہوم مندرجہ بالا کے کسی جملے سے پیدا نہیں ہوتا چاہے شہداء کے روزی حاصل کرنے کا معاملہ ہو یا مختلف حوالوں سے ان کے سرور و انبساط کا تذکرہ۔ علاوہ ازیں زیر نظر آیات وجود برزخ اور نعمات برزخ پر واضح دلیل ہیں۔ اس کی تشریح سورہٴ مومنون کی آیت ۱۰۰ کے ذیل میں تفصیل سے پیش کی جائے گی۔ مذکورہ آیت یوں ہے: و من ورآئھم برزخ الیٰ یوم یبعثونَ

شہیدوں کا اجر

مقام شہداء کی اہمیت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ہر قوم و ملت اپنے شہداء کے لئے ایک مخصوص مرتبے کی قائل ہے لیکن اسلام نے راہ خدا کے شہداء کو جو احترام دیا ہے وہ بےنظیر ہے۔ ذیل میں ایک مثال پیش کی جا رہی ہے جو اسلام کی نظر میں احترام شہداء کا ایک واضح نمونہ ہے۔ اسلام کی اپنی تعلیمات کی وجہ سے ایک مختصر سی پس ماندہ جماعت میں ایسی قوت و طاقت آگئی جس نے دنیا کے عظیم ترین شاہی نظاموں کو گھٹنے ٹکینے پر مجبور کر دیا۔ مذکورہ روایت یہ ہے: امام علی بن موسیٰ رضا علیھما السلام امیرالمومنین ضحرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ آنحضرتؐ خطبہ دے رہے تھے اور لوگوں کو جہاد کا شوق دلا رہے تھے۔ اس دوران میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا۔ اس نے عرض کیا: اے امیرالمومنین (علیه السلام): مجھ سے راہ خدا میں جنگ کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائیے۔ امامؑ نے جواب میں فرمایا: ایک دفعہ میں پیغمبرؐ کی سواری پر آپؐ کے پیچھے سوار تھا۔ ہم جنگ ذات السلاسل سے واپس آ رہے تھے یہی سوال جو تو نے مجھ سے کیا ہے میں نے رسول اللہؐ سے کیا، تو آپؐ نے فرمایا: جب مجاہد میدان جہاد میں شرکت کا پختہ ارادہ کر لیتے ہیں تو خداوند عالم جہنم سے آزادی ان کے لئے مقدر کر دیتا ہے اور جب وہ ہتھیار اٹھا کر میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں تو ملائکہ ان پر فخر کرتے ہیں اور جب ان کی بیوی بچے، عزیز و اقارب انہیں الوداع کہتے ہیں تو وہ اپنے گناہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ------ پھر وہ جو بھی کام کرتے ہیں اس کا اجر دوگنا زیادہ ہو جاتا ہے اور ہر دن کے بدلے ان کے لئے ہزار عابد کی عبادت کا اجر لکھا جاتا ہے اور جب وہ دشمن کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو پورے عالم کے لوگ ان کے میزان ثواب کا اندازہ نہیں کر سکتے اور جب وہ میدان جنگ میں قدم رکھتے ہیں، نیزہ و تیر کا تبادلہ ہونے لگتا ہے اور پھر دست بدست لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو فرشتے اپنے پر و بال سے انہیں گھیر لیتے ہیں اور خدا سے میدان میں ان کی ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں۔ اس وقت ایک منادی ندا دیتا ہے: الجنة تحت ظلال السیوف۔ (یعنی جنت تلواروں کے سائے میں ہے)۔ اس وقت شہید کے جسم پر دشمن کے وار زیادہ آسان اور گرمیوں میں ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ خوش گوار ہوتے ہیں اور جب شہید اپنی سواری سے نوٹتا ہوا گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے حوران بہشت اس کے استقبال کو آتی ہیں اور اسے ان تمام عظیم روحانی و مادی نعمتوں کی خبر دیتی ہیں جو خداوند تعالی نے اس کے لئے فراہم کر رکھی ہیں اور جب شہید زمین پر گر چکتا ہے تو زمین کہتی ہے: آفرین ہے پاکیزہ روح کے لئے جو پاکیزہ بدن سے پرواز کر رہی ہے، تیرے لئے خوش خبری ہے، ان لک ما لا عین راٴت و لا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔ یعنی تیرے انتظار میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی دل میں ان کا خیال آیا ہے۔ نیز خدا فرماتا ہے: میں اس کے پس ماندگان کا سرپرست ہوں، جو کوئی انہیں خوش کرے گا اس نے مجھے خوش کیا اور جو انہیں ناراض کرے گا اس نے مجھے ناراض اور غضب ناک کیا۔ (بحوالہ یہ اس روایت کا خلا صہ ہے جو عظیم اسلامی مفسر مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں درج کی ہے)۔

172
3:172
ٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡقَرۡحُۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ مِنۡهُمۡ وَٱتَّقَوۡاْ أَجۡرٌ عَظِيمٌ
جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی خدا اور رسول کی دعوت کو قبول کیا ان میں سے نیک عمل کرنے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے اجر عظیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 174 کے تحت ملاحظہ کریں۔

173
3:173
ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنٗا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ
وہ ایسے اشخاص تھے جن سے (بعض) لوگوں نے کہا کہ (لشکر دشمن کے) افراد نے تم پر (حملہ کرنے کے لئے) اکٹھ کر لیا ہے ان سے ڈرو لیکن ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور وہ کہنے لگے کہ خدا ہمارے لیے کافی ہے اور وہ ہمارا بہترین حامی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 174 کے تحت ملاحظہ کریں۔

174
3:174
فَٱنقَلَبُواْ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوٓءٞ وَٱتَّبَعُواْ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَظِيمٍ
اسی وجہ سے (وہ اس میدان سے) پروردگار کی نعمت و فضل کے ساتھ اس عالم میں لوٹے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی خوشنودی کی اتباع کی اور اللہ تو بڑا صاحب فضل ہے۔

تفسیر غزوہٴ حمراء الاسد

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

ہم کہ چکے ہیں کہ جنگ اُحد کے اختتام پر ابوسفیان کا فاتح لشکر بڑی تیزی سے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ روحاء کے مقام پر پہنچے تو اپنے کئے پر بہت پشیمان ہوئے اور انہوں نے مدینہ کی طرف لوٹنے اور باقی ماندہ مسلمانوں کو نابود کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ اطلاع پیغمبر اکرمؐ کو پہنچی تو آپؐ نے فوراً حکم دیا کہ جنگ اُحد میں شریک ہونے والا لشکر دوسری جنگ کے لئے تیار ہو جائے۔ آپؐ نے یہ حکم خصوصیت سے دیا کہ جنگ اُحد کے زخمی بھی لشکر کی صفوں میں شامل ہوں۔ ایک صحابی کہتے ہیں: میں بھی زخمیوں میں سے تھا لیکن میرے بھائی کے زخم مجھ سے زیادہ شدید تھے۔ ہم نے ارادہ کر لیا کہ جو بھی حالت ہو ہم پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میں پہنچیں گے۔ میری حالت چونکہ میرے بھائی سے کچھ بہتر تھی، جہاں میرا بھائی نہ چل پاتا میں اسے کندھے پر اٹھا لیتا۔ بڑی تکلیف سے ہم لشکر تک جا پہنچے پیغمبر اکرمؐ اور لشکر اسلام ”حمراء الاسد“ کے مقام پر پہنچ گئے اور وہاں پڑاوٴ ڈال دیا یہ جگہ مدینے سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ خبر لشکر قریش تک پہنچی خصوصاً جب انہوں نے مقابلے کے لئے ایسی آمادگی دیکھی کہ زخمی بھی میدان جنگ میں پہنچ گئے ہیں تو وہ پریشان ہو گئے اور شاید انہیں یہ فکر بھی لاحق ہوئی کہ مدینے سے تازہ دم فوج ان سے آ ملی ہے۔ اس موقع پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کے دلوں کو اور کمزور کر دیا اور ان میں مقابلے کی ہمت نہ رہی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک مشرک جس کا نام معبد خزاعی تھا مدینے سے مکہ کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے پیغمبر اکرمؐ اور ان کے اصحاب کی کیفیت دیکھی تو انتہائی متاثر ہوا۔ اس کے انسانی جذبات میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس نے پیغمبرؐ سے عرض کیا: آپؐ کی یہ حالت و کیفیت ہمارے لئے بہت ہی ناگوار ہے، آپؐ آرام کرتے تو ہمارے لئے بہتر ہوتا۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل پڑا اور روحاء کے مقام پر ابوسفیان کے لشکر سے ملا۔ ابو سفیان نے اس سے پیغمبر اسلام کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں کہا: میں نے محمد کو دیکھا ہے کہ وہ ایسا عظیم لشکر لئے تمہارا تعاقب کر رہے ہیں جس جیسا لشکر میں نے کھی پہلے نہیں دیکھا تھا اور وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ابوسفیان نے اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کہا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ ہم نے انہیں قتل کیا، زخمی کیا اور منتشر کر کے رکھ دیا تھا۔ معبد خزاعی نے کہا: میں نہیں جانتا تم نے کیا کیا ہے، میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ ایک عظیم اور کثیر لشکر اس وقت تمہارا تعاقب کر رہا ہے۔ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ وہ تیزی سے پیچھے ہٹ جائیں اور مکہ کی طرف پلٹ جائیں اور اس مقصد کے لئے کہ مسلمان ان کا تعاقب نہ کریں اور انہیں پیچھے ہٹ جانے کا کافی موقع مل جائے، انہوں نے قبیلہ عبد القیس کی ایک جماعت سے خواہش کی کہ وہ پیغمبر اسلامؐ اور مسلمانوں تک یہ خبر پہنچا دیں کہ ابوسفیان اور قریش کے بت پرست باقی ماندہ اصحاب پیغمبرؐ کو ختم کرنے کے لئے ایک عظیم لشکر کے ساتھ تیزی سے مدینے کی طرف آ رہے ہیں۔ یہ جماعت گندم خریدنے کے لئے مدینہ جا رہی تھی جب یہ اطلاع پیغمبر اسلامؐ اور مسلمانوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ (خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارا بہتریں اور مدافع ہے)۔ انہوں نے بہت انتظار کیا لیکن دشمن کے لشکر کی کوئی خبر نہ ہوئی۔ لہذا تین روز توقف کے بعد وہ مدینہ کی طرف لوٹ گئے مندرجہ بالا آیات اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ (بحوالہ: نور الثقلین، مجمع البیان، المنار اور دیگر کتب)۔ الَّذینَ اسْتَجابُوا لِلَّہِ وَ الرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ ما اَصابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذینَ اَحْسَنُوا مِنْہُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظیمٌ۔ جنہوں نے خدا اور پیغمبر کی دعوت قبول کی اور جنگ اُحد میں اٹھائے گئے زخموں کے باوجود دشمن سے دوسری جنگ کے لئے آمادہ ہو گئے ان میں سے نیک عمل کرنے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں یعنی پاکیزہ نیت اور خلوص کامل سے میدان میں شرکت کرنے والوں کے لئے اجر عظیم ہے۔ زیر نظر آیت میں ایک گروہ کے لئے اجر عظیم مخصوص کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی کچھ ایسے افراد تھے جو صحیح طور پر مخلص نہ تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ”منھم“ (ان میں سے بعض) اس طرف اشارہ ہو کہ اُحد کے جنگجو لوگوں میں سے بعض کسی بہانے سے اس میدان سے کنارہ کش ہو گئے۔ اس کے بعد قرآن نے ان کی پامردی و استقامت کی ایک درخشاں نشانی کا یوں تذکرہ کیا ہے: الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزادَہُمْ إیماناً وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّہُ وَ نِعْمَ الْوَکیلُ ۔ یعنی یہ وہی لوگ تھے جنہیں کچھ لوگوں نے (قبیلہ عبدالقیس کے لوگ یا ایک روایت کے مطابق نعیم بن مسعود جو خبر لائے تھے) کہا کہ دشمن کی فوج جمع ہو گئی ہے اور وہ حملہ کرنے کو تیار ہے، ان سے ڈرو لیکن وہ نہ صرف یہ کہ ڈرے نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حامی ہے۔ اس استقامت، ایمان اور زبردست پامردی کے تذکرے کے بعد قرآن ان کے عمل کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ”فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّہِ وَ فَضْلٍ“ یعنی وہ اس میدان سے اللہ سے فضل و نعمت کے ساتھ لوٹے۔ نعمت و فضل اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ دشمن ان سے بھاگ گیا اور یہ صحیح سالم بغیر کوئی زحمت اٹھائے مدینہ پلٹ آئے۔ فضل و نعمت میں ممکن ہے یہ فرق ہو کہ نعمت استحقاق کے طور پر اجرت کے مفہوم میں ہو اور فضل استحقاق سے بڑھ کر اور اس پر اضافہ ہو۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر ہے: لم یمسسھم سوء ۔ یعنی انہیں اس واقعہ میں تھوڑی سی تکلیف بھی نہیں پہنچی۔ جبکہ ”و اتبعوا رضوان اللہ“ خوشنودی خدا ان کے ہاتھ آئی انہوں نے فرمان خدا کی اتباع کی ”و اللہ ذو فضل عظیم“ اور خدا کے پاس عظیم فضل انعام ہے جو حقیقی مومنین اور سچے مجاہدین کے انتظار میں ہے۔

تربیت الٰہی کی فوری تاثیر

جنگ اُحد اور واقعہ حمراء الاسد جس کی تفصیل گذر چکی ہے، ان دونوں مواقع پر مسلمانوں کے جذبہ کا موازنہ کیا جائے تو انسان کو تعجب ہوتا ہے کہ ایک شکست خوردہ جماعت جس کے جذبے بلند تھے، تعداد کافی نہ تھی اور جس میں بہت سے زخمی بھی موجود تھے اتنی تھوڑی سی مدت میں جو شاید چوبیس گھنٹے بھی نہ بنتی تھی اس کی حالت اتنی بدلی کہ وہ عزم راسخ اور بڑے ولولے اور جذبے کے ساتھ دشمن کے تعاقب پر آمادہ ہو گئی یہاں تک کہ قرآن ان لوگوں کے متعلق کہتا ہے جب انہیں اطلاع ملی کہ دشمن نے ان پر حملے کے لئے اکٹھ کر لیا ہے تو وہ صرف یہ کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور ان کے استتقامت میں اضافہ ہو گیا۔ دراصل یہ ہدف و مقصد پر ایمان رکھنے کی خاصیت ہے کہ انسان پر مشکلات و مصائب جس قدر بڑھیں اور وہ انہیں زیادہ قریب سے دیکھے اس کی پامردی اور استقامت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ درحقیقت ایسے میں اس کی تمام روحانی و مادی قوتیں خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے مجتمع ہو جاتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی جماعت میں یہ عجیب و غریب تغیر انسانی تربیت کرنے والی آیات قرآن اور پیغمبر اسلامؐ کے موثر و دل آویز ارشادات کی فوری اور گہری تاثیر کا غماز ہے اور یہ بات بذات خود ایک معجزے سے کم نہیں۔

175
3:175
إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
یہ صرف شیطان ہی ہے جو اپنے پیروکاروں کو ڈراتا ہے ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

176
3:176
وَلَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِۚ إِنَّهُمۡ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۚ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظّٗا فِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو لوگ راہ کفر میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کر دیں کیونکہ وہ ہر گز خدا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے (علاوہ ازیں ) خدا چاہتا ہے آخرت میں ان کا کوئی حصہ قرار نہ دے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 177 کے تحت ملاحظہ کریں۔

177
3:177
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا ہے وہ خدا کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

تفسیر پیغمبر کے لئے تسلی

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وَ لا یَحْزُنْکَ الَّذینَ یُسارِعُونَ فِی الْکُفْرِ۔ اس آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے۔ اُحد کے دردناک واقعہ کے بعد خداوند تعالی نے انہیں تسلی دی کہ اے پیغمبر! یہ جو تم دیکھتے ہو کہ راہ کفر میں ایک گروہ دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے درپے ہے تو اس سے غمگین و محزون نہ ہونا، وہ خدا کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ”إِنَّہُمْ لَنْ یَضُرُّوا اللَّہَ شَیْئاً“ بلکہ وہ خود اس راہ میں نقصان اٹھائیں گے۔ اصولی طور پر نفع و ضرر اور سود و زیاں ایسے موجودات کے لئے ہے جن کا وجود خود ان سے نہیں ہے لیکن خداوند ازلی و ابدی جو ہر لحاظ سے بےنیاز ہے اور اس کا وجود غیر محدود ہے، لوگوں کا کفر و ایمان اور سعی و کاوش اس کے لئے کیا اثر رکھتی ہے۔ جبکہ لوگوں کا ایمان ان کے اپنے تکامل و ارتقا کا باعث ہے اور کفر کی وجہ سے وہ خود تنزل و سقوط کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ یُریدُ اللَّہُ اَلاَّ یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الْآخِرَةِ وَ لَہُمْ عَذابٌ عَظیمٌ۔ خدا چاہتا ہے کہ اس راہ میں انہیں آزاد رکھے اور وہ اتنی تیزی سے راہ کفر طے کریں کہ آخرت میں تھوڑا سا حصہ بھی نہ پائیں بلکہ عذاب عظیم ان کے انتظار میں ہو۔ درحقیقت، آیت کہتی ہے کہ اگر وہ لوگ راہ کفر میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ خدا ان کی گرفت نہیں کر سکتا بلکہ خدا نے تو انہیں آزاادیٴ عمل دے رکھی ہے وہ جو کچھ کر سکتے ہیں کر لیں اور اس کا نتیجہ نعمات اخروی سے ان کی محرومی ہے۔ اس بنا پر نہ صرف یہ کہ آیت جبر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ آزادیٴ ارادہ کی ایک دلیل ہے۔ بعد والی آیت میں بات کو وسعت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: إِنَّ الَّذینَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالْإِیْمانِ لَنْ یَضُرُّوا اللَّہَ شَیْئاً۔ یعنی راہ کفر پر تیزی سے جانے والے ہی ایسے نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو ایمان ہاتھ سے دے کر کفر اختیار کئے ہوئے ہیں اور ایمان کے بدلے کفر خرید چکے ہیں وہ ہرگز خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ اس کا نقصان خود انہیں کو پہنچے کا۔ آیت کے آخر میں خداوند تعالی فرماتا ہے: ولھم عذاب الیم ۔ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ یہاں ”عذاب الیم“ ہے جبکہ گذشتہ آیت میں ”عذاب عظیم“ آیا ہے تعبیر کا یہ فرق اس بناء پر ہے کہ پہلی آیت میں جن کا ذکر ہے وہ کفر کے راستے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

178
3:178
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ خَيۡرٞ لِّأَنفُسِهِمۡۚ إِنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِثۡمٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
جو کافر ہو گئے ہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ اگر ہم انہیں مہلت دیتے ہیں تو یہ ان کے نفع میں ہے ہم تو یہ مہلت انہیں اس لیے دیتے ہیں کہ وہ زیادہ گناہ کر لیں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

تفسیر جن پر بھاری بوجھ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وَ لا یَحْسَبَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا اَنَّما نُمْلی لَہُمْ (تشریحی نوٹ: ”نملی“ کا معنی ہے ”مدد کرنا“ لیکن بہت سے موقع پر یہ لفظ مہلت دینے کے معنی میں بھی آتا ہے، جبکہ مہلت خود ایک قسم کی مدد ہے۔ یہاں یہ لفظ مہلت کے معنی میں ہی ہے)۔ گذشتہ آیت میں دشمنان حق کی بہت زیادہ سعی و کاوش کے ضمن میں رسول اکرمؐ کو تسلی دی گئی ہے اور ان کی دل جوئی کی گئی ہے۔ اب اس آیت میں روئے سخن دشمنوں کی طرف ہے۔ اس میں انہیں درپیش بدبختی کے بارے میں گفتگو ہے۔ یہ آیت درحقیقت واقعہ اُحد اور اس کے بعد کے واقعات سے مربوط مباحث کی تکمیل کرتی ہے کیونکہ ایک جگہ روئے سخن نبی کریمؐ کی طرف تھا، دوسرے مقام پر مومنین کی طرف اور اب اس جگہ مشرکین مخاطب ہیں۔ مندرجہ بالا آیت مشرکین کو تنبیہ کرتی ہے اور انہیں ڈراتی ہے کہ وہ خدا کے عطا کردہ وسائل کبھی کبھار مل جانے والی کامیابیوں اور آزادیٴ عمل کو اس بات کی دلیل قرار نہ دیں کہ وہ صالح افراد ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں صحیح یا یہ ان کے لئے خوشنودیٴ خدا کی نشانی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند تعالی گناہوں سے کم آلودہ گناہ کاروں کو جرس بیداری کے ذریعہ متوجہ کرتا ہے، کبھی ان اعمال کے عکس العمل کے ذریعہ بیدار کرتا ہے، اور کبھی ان سے سرزد ہونے والے اعمال کی مناسب سزاوٴں کے ذریعہ بیدار کرتا ہے اور اس طرح انہیں راہ حق کی طرف واپس لاتا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ابھی ہدایت کی اہلیت رکھتے ہیں اور لطف الہی کے حامل ہیں۔ حقیقت دین، مجازات عمل اور تکالیف و زحمات ایسے لوگوں کے لئے نعمت شمار ہوتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے: ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون۔ خشکی پر اور دریاوٴں میں تباہی و طغیانی لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے تاکہ خدا ان کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھائے شاید اس طرح یہ لوگ پلٹ جائیں۔ (روم۔ ۴۱) لیکن وہ لوگ جو گناہ و عصیان میں غرق ہو جائیں اور طغیان، سرکشی اور نافرمانی کے آخری مرحلے تک جا پہنچیں، خدا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ اصطلاح میں یوں کہا جاتا ہے کہ انہیں موقع دیتا ہے کہ ان کی کمر بار گناہ سے بوجھل ہو جائے اور وہ زیادہ سے زیادہ سزا کے مستحق ہو جائیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پیچھے کے تمام پل تباہ کر دیے ہیں، واپس لوٹنے کے لئے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں رہا، حیا و شرم کا پردہ چاک کر چکے ہیں اور ہدایت خداوندی کی اہلیت بالکل کھو چکے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت اس مفہوم کی تاکید کرتے ہوئے کہتی ہے: جو کافر ہو گئے ہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے جو انہیں مہلت دی ہے وہ ان کے فائدے میں ہے بلکہ انہیں مہلت تو اس لئے دی جاتی ہے تاکہ وہ گناہ و سرکشی میں اضافہ کریں اور ان کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب ہے۔ دنیائے اسلام کی شیردل خاتون حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام نے شام کی جابر و خود سر حکومت کے دربار میں سرکش یزید کے سامنے اپنے خطبے میں اسی آیت سے استدلال پیش فرمایا کیونکہ یزید ناقابل برگشت گنہ گار کا واضح مصداق تھا۔ خطبے میں آپ (علیه السلام) نے فرمایا: تو آج خوش ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ تو نے وسیع و عریض دنیا ہم پر تنگ کر رکھی ہے اور آسمان کے کناروں کو ہم پر بند کر دیا ہے اور قیدیوں کی طرح ہمیں دیار بدیار پھرا رہا ہے اس لئے یہ تیری قدرت و طاقت کی نشانی ہے اور یا خدا کے یہاں تیری قدر و منزلت ہے اور ہمارے لئے اس کے ہاں کوئی راہ نہیں۔ یہ سب تیرا اشتباہ ہے۔ یہ موقع اور آزادی خدا نے تجھے اس لئے دی ہے تاکہ تیری پشت بار گناہ سے بھاری ہو جائے اور دردناک عذاب تیرے انتظار میں ہے۔ خدا کی قسم اگر حوادث زمانہ مجھے ایک قیدی عورت کی شکل میں تیرے پائے تخت میں لے آئے ہیں تو اس سے یہ خیال نہ کر کہ میری نظر تمہاری کوئی تھوڑی سی بھی حیثیت یا قدر و وقعت ہے۔ میں تجھے چھوٹا، پست،ہر لحاظ سے حقیر اور ملامت، سرزنش اور پھٹکار کا مستحق سمجھتی ہوں۔ جو کچھ تجھ سے ہو سکتا ہے کر لے۔ خدا کی قسم تو ہمارے نور کو خاموش نہیں کر سکتا۔ تو وحی جاوداں اور ہمارے آئین حق کو محو نہیں کر سکتا۔ تو نابود ہو جائے گا اور یہ تابناک ستارہ یونہی چمکتا رہے گا۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہ سوال بہت سے ذہنوں میں موجود ہے کہ بہت سے ستمگر، گنہگار اور آلودہ دامن لوگ اس طرح نعمات میں کیوں مستغرق ہیں اورانہیں سزا کیوں نہیں ملتی۔ زیر نظر آیت سے ضمنی طور پر اس کا جواب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو قابل اصلاح نہیں اور انہیں سنت آفرینش اور آزادیٴ ارادہ و اختیار کے اصول کے مطابق ان کی حالت پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ یہ سقوط کے آخری مرحلے تک پہنچ جائیں اور زیادہ سے زیادہ سزا کے مستحق ہو جائیں۔ علاوہ ازیں قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات خدا ایسے لوگوں کو فراواں نعمتیں دیتا ہے اور جب وہ کامیابی اور مسرت کی لذت میں غرق ہوتے ہیں تو اچانک تمام چیزیں ان سے چھین لیتا ہے تاکہ اسی دنیا میں زیادہ سے زیادہ عذاب اور سزا کا مزہ چکھ لیں کیونکہ ایک دم خوشحال زندگی کا چھن جانابہت تکلیف دہ ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد الہی ہے: فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیءٍ ۔حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنا ھم بغتة فاذا ھم مبسلون جب انہوں نے وہ نصیحتیں جو انہیں کی گئی تھیں فراموش کر دیں، تو ہم نے ہر اچھائی اور خیر کے دروازے ان کے لئے کھول دئے تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔ پھر اچانک جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا واپس لے لیا لہذا وہ انتہائی تکلیف اور غم میں مبتلا ہو گئے۔ (انعام۔ ۴۴) درحقیقت ایسے اشخاص ان لوگوں کی طرح ہیں جو ظلم و تشدد سے کسی درخت پر چڑھ جاتے ہیں، وہ جتنا اوپر جاتے ہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ درخت کی چوٹی پر جا پہنچے ہیں۔ اچانک سخت آندھی آتی ہے جو انہیں اوپر سے نیچے گرا دیتی ہے جس سے ان کی سب ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔

ایک ادبی نکتہ

آیت کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ”لیزدادوا اثماً“ “میں ”لام عاقبت“ ہے نہ کہ لام غایت اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض اوقات حرف لام عربی لغت میں ایسے موقع پر آتا ہے جو انسان کو محبوب و مطلوب ہو۔ مثلا: لتخرج الناس من الظلمٰت الیٰ النور ہم نے قرآن تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف دعوت دو۔ (ابراہیم۔۱) واضح ہے کہ لوگوں کی ہدایت خدا کو محبوب و مطلوب ہے۔ لیکن کبھی لام حرف ایسی جگہ بھی استعمال ہوتا ہے جو انسان کی ہدف، غرض اور پسند نہ ہو بلکہ اس کے عمل کا نتیجہ ہو۔ مثلاً لیکون لھم عدوا و حزناً فرعون کے ساتھیوں نے موسیٰؑ کو پانی میں سے اٹھا لیا تاکہ انجام کار وہ ان کا دشمن ہو جائے۔ ( قصص۔ ۸) یہ بات مسلم ہے کہ فرعون کے ساتھیوں نے موسیٰؑ کو پانی سے اس لئے نہیں اٹھایا تھا کہ وہ کل کو ان کا دشمن ہو جائے لیکن یہ سب ان کے کام کا نتیجہ تھا۔ یہ دونوں تعبیریں نہ صرف ادبیات عرب میں بلکہ باقی زبانوں میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ خدا نے کیوں کہا ہے کہ ”لیزدادوا اثماً“ (ہم چاہتے ہیں کہ ان کے گناہ زیادہ ہوں)۔ یہ اعتراض اس صورت میں ہو سکتا تھا جب لام ”لام علت“ ہوتا اور یہ ہدف و غرض کے طور پر ہوتا اور ”لام عاقبت“ کے طور پر نہ ہوتا۔ اس بنا پر آیت کا معنی یوں ہو گا: ہم انہیں مہلت دیتے ہیں، ان کا انجام یہ ہے کہ ان کی پشت بارگناہ سے بوجھل ہو جائے۔ لہذا یہ آیت نہ صرف یہ کہ جبر کی دلیل نہیں بلکہ اختیار اور ارادے کی آزادی کی دلیل ہے۔

179
3:179
مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَجۡتَبِي مِن رُّسُلِهِۦ مَن يَشَآءُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمۡ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
ممکن نہ تھا کہ خدا مومنین کو اسی مشکل میں چھوڑ دیتا جس میں تم ہو مگر یہ کہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے نیز (یہ بھی) ممکن نہ تھا کہ خدا تمہیں مخفی رازوں سے آ گاہ کرے لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا چن لیتا ہے۔ پس خدا اور اسکے رسولوں پر ایمان لے آؤ اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقویٰ اختیار کر لیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہو گا۔

تفسیر مسلمانوں کی تطہیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

واقعہ اُحد سے پہلے منافقین کا موضوع مسلمانوں میں زیر بحث نہیں آیا تھا اسی لئے وہ زیادہ تر کفار ہی کو اپنا دشمن سمجھتے تھے لیکن احد کی شکست کے بعد سچے مسلمانوں کی وقتی کمزوری اور منافقین کی کارکردگی کے لئے زمین ہموار ہو جانے پر انہیں سمجھ آیا کہ ان کے اور بھی خطرناک دشمن ہیں جن پر کڑی نگاہ رکھنا پڑے گی۔ یہ خطرناک دشمن منافق تھے۔ جنگ اُحد کے نتائج میں سے یہ ایک اہم نتیجہ تھا۔ زیر نظر آیت جو اس مقام پر واقعہ اُحد کے سلسلے کی آخری آیت ہے اس حقیقت کو ایک عمومی قانون کی صورت میں بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: ما کانَ اللَّہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنینَ عَلی ما اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتَّی یَمیزَ الْخَبیثَ مِنَ الطَّیِّبِ ممکن نہیں کہ خدا مومنین کو اسی حالت میں رہنے دے جس میں تم ہو اور ان کی تطہیر نہ کرے اور طیب کو خبیث سے ممتاز نہ کر دے۔ یہ حکم سب کے لئے ایک جیسا اور عمومی ہے۔ پروردگار کی ایک دائمی سنت ہے کہ جو شخص ایمان کا دعویٰ کرے اور مسلمانوں میں مل جل کر رہنے لگے اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ پے درپے خدائی آزمائش سے آخر کار اس اندرونی راز فاش ہو جائیں گے۔ ممکن تھا یہاں یہ سوال کیا جاتا (اور بعض روایات کے مطابق کچھ مسلمانوں نے ایسا سوال کیا بھی) کہ وہ خدا جو سب کے مخفی اسرار سے آگاہ ہے اس کے لئے کیا رکاوٹ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی کیفیت سے آگاہ کرے اور علم غیب کے ذریعہ مومن اور منافق میں تمیز کر دی جائے۔ آیت کا دوسرا حصہ اسی سوال کا جواب ہے جس میں فرمایا گیا ہے:ِ وَ ما کانَ اللَّہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ۔ یعنی خدا تمہیں پوشیدہ راز اور علم غیب نہیں دے گا کیونکہ مخفی اسرار پر آگاہی عام لوگوں کے خیالات کے برعکس مشکل کو حل نہیں کرتی بلکہ بہت سے مواقع پر رازوں کے عیاں ہو جانے سے ہرج مرج کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اجتماعی گرہیں کھل جاتی ہیں امید کے چراغ بجھ جاتے ہیں اور عام لوگ سعی و کاوش چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے لوگوں کی قدر و قیمت کا تعین ان کی کارکردگی کے حوالے سے ہونا چاہیے کسی اور طریعہ سے نہیں۔ (بحوالہ ولنبلونکم بشیء من الخوف و الجوع ۔ ۔۔ ( بقرہ۔ ۱۵۵) کی تفسیر میں خدا کی آزمائش کے تذکرے میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جا چکا ہے کہ خدا کی آزمائش ایک طرح کی تربیت ہیں نہ کہ خدا ان کے ذریعے علم حاصل کرتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھئے)۔ اس کے بعد مذکورہ حکم سے انبیاء الہی کا استثناء یوں بیان کیا گیا ہے: وَ لکِنَّ اللَّہَ یَجْتَبی مِنْ رُسُلِہِ مَنْ یَشاء۔۔۔ خدا جب چاہتا ہے اپنے پیغمبروں میں بعض کو منتخب کرتا ہے اور لامتناہی علم غیب کے کسی گوشے سے انہیں مطلع کر دیتا ہے اور لوگوں کے ایسے اسرار کی انہیں خبر دیتا ہے جن سے آگاہی ان کے رہبری کی تکمیل کے لئے ضرور ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال کلی و عمومی اور دائمی قانون یہی ہے کہ لوگوں کی پہچان کا آئینہ ان کے اعمال ہی میں ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ ذاتی طور پر عالم غیب نہیں ہوتے نیز یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کے عطا کردہ علم کے ذریعے بعض غیبی امور سے آگاہ ہوتے ہیں۔ لہذا کچھ ایسے افراد ضرور ہیں جو غیب سے آگاہ ہوتے ہیں اور وہ کس قدر آگاہ ہیں یہ بات خدا کی مشیت سے وابستہ ہے۔ کہے بغیر واضح ہے کہ اس آیت میں بھی مشیت سے مراد دیگر آیات کی طرح وہی ارادہ ہے جس میں حکمت و مصلحت کار فرما ہوتی ہے۔ یعنی خدا جسے اہل سمجھتا ہے اور اس کی حکمت کا تقاض اہوتا ہے اسے اسرار غیب سے آگاہ کر دیتا ہے۔ فَآمِنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ وَ إِنْ تُؤْمِنُوا وَ تَتَّقُوا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظیمٌ۔ آیت کے آخر میں یہ بات ذہن نشین کروائی گئی ہے کہ یہ زندگی ایک آزمائش ہے، اس میں پاک اور ناپاک کو جدا جدا کر دیا جاتا ہے اور مومن و منافق میں تمیز کی جاتی ہے تو پھر تم اس آزمائش کی کٹھالی سے اچھی طرح سے نکل آوٴ اور خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لے آوٴ اور تقویٰ اختیار کرو تو عظیم اجر و ثواب تمہارے انتظار میں ہے۔ آیت میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ مومن کو طیب (پاکیزہ) قرار دیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں پاکیزہ اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنی پہلی خلقت پر برقرار رہے اور خارجہ چیزیں اسے خبیث اور ناپاک نہ کریں۔ پاکیزہ پانی، پاکیزہ کپڑا اور دیگر اشیاء تب پاکیزہ ہیں جب انہیں خارجی آلودگی کے عوامل نہ لگیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان انسان کی پہلی فطرت ہے۔

180
3:180
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ هُوَ خَيۡرٗا لَّهُمۖ بَلۡ هُوَ شَرّٞ لَّهُمۡۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
جو بخل کرتے ہیں اور خدا نے اپنے فضل و کرم سے جو کچھ دیا ہے خرچ نہیں کرتے وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ ان کے لئے کوئی اچھی چیز ہے بلکہ یہ ان کے لئے بری چیز ہے بہت جلدی روز قیامت جن کے بارے میں انہوں نے بخل کیا وہی چیزیں طوق کی طرح ان کی گردن میں ڈال دیں گے اور آسمانوں اور زمین کی میراث خدا کے لئے ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے۔

تفسیر قید و بند کا بھاری طوق

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وَ لا یَحْسَبَنَّ الَّذینَ یَبْخَلُونَ بِما آتاہُمُ اللَّہُ زیر نظر آیت میں قیامت کے دن بخیلوں کے انجام کی وضاحت کی گئی ہے۔ بخیل جو مال جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور دولت و ثروت کی حفاظت میں کوشاں رہتے ہیں لیکن اسے بندگان خدا پر خرچ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ آیت میں اگرچہ واجب مالی حقوق کا نام نہیں لیا گیا لیکن روایات اہل بیت (علیه السلام) میں اور اقوال مفسرین میں اسے مانعین زکوٰة سے مخصوص قرار دیا گیا ہے اور آیت میں جس قدر شدت دکھا ئی دیتی ہے وہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد مستحب انفاق اور خرچ کرنا نہیں ہے۔ فرمایا گیا ہے: جو لوگ بخل کرتے ہیں اور خدا نے انہیں جو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے اس میں سے خرچ نہیں کرتے وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ ان کے نفع میں ہے بلکہ یہ تو ان کے نقصان میں جا پڑتا ہے پھر قیامت میں ان کے انجام کا تذکر ہے: سَیُطَوَّقُونَ ما بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیامَةِ۔۔۔ جن اموال میں وہ بخل کرتے ہیں بہت جلد انہیں طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مال سے واجب حقوق ادا نہیں کیے گئے اور معاشرے کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ انفرادی ہوس کی نذر ہو گیا ہے اور بعض اوقات احمقانہ امور میں خرچ ہو گیا ہے اور یا بلاوجہ اسے جمع کر کے رکھ دیا گیا اور اس سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھایا وہ دیگر اعمال انسانی کی طرح تجسیم اعمال کے قانون کے مطابق روز قیامت مجسم ہو گا اور درد ناک صورت عذاب کا ذریعہ بن کر آئے گا۔ ایسا مال طوق کی شکل میں مجسم ہو گا اور گردن میں ڈالا جائے گا۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اس کا تمام تر بوجھ اٹھانے کا ذمہ دار ہے اگرچہ اس نے اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا ہو۔ وہ زیادہ مال جو جنون کی حد تک کوشش سے جمع کیا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے مگر وہ معاشرے کی خدمت کے لئے نہ ہو وہ اپنے مالک کے لئے زنجیر اور زندان کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کوئی شخص اپنے مال سے معین حد تک ہی فائدہ اٹھاتا ہے لیکن حد سے گزر جائے تو ایک طرح کی قید اور بیکار بوجھ کے سوائے اس کا کوئی نتیجہ نہیں مگر یہ کہ اس کی روحانی برکات سے فائدہ حاصل کیا جائے اور اسے مثبت کاموں پر خرچ کیا جائے۔ ایسا مال نہ فقط روز قیامت اپنے مالک کے لئے طوق بنے گا بلکہ اس دنیا میں بھی یہ ایسا ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ فرق ہے کہ قیامت میں آشکار ہو گا اور اس دنیا میں انتہائی مخفی ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر جنون اور حماقت کیا ہو گی کہ انسان مال کے حساب کتاب، حفاظت اور بچاوٴ کے لئے درکار زحمتیں اور تکلیف اٹھانے کے علاوہ مال حاصل کرنے کی بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے لیکن اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ کیا قید و بند کا طوق اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: جو شخص اپنے مال کی زکوٰة ادا نہیں کرتا خدا اس مال کو آگ کے طوقوں میں بدل دے گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ جیسے دنیا میں تو اس مال کو کسی صورت میں اپنے سے دور نہیں کرتا تھا اب بھی اسے اٹھا لے اور اپنی گردن میں ڈال لے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ آیت میں مال کو ”ما اتھم اللہ من فضلہ“ کہا گیا ہے۔ اس لئے یہ گنجائش نہیں کہ کوئی شخص اس مال و دولت کو ملک حقیقی کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرے۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس جملہ کا مفہوم عام ہے اور اس میں تمام نعمات الہی یہاں تک کہ علم و دانش بھی شامل ہے۔ لیکن یہ احتمال آیت کے ظاہری مفاہیم پر منطبق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد آیت ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے: ”وللہ میراث السمٰوات و الارض“ یعنی یہ مال راہ خدا میں اور بندگان خدا کے لئے خرچ ہو یا نہ ہو آخرکار اپنے مالکوں سے جدا ہو جائیں گے اور خدا تمام آسمانوں اور زمین کی وراثتوں کا وارث ہے۔ جب ایسا ہی ہے تو پھر کیا ہی اچھا ہے کہ ان اموال کے جدا ہونے سے پہلے ان کی معنوی و روحانی برکات سے فائدہ اٹھایا جائے نہ کہ ان کی حسرت اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا جائے۔ آیٰت کے آخر میں ارشاد ہے: خدا تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔ بخل کرو گے تو بھی وہ جانتا ہے اور اگر انسانی معاشرے کے مفاد میں اسے کام میں لاوٴ گے تو بھی اسے معلوم ہے اور وہ ہر شخص کو اس کا حسب حال اجر دے گا۔ و اللہ بما تعملون خبیر۔

181
3:181
لَّقَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٞ وَنَحۡنُ أَغۡنِيَآءُۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ
خدا نے ان لوگوں کی بات سنی ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم غنی ہیں انہوں نے جو کچھ کہا یہ ہم لکھ لیں گے اور (اسی طرح ان کا) پیغمبروں کو نا حق قتل کرنا بھی (ہم نے لکھ رکھا ہے) اور ہم انہیں کہیں گے کہ جلانے والا عذاب چکھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 182 کے تحت ملاحظہ کریں۔

182
3:182
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٖ لِّلۡعَبِيدِ
یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی آگے بھیجی ہوئی کمائی ہے اور خدا (اپنے) بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

یہودیوں کی سرزنش

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیات یہودیوں کی سرزنش کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ نے بنی قینقاع کے یہودیوں کو خط لکھا۔ اس میں انہیں نماز ادا کرنے، زکوٰة دینے اور خدا کو قرض (تشریحی نوٹ: خدا کو قرض دینے سے مراد راہ خدا میں خرچ کرنا ہے۔ یہاں قرض کا لفظ انسانوں کے جذبوں کو متحرک کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے)۔ دینے کی دعت دی گئی۔ آنحضرتؐ کا قاصد اس گھر میں گیا جو یہودیوں کی مذہبی تعلیم و تدریس کا مرکز تھا اس کا نام بیت المدارس تھا۔ قاصد نے یہ خط سب سے بڑے عالم فخاص کے ہاتھ میں دیا۔ اس نے خط پڑھنے کے بعد طنزیہ لہجے میں کہا: اگر تمہاری باتیں سچی ہیں تو پھر یہ کہنا چاہیے کہ خدا فقیر ہے اور ہم غنی ہیں کیونکہ اگر وہ فقیر نہ ہوتا تو ہم سے قرض کی خواہش نہ کرتا۔ (تشریحی نوٹ: یہ اشارہ ہے آیت ”من یقرض اللہ قرضاً حسناً۔ کی طرف۔ (حدید۔۱۱)) علاوہ ازیں محمدؐ کا اعتقاد ہے کہ خدا نے تمہیں سود کھانے سے منع کیا ہے حالانکہ وہ خود تمہارے انفاق اور خرچ کرنے کے بدلے ربا اور سود کا وعدہ کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: آیہ ”یربوا الصدقات“ کی طرف اشارہ ہے۔ (بقرہ۔ ۲۷۶)) بعد میں فخاص نے یہ جاننے سے انکار کر دیا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (بحوالہ: اسباب النزول از واقدی، صفحہ ۹۹ اور تفسیر روح البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدا نے یہودیوں کی کفر آمیز باتیں سنیں، وہ کہتے تھے کہ خدا فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ اب اگر وہ لوگوں کے سامنے انکار کرتے ہیں مگر خدا کے سامنے تو انکار نہیں کر سکتے کہ وہ سب باتوں کو سنتا ہے، وہ آواز کی ان کمزور ترین اور قوی ترین سب لہروں کو سنتا ہے جن کے ادراک سے انسانوں کے کان عاجز ہیں۔ ”۔ لَقَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّذینَ قالُوا إِنَّ اللَّہَ فَقیرٌ وَ نَحْنُ اَغْنِیاء“ اس لئے ان کا انکار کرنا فضول ہے۔ اس سے مزید فرمایا: سنکتب ما قالوا ۔۔۔ یعنی نہ صرف نہ صرف یہ کہ ہم ان کی باتیں سنتے ہیں ان سب کو لکھتے بھی ہیں۔ واضح ہے کہ لکھنے سے مراد ہماری طرح کاغذ پر لکھنا نہیں ہے بلکہ مراد آثار عمل کی حفاظت کرنا ہے۔ قانون بقائے مادہ کی ترمیم کے مطابق مادہ ختم نہیں ہوتا لیکن توانائی ENERGYمیں بدل سکتا ہے اور یوں باقی رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتگان خدا کا لکھنا بھی حفاظت عمل کی ایک قسم ہے جو ہر قسم کی کتاب سے بالاتر ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ ان کی ان کفر آمیز باتوں ہی کو نہیں لکھا جاتا بلکہ وہ جو انبیاء و مرسلین کو قتل کرتے رہے ہیں اسے بھی ثبت کیا گیا ہے (و قتلھم الانبیاء) یعنی یہودیوں کی طرف سے انبیاء کا مقابلہ کرنا اور ان کے سامنے صف آرا ہونا کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ پہلی مرتبہ کسی پیغمبر کا مذاق نہیں اڑا رہے بلکہ اپنی طویل تاریخ میں ایسے بہت سے جرائم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ وہ لوگ کہ جن کی جسارت اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ وہ انبیاء کو قتل کر دیں ان کے لئے کونسی تعجب کی بات ہے کہ وہ ایسی کفر آمیز باتیں اپنی زبان پر لائیں۔ ممکن ہے کہا جائے کہ قتل انبیاء کا تعلق پیغمبر اسلامؐ کے زمانے سے تو نہیں تھا لیکن جیسا ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ نسبت اس بنا پر ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے کاموں پر راضی تھے۔ اس لئے اس جوابدہی میں شریک تھے۔ باقی رہا ان کے اعمال ثبت کئے جانے اور ان کے اعمال کی نگرانی کا مسئلہ تو یہ بےوجہ نہیں ہے بلکہ یہ تو اس لئے ہے تاکہ روز قیامت یہ سب ان کے سامنے رکھ دیا جائے اور ہم ان سے کہیں کہ اس وقت اپنے اعمال کا نتیجہ جلانے والے عذاب کی شکل میں چکھو اولقول ذواقواعذاب الحریق)۔ یہ دردناک عذاب جس کی اس وقت تم تلخی چکھا رہے ہو خود تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ تم ہی تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، خدا تو کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ ذلِکَ بِما قَدَّمَتْ اَیْدیکُمْ وَ اَنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبیدِ ۔۔۔۔۔ اصولی طور پر اگر تم جیسے ظالم اپنے اعمال کا بدلہ نہ پائیں اور وہ بھی نیک لوگوں کی صف میں کھڑے کئے جائیں تو یہ انتہائی ظلم ہے اور اگر خدا ایسا نہ کرے تو وہ ظلم یعنی بہت زیادہ ظلم کرنے والا ہو گا۔ نہج البلاغہ میں حضرت امیر المومنین علی (علیه السلام) سے منقول ہے: و ایم اللہ ما کان قوم قط فی غض نعمة من عیش فزال عنھم الا بذنوب اجترحوھا لان اللہ لیس بظلام للعبید۔ خدا کی قسم نعمت یافتہ گروہ سے اس وقت تک نعمت نہیں چھینی گئی جب تک وہ گناہوں کا مرتکب نہیں ہوا۔ (اس کے بعد امام (علیه السلام) نے قرآن کا یہی جملہ بطور سند پیش کیا) ”لان اللہ لیس بظلام للعبید“ (کیونکہ خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور کسی نعمت کے اہل شخص سے نعمت سلب نہیں کرتا)۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو ایک طرف سے جبریوں کے مذہب کی نفی کرتی ہیں اور دوسری طرف افعال کے معاملے میں عدالت کا عمومی اصول بیان کرتی ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ زیر نظر آیت صراحت سے کہتی ہے کہ خدا کی طرف سے ہر سزا اور اجر ان اعمال کی وجہ سے ہے جو لوگ اپنے قصد اور ارادہ سے انجام دیتے ہیں۔ ذٰلک بما قدّمت ایدیکم۔۔ یعنی یہ ان کاموں کے سبب ہے جنہیں تمہارے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں (تشریحی نوٹ: افعال کی نسبت ہاتھوں کی طرف اس لئے دی گئی ہے کیونکہ بیشتر کام ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں لیکن یہ حکم ہاتھ کے اعمال سے مخصوص نہیں اسی لئے تو کہتے ہیں کہ فلاں کام اس کے ہاتھ سے انجام پایا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ کام میں اس کے ہاتھ کا کوئی دخل نہ ہو)۔ دوسری طرف زیر بحث آیت صراحت سے کہتی ہے کہ خدا کبھی ظلم نہیں کرتا اور اس کی سزا کا قانون عدالت مطلقہ کے محور کے گرد گردش کرتا ہے۔ عدلیہ اسی چیز کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت کا ایک گروہ جسے معتزلہ کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ عدل کے قائل ہیں۔ ان کے مقابلے میں اہل سنت کا دوسرا گروہ جسے اشاعرہ کہتے ہیں، اس کا اس سلسلے میں عجیب و غریب عقیدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصولی طور پر خدا کے بارے میں ظلم کا تصور ہی نہیں ہو سکتا اور وہ جو کام انجام دے عین عدالت ہے یہاں تک کہ اگر تمام نیک لوگوں کو جہنم میں اور تمام ظالموں کو بہشت میں لے جائے تو بھی اس نے کوئی ظلم نہیں کیا اور کوئی شخص اس میں چوں چرا نہیں کر سکتا۔ زیر نظر آیت میں ایسے عقائد کو قطعی طور پر رد کر دیا گیا ہے۔ آیت کہتی ہے کہ اگر خدا کچھ افراد کو غلط کام کئے بغیر سزا دے تو وہ ظالم بلکہ ظلام ہو گا۔ لفظ ظلام مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے بہت ظلم کرنے والا۔ خدا تو کم سے کم ظلم نہیں کرتا پھر یہاں اس لفظ کا استعمال شاید اس بنا پر ہو کہ اگر وہ لوگوں کو کفر و گناہ پر مجبور کرے اور برے کاموں پر ابھارنے والے امور ان میں پیدا کرے پھر ان اعمال کے جرم میں جو انہوں نے مجبوراً انجام دئے ہیں انہیں سزا دے تو یہ چھوٹا سا ظلم نہیں ہو گا بلکہ اس طرح تو وہ ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا) ہی قرار دیا جائے گا۔

183
3:183
ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيۡنَآ أَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٖ تَأۡكُلُهُ ٱلنَّارُۗ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِي بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلَّذِي قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوهُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
(یہ) وہی (ہیں ) جنہوں نے کہا کہ خدا نے ہم سے پیمان لیا ہے کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں جب تک (وہ معجزہ کے طور پر) ایسی قربانی نہ کرے جسے(آسمانی) آگ کھا جائے ان سے کہیں کہ پھر تم نے مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کو کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو جبکہ وہ واضح دلائل اور جو کچھ تم کہتے ہو لے کر آئے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 184 کے تحت ملاحظہ کریں۔

184
3:184
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ جَآءُو بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ
پس اگر یہ (بہانہ تراش) تیری تکذیب کرتے ہیں ( تو یہ کوئی نئی بات نہیں ) یہ تم سے پہلے پیغمبروں کی (بھی) تکذیب کر چکے ہیں جبکہ وہ (پیغمبر) واضح دلائل متین و محکم تحریر یں اور ضیاء بخش کتاب لائے تھے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہودیوں کے چند سرکردہ افراد پیغمبر اکرمؐ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ خدا نے تمہیں ہماری طرف بھیجا ہے اور تم پر کتاب بھی نازل کی ہے حالانکہ خدا نے تورات میں ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے ہم اس پر ایمان لے آئیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ ہمارے سامنے ایک جانور کی قربانی کرے اور آسمان سے (صاعقہ کی صورت میں) آگ آئے جو اسے جلا دے، اگر تم ایسا کر دکھاوٴ تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔

تفسیر یہودیوں کی بہانہ تراشی

الَّذینَ قالُوا إِنَّ اللَّہَ عَہِدَ إِلَیْنا۔۔۔ قبول اسلام بچپنے کے لئے یہودی عجیب و غریب بہانے تراشتے تھے۔ ان میں سے ایک کی طرف زیر نظر آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے: خدا نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم کسی پیغمبر کی دعوت اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے آسمان سے آگ آ کر اچک لے۔ مفسرین کہتے ہیں یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ انبیاء الہی اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے لازمی طور پر اس مخصوص معجزے کے حامل ہوتے ہیں کہ وہ جانور ذبح کرتے ہیں اور آسمانی بجلی کے ذریعہ وہ لوگوں کے سامنے جل جاتا ہے۔ یہودی یہ فرمائش اگر واقعاً ایک معجزے کے لئے کرتے نہ کہ ہٹ دھرمی اور بہانہ سازی کے طور پر تو ایک بات تھی لیکن ان کی گذشتہ تاریخ اور پیغمبر اسلامؐ سے ان کی کشمکش واضح طور پر یہ حقیقت ثابت کرتی ہیں کہ ان کامقصد ہرگز تحقیق حق نہ تھا بلکہ وہ معاشرتی دباوٴ اور واضح قرآنی استدلالات سے فرار کے لئے نت نئی تجویزیں پیش کرتے تھے اور اگر ان کی کوئی تجویز زیر عمل آ بھی جاتی تب بھی وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ وہ تو اپنی کتب میں پیغمبر اسلامؐ کی سب نشانیاں پڑھ چکے تھے پھر بھی قبول حق سے گریزاں تھے۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: قُلْ قَدْ جاءَ کُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلی بِالْبَیِّناتِ وَ بِالَّذی قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوہُمْ إِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ۔ یعنی ان بہانہ تراشیوں کے جواب میں ان سے کہئے کہ مجھ سے پہلے بنی اسرائیل کے کئی انبیاء آئے، وہ اپنے ساتھ واضح نشانیاں بھی لائے یہاں تک کہ انہوں نے اس طرح سے قربانی بھی تمہارے سامنے کی، اگر تم سچے ہو تو پھر ان پر ایمان کیوں نہیں لائے اور انہیں کیوں قتل کیا (حضرت زکریا، حضرت یحیٰ (علیه السلام) اور چند دیگر انبیاء بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے جو ان کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے)۔ بعض متاخرین تفسیر نگار حضرات مثلاً تفسیر المنار کے مولف قربانی کے مسئلے کے بارے میں ایک اور احتمال ذکر کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مقصد یہ نہ تھا کہ کوئی جانور ذبح ہو اور آگ معجزانہ طور پر آسمان سے آ کر اسے جلا دے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان کے مذہبی احکامات میں قربانی کی ایک قسم جلی ہوئی قربانی کی تھی۔ اس کے مطابق وہ ایک جانور ذبح کرتے تھے اور خاص رسوم کے مطابق اسے آگ لگا دیتے تھے (ان مراسم کی تورات سفر لاویان کی پہلی فصل میں موجود ہے)۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خدا نے ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ جلی ہوئی قربانی کا یہ حکم ہر انسانی دین میں ہو گا اور چونکہ دین اسلام میں یہ نہیں ہے لہٰذا ہم تم پر ایمان نہیں لاتے۔ لیکن یہ احتمال تفسیر آیت میں بہت بعید ہے کیونکہ اول تو اس لفظ کا عطف بینات پر ہے کہ ان کا مقصود ایک معجزانہ کام ہے جو کہ اس تفسیر پر منطبق نہیں ہوتا دوسرا یہ کہ ایک جانور ذبح کر کے جلا دینا ایک فضول کام ہے اور ایسا کام انبیاء کے لائے ہوئے آسمانی احکامات میں سے نہیں ہو سکتا۔ فَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تسلی دیتا ہے اور ان کی دلجوئی کرتا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی باتیں نہیں مانتے تو آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ ایسا پہلے بھی بہت دفعہ ہو چکا ہے۔ آپ سے پہلے کئی پیغمبر آئے ہیں جن کی انہوں نے تکذیب کی ہے۔ جاؤُا بِالْبَیِّناتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْکِتابِ الْمُنیرِ۔ جبکہ ان انبیاء کے پاس واضح نشانیاں بھی تھیں، وہ آشکار معجزے بھی لائے تھے (البینات)، محکم و بلند مرتبہ کتب بھی ان کے پاس تھیں ( الزبر) اور وہ ضیاء بخش کتابوں کے بھی حامل تھے (الکتاب المنیر) توجہ رہے کہ زبر، زبور کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایسی کتاب جو استحکام اور پختگی سے لکھی گئی ہو یہ مادہ دراصل لکھنے کے معنی میں ہے لیکن اس طرح کا لکھنا مراد نہیں بلکہ ایسا لکھنا جس میں استحکام ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ ”الزبر“ اور ”المنیر“ میں کیا فرق ہے، جبکہ دونوں الفاظ کتاب کے بارے میں ہیں تو ممکن ہے یہ اس وجہ سے ہو کہ پہلا لفظ ان انبیاء کی کتب کے بارے میں ہو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے تھے اور دوسرا لفظ تورات و انجیل کے بارے میں ہو کیونکہ قرآن نے سورہٴ مائدہ آیت ۴۴ و ۴۶ میں ان کے لئے لفظ ”نور“ استعمال کیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔ انا انزلنا التورٰۃ فیھا ھدی و نور اور دوسری آیت ہے: و اتیناہ الانجیل فیہ ھدیً و نور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ زبور آسمانی کتب کے صرف اس حصے کو کہتے ہیں جو وعظ و نصیحت پر مشتمل ہو لیکن آسمانی کتاب یا کتاب منیر کتب کے ان حصوں کو کہتے ہیں جن میں انفرادی و اجماعی قوانین ہوں (جیسا کہ موجودہ زبور جو حضرت داوٴدؑ کی طرف منسوب ہے میں بھی وعظ و نصیحت ہی ہے)۔

185
3:185
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
ہر شخص موت کا ذائقہ چکھتا ہے اور تم روز قیامت اپنا اجر مکمل طور پر حاصل کرو گے پس جو لوگ (جہنم کی) آگ کی زد سے دور رہے اور بہشت میں داخل ہو گئے وہ سعادت سے ہمکنار ہوئے اور حیات دنیا سرمایہ فریب کے سوا کچھ نہیں۔

تفسیر موت کا اٹل قانون

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

مخالفین اور بےایمان لوگوں کی ہٹ دھرمی کے تذکرے کے بعد اس آیت میں موت کے عمومی قانون کا تذکرہ ہے اور قیامت میں لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ اس سے پیغمبر اکرمؐ اور مومنین کی دلجوئی بھی ہو جائے اور گناہ پیشہ مخالفین کو تنبیہ بھی۔ پہلے تو آیت میں ایک ایسے قانون کا تذکرہ ہے جو اس عالم کے تمام زندہ موجودات پر حاکم ہے۔ فرمایا: تمام زندہ چیزیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ایک دن موت کا مزہ چکھیں گی (کل نفس ذائقة الموت) اگرچہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ بھول جائیں گے کہ وہ فنا پذیر ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم اسے فراموش بھی کر دیں تب بھی وہ ہمیں نہیں بھلائے گی۔ اس دنیا کی زندگی آخر کار ختم ہو جائے گی اور ایک دن ایسا آئے گا جب موت ہر شخص کی تلاش میں آئے گی اور پھر مجبوراً اس جہان سے رخت سفر باندھنا پڑے گا۔ اس آیت میں ”نفس“ سے مراد جسم و جان کا مجموعہ ہے اگرچہ بعض اوقات قرآن میں ”نفس“ صرف روح کے لئے استعمال ہوا ہے۔ چکھنا یہاں احساس کامل کی طرف اشارہ کر رہا ہے کیونکہ بعض اوقات انسان کوئی غذا آنکھ سے دیکھتا ہے یا ہاتھ سے چھوتا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی مکمل احساس پیدا نہیں کرتا لیکن چکھنے سے مکمل احساس پیدا نہیں کرتا لیکن چھکنے سے مکمل احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ گویا کارگہِ خلقت میں بالآخر موت ہی ہر موجود زندہ کے لئے ایک طرح کی غذا ہے۔ وانما توفون اجورکم یوم القیامة پھر فرمایا کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد جزا و سزا کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں عمل ہے جزا کے بغیر اور وہاں جزا ہے عمل کے بغیر۔ ”توفون“ کا معنی ہے ”مکمل وصولی“ یہ لفظ نشاندہی کرتا ہے کہ روز قیامت انسان کو پورے طور پر جزا دی جائے گی۔ اس بنا پر اس میں کوئی مانع نہیں کہ عالم برزخ میں بھی انسان اپنے اعمال کے کچھ نتائج اور جزا کا سامنا کرے گا کیونکہ برزخ کی جزا و سزا مکمل نہیں ہے۔ فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز۔ ”زحزح“ کا اصلی معنی ہے ”انسان کا اپنے تئیں کسی چیز کی قوت کشش سے آہستہ آہستہ نکالنا“ اور ”فاز“ کا اصلی معنی ہے ”ہلاکت سے نجات اورمحبوب تک رسائی“۔ زیر نظر جملے میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ آتش جہنم کے دائرہٴ کشش سے دور ہوں گے اور بہشت میں داخل ہوں گے وہ نجات یافتہ ہوں گے اور اپنے محبوب مطلوب کو پا لیں گے۔ گویا دوزخ اپنی قوت سے انسانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے سچ تو یہ ہے کہ جو عوامل انسان کو دوزخ کی طرف کھینچتے ہیں ان میں عجیب غریب قوت جذب موجود ہوتی ہے۔ کیا تیز رو ہوس رانیاں، غیر مشروع جنسی لذتیں، منصب اور ناجائز دولت و ثروت انسان کے لئے قوت جاذبہ نہیں رکھتیں؟ اس تعبیر سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوشش نہ کریں اور ان پُر فریب عوامل قوت جاذبہ سے دور نہ ہوں تو آہستہ آہستہ اس کی طرف کھینچے جائیں گے۔ لیکن جو لوگ تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے اوپر تدریجاً کنٹرول پالتے ہیں اور نفس مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ حقیقی نجات یافتہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور امن و اطمینان کا لطف اٹھاتے ہیں۔ و ما الحیوة الدنیا الا متاع الغرور یہ جملہ گذشتہ بحث کی تکمیل کرتا ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ حیات دنیا تو فقط غرور آمیز متاع ہے۔ یہ زندگی اور اس سرگرم عوامل دور سے بہت پُرفریب ہیں لیکن جب انسان اسے پا لیتا ہے اور اسے قریب سے چھو لیتا ہے تو عملی طور پر اسے اندر سے خالی چیز نظر آتی ہے اور متاع غرور کا بھی بس یہی مفہوم ہے۔ علاوہ ازیں مادی لذتیں دور سے تو خالص دکھائی دیتی ہیں لیکن جب انسان ان کے قریب جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ طرح طرح کے رنج و الم سے آلودہ ہیں۔ یہ بھی مادی دنیا کے فریبوں میں سے ایک فریب ہے۔ اسی طرح عموماً انسان کی فنا پذیری کی طرف بھی توجہ نہیں کرتا لیکن بہت جلد اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کس قدر جلدی زائل اور فنا ہونے والی ہیں۔ یہ تعبیرات قرآن و احادیث میں بارہا آئی ہیں اور ان سب کا ہدف ایک ہی ہے کہ انسان مادہ اور اس کی لذات کو اپنا آخری ہدف و مقصد کیونکہ اس کے نتیجے میں تو انسان طرح طرح کے جرائم اور گناہوں میں غرق ہو جاتا ہے اور انسانی تکامل و ارتقاء کی حقیقت سے دور ہو جاتا ہے لیکن مادی دنیا اور اس کی نعمات سے اس حوالے سے استفادہ کرنا کہ یہ تکمیل بشریت کا ذریعہ ہیں نہ صرف مذموم و قبیح نہیں بلکہ لازم اور ضروری ہے۔

186
3:186
۞لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
یہ طے شدہ ہے کہ تمہارے اموال اور تمہاری جانوں کے ذریعے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور جن لوگوں (یعنی یہودیوں ) کو تم سے پہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے اور (اسی طرح) جنہوں نے شرک کی راہ اختیار کر رکھی ہے ان سے تم بہت سی تکلیف دہ اور آزار رساں باتیں سنو گے اور اگر تم نے صبر و استقامت اور تقویٰ اختیار کیا کہ جو تمہارے لیے زیادہ مناسب ہے تو پھر یہ امر محکم اور قابل اطمینان امور میں سے ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

جب مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اپنے گھر اور کاروبار سے دور ہو گئے تو مشرکین نے ان کے اموال کی طرف دست تجاوز کیا اور انہیں اپنے زیر تصرف لے آئے اور جو شخص بھی ان کے ہاتھ لگا اسے زبانی اور جسمانی اذیت پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ دوسری طرف جب مدینہ آئے تو وہاں پر انہیں یہودیوں کی بدگوئی اور آزار رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ان میں سے ایک بدزبان اور کینہ پرور شاعر تھا۔ اس کا نام کعب بن اشرف تھا۔ وہ مسلسل پیغمبر اکرمؐ اور مسلمانوں کی ہجو کہتا تھا اور مشرکین کو ان کے خلاف ابھارتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کے بارے میں غزل سرائی اور عشق بازی سے نہیں چوکتا تھا۔ اس کی بےحیائی اور گستاخی آخر اس حد تک پہنچ گئی کہ پیغمبر اکرمؐ نے مجبوراً اس کے قتل کا حکم صادر کر دیا اور وہ مسلمانوں کے ہاتھ فی النار والسقر ہو گیا۔ مفسرین کی نقل کردہ روایات کے مطابق مندرجہ بالا آیت انہی موضوعات کی طرف اشارہ کرتی ہے اور مسلمانوں کے مقابلہ جاری رکھنے کے لیے شوق دلاتی ہے۔

تفسیر مقابلے اور پامردی سے تھک نہ جاوٴ

لَتُبْلَوُنَّ فی اَمْوالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ۔۔۔ جان و مال کے ذریعہ تمہارا امتحان لیا جائے گا اور اصولی طور پر یہ دنیا تو میدان آزمائش ہی ہے اور اپنے آپ کو سخت اور ناگوار حوادث و مشکلات کے مقابلے میں آمادہ رکھے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ درحقیقت یہ سب مسلمانوں کے لئے تنبیہ ہے اور آمادہ رہنے کے لئے تلقین ہے تاکہ وہ یہ گمان نہ کر لیں کہ سخت حوادث ان کی زندگی سے ختم ہو چکے ہیں اور یا کعب بن اشرف جسے بدگو، بدزبان اورفتنہ پرور شاعر کے خاتمے سے دشمن کی طرف سے کوئی اذیت یا زیان کا زخم نہیں پہنچے گا۔ اسی لئے فرمایا: وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذینَ اُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذینَ اَشْرَکُوا اَذیً کَثیراً۔۔۔ یعنی یہ بات طے شدہ ہے کہ تم آئندہ بھی اہل کتاب (یہودی و نصاریٰ)ا اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ دشمن سے ناروا باتیں سننا ان آزمائش کا حصہ ہے جن کا ذکر آیت کا ابتدائی حصے میں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہاں اس کا ذکر خصوصیت سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ یہ ہے کہ بات خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ زبان کے چر کے حساس اور شریف انسانوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ تلوار کے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم مندمل نہیں ہوتے۔ وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُورِ۔ یہاں شدید اور المناک حواث کے موقع پر مسلمانوں کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر استقامت اور پامردی سے کام لو، صابر و بردبار رہو اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو تو یہ ایسے کام ہیں جن کا نتیجہ واضح ہے۔ لہٰذا ہر عقلمند آدمی کو ایسا کرنے کا مصمم ارادہ کر لینا چاہیے۔ لغت میں ”عزم“ کا معنی ہے ”پختہ ارادہ“ یعنی اوقات ہر محکم و مضبوط چیز کو عزم کہا جاتا ہے اس لیے عزم الامور کا معنی ہے شائستہ اور امناسب کام، جن کی انجام دہی کے لئے انسان کو مصمم ارادہ کر لینا چاہیے یا ہھر اس کا مطلب یہ ہے ہر قسم کے محکم اور قابل اطمینان کام۔ صبر اور تقویٰ کا آیت میں ایک ساتھ ذکر آیا ہے۔ یہ گویا اس طرف اشارہ ہے کہ بعض افراد استقامت و پامردی کے باوجود ناشکری کا اظہار کرتے ہیں اور زبان شکایت کھلے رکھتے ہیں لیکن حقیقی مومن وہ ہیں جو صبر استقامت کے ساتھ تقویٰ و پرہیزگاری کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور ناشکری اور شکوہ و شکایت سے دور رہتے ہیں۔

187
3:187
وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ
اور وہ وقت(یاد کرو) جب خدا نے اہل کتاب سے میثاق لیا کہ اسے لوگوں کے سامنے لازمی طور پر آشکار کریں اور چھپائیں نہیں لیکن انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت پر فروخت کر دیا انہوں نے کیسی بری متاع خریدی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

وَ إِذْ اَخَذَ اللَّہُ میثاقَ الَّذینَ اُوتُوا الْکِتابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَ لا تَکْتُمُونَہُ۔۔۔ اہل کتاب کی چند غلط کاریوں کے تذکرے کے بعد اس آیت میں ان کے ایک اور برے کام کی نشاندہی کی گئی ہے اور وہ ہے حقائق کو چھپانا۔ فرمایا گیا ہے: وہ وقت نہ بھول جاوٴ جب خدا نے اہل کتاب سے پیمان لیا کہ وہ آیات الہی کو لوگوں کے سامنے آشکار کریں اور انہیں ہرگز نہ چھپائیں۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ لفظ ”لتبینہ“ میں اگرچہ لام قسم اور نون تاکید ثقیلہ موجود ہے جس سے انتہائی تاکید ظاہر ہوتی ہے۔ پھر ”ولا تکتمونہ “ کہہ کر مزید تاکید کی گئی ہے جس میں نہ چھپانے کا حکم ہے۔ ان تمام تعبیرات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خداوند تعالی نے گذشتہ انبیاء کے ذریعے ان سے اس بات پر نہایت تاکیدی عہد لیا ہے کہ وہ حقائق کو بیان کریں گے لیکن ان تمام امور کے باوجود انہوں نے خدا سے باندھے گئے محکم پیمان میں خیانت کی اور آسمانی کتب کے حقائق کو چھپایا۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے: فنبذوہ وراء ظھورھم۔یعنی انہوں نے کتاب خدا کو پس پشت ڈال دیا۔ یہ جملہ عمل نہ کرنے اور اسے فراموش کر دینے کے بارے میں عمدہ کنایا ہے کیونکہ جس پروگرام پر انسان کے عمل کا دارو مدار ہوتا ہے اسے وہ اپنے سامنے رکھتا ہے اور اسے دیکھتا رہتا ہے لیکن اگر وہ اس پر عمل نہ کرنا چاہے اور اسے فراموش کر دینا چاہے تو سامنے سے اٹھا کر اسے پس پشت ڈال دیتا ہے ۔ وَ اشْتَرَوْا بِہِ ثَمَناً قَلیلاً فَبِئْسَ ما یَشْتَرُونَ۔ یہ جملہ ان کی شدید دنیا پرستی اور فکری انحطاط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: اس کام کے بدلے انہوں نے حقیر سی قیمت حا صل کی اور یہ پونجی کیسی بری ہے جو انہوں نے حاصل کی ہے۔ اگر انہوں نے اخفائے حق کے اس جرم کے بدلے بہت بڑی قیمت حاصل کی ہوتی تو کہا جاتا کہ کثرت مال و ثروت نے ان کی آنکھ کو اندھا اور کان کو بہرہ کر دیا۔ لیکن تعجب تو اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ متاع قلیل کے بدلے بیچ دیا (البتہ اس جملے سے پست ہمت علماء کا کام مراد ہے)۔

علماء کی عظیم ذمہ داری

مندرجہ بالا آیت اگرچہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے علماء کے بارے میں ہے لیکن حقیقت میں تمام مذہبی علماء کو اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ فرامین الہی اور معارف دینی واضح کرنے کی کوشش کریں اور خداوند تعالی نے ان سب سے اس سلسلے میں تاکیدی عہد و پیمان لیا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں لفظ تبین آیا ہے۔ اس کے مادے کی طرف توجہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں مقصود صرف آیات خدا کی تلاوت اور کتب آسمانی کی نشر و اشاعت نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان کے حقائق کو واضح و آشکار کر کے لوگوں تک پہنچا جائے تاکہ ہر طرح کے لوگ پوری وضاحت سے ان سے آگاہ ہو سکیں اور ان کی روح اور حقیقت تک پہنچ جائیں اور جو تبین، توضیح اور تفسیر نہ کریں گے اور مسلمانوں تک حقائق کی روشنی میں کوتاہی کریں گے وہ اسی انجام کے مستحق ہوں گے، جس کا ذکر زیر نظر آیت میں اور دیگر آیات میں یہودی علماء کے لیئے بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے پیغمبر گرامیؐ سے منقول ہے، آپؐ نے فرمایا: من کتم علما عن اھلہ الجم یوم القیٰمة بلجام من نار جو شخص علم و دانش کو اس کے اہل (اور ضرورت مند) سے چھپائے گا، قیامت کے دن خدا ان کے منہ میں (جہنم کی) آگ کی لگام دے گا۔ حسن بن عمار راوی ہے: ایک دن زہری کے پاس گیا جبکہ اس نے لوگوں کو احادیث پہنچانے کا سلسلہ ترک کر رکھا تھا۔ میں نے اس سے کہا: جو احادیث تم نے سن رکھی ہیں وہ مجھ سے بیان کرو۔ وہ بولا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اب میں کسی سے حدیث نقل نہیں کرتا۔ میں نے کہا: بہرحال تم مجھ سے حدیث بیان کرو یا پھر میں تمہیں حدیث سناوٴں کا۔ اس نے کہا: تم حدیث بیان کرو۔ اس پر میں نے حضرت علی (علیه السلام) کا یہ قول بیان کیا: ما اخذ اللہ علیٰ اھل الجھل ان یتعلموا حتی اخذ علیٰ اھل العلم ان یعلموا۔ (یعنی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جہالت سے علم و دانش کے حصول کا عہد لینے سے پہلے علماء سے عہد لیا کہ وہ انہیں علم سکھائیں۔ جب میں نے یہ ہلا دینے والی حدیث اس کے سامنے پڑھی تو اس نے اپنی مہر سکوت توڑتے ہوئے کہا: سنو اب میں تمہارے سامنے بیان کروں گا۔ پھر اس نے اس نشست میں چالیس احادیث مجھ سے بیان کیں۔ (بحوالہ: تفسیر الوالفتوع رازی و تفسیر مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں حضرت علیؑ سے مروی حدیث کا متن نہج البلاغہ کے کلماتِ قصار میں موجود ہے)۔ علماء اہل کتاب کی خیانت کے بارے میں مزید تفصلیات جاننے کے لئے سورہ بقرہ آیات ۷٩، ۷۴أ۔۔۔۔ اور سورہ آلِ عمران کی آیات ۷۱تا ۷۷ کی طرف رجوع فرمائیں۔

188
3:188
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحۡمَدُواْ بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُواْ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٖ مِّنَ ٱلۡعَذَابِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
یہ گمان نہ کیجئے کہ جو لوگ اپنے(برے) اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور (دوسری طرف) یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایسے (نیک) کام کے ضمن میں ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے سر انجام نہیں دیا وہ عذاب الٰہی سے امان میں ہیں (ایسا نہیں ہے بلکہ) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 189 کے تحت ملاحظہ کریں۔

189
3:189
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
او ر آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ کے لئے ہے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

محدثین و مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کے بارے میں کئی ایک شان نزول نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: جب بعض یہودی اپنی آسمانی کتب کی تحریف اور ان میں موجود چیزوں کو چھپانے میں لگے ہوئے تھے اور اپنے گمان میں اس سے کوئی نتیجہ حاصل کر رہے تھے تو وہ اپنے اس عمل پر بہت ہی شاد و مسرور تھے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ لوگ انہیں حامیٴ دین، عالم اور ذمہ دار افراد سمجھیں۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب بھی کوئی اسلامی جنگ درپیش ہوتی وہ طرح طرح کے بہانے کر کے جنگ میں شرکت نہ کرتے اور جب مجاہدین اسلام میدان جنگ میں سے واپس آتے تو یہ قسمیں کھاتے کہ اگر انہیں مجبوری نہ ہوتی تو وہ ہرگز جہاد ترک نہ کرتے اور وہ توقع رکھتے تھے کہ اپنے ”ان کے کاموں“ پر مجاہدین اور فداکاروں کی طرح تحسین و آفرین حاصل کریں، اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ (بحوالہ: اسباب النزول ازواقدی، تفسیر المنار اور تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں)

تفسیر خود پسندی

لا تَحْسَبَنَّ الَّذینَ یَفْرَحُونَ بِما اَتَوْا وَ یُحِبُّونَ اَنْ یُحْمَدُوا بِما لَمْ یَفْعَلُوا۔۔۔ برُے کام کرنے والے لوگ دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو حقیقتاً اپنے اعمال پر شرمندہ ہیں اپنی سرشت و جبلت کی سرکشی کی وجہ سے برائیوں اور گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نجات بہت ہی آسان ہے کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ گناہ کے بعد پشیمان ہوتے ہیں اور ان کا بیدار وجدان انہیں سرزنش کرتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو نہ صرف یہ کہ احساس ندامت نہیں کرتے بلکہ وہ مغرور اور خود پسند ہوتے ہیں اور اپنے قبیح اور سنگین گناہوں پر خوش ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان پر فخر و مباحات کرتے ہیں اور پھر اس سے بھی آگے وہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تعریف ایسے نیک کاموں کے ضمن میں کریں جو انہوں نے انجام بھی نہیں دئیے۔ مندرجہ بالا آیت کہتی ہے: یہ گمان نہ کرو کہ ایسے لوگ جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ انہوں نے جو کام نہیں کئے ان (کاموں) کی وجہ سے ان کی عزت کی جائے اور شان و شوکت بیان کی جائے کہ وہ عذاب خدا سے دور ہیں اور نجات پا لیں گے حالانکہ نجات تو ان اشخاص کے لئے ہے جو کم از کم اپنے برُے کاموں پر شرمندہ ہیں اور یہ سوچ کر وہ نیک کام نہیں کر سکتے، پشیمان ہیں۔ و لھم عذاب الیم۔ نہ صرف اس قسم کے خودپسند اور مغرور افراد نجات کے حقدار نہیں ہیں بلکہ دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھی جائے کہ یہ ان نیک کاموں پر اظہار مسرت کے بارے میں ہے جن کے انجام دینے کی ہمیں توفیق دی گئی ہے۔ اگر یہ خوش اعتدال کی حالت میں ہو اور غرور کا سبب نہ بنے تو یہ قابل ندمت نہیں ہے۔ اسی طرح ان نیک کاموں کے سلسلے میں جو انجام پا چکے ہیں اظہار مسرت کرنا اگر وہ بھی اعتدال کی حد میں ہو اور اس کا سبب اس کے اپنے اعمال نہ ہوں تو یہ بھی مذموم نہیں ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے لیکن اس کے باوجود خدا کے دوست یعنی وہ افراد جو ایمان کی بلند سطح پر فائز ہیں اور اس قسم کی مسرت و شادمانی سے دور رہتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے اعمال کو کمتر سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو عظمت پروردگار کے سامنے ھیچ محسوس کرتے ہیں۔ ضمناً یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا آیت صرف ان منافقوں کے ساتھ ہی مخصوس ہے جو صدر اسلام میں تھے یا اسی قسم کے اور لوگ بلکہ وہ تمام افراد جو ہمارے زمانے میں مختلف اجتماعی حالات و کیفیات میں رہتے ہیں اور اپنے برے اعمال پر خوش ہیں یا جو لوگوں کو ابھارتے ہیں کہ وہ قلم اور زبان سے ان کے اعمال کی تعریف کریں وہ سب کے سب اس آیت کے مفہوم ومطلب میں شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ صرف آخرت عذاب منتظر ہے بلکہ وہ دنیاوی زندگی میں بھی لوگوں کے غیظ غضب کی وجہ سے مخلوق خدا سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور طرح طرح کی مشکلات کا نشانہ ہیں۔ و ملک السمٰوٰت و الارض و اللہ علیٰ کل شیء قدیر۔ خدا آسمان و زمین کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ آیت مومنین کے لئے خوشخبری اور کافروں کے لئے دھمکی ہے۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ مومن ترقی کے لئے ٹیڑھے راستوں پر چلیں اور جو کام انہوں نے نہیں کیا اس کی تعریف چاہیں۔ ہاں وہ یہ کر سکتے ہیں کہ آسمان و زمین کے مالک خدا کی قدرت کے سائے میں رہتے ہوئے جائز اور صحیح طریقوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں نیز بدکار اور منافق لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ ٹیڑھے راستوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی حیثیت اور مقام حاصل کر لیں تو وہ یہ تصور نہ کریں۔ کیونکہ وہ اس خدا کے عذاب سے جس کی تمام موجودات پر حکومت ہے نجات حاصل نہ کر سکیں گے۔

190
3:190
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
بے شک زمین و آسمان کی تخلیق اور رات دن کے آنے جانے میں صاحبان عقل کے لئے (روشن) نشانیاں ہیں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 194 کے تحت ملاحظہ کریں۔

191
3:191
ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ
وہ لوگ خدا کو اٹھتے بیٹھتے اور اس وقت جبکہ وہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے اسرار میں غور و فکر کرتے ہیں اور (کہتے ہیں ) اے خدا ! تو نے ہمیں فضول پیدا نہیں کیا تو پاک ہے ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 194 کے تحت ملاحظہ کریں۔

192
3:192
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ
پالنے والے جس کو تونے (اس کے اعمال کی وجہ سے) آگ میں ڈال دیا اسے تو نے ذلیل و خوار کیا اس قسم کے ظالم لوگوں کا کوئی مددگار نہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 194 کے تحت ملاحظہ کریں۔

193
3:193
رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ
اے پروردگار ! ہم نے توحید کے منادی کی آواز سنی ہے جو پکار رہا تھا کہ اپنے پالنے والے پر ایمان لاؤ اور ہم ایمان لے آئے (اب جبکہ ایسا ہے) اے خدا ! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ(ان کے راستے پر) موت دینا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 194 کے تحت ملاحظہ کریں۔

194
3:194
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ
اے خالق ! جس چیز کا تو نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں مرحمت فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا کیونکہ تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

دل ہلا دینے والی آیات

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یوں تو قرآن مجید کی سب کی سب آیتیں اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ وہ سب خدا کا کلام ہیں اور نوع بشر کی تعلیم تربیت کے لئے نازل ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سے بعض خاص قسم کی چمک و دمک رکھتی ہیں۔ ان میں سے مندرجہ بالا پانچ آیات قرآن کی دل ہلا دینے والی عبارتوں میں سے ہیں۔ یہ معارف دینی کا ایک ایسا نادر مجموعہ ہیں جن میں لطیف مناجات اور تفرع و زاری کی آمیزش ہے اور وہ ایک آسمانی سرود معلوم ہوتی ہیں۔ اسی لئے تو احادیث اور روایات میں انہیں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ عطا بن ابی رباح کہتا ہے کہ میں ایک دن حضرت عائشہ کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا کہ سب سے زیادہ عجیب چیز جو آپ نے پیغمبر اسلامؐ سے دیکھی ہے وہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگیں: پیغمبرؐ کا سب کچھ تعجب خیز تھا لیکن عجیب تر یہ تھا کہ ایک رات آنحضرتؐ میرے حجرے میں استراحت کرنے لگے، ابھی آرام نہیں کیا تھا کہ کھڑے ہو گئے۔ لباس پہنا، وضو کیا اور نماز شروع کر دی۔ حالت نماز میں اور مخصوص جذبہ الہی میں اس قدر آنسوں بہائے کہ آپؐ کے لباس کا اکلا حصہ آپؐ کے اشکوں سے تر ہو گیا۔ اس کے بعد آپؐ نے سر سجدہ میں رکھا اور اتنا گریہ کیا کہ زمین آپؐ کے آنسووٴں سے تر ہو گئی۔ آپؐ طلوع صبح تک اسی طرح گریاں و منقلب رہے۔ جب بلال نے آپؐ کو نماز صبح کے لئے پکارا تو آپؐ کو اشکوں سے تر بتر دیکھا تو پوچھا کہ آپؐ اس قدر گریہ کیوں فرما رہے ہیں، آپؐ کے تو لطف الہی شامل حال ہے۔ آپِؐ نے فرمایا: افلا اکون للہ عبدا شکورا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں، میں کیوں گریہ نہ کروں خداوند تعالی نے کل رات مجھ پر ہلا دینے والی اور پریشان کر دینے والی آیات نازل کی ہیں۔ پھر آپؐ نے یہ پانچ آیات (جو زیر نظر ہیں) کی تلاوت شروع کی اور آخر میں فرمایا: ویل لمن قراٴھا ولم یتفکر فیھا وائے ہو اس پر انہیں پڑھے لیکن ان میں غور و فکر نہ کرے۔ (بحوالہ: تفسیر ابو الفتح رازی زیر نظر آیات کے ذیل ہی)۔ روایت کا آخری جملہ آیات میں گہرے غور و فکر کا حکم دیتا ہے۔ ایسے جملے بہت سی روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہیں۔ ایک روایت میں حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے کہ پیغمبر خداؐ جب بھی نماز تہجد کے لئے اٹھتے پہلے مسواک کرتے پھر آسمان کی طرف دیکھتے اور یہ آیت پڑھتے۔ (بحوالہ نور الثقلین و مجمع البیان) روایات اہل بیتؑ میں حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص بھی نماز تہجد کے لئے اٹھے ان آیات کی تلاوت کرے (بحوالہ نور الثقلین و مجمع البیان) نوف بکالی حضرت علی (علیه السلام) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ایک شب میں آپ (علیه السلام) کی خدمت میں تھا۔ ابھی مجھے نیند نہ آئی تھی میں نے دیکھا کہ امام (علیه السلام) اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور آپ (علیه السلام) نے ان آیات کی تلاوت شروع کر دی ہے۔ پھر مجھے پکارا اور فرمایا: اے نوف! سو رہے ہو یا جاگتے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں بیدار ہوں اور اس وسیع و عریض آسمان کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: کیا کہنا ان لوگوں کا جنہوں نے اس زمین کی آلودگیوں کو قبول نہیں کیا اور اس طرح سے آسمان کی طرف گئے ہیں (یعنی۔ جنہوں نے عالم مادہ کی چار دیواری سے پرواز کی ہے اور ان کی بلند روح ملکوت آسمانی کی سیر کرتی ہے)

تفسیر خدا شناسی کا روشن ترین راستہ

إِنَّ فی خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْاَرْضِ۔۔۔ قرآنی آیات صرف پڑھنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے سمجھنے اور ادراک کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ ان کی تلاوت تو انہیں سمجھنے کی تمہید ہے۔ اس لئے تو مندرجہ بالا آیت میں آسمان و زمین کی عظمت کا تذکرہ ہے اور فرمایا گیا ہے: آسمان و زمین کی خلقت اور روز و شب کی آمد و رفت میں صاحبان عقل و خرد اور اہل نظر کے لئے واضح نشانیاں ہیں۔ (تشریحی نوٹ: قرآن میں ”اولو الالباب“ زیر نظر آیت کے علاوہ بعض دیگر آیات میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ صاحبان عقل کے لئے لطیف اشارہ ہے کیونکہ لب “دراصل ہر چیز کے خالص جوہر کو کہتے ہیں اور انسانی وجود کا جوہر عقل و فکر ہی ہے)۔ یہ کہہ کر لوگوں کو اس عظیم خلقت میں غور و فکر کے لئے ابھارا گیا ہے تاکہ ہر شخص اپنی استعداد اور پیمانہ ٴ فکر کے مطابق بےکنار سمندر سے اپنا حصہ لے اور اسرار آفرینش کے شفاف چشمے سے سیراب ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ جہان آفرینش کے بدیع نقوش، دلکش تصویریں اور اس پر حاکم خیرہ کرنے والا نظام ایک بڑی کتاب ہے جس کا حرف حرف اور لفظ لفظ اس عالم کے پیدا کرنے والے کے وجود اور اس کی یکتائی کی بہت ہی واضح دلیل ہے۔ (تشریحی نوٹ: اختلاف شب و روز اور اس کے اسرار کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیة ۱۶۴ تفسیر نمونہ جلد اول میں بحث کی جا چکی ہے۔ کائنات کی خلقت میں جو نظم و ضبط موجود ہے وہ خدا شناسی کی روشن ترین دلیل ہے۔ اس کی مزید توضیح کے لئے ان کتابوں کا مطالعہ کیجئے: آفرید گار جہان، معمای ہستی اور جستجوی خدا)۔ الَّذینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیاماً وَ قُعُوداً اس جہان کے گوشہ و کنار کی جو رعنائی اور دلکشی وسیع عالم ہستی میں دکھائی دیتی ہے وہ صاحبان عقل کے دلوں کو یوں جذب کرتی ہے کہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے، بستر پر محو آرام ہوں یا پہلو کے بل لیٹے ہوں اس نظام کے خالق اور اس کے اسرار کی یاد میں مگن ہوتے ہیں۔ لہذا مندرجہ بالا آیت میں ارشاد الہی ہے: عقلمند وہ ہیں جو قیام میں ہوں یا قعود میں یا پہلو کے بل محو استراحت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کے اسرار میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں یعنی ہمیشہ اور ہر حالت میں اس حیات بخش فکر میں غوطہ زن رہتے ہیں۔ اس آیت میں پہلے ذکر کا تذکرہ ہے اور پھر فکر کا یعنی صرف خدا کو یاد کرنا کافی نہیں۔ یہ تذکر اس وقت بہترین ثمر کا حامل ہو گا اگر اس کے ساتھ غور و فکر بھی شامل ہو۔ جیسے آسمان و زمین کی خلقت پر غور کرنے میں یاد خدا شامل نہ ہو تو یہ غور و فکر بھی کسی کام کا نہیں۔ ایسے کتنے ہی صاحبان علم و دانش ہیں جو فلکیات کا مطالعہ کرتے ہیں اور آسمانی کرات کی خلقت کے باہمی ربط میں عجیب و غریب نظم ضبط کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ یاد خدا سے غافل ہوتے ہیں اور توحید کی عینک ان کی آنکھوں پر نہیں ہے اور وہ عالم ہستی کو مبداء عالم کی شناسائی کے زاوئے سے نہیں دیکھتے لہذا وہ انسانی تربیت کا لازمی نتیجہ اس مشاہدہ سے اخذ نہیں کر پاتے ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایسی غذا کھاتا ہے جو صرف اس کے جسم کو تقویت بخشتی ہے اور اس کی فکر و نظر اور روح پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا خلقت انسان و زمین میں غورو فکر کرنے سے انسان کو ایک خاص آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اس تفکر کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ مخلوق بے کار، فضول اور مہمل نہیں ہے کیونکہ جب انسان اس جہان کی چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی ایک عظیم مقصد کا مشاہدہ کرتا ہے تو کیا پھر وہ یہ باور کر سکتا ہے کہ سارے کا سارا جہان بغیر کسی ہدف و مقصد کے ہو۔ انسان کو گھاس کے تنے کی مخصوص ساخت میں واضح اغراض و مقاصد دکھائی دیتے ہیں۔ انسان کا دل، دل کی گہرائیاں اور دریچے ہر کوئی ایک پروگرام کا حامل ہے۔ آنکھ کے طبقوں کی ساخت کسی مقصد کے بغیر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پلکوں اور ناخنوں تک ایک معین مقصد کے حامل ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ جس موجود کا ذرہ ذرہ مقصد و ہدف کا حامل ہو وہ خود مجموعی اعتبار سے بالکل بے مقصد ہو۔ اسی لئے تو صاحبان عقل اس زمزمہ پر سر دھنتے ہیں کہ اے خداوند عالم تو نے اس عظیم کار خانے کو فضول پیدا نہیں کیا، بار الہٰا! یہ اتنا بڑا جہان اور یہ عجیب و غریب نظام سب کا سب تیری وحدانیت کی نشانیاں ہیں اور تو عبث و فضول کام سے منزہ اور پاک ہے۔ فقنا عذاب النار عالمِ خلقت میں مقصد کے وجود کا اعتراف کرنے کے فوراً بعد صاحبان عقل و خرد اپنی خلقت کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان جو اس جہان ہستی کا ثمرہ ونتیجہ ہے عبث نہیں پیدا کیا گیا اور مقصد اس کی تربیت اور تکامل کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ اس جہان کی جلد گزر جانے کے بعد والی اور بےقیمت زندگی ہی کے لئے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے آگے ایک اور گھر ہے جہاں اس کے اعمال کی جزا و سزا ہو گی۔ جب اہل عقل یہ سوچتے ہیں تو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا سے ان کی انجام دہی کی توفیق کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ وہ عذاب الہی سے مامون ہو جائیں۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں: خداوندا ! ہمیں آتش جہنم سے بچا لے۔ رَبَّنا إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہُ وَ ما لِلظَّالِمینَ مِنْ اَنْصارٍ۔ بار الٰہا! جسے تو (اس کے اعمال کے نتیجے میں) دوزخ میں ڈال دے اسے تو نے رسوا و ذلیل کر دیا اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہو گا۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبان عقل جہنم کی آگ کی نسبت رسوائی سے زیادہ ڈرتے ہیں اور وحشت زدہ ہیں۔ بڑے انسان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ رنج و غم اور دکھ درد تو برداشت کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لیکن اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کی نظر میں روز قیامت درد ناک ترین عذاب خدا اور بندوں کے سامنے رسوا اور ذلیل ہونا ہے۔ ”وَ ما لِلظَّالِمینَ مِنْ اَنْصارٍ“ میں جو نکتہ پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ صاحبان بصیرت غرض آفرینش سے آگاہی کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ صرف اس کے اعمال و کردار ہیں۔ اس لئے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا کیونکہ اصلی مدد گار تو نیک عمل ہے جسے وہ گنوا بیٹھے ہیں۔ لفظ ”ظلم“ یہاں پر اس لئے ہے کہ ظلم گناہوں میں زیادہ اہم گناہ ہے اور یا اس لئے ہے کہ تمام گناہوں کا مطلب اپنے اوپر ظلم کرنا ہی ہے۔ البتہ آیت شفاعت (حقیقی مفہوم میں) کے منافی نہیں ہے کیونکہ۔جیسا کہ ہم شفاعت کے ضمن میں کی گئی بحث میں کہہ چکے ہیں کہ شفاعت مخصوص آمادگی کی محتاج ہے اور آمادگی کچھ نیک اعمال کے ذریعے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِیاً یُنادی لِلْإیمانِ اَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا صاحبان عقل و خرد مقصد تخلیق جان لینے کے بعد اس نکتے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ نشیب فراز کے اس راستے کو خدائی رہنماوٴں کی رہبری کے بغیر ہرگز طے نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لئے وہ ہر وقت ایمان اور صداقت کے منادیوں کی ندا سننے کے منتظر رہتے ہیں۔ جب ان کی پہلی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہے تو وہ ان کی طر ف لپکتے ہیں، ضروری غور و فکر اور جستجوکے بعد ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے پورے وجود کے ساتھ ایمان لے آتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے پروردگار کے سامنے عرض کرتے ہیں: بار الہا ! ہم نے توحید کے منادی کی آواز سنی جو ہمیں ایمان کی طرف دعوت دے رہا تھا اس کے بعد ہم ایمان لے آئے۔ رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَ کَفِّرْ عَنَّا سَیِّئاتِنا وَ تَوَفَّنا مَعَ الْاَبْرارِ۔ بار الہا! جب معاملہ اس طرح سے ہے اور ہم مکمل طور پر ایمان لے آئے ہیں لیکن ہم غرائز انسانی اور خواہشات نفسانی کے شدید طوفانوں اور آندھیوں کی زد میں ہیں اس لئے ہم سے لغزشیں سر زد ہو جاتی ہیں اور ہم مختلف گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ اس لئے ہمیں بخشش دے، ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کر دے۔ ہمیں نیک اور صالح لوگوں کے راستے پر مرنے کی سعادت عطا فرما۔ اہل عقل انسانی معاشرے سے وابستہ ہیں مگر فرد پرستی سے بیزار ہیں۔ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ نہ صرف ان کی زندگی نیک لوگوں کے ساتھ ہو بلکہ ان کی موت بھی، چاہے وہ طبیعی موت ہو یا راہ خدا میں شہادت نیک لوگوں کے ساتھ ہو اور انہی کے طور طریقہ کے مطابق ہو۔ کیونکہ برُوں کے ساتھ مرنا بھی دوبھر ہے۔ یہاں سوال پیش آتا ہے کہ گناہوں سے بخشش کے تقاضے کے ساتھ برائیوں پر پردہ پوشی اور ان کی بخشش کے کیا معنی ہیں۔ قرآن حکیم کی دیگر آیات کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ سورہ نسا ء کی آیت ۳۱ یوں ہے: ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفّر عنکم سیئاتکم اگر گناہان کبیرہ سے اجتناب کرو تو ہم تمہاری برائیوں کی پردہ پوشی کریں گے اور انہیں محو کر دیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیئات گناہان کبیرہ کو کہا جاتا ہے۔ اس لئے اہل عقل پہلے تو اللہ سے سے بڑے گناہوں کی مغفرت کا تقاضا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی گناہان صغیرہ کے خاتمے کی دعا کرتے ہیں۔ رَبَّنا وَ آتِنا ما وَعَدْتَنا عَلی رُسُلِکَ ۔۔۔ وہ لوگ آخری مرحلے میں راہ توحید طے کرنے، روز قیامت پر ایمان لانے، پیغمبروں کی دعوت قبول کرنے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے بعد خدا سے تقاضا کرتے ہوئے کہتے ہیں: اب جب ہم اپنا عہد و پیمان پورا کر چکے ہیں، بار الہا! تو نے اپنے پیغمبروں کی معرفت ہم سے جو وعدہ فرمایا ہے اور خوش خبری دی ہے اس کو پورا فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا کیونکہ تو جس چیز کا وعدہ کرتا ہے اس میں وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی۔ رسوا نہ ہونے کی خواہش پھر سے اظہار اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ وہ لوگ اپنی شخصیت کی اہمیت کے قائل ہیں اس لئے وہ رسوائی کو درد ناک ترین سزاوٴں میں سے سمجھتے ہیں لہذا وہ پھر اسی پر انگشت رکھتے ہیں۔ امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: جس شخص کو کوئی مہم درپیش ہوا ہو اور وہ پانچ مرتبہ ”ربنا “ کہے تو خدا اسے اس چیز سے رہائی بخشے گا جس سے وہ خوف زدہ ہے اور وہ جو جس چیز کی امید رکھتا ہے اسے پا لے گا۔ کسی نے عرض کیا: وہ پانچ مرتبہ کس طرح ”ربنا “ کہے ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ان آیات کو پڑھے جن میں پانچ مرتبہ ”ربنا “ آتا ہے، تو فوراً ہی پروردگا کی طرف سے دعا قبول کر لی جاتی ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے: فاستجاب لھم ربھم۔ کچھ کہے بغیر واضح ہے کہ ان آیات کی حقیقی اور گہری تاثیر اسی صورت میں ہے جب انسان کی زبان اس کے دل اور عمل سے ہم آہنگ ہو۔ اہل خرد کی طرز فکر، خدا سے ان کا عشق، ذمہ داریوں کی طرف ان کی توجہ اور نیک اعمال کی انجام دہی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ دعا کرنے والوں کو یہی راہ اپنانا چاہیے اور وہی خشوع وخضوع پیدا کرنا چاہیے جو اہل عقل خدا سے مناجات کرتے وقت پیدا کرتے ہیں۔

195
3:195
فَٱسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ أَنِّي لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٖ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰۖ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ثَوَابٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلثَّوَابِ
خدا نے ان (صاحبان عقل) کی درخواست قبول کر لی ہے اور فرمایا ہے کہ میں تم میں سے عمل کرنے والے کے عمل کو چاہے وہ عورت ہو یا مرد ضائع نہیں کروں گا تم سب ایک ہی نوع میں سے ہو اور ایک دوسرے کی جنس ہو جنہوں نے راہ خدا میں ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور انہوں نے میری راہ میں تکلیف اور اذیت کا سامنا کیا ہے اور جنگ کی ہے اور مارے گئے ہیں میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ میں ان کے گناہ بخش دوں گا اور انہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ خدا کی طرف سے ثواب ہے اور خدا کے ہاں ہی بہترین ثواب ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ آیت گذشتہ آیت کا ضمیمہ ہے۔ اس میں صاحبان عقل و خرد کے اعمال کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ آیت کے شروع میں فاء تفریع اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ گذشتہ آیات سے مربوط ہے۔ اس کے باوجود اس کے بارے میں کئی ایک شان نزول مروی ہیں۔ لیکن یہ بات اس کے گذشتہ آیات سے مربوط ہونے کے منافی نہیں ہے۔ ایک شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہؐ کی ایک زوجہٴ محترمہ جناب ام سلمہ نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ قرآن میں مردوں کے جہاد، ہجرت اور فدا کاری کی بہت گفتگو ہے، کیا عورتوں کا بھی اس میں کوئی حصہ ہے۔ زیر نظر آیت اسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہ بنت اسد، فاطمہؑ بنت رسول اللہؐ اور فاطمہ بنت زبیر (جنہیں فواطم کہا جاتا ہے) کے ہمراہ ہجرت کی اور امّ ایمن جو ایک صاحب ایمان خاتون تھیں راستے میں آپ (علیه السلام) سے آ ملیں تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ شانہائے نزول اس بات کے منافی نہیں کہ زیر نظر آیت گذشتہ آیات سے مربوط ہے جیسے دونوں شانہائے نزول بھی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔

تفسیر اہل خرد کے اعمال کا نتیجہ

گذشتہ آیات میں اہل خرد کے ایمان، اعمال، دعاوٴں اور تفرع زاری کا ذکر تھا۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے: فاستجاب لھم ربھم۔ یعنی ان کے پروردگار نے ان درخواستوں کو فورا قبول کر لیا۔ ربھم (ان کا پروردگار)۔ یہ تعبیر ان کے پروردگار کے انتہائی لطف و کرم کی حکایت کرتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: ”اَنِّی لا اُضیعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْکُمْ“ اس بناء پر کہ کہیں اشتباہ نہ ہو اور نجات و کامرانی کو انسان کے اعمال و کردار سے الگ نہ سمجھ لیا جائے فرمایا گیا: تم میں سے عمل کرنے والے کے کسی عمل کو میں ہرگز ضایع نہیں کروں گا۔ اس میں عمل کا ذکر بھی ہے اور عامل کا بھی تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ قبولیت دعا کا محور اصلی وہ اعمال صالح ہیں جو ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسی درخواستیں فوراً قبول ہو جاتی ہیں جن کی ڈھال عمل صالح ہو۔ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثی بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ اس بناء پر کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ خدا کا یہ وعدہ کسی خاص گروہ سے مخصوص ہے، فرمایا گیا ہے کہ یہ عمل کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت اس میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ تم سب خلقت میں ایک دوسرے سے وابستہ ہو تم میں سے بعض، بعض دوسروں سے پیدا ہوتے ہیں، عورتیں مردوں سے اور مرد عورتوں سے۔ بعضکم من بعض۔ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ تم سب کے سب ایک دین کے پیرو اور ایک ہی حقیقت کے طرفدار ہو اور ایک دوسرے سے ہم کاری رکھتے ہو لہذا کوئی وجہ نہیں کہ خدا تمہارے درمیان تبعیض روا رکھے۔ فَالَّذینَ ہاجَرُوا وَ اُخْرِجُوا مِنْ دِیارِہِمْ وَ اُوذُوا فی سَبیلی وَ قاتَلُوا وَ قُتِلُوا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ۔ اس سے پھر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس بناء پر وہ تمام لوگ جنہوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی ہے اور اپنے گھر اور وطن سے نکالے گئے ہیں انہوں نے راہ خدا میں تکلیفیں اٹھائی ہیں، جہاد کیا ہے اور جانیں دی ہیں۔ پہلا احسان جو خداوند عالم کی طرف سے ان پر ہو گا وہ یہ کہ خداوند تعالی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تکلیف اور شدائد کو گناہوں کا کفارہ قرار دے گا تاکہ وہ گناہوں سے بالکل پاک ہو جائیں۔ وَ لَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہارُ۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ میں گناہوں کو بخشنے کے علاوہ یقیناً انہیں ایسی جنت میں جگہ دوں گا جس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں جو گوناگوں نعمتوں سے بھری پڑی ہیں۔ ثَواباً مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَ اللَّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الثَّوابِ یہ وہ جزا و ثواب ہے جو ان کی جانثاری کی وجہ سے خداوند عالم ان کو مرحمت فرمائے گا، بےشک بہترین ثواب اور اجر اسی کے پاس ہے۔ یہ اشارہ اس طرف ہے کہ دنیا والوں کے لئے خدا کے اجر و ثواب کی تعریف و توصیف مکمل طور پر نہیں کی جا سکتی۔ بس یہ سمجھ لیں کہ اس کی ذات والا صفات ہر ثواب اور جزا سے بالاتر ہے۔ آیت مندرجہ بالا سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو اعمال صالح کے سائے میں گناہوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے بعد قرب خدا اور بہشت اور اس کی نعمتوں کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ کیونکہ ابتداء میں فرماتا ہے: لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ۔ اور اس کے بعد۔ وَ لَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ یعنی بہشت پاک لوگوں کا مقام ہے اور جب تک انسان پاک نہ ہو وہ جنت کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔

مرد اور عورتوں کی روحانی قدر و قیمت

آیہ مذکورہ بھی قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح عورت اور مرد کو خدا کی درگاہ کے باطنی اور روحانی مقامات تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے کے برابر قرار دیتی ہے۔ آیت کی نظر میں جنس کا اختلاف، جسمانی ساخت کا فرق اور ان کے لئے بعض اجتماعی ذمہ داریوں کا فرق، مرد اور عورت دونوں کے لئے کمال انسان کے حصول میں کسی فرق کی دلیل نہیں۔ بلکہ آیت اس حیثیت سے دونوں کو مکمل طور پر ایک ہی سطح پر رکھتی ہے۔ اسی لئے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک ادارے کے انتظام کے کے لئے ایک شخص کو رئیس ادارہ بنا لیتے ہیں اور دوسرے کو معاسن یا رکن۔ رئیس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام میں زیادہ تجربہ اور اطلاعات وغیرہ رکھتا ہو، لیکن یہ فرق مراتب ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ رئیس ادارہ انسانی شخصیت اور قدر و قیمت میں اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے۔ قرآن مجید وضاحت کے ساتھ فرماتا ہے: ومن عمل صالحاً من ذکر او انثی و ھو مومن فاولئک یدخلون الجنة یرزقون فیھا بغیر حساب۔ (سورہ المومن آیت ۴۰) مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک عمل کرے اور ایماندار ہو وہ بہشت میں داخل ہو گا اور اسے بےحساب روزی دی جائے گی (اور وہ اس جہان کی روحانی اور جسمانی نعمتوں سے فیض یاب ہو گا)۔ اسی طرح دوسری آیت میں ہے: ومن عمل صالحاً من ذکر او انثی و ھو مومن فلنحیینہ حیوة طیبة ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون۔ (سورہ نحل آیت ۹۷) مرد اور عورت میں سے جو بھی نیک عمل کرے اور ایماندار ہو، ہم اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور بہت اچھی جگہ دیں گے۔ یہ آیت اور اسی قسم کی دوسری متعدد آیتیں اس زمانے میں نازل ہوئی جب دنیا کی تمام قومیں عورت کے انسانی نوع اور جنس بشر ہونے کے متعلق ڈانواں ڈول تھیں اور اسے حقیر و ذلیل مخلوق اور گناہ اور موت کا سرچشمہ سمجھتی تھیں۔ بہت سی گذشتہ قومیں یہ اعتقاد بھی رکھتی تھیں کہ عورت کی عبادت درگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتی۔ بہت سے اہل یونان تو عورت کو گندی مخلوق اور شیطانی عمل جانتے تھے۔ رومی اور بعض یونانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اصولی طور پر عورت میں انسانی روح کار فرما نہیں ہے۔ روح انسانی تو صرف مردوں کو دی گئی ہے سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ماضی قریب میں ہسپانیہ کے عیسائی عالم اس بارے میں بحث کر رہے تھے کہ کیا عورت مرد کی طرح روح انسانی رکھتی ہے اور کیا اس کی روح موت کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ آخر وہ بہت سی بحث اور تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ چونکہ عورت کی روح انسان اور حیوان کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے سوائے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی روح کے کسی عورت کی روح ہمیشہ نہیں رہے گی۔ (تشریحی نوٹ: درد سڑک مارک، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد، حقوق زن در اسلام اور سلسلے کی دیگر کتب ملاحظہ فرمائیے)۔ مندرجہ بالا آرا سے یہ امر بخوبی روشن ہو جاتا ہے کہ بعض جاہل اور بےخبر لوگ جو کبھی کبھی اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ تو مردوں کا دین ہے نہ کہ عورتوں کا، وہ حقیقت سے کس قدر دور ہیں۔ اگر اسلام کے کچھ قانون عورت اور مرد کے جسمانی اور نفسانی فرق کی وجہ سے معاشرے کی ذمہ داریوں کے حوالے کس قدر مختلف ہیں تو وہ کسی صورت میں بھی عورت کی حقیقی اور باطنی قدر و منزلت کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ اس لئے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں بلکہ دونوں کے لئے نیک بختی اور سعادت کے دروازے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ ہم اس آیت کی بحث میں پڑھ چکے ہیں ”بعضکم من بعض“ (تم سب کے سب ایک ہی جنس اور ایک ہی معاشرے کے فرد ہو)۔

196
3:196
لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ
کافروں کا شہروں میں (کامیابی سے) آ نا جانا تمہیں دھوکا نہ دے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 198 کے تحت ملاحظہ کریں۔

197
3:197
مَتَٰعٞ قَلِيلٞ ثُمَّ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
یہ متاع نا چیز ہے پھر ان کے لئے رہنے کی جگہ دوزخ ہے اور (دوزخ) کتنی بری جگہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

تفسیر آیت 198 کے تحت ملاحظہ کریں۔

198
3:198
لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّلۡأَبۡرَارِ
لیکن وہ لوگ (جو ایمان لے آئے ہیں اور) اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کیلئے باغات بہشت ہیں کہ جن کے درختوں تلے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ان کیلئے خدا کی طرف سے پہلی پذیرائی ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کیلئے بہتر ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بہت سے مشرکین مکہ تجارت پیشہ کرتے تھے۔ اس تجارت سے انہیں بہت سی دولت میسر آئی اور وہ ناز و نعمت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ مدینہ کے یہودی بھی تجارت میں مہارت رکھتے تھے۔ تجارتی سفروں سے اکثر وہ بھرے ہاتھوں واپس لوٹتے تھے۔ مسلمان ان دنوں مخصوص حالات کی وجہ سے مادی طور پر بڑی زحمتوں اور مشکلوں میں گرفتا تھے۔ ان مشکلات کی وجوہ میں مکہ سے مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت اور طاقتور دشمن کی طرف سے اقتصادی محاصرہ اور بائیکاٹ شامل ہیں مسلمان عشرت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ بعض لوگ جب یہ دو مختلف حالتوں کی طرف دیکھتے تو سوچتے کہ بےایمانوں کے لیے یہ ناز و نعمت اور اہل ایمان کے لئے یہ رنج و الم آخر کیوں ہے، مسلمان کیوں فقر و پریشانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات اسی سوال کا جواب ہیں۔

تفسیر ایک تکلیف دہ سوال

شان نزول میں جو سوال سامنے آتا ہے وہ زمانے پیغمبرؐ کے مسلمانوں کے حسب حال ہے یہ دراصل ایک عمومی سوال ہے جو ہر دور میں اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر ظالموں، سرکشوں، فرعونوں کی خوشحالی اور ناز و نعمت سے معمور زندگی کا موازنہ ایسے اہل ایمان سے کرتے ہیں جن کی زندگی مشقت و زحمت ہی سے بھری ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ برُے لوگ اپنی ظالمانہ اور گناہ آلودہ زندگی کے باوجود خوش حال کیوں ہیں لیکن اہل ایمان اپنے ایمان و تقویٰ کے باصفت سختی و تنگی کی زندگی کیوں گذار رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ چیز کمزور ایمان والوں میں شک و شبہ پیدا کر دیتی ہے۔ اس سوال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے اور اس کے دونوں پہلووٴں پر گہری نظر کی جائے تو واضح اور روشن جوابات سامنے آئیں گے۔ جن میں سے بعض کی طرف آیہٴ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مزید توجہ سے مطالعہ کیا جائے تو دوسرے جوابات بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ آیت کہتی ہے: ”لا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذینَ کَفَرُوا فِی الْبِلادِ“ مختلف شہروں میں کافروں کی کامیابی سے آمد و رفت تجھے ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اگرچہ ظاہراً آیت میں رسول اللہﷺ مخاطب ہیں لیکن واضح ہے کہ مقصود تمام مسلمان ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے ”متاع قلیل“ یہ کامیابیاں اور یہ بلا شرط مادی فائدے جلد گزر جانے والے اور ناچیز ہیں۔ ”ثُمَّ مَاْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہادُ“ ان کامیابیوں کے کے پیچھے ان کے لئے انجام بد اور ایسی ذمہ داریاں ہیں جو ان کا دامن پکڑے رہیں گی اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ کیسا برُا ٹھکانہ ہے۔ مندرجہ بالا آیت درحقیقت دو نکتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے: پہلا یہ کہ سرکشوں اور ظالموں کی بہت سی کامیابیوں کا دائرہ محدود ہے۔ جیسے بہت سے اہل ایمان کی محرومیاں اور تکلیفیں بھی محدود ہیں۔ اس امر کا گواہ اسلام کا ابتدائی دور ہے۔ اس میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی حالت ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس وقت حکومت اسلامی بالکل نوساختہ تھی۔ طاقتور دشمنوں کی طرف سے ان پر طوفان آ پڑے تھے۔ انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا تھا۔ اس لئے حکومت اسلامی کے پر و بال سمٹے ہوئے تھے۔ خصوصا مکہ کے مسلمانوں کی ہجرت کی وجہ سے وہ مسلمان جو انتہائی کم تعداد میں تھے بالکل ساکت ہو کر رہ گئے تھے۔ یہ کیفیت صرف انہی سے مخصوص نہ تھی بلکہ وہ تمام لوگ جو کسی ایک بنیادی اور روحانی انقلاب کے حامی ہوں اور ایک فاسد معاشرے میں رہتے ہوں انہیں محرومیت کے ایک شدید درد سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ کیفیت زیادہ دیر تک نہ رہی۔ حکومت اسلامی کی جڑیں مضبوط ہو گئیں اور اس کی شاخیں قوی ہو گئیں۔ اسلامی ملک میں دولت کا سیلاب امنڈ آیا اور عیش و عشرت میں رہنے والے بدترین دشمن خاک سیاہ پر جا بیٹھے۔ آیت میں اسی صورت حال کو ”متاع قلیل“ کہا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ بعض بےایمانوں کی مادی ترقی اس لئے بھی ہے کہ وہ دولت سمیٹنے میں کسی اصول اور قانون کے قائل نہیں ہوتے اور جائز ناجائز ہر طریقہ سے، یہاں تک کہ بےکسوں کا خون چوس کر بھی دولت سمیٹنے لگے رہتے ہیں جبکہ اہل ایمان حق و عدالت کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹنے پر پابندیاں ہونا بھی چاہئیں۔ اس لئے دونوں کے حالات کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اہل ایمان کو ذمہ دارویوں کا احساس ہوتا ہے جبکہ بےایمانوں کی نظر میں کوئی ذمہ داری نہیں اور کیونکہ یہ دنیا ارادہ و اختیار کی آزادی کی دنیا ہے اس لئے خداوند تعالی نے دونوں گروہوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہے تاکہ ہر ایک کا انجام اس کے عمل کی روشنی میں مرتب ہو سکے۔ اس امر کی طرف آیہٴ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ثُمَّ مَاْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِہادُ۔

قوت اور ضعف کے پہلو

بعض بےایمان افراد کی ترقی اور بعض ایمان والوں کی پسماندگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایمان نہ رکھنے کے باوجود پہلے گروہ میں قوت کے بعض پہلو موجود ہیں جو ان کی پسماندگی کا سبب ہیں۔ مثلاً ہم بعض ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو خدا سے بیگانہ ہیں لیکن امور زندگی میں جد و جہد اور استقامت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور حالات زمانہ سے آگاہی رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً مادی زندگی میں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ درحقیقت یہ لوگ دین سے وابستہ ہوئے بغیر اس کے کچھ بنیادی اصولوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو عقائد مذہبی کے تو پابند ہیں لیکن اس کے بہت سے عملی احکامات کو بھولے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کم حوصلہ، بےحال، استقامت سے عاری، بالکل منتشر اور ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ لہذا مسلم ہے کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگی میں پےدرپے شکستوں کا سامنا ہو گا۔ ان کی یہ شکست ایمان کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کمزور پہلووٴں کی وجہ سے ہے جو ان میں موجود ہیں۔ بعض اوقات وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فقط نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے سے انہیں تمام کاموں میں کامیابی حاصل ہو جانا چاہیے۔ جبکہ دین زندگی کی پیش رفت کے لئے عملی پروگرام لے کر آیا ہے۔ جسے فراموش کر دینے سے شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں گروہوں کے کچھ قوی اور کچھ ضعیف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک کے اپنے اثرات ہیں البتہ کبھی کبھار محاسبہ کرتے وقت یہ اثرات ایک دوسرے سے مشتبہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بے ایمان شخص جو مسلسل محنت و مشقت کرتا ہے وہ اطمینان قلب و روح، اعلیٰ انسانی مقاصد اور پاکیزہ خیالات و جذبات سے عادی ہوتا ہے لیکن چونکہ شوق اور استقامت سے کام کرتا ہے لہذا مادی زندگی میں آگے نکل جاتا ہے۔ یہاں بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ بے ایمان شخص دنیاوی زندگی میں کیوں کامیاب ہو گیا ہے گویا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کامیابی کا کوئی اور عامل تھا۔ اب یہ بات جیسے ایک فرد پر صادق آتی ہے اسی طرح اسے ایک ملک پر بھی نطبق کیا جا سکتا ہے ضمنی طور پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ بے ایمان اشخاص کی کامیابی کے تینوں مذکورہ عوامل یعنی جدوجہد ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور حالات زمانہ پر نظر، سب ایک ہی جگہ صادق نہیں آتے بلکہ ان میں سے ہر ایک کسی خاص موقع و محل کے ساتھ مخصوص ہے۔ لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْاْ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا گذشتہ آیت میں بےایمان افراد کے انجام کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس آیت میں پرہیزگاروں کے انجام کا تذکرہ ہے ارشاد الہی ہے: لیکن وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کی (اور انہوں نے مادی سرمائے کے حصول کے لئے حق و عدالت کے اصول ملحوظ نظر رکھے باخدا پر ایمان رکھنے کی بناء پر اپنے وطن سے نکال دیئے گئے اور اجتماعی و اقتصادی کا شکار ہوئے) انہیں ان مشکلات کے صلے میں خداوند تعالی نے باغات بہشت عطا کیے ہیں کہ جن کے درختوں تلے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ نُزُلاً مِّنْ عِندِ اللّهِ وَمَا عِندَ اللّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ لغت میں "نزل کا معنی ہے" ایسی چیز جو مہمان کی ضیافت کے لئے پیش کی جائے"۔ بعض کہتے ہیں اس کا معنی ہے "وہ پہلی چیز جو مہمان کی پذیرائی کے لئے پیش کی جائے" (مثلاً شربت یا پھل جو ابتداء میں مہمان کی پیش کیے جاتے ہیں اس لئے مندرجہ بالا آیت میں فرمایا گیا ہے: باغ جنت میں مادی نعمتیں پرہیزگاروں کی ضیافت کا آغاز ہیں۔ باقی رہی اہم ترین اور عالی ترین ضیافت تو وہ روحانی اور معنوی نعمتیں ہیں جن کی طرف وماعنداللہ خیر للابرار (خدا کے پاس جو نیک لوگوں کے لئے بہتر ہے) کے جملے میں اشارہ کیا گیا ہے۔

199
3:199
وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشۡتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
اہل کتاب میں بعض ایسے افراد ہیں جو خدا پر اور جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ ان پر نازل ہوا ہے ایمان رکھتے ہیں وہ خدا (کے حکم) کے سامنے خضوع کرتے ہیں اور آیات الٰہی کو کم قیمت پر نہیں بیچتے ان کا اجرو ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے خدا سریع الحساب ہے۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیت اہل کتاب کے مومنین کے بارے میں ہے، جنہوں نے ناروا تعصب سے کنارہ کشی اختیار کی ہے اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ لوگ عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک معقول تعداد پر مشتمل تھے۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت حبشہ کے رعیت پرور بادشاہ نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اگرچہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ماہ رجب ۹ ہجری میں نجاشی کی وفات کی خبر ایک خدائی الہام کے ذریعے روز وفات ہی آنحضرتؐ کو پہنچی۔ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہارا ایک بھائی سرزمین حجاز سے باہر دنیا سے چل بسا ہے۔ تم جمع ہو جاوٴ تاکہ مسلمان کے حق میں اس نے جو خدمات سرانجام دی ہیں اس کے صلے میں اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔ بعض نے سوال کیا: وہ کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نجاشی۔ پھر آپؐ مسلمانوں کے ہمراہ قبرستان جنت البقیع میں آئے اور اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے لئے دعائے مغرفت کی۔ آپؐ نے اپنے اصحاب کو بھی حکم دیا اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ بعض منافقین کہنے لگے: محمدﷺ نے ایک ایسے کافر کی نماز جنازہ پڑھی ہے جسے کبھی نہیں دیکھا، حالانکہ اس نے ان کا دین قبول نہیں کیا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور نہیں جواب دیا گیا۔ (بحوالہ اسباب النزول از واحدی) اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجاشی نے مکمل طور پر اسلام قبول کر لیا تھا اگرچہ وہ اس کا اظہار نہیں کرتا تھا۔

تفسیر سب اہل کتاب ایک جیسے نہیں

و ان من اھل الکتاب لمن یوٴمن باللہ یہ بات کہی جا چکی ہے کہ قرآن مجید میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں جو گفتگو ہے اس میں کبھی بھی سب کو ایک جیسا قرار نہیں دیا گیا۔ قرآن یہ طریق کار ہے کہ وہ کسی قوم یا جماعت کے بارے میں ضد اور تعصب کا رنگ اختیار نہیں کرتا بلکہ اس کا فیصلہ اس کے لائحہ عمل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ لہذا وہ اس اقلیت کو فراموش نہیں کرتا جو ایمان اور عمل صالح کی حامل ہو اور گمراہ اکثریت کے درمیان زندگی گزار رہی ہو۔ یہاں بھی اہل کتاب کو بہت زیادہ سرزنش کی گئی کیونکہ وہ آیات خدا کو چھپاتے تھے اور سرکشی اختیار کرتے اور پھر ان میں اس اقلیت کا تذکرہ ہے جس نے پیغمبر اکرمؐ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا۔ ان لوگوں کی پانچ ممتاز صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ ۱۔ یوٴمن باللہ وہ ایسے لوگ ہیں جو دل و جان سے خدا پر ایمان لے آتے ہیں۔ ۲۔ و ما انزل الیکم اور قرآن پر اور جو کچھ تم مسلمانوں پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ۳۔ ما انزل الیھم در حقیقت پیغمبر اسلامﷺ پر ان کے ایمان لانے کی وجہ اپنی آسمانی کتاب پر ان کا حقیقی ایمان ہے جس میں پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں بشارتیں موجود ہیں۔ ۴۔ خاشعین للہ فرمان خدا کے سامنے وہ سرتسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور یہ ان کا خشوع و خضوع ہی ہے جس نے حقیقی ایمان اور جاہلانہ تعصبات میں حد فاصل کھینچی ہے۔ ۵۔ لا یشترون بآیت اللہ ثمنا قلیلا وہ آیات الہی کو کبھی کم قیمت پر فروخت نہیں کرتے اور وہ ایسے علماء یہودی کی طرح نہیں جو اپنے منصب کے تحفظ کے لئے لوگوں پر اپنے اقتدار کی بقاء کے لئے اور رشوت لے کر آیات خدا میں تحریف کر دیتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مطلب یہ نہیں ہے کہ کم قیمت پر فروخت نہیں کرتے بلکہ مراد یہ ہے کہ کسی قیمت پر بھی فروخت نہیں کرتے۔ کم قیمت کی طرف اشارے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان علماء کی طرح نہیں ہیں جو دنیا پرست اور کم ہمت ہیں۔ علاوہ ازیں ان آیات کے مقابلے میں جو کچھ بھی وصول کیا جائے بے وقعت ہے۔ أُوْلَـئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جن لوگوں کا اپنے پروردگار کے ہاں واضح وزندہ لائحہ عمل اور اعلیٰ انسانی صفات کی بناء پر اجر و ثواب ہے ان کے لئے یہاں "ربھم" کا لفظ ان پر پروردگار کے انتہائی لطف و کرم کا مظہر ہے نیز یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ راہ ہدایت میں اللہ تعالیٰ ان کی تربیت اور مدد کرتا ہے۔ إِنَّ اللّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ خداوند تعالی بڑی تیزی سے بندوں کا حساب بے باق کر دے گا۔ نہ نیکوکاروں کو اپنا اجر و ثواب معلوم کرتے کے لئے مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا اور نہ بدکاروں کی سزا میں تاخیر ہو گی۔ یہ جملہ نیکوں کے لئے بشارت اور بدکاروں کے لئے تنبیہ و تہدید کی حیثیت رکھتا ہے۔ (اس جملے کی مزید توضیح کے لئے سورہ بقرہ آیہ 202 کی تفسیر کی طرف رجوع کریں)

200
3:200
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے صاحبان ایمان! صبر کرو اور صبر کرنے میں سبقت لے جاؤ اور مستعد رہواور خدا سے ڈرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 1

یہ سورہ آل عمران کی آخری آیت ہے۔ اس میں چار نکات پر محیط ایک جامع لائحہ عمل تمام مسلمانوں کے لئے پیش کیا گیا ہے) اسی لیے اس کا آغاز، " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ" سے ہوا ہے۔ ۱۔ اصْبِرُواْ۔ یہ اس پروگرام کا پہلا نکتہ ہے جو کہ مسلمانوں کی سربلندی اور کامیابی کا ضامن ہے۔ اس کا مطلب استقامت و صبر اور حوادث کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے۔ دراصل صبر و استقامت ہی ہر قسم کی مادی و روحانی کامیابی کی حقیقی جز ہے۔ اجتماعی و انفرادی پیش کے لئے اس کی جس قدر اہمیت بیان کی جائے وہ کم ہے اسی حضرت علیؑ نے کلمات قصار میں بدن کے ساتھ سر سے تشبیہ دی ہے فرماتے ہیں: ان الصبر من الایمان کالراس من الجسد یعنی۔۔۔۔ صبر کا ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا بدن سے ہے۔ ۲۔ وصابروا۔۔۔یہ "صابرہ" سے مفاعلہ کے باب سے ہے۔ اس کا معنی ہے دوسروں کے صبر و استقامت کے مقابلے میں صبر و استقامت دکھانا۔ اس طرح خداوند تعالی پہلے تو صاحبان ایمان کو صبر و استقامت کا حکم دیتا ہے (جس میں ہر طرح کا جہاد نفس اور مشکلات حیات شامل ہیں) اور دوسرے مرحلے میں دشمن کے مقابلے میں استقامت کا حکم دیتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم جہاد بالنفس اور اندرونی کمزوری کے پہلوؤں کی اصلاع میں کامیاب نہیں ہوتی دشمن پر اس کی کامیابی ممکن نہیں ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں ہماری زیادہ تر ہزیمتیں اسی وجہ سے ہیں کہ جہاد بالنفس نہیں کیا گیا اور اپنے کمزور پہلوؤں کی اصلاح نہیں کی گئی جو ہمارے لئے ضروری ہے۔ ضمنی طور پر اس حکم (صابروا) سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن جس قدر زیادہ استقامت کا مظاہرہ کرے ہمیں اس سے بڑھ کر استقامت و پامردی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ۳۔ ورایطوا۔۔۔۔ اس لفظ کا مادہ "رباط" ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو کسی مکان میں باندھ دینا (مثلاً گھوڑے کو کسی جگہ باندھنا) اسی لیے سرائے یا کاردانوں کے ٹھہرنے کی جگہ کو رباط کہتے ہیں۔ ربط قلب کا کا مطلب ہے دل کا اطمینان اور سکون کی خاطر، گویا وہ کسی جگہ بندھا ہوا ہے۔ مرابطہ کا معنی ہے سرحدوں کی نگرانی کرنا کیونکہ وہاں سپاہی، سواریاں اور جنگی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں اور انہیں وہاں رکھا جاتا ہے۔ یہ لفظ مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے کے لئے تیار رہنے اور اسلامی ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ تاکہ دشمن ان پر بے خبری کے عالم میں اچانک حملہ نہ کردے۔ نیز انہیں شیطان اور سرکش ہوا و ہوس کے مقابلے کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہنے اور ان کے ہتھکنڈوں سے چوکنا رہنے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ غفلت میں نہ پڑ جائیں۔ اسی لیے بعض روایتوں میں ہے کہ امیر المومنین علیؑ نے اس لفظ کی تفسیر ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی پابندی اور انتظار کی ہے کیونکہ جو شخص عبادت کے ذریعے اپنے دل و جان کو ہمیشہ اور لگاتار بیدار رکھے وہ ایسے سپاہی کی مانند ہے جو ہر وقت دشمن سے مقابلے کے لئے تیار (ATTENTION) ہو۔ غرضیکہ رابطہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو اپنی ذات اور اسلامی معاشرے کے دفاع کی تیاری پر محیط ہے۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے باب جہاد میں ایک بحث "مرابطہ" (یعنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے دشمن کے احتمالی حملے کے مقابلہ کے لئے آمادگی) کے عنوان سے ہے۔ جس میں خاص خاص احکام بیان کیے گئے ہیں۔ بعض روایات میں علمائے کرام کو بھی "مرابط" کہا گیا ہے۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: علماء شیعتنا مرابطون فی الشغو الذی یلی ابلیس وعفاریتہ ویمنعونہ عن الخروج علی ضعفاء شیعتنا وعن ان یتسلط علیھم ابلیس ہمارے شیعہ علماء سرحدوں کی حفاظت اور نگرانی کرنے والوں کی طرح ہیں، جو شیطان کی فوج کے سامنے صف باندھے کھڑے ہیں اور ان لوگوں کا (شیطان اور اس کی فوج کے حملہ سے) دفاع کرتے ہیں جو ان کے حملہ کی تاب نہیں لا سکتے۔ (بحوالہ: احتجاج طبرسی، جلد اول) اس حدیث کے ذیل میں علمائے کرام کا مرتبہ اور شان سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افسروں اور سپاہیوں کے مقابلے میں جو اسلام کے دشمنوں سے جنگ کر رہے ہیں۔ کہیں بڑھ کر بیان کی گئی ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ علماء عقائد و ثقافت اسلامی کے نگہبان ہیں۔ جبکہ فوج جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے اور یہ طے شدہ امر ہے کہ جس قوم کے عقیدے، فرہنگ اور ثقافت دشمنوں کے حملے کی زد میں ہو اور وہ ان کا قرار واقعی دفاع نہ کر سکے تو وہ جلد ہی سیاسی اور فوجی نقطہ نظر سے بھی شکست کھا جائے گی۔ ۴۔ واتقوا اللہ اور آخری حکم جو تمام احکامات پر سایہ فگن ہے وہ پرہیزگاری کا حکم ہے۔ استقامت، صبر اور مرابط کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور پرہیزگاری کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ ہر قسم کی خود پسندی، ریاکاری اور شخصی اغراض قریب نہ ہونے پائیں۔ لعلکم تفلحون تم ان چاروں حکموں کی پابندی کے سائے میں فلاع و کامیابی حاصل کر سکتے ہو اور ان سے روگردانی کرنے سے کامیابی کا راستہ تم پر بند ہو جائے گا۔

ایک سوال اور اس کا جواب

کبھی کبھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں بہت سے جملے --لفظ ” لعل“ سے کیوں شروع ہوتے ہیں مثلاً ”لعلکم تفلحون“ شاید تم کامیاب ہو جاوٴ ”لعلکم تتقون“ شاید تم پرہیزگار بن جاوٴ۔ ”لعلکم ترحمون“ شاید رحمت خدا تمہارے شامل حال ہو۔ جبکہ لعل تردید اور شک کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ خدا تعالی تو ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس لئے اس کی ذات اقدس کے لئے مناسب نہیں۔ یہ جملہ بعض دشمنان اسلام نے بھی دستاویز بنا رکھا ہے۔ وہ اس کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ اسلام کسی سے قطعی اور یقینی نجات کا وعدہ نہیں کرتا، اس کے وعدے میں شک و شبہ پایا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے اکثر وعدے ”لعل“ سے شروع ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعبیر قرآن مجید کی عظمت، حقیقت بینی اور اظہار حق کی ایک واضح دلیل ہے کیونکہ قرآن یہ لفظ ایسی جگہ استعمال کرتا ہے جہاں نتیجہ حاصل کرنے کے لئے کچھ شرائط کی پابندی ضروری ہو اور وہ لفظ ”لعل“ کے ذریعے ان شرطوں کی طرف اجمالی اشارہ کرتا ہے مثلا آیات قرآن سننے کے وقت خاموش رہنا اور آیت کے مضمون کو کان لگا کر سننا انسان کے لئے رحمت خداوندی کا مستحق ہونے کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کے علاوہ آیتوں کا سمجھنا اور ان پر کاربند ہونا لازمی ہے اسی لئے قرآن فرماتا ہے: و ذا قریٴ القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون۔ (اعراف: ۲۰۴) جس قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموشی اختیار کرو، ہو سکتا ہے کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو جائے۔ اگر قرآن یہ کہتا ہے کہ یقیناً تم رحمت الہی کے مستحق ہو جاوٴ گے تو یہ حقیقت سے دور ہوتا۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے تحریر کر چکے ہیں کہ اس امر کی کچھ اور بھی شرطیں ہیں۔ لیکن جب وہ -- ”لعلکم“ فرماتا ہے تو باقی شرطوں کا حصہ محفوظ رہ جاتا ہے اس حقیقت کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے اعتراض کی گنجائش پیدا ہو گئی۔ یہاں تک کہ بعض ہمارے علماء بھی اس بات کے معتقد ہو گئے کہ لفظ ”لعل“ ایسے موقعوں پر ”شاید“ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ قرآن کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہے جس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ (غور کیجئے گا)۔ زیر بحث آیت میں بھی باوجود یہ کہ اسلام کے اعلیٰ ترین احکام میں سے چار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے پھر بھی اس بنا پر کہ کہیں دوسرے اسلامی اصلاحی منصبوں سے غفلت نہ برتی جائے، لفظ ”لعل“ استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال اگر آج کے مسلمان مندرجہ بالا آیت کو ایک شعار اسلامی کے حوالے سے اپنی زندگی کے پروگراموں میں شامل کر لیں تو وہ سی مشکلیں دور ہو جائیں گی جن کا انہیں اس وقت سامنا ہے۔ آج اسلام اور مسلمانوں پر جو حملے کئے جا رہے ہیں وہ سب ان چاروں یا ان میں سے بعض احکام سے غفلت برتنے یا انہیں بھلا دینے کی وجہ سے ہیں اور یہ ایک انتہائی تکلیف دے صورت حال ہے۔ اگر مسلمانوں میں استقامت و استقلال کی روح زندہ و بیدار ہو جائے، تو وہ دشمنوں کے مقابلے میں بڑھ چڑھ کر کوشش کر سکیں گے۔ حکم خداوندی کے مطابق مرابطہ یعنی جغرافیائی، ثقافتی اور اعتقادی سرحدوں کی بھرپور حفاظت کریں۔ ہر وقت دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیا رہیں اور ان سب باتوں کے علاوہ انفرادی و اجتماعی طور پر تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعے گناہ و فساد کو اپنے معاشرے سے ختم کر دیں تو یقیناً ان کی کامیابی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اے خدائے بزرگ و برتر ہم سب کو یہ توفیق عطا فرما کہ ہم تیری آسمانی کتاب کے ان حیات بخش احکام کو اپنی چند روزہ زندگی میں اپنا لیں اور اپنی غیر محدود رحمت اور الطاف بےپایاں کو ہمارے شامل حال فرما۔ آمین۔

end of chapter