Al-Hajj
سورۃ ۲۲/ سورہ مبارکہ حج
یہ سوره مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ۷۸ آیات ہیں
سورہ حج کے مضامین اور مطالب
اس سُورت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں حج کے بارے میں کچھ آیات ہیں، یہ سورت ان سورتوں میں سے ہے جن کے مکّی یا مدنی ہونے میں مفسّرین اور مورخین قرآن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس سورت کو ماسوائے چند آیات کے مکّی سمجھتے ہیں جبکہ بعض دوسرے اس کے برعکس، خیال رکھتے ہیں ۔ اگر ہم مکّی اور مدنی سورتوں کے مطالب ومفاہیم، دونوں جگہوں کے ماحول، مسلمانوں کی ضروریات اور اسی لحاظ سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو ذہن میں رکھ کر غور کریں تو فوراً واضح ہوجاتا ہے کہ اس سورت کی بعض آیات مدنی سورتوں میں پائی جانے والی آیات سے مشابہ ہیں۔ جیسے حج اور جہاد کے احکامات اور تفصیلات جن کا تعلق مُسلمانوں کی زندگی اور ضروریات سے ہے اور بعض آیات مکّی سورتوں میں پائی جانے والی آیات جیسی ہیں، مثلاً ابتدائے خلقت اور قیامت کی تفصیلات پر مشتمل ہیں ۔ "تاریخ القرآن " کا موٴلف فہرست ابن ندیم اور نظم الدار، دو تاریخی کتب کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سورہٴ حج ماسوائے چند آیات کے مدینہ میں نازل ہوئی اور وہ چند آیات بھی مکہ ومدینہ کے درمیان نازل ہوئیں ۔ ترتیبِ نزولی میں اس سُورت کا نمبر ایک سو چھ ہے، یہ سورت سورہٴ نور کے بعد اور سورہٴ منافقین سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ بہرحال مجموعی طور پر اس سورہ کا مدنی ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ مطالب اور مضامین کے اعتبار سے اس سُورت کی مندرجہ ذیل تقسیم کی جاسکتی ہے ۔ ۱۔ قیامت کا بیان: بہت سی آیات اس مضمون کی حامل ہیں، ان میں قیامت کا منطقی استدلال اور غافل لوگوں کو جوابدہی کی وعید موجود ہے۔غرضیکہ ابتدائی آیات اس بارے میں ہیں ۔ ۲۔ شرک اور مشرکین کا بیان: آیات کا دوسرا حصہ شرک اور مشرکین کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے سے متعلق ہے، ان آیات میں الله تعالیٰ کی آیات کے حوالے سے انسان کی توجہ خالق کی عظمت کی طرف دلائی گئی ہے ۔ ۳۔ عذاب الٰہی کا بیان: آیات کا ایک حصّہ گزشتہ اقوام پر الله تعالیٰ کی طرف سے شدید عذاب اور ان کے عبرتناک انجام کے مطالعے کی ترغیب دیتا ہے، ان اقوام میں سے خاص طور پر قوم نوح، قومِ ثمود، قوم ابراہیم، قومِ لوط، قومِ شعیب اور قوم مُوسیٰ کا انجام یاد دلایا گیا ہے ۔ ۴۔ حج کا بیان: آیات کا چوتھا حصّہ حج کے بارے میں ہے، اس حصّے میں حج کا تاریخی پس منظر، حضرت ابراہیم(علیه السلام) سے لے کر طلوعِ اسلام تک حج کی تاریخ، مسئلہ قربانی اور طواف کے احکامات واضح طور پر بیان گئے ہیں ۔ ۵۔ ظالموں کے خلاف قیام کا بیان: آیات کا ایک اور حصّہ جابروں اور ظالموں کے خلاف اٹھنے اور دشمنوں کی جارحیت سے نپٹنے کے بارے میں ہے ۔ ۶۔ فروعِ دین کا بیان: آیات کا آخری حصّہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق وعظ ونصیحت پر مشتمل ہے، اس میں نماز اور زکات کی ترغیب دی گئی ہے، بھلائی کی تلقین، بُرائی پر تنبیہ اور توکل علی الله کی طرف رغبت دلائی گئی ہے ۔
اس سورت کی تلاوت کے فضائل
اسلام کے گرامی قدر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث مروی ہے: مَن قَرءَ سورة الحج اعطیٰ من الاجر کحجہ حجھا، عمرة اعتمرھا، بعدد من حج واعتمر فیما مضیٰ وفیما بقیٰ جو بھی سورہٴ حج کی تلاوت کرے الله اسے ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر اجر وثواب عطا کرے گا جو گذشتہ زمانے میں حج وعمرہ بجالائے اور جو آئندہ بجا لائیں گے۔ (بحوالہ : مجمع البیان سورہٴ حج کی تفسیر کے آغاز میں) اس میں شک نہیں کہ یہ کثیر ثواب اور درجہ عظیم صرف لفظی تلاوت سے حاصل نہیں ہو گا، بلکہ فکر ساز تلاوت سے حاصل ہو گا، ایسی فکر جو عمل پرور ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی اس سورت میں مندرج مبداء ومعاد کے نظریات کو دل کی گہرائیوں سے مانے، اخلاقیات، عبادات کو جان ودل سے اپنائے اور متکبّر وظالم طاقتوں کے خلاف جہاد سے متعلق آیات کو اپنی عملی زندگی کا جزء بنائے۔ اس کا رُوحانی رشتہ تمام گذشتہ وآئندہ مومنین کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، ایسا رشتہ کہ جس سے یہ ان کے اعمال میں شریک ہوجاتا ہے۔ اور وہ اس کے اعمال میں شریک ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ان کے ثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ در حقیقت یہ ایک حلقہ اتصال بن جاتا ہے، جس میں ہر دور کے اہل ایمان شامل ہیں، اس تناظر میں مذکورہ بالا حدیث کا مضمون ہرگز عجیب معلوم نہیں ہوتا ۔
قیامت کا وحشت ناک زلزلہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4اس سورت کا آغاز ایسی دو آیتوں سے ہو رہا ہے، جن میں جھنجھوڑنے اور ہلاکر رکھ دینے والے واقعات کا ذکر ہے ایک قیامت دوسرا "مقدمہٴ قیامت" یہ آیتیں انسان کو بے ساختہ اس فانی دُنیا کے اس ہولناک مستقبل کی طرف متوجہ کرتی ہیں، جو اس کے انتظار میں ہے۔ وہ مستقبل کہ اگر آج اس کے بارے میں سوچا نہ گیا اور عملی طور پر تیاری نہ کی گئی تو واقعی خوفناک ہو گا ۔ اور اگر تیاری کرلی گئی تو پُرکشش اور خوشگوار ہو گا ۔ پہلی آیت میں بلا استثناء سب لوگوں سے کہا گیا ہے: اے لوگو! پروردگار کے عذاب سے ڈرو اور پرہیزگاری اختیار کرو، کیونکہ قیامت کا زلزلہ بہت شدید اور اہم واقعہ ہے ۔ (یَااَیُّھَا النَّاسُ تَّقُوا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیمٌ) ۔ "یَااَیُّھَا النَّاس" کا خطاب واضح کر رہا ہے کہ یہاں رنگ، نسل، زبان، مکان، زمان، جغرافیائی حُدود اور قوم قبیلہ میں ترجیح اور فرق روا نہیں رکھا گیا ۔ مومن، کافر، چھوٹا، بڑا، بُوڑھا، مرد، عورت، ماضی، حال اور مستقبل، غرضیکہ کوئی بھی اس خطاب سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ "اتَّقُوا رَبَّکُمْ" یہ جملہ تمام تعمیری پروگراموں اور کاموں پر محیط ہے کیونکہ "رَبَّکُم"کہہ کر توحید کو بیان کر دیا گیا ہے، اور پھر تقویٰ کا ذکر ہے، گویا اس میں عقائد اور اعمال کو جمع کر دیا گیا ہے ۔ " إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیمٌ " یہ جملہ اجمالاً اس امر کا ذکر کر رہا ہے، جو دیگر قرآنی آیات میں جابجا آیا ہے ۔اس سے مراد قیامت ہے اور جب قیامت آئے گی تو عالم کائنات بُری طرح دگرگوں اور زیر وزبر ہوجائے گا ۔ پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے، دریا ایک دوسرے میں خلط ملط ہوجائیں گے ۔ زمین وآسمان درہم وبرہم ہوجائیں گے اور ایک نیا عالم، نئی زندگی کے ساتھ شروع ہو گا، عالم قیامت میں لوگ شدید دہشت اور سراسیمگی کی حالت میں ہوں گے۔ اس کے بعد والی آیت میں اس کیفیت کے چند نمونے پیش کئے گئے ہیں ۔ ۱۔ "یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا اَرْضَعَتْ ۔" "خوف اور بوکھلاہٹ کا یہ حال ہو گا کہ مائیں اپنے شیرخوار بچوں تک سے غافل ہوجائیں گی۔" ۲۔"وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا ۔" "گھبراہٹ کی وجہ سے ہر حا ملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا۔" ۳۔ " وَتَرَی النَّاسَ سُکَاریٰ وَمَا ھُمْ بِسُکَاریٰ۔" "لوگ مدہوشی کی سی کیفیت میں دکھائی دیں گے، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔" ۴۔ "وَلَکِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِیدٌ۔" "لیکن الله کا عذاب اتنا دلدوز ہو گا کہ ڈر کے مارے لوگوں کو اپنا ہوش نہیں رہے گا ۔"
چند اہم نکات: 1۔ دنیا میں قیامت کے مظاہر
یہاں قیامت کے جن مظاہرہ کا ذکر ہے، جزوی طور پر ایسے مظاہر کبھی کبھی اس دنیا میں بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے ایسے زلزلے اور وحشتناک حوادث پیدا ہوتے ہیں کہ ماوٴں کو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کا ہوش نہیں رہتا، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجاتے ہیں اور بہت سے لوگ دم بخود ہوکر رہ جاتے ہیں، لیکن سب لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، جبکہ قیامت کا زلزلہ ہمہ گیر ہو گا اور اس کے نتیجے میں سب لوگ ان حالات سے دوچار ہوں گے ۔
2۔ یہ آیات کِس موقع کے بارے میں ہیں؟
ممکن ہے یہ آیات اس عالم کے اختتام کے بارے میں ہوں کہ جو قیامت کی تمہید ہے۔ اس صورت میں حاملہ عورتوں اور شیرخوار بچوں کا مفہوم حقیقی ہو گا، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ روز قیامت کے زلزلے کی طرف اشارہ ہو "وَلَکِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِیدٌ"اس کے لئے قرینہ ہے، اس صورت میں مذکورہ بالا آیات کی حیثیت مثال کی سی ہوگی، یعنی قیامت کا منظر اس قدر وحشتناک ہو گا کہ اگر حاملہ عورتیں موجود ہوں تو ان سب کے حمل ساقط ہو جائیں گے ۔ اور ماوٴں کے شیرخوار بچے ہوں تو انہیں ان کا ہوش نہ رہے۔
3. مرضعہ کے مفہوم کا ایک خاص پہلو
ہم جانتے ہیں کہ عربی ادب میں دودھ پلانے والی عورت کو عام طور پر "مرضع "کہتے ہیں۔ ( تشریحی نوٹ : کیونکہ تانیث کی علامت اس صورت میں استعمال ہوتی ہے، جب کسی چیز کے مذکر اور موٴنث دونوں موجود ہوں، جبکہ حاملہ ہونے اور دودھ دینے کا مسئلہ صرف عورتوں سے مخصوص ہے اور مردوں کااس سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا تاء تانیث وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے ۔) لیکن جیسا کہ بعض مفسّرین اور کچھ اہلِ لغت نے لکھا ہے کہ جب یہ لفظ "مرضعہ" یعنی موٴنث کی صورت میں استعمال ہوتا ہے تو یہ اس حالت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ جب عورت دودھ پلارہی ہو، بہ الفاظ دیگر "مرضع" اس عورت کو کہتے ہیں جو بچے کو دودھ پلاسکے، لیکن "مرضعہ "کا مفہوم عورت کی اس حالت کے لئے مخصوص ہے کہ جب وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو، لہٰذا زیرِ نظر آیت میں اس لفظ میں ایک خاص نکتہ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ قیامت کے زلزلے کی شدت اور وحشت اس قدر ہوگی کہ یہاں تک کہ ماں اگر بچے کو دودھ پلا رہی ہو گی تو وحشت کے مارے بے اختیار ہوکر پستان بچے کے منہ سے نکال لے گی اور اسے بچے کا ہوش نہیں رہے گا۔
4. تری الناسَ سُکٰرٰی کا مفہوم
اس کا معنی ہے کہ " تو لوگوں کو دیکھے گا وہ مدہوشی کے عالم میں ہوں گے"۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کہ جو اس جملے کے مخاطب ہیں (اور احتمالاً بہت قوی ایمان والے مومنین بھی کہ جو آنحضرت کے نقش قدم پر چلتے ہیں) اس عظیم وحشت سے مامون ہوں گے، کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ تو لوگوں کی یہ حالت یہ دیکھے گا، یعنی خود تیری یہ حالت نہ ہو گی۔
5. ایک اہم واقعہ
بہت سے مفسّرین اور راویانِ حدیث نے زیرِ بحث آیات کے ذیل میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث نقل کی ہے، اس کا ذکر یہاں مناسب رہے گا۔ روایت یہ ہے کہ اس سورہ کی دو ابتدائی آیات غزوہ بنی المصطلق۱ ( تشریحی نوٹ : یہ جنگ چھٹی ہجری کے ماہِ شعبان میں وقوع پذیر ہوئی )کی رات نازل ہوئیں، جب لوگ میدان جنگ کی طرف رہے تھے تو رسُول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے لوگوں کو بلایا، وہ رُک گئے، سب نے آپ کے گردحلقہ باندھ لیا، اس وقت آپ نے یہ آیات ان کے سامنے تلاوت کیں۔ لوگوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں ۔اس شب مسلانوں نے بہت گریہ کیا۔ صبح ہوئی تو ان کی یہ حالت تھی کہ انھیں نہ یہ دنیا بھلی لگتی تھی نہ یہ زندگی، حتّیٰ کہ انھوں نے اپنی سواریوں پر زینتیں بھی توڑ ڈالیں اور نہ ہی خیمے لگائے، ان میں سے کچھ گریہ وزاری کررہے تھے، اور کچھ فکر میں غلطاں تھے ۔ ایسے میں رسول الله نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ وہ کہنے لگے: خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا: یہ وہ دن ہے جب ہزار میں سے ۹۹۹ افراد جہنم کی طرف روانہ ہوں گے اورصرف ایک شخص جنت کی طرف جائے گا۔ یہ بات مسلمانوں کے لئے بڑی گراں تھی، وہ بہت روئے اور عرض کی: یا رسول الله! پھر کون نجات پائے گا؟ فرمایا: گناہگاروں کی اکثریت کا تعلق تم سے نہیں۔ مُجھے امید ہے کہ تم لوگ کم از کم اہلِ بہشت کا ایک چوتھائی ہوگے ۔ یہ سُنا تو مسلمانوں نے تکبیر بلند کی ۔ اس کے آپ نے بعد فرمایا: مجھے توقع ہے کہ اہلِ بہشت کا ایک تہائی ہُوئے ۔ مسلمانوں نے پھر تکبیر بلند کی ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے اُمید ہے کہ تم اہلِ بہشت کا دو تہائی ہوگے کیونکہ اہلِ جنت کی ۱۲۰ صفیں ہیں اور ان میں سے ۸۰ صفیں میری امت کی ہیں۔( بحوالہ :مجمع البیان، نور الثقلین اور دیگر تفاسیر -کچھ اختصار کے ساتھ )
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 4 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شیطان کے پیروکار
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ جس وقت قیامت کا زلزلہ آئے گا وحشت واضطراب کے مارے لوگوں کی عمومی حالت کیا ہو گی ۔ زیر بحث آیات میں جاہل لوگوں کے ایک گروہ کی حالت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کِس طرح وہ آنے والے ایسے عظیم حادثے سے غافل ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو کسی علم و دانش کے بغیر خدا کے بارے میں جھگڑنے لگتے ہیں (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ) ۔ یہ لوگ کبھی توحید، حق تعالیٰ کی یکتائی اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے بارے میں جھگڑنے لگتے ہیں اور کبھی یہ لوگ مُردوں کی حیاتِ نو اور حشر ونشر کے لئے قدرتِ خدا کے بارے میں جھگڑنے لگتے ہیں، جبکہ ان کے پاس اپنی باتوں کے لئے کوئی دلیل نہیں ہوتی ۔ کچھ مفسّرین نے کہا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ بہت ہٹ دھرم، متعصب، مکار اور فریبی مشرکین میں تھا۔ اسے ضد تھی کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں، یہ کہتا تھا کہ قرآن تو گذشتہ لوگوں کے افسانوں کا مجموعہ ہے جسے خدا کی طرف سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ یہ حیات بعد از موت کا بھی منکر تھا ۔ بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ یہ ان تمام مشرکین کے بارے میں ہے کہ جو توحید اور قدرت خدا کے مسئلے میں جھگڑتے تھے ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ شان نزول کبھی بھی آیت کے مفہوم کو محدود نہیں کرتی، ان دونوں اقوال کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے اور اس کے مفہوم میں وہ تمام لوگ شامل ہیں کہ جو اندھی تقلید، تعصب، خرافات یا پیروی نفس کی بناء پر حق کے مقابلے میں نزاع وجدل کرنے میں لگتے ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ایسے لوگ کہ جو کسی منطق ودانش کے تابع نہیں وہ سرکش و مردود شیطان کی پیروی کرتے ہیں ۔ (وَیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطَانٍ مَرِیدٍ) صرف ایک شیطان کی پیروی نہیں کرتے، بلکہ ہر شیطان کے پیچھے چلنے لگتے ہیں، چاہے وہ انسانوں میں سے ہو یا جنّوں میں سے، کیونکہ ان میں ہر شیطان کا اپنا منصوبہ، اپنا جال اور مکر وفریب کے لئے اپنا حیلہ ہوتا ہے ۔ لفظ "مرید" در اصل "مرد" (بر وزن "سرد') کے مادہ سے ایسی بلند زمین کے معنی میں ہے کہ جس میں کوئی گھاس پھونس نہ ہو، اور پتوں سے خالی درخت کو "امرد" کہتے ہیں، اسی بناپر جس نوجوان کی داڑھی کے بال نہ اُگے ہوں اسے بھی " امرد"کہتے ہیں ۔ یہاں "مرید"سے مراد وہ شخص ہے جو ہر قسم کی خیر وسعادت اور صلاحیت سے عاری ہو، ایسا شخص طبعاً سرکش، ظالم، عاصی اور نافرمان ہو گا۔ واضح رہے کہ جس شیطان کے پاس کچھ بھی نہیں، اس کی پیروی سے انسان کا کام انجام کیا ہو گا، لہٰذا بعدوالی آیت میں فرمایا گیا ہے اس لئے کہ یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ جو شخص بھی اس کی اطاعت اختیار کرے گا اور اس کی سرپرستی کا طوق اپنی گردن میں ڈالے گا، اُسے یقیناً گمراہ کردے گا اور جلا ڈالنے والی آگ کی طرف اس کی راہنمائی کرے گا (کُتِبَ عَلَیْہِ اَنَّہُ مَنْ تَوَلاَّہُ فَاَنَّہُ یُضِلُّہُ وَیَھْدِیہِ إِلَی عَذَابِ السَّعِیرِ) ۔ (تشریحی نوٹ : ۔ "سعیر"، "سعر" (بروزن "قعر") کے مادہ سے آگ بھڑک اٹھنے کے معنی میں ہے، یہاں مراد جہنّم کی بھڑکتی ہوئی ہے کہ جو ہر آگ سے زیادہ جلا دینے والی ہے) ۔
چند اہم نکات 1. مجادلہ، ہر دو حوالے سے
لفظ "مجادلہ" عرف عام میں بے بنیاد اور غیر منطقی بحث وتمحیص کو کہتے ہیں، لیکن اصل لغت کے لحاظ سے اس کا یہ مفہوم نہیں ہے بلکہ لغت کے اعتبار سے ہر قسم کی بحث وگفتگو کے معنی میں ہے۔ یہ بحث حق بھی ہو سکتی ہے ناحق بھی ۔ لہٰذا قرآن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیتا ہے: "جَادِلْھُمْ بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ ” اپنے مخالفین کے ساتھ احسن طریقے سے مجادلہ کرو۔ (نحل/۱۲۵)
2. باطل مجادلہ شیطانی طریقہ ہے
بعض بزرگ مفسّرین کا نظریہ ہے "یُجَادِلُ فِی اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ "مشرکین کے بے بنیاد بحث وتکرار کی طرف اشارہ ہے۔ اور "وَیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطَانٍ مَرِیدٍ " ان کے غلط کاموں کی طرف اشارہ ہے ۔ بعض دوسرے مفسّرین کاخیال ہے کہ پہلا جملہ ان کے فاسد اور خرافاتی عقائد کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسرا غلط اور ان کے غلط اور انحرافی کاموں کی۔ لیکن؟۔ قبل کی اور بعد کی آیات چونکہ بنیادی اعتقادات اور اصول وعقائدکے بارے میں ہیں، لہٰذا بعید نہیں ہے کہ دونوں جُملے ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ ہوں، دوسرے لفظوں میں طرفین ایک ہی موضوع کانفی و اثبات ہے۔ پہلے جملے میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی علم ودانش کے بغیر صرف تقلید، تعصب اور ہوا پرستی کی بناء پر خدا اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑنے لگتے ہیں اور دوسرے جملے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص علم ودانش کی اتباع نہیں کرتا، فطری امر ہے کہ وہ ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے۔
3. ہر شیطان کی پیروی- کیوں؟
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ ایسا شخص شیطان کی پیروی کرتا ہے، بلکہ کہتا ہے کہ ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے؟ یہ اس طرح اشارہ ہے کہ تمام شیطانوں کا پروگرام اور مقصد ایک ہی ہے، البتہ ہر ایک نے ایک خاص راستہ اور جال منتخب کر رکھا ہے، ان کے جال طرح طرح کے اور قسم قسم کے ہیں۔ یہاں تک کہ انسان انھیں پہچاننے میں کھوکر رہ جاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان اور توکل علی الله کی وجہ سے حمایت الٰہی کے زیر سایہ آجاتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہے: إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمَ الْمُخْلَصِینَ (حجر/۴۰) اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ظلم وسرکشی کا ہونا اور خیر وبرکت سے تہی ہونا لفظ "شیطان" کے مفہوم میں پوشیدہ ہے لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ لفظ "مرید" (یعنی، ہر قسم کے خیر و سعادت سے تہی) کا استعمال تاکید کے طور پر ہے تاکہ اس کی پیروی کرنے والوں کا انجام بالکل واضح ہو جائے ۔
4. کتب علیہم کا مفہوم
ہم جانتے ہیں کہ یہ تعبیر مقرر کرنے اور لازمی طور پر واقع ہونے کے معنی میں ہے۔ چاہے ایسا عالمِ تکوین میں ہو یا عالمِ تشریع میں ہو۔ تاہم یہ توہم نہیں ہونا چاہیے کہ اس جملے میں جبر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے اور یہ شیاطین مجبور ہیں کہ اپنے پیروکاروں کو گمراہ کریں اور دارالبوار کی طرف بھیجیں، بلکہ یہ اُس طرزِ عمل کا حتمی نتیجہ ہے، جو انہوں نے برضاء ورغبت اختیار کیا ہے۔ مثلاً سردار شیاطین ابلیس نے فرمانِ الٰہی کی مخالفت اور سرکشی اپنے ارادہ واختیار سے کی، بلکہ اس نے تو خدا کی ذات پاک پر اعتراض بھی کیا۔ لہٰذا ایسے افراد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسرے کو گمراہ کرنے والے بھی ہی ۔ انسانوں اور جنّوں میں سے موجود دوسرے شیطانوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ یہ بالکل ایسی بات ہے کہ ہم کہیں کہ جو شخص منشیات کا عادی ہوجاتا ہے، بدبختی اور سیاہ انجام اس کی پیشانی لکھ دیا جاتا ہے ظاہر ہے یہ بات جبر کی دلیل تو نہیں ہے۔ ( تشریحی نوٹ : بعض نے کہا ہے کہ "علیہ" کی ضمیر شیطان کی طرف لوٹتی ہے، جبکہ بعض نے کہا کہ یہ شیطان کے پیروکاروں کے بارے میں ہے کہ جن کا ذکر "و من الناس من یجادل" میں کیا گیا ہے، لیکن ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ اس ضمیر کا تعلق شیطان سے ہے، خصوصاً جبکہ اس کے نزدیک کی ضمیر ("من تولّاہ"کی ضمیر) بھی شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے )۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نباتات اور انسان کی پیدائش میں قیامت کے دلائل
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیات میں مبداء ومعاد کے بارے میں مخالفین کے شکوک وشبہات سے متعلق گفتگو کی جارہی تھی، زیرِ بحث آیتوں میں جسمانی معاد کو ثابت کرنے کے لئے دو بڑی مضبوط عقلی دلیلیں دی گئی ہیں، ایک دلیل جنین (اور شکم مادر کے دور) سے متعلق ہے، دوسری زمین کی حالت میں تبدیلی یعنی مٹی سے ہریالی اور پھر نباتات میں نمو وبالیدگی سے متعلق ہے۔ در اصل قرآن مجید کا منشاء یہ ہے کہ قیامت کے وہ مناظر جن کا مشاہدہ عام طور پر انسان اس دنیا میں کرتا رہتا ہے، مگر اکثر وبیشتر ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کھول کر پیش کرے تاکہ انسان خوب سمجھ لے کہ موت کے بعد نہ صرف یہ کہ زندگی ناممکن نہیں ہے بلکہ وہ زندگی اس قدر فطری ہے کہ اس کی کئی مثالیں ہر روز اس کے سامنے آتی رہتی ہیں ۔ سب سے پہلے تمام انسانوں سے یوں خطاب کیا گیا ہے: اے لوگو! اگر تمھیں روز قیامت زندہ ہونے کے بارے میں شکوک وشبہات ہیں تو اس دنیوی زندگی پر ہی نظر ڈال لو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے نطفہ بنایا، نطفے سے جمے ہوئے خون میں بدلا، جمے ہوئے خون سے چبائے ہوئے گوشت میں ڈھالا جن میں سے بعض کسی شکل وصورت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض نہیں (یَااَیُّھَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ)( تشریحی نوٹ : "مضغہ" "مضغ" سے مشتق ہے، جس کے معنی چبانے کے ہیں، یہ لفظ گوشت کی اس تھوڑی سی مقدار کے لئے استعمال کیا گیا ہے جس کو انسان ایک ہی لقمہ میں چباجائے) یہ سب اس لئے ہے کہ تم پر کھل کر واضح ہوجائے کہ ہم ہرکام کرنے کی طاقت رکھتے ہیں: (لِنُبَیِّنَ لَکُمْ)۔ اور پھر ان جنین میں سے جن کو ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خلقت کی مدّت مکمل کریں، ان کے رحم میں ایک خاص مدّت تک رکھتے ہیں، جبکہ دوسروں کو درمیانی مدّت ہی میں ساقط کر دیتے ہیں (وَنُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَی اَجَلٍ مُسَمًّی) ۔ پھر ایک انقلابی دور کا آغاز ہوتا ہے اور ہم تمہیں بچے کی صورت میں پیدا کر دیتے ہیں (ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا) ۔ اس طرح تمھاری زندگی کا محدود اور انحصاری دور شکم مادر میں پورا ہوتا ہے، اس کے بعد تم ایک ایسے ماحول میں قدم رکھتے ہو، جو پہلے کی نسبت کہیں زیادہ وسائل، مواقع اور روشنی رکھتا ہے، یہاں تمھاری ترقی وتکامل اور تگ و دو ختم نہیں ہوجاتی بلکہ سرعت کے ساتھ اس کو جاری رکھتے ہو، "مقصد یہ ہے کہ تم جسمانی اور عقلی اعتبار سے کمال تک جا پہنچو " (ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اَشُدَّکُمْ) ۔ اس منزل پر تمھاری نادانی، دانائی، کمزوری طاقت اور محتاجی خو اختیاری میں بدل جاتی ہے، لیکن یہ کمال منزل آخر نہیں، بلکہ مزید مراحل بھی ہوتے ہیں، البتہ بعض افراد انتقال کرجاتے ہیں اور بعض مذکورہ کمال کے بعد تنزل کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، حتّیٰ کہ دنیوی زندگی کے بدترین دور یعنی انتہائی بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں ۔ (وَمِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اَرْذَلِ الْعُمُرِ)۔ اس مرحلے میں آدمی کی معلومات اور تجربات میں سے کچھ بھی اس کے دماغ میں نہیں رہتا، نسیان اور بھول چوک کے پردے اس کی عقل پر پڑجاتے ہیں اور واقعی اس کی ایک بچے کی سی کیفیت ہوجاتی ہے (لِکَیْلَایَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا) ۔ یہ کمزوری، ضعف اور پژمردگی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی ایک نئے انتقالی مرحلے کے نزدیک پہنچ چکا ہے، بالکل اسی طرج جیسے پھل پک جاتا ہے تو درخت سے اس کارشتہ ٹوٹنے کا وقت یقینی ہوتا ہے۔ یہ عجیب وغریب تغیر وتبدل پروردگارِ عالمین کے لئے بے پناہ اختیارات کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ مُردوں کو زندہ کرنے کے سمیت الله تعالیٰ کے لئے ہر کام آسان کام ہے۔ دوسری دلیل روئیدگی اور نباتات کی پیداوار سے متعلق بیان کرتے ہوئے الله تعالیٰ انسان سے یوں مخاطب ہے "موسم خزاں میں زمین کو تو بنجر اور چٹیل دیکھتا ہے، مگر جونہی ہم ہم اس پر حیات بخش بارش برساتے ہیں، بہار آجاتی ہے، زمین میں حرکت، نمودار بالیدگی پیدا ہوجاتی ہے، ہر طرف طرح طرح کے پودے اور گھاس لہلہانے لگتے ہیں۔" (وَتَرَی الْاَرْضَ ھَامِدَةً فَإِذَا اَنزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَاءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَھِیجٍ) (تشریحی نوٹ : ۔ "ھامدة" بجھی ہوئی آگ کو "ھامدة" کہا جاتا ہے اور یہ لفظ زمین کے اس حصّے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس پر گھاس پھونس زرد، خشک اور مردہ ہوگئی ہو۔ (مفردات راغب) تفسیر "فی ظلال "کے مطابق موت حیات کی درمیانی حالت کو "ھامدة" کہا جاتا ہے "اھتزت" "ھز" کے مادہ سے شدت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے "ربت" "ربو" بروزن "علو" زیادتی افزائش اور نمو کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے "ربا" (یعنی سُود) یہیں سے لیا گیا ہے۔ "بھیج" خوبصورت دلکش اور پُرکشش کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے) بعد والی دو آیتوں میں پروردگار عالم مذکورہ بالا دلیلوں سے مجموعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے، پانچ نکات میں ان کا مقصد بیان کرتا ہے۔ ۱۔ انسان اور نباتات کی زندگی کے مختلف مراحل کو اس لئے بیان کیا گیا تاکہ تم سمجھ لو کہ الله حق ہے (ذٰلِکَ بِاَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ) ۔ چونکہ وہ خود حق ہے، لہٰذا اس کا پیدا کردہ نظام بھی برحق ہے اور قطعاً بے مقصد نہیں ہوسکتا، یہی نکتہ قرآن مجید میں ایک اور جگہ یوں بیان ہوا ہے: " "وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَینھُمَا بَاطِلاً ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِینَ کَفَرُوا ” ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے، اسے بے کار پیدا نہیں کیا یہ تو کفار کا وہم وگمان ہے(ص/۲۷) چونکہ یہ کائنات بے مقصد نہیں، دوسری طرف زندگی کا اصلی مقصد اس کائنات تک محدود نہیں، لہٰذا لازمی طور پر معاد اور قیامت کا وجود ہے۔ ۲۔ اس عالم حیات وممات پر حکمران نظام ہم پر یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ: وہی ہے جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے (وَاَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ) ۔ وہی ہے جو مٹی کے بدن کو زندگی کے لباس سے آراستہ کرتا ہے اور حقیر نطفے کو انسان کامل کا شرف بخشتا ہے، مردہ زمینوں میں جان ڈالتا ہے، اس دُنیا میں اس کی ذات کی طرف مسلسل حیات آفریں پروگرام مشاہدہ کرنے کے بعد بھی کیا قیامت کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبہ کیا جا سکتا ہے۔(تشریحی نوٹ : ۔ " اَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ" بعض مفسّرین نے اس جملے کو قیامت کے دن انسان کی زندگی کی طرف اشارہ سمجھا ہے، (وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ) اس جملے کا معنی بھی کم وبیش وہی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ پہلا جملہ اصل حیات کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا مُردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت کی طرف ۔لیکن ایک اور تفسیر کے مطابق ”اَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ“ کا جملہ اس دنیا میں خدائی مسلسل حیات آفرینی کی طرف اشارہ ہے اور ہم نے بھی اسی تفسیر کو بنیاد بنایا ہے تاکہ قیامت کے بارے میں دلیل قائم کی جاسکے) ۳۔ پروردگار عالمین ہر چیز پر قادر ہے، کوئی کام بھی اس کے لئے ناممکن نہیں (وَاَنَّہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) ۔ کیا وہ ذات جو بے جان مٹی کو نطفے میں تبدیل کرتی ہے، پھر اس حقیر نطفے کو مرحلہ وار نمو دیتے ہوئے ہر روز ایک نئی زندگی دیتی ہے، خشک بنجر اور جامد زمین کو اس طرح ہمہ گیر زندگی دیتی ہے کہ تھوڑی سی مدّت میں سرسبز وشاداب کھیتیاں ہر طرف لہلہاتی نظر آئیں، اس بات پر قادر نہیں ہو سکتی کہ موت کے بعد انسان کو پھر سے زندہ کرے؟ ۴۔ یہ بھی سمجھ لو کہ اس جہان کے خاتمے اور دوسرے جہاں کی ابتداء کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس کسی قسم کا شک وشبہ نہیں کیا جا سکتا (وَاَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لَارَیْبَ فِیھَا) ۔ ۵۔ یہ زندگی دنیا کا تمام کاروبار در اصل کسی نتیجے اور انجام کا مقدمہ ہے اور اس نتیجے کے دن اللہ سبحانہ، ان سب کو جو قبروں میں پڑے ہوں گے زندہ کرے گا۔ (وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ)۔ مذکورہ بالا پانچ نتائج کہ جن میں سے بعض تمہید ہیں، بعض اصل مضمون اور بعض امکانی کیفیت لئے ہوئے، جبکہ بعض"واقع " ہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے ایک نُقطے پر جا ملتے ہیں۔ وہ یہ کہ قیامت یعنی مُردوں کا حشر ونشر نہ صرف یہ کہ امکان پذیر ہے بلکہ واقعی ہو گا، وہ لوگ جو حیات بعد ممات میں شک کرتے ہیں وہ شب وروز اس دنیا میں نباتات، حیوانات اور انسان کی زندگی اور موت کا اپنی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ وہ خدائی قدرت پر شک کریں۔ کیا انسان ابتداء میں مٹی سے نہیں بنا؟ تو پھر تعجب کی کیا بات ہے کہ ایک د فعہ مرنے اور مٹی میں دفن ہونے کے بعد پھر اُٹھالیا جائے، کیا ہر سال ہماری آنکھوں کے سامنے اس مٹی سے ترو تازہ کھیتیاں نہیں نکلتیں تو پھر کون سے تعجب کی بات ہے کہ اگر کئی سالوں بعد مُردہ انسان جاندار ہوکر مٹی سے اُٹھ کھڑا ہو۔ اگر دوسری زندگی کے بارے میں ان کو شک ہے تو ان کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جو نظام آفرینش اس دنیا میں جاری وساری ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ زندگیٴ دنیا کا کوئی مقصد ہے۔ اگر نہیں تو یہ کام تمام کاروبارِ دنیا بیہودہ اور عبث ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ یہ چند روزہ زندگی جو سینکڑوں مشکلات، پریشانیوں اور تکالیف سے عبارت ہے، قطعاً کسی قسم کی قدر وقیمت اور حیثیت نہیں رکھتی کہ اس حیرت انگیز کائنات کا وجود، نصب العین اور مقصد اصل قرار پائے۔ اس بناء پر ماننا پڑے گا کہ اس عالم کے بعد کوئی دوسرا جہان ضرور وجود رکھتا ہے، جو اس دنیا کے مقابلے میں کہیں وسیع وعریض دائمی اور ابدی ہے اور اس زندگی کی اصل منزل بننے کے لائق ہے۔
چند اہم نکات: 1. انسانی زندگی سات مراحل پر مشتمل ہے
مذکورہ بالا آیتوں میں حقیقت قیامت کی تشریح کے ذیل میں سیر تکاملِ انسانی کے سات مراحل گِنوائے گئے: پہلا مرحلہ جب انسان محض مٹی ہوجاتا ہے، ہوسکتا ہے مٹی سے مراد وہ مٹی ہو، جس سے حضرت آدم علیہ السلام بنائے تھے۔ یہ امکان بھی ہے کہ اس مٹی سے قطع نظر ہر انسان مٹی سے بنتا ہے، کیونکہ نُطفے کے اجزاء انسانی خوراک سے بنتے ہیں اور خوراک مٹی کے اجزاء مرکب ہوتی ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ انسانی جسم کا ایک اہم حصّہ پانی آکسیجن اور کاربن پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مٹی سے نہیں لیا گیا۔ لیکن بدن کے تمام بنیادی اعضاء چونکہ مٹی سے بنتے ہیں، لہٰذا یہ تعبیر سوفیصد صحیح ہے کہ انسان مٹی سے ہے۔ دوسرا مرحلہ نُطفے کا ہے، بے حس بے جان پاوٴں میں روندی جانے والی مٹی نطفے میں تبدیل ہوجاتی ہے، وہ نطفہ جس میں نہایت چھوٹے چھوٹے ذی روح اجزاء ہوتے ہیں جو صرف خورد بین ہی سے دیکھے جاسکتے ہیں، مرد کے نطفے کے اجزاء کو "اسپرم" اور عورت کے اجزاء کو "اوول"کہتے ہیں، یہ جاندار اجزاء اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ ایک مرد کے نُطفے میں شاید کئی لاکھ "اسپرم" موجود ہوں ۔ زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ پیدائش کے بعد انسان آہستہ آہستہ اور تدریجاً نشو ونما پاتا ہے اور یہ نشو ونما زیادہ ترکمیت کے حساب سے ہوتی ہے، جبکہ رحم مادر میں نشو ونما تیز تبدیلیوں اور حرکت کے ساتھ کیفیت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ رحم مادر میں جنین کی کیفیت حیرت انگیز طریقے سے مسلسل بدلتی رہتی ہے، اس کی مثال ایسے ہے، جیسے ایک معمولی سی پن چند ماہ میں ایک ہوائی جہاز کی شکل اختیار کرجائے، موجودہ زمانے میں "جنین" پر بڑی تحقیق کی جاچکی ہے،۔ماہرین کو موقع ملا ہے کہ جنین کے مختلف مراحل کا مطالعہ کریں اور خدا کی عجیب وغریب قدرت سے لوگوں کو آگاہ کریں ۔ تیسرا مرحلہ علقہ ہے، یہ نطفے کی تبدیل شدہ صورت ہے، جب نطفہ شہتوت کے دانہ کی طرح ایک جمے خون کے ٹکڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اسے سائنسی اصطلاح میں "مورولا" کہا جاتا ہے، کچھ مدّت بعد جنین کے چاروں طرف ایک خلاء سا پیدا ہوجاتا ہے، در اصل یہ جنین کے اطراف کی تقسیم کی ابتداء کا مرحلہ ہے اور اس کیفیت کو "لاستولا "کہتے ہیں ۔ چوتھے مرحلے میں یہی ٹکڑا چبائے ہوئے گوشت میں تبدیل ہوجاتا ہے، بغیر اس کے کہ اس کےاعضاء کی کوئی شکل وصورت واضح ہو، اچانک "جنین" کی پتلی سی کھال میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، اعضاء بدن ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں اور ہر عضو اپنے مخصوص کام کے لحاظ سے متشکل ہوجاتا ہے، بعض جنین جو اس تبدیلی سے قاصر رہتے ہوئے اپنی سابقہ حالت ہی میں باقی رہ جائیں یا ناقص رہ جائیں وہ ساقط ہوکر خارج ہوجاتے ہیں۔ (مُخَلَّقَةٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ) ہوسکتا ہے یہ اشارہ مکمل خلقت وغیر مکمل خلقت کی طرف ایک اشارہ ہو۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا چار مراحل کے ذکر کے بعد قرآن مجید نے "لِنُبَیِّنَ لَکُمْ " کا جملہ ارشاد فرمایا ہے، گویا تھوڑی سی مدّت میں یہ عجیب وغریب تبدیلیاں جو ایک معمولی سے قطرے کو مکمل انسان میں ڈھال دیتی ہیں، اس حقیقت کی واضح دلیل ہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے اس کے بعد "جنین" کے پانچویں، چھٹے اور ساتویں مراحل کا ذکر ہے جو ولادت کے بعد سے متعلق ہیں یعنی بچپن، جوانی اور بڑھاپا ۔(تشریحی نوٹ : ۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ ”ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ‘ ‘ کے جملے میں "طِفْلًا " مفرد استعمال کیا گیا ہے، حالانکہ ظاہراً 'اطفالاً" چاہیے تھا، اس کی شاید وجہ یہ ہو کہ "طفل" مصدری معنی رکھتا ہے اور اس میں مفرد وجمع یکساں ہوتے ہیں، یا یہ کہ مقصد "جنین" کے بارے میں ہے کہ بچوں کے بارے میں جو اس موقع پر چھپے ہُوئے ہوتے ہیں اور بعد میں انہیں ظہور کرنا ہوتا ہے) یاد رہے کہ بچے کا ایک زندہ موجود کی صورت میں پیدا ہونا بذات خود ایک زبردست تغیّر وتحرک ہے جو جنین ہی کے پے در پے تغیرات میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح بچپن، بلوغ اور بڑھاپا بھی "جنین" ہی کے ارتقائی مراحل ہیں، مذکورہ بالا آیہٴ مجیدہ میں "قیامت کو بعثت" یعنی اٹھانا یا زندہ کرنا" سے تعبیر کرنا جنین کے ارتقائی مراحل کی آخری کڑی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی خاص توجہ کرنی چاہیے کہ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس مقدس کتاب نے جنین کے مراحل ایسی علمی وسائنسی گفتگو کی اس وقت نہ کوئی "جنین " کو جانتا تھا اور نہ کوئی ایسا علم ومعرض وجود میں آیا تھا جو اس کی تفصیلات بیان کرے لہٰذا اپنی جگہ پر یہ خود ایک معجزے سے کم نہیں اور اس حقیقت کا بیّن ثبوت بھی ہے کہ اس کتاب کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے۔
2. معاد جسمانی
قرآن مجید نے جہاں بھی انسان کی بازگشت کا ذکر کیا ہے، بے شک وہاں انسان کی رُوح اور جسم دونوں ہی مراد ہیں۔ جنہوں نے معاد کو صرف روحانی ہونے تک محدود سمجھا اور صرف ارواح کی بقا کے قائل ہیں۔ انھوں نے قرآنی آیتوں کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ حالانکہ بہت سی آیتیں مذکورہ بالا آیتوں کی طرف بڑی وضاحتوں کے ساتھ معاد جسمانی کو بیان کرتی ہیں ورنہ جنین کے ارتقائی مراحل اور مردہ زمینوں کی شادابی معاد اور روحانی سے کسی طرح بھی کوئی مشابہت نہیں رکھتی۔ خصوصاً زیرِ بحث آیتوں کا آخری جملہ جو اس کاروبارِ ہستی کے انجام کو بیان کرتے ہوئے بڑی صراحت سے واضح کرتا ہے (وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ) یعنی جو بھی قبروں میں ہو گا، الله سبحانہ اس کو اٹھالے گا، کیونکہ قبر تو جسم کی جگہ ہے، نہ کہ رُوح کا مسکن، اصولی طور پر مشرکین کی ساری حیرت اور تعجب بھی معاد جسمانی پر تھا۔ یعنی ان کے پلّے یہ بات نہیں پڑتی تھی کہ مٹی میں خلط ملط ہوجانے والا آدمی دوبارہ کیسے اُٹھ کھڑا ہو گا۔روح کی بقاء کا مسئلہ نہ صرف یہ کہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں تھی بلکہ ان کو منظور بھی تھا (غور فرمائیے)۔
3. ارذل العمر
"اَرْذَل"، "رذل" کے مادہ سے مشتق ہے، یعنی گھٹیا اور ناپسندیدہ چیز "اَرْذَلِ الْعُمُرِ" یعنی انسان کی عُمر کا ناپسندیدہ زمانہ، جبکہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے اپنے کمالات کو اس حد تک کھو بیٹھتا ہے کہ بقول قرآن مجید اپنی معلومات اور تجربات کو بُھول جاتا ہے اور بالکل ایک ناخواندہ اور ناسمجھ بچے کی مانند ہوجاتا ہے۔ بچوں کی طرح معمولی باتوں پر پریشان ہوجاتا ہے۔ پل میں خوش اور پل میں خفا ہوجاتا ہے۔ صبر وتحمل کا دامن بالکل چھوڑدیتا ہے۔ مختصر یہ کہ بچوں کی سی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ بچے سے اس بات کی توقع نہیں کی جاتی جو ایک بوڑھے آدمی سے کی جاتی ہے اور بچوں کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ رُوح اور جسم میں رشد ونمو کے ساتھ یہ حالات بدل جائیں گے۔ جبکہ بوڑھے اس امید کے قابل نہیں ہوتے اور یہ کہ بچے کی یہ حالت کسی کمال کے زوال سے نہیں ہوئی جبکہ بوڑھا اپنا تمام مال ومتاع کمال کھوکر اس حالت کو پہنچا ہے۔ ان جہات کے پیش نظر بوڑھوں کی حالت بچوں کی نسبت زیادہ ناگوار اور افسوسناک ہے۔بعض روایات میں "اَرْذَلِ الْعُمُرِ" سے سو سال سے زیادہ عُمر مراد لی گئی ہے۔ بحوالہ : نور الثقلین ج3 ص 412) یہ عمومی صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے، لیکن ہوسکتا ہے کوئی شخص سو سال سے پہلے ہی ایسی حالت کو پہنچ جائے اور کوئی سو سال کے بعد بھی نہ پہنچے، ہر لحاظ سے چاک وچوبند رہے، خصوصاً عظیم اور اجلّ عُلماء وافاضل ہو جو عموماً تحصیل و ترویج علوم میں مصروف رہتے ہیں، ان میں بہت کم دیکھا گیا ہے کہ ان یہ کیفیت ہو، بہرحال عُمر کے اس حصّے میں خدا سے پناہ مانگنی چاہیے ۔ ضمنی طور پر عرض ہے کہ ان حقائق سے آگاہی ہمیں غرور اور تکبر سے نکالنے کے لئے کافی ہے کہ ہم پہلے کیا تھے، اب کیا ہیں اور آئندہ کیسے ہونے والے ہیں ۔ ۱۔ " ۔ ۲ ۔ 3۔ " اَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ" بعض مفسّرین نے اس جملے کو قیامت کے دن انسان کی زندگی کی طرف اشارہ سمجھا ہے، (وَاَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ) اس جملے کا معنی بھی کم وبیش وہی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ پہلا جملہ اصل حیات کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا مُردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت کی طرف ۔لیکن ایک اور تفسیر کے مطابق ”اَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ“ کا جملہ اس دنیا میں خدائی مسلسل حیات آفرینی کی طرف اشارہ ہے اور ہم نے بھی اسی تفسیر کو بنیاد بنایا ہے تاکہ قیامت کے بارے میں دلیل قائم کی جا سکے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کج بحثی کرنے والوں کے بارے میں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4اِن آیتوں میں بھی ان لوگوں کو کج بحثی کا تذکرہ ہے جو مبداء ومعاد سے متعلق بے سر وپا باتیں کرتے ہیں ۔ پہلے بیان کیا جا رہا ہے کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو کسی قسم کے علم، ہدایت اور کتاب کے بغیر ہی خدا کے بارے میں کج بحثی کرنے لگتا ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَلَاھُدًی وَلَاکِتَابٍ مُنِیرٍ) (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ) کا جملہ پہلے چند آیتوں میں گزر چکا ہے، یہاں اس کی وہی تعبیر ہے جو وہاں تھی، جُملے کا تکرار ظاہر کرتا ہے کہ وہاں اس جملے سے اور لوگ مراد تھے اور یہاں کوئی اور۔ "تفسیر المیزان" اور "کبیر" میں مذکورہ بالا دونوں گروہوں میں یہ فرق بیان کیا گیا ہے کہ پہلے کی آیتوں میں اس جملے سے مراد گمراہ اور بے خبر عوام الناس ہیں،جبکہ اس آیت میں خواص اور سربر آوردہ افراد ہیں ۔(لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ) کا جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس گروہ کا کام دوسروں کو راہ راست سے بھٹکانا ہے، یہی مذکورہ بالا فرق واضح قرینہ ہے، جیسے گزشتہ آیتوں میں (یتبع کل شیطان مرید) کا جملہ جو شیطانوں کی پیروی کے بارے میں تھا، اس معنی کو زیادہ واضح کرتا ہے۔ اس بارے میں کہ "علم"، "ھدی" اور " کِتَابٍ مُنِیرٍ" میں کیا فرق ہے، مفسرین کے درمیان اس میں بھی اختلاف ہے، ہماری نظر میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ "علم" سے عقلی استدلال کی طرف اشارہ ہے، "ھدی" سے الله سبحانہ کی طرف سے انبیاء(علیه السلام)، ائمہ(علیه السلام) اور صلحاء کی رہنمائی کی طرف اور "کِتَابٍ مُنِیرٍ" سے آسمانی کتابوں کی طرف اشارہ ہے، زیادہ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس جملے میں کتاب، سنت اور دلیل عقلی تینوں مشہور دلائل اور "اجماع " (اس معنیٰ میں کہ علماء کے مطابق در اصل اس سے مراد بھی سنّت ہی ہے) ساری ادلّہ شرعیہ اربعہ بیان کر دی گئی ہیں ۔ بعض مفسّرین کے مطابق "ھدی" سے مراد وہ معنوی رہنمائی ہے، جو انسان کو ذاتی اصلاح پرہیزگاری اور تہذیب نفس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے (البتہ یہ مفہوم ہمارے مذکورہ بالا مفہوم سے ہم آہنگ ہے) در اصل علمی بحث وتمحیص اس صُورت میں مفید ونتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے، جب یہ کتاب، سنت اور دلائل عقلی پر مبنی ہو۔ اس کے بعد ان گمراہی کے رہبروں کی روگردانی کی ایک وجہ ایک مختصر مگر معنی خیز جملے میں بیان کی جارہی ہے، وہ تکبر اور خدا کی باتوں اور واضح عقلی دلائل سے بے اعتنائی کرتے ہوئے چاہتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے ہٹالیں (ثَانِیَ عِطْفِہِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ) ۔ "ثَانِی " "‘ثنیٰ " کے مادہ سے لپٹنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور "عطف" پہلو کے معنیٰ میں، پہلو "لپیٹنا" کسی چیز سے پہلو تہی اور بے اعتنائی کا ایک لطیف کنایہ ہے۔ "لِیُضِلَّ"کے بارے میں دو احتمال ہیں، ایک تو یہ کہ یہ اُن لوگوں کی پہلو تہی اور روگردانی کا مقصد ہو، یعنی وہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی خاطر خدائی آیتوں اور ہدایت سے بے اعتنائی کرتے اور اِنھیں کچھ نہیں سمجھتے۔ دوسرا یہ کہ ان کی پہلو تہی کا نتیجہ ہو، یعنی ان کی بے اعتنائی کا ثمر یہ ہو ہے کہ لوگوں کو راہِ حق سے پھیر دیتے ہیں ۔ اس کے بعد دنیا وآخرت میں ان کا انجام بیان کیا گیا ہے، کہ اس دنیا میں ذلّت، رسوائی اور بدنصیبی ان کا مقدر ہے اور آخرت میں ہم انہیں جلادینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے (لَہُ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَنُذِیقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَذَابَ الْحَرِیقِ) ۔ اور ان میں سے ہر ایک سے کہا جائے گا: ”یہ تیرا ہی کیا دھرا ہے، یہ وہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا ہے (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدَاکَ) اور الله ہرگز اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا (وَاَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ) ۔ یہ کسی کو بلاوجہ سزا دیتا ہے اور نہ ہی سزا میں بلاوجہ اضافہ کرتا ہے۔ اس کا کام تو صرف عدل وانصاف کرنا ہے۔ (تشریحی نوٹ : ۔ "ظلام" مبالغے کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہے "بہت زیادہ ظلم کرنے والا" خدائے تعالیٰ جو مطلقاً ظلم نہیں کرتا، اس لئے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بلاوجہ سزا دینا یا سزا میں اضافہ کرنا خدا کے نزدیک ایسا ہی ہے، جیسے ہمیشہ کے لئے بہت زیادہ ظلم کیا جاتا )۔ یہ آیہٴ مجیدیہ ان آیتوں میں سے ہے جو جبر کے قائل فرقے کے نظریات کی نفی کرتی ہے اور افعالِ خدا میں عدالت کو ثابت کرتی ہے۔ (مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد سورہٴ ال عمران آیت ۱۸۲ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں) ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کفر کے گڑھے کے کنارے کھڑے لوگ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں دو گروہوں کا تذکرہ ہو رہا تھا ایک گمراہ کرنے والے لیڈروں کا، دوسرا گمراہ ہونے والے پیروکاروں کا۔ لیکن زیرِ بحث آیتوں میں ایک تیسرے گروہ کا ذکر کیا جا رہا ہے، یہ لوگ کمزور ایمان والے ہیں ۔ قرآن مجید اس گروہ کی یوں تعریف کر رہا ہے، بعض لوگ صرف زبان سے الله کی عبادت کرتے ہیں جبکہ ان کا دلی ایمان بالکل سطحی اور کمزور درجے کا ہے۔ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللهَ عَلیٰ حَرف) "عَلیٰ حَرْفٍ"سے ہوسکتا ہے یہ مراد ہو کہ ان کا ایمان زبانی کلامی ہے اور دل میں صرف ایمان کی ایک معمولی سی جھلک پائی جاتی ہے۔ یا اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ وہ دائرہٴ ایمان کے مرکز پر نہیں بلکہ ایک طرف کنارے پر کھڑے ہیں۔کیونکہ "حرف"کا ایک معنی کسی پہاڑی یا گھاٹی کا کنارہ بھی ہوتا ہے، یہ عام مشاہدہ ہے کہ جو کوئی کسی کنارے پر کھڑا ہو، مضبوط نہیں ہو گا۔ بلکہ معمولی سی حرکت سے لڑھک جائے گا اور راستے سے ہٹ کر گرجائے گا۔ یہی حال کمزور ایمان والوں کا ہے کہ کسی معمولی سی چیز کے لئے ایمان برباد کر دیتے ہیں ۔ ان کے ایمانی تزلزل کی تشریح قرآن مجید یوں بیان کرتا ہے کہ "اگر دنیاوی منفعت میسر آجائے تو مطمئن اور پرسکون ہوجاتے ہیں اور اسے اسلام کی حقانیت کی دلیل سمجھتے ہیں، لیکن اگر کسی نقصان، کسی نعمت کے چھن جانے یا پریشانی کے ذریعے آزمائش اور امتحان میں مبتلا ہو جائیں تو شدید بے قراری اور اضطراب کا شکار ہوکر کُفر اختیار کرلیتے ہیں ۔ (فَإِنْ اَصَابَہُ خَیْرٌ اطْمَاَنَّ بِہِ وَإِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلیٰ وَجْھِہِ) ( تشریحٰی نوٹ : ۔ "انقَلَبَ عَلیٰ وَجْھِہِ "اگر اس جملے میں "انقَلَبَ" سے بازگشت مراد لیں تو اس جملے کا یہ معنی ہوسکتا ہے کہ ایمان کی بالکل مخالف سمت کی طرف منہ کرلیتا ہے، گویا ہمیشہ سے ایمان سے لاتعلق تھا )۔ گویا انہوں نے دین وایمان کو مادی مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھ کر قبول کیا تھا کہ اگر ان کا مقصد پُورا ہوا تو دینِ برحق ورنہ باطل وبے بنیاد۔ ابنِ عباس اور دوسرے متقدمین مفسّرین نے اس آیہٴ مجیدہ کی شانِ نزول اس طرح بیان فرمائی ہے کہ بعض اوقات بدوٴں کا کوئی گروہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتا اور اس کی دلی مراد برآتیں، یعنی ان کے مویشی اچھے بچّے دیتے، ان کے اولاد نرینہ ہوتی اور ان کی مال و دولت میں اضافہ ہوتا تو وہ خوش ہوکر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے حلقہٴ بگوش عقیدت ہوجاتے، لیکن اگر اس کے برعکس، ان کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوتیں، کوئی فرد بیمار پڑجاتا یا مال مویشی میں کوئی نقصان ہوجاتا تو شیطانی وسوسے ان کے دلوں میں گھر کرلیتے اور کہتے کہ ان تمام مصیبتوںکا ذمہ دار یہ دین ہے، جسے تم نے قبول کیا ہے، نتیجةً وہ اس دین سے پھرجاتے ۔(بحوالہ : تفسیر خوارزمی، ج۲۳، ص۱۳، اور تفسیر قرطبی، ج۶، ص۴۴۰۹) توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید ان کے مادی مفادات کو "خیر" سے تعبیر کرتا ہے اور ان مفادات کے حاصل نہ ہونے کو فتنہ (آزمائش کا ذریعہ) سے "شر" سے نہیں، گویا کہ قرآن مجید یہ تصریح فرمارہا ہے کہ دنیاوی ناخوشگوار حادثات شر اور برائی نہیں ہیں، بلکہ آزمائش وامتحان کا ذریعہ ہیں ۔ آیہٴ مجیدہ کے آخر میں یہ فرمارہا ہے "اس طرح سے وہ دُنیا وآخرت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں" (خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةَ) ۔ یہی تو واضح گھاٹا اور نقصان ہے کہ دنیا وآخرت دونوں ہی برباد ہو جائیں ۔ (ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِینُ) حقیقت یہ ہے کہ تمام مذکورہ بالا قسم کے لوگ دین کو مادی مفادات کی عینک سے دیکھتے ہیں اور مادی مفادات کے حصول کو دین کی حقانیت کی دلیل خیال کرتے ہیں، ایسے لوگ جو آج کل بھی با افراط موجود ہیں اور ہر زمانے میں رہے ہیں۔ در اصل ایمان کو شرک اور بُت پرستی سے آلودہ کرلیتے ہیں، البتہ ان کا بُت بیوی، مال مویشی یا دیگر مفادات ہیں، ظاہر ہے کہ اس طرح کا ایمان مکڑی کے جالے سے بھی سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ بعض مفسّرین نے اس آیہٴ مجیدہ سے منافقین مُراد لیے ہیں، ہماری نظر میں اس آیہٴ مجیدہ کے ذیل میں وہ منافقین جن کے دل میں ایمان بالکل نہ ہو، شمار نہیں کیے جاسکتے ورنہ مفہوم آیہٴ مجیدہ کے ظاہری معنیٰ کے خلاف ہوجائے گا کیونکہ "مَنْ یَعْبُدُ اللهَ " "اطْمَاَنَّ بِہِ" اور "انقَلَبَ عَلیٰ وَجْھِہِ"کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ جن لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہو رہا ہے، ان کے دل میں کمزور سا ایمان ہے چنانچہ اگر کمزور ایمان والے منافقین مراد لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں، اس کے بعد اس گروہ کے الودہ ایمان خصوصاً توحید وایمان بالله سے روگردانی کے بعد کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہہ رہی ہے:" وہ خدا کو چھوڑ کر اس کو پکارتے ہیں جو انھیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ (یَدْعُوا مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَایَضُرُّہُ وَمَا لَایَنْفَعُہُ) اگر وہ واقعی مفادات مادی کے خواہاں اور نقصان سے گریزاں ہیں اور ان کی نگاہ میں کِسی دین کی حقانیت کا یہی معیار ہے تو پھر بتوں کی پرستش کی طرف کیوں مائل ہوجاتے ہیں، کیونکہ بُت تو نہ کسی کو کچھ دے سکتے ہیں اور نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ کسی بھی صلاحیّت سے عاری بُت انسان کی زندگی کو کِسی طور پر متاثر نہیں کر سکتے بیشک یہ بڑی گہری گمراہی ہے۔ " (ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ) ان کی گمراہی کا فاصلہ "راہِ راست" سے اس قدر زیادہ ہو گیا ہے کہ دوبارہ ہدایت کی امید بہت کم ہوگئی ہے۔ اس کے بعد اس کی بدتر کیفیت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے "وہ اس کو پکارتے ہیں جس سے فائدے کی نسبت نقصان کی امید زیادہ ہے (یَدْعُوا لَمَنْ ضَرُّہُ اَقْرَبُ مِنْ نَفْعِہِ) کیونکہ یہ مصنوعی معبود دُنیا میں ان لوگوں کی فکری نہج کو بہت پست کرکے خرافات کی طرف لے جاتے ہیں اور آخرت میں جلانے والی آگ کاتحفہ دیتے ہیں بلکہ سورہٴ انبیاء کی آیت نمبر ۹۸ کے مصداق۔ "إِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُونَ ” بیشک تم الله کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو دوزخ کا ایندھن ہیں اور تم ہی اس میں جانے والے ہو" آیہٴ مجیدہ کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: "کیا یہی بُرے سرپرست اور مونس ہیں" (لَبِئْسَ الْمَوْلَی وَلَبِئْسَ الْعَشِیرُ) ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ گزشتہ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ بُت نہ کسی کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نفع، مگر بعد کی آیت میں یہ بیان ہُوا ہے کہ ان کا نقصان نفع سے زیادہ قریب ہے تو کیا یہ دونوں آیتیں متضاد ہیں؟ اس کا جواب ہم روز مرّہ کی گفتگو میں ڈھونڈ سکتے ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو ہر قسم کے خواص سے عاری جانتے ہیں اور پھر اس کی اسی جہت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، اس کو ضرر و نقصان کا منبع کہہ دیتے ہیں مثلاً ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص سے راہ و رسم نہ بڑھاوٴ کیونکہ وہ نہ دُنیا میں تمھارے کام آسکتا ہے نہ آخرت میں اور پھر اس کی مذموم صفات کو اور بڑھا کر ظاہے کرنے کے لئے یوں کہتے ہیں بلکہ وہ تمھاری بدبختی اور ذلّت کا سبب ہے۔ مزید برآں یہ جو اُن کی طرف کسی کو نقصان نہ پہنچانے کی نسبت دی گئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کا کچھ بگاڑنے کی صلاحیّت نہیں رکھتے، لیکن جس نقصان کا ذکر ہے وہ ایک فطری اور لازمی نقصان ہے جو ان کی پوچا کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ افعل تفضیل کا صیغہ جیسا کہ "اقرب" اس کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ جن دو چیزوں کے درمیان موازنہ اور مقابلہ کیا جا رہا ہے، مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ ترکِ گناہ پر تھوڑی دیر صبر وتحمل کرنا دوزخ کی آگ سے بہتر ہے،۔تو اس سے ہماری مُراد ہرگز یہ نہیں ہوتی کہ دوزخ کی آگ میں کوئی اچھائی پائی جاتی ہے جس کے مقابلے میں صبر کرنا زیادہ اچھّا ہے، بلکہ یہاں یہ معنی ہے کہ دوزخ کی آگ ہر طرح کی اچھائی سے عاری ہے۔ اس آیہٴ مجیدہ کی مندرجہ بالا تفسیر جناب طوسی نے "تبیان"اور جناب طبرسی نے "مجمع البیان" میں بیان فرمائی ہے، البتہ بعض مفسرین مثلاً جناب فخر الدین نے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زیرِ بحث دونوں آیتوں میں الگ الگ بُت مراد لیے گئے ہیں، پہلی آیت میں پتھر، لکڑی اور دیگر جمادات کے بے جان اور بے حس بتوں کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں انسان نما طاغوتی بتوں کا ذکر ہے اوّل الذکر بُت کسی قسم کا نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتے، جبکہ موٴخر الذکر "ائمہ ضالّ" ہونے کے ناتے نقصان تو پہنچا سکتے ہیں، مگر فائدہ نہیں اور بالفرض کوئی چھوٹی موتی خوبی ان میں ہو بھی تو نقصان کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہ ہو گی ۔انہوں نے اپنے خیال کے ثبوت کے طور پر "لَبِئْسَ الْمَوْلَی وَلَبِئْسَ الْعَشِیرُ"کا جملہ پیش کیا ہے، لہٰذا کوئی تضاد باقی نہیں رہتا۔ (تشریحی نوٹ : البتہ "المیزان" کے فاضل موٴلف نے "یدعو " سے "یقول" مراد لیا ہے، جو آیت کے ظاہری معنیٰ سے بعید ہے۔) قرآن مجید کا اسلوب بیان یہ ہے کہ اچھے اور بُرے کا موازنہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ نتیجہ نکالنے میں کوئی دشواری نہ ہو، لہٰذا زیر بحث آخری آیت میں ارشاد ہو رہا ہے: "وہ لوگ جو ایمان لائے، جنھوں نے نیک کام کیے، الله ان کو ایسے باغات سے نوازتا ہے، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں ۔ (إِنَّ اللهَ یُدْخِلُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ) ۔ ان کا طرزِ عمل نہایت واضح، ان کے نظریات وافکار اور عملی خطوط متعین ہیں، ان کا سرپرست خود الله ہے اور ان کے ہمدم ومونس، انبیاء، شہداء، صالحین اور فرشتے ہیں ۔"بیشک الله جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے"۔ (إِنَّ اللهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیدُ) ۔ اتنی اعلیٰ اور بڑھیا جزاء اور بدلہ دینا اس کے لئے اتنا ہی آسان ہے، جتنا ضدی اور ہٹ دھرم مشرکین اور ان کے گمراہ سربراہوں کو عبرتناک سزائیں دینا۔ مندرجہ بالا موازنے میں وہ لوگ جو صرف زبانی کلامی ایمان لاتے ہیں، دراصل دین کے ایک کنارے پر کھڑے ہیں اور معمولی سے وہم اور وسوسے روگرداں ہوجاتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ ان کا کوئی نیک عمل بھی نہیں، لیکن صالحین اور مومنین دائرہ اسلام کے مرکز میں واقع ہیں اور کڑی سے کڑی آزمائش بھی ان کو متزلزل نہیں کر سکتی، ان کے ایمانی درخت کی مضبوط جڑیں ہیں اور ان کے اعمال صالح اس کے میٹھے پھلوں کی طرح شاخوں پر عیاں ہیں، زیرِ بحث آیتوں کے مفہوم کا ایک رُخ یہ ہے اور دوسرا یہ کہ گمراہ گروہ کے معبود کسی قسم کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، بلکہ مہلک وضرر رساں ہیں، جبکہ مومنین کا سرپرست صاحبِ قدرت ہے اور ان کے لئے طرح طرح کا دور قسم قسم کی نعمتیں مہیا کرتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت کی شان نزول بعض مفسرین نے یوں بیان کی ہے: "بنی اسد" اور بنی غطفان کہ جن کے ساتھ رسول الله کا ایک معاہدہ تھا، ان کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں خدا، محمد کی مدد بند نہ کردے۔ اس صورت میں ہم اپنے حلیف یہودیوں سے کٹ جائیں گے اور ان سے کھانے پینے کی اشیاء نہیں لے سکیں گے، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو تنبیہ کی گئی اور ان کی شدید مذمت کی گئی ۔ بعض دوسرے مفسرین نے شانِ نزول کے ضمن میں یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کا گروہ جو کُفّار پر شدّتِ غضب کی بناء پر کسی اقدام کے لئے بے قرار اور بے تاب تھا، یہ کہتا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی مدد کے سلسلے میں الله کا وعدہ کیوں پُورا نہیں ہو رہا؟ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی اور ان کی جلد بازی پر ان کی سرزنش کی گئی ۔ ( تشریحی نوٹ : ابوالفتوح رازی اور فخر الدین رازی کی تفاسیر ملاحظہ فرمائیں )
قیامت، تمام اختلافات کے خاتمے کا دن
گزشتہ آیتوں میں کمزور ایمان والے لوگوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی، زیرِ بحث آیتوں میں بھی ایک اور رُخ سے انہی کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے۔جو شخص اس وہم میں مبتلا ہے کہ الله دنیا وآخرت میں اپنے پیغمبر کی مدد نہیں کرے گا اور غیظ وغضب میں پیچ وتاب کھارہا ہے، اس سے جو بن پڑے کر گزرے چاہے اپنے گھر کی چھت سے رسہ باندھ کر اس سے لٹک جائے، اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور موت کی وادی میں جاپہنچے اور دیکھ لے، کیا اس طرح کا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ (مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَنْ یَنصُرَہُ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّمَاءِ ثُمَّ لِیَقْطَعْ فَلْیَنظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہُ مَا یَغِیظُ) اس تفسیر کو عظیم مفسرین نے ایک قابلِ توجہ احتمال کے طور پر پیش کیا ہے۔( بحوالہ :تفسیر مجمع البیان، تبیان، فخر الدین رازی، ابوالفتوح رازی، صافی، قرطبی اور المیزان ملاحظہ فرمائیں) اس تفسیر کے مطابق "لَنْ یَنصُرَہُ اللهُ" کی ضمیر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف پلٹتی ہے اور "سماء"سے مراد گھر چھت ہے (کیونکہ " سماء" لفظ ہر اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اُوپر کی طرف ہو) "لیقطع" دم گھٹنے، سانس بند ہونے اور موت کی حالت تک پہنچ جانے کے معنی میں ہے، اس کے علاوہ کئی اور احتمالات بھی ہیں، مگر ان سب کا ذکر ضروری نہیں، صرف دو قابل ملاحظہ ہیں ۔ ۱۔ (سماء) سے مراد آسمان ہے، وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ الله اپنے پیغمبر کی مدد نہیں کرے گا، وہ آسمان کی طرف جائیں ۔ یعنی آسمان پر چڑھ جائیں، اس میں ایک رسی لٹکائیں اور اس کا پھندا بناکر زمین و آسمان کے درمیان پھانسی پالیں تاکہ ان دم گھٹ جائے (یا لٹک کر خود رسی کو کاٹ لیں تاکہ دھڑام زمین پر آرہیں) پھر دیکھو ان کو کچھ سکون میسر آتا ہے؟ ۲۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ مذکورہ ضمیر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی بجائے خود ان اشخاص کی طرف پلٹتی ہے، یعنی ان کی طرف جو اس بدگمانی کا شکار ہیں اس طرح زیرِ بحث آیت کامعنیٰ یہ ہو گا کہ "وہ افراد جن کا یہ خیال ہے کہ خدا ان کی مدد نہیں کرتا اور ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی روزی بند ہوجاتی ہے،۔جو کچھ ان سے ہوسکتا ہے کرلیں، آسمان کی طرف چلے آئیں اور اپنے آپ کو ایک رسّی سے لٹکائیں پھر اسی رسی کو کاٹ کر گریں تو کیا یوں ان کا غصّہ ٹھنڈا ہو گا ' قابل توجہ بات یہ ہے کہ تمام مفسرین نے کم حوصلہ، زود رنج اور کمزور ایمان والے اشخاص کے بارے میں نفسیاتی لحاظ سے روشنی ڈالی ہے کہ جس وقت ان کی حالت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کو آگے راہ نہ ملے تو وہ گھبرا کر جنونی حرکتیں کرنے لگتے ہیں، کبھی دیواروں پر مُکّے برساتے ہیں، تو کبھی یہ چاہتے ہیں کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائیں، آخرکار اپنے قہر وغضب کو ختم کرنے کے لئے خودکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں، جبکہ ان میں سے کوئی بھی حرکت ان کی مشکل حل نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس، اگر وہ صبر وتحمل سے کام لیں، الله پر بھروسہ رکھیں، خود اعتمادی پیدا کریں اور مسائل کا مقابلہ استقامت سے کریں تو مسائل کا حل یقیناً ممکن ہے۔اس کے بعد کی آیت گزشتہ تمام آیتوں کا مفہوم سمیٹے ہوئے بیان کرتی ہے: اس طرح ہم نے قرآن کو کُھلی نشانیوں کی صورت میں نازل کیا ہے (وَکَذٰلِکَ اَنزَلْنَاہُ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ) ۔ معاد اور قیامت کے وجود کے ضمن میں دلائل دیتے ہوئے، انسان کا جنینی دور، نباتات کی نمو، بالیدگی اور مردہ زمینوں کی سرسبزی وشادابی کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بتوں کی نااہلی کے دلائل ہیں اور آخر میں ان لوگوں کے بارے میں بیان ہے جو دین کو مادی مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں، اس کے بعد آیت آخر میں بیان کرتی ہے اس سب کچھ کے باوجود صرف واضح اور کھُلی نشانیاں ہی کافی نہیں ہیں، بلکہ قبول حق کے لئے ذہنی آمادگی کی ضرورت ہے۔ "اور الله جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے" (وَاَنَّ اللهَ یَھْدِی مَنْ یُرِیدُ) ہم نے اکثر کہا ہے کہ الله کا ارادہ اور خواہش بغیر کسی وجہ کے نہیں ہوا کرتی، وہ حکیم ومدبر ہے اور اس کے تمام اقدامات کسی خاص قانون کے تحت ہوتے ہیں،۔جو شخص اس کی راہ میں جہاد کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور دل سے ہدایت کا خواہاں ہو تو وہ اس کی واضح راہنمائی کرتاہے۔ (تشریحی نوٹ : "اَنَّ اللهَ یَھْدِی مَنْ یُرِیدُ "اس جملے کے بارے میں مشہور یہی ہے کہ اس میں مبتداء محذوف ہے اور دراصل یہ جملہ یوں ہے: " الامر ان الله یھدی من یرید " دوسرا احتمال یہ ہے کہ "انّ " (الف پر زبر اور زیر دونوں) کے معنی میں ہو اور درمیان میں کوئی لفظ محذوف ہو)۔ زیر بحث آخری آیت چھ مختلف مذاہب کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جن میں ایک مسلمان اور مومن ہیں: صاحبانِ ایمان اور یہودیوں، صائبیوں، عیسائیوں، مجوسیوں اور مشرکوں کے درمیان، قیامت کے دن، الله فیصلہ فرمائے گا اور حق کو باطل سے الگ کرے کر دکھائے گا۔ (إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ھَادُوا وَالصَّابِئِینَ وَالنَّصَاریٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِینَ اَشْرَکُوا إِنَّ اللهَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ) ۔ قیامت کے دن جتنے نام آئے ہیں ان میں "یوم فصل" یعنی حق کو باطل سے الگ کرنے کا دن "یوم البروز" چھپے ہوئے حقائق سے آشکار ہوجانے کا دن اور اختلافات مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دن بھی ہیں،۔ضرور بالضرور اس دن تمام اختلافات کو مٹا دے گا کیونکہ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (إِنَّ اللهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدٌ) ۔
چند اہم نکات: 1.آیتوں کا ایک دوسرے سے تعلق
اس آیہٴ مجیدہ کا تعلق پچھلی آیت سے اس طرح ہے کہ پچھلی آیہٴ میں ہدایت چاہنے والوں کی ہدایت کا ذکر تھا، چونکہ ہر دل ہدایت پسند نہیں ہوا کرتا اور تعصّب ہٹ دھرمی اور اندھی تقلید ہدایت حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے کہ یہ دھڑے بندیاں اور اختلافات قیامت تک باقی رہیں ہے، صرف اس دن تمام چھپے ہوئے حقائق واضح ہوں گے اور اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ علاوہ بر ایں، پہلی آیتوں میں تین قسم کے لوگوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی، ایک وہ جو بلا کسی دلیل وثبوت کے خدا اور قیامت پر بحث کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں اور تیسرے کمزور ایمان والے جو ہوا کے رُخ پر اُڑنے والے ہیں،۔کبھی ادھرکبھی اُدھر ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں صاحبانِ ایمان کے مقابلے میں آنے والے گروہوں میں سے بعض نمونے کے طور پر بیان کئے گئے ہیں ۔اس سے قطع نظر گزشتہ آیتوں میں قیامت کے اغراض ومقاصد کے بارے میں گفتگو تھی ۔جبکہ یہ آیہ کہتی ہے قیامت کا ایک مقصد اختلافات کو مکمل ختم کرکے یگانگت کو معرض وجود میں لانا ہے۔
2. مجوسی کون ہیں؟
سارے قرآن مجید میں صرف اس آیہٴ میں "مجوسی "آیا ہے۔ اس لحاظ سے کہ مجوسیوں کو مشرکین کے مقابلے میں آسمانی ادیان کے پیرؤوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔قرینِ قیاس ہے کہ مجوسی بھی کسی نبی کی امت اور کسی دین کے پیرو تھے۔ البتہ آج کل زردتشت کی تاریخ میں مجوسیوں کا کوئی ذکر نہیں اور مورخین نے زرتشت کو حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کے گیارہ یا چھ سات صدیاں پہلے لکھا ہے (اعلام القرآن، ص۵۰۰) اس حیران کن اختلاف سے ظاہر ہے کہ زرتشتی تاریخ کس قدر مبہم ہے۔ مشہور یہ ہے کہ زرتشت "اوستا" نامی کتاب رکھتا تھا جو ایران پر سکندرِ اعظم کے قبضے کے وقت ناپید ہوگئی اور ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں دوبارہ لکھی گئی ۔( بحوالہ : تفسیر المیزان، ج۱۴، ص۳۹۲) زرتشتیوں کے نظریات کے بارے میں بھی خاص معلومات نہیں ملتیں البتہ دو مبداء (خیر وشر یا نور وظلمت) کا عقیدہ مشہور ہے، بھلائی اور نور کے خدا "اہوزامزدا" اور برائی اور ظلمت کے خدا "اھریمن"کہتے ہیں۔ ہوا، پانی، مٹی اور آگ چار عناصر کا احترام کرتے ہیں۔آگ سے خاص لگاوٴ رکھتے ہیں۔ جہاں بھی ہوں، چھوٹا موٹا آتشداں ضرور بنالیتے ہیں ۔اس لئے ان کو آتش پرست بھی کہتے ہیں ۔ بعض لفظ "مجوس" کو جو اس مذہب کے علماء اور پیشواوٴں کے لئے بولا جاتا ہے "مغ" سے مشتق سمجھتے ہیں اور لفظ "موٴبد" جو آج کل ان کے علماء کے لئے مستعمل ہے در اصل "مغود" سے ہی ہے، اسلامی روایات میں انہیں کسی نبی(علیه السلام) کی امّت قرار دیا گیا ہے، بعد میں یہ لوگ بھٹک کر شرک آمیز نظریات اپنا بیٹھے۔ ایک روایت ہے کہ مکہ کے بعض مشرکین نے رسول الله سے عرض کیا کہ جزیہ لے کر انہیں بت پرستی کی اجازت دے دیں ۔ آپ نے فرمایا میں اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ نہیں لیتا، انہوں نے اعتراض کیا کہ آپ تو "ھجر"کے باسی مجوسیوں سے بھی جزیہ لیتے ہیں، تب آپ نے فرمایا: "انّ المجوس کان لھم نبی فقتلوہ وکتاب احرقوہ" "مجوسی ایک نبی کی امّت تھے جسے انہوں نے قتل کر دیا اور ایک کتاب رکھتے تھے جسے انہوں نے جلا ڈالا"۔(بحوالہ:وسائل الشیعہ: ج۱۱، ابواب جہاد العدو، باب ۴۹، ص۹۶) "اصبغ بن نباتہ" سے ایک اور روایت ہے کہ حضرت امیر(علیه السلام) نے ایک دفعہ بر سر منبر فرمایا: "سلونی قبل ان تفقدونی" "اپنے درمیان مجھے نہ پانے سے پہلے مجھ سے جو چاہو پوچھ لو " مشہور زمانہ منافق اشعث بن قیس کھڑا ہوا اور پوچھا: یا امیرالمومنین! مجوسیوں سے جزیہ کس طرح لیا جا سکتا ہے جبکہ نہ وہ کسی نبی کی امت میں ہیں، نہ کسی کتاب کے پیرو؟ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: قد انزل الله الیھم کتاباً وبعث الیھم نبیاً الله نے ان پر ایک کتاب نازل کی تھی اور ایک نبی ان کی طرف بھیجا تھا۔(بحوالہ :وسائل الشیعہ: ج۱۱، ابواب جہاد العدو، باب ۴۹، ص۹۶) امام سجاد، علی بن الحسین علیہما السلام نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: سنّوا بھم سنّة اھل الکتاب، یعنی المجوس "مجوسیوں سے اہل کتاب کا سا برتاوٴ کیا کرو"(بحوالہ :وسائل الشیعہ: ج۱۱، ابواب جہاد العدو، باب ۴۹، ص۹۶) یاد رہے کہ مجوسی کی جمع مجُوس ہے۔
3.صائبین کون؟
مذکورہ بالا آیت سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صائبین بھی کسی آسمانی دین کے پیرو تھے۔خصوصاً جبکہ ان کا ذکر یہود ونصاریٰ کے درمیان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین انہیں حضرت یحییٰ بن زکریا(علیه السلام) جنھیں عیسائی یحییٰ تعمید دھندہ کہتے ہیں کے پیرو سمجھتے ہیں۔ دوسرے مفسرین کے مطابق صائبین وہ لوگ ہیں جنھوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے نظریات کو مخلوط کرکے ایک نیا مذہب بنالیا ہے۔ لہٰذا یہ لوگ دونوں کے درمیان واسطہ سمجھے جاتے ہیں ۔ "صائبین" بہتے پانی سے خاص عقیدت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی زیادہ تر آبادیاں بڑے بڑے دریاوٴں کے کنارے واقع ہیں۔ بعض مفسرین نے ان پر ستارہ پرست ہونے کا الزام بھی لگایا ہے، اگرچہ مذکورہ بالا آیہٴ مجیدہ اس پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ ان کا ذکر مشرکین کی صف میں نہیں کیا گیا (مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی پہلی جلد سورہٴ بقرہ کی آیت نمبر۶۲ کی تشریح سے رجوع کیجئے ۔
4. توحید سے انحراف کرنے والے گروہوں کی تربیت
مذکورہ بالا آیت میں تحریف شدہ پانچ مذاہب کا ذکر کیا گیا ہے ان کی ترتیب غالباً توحید سے درجہٴ انحراف کے مطابق ہے، مسلمانوں کے بعد سب سے پہلے یہودیوں کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ توحید سے ان کا انحراف کچھ کم درجے کا ہے۔ اس کے بعد صائبین کا ذکر ہے جو عقائد کے اعتبار سے یہودیوں اور نصاریٰ کے درمیان ہیں اس لئے دوسرے نمبر پر ہیں،۔تیسرے نمبر پر تثلیث کے قائل نصاریٰ کا ذکر ہے۔ ان کے بعد سارے عالم کوو خیر وشر کے دو حصّوں میں تقسیم کرنے والے اور ہر شعبے کے لئے دو مبداء کے قائل مجوسی ہیں۔ آخر میں بت پرست اور مشرکین جو توحید کے بالکل برعکس، ہیں کا ذکر کیا گیا ہے۔
عالم کی تمام موجودات اس کی بارگاہ میں سربسجود ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتیں مبداء ومعاد کے بارے میں زیر بحث آیت اسی مضمون کی تکمیل کرتے ہوئے مسئلہ توحید اور خدا شناسی کو پیش کر دیتی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے: کیا تو نہیں دیکھتا کہ آسمانوں پر رہنے والے اور وہ جو روئے زمین پر ہیں سب کے سب الله کی بارگاہ میں سر بسجود ہیں اور سورج چاند ستارے پہاڑ،درخت اور چلنے پھرنے والے جانور بھی (اَ لَمْ تَر اَنَّ اللهَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ) ۔ اور بہت سے لوگ بھی سجدہ کرتے ہیں جبکہ دوسرے بہت سے انکار کرتے ہیں اور مستو جب عذاب ٹھہرتے ہیں (وَکَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ وَکَثِیرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ) ۔ اس کے بعد کہا جا رہا ہے: "یہ لوگ خدا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور جو خدا کے حضور بے وقعت ہو اس کی کوئی توقیر نہیں کرتا اور وہ سعادت وثواب سے بہرور نہیں ہوتا "(وَمَنْ یُھِنْ اللهُ فَمَا لَہُ مِنْ مُکْرِمٍ) ۔ "بےشک خدا جس کام کو قرین مصلحت سمجھتا ہے انجام دیتا ہے" صاحبانِ ایمان کو باعزت واحترام اور منکرین کو ذلیل وخوار کرتا ہے (إِنَّ اللهَ یَفْعَلُ مَا یَشَاءُ)
چند نکات: 1. یہ سب چیزیں سجدہ کس طرح کرتی ہیں؟
قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں تمام موجودات کے سجدہ کرنے، تسبیح وتقدیس کرنے، حمد بیان کرنے اور نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا چار عبادتیں صرف انسانوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ جمادات تک اس میں شریک ہیں، اگرچہ سورہٴ رعد (جلد پنجم) اور سورہٴ اسراء (جلد ششم) میں علی الترتیب آیت ۵ اور ۴۴ کی تشریح کرتے ہوئے ہم نے اسی موضوع پر کسی قدر بحث کی ہے۔ لیکن یہاں بھی اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر کچھ اشارے کرنا چاہتے ہیں، زیر بحث آیت میں جس سجدے کا ذکر ہے اس کی دو قسمیں ہیں یعنی عالم موجودات کی تمام چیزیں یا سجدہٴ تکوینی کرتی ہیں یا سجدہٴ تشریعی۔ فطرت اور عالم اسباب کے قوانین کے تحت ہر ایک شے کا بغیر کسی شرط کے کمال خضوع وخشوع کے ساتھ تسلیم حق رہتے ہوئے اپنے کام میں سجدہٴ تکوینی ہے، کائنات کا ایک ذرّہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں حتّیٰ کہ بڑے بڑے نافرمانوں نمرود اور فرعون کے دماغوں کے خلیے اور ان کے جسموں کے تمام ذرات بھی یہ سجدہ کرتے رہے ہیں ۔ محققین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ کائنات کے تمام ذرّات ایک قسم کا ادراک وشعور رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے زبانِ حال سے الله کی حمد وتسبیح بجالاتے ہیں، اور یہی ان کا سجدہ اور نماز ہے (اسی مفہوم کو ہم نے سورہٴ اسراء کی آیت نمبر ۴۴ کی تشریح کے ذیل میں بیان کیا ہے) اور اگر ذرّات کا شعور تسلیم نہ کیا جائے تو ذرّات کا عالمِ ہستی کے خاص نظام کے تحت محو کار رہنا کسی طور پر قابلِ انکار نہیں ہے۔ البتہ سجدہٴ تشریعی، ذوالعقول کی طرف سے معرفت وشعور کے ساتھ بارگاہ ربُ العزّت میں سجدہ ریز ہونے کو کہتے ہیں ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان بھی اسی کائنات میں سے ہے اور جبکہ مذکورہ بالا آیت میں تمام کائنات کے سجدے کا ذکر ہوا تو انسان بھی اس میں آگیا، پھر انسان کا ذکر الگ سے کیوں کیا گیا؟ تھوڑی سی توجہ کرنے سے جواب بالکل واضح ہوجاتا ہے، وہ اس طرح کہ اس آیت میں لفظ "سجدہ" "تشریعی وتکوینی" دونوں قسم کے سجدوں کو دامن میں لئے ہوئے ہے، چنانچہ سورج، چاند ستارے، پہاڑ درخت اور جانوروں کے لئے تکوینی، لیکن انسان کے لئے تشریعی مراد لیا گیا ہے، جسے بہت سے لوگ بجالاتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگ روگردانی بھی کرتے ہیں، اور " کَثِیرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ " کا مصداق بنتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک لفظ کا جامع اور وسیع مفہوم میں استعمال اس کے کئی ایک مصادیق کے ہوتے ہوئے بھی کسی خلل کا سبب نہیں ہوتا، یہ اصول تو انھوں نے بھی مانا ہے جو کسی مشترک کا متعدد معانی میں استعمال صحیح نہیں سمجھتے چہ جائیکہ جو صحیح سمجھتے ہوں (غور کیجئے گا) ۔
2. کیا فرشتوں کا سجدہ تشریعی ہے؟
بے شک (یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ ۔ ۔ ) کے جملے میں فرشتے بھی شامل ہیں، لیکن ان کا سجدہ کون سا ہے "تکوینی" یا "تشریعی"؟ اگر فرشتوں کی عقل وشعور اور صاحب ارادہ ہونے کو مدّنظر رکھا جائے تو ان کا سجدہ "تشریعی" نظر آتا ہے یعنی ارادہ اور اختیار کے ساتھ باخضوع وخشوع بطور عبادت انجام پاتا ہے۔سورہٴ تحریم آیت۶ میں ارشاد ہوتا ہے: " لایعصون الله ما امرھم ویفعلون مایوٴمرون ” "الله کے کسی حُکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم دیا جاتا ہے بجالاتے ہیں۔ "
3. چند سوالات اور ان کے جوابات
۱۔ "مَنْ فِی الْاَرْضِ" کے جُملے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہاجا سکتا ہے کہ اس میں انسان بھی شامل ہیں ۔ لیکن اس کے بعد " کثیر من الناس " کیوں آیا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ " کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ" کا جملہ "مَنْ فِی الْاَرْضِ" کے جملہ کی وضاحت کے لئے آیا ہے، یعنی زمین پر رہنے والے دو گروہ ہیں، ایک الله تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکنے والا مومنین کا گروہ، دوسرا باغی کافروں کا گروہ،۔بعض مفسرین نے ایک اور خیال کا اظہار کیا ہے، وہ یہ کہ "مَنْ فِی الْاَرْضِ" کا جملہ جو عمومی حیثیت رکھتا ہے "سجود تکوینی" کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں تمام انسان حتّیٰ کہ کافروں کے وجود کا ایک ایک جز بھی شامل ہے، جبکہ "کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ" کا جملہ صرف "سجود تشریعی" کی طرف اشارہ ہے، جس کے لحاظ سے ان کا عمل مختلف ہے۔ ایک احتمال اور بھی ہے کہ "مَنْ فِی الْاَرْضِ" در اصل زمین پر رہنے والے فرشتوں کے لئے آیا ہے، جس طرح "مَنْ فِی السَّمَاءِ " آسمان پر رہنے والے فرشتوں کے لئے ہے اور " کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ" زمین پر بسنے والے انسانوں کے لئے آیا ہے۔ ۲۔ زیرِ بحث آیت میں آسمان وزمین پر بسنے والوں کا ذکر ہے، خود آسمان وزمین کا کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ "نجوم" کے ذکر سے خود آسمان کا ذکر کیا گیا ہے اور "جبال" جو زمین کا ایک اہم حصّہ ہے، کے ذکر سے زمین کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ ۳۔ آخری سوال یہ ہے کہ آیت کے شروع میں "الم تر" (کیا تو دیکھتا نہیں) کیوں فرمایا گیا ہے، حالانکہ موجودات عالم کا تکوینی سجدہ آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں "روٴیت" "علم" کے معنی میں بھی کرتا ہے، اس کے علاوہ کبھی کبھی بہت ہی واضح حقائق کو مشاہدے کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، مثلاً کیا آپ دیکھتے نہیں کہ فلاں شخص زیادہ حاسد اور بخیل ہے یا فلاں شخص عالم اور عادل ہے، حالانکہ حسد، بخل علم اور عدل ایسی صفات نہیں ہیں کہ جو دیکھی جاسکیں دراصل یہاں ان الفاظ سے مراد علم ویقین کا ادراک ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4شیعہ اور سنی مفسرین میں سے بعض نے مذکورہ بالا آیات میں پہلی آیت کی شان نزول یوں نقل کی ہے: جنگِ بدر میں مُسلمانوں کی طرف سے جناب امیر، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب میدان کارزار میں نکلے اور ولید بن عتبہ، عتبہ بن ربیع اور شیبہ بن ربیعہ کو قتل کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی اور مجاہدین کا یہ واقعہ بیان کیا۔ ابوذرغفّاری قسم کھایا کرتے تھے کہ یہ آیت ان جوانمردوں کی شان میں نازل ہوئی ہے۔( بحوالہ : طبرسی نے مجمع البیان، فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر، آلوسی نے روح المعانی، سیوطی نے اسباب النزول اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے ) لیکن متعدد بار اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ کسی آیت کا کسی ذات کے ساتھ مخصوص ہونا اس کے عمومی مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
دو مدّمقابل گروہ
گزشتہ آیتوں میں مومنین سے ایک گروہ اور کفار کے مختلف گروہوں کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ مومنین اور غیر مومنین اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کررہے ہیں ۔ (ھٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّھِمْ) (تشریحی نوٹ : "خصمان" میں تثنیہ ہے مگر "اختصمو" جو "خصمان" کا فعل ہے، جمع ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ مخالف دو اشخاص نہیں بلکہ دو گروہ ہیں۔ مزید برآں کہ یہ دو مخالف گروہ صرف دو معنوں میں نہیں ہیں بلکہ چند معنوں میں ہیں، ہر گروہ باقیوں سے پیکار کے لئے کھڑا ہوتا ہے) ۔ کفار کے پانچ گروہ ایک طرف اور مومنین کا ایک گروہ دوسری طرف۔ اگر بغور سوچیں تو معلوم ہو گا کہ تمام ادیان میں اختلاف کی بنیاد پروردگار کی ذات وصفات پر ہی ہے۔ نتیجةً اختلافات نبوت اور معاد وقیامت تک بڑھ جاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم یہاں لفظ "دین "کو مقدر مانیں اور کہیں کہ ان کا جھگڑا اپنے پروردگار کے دین کے بارے میں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام تر اختلاف کی جڑ اور بنیاد توحید میں اختلاف ہے اور اصل میں تمام مسخ شدہ اور تحریف شدہ باطل ادیان کسی نہ کسی طرح کے "شرک" میں مبتلا ہیں۔ جس کے آثار ان کے تمام تر عقائد سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد کی آیت میں کفار کے لئے چھ قسم کی سزاوٴں کا ذکر ہے، وہ کفار جو جان بوجھ کر دیدہ ودانستہ حق کا انکار کرتے ہیں سب سے پہلے ان کے کپڑوں اور لباس کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کے کپڑے آگ سے تیار کئے جائیں گے (فَالَّذِینَ کَفَرُوا قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِنْ نَارٍ) ۔ ہو سکتا ہے اس سے مراد یہ ہو کہ واقعی آگ کے ٹکڑے الگ کرکے لباس کی طرح سیئے جائیں گے یا اس سے مراد ہو کہ آگ ان کو چاروں طرف سے لباس کی طرح گھیر لے گی ۔ اس کے بعد "حمیم " کا ذکر ہے یعنی دوزخ کا کھولتا ہوا مائع ان کے سروں پر انڈیلا جائے گا۔ (یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُوسِھِمْ الْحَمِیمُ) ۔ (تشریحی نوٹ: "حمیم" یعنی گرم اور جلادینے والا پانی) یہ حمیم ان کے بدن کے ظاہر وباطن کو اس طرح متاثر کرے گا کہ یہ ان کے اندر کو بھی پگھلادے گا اور باہر کو بھی (یُصْھَرُ بِہِ مَا فِی بُطُونِھِمْ وَالْجُلُودُ) ۔ (تشریحی نوٹ : "یصھر، صھر" (بروزن قہر) کے مادہ سے ہے، اس کا معنی چربی پگھلانے کے ہیں البتہ "صھر" بروزن "فکر" دولھا کے معنی میں ہے) تیسرا یہ کہ جلانے والے آہنی تازیانے یا گرز ان کے لئے تیار ہیں ۔ ( وَلَھُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِیدٍ) (تشریحی نوٹ : "مقامع" "مقمع" بروزن منبر کی جمع ہے، اس کا معنی ہے آہنی گرز اور کوڑا، جو کسی کو روکنے یا سزا دینے کے لئے مارا جاتا ہے۔) چوتھی سزا ان کی یہ ہو گی کہ جب کبھی وہ تکالیف سے تنگ آکر دوزخ سے نکلنے کی کوشش کریں گے، فوراً ان کو وہیں لوٹا دیا جائے گا اور یوں مخاطب کیا جائے گا کہ جلادینے والا عذاب چکھو۔ (کُلَّمَا اَرَادُوا اَنْ یَخْرُجُوا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیدُوا فِیھَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ) ۔ اس کے بعد والی آیت میں موازنہ کرتے ہوئے صالحین اور مومنین کی خوشحالی کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ دونوں گروہوں کی کیفیت کی تشخیص میں آسانی ہوسکے، مومنین کی جزا کے بھی پانچ درجات بیان کئے گئے ہیں ۔ ۱۔ پہلے ارشاد ہوا ہے: "الله صاحبان ایمان اور اعمال صالح کرنے والوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں (إِنَّ اللهَ یُدْخِلُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ) گویا کفار کو آگ میں جلائے جانے کے مقابلے میں مومنین نہروں والے باغوں میں آرام وسکون میں ہوں گے ۔ ۲۔ مومنین کے لباس اور زیب وزینت کی کیفیت یوں بیان کی گئی ہے کہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے جڑے ہوں گے اور ریشمی پوشاکیں زیب تن کئے ہوں گے (یُحَلَّوْنَ فِیھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُھُمْ فِیھَا حَرِیرٌ) ۔ (تشریحی نوٹ : "اساروا" "اسورة" (بروزن مشورہ) کی جمع ہے اور یہ بھی "سوار" (بروزن کتاب) کی جمع ہے، اس کا معنی ذست بند یا کنگن کے ہیں، "سوار " فارسی کے لفظ "دستوار" سے عربی میں منتقل ہوا ہے اور عربی میں اس کی یہ صورت ہو گئی ہے۔) ۳۔ اس طرح مومنین جنّت میں بہترین لباس زیب تن کئے ہوئے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں جڑاء کنگن ہوں گے ۔جس سے اس دنیا میں ممانعت تھی کیونکہ دنیا میں ایسے لباس اور آرائش غرور وغفلت کا باعث بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں، دیگر عوام کی محرومیت کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جنّت میں تو یہ مسائل ہی نہیں، لہٰذا پابندیاں اٹھادی جائیں گی اور دنیا میں ممانعت کی تلافی کر دی جائے گی ۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اُس جہاں کی ماہیت وکیفیت اس دنیا سے بالکل الگ ہے، لہٰذا جس کیفیت کو ہم نے مروجہ الفاظ سے بیان کیا ہے اور دنیوی الفاظ استعمال کرکے جو معانی ہمارے ذہنوں میں اُبھرتے ہیں وہاں اس سے کہیں ارفع واعلیٰ حقائق ومصادیق موجود ہوں گے ۔ ۴، ۵۔ مومن کی چوتھی اور پانچویں جزا اور نعمتیں خالصتاً معنوی ہیں، ارشاد ہوتا ہے، انھیں پاکیزہ باتوں کی طرف رہنمائی کی جائے گی (وَھُدُوا إِلَی الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ) یعنی ایسی روح پرور اور نشاط آفرین جو صاف سُتھرے الفاظ اور پُرمغز معنیٰ پر مشتمل ہو اور رُوح کو مدارج کمال کی طرف بڑھائے اور انسان کو فرحت بخشے اور اس کی روحانی نشو ونما کا باعث ہو۔ اور لائق حمد و ثنا اللہ کی راہ کی طرف ان کی ہدایت کی جائے گی (وَھُدُوا إِلَی صِرَاطِ الْحَمِیدِ) (تشریحی نوٹ : لفظ "حمید" "محمود" کے معنی میں اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو قابل ستائش ہو، یہاں الله مراد ہے، اس بناپر "صراط الحمید" یعنی وہ راہ جو الله تعالیٰ کے قرب اور خوشنودی کے مقام کی جاتی ہو، البتہ آلوسی نے "روح المعانی" میں بیان کیا ہے کہ یہاں "حمید صراط" کی صفت بیانیہ ہے، اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ قابل تعریف راستے کی طرف راہنمائی کی جائے گی، لیکن ہماری نظر میں پہلا مطلب زیادہ صحیح ہے ) یعنی خدا شناسی کی راہ، قرب پروردگار عالم کی راہ اورعشق وعرفان کی راہ۔ بے شک الله مومنین کو ان مفاہیم کی طرف ہدایت کرکے روحانی لذّت کے آخری درجہ تک لے جاتا ہے۔ ایک مشہور مفسّر علی بن ابراہیم نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ "طیّب من القول" سے مراد توحید اور اخلاص ہے اور "صراط الحمید" سے مراد ولایت اور الله کے مقرر کردہ رہبروں کی قیادت کو قبول کرنا ہے۔ ہماری نظر میں یہ حدیث زیرِ بحث آیت کا بہترین مصداق ہے۔ مذکورہ بالا آیتوں کی شان نزول اور مختلف تفاسیر وتعبیرات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ تکلیف دہ اور اذیّت ناک شدید عذاب کفار کے اس گروہ کے لئے ہے۔ جو الله کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ کفار کے ان سرغنوں اور سرداروں میں سے کچھ ان لوگوں کی طرح ہیں جو میدانِ بدر میں جناب امیر(علیه السلام)، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث کے مقابلے میں نکلے تھے ۔
خدا کے گھر سے روکنے والے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں مطلق طور پر کفار کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ جبکہ اس آیت میں ان میں سے ایک خاص گروہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جو نافرمانیوں اور سنگین گناہوں کے مرتکب ہوتے تھے علی الخصوص مسجد حرام اور حج کے عظیم الشان اجتماعات کے سلسلے میں رکاوٹیں ڈالتے تھے۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے، جو لوگ کافر ہو گئےاور وہ راہ حق سے دوسرے کو روکتے ہیں (إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ) ۔ اس طرح وہ مومنین کو توحید کے مرکز مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ وہ مرکز جسے ہم نے ہر ایک لئے یکساں قرار دیا ہے، چاہے وہیں کا باسی ہو یا کسی اور جگہ سے آیا ہو (وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِی جَعَلْنَاہُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاکِفُ فِیہِ وَالْبَادِ) ۔ چنانچہ جو بھی اس حق سے روگرداں ہو گا اور ظلم وستم سے اپنے ہاتھ آلودہ کرے گا، ہم اسے اذیت ناک عذاب کا مزہ چکائیں گے (وَمَنْ یُرِدْ فِیہِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیمٍ) ۔ حقیقت یہ ہے کہ کفار کا یہ گروہ انکار حق کے علاوہ تین بڑے گناہوں کا مرکتب ہوا ہے۔ ۱۔ راہِ خدا، ایمان اور الله کی اطاعت میں رکاوٹ ڈالنا ۔ 2۔ زائرین کو اور عبادت کرنے والوں کوحرم خدا تک نہ پہنچنے دینا اور حرم خدا پر اپنا حق فائق قرار دینا ۔ 3۔ اس مقدس سرزمین پر ظلم والحاد اور گناہ کا بازار گرم کرنا، چنانچہ دردناک عذاب کے مستحق اس گروہ کو الله سزا دے گا۔
چند اہم نکات: 1. دو مختلف صیغے
اس آیت میں مذکورہ گروہ کے بارے میں کفر کا ذکر ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے، جبکہ راہِ حق میں رکاوٹ بننے کا ذکر مضارع کے صیغے کے ساتھ ہے،۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا کفر قدیمی ہے، مگر لوگوں کو راہِ حق سے ہٹانے کی ان کی کوششیں مسلسل اور دائمی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں "کفر" کا تعلق چونکہ عقائد کے ساتھ ہے اور یہ ایک ثابت شئے ہے، لہٰذا فعل ماضی کے ساتھ آیا ہے، جبکہ "صد عن سبیل الله" عملی کیفیت ہے، لہٰذا فعل مضارع کے ساتھ آیا ہے۔
2. صد عن سبیل اللہ کیا ہے
اس سے مراد ایمان اور اعمال صالح کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنا ہے، چاہے صرف نشرواشاعت اور پروپیگنڈے کی حد تک ہو یا عملی اقدامات کی صورت میں ہو، اس میں سب شامل ہیں ۔
3. اس منبع فیض میں تمام لوگ برابر کے شریک ہیں
"سَوَاءً الْعَاکِفُ فِیہِ وَالْبَاد" اس جملے کے مفہوم کے بارے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس مرکز توحید میں استحقاق عبادت سب کو یکساں طور پر حاصل ہے اور مناسکِ حج یا دیگر عبادات کی بجاآوری کے لحاظ سے کسی کے خانہٴ خدا کے نزدیک کسی کے معاملے میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ البتہ بعض نے اس مفہوم کی حُدود عبادات سے بڑھا کر تمام حقوق تک بیان کی ہیں۔ یعنی مکّہ اور اس کے گرد ونواح میں رہن سہن کا بھی سب کو یکساں طور پر حق ہے۔ اسی بناء پر بعض فقہاء کا فتویٰ ہے کہ مکہ میں گھروں کی خرید وفروخت اور کرایہ داری حرام ہے۔ اور انھوں نے استدلال کے طور پر اسی آیت کو پیش کیا ہے۔ بعض روایات میں بھی حرمِ خدا کے زائرین کو مکّہ کے مکانات میں قیام سے روکنے سے منع کیا گیا، البتہ بعض میں ممانعت حرمت کے اعتبار سے ہے اور بعض میں کراہت کے لحاظ سے ۔ نہج البلاغہ کے خطوط نمبر ۶۷ میں جناب امیر علیہ السلام نے اپنے دور کے مکّہ کے گورنر جناب قثم بن عباس کو خط تحریر فرمایا ہے وہ یوں ہے: "ومراھل مکة ان لایاخذوا من ساکن اجراً، فانّ الله سبحانہ یقول سَوَاءً الْعَاکِفُ فِیہِ وَالْبَاد فالعاکف المقیم بہ، البادی الذی یحج الیہ من غیر اھلہ" "اہل مکّہ کو حکم دو کہ جو لوگ شہر میں سکونت اختیار کریں، ان سے کوئی کرایہ نہ لیاجائے، کیونکہ الله فرماتا ہے کہ مقامی اور مسافر حقوق رکھتے ہیں" اور "عاکف "سے مراد مقامی لوگ ہیں اور "بادی" مختلف علاقوں سے حج کے لئے آنے والے کو کہتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام سے بھی اسی طرح کی ایک روایت ہے: "کانت مکّة لیست علیٰ شیء منھا باب، وکان اوّل من علی بابہ المصراعین، معاویة بن ابی سفیان ولیس ینبغی لاحدٍ ان یمنع الحاج شیئاً من الدور ومنازلھا"۔ "صدر اسلام میں مکّہ میں گھروں کے دروازے نہیں ہوتے تھے، پہلا شخص جس نے اپنے گھر کا دروازہ لگایا، معاویہ تھا اور مناسب نہیں کہ کوئی شخص حاجیوں کو مکّہ کے گھروں میں داخل ہونے سے روکے ۔ اس طرح کی بعض اور روایتوں سے یہ مفہوم ملتا ہے کہ خانہٴ خدا کے زائرین کا یہ حق ہے کہ مناسک حج کے اختتام تک گھروں کے صحنوں سے استفادہ کریں ۔ البتہ یہ حکم بعد والی بحث سے متعلق ہے کہ آیہٴ مجیدہ میں "مسجد الحرام" سے مراد، صرف حدود مسجد ہے یا مکّہ کا تمام شہر۔ اگر صرف مسجد حرام مراد ہو تو پھر یہ حکم مکّہ کے مکانات پر نافذ نہیں ہو گا۔اور اگر ہم مکہ کے سارے شہر کو آیت کے مفہوم میں شامل سمجھیں تو مکانات کی خرید و فروخت یا کرایہ لینے دینے کا سوال پیدا ہو گا۔لیکن ہماری نظر میں چونکہ فقہی منابع اور تفسیر کے لحاظ سے یہ مطلب پوری طرح ثابت نہیں ۔ لہذا تمام شہر کے مکانات پر حرمت کا حکم لگانا مشکل ہے۔تاہم اس میں شک نہیں کہ اہلِ مکّہ کو چاہیے کہ بیت الله کے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیّا کریں اور گھروں کے معاملے میں اپنی مولویت نہ جتائیں۔ نہج البلاغہ کے خط اور دیگر روایات کا بھی ظاہراً اس مفہوم کی طرف اشارہ ہے اور شیعہ وسّنی فقہاء کے نزدیک حرمت والا قول زیادہ معتبر نہیں ہے (مزید وضاحت کے لئے جواہر الاسلام، ج۲۰، ص۴۸ سے رجوع کریں) ۔ البتہ یہ مفہوم بھی مسلّم ہے کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ بیت الله کے متولی یا منتظم ہونے کا بہانہ بناکر زائرین کے لئے چھوٹی سی بھی رکاوٹ پیدا کرے یا اسلام کے اس مرکز کو اپنے پراپیگنڈے کے لئے استعمال کرے۔
4. اس آیت میں مسجد الحرام سے کیا مراد ہے؟
بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ مسجدِ حرام سے مراد حدودِ مسجد ہی ہیں، جبکہ بعض نے اس سے مراد مکّے کا پورا شہر لیا ہے اور ثبوت کے طور پر سورہٴ بنی اسرائیل کی پہلی آیت جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی معراج کے بارے میں نازل ہوئی ہے کو پیش کیا ہے۔ تفسیر کنز العرفان، ج۱، ص۳۳۵ کے مطابق آیہٴ معراج میں یہ تصریح موجود ہے کہ ابتداء مسجد حرام سے ہوئی۔ جبکہ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جناب خدیجة الکبریٰ کے گھر یا شعب ابی طالب یا جناب امّ ہانی کے گھر سے ہوئی اس بناء پر مسجد حرام سے مکّہ مراد ہے۔ لیکن ہماری نظر میں چونکہ آیت میں "مسجد حرام " کا لفظ صریحاً موجود ہے۔لہٰذا آیت کی موجودگی کو معتبر نہیں سمجھا جا سکتا اور پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس کی بناء پر ظاہراً آیت کا مفہوم بدلا جا سکے اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ معراج کی ابتداء خود مسجد حرام ہی سے ہوئی ہے۔ البتہ مذکورہ بالا چند روایات سے یہ احتمال ہوتا ہے کہ زیرِ بحث حکم مکّہ کے تمام مکانات پر نافذ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہراً یہ حکم استحبابی ہے اور کسی بھی مستحب حکم کے دائرے کو مختلف مناسبتوں کی بناء پر وسعت دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (غور کیجئے گا)۔
5. ظلم کے ساتھ الحاد کا کیا مفہوم ہے؟
لغت میں "الحاد " حد اعتدال سے اِدھر اُدھر ہوجانے کو کہتے ہیں۔ اسی لحاظ سے قبر کو "لحد " کہا جاتا ہے کہ وہ قبر کھودنے کی جگہ سے ایک طرف کو ہٹ کر نیچے گڑھے کی صورت میں کھودی جاتی ہے،۔ لہٰذا آیت میں "الحاد" کا مفہوم یہ ہے کہ کفار ظلم کے ذریعہ میانہ روی سے تجاوز کرتے ہیں اور اس مقدس سرزمین پر نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔البتہ بعض مفسرین نے یہاں ظلم کو صرف "شرک" سے تعبیر کیا ہے، بعض نے شرک کے ساتھ حرام کو حلال کرنے کو بھی شامل کرلیا ہے، جبکہ بعض نے ہر فعل حرام کو "ظلم " میں شامل کیا ہے، حتّیٰ کہ بدکلامی گالی گلوچ اور ماتحتوں کی برائی کرنے تک کو بھی "ظلم" کے وسیع مفہوم کے ذیل میں سمجھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقدس ومحترم مقام پر چھوٹے سے چھوٹے گناہ کی سزا اور عذاب بھی بہت سخت ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں آپ(علیه السلام) سے استفسار کیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایا: کلّ ظلمٍ یظلم الرجل نفسہ بمکة من سرقة او ظلم احد اً او شیء من الظلم فانّی اراہ الحاداً ولذٰلک کان ینھیٰ ان یسکن الحرم ہر ظلم جو مکہ میں کوئی شخص اپنے اوپر کرے، چاہے چوری ہو یا کسی سے زیادتی ہو یا تشدد ہو، میں ان سب کو "الحاد" سمجھتا ہوں۔ اسی وجہ سے امام لوگوں کو مکّہ میں زیادہ دیر تک قیام سے منع فرمایا کرتے تھے۔ "کیونکہ اس جگہ پر گناہ کی سزا زیادہ اور سخت ہے"۔( بحوالہ : تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۲۸۴) کئی اور روایات بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہیں اور یہی مفہوم مطلق طور پر ظاہرِ آیت کے بھی ہم آہنگ ہے۔ اسی بناء پر بعض فقہاء یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر کوئی شخص حرمِ خدا میں ایسا گناہ کربیٹھے جس کی حد معیّن ہے، اس پر حد کے علاوہ تعزیر بھی جاری کی جائے اور اس فتویٰ کی دلیل انھوں نے اس آیہٴ مجیدہ کے اس جُملے کو قرار دیا ہے: "نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیمٍ"۔ (بحوالہ: کنز العرفان، ج۱، ص۵۲۳) اس گفتگو کے مطابق جن مفسرین نے ظلم سے مراد صرف ذخیرہ اندوزی یا حدود حرم میں بغیر احرا م باندھے داخلے کی ممانعت لیا ہے، ان کی مراد آیہٴ مجیدہ کا واقع مصداق بیان کرنا ہے ورنہ آیت کے وسیع تر مفہوم کو محدود کرنے کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حج کے لئے دعوتِ عام
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشت آیت میں مسجد الحرام اور خانہٴ خدا کے زائرین کے بارے میں بحث کی گئی ہے کی نسبت سے زیرِ بحث آیت میں پہلے حضرت ابراہیم خلیل الله کے ہاتھوں خانہٴ کعبہ کی تعمیر کی مختصر تاریخ بیان کی جارہی ہے، پھر حج کے وجوب اس کے فلسفے اور اس عظیم عبادت کے بعض احکام کا بیان ہے۔دوسرے لفظوں میں اس آیت کے مختلف گوشوں کو واضح کرنے کے لئے گزشتہ آیت مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے۔ آیت کے شروع میں خانہٴ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے: اس لمحے کو یاد کیجئے، جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہٴ کعبہ کی جگہ کو نمایاں کیا تاکہ وہ اسی جگہ پر نئے سرے سے عمارت کھڑی کریں (وَإِذْ بَوَّانَا لِإِبْرَاھِیمَ مَکَانَ الْبَیْتِ) ۔ "بوا "، "بوآء " کے مادہ سے ہے، یعنی کسی عمارت کے برابر کسی جگہ کا مساوی یا مسطح ہونا۔ بعد ازاں یہ لفظ کسی جگہ کا کسی عمارت کی تعمیر کے لئے تیار کرنے کے لئے بولا جانے لگا،۔مفسرین کی روایات کے مطابق اس آیت میں "بوا" سے یہ مراد ہے کہ الله نے ابراہیم کو خانہٴ کعبہ کی بنیادیں یا دیواریں دکھلادیں جو حضرت آدم(علیه السلام) نے تعمیر کی تھیں اور طوفانِ حضرتِ نوح(علیه السلام) کے سبب گرگئی تھیں۔ ان بوسیدہ دیواروں کو کیسے دکھایا؟ اس کے جواب میں بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ تیز آندھی چلی، جس سے مٹی ایک طرف کو ہٹ گئی اور بنیادیں ظاہر ہو گئیں یا یہ کہ بادل کا ٹکڑا نمودار ہوا اس نے عین اسی جگہ سایہ کیا جہاں دیواریں تھیں، یا کسی اور طریقے سے وہ جگہ معیّن کی تو انھوں نے اپنے نورِ نظر اسماعیل(علیه السلام) کے ساتھ مل کر نئی عمارت کھڑی کر دی ۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ خانہٴ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں اس تفسیر کی پہلی اور دوسری جلد علی الترتیب سورہٴ بقرہ آیت نمبر ۱۲۷ اور سورہٴ آلِ عمران آیت۹۶ کے ذیل میں تفصیلاً بیان کر چکے ہیں) اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ جب عمارت بن گئی تو ہم ابراہیم سے یوں گویا ہوئے کہ " اس گھر کو توحید کا مضبوط مرکز بناوٴ، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہراوٴ اور میرا گھر طواف کرنے والوں، قیام ورکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو" (اَنْ لَاتُشْرِکْ بِی شَیْئًا وَطَھِّرْ بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ) ۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ بعض مفسرین کے بقول اس آیت میں ان الفاظ سے پہلے "اوحینا " کا لفظ مقدر ہے) حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ مامور تھے کہ خانہٴ کعبہ اور اس کے گردو ونواح کو ظاہری وباطنی گندگی اور آلودگی سے محفوظ رکھیں، بتوں اور شرک کے دوسرے مظاہر سے اس کو خالی رکھیں تاکہ الله کے بندے اس پاک مکان میں الله کے علاوہ کسی اور کا تصور نہ کرسکیں اور ایسے منزّہ ماحول میں طواف، نماز جو اس سرزمین کی اہم ترین عبادت ہے، بجالایا کریں ۔ زیرِ بحث آیت میں ارکان نماز میں سے تین اہم ارکان قیام رکوع اور سجود کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس لئے کہ باقی افعال ان ہی کے ذیل میں آتے ہیں۔ البتہ مفسرین میں سے بعض نے "قائمین" سے مراد مکہ کے باسی لئے ہیں۔ لیکن چونکہ "قائمین" کا لفظ "طائفین" اور "رکع السجود" کے درمیان آیا ہے، اسی لئے ہماری نظر میں یہاں "قائمین " سے مراد نماز میں "رکن قیام" کے ا دا کرنے والے ہیں اور اسی مطلب کو اکثر شیعہ اور سنّی مفسرین نے بیان کیا ہے۔( بحوالہ : ۔ تفسیر المیزان، تفسیر فی ظلال القرآن، تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی؛ زیرِ بحث آیت کے ذیل میں) ضمناً یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ "رکع السجود" کے درمیان واوٴ عاطفہ کیوں نہیں ہے، اگرچہ یہ دونوں اسماء صفت ہیں۔ (رکع جمع راکع یعنی رکوع کرنے والا اور "سجود " جمع ساجد یعنی سجدہ کرنے والا) یہ اس لئے ہے کہ عبادت کے دونوں انداز یکے بعد دیگرے اور ایک دوسرے سے متصل ہیں ۔ خانہٴ کعبہ کے عبادت گزاروں کی عبادت کے لئے تیار ہوجانے کے بعد ابراہیمؑ کو حکم دیا جاتا ہے کہ "لوگوں کو حج کی دعوتِ عام دیجئے تاکہ لوگ پیدل اور کمزور سواریوں پر دوردارزسے بیت الله کی طرف عازم حج ہوں“ (وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاتُوکَ رِجَالًا وَعَلیٰ کُلِّ ضَامِرٍ یَاتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ) ۔ "اَذِّنْ" اذان کے مادہ یعنی اعلان اور بلاوے کے معنی میں ہے۔ "رجال" جمع "راجل" یعنی پیدل چلنے والا کے معنی میں ہے۔ "ضامر" یعنی لاغر اور کمزور جانور، "فجّ" یعنی پہاڑی درّے کو کہتے ہیں اور کھلی سڑک کے لئے استعمال ہوتا ہے اور "عمیق" کا یہاں مفہوم ہے "دور" علی بن ابراہیم والی روایت میں ہے کہ اس حکم کے بعد حضرت ابراہیم نے بارگاہ تعالیٰ میں عرض کیا کہ بارِالٰہا! میری آواز لوگوں تک نہیں پہنچتی تو فوراً ارشاد ہوا: "علیک الاذان وعلیّ البلاغ" "تم اعلان کرولوگوں تک پہنچا میں دوں گا" چنانچہ حضرت ابراہیمؑ اس جگہ پر تشریف لائے، جِسے "مقام ابراہیم" کہتے ہیں، کان میں انگلی ٹھونسی، مشرق ومغرب کی طرف رُخ کیا اور پکار کر کہا: " ایّھا الناس کتب علیکم الحج الی البیت العتیق فاجیبوا ربّکم" "لوگو! خانہٴ کعبہ کا حج تم پر فرض کر دیا گیا ہے، اپنے پروردگار کا بلاوا قبول کرو"۔ چنانچہ الله نے ان کی آواز سب کے کانوں تک پہنچادی، حتیّٰ کہ صلبِ پدر اور حم مادر میں موجود افراد نے بھی سن لیا اور جواب میں (لبیک اللّٰھمّ لبیّک)بھی کہا، اس دن سے لے کر قیامت تک جتنے لوگ مراسم حج میں شریک ہوتے ہیں یا ہوں گے۔ وہی ہیں جنہوں نے اس دن حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی آواز کا جواب دیا تھا ۔( تشریحی نوٹ : تفسیر نورالثقلین ج۳، ص۴۸۸ کے مطابق تفسیر علی بن ابراہیم کا خلاصہ، آلوسی نے "روح المعانی" میں اور رازی نے "تفسیر کبیر" میں بھی اس مضمون کو کم وبیش تحریر کیا ہے۔) آیہٴ حمیدہ میں سواری سے، حج پر جانے والوں سے قبل پیدل حج جانے والوں کا ذکر ہے۔یہ اس لئے کہ اول الذکر کا رتبہ اللہ تعالی ٰ کے ہاں زیادہ ہے،کیونکہ وہ زیادہ تکلیف اتھاتے ہیں، چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ پیدل حج پر جانے والے کے لئے ہر قدم پر سات سو نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے، جبکہ سوار کے لئے صرف ستر نیکیوں کا ۔( بحوالہ : تفسیر روح المعانی، مجمع البیان اور تفسیر کبیر از فخر رازی میں ) یہ بھی ممکن ہے کہ خانہٴ خدا کی زیارت کی اہمیت کے پیش نظر یہ کہا گیا ہو کہ جو وسیلہ بھی میسّر ہو حج کے لئے نکل پڑنا چاہیے۔ اور ہمیشہ سواری کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے ۔ "ضامر" (یعنی کمزور جانور) یہ لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ قاری یہ جان لے کہ سفرحج اس قدر کٹھن ہے کہ چلچلاتے صحراوٴں اور بے آب وگیاہ بیابانوں سے گزرتے ہُوئے جانور کمزور پڑجاتے ہیں،لہذا ان دشوار گزار راستوں کو طے کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ اس لفظ سے ایک اور اشارہ بھی ملتا ہے۔وہ یہ کہ ایسے جانور منتخب کئے جائیں، جن کے جسم مشقّت کی برابر مشق سے کمزور پڑگئے ہوں۔ البتّہ اعضاء اور پٹھے مضبوط ہوں، کیونکہ موٹے تازے جانور ایسے سفر میں کام نہیں آتے اور یہ اشارہ بھی ہے کہ ناز ونعمت سے پلے جانور تو کیا، یہ سفر ایسے انسانوں کا بھی کام نہیں ۔ "مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ" کا مفہوم یہ ہے کہ نہ صرف لوگ مکّہ کے گرد ونواح اور قرب وجوار سے حج کے لئے آئیں گے بلکہ دور دراز سے بھی آئیں گے۔اس جملے میں لفظ "کل" احاطہ کے معنی میں نہیں بلکہ کثرت کے معنی میں ہے۔ مشہور مفسر ابوالفتوح رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے "ابوالقاسم بشر بن محمد" نامی ایک شخص سے ایک عجیب واقعہ نقل کرتا ہے، بقول اس کے: ایک دفعہ میں نے خانہٴ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ضعیف آدمی کوو دیکھا، جس کے چہرے پر لمبے سفر کی تھکن اور بے آرامی صاف پڑھی جاسکتی تھی اور عصا کے سہارے بڑے کرب کے ساتھ طواف کر رہا تھا، میں اس کے پاس گیا اور پوچھا بڑے میاں، کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ کہنے لگا: "اتنی دور سے آیا ہوں کہ سفر ہی میں پانچ سال بیت گئے اور رنج وتعبِ سفر سے مضمحل اور بوڑھا ہو گیا ہوں "میں نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا: بے شک آپ نے حق تعالیٰ کی سچّی محبّت اور پُرخلوص اطاعت میں بڑی زحمت گوارا کی! یہ سن کر وہ فرطِ مسرّت سے مسکرایا اور اس نے یہ اشعار پڑھا ۔ زر من ھویت وان شطت بک الدار وحال من دونہ حجب واستار لایمنعنک بعد من زیارتہا ان المحب لمن یھواہ زوار! اپنے محبوب سے ملنے ضرور جائیو! اگرچہ تیرے گھر سے کتنا ہی دُور کیوں نہ ہو اور راستے میں کیسی ہی رکاوٹیں اور مزاحمتیں تیرا راستہ کیوں کیوں نہ روکیں۔ فاصلے کی طوالت اس سے ملنے میں ہرگز حائل نہ ہونے دیجیو، کیونکہ عاشق کوبہرحال محبوب کی زیارت کے لئے جانا ہی چاہیے ۔ بے شک خانہٴ خدا میں انتہائی کشش اور جاذبیت ہے، جس کے سبب سے ایمان سے سرشار دل دور و نزدیک سے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ ہر نسل ہر قبیلے کے لوگ چھوٹے ہوں یا بڑے " لبیک" کہتے ہوئے دیوانہ وار اس کی طرف آتے ہیں تاکہ اللہ کی ذات پاک کے جلوے اس مقدس سرزمین پر دل کی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی ہمہ گیر رحمت کو روح کی گہرائیوں میں محسوس کریں ۔( تشریحی نوٹ : فاضل دانشور شعرانی مرحوم کہتے ہیں: اگر گزشتہ زمانے کے ذرائع آمد ورفت اور رستوں کو ذہن میں رکھ کر اس وقت کے اندلس، مراکش یا چین وبخارا سے آنے والوں کا تصور کریں جو خشکی کے یا سمندری راستوں سے مکّہ آتے تھے، خصوصاً راستوں کو رہزنوں سے غیر محفوظ ہونا پیش نظر رہے تو واقعی یہ بڑا عظیم کام نظر آتا ہے، کئی دفعہ ان عاشقان خدا کا زادراہ لُوٹ لیا جاتا اور ان کو بے سروسامانی کے عالم میں سفر جاری رکھنے کے لئے مدتوں کہیں قیام کرنے اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا) بعد والی آیت میں ایک مختصر مگر معنی خیز جملے میں حج کے فلسفے کے مختلف پہلووٴں پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے، لوگ اس سرزمین مقدس پر آئیں "تاکہ اپنے مفاد کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔" (لِیَشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُمْ) مفسرین قرآن نے لفظ "منافع" کے ذیل میں بہت کچھ ذکر کیا ہے، البتہ بالکل واضح ہے کہ اس لفظ کو غیر مشروط ولامحدود طور پر استعمال کیا گیا ہے، یعنی مادی، معنوی، انفرادی، اجتماعی، سیاسی، اقتصادی، اخلاقی اور تعلیمی مفاد سب ہی اس میں شامل ہیں ۔ بے شک مسلمانوں کو دنیا کے ہر ایک علاقے سے اور ہر قسم کے لوگوں کو یہاں آنا چاہیے اور اپنے مفاد کا ناظر اور شاہد بننا چاہیے ۔ یعنی اپنے اپنے وطن میں جو کچھ سنتے رہے ہیں، یہاں آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیں۔تفسیر نور الثقلین ج۳، ص۴۸۸ پر کافی کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ربیع بن خثیم نے امام ؑسے اس لفظ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: "یہ لفظ دُنیا وآخرت کے جملہ "مفاد" اپنے اندر لئے ہوئے ہے"۔ انشاء الله آیت کے نکات کے ذیل میں ہم اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: حجاج آئیں اور قربانی کریں، روزی کے سلسلے میں دیئے جانے والے جانوروں کو مخصوص ایّام میں الله کا نام لے کر ذبح کریں ۔(وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ فِی اَیَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیمَةِ الْاَنْعَامِ) ۔ مناسک حج میں وہ امور یا افعال مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جن سے الله سے تعلق پیدا ہوا اور اس طرح اس عبادت کی عظمت کی عکّاسی کرتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں قربانی کرتے ہوئے صرف الله کا نام لینے کا ذکر کیا گیا ہے جو شرائط ذبح میں سے ہے۔یہ اس لئے ہے تاکہ قربانی کرنے والے کی پوری توجہ الله اور اس کے قبول کرنے پر رہے اور قربانی کے گوشت یا دیگر دنیوی مفاد اس کے ذیل میں رہیں۔ دراصل جانوروں کی قربانی، انسانوں کے ذہن میں راہ خدا میں قربان ہونے کے لئے آمادگی کاایک ذریعے ہے، جس طرح واقعاتِ حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ میں آیا ہے کہ انھوں نے یہ عمل بجالاکر گویا یہ اعلان فرمایا کہ ہم الله کی راہ میں ہر قربانی دے سکتے ہیں، حتّیٰ کہ جان تک بھی قربان کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے بُت پرستوں کے مشرکانہ طریقہ کار کی نفی بھی کر دی جو قربانی کرتے وقت بتوں کے نام پکارتے تھے اور اس طرح توحیدی مناسک کو شرک سے آلودہ کرلیتے تھے،،چنانچہ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھاوٴ اور غریبوں کو بھی کھلاوٴ (فَکُلُوا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِیرَ) اس آیت کے تفسیر یوں بھی کی جاسکتی ہے "ایّام معلومات" میں الله کا نام لینے سے مراد الله کی بے حد وحساب نعمتوں کی وجہ سے علی الخصوص جانور جو انسان کی خوراک بھی ہیں، کی وجہ سے مخصوص ایّام میں، الله تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس کی جائے ۔ (تشریحی نوٹ : : اوّل الذکر تفسیر کے مطابق قربانی کرتے وقت الله کا نام لینا "علیٰ" بمعنیٰ استعلاء ہے اور ان مخصوص دنوں میں تسبیح وتقدیس کا معنی کیا جائے وہاں "علیٰ" بمعنیٰ "برائے" ہے، اس فرق کی وضاحت ہم آگے کریں گے۔)
چند اہم نکات: 1.ایام معلومات
زیر بحث آیت میں حکم ہو رہا ہے " ایام معلومات میں یعنی مخصوص دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ سورہ بقرہ آیتہ 203 میں بھی یہ حکم یوں آیا ہے: " واذکروا الله فی ایّام معدودات " "الله کو معدود دنوں میں یاد کرو" آیا "ایّام معلومات "اور "ایّام معدودات" ایک ہی ہیں یا جدا جدا، اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے، روایات بھی مختلف وارد ہوئی ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ "ایّام معلومات" سے مراد ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں اور "ایّام معدودات " سے گیا رہ،بارہ اور تیرہ ماہ ذوالحجہ "ایّام التشریق" مراد ہیں یعنی نورانی اور دلوں کی روشنی بخشنے والے دن۔ بعض مفسرین چند ورایات کی بنیاد پر دونوں ہی سے 'ایّام التشریق " مراد لیتے ہیں۔ "ایّام التشریق" کے مصداق میں بھی اختلاف ہے، کبھی اس سے ماہ ذوالحجہ کی گیارہ،بارہ اور تیرہ تاریخ مراد لی جاتی ہے اور کبھی دسویں کے دن یعنی عید قربان کے دن کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے۔ "فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ" یعنی جو شخص مناسک حج کے دو دنوں میں عبادت کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ یہ سورہء بقرہ کی آیت ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ "ایّام التشریق" تین دن سے زیادہ نہیں ہیں، کیونکہ "یَومَین" کے قرینے سے یہ قیاس واضح ہے کہ اگر حاجی ذرا جلدی سے کام لیتے ہوئے ایک دن کم کرے تو دو دن بن جاتے ہیں۔ البتہ اگر ہم اس نکتے پر غور کریں کہ زیرِ بحث آیت میں "ایّام معلومات" سے مراد ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں جو قربانی کے دن یعنی دسویں تاریخ کو ختم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا جو تفسیر "ایّام معلومات"اور "ایّام معدودات" کو الگ الگ کرتی ہے، وہ صحیح معلوم ہوتی ہے، لیکن دونوں آیتوں میں جو مشترک مطلب بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ذہن میں یہی آتا ہے کہ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، یعنی مخصوص دنوں میں ذکرِ خدا کرنا اور اسی کی طرف متوجہ رہنا جو دسویں سے شروع ہوکر تیرہویں تک جاری رہتا ہے،۔ البتّہ الله کے نام کے تذکرے کا ایک مرحلہ قربانی بھی ہے۔ ( تشریحی نوٹ : "وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ" کی تفسیر کے ذیل میں جو اختلاف تھا، ایک قربانی کے وقت نامِ خدا لینا دوسرا مطلقاً خدا کا ذکر کرنا، ختم ہوجاتا ہے اور یوں پہلا قول دوسرے کا مصداق بن جاتا ہے اور دوسرا ایک وسیع وعمومی مفہوم بن جاتا ہے)
2. منیٰ میں ذکرِ خدا
متعدد روایات کے مطابق اس ذکر سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو عید قربان کے دن نماز ظہر کے بعد سے برابر پندرہ نمازوں تک پڑھنا مستحب ہیں، یعنی تیرھویں ذوالحجہ کی نماز فجر تک۔ بحارالانوار ج۹۹، ص۳۰۴ پر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حوالے سے وہ تکبیریں یہ ہیں : الله اکبر، الله اکبر، لاالٰہ الّا الله والله اکبر، الله اکبر وللّٰہِ الحمد، الله اکبر، علیٰ ھدانا، والله اکبر علیٰ ما رزقنا من بھیمة الانعام اسی کتاب میں صفحہ۳۰۷ پر درج بعض دوسری روایات کے ذریعے تصریح ہوئی ہے کہ پندرہ نمازوں کے بعد پڑھنا اس شخص کے لئے ہے جو میدانِ منیٰ میں ہو، باقی حضرات کے لئے دس نمازوں تک پڑھنا کافی ہے، یعنی بارھویں ذوالحجہ کی نماز فجر تک، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے،۔تکبیرات والی روایات اس حقیقت کی دوسرا گواہ ہیں کہ زیرِ بحث آیت میں جس "ذکر" کا تذکرہ ہوا ہے وہ قربانی کرتے ہوئے ذکر سے مخصوص نہیں، بلکہ مجموعی ذکر مراد ہے، اگرچہ اس میں وقت ذبح ذکر بھی شامل ہے۔ (قابل غور)
3. حج کا فلسفہ اور اس کے مضمرات
حج کے عظیم الشان مراسم دوسری عبادات کی طرح فیوض وبرکات کا سرچشمہ ہیں اور انفرادی اور اسلامی معاشرے کے بہت سے اجتماعی پہلووٴں کی عکاسی کرتے ہیں۔اگر مناسکِ حج صحیح طریقے سے ادا کئے جائیں، ہر ایک رُکن ٹھیک اسلامی تقاضے کے مطابق ادا ہو تو ہر سال مسلمانوں کا یہ مہتم بالشان اجتماع اسلامی معاشروں میں نئے انقلاب کی داغ بیل ڈال سکتا ہے،۔حج کے عظیم الشان مناسک کے چار پہلو ہیں۔ جن میں ہر ایک دوسرے سے زیادہ بنیادی گہرا اور مفید دکھائی دیتا ہے۔
حج کے مناسک کے چار پہلو: i) حج کا اخلاقی پہلو
حج کا اہم ترین فلسفہ اخلاقی ہے، یعنی حج انسان میں زبردست اخلاقی انقلاب پیدا کرتا ہے،۔"احرام" کی پابندی انسان کو مکمل طور پر مادی تعیش، ظاہری امتیازات،مختلف لباس اور رنگ وروپ وزیب وزینت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ مختلف مادی لذّات سے پرہیز انسان کو ضبط نفس، اصلاح اور شخصیّت سازی کی طرف مائل کرتا ہے۔مادّی دنیا سے نکال کر فضائے روحانیت وصدق وصفا کی سیر کراتا ہے اور وہ لوگ جو عام حالات میں مزعومہ امتیازات، مراتب اور فخر وناز کے سنگین بوجھ تلے دبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اچانک اپنے آپ کو ہلکا پُرسُکون اور آسودہ خاطر محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ اس کے بعدحج کے دیگر مناسک انسان کے روحانی تعلقات بڑھاتے ہیں، انسان کا الله کے ساتھ تعلق لمحہ بہ لمحہ مستحکم تر کر دیتے ہیں اور اس کے نزدیک تر لے جاتے ہیں۔ انسان کو آلودہ اور تاریک ماضی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر چکاچوند مستقبل کی پُرنور چوٹیوں پر لاکھڑا کرتے ہیں ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ مناسک حج علی الخصوص قدم قدم پر بت شکن ا براہیم(علیه السلام)، اسماعیل(علیه السلام) اور حضرت ہاجرہ(علیه السلام) کے نظریات، کردار اور راہ خدا میں قربانیوں کو حجاج کے اذہان پر نقش کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح مکّہ معظمہ عموماً اور خانہٴ کعبہ، مسجد حرام اور مطاف وغیرہ خصوصاً رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور صدر اسلام کے مسلمانوں کی یاد دلاتے ہیں۔ جس سے اخلاقی انقلاب حجاج کے اذہان پر گہرا ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں، ہر حاجی سرزمین مکّہ اور مسجد الحرام میں گویا حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور دیگر صحابہ کرام کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے۔ ان کی رجزخوانی اور قتال کرتے ہوئے تلواروں کی جھنکار سنتا ہے، بے شک تمام مناسکِ حج اس طرح سے آپس میں مسلسل اور منظم ہیں کہ مائل ذہن کے دلوں کو مکمل طور پر اخلاقی لحاظ سے اس طرح منقلب کرتے ہیں کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ واقعی حاجی کی کتابِ زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوجاتا ہے، بحارالانوار کی جلد۹۹ صفحہ۲۶ پر جو روایت درج ہے، کس قدر قرین حقیقت ہے۔ "یخرج من ذنوبہ کھیئة یوم ولدتہ امّہ" "حاجی حج کے بعد اپنے گناہوں سے یوں بری ہوجاتا ہے، گویا وہ نومولود معصوم بچّہ ہے" واقعی حج انسان کے لئے "تولّد ثانی " ہے، ایسی پیدائشِ نو جو ایک نئی زندگی لئے ہوئے ہو۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مذکورہ بالا فیوض وبرکات اور وہ جو بعد میں ذکر ہوں گے، ان افراد کے لئے نہیں ہیں جو مناسک کے ظواہر تک محدود رہتے ہیں اور اس کے گوہر نایاب کو گنوا بیٹھتے ہیں۔اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حج کو سیاحت اور تفریح یا مادی وسائل کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ان کے حصّے میں وہی کچھ آتا ہے جو کچھ وہ پالتے ہیں ۔
ii) حج کا سیاسی پہلو
ایک عظیم فقیہ کے بقول باوجود اس کے کہ مناسک حج خالص اور عمیق ترین عبادت کا مجموعہ ہیں, مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے سیاسی مقاصد کے حصول اور پیش رفت کا موٴثر ذریعہ ہیں۔ الله کی طرف توجہ کے لحاظ سے عبادت اور مخلوقِ خدا کے حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے سیاست مناسکِ حج میں یہ دونوں پہلو آپس میں اس طرح سے مربوط ومنسلک ہیں، گویا ایک کپڑے کا تانا باناہوں، حج مسلمانوں کی منتشر صفوں کو منظم کرنے کا مسلمانوں میں نسلی امتیاز، علاقائی عصبیّت اور قومی تفاخر کے خاتمے کا بہترین عامل ہونے کے ساتھ ساتھ دشمنوں سے مقابلے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ حج، اظہارِ خیال پر سفر استبدادی نظام اور کٹھن خوف اور دباؤ کے خاتمے کا بھی بڑا موٴثر ذریعہ ہے۔ مسلمان ممالک کے صحیح حالات ایک دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ غرضیکہ حج استحصالی طاقتوں کی چیرہ دستیوں سے آزادی اور استعماری زنجیروں کو توڑنے کا بہترین عامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس جیسے ڈکٹیٹروں کے زمانے میں عوام کے بعض طبقات کے میل جول پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی، تاکہ آزادی کی تحریکوں کو کچلا جا سکے، اس وقت ان کے ملاپ، سیاسی روابط اور صلاح مشورے کا واحد ذریعہ حج تھا، نہج البلاغہ "کلمات قصار" نمبر۲۵۲ میں جناب امیر(علیه السلام) نے حج کو الحج تقویة للدین "مناسک حج، دین مقدس اسلام کی تقویت واستحکام کا سبب ہیں" قرار دیا ہے۔ ایک غیر مسلم سیاستدان نے یونہی نہیں کہا : " افسوس کہ مسلمانوں نے حج کے فلسفے کو نہ سمجھا، لیکن ان کے دشمن سمجھ گئے ۔ " روایات میں حج کو ضعیف اور کمزور مسلمانوں کا جہاد قرار دیا گیا ہے، ایسا جہاد کہ ساری دُنیا کے ضعیف، کمزور اور عورتیں ایک جگہ جمع ہوکر امّت مسلمہ کی عظمت وسطوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خانہٴ خدا کے چاروں طرف نماز کی صفیں باندھ کر ایک آواز ہوکر جب نعرہٴ تکبیر بلند کرتے ہیں تو دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں ۔
iii) حج کا ثقافتی پہلو
حج کے دنوں کو مختلف علاقوں کے لئے ثقافتی افکار وافعال کے تبادلے کا بہترین موقع قرار دیا جا سکتا ہے، خصوصاً اس لحاظ سے کہ حج کا عظیم الشان اجتماع دنیا بھر کے مسلمانوں کے مختلف طبقات کا حقیقی اجتماع ہے،کیونکہ خانہٴ خدا کی زیارت کے لئے آنے والے افراد کے انتخاب میں کوئی انسان ساختہ طریقہ کارفرما نہیں ہے۔ بلکہ صرف حکمِ خدا کے تحت مختلف علاقوں، خاندانوں، زبانوں اور ملکوں کے لوگ ایک جگہ پر جمع ہوجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ حج رسول الله کے فرمودات اور آثار کے دُنیائے اسلام میں نشر واشاعت کا بہترین ذریعہ ہے۔ وسائل الشیعہ جلد۸، صفحہ۹ پر ایک روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے خاص صحابی جو بہت صاحبِ علم بھی تھے اور جن کا نام ہشام بن حاکم ہے، نے ایک دن امام ؑ سے حج کے فلسفے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: انّ الله خلق الخلق ۔ ۔۔وامرھم بما یکون من امر الطاعة فی الدین و مصلحتھم من امر دنیاھم فجعل فیہ الاجتماع من الشرق والغرب ولیتعارفوا ولینزع کل قوم من التجارات من بلد الیٰ بلد ولتعرف آثار رسول الله (ص) وتعرف اخبارہ ویذکر ولاینسی۔ "الله نے بندوں کو پیدا کیا ۔ ۔ ۔ آپ نے ان کے دینی اور دنیوی مفاد میں احکام جاری فرمائے، منجملہ ان احکام کے مشرق ومغرب کے لوگوں پر مشتمل ایک اجتماع ومناسک حج، کا بھی حکم دیا، تاکہ لوگ ایک دوسرے سے شناساں ہوں، تجارتی سازو سامان ایک شہر سے دوسرے شہرمیں منتقل کیا جا سکے، نیز اس طرح آپ کی تعلیمات کی بھی اشاعت ہو، لوگ اِن تعلیمات کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور انہیں کبھی فراموش نہ کریں ۔" یہی وجہ ہے کہ جابروں اور آمروں کے عہد حکومت میں جبکہ احکامات قرآن وسنّت کی نشر واشاعت کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی ۔ مسلمان عوام حج کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئمہ طاہرین(علیه السلام) اور بزرگ علماء کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے مسائل کا حل حاصل کیا کرتے تھے۔ نیز حج کے اجتماع کو مسلمانوں کے عظیم ثقافتی سیمینار میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ عالمِ اسلام کے تمام علماء جو مکّہ میں موجود ہیں ایک دوسرے کے سامنے اپنے خیالات،تجربات اور تجاویز پیش کر سکتے ہیں ۔ مسلمانوں کی بڑی بدنصیبی یہ کہ مسلمانوں کی جغرافیائی سرحدیں ان کو ثقافتی طور پر محدود کر دیتی ہیں اور ہر ملک کے مسلمان صرف اپنے ہی بارے میں سوچ بچار کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں وسیع تر اسلامی معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر تقریباً ناپید ہوجاتا ہے، اس صورت میں حج بے شک اس بدنصیبی کی تاریک رات میں خوش نصیبی کا مہرِ درخشاں ہے۔ مذکورہ بالا روایت کے اگلے حصّے میں امام صادق علیہ السلام نے کیا عُمدہ بات فرمائی ہے: ولو کان کلّ قوم انما یتکلمون علیٰ بلادھم وما فیھا ھلکوا، وخربت البلاد،وسقطت الجلب والارباح وعمیت الاخبار اگر ہر قوم اپنے ہی ملک اور شہر کی بات کرے اور صرف اپنے مسائل پر سوچ بچار کرےتو سب کے سب برباد ہو جائیں گے، ان کے ملک تباہ وبرباد ہوں گے، ان کے مفادات تباہ ہوں گے اور حقائق پس پردہ چلے جائیں گے ۔
iv) حج کا اقتصادی پہلو
حقیقت، لوگوں کے خیال کے بالکل برعکس، ہے، یعنی یہ کہ حج کے اجتماع کو اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لئے استعمال کرنا نہ صرف حج کی روح کے منافی نہیں ہے، بلکہ روایات کی روشنی میں فلسفہٴ حج کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ اگر تمام مسلمانوں اس کثیر اجتماع میں اسلامی ممالک کی مشترکہ تجارتی منڈی کی بنیاد رکھیں، ایک دوسرے کی ضرورت کو پورا کریں، نہ منافع دشمنوں کی جیب میں جائے اور نہ اقتصادیات کو دشمنوں کا طفیلی بنائیں تو یہ دنیا پرستی نہیں ہے، بلکہ عین خدا پرستی ہے اور اس کی راہ میں جہاد ہے۔ چنانچہ مندرجہ بالا روایت میں امام صادق علیہ السلام، فلسفہٴ حج کے ضمن میں ہشام سے کھول کر بیان فرمارہے ہیں کہ حج کے مقاصد میں سے ایک مقصد مسلمانوں کی باہمی تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی روابط کو آسان بنانا ہے۔ سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۹۸ ۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ کی تفسیر کے ذیل میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ”تَبْتَغُوا فَضْلًا“ سے مراد کسب معاش ہے، فرمایا: فاذا احلّ الرجل من احرامہ وقضی فلیشتر لیبیع فی الموسم جب حاجی احرام اتار دے، مناسک حج کا وقت ختم ہوجائے تو خرید وفروخت کرے۔( بحوالہ : تفسیر عیّاشی بمطابق المیزان، ج۲، ص۸۶ )(یہ کام نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ ثواب کا بھی حامل ہے) امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے بھی اس طرح کی ایک روایت مروی ہے، جس کے آخر میں آپفرماتے ہیں: "لیشھدوا منافع لھم" "تاکہ اپنا نفع حاصل کریں" لفظ "منافع" بہت بلیغ اشارہ کر رہا ہے اور مادی مفادات پر محیط ہے۔(بحوالہ : بحارالانوار، ج۹۹، ص۳۲) مختصر یہ کہ اگر یہ عبادت صحیح اور مکمل طور پر بجالائی جائے اور اس سے پورا فائدہ اٹھایا جائے، خانہٴ خدا کے زائرین مقدس سرزمین میں قیام کے دوران حج کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ ہوں اور پوری طرح سرگرم بھی رہیں، اسی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے سیاسی ثقافتی اور اقتصادی مسائل پر باہمی صلاح مشورے کریں تو مناسک حج ہر مسئلے کا حل پیش کرنے کی پوری صلاحیّت رکھتے ہیں اور شاید اسی نکتے کو امام صادق علیہ السلام نے اسی طرح فرمایا ہے: لایزال الدین قائماً ما قامت الکعبة یعنی جب تک کعبہ رہے کہ دین رہے گا۔(بحوالہ : وسائل الشیعہ، ج۸، ص۱۴) جناب امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: الله الله فی بیت ربّکم لاتخلوہ ما بقیتم فانّہ ان ترک لم تناظروا خدا را اپنے رب کے گھر کے بارے میں اس کے احکامات کی تعمیل کرو اور اسے ہرگز خالی نہ چھوڑنا ورنہ الله کی طرف سے بالکل مہلت نہ دی جائے گی۔ (بحوالہ : نہج البلاغہ، جناب امیر ؑ کے خطوط، وصیت نمبر 47)
4. اس زمانے میں قربانی کے گوشت سے متعلق ذمہ داریاں
زیر بحث آیت سے پوری طرح واضح ہو رہا ہے کہ قربانی کے معنوی اور روحانی پہلووٴں اور حصول تقرب بارگاہِ الٰہی کے علاوہ اور مقاصد بھی ہیں، وہ یہ کہ اس گوشت کا مناسب مصرف کیا جائے، قربانی دینے والا خود بھی کھائے، مساکین وغرباء ومستحقین تک بھی پہنچایا جائے، اسراف فضول خرچی کی بھی اسلام میں بڑی ممانعت ہے، یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے بلکہ قرآن وسنّت اور فہم عامہ سے بھی ثابت ہے۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں ہے کہ قربانی کے کثیر گوشت کو "منیٰ" میں اُدھر پھینک کر فضاء کو مکدّر بنائیں یا "منیٰ" میں دفن کر دیں، مناسکِ حج میں قربانی کا واجب ہونا صرف ان دو کاموں کے لئے ناقابل فہم ہے۔ اگر ضرورتمند افراد وہاں موجود نہیں ہیں تو ضروری ہے کہ دُنیا کے دوسرے حصّوں میں جہاں بھی ضرورتمند ہوں اس گوشت کو ان تک پہنچایا جائے (قابل غور ہے) ۔ مگر افسوس آج مسلمان قربانی دینے کے حکم کی تعمیل تو کرتے ہیں مگر گوشت کی تقسیم کو بھلائے ہوئے ہیں۔ ہر سال لاکھوں جانوروں کا گوشت جو ضرورت مندوں کی کثیر تعداد کی ایک طویل مدّت تک ضرورت پوری کر سکتا ہے، اس مقدس سرزمین پر بہت ناپسندیدہ اور مکروہ حالت میں تلف ہوجاتا ہے،۔مسلمانوں کے بہت سے علماء دانش مندوں اور مفکروں نے شعودی حکومت سے اس ضمن میں بارہا گفتگو کی ہے، یہاں تک کہ رضاکارانہ طور پر گوشت کے حمل ونقل کے اخراجات برداشت کرنے کی پیش کش بھی کر چکے ہیں، مگر ایک طرف وہابی علماء کا جمود اور بے حسی اور دوسری طرف سعودی حکومت کے کارپردازوں کی لاپرواہی اور بے اعتنائی اس کارِخیر کی راہ میں سنگِ گراں بنی ہوئی ہے۔ اسراف وفضول خرچی کی حُرمت اور کفران نعمت جو ایک مسلّمہ مسئلہ ہے سے قطع نظر عید قربان کے دن منیٰ میں قربانگاہ کی کیفیت وماحول اس قدر مکدّر وغیر مطلوب ہوتا ہے کہ کمزور ایمان کے مسلمان اس رکن کے وجوب کے بارے میں شک کرنے لگتے ہیں۔ مزید برآں دشمنوں کو مخالفت کے لئے ایک موٴثر حربہ ہاتھ لگتا ہے، وہ اس کیفیت کو وہاں کے علماء اور منتظمین کی کوتاہ فکری سمجھنے کی بجائے اسلام میں میں میخ نکالنے بیٹھ جاتے ہیں۔ لہٰذا دُنیا کے تمام تر مسلمان ممالک کے عوام پر لازم ہے کہ عظمتِ اسلام کے تحفظ اور مناسکِ حج کی صحیح تصویر کو نمایاں کرنے کے لئے سعودی حکومت پر دباوٴ ڈالیں کہ ذلّت آمیز ماحول کو ختم کرکے احکاماتِ اسلام کا نفاذ کریں، البتہ بعض روایات جن کے مطابق قربانی کا گوشت منیٰ یا حرمِ مکّہ سے باہر لے جانا ممنوع ہے، ان کا تعلق اس زمانے اور حالات سے ہے، جب اس گوشت کے ضرورتمند اس علاقے میں موجود ہوتے تھے اور گوشت کی مقدار انہی کے لئے کافی تھی، چنانچہ معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی یہ روایت اس مسئلے پر یوں روشنی ڈالتی ہے،۔امام صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے قربانی کے گوشت کو منیٰ سے باہر لے جانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ(علیه السلام) نے فرمایا: کُنّا نقول لایخرج منھا بشیء لحاجة النّاس الیہ فامّا الیوم فقد کثر النّاس فَلا باس باخراجہ کبھی ہم کہا کرتے تھے کہ اس میں سے کُچھ بھی باہر نہ لے جائیں، کیونکہ لوگ ضرورتمند تھے، اب جبکہ حجاج کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے، قربانی کے گوشت کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے، لہٰذا اسے باہر لے جانے میں کوئی حرج نہیں ۔( بحوالہ : وسائل الشیعہ، ج۱۰، ص۱۵۰، ابواب الذبح باب ۴۲، حدیث ۵)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مناسک حج کا ایک خاص اور اہم حصّہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 4مناسک حج کے متعلق مندرجہ بالا بحث کے بعد زیرِ نظر آیت میں انہی کے ایک اور حصّے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد اپنی گندگی اور فالتو اجزاء کو اپنے آپ سے دور کریں (ثُمَّ لِیَقْضُوا تَفَثَھُمْ) ۔ اور اپنی نذریں پوری کریں(وَلْیُوفُوا نُذُورَھُمْ ) ۔ اور مرور زمانہ کی دست بُرد سے محفوظ گھر کا طواف کریں (وَلْیَطَّوَّفُوا بِالْبَیْتِ الْعَتِیقِ) ۔ اکثر اہلِ زبان اور مشہور مفسرین کے بقول "تفث" کا مطلب میل کچیل کثافت اور غیرضروری اعضاء بدن جیسے ناخن، اور غیر ضروری بال ہیں، بعض کے مطابق اصل میں ناخن کے نیچے میل کچیل اور اس قسم کی چیزوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔( بحوالہ : کنزالعرفان، تفسیر مجمع البیان اور دوسری تفاسیر، نیز قاموس اللغة اور مفردات راغب) کئی دوسرے ماہرین لسانیات کے مطابق یہ لفظ سرے سے عربی زبان میں موجود ہی نہیں ہے، لیکن "مفردات راغب" کے مطابق ایک صحرائی عرب نے اپنے اس ساتھی سے جو میل کچیل اور گندگی سے اٹا ہوا تھا، کہا: "ما اتفثک و ادرنک" "تو کس قدر گندا اور غلیظ ہے" اس سے ثابت ہوتاہے کہ عربی زبان میں یہ لفظ موجود ہے۔ روایات میں بھی بارہا اس جُملے کا مفہوم ناخن کاٹنا، بدن صاف کرنا اور احرام اتارنا بیان کیا گیا ہے۔بالفاظ دیگر یہ جملہ "تقصیر" کے عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو مناسک حج میں سے ہے۔ اس طرح بعض روایات میں "سرمنڈوانے" کے لئے بھی یہ جملہ استعمال کیا گیا ہے اور وہ بھی "تقصیر" کا حصّہ ہے۔ کنزالعرفان میں اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس سے ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ اس جملے سے مراد تمام مناسک حج کو انجام دینا ہے۔(بحوالہ : کنزالعرفان، ج۱، ص۲۷۰) لیکن اس قول کی کوئی دلیل ہماری نظر میں نہیں ہے۔ ایک لائق توجہ روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے "ثُمَّ لِیَقْضُوا تَفَثَھُمْ" کی تفسیر اپنے زمانے کے امام سے ملاقات کرنے سے کی ہے اور جب راوی نے وضاحت چاہی اور عرض کیا کہ لوگ تو اس سے مراد ناخن کاٹنا اور غلاظت کو دُور کرنا لیتے ہیں ۔ تُو آپ(علیه السلام) نے فر مایا: "قرآن مجید ظاہر وباطن رکھتا ہے۔" یعنی امام سے ملاقات کا تعلق آیت کے باطنی معنی سے ہے۔(بحوالہ : تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۴۹۲) ہو سکتا ہے اس حدیث میں یہ نکتہ پنہاں ہو کہ خانہ خدا کا زائر مناسک حج ادا کرنے کے بعد جس طرح گندگی اور غلاظت کو اپنے بدن سے دور کرتا ہے، اسی طرح اپنے زمانے کے امام سے ملاقات کے بعد روحانی غلاظتوں سے پاک ہوجاتا ہے علی الخصوص جن ادوار میں ظالم اور جابر بادشاہ عام حالات میں مسلمانوں کو آئمہ اطہار علیہم السلام سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتے تھے، مناسک حج اس سعا دت کا بہترین موقع ہوا کرتا تھا ۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث حضرت امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: تمام الحج لقاء الامام حج کی تکمیل اپنے زمانے سے ملاقات پر ہوتی ہے۔( بحوالہ : ۔ وسائل الشیعہ، ج۱۰، ص۲۵۵، ابواب المزار باب۲، حدیث۱۳) حقیقت بھی یہی ہے کہ مناسک حج اور ملاقات امام(علیه السلام) دونوں ہی ذریعہ تطہیر ہیں، ایک ظاہری غلاظت وکثافت کی تطہیر کا اور دوسرا باطنی جہالت واخلاقی انحطاط کی تطہیر کا ۔ رہ گیا منتیں اتارنے کا مسئلہ تو اس سے مراد ہے کہ صدر اسلام میں بعض مسلمان منّت مان لیتے تھے کہ اگر انھیں حج کرنے کی سعادت نصیب ہوئی تو مناسک حج کے علاوہ امور خیر صدقات اور قربانی بجالائیں گے،۔بسا اوقات اپنی مراد پانے کے بعد منّت اتارنا بھول جاتے تھے۔ اس لئے قرآن مجید میں منّت اتارنے کی تاکید آئی ہے۔(تشریحی نوٹ : بعض مفسرین نے "نذر" سے خود مناسک حج مراد لیا ہے، لیکن مزاج قرآن کے مطابق لفظ "نذر "، "منت' ہی کے لئے آیا ہے، اس لئے اس کا "مناسک حج" کا معنیٰ ظاہر آیت کے خلاف ہے) خانہٴ کعبہ کو "بیت العتیق"کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ "عتیق" لفظ "عتق" سے مشتق ہے اور اس کا معنیٰ قید وبند سے آزاد ہونا ہے۔ احتمال یہ ہے کہ چونکہ "خانہٴ کعبہ" انسان کی قید وبند سے ماوراء ہے اور کسی زمانے میں بھی اس لئے اسے "بیت العتیق" کہا گیا ہے۔ عتیق کا ایک اور معنی بیش بہا اور قابل قدر بھی ہے،۔یہ معنی بھی خانہٴ کعبہ کے لئے بالکل درست ہے۔ عتیق کا ایک اور مطلب "قدیم' بھی ہے، جیسے مفردات راغب میں ہے۔ العتیق التقدم فی الزّمان او المکان او الرتبة عتیق، وہ چیز ہے جو زمان ومکان اور ر تبے کے لحاظ سے اولیٰ ہو اوّلیت کا معنیٰ بھی خانہٴ کعبہ پر بھی عین مطنبق ہوتا ہے،۔کیونکہ سورہٴ آل عمران آیت ۹۶ میں ہے: إِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا وَھُدًی لِلْعَالَمِینَ۔ دنیا میں سب سے پہلا مبارک اور ہدایت کنندہٴ توحیدوہ گھر ہے جو مکّہ میں ہے۔ بہرحال کوئی حرج نہیں، اگر یہ لفظ اپنے تمام معانی کے ساتھ خانہٴ کعبہ کی تمام خصوصیات کی وجہ سے اس کے لئے استعمال کیا جائے۔ اگرچہ مفسرین میں سے ہر ایک نے ان میں سے بعض معانی کی طرف اشارہ کیا ہےیا مختلف روایات میں سے ہر ایک روایت میں کسی ایک معنیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آیت کے آخری حصّے میں "طواف" کا ذکر کیا گیا ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون سا طواف ہے چونکہ منیٰ میں قربانی کے بعد حجاج کرام دو طواف بجالاتے ہیں، پہلے کو "طواف زیارت" اور دوسرے کو "طواف نساء" کہا جاتا ہے۔ بعض فقہاء اور مفسرین کا خیال ہے کہ چونکہ آیت میں طواف بلا قید اور غیر مشروط ہے، لہٰذا اس کا مفہوم عام ہے، یعنی اس لفظ سے سبھی طواف مراد لئے جاسکتے ہیں۔ طواف زیارت، طواف نساء، حتّیٰ کہ طواف عمرہ بھی اس میں شامل ہے۔( بحوالہ : کنز العرفان، ج۱، ص۲۷۱) بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد صرف طوافِ زیارت ہے جوکہ احرام کھولنے کے بعد واجب ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ : تفسیر مجمع البیان میں یہ نظریہ مفسرین کا نام لیے بغیر درج کیا گیا ہے) اس ضمن میں جو روایات آئمہ اہلبیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں، ان کے مطابق اس سے مراد "طواف نساء" ہے، چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ولیوفوا نذورھم ولیطوفوا بالبیت العتیق میں طواف سے مراد طواف نساء ہے۔ امام رضا علیہ السلام سے بھی یہی معنیٰ مروی ہیں ۔( بحوالہ : وسائل الشیعہ، ج۹، ص۳۹۰، ابواب الطواف، باب۳) یہ وہی طواف ہے جسے اہلِ سنّت "طواف وداع" کہتے ہیں ۔ بہرحال مندرجہ بالا احادیث کے پیش نظر آخری تفسیر زیادہ قوی دکھائی دیتی ہے، علی الخصوص اس کا امکان ہے کہ "ثُمَّ لِیَقْضُوا تَفَثَھُمْ "کے جملے سے بدن کو غلاظت سے پاک کرنے کے بعد پاکیزگی کی تکمیل کے لئے معطّر کرنا بھی مراد ہو۔یہ بھی مسلّمہ امر ہے کہ حج کے سلسلے میں معطّر صرف اس وقت ہوا جا سکتا ہے، جب حاجی طواف وسعی زیارت سے فارغ ہوچکا ہو لہٰذا اس صورت میں "طواف نساء" کے سوا اور کوئی طواف حاجی کے ذمے نہیں ہوتا (غور کیجئے) ۔ گزشتہ آیتوں کی بحثوں کو سمیٹتے ہوئے بعد والی آیت میں کہا جا رہا ہے، مناسک حج کی تفصیلات یہی ہیں (ذٰلِکَ) ۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ اس لفظ کے تحت ایک پورا جُملہ محذوف ہے وہ یہ ہے: (کذلک امر الحج والمناسک) ۔ اس کے بعد مذکورہ فرائض اور ذمہ داریوں کی تاکید کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے ”جو شخص الله کے لائحہ عمل کا احترام کرے اور اس کو اہم جانے اس کے لئے الله کے ہاں بہتر جزاء موجود ہے (وَمَنْ یُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللهِ فَھُوَ خَیْرٌ لَہُ عِنْدَ رَبِّہِ) ۔ واضح سی بات کہ (حُرُمَات) سے مراد مناسک حج ہیں۔ ہو سکتا ہے، خصوصی طور پر خانہٴ کعبہ اور عمومی طور پر حرم مکّہ کا احترام واکرام بھی اس میں شامل ہو۔لہٰذا خاص طور پر تمام اوامر ونواہی کو اس میں شامل کرلینا ظاہرِ آیت کے خلاف ہے۔ "حرمات" جمع ہے "حرمت" کی اور لفظ "حرمت" اس چیز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جس کا احترام ملحوظ خاطر رہنا چاہیے اور اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے ۔ اس کے بعد احکام احرام کی مناسبت سے چوپاوٴں کے حلال ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، چوپائے (بھیڑ بکری، گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ) تمھارے لئے حلال ہیں۔ سوائے اُن کے جو بعد ازاں بتائے جائیں گے، اور ان کی ممانعت کا حُکم دیا جائے گا (وَاحِلَّتْ لَکُمْ الْاَنْعَامُ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ) ۔ اس آیت کا آخری حصّہ (إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ) حالت احرام میں شکار کی حرمت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ سورہٴ مائدہ آیت۹۵ میں فرمایا گیا ہے: یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ۔ اے صاحبانِ ایمان! حالتِ احرام میں شکار نہ کرو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حرمت، زیرِ بحث آیت کے جملے کی طرف اشارہ ہو جو بتوں کے لئے کی جانے والی قربانیوں کی حرمت کے بارے میں آیا ہے، کیونکہ یہ مسلّم ہے کہ جانور کا حلال ہونا، صرف اس صورت میں ہے کہ ذبح کرتے الله کا نام لیا جائے نہ بتوں یا کسی اور کا ۔ آیت کے آخر میں، مناسک حج کے ذیل میں اور زمانہء جاہلیت کے طور طریقوں کے خلاف دو مزید حکم دیئے جارہے ہیں: ۱۔ بتوں کی غلاظت وگندگی سے اجتناب کرو (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ) ۔ "اوثان" جمع "وثن" (بروزن "کفن") ہے، اس سے مراد وہ پتھر ہیں، جو معبود کے طور پر رکھے جاتے تھے ۔یہاں لفظ "اوثان" "رجس" کی وضاحت کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو اس سے پہلے ہے یعنی آیت کا جملہ کچھ یوں ہے۔ گندگی اور غلاظت سے اجتناب کرو، بعد میں کہا جاتا ہے گویا کہ پلیدگی وہی بت ہیں۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اسلام سے پہلے بت پرست، قربانی کرنے کے بعد، قربانی کا خون بتوں کے سروں اور چہروں پرمل دیتے تھے، اس طرح بڑی کریہة المنظر کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ ممکن ہے زیرِ بحث آیت میں اسی طرف اشارہ ہو۔ "اور بیہودہ گفتگو سے اجتناب کرو" (وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ) ۔
نکتہ: قول الزور کیا ہے؟
بعض مفسرین کے مطابق "قول الزور" سے مراد قبل از اسلام حج کے دوران مشرکین کا "تلبیہ" ہے انھوں نے توحید کے آئینہ دار "تلبیہ" کو مسخ کرکے رکھ دیا تھا، چنانچہ تلبیہ مشرکانہ روشوں میں سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا، وہ اس طرح "تلبیہ" کہتے تھے: لبیک لا شریک لبیک الّا شریکا ھو لک، تملکہ وَمَا ملک "ہم نے تیری دعوت کو قبول کیا اور ہم تیری بارگاہ میں آحاضر ہوئے، اے وہ خدا جس کا سوائے اس مخصوص شریک کے کوئی شریک نہیں تو بھی اس کا ہے اور اس کی ہر شے کا مالک بھی تو ہی ہے"۔ یہ جملہ بلاشک وشبہ خرافات سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے اور "قول الزور" کا صحیح مصداق ہے، جس کا مطلب، جھوٹ، باطل اور نامناسب کلام ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر کہا جائے کہ یہ آیت مشرکین مکّہ کے حج کے طور طریقے سے متعلق ہے تو یہ آیت کے کُلی مفہوم سے مانع نہیں ہے اور ہر قسم اور ہر طرح کے بُت سے پرہیز اور لغو اور بیہودہ بات سے اجتناب کا حکم، اس میں شامل رہتا ہے۔ بعض روایات میں "اوثان" سے شطرنج (جو جوئے کی ایک قسم ہے) مراد لیا گیا ہے اور "قول الزور" سے غناء اور جھوٹی گواہی مراد ہے، دراصل یہ سب ایک کل کے مختلف اجزاء ہیں۔ اور زیربحث آیت ان سب پر محیط ہے، نہ یہ کہ کسی ایک معنی میں منحصر ہے۔ اسلام کے قابل احترام پیغمبر سے ایک روایت مروی ہے کہ ایک دفعہ آپ نے موعظہ کے دوران فرمایا: "ایھا النّاس عدلت شھادة الزور بالشرک بِالله" اے لوگو! جھوٹی گواہی دینا الله کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینے کے مترادف ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت "فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ "کی تلاوت فرمائی ۔ یہ حدیث بھی زیرِ بحث آیت کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شعائر الله کی تعظیم علامتِ تقویّ ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیت کے آخر میں توحید اور جملہ بتوں اور ہر قسم کی بت پرستی سے اجتناب کی تاکید ہو رہی تھی۔ یہ آیت بھی اسی نکتے کے ذیل میں بیان کررہی ہے۔ مناسک حج اور تلبیہ خالصتاً للّٰہ ادا کرو اور کسی طرح بھی اس میں شرک کا گزر نہ ہو (حُنَفَاءَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِینَ بِہِ) (تشریحی نوٹ : "حنفاء" اور غیر مشرکین دونوں حال ہیں اور گزشتہ آیت کے افعال "فاجتنبوا" "اجتنبوا" سے متعلق ہیں) "حُنَفَاء" "حنیف "کی جمع ہے جس سے مراد وہ شخص ہے، جو گمراہی اور افراط وتفریط سے ہٹ کر راہ راست کی میانہ روی کی طرف میلان رکھتا ہو، بالفاظ دیگر غلط راستے سے ہٹ کر "صراط مستقیم" پر قدم رکھے، کیونکہ "حنف" (بروزن "صدف") جھکاوٴ اور میلان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے( ہر قسم کی گمراہی سے منھ موڑکر دوسری جانب جھکنے ہی کا نتیجہ "صراط مستقیم "پر گامزن ہونا ہے )۔ اسی طرح سے یہ آیت اخلاص اور ارادہٴ قربت خدا کو حج اور دیگر عبادات میں اصل محرک کے طور پر پیش کررہی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ عبادت کی رُوح اخلاص ہے اور اخلاص یہ ہے کہ کسی قسم کا شرک اور غیر قدرتی عنصر اس میں کارفرما نہ ہو ۔امام باقر علیہ السلام ایک حدیث مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) سے "حنیف" کی تشریح کے لئے سوال کیا گیا تو آپ(نے جواب میں فرمایا: "ھی الفطرة التی فطر النّاس علیھا لاتبدیل لخلق الله، قال: فطرھم الله علی المعرفة" "حنیف اس فطرت کا نام ہے، جس پر الله نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، الله کی پیدا کردہ فطرت میں کبھی تغیر وتبدل نہیں ہوا کرتا۔ اس کے بعد فرمایا: الله تعالیٰ نے توحید کو انسانی سرشت میں قرار دیا ہے۔( بحوالہ : ۔ تفسیر صافی بحوالہٴ توحید صدوق) زیر بحث آیت کی جو تفسیر مندرجہ بالا روایت میں آئی ہے وہ "خلوص" کی حقیقی بنیاد کی طرف اشارہ ہے۔ فطرت توحیدی قصد قربت اور محرک کا منبع ہے۔ اس کے بعد مشرکین، ان کے زوال، بدبختی اور تباہی کی حقیقت کی تصویر کشی کی گئی ہے: جو شخص الله کے ساتھ کسی کو شریک قرار دے، اس کی مثال آسمان سے اس گرنے والے کی سی ہے جس پر مردار خوار پرندے جھپٹتے ہیں (اس کے جسم کا ایک ایک جزو کسی نہ کسی مردار خوار پرندے کی چونچ میں ہوتا ہے) اور یا( اگر ان کی گرفت سے بچ نکلے تو) آندھیاں اس کے جسم کے اعضاء چاروں طرف بکھیر دیتی ہیں (وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللهِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ) ۔( تشریحی نوٹ : "تخطفہ" "خطف' (بروزن "عطف") کے مادہ سے ہے، اس کا معنی جھپٹ کر پکڑنا ہے۔ " سحیق" دور دراز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے "سحوق' کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جو بہت اونچا ہو اور اس کی شاخیں دُور دُور تک پھیلی ہوں ۔) دراصل اس آیت میں آسمان کو توحید کے لئے کنائے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور شرک کو آسمان سے گرنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ فطری حقیقت ہے کہ آسمان پر سورج اور چاند روشنی پھیلاتے ہیں، اور ستارے چمکتے ہیں خوشابحال وہ جو اس آسمان پر اگر شمس وقمر کی طرح نمایاں نہیں ہو سکتا تو کم از کم ستاروں کی طرح تو چمکتا ہے۔ مگر انسان جب اس رفعت سے گرتا ہے تو انجاموں میں سے ایک اس کا مقدر بن جاتا ہے یا یہ کہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی مردار خوار بڑے بڑے پرندوں کا تر نوالہ بن جاتا ہے، یعنی اطمینان بخش مرکز سے ہٹ جانے کے بعد خواہشات نفسانی کے اضطراب وگرداب میں پھنس جاتا ہے اور ہر خواہش نفسانی گویا اس کی زندگی کے ایک ایک گوشے کو اچک لیتی ہے اور اسے ختم کر دیتی ہے اور اگر اس مرحلے سے صحیح سلامت نکل جائے تو تیز تند آندھیاں اور جھکڑ اسے آلیتے ہیں، زمین پر ادھر اُدھر اُسے اس طرح پٹختے ہیں کہ اُس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوکر فضاء میں منتشر ہوجاتا ہے۔ یہ آندھیاں اور جھکڑ در اصل شیطان کی طرف اشارہ ہے جو تاک لگائے بیٹھا ہے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ جو شخص بلندی سے پستی کی طرف جاتا ہے، وہ قوت فیصلہ اور قوت ارادی سے محروم ہوجاتا ہے اور لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی تیزی کی وجہ سے وہ نیستی وعدم کی طرف بڑھتا جاتا ہے، حتّیٰ کہ بالکل معدوم ومحو ہوجاتا ہے۔ واقعی جو شخص آسمان توحید کے مرکز کو کھودے وہ اپنی تقدیر کی لگام تھامنے کی صلاحیّت سے عاری ہوجاتا ہے۔ اور اس سلسلے میں جتنا آگے بڑھتا ہے اس کے تنزل اور زوال میں اضافہ ہوجاتا ہے، حتّیٰ کہ تمام انسانی جوہر سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ واقعی "شرک" کے لئے اس سے زیادہ واضح اور منھ بولتی مثال نہیں دی جاسکتی ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ موجودہ دور میں ثابت کیا جاچکا ہے کہ جہاں کشش ثقل نہ ہو وہاں انسان کا کوئی وزن نہیں ہوتا اسی لئے خلاء باز ایسی فضا میں بے وزنی کی مشق کرتے ہیں، جہاں کشش ثقل ختم کر دی جاتی ہے۔ وہاںانسان پر جو اضطراب و بے قراری کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے، بے وزنی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بے شک جو شخص فراز ِ ایمان سے نشیب شرک کی طرف لڑھکتا ہے دراصل اپنے مستقر اور مسکن کو کھونے کی وجہ سے اپنے اندر ایک بے وزنی کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کے بعد شدید اضطراب اس پر طاری ہوجاتا ہے۔ بعد والی آیت میں مناسک حج اور شعائر الله کی تعظیم کی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا جا رہا ہے: بات یونہی ہے، جیسے بیان کر دیا گیا ہے (ذٰلِکَ) ۔ جو شخص شعائر الله کی تعظیم کرے، انھیں برتر جانے اور دین مقدس اسلام کی نشانیوں اوراس کی اطاعت کی علامتوں کا احترام کرے، خود اس کے متقی ہونے کا ثبوت ہے (وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوبِ) ۔ "شَعَائِر""شعیرة " کی جمع ہے، جس کا معنیٰ علامت اور نشانی ہے، لہٰذا "شَعَائِرَ اللهِ" کا مطلب الله کی نشانیاں ہوا۔ جس میں دین مبین کا مجموعی پروگرام اس کے چیدہ چیدہ مبانی واصول وارکان ہیں کہ جو پہلی ہی نظر میں نمایاں نظر آنے لگتے ہیں ۔اسی میں "مناسک حج" بھی ہیں، جو انسان کو خدا تعالیٰ کی یاد دلاتے ہیں۔ اگرچہ مناسک حج بلاشبہ ان شعائر میں سے ایک ہیں، جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ علی الخصوص قربانی کا مسئلہ جو اس سورہ کی آیت ۳۶ میں پوری وضاحت کے ساتھ انہی شعائر سے ایک جزو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ اس میں تمام اسلامی شعائر کا مفہوم پوری شدّومدّ سے موجود ہے اور کسی طور پر انھیں صرف مناسک حج کی یا قربانی کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، کیونکہ قربانی ان تمام "شعائر" میں سے ایک ہے جن کو شعائر الله کہا جاتا ہے اور یہاں لفظ "من "کو "من تبعیضی" کہتے ہیں ۔اس طرح سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۵ میں صفا ومروہ کے بارے میں ہے۔ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ الله بے شک صفا اور مروہ شعائر الله میں سے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ تمام ارکان مقامات اور اشیاء جن کا تعلق دین کے کسی نہ کسی پرورگرام سے ہے اور انسان کو الله کی یاد دلاتی ہیں اور دین کی عظمت وحشمت کا مظہر ہیں وہ سب کی سب شعائر الله ہیں اور ان کی تعظیم وتکریم بذات خود تقویٰ وپرہیزگاری کی علاوت ہے۔ ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کی تعظیم وتکریم سے مراد یوں نہیں کہ جیسے ظاہر بین مفسرین نے قربانی کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی بڑائی کا مفہوم اس کا جسمانی طور پر بڑا ہونا ہے، بلکہ تعظیم کی حقیقت یہ ہے کہ "شعائر الله" کی حقیقت، مقام اور کیفیت کے بارے میں اپنے افکار واذہان کو اونچا کریں اور اسی مناسبت سے ان کا شایانِ شان احترام کریں۔ اس عمل کا دل میں پائے جانے والے تقویٰ وپرہیزگاری سے گہرا تعلق ہے اور درحقیقت، تعظیم "قصدوارادہ" کا جزء ہے۔ یوں تو منافق بھی ظاہری اعمال سے "تعظیم" کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر ان کے اعمال کا سرچشمہ "دلی تعظیم" اور تقویٰ وپرہیزگاری نہیں ہوتا، اس لئے ان کی قطعی کوئی قدر وقیمت نہیں،۔حقیقی تعظیم ان افراد ہی کی طرف سے ہے جو صاحبانِ تقویٰ ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پرہیزگاری اور احکاماتِ خداوندی کے سلسلے میں جواب دہی کا احساس باطنی امور ہیں اور ان کا مرکز انسان کا دل اور روح ہیں۔ جہاں سے یہ سارے جسم کی طرف سرایت کرتے ہیں، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ "شعائر الله" کی تعظیم واحترام تقویٰ کی ایک علامت ہے۔ ( تشریحی نوٹ : عربی زبان کی گرائمر کے قواعد کی رُو سے شرطیہ جملوں میں "شرط" اور "جزاء" کے درمیان کوئی تعلق ضرور ہونا چاہیے اور دونوں کا موضوع بھی ایک ہونا ضروری ہے، مذکورہ آیت میں "جزاء' محذوف ہے اور دراصل یُوں ہے ومن یعظم شعائر الله فان تعظیمھا من تقوی القلوب۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ جزاء کلی طور پر محذوف ہو، چونکہ"فانّھا من تقوی“ علت ہے اور اپنے معلول کی جانشین ہے اور پورا جملہ یوں ہے: ومن یعظم شعائر الله فھو خیرٌ لہ فان تعظیمھا من تقوی القلوب) تفسیر قرطبی، ج۷، صفحہ۴۴۴۸ میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ نے اپنے سینہ الجہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: " التقویٰ ھٰھُنا" " تقویٰ کی حقیقت یہاں ہے"۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ اس طرح کے عقیدے کا حامل ہے کہ قربانی کے ارادے سے لے جائے جانے والے اونٹ یا دوسرے جانور کو اپنے وطن سے میقات اور وہاں سے مکّہ لائے تو اثنائے سفر میں ذاتی استعمال میں نہیں لانا چاہیے۔ یعنی نہ اس پر سواری کرنی چاہیے نہ اس کا دودھ ذاتی طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ وہ مجموعی طور پر اپنے لئے اس کا استعمال ممنوع سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اس فضول اور لا یعنی ذہنیت کی نفی کرتا ہے اور یوں کہتا ہے: ایک مقررہ وقت تک (یعنی ان کے ذبح ہونے تک) قربانی کے جانوروں سے تم فائدے حاصل کر سکتے ہو (لَکُمْ فِیھَا مَنَافِعُ إِلَی اَجَلٍ مُسَمًّی) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے مکّہ جاتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جو بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہا تھا جبکہ اونٹ اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا: ارکبھا؛ اس اونٹ پر سوار ہوجا۔ اس نے عرض کیا: "یا رسول الله انّھا ھدی " یا رسول الله یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ نے قدرے غصّے سے فرمایا: ارکبھا ویلک افسوس ہے تیرے حال پر میں کہہ رہا ہوں سوار ہوجا ۔(بحوالہ : تفسیر کبیر، فخرالدین رازی، ج۲۳، ص۳۳) اسی طرح کی متعدد روایات اہل بیت علیہم السلام کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہیں۔ ان روایات میں سے ایک ابوبصیر امام صادق علیہ السلام سےنقل کرتے ہیں کہ زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں آپ نے فرمایا: ان احتاج الیٰ ظھرھا رکبھا، من غیر ان یعنف علیھا وان کان لھا لبن حلبھا حلاباً ینھکھا اگر حاجی کو قربانی کے جانور کو بطور سواری استعمال کرنے کی ضرورت پڑے تو سوار ہوجائے، مگر اس پر تشدّد نہ کرے، اگر قربانی کا جانوردودھ دینے والا جانور ہو تو بے شک دودھ دھولے، مگر اس پر زیادتی نہ کرے۔( بحوالہ : تفسیرنور الثقلین، ج۳، ص۴۹) مذکورہ بالا روایات دوانتہائی نظریات کے درمیان "معتدل" طریقے کی طرف راہنمائی کررہی ہیں۔ ایک طرف اس طرح کے لوگ تھے کہ قربانی کے جانوروں کا سرے سے کسی قسم کا احترام ہی ملحوظ نہ رکھتے تھے اور کبھی تو وقت ومقام قربانی سے پہلے ہی ذبح کرکے کھالیتے تھے ۔جس کی طرف سورہٴ مائدہ آیت ۲ میں یوں اشارہ کیا گیا ہے: لَاتُحِلُّوا شَعَائِرَ اللهِ وَلَاالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَلَاالْھَدْیَ وَلَاالْقَلَائِدَ شعائر الله ماہِ حرمت اور قربانی کو من مانے طریقے سے اپنے استعمال میں نہ لاوٴ۔ دوسری طرف بعض لوگ اس طرح کرتے کہ جس جانور کو قربانی کے لئے چنتے نہ اس کے دودھ سے فائدہ اُٹھاتے اور نہ ہی اس پر سواری کرتے۔ اگرچہ مکّے آتے ہوئے ان کو طویل راستوں میں اس کی سخت ضرورت بھی ہوتی، مذکورہ آیت نے ان کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔ مندرجہ بالا تفسیر پر صرف یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں قربانی کے جانور کا کوئی ذکر ہی نہیں، آپ نے ضمیر ان کی طرف کیسے لوٹادی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے پہلی آیت میں شعائر الله کا ذکر تو واضح ہے اور مسلّمہ طور پر قربانی، شعائر الله میں سے، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا اور بعد میں بھی کیا جائے گا۔ لہٰذا شعائر الله کے ضمن میں ضمیر قربانی کے جانور طرف لوٹائی گئی ہے۔ ( تشریحی نوٹ : مذکورہ بالا آیت کی واضح تفسیر ہے، اس کے علاوہ بعض مفسرین نے دو اور خیالات کا بھی اظہار کیا ہے: ا) "فیھا "کی ضمیر تمام مناسک کی طرف پلٹتی ہے، اس بناء پر آیت کا مفہوم یوں ہو گا: ایک مقررہ وقت تک (ایّام حج یا دنیا کے ختم ہونے تک) مناسک حج میں تمھارا مفاد ہے۔ حج کا اخری رُکن جس کو بجالانے کے بعد حاجی احرام کھول کر "محل" ہوجاتا ہے، خانہٴ کعبہ کے قریب طوافِ زیارت یا طواف نساء کا بجالاتا ہے، اس بناء پر زیرِ بحث آیت "لیشھد ومنافع لھم"کے مشابہ ہے، جس کی تفسیر گزر چکی ہے۔ ب) "فیھا" کی ضمیر تمام شعائر الله اور اسلام کے نمایاں ارکانِ اعمال کی طرف پلٹتی ہے، اس صورت میں اس کا مفہوم یوں ہو گا: شعائر الله اور تمام اسلامی احکام میں رہتی دنیا تک تمھارے لئے بہت فائدے ہیں۔ اس کے بعد تمھای اخروی جزاء خانہٴ کعبہ کے خالق کے ذمہ ہے۔ لیکن جس تفسیر کو ہم نے ذکر کیا ہے، ان دونوں کے مقابلے میں زیادہ صحیح اور روایات سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔) بہر حال آیت کے آخری حصے میں قربانی کے آخری مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کا مقام وہ قدیم اور محترم گھر خانہ کعبہ ہے ( ثم محلھا الی البیت العتیق)۔ اس طرح جب تک قربانی کا جانور قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے،اس سے ذاتی کام لیا جا سکتا ہے اور قربان گاہ تک پہنچنے کے بعد اس کی قربانی کے فرض کو ادا کرنا چاہیے۔ فقہا ء نے اسلامی اسناد کی بنیاد پر کہا ہے کہ اگر قربانی حج سے متعلق ہے تو اس کی قربان گاہ میدان منیٰ ہے، اگر عمرہ مفردہ سے متعلق ہے تو مکہ المکرمہ ہے۔ البتہ زیر بحث آیت مناسک حج پر گفتگو کر رہی ہے لہذا " بیت العتیق " (خانہ کعبہ ) کو وسیع تر معنیٰ یعنی مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح ( میدان منی ٰ ) کے معنیٰ میں بھی سمجھنا چاہیے۔ ( قابل غور ہے )۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بُردبار لوگوں کے لئے بشارت
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں کے حوالے سے منجملہ قربانی کے مضمون سے شاید یہ سوال پیدا ہو کہ اسلامی شریعت میں یہ کیسی عبادت ہے کہ خداوند قدّوس کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لئے جانوروں کی قربانی دی جائے، آیا خداکو قربانی کی ضرورت ہے؟ آیا یہ حکم دوسرے ادیان میں بھی آیا ہے یا صرف یہ مشرکین کا طریقہ کار تھا؟ انھیں سوالات کی وضاحت کے ذیل میں قرآن مجید زیرِ بحث پہلی آیت میں فرمارہا ہے۔ قربانی اور خدا کے لئے جانور ذبح کرنے کا حکم صرف ہی نہیں دیا گیا بلکہ "ہم نے ہر امت کے لے ایک قربانگاہ قرار دی ہے تاکہ وہ روزی کے طور پر دیئے جانے والے جانوروں کو قربان کرتے ہوئے ان پر الله کا نام لیں" (وَلِکُلِّ امَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیمَةِ الْاَنْعَامِ) ۔ راغب اپنی "مفردات" میں کہتے ہیں کہ "نسک" کے معنی عبادت کے ہیں "ناسک" بمعنی "عابد" ہے لہٰذا مناسک حج، یعنی وہ مقامات یا اقامت گاہیں، جہاں یہ عبادت بجالائی جاتی ہے یا پھر خود انہی اعمال کے معنیٰ میں ہے۔ لیکن مجمع البیان میں جناب طبرسی اور "روح البیان" میں جناب ابوالفتوح رازی کے بقول "منسک' بروزن "منصب "ہے اور ایک احتمال کے مطابق عبادات میں سے علی الخصوص "قربانی' کے معنی میں ہے۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ اسی بناء پر کہا جاتا ہے: "نسکت الشاة" یعنی میں نے بھیڑ ذبح کی ) اس بناء پر اگرچہ "منسک" ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں منجملہ عبادات کے "مناسکِ حج" بھی شامل ہیں ۔اور زیرِ بحث آیت "لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللهِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیمَةِ الْاَنْعَامِ" تاکہ اس پر الله کا نام لیں، کے قرینے سے بالخصوص "قربانی" کے معنی میں ہے۔ بہرحال ہمیشہ سے قربانی کے متعلق سوالات اُٹھائے جاتے رہے ہیں، لیکن زیادہ تر سوالات کی وجہ فضول اور بیہودہ رسمیں ہیں، جو اس عبادت کے ساتھ نتھی کر دی گئی ہیں۔ مثلاً ایک خاص رسم کے تحت مشرکین کا بتوں کے لئے قربانی کرنا، مگر اس کے برعکس، الله کے نام پر اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قربانی کرنا جو دراصل کسی کا راہِ خدا میں جان نثاری اور اپنی قربانی دینے کی آمادگی کے جذبے کا مظہر ہے اور جانور کے قربانی کے بعد اس کے گوشت سے غرباء ومساکین اور محتاجوں کی خوراک کے لئے استفادہ کرنا وغیرہ صریحاً منطقی اور قابل فہم ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں مذکور ہے، تمھارا خدا معبود یکتا ویگانہ ہے (اور اس کا پروگرام بھی ایک ہی ہے) (فَإِلَھُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ) ۔ "جب حقیقت یہی ہے تو اس کے حضور سرتسلیم خم کردو" (فَلَہُ اَسْلِمُوا) ۔ اور احکامات خدا کے سامنے "جھک جانے والوں کو خوشخبری سنادو" (وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِینَ) ۔ (تشریحی نوٹ : "مخبتین" "اخبات"کے مادہ سے ہے۔ "خبت" (بروزن "ثبت" ) سے لیا گیا ہے جو ہموار اور وسیع وعریض زمین کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جس پر تمام انسان آرام سے چل پھر سکتا ہے، بعد ازآن یہ مادہ اطمینان اور انکساری کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا، کیونکہ زمین پر چلنے والا مطمئن اور اس کے پاوٴں تلے زمین منکسر ومتواضع ہوتی ہے) بعد والی آیت میں "مخبتین" (انکساری کرنے والوں اور بردبار لوگوں کی صفات کو چار حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں دو حصّے روحانی ہیں اور دو مادّی ۔ ۱۔ پہلے فرمایا جا رہا ہے: وہ لوگ ایسے ہیں کہ جونہی الله کا نام ان کے سامنے لیا جائے تو ان کے دل خوف الٰہی سے معمور ہوجاتے ہیں (الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُھُمْ) ۔ یہ خوف صرف الله کے غلیظ وغضب کی وجہ سے ہی سے نہیں اور نہ ہی اس کی رحمت بے پایاں میں کسی قسم کےشک وشبہ کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ خوف ان ذمہ داریوں اور فرائض کی وجہ سے ہے جو ان کے کندھوں پر ہیں اور انھیں یہ ڈر ہے کہ کہیں ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہ ہوجائے مزید برآں یہ خوف الله کی بے انتہا عظمت وجلالت و کی وجہ سے ہے جس کا ان کو ادراک ہے، کیونکہ انسان ہیبت وجلالت سے خائف ہوتا ہے۔ ( تشریحی نوٹ : خداخوفی کے علل واسباب کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد4 میں سورہٴ انفال کی آیت ۲ کی تفسیر کے ذیل میں ہم شرح وبسط کے ساتھ بحث کر چکے ہیں) ۲۔ زندگی میں پیش آنے والے مصائب وآلام پر نہایت صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں (وَالصَّابِرِینَ عَلیٰ مَا اَصَابَھُمْ) ۔ حالات کیسے ہی سنگین کیوں نہ ہوں اور ان مشکل حالات کی وجہ سے ان کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ پہنچے یہ لوگ گھبرا کر گھٹنے نہیں ٹیک دیتے اور نہ ہی ان کے اطمینان وسکون میں فرق آتا ہے اور نہ وہ اپنے موقف سے دستبردار ہوتے ہیں اور نہ رحمتِ خدا سے مایوس ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی کسی لفظ کے ذریعے کفرانِ نعمت کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں، غرضیکہ ہر حال میں یہ استقامت وپامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوئے منزل رواں دواں رہتے ہیں اور کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں ۔ ۳ اور ۴۔ نماز قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (وَالْمُقِیمِی الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُونَ) یعنی ایک طرف اللہ کے ساتھ ان کا گہرا ربط ہے اور دوسری طرف ان کی جڑیں خلقِ خدا میں دور تک پھیلی ہوئی ہیں، مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ "اخبات" عجزو انکساری اور تسلیم کہ جو مومنین کی خاص صفات میں سے ہیں، صرف باطنی پہلو نہیں رکھتیں، بلکہ اس کے آثار ظاہر وآشکار ہونے چاہئیں ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قربانی کیوں کی جاتی ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 4زیرِ بحث آیتوں میں ایک دفعہ پھر مناسک حج، شعائر الله اور قربانی کے مسائل پر گفتگو ہو رہی ہے پہلی آیت میں ارشاد ہو رہا ہے، موٹے تازے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لئے شعائر الله میں قرار دیا ہے (وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاھَا لَکُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ) ۔ ایک طرف اونٹ تم سے متعلق ہیں۔ اور دوسری طرف وہ الله کی نشانیوں میں سے قرار دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ حج کی قربانی اس باشکوہ عبادت کا ایک نمایاں حصّہ ہے۔جس کے فلسفے کے بارے میں ہم تفصیلاً بات کر چکے ہیں ۔ "بُدن"، بروزن "قدس" ہے اور "بدنہ"، بروزن "عجلہ" کی جمع ہے، اس کا معنی موٹا تازہ اور زیادہ گوشت والا اونٹ ہے، چونکہ اس طرح کے جانور قربانی کرنے اور فقراء ومساکین اور ضرورت مندوں کو کھلانے کے لئے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ لہٰذا خصوصی طور پر ایسے جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالانکہ احکام قربانی کے مطابق قربانی کے جانور کا موٹا تازہ ہونا ضروری شرائط میں سے نہیں۔ بس اتنا دیکھا جاتا ہے کہ کمزور اور لاغر نہ ہو۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: اس قسم کے جانوروں میں تمھارے لئے خیر وبرکت ہے (لَکُمْ فِیھَا خَیْرٌ) ۔ یعنی ایک طرف تم ان کے گوشت سے بھی استفادہ کرتے ہو اوروں کو بھی دیتے ہو اور دوسری طرف ایثار، قربانی اور عبادت بجالاکر روحانی نتائج سے بہرمند ہوتے ہو اور اس کا بارگاہ میں رسائی پاتے ہو۔ اس کے بعد قربانی کرنے کی کیفیت کے بارے میں ایک مختصر سا جُملہ ارشاد فرمایا گیا ہے: جب تم قطار میں کھڑے جانوروں کی قربانی کرنے لگو تو الله کا نام لو (فَاذْکُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَیْھَا صَوَافَّ)۔ بے شک اونٹ کو نحر کرتے وقت یا دوسرے چوپایوں کو ذبح کرتے وقت جس طرح سے بھی الله کا نام لے لیا جائے صحیح ہے اور آیت بھی ظاہری طور پر یونہی کہہ رہی ہے۔ لیکن بعض روایات میں ابنِ عباس سے اس موقع کے لئے ایک خاص ذکرِ نقل کیا گیا جو دراصل ایک اکمل ذات کی تعریف ہے، وہ ذکر یہ ہے: (الله اکبر، لاالٰہ الّا الله والله اکبر، اللّٰھمَّ مِنکَ وَلَکَ) ۔(تشریحی نوٹ : ۔ اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر مجمع البیان اور "روح المعانی" تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ) امام صادق علیہ السلام سے بہت رسا اور عمدہ جُملے نقل ہوئے ہیں، آپ ؑنے فرمایا: جب تم قربانی کرنے لگو اسے قبلہ رولٹاوٴ یا کھڑا کرو او ذ بج یا نحر کرتے وقت یہ پڑھو: وجّھتُ وَجھِی لِلّذی فطر السمَوات والارض حنیفاً مسلماً وما انا من المشرکین اِنَّ صلٰوتی ونِسُکِی وَمَحیَای ومَمَاتِی للّٰہِ ربّ العالمین لاشریک لہ، وبذلک امرت وانا من المسلمین، اللّٰھُمّ مِنکَ ولَک بسم الله وبِالله والله اکبر، اللّٰھُمّ تقبّل منّی(بحوالہ : وسائل الشیعہ، ج۱۰، ص۱۳۸، ابواب الذبح، باب۳۷) لفظ "صواف" "صافہ" کی جمع ہے اور اس کا معنی قطار میں کھڑے ہونے کے ہیں، روایات میں ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قربانی کرتے وقت اونٹ کے اگلے دونوں پاوٴں ٹخنے سے لے کر گھٹنے تک باندھ دیئے جائیں، مگر وہ کھڑا رہے تاکہ نحر کرتے ہوئے وہ نہ ہلے اور نہ بھاگے۔ طبعی طور پر جب خون کی کافی مقدار خارج ہوجاتی ہے تو اگلے پاوٴں ضعف کی وجہ سے کمزور پڑجاتے ہیں اور اونٹ زمین پر لیٹ جاتا ہے۔ لہٰذا آیت میں اسی کیفیت کا بیان آیا ہے کہ جس وقت اس کا پہلو ساکن ہوجائے (اس کی جان نکل جائے) تو اس کا گوشت خود بھی کھاوٴ، قناعت پیشہ اور غریبوں اور مقروض، محتاجوں کو بھی کھلاوٴ (فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُھَا فَکُلُوا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ) ۔ "قانع"اور "معتر " میں فرق ہے۔ ”قانع“ اس شخص کو کہتے ہیں جسے جو کچھ بھی دیا جائے اسی پر قناعت کرتے ہوئے راضی ہوجائے اور کسی قسم کا اعتراض نہ کرے اور نہ اظہارِ ناراضگی کرے۔جبکہ "معتر" ایک تو سوال کرتا ہے دوسرے بسا اوقات جو کچھ ملے اسے ناکافی جانتے ہوئے تقاضائے مزید کرتا ہے اور جُزبُز ہوتا ہے۔ "قانع " "قناعت" کے مادہ سے اور "معتر" "عر" (بروزن "شر" اور بروزن "حر") مادہ سے اور اصل میں ایک بیماری ہے جسے "جرب"کہتے ہیں، کے معنی میں ہے (یہ خارش کی طرح کی ایک جلدی بیماری ہے) ۔اس کے علاوہ اس سائل کو جو سوال کرنے کے بعد اس پر اصرار کرتا ہے اور کبھی تو کچھ نہ ملنے پر اظہار ناراضگی وخفگی بھی کرتا ہے "معتر" کہا جاتا ہے۔"قانع" کو "معتر" پر ترجیح اس لئے دی گئی ہے کہ محروم طبقے میں سے سفید پوش، عفیف النفس اور خوددار افراد توجہ کے زیادہ مستحق ہیں ۔ ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے "کلوا منھا" اس میں سے کھاوٴ کہہ کر آیت نے ظاہراً ہر حاجی پر واجب کر دیا ہے کہ اپنی قربانی کا گوشت خود بھی کھائے، شاید یہ حُکم اُن کے اور غریبوں اور محتاجوں میں مساوات کے لئے ہے۔ آیت کا اختتام ان الفاظ پر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح سے ہم نے ان جانوروں کو تمھارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکرگزار بندے بن جاوٴ (کَذٰلِکَ سَخَّرْنَاھَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ) ۔ سچ مچ یہ عجیب ہی تو ہے کہ عظیم الجثّہ اور قوی ہیکل جانور اپنی تمام تر قوتِ جسمانی کے باوجود ایک کمزور جسم والے انسان کے آگے گویا بے بس کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے پاوٴں جکڑے اور نحر کرے (نحر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ گردن اور اگلی دوٹانگوں کے ملاپ پر جو گڑھا سا ہوتا ہے اس میں چھُری گھونپ دی جاتی ہے اور جانور تھوڑی ہی دیر میں جان دے دیتا ہے)۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ ان جانوروں کے مطیع ہونے کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے الله ان پر سے مطیع وفرمانبردار رہنے کا حکم اٹھا لیتا ہے۔ بس اچانک وہی جانور جو ایک بچّے کے پیچھے بھی نہایت فرمانبردار بن کر عام طور پر چلا کرتا ہے، غضبناک اور خطرناک آفت کا روپ دھار لیتا ہے اور کئی طاقتور افراد مل کر بھی اس پر قابو نہیں پاسکتے ۔ بعد والی آیت در اصل ان سوالات کا واضح جواب ہے کہ آخر الله کو قربانی کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ قربانی کا فسلفہ کیا ہے، کیا قربانی اس کے لئے کسی طرح سے فائدہ رساں ہے؟ جواباً فرمایا جا رہا ہے: قربان شدہ جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز خدا تک نہیں پہنچتا (لَنْ یَنَالَ اللهَ لُحُومُھَا وَلَادِمَاؤُھَا) ۔ اصولی طور پر خدا کو گوشت کی ضرورت نہیں ہے، وہ تو جسم نہیں ہے اور نہ ہی ضرورت مند ہے وہ اکمل اور لا متناہی ذات ہے۔ بلکہ وہ چیز جو الله تک پہنچتی ہے وہ تمھارے اعمال نیک اور تمھارا تقویٰ ہے (وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ) ۔ بالفاظ دیگر قربانی سے مقصد یہ ہے کہ تم مدارج تقویٰ طے کرکے ایک انسان کامل بن جاوٴ اور دن بدن الله کے قریب ہوتے جاوٴ، کیونکہ عبادات انسان کے لئے تربیتی کلاسیں ہیں۔ قربانی انسان کو جانثاری، خودگذشت اور راہِ خدا میں شہادت کا درس دیتی ہے۔ مزید برآں محتاجوں اور ضرورتمندوں کی مدد کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ یہ جملہ کہ قربان شدہ جانوروں کا خون تک نہیں پہنچتا، کس مفہوم میں ہے۔ حالانکہ خون سے ظاہراً کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا؟ بات دراصل یہ ہے کہ اس جملے سے زمانہٴ جاہلیت کی بیہودہ اور فرسودہ رسموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اُس وقت ایک رسم یہ تھی کہ قربانی کا خون بتوں کے سروں پر ملتے تھے اور کبھی تو کعبہ کے درودیوار پر بھی چھڑک دیتے تھے۔بعض بے خبر مسلمان بھی چاہتے تھے کہ ان رسومات پر عمل کیا جائے لہٰذا اس آیت سے ان کو منع کیا گیا ہے۔( بحوالہ : ۔ کنز العرفان، ج۱، ص۳۱۴) بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض علاقوں میں ابھی تک یہ بیہودہ رسومات باقی ہیں۔ چنانچہ جب کبھی مکان کی تعمیر کے سلسلے میں قربانی کرتے ہیں تو جانوروں کا خون بنیادوں، دیواروں یا چھتوں پر چھڑک دیتے ہیں یہاں تک کہ بعض مساجد کی تعمیر کے دوران بھی یہ قبیح عمل دہرایا جاتا ہے۔ جو مسجد کی نجاست کا سبب بنتا ہے، روشن فکر مسلمانوں کو اس کے خلاف مہم چلانی چاہیے ۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر جانوروں کے مطیع کئے جانے کی نعمت کا ذکر کیا رہا ہے "اس طرح سے الله تعالیٰ نے تمھارے چوپایوں کومطیع بنادیا ہے تاکہ تم اپنی ہدایت کئے جانے پر الله کی بڑائی بیان کرو" (کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللهَ عَلیٰ مَا ھَدَاکُمْ) ۔ مقصد یہ ہے کہ الله تعالیٰ کی عظمت ورفعت سے شناسائی پیدا کرو،جس نے تمھارے لئے فطری اور قانونی دونوں طریقوں سے ہدایت کی ہے۔ایک طرف طریقہٴ حج اور سلیقہ اطاعت وبندگی تمھیں سکھایا اور دوسری طرف قوی ہیکل اور طاقتور جانوروں کو تمھارا مطیع وفرمانبردار بنایا تاکہ الله کی اطاعت کرنے، قربانی کرنے، ضرورتمندوں کی ضرورت کو پورا کرنے اور معیشت کا معیار بھی بلند کرنے میں ان سے استفادہ کرو۔ چنانچہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: "نیکو کاروں کو خوشخبری سنادو" (وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِینَ) ۔ وہ لوگ جو ان نعمتوں کو الله کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں اور اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کوبطریق احسن انجام دیتے ہیں اور علی الخصوص اپنا مال ومتاع راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں، یہ نیک لوگ نہ صرف دوسروں سے نیکی کرتے ہیں بلکہ اس طرح سے اپنی بھی بہترین خدمت انجام دیتے ہیں ۔ مشرکین کی بعض بیہودہ حرکات کہ جن کا اس سے پہلی آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے کے متعلق یہ احتمال ہو سکتا تھا کہ مشرکین ہٹ دھرمی اور تعصّب کی وجہ سے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے مسلمانوں سے بھڑجائیں، چنانچہ پروردگار عالمین مومنین کو دلاسا دیتا ہے اور اپنی مدد کے وعدے سے ان کو حوصلہ بندھاتے ہوئے فرماتا ہے: "الله صاحبانِ ایمان کا دفاع کرتا ہے" (إِنَّ اللهَ یُدَافِعُ عَنْ الَّذِینَ آمَنُوا) ۔ اگرچہ جزیرہ نمائے عرب کے مشرکین یہودی، نصاریٰ اور سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قبیلے اور خاندان باہم متحد ہوکر اپنے زعم باطل میں مومنین کو دباکر نیست ونابود کر دینا چاہتے تھے ۔مگر الله نے قیامت کے لئے بقائے اسلام اور سلامتی مومنین کا وعدہ فرمایا۔ مشرکین کے خلاف مومنین کے دفاع کا وعدہ دورِ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ہی مخصوص نہیں تھا، بلکہ تمام ادوار واعصار پر یکساں جاری وساری ہے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ ہم "الَّذِینَ آمَنُوا" کا مصداق بنیں، پھر خدائی دفاع لازمی امر ہے اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی، بے شک الله مومنین کی حمایت اور دفاع کرتا ہے۔ آیت کے آخری حصّے میں مشرکین اور اس کے ہم ذہنیت لوگوں کا الله کے ہاں مقام اس طرح بتایا گیا ہے: الله کسی بددیانت ناشکرے کو پسندنہیں کرتا (إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُورٍ) ۔ وہی کہ جو الله کا شریک بناتے ہیں یہاں تک کہ "لبّیک" کہتے ہوئے واضح طور پر بتوں کا نام پکارتے ہیں اور یوں اپنی بددیانتی پر مہر تصدیق ثبت کرلیتے ہیں۔ اس طرح قربانی کرتے ہوئے الله کا نام چھوڑ کر بتوں کا نام لیتے ہوئے کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ا ندرین حالات کیسے ممکن ہے کہ الله تعالیٰ ان بددیانت اور کفران نعمت کرنے والے کو پسند نہ کرے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
جہاد کا پہلا حکم
Tafsīr Nemūna · Vol. 4بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب مسلمان مکّہ میں تھے تو اکثر مشرکین مکّہ کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے تھے۔بڑی تکالیف اور اذیتیں اٹھاتے تھے اور جب کبھی مارپیٹ کے بعد رنجیدہ خاطر ہوکر بارگاہ رسول میں آتے اور مظالم کے خلاف شکایت کرتے (اور جہاد کی اجازت مانگتے) تو رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے: صبر کرو، ابھی مجھے جہاد کا حکم نہیں دیا گیایہاں تک کہ مسلمانوں نے مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی تو مذکورہ بالا آیت نمبر۳۹ جو جہاد کی اجازت لئے ہوئے ہے نازل ہوئی ۔ چنانچہ جہاد کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت ہے۔( بحوالہ : تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کبیر ا زفخر الدین رازی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ) اگرچہ اس کے حکم جہاد کے لئے پہلی ہونے کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض اسے پہلی آیت گردانتے ہیں اور بعض سورہٴ بقرہ کی آیت ۔ وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ۔ ۔ ۔(بقرہ/۱۹۰) کو پہلی آیت قرار دیتے ہیں ۔جبکہ بعض مفسرین سورہٴ توبہ کی آیت إِنَّ اللهَ اشْتَریٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اَنفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ(توبہ/۱۱۱) کو اس سلسلے کی پہلی آیت سمجھتے ہیں ۔(بحوالہ : المیزان، ج۱۴، ص۴۱۹) لیکن "اذن جہاد " کے موضوع کی مناسبت سے یہ آیت کا لب ولہجہ زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتا ہے کیونکہ لفظ "اذن" کا قرینہ صراحت کے ساتھ اجازت دے رہا ہے۔ جبکہ یہ قرینہ مذکورہ بالا باقی دو آیتوں میں نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر اس آیت کی تعبیر اس خاص موضوع کے بارے میں ہے۔ بہرحال اگر گزشتہ آخری آیت جس مومن کے دفاع اور حمایت کا وعدہ دیا گیا ہے، کو ذہن میں رکھا جائے تو زیرِ بحث آیت کا اس سے تعلق خاصّہ واضح معلوم ہوتا ہے۔ زیرِ نظر پہلی آیت میں فرمایا جا رہا ہے: الله ان لوگوں کو جن پر جنگ ٹھونسی گئی، جہاد کی اجازت دی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے(اذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوا) ۔ اس کے بعد قادر وطاقتور خدا کی طرف سے کامیابی کے وعدے کے ساتھ اذن جہاد کی تکمیل کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے: الله ان کی مدد ونصرت پر قادر ہے (وَإِنَّ اللهَ عَلیٰ نَصْرِھِمْ لَقَدِیرٌ) ۔ ہو سکتا ہے اس جملے سے جو خدائی طاقت وقوت کے ساتھ نصرتِ الٰہی کی ضمانت دے رہا ہے، اس طرف اشارہ ہو کہ خدائی مدد اس وقت میسّر ہو گی مقدور بھر دفاع کے لئے تیار ہوجاوٴگے تاکہ یہ گمان نہ ہوجائے کہ گھر بیٹھے الله مدد کرے گا۔ بہ الفاظ دیگر عالمِ اسباب میں سے جو بھی میسّر ہے اسے کام میں لایا جائے اور تمھاری قوت ختم ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجائے الله قادر کی نصرت کے منتظر رہو ۔یہی وہ کلیہ تھا جسے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے تمام غزوات وسرایا میں عملی طور پر اپنایا اور کامیاب رہے۔ اس کے بعد ان مظلوموں کی حالتِ زار کی مزید وضاحت کی گئی ہے جن کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے اور جہاد سے متعلق اسلامی نقطہٴ نظر کو واضح کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے: وہی لوگ جو ناحق اپنے گھر بار چھوڑکر نکل جانے پر محبور کر دیئے گئے ہیں ۔(الَّذِینَ اخْرِجُوا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ) ان کا قصور سوائے اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار صرف الله ہے (إِلاَّ اَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ) ۔ کھلی سی بات ہے کہ خداتعالیٰ کی توحید ویگانگت کا اقرار گناہ نہیں بلکہ مایہٴ ناز ہے۔ یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کی بنیاد پر مشرکین کو یہ حق مِل جائے کہ وہ انھیں ان کے گھروں اور علاقوں سے نکال باہر کریں اور مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت پر مجبور کر دیں ۔ آیت نے اس مفہوم کے بیان میں جو تعبیر استعمال کی ہے وہ ایسے مواقع پر مدّمقابل کو محکوم ومغلوب کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بعض اوقات ہم خدمت ونعمت پر ناشکری کرنے والے شخص کے لئے یوں کہتے ہیں (ہمارا گناہ صرف یہ تھا کہ ہم نے تیری خدمت کی) مخاطب کے بے خبری کے اظہار کے لئے یہ لطیف کنایہ ہے، جس نے خدمت کے بدلے ایسا رویہ اختیار کیا جو کسی جرم کے جواب میں روا رکھا جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ : معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں استثناء، استثناء متصل ہے، البتہ کنائی معنی میں اور ادعائی موضوع کی نسبت سے۔ (قابل غور ہے)) اس کے بعد حکم جہاد کے فلسفے اور مصلحت کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح ارشاد ہوتا ہے: اگر الله مومنین کا دفاع نہ کرے اور جہاد کی اجازت نہ دے کر بعض کو بعض کے ذریعے مغلوب نہ کرے تو دیر، گرجے یہود ونصاریٰ کے عبادت خانے اور مساجد کہ جن میں کثرت سے الله کا ذکر ہوتا ہے، ویران ہو جائیں (وَلَوْلَادَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیھَا اسْمُ اللهِ کَثِیرًا) ۔ بے شک اگر صاحبان ایمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، ظالموں، جابروں اور بے ایمان دنیا پرستوں کی تباہ کن کارستانیوں کے مقابلے میں خاموش تماشائی بنے رہیں اور انھیں کھل کر کھیلنے کی کھلی چھٹی دیتے رہیں تو یقیناً وہ معابد اور عبادتگاہوں کا نام ونشان تک نہ چھوڑریں، کیونکہ معابد وعبادتگاہیں، بیداری کی درسگاہیں ہیں، محرابِ عبادت میدان جنگ ہے اور مسجد سرکشوں کے خلاف مورچہ ہے،۔دراصل ہر قسم کی خدا پرستی کی دعوت ان کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، کیونکہ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی طرح خود ان کی پرستش کی جائے، چنانچہ اگر انھیں موقع ملے تو خدا پرستی کے تمام مراکز کو مسمار کر دیں۔ جہادکا حکم دینے اور جنگ جہاد کی اجازت دینے کا یہ ایک مقصد بیان کیا گیا ہے۔ "صوامع" "بیع" صلوات اور مساجد میں فرق سے متعلق مفسرین میں اختلاف ہے۔ لیکن جو بات زیادہ صحیح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ "صوامع" "صومعہ" کی جمع ہے، یہ اس جگہ کو کہتے ہیں جو عام طور پر شہروں کے باہر لوگوں کے شور وغل سے دور تارک الدنیا زاہدوں اور عبادت گذاروں کے لئے بنائی جاتی ہے۔ فارس میں اسے "دیر" کہتے ہیں، یاد رہے کہ "صومعہ" اس عمارت کو کہتے ہیں جس کا اُوپر کا حصّہ ایک دوسرے سے ملحق ہوتا ہے،۔ظاہراً اس سے چوکور گلدستوں کی طرف سے اشارہ ہے جو راہب لوگ اپنے دیروں کو سجانے کے لئے بناتے ہیں ۔ "بیع" " بیعة" کی جمع ہے، اس سے مراد عیسائیوں کی عبادتگاہ یعنی گرجا ہے "صلوات"،" صلوٰة" کی جمع ہے۔ یہ لفظ یہودیوں کی عبادتگاہوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔بعض اسے " صلوثا " کا معرب سمجھتے ہیں ۔جو عبرانی زبان میں نماز خانہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔"مساجد" "مسجد" کی جمع ہے، جو مسلمانوں کی عبادتگاہ ہے۔ اس بنا پر اگرچہ "صوامع"اور "بیع " دونوں ہی عیسائی عبادت گاہوں سے متعلق ہیں مگر ان میں ایک اجتماعی عبادت گاہ ہے اور دوسری تارکین دُنیا کی۔ نیز "بیع" کو عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کی عبادتگاہوں کے لئے لفظ مشترک سمجھاجاتا ہے۔ حتمی طور پر یہ بھی ذکر ہوجائے کہ جملہ "یُذْکَرُ فِیھَا اسْمُ اللهِ کَثِیرًا" (کثرت سے ذکرِ خدا کیا جاتا ہے) مساجد کی تعریف میں آیا ہے، کیونکہ جملہ مذاہب کے تقابلی جائزے کے مطابق مسلمان ہر روز پانچ مرتبہ سال بھر عبادت کرتے رہتے ہیں اور یوں مسلمانوں کے عبادتی مراکز سب سے زیادہ بارونق رہتے ہیں، جبکہ بہت سے دوسرے مذاہب کے عبادتی مراکز ہفتے میں ایک بار یا سال بھر میں چند مخصوص ایّام میں استعمال میں آتے ہیں ۔ آخر میں ایک بار پھر خدائی مدد کے وعدے کا اعادہ کیا جا رہا ہے: یقیناً الله ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں اس کے دین اور عبادتگاہوں کا دفاع کرتے ہیں (وَلَیَنصُرَنَّ اللهُ مَنْ یَنصُرُہُ) ۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ خدا کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے کیونکہ وہ قادر اور ناقابل شکست ہے (إِنَّ اللهَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ) ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ توحید کے متوالے اور پاسدار کہیں یہ تصور نہ کربیٹھیں کہ وہ رزم حق وباطل اور طاقتور دشمنوں کے نرغے میں اکیلے اور بے سہارا ہیں۔ اسی وعدے کے پرتو میں اکثر مسلمان مجاہدوں نے باوجوود اس کے کہ تعداد اور آلاتِ حرب وضرب کے لحاظ کفار کے مقابلہ میں کہیں کم تھے، زبردست اور شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ان کامیابیوں کی وجہ سے غیبی نصرت الٰہی کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ زیرِ بحث آخری آیت جو الله کے یاوران وناصرین کی تفصیل بیان کررہی ہے،جن سےگزشتہ آیت میں مدد کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ ان کی یوں تعریف کی گئی ہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب زمین پر ہم ان کو صاحب اقتدار بناتے ہیں، وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں (الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَوْا عَنْ الْمُنْکَرِ) ۔ وہ کامیابی کے بعد سرکشوں، متکبروں اور ظالموں کی طرح کبھی داد عیش نہیں دیتے، نہ لہو ولعب میں زندگی ضائع کرتے ہیں اور نہ نشہٴ اقتدار سے بدمست ہوتے ہیں، بلکہ وہ کامیابیوں، کامرانیوں اور اس توفیقِ خاص کو اپنی اور معاشرے کی اصلاح وتعمیر وترقی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ۔وہ حکومت حاصل ہونے کے بعد خدا کے خلاف ایک اور طاغوتی طاقت بن کر نہیں ابھرتے بلکہ خداوندعزّجل اور اس کی مخلوق کے ساتھ ان کے روابط اور گہرے ہوجاتے ہیں، کیونکہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، جو الله سے گہرے روابط کی علامت ہے۔ زکوٰة دیتے ہیں، جو حقوق بشر وخدمت خلق کی نشانی ہے، بھلائی کی ترغیب دے کر اور بُرائی کی حوصلہ شکنی کرکے صاف ستھرا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہی چار صفات ان کے تعارف کے لئے کافی ہیں۔ انہیں کے زیرِ سایہ باقی عبادات،اعمال صالح اور اچھے معاشرے کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں اور فلاحی کام پروان چڑھتے ہیں ۔ (تشریحی نوٹ : ۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت اور ان سے متعلق بقیہ مسائل اور اس سلسلے اٹھنے والے جملہ سوالات کے جوابات تفصیل کے ساتھ سورہٴ آل عمران آیہ۱۰۴ کے ذیل میں جلد۳، میں بیان کئے جاچکے ہیں) یاد رہے "مکنّا" "تمکین" کے مادہ سے ہے، جس کا مطلب وسائل وذرائع کی فراہمی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ آلات ہوں یا کافی علم وآگاہی یا جسمانی توانائی۔ "معروف" اچھے اور پسندیدہ امور کے معنی میں ہے اور "منکر" قبیح وناپسندیدہ اور باطل کے معنی میں، کیونکہ اوّل الذکر ہر عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لئے جانا پہچانا ہے اور موخر الذکر اجنبی بیگانہ بالفاظ دیگر اوّل الذکر فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے جبکہ موخر الذکر خلاف فطرت۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہورہا ہے: تمام کاموں کا انجام واختتام الله کے ہاتھ میں ہے (وَلِلّٰہِ عَاقِبَةُ الْامُورِ) ۔ جس طرح ہر کام، ہرکامیابی اور تسلط کی ابتداء ومنتہا الله کی طرف سے ہے۔ اسی طرح اس کا اختتام وانجام ونتیجہ کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے، کیونکہ "اِنّا لِلّٰہِ واِنّا الیہِ رَاجِعُون"۔
چند اہم نکات: 1. حکم جہاد کا فلسفہ
اگرچہ گزشتہ صفحوں میں ہم نے اس مسئلہ پر خاصی بحث کی ہے۔( بحوالہ : سورہٴ بقرہ، آیت۱۹۳ کی تفسیر کے ذیل میں ج۲، میں مفصل بحث کی گئی ہے ) لیکن اس لحاظ سے کہ زیرِ بحث آیت میں ان پہلی آیات میں سے ہے جن میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے اور ان آیتوں کا مضمون اوور مفہوم اس حکم کے فلسفے اور مصلحت پر روشنی ڈالتا ہے،ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند نکات اگرچہ اعادہ کے طور پر ہی کیوں نہ ہوں بیان کئے جائیں۔ ان آیات میں جہاد کے فلسفےکے دو اہم اجزاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ا۔ ظالم وجابر کے خلاف مظلوم کا جہاد:۔ بلاشبک وشبہ یہ مظلوم کا پیدائشی، فطری اور عقلی حق ہے کہ ظلم کے سنگ گراں کے نیچے پسنے کی بجائے ظالم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو، چیخ وپکار کرے، ہتھیار اُٹھائے، اس کو اس کے اصلی مقام تک پہنچائے اور اپنے حقوق کی جانب اُٹھنے والے اس کے ہاتھوں کو قطع کرے۔ ب۔ طاغوتی طاقتوں کے خلاف جہاد: طاغوتی طاقتیں دلوں سے نامِ خدا کو نکالنے اور خدا کے ذکر وعبادت کے مراکز کو ویران اور برباد کر دینا چاہتی ہیں، کیونکہ یہی عبادتگاہیں شعور وبیداری کے مراکز ہیں، لازم ہے کہ ان طاقتوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوجائے تاکہ وہ نامِ خدا کو محو نہ کرسکیں اور لوگوں کی سوچ پر پہرے بٹھاکر ان کو اپنا زرخرید غلام نہ بنالیں ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجّہ ہے کہ معابد ومساجد کو برباد کرنے کا صرف یہی طریقہ نہیں ہے کہ ان کی عمارات کو مسمار کر دیا جائے بلکہ بالواسطہ ذرائع بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں اور منفی سرگرمیوں اور غلط پراپیگنڈے کے ذریعے سے عوام کو مساجد ومعابد سے بدظن کیا جا سکتاہے تاکہ وہ خود ہی مساجد ومعابد کا رُخ نہ کریں اور بارونق مساجد ویرانوں میں بدل جائیں ۔ بعض لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ اسلام نے دلیل ومنطق کی بجائے مسلح جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا طریقہ کیوں اختیار کیا ہے؟ اس کا جواب ہم گزشتہ سطور میں دے چکے ہیں۔ کیا وہ ظالم درندے جو صرف "لاالٰہ الّا الله" کہنے کے جرم میں لوگوں کو بے گھر اور دربدر کر دیتے ہیں، ان کے سیاہ وسفید کے مالک بن جاتے ہیں، ان پرہر طرح کا ظلم روا رکھنے کے لئے کسی قانون کی پاسداری نہیں کرتے، کیا ایسے بے منطق وحشیوں کا مقابلہ طاقت کی زبان کے علاوہ کسی اور طرح سے ممکن ہے ؟ اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ اسرائیل کے ساتھ میز پر بیٹھ کرمذاکرات سے مسائل کا حل کیوں نہیں کرتے؟ جواباً عرض ہے، وہی اسرائیل جو غاصب وجارح ہے، جس نے تمام بین الاقوامی قوانین، عالمی اداروں کی تمام قراددیں اور تنبیہیں اور ہر قوم مذہب اور ملّت کے مسلّمہ انسانی حقوق کو پامال کر دیا ہے، آیا وہ مذاکرات میں دلیل ومنطق کی زبان سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے! وہ اسرائیل جس نے ہزاروں بچّوں اور بوڑھوں، عورتوں، مردوں اور ہسپتالوں پر بمباری کرکے، ان کو آگ کی بھٹی میں جھونک دیا، کیا اس پر مذاکرات کا کچھ اثر ہو سکتا ہے؟ اسی طرح کے اور لوگ جو عوام الناس کی بیداری اور شعور کے مراکز مساجد اور دیگر عبادتگاہوں، جن کو وہ اپنے غیرقانونی مفاد کے حُصول میں سدراہ سمجھتے ہیں، کو جیسے تیسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا اس قابل ہیں کہ ان کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے؟ بہرحال نظریاتی مسائل سے قطع نظر اگر آج دُنیا کے مختلف معاشروں کی حقیقی کیفیت پر غور کریں اور ان پر ماضی قریب وبعید میں گزرنے والے واقعات پر نظر رکھیں تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ بعض حالات میں طاقت اور آلات حرب وضرب کا سہارا لینا ناگریز ہوجاتا ہے، اس لئے نہیں کہ دلیل ومنطق میں کسی قسم کا جھُول ہے، بلکہ ظالموں اور جابروں کو دلیل اور صحیح منطق کی طرف مائل کرنے کے لئے یقیناً جہاں کام دلیل وبرہان سے بنتا ہو وہاں منطق مقدم ہے۔
2. اللی نے کن لوگوں سے مدد کا وعدہ فرمایا ہے؟
یہ نظریہ غلط ہے کہ مذکورہ بالا آیت یا دوسری آیتوں میں الله نے مؤمنیں کے دفاع، مدد اور کامیابی کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ قوانین اور ضابطہٴ آفرینش وفطرت کے خلاف ہے،۔یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے کیا گیا ہے، جو مقدور بھر قوت وطاقت اور تمام وسائل کے ساتھ میدان میں آئیں اور آیت میں بھی یہی فرمایا گیا ہے: "وَلَوْلَادَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ" خدا جابر و ظالم طاقتوں کو (سوائے استثنائی اور معجزاتی حالات کے غیبی طاقتوں مثلاً صاعقہ اور "زلزلہ" سے ختم نہیں کرتا بلکہ) خالص اور سچے مومنین کے ذریعے دور کرتا ہے۔ ان سچے مومنین کی مدد اور حمایت کی جاتی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ کہیں الله کے وعدے نہ صرف یہ مسلمانوں کی سستی، کاہلی اور عدمِ احساس ذمہ داری کا موجب بن جائیں، بلکہ حرکت، فعالیت اور حصولِ مقصد کے لئے تشویق وترغیب کا سبب بھی بنیں، البتہ اس صورت میں حتمی کامیابی کی ضمانت کی دی گئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مومنین کا یہ طبقہ کامیابی سے پہلے ہی الله سے متمسک نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی کے بعد بھی اس آیت "الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاةَ " کا مصداق بنتے ہوئے الله سے اپنا رابطہ مستحکم کرلیتا ہے اور دشمن پر کامیابی کو حق، انصاف اور شرافت کی ترویج کا ذریعہ بناتا ہے۔ بعض روایات میں عمومی طور پر حضرات آلِ محمد اورامام مہدی(علیه السلام) کے انصار کو مندرجہ بالا آیت کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔مثلاً امام باقر علیہ السلام نے اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا: یہ آیت اوّل سے آخر آلِ محمد اور حضرت مہدی علیہ السلام کے انصار وجاں نثاروں کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے۔ یملکھم الله مشارق الارض ومغاربھا، ویظھر الذین، ویمیت الله بہ وباصحابہ البدع والباطل کما امات الشقاة الحق، حتّیٰ لایریٰ این الظلم، ویامرون بالمعروف وینھون عَنِ المنکر الله زمین کے مشرق ومغرب کو ان کی حکمرانی میں دے دے گا، اپنے دین کو غالب قرار دے گا، امام مہدی اور آپ کے اصحاب کے ذریعے بدعت اور باطل کو اسی طرح ملیا میٹ کردے گا، جس طرح غاصبوں نےحق کو کیا تھا اور دُور دُور تک کہیں ظلم کا نام ونشان تک نہ ملے گا (کیونکہ) وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکیا کریں گے ۔(بحوالہ : تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۰۶، بحوالہٴ تفسیر علی بن ابراہیم۔) اس سلسلے میں اور احادیث بھی روایت کی گئی ہیں، لیکن یاد رہے کہ ایسی روایات ہمیشہ آیت کے اعلیٰ اور نمایاں مصادیق کا ذکر کرتی ہیں۔ آیت کے عام مفہوم پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوتیں۔ اس بناء پر اس آیت کا وسیع تر مفہوم تمام صاحبانِ ایمان مجاہدوں اور مومنین کو دامن میں لئے ہوئے ہے۔
3. محسنین، مخبتین اور اللہ کے انصار
مندرجہ آیات اور ان سے پہلے کی آیات کہتی ہیں کہ "محسنین" کو خوشخبری سنا دو اور بعد ازاں ان کا تعارف صاحبانِ ایمان اور کفران نعمت نہ کرنے والوں کی حیثیت سے کرواتی ہیں اور کبھی "مخبتین" (عجز وانکساری کرنے والے) کے طور پر اُن کا ذکر کیا ہے اور انھیں ذکر خدا کے موقع پر خوفِ خدا سے لرزاں اور مصائب وشدائد کے مواقع پر صبر وتحمل کے پیکر بننے والے، نماز قائم کرنے والے اور اپنے خدا داد وسائل ونعمات میں بندگانِ خدا کوشریک کرنے والے، کہہ کر پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں "الله کے انصار" کا یوں تعارف کرایا جاتا ہے کہ وہ غالب آنے کے بعد گھمنڈ، غرور اور تکبر کی بجائے تواضع وعاجزی کی روش اختیار کرتے ہوئے نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰة ادا کرتے ہیں ۔اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیتوں کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مندرجہ بالا خصوصیات کے حامل سچّے اور خالص مومن وہ ہیں جو ایک طرف نظریات، اعتقادات اور احساس کی ذمہ داری کے اعتبار سے بہت مضبوط اور دوسری طرف میدان عمل میں خالق ومخلوق دونوں کے تمام حقوق پُوری طرح ادا کرتے ہیں، بدعنوانیوں اور برائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور ہر قسم کی مشکلات ومصائب کا مقابلہ پامردی اور استقامت سے کرتے ہیں ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
لاوارث کنویں اور فلک بوس محل
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں مومنین کے لئے اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے پیدا کردہ، چیدہ، گھمبیر اور طاقت فرما مسائل کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ توحید پرستی کے جرم میں طاغوتیوں نے مومنین کو کس طرح اور کیسی کیسی اذیتیں اور تکالیف پہنچائیں۔ انہیں آوارہ وطن اور در بدر کیا اور ان مظالم سے نمٹنے کے لئے مومنین کو جہاد کی اجازت دی گئی۔ زیر بحث آیت ایک طرف پیغمبر اسلامؐ اور مومنین کی دل جوئی کرتی ہے اور دوسری طرف کفار کے منحوس اور بُرے انجام کی وضاحت کرتی ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا جا رہا ہے: اگر تمہیں جھٹلایا گیا ہے تو پریشان نہ ہو کیونکہ ان سے پہلے نوع کی قوم، عاد اور ثمود بھی اپنے نبیوں کو جھٹلا چکی ہیں۔ (و ان یکذبوک فقد کذبت قبلھم قوم نوح و عاد وثمود)۔ اور اسی طرح، ابراہیم و لوط کی قوموں نے بھی ان دو عظیم پیغمبروں کو جھٹلایا (و قوم ابراہیم و قوم لوط)۔ (واصحاب مدین و کذب موسیٰ) یعنی جس طرح ماضی میں شدید مخالفین کی رکاوٹیں اور تکذبین ان عظیم پیغمبروں کی دعوتِ توحید حق و عددالت کی راہ میں کمزوری کا باعث نہ بن سکیں، اسی طرح بلاشک و شبہ تیری پاک اور با استقامت روح پر بھی اثر نہ کر سکیں گے۔ لیکن اندھے دلوں والے یہ کفار کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اپنی ناپاک تخریب کاری اور سیاہ کاریاں ہمیشہ جاری رکھ سکیں گے۔ "ماضی میں پہلے تو ان کو مہلت دی گئی تاکہ ان کی آزمائش مکمل ہو جائے ان پر حجت تمام ہو جائے اور وہ پُرتعیش زندگی میں مگن رہیں۔ پھر قانون مکافات کے تحت ان کو دھر لیا (فاملیت للکافرین ثم اخذتھم)۔ دیکھا! کتنی حقارت سے میں نے ان کی بداعمالیوں کو یکسر مسترد کر دیا اور کتنی وضاحت سے ان کی بداعمالیوں کی قباعت و شماتت کو طشت ازبام کیا (فکیف کان نکیر)۔ (تشریحی نوٹ: "نکیر" کا لغوی معنیٰ انکار کرنا ہے اور یہاں سزا دینے اور عذاب و عقاب کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے)۔ ان کی دی گئی نعمتیں چھین لیں اور اذیت، زحمت اور بدنصیبی ان کا مقدر بنا دی۔ زندگی لے کر موت دے دی۔ زیر بحث آخری آیت کے پچھلے جملے میں اللہ کی سزا سے اجمالی کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کتنی ہی بستیاں اور آبادیاں ایسی ہیں جن (کے باسیوں) کو ہم نے ہلاک کر ڈالا۔ کیونکہ وہ ظالم اور ستم گر تھے۔ (فکاین من قریۃ اھلکناھا وھی ظالمۃ)۔ ان کی چھتیں نیچے آ گریں۔ (فھی خاویۃ علیٰ عروشھا)۔ یعنی شدید عذاب اس قدر سخت تھا کہ صحیح و سالم مکانات کی یک دم چھتیں بیٹھ گئیں اور ان پر دیواریں آ رہیں۔ اور کتنے پر از آب کنویں لاوارث ہو گئے۔ پانی زمین میں جذب ہو گیا اور وہ بےکار ہو گئے۔ نہ کوئی ان سے پانی نکالنے والا رہا اور نہ کوئی پیاس بجھانے والا بچا۔ (وبئر معطلۃ) کتنی پختہ سربہ فلک پُرشکوہ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور ان میں رہنے والے ملک عدم کے رہی ہوگئے (وقصر مشید)۔ (تشریحی نوٹ: "مشید" "شید" (بروزن "بید) کے مادہ سے ہے۔ اس کے دو معنیٰ ہیں۔ (۱) بلند و بالا (۲) سیمنٹ اور چنا پہلے معنیٰ کے مطابق، سر بہ فلک اور فلک بوس محلات مراد ہے اور دوسرے معنیٰ کے مطابق، پختہ پکے اور موسمی تغیر و تبدیل سے محفوظ مراد ہے چونکہ اس زمانے میں اکثر اور عام لوگوں کے مکانات کچے اور مٹی کے بنے ہوئے ہوتے تھے جو فطری عوامل کے سامنے کمزور ہوتے تھے۔ مگر وڈیروں اور سرمایہ داروں حاکموں کے محلات چُونے یا اس قسم کے پختہ مواد سے بنائے جاتے تھے)۔ اس طرح سے ان کے پرتعیش محلات و مساکن لاوارث ہوگئے۔ اور ان کی زمین کی سرسبزی و شادابی کے ضامن ذرائع آبپاشی بھی ختم ہو کر رہ گئے۔
ایک نکتہ
اہل بیت اطہار ؑ کے ذریعے سے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں ان میں ایک توجہ طلب نکتہ بیان کیا گیا ہے، کہ "بئر معطلۃ" سے مراد وہ علما اور دانش و رہیں جو معاشرے میں تنہا رہ گئے ہوں اور جن کے علوم و دانش سے کوئی کسب فیض نہ کرتا ہو۔ امام موسیٰ کاظمؑ سے (وبئر معطلۃ و قصر مشید) سے متعلق روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا" "البئر المعطلۃ الامام الصامت، والقصر المشید الامام الناطق" "وہ کنواں جس سے استفادہ کرنے والا کوئی نہ ہو، اس امام و رہبر کی طرح ہے جو خاموش اور عالم سکوت میں ہو۔ "قصر مشید" سے مراد وہ امام و رہبر ہے جو منصب رہبری پر عملاً فائز ہو۔" اس طرح کی ایک روایت امام صادقؑ سے بھی نقل کی گئی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج۳، ص۳٠)۔ یہ روایات دراصل تشبیہ کی حیثیت رکھی ہیں۔ (جیسا کہ حضرت مہدیؑ اور آپ کے عالمگیر عادل حکومت کو روایات میں "ممآء معین" (یعنی آب جاری) کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب رہبر اور امام مسند حکومت پر فائز ہو تو وہ ایک عالیشان سربفلک اور مضبوط محل کی مانند ہے۔ جوقریب و بید سے ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے اور سب کے لئے ایک مرکز و پناہ گاہ کام دیتا ہے۔ مگر جب اسے مسند اقتدار سے ہٹا کر ناقابل اور نااہل افراد کو اس کی جگہ پر بٹھا دیا جاءے تو وہ اس متروک کنویں کی طرح ہو جائے۔ جس سے نہ کوئی پیاس بجھائے اور نہ زمین اس سےسیراب ہو)۔ "بئر معطلۃ" اور "قصر مشید" کے محاورے کو ایک عرب شاعر نے بھی بڑے دلکش انداز میں نظم کیا ہے۔؎ بئر معطلۃ و قصر مشرف مثل لال محمد مستطرف فالقصر مجدھم الذی لایرتقی والبئر علمھم الذی لاینزف متروک کنواں اور بلند محل آل محمدؐ کے حالات کے لئے بڑی عمدہ مثال ہے "قصر" ان کی رفعت،بلندی اور وقار کی مثال ہے کہ جہاں تک کسی کی رسائی نہیں اور کنواں، ان کے علم کا مظہر ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، ج۳، ص۳٠)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سیرو سیاحت اور دلوں کی بیداری
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں ان بداعمال اور روسیاہ ظالموں کے بارے میں گفتگو کی جارہی تھی، جن کو الله نے کیفر کردار تک پہنچایا اور ان کے شہروں کو برباد کر دیا۔ زیرِ بحث پہلی آیت میں اسی مضمون کی تاکید مزید کے طور پر ارشاد ہوتا ہے: آیا وہ زمین میں سیرو سیاحت نہیں کرتے ان کے دل حقیقت شناس ہو جائیں یا ان کے کان صدائے حق سن لیں (اَفَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْاَرْضِ فَتَکُونَ لَھُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِھَا اَوْ آذَانٌ یَسْمَعُونَ بِھَا) ۔ بے شک ظالموں کے محلات اور دنیا پرستوں کے ٹھکانے اور مساکن جن کا اقتدار کبھی بلند تھا اس خاموشی کے باوجود ہزار ہزار باتیں کہہ رہے ہیں اور ہر بات میں ہزار ہزار نکتے پوشیدہ ہیں ۔یہ ویران اور اجڑی ہوئی بستیاں، گویا ان اقوام کی سوانح کردار و رفتار، شرمناک طرزِ زندگی اور عبرتناک انجام پر منہ بولتی کتابیں ہیں ۔ یہ کھنڈرات اور ان سے نظر آنے والے آثار انسان کے دل ودماغ پر ایسے اثرات مرتب کرتے ہیں کہ بعض اوقات ان میں سے کسی ایک جگہ کا مشاہدہ کثیر مطالعے سے زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور تاریخ کے دہرائے جانے کے تناظر میں، جو انسانی زندگی کی بنیاد ہے، ان کھنڈرات کا مشاہدہ انسان کے مستقبل کو مجسم شکل میں اس کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے۔ واقعی سابقہ اقوام کا مطالعہ اور ان کے آثار کا مشاہدہ کان کو شنوا اور آنکھ کو بینا کر دیتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید کی متعدد آیات میں سیاحت کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن الٰہی اور اخلاقی سیاحت جس کی غرض وغایت عبرت حاصل کرنا اور سیکھنا ہو،سیاح کی آنکھوں سے گویا اس کا دل جھانک رہا ہو جو مدائن کے ایوانوں اور فراعنہ کے محلوں کو نگاہِ عبرت سے دیکھا رہا ہو، کبھی دجلہ کے ساتھ ساتھ مدائن کی وادیوں میں پہنچے اور کبھی مدائن میں اپنے آنسووٴں سے ایک دجلہ بہادے ۔ ظالم بادشاہوں کے محلات کے کھنڈروں میں ٹوٹے ہوئے برجوں سے نصیحت حاصل کرے اور اہلِ دل کے کانوں سے وہاں کی خاک کے ہر ذرّے سے سنائی دیتا ہوا یہ نغمہ دل نشیں سنے: گامی دو سہ بر، مانہ اشکی دو سہ بفشان یعنی دو تین قدم چلو اور دو تین آنسو بہاوٴ۔ (تشریحی نوٹ : ادوار ماضی اور سابقہ لوگوں کے اثار کے متعلق سیر وسیاحت کے آداب کے بارے میں سورہٴ آلِ عمران ایت ۱۳۷ کی تفسیر کے ذیل میں ہم اس تفسیر کی جلد 2 میں سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ) اس کے بعد قرآن مجید اس حقیقت کو کہ اکثر لوگ ظاہراً صحیح وسالم آنکھیں اور کان رکھتے ہیں ۔ مگر دل کے اندھے اور بہرے ہوتے ہیں، زیادہ واضح کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔ کیونکہ ظاہری آنکھیں ا ندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہوجاتے ہیں (فَإِنَّھَا لَاتَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلَکِنْ تَعْمَی الْقُلُوبُ الَّتِی فِی الصُّدُورِ) ۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آنکھوں سے محروم جو عرف عام میں اندھے کہلاتے ہیں، بعض اوقات بہت روشن دل اور باخبر ہوتے ہیں۔ حقیقی اندھے تو وہ لوگ ہیں کہ جن کے دل کی آنکھ اندھی ہو گئی ہو اور وہ صحیح ادراک نہ کر سکتے ہوں۔ اسی لئے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: "شرّ العمی عمّی القلب " "بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے"۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: "اعمی العمی عمی القلب" "سب سے شدید اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے"۔(بحوالہ : تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۰۸) عوالی اللئالی میں ایک اور روایت درج ہے۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: "اذا اراد الله بعبد خیراً فتح عین قلبہ فیشاھد بھا ما کان غائباً عنہ" "جب الله کسی بندے کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے دل کی آنکھیں روشن کر دیتا ہے تاکہ وہ اس ذریعے سے پوشیدہ حقائق کا مشاہدہ کرسکے ہیں ۔( بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۰۹) یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ادراک حقائق کی نسبت سینے کے اندر دل سے کیوں دی گئی ہے،۔حالانکہ دل کا کام صرف خون کوگردش دینا ہے۔ اس کا جواب ہم سورہٴ بقرہ کی تفسیر کے ذیل میں پہلی جلد میں دے چکے ہیں۔ البتہ یہاں خلاصہ پیش خدمت ہے۔ دل کو عقل کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور سینہ انسان کی ذات اور سرشت کے معنی میں ہے، اس کے علاوہ جذبات اور میلانات کا مظہر بھی دل ہی ہے۔ جب کبھی جذباتی ادراک کی کوئی برقی رو جو شدید تحریک کا سبب ہوا کرتی ہے، انسانی رُوح میں ظاہر ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس سے متا ثر ہونے والا عضو بدن یہی 'دل' ہی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ خون بڑی تیزی سے بدن کے ہر عضو میں پہنچتا ہے اور جسم کو ایک تازہ نشاط اور نئی توانائی حاصل ہوتی ہے۔اسی وجہ سے رُوح کے ظواہر کی نسبت "دل" کی طرف د ی جاتی ہے (قابل غور ہے) ۔ زیرِ بحث آیت میں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ انسان کے مجموعی ادراکات کی نسبت دل (عقل) اور کانوں کی طرف دی گئی ہے گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ ادراک حقیقت کے صرف دو راستے ہیں: ۱۔ اندرونی ۲۔بیرونی یعنی یا تو انسان اپنے اندر سے جوش وولولہ لے کر اس کا تجربہ کرے اور اس طرح حقائق تک پہنچے یا بیرونی عوامل، مثلاً انبیاء، اوصیاء، اولیاء اور ناصحین وناقدین کی حقیقت آفرین باتوں سے حق کو پالے یا دونوں طریقوں سے حق تک پہنچے ۔(بحوالہ : تفسیر المیزان زیر بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں، ج۱۴، ص۴۲۶) دوسری زیرِ نظر آیت میں بے ایمان، جاہل، بے خبر اور دل کے اندھوں کا ایک اور چہرہ دکھایا گیا ہے کہ وہ جلد عذاب کا مطالبہ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ "اگر تم سچے ہو تو پھر خدا کا عذاب کیوں ہمیں آ نہیں لیتا" (وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالْعَذَابِ) ۔ "ان سے کہہ دیجئے کہ جلدی نہ کریں الله کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا (وَلَنْ یُخْلِفَ اللهُ وَعْدَہُ) ۔ کیونکہ جلدی اور عجلت تو اُسے ہوا کرتی ہے جسے یہ ڈر ہو کہ کہیں موقع ہاتھ سے نکل نہ جائے اور اس کے وسائل واختیارات ختم نہ ہو جائیں، جبکہ الله جو ازل سے ابد تک ہر چیز پر قدرت کاملہ رکھتا ہے، کسی کام میں جلدی کیوں کرے گا، وہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو بروقت پورا کرتا ہے۔ اس کے نزدیک ایک لمحہ، دن یا ایک سال سب برابر ہیں "کیونکہ تیرے پروردگار کے ہاں ایک دن تمھارے حساب سے ہزار سال کے برابر ہے" (وَإِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ) ۔ چنانچہ وہ سنجیدگی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کریں یا بطور تضحیک واستہزاء ایسا کہیں کہ "عذابِ خدا ہم پر نازل نہیں ہوتا"۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ الله کی طرف سے آنے والا عذاب ان کی گھات میں ہے جلدی یا بدیر ضرور ان کو آئے گا۔ یہ مہلت جو انہیں دی گئی ہے اس کا مقصد ان کو بیداری شعور اور تجدید نظر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور جب عذاب نازل ہو گیا تو معافی اور توبہ کے تمام دروازے ان پر بند کر دیئے جائیں گے، شعور اور نجات کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔ "إِنَّ یَوْمًا عِنْدَمِمَّا تَعُدُّونَ"کے جملے کی مندرجہ بالا تفسیر کے علاوہ اور مفاہیم بھی مفسرین نے پیش کئے ہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کسی کام کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تمہیں ہزار سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے، مگر الله کو نہ کسی تیاری کی ضرورت ہے نہ وقت کی احتیاج، بلکہ وہ کسی کام (عذاب) کو ایک دن (بلکہ اس سے کم) میں بھی انجام دے سکتا ہے۔ ایک اور مفہوم یہ ذکر کیا گیا ہے کہ آخرت کا ایک دن دُنیا کے ہزار سال کے برابر ہے (اسی لحاظ سے وہاں کی جزاء اور سزاء کی طوالت بھی زیادہ ہے) اسی سلسلے میں ایک روایت نقل کی گئی ہے۔ انّ الفقراء یدخلون الجنة قبل الاغنیاء نصف یوم ای خمسة ماة عام " غریب لوگ امیر کبیر لوگوں کے مقابلہ میں آدھا دن یعنی پانچ سو سال قبل داخل ہوں گے "(بحوالہ : تفسیر مجمع البیان زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل ہیں) آخری آیت میں گزشتہ آیتوں بیان شدہ بنیادی نقطہ عادة بیان کیا جا رہا ہے اور اسی طرح ہٹ دھرم کفار کو تنبیہ کی جارہی ہے۔ " ایسی کتنی بستیاں اور آبادیاں ہیں جنھیں ہم نے مہلت دی، حالانکہ وہ ظالم تھے (مہلت اس لئے دی گئی تاکہ وہ خواب غفلت سے جاگ اٹھیں۔ مگر جب ایسا نہ ہوا تو ہم نے انھیں ڈھیل دی تاکہ پُرتعیش زندگی میں مگن ہو جائیں، پھر اچانک ان کی سزا یعنی عذاب نے انھیں آلیا" (وَکَاَیِّنْ مِنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَھَا وَھِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُھَا) ۔ وہ بھی تمھاری طرح عذاب میں تاخیر کی شکایت کرتے تھے اور مذاق اڑایا کرتے تھے اور اس تاخیر عذاب کو پیغمبروں کے جھوٹا ہونے کی دلیل بنا لیا کرتے تھے۔ لیکن آخرکار عذابِ میں مبتلا ہوئے اور آہ وبکا کرنے لگے مگر اس آہ وبکا کی شنوائی نہ ہوسکی۔ بے شک یہ سب میری طرف ہی لوٹیں گے تمام راہیں الله ہی پر جاکر ختم ہوتی ہیں اور تمام ذخائر ووسائل اور یہ تمام دولت یہاں باقی رہ جائے گی اور وہی ان سب کا مالک ہے (وَإِلَیَّ الْمَصِیرُ) ۔
رزقِ کریم
گزشتہ آیتوں میں کفّار کی طرف سے عذاب میں تعجیل کے مطالبے کا ذکر تھا اور یہ مسئلہ صرف ذات پروردگار عالم اور اس کی حکمت آفریں مشیت سے متعلق ہے۔ یہاں تک کہ انبیاء(علیه السلام) کو بھی اس میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چنانچہ زیرِ بحث پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: کہہ دیجئے، اے لوگو! میں تمھارے لئے صرف ایک کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں" (قُلْ یَااَیُّھَا النَّاسُ إِنَّمَا اَنَا لَکُمْ نَذِیرٌ مُبِینٌ) ۔ البتہ سرکشی اور نافرمانی کی سزا کے طور پر جلد یا بدیر کوئی عذاب تم پر نازل ہو تو اس کا تعلق مجھ سے نہیں ہے۔ کرنےاور اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر اکرم ﷺڈرانے والے بھی ہیں اور خوشخبری دینے والے بھی مگر اس آیت مبارکہ میں خوشخبری کا ذکر نہ کرنے اور صرف ڈرانے کی بات کرنے کی وجہ مخصوص نظریے کے مخاطب ہیں چونکہ وہ بے ایمان اور ہٹ دھرم قسم کے افراد تھے جو خدائی عذاب وعقاب کا بھی مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ البتہ بعد والی دو آیتوں میں بشارت اور ڈراو،دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔چونکہ الله کی رحمتِ واسعہ اس کے عذاب پر سبقت رکھتی ہے۔ لہٰذا پہلے بشارت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور انہوں نے بھلے کام کئے، الله تعالیٰ کی طرف سے معافی اور اعلیٰ رزق وروزی اِن کے لئے مخصوص ہے (فَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَھُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ)۔ یعنی پہلے الله کی معافی، بخشش اور عفو ودرگذر کی جاری نہر میں غوطہ زن ہو کر کثافت وغلاظت کے بوجھ سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ پاک باطن بن جاتے ہیں، پھر اس کے لطف وکرم کی طرح طرح کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے کہ "کریم" سے مراد ہرقابلِ قدر اور اعلیٰ چیز ہوا کرتی ہے "رزق کریم" ایک وسیع مفہوم پر دلالت کرتا ہے، جو تمام مادی اور معنوی گرانقدر نعمتوں پر محیط ہے۔ بے شک الله اپنے اس کریم مہمان خانے میں طرح طرح کی کریم نعمتوں کے ساتھ اپنے، مومن، صالح اور کریم اور بندوں پر فیوض وبرکات کی بارش کرے گا۔ راغب اپنی مشہور کتاب " مفردات " میں لکھتا ہے کہ لفظ "کرم" عام طور پر بہت نیک، بھلے، اچھے اور قابل قدر امور کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، کم درجے کی نیکی اور اچھائی کے لئے نہیں۔ بعض مفسرین نے "رزق کریم" سے غیر منقطع، مسلسل، بے نقص، روزی کے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے مناسب اوور حسبِ حال مفہوم لیا ہے۔ اصل میں یہ سب مفاہیم مندرجہ مذکورہ مفہوم میں شامل ہیں ۔ اس کے بعد دوبارہ فرمایا گیا ہے:لیکن وہ لوگ جو الله کی نشانیوں کو مٹانے اور تخریبی کاروائیوں میں سرگرم ہیں اور اپنے زعمِ باطل میں الله کے ارادوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دوزخی ہیں (وَالَّذِینَ سَعَوْا فِی آیَاتِنَا مُعَاجِزِینَ اوْلٰئِکَ اَصْحَابُ الْجَحِیمِ) ۔ ( تشریحی نوٹ : "سَعَوْا ""سعی" کے مادہ سے دوڑنے کے معنیٰ میں ہے اور یہاں آیاتِ الٰہی کو مٹانے کے لئے کوشش کرنے کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔"معاجزین" "عجز" کے مادہ سے ہے۔ یہاں ان لوگوں کے ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے جو الله تعالیٰ کی بے پناہ قوت وسطوت پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،۔بعض مفسرین نے "معاجزین" کو پیغمبر اور مومن کے ساتھ منسوب سمجھا ہے۔ ان کے خیال میں کسی شخص کے بارے میں یہ احتمال نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کو عاجز کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہی تعبیر دوسری قرآنی آیات میں الله تعالیٰ کے بارے میں آئی ہے (سورہٴ جن/ ۱۲، اور توبہ/۲،۳ اور مراد یہ ہے کہ کسی کاعمل اس کے چہرے سے ظاہر ہو) "جحیم" "جحم" (بروزن "شرم" کے مادہ سے ہے، اس کا معنیٰ آگ کا شدّت سے بھڑکنا اور غیظ وغضب کی شدّت ہے۔ لہٰذا "جحیم" وہ جگہ ہوئی جہاں آگ، غیظ اور غضب شدّت سے بھڑکتے ہیں۔ یعنی دوزخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 54 کے تحت ملاحظہ کریں۔
انبیاء(علیه السلام) کے خلاف شیطانی وسوسے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ دو آیتوں میں کفار ومشرکین کی طرف سے دینِ خدا کی تضحیک اور استہزاء اور اسے مٹانے کی سرگرمیوں کا ذکر تھا ۔زیر بحث آیتوں میں لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ دین دشمن دسیسہ کاریاں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ سے طاغوتی اور شیطانی شکوک وشبہات انبیاء کے مقابلے میں پھیلائے جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "تجھ سے پہلے ہم نے جب کبھی بھی کوئی نبی بھیجا اور اس نے خدائی مقاصد کی توسیع وترقی کا جو منصوبہ بھی بنایا،ضرور شیطان نے اس میں شکوک وشبہات پیدا کئے" (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ وَلَانَبِیٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّی اَلْقَی الشَّیْطَانُ فِی امْنِیَّتِہِ) لیکن اللہ شیطان کے وسوسوں کے ہجوم کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ بلکہ "الله شیطان کے شکوک وشبہات کو زائل کر دیتا اور اپنی نشانیوں کو استحکام بخشتا ہے (فَیَنْسَخُ اللهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللهُ آیَاتِہِ) ۔ اور یہ کام الله کے لئے آسان ہے، کیونکہ وہ علیم وحکیم ہے، تمام منفی ریشہ دوانیوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور ان کو ناکام بنانے کے طریقوں سے اچھی طرح واقف ہے (وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) ۔ البتہ دین دشمن طاقتوں کی سیاہ کاریاں اور طاغوتی کارستانیاں ہمیشہ مومنین، باخبر افراد اور کفار سب کے لئے امتحان کا سبب بنتی ہیں۔ چنانچہ بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "یہ تمام امور بیمار دل اور سنگدل افراد کی آزمائش کا ذریعہ ہیں (لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُھُمْ) ۔ اور ظالم وناانصاف لوگ حق سے بہت دور ہیں اور ان کے دل بغض وعداوت سے بھر پڑے (وَإِنَّ الظَّالِمِینَ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ) ۔ علاوہ برایں ان کا ایک اور مقصد یہ تھا کہ آگاہ اور باخبر لوگ حق و باطل میں تمیز کریں،خدائی ضابطوں اور شیطانی شکوک میں امتیاز کریں اور دونوں کا موازنہ کرکے سمجھ جائیں کہ خدائی قانون ہی دینِ حق ہے اور تیرے رب کی طرف سے ہے، چنانچہ اس پر ایمان لئے آئیں اور ان کے دل پوری طرح الله کی بارگاہ میں جھُک جائیں (وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ اوتُوا الْعِلْمَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَیُؤْمِنُوا بِہِ فَتُخْبِتَ لَہُ قُلُوبُھُمْ) ۔ بے شک الله ان آگاہ اور حق طلب مومنین کو ان خطرناک راہوں میں اکیلا نہیں چھوڑتا، بلکہ صاحبان ایمان کو راہِ راست کی ہدایت کرتا ہے (وَإِنَّ اللهَ لَھَادِ الَّذِینَ آمَنُوا إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) ۔
چند اہم نکات: 1. شیطانی شکوک و شبہات کیا ہیں؟
مندرجہ بالا تفسیر کے علاوہ ان آیتوں کے بارے میں اور خیالات کا بھی اظہار کیا گیا ہے اگرچہ مذکورہ بالا تفسیر بعض محقق مفسرین کے نظریات سے ہم آہنگ ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک "تمنّی" اور "امنیہ" کے معنیٰ تلاوت یا قرائت کے ہیں اور بعض عرب کے شعراء نے بھی ان الفاظ کو اسی معنیٰ میں استعمال کیا ہے۔ اس بناء پرزیرِ بحث پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہو گا کہ ماضی میں جب انبیاء(علیه السلام) الله کے احکامات لوگوں کو سناتے تھے تو شیاطین (خصوصاً شیاطین نما انسان) ان کی گفتگو میں شکوک وشبہات پیدا کر دیتے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اور پیغمبروں کی ہدایت کو غیر موٴثر بنانے کے لئے ان کی تقریر کے دوران ہی باطل نظریات کا پرچار کرنے لگتے۔۔۔ لیکن الله اپنی قدرت کاملہ سے ان باطل افکار کے اثرات کو زائل کر دیتا اور اپنے احکامات کو پختگی بخشتا"۔ یہ مفہوم "ثُمَّ یُحْکِمُ اللهُ آیَاتِہِ" کے جملے سے مطابقت رکھتا ہے اور بعد میں آنے والے "غرانیق" کے فسانے سے ملتا جلتا ہے (اگرچہ بعض پہلووٴں کے اعتبار سے) لیکن زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ "تمنّی" اور "امنیہ"تلاوت کے معنیٰ میں شاذ ہی استعمال ہوئے ہیں۔ حتّیٰ کہ خود قرآن الحکیم میں کہیں بھی اس معنیٰ میں استعمال نہیں ہوئے۔ "تمنّی" کا اصل مادہ "منی" (بروزن "مشی") ہے اور یہ در اصل تقدیر اور فرض کے معنی میں ہے۔ انسان اور حیوان کے نُطفہ کو اسی لئے "منی" کہا جاتا ہے کہ اس سے بچے کی شکل وصورت معیّن ہوتی ہے۔ "منیہ" موت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ موت انسان کے لئےمقدر ہوتی ہے۔ آرزووٴں کو بھی "تمنیٰ" اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے ذہن میں ان کی تصویر بنالیتا ہے اور انھیں اپنا مقدر سمجھنے لگتا ہے۔مختصر یہ کہ اس لفظ کی بنیاد ہر جگہ تقدیر، فرض اور تصویر ہی ہے۔ یوں تو تلاوت اور قرائت کو بھی اس معنے سے مرتبط کیا جا سکتا ہے کہ تلاوت الفاظ کی تقدیر وتصویر ہی ہے مگر یہ ربط بہت دور کا ہے اور عربی زبان میں ایسے ربط کی مثال بہت کم ملتی ہے،۔البتہ انبیاء مرسلین کے منصوبوں اور پروگراموں والا معنیٰ جوہم نے پیش کیا ہے، وہ اس لفظ کے بنیادی اور اصلی معنیٰ کے بہت قریب ہے۔ اسی ذیل میں ایک تیسرا احتمال یہ بھی پیش کیا ہے کہ "اس سے مراد وہ شیطانی وسوسے ہیں جو بہت ہی کم وقفے کے لئے انبیاء(علیه السلام) سے پاک اور نورانی افکار ڈالے جاتے تھے، مگر مقامِ عصمت کی وجہ سے الله کی غیبی قوت اور مدد کے ذریعے ان وسوسوں کو بہت جلد زائل کر دیا جاتا تھا اور ان کو بدستور راہِ راست پر قائم رکھا جاتا تھا۔ یہ مفہوم بھی بعد کی آیتوں سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ بعد والی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ شیطانی شکوک اور وسوسے صاحبانِ علم، مومنین اور کافروں کے لئے آزمائش کا ذریعہ تھے ۔چنانچہ اس مفہوم کا تعلق انبیاء کی قلبی اور فکری کیفیت سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ بہت جلد شیطانی وسوسوں کو سمجھ لیتے تھے اور ان سے دُور رہتے تھے ۔ بہرحال اس تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ سب سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے، جس میں انبیاء(علیه السلام) کی کارکردگیوں اور منصوبوں کے مدّمقابل شیطانی سازشوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،جن کے ذریعے وہ انبیاء کے فلاحی اور تعدی منصبوں کو ہمیشہ سبوثاژ کرنے کے درپے رہتے تھے، مگر الله ان کو ناکام بنا دیا کرتا تھا ۔
2. غرانیق کا من گھڑت افسانہ
بعض کتب اہلِ سنّت میں اس موقع پر ابنِ عباس سے ایک عجیب روایت نقل کی گئی ہے، وہ یہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سورہٴ نجم کی تلاوت میں مصروف تھے، جب آپ اس مجیدہ اَفَرَاَیْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزَّی، وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاخْریٰ جس میں مشرکین بتوں کے نام لئے گئے ہیں، پر پہنچے تو شیطان نے آپ کی زبان پر یہ جُملے جاری کرادیئے : "تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی" " یہ دلکش بلند پایہ پرندے ہیں جن سے شفاعت کی امید ہوتی ہے"۔ ( تشریحی نوٹ : "غرانیق" "غرنوق" (بروزن "مزدور") کی جمع ہے، یہ مفید یا سیاہ دنگ کا ایک آبی پرندہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ لفظ اور معنیٰ میں بھی آیا ہے۔(قاموس اللغة) ) یہ سننا تھا کہ مشرکین مکّہ بہت خوش ہوئے اورکہنے لگے: "آج پہلا موقع ملا ہے کہ محمد نے ہمارے خداوٴں کے ناموںکو اچھائی کے ساتھ لیا ہے"۔ اس وقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے سجدہ کیا اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا، جبرائیل ؑنازل ہوئے اور اطلاع دی کہ موخر الذکر دو جملے میں آپ کے پاس نہیں لایا تھا، بلکہ وسوسہٴ شیطانی تھے اور اس وقت (وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ نبی ۔ ۔ ۔) والی آیت نازل ہوئی اور اس طرح رسول الله اور مومنین کو تنبیہ کی گئی ۔ ( تشریحی نوٹ: تفسیر المیزان زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں یہ حدیث اہلِ سنّت کے حفّاظ حدیث سے نقل کی گئی ہے، ان میں ابن حجر بھی شامل ہیں ) بعض اسلام دشمنوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مشن کو نقصان پہنچانے کے لئے اس روایت کو اپنے لئے بڑی عمدہ دستاویز بنالیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس معاملے کو بڑی شدّو مد سے نقل کیا ہے اور اس پر بہت حاشیے چڑھائے ہیں،۔جب ایسے بہت سے قرائن موجود ہیں، جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ ایک من گھڑت حدیث ہے۔ ۱۔ مثلاً بقول محققین اس حدیث کے راوی ضعیف اور غیر ثقہ ہیں اور ابن عباس سے اس کاروایت ہونا ثابت نہیں ہے۔ بقول محمد ابن اسحاق یہ قصّہ زندیقیوں اور ملحدوں کے بہت سے گھڑے ہوئے قصّوں میں سے ایک ہے۔ اس نے یہ بات اپنی ایک کتاب میں لکھی ہے۔ ۲۔ سورہٴ نجم کی ابتدائی آیتوں میں صریحاً ان خرافات کی نفی کی گئی ہے۔ اس سورہ کی تیسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْھَوَی، إِنْ ھُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحیٰ ” "رسول الله ہوائے نفس سے کلام ہی نہیں کرتے وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وحی ہوا کرتی ہے"۔ اس آیت کی موجودگی میں مذکورہ فسانہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔ ۳۔ سورہٴ نجم کے نزول کے دوران اور اس کے بعد حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مسلمانوں کے سجدہ کرنے کے بارے میں مختلف کتابوں میں متعدد روایات نقل کی گئی ہیں، مگر کسی میں غرانیق والا افسانہ موجود نہیں ہے، جو اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ یہ فسانہ بعد میں بڑھایا گیا ہے۔(بحوالہ : تفسیر کبیر فخر الدین رازی، ۲۳، ص۵۰) ۴ ۔ ان بتوں کے نام والی آیت کے بعد آنے والی آیتیں سب کی سب بتوں کی شدید مذمّت کررہی ہیں اور ان کی پستی وضلالت کو واضح کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ تمہارے من گھڑت اوہام وتصورات ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ إِنْ ھِیَ إِلاَّ اَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوھَا اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اَنزَلَ اللهُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ وَلَقَدْ جَائَھُمْ مِنْ رَبِّھِمْ الْھُدیٰ مذمت کے ان شدید الفاظ کے بعد کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ پہلے کی کسی آیت میں بتوں کی تعریف وتوصیف کی گئی ہو،۔مزید برآں قرآن مجید کے بارے میں صریحاً کہا گیا ہے کہ یہ ہر قسم کی تحریف وتغیر سے منزّہ ہے، سورہٴ حجر کی آیت۹ اس طرح ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ۵ ۔ حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے زندگی بھر بتوں کے خلاف مسلسل وپیہم جہاد فرمایا اور کبھی لمحہ بھر کے لئے بھی ان سےسمجھوتہ نہیں فرمایا ۔ ابتدائی سن مبارک سے لے کر آخری دنوں تک بتوں اور بت پزستی کی طرف معمولی سا جھکاوٴ اور میلان بھی نہیں دکھایا جا سکتا ۔یہاں تک کہ سخت ترین حالات میں بھی آپ کے رویے میں ذرا سی لچک بھی پیدا نہ ہوئی تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ یہ الفاظ آپ کی زبان مبارک پر آئے ہوں ۔ ۶۔ وہ لوگ جو مسلمان نہیں اور آپ کو منصوص من الله نہیں مانتے، وہ بھی آپ کو ایک مدبّر مفکّر اور دانشور ضرور سمجھتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی حکیمانہ تدبیروں سے شاندار کامیابیاں حاصل کیں تو اس کردار کی حامل شخصیت جو زندگی بھر "لاالٰہ الّا الله" کا نعرہ بلند کرے، کسی قسم کی مصالحت اور سمجھوتے کے بغیر شرک وبت پرستی کے خلاف جہاد مسلسل جاری رکھے۔ کیا ممکن ہے کہ یکایک اپنے مقصد کو چھوڑکر بتوں کی تعریف کرنے لگ جائے ۔ ؟ مندرجہ بالا مفصّل بحث یہ واضح کررہی ہے کہ "غرانیق" کا قصّہ عیار دشمنوں اور بے خبر مخالفوں کا خود ساختہ ہے۔ جنہوں نے قرآن مجید اور پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ وسلّم کی حیثیت کو داغدار کرنے کے لئے بے بنیاد اور گمراہ کن روایات گھڑی ہیں۔ شیعہ وسُنّی سے بالاتر ہوکر اسلام کے تمام محققّین نے اس روایت کی پوری شدّومد کے ساتھ نفی کی ہے۔(بحوالہ: تفسیر کبیر فخر الدین رازی، ۲۳، ص۵۰) البتّہ بعض مفسرین نے اس قصّے کی توجیہہ کی ہے۔لیکن توجیہ کی وقعت تب ہے، جب اصل حدیث صحیح ثابت ہوجاتی ۔بہرحال انھوں نے توجیہہ یوں کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ وسلّم قرآن مجید کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کیا کرتے تھے اور آیات کے درمیان چند لمحوں کا وقفہ کیا کرتے تھے تاکہ آیات سامعین کے ذہن نشین ہو جائیں۔ سورہٴ نجم کی تلاوت کے دوران میں بھی جب آپ نے (اَفَرَاَیْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزَّی ۔ ۔ ۔ ۔۔الْاخْریٰ) والی آیت تلاوت کرنے کے بعد وقفہ فرمایا تو شیطان صفت ہٹ دھرم مشرکین نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے (تلک الغرانیق ۔ ۔ لترتجی) کا جُملہ اسی خاص لحن کے ساتھ کہہ دیا تاکہ پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ وسلّم کا تمسخر اڑے اور لوگوں میں شکوک پیدا ہوں ۔( بحوالہ : تفسیر قرطبی، ج، ص۴۴۷۴، تفسیر مجمع البیان میں مرحوم طبرسی بھی ایک طرح اس کا ذکر کیا ہے ) مگر بعد والی آیتوں نے مسئلے کو واضح کرتے ہوئے اس کا دندان شکن جواب دے دیا اور بت پرستی کی شدید مذمّت کی۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جو بعض افراد نے "غرانیق" والی داستان متعصّب مشرک بت پُرستوں کی ہٹ دھرمی کے باوجود ان کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لئے پیغمبر اکرمﷺ کے جھکاؤ اور میلان کے طورپر بیان کی ہے۔ایسا کرنے میں وہ فاش گلطی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ کیونکہ ان کا یہ کہنا خود اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں جاہل بت پرستوں کے ساتھ پیغمبر اکرم ؐ کے دوٹوک رویّے کا ادراک نہیں ہے اور تاریخی حقائق سے یا تو بے خبر ہیں یا تجاہلِ عارفانہ کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ جن کے مطابق مشرک، پیغمبر اسلام کو منہ مانگے دام دینے کے لئے تیار تھے، بشرطیکہ آپ اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں۔ مگر آپؐ نے ان کی ہر پیش کش کو ٹھکرا دیا اور اپنے موقف سے سرمو اِدھر اُدھر نہ ہوئے ۔
3. رسول اور نبی میں فرق
اس مسئلے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، ہماری نظری میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ رسول، ان انبیاء کو کہتے ہیں جو اپنے دین کی تبلیغ وترویج اور لوگوں کو اس کی دعوت دینے پر مامور تھے، جیسا کہ ان کی سوانح حیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں انتھک کوشش کرتے تھے۔ معمولی سی فرد گذاشت بھی نہیں کرتے تھے اور ہر طرح کی سختی اور تکلیف خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے ۔ البتّہ نبی، جیسا کہ اس لفظ سے ہی ظاہر ہے کہ اس شخصیّت کو کہا جاتا ہے جو وحی الٰہی کی خبر دے۔ اگرچہ وہ وسیع سطح پر تبلیغ پر مامور نہیں ہوتا۔ دراصل وہ ایک ڈاکٹر کی مانند ہوتا ہے، جس کو تلاش کرکے لوگ اپنی بیماری کا علاج کراتے ہیں۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف پیغمبروں کے ماحول وحالات میں خاصا فرق تھا اور ہر ایک کے فرائض وذمہ داریاں جدا جدا تھیں ۔( بحوالہ : سورہ بقرہ آیت نمبر 124 کی تفسیر کے ذیل میں اسی سلسلے میں بحث ہو چکی ہے۔)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔
رزقِ حسن
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتیں، الله کی نشانیوں کو محو کرنے کے لئے مخالفین کی سرگرمیوں کے بارے میں تھیں۔ زیرِ بحث آیتوں میں انہی متعصّب اور ضدّی لوگوں کی ان مذموم کوششوں کے جاری رہنے کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "کفار ہمیشہ قرآن مجید اور تیرے توحیدی دین کے بارے میں (روز قیامت تک) شکوک میں مبتلا رہیں گے،۔حتّیٰ کہ قیامت اچانک آجائے گی، یا یومِ عقیم کہ جس دن وہ کسی قسم کی تلافی کرنے کی صلاحیّت نہ رکھتے ہوں گے کا عذاب ان کو آلے گا (وَلَایَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ حَتَّی تَاتِیَھُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیمٍ) ۔ واضح رہے کہ کافرین سے مراد تمام کفار نہیں ہیں، کیونکہ ان میں سے بہت سے تبلیغ کے دوران پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر ایمان لے آئے تھے اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے،۔یہاں کافرین سے مراد ان کے ضدّی اور متعصّب سردار اور ہٹ دھرم کینہ پرور لوگ جو آخر تک ایمان نہ لائے اور تخریبی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ لفظ "مریہ" جس کا معنیٰ رشک، تردد اور تذبذب ہے۔ یہ ظاہر کرتاہے کہ کفار قرآن اور اسلام کو یقین کی حد تک غلط نہیں سمجھتے تھے اگرچہ زبان سے ایسا ہی کہتے تھے، وہ اسلام کے خلاف یقین کی منزل سے گرکر کم از کم شک کی سطح پر آگئے تھے مگر تعصّب اور کینہ انھیں حقیقت کو پانے کے لئے مزید مطالعے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ لفظ "ساعة" کے متعلق اگرچہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کا مطلب "موت" اور "لمحاتِ مرگ" ہے مگر بعد کی آیتیں بتلاتی ہیں کہ اس سے مراد قیامت کا آنا ہے۔علی الخصوص "بغتة" یعنی اچانک اور "ناگہانی" کے قرینے سے "یوم عقیم" کے عذاب سے مراد قیامت کی سزا ہے۔ اس کو "بانجھ" اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعدان کا کوئی ایسا دن میسّر نہ آئے گا کہ اپنے گناہوں کا کفارہ، یا کوتاہیوں کا ازالہ کرسکیں اور اپنی حالت وکیفیت میں کسی قسم کی تبدیلی کرسکیں۔ اس کے بعد قیامت کے دن الله کی ہمہ جہت حاکمیت اعلیٰ کا ذکر کیا گیا ہے، اس دن صرف اور صرف الله ہی کا حکمرانی ہو گی (الْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ) ۔ یہ بات صرف قیامت کے دن سے ہی مخصوص نہیں ہے، کیونکہ الله تو ہمیشہ ہمہ جہت اور مطلق حاکم ہے، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ البتہ دُنیا میں چونکہ دوسرے حکام اور فرمانروا بھی ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی حکومت محدود اور کمزور ہوتی ہے اور اس کی صورت صرف ظاہری ہوتی ہے۔ البتّہ یہی بات ہو سکتی ہے، اس امر کا باعث بنے کہ کہاجائے کہ الله کے علاوہ اور بھی حاکم ومالک موجود ہیں۔ لیکن روزِ قیامت جبکہ قیامت دنیاوی تمام حاکموں اور بادشاہوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی، تب یہ حقیقت ہر زمانے سے زیادہ واضح ہو گی کہ حاکم ومالک صرف اور صرف الله ہی ہے۔ بالفاظ دیگر حاکمیّت کی دوقسمیں ہیں، ایک حقیقی حاکمیت جو خالق کوو مخلوق پر حاصل ہے، دوسری اعتباری اور قراردادی گئی، حاکمیت جو لوگوں کے درمیان ایک نظام قائم رکھنے کے لئے ہوتی ہے، دُنیا میں دونوں قسم کی حاکمیتیں موجود ہیں، مگر آخرت میں اعتباری اور قرار دی گئی حاکمیت جو لوگوں کے درمیان ایک نظام قائم رکھنے کےلیے ہوتی ہے۔ دنیا میں یہ دونوں قسم کی حاکمیتیں موجود ہیں مگر آخرت میں اعتباری اور قرار دی گئی حکومتیں سب کی سب ختم کر دی جائیں گی اور صرف خلاق عالم کی حاکمیت باقی رہ جائے گی ۔(بحوالہ : المیزان، ج۱۴، ص۴۳۳ ) بہرحال حقیقی مالک وہی ہے، چنانچہ حقیقی حاکم و فرمانروا بھی وہی ہو گا، لہٰذا وہ کافر ومومن تمام انسانوں کا فیصلہ کرے گا۔اس کا نتیجہ وہی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں اس کے بعد کیا گیا ہے، یعنی: جو ایمان لائے اور نیک اعمال نجام دیئے ۔ بہشت میں طرح طرح کی نعمتوں والے باغوں میں رہیں گے، ایسے باغات جہاں ہر وہ نعمت اور ہر خیر وبرکت موجود ہو گی، جس کا وہ تصور کریں گے (فَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ)۔ البتہ جو منکر بنے اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ ذلّت آمیز عذاب میں مبتلا رہیں گے (وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَاوْلٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُھِینٌ) ۔ واقعی کیا منہ بولتی اور زندہ تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ عذاب ان لوگوں کو رسوا اور پست کرے گا جو مغرور اور متکبّر تھے، جو اپنے آپ کو باقی مخلوق خدا سے برتر سمجھتے تھے، خودکو بڑے اور دوسروں کو پست اور چھوٹا سمجھتے تھے ۔ قرآن کی آیات میں عذاب کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں "الیم""عظیم"اور "مھین" ان میں سے ہر قسم، گناہ کی اس قسم کے ساتھ مطابقت ومناسبت رکھتی ہے جو مغرور اور متکبّر لوگ کرتے رہے ہوں گے ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مومنین اور کفار دونوں کے ساتھ دو چیزوں کی نسبت دی گئی ہے، مومنین کے لئے ایمان اور عمل صالح، اور کفار کے لئے کفر اور تکذیب، در اصل یہ ہر گروہ کی اندرونی اعتقاد اور ظاہری آثار کی عکّاسی ہے، کیونکہ انسان کے اعمال وکردار کا سرچشمہ اس کے نظریات ہیں ۔ گزشتہ چند آیتوں میں الله اور اس کے دین کے لئے اپنے گھر بار چھوڑنے والے مہاجرین کا ذکر تھا، زیرِ بحث آیت میں ان کو ایک ممتاز طبقے کے طور پر پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جنھوں نے راہِ خدا میں ہجرت کی اور اس کے بعد جامِ شہادت نوش کیا یا ویسے ہی چل بسے۔ الله ان کو عمدہ روزی اور مخصوص نعمتوں سے نواز دے گا، کیونکہ وہ بہترین روزی دینے والا ہے (وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ ثُمَّ قُتِلُوا اَوْ مَاتُوا لَیَرْزُقَنَّھُمْ اللهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللهَ لَھُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ) ۔ بعض مفسرین نے "رزق حسن' سے مراد وہ نعمتیں لیں ہیں جن پر اگر انسان کی نظر پڑے تو دیکھتا ہی رہ جائے اور اس میں ایسا کھوجاتا ہے کہ کسی دوسری چیز کا ہوش نہیں رہتا اور ایسی روزی صرف الله ہی دے سکتا ہے۔ بعض علماء نے اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کی ہے: جب مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی، وہاں کچھ مسلمان تو طبعی موت سے دُنیا سے اُٹھ گئے اور بعض نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں کا ایک گروپ یہ تاثر دینے لگا کہ تمام درجات اور فضیلتیں صرف ان ہی سے مخصوص ہیں جو شہید ہوئے ہیں اور ویسے فوت ہونے والوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور دونوں کو نعمتوں کا مستحق بتایا ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اصل اہمیت راہِ خدا میں جان دینا ہے، چاہے میدانِ کارزار میں جام شہادت نوش کرے ہوئے دے یا اطاعت راہِ خدا میں فوت ہوجائے۔ الله کی فرمانبرداری کرتے ہوئے مرنے والا بھی شہداء کے ثواب کا حامل ہوتا ہے۔ انّ المقتول فی سبیل الله والمیت فی سبیل الله شہید( بحوالہ : تفسیر قرطبی، ج۷، ص۴۴۸۷۰) آخری آیت میں عمدہ روزی کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: الله انہیں ایسے مقام پر لے جائے گا کہ وہ خوش ہو جائیں گے (لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَرْضَوْنَہُ) ۔ یعنی اگر اس دنیا میں وہ اپنے گھر بار سے بڑی پریشانی اور دُکھ کے عالم میں نکلنے پر مجبور کر دیئے گئے تو الله ان کو دوسرے جہان میں ایسی رہائش گاہ اور مسکن دے گا، جو ہر لحاظ سے ان کے لئے لذّت انگیز اور نشاط وانبساط بخش ہو گا اور یوں ان کی جاں نثاری اور قربانی کی تلافی بہ طریق احسن کرے گا۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ الله ان کے اعمال وکردار سے پوری طرح سے باخبر ہے،۔نیز حلیم وبردبار ہے اور سزاء وجزاء میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا، تاکہ اس امتحان گاہ میں مومنین کی تربیت بھی ہو، اور مکمل امتحان بھی ۔(وَإِنَّ اللهَ لَعَلِیمٌ حَلِیمٌ) ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4بعض روایات کے مطابق محرم کا دن ختم ہورہا تھا اور صرف ایک دوراتیں باقی تھیں کہ مشرکین نے باہم صلاح مشورہ کیا کہ محمدؐ کے اصحاب اور ساتھی اس مہینے میں جنگ نہیں کرتے، کیونکہ وہ اسے حرام سمجھتے ہیں ۔ لہذا آؤ ان پر حملہ کرکے انھیں ختم کر دیں ۔ چنانچہ انہوں نے حملہ کر دیا۔ مسلمانوں نے پہلے اپیل کی کہ اس مقدس مہینے میں جنگ نہ کی جائے ۔مگر جب کفارکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو مسلمانوں نے ڈٹ کر دفاع کیا اور اللہ نے ان کو فتح دی ۔ اس کے بعد زیر بحث پہلی آیت نازل ہوئی۔(بحوالہ : مجمع البیان، اور درمنشور زیربحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں)
کامران کون؟
گزشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں اور اللہ کی طرف قیامت میں انہیں عظیم جزاء کا ذکر تھا۔ اس غلط فہمی کو دُور کرنے کے لئے کہ اللہ سے لطف و کرم اور کامیابیاں صرف آخرت کے لئے ہیں۔ زیر بحث پہلی آیت میں اسی دنیا میں اس کی طرف سے انعام اور مسلمانوں کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔ "بات یہی ہے اور جو شخص اپنے اوپر کی ہوئی زیادتی کے برابر بدلہ لے اور پھر اس پر مزید زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی مدد کرے گا (ذلک ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ)۔ یہ اس حق کی طرف اشارہ ہے کہ ظلم و ستم کے مقابلے مین ہر ایک شخص دفاع کا فطری حق رکھتا ہے اور ہر شخص اقدام کا مجاز رہے۔ مگر "مثل" کی قید سے یہ تاکید کر دی گءی ہے کہ "حد" سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے۔" ثم بغی علیہ" اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے دشمنوں کے نرغے میں آ جائے تو اس کی مدد خود اللہ کرے گا۔یعنی یہ واضح کیا جا رہا ہے۔ کہ جو شخص سرے سے ظلم کے مقابلے میں خاموش بیٹھا رہے۔ تختہ مشق ظلم بنا رہے۔ اپنے دفاع کے لئے کوئی مؤثر اقدام نہ اُٹھائے تو ہرگز اللہ کی مدد کا مستحق قرار نہیں پائے گا۔ چنانچہ اللہ نے اپنی مدد کا وعدہ صرف ان لوگوں سے مخصوص کر رکھا ہے جو اپنی تمام تر توانائیوں کو ظالموں اور جابروں کے مقابلے میں بروئے کار لائیں اور اپنا بھرپور دفاع کریں۔ لیکن پھر بھی ظلم سے نجات حاصل نہ کر سکیں۔ نیز چونکہ ضروری ہے کہ قصاص، سزا اور عفو و درگزر ساتھ ساتھ ہوں تاکہ اپنے جرم پر نادم ہونے والے اور سرتسلیم خم کر لینے والے سائیے تلے پر سکوں بیٹھ سکیں۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ (ان اللہ لعفو غفور)۔ یہ آیت قصاص کی دوسری آیتوں کے مشابہ ہے جو ایک طرف مقتول کے وارث کو بدلہ لینے کی اجازت دیتی ہے تو دوسری طرف معاف کر دینے کو بہتر شمار کرتی ہے (البتہ انہیں جو معافی کے لائق ہوں) چونکہ نصرت و مدد کا وعدہ صرف اس صُورت میں موثر اور حوصلہ افزاء ہو گا جب مدد کرنے والا کوئی قادر و توانا ہو۔ چنانچہ بعد والی آیت میں وسیع عالم ہستی میں پروردگار عالم کی طاقت و ایثار کا یک رُخ پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے۔" یہ اس لیے ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں بدلتا ہے (ہمیشہ ان میں کمی بیشی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح لاکھوں سالوں سے یہ باقاعدہ نظام چل رہا ہے) (ذلک بان اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل)۔ "یولج" اور "ایلاج"، "ولوج" کے مادہ سے ہے۔ جو "دخول" کے معنی میں ہے۔ یہ اس حیثیت کی تعبیر ہے کہ سال کے مختلف حصوں میں رات دن میں تدریجی کمی بیشی کا نظام باقاعدہ تغیر و تبدل کے ساتھ قائم رہتا ہے اور ایک میں کمی اور دوسرے میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے طلوع و غروب آفتاب کی طرف اشارہ ہو۔ زمین کی مددر شکل اور ہوا کے غلاف کی وجہ سے کبھی طلوع و غروب کی اچانک یا فوری تبدیلی واقع نہیں ہوتی، بلکہ ہوا کے غلاف کے اوپر کے حصے پر سورج کی پہلی شعائیں پڑنے سے طلوع فجر و وقوع پذیر ہوتی ہے۔ پھر تدریحا نیچے کے حصے روشن ہو تے ہیں اور زمین کی سطح منور ہوتی ہے۔ گویا تدریحا دن رات میں داخل ہوتا ہے اور افواج نور تاریکی کے لشکر پر غالب آ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس غروب آفتاب کے موقع پر سورج کی شعائیں پہلے سطح زمین سے اوپر فضا میں اٹھتی ہیں جن سے معمولی سی تاریکی ہو جاتی ہے اور تدریحا ہوا کے غلاف کے اوپر کی سطح تک چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ سورج کی آخری کرنیں ہوا کے غلاف کے آخری کناروں سے بھی ہٹ جاتی ہیں اور یوں اندھیرا ہر جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو طلوع وغروب اچانک اور فوری تبدیلی سے رونما ہوتے رات دن میں اور دن رات میں اچانک بدل جاتا اور جسمانی اور روحانی لحاظ سے انسان کے لئے نقصان دہ ہوتا۔ اجتماعی طور پر بھی یہ ناگہانی تبدیلی کئی مشکلات کا سبب بنتی۔ بہرحال اگر یہ کہا جائے کہ زیر بحث آیت مذکورہ بالا دونوں امور کی طرف اشارہ کرتی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے۔ "اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے (و ان اللہ سمیع بصیر)۔ مومنین کی امداد کے تقاضے سنتا ہے۔ ان کی کیفیت اور کارکردگی سے باخبر ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا فضل و کرم ان کے شامل حال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ دشمن کی کارستانیوں اور ناپاک عزائم سے بھی مطلع ہے۔ زیر بحث آخری آیت دراصل پہلی آیت کے دعوے کی دلیل ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ حق ہے اور اس کو چھوڑ کر وہ جسے بھی پکارتے ہیں باطل ہے اور اللہ بلند مقام اور بڑا ہے۔ (ذلک بان اللہ ھو الحق و ان ما یدعون من دونہ ھو الباطل و ان اللہ ھو العلی الکبیر)۔ اگر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کی افواج کامران ہوتی ہیں۔ باطل قوتیں پیچھے ہٹتی ہیں اور منہ کی کھاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم کفار کا ساتھ نہیں دیتا، بلکہ مومنین کی مدد کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار باطل ہیں اور مومنین پر حق۔ وہ نظام عالم ہستی کے برخلاف ہیں۔ چنانچہ ان کا انجام فنا اور بربادی ہے اور مومنین کائنات کے قوانین سے ہم آہنگ ہیں۔ اصول یہ ہے کہ اللہ سبحانہ، حق ہے اور اس کا غیر 'باطل' چنانچہ وہ تمام لوگ، بلکہ ہر وہ موجود جو اللہ سے مربوط ہو گا۔ وہ برحق ہے۔ اسی طرح جو اس سے منقطع ہیں وہ اپنے درجہ انقطاع کی نسبت سے درجہ باطل پر ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "المیزان" میں ہے کہ حق کا اطلاق اللہ پر اور باطل اس کے غیر پر یا اس وجہ سے ہے کہ وہ "حق" جو کسی طرح سے بھی باطل کے ساتھ مخلوط نہیں اللہ ہی ہے یا اس وجہ سے ہے کہ وہ 'حق' جو اپنی ذات میں "قائم" اور خود مختار ہے، وہ اللہ ہی ہے اور دوسرے اس کے ساتھ رابطے کی وجہ سے برحق کہلاتے ہیں)۔ "علی"، "علو" کے مادہ سے بلندی اور رفعت کے معنی میں اس استعمال کیا جاتا ہے۔ نیز اس ذات کو "علی" کہتے ہیں جو صاحب قدرت وسوت ہو اور اس کے ارادے کے سامنے کھڑا ہونے کی کسی میں ہمت نہ ہو۔ "کبیر" بھی پروردگار عالم کی عظمت حلم و قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ ان صفات کا حامل مالک اپنے بندوں کی مدد پر پوری طرح قادر ہے اور دشمنوں کو نیست و نابود کر سکتا ہے۔ لہذا اس کے بندوں کو اس کے وعدے پر مطمئن رہنا چاہیئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔
کائنات میں اللہ کی نشانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں الله کی لامتناہی طاقت اور اس کی حقانیت مطلقہ کا ذکر تھا، زیرِ بحث آیتوں میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اس کی طاقت اور اختیار کی مختلف علامتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا تو نے ملاحظہ نہیں کیا کہ الله نے آسمان سے پانی برسایا، اور اس سے خشک اور مردہ زمین کو سرسبز وشاداب کیا (اَلَمْ تَریٰ اَنَّ اللهَ اَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً) ۔ یعنی وہ زمین جس سے زندگی کے آثار معدوم ہوگئے تھے، چٹیل، سیاہ، اور کریہہ المنظر ہو گئی تھی۔ وہ بارش کے حیات بخش قطروں سے زرخیز ہو گئی، اس میں زندگی عود کر آئی اور لہلہانے لگی،۔بے شک اتنی آسانی سے زندگی کو وجود میں لانے والا الله لطیف وخبیر ہے (إِنَّ اللهَ لَطِیفٌ خَبِیرٌ) ۔ "لَطِیف" 'لطف" کے مادہ سے نہایت عمدہ اور باریک کام کو کہتے ہیں، الله کی خاص رحمتوں کو بھی "لطف' اس کی عمدگی اور باریکی کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ "خَبِیر" اسے کہتے ہیں جو گہرے اور باریک مسائل سے آگاہ ہو۔ الله کا "لطیف' ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے منوں مٹی میں دبے ہوئے ننّھے ننّھے نباتی بیجوں کی نشو ونما کرے، قانون کشش ثقل کے برعکس، ان کو گہری تاریک مٹی سے نہایت باریک بینی اور لطف سے اوپر مٹی کی سطح کی طرف بھیجے ۔ اور سورج کی گرم اور روشن شعاعوں، ہوا کے جھونکوں کے سامنے پھیلائے اور یوں آخرکار ایک بار اور سرسبزپودے، یا تنومند درخت بنادے ۔ اگر الله بارش نہ برساتا اور بیج کے ارد گردکی مٹی نرم اورملائم نہ ہوجاتی تو وہ ہرگز نشو نما نہ پاتا، مگر اس نے بارش کے ذریعے سخت زمین کو نرم ولطیف بنایا اور کمزور اور نازک بیج کی پرورش کی تمام ضروریات مہیّا ہوسکیں اور وہ مٹی کی تہوں میں بیج کی ضرورت سے لے کر شکوفے کی صورت میں زمین سے نکلنے تک ہر مرحلے سے باخبر ہے، الله کے "لطیف" ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بارش برسائے مگر "خبیر" ہونے کا تقاضا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ایسا کرے، یعنی اگر بارش زیادہ برسے تو سیلاب بن جائے اور اگر کم برسے تو خشک سالی کا وبال۔ یہ ہے اس کے لطیف وخبیر ہونے کا مفہوم سورہٴ مومنون آیت نمبر ۸میں ہے: " وَاَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاَسْکَنَّاہُ فِی الْاَرْضِ" ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل کیا پھر اسے (حسب مصلحت) زمین میں ٹھہرائے رکھا۔ اسی کا بھی یہی مفہوم ہے۔(تشریحی نوٹ : اسی تفسیر کی جلد 3میں سورہٴ انعام آیت103کی تفسیر کے ذیل میں الله کے لطیف ہونے کے بارے میں بڑی قابل توجہ بحث کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں) اپنی بے پایاں طاقت اور اختیار کی دوسری علامت بیان کرتے ہوئے الله ارشاد فرماتا ہے: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کا تو ہے (لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ) ۔ سب کا خالق ومالک وہی ہے۔ اس وجہ سے سب پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اس کائنات میں وہی اکیلا، بے نیاز وتونگر ہے اور ہر طرح کی تعریف وستائش کا مستحق بھی ٹھہرتا ہے۔ (وَإِنَّ اللهَ لَھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیدُ) ۔ "غنی" اور "حمید" کی دوصفات بہت مربوط طریقے سے استعمال کی گئی ہیں، کیونکہ۔ (ا) بہت سے لوگ متموّل اور مالدار ہیں، مگر کنجوس، استحصالی ذہن کے مالک، دولت کو اپنے تک محدود رکھنے والے اور متکبّر اور اپنی عیش وعشرت میں مست ہیں۔ چنانچہ کسی کا غنی ہونا گویا مذکورہ بالا صفات سے متصف ہونا بھی ہے مگر الله غنی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بندوں کے لئے صاحب لطف وعنایت، فیّاض، فیض رساں اور سخی وجواد بھی ہے، جو اسے حمدوستائش کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ ( ب) امیر لوگوں کی دولت وثروت ظاہری ہے، اگر وہ ساتھ ساتھ سخی بھی ہوں تو بھی وہ اپنا مال و دولت تو کسی کو نہیں دیتے کیونکہ درحقیقت تمام ثروت اور مال الله کا دیا ہوا ہے اور چونکہ اصلی اور ذاتی طور پر صاحب ثروت ودولت صرف الله ہی کی ذات ہے۔ لہٰذا حمد وثنا کا مستحق بھی دراصل وہی ہے۔ ( ج) امیر و دولت مند لوگ اگر کوئی کام کرتے ہیں تو اس کی منفعت عام طور پر انہی کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ صرف الله ہی ہے کہ جو بے حساب دیتا ہے اور کسی قسم کا نفع خود اسے حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا جود وسخا اس کے بندوں کے لئے ہے۔ اسی سبب سے وہی سب سے زیادہ تعریف اور حمد وثنا کے لائق ہے۔ اس کے بعد اپنی لامتناہی طاقت سے کائنات کو انسان کے لئے مسخر کرنے کے بارے میں ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: کیا تونے ملاحظہ نہیں کیا الله نے زمین کی ہر ایک چیز تمہارے زیرِ تسلط قرار دی ہے اور تمام قدرتی وسائل،طرح طرح کی نعمتیں اور چیزیں سب کی سب تمھارے اختیار میں دے دی گئی ہیں تاکہ جس طرح چاہو ان سے فائدہ اٹھاوٴ (اَلَمْ تَریٰ اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ) ۔ اس طرح الله کے حکم سے سمندروں میں چلنے والے اور پانی کا سینہ چیر کر سوئے منزل بڑھنے والے جہاز بھی زیرِ تسلط قرار دے دیئے گئے (وَالْفُلْکَ تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہِ) ۔ علاوہ ازیں، "الله آسمان کو اس کی جگہ پر روکے ہوئے ہے اور اس کی بلا اجازت زمین پر نہیں گرسکتا"۔ (وَیُمْسِکُ السَّمَاءَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ) ۔ ایک طرف تو قوت دافعہ وجاذبہ مدار CENTRIFUGAL FORCESاور CENTRIPETAL کے باقاعدہ متوازن نظام کے تحت اجرام فلکی کو اپنے اپنے مدار پر رہنے اور ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے کا پابند کررکھا ہے دوسری طرف زمین کے گرد ہوا کا اس طرح غلاف لپیٹ رکھاہے تاکہ فضا میں منتشر پتھر زمین سے ٹکرا نہ سکیں اور اہلِ زمین کے لئے تکلیف اور پریشانی کا سبب نہ بنیں ۔ بے شک اپنے بندوں پر یہ اس کی رحمت، لطف اور کرم ہے کہ یُوں زمین کو ہر قسم کے خطرات سے خالی امن کا گہوارہ بنادیا تاکہ وہ انسان کے لئے پُرسکون اور آسائش کا مرکز بنی رہے۔ نہ پتھر اس سے ٹکرائیں اور نہ کوئی آسمانی کرّہ ۔چنانچہ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے، بے شک الله بندوں پر بڑا مہربان اور رحیم ہے (إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیمٌ) ۔ زیربحث آخری آیت میں الله کے بے پایاں اختیار کے حوالے سے زمین پر اہم ترین مسئلے یعنی "موت وحیات" کے بارے میں فرمایا گیا ہے: وہ وہی ہے کہ جس نے تمہیں زندگی دی (تم بے جان مٹی تھے، تم میں حیات کی رُوح پھونکی) (وَھُوَ الَّذِی اَحْیَاکُمْ) ۔ پھر زمانہٴ حیات کے بعد تمہیں موت دیتا ہے (اور جس مٹی سے تم اٹھے تھے واپس اسی میں چلے جاوٴ گے) (ثُمَّ یُمِیتُکُمْ)، پھر روز قیامت ایک نئی زندگی ملے گی (مردہ مٹی سے نکلو گے اور حساب اور جزاء وسزا کے لئے آوٴگے) (ثُمَّ یُحْیِیکُمْ) ۔ زمین وآسمان میں الله نے یہ تمام نعمتیں انسان کے لئے مخصوص کی ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان بہت ناشکرا ہے۔ واضح اور کھلی نشانیاں کے باوجود الله کے وجود کا انکاری ہے۔ (إِنَّ الْإِنسَانَ لَکَفُورٌ)
چند اہم نکات: 1. پرودگار عالم کی خاص صفات
مندرجہ بالا آیتوں اور اسے پہلے کی دو آیتوں میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ ساتھ چودہ مختلف صفات کا ذکر کیا گیا ہے، ہر آیت کے آخر میں دو صفات کا ذکر ہے: ۱۔ علیم وحلیم ۲۔عفو وغفور ۳ ۔سمیع وبصیر ۴۔علی وکبیر ۵۔لطیف وخبیر ۶۔غنی وحمید ۷۔روٴف ورحیم ان میں ایک صفت دوسری کی تکمیل کرتی ہے: عفو، غفران کے ساتھ، سمیع،بصیر ہونے کے ساتھ ساتھ رفعت وبلندی بڑائی کے ساتھ، لطیف ہونا مکمل اطلاع وآگاہی کے ساتھ ساتھ بے نیازی قابل ستائش ہونے کے ساتھ اور روٴف ہونا رحیم ہونے کے ساتھ، یہ سب صفات ایک دوسری سے ہم آہنگ اور مربوط ہیں ۔ علاوہ ازین ہر صفت اس مفہوم سے متعلق ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں، لہٰذا اعادہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
2. ان آیتوں کا استدلالی پہلو
جس طرح مندرجہ بالا آیتیں الله کی قدرت کی نشاندہی کرتی ہیں اور اپنے با ایمان بندوں کےلئے اللہ کی مدد پر دلالت کرتی ہیں۔اسی طرح اللہ کی ذاتِ اقدس کی حقانیت پر بھی دال ہیں،۔نیز توحید، معاداور قیامت کا بھی ثبوت ہیں۔ بارش کے اثر سے مردہ زمینوں کا سرسبز وشاداب ہوجانا، اسی طرح انسان کی پہلی حیات وموت کا تذکرہ اس کی قدرت کا بیّن ثبوت ہے کہ وہ انسان کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے، قرآن مجید کی اور بہت سی آیتیں انہی امور کے ذریعے مسئلہ معاد وقیامت پر استدلال کرتی ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی بیان ہوجائے کہ "إِنَّ الْإِنسَانَ لَکَفُورٌ"میں "لَکَفُور" مبالغے کا صیغہ ہے اور انسان کی بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی اور کفر وضلالت پر دلالت کرتا ہے، یعنی انسان اس قدر ناشکرا اور کفران نعمت کرنے والا ہے۔ الله تعالیٰ کی ان تمام آیات عظمت کا مشاہدہ کرنے کے باوجود راہِ انکار اختیار کرتا ہے۔ یا یہ اس قسم کے افراد کے ناشکرے ہونے کی طرف اشارہ ہےجو سرتا پا اس کی نعمتوں سے سرشار ہونے کے باوجود نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔
3. کائنات کا انسان کےلیے مسخر ہونا
ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ کائنات کے لئے انسان کے لئے مسخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات انسان کی خدمت گزار ہے اور اس کے مفاد کے لئے ہے (سورہٴ نحل کی آیت نمبر ۱۲ تا نمبر ۱۴کی تفسیر کے ذیل میں اسی تفسیر کی جلد نمبر6، اور جلد نمبر5میں سورہٴ رعد آیت نمبر2کی تفسیر کے ذیل میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ دُنیا کی بے شمار نشانیوں اور نعمتوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ ماضی اور موجودزمانے میں انسانوں کے روابط اور میل جول اور ایک جگہ سے دوسری جگہ حمل ونقل کا بہترین ذریعہ یہی بحری جہاز اور کشتیاں ہیں۔ ان کے علاوہ حمل ونقل کا کوئی ذریعہ زیادہ رواج نہیں پاسکا۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر ایک دن سمندر میں چلنے والے تمام جہاز روک دئے جائیں تو انسانی زندگی معطل ہو کر رہ جائے۔کیونکہ انسانی ضرورت کی تمام اجناس کی نقل و حرکت بری راستے سے نہیں ہو سکتی اور نہ ہی برّی راستے اتنے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ خصوصاً آج ہمارے دور میں جبکہ صنعت وحرف کی شہ رگ تیل ہے، اور تیل کی نقل وحرکت کے لئے اہم ترین ذریعہ یہی بحری جہاز ہیں ۔ اس طرح بحری جہازوں کی اہمیت کتنے گنا بڑھ جاتی ہے،۔جتنا تیل ایک بڑے تیل بردار جہاز کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے اتنا تیل دس ہزار ٹرک بھی نہیں لے جاسکتے اور پائپ لائنوں کے ذریعے بھی ایک محدود علاقوں میں ہی منتقل کی جا سکتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 70 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ہر امت کےلیے ایک عبادت مقرر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 4ہماری گزشتہ بحثیں مشرکین کے بارے میں تھیں۔ مشرکین مکّہ علی الخصوص اور دوسرے اسلام مخالف عناصر علی العموم پیغمبر اکرم ﷺکے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے اور پرانے احکامات کی تنسیخ اور نئی شریعت کے نفاذ کو اسلام کی کمزوری خیال کرتے تھے۔ حالانکہ یہ تبدیلیاں کسی کمزوری کی دلیل نہ تھیں، بلکہ ارتقاء وتکاملِ ادیان کے پروگرام کا ایک حصّہ تھیں۔ چنانچہ زیرِ بحث پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ایک امّت کے لئے ایک عبادت مخصوص کر دی ہے تاکہ وہ اسی طرح اپنے رب کی عبادت کرے (لِکُلِّ امَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَکًا ھُمْ نَاسِکُوہُ) ۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ بعض مشرکین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے اس سوال کا جواب ہے کہ تم ذبح کرکے گوشت کھالیتے ہو جبکہ مردہ کا نہیں کھاتے ہو، یعنی اپنے مارے ہوئے کو کھاتے مگر خدا کے مارے ہوئے کونہیں؟ مگر یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ زیرِ بحث آیت میں ہر طرح کے مفہوم کی گنجائش ہے نہ کہ صرف مسئلہ ذبح کی ۔ مزید برآں، مردار کا گوشت کھانا کسی شریعت میں بھی جائز نہیں تھا۔ اس کے بارے میں قرآن مجید کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہر ایک امّت کا ذبح کے بارے میں الگ طریقہ تھا)۔ "مناسک" "منسک" کی جمع ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ "منسک" کا مطلب"عبادت"ہے۔ ہو سکتا ہے،یہاں پر یہ لفظ مختلف دینی ضابطوں کے لئے استعمال کیا گیا ہو، اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا: کہ سابقہ امتیں اپنے لئے ایک مخصوص شریعت رکھتی تھیں، جو مخصوص حالات مختلف زمان ومکان اور دیگر جہات کے لحاظ سے ان کے لئے مکمل " ضابطہٴ حیات " تھیں۔ مگر ان مخصوص حالات کے بدل جانے کی صورت میں ضروری تھا کہ وہ ضابطہ بھی بدل جائے اور نئے احکام اس کی جگہ لیں،۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اس وجہ سے ان کوآپ کے خلاف نہیں اٹھ کھڑا ہونا چاہیے (فَلَایُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ) ۔ آپ اپنے پالنے والے کی طرف دعوت دیجئے،کیونکہ سیدھا راستہ یہی ہے،جس پر آپ گامزن ہیں ۔ (وَادْعُ إِلَی رَبِّکَ إِنَّکَ لَعَلیٰ ھُدًی مُسْتَقِیمٍ) یعنی ان کے بے سروپا اعتراضات اور لغو باتیں آپ کو ذرّہ بھر متاثر نہ کرپائیں، کیونکہ آپ تو الله کی طرف بلا رہے ہیں اور آپ راہ راست پر ہیں ۔"ھُدًی" کی صفت " مستقیم" بیان کی گئی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ تاکید وتشدید کا اظہار ہو یا یہ بیان مقصود ہو کہ کسی منزل کی طرف کئی راستے راہنمائی کر سکتے ہیں۔ نزدیک، دور، ٹیڑھا اور سیدھا، لیکن الله کی طرف سے جو راستہ مقرر ہو گا وہ نزدیک ترین اور سیدھا راستہ ہو گا۔ لیکن اس کے باوجود وہ مخالفت جاری رکھیں اور آپ کی ہدایت سے اثر قبول نہ کریں تو ان سے کہہ دیں کہ الله ان کی حرکات سے زیادہ مطلع ہے۔ (وَإِنْ جَادَلُوکَ فَقُلْ اللهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ) ۔ الله تمھارے اختلاف کا فیصلہ فرمائے گا (فردائے قیامت، جو الله کی طرف بازگشت کا دن ہے اور اتحاد ویگانگت کا دن ہے اور تمام اختلافات مٹ جانے کا دن ہے، تم سب پر حق واضح کردے گا )۔(اللهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کُنْتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ) ۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ ممکن ہے اس آیت کے مخاطب سول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مخالفین اسلام دونوں ہوں، اس بناء پر (اللهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ) کا جملہ قول پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ہو گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آیت کے مخاطب مسلمان اور کفار ہوں، اس صورت میں یہ آیت الله تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک مستقل بیان ہو گی)۔ چونکہ قیامت کے دن بندوں کے جملہ اختلافات کو ختم کرنا اور ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ جو ذات یہ مرحلے طے کرے، وہ لازمی طور پر بے پناہ علم کی حامل ہو۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے:" کیا آپ کو علم نہیں کہ زمین وآسمان میں ہر چیز سے الله واقف ہے" (اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ) ۔ بے شک یہ سب علوم واشیاء ایک کتاب میں موجود ہیں (إِنَّ ذٰلِکَ فِی کِتَابٍ) ۔ الله علیم وحکیم کے لامتناہی علم کی ڈائری اور کتاب عالمِ ہست ونابود اور کائناتِ اثر وموٴثر کی کتاب ہے جس میں سے کچھ ناپید نہیں ہوتا،بلکہ ہمیشہ اس میں تغیر وتبدل اور اضافہ ہوتا رہتا ہے،۔یہاں تک کہ انسان کے گلے سے نکلی ہوئی کمزور آواز بھی جو ہزار سال پہلے اس کائنات میں وجود آئی تھی، فنا نہیں ہو گی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی فضا میں موجود رہے گی۔ یہ بہت جامع اور مفصّل کتاب ہے جس میں ہر چیز لکھی ہوئی ہے بالفاظ دیگر یہ سب کچھ لوح محفوظ یعنی "علم الٰہی کی تختی" میں درج ہے اور تمام موجودات اپنی تمام تر تفاصیل کے ساتھ اس کے نزدیک حاضر ہیں اس لئے آیت کے آخری جملے میں ارشاد ہوتا ہے: الله کے لئے سب کچھ بہت آسان ہے کیونکہ تمام موجودات اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ اس کے سامنے ہیں۔(إِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرٌ) ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 74 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مکھّی سے بھی زیادہ کمزور معبود
Tafsīr Nemūna · Vol. 4گزشتہ آیتوں میں شرک اور توحید سے متعلق گفتگو کے لحاظ سے زیرِ بحث آیت میں دوبارہ مشرکین اور ان کی غلط کاریوں کا ذکر کیا جا رہا ہے چونکہ شرک اور بت پرستی کے بطلان کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عقلی اور نقلی کوئی دلیل اس قبیح عمل کا جواز مہیّا نہیں کرتی۔ لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا جا رہا ہے: الله کو چھوڑ کر جن کی وہ پرستش کرتے ہیں، اس کے بارے میں الله نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔(وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا) ۔ در اصل یہ آیت بُت پرستوں کے اس عقیدے کو باطل کررہی ہے جس کے تحت وہ کہا کرتے تھے کہ بُت الله کی بارگاہ میں ہمارے شفیع ہیں اور ہم ان کی اجازت سے ہی ان کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے وہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں کچھ معلومات نہیں ہیں (وَمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہِ عِلْمٌ) ۔ یعنی اپنے اس فعل سے متعلق وہ نہ تنزل من الله کوئی دلیل رکھتے ہیں اور نہ ہی فہم عامہ سے کوئی جواز پیش سکتے ہیں ۔ واضح سی بات ہے کہ جس شخص کے پاس اپنے عقیدے اور اعمال کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو وہ بڑی حماقت کا مرتکب ہوا ہے۔ اس نے اپنے آپ پر بھی زیادتی کی اور دوسروں پر بھی اور جب وہ گرفتار ِ عذاب وعقاب الٰہی ہو گا تو کوئی بھی اس کی حمایت کی جرات نہیں کرسکے گا۔اس حقیقت کو آیت کا آخری حصّہ واضح کر رہا ہے: "ستمگروں کا کوئی یار ومددگار نہیں" (وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ نَصِیرٍ) ۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں " نصیر " کا مطلب دلیل و برہان لیا ہے۔کیونکہ دلیل و منطق ہی حقیقی مددگار چیزیں ہیں ۔(بحوالہ : تفسیر المیزان اور کبیر زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں) یہ احتمال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ"نصیر" سے مراد رہبر وراہنما ہے اور اب تک کی بحث کا نتیجہ بھی یہی ہے۔ اور مفہوم یہ ہے کہ ان باطل عقیدہ رکھنے والوں کے پاس نہ خدا کی طرف سے کوئی دلیل ہے اور نہ ہی عقل ومنطق کی برہان کہ جس تک وہ خود پہنچے ہوں اور نہ کوئی ایسا رہبر ورہنما انہیں میسّر ہے جو زندگی کے پُرپیچ راستوں میں ان کی رہبری کرسکے وہ بڑے ظالم ہیں کہ حق کے مطیع نہ ہوئے۔ مندرجہ بالا تین مختلف مفاہیم ایک دوسرے سے منافی نہیں ہیں۔ اگرچہ پہلا مفہوم زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد الله کے احکامات سننے کے بعد بت پرستوں کے شدید ردعمل، ضد، تعصّب اور ہٹ دھرمی کی طرف مختصر اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "جب ہمارے واضح احکامات (جن کی عقلی ومنطقی صحت بڑی واضح ہے) جن سے فائدہ اُٹھانا عقل سلیم رکھنے والے ہر فرد کے لئے آسان ہے، ان کے سامنے بیان کئے جاتے ہیں، توتو کفار کے چہروں پر انکار وتنفر کے آثار ملاحظہ کرتا ہے (وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْھِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِی وُجُوہِ الَّذِینَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ) ۔ ( تشریحی نوٹ : "منکر " مصدر میمی ہے۔ " انکار اور ناپسندیدہ افعال کے معنی ٰ میں استعمال ہوتا ہے۔یہ ایک قلبی کیفیت ہے یہاں اس کے آثار مراد ہیں ۔ جو چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں ۔) حقیقت کہ جب یہ صاف ستھرے اور منطقی احکامات بیان کئے جاتے ہیں، تو اسے اپنے جاہلانہ اور باطل عقائد متضاد نظر آتے ہیں، چونکہ وہ سچائی اور صداقت کو قبول نہیں کرتے اس لئے غیراختیاری طور پر نفرت وناپسندیدگی کے آثار ان کے چہروں سے عیاں ہوجاتے ہیں ۔یہاں تک ہی بس نہیں بلکہ تعصّب، ہٹ دھرمی اور ضد کی شدّت کی وجہ سے ہو سکتا ہے وہ جلد ہی احکامات کو غور سے سننے والوں سے ہاتھا پائی اور دھینگا مستی پر اُتر آئیں (یَکَادُونَ یَسْطُونَ بِالَّذِینَ یَتْلُونَ عَلَیْھِمْ آیَاتِنَا) ۔ "یَسْطُونَ" 'سطوت' کے مادہ سے ہے اور آستینیں چڑھاکر ہاتھ اُٹھاکر مدّمقابل پر حملہ آور ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بقول راغب کے جب گھوڑا پچھلے پاوٴں پر کھڑا ہوکر اگلے پاوٴں اٹھاتا ہے اسے "سطوت" کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا مفہوم بھی استعمال ہوتا ہے،۔اگر کسی معاملے میں انسان عقل ومنطق سے غور کرے تو اپنے مخالف کی دلیل سے نہ چہرے کے تاثرات میں تغیر وتبدل کی ضرورت ہے اور نہ ہی مکہ لہرانے کی بلکہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے۔ کفار کا غلط ردّعمل ہی اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ وہ کسی دلیل ومنطق کو سننے پر تیار نہیں، بلکہ جہالت ہٹ دھرمی اور طاقت وتشدد کے قائل ہیں ۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ "یَکَادُونَ یَسْطُونَ" فعل مضارع ہے اور کفار کی مذکورہ بالا کیفیت کے استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی اگروہ مار پیٹ کا موقع پاتے تو ضرور مارتے اور اگر موقع نہ پاتے تو مار پیٹ کے لئے تیار ضرور رہتے۔ ہماری زبان میں وہ اکثر دانت پیستے ہی رہتے ہوں گے کہ وہ مارپیٹ پر قادر نہیں ہیں ۔ایسے احمقوں کے مقابلے میں رسول اکرم ﷺکو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان سے کہہ دے کہ اس سے بھی بدتر چیز کی تم کو خبر دوں! جہنّم کی بھسم کر دینے والی آگ اس سے کہیں تکلیف دہ ہے (قُلْ اَفَانَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکُمْ النَّارُ) ۔ ( تشریحی نوٹ : اس جملے میں " النار " مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اس کی تقدیر یہ ہے ھی النار ( وہ آگ ہے ) ۔بعض مفسرین کے خیال میں خود " النار " مبتدا ہے اور جملہ (وعدھا اللہ ۔ ۔ ) اس کی خبر۔لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ نیز اسی جملے میں "وعد" کے دو مفعول ہیں ۔پہلا الذین کفروا اور دوسرا ھا کا مقدم ہونا شاید مخصوص ہونے کو واضح کرنے کےلئے ہے ) ۔ یعنی اگر الله کی واضح اورکھلی ہوئی آیتیں تمہیں بُری معلوم ہوتی ہیں، شاید اس لئے کہ تمھارے منفی اور اٹکل بچّو نظریات کے برعکس، ہیں تو کہیں زیادہ بُری چیز کی تم کوخبر دے دوں اور وہ یہ کہ الله کی طرف سے تیار کیا ہوا اذیت ناک عذاب اور سزا ہے جو ضدّی اور ہٹ دھرم لوگوں کا آخری ٹھکانا ہے، "بھسم کر دینے والی وہی آگ جس کا الله نے کفار سے وعدہ کر رکھا ہے" (وَعَدَھَا اللهُ الَّذِینَ کَفَرُوا) ۔ اور یہ آگ بہت ہی بڑا ٹھکانا ہے (وَبِئْسَ الْمَصِیرُ) ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بدخوار اور تند مزاج مخالفین کہ جن کے دلوں میں ہمیشہ تعصّب اور ہٹ دھرمی کے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں، کا بدلہ جہنّم کی آگ کے سوا اور کچھ ہی نہیں کیونکہ ہمیشہ الله کی طرف سے دی جانے والی سزا گناہ کے تناسب سے ہوا کرتی ہے۔ اس کے بعد بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی کیفیت، کمزوری اور توانائی کا دلچسپ اور حسبِ حال خاکہ بیان کیا گیا ہے اور مشرکین کے نظریات کو بڑے واضح انداز میں باطل ثابت کیا گیا ہے۔ عوام الناس سے خطاب کیا جا رہا ہے: اے لوگو! بیان کی جانے والی ایک مثال توجہ سے سُنو (اس پر غور وخوض کرو) ۔ (یَااَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَہُ) ۔ الله کو چھوڑ کر جن کو بطور خدا پکارتے ہو، وہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ چاہے وہ سب کے سب مل کر اجتماعی کوششیں کریں (إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لَنْ یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوْ اجْتَمَعُوا لَہُ) ۔ تمام بت اور دیگر معبود، سب دانشور صاحبان فکر ونظر اور بنی نوع انسان کے تمام صفت کار اور موجد اگر مل کر کوشش کریں تو ایک مکھی تک پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایسے میں وہ کس بناء پر ان نا اہل چیزوں کو اس پروردگار کا ہم پلّہ قرار دے سکتے ہیں، جو زمین وآسمان پر ہزارہا ذی رُوح موجودات، دریاوٴں، ریگستانوں، جنگلوں، زیرِ زمین اور زیرِ آب خزانوں کا بنانے والا اور پیدا کرنے والا ہے، وہ الله جو زندگی کو مختلف شکلوں اور طرح طرح کی صورتوں میں پیش کرنے والا ہے، جس کی قدرت کاملہ کے حیرت انگیز اور عجیب وغریب مظاہر انسان کو اس کی تحسین وآفرین اور حمد وستائش کرنے پر بے اختیار محبور کرتے ہیں یہ کمزور ونااہل معبود کہاں اور وہ قادر حکیم مطلق کہاں ۔ تاکید مزید کے طور پر اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ بناوٴٹی معبود مکھی تک پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ خالق ومعبود حقیقی کی پیدا کی ہوئی ایک مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے، ایک مکھی ان سے کچھ چھین لے تو یہ واپس تک لینے کی طاقت نہیں رکھتے (وَإِنْ یَسْلُبْھُمْ الذُّبَابُ شَیْئًا لَایَسْتَنقِذُوہُ مِنْہُ) ۔ ایسا کمزور اور بے بس موجود جو ایک مکھی کے مقابلے میں شکست کھاجائے، کیا یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ ہم اسے اپنی تقدیر کا مالک اور حلّال مشکلات سمجھ سکیں؛ بلا شک وشبہ ایسے معبود دونوں ہی ضعیف وبے بس ہیں (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ) ۔ روایات میں ہے کہ بت پرست قریش ان بتوں پر جو انہوں نے خانہٴ کعبہ کے گرد و نواح میں جمع کرکھے تھے، شہد مُشک عنبر اور زعفران چھڑکتے اور طواف کرتے ہوئے "لبّیک اللّٰھم لبّیک، لبّیک لا شریک الّا شریک ھو لک تملکہ و ما ملک" کا غلعلہ کرتے، یہ خرافات توحید پرستوں کی لبیک کی واضح تحریف اور ان کے شرک کی واضح دلیل تھی جو ان پست وحقیر چیزوں کو خالق کون ومکان کا شریک سمجھتے تھے، لیکن ان بتوں پر مکھیاں بھنبھناتیں اور شہد وزعفران اور مشک وعنبر اُڑا لے جاتیں اور یہ بت مکھیوں کوروک نہ سکتے تھے۔ قرآن مجید اس منظر کو بتوں کی بے بسی اور مشرکین کی کمزور منطق کے بیان کے لئے بطور ایک مثال ذکر کرتا ہے۔ گویا کہ چیلنج کر رہا ہے کہ اچھی طرح سوچ سمجھ لو کہ وہ چیزیں جن کو تم اپنے معبود اور مشکل کشا سمجھتے ہو کِس طرح ہماری پیدا کردہ ایک مکھی کے سامنے بے بس ہیں اور اس حقیر مخلوق کے مقابلے میں بھی اپنا دفاع نہیں کرر ہے، یہ کس قدر پست وحقیر معبود ہیں۔ "طالب ومطلوب" سے وہی مراد ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں، یعنی "طالب" بتوں کو پوچنے والے اور'مطلوب"خود بت دونوں ہی کمزور وبے بس ہیں ۔ بعض مفسرین نے "طالب " سے مکھی مراد لی ہے اور "مطلوب" سے بُت کیونکہ مکھیاں بتوں پر لگی ہوئی خوراک کھانے ان پر بیٹھتی ہیں ۔ بعض دیگر مفسرین نے"طالب" سے بت مراد لئے ہیں اور "مطلولب"سے مکھی، کیونکہ بالفرض بُت مکھی جیسی حقیر شے بھی پیدا کرنا چاہیں تو بھی نہ کرسکیں گے، لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ مذکورہ بالا مثال دینے کے بعد قرآن مجید نتیجةً یہ کہہ رہا ہے: جس طرح الله کو پہچاننے کا حق تھا انھوں نے نہیں پہچانا (مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہِ)۔ الله کی معرفت کے بارے میں وہ اس قدر پیچھے ہیں کہ اس باعظمت وجلالت خدا کو اتنا پست کر دیا کہ اتنی بے وقعت چیزوں کو اس کا شریک گردانا۔ الله کی اگر تھوڑی سی بھی معرفت رکھتے تو اس بے حیثیت جوڑ پر شرمندہ ہوتے۔ آیت کے آخر میں الله تعالیٰ اپنی طاقت وسطوت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اور الله طاقتور اور صاحب سطوت ہے (إِنَّ اللهَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ) ۔ اور ہرگز ان جھوٹے اور بے بس خداوٴں کی طرح نہیں ہے جو ایک حقیر سا جانور پیدا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اور نہ مکھی سے مقابلے کی تاب رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ تو ہرچیز پر قادر ہے اور اس پورے عالم میں ایک وجود بھی ایسا نہیں جو اس کے سامنے ٹھہر سکے۔
چند اہم نکات: 1. بتوں کی ناتوانی کی ایک واضح مثال
اگرچہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیتوں میں مثال کے بارے میں گفتگو ضرور ہے، مگر خود مثال کو بیان نہیں کیا گیا۔ بلکہ قرآن مجید کے دیگر مطالب کا ذکر کیا گیا ہے یا یہاں "مثال" صرف بمعنی ثبوت یا اصل مطلب یا ایک حیرت انگیز چیز کے معنی میں استعمال کی گئی ہے نہ کہ اپنے معمول کے معنی میں۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے ان آیتوں میں "مثال" کے تحت جس چیز کو پیش کیا ہے اور جس پر غور وخوض کی عمومی دعوت دی ہے وہ "مکھی" ہی تو ہے جسے کمزور مخلوق مگر خوراک چھیننے والی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ مثال مشرکین عرب کے مقابلے میں پیش کی گئی ہے۔ مگر آیت مجیدہ کے عمومی خطاب (یَااَیُّھَا النَّاسُ) کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مکڑی اور پتھروں کے بتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ان تمام معبودوں کے مقابلے میں ہے۔ جن کی الله کے علاوہ کسی طور پر بھی پرستش کی جاتی ہے، نمرود، فرعون۔ بت جھوٹی شخصیتیں اور طاقتیں وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ سب کے سب اگر اکھٹے ہو جائیں اور اپنے تمام وسائل وذرائع، علوم اور ٹیکنالوجی بروئے کار لائیں اور نابغہٴ روزگار سائنس دانوں کی بھرپور صلاحیتوں سے استفادہ کریں، لیکن پھر بھی ایک مکھی تک پیدا نہیں کر سکتے اور یہاں تک کہ اگر مکھی ان کے دسترخوان سے کھانے کا ایک ذرّہ اُٹھاکر لے جائے تو اس سے واپس لینے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
2. ایک سوال کا جواب
ہو سکتا ہے اس مقام پر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوکر آج کا انسان اپنے علم اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایسی ایسی ایجادیں کر چکا ہے جو مکھی کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور اعلیٰ ہیں، مثلاً تیز رفتار ذرائع آمد ورفت، خلانوردی کے ذرائع، آواز سے زیادہ تیز رفتار راکٹ اور سیارچے جو پلک جھپکنے میں زمین کے مدار سے نکل جاتے ہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر اور روبوٹ جو ریاضی کے پیچیدہ سوال ایک لحظے میں حل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ تو کیا مذکورہ بالا مثال ہمارے اس ترقی یافتہ انسان کے لئے صادق آتی ہے؟ جواباً ہم عرض کریں گے کہ بے شک ان محیّر العقول وسائل اور اشیاء کی ایجاد آج کے انسان کی غیر معمولی ترقی کی روشن دلیل ہے مگر یہ سب کچھ ایک زندہ اور بارادہ مخلوق کی خلقت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔ اگر ہم فزیالوجی کی ان کتب کا بغور مطالعہ کریں، جن میں مکھی جیسے چھوٹے سے کیڑے مکوڑے کی جسمانی ساخت اور زندگی کے مختلف پہلووٴں کا ذکر ہے تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ایک مکھی کے دماغ کی ساخت اعصاب کا جال اور نظامِ ہاضمہ آج کے بآسائش ہوائی جہاز کی ساخت سے کہیں پیچیدہ اور اعلیٰ ہے اور کسی لحاظ سے بھی اس سے موازنہ کے لائق نہیں ۔دراصل زندگی، زندہ موجودات کی حرکات واحساسات اور نشو ونما علی الخصوص ان کی پیدائش ابھی تک بڑے بڑے سائنسدانوں اور دانشوروں کے لئے لا ینحل مسائل ومعمات کی طرح ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کی خلقت کے لئے کن باریکیوں اور تکنیک کی ضرورت ہو گی، کسی کو خبر نہیں ہے۔ علوم طبیعات کے ماہرین کے بقول بعض حشرات کی آنکھیں بہت چھوٹی ہیں۔ جو مزید کئی سو چھوٹی آنکھوں سے مرکب ہیں ۔یعنی وہ ایک آنکھ جس کو بڑی مشکل سے دیکھا جا سکتا ہے اور شاید وہ بھی سوئی کی نوک کے حجم کے برابر ہے، کئی سو چھوٹی چھوٹی آنکھوں کا مجموعہ ہے۔اس کے مرکب کو آنکھ کہتے ہیں۔ بہرحال فرض کریں اگر انسان بے جان مواد سے ایک زندہ چیز بنالے، مگر کس میں یہ صلاحیت ہے کہ کئی سو چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو باہم مربوط کرکے اس کے دماغ تک طرح لے جائے کہ وہ کچھ شاہدات وماغ کو مستقل کرسکے تو کیا وہ چیز کسی موقع پر اپنے ارد گرو رونما ہونے والے پر کسی قسم کے ردّعمل کا اظہار کرسکتی ہے ؟ اور کیا تمام قابل انسان مل کر بھی مذکورہ بالا حقیر سی مگر پیچیدہ اور پُراسرار شے بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر انسان مذکورہ بالا فرض کو حقیقت بھی کردکھائے تو کیا اسے "خلقت " کا نام دیا جا سکتا ہے! یا اسے صرف "ASSEMBLING" یعنی پرزوں کو جوڑنے کا نام دیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح پرزوں کو جوڑکر گاڑی یتار کرنے والے اس کے "جوڑنے والے" تو کہلاسکتے ہیں مگر موجد نہیں کہلا سکتے ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 4تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 4بعض مفسرین کے بقول، ولید بن مغیرہ، جو مشرکین کا دماغ سمجھا جاتا تھا، وہ اور اس جیسے بعض دیگر مشرکین، پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مبعوث برسالت ہونے کے بعد حیرت سے کہا کرتے تھے: "اَ اَنزَلَ علیہِ الذّکر مِن بَینَنَا" ”کیا ہم سب کو چھوڑ کر (ہم میں سے محمد جیسے(یتیم ومفلوک الحال) پر وحی نازل ہوئی ہے"۔ اس تعجب کا جواب بن کر زیرِ بحث آیت نازل ہوئی (اور انہیں بتایا گیا کہ انبیاء اور فرشتوں کا رسالت کے لئے انتخاب لیاقت وقابلیت اور معنوی معیار کی بناء پر ہوا کرتا ہے۔( بحوالہ : تفسیر قرطبی، ابوالفتوح، رازی، فخر الدین رازی، اور روح المعانی زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں)
پانچ اہم اور تعمیری احکام
گزشتہ آیات توحید، شرک اور مشرکین کے خیالی اور خود ساختہ معبودوں کے بار ے میں تھیں اور اس لحاظ سے کہ بعض لوگوں نے فرشتوں اور بعض انبیاء کو بھی معبود بنالیا تھا۔ زیرِ بحث پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: الله کی طرف سے آنے والے تمام پیغمبر الله کے مطیع اور فرمانبردار بندےتھے۔ "الله فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول انتخاب کرتا ہے۔" (اللهُ یَصْطَفِی مِنَ الْمَلَائِکَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ) ۔ فرشتوں میں سے رسولوں کی مثال جبرائیل امین کی ہے اور انسانوں میں سے تمام رسول اس کی مثال ہیں۔ ملائکہ کے سلسلے میں "مِنْ" کا لفظ جسے "مِن تبعیضی" کہتے ہیں۔ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ تمام فرشتے انسان کی طرف اس کے رسول بن کر نہیں آئے،بلکہ ان میں سے چندایک کو یہ خصوصیت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے سورہٴ فاطر کی پہلی آیت "جاعل الملائکة رسلا " "الله نے فرشتوں کو رسول بنایا" اس آیت کی نفی نہیں کرتی، کیونکہ وہاں جنس ملائکہ مراد ہے نہ کہ افرادِجنس۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے: "الله سننے اور دیکھنے والا ہے" (إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ) ۔ یعنی الله اپنے رسولوں کی کارکردگی سے بے خبر نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ مطلع ہے، ان کی بات چیت سنتا اور ان کے اعمال وافعال ملاحظہ کرتاہے۔ اس کے بعد تبلیغ وترویج رسالت کے سلسلے میں رسول کی ذمہ داریوں اور الله کی طرف سے ان کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "الله اُسے بھی جانتا ہے جو اُن کے سامنے ہے اور اُسے بھی جو اُن کے پیچھے ہے (یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیھِمْ وَمَا خَلْفَھم)یعنی الله ان کے ماضی اور مستقبل اور ان کے آثار سے پوری طرح آگاہ ہے "اور تمام کاموں کی انتہا اور بازگشت الله کی طرف ہے" اور سب اس کے سامنے ہی جوابدہ ہیں (وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْامُورُ) تاکہ وہ لوگ بھی اچھی طرح جان لیں کہ فرشتے اور پیغمبر بھی بندے ہیں، الله کے مطیع، فرمانبردار اور اس کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں،۔ان کے بارے میں جو کچھ ہے، ان کا اپنا نہیں، بلکہ سب کچھ خدا کا دیا ہوا ہے،اور وہ ہرگز الله کے مقابلے میں معبود یا لائق پرستش نہیں ہیں،۔اس بناء پر افعال وکردار پر الله کی طرف سے کڑی نگرانی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح سورہٴ جن کی آیت ۲۷ اور ۲۸ میں بھی کہا گیا ہے: فَلَا یَظْہَرُ عَلیٰ غَیْبِہِ اَحَداً إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّہُ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَدًا، لِیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّھِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْھِمْ الله کسی کواپنے اسرارِ غیب نہیں بتاتا، سوائے چُنے ہوئے پیغمبروں کے جن سے وہ راضی ہے اور ان پر ایسے نگران مقرر کرتا ہے جو ان کے آگے پیچھے رہتے ہیں۔ تاکہ پتہ چلے کہ وہ اپنے پروردگار کے احکامات پہنچاتے ہیں یا نہیں اور ان کی ہر ایک شے سے الله پوری طرح باخبر ہے۔ ( تشریحی نوٹ : ۔ تفسیر المیزان میں زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں علامہ طباطبائی "یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیھِمْ" کو مسئلہ عصمت اور الله تعالیٰ کی مدد ونصرت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، لیکن ہماری نظر میں یہ بعید ہے)۔ ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہوجائے کہ " مَا بَیْنَ اَیْدِیھِمْ" سے مراد مستقبل اور "وَمَا خَلْفَھُمْ"سے مراد انبیاء سے قبل کے واقعات ہیں ۔ اس کے بعد سورہٴ حج کی آخری دو آیات میں مومنین کے دنیوی واُخروی، ہمہ جہتی مفاد کے ضامن بنیادی اور مجموعی احکامات بیان کرتے ہوئے اُن سے خطاب کیا جا رہا ہے اور یوں سورہ حج کا "حسن اختتام " ہوتا ہے۔سب سے پہلے چار اہم احکامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اے ایمان والو! رکوع کرو، سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو تاکہ کامیاب رہو ۔(یَااَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا ارْکَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) ۔ ارکان نماز میں سے صرف رکوع وسجود کا ذکر ان کی اشدّ اہمیّت پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے بعد عمومی طور پر عبودیت کا جو بلاقید حکم ہے۔ اس سے مراد الله کی ہر قسم عبادت وبندگی ہے۔ "ربّکم "کہہ کر الله کی عبادت کی اہلیت ثابت کی گئی ہے اور اس کے غیر کی نااہلیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ عالم کائنات میں صرف وہی اکیلا مالک اور پالنے والا ہے۔"فعل الخیرات" کا حکم بھی مطلق ہے اور کسی کی قید وشرط کے بغیر ہے۔ چنانچہ اس سے ہر نیک کام مراد ہے۔ اس سلسلے میں ابن عباس کی روایت کہ اس سے مراد صلہٴ رحمی اور مکارم الاخلاق ہے۔ دراصل اس کے وسیع مفہوم کا ایک تعمیری مصداق ہے۔ اس کے بعد لفظ "جہاد" وسیع معانی میں استعمال کرتے ہوئے پانچواں حکم دیا جاتا ہے: "راہ خدا میں اس قدر جہاد کرو کہ جہاد کا حق ادا ہوجائے" (وَجَاھِدُوا فِی اللهِ حَقَّ جِھَادِہِ) ۔ اکثر مفسرین نے اس جگہ جہاد سے مسلح جنگ مراد نہیں لیا۔ بلکہ جیسا کہ اس لفظ کے لغوی معنیٰ ہیں، راہ خدا میں مجموعی جدّ وجہد، کوشش اور نیک کام نیز سرکش اور احکام الٰہی کی باغی ہوا وہوس کو قابو میں رکھنا، یعنی جہاد اکبر اور ظالم وجارح دشمن کا میدان کارزار میں مقابلہ کرنا، یعنی جہادِ اصغر مراد لیا ہے۔ "مجمع البیان" میں مرحوم جناب طبرسی بہت سے مفسرین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ "حق جہاد" سے مراد خلوص نیّت اور اعمال کو صرف اور صرف الله کے لئے انجام دیناہے۔ بے شک "حق جہاد" بھی عمومی اور سیع معنیٰ رکھتا ہے، جس میں مقدار، تعداد، کیفیت، حیثیت اور زمان ومکان سب شامل ہیں، مگر چونکہ اخلاص کی منزل جہاد بالنفس کے سلسلے میں مشکل ترین مراحل میں سے ہے، لہٰذا اس کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ انسان کے دل اور اعمال میں شیطانی خیالات وافکار کا عمل دخل بہت لطیف اور خفیہ انداز سے ہوتا ہے اور الله کے خاص بندوں کے سوا اس سے شاید ہی کوئی بچ نکلتا ہے۔ در اصل قرآن مجید نے ان پانچ احکامات کے ذیل میں آسان ترین مرحلے سے شروع کرکے مشکل ترین اور اعلیٰ ترین منزل تک راہنمائی کی ہے۔ سب سے پہلے رکوع کا ذکر کیا گیا ہے، پھر اس سے برتر فعل سجدے کی بات ہے، پھر مجموعی عبادت اور آخر میں تمام اچھے اور نیک اعمال وکردار کا ذکر ہے، جس میں عبادات وغیر عبادات سب شامل ہیں۔ اس کے بعد انفرادی، اجتماعی، ظاہری باطنی، قولی اور فعلی جدّ وجہد، کوشش، تگ ودو اور اخلاق وخلوصِ نیّت کی بات کی گئی ہے۔ یہ ایک جامع آئین ہے کہ جس کے نتیجے میں سوفی صد کامیابی وکامرانی ہے۔ ممکن ہے، اس مقام پر یہ خیال پیدا ہو کہ کمزور بندوں کو کس طرح ان بھاری اور سنگین ذمہ داریوں اور احکامات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ ان میں سے ہر ایک ذمہ داری دوسری سے زیادہ وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بعد آنے والے جملوں میں مختلف پیرائے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ذمہ داریاں بارگاہِ احدیت میں مومنین کے مقام ومنزلت اور عظمت وشخصیت کی علامت ہیں اور الله کی طرف سے مومن پر خاص لطف وکرم کا مظہر ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: "اس نے تمھارا انتخاب کرلیا ہے"( ھو اجتباکم ) یعنی اگر تم اللہ کے مھتخب کئے ہوئے نہ ہوتے تو یہ سنگین ذمہ داریاں تمہارے کندھوں پر نہ ڈالی جاتیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: اس نے ان کڑی ذمہ داریوں کی انجام دہی کو تمھارے لئے باعثِ زحمت ومشقّت قرار نہیں دیا ۔ (وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ) ۔ یعنی اگر عقل سلیم سے سوچو تو معلوم ہوجائے گا یہ ذمہ داریاں کڑی اور سخت نہیں ہیں۔ بلکہ تمھاری فطرت سے ہم آہنگ اور تمھارے مزاج اور طبیعت سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اصولی طور پر چونکہ تمھارے ارتقاء وتکامل کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سے ہر ذمہ داری ایک واضح فلسفہ اور کثیر منفعت کی حامل ہے اور یہ منفعت تمھارے لئے ہی ہے۔اس بناء پر ان کی انجام دہی تمھارے لئے قطعاً شاق اور تلخ نہیں ہے، بلکہ نہایت شیرین اور خوشگوار ہے۔ تیسری بات یہ بیان کی جارہی ہے کہ یہ پروگرام تمھارے باپ ابراہیم کا دین ہے۔ (مِلَّةَ اَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ) ۔ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کو "باپ" کہنے کی دو وجہیں سمجھ میں آتی ہیں: ۱۔ عرب اور اس وقت کے مسلمان زیادہ تر حضرت اسماعیل(علیه السلام) کی نسل میں سے تھے ۔ ۲۔ اس وقت کے تمام لوگ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کو اپنا بزرگ اور روحانی باپ سمجھتے تھے۔ اس طرح تقریباً سبھی ان کا احترام کرتے تھے،۔اگرچہ ان کا صرف ستھرا مقدّس دین طرح طرح کی خرافات سے آلودہ کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اسی سلسلہ میں ایک اور ارشاد ہوتا ہے: سابقہ کتب آسمانی اور اس وقت کی آسمانی کتاب (قرآن حکیم) میں اس نے تمھارا نام "مسلمان" رکھا ہے (ھُوَ سَمَّاکُمْ الْمُسْلِمینَ مِنْ قَبْلُ وَفِی ھٰذَا) ۔ اور مسلمان وہ ہے جو تمام احکامات خداوند قدّوس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اپنے لئے ایک بڑا اعزاز تصور کرے۔ "ھُوَ سَمَّاکُمْ" ۔ ۔ ۔ میں ضمیر"ھُوَ" کے مرجع کے بارے میں شدید اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کے خیال میں"ھُوَ" کا مرجع "الله" ہے۔یعنی خود الله نے سابقہ کتب اور قرآن مجید میں مسلمانوں کو اس قابلِ فخر نام سے موسوم کیا۔بعض دوسرے مفسرین کے خیال میں "ھُوَ" کا مرجع حضرت ابراہیم(علیه السلام) ہیں کیونکہ سورة البقرہ آیت نمبر ۱۲۸ میں مذکور ہے کہ تعمیر خانہٴ کعبہ کے اختتام پر حضرت ابراہیم نے بارگاہ اقدس الٰہی میں چند دعائیں کی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ دعا تھی: "رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا امَّةً مُسْلِمَةً لَکَ ” بارالٰہا! ہم دونوں (مجھے اور میرے بیٹے) کو اپنا مطیع رکھ اور ہماری نسل سے ایک امّت مسلمہ' جو تیری مطیع وفرمانبردار ہو، پیدا کردے"۔ لیکن ہماری نظر میں پہلا نظریہ زیادہ صحیح ہے اور آیت کے مضمون سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ سابقہ کتب اور قرآن مجید میں مسلمانوں کا نام رکھنے کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف دینا مناسب نہیں بلکہ یہ نسبت الله ہی کی طرف مناسب ہے۔ ( تشریحی نوٹ ؛ سورہٴ مائدہ آیت نمبر ۳ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ الله تعالیٰ نے اس دین کا نام اسلام رکھا ہے "وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلَامَ دِینًا " متعدد آیات میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو "اوّل المسلمین" فرمایا گیا ہے، جن میں سورہٴ انعام آیت نمبر 14 اور سورہ زمر آیت نمبر 12 بھی شامل ہیں) ۔ پانچواں اور آخری شوق آفریں نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تعارف تمام امتوں کے لئے ایک نمونہ اور علامت کے طور پر کرایا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "مقصد یہ تھا کہ پیغمبر تمھارے گواہ ہیں اور تم تمام لوگوں کے گواہ ہو (لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَھِیدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُھَدَاءَ عَلَی النَّاسِ) ۔ "شھید" "شھود" کے مادہ سے ہے اور اس کا مطلب وہ آگاہی و باخبری ہے، جو چشم دیدہ ہو۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا تمام مسلمانوں پر گواہ ہونا، تمام اعمال وکردار سے باخبر ہونے کے معنی میں ہے۔ یہ مفہوم ان تمام آیات وروایات جن میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں "عرض اعمال" کا ذکر ہے، کے عین مطابق ہے۔ ان روایات کے مطابق ہفتہ بھر میں ایک دن تمام امّت کے تمام اعمال آپ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں اور آپ کی روح مطہر ان سے باخبر ہوتی ہے۔ اس بناء پر آپ امّت کے گواہ ہیں ۔ یہ بات کہ امّت کس طرح تمام لوگوں کی گواہ بنی؟ بعض روایات کے مطابق اس سے مراد امّت کے معصوم افراد، یعنی ائمہ اطہار علیہم السلام ہیں جو لوگوں کے اعمال کے گواہ ہیں، امام علی الرضا علیہ السلام سے ایک روایت ہے: "نحنُ حجج الله فی خلقہ ونحن شھداء الله واعلامہ فی بریتہ" "الله کی مخلوق اور بندوں میں ہم اس کے نمائندے گواہ اور نشانیاں ہیں"۔ ( تشریحی نوٹ : نور الثقلین، جلد۳، ص۵۲۶، کے مطابق کتاب "کمال الدین" اور اسی طرح کی دوسری روایت بھی نقل کی گئی ہیں) ۔ در اصل "لتکونوا" کے ذریعے اگرچہ ظاہراً ساری امّت سے خطاب کیا جا رہا ہے، مگر درحقیقت امّت کے سیّد وسردار اور بزرگ مراد ہیں۔ جزو کی بناء پر کل سے خطاب ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ چندافراد سے خطاب کے لئے سب سے خطاب کیا جاتا ہے، مثلاً سورہٴ مائدہ کی آیت نمبر 20میں ارشاد ہوتا ہے: "الله نے تمہیں بادشاہ اور فرمانروا بنایا"۔ یہ خطاب بنی اسرائیل کو دی گئی نعمتوں کے شمارے کے ذیل میں تمام امّت سے کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس منصب کے حامل تو معدودے چند افراد تھے۔ "شھود" ایک اور معنی بھی رکھتا ہے اور وہ ہے "عملی شہادت" یعنی اپنے کردار سے کسی بات کی گواہی دینا، یعنی موازنہ اور مقابلہ سنجی، کسی عمل وکردار کو دوسرے عمل وکردار سے موازنہ کرنا بالفاظ دیگر ایک شخص کے اعمال وکردار کا دوسروں کے لئے نمونہ ہونا، اس معنی میں تمام سچے مسلمان شامل ہوسکتے ہیں۔ یعنی وہ بہترین دین پر مکمل عمل پیرا ہوکر تمام لوگوں کے لئے شرافت اور کردار کی رفعت کا ایک پیمانہ بن جائیں۔حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ سے ایک روایت ہے۔ الله نے مسلمانوں کو چند فضلیلتیں عطا کی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ گزشتہ ادوار، جبکہ ہر امّت کے لئے نمونہ ان کا پیغمبر ہوتا تھا، کی بجائے الله نے ساری امّت کو مخلوق کے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے: لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَھِیدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُھَدَاءَ عَلَی النَّاسِ۔( بحوالہ : تفسیر برہان، ج۳، ص۱۰۵) یعنی جس طرح ہر نبی اپنی امّت کے لئے اسوہٴ حسنہ اور نمونہ ہوتا ہے، تم ساری دُنیا کے لئے ایک مثالی کردار اور نمونہ ہو۔ یہ مفہوم ایک تو پہلے بیان شدہ مفہوم کے منافی نہیں اور مزید برآں ہو سکتا ہے یہ مفہوم بھی ہو کہ یوں تو تمام امّت ہی گواہ ہے مگر ائمہ اطہار علیہم السلام ممتاز اور نمایاں گواہ اور نمونہ ہیں۔ ( تشریحی نوٹ : اسی تفسیر کی پہلی جلد میں سورة البقرہ آیت نمبر ۱۴۳ اور سورة النساء کی آیت نمبر۴۱ کی تفسیر کے ذیل میں ہم اسی مضمون سے متعلق سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ۔) آیت کے آخر میں پانچ ذمہ داریوں کو تاکیداً تین جملوں میں زیادہ مختصر پیرائے میں فرمایا جا رہا ہے: اب اگر یُوں ہے اور تم اعزازات اور امتیازات کے حامل ہو تو نماز ادا کرو، زکوٰة ادا کرو اور پروردگار عالم کی بے پایاں عنایات کے پرتو میں آئینِ اسلام سے متمسک رہو (فَاَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ) ۔ کیونکہ تمھارا سرپرست اور مددگار وہی ہے (ھُوَ مَوْلَاکُمْ) ۔ اور کتنا اچھا سرپرست اور کیسا عمدہ اور باصلاحیّت مددگار ہے (فَنِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ)۔ در اصل یہ جملہ "وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ ھُوَ مَوْلَاکُمْ" کی دلیل ہے۔یعنی اگر تمہیں کہا گیا ہے کہ صرف الطاف وعنایات پروردگار سے وابستہ رہنا بلاوجہ نہیں۔ کیونکہ وہ سب سے اعلیٰ، اچھا، اور مناسب یاور وناصر ہے۔ بارالہا ! ہمیں یہ توفیق عطا فرما کہ صرف تجھی سے وابستہ اپنے اور خالق و مخلوق سے رشتے کی وجہ سے لوگوں کے لئے نمونہ و معیار بنیں اور تیری عظیم کتاب کی جامع اور نمونہ تفسیر مکمل کریں ۔ خدایا ! جس طرح سابقہ کتب اور اس قرآن حکیم میں تو نے ہمیں " مسلمان " کہہ کر پکارا ہے۔یہ توفیق دے کہ سر تا پا تیرے حکم کے بندے بن جائیں۔ پروردگارا ! وہ دشمن جو آج ہر طرف سے قرآن و اسلام پر حملہ آور ہو رہا ہے ہمیں اس پر غلبہ عطا فرما کہ تو ہی بہترین مولا اور مددگار ہے ( فنعم المولیٰ و نعم النصیر )۔