An-Naba
سورۂ نبَا
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۴۰ آیات ہیں۔
سورہ نبا کے مضامین اور اس کا دائرہ کار
قرآنِ مجید کے آخری پارہ کی سورتوں کی اکثریت، اصولی طور پر مفسرین کے اتفاق رائے کے مطابق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ان سورتوں میں مسئلہ مبداء و معاد اور بشارت و انذار ہی کی گفتگو ہے، اس لیے کہ مکی سورتوں کا یہی مزاج ہے، یہ آیتیں عام طور پر دل ہلا دینے والی ہیں اور یہ سرکوبی کرنے والا لب و لہجہ رکھتی ہیں۔ ان کا انذار ایسا ہے جو خفتہ دلوں کو بیدار کر دے۔ ان تمام سورتوں کی آیتیں، سوائے چند مختصر موارد کے، اشاروں سے پُر ہیں۔ اسی وجہ سے ہر قلب آگاہ پر پڑا گہرا اثر ڈالتی ہیں، حتٰی کہ جو ناواقف ہیں انہیں بھی متاثر کرتی ہیں۔ یہ بے روح ڈھانچوں میں جان ڈالتی ہیں اور غیر متوجہ افراد کو عہد کے پورا کرنے کا اور ذمہ داری و جوابدہی کا احساس بخشتی ہیں۔ یہ اپنا ایک علیٰحدہ جہانِ معانی رکھتی ہیں۔ سورہ نبا کے مزاج کی کیفیت بھی اپنی وجاہت کے اعتبار سے پورے پارے کی طرح ہے۔ یہ سورہ بیدار کرنے والے سوال سے شروع ہوتا ہے اور عبرتناک جملے پر ختم ہوتا ہے۔
اس سورہ کے مضامین کو چند حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
۱- سوال جو سورہ کی ابتداء میں ایک عظیم حادثہ (نبأ عظیم) یعنی روزِ قیامت کے بارے میں کیا گیا ہے۔ ۲- اس کے بعد چند نمونے خدا کی قدرت کے مظاہرے کے، آسمان و زمین کے اور انسانوں کی زندگی کے پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے لطف و کرم کو معاد و قیامت کے امکان کی دلیل کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔ ۳- تیسرے حصّہ میں قیامت کے آغاز کی کچھ نشانیاں بتاتا ہے۔ ۴- اس حصّہ میں سرکشی کرنے والوں پر نازل ہونے والے عذاب کا ایک رُخ پیش کرتا ہے۔ ٥- اس حصہ میں جنت کی تشویق دلانے والی نعمتوں کی تشریح کرتا ہے۔ ۶- آخر میں عذابِ قریب کے سلسلہ میں شدید خوف پر اور کافروں کی المناک سرنوشت کے ذکر پر سورہ ختم ہوتا ہے۔ اس سورہ کا نام رکھنے کی وجہ وہ تعبیر ہے جو اس کی دوسری آیت میں آئی ہے۔ بعض اوقات اسے سورہ عم، کا نام بھی دیا جاتا ہے اور یہ اس کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔
سورۂ نبا کی تلاوت کی فضلیت
پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث ہے (من قراء سورۃ عم یتساءلون سفاہ اللہ برد الشراب یوم القیامۃ) "جو شخص سورۂ عم یتساءلون پڑھے اسے خداوند عالم قیامت میں جنت کے ٹھنڈے اور خوشگوار مشروب سے سیراب کرے گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲٠)۔ ایک اور حدیث حضرت امام جعفر صادقؑ کی ہے (من قراء عمّ یتساءلون لم یخرج سنتہ اذا کان ید منھا فی کل یوم حتی یزور البیت الحرام) "جو شخص روزانہ سورہ عمّ یتسالون کی تلاوت کرتا رہے اس کا ایک سال مکمل نہیں ہو گا کہ وہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہو گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲٠)۔ ایک اور حدیث میں رسول خداؐ سے منقول ہے کہ (من قرأھا و حفظھا کان حسابہ یوم القیامۃ بمقدار صلٰوۃ واحد) جو شخص اسے پڑھے اور یاد کرے تو قیامت میں اس کا حساب اتنی جلد مکمل ہو گا، جتنی دیر میں ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر البیان، جلد ۴، ص ۴۱۹)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اھم خبر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12سورہ کی پہلی آیت میں تعجب آمیز استفہام کے عنوان سے فرماتا ہے: "وہ ایک دوسرے سے کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں"۔ (عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ)۔ (بحوالہ: مفردات راغب، مادہ نباء)۔ اس کے بعد بغیر اس کے کہ جواب کا انتظار کرتا خود اس کے جواب میں مزید فرماتا ہے: "وہ ایک عظیم اور اہم خبر کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔ (عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ)۔ "وہی خبر جس میں ہمیشہ اختلاف رکھتے ہیں"۔ (الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ)۔ اس خبر عظیم سے مراد کیا ہے، مفسرین نے اس سوال کے کئی جواب دیئے ہیں۔ ایک گروہ نے اسے قیامت کے دن کی طرف، بعض نے قرآن مجید کے نزول کی طرف اور بعض نے توحید سے لے کر قیامت تک کے تمام اصولِ دین کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور چند روایات میں اس کی تفسیر مسئلہ امامت و ولایت کے ساتھ ہوئی ہے جس کی طرف آئندہ نکات کی بحث میں اشارہ ہو گا۔ اس سورہ کی تمام آیات میں غور و فکر کرنے سے اور ان تعبیروں کو پیش نظر رکھنے سے جو بعد والی آیات میں آئی ہیں مثلاً (إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا) کا جملہ جو زمین و آسمان میں خدا کی قدرت کی نشانیوں کے ذکر کے بعد آیا ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ کہ مشرکین کی شدید مخالفت مسئلہ معاد میں تھی، یہ سب امور پہلی تفسیر یعنی، معاد و قیامت کی تائید کرتے ہیں۔ "نباء" بقول راغب مفردات میں اس خبر کے معنی میں ہے جو اہمیت رکھتی ہو اور فائدہ کی حامل ہو اور انسان اس کی نسبت علم و ظن غالب رکھے۔ یہ تینوں باتیں نباء کے معنی کی شرائط ہیں۔ (بحوالہ: مفردات راغب، مادہ نباء)۔ اس بنا پر عظیم کا لفظ بہت زیادہ تاکید کا اظہار کرتا ہے اور بحیثیت مجموعی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خبر جس میں ایک گروہ شک کرتا تھا، ایک جانی پہچانی اہم اور باعظمت حقیقت تھی اور جیسا کہ ہم نے کہا اس سے مراد قیامت تھی۔ (یتساءلون) ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں۔ کا جملہ ہو سکتا ہے کہ صرف کفار ہی کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمیشہ قیامت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے۔ لیکن یہ سوال تحقیق اور ادراک کی غرض سے نہیں ہوتا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد مؤمنین سے سوال کرتا ہو یا خود پیغمبرؐ سے سوال کرنا ہو۔ (تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیے کہ باب تفاعل اگرچہ عام طور پر ایسے کام کے معنی میں آتا ہے جو بصورتِ متقابل انجام پوئے، لیکن بعض موارد میں ثلاثی مجرد کے معنی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے معانی بھی رکھتا ہے (بعض اہل لغت نے تفاعل کے پانچ معانی بیان کیے ہیں۔ ۱۔ کسی کام کے انجام دینے میں دو یا دو سے زیادہ افراد کی مشارکت۔ ۲۔ مطاوعت مثلاً تباعد۔ ۳۔ واقعیت کے بغیر کسی چیز کا اظہار مثلاً تمارض(اپنے آپ کو مریض ظاہر کرنا)۔ ۴۔ کسی چیز کا بتدریج وقوع مثلاً تحاور۔ ٥۔ ثلاثی مجرد کے معنی میں مثلاً "تعالٰی" جو "علا" ، "بلند ہُوا" کے معنی میں ہے)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اگر "نباء عظیم" سے مراد قیامت ہے تو اس سے ظاہر بظاہر سب کافر انکار کرتے تھے، تو پھر یہ کیوں فرماتا ہے کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں، تو جواب میں ہم کہتے ہیں کہ معاد کا انکار مطلق طور پر قطعی و یقینی نہیں ہے، اس لیے کہ کافروں میں سے بہت سے فنائے جسم کے بعد روح کی بقاء کے قائل تھے، دوسرے لفظوں میں معادِ روحانی کو اجمالاً تسلیم کرتے تھے۔ جہاں تک معاد جسمانی کا تعلق ہے تو بعض اس میں شک کا اظہار کرتے تھے۔ اس بات کو قرآنی لب و لہجہ واضح کرتا ہے۔ (نمل /۶۶) کافروں میں سے بعض افراد شدت سے انکار کرتے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کو معاد جسمانی کا دعوٰی کرنے کی بناء پر معاذ اللہ دیوانہ یا خدا سے جھوٹ منسوب کرنے والا سمجھتے تھے۔ "اور عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا"۔ (كَلَّا سَيَعْلَمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: علمائے ادبِ عربی اور مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ "کلّا" حرف روح ہے اور اس کے معنی گزشتہ مطالب کی نفی یا نہی ہوتا ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ نادر طور پر دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے جن میں سے انہوں نے تین معانی کا نام لیا ہے، تاکید اور الا استفہامیہ اور حرفِ جواب، جو نعم کی منزلت رکھتا ہو، ان میں سے بعض نے ہر ایک کو منتخب کیا ہے۔ مجمع البحرین اور دوسری کتب)۔ "پھر بھی ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں اور عنقریب وہ آگاہ ہو جائیں گے"۔ (ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ)۔ اس دن باخبر ہوں گے جس دن ان کی واحسرتا کی فریاد بلند ہو گی، وہ اپنی کوتاہی اور کمی سے سخت پیشمان ہوں گے۔ (أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَى علَى مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّهِ) (زمر/٥۶)۔ وہ دن جس میں عذاب کی لہریں ان کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور وہ دُنیا کی طرف واپس لوٹنے کا تقاضا کریں گے۔ (هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِّن سَبِيلٍ) کیا واپس لوٹنے کی کوئی راہ ہے؟ (شورٰی/۴۴) یہاں تک کہ موت کے وقت جب انسان کی آنکھوں سے پردے اٹھ جائیں گے اور دوسری دنیا کے حقائق اس کے سامنے ظاہر ہوں گے اور اُسے برزخ اور معاد کا یقین ہو جائے گا تو اس وقت اس کی فریاد بلند ہو گی مجھے واپس لوٹاؤ تاکہ میں عملِ صالح انجام دوں۔ (رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ) (مؤمنون/ ۹۹، ۱٠٠) سیعلمون کی تعبیر (اس لیے کہ عام طور پر مستقبل قریب کے لیے آتی ہے)۔ اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا مرحہ نزدیک ہے اور دنیا کی ساری زندگی اس کے مقابلہ میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں رکھتی۔ یہ کہ اوپر کی دو آیتیں، جو بصورت تکرار آئی ہیں، ان سے ایک واقعیت کی (ان کی مستقبل قریب میں قیامت کے بارے میں آگاہی) تاکید مراد ہے یا دو الگ مطالب کا بیان ہے(پہلا اشارہ اس طرف ہے کہ مستقبل قریب میں دنیاوی عذاب کو دیکھیں گے اور دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ اس کے بعد آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے) اس سلسلہ میں مفسرین نے دو احتمال پیش کیے ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کے علم و دانش کی ترقی کے ساتھ ساتھ قیامت کے وجود کے دلائل و شواہد اس قدر زیادہ ہو جائیں گے کہ اس کا انکار کرنے والے بھی اقرار کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ لیکن اس تفسیر میں مشکل یہ ہے کہ اس قسم کی آگاہی نوعِ بشر کے آئندہ کے لوگوں کے لیے ہو گی نہ کہ اس گروہ کے لیے جو زمانہ پیغمبرؐ میں موجود تھا اور قیامت کے معاملہ میں اختلاف رکھتا تھا، جبکہ آیت اُسی گروہ کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔
چند نکات مسئلہ ولایت اور نباء عظیم
جیسا کہ ہم نے کہا ہے، نباء عظیم کی کئی تفسیریں ہوئی ہیں۔ قیامت، قرآن اور تمام اصولِ عقائدِ دینی جن میں مبداء و معاد عام طور پر شامل ہیں لیکن اس سورہ کے مجموعہِ آیات میں جو قرائن موجود ہیں وہ یہی بتاتے ہیں کہ نباء عظیم کی تفسیر معاد سے کرنا سب سے بہتر ہے۔ بہت سی اہلِ بیت سے اور بعض اہلِ سنت کے طرق سے نقل شدہ روایات میں "نباء عظیم" (بہت بڑی خبر) کی تفسیر امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی ولایت و امامت سے ہوتی ہے جس سے ایک جماعت کو اختلاف ہے۔ اس کی تفسیر ولایت عمومی سے بھی ہوئی ہے۔ یہ روایات بعض اوقات خود حضرت علیؑ سے اور بعض اوقات دوسرے آئمہ سے منقول ہیں۔ ہم یہاں تین روایتیں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں۔ اوّل: وہ روایت ہے جسے حافظ محمد بن مومن شیرازی نے نقل کیا ہے جو علمائے اہل سنت میں سے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے "عَمَّ يَتَسَاءَلُونَO عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ" کی تفسیر کے سلسلے میں فرمایا کہ اس سے مراد علیؑ کی ولایت ہے۔ اس کے بارے میں قبر میں سوال ہو گا اور کوئی شخص مشرق و مغرب میں اور بحر و بر میں نہیں مرتا مگر یہ کہ فرشتے اس سے موت کے بعد امیر المؤمنینؑ کی ولایت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ تیرا پیغمبر کون ہے؟ اور تیرا امام کون ہے؟ (بحوالہ: رسالہ "الاعقتاد" ابوبکر محمد بن مومن شیرازی (طبق نقل احقاق الحق، جلد۳، ص۴۸۴)۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جنگ صفین کے دوران لشکرِ شام میں سے ایک شخص جو بدن پر ہتھیار لگائے ہوئے تھا اور اس کے گلے میں قرآن حمائل تھا، میدان میں وارد ہوا، وہ سورہ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَO عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ کی تلاوت کر رہا تھا۔ حضرت علیؑ خود میدان میں آئے اور اس سے فرمایا: (اتعرف النباء العظیم الذی ھم فیہ مختلفون) کیا تو اس نباء عظیم کو جانتا ہے جس میں وہ اختلاف رکھتے ہیں؟ وہ کیا ہے؟ اس شخص نے جواب میں کہا کہ میں نہیں جانتا۔ تو آپ نے فرمایا: (انا و اللہِ النباء العظیم الذی فیہ اختلقتم و علی ولایتہ تنازعتم و عن ولایتی رجعتم بعد ما قبلتم۔۔۔و یوم القیامۃ تعلمون ما علمتم) "مَیں ہوں وہ نباء عظیم جس کے بارے میں تم اختلاف رکھتے ہو اور اس کی ولایت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو۔ تم میری ولایت سے پھر گئے ہو بعد اس کے کہ تم نے اسے قبول کر لیا تھا اور قیامت میں دوبارہ اس چیز کو جسے اس سلسلہ میں جان چکے ہو، جانو گے۔" (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد۴، ص۴٢٠، حدیث۹)۔ ۳۔ ایک روایت میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: (النباء العظیم الولایۃ) نباء عظیم سے مراد ولایت ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد۴، ص۴۱۹، حدیث ۳)۔ ان روایتوں کے مضامین میں اور آیت کی تفسیر کے بارے میں ہم نے قیامت کا جو ذکر کیا ہے ان دونوں کا اجتماع دو صورتوں میں ممکن ہے۔ ایک تو یہ کہ نباء عظیم کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ان سب مفاہیم پر حاوی ہے اگرچہ ان آیتوں کے نزول کے وقت قرآن مجید سب سے زیادہ اس جملہ کے بیان کرنے کے سلسلہ میں مسئلہ معاد کی طرف واضح اشارے کر رہا تھا لیکن یہ اس میں مائع نہیں ہے کہ اس آیت کے اور بھی مصداق ہوں۔ دوسرے یہ کہ، جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور بارہا ہم نے کہا بھی ہے۔ قرآن کے مختلف باطن ہیں یعنی اس بات کا امکان ہے کہ آیت کے کئی معانی ہوں جن میں سے ایک معنی ظاہر ہوں اور دوسرے بطونِ قرآن سے تعلق رکھتے ہوں، جن سے مختلف قرائن کے ذریعہ استفادہ کیا جا سکتا ہو۔ باالفاظ دیگر، یہ ایک قسم کی التزامی دلالت ہے جو ہر فرد پر واضح نہیں ہوتی۔ صرف یہی آیت نہیں جو ظاہر و باطن کی حامل ہے بلکہ قرآن مجید میں ایسی بہت آیتیں ہیں جن کے بارے میں روایات میں مختلف تفاسیر تجویز ہوتی ہیں جن میں سے بعض ظاہر کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور بعض باطنِ قرآن کی ترجمان ہیں۔ لیکن اس نکتہ پر زور دینے کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی یاد دلاتے ہیں اور ذہن نشین کراتے ہیں کہ واضح قرائن کے بغیر یا ایسی تفاسیر کے بغیر جو پیغمبراکرمؐ یا ائمہ معصومین سے منقول نہ ہوں بطونِ قرآن کا سمجھنا جائز نہیں ہے۔اور وہ قرآن کے بطون اس لئے نہیں ہیں کہ مفاد پرست اور منحرف قسم کے افراد آیاتِ قرآنی کی جس طرح چاہیں تاویل و تفسیر کریں۔
٢۔ معاد و قیامت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے
ہم کہہ چکے ہیں کہ اہم ترین مسئلہ جس پر قرآن کے تیسویں پارہ کی بشتر آیات میں، بااتفاق مفسرین، زور دیا گیا ہے وہ مسئلہ معاد و قیامت ہے اور مذکورہ سب آیتیں مکّی ہیں۔ ان آیتوں میں قیامت کے دن سے متعلق انسان کے حالات کی تشریح و تفصیل ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ انسان کی اصلاح کے سلسلہ کا پہلا قدم ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ حساب کا سامنا کرنا ہے۔ ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جس کے حاکم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں نہ ظلم و جور کی کوئی گنجائش ہے، نہ وہاں خطا و اشتباہ کا کوئی امکان ہے، نہ اس میں سفارش و رشوت کام آ سکتی ہے، نہ جھوٹ بولنے سے کام چل سکتا ہے اور نہ انکار کرنے کی گنجائش ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وہاں عذاب و سزا کے چنگل سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یہاں دنیا میں رہتے ہوئے گناہ کو ترک کر دیا جائے۔ تو اس قسم کے محکمے اور عدالت کے وجود پر ایمان رکھنا انسان کے دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور سوئی ہوئی روحوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ تقوٰیٰ کی روح، عہد کی پاسداری، جوابدہی اور ذمہ داری کا احساس انسان میں پیدا کرتا ہے اور اسے فرض شناسی کے عرفان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جس ماحول میں فساد ہو اور وہاں تخریبی عناصر رخنہ اندزی کریں، اصولی طور پر دو اسباب میں سے ایک اس کا سبب ضرور ہوتا ہے۔ ایک تو نگرانی و نگہبانی کی قوت کی کمزوری، دوسرے نظامِ عدالت کا ضعف۔ اگر تیز نگاہ رکھنے والے نگران انسانوں کے اعمال پر نظر رکھیں اور عدالتیں گہری نظر کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی سزا پر علمدرآمد کریں اور کوئی مجرم سزا سے نہ بچے تو اس قسم کے ماحول میں یقینًا فساد، گناہ، تجاوزعین الحدود، ظلم اور سرکشی کا تقریبًا خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ جہاں مادی زندگی نگہبانوں اور عدالتوں کے اس طرح زیر سایہ ہو وہاں معنوی زندگی جو اللہ کے لیے ہو اس کا معاملہ واضح ہے۔ لٰہذا ایسے مبداء پر ایمان رکھنا جو ہر جگہ انسان کے ساتھ ہو (لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ) "ایک ذرہ کی مقدار کا بوجھ بھی اس کے علم سے مخفی نہیں ہے"۔(سبا/۳)۔ اور قیامت کے وجود پر ایمان جو (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُO وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) (زلزال/۷۔۸)۔ "اچھے اور بُرے کام ایک ذرہ بھی فراموشی کے سپرد نہیں ہو گا"۔ اور وہاں اس کے سامنے موجود ہو گا، انسان میں ایسا تقوٰیٰ پیدا کرتا ہے جو زندگی بھر راہِ خیر میں اس کا راہنما ہو سکتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12یہ آیتیں حقیقت میں منکرین معاد اور نباء عظیم میں اختلاف کرنے والوں کے سوالوں کا جواب ہیں، اس لیے کہ ان آیات میں اس عالمِ ہستی کے حکیمانہ نظام اور حساب شدہ نعمتوں کا ایک ایسا گوشہ بیان ہوا ہے جو انسانوں کی زندگی پر بہت ہی اثر انداز ہے، جو ایک طرف تو ہر چیز پر، علی الخصوص مُردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر قدرتِ خدا کی واضح دلیل ہے، دوسری طرف اس سمت اشارہ ہے کہ یہ حکیمانہ نظام فضول اور عبث نہیں۔ حالانکہ اگر دنیا کی اس مادی زندگی کے ختم ہونے کے ساتھ ہی تمام معاملات ختم ہو جاتے تو یقیناً یہ منصوبہ عبث اور فضول ہوتا۔ اس طرح یہ آیات دو جہتوں سے مسئلہ معاد کے لیے استدلال فراہم کرتی ہیں: "برہانِ قدرت" کے ذریعہ بھی اور "برہانِ حکمت" کے طریق سے بھی۔ ان گیارہ آیتوں میں بارہ اہم نعمتوں کی طرف لطف و محبت سے لبریز استدلال اور کرم و مہربانی کی تشویق سے ہم آغوش تعبیروں کے ساتھ اشارہ ہوا ہے۔ اور وہ اس لیے کہ اگر عقلی دلائل کے ساتھ روحانی مسرت کا سامان نہ ہو تو پھر استدلال عقلی کی تاثیر کم ہو جائے گی۔ ابتداء زمین سے کی ہے فرماتا ہے: "کیا ہم نے زمین کو گہوارہ اور تمہارے لیے سکون کی جگہ قرار نہیں دیا ہے۔" (أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا)۔ "مھاد" جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے، صاف ستھری اور مرتب جگہ کے معنی میں ہے اور اصل میں عہد سے لیا گیا ہے۔ یہ اس جگہ کے معنوں میں ہے جو بچے کے آرام کے لیے تیار کی گئی ہو۔ (وہ خواہ بستر ہو یا گہوارہ)۔ اربابِ لغت اور مفسرین کی ایک جماعت نے اس کی تفسیر فرش یعنی بستر سے کی ہے جو صاف و نرم بھی ہو اور آرام دہ بھی۔ زمین کے لیے اس تعبیر کا انتخاب بہت ہی پُرمعنی ہے۔ اس لیے کہ ایک تو زمین کے بہت سے حصے اس طرح نرم و صاف اور مرتب ہیں کہ انسان ان پر اچھی طرح سے گھر بنا سکتا ہے، زراعت کر سکتا ہے اور باغ لگا سکتا ہے۔ دوسرے اس کی تمام ضرورتیں سطح زمین پر یا زمین کی گہرائیوں میں مواد اولیہ اور قیمتی معدنیات کی شکل میں موجود ہیں۔ تیسرے یہ کہ انسان کے زائد مواد کو زمین اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ مُردوں کے جسم اس کے اندر دفن کرنے سے بہت جلد ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور بکھر جاتے ہیں اور اس طرح انواع و اقسام کے جراثیم ان پوشیدہ اثرات کے ماتحت ختم ہو جاتے ہیں جو دستِ قدرت نے زمین کو ودیعت کیے ہیں۔ چوتھے یہ کہ زمین سورج کے گرد اور خود اپنے گرد نرم اور تیز قسم کی گردش کرتی ہے جس سے رات اور دن بنتے ہیں اور وہ چار فصلیں حاصل ہوتی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ پانچویں بات یہ کہ یہ پانی کے بہت زیادہ حصہ کو جو اس کی سطح پر برستا ہے، اپنے اندر ذخیرہ کر لیتی ہے اور چشموں اور ندی نالوں کی شکل میں باہر بھیجتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس آرام دہ بستر میں اس زمین کی اولاد کے لیے آسائش کے تمام وسائل موجود ہیں۔ اس نعمت کی اہمیت اس وقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب معمولی سا زلزلہ اور الٹ پلٹ کر دینے والا تنزلزل اس میں پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ ممکن ہے کہ مسطح زمینوں کی نرمی کے مقابلہ میں پہاڑوں کی اہمیت اور انسانی زندگی میں ان کے اثرات فراموش ہو جائیں، اس لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "کیا ہم نے پہاڑوں کو زمین کی میخیں قرار نہیں دیا" (وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا)۔ پہاڑ اس کے علاوہ کہ بہت عظیم اور بڑی بڑی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں رکھتے ہیں اور وہاں یہ ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور یہ زمین کی کھال کو زرہ کی طرح اندرونی طور پر پگھلنے والے مواد کے دباؤ سے اور چاند سے پیدا ہونے والے مدو جزر کے جاذبہ کی تاثیر سے محفوظ رکھتے ہیں اور شدید اور زبردست طوفانوں کے مقابلہ میں دیوار ثابت ہوتے ہیں اور اس طرح انسان کی آسائش کے گہوارے کی ایک قابلِ اطمینان پناہ گاہ تیار کرتے ہیں۔ حقیقتاً اگر یہ نہ ہوتے تو انسان زندگی ہمیشہ طوفانوں کی سر کچلنے والی ضربوں کے زیرِ اثر بےسکون ہو کر رہ جاتی۔ مزید یہ کہ یہ پانی اور قیمتی معدنیات کا مرکز ہیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ کرہ زمین کے اطراف میں ہوا کا ایک عظیم خطہ موجود ہے جس میں پہاڑ، سائیکل کے دندانے دار چکر کی شکل میں، پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور زمین کے ہمراہ حرکت کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سطح زمین صاف ہوتی تو ہوا کا طبقہ زمین کی حرکت کے وقت اس کے اوپر ہلتا رہتا ہے اور بڑے بڑے طوفان پیدا کرتا اور یہ بھی ممکن تھا کہ یہ دائمی ٹکراؤ زمین کو زیادہ گرم، جلن پیدا کرنے والی اور ناقابل سکونت بنا دیتا۔ آفاقی نعمتوں کے دو نمونے بیان کرنے کے بعد وجودِ انسان کی اندرونی اور انفسی آیات کو موضوعِ گفتگو بناتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا"۔ (وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا)۔ (تشریحی نوٹ: (وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا) کا جملہ اور اس طرح اس سے مشابہ جملے جو بعد والی آیتوں میں آئے ہیں مستقل اور مثبت جملوں کی شکل میں ہیں اور یہ جو بعض مفسرین نے احتمال تجویز کیا ہے کہ منفی شکل میں ہیں اور "الم نجعل" جو گذشبہ آیت میں تھا اس کے مفہوم پر عطف ہیں، بعید نظر آتا ہے اور وہ تقدیر وحذف کا محتاج ہے)۔ "ازواج" ، "زوج" کی جمع ہے جو مذکر و مؤنث کی جنس کے معنوں میں ہے۔ انسان کی خلقت ان دو صنفوں سے، علاوہ اِس کے کہ اُس کی نسل کی بقاء کی ضامن ہے، اُس کے جسم و جان کے سکون کا سبب بھی ہے، جیسا کہ سورہ روم کی آیت۲۱ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً)۔ (عظمتِ) خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ازواج کو پیدا کیا ہے تاکہ ان کے ذریعہ تمہیں سکون نصیب ہو اور تمہارے درمیان محبت و رحمت قرار دی ہے۔" دوسرے لفظوں میں مذکر و مؤنث کی نوع میں سے ہر ایک دوسرے کے وجود کی تکمیل کرتی ہے اور اپنے مقابل کے نقائص کو ختم کرتی ہے۔ اور چونکہ ازواج کا لفظ لغت میں اصناف و انواع کے معانی میں بھی آیا ہے اس لیے کچھ افراد نے اس آیت کو انسانوں کی مختلف اصناف کی طرف اشارہ سمجھا۔ اور رنگ و نسل و جذبات واستعداد کا جو فرق انسانوں کے درمیان ہے وہ حق تعالیٰ کی عظمت کی دلیل اور انسانی معاشرے کے تکامل و ارتقاء کا سبب ہے۔ اس کے بعد نیند جو انسان کے لئے خدا کی ایک عظیم نعمت ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرمایا ہے: "ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے آرام و سکون کا باعث قرار دیا ہے"۔ (وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا)۔ "سبات" ، "سبت" (بروزن وقت) کے مادہ سے اصل میں کانٹے کے معنی میں ہے۔ اس کے علاوہ آرام کی خاطر کام چھوڑنے کے معنی میں بھی آیا ہے اور یہ جو عربی زبان میں ہفتہ کا دن "یوم السبت" کے نام سے موسوم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نام یہودیوں سے متاثر ہونے کے نتیجے میں ہو، اس لیے کہ وہ ہفتہ کے دن کو چھٹی کا دن سمجھتے ہیں۔ سبات کی تعبیر ایک لطیف اشارہ ہے اور یہ اشارہ نیند کی حالت میں انسان کی قابلِ توجہ، جسمانی اور روحانی فعالیتوں کے کئی حصّوں کے معطل ہونے کی طرف ہے اور یہی وقتی تعطیل تھکے ماندے اعضاء وجوارح کے آرام، روح و جسم کی تقویت، نشاطِ انسانی کی تجدید اور ہر قسم کی تھکن اور بے آرامی کے دور ہونے کا سبب ہے اور بالآخر تجدید فعالیت کے لئے آمادگی کا باعث ہے۔ باوجودیکہ انسانی زندگی کے ایک تہائی حصے کو نیند گھیرے ہوئے ہے اور یہ صورتِ حال ہمیشہ انسان کو پیش آتی ہے لیکن نیند کے اسرار ابھی تک اچھی طرح نہیں کھلے، حتیٰ کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی کہ وہ کونسا عامل ہے جو اس چیز کا سبب بنتا ہے کہ ایک معین وقت میں دفاع کی فعالیتوں کا ایک حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کے بعد آنکھوں کی پلکیں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں اور تمام اعضائے بدن سکون سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ابھی تک صحیح طریقہ سے واضح نہیں ہوئی۔ لیکن یہ چیز بالکل واضح ہے کہ نیند انسان کی صحت و سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسی بناء پر نفسیات و روح کے معالج اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے بیماروں کی نیند کو عامل اور عادی شکل میں لے آئیں، اس لیے کہ اس کے بغیر نفسیاتی اعتدال ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ افراد جو طبعی اور فطری شکل میں نہیں سو سکتے وہ پژمردہ، غصیل، افسردہ و غمگین اور پریشان قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو افراد معتدل نیند کا لطف اٹھاتے ہیں جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو حد سے زیادہ خوشی اور قوت اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ ایک آرام بخش نیند کے بعد جو مطالعہ کیا جائے وہ بہت جلد اثر کرتا ہے اور فکری و جسمانی کام اس قسم کی نیند کے بعد ہمیشہ بہت ہی خوشگوار محسوس ہوتے ہیں اور یہ سب چیزیں نیند کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ کسی انسان کے لیے بےچین کر دینے والی بےخوابی سے بڑھ کر کوئی شَے تکلیف دہ نہیں۔ یہ اسے مجبور محض بنا کر رکھ دیتی ہے، اور تجربہ بتاتا ہے کہ بےخوابی کے مقابلہ میں انسان کی قوتِ برداشت بہت ہی کم ہوتی ہے۔ ایسا انسان بہت کم عرصہ میں شدید امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب تک نیند کی اہمیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے مراد وہ نیند ہے جو اعتدال کی حالت میں ہو ورنہ زیادہ سونا اتنا ہی بُرا ہے جتنا زیادہ خوراک کھانا۔ یہ دونوں چیزیں مختلف امراض کی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ فطری اور طبعی نیند کی مقدار تمام انسانوں میں یکساں نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی معین حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا یہ ہر شخص کا اپنا فرض ہے کہ وہ اپنی جسمانی اور روحانی فعالیتوں کو جانچ تول کو یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لیے کتنی نیند مفید ہے۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ سخت قسم کے حادثات رونما ہونے کے وقت، جس انسان لاچار محض ہوتا ہے وہ بہت دیر تک بیدار رہتا ہے۔ بے خوابی کے مقابلہ میں انسان کی قوت برداشت وقتی طور پر بہت بڑھ جاتی ہے۔ نیند کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات تو بہت حد تک نیند کم ہو جاتی ہے۔ ایک یا دو گھنٹے کی نیند رہ جاتی ہے۔ لیکن بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اس کمی کا حالات کے معمول پر پہنچنے کے بعد فقدان ہو جاتا ہے اور انسان کے جسم و روح نیند کی مطلوبہ مقدار کو چاہنے لگتے ہیں۔ البتہ ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو کئی مہینے مسلسل جاگے رہیں اور ایک لمحے کے لئے بھی نیند ان کی آنکھوں میں نہ آئے۔ اس کے برعکس کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو کوچہ و بازار میں چلتے پھرتے۔ بلکہ اس وقت جس وقت وہ آپ سے باتیں کر رہے ہوں۔ انہیں نیند آ جاتی ہے۔ وہ اگر تنہا ہوں تو معاملہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس قسم کے افراد یقیناً صحت مند نہیں ہوتے اور وہ بالآخر جسمانی و روحانی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ چیز جسے نیند کہتے ہیں ایک بہت ہی عجیب قسم کی تبدیلی ہوتی ہے جو انسان میں نمودار ہوتی ہے اور یہ بہت زیادہ عجائبات کی حامل ہوتی ہے اور انسان کی زندگی میں ایک قسم کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: نیند کے عجائبات کے سلسلہ میں ہم ایک دوسری بحث جلد ۱۶، ص۴٠۴ سے آگے سورہ روم کی آیت ۲۴ کے ذیل میں درج کر چکے ہیں۔ اس طرح ان مناظر کے سلسلہ میں جو انسان خواب میں دیکھتا ہے اور اس کی عجیب و غریب چیزوں کے متعلق تفصیل بحث جلد۹، ص۶۶ تا ۴۷۷ (سورہ یوسف کی آیت۴ کے ذیل میں) ہم بیان کر چکے ہیں)۔ اگرچہ مندرجہ بالا آیت نیند کو خدا کی عطا کی ہوئی ایک نعمت قرار دیتی ہے لیکن چونکہ نیند موت سے مشابہت رکھتی ہے اور بیداری قیامت اور مُردوں کے قبروں سے اُٹھنے سے مشابہ ہے، لہذا اس طرف بھی اشارہ ممکن نظر آتا ہے۔ اس کے بعد نیند ہی کے حوالے سے رات کی بات نکل آتی ہے جو بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ پروردگار عالم فرماتا ہے: "ہم نے رات کو لباس قرار دیا ہے۔" (وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا)۔ پھر بلافاصلہ مزید فرماتا ہے: "اور دن کو زندگی کے لیے ہم نے وسیلہ قرار دیا ہے۔" (وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا)۔ (تشریحی نوٹ: "معاش" ہو سکتا ہے کہ اسم زمان یا اسم مکان زندگی کے زمانہ یا مکان کے معنی میں ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصدر میمی ہو اور اس صورت میں اس میں محذوف ہو اور تقدیر عبارت میں "سبباً لمعاشکم" ہو اور ضمنی طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معاش "عیش" کے مادہ سے زندگی کے معنی میں ہو۔ اس کا فرق حیات سے یہ ہے کہ حیات کا اطلاق خدا اور فرشتوں پر بھی ہوتا ہے لیکن "عیش" کا لفظ انسان اور حیوان کی زندگی سے مخصوص ہے)۔ تنویین (دو خداؤں کے ماننے والے) اسرار خلقت سے بےخیر ہونے کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ نور اور دن کی روشنی نعمت ہے اور رات اور اس کی تاریکی شر ہے اور عذاب ہے۔ وہ ہر ایک کے لئے الگ الگ خدا کے قائل ہیں۔ ایک کو یزداں کہتے ہیں اور دوسرے کو اہرمن کے نام سے پکارتے ہیں۔ تھوڑے سے غور و فکر کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا نظریہ غلط ہے۔ دن رات دونوں اپنی جگہ نعمتِ پروردگار ہیں اور بہت سی دوسری نعمتوں کے لیے سرچشمے کا کام دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کے مطابق پردہِ شب زمین کی پوشش اور لباس کا کام دیتا ہے اور تمام زندہ موجودات جو زمین پر زندگی بسر کرتے ہیں وہ زندگی کی تھکا دینے والی مصروفیتوں کو مجبوراً معطل کر دیتے ہیں اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں اور تاریکی جو سکون و آرام اور استراحت کا سبب ہے، ہر چیز پر تسلط اختیار کر لیتی ہے تاکہ تھکے ماندے جسم تر و تازہ ہو جائیں اور خستہ و کوبیدہ انسان دوبارہ نشاط روح کو حاصل کرلے، اس لیے کہ سکون و آرام کی نیند تاریکی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ قطع نظر ان سب باتوں سے پردہ شب کے حائل ہو جانے سے سورج کی روشنی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اگر مسلسل پڑتی رہے تو تمام نباتات و جمادات کو جلا کر رکھ دے اور کام کے قابل نہ رہے۔ اس بناء پر قرآن مجید نے بارہا اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے۔ پروردگار عالم ایک مقام پر فرماتا ہے: (قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ)۔ "کہہ دے مجھے بتاؤ کہ اگر خدا دن کو قیامت تک جاری رکھے تو خدا کے علاوہ کون ہے جو رات کو تمہارے لیے لے آئے گا تاکہ تم اس میں سکون و اطمینان حاصل کرو۔" (قصص/۷۲)۔ اس کے بعد فرماتا ہے: (وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ) یہ اس کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن قرار دیئے تاکہ اس میں تم سکون و اطمینان حاصل کرو اور اس میں فضلِ خدا سے فائدہ اتھانے کے لیے سعی و کوشش کرو۔" قصص/۷۳) قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ قرآن مجید میں بہت سے اہم موضوعات کی ایک دفعہ قسم کھائی گئی ہے جبکہ رات کی سات مرتبہ قسم کھائی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قسم اہم امور کی کھائی جاتی ہے اور یہ بجائے خود پردہ ظلمتِ شب کی اہمیت کی دلیل ہے۔ وہ لوگ جو رات کو مصنوعی روشنی سے منور کرتے ہیں اور ساری رات جاگتے رہتے ہیں اور اس کی بجائے دن کو سوتے ہیں وہ رنجیدہ، غیر صحت مند اور محروم مسرت رہتے ہیں۔ دیہات جہاں شہر کے برعکس رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور صبح کو جلدی اٹھتے ہیں وہاں زندگی زیادہ صحت و سلامتی کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔ رات کے کچھ اپنے اور ضمنی منافع بھی ہیں۔ اس کے آخری لمحات بارگاہِ خدا میں راز و نیاز، عبادت، تعمیر ذات اور تربیت نفوس کے لیے بہترین ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآنِ مجید پرہیزگاروں کی تعریف میں کہتا ہے: (وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ) "وہ اوقات سحر میں استغفار کرتے ہیں۔" (ذاریات/۱۸) دن کی روشنی بھی بجائے خود ایک نعمت ہے۔ یہ انسان میں جوش و حرکت پیدا کرتی ہے اور اسے کام اور تلاش معاش کی تحریک دیتی ہے اور نباتات کو اپنی روشنی کے سائے میں اگاتی ہے اور حیوانات کو اپنے زیر سایہ منزلِ رشد تک پہنچاتی ہے، انیہں نشوونما بخشتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا تعمیر جس میں فرماتا ہے: "ہم نے دن کو تمہاری معاش اور زندگی کا وسیلہ و ذریعہ قرار دیا ہے۔" ہر لحاظ سے عمدہ اور پُرمعنی تعبیر ہے جو کسی شرح و توصیف کی محتاج نہیں ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ دن اور رات کی آمد و رفت اور ان کے نظامِ دقیق کے تدریجی تغیرات عملِ تخلیق کی ایک آیت اور خدا کی ایک نشانی ہیں۔ اس کے علاوہ انسانوں کی زندگی کی زمانی نظام بندی کے لیے ایک طبعی اور فطری تقویم کے پیدا ہونے کا سرچشمہ شمار ہوتے ہیں۔ اس کے زمین سے آسمان کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے تمہارے سر کے اوپر سات مستحکم آسمان بتائے ہیں۔" (وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا) یہاں سات کاعدد ہو سکتا ہے کہ عدد تکثیر ہو اور آسمان کے متعدد کُروں، کہکشاں اور نظام ہائے شمسی کے مجموعہ کی طرف اشارہ ہو جو مستحکم خلقت اور عظیم و قوی تعیمر کے حامل ہیں۔ یا یہ عدد "تعداد" ہو، اس طرح کہ جتنے ستارے ہم دیکھتے ہیں۔ سورہ صافات کی آیت۶ کے حکم کے مطابق (إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ) "ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں سے زینب، بخشی۔ پہلے آسمان سے متعلق ہوں اور ان کے علاوہ چھ دوسرے عوالم اور آسمان وجود سمجھتے ہوں جو علمِ بشر کی دسترس سے خارج ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین کے اطراف میں ہوا کے متعدد طبقات ہوں جو ظاہری طور پر دقیق ہونے کے باوجود اس طرح مستحکم ہیں کہ اس کرہ خاکی کو آسمانی پتھروں کے مسلسل حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور جس وقت بھی ان میں سے کوئی کُرّہ زمین میں جذب ہوتا ہے خطہ ہوا سے شدید تصادم کی بناء پر اس طرح گرم ہو جاتا ہے کہ اس میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ جل کر خاک ہو جاتا ہے اور اس کی خاکستر نرم ہو ملائم ہو کر زمین پر بیٹھ جاتی ہے۔ اگر یہ خطہ ہوا نہ ہوتا تو ہمارے شہر اور آبادیاں شب و روز ان پتھروں کے گرنے کی زد پر ہوتیں۔ بعض ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اطراف زمین میں پائے جانے والے خطہ ہوا کی استقامت جو ایک سو کلومیٹر کی ضخامت سے زیادہ ہے۔ ایک پولاڈین کی چھت کی دس میٹر کی ضخامت کے برابر ہے اور "سبع شداد" کی یہ ایک تفسیر ہے۔ (تشریحی نوٹ: سات آسمانوں اور ان کی تفسیر کے سلسلہ میں (سورہ بقرہ کی آیت ۲۹ کے ذیل میں) ہم تفصیل بحث کر چکے ہیں)۔ آسمانوں کی خلقت کی طرف ایک اجمالی اشارہ کرنے کے بعد آفتابِ عالمتاب جیسی عظیم نعمت کی طرف رُخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے نورانی اور حرارت بخش چراغ پیدا کیا ہے۔" (وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا)۔ (تشریحی نوٹ: "جَعَلْنَا" یہاں خلقنا کے معنی میں ہے اس نے ایک مفعول لیا ہے)۔ ""وھّاج" ، "وھج" (بروزن کرج) کے مادہ سے اس نور و حرارت کے معنی میں ہے جو آگ سے برآمد ہوتے ہیں۔ ( بحوالہ: مفرداتِ راغب، مادہ۔ وھج۔ لسان العرب اس لفظ کے معنی میں کہتی ہے "دور کے فاصلہ سے سورج اور آگ کی حرارت")۔ اس بناء پر اس پُرفروغ چراغِ آسمانی کی اس صفت کا ذکر دو عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اس جہان کی عام مادی نعمتوں کا سرچشمہ ہیں یعنی "نور و حرارت"۔ سورج کی روشنی نہ صرف یہ کہ انسان کی زندگی کے تمام نظامِ شمسی کے صحن کو روشن کرتی ہے بلکہ زندہ موجودات کی پرورش میں بڑا گہرا دخل رکھتی ہے۔ سورج کی حرارت علاوہ اس کے کہ انسان، حیوان اور نباتات کی زندگی میں براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ بادلوں کے بننے، ہواؤں کے چلنے، بارشوں کے برسنے اور خشک زمینوں کی آبیاری کا اصل منبع و سرچشمہ ہے۔ سورج مخصوص شعاعوں کی وجہ سے (آبی اور سرخ شعاؤں کے علاوہ) جراثیم کشی میں بہت زیادہ کارآمد ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو کرہ ارض ایک بڑے ہسپتال میں تبدیل ہو جاتا اور یہ ممکن تھا کہ مختصر سی مدت میں تمام زندہ موجودات کی نسل مردہ ہو جاتی۔ سورج صحیح و سالم مفت اور دائمی مناسب فاصلے سے نہ زیادہ گرم اور جلانے والی، نہ سرد اور بے روح روشنی ہم سب کو عطا کرتا ہے۔ اگر سورج سے نکلنے والی قوت کی قیمت کا قوت کے دوسرے منابع کی قیمت کے ساتھ ہم حساب لگائیں تو وہ بہت بڑے عدد کو تشکیل دے۔ اگر فرض کریں کہ ہم ایک سیب کے درخت کی مصنوعی روشنی اور قوت کو پرورش کریں تو سیب کے ہر دانہ کی قیمت ہم کو پریشان کرکے رکھ دے۔ جی ہاں! یہ عالمِ ہستی کا "سراج دھاج" تمام قوت ہم سب کو مفت عطا کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: کتاب "دنیائے سیارگان، تالیف، انتری وایت، میں اس نوروحرارت کا حساب لگایا گیا ہے جو سورج اہلِ زمین کو دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر فرض کریں اس نور و حرارت کے لیے جو ہم سورج سے مفت لیتے ہیں بجلی کی عام قیمت کے مطابق پیسہ خرچ کریں تو روئے زمین کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ہر گھنٹے ایک ارب اور سات سو ملین ڈالر ادا کریں۔ اور ایک سال میں یہ رقم لرزہ براندام کر کے رکھ دے گی۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ کتنی عظیم دولت اس وسیلہ سے ہمیں مفت مل رہی ہے۔ "ازجہانہائے دور" کے مصنف کے بقول اگر زمین کے لوگ اس روشنی کو جو سورج سے لیتے ہیں بلبوں سے حاصل کریں جو اُس جگہ نصب ہوں جہاں سورج ہے تو ہر ایک شخص کے بدلے سو شمع والے پانچ ملین ارب بلب روشن ہونے چاہیئں)۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق سورج کا دائرہ کرہ زمین سے تقریباً ایک ملین اور تین لاکھ گناہ بڑا ہے اور اس کا فاصلہ تقریباً ایک سو پچاس ملین کلو میٹر ہے اور سطح خورشید کی بیرونی حرارت قریب قریب بیس ملین درجہ ہے۔ یہ سب کچھ اس قدر جچا تلا حساب شدہ ہے کہ اگر تھوڑا سا کم یا زیادہ ہو جاتا تو اہلِ زمین کے لیے عرصہ حیات تنگ ہو جاتا اور زندگی کا امکان ختم ہو جاتا۔ اس کی تفصیل مختصرًا بیان میں نیہں آ سکتی۔ نور و حرارت کی نعمت کے بعد ایک اور حیاتی مادہ جو سورج کے چمکنے سے تعلق رکھتا ہے، اس کی بات درمیان میں لاتا ہے اور مزید فرماتا ہے: "اور ہم نے بارش برسانے والے بادلوں سے بہت سا پانی نازل فرمایا" (وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا)۔ "مُعْصِرَاتِ" ، "معصر" کی جمع ہے۔ یہ عصر کے مادہ سے ہے اس کے معنی دبانے اور نچوڑنے کے ہیں، جن سے بارش برسانے والے بادلوں کی طرف اشارہ ہے، گویا وہ اپنے آپ کو دباتے اور نچوڑتے ہیں تاکہ پانی ان کے اندر سے باہر نکلے۔ (تشریحی نوٹ: بعض ماہرین کے بقول بادلوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی وجہ سے ان پر ایک ایسی حالت طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دباتے اور نچوڑتے ہیں جس کے نتیجے میں بارش ہوتی ہے۔ یہ تعبیر حقیقت میں قرآنِ مجید کے علمی معجزات میں شمار ہوتی ہے)۔ توجہ فرمائیں کہ (مُعْصِرَاتِ اسم فائل ہے یعنی نچوڑنے اور دبانے والے)۔ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر برسنے کے لیے آمادہ بادلوں سے کی ہے۔ اس لیے کہ اسم فاعل کبھی کبھی کسی چیز کے لیے آمادگی کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ معصرات بادلوں کی صفت نیہں ہے بلکہ یہ ہواؤں کی صفت ہے جو بادلوں پر ہر طرف سے دباؤ ڈالتی ہیں اور بارش برسانے کے لیے انہیں دباتی ہیں۔ اور "ثجاج" ، "ثج" (بر وزن حج) کے مادہ سے پانی کے مسلسل اور فراوانی کے ساتھ نیچے گرنے کے معنی میں ہے اور یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ "ثجاج" مبالغہ کا صیغہ ہے یہ کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ اب مجموعی اعتبار سے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے بارش برسانے والے بادلوں سے بہت زیادہ اور مسلسل طور پر پانی نازل کیا۔ اوّل تو بارش کا ہونا بجائے خود خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے۔ یہ ہوا کو لطیف کرتا ہے، آلودگیوں کو دھو ڈالتا ہے، کثافتوں کو ختم کر دیتا ہے، ہوا کی گرمی میں کمی پیدا کرتا ہے، یہاں تک کہ سردی کو معتدل بنا دیتا ہے۔ اس سے بیماری کے عوامل میں کمی ہو جاتی ہے اور انسان کو روحِ نشاط حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود اس سے اگلی آیت میں، اس کے تین اہم فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "بارش کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ ہم غذائی فصلوں اور سبزہ کو اس کے ذریعہ زمین سے باہر نکالیں" (لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا)۔ "اور درختوں سے پُر باغات" (وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا)۔ "الفاف" راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ اس سے باغوں کے ان درختوں کی طرف اشارہ ہے جو بہت زیادہ ہوں اور ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہوں۔ (تشریحی نوٹ: "الفاف" بہت سے اربابِ لغت و تفسیر کے بقول "لفیف" کی جمع ہے جو ایک دوسرے سے الجھے ہوئے کے معنوں میں ہے۔ بعض نے اسے "لُف" (لام کے پیش کے ساتھ) کی جمع سمجھا ہے اور بعض نے "لِف" (لام کے زیر کے ساتھ) کی جمع خیال کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ ان جملوں میں سے ہے جن کا مفرد نہیں ہے۔ مشہور وہی اوّل ہے)۔ درحقیقت ان دو آیتوں میں اس تمام موادِ غذا کی طرف اشارہ ہے جس سے انسان اور حیوان فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ مواد زمین سے اُگتا ہے۔ اس مواد غذائی کے اہم حصہ کو غذائی دانے تشکیل دیتے ہیں (حبًّا) دوسرا حصّہ سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کا ہے۔ (و نباتاً) ایک اور حصہ میووں اور پھلوں کا ہے" (و جنات) یہ ٹھیک ہے کہ ان دو آیتوں میں بارش کے نزول کے صرف یہی تین عظیم منابع بیان ہوئے ہیں لیکن اس میں شک نیہں کہ بارش کے فوائد یہی نہیں ہیں۔ بدنِ انسانی کے سو میں سے ستر حصوں کو اصولی طور پر پانی ہی تشکیل دیتا ہے اور تمام زندہ موجودات کی پیدائش کا سرچشمہ قرآن کے مطابق صریحی طور پر پانی ہے۔ (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ)۔ (انبیاء/۳٠)۔ اس بناء پر پانی کا زندہ موجودا بالخصوص انسانوں پر اصلی و بنیادی اثر ہے۔ نہ صرف انسانی جان بلکہ زیادہ تر کارخانے بھي پانی کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں اور صنعتی کارخانوں کا نظام بھی معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسانی چہرہ کی زیبائی اور خوبصورتی اور اس کی مسرت پانی ہی سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا کے بہترین تجارتی اور اقتصادی طریقوں کو پانی کے راستے ہی تشکیل دیتے ہیں۔
ایک نکتہ ان آیات کا مسئلہ معاد سے تعلق
مندرجہ بالا گیارہ آیتوں میں اہم ترین نعماتِ الہی اور انسانی زندگی کے بنیادی ارکان یعنی نور و ظلمت، حرارت، پانی مٹی اور گیاہ و نبات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس دقیق نظام کا بیان، ایک تو ہر چیز پر خدا کی قدرت کو واضح کرتا ہے جس کے بعد اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ خدا مردوں کو دوبارہ کس طرح زندہ کرے گا، جیسا کہ منکرین معاد کے جواب میں سورہ یٰسین کی آخری آیتوں میں کمال وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے جہاں پروردگار عالم فرماتا ہے: "کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس امر پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرے۔ (یٰسین / ۸۱)۔ دوسرے ان عظیم تشکیلات کا یقیناً کوئی مقصد ہے اور یہ مقصد دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں ہو سکتا جس میں صرف کھانے پینے، سونے اور جاگنے پر اکتفا ہو۔ بلکہ حکمتِ خداوندی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کا کوئی بلند مقصد ہے۔ بالفاظ دیگر نشاة اولٰى نشاة آخری کے لیے یاد دہانی ہے اور بشر کی طولاني سیرگاہ کے لیے منزل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت ۱۱٥ میں فرماتا ہے: (أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ) "کیا تم نے گمان کیا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے"۔ تیسرے نیند اور بیداری کا مسئلہ جو خود موت اور نئی زندگی کا ایک نمونہ ہے اور مردہ زمینوں کا بارش سے نزول کے نتیجے میں زندہ ہونا جو منظر معاد کو ہر سال انسانوں کی آنکھوں کے سامنے پیش کرتا ہے، قیامت اور موت کے بعد کی زندگی کی طرف پُرمعنی اشارہ ہے جیسا کہ سورہ فاطر کی آیت ۹ میں بارش کی وجہ سے مُردہ زمینوں کی تجدیدِ حیات کے بیان کے بعد فرماتا ہے: (كَذَلِكَ النُّشُورُ) قیامت میں قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آخرکار روزِ موعود آ کر رھے گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 12گزشتہ آیتوں میں معاد کے مختلف دلائل آئے تھے۔ پہلی زیر بحث آیت میں ایک نتیجہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جدائی کا دن سب کے وعدہ کا دن ہے"۔ (إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا)۔ (تشریحی نوٹ: عام طور ہر پر "کان" جو فعل ماضی ہےاس کی تعبیر اس دن کے بارے میں جو آئندہ تحقق پذیر ہو گا، اس دن کے قطعی اور یقینی ہونے کے بیان کے لیے ہے)۔ "یوم الفصل" کی تعبیر بہت ہی پُر معنی ہے جو اس عظیم دن میں ہونے والی جدائیوں کو بیان کرتی ہے، حق کی باطل سے علیحدگی، نیک مؤمنین کی بدکار مجرموں سے علیحدگی، ماں باپ کی اولاد سے جدائی اور بھائی کی بھائی سے جدائی۔ "میقات" وقت کے مادہ سے "میعاد" اور "وعدہ" کی طرح متعین و مقرر وقت کے معنی میں ہے۔ اور یہ جو اِن معیّن مقامات کو "میقات" کہا جاتا ہے جہاں سے خانہ کعبہ کے زائرین احرام باندھتے ہیں اس وجہ سے ہے کہ وہ معین وقت میں وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس عظیم دن کی بعض خصوصیات اور حوادث کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہی دن جس میں صور پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج میدان محشر میں وارد ہو گے"۔ (يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا)۔ آیاتِ قرآنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ نفخِ صور کے عنوان سے دو عظیم حادثے پرپا ہوں گے، جن میں سے پہلے حادثہ سے عالم ہستی کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے گا اور دوسرے حادثہ کے نتیجہ میں عالم دوبارہ وجود میں آ جائے گا اور مُردے نئی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے اور بڑی قیامت برپا ہو گی۔ "نفخ" کے معنی میں پھونکنا اور "صور" کے معنی میں بگل، نَفِیری اور سائرن، جو عام طور پر لشکر کو لڑانے یا روانہ کرنے کے لیے بجایا جاتا ہے اور اہلِ قافلہ اور لشکر والے اس کی صدا سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کو توقف کرنا چاہئے یا روانہ ہو جانا چاہئے۔ یہ تعبیر ان دو حادثوں کا ایک لطیف کنایہ ہے، جو مندرجہ بالا آیت میں بیان ہوئے ہیں، اور دوسرے "نفخ" صور کی طرف اشارہ ہے جو حیاتِ تازہ کا سبب ہے اور صور قیامت ہے۔ (نفخ صور اور اس سے متعلق نکات کے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ جلد ۱۱ سورہ زمر کی آیت ۶۸ کے ذیل میں صفحہ ۱٥۶ تا ۱۶۴ پر بحث کر چکے ہیں)۔ زیر بحث آیت کہتی ہے "تم فوج در فوج میدان محشر میں وارد ہو گے" جبکہ سورہ مریم کی آیت ۹٥ کہتی ہے: "ہر شخص اس دن تنہا ہو گا"۔ (وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا) اور سورہ اسرار کی آیت ۷۱ کہتی ہے: "عرصہ محشر میں ہر گروہ اپنے امام کے ہمراہ وارد ہو گا۔ (يَوْمَ نَدْعُواْ كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ)۔ ان آیات کے مفہوم اس طرح جمع ہو سکتے ہیں کہ لوگوں کا فوج فوج ہونا اس سے تضاد نہیں رکھتا کہ ہر فوج اپنے امام کے ساتھ محشر میں وارد ہو گی۔ باقی رہا اکیلا ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے کئی مواقف ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے موقف میں لوگ گروہ در گروہ ہدایت و ضلالت کے رہبروں کے ساتھ محشر میں وارد ہوں لیکن خدا کے محکمہ عدالت میں آ جانے کے بعد فرد فرد ہوں۔ سورہ ق کی آیت ۲۱ میں قرآن کی تعبیر کے مطابق ہر شخص ایک مامور اور ایک گواہ کے ساتھ وہاں حاضر ہو گا۔ (وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ) یہ احتمال بھی ہے کہ اکیلے ہونے سے مراد دوستوں، ساتھیوں اور یارو انصار سے جدا ہونا ہے، اس لیے وہاں انسان خود ہو گا یا اس کا عمل۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "آسمان کھول دیا جائے گا اور وہ متعدد دروازوں کی شکل میں ہو جائے گا"۔ (وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا)- ان دروازوں سے کیا مراد ہے اور ان کے کھلنے کا کیا مفہوم ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عالمِ غیب کے دروازے عالم شہود میں کھل جائیں گے، پردے ہٹ جائیں گے اور فرشتوں کا جہان دنیائے انسانیت میں اپنا راستہ نکال لے گا۔ (بحوالہ: الميزان، جلد ۲٠، ص ۲۶٥)۔ یہاں ایک جماعت نے اس آیت کو ایک ایسی چیز کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو دوسری آیت میں آئی ہے جس کے بارے میں فرماتا ہے: "جب آسمان پھٹ جائے گا"۔ (إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ) (انشقاق /۱) دوسری جگہ ان معنی کو ایک دوسری تعبیر کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ (إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ) (انقطار /۱) درحقیقت آسمانی کّروں میں اتنے شگاف پڑ جائیں گے، گویا وہ سب دروازوں کی طرح ہوں گے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ انسان دنیا میں موجودہ حالات میں آسمانوں کی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر اس کے لیے ممکن ہو بھی تو وہ بہت محدود حد تک ہے۔ گو یا موجودہ حالات نے اس پر آسمان کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں۔لیکن قیامت میں انسان کرہ خاکی سے آزاد ہو جائے گا، اور آسمانوں کی طرف سفر کرنے کے دروازے اس کے سامنے کھل جائیں گے اور اس چیز کے اسباب و حالات فراہم ہو جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں پہلے تو آسمان ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس کے بعد سورہ ابراہیم کی آیت ۴۸ کے مطابق نئے آسمان اور نئی زمین ان کی جگہ لے لے گی (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ) اور اس صورت میں اہل زمین کے لیے آسمانوں کے دروازے کھل جائیں گے اور آسمانوں کے راستے زمین والوں پر ظاہر ہو جائیں گے۔ جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے اور بہشت کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہوں گے۔ (حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ)"یہاں تک کہ جنت والے جنت کی طرف آئیں گے اور اس کے دروازے کُھلے پائیں گے اور جنت کے خازن ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو"۔ (زمر/ ۷۳)۔ اور یہی وہ مقام ہے کہ فرشتے دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور ان کی خدمت میں تبریک پیش کریں گے"۔ (وَالْمَلاَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ) (رعد / ۲۳)۔ "اور کافروں کے سامنے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے"۔ (وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا)۔ (زمر /۷۱)۔ "اور اس طرح انسان ایک ایسے میدان میں قدم رکھے گا جس کی وسعت موجودہ زمین و آسمان جتنی ہو گی"۔ (وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ) - (آل عمران / ۱۳۳)۔ آخری زیر بحث آیت میں قیامت میں پہاڑوں کی کیفیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پہاڑوں کو چلایا جائے گا اور وہ آخرکار سیراب ہو جائیں گے"۔ (وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا)۔ قرآن کی مخلتف آیتوں کے اجتماع سے قیامت میں پہاڑوں کی سرنوشت کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ پہاڑ کئی مرحلے طے کریں گے۔ "پہلے تو پہاڑ حرکت میں آ جائیں گے"۔ (چلنے لگیں گے)۔ (وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا) (طور / ۱٠)۔ "پھر وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے"۔ (وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً)۔ (حاقہ / ۱۴ )۔ "اور اس کے بعد ایک دوسرے پر پڑے ہوئے ریت کے تودوں کی طرح ہو جائیں گے"۔ (وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا)۔ (مزمل/ ۱۴)۔ "اس کے بعد دھنکی ہوئی اون کی شکل کے ہو جائیں گے جو تیز ہوا کے ساتھ اُڑ رہی ہو"۔ (وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ) (قارعہ /٥)- "پھر اس گرد و غبار کی طرح ہو جائیں گے جو فضا میں بکھر جاتا ہے"۔ (وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاO فَكَانَتْ هَبَاء مُّنبَثًّا)۔ (واقعه / ٥۔۶)۔ آخر میں جیسا کہ زیرِ بحث آیت میں آیا ہے صرف ان کے اثرات باقی رہ جائیں گے اور وہ دُور سے سراب نظر آئیں گے اور اس طرح پہاڑ زمین پر سے ختم ہو جائیں گے اور زمین ہموار ہو جائے گی۔ (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًاo فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا)۔ "تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دے کہ میرا پروردگار انہیں تباہ و برباد کر دے گا اور زمین کو صاف ہموار کر دےگا" (طٰہٰ / ۱٠٥ ، ۱٠۶)۔ "سراب" ، "سرب" (بروزن طرف) کے مادہ سے ڈھلان کی طرف چلنے کے معنی میں ہے اور چونکہ بیابانوں میں گرمی کے دنوں میں جس وقت انسان ڈھلان کی طرف چلے تو دور سے اسے ایسی چیز نظر آتی ہے۔ وہ گمان کرتا ہے کہ یہ پانی ہے حالانکہ سوائے روشنی (نور کے زرات) کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی، اس کے بعد ہر اس چیز کو جس کا ظاہر ہو لیکن اس کی کوئی حقیقت نہ ہو، سراب کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مذکور بالا آیت اس حرکت کی ابتدا و انتہا کو بیان کرتی ہے۔ دوسرے مرحلے دوسری آیتوں میں آئے ہیں۔ حقیقت میں پہاڑ غبار کی شکل میں فضا میں سراب کی شکل میں ہو جائیں گے۔ وہ مقام جہاں پہاڑ اس قسم کی سختی کے ہوتے ہوئے ایسی صورت اختیار کر لیں گے، تو ظاہر ہے کہ عالم میں اس کے سامنے کس قسم کے تغیرات رونما ہوں گے۔ لہذا وہ افراد اور قوتیں جو اس دنیا میں پہاڑ جیسا مضبوط جسم رکھتی تھیں ان کی سراب سے زیادہ حیثیت نہیں ہو گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حوادث نفخِ اولٰی میں صورت پذیر ہوں گے جو اس عالم کے اختتام سے تعلق رکھتے ہیں یا نفخِ ثانیہ میں جس سے قیامت کی ابتداء ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت (يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا) بتا رہی ہے کہ یہ حوادث نفخِ ثانیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس میں زندہ ہو جانے والے انسان فوج در فوج عرصہ محشر میں وارد ہوں گے لہذا اس امر آیت کو بھی قاعدتاً اسی نفخ سے متعلق ہونا چاہیئے۔ البته ممکن ہے کہ پہاڑوں کی اس حرکت کا آغاز پہلے نفخ میں صورت پذیر ہو اور ان کا سراب میں تبدیل ہونا دوسرے نفخ میں ہو۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے تمام مرحلے نفخِ اولٰی سے تعلق رکھتے ہوں البتہ چونکہ ان دونوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے لہذا ان کا ذکر ایک ساتھ ہوا ہے جیسا کہ قرآن کی کچھ اور آیات میں بھی نفخِ اولی و ثانیہ کے حواث کا ذکر ایک جگہ ہوا ہے (اس کا نمونہ سورہ تکویر و انفطار) میں نظر آتا ہے۔ (غور کیجئے)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں پہاڑوں کا میخوں کے عنوان سے اور زمین کا گہوارے کے عنوان سے تعارف ہوا ہے اور زیر بحث آیات میں آیا ہے کہ وہ دن جس میں عالم کے فنا ہونے کا فرمان صادر ہو گا تو یہ گہوارہ درہم برہم ہو جائے گا اور عظیم میخیں اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گی۔ واضح ہے کہ جس وقت کسی چیز کی میخوں کو کھینچا جائے تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر جہنم ایک عظیم کمین گاہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 12معاد کے متعلق دلائل اور قیامت کے بعض حوادث کو بیان کرنے کے بعد قرآن دوزخیوں اور جہنمیوں کی سرنوشت کی طرف رُخ کرتا ہے۔ بات پہلے دوزخیوں سے شروع ہوتی ہے۔ فرماتا ہے: "جہنم کمین گاہ ہے"۔ (إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا)۔ "اور سرکشوں کی بازگشت کا مقام ہے"۔ (لِّلْطَّاغِينَ مَآبًا)"۔ (تشریحی نوٹ: آیت محذوف رکھتی ہے، تقدیر اس طرح ہے (كَانَتْ للطَّاغِينَ مَآبًا))۔ "وہ اس میں طویل مدت تک رہیں گے"۔ (لاَّبِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا)۔ "مرصاد" اسم مکان ہے۔ یہ اس جگہ کے معنی میں ہے جہاں کمین گاہ بناتے ہیں۔ "راغب" ، "مفردات" میں کہتا ہے "مرصد" (بروزن مرقد) اور "مرصاد" دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، اس فرق کے ساتھ کہ "مرصاد" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو کمین گاہ کے لئے مخصوص ہو۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس شخص کے معنی میں ہے جو کمین گاہ سے زیادہ کام لیتا ہو، معمار کی طرح جو اس شخص کے معنی میں ہے جو بہت زیادہ تعمیر کا کام کرتا ہو۔ البته پہلے معنی زیادہ معروف ہیں اور مناسب بھی ہیں۔ اب یہ کہ دوزخ میں کون شخص دوزخیوں کی تاک میں ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد عذاب کے فرشتے ہیں، اس لیے کہ سورہ مریم کی آیت ۷۱ کے مطابق تمام انسان، عام اس سے کہ نیک ہوں یا بد، دوزخ کے قریب سے گزریں گے، یا اس کے اوپر سے عبور کریں گے (وَإِن مِّنكُمْ إِلاَّ وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا) اس عمومی گزر گاہ میں عذاب کے فرشتے کمین گاہ میں ہیں اور وہ دوزخیوں کو اُچک لیں گے۔ اگر ہم اس کی صیغہِ مبالغہ کے اعتبار سے تفسیر کریں تو پھر خود دوزخ ان کی تاک میں قرار پائے گا اور سرکشوں میں سے جو کوئی اس کے قریب ہو گا وہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گا اور اسے نگل لے گا۔ بہرحال اس عمومی گزرگاہ پر سے سرکشوں میں سے کوئی نہیں گزر سکے گا مگر یہ کہ یا عذاب کے فرشتے اسے اُچک لیں گے یا جہنم کی شدید کشش اسے کھینچ لے گی۔ "ماٰب" کے معنی مرجع یا محل بازگشت کے ہیں، لوٹنے کی جگہ۔ یہ کبھی منزل اور قرارگاہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی معنی میں ہے۔ باقی رہا "احقاب" جو "حقب" (بروزن قفل) کی جمع ہے، یہ زمانے کی غير محدود مدت کے معنی میں ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی اَسّی سال، بعض نے ستّر سال اور بعض نے چالیس سال تفسیر کی ہے۔ چونکہ اس تفسیر سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوزخی طویل مدت تک دوزخ میں رہیں گے، اور آخرکار ختم ہو جائیں گے۔ یہ چیز ہمیشہ رہنے والے عذاب سے متضاد ہے، اس لیے ہر ایک مفسر نے اس تفسیر میں کوئی نہ کوئی راہ اختیار کی ہے۔ مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ احقاب سے مراد یہاں یہ ہے کہ طولانی مدتیں اور سال ہائے دراز پے در پے آئیں گے اور گزر جائیں گے بغیر اس کے کہ وہ ختم ہوں۔ جو زمانہ گزرے گا دوسرا اس کا جانشین بن جائے گا۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ آیت ان گنہگاروں کے بارے میں ہے جو آخرکار پاک ہو جائیں گے اور دوزخ سے آزاد ہو جائیں گے نہ کہ ان کافروں کے بارے میں جو جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ۴۹۴، حدیث ۲۳ اور حدیث ۲۶، ص ۴۹٥)۔ اس کے بعد جہنم کے شدید عذابوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ وہاں نہ کوئی ٹھنڈی چیز چکھیں گے جو جہنم کی وحشتناک گرمی کو کم کر سکے اور نہ انہیں کوئی خوشگوار مشروب ملے گا جو ان کی شدید پیاس کو تسکین بخشے." (لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا)۔ "سوائے جلتے ہوئے پانی، پیپ اور لہو کے"۔ (إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا)۔ "اور سوائے آگ کے گاڑھے، گرم ،خفقان میں مبتلا کر دینے والے اور گھٹن پیدا کرنے والے دھوئیں کے سائے کے، جیسا کہ سورہ واقعہ کی آیت ۴۳ میں آیا ہے: (وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ)۔ "حميم" نہایت گرم پانی کے معنی میں ہے اور غساق پیپ اور لہو کے معنی میں ہے جو زخم سے نکلتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر بدبو دار بہنے والی چیزوں سے کی ہے۔ یہ اس صورت میں ہو گا جبکہ جنت والے اپنے پروردگار کی طرف سے شراب طہور کے خوشگوار چشموں سے سیراب ہوں گے۔ (وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا)۔ (دھر - ۲۱) اور ایسے مشروبات سے سیراب ہوں گے جو جنت کے خوبصورت ظروف میں ہوں گے اور جن پر مُہر لگی ہوئی ہو گی۔ ایسی مُہر جو مشک سے ہوگی۔ (خِتَامُهُ مِسْكٌ)۔ (مطففين /۲۶)۔ ببیں تفات رہ از کجا است تابہ کجا چونکہ ممکن ہے کہ ان سخت اور شدید عذابوں کا وجود بعض افراد کو عجیب نظر آئے لہذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "یہ سزا ان کے اعمال کے موافق و مناسب ہے"۔ (جَزَاءً وِفَاقًا)۔ (تشریحی نوٹ: جزاء منصوب ہے فعل محذوف کے مفعول مطلق کے عنوان سے جو کلام کے قرینہ سے واضح ہوتا ہے اور وفاق بھی مصدر کے معنی رکھتا ہے اور اس کی صفت ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے يجازيھم جزاء ذا وفاق)۔ ایسا کیوں نہ ہو، اس لیے کہ انہوں نے اس دنیا میں مظلوموں کے دل جلائے ہیں اور ان کے قلب و جان میں آگ لگائی ہے اور اپنے ظلم و ستم اور سرکشی کی وجہ سے کسی پر رحم نہیں کھایا۔ لہذا یہی مناسب ہے کہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے اور ان کے مشروبات ایسے ہی ہوں، اصولی طور پر جیسا کہ ہم نے بار بار تاکید بھی کی ہے۔ آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں گنہگاروں پر ہونے والے عذاب اور ان کو ملنے والی بہت سی سزائیں ان کے اعمال کی تجسیم ہیں جیسا کہ سورہ تحریم کی آیت ۷ میں ہم پڑھتے ہیں (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ "اے کافرو! آج معذرت نہ کرو اس لئے کہ تمهاری سزا صرف وہی اعمال ہیں جنہیں تم انجام دیتے تھے۔" (جو اب مجسم ہو گئے ہیں اور تمہارے سامنے آ گئے ہیں)۔ اس کے بعد اس سزا کی علّت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ اس بناء پر ہے کہ وہ حساب کتاب کی امید اور خدا کا خوف نہیں رکھتے تھے"۔ (إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا)۔ حساب اور روزِ جزا سے یہی بےاعتنائی ان کی سرکشی اور ظلم و ستم کا باعث بنی تھی اور اسی ظلم و فساد نے ان کے لیے اس قسم کی درد ناک سرنوشت فراہم کی۔ حقیقت میں حساب کے متعلق عدم اطمینان سرکشی کا سبب ہے اور وہ ان سخت قسم کے عذابوں کا عامل و سبب ہے۔ توجہ رہے کہ "لَا يَرْجُونَ" رجاء کے مادہ سے امید کے معنی میں بھی ہے اور عدمِ خوف و وحشت کے معنی میں بھی۔ اصولی طور پر جب کوئی انسان سزا و عذاب کا امکان محسوس کرتا ہو تو وہ فطرتًا خوف کھاتا ہے اور اگر یہ چیز محسوس نہ کرتا ہو تو پھر وہ نہیں ڈرتا۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ اس لیے وہ لوگ جو حساب و کتاب پر یقین نہ رکھتے ہوں خوف و ہراس محسوس نہیں کر سکتے۔ "انّ" کی تعبیر جو تاکید کے لیے ہے اور "کانوا" کا لفظ جو ماضی میں استمرار کو بیان کرتا ہے اور "حسابًا" جو نفی کے بعد نکرہ کی شکل میں آیا ہے اور عمومیت کے معنی دیتا ہے، یہ سب اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ وہ مطلقًا کسی قسم کے حساب و کتاب کا خوف نہیں رکھتے تھے۔ با الفاظ دیگر وہ قیامت میں ہونے والے حساب و کتاب کو بالکل فراموش کر چکے تھے اور اسے اپنی زندگی کے لائحہ عمل میں سے مکمل طور پر حذف کر چکے تھے۔ اور یہ ایک فطری امر ہے کہ ایسے افراد اس طرح کے بڑے گناہوں میں آلودہ ہوں اور آخرکار درد ناک عذاب میں گرفتار ہوں۔ اسی لیے بلا فاصله مزید کہتا ہے: "انہوں نے ہماری آیات کی مکمل طور پر تکذیب کی"۔ (وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا)۔ (تشریحی نوٹ: "کذاب" (کاف کے زیر کے ساتھ) باب تفعیل کے مصدر کا ایک صیغہ ہے جو تکذیب کے معنی میں ہے۔ بعض اربابِ لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ ثلاثی مجرد کا مصدر اور کذب کا معادل ہے بہرحال "کذبوا" کا مفعول مطلق ہے اور تاکید کے لیے ہے)۔ ان پر ہوائے نفس اس طرح غالب آئی کہ انہوں نے خوابِ غفلت سے جگانے والی تمام الٰہی آیات کا شدت سے انکار کیا تاکہ وہ اپنی سرکشی کو اور بوا و ہوس کے مشغلہ کو جاری رکھ سکیں اور اپنی غیر شرعی خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ ظاہر ہے کہ لفظ آیات کے یہاں ایک وسیع معانی ہیں جس میں تمام آیاتِ توحید و نبوت و تشريع و تکوین و مجزاتِ انبیاء و احکام و سنن سب شامل ہیں اور ان سب آیات الٰہی کی تکذیب کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جن سے عالمِ تکوین و تشریع چھلک رہا ہے، ہمیں تصدیق کرنی چاہیئے۔ وہ سزائیں ایسے ایسے منکر افراد کے لیے مناسب ہیں۔ اس کے بعد ان سرکشوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اور جرم و حاکمیت و سزائے مناسب کے درمیان موازنہ کے موجود ہونے کے مسئلہ پر تاکید کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ہم نے ہر چیز کا قطعی اور یقینی طور پر احصا کیا ہے"۔ (وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں "كل" فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے جس پر فعل مذکور یعنی "احصيناہ"دلالت کرتا ہے اور "کتابًا" مفعول مطلق کے عنوان سے منصوب ہے، اس لیے کہ "احصينا" ، "کتبنا" کے معنی میں ہے اور بعض نے اسے حال سمجھا ہے)۔ تاکہ تم یہ گمان نہ کرو کہ کوئی چیز تمہارے اعمال میں سے بےحساب اور بغیر سزا کے رہ جائے گی اور یہ خیال بھی تمہیں نہ ہو کہ یہ شدید قسم کی سزائیں غیر منصفانہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کے تمام اعمال قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، پوشیدہ ہوں یا ظاہر، یہ سب ثبت ہوتے ہیں حتٰی نیتیں اور عقائد بھی لکھے جاتے ہیں، یہ حقیقت بہت سی قرآنی آیات سے ثابت ہوتی ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے: (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِOوَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ) "جس کام کو انہوں نےانجام دیا وہ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے اور ہر چھوٹا بڑا کام لکھا جاتا ہے"۔ (قمر / ٥۲ ، ٥۳)۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: (إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ)۔ "جو کچھ تم حیلے کرتے ہو ہمارے رسول اُسے لکھتے ہیں"۔ (یونس / ۲۱)۔ علاوہ ازیں هم پڑھتے ہیں (وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ) "اور ہم ان تمام چیزوں کو جنہیں تم نے آگے بھیجا ہے اور اسی طرح ہم ان کے آثار کو لکھتے ہیں۔" (یٰسین /۱۲)۔ اسی لئے جب مجرموں کے نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیں گے تو ان کی فریاد بلند ہو گی اور وہ کہیں گے: (يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لاَ يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً إِلاَّ أَحْصَاهَا)۔ "وائے ہو ہم پر، اس کتاب کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا کام ایسا نہیں ہے جسے ثبت نہ کیا گیا ہو اور وہ شمار ہوا ہو"۔ (کہف / ۴۹)۔ اس میں شک نہیں کہ جو شخص اس حقیقت کو اپنے دل سے باور کرے تو وہ اعمال کے انجام دینے میں بہت ہی باریک ہین اور حساب کرنے والا ہو گا، اور یہی اعتقاد انسان اور گناہ کے درمیان بہت بڑی رکاوٹ ڈال دے گا اور وہ تربیتِ ذات کے اہم عوامل میں شمار ہو گا۔ آخری زیرِ بحث آیت میں گفتگو کے لب و لہجہ کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں غائب سے مخاطب بنا کر، تہدید آمیز غصہ سے بھرے ہوئے اور دل ہلا دینے والے جملے فرماتا ہے: "پس چکھو، ہم تم پر سوائے عذاب کے اور کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے"۔ (فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا)۔ جس قدر فریاد کرو "ياويلتنا" کہو، دنیا کی طرف بازگشت اور گناہوں کی تلافی کا مطالبہ کرو، تمہاری بات نہیں سنی جائیگی اور تم پر سوائے عذاب کے اور کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو گا۔ یہ سزا ہے ان لوگوں کی جو انبیائے خدا کی محبت آمیز دعوتِ فکر کے مقابلے میں یہ کہتے تھے: (سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ)۔ "ہمارے لیے یکساں ہے کہ ہمیں تو نصیحت کرے یا نہ کرے۔" (شعراء / ۱۳۲)۔ اور یہ اس شخص کی سزا ہے کہ جب اس کے سامنے خدا ئی آیات پڑھی جاتیں تو اس میں نفرت کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا تھا۔ (وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ نُفُورًا)۔ (اسراء /۴۱) اور بالآخر یہ ہے سزا اس شخص کی جو کہ گناہ سے روگرداں نہیں تھا اور جو ہر کار خیر سے بے تعلق تھا۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ: (هذہ الاٰية اشد ما في القراٰن علىٰ اهل النار)- یہ آیت قرآن کریم کی شدید ترین آیت ہے جو دوزخیوں کے بارے میں آئی ہے۔ (بحوالہ: "تفسیر کشاف" جلد۴، ص ۶۹٠۔ یہی حدیث تفسیر صافی میں بھی زیر بحث آیت کے ذیل میں آئی ہے اور اسی طرح تفسیر روح البیان میں جلد ۱٠، ص ۳٠۷ پر)۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ خداوند غفور و رحیم اُن پر غضبناک ہوا ہے اور انہیں ایسے جملے سے مخاطب کیا ہے جس نے ان کے سامنے امیدوں کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور سوائے اضافہِء عذاب کے وعدہ کے انہیں اور کوئی چیز نہیں دیتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر پرهیزگاروں کی عظیم جزا کا ایک حصه
Tafsīr Nemūna · Vol. 12گزشتہ آیات میں گفتگو سرکشی کرنے والوں کی سرنوشت اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کے ایک حصّہ اور اس کی بدبختی کے سبب کے بارے میں تھی اور زیر بحث آیات میں اس کے نقطہ مقابل کی تشریح ہو رہی ہے، سچے مومنین اور پرہیزگاروں کے لیے قیامت میں جو نعمتیں ہیں ان کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تاکہ تقابل کی وجہ سے حقائق زیادہ واضح ہوں۔ قرآن مجید کا یہی طریقہ دوسری صورتوں میں بھی ہے کہ وہ اضداد کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں لا کر ان کی حقیقت و کیفیت کو مقابلہ اور موازنہ کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "پرہیزگاروں کے لیے عظیم و کامیابی اور نجات ہے۔" (إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا)۔ "مفاز" اسم مکان یا مصدر میمی ہے۔ یہ فوز کے مادہ سے ہے اور خیر و خوبی تک سلامتی کے ساتھ پہنچنے کے معنی میں بھی آیا ہے جو اس معنی کا لازمی حصہ ہے۔ اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مفاز نکرہ کی شکل میں بیان ہوا ہے عظیم کامیابی اور بہت بڑی سعادت تک پہنچنے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد اس سعادت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "سرسبز و پر مُسرت و محفوظ باغات انواع و اقسام کے انگوروں اور پھلوں کے ساتھ " (حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا)۔ (تشریحی نوٹ: "حدائق" ، "مفازًا" کا بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے)۔ "حدائق" حدیقہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایسا پُر مسرت، سرسبز اور پُر درخت باغ، جس کے گرد دیوار کھنچی ہوئی ہو اور وہ ہر لحاظ سے محفوط ہو، راغب مفردات میں کہتا ہے حدقہ دراصل اس زمین کو کہتے ہیں جس میں آنکھ کے ڈھیلے کی طرح ہمیشہ پانی موجود رہے۔ قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ یہاں تمام پھلوں میں سے انگور کا ذکر ہوا ہے، ان حد سے زیادہ خوبیوں اور مزے کی وجہ سے جو اس پھل میں ہے۔ اس لیے کہ بقول ماہرینِ غذا انگور، علاوہ اس کے کہ اپنے خواص کے اعتبار سے ایک مکمل غذا شمار ہوتا ہے اور اس کے اجزائے غذائی شیرِ مادر سے بہت مشابہ ہیں۔ یہ بدن میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اس قدر مفید اجزائے غذائی ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک فطری دواخانہ ہے۔ اس کی زہر سے متضاد خاصیت ہے۔ یہ تصفیۂ خون کے لیے بہت مفید ہے۔ جوڑوں کے درد، ورم، انگلیوں کے جوڑ بند خصوصاً انگوٹھے کے درد کے لیے فائدہ مند ہے اور خون کے اس بے رنگ مادہ کے اضافہ کو روکتا ہے جس کا ذائقہ شور و تلخ ہے۔ اس کے علاوہ انگور اعصاب کو تقویت دیتا ہے اور جسم میں احساس نشاط پیدا کرتا ہے اور انواع و اقسام کے وٹامن اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے انسان کو قوت و طاقت بخشا ہے۔ یہ انگور کے آثار و خواص کا ایک گوشہ ہے۔ اسی لئے پیغمبرِ اسلامؐ کی ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے: (خير فواكهکم العنب)۔ "تمهارے میووں اور پھلوں میں سے انگور سب سے بہتر ہے۔" اس کے بعد جنت کی بیویوں کی طرف، جو پرہیزگاروں کو ملنے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں، اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ان کے لیے بہت ہی نوجوان حُوریں ہیں جن کے سینوں کا ابھار نیا نیا ظاہر ہوا ہے اور جو ہم سن ہیں۔" (وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا)۔ "كواعب" ، "كاعب" کی جمع ہے۔ یہ اس دوشیزہ کے معنوں میں ہے جس کے سینے کا ابھار نیا نیا ظاہر ہوا جو جوانی کےآغاز کی طرف اشارہ ہے۔ "اتراب" ترب (بروزن حزب) کی جمع ہے جس کے معنی ہم سن کے ہیں۔ یہ زیادہ تر مؤنث کی صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض مفسرین کے بقول اصل میں "ترائب" سے لیا گیا ہے جس کے معنی سینے کی پسلیاں ہیں جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں اور ہم سن ہونا ممکن ہے جنت کی خواتین کے لیے ہو، یعنی وہ سب نوجوان ہوں گی۔ وہ حُسن و جمال کی زیبائی اور قد و قامت کے اعتدال میں ایک جیسی ہوں گی۔ یا ہم سن ہونا ان کے اور ان کے شوہروں کے درمیان ہو گا اس لیے کہ شوہر اور توجہ کے درمیان سن کا برابر ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کو سمجھ سکیں۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد جنت کی چوتھی نعمت جو پرہیزگاروں کے انتظار میں ہے اسی کی اس طرح تشریح کرتا ہے "اور لبریز مسلسل شرابِ طہور کے جام" (وَكَأْسًا دِهَاقًا)۔ یہ دنیاوی شراب کی طرح نجس شراب نہیں ہو گی جو عقل کو بیکار کر دیتی ہے اور انسان کو جانور کی حد تک گرا دیتی ہے، بلکہ ایسی شراب ہو گی جو عقل میں اضافہ کرے گی۔ وہ نشاط آفریں، جاں پرور اور روح افزا ہو گی۔ "كاس" (بر وزن راس) مشروب سے لبریز جام کے معنوں میں ہے اور کبھی کبھی خود جام یا جو کچھ اس میں ہے اس کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ "دهاق" کی تفسیر بہت سے مفسرین نے لبریز کی ہے لیکن "ابن منظور" تے "لسان العرب" میں اس کے لیے دو اور معانی بھی تجویز کیے ہیں۔ ایک پے در پے اور دوسرے صاف و شفاف۔ اسی بنا پر اگر ان معانی کے مجموعہ کو ہم ذہن میں رکھیں تو آیت کا مفہوم اس طرح ہے کہ جنتیوں کے لیے شفاف ، لبریز اور پے در پے شراب طہور کے جام ہوں گے۔ دنیا میں جام و شراب کی گفتگو اس کے غیر مطلوب معانی کا تقاضا کرتی ہے جبکہ جنت کی شراب دنیا کی شیطانی شرابوں سے بالکل متضاد ہے۔ لہذا بلا فاصلہ مزید کہتا ہے: "جنت والے وہاں نہ لغو و بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ سنیں گے" (لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا)۔ دنیا کی شراب عقل کو تباہ کر دیتی ہے اور ہوش و حواس کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو بیہودہ گوئی اور غیر مناسب باتوں کے کہنے پر آمادہ کرتی ہے لیکن جنت کی شرابِ طہور انسان کو روح و عقل اور نور و صفائے باطن بخشتی ہے۔ یہ کہ فیها کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ اس میں علماء نے دو احتمال تجویز کیے ہیں، پہلا احتمال یہ ہے کہ جنت کی طرف لوٹتی ہے اور دوسرا یہ کہ (کاس) جام کی طرف لوٹتی ہے۔ پہلی تفسیر کی بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا۔ جنت میں لغو اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے جیسا کہ سورہ غاشیہ کی آیت ۱٠ اور ۱۱ میں آیا ہے؛ (فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍOلَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً)۔ "جن کی جنتِ عالی میں جگہ ہو گی جس میں تو لغو اور بیہودہ بات نہیں سنے گا۔" دوسری تفسیر کی بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہو گا "اس شراب کے جام کے پینے سے لغو اور جھوٹ حاصل نہیں ہو گا" جیسا کہ سورہ طور کی آیت ۲۳ میں آیا ہے: (يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ) "وہ جنت میں شرابِ طہور سے لبریز جام ایک دوسرے سے لیں گے جس میں نہ بے ہودہ گوئی ہے اور نہ گناہ۔" بہرحال اہل جنت کو ملنے والی عظیم معنوی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں دروغ گوئی، بے ہودگی تہمت، حق کی تکذیب، باطل کی توجیہ اور ان نامعقول باتوں کا نام و نشان تک نہ ہو گا جو پرہیزگاروں کے دلوں کو اس دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہیں۔ اور واقعی کیا ہی خوبصورت اور اچھا ہو گا وہ ماحول جس میں ان غیر موزوں، تکلیف دہ اور رنج پہنچانے والی باتوں کا نشان تک نہ ہو گا اور سورہ مریم کی آیت ۶۲ کے مطابق: "وہ سوائے سلام اور صلح آمیز باتوں کے وہاں کوئی اور بات نہیں سنیں گے۔" ( لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلاَّ سَلاَمًا)۔ ان نعمتوں کے بیان کے آخر میں ایک اور معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ جزا ہے تیرے پروردگار کی جانب سے اور کافی عطیہ ہے۔" (جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا)۔ (تشریحی نوٹ: جزاءً اس آیت میں ان نعمتوں کا حال ہے جو گزشتہ آیات میں آئی ہیں اور معنوی طور پر اس طرح ہے (اعطاهم جميع ذالك حال کونه جزاء من ربك)، (سب کچھ خدا نے انہیں دیا درآں حالیکہ یہ جزا ہے تیرے رب کی طرف سے) بعض نے یہ احتمال بھی بتایا ہے کہ یہ ایک فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اور بعض نے اسے "مفعول لاجله" جانا ہے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے)۔ اس سے کونسی نعمت اور بشارت بالا ہے کہ ضعیف و کمزور بندہ اپنے مولائے کریم کی نوازش، کرم اور لطف و کرم کا مورد قرار پائے، وہ اس کا اکرام کرے، اسے بزرگی عطا کرے اور خلعت بخشے، یہ توجہ و عنایت اور یہ لطف و محبت مومنین کو اس قسم کا لطف دے گی جس کا کوئی نعمت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بقول شاعر: من که باشم که بر آن خاطرِ عاطِر گذرم؟ لطفها میکنی ای خاکِ دَرَت، تاجِ سرم مَیں کون ہوں جس کا اس کے پاک اور معطر دل میں گزر ہو۔ یہ تو اے وہ شخص جس کے در کی خاک میرے سر کا تاج ہے، تیرا لطف و کرم ہے۔ "رب" کی تعبیر ضمیر مخاطب کے ساتھ اور عطا کے لفظ کو لیے ہوئے یہ سب حد سے زیادہ لطف و کرم کو بیان کرتے ہیں، جو ان نعمتوں میں پوشیدہ ہے۔ لفظ "حسابًا" بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق یہاں "کافیا" کے معنی میں ہے جیسا کہ بعض اوقات کہا جاتا ہے "احسبت" یعنی میں نے اس پر اتنا لطف و کرم کیا کہ اس نے "حسبی" کافی ہے" کہا۔ (بحوالہ: تفسیر بیضاوی، در ذیل آیہ زیرِ بحث)۔ ایک حدیث میں امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ قیامت میں خدا مومنین کی حسنات کا حساب کرے گا اور ہر نیکی کا دس گنا اور ستر گنا اجر عطا فرمائے گا، جیسا کہ خدا قرآن میں فرماتا ہے: (جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا)۔ (بحوالہ: نور الثقلين، جلد ٥، ص ۴۹٥، حدیث ۲۹)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے عطیات، باوجود اس کے تفضل کا پہلو لیے ہوئے ہوتے ہیں، اعمال کے حساب کی بناء پر ہیں یعنی اس کے تفصلات و عطیّات انسانوں کے اعمال صالح کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور اس طرح مندرجہ بالا آیت میں "حساباً" کی مشہور معنی محاسبہ سے تفسیر کی جا سکتی ہے اور اس معنی اور گزشتہ معنی کا جمع ہونا بھی کوئی قباحت نہیں رکھتا۔ (غور کیجئے)۔ اس کے بعد آخری آیت میں مزید کہتا ہے: "یہ عظیم عطیات وہی بخشتا ہے جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، ان کا پروردگار ہے۔ وہی خدا جو رحمٰن اور بخشنے والا ہے۔" (رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرحْمَنِ)، جی ہاں! وہ جو اس باعظمت جہان کا مالک مدبر اور مربّی ہے اور اس کی رحمت نے ہر شے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہی قیامت میں نیکوکاروں اور پاک لوگوں کو یہ سب عطیات بخشنے والا ہے۔ حقیقت میں مندرجہ بالا آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا اس قسم کا وعدہ کرتا ہے تو اُس نے اِس دنیا میں اُس کے ایک گوشہ کی اپنی رحمت عامہ کی شکل میں اہل آسمان و زمین کو نشاندہی کرائی ہے۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے: "کوئی اور شخص حق نہیں رکھتا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں بات کرے یا شفاعت کرے۔" (لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا)۔ "لا يملكون" میں جو ضمیر ہے، ہو سکتا ہے کہ تمام اہل آسمان اور زمین کی طرف لوٹے یا اُن تمام متقّين اور سرکشوں کی طرف لوٹے جو حساب کتاب اور جزاء و سزا کی غرض سے عرصہ محشر جمع ہوں گے۔ بہرحال یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس دن کسی شخص کو اعتراض اور چون و چرا کا حق نہیں ہو گا اس لیے کہ خدائی حساب اس قدر باریک بینی پر مبنی اور عادلانہ ہے کہ کسی قسم کے چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ علاوہ ازیں کوئی شخص شفاعت کا حق نہیں رکھتا مگر اس کے اذن سے (مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ) (بقرۃ / ۲٥٥)۔
چند نکات ۱۔ متقین کے لیے عطیّات اور سرکشوں کے لیے عذاب
مندرجہ بالا آیات جو پرہیز گاروں کو ملنے والے عطیات کی بات کرتی ہیں، ان سے گزشتہ آیات کا موازنہ ہے جو سرکشوں کو ملنے والی سزاؤں کی بات کرتی ہیں۔ اس میں ایک پُرکشش مقابلہ نظر آتا ہے۔ یہاں گفتگو "مفاز" (محل نجات) سے ہے اور وہاں "مرصاد" (کمین گاہ) سے ہے۔ یہاں بات پھلوں سے بھرے ہوئے باغات کی ہے اور وہاں غیر محدود مدت تک آگ میں غرق ہونے کی "احقاب"۔ یہاں گفتگو پے بہ پے جاموں کی ہے جو شرابِ طہور سے لبریز ہوں گے، وہاں جلتے ہوئے اور ابلتے ہوئے پانی اور "حميم و غساق" کی ہے، یہاں گفتگو خداوندِ رحمٰن کے وسیع و عریض عطیات کی ہے اور وہاں منصفانہ سزاؤں اور جزاء وفاق کی ہے، یہاں بات ہے نعمتِ الٰہی کی فراوانی کی اور وہاں عذاب کی فراوانی کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہر لحاظ سے دو مخالف قطب میں قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ اس دنیا میں ایمان و عمل کے لحاظ سے دو مخالف قطب تھے۔
۲۔ جنت کے مشروب
قرآنِ مجید کی مختلف آیتوں میں جنت کی شرابوں کی بہت زیادہ تعریف و توصیف ہوئی ہے جن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو پینے والے اس قسم کی روحانی لذت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے جس کا اظہار الفاظ میں نہیں ہو سکتا۔ ایک جگہ اس کی تعریف شرابِ طہور کے عنوان سے کرتا ہے (وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا)- (سورہ دهر / ۲۱)۔ دوسری جگہ تاکید کرتا ہے کہ صاف و شفاف خالص اور لذت بخش شراب، نہ تو دردِ سر پیدا کرتی ہے اور نہ سُستی لاتی ہے، نہ فسادِ عقل پیدا کرتی ہے (يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍo بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَoلَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ) (صافات / ۴٥ تا ۴۷)۔ ایک جگہ فرماتا ہے: "ایسے جام (مشروب) پئیں گے جو کافور کی آمیزش رکھتے ہیں (ٹھنڈے اور سکون بخش ہیں) (يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا) (دهر /٥)۔ دوسری جگہ مزید فرماتا ہے: "ایسے جام انہیں پلائیں گے جس کے مشروب میں زنجبیل کی آمیزش ہے (گرم کرنے والا اور نشاط آفریں مشروب)۔ (وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا) (دھر / ۱۷)۔ زیرِ بحث آیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے: "وہ لبا لب زلال اور پے بہ پے جام رکھتے ہیں" (وکاسا دھاتًا) اور ان سب چیزوں سے اہم بات یہ ہے کہ اس بزم روحانی کا ساقی خدا ہے۔ وہ اس کے دستِ قدرت سے اور اس کی بساطِ رحمت سے جام حاصل کریں گے اور پئیں گے اور اس کے عشق و معرفت کے جذبہ سے سرشار ہوں گے۔ " وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ... (دہر: ۲۱)۔ خداوندا! ہمیں بھی وہ شرابِ طهور عطا فرما۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کافر کہیں گے کاش هم مٹی هوتے
Tafsīr Nemūna · Vol. 12گزشتہ آیتوں میں قیامت کے دن سرکشوں پر نازل ہونے والے عذاب اور پرہیزگاروں کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا قابلِ ملاحظہ بیان تھا۔ زیرِ بحث آیات میں اس عظیم دن کا تعارف کرانے کے لیے اس کے بعض اوصاف اور حوادث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ سب کچھ اس دن ہو گا جب روح اور تمام ملائکہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے اور خداوند رحمن کے اذن کے بغیر کوئی بھی بات نہ کر سکے گا، اور جو بات کرے گا بھی تو حق کے علاوہ اور کچھ نہیں کہے گا۔ (يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا)۔ (تشریحی نوٹ: بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ یوم اس آیت میں ظرف ہے اور گزشتہ آیات میں "لا يملكون" کے فعل سے متعلق ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام چیزوں سے تعلق ہو جو گزشتہ آیتوں میں آئی ہیں اور تقدیر عبارت اس طرح ہو (كل ذالك يكون يوم يقوم الروح) یہ سب کچھ اس دن ہو گا جب روح و ملائکہ ایک صف میں کھڑے ہوں گے)۔ اس میں شک نہیں کہ روح اور فرشتوں کا اس دن ایک ہی صف میں قیام اور خداوند رحمٰن کے اذن کے بغیر بات نہ کر سکنا صرٖف فرمانِ خدا کے اجراء کے لیے ہے، وہ اس جہان میں بھی "مدبرات امر" یعنی اس کے فرمان جاری کرنے والے ہیں اور عالم آخرت میں یہ امر زیادہ آشکار، زیادہ واضح اور وسیع صورت میں ہو گا۔ یہ کہ یہاں روح سے کیا مراد ہے، مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں کی ہیں بعض تفاسیر کو آٹھ احتمال تک بیان کیے گئے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۶۹۷۷)۔ جن میں سے زیادہ اہم درج ذیل تفاسیر و احتمالات ہیں۔ ۱- فرشتوں کے علاوہ ان سے افضل و برتر مخلوق مراد ہے۔ ۲- حضرت جبرائیل امین مراد ہیں جو امین وحی خدا ہیں اور خدا اور تمام انبیاء و رسل کے درمیان واسطہ ہیں۔ سارے فرشتوں کے سردار ہیں اور سب سے بڑے فرشتے ہیں۔ ۳- انسانوں کی ارواح مراد ہیں جو فرشتوں کے ہمراہ قیام کریں گی۔ ۴- ایک فرشتہ مراد ہے جو تمام فرشتوں سے برتر ہے جبرائیل امین سے بھی افضل و برتر ہے۔ یہ وہی ہے جو انبیاء و معصومین کے ہمراہ تھا اور ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ روح کا لفظ قرآن مجید میں کبھی مطلق صورت میں اور بغیر کسی قید و شرط کے بیان ہوا ہے اور اس حالت میں زیادہ تر مقابلہ کے لیے قرار پایا ہے مثلاً: (تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ)۔ فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں۔ (معارج /۴) ۔ (تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ) شب قدر میں ملائکہ اور روح اپنے پروردگار کے فرمان سے ہر چیز کے ساتھ نازل ہوں گے۔ (قدر /۴)۔ ان دو آیات میں ملائکہ کے بعد روح کا ذکر ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں ملائکہ سے پہلے ہوا ہے۔ البتہ ممکن ہے کہ یہ اس کا الگ ہونا ایک بزرگ فرد کے عنوان کے ماتحت ہوا اور اصطلاح کے مطابق خاص کے بعد عام کا ذکر یا عام کے بعد خاص کا ذکر ہو۔ لیکن بہت سی آیتوں میں روح ایک صفت کی طرف اضافہ کے ساتھ آیا ہے مثلاً "روح القدس" (قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ) کہہ دے روح القدس نے اس قرآن کو تیرے پروردگار کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا" (نحل /۱٠۲)۔ یا آیہ (نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ)۔ "قرآن کو روح الامین نے نازل کیا ہے۔" (شعراء / ۱۹۳)۔ بعض آیات میں خدا نے روح کو اپنی طرف سے اضافت دی ہے۔ فرماتا ہے: (وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي) "آدم میں میں نے اپنی روح پھونکی" ایک شریف روح جو اپنی شرافت کی وجہ سے اس کی ذات مقدس کی طرف مضاف ہوئی ہے۔ (حجر /۲۹)۔ دوسری جگہ فرماتا ہے: (فأرسلنا اليها روحنا) "ہم نے مریمؑ کی طرف اپنی روح بھیجی۔" (مریم /۱۷)۔ ایسا نظر آتا ہے کہ لفظِ روح ان آیات میں چونکہ مختلف شکلوں میں بیان ہوا ہے، لہذا اس کے مختلف معانی ہیں جن کی تشریح انہی آیات کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔ لیکن، جو مختلف تفاسیر سے، زیر بحث آیات کے بارے میں زیادہ مناسب نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں روح سے مراد خدا کا ایک بہت بڑا فرشتہ ہے جو بعض روایات کے مطابق جبریل امین سے بھی افضل و برتر ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ (هو ملك اعظم من جبرائیل و میکائیل) وہ ایک فرشتہ ہے جو جبرائیل و میکائیل سے بھی بڑا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٠، ص ۴۲۷)۔ اور تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی آیا ہے (الروح ملك أعظم من جبرائیل و میکائیل و كان مع رسول الله و هو مع الائمة) روح ایک رشتہ ہے جو جبریل و میکائیل سے افضل و برتر ہے۔ وہ رسول اللہؐ کے ساتھ تھا اور آئمہ کے ساتھ بھی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم، جلد ۲، ص ۴٠۲)۔ اگرچہ بعض روایات میں اہل سنت کی تفاسیر میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ: (الروح جند من جنود الله لیسوا بملائكة لهم رؤوس و ایدی و ارجل ثم قرأ يوم يقوم الروح و الملائكة صفًا قال هؤلاء جند و هؤلاء جند) روح، خدا کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو ملائکہ نہیں ہیں۔ ان کے سر، ہاتھ اور پاؤں ہیں۔ اس کے بعد پیغمبر(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (يوم يقوم الروح و الملائكة صفًا) پھر مزید فرمایا سے ایک الگ لشکر ہے اور ملائکہ الگ لشکر ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر درالمنثور، جلد ۶، ص ۳٠۹)۔ انسان کی روح اور اس کے تجرد و استقلال کے بارے میں مشرح اور مفصل بحثیں ہم جلد ۶، ص ۶۹۲ سے لے کر ص ۶۹۷ تک (سورہ اسراء کی آیت ۸٥ کے ذیل میں) پیش کر چکے ہیں۔ بہرحال جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے یہ عظیم خدائی مخلوق چاہے فرشتوں میں سے ہو یا اور کوئی خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہو،خدا کے فرمان کی اطاعت کے لیے ملائکہ کے ساتھ اطاعت کو آمادہ ہے اور اسی طرح قیامت کی ہولناکی اور محشر کے اضطراب نے سب کو گھیر رکھا ہو گا کہ کسی کو کبھی بات کرنے کی طاقت نہیں ہو گی اور جہاں کوئی بات کرے گا یا شفاعت کرے گا وہ صرف پروردگار کی اجازت سے ہو گا۔ وہ خدا کی حمد و ثنا کریں گے اور جو لائق شفاعت ہیں ان کی شفاعت کریں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام جعفر صادقؑ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: (نحن والله المأذون لهم يوم القيامة والقائلون) خدا کی قسم! قیامت کے دن ہمیں اجازت ہو گی اور ہم ہی گفتگو کریں گے۔ راوی سوال کرتا ہے اس روز آپ کون سی بات کریں گے۔ تو آپ نے فرمایا: (نمجد ربنا ونصلی على نبينا و نشفع لشيعتنا فلايردنا ربنا) ہم اپنے پروردگار کی تمجید و تعریف کریں گے۔ اور اپنے پیغمبرؐ پر درود و سلام بھیجیں گے اور اپنے پیروکاروں کی شفاعت کریں گے اور خدا ہماری شفاعت کو رد نہیں کرے گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱٥، ص ۴۲۷)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و ائمہ معصومین بھی ملائکہ اور روح کی صف میں قیام کریں گے اور انہیں بات کرنے، خدا کی حمد و ثنا کرنے اور شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ (تشریحی نوٹ: شفاعت، اس کے شرائط و خصوصیات اور اس کے فلسفہ کے بارے میں، اسی طرح اس کے مربوط اعتراضات و مشکلات کے سلسلہ میں تفصیلی بحثیں جلد ۱، سورہ بقرہ کی آیت ۴۸ کے ذیل میں ہم کر چکے ہیں)۔ "صواباً" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ملائکہ و روح یا انبیاء و اولیاء کسی کے لئے شفاعت کریں تو بھی کسی حساب و کتاب کی بنیاد پر ہو گا اور بغیر وجہ و سبب کے نہیں ہو گا۔ اس کے بعد اس عظیم دن کی طرف جو انسانوں اور فرشتوں کے قیام کا دن بھی ہے، وہ یوم الفصل ہے، سرکشوں پہ نزولِ عذاب کا دن ہے اور متقیوں کے اجر پانے کا دن۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ دن حق ہے۔" (ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ)۔ حق اس چیز کے معنی میں ہے جو ثابت ہے اور واقعیت رکھتی ہے اور تحقق پائے گی اور یہ معنی قیامت کے بارے میں مکمل طور پر ثابت ہیں ۔ اس کے علاوہ ایسا دن ہے جس دن برشخص کا حق دیا جا ئے گا ۔ مظلوموں کا حق ظالموں سے لیا جائے گا ۔ اس دن اسرار ظاہر ہوں گے۔ اس لیے وہ ایسا دن ہے جو پورے طور پر حق ہے۔ چونکہ اس واقعیّت کی طرف توجہ انسان کے خدا کی طرف رجوع اور اس کے فرمان کی اطاعت کے لیے مؤثر ترین محرک اور سبب بن سکتی ہے، اس لیے بلا فاصله مزید کہتا ہے: پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہے اور لوٹتا ہے (اس کی طرف) راستہ۔" (فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا)۔ یعنی اس محرک کے تمام اسباب فراہم ہیں جو خدا کی طرف رجوع کے لیے ہے اور راستے اور کنویں دکھائے جا چکے ہیں۔ انبیاء نے کافی حد تک فرمان حق کی تبلیغ کی ہے اور عقل انسانی نے بھی، جو اس کے اندر کا پیغمبر ہے۔ سرکشوں اور پرہیزگاروں کی سرنوشت اچھی طرح واضح ہو چکی ہے۔ عدالت، مظلوم اور قاضی بھی متعین ہو چکے ہیں۔ اکیلی چیز جو باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان دو ٹوک فیصلہ کرے اور اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو خدا نے اسے دیا ہے راستے کا انتخاب کرے اور آگے بڑھے۔ "ماب" کے معنی محل بازگشت ہیں۔ یہ راستے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ اس کے بعد مجرمین کی سزا کے مسئلہ پر تاکید کے عنوان سے اور اس عظیم دن کے ان لوگوں سے نزدیک ہونے کو بیان کرتے ہوئے جو اسے دور سمجھتے ہیں، یا اس کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ مزید فرماتا ہے: "ہم تمہیں قریب کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔" (إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا)۔ دنیا کی عمر جتنی بھی ہے آخرت کی عمر کے مقابلے میں ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہے۔ نیز عربوں کی مشہور ضرب المثل کے مطابق "جو یقینا" آئے گی وہ نزدیک ہے۔" (كل ما هو آت قريب)۔ اسی لئے سوره معارج کی آیت پانچ سے لے کر سات تک خدا اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے : (فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًاOإِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًاOوَنَرَاهُ قَرِيبًا) صبر کر، صبر جمیل جو ہر قسم کے جزع و فزع سے خالی ہو۔ وہ اس دن کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھتے ہیں۔ امیرالمومنین علیؑ بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: (كل أت قریب دان) ہر وہ چیز جو آنے والی ہے قریب ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱٠۳)۔ کیوں نزدیک نہ ہو جبکہ عذابِ الہی کا اصل سبب خود انسانوں کے اعمال ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور جہنم نے ابھی سے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے (وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ) (عنکبوت/ ٥۴)۔ اور چونکہ اس دن ایک گروہ عظیم حسرت و اندوہ میں غرق ہوتے ہوئے نادم و پشیمان ہو گا اور جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس تنبیہ کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ عذاب اس دن واقع ہو گا جس دن انسان جو کچھ اپنے ہاتھ سے آگے بھیج چکا ہے وہ سب دیکھے گا اور کافر کہے گا (اے کاش میں مٹی ہوتا) (يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا)۔ مفسرین کی ایک جماعت "ينظر" کے لفظ کی اس آیت میں "ينتظر" کے معنی میں تفسیر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مراد یہ ہے کہ انسان اس دن اپنے اعمال کی جزاء کے انتظار میں ہے۔ بعض اسے نامہ اعمال کے مشاہدہ اور نیکیوں اور برائیوں کے دیکھنے کے معنی میں کہتے ہیں۔ اور پھر یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اعمال کی جزا و سزا کا مشاہدہ ہے۔ یہ سب تفسیریں یہاں سے پیدا ہوتی ہیں کہ انہوں نے مسئلہ حضور یعنی اعمال انسان کی اس دن تجسیم کی طرف بہت کم توجہ دی ہے ورنہ اس واقعیّت کی طرف توجہ کی صورت میں آیت کا مفہوم واضح ہے اور کسی قسم کی تقدیر و تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ قرآن کی مختلف آیات اور اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال اسی دن مناسب صورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے ظاہر ہوں گے۔ وہ حقیقتًا اپنے اعمال کو دیکھے گا اور اپنے بُرے اعمال کے منظر کے مشاہدہ سے وحشت و ندامت محسوس کرے گا اور حسرت میں ڈوب جائے گا اور اپنے حسنات کو دیکھنے سے شاد و مسرور ہو گا اور اصولی طور پر نیکو کاروں کا بہترین اجر اور بدکاروں کی مناسب ترین سزا ان کے مجسم اعمال ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ سورہ کہف کی آیت ۴۹ میں ہم پڑھتے ہیں: (وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا)۔ "جو کچھ وہ انجام دیتے تھے، اسے حاضر پائیں گے۔" اور سورہ زلزال کی آخری آیات میں آیا ہے۔ (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُOوَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) "جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیک کام کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی بُرا کام کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا۔" اور روزِ قیامت کے عجائبات میں سے ہے کہ وہاں انسان کے اعمال مجسم ہوں گے اور قوتیں مادہ میں تبدیل ہو کر جاندار ہو جائیں گی (قَدَّمَتْ يَدَاهُ)۔ "اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے" کی تعبیر اس لیے ہے کہ انسان زیادہ تر کام اپنے ہاتھ سے انجام دیتا ہے۔ لیکن مسلّم ہے کہ صرف ہاتھ کے اعمال پر نہیں ہے بلکہ جو کچھ وہ زبان، آنکھ اور کان سے بھی انجام دیتا ہے وہ سب اس قانون کے ذیل میں ہے۔ قرآن اس دن کے آنے سے پہلے ہمیں خبردار کرتا ہے اور کہتا ہے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس دن کے لیے اس نے آگے کیا بھیجا ہے (وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ) (حشر /۱۸)۔ بہرحال بعد اس کے کہ کفار اپنی عمر کے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اسی غم و اندوہ و حسرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے۔ کاش ابتدا میں ہم خاک کے مرحلہ سے اوپر نہ جاتے۔ جماد سےنامی (نشو و نما کرنے والے نباتات) اور نامی سے حیوان اور حیوان سے انسان نہ بنتے اور کاش بعد اس کے کہ ہم انسان ہو گئے اور مر گئے تو مرنے اور خاک ہونے کے بعد قیامت میں نئی زندگی حاصل نہ کرتے۔ البتہ وہ جانتے ہیں کہ مٹی بھی ان سے بہتر ہے کیونکہ مٹی ایک دانہ لیتی ہے اور کبھی کبھی سو دانے واپس کرتی ہے، انواع و اقسام کے غذائی مواد معدنیات اور بہت سی برکتوں کا منبع و سرچشمہ ہے۔ مٹی انسان کا بستر اور اس کی زندگی کا گہوارہ ہے اور بغیر اس کے کہ اس میں کوئی ضرر ہو، وہ یہ سب فوائد لیے ہوئے ہے۔ لیکن وہ مٹی کے فوائد میں سے ایک بھی نہیں رکھتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بہت سی خرابیوں کی کان ہیں۔ جی ہاں! اس انسان کا کام جو اشرف المخلوقات ہے بعض اوقات کفر و گناہ کی بنیاد بنتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنج جاتی ہے کہ وہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی بے روح اور پست مخلوق کی صف میں کھڑے ہوتے۔ آیاتِ قرآنی میں ہم پڑھتے ہیں کہ کفار اور مجرم جب قیامت میں پروردگار کی داد رسی کا منظر اور اعمال کی جزا کا مشاہدہ کریں گے تو وہ کئی عکس العمل دکھائیں گے جو ان کی شدتِ تاثر و تاسف کی ترجمانی کریں گے۔ کبھی کہیں گے وائے ہو ہم پر اور ہماری اس حسرت پر کہ ہم نے فرمانِ خداوندی کی اطاعت میں کوتاہی کی (يَا حَسْرَتَى علَى مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّهِ) (زمر / ٥۶ )۔ اور کہیں گے' خداوندا! ہمیں دنیا کی طرف پلٹا تاکہ ہم عمل صالح کر سکیں۔ (فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا ) (الم سجدہ /۱۲)۔ اور کبھی کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے اور کبھی زندہ نہ ہوتے، جیسا کہ زیر بحث آیات میں آیا ہے۔
ایک نکتہ مسئلہ جبر و اختیار کے حل ہونے کا واضح راستہ
یہ مسئلہ قدیم ترین مسائل میں سے ہے جو علماء کو درپیش ہے کہ ایک گروہ ارادہ انسانی کا قائل ہے۔ دوسرا گروہ جبر کا طرفدار ہے اور ہر ایک گروہ نے اپنے مقصد کو ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل پیش کیے ہیں۔ لیکن جاذبِ توجہ یہ ہے "جبریئین" اور اختیار کے طرفدار دونوں ہی عمل میں اصل اختیار اور ارادہ کی آزادی کو قانونی طور پر قبول کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ساری بحثیں مباحثِ علمی کے دائرہ میں تھیں، نہ کہ مقامِ عمل میں۔ اور یہ چیز اچھی طرح سے بتاتی ہے کی اصل ارادہ کي آزادی اور اختیار تمام انسانوں کا فطری ہے۔ اگر درمیان میں مختلف وسوسے نہ ہوں تو تمام لوگ آزادیِ ارادہ کے معترف ہوں۔ یہ عمومی وجدان اور فطرت جو اختیار کے دلائل میں سب سے زیادہ واضح ہے انسان کی زندگی میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان خود کو اپنے اعمال کے بارے میں مجبور سمجھتا اور اپنے لیے اختیار کا قائل نہ ہوتا تو ایسا کیوں ہے کہ: ۱- ان اعمال کی بنا پر جنہیں انجام دیا، یا ان اعمال کی بنا پر جنہیں انجام نہیں دیا، پشیمان ہوتا ہے اور پختہ ارادہ کرتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں تجربہ سے فائدہ اٹھائے۔ یہ حالتِ ندامت عقیدہِ و جبر کے قائلوں میں زیادہ ہے، اگر اختیار نہیں ہے تو ندامت کیوں؟ ۲- بدکاروں کو سب لوگ ملامت و سرزنش کرتے ہیں اگر جبر ہے تو یہ سرزنش کیسی؟ ۳۔ نیکوکاروں کی مدح و تعریف و ستائش کرتے ہیں۔ کیوں؟ ۴۔ اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوشش کرتے ہیں کہ وہ سعادت مند ہوں۔ اگر سب مجبور ہیں تو پھر تعلیم کیا مفہوم رکھتی ہے۔؟ ٥- معاشرہ کے اخلاق کو بلند کرنے کے لیے سب عملاً بغير استثناء کوشش کرتے ہیں۔ ۶- انسان اپنی خطاؤں اور غلطیوں سے توبہ کرتا ہے۔ اصل جبر کو قبول کر لینے کی صورت میں توبہ کیا معنی رکھتی ہے؟ ۷۔ انسان اپنی کوتاہیوں پر حسرت کرتا ہے، آخر کیوں؟ ۸۔ ساری دنیا بدکاروں اور مجرموں کا محاسبہ کرتی ہے اور ان سے شدید طور پر باز پرس ہوتی ہے، وہ کام جو اختیار سے باہر ہے اس کی بازپرس اور محاکمہ کیسا؟ ۹- ساری دنیا اور تمام اقوامِ عالم کے درمیان عام اس سے کہ وہ خدا پرست ہوں یا مادییّن، یہ طے ہے کہ وہ مجرموں کے لیے سزا کے قائل ہیں۔ اس کام کی سزا کیسی جس پر وہ مجبور تھا۔ ۱٠۔ یہاں تک کہ جبر کے حامی، جب کوئی شخص اُن کو گھٹائے اور ان کی بُرائی کرے اور حیثیت کو مجروح کرے، تو فریاد کرتے ہیں اور اس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور اسے عدالت میں لے جاتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر واقعی انسان کوئی اختیار نہیں رکھتا تو پھر پشیمانی کے کیا معنی ہیں اور ملامت و سرزنش کس لیے ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں رعشہ ہو اس کو ملامت کی جائے۔ نیکوکاروں کی تعریف کیوں کی جاتی ہے اور انہیں نیکی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ کیا وہ اختیار رکھتے ہیں کہ شوق دلانے سے نیک کام کرنے لگیں گے۔؟ اصولی طور تعلیم و تربیت کی تاثیر کو قبول کر لینے کی صورت میں جبر اپنا مفہوم کھو بیٹھتا ہے؟ اس سے قطع نظر، ارادہ کی آزادی کے بغیر اخلاقی مسائل کا بھی کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے کاموں میں مجبور ہیں تو توبہ کی کیا ضرورت ہے۔ حسرت و ندامت کس لیے ہے۔ شخص مجبور کا محاکمہ کرنا اور اسے عدالت میں لے جانا سب سے زیادہ ظالمانہ کام ہے اور اس کو سزا دینا اس محاکمہ سے زیادہ نامناسب ہے۔ یہ سب چیزیں بتاتی ہیں کہ ارادہ کی آزادی والی حقیقت سب انسانوں میں فطری ہے اور تمام نوعِ بشر کے وجدان کے موافق ہے۔ نہ صرف عوام بلکہ سارے خواص اور سب فلاسفہ عمل کی دنیا میں اسی طرح ہیں، یہاں تک کہ جبری بھی عمل میں اختیاری ہیں (الجبريون اختياريون من حيث لا يعلمون)۔ قابل توجہ یہ کہ قرآن مجید نے بارہا اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ نہ صرف زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: (فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا) جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کر سکتا ہے۔ بلکہ دوسری آیات میں بھی انسان کے ارادہ پر بہت سے مقامات پر خصوصی روشنی ڈالی ہے، جن سب کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا۔ ہم صرف ذیل کی تین آیات پر اکتفا کرتے ہیں: (إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا)۔ "ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے چاہے وہ قبول کر کے شکر گزار بنے یا مخالفت کر کے کفران کرے۔ (دھر /۳) اور سورہ کہف کی آیت ۲۹ میں فرماتا ہے: (فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ)۔ "جو شخص چاہتا ہے ایمان لے آئے اور جو نہیں چاہتا وہ کفر کی راہ اختیار کرے۔" نیز سورہ دھر کی آیت ۲۹ میں ہم پڑھتے ہیں (إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا) یہ تذکرہ ہے جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کرے۔ مسئلہ جبر و تفویض کے بارے میں گفتگو بہت طولانی ہے اور اس سلسلہ میں کئی کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں اور جو کچھ اوپر کہا گیا ہے وہ صرف اس مسئلہ کی طرف قرآن و وجدان کے زاویہ سے نگاہ ڈالی ہے۔ اس گفتگو کو ہم ایک اہم نکتہ پیش کر کے ختم کرتے ہیں۔ ایک گروہ کا مسئلہ جبر کا قائل ہونا چند فلسفیانہ اور استدلال سے تعلق رکھنے والی مشکلات کی بنا پر ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دوسرے نفسیاتی، اجتماعی اور معاشرتی اہم عوامل بھی بلاشک و شبہ اس عقیدہ کے پیدا ہونے اور باقی رہنے میں دخل رکھتے ہیں۔ بہت سے افراد نے جبر کے عقیدہ کو، یا جبری سرنوشت کو، یا اس قضا و قدر کو جس کے معنی میں جبر داخل ہے، اور جن سب کی ایک ہی بنیاد ہے، ذمہ داری اور جوابدہی سے بچنے کے لیے قبول کیا ہے، یا پھر اس عقیدہ کو اپنی ان ناکامیوں کے لیے ایک حجاب کے طور پر اپنایا ہے جو ذاتی کوتاہیوں اور سہل انگاری کی بنا پر سامنے آتی ہیں۔ یا پھر سرکش ہوا و ہوس پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے اختیار کیا ہے اور یہ نظریہ اپنا لیا ہے کہ ہمارے شراب پینے کو وہ ازل سے جانتا ہے اور ہم اسی لیے شراب پیتے ہیں تاکہ خدا کا علم جہالت میں نہ بدل جائے۔ بعض اوقات استعمار اور سامراج کی فضا میں پرورش پانے والے افراد کی قوتِ مقابلہ کو شکست دینے کے لیے اور مختلف اقوام و ملل کے قہر و غضب کی آگ کو بجھانے کے لیے بہت سے لوگ اس عقیدہ سے متوسل ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کرتے ہیں کہ تمہاری تقدیر میں یہی تھا اور ظاہر ہے تسلیم و رضا کے علاوہ کوئی چارہ کار ہے ہی نہیں۔ اس طرزِ فکر کو قبول کر لینے سے تمام ظالموں کے اعمال کی توجیہ ہو جاتی ہے اور تمام گنہگاروں کے گناہ منطقی توجیہ پا لیتے ہیں اور مطیع و مجرم کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ خداوندا! ہمیں ان انحرافي عقائد اور ان کے نتائج سے محفوظ فرما۔ پروردگارا! ہمیں معلوم ہے کہ جہنم سرکشوں کے لیے مرصاد اور جنت متقیّوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے۔ ہم سب کی چشمِ امید تیرے لطف و کرم پر لگی ہوئی ہے۔ بارالٰہا! وہ دن جس میں ہم اپنے تمام اعمال اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہمیں اس روز شرمندگی و شرمساری سے بچا لیجو۔ آمین یا رب العالین۔