Sūra 12 · 111v
Chapter 12111 verses

Yusuf

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
يوسف
یوسف

سورہٴ یوسف

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ١١١آیات ہیں

چند ضروری امور

اس سورہ کی تفسیر شروع کرنے پہلے چند امور کا ذکر ضروری ہے: ۱۔ یہ سورہ کہاں نازل ہوئی؟ اس بارے میں یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی مفسرین میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ صرف ابن عباس سے منقول ہے کہ اس کی چار آیات (پہلی تین آیات اور ایک ساتویں آیت) مدینہ میں نازل ہوئیں۔ لیکن دوسری آیات سے ان آیات کے ربط پر غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھیں دیگر آیات سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس بناء پر ان چار آیات کے مدینہ میں نازل ہونے کا احتمال بہت ہی ضعیف ہے۔ ۲۔ سورہ کا مضمون: اس سورہ کی چند آخری آیات کے سوا تمام آیات خدا کے پیغمبر حضرت یوسف کے نام سے موسوم ہے۔نیز اسی بناء پر قرآن مجید میں جو مجموعتاً حضرت یوسف (علیه السلام) کا نام ۲۷ مرتبہ آیا ہے اس میں سے ۲۵ مرتبہ اسی سورة میں ذکر ہوا ہے۔ صرف دو مواقع پر دیگر سورتوں (سورہ غافر آیہ ۳۴ اور سورہٴ انعام آیہ ۸۴) میں آپ کا نام آیا ہے۔ قرآن کی دیگر سورتوں کے برعکس اس سورہ کا پورا مضمون ایک دوسرے سے مربوط اور ایک واقعہ کے نشیب و فراز سے متعلق ہے۔ دس سے زیادہ حصوں میں بیان ہونے والی یہ داستان نہایت واضح، جاذب، جچی تُلی، عمیق اور ہیجان خیز ہے۔ بے ہدف داستان پردرازوں نے یاپست اور غلیظ مقاصد رکھنے والوں نے اس اصلاح کنندہ واقعہ کو ہوس بازوں کے لیے ایک عشقیہ داستان بنانے اور حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے واقعات کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسے ایک رومانی فلم بنا کر پردہ سیمیں پر پیش کرنا چاہا ہے، لیکن قرآن کہ جس کی ہر چیز نمونہ اور اسوہ ہے اس واقعے کے مختلف مناظر پیش کرتے ہوئے اعلیٰ ترین عفت و پاکدامنی،خودداری، تقویٰ، ایمان اور ضبط نفس کے درس دیئے ہیں۔ اس طرح سے کہ ایک شخص اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھے ان قوی جذبوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی بناء پر قرآن نے اسے ”احسن القصص“ (بہترین داستان) جیسا خوبصورت نام دیا ہے اور اس میں اولوا الالباب (صاحبان فکر و نظر) کے لیے کئی عبرتیں بیان کی ہیں۔ ۳۔ یہ سورہ قرآن کا ایک اور اعجاز: اس سورہ کی آیات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن تمام پہلوؤں سے معجزہ ہے اور اپنے واقعات میں جو ہیر و پیش کرتا ہے وہ حقیقی ہیر و ہوتے ہیں نہ کہ خیالی۔ کہ جن میں سے ہر ایک اپنی نوعیت کے اعتبار سے بےنظیر ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام): وہ بت شکن ہیرو، جن کی روح بلند تھی او جو طاغوتیوں کی کسی سازش میں نہ آئے۔ حضرت نوح (علیه السلام): طویل اور پر برکت عمر میں۔ صبرو استقامت، پامردی اور دلسوزی کے ہیرو۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام): وہ ہیرو کہ جنھوں نے ایک سرکش اور عصیان گر طاغوت کے مقابلے کے لیے ایک ہٹ دھرم قوم کو تیار کر لیا۔ حضرت یوسف (علیه السلام): ایک خوبصورت، ہوس باز اور حیلہ گر عورت کے مقابلے میں پاکیزگی، پارسائی اور تقویٰ کے ہیرو۔ علاوہ ازیں اس واقعے میں قرآنی وحی کی قدرتِ بیان اس طرح جھلکتی ہے کہ انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کئی مواقع پر یہ واقعہ عشق کے بہت ہی باریک مسائل تک جا پہنچتا ہے اور قرآن انھیں چھوڑا کر ایک طرف سے گزرے بغیر ان تمام مناظر کو ان کی باریکیوں کے ساتھ اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ سامع میں ذرہ بھر منفی اور غیر مطلوب احساس پیدا نہیں ہوتا۔ قرآن تمام واقعات کے متن سے گزرتا ہے لیکن تمام مقامات پر تقویٰ و پاکیزگی کی قوی شعاعوں نے مباحث کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ۴۔حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد: اس میں شک نہیں کہ قبل از اسلام بھی داستان یوسف لوگوں میں مشہور تھی کیونکہ تورات میں سفر پیدائش کی چودہ فصلوں (فصل ۳۷ تا ۵۰) میں یہ واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، البتہ ان چودہ فصلوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تورات میں جو کچھ ہے وہ قرآن سے بہت ہی مختلف ہے، ان اختلاات کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں آیا ہے وہ کس حد تک پیراستہ اور ہر قسم کے خرافات سے پاک ہے، یہ جو قرآن پیغمبر سے کہتا ہے:”اس سے پہلے تو غافل تھا“ اس عبرت انگیز داستان کی خالص واقعیت سے ان کی عدم آگہی کی طرف اشارہ ہے (اگر احسن القصص سے مراد واقعہٴ یوسف ہو)۔ موجودہ تورات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیص دیکھی تو کہا: یہ میرے بیٹے کی قبا ہے جسے جانور نے کھالیا ہے، یقیناً یوسف چیر پھاڑ ڈالا گیا ہے۔ پھر یعقوب نے اپنا گریبان چاک کیا، ٹاٹ اپنی کمر سے باندھا اور مدت دراز تک اپنے بیٹے کے لیے گریہ کرتے رہے، تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے انھیں تسلی دینے میں کسر اٹھا نہ رکھی لیکن انھیں قرار نہ آیا اور کہا کہ مَیں اپنے بیٹے کے ساتھ اسی طرح غمزدہ قبر میں جاوں گا۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام فراست سے بیٹوں کے جھوٹ کو بھانپ گئے اور انھوں نے اس معصیت میں داد وفریاد نہیں کی اور نہ اضطراب دکھایا جیسا کہ انبیاء کی سنت ہے اس مصیبت کا بڑے صبر سے سامنا کیا، اگرچہ ان کا دل جل رہا ہے، آنکھیں اشکبار تھیں، فطری طور پر کثرتِ گریہ سے ان کی بینائی جاتی رہی، لیکن قرآن کی تعبیر کے مطابق انھوں نے صبرِ جمیل کا مظاہرہ کیا اور اپنے اوپر قابو رکھا (کظیم)۔ انھوں نے گریبان چاک کرنے، داد وفریاد کرنے اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے گریز سے کیا جوکہ عزاداری کی مخصوص علامات تھیں۔ بہرحال اسلام کے بعد بھی یہ واقعہ مشرق و ومغرب کے موٴرخین کی تحریروں میں بعض اوقات حاشیہ آرائی کے ساتھ آیا ہے، فارسی اشعار میں سب سے پہلے ”یوسف وزلیخا“ ہے اور اس کے بعد نویں صدی کے مشہور شاعر عبدالرحمٰن جامی کی ”یوسف زلیخا“ ہے۔ (بحوالہ:کشف الظنون: حاج خلیفہ، ج۲، ص۶۶۱) ۵۔ داستانِ یوسف ایک ہی جگہ کیوں بیان ہوئی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر انبیاء کے واقعات کے برعکس حضورت یوسف کا واقعہ ایک ہی جگہ بیان ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس باقی انبیاء کے حالاتِ زندگی علیحدہ علیحدہ حصّوں کی شکل میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ خصوصیت اس بناء پر ہے کہ اس واقعے کی کڑیاں خاص وضع وکیفیت کے باوجود اگر ایک دوسرے سے جُدا ہو جائیں تو ان کا باہمی ربط ختم ہو جاتا ہے، مکمل نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سارا واقعہ ایک ہی جگہ ذکر ہو، مثلاً حضرت یوسف کے خواب کا آخری حصّہ بیان نہ کیا جائے تو اس پہلے حصّے کا کوئی مفہوم نہیں بنتا، یہی وجہ ہے کہ سورہ کے آخر میں ہے کہ جس وقت حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے بھائی مصر میں آئے اور ان کے باعظمت مقام کے سامنے جھک گئے تو حضرت یوسف نے اپنے والد گرامی کی طرف رخ کرکے کہا: یَااَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّی حَقًّا اے میرے پدر بزرگوار! یہ ہے میرے خواب کی تعبیر کہ جو مَیں نے ابتداء میں دیکھا تھا، خدا نے اسے سچ کردکھایا ہے۔ (یوسف/۱۰۰) یہ مثال اس وقعہ کے آغاز واختتام کے درمیان نہ ٹوٹنے والے تعلقات کو واضح کرتی ہے، جبکہ ددسرے انبیاء کے واقعات اس طرح نہیں ہیں اور ان کے واقعات کا ہر حصّہ الگ نتیجہ رکھتا ہے۔ ایک خصوصیت اس سورہ کی یہ ہے کہ قرآن مجید میں دیگر انبیاء کے حالات وواقعات آئے ہیں عام عام طور ان پر ان میں سرکش اقوام کے ساتھ ان کے مقابلوں کی تفصیل ہے کہ جن میں آخرکار ایک گروہ ایمان لے آتا ہے اور دوسرا اپنی مخالفت عذاب الٰہی سے نابود ہو جانے تک جاری رکھتا ہے لیکن داستان یوسف میں اس سلسلے میں بات نہیں کی گئی بلکہ زیادہ تر خود حضرت یوسف کی زندگی کے بارے میں ہے اور زندگی کی سخت وادیوں سے ان کے گزرنے کی داستان ہے کہ جس میں آخرکار انھیں ایک طاقتور حکومت حاصل ہو جاتی ہے اور یہ واقعہ اپنی مثال آپ ہے۔ ۶۔ سورہٴ یوسف کی فضیلت: اسلامی روایات میں اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں مختلف فضائل مذکور ہیں، ان میں سے ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: من قرء سورة یوسف فی کل یوم اٴوفی کل لیلة بعثہ الله یوم القیامة وجمالہ مثل مال یوسف ولایصیبہ فزع یوم القیامة وکان من خیار عباد الله الصالحین. جو شخص ہر روز یہ ہر سب سورہٴ یوسف کی تلاوت کرے گا، خدا اسے روزِ قیامت اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کا حُسن وجمال حضرت یوسف علیہ السلام کا سا ہو گااور اسے روزِ قیامت کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ خدا کے بہترین صالح اور نیک بندوں میں سے ہو گا۔ (بحوالہ:مجمع البیان، محل بحث سورہ کے ضمن میں) ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی سورتوں کی فضیلت میں جو روایات آئی ہیں ان کا مطلب سطحی مطالعہ نہیں ہے اور ان کا مقصد یہ نہیں کہ بغیر غوروفکر اور بغیر عمل کے پڑھا جائے بلکہ ان سے مراد ایسی تلاوت ہے کہ جو وفکر کی تمہید ہے اور ایسا غور وفکر کہ جو عمل کا سرآغاز ہے۔ اس سورہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سزندگی کا طرزِ عمل اس سورہ کی روشنی میں مرتب کرے اور ہوا وہوس، مال ومنال، جاہ وجلال اور مقام ومنصب کے شدید طوفانوں کے مقابلے میں اپنے آپ پر قابو رکھے، یہاں تک کہ زندان کی تاریکیوں میں پاکدامنی محفوظ رکھنے کو برائی سے آلودہ قصرِ شاہی پر مقدم رکھے تو ایسے شخص کے قلب وروح کا حُسن وجمال حضرت یوسف کے حُسن وجمال کی طرح ہے اور قیامت کے دن کہ جب اندر کی ہر چیز نمایاں ہو جائے گی وہ خیرہ کن زیبائی حاصل کرے گا اور خدا کے صالح اور نیک بندوں کی صف میں شامل ہو گا۔ اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ چند ایک روایات میں عورتوں کو اس سورہ کی تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عزیر مصر کی بیوی اور مصر کی ہوس باز عورتوں سے مربوط آیات اگرچہ پورے عفتِ بیان کے ساتھ ہیں مگر ہو سکتا ہے بعض عورتوں کے لیے تحریک کا باعث ہوں اور اس کے برعکس تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کو سورہٴ نور کی تعلیم دی جائے کہ جس میں حجاب کے بارے میں آیات ہیں۔ لیکن ان روایات کی اسناد ہرگز قابلِ اعتماد نہیں ہیں جبکہ اس برعکس روایات بھی موجود ہیں کہ جن میں گھروالوں کو اس سورہٴ کی تعلیم دینے کا شوق دلایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سورہ میں غور وخوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لیے کوئی نقطہٴ ضعف موجود نہیں ہے بلکہ عزیزِ مصر کی بیوی کا واقعہ ان سب کے لیے درسِ عبرت ہے کہ جو شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوتی ہیں۔

1
12:1
الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
الر۔ وہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
12:2
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
ہم نے اس پر عربی (زبان میں ) قرآن نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو (اور غور وفکر کر و)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
12:3
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ بِمَآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ
ہم نے تیرے سامنے بہتر ین واقعہ بیان کیا ہے تجھ پر اس قرآن کی وحی کر کے اگر چہ اس سے پہلے تو ناواقفوں میں سے تھا۔

یہ داستان، ”احسن القصص“ ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

اس سورہ کا آغاز بھی حروف مقطعات (الف۔ لام۔راء) سے ہوا ہے کہ جو عظمتِ قرآن کی نشانی ہے اور اس بات کی مظہر ہے کہ یہ عمیق اور معنی خیز حروف الف با کے سادہ ترین اجزاء سے ترکیب دی گئی ہیں۔ قرآن کے حروف مقطعات کے بارے میں اب تک تین مواقع پر (سورہٴ بقرہ، آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں) کافی بحث ہو چکی ہے لہٰذا اب تکرار کی ضرورت نہیں اور ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ حروف عظمت قرآن پر دلالت کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حروفِ مقطعات کے فوراً بعد عظمتِ قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”یہ کتاب بیّن کی آیت ہیں“ وہ کتاب جو ضوفشاں ہے، حق کو باطل سے جدا کرکے دکھانے والی ہے، صراطِ مستقیم کی رہنما ہے اور نجات و کامیابی کا راستہ بتانے والی ہے (تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ)۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ اس آیت میں دُور کے اسم اشارہ (تِلْکَ) سے استفادہ کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر سورہٴ بقرہ اور بعض دیگر سورتوں کی ابتداء میں بھی موجود ہے، اس کے بارے میں ہم کہہ چکے ہیں کہ ایسی تمام تعبیرات ان آیات کی عظمت کی طرف اشارہ ہیں، یعنی یہ آیات ایسی بلند وبرتر ہیں کہ گویا ان کا مقام بہت ہی بالا ہے، آسمانوں کی بلندی پر بیکراں فضاوں کی گہرائیوں میں کہ جن تک پہنچنے کے لیے بہت تگ ودو کی ضرورت ہے، ایسے ہی گرے پڑے مطالب کی طرح نہیں ہیں کہ جو ہر قدم پرانسان کو مل جاتے ہیں۔ ایسی تعبیر کے نمونے فارسی ادب میں بھی ہیں کہ ایک بلند مرتبہ شخصیّت کے حضور ہم کہتے ہیں آنجناب، آن مقام محترم.....وغیرہ۔ اس کے بعد ان آیات کے نزول کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے: ہم نے اسے عربی قرآن بھیجا ہے تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو (إِنَّا اَنزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ)۔ مقصد صرف ان آیات کی قرائت، تلاوت اور تبرکاً پڑھنا نہیں ہے بلکہ اصل انھیں سمجھنا ہے اور یہ تمام انسانی وجود کو عمل کی دعوت ہے۔ باقی رہا قرآن عربی میں ہونا تو اس کی شہادت دنیا کی مختلف زبانوں کا مطالعہ کرنے والوں نے دی ہے کہ یہ ایسی وسیع زبان ہے کہ جو لسان وحی کی ترجمان ہو سکتی ہے اور خدا کی باتوں کے مفہوم اور باریکیوں کو واضح کرتی ہے، اس کے علاوہ مسلّم ہے کہ اسلام نے جزیرة عربستان سے طلوع کیا ہے کہ جو تاریکی، ظلمت، وحشت اور بربریت کا مرکز ہے، ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اسے وہاں کے لوگوں ہی کو اپنے گرد جمع کرنا تھا اور اسے اس طرح سے گویا واضح ہونا چاہے تھا کہ اَن پڑھ اور علم ودانش سے بے بہرہ افراد کو تعلیم دیتا اور تعلیم ہی کے ذریعے انھیں تبدیل کرتا اور اس دین کے نفوذ کے لیے ایسا حقیقی بیج بوتا کہ دنیا کے تمام علاقے اس کے زیرِ سایہ آجاتے۔ البتہ قرآن ایسی زبان کا حامل ہونے کے باوجود ساری دنیا کے لوگوں کے لیے قابل فہم نہیں ہے (اور اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو پھر بھی یہی کچھ ہوتا) کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسی عالمی زبان نہیں ہے کہ جسے ساری دنیا کے لوگ سمجھتے ہوں لیکن یہ بات ساری دنیا کے لوگوں کے لیے اس کے تراجم کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ نہیں ہے یا اس سے بالاتر یہ بات اس میں رکاوٹ نہیں کہ اس زبان سے تدریجی طور پر آشنا ہو کر خود آیات کو سمجھ سکیں اور مفاہمِ وحی کا اسی کے الفاظ میں ادراک کرسکیں۔ بہرحال قران کے عربی ہونے کا ذکر کہ جو قرآن میں دس مواقع آیا ہے ان لوگوں کا جواب ہے جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر تہمت لگائی کہ انھوں نے یہ بات ایک عجمی شخص سے یاد کی ہیں اور قرآن کے مضامین میں ایک فکر کا نتیجہ ہیں نہ کہ سرچشمہٴ وحی سے پھوٹے ہیں۔ ضمنی طور پر پے درپے یہ تعبیرات تمام مسلمانوں کے لیے اس ذمہ داری کا تعیّن کرتی ہیں کہ وہ سب کوشش کریں اور عربی زبان کو اپنی دوسری زبان کے طور پر سیکھیں اس لیے کہ یہ وحی کی زبان ہے اور حقائقِ اسلام کے سمجھنے کی کلید ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ہم وحی کے ذریعے اور یہ قرآن بھیج کر تم سے ایک بہترین قصّہ بیان کر رہے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تُو غافلین میں تھے (نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الْغَافِلِینَ)۔ بعض مفسّرین کا نظریہ ہے کہ ”اَحْسَنَ الْقَصَص“ پورے قرآن کی طرف اشارہ ہے اور وہ ”بِمَا اَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْآنَ“کو اس کے لیے قرینہ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ لفظ ”قصہ“ یہاں صرف داستان اور واقعہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اصل لغت کے لحاظ سے کسی چیز کے آثار کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے اور جو چیز ایک دوسرے کے پیچھے ہو عرب اسے ”قصہ“ کہتے ہیں اور چونکہ ایک موضوع کو بیان کرتے وقت کلمات اور جملے پے درپے بیان ہوتے ہیں اس لیے کام کو ”قصہ“ کہا جاتا ہے۔ بہرحال خدا نے اس قرآن کو ”اَحْسَنَ الْقَصَص“ قرار دیا ہے کہ جس کا بیان نہایت زیبا ہے اور جس کے الفظ انتہائی فصیح وبلیغ ہیں اور جس کے الفاظ کے معانی نہایت اعلیٰ اور عمیق ترین ہیں، جو ظاہری نظر سے بہت زیبا، انتہائی شریں اور خوشگوار اور باطنی لحاظ سے بہت ہی معنی خیز ہے۔ متعدد روایات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعبیر پورے قرآن کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے اگرچہ یہ احادیث زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے طور پر نہیں ہیں، (غور کیجئے گا)۔ مثلاً ایک حدیث علی بن ابراہیم نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: ”اٴحسن القصص ھٰذا القرآن؛ بہترین قصّہ یہ قرآن ہے“۔ (بحوالہ:نور الثقلین: ج۲، ص۴۹) کتاب روضة الکافی میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک خطبہ میں ہے: انّ اٴحسن وابلغ الموعظة واٴنفع التذکر کتاب الله عزّ ذکرہ. بہترین قصّہ بلیغ ترین وعظ ونصیحت اور مفید ترین تذکر اور یاددہانی کتابِ خدا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین: ج۲، ص۴۹) لیکن اس کے بعدکی آیات کہ جن میں حضرت یوسف ؑکی سرگزشت بیان کی گئی ہے کا تعلق زیرِ بحث سے ملتا ہے کہ ذہن انسانی زیادہ تر اس معنی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خدا نے حضرت یوسف ؑ کے واقعے کو ”اٴحسن القصص“ کا نام دیا ہے یہاں تک کہ شاید اس سورہ کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کرتے وقت بہت سے لوگوں کے ذہن میں اس کے معنی کے علاوہ کوئی دوسرا مفہوم نہیں آئے گا۔ مگر ہم نے بارہا کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ ایسی آیات دونوں معانی کرنے کے لیے ہوں، قرآن بھی بطورِ عموم ”اٴحسن القصص“ ہے اور حضرت یوسف کی داستان بھی بطور خصوص ”اٴحسن القصص“ ہے۔ یہ واقعہ کیسے بہترین نہ ہو جبکہ اس کے ہیجان انگیز پیچ وخم میں زندگی کے اعلیٰ ترین دروس کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس واقعے میں ہر چیز پر خدا کے ارادے کی حاکمیت کا ہم اچھی طرح مشاہدہ کرتے ہیں۔ حسد کرنے والوں کا منحوس انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کی سازشوں کو نقشِ بر آب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بے عفتی کی عار وننگ اور پارسائی وتقویٰ کی عظمت وشکوہ اس کی سطور میں ہم مجسم پاتے ہیں۔ کنویں کی گہرائی میں ایک ننھے بچے کی تنہائی، زندان کی تاریک کوٹھری میں بےگناہ قیدی کے شب و روز، یاس و ناامیدی کے سیاہ پردوں کے پیچھے نورِ امید کی تجلی اور آخرکار ایک وسیع حکومت کا عظمت و شکوہ کہ جو آگاہی وامانت کا نتیجہ ہے، یہ تمام چیزیں اس داستان میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ساتھ ساتھ گزرتی ہیں۔ وہ لمحے کہ جب ایک معنی خیز خواب سے ایک قوم کی سرنوشت بدل جاتی ہے۔ وہ وقت کہ جب ایک قوم کی زندگی ایک بیدار خدائی زمام دار کے علم وآگہی کے زیر سایہ نابودی سے نجات پالیتی ہے۔ اور ایسے ہی دسیوں درس، جس داستان میں موجود ہوں وہ کیوں نہ ”اٴحسن القصص“ ہو۔ البتہ یہی کافی نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان ”حسن القصص“ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم میں یہ لیاقت ہو کہ یہ عظیم درس ہماری روح میں اتر جائے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو حضرت یوسف(علیه السلام) کے واقعے کو ایک اچھے رومانوی واقعے کے عنوان سے دیکھتے ہیں، ان جانوروں کی طرح جنھیں ایک سرسبز واداب اور پھل پھول سے لدے ہوئے باغ میں صرف گھاس نظر آتی ہے کہ جو اُن کی بھوک زائل کر دے۔ ابھی تک بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جو اس داستان کو جھوٹے پر وبال دے کر کوشش کرتے ہیں کہ اس سے ایک سیکسی (sexy) داستان بنالیں جبکہ اس واقعہ کے لیے یہ بات ناشائستہ ہے اور اصل داستان میں تمام اعلیٰ انسانی قدریں جمع ہیں، آئندہ صفحات میں دیکھیں گے کہ اس واقعے کے جامع اور خوبصورت پیچ وخم کو نظر انداز کرکے نہیں گزرا جا سکتا۔ایک اور شیریں سخن کے بقول: کبھی کبھی اس داستان کے پُرکشش پہلووں کی مہک انسان کو اس طرح سرمست کر دیتی ہے کہ وہ بے خود ہو جاتا ہے۔

انسان کی زندگی پر اس داستان کا اثر

قرآن کا بہت سا حصّہ گذشتہ قوموں کی سرگذشت اور گزرے ہوئے لوگوں کے واقعاتِ زندگی کی صورت میں ہے، اس پہلو پر نظر کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ایک تربیت کنندہ اور انسان ساز کتاب میں یہ سب تاریخ اور داستانیں کیوں ہیں۔ لیکن ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ 1۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف مسائل کی تجربہ گاہ ہے اور جو چیزیں انسان عقلی دلائل سے اپنے ذہن میں منعکس کرتا ہے انھیں تاریخ کے صفحات میں عینی صورت میں کھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ معلومات میں سے زیادہ قابلِ اعتماد وہ ہیں جو حسّی پہلو رکھتی ہیں، واقعاتِ زندگی میں تاریخ کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، انسان اپنی آنکھوں سے صفحاتِ تاریخ میں اختلاف وانتشار کی وجہ سے کسی قوم کی مرگ بار شکست دیکھتا ہے اور اسی طرح اتحاد وہم بستگی کے باعث کسی دوسری قوم کی درخشاں کامیابی کا مشاہدہ کرتا ہے، تاریخ اپنی زبانِ بے زبانی سے ہر قوم کے مکتب، روش اور طرزِ عمل کے قطعی اور ناقابل انکار نتائج بیان کرتی ہے۔ گذشتہ لوگوں کے حالات ان کے نہایت قیمتی تجربات کا مجموعہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا ماحصل تجربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تاریخ ایک آئینہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانی معاشروں کا ڈھانچہ منعکس کرتا ہے۔یہ آئینہ ان کی برائیاں، اچھائیاں، کامیابیاں، ناکامیاں، فتوحات، شکستیں اور ان سب امور کے عوامل واسباب دکھاتا ہے، اسی بناء پر گذشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ انسان کی عمر کو بالکل ان کی عمر جتنا طویل کر دیتا ہے کیونکہ اس طرح وہ ان کی پوری عمر کے تجربات سمیٹ لیتا ہے، اسی بناء پر حضرت علی علیہ السلام اپنے آبرومند فرزند کے نام اپنے تاریخی وصیت نامہ میں فرماتے ہیں: ای بنی انّی وان لم اٴکن عمرت عمر من کان قبلی فقدنظرت فی اٴعمالھم وفکرت فی اخبارھم وسرت فی آثارھم حتّیٰ عدت کاٴحدھم بل کاٴنّی بما انتھیٰ الیٰ من امورھم قدعمرت من اولھم الیٰ آخرھم. اے میرے! بیٹے اگر گذشتہ لوگوں کی عمر یکجا مجھے حاصل نہیں تاہم مَیں نے ان کے اعمال دیکھے ہیں، ان کے واقعات میں غور فکر کیا ہے اور ان کے آثار کی سیر وسیاحت کی ہے اس طرح سے گویا مَیں ان میں سے ایک ہو گیا ہوں بلکہ اس بناء پر کہ مَیں نے ان کی تاریخ کے تجربات معلوم کئے ہیں تو گویا مَیں نے ان کے اولین وآخرین کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ البتہ___ یہاں تاریخ سے مراد وہ تاریخ ہے جو خرافات، اتہامات، دروغ گوئیوں، چاپلوسیوں، ثناخوانیوں، تحریفوں اور مسخ شدہ واقعاات سے خالی ہو لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے: کہ ایسی تاریخیں بہت کم ہیں، اس سلسلے میں قرآن نے حقیقی تاریخی کے جو نمونے پیش کئے ہیں اس کے اثر کو نظر سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے۔ ایسی تاریخ کی ضرورت ہے کہ جو آئینے کی طرح صاف ہو نہ کہ کثر نما ہو، ایسی تاریخ کہ جو صرف واقعات ذکر نہ کرے بلکہ اس کی بنیاد اور نتائج بھی تلاش کرے۔ ان حالات میں قرآن کہ جو تربیت کی ایک اعلیٰ کتاب ہے تاریخ سے استفادہ کیوں نہ کرے اور گذشتہ لوگوں کے واقعات سے مثالیں اور شواہد پیش نہ کرے۔ ۲۔ علاوہ ازیں تاریخ ایک خاص قوتِ جاذبہ رکھتی ہے اور انسان بچپن سے بڑھاپے تک اپنی عمر کے تمام ادوار میں اس زبردست قوِ جاذبہ کے زیر اثر رہتا ہے، اسی بناء پر دنیا کی ادبیات کا ایک اہم حصّہ اور اشاء پردازوں کے عظیم آثار اور واقعات پر مشتمل ہیں۔ شعراء اور عظیم مصنفین کے بہترین آثار چاہے وہ فارسی میں ہوں یا دوسری زبانوں میں یہی داستانیں اور واقعات ہیں، گلستانِ سعدی، شاہنامہ فردوسی، خمسہٴ نظامی اور معاصر مصنفین کے دلکش آثار، اسی طرح ہیجان آفرین فرانسیسی مصنف ویکٹرہوگو، برطانیہ کے شکسپیئر اور جرمنی کے گوئٹے سب کی تصانیف داستان کی صورت میں ہیں۔ داستان اور واقعہ چاہے نظم کی صورت میں ہو یا نشر کی، نمائش کے انداز میں یا فلم کے پڑھنے والے اور دیکھنے والے پر اثرا انداز ہوتا ہے اور ایسی تاثیر عقلی استدلالات کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان عقلی سے پہلے حسّی ہے اور وہ جس قدر فکری مسائل میں غور وفکر کرتا ہے اس سے زیادہ حسّی مسائل میں غوطہ زن ہوتا ہے زندگی کے مختلف مسائل جس قدر میدانِ حسّ سے دُور ہوتے ہیں اور خالص حوالے سے ہونے میں اسی قدر ثقیل اور سنگین ہوتے ہیں اور اتنی ہی دیر سے ہضم ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ عقلی استدلالات کو مضبوط بنانے کے لیے حسّی مثالوں سے مدد لی جالتی ہے، بعض اوقات ایک مناسب اور برمحل مثال استدلال کا اثر کئی گناہ زیادہ کر دیتی ہے، اسی لیے کامیاب علماء وہ ہیں جو بہترین مثالیں انتخاب کرنے پر زیادہ دسترس رکھتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ عقلی استدلال حسّی، عینی اور تجرباتی مسائل کا ماحصل ہیں۔ ۳۔ داستان اور تاریخ ہر شخص کے لیے قابل فہم ہے جبکہ اس کے برعکس استدلالت کی رسائی میں سب لوگ برابر کے شریک نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ کتاب کہ جو عمومیت رکھتی ہے اور سب کے لیے ہے، نیم وحشی، اُن پڑھ عرب کے بیابانی بدّو سے لے کر عظیم مفکر اور فلسفی تک کے استفادہ کے لیے ہے اسے حتمی طور پر تاریخ، داستانوں اور مثالوں کا سہارا لینا چاہیے۔ ان تمام پہلووں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام تاریخیں اور داستانیں بیان کرکے قرآن نے تعلیم وتربیت کے لحاظ سے بہترین راستہ اپنایا ہے۔ خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن نے کسی موقع پر بھی خالی تاریخی واقعات ہی بیان نہیں کر دیئے بلکہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ کئے ہیں اور اس سے تربیتی حوالے سے استفادہ کیا ہے، چنانچہ آپ اسی صورت میں اس کے کئی نمونے دیکھیں گے۔

4
12:4
إِذۡ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّي رَأَيۡتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ رَأَيۡتُهُمۡ لِي سَٰجِدِينَ
وہ وقت (یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیا رہ ستارے، سورج اور چا ند میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
12:5
قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلَىٰٓ إِخۡوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيۡدًاۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
(یعقوب نے) کہا: اے میرے بیٹے اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ تیرے لئے خطرناک سازش کر یں گے کیو نکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
12:6
وَكَذَٰلِكَ يَجۡتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعۡقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيۡكَ مِن قَبۡلُ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اور اس طرح تیرا پر وردگار تجھے منتخب کرے گا، تجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا او اپنی نعمت تجھ پر اور آل یعقوب پر تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پر تمام کی ہے، تیرا پروردگار عالم اور حکیم ہے

امید کی کرن اور مشکلات کی ابتدا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف (علیه السلام) کے واقعے کا آغاز قرآن ان کے عجیب اور معنی خیز خواب سے کرتا ہے کیونکہ یہ خواب دراصل حضرت یوسف (علیه السلام) کی تلاطم خیز زندگی کا پہلا موڑ شمار ہوتا ہے۔ ایک دن صبح سویرے آپ بڑے شوق اور وارفتگی سے باپ کے پاس آئے اور انہیں ایک نیا واقعہ سنایا جو ظاہراً زیادہ اہم نہ تھا لیکن درحقیقت ان کی زندگی میں ایک تازہ باب کھلنے کا پتہ دے رہا تھا۔ یوسف (علیه السلام) نے کہا-: ابا جان! مَیں نے کل رات گیارہ ستاروںکو دیکھا کہ وہ آسمان سے نیچے اترے، سورج اور چاندان کے ہمراہ تھے، سب کے سب میرے پاس آئے اور میرے سامنے سجدہ کیا (اِذْ قَالَ یُوسُفُ لِاَبِیہِ یَااَبَتِ إِنِّی رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُھُمْ لِی سَاجِدِین)۔ ابنِ عباس کہتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے یہ خواب شبِ جمعہ دیکھا تھا کہ جو شب قدر بھی تھی (وہ رات جو مقدرات کے تعین کی رات ہے)۔ یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے جب یہ خواب دیکھا اس وقت آہہ کی عمر کتنے سال تھی، اس سلسلے میں بعض نے نو سال، بعض نے بارہ سال اور بعض نے سات سال عمر لکھی ہے، جوبات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت آپ بہت کم سن تھے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ لفظ”راٴیت“ کا اس آیت میں تاکید اور قاطعیت کے ساتھ تکرار ہوا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مَیں ان بیشتر افراد کی طرح نہیں ہوں کہ جو خواب کا کچھ حصہ بھول جاتے ہیں اور اس کے بارے میں تردد وشک سے بات کرتے ہیں، مَیں نے پورے یقین سے دیکھا ہے کہ گیارہ ستاروں، سورج اور چاند نے میرے سامنے سجدہ کیا ہے، اور اس امر میں مجھے کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہاں ضمیر ”ھم“ استعمال ہوئی ہے کہ جو ذوی العقول کے لیے بولی جانے والی جمع مذکر کی ضمیر ہے، اسی طرح لفظ ”ساجدین“ بھی آیا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا سجدہ کرنا کوئی اتفاقی امرنہ تھا بلکہ ایک واضح پروگرام کے ماتحت وہ عاقل افراد کی طرح سجدہ کررہے تھے۔ البتہ واضح ہے کہ سجدہ سے یہاں مراد خضوع اور احترام ہے ورنہ سورج، چاند اور ستاروں کے لیے سجدے کا مفہوم عام انسانون کے سجدے کا سا نہیں ہے۔ اس ہیجان انگیز اور معنی خیز خواب پر خدا کے پیغمبر یعقوب (علیه السلام) فکر میں ڈوب گئے کہ سورج، چاند اور آسمان کے گیاری ستارے، وہ بھی گیارہ ستارے نیچے اُترے اور میرے بیٹے یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے، یہ کس قدر معنی آفریں ہے، یقینا سورج اور چاند مَیں اور اس کی ماں (یامَیں اور اس کی خالہ)ہے اورگیارہ ستارے اس کے بھائی ہیں میرے بیٹے کی قدر ومنزلت اور مقام اس قدر بلند ہو گا کہ آسمان کے ستارے، سورج اور چاند اس کے آستانہ پر جبہ سائی کریں گے، یہ بارگاہ الٰہی میں اس قدر عزیز اور باوقار ہو گا کہ آسمان والے بھی اس کے سامنے خضوع کریں گے، کتنا پُر شکوہ اور پُرکشش خواب ہے۔ لہٰذا پریشانی اور اضطراب کے انداز میں کہ جس میں ایک مسرت بھی تھی، اپنے بیٹے سے کہنے لگے: میرے بیٹے، اپنایہ خواب بھائیوں کو نہ بتانا (قَالَ یَابُنَیَّ لَاتَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلیٰ إِخْوَتِک)، کیونکہ وہ تیرے خلاف خطرناک سازش کریں گے نہ کرنا ورنہ وہ تیرے لیے خطرناک سازش کریں گے کیونکہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے۔ (فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا)۔ مَیں جانتا ہوں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے (إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ)، وہ موقع کی تاڑ میں ہے تاکہ اپنے وسوسوں کا آغاز کرے، کینہ وحسد کی آگ بھڑکائے، یہاں تک کہ بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ بھائی ترے بارے میں بُرا ارادہ کریں گے بلکہ اسے ایک قطعی امر کی شکل میں خصوصا لفظ ”کیدا“ کی تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جو تاکید کی دلیل ہے آپ اپنے سب بیٹوں کی نفسیات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ یوسف کے بارے میں کتنے حساس ہیں، شاید یوسف کے بھائی بھی خواب کی تعبیر کے بارے میں ناواقف نہ تھے علاوہ ازیں یہ خواب ایسا تھا جس کی تعبیر زیادہ پیچیدہ نہ تھی۔ دوسری طرف یہ خواب بچگانہ خوابوں کی طرح نہ تھا، ہو سکتا ہے کوئی بچہ خواب میں چاند اور ستاروں کو دیکھے لیکن باشعور موجودات کی طرح چاند ستارے اس کے آگے سجدہ کریں، یہ کوئی بچگانہ خواب نہیں ہے، ان وجوہ کی بنیاد پر حضرت یعقوب (علیه السلام) بجا طور پر یوسف کے بارے میں بھائیوں کی طرف سے حسد کی آگ بھڑک اٹھنے کے بارے میں خوفزدہ تھے۔ لیکن یہ خواب صرف مستقبل میں یوسف (علیه السلام) کے مقام کی ظاہری ومادی عظمت بیان نہیں کرتا تھا بلکہ نشاندہی کرتا تھا کہ وہ مقامِ نبوت تک بھی پہنچے گے کیونکہ آسمان والوں کا سجدہ کرنا آسمانی مقام کے بلند ی پر پہنچنے کی دلیل ہے اسے لیے تو ان کے پدر بزرگوار حضرت یعقوب (علیه السلام) نے مزید کہا:اور اس طرح تیرا پروردگار تجھے منتخب کرے گا (وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّک)، اور تجھے تعبیرِخواب کا علم دے گا (وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاَحَادِیث) (تشریحی نوٹ: ”تاویل“دراصل کسی چیز کو لوٹا دینے کے معنی ہے اور کوئی کام یا بات اگر اپنے آخری مقصد تک پہنچ جائے تو اسے ”تاویل“ کہتے ہیں، خارجی طور پر خواب کا صورت پذیر ہو جانا بھی ”تاویل“ کا مصداق ہے۔ ”احادیث“ ”حدیث“ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک واقعہ نقل کرنا،انسان چونکہ ااپنا خواب اِدھر اُدھر بیان کرتا ہے لہٰذا یہاں یہ خواب کے لیے کنایہ ہے)۔ اور اپنی نعمت تجھ ہر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا (وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ آلِ یَعْقُوبَ)، جیسے اس نے قبل ازیں تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پرکی ہے (کَمَا اَتَمَّھَا عَلیٰ اَبَوَیْک َ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاھِیمَ وَإِسْحَاق)۔ ہاں ! تیرا پروردگارعالم ہے اور حکمت کے مطابق کام کرتا ہے (إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔

اہم نکات: ۱۔ خواب دیکھنا

رؤیا اور خواب دیکھنے کا مسئلہ ایسے مسائل میں سے رہا ہے جنہوں نے عام افراد اور ایلِ علم کی فکرِ نظر کو کئی پہلوؤں سے اپنی طرف مبذول رکھا ہے۔ یہ اچھے اور برے، وحشتناک اور دلپزیر، سرور آفریں اور غم انگیز مناظر جو انسان خواب میں دیکھتا ہے کیا ہیں؟ کیا یہ گذشتہ زمانے سے مربوط ہیں اور ان مناظر نے بیتے ہوئے زمانے میں انسانی روح کی گہرائیوں میں آشیانہ بنایا تھا یا یہ تغیرات کا مظہر ہیں یا آئندہ زمانے سے مربوط ہیں کہ جن کی فلم انسانی روح مخفی طریقے سے اپنے حساس کیمروں کے ذریعے بنا لیتی ہے یا پھر یہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں جن میں سے بعض کا تعلق گذشتہ سے ہے اور بعض کا آئندہ سے اور بعض ان آرزؤں اور تمنّاؤں کا عکس ہیں کہ جو پوری نہیں ہوسکیں۔ متعدد آیات میں قرآن تصریح کرتا ہے کہ کم از کم کچھ خواب ایسے ہیں جو کہ مستقبل بعید یا مستقبل قریب کی عکاسی کرتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیه السلام) کا مذکورہ بالا خواب اسی طرح اس سورہ کی آیہ ۳۶ میں مذکور قیدیوں کا خواب، نیز عزیز مصر کے خواب کا واقعہ آیہ ۴۳ میں ہے یہ مختلف خوابوں کے نمونے ہیں جو تمام تر مستقبل کے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہیں، ان میں سے کوئی نسبتاً مستقبل بعید سے متعلق ہتے مثلاً حضرت ہوسف (علیه السلام) کا خواب کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس سال بعد صورت پذیر ہوا اور کوئی مستقبل قریب کے بارے میں ہے مثلا عزیزِ مصر کا خواب اور حضرت یوسف (علیه السلام) کے ساتھی قیدیوں کا خواب کہ جو بہت جلد ہی وقوعِ پزیر ہو گئے۔ اس سورہ کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر تعبیردار خوابوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، مثلاً پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا خواب کہ جس کی طرف سورہ فتح میں اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح حجرت ابراہیم (علیه السلام) کا خواب جو سورہ صٰفٰت میں مذکور ہے (یہ خواب امرِ الٰہی بھی تھااور اس کی تعبیر بھی تھی)۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ ایک روایت میں پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے: الروٴیا ثلاثة بشری من اللّٰہ وتحرین من الشیطان والذی یحدث بہ الانسان نفسہ فیراہ فی منامہ۔ خواب تین قسم کے ہیں: کبھی خدا کی طرف سے بشارت ہوتی ہے۔ کبھی شیطان کی طرف سے حزن وغم کا سامان ہوتا ہے اور کبھی ایسے مسائل ہوتے ہیں جو انسانی فکر میں پلتے رہتے ہیں اور پھر وہ انہیں خواب میں دیکھتا ہے۔ (بحوالہ :بحار الانوار ج،١٤،ص ٤۳١، بعض علما ء نے ان خوابو ں میں اک قسم کا اضافہ کیا ہے اور وہ ایسا خواب ہے جو انسان کے دماغ اور بدن کی کیفیت کا سیدھا نتیجہ ہو اس کی طرف آئندہ مباحث میں اشارہ ہو گا)۔ واضح ہے کہ شیطانی خواب کچھ بھی نہیں ہیں کہ ان کی کوئی تعبیر ہو، البتہ رحمانی خواب کہ جو بشارت کا پہلو رکھتے ہیں یقینا ایسے ہوتے ہیں کہ جو آئندہ کے کسی مسرت بخش واقعے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

حقیقتِ خواب کے بارے میں مختلف نظریات

بہرحال ضروری ہے کہ ہم یہاں حقیقتِ خواب کے بارے میں مختلف نظریات کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کریں، حقیقتِ رؤیا کے بارے میں بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں، شاید انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جاس کے. تفسیر مادی اور تفسیر روحانی۔ ۱۔تفسیرمادی مادیین کہتے ہیں کہ خواب کے چند علل واسباب ہو سکتے ہیں: الف)۔ ہو سکتا ہے خواب انسان کے روزمرّہ کے کاموں کا سیدھا نتیجہ ہو یعنی جو گذشتہ دنوں میں انسان کو پیش آتا ہے خواب کے وقت اس کی فکر کے سامنے وہ مجسم ہو جاتا ہے۔ ب)۔ ہو سکتا ہے یہ وہ آرزوئیں ہوں جو پوری نہیں ہوئیں، جیسے پیاسا شخص خواب میں پانہ دیکھتا ہے اور جو شخص کسی کے سفر سے لوٹ آنے کے انتظار میں ہوتا ہے وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ آگیا ہے۔ پرانے زمانے سے کہاوت ہے: شتر در خواب بیند پنبہ دانہ!ـــــــ اونٹ خواب میں بنولے دیکھتا ہے.....۔ ج)۔ ہو سکتا ہے کسی چیز کے خوف کے سبب انسان اسے خواب میں دیکھے،کیونکہ بارہا تجربہ ہوا ہے کہ جو لوگ چور سے خوفزدہ ہوتے ہیں رات کو خواب میں چور دیکھتے ہیں، مشہور ضرب المثل ہے۔ دور از شتر بہ خواب وخواب آشفتہ نہ بین اونٹ سے دور ہو کر سوجا تاکہ تو خوابِ پریشان نہ دیکھے۔ یہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ فرائڈ اور اس کے مکتب کے پیروکاروں نے خواب کے لیے ایک اور تفسیرِمادی بیان کی ہے۔ وہ تفصیلی تمہیدات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں کہ خواب نامراد وناکام آزروؤں کو پورا کرنے سے عبارت ہے کہ جو ہمیشہ تبدیل ہو کے ”میں“ کو فریب دینے کے لیے خود آگاہی کی منزل میں آتی ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ قبول کر لینے کے بعد نفسِ انسانی دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ آگاہ ہے (وہ کہ جو روز مرہ کے افکار، ارادی معلومات اور انسانی اختیارات سے مربوط ہے)دوسرا حصہ نا آگاہ ہے (وہ باطنی ضمیر میں تشنہ تمناؤں کی شکل میں پنہاں ہے)، کہتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری وہ خواہشیں جو ہم مختلف اسباب کی وجہ سے پوری نہیں کر سکتے اور ہمارے باطنی ضمیر میں جاگزیں ہیں وہ عالمِ خواب میں جب خود آگاہی کا سسٹم معطل ہو جاتا ہے تو اس طرح کی تخیلاتی تکمیل کے لیے خود آگاہ مرحلے کا رخ کرتی ہیں، کبھی وہ بغیر کسی تبدیلی کے منعکس ہوتی ہیں (یعنی عاشق اپنے اس محبوب کو عالمِ خواب میں دیکھتا ہے جو اس سے جدا ہو چکا ہے) اورکبھی اس کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ مناسب شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں، اس صورت میں خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس تفسیر کی بنا پر خوابوں کا تعلق ہمیشہ گذشتہ زمانے سے ہوتا ہے اور وہ کبھی بھی آئندی کے بارے میں خبر نہیں دیتے اور وہ صرف ضمیرِ نا آگاہ کے پڑھنے کا اچھا وسیلہ بن سکتے ہیں، اسی بنا پر نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے اکثر بیمار کے خوابوں سے مدد لی جاتی ہے کیونکہ ان کا علاج ضمیرِ نا آگاہ کے ظاہر ہونے پر منحصر ہوتا ہے۔ غذا شناسی کے بعض ماہرین خواب اور بدن کی غذائی ضرورت کے درمیان رابطے کے قائل ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ مثلاً اگر انسان خواب میں دیکھے کہ اس کے دانتوں سے خون نکل رہا ہے تو لازماً اس کے بدن میں وٹامن سی کی کمی ہے اور اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اس کے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں تو معلو م ہو گاکہ وہ وٹامن بی کی کمی میں گرفتار ہے۔ ۲۔تفسیر روحانی لیکن روحانی فلاسفر خوابون کی ایک اور تفسیر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خواب چند قسم کے ہیں: الف۔ وہ خواب کہ جو انسان کی گذشتہ زندگی کی آرزوؤں سے مربوط ہیں اور انسان کے خوابوں کا ایک اہم حصہ انہیں سے مربوط ہوتا ہے۔ ب۔ وہ خواب کہ جو مفہوم سے عاری اور خیالِ پریشاں ہوتے ہیں یہ تو ہمات کا نتیجہ ہوتے ہیں(اگرچہ ممکن ہے ان کے نفسیاتی اسباب بھی ہوں) ج۔ وہ خواب کے جو آئندہ سے مربوط ہیں اور مستقبل کے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جو خواب انسان کی گذشتہ زندگی سے مربوط ہیں اور وہ مناظر کے جو انسان کی اپنی طویل زندگی میں دیکھے ہوئے ان کی تصویر کشی کی کوئی خاص تعبیر نہیں ہے۔ اسی طرح خوابہائے پریشاں کہ جو افکارِ پریشاں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور جنھیں اصطلاح میں ”اضغاث احلام“کہا جاتا ہے ان افکار کی طرح ہیں کہ جن بخار اور ہذیان کی حالت میں پیدا ہو جاتے ہیں، زندگی کے آئندی مسایل کے بارے میں ان کی بھی کوئی خاص تعبیر نہیں ہوتی، اگرچہ روحانیات اور نفسیات کے ماہرین ان سے انسان کی ناآگاہ ضمیر کو سمجھنے کا کام لیتے ہیں اور ان سے آگاہی کو نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی کلید سمجھتے ہیں، اس بنا پر ان کی تعبیر نفسیاتی اسرار اور بیماریوں کی تشخیص کے لیے ہے ناکہ زندگی کے آئندہ حوادث وواقعات کے لیے۔ باقی رہے وہ خواب کہ جو مستقبل سے مربوط ہیں انہیں بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم صریح اور واضح خوابوں کی ہے کہ جن کے لیے کسی قسم کی تعبیر کی ضرورت نہیں، بعض اوقات ایسے خواب مستقبل ِ قریب یا بعیدمیں کسی معمولی فرق کے بغیر صورت پزیر ہو جاتے ہیں۔ دوسری قسم: آئندہ کے واقعات کی حکایت کرنے کے باوجود خاص ذہنی وروحانی عوامل کے زیرِ اثر جن کی شکل متغیر ہو جاتی ہے اور جو تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان خوابوں کی ہر قسم کے لیے بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جن سب کا انکار نہیں کیا جا سکتا، نہ سرف مذہبی مصادر اور تاریخی کتب میں ان کی مثالیں مذکور ہیں بلکہ ہماری اپنی خاص زندگی میں یا ایسے افرادکی زندگی میں جنھیں ہم جانتے ہیں ان کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ انہیں ہرگز اتفاقات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چند خواب

یہاں ہم چند ایسے خوابوں کے نمونے پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے عجیب انداز سے آئندہ کے واقعات سے پردہ اٹھایا ہے اور جنھیں ہم نے قابلِ اعتماد افراد سے سنا ہے۔ ۱۔ ہمدان کے ایک مشہور اور کاملاً قابلِ وثوق عالم مرحوم اخوند ملا علی نے مرحوم آقا میرزا عبدالنبی سے کہ جو تہران کے بزرگ علماء میں سے تھے، اس طرح نقل کیا ہے: جب میں سامرا میں تھا تو مازندران سے مجھے ہر سال تقریبا تقریباً ایک سو تومان (تومان ایرانی سکہ ہے (مترجم))بھیجے جاتے تھے اور اسی وجہ سے پہلے ضرورت پڑتی تو مَیں قرض لے لیتا اور اس رقم کے پہنچنے پر اپنے سارےقرض ادا کر دیتا۔ ایک سال مجھے خبر ملی کہ اس سال فصل کی حالت بہت خراب رہی ہے لہٰذا وہ رقم نہیں بھیجی جائے گی، مَیں بہت پریشان ہوا، اسی پریشانی کے عالم میں سو گیا، اچانک میں نے خواب میں پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا، آپ نے مجھے پکار کر کہا: اے شخص!کھڑے ہوجاؤ، وہ الماری کھولو(ایک الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)، وہاں ایک سو تومان ہے وہ لے لو۔ مَیں خواب سے بیدار ہوا، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے دروازے پر دستک ہوئی، زوال کے بعد کی بات ہے، مَیں نے دیکھا کہ اہلِ تشیع کے عظیم مرجع تقلید مرحوم میرزا شیرازی کا بھیجا ہواقاصد ہے، وہ کہنے لگا:میرزا تمہیں بلا رہے ہیں۔ مجھے تعجب ہوا کہ اس وقت مجھے وہ مردِ بزرگ کس لیے بلارہے ہیں، مَیں گیا تو دیکھا کہ وہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں (میں اپنا خواب بھول چکا تھا)، اچانک حضرتِ میرزا شیرازی نے کہا: میرزا عبدالنبی! اس الماری کا دروزاہ کھولو اور اس میں ایک سو تومان ہیں اٹھالو۔ فوراً خواب کا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، اس واقعہ سے مجھے بہت تعجب ہوا، مَیں نے چاہا کچھ کہوں لیکن دیکھا کہ میرزا اس سلسلے میں کوئی بات کرنے کے لیے مائل نہیں ہیں مَیں وہ رقم لے کر باہر آگیا۔ ۲۔ ایک قابلِ اعتماد دوست نقل کرتا ہے: کتابِ ”ریحانة الادب“ کے،مولف مرحوم تبریزی کا ایک لڑکا تھا، اس کا دایاں ہاتھ خراب تھا (شاید اسے شدید رومائٹرم تھا)حالت یہ تھی کہ وہ مشکل سے قلم اٹھا سکتا تھا، طے پایا کہ وہ علاج کے لیے مغربی جرمنی جائے۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں جس بحری جہاز میں تھا اس میں خواب دیکھا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ مَیں نے ڈائری کھولی اور یہ واقعہ دن اور وقت کے ساتھ لکھ لیا، کچھ عرصے کے بعد مَیں ایران واپس آیا، عزیزوں میں سے کچھ لوگ میرے استقبال کے لیے آئے، مَیں نے دیکھا کہ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے ہیں تو مجھے تعجب ہوا، خواب کا واقعہ میرے ذہن سے بالکل اتر چکا تھا، آخر کار انھوں نے آہستہ آہستہ مجھے بتایا کہ میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں۔ مجھے فوراً وہ خواب یاد اآیا، مَیں نے ڈائری کھولی اور وفات کے دن کے بارے میں سوال کیا تو دیکھا کہ ٹھیک اسی روز میری والدہ فوت ہوئیں تھیں۔ ۳۔ مشہور اسلامی مولف سید قطب اپنی تفسیر ”فی ظلال القرآن“ میں سورہ یوسف سے مربوط آیات کے ذیل میں لکھتے ہیں: تم نے خوابوں کے بارے میں جو تمام باتیں کہی ہیں اگر مَیں ان تمام کا انکار بھی کردوں تو بھی مَیں اس واقعے کا انکار نہیں کر سکتا جو خود میری ساتھ پیش آیا کہ جب مَیں امریکا میں تھا، وہاں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میرے بھانجے کی آنکھوں میں خون اتر آیاہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا میرا بھانجہ اس وقت میرے سب افراد خانہ کے ساتھ مصر میں تھا، مَیں اس واقعے پر پریشان ہوا مَیں نے فورا گھر والوں کو مصر خط لکھ بھیجا اور اپنے بھانجے کی آنکھوں کے بارے میں خصوصیت سے سوال کیا۔ کچھ عرصے بعد میرے خط کا جواب آیا، اس میں انھوں نے لکھا تھاکہ اس کی آنکھوں سے داخلی طور پر خون رستا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا اور اس وقت زیرِ علاج ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ داخلی طور پر اس کی آنکھوں سے خون اس طرح سے رِستا تھا کہ عام مشاہدے سے نہیں دیکھا جا سکتا تھا، صرف طبی آلات سے اسے دیکھنا ممکن تھا لیکن بہرحال وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو چکا تھا۔ بہر کیف مَیں نے خواب میں یہاں تک کہ داخلی طور پر رسنے والے خون کو واضح طور پر دیکھا تھا۔ ایسے خواب کہ جن سے اسرارورموز سے سے پردہ اٹھا ہے اور آئندہ سے مربوط حقائق یا حالات منکشف ہوئے ہیں بہت زیادہ ہیں، یہاں تک کہ دیر سے یقین کرنے والے افراد بھی ان کا انکار نہیں کر سکتے اور نہ انہیں محض اتفاق قرار دے سکتے ہیں۔ آپ اپنے قریبی دوستوں سے تحقیق کرکے عام طور پر ایسے خوابوں کی مثالیں معلوم کر سکتے ہیں کہ جن کی تفسیر مادی حوالے سے ہرگز نہیں ہو سکتی اور صرف فلاسفہ کی روحانی تفسیر اور استقلالِ روح کے اعتقاد سے ان کی تعبیر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایسے تمام خوابوں سے مجموعی طور پر ایک مستقل روح کی موجودگی کے شاید کے طور پر استفادی کیا جا سکتا ہے۔ (بحوالہ:معاد وجہان پس از مرگ،ص ۳۹۷) ۲۔ حضرت یعقوب ؑ نے تعبیرکیسے بتائی: زیرِبحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے ڈرانے کے علاوہ اجمالی طور خواب کی تعبیر بھی بیان کر دی، انھوں نے کہا کہ تُو برگزیدہ خدا ہو گا، خدا تجھے تعبیرِ خواب کا علم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا۔ اس امر پر یوسف ؑکے خواب کی دلالت کہ وہ آئندہ بلند روحانی ومادی مقامات پر فائز ہوں گے بالکل قابلِ فہم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے حضرت یعقوب (علیه السلام) کو یہ کیسے علم ہوا کہ آئندہ یوسفؑ کو تعبیر خواب کا علم حاصل ہو گا، کیا یہ ایک اتفاقی خبر تھی جو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو دی اور اس کا ان کے خواب سے کوئی تعلق نہ تھا یا یہ کہ انھوں نے یہ بات اسی خواب سے معلوم کی۔ ظاہرًا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے یہ بات حضرت یوسف (علیه السلام) نے خواب ہی سے کشف کی اور ممکن ہے ایسا ان دومیں سے ایک طریقے سے ہوا ہو۔ پہلا، یہ کہ یوسف نے اس کم سنی کے باوجود خصوصی طور پر بھائیوں کی آنکھوں سے بچ کر اپنے باپ سے خواب بیان کیا (یہ بات اس سے معلوم ہوئی کہ والد نے انہیں وصیت کی کہ اسے چھپانے کی کوشش کریں) یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ یوسف بھی اپنے خواب سے ایک خاص احساس رکھتے تھے تبھی تو اسے کسی کے سامنے بیان نہیں کیا، یوسف جیسے ایک ننھے سے بچے میں ایسا احساس پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تعبیرِ خواب کے علم کے لیے اس میں ایک روحانی صلاحیت موجود ہے، اس سے انھوں نے محسوس کیا کہ اس صلاحیّت کی پرورش سے اس سلسلے میں وہ ایک وسیع علم حاصل کر لیں گے۔ دوسرا، یہ کہ عالمِ غیب سے انبیاء ورسل کا ارتباط مختلف ذرائع سے تھا، کبھی قلبی الہامات کے ذریعے کبھی فرشتہ وحی کے نزول کے ذریعے اور کبھی خواب کے ذریعے، حضرت یوسف (علیه السلام) اگرچہ اس وقت تک ابھی مقامِ نبوت تک نہیں پہنچے تھے تاہم یوسف کے لیے ایسے معنی خیز کواب کا ہونا نشاندہی کرتا ہے کہ وہ آئندہ اس طریق سے عالمِ غیب سے ارتباط پیدا کریں گے لہٰذا فطرتاً انہیں کواب کی تعبیر اور مفہوم کو سمجھنا چاہیئے تاکہ وہ عالمِ غیب سے اس قسم کا رابطہ رکھ سکیں۔ ۳۔رازداری کا سبق ان آیات سے جہاں ہمیں بہت سے درس ملتے ہیں ایک درس رازدی ہے جو بعض اوقات بھائیوں تک سے اختیار کرنا پڑتی ہے، انسان کی زندگی میں ہمیشہ ایسے راز ہوتے ہیں جو اگر فاش ہو جائیں تو ہو سکتا ہے اس کا مستقبل یا معاشرے کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے۔ اس اسرار کی حفاظت کے بارے میں اپنے اوپر کنٹرول کرنا وسعتِ ظرف اور قوتِ ارادی کی ایک نشانی ہے، ایسے بہت سے افراد ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں کمزوری کی بنا پر اپنے انجام یا معاشرے کو خطرے میں ڈال دیا اور ایسی بہت سی پریشانیاں ہیں جو رازداری نہ رکھنے کی وجہ سے انسان کو پیش آتی ہیں۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام)سے منقول ہے: لایکون المومن مومنا حتی تکون فیہ ثلاث خصال سنة من ربہ وسنة من نبیہ وسنة من ولیہ فاماالسنة من ربہ فکتمان السر واماالسنة من نبیہ فمدارة الناس واماالسنة من ولیہ فالصبر فی الباساء والضراء۔ مومن۔ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس میں تین خصلتیں نہ ہوں، ان میں سے ایک پروردگار کی سنت، ایک پیغمبرؐ کی سنت ہے اور امامؑ وولی کی سنت ہے: خدا کی سنت رازوں کو چھپانا ہے۔ پیغمبرؐ کی سنت لوگوں سے نرمی اور مدارات کرنا ہے، اور امام کی سنت مصیبت اورپریشانیوں پر صبر کرنا ہے۔ (بحوالہ بحار، طبع جدید، جلد ۷۸،ص ۳۳۴) (البتہ یہاں مراد زیادہ تر دوسروں کے رازوں کو چھپانا ہے)۔ ایک حدیث میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے: سرک من دمک فلا یجرین من غیرہ او اوداجک۔ تیرے اسرار اورراز تیرے خون کی طرح ہیں جنھیں صرف تیری ہی رگوں میں جاری ہونا چاہیئے۔ (بحوالہ: سفینة البحار) (کتم)

7
12:7
۞لَّقَدۡ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخۡوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٞ لِّلسَّآئِلِينَ
یوسف اور ان کے بھائیوں (کے واقعہ) میں سو ال کرنے والوں کیلئے (ہد ایت کی) نشا نیاں تھیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
12:8
إِذۡ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
جس وقت کہ (بھا ئیوں نے) کہا: یوسف اور اس کا بھائی (بنیا مین) باپ کو ہم سے زیا دہ محبوب ہیں حا لا نکہ ہم زیادہ طا قتور ہیں، یقیناً ہمارا باپ کھلی گمر اہی میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
12:9
ٱقۡتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطۡرَحُوهُ أَرۡضٗا يَخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ أَبِيكُمۡ وَتَكُونُواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ قَوۡمٗا صَٰلِحِينَ
یوسف کو قتل کر دو یا اسے دور دراز کی زمین میں پھینک آؤ تاکہ باپ کی تو جہ صرف تمہا ری طرف ہو اور اس کے بعد (اپنے گناہ سے تو بہ کر لینا اور) نیک بن جانا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
12:10
قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُواْ يُوسُفَ وَأَلۡقُوهُ فِي غَيَٰبَتِ ٱلۡجُبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ
ان میں سے ایک نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو اور اگر کچھ کرنا ہی چا ہتے ہو تو اسے اپنے سا تھ کسی دور کے مقام پر لے جاؤ۔

بھائیوں کی سازش

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یہاں سے یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں کی یوسف (علیه السلام) کی خلاف سازش شروع ہوتی ہے، پہلی آیت میں ان بہت سے اصلاحی دروس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس داستان میں موجود ہے، ارشاد ہوتا ہے:یقینایوسف اوراس کے بھائیوں (کی داستان میں سوال کرنے والوں کے لیے نشانیاں تھیں (لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِہِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ)۔ اس بارے میں کہ ان سوال کرنے والوں سے کون سے اشخاص مراد ہیں، بعض مفسرین (مثال قرطبی نے تفسیر جامع میں اور دوسرے حضرات نے) کہا ہے کہ یہ سوال کرنے والے مدینہ کے یہودیوں کی ایک جماعت تھی جو اس سلسلے میں پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف سوالات کیاکرتے تھے لیکن ظاہری طور پر آیت مطلق ہے اور کہتی ہے کہ اس واقعے میں تمام جستجو کرنے والوں کے لیے آیات، نشانیاں اور دروس چھپے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا درس ہو گاکہ چند طاقتور افراد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہ جس کا سرچشمہ حسد تھا ظاہراً ایک کمزور اور تنہا شخص نابود کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوشش صرف کرتے ہیں مگر اسی کام سے انہیں خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسے ایک حکومت کے تخت پر بٹھارہے ہیں اور ایک وسیع مملکت کا فرماں روا بنارہے ہیں اور آخرکار وہ سب اس کے سامنے سرِ تعظیم وتسلیم خم کرتے ہیں۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جب خدا کسی کا م کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اس کام کو اس کے مخالفین کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچادے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ایک پاک اور صاحب ایمان انسان اکیلا نہیں ہے اور اگرسارا جہان اس کی نابودی پر کمر باندھ لے لیکن خدا نہ چاہے تو کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بارہ بیٹے تھے، ان میں یوسف (علیه السلام) اور بنیامین ایک ماں سے تھے، ان کی والدہ کا نام راحیل تھا، یعقوب ؑ ان دونوں بیٹوں سے خصوصا یوسف (علیه السلام) سے زیادہ محبت کرتے تھے کیونکہ ایک تو یہ ان کے چھوٹے بیٹے تھے لہٰذا فطرتا زیادہ توجہ اور محبت کے محتاج تھے اور دوسرا ان کی والدہ (راحیل)فوت ہو چکی تھیں اس بنا پر بھی انہیں زیادہ محبت کی ضرورت تھی علاوہ ازیں خصوصیت کے ساتھ حضرت یوسف (علیه السلام) میں نابغہ اور غیر معمولی شخصیت ہونے کے آثار نمایاں تھے، مجموعی طور پر ان سب باتون کی بنا پر حجرت یعقوب (علیه السلام) واضح طور پر ان سے زیادہ پیار محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔ حاسدبھائیوں کی توجہ ان پہلوؤں کی طرف نہیں تھی اور وہ اس پر بہت نارحت اور ناراض تھے، خصوصا شاید ماؤں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے بھی فطرتا ان میں رقابت موجود تھی لہٰذا وہ اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائی کوباپ ہم سے زیادہ پیار کرتا ہے حالانکہ ہم طاقتوراور مفید لوگ ہیں اور باپ کے امور کو بہتر طور پر چلا سکتے ہیں،اس لیے اسے ان چھوٹے بچوں کی نسبت ہم سے زیادہ محبت کرنا چاہیئے جب کہ ان سے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا (إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَاَخُوہُ اَحَبُّ إِلیٰ اَبِینَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَة)۔ (تشریحی نوٹ:”عصبة“ ایسی جماعت اور گروہ کے معنی میں ہے کہ جس کے افراد باہم شریکِ کار ہوں اور کسی کام کی انجام دہی میں ہم آہنگ ہوں، یہ لفظ جمع کا معنی دیتا ہے اور اس کا مفرد نہیں ہے)۔ اس طرح یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے انہون نے اپنے باپ کے خلاف کہا کہ ہمارا باپ واضح گمراہی میں ہے (اِنَّ اَبَانَا لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ)۔ حسد اور کینے کہ آگ نے انہیں اجازت نہ دی کہ وہ معاملے کے تمام اطراف پر غوروفکر کرتے اور ان دو بچوں سے اظہارِ محبت پر باپ کے دلائل معلوم کرتے کیونکہ ہمیشہ ذاتی مفادات ہر شخص کی فکر پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے یکطرفہ فیصلوں پر ابھارتے ہیں کہ جن کا نتیجہ حق وعدالت کے راستے سے گمراہی ہے۔ البتہ ان کی مراد دین ومذہب کے اعتبار سے گمراہی نہ تھی بلکہ بعد میں آنے والی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ اپنے باپ کی عظمت اور نبوت پر ان کا عقیدہ تھا اور انہیں صرف ان کے طرزِ معاشرت پر اعتراض تھا۔ بغض، حسد اور کینے کے جذبات نے آخر کار بھائیوں کو ایک منصوبہ بنانے پر آمادہ کیا، وہ ایک جگہ جمع ہوئے اور دو تجاویز ان کے سامنے تھیں کہنے لگے:یایوسف کو قتل کردو یا اسے دور دراز کے کسی علاقے میں پھنک آؤ تاکہ باپ کی محبت کا پورا رخ تمہاری طرف ہو جائے (اقْتُلُوا یُوسُفَ اَوْ اطْرَحُوہُ اَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیکُم)۔ ٹھیک ہے کہ تمہیں اس کام پر احساس گناہ ہو گااور وجدان کی مذمت ہو گی کیونکہ اپنے چھوٹے بھائی پر یہ ظلم کروگے لیکن اس گناہ کی تلافی ممکن ہے، توبہ کرلینا اوراس کے بعد صالح جمعیت بن جانا (وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ)۔ اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ یوسف (علیه السلام) کو باپ کی آنکھوں سے دور کرنے کے بعد ان کے ساتھ تمہارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور اس طرف سے تمہیں جو پریشانی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ ان میں سے پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس عمل کے بارے میں انہیں احساسِ گناہ تھا اور اپنے دل کی گہرائیوں میں وہ تھوڑا سا خوفِ خدا رکھتے تھے، اسی بنا پر وہ یہ گناہ انجام دینے کے بعد توبہ تجویز کررہے تھے لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ انجام جرم سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا درحقیقت وجدان کو دھوکا دینے کے مترادف ہے اور گناہ کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے ہے اور بات کسی طرح بھی پشیمانی اور ندامت کی دلیل نہیں بنتی۔ دوسرے لفظوں میں حقیقی توبہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد انسان میں ندامت اور شرمندگی کی حالت پیدا ہو جائے لیکن گناہ سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا توبہ نہیں ہے۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ضمیر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مذہبی اعتقادات اس کے سامنے بندباندھ دیتے ہیں اور گناہ کی طرف قدم اٹھانے سے روکتے ہیں، اس موقع پر وہ شخص اس بند سے گزرنے کے لیے اور گناہ کی طرف راستہ ہموار کرنے کے لیے اپنے ضمیر اور مذہب کو دھوکا دیتاہے کہ میں گناہ کرلینے کے فورا بعد اس کی تلافی کرلوں گا، ایسا نہیں ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں گا، مَیں توبہ کرلوں گا، بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گا، نیک عمل بجالاؤں گا اور آخرکار ٓاثارِ گناہ دھوڈالوں گا، یعنی جس طرح انجامِ گناہ کے لیے ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے ضمیر کو دھوکا دینے اور مذہبی عقائد پر مسلط ہونے کے لیے بھی ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے اور اکثر اوقات یہ شیطانی منصوبہ بھی بیت موثر ثابت ہوتا ہے اور اس محکم دیوار کو اس ذریعے سے اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے، حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ دوسرا نکتہ یہ کہ انھوں نے کہا کہ یوسف کوراستے سے ہٹا لینے کے بعد باپ کی توجہ اور نگاہ تمیاری طرف ہو جائے گی (یَخْلُ لَکُمْ”وَجْہ“ اَبِیکُم)، یہ نہیں کہا کہ باپ کا دل تمہاری طرف مائل ہو جائے گا (یَخْلُ لَکُمْ”قلب“ اَبِیکُم)، کیونکہ انہیں اطمینان نہیں تھا کہ باپ اتنی جلدی اپنے بیٹے یوسف کو بھول جائے گا، یہی کافی ہے کہ باپ کی ظاہری توجہ ان کی طرف ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اگر باپ کا رخ اور نظر مائل ہو جائے تو یہ دل کے مائل ہونے کی بنیاد بن جائے گا، جب باپ کی نظر ان کی طرف ہوئی تو آہستہ آہستہ دل بھی ہو جائے گا۔ لیکن بھائیوں میں سے ایک بہت سمجھدار تھا یا اس کا ضمیر نسبتا زیادہ بیدار تھا اسی لیے اس نے یوسف کو قتل کرنے کے منصبوبے کی مخالفت کی اور اسی طرح کسی دور دراز علاقے میں پھینک آنے کی تجویز کی بھی، کیونکہ ان منصوبے میں یوسف (علیه السلام) کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس نے ایک تیسرا منصوبہ پیش کیا، وہ کہنے لگا:اگر تمہیں ایسا کام کرنے پر اصرار ہی ہے تو یوسف (علیه السلام) کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی کنویں میں پھینک دو (اس طرح سے کہ وہ زندہ رہے) تاکہ راہ گزاروں کے کسی قافلے کے ہاتھ لگ جائے اوروہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں اور اس طرح یہ ہماری اور باپ کی آنکھوں سے دور ہو جائے (قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ لَاتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَاَلْقُوہُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ)۔

چند نکات

۱۔”غیابات الجب“ کا مفہوم: ”جُب“ اس کنویں کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے چُنا گیا ہو، شاید زیادتر بیابانی کنویں اسی قسم کے ہوتے ہیں اور ”غیابت“ کنویں میں پوشیدہ جگہ کو کہتے ہیں کہ جونگاہوں سے غیب اور اوجھل ہو، یہ تعبیر گویا اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ جو معمولاً بیابانی کنوؤںمیں ہوتی ہے اوروہ یہ کہ کنویں کی تہ میں پانی کی سطح کے قریب، کنویں کی دیوار میں طاقچہ کی صورت میں ایک چھوٹی سی جگہ بنا دیتے ہیں تاکہ اگر کوئی کنویں کی تہ میں جائے تو اس پر بیٹھ سکے اور جو برتن اپنے ساتھ لے جائے، خود پانی میں جائے بغیر اسے بھر لے، ظاہر ہے کہ اگر کنویں کے اوپر سے دیکھا جائے تو یہ جگہ صحیح طور پر نظر نہیں آتی، اسی بنا پر اسے ”غیابات“ کہا گیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر المنار سے اقتباس، مذکورہ آیت کے ذیل میں) ہمارے ہاں بھی اس قسم کے کنویں پائے جاتے ہیں۔ ۲۔ اس تجویز کا مقصد: اس میں شک نہیں کہ یہ تجویز پیش کرنے والے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یوسف (علیه السلام) کو کنویں میں اس طرح پھینکا جائے کہ وہ ختم یوجائے بلکہ اس کا مقصدیہ تھا کہ وہ کنویں کے پنہاں مقام پر رہے تاکہ صحیح وسالم قافلوں کے ہاتھ لگ جائے۔ ۳۔ ”ان کنتم فاعلین“ کا مطلب: اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والے نے حتیٰ یہ تجویز بھی ایک قطعی اور فیصلہ کن بات کے طور پر پیش نہیں کی شاید وہ ترجیح دیتا تھا کہ یوسف کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ ۴۔ کنویں والی تجویز کس نے پیش کی: کنویں والی تجویز پیش کرنے والے کا نام کیا تھا، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس کا نام”روبین“ تھا کہ جو ان سب سے زیادہ سمجھدار شمار ہوتا تھا، بعض نے ”یہودا“ کا نام لیا ہے اور بعض نے ”لاویٰ“ کا ذکر کیا ہے۔ ۵۔انسانی زندگی میں حسد کے تباہ کن اثرات: ایک اور اہم درس جو ہم اس واقعے سے سیکھتے ہیں یہ ہے کہ کس طرح حسد انسان کو بھائی کے قتل یا اس سے بھی زیادہ سخت تکلیف دہ مقام تک لے جاتا ہے اور اگر اس اندرونی آگ پر قابو نہ پایا جائے تو یہ کس طرح دوسروں کو بھی آگ میں دھکیل دیتی ہے اور کود حسد کرنے والے کو بھی۔ اصولاً جب کوئی نعمت کسی دوسرے کو میسر آتی ہے اور خود انسان اس سے محروم رہ جاتا ہے تو اس میں چار مختلف حالتیں پیدا ہوتی ہیں: پہلی یہ کہ وہ آرزو کرتا ہے کہ جس طرح یہ نعمت دوسروں کو حاصل ہے مجھے بھی ہو، اس حالت کو”غبطہ“(رشک) کہتے ہیں اور قابلِ تعریف حالت ہے کیونکہ یہ انسان کو ایسی اصلاحی کوشش کی طرف ابھارتی ہے اورمعاشرے پر کوئی برا اثر مرتب نہیں کرتی۔ دوسری یہ کہ وہ خواہش کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسروں سے چھن جائے اور وہ اس مقصد کے لیے کوشش کرنے لگتا ہے، یہی وہ تنہائی مذموم حالت ہے جسے ”حسد“ کہتے ہیں، یہ حالت انسان کو دوسروں کے خلاف غلط کوشش پر ابھارتی ہے اور خوداپنے بارے میں کسی اصلاحی کوشش پر آمادہ نہیں کرتی۔ تیسری یہ کہ وہ تمنا کرے کہ خود یہ نعمت حاصل کرلے اور دوسرے اس سے محروم رہ جائیں، اسی حالت کو ”بخل“ اور اجارہ داری کہتے ہیں یعنی ہر چیز انسان اپنے لیے چاہے اور دوسروں کی اس سے محرومیت پر لذت محسوس کرے۔ چوتھی یہ کہ وہ چاہے کہ دوسرا اس نعمت میں رہے اگرچہ وہ خود محرومیت میں زندگی بسر کرے، یہاں تک کہ وہ اس پر بھی تیار ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ بھی دوسروں کو دے دے اور اپنے مفادات سے صرفِ نظر کرے اس بالاوبرتر حالت کو ”ایثار“ کہتے ہیں کہ جو اہم ترین اور بلند انسانی صفات میں سے ہے۔ بہرحال حسد نے صرف بردرانِ یودف کو اپنے بھائی کے قتل کی سرحد تک نہیں پہنچایا بلکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حسد انسان کو خود اس کی اپنی نابودی پر بھی ابھارتا ہے اسی بنا پر اسلامی احادیث میں اس گھٹیا صفت کے خلاف جہاد کے لیے ہلا دینے والی تعبیرات دکھائی دیتی۔ہیں، نمونے کے طور پر ہم یہاں چند ایک احادیث نقل کرتے ہیں۔ پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا نے موسیٰ بن عمران کو حسد سے منع کیا اوران سے فرمایا: ان الحاسد ساخط لنعمی صاد لقسمی الذی قسمت بین عبادی ومن یک کذٰلک فلست منہ ولیس منی یعنی۔ حسد کرنے والا میرے بندوں کو ملنے والی نعمتوں پر ناخوش رہتا ہے اور اپنے بندوں میں جو کچھ میں نے تقسیم کیا ہے اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے، جو شخص ایسا ہو نہ وہ مجھ سے ہے اور نہ مَیں اس سے ہوں۔ (بحوالہ اصول کافی، ج۲،ص ۳۰۷)۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے: آفة الدین الحسد والعجب والفخر۔ دین کے لیے تین چیزیں آفت اور مصیبت ہیں حسد، خودپسندی اور غرور۔ ایک اور حدیث میں اسی امام (علیه السلام) سے منقول ہے: ان المومن یغبط ولایحسد، والمنافق یحسد ولا یغبط۔ اہل ایمان رشک کرتے ہیں حسد نہیں کرتے لیکن منافق حسد کرتے ہیں رشک نہیں کرتے۔ (بحوالہ:اصول کافی، ج۲، ص ۳۰۷) ۶۔ماں باپ کے لیے ایک سبق: اس واقعے کے اس حصے سے یہ درس بھی لیا جا سکتا ہے کہ ماں باپ کو اولاد سے اظہارِ محبت میں بہت زیادہ غور وخوض کرنا چاہیئے، اگرچہ اس میں شک نہیں کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے اس معاملے میں کسی خطا کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور وہ حضرت یوسف (علیه السلام) اور ان کے بھائی بنیامین سے جو اظہارِ محبت کرتے تھے وہ کسی اصول اور وجہ کے تحت تھا اور جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں تاہم یہ ماجرا نشاندہی کرتا ہے کہ ضروری ہے کہ اس مسئلے میں انسان بہت حساس ہو اور اس پہلو کو سختی سے ملحوظ رکھے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بیٹے سے اظہار ِ محبت دوسرے بیٹے کے دل میں ایسے جذبات پیدا کر دیتا ہے کہ وہ ہرکام کرگزرنے پر تیار ہو جاتا ہ۔، اس طرح وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اپنی شخصیت درہم برہم ہو گئی ہے اور پھر وہ اپنے بھائی کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی حد کو خاطر میں نہیں لاتا، یہاں تک کہ اگر وہ خود کسی ردِّ عمل کا مظاہرہ نہ کر سکے تو اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے اور بعض اوقات نفسیاتی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک واقعہ مجھے نہیں بھولتا کہ میرے ایک دوست کا چھوٹا بچہ بیمار تھا، فطری طور پر اسے زیادہ محبت کی ضرورت تھی، باپ نے بڑے بیٹے کو اس کی خدمت پر لگا دیا، تھوڑا ہی عرصہ گزراتھا کہ بڑا بیٹا ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں گرفتار ہو گیا کہ جس کی شناخت نہیں ہوتی تھی، میں نے اس عزیز دوست سے کہا کہ اس کی وجہ اظہارِ محبت میں عدمِ عدالت ہی نہ ہو؟ وہ میری اس بات کا یقین نہیں کرتا تھا، وہ ایک ماہرِ نفسیات کے طبیب کے پاس گیا، طبیب نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو کوئی خاص بیماری نہیں ہے اس بیماری کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کی کمی کے مسئلے میں گرفتار ہے اور اس کی شخصیت پر ضرب لگی ہے جب کہ اس کے چھوٹے بھائی کو یہ تمام محبت حاصل ہوئی ہے۔ اسی لیے اسلامی احادیث میں ہے کہ: ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: بعض اوقات مَیں اپنے کسی بچے سے اظہارِ محبت کرتا ہوں، اسے اپنے زانو پر بٹھاتا ہوں، اسے بکری کی دستی دیتا ہوں اور اس کے منہ میں چینی ڈالتا ہوں، حالانکہ مَیں جانتا ہوں کہ حق دوسرے کا ہے لیکن پھر بھی یہ کام اس لیے کرتا ہوں تاکہ وہ میرے دوسرے بچوں کے خلاف نہ ہو جائے اور جیسے برادرانِ یوسف نے ہوسف کے ساتھ کیا وہ اس طرح نہ کرے۔ (بحوالہ: بحار، ج۴،ص ۷۸)۔

11
12:11
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأۡمَ۬نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ
یوسف کے بھائی باپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اباجان! آپ ہمارے بھائی یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان کیوں نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
12:12
أَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدٗا يَرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
اسے کل ہمارے ساتھ (شہر سے باہر) بھیج دو تاکہ خوب کھائے پیئے، کھیلے کودے اور سیر و تفریح کرے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
12:13
قَالَ إِنِّي لَيَحۡزُنُنِيٓ أَن تَذۡهَبُواْ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأۡكُلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَأَنتُمۡ عَنۡهُ غَٰفِلُونَ
باپ نے کہا: اس کے دور ہونے سے میں غمگین ہوں گا اور مجھے ڈر ہے کہ اسے بھیڑیا نہ کھا جائے اور تم اس سے غافل رہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
12:14
قَالُواْ لَئِنۡ أَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ إِنَّآ إِذٗا لَّخَٰسِرُونَ
انہوں نے کہا اگر اسے بھیڑیا کھا جائے، جبکہ ہم طاقتور گروہ ہیں، تو ہم زیاکاروں میں سے ہوں (اور ہر گز ایسا ممکن نہیں ہے)۔

منحوس سازش

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے جب یوسف کو کنویں میں ڈالنے کی آخری سازش پر اتفاق کر لیا تو یہ سوچنے لگے کہ یوسف (علیه السلام) کو کس طرح لے کر جائیں لہٰذا اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک اور منصوبہ تیار کیا، اس کے لیے وہ باپ کے پاس آئے اور اپنے حق جتانے کے انداز میں، نرم ونازل لہجے میں محبت بھرے شکوے کی صورت میں کہنے لگے: ابا جان! آپ یوسف کو کیوں کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اور ہمارے سپرد نہیں کرتے، آپ ہمیں بھائی کے بارے میں امین کیوں نہیں سمجھتے حالانکہ ہم یقینا اس کے خیر خواہ ہیں(قَالُوا یَااَبَانَا مَا لَکَ لَاتَاْمَنَّا عَلیٰ یُوسُفَ وَإِنَّا لَہُ لَنَاصِحُونَ)۔ آئیے! جس کا آپ متہم سمجھتے ہیں اسے جانے دیجئے، علاوہ ازیں ہمارا بھائی نو عمر ہے، اس کا بھی حق ہے، اسے بھی شہر سے باہر کی آزاد فضا میں گھومنے پھرنے کی ضرورت ہے، اسے گھر کے اندر قید کر دینا درست نہیں، کل اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ یہ شہر سے باہر نکلے، چلے پھرے، درختوں کے پھل کھائے، کھیلے کودے اور سیر وتفریح کرے (اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَب)۔ (تشریحی نوٹ: ”یرتع“ ”رتع“ (بروزن”قطع“) کے مادہ سے دراصل جانوروں کے چرنے اور خوب کھانے کے معنی میں ہے لیکن کبھی انسان کے لیے تفریح کرنے اور کوب کھانے پینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔ اور اگر آپ کو اس کی سلامتی کا خیال ہے اور پریشانی ہے تو”ہم سب اپنے بھائی کے محافظ ونگہبان ہوں گے“کیونکہ آخر یہ ہمارا بھائی اور ہماری جان کے برابر ہے (وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ)۔ اس طرح انھوں نے بھائی کو باپ سے جدا کرنے کا بڑا ماہرانہ منصوبہ تیار کیا، ہو سکتا ہے انھوں نے یہ باتیں یوسف (علیه السلام) کے سامنے کی ہوں تاکہ وہ بھی باپ سے تقاضا کریں اور ان سے صحرا کی طرف جانے کی اجازت لے لیں۔ اس منصوبے میں ایک طرف باپ کے لیے انھوں نے باپ کے لیے یہ مشکل پیدا کر دی تھی کہ اگر وہ یوسف کو ہمارے سپرد نہیں کرتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہمیں متہم سمجھتا ہے اور دوسری طرف کھیل کود اور سیر وتفریح کے لیے شہر سے باہر جانے کی یوسف (علیه السلام) کے لیے تحریک تھی۔ جی ہاں! جو لوگ غفلت میں ضرب لگانا چاہتے ہیں ان کے منصوبے ایسے ہی ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے تمام نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں سے کام لیتے ہیں لیکن صاحبانِ ایمان افراد کو ”المومن کیس“ (مومن ہوشیار ہوتا ہے) کے مصداق ایسے خوبصورت ظواہر سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے اگرچہ ایسی سازش بھائی کی سے کیوں نہ ہو۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے برادرانِ یوسف کی باتوں کے جواب میں بجائے اس کے کہ انہیں بُرے ارادے کا دیتے کہنے لگے مَیں تمہارے ساتھ یوسف کو بھیجنے پر تیار نہیں ہوں تو اس کی دو وجوہ ہیں: پہلی یہ کہ یوسف کی جدائی میرے لیے غم انگیز ہے (قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی اَنْ تَذْھَبُوا بِہِ)۔ اور دوسری یہ کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے ارد گرد کے بیابانوں میں خونخوار بھیڑےے ہوں”اور مجھے ڈر ہے کہ مبادا کوئی بھیڑیامیرے فرزندِ دلبند کو کھاجائے اور تم اپنے کھیل کود، سیر وتفریح اور دوسرے کاموں میں مشغول ہوں“(وَاَخَافُ اَنْ یَاٴْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غَافِلُونَ)۔ یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس سفر میں بھائی اپنے آپ میں مشغول ہوں اور اپنے چھوٹے بھائی سے غافل ہوں اور بھڑیوں سے بھرے اس بیابان میں کوئی بھیڑیا یوسف کو آلے، البتہ بھائیوں کے پاس باپ کی پہلی دلیل کا کوئی جواب نہ تھا کیونکہ یوسف کی جدائی کا غم ایسی چیز نہ تھی کہ جس کی وہ تلافی کر سکتے بلکہ شاید اس بات نے بھائیوں کے دل میں حسد کی آگ کو اور بھڑدیا ہو۔ دوسری طرف بیٹے کو باہر لے جانے کے بارے میں باپ کی دلیل کا جواب تھا کہ جس کے ذکر کی چنداں ضرورت نہ تھی اور وہ یہ کہ آخرکار بیٹے کو نشوونما اور تربیت کے لیے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے باپ سے جدا ہونا ہے اور اگر وہ نورستہ کے پودے کی طرح ہمیشہ باپ کے زیرِ سایہ رہے تو نشوونما نہیں پاسکے گااور بیٹے کے تکامل اور ارتقاء کے لیے باپ مجبور ہے کہ یہ جدائی برداشت کرے، آج کھیل کود ہے کل تحصیلِ علم ودانش ہے، پرسوں زندگی کے لیے کسب وکار اور سعی وکوشش ہے، آخرکار جدائی ضروری ہے۔ لہٰذا اصلاً انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا بلکہ دوسری دلیل کا جواب شروع کیا کہ جو ان کی نگاہ میں اہم اور بنیادی تھی”کہنے لگے: کیسے ممکن ہے ہمارے بھائی کوبھیڑیا کھاجائے حالانکہ ہم طاقتور گروہ ہیں، اگر ایسا ہو جائے تو ہم زیان کاروبد بخت ہوں گے“(قَالُوا لَئِنْ اکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُون)۔ یعنی کیا ہم مُردہ ہیں کہ بیٹھ جائیں اور دیکھتے رہیں گے اور بھیڑیا ہمارے بھائی کو کھاجائے گا، بھائی کو بھائی سے جو تعلق ہوتا ہے اس کے علاوہ جو بات اس کی حفاظت پر ہمیں ابھارتی ہے یہ ہے کہ ہماری لوگوں میں عزت وآبرو ہے، ؛لوگ ہمارے متعلق کیا کہیں گے، یہی ناکہ طاقتور موٹی گردنوں والے بیٹھے رہے اور اپنے بھائی پر بھیڑے کو حملہ کرتے دیکھتے رہے، کیا پھر ہم لوگوں میں جینے کے قابل رہیں گے۔ انھوں نے ضمناً باپ کی اس بات کا بھی جواب دیا کہ ہو سکتا ہے تم کھیل کود میں لگ جاؤ اور یوسف سے غافل ہوجاؤ اور وہ یہ کہ یہ مسئلہ گویا ساری دولت اور عزت وآبرو کے ضائع ہونے کا ہے ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ کھیل کود ہمیں غافل کر دے کیونکہ اس صورت میں ہم لوگ بے وقعت ہو جائیں گے اور ہماری کوئی قدروقیمت نہیں ہو گی۔ یہاں سوال سامنے آتا ہے کہ تمام خطرات میں سے حضرت یعقوب (علیه السلام) نے صرف بھیڑےے کے حملے کے خطرے کی نشاندہی کیوں کی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ کنعان کا بیابان بھیڑیوں کا مرکز تھا، اس لیے زیادہ خطرہ اسی طرف سے محسوس ہوتا تھا۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ یہ ایک خواب کی وجہ سے تھا کہ جو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے پہلے دیکھا تھا کہ بھیڑیوں نے ان کے بیٹے یوسف پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے کنائے کی زبان میں بات کی تھی اوران کی نظر بھیڑیا صفت انسانوں کی طرف تھی، جیسے یوسف کے بعض بھائی تھے۔ بہرحال انھوں نے بہت حلیے کیے، خصوصا حضرت یوسف (علیه السلام) کے معصوم جذبات کوتحریک کی اور انھیں شوق دلایا کہ وہ شہر سے باہر تفریح کے لیے جائیں اور شاید یہ ان کے لیے پہلا موقع تھا کہ وہ باپ کو اس کے لیے راضی کریں اور بہر صورت اس کام کے لیے ان کی رضامندی حاصل کریں۔

چند قابل توجہ دروس

داستان کے اس حصے سے ہمیں چند زندہ دروس ملتے ہیں کہ جن کی طرف توجہ کرنا چاہیئے ۔ 1: دوستی کے لبادے میں دشمن کی سازشیں: دشمن عموما کھل کر بغیر کسی پردے کے میدان میں نہیں آتے بلکہ مخالف کو غفلت میں رکھنے اوراسے ہر قسم کے دفاع سے روکنے کے لیے اپنے کاموں کو ُپر فریب لباس میں پوشیدہ رکتھے ہیں ۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے ان کے قتل یا جلاوطنی کی سازش کو نہایت اعلی احساسات اور برادرانہ جذبات کے پردے میں چھپائے رکھا، ایسے احساسات کہ جو حضرت یوسفؑ کےلیے بھی تحریک آمیز تھے اور ظاہرا باپ کے لیے بھی قابل قبول تھے ۔ یہ وہی روش ہے جس کا سامنا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں وسیع سطح پر کرتے ہیں، جو دشمن ہمارے خلاف قسم کھائے ہوئے ہیں ان سے اس طرح سے سخت ضربات اورصدمے ہم نے جھیلے ہیں وہ کچھ کم نہیں ہیں۔ کبھی اقتصادی امداد کے نام پر،کبھی ثقافتی روابط کے عنوان سے،کبھی حقوق انسانی کی حمایت کے لباس میں اور کبھی دفاعی معاہدوں کی صورت میں انہیں نے مستضعف قوموں کے خلاف بدترین اور شرمناک استعماری ہتھکنڈے آزمائے ہیں ہم بھی ان کی ایسی قرارداوں اور سازشوں کا ایک شکار ہیں۔ لیکن ان سب کا تاریخی تجربات کی روشنی میں اب تک تو ہمیں اتنی ہوش آجانا چاہیئے کہ اب ہم ان خونخوار بھیڑیوں کے اظہار محبت اور چکنی چپٹری باتوں سے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ جو اپنے آپ کو ہمدرد انسانوں کے لبادے میں پیش کرتے ہیں ۔ ہم ابھی تک نہیں بھولے کہ مسلط عالمی سوپر طاقتوں نے ڈاکٹروں اور دوائیوں کے پردے میں بعض جنگ زدہ افریقی ملکوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اسلحہ اور اہم چیزیں بھیجیں ۔ وہ سفارت کاروں اور ناظم الاموروں کے پردے میں اپنے نہایت خطرناک جاسوس دنیا کے مختلف علاقوں میں بھجتے ہیں ۔ فوجی مشیروں اور ماڈرن اور پچیدہ اسلحے کی تربیت دینے والوں کے نام پرتمام فوجی راز ساتھ لے جاتے ہیں ۔ ٹیکنیشنز اورفنی ماہرین کے ذریعے وہ قوموں کی اپنی مرضی کے اقتصادی راستے پر ڈال دیتے ہیں ۔ کیا یہ تمام تاریخی تجربے ہمارے لیے کافی نہیں ہیں کہ ہم کبھی ان خوبصورت لبادوں سے دھوکا نہ کھائیں اور ان ظاہری انسانی نقابوں کے پیچھے ان بھیڑیوں کے حقیقی چہرے شناحت کریں ۔ 2- سیرو تفریح انسان کی فطری ضرورت ہے: درست سرگرمیاں اور صحیح قسم کی سیر و تفریح انسان کی فطری ضرورت ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب بیٹوں نے حضرت یعقوبؑ سے حضرت یوسفؑ کےلیے سیر وتفریح کی ضرورت کا استدلال پیش کیا تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور عملا اسے قبول کرلیا۔ خود اس امر کی دلیل ہے کہ کوئی عقل سلیم اس فطری اور طبیعی ضرورت کا انکار نہیں کرسکتی انسان کوئی لوہے کی مشین نہیں کہ جتنا چاہیں اس سے کام لیں بلکہ وہ روح رکھتا ہے کہ جو اس کے جسم کی طرح تھک جاتی ہے ۔ وہ بھی تازہ جوش اور صحیح سیر و تفریح کی احتیاج رکھتی ہے۔ نیز تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اگر ایک طرز کاکام جاری رکھے تو نشاط اور خوشی کی کمی کی وجہ سے تدریجا اس کا فائدہ کم ہوجاتا ہے اور اس ی کارکردگی میں کمی آتی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس چند گھنٹوں کی سیر وتفریح اور کوئی صحیح قسم کی بھاگ دوڑ اور خوشی کے بعد اس میں ایسی نشاط کار پیدا ہوتی ہے کہ کام کی کمیت اور کیفیت دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر وہ گھڑیاں جو سیر و تفریح میں صرف ہوتی ہیں وہ کام کےلیے مددگار ہوتی ہیں۔ اسلامی روایات میں یہ حقیقت نہایت عمدہ پیرائے میں ایک حکم طور پر بیان ہوئی ہے ۔ اس ضمن میں حضرت علیؑ فرماتے ہیں: للمومن ثلاث ساعات فساعۃ یناجی فیھا ربّہ و ساعۃ یرم معاشہ و ساعۃ یخلی بین نفسہ و بین لذتھا فیما یحل و یجمل مومن کی زندگی تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ایک حصے میں وہ روحانیت حاصل کرتا ہے اور اپنے پروردگار سے مناجات کرتا ہے دوسرا حصہ حصول ِمعاش کی فکر اور تگ ودو میں گذارتا ہے اور تیسرا حصہ حلال اور مشروع لذتیں حاصل کرنے کےلیے مختص کرتا ہے ۔(بحوالہ:نہج البلاغہ، کلمات قصار، کلمہ 49) اور یہ امر جاذب۔ نظر اور قابل غور ہے کہ ایک اور حدیث میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے: و ذلک عون عالی سائر الساعات اوریہ سرگرمی اور صحیح تفریح دیگر پروگراموں کے لیے مددگار ہے۔ بعض کے بقول یہ دوڑ بھاگ اور سیر و تفریح کی سروس اور ٹیونگ (tuning) کی طرح ہے ۔ اگرچہ یہ گاڑی اس کام کے لیے ایک کھنٹے کھڑی رہےگی لیکن بعد میں نئی طاقت حاصل کرلے گی جو اس وقت کی تلافی کئی گنا وقت سے کر دے گی علاوہ ازیں سروس (serves) وغیرہ سے اس گاڑی کی عمر میں اضافہ ہو گا ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ سیر و تفریح اور ایسی سرگرمیاں صحیح اور درست ہوں ورنہ نہ صرف مشکل حل نہیں ہوگی بلکہ مشکلات میں اضافہ ہوگا کیونکہ بہت سی غلیظ تفریحات ایسی ہیں جو انسانی روح اور اعصاب کے لیے تباہ کن ہیں اور اس سے ایک مدت کے لیے کام اورفعالیت کی طاقت چھین لیتی ہیں یا کم از کم کام کے نتیجے اور کارکردگی کا گراف بہت گرا دیتی ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام میں صحیح تفریح کے مسئلے کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اسلام نے مختلف قسم کےمقابلوں کی بلکہ یہاں تک کہ ان میں شرط لگانے کی بھی اجازت دی ہے تاریخ کہتی ہے کہ بعض مقابلے خود پیغبر اکرم ؐ کے سامنے اور آپؐ کی نگرانی میں ہوئے۔ حتی کہ آپؐ مقابلے میں سواری کے لیے اپنے اصحاب کو اپنا خآص اونٹ دے دیتے تھے ۔ ایک روایت میں امام صادقؑ سے مروی ہے کہ آپؐ نےفرمایا: انّ النبی (ص) اجری الابل مقبلۃ من تبوک فسبقت الغضباء و علیھا اسامۃ، فجعل الناس یقولون سبق رسول اللہ (ص) و رسول اللہ یقول سبق اسامۃ جب پیغمبرؐ تبوک سے واپس آرہے تھے تو آپؐ نے اصحاب کے درمیان سواریوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا ۔ اسامہ رسول اللہؐ کی مشہور اونٹی "غصبا " پر سوار تھے وہ سب سے آگے نکل گئی چونکہ وہ رسول اللہ کی اونٹنی تھی اس لیے لوگ پکارے کہ رسول اللہ جیت گئے لیکن رسول اللہ ؐ نے پکار کر کہا کہ: اسامہ جیت گیا (یہ اس طرف اشارہ تھا کہ اہم کام سوار کا ہے نہ کہ سواری کا کیونکہ بعض اوقات سواری ناتجربہ کار ہاتھوں میں ہو تا ان سے کچھ نہیں ہو پاتا ۔ (بحوالہ: سفینہ البحار،ج 1 ص 596) اس میں دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جیسے برادران۔ یوسف نے انسان خصوصا نوعمر کے سیر وتفریح سے لگاؤ سے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے سوء استفادہ کیا آج کی دینا میں بھی حق و عدالت کے دشمنوں کے خفیہ ہاتھ ورزش اور تفریح کے عنوان سے نسل جوان کے افکار کو مسموم کرنے کے لیے بہت غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمیں خبردار رہنا چاہیے کہ بھیڑیا صفت سوپر طاقتیں ورزش اورتفریح کےنام پر نوجواںوں کے درمیان کھیلوں وغیرہ کے علاقائی یا عالمی مقابلے منعقد کروا کر اپنے منحوس منصوبوں کو عملی جامعہ پہناتی ہیں۔ مجھے نہیں بھولتا کہ زمانہ طاغوت (معدوم شاہ ایران کے دور کو اہل ایران زمانہ طاغوت کہتے ہیں۔مترجم) میں جب لوگ خاص منصوبوں کو عملی جامعہ پہنانا چاہتے اور ملک کے اہم سرمائے اور ذخایر معمولی سی قیمت پر غیروں کے ہاتھ بیچنا چاہتے تو کھیلوں کے مقابلوں کا ایک طول و عریض سلسلہ شروع کر دیتے اور لوگوں کو ان کھیلوں سے اس قدر مشغول رکھتے کہ ان کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ کا موقع ہی نہ آنے دیتے کہ جو ان کے معاشرے پر اثر انداز ہوتے تھے۔ 3- بیٹا باپ کے زیر سایہ: اگرچہ ماں باپ کی اپنے بچے سے محبت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اسے اپنے پاس رکھیں لیکن واضح ہے کہ قانونِ فطرت کے لحاظ سے اس محبت کی وجہ بوقت ضرورت بیٹے کے لیے بے دریغ حمایت ہے۔ اسی بناء پر اس کے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ خود پر اس کا انحصار کم کرنا پاہیے اور بیٹے کو موقع دینا چاہیے کہ وہ زندگی استقلال اور خود اعتمادی کی طرف قدم بڑھائے کیونکہ اگر ایک تازہ پکے ہوئے پھول کی طرح ہمیشہ تنومند درخت کے سائے میں رہے تو وہ ضروری رشد و نمو حاصل نہیں کی سکے گا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بیٹوں کے تقاضے پرحضرت یعقوب یوسفؑ سے تمام تر لگاؤ اور عشق باوجود اسے اپنے سے جدا کرنے پر تیار ہوگئے اور شہر سے باہر بھیجنے پر آمادہ ہوگئے ۔ اگرچہ یہ کام یعقوبؑ کے لیے بہت بھاری تھا لیکن یوسفؑ کی مصلحت اور اس مستقل رشد نموتقاضا کرتا تھا کہ و آہستہ آہستہ اپنے سے دور گھنٹے اور کئی دن بسر کرنے کی اجازت دے دیں ۔ یہ ایک اہم ا تربیتی مسئلہ ہے جس سے بہت سے ماں باپ غاغل ہیں اور اصطلاح کے مطابق اپنی اولاد کی "لاڈلے بچوں" کی طرح پرورش کرتے ہیں، اس طرح کے ماں باپ کی سرپرستی کے بغیر ہرگز زندگی بسر نہیں کرسکتے۔ وہ طوفان زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ حوادث کا تھپیڑا انہیں زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ اسی بناء پر عظیم شخصیات میں سے بہت سی ایسی تھیں کہ جو بچپن ہی سے ماں باپ سے محروم ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی خود بنائی اور بڑی مشکلات میں انہوں نے پرورش پائی۔ یہ امر قابل غور ہے کہ یہی بات فطری جذبے کے طور بعض جانوروں میں دیکھی گئی ہیں کہ مثلا ابتداء میں بچے ماں کے پر وبال کےک نیچے رہتے اور ماں اپنی جان عزیز کی طرح ہر حادثے کے موقع پر ان کا دفاع کرتی ہے لیکن جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ماں ان سے اپنی حمایت اٹھا لیتی ہے بلکہ اگروہ اس کے پیچھے آئیں تو چونچ کے ذریعے انہیں سختی سے اپنے سے دور کر دیتی ہے ۔ یعنی وہ کہتی ہے کہ جاؤ اور مستقل زندگی کا طریقہ سیکھو، کب تک انحصار کرتے ہوئے وابستہ رہ کر ایسی زندگی گذارو گے کہ جو استقلال سے عاری ہو، تم بھی خود سے ایک شخص ہو۔ لیکن بہرحال یہ امر رشتہ قرابت اور حفظ مؤدت و محبت کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ گہری محبت ہے اور سوچا سمجھا تعلق ہے جس میں دونوں طرف مصلت ہے۔ 4- جرم سے پہلے نہ قصاص ہے نہ الزام: اس داستان کے اس حصے میں ہم اچھی طرح مشاہدہ کرتے کہ اگرچہ یعقوبؑ یوسفؑ سے ان کے بھائیوں کا حسد جانتے تھے اور اسی لیے آپ نے حضرت یوسفؑ کو حکم دیا کہ اپنا عجیبو غریب خواب ان سے چھپائے رکھیں لیکن ان پر یہ الزام لگانے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوئے کہ تم میرے بیٹے ہوسفؑ کے بارے میں برا ارادہ رکھتے ہو بلکہ انہوں نے یوسفؑ کی جدائی کے ناگوار اور بیابان کے بھیڑیوں کے خوف کا عذر پیش کیا ۔ انسنی اخلاق ومعیار اور عادلانہ اصول۔قضاوت بھی اسی کا تقاضا کرتے ہیں کہ جب تک کسی شخص سےغلط کام کی نشانیاں ظاہر نہ ہوں اس پر الزام نہ لگائیں ۔ اصل یہ ہے کہ ہر کسی کی پاکیزگی اور درستی تسلیم کی جائے جب تک اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے ۔ 5-د شمن کو تلقین: ایک اور نکتہ یہ ہے مذکورہ آیات کہ ذیل میں رسول اکرمؐ سے مروی ہے کہ: لاتلقنوا الکذب فتکذب فان بنی یعقوب لم یعلموا ان الذئب یاکل الانسان حتی لقنٰھم ابوھم جھوٹے کو تلقین نہ کرو کہ وہ تم سے جھوٹ بولے کیونکہ یعقوبؑ کے بیٹے اس وقت نہیں جانتے تھے کہ ہو سکتا ہےکہ بھیڑیا انسان پر حملہ کر کے اسے کھا لے جب تک کہ باپ نے انہیں تلقین نہیں کی تھی (بحوالہ: نور الثقلین ج 2 ص 415) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوسرا عذر بہانہ اور انحرانی راستے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ تم متوجہ رہو کہ کہیں خود تم مختلف احتمالات ذکر کرکے اسے انحرافی راستوں کا پتہ نہ بتا دو۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے بعض اوقات انسان اپنے چھوٹے نچے کو کہتا ہے کہ اپنی گیند لیمپ پر نہ مارنا ۔ بچہ جو اب تک نہیں جانتا تھا کہ گیند لیمپ کو ماری جا سکتی ہے، اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ یہ کام ہو سکتا ہے اور اس کی جستجو کی حس اسے تحریک دیتی ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ اگر ہیمپ کوگیند لگے تو اس کا اثر کیا ہوگا ۔ اس کے بعد وہ تجربہ کرتا ہے اور اس تجربے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لیمپ ٹوٹ جاتا ہے ۔ یہ صرف بچوں کے لیے ہی کوئی سادہ اور عام سا معاملہ نہیں ہے ۔ ایک بڑے معاشرے کی شطح پر بھی کبھی انحرافی اوامر و نواہی سبب بن جاتے ہیں کہ لوگ بہت سے وہ چیزیں کہ جنہیں وہ نہیں جانتے ہوتے انہیں یاد کر لیتے ہیں اور اس کے بعد انہیں آزمانے کا وسوسہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر مسائل کو کلی اور عمومی حوالے سے پیش کرنا چاہیے تاکہ اس میں بری تعلیم و تربیت نہ ہو جائے۔ البتہ پیغمبرؐ خدا حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں سے یہ بات پاکیزگی اور صفائے دل کے ساتھ کی تھی لیکن گمراہ بیٹوں نے باپ کے بیان سے غلط فائدہ اٹھایا ۔ اس امر کی نظیر وہ طریقہ ہے کہ جس کا سامنا ہم بہت سی تحریروں میں کرتے ہیں۔ مثلا کوئی صاحب منشیات کے مضمرات کے بارے میں یا ستمناء کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور ان مسائل کی اس طرح تشریح کرتے ہیں یا ان مناظر فلم کے ذریعے اسی طرح دکھاتے ہیں کہ ناآگاہ لوگ ان کاموں کے رموز و اسرار سے اگاہ ہوجاتے ہیں ۔ اسے کے بعد اانہیں وہ باتیں بھول جاتیں ہین جو ان کاموں کی مذمت میں اور ان سے بچنے کےلیے کی جاتی ہیں ۔ اسی بناء پر ایسی تحریروں اورفلموں کی بد آموزی کے نقصانات اور غلط اثرات ا نکے فوائد کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ 6- اپنا عہد پورا کرنا چاہیے: اس بحث کا آخری نکتہ یہ ہے کہ یوسفؑ کے بھائیوں نے کہا کہ اگر ہمارے ہوتے ہوئے بھیڑیا ہمارے بھائی کو کھا گیا تو ہم خسارے میں ہیں ۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ انسان جب ذمہ داری قبول کرلیتا ہے تو اسے آخری سانس تک ثابت قدم رہنا چاہیے ورنہ اپنی وقعت کھو بھیٹے گا اور اپنے مقام و آبرو کا سرمایہ اجتماعی حیثیت کی قدر قیمت اور ضمیر کا سرماایہ گنوا بیٹھے گا ۔ کیسے ممکن ہے کہ انسان کا ضمیر بیدار اور شخصیت بلند ہو اور اسے اپنی اجتماعی آبرو کا پاس ہو لیکن پھر بھی جو ذمہ داریاں وہ قبول کر چکا ہے ان سے انحراف کرے اور ان کے بارے میں لاپرواہی سے کام لے۔

15
12:15
فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِۦ وَأَجۡمَعُوٓاْ أَن يَجۡعَلُوهُ فِي غَيَٰبَتِ ٱلۡجُبِّۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمۡرِهِمۡ هَٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
جس وقت وہ اپنے ساتھ لے گئے اور مسمم ارادہ کر چکے کہ اسے کنوئیں کے خفیہ گوشے میں ڈال دیں تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ توانہیں آئندہ ان کے اس کام سے باخبر کرے گا جبکہ وہ نہیں جانیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
12:16
وَجَآءُوٓ أَبَاهُمۡ عِشَآءٗ يَبۡكُونَ
رات کے وقت وہ گر یہ کناں باپ کے پاس آگئے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
12:17
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤۡمِنٖ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَٰدِقِينَ
کہنے لگے: اباجان! ہم گئے اور باہمی مقابلے میں مشغول ہو گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے اور اسے بھیڑیا کھا گیا اور اگرچہ ہم سچے ہوں لیکن تو ہر گز ہماری بات کی تصدیق نہیں کرے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
12:18
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٖ كَذِبٖۚ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ وَٱللَّهُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
اور اس کا پیراہن جھوٹ موٹ خون سے آلودہ کر کے (باپ کے پاس) لے آئے اس نے کہا تمہاری نفسانی ہوا و ہوس نے یہ کام تمہارے لئے پسند یدہ بنا دیا میں صبر جمیل کروں گا۔ اور ناشکری نہیں کروں گا۔ اور جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مقابلے میں خدا سے مدد طلب کرتا ہوں۔

رُسوا کُن جُھوٹ

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار بھائی کامیاب ہو گئے، انہوں نے باپ کو راضی کر لیا کہ وہ یوسف (علیه السلام) کو ان کے ساتھ بھیج دے، وہ رات انہوں نے اس خوش خیالی میں گزاری کہ کل یوسف کے بارے میں ان کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرے گا اور راستے کی رکاوٹ اس بھائی کو ہم ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹا دیں گے، پریشانی انہیں صرف یہ تھی کہ باپ پشیمان نہ ہو اور اپنی بات واپس نہ لے لے۔ صبح سویرے وہ باپ کے پاس گئے اور یوسف کی حفاظت کے بارے میں باپ نے ہدایت دہرائیں، انہوں نے بھی اظہارِ اطاعت کیا، باپ کے سامنے اسے بڑی محبت و احترام سے اٹھایا اور چل پڑے۔ کہتے ہیں کہ شہر کے دروازے تک باپ ان کے ساتھ آئے اور آخری دفعہ یوسفؑ کو ان سے لے کر اپنے سینے سے لگایا، آنسو ان کی آنکھوں سے برس رہے تھے، پھر بھی یوسف کو ان کے سپرد کرکے ان سے جدا ہو گئے لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) کی آنکھیں اسی طرح بیٹوں کے پیچھے تھیں، جہاں تک باپ کی آنکھیں کام کرتی تھیں وہ بھی یوسف (علیه السلام) پر نوازش اور محبت کرتے رہے لیکن جب انہیں اطمینان ہو گیا کہ اَٴب باپ انہیں نہیں دیکھ سکتا تو اچانک انہوں نے آنکھیں پھیر لیں، سالہاسال سے حَسد کی وجہ سے جو اُن کے اندر تہ بہ تہ بغض وکینہ موجود تھا وہ حضرت یوسف (علیه السلام) پر نکلنے لگا، ہر طرف سے اسے مارنے لگے، وہ ایک سے بچ کر دوسرے سے پناہ لیتے لیکن کوئی انہیں پناہ نہیں دیتا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس طوفانِ بَلا میں حضرت یوسف (علیه السلام) آنسو بہا رہے تھے اور جب وہ انہیں کنویں میں پھینکنے لگے تو اچانک حضرت یوسف (علیه السلام) ہنسنے لگے، بھائیوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ یہ ہنسنے کو کونسا مقام ہے، گویا یوسف (علیه السلام) نے اس مسئلے کو مذاق سمجھا ہے اور بات سے بے خبر ہے کہ سیاہ وقت اور بدبختی اس کے انتظار میں ہے لیکن یوسف (علیه السلام) نے اس ہنسنے کے مقصد سے پردہ اٹھایا اور سب کو عظیم درس دیا، وہ کہنے لگے: مجھے نہیں بھولتا کہ ایک دن تم طاقتور بھائیوں، تمہارے قوی بازؤوں اور بہت زیادہ جسمانی طاقت پر مَیں نے نظر ڈالی تو مَیں بہت خوش ہوا اور مَیں نے اپنے آپ سے کہا کہ جس کے اتنے دوست اور مددگار ہوں اسے سخت حوادث کا کیا غم ہے، اس دن مَیں نے تم پر بھروسہ کیا اور تمہارے بازؤوں پر دل باندھا، اب تمہارے چنگل میں گرفتار ہوں اور تم سے بچ کر تمہاری طرف پناہ لیتا ہوں اور تم مجھے پناہ نہیں دیتے، خدا نے تمہیں مجھ پر مسلط کیا ہے تاکہ مَیں یہ درس سیکھ لوں کہ اس کے غیر پر یہاں تک کہ بھائیوں پر بھی بھروسہ نہ کروں۔ بہرحال قرآن کہتا ہے:جب وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہوں نے متفقہ فیصلہ کر لیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پھنک دیں گے، اس کام کے لیے جو ظلم ستم ممکن تھا انہوں نے روا رکھا (فَلَمَّا ذَھَبُوا بِہِ وَاَجْمَعُوا اَنْ یَجْعَلُوہُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ)۔ (تشریحی نوٹ: مندرجہ بالا آیت میں ”لما“ کا جواب محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے:فلما ذھبوا بہ واجمعوا ان یجعلوہ فی غیابت الجب عظمت فتنتھم(تفسیر قرطبی)۔ اور یہ حذف شاید اس بنا پر ہو کہ اس دردناک حادثے کی عظمت کا تقاضا تھا کہ کہنے والا اس کے بارے میں خاموش رہے یہ خود بلاغت کے فنون میں سے ایک فن ہے۔(بحوالہ تفسیر المیزان) لفظ ”اجمعوا“ نشاندہی کرتا ہے کہ سب بھائی اس پروگرام پر متفق تھے اگرچہ حضرت یوسف (علیه السلام) کو قتل کرنے میں وہ متفق نہ تھے۔ اصولی طور پر ”اجمعوا“ ”جمع“ کے مادہ سے اکٹھا کرنے کے معنی میں ہے اور ایسے مواقع پر آراء وافکار جمع کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس وقت ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی، اسے تسلی دی اور اس کی دلجوئی کی اور اس سے کہا غم نہ کھاؤ ”ایک دن ایسا آئے گا کہ تم انہیں ان تمام منحوس سازشوں اور منصوبوں سے آگاہ کرو گے اور تمہیں پہچان نہیں سکیں گے(وَاَوْحَیْنَا إِلَیْہِ لَتُنَبِّئَنَّھُمْ بِاَمْرِھِمْ ھٰذَا وَھُمْ لَایَشْعُرُونَ)۔ وہ دن کہ جب تم تختِ حکومت پر تکیہ لگائے ہو گے اور تمہارے یہ بھائی تمہاری طرف دستِ نیاز پھیلائیں گے اور ایسے تشنہ کاموں کی طرح کہ جو چشمہ خوش گوار کی تلاش میں تپتے ہوئے بیابان میں سرگرداں ہوتے ہیں، تمہارے پاس بڑی انکساری اور فروتنی سے آئیں گے، لیکن تم اتنے بلند مقام پر پہنچے ہو گے کہ انہیں خیال بھی نہیں ہو گا کہ تم ان کے بھائی ہو، اس روز تم ان سے کہو گے کہ کیا تمہی نہ تھے جنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی یوسف کے ساتھ یہ سلوک کیا اور اس دن یہ کس قدر شرمسار اور پشیمان ہوں گے۔ اسی سورہ کی آیہ ۲۲ کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحی الٰہی وحیّ نبوت نہ تھی بلکہ یوسف کے دل پر الہام تھا تاکہ وہ جان لے کہ وہ تنہا نہیں ہے اور اس کا ایک حافظ ونگہبان ہے، اس وحی نے قلب یوسف (علیه السلام) پر امید کی ضیا پاشی کی اور یاس وناامیدی کی تاریکیوں کو اس کی روح سے نکال دیا۔ یوسف کے بھائیوں نے جو منصوبہ بنا رکھا تھا اُس پر انہوں نے اپنی خواہش کے مطابق عمل کر لیا، لیکن آخرکار انہیں واپس لوٹنے کے بارے میں سوچنا تھا کہ جاکر کوئی ایسی بات کریں کہ باپ کو یقین آجائے کہ یوسف کسی سازش کے تحت نہیں بلکہ طبیعی طور پر وادی عدم میں چلا گیا ہے اور اس طرح وہ باپ کی نوازشات کو اپنی جانب موڑ سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے جو منصوبہ بنایاتھا وہ بالکل وہی تھا جس کا باپ کو خوف تھا اور وہ جس کی پیش بینی کر چکے تھے، یعنی انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاکر کہیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اس کے لیے فرضی کہانیاں پیش کریں۔ قرآن کہتا ہے: رات کے وقت بھائی روتے ہوئے آئے(وَجَائُوا اَبَاھُمْ عِشَاءً یَبْکُونَ)۔ ان کے جھوٹے آنسو ؤوں اور ٹسوے بہانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹا رونا بھی ممکن ہے اور صرف روتی ہوئی آنکھ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے۔ باپ جو بڑی بے تابی اور بے قراری سے اپنے فرزند دلبند یوسف کی واپسی کے انتظار میں تھا اُس نے جب انہیں واپس آتے دیکھا اور یوسف ان میں دکھائی نہ دیا تو وہ لرز گیا اور کانپ اٹھا، حالات پوچھے تو انہوں نے کہا: اب جان! ہم گئے اور باہم (سواری اور تیر اندازی کے)مقابلوں میں مشغول ہو گئے اور یوسف کہ جو چھوٹا تھا اور ہم سے مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اسے ہم اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے، اس کام میں ہم اتنے محو ہو گئے کہ ہر چیز یہاں تک کہ بھائی کو بھی بھول گئے، اس اثنا ء میں ایک بے رحم بھیڑیا اس طرف آپہنچا اور اس نے اسے چیر پھاڑ کھایا(قَالُوا یَااَبَانَا إِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ)۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم ہرگز ہماری باتوں کا یقین نہیں کریں گے، اگرچہ ہم سچے ہوں کیونکہ تم نے پہلے ہی اس قسم کی پیش بینی کی تھی لہٰذا اسے بہانہ سمجھو گے(وَمَا اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ کُنَّا صَادِقِینَ)۔ بھائیوں کی باتیں بڑی سوچی سمجھی تھیں، پہلی بات یہ کہ انہوں نے باپ کو ”یاابانا“ (اے ہمارے والد) کے لفظ سے مخاطب کیا کہ جس میں ایک جذباتی پہلو تھا، دوسری بات یہ کہ فطری طور پر ایسی تفریح گاہ میں طاقتور بھائی بھاگ دوڑ میں مشغول ہو گئے اور چھوٹے کو ساما ن کی نگہداشت پر مقرر کریں گے اور اس کے علاوہ انہوں نے باپ کو غفلت میں رکھنے کے لیے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور روتی ہوئی آنکھوں سے کہا کہ تم ہرگز یقین نہیں کروگے اگرچہ ہم سچ بول رہے ہوں۔ نیز اس بناء پر کہ باپ کو ایک زندہ نشانی بھی پیش کریں ”وہ یوسف کی قمیص کو جھوٹے خون میں تر کئے ہوئے تھے“ (وہ خون انہوں نے بکری یا بھیڑ کے بچے یا ہرن کا لگا رکھا تھا) (وَجَائُوا عَلیٰ قَمِیصِہِ بِدَمٍ کَذِبٍ)۔ لیکن ”دروغ گو حافظہ ندارد“ ایک حقیقی واقعہ کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اور اس کے مختلف کوائف اور مسائل ہوتے ہیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ان سب کوایک فرضی کہانی میں سمویا جاس کے لہٰذا برادرانِ یوسف بھی اس نکتے سے غافل رہے کہ کم از کم یوسف (علیه السلام) کی کرتے کو چند جگہ سے پھاڑ لیتے تاکہ وہ بھیڑئےے کے حملے کی دلیل بن سکتا وہ بھائی کی قمیص کو اس سے بدن سے صحیح سالم اتار کر خون آلودہ کرکے باپ کے پاس لے آئے، سمجھدار اور تجربہ کار باپ کی جب اس کرتے پر نگاہ پڑی تو وہ سب کچھ سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ”بلکہ نفسانی ہوا وہوس نے تمہارے لیے یہ کام پسندیدہ بنا دیا ہے اور یہ شیطانی سازشیں ہیں“(قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنفُسُکُمْ اَمْرًا)۔ بعض روایات میں ہے کہ: انہوں نے کرتا اٹھا لیا اور اس کا پہلا حصہ آگے کرکے پکار کر کہا:تو پھر اس میں بھیڑئے کے پنجوں اور دانتوں کے نشان کیوں نہیں ہیں۔ ایک اور روایت کے مطابق: حضرت یعقوب (علیه السلام) نے کرتا اپنے منہ پر ڈال لیا، فریاد کرنے لگے اور آنسو بہانے لگے، وہ کہہ رہے تھے: یہ کیسا مہربان بھیڑیا تھا جس نے میرے بیٹے کوتو کھا لیا لیکن اس کے کرتے کو ذرہ بھر نقصان نہ پہنچایا، اس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر خشک لکڑی کی طرح زمین پر گر پڑے، بعض بھائیوں نے فریاد کی : اے وائے ہو ہم پر روزِ قیامت عدلِ الٰہی کی عدالت میں ہم بھائی بھی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں اور باپ کو بھی ہم نے قتل کر دیا ہے، باپ اسی طرح سحری تک بے ہوش رہے لیکن سحرگاہی کی نسیم سرد کے جھونکے ان کے چہرے پر پڑے تو وہ ہوش میں آگئے۔ (بحوالہ :تفسیر آلوسی مذکورہ آیت کے ذیل میں) باوجودیکہ یعقوب (علیه السلام) کے دل میں آگ لگی ہوئی تھی، ان کی روح جل رہی تھی لیکن زبان سے ہرگز ایسی بات نہ کہتے تھے جو ناشکری، یاس وناامیدی اور جزع و فزع کی نشانی ہو بلکہ کہا ”مَیں صبر کروں گا، صبرِ جمیل، ایسی شکیبائی جو شکر گزاری اور حمد خدا کے ساتھ ہو(فَصَبْرٌجمیل)۔(تشریحی نوٹ : صبر جمیل“ صفت وموصوف کے قبیل میں سے ہے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہے، یہ دراصل اس طرح تھا:”صبری صبر جمیل“)۔ اس کے بعد یعقوب (علیه السلام) کہنے لگے:”جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مقابلے میں مَیں خدا سے مدد طلب کرتا ہوں“(وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُونَ)، مَیں اس سے چاہتا ہوں کہ جامِ صبر کی تلقی میرے حلق میں شیریں کر دے اور مجھے زیادہ تاب وتوانائی دے تاکہ اس عظیم طوفان کے مقابلے میں اپنے اوپر کنٹرول رکھ سکوں اور میری زبان نادرست اور غلط بات سے آلودہ نہ ہو۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یوسف کی موت کی مصیبت پر مجھے شکیبائی دے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف قتل نہیں ہوئے بلکہ کہا کہ جو کچھ تم کہتے ہو کہ جس کا نتیجہ بہرحال اپنے بیٹے سے جدائی ہے، مَیں صبر طلب کرتا ہوں۔

چند اہم نکات: ۱۔ ایک ترکِ اولیٰ کے بدلے

ابوحمزہ ثمالی نے ایک روایت امام سجاد (علیه السلام) سے نقل کی ہے ابوحمزہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن مَیں مدینہ منورہ میں تھا، نمازِ صبح مَیں نے امام سجاد (علیه السلام) کے ساتھ پڑھی، جس وقت امام نماز اور تسبیح سے فارغ ہو گئے تو گھر کی طرف چل پڑے، میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ (علیه السلام) نے خادمہ کو آواز دی اور کہا: خیال رکھنا جو سائل، ضرورت مند گھر کے دروازے سے گزرے اسے کھانا دینا کیونکہ آج جمعہ کا دن ہے۔ ابوحمزہ کہتے ہیں: مَیں نے کہا: ہروہ شخص جو مدد کا تقاضا کرتا ہے،مستحق نہیں ہوتا، تو امام نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ ان میں مستحق افراد ہوں اور ہم انہیں غذا نہ دیں اور اپنے گھر کے دروازے سے دھتکار دیں تو کہیں ہمارے گھر والوں پر وہی مصیبت نہ آن پڑے جو یعقوب (علیه السلام) اور آلِ یعقوب پر آن پڑی تھی۔ اس کے بعد فرمایا: ان سب کو کھانا دو کہ (کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ) یعقوب (علیه السلام) کے لیے ہرروز ایک گوسفند ذبح کی جاتی تھی، اس کا ایک حصہ مستحقین کو دیا جاتا تھا، ایک حصہ وہ جناب خود اور ان کی اولاد کھاتے تھے ایک دن ایک سائل آیا، وہ مومن اور روزہ دار تھا، خدا کے ہاں اس کی بڑی قدرومنزلت تھی، وہ شہر(کنعان) سے گزرا، شبِ جمعہ تھی، افطار کے وقت وہ دروازہ یعقوب (علیه السلام) پر آیا اور کہنے لگا: بچی کھچی غذا سے مدد کے طالب غریب ومسافر مہمان کی مدد کرو، اس نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی، انہوں نے سنا تو سہی لیکن اس کی بات کو باور نہ کیا، جب وہ مایوس ہو گیا اور رات کی تاریکی ہر طرف چھا گئی تو وہ لوٹ گیا، جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے بارگاہ الٰہی میں بھوک کی شکایت کی، رات اس نے بھوک ہی میں گزاری اور صبح اسی طرح روزہ رکھا جب کہ وہ صبر کئے ہوئے تھا اور خدا کی حمد وثنا کرتا تھا لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) اور ان کے گھر والے مکمل طور پر سیر تھے اور صبح کے وقت ان کا کچھ کھانا بچا بھی رہ گیا تھا۔ امام (علیه السلام) نے اس کے بعد مزید فرمایا: خدا نے اسی صبح حضرت یعقوب (علیه السلام) کی طرف وحی بھیجی: اے یعقوبؑ! توں نے میرے بندے کو خوار کیا ہے اور میرے غضب کو بھڑکایا ہے اور تُوں اور تیری اولاد نزولِ سزا کی مستحق ہو گئی ہے، اے یعقوب ! مَیں اپنے دوستوں کو زیادہ جلدی سرزنش کرتا اور سزا دیتا ہوں اور یہ اس لیے کہ مَیں ان سے محبت کرتا ہوں۔(بحوالہ تفسیر برہان، ج۲،ص ۲۴۳ اور نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۱)۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس حدیث کے بعدہے کہ ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں: مَیں نے امام سجاد (علیه السلام) سے پوچھا: کہ یوسف (علیه السلام) نے وہ خواب کس موقع پر دیکھا تھا؟ امام (علیه السلام) نے فرمایا: اسی رات۔(بحوالہ :تفسیر برہان، ج۲،ص ۲۴۳ اور نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۱)۔ اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء واولیائے حق سے ایک چھوٹی سی لغزش یا زیادہ صریح الفاظ میں”ترکِ اولیٰ“ کہ جو گناہ اورمعصیت بھی شمار نہیں ہوتا تھا (کیونکہ اس سائل کی حالت حضرت یعقوب (علیه السلام) پر واضح نہیں تھی) بعض اوقات خدا کی طرف سے ان کی تنبیہ کا سبب بنتا ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ ان کا بلند وبالا مقام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اور عمل کی طرف متوجہ رہیں کیونکہ: حسنات الابرار سیئات المقربین۔ وہ کام جو نیک لوگوں کے لیے نیکی شمار ہوتے ہیں مقربینِ بارگاہِ الٰہی کے لیے برائی ہیں۔ جہاں حضرت یعقوب (علیه السلام) ایک سائل کے دردِ دل سے بے خبر رہنے کی وجہ سے یہ رنج وغم اٹھائیں تو ہمیں سوچنا چاہیئے کہ وہ معاشرہ جس میں چند لوگ سیر ہوں اور زیادہ تر لوگ بھوکے ہوں کیسے ممکن ہے کہ اس پر غضب الٰہی نہ ہو اور کس طرح خدا سے سزا نہ دے۔

۲۔ حضرت یوسف (علیه السلام) کی دلکش دُعا

روایات اہلِ بیت (علیه السلام) اور طرقِ اہل ِ سنت میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیه السلام) کنویں کی تہ میں پہنچ گئے تو ان کی امید ہر طرف سے منقطع ہو گئی اور ان کی تمام تر توجہ ذاتِ پاکِ خدا کی طرف ہو گئی، انہوں نے اپنے خدا سے مناجات کی اور جبرائیل کی تعلیم سے رازونیاز کرنے لگے کہ جو روایات میں مختلف عبارتوں میں منقول ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ (علیه السلام) نے خدا سے یوں مناجات کی: اللّٰھم یا مونس کل غریب ویا صاحب کل وحید ویا ملجا کل کائف ویا کاشف کل کربة ویا عالم کل نجوی یامنتھی کل شکوی ویا حاضر کل ملاء یاحیّ یا قیّوم اسئلک ان تقذف رجائک فی قلبی حتّیٰ لایکون لی ھم ولا شغل غیرک وان تجعل لی من امری فرجاً ومخرجاً انک علیٰ کل شیء قدیر۔ بارالہا! اے وہ جو غریب مسافرکا مونس ہے اور تنہا کا ساتھی ہے، اے وہ جو ہر خائف کی پناہ گاہ ہے، ہر غم کو برطرف کرنے والا ہے، ہر فریاد سے آگاہ ہے، ہر شکایت کرنے والے کی آخری امید ہے اور ہر مجمع میں موجود ہے، اے حیّ! اے قیّوم!(اے زندہ! اے ساری کائنات کے نگران!) مَیں تجھ سے چاہتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے تاکہ تیرے علاوہ کوئی فکر نہ رکھوں اور تجھ سے چاہتا ہوں کہ میرے لیے اس عظیم مشکل سے راہِ نجات پیدا کر دے کہ تُو ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اس حدیث کے ذیل میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی آواز سُنی تو عرض کیا: الٰھنا نسمع صوتاً ودعاء: الصوت صوت صبی والدعاء دعاء نبی! پروردگارا! ہم آواز اور دعا سن رہے ہیں آواز تو بچے کی ہے لیکن دعاء نبی کی ہے۔ (بحوالہ تفسیر قرطبی،ج ۵،ص ۳۳۷۳)۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے انہیں کنویںمیں پھنکا تو ان کا کُرتہ اتار لیا اور ان کا بدن برہنہ ہو گیا تو یوسف نے بہت دادوفریاد کی کہ کم از کم میرا کُرتہ تو مجھے دے دو تاکہ اگر مَیں زندہ رہوں تو میرا بدن ڈھانپے اور اگر مرجاؤں تو میرا کفن ہو، بھائی کہنے لگے: اسی سورج، چاند اور ستاروں سے کہ جنہیں خواب میں دیکھا تھا تقاضا کرو کہ اس کنویں میں تیرے مونس وغمخوار ہوں اور تجھے لباس پہنائیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام جب غیر خدا سے مطلقاً ناامید ہو گئے تو مذکورہ بالا دعا کی۔(بحوالہ تفسیر قرطبی،ج ۵،ص ۳۳۷۳)۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپؑ نے فرمایا: جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں پھینکا تو جبرائیل ان کے پاس آئے اور کہا: بچّے! یہاں کیا کررہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: بھائیوں نے مجھے کنویں میں پھینک دیا ہے۔ جبرائیل کہنے لگے: کیا تم کنویں سے باہر نکلنا چاہتے ہو؟ وہ کہنے لگے: خدا کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے گا تو مجھے باہر نکال لے گا۔ جبرائیل نے کہا: خدا نے حکم دیا ہے کہ یہ دعا پڑھو تاکہ باہر آجاؤ۔ انہوں نے کہا کونسی دعاء؟ جبرائیل نے کہا: کہو: اللّٰھم انی اسئلک بان لک الحمد لاالہ الا انت المنان، بدیع السمٰوٰت والارض، ذوالجلال والاکرام، ان تصلی علی محمدواٰل محمد وان تجعل لی مما انافیہ فرجاً ومکرجاً۔ پروردگارا ! مَیں تجھ سے دعا کرتا ہوں، اے کہ حمد و تعریف تیرے لیے ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تُو ہے جو بندوں کو نعمت بخشتا ہے، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، صاحبِ جلال واکرام ہے، مَیں درخواست کرتا ہوں کہ محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور جس میں مَیں ہوں اس سے مجھے کشائش ونجات عطا فرما۔(بحوالہ نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۶۔)۔ کوئی مانع نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دونوں دعائیں کی ہوں۔

۳۔”غیابت الجب“کا مفہوم

”واجمعوا ان یجعلوہ فی غیابت الجب“کا مفہوم: یعنی۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پر ڈال دیں۔ یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کنویں میں پھینکا نہیں تھا بلکہ نیچے لے گئے تھے، کنویں کی تہ میں جہاں ایک چبوترا سا نیچے جانے والوں کے لیے بنایاجاتا ہے اور سطحِ آب کے قریب ہوتا ہے انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی کمر میں طناب ڈال کر وہاں تک پہنچایا اور وہاں چھوڑ دیا، مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں جو متعدد روایات وارد ہوئیں ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں۔

۴۔ تسویلِ نفس سے کیا مراد ہے؟

لفظ”سوّلت“ تسویل کے مادہ سے”تزئین“ کے معنی میں ہے، بعض اوقات اس کا معنی ”وسوسہ پیدا کرنا“ بھی بیان کیا جاتا ہے، ان تمام معانی کی بازگشت تقریباً ایک ہی مفہوم کی طرف ہے یعنی تمہاری نفسیاتی خواہشات نے تمہارے لیے یہ کام مزین کر دیا ہے ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس وقت سرکش ہواوہوس انسانی روح اور فکر پر غلبہ کرلیتی ہے تو بدترین جرائم مثلاً بھائی کو قتل کرنا یا جلا وطن کرنا وغیرہ بھی انسان کی نظر میں ایسے پسندیدہ ہو جاتے ہیں کہ وہ انہیں ایک مقدس اور ضروری چیز خیال کرنے لگتا ہے، یہاں سے نفسیاتی مسائل کی ایک عمومی بنیاد کی طرف دریچہ کُھلتا ہے وہ یہ کہ ہمیشہ کسی ایک مسئلے کی طرف افراطی میلان خصوصاً جب اس میں اخلاقی رذائل بھی شامل ہوں انسان کی قوتِ شناخت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اس کی نظر میں حقائق کو الٹ کر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے تہذیبِ نفس کے بغیر فیصلہ کرنا اور عینی حقائق کو پہچاننا ممکن نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قاضی کے لیے عدالت شرط ہے تو اس کی دلیل یہی ہے اور قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۸۲بھی اسی طرف اشارہ ہے، جس میں فرمایا گیا ہے: واتقوا اللّٰہ ویعلِّمکم اللّٰہ۔ اور تقویٰ اختیار کرو خدا تمہیں علم ودانش دے گا۔

۵۔ دروغ گو حافظہ ندارد

حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کے سلوک کی داستان سے یہ مشہور حقیقت پھر درجہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جھوٹا آدمی ہمیشہ کے لیے اپنا راز نہیں چھپا سکتا کیونکہ عینی حقائق جب خارجی وجود حاصل کر لیتے ہیں تو دیگر امور کے ساتھ ان کے بے شمار روابط ہوتے ہیں اور جھوٹا آدمی جو اپنے جھوٹ کے ذریعے ایک غلط منظر تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ جس قدر بھی زیرک وہوشیار ہو ان تمام روابط کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، بالفرض اگر وہ مسئلہ سے متعلق چند جعلی رابطے تیار بھی کرلے پھر بھی یہ بناوٹی رابطے حافظے میں ہمیشہ کے لیے رکھنا آسان کام نہیں ہے اور اس سے تھوڑی غفلت تضاد بیانی کا سبب بن جاتی ہے، علاوہ ازیں ان میں سے بہت سے روابط غفلت میں رہ جاتے ہیں اور انہی سے آخر کار حقیقت فاش ہو جاتی ہے، اور یہ ان تمام افراد کے لیے ایک درس ہے جنہیں اپنی عزت وآبرو ہے کہ وہ کبھی جھوٹ کا طواف نہ کریں، اپنی معاشرتی حیثیت کو خطرے میں نہ ڈالیں اور اپنے لیے خدا کا غضب نہ خریدیں۔

۶۔ صبرِ جمیل کیا ہے؟

سخت حوادث اور سنگین طوفانوں کے مقابلے میں پامردی وشکیبائی انسان کی روحانی عظمت اوربلند شخصیت کی نشانی ہے، ایسی عظمت کہ جس میں عظیم حوادث سما جاتے ہیں لیکن انسان ڈگمگاتا اور لرزتا نہیں۔ ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا چھوٹے سے تالاب کے پانی کو ہلا دہتا ہے لیکن بحرِ اوقیانوس جیسے بڑے سمندروں میں بڑے بڑے طوفان آرام سے سما جاتے ہیں اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بعض اوقات انسان ظاہراً پامردی وشکیبائی دکھاتا ہے لیکن بعد میں چُبھنے والی باتیں کرتا ہے کہ جو ناشکری اور عدمِ برداشت کی نشانی ہے، اس طرح وہ خود اپنے صبر وتحمل کا چہرہ بدنما کر دیتا ہے لیکن با ایمان، قوی الارادہ اور عالی ظرف وہ لوگ ہیں کہ ایسے حوادث میں جن کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوتا اور ان کی زبان پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو کہ ناشکری، کفران، بے تابی اور جزع وفزع کی مظہر ہو، ان کا صبر”صبرِ زیبا“ اور ”صبرِ جمیل“ ہے۔ اس وقت یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس سورہ کی دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) نے اس قدر گریہ اور غم کیا کی ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، کیا یہ بات صبرِ جمیل کے منافی نہیں؟ اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ مردانِ خدا کا دل احساسات اور عواطف کا مرکزہوتا ہے، مقامِ تعجب نہیں کہ بیٹے کے فراق میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑے، یہ ایک حساس مسئلہ ہے، اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ضبط رکھیں یعنی کوئی بات اور کوئی حرکت رضائے الٰہی کے خلاف نہ کریں، اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر آنسو بہا رہے تھے تو اتفاقاً یہی اعتراض آپ پر کیا گیا کہ آپ ہمیں رونے سے منع کرتے ہیں لیکن آپ خود آنسو بہاتے ہیں تو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: آنکھیں روتی ہیں اور دل غم زدہ ہوتا ہے لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کرتے جو خدا کو ناراض کر دے۔ حدیث کے الفاظ یوں ہیں: تدمع العین ویحزن القلب ولانقول مایسخط الرب۔ ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں: لیس ھٰذا بکاء ان ھٰذا رحمة یہ(بے تابی کا)گریہ نہیں ہے یہ تو(جذبات کا اظہار اور) رحمت ہے۔(بحوالہ بحار، طبع جدید،ج ۲۲،ص ۱۵۷،و ۱۵۱۔) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے سینے میں دل ہے پتھر نہیں اور فطری امر ہے کہ جن معاملات کا تعلق دل کے جذبات سے ہو ان پر وہ ردِّ عمل تو کرتا ہے اور اس کا سادہ ترین اظہار آنکھوں سے اشک رواں ہونا ہے، یہ عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو حسن ہے، عیب یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس سے خدا غضب ناک ہو۔

19
12:19
وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٞ فَأَرۡسَلُواْ وَارِدَهُمۡ فَأَدۡلَىٰ دَلۡوَهُۥۖ قَالَ يَٰبُشۡرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٞۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
اور قافلہ آپہنچا (انہوں نے) پانی پر مامور (شخص کو پانی کی تلاش) کو بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا اور وہ پکارا: خوشخبری ہو، یہ لڑکا ہے (خوبصورت اور قابل محبت) انہوں نے اسے ایک سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا اور جو کچھ وہ انجام دیتے تھے خدا اس سے آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
12:20
وَشَرَوۡهُ بِثَمَنِۭ بَخۡسٖ دَرَٰهِمَ مَعۡدُودَةٖ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ ٱلزَّـٰهِدِينَ
اور انہوں نے اسے چند درہموں کی معمولی قیمت پر بیچ دیا اور (اسے بیچتے ہوئے) وہ اس کے بارے میں بے اعتناء تھے۔

سرزمینِ مصر کی جانب

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یوسف (علیه السلام) نے کنویں کی وحشت ناک تاریکی اور ہولناک تنہائی میں بہت تلخ گھڑیاں گزاریں لیکن خدا پر ایمان اور ایمان کے زیرِ سایہ ایک اطمینان نے ان کے دل میں نورِ امید کی کرنیں روشن کر دی تھیں اور انہیں ایک توانائی بخشی تھی تاکہ وہ اس ہولناک تنہائی کو برداشت کریں اور آزمائش کی اس بھٹی سے کامیابی کے ساتھ نکل آئیں، اس حالت میں وہ کتنے دن رہے یہ خدا جانتا ہے، بعض مفسرین نے تین دن لکھا ہے اور بعض نے دو دن، بہرحال ایک قافلہ آپہنچا“ (وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: کاروان کو ”سیارة“ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے)۔ اور اس قافلے نے وہیں نزدیک ہی پڑاؤ ڈالا، واضح ہے کہ قافلے کی پہلی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ وہ پانی حاصل کرے، اس لیے”انہوں نے پانی پر مامور شخص کو پانی کی تلاش میں بھیجا (فَاَرْسَلُوا وَارِدَھُم) (تشریحی نوٹ: وارد“ پانی لانے والے کے معنی میں ہے، اصل میں یہ لفظ ”ورود“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی جیسے کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے پانی کا قصد کرنا اگرچہ بعد میں اس کے معنی میں وسعت پیدا ہو گئی اور ہر ورود و دخول کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا ہے۔) ”اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا“(فَاَدْلَی دَلْوَہُ)۔ یوسف کنویں کی تہ میں متوجہ ہوئے کہ کنویں کے اوپر سے کوئی آواز آرہی ہے، ساتھ ہی دیکھا کہ ڈول اور رسی تیزی سے نیچے آرہی ہے، انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عطیہ الٰہی سے فائدہ اٹھایا اور فوراً اس سے لپٹ گئے، بہشتی ("بہشتی“ اردو میں پانی بھرنے والے کو کہتے ہیں(مترجم)نے محسوس کیا کہ اس کا ڈول اندازے سے زیادہ بھاری ہے، جب اس نے زور لگاکر اسے اوپر کھینچا تو اچانک اس کی نظر ایک چاند سے بچے پر پڑی، وہ چِلّا یا: خوشخبری ہو، یہ تو پانی کے بجائے بچہ ہے (قَالَ یَابُشْریٰ ھٰذَا غُلَامٌ)۔ آہستہ آہستہ قافلے میں سے چند لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا لیکن اس بنا پر کہ دوسروں کو پتہ نہ چلے اور یہ خود ہی مصر میں اس خوبصورت بچے جو ایک غلام کے طور پر بیچ دیں ”اسے انہوں نے ایک اچھا سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا“(وَاَسَرُّوہُ بِضَاعَةً) (تشریحی نوٹ: بضاعة“ اصل میں ”بضع“ (بروزن”نظر“) کے مادہ سے گوشت کے ایک ٹکڑے کے معنی میں ہے کہ جسے جدا کر لیا جائے، بعدازاں اس معنی میں وسعت پیدا ہو گئی اور یہ لفظ مال اور سرمایہ کے اہم حصے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا”بضاعة“ بدن کے ٹکڑے کے معنی میں ہے اور ”حسن البضع“ موٹے اور پرگوشت انسان کے معنی میں آیا ہے اور ”بضع“ (بر وزن”حزب“) تین سے لے کر دس تک کے عدد کے معنی میں آیا ہے)۔ البتہ اس جملے کی تفسیر میں کچھ اور احتمال بھی ذکر کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ یوسف (علیه السلام) جن کے ہاتھ لگا انہوں نے اس کا کنویں سے ملنا مخفی رکھا اور کہا کہ یہ سرمایہ ہمیں کنویں کے مالکوں نے دیا ہے تاکہ اسے ان کے لیے مصر میں بیچ دیں۔ دوسرا یہ کہ یوسف (علیه السلام) کے بعض بھائی جواس کی خبر لینے کے لیے یا اس کو غذا دینے کے لیے کبھی کبھی کنویں کے پاس آیا کرتے تھے جب انہیں اس واقعے کا پتہ چلا تو انہوں نے اس بات کو چھپایا کہ یوسف ان کا بھائی ہے، صرف یہ کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ آیا ہے اور یہاں چھپا بیٹھا ہے اور انہوں نے یوسف کی دھمکی دی کہ اصل معاملے سے پردہ اٹھائے گا تو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ آیت کے آخر میں ہے: جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے(وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ)۔ آخر کار انہوں نے یوسف (علیه السلام) کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا (وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُودَة)۔ یوسف (علیه السلام) کو بیچنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض انہیں یوسف کے بھائی سمجھتے ہیں، لیکن آیات کا ظاہر ی مفہوم یہ ہے کہ یہ کام قافلے والوں نے کیا، کیونکہ زیرِ نظر آیت میں بھائیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور ان سے قبل کی آیت کے اختتام پر بھائیوں سے متعلق بحث ختم ہو گئی ہے اور جمع کی ضمیریں ”ارسلوا“، ”اسروہ“ اور ”شروہ“ سب ایک ہی طرف لوٹتی ہیں (یعنی، قافلے والے)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو تھوڑی سی قیمت پر کیوں بیچ دیا، قرآن نے اسے ”بثمن بخس“سے تعبیر کیا ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیه السلام) کا کم از کم ایک قیمتی غلام سمجھے جا سکتے تھے۔ لیکن یہ معمول کی بات ہے کہ ہمیشہ چور یا ایسے افراد جن کے ہاتھ کوئی اہم سرمایہ بغیر کسی زحمت کے آجائے تو وہ اس خوف سے کہ کہیں دوسروں کو معلوم نہ ہو جائے اسے فورا ًبیچ دیتے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ اس جلد بازی میں وہ زیادہ قیمت حاصل نہیں کر سکتے۔ ”بخس“ اصل میں کسی چیز کو ظلم کے ساتھ کم کرنے کے معنی میں۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: ولاتبخسوا الناس اشیائھم۔ لوگوں کی چیزوں کو ظلم کے ساتھ کم نہ کرو۔ (ہود:۸۵) اس بارے میں کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کتنے داموں میں بیچا اور پھر یہ رقم آپس میں کس طرح تقسیم کی، اس سلسلے میں بھی مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ رقم ۲۰ درہم، بعض نے ۲۲ درہم، بعض نے ۴۰ درہم اور بعض نے ۱۸ درہم لکھی ہے اور طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بیچنے والوں کی تعداد دس بیان کی جاتی ہے، اس ناچیز رقم میں سے ہر ایک کا حصہ واضح ہو جاتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے-:یوسف کو بیچنے کے بارے میں وہ بے اعتناء تھے (وَکَانُوا فِیہِ مِنَ الزَّاھِدِین)۔ یہ جملہ درحقیقت گذشتہ جملے کی علت بیان کرنے کے لیے ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر انہوں نے یوسفؑ کر تھوڑی سی رقم پر بیچ دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس معاملے سے کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے اور اس کے بارے میں بے اعتناء تھے۔ ایسا یا اس لیے تھا کہ یوسف (علیه السلام) کو قافلے والوں نے بے مول لیا تھا اور انسان جو چیز معمولی قمیت پر لے عموما کم قیمت پر ہی بیچتا ہے اور یا وہ ڈرتے تھے کہ مبادا ان کارازفاش ہواور کوئی مدعی پیداہو جائے اور یا اس بناء پر کہ انہیں یوسف (علیه السلام) میں غلام ہونے کی نشانیاں نظر نہیں آتی تھیں بلکہ آزادی اور حریت کے آثار ان کے چہرے سے ہویدا تھے، اسی بنا پر نہ بیچنے والے ان میں کوئی دلچسپی رکھتے تھے نہ خریدار۔ ۲۱ ۔وَ قَالَ الَّذِی اشۡتَرٰىہُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِہٖۤ اَکۡرِمِیۡ مَثۡوٰىہُ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ؕ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ وَ لِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ۔ ۲۲ ۔وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔ ترجمہ ۲۱۔اور وہ شخص جس نے اسے سر زمینِ مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کے مقام ومنزلت کی تکریم کرنا شاید ہمارے لیے مفید ہو یا اسے ہم اپنے بیٹے کے طور پر اپنا لیں، اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں متمکن کر دیا، (ہم نے یہ کام کیا)تاکہ وہ خواب کی تعبیر سیکھ لے، خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ۲۲۔اور جب وہ بلوغ وقوّت کے مرحلے میں داخل ہوا تو ہم نے اسے ”حکم“ اور ”علم“ عطا کئے اور ہم اس طرح نیک لوگوں کو جزاء دیتے ہیں۔

21
12:21
وَقَالَ ٱلَّذِي ٱشۡتَرَىٰهُ مِن مِّصۡرَ لِٱمۡرَأَتِهِۦٓ أَكۡرِمِي مَثۡوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗاۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
اور وہ شخص جس نے اسے سر زمین مصر سے خر یدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کے مقام و منزلت کی تکریم کرنا شاید ہمارے لئے مفید ہو اور یا ہم اسے بیٹے کے طور پر اپنا لیں اس طرح ہم نے یوسف کو اس سر زمین میں متمکن کر دیا (ہم نے یہ کام کیا) تاکہ وہ خواب کی تعبیر سیکھ لے خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
12:22
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور جب وہ (یوسف) بلوغ و قوت کے مرحلے میں داخل ہوا تو ہم نے اسے ’’حکم‘‘ اور ’’علم‘‘ عطا کئے اور ہم اس طرح نیک لوگوں کو جزاء دیتے ہیں۔

مصر کے محل میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف (علیه السلام) کی بھرپور داستان جب یہاں پہنچی کہ بھائی انہیں کنویں میں پھینک چکے تو بہرصورت بھائیوں کے ساتھ ساتھ والا مسئلہ ختم ہو گیا، اب اس ننھے بچے کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ مصر میں شروع ہوا، اس طرح سے کہ آخرکار یوسفؑ مصر میں لائے گئے، وہاں انہیں فروخت کے لیے پیش کیا گیا، کیونکہ یہ نفیس تحفہ تھا لہٰذا معمول کے مطابق ”مصر“ کو نصیب ہواکہ جو درحقیقت فرعونوں کی طرف سے وزیر یا وزیرِ اعظم تھا اور ایسے ہی لوگ ”تمام پہلوؤں سے ممتاز اس غلام“ کی زیادہ سے زہادہ قیمت دے سکتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ مصر کے گھر یوسف (علیه السلام) پر کیا گزرتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:جس نے مصر میں یوسف کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ اس غلام کی منزلت کا احترام کرنا اور اسے غلاموں والی نگاہ سے نہ دیکھنا کیونکہ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھائیں گے یا اسے فرزند کے طور پر اپنا لیں گے(وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاَتِہِ اَکْرِمِی مَثْوَاہُ عَسیٰ اَنْ یَنفَعَنَا اَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَدًا)۔(”مثوا“ کا معنی ہے مقام، یہ مادہ ”ثوی“ سے ہے جو اقامت کے معنی میں ہے لیکن یہاں حیثیت اور مقام ومنزلت کے معنی میں ہے)۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ بیٹے کے شوق میں زندگی بسر کررہا تھا، جب اس کی آنکھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑی تو اس کا دل آیا کہ یہ اس کے بیٹے کے طور پر ہو۔ اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: اس طرح اس سرزمین میں ہم نے یوسف کو متمکن اور صاحب نعمت واختیار کیا(وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاَرْضِ)۔ یہ ”تمکین فی الارض“ اس بناء پر تھا کہ یوسف کا مصر میں آنا اور خصوصاً مصرکی زندگی میں قدم رکھنا ان کی آئندہ کی انتہائی قدرت کے لیے تمہید تھا اور یا اس بنا پر تھا کہ مصر کے محل کی زندگی کنویں کی تہ کی زندگی سے کوئی موزانہ نہ تھا، وہ تنہائی، بھوک اور وحشت کی شدت کہاں اور یہ سب نعمت اور آسائش اور آرام وسکون کہاں۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اسے احادیث کی تاویل کی تعلیم دیں (وَلِنُعَلِّمَہُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاَحَادِیثِ)۔ ”تَاْوِیلِ الْاَحَادِیثِ“سے مراد ہے، جیسا ہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے تعبیرِ خواب کا علم ہے کہ جس کے ذریعے یوسف آئندہ کے اسرار کے اہم حصے سے آگاہ ہو سکتے تھے اور یا اس سے مراد وحی الٰہی ہے کنونکہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی خدائی آزمائشوں کی سنگلاخ گھاٹیوں سے گزر کر دربارِ مصر میں پہنچنے تک ایسی قابلیت پیدا کرلی تھی کہ حاملِ رسالت ووحی ہوں۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اپنے کام پرمسلط اور غالب ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے(وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اَمْرِہِ وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔ خدا کے مظاہرِ قدرت میں سے ایک عجیب مظہر اور امور پر اس کا تسلط یوں ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ انسان کی کامیابی اور نجات کے وسائل اس کے دشمنوں کے ہاتھوں فراہم کرتا ہے چنانچہ حضرت یوسف (علیه السلام) کے سلسلے میں اگر بھائیوں کا منصوبہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز کنویں میں نہ جاتے اور نہ فرعون کے عجیب خواب کا معاملہ ان کے سامنے پیش ہوتا اور نہ ہی یوسف (علیه السلام) مصر بنتے۔ درحقیقت خدا نے بھائیوں کے ہاتھوں یوسف (علیه السلام) کو تختِ قدرت پر بٹھایا اگرچہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسے بدبختی کے کنویں میں پھینک دیا ہے۔ اس نئے ماحول میں جو درحقیقت مصر کا ایک اہم سیاسی مرکز تھا یوسف (علیه السلام) کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ایک طرف خیرہ کن طاقت اور طاغوتیانِ مصر کے محلات (جنہیں خواب سمجھا جاتا) اور ان کی بے کراں ثروت کو دیکھتے ہوئے دوسری طرف بردہ فروشوں کے بازار کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا، وہ ان دونوں کا موازنہ کرتے اور دیکھتے کہ عام لوگوں کی اکثریت فراواں رنج وغم اور دکھ درد کا شکار ہے تو ان کی روح اور فکر پر بہت بوجھ پڑتا اور وہ سوچتے کہ اگر مجھے طاقت حاصل ہو جائے تو یہ کیفیت ختم کردوں۔ جی ہاں! انہوں نے بہت سی چیزیں اس شوروغل کے ماحول میں سیکھیں، ان کے دل میں ہمیشہ غم واندوہ کا ایک طوفان موجزن ہوتا تھا کیونکہ ان حالات میں وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے، اس دور میں وہ مسلسل خود سازی اور تہذیبِ نفس میں مشغول تھے۔ قرآن کہتا ہے: جب وہ بلوغ اور جسم وروح کے تکامل کے مرحلے میں پہنچا اور انوارِ وحی قبول کرنے کے قابل ہو گیا، تو ہم نے اسے حکم اورعلم دیا(وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہُ آتَیْنَاہُ حُکْمًا وَعِلْمًا)۔ اور اس طرح ہم نیکو کار لوگوں کو جزاء دیتے ہیں(وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ)۔ ”اشد“ ”شد“ کے مادہ سے مضبوط گروہ کے معنی میں ہے، یہاں جسمانی اور روحانی استحکام کی طرف اشارہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”اشد“ جمع ہے جس کا مفرد نہیں ہے لیکن بعض نے اسے ”شد“ (بروزن”سد“)کی جمع کہا ہے۔ بہرحال اس کے معنی کا جمع ہونا قابلِ انکار نہیں ہے۔ جو مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یوسف کی جسمانی و رحانی بلوغت پر اسے ”حکم“ اور”علم“ عطا کیا، یا تو مقامِ وحی ونبوت ہے جیسا کہ بعض مفسریننے کہا ہے اور یا ”حکم“ سے مراد عقل وفہم اور صحیح فیصلے کی قدرت ہے کہ جو ہوس پرستی اور اشتباہ سے خالی ہو اور ”علم“ سے مراد آگاہی اور دانش ہے کہ جس کے ساتھ جہالت نہ ہو۔ بہرحال ”حکم“ اور”علم“ جو کچھ بھی تھے دو ممتاز اور قیمتی خدائی انعام تھے کہ جو خدا نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان کی پاکیزگی تقویٰ، صبر وشکیبائی اور توکل کی وجہ سے دئیے تھے اور یوسف (علیه السلام) کی یہ تمام خوبیاں لفظ”محسنین“ میں جمع ہے۔ بعض مفسرین نے ”حکم“ اور ”علم“ کے بارے میں تمام تر احتمالات کو تین احتمالات کے طور پرذکر کیا گیا ہے: ۱۔ ”حکم“ مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے (چونکہ پیغمبر برحق حاکم ہے)اور علم اشارہ ہے علمِ دین کی طرف۔ ۲۔ ”حکم“ سرکش ہواوہوس کے مقابلے میں اپنے اوپر ضبط رکھنے کے معنی میں ہے کہ جو یہاں حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے اور علم اشارہ ہے نظری حکمت وعلم ودانش کی طرف اور”حکم“ کو ”علم“ پر اس لیے مقدم کیاگیا ہے کہ انسان جب تک تہذیبِ نفس اور خودسازی نہ کرلے صحیح علم تک نہیں پہنچ سکتا۔ ۳۔”حکم“اس معنی میں ہے کہ انسان نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے اور اپنے اوپر کنٹرول حاصل کرلے اس طرح کہ نفسِ امارہ اوروسوسہ پیدا کرنے والے نفس پر اسے کنٹرول ہو جائے اور علم سے مراد انوارِ قدسیہ اور فیضِ الٰہی کی شعاعیں ہیں کہ جو علم ملکوت سے پاک انسان کے دل پر پڑتی ہے (بحوالہ: تفسیر کبیر، ج۱۸،ص ۱۱۱)۔

چند اہم نکات

۱۔ مصر کا نام کیوں نہیں لیا گیا: زیرِ نظر آیات میں جاذبِ توجہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مصر کا نام نہیں لیا گیا ہے کہ وہ شخص جس نے مصر سے یوسف کو خریدا لیکن آیت میں یہ بیان نہیں ہوا کہ یہ شخص کون تھا، آئندہ آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی دفعہ اس شخص کے منصب سے پردہ نہیں اٹھتا بلکہ تدریجا اس کا تعارف کروایا گیا ہے مثلا آیہ ۲۵ میں فرمایا گیا ہے: والفیا سید ھا لدا الباب جس وقت یوسف نے زلیخا کے عشق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور بیرونی دروازے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا تو اس عورت کے شوہر کو اچانک دروازے پر دیکھا۔ جب ان آیات سے گزرتے ہوے آیہ ۳۰ تک پہنچتےہیں تو اس میں ---”امراة العزیز“ (عزیز کی بیوی) کی تعبیر آئی ہے۔ یہ تدریجی بیان یا تو اس لیےہے کہ قرآن اپنی سنت کے مطابق ہر بات کو ضروری مقدار کے مطابق بیان کرتا ہے جو کہ فصاحت وبلاغت کی نشانی ہے اور یا یہ کہ جسے آج کل بھی ادبیات کا معمول ہے کہ ایک داستان بیان کرتے ہوئے اسے سربستہ نکتے سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے میں تجسس پیدا ہوا ور اس کی پوری توجہ اس داستان کی طرف کھنچ جائے۔ ۲۔ علم تعبیرِ خواب اور مصر کا محل: دوسرا سوال جومذکورہ بالا آیات سے پیدا ہوتا ہے، یہ ہے کہ علمِ تعبیرِ خواب اور مصر کے محل میں حضرت یوسف (علیه السلام) کی موجود گی کا کیا رابطہ ہے کہ اس کی طرف ”لنعلمہ“ کی ”لام“ کہ جو لامِ غایت ہے کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ دیں تو ہو سکتا ہے مذکورہ سوال کا جواب واضح ہو جائے کہ خدائے تعالیٰ بہت سی علمی نعمات وعنایات گناہ سے پرہیز اور سرکش ہوا وہوس کے مقابلے میں استقامت کی وجہ سے بخشتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ نعمات کہ جو دل کی نورانیت کا ثمرہ ہیں، ایک انعام ہیں کہ جو خدا اس قسم کے اشخاص کو بخشتا ہے۔ ابن سیرین تعبیر خواب جاننے میں بڑے مشہور ہیں، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ کپڑا بیچا کرتے تھے اور بہت ہی خوبصورت تھے، ایک عورت انہیں اپنا دل دے بیٹھی، بڑے حیلے بہانے کرکے انہیں اپنے گھر میں لے گئی اور دروازے بند کرلیے، لیکن انہیں نے عورت کی ہوس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور مسلسل اس عظیم گناہ کے مفاسد اس کے سامنے بیان کرتے رہے لیکن اس عورت کی ہوس کی آگ اس قدر سرکش تھی کہ وعظ ونصیحت کا پانی اسے نہیں بجھا سکتا تھا۔ ابن سیرین کو اس چنگل سے نجات پانے کے لیے ایک تدبیر سوجھی، وہ اٹھے اور اپنے بدن کو اس گھر میں موجود گندگی کی چیزوں سے اس طرح کثیف، آلودہ اور نفرت انگیز کر لیا کہ جب عورت نے یہ منظر دیکھا تو ان سے متنفر ہو گئی اور انہیں گھر سے باہر نکال دیا کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ابن سیرین جو تعبیرِ خواب کے بارے میں بہت فراست نصیب ہوئی اور ان کی تعبیر سے متعلق کتابوں میں عجیب وغریب واقعات لکھے ہوئے ہیں کہ جو اس سلسلے میں ان کی گہری معلومات کی خبر دیتے ہیں۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ یہ خاص علم وآگاہی حضرت یوسف (علیه السلام) کو مصر کی بیوی کی انتہائی قوت جذب کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول رکھنے کی بنا پر حاصل ہوئی ہو۔ علاوہ ازیں اس زمانے میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار تعبیرِ خواب بیان کرنے والوں کے مرکز تھے اور یوسف (علیه السلام) جیسا ذہین نوجوان مصر کے دربارمیں دوسروں کے تجربات سے آگاہی ا ور علمِ الٰہی سے فیض حاصل کرنے کے لیے روحانی طور پر تیار ہو سکتا تھا۔ بہرحال یہ نہ پہلا موقع ہے، نہ آخری کہ خدانے جہادِ نفس کے میدان میں سرکش ہوا وہوس پر کامیابی حاصل کرنے والے اپنے مخلص بندے کو علوم ودانش کی ایسی نعمات وعنایات سے نوازا ہو کہ جنہیں کسی مادی ترازو سے نہیں تولا جا سکتا، مشہور حدیث ہے: العلم نور یقذفہ اللّٰہ فی قلب من یشاء۔ علم نور ہے خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ڈالتا ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علم ودانش نہیں جو استاد کے سامنے زانو تلمذ تہ کرکے حاصل کی جائے یا کسی کو بغیر کسی حساب وکتاب کے مل جائے، یہ تو انعامات ہیں، جہاد بالنفس میں سبقت لے جانے والوں کے لیے۔ ۳۔”بلوغ اشد“ کیا ہے؟: ہم کہہ چکے ہیں کہ ”اشد“ استحکام اور جسمانی وروحانی قوت کے معنی میں ہے اور ”بلوغ اشد“ اس مرحلے تک پہنچنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن مجید میں اس کا اطلاق عمرِ انسانی کے مختلف مراحل پر ہوا ہے۔ بعض اوقات یہ ”سنِ بلوغ“ کے معنی میں آیا ہے، مثلا ہم پڑھتے ہیں: وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اَشُدَّہُ۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے حسن طریقے سے، جب تک کہ وہ حد بلوغ کو نہ پہنچ جائے(بنی اسرائیل: ۳۴)۔ کبھی چالیس سال کی عمرتک پہنچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے مثلا: حَتَّی إِذَا بَلَغَ اَشُدَّہُ وَبَلَغَ اَرْبَعِینَ سَنَةً۔ یہاں تک کے بلوغ اشد کے مرحلے تک پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا۔ (احقاف:۱۵)۔ اور کبھی یہ لفظ بڑھاپے سے قبل کے مرحلے کے لیے آیاہے، ارشاد ہوتا ہے: ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخًا اس کے بعد خدا تمہیں عالمِ جنین سے بچوں کی شکل میں باہر نکالتا ہے پھر تم جسم وروح کے استحکام کے مرحلے میں پہنچ جاتے ہو اس کے بعد بڑھاپے کے مرحلے میں۔ (المومن:۶۸) تعبیرات کا یہ فرق ہو سکتا ہے اس بنا پر ہو کہ روح وجسم کے استحکام کے لیے انسان کئی مراحل طے کرتا ہے اور بلا شبہ اس میں سے ہر مرحلہ ایک حد بلوغ ہے اور چالیس سال کی عمر کے عام طور پر فکر وعقل پختہ ہوتی ہے۔ دوسرا مرحلہ ہے اور اسی طرح انسان کی عمر ڈھلنے لگے اور وہ کمزوری کی طرف مائل ہو تو یہ ایک اور مرحلہ ہے لیکن بہرحال زیرِ بحث آیت جسمانی وروحانی بلوغ کے بارے میں ہے کہ جو حضرت یوسف (علیه السلام) میں جوانی کی ابتدا ہی میں پیدا ہو گیا تھا، اس سلسلے میں فخرالدین رازی نے ایک بات کی ہے جو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں: چاند کی گردش کی مدت (جس میں وہ محاق تک پہنچتا ہے) ۲۷دن ہیں، جب اسے چار حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ۷ دن کا بنتا ہے (جس سے ایک ہفتہ بنتا ہے)۔ اسی لیے دانشمندوں نے بدن انسانی کے حالات کو سات سات سال پر مشتمل چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور اس وقت کا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ضعیف و ناتوں ہوتا ہے جسم کے لحاظ سے بھی اور روح کے لحاظ سے بھی، لیکن جب وہ سات سال کا ہو جاتا ہے تو اس میں فکر وہوش اور قوتِ جسمانی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ سات سال مکمل ہونے بعد شروع ہوتا ہے اور انسان اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے چودہ سال پورے ہو جاتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو پندرہ سال کی عمر وہ جسمانی اور روحانی بلوغ کے مرحلے میں پہنچتا ہے، اس میں جسمانی شہوت حرکت میں آتی ہے اور(اور پندہ سال کی تکمیل پر) وہ مکلف ہو جآتا ہے ، پھر وہ اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہان تک کہ تیسرا دور ختم ہو جاتا ہے۔ چوتھا دور ختم ہونے اور ۲۸ سال کی مدت پوری ہونے پر جسمانی رشد ونمو کی مدت ختم ہو جاتی ہے اور انسان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ یہ نیا مرحلہ توقف کا مرحلہ ہے اور یہی ”بلوغ اشد“ کا زمانہ ہے اور یہ حالتِ توقف پانچویں دور کے اختتام یعنی ۳۵سال تک جاری رہتی ہے (اور اس کے بعد تنزل کا دور شروع کا دور شروع ہو جاتا ہے)۔(بحوالہ تفسیر فخر رازی،ج ۱۸،ص۱۱۱۔) مندرجہ بالا تقسیم اگرچہ ایک حد تک قابلِ قبول ہے لیکن دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اول تو مرحلہ بلوغ دوسرے دور کے اختتام پر نہیں ہے، اسی طرح رشد جسمانی کی انتہا، جیسا کہ آج کل ماہرین فن کہتے ہیں، ۵۲ سال ہے اور بعض روایات کے مطابق مکمل فکری بلوغ ۴۰ سال میں ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر جو کچھ سطور بالا میں کہا گیا ہے ایک ایساہماگیر شمارقانون شمار نہیں ہوتا جو سب اشخاص پر صادق آئے۔ ۴۔ نعمات الٰہی انبیاء کو بھی حساب کتاب سے ملتی ہیں: آخری نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جس وقت قرآن حضرت یوسف (علیه السلام) علم وحکمت دینے کے بارے میں بات کرتا ہے مزید کہتا ہے: ”ہم اس طرح نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں“ یعنی نعماتِ الٰہی انبیاء تک جو بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ملتیں اور ہر شخص کو اس کی نیکو کاری اور اچھائی کی مقدار کے مطابق قبضِ الہٰی کے بحرِ بے کراں سے فیض ملتا ہے اور وہ اسی حساب سے اس سے بہرور ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کو ان تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرواستقامت کرنے کی وجہ سے وافر حصہ نصیب ہوا۔

23
12:23
وَرَٰوَدَتۡهُ ٱلَّتِي هُوَ فِي بَيۡتِهَا عَن نَّفۡسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلۡأَبۡوَٰبَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّيٓ أَحۡسَنَ مَثۡوَايَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اور جس عورت کے گھر میں یوسف رہتے تھے اس نے اس سے اپنے مطلب کے حصول کی خواہش کی اور دروازے بند کر دیئے اور کہا کہ اس چیز کی طرف جلدی آؤ جو تمہارے لئے مہیا ہے (یوسف نے) کہا: میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں وہ (عزیز مصر) میرا صاحب نعمت ہے اور اس نے مجھے محترم جانا (اور میں اس سے خیانت کروں ؟) یقیناً ظالم کامیاب نہیں ہوں گے اور فلاح نہیں پائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
12:24
وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهِۦۖ وَهَمَّ بِهَا لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦۚ كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ
اس عورت نے تو یہ ارادہ کیا اور وہ بھی اگر پروردگار کی برہان نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور رکھیں کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا۔

مصر کی بیوی کا عشقِ سوزاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف (علیه السلام) نے اپنے خوبصورت، پرکشش اور ملکوتی چہرے سے نہ صرف عزیز مصر کو اپنی طرف کر لیا بلکہ کی بیوی بھی بہت جلدی آپ (علیه السلام) کی گرویدہ ہو گئی، آپ (علیه السلام) کا عشق اس کی روح کی گہرایوں میں اتر گیا، جُوں جُوں وقت گزرتا گیا اس عشق کی حدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن یوسف (علیه السلام) کہ جو پاکیزہ اور پرہیزگار انسان تھے انہیں خدا کے علاوہ کسی کی بھی فکر وسوچ نہ تھی، ان کا دل فقط عشقِ الٰہی کا گرویدہ تھا۔ کچھ اور امور بھی شامل ہو گئے جنہوں نے کی بیوی کے عشقِ سوزاں کو اور بھڑکا دیا۔ ایک تو اسے اولاد نہ ہونے کا ارمان تھا، دوسرا اس کی رنگینیوں سے بھرپور اشراف کی زندگی تھی، تیسرا داخلی زندگی میں اسے کو ئی پریشانی اور مسئلہ نہ تھا جیسا کہ اشراف اور نازونعمت میں پلنے والوں کی زندگی ہوتی ہے اور چوتھا دربار مصر میں کسی قسم کی کوئی پابندی اور قدغن نہ تھا، ان حالات میں وہ عورت کہ جو ایمان وتقویٰ سے بھی بے بہرہ تھی شیطانی وسوسوں کی موجوں میں غوطہ زن ہو گئی، یہاں تک کہ اس نے ارادہ کر لیا کہ اپنے دل کا راز یوسف سے بیان کرے اور اپنے دل کی تمنا ان سے پورا کرنے کا تقاضا کرے۔ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اس نے ہر ذریعہ اور ہر طور طریقہ اختیار کیا اور بڑی خواہش کے ساتھ کوشش کی کہ ان کے دل کو متاثر کرے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: جس عورت کے گھر میں یوسف تھے اس نے اپنی آرزو پورا کرنے کے لیے پیہم ان سے تقاضا کیا (وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہ)۔ ”راودتہ“ اصل میں ”مرودة“ کے مادہ سے چراگاہ کی تلاش کے معنی میں ہے، مثل مشہور ہے: الرائد لایکذب قومہ۔ جو چراگاہ کی تلاش میں جاتا ہے وہ اپنی قوم قبیلے سے جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ بھی اسی مذکورہ معنی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح سرمہ سلائی کہ جس سے آنکھوں میں آرام آرام سے سرمہ لگاتے ہیں کو”مِروَد“(بروزن مِنبر)کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر اس کام کے لیے بولا جانے لگا جو نرمی، ملائمت اور آرام سے کیا جائے۔ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ زوجہ نے اپنا مقصود پانے کے لیے بڑی نرمی سے اور کسی قسم کی دھمکی کے بغیر ملائمت اور اظہار محبت سے یوسف (علیه السلام) کو دعوت دی۔ آخرکار جو آخری راستہ اسے نظر آیا یہ تھا کہ ایک دن انہیں تنہا اپنی خلوت گاہ میں پھنسا نے اور ان کے جذبات ابھارنے کے لیے تمام وسائل سے کام لے، جاذب ترین لباس پہنے، بہترین بناؤ سنگار کرے بہت مہک دار عطر لگائے اور اس طرح سے آرائش وزیبائش کرے کی یوسف (علیه السلام) جیسے قوی انسان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے۔ قرآن کہتا ہے: اس نے دروازوں کو اچھی طرح بند کر لیا اور کہا آؤ مَیں تمہارے لیے حاضر ہوں (وَغَلَّقَتْ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ)۔ لفظ”غلقت“ مبالغہ کا معنی دیتا ہے اور نشاندہی کرتا ہے کہ اس نے تمام دروازے مضبوطی سے بند کےے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یوسف کو محل کی ایسی جگہ پر لے گئی کہ جہاں کمروں کے اندر کمرے بنے ہوئے تھے اور جیسا کہ بعض روایات میں آیاہے اس نے سات دروازے بند کیے تاکہ یوسف (علیه السلام) کے لیے فرار کی کوئی راہ باقی نہ رہے۔ علاوہ ازیں شاید وہ اس طرح حضرت یوسف (علیه السلام) کو سمجھانا چاہتی تھی کہ وہ راز فاش ہونے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ ان بند دروازوں کے ہوتے ہوئے کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ اندر آ سکے۔ جب حضرت یوسف (علیه السلام) نے دیکھا کہ تمام حالات لغزش وگناہ کی حمایت میں ہیں اور ان کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تو انہوں نے زلیخا کو بس یہ جواب دیا: مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں (قَالَ مَعَاذَ الله)۔ اس طرح حضرت یوسف (علیه السلام) نے زوجہ عزیز کی خواہش کو قطعی وحتمی طور پررد کر دیا اور اسے سمجھایا کہ وہ ہرگز اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، آپ نے ضمناً اسے اور تمام افراد کو یہ حقیقت سمجھا دی کہ ایسے سخت اور بحرانی حالات میں شیطانی وسوسوں اور ان سے کہ جو شیطانی عادات واخلاق رکھتے ہیں نجات کے لیے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا کی طرف پناہ لی جائے، وہ خدا کہ جس کے لیے خلوت اور بزم ایک سی ہے اور جس کے ارادے کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ اس مختصر سے جملے سے انہوں نے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے خدا کی وحدانیت کا اعتراف کیا، اس کے بعد مزید کہا کہ تما م چیزوں سے قطعِ نظر ”مَیں ایسی خواہش کے سامنے کس طرح سے سرِ تسلیم خم کرلوں جب کہ مَیں عزیز ِ مصر کے گھر میں رہتا ہوں، اس کے دستر خوان پر ہوں اور اس نے مجھے بہت احترام سے رکھا ہوا ہے“(إِنَّہُ رَبِّی اَحْسَنَ مَثْوَایَ)، کیا یہ واضح خیانت نہ ہو گی،”یقینا ستمگار فلاح نہیں پائیں گے (إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ)۔

اس جملے میں ”رب“سے کیا مراد ہے؟

اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے، اکثر مفسرین نے مثلا مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور مولف المنار نے المنار میں ”رب“ کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد عزیزِ مصر ہے کہ جس نے حضرت یوسف (علیه السلام) کے احترام واکرام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اور شروع ہی میں ”اکرمی مثواہ“ کہہ کر یوسف ؑ کے لیے اپنی بیوی سے سفارش کی تھی۔ یہ گمان بالکل غلط ہے کہ لفظ”رب“ اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اس سورة میں متعدد مقامات پر لفظ”رب“ کا اطلاق غیرِ خدا پر ہوا ہے، کبھی حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبان سے اور کبھی کسی اور کی زبان سے، مثلا قیدیوں کے خواب کے واقعہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس قیدی کو آپ(علیه السلام) نے آزادی کی بشارت دی تھی اس سے کہا کہ اپنے رب ”عزیزِ مصر“ سے میرا ذکر کرنا۔ وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اَنَّہُ نَاجٍ مِنْھُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّک(آیت۴۲)۔ نیز حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبانی ہے کہ: فَلَمَّا جَائَہُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُن (آیت:۵۰) جب فرعونِ مصر کا فرستادہ ان کے پاس آیاتو انہوں نے کہا اپنے رب (فرعون)کے پاس واپس جا ؤ اور اس سے تقاضاکرو کہ وہ تحقیق کرے کہ زناِن مصر نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹ لیے تھے۔ اس سورہ کہ آیہ ۴۱ میں حضرت یوسف (علیه السلام) کی زبانی اور آیہ ۴۲ میں قراان کی زبانی لفظ”رب“ کا اطلاق مالک اور صاحبِ نعمت پر ہوا ہے۔ لہٰذا آپ دیکھ رہے ہیں کہ زیرِ بحث آیت کے علاوہ اسی سورہ میں چار مرتبہ لفظ”رب“ کا اطلاق غیر خدا پر ہوا ہے اگرچہ اسی سورہ میں اور قرآن کی دوسری سورتوں میں یہ لفظ بار ہا پروردگارعالم کے لیے استعمال ہوا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے اور اس کا اطلاق دونوں معانی پر ہوتا ہے۔ بہرحال بعض مفسرین نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ زیر بحث آیت ”انہ ربی احسن مثوای“، میں لفظ ”رب“ ”خدا“ کے معنی میں ہے کیونکہ لفظ ”اللہ“ کہ جو ساتھ ذکر ہوا ہے، سبب بنتا ہے کہ ضمیر اسی کی طرف لوٹے، لہٰذا اس صورت میں جملے کا معنی یوں ہو گا: مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو میرا پروردگار ہے اور جس نے میرے مقام کو محترم قرار دیا ہے اور مجھے حاصل نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ لیکن ”اکرمی مثوای“ کے لفظوں سے عزیز ِ مصر کی سفارش کی طرف توجہ کی جائے تو اسی لفظ ”مثوای“ کا تکرار زیر ِ بحث آیت میں ہوا ہے، اس سے پہلے معنی کو تقویت ملتی ہے، تورات کی فصل ۳۹ شمارہ ۸،۹ اور ۱۰ میں یوں ہے-: اور اس کے بعد یہ ہوا کہ اس کے آقا کی بیوی نے اپنی آنکھیں یوسف پر مرکوز کر دیں اور کہنے لگی: میرے ساتھ سو جا۔ لیکن اس نے انکار کر دیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا: جو کچھ اس گھر میں میرے ساتھ ہو رہا ہے میرا آقا اس سے آگاہ نہیں ہے، اس نے اپنی تمام ملکیت میرے سپرد کر رکھی ہے، اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہے اور میرے کسی چیز کے لینے میں اس نے کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، سوائے تیرے کہ جو اس کی بیوی ہے لہٰذا مَیں یہ قباحتِ عظیم کیسے انجام دوں گا کہ جو خدا کی معصیت ہے۔ تورات کے یہ جملے بھی پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں۔ یہاں یوسف اور زوجہ کا معاملہ نہایت باریک مرحلے اور انتہائی حساس کیفیت تک پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق قرآن بہت معنی خیز انداز میں گفتگو کرتا ہے: عزیزِ مصر کی بیوی نے اس کا قصد کیا اور اگر یوسف بھی برھانِ پروردگار نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا (وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااَنْ رَاَی بُرْھَانَ رَبِّہِ) اس جملے کے معنی کے متعلق مفسرین میں بہت اختلاف ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل تین تفسیر میں کیا جا سکتا ہے: ۱۔عزیز مصر کی بیوی نے یوسف سے اپنی آرزو کو پورا کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا اور اس کے لیے اپنی انتہائی کوشش کی، یوسف بھی نوخیز جوان تھے، ابھی تک ان کی شادی بھی نہ ہوئی تھی اور نہایت ہیجان انگیز جنسی کیفیت ان کے سامنے تھی وہ بھی طبع بشری کے تقاضے سے ایسا ارادہ کر لیتے اگر برھانِ پروردگار یعنی روح، ایمان وتقویٰ، تربیتِ نفس اور آخرکار مقامِ عصمت اس میں حائل نہ ہوتا۔ اس بنا پر عزیز مصر کی بیوی کے ”ھم“ (قصد) اور یوسف کے قصد کے درمیان فرق یہ تھا کہ یوسف کی طرف سے ایک شرط سے مشروط تھا کہ جو حاصل نہ ہوئی (یعنی برھانِ پروردگار کا عدم وجود) لیکن کی بیوی کی طرف سے مطلق تھا اور چونکہ وہ اس قسم کے مقامِ تقویٰ وپرہیزگاری کی حامل نہ تھی اس لیے اس نے یہ ارادہ کر لیا اورآخری مرحلے تک اس پر قائم رہی، یہاں تک کہ اس کی پیشانی پتھر سے ٹکرائی۔ ایسے جملوں کی نظیر عربی اور فارسی ادب میں بھی موجود ہے، مثلا ہم کہتے ہیں کہ بے لگام افرادنے فلاں کسان کے پھلوں کا باغ غارت کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے، مَیں نے بھی اگر سالہا سال مکتبِ استاد میں تربیت حاصل نہ کی ہوتی تو اس قسم کا ارادہ کرتا۔ اس بناء حضرت یوسف (علیه السلام)کا ارادہ ایک شرط سے مشروط تھا، جو حاصل نہ ہوئی اور یہ شرط نہ صرف حضرت یوسف (علیه السلام) کے مقامِ عصمت اور تقویٰ کے منافی نہیں بلکہ اس بلند مقام کی وضاحت ہے۔ اس تفسیر کے مطابق حضرت یوسف (علیه السلام) سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوئی کہ جو ان کے ارادہ گناہ کی نشانی بنے بلکہ انہوں نے دل میں بھی ایسا ارادہ نہیں کیا۔ لہٰذا بعض ایسی روایات کہ جن میں ہے کہ یوسف (علیه السلام) عزیز مصر کی بیوی سے خواہش پورا کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تھے یہاں تک کہ لباس بھی اتار لیا تھا اور ایسی ہی دوسری عبارتیں کہ جنہیں نقل کرتے ہوئے شرم آتی ہے، سب بے بنیاد، مجہول اور جعلی ہیں اور ایسے اعمال آلودہ، بے لگام، ناپاک اور غلط افراد سے صادر ہوتے ہیں حضرت یوسف (علیه السلام) اپنی پاکیزگی روح اور بلند مقامِ تقویٰ کے حامل تھے انہیں ایسے کاموں سے کس طرح متہم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ حضرت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے ایک حدیث میں یہی تفسیر بہت ہی جچی تلی اور مختصر عبارت میں بیان ہوئی ہے، حدیث کچھ یوں ہے: عباسی خلیفہ مامون امام(علیه السلام) سے پوچھتا ہے: کیا آپ حضرات نہیں کہتے کہ انبیاء معصوم ہیں۔ فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا-: پھر قرآن کی اس آیت کی تفسیر کیا ہے- ”وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااَنْ رَاَی بُرْھَانَ رَبِّہِ“۔ امامؑ نے فرمایا: وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ و لَوْلَااَنْ رَاَی بُرْھَانَ رَبِّہِ لھم بھا کماھمت بہ لکن کان معصوما والمعصوم لا یھم بذنب ولا یاتیہ۔۔۔ یعنی____ زوجہ نے یوسف (علیه السلام) سے اپنی خواہش کی تکمیل کا ارادہ کیا اور یوسفؑ بھی اگر اپنے پروردگار کا برھان نہ دیکھتے تو مصر کی بیوی کی طرح ارادہ کرتے لیکن وہ تو معصوم تھے اور معصوم کبھی بھی گناہ کا ارادہ نہیں کرتا اور گناہ کے پیچھے نہیں جاتا۔ مامون کو اس جواب پر بہت لطف آیا، اس نے کہا: للہ درک یا ابالحسن آفرین آپ پر اے ابالحسن! (بحوالہ تفسیر نورالثقلین، ج٢، ص٤٢١) ٢۔عزیزِ مصر کی بیوی اور یوسف (علیه السلام) میں سے کسی کا ارادہ بھی جنسی خواہش سے مربوط نہ تھا بلکہ حملہ کرنے اور ایک دوسرے کو مار پیٹنے کا ارادہ تھا۔ زوجہ چونکہ عشق میں شکست خوردہ تھی اس لیے اس میں انتقام کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا اور یوسف (علیه السلام) اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے اور اس عورت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس امر کے لیے جو قرائن ذکر کئے گئے ہیں ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ زوجہ نے مطلب براری کا اراہ تو بہت پہلے سے کیا ہوا تھا اور اس کے لیے اس نے تمام لوازمات پورے کر رکھے تھے لہٰذا اس بات کا کوئی موقع نہیں تھا کہ قرآن کہے کہ اس نے اس کام کا ارادہ کیا کیونکہ ارادے کا موقع نہ تھا۔ دوسرا یہ کہ اس شکست کے بعد سختی اور انتقام جوئی کی کیفیت پیدا ہونا فطری ہے کیونکہ یوسف (علیه السلام) سے نرمی اور پیار محبت کے لیے جو کچھ اس کے بس میں تھا وہ کرچکی تھی اور چونکہ اس طرح ان پر اثر انداز نہیں ہو سکی تھی اس لیے اس نے دوسرا ہتھیار استعمال کرنا چاہا اور یہ سختی کا ہتھیار تھا۔ تیسرا یہ کہ آیت میں:”کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ“(ہم نے بدی اور فحشاء دونوں کو یوسف سے دُور کر دیا) ”فحشاء“ کا معنی و ہی بےحیائی اور آلودہ ہونا ہے، اور ”سوء“عزیز مصر کے تشدد سے نجات ہے۔ لیکن یوسف (علیه السلام) نے چونکہ برھانِ پروردگار کو دیکھ لیا تھا لہٰذا اپنے آپ کو اس عورت سے دست وگریبان ہونے سے بچایا تا کہ کہیں وہ حملہ کرکے انہیں زخمی نہ کر دے اور یہ پھر ان کے ارادہ تجاواز کی دلیل بن جائے لہٰذا انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ اس جگہ سے دُور چلے جائیں اور وہ دروازے کی طرف بھاگے۔ ۳۔ اس میں شک نہیں کہ یوسف (علیه السلام) جوان تھے، جوانی کے تمام احساسات اور جذبات بھی ان میں موجود تھے اگرچہ ان کے قوی جذبات ان کی عقل اور ایمان کے کے ماتحت تھے لیکن فطری بات یہ کہ جب ایسا انسان کسی انتہائی ہیجان انگیز موقع سے دوچار ہو تو اس کے اندر ایک طوفان پیدا ہوتا ہے، جزبات اور عقل ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لیے اٹھ گھڑے ہوتے ہیں، جزبات کو بھڑکانے والے عوامل کی موجیں جس قدر زیادہ قوی ہوں گی اس کا پلڑا بھاری ہو گا، یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ایک انتہائی مختصر لمحے کے لیے ان کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ قدم تھوڑا سا آگے پڑے تو ہولناک لغزش کا سامنا کرنا پڑے۔ اچانک ایمان وعقل کی قوت ہیجان میں آجاتی ہے اور اصلاح کے مطابق آمادہ جنگ ہو جاتی ہے اور مخالف فوج کو شکست دے دیتی ہے اور جذبات کی قوت کے جو قعرِ مذلت کے کنارے پہنچ جاتی ہے اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ یہ مختصر حساس اور بحرانی لحظہ کہ جو اطمینان وسکون کے دو زمانوں کے درمیان تھا، قرآن نے اس کی تصویر کشی کی ہے، اس بناء پر ”وھم بھا لولا ان رای برھان ربہ“ سے مراد ہے کہ جذبات اور عقل کی کش مکش میں یوسف (علیه السلام) قعرِ مزلت وگناہ کے لبوں تک آپہنچے تھے کہ اچانک ایمان وعقل کی بہت زیادہ قوت جمع ہوگئی اور اس نے جذبات کے طوفان کو شکست دے دی۔اب کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یوسف (علیه السلام) اگراس پھسلن اور گرنے کی جگہ سے بچ گئے تو یہ کوئی معمولی کام تھا کیونکہ گناہ اور ہیجان کے عوامل ان کے وجود سے بہت کمزور تھے، نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ آپ (علیه السلام) اپنی پاکیزگی کی حفاظت کے لیے اس حساس ترین لمحے میں جہاد بالنفس کے انتہائی شدید معرکے سے گزرے۔

برہانِ پروردگار سے کیا مراد ہے؟

”برھان“ دراصل ”برہ“ کا مصدر ہے کہ جس کا معنی ہے”سفید ہونا“ بعد ازاں ہر محکم وقوی دلیل کو برھان کہا جانے لگا تو مقصودواضح ہونے کا سبب بنے، اس بناء پر برھانِ الٰہی کہ جو نجاتِ یوسف (علیه السلام) کا سبب بنی ایک قسم کی واضح خدائی دلیل ہے، اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں: ۱۔ علم وایمان، انسانی تربیّت اور برجستہ وعمدہ صفات۔ ۲۔ زنا کے حکمِ تحریمی کے بارے میں آگاہی وعلم۔ ۳۔ مقامِ نبوت وگناہ سے معصوم ہونا۔ ۴۔ ایک قسم کی الہٰی امداد و نصرت جو ان کے نزدیک نیک اعمال کی وجہ سے اس حساس لمحے میں انہیں میسّر آئی۔ ۵۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ایک بُت تھا کہ جو زوجہ (علیه السلام) مصر کا معبود شمار ہوتا تھا، اچانک اس عورت کی نگاہ اس بُت پر پڑی، اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسے وہ گھور رہا ہے اور اس کی خیانت آمیز حرکات کو غیض و غضب کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، وہ اٹھی اور اس بُت پر پردہ ڈال دیا، یوسف (علیه السلام) نے یہ منظر دیکھا تو ان کے دل میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، وہ لرز گئے اور کہنے لگے تُو تو اس بے عقل، بے شعور، حس وتشخیص سے عاری بُت سے شرم کرتی ہے، کیسے ممکن ہے کہ مَیں اپنے پروردگار سے شرم نہ کروں کہ جو تمام چیزوں کو جانتا ہے اور تمام مخفی امور اور خلوت گاہوں سے باخبر ہے۔ اس احساس نے یوسف (علیه السلام) یوسف (علیه السلام) کو ایک نئی توانائی اور قوت بخشی اور شدید جنگ کہ جو ان کی روح کہ گہرائیوں میں جذبات اور عقل کے درمیان جاری تھی اس میں ان کی مدد کی تاکہ وہ جذبات کی سرکش موجوں کو پیچھے دھکیل سکیں۔(بحوالہ: نور الثقلین،ج۲،ص ۴۲۲و تفسیر قرطبی، ص ۳۳۹۸،ج ۵) اس کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ یہ سب معانی یکجامراد ہوں کیونکہ ”برھان“ کے وسیع مفہوم میں سب موجود ہیں اور قرآنی آیات وروایات میں لفظ”برھان“ کا مندرجہ بالا اکثر معانی پر اطلاق ہوا ہے۔ باقی رہیں وہ بے بنیاد روایات جو مفسرین نے نقل کی ہیں کہ جن کے مطابق حضرت یوسف (علیه السلام) نے گناہ کا ارادہ کر لیا تھا کہ اچانک حالتِ مکاشفہ میں جبرائیل یا حضرت یعقوب (علیه السلام) کو دیکھا کہ جو اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ رہے تھے انہیں دیکھا تو یوسف (علیه السلام) پیچھے ہٹ گئے۔ ایسی روایات کی کوئی معتبر سند نہیں ہے، یہ اسرائیلیات کی طرح ہیں اور کوتاہ فکر انسانوں کے دماغوں کی پیداوار ہیں جنہوں نے مقامِ انبیاء کو بالکل نہیں سمجھا۔ اب ہم باقی آیت کی تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہیں، قرآن مجید کہتا ہے: ہم نے یوسف کو اپنی ایسی برھان پیش کی تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور کریں(کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ)، کیونکہ وہ ہمارے برگزیدہ اور مخلص بندوں میں سے تھا(إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ہم نے جو اس کے لیے غیبی اور روحانی امداد بھیجی تاکہ وہ بدی اور گناہ سے رہائی پائے تو یہ بے دلیل نہیں تھا، وہ ایک ایسا بندہ تھا جس نے اپنے آپ کو آگاہی، ایمان، پرہیزگاری اور پاکیزہ عمل سے آراستہ کیا ہوا تھا اور اس کا قلب وروح شرک کی تاریکیوں سے پاک اور خالص تھا، اسی لیے وہ ایسی خدائی امداد کی اہلیت و لیاقت رکھتا تھا، اس دلیل کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ایسی کدائی امداد جو طغیانی وبحرانی لمحات میں یوسف (علیه السلام) جیسے انبیاء کو میسّر آتی تھی ان سے مخصوص نہ تھی بلکہ جو شخص بھی خدا کے خالص بندوں اور ”عباد اللّٰہ المخلصین“ کے امرے میں آتا ہو ایسی نعمات کے لائق ہے۔

چند اہم نکات: ۱۔ نفس سے جہاد

ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں افضل ترین جہاد جہادِبا نفس ہے جیسے پیغمبر ِ اکرم نے اپنی ایک مشہورحدیث میں ”جہادِ اکبر“ کا نام دیا ہے یعنی بڑے دشمن سے جہاد کہ جسے جہاد ِ اصغر کا نام دیا گیا ہے میں اصولی طور پر اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں جب تک کہ حقیقی معنی میں انسان جہادِ اکبرکے مرحلے سے نہ گزرے۔ قرآن مجید جہاد ِ اکبر کے میدان میں انبیاء اور دیگر اولیائے خدا سے مربوط بہت سے مناظر کی تصویر کشی کی گئی ہے، ان میں سے نہایت اہم حضرت یوسف (علیه السلام) کی سرگزشت اور زوجہ مصر کے عشقِ سوازاں کی داستان میں ہے، اگرچہ اس کے تمام پہلوؤ ں کی قرآن نے اختصار کے سبب وضاحت نہیں کی تاہم ایک مختصر جملے”وھم بھا لولا ان را برھان ربہ“ کے ذریعے اس طوفان کی شدت کو بیان کیا ہے۔ اس میدانِ مقابلہ سے حضرت یوسف (علیه السلام) رو سفید نکلے، ان کی کامیابی کی تین وجوہ ہیں: پہلی یہ کہ آپ (علیه السلام)نے اپنے تئیں خدا کے سپرد کیا اور اسکے لطف وکرم کی پناہ لی(قال معاذاللّٰہ)۔ دوسری یہ کہ آپ ع نے عزیز مصر کے احسانات کی طرف توجہ کی، جس کے گھرمیں آپ (علیه السلام) زندگی بسر کررہے تھے۔ یا یہ کہ خدا کی لامتناہی نعمات کی طرف توجہ کی کہ جس نے انہیں وحشتناک کنویں کی تہ سے نکال کر امن وامان وسکون وآرام کے ماحول میں پہنچا دیا، اس امر نے آپ (علیه السلام) کو اس بات پر ابھارا کہ اپنے گذشتہ اور آئندہ پر زیادہ غور وفکر کریں اور اپنے آپ کو زود گزر طوفانوں کے حوالے نہ کریں۔ تیسری یہ کہ یوسف (علیه السلام) کی خود سازی وبندگی کہ جس میں خلوص شامل تھا اور جو”انہ من عبادنا المخلصین“ سے معلوم ہوتی ہے نے آپ (علیه السلام) کو قوت بخشی کہ اس عظیم میدان میں کئی گنا وسوسوں کے مقابلے میں کہ جو اندر اور باہر سے آپ (علیه السلام) پر حملہ آور ہوتے تھے گھٹنے نہ ٹیک دیں۔ اور یہ درس ہے تمام آزاد انسانوں کے لیے کہ جو جہادِ نفس کے میدان میں اس خطرناک دشمن پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دعائے صباح میں بہت دلکش پیرائے میں فرماتے ہیں: وان خذلنی نصرک عند محاربة النفس والشیطان فقد وکلنی خذ لانک الیٰ حیث النصب والحرمان۔ بار الہا! اگر نفس اور شیطان سے مقابلے کے وقت ہم تیری نصرت سے محروم رہ جائیں تو یہ محرومیت ہمیں رنج وحرمان کے سپرد کر دے گی اور ہماری نجات کی امید نہیں رہے گی۔ ایک حدیث میں ہے: ان النبی(ص)بعث سریة فلما رجعوا قال مرحباً بقوم قضوا الجھاد الاصغر وبقی علیھم الجھاد الاکبر، فقیل یا رسول اللّٰہ ماالجھاد الاکبر، قال جھاد النفس۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا، جب وہ (تھکے، ماندے اور مجروح بدن) واپس آئے تو فرمایا: آفرین ہے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے جہادِ اصغر انجام دیا ہے لیکن اب جہادِ اکبر کی ذمہ داری ان پر باقی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ جہادِ اکبر کیا ہے؟ فرمایا: نفس کے ساتھ جہاد۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۲۔) امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: المجاھد من جاھد نفسہ۔ حقیقی مجاہد وہ ہے جو نفس کی سرکش خواہشوں کے خلاف جہاد کرے۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۴) امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: من ملک نفسہ اذا رغب، واذا رھب، واذا اشتھی، واذا غضب، واذا رضی، حرم اللّٰہ جسدہ علی النار۔ جو شخص چند حالت میں خود پر کنٹرول رکھے۔ جب اسے کسی کی طرف رغبت ہو، جب خوف میں ہو، جب شعلہ شہوت بھڑکتا ہو، جب عالمِ غیض وغضب میں ہو اورجب کسی پر خوش ہو۔ (اپنے ارادے سے ان جذبات کو اس طرح کنٹرول میں رکھے کہ یہ اسے حکمِ خدا سے منحرف نہ کر دیں)تو خدا اس کا بدن جہنم پر حرام کر دے گا۔(بحوالہ :وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۳)

۲۔ اخلاص کی جزا

جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں اشارہ کیاجا چکا ہے کہ قرآن مجید اس خطرناک گرداب کہ جو زوجہ مصر نے پیدا کر دیا، سے یوسف (علیه السلام) کی نجات کی نسبت خداکی طرف دیتا ہے اور کہتا ہے: ہم نے ”سوء“ اور ”فحشاء“ کو یوسف سے دُور کر دیا۔ لیکن۔ بعد کا جملہ کہ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا، کی طرف توجہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان بحرانی لمحات میں خدا اپنے مخلص بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے اپنی معنوی امداد سے دریغ نہیں کرتا بلکہ اپنے غیبی الطاف وامداد سے کہ جن کی تعریف وتوصیف کسی طرح بھی ممکن نہیں اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور یہ درحقیقت ایسی جزا ہے کہ جو خدائے بزرگ وبرتر ایسے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ یہ دراصل پاکیزگی، تقویٰ اور اخلاص کی جزاء ہے۔ ضمنی طور پر اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں حضرت یوسف (علیه السلام) کا ذکر ”مُخلَص“ (بروزن”مطلق“)بصورتِ اسمِ مفعول ہوا ہے یعنی ”خالص کیا ہوا“ نہ کہ بصورتِ ”مُخلِص“ (بروزن”مُحسِن“) اسمِ فاعل کی شکل میں جس کا معنی ہے ”خالص کرنے والا“۔ غور وخوض سے معلوم ہوتا ہے کہ ”مُخلِص“(لام کے نیچے زیر کی صورت میں)زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاںانسان تکامل و ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہو اور ابھی خود سازی کے عمل سے گزررہا ہو، جیساکہ قرآنِ حکیم میں ہے: فَإِذَا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّین جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں خدا کو خلوص سے پکارتے ہیں۔(عنکبوت:۶۵) اسی طرح ایک اور آیت میں ہے: وما امروا الا لیعبداللّٰہ مخلصین لہ الدین۔ انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خدا کی خلوص کے ساتھ پرستش کریں۔(بینة: ۵) لیکن”مُخلَص“ (لام پر زبر کی صورت میں) اعلیٰ مرحلے کے لیے بولا جاتا ہے کہ جو ایک مدت تک جہادِ بالنفس سے حاصل ہوتا ہے وہی مرحلہ کہ جب شیطان انسان میں اپنے وسوسے پیدا کرنے سے مایوس ہو جاتا ہے، درحقیقت اس مرحلے میں خدا کی طرف سے بیمہ ہو جاتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِینَ، إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمَ الْمُخْلَصِین۔ شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! ان سب کو گمراہ کروں گا مگر تیرے مخلص بندوں کو(۸۲۔۸۳)۔ یوسف (علیه السلام) اس مرحلہ پر پہنچے ہوئے تھے کہ اس بحرانی حالت میں انہوں نے پہاڑ کی طرح استقامت دکھائی اور کوشش کرنا چاہیئے کہ انسان اس مرحلے تک پہنچ جائے۔

۳۔ متین وپاکیزہ کلام

قرآن کے عجیب وغریب پہلوؤں میں سے ایک کہ جو اعجاز کی ایک نشانی بھی ہے، یہ ہے کہ اس میں کوئی چھپنے والی، رکیک، ناموزوں، متبذل اور عفت وپاکیزگی سے عاری تعبیر نہیں ہے اور کسی عام اَن پڑھ اور جہالت کے ماحول میں پرورش پانے والے کا کلام ہرگز اس طرز کا نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہر شخص کی باتیں اس کے افکار اور ماحول سے ہم رنگ ہوتی ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ تمام داستانوں میں ایک حقیقی عشقیہ داستان موجود ہے اور یہ حضرت یوسف (علیه السلام) اور مصر کی بیوی کی داستان ہے۔ یہ ایک خوبصور ت اور ہوس آلودہ عورت کے ایک زیرک اور پاک دل نوجوان سے شعلہ ور عشق کی داستان ہے۔ کہنے والے اور لکھنے والے جب ایسے مناظر تک پہنچتے ہیں تو وہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ یا تو ہیرو اور اس واقعے کے اصلی مناظرکی تصویر کشی کے لیے قلم کو کھلا چھوڑ دیں اور با زبانِ اصطلاح حقِ سخن ادا کر دیں اگرچہ اس میں ہزارہا تحریک آمیز، چھبنے والے اور غیر اخلاقی لفظ آجائیں۔ یا وہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ زبان وقلم کی نزاکت وعفت کی حفاظت کے لیے کچھ مناظر کو پردہ ابہام میں لپیٹ دیں اور سامعین وقارئین کو سربستہ طور پر بات بتائیں۔ کہنے والا اور لکھنے والا کتنی بھی مہارت رکھتا ہو اکثر اوقات ان میں سے کسی ایک مشکل سے دوچار ہو جاتا ہے۔ کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ ایک اَن پڑھ شخص ایسے شور انگیز عشق کے نہایت احساس لمحات کی دقیق اور مکمل تصویر کشی بھی کرے لیکن بغیر اس کے کہ اس میں معمولی سی تحریک آمیز وعفت سے عاری تعبیر استعمال ہوں۔ لیکن قرآن اس داستان کے حساس ترین مناظر کی تصویر کشی شگفتہ انداز میں متانت وعفت کے ساتھ کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس میں کوئی واقعہ چھوٹ جائے اور اظہارِ عجز ہو، جب کہ تمام اصولِ اخلاق وپاکیزگی بیان بھی محفوظ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ اس داستان کے تمام مناظر میں سے زیادہ حساس ”خلوت گاہ وعشق“ کا ماجرا ہے جیسے زوجہ مصر کی بیقراری اور ہواوہوس نے وجود بخشا۔ قرآن اس واقعے کی وضاحت میں تمام کہنے کی باتیں بھی کہہ گیا ہے لیکن پاکیزگی اور عفت کے اصول سے ہٹ کر اس نے تھوڑی سی بات بھی نہیں کی، قرآن اس طرح سے کہتا ہے: وَرَاوَدَتْہُ الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا عَنْ نَفْسِہِ وَغَلَّقَتْ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ۔ جس خاتون کے گھر یوسفؑ تھے، اس نے ان سے تقاضااور اظہار تمنا کی اورتمام دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی:جلدی آؤ،اس کی طرف جو و تمہارے خاطر مہیا ہے،انہوں نے کہا: مَیں اس کام سے خداکی پناہ مانگتا ہوں، (مصر)بزرگ اور میرا مالک ہے،اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے،یقینا ظالم (اور آلودہ دامن افراد) فلاح نہیں پائیں گے (یوسف:۲۳)۔ اس آیت میں یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: ۱۔ لفظ”وارد“ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسرے سے کوئی چیز بڑی محبت اور نرمی سے مانگے(لیکن زوجہ عزیزِ مصر یوسف سے جو کچھ طلب کرتی تھی)چونکہ یہاں واضح تھی لہٰذا قرآن نے اسی واضح کنایہ پر کفایت کی ہے اور نام نہیں لیا۔ ۲۔ یہاں قرآن لفظ”امراة العزیز“(یعنی۔ مصر کی بیوی)تک استعمال نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے”الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا“ (وہ خاتون کہ یوسف جس کے گھرمیں رہتا تھا)یہ اس لیے ہے تاکہ کلام پردہ پوشی اور عفتِ بیاں سے زیادہ قریب ہو۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے قرآن نے حضرت یوسف (علیه السلام) کی حسِ حق شناسی کو بھی مجسم کیا ہے، یعنی یوسف (علیه السلام) نے تمام مشکلات کے باوجود اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا جس کے پنجے میں آپ کی زندگی تھی۔ ۳۔ َ”غَلَّقَتْ الْاَبْوَابَ“ کہ جو مبالغے کا معنی دیتا ہے، دلالت کرتا ہے کہ تمام دروازے مضبوطی اور سختی سے بند کر دےے اوریہ اس ہیجان انگیز منظر کی تصویر کشی ہے۔ ۴۔”وَقَالَتْ ھَیْتَ لَک“ اس کا معنی ہے ”جلدی آؤ اس کی طرف جوتمہارے لیے مہیا ہے“ یا ”آجاؤ کہ مَیں تمہارے اختیار میں ہوں“۔ اس جملے کے وصالِ یوسف سے ہمکنار ہونے کے لیے زوجہ عزیز مصر کی آخری بات پیش کی گئی ہے لیکن ایک وزنی، پرمتانت اور معنی خیز انداز میں بغیر کسی تحریک آمیز اور بد آموزی کے۔ ۵۔”مَعَاذَ اللهِ إِنَّہُ رَبِّی اَحْسَنَ مَثْوَایَ“یہ جملہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے اس حسین ساحرہ کی دعوت کے جواب میں کہااکثر مفسرین کے بقول اس کا معنی ہے:”مَیں خدا کی پناہ مانگتا ہوں، تیرا شوہرعزیز مصر میرا بزرگ اور مالک ہے اور وہ میرا احترام کرتا ہے اور مجھ پر اعتماد کرتا ہے، مَیں اس سے کسی طرح کی خیانت کروں، یہ کام خیانت بھی اور ظلم بھی“”إِنَّہُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ“۔ اس طرح قرآن حضرت یوسف (علیه السلام) کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ انہوں نے مصر کی بیوی کے احساسات بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ۶۔”وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااَنْ رَاَی بُرْھَانَ رَبِّہِ“ ایک طرف قرآن اس خلوت گاہ عشق کے انتہائی حساس مناظر کی تصویر کشی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کیفیت اس قدر تحریک آمیز تھی کہ اگر حضرت یوسف (علیه السلام) عقل، ایمان یاعصمت کے بلند مقام پر نہ ہوتے تو گرفتار ہو جاتے ، دوسری طرف آیت کے اس حصے میں قرآن طغیان گر شہوت کے دیو پر حضرت یوسف (علیه السلام) کی آخری کامیابی پر ایک خوبصورت انداز میں خرات تحسین پیش کررہا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ لفظ”ھم“ استعمال ہوا ہے یعنی مصر کی بیوی نے پختہ ارادہ کر رکھا تھا اور یوسف (علیه السلام) نے بھی اگر برھان پروردگار نہ دیکھی ہوتی تو وہ بھی ارادہ کرتے۔ کیا کوئی لفظ یہاں قصد وارادہ سے بڑھ کر متانت آمیز استعمال کیا جا سکتا ہے؟

25
12:25
وَٱسۡتَبَقَا ٱلۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٖ وَأَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلۡبَابِۚ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ أَرَادَ بِأَهۡلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسۡجَنَ أَوۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (جبکہ زوجۂ عزیز یوسف کا تعاقب کر رہ تھی) اور پیچھے سے اس کی قمیض پھاڑ دی اور اس دوران اس عورت سردار کو ان دونوں نے دروازے پر پایا۔ اس عورت نے کہا: جو تیرے اہل سے خیانت کا ارادہ کرے اس کی سزا سوائے زندان یا درد ناک عذاب کے کیا ہو گی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
12:26
قَالَ هِيَ رَٰوَدَتۡنِي عَن نَّفۡسِيۚ وَشَهِدَ شَاهِدٞ مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٖ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
(یوسف نے) کہا: اس نے مجھے اصرار سے اپنی طرف دعوت دی اور اس موقع پر اس عورت کے خاندان میں سے ایک شاہد نے گواہی دی کہ اگر اس کی قمیض آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچ کہتی ہے اور یہ جھوٹوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
12:27
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور اگر اس کی قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو پھر وہ عورت جھوٹ بولتی ہے اور یہ سچوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
12:28
فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيۡدِكُنَّۖ إِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيمٞ
جب(عزیز مصر نے) دیکھا تو اس (یوسف) کی قمیض پیچھے سے پھٹی تھی تو اس نے کہا کہ یہ تمہارے مکر و فریب میں سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ عورتوں کا مکرو فریب عظیم ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
12:29
يُوسُفُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَاۚ وَٱسۡتَغۡفِرِي لِذَنۢبِكِۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلۡخَاطِـِٔينَ
یوسف! اس امر سے صرف نظر کرو اور (اے عورت!) تو بھی اپنے گناہ پر استغفار کر کہ تو خطار کار وں میں سے تھی۔

زوجہ مصر کی رسوائی

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

یوسف (علیه السلام) کی انتہائی استقامت نے زوجہ عزیز کو تقریباً مایوس کر دیا، یوسف (علیه السلام) اسی معرکے میں اس ناز وادا والی اور سرکش ہَوا وہَوس والی عورت کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے تھے، انہوں نے محسوس کیا کہ اس لغزش گاہ میں مزید ٹھہرنا خطرناک ہے، انہوں نے اس محل سے نکل جانے کا ارادہ کیا، لہٰذا وہ تیزی سے قصر کے دروازے کی طرف بھاگے تاکہ دروازہ کھول کر نکل جائیں، زوجہ بھی بے اعتناء نہ رہی وہ بھی یوسف (علیه السلام) کے پیچھے دروازے کی طرف بھاگی تاکہ یوسف (علیه السلام) کو باہر نکلنے سے روکے، اس نے اِس مقصد کے لیے یوسف کی قمیص پیچھے سے پکڑ لی اور اسے اپنی طرف کھنچا اس طرح سے کہ قمیص پیچھے سے لمبائی کے رخ پھٹ گئی(وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیصَہُ مِنْ دُبُر)۔ ”استباق“ لغت میں دو یا چند افراد کے ایک دوسرے کے سبقت لینے کے معنی میں ہے اور ”قد“ لمبائی کے رخ پھٹنے کے معنی میں ہے جیسا کہ ”قط“ عرض میں پھٹ جانے کے معنی میں، اس لیے حدیث میں ہے: کانت ضربات علی بن ابی طالب (علیه السلام) ابکاراً کان اذا اعتلی قد، واذا اعترض قط۔ علی ابن ابی طالب (علیه السلام) کی ضربیں اپنی نوع میں نئی اور انوکھی تھیں، جب اوپر سے ضرب لگاتے تو نیچے چیر دیتے اور جب عرض میں ضرب لگاتے تو دو نیم کر دیتے۔(بحوالہ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں)۔ لیکن جس طرح ہوا یوسف دروازے تک پہنچ گئے اور دروازہ کھول لیا،اچانک مصر کو دروازے پیچھے دیکھا، جس طرح قرآن کہتا ہے: ان دونوں نے اس عورت کے آقا کو دروازے پر پایا(وَاَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَی الْبَابِ)۔ ”الفیت“ ”الفاء“ کے مادہ سے اچانک پانے کے معنی میں ہے اور شوہر کو ”سید“ سے تعبیر کرنا جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے اہل ِ مصر کے رواج کے مطابق تھا، وہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو ”سید“ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں، آج کی فارسی زبان میں بھی عورتیں اپنے شوہر کا ”آقا“ سے تعبیر کرتی ہیں۔ اب جب کہ زوجہ نے ایک طرف اپنے تئیں رسوائی کے آستانے پر دیکھا اور دوسری طرف انتقام کی آگ اس کی روح میں بھڑک اٹھی تو پہلی بات جو اسے سوجھی یہ تھی کہ اس نے اپنے آپ کو حق بجانب ظاہر کرتے ہوئے اپنے شوہر کی طرف رخ کیا اور یوسف پر تہمت لگائی: اس نے پکار کر کہا جو شخص تیری اہلیہ سے خیانت کا ارادہ کرے اس کی سزا زندان یا دردناک عذاب کے سواکیا ہو سکتی ہے(قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوئًا إِلاَّ اَنْ یُسْجَنَ ٴَوْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس خیانت کار عورت نے جب تک اپنے آپ کو رسوائی کے آستانے پر نہیں دیکھا تھا، بھول چکی تھی کہ وہ عزیز مصر کی بیوی ہے لیکن اِس موقع پر اس نے ”اھلک“ (تیری گھر والی)کا لفظ استعمال کرکے کی غیرت کو ابھارا کہ مَیں تیرے ساتھ مخصوص ہوں لہٰذا کسی دوسرے کو نہیں چاہیئے کہ میری طرف حرص کی آنکھ سے دیکھے، یہ گفتگو حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے زمانے کے فرعونِ مصر کی گفتگو سے مختلف نہیں کہ وہ تختِ حکومت پر بھروسے کے وقت کہتا تھا: الیس لی ملک مصر۔ کیا مصر کی سلطنت کا مَیں مالک نہیں ہوں (زخرف:۵۱)۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ تخت وتاج خطرے میں ہے اور میرے اقبال کا ستارا ڈوب رہا ہے تو کہا: یریدان ان یخرجٰکم من ارضکم۔ یہ دونوں بھائی(موسیٰ وہارون)چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دیں۔(طٰہٰ:۶۳) دوسرا قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ مصر کی بیوی نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ یوسف میرے بارے میں برا ارادہ رکھتا تھا بلکہ مصر سے اس کی سزا کے بارے میں بات کی،اس طرح سے کہ اصل مسئلہ مسلم ہے اور بات صرف اس کی سزا کے بارے میں ہے، ایسے لمحے میں جب وہ عورت اپنے آپ کو بھول چکی تھی اس کی یہ جچی تلی گفتگو اس کی انتہائی حیلہ گری کی نشانی ہے۔(یہ کہ ”ما جزا“میں لفظ ”ما“ نافیہ ہے یا استفہامیہ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن دونوں صورتوں میں اس کے نتیجے میں کوئی فرق نہیں پڑتا)۔ پھر یہ کہ پہلے وہ قید خانے کے بارے میں بات کرتی ہے اور بعد میں گویا وہ قید پر بھی مطمئن نہیں ہے ایک قدم اور آگے بڑھاتی ہے اور ”عذاب الیم“ کا ذکر کرتی ہے کہ جو سخت جسمانی سزا اور قتل تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس مقام پر حضرت یوسف (علیه السلام) نے کاموشی کو کسی طور پر جائز نہ سمجھا اور صراحت سے زوجی مصر کے عشق سے پردہ اٹھایا، انہوں نے کہا: اس نے مجھے اصرار اور التماس سے اپنی طرف دعوت دی تھی (قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی)۔ واضح ہے کہ اس قسم کے موقع پر ہر شخص ابتداء میں بڑی مشکل سے باور کر سکتا ہے کہ ایک نوخیزجوان غلام کہ جو شادہ شدہ نہیں بے گناہ ہو اورایک شوہر دار عورت کہ جو ظاہراً باوقار ہے گنہگار ہو، اس بناء پر الزام زوجہ کی نسبت زیادہ یوسف کے دامن پر لگتا تھا لیکن چونکہ خدا نیک اور پاک افراد کا حامی ومدد گار ہے، وہ اجازت نہیں دیتا کہ یہ نیک اور پارسا مجاہد نوجوان تہمت کے شعلوں کی لپیٹ میں آئے لہٰذا قرآن کہتا ہے:اور اس موقع پر اس عورت کے اہلِ خاندان میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اصلی مجرم کی پہچان کے لیے اس واضح دلیل سے استفادہ کیا جائے کہ اگر یوسف کا کرتہ آگے کی طرف سے پھٹا ہے تووہ عورت سچ کہتی ہے اور یوسف جھوٹا ہے(وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِنْ اَھْلِھَا إِنْ کَانَ قَمِیصُہُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَ مِنَ الْکَاذِبِینَ)۔ اور اگر اس کاکُرتہ پیچھے سے پھٹا ہے وہ عورت جھوٹی اور یوسف سچاہے(وَإِنْ کَانَ قَمِیصُہُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَ مِنَ الصَّادِقِینَ)۔ اس سے زیادہ مضبوط دلیل اور کیا ہو گی۔ کیو نکہ زوجہ کی طرف سے تقاضا تھا تو وہ یوسف کے پیچھے دوڑی ہے اور یوسف اس سے آگے دوڑ رہے تھے کہ وہ ان کے کُرتے سے لپٹی ہے، تو یقینا وہ پیچھے سے پھٹا ہے اور اگر یوسف نے کی بیوی پر حملہ کیا ہے اور وہ بھاگی ہے یا سامنے سے اپنا دفاع کیا ہے تو یقینا یوسف کا کُرتہ آگے سے پٹھا ہے۔ یہ امر کس قدر جاذبِ نظر ہے کہ کُرتہ پھٹنے جا سادہ سا مسئلہ بے گناہی کا تعین کر دیتا ہے، یہی چھوٹی سی چیز ان کی پاکیزگی کی سَند اور مجرم کی رسوائی کا سبب ہو گئی۔ عزیز مصر نے یہ فیصلہ کہ جو بہت ہی جچا تُلا تھا بہت پسند کیا، یوسف کی قمیص کو غور سے دیکھا، اور جب اس نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے (خصوصاً اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس دن تک اس نے کبھی یوسف سے کوئی جھوٹ نہیں سنا تھا) اس نے اپنی بیوی کی طرف رخ کیا اور کہا: یہ کام تم عورتوں کے مکر وفریب میں سے ہے، بے شک تم عورتوں کا مکر وفریب عظیم ہے (فَلَمَّا رَاَی قَمِیصَہُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّہُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ)۔ اس وقت مصر کوخوف ہوا کہ یہ رسوا کن واقعہ ظاہر نہ ہو جائے اور مصر میں اس کی آبرو نہہ جاتی رہے، اس نے بہتر سمجھا کہ معاملے کو سمیٹ کر دبا دیا جائے، اس نے یوسف کی طرف رخ کیا اور کہا: اے یوسف تم صرفِ نظر کرو اوراس واقعے کے بارے میں کوئی بات نہ کہویُوسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا، پھر اس نے بیوی کی جانب رُخ کیا اور کہا:تم بھی اپنے گناہ سے استغفار کرو کہ تم خطا کاروں میں سی تھی (وَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنَ الْخَاطِئِین)۔(تشریحی نوٹ:اس جملے میں”من الخاطئین“ کہ جو جمع مزکر ہے کہا گیا ہے: کہ ”من الخاطئات“ کہ جو جمع مونث ہے، ایسا اس لیے ہے کہ بہت مواقع پر تغلیب کے طور پر جمع مذکر کا دونوں پر اطلاق کیا جاتا ہے یعنی تو خطا کاروں کے زمرے میں ہے)۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ بات کہنے والا مصر نہ تھا بلکہ وہی شاہد تھا لیکن اس احتمال کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے خصوصاً جب کہ یہ جملہ مصر کی گفتگو کے بعد آیا ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ شاہد کون تھا؟ شاہد کون تھا کہ جس نے یوسف اور مصر کی فائل اتنی جلدی درست کر دی اور مہر لگادی اور بے گناہ کو خطا کار سے الگ کردکھایا، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ عزیز مصر کی بیوی کے رشتہ داروں میں سے تھا اور لفظ”من اھلھا“ اس پر گواہ ہے اور قائدتاً ایک حکیم، دانش مند اور سمجھدار شخص تھا اس واقعے میں کہ جس کا کوئی عینی شاہد نہ تھا اُس نے شگافِ پیراہن سے حقیقت معلوم کرلی، کہتے ہیں کہ یہ شخص عزیز مصر کے مشیروں سے تھا اور اس وقت اس کے ساتھ تھا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ شیر خوار بچہ تھا، یہ بچہ عزیز مصر کی بیوی کے رشتہ داروں میں سے تھا، اس وقت یہ بچہ وہیں قریب تھا یوسف نے عزیز مصر سے خواہش کی کہ اس سے فیصلہ کروا لو، مصر کو پہلے تو بہت تعجب ہوا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے لیکن جب وہ شیر خوار حضرت عیسیٰؑ کی طرح گہوارے میں بول اٹھا اور اس نے گنہگار کو بے گناہ سے الگ کرکے معیار بتایاتو وہ متوجہ ہوا کہ یوسف ایک غلام نہیں بلکہ نبی ہے یا نبی جیسا ہے۔ وہ روایات کہ جو اہل بیت (علیه السلام) اور اہلِ تسنن کے طریقے سے منقول ہیں ان میں اس ایک دوسری تفسیر کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک روایت ابن عباس نے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: چار افراد نے بچپن میں بات کی، فرعون کی آرایش کرنے والی کا بیٹا، یوسف کا شاہد، صاحبِ جریح اور عیسیٰ بن مریم۔(بحوالہ: تفسیر المنار، ج۱۲،ص ۲۸۷)۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: شہادت دینے والا چھوٹا بچہ گہوارے میں تھا۔(بحوالہ:تفسیر نورالثقلین، ج۲،ص ۴۲۲)۔ لیکن توجہ رہے کہ مندرجہ بالا دونوں احادیث میں سے کسی کی بھی سند محکم نہیں ہے بلکہ دونوں مرفوعہ ہیں۔ تیسرا احتمال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ شاہد وہی کُرتے کا پھٹا ہونا تھا کہ جس نے زبانِ حال میں شہادت دی، مگر کلمہ”من اھلھا“ (شاہد کی بیوی کے خاندان میں سے تھا) کی طرف توجہ کرنے سے یہ احتمال بہت بعید نظر آتا ہے بلکہ یہ کلمہ اس احتمال کی نفی کرتا ہے۔ ۲۔ مصر نے خفیف رِدّعمل کیوں ظاہر کیا؟ اس داستان میں جو مسائل انسان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایسے اہم مسئلہ میں عزیز مصر نے صرف ایک ہی جملے پر قناعت کیوں کی، جب کہ یہ اس کی عزت وناموس کا معاملہ تھا، اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ اپنے گناہ پر استغفار کرو کہ تُو خطا کاروں میں سے تھی۔ شاید یہی مسئلہ سبب بنا کہ اپنے اسرار فاش ہونے کے بعد مصر کی بیوی نے اشراف اور بڑے لوگوں کی بیویوں کو ایک خاص محفل میں دعوت دی اور ان کے سامنے اپنے عشق کی داستان کو صراحت سے اور کھول کر بیان کیا۔ کیا رسوائی کے خوف نے کو عزیز آمادہ کیا کی وہ اس معاملے کو طول نہ دے یا یہ کہ طاغوتی حکمرانوں کے لیے یہ کام اور عزت وناموس کی حفاظت کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ وہ گناہ، برائی اور بے عفتی میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ اس بات کی ان کی نظر میں حیثیت اور وقعت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ دوسرا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے۔ ۳ بحرانی لمحات میں نصرتِ الٰہی: داستانِ یوسف کا یہ حصہ ہمیں ایک اور بہت بڑا درس دیتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایسے انتہائی بحرانی لمحات میں پروردگار کی وسیع حمایت انسانی مدد کو آپہنچتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے-:۔۔۔۔۔یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِب۔ خدا اس کے لیے نجات کی راہ پیدا کر دے گا اور اسے ا یسی جگہ سے رزق دے گا کہ جہاں سے وہم بھی نہ ہو،(طلاق:۲،۳)۔ اسی کے مصداق ایسے ذرائع سے کہ انسان جن کے متعلق سوچتا بھی نہیں کہ کوئی امید کی کرن پیدا ہو گی، خدائے تعالیٰ کی مدد ہوتی ہے۔ کیا خبر تھی کہ کُرتے کا پھٹنا حضرت یوسف (علیه السلام) کی پاکیزگی اور برائت کی سند بن جائے گا، وہی واقعات کو جنم دینے والا کُرتہ کہ جو ایک یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں کو پھٹنا نہ ہونے کی وجہ سے باپ کے حضور ذلیل ورسوا کرتا ہے لیکن دوسری طرف یہ کُرتہ کی ہوس آلود بیوی کو پھٹا ہونے کی وجہ سے خوار کرتا ہے اور تیسری طرف حضرت یعقوب (علیه السلام) کی بے نور آنکھوں کے لیے نورِ آفرین بن جاتا ہے اور اس کی بوئے آشنائی نسیمِ صبح گاہی کے ہمراہ مصر سے کنعان تک سفر کرتی ہے اور پیرِ کنعان کو خوش خبری لے کر آنے والے سوار کی خبر دیتی ہے۔ بہرحال خدا تعالے کے ایسے پوشیدہ الطاف ہیں کہ جن کی گہرائی سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہے اور جس وقت اس کے لطف کی بادِ صبا چلتی ہے تو منظر اس طرح سے بدل جاتے ہیں کہ سمجھدار ترین افراد بھی جس کی پیش گوئی کے قابل نہیں ہوتے۔ کُرتہ اگرچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن ایک اہم چیز ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مکڑی کے جالے کے چند تار ایک ملت کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیتے ہیں جیسا کہ ہجرتِ رسول کے وقت غارِ ثور پر ہوا۔ ۴۔ مصر کی بیوی کا منصوبہ: مندرجہ بالا آیات میں عورتوں کے مکر کی طرف اشارہ ہوا ہے (البتہ ایسی عورتیں جو زوجہ مصر کی طرح بے لگام اور ہوس ران ہوں) اور اس مکر وفریب کو ”عظیم“ قرار دیا گیا ہے (ان کیدکن عظیم)۔ تاریخ میں اور تاریخ ہی کے تسلسل میں ایسی بہت سی داستانیں موجود ہیں، اس سلسلے میں بہت سی باتیں منقول ہیں کہ جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوس باز عورتیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ایسے ایسے منصوبے بناتی ہیں جو بے نظیر ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا داستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ زوجہ مصر نے عشق میں شکست کھانے کے بعد اور اپنے آپ کو رسوائی کے آستانے پر پاکر کس طرح بڑی مہارت سے اپنی پاک دامنی اور یوسف کی آلودگی کو پیش کیا، یہاں تک کہ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ یوسفؑ نے میری طرف برا ارادہ کیا بلکہ اسے مسلم امر کے طور فرض کیا اور صرف ایسے شخص کی سزا کے متعلق سوال کیا اور ایسی سزا کا ذکر کیا جو صرف قید پر موقوف نہ تھی بلکہ اس کی کوئی حد نہ تھی۔ اسی واقعے میں ہم بعد میں دیکھے گے کہ جب مصر کی عورتوں نے سرزنش کی اور اپنے غلام سے اس کے بے قرار عشق پر انگلی اٹھائی تو اس نے کس طرح اپنی برائت کے لیے انتہائی مکارانہ اور سوچے سمجھے طریقے سے حیران کن چال چلی۔ اور یہ ایسی عورتوں کے مکر کے بارے میں ایک اور تاکید ہے۔

30
12:30
۞وَقَالَ نِسۡوَةٞ فِي ٱلۡمَدِينَةِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفۡسِهِۦۖ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
شہر کی بعض عورتوں نے کہا: زوجۂ عزیز اپنے جوان (غلام)کو اپنی طرف دعوت دیتی ہے اور اس جوان کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے ہم دیکھتی ہیں کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
12:31
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ أَرۡسَلَتۡ إِلَيۡهِنَّ وَأَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـٔٗا وَءَاتَتۡ كُلَّ وَٰحِدَةٖ مِّنۡهُنَّ سِكِّينٗا وَقَالَتِ ٱخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۖ فَلَمَّا رَأَيۡنَهُۥٓ أَكۡبَرۡنَهُۥ وَقَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٞ كَرِيمٞ
جس وقت(عزیز کی بیو ی کو) ان کے خیال کی خبر ہوئی تو اس نے انہیں بلوایا (اور انہیں دعوت دی) اور ان کے لئے قیمتی تکیوں سے مجلس آراستہ کی اور ہر ایک کے ہا تھ میں (پھل کا ٹنے کے لئے) چھری تھمادی اور اس موقع پر (یوسف سے)کہا: ان کی محفل میں داخل ہو۔ جب ان کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور (بے اختیار) انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا حاشا للہ یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگو ار فرشتہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
12:32
قَالَتۡ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِي لُمۡتُنَّنِي فِيهِۖ وَلَقَدۡ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ فَٱسۡتَعۡصَمَۖ وَلَئِن لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُونٗا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ
(عزیز کی بیوی نے) کہا: یہ وہی ہے جس (کے عشق) کی بناء پر تم نے مجھے سر ز نش کی ہے جی ہاں ! میں نے اسے اپنی طرف دعوت دی ہے مگر ہی بچ نکلا اورجو کچھ میں کہتی ہوں اس نے انجام نہ دیا تو یہ زندان میں جا ئیگا تو یقیناً ذلیل و خوار ہوگا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
12:33
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ وَإِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّي كَيۡدَهُنَّ أَصۡبُ إِلَيۡهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
(یوسف) نے کہا: پروردگارا ! جس طرف یہ لوگ مجھے بلاتے ہیں اس سے قید خانہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جا ہلوں میں سے ہوجاوں گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 34 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
12:34
فَٱسۡتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
اس کے پرور دگار نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کی چا لیں اس سے دور کردیں۔ کیونکہ وہ سننے اور جا ننے والاہے۔

زوجہ مصر کی ایک اور سازش

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زوجہ کے اظہار عشق کا معاملہ مذکورہ داستان میں اگرچہ خاص لوگوں تک تھا اور خود نے بھی اسے چھپا نے کی تاکید کی تھی تاہم ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتیں، خصوصاً بادشاہوں اور اہلِ دولت واقتدار کے تو محلوں کی دیواریں بھی سنتی ہیں، بہرحال آخرکار یہ راز قصر سے باہر نکل گیا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے:شہر کی کچھ عورتیں اس بارے میں ایک دوسرے سے باتیں کرتی تھیں اور اس بات کا چرچا کرتی تھیں کہ کی بیوی نے اپنے غلام سے راہ ورسم پیدا کرلی اور اسے اپنی طرف دعوت دیتی ہے (وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَاَةُ الْ تُرَاوِدُ فَتَاھَا عَنْ نَفْسِہِ) اورغلام کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے(قَدْ شَغَفَھَا حُبّا)۔ پھر وہ یہ کہہ کر تنقید کرتیں کہ”ہماری نظر میں تو وہ واضح گمراہی میں ہے(إِنَّا لَنَرَاھَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ)۔ واضح رہے کہ ایسی باتیں کرنے والی مصر کی طبقئہ امراء کی عورتیں تھیں جن کے لیے فرعونیوں اور مستکبرین کے محلات کی گھٹیا کہانیاں بہت دلچسپ ہوتی تھیں اور وہ ہمیشہ ان کی ٹوہ میں لگی رہتی تھیں۔ اشراف کی یہ عورتیں کہ جو خود بھی زوجہ عزیز کی نسبت ہوس رانی میں کسی طرح کم نہ تھیں ان کی چونکہ یوسف تک پہنچ نہیں تھی لہٰذا بقولے”جانماز آب می کشیدند“ مکر وفریب میں لگی ہوئی تھیں اور زوجہ عزیز کو اس کے عشق پر واضح گمراہی میں قرار دیتی تھیں، یہاں تک کہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ راز بعض زنانِ مصر نے ایک سازش کے ساتھ پھیلایا، وہ چاہتی تھیں کہ زوجہ مصر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے انہیں اپنے محل میں دعوت دے تاکہ وہ خود وہاں یوسف کو دیکھ سکیں، ان کا خیال تھا کہ وہ یوسف کے سامنے ہوں تو ہو سکتا ہے ان کی نظر ان کی طرف مائل ہو جائے کہ جو شاید زوجہ عزیز مصر سے بھی بڑھ کر حسین تھیں اور پھر یوسف کے لیے ان کا جمال بھی نیا تھا اور پھر یوسف کے لیے مصر کی بیوی ماں یا مولی یا ولی نعمت کامقام رکھتی تھی اور ایسی کوئی صورت ان کے لیے نہ تھی لہٰذا وہ سمجھتی تھیں کہ زوجہ کی نسبت ان کے اثر کا احتمال زیادہ ہے۔ ”شغف“ ”شغاف“ کے مادہ سے ہے، یہ دل کے اوپر کی گرہ یا دل پر موجود ایک پتلا سا چھلکا جس نے غلاف کی طرح اسے ڈھاپ رکھا ہوتا ہے،کو کہتے ہیں”شَغَفَھَا حُبّا“ وہ یوسف کی اتنی شیدائی ہو گئی ہے کہ اس کی محبت اس کے دل کے اندر اتر گئی ہے اور اس کی گہرائیوں میں سما گئی ہے اور یہ شدید محبت اور یہ عشق ِ سوزاں کی طرف اشارہ ہے۔ ”آلوسی“ نے تفسیر ”روح المعانی“ میں کتاب”اسرارالبلاغہ“ سے عشق ومحبت کے کئی مراتب کاذکرکیا ہے جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ محبت کا پہلا درجہ میلان ہے، اس کے بعد ”علاقہ“ یعنی ایسی محبت جس کا تعلق دل سے ہو، اس کے بعد”کلف“ یعنی شدید محبت ہے، پھر ”عشق“ کا درجہ ہے، اس کے بعد ”شعف“ (عین کے ساتھ) ہے یعنی وہ حالت کہ جس میں دل آتشِ عشق میں جلتا ہے اور اسے اس جلن سے لذت حاصل ہوتی ہے، اس کے بعد”لوعة“ کا مرحلہ ہے اور پھر”شغف“ کا درجہ ہے، یہ وہ مرحلہ ہے کہ جہاں عشق دل کے تمام گوشوں اور زاویوں میں اتر جاتا ہے اور اس کے بعد”تدلة“ ہے، یہ وہ درجہ ہے کہ جس میں عشق عقلِ انسانی کو لے جاتا ہے اور آخری مرحلہ ”ھیوم“ ہے کہ جو مطلق بے قراری کا نام ہے اس مرحلے میں عاشق کو بے اختیار ہر طرف کھنچتی ہے۔( بحوالہ:تفسیر روح المعانی،ج۱۲،ص ۲۰۳) یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ کس شخص نے یہ راز فاش کیا تھا، زوجہ عزیز تو یہ رسوائی ہرگز گوارا نہ کرتی تھی اور عزیزنے تو خود اسے چھپانے کی تاکید کی تھی، رہ گیا وہ حکیم ودانا کہ جس نے اس کا فیصلہ کیا تھا، اس سے تو ویسے ہی یہ کام بعید نظر آتا ہے، بہرحال جیسا کہ ہم نے کہا کہ خرابیوں سے پُر ان محلات میں ایسی کوئی چیز نہیں کہ جسی مخفی رکھا جاس کے اور آخرکار ہر بات نامعلوم افراد کی زبانوں سے دربایوں تک اور ان سے باہر کی طرف پہنچ جاتی ہے اور یہ فطری امر ہے کہ لوگ اسے زیبِ داستان کے لیے اور بڑھا چڑھا کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ زوجہ کو مصر کی حیلہ گر عورتوں کے بارے میں پتہ چلا تو پہلے وہ پریشان ہوئی، پھر اسے ایک تدبیر سوجھی، اس نے انہیں ایک دعوت پر مدعو کیا، فرش سجایا اور قیمتی گاؤ تکیے لگا دیے، وہ آ بیٹھیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں پَھل کاٹنے کے لیے چھری تھما دی(یہ چھریاں پَھل کاٹنے کی ضرورت سے زیادہ تیز تھیں) (فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ اَرْسَلَتْ إِلَیْھِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَھُنَّ مُتَّکَاٴً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْھُنَّ سِکِّینًا)۔ (تشریحی نوٹ: ”متکا“ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر تکیہ کیا جائے جیسے کرسیوں اور تخت کے ٹیک یا پشت بنی ہوتی ہے اور جیسا کہ اس زمانے کے محلات میں معمول تھا لیکن بعض نے متکا کا معنی ترنج بین کیا ہے کہ جو ایک قسم کا بھل ہے، جنہوں نے اس کا معنی ٹیک کیا ہے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ترنج بین کی بنی ہوئی تھی، فارسی میں اسے بالنگ کہتے ہیں، یہ ترش مزہ پھل ہوتا ہے جس کا چھلکا موٹا ہوتا ہے اور اس کے موٹے چھلکے کا مربہ بنایا جاتا ہے، ہو سکتا ہے یہ پھل مصر میں ہمارے پھل سے مشابہ ہو اور مکمل طور پر ترش نہ ہو)۔ یہ کام خود اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پروہ نہیں کرتی تھی اور گذشتہ رسوائی سے اس نے کوئی سبق نہ سیکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے یوسفؑ کو حکم دیا کہ اس مجلس میں داخل ہو تاکہ تنقید کرنے والے عورتیں اس کے حُسن وجمال کو دیکھ کر اسے اس کے عشق پر ملامت نہ کریں(وَقَالَتْ اخْرُجْ عَلَیْھِن)۔ ”ادخل“ (داخل ہو جاؤ) کی بجائے یہاں”اخرج علیھن“ (ان کی طرف باہر نکلو) کی تعبیر استعمال ہوئی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زوجہ نے حضرت یوسف (علیه السلام) کو کہیں باہر نہیں بٹھا رکھا تھا بلکہ اندر کے کسی کمرے میں کہ غالباً جہاں غذا اور پھل رکھا گیا تھا مشغول رکھا تھا تاکہ وہ محفل میں داخل ہونے والے دروازے سے نہ آئیں بلکہ بالکل غیر متوقع طور پر اور اچانک آئیں۔ زنانِ مصر جو بعض روایات کے مطابق دس یا اس سے زیادہ تھیں جب انہوں نے زیبا قامت اور نورانی چہرہ دیکھا اور ان کی نظر یوسف کے دلربا چہرے پر پڑی تو انہیں یوں لگا جیسے اس محل میں آفتاب اچانک بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا ہو اور آنکھوں کو خیرہ کررہا ہے، وہ اس قدر حیران اور دم بخود ہوئیں کہ انہیں ہاتھ اور پاؤں میں اور ہاتھ اور ترنج بین میں فرق بھول گیا، انہوں نے یوسف کو دیکھتے ہی کہایہ تو غیر معمولی ہے(فَلَمَّا رَاَیْنَہُ اکْبَرْنَہُ)، وہ خود سے اس قدر بے خود ہوئیں کہ (ترنج بین کی بجائے) ہاتھ کاٹ لیے(وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ)، اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی دلکش آنکھوں میں تو عفت وحیا کا نور ضوفشاں ہے اور ان کے معصوم رخسار شرم وحیا سے گلگوں ہیں تو ”سب پکار اٹھیں کہ نہیں یہ جوان ہرگز گناہ سے آلودہ نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگوار آسمانی فرشتہ ہے (وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ھٰذَا بَشَرًا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: حاش للّٰہ“ ”حشی“ کے مادہ سے ایک طرف کے معنی میں ہے اور ”’تحاشی“ کنارہ کرنے کے معنی میں ہے اور ”حاش للہ“ کا معنی یہ ہے کہ خدا منزہ ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یوسف بھی پاک ومنزہ بندہ ہے۔) اس بارے میں کہ زنانِ مصر نے اس وقت اپنے ہاتھوں کی کتنی مقدار کاٹی تھی، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ بات مبالغہ آمیز طور پر نقل کی ہے لیکن قرآن سے اجمالاً یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ اس وقت مصر کی عورتیں پوری طرح بازی ہار چکی تھیں، ان کے زخمی ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا، پریشانی کے عالم میں وہ بے روح مجسمے کی طرح اپنی جگہ چپکی سی بیٹھی تھیں، ان کی حالت کہہ رہی تھی کہ انہوں نے زوجہ سے کچھ کم نہیں کیا، اُس نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کہا-”یہ وہ شخص ہے جس کے عشق پر تم مجھے طعنے دیتی تھیں(قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیہِ)۔ گویا زوجہ عزیز چاہتی تھی کہ انہیں کہے کہ تم نے تو یوسف کو ایک مرتبہ دیکھا ہے اور یوں اپنے ہوش وہواس گنوا بیٹھی ہو کہ تم نے اپنے ہاتھ تک کاٹ لیے ہیں، اس کے جمال میں مستغرق ہو گئی ہو اور اس کی ثنا خوانی کرنے لگی ہو تو پھر مجھے کیونکر ملامت کرتی ہو جب کہ مَیں صبح وشام اس کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہوں۔ زوجہ عزیز نے جو منصوبہ بنایا تھا اس میں اپنی کامیابی پر وہ بہت مغرور اور خوش تھی، وہ اپنے کام کو معقول ثابت کر رہی تھی، اس نے ایک ہی دفعہ تمام پردے ہٹا دئےے اور پوری صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور کہا: جی ہاں ! مَیں نے اسے اپنی آرزو پورا کرنے کے لیے دعوت دی تھی لیکن یہ بچا رہا(وَلَقَدْ رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ فَاسْتَعْصَمَ)۔ اس کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے گناہ پر اظہارِ ندامت کرتی یا کم از کم مہمانوں کے سامنے کچھ پردہ پڑا رہنے دیتی اور نے بڑی بے اعتنائی اور سخت انداز میں کہ جس سے اس کا قطعی ارادہ ظاہر ہوتا تھا، صراحت کے ساتھ اعلا ن کیا:اگر اس (یوسف) نے میرا حکم نہ مانا اور میرے عشقِ سوزاں کے سامنے سر نہ جھکایا تا یقینا قید میں جانا پڑے گا(ولَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُہُ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَکُونَ مِنَ الصَّاغِرِینَ)۔ فطری امر ہے کہ جب عزیز مصر نے اس واضح خیانت پر اپنی بیوی سے فقط یہی کہنے پر قناعت کی کہ”واستغفری لذنبک“ (اپنے گناہ پر استغفار کر) تو اس کی بیوی رسوائی کی اس منزل تک آپہنچی، اصولی طور پر جیسا کہ ہم نے کہا ہے مصر کے فرعون اورعزیز وں کے دربار میں ایسے مسائل کوئی نئی بات نہ تھی۔ بعض نے تو اس موقع پر ایک تعجب انگیز روایت نقل کی ہے، وہ یہ کہ چند زنانِ مصر جو اس دعوت میں موجود تھیں وہ زوجہ کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے حق بجانب قرار دیا، وہ یوسف کے گرد جمع ہو گئیں اور ہر ایک نے یوسف کو رغبت دلانے کے لیے مختلف بات کی۔ ایک نے کہا: اے جوان! یہ اپنے آپ کو بچانا، یہ ناز ونخرے آخر کس لیے؟ کیوں اس عاشق دلدادہ پر رحم نہیں کرتے؟ کیا اس خیرہ کن جمالِ دل آرا کو نہیں دیکھتے، کیا تمہارے سینے میں دل نہیں ہے؟ کیا تم جوان نہیں ہو؟ کیا تمہیں عشق وزیبائی سے کوئی رغبت نہیں اور کیا تم پتھر اور لکڑی کے بنے ہوئے ہو۔ دوسری نے کہا: مَیں حیران ہوں چونکہ حُسن وعشق کی وجہ سے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا لیکن کیا تم سمجھتے نہیں ہو کہ وہ مصر اور اس ملک کے صاحبِ اقتدارکی بیوی ہے؟ کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ اس کا دل تمہارے ہاتھ میں ہو تو یہ ساری حکومت تمہارے قبضے میں ہو گئی اور تم جو مقام چاہوتمہیں مل جائے گا۔ تیسری نے کہا:مَیں حیران ہوں کہ نہ تو تم اس کے جمالِ زیبا کی طرف مائل ہو اور نہ اس کے مال ومقام کی طرف لیکن کیا تم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ ایک خطرناک انتقام جُو عورت ہے اور انتقام لینے کی طاقت بھی پوری طرح اسکے ہاتھ میں ہے؟ کیا تمہیں اس کے وحشتناک اور تاریک ِ زندان کا خوف نہیں؟ کیا تم اس کے قیدِ تنہائی کے عالمِ غربت وبیچار گی کے بارے میں غور وفکر نہیں کرتے؟ ایک طرف کی بیوی کی دھمکی اور ان آلودہ گناہ عورتوں کا وسوسہ تھا کہ جو اس وقت دلّالی کا کھیل کھیل رہی تھیں اور دوسری طرف یوسف کے کے لیے ایک شدید بحرانی لمحہ تھا، ہر طرف سے مشکلات کے طوفان نے انہیں گھیر رکھا تھا لیکن وہ تو پہلے سے اپنے آپ کو اصلاح سے آراستہ کی ہوئے تھے۔ نورِ ایمان، پاکیزگی اور تقوی نے ان کی روح میں ایک خاص اطمینان پیدا کررکھا تھا، وہ بڑی شجاعت اور عزم سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے، بغیر اس کے کہ وہ ان ہوس باز اور ہوس ران عورتوں سے باتوں میں الجھتے انہوں نے پروردگار کی بارگاہ کا رُخ کیا اور اس طرح سے دعا کرنے لگے: پروردگارا! جس طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت قید خانہ اپنی تمام تر سختیوں کے باوجودمجھے زیادہ محبوب ہے (قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْہ)۔ اس کے بعد چونکہ وہ جانتے تھے کہ تمام حالات میں خصوصاً مشکلات میں لطفِ الٰہی کے سوا کوئی راہِ نجات نہیں کہ جس پر بھروسہ کیا جائے، انہوں نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کیا اور اس سے مدد مانگی اور پکارے: پروردگارا! اگر تو مجھے ان عورتوں کے مکر اور خطرناک منصوبوں سے نہ بچائے تو میرا دل ان کی طرف مائل ہو جائے گا اور میَں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا(وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَھُنَّ اَصْبُ إِلَیْھِنَّ وَاَکُنْ مِنَ الْجَاھِلِینَ)، خداوندا! مَیں تیرے فرمان کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرتے ہوئے اس وحشت ناک قید خانے کا استقبال کرتا ہوں، وہ قید خانہ کہ جس میں میری روح آزاد ہے اور میرا دامن پاک ہے اس کے بدلے میں اس ظاہری آزادی کو ٹھوکر مارتا ہوں کہ جس میں میری روح کو زندانِ ہوس نے قید کر رکھا ہو اور جو میرے دامن کو آلودہ کر سکتی ہے۔ خدایا! میری مدد فرما، مجھے قوت بخش اور میری عقل، ایمان اور تقویٰ کی طاقت میں اضافہ فرما تاکہ مَیں ان شیطانی وسوسوں پر کامیابی حاصل کروں۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے وعدہ ہے کہ وہ مخلص مجاہدین کی(چاہے وہ نفس کے خلاف بر سرِپیکار ہوں یا ظاہری دشمن کے خلاف) مدد کرے گا، اس نے یوسف (علیه السلام) کو اس عالم میں تنہا نہ چھوڑا، حق تعالی کا لطف وکرم اس کی مدد کو آگے بڑھا، جیسا کہ قرآن کہتاہے:اس کے پرور دگار نے اس کی اس مخلصانہ دعا قبول کو قبول کیا(فَاسْتَجَابَ لَہُ رَبُّ)، ان کے مکر اور سازشوں کو پلٹا دیا(فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ)کیونکہ وہ سننے اور جاننے والا ہے (إِنَّہُ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)وہ بندوں کی دعا سنتا بھی ہے اور ان کے اندرونی اسرار سے بھی آگاہ ہے اور انہیں مشکلات سے بچانے کی راہ سے بھی واقف ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ طاغوت کے پرانے ہتھکنڈے: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کی بیوی نے اور مصر کی دوسری عورتوں نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے، اظہارِ عشق کیا، شدید محبت ظاہر کی، اور تسلیم محض کا اظہار کیا، پھر لالچ دینے کی کوشش کی اور پھر ڈرایا دھمکایا، دوسرے لفظوں میں انہوں نے شہوت، زر اور زور کے تمام حربے استعمال کئے۔ یہی ہر خود غرض اور زمانے کے طاغوت کا متفقہ اصول ہے، یہاں تک کہ ہم نے خود بارہا دیکھا ہے کہ وہ مردانِ حق کا جھکانے کے لیے پہلے تو انتہائی نرم دلی اور خوش روئی کا مظاہرہ کررتے ہیں، پھر لالچ اور طرح طرح کی امداد کے ذریعے کام نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کچھ نہ بن پائے تو پھر اسی موقع پر نہایت سخت دھمکیاں دیتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں رکھتے کہ یہ تضاد بیانی ہے اور وہ بھی ایک ہی مجلس میں، ان کا یہ طریقہ کس قدر بُرا، تکلیف دہ اور باعث تحقیر ہے۔ ان کے اس عمل کی دلیل واضح ہے، وہ تو اپنے ہدف کے متلاشی ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لیے ذریعہ اہمیت نہیں رکھتا ، دوسرے لفظوں میں وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ہر ذریعے سے فائدہ اٹھانا جائز سمجھتے ہیں ۔ اس دروان کمزور اور کم رُشد افراد پہلے ہی مراحل میں یا آخری مرحلہ میں جھک جاتے ہیں اورہمیشہ کے لیے ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں لیکن اولیائے حق نور ایمان کے زیرِ سایہ حاصل کردہ عزم وشجاعت سے ان مراحل میں آگے نکل جاتے ہیں اور تمام تر قاطعیت سے اپنے سازش ناپذیر ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آخری سانس تک کمال کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔ ۲۔ تقویٰ یہ نہیں کہ__ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جب تک وہ گڑھے کے کنارے ہوتے ہیں تو اپنے تئیں بہت پاک دامن قرار پاتے ہیں اور تقویٰ وپارسائی کی ڈینگیں مارتے ہیں اور زوجہ عزیز جیسے آلودہ افراد انہیں ”ضلال مبین“ میں دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ان کا اپنا پاؤں گڑھے میں جاپڑتا ہے تو پہلے ہی پاؤں پر وہ پھسل جاتے ہیں، یہ لوگ عملی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ ان کی باتیں زبانی دعویٰ سے زیادہ کچھ نہ تھیں ۔ زوجہ تو کئی برس یوسف کے ساتھ رہنے کے بعد ان کے عشق میں گرفتار ہوئی لیکن اسے طعنے دینے والیاں تو پہلی نشست میں ہی مبتلائے عشو ہوگئیں اور ترنج بین کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں ۔ ۳۔یوسف محفلِ زنان میں کیوں آئے؟ یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے زوجہ کی بات کیوں مانی اور اس بات پر کیوں آمادہ ہو گئے کہ زوجہ مصر کی محفل میں قدم رکھیں کہ جو گناہ کے لیے برپا کی گئی تھی یا وہ ایک گنہگار کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تھی۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس محل میں یوسف (علیه السلام) کی حیثیت ایک غلام اور بردہ کی تھی، وہ مجبور تھے کہ وہاں خدمت کریں۔ ہو سکتا ہے زوجہ نے خدمت کے بہانے ہی سے ایسا کیا ہو کہ انہیں کھانے کے برتن یا پینے کی کوئی چیز لانے کے بہانے محفل میں لے گئی ہو جب کہ حضرت یوسف (علیه السلام) اس منصوبے اور سازش سے آگاہ نہ تھے ۔ ۴۔ ”یدعوننی الیہ" اور ”کیدھن“ کا مفہوم ”یدعوننی الیہ“ کا معنی ہے ”جس چیز کی یہ عورتیں مجھے دعوت دیتی ہیں“ اور”کید ھن“ کامعنی ہے”ان عورتوں کا منصوبہ“ ان الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی ہوس باز عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لینے اور یوسف (علیه السلام) کی فریفتہ ہونے کے بعد باری باری خود بھی وہی کام کیا جووجہ نے کیا تھا اور انہوں نے بھی یوسفؑ کو دعوت دی کہ وہ ان کے سامنے یا زوجہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دی ں اور یوسف (علیه السلام) نے ان سب کو ٹھکرادیا ۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ کی بیوی اس گناہ میں اکیلی نہ تھی اور کئی ایک اس کی شریک گناہ تھیں ۔ ۵۔ یوسف (علیه السلام) خدا کی پناہ میں: جب انسان مشکلات میں گھرا ہوا ور کسی مصیبت کے کنارے تک پہنچ جائے تو اسے صرف خدا کی پناہ لینا چاہیئے اور اسی سے مدد طلب کرنا چاہیئے اگر اس کا لطف وکرم اور نصرت ومدد نہ ہوتو کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، یہ وہ سبق ہے جو حضرت یوسف (علیه السلام) جیسے پاک دامن بزرگوار نے ہمیں دیا ہے، وہی ہیں جو کہتے ہیں:پروردگارا! اگر تُو ان کے منحوس منصوبوں سے نجات نہ دے تو مَیں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور اگر تونے مجھے ان کی ہلاکت خیز یوں میں تنہا چھوڑ دے تو طوفانِ حوادث مجھے اپنے ساتھ لے جائے ، تُو ہے کہ میرا حافظ ونگہبان ہے نہ کہ میری طاقت اور تقویٰ۔ لطف الٰہی سے وابستگی کی یہ حالت بنداگانِ خدا کو لامحدود طاقت اور عزم عطا کرنے کے علاوہ اس کے الطافِ خفی سے بہرہ ور ہونے کا سبب بنتی ہے، وہ الطاف کہ جن کی تعریف وتوصیف ناممکن ہے ان کاصرف مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرھ ان کی تصدیق ہو سکتی ہے، ایسے ہی لوگ اس دنیا میں بھی لطفِ الٰہی سے سائے میں ہیں اور اُس جہان میں بھی لطفِ پروردگار سے ہمکنار ہوں گے، ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے: سبعة یظلھم اللّٰہ فی ظل عرشہ یوم لایظل الا ظلہ: امام عادل، وشاب ننشا فی عبادة اللّٰہ عزوجل، ورجل قلبہ متعلق بالمسجد اذا خرج منہ حتیٰ یعود الیہ، ورجلان کانا فی طاعة اللّٰہ عز وجل فاجتمعا علیٰ ذلک وتفرقا، ورجل ذکر اللّٰہ عزوجل خالیا ففاضت عیناہ، ورجل دعتہ امراة ذات حسن وجمال فقال انی اخاف اللّٰہ تعالیٰ، ورجل تصدیق بصدقة فاخفاھاحتیٰ لا تعلم شمالہ ما تصدق بیمینہ! جس روز عرش ِالہٰی کے سائے علاوہ کوئی سائی نہ ہو گا اس دن اللہ تعالیٰ سات طرح کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا: • امام عادل، • وہ جوان کی جس نے ابتدائے عمر ہی سے خدا کی بندگی میں پرورش پائی ہو، • وہ شخص کہ جس کا دل مسجد اور عبادت ِالٰہی کے مرکز سے بندھا ہو، جب وہ اس سے نکلتا ہو تو اس کے خیال میں رہتا ہو یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آتا ہو، • وہ لوگ جو فرمانِ خدا کی اطاعت میں مِل جُل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوتے وقت ان کا روحانی رشتہ اتحاد اسی طرح برقرار رہتا ہو، • وہ شخص کہ جو پروردگار کا نام سنتے وقت جس کی آنکھوں سے(احساسِ مسئولیت سے یا گناہوں کے خوف سے) آنسو جاری ہوجاتے ہوں، • وہ شخص کہ جسے حسین وجمیل عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ کہے کہ مَیں خدا سے ڈرتا ہوں، • اوروہ شخص جوضرورت مندوں کی مدد کرتا ہو اور اپنے صدقے کو مخفی رکھتا ہو کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔ (بحوالہ: سفینة البحار، ج۱،ص ۵۹۵(ظل)

35
12:35
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا رَأَوُاْ ٱلۡأٓيَٰتِ لَيَسۡجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٖ
جب وہ (یوسف کی پا کیز گی کی) نشانیاں دیکھ چکے تو انہوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید خا نے میں رکھیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
12:36
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجۡنَ فَتَيَانِۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَعۡصِرُ خَمۡرٗاۖ وَقَالَ ٱلۡأٓخَرُ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَحۡمِلُ فَوۡقَ رَأۡسِي خُبۡزٗا تَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِنۡهُۖ نَبِّئۡنَا بِتَأۡوِيلِهِۦٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور دو نو جوان اور اس کے ساتھ قید خا نے میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا: میں نے عالم خواب میں دیکھا ہے کہ شراب کے لئے (انگور) نچوڑرہاہوں اور دوسرے نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں روٹیاں اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان میں سے کھا رہے ہیں۔ہمیں ان کی تعبیر بتاو کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم کوئی نیکو کاروں میں سے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
12:37
قَالَ لَا يَأۡتِيكُمَا طَعَامٞ تُرۡزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأۡتُكُمَا بِتَأۡوِيلِهِۦ قَبۡلَ أَن يَأۡتِيَكُمَاۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّيٓۚ إِنِّي تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
یوسف نے کہا: اس سے پہلے کہ تمہارے کھا نے کا کھانا تم تک پہنچے میں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر سے آگاہ کر دوں گا، یہ وہ علم ہے جس کی تعلیم میرے پروردگار نے مجھے دی ہے۔ میں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں (اسی لئے میں ایسی نعمت کے لائق ہوا ہوں )۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 38 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
12:38
وَٱتَّبَعۡتُ مِلَّةَ ءَابَآءِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشۡرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ
میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ کسی کو اللہ کا شریک قرار دیں، یہ (بھی) اللہ کا ہم لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے۔

بے گناہی کی پاداش میں قید

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

قصرِعزیز میں یوسف (علیه السلام) کی موجودگی میں زنانِ مصر کی حیران کن محفل اس شور وغوغا کے عالم میں تمام ہوئی، فطری بات تھی کہ یہ خبر عزیز کے کان تک پہنچ گئی، ان تمام واقعات سے واضح ہو گیا کہ یوسف (علیه السلام) کو معمولی انسان نہیں ہے اور اس قدر پاکیزہ ہے کہ کوئی طاقت اسے گناہ پر ابھار نہیں سکتی، مختلف حوالوں سے اس کی پاکیزگی کی نشانیاں واضح ہوئیں۔ یوسف (علیه السلام) کی قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہونا، زنانِ مصر کے وسوسے کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کرنا، قید خانے میں جانے کے لیے آمادہ ہونا اور زوجہ کی طرف سے قید اور عذابِ الیم کی دھمکیوں کے سامنے سر نہ جھکانا یہ سب اس کی پاکیزگی کی دلیل تھیں، یہ ایسے دلائل تھے کہ کوئی شخص نہ اسے چھپا سکتا تھا نہ ان کا انکار کرسکتا تھا، ان کا لازمی نتیجہ زوجہ مصر کی ناپاکی اور جرم تھا، یہ جرم ثابت ہونے کے بعد عوام میں خاندانِ کی جنسی حوالے سے رسوائی کا خوف بڑھ رہا تھا، مصر اور اس کے مشیروں کو اس کے لیے صرف یہی چارہ دکھائی دیا کی یوسف (علیه السلام) کو منظر سے ہٹایا جائے، اس طرح سے کہ لوگ اسے اور اس کا نام بھول جائیں، اس کے لیے ان کی نظر میں بہترین راستہ اسے تاریک قید خانے میں بھیجنا تھا کہ جس سے ہوسف (علیه السلام) کو بھلا بھی دیا جائے گا اور وہ یہ بھی سمجھے گے کہ اصلی مجرم یوسف (علیه السلام) تھا، اس لیے قرآن کہتا ہے:جب انہوں نے (وہ یوسف کی پاکیزگی کی) نشانیاں دیکھ لیں تو پختہ ارادہ کر لیا کہ اسے ایک مدت تک قید میں ڈالا جائے (ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّہُ حَتَّی حِینٍ)۔ ”بدا“ کامعنی ”نئی رائے پیدا ہونا“یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ پہلے اس کے بارے میں ان کا کوئی ارادہ نہ تھا اور پہلی مرتبہ زوجہ نے بات احتمال کے طور پر پیش کی تھی، بہرحال اس طرح یوسف (علیه السلام) کی پاکدامنی کے گناہ میں قید خانے میں پہنچ گئے اور یہ پہلی مرتبہ نہ تھا کہ ایک قابل اور لائق انسان پاکیزگی کے جرم میں زندان میں گیا۔ جی ہاں! ایک آلودہ اور گندے ماحول میں آزادی تو ان آلودہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے جو پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلتے ہیں، ایسے ماحول میں نہ صرف آزادی بلکہ سب کچھ انہیں کو میسر ہوتا ہے اور یوسفؑ جیسے پاکدامن اور قیمتی افراد کہ جو اس ماحول کے رنگ میں رنگے نہیں جاتے اور پانی کے بہاؤ کے مخالف چلتے ہیں انہیں ایک طرف ہوناپڑتاہے لیکن کب تک؟ کیا ہمیشہ کے لیے؟ نہیں، یقینا نہیں۔ یوسف کے ساتھ زندان میں داخل ہونے والے دو جوان بھی تھے(وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَانِ)۔ جب انسان کسی معمول کے طریقے سے خبروں تک رسائی حاصل نہ کر سکے تو تو اس کے لیے دوسرے احساسات کو استعمال کرتا ہے تاکہ حوادث کا اندازہ لگاس کے، خواب بھی اس مقصد کے لیے کارآمد ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر ---- دو نوجوان کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کے گھر مشروبات پر مامور تھا اور دوسرا باورچی خانے کا کنٹرولر، دشمنوں کی چغلخوری اور بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں قید تھے، ایک روز یوسف (علیه السلام) کے پاس آئے، دونوں نے اپنا گزشتہ شب کا خواب سنا یا جو کہ ان کے لیے عجیب تھا، ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑ رہا ہوں (قَالَ اَحَدُھُمَا اِنِّی اَرَانِی اَعْصِرُ خَمْرًا)۔ دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں نے کچھ روٹیاں سر پر اٹھا رکھی ہیں اور آسمان کے پرندے آتے ہیں اور ان میں سے کھاتے ہیں(وَقَالَ الْآخَرُ اِنِّی اَرَانِی اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِی خُبْزًا تَاْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہ)۔ اس کے بعد انہوں نے مزید کہا:، ہمیں ہمارے خواب کی تعبیر بتاؤ، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو(نَبِّئْنَا بِتَاْوِیلِہِ اِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ)۔ یہ کہ ان دونوں جوانون کو کیسے معلوم ہوا کہ یوسف (علیه السلام) تعبیر کواب کے بارے میں اتنا وسیع علم رکھتے ہیں،اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیه السلام) نے خود سے قید خانے میں قیدیوں سے اپنا تعارف کرایا تھا کہ وہ تعبیرِ خواب کے بارے میں وسیع علم رکھتے ہیں۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ یوسف (علیه السلام) کی ملکوتی صفات نشاندہی کرتی تھیں کہ وہ ایک عام آدمی نہیں ہے بلکہ آگاہ اور صاحبِ فکر وبینش انسان ہے، اسی سے انہوں نے سمجھا کہ ایسا انسان تعبیرِ خواب کے بارے میں درپیش مشکل کوحل کر سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے قید خانے میں آتے ہی اپنا نیک اطوار، حسنِ اخلاق اور قیدیوں کی دلجوئی، خدمت اور بیماروں کی عیادت سے یہ ظاہر کر دیا تھا کہ وہ ایک نیک اور گرہ کشا انسان ہیں، اسی لیے قیدی مشکلات میں انہیں کہ پناہ لیتے تھے اور ن سے مدد مانگتے تھے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہاں قرآن نے لفظ ”عبد“ یا ”بردہ“ کی بجائے لفظ”فتی“ (جوان) استعمال کیا ہے جو کہ ایک قسم کا احترام ہے، ایک حدیث میں ہے: لا یقولون احدکم عبدی وامتی ولاکن فتای وفتاتی۔ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا غلام اورمیری کنیز بلکہ کہو میر اجوان (لڑکا یا لڑکی)۔(بحوالہ: مجمع البیان،،ج ۵،ص ۲۳۲) (یہ اس لیے تھا کہ اسلام نے غلاموں کی آزادیکے لیے جو دقیق پرگرام بنایا ہے اس تدریجی آزادی کے دَور میں بھی غلام ہر قسم کی تحقیر و تذلیل سے محفوظ رہے)۔ جملہ”انی اعصر خمرا“ (مَیں شراب نچوڑ رہاہوں)، یا اس بنا پر ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑ رہا تھا یا وہ انگور جو خم میں تھا شراب ہوشکا تھا اسے وہ صاف کرنے کے لیے اورشراب بنانے کے لیے باہر نکال کر نچوڑ رہا تھا یا یہ کہ انگور نچوڑ رہا تھا تاکہ کہ انگورکا پانی بادشاہ کو دے، بغیر شراب بنائے ہوئے کیسے دے دیتا لیکن چونکہ یہ انگور شراب میں تبدیل ہونے کے قابل ہے اس لیے اس کے لیے لفظ ”خمر“ استعمال کیا گیا ہے۔ ”انی ارانی“ (مَیں دیکھ رہا ہوں)، یہ جملہ حالیہ ہے حالانکہ قاعدتاً اسے کہنا چاہیئے تھا کہ ”مَیں نے خواب میں دیکھا ہے“ یعنی بیان کرتے ہوئے وہ اپنے تئیں خواب فرض کرتا ہے اور اس حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے اسے بیان کرتا ہے۔ بہرحال وہ یوسف (علیه السلام) کہ جو قیسیوں کی ہدایت اور راہنمائی کو کوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیتے تھے انہوں نے ان قیدیوں کی طرف سے تعبیر ِ خواب کےلیے رجوع کرنے کو غنیمت جانا اور اس بہانے سے ایسے اہم حقائق بیان کئے جو ان کی تعبیرِ خواب سے متعلق اپنی آگاہی کے بارے میں کہ جو ان دو قیدیوں کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے، اور تمام انسانون کے لیے راستہ کھولنے والے تھے، آپ (علیه السلام)نے پہلے تو ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان سے کہا:تمہارے کھانے کا راشن آنے سے پہلے مَیں تمہیں خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا(قَالَ لَایَاْتِیکُمَا)۔ اس طرح آپ نے انہیں اطمینان دلایا کہ کھانا آنے سے پہلے وہ اپنامقصود پا لیں گے۔ اس جملے کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے کہا کہ مَیں حکمِ پروردگار سے کچھ اسرار سے آگاہ ہوں اور نہ صرف تمہارے خواب کی تعبیر بتاؤں گا بلکہ مَیں یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ تمہارے لیے آج کونسی اور کس قسم کی غذا لائی جائے گی اور مَیں اس کی خصوصیات بھی بتا سکتا ہوں، اس بناء پر ”تاویل“ سے یہاں مراد ”غذا کی خصوصیات“ ہیں۔ (تشریحی نوٹ:البتہ اس معنی میں ”تاویل“ کا استعمال بہت کم ہوا ہے خصوصاً گزشتہ جملے میں یہ لفظ تعبیر خوبکے معنی میں ہے)۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی مراد یہ تھی کہ تم جس قسم کا طعام خواب میں دیکھو مَیں تم سے اس کی تعبیر بیان کر سکتا ہوں، لیکن یہ احتمال”قبل ان یاتیکما“ کے جملے سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس بناء پر مذکورہ جملے کی بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے ابتدائے سخن میں پیش کی تھی۔ اس کے بعد با ایمان اور خدا پرست یوسف(علیه السلام) کہ جن کے وجود کی گہرائیوں میں توحید پوری وسعت سے جڑ پکڑ چکی تھی، نے یہ واضح کرنے کے لیے کہ امرِ الٰہی کے بگیر کوئی چیز حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتی، اپنی بات کو اسی طرح سے جاری رکھا::تعبیرِ خواب کے متعلق میرا یہ علم ودانش ان امور میں سے ہے کہ جن کی تعلیم میرے پروردگارنے دی ہے(ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبیِّ)۔ نیز اس بناء پر کہ وہ یہ کیال نہ کریں کہ خدا کوئی چیز بغیر کسی بنیاد کے بخش دیتا ہے، آپ (علیه السلام) نے مزید فرمایا: مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے کہ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اس نورِ ایمان اور تقویٰ نے مجھے اس نعمت کے لائق بنایا ہے( اِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ)۔ اس قوم وملت سے مسر کے بُت پرست لوگ یا کنعان کے بُت پرست لوگ مراد ہیں۔ مجھے ایسے عقائدسے دور ہی ہونا چاہیئے کیونکہ یہ انسان کی پاک فطرت کے خلاف ہیں، علاوہ ازیں مَیں نے ایسے خاندان میں پرورش پائی ہے کہ جو وحی ونبوت کا خاندان ہے،”مَیں نے اپنے آباء واجداداور بزرگوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے(اتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی اِبْرَاھِیمَ وَ اِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ)۔ شاید پہلا موقع تھا کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے قیدیوں سے اپنا تعارف کروایا تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ وحی ونبوت کے گھرانے سے ہیں اور دیگر بہت سے قیدیوں کی طرح کہ جو طاغوتی نظاموں میں قید ہوتے ہیں، بےگناہ زندان میں ڈالے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:”، ہمارے لیے یہ مناسب نہیں کہ کسی چیز کو خدا کا شریک قرار دیں“ کیونکہ ہمارا خاندان خاندانِ توحید ہے، بُت شکن ابراہیم کا خاندان ہے (وَ مَا کَانَ لَنَا اَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْء)، اور یہ ہم پر اور تمام لوگوں پر خدا کی نعمات میں سے ہے (ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ)۔ لہٰذا یہ خیال نہ کرنا کہ خدا کا یہ فضل اور محبت صرف ہم خانوادہ نبوت کے شاملِ حال ہوتی ہے بلکہ یہ ایسی نعمت ہے جو عام ہے اور تمام بندگانِ خدا کے شاملِ حال ہے کہ جو ان کی روح کے اندر ایک فطرت کے عنوان سے ودیعت کی گئی ہے اور یہ انبیاء کی رہبری وہدایت کے ذریعے کمال حاصل ہوتی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ”کثر انسان ان خدائی نعمات کی شکر گزاری نہیں کرتے“ وہ راہ توحید سے منحرف ہو جاتے ہیں(وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں حضرت اسحاق (علیه السلام) کا نام حضرت یوسف (علیه السلام) کے ”آباء“ کے زمرے میں آیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں حضرت یوسف(علیه السلام) حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے ہیں اور حضرت یقوب (علیه السلام) حضرت اسحاق (علیه السلام) کے فرزند ہیں، یہ اس لیے ہے کہ لفظ”اب“ کا طلاق”جد“ پر بھی ہوتا ہے۔

39
12:39
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ ءَأَرۡبَابٞ مُّتَفَرِّقُونَ خَيۡرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
اے میرے قیدی دوستو! کیا متفرق خدا بہتر ہیں یا واحد و قہار اللہ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
12:40
مَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسۡمَآءٗ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
یہ معبود کہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ان کی حیثیت اسماء (بلا مسمٰی) کے اور کچھ نہیں کہ جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے خدا کا نام دے رکھا ہے۔ اللہ نے اس کے لئے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے۔ حکم کرنے کا حق صرف اللہ کو ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہ ہے محکم دین لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
12:41
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسۡقِي رَبَّهُۥ خَمۡرٗاۖ وَأَمَّا ٱلۡأٓخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِن رَّأۡسِهِۦۚ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ٱلَّذِي فِيهِ تَسۡتَفۡتِيَانِ
اے میرے قیدی دوستو! بہر حال تم میں سے ایک (آزاد ہو جائے گا اور) اور اپنے صاحب (بادشاہ) کو شراب پلانے کا کام کرے گا۔ رہا دوسرا تو وہ سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ جس امر کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا ہے وہ قطعی اور حتمی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
12:42
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٖ مِّنۡهُمَا ٱذۡكُرۡنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي ٱلسِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِينَ
ان دونوں میں سے جس کے متعلق وہ جاتنا تھا کہ وہ رہائی پائے گا اس سے کہا کہ اپنے صاحب (بادشاہ مصر) کے پاس میرا ذکر کرنا لیکن اس کے صاحب کے پاس شیطان اس کی یاد اس کے دل سے لے گیا لہٰذا اس کے بعد (بھی) وہ (یوسف) چند سال قید ہی میں رہے۔

قید خانہ یا مرکزِ تربیّت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جس وقت حضرت یوسف(علیه السلام) نے گذشتہ گفتگو کے بعد ان قیدیوں کے دلوں کو حقیقتِ توحید قبول کرنے کے لیے آمادہ کر لیا تو ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! کیا منتشر خدا اور متفرق معبود بہتر ہیں یا یگانہ و یکتا اور قہار اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا خدا (یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَاَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ)۔ گویا یوسف (علیه السلام) انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ کیوں تم فقط عالمِ خواب میں آزادی کو دیکھتے ہو بیداری میں کیوں نہیں دیکھتے، آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا اس کا سبب تمھارا انتشار، تفرقہ بازی اور نفاق نہیں کہ جس کا سرچشنہ شرک، بت پرستی اور ارباب متفرق ہیں جن کی وجہ سے ظالم طاغوت تم پر غالب آگئے ہیں۔ تم لوگ پرچم توحید کے تلے کیوں جمع نہیں ہوتے اور ”اللهُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ“ کا دامن پرستش کیوں نہیں تھامتے تاکہ ان خود غرض ستمگروں کو اپنے معاشرے سے نکال باہر کرو کہ جو تمھیں بے گناہ اور صرف الزام کی بنیاد پر قید میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: یہ غیر خدا معبود تم نے بنا رکھے ہیں ان کی حیثیت اسماء بلامسمیٰ کے کچھ نہیں کہ جنہیں تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے خدا کا نام دے رکھا ہے (مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِہِ اِلاَّ اَسْمَاءً سَمَّیْتُمُوھَا اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ)۔ "یہ ایسے امور ہیں کہ جن کے لیے خدا نے کوئی دلیل و مدرک نازل نہیں فرمایا“ بلکہ یہ تمھارے کمزور ذہن کی پیدا وار ہیں (مَا اَنزَلَ اللهُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ) "۔جان لو کہ حکومت خدا کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ہے“ اور اسی لیے تمھیں ان بتوں، طاغوتوں اور فرعونوں کی تعظیم کے لیے سر نہیں جھکانا چاہیے (اِنْ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ)۔ انہوں نے مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا: خدانے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو (اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوا اِلاَّ اِیَّاہُ)۔”یہ ہے مستحکم و مستقیم دین“ کہ جس میں کسی قسم کا کوئی پیچ و خم نہیں (ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ)۔ یعنی توحید ہر لحاظ سے۔ عبادت، معاشرے پر حکومت، ثقافت اور ہر چیز میں مستحکم اور مستقیم دین ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ لوگ ہی آگاہی نہیں رکھتے اور اسی عدمِ آکہی کے باعث شرک کی بھول بھلیوں میں سرگردان ہیں اور اپنے آپ کو غیر اللہ کی حکومت کے سپرد کر دیتے ہیں اور اس طرح انھیں کیسی کیسی سختیوں، قید و بند اور بخبتیوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے (وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔ اپنے دو قیدی ساتھیوں کو رہبری و ارشاد اور انھیں حقیقت توحید کی طرف مختلف پہلووں کے حوالے سے دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کے خواب کی تعبیر بیان کی کیونکہ وہ دونوں اسی مقصد کے لیے آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے بھی انھیں قول دیا تھا کہ انھیں ان کے خوابوں کی تعبیر بتائیں گے لیکن آپ نے موقع غنیمت جانا اور توحید کے بارے میں اور شرک کے خلاف واضح اور زندہ دلائل کے ساتھ گفتگو کی۔ اس کے بعد آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں کی طرف رُخ کرکے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! تم میں سے ایک آزاد ہو جائے گا اور اپنے ”ارباب“ کو شراب پلانے پر مامور ہو گا (یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّا اَحَدُکُمَا فَیَسْقِی رَبَّہُ خَمْرًا)۔لیکن دوسرا سولی پر لٹکایا جائے گا اور اتنی دیر تک اس کی لاش لٹکائی جائے گی کہ آسمانی پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے (وَاَمَّا الْآخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْکُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَاْسِہِ)۔ ان دونوں مذکورہ خوابوں کی مناسبت سے اگرچہ اجمالاً واضح تھا کہ ان میں سے کون آزاد ہو گا اور کون سولی پر لٹکایا جائے گا لیکن حضرت یوسفؑ نے نہ چاہا کہ یہ ناگوار خبر اس سے زیادہ صراحت سے بیان کریں لہٰذا آپ(علیه السلام) نے”تم میں سے ایک“ کہہ کر گفتگو کی۔ اس کے بعد اپنی بات کی تائید کے لیے مزید کہا: یہ معاملہ جس کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اور مسئلہ پوچھا ہے حتمی اور قطعی ہے (قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِی فِیہِ تَسْتَفْتِیَانِ)۔یہ اس طرف اشارہ تھا کہ یہ خواب کی کوئی معمولی سی تعبیر نہیں ہے بلکہ ایک غیبی خبر ہے جسے میں نے الٰہی تعلیم سے حاصل کیا ہے لہٰذا اس مقام پر تردد و شک اور چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں۔ بہت سی تفاسیر میں اس جملے کے ذیل میں مرقوم ہے کہ جب دوسرے شخص نے یہ ناگوار خبر سنی تو وہ اپنی بات کی تکذیب کرنے لگا: میں نے جھوٹ بولا تھا، میں نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا، میں نے مذاق کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر وہ اپنے خواب کی تردید کردے گا تو اس کی سرنوشت تبدیل ہو جائے گی۔ لہٰذا حضرت یوسف (علیه السلام) نے ساتھ ہی یہ بات کہہ دی کہ جس چیز کے بارے میں تم نے دریافت کیا وہ نا قابلِ تغیرّ ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسف(علیه السلام) کو اپنی تعبیرِ خواب پر اس قدر یقین تھا کہ انہوں نے یہ جملہ تاکید کے طور پر کہا۔ لیکن جس وقت آپ نے محسوس کیا کہ یہ دونوں عنقریب ان سے جدا ہوجائیں گے لہٰذا ہو سکتا ہے کہ ان کے ذریعے آزادی کا کوئی دریچہ کھل جائے اور روشنی کی کوئی کرن پھوٹے اور جس گناہ کی آپ (علیه السلام) کی طرف نسبت دی گئی تھی اس سے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کریں، ”آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں میں سے جس کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ آزاد ہو گا اس سے فرمائش کی کہ آپ نے مالک و صاحبِ اختیار (بادشاہ) کے پاس میرے متعلق بات کرنا“ تاکہ وہ تحقیق کرے اور میری بے گناہی ثابت ہو جائے (وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اَنَّہُ نَاجٍ مِنْھُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ)۔ لیکن اس فراموش کار غلام نے یوسف کا مسئلہ بالکل بھلا دیا جیسا کہ کم ظرف لوگوں کا طریقہ ہے کہ جب نعمت حاصل کرلیتے ہیں تو صاحبِ نعمت کو فراموش کر دیتے ہیں۔ البتہ قرآن نے یہ بات یوں بیان کی ہے: جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو شیطان نے اس کے دل سے یوسفؑ کی یاد بھلادی (فَاَنسَاہُ الشَّیْطَانُ ذِکْرَ رَبِّہِ)۔ اور اس طرح یوسف فراموش کر دی ےٴ گئے ”اور چند سال مزید قید خانے میں رہے“(فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِین)۔ اس بارے میں کہ ”اَنسَاہُ الشَّیْطَانُ“ کی ضمیر بادشاہ کے ساقی کے لیے ہے یا حضرت یوسف(علیه السلام) کے لیے، اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے۔ بہت سوں کے نزدیک یہ ضمیر یوسف (علیه السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ اس احتمال کی بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: شیطان، یادِ خدا یوسف (علیه السلام) کے دل سے لے گیا اور اسی بناء پر وہ غیر خدا سے متوسل ہوئے۔ لیکن گزشتہ جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یوسف (علیه السلام) نے اس سے فرمائش کی تھی کہ میرا تذکرہ اپنے صاحب و مالک سے کرنا، ظاہری مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ ضمیر ساقی کی طرف لوٹتی ہے۔ اور لفظ ”رب“ کا دونوں جگہ ایک ہی مفہوم ہے۔ علاوہ ازیں ”واذکر بعد امة“(ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا)۔ یہ جملہ بھی بعد کی چند آیات میں اس داستان کے ذیل میں ساقی کے بارے میں آیا ہے، جو نشاندہی کرتا ہے کہ بھول جانے والا وہی تھا نہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام۔ البتہ زندان یا دیگر مشکلات سے نجات کے لیے ایسی کوشش عام افراد کے لیے کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے اور طبیعی اسباب سے کام لینے کے ضمن میں ہے لیکن ایسے افراد کے لیے کہ جو نمونہ ہوں اور ایمان و توحید کی بلند سطح پر فائز ہوں ان کے لیے اشکال سے خالی نہیں ہو سکتی۔ شاید اسی بناء پر خدانے یوسف کے اس ”ترکِ اولیٰ“ کو نظر انداز نہیں کیا اور اس وجہ سے ان کی قید چند سال مزید جاری رہی۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: مجھے اپنے بھائی یوسفؑ پر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے کیونکر خالق کی بجائے مخلوق کی پناہ لی اور اس سے مدد طلب کی۔(بحوالہ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: اس واقعے کے بعد جبرائیل یوسف(علیه السلام) کے پاس آئے اور کہا: کس نے تمھیں سب لوگوں سے زیادہ حسین بنایا؟ کہنے لگے: میرے پروردگار نے۔ کہا: کس نے تمھارے باپ کے دل میں تمھاری اس قدر محبت ڈالی؟ بولے: میرے پروردگار ہے۔ کہا: کس نے قافلے کو تمھاری طرف بھیجاتا کہ وہ تمھیں کنویں سے نجات دے؟ کہنے لگے: میرے پروردگار نے۔ پوچھا: کس نے اس پتھر کو (جو انہوں نے کویں کے اوپر سے گرایا تھا) تم سے دور رکھا؟ بولے: میرے پروردگار نے۔ پوچھا: کس نے تمھیں کنویں سے نجات دی؟ کہنے لگے: میرے پروردگار نے۔ کہا: کس نے مصر کی عورتوں کے مکر و فریب سے تمھیں دور رکھا؟ کہنے لگے: میرے پروردگار نے۔ اس پر جبرائیل نے کہا: تمھارا پروردگار کہہ رہا ہے کس چیز کے سبب تم اپنی حاجت مخلوق کے پاس لے گئے ہو اور میرے پاس نہیں لائے ہو۔ لہٰذا چاہیے کہ چند سال زندان میں رہو۔(بحوالہ: مجمع البیان، ج ۵ ص ۲۳۵)۔

چند اہم نکات: ۱۔ قید خانہ، مرکز تربیت یا؟

دنیا میں زندان کی تاریخ بہت ہی دردناک اور غم انگیز ہے۔بدترین مجرم اور بہترین انسان دونوں قید خانہ ہمیشہ بہترین اصلاحی یا بدترین بری چیزیں سکھا نے کا مرکز رہا ہے۔قید خانے میں اگر تباہ کار اور برے لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں تو درحقیقت یہ برائی کی ایک بڑی سطح کی تربیت گاہ بن جاتی ہے۔ان قید خانوں میں تخریبی منصوبوں پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور مجرم اپنے تجربات ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں اور ہر مجرم در اصل اپنا خصوصی درس دوسروں تک پہنچاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جیل سے نکل کر آزادی کے بعد پہلے سے بہتر اور زیادہ ماہرانہ انداز میں اپنے جرائم جاری رکھتے ہیں۔یہ لوگ آپس میں مربوط ہو کر اور نئے انداز میں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔البتہ جیل کے نگران اس سلسلے میں خصوصی نگرانی کریں۔ قیدیوں کو تلیغ و وعظ کا انتظام کریں اور ان کی تربیت کا اہتمام کریں یہ ذہین میں رکھتے ہوئے کہ یہ لوگ عام طور پر با صلاحیت ہوتے ہیں تو انھیں صالح مفید اور اصلاح شدہ افراد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ رہے وہ زندان کے جن میں پاک نیک،بے گناہ،حق و آزادی کے مجاہدین ہوتے ہیں،وہاں عقائد، علمی جہاد کے طریقوں اور اصلاحی امور کی تدریس ہوتی ہے۔ایسے زندان راہ حق کے مجاہدیں کے لیے اچھا موقع مہیا کرتے ہیں کہ وہ آزادی کے بعد اپنی کاوشوں کوہم آہنگ اور متشکل کر سکیں۔ حضرت یوسفؑ کہ جو روجہ عزیز مصر جیسی ہوس باز، حیلہ گر اور ہٹ دھرم عورت کے خلاف کامیاب ہوئے تھے ان کی کوشش تھی کہ قید خانے کے ماحول کو ارشاد و ہدایت اور تعلیم و تربیت کے مرکز میں بدل دیں یہاں تک کہ اپنی اور دوسروں کی آزادی کی بنیاد انہی پروگراموں پر رکھ دیں۔ یہ سرگذشت ہمیں یہ اہم درس دیتی ہے کہ ارشاد اور تعلیم و تربیت کسی معین مرکز مثلاً مسجد و مدرسہ میں محدود و محصور نہیں ہے بلکہ اس مقصد کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔یہاں تک کہ قید خانے میں بھی اور اسیری کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی حالت میں بھی۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کی مجموع مدت سات سال تھی لیکن بعض کا کہنا ہے کہ آپ قیدیوں کے خواب کے واقعہ سے پہلے پانچ سال قید میں رہے اور اس کے بعد بھی سات سال قید رہے۔یہ بہت رنج و زحمت کے سال تھے لیکن ارشاد و ہدایت اور اصلاح و تربیت کے لحاظ سے بہت پر برکت تھے۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے تفسیر المنار،, قرطبی، المیزان اور تفسیر کبیر کی طرف رجوع کریں)۔

۲۔ جہاں نیک سولی پر لٹکائے جاتے ہیں

یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس داستان میں ہے کہ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ شراب کا جام بادشاہ تھما رہا ہے وہ رہا ہو گیا اور جس نے دیکھا کے روٹیوں کا طبق اس کے سر پر ہے اور فضا کے پرندے اسی میں سے کھارہے ہیں وہ سولی پر لٹکا دیا گیا۔ کیا اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ فاسد اور گندے ماحول میں طاغوتی حکومتوں میں وہ لوگ آزاد ہیں جو اپنی شہوات کی راہ پر چلتے ہیں اور جو معاشرت کی خدمت،مدد اور بھو کوں کو روٹی کھلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندگی کا حق نہیں رکھتے، ایسے لوگوں کا انجام موت ہے۔ جس معاشرے پر خراب اور فاسد نظام حکمران ہو اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے معاشرے میں اچھے اور برے لوگوں کی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔

۳۔ آزادی کا عظیم درس

ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے قیدیوں کو جو سب سے بالا درس دیا ہے وہ توحید پرستی کا درس ہے۔وہی درس کہ جس کا خلاصہ حریت و آزادی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ”ارباب متفرقون“ منتشر مقاصد اور مختلف معبود، تفرقہ اور پراگندگی کا سرچشمہ ہیں اور جب تک تفرقہ اور انتشار موجود ہے طاغوت اور جابر افراد لوگوں پر مسلط ہیں گے لہٰذا آپ(علیه السلام) نے ان کی جڑ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کے لیے توحید کی شمشیر برّاں سے کام لینے کے لیے کہا تا کہ آزادی کو صرف خواب میں نہ دیکھے رہیں بلکہ عالم بیداری میں دیکھیں۔ لیکن جابر اور ستمگر لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوتے ہیں اگرچہ وہ کم ہوتے ہیں مگر تفرقہ بازی اور نفاق سے کام لیتے ہیں۔یہ لوگ ”ارباب متفرقون“ کے ذریعے معاشرے کی طاقت کومنتشر کودیتے ہیں اور اس طرح عوام کی عظیم کثرت پر حکومت کرنا ان کے لیے ممکن ہو جاتا ہے۔ جس دن قومیں توحید اور وحدتِ کلمہ کی طاقت سے آشنا ہوں گی اور سب لوگ ”الله واحد القھار“ کے پرچم تلے جمع ہوں گے اور اپنی عظیم قوت کا ادراک کرلیں گے وه دن جابروں اور ستمگروں کی نابودی کا دن ہو گا ، یہ درس ہمارے آج کے لیے، ہمارے کل کے لیے تمام انسانی معاشروں کے لیے اور پوری تاریخ کے سب انسانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ یوسف(علیه السلام) کہتے ہیں حکومت مخصوص ہے خدا کے لیے ”اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ“ اور اس کے بعد تالکید کرتے ہیں کہ پرستش، خضوع اور تسلیم بھی صرف اسی کے حکم کے سامنے ہونا چاہیے (اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوا اِلاَّ اِیَّاہُ) پھر تاکید کرتے ہیں کہ مستقیم اور مستحکم آئین اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں (ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ)۔ لیکن آپ(علیه السلام) نے اس کا انجام بھی بتادیا کہ ان سب چیزوں کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں (وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔ لہٰذا اگر لوگ صحیح تربیت وآگہی حاصل کریں اور ان میں حقیقتِ توحید زندہ ہو جائے تو ان کی یہ ساری مشکلات حل ہو جائیں ۔

۴۔ ایک اصلاحی شعار سے سوء استفادہ

”اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ“ قرآن کا ایک مثبت شعار ہے اور یہ تعرہ الله کی حکومت اور الله تک پہنچنے والی حکومت کے علوہ ہر حکومت کی نفی کرتا ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ کے ایک طویل دَور میں اس سے عجیب وغریب غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے، ان میں سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں نہروان کے خوارج بھی تھے، یہ بہت ظاہر بین، جامدِفکر، احمق اور بدسلیقہ لوگ تھے۔ جنگ صفین کے موقع پر یہ لوگ حکیمت اور تحکیم کی نفی کے لیے اس شعار سے چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ جنگ ختم کرنے یا خلیفہ معین کرنے کے لیے حکم کا تعین گناہ ہے کیونکہ خدا کہتا ہے: ”اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ“(حکومت وحکمیت خدا سے مخصوص ہے)۔ وہ اس واضح مسئلے سے غافل تھے یا انھوں نے اپنے آپ کو غافل بنالیا تھا کہ اگر حکمیت کا تعین پیشواوں کی طرف سے ہو۔ وہ پیشوا کہ جن کے رہبر کا حکم خدا کی طرف سے صادر ہو تو ان کا حکم بھی حکم خدا ہے کیونکہ آخرکار یہ حکم اس تک جاپہنچا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر حکم (اور فیصلہ کرنے والوں کا تعین) حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوا تھا لیکن اگر ایسا ہوتا تو اُن کا حکم حکم، علی(علیه السلام) کا حکم اور پیغمبرِ اکرم کا حکم پیغمبرِ اکرم کا حکم خدا کا حکم ہے۔ اصولی طور پر کیا خدا براہِ راست انسانی معاشرے پر حکومت اور قضاوت کرتا ہے؟ کیا اس کے لیے اس کے علاوہ کوئی صورت ہے کہ نوعِ انسانی میں سے کچھ افراد۔ البتہ فرمانِ خدا سے اس امر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں؟ لیکن خوارج نے اس واضح حقیقت کی طرف توجہ کیے بغیر اصلاً حضرت علی علیہ السلام پر واقعہ حکمیت اور تحکیم کے بارے اعتراض کیا، یہاں تک کہ اسے معادذ الله آپ(علیه السلام) کے اسلام سے انحراف کی دلیل سمجھا، افسوس ہے۔ اس خود خواہی، جہالت اور جمود پر۔ ایسے اصلاحی پروگرام جب جاہل ونادان افراد کے ہاتھ جاپڑیں تو بد ترین تباہ کن وسائل میں بدل جاتے ہیں۔ آج بھی وہ گروہ کہ درحقیقت، خوارج کی نفسیات رکھتے ہیں اور جہالت اور ہٹ دھرمی میں اس سے کم نہیں مندرجہ بالا آیت کو مجتہدین کی تقلید کی نفی یا ان سے صلاحیتِ حکومت کی نفی پر دلیل سمجھتے ہیں۔ لیکن ان سب کا جواب مندرجہ بالا سطور میں دیا جاچکا ہے۔

غیر خدا کی طرف توجہ

توحید کا خلاصہ اور معنی طرف یہ نہیں کہ خدا یگانہ ویکتا ہے بلکہ توحید پرستی کو انسان کے تمام پہلووں میں عملی صورت اختیار کرنا چاہیے اور اس کی روشن ترین نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ موحّد انسان غیرِ خدا پر بھروسہ نہیں کرتا اور اس کے غیر کی پناہ نہیں لیتا۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ عالمِ اسباب کی پرواہ نہیں کرتا اور زندگی میں وسیلے اور سبب سے کام نہیں لیتا بلکہ مَیں کہتا ہوں کہ تاثیرِ حقیقی کو سبب میں نہیں سمجھتا بلکہ تمام اسباب کا سرا ”مسبب الاسباب“ کے ہاتھ میں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں اسباب کے لئے استقلال کا قائل نہیں ہے اور ان سب کو ذاتِ پاک پروردگار کا پرتو سمجھتا ہے، ہو سکتا ہے اس عظیم حقیقت سے عدمِ واقفیت عام لوگوں کے بارے چشم پوشی کے قابل ہو لیکن اولیائے حق کے لئے اس بنیاد سے سرِمُو بے توجہی مستوجبِ سزا ہے، اگرچہ اس کی حیثیت ترکِ اولیٰ سے زیادہ نہیں ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے حضرت یوسف(علیه السلام) کی لحظہ بھر کی بے توجہی سے ان کی قید کی مدت طویل ہو گئی تاکہ حوادث کی بھٹی میں وہ زیادہ پختہ اور آبدیدہ ہو جائیں اور طاقت اور طاغوتیوں کے خلاف جہاد کے لئے زیادہ ہو جائیں اور جان لیں کہ اس راستے میں الله کی قوت وطاقت پر بھروسہ کرنا ہے اور ان محروم اور ستم رسیدہ لوگوں پر بھروسہ کرنا ہے جو الله کی راہ میں قدم اٹھاتے اور یہ اس راہ کے تمام راہیوں اور سچّے مجاہدین کے لئے ایک عظیم درس ہے کہ جو ایک شیطان کی سرکوبی کے لئے اپنے اندر دوسرے یطان کی محبت کو داخل نہیں ہونے دیتے، وہ مشرق ومغرب کی طرف نہیں جھکتے اور صراطِ مستقیم کہ جو امتِ وسط کی شاہراہ ہے اس کے علاوہ کسی راستے پر قدم نہیں رکھتے۔

43
12:43
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ إِنِّيٓ أَرَىٰ سَبۡعَ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ أَفۡتُونِي فِي رُءۡيَٰيَ إِن كُنتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُونَ
بادشاہ نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک شدہ خوشے ہیں (اور خشک خوشوں نے سبز خوشوں کو ختم کر دیا ہے) اے سردارو! اگر تم خواب کی تعبیر بیان کر سکتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں کوئی نقطہ نظر پیش کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
12:44
قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمٖۖ وَمَا نَحۡنُ بِتَأۡوِيلِ ٱلۡأَحۡلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ
انہوں نے کہا یہ تو خواب پریشان ہیں اور ہم اس قسم کی خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
12:45
وَقَالَ ٱلَّذِي نَجَا مِنۡهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعۡدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأۡوِيلِهِۦ فَأَرۡسِلُونِ
ان دو افراد میں سے ایک کہ جسے نجات مل گئی تھی اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا۔ کہنے لگا: میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا۔ مجھے (اس قیدی جوان کے پاس) بھیج دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
12:46
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖ لَّعَلِّيٓ أَرۡجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُونَ
اے یوسف! اے بہت سچے! اس خواب کے بارے میں رائے دو کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک شدہ خوشے ہیں، تاکہ میں لوگوں کے پاس لوٹ جاؤں اور وہ(اس خواب کے اسرار سے) آگاہ ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
12:47
قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ
اس نے کہا: سات سال تک خوب محنت سے کاشت کاری کروا اور جو کچھ کاٹو اس میں تھوڑی سی مقدار کھا لو اور باقی کو خوشوں میں رہنے دو (اور ذخیرہ کر لو)

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
12:48
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ
اس کے بعد سات سال (خشکی اور قحط کے) آئیں گے کہ جو کچھ تم نے ان کے لے ذخیرہ کیا ہو گا اسے کھالیں گے مگر قدر قلیل کہ جو تم (بیج کے لئے) بچا پاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
12:49
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَامٞ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعۡصِرُونَ
اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ لوگوں کو خوب بارش نصیب ہوگی اور اس سال لوگ رس بھرے پھل (اور روغن دار دانے) پائیں گے۔

بادشاہِ مصر کا خواب

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف علیہ السلام سات برس تک قید خانے میں تنگی وسختی میں ایک فراموش شدہ انسان کی طرح رہے، وہ خود سازی، قیدیوں کو ارشاد وہدایت، بیماروں کی عیادت اور دردمندوں کی دلجوئی میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ایک ظاہراً چھوٹا سا واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف ان کی بلکہ مصر اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کی سرنوشت کو بدل کے رکھ دیا۔ بادشاہِ مصر کہ جس کا نام کہا جاتا ہے کہ ولید بن ریان تھا (اور عزیر مصر اس کا وزیر تھا) نے ایک خواب دیکھا یہ ظاہراً ایک پریشان کن خواب تھا، دن چڑھا تو اس نے خواب کی تعبیر بتانے والوں میں اور اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور کہنے لگا: مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ سات کمزور سی گائیں ہیں اور سات موٹی تازی گائیں ہیں اور دبلی پتلی گائیں ان پر حملہ آور ہوئی ہیں اور انھیں کھارہی ہیں، نیز سات ہرے بھرے اور سات خشک شدہ خوشے ہیں اور خشک شدہ خوشے سبز خوشوں پر لپٹ گئے ہیں اور انھیں ختم کر دیا ہے (وَقَالَ الْمَلِکُ اِنِّی اَریٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاُخَرَ یَابِسَاتٍ)۔ اس کے بعد اس نے ان کی طرف روئے سخن کیا اور کہنے لگا: اے میرے سردار! میرے خواب کے بارے میں اپنا نقطہٴ نظر بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہو (یَااَیُّھَا الْمَلَاُ اَفْتُونِی فِی رُؤْیَای اِنْ کُنتُمْ لِلرُّؤْیَا تَعْبُرُونَ)۔ لیکن سلطان کے حواریوں نے فوراً کہا کہ یہ خوابِ پریشان ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے (قَالُوا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِیلِ الْاَحْلَامِ بِعَالِمِینَ)۔ ”اضغاث“ ”ضغث“ (بروزن ”خرص“)کی جمع ہے، اس کا معنی ہے لکڑیوں، خشک گھاس، سبزی یا کسی اور چیز کا گٹھا۔ ”احلام“ ”حلم“ (بروزن نہم) کی جمع ہے اور خواب کے معنی میں ہے۔ لہذا”احلام“ ”حلم“ پریشان اور خلط ملط خوابوں کے معنی میں ہے، یعنی مختلف چیزوں کے مختلف گھٹے لفظ ”احلام“ کو جو ”مَا نَحْنُ بِتَاْوِیلِ الْاَحْلَامِ بِعَالِمِینَ“ میں الف لامِ۔عہد کے ساتھ آیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں کر سکتے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان کا اظہار عجز حقیقتاً اس بناپر تھا کہ چونکہ اس خواب کا حقیقی مفہوم ان پر واضح نہیں تھا لہٰذا انھوں نے اسے خوابِ پریشاں قرار دیا کیونکہ ان کے نزدیک خوابوں کی دو قسمیں تھی ایک بامعنی وبامفہوم خواب کہ جو قابل تعبیر تھے اور دوسری خوابِ پریشان اور بے معنی خواب کہ جن کی تعبیر ان کے پاس کوئی نہ تھی ایسے خوابوں کو وہ قوتِ خیال کی فعالیت کا نتیجہ سمجھتے تھے جبکہ اس کے برخلاف پہلی قسم کے خوابوں کو وہ روح کے عالمِ غیب سے اتصال کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ اس خواب کو آئندہ کے پریشان کن حوادث کی دلیل سمجھ رہے تھے لیکن جیسا کہ بادشاہوں اور طاقتوں کے حاشیہ نشینوں کا طریقہ ہے وہ انھیں صرف وہی امور بتلاتے ہیں کہ جو شاہی مزاج کے لیے باعثِ انبساط ہوا اور جو چیز ان کی ”ذات مبارک“ کو مضطرب کر دے اس کا ذکر نہیں کرتے، ایسی جابر اور ظالم حکومتوں کے زوال اور بدبختی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے کس طرح جرائت کی شاہِ مصر کے سامنے اس رائے کا اظہار کریں کہ وہ اسے خواب پریشان دیکھنے کا الزام دیں جبکہ ان حاشیہ نشینوں کا معمول یہ ہے کہ وہ ان کی ہر چھوٹی بڑی اور بے معنی حرکت کے لیے کوئی فلسفہ گھڑتے ہیں اور بڑی معنی خیز تفسیریں کرتے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس لیے ہو کہ انھوں نے دیکھا تھا کہ بادشاہ یہ خواب دیکھ کر پریشان ومضطرب ہے اور وہ پریشانی میں حق بجانب بھی تھا کیونکہ اس نے خواب دیکھا تھا کہ کمزور اور لاغر گائیں توانا اور موٹی تازی گاوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور انھیں کھا رہی ہیں اور یہی صورت خشک خوشوں کی تھی، کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور لوگ اچانک اس کے ہاتھ سے حکومت چھین لیں گے، لہٰذا انھوں بادشاہ کے دل کا اضطراب دور کرنے کے لیے اسے خواب پریشاں قرار دے دیا، یعنی پریشانی کی کوئی بات نہیں، یہ کوئی خاص معاملہ نہیں ہے، ایسے خواب کسی چیز کی دلیل نہیں ہوتے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”اضغاث احلام“ سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ تیرے خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک پیچیدہ سا خواب ہے مختلف امور اس میں جمع ہوگئے ہیں اور ہم تو صرف ایک قسم کے خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہیں نہ کہ اس قسم کے خوابوں کی، لہٰذا انھوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ ممکن ہے کوئی ماہر استاد مل جائے اور وہ اس کی تعبیر بیان کر سکے البتہ انھوں نے خود اظہارِ عجز کیا ہے۔ اس موقع پر بادشاہ کا ساقی کہ جو چند سال قبل قید خانے سے آزاد ہوا تھا، اسے قید خانے کا خیال آیا، اُسے یاد آیا کہ یوسؑف اس خواب کی تعبیر بیان کر سکتے ہیں، اس نے بادشاہ کے حاشیہ نشینوں کی طرف رُخ کرکے کہا: مَیں تمھیں اس خواب کی بتا سکتا ہوں، مجھے اس کام کے ماہر استاد کے پاس بھیجو کہ جو زندان میں پڑا ہے تاکہ تمھیں بالکل صحیح خبر لا کر دوں (وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْھُمَا وَاِدَّکَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمْ بِتَاْوِیلِہِ فَاَرْسِلُونِی)۔ جی ہاں! اس گوشٴ زندان میں ایک روشن ضمیر، صاحبِ ایمان اور پاک دل انسان زندگی کے دن گزار رہا ہے کہ جس کا دل حوادثِ آئندہ کا آئینہ ہے، وہ ہے کہ جو اس راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے اور خواب کی تعبیر بیان کر سکتا ہے۔ لفظ ”فَاَرْسِلُونِی“ (مجھے بھیج دو) ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ قید خانے میں حضرت یوسف(علیه السلام) سے ملاقات پر پابندی ہو اور وہ بادشاہ اور اس کے حواریوں سے اس کی اجازت لینا چاہتا ہو۔ اس کی اس بات نے محفل کی کیفیت ہی بدل دی، سب کی آنکھیں ساقی پر لگ گئیں، آخرکار اسے اجازت ملی اور حکم ملا کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کام کے لیے نکل کھڑا ہو اور جلد نتیجہ پیش کرے، ساقی زندان میں آیا اور اپنے پرانے دوست یوسف(علیه السلام) کے پاس پہنچا، وہی دوست یوسف(علیه السلام) کہ جس سے بڑی بے وفائی کی گئی تھی لیکن شاید وہ جانتا تھا کہ اس کی عظمت سے توقع نہیں کہ وہ دفتر شکایت کھول بیٹھے۔ اس نے حضرت یوسف(علیه السلام) سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: یوسف! اے سراپا صداقت! اس خواب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو کہ کسی نے دیکھا ہے سات لاغر گائیں موٹی تازی کو کھارہی ہیں، نیز سات ہرے خوشے ہیں اور سات خشک شدہ (کہ جن میں سے دوسرا پہلے سے لپٹ گیا ہے اور اسے نابود کر دیا ہے) (یُوسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیقُ اَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاُخَرَ یَابِسَاتٍ)۔ شاید مَیں اس طرح ان لوگوں کے پاس لوٹ کے جاوں تو وہ اس خواب کے اسرار سے آگاہ ہوسکیں (لَعَلِّی اَرْجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَعْلَمُونَ)۔ لفظ ”الناس“ ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ چاپلوس حاشیہ نشینوں کے ذریعے بادشاہ کا خواب اس وقت کے ایک اہم واقعے کے طور پر لوگوں میں پھیل چکا تھا اور اس پریشانی کو دربار سے عام لوگوں تک کھینچ لائے تھے۔ بہرحال حضرت یوسف علیہ السلام نے بغیر کسی شرط کے اور بغیر کسی صلے کے تقاضے کے فوراً خواب کی واضح اور نہایت اعلیٰ تعبیر بیان کی، اس میں آپ نے کچھ چھپائے بغیر درپیش تاریک مستقبل کے بارے میں بتایا ساتھ ہی اس کے لیے راہنمائی کر دی اور ایک مرتب پرگرام بتادیا، آپ(علیه السلام) نے کہا: سات سال پیہم محنت سے کاشت کاری کرو کیونکہ ان سات برسوں میں بارش خوب ہوگی لیکن جو فصل کاٹو اسے خوشوں سمیت انباروں کی صورت میں جمع کرلو سوائے کھانے کے لیے جو تھوڑی سی مقدار ضروری ہو (قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَاَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوہُ فِی سُنْبُلِہِ اِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَاْکُلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: ”داٴب“ (بروزن ”مصر“) در اصل مسلسل چلتے رہنے کے معنی میں ہے اور مستقل عادت کے معنی میں بھی آیا ہے، لہٰذا اس کا معنی یہ ہو گا کہ تم اپنی عادت کے مطابق زرا میں زراعت کو زیارہ اہمیت دیتے ہو، اسے معمول کے مطابق جاری رکھو لیکن اسے ہاتھ روک کر استعمال کر، یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ تھی جتنی ہوسکے زراعت میں محنت کرو کیونکہ ”داٴب ودوٴب“ خشکی ومحنت کے معنی میں بھی آیا ہے یعنی اتنا کام کرو کہ تھک جاوٴ)۔ لیکن جان لو کہ ان سات برسو کے بعد سات برس خشک سالی،بارش کی کمی اور سختی کے آئیں گے کہ جن میں صرف اس ذخیرے سے استفادہ کرنا ہو گا جو گذشتہ سالوں میں کیا ہو گا ،ورنہ ہلاک ہوجاوٴ گے (ثُمَّ یَاْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَاْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ)۔ البتہ خیال رہے کہ خشکی اور قحط کے ان سات سالوں میں تمام ذخیر ہ شدہ گندم نہ کھا جانا بلکہ کچھ مقدار بیج کے طور پر آئندہ کاشت کے لیے رکھ چھوڑنا کیونکہ بعد کا سال اچھا ہو گا (اِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ)۔ اگر خشک سالی اور سختی کے یہ سال تم سوچے سمجھے پروگرام اور پلان کے تحت ایک ایک کرکے گزار لو تو پھر تمھیں کوئی خطرہ نہیں۔اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا خوب باران رحمت ہوگی اور لوگ اس آسمانی نعمت سے خوب بہرہ مند ہوں گے۔(ثُمَّ یَاْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیہِ یُغَاثُ النَّاس)۔ اس سے نہ صرف زراعت اور اناج کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ رَس دار پھل اور روغن دار دانے بھی فراواں ہوں گے کہ لوگ جن سے رَس اور روغن حاصل کریں گے(وَفِیہِ یَعْصِرُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ جچی تُلی تعبیر: حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بیان کی وہ کس قدر جچی تلی تھی۔قدیمی کہانیوں میں گائے سال کی علامت سمجھی جاتی تھی اور اس کا توانا ہونا فراواں نعمت کی دلیل ہے جبکہ لاغر ہونا مشکلات اور سختی کی دلیل ہے۔سات لاغر گائیں سات توانا گاوں پر حملہ آور ہوئیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سختی کے سات سالوں میں قبل کے سالوں کا ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اور سات خشک شدہ خوشے جو سات سبز خوشوں سے لپٹ گئے تویہ فراوانی نعمت اور خشک سالی کے دو مختلف ادوار کے لیے ایک اور دلیل تھی۔اس میں اس نکتے کا اضافہ تھا کہ اناج کو خوشوں کی شکل میں ذخیرہ کیا جانا چاہیئے تاکہ جلد خراب نہ ہو اور سات برس تک چل سکے۔ نیز یہ کہ لاغر گائیں اور خشک شدہ خوشے سات سات سالوں کے بعد نہ تھے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان سخت سات سالوں کے بعد یہ کیفیت ختم ہو جائے گی اور فطری طور پر بیج کی فکر بھی کرنا چاہیے اور ذخیرے کا کچھ حصہّ اس کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔ حضرت یوسف(علیه السلام) درحقیقت، کہ عام تعبیر خواب بیان کرنے والے شخص نہ تھے بلکہ ایک رہبر تھے کہ جو گوشہ زندان میں بیٹھے ایک ملک کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے اور انھیں کم از کم پندرہ برس کے لیے مختلف مراحل پر مشتمل ایک پلان دے رہے تھے اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ تعبیر جو آئندہ کے لیے منصوبہ بندی اور راہنمائی پر مشتمل تھی نے جابر بادشاہ اور اس کے حواریوں کو ہلا کے رکھ دیا اور اہل مصر کے ہلاکت خیز قحط سے نجات مل گئی۔ ۲۔ قدرت الہی کا عظیم مظہر: یہ داستان ہمیں پھر یہ عظیم درس دیتی ہے کہ قدرت الہی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ ہم سوچتے ہیں۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک دور کے جابر حکمران کے ایک معمولی سے خواب کے ذریعے ایک بہت بڑی ملت کو ایک عظیم مصیبت سے نجات عطا کر دے اور ساتھ ہی ایک خاص بندے کو بھی سالہا سال کی مصیبت سے رہائی دے دے۔ اس سارے معاملے میں ضروری تھا کہ بادشاہ خواب دیکھے۔ وہ خواب بیان کرے تو ساقی موجود ہو اور یہ بھی کہ اسے قید خانے میں دیکھا ہوا اپنا خواب یاد آجائے اور آخر کار اہم واقعات رونما ہوں۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک چھوٹے سے عظیم واقعات پیدا کر دی تا ہے۔ جی ہاں!ہمیں ایسے خدا سے دل باندھنا چاہیے۔ ۳۔ علمِ تعبیرِ خواب۔ حضرت یوسف(علیه السلام) کا معجزہ: اس سورہ میں متعدد خوابوں کا ذکر ہوا ہے حضرت یوسف(علیه السلام) کا خواب اور فرعون مصر کا خواب۔ یہ تمام خواب اس بہت زیادہ اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں جو اس زمانے کے لوگ تعبیر خواب کو دیتے تھے۔ اصولاً اس زمانے میں علم تعبیر خواب زمانے کی پیش رفت کے علوم میں سے شمار ہوتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے اس زمانے کے پیغمبر یعنی حضرت یوسف(علیه السلام) اس علم میں درجہ کمال پر فائز تھے کہ جو در اصل ایک معجزہ شمار ہوتا تھا۔ کیا ایسا ہی نہیں کہ ہر پیغمبر کا معجزہ اپنے زمانے کے ترقی یافتہ ترین میں سے ہونا چاہیے تا کہ اس کے مقابلے میں اس زمانے کے علماء عاجز ہو کر یقین حاصل کریں کہ اس علم کا سرچشمہ علوم الہی ہے نہ کہ انسانی اور بشری۔

50
12:50
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّـٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ
بادشاہ کے کہا: اسے میرے پاس لے آؤ لیکن جب اس کا فرستادہ اس (یوسف) کے پاس آیا تو اس نے کہا: اپنے صاحب کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا ماجرا کیا تھا جنہوں نے (آپ کے وزیر عزیز مصر کے محل میں ) اپنے ہاتھ کاٹے تھے؟ بے شک میرے خدا نے مجھے ان کے مکر و فریب سے آگاہ کیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
12:51
قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ إِذۡ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفۡسِهِۦۚ قُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِن سُوٓءٖۚ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡـَٰٔنَ حَصۡحَصَ ٱلۡحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
(بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور) کہا: جب تم نے یوسف کو اپنی طرف دعوت دی تھی تو تمہیں کیا معاملہ پیش آیا تھا؟ انہوں نے کہا: حاش للہ ! ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ (اس مو قع پر) زوجۂ عزیز نے کہا: اس وقت حق آشکارا ہوگیا، وہ میں ہی تھی جس نے اسے اپنی طرف دعوت دی تھی اور وہ سچوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
12:52
ذَٰلِكَ لِيَعۡلَمَ أَنِّي لَمۡ أَخُنۡهُ بِٱلۡغَيۡبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي كَيۡدَ ٱلۡخَآئِنِينَ
یہ بات میں نے اس لئے کہی ہے تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیبت میں اس سے خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کی مکاری چلنے نہیں دیتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
12:53
۞وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
مجھے ہر گز اپنے نفس کی برأت کا اعلان نہیں کرنا کیونکہ (سرکش)نفس تو بدیوں پر بہت اکساتا ہے مگر یہ کہ میرا پرور دگار رحم کرے میرا پرور دگار غفور و رحیم ہے۔

یوسف ہر الزام سے بری ہو گئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے شاہِ مصر کے خواب کی جو تعبیر بیان کی وہ اس قدر جچی تُلی اور منطقی تھی کہ اس نے بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کو جذب کر لیا ، بادشاہ نے دیکھا کہ ایک غیر معروف قیدی نے کسی مفاد کی توقع کے بغیر اس کے خواب کی مشکل تعبیر کس بہترین طریقے سے بیان کر دی ہے اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے نہایت جچا تُلا پروگرام بھی پیش کر دیا ہے۔ اجمالاً اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام قیدی نہیں ہے بلکہ غیر معلولی شخصیت ہے کہ جو کسی پر اسرار ماجرے کے باعث قید میں ڈالا گیا ہے لہٰذا اُسے اس کے دیدار کا شوق پیدا ہوا لیکن ایسا نہیں کہ سلطنت کا غرور ایک طرف رکھ کر وہ دیدارِ یوسف کے لیے چل پڑے بلکہ اس نے حکم دیا کہ ”اسے میرے پاس لے آوٴ“ (وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِہِ)۔ لیکن جب اس کا فرستادہ یوسف(علیه السلام) کے پاس آیا تو بجائے اس کے یوسف(علیه السلام) اس خوشی میں پھولے نہ سماتے کہ سالہا سال قید خانے کے گڑھے میں رہنے کے بعد اب نسیم آزادی چل رہی ہے، آپ(علیه السلام) نے بادشاہ منفی جواب دیا اور کہا کہ مَیں اس وقت تک اس زندان سے باہر نہیں آوں گا جب تک کہ تُو اپنے مالک کے پاس جا کر اس سے یہ نہ پوچھے کہ وہ عورتیں جنھوں نے تیرے وزیر (عزیز مصر) کے محل میں اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، ان کا ماجرا کیا تھا (فَلَمَّا جَائَہُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ اِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ)۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسے ہی جیل سے رہا ہو جائیں اور بادشاہ کی طرف سے معافی کی رسوائی قبول کرلیں، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ بادشاہ کی طرف سے معاف کئے گئے ایک مجرم یا کم از کم ایک ملزم کی صورت میں زندگی بسر کریں، وہ چاہتے تھے کہ سب سے پہلے ان کی قید کے سبب کے بارے میں تحقیق ہو اور ان کی بے گناہی اور پاکدامنی پوری طرح درجہٴ ثبوت کو پہنچ جائے اور براٴت کے بعد وہ سربلندی سے آزاد ہوں اور ضمناً حکومتِ مصر کی مشینری کی آلودگی بھی ثابت ہو جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ اس کے وزیر کے دربار میں کیا گزرتی ہے۔ جی ہاں! وہ اپنے عز و شرف کو آزادی سے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یہی ہے حریت پسندوں کا راستہ۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ حضرت یوسف(علیه السلام) نے اپنی گفتگو میں اس قدر عظمت کا مظاہرہ کیا کہ یہاں تک تیار نہ ہوئے کہ مصر کی بیوی کا نام لین کہ جو اُن پر الزام لگانے اور جیل بھیجنے کا اصلی عامل تھی بلکہ مجموعی طور پر زنانِ مصر کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو اس ماجرا میں دخیل تھیں۔ اس کے بعد آپ(علیه السلام) نے مزید کہا: اگرچہ اہلِ مصر نہ جانیں اور یہاں تک دربارِ سلطنت بھی بے خبر ہو کہ منصوبہ کیا تھا اور کن افراد کی وجہ سے پیش آیا ”میرا پروردگار ان کے مکر وفریب اور منصوبہ سے آگاہ ہے“(اِنَّ رَبِّی بِکَیْدِھِنَّ عَلِیمٌ)۔ شاہ کا خاص نمائندہ اس کے پاس لوٹ آیا اور یوسف (علیه السلام) کی تجویز بیان کی۔ یہ تجویز کہ جس سے عالی ظرفی اور بلند نظری جھلکتی تھی، بادشاہ نے سنی تو وہ یوسف(علیه السلام) کی بزرگواری سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ لہٰذا اس نے فوراً اس ماجرے میں شریک عورتوں کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئیں توان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: بتاؤ میں دیکھوں کہ جب تم نے یوسف(علیه السلام) سے اپنی خواہش پورا کرنے کا تقاضا کیا تو اصل معاملہ کیا تھا (قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ اِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِہِ)۔ سچ کہنا، حقیقت بیان کرنا کہ کیا تم نے اس میں کوئی عیب، تقصیر اور گناہ دیکھا ہے؟ ان کے خوابیدہ ضمیر اس سوال پر اچانک بیدار ہو گئے اور سب نے متفقہ طور پر یوسف (علیه السلام) کی پاکدامنی کی گواہی دی اور کہا: منزہ ہے خدا، ہم نے یوسف(علیه السلام) میں کوئی گناہ نہیں دیکھا (قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوءٍ)۔ عزیز مصر کی بیوی وہاں موجود تھی۔ بادشاہ اور زنان مصر کی باتیں سن رہی تھی بغیر اس کے کہ کوئی اس سے سوال کرے، ضبط نہ کرسکی، اس نے محسوس کیا کہ اب وہ موقع آگیا ہے کہ ضمیر کی سالہا سال کی شرمندگی کی یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے اظہار سے تلافی کرے۔ خصوصاً جبکہ اس نے یوسف کی بے نظیر عظمت کو اس پیغام میں جو انہوں نے بادشاہ کو بھیجا تھا دیکھ لیا کہ پیغام میں انہوں نے اس کے بارے میں تھوڑی سی بات بھی نہیں کی اور اشارتاً صرف زنانِ مصر کے بارے میں بات کی ہے۔ اس کے اندر گویا ایک ہلچل مچ گئی وہ چیخ اٹھی: اب حق آشکار ہو گیا ہے۔ میں نے اس سے خواہش پوری کرنے کا تقاضا کیا تھا، وہ سچا ہے اور میں نے اس کے بارے میں اگر کوئی بات کی ہے تو وہ جھوٹ تھی، بالکل جھوٹ تھی(قَالَتْ امْرَاَةُ الْ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہِ وَ اِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ)۔ زوجہ عزیز نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے یہ صریح اعتراف اس بناء پر کیا ہے تاکہ یوسفؑ کو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کے بارے میں خیانت نہیں کی (ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّی لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ)۔ کیونکہ اتنی مدت میں اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد میں نے سمجھ لیا ہے کہ خدا خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو چلنے نہیں دیتا(وَاَنَّ اللهَ لَایَھْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ)۔ (اگرچہ یہ جملہ مصر کی بیوی کا ہے، جیسا کہ ظاہر عبارت کا تقاضا ہے تو) درحقیقت، اس نے یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے صریح اعتراف کے لیے دو دلیلیں قائم کیں: پہلی یہ کہ اس کا ضمیر اور احتمالاً یوسف (علیه السلام) سے اس باقی ماندہ لگاؤ اسے اجازت نہیں دیتا کہ حق کی اب وہ اس سے زیادہ پردہ پوشی کرے اور عدم موجودگی میں اس پاکدامنی نوجوان سے خیانت کرے اور دوسری یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ اور درس عبرت حاصل کرنے کے بعد یہ حقیقت اس پر واضح ہو گئی کہ خدا پاک اور نیک لوگوں کا حامی و مددگار ہے اور کبھی بھی خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتا اور اسی لیے محلوں کی پُر خواب زندگی کے پردے آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے اور وہ زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے لگی۔ خصوصاً عشق میں شکست نے اس کے افسانوی غرور پر جو ضرب لگائی اس سے اس کی نگاہِ حقیقت اور کھل گئی۔ اس حالت میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس طرح کا صریح اعتراف کرے۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: میں ہرگز اپنے نفس کی براٴت کا اعلان نہیں کرتی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ نفس امارہ مجھے برائیوں کا حکم دیتا ہے (وَمَا اُبَرِّءُ نَفْسِی اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ)۔ ”مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے“ اور اس کی حفاظت اور نصرت و مدد کے باعث بچ جاؤں (اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ)۔ بہر حال اس گناہ پر میں اس سے عفو و بخشش کی امید رکھتی ہوں ”کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے“(اِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ بعض مفسّرین نے آخری دو آیتوں کو حضرت یوسف (علیه السلام) کی گفتگو سمجھا ہے اور کہا ہے کہ یہ دونوں آیتیں درحقیقت، اس پیغام کا آخری حصہ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے فرستادہ شخص کے ذریعے اسے بھیجا اور وہ ان آیات کا معنی یہ کرتے ہیں: اگر میں مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق کا تقاضا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ (یا اس کا وزیر عزیز مصر) جان لے کہ میں نے زوجہ عزیز کے معاملے میں اس سے کوئی خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کا مکر و فریب چلنے نہیں دیتا اس کے باوجود میں اپنی براٴت کا اعلان نہیں کرتا کیونکہ نفسِ سرکش تو انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے مگر یہ کہ خدا رحم کرے کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے۔ ظاہراً اس مخالفِ ظاہر تفسیر کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے زوجہ مصر کی اس قدر دانش و معرفت کو قبول نہیں کرنا چاہا کہ وہ ایسے مخلصانہ لہجے میں بات کرے کہ جو عبرت آموزی اور بیداری کی حکایت کرے، حالانکہ بعید نہیں کہ انسان کی زندگی میں جب اس کا پاؤں کسی پتھر سے ٹھوکر کھائے تو اس میں بیداری، احساسِ گناہ اور ندامت کی ایسی کیفیت پیدا ہو جائے ۔ خصوصاً جبکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عشقِ مجازی میں شکست انسان پر عشق حقیقی (عشق الٰہی) کا راستہ کھول دیتی ہے۔ اور آج کے علم نفسیات (تصید)کی تعبیر میں ”شدید جذبات جب ملامت سے دوچار ہوتے ہیں تو اوپر کی طرف اٹھتے ہیں اور ختم ہوئے بغیر اعلیٰ ترین شکل میں رونما ہوتے ہیں چند ایک روایات کہ جو زوجہ عزیز مصر کی زندگی کے بارے میں منقول ہیں وہ بھی اس عبرت آموزی اور بیداری کی دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں ان دو آیات کو حضرت یوسف (علیه السلام) سے مربوط کرنا اس قدر بعید اور خلافِ ظاہر ہے کہ جو کسی بھی ادبی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ کیونکہ: اولاً: ”ذلک“ کہ جو زوجہ ہی کی گفتگو ہے اور اسے کلامِ یوسف سے نتھی کرنا بہت ہی عجیب ہے کہ جو گذشتہ آیات میں فاصلے پر آیا ہے۔ ثانیاً: اگر یہ آیات کلامِ یوسفؑ ہوں تو اس میں ایک طرح کا تضاد پیدا ہو گا کیونکہ ایک طرف تو یوسفؑ کہتے ہیں کہ میں نےعزیز مصر سے کوئی خیانت نہیں کی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بری نہیں کرتا نفسِ سرکش برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ ایسی بات تو وہی شخص کہہ سکتا ہے جس سے کوئی لغزش سرزد ہوئی ہو اگرچہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت یوسف سے کوئی لغزش سرزد نہیں ہوئی۔ ثالثاً: اگر مراد یہ ہے کہ عزیز مصر جان لے کہ وہ بے گناہ ہیں تو وہ تو شروع ہی میں (شاہد کی گواہی کے بعد) اس حقیقت کو جان چکا تھا اور اگر مراد یہ ہے کہ ”میں نے شاہ سے خیانت نہیں کی“ تو اس معاملے کا شاہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور یہ عذر پیش کرنا کہ وزیر کی بیوی سے خیانت جابر بادشاہ سے خیانت ہے تو ایک کمزور اور مہمل عذر معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ درباری لوگ عام طور پر ان مسائل کی پابندی نہیں کرتے۔ خلاصہ یہ کہ آیات کا ربط نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں مصر کی بیوی نے کی تھیں کہ جو کچھ عبرت حاصل کرچکی تھی اور تھوڑی بہت بیدار ہوچکی تھی لہٰذا اس نے ان حقائق کا اعتراف کر لیا ۔

اہم نکات

۱۔ پاکیزگی اور دشمن کا اعتراف: واقعہ یوسفؑ کے اس حصّے میں ہم نے دیکھا ہے کہ آخر کار ان کے سب سے بڑے دشمن نے ان کی پاکیزگی کا اعتراف کر لیا اور اپنی گنہگاری اور ان کی بیگناہی کا بھی اعتراف کر لیا۔ یہ ہے تقویٰ، پاکبازی اور گناہ سے پرہیز کا انجام اور یہ ہے اس فرمان کا مفہوم کہ: وَمَنْ یَتَّقِ اللهَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبُ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کےلیے راہِ کشائش کھول دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے کہ جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ (طلاق۔۲۔۳) یعنی۔ تو پاک رہ اور پاکیزگی کی راہ اختیار کر، استقامت دکھا، خدا اجازت نہیں دے گا کہ نا پاک لوگ تیری حیثیت کو برباد کر سکیں ۔ ۲۔ کبھی شکست بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہے: کبھی ناکامیاں بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں بلکہ بہت سے مواقع پر ظاہراً شکست ہوتی ہے لیکن درحقیقت، وہ ایک طرح کی معنوی کامیابی شمار ہوتی ہے۔ ایسی ہی ناکامیاں انسان کی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں اور غرور و غفلت کے پردوں کو چاک کر دی تی ہیں اور انسان کی زندگی میں احساس کی بیداری کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی (کہ جس کا نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ تھا)اگرچہ اپنے معاملے میں بدترین ناکامیوں میں مبتلا ہوئی لیکن گناہ کے اس راستے پر اس کی یہ ناکامیاں اس کے متنبہ اور بیدار ہونے کا باعث بن گئیں۔ اس کا خوابیدہ ضمیر بیدار ہو گیا اور وہ اپنے برے کردار پر پشیمان ہوئی اوراس نے درگاہِ الٰہی کی طرف رخ کر لیا ۔ احادیث میں جو واقعہ حضرت یوسف(علیه السلام) سے اس کی ملاقات کے بارے میں ہے، جبکہ یوسف مصر ہوگئے، وہ بھی اس دعویٰ کی دلیل ہے۔ لکھا ہے کہ زلیخا نے حضرت یوسف(علیه السلام) کی طرف روئے سخن کرکے کہا: الحمد للّٰہ الذی جعل البعید ملوکا بطاعتہ و جعل الملوک عبیداً بمعصیتہ ” حمد ہے اس خدا کی جس نے غلاموں کو اپنی اطاعت کی بناٴپر بادشاہ بنادیا اور بادشاہوں کو اپنی نافرمانی کے باعث غلام بنادیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آخر کار حضرت یوسف(علیه السلام) نے اس کے ساتھ شادی کرلی“۔(بحوالہ سفینہ، ج ۱،ص ۵۵۴) وہ لوگ خوش بخت ہیں جو ناکامیوں سے فتح حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے اشتباہات اور غلطیوں سے زندگی کی صحیح راہ تلاش کرلیتے ہیں اور سیاہ بختیوں میں نیک بختی کو پالتے ہیں۔ البتہ سب لوگ شکست پر ایسے ردِّ عمل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ کم ظرف لوگ شکست کے موقع پر یاس و ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتے ہیں اور بعض اوقات وہ خودکشی تک جا پہنچتے ہیں جو کہ کامل شکست ہے لیکن وہ لوگ کہ جو کچھ ظرف کے حامل ہوتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ناکامی کو اپنی کامیابی کا زینہ قرار دیں۔ ۳۔ شرفِ انسانی ظاہری آزادی سے بہتر ہے: ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نہ صرف اپنی پاکدامنی کی حفاظت کے لیے قید خانے میں گئے بلکہ اعلانِ آزادی کے بعد بھی قید خانہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے یہاں تک کہ بادشاہ کا نمائندہ خالی ہاتھ لوٹ گیا اس لیے کہ پہلے مصر کی عورتوں سے یوسف کے بارے میں کافی تحقیق کی جائے اور اس کے بے گناہی ثابت ہو جائے تاکہ وہ عزت و آبرو کے ساتھ قید خانے سے آزاد ہوں نہ کہ ایک آلودہ مجرم، بے حیثیت انسان اور شاہ کے معاف کیے ہوئے شخص کے طور پر کہ جو خود ایک عظیم ننگ و عار ہے۔ اور یہ تمام گذشتہ، آج کے اور کل کے انسانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ ۴۔ نفسِ سرکش: علماء اخلاق نے نفس (انسانی جذبات، میلانات اور احساسات) کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے کہ جن کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے۔ پہلا ”نفس امارہ“، نفس سرکش ہے کہ جو انسان کو گناہ کی ترغیب دیتا ہے اور اسے ہر طرف کھینچتا ہے اس لیے اسے ”امّارہ“کہتے ہیں۔ اس مرحلے میں ابھی عقل و ایمان اتنا قوی نہیں ہوتا کہ نفس سرکش کو لگام دے سکے بلکہ اکثر اوقات اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دی تا ہے یا اس سے دست و گریبان ہو تو نفسِ سرکش اسے پٹخ دیتا ہے اور شکست دے دیتا ہے۔ اسی مرحلے کی طرف مذکورہ بالا آیات میں زوجہ مصر کی گفتگو میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہی انسان کی تمام تر بدبختیوں کا سرچشمہ ہے۔ دوسرا ”نفس لوامہ“ہے۔ اس مرحلے پر انسان تعلیم و تربیت اور مجاہدہ سے پہنچتا ہے۔ اس مرحلے میں ہو سکتا ہے انسان بعض اوقات غرائز اور جذبات کے طغیان کے نتیجے میں غلیطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہو لیکن فوراً پشیمان ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو ملامت شروع کر دیتا ہے اور اس طرح ممکن ہے وہ گناہ کی تلافی کا عزم کرے اور قلب و روح کو آپ توبہ سے پاک کرلے۔ دوسرے لفظوں میں عقل اور نفس کے مقابلے میں کبھی عقل کامیاب ہوجاتی ہے اور کبھی نفس۔ بہرحال عقل و ایمان کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ البتہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے جہاد اکبر ضروری ہے۔ اس مرحلے میں کافی ریاضت، مکتبِ استاد میں تربیت، ارشادِ الٰہی اور سنت آئمہ سے الہام لینا لازمی ہے۔ اس مرحلے کی قرآن مجید نے سورہ قیامت میں قسم کھائی ہے کہ جو اس کی عظمت کی دلیل ہے: لَااُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَةِ وَلَااُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ قسم ہے روز قیامت کی اور سرزنش کرنے والے نفس کی۔ تیسرا ”نفسِ مطمئنہ“ ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جس تک انسان قلب و روح کی صفائی، تہذیب اور کامل تربیت کے بعد پہنچتا ہے۔ اس میں سرکش غرائز رام ہو جاتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور عقل و ایمان کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتیں۔ یہی سکون و اطمینان کا مرحلہ ہے ایسا سکون و اطمینان کہ جو عظیم بحرِ اوقیانوس پر حکومت کرتا ہے وہ سمندر کہ سخت طوفانوں پر بھی جن کی جبین پر شکن نہیں پڑتی۔ یہ انبیاء اولیاء اور ان کے سچے پیروکاروں کا مقام ہے۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے مرد ان خدا کے مکتب میں ایمان و تقویٰ کا درس حاصل کیا ہے، سالہا سال تہذیب نفس کی ہے اور جہادِ اکبر کے آخری مرحلے تک آپہنچے ہیں۔ اسی مرحلے کی طرف قرآن مجید نے سورہ فجر میں اشارہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: یَااَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِی اِلَی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً، فَادْخُلِی فِی عِبَادِی، وَادْخُلِی جَنَّتِی اے مطمئن و باسکون نفس اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آکہ تو بھی اس سے خوش اور وہ بھی تجھ سے راضی ہے اور میرے خاص بندوں کے زمرے میں داخل ہوجا اور میری جنت میں قدم رکھ۔ پروردگارا! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرے قرآن کی نورانی آیات کے زیر سایہ ”نفس امارہ“ سے ”نفس لوامہ“اور اس سے ”نفس مطمئنہ“ کی طرف ارتقاٴ کریں۔ اور ایک مطمئن اور پر سکون روح پیدا کریں کہ جسے طوفانِ حوادث متزلزل و مضطرب نہ کرسکے اور ہم دشمنوں کے مقابلے میں قوی تر ہوں، دنیا کی رنگینیوں سے بے اعتناء ہوں اور سختیوں میں صابر و بردبار ہوں۔ بار الٰہا اب جبکہ ہمارے اسلامی انقلاب کو ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ گزررہا ہے متاسفانہ ہمارے فوجیوں میں اختلاف کی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ ایسی نشانیاں کہ جنہوں نے اسلام کے تمام شیدائیوں، انقلاب کے فدائیوں اور شہداء کے خون کے پاسداروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ فوج میں جس اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ سابق صدر ایران بنی صدر کا پیدا کردہ تھا جو اس کی معزولی کے بعد دور ہو گیا ۔(مترجم) خداوندا! ہم سب کو ایسی عقل عطا فرما کہ ہم سرکش ہوا وہوس پر کامیاب ہوں اور اگر ہم غلطی پر ہیں تو توفیق و ہدایت کے روشن چراغ سے ہماری راہ کو منور فرما۔ الٰہی! ہم نے یہاں تک کا راستہ اپنے قدموں سے طے نہیں کیا بلکہ ہر مرحلے میں تمھارا رہبر و رہنما تھا۔ اپنا لطف و کرم ہم سے دور کر اور اگر تیری ان سب نعمتوں کی ناشکری تیری سزا کے استحقاق کا موجب بنی ہے تو اس سے پہلے کہ ہم سزا و عذاب میں گرفتار ہوں، ہمیں بیدار فرما۔ آمین یا رب العالمین

54
12:54
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦٓ أَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِينٌ أَمِينٞ
مصر کے بادشاہ نے کہا اس (یوسف) کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اسے اپنے ساتھ مخصوص کر لوں جب یوسف اس کے پاس آئے اور اس سے گفتگو کی اس (بادشاہ) نے کہا آج سے تو ہمارے ہاں اعلیٰ قدر و منزلت رکھتا ہے تو قابل اعتماد ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
12:55
قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ
یوسف نے کہا مجھے مصر کی زمین کے خزانوں کا سرپرست بنا دے کیونکہ میں حفاطت کرنے والا قادر آگاہ ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

56
12:56
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُۚ نُصِيبُ بِرَحۡمَتِنَا مَن نَّشَآءُۖ وَلَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اس طرح ہم نے یوسف کو مصر کی زمین میں قدرت دی کہ اب جہاں چاہتا اس میں رہتا (اور اس میں تصرف کرتا) ہم جسے چاہتے ہیں (اور لائق سمجھتے ہیں ) اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اور ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
12:57
وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
اور جو ایمان لائے ہیں اور پر ہیز گار ہیں آخرت کا اجر ان کے لئے بہتر ہے۔

یوسف (ع) مصر کے خزانہ دار کی حیثیت سے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی کی عجیب زندگی کی تفصیل میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ آخر ان کی پاکدامنی سب پر ثابت ہو گئی یہاں تک کہ ان کے دشمنوں نے ان کی پاکیزگی کی گواہی دی اور یہ ثا بت ہو گیا کہ جس گناہ کی وجہ سے وہ زندان میں ڈالے گئے تھے وہ پاکدامنی تقویٰ اور پرہیزگاری کے سوا کچھ نہ تھا۔ ضمناً یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ بے گناہ قیدی علم، آگہی، دانشمندی، انتظامی صلاحیت اور فہم و فراست کی بہت اعلیٰ سطح کا مرکز ہے کیونکہ اس نے ”ملک" (بادشاہ مصر) کے خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے آئندہ کی پیچیدہ اقتصادی مشکلات بیان کرتے ہوئے ساتھ ہی ان سے نجات کے راستے کی نشاندہی بھی کر دی تھی۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے ؛ ”باد شاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لے آوٴ تاکہ میں اسے اپنا مشیر اور نمائندہ خاص بناوں اور اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے اس کے علم و دانش اور انتظامی صلاحیت سے مدد لوں (وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِہِ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِی)۔ پادشاہ کا پر جوش پیام لیکر اس کا خاص نمائندہ قید خانے میں یوسفؑ کے پاس پہنچا۔ اس نے بادشا ہ کی طرف سلام و دعا پہنچا یا اور بتا یا کہ اسے آ پ سے شدید لگاوٴ ہو گیا ہے۔ اس نے مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق سے متعلق آپ کی درخواست کی عملی جامہ پہنا یا اور سب نے کھل کر آپ کی پاکدامنی اور بے گناہی کی گواہی دی ہے۔ لہٰذا اب تاخیر کرنے کی گنجائش نہیں رہی اٹھیئے تاکہ ہم اس کے پاس چلیں۔ حضرت یوسفؑ پادشاہ کے پاس تشریف لائے۔ ان کی آپس میں بات چیت ہوئی۔ باد شاہ نے ان کی گفتگو سنی اور آپ کی پر مغز اور نہایت اعلیٰ باتیں سنیں۔ اس نے دیکھا کہ آپ کی باتیں انتہائی علم و دانش اور دانائی سے معمور ہیں تو پہلے سے بھی زیادہ آپ کا شیفتہ ہو گیا۔ کہنے لگا: آپ آج سے ہمارے ہاں اعلیٰ قدرت و منزل اور وسیع اختیارات کے حامل ہیں اور ہمارے نزدیک قابل ِ اعتماد رہیں گے (فَلَمَّا کَلَّمَہُ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ اَمِینٌ)۔ آج سے اس ملک کے اہم کام آپ کے سپرد ہیں اور آپ کو امور کی اصلاح کے لیے کمر ہمت باندھ لینا چاہئیے کیونکہ میرے خواب کی جو تعبیر آپ نے بیان کی ہے اس کے مطابق اس ملک کو شدید اقتصادی بحران درپیش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس بحران پر صرف آپ ہی قابو پا سکتے ہیں۔ حضرت یوسف (ع) نے تجویز پیش کہ مجھے اس علاقہ کے خزانوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے کیونکہ میں اچھا محافظ ہوں اور اس کام کے اسرار سے بھی واقف ہوں (قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْاَرْضِ اِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ)۔ حضرت یوسف (ع) اچھی طرح جانتے تھے کہ ظلم سے بھرے اس معاشرے کی پریشانیوں کی ایک اہم بنیاد اس کے اقتصادی مسائل میں ہیں۔ لہٰذا انھوں نے سوچا کہ جب کہ انہیں مجبوراً آپ کی طرف آنا پڑا تو کیا ہی اچھا ہے کہ مصر کی اقتصادیات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور محروم و مستضعف عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور جتنا ہو سکے طبقاتی تفاوت اور اونچ نیچ کو کم کریں، مظلوموں کا حق ظالموں سے لیں اور اس وسیع ملک کی بد حالی کو دور کریں۔ آپ کی نظر میں تھا کہ خاص طور پر زرعی مسائل اس ملک میں زیادہ اہم ہیں اس بات پر بھی توجہ رکھنا ہو گی چندسال فراوانی کے ہوں گے اور پھر خشکی کے سال در پیش ہوں گے لہٰذا لوگوں کو زیادہ سے زیادہ غلّے پیدا کرنے اور پھر انہیں احتیاط سے محفوظ رکھنے اور نہایت کم خرچ کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا تاکہ قحط کے سالوں کے لیے غلہ ذخیرہ کیا جاس کے۔ لہٰذا اس مقصد کے لیے آپ کو یہی بہتر معلوم ہواکہ آپ مصر کے خزانوںکو اپنی سرپرستی میں لینے کی تجویز پیش کریں۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس سال بادشاہ سخت مشکلات میں گھرا ہوا تھا اور کسی طرح ان سے نجات چاہتا تھا لہٰذا اس نے تمام امور کی باگ ڈور حضرت یوسف (ع) کے ہاتھ میں دے دی اور خود کنارہ کشی اختیار کرلی۔ بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ اس نے عزیز مصرکی جگہ حضرت یوسف (ع) کواپنا وزیر اعظم بنا لیا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے ظاہری مفہوم کے مطابق وہ صرف مصر کے وزیر خزانہ بنے ہوں لیکن اسی سورہ کی آیت ۱۰۰۔ اور۔۱۰۱/ کہ جن کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی اس امر کی دلیل ہیں کہ آخر کار آپ بادشاہ ہو گئے اورتمام امور مملکت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں آگئی۔ اگرچہ آیت ۸۸/ میں ہے کہ یوسف (ع) کے بھائیوں نے ان سے کہا:”یا ایھا العزیز“۔ یہ امر کی دلیل ہے کہ آپ نے عزیز مصر کا منصب سنبھالا مگر اس میں کوئی مانع نہیں کہ آپ نے یہ مناسب تدریجاً حاصل کئے ہوں۔ پہلے وزیر خزانہ ہوئے ہوں پھر وزیر اعظم اور پھر بادشاہ۔ بہرحال، اس مقام پر خدا کہتا ہے: اور اس طرح ہم نے یوسف (ع) سر زمین مصر پر قدرت عطا کی کہ وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا تھا(وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَاءُ)۔ جی ہاں ! ہم اپنی رحمت اور مادی و روحانی نعمتیں جسے چاہتے ہیں اور اہل پاتےہیں عطا کرتے ہیں (نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ)۔ اور ہم نیکوکاروں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کریں گے“۔ اگرچہ اس میں تاخیر ہو جائے تاہم آخر کار جو کچھ ان کے لائق ہوا انہیں دیں گے کیونکہ ہم کسی نیک کو فراموش نہیں کرتے (وَلاَنُضِیعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم صرف دنیاوی اجر ہی نہیں دیں بلکہ ”جو اجر انہیں آخرت میں ملے گا وہ اہل ایمان اور صاحبانِ تقویٰ کے لیے زیادہ اچھا ہے“ (وَلَاَجْرُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ حضرت یوسف (ع) نے طاغوت وقت کی دعوت کیونکر قبول کی؟ زیر بحث آیات کی طرف توجہ ہوتے ہیں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی طاغوت زمانہ سے وزارتِ خزانہ یا وزارت عظمیٰ کا منصب قبول کرنے اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر کیسے تیار ہو گئے؟ اس سوال کا جواب خود مندرجہ بالا آیات ہی میں پوشیدہ ہے۔ وہ یہ کہ آپ نے یہ منصب ایک "حفیظ و علیم“ شخصیت کی حیثیت سے قبول کیا تاکہ عوام کے مفاد میں بیت المال کی حفاظت کریں اور اسے انہی کے مفاد میں خرچ کریں خصوصاً مستضعف اور محروم کے حقوق کو جو اکثر معاشروں میں پامال ہوتے ہیں ان تک پہنچائیں۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے کہا ہے وہ علم و تعبیر کے ذریعے جانتے تھے کہ مصری قوم کو ایک شدید اقتصادی بحران پیش آنے والا ہے لہٰذا اس کے مقابلے کے لیے دقیق پروگرام اور قریب سے اس کی نگرانی کے بغیر ممکن تھا کہ بہت سے لوگ تباہ و بر باد ہو جاتے، لہٰذا اس مصیبت سے عوام کی نجات اور بے گناہ انسانوں کی جان کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ حضرت یوسف (ع) کو جو موقع مل رہا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور تمام لوگوں خصوصاً محروم عوام کے لیے اس سے استفادہ کرتے کیونکہ اقتصادی بحران اور قحط سالی میں سب سے زیادہ خطرہ انہیں لوگوں کی جان کو تھا اور بحرانوں کی پہلی قربانی یہی لو گ ہوتے ہیں۔ فقہ میں ظالم کی حکومت قبول کرنے کی بحث میں بھی یہ بات تفصیل سے آئی ہے کہ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا ہمیشہ حرام نہیں ہوتا بلکہ کبھی مستحب بھی ہوتا ہے اور ایسا اس صورت میں ہوتا ہے جب اس منصب کو قبول کرنے کے فوائد اور دینی تقاضے اس کی حکومت کی تقویت پہنچنے کے نقصانات سے زیادہ ہوں۔ متعدد روایات میں آیاہے کہ آئمہ اہل بیت (ع) بھی اپنے قریبی ساتھیوں کو اس قسم کی اجازت دے دیتے تھے مثلاً علی بن یقطین امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے فرعون ہارون رشید کی وزارت امام (ع) کی اجازت سے قبول کی۔ بہرصورت اس قسم کے مناصب قبول کرنے یا رد کرنے کا انحصار ’ قانون ِ اہم و فہم“ پر ہے۔ اس کے نفع و نقصان کو دینی اور اجتماعی لحاظ سے پرکھا جانا چاہیئے۔ بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ایسا عہدہ قبول کرنا ظالم کی معزولی پر منتج ہوتا ہے۔ جیسا کہ بعض روایات کے مطابق حضرت یوسف (ع) کے ساتھ بھی یہی اتفاق ہوا اور کبھی ایسا عمل بعد ازآں انقلاب و قیام کا سرچشمہ بن جاتا ہے کیونکہ منصب قبول کرنے والا شخص حکومت کے اندر سے انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے۔ شاید مومن آل ِ فرعون اسی قسم کی ایک مثال تھے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسے افراد مظلوموں اور محروموں کے لیے پناہ گاہ بن جاتے ہیں اور ان کے لیے حکومتی ظلم میں کمی کاباعث بن جاتے ہیں ان مقاصد میں سے کوئی ایک بھی حاصل ہورہا ہوتو ایسے عہدہے قبول کرنے کا جواز بن جاتا ہے۔ ایک مشہور روایت میں امام صادق (ع) ایسے ہی افرد کے بارے میں فرماتے ہیں: کفارة عمل السلطان قضاء حوائج الاخوان ظالم حکومت کا ساتھ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ بھائیوں کی ضروریات پوری کی جائیں۔(بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۲ ص ۱۳۹۔ سفینة البحار جلد ۲ ص۲۵۲ پر اسی قسم کا مضمون امام کاظم علیہ السلام سے علی بن یقطین کے بارے میں منقول ہے۔ یہ روایت بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے)۔ لیکن یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن میں حلال و حرام کی سر حد ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتی ہے۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ انسان تھوڑی سی سہل انگاری کی وجہ سے غلط طور پر ظالم کا ساتھ دینے لگتا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جب کہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں عبادت اور خدمت خلق میں مشغول ہوں۔ بعض اوقات سوء استفادہ کرنے والے افراد حضرت یوسف (ع) یا علی بن یقطین کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ ان کے کام کوحضرت یوسف (ع) اور علی بن یقطین سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ (تشریحی نوٹ: کئی ایک روایات جو امام علی بن موسیٰ رضا (ع) سے منقول ہیں، میں ہے کہ کچھ افراد جو اسلامی معیاروں سے ناآشنا تھے بعض اوقات آپ (ع) پر اعتراض کرتے کہ آپ (ع) نے اس زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے اعتنائی کے باوجود مامون کی ولی عہدی کو قبول کر لیا ہے۔ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: کیا پیغمبر افضل ہے یا وصی پیغمبر؟ انہوں نے کہا نہیں پیغمبر ہی افضل ہے۔ فرمایا: کون افضل ہے مسلمان یا مشر ک؟ انہوں نے عرض کیا: مسلمان، فرمایا عزیز مصر مشرک تھا اور یوسف پیغمبر تھے اور مامون (ظاہراً) مسلمان ہے اور میں پیغمبر کا وصی ہوں اور یوسف (ع) نے عزیز مصر سے چاہا کہ انہیں مصر کے خزانوں پر مامون کریں اور کہا کہ میں حفیظ و علیم ہوں اور جب کہ میں اس منصب کو قبول کرنے پر مجبور تھا۔بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۱۴۶)۔ یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ مصر کا ظالم بادشاہ اس کے لیے کیسے تیار ہو گیا جب کہ وہ جانتا تھا کہ حضرت یوسف ظلم و ستم استعماری ہتھکنڈوں اور استشمار کے لیے ہرگز تیار نہ ہوں گے بلکہ اس کے برعکس اس کے مظالم میں رکاوٹ بنیں گے۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب چندان مشکل نہیں رہتا، وہ یہ کہ بعض اوقات معاشرتی اور اقتصادی بحران اس طرح کے ہوتے ہیں کہ خود سروں کی حکومت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیتے ہیں اسی طرح سے کہ انہیں اپنی ہر چیز خطرے میں نظر آتی ہے۔ ایسے مواقع پر ہلاکت سے بچنے کے لیے وہ یہاں ک تیار ہو جاتے ہیں کہ ایک عادلانہ عموامی حکومت کو قبول کرلیں تاکہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ ۲۔ اقتصادی مسائل اور انتظامی صلاحیت کی اہمیت: بعض مکاتب بالکل یک جہتی ہیں اور ہر چیز کو اقتصادی پہلو میں منحصر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے انسان اور اس کے وجودکی مختلف جہات کو نہیں پہنچانا۔ ہم اگرچہ ان مکاتب سے اتفاق نہیں کرتے تا ہم معاشروں کی زندگی میں خصوصیت سے اتصادی مسائل کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مندر جہ بالا آیات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کیونکہ تمام مناصب میں سے حضرت یوسف (ع) نے وزارت خزانہ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کہ اگر انہوں نے اسے ٹھیک کر لیا تو مصر کی زیادہ تر پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور عدالت ِ اقتصادی کے ذریعے وہ دوسری مشکلات پر بھی قابو پا سکیں گے۔ اسلامی روایات میں بھی اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے جس میں لوگوں کی روحانی اورمادی زندگی (قوام الدین و الدنیا)کی حقیقی دو بنیادوں میں سے ایک اقتصادی مسائل بیان کی گئی جب کہ دوسری آگہی اور علم و دانش کو شمار کیا گیا ہے۔ گر چہ مسلمانوں نے ابھی تک اس اہمیت کی طرف توجہ نہیں کی کہ جو اسلام نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اس حصے کو دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان زندگی کے اس حصے میں اپنے دشمنوں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور پس ماندہ ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں روز بروز بیداری اور آگاہی میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے امید بندھتی ہے کہ مستقبل میں مسلمان اقتصادی میدان میں کاوشوں کو ایک بہت بڑی اسلامی عبادت سمجھتے ہوئے انجام دینے لگیں کے اور اس لحاظ سے اسلام کے بے رحم دشمنوں کی نسبت جو پس ماندگی ہے اسے دور کریں گے۔ ضمناً حضرت یوسفؑ نے یہ جو کہا ہے کہ: ”انی حفیظ علیم“۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے کسی حساس منصب کو قبول کرنے کے لیے صرف امانت داری ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت بھی ضروری ہے اور اس کے علاوہ علم و آگاہی اور مہارت بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے ”حفیظ“کے ساتھ ساتھ ”علیم“ بھی کہا ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بے خبری، عدم مہارت اور انتظامی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے جو خطرات پیدا ہوتے ہیں وہ خیانت سے پیدا ہونے والے خطرات سے کم نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات اس سے بد تر اور زیادہ ہوتے ہیں۔ ان واضح اسلامی تعلیمات کے باوجود معلوم نہیں بعض مسلمان انتطامی صلاحیت اور علم و آگہی کے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور عہدے سپرد کرنے کے لیے وہ صرف امانت و دیانت کو شرائط سمجھتے ہیں حالانکہ پیغمبر اسلام ؐاور حضرت علیؑ کی دور حکومت میں ان کی سیرت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ بزرگوار آگاہی اور انتطامی صلاحیت کو امانت و دیانت کی طرح اہمیت دیتے تھے۔ ۳۔ مصارف کی نگرانی: اقتصادی مسائل میں صرف زیادہ سے زیادہ اجناس پیدا کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ بعض اوقات مصارف اورمخارج پر کنٹرول کرنا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے اپنے دورِ حکومت میں فراوانی ٴ نعمت کے سات سالوں میں مصارف پر سختی سے کنٹرول کیا تاکہ اجناس کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سختی کے سالوں کے لیے بچا کر کھ سکیں۔ درحقیقت، یہ دونوں چیزیں ایک دوسر ے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔ زیادہ پیدا وار اس وقت مفید ہو تی ہے جب اسے زیادہ صحیح طور پر کنٹرول کرکے استعمال کیا جاس کے اور مصارف پر کنٹرول اس وقت زیادہ مفید ہے جب اس کے ساتھ پیداوار بھی زیادہ ے زیادہ ہو۔ مصر میں حضرت یوسف (ع) کی اقتصادی سیاست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ترقی پذیر اقتصادی نظام صرف زمانہ حال پر نظر نہیں رکھتابلکہ آئندہ پر بھی نظر رکھتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی نظر ہوتی ہے اور یہ انتہائی خود غرضی ہے کہ ہم صرف اپنے آج کے منافع کی فکر میں رہیں مثلاًزمین میں موجود تمام ذخائر کو لوٹ لیں اور آئندہ آنے والوں کی کوئی فکر نہ کریں اور یہ نہ سوچین کہ وہ کن حالات میں زندگی بسر کریں گے کیا ہمارے بھائی صرف وہی ہیں جو آج ہمارے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور بعد میں آنے والے ہمارے کچھ نہیں لگتے؟ یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض اوقات روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے مصر کے لوگوں میں طبقاتی فاوت اورلوٹ کسوٹ کو ختم کرنے کے لیے قحط کے سالوں سے استفادہ کیا۔ آپ نے زیادہ پیداوار کرکے عرصے میں لوگوں سے غذائی مواد خرید لیا اور اس کے لیے تیارکئے گئے بڑے بڑے گواموں میں اسے ذخیرہ کیا۔ جب یہ سال گذر گئے اور قحط کے سال شروع ہوئے تو پہلے سال اجناس کو درہم و دینار کے بدلے بیچا۔ اس طرح کرنسی کا ایک بڑا حصہ جمع کر لیا ۔ دوسرے سال اسباب زینت اور جواہرات کے بدلے اجناس کو بیچا۔ البتہ جن کے پاس یہ چیزیں نہ تھیں انہیں مستثنیٰ رکھا۔ تیسرے برس چوپایوں کے بدلے، چوتھے برس غلاموں اور کنیزوں کے عوض، پانچویں برس عمارات کے بدلے، چھٹے برس زرعی زمینوں اور پانی کے عوض اور ساتویں خود مصر کے لوگوں کے بدلے اجناس دیں۔ پھر یہ سب چیزیں انہیں (عادلانہ طور پر ) واپس کر دی ں اور کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ عوام کو بلا و مصیبت اور بے سروسامانی سے نجاد دلواٴں۔(اس حدیث کو اختصارسے ذکر کیا گیا ہے اورصرف مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ یہ امام علی بن موسیٰ رضا (ع) سے منقول ہے۔(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۴۴۔ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ ۴۔ اپنی تعریف یا اپنا تعارف: اس میں اس میں شک نہیں کہ اپنی تعریف کرنا ایک ناپسند یدہ کام ہے لیکن اس کے باوجود یہ کلی قانون نہیں بعض اوقات حالات کا تقاضا ہوتا ہے اورضروری ہوتا ہے کہ انسان معاشرے کو اپنا تعارف کروائے تاکہ لوگ اسے پہچانیں اور اس کی مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور وہ ایک پوشیدہ اور متروک خزانے کی طرح نہ رہ جائے۔ مندرجہ بالاآیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یوسف(ع) نے مصر کی وزارت ِ خزانہ کئے منصب کے لیے آپ کو تجویز کرتے ہوئے ”حفیظ علیم“ کے الفاظ سے اپنی تعریف کی کیونکہ ضروری تھا کہ بادشاہ ِ مصر اور دوسرے لو گ جان لیں کہ آپ ایسی صفات کے حامل ہیں جو اسے شعبے کی سر پرستی کے لیے بہت ہی ضروری ہیں۔ اسی لیے تفسیر عیاشی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع) سے سوال کیا گیا: کیا جائز ہے کہ انسان آپ اپنی تعریف کرے۔ آپ (ع) نے فرمایا: نعم، اذا اضطر الیہ اما سمعت قول یوسف اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم وقول العبد الصالح و انا لکم ناصح امین۔ جی ہاں ! جب اس کے سوا چارہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ کیا تو نے حضرت یوسف (ع) کا قول نہیں سنا۔ انہوں نے فرمایا: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو کیونکہ میں امین اور آگاہ ہوں۔ اسی طرح خدا کے عبد صالح (ہود (ع)) نے فرمایا:میں تمہارے لیے خیراخواہ اور امین ہوں۔ (بحوالہ :تفسیرالثقلین جلد ۲ ص ۴۳۳ )۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خطبہ شقشقیہ اور نہج البلاغہ کے دیگر خطبوں میں حضرت علی (ع) نے جو اپنی تعریف کی ہے اور اپنے آپ کو محور ِ خلافت کا قطب قرار دیا ہے کہ جس کی اوج فکر اور مقام ِ والا تک فکر انسانی کا پرندہ پر نہیں مارسکتااور علوم کی آبشار ان کے کوہسار وجود سے گرتے ہیں۔ اور اسی قسم کی دیگر تعریفیں سب اس لیے ہیں کہ نا آگاہ اور بے خبر لوگ آپ کے مقام کو سمجھیں اور آپ کے گنجینہ ٴ وجود سے معاشرے کی بہبود کے لیے استفادہ کریں۔ ۵۔ روحانی اجر بہتر ہے: اگرچہ بہت سے نیک لوگوں کو اس جہان میں مادی اجر مل جاتا ہے جیساکہ حضرت یوسف (ع) نے اپنی پاکدامنی، صبر، پارسائی اور تقویٰ کا نتیجہ اسی دنیا میں پالیا اور اگر وہ پاکدامن نہ ہوتے تو ہرگز اس مقام تک نہ پہنچتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگوں کو اس قسم کی توقع رکھنا چاہئیے اور اگر انہیں مادی اجر نہ ملے تو وہ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ ان پر ظلم ہوا ہے کیونکہ اصلی اجر توو ہ ہے جو آئندہ زندگی میں انسان کے انتظار میں ہے۔ شاید اسی اشتباہ کو رفع کرنے اور اس توہم کو دور کرنے کے لیے قرآن زیر بحث ِ آیات میں حضرت یوسف (ع) کے دنیا وی اجر کا ذکر کرکے بعد مزید فرماتا ہے: ولاجر الاٰخرة خیر للذین اٰمنوا وکانوا یتقون اہل ایمان اور صاحبان تقویٰ کے لیے اجر آخرت برتر و بہتر ہے۔ ۶۔قیدیوں کے حقوق کی حمایت: قید خانوں میں ہمیشہ نیک لوگ ہی نہیں رہے۔ ان میں کبھی بے گناہ رہے ہیں اور کبھی مجرم لیکن ہر صورت میں اصول ِ انسانی کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئیے۔ ہو سکتا ہے کہ آج کی دنیا یہ سمجھے کہ قید یوں کے حقوق کی آواز اسی دور میں بلند ہو ئی ہے لیکن اسلام کی پر افتخار تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے اپنی حکومت کی ابتداہی میں قید یوں کے بارے میں نصیحتیں فرمائیں نیز حضرت علی (ع) نے اپنے ظالم قاتل عبد الرحمن بن ملجم مرادی کے بارے میں جو وصیت فرمائی وہ تو ہم سب نے سنی ہے کہ آپ (ع) نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ آپ (ع) نے اپنے لیے آنے والا دودھ اس کے لیے بھیجا اور اسے قتل کرنے کے بارے میں فرمایا: اسے ایک سے زیادہ ضرب نہ لگائی جائے کیونکہ اس نے صرف ایک ضرب لگائی ہے۔ حضرت یوسف (ع) بھی جب قید خانہ میں تھے تو آپ قیدیوں کے لیے مہربان رفیق، دلسوز ساتھی اور خیر خواہ مشیر تھے اور جب آپ قید خانہ سے جانے لگے تو سب سے پہلے آپ نے دنیا کی توجہ قید یوں کے حالت کی طرف مبذول کرائی اور ان کے حقوق کی حمایت کی اور ان سے اظہار ِ ہمدردی کیا۔ آپ نے حکم کہ قید خانہ کے دروازے پر عبارت لکھیں: ھٰذا قبور الاحیاء، و بیت الاحزان و تجربة الاصدقاء و شماتة الاعداء یہ زندوں کا قبرستان ہے غموں کا گھر ہے، دوستوں کی آزمائش گاہ ہے اور دشمنوں کی سرزنش کی جگہ ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۲ ص ۴۳۲)۔ حضرت یوسف (ع) نے یہ دعا کرتے ہوئے قیدیوں سے اپنے لگاوٴ کا اظہار کیا: اللھم اعطف علیھم بقلوب الاخیار، ولا تعم علیھم الاخبار۔ بارالہٰا ! اپنے نیک بندوں کے دل ان کی طرف متوجہ کر دے اور ان سے خبروں کو پوشیدہ نہ رکھ۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۲ ص ۴۳۲)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: فذٰلک یکون اصحاب السجن اعرف الناس بالاخبار فی کل بلدة یہی وجہ ہے کہ ہر شہر میں قیدی اس شہر کی خبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔ اس بات کو خود ہم نے قید کے دوران آزامایاہے۔استثنائی مواقع کے علاوہ قیدیوں تک ایسی ایسی خبریں عجیب مخفی طریقوں سے پہنچ جاتی تھیں کہ جن سے قید خانے کے مامور آگاہ نہیں ہوتے تھے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ قید خانے میں آنے والے نئے قیدیوں کو قید خانے میں ایسی خبریں سننے کو ملتیں جن سے وہ باہر آگاہ نہ ہوتے تھے۔ اب اگر ہم اس کی مثالوں میں پڑ گئے تو مقصد سے دور ہو جائیں گے۔

58
12:58
وَجَآءَ إِخۡوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ
اور یوسف کے بھائی (جب غلہ لینے) آئے اور اس کے پاس پہنچے۔اس نے انہیں پہچان لیالیکن وہ اسے نہ پہچان پائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
12:59
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ٱئۡتُونِي بِأَخٖ لَّكُم مِّنۡ أَبِيكُمۡۚ أَلَا تَرَوۡنَ أَنِّيٓ أُوفِي ٱلۡكَيۡلَ وَأَنَا۠ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ
جب (یوسف) ان کے بارتیار کروا چکا تو کہا(آئندہ جب آؤتو) تمہارا جو باپ کی طرف سے بھائی ہے اسے میرے پاس لانا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پیمانے کا حق ادا کرتا ہوں اور میں بہتر ین میزبان ہوں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
12:60
فَإِن لَّمۡ تَأۡتُونِي بِهِۦ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِندِي وَلَا تَقۡرَبُونِ
اور اگر اس میرے ہاں نہ لائے تو پھر میرے پاس تمہارے لئے نہ کوئی کیل (غلے کا پیمانہ) ہوگا اور نہ ہی (تم ہرگز)میرے پاس آنا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
12:61
قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنۡهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ
انہوں نے کہا ہم اس کے باپ سے بات کریں گے (اورکوشش کریں گے کہ وہ مان جائے) اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 62 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
12:62
وَقَالَ لِفِتۡيَٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ فِي رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
(پھر) اس نے اپنے کارندوں سے کہا: جو کچھ انہوں نے قیمت کے طور پر دیا ہے وہ ان کے سامان میں رکھ دو شاید اپنے گھروالوں کے پاس پہنچ کر وہ اسے پہچانیں اور شاید پلٹ آئیں۔

یوسف (ع) کی بھائیوں کو نئی تجویز

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار جیسا کہ پیش گوئی ہوئی تھی سات سات پے در پے بارش ہونے کے سبب اور دریائے نیل کے پانی میں اضافے کے باعث مصر کی زرعی پیدا وار خوب تسلی بخش ہو گئی۔ مصر کا خزانہ اور اقتصادی امور حضرت یوسف (ع) کے زیر نظر تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ غذائی اجناس کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے چھوٹے بڑے گودام بنائے جائیں۔ آپ نے عوام کو حکم دیا کہ پیدا وار سے اپنی ضرورت کے مطابق رکھ لیں اور باقی حکومت کے پاس بیچ دیں۔ اس طرح گودام غلّے سے بھر جائیں گئے۔ نعمت و بر کت کی فراوانی کے یہ سات سال گزر گئے اور قحط سالی اور خشک سالی کا منحوس دور شروع ہوا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے آسمان زمین کے لیے بخیل ہو گیا ہے۔ کھیتیاں اور نخلستان خشک ہو گئے۔ عوام کو غلے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ جانتے تھے کہ حکومت نے غلے کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں لہٰذا وہ اپنی مشکلات حکومت ہی کے ذریعے دور کرتے تھے۔ حضرت یوسف (ع) بھی پوری منصوبہ بندی اور پرو گرام کے تحت غلہ فروخت کرتے تھے اور عادلانہ طور پر ان کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ یہ خشک سالی صرف مصر ہی میں نہ تھی اطراف کے ملکوں کا بھی یہی حال تھا فلسطین اور کنعان مصر کے شمال مشرق میں تھے۔ وہاں کے لو گ بھی انہی مشکلات سے دور چار تھے۔ حضرت یعقوب کا خاندان بھی اسی علاقہ میں سکونت پذیر تھا۔ وہ بھی غلے کی کمی سے دوچار ہو گیا۔ حضرت یعقوب (ع) نے ان حالات میں مصمم ارادہ کیا کہ بنیامین کے علاوہ باقی بیٹیوں کو مصر کی طرف بھیجیں۔ یوسف کی جگہ اب بنیامین ہی ان کے پاس تھا۔ بہت حال وہ لوگ مصر کی طرف جانے والے قافلے کے ہمراہ ہو لیے اور بعض مفسرین کے بقول اٹھارہ دن کی مسافت کے بعد مصر پہنچے۔ جیسا کہ تواریخ میں ہے، ضروری تھا کہ ملک سے باہر سے آنے والے افراد مصر میں داخل ہوتے وقت اپنی شناخت کروائیں تاکہ مامورین حضرت یوسف (ع) کو مطلع کریں۔ جب مامورین نے فسلطین کے قافلہ کی خبر دی تو حضرت یوسف (ع) نے دیکھا کہ غلے کی درخواست کرنے والوں میں ان کے بھائیوں کے نام بھی ہیں آپ انہیں پہچان گئے اور یہ ظاہر کئے بغیر کے وہ آپ کے بھائی ہیں، آپ نے حکم دیا کہ انہیں حاضر کیا جائے اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے : یوسف (ع) کے بھائی آئے اور اس کے پاس پہنچے تو اس نے انہیں پہچان لیا لیکن انہوں نے اسے نہیں پہچانا ( وَجَاءَ اِخْوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ)۔ وہ یوسف (ع) نہ پہچاننے میں حق بجانب تھے کیونکہ ایک طرف تو تیس یا چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا (اس دن سے لے کر جب انہوں نے حضرت یوسف (ع) کو کنویں میں پھینکا تھا ان کے مصر میں آنے تک ) اور دوسری طرف وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کابھائی عزیز مصر ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ اسے اپنے بھائی کے مشابہ بھی پاتے تو ایک اتفاق ہی سمجھتے۔ ان تمام امور سے قطع نظر حضرت یو سف (ع) کے لباس کا اندازہ بھی بالکل بدل چکا تھا، انہیں مصریوں کے نئے لباس میں پہچاننا کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ یوسف (ع) کے ساتھ جو کچھ ہو گزرا تھا اس کے بعد ان کی زندگی کا احتمال بھی ان کے لیے بہت بعید تھا۔ بہر حال انہوں نے اپنی ضرورت کا غلہ خرید ا اور اس کی قیمت نقدی کی صورت میں اور یا موزے، جوتے یا کچھ اجناس کی صورت میں ادا کی کہ جو وہ کنعان سے مصر لائے تھے۔ حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں نے بہت محبت کا برتاوٴ کیا اور ان سے بات چیت کرنے لگے۔ بھائیوں نے کہا: ہم دس بھائی ہیں اور حضرت یعقوب (ع) کے بیٹے ہیں ہمارے والد خدا کے عظیم پیغمبر ابراہیم(ع) خلیل کے پوتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے باپ کو پہچانتے ہوتے تو ہمارا بہت احترام کرتے۔ ہمارا بوڑھا باپ انبیاء الٰہی میں سے ہے لیکن ایک نہایت گہرے غم نے ان کے پورے وجود کو گھیر رکھا ہے۔ حضرت یوسف (ع) نے پوچھا : یہ غم کس بنا پر ہے۔ انہوں نے کہا : اس کا ایک بیٹا تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔ عمر میں وہ ہم سے بہت چھوٹا تھا۔ ایک دن ہمارے ساتھ شکار اورتفریح کے لیے صحرا میں گیا۔ ہم اس سے غافل ہو گئے تو ایک بھیڑیا اسے چیر پھاڑ گیا۔ اس دن سے لے کر آج تک اس کے لیے گریاں اور غمگین ہے۔ بعض مفسرین نے اس طرح سے نقل کیا ہے : حضرت یوسف (ع) کی عادت تھی کہ ایک شخص کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلہ نہیں بیچتے تھے۔ حضرت یوسف (ع) کے بھائی چونکہ دس تھے لہٰذا انہیں غلے کے دس بار دئیے گئے۔ انہوں نے کہا : ہمارا بوڑھا باپ ہے اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو وطن میں رہ گیا ہے۔ باپ غم و اندوہ کی شدت کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتا اور چھوٹا بھائی خد مت کے لیے اور مانوسیت کی وجہ سے اس کے پاس رہ گیا۔ لہٰذا ان دونوں کا حصہ بھی ہمیں دیدیجئے۔ حضرت یوسف (ع) نے حکم دیا کہ دو اونٹوں کے بار کا اضافہ کیا جائے۔ پھر حضرت یوسف (ع) ان کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ہوشمند اور موٴدب افراد ہواور یہ جو تم کہتے ہو کہ تمہارے بھائی کو تمہارے سب سے چھوٹے بھائی سے لگاوٴ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر معمولی اور عام بچوں سے ہٹ کر ہے۔میری خواہش ہے کہ تمہارے آئندہ سفر میں میں اسے ضرور دیکھوں۔ علاوہ ازیں یہاں کے لوگوں کو تمہارے بارے میں کئی بدگمانیاں ہیں کیونکہ تم ایک دوسرے ملک سے تعلق رکھتے ہو لہٰذا بدظنی کی اس فضا کو دور کرنے کے لیے آئندہ سفر میں چھوٹے بھائی کو نشانی کے طور پر ساتھ لے آنا۔ یہاں قرآن کہتا ہے :جب یوسف (ع) نے ان کے بار تیار کئے تو ان سے کہا : تمہارا بھائی جو باپ کی طرف سے ہے اسے میرے پاس لے آوٴ ( وَلَمَّا جھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ ائْتُونِی بِاَخٍ لَکُمْ مِنْ اَبِیکُم)۔ اس کے بعد مزید کہا : کیا تم دیکھتے ہیں ہو کہ میں پیمانہ کا حق ادا کر تا ہوں اور میں بہترین میزبان ہوں (وَلاَتَرَوْنَ اَنِّی اُوفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ )۔ اس تشویق اور اظہار محبت کے بعد انہیں یوں تہدید بھی کی : اگر اس بھائی کو میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہیں میرے پاس سے غلہ ملے گا اور نہ تم خود میرے پاس پھٹکنا ( فَاِنْ لَمْ تَاْتُونِی بِہِ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِندِی وَلاَتَقْرَبُونِی )۔ حضرت یوسف (ع) چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو بنیامین کو اپنے پاس بلائیں۔ اس کے لیے کبھی وہ لطف و محبت کا طریقہ اختیار کرتے اور کبھی تہدید کا۔ ان تعبیرات سے ضمنی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ مصر میں غلات کی خرید و فروخت تول کر نہیں ہوتی تھی بلکہ پیمانے سے ہوتی تھی۔ نیز یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) اپنے بھائیوں اور دوسرے مہمانون کی بہت اچھے طریقے سے پذیرائی کرتے تھے اور ہر حوالے سے مہمان نواز تھے۔ بھائیوں نےان کے جواب میں کہا : ہم اس کے باپ سے بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ رضامند ہو جائیں اور ہم یہ کام ضرورکریں گے (قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْہُ اَبَاہُ وَ اِنَّا لَفَاعِلُونَ )۔ ”انا لفاعلون“ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس سلسلے میں وہ اپنے باپ کو راضی کر لیں گے اور ا ن کی موافقت حاصل کرلیں گے۔ اسی لیے وہ عزیز مصر ایسا کا وعدہ کر رہے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے تھے کیونکہ جب وہ اپنے اصرار اور آہ و زاری سے یوسف (ع) کو اپنے باپ سے لے جا سکتے تھے تو بنیامین کو کیونکر ان سے جد انہیں کر سکتے تھے۔ اس موقع پر ان کی ہمدردی اور توجہ کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے حضرت یوسف (ع) نے ”اپنے کارندوں سے کہا کہ ان کی نظر بچا کر وہ اموال ان کے غلے میں رکھ دیں جو انہوں نے اس کے بدلے میں دئیے تھے تاکہ جب وہ واپس اپنے خاندان میں جا کر اپنا سامان کھولیں تو انہیں پہچان لیں اور دوبارہ مصر کی طرف لوٹ آئیں ( وَقَالَ لِفِتْیَانِہِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَھُمْ فِی رِحَالِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُونَھا اِذَا انقَلَبُوا اِلَی اَھْلِھمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ حضرت یوسف (ع) نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروا یا : مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ سے جو پہلا سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے بھائیوں سے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا کہ وہ جلد از آپ کو پہچان لیتے اور باپ کے پاس واپس جا کر انہیں آپ کی جدائی کے جانکاہ غم سے نکالتے؟ یہ سوال زیادہ وسیع حوالے سے بھی سامنے آ سکتا ہے اور وہ یہ کہ جس وقت حضرت یوسف (ع) کے بھائی آپ کے پاس آئے اس وقت آپ کی زندان سے رہائی کو کوئی آٹھ سال گزر چکے تھے کیونکہ گذشتہ سات سال فراوان نعمتوں پرمشتمل گزر چکے تھے جن کے دوران آپ قحط سالی کے عرصے کے لیے اناج ذخیرہ کرنے میں مشغول تھے۔ آٹھویں سال قحط کا دور شروع ہوا۔ اس سال یا اس کے بعد آپ کے بھائی غلہ لینے کے لیے مصر آئے۔ کیا چاہئیے نہ تھا کہ ان آٹھ سالوں میں آپ کوئی قاصد کنعان کی طرف بھیجتے اور اپنے والد کو اپنے حالات سے آگاہ کرتے اور انہیں شدید غم سے نجات دلاتے؟ بہت سے مفسرین نے مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں، علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور قر طبی نے الجامع الاحکام القرآن میں اس سوال کا جواب دیا ہے اور اس سلسلے میں کئی جوابات پیش کئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ بہتر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہ تھی کیونکہ فراقِ یوسف (ع) دیگر پہلووں کے علاوہ حضرت یعقوب کے لیے ایک امتحان بھی تھا اور ضروری تھا کہ آزمائش کا یہ دور فرمان الہٰی سے ختم ہوا اور اس کے پہلے حضرت یوسف (ع) خبر دینے کے مجاز نہ تھے۔ علاوہ ازیں اگر حضرت یوسف (ع) فوراً ہی اپنے بھائیوں کو اپنا تعارف کروادیتے تو ممکن تھا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوتا اور ہو سکتا تھا جہ وہ اس سے ایسے وحشت زدہ ہوتے کہ پھر لوٹ کر آپ کے پاس نہ آتے کیونکہ انہیں یہ خیال پیدا ہوتا کہ ممکن ہے یوسف (ع) ان کے گذشتہ رویہ کا انتقال لیں۔ ۲۔غلہ کی قیمت کیوں واپس کر دی: حضرت یوسف (ع) نے یہ حکم کیوں دیا تھا کہ جو مال ان کے بھائیوں نے غلے کی قیمت کے طور پر دیا ہے وہ ان کے سامان میں رکھ دیا جائے؟ اس سوال کے بھی کئی جواب دئیے گئے ہیں۔ ان میں سے فخرالدین رازی نے اپنے تفسیر میں دس جوابات ذکر کئے ہیں۔ بعض تو ان میں سے غیر مناسب ہیں البتہ خود مذکورہ آیت نے اس سوال کا جواب دیا ہے :”لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُونَھا اِذَا انقَلَبُوا اِلَی اَھْلِھمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُون“۔ یعنی حضرت یوسف (ع) کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ وطن واپسی پر اپنا سامان دیکھیں گے تو انہیں عزیز مصر ( حضرت یوسف (ع) ) کی کرم نوازی کا پہلے سے زیادہ احساس ہو اور اسی بنیاد پر وہ دوبار ہ آپ کے پاس آجائیں یہاں تک کہ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی پورے اطمینان ِقلب سے اپنے ساتھ لے آئیں اور خود حضرت یعقوب (ع) بھی یہ بات دیکھ کر بنیامین کو بڑے اعتماد سے مصر روانہ کر دی ں۔ ۳۔حضرت یوسف (ع) نے بیت المال کا مال کیوں بلا معاوضہ دے دیا؟ :ایک اور سوال جو یہاں سامنے آتا ہے یہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں کو بیت المال کا کچھ حصہ کیوں بلا معاضہ دے دیا۔ اس سوال کا جوانب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے : پہلا یہ کہ مصر کے بیت المال میں مستضعفین کا حق تھا (اور ہمیشہ ہوتا ہے) اور مختلف ممالک میں موجود سر حدوں سے یہ حق ختم نہیں ہوتا۔ اسی لیے حضرت یوسف (ع) اپنے بھائیوں کے لیے جو اس وقت مستضعف تھے اس حق سے استفادہ کیا جیسا کہ وہ دیگر مستضعفین کے لیے بھی کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ حضرت یوسف (ع) اس وقت ایک حساس منصب پر تھے جس کی بناء پر ذاتی طور پر بھی ان کے کچھ حقوق تھے، ان کا کم از کم یہ حق تھا کہ وہ اپنے معاشی ضروریات کا، اپنے ضرورت مند اہل و عیال کا اور اپنے باپ اور بھا ئیوں جیسے رشتہ داروں کی کم از معاشی زندگی کا خیال رکھیں اسی بناء پر آپ نے اس بخشش و عطا میں اپنے حق سے استفادہ کیا۔

63
12:63
فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمۡ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلۡكَيۡلُ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَآ أَخَانَا نَكۡتَلۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
جب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے کہا: ابا جان ہم سے (غلے کا) پیمانہ روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم (غلہ کا) حصہ لے سکیں اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
12:64
قَالَ هَلۡ ءَامَنُكُمۡ عَلَيۡهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمۡ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبۡلُ فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
اس نے کہا: کیا میں اس کے بارے میں تم پر بھروسہ کر لوں جیسا کہ اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں تم پر بھروسہ کیا تھا؟ اور (میں نے دیکھا کہ کیا ہوا اور بہر حال) خدا بہترین محافظ اور رحم الراحمین ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
12:65
وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَٰعَهُمۡ وَجَدُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ رُدَّتۡ إِلَيۡهِمۡۖ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبۡغِيۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتۡ إِلَيۡنَاۖ وَنَمِيرُ أَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ أَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيرٖۖ ذَٰلِكَ كَيۡلٞ يَسِيرٞ
اور جس وقت انہوں نے اپنا مال و متاع کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا سرمایہ انہیں واپس کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے یہ دیکھئے ہمارا سرمایہ جو ہمیں واپس کر دیا گیا ہے لہٰذا کیا ہی اچھا ہے کہ بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اورہم اپنے گھر والوں کے لئے اناج لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور زیادہ بڑا پیمانہ حاصل کریں گے یہ تو چھوٹا پیمانہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 66 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
12:66
قَالَ لَنۡ أُرۡسِلَهُۥ مَعَكُمۡ حَتَّىٰ تُؤۡتُونِ مَوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأۡتُنَّنِي بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمۡۖ فَلَمَّآ ءَاتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ
اس نے کہا: میں ہر گز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ مجھ سے پکا وعدہ نہ کرو کہ اسے حتماً میرے پاس لے آؤ گے مگر یہ کہ (موت) یا کسی اور سبب تم سے قدرت سلب ہو جائے اور جس وقت انہوں نے اس سے قابل وثوق وعدہ کر لیا تو اس نے کہا: جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں خدا اس پر ناظرو حافظ ہے۔

آخرکار باپ راضی ہو گئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف (ع) کے بھائی مالا ہو کر خوشی خوشی کنعان واپس آئے لیکن آئندہ کی فکر تھی کہ اگر باپ چھوٹے بھائی (بنیامین )بھیجنے پر راضی نہ ہوئے تو عزیز ان کی پذیرائی نہیں کرے گا اور انہیں غلے کا حصہ بھی نہیں دے گا۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے : جب وہ باپ کے پاس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا ابا جان! حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ ہمیں غلے کا حصہ نہ دیا جائے اور پیمانہ ہم سے روک دیا جائے ( فَلَمَّا رَجَعُوا اِلَی اَبِیھِمْ قَالُوا یَااَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ )۔ اب جب یہ صورت در پیش ہے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم پیمانہ حاصل کر سکیں ( فَاَرْسِلْ مَعَنَا اَخَانَا نَکْتَلْ ) اور آپ مطمن رہیں ہم اس کی حفاظت کریں گے (وَ اِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: نکتل“ اصل میں ”کیل“ کے مادہ سے ”نکتال“ تھا یہ پیمانے سے کوئی چیز حاصل کرنے کے معنی میں ہے لیکن ”کال“ پیمانے سے کوئی دینے کے معنی میں ہے۔) باپ کہ جسے یوسف (ع) ہرگز نہ بھولتا تھا یہ بات سن کر پریشان ہو گیا ، ان کی طر ف رخ کرکے اس نے کہا: کیا میں تم پر اس بھائی کے بارے میں بھروسہ کرلوں کہ اس کے بھائی یوسف (ع)کے بارے میں گذشتہ زمانے میں تم پر بھروسہ کیا تھا ( قَالَ ھَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَا اَمِنتُکُمْ عَلَی اخِیہِ مِنْ قَبْلُ)۔ یعنی جب تمہارا ایسا بر اماضی ہے کہ جو بھولنے کے قابل نہیں تو تم کس طرح توقع رکھتے ہو کہ دوبارہ تمہاری فرمائش مان لوں اور اپنے فرزند دلبند کو تمہارے سپرد کروں اور وہ بھی ایک دور دراز سفر اور پرائے دیس کے لیے۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: ہر حالت میں خدا بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے۔ ( فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظًا وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ)۔ ہو سکتا ہے یہ جملہ اس طرف اشارہ ہو کہ تم جیسے برے ماضی والے افراد کے ساتھ میرے لیے مشکل ہے کہ بنیامین کو بھیجوں اور بھیجوں گا، بھی تو خدا کی حفاظت میں اور اس کے ارحم الراحمین ہونے کے بھروسے پر نہ کہ تمہارے بھروسے پر۔ لہٰذا مندرجہ بالا جمہ ان کی فرمائش قبول کرنے کی طرف قطعی اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک احتمالی بات ہے کیونکہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (ع) نے ابھی تک ان کی فرمائش قبول نہ کی تھی اور آپ نے پختہ عہد لینے اور پیش آمدہ دیگر واقعات کے بعد اسے قبول کیا۔ دوسرا یہ کہ ممکن ہے حضرت یوسف (ع) کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس موقع پر انہیں یوسف (ع) یاد آگئے اور وہ پہلے سے بھی جانتے تھے کہ وہ زندہ ہیں (اور بعد والی آیات میں بھی ہم پڑھ گئے ہیں کہ انہیں حضرت یوسف (ع) کے زندہ ہونے کا اطمینان تھا ) لہٰذا آپ نے ان کے محفوظ و سلامت رہنے کی دعا کی کہ خدا یا ! وہ جہاں کہیں بھی ہیں انہیں سلامت رکھ۔ پھر ان بھائیوں نے جب اپنا سامان کھولاتو انہوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ وہ تمام چیزیں جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر عزیز مصر کو دی تھیں سب انہیں لوٹا دی گئی ہیں اور وہ ان کے سامان میں موجود ہیں ( وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَھُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ اِلَیْھِمْ)۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ تو ان کی گفتگو پر سند قاطع ہے تو باپ کے پاس آئے اور ”کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئیے، دیکھئے انہوں نے ہمارا تمام مال و متاع ہمیں واپس کر دیا ہے“۔ ( قَالُوا یَااَبَانَا مَا نَبْغِی ھَذِہِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا) (ہو سکتا ہے ”مانبغی“ استفہامیہ جملہ ہو اور اس کی تقدیر ”مانبغی وراء ذٰلک“ ( ہمیں اس سے زیادہ اور کیا چاہئیے ) ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نافیہ ہو اور اس کی تقدیر اس طرح ہو :”مانبغی بذٰلک الکذب۔ او۔ مانبغی منک دراھم“ (ہم جھوٹ نہیں بولنا چاہتے یا یہ کہ ہم اور پیسے آپ سے نہیں چاہتے یہی مال کافی ہے)۔ کیا اس سے بڑ ھ کر کوئی عزت و احترام اورمہر بانی ہو سکتی ہے کہ ایک غیر ملک کا سر براہ ایسے قحط اور خشک سالی میں ہمیں اناج بھی دے اور اس کی قیمت بھی واپس کر دے ، وہ بھی ایسے کہ ہم سمجھ ہی نہ پائیں اور شرمندہ نہ ہوں؟ اس سے بڑھ کر ہم کیا تصور کر سکتے ہیں؟ ؟ ابا جان ! اب کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے ساتھ بھیج دیں ”ہم اپنے گھر والوں کے لیے اناج لے آئیں گے“۔ ( وَنَمِیرُ اَھْلَنَا )۔(”نمیر“ میرہ“ مادہ سے کھانا اور غذائی مواد حاصل کرنے کے معنی میں ہے )۔ اور اپنے بھائی کی حفاظت کی کوشش کریں گے“۔(وَنَحْفَظُ اَخَانَا)۔”نیز اس کی وجہ سے ایک اونٹ کا بار بھی زیادہ لائیں گے۔ ( وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیر)۔اورعزیر مصر جیسے محترم، مہربان اور سخی شخص کے لیے کہ جسے ہم نے دیکھا ہے ایک آسان اور معمولی کام ہے ( ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ )۔ (”ذٰلک کیل یسیر“ میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کامقصد یہ تھا کہ جو کچھ لے آئے ہیں یہ تو تھو ڑا سا پیمانہ ہے اگر ہمارا چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ چلے تو ہم زیاد ہ غلہ حاصل کر سکتے ہیں)۔ ان تمام امور کے باوجود حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیجنے کے لیے راضی نہ تھے لیکن دوسری طرف ان کا اصرار تھا جو واضح منطق کی بنیاد پر تھا۔ یہ صورتِ حال انہیں آمادہ کرتی تھی کہ وہ ان کی تجویز قبول کر لیں۔ آخر کار انہوں نے دیکھا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کہ مشروط طور پر بیٹے کوبھیج دیا جائے۔ لہٰذا آپ نے انہیں اس طرح سے ”کہا : میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، جب تک کہ تم ایک خدائی پیمان نہ دو اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے مجھے اعتماد پیدا ہو جائے کہ تم اسے واپس لے کر آوٴ گے مگر یہ کہ موت یا موت یا اور عوامل کی وجہ سے یہ امر تمہارے بس میں نہ رہے ( قَالَ لَنْ اُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِی مَوْثِقًا مِنْ اللهِ لَتَاتُونَنِی بِہِ اِلاَّ اَنْ یُحَاطَ بِکُم)۔ ”موثقاً من اللہ“سے مراد وہی قسم ہے جو خدا کے نام کے ساتھ ہے۔ ”الا ان یحاط بکم“کامعنی اصل میں یہ ہے ”مگر یہ کہ جو حوادث سے مغلوب ہو جاوٴ“۔ یہ جملہ ہو سکتا ہے موت یا ایسے دوسرے حوادث کے لیے کنایہ ہو جو انسان کو بے بس کر دیں۔ (تشریحی نوٹ: یہ تفسیر قرآن مجید میں کئی مقامات پر صرف ہلاکت اور نابودی کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔مثلاً وظنوا انھم احیط بھم ( یونس۔۲۲)؛ نیز "واحیط بثمرہ ( کہف۔ ۴۲) میں۔ لیکن واضح زیر بحث آیات میں مراد بالخصوص ہلاکت نہیں ہے بلکہ ایسا عذر ہے جس کے باعث انسان کا اختیار ختم ہو جائے) یہ استثناء حضرت یعقوب (ع) کی عظیم دانائی کی علامت ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اپنے بیٹھے بنیامین سے اس قدر محبت رکھتے تھے انہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کو ایسی مشکل میں نہیں ڈالا جو ان کے بس میں نہ ہو لہٰذا کہا کہ میں تم سے اپنا بیٹا چاہتا ہوں مگر یہ کہ ایسے حوادث پیش آجائیں جو تمہاری قدرت سے ماوراء ہوں اس صورت میں تمہارا کوئی گناہ نہ ہو گا۔ واضح ہے کہ اگر ان میں سے بعض کسی حادثے میں گرفتار ہو جاتے اور ان سے قدرت چھن جاتی تو باقی رہ جانے والوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ باپ کی امانت اس تک پہنچا دیں، اسی لیے حضرت یعقوب (ع) کہتے ہیں : مگر یہ کہ تم سب حوادث سے مغلوب ہو جاو۔ بہر حال یوسف (ع) کے بھائیوں نے باپ کی شرط قبول کرلی اور جب انہوں نے اپنے والد سے عہدو پیمان باندھا تو یعقوب (ع) نے کہا : شاہد، ناظر اور محافظ ہے، اس بات پر کہ جو ہم کہتے ہیں (فَلَمَّا آتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ قَالَ اللهُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ)

چند اہم نکات

۱۔ حضرت یعقوب (ع) کیسے راضی ہو گئے: مندرجہ بالا آیا ت کے سلسلے میں جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت یعقوب (ع) بنیامین کو ان کے سپرد کرنے پر کیسے آمادہ ہو گئے جب کہ ان کے بھائی یو سف (ع) کے بارے میں اپنے سلوک کی وجہ سے پہلے برے کردار کے شمار ہوتے تھے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ صرف یوسف (ع) کے بارے میں اپنے دل میں کینہ و حسد نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ یہی احساسات اگرچہ نسبتاً خفیف ہی سہی بنیامین کے لیے بھی رکھتے تھے۔ چنانچہ اس سورہ کی ابتدائی آیا ت میں ہے : اذ قالوا لیوسف و اخوہ احب الیٰ ابینا منا و نحن عصبة انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہے جب کہ ہم زیادہ طاقتور ہیں۔ اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) والے حادثے کو تیس سے چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا اور حضرت یوسف (ع) کے جو ان بھائی بڑھاپے کو پہنچ گئے تھے اور فطرتاً ان کے ذہن پہلے زمانے کی نسبت پختہ ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں گھر کے ماحول پر اور اپنے مضطرب وجدان پر اپنے برے ارادے کے اثرات وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے تھے اور تجربے نے ان پر ثابت کیا کہ یوسف (ع) کے فقدان سے نہ صرف یہ کہ ان کے لیے باپ کی محبت میں اضافہ نہ ہوا بلکہ مزید مہری اور بے التفاتی پیدا ہو گئی۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ تو ایک زندگی کا مسئلہ ہے۔ قحط سالی میں ایک گھرانے کے لیے اناج مہیا کرنا ایک بہت بڑی چیز تھی اور یہ سیر و تفریح کا معاملہ نہ تھا جیسا کہ انہوں نے ماضی میں حضرت یوسف (ع) کے متعلق فرمائش کی تھی۔ ان تمام پہلووں کے پیش نظر حضرت یعقوب (ع) نے ان کی بات مان لی لیکن شرط کے ساتھ کہ آپ سے عہد و پیمان باندھیں کہ وہ اپنے بھائی بنیامین کو صحیح و سالم آپ کے پاس واپس لے آئیں گے۔ ۲۔ کیا صرف ایک قسم کافی تھی؟ دوسرا سوال یہا ں یہ پید اہوتا ہے کہ کیا صرف قسم کھا لینا اور خدائی پیمان باندھ لینا کافی تھا کہ جس کی بنیاد پر بنیامین کو ان کے سپرد کر دیا جاتا۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ہے کہ عہدو پیمان اور قسم کھا لینا ہی کافی نہیں تھا لیکن قرائن و شواہد نشاندہی کرے تھے کہ اس دفعہ ایک حقیقت پیش نظر ہے نہ کہ سازش، مکروفریب اور جھوٹ۔ اس لیے وعدہ اور قسم زیادہ تاکید کے لیے تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی اشخاص سے مثلاً صدر مملکت اور اسمبلی کے ارکان سے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے حلفِ وفا داری لیا جاتا ہے جب کہ ان کے انتخاب میں بھی کافی دیکھ بھال سے کام لیا جاتا ہے۔

67
12:67
وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ وَمَآ أُغۡنِي عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍۖ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
جب وہ جانے لگے تو یعقوب نے کہا میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں (یہ حکم دے کر) خدا کی طرف سے کسی حتمی حادثے کو نہیں ٹال سکتا۔ حکم اور فرمان صرف اللہ ہی کی طرف سے جاری ہوتا ہے اس پر میں نے توکل کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
12:68
وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَهُمۡ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغۡنِي عَنۡهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍ إِلَّا حَاجَةٗ فِي نَفۡسِ يَعۡقُوبَ قَضَىٰهَاۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلۡمٖ لِّمَا عَلَّمۡنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
اور جب اسی طریقے سے جیسا کہ انہیں باپ نے حکم دیا تھا وہ داخل ہوئے تو یہ کام ان سے کسی حتمی خدائی حادثے کو دور نہیں کر سکتا تھا سوائے اس حاجت کے جو یعقوب کے دل میں تھی۔ (جو اس طرح سے) انجام پائی اور اس کے دل کو تسکین ہوئی اور وہ اس تعلیم کی برکت سے جو ہم نے اسے دی تھی بہت سا علم رکھتا تھا جبکہ اکثر لوگ نہیں جانتے۔

حضرت یعقوب کی بچوں کو نصیحت

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار حضرت یوسف (ع) کے بھائی باپ کی رضا مندی کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کو ہمراہ لے کر دوسری مرتبہ مصر جانے کو تیار ہوئے تو اس موقع پر باپ نے انہیں نصیحت کی۔ ”اس نے کہا :میرے بیٹو !تم ایک در وازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف در وازوں سے داخل ہونا“ ( وَقَالَ یَابَنِیَّ لاَتَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ اَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ)۔ اور مزید کہا : ”یہ حکم دے کر میں خدا کی طرف سے کسی حتمی حادثے کو تم سے بر طرف نہیں کر سکتا “ (وَمَا اُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ)۔لیکن ناگوار حوادث کا ایک سلسلہ ایسا ہے جس سے بچا جا سکتا ہے اور ان کے متعلق خدا کا حتمی حکم صادر نہیں ہوا۔ میرا مقصد یہ ہے کہ ایسے حوادث تم سے دور ہیں اور ایسا ہونا ممکن ہے۔ آخر میں کہا : ”حکم اور فرمان خدا کے ساتھ مخصوص ہے“ ( اِنْ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلَّہِ)۔”میں نے خدا پر توکل کیا ہے“( عَلَیْہِ تَوَکَّلْت)۔”اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئیے اور اسی سے مدد طلب کرو اور اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرو“ (وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ )۔ اس میں شک نہیں کہ اس زمانے میں دوسرے شہروں کی طر ح مصر کے پایہ تخت کے ا گرد گر بھی فصیل تھی۔ اس کے بھی برج و بار تھے اور اس کے متعدد دروازے تھے۔ رہا یہ سوال کہ حضرت یعقوب (ع) نے کیوں نصیحت کی کہ ان کے بیٹے ایک در وازے سے داخل نہ ہوں بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہو، اس کی وجہ مندرجہ بالا آیت میں مذکور نہیں ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت یوسف (ع) کے بھائی ایک تو بہت حسین و جمیل تھء ( اگرچہ وہ یوسف نہ تھے مگر یوسف کے بھائی تو تھے )۔ ان کا قد کاٹھ بہت اچھا تھا۔ لہٰذا ان کے باپ پر یشان تھے کہ گیارہ افراد اکھٹے جن کے چہرے مہرے معلوم ہو کہ وہ مصر کے علاوہ کسی اور ملک سے آئے ہیں، لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح انہیں نظر بد لگ جائے۔ اس تفسیر کے بعد مفسرین کے درمیان نظر بد کی تا ثیر کے بارے میں ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے روایات و تاریخ میں سے کئی ایک شواہد پیش کئے ہیں جنہیں ہم انشاء الہ اس آیت کی تفسیر میں ذکر کریں گے : و ان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارھم ( ن و القلم۔ ۵۱) اس آیت کے ذیل میں ہم ثابت کریں گے کہ اس سلسلے کی کچھ بحث بجا بھی ہے اور سائنسی لحاظ سے بھی ایک مخصوص سیالہ ٴ مقنا طیسی کہ جو آنکھ سے باہر اڑتا ہے اس کی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے اگرچہ عامة الناس نے اس معاملے میں بہت سی خرافات شامل کر دی ہیں۔ حضرت یعقوب (ع) کے اس حکم کے بارے میں جو دوسری علت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے جب اونچے لمبے چوڑے چکلے مضبوط جسموں والے اکھٹے چلیں تو حاسدوں کو انہیں دیکھ کر حسد پیدا ہو اور وہ ان کے بارے میں حکومت سے کوئی شکایت کرنے لگیں اور ان کے متعلق یہ بد ظنی کریں کہ وہ کسی خرابی اور فتنہ و فساد کا ارادہ رکھتے ہیں اس لیے باپ نے انہیں حکم دیا کہ مختلف در وازوں سے داخل ہوں تاکہ لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ بعض مفسرین( عظیم و خطیب مرحوم اشراقی ( قدس سرہ ))نے اس کی ایک عرفانی تفسیر بھی ہے۔ وہ یہ کہ یعقوب (ع) راہنما راہ کے حوالے سے اپنے بیٹوں کو ایک اہم معاشرتی مسئلہ سمجھانا چاہتے تھے اور وہ یہ کہ کھوئی ہوئی چیز کو صرف ایک ہی راستے سے تلاش نہ کریں بلکہ ہر دروازے سے داخل ہو کر اسے ڈھونڈیں۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک مقصد تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور جب آگے راستہ بند پاتا ہے تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے لیکن اگر وہ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو کہ متوجہ ہو کہ گمشدہ افراد اور چیزیں عموماً ایک ہی راستے پر جانے سے نہیں ملتیں بلکہ مختلف راستوں سے ان کی جستجو کرنا چاہتے تو عام طور پر کامیاب ہو جاتا ہے۔ برادران یوسف (ع) روانہ ہوئے اور کنعان و مصر کے درمیان طویل مسافت طے کرنے کے بعد سر زمین مصر میں داخل ہوئے اور جب باپ کے دئے ہو ئے حکم کے مطابق مختلف راستوں سے مصر میں داخل ہوئے تو یہ کام انہیں کسی خدائی حادثے سے دور نہیں کر سکتا تھا ( وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ اَمَرھُمْ ابُوھُمْ مَا کَانَ یُغْنِی عَنْھُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ)۔بلکہ اس کا فائدہ صرف یہ تھا کہ ”یعقوب کے دل میں ایک حاجت تھی جو اس طرح پوری ہوتی تھی“ ( اِلاَّ حَاجَةً فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاھَا)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا اثر صرف باپ کے دل کی تسکین اور آرام تھا کیونکہ وہ اپنے سارے بیٹوں سے دور تھا اور رات دن ان کی اور یوسف کی فکر میں رہتا تھا اور ان کے بارے میں حوادث کے گزند اور حاسدوں اور بد خواہوں کے بغض و حسد سے ڈرتا تھا اور اسے صرف اس بات سے اطمینان تھا کہ وہ اس کے احکام کے کاربند رہیں گے۔ اس پر اس کا دل خوش تھا۔ اس کے بعد قرآں یعقوب (ع) کی یوں مدح و ثنا اور تعریف و توصیف کرتا ہے : وہ ہماری ہوئی تعلیم کے سبب علم آگہی رکھتا تھا جب کہ اکثر لوگ نہیں جانتے( وَ اِنَّہُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاہُ وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ )۔ اس طرف اشارہ ہے کہ اسی طرح بہت سے لوگ عالم اسباب میں گم ہو جاتے ہیں، خدا کو بھول جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کو نظر بد سے نہیں بچا یا جاسکتا۔ اسی بنا ء پر ایسے لوگ خدا اور اس پر توکل کو بھول کر ہر کہ کہ ومہ کے دامن سے جاچمٹتے ہیں لیکن حضرت یعقوب (ع) اس طرح کے نہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خدا کسی چیز کو نہ چاہے وہ انجام نہیں پاسکتی لہٰذا پہلے درجے میں ان کا بھروسہ اور اعتماد خدا پر تھا۔ اس کے بعد وہ عالم ِ اسباب کی طرف جاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جانتے تھے کہ ان اسباب کے پیچھے ایک مسبب الاسباب ذات پاک ہے، جیسا کہ قرآن بقرہ ۱۰۲ میں شہر بابل کے جادو گروں کے بارے میں کہتا ہے : وما ھم بضارین بہ من احد الا باذن اللہ وہ جادو سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے تے مگر یہ کہ خدا چاہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان سب چیزوں سے مافوق خدا کاارادہ ہے دل اس سے باندھنا چاہئیے اور اسی سے مدد لینا چاہئیے۔

69
12:69
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَخَاهُۖ قَالَ إِنِّيٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جب یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہامیں تمہارا بھائی ہوں۔ جو کچھ یہ کرتے ہیں اس سے غمگین اور پریشان نہ ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
12:70
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ
اور جس وقت ان کا سامان باندھا گیا تو ان کے بادشاہ نے پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کے بعد کسی نے آواز بلند کی کہ اے قافلے والو! تم چور ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
12:71
قَالُواْ وَأَقۡبَلُواْ عَلَيۡهِم مَّاذَا تَفۡقِدُونَ
انہوں نے ان کی طرف رخ کر کے کہا تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
12:72
قَالُواْ نَفۡقِدُ صُوَاعَ ٱلۡمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمۡلُ بَعِيرٖ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٞ
انہوں نے کہا: بادشاہ کا پیمانہ، اور جو شخص اسے لے آئے(غلے کا) اونٹ کا ایک بار اسے دیا جائے گااور میں (اس انعام کا) ضامن ہوں۔

بھائی کو روکنے کی کوشش

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار بھائی یوسف (ع) کے پاس پہنچے اور انہیں بتا یا کہ ہم نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے والدپہلے چھوٹے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے پر راضی نہ تھے لیکن ہم نے اصرار کرکے اسے راضی کی ہے تاکہ آپ جا ن لیں کہ ہم نے قول و قرار پورا کیا ہے۔ حضرت یوسف (ع) نے بڑی عزت و احترام سے ان کی پذیرائی کی، انہیں مہمان بلا یا اور حکم دیا کہ دسترخوان یاطبق کے پاس دو دو افراد آئیں۔ انہوں نے ایسا ہیں کیا، اس وقت بنیامین جو تنہا رہ گیا تھا رونے لگا اور کہنے لگا کہ اگر میرا یوسف (ع) زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ ایک دسترخوان پر بٹھا تاکیونکہ ہم پدری مادری بھائی تھے۔ پھر حکم دیا کہ دو دو افراد کے لیے ایک ایک کمرہ سونے کے لیے تیار کیا جائے۔بنیامین پھر اکیلا رہ گیا تو حضرت یوسف (ع) نے فرمایا : اسے میرے پاس بھیج دو۔ اس طرح حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائی کو اپنے ہاں جگہ دی لیکن دیکھا کہ وہ بہت دکھی اور پریشان ہے اور ہمیشہ اپنے کھوئے ہوئے بھائی یوسفؑ کی یاد میں رہتا ہے۔ ایسے میں یو سف (ع) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور آپ (ع) نے حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا دیا، جیسا کہ قرآن کہتا ہے : جب یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے ہاں جگہ دی اور کہاکہ میں وہی تمہارا بھائی یوسف ہوں، غمگین نہ ہو اور اپنے دل کو دکھی نہ کر اور ان کے کسی کام سے پریشان نہ ہو( وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی اِلَیْہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّی اَنَا اَخُوکَ فَلاَتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )۔ ”لا تبتئس“ اصل میں ”بوٴس“ کے مادہ سے ضرر اور شدت کے معنی میں ہے اور اس مقام پر اس کا معنی ہے ”غمگین نہ ہو“۔ بھائیوں کے کام کہ جو بنیامین کو دکھی اور پریشان کرتے تھے ان سے مراد ان کی وہ نامہربانیاں اور بے التفاتیاں تھیں جو وہ اس کے اور یوسف (ع) کے لیے روا رکھتے تھے اور وہ سازشیں کہ جو اسے گھر والوں سے دور کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ حضرت یوسف (ع) کی مراد یہ تھی کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ان کی کارستانیوں سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ وہ میری ترقی اور بلندی کا ذریعہ بن گئیں لہٰذا اب تم بھی اس بارے میں اپنے دل کو دکھی نہ کرو۔ بعض روایات کے مطابق اس موقع پر حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائی بنیامین سے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میرے پاس رہ جاوٴ اس نے کہا: ہاں میں تو راضی ہوں لیکن بھائی ہرگز نہیں راضی ہوں گے کیونکہ انہوں نے باپ سے قول و قرار کیا ہے اور قسم کھائی ہے کہ مجھے ہر قیمت پر اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ حضرت یوسف (ع) نے کہا : تم فکر نہ کرو میں ایک منصوبہ بناتا ہوں جس وہ مجبور ہو جائیں گے کہ تمہیں میرے پاس چھوڑ جائیں۔ غلات کے بار تیار ہو گئے تم حکم دیا کہ مخصوص قیمتی پیمانہ بھائی کے بارمیں رکھ دیں ( کیونکہ ہر شخص کے لیے غلے کا ایک باردیا جاتا تھا ) ( فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِی رَحْلِ اَخِیہ)۔ البتہ یہ کام مخفی طور پر انجام پا یا اور شاید اس کا علم مامورین میں سے فقط ایک شخص کو تھا۔ جب اناج کو پیمانے سے دینے والوں نے دیکھا کہ مخصوص قیمتی پیمانے کا کہیں نام ونشان نہیں ہے حالانکہ پہلے وہ ان کے پاس موجود تھا۔ لہٰذا جب وہ قافلہ چلنے لگا تو کسی نے پکار کر کہا : اے قافلے والو! تم چور ہو ( ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتھَا الْعِیرُ اِنَّکُمْ لَسَارِقُونَ)۔ یوسف (ع)کے بھائیوں نے جب یہ جملہ سنا تو سخت پریشان ہوئے اور وحشت زدہ ہو گئے کیونکہ ان کے ذہن میں تو اس کا خیال بھی نہ آسکتا تھا کہ اس احترام و اکرام کے بعد ان پر چوری کا الزام لگایا جائے گا۔لہٰذا انہوں اس کی طرف رخ کرکے کہا: تمہاری کونسی چیز چوری ہو گئی ہے ( قَالُوا وَاَقْبَلُوا عَلَیْھِمْ مَاذَا تَفْقِدُونَ)۔ انہوں نے کہا ہم سے بادشاہ کا پیمانہ گم ہو گیا ہے اور ہمیں تمہارے بارے میں بد گمانی ہے ( قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ )۔ پیمانہ چونکہ گراں قیمت ہے اور باد شاہ کو پسند ہے لہٰذا ”وہ جس شخص کو ملے اور وہ اسے لے آئے تو اسے ایک اونٹ کا بار بطور انعام دیا جائے گا“ (وَلِمَنْ جَاءَ بِہِ حِمْلُ بَعِیرٍ)۔ پھر یہ بات کہنے والے نے مزید تاکید سے کہا : اور میں ذاتی طو ر پر اس انعام کا ضامن ہوں ( وَاَنَا بِہِ زَعِیمٌ)۔ بھائی یہ بات سن کر سخت پریشان ہوئے اور حواس باختہ ہو گئے اور وہ نہیں سمجھتے تھے کہ معاملہ کیا ہوا، ان کی طرف رخ کر کے ”انہوں نے کہا: خدا کی قسم تم جانتے کہ ہم یہاں اس لیے نہیں آئے کہ فتنہ و فساد کریں اور ہم کبھی بھی چور نہیں تھے“( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سَارِقِینَ)۔ یہ جو انہوں نے کہاکہ تم خود جانتے ہو کہ ہم فسادی اور چور نہیں ہیں، شاید اس طرف اشارہ ہو کہ تم ہمارا سابقہ کردار اچھی طرح جانتے ہو کہ گذشتہ موقع پر ہماری پیش کرد ہ قیمت جو تم نے ہمارے غلات میں رکھ دی تھی وہ ہم دوبارہ تمہارے پاس لے آئے ہیں اور تمہیں بتا یا کہ وہ ساری کی ساری ہم تمہیں واپس کرنے کو تیار ہیں لہٰذا وہ افراد جو دور دراز کے ملک سے اپنا قرض ادا کرنے واپس آجاتے ہیں ان سے کیونکر ممکن ہے کہ چوری کے لیے ہاتھ بڑھائیں۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ مصر میں داخل ہو ئے تو انہوں نے اپنے اونٹوں کے منہ دہان بدنوں سے باندھ دیئے تھے تاکہ وہ کسی کی زراعت اور مال کا نقصان نہ کریں۔ لہٰذا ان کی مراد یہ تھی کہ ہم جو اس حد تک احتیاط کرتے ہیں حتی کہ ہمارے جانور بھی کسی کو ضرر یا نقصان نہ پہنچائیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم ایسے کام کے مرتکب ہو ں۔ یہ سن کر مامورین ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ”کہا : لیکن اگر تم جھوٹے ہوئے تو اس کی سزا کیا ہے؟ “ ( قَالُوا فَمَا جَزَاؤُہُ اِنْ کُنتُمْ کَاذِبِینَ)۔ ”انہوں نے جواب میں کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جو شخص کے بارے میں بادشاہ کاپیمانہ مل جائے اسے روک لو اور اسے اس کے بدلے میں لے لو"(قَالُوا جَزَاؤُہُ مَنْ وُجِدَ فِی رَحْلِہِ فَھُو جَزَاؤُہُ )۔”جی ہاں ! ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں (کَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ)۔ اس موقع پر حضرت یوسف (ع) نے حکم دیا کہ ان کے غلات کے بارے کھولے جائیں اور ایک ایک جانچ پڑتال کی جائے البتہ اس بناء پر ان کے اصلی منصوبے کا کسی کو پتہ نہ چلے، اپنے بھائی بنیامین کے بار سے پہلے دوسروں کے سامان کی پڑتال کی اور پھر وہ مخصوص پیمانہ اپنے بھائی کے مال سے بر آمد کر لیا ( فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَاءِ اَخِیہِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِعَاءِ اَخِیہِ)۔ بنیامین کے بارے سے پیمانہ بر آمد ہوا تو تعجب سے بھائیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے گویا غم و اندوہ کے پہاڑ ان کے سروں پر آگرا اور انہیں یو ں لگا جیسے وہ ایک عجیب مقام پر پھنس گئے ہیں کہ جس کے چاروں طرف راستے بند ہو گئے ہیں۔ ایک طرف ان کا بھائی ظاہرا ایسی چوری کا مر تکب ہوا جس سے ان کے سر ندامت سے جھک گئے اور دوسری طرف ظاہراً عزیز مصر کی نظروں میں ان کی عزت و حیثیت خطرے میں جا پڑ ی کہ اب آئندہ کے لیے اس کی حمایت حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہا اور ان تمام باتوں سے قطع نظر انہوں نے سوچا کہ با پ کو کیا جواب دیں گے اور وہ کیسے یقین کرے گا کہ اس میں ان کوئی قصور نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ موقع پر بھائیوں نے بنیامین کی طرف رخ کرکے کہا: اے بے خبر ! تونے ہمیں رسوا کر دیا ہے اور ہمارا منہ کالا کر دیا ہے۔ تونے یہ کیسا غلط کام انجام دیا ہے ( نہ تونے اپنے باپ پر رحم کیا، نہ ہم پر اور نہ خاندان یعقوب (ع) پر کہ جو خاندانِ نبوت ہے) آخر ہمیں بتا تو سہی کہ تونے کس وقت پیمانہ اٹھا یا اور اپنے بار میں رکھ لیا۔ بنیامین نے جو معالے کی اصل اور قضیے کے باطن کو جانتا تھا ٹھنڈے دل سے جواب دیا کہ یہ کام اسی شخص نے کیا ہے جس نے تمہاری دی ہوئی قیمت تمہارے بار میں رکھ دی تھی لیکن بھائیوں کو اس حادثے نے اس قدر پریشان کررکھا تھا کہ وہ سمجھ نہ سکے کہ وہ کیا کہہ رہاہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۵۳۔ مذکورہ آیت کے ذیل میں) پھر قرآن مزید کہتا ہے : ہم نے اس طرح یوسف (ع) کے لیے ایک تدبیر کی (تاکہ وہ اپنے بھائی کو دوسرے بھائیوں کی مخالفت کے بغیر روک سکیں ) (کَذَلِکَ کِدْنَا لِیُوسُفَ)۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر یوسف (ع) قوانین مصر کے مطابق سلوک کرتے تو انہیں چاہئیے تھا کہ اسے زود و کوب کرتے اور قید خانے میں ڈال دیتے لیکن اس طرح نہ صرف بھائی کو آزار و تکلیف پہنچتی بلکہ خود ان کا مقصد کہ بھائی کو اپنے پاس رکھیں، پورانہ ہوتا۔ اسی لیے انہوں نے پہلے بھائیوں سے اعتراف لیا کہ اگر تم سے چوری کی ہو تو تمہارے نزدیک اس کی کیا سزا ہے تو انہوں نے اپنے ہاں رائج طریقے کے مطابق جواب دیا کہ ہمارے ہاں یہ طریقہ ہے کہ چور کو اس کی چوری کے بدلے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس سے کام لیتے ہیں اور حضرت یوسف (ع) نے بھی اسی طریقے کے مطابق ان سے سلوک کیا کیونکہ مجرم کو سزا دینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے اس کے اپنے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اسی بناء پر قرآن کہتا ہے : یوسف (ع) ملکِ مصر کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے اور اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ( مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِی دِینِ الْمَلِکِ)۔ اس کے بعد استثناء کے طور پر فرماتا ہے: مگر یہ کہ خدا چاہے ( اِلاَّ اَنْ یَشَاءَ اللهُ )۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کام جو یوسف (ع) نے انجام دیا اور بھائیوں کے ساتھ ان کے طریقے کے مطابق سلوک کیا فرمان الہٰی کے مطابق تھا اور یہ بھائی کی حفاظت اور ان کے با پ کی اور دوسرے بھائیوں کی آز مائش کی تکمیل کے لیے ایک منصوبہ تھا۔ آخر میں قرآن مزید کہتا ہے : ہم جس کو چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں ( نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاء)۔ ان افراد کے درجات۔ جو اہل ہوں اور یوسف کی طرح امتحانات کی کٹھالی سے صحیح و سالم نکل آئیں۔ بہر حال ہر عالم سے بڑھ کر ایک عالم و دانا ہے ( یعنی خدا) ( وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ)۔اور وہی ہے جس نے اس منصوبے کا یوسف (ع) کو الہام کیا تھا۔

73
12:73
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُم مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ
انہوں نے کہاقسم باخدا تم جانتے ہو اس علاقے میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم (کبھی بھی) چور نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
12:74
قَالُواْ فَمَا جَزَـٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمۡ كَٰذِبِينَ
انہوں نے کہا: اگر تم جھوٹے ہوئے تو تمہاری سزا کیا ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
12:75
قَالُواْ جَزَـٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِي رَحۡلِهِۦ فَهُوَ جَزَـٰٓؤُهُۥۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّـٰلِمِينَ
انہوں نے کہا:جس کے سامان میں (وہ پیمان) مل گیا تو وہ خود اس کی سزا ہو گا (اس کام کی بناء پر وہ غلام ہو جائے گا) ہم ظالموں کو اس طرح سے سزا دیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 76 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
12:76
فَبَدَأَ بِأَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسۡتَخۡرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِۚ كَذَٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوسُفَۖ مَا كَانَ لِيَأۡخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ ٱلۡمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ
تو اس وقت (یوسف نے) اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کی تلاشی لی اور پھر اپنے بھائی کے سامان سے اسے برآمد کر لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کو چارہ کار یاد دلایا۔ وہ مصر (کے بادشاہ) کے آئین کے مطابق اپنے بھائی کو ہرگز نہیں لے سکتا تھا مگر یہ کہ خدا چاہے۔ ہم جس شخص کے چاہیں درجات بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم کے اوپر ایک عالم ہے۔

چند اہم نکات

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مندرجہ بالا آیات سے سوالات پید ا ہوتے ہیں جن کا ایک ایک کر کے جواب دیاجائے گا : ۱۔ یوسف (ع) نے بھائیوں سے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا؟ یوسف (ع) نے بھائیون نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروایا، تاکہ ان کے باپ کو جانکاہ غمِ فراق سے جلدی نجات ملتی؟ اس سوال کا جواب جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے یہ ہے کہ باپ اور بھائیوں کے امتحان کے پروگرام کی تکمیل کے لیے تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کام خود غرضی کی بناء پر نہ تھا بلکہ ایک فرمان الہٰی کے ماتحت تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ دوسرے بیٹھے کو کھونے پر بھی یعقوب(ع) کے عزم اور حوصلے کا امتحان لے اور یوں ان کے تکامل اور ترقی کا آخری زینہ بھی طے ہو جائے اور بھائی بھی آزمائے جائیں کہ ایسے موقع پر جب ان کا بھائی اس طرح کے معالے میں گرفتار ہوا ہے تو وہ باپ سے باندھے پیمان کی کس طرح سے حفاطت کرتے ہیں۔ ۲۔ بے گناہ پر چوری کا الزام؟ کیا جائز تھا کہ ایک بے گناہ پر چوری کا اتہام لگایا جاتا، ایسااتہام کہ جس کے برے آثار نے باقی بھائیوں کو بھی کسی حد تک اپنی لپیٹ میں لے لیا؟ اس سوال کاجواب بھی خود واقعہ میں موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ معاملہ خود بنیامین کی رضا مندی سے انجام پا یا تھا۔ کیونکہ حضرت یوسف (ع) نے پہلے اپنے آپ کو اس سے متعارف کروایا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ منصوبہ خود اس کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔ نیز اس سے بھائیوں پر بھی کوئی تہمت نہیں لگی البتہ انہیں اضطراب اور پریشانی ضرور ہوئی جس میں کہ ایک اہم امتحان کی وجہ سے کوئی ہرج نہ تھا۔ ۳۔ چوری کی طرف سب کی نسبت کیوں دی گئی؟ کیا ”انکم لسارقون“ یعنی“ تم چور ہو کہ کر سب کی طرف چوری کی نسبت دینا جھوٹ نہ تھا اور اس جھوٹ اور تہمت کا کیا جواز تھا؟ ذیل کے تجربہ سے اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا: اولاً: یہ معلوم نہیں کہ یہ بات کہنے والے کون تھے۔ قرآن میں صرف اس قدر :”قالوا“ یعنی انہوں نے کہا۔“ ہو سکتا ہے یہ با ت کہنے والے حضرت یوسف (ع) کے کچھ کارندے ہوں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ مخصوص پیمانہ نہیں ہے تو یقین کر لیا کہ کنعان کے قافلے میں سے کسی شخص نے اسے چرا لیا ہے اوریہ معمول ہے کہ اگر کوئی چیز ایسے افراد میں چوری ہو جائے کہ جو ایک ہی گروہ کی صورت میں متشکل ہو اوراصل چور پہچانا نہ جائے تو سب کو مخاطب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے یہ کام کیا ہے یعنی تم میں سے ایک نے یا میں سے بعض نے ایسا کیا ہے۔ ثانیاً: اس بات کا اصلی نشانہ بنیامین تھا جو کہ اس نسبت پر راضی تھا کیونکہ اس منصوبے میں ظاہراً تو اس پر چوری کی تہمت لگی تھی لیکن درحقیقت، وہ اس کے اپنے بھائی یوسف (ع) کے پاس رہنے کے لیے مقدمہ تھی اور یہ جو سب پر الزام آیا یہ ایک بالکل عارضی سی بات تھی جو صرف برادران یوسف (ع) کے سامان کی تلاشی پر ختم ہو گیا اور جو درحقیقت، مراد تھا یعنی ”بنیامین“ وہ پہچان لیا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہاں جس چوری کی ان کی طرف نسبت دی گئی ہے وہ گذشتہ زمانے سے مربوط تھی اوروہ تھی بھائیوں کا یوسف (ع) کے باپ یعقوب (ع) سے یوسف (ع) کو چرا نا لیکن یہ خیال اس صورت میں درست ہو سکتا ہے جب یہ نسبت حضرت یوسف (ع) (ع) کی طرف اشارہ سے انہیں دی جاتی کیونکہ وہی گز شتہ معا ملے سے آگاہ تھے اور شاید بعد والے جملے میں اسی کی طرف اشارہ ہو کیو نکہ حضرت یو سف (ع) کے مامور ین نے یہ نہیں چاہا کہ تم نے باد شاہ کا پیمانہ چوری کیا ہے بلکہ کہا: ”نفقد صوامع الملک“ یعنی: "ہم باد شاہ کا پیمانہ مفقود پاتے ہیں“۔ (لیکن پہلا جواب زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے)۔ ۴۔اس زمانے میں چوری کی سزا؟ اس زمانے میں چوری کی سزا کیا تھی اس سلسلے میں زیر بحث آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں اور کنعان کے باشندوں میں چوری کی سزا مختلف تھی۔ حضرت یوسف (ع) کے بھائیوں اور احتمالاً اہل کنعان میں اس عمل کی سزا یہ تھی کہ چور کو اس چوری کے بدلے میں (ہمیشہ کے لیے یا وقتی طور پر) غلام بنا لیا جاتا۔ (تشریحی نوٹ: طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اس زمانے میں ایک گروہ میں یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ چور کو ایک سال کے لیے غلام بنالیتے تھے۔ نیز یہ بھی نقل کیا ہے کہ خاندان ِ یعقوب (ع) میں چوری کی مقدار کے برابر غلامی کی مدت معین کی جاتی تھی ( تاکہ وہ اسی کے مطابق کام کرے )۔ لیکن مصریوں میں یہ سزا رائج نہ تھی بلکہ چوروں کو دوسرے ذرائع سے مثلاًمار پیٹ سے اور قید و بند وغیرہ سے سزا دیتے تھے۔ بہر حال یہ جملہ اس امر کی دلیل نہیں بنتا کہ آسمانی ادیان میں سے کسی میں غلام بنالینا چور کی سزا تھی کیونکہ بسا اوقات کسی گروہ میں رائج کوئی طریقہ اس زمانے کے لوگوں کی طرف سے شمار ہوتا ہے۔ غلامی کی تاریخ میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ بے ہودہ اقوام میں یہ طریقہ رہا ہے کہ اگر مقروض اپنا قرض اداکرنے سے عاجز ہو جاتا تو اسے غلام بنا لیا جاتا۔ ۵۔”سقایا“ یا ”صواع“: زیر نظر آیات میں کبھی لفظ ”صوامع“ (پیمانہ) استعمال ہوا اور کبھی ”سقایة“ ( پانی پینے کا برتن )۔ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پیمانہ ابتداء میں باد شاہ کے پینے کا برتن تھا لیکن جس وقت اناج سر زمین مصر میں گراں اور کم یاب ہو گیا اور اس کی راشن بند ہوگئی تو اس امر کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کہ لو گ نہایت احتیاط سے اور کم خرچ کریں بادشاہ کے پانی پینے کے لیے استعمال ہونے والا مخصوص برتن اس کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس برتن کی خصوصیت کے ضمن میں مفسرین نے بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ چاندی کا تھا اور بعض کے بقول وہ سونے کا تھا بعض نے اضافہ کیا ہے کہ اس میں جواہرات بھی جڑے ہوئے تھے۔ کچھ غیر معتبر روایات میں بھی ایسے مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ جو کچھ مسلم ہے وہ یہ کہ ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے کسی زمانے میں بادشاہ ِ مصر پانی پیتا تھا بعد میں وہ پیمانے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ بھی واضح ہے کہ ایک ملک کی تمام تر ضروریات کو اس قسم کے پیمانے سے ناپ کرپورا نہیں کیا جا سکتا۔ شاید ایسا رمزاً کیا گیا ہو اوران سالوں میں غلے کی کم یابی اور اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر اسے استعمال کیا گیا ہوتا لو گ اسے صرف کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیں۔ ضمناً اس بناء پر کہ وہ پیمانہ اس وقت حضرت یوسف (ع) کے قبضے میں تھا لہٰذا وہ اس بات کا سبب بنتا اگر چور غلام بنایاجاتاتو وہ صاحب ِ احتیاط پیمانہ یعنی خود حضرت یوسف (ع) کا غلام بنتا اور انہی کے پاس رہتا اور بالکل اسی مقصد کے لیے حضرت یوسفؑ نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔

77
12:77
۞قَالُوٓاْ إِن يَسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ أَخٞ لَّهُۥ مِن قَبۡلُۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفۡسِهِۦ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ أَنتُمۡ شَرّٞ مَّكَانٗاۖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(بھائیوں نے) کہا: اگر اس (بنیا مین) نے چوری کی ہے تو (تعجب کی بات نہیں ) اس کے بھائی (یوسف)نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (کو بہت دکھ ہوا لیکن اس) نے اس (دکھ) کو اپنے اندر چھپائے رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا۔ (بس اتنا) کہا: تم بدتر ہو اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو خدا اس سے زیادہ آگاہ ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
12:78
قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبٗا شَيۡخٗا كَبِيرٗا فَخُذۡ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
انہوں نے کہا: اے عزیز! اس کا بوڑھا باپ ہے (اور وہ بہت پریشان ہو گا) لہٰذا ہم میں سے کسی ایک کو اس کے بدلے رکھ لے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تو نیکوکاروں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
12:79
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّظَٰلِمُونَ
اس نے کہا: اس سے خدا کی پناہ کہ جس شخص کے پاس سے ہمارا مال و متاع ملا ہم سوائے اس کے کسی اور کو لیں کیونکہ اس صورت میں ہم ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔

برادران یوسف کی فداکاری کیوں قبول نہ ہوئی؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

آخر کار بھائیوں نے یقین کر لیا کہ ان کے بھائی بنیامین نے ایسی قبیح اور منحوس چوری کی ہے اور اس طر ح اس نے عزیز مصر کی نظروں میں ان کا سابقہ رکار ڈ سارا خراب کر دیا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے کے لیے انہوں نے کہا: "اگر اس لڑکے نے چوری کی ہے تو یہ کو ئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس کا بھائی یوسف (ع) بھی پہلے ایسے کام کا مرتکب ہو چکا ہے“ اور یہ دونوں ایک ماں اور باپ سے ہیں اور ہم کہ جو دوسری ماں سے ہیں ہمارا حساب کتاب ان سے الگ ہے ( قَالُوا اِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَہ مِنْ قَبْل)۔ اس طرح سے انہوں نے اپنے اور بنیامین کے درمیان ایک حد فاصل قائم کرنا چاہی اور اس کا تعلق یوسف (ع) سے جوڑ دیا۔ یہ بات سن کر یوسف (ع) بہت دکھی اور پریشان ہوئے اور ”اسے دل میں چھپائے رکھا اور ان کے سامنے اظہار نہ کیا“ (فَاٴسَرَّھَا یُوسُفُ فِی نَفْسِہِ وَلَمْ یُبْدِھَا لَھُم)۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بات کہہ کر انہوں ایک بہت بڑا بہتان باندھا ہے لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ بس اجمالی طور پر اتنا کہا: ”جس کی طرف تم یہ نسبت دیتے ہو تم اس سے بد تر ہو“ یا”میرے نزدیک مقام ومنزلت کے لحاظ سے تم بد ترین لوگ ہو“ ( قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَکَانًا)۔ اس کے بعد مزید کہا: جو کچھ تم کہتے ہو خدا اس کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے ( وَاللهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ یوسف (ع) کے بھائیوں نے ان بحرانی لمحوں میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے اپنے بھائی یوسف (ع) پر ایک ناروا تہمت باندھی تھی لیکن پھر بھی اس کام کے لیے کوئی بہانہ اور سند ہونا چاہئیے جس کی بناء پر وہ یوسف (ع) کی طرف ایسی نسبت دیں۔ اس سلسلے میں مفسرین کا وش و زحمت میں پڑے ہیں اور گذشتہ لوگوں نے تواریخ سے انہوں نے تین روایات نقل کی ہیں۔ پہلی یہ کہ یوسف (ع) اپنی ماں کی وفات کے بعد اپنی پھوپھی کے پاس رہا کرتے تھے اور انہیں یوسفؑ سے بہت زیادہ پیار تھا جب آپ بڑے ہو گئے اور حضرت یعقوبؑ نے انہیں ان کی پھوپھی سے واپس لینا چاہا تو ان کی پھوپھی نے ایک منصوبہ بنایا اور وہ یہ کمر بند یا ایک خاص شال جو حضرت اسحاق (ع)کی جانب سے ان کے خاندان میں بطور یاد گار چلی آرہی تھی یوسف (ع) کی کمر سے باندھ دی اور دعویٰ کیا کہ یوسف (ع) اسے چھپا لے جانا چاہتا تھا ایسا انہوں نے اس لیے کیا تاکہ اس خاص کمر بند یا شال کے بدلے یوسف (ع) کو اپنے پاس رکھ لیں۔ دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) کے مادری رشتہ داروں میں سے ایک کے پاس ایک بت تھا جسے یوسف (ع) نے اٹھا کر توڑ دیا اور اسے سڑک پر لا پھینکا لہٰذا انہوں نے حضرت یوسف (ع) پر چوری کا الزام لگا دیا حالانکہ اس میں تو کوئی گناہ نہیں تھا۔ تیسری روایت یہ ہے کہ کبھی کبھار وہ دسترخوان سے کھانا لے کر مسکینوں اور حاجت مندوں کو دے دیتے لہٰذا بہانہ تراش بھائیوں نے اسے بھی چوری کا الزام دینے کے لیے سند بنا لیا حالانکہ ان میں سے کوئی چیز گناہ کے زمرے میں نہیں آتی۔ اگر ایک شخص کسی کو کوئی لباس پہنادے اور پہنے والا نہ جانتا ہو کہ یہ کسی دوسرے کا مال ہے تو کیا اسے چوری کا الزام دینا صحیح ہے۔ اسی طرح کیا کسی بت کو اٹھا کر پٹخ دینا گناہ ہے۔ نیز انسان کو ئی کوئی چیز اپنے باپ کے دستر خوان سے اٹھا کر مسکینوں کو دےدے جب کہ اسے یقین ہو تو کیا اسے گناہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بھائیوں نے دیکھا کہ ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کو اس قانون کے مطابق عزیز مصر کے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خود قبول کر چکے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے باپ سے پیمان باندھا تھا کہ بنیامین کی حفاظت اور اسے واپس لانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ ایسے میں انہوں نے یوسف (ع) کی طرف رخ کیا جسے ابھی تک انہوں نے پہچانا نہیں تھا اور ”کہا : اے عزیز مصر :اے بزرگوار صاحبِ اقتدار ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس کی جدائی کو بر داشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہم نے آپ کے اصرار پر اسے باپ سے جدا کیا اور با پ نے ہم سے تاکیدی وعدہ لیا کہ ہم ہر قیمت پر اسے واپس لائیں گے۔ اب ہم پر احسان کیجئے اور اس کے بدلے میں ہم سے کسی ایک کو رکھ لیجئے“ ( قَالُوا یَااَیُّھَا الْعَزِیزُ اِنَّ لَہُ اَبًا شَیْخًا کَبِیرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَکَانَہُ)۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ نیکو کاروں میں سے ہیں“ اور یہ پہلا موقع نہیں کہ آپ نے ہم پر لطف و کرم اور مہر بانی کرکے اپنی کرم نوازیوں کی تکمیل کیجئے۔ (اِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ)۔ حضرت یوسف (ع) نے اس تجویز کی شدت سے نفی کی اور”کہا : پناہ بخدا ۱ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس کے پاس سے ہمارا مال و متاع بر آمد ہو اہے ہم اس کے علاوہ کسی شخص کو رکھ لیں“ کبھی تم نے سنا ہے کہ ایک منصف مزاج شخص نے کسی بے گناہ کو دوسرے کے جرم میں سزا دی ہو( قَالَ مَعَاذَ اللهِ اَنْ نَاْخُذَ اِلاَّ مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہُ )۔اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے (اِنَّا اِذًا لَظَالِمُونَ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے اپنی اس گفتگو میں بھائی کی طرف چوری کی کوئی نسبت نہیں دی بلکہ کہتے ہیں کہ ”جس شخص کے پاس سے ہمیں ہمارا مال و متاع ملا ہے“ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس امر کی طرف سنجیدگی سے متوجہ تھے کہ اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی غلط با ت نہ کریں۔

80
12:80
فَلَمَّا ٱسۡتَيۡـَٔسُواْ مِنۡهُ خَلَصُواْ نَجِيّٗاۖ قَالَ كَبِيرُهُمۡ أَلَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمۡ قَدۡ أَخَذَ عَلَيۡكُم مَّوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبۡلُ مَا فَرَّطتُمۡ فِي يُوسُفَۖ فَلَنۡ أَبۡرَحَ ٱلۡأَرۡضَ حَتَّىٰ يَأۡذَنَ لِيٓ أَبِيٓ أَوۡ يَحۡكُمَ ٱللَّهُ لِيۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
جب (بھائی) اس سے مایوس ہو گئے تو ایک طرف گئے اور آپس میں سرگوشی کی۔ ان میں سے سب سے بڑے نے کہا:کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے الٰہی پیمان لیا تھا اور اس سے پہلے تم نے یوسف کے بارے میں کوتاہی کی تھی؟ لہٰذا میں اس سرزمین سے نہیں جاؤں گا جب تک مجھے میرا باپ اجازت نہ دے یا خدا اپنا حکم میرے بارے میں صادر فرمائے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
12:81
ٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمۡ فَقُولُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبۡنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدۡنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حَٰفِظِينَ
(پھر بڑے بھائی نے کہا)تم اپنے باپ کی طرف پلٹ جاؤ اور اس سے کہو، ابا(جان) تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم جو کچھ جانتے ہیں اس کے سوا ہم نے گواہی نہیں دی اور نہ ہی ہم غیب سے آگاہ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 82 کے تحت ملاحظہ کریں۔

82
12:82
وَسۡـَٔلِ ٱلۡقَرۡيَةَ ٱلَّتِي كُنَّا فِيهَا وَٱلۡعِيرَ ٱلَّتِيٓ أَقۡبَلۡنَا فِيهَاۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
(مزید اطمینان کے لئے) اس شہر (والوں ) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے نیز اس قافلے سے پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور ہم (اپنی بات میں ) سچے ہیں۔

بھائی سر جھکائے باپ کے پاس پہنچے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بھائیوں نے بنیامین کے رہائی کے لیے اپنی آخری کوشش کر دیکھی لیکن انہوں نے اپنے سامنے تمام راستے بند پائے۔ ایک طرف تو اس کام کو کچھ اس طرح سے انجام دیا گیا تھا کہ ظاہراً بھائی کی براٴت ممکن نہ تھی اور دوسری طرف عزیز مصر نے اس کی جگہ کسی اور فرد کو رکھنے کی تجویز قبول نہ کی لہٰذا وہ مایوس ہو گئے۔ یوں انہوں نے کنعان کی طرف لوٹ جانے اور باپ سے سارا ماجرا بیان کرنے کا رادہ کر لیا ۔ قرآن کہتا ہے : جس وقت وہ عزیز مصر سے یا بھائی کی نجات سے مایوس ہو گئے تو ایک طرف کو آئے اور دوسروں سے الگ ہو گئے اور سر گوشی کرنے لگے ( فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوا مِنْہُ خَلَصُوا نَجِیًّا) (تشریحی نوٹ: ”خلصوا“یعنی: "خالص ہو گئے“۔ یہ دونوں سے الگ ہونے اور خصوصی مٹینگ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ اور ”نجی“، ”مناجات“ کے مادہ سے در اصل ”نجوہ“ سے مر تفع زمین کے معنی میں لیا گیا ہے چونکہ اونچی اور مرتفع زمینیں اپنے اطراف سے جدا اور الگ ہوتی ہیں اور مخفی میٹنگیں اور سر گوشیاں ارد گرد والوں سے ہٹ کر ہوتی ہیں اس لیے انہیں ”نجوی“ کہتے ہیں ( اس بناء پر ”نجوی“ ہر قسم کی محرمانہ بات کو کہا جاتا ہے چاہے وہ کان میں کہی جائے یا کسی خفیہ میٹنگ میں )۔ جملہ”خلصوا نجیا“ جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ فصیح ترین اور خوبصورت ترین قرآنی تعبیر ہے جس میں دو لفظوں کے ذریعے بہت سے مطالب بیان کر دئے گئے ہیں جب کہ یہ مطالب بیان کرنے کے لیے بہت سے جملے درکار تھے۔ بہر حال سب سے بڑے بھائی نے اس خصوصی میٹنگ میں ان سے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے باپ نے تم سے الہٰی پیمان لیا ہے کہ بنیامین کو ہر ممکنہ صورت میں ہم واپس لائیں گے ( قَالَ کَبِیرُھُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوا اَنَّ اَبَاکُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقًا مِنْ اللهِ)۔اور تمہی نے اس سے پہلے بھی یوؑسف کے بارے میں کوتاہی کی“ اور باپ کے نزدیک تمہارا گذشتہ کردار برا ہے ( وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ)۔ (تشریحی نوٹ: ”فرطتم“ تفریط“ کے مادہ سے در اصل ”فروط“ (بروزن”شروط“)مقدم ہونے کے معنی میں ہے اور جب یہ بات تفعیل میں آجائے تو آگے بڑھنے میں کوتاہی کرنے کے معنی میں ہے اور جب باب افعال سے ”افراط“ ہوتو تقدم اور اگے بڑھنے میں تجاوز کرنے کے معنی میں ہے)۔ ”اب جبکہ معاملہ یوں ہے تو میں اپنی جگہ سے ( یا سرزمینِ مصرسے ) نہیں جاوں گا اور یہیں پڑاوٴ ڈالوں گا، مگر یہ کہ میرا باپ مجھے اجازت دے دے یا خدا میرے متعلق کوئی فرمان صادر کرے جو کہ بہترین حاکم و فرماںروا ہے ( فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتَّی یَاْذَنَ لِی اَبِی اَوْ یَحْکُمَ اللهُ لِی وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ)۔ اس حکم سے یا تو موت کا حکم مراد ہے یعنی مرتے دم تک یہاں سے نہیں جاوں گا یا خدا کی طرف پیداہونے والا کوئی چارہ ٴ کار مراد ہے یا پھر کوئی قابل قبول اور قابل ِ توجیہ عذر مراد ہے جوکہ باپ کے نزدیک قطعی طور پر قابل قبول ہو۔ پھر بڑے بھائی نے دوسرے بھائیوں کو حکم دیا“ تم باپ کے پاس لوٹ آوٴ اورکہوابا جان آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ( ارْجِعُوا اِلَی اَبِیکُمْ فَقُولُوا یَااَبَانَا اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ)۔ ”اور یہ جو ہم گواہی دے رہے ہیں اتنی ہی ہے جتنا ہمیں علم ہوا“ بس ہم نے اتنا دیکھا کہ بادشاہ کا پیمانہ ہمارے بھائی کے بارے سے بر آمد ہو اجس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس نے چوری کی ہے، باقی رہا امر ِ باطن تو وہ خدا جانتا ہے (وَمَا شَھِدْنَا اِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا)۔”اور ہمیں غیب کی خبر نہیں“ ( وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حافِظِینَ)۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ بھائیوں کا مقصد یہ ہو کہ وہ باپ سے کہیں کہ اگر ہم نے تیرے پاس گواہی دی اور عہد کیا کہ ہم بھائی کو لے جائیں گے اور واپس لے آئیں گے تو اس بناء پر تھا کہ ہم اس کے باطن سے باخبر نہ تھے اور ہم غیب سے آگاہ نہ تھے کہ اس کا انجام یہ ہو گا۔ پھر اس بناء پر کہ باپ سے ہر طرح کی بدگمانی دور کریں اور اسے مطمئن کریں کہ ماجرا اسی طرح ہے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ، تو انہوں نے کہا: مزید تحقیق کے لیے اس شہر سے سوال کر لیں جس میں ہم تھے ( ا سئل القریۃ التی کنا فیھا) ( تشریحی نوٹ: "قریہ" عربی زبان میں گاوں اور بستی کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ اس کا اطلاق کلی طور پر آبادیوں اور شہروں پر ہوتا ہے اور یہاں مراد اس سے مصر کا علاقہ ہے۔) اسی طرح قافلے سے پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور فطری طور پر آپ اہلِ کنعان کو جانتے ہیں جو کہ اس قافلے میں موجود ہیں، اس سے حقیقتِ حال پوچھ لیں ( والعیر التی اقبلنا فیھا) ( تشریحی نوٹ: "عیر" ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اونٹوں اور چوپایوں کو اناج لانے اور لے جانے کےلیے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یعنی انہیں مجموعی طور پر "عیر" کہتے ہیں۔ لہذا ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ لفظ انسانوں کا مفہوم بھی لیے ہوئے ہے اور مقدر و محذوف سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ لفظ "عیر" میں صرف چوپایوں کا مفہوم شامل ہے۔ اس صورت میں آیت تقدیر کی محتاج ہے۔ جیسا کہ "قریۃ" میں بھی ہے۔)

چند اہم نکات

۱۔ سب سے بڑا بھائی کون تھا؟ بعض نے سب سے بڑے بھائی کا نام ”روبین“ (روبیل ) لکھا ہے۔ بعض نے ”شمعون“ کو سب سے بڑا بھائی سمجھا ہے۔ بعض نے اس کانام ”یہودا“ بیان کیا ہے۔ نیز اس لحاظ سے بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہاں بڑا ہونے سے مراد عمر میں بڑا ہے یا عقل و فہم کے لحاظ سے بڑا ہے۔ البتہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ یہاں سن و سال میں بڑا ہونا مراد ہے۔ ۲۔ موجود قرائن کی بنیاد پر فیصلہ: اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقرار اور گواہ نہ ہوں تو قاضی قطعی قرائن پر عمل کر سکتا ہے کیونکہ برادران ِ یوسف (علیه السلام) کے اس واقعے میں نہ گواہ تھے اور نہ اقرار۔ صرف بنیامین کے بارے میں بادشاہ کے پیمانے کامل جانا اس کے مجرم ہونے کی دلیل شمار کیا گیا۔ نیز ان میں سے ہر ایک ذاتی طور پر اپنے بار کو پرکرتا تھا یا کم از کم پرکرتے وقت وہاں حاضر ہوتا تھا اور اگر تالالگانا ہوتا یا بند کرنا ہوتا تو چابی وغیرہ بھی خود اسی کے قبضے میں ہوتی۔ دوسری طرف کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ کار فرماہے۔ مزید یہ کہ کنعان کے مسافروں ( برادران یوسف )کا اس شہر میں کوئی دشمن بھی نہ تھا کہ جو ان کے خلاف کوئی سازش کرتا۔ ان تمام پہلووں کو پیش، نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ بنیامین کے بارے میں جو بادشاہ کا پیمانہ برآمد ہوا ہے یہ خوداس کا ذاتی کام ہے۔ دور حاضر میں ایسی ہی بنیادوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں فقہِ اسلامی میں مزید جستجو اور تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ یہ امر موجودہ زمانے میں عدالتی بحثوں میں بہت موٴثر ہے۔ کتاب القضاء میں اس سلسلے میں بحث کی جانا چاہئیے۔ ۳۔ برادران یوسف (علیه السلام) میں فرق: مندرجہ بالاآیات سے معلوم ہوتا ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) میں عزم و ہمت کے لحاظ سے بہت فرق تھا۔ سب سے بڑا بھائی اپنے وعدہ کا بہت سختی سے پابندتھا جب کہ دوسرے بھائیوں نے جب دیکھا کہ عزیز مصر سے ان کی گفتگو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تو انہوں نے بس اسی پر اپنے آپ کو معذور سمجھا اور مزید کوشش نہ کی البتہ حق بڑے بھائی کے ساتھ تھا کیونکہ وہ مصر ہی میں ٹھہر گیا تھا خصوصاً عزیز مصر کے دربار کے نزدیک اس نے پڑاوٴ ڈال لیا۔ اس سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ وہ لطف و مہر بانی کرے اور ایک پیمانے کی وجہ سے جو آخر کار مل گیا تھا اور ایک مسافر اس سے داغ دار بھی ہو گیا تھا، اب اس کے بدلے بھائیوں اور اس کے بوڑھے باپ کو سزا نہ دے۔ اسی احتمال کی بناء پر وہ مصر میں ٹھہر گیا اور بھائیوں کو باپ کاحکم معلوم کرنے کے لیے باپ کی خدمت میں روانہ کر دیا تاکہ وہ جاکرسارا واقعہ بیان کریں۔

83
12:83
قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
(یعقوب نے)کہا: نفس (اور ہوا و ہوس)نے معاملہ تمہاری نگاہ میں اس طرح سے مزین کر دیا ہے۔ میں صبر کروں گا، صبر جمیل (کہ جس میں کفران نہ ہو) مجھے امید ہے کہ خدا ان سب کو میری طرف پلٹا دے گا کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
12:84
وَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبۡيَضَّتۡ عَيۡنَاهُ مِنَ ٱلۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيمٞ
اور ان سے منہ پھیر لیا اور کہا: ہائے یوسف ، اور اس کی آنکھیں غم و اندوہ سے سفید ہو گئیں لیکن وہ اپنا غصہ پی جاتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
12:85
قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفۡتَؤُاْ تَذۡكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوۡ تَكُونَ مِنَ ٱلۡهَٰلِكِينَ
انہوں نے کہا: بخدا! تو یوسف کو اس قدر یاد کرتا ہے کہ موت کے قریب جا پہنچے گا یا ہلاک ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 86 کے تحت ملاحظہ کریں۔

86
12:86
قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
اس نے کہا: میں اپنا درد و غم صرف خدا سے کہتا ہوں (اور اس کے ہاں شکایت کرتا ہوں ) اور میں خدا کی طرف سے ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔

میں وہ الطاف الہٰی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

بھائی مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائی کو وہاں چھوڑ آئے اور پریشان و غم و زدہ کنعان پہنچے۔ باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس سفر سے واپسی پر باپ نے جب گذشتہ سفر کے بر عکس غم و اندوہ کے آثار ان کے چہروں پر دیکھے تو سمجھ گئے کہ کوئی ناگوار خبر لائیں ہیں خصوصاًجبکہ بنیامین اور سب سے بڑا بھائی ان کے ہمراہ نہ تھا۔جب بھائیوں نے بغیر کسی کمی بیشی کے ساری آپ بیتی کہہ دی تو یعقوب (علیه السلام) بہت حیران ہوئے اور ان کی طرف رخ کرکے ”کہنے لگے : تمہاری نفسانی خواہشات کا یہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پیش کیا ہے اور اسے اس طرح سے مزین کیا ہے“( قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنفُسُکُمْ اَمْراً)۔ یعنی بالکل وہی جملہ کہا جو انہوں نے حادثہ ٴ یوسف (علیه السلام) کے بعد کہا تھا جب کہ انہوں نے وہ جھوٹا واقعہ بیان کیا تھا۔ یہا ں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت یعقوب (علیه السلام) نے ان کے سابقہ کردار ہی کے باعث ان کے بارے میں سوء ظن کیا اور یقین کر لیا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس میں کوئی سازش ہے حالانکہ ایسا کرنا نہ صرف یعقوب (علیه السلام) جیسے پیغمبر سے بعید معلوم ہوتا ہے بلکہ عام لوگوں سے بھی بعید ہے کہ کسی کو صرف اس کے کسی سابقہ برے کردار کی وجہ سے یقینی طور پر متہم کریں جبکہ دوسری طرف گواہ بھی ہوں اور تحقیق کا راستہ بھی بند نہ ہو۔ یا پھر __ کیا اس جملہ کا مقصد ایک اور نکتہ بیان کرنا ہے جس کے یہ پہلو ہیں : ۱۔ تم فقط بادشاہ کا پیمانہ بھائی کے بارے میں دیکھ کر کیوں مان گئے کہ اس نے چوری کی ہے جب کہ تنہا یہ بات منطقی دلیل نہیں بن سکتی۔ ۲۔ تم نے عزیز مصر سے کیوں کہا کہ چور کی یہ سزا ہے کہ اسے غلام بنالو حالانکہ یہ کوئی خدائی قانون نہیں بلکہ کنعان کے لوگوں کی ایک غلط رسم ہے (تشریحی نوٹ: یہ بات اس صورت میں درست ہے جب بعض مفسرین کے قول کے خلاف اس قانون کو شریعت ِ یعقوب کاحصہ نہ سمجھا جائے )۔ ۳۔ اس واقعہ کے بعد تم فوراً کیوں چل پڑے اور بڑے بھائی کی طرح قیام کیوں نہیں کیا جبکہ تم میرے ساتھ پکا خدائی وعدہ کرچکے تھے۔ (تشریحی نوٹ: یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ یوسف (علیه السلام) کی طرف اشارہ ہے، بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ یوسف کو ماں باپ سے جدا کرنے کا معاملہ مندرجہ بالا آیات میں بالکل نہیں آیا ہے)۔ اس کے بعد یعقوب (علیه السلام) اپنی جانب متوجہ ہوئے اور ”کہنے لگے کہ میں صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گا اور اچھا صبر کروں گا کہ جو کفران نعمت سے خالی ہو (فَصَبْرٌ جَمِیلٌ )۔ مجھے امید ہے کہ خدا ان سب جو ( یوسف (علیه السلام)، بنیامین اور میرے بڑے بیٹے کو) میری طرف پلٹا دے گا (عَسَی اللهُ اَنْ یَاْتِیَنِی بِھِمْ جَمِیعًا )۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ”وہ ان سب کے دل کو داخلی کیفیات سے باخبر ہے، علاوہ ازیں وہ حکیم بھی ہے اور وہ کوئی کام بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں کرتا“ ( اِنَّہ ھُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ)۔ اس وقت یعقوب (علیه السلام) رنج و غم میں ڈوب گئے۔ بنیامین کہ جو ان کے دل کی ڈھارس تھا واپس نہ آیا تو انہیں پیارے یوسف (علیه السلام) کی یاد آگئی۔ انہیں خیال آیاکہ اے کاش آج وہ آبرومند، باایمان، باہوش اور حسین و جمیل بیٹا ان کی آغوش میں ہوتا اور اس کی پیاری خوشبو ہرلمحہ باپ کو ایک حیاتِ نو بخشی لیکن آج نہ صرف یہ کہ اس کا نام و نشان نہیں بلکہ اس کا جانشین بنیامین بھی اس کے طرح ایک درد ناک معالے میں گرفتار ہو گیا ہے۔ ”اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے رخ پھیر لیا اور کہا:ہائے یوسف (علیه السلام) (وَتَوَلَّی عَنْھُمْ وَقَالَ یَااَسَفَی عَلَی یُوسُف) بھائی کہ پہلے جو بنیامین کے ماجرے پر باپ کے سامنے شرمندہ تھے یوسفؑ کانام سن کر فکر میں ڈوب گئے۔ ان کے ماتھے پر عرق ِ ندامت کے قطرے چمکنے لگے۔ حزن و ملال اتنا بڑھا کہ یعقوب (علیه السلام) کی آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کا سیلاب بہہ کریہاں تک کہ ”اس کی آنکھیں دردو غم سے سفید اور نابینا ہو گئیں (وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ)۔ لیکن اس کے باوجود کوشش کرتے تھے کہ ضبط کریں اور اپنا غم و غصہ پی جائیں اور رضائے حق کے خلاف کوئی بات نہ کہیں ”وہ باحوصلہ اور جواں مرد تھے اور انہیں اپنے غصے پر پورا کنٹرول تھا“ ( فَھُوَ کَظِیمٌ)۔ ظاہر آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) اس وقت تک نابینا نہیں ہوئے تھے لیکن اب جب کہ رنج و غم کئی گنابڑھ گیا اور آپ مسلسل گریہ و زاری کرتے رہے اور آپ کے آنسو تھمنے نہ پاتے تھے تو آپ کی بینائی ختم ہوگئی اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشار ہ کرچکے ہیں کہ یہ کوئی اختیاری چیز نہ تھی کہ جو صبر و جمیل کے منافی ہو۔ (تشریحی نوٹ: مزید وضاحت کے لیے اس سورہ کی آیہ ۱۸ کی تفسیر ملاحظہ کیجئے)۔ بھائی کہ جو ان تمام واقعات سے بہت پریشان تھے، ایک طرف تو ان کا ضمیر حضرت یوسف (علیه السلام) کے واقعے کی بناء پر انہیں عذاب دیتا اور دوسری طرف وہ بنیامین کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک نئے امتحان کی چوکھٹ پر پاتے اور تیسری طرف باپ کا اتنا غم اور دکھ ان پر بہت گراں تھا لہٰذا انہوں نے پریشانی اور بے حوصلگی کے ساتھ باپ سے ”کہا:بخدا تو اتنا یوسف یوسف کرتا ہے کہ بیمار ہو جائے گا اور موت کے کنارے پہنچ جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا (قَالُوا تَاللهِ تَفْتَاُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا اَوْ تَکُونَ مِنْ الْھَالِکِینَ)۔( تشریحی نوٹ : بث“ کا معنی ہے پراکندگی اور ایسی چیز جسے چھپا یا نہ جاسکے اوریہاں واضح غم و اندوہ اور دل کی نمایاں پراکندگی کے معنی میں ہے)۔ لیکن کنعان کے اس مرد بزرگ اور روشن ضمیر پیغمبر نے ان کے جواب میں کہا: میں تمہارے سامنے اپنی شکایت پیش نہیں کی جو اس طرح کی باتیں کرتے وہ میں اپنادرد و غم بار گاہ الہٰی میں پیش کرتا ہوں اور اس کے ہاں اپنی شکایت پیش کرتا ہوں“ ( قَالَ اِنَّمَا اَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی اِلَی اللهِ)۔( تشریحی :”حرض“ (بروزن ِ ”مرض“)فاسد اور پریشان کرنے والی چیز کے معنی میں ہے۔ یہاں اس کا معنی ہے بیمار، نحیف، لاغر اور قریب المرگ)۔ اور اپنے خدا کی طرف سے مجھے ایسے الطاف و عنایات حاصل ہیں اورایسی چیزیں مجھے معلوم ہیں کہ جن سے تم بے خبر ہو( وَاَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ )

87
12:87
يَٰبَنِيَّ ٱذۡهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيۡـَٔسُواْ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
اے میرے بیٹو !جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے کافر قوم کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
12:88
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيۡهِ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَٰعَةٖ مُّزۡجَىٰةٖ فَأَوۡفِ لَنَا ٱلۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجۡزِي ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ
جب وہ اس (یوسف) کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا: اے عزیز! ہم اور ہمارا خاندان پریشانی میں گھر گیا ہے اور ہم (اناج خریدنے کیلئے) تھوڑی سی پونجی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ہمارا پیمانہ(غلے سے) پوری طرح بھر دے اور ہم پر صدقہ کر دے کیونکہ اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

89
12:89
قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ
اس نے کہا: کیا تم جانتے ہو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جب کہ تم جاہل تھے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
12:90
قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِيۖ قَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَآۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
انہوں نے کہا: کیا تو وہی یوسف ہے؟ اس نے کہا: (ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر و استقامت دکھائے (آخر وہ کامیاب ہوتا ہے) کیونکہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
12:91
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ
انہوں نے کہا:خدا کی قسم ! خدا نے تجھے ہم پر مقدم رکھا اور ہم خطاکار تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
12:92
قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
اس نے کہا: آج تم پر کوئی ملامت اور سرزنش نہیں ہے، اللہ تمہیں بخشے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
12:93
ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرٗا وَأۡتُونِي بِأَهۡلِكُمۡ أَجۡمَعِينَ
یہ میری قمیض لے جاؤ اور میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہو جائے گااور تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔

کو شش کرو اور مایوس نہ ہو

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

مصر اور اطرافِ مصر جس میں کنعان بھی شامل تھا،میں قحط ظلم ڈھا رہا تھا۔ اناج بالکل ختم ہو گیا تو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے دوبارہ اپنے بیٹوں کو مصر کی طرف جانے اور غلہ حاصل کرنے کا حکم دیا لیکن اس مرتبہ اپنی آرزوں کی بنیاد پر یوسف (علیه السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کی تلاش کو قرار دیا اور کہا : ”میرے بیٹو! جاوٴ اور یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو“ ( یَابَنِیَّ اذْھَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَاَخِیہ)۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے چونکہ اس بارے میں تقریباً مطمئن تھے کہ یوسف (علیه السلام) موجود ہی نہیں اس لیے وہ باپ کی اس نصیحت اور تاکید پر تعجب کرتے تھے۔ یعقوب ان کے گوش گزار کرتے رہے تھے : ”رحمت الٰہی سے کبھی مایوس نہ ہونا“ کیونکہ اس کی قدرت تمام مشکلوں اور سختیوں سے مافوق ہے (وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ)۔کیونکہ صرف بے ایمان کافر کہ جو قدرتِ خدا سے بے خبر ہیں اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں ( اِنَّہُ لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ اِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ )۔ ”تحسس“ مادہ ”حس“ سے ہے اور یہ قوت حس کے ذریعے کسی چیز کی جستجو اور تلاش کے معنی میں ہے۔ اوریہ کہ ”تجسس“ میں اور اس میں کیا فرق ہے، اس سلسلے میں مفسرین اور ارباب ِ لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ ابن ِ عباس سے منقول ہے کہ ”تحسس“امور ِ خیر میں ہے اور تجسس“ امور شر میں۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ ”تحسس“ افراد اقوام کی سر گزشت جاننے کے لیے کو شش کرنے کے معنی میں ہے اور تجسس“ عیوب و نقائص کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے۔ بعض دیگر احباب نے دونوں سے ایک ہی معنی مراد لیا ہے۔ لیکن اس حدیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے : لاتجسسوا ولا تحسسوا . -------- واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں۔ نیز ان دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں، زیربحث آیت کے معنی میں، ابن عباس کانظریہ مناسب معلوم ہوتا ہے اوراگر ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں دونوں سے منع کیا گیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ اس طرف اشارہ ہو کہ لوگوں کے کاموں اورمعاملات کی ٹوہ میں نہ رہو نہ ان کے اچھے کاموں کی ٹوہ میں اور نہ ہی برے کاموں کی ٹوہ میں۔ ”روح“ رحمت“ راحت، سہولت اور کشائشِ کارکے معنی میں ہے۔ مفردات میں راغب کہتا ہے کہ ”روح“ ( بر وزنِ ”لوح“ ) اور ”روح“( بر وزن ”نوح“) دونوں کا اصل میں ایک ہی معنی ہے اوریہ ”جان“ اور تنفس“ کے معنی میں ہیں۔بعد ازاں ”روح“ ( بر وزن ”لوح“ رحمت اور کشائش کے معنی میں استعمال ہونے لگا ( اس بناء پر کہ ہمیشہ مشکلات ٹل جانے پر انسان نئی روح اور جان پاتا ہے اور آزاری کا سانس لیتا ہے )۔ بہر حال فرزندان یعقوب (علیه السلام) نے اپنامال و اسباب باندھا اور مصر کی طرف چل پڑے اور اب کے وہ تیسری مرتبہ داستانوں سے معمو ر اس سر زمین پرپہنچے۔ گذشتہ سفروں کے برخلاف اس سفر میں ان کی روح کو ایک احساس ِ ندامت کچوکے لگا رہا تھا کیونکہ مصر میں اور عزیز مصر کے نزدیک ان کا سابقہ کردار بہت برا تھا اور وہ بدنام ہو چکے تھے اور اندازہ تھا شاید بعض لوگ انہیں ”کنعان کے چور“ کے عنوان سے پہچانیں۔ دوسری طرف ان کے پاس گندم اوردوسرے اناج کی قیمت دینے کے لیے درکار مال و متاع موجود نہیں تھا اور سا تھ ہی بھائی بنیامین کے کھو جانے اورباپ کی انتہائی پریشانی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا تھا۔ گویا تلوار ان کے حلقوم تک پہنچ گئی تھی۔ بہت ساری مشکلات اور روح فرسا پریشانیوں نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ایسے میں جو چیز ان کی تسکین ِ قلب کاباعث تھی وہ صرف باپ کا آخری جملہ تھا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کیونکہ اس کے لیے ہر مشکل آساں ہے۔ اس عالم میں ”وہ یوسف (علیه السلام) (علیه السلام) کے پاس پہنچے اور اس وقت انتہائی پریشانی کے عالم میں انہوں نے اس کی طرف رخ کیا اور کہا: اے عزیز ! ہمیں اورہمارے خاندان کو قحط، پریشانی اور مصیبت نے گھیر لیا ہے“ ( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیْہِ قَالُوا یَااَیّھَا الْعَزِیزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّر)۔”اور ہمارے پاس صرف تھوڑی سی کم قیمت پونجی ہے“ (ّوَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ )۔(بضاعت۔ بضع کے مادہ سے ہے بروزن جزء ) لیکن پھربھی ہمیں تیرے کرم اور شفقت پر بھروسہ ہے ”اور ہمیں توقع ہے کہ تو ہمارا پیمانہ بالکل پورا کرے گا“( فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ)۔”اور اس معاملے میں ہم پر احسان کرتے ہوئے صدقہ کر“ (وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا)۔ اور اپنا اجر و ثواب ہم نے لے بلکہ اپنے خدا سے لے کیونکہ خدا کریموں اور صدقہ کرنے والوں کو اجر خیر دیتا ہے ( اِنَّ اللهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ )۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) کو باپ نے تاکید کی تھی کہ پہلے یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کے لیے جستجو کریں اور بعد میں اناج حاصل کریں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس بات کی طرف چنداں توجہ نہیں کی اور سب سے پہلے انہوں نے عزیز مصرسے اناج کا تقاضہ کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انہیں یوسف (علیه السلام) کے ملنے کی چنداں امید نہ تھی یا ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ بہتر ہے کہ اپنے کو اناج کے خرید داروں کے طور پر پیش کریں جو کہ زیادہ طبعی اور فطری ہے اور بھائی کی آزادی کا تقاضا ضمناًرہنے دیں تاکہ یہ چیز عزیز مصر پر زیاد ہ اثر انداز ہو۔ بعض نے کہا کہ ”تصدق علینا“ سے مراد وہی بھائی کی آزادی ہے ورنہ وہ انا ج بغیر معاوضے کے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے کہ اسے ”تصدق“ قرار دیا جاتا۔ روایات میں بھی ہے کہ بھائی باپ کی طرف سے عزیز مصر کے نام ایک خط لے کر آئے تھے اس خط میں حضرت یعقوب (علیه السلام) نے عزیز مصر کے عدل و انصاف کاتذکرہ کیا۔ اپنے خاندان سے اس کی محبتوں اور شفقتوں کی تعریف کی۔ پھر اپنا اور اپنے خاندان نبوت کا تعارف کروایا۔ اپنی پریشانیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس کے ضمن میں اپنے بیٹے یوسف (علیه السلام) اور دوسرے بیٹھے بنیامین کے کھوجانے اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا۔ خط کے آخر میں اس سے خواہش کی گئی تھی کہ بنیامین کو آزاد کر دے اور تاکید کی تھی کہ ہمارے خاندان میں چوری وغیرہ ہرگز نہ تھی اور نہ ہو گی۔ جب بھائیوں نے باپ کا خط عزیز مصر کو دیا تو انہوں نے اسے لے کر چوما اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور رونے لگے۔ گریہ کا عا لم یہ تھا کہ قطرات ِ اشک انکے پیراہن پر گرنے لگے۔(بحوالہ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں) (یہ دیکھ کر بھائی حیرت وفکر میں ڈوب جاتے ہیں کہ عزیز مصر کو ان کے باپ سے کیا لگاوٴ ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے باپ کے خط نے اس میں ہیجان و اضطراب کیوں پید اکر دیا ہے اور شاید اسی موقع پران کے دل میں یہ خیال بجلی کی طرح اترا ہو کہ ہو نہ ہو یہی یوسف (علیه السلام) ہو اور شاید باپ کے اسی خط کی وجہ سے یوسف (علیه السلام) اس قدر بیقرار ہو گئے کہ اب مزید اپنے آپ کو عزیز مصر کے نقاب میں نہ چھپاس کے اورجیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ بہت جلد بھائیوں سے بھائی کی حیثیت سے اپنا تعارف کروادیا ) اس موقع پر جبکہ دور آزمائش ختم ہو رہا تھا اور یوسف (علیه السلام) بھی بیتاب اور پرشان نظر آرہے تھے تعارف کے لیے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بھائیوں کی طرف رخ کرکے آپ نے ”کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم جاہل و نادان تھے تم نے یوسفؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا( قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِیُوسُفَ وَاَخِیہِ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُونَ)۔ حضرت یوسف (علیه السلام) کی عظمت اور شفقت ملاحظہ کیجئے کہ اولاً تو ان کاگناہ مجمل طور پر بیان کیا اور کہا :”مافعلتم“ ( جو کچھ تم نے انجام دیا ہے اور اب تم عاقل اور سمجھدار ہو۔ ضمناً اس گفتگو سے واضح ہو تا ہے کہ گذشتہ زمانے میں انہوں نے صرف یوسف (علیه السلام) پر ظلم نہیں ڈھایا تھا بلکہ بنیامین بھی اس دور میں ان کے شر سے محفوظ نہیں تھے اور انہوں نے اس کے لیے بھی اس زمانے میں مشکلات پیدا کی تھیں۔ جب بنیامین مصر میں یوسف (علیه السلام) کے پاس تھے شاید ان دنوں میں انہوں نے ان کی کچھ بے انصافیاں اپنے بھائی کو بتائی ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ زیادہ پریشان نہ ہوں اور یہ خیال نہ کریں کہ عزیز مصر ہم سے انتقام لینے والا ہے یوسف (علیه السلام) نے اپنی گفتگو کو ایک تبسم کے ساتھ ختم کیا۔ اس تبسم کی وجہ سے بھائیوں کو حضرت یوسف (علیه السلام) کے خوبصورت دانت پوری طرح نظر آگئے۔ جب انہوں نے خوب غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ دانت ان کے بھائی یوسف (علیه السلام) سے عجیب مشابہت رکھتے ہیں۔ (۔”تثریب“ اصل میں ”ثرب“(بروزن ”سرد“)کے مادہ سے ہے ”ثرب“ در اصل چربی کی اس نازک اور پتلی جھلی کو کہتے ہیں جس نے معدے اور آنتوں کوچھپا رکھا ہوتا ہے اور ”تثریب“ اسے الگ کر دی نے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ سرزنش و ملامت کے معنی میں استعمال ہو نے لگا گویا اس کام سے گناہ کا پر دہ دوسرے کے چہرے سے دور کر دیا جاتا ہے ( قاموس، مفردات راغب،تفسیر فخررازی اور روح المعانی کی طرف رجوع فرمائیں ) )۔ اس طرح بہت سے پہلو جمع ہو گئے۔ ایک طرف تو انہوں نے دیکھا کہ عزیز مصر یوسف (علیه السلام) کے بارے میں اور اس پر بھائیوں کی طرف سے کئے گئے مظالم کے بارے میں گفتگو کررہا ہے جنہیں سوائے ان کے اور یوسف (علیه السلام) کے کوئی نہیں جانتا تھا۔ دوسری طرف انہوں نے دیکھا کہ یعقوب (علیه السلام) کے خط نے اس قدر مضطرب کر دیا ہے جیسے اس کا یعقوب (علیه السلام) سے کوئی بہت ہی قریبی تعلق ہو۔ تیسری طر ف وہ اس کے چہرے مہرے پر جتنا غور کرتے انہیں اپنے بھائی یو سف (علیه السلام) سے بہت زیادہ مشابہت دکھائی دیتی۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یوسف (علیه السلام) عزیز مصر کی مسند پر پہنچ گیا ہو۔ وہ سوچتے کہ یوسف (علیه السلام) کہا ں اور یہ مقام کہاں؟ لہٰذا انہوں نے شک و تردد کے لہجے میں ”کہا : کیا تم خود یوسف (علیه السلام) تو نہیں ( قَالُوا اَئِنَّکَ لَاَنْتَ یُوسُفُ )۔ یہ موقع بھائیوں پر بہت زیادہ حساس لمحات گزرا۔ کیونکہ صحیح طور پر معلوم بھی نہیں تھا کہ عزیز ِ مصرکے سوال کے جواب میں کیا کہے گا۔ کیا سچ مچ وہ پردہ ہٹا دے گا اور اپنا تعارف کروائے گا یا انہیں دیوانہ اور بے وقوف سمجھ کر خطاب کرے گا کہ انہوں نے ایک مضحکہ خیز بات کی ہے۔ گھڑیاں بہت تیزی سے گزر رہی تھیں انتظار کے روح فرسا لمحے ان کے دل کو بوجھل کررہے تھے لیکن حضرت یوسف (علیه السلام) نے نہ چاہا کہ یہ زمانہ طویل ہو جائے۔ اچانک انہوں نے حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا یا اور ”کہا: ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے“ (قَالَ اَنَا یُوسُفُ وَھذَا اَخِی)۔لیکن اس بناء پر کہ وہ خدا کی نعمت پر شکر ادا کریں کہ جس نے یہ سب نعمات عطا فرمائی تھیں اور ساتھ ہی بھائیوں کو بھی ایک عظیم درس دیں انہوں نے مزید کہا : خدانے ہم پر احسان کیا ہے جو شخص بھی تقویٰ اور صبر اختیار کرے گا خدا اسے اس کا اجرو ثواب دے گا کیونکہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا“ (قَدْ مَنَّ اللهُ عَلَیْنَا اِنَّہُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)۔ کسی کو معلوم نہیں کہ ان حساس لمحات میں کیا گزری اورجب دسیوں سال بعد بھائیوں نے ایک دوسرے کو پہچانا تو کیسا شور و غوغا بپا کیا، وہ کس طرح آپس میں بغل گیر ہوئے اور کس طرح سے ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امڈپڑے۔ ان تمام چیزوں کے باوجود بھائی اپنے آپ میں شرمندہ تھے۔ وہ یوسف (علیه السلام) کے چہرے کی طرف نظر بھر کے نہیں دیکھ پارہے تھے۔ وہ اس انتظارمیں تھے کہ دیکھیں ان کا عظیم گناہ بخشش و عفو کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ لہٰذا انہوں نے بھائی کی طرف رخ کیا اورکہا :خدا کی قسم : اللہ نے تجھے ہم پر مقدم کیا ہے اور تجھے ترجیح دی ہے اور علم حلم اور عقل و حکومت کے لحاظ سے جھے فضیلت بخشی ہے ( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ آثَرَکَ اللهُ عَلَیْنَا)۔ )”اٰثرک“ ایثار کے مادہ سے ہے) یقینا ہم خطاکار اور گناہ گار تھے ( وَ اِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ)۔(فخر رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ ”خاطی“ اور ”مخطی“کے درمیان فرق یہ ہے کہ ”خاطی“ اس شخص کو کہتے ہیں جو جان بوجھ کر برے کام کرے اور ”مخطی“ اسے کہتے ہیں جو غلطی سے غلط کام کرے بیٹھے) لیکن یوسف (علیه السلام) نہیں چاہتے تھے کہ بھائی اس طرح شرمسار رہیں خصوصاً جب کہ یہ ان کی اپنی کامیابی و کامرانی کا موقع تھا یا یہ کہ احتمالاً بھائیوں کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ یوسف (علیه السلام) اس موقع پر انتقام لے گا لہٰذا فوراً یہ کہہ کر انہیں مطمئن اور پر سکون کر دیا کہ ”آج تمہیں کوئی سرزنش اور توبیخ نہیں ہو گی“ ( قَالَ لاَتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ )۔( مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں) تمہاری فکر آسودہ رہے اور وجدان کو راحت رہے اور گذشتہ گناہوں پر غم نہ کرو۔ اس بناء پر کہ انہیں بتایا جائے کہ انہیں نہ صرف یوسف (علیه السلام) کا حق بخش دیا گیا ہے بلکہ ان کی ندامت و پشمانی کی وجہ سے اس سلسلے میں خدائی حق بھی قابل بخشش ہے، مزید کہا: اللہ بھی تمہیں بخش دے گا کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے ( یَغْفِرُ اللهُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ )۔ یہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی انتہائی عظمت کی دلیل ہے کہ نہ صرف اپنا حق معاف کر دیا بلکہ اس بات پر بھی تیار نہ ہوئے کہ انہیں تھوڑی سی بھی سرزنش کی جائے چہ جائیکہ، بھائیوں کوکوئی سزا دیتے بلکہ حق الہٰی کے لحاظ سے بھی انہیں اطمینان دلا یا کہ خدا غفور اور بخشنے والا ہے بلکہ یہ بات ثابت کرنے کے لیے یہ استدلال پیش کیا کہ وہ ارحم الراحمین ہے۔ اس موقع پر بھائیوں کو ایک اور غم بھی ستا رہا تھا اور وہ یہ کہ باپ اپنے بیٹوں کے غم میں نابینا ہوچکا تھا اور اس کا اس طرح رہناپورے خاندان کے لیے ایک جانکاہ رنج ہے علاوہ ازیں ان کے جرم پر ایک مسلسل دلیل ہے۔ لہٰذا یوسف (علیه السلام) نے اس عظیم مشکل کے حل کے لیے بھی فرمایا :”میرا یہ پیراہن لے جاوٴ اور میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تاکہ وہ بینا ہو جائے“ ( اذْھَبُوا بِقَمِیصِی ھَذَا فَاَلْقُوہُ عَلَی وَجْہِ اَبِی یَاْتِ بَصِیرًا)۔”اس کے بعد سارے خاندان کے ہمراہ میرے پاس آجاوٴ“ (وَاْتُونِی بِاَھْلِکُمْ اَجْمَعِینَ)۔

چند اہم نکات

۱۔ یوسف (علیه السلام) کی قمیص کون لے کر گیا؟ چند ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے کہا : میرا شفا بخش کرتہ باپ کے پاس وہی لے کر جائے جو خون آلودہ کرتہ لے کر گیا تھا تاکہ جیسے اس نے باپ کو تکلیف پہنچائی اور پریشان کیا تھا اب کے اسے خوش و خرم کرے۔ لہٰذا یہ کام ”یہودا“ کے سپرد ہوا کیونکہ اس نے بتا تھا کہ وہ میں ہو جو خون آلودہ کرتہ لے کرباپ کے پاس گیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ آپ کے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ یوسف (علیه السلام) اس قدر مشکلات اورمصائب میں گرفتار رہے لیکن اخلاقی مسائل کی باریکی سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ۲۔ یوسف (علیه السلام) کی عظمت: بعض دیگر روایا ت میں آیا ہے کہ اس ماجرے کے بعد حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائی ہمیشہ شرمسار رہتے تھے۔ انہوں نے کسی کو یوسف (علیه السلام) کے پاس بھیجا اورکہلایا کہ آپ ہر صبح و شام ہمیں دستر خوا ن پر بٹھا تے ہیں اور آپ کا چہرہ دیکھ کر ہمیں شرم و خجالت محسوس ہو تی ہے کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ اس قدر جسارتیں کی ہیں۔ اس بناء پر کہ انہیں نہ صرف احساس شرمندگی نہ ہو بلکہ یوسف (علیه السلام) کے دستر خوان پر ان کی موجو د گی کو یوسف (علیه السلام) کی ایک خدمت محسوس کریں، حضرت یوسف (علیه السلام) نے انہیں بہت ہی عمدہ جواب دیا۔ آپ نے کہا: مصر کے لوگ اب تک مجھے ایک زر خرید غلام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے : سبحان من بلغ عبداً بیع بعشرین درھماً مابلغ پاک ہے وہ ذات جس نے اس غلام کو کہ جو بیس درہم میں بیچا گیا اس مقام تک پہنچایا۔ لیکن اب جب کہ تم لوگ آگئے ہو اور میری زندگی کی کتاب ان کے سامنے کھل گئی ہے تو وہ سمجھنے لگے کہ غلام نہیں تھا بلکہ میں خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہوں اور ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد میں سے ہوں اور یہ میرے لیے باعث ِ افتخار ہے۔ ۳۔ کامیابی کا شکرانہ :مندرجہ بالا آیات میں یہ اہم اخلاقی درس اور واضح ترین اسلامی حکم موجود ہے کہ دشمن پر کامیابی کے وقت انتقام جو اور کینہ پرور نہ بنو۔ یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے انہیں نہایت سخت صدمے پہنچائے تھے اور انہیں موت کی دہلیز تک پہنچا دیا تھا۔ اگر لطف الہٰی شامل حال نہ ہوتا تو بچ جانا ان کے لیے ممکن نہ تھا صرف یہی نہیں کہ انہوں نے یوسف (علیه السلام) کو تکلیف پہنچائی تھی بلکہ ان کے والد کو بھی سخت مصیبت میں مبتلا کر دیا تھا لیکن اب جب کہ وہ سب کے سب زارو نزار یوسف (علیه السلام) کے سامنے تھے اور یوسف (علیه السلام) کے پاس پوری قدرت و طاقت بھی تھی مگر حضرت یوسف (علیه السلام) کی گفتگو سے اوران کے کلمات کے اندر جھانکنے سے اچھی طرح محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں نہ صرف یہ کہ کوئی کینہ موجو د نہیں تھا بلکہ انہیں اس بات سے تکلیف ہوتی تھی کہ ان کے بھائی گذشتہ واقعے کو یاد کریں اور پریشان و غمزدہ ہوں اور شر مندگی محسوس کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) پوری کوشش کرتے ہیں کہ یہ احساس ان کی روح سے نکال دیں۔ یہا ں تک کہ اس سے بھی بڑھ کر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں یقین دلائیں کہ ان کا مصر میں آنا اس لحاظ سے باعث افتخار ہے کہ خود حضرت یوسف(علیه السلام) کے بارے میں مزید آگاہی کا سبب بنا ہے اور لوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ وہ خاندانِ رسالت میں سے ہیں نہ کہ ایک کنعانی غلام ہیں کہ جسے چند درہموں میں بیچا گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھائی اس طرح محسوس کریں کہ نہ صرف یہ کہ میں ان پر احسان نہیں کررہا بلکہ وہ مجھ پر احسان کر رہے ہیں۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کو ایسے ہیں حالات میں پیش آئے اور فتح مکہ کے موقع پر آپ کو خونخوار دشمنوں یعنی شرک و بت پرستی کے سر غنوں پر کامیابی حاصل ہو ئی تو ابن عباس کے بقول آ پ خانہ کعبہ کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت مخالفین کعبہ میں پناہ لے چکے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر اسلام ان کے بارے میں کیا حکم صادر کرتے ہیں۔ ایسے میں آپ نے کعبہ کے کنڈے کو پکڑ کر فرمایا: الحمد للہ الذی صدق وعدہ و نصرعبدہ و ھزم الاحزاب وحدہ شکر ہے خدا کا کہ جس کا وعدہ پورا ہوا اور اس نے اپنے بندے کو کامیاب کیا اور دشمنون کے گروہوں کو شکست دی۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ماذا تظنون معشر قریش اے قریش والو! کیا گمان ہے کہ میں تمہارے بارے میں حکم دوں گا۔ قالوا خیراً، اخ کریم، و ابن اخ کریم و قد قدرت انہوں نے جواب دیا : ہم تجھ سے خیر و نیکی کے علاوہ کوئی توقع نہیں رکھتے۔ آپ کریم و شریف بھائی ہیں اور کریم و بزرگوار بھائی کے بیٹے ہیں اور اس وقت قدرت و طاقت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ قال و انا اقول کما قال اخی یوسف : لاتثریب علیکم الیوم اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا : میں تمہارے بارے میں وہی کچھ کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیه السلام) نے اپنے بھائیوں کے کے بارے میں کامیابی کے وقت کہا تھا ”لاتثریب علیکم الیوم“۔ یعنی۔ آج تمہارے لیے روز ملامت و سرزنش نہیں ہے۔ عمر کہتے ہیں (بحوالہ:تفسیر فخر رازی جلد ۱۸ ص ۲۰۶) اس موقع پر میرے چہرے پر شرم و حیا سے پسینہ آگیا کیونکہ میں نے مکہ میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا تھا : آج کے دن میں تم سے انتقام لوں گا۔ جب پیغمبر نے وہ جملہ فرمایا تو مجھے اپنی گفتگو پر شرم آئی۔(بحوالہ :تفسیر قرطبی، جلد ۵ ص ۳۴۸۷)۔ روایات اسلامی میں بھی بار ہا یہ آیا ہے کہ : کامیابی کی زکات عفو و بخشش ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : اذا قدرت علی عدوک فاجعل العفو عنہ شکراً للقدرة علیہ۔ جس وقت تو اپنے دشمن پر کامیاب ہو جائے تو عفو بخشش کو اپنی کامیابی کا شکرانہ قرار دے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ کلمات قصار۔ جملہ ۱۱)

94
12:94
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
جس وقت قافلہ (سر زمین مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ (یعقوب) نے کہا: اگر مجھے نادانی اور کم عقلی کی نسبت نہ دو تو مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

95
12:95
قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَٰلِكَ ٱلۡقَدِيمِ
انہوں نے کہا: بخدا تو اسی گزشتہ گمراہی میں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

96
12:96
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلۡبَشِيرُ أَلۡقَىٰهُ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ فَٱرۡتَدَّ بَصِيرٗاۖ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
لیکن جب بشارت دینے والا آ گیا (اور اس نے) وہ (کرتہ) اس کے چہرے پر ڈالا تو اچانک وہ بینا ہو گیا۔ تو اس نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

97
12:97
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ
انہوں نے کہا (ابا جان)! خدا سے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں، بے شک ہم خطا کار تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 98 کے تحت ملاحظہ کریں۔

98
12:98
قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
اس نے کہا عنقریب میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے طلب بخشش کروں گا۔ بے شک وہ غفور و رحیم ہے۔

آخرکار لطف الہٰی اپنا کام کرے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

فرزندان یعقوب (علیه السلام) خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ وہ خوشی خوشی یوسف (علیه السلام) کا پیراہن اپنے ساتھ لے کر قافلے کے ساتھ مصر سے چل پڑے۔ ادھر بھائیوں کے لیے زندگی کے شیرین لمحات تھے ادھر شام کے علاقے کنعان میں بوڑھے کا گھر غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا تھا۔ سارا گھرا نہ افسردہ اور غم زدہ تھا۔ لیکن۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے چلا اور ادھر اچانک یعقوب (علیه السلام) کے گھر میں ایک واقعی رونما ہوا جس سے سب کو تعجب میں ڈال دیا۔ یعقوبؑ (علیه السلام) کا جسم کانپ رہاتھا۔ انہوں نے بڑے اطمینان اور اعتماد سے پکار کر کہا : اگر تم بد گوئی نہ کرو اور میری طرف نادانی اور جھوٹ کی نسبت نہ دو تو میں تم سے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے پیارے یوسف (علیه السلام) کی خوشبو آرہی ہے، میں محسوس کررہا ہوں کہ رنج و غم اور زحمت و مشکل کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور وصال و کامیابی کا زمانہ آنے کو ہے، خاندانِ یعقوب (علیه السلام) اب لباس ماتم اتار دے گا اور لباسِ مسرت زیب ترن کرے گا لیکن میر اخیا ل نہیں کہ تم ان باتوں پر یقین کروگے ( وَلَمَّا فَصَلَتْ الْعِیرُ قَالَ اَبُوھُمْ اِنِّی لَاَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلاَ اَنْ تُفَنِّدُونِ )۔ـ”تفندون“ ”فند“ (بروزن ”نمد“) کے مادہ سے، فکر کی کمزوری اور حماقت کے معنی میں ہے۔ اسے”جھوٹ“کے معنی میں سمجھتے ہیں۔ در اصل یہ فساد اورخرابی کے معنی میں ہے۔۔لہٰذا ”لولاان تفندو“ کا معنی ہے : اگر تم مجھے بے وقوف اور فاسد العقل نہ کہو)۔ ”فصلت“ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) میں یہ احساس اسی وقت پیدا ہوا جب قافلہ مصر سے چلنے لگا۔ قاعدتا حضرت یعقوب (علیه السلام) سے کہا :آپ اسی پرانی گمراہی میں ہیں ( قَالُوا تَاللهِ اِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ )۔یعنی اس سے بڑھ کر گمراہی کیا ہو گی کہ یوسف (علیه السلام) کی خوشبو آرہی ہے، مصر کہا ں اور شام کو کنعان کہاں، کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ہمیشہ خوا و خیال کی دنیا میں رہتے ہیں اور اپنے خیالات و تصورات کو حقیقت سمجھتے ہیں، آپ یہ کیسی عجیب بات کہہ رہے ہیں، بہر حال آپ تو پہلے بھی اپنے بیٹوں سے کہہ چکے ہیں کہ مصر کی طرف جاوٴ اور میر ے یوسف (علیه السلام) کی تلاش کرو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ضلالت و گمراہی سے مراد عقیدے اور نظر یے کی گمراہی نہیں ہے بلکہ یوسف (علیه السلام) سے متعلق مسائل کے سمجھنے میں گمراہی مراد ہے۔ بہرکیف، ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس عظیم کہنہ سال اور روشن ضمیر پیغمبر سے کیساشدید اور جسارت آمیز سلوک کرتے تھے۔ ایک جگہ انہوں نے کہا: ہمارا باپ ”ضلا ل مبین“( کھلی گمراہی“ میں ہے اور یہاں انہوں نے کہا : تم اپنی اسی دیرینہ گمراہی میں ہو۔ وہ پیر کنعان کے دل کی پاکیز گی اور روشنی سے بے خبر تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس کا دل بھی انہی کے دل کی طرح تاریک ہے۔ انہیں یہ خیال نہ تھا کہ آئندہ کے واقعات اور دور و نزدیک کے مقامات اس کے آئینہ دل میں منعکس ہوتے ہیں۔ کئی رات دن بیت گئے۔ یعقوب اسی طرح انتظارکہ جس کی گہرائی میں مسر و شادمانی اور سکون و اطمینان موجزن تھا حالانکہ ان کے پاس رہنے والوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ یو سف (علیه السلام) کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ معلوم نہیں یعقوب (علیه السلام) پر یہ چند دن اور راتیں کس طر ح گزریں۔ آخر کار ایک دن آیا جب آواز آئی وہ دیکھو مصر سے کنعان کا قافلہ آیا ہے۔ گذشتہ سفروں کے برخلا ف فرزندان یعقوب (علیه السلام) شاداں و فرخاں شہر میں داخل ہو ئے اور بڑی تیزی سے باپ کے گھر پہنچ گئے۔ سب سے پہلے ”بشیر“ بوڑھے یعقوب (علیه السلام) کے پاس آیا (وہی ”بشیر“ جو وصال کی بشات لایا تھا اورجس کے پاس یوسف (علیه السلام) کا پیراہن تھا ) اس نے آتے ہیں پیراہن یعقوب (علیه السلام) کے چہرے پر ڈال دیا۔ یعقوب (علیه السلام) کی آنکھیں تو بے نور تھیں۔ وہ پیراہن کو دیکھ نہ سکتے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آشنا خوشبوان کے مشامِ جان میں اتر گئی ہے۔ یہ ایک پر کیف زریں لمحہ تھا۔ گویا ان کے وجود کا ہر ذرہ روشن ہو گیا ہو آسمان و زمین مسکرا اٹھے ہوں۔ ہر طرف قہقہے بکھر گئے ہوں، نسیم رحمت چل اٹھی ہو اور غم و اندوہ کا گرد و غبارلپیٹ کر لے جارہی ہو درو دیوار سے خوشی کے نعرے سنائی دے رہے تھے اور یعقوب (علیه السلام) اسی ساری فضا کے ساتھ تبسم کناں تھے۔ ایک عجیب پیجانی کیفیت تھی جو اس بوڑھے انسان پر طاری تھی۔ اچانک انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی آنکھیں روشن ہو گئیں ہیں اور وہ ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔ دنیا اپنی تمام زیبائیوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : جب بشارت دینے والا آیا تو اس نے و ہ ( پیراہن ) ان کے چہرے پر ڈال دیا تو اچانک وہ بینا ہو گئے ( فَلَمَّا اَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اَلْقَاہُ عَلَی وَجْھِہِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا )۔ بھائیوں اور گر دوں پیش والوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امنڈ آئے اور یعقوب (علیه السلام) نے پورے اعتماد سے کہا : میں نہ کہتا تھا کہ میں خدا کی طرف سے ایسی چیزیں جانتا ہون جنہیں تم نہیں جانتے( قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ اِنِّی اَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ )۔ اس حیران کن معجزہ پر گہری فکر میں ڈوب گئے۔ ایک لمحہ کے لیے اپنا تاریک ماضی ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، خطا، اشتباہ اور تنگ نظری سے پر ماضی۔ لیکن---- کتنی اچھی بات ہے کہ جب انسان اپنی غلطی کو سمجھ لے تو فوراً اس کی اصطلاح کی فکر کرے فرزندنِ یعقوب (علیه السلام) بھی اسی فکر میں گم ہوگئے۔ انہوں نے باپ کا دامن پکڑ لیا اور ”کہا: باباجان! خدا سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمارے گناہوں اور خطاوں کو بخش دے“ ( قَالُوا یَا اَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا)۔ ”کیونکہ ہم گناہگار اور خطا کار تھے“۔( اِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ)۔ بزرگوار اور باعظمت بوڑھا جس کا ظرف سمندر کی طرح وسیع تھا، اس نے کوئی ملامت و سرزنش کئے بغیر ان سے وعدہ کیا کہ میں بہت جلد تمہارے لیے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کروں گا ( قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی)۔اور مجھے امید ہے کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرلے گا اور تمہارے گناہوں سے صرفِ نظر کرلے گا کیونکہ ”وہ غفور و رحیم ہے“ ( اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ)۔

چند اہم نکات

۱۔ یعقوب (علیه السلام) نے پیراہن یوسف (علیه السلام) کی خوشبو کیسے محسوس کی؟ یہ سوال بہت سے مفسرین نے اٹھا یا ہے اور اس پر بحث کی ہے عام طور پر مفسرین نے اسے یعقوب (علیه السلام) یا یوسف (علیه السلام) کا معجزہ قرار دیا ہے لیکن چونکہ قرآن نے اسے اعجاز یا غیر اعجاز ہونے کے لحاظ سے پیش نہیں کیا اور اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی ہے، اس کی سائنسی توجیہ معلوم کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ”ٹیلی پیتھی“ ایک مسئلہ علمی ہے (اس میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ایک دوسرے سے دور رہنے والے افراد کے درمیان فکری ارتباط اور روحانی رابطہ ہو سکتا ہے۔ اسے ”انتقال فکر“ کہتے ہیں) ایسے افراد جو ایک دوسرے سے نزدیکی تعلق رکھتے ہیں یا جو بہت زیادہ روحانی طاقت رکھتے ہیں یہ تعلق ان کے درمیان پیدا ہو تا ہے۔ شاید ہم میں سے بہت سے افراد نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس کا سامنا کیا ہو کہ بعض اوقات کسی کی والدہ یا بھائی اپنے اندر بلا سبب بہت زیادہ اضطراب اور پریشانی محسوس کرتے ہیں اور زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ خبر پہنچتی ہے کہ اس کے بیٹے یا بھائی کو فلاں دور دراز علاقے میں ایک ناگوار حادثہ پیش آیا ہے۔ ماہرین اس قسم کے احساس کو ٹیلی پیتھی اور دور دراز کے علاقوں سے انتقال فکر کا عمل قرار دیتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیه السلام) کے واقعہ میں بھی ممکن ہے یو سف (علیه السلام) سے شدید محبت اور آپ روحانی عظمت کے سبب آپ میں وہی احساس پیدا ہو گیا ہو جو یوسف (علیه السلام) کا کرتہ اٹھاتے وقت بھائیوں میں پیدا ہوا تھا۔ البتہ یہ بات بھی ہر طرح ممکن ہے کہ اس واقعے کا تعلق انبیاء کے دائرہ علم کی وسعت سے ہو۔ بعض روایات میں بھی انتقال فکر کے مسئلے کی طرف جاذبِ نظر اور عمدہ اشارہ کیا گیا ہے مثلاً : کسی نے امام باقر (علیه السلام) سے عرض کیا : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میں بغیر کسی مصیبت یا ناگوار حادثے کے غمگین ہو جاتا ہوں یہاں تک کہ میرے گھر والے اور میرے دوست بھی اس کے اثرات میرے چہرے پر دیکھ لیتے ہیں۔ امام (علیه السلام) نے فرمایا : ہاں، خدا نے مومنین کو ایک ہی بہشتی طینت سے پیدا کیا ہے اور اس کی روح ان میں پھونکی ہے لہٰذا مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں جس وقت کسی ایک شہر میں ان میں سے کسی ایک خاص بھائی کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو باقیوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ ص ۱۳۳)۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کرتہ نہ تھا بلکہ ایک جنتی پیراہن تھا جو حضرت ابراہیم (علیه السلام) خلیل اللہ کی طرف سے خاندانِ یعقوب (علیه السلام) میں یاد گار کے طور پر چلا آ رہا تھا اورجو شخص حضرت یعقوب (علیه السلام) کی طرح بہشتی قوت شامہ رکھتا تھا وہ اس کی خوشبو دور سے محسوس کرلیتا تھا۔ (ان روایات کے بارے میں مزید آگاہی کے لیے نو ر الثقلین کی دوسری جلد ص ۴۶۴ کی طرف رجوع کریں) ۲۔ انبیاء کے حالات میں فرق: یہاں پر ایک اور مشہور اعتراض سامنے آتا ہے۔ فارسی زبان کے اشعار میں بھی اعتراض بیان کیا گیا ہے۔ کسی نے یعقوب (علیه السلام) سے کہا : زمصرش بوی پیراہن شنیدی چرا در چاہ کنعانش نہ دیدی یعنی ــــــ آپ نے مصر سے پیراہن کی خوشبو سونگھ لی لیکن آپ کو کنعان کے کنویں میں یوسف (علیه السلام) کیوں دکھائی نہ دیا؟ کیسے ہو سکتا کہ اس عظیم پیغمبر نے اتنے دور دراز کے علاقے سے یوسف (علیه السلام) کی قمیص کی خوشبو سونگھ لی جب کہ بعض نے یہ فاصلہ اسّی فرسخ لکھا ہے اور بعض نے دس دن کی مسافت بیان کی ہے لیکن اپنے ہی علاقے کنعان کے اندے جب کہ یوسف (علیه السلام) کو اس کے بھائی نے کنویں میں پھینک رہے تھے اور ان پر وہ واقعات گزررہے تھے اس سے یعقوب (علیه السلام) آگاہ نہ ہوئے؟ قبل ازیں انبیاء اور آئمہ کے علم غیب کی حدود کے بارے میں جو کچھ کہا جا چکا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس سوال کا جواب ہرگز مشکل نہیں رہتا۔ امور غیب کے متعلق ان کا علم پرور دگار کے ارادے اور عطا کئے ہوئے علم پر منحصر ہے۔ جہاں خدا چاہتا ہے وہ جانتے ہیں چاہے واقعے کا تعلق کسی دور دراز علاقے سے ہو اور جہاں وہ نہ چاہے نہیں جانتے چاہے معاملہ کسی نزدیک ترین علاقے سے مربوط ہو۔ جیسے کسی تاریک رات میں ایک قافلہ کسی بیا بان سے گزررہا ہو اور۔ آسمان کو بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو۔ ایک لمحے کے لیے بجلی خاموش ہو جائے اور پھر تاریکی ہر طرف چھا جائے اس طرح سے کہ کوئی چیز نظر نہ آئے۔ شاید امام جعفر صادق علیہ السلام علم امام کے بارے میں مروی یہ حدیث اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے، آ پ فرماتے ہیں : جعل اللہ بینہ و بین الامام عموداً من نور ینظر اللہ بہ الیٰ الامام و ینظر الامام بہ الیہ فاذا اراد علم شیء نظر فی ذٰلک النور فعرفہ خدا نے اپنے اور امام و پیشوائے خلق کے درمیان نور کا ایک ستون بنایا ہے۔ اسی سے خدا امام کی طرف دیکھتا ہے اور امام بھی اسی طریق سے اپنے پروردگار کی طرف دیکھتا ہے اور جب امام کوئی چیز جاننا چاہتا ہے تو نور کے اس ستون میں دیکھتا ہے اور اس سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ (بحوالہ شرح نہج البلاغہ از خوئی جلد ۵ ص۲۰۰۔) ایک شعر جو پہلے ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد سعدی کے مشہور اشعار میں ایسی ہی روایات کے پیش نظر کہا گیا ہے : بگفت احوال ما برق جہان است گہی پیدا و دیگر دم نہان است گہی بر کارم اعلا نشینیم گہی تا پشت پای خود نبینیم یعنی .اس نے کہا ہمارے حالات چمکنے والی بجلی کی طرح ہیں جو کبھی دکھائی دیتی ہے اور کبھی چھپ جاتی ہے۔ کبھی ہم آسمان کی بلندیوں پر بیٹھتے ہیں اور کبھی اپنے پاوں کے پیچھے بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ”جِہان“ یہاں ”جہندہ“ یعنی چمکنے والی“ کے معنی میں ہے اور ”برق جہان“ کا معنی ہے چمکنے والی آسمانی بجلی۔ اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے تعجب کا مقام نہیں کہ ایک دن مشیتِ الٰہی کی بناء پر یعقوب (علیه السلام) کی آزمائش کے لیے وہ اپنے قریب رونما ہونے والے واقعات سے آگاہ نہ ہوں اور کسی دوسرے دن جب کہ دورِ آزمائش ختم ہو چکا تھا اور مشکلات کے دن بیت چکے تھے انہوں نے مصر سے قمیص یوسف (علیه السلام) کی مہک سونگھ لی ہو۔ ۳۔ بینائی کیسے لوٹ آئی؟ بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) کی آنکھوں کا نور بالکل ضائع ہو نہیں ہو گیا تھا بلکہ ان کی آنکھیں کمزور ہوگئیں تھی اور بیٹے کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے تو ان میں ایک ایسا ہیجان پیدا ہوا کہ وہ پہلی حالت پر واپس آگئیں لیکن آیات کا ظہور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بالکل نابینا ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سفید ہوچکی تھیں لہٰذا ان کی بینائی معجزانہ طور پر واپس آئی۔ قرآن کہتا ہے : فارتد بصیراً بینائی کی طرف لوٹ آیا۔ ۴۔ استغفار کا وعدہ: مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ بھائیوں کے اظہار ِ ندامت پر حضرت یوسف (علیه السلام)نے کہا : یغفر اللہ لکم خدا تمہیں بخش دے گا۔ لیکن انہوں نے حضرت یعقوب (علیه السلام) کے سامنے اعتراف گناہ اور اظہار ندامت کیا اور استغفار کا تقایا کیا تو انہوں نے کہا: میں بعد میں تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ جیسا کہ روایات میں آیا ہے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس تقاضا پر شبِ جمعہ وقت سحر عمل کریں جو کہ اجابتِ دعا اور توبہ کی قبولیت کے لیے مناسب وقت ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ شبِ جمعہ کہ جو روز عاشورکے برابر تھی، ان کے لیے اسغفار کریں۔ بحوالہ: تفسیر قرطبی۔ جلد۶ س ۳۴۹۱) اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یو سف (علیه السلام) نے انہیں کس طرح قطعی جواب دیا جب کہ ان کے باپ نے آئندہ پر چھوڑ دیا؟ ۔ ہو سکتا ہے یہ فرق اس بناء پر ہو کہ حضرت یوسف (علیه السلام) بخشش کے امکان کے بارے میں با ت کررہے ہوں یعنی یہ گناہ قابل بخشش ہے لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) اس کی فعلیت کے بارے میں گفتگو کررہے ہوں یعنی کیا کیا جائے کہ جس سے بخشش ہو جائے ( غو کیجئے گا )۔ ۵۔ توسل جائز ہے: مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سے استغفار کا تقاضا کرنا نہ صرف یہ کہ عقیدہٴ توحید کے منافی نہیں ہے بلکہ لطف الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے ورنہ کیسے ممکن تھا کہ یعقوب (علیه السلام) کہ جو نبی تھے بیٹوں کا یہ تقاضا قبول کرتے کہ ان کے لیے استغفار کی جائے اور کیسے ممکن تھا کہ ان کے توسل کا مثبت جواب دیتے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ اولیاء اللہ سے توسل اجمالاً ایک جائز امر ہے اور جو اسے ممنوع اور اور اصل ِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں وہ متون قرآن سے آگاہی نہیں رکھتے یا پھر غلط تعصبات نے ان کی آنکھوںپر پردہ ڈال رکھا ہے۔ ۶۔ سیاہ رات چھٹ گئی: مندربالا آیات ہمیں یہ عظیم درس دیتی ہیں کہ مشکلات و حوادث جتنے بھی سخت اور دردناک ہوں اور ظاہری اسباب و علل جتنے بھی محدود اور نارسا ہوں اور کامیابی و کشائش میں کتنی ہی تاخیر ہو جائے ان میں سے کوئی چیز بی لطفِ پروردگار پر امید رکھنے سے مانع نہیں ہو سکتی ۔ ہاں یہ وہی خدا ہے جو نابینا آنکھ کو پیراہن کے ذریعے روشن کر دیتا ہے اور پیراہن کو خوشبودور کے فاصلے سے دیگر علاقوں کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور گمشد ہ عزیز اور محبوب کو سالہا سال بعد لوٹا دیتا ہے اور جدائی سے مجروح ولوں پر مرہم رکھتا ہے اور جانکاہ تکالیف کو شفا بخشتا ہے۔ جی ہاں اس سر گزشت میں توحید اور خدا شناسی کا یہ عظیم درس ہے کہ کوئی چیز بھی خدا کے ارادے کے سامنے پیچیدہ نہیں ہے۔

99
12:99
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَبَوَيۡهِ وَقَالَ ٱدۡخُلُواْ مِصۡرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
جس وقت یوسف کے پاس پہنچے تو (وہ سب) اپنے ماں باپ سے بغل گیر ہوئے او رکہا: سب کے سب مصر میں داخل ہو جاؤ، انشاء اللہ امن و امان میں رہو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔

100
12:100
وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأۡوِيلُ رُءۡيَٰيَ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّي حَقّٗاۖ وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلۡبَدۡوِ مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٞ لِّمَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
اور ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب کے سب اس کے لئے سجدے میں گر گئے اور اس نے کہا ابا جان یہ اس خواب کی تعبیر ہے کہ جو پہلے میں نے دیکھا تھا۔ خدا نے اسے حقیقت میں بدل دیا اور اس نے مجھ سے نیکی کی جب کہ مجھے زندان سے نکالا اور آپ کو اس بیابان سے (یہاں ) لے آیا اور جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان خرابی پیدا کر چکا تھا۔ اور میرا پرودگار جسے چاہتا ہے (اور مناسب دیکھتا ہے) اس کے لئے صاحب لطف ہے کیونکہ وہ دانا اور حکیم ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 101 کے تحت ملاحظہ کریں۔

101
12:101
۞رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
پرودگار ا! تو نے مجھے حکومت کا (عظیم) حصہ بخشا ہے اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور دنیا و آخرت میں میرا سرپرست ہے مجھے مسلمان مارنا اور صالحین کے ساتھ ملحق فرمانا۔

حضرت یعقوب، یوسف اور بھائیوں کی سرگزشت کا انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

عظیم ترین بشارت لیے ہوئے مصر سے فاقلہ کنعان پہنچا۔ بوڑھے یعقوب بینا ہوگئے۔ عجیب جو ش و خروش تھا۔ سالہا سال سے جو گھرانا غم و اندوہ میں ڈابا ہوا تھا وہ خوشی اور سرور میں ڈوب گیا۔ ان سب نعمات الٰہی پر وہ پھولے نہیں سما تے تھے۔ یوسف (علیه السلام) فرمائش کے مطابق اس خاندان کو اب مصر کی طرف روانہ ہونا تھا۔ سفر کی تیاری ہر لحاظ سے مکمل ہو گئی یعقوب (علیه السلام) ایک مرکب پر سوار ہوئے جب کہ ان کے مبارک لبوں پر ذکر و شکر خدا جاری تھا اور عشق ِ وصال نے انہیں اس طرح قوت و توانائی بخشی کہ کہ گویا وہ نئے سےجواب ہو گئے تھے۔ بھائیوں کے گذشتہ سفر تو خوف و پریشانی سے گزرے لیکن ان کے بر خلاف یہی سفر ہر قسم کے فکر و اندیشہ سے خالی تھا۔ یہاں تک کہ سفر کی کوئی تکلیف تھی بھی تو اس انتظار میں پنہاں مقصد کے سامنے اس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ وصال کعبہ چناں می دواندام بشتاب کہ خارہای مغیلاں حریر می آید کعبہ مقصود کے وصال نے مجھے اتنا تیز دوڑا یا ہے کہ میرے پاوں میں خارِ مغیلاں ریشم معلوم ہوتے ہیں رات و دن گویا بڑی آہستگی سے گذر رہے تھے کیونکہ اشتیاقِ وصال میں ہر گھڑی ایک دن بلکہ ایک سال معلوم ہورہی تھی مگر جو کچھ تھا آخر گزر گیا۔ مصرکی آباد یاں دور سے نمایاں ہوئیں، مصر کے سرسبز کھیت، آسمان سے باتیں کرنے والے درخت اور خوبصورت عمارتیں دیکھائی دینے لگیں۔ لیکن .. قرآن اپنی دائمی سیرت کے مطابق ان سب مقدمات کو جو تھوڑے سے غور و فکر سے واضح ہو جاتے ہیں حذف کرتے ہوئے کہتا ہے : جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف اپنے ماں باپ سے بغل گیر ہوئے ( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی اِلَیْہِ اَبَوَیْہ)۔ ”اٰوی“ جیسا کہ راغب نے کہا ہے اصل میں کسی چیز کو دوسری چیز سے منضم کرنے کے معنی میں ہے یوسف (علیه السلام) کا اپنے تئیں ماں باپ سے منضم کرنا، ان سے بغل گیر ہونے کے لیے کنایہ ہے۔ آخر کار یعقوب (علیه السلام) کی زندگی کا شیرین ترین لمحہ آگیا۔ دیدار وصال کا یہ لمحہ فراق کے کئی سالوں بعد آیا تھا۔ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وصال کے یہ لمحات یعقوب (علیه السلام) اور یوسف (علیه السلام) پر کیسے گزرے، ان شیرین لمحات میں ان دونوں کے احساسات و جذبات کیا تھے، عالمِ شوق میں انہوں نے کتنے آنسو بہائے اور عالمِ عشق میں کیا نالہ ہوا۔ پھر یوسف (علیه السلام) نے ”سب سے کہا : سر زمین، مصر میں قدم رکھیں کہ انشاء اللہ یہاں آپ بالکل امن و امان میں ہوں گے“ کیونکہ مصر یوسف (علیه السلام) کی حکومت میں امن و امان کا گہوارہ بن چکا تھا ( وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ اِنْ شَاءَ اللهُ آمِنِینَ )۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیه السلام) اپنے ماں باپ کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر تک آئے تھے اور اور شاید جملہ ”ادخلوا علی یوسف“کہ جو دروازے سے باہر سے مربوط ہے، اس طرف اشارہ ہے کہ یوسف (علیه السلام) نے حکم دیا تھا کہ وہاں خیمے نصب کئے جائیں اور ماں باپ اور بھائیوں کی پہلے پہل وہاں پذیرائی کی جائے۔ جب وہ بارگاہِ یوسف (علیه السلام) میں پہنچے ”تو اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا“( وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ )۔ نعمت الٰہی کی اس عظمت اور پروردگار کے لطف کی اس گہرائی اور وسعت نے بھائیوں اور ماں باپ کو اتنا متاثر کیا کہ وہ ”سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے“ (وَخَرُّوا لَہُ سُجَّدًا)۔ اس موقع پر یوسف (علیه السلام) نے باپ کی طرف رخ کیا ”اور اعتراض کیا : اباجان ! یہ اسی خواب کی تعبیر ہے جومیں نے بچپن میں دیکھا تھا“(وَقَالَ یَااَبَتِ ھَذَا تَاْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ)۔ کیا ایسا ہی نہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں۔ دیکھئے ! جیسا کہ آپ نے پیش گوئی کی تھی ”خدا نے اس خواب کو واقعیت میں بدل دیا ہے“ ( قَدْ جَعَلھَا رَبِّی حَقًّا)۔”اور پروردگار نے مجھ پرلطف و احسان کیا ہے کہ اس نے مجھے زندان سے نکالا ہے“ ( وَقَدْ اَحْسَنَ بِی اِذْ اَخْرَجَنِی مِن السِّجْنِ )۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے اپنی زندگی کی مشکلات میں صرف زندانِ مصر کے بارے میں گفتگو کی ہے لیکن میرے بھائیوں کی وجہ سے کنعان کے کنوئیں کی بات نہیں کی۔ اس کے بعد مزید کہا : خدا نے مجھ پر کس قدر لطف کیا کہ آپ کو کنعان کے اس بیابان سے یہاں لے آیا جب جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائی کے درمیان فساد انگیزی کر چکاتھا (وَجَاءَ بِکُمْ مِنْ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ اِخْوَتِی )۔ یہاں یوسف (علیه السلام) ایک مرتبہ اپنی وسعت قلبی اور عظمت کا ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ کوتاہی کس شخص نے کی صرف سر بستہ اور اجمالی طور پر کہتے ہیں کہ شیطان نے اس کام میں دخل اندازی کی اوروہ فساد کا باعث بنا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بھائیوں کی گذشتہ خطاوں کا گلہ کریں۔ سرزمین کنعان کو”بدو“ یعنی ”بیابان“ کہنا بھی جاذب نظر ہے۔ اس طرح سے مصر اور کنعان کاتمدنی فرق واضح کیا گیا ہے۔ آخر میں یوسف (علیه السلام) کہتے ہیں: یہ سب نعمات و عنایات خدا کی طرف سے ہیں کیونکہ میرا پروردگار مرکزِ لطف و کرم ہے اور جس امر میں چاہتا ہے لطف کرتا ہے، وہ بندوں کے کاموں کی تدبیر کرتا ہے اور ان مشکلات کو آسان کرتا ہے ( اِنَّ رَبِّی لَطِیفٌ لِمَا یَشَاءُ )۔ وہ جانتا ہے کہ کون ھاجت مند ہیں اور کون اہل ہیں کیونکہ ”وہ علیم و حکیم ہے“ ( اِنَّہ ھُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیم)۔ اس کے بعد یوسف (علیه السلام) حقیقی مالک الملک اور دائمی ولی ِ نعمت کی طرف رخ کرتے ہیں اور شکر اور تقاضے کے طو رپر کہتے ہیں : ”پروردگارا ! تونے ایک وسیع حکومت کا ایک حصہ مجھے مرحمت فرمایا ہے“ ( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ )۔”اور تونےمجھے تعبیر خواب کے علم کی تعلیم دی ہے“ ( وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَاْوِیلِ الْاَحَادِیث)۔اور اسی علم نے جو ظاہراً سادہ اور عام ہے میری زندگی اور تیرے بندوں کی ایک بڑی جماعت کی زندگی میں کس قسم کا انقلاب پیدا کر دیا ہے اور یہ علم کس قدر پر برکت ہے۔ ”تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ایجاد کیا ہے“ ( فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔اور اسی بناء پر تمام چیزیں تیری قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ ”پروردگارا! دنیا و آخرت میں تو میرا ولی، ناصر، مدبر اور محافظ ہے“(اَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ)۔”مجھے اس جہان سے مسلمان اور اپنے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے لے جا“( تَوَفَّنِی مُسْلِمًا)۔اور مجھے صالحین سے ملحق کر دے “( وَاَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ)۔ یعنی ـــــ میں تجھ سے ملک کے دوام اور اپنی مادی حکومت اور زندگی کی بقاء کا تقاضا نہیں کرتا کیونکہ یہ تو سب فانی ہیں اور صرف دیکھنے میں دل انگیز ہیں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میری عاقبت اور انجام کار بخیر ہو اور میں راہ ایمان و تسلیم کے ساتھ رہوں اور تیرے لیے جان دو ں اور صالحین اور تیرے باخلوص دوستوں کی صف میں قرار پاوں، میرے لیے یہ چیزیں اہم ہیں۔

چند اہم نکات

۱۔ کیا غیر خدا کے لیے سجدہ جائز ہے؟ جیساکہ ہم پہلی جلد ( جلد اوّل ص ۱۶۱ ( اردو ترجمہ ) میں فرشتوں کے آدم (علیه السلام) کو سجدہ کرنے کی بحث میں کہہ چکے ہیں کہ پرستش و عبادت کے معنی میں سجدہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی مذہب میں کسی شخص کے لیے پرستش جائز نہیں ہے اور تو حید عبادت جو مسئلہ توحید کا اہم حصہ ہے اورجس کی تمام پیغمبروں نے دعوت دی ہے، کایہی مفہوم ہے۔ لہٰذا یوسف (علیه السلام) کہ جو خداکے پیغمبر تھے نہ وہ اس کی اجازت دے سکتے تھے کہ انہیں سجدہ کیا جائے اور ان کی عبادت کیا جائے اور نہ ہی یعقوب (علیه السلام) جیسے عظیم پیغمبر ایسا کام کر سکتے تھے اورنہ ہی قرآن اسے ایک اچھے یا کم از کم جائز و مباح کا م کے طور پر یاد کر سکتا تھا۔ اس بناء پر مذکورہ سجدہ یا خدا کے لیے "سجدہٴ شکر" کے طور پر تھا۔ اسی خدا کے لیے سجدہ شکر جس نے یہ تمام عنایات و نعمات اور مقام عظیم یوسف (علیه السلام) کو دیا تھا اور جس نے خاندان یعقوب (علیه السلام) کی مشکلوں اور مصیبتوں کو دور کیا تھا۔ اس صورت میں اگرچہ سجدہ خدا کے لیے تھا لیکن چونکہ یوسف(علیه السلام) کو عطا کی گی نعمت کی عظمت کے لیے تھا خود یوسف (علیه السلام) کا احترام بھی اس سے ظاہر ہوتا تھا اور اس لحاظ سے ”لہ“ کی ضمیر جو مسلماً یوسف (علیه السلام) کی طرف لوٹتی ہے اس معنی کے ساتھ پوری طرح مناسب ہو گی۔ یا یہ کہ یہاں ”سجدہ“ کا وسیع مفہوم مراد ہے یعنی خضوع اور انکساری، کیونکہ سجدہ ہمیشہ اپنے مشہور معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی انکساری اور تواضع کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے لہٰذا بعض مفسرین نے کہا کہ اس زمانے میں خم ہو کر انکساری اور تواضع کااظہار کرتے تھے اور تعظیم و احترام بجالانے کا یہ طریقہ رائج تھا۔ان مفسرین کے نزدیک مندرجہ بالا آیت میں ”سجداً“ سے مراد یہی ہے۔ لیکن ”خروا“ کا مفہوم ہے ”زمین پر گر پڑنا“۔ اس لفظ کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سجدہ خم ہونے اور سر نیچا کرنے کے معنی میں نہیں تھا۔ بعض دیگر عظیم مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام)، بھائیوں اور ان کی والدہ کا سجدہ خدا کے لیے تھا لیکن یوسف (علیه السلام) خانہ کعبہ کی طرح ان کے قبلہ تھے اسی لیے عربوں کی تعبیرات میں بعض اوقات کہا جاتا ہے : فلان صلی للقبلہ یعنی: فلاں شخص نے قبلہ کی طرف نماز پڑھی۔ (بحوالہ تفسیرالمیزان و تفسیر فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں) البتہ پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے بالخصوص جب کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے اس سلسلے میں متعدد روایات بھی موجود ہیں۔ فرمایا: کان سجودھم للہ یعنی ..کا سجدہ خدا کے لیے تھا۔ یہ بھی الفاظ ہیں : کان سجودھم عبادہ للہ ان کا سجدہ اللہ کی عبادت کے طور تھا۔ (بحوالہ :تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۶۷) نیز کچھ اور احادیث میں ہے : کان طاعة للہ و تحیة لیوسف یہ سجدہ اللہ کی اطاعت کے عنوان سے اور یوسف (علیه السلام) کے احترام کے لیے تھا۔ ( بحوالہ تفسیر نور الثقلین جلد ص۴۶۸) جیسا کہ حضرت آدم (علیه السلام) کے واقعہ میں بھی سجدہ اس خدائے بزرگ و برتر کے لیے تھا کہ جس نے ایسی بدیع اور عجیب و غریب مخلوق پیدا کی تھی۔ وہ سجدہ عبادتِ خدا کے ساتھ ساتھ حضرت آدم (علیه السلام) کے احترام اور عظمت مقام کی دلیل بھی تھا۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ ایک شخص کوئی بہت ہی اچھا اہم کام انجام دیتا ہے اور ہم اس کام کی بنا ء پر خدا کے لیے سجدہ کریں کہ جس نے ایسا بندہ پیدا یا ہے تویہ سجدہ خدا کے لیے بھی ہے اور اس شخص کے احترام کے لیے بھی۔ ۲۔ شیطانی وسوسے: ”نزع الشیطان بینی و بین اخوت“ میں لفظ ”نزع“ کسی کام میں فساد و افساد کے ارادے سے داخل ہونے کے معنی میں ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ایسے معاملات میں شیطانی وسوسے ہمیشہ بہت اثر رکھتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں صرف اس قسم کے وسوسوں سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اٹل فیصلہ اور آخری مصمم ارادہ خود انسان کو کرنا ہوتا ہے بلکہ وہی اپنے دل کا دریچہ شیطان کے لیے کھولتا ہے اور اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت سے اختیار و ارادہ کی آزادی کے برخلاف کوئی مفہوم نہیں نکلتا۔ البتہ حضرت یوسف (علیه السلام) اپنی عظمت وبزرگواری، وسعت، ظرف اور کشادہ دلی کی وجہ سے نہیں چاہتے تھے کہ بھائیوں کو اس معاملے میں زیادہ شرمندہ کریں کہ جو خود ہی بہت شرمندہ تھے۔ اس لیے آخری ارادہ کرنے والے کی طرف اشارہ نہیں کیا اور صرف شیطانی وسوسوں کا ذکر کیا ہے جو دوسرے درجے کے عامل ہیں۔ ۳۔ امن و امان خدا کی عظیم نعمت : حضرت یوسف (علیه السلام) نے مصر کی تمام تر نعمات میں سے امن و امان کا ذکر کیا ہے اور ماں باپ اور بھائیوں سے کہا کہ مصر میں داخل ہوجاوٴ انشاء اللہ امن و امان میں رہو گے۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ امن و امان کی نعمت تمام نعمتوں کی جڑ ہے اور حقیقت میں ایسا ہی ہے کیونکہ جب امن و امان ختم ہو جائے تو تمام رفاہی امور اورمادی و روحانی نعمتیں مظرے میں پڑجاتی ہیں۔ بے امنی کے ماحول میں نہ اطاعت ِ خدا مقدور میں رہتی ہے اورنہ ندگی میں سر بلندی اور آسودگئی فکر باقی رہتی ہے اورنہ ہی سعی و کوشش اور اجتماعی مقاصد کی پیش رفت کے لیے جہاد ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ جملہ ضمناً اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ یوسف (علیه السلام) چاہتے ہیں کہ یہ بتائیں کہ مصر میری حکومت و سلطنت میں کل کے فراعنہ کی سی سرزمین نہیں ہے۔ وہ خود غرضیاں، خود پرستیاں، مظالم، لوٹ مار، گھٹن اور شکنجے سب کے سب ختم ہو گئے ہیں۔ ایک مکمل امن و امان کا ماحول ہے۔ ۴۔مقام علم کی اہمیت : حضرت یوسف (علیه السلام) آخر میں ایک مرتبہ پھر علم تعبیر خواب کا ذکر کرتے ہیں اور اس عظیم اور بغیر نزاع کے حکومت کی بنیاد اس ظاہراً آسان اور سادہ علم کو قرار دیتے ہیں۔ یہ امر در اصل علم و دانش کی اہمیت و تاثیر پر زیادہ سے زیادہ تاکید کرنے کے لیے ہے۔ چاہے وہ علم سادہ اور عام قسم کا ہی کیوں نہ ہو.ــــــــ لہٰذا کہتے ہیں : رب قد اٰتیتنی من الملک و علمتنی من تاٴویل الاحادیث ۵۔ اختتام خیر : ہو سکتا ہے انسان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن مسلم ہے کہ اس کی زندگی کے آخری لمحات اس کی ساری زندگی اور سرنوشت سے زیادہ اصلاحی اور تعمیری ہیں کیونکہ عمر کا دفتر ان کے ساتھ بند ہو جاتا ہے اور آخری فیصلہ زندگی کے انہیں آخری صفحات وابستہ ہے۔ اسی لیے صاحب ایمان اور سمجھدار لوگ ہمیشہ خداسے دعا کرتے ہیں کہ ان کی عمر کے یہ لحظے نورانی اور درخشاں ہوں۔ یوسف (علیه السلام) بھی اس مقام پر خدا سے یہی چاہتے ہیں اورک ہتے ہیں : توفنی مسلماً و الحقنی بالصالحین مجھے دنیا سے ایمان کے ساتھ لے جا اور میرا شمار صالحین کے زمرے میں کر۔ یہ گفتگو خداسے موت کا تقاضا کرنے کے لیے نہیں جیسا کہ ابن عباس نے گمان کیا ہے اور کہا ہے : یوسف (علیه السلام) کے سوا کسی پیغمبر نے خدا سے موت کا تقاضا نہیں کیا۔ ان کے پاس اپنی حکومت کے تمام اسباب و وسائل موجود تھے لیکن ان کی روح میں عشقِ الٰہی کا شعلہ بھڑک اٹھا اور انہوں نے لقائے الٰہی کی آرزو کی۔ لیکن ـــــــــــ یوسف (علیه السلام) کا تقاضا شرط اور حالت کا تقاضا تھا یعنی انہوں نے یہ تقاضا کیا تھا کہ موت کے وقت وہ ایمان و اسلام کے حامل ہوں جیسا کہ ابراہیم (علیه السلام) اور یعقوب (علیه السلام) نے بھی اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی۔ فلا تموتن الا و انتم مسلمون میرے بچو!کوشش کرو کہ دنیا سے جاتے وقت باایمان اور فرمان ِ خدا کے سامنے سر تسلیم خداکئے ہوئے ہو ( بقرہ۔ ۱۳۲)۔ بہت سے مفسرین نے بھی یہی معنی انتخاب کیا ہے۔ ۶۔ کیایوسف (علیه السلام) کی والدہ مصر آئی تھیں؟ مندرجہ بالا آیات کے ظاہری معنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی والدہ اس وقت زندہ وسلامت تھیں اور وہ اپنے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ مصر آئی تھیں اور اس نعمت کے شکرانے کے طور پر انہوں نے بھی سجدہ کیا تھا لیکن بعض مفسرین کا اصرارہے کہ ان کی والدہ ”راحیل“ فوت ہو چکی تھیں اور یہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی خالہ تھیں جو مصر آئی تھیں اور وہ ماں کی جگہ شمار ہوتی تھیں۔ موجودہ تورات کے سفر تکوین کی فصل ۳۵ اور جملہ ۱۸ میں ہے : بنیامین کے پیدا ہونے کے بعد راحیل فوت ہو گئیں۔ بعض روایات جو وہب بن منیہ سے اور کعب الاحبار سے نقل ہوئی ہیں ان میں بھی یہی بات مذکور ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے انہوں نے یہ بات تورات سے لی ہے۔ بہرحال، ہم قرآن کے ظاہری مفہوم سے بغیر کسی یقینی مدرک کے آنکھیں بند کرکے اس کی توجیہ و تاویل نہیں کر سکتے اور ظاہرِ قرآن یہی ہے کہ اس وقت یوسف(علیه السلام) کی ماں زندہ تھیں۔ ۷۔ باپ کو سر گزشت نہ سنانا: امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے: جس وقت یعقوب (علیه السلام) یوسف سے ملاقات کے لیے پہنچے تو ان سے کہا: میرے بیٹے دل چاہتا ہے کہ میں پوری تفصیل جانوں کہ بھائیوں نے تم سے کیا سلوک کیا۔ حضرت یوسف (علیه السلام) نے باپ سے تقاضا کیا کہ وہ اس معاملے کو جانے دیں لیکن یعقوب (علیه السلام) نے انہیں قسم دے کہا کہ بیان کریں۔ یوسف (علیه السلام)نے واقعات کا کچھ حصہ بیان کیا، یہاں تک کہ بتایا: بھائیوں نے مجھے پکڑ لیا اور کنویں میں بٹھایا۔ مجھے حکم د یا کہ کرتا اتاردوں تو میں نے ان سے کہا : میں تمہیں اپنے باپ (علیه السلام) یعقوب (علیه السلام) کے احترام کی قسم دیتا ہوں کہ میرے بدن سے کرتا نہ اتارو اور مجھے برہنہ نہ کرو۔ ان میں سے ایک کے پاس چھری تھی اس نے وہ چھری نکالی اور چلا کر کہا : کرتا اتاررو۔ یہ جملہ سنتے ہی یعقوب (علیه السلام) کی طاقت جواب دے گئی، انہوں نے چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش میں آئے تو بیٹے سے چاہا کہ اپنی بات جاری رکھے لیکن یوسف (علیه السلام) نے کہا : آپ (علیه السلام) کو ابراہیم، (علیه السلام) اسماعیل اور اسحاق (علیه السلام) کے خدا کی قسم مجھے اس کام سے معاف رکھیں۔ جب یعقوب (علیه السلام) نے یہ سنا تو اس معاملے سے صرفِ نظر کر لیا ۔( بحوالہ :مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۶۵)۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یوسف (علیه السلام) ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ ماضی کے تلخ واقعات اپنے دل میں لائیں یا باپ کے سامنے انہیں دھرائیں اگر چہ حضرت یعقوب (علیه السلام) کی جستجو کی حس انہیں مجبور کرتی تھی۔

102
12:102
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۖ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ أَجۡمَعُوٓاْ أَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُونَ
یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے کہ جس کی ہم تجھے وحی کرتے ہیں تو (ہرگز) ان کے پاس نہیں تھا۔ جب انہوں نے مصمم ارادہ کیا اور جب وہ منصوبہ بنا رہے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

103
12:103
وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ
اور اگر چہ تو اصرار کرے زیادہ تر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

104
12:104
وَمَا تَسۡـَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
اور تو اس پر ہرگز ان سے اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، یہ نہیں ہے مگر یہ کہ عالمین کے لئے یاددہانی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

105
12:105
وَكَأَيِّن مِّنۡ ءَايَةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَمُرُّونَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُونَ
اور (خدا کی) بہت سی نشانیاں آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں کہ وہ جن کے پاس سے گزرے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

106
12:106
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ
اور ان میں کہ جو اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اکثر مشرک ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 107 کے تحت ملاحظہ کریں۔

107
12:107
أَفَأَمِنُوٓاْ أَن تَأۡتِيَهُمۡ غَٰشِيَةٞ مِّنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوۡ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
کیا وہ اس سے مامون ہیں کہ اللہ کی طرف سے گھیرنے والا عذاب ان پر آجائے یا قیامت کی گھڑی اچانک ان پر آجائے جب کہ وہ متوجہ نہ ہوں ؟

یہ دعویدار عام طور پر مشرک ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ تمام ہوا۔ اس میں عبرت اور اصلاح کے بہت سے درس موجود ہیں۔اس میں گرانبہا قیمتی اور ثمر بخش نکات موجود ہیں اور یہ تاریخی واقعہ ہر قسم کی فضولیات اور خرافات سے پاک کرکے بیان کر دیا گیا ہے۔ اب قرآن روئے سخن پیغمبر اکرام ؐ کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے : یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم تیری طرف وحی کررہے ہیں ( ذَلِکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیہِ اِلَیْکَ)۔ تو ہرگز ان کے پاس نہیں تھا جبکہ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے اور منصوبہ بنا رہے تھے ( وَمَا کُنتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوا اَمْرَھُمْ وَھمْ یَمْکُرُونَ )۔ان باریکیوں اور تفصیلات کو صرف خدا جانتا ہے یاوہ شخص جو اس موقع پر موجود تھا اور چونکہ تو وہاں موجود نہیں تھا لہٰذا صرف وحی الہٰی ہے جو ایسی خبریں تجھ تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ اگرچہ تورات میں آیا ہے اور قاعدتاً حجاز والے اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتے تھے پھر بھی پوری تفصیلات کے ساتھ تمام واقعہ حتی کہ جو کچھ خصوصی مجالس میں ہوا تھا لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ جس میں کوئی اضافہ نہ کیا گیا ہو اور خرافات شامل نہ کی گئی ہو ں۔ ان حالات میں لوگوں کو چاہیئے کہ ان سب نشانیوں کو دیکنے کے بعد اور ان خدائی نصیحتوں کو سننے کے بعد ایمان لے آئیں اور غلط راستے سے پلٹ جائیں مگر اے پیغمبر ! اگرچہ تو اس پر اصرار کرے کہ یہ ایمان لے آئیں ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے ( وَمَا اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ)۔ لفظ ”حرص“ لوگوں کے ایمان لانے کے لیے پیغمبر کے شدید لگاوٴ اور شوق کی دلیل ہے لیکن صرف آپ (علیه السلام) کا شوق اور حرص کا فی نہ تھا۔ زمینوں اور طرفوں کی قابلیت بھی شرط نہ تھی۔ یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے کہ جو وحی و نبوت کے ماحول میں پلے بڑھے تھے جب وہ ہوا وہوس میں گرفتار ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ اپنے بھائی کو نابود کرنے پر تل سکتے ہیں تو پھر دوسروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ہواو ہوس کے دیواور شہوت بھوٹ پر غالب آجائیں اور سب کے سب ایک ہی دفعہ پوری طرح خدا کی طرف رخ کریں۔ یہ جملہ ضمنی طور پر پیغمبر کی ایک طرح سے تسلی اور دلجوئی کے لیے ہے کہ وہ لوگوں کے کفر و گناہ پر اصرار سے ہرگز مایوس نہ ہو جائیں اور اس راہ میں ہم سفروں کی کمی سے ملولِ خاطر نہ ہوں، جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہے مثلاً : فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفاً اے پیغمبر ! گویا تو چاہتا ہے کہ قرآن ان کے ایمان نہ لانے پر شدت تاسف سے اپنی جان گنوابیٹھے(کہف۔ ۶) قرآن مزید کہتا ہے کہ در اصل تیری دعوت کو قبول نہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر و بہانہ نہیں ہے کیونکہ علاوہ اس کے کہ اس میں حق کی نشانیاں واضح ہیں ”تو نے اس کے بدلے ان سے ہرگز کوئی اجر مزدوری نہیں چاہی“ کہ جسے وہ مخالفت کا بہانہ بنا سکیں ( وَمَا تَسْاَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ)۔ ”یہ ایک عمومی دعوت ہے اور سب جہانوں کے لیے اورعالمین کے لیے ایک یاد دھانی ہے“ اور یہ عام و خاص تمام انسانوں کے لیے بچھا یا گیا ایک دسترخوان ہے ( اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِلْعَالَمِینَ)۔ وہ در اصل اس لیے گمراہ ہوئے کہ ان کے پاس کھلی اور بینا آنکھ اور سننے والے کان نہیں ہیں ”’ آسمان و زمین میں بہت سے خدائی آیات ہیں کہ وہ جن کے قریب سے گذر جاتے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں“ ( وَکَاَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَھُمْ عَنھَا مُعْرِضُونَ )۔ یہی حوادث کہ جنہیں ہر روز وہ اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ صبح کے وقت آفتاب افقِ مشرق سے سر نکالتا ہے۔ اس کی سنہری کرنیں پہاڑوں درّو ں، صحراوں اور دریاوں پر پڑتی ہیں اور شام کے وقت افق مغرب میں ڈوب جاتا ہے اور رات کی گہری سیاہ چادر ہر جگہ کو ڈھانپ دیتی ہے۔ عجیب و غریب نظام کے یہ اسرار، یہ طلوع و غروب، سبزوں، پرندوں، حشرات اور انسانوں میں زندگی کا یہ شور و غوغا، یہ ندیوں زمزمہ، نسیم سحری کا یہ ہمہمہ اور یہ سب عجیب و دلنشین نقش کہ وجود کے درو دیوار پر ہیں۔ اس قدر آشکار ہیں کہ جو کوئی ان میں اور ان کے خالق میں غو ر و فکر نہ کرے وہ ایسے ہی ہے جیسے دیوار پر کوئی نشان تھا۔ بہت چھوٹے چھوٹے امر ہیں جو ظاہراً کوئی اہمیت نہیں رکھتے، جن کے قریب سے ہم بے اعتنائی سے گزر جاتے ہیں لیکن اچانک گہرائی تک پہنچنے والا ماہر پیدا ہوتا ہے جو کئی ماہ اور سالوں کے مطالعہ کے بعد عجیب و غریب اسرا ر معلوم کرتا ہے کہ جن سے دنیا کے منہ مارے تعجب کے کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔ اصولی طور پر اہم بات یہ ہے کہ ہم جانیں کہ اس عالم کوئی چیز معمولی اور بے اہمیت نہیں ہے کیونکہ ہر چیز خداکی مصنوع و مخلوق ہے۔ وہ خداکہ جس کا علم لامتناہی اور جس کی حکمت بے پایاں ہے۔ بے وقعت وہ لوگ ہیں جو اس عالم کو بے اہمیت اور سر سری سی چیز سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اگر وہ ان آیاتِ قرآنی پر کہ جو تجھ پر نازل ہو ئی ہیں ایمان نہیں لاتے تو اس پر تعجب نہ کر کیونکہ وہ آیاتِ خلقت پر بھی ایمان نہیں لائے کہ جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : وہ جو ایمان لے آتے ہیں ان میں سے بھی اکثر کا ایمان خالص نہیں ہے بلکہ اس میں شرک کی آمیزش ہے ( وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللهِ اِلاَّ وَھُمْ مُشْرِکُونَ )۔ہو سکتا ہے وہ خود سمجھتے ہوں کہ وہ خالص مومن ہیں لیکن شر ک کی رگیں عموماً ان کے افکار، گفتار اور کردار میں موجود ہوتی ہیں۔ ایمان صرف یہ نہیں کہ انسان صرف وجود خدا کا اعتقاد رکھتا ہوبلکہ ایک خالص موحدوہ ہے جس کے قلب و جان میں خدا کے علاوہ کسی شکل میں کوئی معبود نہ ہو۔ اس کی گفتار خداکے لیے، اس کے اعمال خدا کے لیے اور اس کا ہر کام اسی کے لیے انجام پائے۔ خدا کے قانون کے علاوہ کسی قانون کو قبول نہ کرے اور اس کے غیر کی بندگی کا طوق اپنی گردن میں نہ ڈالے اور خدا یہ فرامین ک ودل و جان سے قبول کرے چاہے وہ اس کے میلان کے مطابق ہوں یا نہ ہوں۔ خدا اورہوائے نفس کے انتخاب کے دوراہے پر ہمیشہ خدا کو مقدم شمار کرے۔ یہ ہے ہر قسم کے شرک سے پاک ایمان۔ عقیدے کا شرک، گفتاگر اور عمل کا شرک، اگر ہم واقعاً ہر پہلو کے بارے میں باریک بینی سے کام لیں تو دیکھیں گے کہ سچے، خالص اور حقیقی موحد بہت کم ہیں۔ اسی بناء پر اسلامی روایات میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: الشرک اخفی من دبیب النمل انسانی اعمال میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ ( سفینة البحار جلد ۱ ص ۱۶۹۷) یہ بھی روایت ہے : ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر قالوا وما الشرک الاصغر یا رسول اللہ؟ قال الریا، یقول اللہ تعالیٰ یوم القیامة اذا جاء الناس باعمالھم اذھبوا الیٰ الذین کنتم تراء ون فی الدنیا، فانظروا ھل تجدون عندھم من جزاء؟! رسول اللہ نے فرمایا: خطر ناک ترین چیز کہ جس کا مجھے تم سے خوف ہے شرکِ اصغر ہے۔ اصحاب نے پوچھا : یا رسول اللہ : شرک ِ اصغر کیا ہے : فرمایا: ریا کاری، قیامت کے دن جب لوگ اپنے اعمال کے ساتھ بار گاہ خدامیں حاضر ہوں گے تو پروردگار انہیں کہ جو ددنیا میں ریا کرتے تھے، فرمائے گا : ان کے پاس جاوٴ کہ جن کے لیے تم ریا کرتے تھے اور دیکھو کہ ان کے ہاں سے تمہیں کوئی اجر ملتا ہے؟ ( بحوالہ تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۵۳)۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : شرک طاعة ولیس شرک عبادة المعاصی التی ترتکبون وھی شرک طاعة اطاعوا فیھا الشیطان فاشرکوا باللہ فی الطاعة لغیرہ اس آیت سے مراد اطاعت میں شرک کرنا ہے نہ کہ عبادت میں شرک کرنا اور جن گناہوں کے لوگ مرتکب ہوتے ہیں وہ شرک اطاعت ہے کیونکہ اس میں وہ شیطان کی اطاعت کرتے ہیں اور اس عمل کی بناء پر خدا کے لیے اطاعت میں شریک کے قائل ہوتے ہیں۔ ( بحوالہ: نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۷۵ و اصولِ کافی جلد ۲ ص ۲۹۲) بعض دوسری روایات میں ہے کہ مراد ”شرکِ نعمت“ ہے اس معنی میں کہ کوئی نعمت خدا کی طرف سے انسان کو پہنچے اوروہ کہے کہ یہ نعمت فلاشخص کی طرف سے مجھے پہنچی ہے، اگر وہ نہ ہوتا تو میں مرجاتا یا میری زندگی تباہ ہوجاتی اور میں بے چارہ رہ جاتا۔ (بحوالہ نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۷۶)۔ یہاں غیر خداکو روزی اور نعمات بخشنے میں خدا کا شریک شمار کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالاآیت میں شرک سے مراد کفر، انکار خدا اور ظاہری طور پر بت پرستی کرنا نہیں ہے۔ جیسا کہ امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام) سے نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : شرک لایبلغ بہ الکفر ایسا شرک جو کفر کے درجے تک نہ پہنچے۔ البتہ وسیع مفہوم کے لحاظ سے شرک میں یہ تمام امر شامل ہیں۔ زیر بحث آخری آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو ایمان نہیں لائے، جو خدا کی واضح آیات کے قریب سے بے خبر گذر جاتے ہیں اور جو اپنے اعمال میں مشرک ہیں خدا تعالیٰ انہیں خبر دار کرتے ہوئے کہتا ہے : کیا یہ لوگ اپنے آپ کو اس امر سے مامون سمجھتے ہیں کہ اچانک اور بغیر کسی تمہید کے انہیں عذاب الہٰی آگھیرے، احاطہ کرنے والا ایسا عذاب کہ جو ان کے سب کو آ گھیرے( اَفَاَمِنُوا اَنْ تَاْتِیَھمْ غَاشِیَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ )۔اور یا یہ کہ ناگہاں قیامت آپہنچے اور عظیم خدائی عدالت لگ جائے اور ان کا حساب کتاب شروع ہو جائے کہ جب وہ بے خبر اور غافل ہوں (اَوْ تَاْتِیَھُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَھُمْ لاَیَشْعُرُونَ)۔ ”غاشیہ”ڈھانپنے والی چیز اور ڈھکنے کے معنی میں ہے۔ دیگر چیزوں کے علاوہ گھوڑے کی زین پر ڈالنے جانے والے بڑے کپڑے کو بھی غاشیہ کہتے ہیں جو اسے ڈھانپ دیتا ہے۔ یہاں پر اس سے مراد وہ سزا ہے جو تمام بدکاروں کو گھیر لے گی۔ ( تشریحی نوٹ: ”غاشیہ“ یہاں اس لیے مونث ہے کہ یہ لفظ”عقوبہ“ کی صفت ہے کہ جو مقدر ہے)۔ ”ساعة“ سے مراد قیامت ہے جیسا کہ بہت سی دوسری قرآنی آیات میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ ”ساعة“ ہولناک حوادث کے لیے کنایہ ہو کیونکہ قرآنی آیات بار بار کہتی ہیں کہ قیامت کے دن کا آغاز بہت ہی زیادہ ہولناک حوادث کے ایک سلسلے سے ہو گا ۔ مثلاً زلزلے، طوفان اور بجلیاں یاموت کی گھڑی کی طرف اشارہ ہے۔ پہلو تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

108
12:108
قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
کہہ دو:یہ میرا راستہ ہے کہ میں اور میرے پیروکار پوری بصیرت سے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ خدا منزہ ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

109
12:109
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰٓۗ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجا مگر شہروالوں میں سے ان مردوں کو کہ جن کی طرف ہم نے وحی کی ہے۔ کیا (تیری دعوت کے مخالفین نے) زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیا انجام ہوا اور آخرت کا گھر پرہیز گاروں کے لئے بہتر ہے کیا تم عقل و فکر سے کام نہیں لیتے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

110
12:110
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَآءُۖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُنَا عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
(انبیاء نے اپنی دعوت اور دشمنوں نے اپنی مخالفت اسی طرح جاری رکھی) یہاں تک کہ پیغمبر مایوس ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ (حتیٰ مومنین کے چھوٹے سے گروہ نے بھی) ان سے جھوٹ بولا تو اس موقع پر ہماری مدد ان کے پاس آئی۔ ہم جس شخص کو چاہتے ہیں نجات دیتے ہیں اور زیاں کار قوم کے لئے ہماری سزا اور عذاب کو پلٹا یا نہیں جاسکتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

تفسیر آیت 111 کے تحت ملاحظہ کریں۔

111
12:111
لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
ان کی سر گزشتوں میں صاحبان فکر کے لئے درس عبرت ہے۔ یہ واقعات جھوٹی بات نہیں تھے بلکہ (یہ آسمانی وحی ہے اور) اس (گزشتہ آسمانی کتب) سے ہم آہنگ ہیں جو اس کے سامنے ہیں اور ہر چیز (کہ جوسعادت انسانی کی بنیاد ہے) کی تشریح اور ہدایت ورحمت ہے ایسے گروہ کے لئے کہ جو ایمان لا یا ہے۔

عبرت کے زندہ درس

Tafsīr Nemūna · Vol. 2

زیرِ نظر پہلی آیت میں پیغمبر اسلام ؐسے اپنے آئین، دین، روش اور خط کو مشخص کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے : کہہ دو : میری راہ اور طریقہ یہ ہے کہ سب کو اللہ کی طرف ( کہ جو ایک اکیلا خدا ہے ) دعوت دوں( قُلْ ھَذِہِ سَبِیلِی اَدْعُو اِلَی اللهِ )۔ اس کے بعدمزید فرمایا گیا ہے : یہ سفر میں نے بے خبری یا تقلیداً اختیار نہیں کیا بلکہ میں خود اور میرے پروردکار دنیا کے سب لوگوں کو اس راستے کی طرف آگاہی اور بصیرت سے بلاتے ہیں (عَلَی بَصِیرَةٍ اَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی)۔ یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم کا پیر وکار ہر مسلمان اپنے مقام پر حق کی طرف بلانے والاہے اسے چاہیئے کہ اپنی گفتار اور کردار سے دوسروں کو راہِ خدا کی طرف دعوت دے۔ نیز یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ ”رہبر کو کافی بصیرت، بینائی اور آگاہی کا حامل ہونا چاہئیے ورنہ اس کی دعوت حق کی طرف نہیں ہو گی۔ اس کے بعد بطور تاکید کہا گیا ہے : خدا --- یعنی وہ ذات جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں . ہر قسم کے عیب، نقص، شبیہ اور شریک سے پاک اورمنزہ ہے (و سبحان اللہ )۔ مزید تاکید کے لیے ارشاد ہوتا ہے:”میں مشرکین میں سے نہیں ہوں“ اور میں اس کے لیے کسی قسم کے شبیہ و شریک کا قائل نہیں ہوں ( وَمَا اَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ)۔ واقعاً ایک سچے رہبر کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ صراحت سے اپنے پروگراموں اور اہداف کا اعلان کرے اوروہ خود اور اس کے پیرو کار بھی ایک مشخص پروگرام کی پیروی کریں۔ نہ یہ کہ اس کا ہدف، روش اور طریقہ ابہام میں ہو یایہ کہ ہر ایک الگ الگ راہ پر چل رہاہو۔ اصولی طور پر سچے رہبروں کو جھوٹے رہبروں سے جدا پہچاننے کا یہی ایک راستہ ہے کہ یہ صراحت سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کا راستہ واضح ہوتا ہے جب کہ جھوٹے کاموں کو چھپائے رکھتے ہیں اور ہمیشہ مبہم اور پہلو دار باتیں کرتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیه السلام) سے متعلق آیات کے بعد اس آیت کا آنا اس طرف اشارہ ہے کہ میری راہ و رسم خداکے عظیم پیغمبر حضرت یوسف (علیه السلام) کی راہ و رسم سے جدا نہیں ہے۔ وہ بھی ہمیشہ یہاں تک کہ گوشہٴ زندان میں بیٹھ کر بھی خدائے واحدو قہار کی طرف دعوت دیتے تھے اور اس کے اغیار کو اسماء بے مسمیٰ شمار کرتے تھے کہ جو تقلیداً جاہلوں کے ایک گروہ سے دوسرے تک پہنچے تھے۔ جی ہاں ! میری روش اور تمام انبیاء کی روش یہی ہے۔ گمراہ اور نادان قوموں کی طرف سے انبیاء پرہمیشہ یہ اعتراض ہوتا تھا کہ وہ انسان کیوں ہیں، یہ ذمہ داری فرشتے کے کندھے پر کیوں نہیں رکھی گئی؟ طبعاً زمانہٴ جاہلیت کے لوگ بھی پیغمبر اسلام پر ان کی عظیم دعوت کے جواب میں یہی اعتراض کرتے تھے لہٰذا قرآن مجید ایک مرتبہ پھر اعتراض کا جواب دیتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجے مگر یہ کہ وہ مرد تھے کہ جن کی طرف وحی نازل ہوتی تھی، ایسے مرد کہ جو آباد شہروں اور عوامی مراکز سے اٹھتے تھے ( وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالًا نُوحِی اِلَیْھِمْ مِنْ اَھْلِ الْقُرَی)۔ وہ بھی انہی شہروں اور آباد یوں میں دوسرے انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور لوگوں سے میل جول رکھتے تھے۔ ان کی مصیبتوں، تکلیفوں، ضروتوں اور مشکلوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ آیت میں لفظ ”من اھل قریٰ“ آیا ہے، یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ عربی زبان میں لفط ”قریة“ ہر قسم کے شہر آباد ی کو کہا جاتا ہے اور یہ لفظ ”بدو“ کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے جس کا معنی ہے بیان۔ ہو سکتا ہے یہ ضمنی طور پر اس طرف اشارہ ہو کہ انبیاء الہٰی ہرگز بیابانںنشینوں میں سے نہیں ہوتے تھے ( جیسا کہ بعض مفسرین نے تصریح بھی کی ہے ) کیونکہ بیابانوں میں گردش کرنے والے عام طور پر جہالت، نادانی اور قساوت قلبی میں گرفتار ہوتے ہیں اور مسائل زندگی اور روحانی و مادی ضروریات سے بہت کم آگاہی رکھتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ سر زمین حجاز میں صحرا نورد اعراب اور بدو بہت زیادہ تھے لیکن پیغمبر اسلام ؐمکہ میں مبعوث ہوئے کہ جو اس وقت نسبتاً بڑا شہر تھا اور یہ ٹھیک ہے کہ کنعان کا علاقہ سر زمین مصر کہ جس میں یوسف (علیه السلام) حکومت کرتے تھے کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا اسی بناء پر حضرت یوسف (علیه السلام) نے اس کے بارے میں لفظ ”بدو“ استعمال کیا لیکن ہم جانتے ہیں پیغمبر خداحضرت یعقوب (علیه السلام) اور ان کے بیٹے کبھی بھی صحرانورد اور بیاباں نشین نہیں تھے بلکہ ایک چھوٹے سے قصبے کنعان میں زندگی بسر کرتے تھے۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے : یہ جو تیری دعوت کے خلاف ہیں، جب کہ تیری دعوت توحید کی طرف ہے ان کے لیے بہتر ہے کہ جائیں اور گذشتہ لوگوں کے آثار اور نشانات دیکھیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کی مخالفتوں کا انجام کیا ہو گا۔ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ وہ دیکھ سکتے کہ گذشتہ قوموں کا انجام کیا ہوا ( اَفَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلھِمْ)۔ کیونکہ یہ”زمین میں سیر“ روئے زمین پر گردش۔ گذشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ اور عذاب الہٰی کی تباہ کن ضربوں کے نتیجے میں ان کے محلوں اور آبادیوں کی ویرانی بہترین درس ہے۔ یہ زندہ اور محسوس درس ہے اور ایسا درس ہے جوسب کے لیے قابل لمس ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور آخرت کا گھر پر ہیز گاروں کے لیے مسلماً بہتر ہے ( وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا )۔ کیا تمام عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی فکر و نظر کو کام میں نہیں لاتے (اَفَلاَتَعْقِلُونَ )۔کیونکہ یہاں کا گھر تو ناپائیدار ہے۔ یہاں تو طرح طرح کے مصائب و آلام و تکلیفیں ہیں لیکن وہاں کا گھر جاودانی ہے اور ہر قسم کے نج و تکلیف اور پریشانی سے خالی ہے۔ بعد والی آیت میں انبیاء کی زندگی کے حساس ترین اور زیادہ بحرانی لمحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : خدائی پیغمبر حق کی طرف دعوت دینے کی راہ میں استقامت دکھاتے تھے اور ڈٹے رہتے تھے اور دوسری طرف گمراہ اور سر کش قومیں اپنی مخالفت کو اس طرح جاری رکھتی تھیں کہ آخر کار انبیاء مایوس ہو جاتے اور گمان کرنے لگتے کہ شاید مومنین کے چھوتے سے گروہ نے بھی ان سے جھوٹ بولا ہے اور اپنی دعوت کے راستے میں وہ تن نہا ہیں۔ اس وقت کے جب ہر طرف سے ان کی امید ختم ہو گئی تو ہماری طرف سے نصرت و کامیابی آپہنچی جسے ہم چاہتے ہیں اور اہل پاتے ہیں، نجات دیتے ہیں ( حَتَّی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا اَنّھُمْ قَدْ کُذِبُوا جَائَھُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَشَاءُ)۔ "حتیٰ“ محذوف جملے کے لیے غایت و انتہا کی شکل میں ذکر ہوا ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے : ان الرسل اقاموا علی دوتھم و الکافرین بھم علی مخالفتھم حتیٰ اذا تیئس الرسل۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : ہمارا عذا ب و عقاب گنہگار اور مجرم قوم سے پلٹا ی انہیں جائے گا ( وَلاَیُرَدُّ بَاْسُنَا عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ )۔ یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ جب مجرمین اپنے کام پر اصرار کرتے ہیں اور اپنے اوپر ہدایت کے دروازے بند کرلیتے ہیں اور ان پر اتمام حجت ہو جاتی ہے تو پھر خدائی عذاب اور سزائیں ان کا تعاقب کرتی ہیں اور پھر کسی کی قدرت میں نہیں کہ انہیں پلٹاس کے۔ اس آیہ کی تفسیر کے متعلق اور یہ کہ ”ظنوا انھم قد کذبوا“کس گروہ کے بارے میں ہے، مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے یہی تفسیر بہت سے علماء نے انتخاب کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کا معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا تھا کہ وہ گمان کرنے لگتے کہ بغیر کسی استثناء کے تما م لوگ ان کی تکذیب کریں گے یہاں تک کہ اظہار ایمان کرنے والے مومنین بھی اپنے عقیدے میں ثابت قدم نہیں ہیں۔ اس کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ”ظنوا“ کا فاعل مومنین ہیں۔ یعنی مشکلات اور بحران کا عالم یہ ہوتا کہ ایمان لانے والے یہ خیال کرتے کہ کہیں انبیاء کی طرف سے دیا جانے وال نصرت و کامیابی کا وعدہ غلط نہ ہو اور یہ سوئے ظن اور تزلزل نئے ایمان لانے والوں میں پیدا ہو نا کوئی بعید نہیں ہے۔ بعض نے آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”انبیاء بلا کش و سبہ بشر تھے۔ جب انہیں زیادہ طولانی حالات کا سامنا ہو تا تو حالا ت کی اس سنگینی کا اثر ان پر بھی ہو تا۔ وہ دیکھتے کہ تمام دروازے بند ہو گئے ہیں اور کشائش کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، طولانی حوادث کے تھپیڑمسلسل انہیں پڑتے اور جن مومنین کے صبر کا یمانہ لبریز ہو جاتا ان کی فریاد متواتر ان کے کانوں سے تکراتی رہتی۔ جی ہاں ! اس حالت میں ایک ناپائیدار لمحے میں طبیعت بشری کی بناء پر بے اختیار یہ فکر ان کے دماغ سے ٹکراتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کامیابی کا وعدہ ہی غلط ثابت ہو جائے یا ممکن ہے کامیابی کا وعدہ ایسے شرائط سے مشروط ہو کہ جو حاصل نہ ہوئی ہوں لیکن بہت جلد وہ اس فکر پر غالب آجاتے اور اسے صفحہ دل سے محو کر دیتے اور امید کی بجلی ان کے دلوں میں کوندنے لگتی اور اس کے ساتھ ہی کامیابی کے آثار اور ہرا ول دستے ظاہر ہو تے“۔ اس تفسیر کے لیے انہوں نے سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۴ سے شاہد پیش کیا ہے : حتی یقول الرسول و الذین اٰمنوا معہ نصر اللہ یعنی۔۔۔۔۔گذشتہ قومیں شدائد ومصائب کے بھنور میں اس طرح پھنس گئیں اور وہ خود سے لرزنے لگیں یہاں تک کہ ان کے پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے پکارکے کہتے تھے : کہاں ہے خدا کی نصرت۔۔۔۔۔لیکن انہیں جواب دیا جاتا تھا : الا ان نصر اللہ قریب اللہ کی نصرت قریب ہے مفسرین کی ایک جماعت مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر رازی نے تفسیر کبیر میں یہ احتمال ذکر کرنے کے بعد اسے بعید قرار دیا ہے کیونکہ مقامِ انبیاء سے اس قدر بھی بعید ہے۔ بہرحال، پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ اس سورہ کی آخری آیت ایک جامع مضمون کی حامل ہے۔ اس میں وہ تمام مباحث مختصر سے الفاظ میں جمع کر دی ئے گئے ہیں جو اس سورہ میں گزرے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام)، ان کے بھائیوں، گذشتہ انبیاء و مرسلین اور مومن و غیرہ قوموں کی سرگزشت اور حالاتِ زندگی میں غوروفکر کرنے والے تمام صاحبانِ عقل کے لیے عبرت کے عظیم درس موجود ہیں ( لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِھِمْ عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِی الْاَلْبَابِ )۔ گزرے ہووٴں کی سر گزشت ایک آئینہ جس میں فتح و شکست، کامیابی و ناکامی، خو بختی و بد بختی اور سر بلندی و ذلت سب کچھ بھی دیکھا جا سکتا ہے، خلاصہ یہ کہ انسان اس آئینے میں وہ کچھ دیکھ سکتا ہے جو اس کی زندگی میں اہمیت اور منزلت رکھتا ہے اور وہ کچھ بھی دیکھ سکتا ہے جو اس کی زندگی میں اہمیت و منزلت نہیں رکھتا۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں گذشتہ قوموں اور عظیم رہبروں کے تمام تجر بات کا ماحصل نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کا مشاہدہ کم عمر والے انسان کو تمام عالم بشریت کی عمر کے برابر طولانی زندگی والا کر دیتا ہے۔ لیکن صرف اولو االباب اور صاحبان فکر ہی ہیں جو اس عجیب و غریب آئینہ سے ان نقوش عبرت کو دیکھ سکتے ہیں۔ مزید فرمایا گیا ہے: جو کچھ کہا گیا ہے کوئی گھڑا ہوا افسانہ اور خیالی داستان نہیں ہے (مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَی )۔ یہ آیات جو تجھ پر نازل ہوئی ہیں اور گذشتہ لوگوں کو صحیح تاریخ کے چہرے سے پردہ ہٹاتی ہیں تیرے دماغ اور فکر کی پیداوار نہیں ہیں ”بلکہ یہ ایک عظیم آسمانی وحی ہے، گذشتہ انبیاء کی بنیادی کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی شہادت دیتی ہے“ (وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْہِ)۔ علاوہ ازیں جس چیز کی انسان کو ضرورت ہے اور جو کچھ اس کی سعادت اور تکامل کے لیے درکار ہے وہ ان آیات میں آیا ہے ( وَتَفْصِیلَ کُلِّ شَیْءٍ)۔ اسی بناء پر یہ جستجو کرنے والوں کے لیے سرمایہٴ ہدایت ہے اور تمام ایمان لانے والوں کے باعثِ رحمت ہے (وَھُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ )۔ گویا مندرجہ بالا آیت میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہے کہ کوبصورت اور دل انگیز داستانیں و بہت ہیں اور تمام قوموں میں ہمیشہ خیالی اور دلکش افسانے بہت رہے ہیں . کہیں کوئی یہ تصور نہ کرے کہ یوسف (علیه السلام) کی سر گزشت یا قرآن میں آنے والے دیگر انبیاء کے واقعات بھی اسی قبیل سے ہیں۔ یہ امر بہت اہم ہے کہ یہ عبرت انگیز اور جھنجھوڑ نے والے واقعات عین حقیقت ہیں اور ان میں ذرہ بھر انحراف نہیں اور نہ کوئی خارجی چیز ان میں شامل کی گئی ہے۔ اسی بنا ء پر ان کی تاثیر بہت زیادہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خیالی افسانہ کتنا ہی جاذب نظر، ہلادینے والا اور مرتب و منظم ہو اس کی تاثیر ایک حقیقی واقعے کی نسبت کچھ بھی نہیں ہے ..کیونکہ : اولاً:۔ جس وقت سننے والا پڑھنے والا داستان کے زیادہ ہیجان انگیز لمحات تک پہنچتا ہے اور اس سے لرز نے لگتا ہے تو اچانک یہ خیال بجلی کی کرنٹ کی طرح اس کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک خیالی تصوراتی چیز سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ثانیاً:۔یہ واقعات اور داستانیں در اصل انہیں پیش کرنے والے کی فکر کو بیان کرتی ہیں۔ وہ اپنے افکار اور خواہشات کا نچور داستان کے ہیرو کے کردار میں مجسم کرتا ہے۔ لہٰذا ایک خیالی داستا ن ایک انسان کی فکر سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ چیز ایک عینی حقیقت سے بہت مختلف ہے۔خیالی بات کہنے والے کی نصیحت اور وعظ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی لیکن انسانوں کی حقیقی تاریخ کی یہ صورت نہیں ہے وہ تو نتیجہ خیز، پر بر کت اور ہر لحاظ سے راہ کشا ہوتی ہے۔

end of chapter