Al-A'raf
سوره اعراف
یہ سورہ مکّی سورتوں میں سے ہے، سوائے ایک آیت کے جس کی ابتدا " "واٴسئلہم عن القریة" اور انتہا " "بما کانوا یفسقون" ہے، صرف یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورہٴ کی آیتوں کی تعداد ۲۰۶، اوربعض کے نزدیک ۲۰۵ ہے
اس سورہ پر ایک طائرانہ نظر
جیسا کہ ہم جانتے ہیں اکثر قرآنی سورتیں (۸۰ سے لے کر ۹۰ سورتوں تک) مکہّ معظمہ میں نازل ہوئی ہیں، اگر مکہ کے اس وقت کے ماحول، ان تیرہ سالوں میں وہاں کے مسلمانوں کی حالت، اسی طرح تاریخ اسلام بعد از ہجرت پر نظر ڈالی جائے تو اچھی طرح سے معلوم ہو جائے گا کہ مکی سورتوں کا لہجہ اور انذاز سخن مدنی سورتوں سے کس لئے مختلف ہے۔ مکیّ سورتوں میں جو چیزیں زیادہ تر بحث میں ئی ہیں وہ یہ ہیں: مبداٴ و معاد (ابتدائے آفرینش اور قیامت)، اثباتِ توحید، قیامت کے روز عدالت الٰہی، شرک اور بُت پرستی سے مقابلے اور دنیائے آفرینش میں مقام انسانی کو استوار کرنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ کا زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کو عقیدہ اور تقویت مبانی ""ایمان کی" رو سے سنوارنا منظور تھا تاکہ یہ تعلیمات ایک مستحکم اُٹھان کی جڑ بن سکیں۔ دورانِ مکہ میں پیغمبر اسلامؐ کے ذمہ یہ فرض تھا کہ بت پرستوں کے خرافاتی انکار کو ان کے ذہنوں سے دھوئیں، اور اس کی جگہ روح توحید، خدا پرستی اور احساس فرائض کے موتی پر وئیں۔ ان انسانوں کو جن کی دوران بُت پرستی میں تحقیر کی گئی ہے اور انہوں نے زندگی کی دوڑ میں شکست کھائی ہے انہیں ان کے حقیقی مقام و منزلت سے آگاہ کریں، جس کے نتیجے میں اس پست و بدکار اور خرافاتی و منفی قوم سے ایک ایسی قوم جہنم دیں جو باوقار، باعزم با ایمان اور مثبت ہو۔ مدینہ میں اسلام کی تیز اور برق آسا ترقی کا بھی یہی راز تھا کہ اسلام کی وہ بنیاد بہت مستحکم تھی جو مکہ میں آیاتِ قرآنی کی روشنی میں رکھی گئی تھی۔ سورہ ہائے مکی کی آیتیں بھی اسی نظریے سے میل کھاتی ہیں۔ لیکن " "مدنی دَور" "ایک ایسا دور تھا جس میں حکومت اسلامی، دشمنوں کے مقابلے میں جہاد، ایک سالم و صحیح ماحول جو نوع بشر کی واقعی قدر و قیمت پر استوار ہو اور عدالت اجتماعی کی تشکیل کی گئی تھی۔ لہٰذا مدنی سورتوں کی اکثر آیتوں میں مسائل و حقوق، اخلاق، اقتصاد، تعزیرات کے جزئیات اور تمام فردی و اجتماعی ضروریات و لوازم کو بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کا مسلمان یہ چاہتا ہے کہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرے تو اسے چاہیے کہ اسی لائحہ عمل کا حرف بحرف عملی طور سے اجراء کرے۔ اور ان دونوں ادوار کو بطور کامل طے کرے۔ تا وقتیکہ عقیدہ کی بنیاد مستحکم و قوی نہ ہو اس کے اوپر ٹھہرنے والے مسائل استقامت اور مضبوطی کے حامل نہ ہوں گے۔ بہرحال چونکہ سورہ اعراف میں اس بناء پر مکی سورہ ہونے کے حوالے سے جو خصوصیات ہونا چاہئیں اس میں جھلک رہی ہیں۔ لہٰذا اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ: شروع میں ایک مختصر لیکن مظبوط اشارہ مسئلہ مبداٴ و معاد کی طرف کیا گیا ہے۔ بعد ازاں شخصیت انسانی کو حیات ثانیہ دینے کے لئے حضرت آدمؑ کی خلقت کے واقعہ کو بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے ان عہدوں کو ایک ایک کرکے گنوایا ہے جو اس نے اولاد آدم سے راہ راست پر چلنے کے سلسلہ میں لئے ہیں۔ اس کے بعد ان قوموں کی ناکامی و شکست دکھلانے کے لئے جو توحید و عدالت و پرہیزگاری کے راستہ سے ہٹ گئیں، نیز ان قوموں کی کامیابی دکھلانے کے لئے جنھوں نے ایمان کا جادہ کسی حال میں نہیں چھوڑا بہت سی گذشتہ قوموں اور انبیاء سابقین مثلاً حضرت نوحؑ، حضرت لوطؑ اور حضرت شعیبؑ کی سرگذشتیں بیان کی ہیں۔ پھر بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰؑ و فرعون کے مقابلے کو تفصیلاً بیان کرکے اس بحث کا خاتمہ کیا ہے۔ اس سورہ کے آخر میں دوبارہ مسئلہ مبداٴ و معاد کا ذکر کیا گیا ہے اور اس طرح اس سورہ کے انجام کو اس کے آغاز سے ملا دیا گیا ہے۔
اس سورہ کی اہمیت
تفسیر عیاشی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورہٴ اعراف کو مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ پڑھے گا وہ بروز قیامت ان لوگوں میں سے ہو گا جنہیں کوئی خوف ہو گا نہ غم، (مِنَ الَّذِینَ لَا خَوفٌ عَلَیہِم وَ لَاہُم یَحْزَنُونَ) اور اگر اسے اللہ یہ توفیق دے کہ وہ سورہٴ اعراف کو ہر جمعہ کو پڑھے، تو وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں محشور ہو گا جو بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ نیز حضرتؑ نے فرمایا کہ اس سورہ میں کچھ آیات محکمہ ہیں جن کا پڑھنا، تلاوت کرنا اور ان پر عمل کرنا کبھی نہ بھولنا، کیونکہ یہ آیات بروز محشر خدائے ذوالجلال کی پیشی میں اپنے پڑھنے والے کی گواہی دیں گی۔[بحوالہ: تفسیر برہان جلد دوم صفحہ ۲ و نور الثقلین جلد دوم صفحہ ۲] روایت مذکورہ سے جو نکتہ بخوبی سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ جن روایات میں سورتوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ کس سورة کا پڑھ لینا اتنے بڑے نتائج و آثار کا سبب بنے گا بلکہ جو چیز اس قرائت کو روح بخشنے والی ہے وہ اس سورہ کے مضمون و مطالب پر ایمان کا رکھنا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کرنا بھی ہے۔ اسی بناء پر روایات مذکورہ بالا میں ہم پڑھتے ہیں: "قِرَائَتُہَا وَ تِلَاوَتُہَا وَ الْقِیَام بِھَا "۔ نیز اسی روایات میں ہم دیکھتے ہیں کہ فرمایا: جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا قیامت میں وہ "الذّین لَا خَوفٌ عَلیہِم وَلَا ہُم یَحْزَنُون " کا مصداق بنے گا۔ اور یہ درحقیقت اسی سورہ کی آیت نمبر ۳۵ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جس میں خدا نے فرمایا ہے: "فَمَنِ اتْقیٰ وَ اصْلَحَ فَلَا خَوفٌ عَلَیہِم وَلَا ہُم یَحْزَنُون" "جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا اور (اپنی اور انسانی معاشرے) اصلاح کی انہیں (قیامت کے دن) کوئی خوف ہو گا نہ غم"۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ مقام خاص طور سے ان لوگوں کا ہے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور اصلاح کے راستے پر اپنے قدم اٹھائے۔ علاوہ بریں، اصولی طور سے بھی قرآن "عقیدہ" اور" عمل" کی کتاب ہے۔ اس لئے قرائت وتلاوت اس سلسلے میں ایک مقدمہ ہے نہ کہ اصل۔ راغب اپنی کتاب "مفردات" میں لفظ "تلاوت" کے ذیل میں لکھتے ہیں: آیہٴ "یتلونہ، حقّ تلاوتہ"[ سورہٴ بقرہ، آیت۱۲۱ ]سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے علم وعمل کے ذریعے قرآن کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ "تلاوت" کے معنی "قرائت" سے بالا تر ہوئے کیونکہ "تلاوت" کے مفہوم میں تدبر، تفکر اور عمل بھی شامل ہے۔ِ
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حروف مقطعات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس سورہ کے آغاز میں ایک مرتبہ پھر ہمیں قرآن کے حروفِ مقطعات سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہاں چار حرف ہیں، الف۔ لام۔ میم۔ صاد۔ ان حروف کے بارے میں سورہ بقرہ اور آلِ عمران کے آغاز میں ہم نے مفصل طور پر بحث کی ہے۔ اس جگہ ان حروف کی ایک اور تفسیر جو قابلِ توجہ ہے اس بحث کی تکمیل کی غرض سے بیان کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے ان حروف کے اغراض ومقاصد میں سے بات یہ ہو کہ تلاوت قرآنی سننے والوں کی توجہ حاصل کی جائے اور انہیں خاموش رہنے کی دعوت دی جائے کیونکہ آغاز کلام میں ان حروف کا ذکر کرنا عربوں کی نظر میں ایک عجیب اور نئی چیز تھی جو اُن میں جستجو کا جذبہ ابھارتی تھی اور غالباً ایسا ہوتا تھا کہ ان حروف کو سننے کے بعد وہ بعد والے مطالب کو بھی دھیان کے ساتھ سنتے تھے، اس نظریہ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اکثر سورتیں جو حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہیں وہ مکّی ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت مکہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو اپنی ضد کے پکّے تھے وہ اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آمادہ نہ تھے کہ پیغمبر کی کسی بات پر کان دھریں کبھی تو ایسا ہوتا تھا کہ اگر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم انہیں خدا کا کوئی پیغام سنانا چاہتے تھے تو وہ اتنا شور وغل مچاتے جس سے آنحضرت کی آواز گم ہو کر رہ جاتی تھی، جیسا کہ قرآن کی بعض آیات میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے (ملاحظہ ہو آیت۲۶ سورہٴ فصّلت)۔ نیز بعض روایات اہلبیت علیہم السلام میں وارد ہوا ہے کہ یہ حروف رموز واشارہ ہیں الله کے اسماء حسنیٰ کا، مثلاً (الٓمٓصٓ) اس سورہ میں اشارہ ہے (اَنَا اللهُ الْمُقْتَدِرُ الصَّادِقُ) کی طرف، یعنی میں سچّا اور قوی خدا ہوں، اسی طرح ان چار حروف میں سے ہر ایک خدا کے ناموں کا اختصار وخلاصہ ہے۔ مختصر الفاظ کو مفصّل الفاظ کی جگہ استعمال کرنا پہلے سے چلا آرہا ہے، اگرچہ ہمارے عصر میں تو اس طرح کے استعمال کا دامن بہت وسیع ہو گیا ہے، بہت سی طولانی عبارتوں یا اداروں یا انجمنوں کے ناموں کو ایک مختصر لفظ میں سمیٹ دیتے ہیں۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان حروفِ مقطعہ کی جو مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں ان میں آپس میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ بات ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں ان تمام تفسیروں کو قرآن کے مختلف بطون کے لحاظ سے مراد لیا جائے۔ اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جو تم پر نازل ہوئی ہے، اس کی وجہ سے کسی قسم کی فکر یا اذیّت کو اختیار نہ کرو (کِتَابٌ اُنزِلَ إِلَیْکَ فَلَایَکُنْ فِی صَدْرِکَ حَرَجٌ مِنْہُ)۔ " "حرج" "کے معنی لغت میں تنگی، مصیبت اور ہر طرح کی اذیّت کے ہیں اس کے اصلی معنی ہیں: " "درختوں کا جھُنڈ، جن کی شاخیں آپس میں گھتی ہوئی ہوں، بعد میں اس معنی میں وسعت پیدا ہو گئی اور یہ لفظ ہر قسم کی دلتنگی اور ناراحتی کے معنی میں بولا جانے لگا۔ مذکورہ بالا جملہ پیغمبرﷺ کی تسلیٴ خاطر کے لئے فرمایا ہے چونکہ یہ آیتیں خدا کی جانب سے ہیں لہٰذا کسی قسم کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ اس رسالت کے سنگین بار کو اپنے دوش پر اٹھانے کی فکر، نہ اس کے ردّعمل اور جوابی کاروائیوں کی فکر جو نہایت جاہل اور ضدی دشمنوں کی طرف سے پیش آسکتی ہیں،نہ اس نتیجہ کی فکر جو اس تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں برآمد ہو گا۔ خلاصہ یہ کے کسی فک اور پریشانی میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور وہی اس کومنزل عمل تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ چونکہ یہ سورہ مکی ہے لہٰذا اس میں مشکلات کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جو راہ تبلیغ دین میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو در پیش تھیں۔ اگرچہ آج ہمارے لئے ان زحمتوں اور مصائب کا اپنے ذہن میں پوری طرح سے تصّور کرنا مشکل ہے جو رسول اللہﷺ اور ان کے باوفا ساتھیوں کو ابتداء میں دین اسلام پھیلانے کے سلسلے میں پیش آئی تھیں۔ لیکن اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ رسول اللہﷺ یہ چاہتے تھے کہ اس انتہائی درماندہ و پستی میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں انقلاب کی ایسی روح پھونکیں جس کی وجہ سے انسانیت کا یہ پژمردہ و نیم جان پیکر یک بیک اٹھ کر کھڑا ہو جائے اور ترقی کی ہروادی میں دوڑنے لگے اور یہ سب کچھ ایک تھوڑے سے عرصے میں ہو جائے، تو پھر ان مشکلات کا اجمالی طور سے کچھ اندازہ ہو سکے گا جو آنحضرتؐ کو اس راہ میں پیش ہوں گی۔ اس بنا پر یہ بات برمحل ہے کہ خداوند کریم آنحضرت کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہونا د لتنگ نہ ہونا، اپنے کام کا درست نتیجہ نکلنے کے پوری طرح سے امید وار رہنا۔ اس کے بعد کے جملے میں مزید فرماتا ہے: اس کتاب کو نازل کرنے کا مقصد لوگوں کو ان کے افکار و اعمال کے انجام سے ڈرانا ہے، اسی طرح یہ تنبیہ اور یاددہانی ہے سچّے مومنین کے لئے (لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ)۔[ جو بات اوپر کہی گئی ہے اس کی بناپر "لتنذر" "انزل" سے متعلق ہے نہ کہ فلایکن سے، شاید اس (لتنذر) کا جملہ (فلایکن فی صدرک حرج) کے بعد واقع ہونا اس بناپر ہے کہ ابتدا میں پیغمبر کو دعوت الی الحق کے لئے آمادہ کیا جانا چاہیے، بعد ازان جو مقصد ہے (یعنی انذار) اس کو ان کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔ ] اس آیت میں ایک بات جو ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ "انداز"بطور ایک عمومی فرمان کے وارد ہوا ہے اور "تذکر" کو مومنین کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق کی طرف دعوت اور بےراہ روی کا مقابلہ اجتماعی طور سے ہونا چاہیے جس میں سب شریک ہیں لیکن ظاہر ہے کہ صرف ایمان لانے والوں ہی کو اس کا فائدہ پہنچے گا اور وہ وہی لوگ ہیں جن کے ذہن حق بات قبول کرنے کو تیار ہیں، انہوں نے ہر قسم کی ضد اور ہٹ دھرمی اپنے سے دور کر دی ہے اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہیں بالکل یہی تعبیر سورہٴ بقرہ کے آغاز میں بھی گذرچکی ہے جہاں فرمایا ہے: "ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیبَ فِیہِ ہُدیً لِلْمُتَّقِین" "یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اور یہ پرہیزگاروں کے لئے سرمایہٴ ہدایت ہے" "(مزیدتوضیح کے لئے تفسیر نمونہ جلد اوّل ملاحظہ ہو)۔ اس کے بعد عام انسانوں کی طرف روئے سخن کرکے ارشاد ہوتا ہے: "جو چیز تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے اوپر نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو" (اِتَّبِعُوا مَا اُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ)۔ اور اس طرح پیغمبرؐ اور ان کی ماموریت ورسالت سے بات شروع ہو کر تمام لوگوں کے فرضِ منصبی پر ختم ہو جاتی ہے۔ مزید تاکید کے لئے ارشاد فرماتا ہے: "غیر خدا کے فرمان کی پیروی نہ کرو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا والی وسرپرست نہ بناؤ" (وَلَاتَتَّبِعُوا مِنْ دُونِہِٓ اَوْلِیَآءَ)۔ لیکن چونکہ ایسے بندے جوپورے طور سے حق کے سامنے اپنا سر خم کرتے ہیں اور یاد دہانیوں کا اثر لیتے ہیں کم ہیں اس بناپر آیت کے آخر میں فرماتا ہے: " تم یاددہانیوں کا اثر بہت کم لیتے ہو" (قَلِیلًا مَا تَذَکَّرُونَ)۔ ضمنی طور پر یہ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان ایک دوراہے پر کھڑا ہے، ایک تو خدا کی سرپرستی ورہبری کا راستہ ہے اور دوسرا غیروں کی سرپرستی میں داخل ہونے کا راستہ، اگر پہلی راہ اختیار کرے تو اس کا سرپرست ووالی صرف خدا ہے اور دوسروں کی سرپرستی قبول کرے تو اس ہر روز کسی نہ کسی کا بار اپنے کاندھوں پر اٹھانا پڑے گا اور ہر روز ایک ئنے مالک وسرپرست کا انتخاب کرنا پڑے گا، لفظ "اولیاء" " جو ولی کی جمع ہے اسی مطلب کی طرف اشارہ کررہا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
وہ قومیں جو نابود ہو گئیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دونوں آیتوں میں ان عبرت ناک سزاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سابقہ آیات میں مذکورہ فرامین کی مخالفت کی وجہ سے دی گئیں۔ نیز یہ فی الواقع متعدد قوموں کی سرگذشت کی ایک اجمالی فہرست ہے جسے قوم نوح، قوم فرعون، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط جن کا تذکرہ بعد میں آنے والا ہے۔ اس مقام پر قرآن ان لوگوں کو جو انبیائے الٰہی کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور بجائے اپنی اور دوسرے افراد کی اصلاح کے، فساد کے بیج بوتے ہیں، انہیں شدّت سے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ ذرا پچھلی قوموں کی زندگی پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں: ہم نے کس قدر شہر اور آبادیاں تباہ و برباد کر دیں اور ان میں رہنے والے لوگوں کو نابود کر دیا (وَکَمْ مِنْ قَرْیَةٍ اَھْلَکْنَاھَا)۔ اس کے بعد ان کی ہلاکت کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے: ہمارا دردناک عذاب، رات (کی تاریکی) میں جبکہ وہ خواب راحت میں ڈوبے ہوئے تھے یا دن کے درمیانی حصہ میں اس وقت جبکہ وہ دن کے کاموں کے بعد استراحت کررہے تھے انہیں آپہنچا (فَجَائَھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ ھُمْ قَائِلُون)۔ اس کے بعد کی آیت میں بات کو آگے یوں بڑھاتا ہے: وہ لوگ جب گردابِ بلا میں گرفتار ہوتے تھے اور پاداش عمل کا طوفان ان کی زندگی کے آشیانہ کو اجاڑرہا ہوتا تھا تو وہ نخوت و غرور کی بلندی سے نیچے آتے تھے اور یوں کہتے تھے: ہم ستمگر تھے اور اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ظلم و ستم نے ان کا دامن تھام رکھا تھا (فَمَا کَانَ دَعْوَاھُمْ إِذْ جَائَھُمْ بَاْسُنَا إِلاَّ اَنْ قَالُوا إِنَّا کُنَّا ظَالِمِینَ)۔
چند اہم نکات
۱۔ "قریہ"، در اصل مادّہٴ "قُریٰ" (بروزن "نُّھیٰ") سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں"اکٹھا ہونا"۔ چونکہ "قریہ" (آبادی) لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ ہے اس لئے یہ لفظ اس پر بولا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "قریہ" صرف دیہات ہی کو نہیں کہتے بلکہ یہ ہر قسم کی آبادی اور انسانوں کے اجتماع کے مرکز پر بولا جاتا ہے چاہے کوئی دیہات ہویا شہر؛ نیز قرآن کریم میں بھی یہ لفظ دیہات اور شہر دونوں کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ "قائلون"، مادّہٴ "قیلولہ" سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں "خوابِ نیم روز" (دوپہر کی نیند) یا "دوپہر کی استراحت"۔ اس کے اصلی معنی ہیں "راحت"اسی لئے بِکنے کے بعد کسی جنس کو "واپس لے لینا"بھی اس کے معنی میں داخل ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے طرفین معاملہ کو راحت ہو جاتی ہے۔ "بیات"کے معنی "وقت شب"کے ہیں۔ ۲۔ یہ جو ہم نے مذکورہ آیت میں پڑھا ہے کہ اللہ کا عذاب رات کے درمیانی حصّے میں یا دوپہر کے آرام کے وقت ان لوگوں کے دامنگیر ہوا یہ اس لئے تھا تاکہ وہ اپنے عمل بد کی پاداش کا مزہ اچھی طرح سے چکھیں اور ان کی آسائش و آرام بالکل درہم برہم ہو کر رہ جائے، جس طرح ان ظالموں نے دوسرے لوگوں کے آرام و آسائش کو ملیامیٹ کر دیا تھا، اس طرح ان کا کیفرِ کردار ان کے عمل بد کے حسب حال تھا۔ ۳۔ اس آیت سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ تمام مجرم اور گنہگار قوموں کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے افراد عذابِ الٰہی کے پنجے میں جکڑ جاتے اور غفلت و غرور کے پردے ان کے گناہوں سے اٹھ جاتے تو سب کے سب اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے لگ جاتے لیکن ایسا اعتراف ان کے لئے کسی طرح فائدہ بخش نہ تھا کیونکہ یہ تو ایک طرح کا"اجباری و اضطراری"اعتراف تھا۔ اس وقت حالت ہی ایسی ہو جاتی تھی کہ متکبّر سے متکبّر تر انسان کے لئے بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں اس طرح کی بیداری، ایک جھوٹی بیداری تھی جو زود گزر اور بے اثر ہوتی ہے، جس میں کسی روحانی انقلاب کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا اور نہ اس کا ان کے اوپر کوئی اثر مرتب ہوتا ہے۔ہاں اگر یہی اعتراف گناہ بحالت اختیار عذاب آنے سے پہلے ہوتا تو ان کے روحانی انقلاب کی دلیل بن کر ان کی نجات کا باعث بن جاتا۔ ۴۔ یہاں پر مفسّرین کے درمیان ایک بحث یہ بھی ہے کہ قرآن نے پہلے "اھلکناھا"(ہم نے انہیں ہلاک کر دیا) فرمایا، اس کے بعد۔ف۔ کے ذریعے جسے فائے تفریع کہتے ہیں اور یہ ترتیب زمانی کے لئے آتی ہے، دوسرا جملہ فرمایا "فجآء ہا باٴسنا بیاتا"(یعنی پھر رات کے وقت ہمارے عذاب نے انہیں آ لیا) حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ عذاب تو ان کی ہلاکت سے قبل آیا تھا نہ کہ بعد میں اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ "ف"ہمیشہ ترتیب زمانی ہی کے لئے نہیں آتی بلکہ اس سے کبھی پہلے مختصر جملے کی تفصیل بیان کرنا مقصود ہوتی ہے چنانچہ یہاں پر بھی پہلے تو "اہلکناہا"کہہ کر مختصراً اس کا انجام بیان کیا گیا اس کے بعد اس طرح سے بیان کی:۔ ہمارے عذاب نے رات کے وقت یا دوپہر کو جبکہ وہ محو استراحت تھے ان کا دامن تھام لیا، اور جس گھڑی انہوں نے خود کو ہلاکت کے دروازے پر دیکھا تب انہوں نے اپنے ظلم و ستم کا اعتراف کیا۔ اس طرح کا کلام، کلام عرب میں کم نہیں ہے۔ ۵۔ اس طرح کی آیتوں کو، اقوام گذشتہ کی تاریخ ہی نہیں سمجھنا چا ہیئے اور نہ اسے اقوام گذشتہ سے مخصوص کرنا چاہیے کہ یہ بات آئی گئی ہو گئی بلکہ یہ آیتیں آج کے انسانوں کے لئے اور آئندہ آنے والوں کے لئے زبردست تنبیہیں اور خطرے کے الارم ہیں، یہ ہمارے لئے بھی ہیں اور تمام آئندہ آنے والی قوموں کے لئے بھی کیونکہ سنت الٰہیہ میں تبعیض و ترجیح کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ آج کا انسان جسے ایک صنعتی و میکانیکی انسان کہا جاتا ہے اپنی تمام قدرتوں اور قوتوں کے باوجود جو اس نے بڑی کدو کاوش کے بعد حاصل کر رکھی ہیں، زلزلے کے ایک جھٹکے، طوفان کے ایک جھونکے، بارش کے ایک تپھپیڑے اور اسی طرح کی دیگر آسمانی بلاؤں کے آگے اس طرح کمزور وناتواں ہے جس طرح ماقبل تاریخ کے دَورمیں تھا۔ بنابریں وہ دردناک عذاب اور انجام بد کا سامنا گذشتہ امتوں کے ستمگاروں اور غرور ور ہوس رانی میں مست انسانوں کوکرنا پڑتا تھا، آج کے انسان سے بھی بعید نہیں ہے بلکہ اس وقت انسان کوجو قدرت وطاقت حاصل ہو گئی ہے اس کی بناء پر وہ خود اپنی تباہی وعذاب کا سبب بن سکتا ہے اور یہی علم اور طاقت اُسے آخر کار ایک عظیم جنگ کی طرف لے جارہی ہے جس کی وجہ سے نسل انسانی کے نابود ہونے کا اندیشہ ہے، آیا انسان کو ان حوادث سے عبرت نہیں لینا چاہیے؟۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک عام باز پرس
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں خدا شناسی اور نزولِ قرآن کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن زیرِ نظر آیات جن میں معاد کی بابت گفتگو کی گئی ہے، فی الواقع یہ ان آیات کی تکمیل کنندہ ہیں۔ علاوہ ازیں گذشتہ آیات میں دنیا میں ظالموں کے ظلم کے نتائج کے بارے میں گفتگو تھی اور ان آیات میں ان لوگوں کی اُخروی سزاؤں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے ان تمام آیات کے درمیان واضح ربط موجود ہے۔ ابتداء میں ایک عام قانون کے طور سے فرماتا ہے: ان تمام لوگوں سے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا ہے ہم یقینی طور سے بروزِ قیامت سوال کریں گے (فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِینَ اُرْسِلَ إِلَیْھِمْ )۔ صرف ان سے ہی سوال نہیں کریں گے بلکہ ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے تم نے ہمارا پیغام ان تک کس طرح پہنچایا (وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِینَ)۔ بنابریں، رہبر بھی مسئول ہیں اور پیرو بھی پیشوا بھی جوابدہ ہیں مرید بھی اگرچہ ان دونوں گروہوں کی مسئولیت جداگانہ ہے۔ اس سلسلے میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جو اس مطلب کی تائید کرتی ہے؛ حضرتؑ فرماتے ہیں: فیقام الرسل فیسئلون عن تادیة الرسالات التی حملوھا الیٰ اممہم فاخبر وآ انہم قد ادوا ذٰلک الٰٓی اممہم--- پیغمبروں کو بروز قیامت روکا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا کہ آیا تم نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا یا نہیں؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ہم نے پیغام پہنچادیا تھا۔[بحوالہ: تفسیر نوالثقلین ج دوم ص ۴- ] ایک اور روایت جو تفسیر علی بن ابراہیم میں مذکور ہے وہ بھی اس کی موٴید ہے۔ [ایضا] شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ خدا کے علم سے کچھ چیزیں مخفی ہیں اسی لئے وہ بروز قیامت اس طرح کے سوالات کرے گا اس توہّم کو دور کرنے کے لئے بعد والی آیت میں خدا یقینی طور پر، قسمیہ تاکید کے ساتھ فرماتا ہے: ہم اپنے علم و آگاہی کی بناء پر ان کے تمام اعمال کی شرح ان سے بیان کریں گے، کیونکہ ہرگز ان سے غائب نہ تھے ہر جگہ ان کے ساتھ تھے اور ہر حال میں ان کے ہمراہ تھے (فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَائِبِینَ)۔ "فلنقصن"جو مادّہ "قصہ"سے ماخوذ ہے، اس کے اصلی معنی ہیں" ایک دوسرے کے پیچھے قطار کی طرح کھڑے ہونا"۔ اور چونکہ سرگذشت بیان کر نے میں مطالب و مضامین ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل طور پر آتے جاتے ہیں اس لئے اسے "قصہ"کہتے ہیں، اسی طرح وہ تعزیرات جو جرائم کے بعد مرتب ہوتی ہیں انہیں "قصاص"کہا جاتا ہے، اسی لئے قینچی کو بھی "مقص"(بروزن "پسر" ) کہتے ہیں کیونکہ وہ پے درپے بالوں کو کاٹتی ہے نیز کسی چیز کی جستجو کو "قص"(بر وزن "مس" ) کہتے ہیں کیونکہ جستجو اور تفتیش کرنے والا شخص حوادث کی مسلسل تعقیب کرتا ہے۔ چونکہ آیت میں چار قسم کی تاکید ہے (لامِ قسم، نون تاکید، کلمہ علم جو نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے اور اس سے بیان عظمت مقام ہے اور جملہٴ "ماکنآ غائبین"ہم کبھی بھی غائب نہ تھے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کی تمام جزئیات کو "حرف بہ حرف"اور "سلسلہ وار"ان سے بیان کریں گے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی نیت یا عمل ہمارے علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔[تفسیر"مجمع البیان" و "تبیان" میں بحث مذکورہ بالا کو "قصہ" کے عنوان کے تحت ایت کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے- ]
سوال کس لئے؟
پہلی بحث جو ہمیں درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے اور اصولی طور سے ہر جگہ حاضر وناظر بھی ہے اس صورت میں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ وہ تمام انبیاء اور امّتوں سے بغیر کسی استثناء کے بازپرس کرے؟ اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر سوال کرنا اطلاع حاصل کرنے کے لئے اور واقعہ معلوم کرنے کے لئے ہو تو جسے معلوم ہے اس کے لئے ایسا سوال کرنا بے فائدہ ہو گا لیکن اگر سوال کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب کو متوجہ کیاجائے یا اس سے اتمام حجت کی جائے یا اس کے علاوہ کوئی اور غرض ہو تو اس موقع پر سوال بےجا نہیں ہے، اس کی ٹھیک مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص کثیر النسیان ہو اور ہم نے بہت زیادہ اس کی خدمت کی ہو پھر اس نے بجائے خدمت کے طرح طرح کی خیانتوں سے بدلہ دیا ہو، یہ تمام باتیں ہم پر روشن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس شخص سے بازپرس کرتے ہوئے اس سے پوچھتے ہیں کہ آیا ہم نے تمھاری طرح طرح کی خدمتیں نہیں کیں؟ کیا تم نے ان خدمتوں کا حق ادا کیا؟ اس طرح کے سوالات تحصیل علم کے لئے نہیں ہوا کرتے بلکہ دوسرے کی تفہیم کے لئے ہوتے ہیں یا یہ کہ کسی خدمت گزار شخص کی قدر دانی اور تشویق کے لئے اس سے پوچھتے ہیں: اس سفر میں جو ڈیوٹی تمہارے سپرد کی گئی تھی اس کی بابت تم نے کیا کیا؟ درحالیکہ ہمیں اس کی تمام جزئیات معلوم ہوتی ہیں۔
وہ آیات جن میں سوال کیا گیا ہے
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ آیت موردِ بحث میں جس صراحت کے ساتھ اور بڑی تاکید وقسم کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ قیامت کے روز سب سے سوال کیا جائے گا، یہ دوسری بعض آیات سے اختلاف رکھتا ہے، مثلاً سورہٴ رحمان میں یہ آیت ہے: "فَیَوْمَئِذٍ لَایُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہِ إِنسٌ وَلَاجَانٌّ،۔۔۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیمَاھُمْ۔۔۔" "اس روز کسی شخص سے نہ انسانوں سے نہ جنوں سے کوئی سوال کیا جائے گا بلکہ گنہگاروں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیا جائے گا"۔[ سورہٴ رحمان، آیت۳۹۔۴۱- ] اسی طرح کی دیگر آیات بھی ہیں جو بروز قیامت سوال کی نفی کرتی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی آیات سوال کا اثبات کرنے والی آیات مثلاً زیر نظر آیت سے کیسے میل کھاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ان آیات میں غورو فکر سے کام لیں تو ہر طرح کا ابہام دُور ہو جائے گا کیونکہ جن آیتوں میں بروزِ قیامت سوال وجواب کا ذکر ہے اگر ہم ان سب کو ملا کر دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس روز لوگ چند مرحلوں کو طے کریں گے، ان میں سے کچھ مرحلے تو ایسے ہوں گے جہاں ان سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا جائے گا، حتّیٰ کہ ان کے منہ پر مہر لگادی جائے گی، صرف ان کے اعضاء وجوارح، جنھوں نے ان کے اعمال کے اثرات کو اپنے میں محفوظ کر لیا ہے، ایک بولنے والے اور ناقابلِ تردید گواہ کی حیثیت سے ان کے تمام اعمال کی تفاصیل بیان کریں گے۔ اس کے بعد والے مرحلے میں ان کے منہ سے مُہر ہٹادی جائے گی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ بول سکیں گے اور ان سے سوال کیا جائے گا، چونکہ وہ اپنے اعضاء کی گواہی دیکھ چکے ہوں گے لہٰذا انہیں اپنے اعمال کا اعتراف کرنا پڑے گا، بالکل ان مجرموں کی طرح جن کو اپنے جرائم کے چشم دید آثار کو دیکھنے کے بعد سوائے اعتراف کرلینے کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ بعض مفسّرین نے ان آیات میں یہ بھی احتمال دیا ہے کہ جن آیات میں سوال کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد زبانی سوال وجواب ہے، جن آیات میں سوال وجواب کا اثبات کیا گیا ہے اس سے مراد اعضاء وجوراع سے سوال کیا جانا ہے، چنانچہ جیسے رنگ رخسار راز دل کو آشکار کر دیتا ہے انسانی اعضاء وجوارح حقائق کو ظاہر کر دیں گے۔ ان میں سے کسی صورت میں ان دو طرح کی آیتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں بحثِ حشر و نشر کی تکمیل کے لئے مسئلہ "اچھّے بُرے اعمال کی پرکھ"کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی مثال قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی موجود ہے جیسے سورہٴ مومنون آیات ۱۰۲۔۱۰۳ اور سورہ قارعہ آیات ۶۔۸۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ: اعمال کے تو لے جانے کا مسئلہ اس روز برحق ہے (وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ) [بنابریں، "وزن" بہ معنائے مصدری ہے، یعنی وزن کرنا اور یہ کلمہ مبتدا ہے۔ "الحق" اس کی خبر ہے اگرچہ اس میں دیگر احتمالات بھی ہیں مگر جو ہم نے کہا ہے سب سے زیادہ قرینِ عقل ہے۔]
قیامت کے روز اچھے بُرے اعمال کی پرکھ کیلئے ترازو سے کیا مراد ہے
بروز محشر اعمال کے تولے جانے کی کیفیت کے بارے میں مفسرین و متکلمین کے درمیان بڑی بحث ہے چونکہ بعض افراد نے یہ خیال کیا ہے کہ وزن و ترازو اُس جہان میں بالکل اِس جہاں کے وزن و ترازو کی طرح ہے، دوسری طرف یہ بھی ہے کہ انسانوں کے اعمال کا کوئی وزن نہیں ہوتا، اس طرح ناچار ہو کر انہوں نے تجسّم اعمال کے ذریعے یا یہ کہ اس روز خود انسانوں کا وزن کیا جائے گا اس مشکل کا حل ڈھونڈا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے ایک عبارت نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں: "یوٴتی بالرجل الطویل العظیم فلا یزن جناح بعوضة"یعنی بروز قیامت طویل القامت عظیم الجثہّ افراد لائے جائیں گے جو ترازو میں مچھر کے پر جتنا وزن بھی نہ رکھتے ہوں گے۔[ اس روایت کو تفسیر "مجمع البیان" اور تفسیر "طبری" میں عبید بن عمیر سے نقل کیا گیا ہے؛ ظاہر عبارت یہ ہے کہ یہ خود عبید کے الفاظ ہیں نہ کہ پیغمبر کے۔] اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ لوگ اگرچہ بظاہر بڑے لوگ ہوں گے لیکن فی الحقیقت ان کی کوئی قیمت نہ ہو گی۔ اگر ہم اُس جہاں کی زندگی کا اِس دنیا کی زندگی سے موازنہ کریں اور یہ دیکھیں کہ وہاں کی ہر چیز اِس دنیا سے بالکل الگ ہے جیسے ایک جنین کی شکم مادر کے اندر کی زندگی، دنیاوی زندگی سے مختلف ہے، نیز اس بات کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ کسی لفظ کے معنی سمجھنے کے لئے ہمیشہ مصداق موجود کے پیچھے نہیں جانا چاہیے بلکہ نتیجہ کی رد سے مفہوم کو پرکھنا چاہیے، تو قیامت کے روز جو میزان نصب کی جائے گی اس کے معنی بالکل سمجھ میں آجائیں گے۔ اس کی توضیح اس طرح پر ہے کہ سابقہ زمانے میں جبکہ کبھی "چراغ"کا نام لیا جاتا تھا، تو ایک برتن سمجھ میں آتا تھا جس میں تھوڑا تیل پڑا ہو اور ایک فتیلہ (بتّی) اس میں موجود ہو، نیز اس بات کا بھی احتمال ہوتا تھا کہ شاید اس پر ایک چمنی بھی موجود ہو جو چراغ کی ہوا سے حفاظت کرے گی جبکہ فی زمانہ اس لفظ "چراغ"سے دوسری چیز سمجھ میں آتی ہے، ایک ایسی شے جس میں نہ تو تیل کا کوئی برتن ہے نہ فتیلہ ہے، نہ ہوا کو روکنے کے لئے پہلے کی طرح کا فانوس ہے، لیکن اس کے باوجود جو چیز آج کے چراغ کو قدیمی چراغ سے ملاتی ہے وہ اس کا نتیجہ ہے یعنی ایک ایسی شے جو تاریکی کو دور کر دے۔ مسئلہ "میزان"بھی بالکل اسی طرح ہے، اسی جہاں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جتنا زمانہ آگے بڑھتا جاتا ہے ترازو کی شکلیں کس طرح بدلتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ لفظ "میزان"دوسری چیزوں کے جانچنے کے آلات کے لئے بھی استعمال ہونے لگا ہے، جیسے "میزان الحرارة"(گرمی جانچنے کا آلہ)، "میزان الھوا"(ہوا جانچنے کا آلہ) وغیرہ وغیرہ۔ اس بناپر جو چیز مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ بروز قیامت لوگوں کے اعمال ایک خاص وسیلے سے جانچے جائیں گے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ وسیلہ دنیا کے ترازو کی طرح ہو ممکن ہے کہ وہ وسیلہ انبیاء، آئمہ اور افراد صالح کا وجود ہو، اس مطلب کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں۔ چنانچہ "بحار الانوار"میں ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب آیت "ونضع الموازین القسط"[ سورہٴ انبیاء، آیت۴۷] کے متعلق پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: " "والموازین الانبیآء والاوصیآء ومن الخلق من یدخل الجنة بغیر حساب" "بروز قیامت میزان سے مراد پیغمبران کرام اور ان کے اوصیائے عظام ہیں اور لوگوں میں سے وہ افراد ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے (یعنی وہ لوگ جن کے نامہٴ اعمال میں تاریکی کا کوئی گوشہ نہ ہو گا") اور دوسری حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے: "انّ امیر المومنین والاٴئمة من ذریتہ ھم الموازین" "یعنی امیرالمومنین علیہ السلام اور ان کے فرزند آئمہ طاہرین علیہم السلام میزانِ عمل ہیں"[بحوالہ: بحار الانوار، طبع جدید، ج۷، ص۲۵۱۔۲۵۲- ] نیز حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی زیارتِ مطلقہ میں وارد ہوا ہے: "السلام علی میزان الاعمال" "سلام ہو اس پر جو اعمال کی میزان ہے" واقعہ یہ ہے کہ اس جہاں میں جو مرد اور عورت کی رُو سے دوسروں کے لئے نمونہ ہیں وہ فی الحقیقت دوسروں کے اعمال ایک ترازو ہیں اور جو شخص جس قدر بھی ان سے مشابہت رکھتا ہے وہ اتنا ہی وزن رکھتا ہے اور وہ افراد جو ان سے کم مشابہت رکھتے ہیں یا بالکل مشابہ نہیں ہیں وہ "کم وزن"یا بالکل "بے وزن" اور ہلکے افراد ہیں۔ یہاں تک کہ اس جہاں میں بھی دوستانِ خدا دوسروں کے اعمال کی مقیاس ہیں، لیکن چونکہ اس دنیا میں بہت سے حقائق پردہٴ خفاء میں رہ جاتے ہیں اور بروز قیامت بمقتضائے آیہٴ شریفہ "وبرزوا للّٰہ الواحد القہار"(ابراہیم/۴۸) روزِ انکشاف وظہور ہے اس لئے کہ اُس دن یہ واقعیت ظاہر وآشکار ہو جائے گی۔ اور یہیں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ "موازین"جمع کا صیغہ کیوں آیا ہے، کیونکہ اولیائے حق جو ترازوٴے اعمال ہیں وہ متعددد ہیں۔ نیز یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صفت میں ممتاز تھا، بنابریں، ان میں سے ہر ایک انسانوں کی کسی ایک صفت کی مقیاس ہے اور انسانوں کے اعمال وصفات مختلف ہیں لہٰذا کسوٹی اور ترازو مختلف ہونا چاہئے۔ اسی سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ بعض روایات میں اس کا مفہوم "عدل"کیوں بیان کیا گیا ہے، جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ کسی نے حضرتؑ سے پوچھا: "ما معنی المیزان؟ قال: العدل" "میزان کے کیا معنی ہیں؟ حضرتؑ نے فرمایا: عدل۔ [بحوالہ: تفسیر "نورالثقلین" جلد۲۔ص۵ ] جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس کا مفہوم ا س کے منافی نہیں ہے، کیونکہ دوستانِ خدا اور وہ مرد اور عورتیں جو نمونہٴ عمل ہیں وہ عدل کا مظہر ہیں، یعنی عدل از روئے فکر، عدل اور روئے عقیدہ، عدل از روئے صفات واعمال (ذرا غور کیجئے) اس کے بعد کے جملے میں ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جن کا پلہ میزان عمل سے بھاری ہے نجات یافتہ ہیں اور وہ لوگ جن کا پلہ ہلکا ہے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس ظلم و ستم کی وجہ سے جو انہوں نے ہماری آیات کے بارے میں کیا ہے۔ اپنے سرمایہ وجود کو کھو دیا ہے (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ، وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ فَاُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ بِمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُونَ)۔ یہ بات بھی بدیہی ہے کہ میزان کے بھاری اور ہلکے پلّے سے خود ترازو کے پلّہ کا بھاری اور ہلکا ہونا مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو ان ترازؤوں میں تولے جائیں گے۔ اسی ضمن میں " خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ"(انہوں نے اپنے سرمایہ وجود کو کھو دیا) سے اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افراد بہت بڑے خسارے اور گھاٹے میں مبتلا ہوں گے، کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان یوں گھاٹا اٹھاتا ہے کہ اس کا مال یا مقام ہاتھ سے چلا جاتا ہے، لیکن کبھی ایسا گھاٹا اٹھاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہٴ ہستی کو کھو بیٹھتا ہے اس طرح کہ اس کے بدلے میں اسے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یقیناً یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ آخر آیت میں جو یہ آیا ہے کہ " کَانُوا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُونَ"ہماری آیتوں کے بارے میں ظلم کرتے تھے، اس تعبیر سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس طرح کے لوگ صرف اپنی ہی جانوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ خدا نے ہدایت خلق کے لئے جو نظام قائم کیے ہیں ان پر بھی ستم کرتے ہیں کیونکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے بنائے ہوئے یہ نظام خلق کی ہدایت و نجات کا وسیلہ بنیں، لیکن جب ان سے بے اعتنائی برتی جائے گی تو ان سے خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکے گا اور اس طرح ان پر ظلم ہو گا۔ بعض روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اس مقام پر "آیات"سے مراد دین کے عظیم رہبر اور آئمہ ہدیٰ ہیں، لیکن جیسا کہ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اس طرح کی تفسیروں کا یہ منشا نہیں ہے کہ آیت صرف اسی تفسیر کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ جائے بلکہ یہ معنی آیت کے ایک روشن مصداق کی حیثیت رکھتا ہے۔ بعض مفسّرین نے اس آیت میں آیت پر ظلم کے معنی یہ لئے ہیں کہ آیت کا انکار کیا جائے یا اس کے ساتھ کفر کیا جائے، یقینا یہ معنی بھی ظلم کے مفہوم سے بعید نہیں، قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی "ظلم"اس معنی میں آیا ہے۔
جہانِ ہستی میں انسان کا عظیم الشان مقام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جن آیات میں مبداٴ و معاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کے بعد اس آیت میں اور اس کے بعد کی آیات میں موضوع گفتگو یہ امور ہیں: "انسان"اور اس کے مقام کی عظمت و اہمیت، اس طرح کے افتخارات کی کیفیت جو اللہ نے اسے عطا کیے ہیں اور وہ عہد و پیمان جو ان نعمتوں کے بارے میں اللہ نے اس سے لئے ہیں۔ یہ اس لئے ہے تاکہ تربیّت انسانی کی بنیاد و مستحکم ہو اور اس کی ترقی کی راہ ہموار ہو۔ سب سے پہلے ایک آیت میں ان تمام مطالب کو بطور خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے۔ پھر بعد والی آیات میں اس کی تشریح و تفصیل بیان کی گئی ہے۔ شروع میں فرماتا ہے: ہم نے زمین پر تمہیں مالکیّت، حکومت اور تسلّط عطا کیا ہے (وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِی الْاَرْض)۔ اور اس میں تمہارے لئے زندگی کے طرح طرح کے وسائل پیدا کیے ہیں (وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیھَا مَعَایِشَ)۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم نعمتوں اور عطیوں کا بہت کم شکر کرتے (قَلِیلًا مَا تَشْکُرُونَ)۔ "تمکین" کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی شخص کو کسی جگہ ٹھہرا دیا جائے، بلکہ اس کے معنی میں ہے کہ اسے وہاں کام کرنے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہو وہ بھی اس کے لئے فراہم کیے جائیں، اسے قوت و توانائی دی جائے، کام کرنے کے تمام آلات فراہم کیے جائیں اور رکاوٹیں دور کی جائیں۔ ان تمام امور پر لفظ "تمکین" بولا جاتا ہے، حضرت یوسفؑ کے بارے میں قرآن مجید میں ہے: " وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاَرْضِ" "ہم نے اس طرح یوصف کو زمین پر قبضہ عطا کیا"(اور ہر طرح کی قدرت ان کے اختیار میں دی)۔ (یوسف/۵۴) اس آیت میں بھی دیگر آیات کی مانند پروردگار کی نعمتوں کے ذکر کے بعد بندوں کو شکر گذاری کی دعوت دی گئی ہے اور ان کے ناسپاس اور کفرانِ نعمت کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ امر بدیہی ہے کہ لوگوں میں خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں شکرگزاری اور قدر دانی کا جذبہ بیدار کرنا صرف اس لئے ہے کہ بندہ فرمان فطرت کے مطابق ان تمام نعمتوں کے عطا کرنے والے کے سامنے سر تسلیم خم کرے، اسے پہچانے اور اس کے ہر فرمان کو جان و دل سے قبول کرے اور یوں اس کی ہدایت و تربیت کا سامان ہو جائے، نہ یہ کہ شُکر گزاری کا کوئی فائدہ پروردگارِ عالم کو پہنچتا ہے، بلکہ اس کا جو کچھ بھی اثر اور فائدہ ہے وہ دیگر عورتوں کی طرح خود انسان ہی کو پہنچتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ابلیس کی سرکشی اور عصیان کا ماجرا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآن کریم کی سات سورتوں میں انسان کی پیدائش اور اس کی خلقت کی کیفیّت کا ذکر کیا گیا ہےاور جیسا کہ سابقاً بیان کیا گیا ہے اس موضوع کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اور موجودات عالم میں اس کا مقام و مرتبہ بیان کیا جائے اور اس کے وجود میں جذبہٴ شکر گزاری بیدار کیا جائے۔ اس سورہ میں مختلف تعبیروں سے خاک سے انسان کی خلقت، اس کے لئے فرشتوں کا سجدہ کرنا اور شیطان کی سرکشی اس کے بعد نوعِ انسانی کو تباہ کرنے کے لئے اس کے گھات میں رہنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی موردِ بحث آیت میں خدا تعالیٰ فرماتاہے : ہم نے تمہیں پیدا کیا، اس کے بعد تمہیں شکل و صورت دی اس کے بعد ہم نے فرشتوں کو (اور ان کے درمیان ابلیس کو بھی جو اگرچہ فرشتوں میں سے نہ تھا لیکن ان کے درمیان تھا) حکم دیا کہ آدم (جو تمہارا جدِّ اوّل تھا) کے لئے سجدہ کریں (وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُّمَ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ)۔ سب نے جان و دل سے اس فرمان کو قبول کیا اور انہوں نے آدم کے لئے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا (فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ لَمْ یَکُنْ مِنَ السَّاجِدِین)۔ آیت مذکورہ بالا میں "خلقت"کا ذکر "صورت بندی"سے پہلے کیا گیا ہے۔ ممکن ہے اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہوکہ ہم نے سب سے پہلے خلقتِ انسانی کے مادہ اول کو پیدا کیا اور پھر ہم نے اسے انسانی شکل عطا کی جیسا کہ ہم نے سورہٴ بقرہ آیت ۳۴ کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا "سجدہٴ عبادت"نہ تھا، کیونکہ پرستش صرف خدا کے لئے مخصوص ہے، بلکہ یہاں پر سجدہ برائے خضوع و احترام تھا (یعنی انہوں نے آدم کے آگے اظہار فروتنی کیا تھا) یا یہ کہ یہ سجدہ خدا کے لئے شکرانہ کے طور پر تھا کہ اس نے ایک ایسی موزوں، مناسب اور باعظمت مخلوق پیدا کی ہے۔ نیز ہم اُسی آیت کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں کہ "ابلیس"فرشتوں میں سے نہ تھا، بلکہ آیات قرآنی نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ وہ ایک اور قسم کی مخلوق تھا جس کا نام "جن"ہے (مزید توضیح کے لئے برائے مہربانی تفسیرِ نمونہ جلد اوّل صفحہ ۱۵۶ اُردو ترجمہ میں ملاحظہ فرمائیں)۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدا نے "ابلیس"کی سرکشی اور طغیان کی وجہ اس کا مواخذہ کیا اور کہا: اس بات کا کیا سبب ہے کہ تونے آدم کو سجدہ نہیں کیا اور میرے فرمان کو نظر انداز کر دیا ہے؟ (قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ اَمَرْتُکَ )۔ اس نے جواب میں ایک نادرست بہانے کا سہارا لیا اور کہا: میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تونے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو آب و گل سے (قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ)۔ گویا اسے خیال تھا کہ آگ، خاک سے بہتر و افضل ہے۔ یہ ابلیس کی ایک بڑی غلط فہمی تھی۔ شاید اسے غلط فہمی بھی نہ تھی بلکہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خاک طرح طرح کی برکتوں کا سرچشمہ، تمام موادِ حیاتی کا منبع اور زندہ موجودات کی بقائے حیات کاایک اہم ترین وسیلہ ہے، جبکہ آگ میں یہ خصوصیات موجود نہیں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ آگ موجودات جہان کے تجزیہ و ترکیب کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے لیکن زندہ موجودات کی ہستی میں بنیادی حیثیت ان مواد کو حاصل ہے جو خاک کے اندر موجود ہیں۔ آگ تو صرف ان کی تکمیل کا ایک وسیلہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کرہٴ زمین اپنی آفرینش میں سورج سے جدا ہوا تھا، وہ آگ کے ایک گولے کی طرح تھا جو بعد میں تدریجاً ٹھنڈا ہوتا گیا لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ زمین جب تک گرم اور شعلہ ور تھی اس میں کوئی زندہ مخلوق نہیں پائی جاتی تھی اس میں زندگی اس وقت پیدا ہوئی جب آگ کی جگہ خاک و گل نے لے لی۔ علاوہ بریں، ہر آگ جو زمین میں پیدا ہوتی ہے انہی مواد سے ظاہر ہوتی ہے جو خاک سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ خاک سے درخت اگتے ہیں اور درخت سے آگ نکلتی ہے، حتیٰ کہ تیل کے اجزاء یا جلنے والی چربیاں ان سب کی بازگشت خاک کی طرف ہے یا ان جیوانات کی طرف جو نباتات سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے ہٹ کر سوچا جائے تو معلوم ہو گا کہ امتیاز خصوصیت صرف یہ نہ تھی کہ ان کی خلقت خاک سے ہوئی ہے بلکہ آدم کا امتیاز اس بات میں تھا کہ ان میں روح انسانیت پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے وہ مقام خلافت الٰہی اور خدا کی نمائندگی کے مرتبے پر فائز تھے۔ اس بناء پر یہ مان بھی لیا جائے کہ شیطان کی خلقت کا مادہ اول افضل تھا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حضرت آدم جنہیں اللہ نے روح و عظمت عطا کی اور اپنی نمائندگی کے مرتبے پر فائز کیا، کے سامنے سجدہ و فروتنی نہ کرے۔ ظاہر یہ ہے کہ شیطان ان تمام باتوں کو جانتا تھا، صرف اس کی نخوت و تکبّر نے اسے ایسا کرنے سے روکا باقی یہ سب باتیں بہانہ تراشیاں تھیں۔
سب سے پہلا قیاس کرنے والا شیطان تھا
اہل بیت طاہرین علیہم اسلام کی متعد و حدیثوں میں اس بات کی شدت سے مذہب کی گئی ہے کہ احکام دین میں "قیاس"سے کام لیا جائے اب ان روایات میں ہم پڑھیں گے کہ جس شخص نے سب سے پہلے قیاس کیا وہ ابلیس تھا۔[ بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد دوم ص ۶] مدارک و کتب اہل سنت میں بھی جیسے تفسیر المنار اور تفسیر طبری میں یہی بات ابن عباس اور حسن بصری سے نقل کی گئی ہے۔[ بحوالہ: تفسیر المنار جلد ۸ ص ۳۳۱، تفسیر طبری جلد ۸ ص ۹۸، تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۶۰۷۔] "قیاس"سے مراد یہ ہے کہ دو موضوع جو بعض جہات میں ایک دوسرے سے مشابہ ہوں ان میں سے ایک کا دوسرے پر قیاس کیا جائے اور وہی حکم جو پہلے موضوع کا ہے دوسرے موضوع میں بھی اسے جاری کیا جائے، بغیر اس کے کہ پہلے حکم کے اسرار اور فلسفے کا ہمیں علمہو۔ مثلاً یہ کہ ہمیں معلوم ہے کہ انسان کا پیشاب نجس و ناپاک ہے، اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے، اس کے بعد ہم انسان کے "پسینہ"کا بھی اس پر قیاس کریں اور کہیں کہ چونکہ یہ دونوں سیّال بعض حیثیتوں سے اور اپنے بعض اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا دونوں ناپاک و نجس ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں سیّال اگر چہ بعض جہات سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن دیگر جہات سے مختلف بھی ہیں، ایک رقیق ہے دوسرا قدرے گاڑھا ہے۔ ایک سے اجتناب کرنا آسان ہے، دوسرے سے بہت مشکل ہے۔ علاوہ بریں پیشاب سے اجتناب کرنے کا فلسفہ پورے طور سے ہمیں نہیں معلوم۔ لہٰذا یہ مقایسہ انداز ے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے پیشواؤں نے جن کے ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرامین سے ماخوذ ہیں، قیاس کی سخت مذمّت کی ہے اور اسے بالکل باطل جانا ہے کیونکہ اگر "قیاس"کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھل جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر شخص اپنے محدود مطالعے اور کوتاہ فکر کے باوجود احکام شریعت میں قیاس سے کام لینے لگے گا اور جہاں بھی دوچیزوں میں تھوڑی مشابہت دیکھی ایک کا حکم دوسری پر لگادے گا اور اس طرح قوانین اسلام اور شریعت کے احکام میں ہرج مرج واقع ہو جائے گا۔ عقل کی رو سے بھی قیاس کا ممنوع ہونا صرف دینی قوانین پر موقوف نہیں ہے، بلکہ ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ ایک بیمار کا نسخہ دوسرے بیمار کو ہرگز نہ استعمال کرایا جائے چاہے دونوں کی بیماری ظاہری طور پر ایک جیسی ہو۔ اس کی وجہ ظاہرہے کیونکہ دونوں بیمار ممکن ہے ہماری نظر میں آپس میں مشابہ ہوں، لیکن بہت سی چیزوں میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، جیسے دوا کے لئے قوت برداشت، خون کا گروپ اور خون میں شکر اور چربی کی مقدار۔ ایک عام شخص ہرگز ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ ان کی تشخیص کرسکتا ہے انہیں تو ایک ماہر طبیب ہی سمجھ سکتا ہے۔ اگر ان خصوصیات پر نظر رکھے بغیر ایک مریض کی دوا دوسرے مریض کو دے دی جائے تو بجائے فائدہ پہنچانے کے ہو سکتاہے اسے الٹا نقصان پہنچ جائے، نقصان بھی ایسا جس کا کوئی تدارک اور علاج نہ ہو سکے۔ یہ ایک مثال تھی، ورنہ احکام الٰہی اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور نازک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں آیا ہے کہ اگر احکام خدا کے بارے میں قیاس کیا جائے تو دین خدا مٹ جائے گا یا یہ کہ قیاس کی خرابیاں اس کے فائدے سے زیادہ ہیں۔[ وسائل الشیعہ ج ۱۸ باب قیاس کی طرف رجوع کریں۔] علاوہ بریں،احکام الٰہی معلوم کرے کے لئے قیاس کا سہارا لینا اس بات کی نشانی ہے کہ دین اسلام نامکمل ہے کیونکہ اگر ہم یہ مان لیں کہ ہمارے دین میں ہر موضوع کے متعلق کوئی نہ کوئی حکم ضرور موجود ہے اور زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر قرآن و حدیث نے روشنی نہ ڈالی ہو تو پھر قیاس کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "شیعہ"مکتب کے ماننے والے قیاس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے تمام ضروری احکام دین اہلبیت طاہرین سے حاصل کرتے ہیں جو پیغمبر اکر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی نائب اور وارث ہیں۔ لیکن فقہائے اہلسنت نے چونکہ مکتب اہل بیت (جس کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان تھا کہ قرآن کے بعد مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے) کو نذر طاق نسیاں کر دیا ہے اور اس بناء پر احکام اسلامی کے منابع کی ان کے پاس کمی ہو گئی ہے، لہٰذا ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا کہ وہ "قیاس"کی طرف دست سوال دراز کریں۔ اب رہا شیطان کا معاملہ جس کے متعلق روایات میں ملتا ہے کہ وہ پہلا فرد ہے جس نے قیاس سے کام لیا اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس نے اپنی مادی خلقت کوآدم کی خلقت پر قیاس کیا اور بعض جہات سے خاک پرآگ کی برتری کو، آگ کی کلی برتری کی دلیل قرار دیا۔ اس نے خاک کے دیگر امتیازات پر نظر نہ کی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس نے آدم کے روحانی و معنوی امتیازات پر توجہ نہیں کی۔ اصطلاحاً اس قیاس کو "قیاس اولویت"کہا جاتا ہے۔ اس نے اس قیاس کے ذریعے جو محض تخمین و گمان اور سطحی مطالعے پر منبی تھا، اپنے کو آدم سے بہتر و برتر سمجھ لیا حتیٰ کہ اس نے اسی باطل قیاس کے بل بوتے پر فرمان الٰہی کو ٹھکرانے کی جراٴت کی۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے جو روایات منقول ہیں ان میں ہے کہ: "من قاس امرالدین براٴیہ قرنہ اللّٰہ تعالٰی یوم القیامة بابلیس" جو شخص دین کے امور میں اپنے قیاس کو کام میں لائے گا، اسے خدا بروز قیامت ابلیس کے ساتھ ملائے گا۔[بحوالہ: تفسیر "المنار" جلد ۸، ص ۳۳۱، تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۷] خلاصہ یہ کہ ایک موضوع کا دوسرے موضوع پر قیاس کرنا، بغیر اس کے کہ اس کے تمام اسرار و رموز سے آگاہی ہو ان دونوں موضوعاتکے لئے ایک جیسے حکم کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اگر مسائل مذہبی میں قیاس کا راستہ کھُل جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ احکام الٰہی کا کوئی ضابطہ باقی نہ رہے گا کیونکہ اس امر کا امکان ہو گا کہ ایک شخص کسی موضوع میں اپنی سمجھ کے مطابق قیاس کرے اور اس سے تحریم کا حکم اخذ کرے جبکہ کوئی دوسرا شخص اسی موضوع کو دوسرے موضوع پر قیاس کرے اور اس سے حلال ہونے کا نتیجہ نکالے۔
ایک استثناء
صرف ایک موضوع ایسا ہے جس کا استثناء کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ قانون بنانے والا مثلاً طبیب اپنے حکم کا فلسفہ و دلیل بیان کر دے، بس اس صورت میں ممکن ہے کہ جہاں بھی وہ دلیل اور فلسفہ پایا جائے، وہاں اس حکم کو جاری کیا جائے۔ اسے اصطلاح میں "قیاس منصوص العلة"کہتے ہیں۔ مثلاً اگر طبیب بیمار سے یہ کہے کہ فلاں میوہ سے پرہیز کرنا کیونکہ وہ ترش ہے۔ اس سے بیمار یہ سمجھے گا کہ اس کے لئے ترشی مضر ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے چاہے وہ کسی میوہ میں پائی جائے۔ بالکل اسی طرح قرآن یا سنت میں اس بات کی تصریح موجود ہو کہ شراب سے پرہیز کرو کیونکہ وہ نشہ آور ہے، اس سے ہم یہ سمجھیں گے کہ ہر نشہ آور مایع (چاہے وہ شراب نہ بھی ہو) حرام ہے۔ اس طرح کا قیاس ممنوع نہیں ہے کیونکہ اس کی دلیل قطعی کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ قیاس صرف اس جگہ ممنوع ہے جہاں ہم حکم کے فلسفہ و دلیل کو تمام جہات سے ازروئے یقین نہ جان سکیں۔ "قیاس"کا موضوع ایک طویل الذیل موضوع ہے، سطور بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مختصراً اور خلاصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مزید توضیح کے لئے اصول فقہ اور احادیث کی کتابوں میں باب قیاس کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہم یہاں پر ایک حدیث نقل کرکے اس بحث کو ختم کرتے ہیں: کتاب علل الشرایع میں منقول ہے: ایک دفعہ ابوحنیفہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس آئے۔ امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم احکام خدا میں اپنے قیاس سے کام لیتے ہو! ابوحنیفہ نے جواب دیا: جی ہاں ایسا ہی ہے، میں قیاس کرتاہوں۔ امام نے فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا؛ جب اس نے کہا تھا، خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ،اس نے آگ اور مٹی کا باہم قیاس کیا، حالانکہ وہ آدم کی نورانیت و روحانیت کا آگ سے قیاس کرتا تو اسے ان دونوں کے درمیان بڑا فرق معلوم ہو جاتا اور نورانیت و روحانیت کو آگ پر جو فوقیت حاصل ہے، اسے پہچان لیتا۔"[بحوالہ: تفسیر "نورالثقلین" جلد ۲ ص ۹]۔
ایک سوال کا جواب
یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ کہ شیطان نے خدا سے کس طرح گفتگو کی، کیا اس پر بھی وحی نازل ہوتی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا بات کرنا ہمیشہ وحی کا پہلو نہیں رکھتا، کیونکہ وحی کا مفہوم ہے "پیام رسالت و نبوت"اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ خدا کسی شخص سے، نہ بہ عنوان وحی و رسالت، بلکہ بطریق الہام درونی، کسی فرشتے کے ذریعے بات کرے، چاہے یہ شخص صالح افراد میں سے ہو جیسے مریم و مادر حضرت موسیٰ یا غیر صالح ہو جیسے شیطان۔ اب ہم باقی آیات کی تفسیر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ چونکہ شیطان کا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار، ایک عام اور معمولی انکار نہ تھا اور نہ ہی ایک عام گناہ شمار ہو سکتا تھا بلکہ یہ ایک سرکشی اور اعتراض تھا جس میں مقام پروردگار کا انکار چھپا ہوا تھا، کیونکہ وہ جو یہ کہتا ہے کہ : "میں آدم سے بہتر ہوں"درحقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کے بارے میں تیرا حکم حکمت و عدالت کے خلاف ہے اور "مرجوح")پست(کو "راجح")بلند(پر مقدم کرنےکا باعث ہے، اس وجہ سے، اس کے اس انکار کا رشتہ کفر سے اور پروردگار کی حکمت اور علم کے انکار سے ملا ہوا ہے اور اسی وجہ سے وہ اس مقام اور مرتبے سے گرگیا جو اسے بارگاہِ احدیت میں حاصل تھا اور اس سے فرمایا: اس مقام و مرتبہ سے گر جا(قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا)۔ اس آیت میں "مِنْھَا"میں جو ضمیر ہے اس کے بارے میں کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ"آسمان"یا بہشت کی طرف پلٹتی ہے جبکہ بعض مفسرین نے اس سے مراد "مقام و مرتبہ"لیا ہے، اگر چہ نتیجے کے لحاظ سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ بعد ازان اس جملے کے ذریعے اس کے سقوط و تنزل کی اصل وجہ بیان فرمائی ہے: تجھے اس بات کا حق نہیں کہ تو اس مقام و مرتبے میں تکبر کا راستہ اختیار کرے (فَمَا یَکُونُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیھَ)۔ ایک مرتبہ مزید تاکید کے لئے فرمایا: باہر نکل جا کہ تو پست و ذلیل افراد میں سے ہے (یعنی تو اپنے اس عمل کی وجہ سے نہ صرف کسی بزرگی کو حاصل نہ کرسکا بلکہ پستی و خواری کے گڑھے میں جاگرا(فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ)۔ اس جملے سے بخوبی واضح ہو گیا کہ شیطان کی تمام بدبختی اس کے تکبّر کی وجہ سے تھی۔ اس کی یہ خود پسندی اور غرور کہ اس نے خود کو اس مرتبے پر قرار دیا جس کا وہ حقیقت میں مستحق نہ تھا، اس امر کا سبب بنا کہ اس نے نہ صرف آدم کے لئے سجدہ نہ کیا، بلکہ اس نے خدا کے علم و حکمت کا بھی انکار کر دیا اور اس کے فرمان پر نکتہ چینی کی جس کے نتیجے میں اس نے اپنا مقام و مرتبہ کھو دیا اور بجائے بزرگی کے ابدی پستی و ذلت کو خرید لیا۔ یعنی نہ صرف یہ کہ وہ اپنے مقصد و مراد کو نہ پاسکا بلکہ اس کے بالکل برعکس دوسری سمت میں نکل گیا۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ "قاصعہ"میں تکبّر، خود پسندی اور غرور کی مذمت میں یوں فرمایا ہے: فاعتبروا بما کان من فعل اللّٰہ بابلیس اذا حبط عملہ الطویل وجھدہ الجھید، وکان قد عبداللّٰہ ستة آلاف---عن کبر ساعة واحدة فمن ذا بعد ابلیس یسلم علی اللّٰہ بمثل معصیّة؟! کلاّ ما کان اللّٰہ سبحانہ لیدخل الجنة بشراً بامر اخرج بہ منھا ملکا ان حکمہ فی اہل السمآء و اھل الارض لواحد۔[بحوالہ: نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ مطابق نہج البلاغہ صبحی صالح ]۔ عبرت حاصل کرو اس بات سے جو اللہ نے ابلیس کے بارے میں کی، اس وقت جبکہ شیطان کے تمام اعمال اس کی، طول و طویل عبادتیں، پہیم زحمتیں جو اس نے چھ ہزار سال کی طویل مدّت میں خدا کی بندگی کی راہ میں انجام دی تھیں--- ایک گھڑی کے تکبّر کی وجہ سے اللہ نے ان سب کو برباد کر دیا۔ جب یہ کیفیت ہوتو ابلیس کے اس انجام کے بعد کس کی مجال ہے کہ وہی معصیت کرکے جو اس نے کی تھی عذاب الٰہی سے نجات حاصل کرے؟ نہیں ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے کہ خدا کسی انسان کو اس عمل کے ساتھ جنت عطا کرے جس کی وجہ سے ایک فرشتے کوجنت سے باہر نکال دیا۔ اللہ کا حکم اہل آسمان و اہل زمین کے لئے ایک ہے۔[ یہاںشیطان پر لفظ "فرشتہ"کا اطلاق اس بناپر کیا گیا کہ وہ فرشتوں کی صفوں میں شامل تھا، نہ کہ وہ خود فرشتہ تھا جیسا کہ اس سے سے قبل بھی اس کی طرف اشارہ ہو چکا ہے ]۔ نیز ایک حدیث میں امام زین العابدین علیہ االسلام سے اس طرح مردی ہے: گناہوں کی کئی قسمیں اور کئی اسباب ہیں، لیکن معصیت پروردگار کا سب سے بڑا سبب تکبر ہے، جو ابلیس کا گناہ تھا، جس کی وجہ سے اس نے خدا کے فرمان سے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ اس کے بعد دوسرا گناہ "حرص"بنا، جس کی بنا پر حضرت آدم و حوا سے گناہ (اور ترک اولیٰ) سرزد ہوا۔ اس کے بعد "حسد"ہے، جو اُن کے بیٹے (قابیل) کے گناہ کا سبب بنا، جس نے اپنے بھائی (ہابیل) سے حسد کیا اور اسے قتل کر دیا۔[بحوالہ: سفینة البحار جلد ۲ ص ۴۵۸ (مادّہ کبر)۔] امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اصول الکفر ثلاثة: الحرص والا ستکبار والحسد، فاما الحرص فان آدم حین نھی عن الشجرة، حملہ الحرص علی ان اکل منہا، و اما الاستکبار فابلیس حیث امر بالسجود لاٰدم فاٴبیٰ، واما الحسد فانبا آدم حیث قتل احد ہما صاحبہ۔[بحوالہ: اصول کافی جلد ۲ ص ۲۱۹ باب اصول الکفر]۔ کفر و معصیت کی جڑیں تین ہیں: حرص، تکبر اور حسد۔ حرص اس بات کا سبب بنا کہ آدم نے شجر ممنوعہ سے کھایا، تکبر کی وجہ سے ابلیس نے خدا کے فرمان کو ماننے سے انکار کیا۔ اب رہا حسد تو اس کی وجہ سے آدم کے ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کی۔ لیکن شیطان کی داستان اسی جگہ پر ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اس نے جب یہ دیکھا کہ وہ درگاہ خدا وندی سے نکال دیا گیا ہے تو اس کی سرکشی اور ہٹ دھرمی میں اور اضافہ ہو گیا۔ چنانچہ اس نے بجائے شرمندگی اور توبہ کے اور بجائے اس کے کہ وہ خدا کی طرف پلٹےاور اپنی غلطی کی اعتراف کرے، اس نے خدا سے صرف اس بات کی درخواست کی کہ: "خدایا! مجھے دنیا کے اختتام تک کے لئے مہلت عطا فرمادے اور زندگی عطا کر"(قَالَ اَنظِرْنِی إِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُونَ)۔ اس کی یہ درخواست قبول ہو گئی اور اللہ تعالےٰ نے فرمایا: تجھے مہلت دی جاتی ہے (قَالَ إِنَّکَ مِنَ الْمُنظَرِینَ)۔ اگر چہ اس آیت میں اس بات کی صراحت نہیں کی گئی کہ ابلیس کی درخواست کس حد تک منظور ہوئی لیکن سورہٴ حجر کی آیت ۳۸ میں ہے: "اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ " تجھ کو ایک روز معیّن تک کے لئے مہلت دی گئی یعنی اس کی پوری درخواست منظور نہیں ہوتی بلکہ جس مقدار میں خدا نے چاہا اتنی مہلت عطا کی۔ انشاء اللہ ہم اس آیت کے ذیل میں اس بارے میں بحث کریں گے۔ لیکن اس نے جو یہ مہلت حاصل کی وہ اس لئے نہیں تھا کہ وہ اپنی غلطی کا تدارک کرے بلکہ اس نے اس طولانی عمر کے حاصل کرنے کا مقصد اس طرح بیان کیا: اب جبکہ تونے مجھے گمراہ کر دیا ہے، تو میں بھی تیرے سیدھے راستے پر تاک لگا کر بیٹھوں گا (مورچہ بناؤں گا) اور ان (اولاد آدم) کو راستے سے ہٹادوں گا (قَالَ فَبِمَا اَغْوَیْتَنِی لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ)۔ تاکہ جس طرح میں گمراہ ہوا ہوں اسی طرح وہ بھی گمراہ ہو جائیں۔
مسلک جبر کا بانی بھی ابلیس تھا
مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس نے اپنی برائت بیان کرنے کے لئے جبر کی نسبت خدا کی طرف دی اور کہا: "چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لئے میں بھی نسل آدم کی گمراہی کے لئے پوری کوشش کروں گا۔" اگر چہ کچھ مفسرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ جملہ "فبمآ اغویتنی"کی اس طرح سے تفسیر کریں کہ اس سے "جبر"نہ نکلے، لیکن بہ ظاہر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس جملہ کا ظاہر "جبر"کے معنی دیتا ہے اور شیطان سے بھی یہ کوئی بعید بات نہیں ہے۔ اس امر کی گواہ حضرت امیرالمومنینؑ کی وہ حدیث ہے جو آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی جبکہ آپ جنگ صفین سے پلٹ رہے تھے اور ایک بوڑھے شخص نے آپ سے "قضاء و قدر"کے متعلق سوال کیا حضرت نے اس کے جواب میں فرمایا: "ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب قضاء و قدر الٰہی تھا۔" اس سے وہ بوڑھا شخص یہ سمجھا کہ اس سے مراد وہی "مسئلہ جبر"ہے، حضرت نے اس وقت اس کو بڑی شدت کے ساتھ اس خیال باطل سے روکا اور ایک طویل گفتگو کے ضمن میں اس سے فرمایا: ""تلک مقالة اخوان عبدة الاوثان و خصماء الرحمان و حزب الشیطان۔" یہ بت پرستوں اور دشمنان خدا اور شیطانی گروہ کا مقولہ ہے۔[بحوالہ: اصول کافی جلد ۱ باب جبرو قدر ص ۱۲۰۔] اس کے بعد آپ نے "قضاء و قدر"کے معنی قضاء و قدر تشریعی کے کیے یعنی اس سے مراد خدا کے فرامین اور تکالیف شرعیہ ہیں۔ بہرحال، اس سے معلوم ہو گیا کہ سب سے پہلے جس نے ""مسلک جبریہ"کی حامی بھری وہ شیطان ہی تھا۔ اس کے بعد شیطان نے اپنی بات کی مزید تائید و تاکید کے لئے یوں کہا: میں نہ صرف یہ کہ ان کے راستہ پر اپنا مورچہ قائم کروں گا بلکہ ان کے سامنے سے، پیچھے سے، واہنی جانب سے، بائیں جانب سے گویا چاروں طرف سے ان کے پاس آؤں گا جس کے نتیجے میں تو ان کی اکثریت کو شکرگزار نہ پائے گا (ثُمَّ لَآتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ وَلَاتَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِرِینَ )۔ مذکورہ بالا تعبیر سے ممکن ہے مراد یہ ہو کہ شیطان ہر طرف سے انسان کا محاصرہ کرے گا اور اسے گمراہ کرنے کے لئے ہر وسیلہ اختیار کرے گا اور یہ تعبیر ہماری روز مرہ کی گفتگو میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ""فلان شخص چاروں طرف سے قرض میں یا مرض میں گھرگیا ہے۔ اوپر اور نیچے کا ذکر نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زیادہ تر اور عموماً فعالیت ان چار طرف ہوتی ہے۔ لیکن ایک روایت جو امام محمد باقر علیہ السلام سے وارد ہوئی ہے، اس میں ان "چار جہت"کی ایک گہری تفسیر ملتی ہے اور پیچھے سے آنے کے معنی یہ ہیں کہ : شیطان انسان کو مال جمع کرنے اور اولاد کی خاطر بخل کرنے کے لئے ورغلاتا ہے، اور "داہنی طرف"سے آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ انسان کے دل میں شک و شبہ ڈال کر اس کے امور معنوی کو ضائع کر دیتا ہے اور "بائیں طرف"سے آنے سے مراد یہ ہے کہ شیطان انسان کی نگاہ میں لذات مادّی و شہوات دنیوی کو حسین بنا کر پیش کرتا ہے۔[بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۴ ص ۴۰۳۔] زیر بحث کے آخر میں ایک مرتبہ اور شیطان کو یہ فرمان دیا جاتا ہے کہ وہ مقام قرب الٰہی اور اپنی سابقہ منزلت اور درجے سے نکل جائے۔ بس اتنا فرق ہے کہ یہاں پر اس کے باہر نکل جانے کا فرمان شدید تر اور زیادہ تحقیر آمیز لہجے میں صادر ہوا ہے۔ یہ شاید شیطان کی جرات و جسارت اور اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے جس کا اظہار اس نے افراد انسانی کو گمراہ کرنے کے سلسلے میں کیا تھا یعنی شروع میں اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اسی لئے کے خروج کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد اس نے خدا کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اسی لئے اس کے خروج کا حکم صادر ہوا، اس کے بعد اس نے ایک اور بڑا گناہ یہ کیا کہ خدا کے سامنے بنی آدم کو بہکانے کا عہد کیا اور ایسی بات کہی گویا وہ خدا کو دھمکی دے رہا تھا، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہو سکتاہے، لہٰذا خدا نے اس سے فرمایا: اس مقام سے بدترین ننگ و عار کے ساتھ نکل جا او رذلت و خواری کے ساتھ نیچے اتر جا (قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا ) [" مذؤم "مادّہ" ذئم" (بروزن طعم) سے ہے جس کے معنی ہیں عیب شدید "مدحور" مادّہ" وحر " (بروزن دھراً)سے ہے جس کے معنی ہیں ذلت و خواری کے ساتھ باہر نکال دیں]۔ اور فرمایا میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کرے گا میں جہنم کو تجھ سے اور اس سے بھر دوں گا (لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَاَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِینَ)۔
شیطان کی پیدائش اور اسے مہلت دینے کا فلسفہ
اس طرح کی بحثوں میں بالعموم مختلف سوال ذہن میں آتے ہیں جن میں سب سے اہم دو سوال ہیں: ۱۔ خدا نے شیطان کو کس لئے پیدا کیا؟ جبکہ اسے علم تھا کہ وہ ہر طرح کی گمراہی اور وسوسہ انگیزی کا سرچشمہ ہے۔ ۲۔ جبکہ شیطان اتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہوا تو اس کے بعد اللہ نے اس کی درخواست کو کیوں منظور کیا کہ اسے ایک طولانی عمر دی جائے؟ پہلے سوال کا جواب ہم نے تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں دیا ہے کہ: اوّلا۔ شروع میں شیطان کی خلقت پاک اور بے عیب تھی۔ اسی لئے وہ سالہائے دراز تک فرشتوں کی صفوں میں رہ کر عبادت کرتا رہا اور مقام قرب الٰہی پر فائز تھا، اگر چہ اپنی آفرینش کے لحاظ سے ان میں سے نہ تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنی آزادی سے سوء استفادہ کیا اور اپنی سرکشی و طفیان کی وجہ سے راندہٴ بارگاہ الٰہی ہو گیا اور اس نے "شیطان"کا لقب حاصل کیا۔ ثانیا۔ شیطان کا وجود راہ حق پر چلنے والوں کے لئے نہ صرف یہ کہ ضرر رساں نہیں، بلکہ یہ ان کی ترقی و کمال کا ایک امتیاز ہے۔ کیونکہ انسان کے مقابلے میں ایک قوی دوشمن کا وجود درحقیقت انسان کی قوت اور پنپنے کا ایک سبب ہے۔ آپ دیکھیں کہ جہاں بھی کوئی ترقی کرتا ہے وہاں اس کے سامنے کوئی متضاد چیز ضرور موجود ہوتی ہے۔ کوئی موجود راہِ کمال میں اس وقت تک آگے نہیں بڑھتا جب تک اس کے سامنے کوئی زبردست مخالف موجود نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان اگر چہ اپنی آزادی ارادہ کی وجہ سے اپنی بد اعمالیوں کا جواب وہ ہے لیکن اس کی وسوسہ انگیزیاں بندگانِ خدا کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو راہ حق پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ضرر رسان نہیں، بلکہ بالواسطہ ان کے لئے مفید ہیں۔ دوسرے سوال کا جواب بھی اس بات سے ظاہر ہو جائے گا جو ہم نے پہلے سوال کے جواب میں کہی ہے کیونکہ ایک منفی نقطے کے طور پر اس کی زندگی کا اس کی زندگی کا اس لئے باقی رہنا تاکہ مثبت نقاط کو تقویت پہنچے نہ صرف اس میں کوئی ضرر نہیں بلکہ یہ موٴثر بھی ہے۔ حتیٰ کہ شیطان سے اگر قطع نظر بھی کرلی جائے تب بھی خود ہمارے اندر بھی ایسے مختلف غرائز (طبایع) پائے جاتے ہیں جو عقلانی و روحانی قوتوں کا مقابلہ کرتے رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے ایک تضاد و اختلاف کا میدان کا ر راز بن جاتا ہے اور اس میدان میں انسان کی ترقی اور آگے بڑھنے کا راز مضمر ہوتا ہے۔ شیطان کی زندگی کی زندگی کا باقی رہنا بھی در اصل اسی تضاد کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کے لئے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیئے کہ راہ راست ہمیشہ اس وقت پہنچانی جاتی ہے جب اس کے پہلو میں بہت سی ٹیڑھی اور کج راہیں ہوں، جب تک ایسا نہ ہو گا راہ راست ہو گا راہ راست کا انداز نہ ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ، بہت سی احادیث میں وارد ہوا ہے کہ چونکہ اتنے عظیم گناہ کے بعد شیطان نے جہاں آخرت میں اپنی نجات و سعادت کو پورے طور سے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اور اسے اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔ لہٰذا اس نے اپنی ان عبادتوں کے بدلے میں جو اس نے دار دنیا میں ادا کی تھیں، خدا سے طویل عمر کی خواہش کی، جو خدا کے قانون عدالت کی بناپر قبول کرلی گئی۔ نیز اس نکتے کی طرف بھی توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ شیطان کو خدا نے گمراہ کرنے اور وسوسہ انگیزی کی پوری آزادی دے دی لیکن اس کے مقابلے میں انسان کو بھی بالکل نہتا اور بے دفاع نہیں رکھا کیونکہ اولاً: اسے عقل و خرد کی عظیم طاقت عطا کی جس سے اس کے امکان میں ہے کہ اس کی وجہ سے وسوسہ ہائے شیطانی کے سیلاب کو روکنے کے لئے مضبوط بند قائم کرسکے (خصوصاً اگر اس کی صحیح طور سے تربیت کی جائے تو یہ طاقت اور بڑھ جاتی ہے)۔ دوم، یہ کہ انسان کی پاک فطرت اور اس کی نہاد میں چھپا ہوا ترقی کرنے کا عشق، یہ بھی خدا کا عطیہ ہے جو انسان کو سعادت ابدی کی طرف بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ سوم، یہ کہ جب شیطان بہکاتا ہے اور انسان اس سے بچنا چاہتا ہے لیکن کمزور پڑتا ہے تو ایسے موقع پر خداوند کریم اس کی مدد کرنے کے لئے ایسے فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اسے نیکی کا الہام کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنِا اللّٰہُ ثُمَّ استَقَّامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآئِکةُ وہ بندے جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدائے یگانہ ہے، اس کے بعد اس قول پر باقی بھی رہتے ہیں، ان پر فرشتے نازل ہوتے رہتے ہیں (اور ان کے دلوں کو قوت بخشنے کے لئے بذریعہ الہام طرح طرح کی بشارتیں دیتے ہیں)۔ (حٰم ٓ السجدہ /۳۰) اور ایک اور جگہ وارد ہوا ہے: إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَائِکَةِ اَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا تیرا پروردگار فرشتوں کی طرف وحی کرتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری مدد کرتا ہوں تاکہ با ایمان بندوں کی راہ حق پر مدد کرو اور انہیں ثابت قدم رکھو۔(انفال/۱۲)
نظریہ تکامل انواع و پیدائش آدم
یہاں پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا آدم کی خلقت اس نظریہ سے مطابقت رکھتی ہے جسے علوم طبعی (سائنس) میں بیان کیا جاتا ہے، یا نہیں؟ نیز یہ کہ اصولی طور پر نظر یہ تکامل سائنسدانوں کی نظر میں مرحلہ یقین پر پہنچا ہے یا نہیں؟ یہ بحثیں ضروری ہیں جنہیں انشاء اللہ ہم متعلقہ آیات کے ذیل (جیسے آیات ۲۶ تا ۳۳ سورہٴ حجر) میں بیان کریں گے۔ ۱
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دلفریب انداز میں شیطانی وسوسے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں سرگذشت آدم کا ایک اور حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: خدا نے آدم اور ان کی زوجہ (حوّا) کو یہ حکم دیا کہ بہشت میں سکونت اختیار کریں (وَیَاآدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ)۔ اس جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم و حوّا اپنی پیدائش کے وقت بہشت میں نہ تھے، خلقت کے بعد انہیں بہشت کی طرف بھیجا گیا۔ ہم نے سورہٴ بقرہ کی ان آیات میں بھی جو پیدائش آدم سے متعلق ہیں توجہ دلائی ہے، کہ قرائن بتلاتے ہیں کہ یہ بہشت وہ جنت نہ تھی جس کا قیامت میں وعدہ کیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ احادیث اہل بیت طاہرین علیہم السلام میں بھی وارد ہوا ہے یہ اسی دنیا کا ایک سرسبز و شاداب باغ تھا، جس میں خدا کی طرح طرح کی نعمتیں مہیا کی گئی تھیں۔[ تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۶۳۔ اردو ترجمہ کی طرف رجوع فرمائیں۔] اس موقع پر پہلی ذمہ داری اور امر و نہی الٰہی اس شکل میں ظاہر ہوئی : تم بہشت کے ہر درخت سے کھاسکتے ہو، لیکن خبردار امخصوص درخت کے پاس بھی نہ جانا ورنہ ستم کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے (فَکُلَامِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَاتَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنَ الظَّالِمِینَ)۔ اس کے بعد شیطان، جو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مردود بارگاہ الٰہی ہو گیا تھا اور اس نے یہ پکّا ارادہ کر لیا تھا کہ جس طرح بھی ہو گا آدم اور ان کی اولاد سے اس شکست کا انتقام لے گا اور انہیں راہ راست سے بہکانے کی کوشش کرے گا؛ نیز اس کو یہ بھی علم تھا کہ اگر آدم نے اس ممنوع درخت سے کھایا تو وہ بہشت سے نکال دیئے جائیں گے۔ اس نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالنا چاہا اور اپنے اس ناپاک مقصد تک پہنچنے کے لئے اس نے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اس نے سب سے پہلے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: انہیں پھسلاناشروع کیا، تاکہ اطاعت و بندگی کی خلعت ان کے بدن سے اتار دے اور ان کی شرمگاہ کو جو پوشیدہ تھی ظاہر کر دے (فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وُورِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْآتِھِمَا)۔ مقصد تک پہنچنے کے لئے اس نے بہترین طریقہ یہ پایا کہ انسان میں تکامل و ترقی کا جو جذبہ پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ زندگی جاودانی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس سے استفادہ کرے، اور اسے مخالفت خدا کا ایک عذر و بہانہ بتلائے۔ لہٰذا اس نے سب سے پہلے آدم و حوّا سے یہ کہا : خدا نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ اگرتم اس سے کھالو گے تو یا فرشتے بن جاؤگے اور یا عمر جاودانی حاصل کرلو گے! (وَقَالَ مَا نَھَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ اَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِینَ)۔ اس طرح اس نے فرمان خدا کو ان کی نظر میں ایک دوسرے رنگ میں پیش کیا اور انہیں یہ تصوّر دلانے کی کوشش کی کہا اس شجرہ ممنوعہ سے کھالینا نہ صرف یہ کہ ضرر رسان نہیں بلکہ عمر جاودان یا ملائکہ کا مقام و مرتبہ پالینے کا موجب ہے۔ اس بات کی تائید اس جملے میں بھی ہوتی ہے جو سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۱۲۰ میں شیطان کی زبانی وارد ہوا ہے: یَاآدَمُ ھَلْ اَدُلُّکَ عَلیٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَایَبْلَی اے آدم! کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمیں زندگانی جاودانی اور ایسی سلطنت کی رہنمائی کروں جو کہنہ نہ ہو گی؟! ایک روایت جو "تفسیر قمی" میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور "عیون اخبار الرضا" میں امام علی بن موسیٰ ضا علیہ السلام سے مردی ہے میں وارد ہوا ہے: شیطان نے آدم سے کہا کہ اگر تم نے اس شجرہٴ ممنوعہ سے کھآ لیا تو تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور پھر ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے، ورنہ تمہیں بہشت سے باہر نکال دیا جائے گا۔[بحوالہ: تفسیر "نور الثقلین" جلد دوم ص ۱۳]۔ آدم نے جب یہ سنا تو فکر میں ڈوب گئے، لیکن شیطان نے اپنا حربہ مزید کار گر کرنے کے لئے "سخت قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا بہی خواہ ہوں" ! (وَقَاسَمَھُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ)۔ آدم، جنہیں زندگی کا ابھی کافی تجربہ نہ تھا، نہ ہی وہ ابھی تک شیطان کے دھو کے، جھوٹ اور نیرنگ میں گرفتار ہوئے تھے، انہیں یہ یقین نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی اتنی بڑی جھوٹی قسم بھی کھآ سکتا ہے اور اس طرح کے جال دوسرے کو گرفتار کرنے کے لئے پھیلا سکتا ہے،آخر کار وہ شیطان کے فریب میں آگئے اور آبِ حیات و سلطنت جاودانی حاصل کرنے کے شوق میں مکرِ ابلیسی کی بوسیدہ رسی کو پکڑکے اس کے وسوسہ کے کنویں میں اتر گئے، رسی ٹوٹ گئی اور انہیں نہ صرف آب حیات ہاتھ نہ آیا بلکہ خدا کی نافرمانی کے گرداب میں گرفتار ہو گئے۔اس تمام مطلب کو قرآن کریم نے اپنے رسی سے انہیں کنویں میں اتار دیا (فَدَلاَّھُمَا بِغُرُورٍ)۔ [ "ولّٰی"مادّہ"تدلیہ" سے ہے جس کے معنی ہیں کنویں میں ڈول ڈالنا جسے رسی میں باندھ کر تدریجاً کنویں میں اتار جائے، یہ درحقیقت اس لطیف معنی سے کنایہ ہے کہ شیطان نے اپنے مکر و فریب کی رسی سے انہیں باندھ کر ان کے بلند مرتبے سے نیچے اتار دیا اور یوں مشکلات اور رحمتِ خداوندی سے دوری کے کنویں میں گرا دیا]۔ شیطان کی سابقہ دشمنی اور خدا کی وسیع حکمت و رحمت اور اس کی محبت و مہربانی سے آگاہ ہوتے ہوئے آدم کو چاہیے تو یہ تھا کہ شیطان کے تمام فریب وسوسہ کے جال کو پارہ پارہ کر دیتے اور اس کے کہنے میں نہ آتے لیکن جو کچھ نہ ہونا چاہیے تھا وہ ہو گیا۔ بس جیسے ہی آدم و حوا نے اس ممنوعہ درخت سے چکھا، فوراً ہی ان کے کپڑے ان کے بدنوں سے نیچے گرگئے اور ان کے اندام ظاہر ہو گئے(فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْآتُھُمَا)۔ مذکورہ بالا جملے سے یہ بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ درخت ممنوع سے چکھنے کے ساتھ فوراً اس کا اثر بَد ظاہر ہو گیا اور وہ اپنے بہشتی لباس سے جوفی الحقیقت خدا کی کرامت و احترام کا لباس تھا، محروم ہو کر برہنہ ہو گئے۔ اس آیت سے اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ آدم و حوا یہ مخالفت کرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلکہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، اگر چہ قرآن میں ان کپڑوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن جو کچھ بھی تھا وہ آدم و حوا کے و قار کے مطابق اور ان کے احترام کے لئے تھاجو اُن کی نافرمانی کے باعث ان سے واپس لے لیا گیا۔ لیکن خود ساختہ توریت میں اس طرح سے ہے: آدم و حوا اس موقع پر بالکل برہنہ تھے لیکن اس برہنگی کی زشتی کو نہیں سمجھے تھے، لیکن جس وقت انہوں نے اس درخت سے کھایا جو درحقیقت "علم و دانش" کا درخت تھا تو اُن کی عقل کی آنکھیں کھل گئیں اور اب وہ اپنے کو برہنہ محسوس کرنے لگے اور اس حالت کی زشتی سے آگاہ ہو گئے۔ جس "آدم"کا حال اس خود ساختہ توریت میں بیان کیا گیا، وہ فی الحقیقت آدم واقعی نہ تھا جو علم و دانش سے اس قدر دور تھا کہ اسے اپنے ننگا ہونے کا بھی احساس نہ تھا لیکن جس "آدم" کا قرآن تعارف کراتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ اپنی حالت سے باخبر تھا، بلکہ اسرار آفرینش (علم اسماء) سے بھی آگاہ تھا اور اس کا شمار معلم ملکوت میں ہوتا تھا، اگر شیطان اس کا شمار معلم ملکوت میں ہوتا تھا، اگر شیطان اس پر اثر انداز بھی ہوا تو یہ اس کی نادانی کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ اس نے ان کی پاکی اور صفائے نیت سے سوئے استفادہ کیا۔ اس بات کی تائید اسی سورہٴ اعراف کی آیت ۲۷ سے بھی ہوتی ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے: " یَابَنِی آدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا" اے اولاد آدم! کہیں شیطان تمہیں اس طرح فریب نہ دے جس طرح تمہارے والدین (آدم و حوا) کو دھوکا دے کر بہشت سے باہر نکال دیا اور ان کا لباس ان سے جدا کر دیا۔ اگر بعض مفسرین اسلام نے یہ لکھاہے کہ آغاز میں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً یہ ایک واضح اشتباہ ہے جو توریت کی تحریر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ بہرحال، اس کے بعد قرآن کہتا ہے: جس وقت آدم و حوّا نے یہ دیکھا تو فوراً بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہ چھپانے لگے(وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ)۔[ "یخصفان""مادّہ" "خصف" (بروزن خشم) سے ہے جس کے معنی ہیں ایک شے کو دوسری شے سے ملانا اور جمع کرنا، بعد میں یہ لفظ جوتا یا کپڑا سینے کے لئے بھی استعمال کیا جانے لگا، کیونکہ سینے میں مختلف ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ملا دیا جاتا ہے۔] اس موقع پر خدا کی طرف سے یہ نداآئی: "کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا، کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہ تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، تم نے کس لئے میرے حکم کو بھلا دیا اور اس پست گرداب میں گھِر گئے؟!"(وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا اَلَمْ اَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِین)۔ یہ آیت اور وہ پہلی آیت جس میں آدم و حوا کو بہشت میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی دونوں سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ دونوں اس نافرمانی کے بعد مقام قرب الٰہی سے کس قدر دور ہو گئے تھے حتیٰ کہ بہشت کے درختوں سے بھی دور ہو گئے کیونکہ اس سے قبل کی آیت میں "ہھٰذہ الشجرة"(یہ درخت)کہا گیا ہے جو نزدیک کے لئے اشارہ ہے۔ اس کے بعد اس آیت میں جملہ "نادیٰ" (ندا کی)آیا ہے جو دور کے لئے خطاب ہے، نیز کلمہ "تلکما" بھی دوری کے لئے ہے۔
چند نکات ۱۔ شیطانی وسوسے اور انسانی آزادی
"وسوس لہ" (کہ جس میں کلمہ لام بھی استعمال ہوا ہے جو عام طور سے فائدے اور نفع کے لئے آتا ہے) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے وسوسہ ڈالنے میں آدم کی خیر خواہی اور دوستی کا روپ بھرا تھا، جبکہ "وسوس الیہ" سے یہ معنی برآمد نہیں ہوتا؛ بلکہ اس کے معنی صرف کسی کے دل میں مخفی طور سے اثر ڈالنے کے ہیں۔ لیکن ہر حال میں، یہ تصوّر نہ ہو کہ شیطانی وسوسے چاہے وہ جتنے بھی قوی اورمضبوط کیوں نہ ہوں انسان سے اس کی خود مختاری اور ارادہ سلب کرلیتے ہیں، بلکہ اس کے بعد بھی انسان اپنی عقل اور ایمان کی طاقت سے اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ شیطانی وسوسے کو بُرے کاموں پر مجبور نہیں کر دیتے بلکہ اختیار و ارادہ کی قوت اپنے حال پر باقی رہتی ہے، تا ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لئے پامردی و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس میں کبھی بڑے رنج و الم کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن ان تمام حالات میں اس طرح کے وسوسے کسی کی ذمہ داری اور مسئولیت ختم نہیں کر دیتے، جس طرح آدم سے نہیں کی جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان تمام تحریکوں اور ترغیبوں کے باوجود جو آدم کے بہکانے کے لئے شیطان نے انجام دیں، خدا تعالیٰ نے آدم کو ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسی بناء پر جیسا کہ آگے آئے گا انہیں اس کی پاداش بھی دی۔
۲۔ شجرہ ممنوعہ کونسا درخت تھا؟
قرآن کریم میں بلاتفصیل اور بغیر نام کے چھ مقام پر "شجرہ ممنوعہ" کا ذکر ہوا ہے لیکن کتب اسلامی میں اس کی تفسیر دو قسم کی ملتی ہے : ایک، تو اس کی تفسیر مادّی ہے جو حسب روایات "گندم "ہے۔[ بحوالہ: تفسیر "نورالثقلین" جلد اول ص ۵۹۔۶۰ و جلد دوم ص ۱۱ تفسیر سورہ بقرہ و اعراف]۔ اس بات کی طرف توجہ رہنا چاہیےٴ کہ عرب لفظ "شجرہ" کا اطلاق صرف درخت پر نہیں کرتے، بلکہ مختلف نباتات کو بھی "شجرہ" کہتے ہیں، چاہے وہ جھاڑی کی شکل میں ہوں یا بیل کی صورت میں۔ اسی بناپر قرآن میں "کدّو" کی بیل کو بھی شجرہ کہا گیا ہے: وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَةً مِنْ یَقْطِینٍ (صافات۔۱۴۶) دوسری، تفسیر معنوی ہے جس کی تعبیر روایات اہلبیت علیہم السلام میں "شجرہ حسد" سے کی گئی ہے۔ ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ آدم نے جب اپنا مقام بلند و درجہ رفیع دیکھا تو یہ تصوّر کیا کہ ان کا مقام بہت بلند ہے اس سے بلند کوئی مخلوق اللہ نے نہیں پیدا کی۔ اس پر اللہ نے انہیں بتلایا کہ ان کی اولاد میں کچھ ایسے اولیاء الٰہی (پیغمبر اسلام اور ان کے اہلبیت کرام علیہم السلام) بھی ہیں جن کا درجہ ان سے بھی بلند و بالا ہے۔ اس وقت آدم میں ایک حالت حسد سے مشابہ پیدا ہوئی۔[ یہاں پر حسد سے مراد رشک ہے جو مستحسن ہے، لیکن درباب محمد و آل محمد محمد علیم السلام رشک بھی ممنوع ہے، جیسا کہ قصّہ آدم سے ظاہر ہے، عربی میں حسد کا اطلاق رشک پر بھی ہوا ہے۔ (مترجم)] اور یہی وہ "شجرہ ممنوعہ" تھا جس کے نزدیک جانے سے آدم کو روکا گیا تھا۔[بحوالہ: تفسیر" نورالثقلین" جلد اول ص ۵۹۔۶۰ و جلد دوم ص: ۱۱ تفسیر سورہ بقرہ و اعراف ]۔ حقیقت امر یہ ہے کہ آدم نے (روایات کی بناپر) دو درختوں سے تناول کیا۔ ایک درخت تو وہ تھا جو اُن کے مقام سے نیچے تھا، اور انہیں مادّی دنیا میں لے جاتا تھا اور وہ "گندم" کا پودا تھا۔ دوسرا درخت معنوی تھا، جو مخصوص اولیا ئے الٰہی کا درجہ تھا اور یہ آدم کے مقام و مرتبہ سے بالا تر تھا۔ آدم نے دونوں پہلوؤں سے اپنی حد سے تجاوز کیا اس لئے ایسے انجام میں گرفتار ہوئے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ یہ "حسد" حسد حرام کی قسم سے نہ تھا، یہ صرف ایک، نفسانی احساس تھا جبکہ انہوں نے اس طرف قطعاً کوئی اقدام نہیں کیا تھا جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے آیاتِ قرآنی چونکہ متعدد معانی کی حامل ہیں لہٰذا اس امر میں کوئی مانع نہیں کہ "شجرہ" سے دونوں معنی مراد لے لئے جائیں۔ اتفا قاً کلمہ "شجرہ" قرآن مجید میں دونوں معنی میں آیا ہے، کبھی تو انہی عام درختوں کے معنی میں، جیسے: وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَیْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ (موٴمنون۔ ۲۰)۔ جس سے مراد زیتون کا درخت ہے، اور کبھی شجرہ معنوی کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے: وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ (اسراء۔ ۶۰)۔ جس سے مراد مشرکین یا یہودی یا دوسری باغی قومیں (جیسے بنی امیہ) ہیں۔ اگر چہ بعض مفّسرین نے اس کے اور معنی بھی بیان کیے ہیں مگر سب سے واضح تر وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ لیکن یہاں اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا مناسب ہے (اگر چہ جلد اول میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے) اور وہ یہ ہے کہ موجودہ خود ساختہ توریت میں، جو اس وقت کے تمام یہود و نصاری کی قبول شدہ ہے اس شجرہٴ ممنوعہ کی تفسیر "شجرہٴ حیات و زندگی" کی گئی ہے توریت کہتی ہے: "قبل اس کے کہ آدم شجرہٴ علم و دانش سے تناول کریں، وہ علم و دانش سے بے بہرہ تھے، حتیٰ کہ انہیں اپنی برہنگی کا بھی احساس نہ تھا۔ جب انہوں نے اس درخت سے کھایا اس وقت وہ واقعی آدم بنے اور بہشت سے نکال دیئے گئے، کہ مبادا درخت حیات و زندگی سے بھی کھالیں اور خداؤں کی طرح حیات جاوانی حاصل کر لیں۔"[بحوالہ: سفر تکوین صل دوم نمبر ۱۷۔ ] یہ عبارت اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ موجودہ توریت آسمانی کتاب نہیں بلکہ کسی ایسے کم اطلاع انسان کی ساختہ ہے جو علم ودانش کو آدم لے لئے معیوب سمجھتا تھا اور آدم کو علم ودانش حاصل کرنے کے جرم میں خدا کی بہشت سے نکالے جانے کا مستحق سمجھتا تھا، گویا بہشت فہمیدہ انسانوں کے لئے نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر و لیم میلر (جسے عہدین خصوصاً انجیل کا ایک مقتدر مفسّر مانا گیا ہے) اپنی کتاب "مسیحیت چیست" (مسیحیت کیا ہے؟) میں رقمطراز ہے: شیطان ایک سانپ کی شکل میں باغ کے اندر داخل ہوا اور اس نے حوا کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ اس درخت کے میوہ میں سے کھالیں۔ چنانچہ حوا نے خود بھی کھایا اور آدم کو کھانے کو دیا اور انہوں نے بھی کھایا، ہمارے اولین والدین کا یہ عمل ایک معمولی اشتباہ پر مبنی نہ تھا یا ایک بے سوچی سمجھی خطا بھی نہ تھی، بلکہ اپنے خالق کے برخلاف ایک جانا بوجھا عصیان تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ خود "خدا" بن جائیں، وہ اس بات کے لئے آمادہ نہ تھے کہ خدا کے ارادہ کے مطیع بنیں، بلکہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی خواہش کو پایہٴ تکمیل تک پہنچائیں۔ نتیجہ کیا ہوا؟خدا نے ان کی شدت سے سرزنش کی اور باغ (فردوس) سے باہر نکال دیا تاکہ درد و رنج سے بھری دنیا میں زندگی بسر کریں۔[بحوالہ کتاب "مسیحیت چیست؟" ص ۱۶۔] توریت و انجیل کے اس مفسّر نے درحقیقت یہ چاہا ہے کہ "شجرہٴ ممنوعہ" کی توجیہ کرے لیکن اس کی بجائے عظیم ترین گناہ یعنی خدا سے جنگ کی نسبت آدم کی طرف دے دی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بجائے اس طرح کی پوچ تفسیروں کے کم از کم اپنی "کتب مقدسہ" میں تحریف کے قائل ہو جاتے۔
۳۔ آیا آدم نے گناہ کیا تھا؟
یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ سے ہم نے جو مذکورہ بالا عبارت پیش کی اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اس بات کے معتقد ہیں کہ آدم گناہ و معصیت کے مرتکب ہوئے تھے، بلکہ ان کا گناہ کوئی معمولی گناہ نہیں تھا۔ ان سے ایک سنگین گناہ سرزد ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے مقام ربوبیت سے جنگ کی ٹھان لی لیکن ِاسلامی منابع، چاہے وہ عقل کی رو سے ہوں یا آیات و روایات ہوں، ہمیں یہ بتلاتے ہی کہ کوئی پیغمبر گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اور نہ ہی پیشوائی خلق کا منصب کسی گناہگار کو سونپا جاتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت آدم ؑ انبیائے الٰہی میں سے تھے۔ اس بنا پر آیت یا دیگر آیات جن سےعصیان کی نسبت دیگر انبیاء کی طرف دی گئی ہے، سب سے مراد "عصیان نسبی" اور "ترک اولیٰ" ہے نہ کہ مطلق گناہ۔ جاننا چاہیے کہ گناہ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک، " مطلق گناہ " (Absolute Sin) دوسرے، " نسبی گناہ " (Relative Sin) مطلق گناہ کے مفہوم میں نہی تحریمی کی مخالفت اور خدا کے فرمان قطعی اور ہر طرح کے واجب کو ترک کرنا یا کوئی حرام کام انجام دینا شامل ہے۔ لیکن نسبی گناہ یہ ہے کہ کسی بلند پا یہ شخص سے کوئی ایسا غیر حرام عمل انجام پائے جو اس کی شان اور مقام کے مناسب نہ ہو کیونکہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی عمل مباح و جائز، بلکہ عمل مستحب ایک بڑے درجہ کے انسان کے مناسب نہ ہو، ایسی صورت میں اس عمل کو " نسبی گناہ " کہا جائے گا، مثلاً اگر کوئی با ایمان اور ثروتمند شخص کسی فقیر کو فقر و افلاس کے پنچے سے نجات دینے کے لئے اس کی بہت معمولی سی مدد کرے۔ بلا شبہ یہ مدد چاہے کتنی بھی کم ہو حرام تو نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، لیکن جو بھی سنے گا، گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اس صاحب ایمان ثروت مند سے زیادہ مدد کی توقع کی جاتی تھی۔ اسی نسبت سے جو اعمال مقربان بارگاہ الٰہی سے سر زد ہوتے ہیں، وہ ان کے مقام کے لحاظ سے پر کھے جاتے ہیں۔ اگر وہ ان کے معیار پر پورے نہ اتریں تو اس کے لئے بھی کبھی عصیان یا ذنب (گناہ) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔(جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "حسنات الابرار سیئات المقربین " یعنی کبھی نیک افراد کے لحاظ سے جو عمل حسنہ شمار ہوتا ہے، وہی عمل مقربان بارگاہِ الٰہی کے لحاظ سے گناہ شمار ہوتا ہے۔ (مترجم)(مثال کے طور پر ایک نماز (جس میں حضور قلب نہ ہو) ایک عام شخص کے لحاظ سے ایک ممتازنماز محسوب کی جائے گی لیکن یہی نماز اولیائے حق کے لحاظ سے "گناہ" شمار ہو گی، کیونکہ ان کے مقام کے لحاظ سے حالت نماز میں ایک لحظہ کی غفلت مناسب و شائستہ نہیں ہے؛ بلکہ انہیں اپنے علم و تقویٰ کی بناء پر ہنگام عبادت میں اس کے جمال و جلال میں غرق ہوجانا چاہیے۔ عبادت کے علاوہ ان کے دیگر اعمال کا حال بھی یہی ہے۔ انہیں بھی ان کے مقام کے لحاظ سے جانچا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اگر ایک "ترکِ اولیٰ" ان سے سرزد ہو جائے تو وہ پروردگارِ عالم کے عتاب و سرزنش کا باعث بنے گا (ترکِ اولیٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی بہتر کام کو ترک کرکے کار خوب یا عمل مباح بجالائے)۔ روایاتِ اسلامی میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوبؑ کے مصائب اورفراق فرزندکے سلسلے میں انہیں جو زحمتیں اٹھانا پڑیں اس وجہ سے تھیں کہ ایک محتاج روزہ دار مغرب کے وقت ان کے دروازہ پر آیا اور انہوں نے اس کی مدد سے غفلت کی جس کی وجہ سے وہ فقیر بھوکا اور دل شکستہ واپس چلاگیا۔ یہ عمل اگر ایک عام فرد سے سرزد ہوا ہوتا تو شاید اس کی اس قدر اہمیت نہ ہوتی لیکن خدا کے ایک عظیم پیغمبر اور رہبر امت سے جب یہ عمل ظاہر ہوا تو خدا نے اسے اتنی اہمیت دی کہ ان کیلئے نہایت شدید پاداش مقرر کی۔(بحوالہ: تفسیر "نورالثقلین" جلد دوم ص ۴۱۱ نقل از کتاب"علل الشرایع") آدم کو "شجرہ ممنوعہ" سے جو نہی کی گئی تھی وہ بھی "نہی تحریمی: نہ تھی، بلکہ "ترکِ اولیٰ" تھا۔ لیکن آدم کے مقام و درجہ کے لحاظ سے اسے اہمیت دی گئی اور اس کی مخالفت کو )اگرچہ وہ نہی کراہتی تھی(خدا کی جانب سے مجازات و مواخذہ کا سبب قرار دیا گیا۔ ایک احتمال یہ بھی بعض مفسرین نے دیا ہے کہ آدم کو شجرہ ممنوعہ سے نہی کیا جانا "نہی ارشادی" تھا، نہ کہ "نہی مولوی"۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ: کبھی خدا کسی بندے کو کسی کام سے نہی اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس بندے کا صاحبِ اختیار اور اس کا مولا و آقا ہے۔ اس کے فرمان کی اطاعت ہر انسان پر واجب و لازم ہے۔ اس طرح کی نہی کو "نہی مولوی" کہتے ہیں۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس طرح کسی عمل سے نہی کی جاتی ہے کہ اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کام کو اگر کرو گے تو اس کا بُرا نتیجہ برآمد ہو گا۔ جیسے طبیب مضر غذاوں سے نہی کرتا ہے۔ بلاشبہ اگر مریض نے طبیب کی مخالفت کی تو اس نے نہ تو طبیب کی توہین کی اور نہ ہی اسے اس کی مخالفت منظور تھی بلکہ اس نے طبیب کے ارشاد و رہنمائی کا لحاظ نہیں کیا جس کی وجہ سے اسے تکلیف اٹھانا پڑی۔ آدم کے معاملے میں بھی خدا نے ان سے یہی کہا تھ اکہ "شجرہ ممنوعہ" سے کھانے کا نتیجہ یہ برآمد ہو گا کہ جنت سے باہر نکل جاو گے اور زحمت و رنج میں گرفتار ہو جاو گے۔ یہ ایک ارشاد و رہنمائی ہے نہ کہ فرمان و حکم۔ لہذا آدم نے ایک نہی ارشادی کی مخالفت کی۔ یہ کوئی عصیان یا گناہ واقعی نہ تھا۔ لیکن پہلی تفسیر صحیح تر معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ نہی ارشادی کےلیے بخشے جانے اور مغفرت مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ آدم نے )جیسا کہ آگے معلوم ہو گا(خدا سے اپنی مغفرت طلب کی۔ اس کے علاوہ، جیسا کہ ہم نے سابق جلد اوّل ) ص ۱۶۰ اُردو ترجمہ(میں قصہ آدم سے متعلق آیت کے ذیل میں بھی بیان کیا کہ بہشت کا زمانہ آدم کےلیے ایک تعلیم و تعلم کا زمانہ شمار ہوتا تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جس میں آدم کو امر و نہی پروردگار کی شرعی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا، دوست و دشمن کی پہچان بتائی گئی، عصیان کے نتیجے سے باخبر کیا گیا، مخالفتِ فرمانِ خدا و وسوسہ شیطان کو قبول کرنے کے عواقب بتلائے گئے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ "نہی ارشادی" فی الحقیقت کوئی تکلیف شرعی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی مسئولیت عائد ہوتی ہے۔ اس بحث کے آخر میں اس بات کی طرف توجہ رہے کہ نہی، عصیان، غفران اور ظلم، یہ سب الفاظ اگرچہ گناہ مطلق میں حقیقت رکھتے ہیں اور اسی کے آثار و توابع میں سے ہیں لیکن جب عصمتِ انبیاء کرام کا لحاظ کیا جائے تو ادلہ عقلیہ و نقلیہ سے ثابت و مبرہن ہے تو ان تمام الفاظ کو "گناہ نسبی: قرار دیا جائے گا اور حضرت آدم اور دیگر انیباء کی عظمت کو دیکھتے ہوئے یہ مفہوم کوئی بعید نہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آدم کی بازگشت خدا کی طرف
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آخر کار جب آدم و حوّا نے شیطان کی چال کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا اور مخالفت کرنے کا نتیجہ ان کے سامنے آگیا تو انہیں اپنے گذشتہ نقصان کی تلافی کی فکر لاحق ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ اپنے اوپر جو ظلم و ستم کیا تھا اس کا خدا کی بارگاہ میں اعتراف کیا اور کہا: اے پروردگارا! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و ستم کیا (قَالَارَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنفُسَنَا)۔ اور اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اپنی رحمت ہمارے شامل حال نہ کرے گاتو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے(وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ)۔ خدا کی طرف پلٹنے کے سلسلہ میں اور اصلاح مفاسد کے لئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آدمی غرور اور ہٹ دھرمی کی سواری سے نیچے اتر آئے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، ایک ایسا اعتراف جو اس کی اصلاح کرنے والا ہو اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد کرے۔ یہاں پر یہ بات قابل توجہ ہے کہ آدم و حوا نے توبہ اور طلب عفو میں یہ ادب ملحوظ رکھا کہ یہ بھی نہ کہا کہ خدایا! ہمیں بخش دے (اغفرلنا) بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہمیں نہ بخشے گا تو ہم گھاٹا اٹھائیں گے! اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہر گناہ اور اس کی ہر نافرمانی اپنے اوپرظلم و ستم کا کرنا ہے کیونکہ جتنے بھی احکام و قوانین ہیں سب کے سب سعادتِ انسانی اور اس کے تکامل کے لئے بنائے گئے ہیں۔ بنابریں، ان قوانین کی جو بھی خلاف ورزی ہو گی وہ تکامل کی راہ میں حائل ہو کر انسان کے تنزل کا باعث بنے گی۔ آدم و حوّا نے بھی اگر چہ گناہ واقعی نہیں کیا تھا لیکن یہی ترکِ اولیٰ ان کے لئے اپنے بلند و بالا مقام سے نیچے اتر آنے کا باعث بن گیا۔ اگر چہ آدم و حوّا کی خالص توبہ خدا کی بارگاہ میں درجہ قبولیت پر فائز ہو گئی جیسا کہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۳۷ میں ہم نے پڑھا کہ"فتاب علیہ" (خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی)لیکن اس "ترک اولیٰ" کا جو لازمی نتیجہ تھا وہ ظاہر ہو کر رہا کیونکہ انہیں یہ حکم ملا کہ بہشت سے باہر نکل جائیں فرمایا: نیچے اتر جاؤ اس طرح سے تم (یعنی انسان اور شیطان) ایک دوسرے کے دشمن ہوگے (قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ)۔ اور زمین ایک مدت تک تمہاری قرارگاہ اور زندگی کے دن پورے کرنے کے لئے ایک وسیلہ بنے گی (وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلیٰ حِینٍ)۔ نیز یہ بات بھی ان کے کان میں ڈال دی کہ تم زمین میں زندگی کے دن پورے کرو گے، اسی میں مرو گے اور بروز محشر حساب کتاب کے لئے اسی سے بر آمد بھی ہوگے (قَالَ فِیھَا تَحْیَوْنَ وَفِیھَا تَمُوتُونَ وَمِنْھَا تُخْرَجُونَ)۔ اس آیت " قَالَ اھْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ" سے ظاہر تو یہ ہوتا ہے کہ اس سے آدم و حوّا اور شیطان سب مراد ہیں لیکن بعد والی آیت اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے صرف آدم و حوّا مراد ہیں کیونکہ انہی کا حشر و نشر زمین سے ہو گا۔
آدم(علیه السلام) کا ماجرا اور اس جہان پر ایک طائرانہ نظر
اگر چہ بعض ایسے مفسّرین نے جو افکار غرب سے بہت زیادہ متاثر ہیں، اس بات کی کوشش کی ہے کہ حضرت آدم اور ان کی زوجہ کی داستان کو اول سے لے کر آخر تک تشبیہ، مجاز اور کنایہ کا رنگ دیں اور آج کی اصطلاح میں یوں کہیں کہ یہ ایک سمبولک (Symbolic) تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس پوری بحث کو ظاہری مفہوم کے خلاف لیتے ہوئے معنوی مسائل سے کنایہ مراد لیا ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان آیات کا ظاہر ایک ایسے واقعی اور حقیقی "قصہ" پر مشتمل ہے جو ہمارے اولین ماں باپ کو پیش آیا تھا۔ چونکہ اس پوری داستان میں ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے جو ظاہری عبارت سے میل نہ کھاتا ہو یا عقل کے خلاف ہو، اس لئے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس کے ظاہری مفہوم پر یقین نہ کیا جائے یا جو اس کے حقیقی معنی ہیں ان سے پہلو تہی کی جائے۔ لیکن در این حال اس حسّی و عینی واقعہ میں کچھ واقعات انسان کی آئندہ زندگی کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں۔ یعنی: انسان کو اس پر جنجال زندگی میں بہت سے ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں جو قصہ آدم و حوّا سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک طرف تو وہ انسان ہے جو قوت، عقل اور ہوا و ہوس سے مرکب ہے، یہ دونوں طاقتیں اسے مختلف جہتوں میں کھینچ رہی ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے جھوٹے رہبر ہیں جن کا ماضی شیطان کی طرح جانا پہچانا ہے اور وہ انسان پانی کی امید میں "سراب" کو آب سمجھ کر ریگستانوں میں بھٹک کر اپنی جان گنوا بیٹھے۔ ایسے شیطانوں کے بہکانے میں آجانے کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے جسم سے "لباس تقویٰ" گر جاتا ہے اور اس کے اندرونی عیوب عیان و آشکارا ہوجاتے ہیں۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقام ربِ الٰہی سے دور ہو جاتا ہے اور انسان کا جو بلند مقام ہے اس سے گر جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی بہشت سے نکل کر حیات مادی کی مشکلات و آفات کے جنگلوں میں گھِر جاتا ہے۔ اس موقع پر بھی عقل کی طاقت اس کی مدد کرسکتی ہے اور اسے اس نقصان کی تلافی کا موقع فراہم کرسکتی ہے اور اسے خدا کی بارگاہ میں دوبارہ بھیج سکتی ہے تاکہ جراٴت و صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرے، ایسا اعتراف جو اس کی زندگی کی تعمیر نو کا ضامن ہو اور اس کی زندگی کا ایک نیا موڑ بن جائے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جبکہ دست رحمت الٰہی ایک بار پھر اس کی طرف دراز ہوتا ہے تاکہ اسے ہمیشہ کے انحطاط اور تنزل سے نجات دے۔ اگر چہ اپنے گذشتہ گناہ کا تلخ مزا اس کے کام و دہن میں باقی رہ جاتا ہے جو اس کا اثر وضعی ہے۔لیکن یہ ماجرا اس کے لئے درس عبرت بن جاتا ہے کیونکہ وہ اس شکست کے تجربہ سے اپنی حیات ثانیہ کی بنیاد مستحکم کرسکتا ہے اور اس نقصان و زیان کے ذریعے سُرور آئندہ فراہم کرسکتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بنی آدم کے لئے خطرے کی گھنٹی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ ہم نے آیات گذشتہ کی آخری بحث میں بیان کیا کہ آدم کی سرگذشت اور ان کی شیطان سے کشمکش روئے زمین پر آنے والے تمام انسانوں کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کا ایک عکس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان آیات کے بعد تمام بنی آدم کے لئے کچھ ایسے تعمیری فرامین بیان کیے ہیں جو درحقیقت بہشت میں آدم کو دیئے جانے والے احکام کا تتمہ ہیں۔ سب سے پہلے اسی مسئلہ لباس اور جسم ڈھانپنے کی بات کا ذکر کیا ہے جو واقعہٴ آدم میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ فرماتا ہے: اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس اتارا تاکہ (تمہارے اندام کو ڈھانپ لے اور ) تمہارے بدنما حصّوں کو چھپا لے (یَابَنِی آدَمَ قَدْ اَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُوَارِی سَوْآتِکُمْ)۔ لیکن اس لباس کا یہی فائدہ نہیں ہے کہ تمہارے بدن کو چھپالے اور اس کی برائی کو پوشیدہ کر دے بلکہ ہم نے اسے تمہارے بدن کی زینت کے لئے بھی بھیجا ہے تاکہ یہ جیسا ہے اسے اس سے خوش نماتر دکھائے (وَرِیشًا)۔ عربی میں "ریش"در اصل پرندے کے پر کو کہتے ہیں، چونکہ پرندوں کے لئے پربھی لباس کا کام انجا م دیتے ہیں اس بناپر ہر لباس کو "ریش"کہا جانے لگا، علاوہ بر ایں، پرندوں کے پر خوبصورت بھی ہوتے ہیں اس لئے لفظ "ریش" میں زینت کا مفہوم بھی شامل ہو گیا، نیز جو کپڑا گھوڑے کی زین سریا اونٹ کی پشت پر ڈالا جاتا ہے اسے بھی "ریش" کہا جاتا ہے۔ بعض مفسرین اور اہل لغت نے "ریش"کے اس سے بھی وسیع معنی بیان کیے ہیں، یعنی ہر وہ سامان جس کی انسان کو ضرورت ہو۔ لیکن اس آیت میں مناسب معنی لباس اور زینت کے ہیں۔ اس جملے میں ظاہری لباس کے بیان کرنے کے فوراً بعد قرآن نے معنوی لباس کی بحث کو بھی چھیڑا ہے۔ جیسا کہ دیگر مواقع پر قرآن کا طریقہ ہے، اگر کسی چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں تو دونوں کو بیان فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: پرہیزگاری اور تقویٰ کا لباس اس سے بہتر ہے (وَلِبَاسُ التَّقْوَی ذٰلِکَ خَیْرٌ)۔ تقویٰ اور پرہیزگاری کے لئے لباس کی تشبیہ نہایت بلیغ اور معنی خیز ہے۔ کیونکہ جس طرح لباس انسان کے بدن کو سردی اور گرمی سے بچاتا ہے، بہت سے خطروں میں ڈھال کا کام بھی کرتا ہے، جسمانی عیوب کو پوشیدہ رکھتا ہے اور انسان کے لئے ایک قسم کی زینت بھی ہے، اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری کا جذبہ علاوہ اس کے کہ وہ انسان کو گناہوں کے بُرے اثرات سے بچاتا ہے اور بہت سے انفرادی و اجتماعی خطروں سے محفوظ رکھ تا ہے بلکہ انسان کے لئے ایک بڑی زینت بھی بن جاتاہے۔ تقویٰ ایک ایسی جاذب نظر زینت ہے جو انسان کی شخصیت میں اہمیت پیدا کر دیتی ہے۔ "لباس تقویٰ" سے کیا مراد ہے؟ اس امر میں بھی مفسّرین کے درمیان بڑی گفتگو ہوئی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی "عمل صالح" ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد "حیا" ہے۔ بعض نے اس سے"لباس عبادت" مراد لیا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سے مراد "لباس جنگ" ہے جیسے زرّہ، خود اور سپر وغیرہ ؛کیونکہ "تقویٰ "کی اصل "وقایة" ہے جس کا معنی ہے" حفاظت" قرآن کریم میں بھی "تقویٰ" اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سورہٴ نحل کی آیت ۸۱ میں ہے: وَجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیلَ تَقِیکُمْ الْحَرَّ وَسَرَابِیلَ تَقِیکُمْ بَاٴسَکُمْ --- تمہارے لئے ایسے پیراہن بنائے گئے ہیں جو تمہیں گرمی سے محافظت کرتے ہیں اور کچھ پیراہن وہ ہیں جو میدان جنگ میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ آیات قرآنی غالباً وسیع معنی کی حامل ہوتی ہیں جن کے مختلف مصداق ہوتے ہیں۔ لہٰذا آیت مورد بحث میں بھی یہ تمام معنی مراد لئے جا سکتے ہیں۔ اور چونکہ "لباس تقویٰ " کا لباس جسمانی کے مقابلے میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی "روحِ تقویٰ و پرہیزگاری" ہے جس کی وجہ سے انسان کی جان محفوظ رہتی ہے اور "حیا" و عمل صالح بھی اس میں داخل ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ لباس جو خدا نے تمہیں عطا کیے ہیں، چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی، لباس جسمانی ہوں یا لباس تقویٰ، یہ سب خدا کی آیات و نشانیاں ہیں تاکہ بندگان خدا، خدا کی نعمتوں کو یاد کریں۔ (ذٰلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ)۔
لباس کا نازل ہونا
قرآن کریم کی متعدد آیات میں لفظ "انزلنا" (ہم نے اتارا) ملتا ہے، جو بظاہر اوپر سے نیچے کی طرف بھیجنے کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا، جیسے زیر بحث آیت میں ہے۔ کیونکہ خداوند تعالی اس آیت میں فرماتا ہے: ہم نے تمہارے لئے لباس اتارا تاکہ تمہارے اندام کو چھپالے۔ باوجود اس کے کہ ہمیں معلوم ہے کہ عام طور سے جو لباس تیار ہوتا ہے وہ یا تو جانوروں کی اون سے بنتا ہے، یا نباتات سے اور یہ سب چیزیں زمین سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورہٴ زمر کی آیت ۶ میں بھی ہے: " وَ اَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ الْاَنْعَامِ ثَمَانِیَةَ اَزْوَاجِ " اللہ نے تمہارے لئے نازل کیے چو پایوں میں سے آٹھ جوڑے"۔ اور سورہٴ حدید آیت ۲۵میں ہے: " واَنْزَلُنَا الْحَدِیْدَ---" اور ہم نے لوہا اتار--- " بہت سے مفسّروں کا اس بات پر اصرار ہے کہ اس قسم کی آیات سے "نزول مکانی" یعنی اوپر سے نیچے کی طرف آنا مراد لیا جائے اور اسی طرح ان کی تفسیر بھی کی جائے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ چونکہ بارش اوپر سے نازل ہوتی ہے جس سے نباتات روئیدہ ہوتے ہیں، حیوانات سیراب ہوتے ہیں؛ بنابریں، لباس کا مواد اس معنی سے آسمان سے نازل ہوتا ہے، لوہے کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ آسمان سے جو پتھر برستے ہیں (شہابئے) ان کے اجزاء میں لوہے کی آمیزش ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ لفظ "نزول" سے کبھی "نزول مقامی" مراد ہوتا ہے؛ جس کا استعمال روز مرہ میں داخل ہے؛ جیسے کہتے ہیں کہ "مقام بالا سے یہ حکم صادر ہوا ہے" یا یہ کہ "رفعت شکوای الی القاضی" (میں نے اپنی شکایت قاضی کی طرف اٹھائی) تو اس بات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ان آیات کی تفسیر میں نزول مکانی پر اصرار کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی کی تمام نعمتیں اس کی بلند و بالا بارگاہ سے بندوں کے لئے آتی ہیں۔ لہٰذا ان کے لئے لفظ "نزول" کا استعمال حسب حال اور عین مناسب ہے۔ اس موضوع کی نظیر و مثال ان الفاظ میں بھی ملتی ہے جن سے قریب اور دور کے لئے شارہ کیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کوئی چیز مکانی حیثیت سے ہم سے بالکل قریب ہوتی ہے، لیکن اپنے مقام و درجہ کے لحاظ سے ہم سے بلند ہوتی ہے تو ایسی چیز کے لئے اشارہ کرنے کے لئے ہم وہ لفظ استعمال کرتے ہیں جو دور کے لئے وضع ہوئی ہے۔ جیسے بجائے "آپ" کے کہتے ہیں: آنجناب کی خدمت میں عرض ہے (حالانکہ بسااوقات"آنجناب" بالکل پہلو میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں) قرآن میں بھی ہم پڑھتے ہیں "ذٰلک الکتاب لاریب فیہ "(وہ کتاب پُر عظمت و بلند پایہ(یعنی قرآن) ایسی ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں)۔
گذشتہ اور موجودہ زمانے میں لباس
جہاں تک تاریخ کی دسترس ہے ہمیں انسان ہمیشہ لباس میں ملتا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ تاریخ جتنی دور ہوتی جاتی ہے اور مقامات بدلتے جاتے ہیں تو لباسوں میں بھی بڑا فرق ہوتا جاتا ہے۔ گذشتہ زمانے میں لباس صرف جاڑے اور گرمی سے بچنے کے لئے یا بدن کی زینت کے لئے پہنا جاتا ہے۔ لیکن بدن کی حفاظت کے پہلو سے غفلت تھی۔ آج کی زندگی میں یہ پہلو بھی سامنے آگیا ہے جیسا کہ بعض شعبوں میں اس کی طرف خاص نظر ہے۔ جیسے فضا نوردوں، آگ بجھانے والوں، کان کنوں، سمندر میں غوطہ لگانے والوں اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والوں کے خصوصی لباس جو ان کی جان و بدن کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں۔ عصر حاضر میں صنعت لباس بافی کے مواد خام میں اتنی کثرت ہو گئی ہے کہ جس کا گذشتہ دور میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تفسیر "المنار" کا موٴلف آٹھویں جلد میں اس آیت کے ذیل میں اس طرح رقمطراز ہے: ایک دن کا واقعہ ہے کہ جرمنی کا صدر ایک کپڑے کی ل ملز کا معائنہ کررہا تھا۔ جب وہ اس عظیم کارخانے میں داخل ہوا تو شروع میں اس نے کچھ بھیڑوں کو دیکھا جن سے اون اتاری جارہی تھی۔ اس کے بعد جب وہ اس کارخانے سے باہر نکلنے لگا تو کارخانے کے مہتمم نے اسے ایک خوبصورت کپڑا پیش کیا اور کہا کہ یہ اسی اون سے تیار ہوا ہے جو ابھی تھوڑی دیر پیشتر آپ کے سامنے بھیڑوں سے حاصل کی جارہی تھی یعنی دوگھنٹے سے بھی کم کی مدت میں بھیڑ کے بدن سے اتری ہوئی اون صدر مملکت کے پہننے کے لئے ایک خوبصورت کپڑا بن گیا۔ لیکن ہمارے دور میں کپڑے کے استعمال کا ایک ناپسندیدہ اور افسوسناک پہلو اس طرح سامنے آیا ہے کہ اس کا اصلی فائدہ تحت الشعاع ہو گیا ہے، اور وہ پہلو یہ کہ لباس حسن پرستی، فساد، شہوت انگیزی، خودنمائی اور تکبرّ، اسراف اور فضول خرچی وغیرہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض افراد کے بدن پر ایسا لباس دیکھا گیا ہے (خاص کر مغرب زدہ جوانوں کے بدن پر) جس کا جنونی پہلو عقلی پہلو پر غالب نظر آتا ہے۔ وہ لباس ایسا ہے جو دنیا کی ہر چیز ہو سکتا ہے لیکن اسے لباس نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں جو ذہنی نقص ہے اس کا اظہار وہ اس طرح کے عجیب و غریب لباس پہن کر کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے کسی کارنمایاں سے لوگوں کی نظر اپنی طرف نہیں موڑ سکتے وہ عجیب و غریب اور حیران کن لباس کے ذریعے معاشرے میں اپنے وجود کا اظہار چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو بردبار ہیں اور ان میں کسی قسم کا نقص یا احساس کمتری نہیں ہے وہ ایسے لباس سے اجتناب کرتے ہیں۔ علاوہ بریں کتنا کثیر مال اور سرمایہ ان گوناں گوں لباسوں، فیشن پرستوں اور لباس پہننے کے مقابلوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر اس مبلغ کثیر کو ان فضول خرچیوں سے بچآ لیا جائے تو اس سے نہ معلوم کتنی اجتماعی اور معاشرتی مشکلیں حل ہو سکتی ہیں اور اس کے ذریعے اس دکھی معاشرے کے کتنے زخموں پر موٴثر طور پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔ لباس کے بارے میں فیشن پرستی سے صرف یہی نہیں ہوتا کہ زر کثیر بیکار خرچ ہو جاتا ہے، بلکہ اس سے وقت اور انسانی توانائی بھی بہت تلف ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام لباس کے معاملہ میں تجمل پرستی کے مخالف تھے۔ جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ نصاری بنی نجران کا ایک وفد آنحضرت سے ملنے آیا۔ وہ لوگ اپنے بدنوں پر ریشم سے بنا ہوا ایسا خوبصورت لباس پہنے ہوئے تھے جو اس وقت عرب عام طور پر نہیں پہنتے تھے۔ جب یہ لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او ر انہوں نے سلام کیا تو آنحضرت نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ حتیٰ کہ ان سے بات تک کرنے کے روا دارنہ ہوئے۔ جب حضرت علی علیہ السلام سے اس مشکل کا حل پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایاکہ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ یہ لباس فاخرہ اتاردیں اور قیمتی انگوٹھیاں بھی اپنی انگلیوں سے اتاردیں۔ اس کے بعد پیغمبر کی خدمت میں جائیں تو انہیں شرف ملاقات حاصل ہو جائے گا۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی ہدایت پر عمل کیا تو آنحضرت نے ان کے سلام کا جواب بھی دیا اور ان سے بات بھی کی۔ بعد ازان جناب رسالت مآب نے فرمایا: "والّذی بعثنی بالحق لقد اتونی المرة الاولٰی و ان ابلیس لمعہم" اس ہستی کی قسم جس نے مجھے مبعوث برسالت کیا، جب یہ لوگ پہلی دفعہ آئے تھے تو ان کے ساتھ شیطان بھی آیا تھا۔[بحوالہ: سفینۃ البحار، جلد دوم، صفحہ ۵۰۴، مادہ لبس] اس کے بعد والی آیت میں خدا وند کریم تمام افراد بشر اور اولاد آدم کو خبردار کرتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں۔ کیونکہ شیطان نے اپنی پرانی دشمنی کا اظہار انسانوں کے پدر و مادر اول سے کر دیا ہے کہ انہیں فریب دے کر ان کا لباسِ جنت ان کے بدنوں سے اتر وا دیا۔ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ انسانوں کے لباس تقویٰ کوبھی اتر وائے، اس لئے فرمایا گیا: اے آدم کی اولاد! شیطان تمہیں دھوکا نہ دے جیسا کہ اس نے تمہارے باپ آدم اور ماں حوّا کو (دھوکا دے کر) بہشت سے نکال دیا اور ان کا لباس ان کے تن سے الگ کر دیا تاکہ ان کی شرمگاہ ان کو دکھلا دے (یَابَنِی آدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْآتِھِمَا )۔ درحقیقت جو چیز اس آیت کو گذشتہ آیت سے مربوط کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہاں ظاہری اور معنوی لباس (لباسِ تقویٰ) کا تذکرہ تھا اور اس آیت میں خبردار کیا جارہا ہے کہ ہوشیار رہنا کہیں شیطان تمہارے اس لباس تقویٰ کو بھی نہ اتروادے۔ بےشک ظاہری عبارت میں تو یہ نہی کا حکم شیطان کے لئے ہے، لیکن اس طرح کی عبارتوں میں ایک لطیف کنایہ مخاطب کو نہی کرنے کے لئے مضمر ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اپنے کسی دوست سے کہیں کہ خبردار! فلاں دشمن تم کو نقصان نہ پہنچادے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہشیار رہنا اور اس سے مارنہ کھانا۔ اس کے بعد تاکید فرماتا ہے کہ شیطان اور اس کے کارندوں کا حساب کتاب دیگر دشمنوں سے بالکل الگ ہے کیونکہ وہ اور اس کے کارندے تمہیں دیکھتے ہیں اس عالم میں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ لہٰذا ایسے دشمن سے بہت ہشیار رہنے کی ضرورت ہے (إِنَّہُ یَرَاکُمْ ھُوَ وَقَبِیلُہُ مِنْ حَیْثُ لَاتَرَوْنَھُمْ)۔ درحقیقت جس مقام پر تمہیں یہ گمان گزرے کہ یہاں پر بس تم ہی تم ہو، ممکن ہے کہ شیطان اور اس کا گروہ بھی وہاں موجود ہو۔ سچّی بات یہ ہے کہ دشمن اگر ایسا چھپا ہوا ہو کہ اس کے متعلق ہر آن یہ خطرہ ہو کہ نہ معلوم کب حملہ کر بیٹھے، ایسے خطرناک دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ آمادہ جنگ رہنا چاہیے۔ آیت کے آخر میں ایک جملہ ہے درحقیقت ایک اہم اعتراض کا جواب ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ کہ : خدائے مہربان دعادل نے کس لئے ایسے موذی اور قوی دشمن کو انسان پر مسلط کر دیا، دشمن ایسا جو اپنی طاقتوں میں انسان سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا، جہاں چاہے چلا جائے بغیر اس کے کہ کوئی اس کے پاؤں کی آہٹ سن سکے، بلکہ بعض روایات میں ہے کہ وہ انسان کے اندر اس طرح دوڑ جاتا ہے جس طرح خون بدن کی رگوں کے اندر دوڑتا ہے، آیا یہ عمل عدالت الٰہی سے مطابقت رکھتا ہے؟! مذکورہ آیت اس احتمالی سوال کے جواب میں کہتی ہے: ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا ولی و سرپرست قرا دیا ہے جو بے ایمان ہیں (إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِینَ اَوْلِیَاءَ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ)۔ یعنی ان شیاطین کو اس کی اجازت نہیں دی گئی کہ ان بندوں کی جان و روح میں داخل ہوسکیں جنھوں نے ان شیاطین کو قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا، اور وہ صاحبان ایمان ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ شیطان کی طرف ابتدائی قدم خود انسان کی طرف سے اٹھتے ہیں اور خود اس کی جانب سے شیطان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ سلطنت بدن میں داخل ہو جائے۔ لہٰذا انسان کی اجازت سے شیطان اس کے بدن میں داخل ہوتا ہے؛ یہاں تک کہ اس کی روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔بنابریں، جو افراد اپنے بدن کی کھڑکیاں بند رکھتے ہیں، شیطان کو بھی یہ جراٴت نہیں کہ ان کے بدن کی قلمرد میں داخل ہو سکے۔ قرآن کریم کی بعض دیگر آیات یہی اس حقیقت کی شہادت دیتی ہیں۔جیسا کہ سورہٴ نحل کی آیت ۱۰۰میں ہے: إِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الَّذِینَ یَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِینَ ھُمْ بِہِ مُشْرِکُونَ شیطان کا قبضہ ان لوگوں پر ہے جو اسے چاہتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ نیز سورہٴ حجرہ آیت ۴۲ میں ہے: إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِینَ۔ میرے بندوں پر تیرا قبضہ نہ ہو سکے گا سوا ان گمراہوں کے جو تیری اتباع کریں گے۔ دیگر لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے کہ ہم ان ظاہری آنکھوں سے خود شیطان اور اس کے ساتھیوں کو نہیں دیکھتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے نقشِ پا کو تو دیکھتے ہیں۔ جس جگہ محفل گناہ برپا ہو، اسباب معصیّت فراہم ہوں،۔ دنیا اپنے زرق برق لباس میں محو رقص ہو، تجمل پرستی موجزن ہو اور جس وقت غرائز طبعی میں طوفان بھی اٹھ رہا ہو، یا آتش غیظ و غضب بھڑک رہی ہو، یہ سمجھو کہ یہ سب شیطان کے نقش پا ہیں۔ کیونکہ ان خطر ناک مواقع پر شیطان کی موجود لازمی ہے۔ گویا ان مقامات پر انسان شیطانی وسوسوں کو اپنے دل کے کانوں سے سن رہا ہوتا ہے اور اس کے منحوس قدموں کے نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس بارے میں ایک جاذبِ نظر حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے آپؑ نے فرمایا: لما دعا نوح ربہ عز وجل علٰی قومہ اتاہ ابلیس لعنہ اللّٰہ فقال یا نوح ان لک عندی یدًا ارید ان اکا فیک علیہا، فقال نوح انہ لیبغض الی ان یکون لک عندی ید فما ھی؟ قال بلٰی دعوت اللّٰہ علٰی قومک فاغرقتھم فلم یبق احد اغویہ، فانا مستریح حتیٰ ینسق قرن آخر و اغویھم، فقال لہ نوح ما الذی ترید ان تکافئنی بہ؟ قال اذکر نی فی ثلاث مواطن فانی آقرب مآ اکون الی العبد، اذاکان فیٓ احداھن: اذکرنی اذا غضبت واذکرنی اذا حکمت بین اثنین! واذکرنی اذا کنت مع امراٴة خآ لیاً لیس معکما احد! [بحوالہ: بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۱ ص ۳۱۸] جس وقت حضرت نوح نے اپنی قوم کے لئے بدعا کی اور خدا سے یہ چاہا کہ وہ اسے ہلاک کر دے(اور ان سب کو غرق کردے) تو طوفان کے بعد ابلیس ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے نوح ! میری گردن پر تمہارا ایک حق ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بدلہ چکادوں! یہ سن کر نوح کو تعجب ہوا کہ کیا احسان! کہایہ امر مجھے بہت شاق ہے میرا کوئی حق تیرے ذمہ ہو ذرا بتلا کہ وہ حق کیا ہے؟ ابلیس نے کہا وہی بددعا جو تم نے اپنی قوم کے لئے کی ہے جس کی وجہ سے سب ہلاک ہو گئے اور کوئی ایسا شخص نہ بچا جس کو میں گمراہ کرنے کی زحمت گوارا کروں اس وجہ سے مجھے ایک عرصہ تک کے لئے چھُٹی مل گئی کہ آرام کروں؛ یہاں تک کہ دوسری نسل بڑی ہو اور میں نئے سرے سے انہیں گمراہ کرنے میں مشغول ہوں۔ نوح نے اگر چہ اپنی قوم کی ہدایت کی بڑی کوشش کی تھی اور جب کسی طرح وہ ٹھیک نہ ہوئی اس وقت انہوں نے بددعا کی تھی اس لئے شیطان کا یہ طعنہ درست نہ تھا لیکن اس کے باوجود وہ ناراحت ہوئے، انہوں نے ابلیس سے کہا: اب تو کس طرح تلافی کرنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: تین مواقع ایسے ہیں جہاں مجھے یاد کرلینا ! کیونکہ ان مواقع پر میں بندگان خدا سے سب سے زیادہ نزدیک ہو جاتا ہوں : یاد رکھو مجھے، جب تم غصّہ میں ہو۔ اور یاد رکھو مجھے، جب تم دوشخصوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ اور یاد رکھو مجھے اس وقت جب تم کسی نامحرم عورت کے ساتھ اکیلے ہو! ایک اور قابل توجہ نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ کچھ مفسرین نے آیہ مذکورہ سے یہ استفادہ کیا ہے کہ شیطان کسی حال میں انسان کے لئے قابل دید نہیں ہے۔جبکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن بظاہر ان دونوں باتوں میں اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ بمقتضائے اصل شیطان قابل روٴیت نہیں ہے لیکن مثل دیگر کلیات کے یہ کلیہ بھی قابلِ استثناء ہے۔ لہٰذا وہ بعض مواقع پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں شیطان کے ایک اہم وسوسہ کا ذکر کیا گیا ہے جو بعض شیطان صفت انسانوں کی زبان پر ہی جاری ہوتا ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کوئی عمل قبیح بجا لاتے ہیں اور ان سے اس کے متعلق جواب طلب کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : یہ وہ طریقہ ہے جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو گامزن پایا ہے (وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْھَا آبَائَنَا )۔ اس کے بعد وہ مزید کہتے ہیں: خدانے بھی ہمیں اس طریقہ پر چلنے کا حکم دیا ہے (وَاللهُ اَمَرَنَا بِھَا )۔ بزرگوں کی کورانہ تقلید اور بارگاہ خداوندی کو کسی بارے میں متہم کرنا یہ دو نا قابل قبول عذر ہیں جو بعض شیطان صفت افراد پیش کرتے ہیں۔ یہاں پر ایک جاذب ِنظر بات یہ ہے کہ خدانے ان کی پہلی دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ گویا یہ ایسی ہلکی اور کمزور ہے جس کے جواب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس دلیل کے بطلان کو ہر عقل سلیم سمجھ سکتی ہے، علاوہ بریں، قرآن کریم میں متعدد بار اس کا جواب دہرایا گیا ہے۔لہٰذا صرف دوسرے جواب پر اکتفاء کی ہے۔ فرمایا گیا ہے: خدا کبھی بُرے کاموں کا حکم نہیں دیتا،کیونکہ اس کا حکم عقل کے حکم سے جدا نہیں ہے (قُلْ إِنَّ اللهَ لَایَاْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ )۔ برے کاموں کا حکم دینا نصّ قرآنی کے مطابق ایک شیطانی کام ہے؛ نہ کہ خدا کا کام۔ خدا تو صرف نیکی اور اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔(سورہ بقرہ؛ آیت ۲۷۸-۲۶۹ ملاحظہ ہو۔) بعد ازاں اس جملہ پرآیت کا خاتمہ ہے:کیا تم خدا کی جانب ایسی باتوں کی نسبت دیتے ہو جنھیں تم نہیں جانتے:(اَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ)۔ اگرچہ بظاہر زیادہ مناسب تو یہ تھا کہ فرمایا جاتا: تم کیوں اس بات کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو جو جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ لیکن اس کی بجائے فرمایا: جس چیز کو تم نہیں جانتے اس کی نسبت خدا کی طرف کیوں دیتے ہو؟ یہ در اصل اس وجہ سے ہے کہ وہ مطالب جو طرفین کے لئے قابل قبول اور مسلم ہیں ان کا سہارا لیا جائے۔ گویا ان سے کہا جارہا ہے کہ تمہیں اگر ان باتوں کے جھوٹ ہونے کا یقین نہیں ہے تو کم از کم اتنا تو ہے کہ ان کے صحیح ہونے پر بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا بغیر دلیل کے کیوں تہمت لگاتے ہو اور جس چیز کو نہیں جانتے اسے خدا کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔
"فحشآء" سے کیا مراد ہے؟
لفظ "فاحشہ"(عمل قبیح) کے متعلق بہت سے مفسّرین کا قول ہے کہ اس سے زمانہ جاہلیت میں عربوں کی اس رسم کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے گرو مادر زاد برہنہ طواف کرتے تھے۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہ تھا۔ اس بارے میں ان کی دلیل یہ تھی کہ جن کپڑوں سے خدا کا گناہ کیا ہے انہیں وقت طواف بدن سے الگ کر دینا چاہیئے۔ بے شک یہ تفسیر ان آیات سے ضرور مناسبت رکھتی ہے جو اس سے قبل گذر چکی ہیں اور ان میں لباس اور اس کے پہننے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ لیکن متعدد روایات میں ملتا ہے کہ "فاحشہ" سے مراد یہاں پر ظالم پیشواوٴں کا لوگوں سے یہ کہنا ہے کہ وہ ان کی پیروی کریں کیونکہ(بقول ان کے) خدا نے ان کی اطاعت کو لوگوں پر فرض کیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین جیسے "المنار" اور "المیزان" کے موٴلف نے اس کے ایک وسیع معنی بیان کیے ہیں جس کے دائرے میں ہر بُرا کام آجاتا ہے۔ اگر آیت کے وسیع معنی پر نظر کی جائے تو معلوم ہو گا کہ "فاحشہ" کے معنی میں وسیع و عام ہونا چاہیے۔ برہنگی کے عالم میں طواف کرنا اور پیشوایان ظلم و ستم کی پیروی اس کے واضح مصداقوں میں سے ہو گا، اور یہ روایات کے خلاف بھی نہیں ہو گا۔ تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ ٴبقرہ آیت ۱۷۰ کے ذیل میں بزرگوں کے طریقہ اور رسوم پر بغیر کسی قید و شرط کے عمل کرنے کے بارے میں مفصل بحث کی گئی ہے ملاحظہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
وہ فرامین جن کا تعلق عملی ذمہ داری سے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1چونکہ گذشتہ آیت میں لفظ "فحشاء" (جس کے معنی ہر قسم کے بُرے کام کے ہیں) سے بحث کی گئی تھی اور یہ تاکید کی گئی تھی کہ خدا ہرگز بُرے کام کا حکم نہیں دیتا، لہٰذا اب اس آیت میں ایک مختصر جملے کے ذریعے پروردگار عالم کے ان فرامینِ بنیادی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا تعلق عملی ذمہ داری سے ہے۔ اس کے بعد اصول عقائد کی دو بنیادوں یعنی مبدا و معاد کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ ابتداء میں فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے عدالت کا حکم دیا ہے (قُلْ اَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ)۔ ہم جانتے ہیں کہ عدالت کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں تمام اعمال نیک آجاتے ہیں۔ کیونکہ عدالت کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے محل و مقام پر رکھا جائے اور وہ جس لئے ہے اسے وہاں استعمال کیا جائے۔ اگر چہ لفظ "عدالت" اور لفظ "قسط" میں فرق ہے۔ عدالت اسے کہتے ہیں کہ انسان ہر ایک کا حق ادا کر دے۔ اس کے مدِّ مقابل دوسروں پر ظلم و ستم کرنا اور ان کے حقوق کا غضب کرنا ہے، لیکن "قسط" کے معنی یہ ہیں کہ کسی کا حق دوسرے کو نہ دے، یعنی تقسیم کرنے میں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتے۔ اس کے مدِّ مقابل یہ ہے کہ ایک کا حق دوسرے کو دے دے۔ لیکن ان دونوں کلموں کا وسیع مفہوم،خصوصاً جبکہ یہ الگ الگ استعمال کیے جائیں، تقریباً بالکل مساوی ہے جس کے معنی ہر چیز اور ہر کام میں اعتدلال برتنے اور ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنے کے ہیں۔ اس کے بعد توحید پرستی اختیار کرنے اور ہر طرح کے شرک کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: اپنے دل کو ہر عبادت میں اس کی طرف متوجہ رکھنا اور اس کی ذات پاک سے منہ موڑ کر اور کسی طرف نہ مڑنا (وَاَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ )۔ اسے پکارو، اور اپنے دین و آئین کو اس کے لئے خالص اور مخصوص کردو (وَادْعُوہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ )۔ توحید کے ستون کو مستحکم کرنے کے بعد مسئلہ معاد و محشر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: جس طرح تمہیں آغاز میں پیدا کیا، اسی طرح دوبارہ بروز قیامت تم پلٹ کر آؤ گے (کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُودُونَ)۔
دو اہم نکات
۱۔ "وَاَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ"کا مفہوم : مفسرین نے جملہ "وَاَقِیمُوا وُجُوھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ" کے بارے میں مختلف تفسیریں کی ہیں: کبھی تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہر نماز کے وقت قبلہ رو ہونا ہے۔ کبھی کہا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ ہنگام نماز روزانہ مسجدوں میں حاضر ہونا۔ کبھی یہ احتمال دیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نماز میں حضور قلب و خالص نیت ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے جو تفسیر مذکورہ بالا سطور میں بیان کی ہے یعنی خدا کی طرف توجہ اور ہر طرح کے شرک اور غیر اللہ کی طرف التفات کرنے سے مبارزہ و اختلاف کرنا وہ آیت کے ماقبل و مابعد سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، اگر چہ ان تمام معانی کا مراد لیا جانا بھی آیت کے مفہوم سے بعید نہیں ہے۔ ۲۔ معاد پر ایک مختصر ترین استدلال: اگر چہ معاد اور حیات بعد الموت کے متعلق بہت بحثیں کی گئی ہیں اور آیات قرآنی کے مطالعہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں بہت سے کوتاہ فکر افراد کے لئے یہ حقیقت قبول کرنا بہت دشوار تھا۔ حد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے انبیائے الٰہی کو اس لئے (معاذ اللہ) جھوٹا بلکہ دیوانہ خیال کیا کہ وہ نہیں روز قیامت اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی خبر دیتے تھے۔ وہ یہ کہہ دیتے تھے: افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اَمْ بِہِ جِنَّةٌ۔ یہ جو پیغمبر نے خبردی ہے کہ مٹی ہو جانے کے بعد اور اجزا منتشر ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے یہ خدا پر ایک بہتان ہے، یا یہ شخص دیوانہ ہے۔( سورہ سبا آیت ۸۔) لیکن اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہییے کہ جو بات سب سے زیادہ ان کے تعجب کا باعث بنتی تھی وہ معاد جسمانی کا مسئلہ تھا، کیونکہ کسی طرح سے یقین نہیں آتا تھا کہ بدن خاک ہونے کے بعد، اور اس خاک کے ذرات ہوا میں منتشر ہو کر کرہ زمین کے مختلف گوشوں میں بٹ جانے کے بعد بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ پراگندہ اجزاء زمین کے مختلف گوشوں سے، دریاؤں کی موجوں کی آغوش سے، مختلف ہواؤں کے دامن سے دوبارہ اکٹھے کیے جا سکیں گے اور ان کے اکٹھا ہونے کے بعد وہی پہلا انسان دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے گا۔ قرآن نے اپنی متعدد آیات میں اس غلط استبعاد اور بے جا استعجاب کا جواب دیا ہے۔ آیت مذکورہ بالا انہی جوابات میں سے ایک مختصر ترین لیکن جاذب ترین جواب ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:ذرا اپنی ابتدائے آفرینش پر ایک نظر تو ڈالو اور دیکھو کہ یہی تمہارا جسم جس کا زیادہ حصہ با قی مختلف معدنیات پر مشتمل ہے، پہلے کہاں تھا؟ تمھارے جسم میں جو پانی دوڑ رہا ہے اس کا ہر قطرہ شاید روئے زمین کے کسی اوقیانوس میں سرگرداں تھا، جو عمل تبخیر کے ذریعہ اَبر بنا، پھر قطرات باراں کی شکل میں زمین پر برسا، پھر تمہارا جز و بدن بنا، اسی طرح وہ ذرات جن سے تمھارے جسم کی عمارت بنی ہے، کسی روز یہ دانہ گندم یا کسی میوہ یا سبزی کی شکل میں تھے جو زمین کے مختلف حصوں سے سمٹ کر آئے اور تمہارا جز و بدن بنے۔ بنابریں اس بات میں کونسا تعجب ہے کہ جب یہ ذرات دوبارہ پریشان ہو جائیں گے۔ (تشریحی نوٹ: جیسا کہ شاعر نے کہا ہے زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترکیب موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشان ہونا۔مترجم) اس کے بعد دوبارہ وہ خالق کے حکم سے اکٹھا ہو جائیں گے اور اسی جسم کی تشکیل کریں گے۔ اگر یہ امر محال تھا تو پہلی دفعہ کیسے ہو گیا ؟ لہٰذا: "جس طرح آغاز میں خدا نے تمھیں مختلف اجزاء سے بنایا روز محشر بھی وہ تمھیں پلٹائے گا۔ یہی مفہوم اس مختصر آیت میں پنہان ہے"۔ اس کے بعد کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس دعوت (یعنی نیکیوں، توحید اور معاد کی طرف دعوت) کا لوگوں پر کیا اثر ہوا اور انھوں نے اس کا کیا رد عمل پیش کیا، ارشاد ہوتا ہے: خدا کی توفیق ایک گروہ کے شامل حال ہو گئی اور اسے حق کے راستہ کی طرف ہدایت کی، جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا کہ اس کی گمراہی مسلّم ہو گئی (فَرِیقًا ھَدیٰ وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْھِمْ الضَّلَالَةُ )۔ (تشریحی نوٹ: جملہ "فریقاً ھدی" اس کی ادبی ترکیب اس طرح پر ہے "فریقاً" مفعول مقدم"ھدی" فعل موّخر اور"فریقاً""اضل" کا مفہوم دوم ہے اور جملہ"حق علیہم الضلالة" اس پر دلالت کرتا ہے۔) اور چونکہ کسی کے ذہن میں یہ خیال ہو سکتا تھا کہ خدا بلا جہت کسی کو ہدایت کرتا ہے اور کسی کو گمراہ کرتا ہے، لہٰذا اس خیال کی تردید کے لئے بعد والے جملے میں فرمایا: گمراہ گروہ وہی لوگ ہیں کہ جنھوں نے شیطان کو اپنا ولی منتخب کر لیا ہے اور بجائے خدا کی ولایت کے شیطان کی ولایت اختیار کرلی ہے (إِنَّھُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ)۔ جائے تعجب یہ ہے کہ: ان تمام گمراہیوں کے بعد بھی وہ یہ تصور کرتے تھے کہ حقیقی ہدایت یافتگان وہی ہیں (اللهِ وَیَحْسَبُونَ اَنَّھُمْ مُھْتَدُونَ)۔ یہ حالت خاص کر ان لوگوں کی ہے جو طغیان اور گناہ میں ڈوب جائیں اور اس طرح فساد "تباہی" بت پرستی اور کج روی کے دلدل میں غرق ہو جائیں کہ ان کی حسِ تشخیص بالکل دگرگوں ہو جائے، برائی کو اچھائی اور گمراہی کو ہدایت سمجھنے لگیں۔ یہی وہ حالت ہوتی ہے کہ درہائے ہدایت ان کے لئے بالکل بند ہو جاتے ہیں اور یہ حالت ان کی خود فراہم کردہ ہوتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 32 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سرگزشت آدم اور لباس کی مناسبت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں سرگزشت آدم اور لباس کی مناسبت سے دوبارہ مسئلہ پوشاک اور دیگر نعمات زندگی اور ان کے طریقِ استفادہ سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تمام فرزندان آدم کو ایک ایسا حکم دیا گیا ہے جو ایک لازوال قانون کے طور پر تمام زمانوں پر محیط ہے: اپنی زینت کو مسجد میں جاتے وقت ہمراہ رکھنا (یَابَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ)۔ اس جملہ سے جسمانی زینتوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے جیسے صاف ستھرا لباس پہننا، کنگھی کرنا، عطر لگانا اور اسی طرح کی دوسری زینتیں کرنا، اور اس سے روحانی زینتوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے جس سے مراد صفات انسانی، ملکات نفسانی، نیت کی پاکیزگی اور اخلاص ہے۔ بعض روایات اسلامی میں یہ جو ہے کہ اس سے مراد اچھے کپڑے پہننا یا کنگھی کرنا ہے یا یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مراسم نماز عید و جمعہ ہیں تو یہ اس کی دلیل نہیں ہے کہ تفسیر صرف انھیں چیزوں میں منحصر ہے بلکہ اس سے ان کے واضح مصداق بیان کرنا مقصود ہے۔( ان روایات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر برہان جلد دوم ص ۹۔۱۰ و تفسیر نورالثقلین جلد دوم ص ۱۸۔ ۱۹) اسی طرح اگر ہم دیکھیں کہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ لفظ "زینت" سے مراد لائق رہبر و پیشوا ہیں تو یہ وسعت مفہوم کی ایک دلیل ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ آیت کا مفہوم ہر قسم کی ظاہری و باطنی زینت کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ اگر چہ مذکورہ بالا حکم (زینت) ہر زمانے کے فرزندانِ آدم کے لئے ہے۔ لیکن ضمنی طور سے یہ سرزنش ہے عربوں کی ایک جماعت کو جن کا زمانہ جاہلیت میں طریقہ یہ تھا کہ جب خانہ کعبہ کے طواف کیلئے مسجد الحرام میں آتے تھے تو بالکل برہنہ ہوجاتے تھے نیز انھیں اس کی بھی نصیحت کرنا مقصود تھی کہ وہ جب نماز جماعت کے لئے مسجد میں آئیں تو ذرا صاف ستھرے کپڑے پہن کے آئیں کیونکہ ان کی عادت یہ تھی کہ جب وہ مسجد میں آتے تھے تو انہی میلے کچلے کپڑوں میں آجاتے تھے جو گھر میں پہنے ہوتے تھے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماے زمانہ میں بھی بعض نادان مسلمانوں کی عادت یہی ہے کہ وہ معمولی لباس میں ہی مسجد میں آجاتے ہیں اور خراب کپڑوں کے ساتھ شریک نماز جماعت ہوتے ہیں جبکہ اس آیت کی تفسیر میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جن میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب مسجدوں میں آئیں تو اپنا بہترین لباس پہن کر اور آراستہ ہو کر آئیں۔ اس کے بعد کی آیت میں خدا کی دیگر نعمتوں، جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے، کی طرف اشارہ ہوا ہے، فرمایا گیا ہے: کھاؤ اور پیو (وَکُلُوا وَاشْرَبُوا)۔ لیکن چونکہ انسان کی طبیعت میں ہوس ہے ا س لئے ہو سکتا تھا کہ وہ ان دو احکام سے ناجائز فائدہ حاصل کر لیتا اور صحیح پوشاک اور مناسب خوراک کی بجائے تجمل پرستی، فضول خرچی اور کھانے میں افراط کا راستہ اختیار کر لیتا لہٰذا اس کی طرف فوراً تنبیہ کر دی ہے کہ: اسراف نہ کرنا کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ)۔ "اسراف"کا کلمہ ایک بہت جامع ہے، جو ہر قسم کی زیادہ روی کا مفہوم دیتا ہے چاہے وہ کمیت کے لحاظ سے ہو یا کیفیت کے اعتبار سے،اتلاف ہو یا فضول خرچی یہ سب کو اپنے دائرہ میں لئے ہوئے ہے۔قرآن کریم کی ایک روش ہے کہ جب بھی وہ نعمات فطرت سے بہرہ اندازی کی طرف شوق دلاتا ہے تو فوراً راہِ اعتدلال سے بھٹکنے کی روک تھام بھی کر دیتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ذرا تند لہجہ میں ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ زہد کے معنی یہ ہیں کہ زینتوں کو اپنے اوپر حرام کر دیا جائے، اور پاک و حلال رزق و روزی کو ترک کر دیا جائے۔ تو یہ زہد و پارسائی کی نشانی اور مقربِ بارگاہ الٰہی ہونے کی علامت ہے۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! "کہو کس نے خدا کی ان زینتوں کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اور کس نے اس کی نعمتوں اور پاک روزیوں کو حرام کیا ہے " (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی اَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ)۔ اگر یہ چیزیں بری تھیں تو سے سے اللہ انھیں پیدا، ہی نہ کرتا، اور اب جبکہ اس نے ان چیزوں کو بندوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے، کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ انھیں حرام کر دے؟ کیا خلقت کی فطرت اور شریعت کے احکام میں تضاد ممکن ہے؟ اس کے بعد مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے: ان سے یہ کہہ دو کہ یہ نعمتیں با ایمان لوگوں کے لئے اس دنیا میں خلق ہوئی ہیں، اگر چہ دوسرے افراد بھی لیاقت نہ ہونے کے باوجود ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن بروزِ آخرت اور اعلیٰ زندگی کے موقع پر جبکہ انسانوں کی صفوں کو چھانٹ کر کھوٹا کھرا الگ کیا جائے گا تب یہ سب نعمتیں اور لذّتیں صرف یا ایمان اور نجات یافتہ افراد کودی جائیں گی، دوسرے لوگ ان سے بالکل محروم ہو جائیں گے (قُلْ ھِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ)۔ بنابریں، وہ نعمتیں اور لذّتیں جو دنیا میں بھی ان کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور آخرت میں تو صرف انہی کے لئے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ خدا انھیں حرام قرار دے دے، حرام وہ چیز ہوتی ہے جس میں کوئی ضرر ہو نہ کہ نعمت و مرحمت۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ قدرت کے یہ عطیے اور نعمتیں اگر چہ دار دنیا میں رنج و تکلیف کے ساتھ مخلوط ہیں لیکن آخرت میں یہ نعمتیں ہر قسم کے رنج و اذیت سے خالص ہو کر موٴمنین کو ملیں گی (لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے)۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: ہم اپنی آیتوں اور احکام کی ان لوگوں کے لئے جو آگاہ ہیں اور سمجھتے ہیں تشریح کرتے ہیں (کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔
اسلام کی نظر میں زیب و زینت کی حیثیت
ہر طرح کی زینتوں سے استفادہ کے بارے میں اسلام نے جیسا کہ اس کا رویہ دوسری چیزوں میں ہے، راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے۔ نہ تو بعض لوگوں کی طرح یہ کہا ہے کہ زینت کرنا اور اپنے کو آراستہ کرنا چاہے وہ حدّ اعتدال میں ہو، زہد و پاسائی کے خلاف ہے۔ اور نہ ہی ان لوگوں کی تائید کی ہے جو جذبہٴ تجمل پرستی کی و جہ سے طرح طرح کی زینتوں میں غرق ہیں اور اس غیر معقول امر کے لئے ہر ناشائستہ عمل بجالاتے ہیں۔ اگر ہم انسان کے جسم و روح کی عمارت پر نظر کریں اور اس کے بعد ان تعلیمات کو دیکھیں جو ہمیں دی گئی ہیں تو معلوم ہو گا کہ یہ تمام تعلیمات ہماری روح و جسم سے ہم آہنگ ہیں۔ اس امر کی توضیح اس طرح ہے کہ علمائے علم نفس کی یہ تحقیق ہے کہ ہر انسان کی روح میں چار احساس پائے جاتے ہیں: حسِ زیبائی، حسِ نیکی، حسِ دانائی اورحسِ مذہبی۔ ان کا خیال یہ ہے کہ تمام ادبی محاسن، شعر و سخن میں حُسن کی مدح، لطیف و حسین صنعتیں یہ سب اسی حسِ زیبائی کے نتیجے میں نمودار ہوئی ہیں۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صحیح قانون اس فطری احساس کا گلا گھونٹ دے اور اس کے جو نتائج بَد برآمد ہوں انہیں نظر انداز کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں فطرت کے حُسن و جمال، خوبصورت و مناسب لباس، طرح طرح کی خوشبوئیں اور اسی طرح کے دیگر جمآ لیات سے لطف اندوز ہونا نہ صرف جائز و مباح قرار دیا گیا ہے، بلکہ ان امور کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کثیر روایات کتب معتبرہ میں وارد ہوئی ہیں۔ چند ایک ہم بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں: امام حسن علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ آپ جس وقت نماز کے لئے سجادہ پر کھڑے ہوتے تھے اپنا بہترین لباس زیبِ تن فرماتے تھے۔ جب حضرت سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: "ان اللّٰہ جمیل یحب الجمال فاتجمل لربی و ھو یقول خذوا زینتکم عند کل مسجد"۔ خدا جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے۔ اسی لئے میں حسین لباس اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرنے کے لئے پہنتا ہوں اور خود اس نے یہ حکم دیا ہے کہ مسجد جاتے وقت اپنی زینت اختیار کرو۔[بحوالہ: وسائل الشیعہ، جلد سوم ابواب احکام الملابس] ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک ریا کار زاہد جس کا نام عبادبن کثیر تھا راستے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو ملا۔ اس وقت امامؑ نسبتاً خوبصورت لباس پہنے ہوئے تھے۔ اس نے امامؑ سے کہا: آپؑ کے بدن پر یہ عمدہ لباس کیوں ہے؟ کیا بہتر نہ تھا کہ اس سے کم قیمت لباس پہنتے! حضرت نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پر اے عباد! کیا تونے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی : من حرم زینتة اللّٰہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق: کس نے حرام کیا ہے ان زینتوں کو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں، اور پاکیزہ روزیوں کو۔[بحوالہ: وسائل الشیعہ جلد ۳ ابواب احکام ملابس باب ۷ حدیث ۴] اس سلسلہ میں دیگر روایات بھی وارد ہوئی ہیں۔ یہ تعبیر کہ خداجمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، یا یہ کہ خدا نے اچھی چیزوں کو پیدا کیا ہے، ان سب سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہر طرح کے جمال سے استفادہ کرنا ممنوع ہوتا تو خدا ہرگز ان کو پیدا نہ کرتا۔ اس جہاں میں ہر طرف حُسن فطرت کا پایا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ خالق حُسن، حُسن کو پسند کرتا ہے۔ اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ ایسے امور میں عام طور سے لوگ راہ افراط اختیار کرتے ہیں اور مختلف بہانوں سے تجمل پرستی اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا قرآن اس حکم اسلامی کو بیان کرنے کے بعد بلافاصلہ اسراف و زیادہ روی اور حد سے تجاوز کرنے سے مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے۔ قرآن میں بیس مقامات سے زیادہ مسئلہ اسراف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی مذمت کی گئی ہے (اسراف کے متعلق ہم آئندہ آنے والی آیات میں تفصیلاً کریں گے)۔ بہر حال اسلام و قرآن کا رویہ اس معاملہ میں موزوں اور اعتدال پسند انہ ہے۔ نہ تو جمود ہے، نہ ہی حسن پرستی کا ایسا میلان ہے جس کی وجہ سے روح انسانی ضائع ہو جائے، نہ ہی اسراف کرنے والوں اور تجمل پرستوں اور زیادہ کھانے والوں کے عمل کی تائید و تصدیق کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ملتا ہے کہ جب بعض آئمہ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ لباس فاخر کیوں پہنتے ہیں جبکہ آپ کے جدّ حضرت علی علیہ السلام ایسا لباس نہیں پہنتے تھے؟ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا: اس زمانہ میں لوگ مالی سختی میں مبتلا تھے؛ لہٰذا ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہمارے زمانہ میں لوگوں کی مالی حالت بہتر ہے؛ لہٰذا اس زمانہ میں ان زینتوں سے (معقول حد تک) استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تندرستی کے بارے میں ایک اہم فرمان
مذکورہ بالا آیت میں " کُلُوا وَاشْربُوا وَلَا تُسرِفُوا "اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو "یہ جملہ جو آیا ہے اگرچہ بادی النظر میں ایک سادہ جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن آج کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ حفظانِ صحت کے اہم اصولوں میں سے ایک زبردست اصول ہے۔ کیونکہ آج کل کے اطباء تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بہت سی بیماریوں کی جڑ وہ اضافی غذا ئیں ہیں جو بدن انسانی میں جذب نہ ہونے کی وجہ سے باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ غیر ضروری مادّے قلب کے لئے بھی بارسنگین بن جاتے ہیں اور دوسرے اعضاء پر بھی اپنا بُرا اثر چھوڑتے ہیں۔ بہت سی بیماریوں اور گندگیوں سے جسم کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ لہٰذا اس کے تدارک کے لئے پہلا قدم یہی ہے کہ یہ غیر ضروری مادّے (جوفی الحقیقت جسم کے کارخانہ میں کوڑا کرکٹ کی حیثیت رکھتے ہیں) جلا دیئے جائیں اور اس طرح جسم کے اندرونی حصّے کی صفائی عمل میں آجائے۔ اس ضرر رساں مواد کے جمع ہونے کا اصلی سبب یہی کھانے میں زیادتی ہے جسے "پُر خوری" کہا جاتا ہےاسے روکنے کے لئے سوائے خوراک میں میانہ روی کے اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ خصوصاً ہمارے زمانہ میں جبکہ طرح طرح کی بیماریاں پھیل گئی ہیں جیسے "ذیا بیطس"چربی خون"و "تصلب شرائین" (رگوں کا سخت ہوجانا) خرابی جگر، طرح طرح کے سکتے (فالج) اور اسی طرح کی دیگر بیماریاں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ ان سب کو اگر ہم دیکھیں تو ان کی تہ میں عدم نقل و حرکت کے ساتھ "پُر خوری" کاہاتھ نظر آئے گا جس کا علاج صرف یہی ہے کہ کافی حرکت کی جائے اور خوراک کے معاملہ میں اعتدال برتا جائے۔ ہمارے ایک بزرگ مفسّر علامہ طبرسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر "مجمع البیان" میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ہارون رشید کے دربار میں ایک عیسائی طبیب تھا جس کی بڑی شہرت تھی۔ ایک روز اس طبیب نے ایک عالم سے یہ کہا کہ تمہاری آسمانی کتاب میں مجھے طب کا کوئی ذکر نہیں ملتا جبکہ مفید علم دوہی ہیں: علم ادیان اور علم ابدان۔ عالم نے اس کے جواب میں کہا کہ خداوند کریم نے تمام احکام طبّی کو آدھی آیت میں سمودیا ہے جہاں فرمایا ہے: "کُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَاتُسْرِفُوا ":"کھاؤ پیو لیکن اسراف نہ کرو" نیز ہمارے پیغمبر نے بھی طب کو اپنے اس ارشاد میں مختصر بیان کر دیاا ہے: " المعدة بیت الادوآء والحمیتہ راٴس کل دوآء واعط کل بدن ما عودة " " یعنی معدہ تمام بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے، اور بدن کو جو (مناسب)" عادت ڈالی ہے اسے اس سے مت روکو۔" عیسائی طبیب نے جب یہ سنا تو کہا: "ما ترک کتابکم ولا نبیکم لجالینوس طبا"۔ یعنی تمہارے قرآن اور تمہارے پیغمبر نے جالینوس (مشہور طبیب) کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔ جو لوگ اس حکم کو ایک معمولی حکم خیال کرتے ہیں بہتر ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسے آزمائیں تاکہ اس کی اہمیت و گہرائی کا انہیں اندازہ ہو جائے اور اس قانون پر عمل کرنے کا معجز نما اثران کے سامنے ظاہر ہو جائے۔
محرّما تِ اِلٰہی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قرآنی اسلوب میں ہم نے متعدد باریہ دیکھا کہ جب بھی قرآن نے کسی امر مباح یا امر لازم کے متعلق گفتگو کی ہے تو فوراً اس کے بعد اس کے نقطہٴ مقابل یعنی بد اعمالیوں اور محرمات کا بھی ذکر چھیڑ دیا ہے۔ تاکہ دونوں بحثیں آمنے سامنے ہو کر ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بنیں۔ چنانچہ اس مقام پر بھی عنایات الٰہی اور زینتوں کے استعمال کی اجازت اور ان کی نفیٴ تحریم کے بعد محرمات کا ذکر شروع کر دیا ہے۔ پہلے حرمت کی عمومی بات ہے اور اس کے بعد خاص طور سے چند اہم نکتوں کی نشاندہی کی ہے۔ ابتداء میں "فواحش" کی تحریم کو بیان کیا گیا ہے۔ فرماتا ہے: اے پیغمبر! کہہ دو میرے پروردگار نے صرف بُرے کاموں کو حرام کیا ہے چاہے وہ آشکارا ہوں یا پنہان (قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ)۔ "فواحش" جمع ہے "فاحشہ" کی جس کے معنی ہیں "انتہائی بُرا کام" اور ہر بُرے کام کو "فاحشہ" نہیں کہتے۔ اس بات کی تاکید کہ وہ گناہ چاہے آشکارا ہو یا پنہاں شاید اس وجہ سے کی گئی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کا یہ دستور تھا کہ اگر وہ کوئی بُرا کام خلوت میں کرتے تو اس میں کوئی عیب خیال نہیں کرتے تھے لیکن وہ ظاہر ہو جاتا تو اس کو بُرا جانتے تھے۔ اس کے بعد موضوع کو عام کرکے تمام گناہوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا (وَالْإِثْمَ)۔ " إِثْمَ "اصل میں ہر اس کام کو کہتے ہیں جو نقصان دِہ ہو اور انسان کو اس کی حیثیت سے گرانے کا سبب بنے اور اسے ثواب اور جزائے خیر تک پہنچنے سے روکے۔ اس بناپر ہر طرح کا گناہ "اثم" کے وسیع مفہوم میں داخل ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے "اثم" کے معنی اس مقام پر صرف "شراب" کے لئے ہیں اور شاہد میں یہ شعر پیش کیا ہے: شربت الاثم حتی ضل عقلی کذاک الاثم یصنع بالعقول میں نے اس قدر اثم (شراب) پی کہ میری عقل زائل ہو گئی، اور شراب عقلوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔[بحوالہ: تفسیر تبیان در ذیل آیت مورد بحث و تاج العروس مادہ "اثم"]۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ معنی مفہوم "اثم" کا تمام مفہوم نہیں ہے بلکہ اس کا ایک اہم مصداق ہے۔ بعد ازاں ایک مرتبہ پھر چند بڑے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے: اور ہر طرح کاستم اور دوسروں کے حقوق پر ناحق تجاوز کرنا (حرام ہے) (وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ)۔ "بغی" کے معنی کسی چیز کو حاصل کرنے کےلئے کوشش کرنے کے ہیں۔ لیکن عام طور پر اس کا استعمال کسی دوسرے کی چیز ناجائز طور پر چھیننے کےلیے ہوتا ہے۔ لہذا اس کا مفہوم غالبا ظلم و ستم کے مفہوم کے مساوی ہوتا ہے۔ لہذا "بغی" کے بعد "غیر الحق" مزید تاکید و توضیح کےلیے ہے۔ اس کے بعد مسئلہ شرک کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ا ے رسول! کہہ دو میرے پروردگار نے یہ بھی حرام کیا ہے کہ کسی چیز کو بغیر دلیل کے اس کا شریک بناؤ (وَ اَنْ تُشْرِکُوا بِاللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا)۔ یہاں بھی یہ بات واضح ہے کہ "مَالَم یُنَزِّل بِہ سُلْطَاناً" اس بات کی تاکید اور توضیح کے لئے ہے کہ مشرکین نے جو خدا کے شریک بنائے ہیں ان پر کوئی دلیل منطقی یا تائید عقلی قائم نہیں ہے۔ "سلطان" کے معنی ہر قسم کی دلیل اور گواہ کے ہیں جس کی وجہ سے انسان کو اپنے مخالف پر کامیابی حاصل ہو۔ محرمات میں سے آخری چیز جس کا آیت نے ذکر کیا ہے وہ ہے"بغیر جانے بوجھے خدا کی طرف کسی بات کی نسبت دینا" (وَاَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ)۔ بغیر علم کے کوئی بات کہنا، اس کے متعلق ہم نے اسی سورہ کی آیت ۲۸ میں گفتگو کی ہے۔ آیات قرآنی اور روایات اسلامی میں اس بات کی بڑی تاکید کی ہے کہ مسلمان کو ایسی بات نہیں کہنا چاہیےٴ جس کا علم نہ ہو۔یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی گئی ہے، آپ نے فرمایا: "من افتٰی بغیر علم لعنتہ ملآئکة السموات والارض"۔ "جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں"۔[بحوالہ: عیون اخبار الرضا نقل از تفسیر"نورالثقلین" جلد دوم ص ۲۶] اگر ہم انسانی معاشروں کی وضیعت اور ان بدبختوں کا بنظر غائر مطالعہ کریں جو بشریت کا دامن پکڑے ہوئے ہیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ان بدبختوں کا زیادہ حصہ افواہ سازی، بغیر علم کے بات کہنے، ناحق گواہی دینے، بغیر مدرک و دلیل کے اظہار رائے کامرہون منت ہے۔
ہر گروہ کا ایک انجام ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں خداوند کریم قوانین آفرینش میں سے ایک اہم قانون، فنا و نیستی کا ذکر فرماتا ہے۔ فرزندان آدم کی روئے زمین پر زندگی سے متعلق جو بحثیں ہوئی ہیں پھر آخر امر میں گناہکاروں کا جو انجام بدگذشتہ آیات میں دکھلایا گیا ہے یہ سب اس بحث سے واضح ہو جائے گا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہر امت کے لئے ایک زمانہ و مدت معیّن مقرر کی گئی ہے (وَلِکُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ)۔ اور جس وقت یہ مدت پوری ہو جائے گی تو پھر ایک لحظہ کے لئے وہ اس سے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے ہٹ سکیں گے (فَإِذَا جَاءَ اَجَلُھُمْ لَایَسْتَاْخِرُونَ سَاعَةً وَلَایَسْتَقْدِمُونَ)۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں بھی افراد کی طرح قانون موت و حیات سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ کچھ قومیں تو صفحہ ہستی سے نابود ہو جاتی ہیں پھر ان کے بجائے دوسری قومیں آجاتی ہیں۔ لہٰذا قانون فنا سے نہ افراد الگ ہیں نہ قومیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ قوموں کی موت زیادہ تر اس وجہ سے واقع ہوتی ہے کہ وہ لوگ راہ حق و عدالت سے منحرف ہو جاتے ہیں، ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرتے ہیں، شہوت رانی و خواہشات کے دریا میں غرق ہوجاتے ہیں، تجمل پرستی، تن پروری کی موجوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ جب دنیا کی کوئی قوم ان راستوں پر آنکھیں بند کرکے چل پڑے اور مسلم الثبوت قوانین فطرت کو پس پشت ڈال دے تو اس کا قہری نتیجہ یہ بر آمد ہو گا کہ وہ اپنے سرمایہٴ ہستی کو کھوبیٹھے گی اور تباہی کے گڑھے میں ہمیشہ کے لئے جاگرے گی۔ اگر مختلف قوموں کے تمدنوں کا مطالعہ کیا جائے جیسے بابل، فراعنہٴ مصر، قوم سبا، کلدانی، آشوری، مسلمانان اُندلس اور اسی طرح کی دوسری قومیں تو معلوم ہو گا کہ جب ان کی کجردیاں اور شرکشیاں حد سے بڑھ گئیں تو ان کی نابودی کا فرمان آسمان سے نازل ہو گیا۔ پھر ایک گھڑی کے لئے بھی وہ اپنی حکومت کے لرزان ستونوں کو باقی نہ رکھ سکے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ عربی میں لفظ "ساعت" کم از کم وقت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔کبھی ایک پل کےلئے اور کبھی زمانہ کی ایک کم مقدار کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر چہ آج کل شب و روز کے چوبیسویں حصہ (ایک گھنٹہ) کو "ساعت' کہتے ہیں۔
ایک شبہ او ر اس کا جواب
بعض خود ساختہ مذہب جو اس زمانہ میں رونما ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے مقاصد شوم تک پہنچنے کیلئے یہ ضروری خیال کیا ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاتمیت پر بخیال خود ضرب کاری لگا کر اسے متزلزل کر دیا جائے۔ بنابریں، انہوں نے قرآن کریم کی بعض آیتوں کو مغالطے اور تفسیر بالرائے کے ذریعہ اپنے مقصد پر منطبق کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔چنانچہ آیت مورد بحث سے بھی انہوں نے اپنا مطلب نکالنا چاہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے کہا ہے کہ ہر امت کا ایک اختتام اور انجام ہوتا ہے اور امت سے مراد مذہب ہے۔ بنابریں، مذہب اسلام کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس غلط استدلال کی حقیقت سمجھنے کے لئے بہتر ہے کہ لفظ "امت" کے معنی پہلے لغت میں اس کے بعد قرآن میں تلاش کیے جائیں۔ جس وقت لغت کی کتابوں کو دیکھا گیا، نیز قرآن میں اس لفظ "امت" کے استعمال کو دیکھا گیا جو ۶۴ مرتبہ آیا ہے تو معلوم ہوا کہ دونوں میں اس کے معنی مجمع اور گروہ کے ہیں۔ مثلاً موسیٰ کی داستان میں ہے: وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّةً مِنَ النَّاسِ یَسْقُونَ۔ "جب وہ مدین کے گھاٹ پر پہنچے تو وہاں انہوں نے ایک مجمع کو دیکھا کہ وہ (اپنے لئے اور اپنے جانوروں کے لئے) پانی کھینچنے میں مشغول ہے"۔(سورہ قصص آیت ۲۳) نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں یہ آیت ملتی ہے: وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ۔ " تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو (لوگوں) کو خیر کی دعوت دے"۔(سورہ آل عمران آیت) نیز یہ آیت بھی ہے: وَقَطَّعْنَاھُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا۔( سورہ اعراف آیت ۱۶۰) یہ آیت بھی قرآن میں ہے: وَإِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِنْھُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُھْلِکُھُمْ۔ اگر گروہ (جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہرایلہ میں سکونت رکھتا تھا اس ) نے کہا:"ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا(ان کے گناہوں کی وجہ سے) ہلاک کرنے والا ہے---(سورہ اعراف آیت ۱۶۴) ان تمام آیتوں سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "امۃ" قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے وہ گروہ اور مجمع کے معنی میں آیا ہے، نہ کہ مذہب یا پیروان مذہب کے معنی میں۔ اور کہیں پیروان مذہب پر بھی یہ لفظ بولا گیا ہے تو وہ بھی اس وجہ سے ہے کہ وہ بھی ایک گروہ ہوتا ہے۔ بنابریں،، مورد زیر بحث آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر گروہ کا ایک وقت میں خاتمہ ہو گا؛ یعنی صرف افراد ہی الگ الگ نہیں مریں گے، بلکہ "من حیث القوم " بھی ان کے لئے موت و فنا برحق ہے۔ ان کی جمعیت بھی ایک وقت میں پراگندہ ہو جائے گی۔ بہرحال اصولی طور پر کہیں بھی لفظ "امت" کا اطلاق مذہب پر نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا زیر بحث آیت کسی لحاظ سے بھی مسئلہ خاتمیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ [تشریحی نوٹ: بلکہ قرآن و حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ختم نبوت ہونے کی ناقابل تردید نصوص موجود ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلَکِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ" یعنی: "محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کا اختتام کرنے والے ہیں" (احزاب ۴۰)۔ نیز رسواللہ کی حدیث متواتر کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا: "انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہُ لا نبی بعدی" یعنی:" اے علی! تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کی نسبت موسیٰ سے تھے سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری کتاب بد و الخلق باب غزوئہ تبوک، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة)۔ علاوہ بریں، یہ حدیث بھی صحیح بخاری میں موجود ہے: "ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنیٰ بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لنبیة من زاویة فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون: ھلا وضعت ھذہ النبیة فقال: فانا النبیة وانا خاتم النبیین"۔یعنی: " میں اور دیگر انبیاء کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک بہت اچھا اور عمدہ مکان بنایا ہو لیکن اس میں ایک اینٹ نامکمل چھوڑ دی ہو۔ تو لوگ اس کے چاروں طرف پھر کر دیکھیں گے اور تعجب سے کہیں گے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگائی۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا: میں وہ آخری اینٹ ہوں اور نبیوں کا آخری ہوں۔" (صحیح بخاری کتاب بد و الخلق باب خاتم النبیین)(مترجم)]
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔
فرزندان آدم کیلئے ایک اور فرمان
Tafsīr Nemūna · Vol. 1باردیگر خداوند عالم فرزندان آدم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے اولاد آدم! اگر تم میں سے کچھ رسول (ہماری طرف سے) تمہارے پاس آئیں جو ہماری آیتوں کو تمہارے سامنے پیش کریں تو ان کی پیروی کرنا۔ کیونکہ جو لوگ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں انہیں الٰہی عتاب و سزا کا نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی کوئی غم و اندوہ ہو گا (یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَاَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُونَ)۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ اصحاب دوزخ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْھَا اُوْلٰئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ)۔
ایک اور سازش کا جواب
جیسا کہ ہم نے سابقہ سطور میں بیان کیا کہ قرونِ آخر کے کچھ "دین ساز" گروہ، اپنی غلط کاریوں کیلئے راہ ہموا کرنے کے لئے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ قرآن کی کچھ آیتوں کے غلط معنی بیان کرکے مسئلہ خاتمیت پر اپنے مدعیٰ کے مطابق استدلال کریں۔حالانکہ ان آیات کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان آیات میں ایک آیت وہ ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ بغیر اس کے کہ آیت کا سیاق و سباق دیکھیں وہ کہتے ہیں: اس آیت میں لفظ "یاٴتینکم" جو فعل مضارع ہے اور جس کے معنی ہیں "تمہارے پاس آئے گا" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آئندہ بھی کچھ پیغمبر آسکتے ہیں ان کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم تھوڑا پلٹ کر دیکھیں اور ان آیات پر نظر کریں جن میں خلقتِ آدم، ان کی بہشت میں سکونت، پھر بہشت سے ان کا اور ان کی زوجہ کا نکالا جانا بیان کیا گیا ہے، اور اس کا بھی لحاظ کریں کہ ان آیات میں مسلمان مخاطب نہیں ہیں بلکہ یہاں تمام انسانی معاشرے سے خطاب ہے، تو اس شبہ کا جواب واضح ہو جائے گا۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تمام فرزندان آدم کے لئے بہت رسول آئے جن میں سے بہت سوں کا نام قرآن کریم میں لیا گیا ہے اور بہتوں کا نام کتب تاریخ میں ثبت ہے۔ لیکن ان نیا مذہب گھڑنے والے افراد نے لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے پچھلی آیات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اس آیت کا مخاطب صف مسلمانوں کو قرار دیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ برآمد کیا ہے کہ دوسرے رسولوں کے آنے کا ابھی امکان پایا جاتا ہے۔ اس طرح مغالطے سابقاً بھی بہت ہوئے ہیں؛ خصوصاً ان لوگوں کے درمیان جو کسی آیت یا اس کے ایک حصّہ کو بقیّہ سے جدا کرکے من مانے معنی نکالتے ہیں اور اس سے قبل و بعد سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی؛ چاہے مفہوم برعکس ہو جائے۔
"ظالم ترین افراد"
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں ان لوگوں کے انجامِ بَد کے کچھ حالات بیان کیے گئے ہیں جو خدا پر افترا و بہتان باندھتے ہیں اور خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ مرنے کے بعد ان کی کیا حالت ہو گی: کون شخص ان لوگوں سے زیادہ ظالم ہے جو خدا پر بہتان لگاتے ہیں، یا اس کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ)۔ جیسا کہ سورہٴ انعام کی آیت ۲۱ کی تفسیر میں ہم نے اشارہ کیا کہ قرآن کی متعدد آیتوں میں "ظالم ترین افراد" کا مختلف طریقوں سے ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن جب ان کی ان صفات کو دیکھا جاتا ہے جو بیان کی گئی ہیں تو سب کی اصل ایک نظر آتی ہے اور وہ ہے شرک و بت پرستی اور پروردگار کی آیتوں کی تکذیب۔ زیر بحث آیت میں ان کے علاوہ خدا پر تہمت و افتراء کا بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کا ان لوگوں کی ایک نمایاں صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اگر اس نکتہ کی طرف توجہ کی جائے کہ تمام بدبختیوں کی جڑ شرک ہے اور تمام سعادتوں کی اصل توحید ہے، تو اس سے واضح ہو جائے گا کہ یہ لوگ جو گمراہ و گمراہ کنندہ ہیں، کس بناپر ظالم ترین افراد ہیں۔ یہ اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور اس معاشرہ پر بھی ظلم کرتے ہیں جس کا یہ حصہ ہیں، کیونکہ یہ ان میں نفاق و افتراق کا بیج بوکر وحدت، ترقی اور اصلاحِ بشر کے راستہ پر ایک بہت بڑا سنگ راہ بن جاتے ہیں۔[مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ جلد پنجم ملاحظہ فرمائیں (ص305 اردو ترجمہ)] بعد ازاں وقت مرگ ان کی حالت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے: یہ لوگ چند روز کے لئے جتنا ان کے مقدر میں ہے اس سے اپنا حصّہ حاصل کرتے ہیں اور اللہ کی مختلف نعمتوں سے اپنے نصیب بھر بہرہ ور ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کی عمر کا جام لبریز ہو جاتا ہے اور اجل آجاتی ہے، ایسے موقع پر موت کے فرشتے جو اُن کی روحیں لے جانے کے لئے مقرر ہیں وہ ان کے سر پر نازل ہوجاتے ہیں (اُوْلٰئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیبُھُمْ مِنَ الْکِتَابِ حَتَّی إِذَا جَائَتْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ)۔ جملہ بالا میں لفظ "کتاب" سے مراد اللہ کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمائی ہیں اگر چہ بعض مفسرین نے اس احتمال کا ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد "الٰہی پاداش عمل" ہے یا ان دونوں سے اعم معنی مراد ہیں۔ لیکن اگر لفظ "حتّیٰ" پر توجہ کی جائے جو عام طور سے وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کسی چیز کے اختتام کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو تو معلوم ہو گا کہ "کتاب" سے مراد یہی دنیا کی گونا گوں نعمتیں ہیں جن میں نیکو کار و بدکار دونوں طرح کے افراد کا حصہ مقرر ہے مرتے وقت جن کا خاتمہ ہو جاتا ہے؛ نہ کہ مجازات الٰہی جن کا خاتمہ مرتے وقت نہیں ہوتا۔ ان نعمتوں کی تعبیر لفظ "کتاب" سے اس لئے کی گئی ہے کہ ان کو ان مسائل سے شباہت حاصل ہے جن کا حصّہ رسد مقرر ہوتا ہے اور ریکارڈبک میں اس کا اندراج کیا جاتا ہے۔ بہر حال، مرنے کے ساتھ ہی ان کی پاداش عمل شروع ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے موت کے فرشتے ان کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں اور "ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں خدا کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے تھے" اور تمام عمر ان کی پرستش کا دم بھرتے تھے اور اپنی تمام چیزوں کو ان پر قربان کرتے تھے؟ (قَالُوا اَیْنَ مَا کُنتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللّٰہِ)۔ وہ جب یہ دیکھیں گے کہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا ہے اور جو امیدیں ان خود ساختہ خداؤں سے باندھ رکھی تھیں وہ سب خاک ہو گئی ہیں تو وہ جواب میں کہیں گے:"وہ سب گم ہو گئے اور ہم سے دور ہو گئے" اب ہمیں ان کا کوئی نشان نہیں ملتا، نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ وہ یہ عذاب ہم سے دور کر سکیں۔ اور ہماری تمام عبادتیں جو ان کے لئے تھیں، وہ سب بے سود ثابت ہوئیں: (قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا)۔ اور اس طرح وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے (وَشَھِدُوا عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوا کَافِرِینَ)۔ اگر چہ اس عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتے ان سے صرف سوال کریں گے اور وہ جواب دیں گے، لیکن فی الحقیقت یہ ان کی ایک نفساتی کیفیت ہو گی۔مقصد یہ ہے کہ ان کی جو خراب حالت مرنے کے بعد ہونے والی ہے وہ انہیں یاد لائی جائے کہ کس طرح انہوں نے ایک عمر غلط راستہ پر گزار دی اور اپنا تمام سرمایہٴ وجود تباہ کر دیا اس کے عوض انہیں کچھ بھی نہ ملا۔ پلٹنے کا راستہ بھی ان کے لئے بند ہو گیا اور یہ ان کے کیفر اعمال کا پہلا تازیانہ ہے جو اللہ کی طرف سے ان کی روح پر لگایا جائے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دوزخ میں پیشواؤں اور پیروؤں کا جھگڑا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیتوں میں بھی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام بَد ہونے والا ہے اسے بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیتوں میں وقت مرگ ان لوگوں کو جو کچھ پیش آنے والا ہے اسے بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں گمراہ کرنے والوں اور گمراہ ہونے والوں میں جو جھگڑا ہو گا اسے بیان کیا گیا ہے: قیامت کے روز خدا ان سے کہے گا کہ جنوّں اور انسانوں کا جو گروہ تم جیسا تم سے پہلے گزرا ہے ان کے ساتھ آتش جہنم میں داخل ہو جاؤ (قَالَ ادْخُلُوا فِی اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِی النَّارِ)۔ ہو سکتا ہے کہ یہ فرمان ایک فرمان تکوینی ہو۔ یعنی خدا ان دونوں گرو ہوں کو آتش جہنم میں ایک جگہ ٹھہرائے گا، یا یہ کہ یہ فرمان تشریعی کے مشابہ ہو جسے وہ اپنے کانوں سے سنیں گے اور مجبوراً اس کی اطاعت کریں گے۔ جس وقت وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو جو لوگ ان کے ہم کیش اور ہم مسلک ہیں ان سے ان کا جھگڑا شروع ہو گا، ایک عجیب وعبرت انگیز جھگڑا "ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا اور اسے اس بدبختی کا ذمہ دار ٹھہرائے گا" (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَعَنَتْ اُخْتَھَا)۔(چونکہ لفظ "امة" موٴنث ہے اس لئے اس کی مناسبت سے لفظ "اخت" آیا ہے جس کے معنی بہن کے ہیں جو ان گمراہ گرو ہوں کے ارتباطِ باہمی پر دلالت کرتا ہے۔) ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے کہ قیامت کا منظر اس دنیا کی عکاسی کرے گا۔ اس دنیا میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنے برخلاف گروہ سے بر سرِ پیکار ہو جاتا ہے اور ایک دوسرے سے اپنی نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پیغمبران الٰہی اور اللہ کے نیک اور مصلح بندے جب بھی آئے انہوں نے ایک دوسرے کی تائید کی اور یہ بتلایا کہ ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے۔ مطلب یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ جب سب کے سب بڑی ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ کے شرر بار شعلوں میں پہنچ جائیں گے تو ایک دوسرے کی شکایت خدا کی بارگاہ میں کرنے لگ جائیں گے۔ سب سے پہلے فریب خوردہ افراد جب اپنے لئے راہ نجات ہر طرف سے بند پائیں گے تو یہ شکایت کریں گے: پروردگارا! ان گمراہ کرنے والوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، خدایا! ان کے عذاب کو دوگنا کر دے، ایک عذاب خود گمراہ ہونے کی وجہ سے، دوسرا عذاب ہمیں گمراہ کرنے کی وجہ سے (حَتَّی إِذَا ادَّارَکُوا فِیھَا جَمِیعًا قَالَتْ اُخْرَاھُمْ لِاُولَاھُمْ رَبَّنَا ہَؤُلَاءِ اَضَلُّونَا فَآتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ)۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی یہ درخواست بالکل صحیح و منطقی ہے، بلکہ اگر ان کی یہ درخواست نہ بھی ہو تب بھی گمراہ کرنے والے دوسرے عذاب کے مستحق ہیں کیونکہ وہ ان کا بار بھی اپنے کاندھے پر اٹھائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا تھا اور ان کے اپنے عمل کا عذاب بھی کم نہ ہو گا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا: تم دونوں گرو ہوں کا عذاب دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے (قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَکِنْ لَاتَعْلَمُونَ)۔ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ اتباع کرنے والوں کا عذاب کیوں دوگنا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیشوایاں ظلم وستم اور سردارانِ بے راہ روی و گمراہی اپنی اسکیموں کو اکیلے عملی جامہ نہیں پہنا سکتے۔ یہ ضدی و ہٹ دھرم پیروکار ہیں جو ان کے باطل مقصد تک پہنچنے میں مدد کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ یہ پیروکار ہیں جو ان کا تنور گرم کرتے ہیں اور ان کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں دوسروں کو گمراہ کرنے کا موقع ملتا ہے، لہٰذا اس گروہ کو بھی دوگنا عذاب ملنا چاہیے۔ ایک سزا تو ان کی اپنی گمراہی کی وجہ سے، دوسری سزا ظالم، ستمگر اور گمراہ پیشواؤں کی حمایت کی وجہ سے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مشہور حدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے ایک دوست جس کا نام صفوان تھا کو ظالم ہارون رشید کے کاموں میں کسی طرح کی شرک کرنے سے روکا اور فرمایا: اگر لوگ ان ظالموں کی مدد نہ کریں اور ان کی حمایت نہ کریں تو یہ عادل پیشواؤں کا حق کس طرح غضب کرسکتے ہیں۔ بعد کی آیت میں ان گمراہ پیشواؤں کا جواب اس طرح نقل کیا گیا ہے: وہ اپنے پیروکاروں سے کہیں گے ہم میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی اگر ہم نے کوئی غلط بات کہی تو تم نے تائید کی اور اگر ہم نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو تم ن ہمارا ساتھ دیا اور اگر ہم نے ستم کیا تو تم ہمارے یارومددگار تھے۔ لہٰذا تم بھی اپنے کرتو توں کے بدلے خدا کا درناک عذاب چکھو (وَقَالَتْ اُولَاھُمْ لِاُخْرَاھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ)۔ یہاں پر لفظ "اُولیٰ" سے مراد پہلے لوگ یعنی پیشوا گروہ اور لفظ "اُخریٰ" سے مراد پیروی کرنے والا گروہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
متکبر اور ضدی افراد کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ایک مرتبہ پھر قرآن نے ان متکبر اور ضدی افراد کا انجام بیان کیا ہے جو پروردگار کی آیتوں کو تسلیم نہیں کرتے اور حق کو نہیں مانتے۔ کہا گیا ہے: وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبرّ اختیار کیا آسمان کے دروازے ان کے لئے نہیں کھولے جائیں گے (إِنَّ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْھَا لَاتُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ )۔ ایک حدیث امام محمد باقر علی علیہ السلام سے اس طرح وارد ہوئی ہے: اما المومنون فترفع اعمالھم وارواحھم الی السمآء فتفتح لہم ابوابھا و اما الکافر فیصعد بعملہ و روحہ حتی اذا بلغ الی السمآء نادی مناد اھبطوا بہ الیٰ سجین موٴمنون کے اعمال و ارواح آسمان کی طرف لے جائے جائیں گے اور آسمان کے دوازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور کافر کا عمل اور روح بھی آسمان کی طرف لے جائی جائے گی جب یہ آسمان کے پاس پہنچے گی تو آواز آئے گی اسے سجین (دوزخ) کی طرف نیچے لے جاؤ۔(تفسیر مجمع البیان در ذیل آیت مذکورہ) اسی مضمون کی دیگر روایات بھی حضرت رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تفسیر طبری وغیرہ میں اس آیت کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں۔ یہاں پر آسمان سے مراد ممکن ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہوں۔ نیز ممکن ہے اس سے مراد مقام قربِ الٰہی ہو۔جیسا کہ سورہ فاطر کی آیت ۱۰ میں ہے: إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ پاکیزہ کلمے اس کی طرف اوپر جاتے ہیں اور عمل صالح ان کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اس کے بعد مزید اشارہ ہوتا ہے: وہ بہشت میں داخل نہیں ہوں گے،مگر اس وقت جبکہ اونٹ سوئی کے ناکہ سے گزر جائے (وَلَایَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ)۔ یہ ایک لطیف کنایہ ہے اس امر کے محال ہونے کی طرف مقصد یہ ہے کہ ان افراد کے جنت میں جانے کا غیر ممکن ہونا حسّی طور سے لوگوں کے سامنے آجائے کیونکہ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ اونٹ اپنے عظیم جثہ کے ساتھ سوئی کے ناکہ میں نہیں گھس سکتا۔ اسی طرح ان بے ایمان و متکبر افراد کا بہشت میں داخلہ ناممکن ہے۔ لغت میں "جمل" اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کے حال ہی میں دانت نکلے ہوں۔ لیکن "جمل" کے ایک معنی اس مضبوط رسی کے بھی ہیں جس سے کشتی کو باندھتے ہیں (بحوالہ: کتاب "تاج العروس" اور "قاموس")۔ چونکہ رسی اور سوئی آپس میں مناسبت رکھتے ہیں، اس لئے مفسرین نے اس معنی کو بہتر جانا ہے۔ لیکن اکثر مفسّرین نے پہلے معنی کو اختیار کیا ہے اور حق پہلا معنی کرنے والوں ہی کے ساتھ ہے، کیونکہ: ۱۔ پیشوایان اسلام کی روایات میں پہلے ہی معنی وارد ہوئے ہیں۔ ۲۔ اس تفسیر کی نظیر خود پسند ومتکبّر ثروت مندوں کے بارے میں موجودہ انجیل میں ملتی ہے۔ انجیل لوقا باب ۱۸ جملہ ۲۴و۲۵ میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: کس قدر مشکل ہے ان لوگوں کے لئے جو صاحبانِ دولت ہیں کہ وہ داخل ہوں خدا کی ملکوت وسلطنت میں، کیونکہ یہ بات زیادہ آسان ہے کہ اونٹ سُوئی کے ناکہ میں داخل ہو بہ نسبت اس کے کہ دولت والا خدا کی ملکوت وسلطنت میں داخل ہو۔[ یہاں پر "دولت والے" سے مراد فاسق وفاجر دولت مند مراد ہیں، نہ کہ مطلقا ً ہر دولت والا۔(مترجم)] کم از کم اس جملہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ یہ محاروہ ہمارے درمیان ایسے شخص کے بارے میں جو کبھی بہت سخت گیری کرتا ہو اور کبھی نرمی سے پیش آتا ہو رائج ہے کہ "فلان شخص کبھی تو دروازہ میں داخل نہیں ہوتا اور کبھی سوئی کے ناکہ سے گزرجاتا ہے" ۳۔ لفظ "جمل" کا استعمال زیادہ تر پہلے معنی (اونٹ) میں کیا جاتا ہے ؛جبکہ موٹی رسّی کے لئے اس کا استعمال بہت کم ہے۔ لہٰذا پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید وتوضیح کے لئے فرماتا ہے : ہم اس طرح کے گنہگاروں کو سزا دیتے ہیں (وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِینَ)۔ اس کے بعد کی آیت میں ان لوگوں کے دردناک عذاب کے ایک اور حصّے کی طرف اشارہ فرماتا ہے: ایسے لوگ کے لئے جہنم اور بھڑکتی ہوئی آگ کا بچھونا ہے اور اسی کا اوڑھنا ہے (لَھُمْ مِنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ) ["مھاد" جمع ہے "مھد" (بروزن عہد) کی جس کے معنی بستر کے ہیں۔ "غواش" جو در اصل "غواشی" تھا جمع ہے" غاشیہ" کی جس کے معنی ہر طرح کی پوشش کے ہیں، خیمہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، یہ اس آیت میں ممکن ہے خیمہ کے معنی ہو یا اس کے معنی پوشش ہو۔] پھر دوبارہ تاکید کے لئے فرماتا ہے: ہم اس طرح سے ظالموں اور ستمگاروں کو سزا دیں گے (وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ) یہ بات قابلِ توجّہ ہے کہ کبھی انہیں "مجرم" کبھی "ظالم" کبھی "آیات الٰہی کا جھٹلانے والا" اور کبھی "متکبّر" کے لقب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ درحقیقت ان سب کی بازگشت ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
سکون کامل وسعادتِ جاودانی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ ہم نے سابقاً بھی اشارہ کیا ہے، روش قرآنی یہ ہے کہ کسی مطلب کی تاکید کے لئے وہ مختلف گروہوں اور ان کے انجاموں کا برابر سے ذکر کرتا ہے اور ان کا آپس میں موازنہ کرکے ان کی وضعیت وحیثیت کی تشریح کرتا ہے۔ گذشتہ آیات میں منکرینِ آیات خدا متکبّر وظالم افراد کے انجام کو دکھایا گیا تھا۔ اب ان آیات میں باایمان لوگوں کے تابناک انجام کی اس طرح شرح کرتا ہے: اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا وہ اہلِ بہشت ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے (وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ---اُوْلٰئِکَ اَصْحَابُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِیھَا خَالِدُونَ) لیکن اس جملہ کے درمیان میں (یعنی مبتداء وخبر کے درمیان) ایک جملہ معترضہ آیا ہے، جو فی الحقیقت بہت سے سوالات کا جواب ہے۔ ) یہ اشتباہ نہ ہو کہ "جملہ معترضہ" کے یہ معنی ہیں کہ وہ مطلب سے بالکل بے ربط بلکہ وہ بھی مطلب سے ایک طرح کا ربط رکھتا ہے، اگرچہ جملہ بندی کے رُو سے دوسری عبارت کے درمیان اسے جگہ دی جاتی ہے، بنابریں "جملہ معترضہ" صرف جملہ بندی کے لحاظ سے الگ دکھائی دیتا ہے نہ کہ معنی کے لحاظ سے۔(اور وہ جملہ معترضہ یہ ہے: ہم کسی شخص پر اس کی قوّت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے(لَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ باایمان اور صالح افراد کی صف میں داخل ہونا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، سوائے گنے چُنے افراد کے اور کوئی ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پروردگار عالم کی طرف کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریاں (احکام) افراد کی قوت وصلاحیّت کے لحاظ سے ہوتی ہیں اور اس طرح وہ عالم وجاہل، چھوٹے بڑے اور ہر عمر کے انسانوں کے لئے راستہ کھول دیتا ہے اور ہر ایک کو صالحین کی صف میں داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ خدا کو ہر شخص سے اتنی توقع ہے جتنی اس کی ذہنی وجسمانی صلاحیت ہے۔ یہ آیت کی دیگر آیات کے بیان کرتی ہے کہ نجات وسعادت ابدی کا ذریعہ صرف ایمان وعملِ صالح ہے۔ اس طرح عیسائیوں کے اس خرافاتی عقیدہ کی رد ہو جاتی ہے جس کے مطابق آج کل کے مسیحی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قربانی بشر کے تمام گناہوں کے مقابلے میں وسیلہٴ نجات ہے۔ آیہٴ مذکورہ اس عقیدہ پر خط نتسیخ کھینچتی ہے۔ قرآن کریم نے جو باربار ایمان وعمل صالح پر زور دیا ہے وہ اسی قسم کے عقیدوں کو باطل کرنے لئے ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ایک انتہائی اہم نعمت جو الله جنت والوں کو عطا کرے گا اور وہ نعمت ان کی روح کے آرام کا باعث ہو گی اسے اس طرح بیان فرمایا ہے: ان کے دلوں سے ہم ہر طرح کے کینے، حسد اور دشمنی کو دُور کر دیں گے (وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِھِمْ مِنْ غِلٍّ)۔ "غل" کے اصلی معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز کسی چیز میں مخفی طور سے اُتر جائے۔ اسی وجہ سے حسد، کینہ اور دشمنی کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ جذبے چپکے سے انسان میں نفوذ کرجاتے ہیں اور کبھی رشوت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی کسی خیانت کے لئے خفیہ طور سے دی جاتی ہے۔[مزیدتوضیح کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم، ص۱۱۷ ملاحظہ ہو (اردو ترجمہ)] حقیقت یہ ہے کہ دُنیا کی زندگی میں انسان کی ناراضی وپریشانی کا ایک بڑا سبب جس کی وجہ سے عالمی جنگیں بھی پھیل چکی ہیں، جانی ومالی نقصانات مرتب ہوتے ہیں اور انسانی سکون رخصت ہو گیا ہے، وہ یہی کینہ وحسد ہے۔ ہم بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جن کی اپنی زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود دوسروں سے حسد ان کے لئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ یہ کینہ پروری ہے جو اُن کی راحت وآرام کی زندگی کو تارج کر دیتی ہے اور تھکادینے والی بیکار کردو کاوش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اہلِ بہشت اس طرح کی بدبختیوں سے بالکل آسودہ ہوں گے، ان کے دلوں میں نہ کینہ ہو گا نہ حسد ہو گا اور نہ ان کے بُرے نتائج ہوں گے، وہ لوگ آپس میں نہایت دوستی اور مہر ومحبت کے ساتھ زندگی بسر کریں گے اور سب کے سب اپنی حالت پر راضی ہوں گے، حتّیٰ کہ جن کا مرتبہ نیچا ہو گا وہ بھی اہل درجہ والوں پر حسد نہیں کریں گے۔ اس طرح ان کی باہم زندگی کی سب سے بڑی مشکل حل ہو جائے گی۔ بعض مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس وقت اہلِ بہشت، بہشت کی طرف روانہ ہوں گے تو جنت کے دروازہ پر ایک درخت دیکھیں گے جس کے نیچے سے دو چشمے جاری ہوں گے، اہلِ بہشت ان میں سے جب ایک چشمے سے پانی پئیں گے تو ان کے دلوں سے ہر قسم کے کینے اور حسد دُھل جائیں گے، یہ وہی "شراب طہور" ہے جس کا ذکر سورہٴ دہر میں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دوسرے چشمے میں جب وہ نہائیں گے تو جسم کے تمام عیوب اور تھکاوٹ سُستی وغیرہ زائل ہو جائے گی اس کے بدلے ان کے بدن میں تازگی اور خوبصورتی آجائے گی اس طرح کہ اس کے بعد پھر وہ کبھی نہ بوڑھے ہوں گے نہ متغیّر۔[بحوالہ: تفسیر المنار، ج۸، ص۴۲۱]۔ اس حدیث کی سند اگرچہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا آئمہؑ تک نہیں پہنچی ہے کیونکہ یہ ایسے مسائل نہیں ہیں جن سے "سدی" یا ان کی طرح دوسرے افراد مطلع ہوں۔ بہرحال اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ موجودہ ہے کہ اہلِ بہشت اندر اور باہر دونوں طرف سے دُھل جانے کے بعد جنّت میں داخل ہوں گے۔ خداوند تعالیٰ انہیں حُسنِ ظاہری عطا فرمائے گا اور جمال باطنی بھی، اُس عالم میں وہ کینہ اور حسد سے بچے رہیں گے۔ کیا کہنا ان لوگوں کا جو اس دنیا میں بھی اپنے لئے جنت بنالیں اور اپنے سینوں کو کینہ اور حسد سے پاک کر لیں اور اس کے نتیجہ میں جو تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں ان سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو بچالیں۔ قرآن کریم اس روحانی نعمت کات ذکر کرنے کے بعد، ان کی مادّی اور جسمانی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے: ان کے محلوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہوں گی (تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ الْاَنْھَارُ)۔ اس کے بعد اہلِ بہشت کی پوری رضا مندی اور کامل خوشنودی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: جبکہ وہ یہ کہیں گے، ساری تعریفیں اور شکرانے اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جس نے ان تمام نعمتوں کی طرف ہماری ہدایت کی، اگر وہ ہماری ہدایت نہ کرتا ہو تم ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے، یہ اس کی توفیق تھی جس نے ہمارا ہاتھ تھام کی زندگی کی سخت گذرگاہوں میں سے ہمیں گزاردیا اور سعادت کی منزل تک پہنچادیا (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَااَنْ ھَدَانَا اللهُ)۔ بے شک ہمارے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول سچ کہتے تھے اور ہم اب اپنی آنکھوں سے ان کی سچائی کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں(لَقَدْجَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ)۔ اسی اثناء میں خدا کی طرف سے ایک ندا بلند ہو گی جو ان کے دل وجان میں سما جائے گی اوروہ اسے سُن کر خوش ہو جائیں اور وہ ندا یہ ہو گی: یہ جنت تم نے اپنے پاک اور نیک اعمال کے بدلے میراث میں پائی ہے (وَنُودُوا اَنْ تِلْکُمْ الْجَنَّةُ اُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں کہ نجاتِ ابدی عمل صالح کے سایہ میں ہے، نہ کہ بے بنیاد توہمات وعزعومات کی بناپر۔ "ارث" کے معنی یہ ہیں کہ کوئی مال وثروت ایک شخص سے دوسرے کی طرف منتقل ہو جائے بغیر اس کے کہ ان کے درمیان کوئی قرارداد یا معاہدہ طے پائے (یعنی ایک طبیعی طریقے سے، نہ کہ خریدوفروخت وغیرہ کے ذریعے سے) میت سے اس کے اعزاء کو جو مال پہنچتا ہے اسے بھی "ارث" اسی وجہ سے کہاجاتا ہے۔
ارث کیوں کہا گیا؟
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس لئے اہل بہشت سے یہ کہا جائے گا کہ تم نے ان نعمتوں کو اپنے اعمال کی وجہ سے میراث کے طور پر پایا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک حدیث میں ملتا ہے جو سُنّی اور شیعہ طریقوں سے مروی ہے، یہ حدیث حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے جس میں آنحضرت فرماتے ہیں: "مَا مِن اَحَدٍ الّا وَلَہُ مَنزِلٌ فِی الْجنّة وَمَنزِلٌ فِی النّار فَامّا الکَافر فَیَرِث المُوٴمن مَنزِلہ مِنَ النّار، وَالموٴمنُ یَرِثُ الکَافر مَنزلہ مِنَ الْجَنّة فَذٰلک قَولَہُ: اُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ہر شخص بغیر کسی استثناء کے ایک، ایک منزل جنت میں اور ایک منزل دوزخ میں رکھتا ہے، کافر مومنین کی ان منزلوں کو میراث میں پائیں گے جو جہنم میں ہیں اور مومنین کافروں کی جنت میں منزلوں کو میراث میں پائیں گے اور یہی ہیں معنی خدا کے قول اس قول کے (اُورِثْتُمُوھَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ)[بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۳۱؛ تفسیر قرطبی، ج۴، ص۲۶۴۵،اور دیگر تفاسیر] اس حدیث میں در اصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر خوش قسمتی اور بدبختی کے دروازے ہر ایک شخص کے لئے کھلے ہوئے ہیں، اپنے آغاز میں کوئی شخص نہ جنتی ہے، نہ جہنمی؛ بلکہ ہر شخص دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ یہ خود انسان کا ارادہ ہے جو اس قسمت کو معیّن کرتا ہے۔ یہ بات بدیہی ہے کہ جب مومنین اپنے نیک ہر شخص نیک عمل کی وجہ سے جنّت میں جائیں گے اور ناپاک اور بے ایمان دوزخ میں جگہ پائیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک کی خالی جگہ دوسرے کو مل جائے گی۔ بہرحال یہ آیت اور یہ حدیث ان واضح دلیلوں میں سے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسئلہ جبرِباطل ہے اور انسان اپنے ارادہ میں کامل آزاد ہے۔
آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کی گفتگو
گذشتہ بحث کے بعد جس میں جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام بیان کیا گیا ہے، ان آیات میں دونوں گرووں کی آخرت میں جو گفتگو ہو گی اسے بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جنتی لوگ دوزخ والوں کو مخاطب کرکے آواز دیں گے کہ ہم نے اپنے پروردگار کا وعدہ برحق پایا، کیا تم نے بھی اپنے اس انجام کو پایا ہے جس کا وعدہ الله نے اپنے رسولوں کے ذریعہ کیا تھا (وَنَادیٰ اَصْحَابُ الْجَنَّةِ اَصْحَابَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا)۔ وہ لوگ جواب میں کہیں گے: ہاں! ہم نے تمام باتیں حقیقت کی صورت میں دیکھ لیں (قَالُوا نَعَمْ )۔ اس بات کی طرف توجہ ہونا چاہیے کہ لفظ "نادیٰ" اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے، لیکن اس جگہ اس کے معنی مستقبل کے نکلیں گے۔ اس طرح کی تعبیریں قرآن میں بہت استعمال ہوئی ہیں جن میں آئندہ ہونے والے یقینی وحوادث کو فعل ماضی کے طورپر بیان کیا گیا ہے اور اس میں ایک طرح کی تاکید مراد ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آئندہ ہونے والی بات اس طرح یقینی ہے جیسے زمانہ ماضی میں ہوچکی ہو۔ ضمنی طور سے یہ مطلب بھی اس میں مضمر ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان مقامی ومکانی طور سے کافی فاصلہ ہو گا۔ کیونکہ "ندا" دُور سے کی جاتی ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص یہاں پر یہ سوال کرے کہ ان دونوں گروہوں کی مذکورہ گفتگو کا کیا فائدہ؟ جبکہ دونوں کو ایک دوسرے کا جواب معلوم ہے۔ اس بات کا جواب بھی معلوم ہے کیونکہ سوال ہمیشہ معلومات بڑھانے کے لئے نہیں کیا جاتا، بلکہ کبھی سرزنش وتوبیخ کے لئے بھی سوال کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر یہ سوال اسی مقصد کے ماتحت کیا جائے گا۔ حقیقت میں گنہگاروں اور ستمگاروں کے لئے یہ سوال بھی اس طرح کی سخت سزا ہو گی، کیونکہ جب یہ لوگ دارِدنیا میں تھے تو اپنی ملامت اور سرزنش سے باایمان افراد کو روحانی اذیت دیتے تھے۔ لہٰذا آج )بروز قیامت) انہیں اس کی سزا ضرور ملنا چاہیے۔ اس کی نظیر قرآن میں کئی جگہ ملتی ہے، جیسے آخر سورہٴ مطففین میں۔[آخرِ سورہٴ مطففین جیسے: ھَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَا کَانُوا یَفْعَلُونَ یا اوّلِ سورہٴ قمر جیسے:اِقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ثوب اور اقتربت اور انشق، یہ سب ماضی کے صیغے ہیں جو بمعنی مستقبل کے استعمال ہوئے ہیں۔(مترجم) ] اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اسی اثناء میں ایک بولنے والا یہ ندا کرے گا (ایسی ندا جو ہر ایک کے کان میں پہنچے گی) کہ لعنت ہو خدا کی ستم کرنے والوں پر! (فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اَنْ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ)۔ بعد ازان ان ستمگاروں کی پہچان یوں کرواتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جولوگوں کو راہِ راست سے روکتے تھے، اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے(الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْآخِرَةِ کَافِرُونَ)["یبغضونھا عوجاً" کا معنی ہے "یطلبونھا عوجاً" یعنی وہ چاہتے ہیں اور سعی وجستجو کرتے ہیں کہ شبہات پیدا کرکے اور زہریلے پروپیگنڈا سے حقیقی راستے کو دِگرگوں کر دیں۔ضمناً راغب مفردات میں کہتا ہے: "ھوج"بروزن کرج"حسی ٹیڑھ پن کو کہتے ہیں لیکن "عوج" (بروزن پدر) فکری ٹیڑھ پن کو کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کی کچھ آیات مثلاسورہٴ طٰہٰ آیت ۱۰۷ اس سے مناسبت نہیں رکھتی (غور کیجئے گا) ] مذکورہ بالا آیت سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہر قسم کی بے راہ رویاں اور مفسدے "ظلم وستم" کے مفہوم میں جمع ہیں اور "ظالم" کا ایک ایسا وسیع مفہوم ہے جو اپنے دامن میں تمام گنہگاروں کو خصوصاً ان گمراہوں کو جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، لئے ہوئے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ندا کرنے والے کون؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے یہ موٴذّن" (ندا کرنے والا) جو اس طرح سے ندا کرے گا کہ اس کی آواز سب اہل محشر سُن لیں گے اور اس طرح تمام اہلِ محشر پر اس کا تفوق وبرتری ظاہر ہو گی، کون ہے؟ آیت سے تو کچھ نہیں کھلتا، لیکن اسلامی روایات میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں زیادہ یہ وارد ہوا ہے کہ اس سے مراد حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ ابوالقاسم حسکانی اہلِ سنت کے علماء میں سے ہیں اپنی سند کے ساتھ محمد حنفیہ سے اور وہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: اَنا ذالک الموٴذّن وہ ندا کرنے والا میں ہی ہوں۔ نیز اسی طرح اپنی سند سے ابنِ عباس سے نقل کرتے ہیں: قرآن میں حضرت علی علیہ السلام کے کچھ نام ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے، ان میں سے ایک نام آپؑ کا "موذّن" بھی ہے جو اس آیت "فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ میں آیا ہے۔ علی ہیں جو یہ ندا کریں گے اور کہیں گے: "اٴلا لعنة اللّٰہ علی الذین کذّبوا بولایتی واستخفوا بحقی" الله کی لعنت ہو ان لوگوں پر جنہوں نے میری ولایت کو جھٹلایا اور میرے حق کو سبک سمجھا۔[ بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، در ذیل آیت مذکورہ]۔ شیعہ طریقوں سے بھی اس بارے میں متعدد حدیثیں وارد ہوئی ہیں؛ جیسا کہ جناب صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے: حضرت علی علیہ السلام کو جنگ نہروان سے واپسی کے موقع پر معلوم ہوا کہ معاویہ آپ کو کھلے بندوں گآ لیاں دیتا ہے اور آپ کے دوستوں کو قتل کررہا ہے۔ اس وقت حضرتؑ نے ایک خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا: دنیا وآخرت میں ندا کرنے والا مَیں ہوں جس کا خدا نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے کہ: فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اَنْ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ میں وہ روزِ قیامت کا موٴذّن ہوں، نیز الله نے فرمایا ہے: وَاَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ (حج کے موقع پر یہ ندا الله اور اس کے رسول کی طرف سے ہر ایک کے کان میں پہنچ جائے) یہ ندا کرنے والا بھی میرے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا۔[ بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۱۷] ہم نے جہاں تک سوچا کہ بروزِ قیامت حضرت علی علیہ اسلام ندا کیوں بلند کریں گے تو سمجھ میں آیا کہ: اوّلاً: یہ کہ دنیا بھی خدا اور اس کے رسول کی طرف سے یہ منصب آپؑ کو ملا ہوا تھا کیونکہ فتح مکہ کے بعد آپؑ کو یہ حکم ملا تھا کہ موسم حج میں سورہٴ برائت کو تمام حاجیوں کے سامنے پڑھ کر اس طرح سنادیں کہ اسے سب سُن لیں اور ان سے یہ کہہ دیں : وَاَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِہِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ اَنَّ اللهَ بَرِیءٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ(یہ ندا ہے خدا اور سے کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کی طرف حج اکبر کے دن کہ خدا اور اس کا رسول مشرکوں سے بیزار ہیں)(سورہٴ توبہ، آیت ۳-) دوسرے: یہ کہ اپنی تمام زندگی میں حضرت علی علیہ السلام کا موٴقف تھا وہ ظلم وستم سے مبارزہ اور جنگ کا موٴقف تھا، ایک ایسا موٴقف جس میں آپ ظالموں اور ستمگاروں کے برخلاف مصروف پیکار رہے، کیونکہ آپؑ کی پوری زندگی میں یہ پہلو بہت درخشان نظر آتا ہے کہ آپؑ کی زندگی ہمیشہ مظلوم کی حمایت اور ظالم سے عداوت میں صرف ہوئی ہے لیکن ان شرائط کے ساتھ جو ا س کا تقاضا تھا۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ آخرت کی زندگی، اسی دنیا میں انسانوں کی جو زندگی ہے اس کا ایک ترقی یافتہ نمونہ ہو گی، اس لئے کہا جائے تعجب ہے کہ اس دن کا موٴذّن جو جنت اور دوزخ کے درمیان اور رسول کی طرف سے ظالموں پر لعنت کرے گا، وہ حضرت علی علیہ السلام ہوں گے!۔ ہماری بات سے موٴلف "المنار" کے اعتراض کا جواب معلوم ہو جائے گا جنھیں حضرت علی علیہ السلام کی اس فضیلت میں شک ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اس بات کا حضرت علی علیہ السلام کے لئے فضیلت ہونا یقینی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنا ہے کہ جس طرح حجِ اکبر کے موقع پر حضرت علی علیہ السلام کا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں سورہٴ برائت کا تلاوت کرنا ان کے عظیم فضیلت اور بڑے فخر کا سبب ہے اور جس طرح ظالموں اور سرکشوں سے نبردآزوما ہونا آپ کی نمایاں منقبت ہے، بالکل اسی طرح قیامت کے روز آپؑ کا اس منصب جلیل پر فائز ہونا جو فی الحقیقت آپؑ کے دنیاوی عہدوں کا تتمہ ہو گا آپؑ کے لئے عظیم منقبت اور فضیلت کا باعث ہے۔ نیز گذشتہ سطور سے آلوسی موٴلف تفسیر "روح المعانی" کی بات کا جواب بھی معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کہا ہے کہ ان احادیث کا اہلِ سنّت کی سندوں سے روایت ہونا ثابت نہیں ہے، کیونکہ ہم نے تحریر کیا ہے کہ ان احادیث کو شیعہ اور سُنّی عالموں نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 49 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اعراف، جنت کی طرف ایک اہم گذرگاہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پچھلی آیا ت میں دوزخیوں اور جنتیوں کی مختصر سرگذشت بیان کرنے کے بعد ان آیات میں "اعراف" کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ "اعراف" جنت اور دوزخ کے درمیان کا وہ علاقہ ہے جو دونوں مقاموں کے درمیان حدِفاصل کا کام کرتا ہے، اس مقام کی خصوصیات بیان فرمائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان جو پردہ ہو گا اس کا ذکر کیا گیا ہے، فرماتا ہے: ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک پردہ ہو گا(وَبَیْنَھُمَا حِجَابٌ)۔ بعد والی آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حجاب "اعراف" ہی ہے جو ایک بلند جگہ ہو گی ان دونوں گروہوں کے درمیان، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں گے۔ لیکن یہ جگہ ایک دوسرے کی آواز سننے سے مانع نہ ہو گی؛ جیسا کہ آیات میں گذرا ہے۔ کیونکہ ہم نے بہت دیکھا ہے کہ ہمسایہ کے لوگ ایک دوسرے سے پس دیوار بات کرلیتے ہیں اور ایک دوسرے کا حال دریافت کرتے ہیں، جبکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ البتہ وہ افراد جو اعراف کے اوپر ہیں یعنی اس بلند مانع کے اوپر والے حصّہ پر واقع ہیں، وہ دونوں گروہوں کودیکھ سکتے ہیں (اچھی طرح سے غور کریں)۔ اگرچہ بعض آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض اہلِ جنت کو اتنا موقع ملے گا وہ گاہ بگاہ اپنے مقام سے اپنا سر باہر نکال دوزخیوں کو دیکھیں گے (جیسا کہ سورہٴ صافات کی آیت ۵۵ میں ہے) لیکن اس طرح کا استثناء دوزخ وجنت کی اصلی وضعیت کے منافی نہیں ہے۔ اوپر کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں جنت اور دوزخ کی اصلی وضعیت کو بیان کیا گیا ہے اگرچہ یہ قانون استثناء پذیر ہے۔ ممکن ہے کہ بعض حالات میں بعض بہشتی افراد دوزخیوں کو دیکھ سکیں۔ "اعراف" کی کیفیت بیان کرنے سے پہلے جو بات تاکیدی طور پر بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ روز قیامت اور جہاں آخرت کے متعلق جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جس طرح کی تعبیریں استعمال کی گئی ہیں ان میں اس کی صلاحیّت نہیں ہے کہ وہ حقائقِ اُخروی کا پورے طور پر اور تمام خصوصیات کے ساتھ نقشہ کھینچ سکیں۔ اس لئے بعض اوقات ان الفاظ میں صرف تشبیہ اور مثال کا رنگ ہوتا ہے اور کبھی اس کا صرف ایک سایہ اور خاکہ پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ کیونکہ آخرت کے جہان کی زندگی بہت زیادہ وسیع ہے، لہٰذا جو الفاظ ومعانی اس دُنیا کے لئے وضع کئے گئے ہیں اگر ان سے جہانِ آخرت کے حقائق کی ترجمانی نہ ہو تو یہ کوئی جائے تعجّب نہ ہو گی۔ بعد ازان قرآن بیان کرتا ہے کہ: اعراف پر کچھ مرد کھڑے ہوں گے جو دوزخ والوں اور جنت والوں میں سے ہر ایک کو ان کے ٹھکانوں میں دیکھ رہے ہوں گے اور ان کی علامتوں سے انہیں پہچانیں گے (وَعَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّا بِسِیمَاھُمْ)۔ "اعراف" لُغت میں جمع ہے "عُرف" (بروزن "گُفت")کی جس کے معنی اونچی جگہ کے ہیں۔ اسی وجہ سے گھوڑے کی گردن کے بالوں کو اور مرغے کی گردن کے پروں کو بھی "عرف الفرس" یا "عرف الدیک" کہتے ہیں؛ کیونکہ یہ بال وپَر ان کے جسم کی اونچی جگہ پر ہوتے ہیں۔ (سرزمین اعراف کی خصوصیات کے بارے میں اس آیت کی تفسیر کے بعد روشنی ڈالی جائے گی)۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ "جو مرد اعراف پر کھڑے ہوں گے وہ اہلِ بہشت کو ندا کریں اور کہیں گے کہ تم پر سلام ہو لیکن وہ خود جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے، اگرچہ ان کا دل بہت چاہتا ہو گا (وَنَادَوْا اَصْحَابَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوھَا وَھُمْ یَطْمَعُونَ)۔ لیکن جس وقت وہ دوسری طرف نظرڈالیں گے اور دوزخیوں کو دوزخ کے اندر دیکھیں گے تو خدا کی بارگاہ میں التماس کریں گے کہ پروردگارا! ہم کو ستمگاروں کی جماعت میں قرار نہ دینا (وَإِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُھُمْ تِلْقَاءَ اَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)(بعض مفسرین اور اہل ِ ادب کے نزدیک "تلقاء" در اصل مصدر ہے اور مقابلہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن بعد میں طرف مکان کے معنی بھی استعمال کیا جانے لگا، یعنی مقابلہ کی جگہ اور سامنے کی سمت۔)۔ یہاں پر یہ بات قابلِ توجّہ ہے کہ دوزخیوں کے دیکھنے کے متعلق مذکورہ بالا آیت میں "وَإِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُھُمْ " کا جملہ آیا ہے، یعنی جب ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف پلٹائی جائیں گی۔ یہ فی الحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اعراف والوں کو دوزخیوں کے دیکھنے سے نفرت ہو گی اور انہیں ایک طرح کی مجبوری کی بناپر دیکھیں گے۔ اس کے بعد کی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: اصحابِ اعراف بعض دوزخیوں کو ان کے چہرے مہرے سے لگاکر پہچان کر انہیں پکاریں گے اور انہیں اپنی ملامت اور سرزنش کا نشانہ بنائیں کہ آخر تم نے دیکھا کہ دُنیا میں تمہارے مال جمع کرنے، افرادی قوت جمع کرنے اور تکبّر کے باعث قبول حق سے گریز کرنے کا کیا نتیجہ نکلا۔ وہ سب مال کہاں گیا اور وہ لوگ کیا ہوئے جو تمہارے چاروں طرف اکھٹے تھے اور جو تکبّر اور خود رستی تم نے اختیار کی تھی اس سے تمہیں سوائے جہنم کے کیا حاصل ہُوا ؟(وَنَادیٰ اَصْحَابُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَعْرِفُونَھُمْ بِسِیمَاھُمْ قَالُوا مَا اَغْنَی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ)۔ دوبارہ اسی ملامت وسرزنش کے لہجے میں جبکہ وہ ان ضعیف الحال موٴمنین کی طرف اشارہ کررہے ہوں گے جو اعراف پر ہوں گے، یہ کہیں گے: آیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسم کھاتے تھے کہ خدا ان پر کبھی رحمت نہ کرے گا (اَہَؤُلَاءِ الَّذِینَ اَقْسَمْتُمْ لَایَنَالُھُمْ اللهُ بِرَحْمَةٍ)۔ آخرکار الله کی رحمت ان لوگوں کے بھی شاملِ حال ہو گی اور ان سے خطاب ہو گا، جنت میں چلے جاؤ نہ تمہارے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہاں تمہیں کوئی غم واندوہ ہو گا (اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَاخَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَلَااَنْتُمْ تَحْزَنُونَ)۔ جو کچھ ہم نے کہا اس سے یہ معلوم ہوا کہ ضعیف الحال موٴمنین سے مراد وہ افراد ہیں جو ایمان رکھتے تھے اورنیک اعمال بھی بجالاتے تھے، لیکن بعض گناہوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے دشمنوں کی جانب سے ہمیشہ ان کی تحقیر وتوہین ہوا کرتی تھی اور وہ ان کو دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ ایسے لوگ (بھلا جنت میں کیا جائیں گے اور) رحمتِ الٰہی کے سایہ میں کیسے جائیں گے۔ لیکن آخرکار اپنی روح ایمانی اور نیکیوں کی وجہ سے الله کی رحمت ان کے شامل حال ہو جائے گی اور ان کا انجام بخیر ہو گا۔
اصحاب اعراف کون لوگ ہیں؟
جیسا کہ ہم نے سابقاً کہا کہ "اعراف" نمایاں اور اٹھی ہوئی زمین کو کہتے ہیں، اگر ان قرائن پر نظر کی جائے جو آیہ مذکورہ بالا میں پائے جاتے ہیں، نیز روایات کا مطالعہ کیا جائے تو ان سے پتہ چلتا ہے کہ خوش قسمتی اور بدقسمتی کے دو مراکز (جنت ودوزخ) کے درمیان یہ ایک اونچا مقام ہو گا جو دونوں مقاموں کے درمیان مانع، فاصل اور پردے کا کام دے گا۔ اس کی وجہ سے جنت ودوزخ کے درمیان فاصلہ ہو گا۔ اس کا نام "اعراف" ہے جس پر سے یہ لوگ دونوں طرف کے افراد کا مشاہدہ کریں گے اور ان کے نورانی یا سیاہ چہروں کی وجہ سے انہیں پہچان لیں گے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ "اصحاب اعراف" کون لوگ ہیں اور اس مقام پر کن افراد کو جگہ ملے گی؟ اوپر کی چار آیتوں کو اگر پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ ان افراد کے لئے دو طرح کی مختلف ومتضاد صفتیں ذکر کی گئی ہیں: پہلی اور دوسری آیت میں اعراف والوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ انہیں آرزو ہے کہ جنت میں جائیں لیکن کچھ مواقع ایسے درپیش ہیں جن کی وجہ سے وہ جنت میں نہیں جاسکتے جب وہ بہشت والوں کودیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی ان کے ساتھ ہوتے لیکن وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتے اور جب ان کی نظر دوزخیوں پر پڑے گی تو ان کے دردناک انجام کو دیکھ کر وحشت زدہ ہوں گے اور خدا سے پناہ مانگیں گے۔ لیکن تیسری اور چوتھی آیت سے پتہ چلتا ہے وہ بااثر اور قدرت مند افراد ہیں جو دوزخ والوں کی سرزنش کریں گے اور جو بندے مقام اعراف میں رہ گئے ہیں ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ اس سے گذر کر منزل سعادت تک پہنچ جائیں۔ اعراف اور اصحاب اعراف کے متعلق جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی دو متضاد گروہوں کی مظہر ہیں اور بہت سی روایات جو اہل بیت طاہرینؑ سے منقول ہیں ان میں ہمیں ملتا ہے: "نحن الاعراف" ہم اعراف ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۱۷]۔ یا یہ کہ: آل محمد ھم الاعراف آلِ محمد اعراف ہیں۔ [ایضا، ص ۱۸] اسی طرح دوسری حدیثیں بھی ہیں۔ دیگر روایات میں ہے: "ھم اکرم الخلق علی الله تبارک وتعالیٰ" وہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم بندے ہیں۔ [ایضا، ص ۱۹] یا یہ کہ: ھم الشھداء علی الناس والنبیّون شہدائھم وہ لوگوں پر گواہ ہیں اور پیغمبرانِ خدا ان کے اوپر گواہ ہیں۔ [بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۳۳، ۳۴] نیز اسی طرح کی دیگر روایات ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ یہ افراد انبیاء، آئمہ اور صالحین ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں دیگر روایات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ وہ پسماندہ بندے ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی یا وہ گنہگار ہوں گے جنھوں نے اعمال نیک بھی کئے ہوں گے۔ جیسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث ہے: "ھم قوم استوت حسناتھم وسیئاتھم فان ادخلھم النار فبذنوبھم وان ادخلھم الجنة فبرحمتہ" یہ وہ لوگ ہیں جن کے حسنات وسیّئات مساوی ہیں، اگر خدا نے انہیں دوزخ میں بھیج دیا تو ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اگر جنت میں داخل کر دیا تو رحمت اپنی رحمت کی وجہ سے۔[بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۱۷] اس طرح کی متعدد روایات اہلِ سنّت کی تفاسیر میں حذیفہ، عبد الله ابن عباس اور سعید بن جبیر وغیرہ سے مروی ہیں جن کا مضمون بھی یہی کچھ ہے۔[بحوالہ: تفسیر طبری، ج۷، ص۱۳۷ و۱۳۸، مذکورہ آیت کے ذیل میں]۔ انہی تفاسیر میں کچھ مدارک اس بات پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اہلِ اعراف صلحاء، فقہاء اور علماء ہوں گے یا الله تعالیٰ کے فرشتے ہوں گے۔ ان آیات وروایات کا ظاہری مفہوم ابتدائی نظر میں متضاد معلوم ہوتا ہے، شاید یہی بات باعث بنی کہ مختلف مفسّرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان آیات وروایات میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے؛ بلکہ یہ سب ایک ہی حقیقت کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ جس طرح ہم نے سابقاً بھی کہا ہے کہ تمام آیات وروایات کو دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اعراف ایک سخت وصعب العبور راستہ ہے، جو محل سعادت جاودانی یعنی بہشت سے پڑتا ہے۔ یہ بات فطری ہے کہ قومی لوگ یعنی صالح وپاک افراد تو بہت جلدی سے اس گذرگاہ سے گزرجائیں گے۔ لیکن کچھ کمزور بندے، یعنی جنہوں نے نیک وبد دونوں طرح کے اعمال کو آپس میں ملادیا ہے وہ اس راستہ پر تھک کر بیٹھ جائیں گے۔ نیز یہ بات بھی قرینِ قیاس ہے کہ گروہوں کے سرپرست اور پیشوایانِ قوم، ان قائدین ِ لشکر کی طرح جو سخت وخطرناک راستوں پر لشکر کے آخر میں چلتے ہیں تاکہ کوئی سپاہی اگر آگے بڑھنے سے رہ جائے تو اس کی مدد کرکے اسے خطرے سے باہر نکال دیں۔ بالکل اسی طرح یہ پیشوا اور امام اعراف میں ٹھہر جائیں گے تاکہ موٴمنین میں جو ضعیف افراد ہیں ان کی مدد کر سکیں اور وہ بندے جن میں نجات حاصل کرنے کی صلاحیّت ہے وہ ان کی مدد کے زیرِسایہ نجات پاسکیں گے۔ بنابریں، "اعراف" میں دو طرح کے لوگ پائے جائیں گے۔ ایک تو وہ ضعیف گنہگار افراد جو رحمتِ الٰہی میں جگہ پائیں گے۔ دوسرے وہ رہبران قوم اور عظیم پیشوا جو ہر جگہ ضعیف الحال تابعیں کی مدد کریں گے۔ اس بناپر ان آیات کے اگلے حصّہ میں انہی ضعیف الحال بندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بعد والے حصّہ میں بزرگانِ قوم انبیاء وآئمہ وصلحاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں بھی اس مطلب کی تائید ملتی ہے جیسے علی بن ابراہیم میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: "الاعراف کثبان بین الجنة والنّار، والرجال الائمة، یقولون علی الاعراف مع شیعتھم وقد سبق الموٴمنون الی الجنة بلاحساب---" اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان میں کچھ ٹیلے ہوں گے اور "رجال" سے مراد آئمہ طاہرینؑ ہیں جواپنے شیعوں کے ساتھ اعراف پر کھڑے ہوں گے اس حالت میں موٴمنین بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کیے جاچکے ہوں گے۔ اس کے بعد مزید یہ بھی ہے کہ: آئمہ طاہرینؑ اور پیشوایانِ برحق اس موقع پر انے گنہگار پیروکاروں سے کہیں گے کہ اچھی طرح سے دیکھو کہ تمہارے نیک اعمال بھائی کس طرح جنت میں بغیر حساب کتاب کے جلدی سے چلے گئے ہیں اور یہ وہی موقع ہے جس کے متعلق الله نے فرمایا ہے: سلام علیکم لم یدخلوھا وھم یطمعون (یعنی وہ بہشتیوں پر سلام کریں گے در آنحالیکہ ابھی خود بہشت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اگرچہ اس کے آرزومند ہوں گے)۔ بعد ازاں اُ ن سے کہا جائے گا کہ ذرا دشمنانِ حق کو بھی دیکھ لو کہ کس طرح آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں جل رہے ہیں اور یہ وہی حال ہے جس کا الله نے اظہار فرمایا ہے: وَإِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُھُمْ تِلْقَاءَ اَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ--- اس کے بعد دوزخیوں سے کہیں گے کہ دیکھو یہ بندے (یعنی پیروکار اور شیعہ جو گنہگار ہیں )وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں کہا کرتے تھے کہ ان پر الله کی رحمت ہرگز نہ ہو گی (حالانکہ اب الله کی رحمت ان کے شاملِ حال ہوچکی ہے) اس کے بعد ان بندوں کو )جو گنہگار تو ہیں لیکن اپنے ایمان اور بعض اعمالِ نیک کی وجہ سے اس بات کی صلاحیّت رکھتے ہیں کہ انہیں بخش دیا جائے (آئمہ ہُدیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا جائے گا کہ تم بھی بہشت کی طرف روانہ ہو جاؤ کسی قسم کے خوف اور غم کی ضرورت نہیں۔[بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۱۹، ۲۰] اسی طرح کا مضمون اہلِ سنت کی تفسیروں میں بھی حذیفہ کی روایت سے حضرت پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے۔ [تفسیر طبری، ج۸، ص۱۴۳،۱۴۲] ہم ایک مرتبہ اور تکرار کرتے ہیں کہ حشر ونشر کی تمام جزئیات وتفاصیل جو احادیث وآیات میں بیان ہوئی ہیں وہ بعینہِ اس طرح سے ہیں جیسے ہم دور سے ایک سایہ دیکھیں اور پھر اس کی کیفیت بیان کریں۔ حالانکہ وہ سایہ ہماری زندگی سے بالکل مختلف ہوتا ہے اور ہم اپنے نارسا اور کوتاہ الفاظ کے ذریعے اس کی حکایت کرتے ہیں۔ ایک قابل توجہ نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ جہانِ آخرت کی زندگی ان نمونوں اور معیاروں کی بنیاد ہے جو اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اعراف کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے کیونکہ اس دنیا میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں: ایک تووہ سچّے مومن بندے جواپنے ایمان وعمل کی وجہ سے ابدی سکون کی منزل تک پہنچتے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دوسرے وہ معاند اور ضدّی دشمنانِ حق جو کسی طرح سے راہِ حق پر آنا گوارہ نہیں کرتے۔ تیسرا وہ گروہ ہے جو ان دونوں گروپوں کے درمیان ایک سخت گذرگاہ پر ہے۔ پیشوایانِ حق کی زیادہ تر توجہ انہی پر ہے۔ وہ ان کے پہلو میں رہیں گے اور ان کا ہاتھ پکڑکر اعراف کے مرحلہ سے انہیں نجات دیں گے اور موٴمنین کی صف میں لا کر کھڑا کر دیں گے۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ قیامت کے روز انبیاء کرام اور ائمہ طاہرینؑ کا ان بندوں کے معاملات میں دخل دینا اور انہیں اس طرح جنّت میں لے جانا خداوندکریم کی قدرتِ مطلقہ اور اس کی حاکمیت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ حضرات جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ خدا ہی کے اذن اور فرمان سے کرتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
جنت کی نعمتیں دو زخیوں پر حرام ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جب جنتی اور دوزخی لوگ سب کے سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گے تو ان کے درمیان گفتگو شروع ہو گی جس کا مقصد یہ ہو گا کہ اہلِ دوزخ کو ان کے اعمال کی وجہ سے روحانی اور معنوی سزا دی جائے۔ پہلے دوزخی لوگ جو بہت بُری حالت میں ہوں گے جنت والوں سے پکارکر جنت کے پانی اور کھانے کی تمنّا کریں گے تاکہ جلادینے والی تشنگی اور دیگر آلام میں کچھ کمی واقع ہو (وَنَادیٰ اَصْحَابُ النَّارِ اَصْحَابَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیضُوا عَلَیْنَا مِنَ الْمَاءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ)۔ لیکن فوراً اہلِ بہشت ان کے اس سوال کو یہ کہہ کر ردّ کر دیں گے کہ: یہ چیزیں الله نے کافروں پر حرام کر دی ہیں(قَالُوا إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ)۔
چند اہم نکات
۱۔ قرآن نے یہاں پر لفظ "نادیٰ" استعمال کیا ہے جو دُور سے پکارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ کے درمیان کافی فاصلہ ہو گا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ یہ فاصلہ لاکھوں میل دُوری کا ہولیکن بقدرتِ الٰہی دونوں گروہ ایک دوسرے کی بات سن سکیں گے۔ بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے کو اتنے فاصلہ کے باوجود دیکھ بھی سکیں گے۔ اگرچہ یہ بات گذشتہ زمانے میں بعض لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتی تھیں لیکن اب وہ زمانہ آگیا ہے جس میں دُور کی صدا یا دور سے کسی کو دیکھنا ممکن ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس زمانہ میں اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ۲۔ اہلِ دوزخ کی سب سے پہلی تمنّا یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے پانی طلب کیا۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ جو شخص بھی آگ میں جلتا ہے اسے سب سے پہلے پانی کی طلب ہوتی ہے تاکہ اپنی سوزش کو تسکین پہنچا سکے۔ ۳۔ "مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ" (جو کچھ الله نے تم کو روزی دی ہے اس میں سے) یہ جملہ ایک سربستہ جملہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیوں کو یہ تک پتہ نہ چلے گا کہ اہلِ جنت کو کیا کیا نعمتیں ملی ہیں اور ان کی ماہیت کیا ہے۔ یہ مطلب بعض احادیث کے بالکل مطابق وارد ہوا ہے کہ جنّت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو گا اور نہ کسی کان نے سنا ہو گا، بلکہ کسی کے ذہن میں بھی ایسی نعمتیں نہ آئی ہوں گی۔ ضمنی طور سے ایک مطلب اور بھی لفظ "اٴو" میں مضمر ہے اور وہ یہ ہے کہ جنت کی دیگر نعمتیں خاص طور پر جنت کے میوے پانی کا بدل ہو سکتے ہیں اور ان سے انسان کی بھڑکتی ہوئی پیاس بجھ سکتی ہے۔ ۴۔ "إِنَّ اللهَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ" (خدا نے انہیں کافروں کے لئے حرام قرار دیا ہے) یہ جملہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اہل بہشت کو یہ چیزیں دینے میں تو کوئی کمی واقع ہو گی اور نہ ہی ان کے دلوں میں کسی کی طرف سے کینہ ہو گا۔ یہاں تک کہ اپنے دشمنوں سے بھی وہ کوئی بغض وحسد نہ رکھتے ہوں گے۔ لیکن دوزخیوں کی وضعیت کچھ ایسی ہے کہ وہ ان نعماتِ الٰہی سے بہرہ ور نہیں ہو سکتے۔ یہ تحریم فی الحقیقت ایک طرح کی "تحریم تکوینی" ہے جیسے بہت سے بیمار لذیذ اور رنگاررنگ کھانوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد کی آیت ان کی محرومی کا سبب بیان کررہی ہے اور اہلِ دوزخ کے صفات کو بیان کرنے کے ساتھ ہی اس امر کی وضاحت کررہی ہے کہ ان لوگوں نے یہ اپنا انجام بَد خود اپنے ہاتھوں فراہم کیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دین و مذہب کو کھیل تماشا بنارکھا تھا (الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَھُمْ لَھْوًا وَلَعِبًا)۔ اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکا دیا تھا (وَغَرَّتْھُمَ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا)۔ یہ امور اس بات کا سبب بنے کہ وہ اپنی خواہشات کی دلدل میں اترجائیں اور تمام چیزوں کو یہاں تک کہ روزِ معاد کو بھی بھلا بیٹھیں اور انبیاء کے فرامین اور الله کی آیتوں کا انکار کر دیں۔ لہٰذا اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: آج ہم بھی انہیں بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کو بھلادیا تھا اور جس طرح انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کر دیا تھا (فَالْیَوْمَ نَنسَاھُمْ کَمَا نَسُوا لِقَاءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوا بِآیَاتِنَا یَجْحَدُونَ)۔ یہ بات بدیہی ہے کہ یہاں پر "نسیان اور فراموشی" کی نسبت جو الله کی طرف دی گئی ہے، اس سے اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسا معاملہ کوئی فراموش کر دینے والا کرتا ہے۔ یہ ایسی ہی ہے جیسے کوئی نہ بھولنے والا شخص اپنے بھول جانے والے دوست سے یہ کہتا ہے کہ اب جبکہ تم نے مجھے بھلادیا ہے تو میں تمہیں بھلادوں گا۔ مطلب یہ ہے تمہارے ساتھ وہ طرزِ عمل اختیار کروں گا جو بھول جانے والا کرتا ہے۔ ضمنی طور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گمراہی اور بھٹکنے کا پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی قیمت بنانے والے مسائل کو کوئی اہمیت نہ دے اور نہیں کھیل تماشہ سمجھ کر ٹال دے۔ یہ حرکت اس بات کا سبب بنتی ہے کہ آخر کار اس سے کفرِ مطلق سرزد ہوتا ہے اور وہ تمام حقائق کا انکار کر بیٹھتا ہے۔]
کفار کی نعمتوں سے محرومیت، اُن کی کوتاہیوں کا نتیجہ
پہلی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفار کی محرومیت اور ان کا انجامِ بَد، خود انہی کی کوتاہیوں اور ان کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، ورنہ خداوندکریم کی جانب سے ان کی ہدایت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ اس بناپر خدا فرماتا ہے: ہم نے ان کی ہدایت کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ان کے لئے ایک ایسی کتاب بھیجی جس کے تمام اسرار و رموز کی پوری آگاہی کے ساتھ تشریح کر دی (وَلَقَدْ جِئْنَاھُمْ بِکِتَابٍ فَصَّلْنَاہُ عَلیٰ عِلْمٍ)۔ ایسی کتاب جو "سرمایہ ہدایت اور جوجب رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے، اگرچہ ہٹ دھرم اور ضدی انسان اس سے بے بہرہ رہ گئے (ھُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ)۔ اس کے بعد کی آیت میں تباہ کاروں اور بے راہ رووں کی ہدایت الٰہی کے بارے میں غلط طرزِفکر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: گویا ان لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ خدا کے دعووں اور تہدیدوں کو اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں (جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں) تاکہ اس وقت ایمان قبول کریں (ھَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ تَاْوِیلَہُ)۔ لیکن یہ کیسا غلط انتظار اور کیسی بے جا توقع ہے کیونکہ جب وہ وقت آپہنچے گا کہ وہ اپنی آنکھوں سے ان الٰہی وعدوں کے نتیجوں کو دیکھیں گے تو فرصت کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہو گا اور پلٹنے کا راستہ بند ہو چکا ہو گا۔ یہ وہ وقت ہو گا کہوہ لوگ جنھوں نے کتاب خدا اور آسمانی قوانین کو دُنیا میں پس پشت ڈال دیا تھا اعتراف کریں گے کہ خدا کے تمام فرستادہ بندے (رسول) حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے اور ان کی تمام باتیں بھی برحق تھیں (یَوْمَ یَاْتِی تَاْوِیلُہُ یَقُولُ الَّذِینَ نَسُوہُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَائَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ)۔ لیکن اس وقت وہ خوف اور اضطراب کے دریا میں ڈوب جائیں گے اور اپنی نجات کی فکر میں پڑھائیں گے اور کہیں گے: آیا کچھ شفاعت کرنے والے ہیں جو ہماری شفاعت کریں (فَھَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَیَشْفَعُوا لَنَا)۔ یا اگر ہماری قسمت میں شفیع (بخشوانے والے ) نہیں اور اصولی طور سے ہم قابل شفاعت نہیں ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دنیا میں دوبارہ پلٹ دیئے جائیں اور جو اعمال ہم بجالائے ہیں ان سے مختلف دوسرے اعمال بجالائیں اور حق وحقیقت کے سامنے سرِتسلیم خم کر لیں (اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِی کُنَّا نَعْمَلُ)۔ لیکن افسوس کہ یہ بیداری دیر میں اور بعد از وقت ہو گی۔ نہ تواس وقت کوئی لوٹ آنے کی راہ ہو گی اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہو گا کیونکہ انہوں نے اپنی ہستی کا سرمایہ اپنے ہاتھ کھو دیا ہو گا اور وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوں گے، ایسا گھاٹا جو ان کے وجود کو ہر طرف سے گھیرلے گا (قَدْ خَسِرُوا اَنفُسَھُمْ)۔ اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ بُت اور ان کے خود ساختہ معبود اس عالم میں ان کے کچھ کام نہ آئیں گے اور درحقیقت "سب کے سب ان کی نظروں سے گم ہو جائیں گے" (وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ)۔ گویا آخر آیت کے دوجملے ان کی درخواست کا جواب ہے۔ یعنی اگر وہ شفاعت چاہتے ہیں تو انہی بتوں کے دامن کو تھامیں جن کے آگے دنیا سجدہ کرتے تھے۔ یہ اس صورت میں دُنیا میں پلٹ سکتے تھے کہ ان کے سرمایہ وجود ہو لیکن اسے تو انہوں نے دنیا میں تلف کر دیا۔ اس آیت سے پہلے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں ازاد وخود مختار ہے ورنہ دوبارہ دنیا میں جانے کی تمنّا نہ کرتا تاکہ اپنے اعمالِ بَد کی تلافی اور تدارک کرے۔ دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ جہانِ آخرت جائے عمل اور فضیلت حاصل کرنے کا مقام نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مشرکوں نے سخت دھوکہ کھایا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ہم نے پچھلی آیتوں میں پڑھا کہ قیامت کے روز مشرکوں کو پتہ چلے گا انہوں نے اپنے معبود کے انتخاب میں سخت دھوکا کھایا تھا۔ اب اس آیت میں حقیقی معبود اور اس کی خاص صفات سے متعلق بحث ہے تاکہ وہ لوگ جو حق کے متلاشی ہیں قبل اس کے کہ قیامت کا دن آپہنچے اسی دنیا میں اچھی طرح سے پہچان لیں۔ ابتدا میں فرمایا گیا ہے: تمھارا پروردگار وہ معبود ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ روز میں پیدا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ "معبود" سوائے "پیدا کرنے والے" کے اور کوئی نہیں ہو سکتا (إِنَّ رَبَّکُمْ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ فِی سِتَّةِ اَیَّامٍ)۔
کیا کائنات 6 دن میں بنی؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ بحث کہ جہان کو الله نے چھ روز میں خلق کیا۔ قرآن کریم میں سات جگہ پر آئی ہے۔(ایک تو یہی آیت۔ اس کے علاوہ سورہٴ یونس/ ۳، ہود/۷، فرقان/۵۹، سجدہ/۴، ق/۳۸، اور حدید/۴ میں اس بات کا تذکرہ ہے۔) لیکن ان میں سے تین مقامات پر "آسمانوں اور زمین" کے علاوہ "مابینھما" بھی ہے (جس کے معنی یہ ہیں: "اور جو کچھ بھی ان دونوں کے درمیان ہے"۔ یہ اضافہ فی الحقیقت مزید توضیح کے لئے ہے ورنہ فی الحقیقت زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ اگر اوپر کی جہت میں ہے تو لفظ "آسمان" میں داخل ہے اور اگر نیچے کی جہت میں ہے تو "زمین" کے مفہوم میں داخل ہے۔ یہاں پر سب سے پہلے جو سوال ذہن انسان میں آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین وآسمان کی خلقت سے پہلے دن اور رات کا تو کوئی وجود نہ تھا۔ لہٰذا چھ روز کیسے بنے؟ کیونکہ دن رات تو اپنے محور پر زمین کی گردش کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہ بریں، تمام کائنات میں چھ روز میں یعنی ایک ہفتہ سے بھی کم عرصے میں پیدا ہونا بھی قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا کیونکہ آج کا علم یہ کہتا ہے کہ: لاکھوں سال گزرے جب جاکے زمین وآسمان نے یہ موجودہ شکل اختیار کی۔ ان دونوں سوالوں کا جواب اس وقت ظاہر ہو گا جب لفظ "یوم" اور اس کے ہم معنی الفاظ جو دوسری زبانوں میں رائج ہیں، پر توجہ کی جائے۔ کیونکہ بسا اوقات "یوم" ایک دوران اور زمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، چاہے یہ دوران ایک سال کا ہو، ایک ملین سال کا، یا کئی کروڑ سال کا۔ اس امر کے کئی شواہد ہیں کہ "یوم" دوران کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہوں: ۱۔ قرآن میں لفظ "یوم" بارہا استعمال ہوا ہے۔ اس میں سے بہت سے مقامات پر عام شب وروز کے معنی میں نہیں آیا مثلاً عالمِ محشر کو "یوم القیامة" سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ روزِ قیامت ایک طولانی مدت ہو گی جو بنصِ قرآنی پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی (سورہٴ معارج، آیت۴) ۲۔ کتب لغت میں بھی اس کی تائید ملتی ہے کہ یوم کبھی تو آفتاب کے طلوع اور غروب کی درمیان مدت کو کہتے ہیں اور کبھی زمانے کے ایک حصّے کو کہتے ہیں۔ اس کی مقدار جتنی بھی ہو۔(راغب نے اپنی کتاب مفردات میں کہا ہے کہ لفظ "یوم" کا اطلاق کبھی تو طلوع آفتاب کی ردمیانی مدت پر ہوتا ہے اور کبھی زمانہ کی ایک مدت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے، وہ مدت جتنی بھی ہو۔) ۳۔ روایات اور ہادیان دین کے ارشادات میں بھی لفظ "یوم" دوران کے معنی میں بہت آیا ہے۔ جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام "نہج البلاغہ" میں ارشاد فرماتے ہیں: "الدھر یومان یوم لک ویوم علیک" تیری دنیا کے دور وز ہیں؛ ایک روزہ وہ جو تیرے لئے فائدہ بخش ہے۔ دوسرا روز وہ جو تیرے لئے زیان بخش ہے۔ تفسیر برہان میں بھی اسی آیت کے ذیل میں تفسیر علی بن ابراہیم قمی سے نقل کیا گیا ہے کہ امامؑ نے فرمایا: "فی ستة ایام یعنی فی ستة اوقات" چھ روز یعنی چھ دوران ۴۔ روز مرّہ کی گفتگو اور شعراء کے اشعار میں بھی لفظ "یوم" دوران کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ایک روز وہ تھا جب کرہٴ زمین آگ کا ایک گولہ تھا پھر ایک روز وہ آیا جب وہ ٹھنڈا ہو گیا اور اس میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے جبکہ زمین کی شعلہ ورحالت کئی کروڑ سالوں تک باقی رہی۔ یا یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ ایک روز بنی امیہ نے خلافتِ اسلام کو غصب کیا، دوسرے روز بنی عباس نے بھی یہی عمل کیا۔ حالانکہ ان دونوں کا دورانِ حکومت بیسوں یا سیکڑوں سال کا تھا۔ یہاں پر کلیم کاشانی کے دو پُر لطف اور پُر معنی شعر بھی ملاحظہ ہوں: بدنامی حیات دو روزی نبود بیش آن ھم کلیم با تو یگویم چسان گذشت یک روز صرف بستن دل شد بن این وآن روز گریہ کندن دل زین وآن گذشت یعنی زندگی کی بدنامی صرف دو روز کےلئے تھی، وہ بھی اے کلیم تجھ سے کیا بیان ہو کہ کس طرح گذرے۔ایک دن تودنیا کی لذّتوں کے ساتھ باندھنے میں گزر گیا اور دوسرا دن دنیا کی لذّتوں سے دل توڑنے میں گٹ گیا۔ اس تمام بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ خداوندعالم نے زمین وآسمان کو چھ ادوار میں پیدا کیا۔ ہو سکتا ہے کہ ان ادوار میں سے ہر دور کئی ملین سال کا ہو اور اس طرح سے ہونا آج کے علم سے کسی طرح نہیں ٹکراتا۔ یہ چھ ادوار ہو سکتا ہے کہ اس طرح پر ہوں: ۱۔ و ہ روز جس میں سارا جہان گیس کے ایک مجموعہ کی شکل میں تھا۔ سُرعت کے ساتھ گھومنے کے سبب سرگردان ہو گیا اور اس سے یہ الگ الگ کُرّے وجود میں آئے۔ ۲۔ یہ کُرّے تدریجی طور پر پگھلے ہوئے اور نورانی یا ٹھنڈے اور قابلِ سکونت کُرّوں کی شکل میں بن گئے۔ ۳۔ پھر ایک دن نظام شمسی بنا اور زمین سورج سے الگ ہو گئی۔ ۴۔ پھر ایک دن زمین ٹھنڈی ہو کر قابلِ سکونت بنی اور اس لائق ہوئی کہ اس میں جاندار رہ سکیں۔ ۵۔ پھر ایک دن سبزہ اور درخت اس میں نمودار ہوئے۔ ۶۔ پھر ایک دن وہ آیا کہ حیوان اور حضرت انسان بھی اس میں نمودار ہوئے۔ یہاں پر جو کچھ اس جہان کے چھ ادوار کے متعلق بیان کیا گیا ہے وہ سورہٴ فصلت کی آیات ۸تا۱۱ سے قابلِ تطبیق ہے جس کی مفصّل شرح انشاء الله انہی آیات کے ذیل میں پیش کی جائے گی۔
الله نے دنیا کو ایک لحظہ میں کیوں پیدا نہ کیا ؟
یہاں پر ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ خداوندکریم اپنی انتہا قدرت کی وجہ سے سارے آسمانوں اور زمینوں کو ایک لحظہ میں پیدا کرسکتا تھا۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس نے اس جہان کو ایک طولانی مدت میں پیدا کیا؟ اس سوال کا جواب صرف ایک نکتہ کے سمجھنے سے مل جاتا ہے اور وہ یہ کہ خلقت جہاں اگر ایک لحظہ میں ہو جاتی تو پروردگار کی عظمت، قدرت اور علم کی کمتر حکایت کرتی لیکن اگر یہ خلقت مختلف مرحلوں میں، مختلف شکلوں میں جچے تُلے حساب شدہ پروگرام کے ماتحت عمل میں آئی ہے تواس طرح پر خالقِ اکبر کے وجود کی واضح تر دلیل بنتی ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ اگر انسان کا نطفہ ایک سیکنڈ میں ایک مکمل بچہ بن جاتا، تووہ اس قدر اس کی خلقت کی عظمت کا مظہر نہ بنتا لیکن جس وقت اس کی خلقت نومہینوں میں ہوئی ہر دن اس نے ایک ایک مرحلہ طے کیا اور ہر مہینہ ایک نئی شکل اختیار کی تو اس طرح ان مراحل کی تعداد کے مطابق پیدا کرنے والے کی عظمت وقدرت کی تازہ بہ تازہ نو بہ نو نشانیاں ملتی چلی گئیں۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ خداتعالےٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد ان کی رہبری اپنے دستِ قدرت میں سنبھالی۔ یعنی یہ کہ صرف سارے جہانوں کی خلقت اس نے کی بلکہ ان کا نظام اور ان کی رہبری بھی الله ہی کے ہاتھ میں (ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ)۔ یہ فی الحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جو الله کو صرف خلقتِ کائنات کی علّت جانتے ہیں اوراس کی بقاء کی علّت نہیں جانتے۔
عرش کیا ہے؟
لغت میں "عرش" ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس میں چھت لگی ہوئی ہو اور بعض اوقات خود چھت کو بھی عرش کہتے ہیں: جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: اَوْ کَالَّذِی مَرَّ عَلیٰ قَرْیَةٍ وَھِیَ خَاوِیَةٌ عَلیٰ عُرُوشِھَا یا اس شخص کی طرح جو ایک آبادی کے پاس سے گزرا جبکہ وہ آبادی برباد پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل (بقرہ/۲۵۹)۔ کبھی یہ لفظ اونچے تخت پر بھی بولا جاتا ہے؛ جیسے بادشاہوں کے تخت۔ جس طرح ہم حضرت سلیمانؑ کے قصّے میں پڑھتے ہیں: اَیُّکُمْ یَاْتِینِی بِعَرْشِھَا تم میں سے کون اس (بلقیس) کا تخت یہاں لا سکتا ہے (نمل/۳۸) نیز ان پاڑوں کو بھی "عرش" کہتے ہیں جو درختوں کی بیلوں کو اوپر چڑھانے کے لئے باندھی جاتی ہیں۔ قرآن کریم میں، "عرش" کا یہ استعمال بھی موجود ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: وَھُوَ الَّذِی اَنْشَاَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ وَغَیْرَ مَعْرُوشَاتٍ وہ خدا وہ ہے جس نے پاڑوں پر چڑھنے والے اور نہ چڑھنے والے درختوں کے باغ پیدا کئے (انعام/۱۴۱) لیکن جس وقت یہ لفظ خداوندکریم کی نسبت بولا جائے اور یہ کہا جائے کہ "عرش خدا" تو اس سے اس جہان ہستی کا سارا مجموعہ مراد ہے جو فی الحقیقت تختِ حکومت الٰہی ہے۔ اگر یہ جملہ "اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ" بولا جائے تو یہ اس امر کے لئے کنایہ ہے کہ "ایک حکمران اور زماندار اپنی سلطنت کے امور پر مسلط وغالب ہو گیا" اس کے برعکس، یہ جملہ "ثل عرشہ" (اس کا تخت برباد ہو گیا) اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی بادشاہ کی حکومت الٹ جائے۔ فارسی میں بھی یہ تعبیر کنائی بہت استعمال ہوتی ہے۔ (اردو میں بھی اس طرح کے جملے استعمال ہوتے ہیں۔ مترجم۱)مثلاً ہم کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں لوگوں نے بغاوت کر دی اور انہوں نے وہاں کے حکمران کو تخت سے نیچے اتارلیا۔ حالانکہ ممکن ہے کہ وہاں کسی تخت کا سرے سے وجود نہ ہو۔ یا یہ محاورہ کہ کچھ لوگ فلاں شخص کی حمایت میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس کو تخت پر بٹھایا دیا۔ یہ سب محاورے قدرت وحکومت پانے یا اس کے جانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بنابریں زیرِ بحث آیت "اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ" کا جملہ اس بات کا کنایہ ہے کہ پروردگار عالم آسمانوں اور زمین کی خلقت کے بعد ان پر ہر حیثیت سے مسلط وغالب ہوا اور اس نے نظم ونسق اپنے دست قدرت میں سنبھالا۔ یہیں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ: جن لوگوں نے مذکورہ بالا آیت کو "تجسم خدا" دلیل بنایا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں کی جو ہم نے یہاں پر بیان کئے ہیں۔ "عرش" کے ایک معنی اور بھی ہیں۔ یہ معنی اس جگہ لئے جاتے ہیں جہاں یہ لفظ "کرسی" کے مقابلے میں بولا جائے۔ اس طرح کے مواقع پر لفظ "کرسی" (جس کے معنی غالباً اس چھوٹے تخت کے ہیں جس کے چھوٹے پائے ہوتے ہیں) سے ممکن ہے "مادی دنیا" مراد ہو اور "عرش" سے مراد وہ جہان مراد ہو جو "ماورائے مادّہ" ہے۔ جیسے عالمِ ارواح اور ملائکہ۔ جیسا کہ آیت "وَسِعَ کُرْسِیَہُ السَّمَوٰاتِ وَالارضِ" کی تفسیر میں سورہٴ بقرہ میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ (وہ خدا) وہ ہے جو رات کو مثل ایک پردہ اور پوشش کے دن کے اوپر ڈال دیتا ہے اور دن کی روشنی کو رات کی تاریک پردوں سے ڈھانپ دیتا ہے (یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَ)۔ یہاں پر قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ تعبیر مذکورہ بالا صرف رات کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ "دن کے ذریعے رات کو ڈھانپ لیتا ہے" کیونکہ پوشش صرف تاریکی کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے نہ کہ روشنی کے ساتھ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے :"رات تیزی کے ساتھ دن کے پیچھے پیچھے رواں دواں ہے جیسے ایک قرض خواہ اپنے قرضدار کے پیچھے بھاگتا ہے۔" (یَطْلُبُہُ حَثِیثًا)۔ کرہٴ زمین میں دن اور رات کی جو کیفیت ہے یہ تعبیر اس کے عین مناسب ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص کرہٴ زمین سے باہر جاکر یہ دیکھے کہ کس طرح زمین اپنے محور پر تیزی سے محوِ گردش ہے (تقریباً ۳۰ کلومیٹر فی کی رفتار سے) اور آفتاب کی جہت اور آفتاب کی جہت مخالف میں ایک مخروطی الشکل سایہ ایک پُر اسرار دیوپیکر ہیولے کی طرح روشنی کے پیچھے پیچھے گھوم رہا ہے تو اسے (یَطْلُبُہُ حَثِیثًا) کی تعبیر کا صحیح لطف حال ہو گا اور یہ سمجھ میں آئے گا کہ دن کے متعلق یہ نہ کہا کیونکہ سورج کا نور تو نصف کرہٴ زمین پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی کوئی شکل نہیں بنتی۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: وہ ہے جس نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا، اس حال میں کہ سب اس کے فرمانبردار ہیں (وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِاَمْرِہِ)۔ (شمس وقمر اور ستاروں کی تسخیر کے بارے میں متعلق آیات کے ذیل میں انشاء ہم آئندہ گفتگو کریں گے)۔ جہانِ ہستی اور نظامِ شب روز کی پیدائش اور چاند، سورج اور ستاروں کی خلقت کے ذکر کے بعد مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: آگاہ ہو جاؤ کہ پیدا کرنا اور جہانِ ہستی کا انتظام کرنا صرف اس کے ہاتھ میں ہے (اَلَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ)۔
"خلق" و "امر" سے کیا مراد ہے؟
"خلق" و "امر" سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان کافی بحث ہوئی ہے۔ لیکن اس آیت میں جو قرائن ہیں، نیز دیگر آیات کے قرائن اگر نظر کی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ "خلق" سے مراد آفرینش اوّل ہے اور "امر" سے مراد وہ قوانین ونظام ہے جو عالم ہستی پر حکومت کرتا ہے اور جس کی وجہ سے سارا نظام جہانِ چل رہا ہے۔ یہ تعبیر درحقیقت ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا نے اس جہان کو پیدا کرنے کے بعد اپنے حال پر چھوڑدیا اور خود کنارے بیٹھ گیا اور اب وہ کچھ نہیں کررہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عالمِ ہستی اپنی ایجاد میں تو خدا کا محتاج ہے لیکن اپنی بقا میں اسے خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ آیت کہتی ہے: جس وقت کائنات اپنی آفرینش میں اس کی محتاج ہے اسی طرح تدبیر، دوام حیات اور اس کے چلانے میں بھی اس کی ذات سے وابستہ ہے۔ اگر ایک لحظہ کے لئے لطفِ خدا اس کا ساتھ چھوڑدے تو پورا نظامِ عالمِ تباہ وبرباد ہو جائے۔ بعض فلاسفہ کا یہ خیال ہے کہ عالم "خلق" سے عالم "مادہ" اور عالم "امر" سے عالمِ ارواح مقصود ہے کیونکہ عالم خلق تدریجی پہلو رکھتا ہے اور یہ جہان مادّہ کی خصوصیت ہے اور عالم امر فوری ودفعةً پہلو رکھتا ہے اور یہ ماوراء مادّہ کی خصوصیت ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: اِنَّمَا اَمْرُہُ إِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ جب خدا کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ تُو ہوجا! تب وہ ہو جاتی ہے (یٰسین/۸۲) لیکن اگر لفظ "امر" کے قرآن میں مواردِ استعمال پر نظر کی جائے یہاں تک کہ اگر جملہٴ "والشمس والقمر والنجوم مسخرات باٴمرہ" پر نظر کی جائے جو زیر بحث آیت میں ہے، تو اس سے سے معلوم ہوتا ہے کہ "امر" کے معنی ہر طرح کے فرمانِ الٰہی کے ہیں؛ چاہے وہ مادّی دنیا سے متعلق ہو یا ماورائے مادّہ سے۔ (غور کریں) آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے: برکت کرنے والا ہے وہ خدا جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے (تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ) درحقیقت یہ جملہ ارض وسماء، ماہ وخورشید اور ستاروں کی خلقت اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد مقام مقدّسِ الٰہی کی ایک طرح کی ستائش ہے، جو بندوں کو تعلیم دینے کی غرض سے کی گئی ہے۔ "تَبَارَکَ" برکت کے مصدر سے ہے۔ اس کی بھی اصل "برک"(بروزن درک)ہے، جس کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں اور چونکہ اونٹ جب یہ چاہتا ہے کہ کسی جگہ جم کر بیٹھے، اپنا سینہ زمین سے چسپاں کر دیتا ہے۔ اس بناپر اس لفظ کے معنی میں "ثابت رہنا " شامل ہو گیا۔ پھر اس کے بعد جو نعمت بھی پائیدار اور ثابت رہنے والی ہوئی اسے برکت کہا جانے لگا۔ بعد ازاں ہر اس موجود کو جو عمر طولانی رکھتی ہو یا اس کے آثار مستمر ومسلسل ہوں "موجود مبارک" یا "پُربرکت" کہا گیا۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ تالاب کو بھی "برکة" کہتے ہیں یہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ اس میں پانی دیر تک ٹھہرا رہتا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ ایک "پُربرکت" سرمایہ وہ ہے جو جلدی زمال پذیر نہ ہو۔ اسی طرح ایک "مبارک" موجود وہ ہے جس کے فیض کے آثار ایک طولانی مدّت تک برقرار رہیں۔ لہٰذا یہ بات بدیہی ہے کہ اس مفہوم کا بہترین مصداق خداوندعالم کی ذات بابرکت ہے۔ وہ ایک وجود مبارک ازلی وابدی ہے جو تمام برکتوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے جس خیر وبرکت ہمیشہ جاری وساری رہنے والی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 56 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قبولیت دعا کی شرائط
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات سے اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ عبودیّت اور بندگی کا تنہا سزاوار خدا ہے۔ اسی کے ذیل میں یہاں حکم دیتا ہے کہ "دعا ومناجات" جو روحِ عبادت ہے صرف خدا کے سامنے ہونا چاہیے "اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور تنہائی میں پکاروں" (اُدْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً)۔ "تضرع"، اصل میں مادّہٴ "ضرع" (بروزن فرع) بہ معنی پستان سے لیا گیا ہے۔ اس بناپر فعل "تضرع" کے معنی پستان سے دودھ دوہنے کے ہیں۔ چونکہ دودھ دوہتے وقت انگلیاں پستان کی مختلف جہتوں پر پڑتی رہتی ہیں، لہٰذا یہ لفظ اس کے لئے بولا جاتا ہے جو مختلف طریقوں سے کسی بڑے کے سامنے (اس کی خبر لینے کے لئے) خضوع وخشوع اور عجز وفروتنی کا اظہار کرے۔ بنابریں، اگر آیت مذکورہ بالا میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا کو تضرع سے (گڑ گڑا کے) پکارو۔ اس ما مطلب یہ ہے کہ اسے بڑے خضوع وخشوع اور تواضع کے ساتھ پکاروں۔ کیونکہ دعا کی حقیقت یہ نہیں ہے کہ خدا کو صرف زبان سے پکارا جائے بلکہ دعا کے معنی یہ ہیں کہ دعا دل گہرائیوں میں اترکر اوپر جائے۔ بلکہ دعا کرنے والے کے روئیں روئیں میں دعا کا مفہوم اتر جائے اور زبان تمام اعضائے بدن کی نمائندگی میں دعا کے الفاظ کو ادا کرے۔ اس آیت میں یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ خدا کو "خفیہ" طور سے یعنی تنہائی میں پکارو اور اکیلے میں اس سے دعا کرو اس لئے ہے کہ دعا کے وقت ریا نہ آنے پائے اور اخلاص پیدا ہو جائے، دل ودماغ خدا کے حضور میں پوری طرح سے متوجہ ہو جائیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ میں تھے۔ سپاہیانِ اسلام ایک درّہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے "لاالٰہ الّا الله واللهُ اکبر" کا نعرہ بلند کیا۔ اس وقت حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یا ایھا الناس اربعوا علیٰ انفسکم اما انکم لاتدعون اصم ولا غائباً انکم تدعون سمیعاً قریباً انّہ معکم" اے لوگو! کچھ آہستہ سے خدا کو پکارو (آہستگی کے ساتھ دعا کرو) تم کسی بہرے اور غیر حاضر کو تو نہیں پکار رہے ہو تم اس ہستی کو پکار رہے ہو جو بڑا سننے والا اور تم سے قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔[بحوالہ: مجمع البیان، ج۴، ص۴۲۹]۔ اس آیت میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے "تضرع" سے مراد آشکارا طور پر دعا کرنا اور "خفیہ" سے تنہائی میں دعا کرنا مراد ہے۔ کیونکہ ہر مقام کا ایک تقاضا ہوتا ہے۔ کبھی کھل کر اور بلند دُعا کرنا ہوتی ہے اور کبھی چھپ کر اور چپکے چپکے دعا کی جاتی ہے۔ اس آیت کے ذیل میں جوروایت علی بن ابراہیم سے نقل ہوئی ہے وہ اس مطلب کی تائید کرتی ہے۔ آخر آیت میں فرماتا ہے: خدا تجاوز کرنے والوں (حد سے گزرجانے والوں) کو دوست نہیں رکھتا (إِنَّہُ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ)۔ یہ جملہ اپنے دامنمیں ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کے تجاوز پر محیط ہے، چاہے وہ دعا کے وقت چیخنے پکارنے کی بات ہو، یا تظاہر اور ریاکاری کا معاملہ ہو یا ہنگامِ دعا غیر خدا کی طرف توجہ کرنا ہو۔ لفظ "معتدی" ان سب کے بارے میں ہے۔ اس کے بعد آیت میں ایک حکم کی طرف اشارہ ہوا ہے جو فی الحقیقت شرائطِ دعا میں سے ایک شرط ہے۔ فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر فساد نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے (وَلَاتُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِھَا)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا اس وقت خدا کے حضور میں پہنچتی ہے جبکہ اس میں ضروری شرائط کا لحاظ کیا جائے۔ منجملہ ان شرائط کے ایک بات یہ ہے کہ دعا میں حتی المقدور تعمیری پہلو کا لحاظ کیا جائے۔ لوگوں کے حقوق کا پاس ہو اور ایسی دعا کا پرتو اپنے تعمیری پہلو کے ساتھ تمام انسانی وجود کے اوپر ضوفگن ہو۔ بنابریں، کبھی بھی مفسد اور تباہ کار افراد کی دعا درجہٴ اجابت تک نہیں پہنچ سکتی۔ "اصلاح کے بعد فساد" سے ممکن ہے ظلم یا کفر یا دونوں مراد ہوں۔ امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک روایت میں ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "انّ الارض کانت فاسدة فاصلحھا الله بنبیہ" زمین فاسد تھی خدا نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ والہ وسلم کے ذریعے اس کی اصلاح فرمائی۔ [بحوالہ: مجمع البیان، ج۴، ص۴۲۹]۔ بعد ازں دوبارہ مسئلہ دعا کی طرف رجوع کیا گیا ہے اور اس شرائط میں ایک اور شرط کا ذکر کیا گیا۔ فرماتا ہے: خدا کو خوف ورجا کے ساتھ پکارو (وَادْعُوہُ خَوْفًا وَطَمَعًا)۔ نہ تو اپنے اعمال پر ایسا گھمنڈ ہو کہ یہ گمان ہو کہ تمہاری زندگی میں کوئی تاریک گوشہ نہیں ہے۔ ایسا خیال کرنا خود سقوط وانحطاط کا ایک بڑا سبب ہے۔ اور نہ اس طرح سے مایوس ہو جاؤ کہ اپنے اپ کو خدا کی رحمت اور کی قبولیت کا مستحق نہ جانو۔ یہ احساس بھی انسان کو ہر قسم کی کوشش کرنے سے روک دیتا ہے۔ بلکہ "خوف ورجاء" کے دو پردوں کے ذریعہ مقامِ قربِ الٰہی کی طرح محوِ پرواز رہو۔ امید ہو تو اس کی رحمت کی امید ہو اور خوف ہو تو اپنی ذمہ داریوں اور لغزشوں کا خوف ہو۔ اس کے بعد آخر آیت میں رحمتِ خدا کے اسباب کی طرف روشنی ڈالی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: الله کی رحمت نیکوکاروں سے نزدیک ہے (إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِیبٌ مِنَ الْمُحْسِنِینَ)۔ ممکن ہے یہ جملہ دعا کی ایک اور شرط ہو یعنی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری دعا ایک لفظی دعا اور اندر سے خالی نہ ہو تو ایسا کرو کہ اسے اعمالِ نیک کے ساتھ ادا کرو۔ تاکہ ان اعمال کی مدد سے الله رحمت تمہارے شاملِ حال ہو جائے اور تمھاری دعا اجابت کی منزل تک پہنچ جائے۔ اس طرح سے آیہٴ شریفہ میں قبولیت دعا کی پانچ شرطیں بیان کی گئی ہیں: اول: یہ کہ تضرع کے ساتھ تنہائی میں دعا مانگو۔ دوم: یہ کہ حدّ اعتدال سے تجاوز نہ کرو۔ سوم: یہ کہ تمھاری دعا فساد اور تباہ کاری کے ساتھ نہ ہو۔ چہارم: یہ کہ دعا میں خوف وامید کے پہلو برابر کے ہوں۔ پنجم: یہ کہ دعا نیک اعمال کے ہمدوش ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مربی اور قابلیت دونوں چیزوں کی ضرورت ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں مسئلہ "مبداٴ" یعنی توحید کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں اسرارِ جہاں کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے۔ اب اس آیت میں بعض نعماتِ الٰہی بیان کرکے مسئلہ "معاد" کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، تاکہ یہ دونوں بحثیں متقابل طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آئیں۔ یہ قرآن کریم کا ایک طریقہ ہے کہ بہت سے مقامات پر وہ "مبداٴ" اور "معاد" کوایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ خدا نے پہچاننے کے سلسلے میں بھی اور مسئلہ معاد کو جاننے کے لئے بھی دونوں مقامات پر خلقت کائنات کے اسرار کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے جو ہَواؤں کو اپنے بارانِ رحمت کے آگے آگے اس طرح بھیجتا ہے جیسے کوئی خوشخبری سنانے والا آگے آگے دوڑکر کسی مبارک مسافر کے آنے کی خبر دے (وَھُوَ الَّذِی یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ)۔ وہ ہَوائیں جو بحرِ اقیانوس سے اٹھتی ہیں اور بھاری بادلوں کوجو پانی کے ذخیرے سے لدے ہوئے ہوتے ہیں اپنے دوش پر اٹھائے ہوتی ہیں (حَتَّی إِذَا اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا)۔ اور اس موقع پر ہم انہیں مردہ اور خشک زمینوںکی طرف ہنکاتے ہیں اور انہیں سیراب کرنے کی ذمہ داری انہیں دیتے ہیں (سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَیِّتٍ)۔ اور ان کے ذریعے حیات بخش پانی کی چھاگلیں ہر جگہ لٹاتے ہیں (فَاَنزَلْنَا بِہِ الْمَاءَ)۔ اور اس پانی کے ذریعے طرح طرح کے خوش رنگن خوشبو اور خوش مزہ میووں کو اس گلِ تاریک سے آگاتے ہیں (فَاَخْرَجْنَا بِہِ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ)۔ جی ہاں، آفتاب بحرِ اوقیانوس پر چمکتا ہے اور اپنی تمازت سے ان کے بخارات اوپر بھیجتا ہے۔ یہ بخارات اکٹھا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بادل کےدل بادل بن جاتے ہیں۔ پھر ہَواؤں کی موجیں ان بادلوں کے پہاڑوں کو اپنے دوش پر اٹھاکر اُدھر چل پڑتی ہیں جہاں ان کے برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ ان میں کچھ ہلکی پھلکی ہَوائیں جن میں ٹھنڈی رطوبت کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ وہ اس خزانہٴ رحمت کی آمد آمد کا مژدہ سنانے کے لئے نسیمِ جانفزا بن کر آگے آگے چلتی ہیں۔ ان کے دامن سے اس بارانِ حیات بخش کو خوشبو آتی ہے۔ اس کے بعد بادلوں کے عظیم الشان تودے، بارش کے موٹے موٹے قطروں کواپنے سے جدا کرکے زمین کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ وہ قطرے نہ تواتنے موٹے ہوتے ہیں کہ کھیتوں کوویران کر دیں اور زمین کوبالکل دھو ڈالیں اور نہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ فضا ہی میں بھٹک کر رہ جائیں، بلکہ بڑی مناسب مقدار ورفتار کے ساتھ زمین پر اس طرح اترتے ہیں کہ ان کے اندر نفوذ کرجاتے ہیں اور بوئےہوئے دانہ کے ماحول کواس کی نشو ونما کے لئے آمادہ کر دیتے ہیں۔ اب وہ زمین جو اپنی خشکی اور حدّت کی وجہ سے گورستان بنی ہوئی تھی، اس پانی کی وجہ سے ایک لہکتی ہوئی کھیتی یا مہکتے ہوئے باغ کی شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: ہم اسی طرح مُردوں کو زمین سے باہر نکالیں گے (کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتیٰ)۔ ہم نے اس مثال کو اس لئے بیان کیا کہ روزِ معاد کا نمونہ تمہیں دکھلادیں جو تمام سال باربار تمھاری آنکھوں کے سامنے گزرتے رہتے ہیں تاکہ تم (آخرت کو) یاد کرو (لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔[ اس سلسلہ میں مزیدتوضیح کے لئے کتاب "معاد وجہان پس از مرگ" کا مطالعہ فرمائیں جس میں مختلف آیات کے ذیل میں زندہ مثالیں دے کر مسئلہ معاد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔] ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ چونکہ بارش غالباً ایک جیسی اور ایک حالت میں سب جگہ برستی ہے اس لئے تمام زمینیں یکساں طور پر زندہ ہو سکتی ہیں۔ اس کا جواب آنے والی آیت میں دیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ زمینوں کی صلاحیت کا مختلف ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ زمینیں اپنی اپنی استعداد کے مطابق فیضانِ الٰہی سے استفادہ کریں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: شیریں اور پاکیزہ زمین پُربرکت اور فائدہ بخش نباتات کو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر نکالتی ہے (وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ)۔ لیکن جو زمینیں شورہ زدہ، خبیث وخراب ہیں ان میں سوائے ناچیز اور کم قیمت گھاس پھونس کے کچھ نہ اُگے گا (وَالَّذِی خَبُثَ لَایَخْرُجُ إِلاَّ نَکِدًا)۔ [توضیح: "نکد" کے معنی بخیل آدمی کے ہیں جو کسی کو کوئی چیز آسانی سے نہ دے اور اگر کبھی بھولے سے کوئی چیز دے بھی دے تو نہایت کم مقدار اور کم قیمت ہو۔ آیہٴ مذکورہ میں شور زدہ زمین کو ایسے آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے۔] اسی طرح بروزِ محشر جی اٹھنے کا حکم اگرچہ سب کو یکساں ملے گا۔ لیکن تمام انسان یکساں اور ایک مرتبہ واردِ محشر نہ ہوں گے۔ لوگ بھی صحیح وسالم اور شور زمین کی طرح متفاوت اور مختلف ہیں۔ یہ تفاوت ان کے عقائد، نیتوں اور اعمال کے لحاظ سے ہے آیت کے آخر میں ارشادہوتا ہے: ان آیتوں کو ہم ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جوشکر بجالانے والے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور راہِ ہدایت پر قدم بڑھاتے ہیں (کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ)۔ مذکورہ آیت سے درحقیقت ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا ظہور اس دنیا، نیز دنیائے آخرت میں دونوں جگہ ہے اور وہ یہ ہے کہ صرف کسی فاعل کی "فاعلیت" کسی چیز کے باثمر ہونے کے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ استعداد اور "قابلیّت ِقابل" بھی ضروری ہے۔ بارش کے قطروں سے حیات بخش تر اور لطیف تر کوئی شے متصور نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہی آبِ باراں جس کی لطافتِ طبع میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا، ایک جگہ تو سبزہ اُگاتا ہے تودوسری جگہ اس کی وجہ سے صرف خس وخاشاک نمودار ہوتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت نوح (علیه السلام) پہلے اولوالعزم پیغمبر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے آغاز میں بیان کیا کہ خداوندعالم نے شروع میں بعض بنیادی مسائل جیسے خدا شناسی، معاد، ہدایت بشری اور احساسِ مسئولیت بیان کرنے کے بعد کچھ بڑے پیغمبروں جیسے نوحؑ، ہودؑ، صالحؑ، لوطؑ، شعیبؑ اور آخر میں موسیٰ بن عمرانؑ کا تذکرہ ہے۔ تاکہ ان بحثوں کے زندہ اور عملی نمونوں کوان کی ولولہ اور سبق آموز سیرتوں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت نوحؑ کی سرگذشت بیان کی گئی ہے۔ جو گفتگو ان کے اور ان کی سرکش، بُت پرست اور شریر قوم کے درمیان ہوئی تھی، اسے نقل کیا گیا ہے۔ حضرت نوحؑ کا قصّہ قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے جیسے سورہٴ ہود، سورہٴ انبیاء، سورہٴ مومنون، سورہٴ شعراء، نیز قران میں ایک چھوٹا سورہ بنام "نوح' بھی ہے جو قران کا ۷۱واں سورہ ہے۔ اس جلیل القدر پیغمبرِ خدا کے مفصل حالات کشتی کا بنانا، وحشتناک طوفان کی سرگذشت اور خود خواہ، فاسد اور بُت پرست لوگوں کا اس طوفان میں غرق ہونا مذکورہ سورتوں میں انشاء الله سپرد قلم کیا جائے گا۔ان چھ آیتوں میں ان تمام واقعات کو صرف فہرست وار بیان کرنا مقصود ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوحًا إِلیٰ قَوْمِہِ)۔ سب سے پہلی چیز جوحضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو یاد دلائی وہی توحید اور ہر قسم کی بت پرستی سے نہی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! خدا کی پرستش کرو کہ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے (فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)۔ توحید کا نعرہ نہ صرف حضرت نوحؑ کا پہلا نعرہ تھا،بلکہ جتنے بھی انبیاء آئے سب نے سب سے پہلے لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی۔ بنابریں اس سورہ کی متعدد آیات نیز دیگر قرآنی سورتوں میں بہت سے پیغمبروں کی دعوت کے آغاز میں یہی جملہ ملتا ہے: یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ(اس سورہ کی آیات ۶۵، ۷۳، ۸۵ ملاحظہ فرمائیں)۔ اس جملے سے اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہوتا ہے بُت پرستی انسان کی سعادت کے راستے میں ایک زبردست خار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے گلزارِ توحید کے تمام باغبان (انبیاء) استعداد بشری کی سرزمین پر طرح طرح کے پھول اور درخت لگانے سے پہلے اپنی کمر ہمت کو اس اہم کام کے لئے باندھتے تھے کہ ان شرک وبت پرستی کے خاروں کو صاف کر دیں۔ خاص طور سے سورہٴ نوح کی آیت ۲۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوحؑ کے زمانے میں لوگ متعدد بتوں کی پرستش کرتے تھے جن کا نام "ودد"، "صواع"، "یغوث" اور "نسر" تھا۔ ان سب کی تفصی انشاء آئندہ پیش کی جائے گی۔ حضرت نوحؑ نے ان کی فطرتِ خوابیدہ کو بیدار کرنے کے بعد انہیں بُت پرستی کے انجام بد سے خبردار کیا اور فرمایا: میں تمہارے اوپر روزِ عظیم کے عذاب سے درتا ہوں (إِنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ)۔ عظیم دن کے عذاب سے ممکن ہے کہ وہی طوفانِ نوح مراد ہو جس سے کمتر عذاب وسزا نہیں دیکھی گئی۔ نیز ممکن ہے کہ اس سے مراد عذاب روزِ قیامت ہو کیونکہ قرآن کریم میں یہ تعبیریں دونوں معنوں میں استعمال ہوئی ہے، سورہٴ شعراء کی آیت ۱۸۹ میں ہے: فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّہُ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ یہ آیت اس عذاب کے تذکرہ میں ہے جو قوم شعیب پر ان کی تباہ کاریوں کے نتیجہ میں اسی دنیا میں نازل ہوا تھا۔ پھر سورہٴ مطففین کی آیت۴،۵ میں ہے: اَلَایَظُنُّ اُولَئِکَ اَنَّھُمْ مَبْعُوثُونَ لِیَوْمٍ عَظِیمٍ آیا ان کو اس بات کا گمان نہیں ہے کہ وہ روزِ عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ (۔ زیرِ نظر آیت میں کلمہٴ عظیم، "یوم" کی صفت ہے نہ کہ "عذاب" کی) مسئلہ شرک کے بعد لفظ "اخاف" (مجھے ڈر ہے کہ اس سزا میں گرفتار نہ ہو جاؤ) کے ساتھ تعبیر کرنا شاید اس وجہ سے ہو کہ حضرت نوح علیہ السلام ان سے یہ کہتے ہیں کہ اگر تمہیں شرک کرنے کی پاداش میں ایسی سزا کا یقین نہ بھی ہو تو کم از کم اس کا خوف تو کرو کیونکہ عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ جس راستے میں ایسے زبردست خطرےکا احتمال بھی ہو وہ راستہ اختیار کیا جائے۔ لیکن قومِ نوح بجائے اس کے کہ اس عظیم پیغمبر کی اصلاحی دعوت کوقبول کرتی جو ہر طرح سے ان کی خیرخواہی پر مشتمل تھی اور آئینِ توحید کوجان ودل سے مان لیتی، ظلم وستم سے اپنا ہاتھ اٹھا لیتی۔ اس کے برعکس ان کی قوم کے سرداروں اور ثروت مندوں نے جب لوگوں کی بیداری کی وجہ سے اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھا اور نوحؑ کے مذہب کو اپنی عیاشیوں اور ہوس رانیوں کے سدِراہ پایا تو ان کے جواب میں صاف صاف یہ کہہ دیا: کہ ہم تو تجھے گمراہی میں دیکھتے ہیں (قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ)۔ "ملاء" عام طور سے اس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے لئے ایک مخصوص خیال اور عقیدہ اختیار کرتا ہے اور اس کی جھة بندی اور شکوہ ظاہری آنکھوں کو پُر کر دیتی ہے۔ کیونکہ اس کا لفظ مصدر "ملاءٌ" ہے اور اس کے معنی پُر کرنے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ غالباً انسانوں کے اس گروہ کے لئے استعمال ہوا ہے جو خود پرست ہو، ظاہری طور سے مہذب ہو لیکن اندر سے گندہ ہو اور محیط کے مختلف زاویوں کو اپنے وجود سے پُر کرنے والا ہو۔ حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کے سخت اور توہین آمیز رویّہ کے جواب میں نہایت متانت اور حبّت کے ساتھ کہا: میں نہ صرف یہ کہ گمراہ نہیں ہوں بلکہ گمراہی کی کوئی نشانی بھی مجھ میں نہیں پائی جاتی۔ بلکہ میں پروردگارعالم کا بھیجا ہوا رسول ہوں (قَالَ یَاقَوْمِ لَیْسَ بِی ضَلَالَةٌ وَلَکِنِّی رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مختلف خدا جو تم مانتے ہو اور ان کی الگ الگ حکومتیں تم نے بنارکھی ہیں جیسے سمندروں کا خدا، آسمانوں کا خدا، صلح اور جنگ کا خدا وغیرہ وغیرہ یہ سب بے بنیاد باتیں اور خرافات ہیں۔ حقیقی پروردگار اور سارے جہانوں کا رب صرف وہ خدائے یگانہ وتوانا ہے جو ان سب کا خالق وصانع ہے۔ (حضرت نوحؑ نے کہا:) میری غرض تو صرف یہ ہے کہ میں اپنے پروردگار کے پیغام اور اس کے فرامین تم تک پہنچادوں (اُبَلِّغُکُمْ رِسَالَاتِ رَبِّی)۔ "اور اس راہ میں، میں کسی قسم کی خیرخواہی کو تم سے نہ روکوں" (وَاَنصَحُ لَکُمْ)۔ "انصح" مادّہٴ "نصح" (بروزن قفل) سے ہے جس کے معنی خلوص کے ہیں۔ اسی بنا پر "ناصح العسل" کے معنی خالص شہد کے ہیں۔ بعد میں یہ لفظ اس گفتگو کے لئے استعمال ہونے لگا جس میں خلوص ہی خلوص ہو۔ کسی قسم کی غرض اور فریب کاری نہ ہو۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے: میں خدا کی جانب سے ان چیزوں کو جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (وَاَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ)۔ ممکن ہے یہ جملہ ان لوگوں کی مخالفتوں اور روگردانیوں کے مقابلے میں تہدید کا پہلو لئے ہوئے ہو، یعنی مجھے الله کی طرف سے ایسی دردناک سزاؤں اور خوفناک عذابوں کا علم ہے جن کا علم تم کو نہیں ہے۔ یا ہو سکتا ہے اس سے خداوندکریم کے لطف وکرم کی طرف اشارہ مقصود ہو یعنی اگر تم توبہ کرلو اور الله کی طرف پلٹ آؤ تو مجھے اس کے لئے انعاموں اور ثوابوں کا علم ہے جس کی تم کو خبر نہیں ہے۔ یا پھر ممکن ہے مراد یہ ہو کہ میں الله کی طرف سے تمھاری ہدایت کا منصب لےکر آیا ہوں تو میں خدا کے بارے میں اور ا س کے فرامین وقوانین کے بارے میں ایسی چیزیں جانتا ہوں جنھیں تم نہیں جانتے۔ اس بنا پر میری پیروی تم پر لازم ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب باتیں اس جملے میں مضمر ہوں۔ اس کے بعد والی آیت میں حضرت نوحؑ کی ایک گفتگو ملتی ہے جو اُن کی قوم کے اس تعجب کے جواب میں ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان حاملِ رسالت الٰہی بن جائے۔ اس پر حضرت نوحؑ نے کہا: آیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ کوئی انسان رسالتِ پروردگار کے پہنچانے پر مامور ہو اور الله کی طرف سے بیدار کرنے والے فرامین اس پر نازل ہوں تاکہ وہ تمہیں تمہارے بُرے انجام سے ڈرائے اور پرہیزگاری کے طور طریقے کی طرف دعوت دے تاکہ تم رحمتِ الٰہی کے مستحق بن جاؤ (اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَائَکُمْ ذِکْرٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَلیٰ رَجُلٍ مِنْکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ)۔ یعنی اس بات میں کونسا تعجب ہے؟ کیونکہ ایک لائق وسائشتہ انسان میں ہر موجود سے زیادہ اس بات کی صلاحیت موجود ہے کہ وہ الله کی رسالت کا حامل بن جائے۔ علاوہ بریں یہ کہ انسان ہی انسانوں کا رہبر بن سکتا ہے نہ کہ جن اور فرشتے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ ایسے ہمدرد اور خیرخواہ رہبر کی بات دل سے پسند کرتے الٹا انہوں نے اس کی بات کی تکذیب کی اور اس کی دعوت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔ بلکہ ہوا یہ کہ جتنا بھی حضرت نوحؑ زیادہ تبلیغ کرتے جاتے تھے، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی بڑھتی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہوئی کہ خدا نے صرف حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھیوں کو جو کشتی میں سوار تھے نجات دے دی اور جو بھی اس کی آیتوں کو جھٹلائے والے تھے انہیں ڈبوکر غرق کر دیا (فَکَذَّبُوہُ فَاَنجَیْنَاہُ وَالَّذِینَ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ اس آیت کے آخر میں اس سخت سزا کی دلیل اس طرح بیان فرمائی گئی ہے: وہ لوگ ایک اندھا گروہ تھے۔ یعنی ایسے لوگ تھے جو کور دل اور کور باطن تھے اور حقیقت کا چہرہ دیکھنے سے محروم ہو گئے تھے (إِنَّھُمْ کَانُوا قَوْمًا عَمِینَ)("عمین" جمع ہے ’عمیٌ" (بروزن دلوٌ) کی یہ بالعموم اسے کہتے ہیں جس کی بصیرت اور چشم باطن ختم ہو گئی ہو۔ لیکن "اعمیٰ" اسے بھی کہتے ہیں جس کی ظاہری آنکھیں ختم ہو گئی ہوں اور اسے بھی جس کی باطنی بینائی ختم ہو گئی ہو (یہ بھی توجہ رہے کہ لفظ "عمی" پر اگر اعراب آجائے تو "عم" رہ جاتا ہے۔) ان کی یہ کور دلی اور ان کے اعمالِ شوم اور پیہم ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھی۔ کیونکہ تجربہ یہ کہتا ہے کہ اگر انسان ایک طویل مدت تاریکی میں رہے یا کسی وجہ سے اپنی آنکھیں بند رکھے اور روشنی کی جانب نگاہ کرنے سے اجتناب کرے تو وہ تدریجاً اپنی بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ یہی حال دیگر اعضائے بدن کا ہے۔اگر وہ ایک بڑی مدت تک کام نہ کریں تو وہ خشک ہوکر ہمیشہ کے لئے بیکار ہوجائیں گے۔ انسان کی باطنی نگاہ بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ حقائق سے مسلسل چشم پوشی کرتے رہنا اور عقل وخرد سے کام نہ لینا اور واقعات وحقائق سے عقل کو الگ رکھنا تدریجی طور سے عقل کی تیز بین نگاہ کو ضعیف سے ضعیف تر کر دیتا ہے یہاں تک کہ آخر میں یہ نگاہِ عقل بھی بالکل اندھی ہوجاتی ہے۔ حضرت نوحؑ اور ان کی قوم کی باقی سرگذشت ان سورتوں میں جن کا پچھلے صفحات میں ذکر ہوا ہے انشاء الله آئندہ تفصیل کے ساتھ بیان کی جائے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 72 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قوم ہود کی سرگذشت کا ایک گوشہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1حضرت نوح ؑ کی رسالت کی سرگذشت اور جو عبرت وحکمت کے درس اس میں موجود تھے انہیں بیان کرنے کے بعد ایک اور نبی یعنی حضرت ہود ؑ کی سرگذشت بیان کی جاتی ہے۔ یہ قصہ قرآن مجید کی دیگر سورتوں میں بھی ذرا تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جیسے سورہ "شعراء" یا خود "سورہٴ ہود" زیر بحث آیات میں صرف حضرت ہود ؑ اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو اور مباحثہ ہوا ہے، اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا(و إِلیٰ عَادٍ اَخَاھُمْ ھُودًا)۔ قوم عاد کے لوگ سرزمین "یمن" میں زندگی بسر کرتے تھے۔ جسمانی حیثیت سے اور ثروت کے اعتبار سے جو انہیں زراعت اور غلہ داری کے ذریعہ حاصل ہوتی تھی وہ ایک قوی اور خوشحال قوم تھے۔ لیکن عقیدے کی رو سے بہت پسماندہ تھے۔ "ہود" اسی قوم کے ایک فرد تھے اور ان لوگوں سے قرابت بھی رکھتے تھے۔ انہیں اللہ کی طرف سے حکم ملا کہ اپنی قوم کی ہدایت کریں اور انہیں تباہی سے بچائیں، عذاب الٰہی سے ڈرائیں اور جو فساد ان میں پھیلا ہوا ہے اس سے نبرد آزما ہوں۔ شاید "اخاھم" (ان کے بھائی) سے اسی قرابتداری کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ہود ؑ اور ان کی قوم کے درمیان تھی۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ "بھائی " جو اس سورة میں حضرت ہود ؑ کے لئے استعمال ہوا اوربعض دیگر انبیا کے لئے بھی دوسری سورتوں میں استعمال ہوا ہے؛ جیسے حضرت نوح ؑ کے لئے (شعراء:۱۰۶میں)حضرت صالح ؑ کے لئے (شعراء:۱۴۲میں) حضرت لوطؑکے لئے (شعرء : ۱۶۱ میں ) اور حضرت شعیبؑ کے لئے (اعراف:۸۵میں ) یہ اس وجہ سے ہے کہ ان انبیا نے بڑی جانسوزی، ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ ایک بھائی کی طرح قوم میں تبلیغ کی اور انہیں ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی۔ یہ تعبیر ان لوگوں کے لئے استعمال کی جاتی جو کسی سمجھانے کے لئے بڑی کوشش اور کدوکاوش کرتے ہیں۔علاوہ برایں اس تعبیر میں ایک طرح کی برابری اور مساوات بھی ہے اور تفوق اور امتیازاور ریاست طلبی کی نفی بھی۔ مقصد یہ ہے کہ یہ حضرات اپنی دعوت میں کوئی دنیاوی غرض نہیں رکھتے تھے اور نہ کوئی ریاست وحکومت چاہتے تھے ؛ بلکہ ان کی انتہائی غرض یہ تھی کہ اپنی اپنی قوموں کو بدبختی وتباہی کے گرداب سے نجات دلا دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ "اخاھم" سے دینی اور مذہبی برادری مقصود نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ قومیں عام طور سے مشرک تھیں اور انبیائے الٰہی کی بار بار کی کوششوں کے باوجود انہوں نے مذہب حق کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت "ہودؑ" نے اپنے دعوت کو مسئلہ توحید، رسم ورواج،شرک وبت پرستی سے اپنی بیزاری کے ساتھ شروع کیا۔ اور ان سے کہ کہا کہ اے میری قوم! خدائے یگانہ کی پرستش کرو کیوں کہ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ آیا تم پرہیزگاری اختیار نہیں کرو گے (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ اَفَلَاتَتَّقُونَ)۔ لیکن اس خود خواہ اور متکبر گروہ نے، خاص کر ان میں سے مالدار لوگوں میں جنھیں خدا نے "ملاء" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ ہود ؑ سے وہی کچھ کہا جو قوم نوح نے حضرت نوح ؑ سے کہا تھا، بلکہ نادانی اور حماقت کی نسبت ان کی طرف دی "انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں نادانی میں دیکھتے ہیں اور ہمیں گمان یہ ہے کہ تم جھوٹوں میں سے ایک شخص ہو(یعنی جہاں اور لوگ جھوٹ بولتے تم بھی بولتے ہو) "(قَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِی سَفَاھَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِینَ)۔ "سفاہت" اور "نادانی" ان کے خیال کے مطابق یہ تھی کہ انسان اپنے ماحول اور اکثریت کے رسم وروج کے برخلاف صدائے احتجاج بلند چاہے وہ رسم ورواج کیسے ہی غلط اور جاہلانہ کیوں نہ ہوں؛ یہاں تک کہ اپنی جان خطرہ میں ڈال دے۔ ان کی منطق کی بنا پر حضرت ہود ؑ کی نادانی یہ تھی کہ کوئی انسان اپنے ماحول کے ساتھ نہ گھل مل سکے اور ابن الوقتی سے کام نہ لے اور پرانے طور طریقوں کو توڑنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور اس وجہ سے ہر طرح کی پریشانیوں اور جنجال کو مفت میں بیٹھے بٹھائے خرید لے۔ لیکن حضرت ؑ نے اپنے اس مخصوص سکون ووقار کے ساتھ جو ہر پاک وبرحق نبی کا شیوہ ہے بغیر کسی غصہ، دلتنگی اور مایوسی کے، ان سے کہا: اے قوم! میرے اندر کسی قسم کی نادانی نہیں پائی جاتی۔ میری گفتار ورفتار میرے سلامتی ہوش وحواس کی تین دلیل ہیں۔ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا فرستادہ ہوں،(قَالَ یَاقَوْمِ لَیْسَ بِی سَفَاھَةٌ وَلَکِنِّی رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ حضرت ہود ؑ نے اپنے کلام میں اس بات کا بھی اضافہ کیا :مجھ پر اللہ کی طرف سے یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ اپنے رب کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادوں اور ان احکام کو بھی تم تک پہنچادوں جو تمھاری سعادت کے ضامن اور تمہیں شرک وفساد سے نجات دینے والے ہیں اور وہ بھی انتہائی خلوص،ہمدردی اور امانت کے ساتھ(اُبَلِّغُکُمْ رِسَالَاتِ رَبِّی وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِینٌ)۔ اس کے بعد حضرت ہود ؑ ان لوگوں کے سامنے جو اس بات پر متعجب تھے کہ خدا نے خود ان لوگوں میں سے ایک اپنا رسول کیسے بھیج دیا۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ بات حضرت نوح ؑ نے بھی اپنی قوم سے کہی تھی کہ: آیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ پروردگار کی جانب سے ایک ایسے شخص پر وحی ہوئی ہے جو تم میں سے ہے تاکہ وہ اس عذاب سے تم کو ڈرائے جو تمہارے اعمال بد کی وجہ سے تم کو درپیش ہے؟ (اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَائَکُمْ ذِکْرٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَلیٰ رَجُلٍ مِنْکُمْ لِیُنذِرَکُمْ)۔ اس کے بعد ان کے سوئے ہوئے جذبات کو بیدار کرنے کے لئے اور ان کی روح کے اندر احساس شکر گزاری کو برانگیختہ کرنے کے لئے خدا کی بعض نعمتوں کی یاد دہانی کرواتے ہیں:اس بات کو دھیان میں لاؤ کہ خدا وند کریم نے تمہیں قوم نوح ؑ کا جانشین بنایا اور جب وہ لوگ اپنی سرکشی کے باعث برباد ہو گئے ان کی تمام وسیع زمینوں کا مالک ووارث تمہیں بنادیا، ایسی زمینیں جو طرح طرح کی نعمتوں سے مالامال تھیں۔ (وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ)۔ اس کے علاوہ تم کو غیر معمولی قوت جسمانی عطا کی (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَةً)۔ یہ جملہ "وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَة" (تم کو خلقت کے لحاظ سے وسعت عطا کی ) جیسا کہ ہم سابقہ کہا ممکن ہے، اس سے قوم عاد کی جسمانی قوت کی طرف اشارہ مقصود ہو۔ کیوں کہ قرآن کی مختلف آیات اور تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مضبوط ہڈیوں والے قوی ہیکل لوگ تھے۔ چنانچہ سورہ "حم السجدہ" کی آیت ۱۵ میں ہے: "مَن اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً" ہم سے کون زیادہ قوی ہے۔ اور سورہٴ حاقہ میں آیت ۷ میں ان کی اس سزا کے بارے میں ہے جو ان کے اعمال کے نتیجہ میں ان کو دی گئی: فَتَرَی الْقَوْمَ فِیھَا صَرْعیٰ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ تم قوم عاد کو دیکھتے کہ وہ لوگ طوفان ہوا کے نتیجے میں اس طرح زمین پر پڑے ہوئے تھے گویا درخت خرما کے تنے کٹے پڑے ہیں۔ نیز ممکن ہے کہ اس (بصطة) سے ان کی افزائش ثروت، مالی قدرت، ان کا ظاہری ترقی یافتہ تمدن مراد ہو۔ جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات اور تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن پہلا احتمال ظاہر آیت سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آخر میں حضرت ہود ؑ اپنی خود غرض قوم سے فرماتے ہیں کہ: خدا کی طرح طرح کی نعمتوں کا دھیان میں لاؤ تاکہ تمھارا احساس شکر گزاری بیدار ہو اور اس کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرکے نجات پاجاؤ(فَاذْکُرُوا آلَاءَ اللهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ)۔ لیکن حضرت ہود ؑکی ان تمام نصیحتوں، ہدایتوں اور یاددہانیوں سے انہوں نے کوئی اثر نہ لیا؛ بلکہ اپنے مادی مفادات کو خطرہ میں پڑتا دیکھ کر الٹا مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور انہوں کھلم کھلا یہ اعلان کر دیا کہ :کیا تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں خدائے یگانی کی طرف دعوت دو اور ان تمام معبودوں کو ہم چھوڑ دیں جن کی ہمارے آباء و اجداد سالہا سال سے پرستش کرتے چلے آئیں ہیں او ر ان کی عظمت کا سکہ ہمارے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے؟! ایسا ہرگز نہ ہو گا(قَالُوا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللهَ وَحْدَہُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا)۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ان کے افکار کی سطح اس قدر گری ہوئی تھی کہ وہ خدائے وحدہ لاشریک کی پرستش سے سخت ہراساں تھے اور جدا جدا اور متعدد خداؤں کی پرستش کو اپنا سرمایہ افتخار خیال کرتے تھے۔ لطیفہ یہ کہ ان کی ساری دلیل اپنے اس خلاف عقل فعل پر صرف یہی تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کو ایسا کرتے دیکھ چکے ہیں، ورنہ ان کے پاس اور کونسی معقول دلیل ہو سکتی تھی جس کی بنا پر وہ چند پتھر یا لکڑی کے ٹکڑوں کی تعظیم کرنے کی توجیہ کر سکیں۔ حضرت ہود ؑ کی امید کو کلی طور سے اپنے قطع کرنے کے لئے حرف آخر کے طور پر انہوں نے یہ کہہ دیا کہ :"اگر تم واقعاً سچ کہتے ہو اور اس عذاب کی کچھ حقیقت ہے جس سے تم ڈراتے رہے ہو تو جتنا بھی جلدی تم سے ہو سکے یہ عذاب ہماری طرف لے آؤاور ہم کو بالکل نیست ونابود کردو"(یعنی ہم کو تمھاری ان دھمکیوں کا ذرہ برابر خیال نہیں ہے) (فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ)۔ جب بات یہاں تک پہنچی کہ انھون نے اپنی آخری بات بھی کہہ دی جو اس بات کی علامت تھی کہ انہوں نے ہدایت قبول کرنے سے قطعاً اعراض کر لیا ہے حضرت ہود ؑ بھی ان کی ہدایت سے مایوس ہو گئے تو حضرت ہود ؑ نے کہا کہ اچھا جب ایسا ہے تو جان لو عذاب الٰہی اور غضب خدا یقینی طور پر تمہارے اوپر نازل ہو گا(قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ )۔ "رجس" کے معنی درحقیقت ہر ناپاک چیز کے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس لفظ کے مصدر "ر ج س" کے معنی زیادہ وسیع ہیں۔ یعنی "ہر وہ چیز جو لوگوں کی دوری اور نفرت کا سبب بنے" لہٰذا ہر طرح کی ناپاکی نجاست اور سزا کو "رجس" کہتے ہیں۔ کیوں کہ یہ سب امور انسان کی دوری اور نفرت کا سبب بنتے ہیں۔ ہر صورت یہ لفظ آیت مذکورہ میں ممکن ہے سزائے الٰہی اور عذاب الٰہی کے معنی میں مستعمل ہو۔ اس کا ذکر لفظ "قد وقع" (ماضی کے صیغہ ) کے ساتھ اس لئے ہے کہ یقینی طور پر تم عذاب کے مستحق ہو گئے ہو۔ اب یہ عذاب تمہیں دامنگیر ضرور ہو گا۔ نیز ممکن ہے "رجس" روح کی پلیدی اور آلائش کے معنی میں ہو۔ یعنی تم گمراہی اور فساد کے گرداب میں اس قدر غرق ہو گئے ہو کہ تمھاری روح طرح طرح کی آلائشوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے؟اس بنا پر خدا کے عذاب کے مستحق بن گئے ہو۔ اس کے بعد ایک جملے کا اور اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بتوں کے بارے میں ان کی منطق بغیر جواب کے نہ رہ جائے۔وہ جملہ یہ ہے:کیا تم ان چیزوں کے بارے میں جن کا صرف نام ہی خدا ہے اور یہ نام تمہارے بزرگوں نے ان کے لئے گھڑا ہے۔ اور وہ جھوٹ موٹ کچھ خاصیتیں اور کرامتیں ان سے منسوب کرتے چلے آئے ہیں، مجھ سے جھگڑا کرتے ہو، جب کہ خدا کی جانب سے ان کی حمایت میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوئی ہے- (اَتُجَادِلُونَنِی فِی اَسْمَاءٍ سَمَّیْتُمُوھَا اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا نَزَّلَ اللهُ بِھَا مِنْ سُلْطَانٍ)۔ واقعہ یہ ہے تمہارے بت صرف الوہیت کا اسم بدون مسمیٰ رکھتے ہیں۔ اسم بھی وہ جو تمھارا اور تمہارے بزرگوں کا ساختہ پرداختہ اور خیال خام ہے؛ ورنہ یہ لکڑی کے کچھ ٹکڑے جنگل کے دیگر ٹکڑوں سے مختلف نہیں ہیں۔ اس کے بعد کہا: اب جب کہ ایسا ہے تو پھر تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔ تم یہ انتظار کرو کہ آنے والی مصیبت میں یہ بت تمھاری مدد کریں گے اور میں اس انتظار میں رہوں گا کہ خدا کا دردناک عذاب تمہارے اوپر نازل ہو۔ آئندہ پتہ چلے گا کہ ان دونوں انتظاروں میں کونسا انتظار حقیقت سے نزدیک تھا(فَانتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُنتَظِرِینَ)۔ زیر بحث آیت کے آخر میں اس ضدی اور ہٹ دھرم قوم کا انجام مختصر لفظوں میں اس طرح بیان ہوا ہے : ہم نے حضرت ہود ؑ کو اور جو لوگ ان کے ہمراہ تھے ان کو اپنے لطف ورحمت کے ذریعے نجات دے دی اور ان لوگوں کی بیخ کنی کر دی جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور آمادہ نہ ہوئے کہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ہم نے ان کو تہس نہس کر دیا(فَاَنجَیْنَاہُ وَالَّذِینَ مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَمَا کَانُوا مُؤْمِنِینَ)۔ "دابر" لغت میں در اصل ہر چیز کے اختتام اور آخری حصے کو کہتے ہیں۔ بنا بریں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے اس قوم کو آخر تک نابود کر دیا اور ان کی جڑ تک کو اکھاڑ پھینکا۔ (قوم "عاد"کا بقیہ قصہ،ان کی خصوصیات زندگی اور عادتیں،ان پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت انشا اللہ آنے والے صفحات میں سورة "ہود" کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ پیش کی جائے گی)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 79 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قوم ثمود کی عبرت انگیز سرگذشت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں خدا کے بزرگ پیغمبر حضرت صالح ؑکے اس جہاد کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم ثمود کے خلاف کیا۔ قوم ثمود شام اور حجاز کے درمیان ایک کوہستانی علاقے میں رہتی تھی۔ اس سلسلے میں قرآن میں جو عبرت انگیز واقعات نوح ؑ اور ہود ؑ کی قوموں کے متعلق بیان کئے ہیں ان آیات میں بھی انہی کا تذکرہ ہوا ہے اور حضرت صالحؑ کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ ہائے "ہود"، "شعراء"، "قمر" اور "شمس" میں بھی اس سرگذشت کا ذکر ہے۔ لیکن سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورہٴ ہود میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔ ان آیات میں حضرت صالحؑ اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی ہے اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے"ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا(وَإِلیٰ ثَمُودَ اَخَاھُمْ صَالِحًا )۔ ان پیغمبروں کو بھائی کیوں کہا گیا؟ اس کی وجہ اسی سورہ کی آیت ۶۵ میں ہم حضرت ہود ؑ کے واقعے میں بیان کر آئے ہیں۔ اس قوم کے پیغمبر حضرت صالحؑ نے بھی دیگر پیغمبروں کی طرح اپنی قوم کے اصلاح کے لئے پہلا قدم مسئلہ توحید اور یکتا پرستی سے اٹھایا اور ان سے کہا: اے میری قوم ! خدائے یگانہ کی پرستش کرو کیوں کہ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)۔ اس کے بعد اس جملے کا اضافہ فرمایا کہ میں بغیر کسی دلیل کے کوئی بات نہیں کہتا۔ بینہ اور روشن دلیل تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے لئے آچکی ہے اور یہ وہی اونٹنی ہے جس کو خدا نے تمہارے لئے معجزہ قرار دیا ہے (قَدْ جَائَتْکُمْ بَیِّنَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ ھٰذِہِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً)۔ "ناقہ" کے اصلی معنی لغت میں اونٹنی کے ہیں۔ قرآن میں سات جگہ ناقہ صالح کا ذکر آیاہے۔(علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں فرما یا ہے : ناقہ دراصل ہر اس چیز کو کہتے ہین جو خدمت کے لئے مطیع اور آمادہ ہو۔ اس کا اطلاق شتر مادہ پر شاید اسی وجہ سے ہوتا کہ یہ بہ نشبت نر اونٹ کے بہتر طور سے سواری کا کام دیتی ہے۔) یہ اونٹنی کیسی تھی؟ اور کس طرح اللہ نے اسے قوم صالح ؑ کے لئے معجزہ اور دندان شکن دلیل قرار دیا ؟ ان تمام باتوں کی تفصیل انشاء اللہ ہم سورہٴ ہود کی تفسیر میں پیش کریں گے۔ ضمنی طور سے یہ وضاحت بھی کر دینا چاہئے کہ ناقہ کی اضافت اللہ کی طرف "اضافت تشریعی " ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ یہ اونٹنی کوئی معمولی اونٹنی نہ تھی، بلکہ اس میں امتیاز پایا جاتا تھا۔ بعد ازاں اُن سے فرمایا: اس ناقہ کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا، اس کو خدا کی زمین میں چرنے دینا اوراسے اذیت نہ دینا ورنہ دردناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے (فَذَرُوھَا تَاْکُلْ فِی اَرْضِ اللهِ وَلَاتَمَسُّوھَا بِسُوءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیمٌ)۔ "ارض" پر لفظ "اللہ" کا اضافہ اس وجہ سے ہے کہ یہ اونٹنی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے کیوں کہ اس کی غذا جنگل کی گھاس پھوس ہے، لہٰذا تم اسے کیوں نقصان پہنچاؤ۔ اس کے بعد والی آیت میں فرما یا گیا ہے: یہ دھیان میں رہے کہ خدا نے قوم "عاد" کے بعد تمہیں ان کا جانشین اور خلیفہ قرار دیا ہے اور زمین میں تمہیں جگہ دی ہے۔ یعنی ایک طرف تو تم کو اللہ کی نعمتوں کا خیال رہنا چاہئے۔دوسرے یہ بھی یاد رہے کہ تم سے پہلے جو قوم تھی وہ اپنی سرکشی اور طغیان کے باعث عذاب الٰہی سے تباہ وبرباد ہوچکی ہے (وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ)۔ پھر اس کے بعد انہیں عطا کی گئی کچھ نعمتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے: تم ایک ایسی سرزمین میں زندگی بسر کرتے ہو جس میں ہموار میدان بھی ہیں جن کے اوپر تم عالیشان قصر اور آرام دہ مکانات بنا سکتے ہو۔ نیز اس میں پہاڑی علاقے بھی ہیں جن کے دامن میں تم مضبوط مکانات تراش سکتے ہو (جو سخت موسم میں سردیوں کے زمانے میں تمہارے کام آسکتے ہیں)(تَتَّخِذُونَ مِنْ سُھُولِھَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتًا )۔ اس تعبیر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ (قوم عاد) سردی اور گرمی میں اپنی سکونت کی جگہ بدل دیتے تھے۔ فصل بہار اور گرمیوں میں وسیع اور بربرکت میدانوں زراعت کرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اس وجہ سے وہاں خوبصورت اور آرام دہ مکانات بناتے تھے اور جب موسم سرما آجاتا تھا اور اناج کاٹ لیتے تھے، تو اپنے ان گھروں میں چلے جاتے تھے جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش کر بنائے تھے اور یہ مکانات انہیں سیلابوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ یہاں وہ اطمینان سے سردی کے دن گزاردیتے تھے۔ [توضیح: یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کے زمانہ میںجایا جاتا ہے۔ سیلاب بھی زیادہ تر گرمیوں میں ہی آتے ہیں۔ معلوم نہیں اس تقسیم بندی کی کیا ضرورت درپیش ہوئی کہ گرمیوں میں وہ میدانوں میں اور سردیوں میں وہ پہاڑوں پر رہیں جب کہ آیت میں اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں ہے۔ آیت کا مفاد تو یہ ہے کہ وہ دونوں طرح کے مکانات رکھتے تھے جب چاہتے میدانی قصر وں میں رہتے تھے اور جب چاہتے تھے پہاڑوں میں چلے جاتے تھے۔ (مترجم)] آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا وند کریم کی ان سب نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرو اور کفران نعمت نہ کرو(فاذْکُرُوا آلَاءَ اللهِ وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِینَ)۔("تعثوا" کا مادہ "عثی" ہے جس کے معنی ہیں فساد پیدا کرنا ؛ لیکن مادہ فساد زیادہ تر اخلاقی مفاسد کےلیے استعمال ہوتا ہے؛ جبکہ مادہ "عیث" مفاسد حسی و ظاہری کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ بنابریں، جملہ "لا تعثوا" کے بعد مفسدین تاکید کےلیے ہے؛ کیونکہ دونوں کلمے ہم معنی ہیں۔) یہاں پر ہمیں پھر یہ ملتا ہے کہ سردار اور ثروت مند، خوش ظاہر اور بدباطن لوگ جنھیں لفظ "ملاء" (آنکھوں میں سماجانے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس عظیم پیغمبر کی مخالفت شروع کر دی۔ ان کے خلاف ایک اچھا خاصہ گروہ ان لوگوں کا تھا جو خوش فکر وپاک دل تھے اور ہمیشہ مذکورہ سرداروں کی اسیری میں تھے (یعنی ان کے مزدور تھے) اور انہوں نے حضرت صالح کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور وہ ان کے گرد جمع ہو گئے تھے۔ انہوں نے سرداروں کی مخالفت شروع کر دی۔لہٰذا جیسا کہ قرآن کہتا ہے ان سرداروں اور متکبر افراد نے ان غریب لوگوں (مستضعفین) سے جو ایمان لاچکے تھے یہ کہا:آیا واقعاً تمہیں یہ علم ہے کہ صالح خدا کی جانب سے ہماری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لِلَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُونَ اَنَّ صَالِحًا مُرْسَلٌ مِنْ رَبِّہِ)۔ اس سوال سے ان کا منشا ءکوئی حق کی جستجو نہ تھا، بلکہ دراصل وہ اس طرح مومنین کے دلوں میں شک وشبہ ڈالنا چاہتے تھے اوران کی قوت ارادی کو کمزور کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ جس طرح وہ پہلے سرمایہ داروں کے مطیع اور فرمانبردار تھے اسی طرح رہیں اور حضرت صالح ؑ کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں۔ لیکن جلد ہی ایسا قطعی جواب ملا جو تابعین حضرت صالح ؑ کے قوی ارادہ کی حکایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: صرف یہی نہیں کہ ہم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح خدا کے فرستادہ ہیں بلکہ ہم تو ان کی پیغمبری پر ایمان بھی لاچکے ہیں (قَالُوا إِنَّا بِمَا اُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ)۔ یہ جواب سن کر بھی متکبر اور مغرور افراد خاموش نہ ہوئے، بلکہ مومنین کے ارادے کو متزلزل کرنے کے لئے انہوں نے دوبارہ کہا: ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو(قَالَ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِی آمَنتُمْ بِہِ کَافِرُونَ)۔ چونکہ وہ لوگ (متکبرین) اپنی ظاہری قوت وشوکت کی وجہ سے عام لوگوں میں قدر کی نگاہ دیکھے جاتے تھے اور لوگوں کے لئے نمونہ عمل تھے۔ لہٰذا انہوں نے خیال کیا کہ اس مرتبہ بھی لوگ ان کی پیروی کریں گے اور اظہار کفر وبے ایمانی میں ان کا ساتھ دے گے۔ مگر جلد ہی ان کو پتہ چل گیا کہ وہ کس خام خیالی میں مبتلا ہیں انہوں نے دیکھا کہ خدا پر ایمان لانے کی وجہ لوگوں کی شخصیت میں انقلاب آگیا ہے اور اب وہ استقلال فکری اور قوی ارادہ کے مالک بن گئے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل توجہ ہے مذکورہ آیات میں بے ایمان لوگوں کو "متکبرین" کے عنوان سے اور زحمت کش، محنتی اور با ایمان طبقہ کو "مستضعفین" کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ پہلی قسم کے لوگ اپنے کو سب سے بہتر خیال کرتے تھے اور اپنے زیر دست افراد کے انہوں نے حقوق غصب کرلئے تھے، ان کی صلاحتوں کا استحصال کرکے وہ اس مقام پر پہنچ گئے تھے کہ ان کو آج کی اصطلاح میں طبقہ "استثمارگر" (وسائل لوٹنے والا) کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ دوسرے طبقہ کو "استثمار شوندہ "(جس کے وسائل اور صلاحتوں کا استحصال کیا گیا ہو ) کہا جا سکتا ہے۔ جب خود خواہ متکبر ثروتمند لوگ مومن افراد کے پائے استقلال کو نہ ڈگمگاسکے اور ان کو اس معاملہ میں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ دوسری طرف انہوں نے دیکھا کہ اس اونٹنی کی وجہ سے جو حضرت صالح ؑ کا معجزہ شمار ہوتی تھی۔ ان کی سم پاشیاں بے اثر ہو کر رہ گئی ہے، تو انہوں نے اس ناقہ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیا اور اسی قتل کرنے سے پہلے "انہوں نے اس کو پے کر دیا۔ اس کے بعد اسے جان سے مارڈالا۔ اس طرح انہوں نے خدا کے فرمان سے سرکشی کی "(فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ)۔ (اونٹ یا گھوڑے کو پے کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کے پیر کے پیچھے جو پٹھا ہوتا ہے اس کو کاٹ دیا جائے جس کی وجہ سے وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکتااور زمین پر گرجاتاہے، پھر کسی قسم کی حرکت نہیں کرسکتا۔) انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ اس کے بعد وہ حضرت "صالحؑ" کے پاس آئے اور اعلانیہ ان سے کہنے لگے :اگر تم واقعاً خدا کے فرستادہ ہو تو جتنی جلدی ہو سکے عذاب الٰہی لے آؤ(وَقَالُوا یَاصَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِینَ)۔ یعنی ہم کو ذرا بھی تمہارے ڈرانے سے خوف لاحق نہیں ہوا ہے کیوں کہ تمھاری یہ سب دھمکیاں بے بنیاد ہیں۔ ان باتوں سے ان کا مقصد یہ تھا کہ حضرت صالح ؑ اور دیگر مومنین کی قوت ارادی کمزور پڑ جائے۔ جب انہوں نے اپنی سرکشی اور نافرمانی کو آخری حد تک پہنچادیا اور ایمان قبول کرنے کی آخری کرن بھی ان کے وجود میں خاموش ہوگئی تو اللہ نے اس قانون کے مطابق وہ ہمیشہ انتخاب کرتا رہتا ہے اور فاسد ومفسد کو فنا کرکے ان کی جگہ بہتر افراد کودیتا ہے،۔ اللہ کی سزا نے ان کو آلیا اور " ایک ایسا زلزلہ رونما ہوا جس نے ان کے تمام قصروں اور پتھر کے بنے ہوئے مکانوں کو ہلا کر مسمار کر دیا۔ چشم زدن میں ان کی زرق و برق زندگی کے چراغ بجھ گئے۔ صبح کے وقت ان کے بے جان جسم ان کے مکانوں میں باقی رہ گئے تھے (فَاَخَذَتْھُمْ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِینَ)۔ "جاثم" دراصل مادہ "جثم" (بروزن خشم) سے ہے، جس کے معنی دوزانو بیٹھنا اور ایک ہی جگہ کھڑے رہنے کے ہیں۔ بعید نہیں کہ اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہو کہ وہ لوگ زلزلہ کے وقت خواب شیریں کے مزے لے رہے تھے۔ زلزلہ کا پہلا جھٹکا محسوس کرتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئے۔ پھر اس کے بعد حادثے نے انہیں اٹھنے کی بھی مہلت نہ دی اور خوف کی وجہ سے یادیواروں کے گرنے کی وجہ سے۔ یا بجلی گرنے سے جیسے بیٹھے تھے ویسے ہی بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔
قوم ثمود کو کس طرح موت آئی؟
یہاں پر ایک سوال یہ پیش ہوتا ہے کہ زیر نظر آیت میں ہے کہ ان کی فنا کا سبب زلزلہ تھا۔ لیکن سورہٴ حم السجدہ کی آیت ۱۳ میں ہے کہ بجلی کی وجہ سے وہ نابود ہوئے۔ جب کہ سورہٴ حاقہ کی آیت ۵ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: فَاَمَّا ثَمُودُ فَاُھْلِکُوا بِالطَّاغِیَةِ یعنی قوم ثمود ایک تباہ کن آفت کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ کیا ان تعبیروں میں کوئی تنافی یا تضاد پایا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک جملہ میں دیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ تینوں اسباب کی بازگشت ایک چیز کی طرف ہے۔یا یہ کہا جائے کہ تینوں آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ کیوں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک خطہ میں زلزلہ بجلی گرنے کی وجہ سے آتا ہے، یعنی بجلی گرجاتی ہے۔اس کے بعد زلزلہ آجاتا ہے۔ لیکن "طاغیة" اس موجود کے معنی میں ہے جو اپنی حد سے تجاوز کرے۔ یہ زلزلہ کے لئے بھی صحیح ہے اور بجلی کے لئے بھی۔ بنابریں ان آیات کے درمیان کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ زیر بحث آیت کے آخر میں فرمایاگیا ہے:اس کے بعد صالح ؑ نے ان سے منہ پھیر لیااور ان سے کہا: میں نے اپنے پروردگار کی رسالت (پیغام رسانی) کا حق ادا کر دیا۔ اور جو کہنے چاہئے تھا وہ تم سے کہہ دیا، میں نے تمھاری نصیحت اور خیر خواہی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، لیکن (بات یہ ہے کہ) تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے (فَتَوَلَّی عَنْھُمْ وَقَالَ یَاقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَةَ رَبِّی وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَاتُحِبُّونَ النَّاصِحِین)۔ یہاں پھر ایک سوال پیش آتا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت صالح ؑ نے یہ گفتگو جو کی ہے وہ ان (قوم ثمود) کی نابودی کے بعد تھی یا یہ گفتگو ان کے انجام سے قبل اتمام حجت کے طور پر تھی؟ اگر چہ قرآن میں اس کا ذکر ان کے مرنے کو بیان کرنے کے بعد کیا گیا؟ دوسرا احتمال اس خطاب کے ظاہر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ کیوں کہ ان کے ساتھ گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اس وقت زندہ تھے۔لیکن پہلا احتمال بھی زیادہ بعید نہیں ہے، کیوں کہ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے افرا د کی عبرت کے لئے اس قسم کی گفتگو مرنے والوں کی روح کو مخاطب کر کے کی جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے واقعات میں ہے کہ آپ ؑ نے جنگ جمل کے بعد طلحہ کے لاشہ کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: اے طلحہ! تم نے اسلام میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ لیکن افسوس یہ کہ تم نے ان کو اپنے لئے محفوظ نہ کیا۔ نیز نہج البلاغہ کے آخر میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جب جنگ صفین سے پلٹ رہے تھے تو آپ ؑ نے دروازہ کوفہ کی پشت پر قبرستان کی طرف منہ کرکے ارواح رفتہ گان پر سلام کیا بعد ازاں ان سے فرمایا: تم اس قافلہ کے آگے آگے چلے گئے ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے آتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 84 کے تحت ملاحظہ کریں۔
قوم لوط کا دردناک انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات قرآنی میں ایک منظر ایک اور پیغمبر کی سرگذشت کا پیش کیا گیا ہے، جو گذشتہ آیات کا مقصد ہے اس کی مزید تکمیل کی گئی ہے۔یہ حضرت۔ لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کی سرگذشت ہے۔ یہ ماجرا قرآن کی چند سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسے سورہ ہائے ہود، حجر، شعراء، انبیاء، نمل اور عنکبوت۔ اس جگہ پانچ آیتوں میں حضرت لوطؑ اور ان کی قوم کی گفتگو کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورہٴ "اعراف" میں ان داستانوں کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ انبیاء اور ان کی قوموں کے مابین جو مخالفتیں رہیں اور جو ان میں گفتگو ہوئی اس کاخلاصہ پیش کیا جائے۔ لیکن ان قصوں کی تفصیل کو دوسری سورتوں کی تفصیل کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے (ہم بھی انشاء اللہ ان لوگوں کا مفصل قصہ سورہٴ ہود اور سورہٴ حجر میں بیان کریں گے)۔ اب زیر بحث آیات کی تفسیر کی جانب توجہ مبذول کرتے ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یاد کرو پیغمبر لوط کو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسا ننگین اور شرمناک فعل انجام دیتے ہو کہ جہانوں میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا(وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اَتَاْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِینَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عمل بذات خود ایک انتہائی برا اور شرمناک فعل تو ہے ہی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ یہ وہ برا کام ہے جو تم سے پہلے کسی قوم وملت نے نہیں کیا۔ اس وجہ سے اس کی برائی کئی گنا بڑھ گئی ہے کیوں کہ کسی برے طریقے کی بنیاد رکھنا قریب کے زمانے میں اور دور کے زمانے میں آنے والے افراد کو اس برے طریقے پر چلنے کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ مذکورہ بالا آیت سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل بد تاریخی حیثیت سے قوم لوط تک منتہی ہوتا ہے کیوں کہ وہ لوگ پیسے والے تھے جو اپنی زندگی ہوا پرستی اور شہوت رانی میں گزارتے تھے جس کی تفصیل انشاء اللہ مذکورہ بالا سورتوں کی تفسیر میں بیان کی جائے گی۔ اس کے بعد والی آیت میں اس گناہ کی تشریح کی گئی ہے جس کو اب تک سربستہ طور سے بیان کیا گیا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے: تم لوگ شہوت کے ساتھ مردوں کی طرف جاتے ہو اور عورتوں کو تم نے چھوڑ رکھا ہے (إِنَّکُمْ لَتَاْتُونَ الرِّجَالَ شَھْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ )۔ بھلا اس سے بد تر اور کونسا کام ہو سکتا ہے کہ توالد وتناسل کا واحد ذریعہ یعنی "مرد عورت کا ملاپ" اس کو انسان ترک کر دے، اور "جنس موافق" کے پیچھے پڑ جائیں۔ یہ ایسا کام ہے جو اصولی طور پر نادرست خلاف عقل اور بدن انسانی کی ساخت کے منافی اور روح کے خلاف ہے۔ نیزانسان کی اس فطرت اولیٰ کے خلاف ہے جس میں ابھی کوئی تغیر واقع نہیں ہوا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جنسی ملاپ کی جو غرض وغایت ہے وہ فوت ہو کر رہ جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہئے کہ اس فعل کا ماحصل یہ ہے کہ انسان اپنی جنسی خواہش کو جھوٹے طریقے سے پورا کرے اور نسل انسانی کو قطع کرنے کا سبب بن جائے۔ اس کے بعد آیت میں مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: تم لوگ اسراف کرنے والی قوم ہو(یعنی تم نے حدود الٰہی سے اپنے قدم آگے بڑھا لئے ہیں اور گمراہی وسرکشی کے میدان میں فطرت کے حد وحدود کو چھوڑ کر بھٹک گئے ہو(بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ)۔ ممکن ہے لفظ"مسرفون" سے اشارہ اس بات کی طرف ہو کہ وہ لوگ نہ صرف جنس کے بارے میں مسرف تھے،بلکہ دیگر چیزوں میں بھی ان کی یہی حالت تھی۔ یہاں پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں مطلب کو سربستہ بیان کیا تھا۔ اس کے بعد اس آیت میں اسے ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ علم بلاغت کے فنون میں سے ایک فن ہے کہ جب بھی کسی اہم بات کو بیان کرنا ہوتا ہے اسے اسی طرح بیان کرتے ہیں تاکہ اس کی طرف ذہن انسانی اچھی طرح متوجہ ہو جائے۔مثلاً اگر کوئی شخص بہت برا کام انجام دے تو پہلے اس کا بیدار مغز اور آگاہ سرپرست معاملے کی اہمیت جتلانے کے لئے کہتا ہے تونے بہت بری بات کی" پھر آخر میں جاکر اس پر سے پردہ اٹھائے گا اور اس کام کی تشریح کرے گا۔ اس طرح کا طرز بیاں دراصل طرف مقابل کے ذہن کو تدریجاً اس بات کے لئے آمادہ کرتا ہے کہ وہ معاملے کی اہمیت کی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کی سمجھ میں یہ آجائے کہ جو برا کام اس نے کیا ہے وہ کتنا سنگین ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں قوم لوط کی غیر منطقی اور ضد آمیز گفتگو کا جواب دیا گیا ہے:ان لوگوں کے پاس اس ہمدرد، خیر خواہ اور مصلح پیغمبر کی بات کا کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے بڑی بدتمیزی اور غصے سے کہا کہ لوط اور ان کے پیرووٴں کو اپنے شہر سے باہر نکال دو، ان کا گناہ کیا-؟ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ یہ پاک لوگ ہیں اور گناہ نہیں کرتے (وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ اَنْ قَالُوا اَخْرِجُوھُمْ مِنْ قَرْیَتِکُمْ إِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَتَطَھَّرُونَ)۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ایک کثیف اور گنہگار گروہ نے پاکدامن افراد کو ان کی پاکدامنی کے جرم میں اپنی سوسائٹی سے نکال دینے کی کوشش کی۔ یہ لوگ ایسے پاک افراد کو اپنی ہوس رانی اور شہوت پرستی کے لئے سد راہ دیکھتے تھے۔اس بنا پر ان کی پاکدامنی اس گروہ کے لئے بجائے خوبی کے ان کی کمزوری شمار ہوتی تھی۔ "اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَتَطَھَّرُونَ" اس جملے میں ایک یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ قوم لوط کا منشا یہ تھا کہ حضرت لوط اور ان کے پیروکاروں کو تظاہر اور ریاکاری کے ساتھ متہم کریں۔ جیسا کہ ہم اکثر اشعار وغیرہ میں سنا ہے کہ بعض گنہگار اور شرابخوار افراد مقدس اور پاک بندوں کو دکھاوے اور ریاکاری کے ساتھ متہم کرتے ہیں اور بزعم خود اپنے شراب آلودہ چھیتھڑوں کو "زاہد کے مصلیٰ" سے بہتر خیال کرتے ہیں۔ اور یہ ایک جھوٹا برائت نامہ ہے جو وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنے لئے لکھ لیتے ہیں۔ اگر مذکورہ بالا تین آیات پر نظر ڈالی جائے تو ہر انصاف پرور شخص یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ قوم لوط کے افراد بہت گرے ہوئے لوگ تھے۔جنھوں نے ایک مصلح بزرگ کی تمام نصیحتوں اور منطقی دلیلوں اور جملہ خیر خواہیوں کو نی صرف ٹھکرادیا۔ بلکہ ان کاجواب اپنی دھمکیوں اور زور نمائی اور تہمتوں سے دیا۔ لہٰذا خدا نے بعد والی آیت میں فرمایا: جب با ت ہاں تک پہنچی تو ہم نے لوطؑ، ان کے پیرووٴں اور ان کے خاندان میں واقعی پاکدامن تھے ان کو نجات دے دی؛ سوائے ان کی بیوی کے کہ اس کو تباہ ہونے والی قوم میں عذاب کا مزہ چکھنے کے لئے چھوڑ دیا کیوں کہ وہ عورت بھی عقیدہ اور مذہب کے لحاظ سے ان لوگوں کی ہم خیال تھی(فَاَنجَیْنَاہُ وَاَھْلَہُ إِلاَّ امْرَاَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ)۔[توضیحی نوٹ: "غابر" اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ساتھی چلے جائیں اور وہ پیچھے رہ جائے۔ جیسا کہ حضرت لوطؑ کا خاندان ان کے ہمراہ چلا گیا اور ان کی بد بخت زوجہ عذاب کا مزہ چکھنے کے لئے شہر میں باقی رہ گئی۔] بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ لفظ "اھل" اگرچہ زیادہ تر نزدیک کے عزیزوں پر بولا جاتا ہے۔ مگر آیت مذکورہ میں حضرت لوطؑ کے حقیقی پیرووٴں پر اس کا اطلاق ہے۔ یعنی وہ بھی آپ کے خاندان اور اہل میں محسوب ہوتے تھے۔ لیکن سورہ "ذاریات" کی آیت ۳۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے آپ کے خاندان والوں اور نزدیک کے عزیزوں کے اور کوئی شخص آپ پر ایمان نہیں لایا تھا۔ بنابریں لفظ "اہل" اپنے اسی حقیقی معنی یعنی خاندان والوں پر ہی استعمال ہوا ہے۔ سورہ "تحریم" کی آیت ۱۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت "لوطؑ " کی یہ زوجہ ابتدامیں ایک اچھی عورت تھی۔ لیکن بعد میں اس کی نیت بدل گئی اور اس نے حضرت لوطؑ کے ساتھ خیانت کر کے قوم لوط کی جراٴت بڑھائی۔ اس آیت کے آخر میں بہت مختصر لیکن ایک معنی خیز اشارہ اس قوم کے لئے وحشتناک عذاب کی طرف کیا گیا ہے۔ فرمایاگیا ہے:ہم نے ان کے اوپر بار ش برسائی (لیکن کیسی بارش؟! پتھروں کی بارش جس نے ان کو کچل کر تہس نہس کر دیا(وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَطَرًا)۔ اگرچہ آیت مذکورہ میں اس بار ش کی نوعیت بیان نہیں کی گئی لیکن چونکہ اس کو لفظ" مطرا" (ایک بارش) سے تعبیر کیا گیا ہے جو ایک سربستہ لفظ ہے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی معمولی اور عام بارش نہ تھی، بلکہ پتھروں کی بارش تھی۔جیسا کہ سورہٴ ہود کی آیت ۸۳ میں بیان ہوا ہے۔ "اب دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا!"(فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِینَ)۔ اگرچہ اس آیت میں روئے سخن پیغمبر(حضرت لوط ؑ)کی طرف ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ مقصد یہ ہے کہ تمام انسان اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔ اس قوم کا مفصل احوال، اسی طرح لواطہ اور ہم جنس پرستی کے گوناگوں مضرات اور شریعت کی رو سے اس عمل شنیع کی سزا انشاء اللہ سورہٴ ہود اور حجر میں بیان کی جائے گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 87 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مدین میں حضرت شعیب (علیه السلام) کی رسالت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں اقوام گذشتہ کی سرگذشت اور انبیائے الٰہی کی ان سے کشمکش کا پانچواں حصہ یعنی شعیب ؑکا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت شعیبؑ جن کا سلسلہ نسب تاریخ کی بنا پر چند واسطوں سے حضرت ابراہیمؑ تک پہنچتا ہے، شہر"مدین" والوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ "مدین" شام کا ایک شہر تھا جس میں تجارت پیشہ اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ لیکن ان کے درمیان بت پرستی، کم ناپنا تولنا رائج تھا۔ اس عظیم پیغمبر نے اپنی قوم کے خلاف جو جہاد کیا ہے اس کی روئیداد قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں آئی ہے؛ خاص کر سورہٴ ہود اور سورہٴ شعراء میں اس کا تذکرہ مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ہم بھی قرآن کی پیروی کرتے ہوئے انشاء اللہ سورہٴ "ہود" کے ذیل میں حضرت شعیبؑ کے قصہ کو تفصیل سے بیان کریں گے۔ اس جگہ پر اس قصے کا صرف ایک خلاصہ مندرجہ بالا آیات کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ پہلی آیت میں خدا فرماتا ہے: ہم نے اہل "مدین" کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا(وَإِلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا )۔ بعض مفسرین جیسے علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخررازی نے تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے کہ "مدین" دراصل حضرت ابراہیمؑ کے ایک فرزند کا نام تھا۔ چونکہ آپ کی اولاد پوتے نواسے ایک سرزمین میں جو شام کے راستے میں تھی رہتے تھے اس لئے اس زمین کا نام بھی "مدین" پڑ گیا۔ اب رہا یہ کہ حضرت شعیبؑ کو "اخاھم' (بھائی) کے لفظ سے کیوں ذکر کیا ہے۔ تو اس کی وجہ ہم اسی سورہ کی آیت ۶۵ میں بیان کی ہے۔ اس کے بعدفرمایا کہ حضرت ""شعیبؑ" نے اپنی دعوت کو دیگر پیغمبروں کی طرح مسئلہ توحید سے شروع کیا اور "وہ پکارے: اے میری قوم ! خدائے یکتا کی پرستش کرو کہ اس کے علاوہ تمھارا کوئی معبود نہیں ہے": (قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم علاوہ برایں کہ عقل کا فیصلہ ہے،" اس کی حقانیت پر خدا کی طرف سے روشن دلیل بھی آچکی ہے"(قَدْ جَائَتْکُمْ بَیِّنَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ)۔ اگرچہ آیات مذکورہ میں اس بات پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ہے کہ یہ بینہ (روشن دلیل) کیا تھی مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیبؑ کے معجزات ہیں۔ توحید کی طرف دعوت دینے کے بعد، حضرت شعیبؑ نے ان کی اجتماعی، اخلاقی اور اقتصادی برائیوں سے ٹکر لی۔ سب سے پہلے انہوں نے چاہا کہ انہیں کم ناپ تول، دھوکا دہی اور دیگر خیانتوں سے روکیں جن میں وہ مبتلا تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا:اب جب کہ خدا کا راستہ تمہارے سامنے آشکار ہو چکا ہے تو "پیمانہ اور وزن کا حق ادا کرو اور لوگوں کے حقوق میں سے کم نہ کرو"(فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَائَھُمْ)۔("بخس" کے معنی حقوق کو کم کرنے اور اعتدال سے اس طرح نیچے آنے کے ہیں کہ ظلم ستم کا موجب بن جائے۔) یہ با ت واضح ہے کہ ہر طرح کی خیانت اور ہیرا پھیری اگر باہمی معاملات میں سرایت کرجائے تو اس سے وہ باہمی اعتماد و اطمینان متزلزل ہو جاتا جس پر اقتصاد کی پوری عمارت قائم وبرقرار ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں ایسے نقصانات مرتب ہوتے ہیں جن کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت شعیبؑ نے ان کے اس بڑے عیب پر انگلی رکھی اور اسے دور کرنا چاہا۔ اس کے بعد ان کے ایک اور عیب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے : روئے زمین پر جب کہ ایمان اور انبیائے الٰہی کو کوششوں سے اصلاح ہوچکی ہے، فساد پربا نہ کرو (وَلَاتُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِھَا )۔ یہ بات مسلم ہے کہ فساد پھیلانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، چاہے وہ فساد اخلاقی ہو یا بے ایمانی ہو یا بے امنی ہو بلکہ اس سے الٹا تباہی پھیلتی ہے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں اس جملے کا اضافہ فرمایا گیا ہے: یہ تمہارے نفع کی بات ہے اگر تم صاحبان ایمان ہو(ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ)۔ گویا اس جملہ "ان کنتم مومنین" کے اضافہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ اجتماعی اور اخلاقی فرامین تمہارے حق میں اس وقت مفید ثابت ہو سکتے ہیں جب کہ تمہارے دل نور ایمان سے روشن ومنور ہو جائیں، لیکن اگر تمہارے دل ایمان سے خالی ہوں اور ان فرامین کو محض دنیاوی مصالح کی بنا پر مان لو تو اس سے کوئی دوام وثبات میسر نہ ہو گا۔ اس کے بعد کی آیت میں حضرت " شعیب"کی چوتھی نصیحت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے: تم لوگوں کے راستے پر مت بیٹھو اور نہ ڈراؤ دھمکاؤ اور خدا کے راستے میں سد راہ نہ بنو، اور ان کے دلوں میں شبہے ڈال کر حق کی صراط مستقیم کو ان کی نگاہ میں ٹیڑھی اور کج ظاہر نہ کرو (وَلَاتَقْعُدُوا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَھَا عِوَجًا )۔ جو لوگ ایمان قبول کرنا چاہتے تھے انہیں قوم شعیب کے گمراہ لوگ کس طرح ڈراتے دھمکاتے تھے؟ مفسرین نے اس بارے میں متعدد احتمال پیش کئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ ان کو قتل کی دھمکی دیتے تھے، بعض نے کہا کہ وہ با ایمان افراد کا مال لوٹتے تھے، لیکن آیت کے بقیہ جملے سے پہلے معنی مطابقت رکھتے ہں۔ پانچویں آیت کے آخر میں حضرت شعیبؑ اس نصیحت کا ذکر ہے جس میں انہوں نے چاہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا یاد کریں کہ تاکہ ان میں شکر گزاری کا جذبہ بیدار ہو ارشاد ہوتا ہے : اس وقت کو یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، خدا نے تمھاری جمعیت کو زائد کیا اورتم " مین پاور" (افرادی قوت) عطا کی (وَاذْکُرُوا إِذْ کُنتُمْ قَلِیلًا فَکَثَّرَکُمْ)۔ اس کے بعد خوب اچھی طرح سے دیکھو کہ مفسدوں کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا ان کے نقش قدم پر نہ چلو(وَانظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِینَ)۔ یہاں پر ایک بات اور ضمنی طور پر یہ معلوم ہوئی ہے کہ آبادی کی کثرت کسی معاشرے کی عظمت، قدرت اور ترقی کا سبب بھی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایک سوچے سمجھے نظام کے ماتحت مادی ومعنوی حیثیت سے ان کی زندگی استوار ہو۔ جب کہ موجودہ زمانے میں بہت زیادہ پراپیگنڈا کے ذریعے اس بات کو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے نسل اور تعداد کو کم کریں۔ آخری آیت دراصل قوم کے شعیب کے بعض مومنین اور بعض کافروں کی ایک بات کا جواب ہے، کیوں کہ بعض مومن افراد جب کہ ان پر کافر وں کا دباؤ پڑتا تھا تو وہ فطری طور پراپنے وقت کے پیغمبروں سے یہ کہہ اٹھتے تھے کہ ہم کب تک ان کافروں کا ظلم سہتے رہیں گے؟ اس کے ساتھ ہی جو لوگ مخالف تھے ان کی جراٴتیں بھی بڑھتی جاتی تھیں یہاں تک کہ وہ بھی یہ کہہ دیتے تھے کہ "اگر تم واقعاً خدا کے فرستادہ نبی ہوتو ہماری اتنی مخالفت کے باوجود ہم کو اللہ کی طرف سے کسی قسم کا گزند کیوں نہیں پہنچتا"۔ حضرت شعیبؑ نے ان کے جواب میں فرمایا: اگر تم میں سے کچھ لوگ اس چیز پر ایمان لے آئیں ہیں جو میں اللہ کی طرف سے لایا ہوں، اور کچھ ایمان نہیں لائے تو اس سے نہ تو کافروں کو غرور لاحق ہو اور نہ مومنوں کو مایوسی، تم صبر سے کام لو تاکہ خدا ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والاہے یعنی وہ آئندہ اپنا آخری فیصلہ سنا دے گا کہ کون لوگ حق پر ہیں اور کون باطل پر(وَإِنْ کَانَ طَائِفَةٌ مِنْکُمْ آمَنُوا بِالَّذِی اُرْسِلْتُ بِہِ وَطَائِفَةٌ لَمْ یُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ بَیْنَنَا وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِین)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 89 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت شعیب کا استدلال اور ان کی قوم کا ردّ عمل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں حضرت "شعیبؑ" کے منطقی استدلال کے مقابلے میں ان کی قوم کے ردّ عمل کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ ان کی قوم کے طاقتور اور متکبر افراد ظاہری حیثیت سے بہت بااثر تھے، اس بنا پر ان کا رد عمل بھی بہ نسبت دوسروں کے زیادہ شدید تھا، لہٰذا انہوں نے دنیا کے دوسرے زوردار متکبر افراد کی طرح اپنی قوت وجماعت کے بل بوتے پر حضرت شعیبؑ اور ان کے پیرووٴں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جیسا کہ قرآن کہتاہے: ان (شعیب) کی قوم کے طاقتور اور مغرور افراد نے ان سے کہا کہ ہم قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم تم کو اور تمہارے ماننے والوں کو اپنی سوسائٹی سے باہر نکال دیں گے، الّا یہ کہ جتنا بھی جلد ممکن ہو ہمارے مذہب کی جانب پلٹ آؤ(قَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَاشُعَیْبُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَا اَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا)۔ ممکن ہے اس آیت کے ظاہر سے کسی کو یہ تو ہم ہو کہ شاید حضرت شعیبؑ بھی قبلا بت پرستوں کی صف میں شامل تھے، جب ہی تو کفار نے یہ کہا کہ ہمارے ملت کی طرف پلٹ آؤ، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کیوں کہ حضرت شعیبؑ دعوت وتبلیغ سے ان کی بت پرستی کے بارے میں خاموش تھے کیوں کہ ابھی ان کو تبلیغ کا حکم نہیں ملا تھا، اس سے وہ (کفار) یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت شعیبؑ بھی ان کی ملت پر ہیں حالانکہ پیغمبروں میں سے کوئی بھی بت پرست نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیغمبر کی عقل اس کی پیغمبری سے قبل ہی اتنی کامل ہوتی ہے کہ وہ بت پرستی جیسے احمقانہ اعمال ناشائستہ کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ کہ کفار کا روئے سخن صرف حضرت شعیبؑ ہی کی طر ف نہ تھا بلکہ یہ خطاب ان کے پیرووٴں کے لئے بھی تھا۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ان ہی کے لحاظ سے ہو۔ مخالفین کی تہدید یہی نہ تھی بلکہ انہوں نے اس کے علاوہ دوسری دھمکیاں بھی دی تھیں جو حضرت شعیبؑ سے متعلق دیگر آیات میں مذکور ہیں اور ان سے متعلق جو بحث ہے وہ انشاء اللہ آگے آئے گی۔ حضرت شعیبؑ نے ان تمام باتوں اور تمام دھمکیوں کا جواب ایک بہت ہی مختصر، سہل اور سادہ لیکن منطقی جملے سے دیا، انہوں نے کہا: کیا تم ہم کو اپنے مذہب کی طرف اس حال میں لوٹانا چاہتے ہو کہ ہم اس کی طرف مائل نہ بھی ہوں (قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کَارِھِینَ) [توضیحی نوٹ: اس جملے میں درحقیقت ایک محذوف مقدر ہے کیوں کہ یہ جملہ اس طرح تھا: "اتریدوننا فی ملتکم ولو کنا کارھین"] درحقیقت، حضرت شعیبؑ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آیا یہ مناسب ہے کہ تم اپنا عقیدہ زبردستی ہمارے اوپر ٹھونسو، اور وہ قانون جس کا بطلان ہم پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہے اس کو طاقت کے زور سے ہم پر سوار کرو؟ پھر یہ کہ اگر ہم نے ایسا کیا بھی تو اس کا تم کو کیا فائدہ پہنچے گا ؟۔ اس کے بعد کی آیت میں حضرت شعیبؑ اپنی بات کو اس طرح آگے بڑھاتے ہیں: اگر ہم دوبارہ آئین بت پرستی کی طرف پلٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دے دی ہے اور ہم اپنے کو دوبارہ اس تباہی کے گڑھے میں گرادیں، تو ہم نے گویا خدا پر افتراباندھا ہے (قَدْ افْتَرَیْنَا عَلَی اللهِ کَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِی مِلَّتِکُمْ بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللهُ مِنْھَا)۔ یہ جملہ دراصل اس جملہ کی توضیح ہے جو قبل کی آیت میں حضرت شعیبؑ کی زبان سے جاری ہوا تھا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے بت پرستی کے آئین کو جو چھوڑا ہے وہ از روئے ہوا وہوس نہیں ہے اور نہ ہم نے اس معاملے میں کسی کی اندھی پیروی کی ہے؛ بلکہ ہم نے اس عقیدہ کے بطلان کو دلائل سے سمجھا ہے اور توحید کے معاملے میں الٰہی فرمان کو جان ودل سے قبول کیا ہے، لہٰذا اگر اس حال میں ہم اس مسلک حق کو چھوڑ کر دوبارہ مشرک بن جائیں تو ایسا ہے کہ ہم نے دیدہ ودانستہ خدا پر بہتان باندھا ہے، اور یہ مسلم ہے کہ خدا ہم کو اس کی سزا دے گا۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں: یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم تمہارے آئین کی طرف پلٹ آئیں الّا یہ کہ خدا خود یہ چاہے (وَمَا یَکُونُ لَنَا اَنْ نَعُودَ فِیھَا إِلاَّ اَنْ یَشَاءَ اللهُ رَبُّنَا) حضرت شعیبؑ کا مقصد درحقیقت یہ ہے کہ ہم ہر حال میں خدا کے فرمان کے تابع ہیں اور اس کے حکم سے ہم ذرہ برابر بھی مخالفت نہیں کرسکتے، اب ہمارا تمھاری طرف پلٹنا کسی حالت میں ممکن نہیں ہے الّا یہ کہ خدا ہم کو پلٹنے کا حکم دے (اور وہ ایسا حکم کبھی نہیں دے سکتا کیوں کہ) وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ لہٰذا ہرگز یہ ممکن نہیں کہ وہ اس چیز سے پلٹ جائے جس کا وہ ہم کو سختی سے حکم دے چکا ہے، کیوں کہ حکم دے کر پشیمان وہ ہوتا ہے جس کا دائرہ معلومات محدود ہو اور وہ دھوکا کھا جائے لیکن وہ کہ جس کا علم لامحدود ہے، کبھی غلطی نہیں کرتا، وہ اپنے فیصلہ پر تجدید نظر بھی نہیں کرتا(وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا )۔ اس کے بعد ان لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ ان کی دھمکیوں سے بالکل حراساں نہیں ہیں، بلکہ اپنے موٴقف پر مضبوطی سے قائم ہیں، حضرت شعیبؑ نے کہا: ہمارا بھروسہ صرف خدا پر ہے (عَلَی اللهِ تَوَکَّلْنَا)۔ آخرکار، اپنا حسن نیت ظاہر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ ان کی حقیقت پسندی اور صلح جوئی کا رخ بھی اچھی طرح سے نمایا ہو جائے تاکہ دشمن ان کے خلاف یہ الزام نہ لگائے کہ وہ ہنگامہ پسند اور خواہ مخواہ انقلاب پر ور انسان ہیں۔ انہوں نے کہا: اے پروردگارا! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان تو ہی حق کے ساتھ فیصلہ کر، اور ہماری مشکلات کو دور کراور دررحمت ہم پر کھول دے کہ تو بہترین کھولنے والا ہے (رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِینَ)۔ ابن عباس سے منقول ہے وہ کہتے ہیں: میں اس آیت میں"فتح" کے معنی نہیں جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے ایک روز ایک عورت کو اپنے شوہر سے یہ کہتے سنا کہ وہ یہ کہہ رہی تھی "افاتحک بالقاضی" یعنی تجھ کو فیصلہ کرنے کے لئے قاضی کے پاس لے چلوں گی، اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ اس قسم کے مواقع پر "فتح" کے معنی فیصلہ اور حکومت کے ہیں (کیوں کہ قاضی طرفین کے سلسلے کی گرہ کو کھول دیتا ہے)۔ [بحوالہ: تفسیر منہج الصادقین ]۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت شعیبؑ کے مخالفین کی ان کے تابعین کو بہکانے کی کوششیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1حضرت شعیبؑ کے مخالفین نے ان کے تابعین کے بہکانے کے لئے جو کوششیں کیں پہلی آیت میں ان کو بیان کیا گیا ہے، فرماتا ہے: قوم شعیبؑ کے متکبر اور خود خواہ افراد،جنھوں نے کفر اختیار کیا تھا، نے ان لوگوں سے کہا جن کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ شعیب کی تبلیغ سے متاثر ہو گئے ہیں کہ تم نے اگر شعیب کی پیروی کی تو تم یقینا گھاٹے میں رہوگے (وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لَئِنْ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا إِنَّکُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ )۔ گھاٹے سے ان کی مراد وہی دنیاوی اور مادی گھاٹا تھاجو مومنو کو حضرت شعیبؑ کی دعوت قبول کرنے کی وجہ سے ملنے والاتھاکیونکہ وہ ہرگز بت پرستی کی طرف پلٹنے والے نہ تھے، لہٰذا ان کو زبرستی شہر اور آبادی سے نکال دیاجانا تھا، اس طرح ان کی املاک گھر بار سب چھٹ جاتے۔ نیزیہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ خسارہ(گھاٹے) سے ان کا مقصد مادی گھاٹے کے علاوہ معنوی گھاٹا بھی ہو، کیوں کہ ان کا اعتقاد تھا کہ ان کا آئین بت پرستی ہی باعث نجات ہے نہ کہ شعیب کا آئین۔ جب ان کا معاملہ یہاں تک پہنچا تو اپنی گمراہی کے علاوہ، دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کرنے لگے، اس طرح ان کے ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہ رہ گئی، لہٰذا برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنے کا قانون الٰہی حرکت میں آیا اور عذاب الٰہی ان تک آپہنچا " ایک زبردست اور وحشتناک زلزلہ نے ان کو آلیا، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت ان کے بے جان جسم ان کے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے":(فَاَخَذَتْھُمْ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوا فِی دَارِھِمْ جَاثِمِینَ)۔ اسی سورہ کی آیت ۷۸ میں"جاثمین"کی تفسیر گزچکی ہے۔ نیز یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان کی نابودی کے مختلف اسباب وعلل جو بیان کئے گئے ہیں ان میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، حضرت شعیبؑ کی قوم کے بارے میں اس آیت میں ہے کہ "زلزلہ" سے ہلاک ہوئی، ہود ۹۴ میں ہے کہ "صیحہ آسمانی" (آسمانی آواز) سے ہلاک ہوئی۔ شعراء ۱۸۹ میں ہے کہ :ایک ہلاکت آفرین ابر کے سائبان کے ذریعہ ہلاک ہوئی، حالانکہ سب کی بازگشت ایک ہی چیز کی طرف ہے، اور وہ یہ کہ ایک وحشتناک صاعقہ (بجلی) ایک تاریک ابر سے ان کی آبادی پر آگری، جس کے نتیجے میں (جیسا کہ اس موقع پر عام طور سے ہوا کرتا ہے زمین میں زبردست زلزلہ آگیا جس کی وجہ ان کی ساری زندگی تباہ وبرباد ہو گئی۔ اس کے بعد اس وحشتناک زلزلہ کی تباہ کاریوں کو بعد والی آیت میں اس طرح بیان فرمایاگیا ہے: جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا اس طرح نیست ونابود ہو گئے گویا کبھی ان گھروں زندگی بسر نہیں کرتے تھے (الَّذِینَ کَذَّبُوا شُعَیْبًا کَاَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیھَا)۔[توضیحی نوٹ: "یغنوا" مادہ "غنی" سے ہے جس کے معنی کسی جگہ اقامت پذیر ہونے کے ہیں، اور جیسا کہ علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں فرمایا ہے کہ بعید نہیں کہ یہ "غنی" کے مفہوم اصلی یعنی "بے نیازی" سے ماخوذ ہو کیوں کہ جس کے پاس رہنے کو اپنا مکان ہوتا ہے وہ دوسرے مکانات سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔] آخر آیت میں فرمایا گیا ہے: جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ گھاٹا اٹھانے والے تھے، مومن نہ تھے (الَّذِینَ کَذَّبُوا شُعَیْبًا کَانُوا ھُمَ الْخَاسِرِینَ)۔ گویا دوجملے حضرت شعیبؑ کے مخالفوں کے اعتراض کا جواب ہے کیوں کہ انہوں نے یہ کہا تھا حضرت شعیبؑ کے ماننے والے اگر اپنے پہلے دین پر نہ لوٹے تو وہ ان کو اپنے شہر سے باہر نکال دیں گے، قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ان کو اس طرح نابود کر دیا جیسے وہ وہاں پر آباد ہی نہ تھے، نکالنے کا سوال تو بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ جو انہوں نے کہا تھا کہ حضرت شعیبؑ کے ماننے والے گھاٹا اٹھائیں گے اس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ اب دیکھو کون زیاں کارہے تم یا تابعین شعیبؑ!۔ اس کے بعد آخری آیت میں حضرت " شیعبؑ "کی آخری بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ "انہوں نے گنہگار قوم سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ میں نے اپنے پروردگار کی رسالت پہنچادی اور کافی نصیحت بھی اور کسی قسم کی خیر خواہی سے دریغ نہیں کیا" (فَتَوَلَّی عَنْھُمْ وَقَالَ یَاقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَاتِ رَبِّی وَنَصَحْتُ لَکُمْ)۔ جب حالات یہ ہوں تو اس کا فر قوم کے انجام بد پر مجھے کوئی افسوس نہیں کیوں کہ ان کی ہدایت کے لئے میں نے اپنی آخری کوشش بھی کرلی لیکن انہوں نے کسی طرح حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا۔ لہٰذا ان کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا (فَکَیْفَ آسیٰ عَلیٰ قَوْمٍ کَافِرِین)۔ یہ جملہ حضرت "شعیبؑ" نے ان لوگوں کی ہلاکت کے بعد کہا تھا یا اس سے قبل؟ دونوں امکانات ہو سکتے ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے یہ جملہ ان کی نابودی سے پہلے کہا ہو، لیکن جس وقت قرآن اس واقعے کو بیان کیا تو اس کا ذکر آخر میں کیا گیا۔ لیکن اگر آخر جملے پر نظر کی جائے جس میں کہا گیا ہے: اس کافر قوم کے دردناک انجام پر کوئی جائے تاٴصف نہیں ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام نزول عذاب کے بعد کا ہے اور جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۷۹ میں اشارہ کیا گیا ہے، اس طرح کی باتیں مردوں سے اکثر کی جاتی ہیں (اس کے شواہد بھی اسی جگہ بیان کئے گئے ہیں ملاحظہ ہو)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 95 کے تحت ملاحظہ کریں۔
اگر بار بار کی تنبیہ کارگر نہ ہو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیات، بعض پیغمبروں کی سرگذشت، جیسے حضرت نوح ؑ، حضرت ہودؑ، حضرتب صالح ؑ، حضرت لوط ؑ اور حضرت شعیبؑ کے بعداور حضرت موسیٰؑبن عمران کی سرگذشت بیان کرنے سے پہلے آئی ہے۔ ان میں چند ایسے اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے قصوں میں پائے جاتے ہیں، یہ ایسے اصول ہیں کہ اگر ہم ان کا باغور مطالعہ کریں تو ایسے حقائق آشکار ہوں گے جن کا براہ راست تعلق ہم سب سے ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے کسی شہر اور آبادی میں پیغمبر نہیں بھیجا الّایہ کہ وہاں کے لوگوں کو تکلیفوں اور بلاؤں میں گرفتار کیا تاکہ تھوڑا بیدار ہوں، اور اپنے طغیان وسرکشی سے ہاتھ اٹھا لیں اور اس کی طرف رجوع کریں جو ہر طرح کی نعمتوں کا سرچشمہ ہے (وَمَا اَرْسَلْنَا فِی قَرْیَةٍ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ اَخَذْنَا اَھْلَھَا بِالْبَاْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُونَ)۔ اور یہ اس لئے تھا کہ انسان کی طبیعت ہے کہ جب تک وہ نازونعمت میں رہتا ہے تو اس میں گوش شنوا اور حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، مگر جس وقت وہ گرداب بلا میں گرفتار ہو جاتا ہے اور بے اختیار یاد خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اس وقت اس کا دل بھی نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن یہ بیداری جو عام طور پر سب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے، بہت سے افراد میں زود گزر اور ناپائیدار ہوتا ہے، کیونکہ جونہی مشکلات برطرف ہو جاتے ہیں وہ دوبارہ خواب غفلت میں غرق ہو جاتے ہیں، جب کہ بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کے لئے یہ مشکلات ایک موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان مصائب کے بعد ان کی رفتار و کردار کا رخ بدل جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے حق کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ گذشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا شمار پہلے طبقہ میں تھا۔ اس بنا پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: جب ان لوگوں نے حوادث روزگار کے تھپیڑوں میں اور مشکلات کے گردابوں میں بھی اپنا راستہ نہ بدلا اور اسی طرح گمراہی میں پڑے رہے تو ہم نے ان پر سے مشکلات کو ہٹا لیا اور اس کی جگہ فراخی اور نعمتیں عطا کیں یہاں تک کہ دوبارہ ان کی زندگی پررونق ہو گئی اور ان کی زندگی میں جوکمیاں تھیں دور ہو گئیں، مال دولت اور افرادی قوت میں اضافہ ہوتا گیا (ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّی عَفَوا)۔ "عفوا" مادہ "عفو" سے ہے جو کبھی تو کثرت وزیادتی کے معنی میں آتا ہے کبھی ترک کرنے اور کسی چیز سے روگردانی کرنے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی کسی چیز کے آثار محو کرنے کے لئے آتا ہے۔ لیکن بعید نہیں ہے کہ سب کی اصل ترک کرنا ہو، اب یہ ترک کرنا کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ کسی چیز کو ترک کر دیا جائے تاکہ وہ توالد وتناسل کرے اور بڑھ جائے اور کبھی ترک کرنا یہ ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے ان کی نگہداشت بھی نہ کی جائے، یہاں تک کہ وہ تدریجاً محوونابود ہو جائے اس بنا پر یہ لفظ افزائش یا نابودی کے معنی میں بھی آیا ہے۔ زیر بحث آیت میں بھی مفسرین نے تین احتمال ذکر کئے ہیں: پہلا : یہ کہ ہم نے ان کو مہلت دی تاکہ وہ "افزائش" پاجائیں اور سختی کے زمانے میں جو نقصانات اٹھا چکے تھے ان کی تلافی ہو جائے۔ دوسرا: یہ کہ ہم نے اس طرح ان کو نعمتیں دیں کہ وہ مغرور ہو گئے اورخدا کو انہوں نے بھلا دیا اور اس کے شکر کو"ترک" کر دیا۔ تیسرا: یہ کہ ہم نے نعمتیں دیں تاکہ وہ ان کے ذریعے نکبت وافلاس کے آثار "محو" کر دیں۔ اگر چہ ان تفسیروں کا مفہوم آپس میں مختلف ہے لیکن نتیجہ کے لحاظ سے ان میں چنداں اختلاف نہیں ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ جب ان لوگوں سے مشکلات برطرف ہو گئی تو بجائے اس کے کہ اس حقیقت کی جانب توجہ کریں کہ "نعمت" و "نقمت"سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس طرف رجوع کریں، خود اپنے کو دھوکا دینے کے لئے اس طرح باتیں کرنے لگے کہ اگر ہمیں مصائب وآلام اورمشکلات پیش آئی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے آباوٴ واجداد بھی ایسی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں دنیا میں اس طرح کی نشیب وفراز ہر ایک کو پیش آتے ہیں، سختیاں اور تکلیفیں ہر ایک کو پیش آتی ہی رہتی ہیں جو زود گزر ہوتی ہیں (وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَائَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ ) آخر میں قرآن کہتا ہے:جس وقت بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے تربیت کے مختلف طریقوں میں سے کسی سے کوئی اثر نہ لیا بلکہ روزبرو ز ان کے غرور واستکبار میں اضافہ ہوتا گیا تو "ناگہاں ہم نے ان کو اپنی سزا کے پنجے میں جکڑ لیا، اس حالت میں کہ ان کو پہلے سے اس کا کائی سان وگمان نہ تھا " اسی لئے یہ سزا ان کے لئے بہت زیادہ دردناک ثابت ہوئی(فاخذْنَاھُمْ بَغْتَةً وَھُمْ لَایَشْعُرُون)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 100 کے تحت ملاحظہ کریں۔
زندگی۔ ایمان اور تقویٰ کے زیر سایہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پچھلی آیات میں کچھ قوموں کی مختصر سرگذشت بیان کی گئی ہے، جیسے حضرت نوح ؑ، حضرت لوط ؑ، حضرت ہود ؑ، حضرت صالح ؑ، حضرت شعیبؑ کی قومیں۔ اگرچہ یہ آیتیں بجائے خود ان کی عبرت انگیز نتائج کے بیان کرنے کے لئے کافی ووافی ہیں، لیکن زیر بحث آیات میں مزید وضاحت کے ساتھ ان واقعات کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے، اشارہ ہوتا ہے: یہ لوگ جو ان آبادیوں اور دیگر شہروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اگر طغیان وسرکشی، تکذیب آیات الٰہی اور ظلم وفساد کی بجائے ایمان لے آئیں اور اس کے سائے میں تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ نہ صرف عذاب الٰہی سے بچ جائیں گے بلکہ ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے بھی کھول دیں گے (وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ )۔ لیکن افسوس! انہوں نے صراط مستقیم، جو سعادت وخوش بختی اور رفاہیت وسلامتی کی راہ تھی، کو چھوڑ دیا اور"خدا کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کے اصلاحی منصوبوں کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا تو ہم نے بھی انہیں ان کے اعمال بد کے جرم میں سزا دی"(وَلَکِنْ کَذَّبُوا فَاَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون)۔
چند اہم نکات
۱۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے کیا مراد ہے؟:اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان بحث ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نباتات کا روئیدہ ہونا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد اجابت دعا اور حل مشکلات ہے۔ یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ برکات آسمانی سے مراد، برکات معنوی اور برکات ارضی سے مراد، برکات مادی ہوں۔ لیکن اگر گذشتہ آیات پر نظر کی جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیوں کہ: گذشتہ آیات جن میں سرکشوں اور مجروموں کو شدید سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں کبھی آسمان سے سیلاب نازل ہونے اور زمین سے چشموں کے ابلنے کاذکر ہے (جیسے طوفان نوحؑ ) اور کبھی آسمانی بجلی گرنے اور کبھی صیحہ آسمانی، کبھی زمین کے ہولناک زلزلوں کا بیان ہے۔ زیر نظر آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ یہ سب سزائیں ان لوگوں کے اعمال بد کا ر عمل تھیں، ورنہ اگر انسان پاک اور با ایمان ہو تو آسمان سے عذاب کے بجائے اللہ کی برکتوں کی بارش ہو، یہ خود انسان ہے جو برکتوں کو بلاؤں کی شکل میں بدلے جانے کا باعث ہوتا۔ ۲۔ "برکات " کا مفہوم:"برکات" جمع ہے "برکت" کی اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس کلمہ میں "ثبات" اور "استقرار" کا مفہوم مضمر ہوتا ہے، جو نعمت دیر تک برقرار رہنے والی ہو اس کو برکت کہتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں وہ بے برکت چیزیں ہوتی ہیں جو زود گزر اور جلدی فنا ہو جانے والی ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ایمان وتقویٰ نہ صرف نزول برکات الٰہی کا سبب ہوتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ہی جو نعمتیں انسان کے پاس ہوتی ہیں ان کو وہ برمحل صرف کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کتنی زیادہ انسانی طاقت اور اقتصادی وسائل ہیں، مگر یہ سب اسلحہ سازی کے مقابلوں اور طرح طرح کے نابود کرنے کے ہولناک آلات کی تیاری میں صرف ہورہے ہیں، یہ وہ قدرت کے عطیے ہیں جن سے ہر طرح کی برکت ختم ہو گئی ہے، یہ جلد ہی فنا ہو جائیں گے۔ ان سے نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان کی وجہ سے ہر طرف ویرانی وبربادی پیدا ہو گی لیکن اگر انسانی معاشرہ میں ایمان بخدا اور تقویٰ شامل ہو جائے تو یہ قدرت کے عطیے ایک دوسری طرح سے ان کے درمیان صرف ہوں جس کے نتیجہ میں ان کے آثار وبرکات دیر تک باقی رہیں اور اس طرح وہ برکات کا مصداق بن جائیں۔ ۳۔ اس آیت میں "اخذ" سے مراد:آیہ مذکورہ بالا میں لفظ"اخذ" پکڑنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم ہے"سزا دینا" یہ اس وجہ سے ہے کہ بالعموم جس کو بھی سزا دینا منظور ہوتا ہے اس کو پہلے پکڑاجاتا ہے، پھر اس کو باندھ دیتے ہیں تاکہ وہ بھاگ نہ سکے بعد ازاں اس کو سزا دیتے ہیں۔ ۴۔ خدا کا فیض اور عقاب کسی سے مخصوص نہیں:اگرچہ زیر بحث آیہ شریفہ کے مد نظر قومیں اور ان کے اعمال بد ہیں لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اس کا مفہوم وسیع، عام اور دائمی ہے جو کسی ایک قوم و ملت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ بے ایمان وکثیف وفاسد افراد اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ کبھی تو آسمان وزمین کی بلائیں ان پر برستی ہیں اور کبھی جنگ عظیم یا علاقائی جنگ کی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے اقتصادی اور جانی سرمائے کو خاک سیاہ کر دیتی ہے اور کبھی جسمانی اور دماغی طور پر وہ ان دیکھے خطروں سے ایسے متاثر اور خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ان کا سرمایہ سکون وقرار چھن جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں "جیسی کرنی ویسی بھرنی" کا قانون کارفرما ہے ورنہ نہ تو خدا کا فیض کسی خاص فرد کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ اس کا عقاب، جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔
ایمان سے بے بہرہ قومیں کیوں خوش حال ہیں؟
جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس سے ایک ایسے سوال کا جواب خودبخود مل جائے گا جو عام طور پر لوگوں کی زبان پر آتا رہتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ اگر واقعاً ایمان اور تقویٰ نزول برکات الٰہی کا سبب ہے اور بے ایمانی اور گناہ سے برکتیں سلب ہو جاتی ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اکثر ہم اس کے برعکس مشاہدہ کرتے ہیں۔ یعنی بے ایمان قومیں ناز ونعمت سے غرق ہوتی ہیں جب کہ اہل ایمان پریشان حال نظر آتے ہیں؟! اس سوال کا جواب دو نکتوں پر غور کرنے سے مل جائے گا: ۱۔ یہ تصور کرنا کہ بے ایمان قومیں اور گنہگار لوگ نعمت میں غرق ہیں ایک بڑا اشتباہ ہے۔ اس اشتباہ کا سبب یہ ہے کہ ثروت اور مال ودولت کو خوش قسمتی کا سرچشمہ سمجھ لیا گیا ہے، عام طور سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو قوم صنعت وثروت کے لحاظ سے ترقی یافتہ ہو وہ ایک خوش قسمت قوم ہے؛ حالانکہ اسی قوم کے اندرونی حالات کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو اس میں ایسے دردہائے جانکاہ ملیں گے جو اس قوم کو روحانی طورپر درہم برہم کئے ہوئے ہوں گے۔ ان دردوں اور دکھوں کو دیکھنے کے بعد ہم کو ماننا پڑے گا کہ اسی قوم کے اندر ایسے بھی لاکھوں افراد ہیں جو روئے زمین کے تمام انسانوں سے زیادہ بدبخت ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ جتنی بھی اضافی ترقی نصیب ہوتی وہ بھی کوشش، جستجو، نظم اور استقلال جیسے اصولوں کو اپنانے کی وجہ سے ہے جو انبیائے الٰہی کی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی ایام جب کہ یہ تفسیر لکھی جارہی ہے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ شہر "نیویارک" میں جو دنیا ئے مادی کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے، یہ حادثہ رونما ہوا کہ ایک مرتبہ ناگہانی طور پر وہاں بجلی چلی گئی؛ جیسا کہ عام طور سے بہت سے شہروں میں ہوتا رہتا ہے۔ لیکن نیویارک میں عجیب ہنگامہ برپا ہو گیا یعنی بہت سے لوگوں نے دکانوں پر یلغار کر دی اور جو جس کے ہاتھ میں آیا لے کر چلا گیا۔ بہت سی دکانیں غارت ہو گئیں۔ یہاں تک کہ پولیس نے تین ہزار غارتگروں کو گرفتار کیا۔ یہ بات مسلم ہے کہ ان غارتگروں کی تعداد اس سے بھی زیادہ تھی کیوں کہ تین ہزار تو وہ تھے کہ جو بھاگ نہ سکے اور موقع پر پکڑے گئے۔ نیز یہ بات مسلم ہے کہ یہ لوگ جو پکڑے گئے تھے کوئی پیشہ ور چور، ڈاکو نہ تھے نہ وہ پہلے سے چوری کے لئے آمادہ تھے کیوں کہ یہ ایک ناگہانی حادثہ تھا۔ بنابریں، یہ نتیجہ نکلا کہ صرف ایک دفعہ بجلی کے چلے جانے سے ایک ثروتمند اور ترقی یافتہ شہر کے ہزاروں انسان ذراسی دیر میں انسانی جامہ اتار کر "ڈاکو اور غارتگر" بن گئے۔ یہ نہ صرف ایک قوم وملت کے اخلاق کی پستی کی دلیل ہے؛ بلکہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی بے امنی کی زندگی ہے۔ ایک دوسری خبر جواس روز کے اخبارات میں تھی وہ ایک مشہور ومعروف شخص جو اس روز ایک بلند وبالا آسمان خراش ہوٹل میں سکونت پذیر تھا، بیان کرتا ہے کہ بجلی جانے کے بعد میرے ہوٹل کی صورت حال بھی بہت خطرناک ہو گئی تھی۔کوئی شخص اپنے کمرے سے باہر نکل کر راستے میں آنے کی جراٴت نہیں کرسکتا تھا کہ کہیں غارتگروں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ہوٹل کے منتظمین نئے آنے والے مسافروں کو دس دس یا زیادہ کی تعداد میں مسلح پولیس کے افراد کے ساتھ ان کے کمروں میں بھیجتے تھے۔ شخص مذکور اپنے بیان میں اس بات کا اضافہ کرتا ہے کہ جب تک مجھے بھوک نہیں ستاتی تھی میں اپنے کمرے سے باہر آنے کی جراٴت نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے برخلاف مشرق کے پسماندہ شہروں میں بجلی عام طور سے فیل ہوتی رہتی ہے لیکن وہاں اس قسم کی مشکلات رونما نہیں ہوتیں، اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان ملکوں نے ثروت کے لحاظ سے ترقی تو کرلی ہے مگر امن امان ذرہ برابر بھی وہاں موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چشم دید گواہوں کابیان ہے کہ آدمی کا جان سے ماردینا لوگوں کے لئے پانی پی لینے کی طرح آسان ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر کسی کو ساری دنیا دے دی جائے لیکن اس سے یہ کہا جائے کہ ان حالات میں تمہیں زندگی بسر کرنا ہو گی تو وہ تمام انسانوں میں بدبخت ترین فرد ہو گا۔ پھر یہ کہ بے امنی ان کی مشکلات میں سے ایک مشکل ہے، اس کے علاوہ اور بھی ایسی ہی نہ معلوم کتنی مشکلات ہیں جن میں وہ گرفتار ہیں۔ لہٰذا ان حقائق کو دیکھتے ہوئے صرف ثروت کی زیادتی کو خوش قسمتی کا نشان نہیں سمجھنا چاہئے۔ ۲۔اب یہ جو کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان دار اور پرہیزگار ہیں وہ کیوں اقتصادی وعلمی طور پر عقب افتادہ اور پسماندہ ہیں؟ اس کے جواب میں ہم پوچھیں گے کہ ان کے ایمان وپرہیزگاری سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اسلام کے دعوےدار ہیں اور ان کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ انبیائے الٰہی کی سیرت پر چلتے ہیں، تو اہم اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اسے لوگ پسماندہ وعقب افتادہ ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایمان اور پرہیزگاری کی اصل ماہیت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ یہ دونوں چیزیں انسان کے اعمال اور اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر جائیں اور یہ ایک ایسی صفت ہے جو زبانی کلامی دعوے سے حاصل نہیں ہوتی۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے اسلامی ملکوں اور آبادیوں میں اسلامی تعلیمات اور پیغمبروں کے ارشادات کلی طور سے متروک یا نیم متروک ہو کر رہ گئے ہیں اور آج کا اسلامی معاشرے کا چہرہ اتنا مسخ ہو گیا ہے کہ ایک اسلامی چہرہ نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام تو پاکدامنی، نیکی، امانتداری اور مسلسل کوشش کی طرف دعوت دیتا ہے، لیکن وہ امانتداری اور جدوجہد کہاں ہے؟ اسلام علم ودانش، آگاہی اور بیداری کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن وہ علم ودانش کہاں ہے؟ اسلام اتحاد، اتفاق، یک جہتی اور فداکاری کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، کیا واقعی آج کے مسلمانوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں اور اس کے باوجود وہ پسماندہ ہیں؟ لہٰذا ہم کو یہ ماننا پڑے گا کہ حقیقی اسلام کوئی اور چیز ہے اور ہم کچھ اور ہیں۔ بعد کی آیات میں اس حکم کی عمومیت پر مزید تاکید کے لئے اور یہ بیان کرنے کے لئے کہ مذکورہ بالاقانون گذشتہ اقوام کے ساتھ مخصوص نہ تھا، بلکہ یہ آج اور کل کے انسانوں کے لئے بھی ہے قرآن فرماتا ہے: وہ مجرم افراد جو روئے زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہیں اپنے آپ کو خدا کی سزا سے محفوظ سمجھتے ہیں، ان کو اس کا ڈر نہیں ہے کہ عذاب الٰہی (بجلی، زلزلہ یا ایسی کوئی آفت)رات کے وقت انہیں اس وقت آلے جب کہ وہ خواب نوشین کے مزے لے رہے ہوں (اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُریٰ اَنْ یَاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَھُمْ نَائِمُونَ ) "یا یہ کہ دن کے وقت اس وقت ان کا دامن پکڑ لے جب وہ کھیل تماشے میں مصروف ہوں" (اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُریٰ اَنْ یَاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَھُمْ یَلْعَبُونَ)۔ مقصد یہ ہے کہ وہ روز وشب، خواب وبیداری اور خوشی وناخوشی ہر حالت میں اللہ کے قبضہٴ قدر ت میں ہیں، جب بھی وہ چاہے اپنے ایک معمولی فرمان سے ان کے کاشانہٴ ہستی کو درہم برہم کرسکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس عذاب کے لئے کوئی مقدمہ فراہم کرے یا کسی مدت کے گزرنے کا انتظار کرے۔ ہاں بس ایک لحظہ کے اندر وہ جو چاہے اس انسان کے سر پر نازل کرسکتا ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ انسان اس ترقی یافتہ دور میں جب کہ سانئس اور ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے اور باجود یہ کہ اس سے دنیائے طبیعت کی بڑی بڑی قوتوں کو اپنا تابع فرمان بنا لیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی اس حوادث کے مقابلے میں اتنا ہی ضعیف اور بے دست وپا ہے جتنا ہزار سال پہلے کا انسان تھا۔ یعنی خدائی آفتوں جیسے زلزلہ اور بجلی اور اسی طرح کی دوسری آفتوں کے سامنے اس حالت میں بھی فرق نہیں آیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی قدرت وتوانائی کے باوجود بہت کمزور اور ناتواں ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیشہ ہر انسان کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اس کے بعد کی آیت میں دوبارہ ایک دوسرے انداز میں اسی حقیقت کا اظہار مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: کیا یہ مجرم افراد خدا کی (انتقامی) تدابیر سے مطمئن ہیں؟ حالانکہ سوائے زیاں کاروں کے کوئی بھی اس کی (انتقامی) تدبیر سے اپنے کو محفوظ نہیں سمجھتا- (اَفَاَمِنُوا مَکْرَ اللهِ فَلَایَاْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ)۔ جیسا کہ ہم سورہٴ آل عمران کی آیت ۵۴ کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں کہ لفظ "مکر" کا جو مفہوم ہمارے آج کی روز مرہ کی زبان میں لیا جاتا ہے، عربی میں اس کا مفہوم اس سے بالکل مختلف ہے۔ فارسی میں مکر کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص کسی کے خلاف شیطانی اور زیاں بخش اسکیمیں تیار کرے۔ لیکن عربی زبان میں "مکر" کے اصلی معنی یہ ہیں کہ کسی کو اس کے مقصد سے باز رکھنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر سے کام لیا جائے چاہے وہ حق ہو یا باطل۔ نیز اس لفظ "مکر"میں ایک قسم کا تدریجی نفوذ بھی پوشیدہ ہے۔ بنابریں، "مکر الٰہی" سے مراد یہ ہے کہ خدا گنہگار بندوں کو یقینی اور ناقابل شکست تدبیروں کے ذریعے خوش حالی اور عیش وآرام کی زندگی سے روک دے، اس سے انہی سزاؤں اور ناگہانی بلاؤں کی طرف اشارہ مقصود ہے جو انسان کو ہر طرح سے بے چارہ کر دیتی ہیں۔
ایک سوال اور اس کا جواب
مذکورہ بالا آیت کے آخر میں ایک جملہ ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے: جو شخص گھاٹے میں ہے اس کے سوا کوئی بھی اپنے کو خدا کی (انتقامی)تدبیر اور سزا سے امان میں نہیں سمجھتا۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جملہ پیغمبروں، پیشواؤں اور صالحین کے لئے بھی ہے یا نہیں؟ بعض کا خیال ہے کہ لوگ اس حکم سے خارج ہیں اور مذکورہ بالا آیت صرف گنہگاروں کے لئے ہے۔ لیکن اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم عمومی ہے جو سب کو اپنے دائرہ میں لئے ہوئے ہے کیونکہ تمام پیغمبر اور ائمہ معصومین صلوات اللہ علیہم اجمعین ہمیشہ اپنے اعمال کے ناظر ونگراں رہے کہ مباد ا ان سے کوئی لغزش صادر ہو جائے۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے معصوم ہونے کہ یہ معنی نہیں ہیں کہ کبھی ان سے کوئی مخالفت نہیں ہو سکتی۔ [تشریحی نوٹ: عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے کوئی غلطی ایسی نہیں ہو سکتی جو موجب دخول جہنم ہو، البتہ ان سے ترک اولیٰ ہو سکتا ہے۔ اسی کے لحاظ سے وہ ڈرتے رہتے تھے، اب رہے اہل بیت طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین تو اُن سے ترک اولیٰ بھی محال ہے، ان کا توبہ استغفار ترقی درجات اور تعلیم کے لئے تھا جیسا کہ مولف محترم کئے مقامات پر وضاحت کر چکے ہیں۔(مترجم)] بلکہ وہ اپنے ایمان اور ارادہ کی قوت سے اور اپنے اختیار اور الٰہی مدد کے ذریعے خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ ہیں، جب کہ وہ ترک اولیٰ سے ڈرا کرتے تھے اور اس سے ڈرا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہ کر سکیں جو خدا نے ان کے دوش پر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہٴ انعام کی آیت ۱۵ میں ہے: قُلْ إِنِّی اَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ کہو میں اس سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اللہ کی نافرمانی کی تو میں روز عظیم کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤں گا۔ جو روایتیں آیہ مذکورہ کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس بات کی تاکید کرتی ہیں جو ہم نے بیان کی ہے، صفوان جمال کہتے ہیں کہ ایک روز میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے سنا کہ آپؑ کہہ رہے تھے: "اللّٰھمَّ لاتوٴمنی مکرک۔ثم جھر۔ فقال: فَلَایَاْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ"۔ خدایا! مجھے اپنی تدبیر سے مطمئن نہ کر،پھر اس کے بعد آپ ؑ نے بلند آوازسے اس آیت کی تلاوت فرمائی "فَلَایَاْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ" نیز نہج ا لبلاغہ میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: لاتاْمنن علی خیر ھذا الامة عذاب اللہ لقول اللہ سبحانہ فَلَایَاْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ۔ یعنی حتی کہ اس امت کے نیک لوگوں پر بھی الٰہی سزا سے مطمئن ومامون نہ ہونا؛ کیوں کہ خداوند کریم فرماتا ہے: "فَلَایَاْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ"[بحوالہ: کلمات قصارجملہ ۳۷۷] درحقیقت، خدا کی سزا سے مطمئن ومامون نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ شخص اپنی ذمہ داریوں کے ادا نہ کرنے یا ان میں کوتاہی واقع ہونے سے ڈرتا ہے، یہ خوف اور اس کے ساتھ ہی اس کی رحمت کی امید دونوں ساتھ ساتھ اور برابر سے مومن میں دل میں پائی جانا چاہئیں۔ انہی دونوں کے توزان کی وجہ سے ہر قسم کی مثبت جدوجہد جاری رہتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے روایات میں "خوف رجاء"کہا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ باایمان افراد ہمیشہ ان دو کے درمیان رہتے ہیں، اس کے بر خلاف زیاں کار مجرم اس طرح کیفر الٰہی کو بھلا بیٹھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نہایت مطمئن اور امن وامان میں سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد والی آیت میں ایک مرتبہ پھر اقوام موجودہ کو بیدار کرنے اور پچھلی قوموں کے واقعات سے عبرت حاصل کرنے کے لئے قرآن فرماتا ہے: آیا وہ لوگ جو گذشتہ قوموں کی زمینوں کے وارث بنے ہیں اور ان کے ٹھکانوں پر آباد ہوئے ہیں، پچھلی قوموں کے واقعات سے بیدار نہ ہوں گے؟ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیں اور جو حال ہم پچھلی قوموں کا کیا ان کا بھی وہی حال کر دیں (اَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِینَ یَرِثُونَ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ اَھْلِھَا اَنْ لَوْ نَشَاءُ اَصَبْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ )۔ اور یہ بھی ہم کر سکتے ہیں کہ ان کو زندہ باقی رکھیں اور گناہوں کے اندر غوطہ ور ہونے کی وجہ سے "ان سے ہم ادراک وشعور اور حق وباطل کی تمیز سلب کر لیں جس کے نتیجہ میں ان میں حقائق کو سننے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی، وہ کسی نصیحت کو نہ سن سکیں گے، اپنے زندگی میں حیران وپریشان رہیں گے" (وَنَطْبَعُ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لَایَسْمَعُون)۔ خدا ان لوگوں سے کس طرح ان کے ادراک و شعور اور سوجھ بوجھ کو سلب کر لیتا ہے، تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہٴ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل ہم اس کو تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 102 کے تحت ملاحظہ کریں۔
گذشتہ اقوام کے واقعات میں پوشیدہ عبرتیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دونوں آیتوں میں بھی انہی عبرتوں کو پیش کیا گیا ہے جو گذشتہ اقوام کے واقعات میں پوشیدہ ہیں۔ لیکن یہاں روئے سخن حضرت رسول خداﷺ کی طرف ہے اگرچہ سب کو سنانا مقصود ہے۔پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ آبادیاں، شہر اور قومیں ہیں جن کے واقعات اور سرگذشتیں ہم تم سے بیان کرتے ہیں (تِلْکَ الْقُریٰ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَائِھَا )۔[تشریح: "نقصّ" کی اصل "قص" ہے جس کی شرح اسی سورہ کی آیت ۷ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔] اس کے بعد قرآن فرماتا ہے: ایسا نہ تھا کہ وہ بغیر کسی اتمام حجت کے ہلاک کردئے گئے بلکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے، انہوں نے ان کی ہدایت کے لئے اپنی پوری کوششیں صرف کیں (وَلَقَدْ جَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ)۔ لیکن انہوں نے پیغمبروں کی مسلسل تبلیغات اور ہمہ گیر دعوتوں کا اپنے عناد سے مقابلہ کیا اور وہ اس بات پر آمادہ نہ ہوئے کہ انہوں نے جس بات کی سابق میں تکذیب کر دی تھی اسے قبول کر لیں اور اس پر ایمان لے آئیں (فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ)۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبران الٰہی نے دین الٰہی کی طرف بلانے کے لئے بارہا قیام کیاتھا لیکن وہ اس طرح اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے تھے کہ بہت سے حقائق کے روشن ہو جانے کے باوجود کسی حقیقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ بعد کے جملے میں ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا سبب یوں بیان کیا گیا ہے: خدا اس طرح کافروں کے دلوں پر بے ایمانی اور گمراہی کا نقش ثبت کر دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگادیتا ہے (کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللهُ عَلیٰ قُلُوبِ الْکَافِرِین)۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غلط راہ پر اپنا قدم اٹھاتے ہیں، تو ان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ تکرار اور پیہم غلط کاریوں کی وجہ سے اور ناپاکی اور کفر مسلسل کے سبب ان کے دلوں پر ایک ایسا نقش بن جاتا ہے جیسا کسی سکہ کا انمٹ نقش ہوتا ہے۔ (اتفاقا لفظ "طبع" کے لغت میں یہی معنی ہیں یعنی کسی شکل کو کسی چیز پر سکہ کی طرح نقش کر دینا) اور یہ درحقیقت از قبیل اثر وخاصیت عمل کے ہے جس کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے کیوں کہ وہی ہے جس نے "تکرارِ عمل" کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ وہ ایک "ملکہ" کی صورت اختیار کرلے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہے کہ اس طرح کی گمراہی کوئی اجباری پہلو نہیں رکھتی بلکہ اس کے اسباب پیدا کرنے والے خود افراد بشر ہوتے ہیں، اگر چہ اسباب میں تاثیر اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ان لوگوں کی اخلاقی کمزوری کے ان دو پہلوؤں کو بیان کیا گی ہے، جو ان کی گمراہی ونابودی کا سبب بن گئے۔ پہلے قرآن فرماتا ہے:یہ لوگ پیمان شکن افراد تھے"اور ہم نے ان کی اکثریت میں پائیدار عہدوپیمان نہ پایا" (وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِنْ عَھْدٍ)۔ ہو سکتا ہے اس عہدوپیمان سے "فطری عہدوپیمان" مراد ہو جو خدا وند کریم نے بمقتضائے آفرینش وفطرت اپنے بندوں سے لیا ہے، کیونکہ جس وقت اللہ نے اپنے بندون کو ہوش، ادراک اور استعداد عطا کی اس کے معنی یہ ہیں کہ ان سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ اپنے کانوں اور آنکھوں کو کھولیں رکھیں، حق کی آواز سنیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔ یہ وہی بات ہے جو اسی سورہ کے آخر میں آیت ۱۷۲ کی تفسیر میں بہ عنوان "عالم ذر" آئے گی اور اس کی شرح ہم انشاء اللہ اپنے مقام پر کریں گے۔ نیز ممکن ہے اس سے مراد وہ عہدوپیمان ہو جو پیغمبران وقت اپنے دور کے لوگوں سے لیا کرتے تھے کیوں کہ بہت سے لوگ پہلے تو قبول کرلیتے تھے بعد ازاں اس سے پھر جاتے تھے۔ یا یہ کہ اس سے تمام عہدوں کی طرف اشارہ مقصود ہے چاہے وہ "فطری" ہوں یا "تشریعی"۔ بہرحال، ان کی پیمان شکنی کی عادت ایک بہت بری عادت تھی جو درحقیقت پیغمبروں کی نافرمانی، کفر نفاق کی راہ پر چلنے پر اصرار، پھر اس کے نتائج بد میں مبتلا ہونے کے اسباب وعلل میں سے ایک بڑا سبب تھی۔ بعد ازاں ایک اور سبب کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: ہم نے ان میں سے اکثر کو اپنے فرمان کی اطاعت سے خارج پایا(وَإِنْ وَجَدْنَا اَکْثَرَھُمْ لَفَاسِقِین)۔ مقصد یہ ہے کہ ان میں سرکشی، قانون شکنی، نظام آفرینش سے باہر نکلنے اور قوانین الٰہی کو توڑنے کا جو جذبہ پایا جاتا تھا، یہ ان کے کفر وبے ایمانی میں ثابت قدم رہنے کا ایک اور سبب تھا۔ اس بات کی طرف توجہ رہنا توجہ رہنا چاہئے کہ "اکثرھم" میں جو ضمیر ہے وہ تمام پچھلی اقوام کی جانب پلٹ رہی ہے، اور یہ جو کہا ہے کہ ان میں سے اکثر عہد شکن اور فاسد تھے وہ اقلیتوں کی رعایت سے کہا گیا جنھوں نے انبیائے سابقین کی تصدیق کی تھی اور وہ ان پر ایمان لائے تھے اور وہ ااکر تک ان کے وفادار رہے تھے، اگرچہ ایسے لوگ بعض اوقات اتنے محدود اورکم ہوتے تھے کہ وہ ایک خاندان سے تجاوز نہ کرتے تھے، لیکن روح حق طلبی جو پورے قرآن حکمران نظر آتی ہے۔ اس کا تقاضا یہی ہے کہ ایک خاندان یا معدودے چند افراد کے حق کا بھی پاس ولحاظ کیا جائے اور ان تمام افراد کو منحرف، گمراہ اور پیمان شکن نہ بتایاجائے، یہ ایک پر کشش بات جو قرآن کریم میں جابجا نظر آتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 108 کے تحت ملاحظہ کریں۔
موسی اور فرعون کی لڑائی کا ایک منظر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1بہت سے انبیاء کی سرگذشت جو گذشتہ آیات میں بطور خلاصہ بیان کی گئی ہے، اسی کے ذیل میں ان آیات میں اور اسی طرح دیگر متعدد آیات میں جو بعد میں آنے والی ہیں، حضرت موسیٰؑ کے واقعات اور فرعون کے اس کے ساتھیوں کے ساتھ ان کی جنگ؛ پھر اس کے بعد فرعون کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا ہے۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ اس سورہ میں حضرت موسیٰؑکی سرگذشت بہ نسبت دیگر انبیاء کے ذرا تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے تو ممکن ہے دو وجوہ سے ہو۔ ایک، تو یہ کہ نزول قرآن کے ماحول میں موسیٰؑبن عمران کے تابعین زیادہ تعداد میں پائے جاتے تھے، نیز ان کی حقانیت اسلام کی طرف متوجہ کرنا بہ نسبت دیگر افراد کے زیادہ ضروری تھا۔ [تشریحی نوٹ: اگرچہ یہ صحیح ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہو ا اور مکہ یہودیوں کی آماجگاہ نہ تھا لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مدینہ اور حجاز کے دیگر علاقوں میں مقیم یہودیوں کی آبادیوں نے نے محیط مکہ پر کافی اثر کیا تھا۔ اس بنا پر مکی سورتوں میں بھی ان کا کافی ذکر ملتا ہے۔] دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کا قیام اور ان کا کفار سے مقابلہ حضرت موسیٰؑکے قیام اور تحریک سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔ بہرحال، اس سورہ کے علاوہ دیگر سورتیں جیسے بقرہ، طہ، شعراء، نمل، قصص وغیرہ میں بھی اس عبرت انگیز سرگذشت کے مختلف حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان آیتوں کی الگ الگ شرح کریں اس کے بعد ان سب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیں تو بعض افراد کے اس توہم کے برخلاف کہ قرآن میں تکرار سے کام لیا گیا ہے، ہم کو معلوم ہو گا کہ قرآن میں نہ صرف تکرار نہیں ہے، بلکہ ہر سورہ میں جو بحث چھیڑی گئی ہے اس کی مناسبت سے اس سرگذشت کا ایک حصہ شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ضمناً یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں مملکت مصر نسبتاً وسیع مملکت تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کا تمدن بھی حضرت نوح ؑ، ہود ؑ اور شعیبؑ کی اقوام سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ لہٰذا حکومت فراعنہ کی مقاومت بھی زیادہ تھی۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰؑکی تحریک اور نہضت بھی اتنی اہمیت کی حامل ہوئی کہ اس میں زیادہ عبرت انگیز نکات پائے جاتے ہیں۔ بنابر یں، اس سورہ میں حضرت موسیٰؑکی زندگی اور بنی اسرائیل کے حالات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کلی طور پر اس عظیم پیغمبر کی زندگی کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی زندگی کے پانچ ادوار
۱۔پیدائش سے لے کر آغوش فرعون میں آپؑ کی پرورش تک کا زمانہ۔ ۲۔مصر سے آپ ؑ کا نکلنا اور شہر مدین میں حضرت شعیبؑ کے پاس کچھ وقت گزارنا۔ ۳۔آپؑ کی بعثت کا زمانہ اور فرعون اور اس کی حکومت والوں سے آپؑ کے متعدد تنازعے۔ ۴۔فرعونیوں کے چنگل سے حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کی نجات اور وہ حوادث جو راستہ میں اور بیت المقدس پہنچنے پر رونما ہوئے۔ ۵۔حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے درمیان کشاکش کا زمانہ۔ توجہ رہے کہ قرآن مجید کی ان سورتوں میں جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے مذکورہ پانچ ادوار میں سے صرف ایک یا چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ زیر بحث آیات میں نیز اسی سورہ کی بہت دیگر آیات میں جو آئندہ آنے والی ہے ہیں صرف حضرت موسیٰ کی بعثت اور رسالت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ہم ان واقعات کو جو آپؑ کی بعثت سے قبل رونما ہوئے آئندہ آنے والی آیات کے ذیل میں بیان کریں گے جو ان واقعات کے ساتھ مربوط ہیں۔ خصوصاً سورہ "قصص" میں اس کا ذکر آئے گا۔ زیر بحث پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اقوام گذشتہ (جیسے حضرت نوحؑحضرت ہودؑ اور حضرت صالحؑ وغیرہ کی اقوام)کے بعد ہم نے حضرت موسیؑ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور فرعونیوں کے پاس بھیجا(ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ مُوسیٰ بِآیَاتِنَا إِلیٰ فِرْعَوْنَ وَمَلاَئِہِ)۔ اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ "فرعون" اسم عام ہے جو تمام سلاطین مصر پر بولا جاتا ہے۔جیسے سلاطین روم کو "قیصر" اور شاہان ایرن کو "کسریٰ "کہتے ہیں۔ لفظ "ملاٴ" جیسا کہ سابقا بیان کیا گیا ہے ان افراد پر بولا جاتا ہے جو قوم کے سربرآوردہ، اشراف، پُرزرق برق نظروں میں سماجانے والے اور معاشرہ کے اہم مواقع پر چھا جانے والے افراد ہوں۔ اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ درجہٴ اول میں حضرت موسیٰ ؑفرعون اور اس کے گروہ کی طرف مبعوث ہوئے تو اس کی دو وجوہ معلوم ہوتی ہیں: ایک، تو یہ کہ حضرت موسیٰؑ کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے اور مصر اور فرعونیوں کے استعمار سے نجات دلائیں اور یہ کام فرعون سے گفتگو کئے بغیر وقوع پذیر نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جیسے ایک مثال ہے کہ "ہمیشہ پانی کے اُس چشمہ کو صاف کرنا چاہئے جہاں سے وہ نکلتا ہے" اجتماعی خرابیاں اور ماحول کے مفاسد کسی فرد یا کسی خاص مقام کی اصلاح سے دور نہیں ہوتے؛ بلکہ چاہئے یہ کہ سب سے پہلے معاشرے کے سربرآوردہ افراد اور ان اشخاص کی اصلاح کی جائے جن کے ہاتھ میں اس قوم کی سیاست، اقتصاد اور ان کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ تاکہ باقی افراد کی اصلاح کے لئے بھی زمین ہموار ہو جائے۔ اور یہ ایک درس ہے جو قرآن کریم تمام مسلمانان عالم کو اسلامی معاشروں کی اصلاح کے لئے دے رہا ہو۔ اس کے بعد قرآن فرماتا ہے:ان لوگوں نے آیات الٰہی پر ظلم کیا (فَظَلَمُوا بِھَا)۔ "ظلم" یہاں ایک وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے اور وہ ہیں"کسی شئے کا بے محل استعمال کیا جانا" اور اس میں شک نہیں کہ آیات الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام لوگ ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور ان کو قبول کر کے اپنے اپنے معاشرے کی اصلاح کریں۔ مگر ہوا یہ کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے ان کا انکار کر کے اپنے اوپر ظلم کیا۔ آخر میں قرآن مزید فرماتا ہے: دیکھو مفسدوں کا انجام کیا ہوا(فَانظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِینَ)۔ اس جملے میں فرعون اوراس کے لشکر کے نابودی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ درحقیقت گذشتہ آیت میں نہایت اجمالی طور پر حضرت موسیٰ کی رسالت اور فرعون سے آپ کے مقابلے اور اس کا انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن بعد والی آیات میں اسی بات کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: حضرت موسیٰؑ ؑ نے کہا، اے فرعون! میں سارے جہانوں کے پروردگار کے طرف سے فرستادہ ہوں (وَقَالَ مُوسیٰ یَافِرْعَوْنُ إِنِّی رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ )۔ یہ حضرت موسیٰؑکا فرعون سے پہلا مقابلہ ہے اور حق وباطل کی نبر د کا ایک نقشہ ہے۔ جاذب توجہ یہ بات ہے کہ پہلی بار فرعون کے سامنے ایک ایسا شخص آیا جس نے فرعون کو فرعون کہہ کر خطاب کیا، یہ ایک ایسا خطاب تھا جو ہر قسم کے ادب، تملق، چاپلوسی اور عبودیت کے اظہار سے خالی تھا۔کیوں کہ اب تک تو لوگ اسے ہمارے سردار!، اے مالک!، اے رب اور اسی طرح کے دوسرے باطل القابات کے ساتھ پکارتے آئے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑکی یہ تعبیر گویافرعون کے لئے سب سے پہلے خطرہ کا الارم تھا۔ نیز حضرت موسیٰؑکا یہ کہنا کہ "میں جہانوں کے پروردگار کا فرستادہ ہوں" فی الحقیقت فرعون کے لئے ایک طرح کا اعلان جنگ تھا۔ کیوں کہ اس بات کا اعلان ہے کہ فرعون اور اس کی طرح کے دوسرے مدعیان ربوبیت سب جھوٹے ہیں اور تمام جہانوں کا رب صرف خدائے وحدہ لاشریک ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی رسالت کے اعلان کے بعد ہی یہ کہا: اب جب کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں تو میرے لئے مناسب ہے کہ میں اس کے بارے میں سوائے حق کے دوسری بات نہ کہوں کیوں کہ خدا کا فرستادہ تمام عیبوں سے مبرہ ومنزہ ہوتا ہے۔ممکن نہیں کہ وہ کوئی غلط بات کہے (حَقِیقٌ عَلیٰ اَنْ لَااَقُولَ عَلَی اللهِ إِلاَّ الْحَقَّ)۔ بعد ازاں اپنے دعوائے نبوت کے اثبات کے لئے آپ نے اس جملہ کا اضافہ کیا: ایسا نہیں کہ میں نے یہ دعویٰ بغیر کسی دلیل کے کیا ہو، میں تمہارے پروردگار کی جانب سے روشن وواضح دلیل لے کر آیا ہوں (قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ)۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ بھیج دو(فَاَرْسِلْ مَعِی بَنِی إِسْرَائِیلَ)۔ یہ درحقیقت، حضرت موسیٰؑ کی رسالت کا ایک حصہ تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعونیوں کے چنگل سے چھٹکارا دلائیں اور اسیری کی زنجیروں کو ان کے ہاتھوں اور پیروں سے کاٹ دیں۔کیوں کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل ذلیل غلاموں کی حیثیت سے قبطیوں (اہل مصر) کے ہاتھوں میں گرفتار تھا اور قبطی ان سے ہر سخت وپست کام لیا کرتے تھے۔ آئندہ کی آیات سے نیز قرآن کی دیگر آیات سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو یہ حکم ملا تھا کہ وہ فرعون اور دیگر اہل مصر کو بھی اپنے آئین کی طرف دعوت دیں،یعنی ان کی رسالت صرف بنی اسرائیل میں منحصر نہ تھی۔ فرعون نے جونہی یہ دعویٰ سنا کہ "میں اپنے ہمراہ روشن دلیل بھی رکھتا ہوں" فوراً کہا "اگر تم سچ کہتے ہو اور اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔"(قَالَ إِنْ کُنتَ جِئْتَ بِآیَةٍ فَاْتِ بِھَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ )۔ اس تعبیر میں ایک تو حضرت موسیٰؑ کے دعوے کے متعلق شک وشبہ مخفی تھا، اس کے علاوہ اس کے یہ بھی معنی تھے کہ دیکھو! میں جویائے حق ہوں کہ اگر موسیٰ ؑنے کوئی قاطع دلیل پیش کر دی تو فوراً اسے مان لوں گا۔ اس پر حضرت موسیٰؑ نے بغیر کسی توقف کے اپنے دو بڑے معجزے پیش کردئے جن میں ایک "خوف" کا مظہر تھا تو دوسرا "امید" کا جس کی وجہ سے آپ کے مقام "انذار" و "بشارت" کی تکمیل ہوتی ہے۔ پہلے "آپ نے اپنا عصا نکال کر اس کے سامنے پھینک دیا جو ایک نمایا اژدھے کی شکل میں ہو گیا"(فَاَلْقَی عَصَاہُ فَإِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُبِینٌ )۔ [تشریحی نوٹ: راغب نے "مفردات" میں یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ کلمہ "ثعبان" مادہ "ثعب" سے لیا گیا ہے جس کے معنی پانی جاری ہونے کے ہیں کیوں کہ یہ حیوان کسی نہر کی طرح لہرا کے چلتا ہے۔] لفظ"مبین" سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عصا سچ مچ اژدھا بن گیا۔وہاں کسی قسم کے فریب نظر، ہاتھ کی صفائی یا جادو جنتر وغیرہ نہ تھا۔ برخلاف ان امورکے جو جادوگروں نے بعد میں ظاہر کئے، کیونکہ ان کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ ان جادوگروں نے نظر فریب کا م لیااور ایک ایسا عمل کیا جس کی وجہ سے لوگوں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کچھ سانپ ہیں جن میں حرکت پیدا ہو گئی ہے۔ یہاں پر ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ سورہٴ نمل کی آیت ۱۰ اور قصص کی آیت ۳۱ میں ہے کہ وہ عصا "جانّ" کی شکل میں حرکت کرنے لگا اور "جانّ" عربی میں باریک سانپ کو کہتے ہیں جو تیز بھاگے۔ یہ تعبیر لفظ "ثعبان" جس کے معنی ایک بڑے اژدھے کے ہیں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتیں حضرت موسیٰ کی بعثت کے آغاز سے تعلق رکھتی ہیں اور آیت زیر بحث کا تعلق حضرت موسیٰ اور فرعون کے مقابلے سے ہے، تو یہ مشکل حل ہو جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا آپ کا عصا چھوٹا سانپ بنا بعد میں اس کی جسامت میں اضافہ ہوتا گیا تاکہ حضرت موسیٰ اس معجزہ سے تدریجاً مانوس ہو جائیں۔ پھر جب فرعون سے مقابلہ ہو ا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کی صورت اختیار کرلی تاکہ دشمن کے دل پر خاطر خواہ اثر ہو جب کہ حضرت موسیٰ کے دل میں اس کی ہیبت اس سے قبل دیکھنے کی وجہ سے کم ہو چکی تھی۔
عصا، اژدھے کی شکل میں
اس میں کوئی شک نہیں کہ عصا کا اژدھا بن جانا ایک بین معجزہ ہے جس کی توجیہ مادی اصولوں سے نہیں کی جاسکتی، بلکہ ایک خدا پرست شخص کو اس سے کوئی تعجب بھی نہ ہو گا کیوں کہ وہ خدا کو قادر مطلق اور سارے عالم کے قوانین کو ارادہٴ الٰہی کے تابع سمجھتا ہے لہٰذا اس کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ لکی کا ایک ٹکڑا حیوان کی صورت اختیار کرلے۔ کیوں کہ ایک مافوق طبیعت قدرت کے زیر اثر ہونا عین ممکن ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی نہ بھولنا چاہئے کہ اس جہان طبیعت میں تمام حیوانات کی خلقت خاک سے ہوئی ہے۔ نیز لکڑی ونباتات کی خلقت بھی خاک سے ہوئی ہے، لیکن مٹی سے ایک بڑا سانپ بننے کے لئے عادتاً شاید کروڑوں سال کی مدت درکار ہے، لیکن اعجاز کے ذریعے یہ طولانی مدت اس قدر کوتاہ ہو گئی کہ وہ تمام انقلابات ایک لحظہ میں طے ہو گئے جن کی بنا پر مٹی سے سانپ بنتا ہے۔جس کی وجہ سے لکڑی کا ایک ٹکڑا جو قوانین طبیعت کے زیر اثر ایک طولانی مدت میں سانپ بنتا، چند لحظوں میں یہ شکل اختیار کر گیا۔ اس مقام پر کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو تمام معجزات انبیاء کی طبیعی اور مادی توجیہات کرتے ہیں جس سے ان کے اعجازی پہلو کی نفی ہوتی ہے، اور ان کی یہ سعی ہوتی ہے کہ تمام معجزات کو معمول کے مسائل کی شکل میں ظاہر کریں، ہر چند وہ کتب آسمانی نص اور الفاظ صریح کے خلاف ہو۔ ایسے لوگوں سے ہمارا یہ سوال ہے کہ وہ اپنی پوزیشن اچھی طرح سے واضح کریں۔ کیا وہ واقعاً خدا کی عظیم قدرت پر ایمان رکھتے ہیں اور ایسے قوانین طبیعت پر حاکم مانتے ہیں کہ نہیں؟ اگر وہ خدا کو قادروتوانا نہیں سمجھتے تو ان سے انبیاء کے حالات اور ان کے معجزات کی بات کرنا بالکل بے کار ہے اور اگر وہ خدا کو قادر جانتے ہیں تو پھر ذرا تاٴمل کریں کہ ان تکلیف آمیز توجیہوں کی کیا ضرورت ہے جو سراسر آیات قرآنی کے خلاف ہیں؟ (اگرچہ زیر بحث آیت میں میری نظر نہیں گزرا کہ کسی مفسر نے جس کا طریقہٴ تفسیر کیسا ہی مختلف کیوں نہ ہو اس آیت کی مادی توجیہ کی ہو؛ تاہم جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ ایک قاعدہ کلی کے طور پر تھا)۔ اس کے بعد کی آیت نے حضرت موسیٰ کا دوسرا معجزہ بیان کیا ہے، جو بشارت کا پہلو رکھتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: موسیٰ نے اپنے ہاتھ گریبان سے باہر نکالا، تو وہ ناگہاں دیکھنے والوں کے لئے سفید اور درخشان ہو گیا(وَنَزَعَ یَدَہُ فَإِذَا ھِیَ بَیْضَاءُ لِلنَّاظِرِین)۔ "نزع" کے معنی ہیں "کسی چیز کو اس جگہ سے باہر نکالا جائے جہاں وہ پہلے سے قرار پذیر ہو۔" مثلاً کاندھے سے عبا الگ کرنا، تن سے لباس کا دور کرنا۔ ایسے کاموں کو کلام عرب میں "نزع" تعبیر کرتے ہیں۔اسی طرح سے بدن سے روح کے جدا ہونے کو بھی "نزع روح " کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہ لفظ "خارج کرنے" کے لئے بھی استعمال ہوتاہے؛ جیسا کہ اس آیت میں استعمال ہوا ہے۔ اگر چہ اس آیت میں ہاتھ نکالنے کا ذکر نہیں ہے لیکن سورہٴ قصص کی آیت ۳۲ میں ہے: اُسْلُکْ یَدَکَ فِی جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ایسے موقع پر اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرکے جب دوبارہ باہر نکالتے تھے تو وہ نمایاں طور پر سفید اور درخشاں ہوجایا کرتا تھا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اپنی پہلی حالت پر پلٹ آتا تھا۔ کچھ تفاسیر اور روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ کا ہاتھ سفیدی کے علاوہ ایسی حالت میں بہت زیادہ چمکیلا بھی ہو جاتا تھا۔ لیکن آیات قرآنی اس معاملہ میں خاموش ہیں اگرچہ اس مفہوم کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ یہ اور اس سے پہلے بیان کیا جانے والا معجزہ جو عصا کے بارے میں تھا میں مسلمہ طور کوئی عادی اور معمول کا پہلو نہیں ہے نہ طبیعت کو اس میں دخل ہے بلکہ یہ پیغمبروں کے خارق عادت معجزات میں داخل ہے جو ماورائے طبیعت اور قوت کی دخالت کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتا۔ اور یہ بھی اشارہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے یہ دونوں معجزے جو دکھلائے تو اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ میں صرف ڈرانے کے لئے نہیں آیا ہوں بلکہ تہدید صرف دشمنوں اور مخالفین کے لئے ہے اور تشویق، تعمیراور نورانیت مومنین کے لئے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 112 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مقابلہ شروع ہوتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات اس سے پہلے رد عمل کو بیان کیا گیا ہے جوحضرت موسیٰ کی دعوت اور ان کی معجزنمائی کے نتیجے میں فرعون اور اس کی حکومت کے افراد مرتب ہوا۔ آیت میں پہلے اصحاب فرعون کی طرف سے یہ نقل ہوا کہ انہوں نے جیسے ہی موسیٰ سے خارق عادت امور کا مشاہدہ کیا تو فوراً ہی ان کی طرف جادو کی نسبت دے دی اور کہا: یہ ایک جاننے والا پرانا جادو گر ہے (قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ ھٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِیمٌ )۔ لیکن سورہٴ شعراء کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات فرعون نے کہی تھی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: قَالَ لِلْمَلَاٴ حَولَہُ اِنَّ ھٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِیمٌ فرعون نے اپنے اصحاب سے کہا کہ یہ ایک جاننے والا جادو گر ہے (شعراء ۳۴)۔ حقیقت میں یہ دونوں آیتیں آپس میں کوئی اختلاف نہیں رکھتیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات پہلے فرعون نے کہی ہو کیوں کہ اس حادثے کے بعد طبیعی طور سب کی آنکھیں اس کی طرف لگی ہوئی تھیں کہ دیکھیں اس پر موسیٰؑ کی اس ضرب کاری کا کیا اثر ہوتا ہے۔ پھر جب فرعون نے اپنی بات کہہ دی کہ یہ ایک تجربہ کار جادوگر معلوم ہوتا ہے تو اس کے اصحاب جن کو چاپلوسی کی عادت تھی اور ان کا مقصد بجز اپنے سردار کی رضامندی کے اور کچھ نہ تھا بیک زبان بول اٹھے:"بالکل درست فرمایا! یہ ایک بہت ماہر جادوگر معلوم ہوتا ہے" یہ حالت صرف فرعون کے ساتھیوں ہی کی نہیں تھی بلکہ دنیا میں ہر ظالم سردار کے ارد گرد ایسے افراد جمع ہوجایا کرتے ہیں اور وہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو فرعون کے دربار میں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ :"اس شخص کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں تمہارے وطن سے نکال باہر کرے"(یُرِیدُ اَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ اَرْضِکُم)۔ یعنی اس کی غرض سوائے استعمار، استثمار، حکومت طلبی اور دوسروں کی زمین غصب کرنے اور کچھ نہیں ہے اور یہ خارق عادت باتیں اور دعوائے نبوت سب کچھ اسی غرض سے ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ان باتوں کے جان لینے کے بعد "تم لوگ بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرو کہ اس شخص کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے "(فَمَاذَا تَاْمُرُونَ)۔ یعنی وہ لوگ حضرت موسیٰ کے بارے مشورہ کرنے بیٹھے اور انہوں نے اس معاملے میں تبادلہ خیالات کیا کیوں کہ "امر" کا مادہ ہمیشہ حکم دینے کے لئے نہیں آتابلکہ مشورہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں پر پھر یہ توجہ کرنا چاہئے کہ بالکل یہی جملہ سورہٴ شعراء میں فرعون کی زبان سے بھی نقل ہوا ہے اور اس نے اس موقع پر اپنے اطرافیوں سے کہا کہ بتاؤ تم لوگ موسیٰ کے بارے کیا رائے دیتے ہو؟ ہم نے بیان کیا کہ ان دونوں میں اختلاف نہیں ہے۔ یہ احتمال بھی بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ جملہ "فماذا تاْمرون" اطرافیان فرعون نے فرعون سے کہا، اس میں صیغہٴ جمع تعظیم کے لئے ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ قرین قیاس ہے۔ بہر حال سب کی رائے یہ قرار پائی کہ انہوں نے فرعون سے کہا: "اس کے اور اس کے بھائی (ہارون)کے بارے جلد بازی سے کام نہ لو اور جو کچھ بھی فیصلہ کرنا ہو وہ بعد کے لئے اٹھا رکھو لیکن جادوگروں کو اکٹھا کرنے والے افراد کو تمام شہروں میں روانہ کردو"(قَالُوا اَرْجِہِ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَائِنِ حَاشِرِین( "تاکہ یہ لوگ تمام ماہروتجربہ کار جادوگروں کو تیرے پاس آنے کی دعوت دیں اور ان کو لے کر تیرے پاس آئیں"(یَاْتُوکَ بِکُلِّ سَاحِرٍ عَلِیم)۔ یہاں پر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا فرعون کی جماعت یہ خیال کرتی تھی کہ شاید حضرت موسیٰ کا دعوائے نبوت ایک سچا دعویٰ ہو اور اس طرح وہ انہیں آزمانا چاہتے تھے یا اس کے برعکس انہیں اپنے دعوے میں جھوٹا خیال کرتے تھے اور ہر شخص کی کوشش کو اپنی فکر وہمت کے مطابق سیاسی رنگ دیتے تھے۔ لہٰذا ان لوگوں نے حضرت موسیؑ کو قتل کرنے کی ٹھان لی لیکن اگر ان کو بعجلت قتل کر دیا جاتا تو اس سے خوشگوار نتائج برآمد نہ ہوتے کیوں کہ ان کے دونوں معجزوں کی وجہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہو گئے تھے پس اگر وہ فوراً قتل کردئے جاتے تو نبوت کے ساتھ ساتھ مظلومیت بھی شامل ہو جاتی اور اس طرح اور زیادہ لوگ ان کے گرویدہ ہوجاتے۔ لہٰذا پہلے انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ پہلے ان کے معجزانہ عمل کو خارق عادت ساحرانہ عمل سے خنثیٰ کر دیں اور اس طرح انہیں بے آبرو کرنے کے بعد قتل کر دیں تاکہ موسیٰ و ہارونؑ کی داستان ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ دوسرا احتمال قرائن سے زیادہ نزدیک تر ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 122 کے تحت ملاحظہ کریں۔
آخر کار حق نے کیسے فتح پائی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں حضرت موسیٰ اور ساحروں کے مقابلے اور آخر میں اس کے نتیجے کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ پہلی آیت میں قرآن فرماتا ہے : جادوگر فرعون کے بلانے پر اس کے پاس آئے اور انہوں نے جو سب سے پہلی بات پیش کی وہ یہ تھی کہ اگر ہم کو موسیٰ پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم کو معقول صلہ ملے گا (وجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ )۔ اگرچہ لفظ "اجر" کے معنی ہر قسم کی پاداشت اور معاوضے کے ہیں وہ کم ہو یا زیادہ لیکن چونکہ یہاں پر "اجر" نکرہ کے ساتھ آیاہے اس لئے اس کے معنی زیادتی اور اہمیت کے ہیں، خصوصاً یہ کہ ان کو اجر ملنا تو یقینی تھا۔ لہٰذا جس چیز کا ان کو فرعون سے پہلے سے وعدہ لینا مقصود تھا وہ اہم اجر اور زیادہ معاوضہ لینے کامسئلہ تھا۔فرعون نے بھی بغیر کسی توقف کے ان کی بات مان لی اور کہا: تم کو نہ صرف یہ کہ اہم اجر اور خاطر خواہ معاوضہ ملے گا بلکہ تم میرے دربارکے مقرب لوگوں میں سے ہو جاؤ گے (قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ )۔ اس طرح فرعون نے ان کو "مال وزر" کا بھی وعدہ دیا، اور "بڑے منصب " کی بھی بات کی۔ آیت کی اس تعبیر سے پتہ چلتا ہے کہ فرعون کے دربار میں تقرب حاصل کرنا مال و ثروت سے بھی اہم بات تھی اور یہ ایک معنوی درجہ شمار ہوتا تھا۔ گویا جو بھی اس پر فائز ہو گیا دولت اس کے پاؤں چومنے لگتی تھی۔ آخر کار حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے کے مقابلہ کے لئے ایک دن طے پایا، جیسا کہ سورہ "طہ" اور شعراء دونوں میں آیا ہے، اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ روز معین آیا، تمام جادوگر اپنے سازوسامان سے لیس ہو کر پہنچ گئے۔ وہ اپنے ہمراہ بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں بھی لائے جن کے اندر کیمیاوی مادے بھر ہوئے تھے، جن پر اگر ٓفتاب کی حرارت پڑے تو ان میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک عجیب منظر تھا کیوں کہ اتنے بڑے انبوہ کے مقابلے میں صرف حضرت موسیٰ اپنے بھائی ہارون ؑ کے ساتھ حاضر تھے اور ان کے ساتھ سوائے خدا کے کوئی بھی نہ تھا۔ ساحروں نے ایک خاص غرور کے ساتھ موسیٰ سے کہا: یا تو تم پہل کرو اور اپنا عصا پھینکو یا ہم آغاز کرتے ہیں اور اپنے وسائل پھینکتے ہیں (قَالُوا یَامُوسیٰ إِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَإِمَّا اَنْ نَکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِینَ)۔ حضرت موسیٰ نے بڑے سکون کے ساتھ جواب دیا: تم شروع کرو اور اپنے وسائل پھینکو(قَالَ اَلْقُوا)۔ "جس وقت ان جادوگروں نے اپنی اپنی رسیوں کو میدان میں پھینکا تو انہوں نے لوگوں کی نظر بندی کر دی اور اپنے اعمال اور مبالغہ آمیز اقوال سے لوگوں کے دلوں میں خوف و وحشت پیدا کر دی اور ایک بڑے جادو کا تماشہ ان کو دکھایا" (فَلَمَّا اَلْقَوْا سَحَرُوا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوھُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ )۔ جیسا کہ ہم تفسیر نمونہ کی جلد اول آیت ۱۰۲ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں"سحر" کے معنی اصل میں دھوکا، نیرنگ، شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی کے ہیں اور کبھی یہ لفظ ہر اس چیز کے لئے آتا ہے جس کا سبب نامرئی ومرموز ہو۔ بنابریں اس لفظ کے ذیل میں وہ تمام افراد آجائیں گے جو ہاتھ کی صفائی، ہاتھ کی تیز حرکات اور مہارت کے ذریعے چیزوں کو اس طرح ادھر ادھر کر دیتے ہیں کہ ایک خارق عادت کام معلوم ہوتا ہے۔ نیز وہ لوگ بھی اس میں داخل ہو جائیں گے جو کیمیکلز کے ذریعے یا فزکس کے قوانین کے ذریعہ لوگوں کو عجیب طرح کے کھیل تماشے دکھلائیں، ان سب کو "ساحر" کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ جادوگروں کا ایک شیوہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی وہ اپنی زبان سے بھی کچھ ایسے کلمات کہتے جاتے ہیں جن کا اثر لوگوں کے ذہنوں پر نفسیاتی حیثیت سے پڑتا ہے۔ وہ کلمات ایسے وحشتناک اور ہولناک ہوتے ہیں جو حاضرین کے دلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں جادوگر جس خارق عادت امر کا تماشہ دکھانا چاہتا ہے اس کے لئے ایک طرح سے زمین ہموار ہو جاتی ہے۔ اس سورة میں نیز دیگر سورتوں میں جو آیات وارد ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان جادوگروں نے اس روز ان تمام وسائل سحر سے کام لیا تھا۔ یہ جملہ "سحروا اعین الناس"(لوگوں کی نظر بندی کر دی)، یا یہ جملہ "استرھبوھم"(لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا )یا دوسری تعبیرات جو سورہٴ طہ اور شعراء،میں آئی ہیں اس امر کی شاہد ہیں۔[حقیقت سحر کی مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد اول(صفحہ ۲۸۵تا صفحہ ۲۸۹ اردوترجمہ )ملاحظہ ہو ]۔
دو اہم نکات
۱۔ ساحروں کے جادو کا ایک عجیب منظر:قرآن نے اپنے ایک جملہ :" وَجَآئُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ" کے ذریعہ سربستہ طور پر اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جادوگروں نے اس موقع پر جو منصوبہ باندھا تھا وہ انتہائی اہم جچا تلا اور ہولناک تھا۔ ورنہ آیت میں لفظ "عظیم" استعمال نہ ہوتا۔ تواریخ، تفاسیر اور روایات میں بھی ان آیات کے ذیل میں جو مطالب درج ہوئے ہیں ان سے بھی اس موقع کے منظر کی اہمیت ووسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان ساحروں کی تعداد کئی ہزار تھی۔ نیز ان کے وسائل سحر بھی ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ چونکہ اس زمانے میں مصر میں سحر وساحری کا کافی زور تھا۔ اس بنا پر اس بات پر کوئی جائے تعجب نہیں ہے۔ خصوصاً سورہ "طہ" کی آیت ۶۷ میں ہے: "فَاَوجَسَ فِی نَفْسِہِ خِیفَة مُوسیٰ" یعنی وہ منظر اتنا عظیم ووحشتناک تھا کہ حضرت موسیٰ نے بھی اس کی وجہ سے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ اگرچہ نہج البلاغہ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ حضرت موسیٰ کو اس بات کا خوف لاحق ہو گیا تھا کہ ان جادوگروں کو دیکھ کر لوگ اس قدر متاثر نہ ہو جائیں کہ ان کو حق کی طرف متوجہ کرنا دشوار ہو جائے۔[ خطبہ :۴] بہرصورت، یہ تمام باتیں اس بات کی مظہر ہیں کہ اس ایک عظیم معرکہ در پیش تھا جسے حضرت موسیٰ کو بفضل الٰہی سر کرنا تھا۔ ۲۔ مناسب ہتھیار سے مقابلہ: اس بحث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اپنی وسیع حکومت جو اسے سرزمین پر حاصل تھی ایک سوچی سمجھی شیطانی سیاست پر گامزن تھا۔ ا س نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ؑ کے مقابلے میں صرف ڈرانے دھمکانے ہی سے کام نہ لیا، بلکہ اس نے بزعم خود یہ کوشش کی کہ حضرت موسیٰ نے جو معجزہ پیش کیا تھا اس کے مشابہ ایک ہتھیار پیش کرے۔ بلا شبہ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو پھر حضرت موسیٰ اور ان کی تعلیمات کا دنیا میں نام ونشان بھی نہ ملتا۔ اس صورت میں ان کا مارا جانا اس کے لئے بہت آسان ہو جاتا۔ لوگ بھی اس پر خوش ہوتے۔ مگر اس بے چارے کو کیا خبر کہ حضرت موسیٰ نے کسی انسانی قوت پر بھروسہ نہیں کیا ہے، بلکہ انہوں نے اس قوت لایزال الٰہی اور قوت پروردگار لامتناہی پر تکیہ کیا ہے جو ہر طاقت کو کچل رکھ دیتی ہے۔ بہرحال، دشمن کے مقابلے پر مناسب ہتھیار لے کر جانا فتح حاصل کرنے کے لئے ایک بہترین راستہ ہے جس سے بڑے سے بڑے دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔ یہ وقت جب کہ تمام لوگ ہیجان میں آئے ہوئے تھے، ہر طرف خوشی ے نعرے لگائے جارہے تھے، فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لبوں پر رضایت وطماینت کا تبسم کھیل رہا تھا، ان کی آنکھیں بھی مسرت سے چمک رہی تھیں کہ - ایک مرتبہ حضرت موسیٰ کو اللہ کی وحی ہوئی - اے موسیٰ ! تم بھی اپنا عصا پھینک دو، عصا کا پھینکنا تھا کہ یک بیک منظر بالکل بدل گیا۔ چہروں سے رنگ اڑ گئے، فرعون اور اس کے تمام ساتھی لرزنے لگے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنے عصا کو ڈال دو، ناگہاں وہ عصا (ایک اژدھے کی شکل میں ہو گیا اور) نگلنے لگا ان کے جھوٹے وسیلوں کو (وَاَوْحَیْنَا إِلیٰ مُوسیٰ اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُونَ)۔ "تلقف" مادہ "لقف" (بروزن وقف)سے ہے، جس کے معنی کسی چیز کو قوت کے ساتھ پکڑنے کے ہیں، چاہے منہ سے ہو یا ہاتھ سے۔ لیکن بعض مقامات پر یہ لفظ نگلنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ زیر بحث آیت میں بھی بظاہر اسی معنی میں آیا ہے۔ "یافکون" مادہ "افک" (بروزن کتف)سے ہے۔ جس کے اصلی معنی کسی چیز سے پلٹنے کے ہیں۔ چونکہ جھوٹ انسان کو حق سے پلٹا دیتا ہے اس لئے اس کو "افک" کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی میں ایک اور احتمال ذکر کیا ہے وہ یہ کہ عصائے موسیٰ نے جس وقت ایک بڑے سانپ کی شکل اختیار کی تو اس نے ساحروں کے وسیلوں کو نگلا نہیں تھا بلکہ انہیں بے کار کر دیا تھا اور ان کی پہلی شکل پر پلٹا دیا تھا۔ ان مفسرین کا خیال ہے کہ اس طرح ہر اشتباہ کا راستہ لوگوں کے لئے بند ہو جاتا ہے، جب کہ ان وسیلوں کا نگل لینا لوگوں اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتا کہ حضرت موسیٰ کا معجزہ ان کے وسیلوں سے زبردست ہے۔ لیکن یہ احتمال نہ تو کلمہ "تلقف" سے مطابقت رکھتا ہے، نہ آیت کے مطالب سے اسے مناسبت ہے۔ کیوں کہ "تلقف" کے معنی جیسا کہ بیان ہوا کسی چیز کو بہ سرعت پکڑنے کے ہیں نہ کہ ان کو دگر گوں کرنے کے ہیں۔ علاوہ برایں، اگر یہ بنا بنا ہوتی کہ اعجاز موسیٰ ساحروں کے سحر کو باطل کرنے کے ذریعے آشکار ہوتو اس کی کیا ضرورت تھی کہ عصا ایک بڑے سانپ کی شکل اختیار کرے جیسا کہ قرآن نے اس سرگذشت کے آغاز میں بیان کیا ہے۔ ان تمام باتوں سے بھی اگر چشم پوشی کرلی جائے تو یہ سوال در پیش ہوتا ہے کہ اگرصرف شک وتردد پیدا ہی کرنا تھا تو ساحرو ں کے وسائل پہلی صورت پے پلٹ جانا بھی شک وتردد کا باعث ہو سکتا تھا کیوں کہ ممکن ہے اس وقت یہ احتمال پیدا ہوتا کہ موسیٰ اپنے سحرمیں اس قدر استاد ہیں کہ دوسروں کے جادو کو باطل کر کے پہلی حالت پر پلٹا سکتے ہیں۔ بلکہ جو چیز اس امر کا باعث ہوئی کہ لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ حضرت موسیٰ کاخارق عادت کا رنامہ بشرکی طاقت خارج ہے اور وہ خدا کی بے انتہا طاقت کی وجہ سے نمایاں ہوا ہے، وہ یہ ہے اس زمانے میں مصر میں آزمودہ کار اور ماہر جادوگروں کی کثرت تھی، اس فن میں جو لوگ طاق تھے اور استاد سمجھے جاتے تھے وہی اس زمانے کے ماحول میں ہر طرف چھائے ہوئے تھے، جب کہ حضرت موسیٰ میں ایسی کوئی بات نہیں پاتی جاتی تھی۔ ایک گمنام انسان بنی اسرائیل کے درمیان سے اٹھا اور اس نے ایک ایسا کارنامہ پیش کیا جس کے آگے سب عاجز ہو گئے۔ جس سے معلوم ہوا کہ کوئی غیبی طاقت کارفرما ہے اور موسیٰ ایک معمولی انسان نہیں ہیں۔ "اس گھڑی حق آشکار ہو گیا تو ان کے اعمال جو سراسر ناحق ونادرست تھے بالکل ناکارہ ہو کر رہ گئے (فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوا یَعْمَلُون)۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ کا عمل ایک واقعیت پر مبنی تا، اور ان ساحروں کے اعمال سوائے دھوکا اور فریب نظر کے کچھ نہ تھے، اور اس میں شک نہیں کہ کوئی باطل حق کے سامنے دیر تک ٹھہر نہیں سکتا۔ یہ ضرب اول تھی جو حضرت موسیٰ نبی اللہ نے فرعون کے جبروت واقتدار کی بنیاد پر وارد کی۔ اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس طرح شکست کے آثار ان لوگوں میں نمایاں ہو گئے، اور سب کے سب ذلیل، پست اور ناتواں ہو گئے (فَغُلِبُوا ھُنَالِکَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِینَ)۔ اگرچہ تاریخوں میں اس موقع پر بہت زیادہ مطالب بیان ہوئے ہیں بلکہ بغیر تاریخ کا سہارا لئے بھی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس موقع پر لوگوں کے احساسات اور جوش کا کیا عالم ہو گا۔ بہت سے لوگ تو اس قدر ڈرے کہ انہوں نے بھاگنا شروع کیا۔ کچھ لوگ اپنے مقام پر کھڑے چیخ رہے تھے۔ کچھ لوگ دہشت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔ فرعون اور اس کے طرف دار جو بڑی وحشت اور اضطراب کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہے تھے ان کی پیشانی پر شرم وندامت کا پسینہ آگیا اور اپنے مبہم وتاریک مستقبل کی طرف دیکھنے لگے کہ لو ہماری حکومت وسلطنت ہاتھ سے گئی کیوں کہ اس وقت جو کچھ ہوا وہ ان کے لئے بالکل ایک غیر متوقع تھا۔ اب ان کی فکر وتدبیرکی تمام راہیں مسدود ہو گئی تھیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ وہ کیا کریں۔ اس سے بھی کاری تر ضرب اس وقت لگی جب حضرت موسیٰ اور ساحروں کے مقابلے کا نقشہ یک بیک اس طرح بدل گیا کہ ناگہاں"سب جادوگر زمین پر گر گئے اور وہ عظمت الٰہی کے سامنے سربسجود ہو گئے"(وَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سَاجِدِینَ )۔ "اور وہ پکارے کہ ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے"(قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِینَ)۔ "اور وہ خدا وہی ہے جو موسیٰ وہارون کا بھی رب ہے"(رَبِّ مُوسیٰ وَھَارُونَ)۔ انہوں نے اس جملے کے ذریعے اس بات کا کھلے بندوں اعلان کر دیا کہ اس خدا کے علاوہ جو بھی ادعائے ربوبیت کرے اس کی خدائی مصنوعی ہے۔ ہم ہیں جو حقیقی پروردگار پر ایمان لائے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے کلمہٴ "رب العالمین" پر بھی اکتفا نہ کی ؛ کیوں کہ فرعون نے اس بات کا دعویٰ کر دیا تھا کہ سارے جہانوں پروردگار وہی ہے۔ لہٰذا ضرورت ہوئی کہ اس کے بعد وہ یہ اضافہ کریں کہ ہمارا رب وہ ہے جو موسیٰ وہارونؑ کا بھی رب ہے، تاکہ وہ ہر قسم کی غلط فہمی کا ازالہ ہو جائے۔ یہ وہ بات تھی جس کا فرعون اور اس کے اطرافیوں کو بالکل گمان بھی نہ تھا، یعنی وہ لوگ جنھیں اس نے حضرت موسیٰؑ کو زیر کرنے کے لئے بلایا تھا وہی مومنین کی صف اول میں دکھائی دینے لگے، یہ لوگ بغیر کسی شرم وتاٴمل کے خدا کے حضور خاک پر گر گئے اور انہوں نے بغیر کسی شرط کے حضرت موسیٰؑکی اطاعت کو جان ودل سے قبول کر لیا۔ کبھی انسان میں اس طرح بھی انقلاب یک بیک آجاتا ہے اور اس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ نور ایمانی کی کرن ہر دل کے اندر موجود ہوتی ہے، جس کو ہو سکتا ہے کہ ماحول،خاندان اور زمان طویل وقلیل کے پردے اور وقتی طور پر چھپالیں۔ لیکن جب کبھی کوئی طوفان اٹھتا ہے تو پردہ ہٹ جاتا ہے اس وقت یہ نور شعلہ بن کر اس طرح لپکتا ہے کہ اس سے زمانے کی آنکھوں میں چکاچوند پیدا ہو جاتی ہے۔ خصوصاً اس وجہ سے بھی وہ جلدی ایمان لائے کہ وہ خود فن ساحری میں منجھے ہوئے استاد تھے۔ اس فن کے تمام رموز واسرار سے بخوبی آگاہ تھے۔ لہٰذا ان کو ایک "معجزہ" اور "سحر" کے درمیان جو فرق ہے اس سے آگاہی تھی۔ یہ وہ چیز تھی جو ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے لئے مشکل سے واضح ہوتی مگر ان کے لئے تو یہ روز روشن سے بھی زیادہ واضح تھی۔ انہوں نے اپنے فن سحر کے ذریعے جو انہوں نے سالہا سال کی زحمت کے بعد حاصل کیا تھا، یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰؑکا یہ کار نامہ ہرگز سحر نہیں ہو سکتا؛ نہ یہ کسی بشری طاقت کا کام ہے۔ بلکہ مافوق طبیعت اسرار سے اس کا تعلق ہے۔ لہٰذا ان کا اتنی جلدی اور اس صراحت وشدت کے ساتھ ایمان لے آنا کوئی جائے تعجب نہیں ہے۔ جملہ "وَاُلْقِیَ السَّحَرَة" جو مجہول کا صیغہ ہے،اس سے حضرت موسیٰؑ کے سامنے ساحروں کی فروتنی، کامل سپردگی اور غیر معمولی استقبال وقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یعنی معجزہٴ حضرت موسیٰؑ میں کچھ ایسی جاذبیت تھی کہ وہ ان کی طرف بے ساختہ کھنچ گئے اور زمین پر گر کر ان کی حقانیت کا اعتراف واقرار کرنے لگے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 126 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 126 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 126 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بے سود دھمکیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جب فرعون کے ارکان حکومت پرساحروں کے ایمان لانے سے ایک ضرب کاری لگی تو فرعون بہت پریشان ومضطرب ہوا۔ کیوں کہ اس نے محسوس کر لیا کہ اگر وہ اس وقت شدید ردعمل کا مظاہرہ نہ کرے گا تو دوسرے لوگ بھی متاثر ہو کر ایمان لے آئیں گے جس کے بعد حالات پر قابو پانا ناممکن ہو گا، لہٰذا اس نے دو تدبیروں پر عمل کیا: پہلے اس نے ساحروں پر ایک عوام پسند تہمت لگائی۔ اس کے بعد شدید ترین تہدید کے ساتھ ان کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا۔ لیکن ان دونوں منظروں کے مقابلے میں ساحروں نے ایسے صبر وشجاعت کا مظاہرہ کیا کہ فرعون اور اس کے ساتھی حیرت زدہ ہو گئے اور ان کی تدبیریں خاک میں مل گئیں۔ اس طرح تخت فرعونی کی لرزاں بنیاد پر ایک تیسری ضرب لگی۔ زیر بحث آیات میں اس منظر کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے: پہلے ہے :فرعون نے ساحرون سے کہا: آیا قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس (موسیٰ) پر ایمان لے آئے ہو(قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُمْ بِہِ قَبْلَ اَنْ آذَنَ لَکُمْ)۔ کلمہ "بہ" (اس پر)کے ذریعے اسے موسیٰ کی انتہائی تحقیر منظور تھی گویا وہ نام لئے جانے کے لائق بھی نہ تھے اور اس جملہ "قَبْلَ اَنْ آذَنَ لَکُمْ"کے ذریعے فرعون کہنا چاہتا ہے کہ میں خود ایسا حق پسند ہوں کہ اگر موسیٰ کے دعوے میں کوئی بھی حقیقت ہوتی تو میں تمہیں ایمان لانے کی اجازت دے دیتا۔ لیکن تمھاری اس جلد بازی سے پتہ چلا کہ نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں حقیقت کا کوئی پہلو نہیں ہے، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں نے اہل مصر کے خلاف ایک عظیم سازش کر رکھی ہے۔ بہرحال، مذکورہ بالا جملے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فرعون کا جنون اقتدار پسندی اس حد بڑھا ہوا تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اہل مصر نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام انجام نہ دیں، بلکہ انہیں سوچنے اور غور وفکر کرنے اور کوئی مذہب اختیار کرنے کی بھی اجازت نہ تھی اور یہ استعمار واستبداد کی بدترین مثال ہے کہ قومیں کسی فرد کے ہاتھ میں اس طرح اسیر اور غلام ہو جائیں کہ ان سے سوچنے سمجھنے یہاں تک کہ کسی نظریہ کو اپنانے کا حق بھی ان سے چھن جائے۔ یہ وہی طریقہٴ کار ہے جو "استعمار جدید" کے نظام میں بھی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یعنی استعماری قوتیں صرف سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی استعمار پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں پر بھی استعمار کے تالے لگا دئے جائیں اور صرف انہی کے نظریے اور افکار کی جڑیں لوگوں کے ذہنوں میں سرایت کر سکیں۔ چنانچہ کمیونسٹ ممالک میں جہاں چاروں طرف آہنی دیواریں کھڑی ہیں، سرحدیں بند ہیں، ہرچیز پر، خاص کر تعلیم وتربیت پر سنسرشپ قائم ہے"فکری استعمار"کے نشانات اچھی طرح دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن مغربی سرمایہ دار ممالک جہاں یہ چیزیں نہیں ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی ہے جب کہ آزادیٴ خیال بھی حاصل ہے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ جو چاہے سوچے اور جس کا جو چاہے انتخاب کرے، وہاں یہ کام ایک دوسری طرح انجام پذیر ہوتا ہے کیونکہ ان مقامات پر بڑے بڑے سرمایہ داروں کا نشر اشاعت، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر پہرہ ہوتا ہے، اور ان چیزوں کے ذریعے آزادی فکروعقیدہ کے لباس اپنے افکار وعقائد کو غریب عوام پر سوار کر دیتے ہیں اور مسلسل "برین واشنگ" کے ذریعے وہ دنیا کو ادھر ہی لے جاتے ہیں جدھر ان کا دل چاہتا ہے اور یہ دور حاضر کے لئے ایک بلائے عظیم ہے۔ اس کے بعد فرعون نے اس جملہ کا اضافہ کیا: یہ پلان ہے جو تم نے اس شہر میں اس لئے بنایا ہے کہ اس کے رہنے والوں کا یہاں سے باہر نکلا دو(إِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَکَرْتُمُوہُ فِی الْمَدِینَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْھَا اَھْلَھَا )۔ سورہ طہ کی آیت ۷۱میں ہے : إِنَّہُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْرَ موسیٰ بڑا استاد ہے تمھارا، جس نے تم کو یہ جادو سکھایا ہے۔ اگر اس پر نظر کی جائے تو معلوم ہو گا کہ فرعون کا مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے کافی عرصے سے مصر کی حکومت پر قبضہ جمانے اور لوگوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی اسکیم بنا رکھی ہے؛ یہ ان چند دنوں کی بات نہیں ہے۔ اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ "مدینہ" سے مراد صرف شہر مصر نہیں، بلکہ پورا مصرملک ہے۔ جیسا کہ "المدینة" کے الف ولام سے ظاہر ہے جو کہ جنس کے اعتبار سے آیا ہے،کیوں کہ جملہٴ "لِتُخْرِجُوا مِنْھَا اَھْلَھَا" سے مراد ہے موسیٰ اور بنی اسرائیل کا تمام مصر پر تسلط اور فرعون اور اس کے اطرافیوں کو تمام اہم مقامات سے نکال دینا یا ان میں سے ایک جماعت کو دوردراز کے مقامات کی طرف جلاوطن کر دینا۔ نیز اسی سورت کی آیت ۱۱۰ بھی اسی مدعا پر دلالت کرتی ہے۔ بہرحال، یہ تہمت اس قدر بے بنیاد اور رسوا کن ہے کہ سوائے عوام الناس اور بے خبر افراد کے کوئی بھی اسے قبول نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ موسیٰ ؑ سرے سے مصر میں موجود ہی نہ تھے؛ نہ کسی شخص نے ان کو ساحروں کے ساتھ دیکھا تھا۔ اگر وہ ان کے مشہور استاد تھے تو وہ یقینی طور سے اس سے قبل ان کے ہمراہ دیکھے جاتے اور بہت سے لوگ ان کو جانتے پہچانتے۔ اگر حضرت موسیٰ ؑ نے ان لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی سازش کی ہوتی تو یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جسے بآسانی چھپایا جاسکے۔ کیوں کہ گنتی کے چند لوگوں کے درمیان تو سازش ہو سکتی ہے مگر ہزاروں جادو گروں کے درمیان جو مختلف دوردراز کے علاقوں سے آئے تھے ایسی سازش کیسے کی جاسکتی ہے؟ اس کے بعد فرعون نے ایک سربستہ اور انتہائی شدید جملے میں انہیں دھمکی دی: لیکن تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا(فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ )۔ اس کے بعد کی آیت میں اس خفیہ دھمکی کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے: میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تمہارے ہاتھوں اور پیروں کو ایک دوسرے کے الٹ (ایک طرف کا ہاتھ تو دوسری طرف کا پیر)کاٹ دوں گا اس کے بعد تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا(لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِینَ)۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کو بڑی اذیتیں دے کر قتل کرے اور دیکھنے والوں کے سامنے بڑا ہولناک اور عبرتناک منظر پیش کرے۔ کیوں کہ ان کے ہاتھ پیروں کا قطع کرنا، اس کے بعد سولی پر لٹکانا اس بات کا سبب تھا کہ ان کے بدن سے فوارے کی طرح خون جاری ہو اور وہ بلندی پر اپنے ہاتھ پیر ماریں اور تڑپ ٹرپ کر جان دیں (توجہ رہے کہ اس زمانے میں سولی کے لئے گردن میں پھندا نہیں ڈالتے تھے، بلکہ زیر بغل رسی ڈال کر لٹکا دیتے تھے )۔ شاید الٹی طرف سے ہاتھ پیر کاٹنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ دیر میں اپنی جان دیں اور ان کی اذیت اور تکلیف کی مدت طولانی ہو جائے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فرعون نے ان ساحروں کو مغلوب کرنے کے لئے جو منصوبہ بنایا تھا یہ ایک عام منصبوبہ تھا جو جابر حکمران اہل حق کو زیر کرنے کے لئے ہر دور میں بنایا کرتے ہیں کہ ایک طرف ان پر طرح طرح کی تہمتیں لگا کر رائے عامہ ان کے خلاف کر نے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری طرف ان کو زندان، تعذیب اور قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے حضرت موسیٰؑ کے قصے میں دیکھا ہے فرعون کے ان دونوں حربوں میں سے کوئی کامیاب نہ ہوا، نہ ہونا چاہئے تھا۔ ان دونوں حربوں کے مقابلے میں جادوگروں نے میدان مقابلہ کو خالی نہ کیا بلکہ یکدل ویک زبان ہو کر یہ جواب دیا: ہم تو اپنے پروردگار کی طرف پلٹیں گے (قَالُوا إِنَّا إِلیٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ)۔ یعنی اے فرعون! اگر تیری آخری تہدید صورت عمل میں آجائے اور تو ہم کو قتل بھی کر دے تو اس سے نہ صرف ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، بلکہ اس سے ہماری دلی مراد حاصل ہو گی اور ہم شربت شہادت پی کر جنت میں جائیں گے اور یہ ہمارے لئے سرمایہٴ افتخار ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فرعون کی تہمت باطل کرنے کے لئے اور اس مجمع کے سامنے جو اس منظر کو دیکھنے کے لئے جمع ہوا تھا اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اس طرح کہا: اصل اعتراض تیرا ہم پر صرف یہ ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی ان آیتوں پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف آئی ہیں (وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلاَّ اَنْ آمَنَّا بِآیَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَائَتْنَا)۔ یعنی ہم لوگ نہ تو ہنگامہ پرور ہیں اور نہ ہم نے تیرے خلاف کوئی سازش کی ہے، نہ ہم اس لئے موسیٰ ؑ پر ایمان لائے ہیں کہ حکومت ہمیں مل جائے یا اس سرزمین کے لوگوں کو یہاں سے باہر نکال دیں۔ تو خود جانتا ہے کہ ہم لوگ ایسے نہیں ہیں، بلکہ ہم نے جب حق کو دیکھا اور اس کی نشانیوں کو بخوبی پہچان لیا تو ہم نے اپنے پروردگار کی آواز پر لبیک کہی اور ایمان لے آئے، ہمارا سارا گناہ تیری نظر میں یہی ہے اور بس! درحقیقت انہوں نے اپنے پہلے جملے سے فرعون پر یہ ثابت کیا کہ ہم تیری دھمکیوں سے بالکل نہیں ڈرتے اور بڑے ثباتِ قدم کے ساتھ موت کا استقبال کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ پھر اس کے بعد دوسرے جملے سے انہوں نے ان تہمتوں کا جواب دیا جو فرعون نے ان پر لگائی تھیں۔ لفظ" تنقم"مادہ "نقمت" (بروزن نعمت)سے ہے۔ اس کا اصلی معنی ہے زبان سے یا عمل اور سزا کے ذریعے کسی شیٴ کا انکار کرنا۔ اس بناپر آیہ مذکورہ بالاکے معنی یہ ہوں گے کہ تیرا ایک ہی اعتراض ہم پر یہ ہے کہ ہم لوگ ایمان لے آئے ہیں۔ یا یہ معنی ہوں گے کہ تو ہمیں صرف اس بنا پر سزا دے رہا ہے کہ ہم نے ایمان قبول کر لیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فرعون کی طرف سے اپنا منہ پھر لیا اور خدا کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے صبر واستقامت کی التجا کی۔ کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ بغیر خدا کی تائید وتوفیق کے ان میں اتنی سخت دھمکیوں اور سزاؤں کا مقابلہ کرن ےکی طاقت نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے کہا: خدایا! صبر کا پیمانہ ہمارے اوپر انڈیل دے اور ہمارے اخلاص وایمان کو آخری لمحات زندگی تک باقی رکھ(رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِین)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ چونکہ انہیں پتہ تھا کہ خطرہ اپنے آخری درجہ تک پہنچ گیا ہے، لہٰذا انہوں نے اس "اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا " کہہ کر خدا سے درخواست کی کہ تو بھی ہمیں صبرواستقامت کا آخری درجہ عطا کر دے (کیوں کہ لفظ"افرغ" مادہ "افراغ" سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی برتن سے کسی سیال شیٴ کو اس طرح انڈیل دیا جائے کہ برتن میں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے۔
آگاہی اور استقامت
ممکن ہے کسی شخص کو اس بات پر تعجب ہو کہ ان جادوگروں کی کایا اتنی جلدی کیسے پلٹ گئی؟ کہاں تو وہ موسیٰؑ کے مقابلے کی ٹھان کر آئے تھے اور کہاں یہ کہ وہ فوراً مومنین کی صف میں آ گئے۔ پھرمومن بھی ایسے کہ انہیں ہر قسم کی قربانی اور فداکاری سے بھی کوئی باک نہ تھا۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اتنے کم عرصے میں کسی انسان کے ذہن میں اتنا زبردست انقلاب آجائے کہ وہ صف مخالف سے بالکل کٹ کر صف موافق میں مل جائے اور اتنی سختی سے اپنے نئے عقیدہ پر ڈٹ جائے کہ اپنے مقام اور زندگی سب کو نظر انداز کر دے اور مردانہ وار بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ شربت شہادت کے آخری گھونٹ کوبھی پی جائے۔ لیکن اگر ہم اس نکتے کو سمجھ لیں کہ وہ جادوگر جو علم سحر میں ید طویل رکھتے تھے وہ اپنے علم کی وجہ سے حضرت مو سیٰ ؑ کی عظمت سے اچھی طرح آگاہ ہو گئے اور انہوں نے پوری آگاہی کے ساتھ اس میدان میں اپنا قدم رکھا، ان کی یہ واقفیت وآگاہی ان کے اس عشق سوزاں کا سرچشمہ بن گئی جس نے ان کے سارے وجود کا احاطہ کر لیا۔ ایک ایسا عشق جس کی کوئی حد ونہایت نہیں ہے اور جو انسان کی تمام خواہشوں سے مافوق ہے۔ انہیں اچھی طرح پتہ تھا کہ انہوں نے کس راستے پر اپنا قدم رکھا ہے، وہ کس واسطے جنگ کررہے ہیں۔ کس سے جنگ کررہے ہیں اور اس جنگ کے نتیجہ میں کیسا روشن مستقبل ان کے انتظار میں ہے؟!۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے بڑی صراحت وشجاعت کے ساتھ (جیسا کہ سورہ "طہ" کی آیت ۷۲ میں آیا ہے) یہ کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہم تجھے ان روشن دلائل پر ہرگز ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے رب کی طرف ہمارے پاس آئے ہیں۔ تیرا جو دل چاہے کرلے لیکن یہ جان لے کہ تیری قدرت کا دائرہ صرف اسی دنیا تک محدود ہے۔ آخر کار، جیسا کہ تواریخ اور روایات میں ہے، ان لوگوں نے اس راہ میں اس قدر پامردی واستقامت کا مظاہرہ کیا کہ فرعون نے اپنی دھمکی کو پورا کردکھایا اور ان کے مثلہ شدہ بدنوں کو دریائے نیل کے کنارے کجھور کے درختوں کی شاخوں آویزاں کر دیا۔ جس کی وجہ سے ان کا پر افتخار نام ہمیشہ کے لئے دنیا کے حریت پسندوں کی فہرست میں ثبت ہو گیا اور بقول مفسر بزرگوار علامہ طبرسی: "کانوا اول النھار کفاراً سحرة واٰخر النھار شھداء بررة" وہ صبح کے وقت کافر وجادوگر تھے اور عصر کے وقت شہیدو نیکوکار ہو گئے۔ لیکن توجہ رہے کہ اس طرح کا انقلاب واستقامت بجز الٰہی تائید کے ممکن نہیں ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں خدا کی مدد بھی ان کی تلاش میں آتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 129 کے تحت ملاحظہ کریں۔
فرعون اور اس کے اطرافیوں کی حضرت موسیٰ کے بارے میں گفتگو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں فرعون اور اس کے اطرافیوں کی ایک اور گفتگو حضرت موسیٰؑ کے بارے میں نقل کی گئی ہے اور جیسا ان آیات سے پتہ چلتا ہے یہ گفتگو موسیٰ ؑ اور جادوگروں کے مقابلے کے بعد ہوئی تھی۔ پہلی آیت میں ہے کہ : قوم فرعون کے سرداروں نے بطورِ اعتراض اس سے کہا: آیا موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ان کی حالت پر آزاد چھوڑ دے گا تاکہ وہ زمین میں فساد کریں، اور تجھے اورتیرے خداؤں کو ترک کر دیں (وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوسیٰ وَقَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَآلِھَتَکَ)۔ اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ سے شکست کھانے بعد فرعون نے ایک مدت تک انہیں اور بنی اسرائیل کو کھلا چھوڑ دیا تھا(اگر چہ یہ آزادی بہت محدود تھی ) لیکن موسیٰؑ اور ان کے ماننے والے بھی خالی نہ بیٹھے اور حضرت موسیٰ ؑکے آئین کی تبلیغ میں مصروف رہے۔ یہاں تک کہ قوم فرعون کو ان کی ان سرگرمیوں کا پتہ چلا اور انہیں اندیشہ لاحق ہوا چنانچہ وہ لوگ فرعون کے پاس آئے اور اسے اس بات کی طرف آمادہ کرنا چاہا کہ وہ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم پر سختی کرے۔ آیا یہ محدود آزادی اس معجزہ کی وجہ سے تھی جو فرعون نے حضرت موسیٰؑ کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں خوف پیدا ہو گیا تھا ؟ یا اس اختلاف کی وجہ تھی جو اہل مصر کے درمیان حتی کہ خود قبطیوں کے درمیان حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے آئین کے بارے میں پیدا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کچھ لوگ ان کی جانب مائل ہو گئے تھے اور فرعون یہ دیکھ رہا تھا کہ ان حالات میں وہ ان کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں کرسکتا تھا؟ دونوں احتمالوں کا امکان ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ دونوں نے یکجا فرعون کے ذہن پر اپنا اثر کیا ہو۔ بہرحال، فرعون پر ان باتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اس نے ان لوگوں کے جواب میں کہا: میں جلد ہی ان کے لڑکوں کو قتل کردوں گا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دوں گا(تاکہ ان سے خدمت لی جائے) اور ہم ان پر اچھی طرح قابو رکھتے ہیں (قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَائَھُمْ وَنَسْتَحْیِ نِسَائَھُمْ وَإِنَّا فَوْقَھُمْ قَاھِرُونَ)۔ لفط "الھتک" (تیرے خداؤں )سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیاں بحث ہے۔ جو بات اس آیت کے ظاہر سے زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ فرعون نے بھی اپنے لئے کچھ بت اور خدا بنا رکھے تھے۔ اگرچہ سورہٴ نازعات کی آیت ۲۴ "انا ربکم الاعلی" او ر سورہٴ قصص کی آیت ۳۸ "ما علمت لکم من الٰہ غیری"سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مصر سب سے بڑا خدا فرعون کو سمجھتے تھے یا کم از کم وہ خود اپنے کو ایسا سمجھتا تھا اور اپنی سطح کا کوئی دوسرا خدا اس کی نظر میں نہ تھا لیکن اس کے باوجوداس نے اپنے لئے معبود بنا رکھے تھے جن کی وہ پرستش کرتا تھا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ فرعون نے اس مقام پر ایک گہری سیاست شروع کی اور ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کی قوت وقدرت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے، وہ تدبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر کے ہمیشہ کے لئے مردوں کا خاتمہ کر دے تاکہ وہ کبھی اس سے مقابلہ نہ کر سکیں اور عورتوں اور لڑکیوں کو کنیزی اور خدمت کے لئے باقی رکھے۔ یہ ہرقدیم وجدید استعمار کا ایک زبردست طریقہ ہے جس کی وجہ سے مثبت وفعال افراد قوم کی آغوش سے چھین لئے جاتے ہیں اور ان کو نابود کر دیا جاتا ہے، یا پھر ان سے مردانگی اور شجاعت کے جوہر کو طرح طرح کے حیلوں اور وسیلوں سے سلب کر لیا جاتا ہے اور غیر فعال افراد کو زندہ رہنے دیا جاتا ہے۔ مزید یہ احتمال موجود ہے کہ فرعون چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی ہمت دوطرح سے ٹوٹ جائے ایک تو لڑکوں کا قتل، دوسرے ناموس کا خطرہ۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ان دو حربوں سے گھبرا کر دشمن کے چنگل میں خوب اچھی طرح سے جکڑ جائیں۔ بہرحال، جملہ "انا فوقھم قاھرون" اس بات کا کی حکایت کرتا ہے کہ فرعون یہ کہہ کر یہ چاہتا تھا کہ ہر قسم کی فکر مندی اپنے تابعین کے دل دور کرے اور انہیں یہ اطلاع دے کہ حالات پورے طور اس کے قابو میں ہیں
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں پر ایک سوال یہ درپیش آتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ ؑ کو کیوں نہ قتل کر دیا اور صرف بنی اسرائیل کے قتل کا تہیّہ کیوں کیا ؟ اس کا جواب سورہٴ مومن کی آیات سے بخوبی مل جاتا ہے جن میں ہے کہ ابتدا میں فرعون نے ایسا ہی چاہا تھا کہ موسیٰ ؑ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دے لیکن جب فرعون کو مومن آل فرعون نے یہ دھمکی آمیز نصیحت کی کہ موسیٰ ؑ کا قتل ہو سکتا ہے کہ خطرناک واقع ہو اور وہ واقعاً خدا کے نبی برحق ہوں اور جس عذاب سے وہ ڈراتے ہیں وہ تم کو آلے، تو اس کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا اور موسیٰ ؑ کے قتل کی ہمت نہ ہوئی۔ علاوہ بر یں، جب حضرت موسیٰ ؑ کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوا تو اس کا قہری نتیجہ یہ ہوا کہ اہل مصر میں اختلاف پیدا ہو گیا اور وہ حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے: مخالف وموافق۔ ایسے موقع پر فرعون نے خیال کیا کہ اگر اس نے موسیٰ ؑ کے متعلق کو ئی جارحانہ اقدام کیا تو ہو سکتا ہے کہ اس کا رد عمل اس کی حکومت کے لئے خطرناک ثابت ہو۔ لہٰذا وہ ان کے قتل کے ارادے سے باز رہا۔ اس کے بعد کی آیت میں اس پروگرام کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کے سامنے پیش کیا کہ وہ کس طرح سے فرعون کا مقابلہ کریں اور یہ کہ وہ کس طرح فتحیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تین شرطوں پر عمل کرو گے تو تمہاری کامیابی یقینی ہے"پہلے یہ کہ تمھارا بھروسہ صرف خدا پر ہو اور اسی سے مدد مانگو"(قَالَ مُوسیٰ لِقَوْمِہِ اسْتَعِینُوا بِاللهِ)۔ دوسری بات جو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے کہی وہ یہ تھی : پامردی اور ثابت قدمی کو کسی حال میں نہ چھوڑو۔ اور دشمن کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر میدان نہ چھوڑو (وَاصْبِرُوا)۔ اس مطلب کی مزید تاکید کے لئے اور اس کی دلیل بیان کرنے کے لئے موسیٰ ؑ ان سے کہتے تھے: ساری زمین صرف اللہ کی ہے، وہی اس کا مالک ومختار ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے (إِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُورِثُھَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ )۔ اور آخری شرط یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو کیوں کہ "فتحیابی پرہیزگاروں کے لئے ہے"(وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِین)۔ یہ تینوں شرطیں جن میں سے ایک عقیدہ سے تعلق رکھتی ہے (خدا سے طلب استقامت) اور دوسری اخلاق سے متعلق ہے (صبر واستقامت) اور تیسری کا تعلق عمل سے ہے (تقویٰ وپرہیزگاری) صرف بنی اسرائیل کی ان کے دشمن فتحیابی کی شرطیں نہ تھیں، بلکہ ہر قوم وملت جو اپنے دشمن پر غالب آنا چاہتی ہے، بغیر اس سہ نکاتی پروگرام کے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ بے ایمان افراد اور سست اور ڈرپوک لوگ اور وہ قومیں جو گنہگار اور تباہ کار ہیں۔ اگر فتحیاب ہو بھی جائیں تو ان کی یہ کامیابی وقتی اور چند روزہ ہو گی۔ یہ بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ یہ تینوں نکات ایک دوسرے کی شاخ ہیں۔ کیوں کہ پرہیزگاری بغیر شہوات و خواہشات کے مقابلے میں صبر واستقامت کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ جیساکہ صبر واستقامت بغیر خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان کے باقی نہیں رہ سکتی۔ آخر میں وہ شکوہ بیان کیاگیا ہے جو ان مشکلات سے پیدا ہوا جو بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ ؑ کے قیام کی وجہ سے پیش آئیں۔ فرماتا ہے: انہوں نے موسیٰ سے کہا: تمہارے آنے سے پہلے بھی یہ لوگ ہمیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، اب جب سے تم آگئے ہو تب بھی ان کی اذیت رسانی جاری ہے۔ پس ہمارے لئے کب کشائش پیدا ہو گی (قَالُوا اُوذِینَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا)۔ گویا بنی اسرائیل ہمارے بہت سے افراد کی طرح اس بات کے امید وار تھے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے قیام کے ساتھ ہی ایک رات کے اندر ان کے تمام مصائب کا خاتمہ ہو جائے، فرعون ہلاک ہو جائے، فرعون والے بھی سب فنا ہو جائیں اور مصر کی لمبی چوڑی سلطنت اپنے تمام خزانوں اور ذخیروں کے ساتھ ان کے اختیار میں آجائے اور یہ سب باتیں معجزہ کے طورپر وقوع پذیر ہوں جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کو کسی طرح کی کوئی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ نے ان کو سمجھایا کہ وہ آخر کار فتحیات تو ہوں گے لیکن اس کے لئے ان کو ایک طولانی راستہ طے کرنا پڑے گا اور یہ فتحیابی جیسا کہ اللہ کی سنت اور طریقہ ہے صبر واستقامت کے جوہر دکھانے بعد حاصل ہو گی؛ جیسا کہ زیر بحث آیت کہہ رہی ہے: موسیٰ نے کہا امید ہے کہ خدا تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین میں ان کا جانشین قرار دے گا(قَالَ عَسیٰ رَبُّکُمْ اَنْ یُھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ)۔ یہاں پر لفظ" عسیٰ" (جس کے معنی شاید اور امید کے ہیں )لفظ "لعل" کی طرح جو بہت سی آیات میں آیا ہے، درحقیقت، اس مطلب کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ تمھاری اس فتحیابی وکامیابی کی کچھ شرطیں ہیں جن کے بغیر تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ [اس کی مزید توضیح کے لئے سورہ ٴ نساء کی آیت ۸۴ کی تفسیر اسی کتاب کی جلد چہارم میں ملاحظہ ہو]۔ آیت کے آخر میں فرماتے ہیں: خدا تمہیں یہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری کھوئی آزادی تمہیں دوبارہ لوٹا دے گا "تاکہ یہ دیکھے کہ اس کے مقابلے میں تمھارا عمل کیسا ہوتا ہے (فَیَنظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُون)۔ یعنی کامیابی کے بعد تمھاری آزمائش کا دور شروع ہو جائے گا، ایک ایسی ملت کی آزمائش جو پہلے اپنے دامن میں کچھ نہ رکھتی تھی اس کے بعد خدا کے فضل سے اس کا دامن نعمت الٰہی سے مالا مال ہو گیا۔ اس تعبیر میں ضمنی حیثیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنے والے زمانے میں تم لوگ اس آزمائش پر پورا نہ اتر سکو گے، بلکہ تمہارے ہاتھ میں بھی جب قدرت و حکومت آجائے گی تو دوسرے لوگوں کی طرح تم بھی ظلم وفساد پر اتر آؤ گے۔ ایک روایت جو کافی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے، میں ہے: قال وجدنا فی کتاب علیٰ صلوات اللّٰہ علیہ ان الارض للّٰہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبة للمتقین انا واھل بیتی الّذین اٴورثنا اللّٰہ الارض ونحن المتقون۔[بحوالہ: تفسیر نورالثقلین، جلد۲، صفحہ ۵۶-] یعنی کتاب حضرت علی علیہ السلام میں ہم نے اس طرح لکھا ہوا دیکھا کہ آیت :ان الارض للہ الخ سے میں اور میرے اہل بیت مراد ہیں اور ہم ہی وہ افراد ہیں جن کو خدا آخر میں زمین منتقل کر دے گا اور ہم حقیقی متقی ہیں۔ اس حدیث سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے اور اب بھی زمین پر وہ پرہیزگار موجود ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 131 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بیدار کرنے والی سزائیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۹۴ میں گزرا ہے کہ ایک کلی قانون تمام پیغمبروں کے لئے یہ تھا کہ جب ان کو لوگوں کی مخالفت کا سامنا ہوا اور وہ کسی طرح سے راہ راست پر نہ آئیں تو خدا ان کو بیدار کرنے کے لئے مشکلات ومصائب میں گرفتار کرتا تھا تاکہ وہ اپنے میں نیازمندی اور محتاجی کا احساس کریں، اور ان کی فطرت توحید جو آرام وآسائش کی وجہ سے غفلت کے پردوں میں چلی گئی ہے دوبارہ ابھر آئے اور ان کو اپنی ضعف وناتوانی کا اندازہ ہو اور اس قادرو ناتوانا ہستی کی جانب متوجہ ہوں جو ہر نعمت ونقمت کا سرچشمہ ہے۔ پہلی آیت میں مطلب کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: ہم نے آل فرعون کو قحط، خشک سالی اور ثمرات کی کمی میں مبتلا کیا کہ شاید متذکر بیدار ہو جائیں (وَلَقَدْ اَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ )۔ "سنین" جمع ہے "سنة" کی جس کے معنی سال کے ہیں۔ لیکن عام طور سے جب یہ لفظ "اخذ" کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی قحط سالی کے ہوجاتے ہیں۔ بنابریں، "اخذ ہ السنة " (سال نے اس کو پکڑا )کے معنی ہیں کہ وہ خشک سالی میں مبتلا ہو گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ قحط سالی کے سال بہ نسبت دوسرے سالوں کے کم ہیں۔ لہٰذا جب کہا گیا کہ اس کو سال نے پکڑ لیا اور اس سے عام سال مراد ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس لئے اس سے مراد وہ سال ہوں گے جو کم آتے ہیں تاکہ ایک نئی بات سمجھ میں آئے اور وہ خشک سالی کے سال ہیں۔ لفظ "آل" در اصل، "اھل " تھا پھر اس میں قلب واقع ہوا اور یہ اس حالت میں ہو گیا، اور "اہل" کے معنی ہیں:"انسان کے قریبی اور خاص آدمی چاہے وہ اس کا قریبی عزیز ہو یا اس کا ہم خیال ہم مسلک واطرافی ہو"۔ باوجود یہ کہ قحط سالی نے فرعونیوں کو گھیر لیا تھا لیکن آیہ مذکورہ بالا میں صرف فرعون کے مخصوصین کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر یہ بیدار ہو گئے تو سب لوگ بیدار ہو جائیں گے کیوں کہ تمام لوگوں کی نبض انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ چاہیں تو بقیہ افراد کو چونکہ ان زمینوں کے مالک اہلی تھے اسی لئے فی الحقیقت وہ سب سے زیادہ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ خشک سالی کئی سال تک باقی رہی کیوں کہ "سنین" جمع کا صیغہ ہے خصوصاً "نقص من الثمرات" کا بھی اضافہ ہوا ہے (میووں کی کمی) کیوں کہ خشک سالی اگر وقتی ہو تو درختوں پر اتنا اثر انداز نہیں ہوا کرتی۔ لیکن اگر طولانی ہو جائے تو درختوں کو بھی نابود کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خشک سالی کے علاوہ کوئی اور آفت بھی درختوں کو آگئی ہو۔ جملہ "لعلھم یذکرون" سے گویا اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ حقیقت توحید کی طرف توجہ ہر انسان کی سرشت میں ابتدا سے پوشیدہ ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ غلط تربیت کی وجہ سے، یا نعمتوں میں مست ہو جانے کے باعث انسان اس کو بھول جاتا ہے، لیکن جب مشکلوں میں پھنستا ہے تو دوبارہ پھر خدا یاد آتا ہے۔ مادہ "یذکر" جس کے معنی یاد آوری کے ہیں اس مفہوم سے مناسبت رکھتا ہے۔ قابل توجہ یہ ہے کہ آیہ ۹۴ کے ذیل میں جو جملہ "لعلھم یضرعون" (شاید وہ خدا کے سامنے خضوع اور فروتنی اختیار کریں) آیاہے، فی الحقیقت پہلا جملہ "لعلھم یذکرون" اسی کا مقدمہ ہے۔کیوں کہ انسان پہلے حالت "تذکر" میں آتا ہے، اس کے بعد فروتنی اور سپردگی کی منزل پر فائز ہوتا ہے۔ لیکن آل فرعون، بجائے اس کے کہ ان الٰہی تنبیہوں سے نصیحت لیتے اور خواب خرگوش سے بیدار ہوتے، انہوں نے اس سے سوء استفادہ کیا اور حوادث کی من مانی تفسیر کی: "جب حالات ان کے منشاء کے مطابق ہوتے تھے تو وہ راحت وآرام میں ہوتے تھے اور کہتے کہ یہ حالات ہماری نیکی ولیاقت کی وجہ سے ہیں !"فی الحقیقت ہم اس کے اہل ولائق ہیں (فَإِذَا جَائَتْھُمَ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا ھٰذِہِ)۔ "لیکن جس وقت وہ مشکل ومصیبت میں گرفتار ہوتے تھے تو اس کو فوراً موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کے سر باندھ دیتے تھے" اور کہتے تھے کہ یہ ان کی بد قدمی کی وجہ سے ہوا ہے (وَإِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَةٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسیٰ وَمَنْ مَعَہُ)۔ "یطیروا" مادہٴ"تطیر" سے ہے جس کے معنی بد فالی کرنے کے ہیں۔ اس کی اصل کلمہ "طیر" (پرندہ) ہے، چونکہ عربوں میں رسم تھی کہ وہ پرندوں کے ذریعہ فال بد لیا کرتے تھے۔ کبھی کوے کی آواز کو منحوس جانتے تھے، کبھی کسی پرندے کے بائیں سے دائیں کی طرف اڑنے سے بد فالی لیتے تھے۔ اس لئے کلمہٴ"تطیر" ہر بد فالی کے لئے بولا جانے لگا۔ لیکن قرآن کریم ان کے جواب میں کہتا ہے: "ان کی بدبختیوں اور تکلیفوں کا سرچشمہ خدا کی طرف سے ہے خدا نے یہ چاہا ہے کہ اس طرح ان کو ان کے اعمال بد کی وجہ سے سزا دے، لیکن ان میں سے اکثر ان کو نہیں جانتے" (الَآإِنَّمَا طَائِرُھُمْ عِنْدَ اللهِ وَلَکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُونَ)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ طرز فکر کوئی فرعونیوں ہی کے ساتھ مخصوص نہ تھا، آج کل کے زمانہ میں بھی خود خواہ اور خود پسند قوموں میں یہ صفت بد دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ حقیقتوں کو بدلنے کے لئے اور اپنے وجدان کو یا دوسرے لوگوں کو فریب دینے کے لئے جب بھی ان کو کوئی کامیابی نصیب ہوتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کی طرف منسوب کرتے ہیں چاہے ان کی لیاقت واستعداد کو اس میں ذرہ برابر بھی دخل نہ ہو، اور جس وقت کوئی بدبختی ان کا دامن پکڑتی ہے تو اس کو اپنی مخفی یا آشکار دشمن کی طرف نسبت دیتے ہیں چاہے وہ خود اس کا اصل سبب ہوں۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ دشمنان پیغمبر اسلام بھی ان کے خلاف ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے (سورہ ٴ نساء آیت۷۸) دوسری جگہ قرآن کہتا ہے کہ گمراہ انسانوں کا یہی حال ہے (سورہٴ فصلت آیت ۵۰)اور یہ درحقیقت خود خواہی، ضد اور گرور کا ایک زبردست مظہر ہے۔ [تشریحی نوٹ: ضمناً یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں پر "حسنہ" پر تو الف ولام آیا ہے، اور "سیئة" پر تنوین آئی ہے اور نکرہ ہے اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ نعمتیں فراواں ان پر نازل ہوتی تھیں اور تکلیفیں کبھی کبھی آتی تھیں۔]
اچھا اور برا شگون لینا
مختلف قوموں میں اچھے اور برے شگون لینے کا رواج شاید پہلے سے چلا آرہا ہے، لوگ کچھ چیزوں سے "نیک شگون" لیا کرتے تھے اور ان کو اپنی فتحیابی کی دلیل خیال کرتے تھے اور کچھ چیزوں کو "برا شگون" سمجھتے تھے اور ان کو اپنی شکست کی دلیل سمجھتے تھے۔ حالانکہ کامیابی یا ناکامی کوان چیزوں سے دور کا لگاؤ بھی نہ تھا۔ خصوصاً برا شگون میں تو سراسر خرافاتی پہلو اور حد درجہ کی نامعقولیت تھی اور اب بھی ہے۔ اگرچہ اچھے، برے شگون، اِن دونوں کا کوئی اثر طبیعی(NATURAL RESULT) حقیقت میں نہیں ہوتا تاکہ بلاشبہ ان کا نفسیاتی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ اچھا شگون بالعموم پر امید بناتی ہے اور سرگرم عمل ہونے کا سبب بنتی جب کہ "برا شگون" ناامیدی،سستی اور ناتوانی پیدا کرتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ روایات اسلامی میں اچھا شگون سے نہیں روکا گیا ہے لیکن "برا شگون" سے شدّت سے منع کیا گیا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا: تفاْلوا بالخیر تجدوہ۔ کاموں میں اچھا شگون لیا کرو (اور پُر امید رہو)تاکہ مقصد تک پہنچ جاؤ۔ اس میں اس کا اثباتی پہلو نمایاں ہے، بلکہ خود پیغمبر اسلام ﷺ اور پیشوایان عالی مقام علیہم السلام کے واقعات میں ہے کہ وہ بعض اوقات مسائل میں اچھا شگون سے کام لیا کرتے تھے۔ مثلاً جب مسلمان واقعہ حدیبیہ میں کفار مکہ کے سامنے آئے تو اس میں سہیل بن عمرو کفار کا نمائندہ بن کر پیغمبر اسلام کے پاس آیا اور حضرت سے کسی نے کہا کہ سہل آیا ہے تو آپ نے فوراً فرمایا : "قد سھل علیکم امرکم " یعنی اس کے نام "سہیل"سے میں یہ شگون لیتا ہوں کہ تمہارے اوپر یہ کام سہل وآسان ہو جائے گا۔ [بحوالہ: المیزان، جلد۱۹،صفحہ ۸۶] مشہور تاریخ نویس "دمیری" جو آٹھویں صدی کا مورخ ہے، وہ بھی اپنی ایک کتاب میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: پیغمبر اسلام اچھے شگون کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ انسان جب بھی فضل الٰہی کا امید وار ہو گا تو نیکی کی راہ میں اپنے قدم آگے بڑھائے گا اور جب اس سے اپنی امید کو توڑ لے گا تو شر سے راستے پر چل پڑے گا برا شگون لینا سبب ہے سوء ظن، انتظار بلا اور امید بد بختی کا۔ [بحوالہ: سفینة البحار،جلد۲، صفحہ ۱۰۲] بہرحال، ان وجوہ کی بنا پر"برا شگون" جس کو عرب "تطیر" اور "طیرہ" کہتے تھے، جیسا کہ سابقا اشارہ ہوا ہے روایات اسلامی میں ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں بھی بہ تکرار اس مطلب کا ذکر آیا ہے اور اس کی مذمت کی گئی ہے (جیسے سورہٴ یٰسین آیت ۱۹، سورہٴ نحل آیت ۴۷، سورہٴ اعراف آیت مورد بحث)۔ ایک حدیث پیغمبر اسلام کی یہ ہے، آپ نے فرمایا: "الطیرة شرک "برا شگون لینا (اور اس کو انسانی تقدیر میں موثر جاننا)ایک طرح کا شرک ہے۔[بحوالہ: المیزان در ذیل آیہ مورد بحث] یہ بھی ہے کہ اگر برے شگون کا برا اثر مرتب ہو بھی تو یہ اسی نفسیاتی کشمکش کا نتیجہ ہے جو شگون لیتے وقت پیدا ہوئی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الطیرة علی ما تجعلھا ان ھونتھا تھونت، وان شددتھا تشددت، وان لم تجلعلھا شیئا لم تکن شیئا"۔ برے شگون کا اثر اسی قدر ہے جتنا تم قبول کرو، اگر اس کو سہل سمجھو تو اس کا اثر بھی سہل وآسان ہو گا اور اگر اس کو سخت سمجھو تو نتیجہ بھی سخت نکلے گا اور اگر اس کی طرف اعتنا نہ کرو اور اس کی پروا نہ کرو تو اس کا کوئی اثر برآمد نہ ہو گا۔[المیزان در ذیل آیت مورد بحث] اسلامی روایات میں رسول اللہ ﷺ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "برے شگون" سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی پروا نہ کی جائے۔ نیز آنحضرت ﷺ سے منقول ہے کہ فرمایا: "ثلات لا یسلم منھا احد، الطیرة، والحسد، والظن، قیل فما نصنع؟ قال: اذا تطیرت فامض، واذا حسدت فلاتبغ، واذا ظننت فلاتحقق"۔ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے کوئی شخص محفوظ نہیں ہے (ان تین چیزوں کی وجہ سے عام لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہو جاتا ہے) برا شگون، حسد اور بدگمانی، لوگوں نے پوچھا تو پھر ہم کیا کریں؟ فرمایا: جب برے شگون کا سامنا ہو تو اس کی پروا نہ کرو اور اپنا کام کر گزرو، اور جب دل میں حسد پیدا ہوتو اس کو عملی طور سے بجالاؤ اور جب کسی سے بدگمانی ہو تو تحقیق نہ کرو۔ عجیب بات یہ ہے کہ برے اور اچھے شگون کا رواج ترقی یافتہ اور صنعتی ملکوں میں بھی پایا جاتا ہے اور مشہور ومعروف تاریخی شخصیتوں میں بھی یہ عادت موجود تھی اور ہے، جیسے مغربی ممالک میں ان چیزوں سے برا شگون لی جاتی ہے :کسی سیڑھی کے نیچے سے گزرنا، نمکدان گرجانا، چاقو کا ہدیہ دینا۔ البتہ اچھے شگون کا مسئلہ کوئی اتنا اہم مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ جیسا کہ ہم کہا اکثر اس کا اثر مثبت نکلتا ہے۔ لیکن برے شگون کے رسم ورواج سے ہمیشہ مقابلہ کرنا چاہئے اور اس بری رسم کو لوگوں کے ذہنوں سے خارج کرنا چاہئے، اس مقابلے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ روح ایمانی کی تقویت کی جائے، دلوں میں خدا پر توکل و اعتماد کیا جائے۔ یہی روایات اسلامی میں بھی وارد ہوا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 133 کے تحت ملاحظہ کریں۔
مختلف اور پیہم بلاؤں کا نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں ان بیدار کنندہ درسوں کا ایک اور مرحلہ بیان کیا گیا ہے جو خدا نے قوم فرعون کو دئیے۔ جب مرحلہٴ یعنی قحط، خشک سالی اور مالی نقصانات نے ان کو بیدار نہ کیا تو دوسرے مرحلہ کی نوبت پہنچی جو پہلے مرحلہ سے شدیدتر تھا۔ اس مرتبہ خدا نے ان کوپے در پے ایسی بلاؤں میں جکڑا جو ان کو اچھی طرح سے کچلنے والی تھیں، مگر افسوس ان کی اب بھی آنکھیں نہ کھلیں۔ پہلی آیت میں ان بلاؤں کے نزول کے مقدمہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: انہوں نے موسیٰ کی دعوت کے مقابلے میں اپنے عناد کو بدستور جاری رکھا اور "کہا کہ تم ہر چند ہمارے لئے نشانیاں لاؤ اور ان کے ذریعے ہم پر اپنا جادو کرو ہم کسی طرح بھی تم پر ایمان نہیں لائیں گے" (وَقَالُوا مَھْمَا تَاْتِنَا بِہِ مِنْ آیَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِھَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ)۔ لفظ" آیت" شاید انہوں نے از راہ تمسخر استعمال کیا تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے معجزات کو آیات الٰہی قرار دیا تھا لیکن انہوں نے سحر قرار دیا۔ آیات کا لہجہ اور دیگر قرائن اس بات کے مظہر ہیں کہ فرعون کے پراپیگنڈا کا محکمہ جو اپنے زمانے کے لحاظ سے ہر طرح کے سازوسامان سے لیس تھا، وہ حضرت موسیٰ ؑ کے خلاف ہر طرف سے حرکت میں آگیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تمام لوگوں کا ایک ہی نعرہ تھا اور وہ یہ کہ اے موسیٰ! تم تو ایک زبردست جادوگر ہو! کیوں کی موسیٰ ؑ کی بات کو رد کرنے کا ان کے پاس اس سے بہتر کوئی جواب نہ تھا جس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وہ گھر کرنا چاہتے تھے۔ لیکن چونکہ خدا کسی قوم پر اس وقت تک اپنا آخری عذاب نازل نہیں کرتا جب تک کے اس پر خوب اچھی طرح سے اتمام حجت نہ کرلے۔ اس لئے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم پہلے طرح طرح کی بلائیں ان پر نازل کیں کہ شاید ان کو ہوش آجائے۔ پہلے "ہم نے ان پر طوفان بھیجا(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ الطُّوفَانَ )۔ "طوفان" مادہٴ "طوف" (بروزن خوف) سے ہے جس کے معنی گھومنے اور طواف کرنے والی شئے کے ہیں۔ بعد ازاں ہر اس حادثے کو طوفان کہا جانے لگا جو انسان کو چاروں طرف سے گھیر لے لیکن لغت عرب میں زیادہ تر "طوفان" ایسے تباہ کار سیلاب کہتے ہیں جو گھروں کو اجاڑ دے اور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دے (اگرچہ آج کل کی فارسی میں "طوفان" جھکڑدار ہواوؤں کو کہتے ہیں)۔ [تشریحی نوٹ: جیسا کہ اردو میں بھی طوفان آج کل اسی مفہوم کے مروج ہے۔(مترجم)] "اس کے بعد ہم نے ان کی زراعتوں اور درختوں پر ٹڈیوں کو مسلط کر دیا " (وَالْجَرَادَ )۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ اللہ نے ان پر ٹڈیاں اس کثرت سے بھیجیں کہ انہوں نے درختوں کے شاخ وبرگ کا بالکل صفایا کر دیا، حتی کہ ان کے بدنوں تک کو وہ اتنا آزار پہنچاتی تھیں کہ وہ تکلیف سے چیختے چلاتے تھے۔ جب بھی ان پر بلا نازل ہوتی تھی تو وہ حضرت موسیٰ ؑ سے فریاد کرتے تھے کہ وہ خدا سے کہہ کر اس بلا کو ہٹا دیں طوفان اور ٹڈیوں کے موقع پر بھی انہوں نے جناب موسیٰ ؑ سے یہی خواہش کی، جس کو موسیٰ ؑ نے قبول کر لیا اور یہ دونوں بلائیں برطرف ہو گئیں، لیکن اس کے بعد پھر وہ اپنی ضد پر اُتر آئے جس کے نتیجے میں تیسری بلا "قمل" کی ان پر نازل ہوئی (وَالْقُمَّل)۔ "قمل" سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان گفتگو ہوئی ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی نباتاتی آفت تھی جو زراعت کو کھا جاتی تھی۔ جب یہ آفت بھی ختم ہوئی اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو اللہ نے مینڈک کی نسل کو اس قدر فروغ دیا کہ مینڈک ایک نئی بلا کی صورت میں ان کی زندگی میں داخل ہو گئے (وَالضَّفَادِعَ )۔["ضَّفَادِع" جمع ہے "ضفدع" کی جس کے معنی مینڈک کے ہیں، یہ لفظ زیر بحث آیت میں جمع کے صیغہ میں آیا ہے لیکن دوسرا عذابوں کو واحد کے صیغہ میں ذکر کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مینڈکوں کی مختلف قسموں کو خدا نے ان پر مسلط کیا تھا۔] جدھر دیکھتے تھے ہر طرف چھوٹے بڑے مینڈک نظر آتے تھے۔ یہاں تک کہ گھروں کے اندر، کمروں میں، بچھونوں میں، دستر خوان پر، کھانوں کے برتنوں میں مینڈک ہی مینڈک تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی حرام ہو گئی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے حق کے سامنے اپنا سر نہ جھکایا اور ایمان نہ لائے۔ اس وقت اللہ نے ان پر خون مسلط کیا (وَالدَّمَ)۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ خون سے مراد مرض نکسیر ہے جو ایک وبا کی صور ت میں ان میں پھیل گیا، لیکن بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ دریائے نیل لہو رنگ ہو گیا اتنا کہ اس کا پانی کسی مصرف کے لائق نہ رہا! آخر میں قرآن فرماتا ہے: ان معجزوں اور کھلی نشانیوں کو جو موسیٰ ؑ کی حقانیت دلالت کرتی تھیں ہم نے ان کو دکھلایا لیکن انہوں نے ان کے مقابل میں تکبر سے کام لیا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا وہ ایک مجرم اور گنہگار قوم تھے (آیَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِین)۔ بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک بلا ایک ایک سال کے لئے آتی تھی، یعنی ایک سال طوفان وسیلاب، دوسرے سال ٹڈیوں کے دل، تیسرے سال نباتاتی آفت اسی طرح آخر تک لیکن دیگر روایا ت میں ہے کہ ایک آفت سے دوسری آفت تک ایک مہینے سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ بہر کیف اس میں شک نہیں کہ ان آفتوں کے درمیان فاصلہ موجود تھا(جیسا کہ قرآن نے لفظ"مفصلات" سے تعبیر کیا ہے) تاکہ ان کو تفکر کے لئے کافی موقع مل جائے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ بالائیں صرف فرعون اور فرعون والوں کے دامن گیر ہوتی تھیں، بنی اسرائیل ان سے محفوظ تھے۔ [تشریحی نوٹ: مثلاً پانی جب خون ہوا تو وہ صرف فرعون والں کے لئے خون تھا مگر بنی اسرائیل کے لئے پانی تھا، حتی کہ قبطی اسرائیلیوں سے کہتے تھے کہ تم اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو، جب اسرائیلی ایسا کرتے تھے تو وہ پانی جب تک ان کے منہ میں رہتا تھا پانی رہتا تھا لیکن جب وہ کسی قبطی کے منہ میں جاتا تھا تو خون ہو جاتا تھا، یہی حال مینڈکوں وغیرہ کا بھی تھا۔(مترجم)] بے شک یہ اعجاز ہی تھا لیکن اگر نکتہٴ ذیل پرنظر کی جائے تو ان میں سے بعض کی علمی توجیہ بھی کی جاسکتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مصر جیسی سرسبز وشاداب اور خوبصورت جو دریائے نیل کناروں پر آباد تھی اس کے بہترین حصے وہ تھے جو دریا سے قریب تھے وہاں پانی بھی فراوان تھا اور زراعت بھی خوب ہوتی تھی تجارتی کشتیاں وغیرہ بھی دستیاب تھیں، یہ خطے فرعون والوں اور قبطیوں کے قبضے میں تھے جہاں انہوں نے اپنے قصر وباغات بنا رکھے تھے۔ اس کے برخلاف اسرائیلیوں کو دور دراز کے خشک اور کم آب علاقے دئے تھے جہاں وہ زندگی کے یہ سخت دن گزارتے تھے کیوں کہ ان کی حیثیت غلاموں کی سی تھی۔ بنابریں، یہ ایک طبیعی امر ہے کہ جب سیلاب اور طوفان آیا تو اس کے نتیجے میں وہ آبادیاں زیادہ متاثر ہوئیں جو دریائے نیل کے دونوں کناروں پر آباد تھی، اسی طرح مینڈک بھی پانی سے پیدا ہوتے ہیں جو قبطیوں کے گھروں کے آس پاس بڑی مقدار میں موجود تھا یہی حال خون کا ہے کیوں کہ رود نیل کا پانی خون ہوا تھا، ٹڈیوں اور زرعی آفتیں بھی باغات، کھیتوں اور سرسبز علاقوں پر حملہ کرتی ہیں۔ لہٰذا ان عذابوں سے زیادہ تر نقصان قبطیوں ہی کا ہوتاتھا۔ جو کچھ آیات فوق میں ذکر ہوا ہے اس کا ذکر موجودہ توریت میں بھی ملتا ہے لیکن کسی حد تک فرق کے ساتھ۔ [ملاحظہ ہو سفر خروج فصل ہفتم تا وہم توریت]
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 136 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 136 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بار بار کی عہد شکنیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں فرعونیوں کے اس رد عمل کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے پروردگار عالم کی عبرت انگیز اور بیدار کنندہ بلاؤں کے نزول کے بعد ظاہر کیا۔ ان تمام آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت وہ بلا کے چنگل میں گرفتار ہوجاتے تھے، جیسا کہ عام طور سے تباہ کاروں کا دستور ہے، وقتی طور پر خواب غفلت سے بیدار ہوجاتے تھے اور فریاد وزاری کرنے لگتے تھے اور حضرت موسیٰؑ سے درخواست کرتے تھے کہ خدا سے ان کی نجات کے لئے دعا کریں "چونکہ حضرت موسیٰؑ ان کے دعا کرتے تھے اور وہ بلا ان کے سروں سے ٹل جاتی تھی" مگر ان کی حالت یہ تھی کہ جونہی وہ بلا سر سے ٹلتی تھی تو وہ تمام چیزوں کو بھول جاتے تھے اور وہ اپنی پہلی نافرمانی اور سرکشی کی حالت پر پلٹ جاتے تھے۔ پہلی آیت میں ہے جس وقت ان پر بلا مسلط ہوتی تھی تو کہتے تھے اے موسیٰ ! ہمارے لئے اپنے خدا سے دعا کرو کہ جو عہد اس نے تم سے لیا ہے اسے پورا کرے اور تمھاری دعا ہمارے حق میں قبول کرے (وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ)۔ اگر تم یہ بلا ہم سے دور کردو تو ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم خود بھی تم پر ضرور ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی یقینا تمہارے ہمراہ کر دیں گے (لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَآئِيلَ)۔ "رجز" بہت سے معنوں میں استعمال ہوا مثلاً :سخت بلائیں، طاعون، بت اور بت پرستی،وسوسہٴ شیطانی، برف یا سخت اولے۔ لیکن یہ سب معانی اس ایک عام معنی کے مختلف مصداق ہیں جو ان سب کی جڑ ہے، کیوں کہ اس لفظ کی اصل جیسا کی راغب نے مفردات میں لکھا ہے "اضطراب" ہے اور علامہ طبرسی کی کتاب مجمع البیان کے مطابق اس کے اصلی معنی "انحراف از حق" کے ہیں، لہٰذا اگر سزاؤں اور عذابوں کو "رجز" کہا گیا ہے تو اس لئے کہ یہ سب حق سے روگردانی کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح بت پرستی بھی انحراف از حق اور اضطراب در عقیدہ کی وجہ سے ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عرب اونٹ کی ایک بیماری کو بھی "رجز" (بروزن "مرض")کہتے ہیں۔ اس بیماری میں یہ ہوتا ہے کہ اونٹ کے پیروں میں لرزش پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کوتاہ قدمی سے ٹھہرتا ہوا چلتا ہے۔ نیز اسی وجہ سے جنگی اشعار کو بھی "رجز" کہتے ہیں کیوں کہ ان میں عام طور پر ہر "مقطع" کوتاہ اور نزدیک ہوتا ہے۔ بہرحال، مذکوورہ بالا آیت میں لفظ"رجز" سے مراد بظاہر وہی پانچ طرح کی بیدار کنندہ سزائیں ہیں جن کا آیات گذشتہ میں ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ بعض مفسرین نے یہ بھی احتمال ذکر کیا ہے کہ ممکن ہے اس سے بعض دوسری بلاؤں کی طرف اشارہ مقصود ہو، جو اللہ نے ان پر نازل فرمائیں اور گذشتہ آیات میں ان کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوا، جیسے طاعون، برف نیز شدید اور جان لیوا ژالہ باری۔ توریت میں میں بھی موٴخر الذکر عذابوں کا ذکر ہوا ہے۔ جملہ "بما عھد عندک" میں عہد الٰہی سے کیامراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان گفتگو ہے، زیادہ قرین صواب یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ کا موسیٰ سے یہ وعدہ ہے کہ جب بھی کوئی دعا کرو گے میں اسے پورا کردوں گا، لیکن یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ "عھد" سے مراد وہی "عہد نبوت" ہے یعنی اے موسیٰ ! ہم تمہیں تمہارے عہد نبوت کا واسطہ دیتے ہیں کہ خدا سے ان بلاؤ ں کو دور ہونے کی دعا کرو۔ اس کے بعد کی آیت میں ان کی پیمان شکنی کا ذکر کیا گیا ہے، فرماتا ہے: "جس وقت ہم ان پر سے بلاؤں کو تعین شدہ مدت کے بعد ہٹالیتے تھے تو وہ اپنا وعدہ توڑڈالتے تھے " نہ خود ہی ایمان لاتے تھے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو اسیری سے آزاد کرتے تھے (فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمْ الرِّجْزَ إِلیٰ اَجَلٍ ھُمْ بَالِغُوہُ إِذَا ھُمْ یَنکُثُونَ۔[ لفظ"نکث" (بروزن مکث) در اصل اس کے معنی رسی کے بل کھولنے کے ہیں بعد ازاں پیمان شکنی کے لئے استعمال ہونے لگا]۔ جملہ "اٴجَلٍ ھُمْ بَالِغُوہ" سے اشارہ اس مطلب کی طرف ہے کہ حضرت موسیٰ ؑان کے لئے ایک مدت معین کرتے تھے کہ فلاں وقت یہ بلا برطرف ہو جائے گی تاکہ ان پر اچھی طرح کھل جائے کہ یہ بلا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کی وجہ سے تھا۔ جملہ "اذا ھم ینکثون"چونکہ مضارع کا صیغہ ہے اس لئے استمرار پر دلالت کررہا ہے، یعنی وہ لوگ ہر مرتبہ حضرت موسیٰ کے سامنے پیمان باندھتے تھے اس کے بعد اسے توڑ ڈالتے تھے یہاں تک کہ عہد شکنی ان کی زندگی کا جزو ہو گیا تھا۔ آخری آیت میں ان کی اس خیرہ سری، سرکشی اور پیمان شکنی کو دومختصر جملوں میں بیان کر دیا گیا ہے، پہلے مجمل طور سے فرماتا ہے: ہم نے ان سے انتقام لے لیا(فَانتَقَمْنَا مِنْھُمْ)۔ بعد ازاں اس انتقام کی شرح اس طرح سے فرمائی ہے: ہم نے انہیں دریا میں ڈبو دیا، کیوں کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور وہ ان سے غافل تھے (فَاٴغْرَقْنَاھُمْ فِی الْیَمِّ بِاٴنَّھُمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَکَانُوا عَنْھَا غَافِلِین)۔[تشریحی نوٹ: جیسا کہ لغت اور احادیث کی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے"یم" کا معنی ہے سمندر نیز اس کا اطلاق نیل جیسے عظیم دریاؤں پر بھی ہوتا ہے البتہ اس سلسلے میں علماء میں اختلاف ہے "یم"عربی زبان کا لفظ ہے یا سریانی یا ہیروگلیفی کا المنار کے مصنف جو مصر کے معروف علماء میں سے ہیں نے ہیروگلیفی اور عربی لغات کی وجوہ اشتراک کو جمع کیا ہے اور اس سلسلے میں انھون نے کتاب معجم الکبیر تالیف کی ہے نقل کرتے ہیں کہ"یم" قدیم مصری زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہے، سمندر لہٰذا چونکہ زیر بحث معاملے کا تعلق سر زمین مصر سے ہے لہٰذا قرآن اس جمن میں مصر ہی کی لغات سے استفادہ کیا ہے۔] ایسا نہ تھا کہ وہ واقعاً غافل ہوں کیوں کہ مختلف طریقوں سے حضرت موسیٰ ؑ ان کو بیدار کرتے رہتے تھے، بلکہ عملی طور پر ان کا طریقہ غافلوں جیسا تھا کہ ذرا بھی آیات الٰہی کی طرف توجہ نہ کرتے تھے، اللہ کے انتقام سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ خدا کینہ ور اشخاص کی طرح ٹھان لیتا ہے اور جو جیسا اس کے ساتھ کرتا ہے وہ اس کا بدلہ چکاتا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ کا انتقام یہ ہے کہ پہلے وہ انسان کی اسلاح کے لئے طرح طرح کے طریقے استعمال کرتا ہے، اتمام حجت تمام کرتا ہے سمجھتا ہے جب اس سے پوری مایوسی حاصل ہو جاتی ہے اور یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کا وجود بالکل فاسد اور معاشرے لئے بالکل خطرناک ہے اور اب اسے جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے تو اسے عذاب کے ذریعے نابود کر دیاتا ہے، انتقام کے لغوی معنی جیسا کہ ہم اس سے پہلے بھی بیان کیا سزا اور پاداش دینے کے ہیں، اس کے وہ معنی نہیں ہیں جو فارسی میں اس سے سمجھے جاتے ہیں۔
قوم فرعون کا دردناک انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1قوم فرعون کی نابودی کے بعد وہ بنی اسرائیل جو سالہائے دراز سے ان کے ظلم وستم کے پنجے میں دبے ہوئے تھے آزاد ہو گئے اور فرعونیوں کی وسیع وعریض سرزمین کے مالک بن گئے۔ آیت مذکورہ بالا میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔فرمایا گیا ہے: "ہم نے مشرق ومغرب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جو مستضعف اور استعمار زدہ تھے" (وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیھَا)۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی اشارہ کیا ہے لفظ"ارث" کے معنی لغت میں اس مال کے ہیں جو کسی سے کسی کو بغیر تجارت یا دوسری طرح کے معاملے کے مل جائے چاہے وہ مردہ سے ملے یا زندہ سے ملے۔ "یستضعفون" جس کا مادہ "استضعاف" ہے، کلمہ "استعمار" کا الٹ ہے۔ لفظ "استعمار" کا استعمال تو ہمارے زمانے میں عام ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی ظالم قوم کسی دوسری قوم کی تضعیف کرے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے؛ الّا یہ کہ استضعاف واستعمار میں یہ فرق ہے کہ استعمار کے ظاہری معنی آباد کرنے کے ہیں اور باطنی معنی ویران کرنے کے، لیکن استضعاف کے ظاہری وباطنی دونوں معنی ایک ہیں۔ "کانوا یستضعفون" سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ فرعون والے ان کو ہمیشہ ضعف وناتوانی میں جکڑا رکھتے تھے۔ انھوں نے فکری، اخلاقی، اقتصادی ہر لحاظ سے انھیں ناتوان کر دیا تھا۔ "مشارق الارض ومغاربھا" سے مراد وہ وسیع وعریض زمینیں ہیں جو فرعون اور اس کے ماننے والوں کے قبضے میں تھیں کیوں کہ چھوٹی زمینیں متعدد مشرق ومغرب یا متعدد افق اپنے اندر نہیں رکھتیں، لیکن اگر وہ وسیع سرزمین ہوتو وہ زمین کے کروی ہونے کی وجہ سے ایسی ہو گی کہ اس میں مختلف مغرب ومشرق ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس تعبیر کو وسیع سرزمین کے معنی میں کنایہ سمجھا۔ اس جملے"بارکنا فیھا" اس سرزمین کی غیر معمولی آبادی کی طرف اشارہ مقصود ہے یعنی مصر وشام کا علاقہ جو اس زمانے میں اور اس زمانے میں بھی دنیا کے پربرکت علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ خصوصاً بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں مملکت مصر کی اتنی وسعت تھی کہ شامات (شام فسطین اور لبنان وغیرہ)کے علاقے بھی اس میں داخل تھے۔ بنابریں، پورے کرہٴ زمین کی حکومت مراد نہ تھی کیوں کہ یہ امر تاریخی مسلمات کے قطعا خلاف ہے؛ بلکہ حکومت بنی اسرائیل سے مراد فرعونیوں کی سرزمین تھی۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: بنی اسرائیل کی فتحیابی کے متعلق تیرے پروردگار کا نیک وعدہ ان کے صبر واستقلال کی وجہ سے پورا ہوا (وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ الْحُسْنَی عَلیٰ بَنِی إِسْرَائِیلَ بِمَا صَبَرُوا)۔ یہ وہی وعدہ ہے جس کا ذکر گذشتہ آیات (اسی سورہ کی آیت ۱۲۸۔۱۲۹) میں گذر چکا ہے۔ اگرچہ ان آیات میں صرف بنی اسرائیل اور فرعونیوں کے مقابلے میں ان کے صبر واستقلال کا تذکرہ ہوا ہے، بلکہ یہ بات کسی ملت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ جو مستضعف قوم بھی قیام کرے گی، اسیری اور کے پنجہ سے آزاد ہونے کے لئے کوشش کرے گی اور اس راہ میں پامردی اور استقامت دکھائے گی وہ آخر میں فتحیاب ہو گی۔ [تشریحی نوٹ: بشرطیکہ اس قوم کو جائز قیادت بھی حاصل ہو، جیسا کہ فرعون کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو اس وقت تک کامیابی حاصل نہ ہوئی جب تک کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور حضرت ہارون (علیه السلام) نے ان کہ رہنمائی نہ کی۔ (مترجم)] او ر ان کی جو زمینیں ظالموں کے قبضہ میں چلی گئی ہیں وہ آزاد ہو جائیں گی۔ آیت کے آخر میں اضافہ فرمایا گیا ہے: ہم نے فرعون اور فرعونیوں کے خوبصورت محلات، پر شکوہ عمارتوں، ہرے بھرے باغات کو نابود کر دیا (وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہُ وَمَا کَانُوا یَعْرِشُون)۔ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ "صنع" زیادہ تر خوبصورت صنعتوں کے لئے آتا ہے، لہٰذا مذکورہ بالا آیت میں یہ لفظ عصر فرعونی کی خوبصورت ودیدہ زیب تعمیروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ "وما یعرشون" در اصل، ان باغوں کے لئے ہے جو مچان اور پہاڑوں کے ذریعے پھلتے پھولتے ہیں جیسے انگور، کدو و عیضا اور ان کی وجہ سے مناظر بہت خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ "دمرنا" کی اصل "تدمیر" ہے جس کے معنی فنااور نابود کرنے کے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ان عمارتوں اور باغات کو کس طرح نابود کیا گیا، پھر یہ ان کی نابودی کی کیا ضرورت پیش آئی؟! جواب یہ ہے کہ یہ بات بعید نہیں کہ زلزلوں اور نت نئے سیلابوں کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہو گئی ہو۔ یہ تباہی اس وجہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ فرعون کے ساتھ تمام فرعون والے دریا میں غرق نہیں ہوئے تھے بلکہ خود فرعون اور اس کے کچھ خاص آدمی جو اس کے ساتھ موسیٰ کا پیچھا کرتے ہوئے گئے تھے، غرق ہوئے تھے، لہٰذا یہ بات مسلم ہے کہ اگر باقی ماندہ افراد جن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ مصر کے ہر حصے میں پھیلے ہوئے تھے، ان کی اقتصادی حالت پہلے جیسی ہوتی تو دوبارہ بنی اسرائیل کا ناطقہ بند کر دیتے اور جگہ جگہ ان کے لئے زحمت کا باعث بنتے لہٰذا مصلحت الٰہی اس بات کی مقتضی ہوئی مال دنیا سے ان کا ہاتھ خالی ہو جائے تاکہ ان کی سرکشی اور طغیان کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 141 کے تحت ملاحظہ کریں۔
حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے بت سازی کی فرمائش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں بنی اسرائیل کی سرگذشت کے ایک اور اہم حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ واقعہ فرعونیوں پر ان کی فتحیابی کے بعد ہوا، اس واقعے سے بت پرستی کی جانب ان کی توجہ ظاہر ہوتی ہے، اس کی ابتدا کا ذکر ان آیات میں آیا ہے اور اس کے انجام کا مفصل ذکر سورہٴ "طہ" سے آیات ۸۶تا ۹۷میں آیا ہے اور مختصر طور پر اسی سورہ کی آیت ۱۴۸ میں بھی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) فرعون کے جھگڑے سے نکل چکے تو ایک اور داخلی مصیبت شروع ہو گئی جو بنی اسرائیل کے جاہل، سرکش اور ضدی افراد کی وجہ سے پیش آئی، جیسا کہ آگے معلوم ہو گا حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے لئے یہ داخلی کشمکش، فرعون اور فرعونیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے بدرجہ سخت اور سنگین تر تھی اور ہر داخلی کشمکش کا یہی حال ہوا کرتا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو دریا (نیل) کے اس پار لگا دیا(وَجَاوَزْنَا بِبَنِی إِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ)۔ لیکن "انھوں نے راستے میں ایک قوم کو دیکھا جو اپنے بتوں کے گرد خضوع اور انکساری کے ساتھ اکٹھا تھے" (فَاَتَوْا عَلیٰ قَوْمٍ یَعْکُفُونَ عَلیٰ اَصْنَامٍ لَھُمْ)۔ "عاکف" "عکوف" سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف احترام کے ساتھ توجہ کرنا۔ امت موسیٰ (علیه السلام) کے جاہل افراد یہ منظر دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ فوراً حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے پاس آن کر "وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! ہمارے واسطے بھی بالکل ویسا ہے معبود بنا دو جیسا معبود ان لوگوں کا ہے" (قَالُوا یَامُوسیٰ اجْعَل لَنَا إِلَھًا کَمَا لَھُمْ آلِھَة)۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام)ان کی اس جاہلانہ اور احمقانہ فرمائش سے بہت ناراض ہوئے، آپ نے ان لوگون سے کہا: تم لوگ جاہل اور بے خبر قوم ہو (قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُونَ )۔
چند اہم نکات
۱۔ اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بت پرستی کا اصل سبب بشر کا جہل اور نادانی ہے، اس کا ایک جہل تو اپنے خالق حقیقی سے ہے یعنی اس کی ذات پاک کو نہ جانا اور یہ نہ جاننا کہ اس کی شبیہ ونظیر ہرگز ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف اس جہان کی اصل علت سے جہل ہے اور اس کے حوادث کی علت سے بے خبر ی ہے۔ اس جہل کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی ذہن ہر حادثے کی ایک خیالی علت تراش لیتا ہے یہاں تک کہ بتوں کو بھی علت مان لیتا ہے۔ اس کا تیسرا سبب عالم ماوراء طبیعت سے جہل ہے جس کے نتیجہ میں سوائے حسی اشیاء کہ جن کو وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اور حواس پنجگانہ سے محسوس کرتا ہے اور کسی چیز کو نہیں مانتا۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ان تین طرح کے جہلوں کی آمیزش سے بت پرستی کا مادہ پیدا ہوتا ہے، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا انسان جو آگاہ وفہمیدہ ہو، خدا اور اس کی صفات ذاتی سے باخبر ہو، علل حوادث کا بھی اسے علم ہو، جہان طبیعت اور ماوراء طبیعت کی بھی اطلاع رکھتا ہو پھر اپنے ہاتھوں سے پہاڑ میں سے پتھر کے ایک ٹکڑے کو جدا کرے، اس کے ایک حصہ کو اپنے مکان کے کسی حصے مثلاً سیڑھی وغیرہ کے لئے استعمال کرے اور اسی پتھر کے دوسرے حصے سے ایک بت تراشے اور اسے اپنا معبود قرار دے کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے اور اسے اپنی تقدیر کا مالک ومختار سمجھ بیٹھے؟!۔ جالب توجہ یہ ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ تم وہ گروہ ہو جو ہمیشہ جاہلیت کے اندر غوطہ زن رہا کرتا ہے (کیوں کہ "تجھلون" فعل مضارع ہے جو زیادہ تر استمرار پر دلالت کرتا ہے) خصوصاً یہ کہ اس میں جاہلیت کے متعلق بیان نہیں کیا گیا ہے اور یہ خود عموم پر دلالت کرتا ہے۔ سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے "اجعل لنا الٰھا" (ہمارے لئے ایک معبود بنا دو) کہہ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ بات ممکن ہے کہ ایک ایسی چیز جو کبھی بھی صاحب اثر وفعل نہ تھی، نہ اس میں کوئی ضرر تھا نہ فائدہ انتخاب اور قرار داد کے ذریعے اور کسی بت یا خدا کا نام رکھنے کے ذریعے اچانک وہ طرح طرح کے آثار سرچشمہ قرار پاجائے اور اس کی پرستش انسان کو اس کے رب سے نزدیک کر دے، اس کی بے احترامی سے بندہ خدا سے دور ہو جائے، اس کی عبادت سرچشمہٴ خیروبرکت اور اس کی تحقیر نقصان و خسران کا سبب بن جائے، یہ انتہائی درجے کی جاہلیت اور بے خبری کی بات ہے۔ یہ درست ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ منشاء نہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) ان کے لئے ایک ایسا معبود بنا دیں جو پورے جہان کا خالق ہو، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان کے لئے ایک ایسا معبود بنا دیں جس کی پرستش کی وجہ سے وہ خدا کے نزدیک ہو جائیں اور وہ خیرو برکت کا سرچشمہ بنے۔ لیکن یہ سوال یہ ہے کہ صرف ایک نام رکھنے کی وجہ سے یا مجسمہ بنا دینے سے کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک بے روح اوربے خاصیت ہستی یک بیک ان خواص وآثار کا سرچشمہ بن جائے؟ اس سے زیادہ بھی کوئی بات خرافات، جاہلیت اور بے بنیاد توہمات پر مبنی ہو سکتی ہے؟! [تشریحی نوٹ: بت پرستی کی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات کے لئے تفسیر نمونہ جلد دوم (ص ۱۶۸ اردو ترجمہ)کی طرف رجوع کریں] ۲۔ اس میں شک نہیں کہ بنی اسرائیل قبل اس کے کہ اس بت پرست قوم کو دیکھیں مصریوں کے ساتھ طولانی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے، خود بھی بت پرستی کی طرف میلان رکھتے تھے لیکن یہ بات ان کے دلوں میں چنگاری کی طرح دبی ہوئی تھی۔ لہٰذا جونہی انھوں نے راستے میں بت پرستی کا منظر دیکھا تو یہ دبی ہوئی چنگاری یک بیک سلگ اٹھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک انسان جیسا بھی ہو، وہ کس قدر ماحول کا تابع ہوتا ہے اور اس کا ماحول اس پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ماحول ہے چاہے تو اسے خدا پرستی سے نزدیک کر دے اور چاہے تو صنم کے دروازے تک لے جائے، ماحول ہی بہت سی برائیوں اور بدبختیوں کا سبب بنتا ہے اور وہی نیکی وپارسائی کی طرف لے جاتا ہے (اگرچہ ماحول کا انتخاب ہی اصلی علت ہوتا ہے) یہی وجہ ہے کہ ماحول کی اصلاح کو اسلام میں بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ۳۔ایک اور جالب نظر بات جو آیت مذکورہ سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ناشکر گزار افراد کی کثرت تھی، باوجود یہ کہ انھوں نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے اتنے معجزے دیکھے، قدرت کے اتنے انعامات ان پر ہوئے، ان کا دشمن فرعون نابود ہوا ابھی کافی عرصہ بھی نہیں گزرا تھا، وہ غرق کر دیا گیا اور وہ سلامتی کے ساتھ دریا کو عبور کر گئے لیکن انھوں نے ان تمام باتوں کو یکسر بھلا دیا اور حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے بت سازی کا سوال کر بیٹھے۔ نہج البلاغہ میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے سامنے مسلمانوں پر اعتراض کیا : ابھی تمھارے نبی دفن بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ تم لوگوں نے اختلاف کر دیا۔[اس سے مراد خلافت کے بارے میں اختلاف ہے۔(مترجم)] حضرت علی علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: "انما اختلفنا عنہ، لا فیہ ولکنکم ماجفت ارجلکم من البحر حتیٰ قلتم لنبیکم اجْعَل لَنَا إِلَھًا کَمَا لَھُمْ آلِھَة فقَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُونَ"۔ ہم نے ان فرامین واقوال کے بارے میں اختلاف کیا ہے جو پیغمبر سے ہم تک پہنچے ہیں، پیغمبر یا ان کی نبوت سے متعلق ہم نے کوئی اختلاف نہیں کیا (چہ جائیکہ الوہیت کے متعلق ہم نے کوئی بات کہی ہو) لیکن تم(یہودی) ابھی تمھارے پیر دریا کے پانی سے خشک نہیں ہونے پائے تھے کہ تم نے نبی(حضرت موسیٰ (علیه السلام)) سے یہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے ایک ایسا ہی معبود بنا دو جس طرح کہ ان کے متعدد معبود ہیں، اور اس نبی نے تمھارے جواب میں تم سے کہا تھا کہ تم ایک ایسا گروہ ہو جو جہل کے دریا میں غوطہ زن ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے اپنی بات کی تکمیل کے لئے بنی اسرائیل سے کہا: اس بت پرست گروہ کو جو تم دیکھ رہے ہو ان کا انجام ہلاکت ہے اور ان کا ہر کام باطل و بے بنیاد ہے (إِنَّ ھَؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا ھُمْ فِیہِ وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ یعنی ان کا عمل بھی عبث ہے اور ان کی زحمتیں بھی سب بے نتیجہ ہیں اور آخر میں جو ہر بت پرست قوم کا انجام بد (ہلاکت) ہے وہی ان کا بھی انجام ہونا ہے (کیوں کہ "متبر" کا مادہ "تبار" ہے جس کے معنی ہیں"ہلاکت")۔ اس کے بعد مزید تاکید کے لے فرمایا گیا ہے: آیا خدائے برحق کے علاوہ تمھارے لئے کوئی دوسرا معبود بنا لوں، وہی خدا جس نے اہل جہان(ہم عصر لوگوں) پر تم کو فضیلت دی(قَالَ اَغَیْرَ اللهِ اَبْغِیکُمْ إِلَھًا وَھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ)۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کی پرستش کا اصل محرک شکر گزاری کا جذبہ ہوتو تمھیں یہ سوچنا چاہئے کہ تمھاری ساری نعمتیں خدا کی دی ہوئی ہیں، اور اگر اس کی پرستش اس وجہ سے ہے کہ وہ علة العلل اور منشاء اثر ہے، تب بھی اس کا تعلق خدائے وحدہ لاشریک سے ہے۔ بنابریں، جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے صرف اسی کی عبادت وپرستش کرنا چاہئے اس کے غیر کی نہیں۔ *** اس کے بعد کی آیت میں خدا وند کریم اپنی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھی، تاکہ اس عظیم نعمت کا تصور کرکے اس میں شکر گزاری کا جذبہ بیدار ہو اور انھیں یہ احساس ہو پرستش اور سجدے کے کا مستحق صرف خدائے یکتا ویگانہ ہے، اور ا س بات کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی کہ جو بت بے نفع اور بے ضرر ہیں ان کے سامنے سرتعظیم جھکایا جائے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے :"یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تمھیں فرعون کے گروہ کی شر سے نجات دے دی وہ لوگ تم کو مسلسل عذاب دیتے چلے آرہے تھے (وَإِذْ اَنجَیْنَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ)۔ "یسومون" کی اصل "سوم" ہے جس کے معنی جیسا کہ راغب نے مفردات میں لکھا ہے کسی چیز کے پیچھے چلنے کے ہیں اور قاموس میں ہے کہ اس لفظ میں ایک طرح کا تسلسل واستمرار بھی پایا جاتا ہے۔ بنابریں، "یسومونکم سوء العذاب" کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ لوگ برابر اور مسلسل تم کو عذاب دیتے چلے آرہے تھے۔ اس کے بعد جیسا کہ قرآنی قائدہ ہے کہ اجمال کے بعد تفصیل سے کام لےتا ہے، اس عذاب و ایذا رسانی کی تفصیل یوں بیان فرماتا ہے: وہ تمھارے بیٹوں کو تو قتل کر دیتے تھے اور تمھاری عورتوں لڑکیوں کو (خدمت اور کنیزی کے لئے) زندہ چھوڑ دیتے تھے (یُقَتِّلُونَ اَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ )۔ "اور اس مصیبت میں تمھارے رب کی طرف سے تمھاری بڑی آزمائش تھی" (وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ)۔ گذشتہ اور آئندہ آیات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے یہ جملہ بنی اسرائیل سے اس وقت کہا جب وہ دریا کو عبور کرنے کے بعد بت پرستی کی خواہش میں گرفتار ہو گئے تھے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس جملہ کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں موجود تھے۔ کیوں کہ پہلی تفسیر کے مطابق اس میں ایک جملہ "قال ربکم" مقدر ماننا پڑے گا یعنی موسیٰ (علیه السلام) نے کہا کہ تمھارا رب کہتا ہے) اور یہ ظاہر کے خلاف ہے۔ لیکن اگر اسے زمانہٴ پیغمبر کی بات مانا جائے تو یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ اس طرح ماقبل اور مابعد کی آیات سے اس جملے کا کوئی ربط باقی نہیں رہتا؛ یہ جملہ ایک معترضہ جملہ ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر تفسیرِ اوّل درست معلوم ہوتی ہے۔ ضمنا یہ بات بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس جملے کی مثل بہت کم فرق کے ساتھ سورکی آیت ۴۹میں گزر چکی ہے۔ مزید توضیح کےلئے جلد اول (ص ۲۰۰ اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔
عظیم وعدہ گاہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں بنی اسرائیل کی زندگی کا ایک اور منظر بیان کیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کو اپنی قوم سے جھگڑنا پڑا ہے؛ حضرت موسیٰ کا خدا کے مقامِ وعدہ پر جانا، وحی کے ذریعے احکامِ توریت لینا، خدا سے باتیں کرنا، کچھ بزرگانِ بنی اسرائیل کو میعادگاہ میں ان واقعات کے مشاہدے کےلئے لانا، اس بات کا اظہار کہ خدا کو ان آنکھوں سے ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا، پھر بنی اسرائیل کی بچھڑا پرستی اور ان کا راہِ توحید سے ہٹ جانا اور ماری کا عجیب ہنگامہ جیسی باتوں کا ذکر چھیڑا گیا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں (پورے ایک مہینہ)کا وعدی کیا، اس کے بعد مزید دس راتیں بڑھا کر اس وعدہ کی تکمیل کی، چنانچہ موسیٰ (علیه السلام) سے خدا کا وعدی چالیس راتوں میں پورا ہوا (وَوَاعَدْنَا مُوسیٰ ثَلَاثِینَ لَیْلَةً وَاَتْمَمْنَاھَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقَاتُ رَبِّہِ اَرْبَعِینَ لَیْلَةً)۔ "میقات" کی اصل "وقت" ہے جس کے معنی اس "وقت" کے ہیں جو کسی کام کے کرنے کے لئے پہلے سے طے کیا جائے، اس کا اطلاق عام طور سے "زمانہ" کے لئے ہوتا ہے لیکن بعض اوقات اس مقام کو بھی میقات کہتے ہیں جہاں کوئی خاص کام انجام پائے۔ جیسے "میقات حج" یعنی وہ جگہ جہاں سے کسی شخص کو بغیر احرام کے آگے بڑھنے اجازت نہیں ہے۔ اس کے بعد اس طرھ بیان کیا گیا ہے:موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں تم میرے جانشین بن جاؤ اور ان کی اصلاح کی کوشش کرو اور کبھی مفسدوں کی پیروی نہ کرنا (وَقَالَ مُوسیٰ لِاَخِیہِ ھَارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَاَصْلِحْ وَلَاتَتَّبِعْ سَبِیلَ الْمُفْسِدِینَ)۔
چند قابل توجہ نکات
1۔ وعدہ کتنی راتوں کا تھا؟: آیہ مذکورہ بالا کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے پہلے ہی سے چالیس راتوں کا وعدہ کیوں نہ کیا بلکہ پہلے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد دس راتوں کا اور اضافہ کر دیا؛ حالانکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۵۱میں ایک جگہ چالیس راتوں کا ذکر ہے؟! مفسرین کے درمیان اس تفریق کے بارے میں بحث ہے، لیکن جو بات بیشتر قرین قیاس ہے، نیز روایات اہلبیت علیہم السلام کے بھی موافق ہے، وہ یہ ہے کہ یہ میعاد اگر چہ واقع میں چالیس راتوں کا تھا لیکن خدا نے بنی اسرائیل کی آزمائش کرنے کے لئے پہلے موسیٰؑ کو تیس راتوں کی دعوت دی پھر اس کے بعد اس کی تجدید کر دی تاکہ منافقین، مومنین سے الگ ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: جس وقت حضرت موسیٰؑ وعدہ گاہ الٰہی کی طرف گئے تو انہوں نے بنی اسرائیل سے یہ کہہ رکھا تھا کہ ان کی غیبت تیس روز سے زیادہ طولانی نہ ہو گی۔ لیکن جب خدا نے اس پر دس دنوں کا اضافہ کر دیا تو بنی اسرائیل نے کہا: موسیٰؑ نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔ اس کے نتیجہ میں انہوں نے وہ کام کئے جو ہم جانتے ہیں (یعنی گوسالہ پرستی میں مبتلا ہو گئے) [بحوالہ: تفسیر برہان،جلد ۲،ص ۳۳، نورالثقلین،جلد ۲، ص ۶۱] ر ہا یہ سوال کہ یہ چالیس راتیں، اسلامی مہینوں میں سے کونسا زمانہ تھا؟ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدت ذیقعدہ کی پہلی تاریخ سے لے کر ذی الحجہ کی دس تاریخ تک تھی۔ قرآن میں چالیس راتوں کا ذکر ہے نہ کہ چالیس دنوں کا، تو شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے رب سے جو مناجاتیں تھیں وہ زیادہ تر رات ہی کے وقت ہُوا کرتی تھیں۔ ۲۔ پیغمبر اور جانشینی؟: دوسرا سوال جو یہاں درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہارونؑ تو خود پیغمبر تھے لہٰذا انہیں موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کی رہبری اور امامت کے لئے اپنا جانشین کیونکر مقرر کیا؟ اس سوال کا جواب ایک نکتہ پر غور کرنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مقام نبوت کچھ اور مقامِ امامت کچھ اور، حضرت ہارونؑ اگرچہ خود پیغمبر تھے، مگر بنی اسرائیل کی عام رہبری کے منصب دار نہ تھے۔ یہ منصب وہ تھا جو صرف حضرت موسیٰؑ کو ملا ہُوا تھا لیکن جب آپ نے چاہا کہ ایک مدت کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوں تو اپنے بھائی کو مقامِ امامت وپیشوائی کے لئے انتخاب کیا۔ اور یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامِ امامت بالاتر از مقامِ نبوّت ہے۔ ہم نے اس مطلب کو وضاحت کے ساتھ حضرت ابراہیمؑ کے قصّہ میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کی تفسیر میں بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو، جلد اوّل، ص۳۲۲ اردو ترجمہ) ۳۔ حضرت ہارونؑ کوتلقین؟: اس کے بعد ایک اور سوال سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ حضرت موسیٰؑ نے کس طرح اپنے بھائی ہارونؑ سے یہ کہا کہ: قوم کی اصلاح کی کوشش کرنا اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا؛ جبکہ حضرت ہارونؑ ایک نبیٴ برحق اور معصوم تھے وہ بھلا مفسدوں کی پیروی کیوں کرنے لگے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: درحقیقت اس بات کی تاکید کے لئے تھا کہ حضرت ہارونؑ کو اپنی قوم میں اپنے مقام کی اہمیت کا احساس رہے اور شاید اس طرح سے خود بنی اسرائیل کو بھی اس بات کا احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی غَیبت میں حضرت ہارونؑ کی رہنمائی کا اچھی طرح اثر لیں اور ان کا کہنا مانیں اور ان کے امر ونواہی (احکامات) کو اپنے لئے سخت نہ سمجھیں، اس سے اپنی تحقیر خیال نہ کریں اور ان کے سامنے اس طرح مطیع وفرمانبردار رہیں جس طرح وہ خود حضرت موسیٰؑ کے فرمانبردار تھے۔ ۴۔ ایک میقات یا کئی میقات؟: چوتھا سوال جو درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا حضرت موسیٰؑ صرف اسی چالیس دن روزہ میقات پر ایک ہی دفعہ گئے تھے اور انہی چالیس دنوں میں توریت اور تمام شریعت واحکامات نازل ہو گئے، نیز کیا انہی چالیس دنوں کی بات ہے کہ اپنی قوم کے کچھ منتخب شدہ افراد کو بطور نمائندہ اپنے ہمراہ لے گئے تھے کہ وہ نزولِ توریت کے گواہ بنیں اور انہیں حضرت موسیٰؑ یہ بتلا دیں کہ وہ ذات خداوندی کو نہیں دیکھ سکتے اور نہ کوئی دوسرا اسے دیکھ سکتا ہے؟! یا یہ کہ متعدد چلّے گذر؟ ایک چلّہ صرف احکام الٰہی لینے کے لئے پھر دوسرا چلّہ بزرگان بنی اسرائیل کو لے جانے کے لئے، پھر شاید تیسرا چلّہ دیگر مقاصد کے لئے (جیسا کہ موجودہ توریت کے سفر خروج باب ۱۹ تا ۲۴ میں مذکور ہے)۔ ایک مرتبہ پھر مفسّرین کے درمیان اس بارے میں بحث ہوئی ہے، لیکن آیات قبل وبعد پر اگر نظر کی جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان سب کا تعلق ایک ہی واقعہ سے ہے کیونکہ ایک تو یہ جملہ: "ولمّا جاء موسیٰ لمیقاتنا" (جب موسیٰ ہماری وعدہ گاہ میں آئے) اچھی طرح سے ان دونوں واقعات کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ علاوہ بریں، اسی سورہ کی آیت ۱۴۵ ہمیں پورے سے بتلاتی ہے کہ "الواحِ توریت" اور "نزول احکامِ شریعتِ موسیٰ" یہ دونوں واقعات اسی سفر میں ہوئے تھے۔ اس سورہ میں صرف ایک آیت (نمبر۱۵۵) ایسی ہے جس سے تعددّ میقات کا احتمال ہوتا ہے (وَاخْتَارَ مُوسیٰ قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلًا لِمِیقَاتِنَا…) انشآء الله ہم جب اس کی تفسیر کریں بیان کریں گے تو وہاں تحریر کریں گے کہ یہ آیت بھی مذکورہ مطلب کے خلاف نہیں ہے۔ ۵۔ حدیث منزلت: بہت سے سُنّی اور شیعہ مفسّرین نے اس مقام پر حدیث منزلت (یا علی انت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ) کی طرف اشارہ کیا ہے، بس فرق اتنا ہے کہ شیعہ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل پر ایک زندہ دلیل مانا ہے، جبکہ بعض مفسّرین اہلسنّت نے اسے ردّ کرتے ہوئے شیعوں پر بے رحمی اور تعصّب کے ساتھ اعتراضات کئے ہیں۔ اس بحث کی مزید وضاحت کے لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہم اس حدیث کی اسناد اور متن کو مختصر طور پر پیش کر دیں، اس کے بعد ان اعتراضات کے متعلق بحث کریں گے جو فریق مخالفت نے اس جگہ پیش کئے ہیں۔
حدیث منزلت کے اسناد
۱۔ اصحاب نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک بڑی تعداد نے جنگِ تبوک کے واقعہ کو اس طرح نقل کیا ہے: "انّ رسول الله خرج الیٰ تبوک واستخلف علیّاً فقال: اَتخلفنی فی الصبیان والنساء، قال: الا ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا انّہ لا نبیّ بعدی" پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تبوک کی جانب روانہ ہوئے تو آپ نے اپنی جگہ علؑی کو مقرر کیا، علی نے کہا کہ یا رسول الله! مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑے جاتے ہیں (اور اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ مَیں آپ کے ہمراہ جنگ کے لئے آؤں؟) پیغمبرﷺ نے فرمایا: یا علی! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمھاری حیثیت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی؛ مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ مذکورہ عبارت معتبر ترین کتب حدیث اہل سنّت میں وارد ہوئی ہے۔ یعنی یہ روایت صحیح بخاری میں سعد ابن ابی وقاص سے نقل ہوئی ہے۔ [بحوالہ: صحیح بخاری، جلد ۶، طبع دار احیاء التراث العربی۔] نیز صحیح مسلم میں جو اہل سنّت کی درجہٴ اوّل کی کتب میں شمار ہوتی ہے، باب "فضائل الصحابہ" میں یہ حدیث سعد سے منقول ہوئی ہے کہ پیغمبرﷺ نے علیؑ سے فرمایا: "اَنت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا انّہ لا نبیّ بعدی" تمھاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی؛ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ [بحوالہ: صحیح مسلم، ج۴، ص۱۸۷، طبع دار احیاء التراث العربی، طبع دوّم، سال۱۹۷۲ع] صحیح مسلم کی اس حدیث میں مطلب کو کلّی طور پر بیان کیا گیا ہے اس میں جنگِ تبوک کی طرف کوئی اشارہ نظر نہیں آتا۔ نیز صحیح مسلم ہی میں اس حدیث کو بطورِ کلّی بیان کرنے کے بعد پیغمبر کی جنگِ تبوک والی حدیث کو بھی مثل صحیح بخاری کے جداگانہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ سننِ ابن ماجہ میں بھی بعینہِ یہی مطب آیا ہے۔ [بحوالہ: جلد اوّل، ص۴۲، طبع احیاء دار الکتب العربیہ-] سننِ ترمذی میں اس مطلب کا اضافہ ملتا ہے کہ روز معاویہ نے سعد سے کہا کہ تم "ابوتراب" (یعنی حضرت علیؑ کو بُرا کیوں نہیں کہتے؟ سعد نے جواب دیا: مجھے یاد ہے کہ حضرت رسول الله نے علی کے بارے میں تین باتیں فرمائی تھیں۔ جب مجھے یہ تینوں باتیں یاد آتی ہیں تو مَیں علیؑ کو بُرا نہیں کہہ سکتا۔ اس کے بعد سعد نے ان تین باتوں میں سے ایک وہی جنگِ تبوک میں حضرت علیؑ کے متعلق مذکورہ جملے کا ذکر کیا ہے۔ [بحوالہ: ج۱، ص۶۳۸، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، مالک مکتبہ حاج ریاض شیخ] کتاب مسند احمد بن حنبل میں تقریباً دس مقامات پر اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے، کبھی تو جنگِ تبوک کے بیان میں اس کا ذکر آیا ہے اور کہیں اس کے علاوہ بھی۔ [بحوالہ: مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص۱۷۳، ۱۷۵، ۱۷۹، ۱۸۲، ۱۸۵، ۲۳۱، نیز ج۶، ص۳۶۹ اور ۴۳۸-] ان مقامات میں سے ایک مقام پر درج ہے کہ: ایک دفعہ ابنِ عباس بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ باہر آجائیے یا ان لوگوں کو تھوڑی دیر کے لئے باہر بھیج دیجئے کیونکہ ہم آپ سے اکیلے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ ابنِ عباس نے کہا: میں تمہارے ساتھ باہر چلتا ہوں یہاں تک کہ ابنِ عباس نے ان سے جنگِ تبوک کا واقعہ اور رسول الله کا علیؑ کے بارے میں مذکورہ قول نقل کیا۔ اس کے بعد اتنا اور اضافہ کیا کہ آنحضرت نے فرمایا: "انّہ لاینبغی ان اذھب الّا وانت خلیفتی" مناسب نہیں ہے کہ مَیں سفر کروں سوائے اس صورت کے تم میرے جانشین بنو [6۔ مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص۲۳۱-] کتاب خصائص نسائی میں بھی یہ حدیث وارد ہوئی ہے۔[خصائص نسائی، ص۴ و۱۴] اسی طرح کتاب مستدرک حاکم [ج۳، ص۱۰۸ و۱۰۹] تاریخ الخلفاء، سیوطی[ج۱، ص۶۵]، صواعق محرقہ ابنِ حجر[10۔ ص۱۷۷]، سیرةِ ابن ہشام[سیرتِ ابن ہشام، ج۳، ص۱۶۳، طبع مصر]، سیرة حلبی[سیرتِ حلبی، ج۳، ص۱۵۱، طبع مصر] اور دیگر بہت سی کتابوں میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ کتابیں اہلِ سنّت کی مشہور ومعروف اور درجہٴ اوّل کی کتابوں میں سے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث کو صرف سعد بن ابی وقاص نے نہیں نقل کیا ہے، بلکہ ان کے علاوہ دیگر صحابہ میں سے بعض یہ ہیں: جابر بن عبد الله انصاری، ابو سعید خدری، اسماء بنت عمیس، ابنِ عباس، امّ سلمہ، عبد الله بن مسعود، انس بن مالک، زید بن ارقم اور ابو ایوب انصاری۔ اس سے بھی زیادہ جالب بات یہ ہے کہ معاویہ اور عمر بن خطاب نے بھی اس حدیث کو رسول الله صلی علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ محبّ الدین طبری اپنی کتاب "ذخائر عقبیٰ" میں نقل کرتے ہیں کہ: ایک شخص معاویہ کے پاس آیا اور اس نے معاویہ سے کوئی سوال کیا، معاویہ نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ علیؑ سے پوچھو کیونکہ وہ بہتر جانتے ہیں، اس شخص نے کہا: اے امیرالمومنین (اس کا اشارہ معاویہ کی طرف تھا) آپ ہی جواب دیں کیونکہ آپ کا جواب مجھے علیؑ کے جواب سے زیادہ پسند ہے۔ معاویہ نے کہا: تُونے بہت بڑی بات کہی، اس کے بعد معاویہ نے کہا: پیغمبر نے علیؑ کے بارے میں یہ جملہ فرمایا ہے: "انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا انّہ لا نبیَّ بعدی" اس کے بعد معاویہ نے کہا: جب کبھی عمر کو کوئی مشکل درپیش ہوتی تھی تو وہ علیؑ کی طرف رجوع کرتے تھے [بحوالہ: ذخائر عقبیٰ، ص۷۹، طبع مکتبہٴ قدس؛ صواعق محرقہ، ص۱۷۷ طبع مکتبہ قاہرہ] ابوبکر بغدادی اپنی کتاب "تاریخ بغداد" میں تحریر کرتے ہیں: عمر نے ایک دفعہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ علیؑ کو بُرا کہہ رہا ہے۔ عمر نے کہا: میرا خیال ہے کہ تُو ایک منافق انسان ہے کیونکہ میں نے پیغمبر کو یہ فرماتے سنا ہے: "انّما علیّ منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا انّہ لا نبیَّ بعدی"[تاریخ بغداد، ج۷، ص۴۵۲، طبع مکتبہٴ سعادت]
حدیث منزلت کے سات مواقع
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حضرت رسول الله نے اس حدیث کو جیسا کہ عام طور سے خیال کیا جاتا ہے صرف جنگِ تبوک کے موقع پر نہیں فرمایا بلکہ متعدد مقامات پر بھی آپ نے علیؑ کے بارے میں یہ جملہ فرمایا ہے۔ ان مقامات میں سے بعض حسب ذیل ہیں: ۱۔ پہلی مواخات کے دن: یعنی جب مکّہ میں رسول الله نے پہلی مرتبہ اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قرار دیا، اس وقت آنحضرت نے علیؑ کو اپنے بھائی کی حیثیت سے منتخب کیا اور فرمایا: انت بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی [ بحوالہ: کنز العمال، حدیث۹۱۸، ج۵، ص۴۰ ؛ ج۶، ص۳۹۰ ] ۲۔ دوسری مواخات کے دن: یعنی دوسری دفعہ جب آنحضرت نے مدینہ میں مہاجرین وانصار کے درمیان برادری قائم کی، یہاں بھی آپ نے اپنے لئے علیؑ کا انتخاب کیا اور ان کے لئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: وانت بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی واٴنت اٴخی ووارثی [بحوالہ:۔ منتخب کنزل العمال (در حاشیہ مسند احمد، ج۵، ص۳۱] ۳۔ امّ سلیم سے فرمایا: "امّ سلیم" جو تاریخِ اسلام کی ایک مشہور خاتون اور مبلغہ اسلام ہیں، رسول اسلام کی صحابیت میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے باپ اور بھائی رسول الله کی نصرت میں شہید ہوچکے ہیں، چونکہ ان کے شوہر نے اسلام قبول نہ کیا اس لئے اس سے جدا ہو گئی تھیں، ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ خود حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ان کے مکان پر ان سے ملنے آیا کرتے تھے (اور ان کو تسلّی دیتے تھے) ایک روز آنحضرت نے ان سے فرمایا: یا امّ سلیم! انّ علیّاً لحمہ من لحمی ودمہ من دمی وھی منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ [کنز العمال، ج۶، ص ۱۶۴] اے امّ سلیم! علی کا گوشت میرے گوشت سے ہے اور اس کا خون میرے خون سے اور اس کی نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔ ۴۔ اصحاب کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا: ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک روز عمر بن خطاب نے مجھ سے کہا: علی کا نام برائی کے ساتھ نہ لینا کیونکہ مَیں نے ان کے بارے میں تین جملے ایسے سُنے ہیں کہ ان میں سے سورج چمکتا ہے، ایک مرتبہ مَیں ابوبکر، ابوعبیدہ اور اصحاب کی ایک جماعت ہم سب پیغمبر کے پاس تھے اور پیغمبر علیؑ پر تکیہ کئے ہوئے تھے، اس وقت رسول الله نے علیؑ کے شانہ پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: انت یا علی اوّل الوٴمنین ایماناً واوّلھم اسلاماً ثمّ قال اٴنت منّی بمزلة ھارون من موسیٰ [کنز العمال، ج۶، ص۳۹۵] یعنی اے علی تم وہ پہلے مومن ہو جو ایمان لائے اور پہلے مسلمان ہو جو اسلام لائے اور تمھاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔ ۵۔ نسائی کی روایت: نسائی اپنی کتاب "خصائص" میں نقل کرتے ہیں کہ علی، جعفر اور زید کے درمیان حضرت حمزہ کے بیٹے کی سرپرستی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ یہ خدمت وہی انجام دے اس موقع پر پیغمبر نے علیؑ سے فرمایا:انت بمنزلةھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی [خصائص نسائی، ص ۱۹] ۶۔ مسجد نبوی کے دروازوں کی بندش کے موقع: جس روز حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جن جن کے دروازے مسجد(یعنی مسجدِ رسول) کے اندر ہیں وہ سب بند کر دیئے جائیں صرف علیؑ کا دروازہ باقی رہے۔ جابر بن عبد الله انصاری کہتے ہیں کہ اس وقت رسول الله نے علیؑ سے فرمایا: انّہ یحل لک من المسجد ما یحل لی وانّک منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیّ بعدی [ینابیع المودہ، باب۱۷ کا آخری حصّہ، ص۸۸، طبع دوم دار الکتب العراقیہ] جو چیز میرے لئے مسجد میں حلال ہے (اے علی) وہ تمہارے بھی حلال ہے کیونکہ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے۔ مذکورہ بالا چھ مواقع جنگِ تبوک کے علاوہ ہیں اور ان سب کو ہم نے اہل سنّت کی مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ورنہ شیعہ کتب میں اس سے زیادہ مواقعہ کا تذکرہ ہے جہاں حضرت پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے بارہا یہی حدیث حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمائی ہے۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض علمائے اہل سنّت جیسے "آمدی" نے اس حدیث کے متعلق جو یہ کہا ہے کہ یہ حدیث ایک خاص حکم پر مشتمل ہے اور اس سے صرف جنگِ تبوک کے موقع پر حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی ثابت ہوتی ہے اور اس کا ربط دوسرے مقامات سے نہیں ہے، یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت رسول الله نے مختلف مناسبتوں سے مختلف مواقع پر اس جملہ کی تکرار کی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت علیؑ کے بارے میں حضرت رسول الله کا ایک عام حکم تھا۔
حدیث منزلت کے مفہوم کی وسعت
بغیر کسی تعصّب کے حدیث مذکورہ بالا کے معنی میں غور کریں اور ہر قسم کے تعصّب کی عینک اتار دیں تو ہمیں یہ حدیث بتلائے گی کہ نبوّت کو چھوڑکر جتنے مناصب حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کی نسبت سے حاصل تھے وہ سب حضرت علی علیہ السلام کو بھی رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے حاصل تھے کیونکہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور "الّا اٴنّہ لا نبیَّ بعدی"کے استثناء نے اس عموم کی مزید تاکید کر دی ہے، اس کے علاوہ حدیث میں اور کسی قسم کی قید اور شرط نہیں ہے جس کی وجہ سے تخصیص کا قائل ہُوا جائے، بنابریں اس حدیث سے امور ذیل کا استفادہ کیا جا سکتا ہے: ۱۔ حضرت علی علیہ السلام بعدِ پیغمبرﷺ امتِ محمدی میں سب سے افضل واعلیٰ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کے بعد امتِ موسوی میں سب سے افضل واعلیٰ تھے۔ ۲۔ حضرت علی علیہ السلام وزیرِ پیغمبر اور ان کے خاص معاون، ان کے مددگار اور رسول الله کی رہبری کے کام میں ان کے شریک تھے کیونکہ قرآن کی رُو سے یہ سب منصب حضرت ہارونؑ کے لئے ثابت ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کی زبانی ارشاد ہوتا ہے: قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی اَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی یَفْقَھُوا قَوْلِی وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ اَھْلِی ھَارُونَ اَخِی اشْدُدْ بِہِ اَزْرِی وَاَشْرِکْہُ فِی اَمْرِی (سورہٴ طٰہٰ/۲۹تا۳۲) میرے خاندان سے میرا ایک وزیر قرار دے، میرے بھائی ہارون کو، میری قوت کو اس کے ذریعہ بڑھا دے اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔ ۳۔ حضرت علی علیہ السلام عمومی اسلامی اخوّت کے علاوہ پیغمبر کی خصوصی ومعنوی اخوت کے بھی حامل تھے۔ ۴۔ علی علیہ السلام خلیفہ اور جانشین پیغمبر تھے۔ ان کے ہوتے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ بنے، جس طرح حضرت ہارونؑ کے ہوتے کوئی دوسرا خلیفہ نہ تھا۔
حدیثِ منزلت کے متعلق کچھ سوال اور ان کے جواب
بعض متعصّبین نے حدیث مذکور پر کچھ ایسے واہی اعتراض کئے ہیں جو واقعاً اس لائق نہیں کہ انہیں کتابوں میں لکھا جائے۔ بس اس طرح کے اعتراض سُن کر صرف یہ افسوس کرنا چاہیے کہ بعض لوگ کتنی جلدی یکطرفہ رائے قائم کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ روشن حقائق کو نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن وہ اعتراضات جو تحریر کئے جانے اور گفتگو کئے جانے کے لائق ہیں ان میں سے بعض کو ہم اس جگہ حوالہٴ قلم کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض:یہ حدیث صرف ایک محدود اور خاص حکم بیان کرتی ہے کیونکہ یہ غزوہٴ تبوک کے موقع پر وارد ہوئی ہے۔ وہ بھی اس وقت جبکہ حضرت علی علیہ السلام عورتوں اور بچوں کے درمیان مدینہ میں باقی رہنے پر رنجیدہٴ خاطر تھے۔ اس موقع پر حضرت رسول الله نے حضرت علیؑ کا دل رکھنے کے لئے یہ جملہ فرمایا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ تمہاری حکومت وسرداری صرف ان عورتوں اور بچوں تک محدود ہے!! اس اشکال کا جواب گذشتہ بحثوں سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اس معترض کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ یہ حدیث صرف جنگِ تبوک کے موقع پر صادر ہوئی ہے۔ بلکہ یہ ثابت ہے کہ رسول الله نے حضرت علیؑ کے متعلق یہ جملہ متعدد مواقع پر بطور ایک قانون کلی کے ارشاد فرمایا تھا جن میں سے سات مواقع کو کتب علمائے اہل سنت سے ہم اپنی گذشتہ بحث میں نقل کر آئے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت علیؑ کا مدینہ میں رہنا صرف بچوں اور عورتوں کی حفاظت کے لئے نہ تھا، کیونکہ اگر یہی مقصد ہوتا اسے تو دوسرے بہت سے افراد پورا کر سکتے تھے۔ اس لئے حضرت علیؑ جیسے شجاع اور بہادر کی کیا ضرورت تھی؛ وہ بھی ایسے موقع پر جبکہ رسول الله کو ایک زبردست معرکہ درپیش تھا (شاہِ روم شرقی سے جنگ کا معرکہ) ظاہر ہے کہ علیؑ کو اپنی جگہ پر مقرر کرنے سے غرض یہ تھی کہ وہ دشمن جو مدینہ کے اطراف میں تھے اور وہ منافقین جو خود مدینہ کے اندر موجود تھے آنحضرت کو طولانی غَیبت سے فائدہ اٹھا کر مدینہ پر قابض نہ ہو جائیں جو شخص اس اہم مرکز کی حفاظت کر سکتا تھا وہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی ذات والا صفات تھی۔ دوسرا اعتراض: یہ بات سب کو معلوم ہے اور تاریخ کی مشہور کتابوں میں بھی لکھی ہے کہ حضرت ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں وفات پاگئے تھے۔ لہٰذا علیؑ کی ہارون سے تشبیہ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ علیؑ پیغمبر کے بعد ان کے جانشین اور خلیفہ تھے۔ شاید یہ اعتراض ان تمام اعتراضات سے زیادہ اہم ہے جو اس حدیث پر کئے جاتے ہیں لیکن اس حدیث کا آخری ٹکڑا "الّا اٴنہ لا نبی بعدی" (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا) اس اعتراض کا روشن جواب ہے۔ کیونکہ پیغمبر کے اس فرمان "انت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ" کا تعلق اگر صرف آنحضرت کی حیات سے ہوتا اور آپ کے بعد اس کی کوئی نظر نہ ہوتو "الّا اٴنہ لا نبی بعدی" کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ اگر بات صرف رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی حیات کی ہو تو آپ کے بعد کی کوئی بات کہنا بالکل نامناسب ہے (اصطلاحاً اسے یوں کہنا چاہیے کہ اس طرح کا استثناء منقطع ہو جائے گا جو خلاف ظاہر ہے۔) بنابریں، اس طرح کے استثناء کا اس حدیث میں ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ پیغمبر کے فرمان کا تعلق آپ کی وفات کے بعد کے زمانہ سے بھی ہے،الّا یہ کہ کسی کو شبہ نہ ہو اور کچھ لوگ علیؑ کو بعد از نبی، نبی نہ ماننے لگیں۔ اس لئے حضرت نے فرما دیا کہ تم ان تمام مرتبوں کے مالک ہو سوائے اس کے کہ تم میرے بعد نبی نہ ہو گے۔ بنابریں، کلامِ پیغمبر یہ مفہوم ہو گا کہ یا علی! تم ہارون کے تمام مدارج ومناصب کے مالک ہو، نہ صرف میری زندگی میں بلکہ میری وفات کے بعد بھی تمہارے یہ درجے اور منصب باقی رہیں گے (سوائے مقامِ نبوت)۔ اس طرح یہ واضح ہو گیا کہ حضرت علیؑ کی حضرت ہارونؑ سے تشبیہ بہ لحاظ مقامات ہے، نہ بہ لحاظ مدتِ مقامات۔ اس کی دلیل یہ ہے حضرت ہارونؑ بھی اگر بعد حضرت موسیٰ زندہ رہ جاتے تو مسلمہ طور سے حضرت موسیٰؑ کے جانشین بھی ہوتے اور نبوت پر باقی رہتے۔ لہٰذا اگر قرآن کے ان نصوص کو دیکھا جائے جن میں حضرت ہارونؑ کے لئے حضرت موسیٰؑ کی وزارت ومعاونت کے درجہ کو ثابت کیا ہے، ان کو حضرت موسیٰؑ کے کار رہبری میں شریک بھی قرار دیا ہے، اس کے علاوہ وہ ایک پیغمبر بھی تھے تو معلوم ہو گا کہ یہ تمام مناصب سوائے پیغمبری کے حضرت علی علیہ السلام کے لئے ثابت ہیں؛ حتّیٰ کہ وفات پیغمبر کے بعد بھی جس کی تائید "الّا اٴنہ لا نبی بعدی" کے جملے سے ہوتی ہے۔ تیسرا اعتراض: ایک اور اشکال اس حدیث پر وارد کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ استدلال کا لازمہ یہ ہے کہ حضرت علیؑ کے لئے منصبِ ولایت ورہبری امت رسول الله کی حیات کے زمانہ میں بھی مانا جائے جبکہ دو امام اور دو رہبر ایک زمانے میں ممکن نہیں ہیں! لیکن اگر ایک نکتہ پر توجہ کی جائے تو اس اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ہارونؑ بھی حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں بنی اسرائیل کی رہبری کے منصب کے مالک تھے، لیکن ایک مستقل اور علیحدہ رہبر نہ تھے، بلکہ آپ ایک ایسے رہبر تھے جو حضرت موسیٰؑ کے زیر نظر اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت علیؑ بھی پیغمبر کی زندگی میں امتِ مسلمہ کی رہبری میں ان کے معاون تھے۔ لہٰذا آپ کی حیثیت ایک مستقل رہبر کی ہو جائے گی۔ بہرحال "حدیثِ منزلت" جو از روئے سند، اسلام کی مضبوط ترین روایات میں سے ایک ہے اور اہلسنت کے تمام گروہوں کی کتابوں میں بلااستثناء اس کا ذکر ہے، دلالت کے لحاظ سے بھی اہل انصاف کی نظر میں حضرت علی علیہ السلام کی تمام امت پر فضیلت، اسی طرح آپ کی خلافت بلافصل ثابت کرنے کے لئے کافی ووافی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نہ صرف حدیث کی دلالت کو خلافت پر قبول نہیں کیا ہے، بلکہ یہ کہا ہے کہ اس حدیث سے حضرت علی کی کمترین فضیلت بھی ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ بات واقعاً حیرت ناک ہے۔
دیدارِ پروردگار کی خواہش
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں نیز اس کے بعد آیات میں بنی اسرائیل کی زندگی کے بعض دیگر مناظر پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے حضرت موسیٰؑ سے بڑے اصرار کے ساتھ یہ خواہش کی کہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔ اگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے ان کے ستّر آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں اپنے ہمراہ پروردگار کی میعادگاہ کی طرف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر ان لوگوں کی درخواست کو خدا کی بارگاہ میں پیش کیا۔ خدا کی طرف سے اس کا ایسا جواب ملا جس سے بنی اسرائیل کے لئے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو گئی۔ اس واقعہ کا کچھ حصّہ سورہٴ بقرہ کی آیات ۵۵ اور ۵۶ میں اور کچھ حصّہ سورہٴ نساء کی آیت ۱۵۳ میں اور کچھ حصّہ زیرِ بحث آیات میں اور باقی حصّہ اسی سورہ کی آیت ۱۵۵ میں بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ بحث آیات میں پہلے ارشاد ہوتا ہے: جس وقت موسیٰ ہماری میعادگاہ میں آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے باتیں کیں تو انہوں نے کہا: اے پروردگار خود کو مجھے دکھلا دے تاکہ مَیں تجھے دیکھ لوں (وَلَمَّا جَاءَ مُوسیٰ لِمِیقَاتِنَا وَکَلَّمَہُ رَبُّہُ قَالَ رَبِّ اَرِنِی اَنظُرْ إِلَیْکَ) لیکن موسیٰ نے فوراً خدا کی طرف سے یہ جواب سنا: تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکوگے (قَالَ لَنْ تَرَانِی) "لیکن پہاڑ کی جانب نظر کرو اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تب مجھ دیکھ سکو گے" (وَلَکِنْ انظُرْ إِلَی الْجَبَلِ فَإِنْ اسْتَقَرَّ مَکَانَہُ فَسَوْفَ تَرَانِی) "جس وقت خدا نے پہاڑ پر جلوہ کیا تو اسے فنا کر دیا اور اسے زمین کے برابر کر دیا" (فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا) [تشریحی نوٹ: "دک" کے معنی در اصل، صاف اور ہموار زمین کے ہیں۔ بنابریں، اس جملے "جَعَلَہُ دَکًّا") سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ کو اس تجلی نے اس طرح صاف ونرم کر دیا کہ ریزہ ریزہ ہو کر صاف وہموار زمین کی طرح ہو گیا۔ حتّیٰ کہ بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ وہ پہاڑ کئی حصوں میں تقسیم ہو کر مختلف جہات میں اڑ گیا یا یہ کہ پورے کا پورا زمین کے اندر سما گیا۔] موسیٰؑ نے جب یہ ہولناک منظر دیکھا تو ایسا اضطراب لاحق ہوا کہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے (وَخَرَّ مُوسیٰ صَعِقًا) "اور جب ہوش میں آئے تو خدا کی بارگاہ میں عرض کی پروردگارا! تو منزّہ ہے، مَیں تیری طرف پلٹتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور مَیں پہلا ہوں مومنین میں سے"(فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ)
چند قابلِ غور نکات
۱۔ حضرت موسیٰؑ نے روٴیت کی خواہش کیوں کی؟ یہاں پر سوال جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ جیسے اولوالعزم نبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ذاتِ خداوندی قابلِ دید نہیں ہے کیونکہ نہ تو وہ جسم ہے، نہ اس کے لئے کوئی مکان وجہت ہے؛ اس کے باوجود انہوں نے ایسی خواہش کیسے کر دی جو فی الحقیقت ایک عام انسان کی شان کے لئے بھی مناسب نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں اگرچہ مفسّرین نے مختلف جواب دیے ہیں لیکن سب سے واضح جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے یہ خواہش دراصل، اپنی قوم کی طرف سے کی تھی کیونکہ بنی اسرائیل کے جہلاء میں سے ایک گروہ کا یہ اصرار تھا کہ وہ خدا کو کھلم کھلا دیکھیں گے تب جا کے ایمان لائیں گے۔(سورہٴ نساء کی آیت ۱۵۳ اس مطلب کی گواہ ہے) حضرت موسیٰؑ کو الله کی جانب سے یہ حکم ملا کہ وہ اس درخواست کو خدا کی بارگاہ میں پیش کریں تاکہ سب اس کا جواب سن لیں۔کتاب عیون اخبار الرضاؑ میں امام رضا علیہ السلام سے جو حدیث مروی ہے وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے۔ [بحوالہ: تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۶۵] اس تفسیر کے روشن قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ اسی سورہ کی آیت ۱۵۵ میں وارد ہوا ہے کہ اس ماجرا کے بعد حضرت موسیٰؑ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کی: اَتھلکنا بما فعل السفھاء منّا "کیا تُو اس عمل کی وجہ سے جو ہمارے نادانوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟" اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ حضرت موسیٰؑ نے یہ خواہش نہیں کی تھی، بلکہ جو ستّر آدمی ان کے ساتھ میعادگاہ میں گئے تھے ان کی بھی یہ خواہش نہ تھی، وہ حضرت موسیٰؑ کے منتخب شدہ علماء بنی اسرائیل تھے، ان کے لانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس جاکر اپنے مشاہدات ان سے بیان کریں۔ ۲۔ کیا خدا کا دیکھا جانا ممکن ہے؟: آیہٴ مذکور بالا میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا نے حضرت موسیٰؑ سے فرمایا: "پہاڑ کی طرف دیکھو! اگر وہ اپنی جگہ پر باقی رہا تو مجھے دیکھ سکو گے۔" آیااس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا کو دیکھا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس تعبیر کا مقصد یہ ہے کہ یہ بات ناممکن ہے، جیسے ایک دوسری جگہ قرآن میں آیا ہے: حتّیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط کافر جنّت میں نہیں جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ سے گزر جائے۔ چونکہ خدا کے جلوہ کے مقابلہ میں پہاڑ کا اپنی جگہ پر باقی رہنا محال تھا اس لئے یہ تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ ۳۔خدا کے جلوہ سے کیا مراد ہے؟: اس جگہ مفسّرین کے درمیان بہت بحث ہوتی ہے لیکن جو بات آیات کے موضوع سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خداوندکریم نے اپنی مخلوقات میں سے کسی ایک کا پَرتو پہاڑ پر ڈال دیا تھا (اور اس کے آثار کا آشکار ہونا خود اس کے آشکار ہونے کی طرح ہے) سوال یہ ہے کہ آیا یہ مخلوق خدا کی عظیم آیات میں سے کوئی ایسی آیت تھی جو ہمارے لئے ناشناختہ ہے؟ یا آٹامک انرجی کا کوئی عظیم نمونہ تھا یا مرموز لہروں میں سے کوئی زلزلہ افگن لہر تھی یا کوئی عظیم "صاعقہ" تھی جو اس پہاڑ پر گری اور اس سے دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور مہیب آواز نکلی اور عظیم طاقت پیدا ہوئی جس کی وجہ سے پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ [تشریحی نوٹ:"صاعقہ"اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ بادل کے ٹکڑوں اور کرہٴ زمین کے درمیان بجلی (EIECTRICITY)کا تبادلہ ہوتا ہے، وہ بادل جن کے اندر مثبت بجلی ہوتی ہے جب زمین جس میں بجلی مخفی ہے کے نزدیک پہنچتے ہیں تو ان کے درمیان یعنی سطح زمین کے نزدیک ایک شعلہ نکلتا ہے جو بہت خطرناک اور ہلاکت آفرین ہوتا ہے۔ لیکن"برق"اور "رعد" بادل کے دو ٹکڑوں کے درمیان الیکٹریسی کے تبادلے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ایک بادل میں مثبت اور دوسرے میں منفی الیکٹریسی ہوتی ہے اور چونکہ یہ ٹکراؤ آسمان پر ہوتا ہے اس لئے اس سے سوائے ہَوائی جہازوں کے اور کسی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔] گویا خداوندکریم اس عمل سے دو چیزیں حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو دکھانا چاہتا تھا: اول: یہ کہ بندہ جب خدا کی ایک مخلوق کو نہیں دیکھ سکتا تو وہ خالق کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔ دوم: یہ کہ یہ مخلوق جوکوئی بھی تھی الله کی ایک عظیم آیت تھی اور خود قابلِ رویت نہ تھی، بلکہ اس کے آثار دیکھے گئے تھے۔ جیسے زلزلہ عظیم، مہیب آواز، روشنی لیکن ان چیزوں کی اصل جو ان آثار کا مرکز تھا چاہے وہ مرموز امواج ہوں یا کوئی ایٹمی طاقت ہو؛ قالِ رویت نہ تھی؛ نہ اسے حواس سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود کیا کوئی طاقت کے وجود سے انکار کر سکتا ہے یا اس کے وجود میں شک کر سکتا ہے اور یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ یہ طاقت دکھائی نہیں دیتی صرف اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے؟ جب ایک مخلوق کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا تو خدائے بزرگ کے بارے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ وہ قابلِ مشاہدہ نہیں ہے اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے جبکہ اس کے آثار سے جہان بھرا ہُوا ہے۔ اس آیت کے بارے میں ایک احتمال اور بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰؑ نے واقعاً اپنے واسطے تمنّائے دید کی تھی لیکن ان کا مقصد ان آنکھوں سے دیکھنا نہ تھا جس کا لازمہ جسمیت ہے اور یہ حضرت موسیٰؑ کے مقام کے مناسب نہیں ہے۔ بلکہ ان کا مقصد خدا کا مشاہدہٴ باطنی تھا ایک روحانی اور کامل فکری دیدار تھا کیونکہ اس معنی میں کلمہٴ رویت بہت استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں: مَیں اپنے میں یہ قدرت دیکھتا ہوں کہ اس کام کو انجام دوں؛ حالانکہ "قدرت"قابلِ دید نہیں ہے؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ میں اس حالت کو اپنے میں پاتا ہوں۔ حضرت موسیٰؑ یہ چاہتے تھے کہ شہود ومعرفت کے اس مقام پر فائز ہوں جس کا دنیا میں حاصل کرنا محال ہے۔ یہ مرتبہ صرف آخرت کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ وہ عالمِ شہود وبروز ہے۔ لیکن خدا نے حضرت موسیٰؑ کے جواب میں فرمایا: اس طرح کی رویت تمہارے لئے دنیا میں ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے الله نے پہاڑ پر جلوہ دکھایا جس کی وجہ سے پہاڑ چکناچُور ہو گیا۔ آخر میں حضرت موسیٰؑ نے اپنی خواہش سے پشیمانی اور توبہ کا اظہار کیا۔ [خلاصہ از تفسیر میزان : ج۸، ص۲۴۹ تا ۲۵۴-] لیکن یہ تفسیر کئی جہت سے زیرِ بحث آیت کے ظاہر کے خلاف ہے اور اس کا لازمہ چند جہت سے مجاز کا استعمال ہے۔ [تشریحی نوٹ: کیونکہ مذکورہ تفسیر مخالف ہے کلمہٴ "روٴیت" اور جملہ "لن ترانی" اور جملہٴ "اتھلکنا بما فعل السفھاء منّا" کی۔ اس کے علاوہ یہ کہ شہود باطنی کی درخواست کوئی بری درخواست نہ تھی جس کی وجہ سے حضرت موسی کو توبہ کرنے کی حاجت ہو۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے بھی معاد کے متعلق خدا سے یہی درخواست کی تھی اورخدا نے اس کا مثبت جواب دیا تھا۔ اور اگر شہود باطنی کے متعلق خدا کا جواب منفی بھی ہو تب بھی اس پر موٴاخذہ (عقاب) کرنے کی دلیل نہیں ہو گا۔] علاوہ ازیں، یہ تفسیر ان کئی احادیث کے بھی خلاف ہے جو اس آیت کی شرح میں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہی پہلی تفسیر ہی درست ہے۔ ۴۔ حضرت موسیٰؑ نے کس چیز سے توبہ کی؟: اس بارے میں آخری سوال جو سامنے آتا ہے یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ ہوش میں آئے تو انہوں نے کیوں کہا:"سبحانک تبت الیک" حالانکہ انہوں نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی؟ کیونکہ اگر انہوں نے یہ درخواست اپنی امت کی طرف سے کی تھی تو اس میں ان کا کیا قصور تھا۔ الله کی اجازت سے انہوں نے یہ درخواست خدا کے سامنے پیش کی اور اگر اپنے لئے شہود باطنی کی تمنّا کی تھی تو یہ بھی خدا کے حکم کی مخالفت نہ تھی۔ لہٰذا توبہ کس بات کی تھی؟۔ دو طرح سے اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے: اول: یہ کہ حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کی نمائندگی کے طور پر خدا سے یہ سوال کیا تھا۔ اس کے بعد جب خدا کی طرف سے سخت جواب ملا جس میں اس سوال کی غلطی کو بتلایا گیا تھا تو حضرت موسیٰؑ نے توبہ بھی انہی کی طرف سے کی تھی۔ دوم: یہ کہ حضرت موسیٰؑ کو اگرچہ یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کی درخواست کو پیش کریں لیکن جس وقت پروردگارکی تجلی کا واقعہ رونما ہوا اور حقیقت آشکار ہو گئی تو حضرت موسیٰؑ کی یہ ماموریت ختم ہو چکی تھی۔ اب حضرت موسیٰؑ کو چاہیے کہ پہلی حالت (یعنی قبل از ماموریت) کی طرف پلٹ جائیں اور اپنے ایمان کا اظہار کریں تاکہ کسی کے لئے جائے شبہ باقی نہ رہے، لہٰذا اس حالت کا اظہار موسیٰؑ نے اپنی توبہ اور اس جملہ "انی تبت الیک وانا اول المومنین" سے کیا۔ ۵۔ خدائے متعال کسی صورت میں قابل روٴیت نہیں ہے: یہ آیت قرآن کی ان آیات میں سے ہے جو اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ خدا کی رویت ممکن نہیں ہے کیونکہ لفظ "لن" بربنائے مشہور دائمی نفی کے لئے آتا ہے۔ بنابریں، "لن ترانی" کا مفہوم یہ ہے کہ تم مجھ ہر گز نہیں دیکھ سکتے؛ نہ اس جہان میں نہ اُس جہان میں۔ اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ کوئی اس بات کو ماننے سے انکار کردئے کہ "لن" نفیٴ ابد کے لئے آتا ہے تب بھی آیت کا اطلاق نفیٴ رویت کے لئے ہے باقی رہتا ہے کیونکہ آیت میں رویت کی بغیر کسی قید وشرط کے نفی کی گئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ذاتِ خداوندی کسی زمانے میں اور کسی حال میں قابلِ رویت نہیں ہے۔ عقلی دلائل بھی ہماری رہنمائی اسی امر کی طرف کرتے ہیں کہ اس رویت محال ہے کیونکہ رویت اجسام کے ساتھ مخصوص ہے۔ لہٰذا اگر بعض آیات قرآنی یا روایاتِ اسلامی میں "لقائے پروردگار" کا ذکر ہوا ہے تو اس سے مراد وہی "چشم باطنی" اور "دیدہٴ خِرد" ہے کیونکہ قرینہٴ عقلی ونقلی اس مدعا کے بہترین شاہد ہیں (سورہٴ انعام کی آیت ۱۰۲ کے ذیل میں بھی ہم اس موضوع پر گفتگو کرآئے ہیں (تفسیر نمونہ،ج۵)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 145 کے تحت ملاحظہ کریں۔
الواح توریت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1آخرکار اس عظیم میعادگاہ میں الله نے حضرت موسیٰؑ پر اپنی شریعت کے قوانین نازل فرمائے، پہلے ان سے فرمایا: اے موسیٰ! میں نے تمہیں لوگوں پر منتخب کیا ہے اور تم کو رسالتیں دی ہیں اور تم کو اپنے ساتھ گفتگو کا شرف عطا کیا ہے (قَالَ یَامُوسیٰ إِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَاتِی وَبِکَلَامِی)۔ اب جبکہ ایسا ہے تو "جو میں نے تم کو حکم دیا ہے اسے لے لو اور ہمارے اس عطیہ پر شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ "(فَخُذْ مَا آتَیْتُکَ وَکُنْ مِنَ الشَّاکِرِینَ)۔ کیا اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا سے کلام کرنے کا جو شرف حاصل ہوا ہے صرف انہی کا طرّہٴ امتیاز تھا کسی دوسرے نبی کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا ؟ حق یہ ہے کہ یہ آیت مطلب کا اثبات نہیں کرتی بلکہ لفظ "رسالات" کا قرینہ اس بات کا مظہر ہے کہ یہ دونوں امتیاز عام انسانوں کے مقابلے میں تھے کیونکہ رسالت کا شرف صرف حضرت موسیٰ کے لئے مخصوص نہ تھا۔ اس کے بعد اضافہ کیا گیا ہے کہ: ہم نے جو الواح موسیٰ پر نازل کی تھیں ان پر ہر موضوع کے بارے میں کافی نصیحتیں تھیں اور ضرورت کے مسائل کی شرح اور بیان تھا (وَکَتَبْنَا لَہُ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِیلًا لِکُلِّ شَیْءٍ)۔ اس کے بعد ہم نے موسیؑ کو حکم دیا کہ "بڑی توجہ اور قوتِ ارادی کے ساتھ ان فرامین کو اختیار کرو" (فَخُذْھَا بِقُوَّةٍ)۔ "اور اپنی قوم کو بھی حکم دیا کہ ان میں سے جو بہترین ہیں انہیں کاختیار کریں " (وَاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوا بِاَحْسَنِھَا)۔ اور انہیں خبردار کردو کہ ان فرامین کی مخالفت اور ان کی اطاعت سے فرار کرنے کا نتیجہ دردناک ہے اور اس کا انجام دوزخ ہے اور "میں جلد ہی فاسقوں کی جگہ تمہیں دکھلا دوں گا" (سَاُرِیکُمْ دَارَ الْفَاسِقِینَ)۔
چند اہم نکات
۱۔ الواح [تختیاں] کس چیز کی بنی ہوئی تھیں: اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ خداوندکریم نے حضرت موسیٰؑ پر جو الواح نازل کی تھیں ان میں توریت کی شریعت اور قوانین لکھے ہوئے تھے، ایسا نہ تھا کہ یہ تختیاں حضرت موسیٰؑ کے ہاتھ میں تھیں اور اس میں فرامین منعکس ہو گئے تھے۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ تختیاں کیسی تھیں؟ کس چیز کی بنی ہوئی تھیں؟ قرآن نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے، صرف کلمہ "الواح " سربستہ طور پر آیا ہے جو دراصل "لاح -یلوح"کے مادہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی "ظاہر ہونے" اور "چمکنے" کے ہیں۔ چونکہ صفحہ کے ایک طرف لکھنے سے حروف نمایاں ہو جاتے ہیں اور مطالب آشکار ہو جاتے ہیں، اس لئے اس صفحہ کو جس پر لکھا جائے "لوح" کہتے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر تبیان، ج۴، ص۵۳۹ ] لیکن روایات واقوال مفسّرین میں ان الواح کی کیفیت کے بارے میں اور ان کی جنس کے بارے میں گوناگوں احتمالات ذکر کئے گئے ہیں۔ چونکہ ان میں سے کوئی بھی یقینی نہیں ہے اس لئے ان کے ذکر سے ہم اعراض کرتے ہیں۔ ۲۔ کلام کیسے ہوا؟: قرآن کریم کی مختلف آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ خداوندمتعال نے حضرت موسیٰؑ سے کلام کیا، خدا کا موسیٰؑ سے کلام کرنا اس طرح تھا کہ اس نے صوتی امواج کو فضا میں یا کسی جسم میں پیدا کر دیا تھا۔ کبھی یہ صوتی امواجِ "شجرہٴ وادیٴ ایمن" سے ظاہر ہوتی تھیں اور کبھی "کوہ طور" سے حضرت موسیٰؑ کے کان میں پہنچتی تھیں۔ جن لوگوں نے صرف الفاظ پر نظر کی ہے اور اس پر غور نہیں کیا کہ یہ الفاظ کہاں سے نکل سکتے ہیں انہوں نے یہ خیال کیا کہ خدا کا کلام کرنا اس کے تجسم کی دلیل ہے۔ حالانکہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ خدا کے کلام کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خود اس سے کلام صادر ہو، بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس نے کسی جسم میں کلام پیدا کیا۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت موسیٰؑ جب بھی یہ کلام سنتے تھے تو انہیں اس بات کا یقین ہو جاتا تھا کہ یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ انہیں یہ علم یا تو الہام کے ذریعے حاصل ہو گیا تھا یا بعض دیگر قرائن کے ذریعے۔ ۳۔ توریت پیامِ کامل نہ تھا: چونکہ توریت کے متعلق یہ تعبیر کی گئی ہے کہ "من کلّ شیء موعظۃ" اس لئے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے تمام مواعظ، نصیحتیں اور مسائل اس میں نہ تھے کیونکہ فرمایا گیا ہے: ہم نے ان کے لئے ہر چیز میں سے نصیحت لکھی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو حضرت موسیٰؑ کا آئین ایک آخری آئین تھا اور نہ آپ خود آخری نبی تھے۔ لہٰذا اس زمانے میں جتنی لوگوں کی استعداد تھی اسی کی مناسبت سے احکام خدا نازل ہوئے تھے۔ لیکن جب انسان تعلیماتِ انبیاء کی وجہ سے استعدادِ بشری کے آخری مرحلے پر پہنچ گئے تو اس وقت الله کا آخری فرمان جو نوع بشر کی تمام مادی ومعنوی ضروریات پر مشتمل ہے، نازل ہوا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ بعض روایات میں جو وارد ہوا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا مقام حضرت موسیٰؑ سے برترہے [بحوالہ:تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۶۸ ] تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پورے قرآن کے عالم تھے اور قرآن میں تمام چیزوں کا علم ہے (ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شیء) جبکہ توریت میں بعض مسائل کا ذکر ہے۔ ۴۔ "جو فرامین بہترین ہیں" سے کیا مراد ہے؟: یہ جو مذکورہ بالا آیت میں آیا ہے کہ "ان فرامین میں جو بہترین ہیں، اُن کو لے لو!" تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ان احکام میں خوب وبد موجود تھا اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جو احکام خوب ہیں انہیں لے لیں اور بَد کو چھوڑ دیں؟ یا یہ کہ ان احکام میں خوب وخوب تر موجود تھا اور ان سے کہا گیا کہ جو احکام خوب تر ہیں ان کو لے لو اور جو خوب ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ کلمہٴ "افعل التفضیل" بمعنی صفتِ مشبہ بھی آتا ہے۔ زیر بحث آیت بظاہر اسی قبیل سے ہے۔ یعنی "احسن" بمعنی "حَسن" آیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب فرامین "حسن" اور نیک ہیں۔ یہ احتمال بھی اس آیت میں ہے کہ"احسن" کے معنی وہی بہتر کے ہوں اور "افعل التفضیل" کے معنیٰ میں ہو جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس (توریت) میں کچھ امور ایسے ہیں جن کی صرف اجازت ہے (جیسے قصاص وغیرہ) اور کچھ امور وہ ہیں جن کو بہتر کہا گیا ہے (جیسے عفو اور بخش دینا) یعنی اپنی امت سے کہہ دو کہ جتنا بھی ہو سکے جو امور بہتر ہیں ان کا انتخاب کریں (یعنی عفو کو قصاص پر ترجیح دیں۔ [تشریحی نوٹ: یہ احتمال بھی موجود ہے کہ "اَحسنھا" کی ضمیر "قوة" کی طرف پلٹتی ہو۔ اس سے مراد یہ ہو کہ وہ بہترین قوة کے ساتھ احکام پر عمل کریں۔] ۵۔ "ساُوریکم دار الفاسفقین" (جلد ہی مَیں تمہیں فاسقوں کا ٹھکانا دکھلا دوں گا) بظاہر اس سے دوزخ مراد ہے جو ان لوگوں کا ٹھکانا ہے جو خدا اور اس کے فرامین کی اطاعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ یہ احتمال بھی بعض مفسّرین نے ذکر کیا ہے کہ اگر ان فرامین سے اختلاف کرو گے تو تمھارا بھی وہی انجام ہو گا جو قوم فرعون اور دیگر گناہگاروں کا ہوا تھا اور تمہاری سرزمین فاسقوں کے ٹھکانے میں تبدیل ہو جائے گی۔[بحوالہ: تفسیر المنار، ج۹، ص۱۹۳]
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 147 کے تحت ملاحظہ کریں۔
متکبروں کا انجام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دو آیتوں میں جو بحث کی گئی ہے اس میں درحقیقت ان گذشتہ آیتوں کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے جن میں فرعون، فرعونیوں اور بنی اسرائیل کے سرکش افراد کا انجام مذکور ہوا ہے۔ خداوندکریم نے ان آیتوں میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ اگر فرعون یا بنی اسرائیل کے سرکش افراد اتنے معجزات دیکھنے کے بعد اور اس قدر آیاتِ الٰہی سننے کے بعد راہِ راست پر نہ آئے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ ہمارا یہ قانون ہے کہ جو لوگ حق کے مقابلے کے لئے صف آرا ہوتے ہیں، ہم انہیں ان کے اعمال کے جرم میں، حق کے قبول کرنے سے روک دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ سرکشی اور تکذیبِ آیات الٰہی میں اصرار انسان کی روح میں اس قدر اثرانداز ہوتا ہے کہ حق کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ایک ایسے سخت موجود کی ہو جاتی ہے جس پر کوئی شے اثرانداز نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم عنقریب ان لوگوں کو جو زمین میں ناحق تکبّر کرتے ہیں اپنی آیتوں سے پلٹا دیں گے (سَاَصْرِفُ عَنْ آیَاتِی الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا آیت دلائل عقلی کے خلاف نہیں ہے کہ اس کی توجیہہ کے لئے ہمیں دیگر مفسرین کی طرح ظاہر کی مخالفت کے ارتکاب کی ضرورت پڑے۔ یہ ایک الٰہی قانون ہے کہ جو اس کے مقابلہ میں ضد سے کام لیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کی آخری حدوں تک پہنچ جاتے ہیں، خدا ان سے ہر طرح کی توفیق سلب کر لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خود ان کی بداعمالیوں کی خاصیت ہے لیکن چونکہ خدا کی ذات علة العلل اور مسبب الاسباب ہے اس لئے ان کی نسبت الله نے اپنی طرف دی ہے۔ یہ موضوع نہ تو مستلزم جبر ہے اور نہ دوسرا کوئی محذور لازم آتا ہے کہ کسی توجیہہ کی ضرورت ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ لفظ "تکبر" کے بعد "بغیر الحق" کی قید تاکید کے لئے ہے۔ کیونکہ تکبر، خود بینی اور دیگر بندگانِ خدا کی تحقیر ہمیشہ ناحق ہی ہوتی ہے۔ یہ تعبیر بالکل ایسی ہی ہے کہ جیسے سورہٴ بقرہ کی آیت ۶۱ میں آیا ہے : وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ خاص کر یہ کلمہٴ "فی الارض" کے ہمراہ ہے جس کے معنی زمین پر سرکشی اور طغیان برپا کرنے کے ہیں اور یقیناً یہ عمل ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس طرح کے "متکبر وسرکش" افراد کی تین صفتوں کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ کس طرح ان سے حق کو قبول کرنے کی توفیق سلب ہو جاتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ اگر تمام آیاتِ الٰہی کو بھی دیکھیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے (وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لَایُؤْمِنُوا بِھَا)۔ "اور اگر راہِ راست کو دیکھیں گے تب بھی اسے اختیار نہ کریں گے":(وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الرُّشْدِ لَایَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا) اس کے برعکس، "اگر غلط اور ٹیڑھے راستے کو دیکھیں گے تو اس کو اختیار کریں گے" (وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الغَیِّ یَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا )۔ ان صفات کا ذکر کرنے کے بعد جو ان کی حق کو قبول کرنے کی حکایت ہیں اس کی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: یہ سب اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور غفلت برتی: (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَکَانُوا عَنْھَا غَافِلِینَ)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف ایک مرتبہ یا چند مرتبہ آیاتِ الٰہی کی تکذیب انسان میں قبول حق کی توفیق سلب کرنے کا استحقاق نہیں پیدا کرتی، بلکہ اس کے لئے راہ توبہ اب بھی کھلی ہوئی ہے۔ لیکن اگر اس حالت میں اصرار واستمرار رہے تو آخر میں یہ نوبت آ جاتی ہے کہ اس میں نیک وبد ("رشد" و"غی") کی تشخیص کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ بعد کی آیت میں ایسے لوگوں کی سزا کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کریں گے اور روز آخرت کی ملاقات کے منکر ہوں گے ان کے تمام اعمال حبط اور نابود ہو جائیں گے (وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ)۔ "حبط" کے معنی عمل کو باطل اور بے اثر کر دینے کے ہیں۔ یعنی اس طرح کے افراد اگر کوئی کارِ خیر بھی کریں گے تو اس سے ان کے لئے کوئی نتیجہ نہ نکلے گا (اس کی مزید توضیح کے لئے سورہٴ بقرہ آیت۲۱۷ کی تفسیر ملاحظہ ہو جو ہم اسی کتاب کی جلد دوم لکھ آئے ہیں)۔ آیت کے اخر میں اس طرح اضافہ فرمایا گیا ہے: ان کا جو یہ انجام ہوا ہے اس میں کسی جذبہٴ انتقام کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ خود ان کے اعمال کا نتیجہ ہے جو ان کے سامنے آیا ہے۔ "آیا انہیں سوائے اپنے اعمال کے کسی اور چیز کی سزا دی جائے گی؟": (ھَلْ یُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ یہ آیت ان آیتوں میں سے ایک ہے جو اس بات کی دلیل ہیں کہ بروز قیامت انسان کو اس کے اعمال کی سزا ملے گی (برخلاف مذہب جبر کے جو یہ کہتا ہے کہ جزاء وسزا میں اعمال کو دخل نہیں ہے)
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 149 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں کی گوسالہ پرستی کا آغاز
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں افسوسناک اور تعجب خیز واقعات میں سے ایک واقعہ کا ذکر ہوا ہے جو حضرت موسیٰؑ کے میقات کی طرف جانے کے بعد بنی اسرائیل میں رونما ہوا۔وہ واقعہ ان لوگوں کی گوسالہ پرستی ہے جو ایک شخص بنام "سامری"نے زیور وآلاتِ بنی اسرائیل کے ذریعے شروع کیا۔ اس داستان کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن نے اس کا چار سورتوں میں ذکر کیا ہے۔ سورہٴ بقرہ آیت۵۱،۵۴،۹۲؛ سورہٴ نساء آیت۱۵۳؛ سورہٴ اعراف زیرِ بحث آیات اور سورہٴ طٰہٰ آیت۸۸ اور اس کے بعد کی آیات۔ اتنا ضرور ہے کہ یہ حادثہ دیگر اجتماعی حوادث کی مانند کسی آمادگی اور مقدمہ کے بغیر وقوعِ پذیر نہیں ہوا، بلکہ اس میں متعدد اسباب کارفرما تھے جن میں سے بعض یہ ہیں: بنی اسرائیل عرصہٴ دراز سے اہلِ مصر کی بت پرستی دیکھتے چلے آرہے تھے۔ جب دریائے نیل کو عبور کیا تو انہوں نے ایک قوم کو دیکھا جو بت پرستی کرتی تھی؛ جیسا کہ قرآن نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور گذشتہ آیات میں اس کا ذکر گزرا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے ان کی طرح بت بنانے کی فرمائش کی جس پر حضرت موسیٰؑ انہیں سخت سرزنش کی۔ حضرت موسیٰؑ کے میقات کا پہلے تیس راتوں کا ہونا اس کے بعد چالیس راتوں کا ہوجانا اس سے بعض منافقین کو یہ موقع ملا کہ حضرت موسیٰؑ کی وفات کی افواہ پھیلا دیں۔ قومِ موسیٰؑ میں بہت سے افراد کا جہل ونادانی سے متصف ہونا، اس کے مقابلے میں سامری کی مکاری ومہارت کیونکہ اس نے بڑی ہوشیاری سے بت پرستی کے پروگرام کو عملی جامہ پہنایا۔ بہرحال، ان تمام باتوں نے اکٹھا ہو کر اس بات کے اسباب پیدا کیے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت بت پرستی کو قبول کرلے اور "بچھڑا" کے چاروں طرف اس کے ماننے والے ہنگامہ برپا کر دیں۔ آیت مذکورہ بالا میں پہلے قرآن اس طرح فرماتا ہے: قومِ موسیٰ نے موسیٰ کے میقات کی طرف جانے کے بعد اپنے زیورات وآلات سے ایک بچھڑا بنایا جو ایک بے جان جسد تھا جس میں سے گائے کی آواز آتی تھی۔ اسے انہوں نے اپنے واسطے انتخاب کیا (وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسیٰ مِنْ بَعْدِہِ مِنْ حُلِیِّھِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَہُ خُوَارٌ)۔ اگرچہ یہ عمل سامری سے سرزد ہوا تھا (جیسا کہ سورہٴ طٰہٰ کی آیات میں آیا ہے) لیکن اس کی نسبت قومِ موسیٰؑ کی طرف دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس کام میں سامری کی مدد کی تھی اور وہ اس کے شریکِ جرم تھے۔ اس کے علاوہ، ان لوگوں کی بڑی تعداد اس کے فعل پر راضی تھی۔ ظاہرِ آیت یہ ہے کہ تمام قومِ موسیٰ اس گوسالہ پرستی میں شریک تھی لیکن اگر اسی سورہ کی آیت ۱۵۹ پر نظر ڈالی جائے جس میں آیا ہے کہ: وَمِنْ قَوْمِ مُوسیٰ اُمَّةٌ یَھْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ قومِ موسیٰ میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو لوگوں کو حق کی ہدایت کرتا تھا اور اسی کی طرف متوجہ رہتا تھا۔ اس سے معلوم ہو گا کہ زیرِ بحث آیت سے مراد تمام امت موسیٰ نہیں ہے بلکہ اس کی اکثریت اتنی زیادہ تھی حضرت ہارون علیہ السلام مع اپنے ساتھیوں کے ان کے مقابلے میں ضعیف وناتواں ہو گئے تھے۔
طلائی گوسالہ سے کس طرح آواز پیدا ہوئی؟
کلمہٴ "خوار" کے معنی اس مخصوص آواز کے ہیں جو گائے یا گوسالہ سے نکلتی ہے۔ بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ سامری جو کہ ایک صاحبِ فن انسان تھا، اس نے اپنی معلومات سے کام لے کر طلائی گوسالہ کے سینے میں کچھ مخصوص نَل (PIPE)اس طرح مخفی کر دیے تھے جن کے اندر سے جب ہَوا نکلتی تھی تو دباؤ کی وجہ سے گائے کی آواز آتی تھی۔ کچھ کا خیال ہے کہ گوسالہ کا منہ اس طرح کا پیچیدہ بنایاگیا تھا کہ جب اسے ہَوا کے رُخ پر رکھا جاتا تھا تو اس کے منہ سے یہ آواز نکلتی تھی۔ ایک دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ سامری کو چونکہ اس بات کا احساس تھا کہ قومِ موسیٰؑ عرصہٴ دراز سے محرومی اور مظلومی کی زندگی بسر کر رہی تھی اس وجہ سے مادہ پرستی اور حُبِّ زر کا جذبہ بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ جیسا کہ آج بھی ان کی یہی صفت ہے۔ لہٰذا اس نے یہ چالاکی کی کہ وہ مجسمہ سونے کا بنایا کہ اس طرح ان کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ اس طرف مبذول کرا سکے۔ اب رہا یہ سوال کہ اس محروم وفقیر کے پاس اس روز اتنی مقدار میں زرو زیور کہاں سے آگیاکہ اس سے یہ مجسمہ تیار ہو گیا؟ اس کا جواب روایات میں اس طرح ملتا ہے کہ بنی اسرائیل کی عورتوں نے ایک تہوار کے موقع پر فرعونیوں سے زیوارت مستعار لئے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جس کے بعد ان کی غرقابی عمل میں آئی تھی۔ اس کے بعد وہ زیورات ان عورتوں کے پاس باقی رہ گئے تھے۔ [بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، اسی آیت کےذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔] اس کے بعد قرآن سرزنش کے طور پر ان سے کہتا ہے: کیا وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ وہ گوسالہ ان سے باتیں نہیں کر سکتا تھا نہ ان کی رہنمائی کر سکتا تھا :(اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہُ لَایُکَلِّمُھُمْ وَلَایَھْدِیھِمْ سَبِیلًا)۔ مطلب یہ ہے کہ ایک حقیقی خداکو کم از کم ایسا ہونا چاہیے کہ اسے نیک وبد کی تمیز ہو اور وہ اپنے ماننے والوں کی ہدایت کر سکے۔ اپنی عبادت کرنے والوں سے بات کر سکے اور عبادت کے طریقے انہیں سکھا سکے۔ اصولی طور پر عقل انسانی کس طرح انسان کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ایسے بے جان معبود کی پرستش کرے جو خود اس کا ساختہ پرداختہ ہے۔ حتّٰی کہ اگر بالفرض وہ سونا ایک زندہ بچھڑے کی شکل میں بھی تبدیل ہو جائے تب بھی وہ کسی طرح قابلِ پرستش نہیں ہو گا، گوسالہ جو بالکل نہیں سمجھتا بلکہ نافہمی میں ضرب المثل ہے۔ اس طرح ان لوگوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے: انہوں نے بچھڑے کو اپنے معبود کے طور پر انتخاب کر لیا اور وہ ظالم وستمگر تھے: (اتَّخَذُوہُ وَکَانُوا ظَالِمِینَ)۔ لیکن جب حضرت موسیٰؑ واپس آئے اور مسائل واضح ہو گئے تو بنی اسرائیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوئے۔ انہوں نے خدا سے اپنے بُرے عمل کی معافی چاہی۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اگر پروردگار ہم پر رحم نہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم یقینی طور پر گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے (وَلَمَّا سُقِطَ فِی اَیْدِیھِمْ وَرَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِنْ لَمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْ لَنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ)۔ یہ جملہ "وَلَمَّا سُقِطَ فِی اَیْدِیھِمْ" (یعنی جب حقیقت ان کے ہاتھ لگی یا جب ان کے اعمالِ شوم کا نتیجہ ان کے ہاتھ لگا یا جب چارہٴ کار ان کے ہاتھ سے نکل گیا) عربی ادب میں ندامت وپشیمانی سے کنایہ ہے۔ کیونکہ واقعات انسان کے ہاتھ لگتے میں اور وہ حقائق سے آگاہ ہو جاتا ہے یا یہ کہ کسی کام کے ناپسندیدہ نتائج سے دوچار ہوتا ہے یا اس کے اوپر راہِ چارہ مسدود ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت پشیمان ہوتا ہے۔ بنابریں، پشیمانی اس جملے کے لوازم میں سے ہے۔ بہرحال، بنی اسرائیل اپنے کئے پر نادم ہوئے۔ لیکن اتنی بات پر مطلب کا خاتمہ نہیں ہُوا۔ جیسا کہ بعد کی آیات میں آنے والا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 151 کے تحت ملاحظہ کریں۔
گوسالہ پرستوں کے خلاف شدید ردّعمل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دو آیتوں میں اس کشاکش اور نزاع کا ماجرا بیان کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰؑ اور گوسالہ پرستوں کے درمیان اس وقت واقع ہوئی جب وہ میعادگاہ سے واپس ہوئے جس کی طرف گذشتہ آیت میں صرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ان آیتوں میں تفصیل کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کے اس ردّعمل کو بیان کیا گیا ہے جو اس گروہ کے بیدار کرنے کے لئے ان سے ظاہر ہوا۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جس وقت موسیٰ غضبناک ورنجیدہ اپنی قوم کی طرف پلٹے اور گوسالہ پرستی کا نفرت انگیز منظر دیکھا تو ان سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد بُرے جانشین نکلے؛ تم نے میرا آئین ضائع کر دیا (وَلَمَّا رَجَعَ مُوسیٰ إِلیٰ قَوْمِہِ غَضْبَانَ اَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِی مِنْ بَعْدِی)۔ [ تشریحی نوٹ: "اسف" کے معنی جیسا کہ راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے اس "اندوہ" کے ہیں جس میں "غیظ وغضب" کی آمیزش ہو۔ نیز یہ کلمہ ان دونوں معنی میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے بہت ناراض ہو جائے۔ یہ بات طبیعی ہے اگر یہ ناراضگی ان افراد سے ہے جو ماتحت ہیں تو غصّہ کی شکل میں ظاہر ہو گی اور اگر ان افراد سے ہو جو اس سے اوپر ہیں جن پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا تو رنج واندوہ کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ چنانچہ ابنِ عباس سے روایت ہے کہ غیظ وغضب اور رنج واندوہ ان سب کی اصل ایک ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہیں۔] اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ میعادگاہِ پروردگار سے پلٹے وقت قبل اس کے کہ بنی اسرائیل سے ملتے، غضبناک اور اندوہ گین تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا نے میعادگاہ میں انہیں اس کی خبر دے دی تھی؛ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْ بَعْدِکَ وَاَضَلَّھُمْ السَّامِرِیُّ(سورہٴ طٰہٰ، آیت۸۵) فرمایا کہ ہَم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کی آزمائش کی [لیکن وہ اس آزمائش میں پوری نہ اتری] اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰؑ نے انہیں کہا: آیا تم نے اپنے پروردگار کے فرمان کے بارے میں جلدی کی (اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ)۔ اگرچہ مفسرین نے اس جملے میں بہت بحث کی ہے اور گوناگوں احتمالات ذکر کیے ہیں لیکن ان آیات کا ظاہر یہ ہے کہ تم نے خدا کے اس فرمان، کہ اس نے میعاد کا وقت تیس شب سے چالیس شب کر دیا، کے بارے میں جلدی کی اور جلد فیصلہ کر دیا۔ میرے نہ آنے کو میرے مرنے یا وعدہ خلافی کی دلیل سمجھ لیا؛ حالانکہ لازم تھا کہ تھوڑا صبر سے کام لیتے اور چند روز انتظار کر لیتے تاکہ حقیقت واضح ہو جاتی۔ اس وقت حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کی زندگی کے ان طوفانی وبحرانی لمحات سے گزر رہے تھے، سر سے پیر تک غصّہ اورا فسوس کی شدّت سے بھڑک رہے تھے، ایک عظیم اندوہ نے ان کے وجود پر سایہ ڈال دیا تھا اور انہیں بنی اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں میں بڑی تشویق لاحق تھی، کیونکہ تخریب اور تباہ کاری آسانی سے ہو جاتی ہے، کبھی صرف ایک انسان کے ذریعے بہت بڑی خرابی اور تباہی واقع ہو جاتی ہے لیکن اصلاح اور تعمیر میں دیر لگتی ہے۔ خاص طور پر جب کسی نادان، متعصب اور ہٹ دھرم قوم کے درمیان کوئی غلط ساز بجا دیا جائے تو اس کے بعد اس کے بُرے اثرات کا زائل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ قرآن نے حضرت موسیٰؑ کا وہ شدید ردِّ عمل بیان کیا ہے جو اس طوفانی وبحرانی منظر کو دیکھنے کے بعد ان سے ظاہر ہُوا: "موسیٰ نے بے اختیار اپنے ہاتھ سے توریت کی الواح کو زمین پر ڈال دیا اور اپنے بھائی ہارون کے پاس گئے اور ان کے سر اور داڑھی کے بالوں کو پکڑکر اپنی طرف کھینچا ":(وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیہِ یَجُرُّہُ إِلَیْہِ)۔ جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات بالخصوص سورہٴ طٰہٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اس کے علاوہ ہارون کو بڑی شدت سے سرزنش کی اور بآواز بلند چیخ کر پکارے: کیا تم نے بنی اسرائیل کے عقائد کی حفاظت میں کوتاہی کی اور میرے فرمان کی مخالفت کی؟![سورہ طٰہ: ۹۲-۹۳] درحقیقت، حضرت موسیٰؑ کا یہ ردِّ عمل ایک طرف تو ان کی اس واردات قلبی، بے قراردی اور شدید ناراضگی کی حکایت کرتا ہے جو بنی اسرائیل کی بت پرستی کی وجہ سے پیدا ہوئی، دوسری طرف یہ اس بات کا ایک موٴثر سبب بنا کہ بنی اسرائیل کی عقل میں ایک حرکت پیدا ہو اور وہ اپنے اس عمل کی قباحت کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ بنابریں، اگرچہ بالفرض الواح توریت کا پھینک دینا قابلِ اعتراض معلوم ہوتا ہو، اور بھائی کی شدید سرزنش نادرست ہو لیکن اگر حقیقت کی طرف توجہ کی جائے کہ اگر حضرت موسیٰؑ اس شدید اور پُرہیجان ردّ عمل کا اظہار نہ کرتے تو ہرگز بنی اسرائیل اپنی غلطی کی سنگینی اور اہمیت کا اندازہ نہ کر سکتے۔ ممکن تھا کہ اس بت پرستی کے بُرے آثار ان کے ذہنوں میں باقی رہ جاتے۔ لہٰذا حضرت موسیٰؑ نے جو کچھ وہ نہ صرف غلط نہ تھا، بلکہ ایک امر لازم تھا۔ اس بناپر واضح ہوا کہ اُن تاویلات کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو اس مقام پر بعض مفسرین حضرت موسیٰؑ کے ردِّ عمل کو مقامِ عصمتِ انبیاء سے سازگار کرنے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ اس واقعہ سے اس قدر ناراض ہوئے کہ تاریخ بنی اسرائیل میں کبھی اس قدر ناراض نہ ہوئے تھے کیونکہ ان کے سامنے بدترین منظر تھا، یعنی بنی اسرائیل خدا پرستی کو چھوڑکر گوسالہ پرستی اختیار کر چکے تھے جس کی وجہ سے حضرت موسیٰؑ کی وہ تمام زحمتیں جو انہوں نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کی تھیں، سب برباد ہو رہی تھیں۔لہٰذا ایسے موقع پر الواح کا ہاتھوں سے گر جانا اور بھائی کا سخت مواخدہ کرنا ایک طبعی امر تھا۔ اس شدید ردِّ عمل اور غیظ وغضب کے اظہار نے بنی اسرائیل پر بہت زیادہ تربیتی اثر مرتب کیا اور منظر کو بالکل پلٹ دیا۔ جبکہ اگر حضرت موسیٰؑ نرم زبان استعمال کرتے تو شاید اس کا تھورا سا اثر بھی مرتب نہ ہوتا۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ہارونؑ نے موسیٰ کی محبت کو برانگیختہ کرنے کے لئے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے کے لئے کہا: اے میرے ماں جائے! اس نادان امت کے باعث ہم اس قدر قلیل ہو گئے کہ نزدیک تھا کہ مجھے قتل کر دیں۔ لہٰذا مَیں بالکل بے گناہ ہوں لہٰذا کوئی ایسا کام نہ کریں کہ دشمن ہنسی اڑائیں اور مجھے اس ستمگر امت کی صف میں قرار نہ دیں: (قَالَ ابْنَ اُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُوا یَقْتُلُونَنِی فَلَاتُشْمِتْ بِی الْاَعْدَاءَ وَلَاتَجْعَلْنِی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ)۔ اس آیت میں "ابنِ اُمّ" کی یا سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۹۴ میں "یابن اُمّ"کی تعبیر آئی ہے (جس کے معنی اے میری ماں کے بیٹے کے ہیں)حالانکہ موسیٰؑ اور ہارونؑ دونوں ایک والدین کی اولاد تھے یہ اس لئے تھا کہ حضرت ہارونؑ چاہتے تھے کہ کا جذبہٴ محبّت بیدار کریں۔ بہرحال کو یہ تدبیر کار آمد ہوئی اور بنی اسرائیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے توبہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ اب حضرت موسیٰؑ کی آتشِ غضب کم ہوئی اور وہ درگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی: پروردگارا! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت بے پایاں میں داخل کر دے، تُو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے: (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِاَخِی وَاَدْخِلْنَا فِی رَحْمَتِکَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ) اپنے لئے اور اپنے بھائی کے لئے بخشش طلب کرنا اس بنا پر نہیں تھا کہ ان سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا، بلکہ یہ پردرگار کی بارگاہ میں ایک طرح کا خضوع وخشوع تھا اور اس کی طرف بازگشت تھی اور بت پرستوں کے اعمالِ زشت سے اظہار تنفر تھا۔ اسی طرح اس میں سب کے لئے ایک طرح کا نمونہٴ عمل ہے تاکہ وہ یہ سوچیں کہ جبکہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی جن سے کوئی لغزش سرزد نہیں ہوئی تھی وہ خدا کی بارگاہ میں اس قدر لرزہ براندام ہیں، اس سے ہمیں عبرت حاصل کرنا چاہیے اور اپنے نامہ اعمال پر ایک نظر کرنا چاہیے اور پروردگارِ عالم کی طرف پلٹنا چاہیے۔ اپنے گناہوں کی معافی اس سے طلب کرنا چاہیے؛جیسا کہ گذشتہ دو آیتوں سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
قرآن مجید اور موجودہ توریت کا موازنہ
جیسا کہ آیاتِ مذکورہ بالا اور سورہٴ طٰہٰ کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ "گوسالہ" [بچھڑا] کو نہ تو بنی اسرائیل نے بنایا تھا نہ حضرت ہارونؑ نے۔ سورہٴ طٰہٰ کی آیات کے مطابق بنی اسرائیل میں سے ایک شخص سامری نے یہ حرکت کی تھی جس پر حضرت ہارونؑ جو حضرت موسیٰؑ کے بھائی اور ان کے معاون تھے خاموش نہ بیٹھے بلکہ انہوں نے اپنی پوری کوشش صرف کی، انہوں نے اتنی کوشش کی کہ نزدیک تھا کہ لوگ انہیں قتل کر دیتے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ موجودہ توریت میں گوسالہ سازی اور بُت پرستی کی طرف دعوت کو حضرت ہارونؑ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ چنانچہ توریت کے سفر خروج کی فصل ۳۲ میں یہ عبارت ملتی ہے: جس وقت قومِ موسیٰ نے دیکھا کہ موسیٰ کے پہاڑ سے نیچے اترنے میں دیر ہوئی تووہ ہارون کے پاس اکٹھا ہوئے اور ان سے کہا کہ اٹھو اور ہمارے لئے ایسا خدا بناؤ جو ہمارے آگے آگے چلے اور کیونکہ یہ شخص موسیٰ جو ہم کو مصرسے نکال کر یہاں لایا ہے نہیں معلوم اس پر کیا گذری، ہارون نے ان سے کہا: طلائی بُندے (گوشوارے) جو تمہاری عورتوں اور بچوں کے کانوں میں ہیں انہیں ان کے کانوں سے اتار کر میرے پاس لاؤ۔ پس پوری قوم ان گوشواروں کو کانوں سے جدا کر کے ہارون کے پاس لائی۔ ہارون نے ان گوشواروں کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے لیا اور کہا کہ اے بنی اسرائیل! یہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں سرزمینِ مصر سے باہر لایا ہے۔۔۔" اسی کے ذیل میں ان مراسم کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت ہارونؑ نے اس بت کے سامنے قربانی کرنے کے بارے میں بیان کئے تھے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰؑ کے واپس آنے اور غیظ وغضب کرنے کے سلسلہ میں اس طرح لکھا ہے: اور موسیٰ نے ہارون سے کہا کہ اس قوم نے تمہارا کیا بگاڑا تھا جو تم نے ان کو اتنے بڑے گناہ میں مبتلا کر دیا؟ اور ہارون نے کہا: میرے آقا کا غصّہ نہ بھڑکے کیونکہ آپ جانتے ہیں یہ قوم(ہمیشہ) بدی کی طرف مائل ہے... جو کچھ بالا سطور میں بیان ہوا یہ بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی داستان کا ایک حصّہ ہے جو توریت میں مذکور ہے۔ اس کی عبارت بعینہٖ نقل کی گئی ہے حالانکہ خود توریت نے حضرت ہارونؑ کے مقامِ بلند کو متعدد فصول میں بیان کیا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے بعض معجزات حضرت ہارونؑ کے ذریعے ظاہر ہوئے تھے (فصل۸ از سفر خروج توریت) اور ہارونؑ کا حضرت موسیٰؑ کے ایک رسول کی حیثیت سے تعارف کروایا گیا ہے (فصل۸ از سفر خروج)۔ بہرکیف، حضرت ہارون جو حضرت موسیٰؑ کے جانشین برحق تھے اور ان کی شریعت کے سب سے بڑے عالم وعارف توریت ان کے لئے مقام بلند کی قائل ہے۔ اب ذرا اُن خرافات کو بھی دیکھ لیجئے کہ انہیں ایک بت ساز ہی نہیں، بلکہ بت پرستی کے ایک بانی کی حیثیت سے روشناس کرایا ہے۔ بلکہ "عذرگناہ بدتر از گناہ" کے مقولہ کے مطابق ان کی جانب سے ایک غلط عذر پیش کیا کیونکہ جب حضرت موسیٰؑ نے ان پر اعتراض کیا تو انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ چونکہ یہ قوم بدی کی طرف مائل تھی، اس لئے میں نے بھی اسے اس راہ پر لگا دیا۔ جبکہ قرآن ان دونوں بلند پایہ پیغمبروں کو ہر قسم کے شرک اور بت پرستی سے پاک وصاف سمجھتا ہے۔ صرف یہی ایک مقام نہیں جہاں قرآنی تاریخ انبیاء ومرسلین کی پاکی وتقدس کا مظہر ہے جبکہ موجودہ توریت کی تاریخ انبیاء مرسلین کی ساحت قدس کے متعلق انواع واقسام کی خرافات سے بھری ہوئی ہے۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق حقانیت واصالتِ قرآن اور موجودہ توریت وانجیل کی تحریف کو پہچاننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں میں انبیاء کی جو تاریخ بیان کی گئی ہے اس کا موازنہ کر لیا جائے۔ اس سے اپنے آپ پتہ چل جائے گا حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟
ذلّت، اللہ تعالی پر بہتان باندھنے والوں کی ہمیشگی سزا
جیسا کہ ہم سابقاً لکھ آئے ہیں حضرت موسیٰؑ کے اس شدید ردِّ عمل نے اپنا اثر دکھایا اور جن لوگوں نے گوسالہ پرستی اختیار کی تھی اور ان کی تعداد اکثریت میں تھی وہ اپنے کام سے پشیمان ہوئے ان کی پشیمانی کا ذکر سابقہ آیت ۱۴۹ میں آچکا ہے، لیکن چونکہ یہاں پر یہ توہّم ہوتا ہے کہ ان کی بخشش کے لئے شاید مذکورہ پشیمانی کافی تھی، قرآن نے یہ اضافہ کیا ہے: "وہ لوگ جنھوں نے گوسالہ کو اپنا معبود بنایا جلد ہی انہیں پروردگار کا غضب اور اس جہان میں ذلت وخواری نصیب ہو گی": (إِنَّ الَّذِینَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّھِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)۔ نیز اس تصور کو دُور کرنے کے لئے کہ یہ قانون صرف ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے، فرماتا ہے: "وہ لوگ جو (خدا پر بہتان باندھتے ہیں انہیں ہم ایسی ہی سزا دیں گے: (وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِینَ)۔ لفظ "اتخذوا" کی تعبیر سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ "بُت" کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ صرف بُت پرستوں کی قرار داد اور انتخاب ہے جو بتوں کو مزعومہ شخصیّت ومقام دیتی ہے۔ اسی بناپر اس لفظ کے بعد ہی لفظ "عجل" آیا ہے یعنی گوسالہ برائے پرستش انتخاب کے بعد وہی گوسالہ ہی رہا۔ باقی رہتا ہے یہ سوال کہ اس "غضب" اور "ذلت" سے کیا مراد ہے؟ قرآن نے آیہ فوق میں اس امر کی کوئی توضیح نہیں کی ہے۔ صرف سربستہ کہہ کر بات آگے بڑھادی ہے۔ لیکن ممکن ہے اس سے ان بدبختیوں اور پرشانیوں کی جانب اشارہ مقصود ہو جو اس ماجرے کے بعد اور بیت المقدس میں ان کی حکومت سے پہلے انہیں پیش آئیں۔ یا اس سے مراد اللہ کا وہ حکم ہو جو اس گناہ کے بعد انہیں دیا گیا کہ وہ بطور پاداش ایک دوسرے کو قتل کریں جس کی تفصیل اسی کتاب کی جلد اوّل میں گذر چکی ہے۔ اس جگہ ممکن ہے یہ سوال کیا جائے کہ ہم نے تو یہ سنا ہے کہ ندامت اور پشیمانی کے ساتھ حقیقی توبہ کا تحقق ہو جاتا ہے، جب انہوں نے اپنی ندامت وپشیمانی کا اظہار کر دیا تو الله کی عفو وبخشش ان کے شاملِ حال کیوں نہ ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ صرف پشیمانی ہر گناہ کے معاف ہونے کے لئے کافی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ندامت ارکانِ توبہ میں سے ایک اہم رکن ہے لیکن یہ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ رکنِ کامل نہیں ہے۔ بت پرستی کا گناہ اور بچھڑے کو سجدہ، وہ بھی اس وسعت وہمہ گیری کے ساتھ، پھر اس ذرا سی مدت (چالیس روز) میں ان کا بے دین ہوجانا، وہ بھی اس قوم وملت کا جس نے اتنے معجزات دیکھے ہوں یہ ایک ایسا چھوٹا سا گناہ نہ تھا جو ایک "استغفر الله" سے دُھل جائے۔ بلکہ چاہیے یہ ہے کہ یہ قوم غضب پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ذلت کا مزہ اس دنیاوی زندگی میں چکھے اور اس تازیانے کو اپنے بدن پر محسوس کرے جو ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو الله پر بہتان باندھتے ہیں تاکہ آئندہ اتنے عظیم گناہ کا تصور بھی نہ آنے پائے۔ اس کے بعد کی آیت میں اس موضوع کی تکمیل کر دی گئی ہے اور اسے ایک کلّی قانون کے طور پر یُوں بیان کیا گیا ہے: لیکن وہ لوگ جو اعمالِ بَد بجالائیں اور اس کے بعد توبہ کر لیں (اور توبہ کی تمام شرائط پوری کر دیں) اور خدا پر ایمان کی تجدید کریں اور ہر قسم کے شرک اور نافرمانی سے باز رہیں، تو تمہارا پروردگار پروردگار ان سب کے بعد انہیں بخش دے گا؛ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے (وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِھَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 154 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 154 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دو سوالوں کا جواب
Tafsīr Nemūna · Vol. 1۱۔ آیا مذکورہ بالا دو نوں آیتیں ایک جملہ معترضہ ہیں جو داستان بنی اسرائیل کے درمیان تذکر کے طور پر پیغمبر اسلامﷺ پر نازل ہوئیں، یا یہ دونوں آیتیں واقعہ گوسالہ پرستی کے بعد حضرت موسیٰؑ کے لئے خدا کا ایک پیام ہیں؟ بعض مفسرین نے پہلا احتمال ذکر کیا ہے۔ دوسروں نے دوسرا احتمال قبول کیا ہے۔ جن لوگوں نے پہلا احتمال اختیار کیا ہے، انہوں نے جملہ: "...إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ":(تمہارا پروردگار توبہ کے بعد بخشنے والا، مہربان ہے) سے استدلال کیا ہے۔ کیونکہ یہ جملہ پیغمبر اسلام سے ایک خطاب ہے۔ اور جن لوگوں نے دوسرا احتمال اختیار کیا ہے انہوں نے جملہٴ "سینا لھم غضب" (جلد ہی انہیں خدا کا غضب آ لے گا)سے استدلال کیا ہے؛ جو فعل مضارع کی صورت میں ہے۔ لیکن آیت کا ظاہریہ کہتا ہے کہ ماجرائے گوسالہ پرستی کے بعد یہ خدا کے موسیٰؑ سے خطاب کا ایک حصّہ ہے اور فعل مضارع "سَیَنَالُھُمْ" اس کا ایک قوی شاہد ہے۔ جبکہ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ"إِنَّ رَبَّکَ" کا خطاب حضرت موسیٰؑ سے ہو۔[تشریحی نوٹ: اس آیت کی تقدیر اس طرح ہے : "قال الله لموسیٰ ان الذین..."] ۲۔ مندرجہ بالا آیہ میں توبہ کے بعد ایمان کا کیوں ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ اگر ایمان نہ ہو تو توبہ نہیں ہوتی؟ اس سوال کا جواب بھی اس سے ظاہر ہے کہ ایمان کے ستون گناہ کے بعد کمزور ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلامی روایات میں ہے: "شراب خور جب شراب پیتا ہے اس وقت ایمان نہیں رکھتا، اسی طرح زنا کرنے والا بھی زنا کے وقت ایمان سے خالی ہوتا ہے۔" مقصد یہ ہے کہ اس وقت ایمان اسی تازگی کو کھو دیتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ وہ تاریک، کم نور اور کم اثر ہو جاتا ہے۔ لیکن جس وقت بندہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان کی لَو دوبارہ بھڑک اٹھتی ہے اور ایمان دوبارہ تازہ ہو جاتا ہے۔ ضمنی طور پر اس پر بھی روشنی ڈال چاہیے کہ اس آیت میں صرف ذلتِ دنیوی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان لوگوں نے شرک وبت پرستی سے اپنی ندامت وپشیمانی کا اظہار کیا اور اس دنیا کی سزا کو قبول کیا تو بنی اسرائیل کے اس گناہ سے ان کی توبہ قبول ہو گئی اور آخرت کی سزا معاف ہو گئی؛ اگرچہ دوسرے گناہوں کا جو بار تھا وہ ان کے کاندھوں پر باقی رہا۔ آیاتِ زیرِ بحث کی آخری آیت کہتی ہے: جب موسیٰ کے غضب کی آگ ٹھنڈی ہوئی (اور جس نتیجہ کی انہیں توقع تھی وہ ظاہر ہو گیا) موسیٰ نے زمین پر سے الواحِ توریت اٹھالیں، ایسی الواح جن کے نوشتہ میں سراسر ہدایت ورحمت تھی، لیکن ہدایت اور رحمت ان افراد کے لئے جو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہیں: (وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ وَفِی نُسْخَتِھَا ھُدًی وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُونَ)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 156 کے تحت ملاحظہ کریں۔
میعادگاہ الٰہی میں بنی اسرائیل کے نمائندوں کا حضور
Tafsīr Nemūna · Vol. 1میعادگاہ الٰہی میں بنی اسرائیل کے نمائندوں کا حضور آیات مذکورہ بالا میں قرآن مجید نے دوبارہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اور بنی اسرائیل کے کچھ منتخب افراد کے میعادگاہ الٰہی میں جانے کا ذکر کیا ہے۔ حضرت موسیٰ(علیه السلام) ایک مرتبہ میعادگاہ میں گئے یا یہ واقعہ متعدد بار پیش آیا اس بارے میں مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اسی سورہ کی آیت ۱۴۲ کے ذیل میں یاددہانی کروائی ہے کہ آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے جو قرائن حاصل ہوئے ہیں ان سب سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) ایک ہی مرتبہ میقات پر گئے تھے وہ بھی بنی اسرائیل کے کچھ نمائندوں کو لے کر، اسی میقات میں خدا نے موسیٰ(علیه السلام) پر الواحِ توریت کو نازل کیا اور ان سے گفتگو کی، نیز اسی میقات کی بات ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کو یہ تجویز دی کہ وہ خدا سے اس بات کی درخواست کریں کہ وہ اپنے کو دکھلا دے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں زلزلہ آیا یا صاعقہ آئی اور موسیٰ(علیه السلام) بیہوش ہو گئے اور بنی اسرائیل زمین پر گِر گئے، نیز علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں جو حدیث نقل کی ہے اس میں بھی اس مطلب کی تصریح موجود ہے۔ اگر ان آیات کے محلِ وقوع اور ترتیب کے لحاظ سے کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ ان آیات میں پہلے تو الله نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی میعاد کا ذکر کیا ہے، اس کے بعد گوسالہ پرستی کا واقعہ بیان کیا ہے، اس کے بعد دوبارہ میعاد کا ذکر چھیڑ دیا ہے، آیا اس طرح کی طرزِ ادا اس فصاحت وبلاغت سے مطابقت رکھتی ہے جو قرآن کا طرہٴ امتیاز ہے؟ لیکن اگر اس بات کو زیرِ نظر رکھا جائے کہ قرآن کریم کوئی تاریخی کتاب تو نہیں ہے جس میں واقعات کے تسلسل کا لحاظ رکھا جائے بلکہ اس کتاب کا اصل موضوع ہدایت اور انسان سازی ہے لہٰذا اس قسم کی کتاب میں کبھی اس کے موضوع کی اہمیت کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ کے تسلسل کو وقتی طور پر چھوڑ دیا جائے اور اس کے بجائے کسی دوسری بات کو بیان کر دیا جائے، جب وہ بات تمام ہو جائے تو دوبارہ پہلے واقعہ کی طرف پلٹا جائے۔ اس بناپر ضروری نہیں ہے کہ ہم زیرِ بحث آیت کو قصّہ گوسالہ پرستی کا تتمّہ جانتے ہوئے یہ کہیں کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اس ماجرے کے بعد دوبارہ بنی اسرائیل کو معذرت خواہی اور توبہ کے لئے کوہِ طور پر لے گئے تھے جیسا کہ بعض مفسّرین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے، ایسا صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ اگر دیگر جہات سے بھی قطع نظر کرلی جائے تو اتنا ماننا پڑے گا کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے ساتھ جو لوگ رہ گئے، وہ بجلی یا زلزلے کے بعد ہلاک ہو گئے، کیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی نمائندگی میں عذر خواہی کے لئے گئے تھے خدا انھیں معاف کرنے کی بجائے وہیں ہلاک کر دے؟ *** بہرحال، مذکورہ بالا آیات میں پہلے ارشاد ہوتا ہے: موسیٰ(علیه السلام) نے ستّر آدمیوں کو اپنی قوم میں سے ہماری میعاد کے لئے انتخاب کیا (وَاخْتَارَ مُوسیٰ قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلًا لِمِیقَاتِنَا)۔ لیکن بنی اسرائیل نے جب خدا کا کلام سنا تو انھوں نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) سے اس بات کی خواہش کی کہ وہ اپنے کو دکھلا دے "اس وقت این عظیم زلزلہ رونما ہوا جس کی وجہ سے وہ لوگ ہلاک ہو گئے اور موسیٰ(علیه السلام) بیہوش ہو کر زمین پر گِر پڑے۔ (تشریحی نوٹ: حضرت موسیٰ(علیه السلام) صرف اس زلزلہ کی وجہ سے بے ہوش نہیں ہوئے تھے بلکہ اس زلزلے سے پہلے ایک نور ظاہر ہوا جس کی تاب نہ لا کر حضرت موسیٰ (علیه السلام) بیہوش ہو گئے تھے جیسا کہ اس آیت سے ظاہرہے: فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا وَخَرَّ مُوسیٰ صَعِقًا(اعراف/۱۴۳) ججب اس کے رب نے پہاڑ کے سامنے اپنی بجلی دکھلائی تو اس پہاڑ کو منہدم کر دیا اور موسیٰ چیخ مار کر بیہوش ہو گئے۔ (مترجم) جب وہ ہوش میں آئے تو انھوں نے عرض کی: خدایا! اگر میں چاہتا تو انھیں اور مجھے اس سے بیشتر ہلاک کر دیتا، مطلب یہ ہے کہ مَیں باقی لوگوں کو کیا جواب دوں جن کے نمائندوں پر یہ افتاد آپڑی (فَلَمَّا اَخَذَتْھُمْ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ)۔ اس کے بعد موسیٰ نے کہا: پروردگارا! یہ بے جا درخواست میری قوم میں سے جو نادان تھے ان کی تھی، کیا ان کی وجہ سے ہمیں ہلاک کر دے گا؟ (اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَاءُ مِنَّا)۔ چونکہ اس آیت میں یہ ہے کہ میعادگاہ میں زلزلہ آیا تھا اور سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۵ (جو رویت پروردگار کے بارے میں نازل ہوئی ہے) میں "صاعقہ" کا کلمہ آیا ہے اس لئے بعض مفسرین نے اس سے یہ مطلب نکالا ہے کہ میقات کا واقعہ دو مرتبہ رونما ہوا، لیکن جیسا کہ ہ پہلے بھی بیان کر آئے ہیں کہ جب بجلی گرتی ہے تو اس کے ساتھ اکثر زلزلہ بھی آجایا کرتا ہے، کیونکہ جب مثبت اور منفی الیکٹریسٹی اپس میں تصادم ہوتی ہے (مثبت ابر میں اور منفی زمین پائی جاتی ہے) تو اس کی وجہ سے دھماکہ ہوتا ہے، شعلہ نکلتا ہے اور زمین ہل جاتی ہے، بعض اوقات وہ جگہ بھی پاش پاش ہو جاتی ہے جہاں یہ واقعہ رونما ہوتا ہے، حضرت صالح(علیه السلام) کے قصّہ میں بھی (سورہٴ فصّلت آیت ۱۷میں) جب ان کا گناہگار قوم پر عذاب نازل ہوا تھا تو اس میں بھی "صاعقہ " کا ذکر ہے اور کبھی "رجفہ" سے تعبیر کیا گیا ہے (جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۷۸ میںہے)۔ نیز بعض مفسرین اس جملہ "بما فعل السفھاء منا" (اس عمل کے بدلے میں جو ہمارے نادانوں نے کیا ہے) کو اس بات کی دلیل سمجھا ہے کہ یہ سزا ان لوگوں کو ان کے عمل کی وجہ سے ملی تھی جیسے گوسالہ پرستی نہ کہ اس وجہ سے کہ انھوں نے خدا کی رویت کی خواہش کی تھی کیونکہ اس خواہش کا اظہار انھوں نے اپنے قول سے کیا تھا اور قول کو عمل نہیں کہا جاتا۔ اس بات کا جواب ظاہر ہے کیونکہ انسان کا بات کرنا بھی اس کے افعال میں داخل ہے، "سختی" پر"فعل" کا اطلاق کوئی غیرمعمولی اور نئی بات نہیں ہے، مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے روز الله انسان کے تمام افعال کی پاداش دے گا تو یقیناً اس میں ہمارے اقوال بھی داخل ہیں کیونکہ ان پر بھی جزا و سزا دے گا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ(علیه السلام) خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: اے پروردگار! ہمیں معلوم ہے یہ تیری ایک آزمائش تھی جسے تو چاہے (اور اسے گمراہی کا مستحق سمجھے) گمراہ کر دے اور جسے تو چاہے (اور اسے ہدایت کے لائق سمجھے) ہدایت کر دے (إِنْ ھِیَ إِلاَّ فِتْنَتُکَ)۔ یہاں پر بھی مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف ہے کہ لفظ "فتنہ" سے کیا مراد ہے، لیکن اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ لفظ "فتنہ"قرآن مجید میں آزمائش اور امتحان کے معنی میں بہت آیا ہے جیسا کہ سورہٴ انفال کی آیت ۲۸ میں فرمایا گیا ہے: اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ تمھارے سرمائے اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں۔ اسی طرح سورہٴ عنکبوت کی آیت ۲ اور سورہٴ توبہ کی آیت ۱۲۶ میں بھی ہے لہٰذا اس کا مفہوم بھی کچھ زیادہ پیچیدہ نہیں معلوم ہوتا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنی اسرائیل کی اس واقعہ میں شدید آزمائش ہوئی تھی اور خدا نے ان پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کی خواہش (تمنّائے رویت) ایک نامناسب اور محال خواہش تھی۔ اس آیت کے آخر میں حضرت موسیٰ(علیه السلام) عرض کرتے ہیں: بارالٰہا! صرف تو ہی ہمار ولی وسرپرست ہے، ہمیں بخش دے اور اپنی رحمت ہمارے شاملِ حال کر دے، تو بہترین بخشنے والا ہے (اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِینَ)۔ ان تمام آیتوں اور دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام ہلاک ہونے والوں کو پھر نئے سرے سے زندگی مل گئی اور وہ لوگ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے ہمراہ ہی بنی اسرائیل کی طرف پلٹ کر آگئے اور انھوں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا اور ان بے خبر لوگوں کی ہدایت میں مشغول ہو گئے۔ *** اس کے بعد کی آیت حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی درخواست کے تتمّہ کے طور پر ہے جس میں مسئلہ توبہ جس کی طرف سابقہ آیت میں اشارہ ہو چکا ہے، کی تکمیل کی غرض سے حضرت موسیٰ(علیه السلام) عرض کرتے ہیں: خداوندا! اس دنیا میں اور آخرت میں ہمارے لئے نیکی مقرر کر دے (وَاکْتُبْ لَنَا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ)۔ "حسنة"کے معنی ہر طرح کی نیکی، زیبائی اور خوبی کے ہیں، اس بناپر تمام نعمتیں، عملِ صالح کی توفیق، بخشناجانا، جنّت کا ملنا اور ہر طرح کی سعادت "حسنة"میں داخل ہے لہٰذا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ "حسنة"کو کسی ایک فائدے کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے۔ اس کے بعد درخواست کی دلیل اس طرح بیان کرتے ہیں: ہم نے تیری طرف بازگشت کی ہے اور جو کلام ہمارے نادانوں نے کیا تھا اور وہ تیرے مقام کے مناسب نہ تھا اس سے ہم معافی کے خواستگار ہیں (إِنَّا ھُدْنَا إِلَیْکَ )۔ "ھُدْنَا" کا مادّہ "ھود" (بروزن "صُوت") ہے جس کے معنی نرمی اور آہستگی کے ساتھ واپس لوٹنے کے ہیں، اس طرح کہ بعض اہلِ لغت نے اس کے معنی میں کہا ہے کہ خیر سے شر کی طرف اور شر سے خیر کی طرف لوٹنے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے لیکن بہت سے مواقع پر یہ لفظ "توبہ" اور خدا کی اطاعت کی طرف پلٹنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر المنار، ج۹، ص۲۲۱، اس کے موٴلف نے اس بات کو ابن الاعرابی سے نقل کیا ہے.) راغب اپنی کتاب "مفردات" میں بعض علماء سے یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: قومِ یہود کو یہود جو کہا جاتا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے، اس نام سے ان کی تعریف ظاہر ہوتی ہے یعنی یہ وہ قوم ہے جس نے خدا کی طرف بازگشت کی تھی، کثرتِ استعمال سے اس کے اصلی معنی فراموش ہو گئے اور صرف ایک نام کی حیثیت سے یہ لفظ باقی رہ گیا۔ لیکن اگر بعض علماء کے سابق قول کا لحاظ کیا جائے جس میں کہا گیا ہے کہ شر سے خیر کی طرف یا خیر سے شر کی طرف دونوں طرح بازگشت کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس معنی میں یہ لفظ یہودیوں کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ دراصل یہ لفظ "یہوذا" سے ہے جو حضرت یعقوب(علیه السلام) کے فرزندوں میں سے ایک کا نام ہے، بعدازاں "ذال" کو "دال" سے تبدیل کر دیا گیا اور "یہودا" ہو گیا اسی کی طرف قوم "یہودی" منسوب ہے۔ (بحوالہ: تفسیر ابوالفتوح رازی، ج۵، ص۳۰۰، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں.) بہرحال، آخرکار الله تعالےٰ نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی دعا قبول فرمائی اور ان کی توبہ قبول ہوئی لیکن کسی قید وشرط کے بغیر نہیں بلکہ اس کے ساتھ بعض شرطیں تھی جن کا ذکر آیت کے دیل میں فرمایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: مَیں اپنے عذاب اور سزا جسے چاہوں گا (اور اسے اس سزا کا مستحق پاؤں گا) پہنچا دوں گا (قَالَ عَذَابِی اٴُصِیبُ بِہِ مَنْ اَشَاءُ)۔ جیساکہ ہم نے پہلے بارہا بیان کیا ہے کہ ان مواقع پر یہ جو لفظ "مشیت" استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ دیگر مقامات پر جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس کے معنی مطلقاً چاہنے کے نہیں ہیں یعنی بغیر قید وشرط کے چاہنا، بلکہ اس سے مراد ایسا چاہنا ہے جو حکمت اور اہلیت کے ساتھ مقیّد ہے اس طرح اس بارے میں جو اشکال بھی وارد ہو وہ دور ہو جائے گا۔ اس کے بعد مزید اضافہ فرمایا گیا ہے: لیکن میری رحمت ہر چیز کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے (وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ)۔ خدا کی اس وسیع رحمت سے ممکن ہے دنیاوی نعمتوں کی طرف اشارہ مقصود ہو جو تمام مخلوقات کے شاملِ حال ہیں، نیک وبد مومن وکافر سب ہی ان سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ نیز ممکن ہے اس سے مادی ومعنوی ہر طرح کی نعمتیں مراد ہوں کیونکہ خدا کی معنوی نعمتیں کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اگرچہ ان کے لئے کچھ شرطیں ہیں جن کے بغیر وہ کسی کو نہیں ملتیں، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ الله کی رحمت کے دروازے ہر ایک پر کھلے ہیں، اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ ان دروازوں کے اندر داخل ہونا ہے کہ نہیں، اب اگر کوئی اپنے میں وہ شرطیں پیدا نہ کرے جن کی وجہ سے وہ ان دروازوں میں داخل ہو سکے تو یہ خود اس کی کوتاہی ہو گی اس سے الله کی رحمت پر کوئی حرف نہ آئے گا (دوسری تفسیر آیہ مذکورہ کے مفہوم سے زیادہ نسبت رکھتی ہے)۔ لیکن اگر کسی کو یہ خیال گزرے کہ الله رحمت ہر ایک کے لئے اور ہر شخص بلا کسی قید وشرط کے اس کا مستحق قرار پاسکتا ہے تو اس توہّم کو دُور کرنے کے لئے اس آیت کے آخر میں اضافہ فرمایا گیا ہے: "میں عنقریب اپنی رحمت کوان لوگوں کے لئے لکھوں گا جن میں تین صفتیں پائی جاتی ہیں، وہ تقویٰ کو اختیار کرتے ہوں، زکوٰة ادا کرتے ہوں اور ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہوں" (فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالَّذِینَ ھُمْ بِآیَاتِنَا یُؤْمِنُونَ)۔ تقویٰ" سے ہر قسم کی الائش اور گندگی سے بچنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ "زکوٰة" سے اس کے تمام اور ہمہ گیر معنی مراد ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے "ولکلِّ شیء زکوٰة" ہر چیز کے لئے ایک زکوٰة ہوتی ہے، بنابریں اس کے معنی ہر عمل نیک کے ہوں گے۔ یہ جملہ "والذین ھم باٰیٰتنا یومنون" تمام مذہبی مقدسات پر ایمان لانے اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ اس طرح یہ آیت ایک ایسے مقامِ عمل پر مشتمل ہے جو ہر حیثیت سے کامل وجامع ہے۔ اور اگر "زکوٰة" سے اس کے خاص معنی یعنی "زکوٰة مال" مراد لئے جائیں تو تمام الٰہی فرائض میں سے صرف اس کا انتخاب کیا جانا اس اہمیت کی وجہ سے ہے جو اسے عدالتِ اجتماعی ہیں حاصل ہے۔ ایک حدیث شریف میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آنحضرت ایک دفعہ مشغولِ نماز تھے کہ ایک اعرابی کو یہ کہتے سنا وہ یہ کہہ رہا تھا: "اللّٰھمّ ارحمنی و محمدا ولاترحم معنا احداً" یعنی خدایا! صرف مجھے اور محمد (صلی الله علیہ وآلہ وسلّم) کو اپنی رحمت کے دامن میں لے لے اور ہم دونوں کے علاوہ کسی اور کو اپنی رحمت میں داخل نہ کرنا۔ جب حضرت رسول الله نے نماز ختم کی اور سلام نماز پڑھا تو اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "لقد تحجرت واسعاً" یعنی تُونے ایک لامحدود شے کو محدود کر دیا اور اسے ایک اختصاصی پہلو دے دیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خداوندکریم کی رحمت لا محدود وبے پایاں ہے اسے کسی عالم میں بھی میرے اور تیرے درمیان محدود نہیں کیا جاسکتا(بحوالہ: تفسیر مجمع البیان زیرِ بحث آیت کے ذیل میں.)
ایسے پیغمبر کی پیروی کرو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1موجودہ آیت دراصل، اس گذشتہ آیت کی تفصیل وتکمیل ہے جس میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جنھیں الله کی وسیع رحمت میسر ہے، یعنی تقویٰ، ادائے زکوٰة اور آیاتِ الٰہی پر ایمان، ان صفات سہ گانہ کو ذکر کرنے کے بعد، اس آیت میں توضیح کے طور پر کچھ مزید صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ پیغمبر اسلام کی پیروی کرنا ہے کیونکہ خدا پر ایمان لانا، پیغمبر پر ایمان لانے اور ان کی پیروی کرنے سے جدا نہیں ہے، اسی طرح تقویٰ اور زکوٰة بھی رسول الله کی پیروی اور رہبری کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ اس لئے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ اس رحمتِ الٰہی میں داخل ہیں جو پروردگارِ عالم کے اس فرستادہ رسول کی پیروی کریں (الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ)۔ اس کے بعد اس رسول کے متعلق خداوندکریم رسالت کے علاوہ چھ علامتیں بیان فرماتا ہے: ۱۔ وہ الله کا پیغمبر ہے(النَّبِیَّ )۔ نبی اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کا پیغام بیان کرے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے چاہے اسے دعوت الی الحق اور تبلیغ کرنے اور اس راہ میں قیام کرنے کا حکم بھی ملا ہو۔ درحقیقت، رسالت کا درجہ نبوّت سے بالاتر ہے۔ اس بناپر رسالت میں نبوت کا درجہ بھی شامل ہے لیکن چونکہ آیہ مذکورہ مقامِ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تشریح وتوضیح کرنا چاہتی ہے لہٰذا اس نے دونوں کا مستقلاً ذکر کیا ہے۔ واقع میں جو معنی لفظ "رسول" میں پوشیدہ ہیں اسے مستقل اور واضح طور پر اس کی تحلیل کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ ۲۔ ایسا پیغمبر جس نے کسی سے درس پڑھا اور وہ عام لوگوں میں سے مبعوث ہوا، اس نے سرزمین مکّہ ام القریٰ سے توحید کا حقیقی آفتاب بن کر طلوع کیا ہے(الْاُمِّیَّ)۔ لفظ "اُمِّی"(جو یا تو مادّہٴ "امّ" جس کے معنی ماں کے ہیں، یا مادّہٴ "امّت" جس کے معنی مجمع اور گروہ کے ہیں، سے ماخوذ ہوا ہے) کے بارے میں مفسرین میں بحث ہے، کچھ لوگ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ اُمّی وہ شخص ہے جس نے کسی سے درس نہ پڑھا ہو یعنی جس حالت میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا اسی طرح باقی رہا ہو کسی استاد کے مدرسہ میں داخل نہ ہوا ہو۔ بعض نے اس کے یہ معنی لئے ہیں کہ اُمّی وہ ہے جو عام افراد کے گروہ سے نکلا ہو، اشراف، عیاش اور جبّار طبقہ سے نہ نکلا ہو۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ لفظ "اُمّی"، "مکی" کے مترادف ہے یعنی ام القریٰ (مکہ) کا رہنے والا کیونکہ مکہ کا ایک نام "امّ القریٰ" بھی ہے۔ اسلامی روایات جو مختلف ماخذوں سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں بھی "اُمّی"بمعنی "اَن پڑھ" نہیں ہے بلکہ ان میں سے بعض روایات میں "اُمّی" کی تفسیر "مکی" سے کی گئی ہے۔(تشریحی نوٹ: مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۷۸، ۷۹ اور تفسیر روح المعانی، ج۹، ص۷۰ زیر بحث آیت کے ذیل میں) لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لفظ "اُمّی" سے تینوں مفہوموں کی طرف اشارہ مقصود ہو جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایک لفظ کا استعمال چند معنی میں جائز ہے ادبیاتِ عرب میں اس کے بہت سے شواہد ملتے ہیں (پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اُمّی ہونے کے معنی پر اس آیت کی تفسیر کے بعد تفصیلی طور سے روشنی ڈالی جائے گی۔ ۳۔ "نیز ایسا پیغمبر ہے جس کی صفات، علامتیں اور اس کی حقانیت کی نشانیاں گذشتہ آسمانی کتابوں (توریت وانجیل وغیرہ) میں لوگ پاتے ہیں" (الَّذِی یَجِدُونَہُ مَکْتُوبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ)۔ اس آیت کی تفسیر مکمل ہونے کے بعد ہم اس بارے میں بھی مفصل طور پر بحث کریں گے کہ کتب عہدین (توریت وانجیل) میں حتّیٰ کہ موجودہ تحریف شدہ کتب میں کہاں کہاں ہمارے نبی کی حقانیت کی مختلف بشارتیں اور پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں۔ ۴۔ وہ ایسا پیغمبر ہے جس کی دعوت کا مفہوم عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے، وہ ان نیکیوں کی طرف جن کی عقل گواہی دیتی ہے لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور بُرے کام جن سے عقل منع کرتی ہے روکتا ہے (یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْھَاھُمْ عَنْ الْمُنکَرِ)۔ ۵۔ اس کی دعوت کا مفہوم فطرتِ سلیم سے بھی ہم آہنگ چنانچہ وہ تمام پاک وپاکیزہ چیزوں کو جن کو طبعِ سلیم پسند کرتی ہے لوگوں کے لئے پسند کرتا ہے اور وہ ان کے لئے حلال قرار دیتا ہے اور جو چیز خبیث اور قابلِ نفرت ہے اسے لوگوں پر حرام قرار دیتا ہے (وَیُحِلُّ لَھُمْ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمْ الْخَبَائِثَ)۔ ۶۔ وہ ان جھوٹے نبیوں کی طرح نہیں ہے جن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ سادہ لوح افراد کو پھانسیں اور ان سے ناجائز فائدہ حاصل کریں، یہ نبی صرف اتنا ہی نہیں کہ ان کے کندھے پر کسی قسم کا بار نہیں رکھتا بلکہ ان کے دوش سے بھاری بوجھ اتارتا ہے اور ان تمام طوق وسلاسل کو ان سے الگ کرتا ہے جنھوں نے بشریت کے ہاتھوں اور پیروں کو (جاہلانہ عقائدہ ورسوم کی زنجیروں سے) جکڑ دیا تھا (وَیَضَعُ عَنْھُمْ إِصْرَھُمْ وَالْاَغْلَالَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیْھِمْ)۔ (تشریحی نوٹ: "اصر" کے معنی لغت میں نگہداشت کرنے اور محبوس کرنے کے ہیں اس بناپر اس سنگین کام کو جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے "اصر" کہتے ہیں۔ اگر عہد وپیمان یا کیفر وسزا کو بھی "اصر" کہتے ہیں تو ان محدویتوں کی بنا پر ہے جو یہ چیزیں انسان کے لئے پیدا کرتی ہیں۔) چونکہ یہ چھ صفات مقامِ رسالت کو ملانے کے بعد سات صفتیں بنتی ہیں، یہ سب رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے دعوے کی روشن دلیلیں ہیں اس لئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کے درجہ کو بلند سمجھیں اور تبلیغِ رسالت میں اس کی مدد کریں اور اس آشکار نور (یعنی قرآن مجید) کی پیروی کریں جو اس پر نازل ہوا ہے بلاشبہ ایسے افراد کامیاب ہیں (فَالَّذِینَ آمَنُوا بِہِ وَعَزَّرُوہُ وَنَصَرُوہُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی اُنزِلَ مَعَہُ اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْمُفْلِحُونَ)۔ "عَزَّرُوہُ " مادّہٴ "تعزیر" سے ہے جس کے معنی اس طرح کی حمایت ومدد کرنے کے ہیں جس میں احترام کی آمیزش بھی ہو، بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی کسی چیز سے منع کرنے اور روکنے کے ہیں، اگر دشمن سے بچایا اور روکا جائے تو اس کا مفہوم مدد کرنے کا ہو گا اور اگر یہ منع کرنا گناہ س ہو تو اس کے معنی سزا اور تنبیہ کرنے کے ہوتے ہیں، اسی بناپر ہلکی سزاؤں کو "تعزیر" کہتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں "اُنزِلَ اِلَیہ" "اُنزِلَ مَعَہُ "(اس کے ساتھ نازل ہوا) آیا ہے جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ آنحضرت آسمان سے نازل نہیں ہوئے تھے، لیکن چونکہ آپ کی نبوت ورسالت قرآن کے ساتھ خدا کی جانب سے نازل ہوئی ہے لہٰذا لفظ "مَعَہُ " کی تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر برہان میں علی بن ابراہیم قمی سے منقول ہے کہ "النُّورَ الَّذِی اُنزِلَ مَعَہُ " سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہیں، نیز اس کی تائید "انا وعلی من نور واحد"سے بھی ہوتی ہے۔مترجم)
چند قابل توجہ امور
۱۔ آنحضرت کی نبوّت پر ایک آیت میں پانچ دلیلیں: قرآنِ کریم کی کسی آیت میں آنحضرت کی حقانیت کی حقانیت پر اتنی دلیلیں اکھٹا نہیں ملیں گی جتنی اس آیت میں موجود ہیں۔ اگر ہم پیغمبرِ آخر الزمان کی ان سات صفتوں پر غور کریں جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں تو ہمیں آنحضرت کی حقانیت کی پانچ روشن دلیلیں ملیں گی۔ اوّل: یہ کہ وہ "اُمّی" تھے یعنی انھوں نے کسی آگے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا، اس کے باوجود انھوں نے ایسی کتاب پیش کی جس نے نہ صرف اہلِ حجاز کی قسمت بدل دی بلکہ وہ تاریخ بشریّت میں سب کی توجہ کا مرکز بنی۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ جو آپ کی نبوت کے قائل نہیں ہیں انھیں بھی اس کتاب کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری میں کوئی شک نہیں ہے۔ ایک ایسا انسان جس نے نہ تو کسی سے درس پڑھا، نہ وہ مدرسہ گیا، بلکہ اس نے ایک انتہائی جاہلانہ ماحول اور برریت کی فضا میں پرورش پائی، کیا بحسبِ عادت ومعمول یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا شخص اتنا بڑا کام انجام دے؟! دوم: یہ کہ اس کی نبوت کی دلیلیں مختلف الفاظ میں گذشتہ آسمانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جس سے ایک حق طلب انسان کو اس کی حقانیت کا پتہ ملتا ہے اوروہ مطمئن ہو جاتا ہے، یہ ایسی بشارتیں ہیں جو صرف اس کی ذات اور اس کے صفات پر منطبق ہوتی ہیں۔ سوّم: یہ کہ اس کی دعوت کے جو اصول ہیں وہ عقل ودانش کے مطابق ہیں، کیونکہ اچھائی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا عقل کے مطابق ہے یہی اس کی دعوت کا مقصد جو اس کی تعلیمات سے حاصل ہوتا ہے۔ چہارم: یہ کہ اس کی دعوت کے اصول طبعِ سلیم اور فطرتِ انسانی کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ پنجم: یہ کہ اگر آپ کے فرستادہ نہ ہوتے تو یہ بات حتمی ہے کہ آپ اتنے بڑے کام کے پرودہ میں اپنے ذاتی منافع کو پیشِ نظر رکھے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ نہ صرف لوگوں کو ان کے قید وبند سے آزاد نہ کرواتے بلکہ انھیں اسی عالم غفلت وبے خبری میں پڑا رہنے دیتے، اس طرح سے آپ ان سے زیادہ ناجائز فائدے حاصل کرسکتے تھے، جبکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ نے بشریت کے ہاتھ پاؤں سے بھاری زنجیروں کو الگ کر دیا ہے: جن زنجیروں کو آپ نے کاٹا ان میں سے بعض یہ ہیں: جہل ونادانی کی زنجیریں، جنھیں آپ نے اس طرح کاٹا کہ لوگوں کو علم ودانش کی طرف مسلسل اور ہمہ گیر دعوت دی۔ بت پرستی اور خرافات پرستی کی زنجیریں: جنھیں آپ نے دعوتِ توحید کے ذریعے کاٹا۔ قبائلی تعصّب کی زنجیریں: جنھیں آپ نے یوں ختم کیا کہ انھیں اخوّتِ اسلامی کی تعلیم دی۔ دنیاوی لحاظ سے پستی وبلندی کی زنجیریں: جنھیں آپ نے مساوات کی تعلیم کے ذریعے کاٹ دیا۔ اس کے علاوہ دیگر طرح طرح کی زنجیریں جن کو آپ نے بیک قلم قلم کر دیا، یہ کارنامہ بجائے خود آپ کی حقانیت کی زبردست دلیل ہے۔ ۲۔ پیغمبر کے "اُمّی" ہونے کا کیا مطلب ہے؟: لفظ "اُمّی" کے مفہوم کے بارے میں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے عام طور پر تین احتمال بیان کئے جاتے ہیں: اوّل: اس کے معنی "اَن پڑھ" کے ہیں۔ دوّم: "اُمّی" وہ ہے جو "اُمّ القریٰ" یعنی سرزمینِ مکّہ میں پیدا ہوا ہو اور وہاں اس کی پرورش ہوئی ہو۔ سوّم: وہ شخص جو عوام الناس میں سے اٹھا ہو، لیکن سب سے زیادہ مشہور پہلی تفسیر ہے جو اس کلمہ کے مواردِ استعمال سے بھی زیادہ تعلق رکھتی ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ممکن ہے کہ تینوں معنی مراد لئے گئے ہوں۔ یہ بات کہ آنحضرت نے تو کسی معلم سے تعلیم حاصل کی اور نہ ہی آپ کسی مدرسہ میں گئے اس میں موٴرخین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، قرآن کریم میں بھی سورہٴ عنکبوت کی آیت ۴۸ میں پیغمبر کی قبل بعثت حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَابٍ وَلَاتَخُطُّہُ بِیَمِینِکَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ یعنی تم اس (اعلانِ رسالت) سے قبل نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے جس کی وجہ سے دشمنوں کو یہ موقع ملے کہ وہ تمھاری رسالت میں شک وشبہ ڈال سکیں۔ سرزمینِ حجاز میں عام طور پر پڑھے لکھے لوگ اس قدر کم تھے کہ وہ تمام سرزمین میں گنتی کے ہونے کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے تھے، یہاں تک کہ سرزمینِ مکّہ جو حجاز کا مرکز سمجھی جاتی تھی اس میں پڑھے لکھے مَردوں کی تعداد کُل ۱۷ عدد تھی اور عورتوں میں سے صرف ایک عورت لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔ (بحوالہ: فتوح البلدان، بلاذری، ط مصر، ص ۴۵۹) یہ بات واضح اور مسلم ہے کہ ان چند محدود افراد میں سے کسی ایک سے بھی اگر پیغمبر پڑھنا لکھنا سیکھتے تو یہ ڈھکی چھپی بات نہ رہتی بلکہ سب کے زبان زد ہو جاتی۔ اگر ہم آپ کی نبوت کو تسلیم نہ بھی کریں، تب بھی یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مکہ کے محدود افراد میں سے کسی سے بھی پڑھا ہو اور اس کے بعد آپ نے پڑھا ہوتا تو اہلِ مکہ میں سے کوئی تو کہتا کہ اے محمد! تم غلط کہتے ہو کہ تم نے کسی سے نہیں پڑھا، تم نے تو فلاں شخص سے تعلیم حاصل کی ہے۔ بہرحال پیغمبر کی یہ صفت (اَن پڑھ ہونا) آپ کی نبوّت کی بنیاد کو مستحکم کرتی ہے تاکہ آپ کو ذاتِ خداوندی اور دنیائے ماوراء الطبیعت سے جو تعلق حاصل ہے اس کا لوگوں کو یقین حاصل ہو اور اس سلسلہ میں آپ جو دعوت دیں اسے لوگ قبول کر لیں۔ آپ کا یہ حال قبل از بعثت کا تھا، بعثت کے بعد بھی کسی تاریخ میں نہیں ملتا کہ آپ نے اپنے اعلانِ نبوّت کے بعد کسی سے تعلیم کی ہو، بنابریں آپ اپنی سابقہ اّمّی حالت میں آخر عمر تک باقی رہے۔ لیکن ایک بڑی غلط فہمی جو یہاں پر پیدا ہوتی ہے اور اس سے اجتناب ضروری ہے یہ ہے کہ درس نہ پڑھنا الگ چیز ہے اور جاہل ہونے کا الگ مفہوم ہے، لہٰذا اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ آپ معاذ الله کوئی جاہل شخص تھے، اس لئے جن لوگوں نے "اُمّی" کی یہ تفسیر کی ہے کہ آپ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے گویا ان کی توجہ اس نکتے کی طرف نہیں ہے۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم الٰہی تعلیم کے ذریعے سے پڑھنا یا پڑھنا اور لکھنا جانتے تھے بغیر اس کے کہ آپ نے کسی بشر سے ان امور کو سیکھا ہو کیونکہ اس صفت کا بلاشبہ کمالاتِ انسانی میں شمار ہوتا ہے اور اس مقام سے مقامِ نبوت کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس مطلب کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو آئمہ طاہرین صلوات الله علیہم سے مروی ہیں جن میں فرمایا گیا ہے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم لکھنا پڑھنا جانتے تھے یا آپ میں اس کی صلاحیت موجود تھی(بحوالہ: تفسیر برہان، جلد دوم، ص ۲۳۴ سورہ جمعہ کی ابتدائی آیات کے ذیل میں) لیکن اس لئے کہ نبوّت میں کسی کو چھوٹے سے چھوٹا شبہ نہ ہونے پائے آپ اپنی اس صفت سے کام نہیں لیتے تھے۔ اس مقام پر یہ جو کہا گیا ہے کہ لکھنے اور پرھنے کی قوت بذاتِ خود کوئی کمال نہیں ہے بلکہ یہ دونوں علم حقیقی اور کمالات تک پہنچنے کی سیڑھی ہیں، یہ خود حقیقی علم نہیں ہیں، اس بات کا جواب خود اس میں پوشیدہ ہے کہ کیونکہ کسی کمال کے وسیلے سے آگاہی بذاتِ خود ایک کمال شمار ہوتی ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ آئمہ طاہرین(علیه السلام) کی بعض روایات میں "اُمّی" کو "امّ القریٰ" سے لیا گیا ہے(تفسیر برہان جلد ۴ ص ۲۳۲ و تفسیر نور الثقلین، جلد ۲ ص ۷۸، زیر بحث آیت کے ذیل میں) اس کے جواب میں ہم کہیں گے اس مفہوم کی دو روایتیں ہیں جن میں سے ایک روایت وہ ہے جسے اصطلاح میں "مرفوعہ" کہا جاتا ہے لہٰذا وہ سند کے لحاظ سے بے وقعیت ہے، دوسری روایت میں ایک راوی بنام "جعفر بن محمد صوفی"ہے جو علمِ رجال کی رُو سے مجہول شخص ہے۔ اب رہا یہ امر کہ بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ سورہ جمعہ میں خدا فرماتا ہے: هُوَ الَّذي بَعَثَ فِي الأُمِّيّينَ رَسولًا مِنهُم يَتلو عَلَيهِم آياتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتابَ وَالحِكمَةَ نیز اسی مطلب کی دیگر آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر قرآن کو دیکھ کر لوگوں کے سامنے پڑھتے تھے، یہ غلط فہمی پر مبنی ہے کیونکہ "تلاوت" دیکھ کر پڑھنے کو بھی کہتے ہیں اور حافظہ سے پڑھنے کو بھی کہتے ہیں۔ جو لوگ قرآن کی آیات یا اشعار یا دعائیں اپنی یادداشت سے پڑھتے ہیں اس پر بھی تلاوت کا اطلاق بکثرت ہوا ہے۔ بہرحال، جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے حسبِ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں: ۱۔ پیغمبر نے یقینا کسی شخص سے پڑھںا لکھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ وہ سوائے خدا کی ذات کے کسی کے شاگرد تھے۔ ۲۔ کوئی معتبر دلیل اس بات کی موجود نہیں ہے کہ آپ نے اپنی نبوت کے اعلان سے پہلے یا اس کے بعد عملی طور پر" کبھی پڑھا یا لکھا ہو۔ ۳۔ یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ آپ پروردگار عالم کی تعلیم کی بنا پر لکھنے اور پڑھنے پر قادر تھے۔
کتب عہدین میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور کی بشارتیں
اگرچہ اس بات کے یقینی قرائن موجود ہیں کہ یہود و نصاریٰ کی مقدس کتابیں (تورات و انجیل)وہ اصلی کتابیں نہیں ہیں جو حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی پر آسمان سے نازل ہوئی تھیں، بلکہ انسان کا دستِ تحریف ان کی طرف دراز ہوا ہے۔ ان کتابوں میں سے کچھ حصہ بالکل ضایع ہو گیا ہے اور اس وقت جو لوگوں کے پاس موجود ہے وہ ایک مخلوط و مرکب کتاب ہے جس میں کچھ ایسے افکار ہیں جو ذہنِ انسانی کی پیداوار ہیں اور کچھ حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی کی وہ تعلیمات ہیں جو ان دو نبیوں پر نازل ہوئی تھیں اور ان کے شاگردوں کے پاس موجود تھیں۔ (تشریحی نوٹ: مزید آگاہی کےلیے ملاحظہ ہو کتاب "رہبرِ سعادت یا دین محمد" اور کتاب "قرآن و آخرین پیامبر") اس بنا پر اگر موجودہ کتاب میں آنحضرتﷺ کی پیشین گوئی کے متعلق کوئی صریحی جملہ نہ ملے تو اس میں کوئی جائے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود انہی تحریف شدہ کتابوں میں ایسی عبارتیں ملتی ہیں جن سے اس پیغمبر عالی مقامﷺ کے ظہور کا کھلا اشارہ ملتا ہے۔ ان عبارتوں کو ہمارے بعض علماء نے اپنی کتابوں یا مقالوں میں جو اس موضوع پر تحریر کیے ہیں، اکٹھا کیا ہے۔ چونکہ ان سب کا تذکرہ طول کا باعث ہے، اس لیے نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کا ہم یہاں پر تذکرہ کرتے ہیں: 1. توریت سفر تکوین فصل ۱۷ نمبر ۱۷ تا ۲۰ میں ہے: اور ابراہیم نے خدا سے کہا کاش! اسماعیل تیرے حضور میں زندہ رہے [خدا نے جواب دیا] ائے ابراہیم! ہم نے اسماعیل کے بارے میں تمہاری سن لی۔ ہم نے اسے برکت دی اور اسے بہت زیادہ پھولنے پھلنے والا قرار دیا۔ چنانچہ اس کی نسل سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور انہیں ہم بہت بڑی امت قرار دیں گے۔ 2. سفر پیدائش باب ۴۹ نمبر ۱۰ میں ہے: عصای سلطنت یہودا سے اور ایک فرمان روا اس کے پیروں کے آگے سے قیام کرے گا تا اینکہ "شیوہ" آ جائے کہ اس پر تمام امتیں اکٹھا ہو جائیں گی۔ یہاں پر قابل توجہ ہے کہ لفظ "شیوہ" کے ایک معنی "رسول" یا "رسول اللہ" کے ہیں؛ جیسا کہ مسٹر ہاکس نے اپنی کتاب "قاموس مقدس" میں تصریح کی ہے۔ 3. انجیل یوحنا باب ۱۴ نمبر ۱۵ و ۱۶ میں ہے: اگر تم مجھے دوست رکھتے ہو تو میرے احکام کو محفوظ رکھنا اور میں باپ سے سوال کروں گا تو وہ ایک دوسرا تسلی دینے والا تم کو عطا کر دے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔ 4. انجیل یوحنا باب ۱۴ نمبر ۲۶ میں ہے: وہ تسلی دینے والا آئے گا کہ جسے میں اپنے باپ کی طرف سے بھجواوں گا؛ یعنی وہ ایک صحیح روح کہ جو باپ کی طرف سے آئے گی وہ میرے بارے میں گواہی دے گی۔ 5. نیز اسی انجیل یوحنا باب ۱۶ نمبر ۷ میں ہے: لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لیے یہ بہتر ہے کہ میں چلا جاوں کیونکہ اگر میں نہ جاوں گا تو وہ تسلی دہندہ تمہارے پاس نہ آئے گا؛ لیکن اگر میں چلا جاوں تو میں اسے تمہارے پاس بھجوا دوں گا۔۔۔ لیکن جب "وہ" یعنی راستی کا روحِ رواں آ جائے گا تو وہ تم کو راستی [صراطِ مستقیم] کی طرف ہدایت کرے گا؛ کیونکہ وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہے گا، بلکہ جو [خدا سے] سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر دے گا۔ [تشریحی نوٹ: یہ تمام عبارتیں جو اوپر کتب عہد قدیم و جدید سے نقل کی گئیں، یہ اس فارسی ترجمہ سے لی گئی ہیں جو ۱۷۷۸ عیسوی میں لندن میں مشہور عیسائی علماء کے ذریعہ عربی سے فارسی میں ترجمہ ہوا ہے]۔ یہاں پر جس نتکہ کی طرف توجہ کرنا ضڑوری ہے وہ یہ ہے کہ فارسی انیلوں میں مذکورہ بالا جملوں میں جو انجیل یوحنا سے لیے گئے ہیں، کلمہ "تسلی دہندہ" آیا ہے؛ لیکن عربی انجیل مطبوعہ لندن [مطبعہ ولیم ویٹس- سال ۱۸۵۸ء] میں اس کے بجائے فارقلیط کا لفظ مذکور ہے۔
پیغمبرکی عالمگیر دعوت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: کچھ یہودی حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کی: اے محمد! کیا تمہی وہ شخص ہو جس نے یہ خیال کیا کہ وہ الله فرستادہ ہے اور حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی طرح تم پر وحی نازل ہوتی ہے؟! حضرت رسول الله نے تھوڑا سکوت کیا اس کے بعد فرمایا:ہاں میں ہوں سیّد اولادِ خاتم، لیکن اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی خاتم الانبیاء، امامِ اتقیاء اور رسول پروردگار عالم ہوں، انھوں نے پوچھا: تم کس کی طرف بھیجے گئے ہو؟ عرب کی طرف یا عجم کی طرف، یا ہماری طرف؟ ان کے سوال کے جواب میں یہ آیہٴ (مذکورہ بالا) نازل ہوئی جس میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے ہے(بحوالہ: تفسیر صافی، آیت مذکورہ بالا کے ذیل میں کتاب مجالس کے حوالے سے) لیکن اس کے باوجود اس آیت کا ربط گذشتہ آیت سے قابل انکار نہیں ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں بھی صفاتِ پیغمبر کا تذکرہ کیا گیا تھا اور اس آیت میں بھی صفات پیغمبر کا ذکر ہے۔ ابتدا میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے: "کہہ دو! اے لوگو! میں تم سب کی طرف الله کا رسول ہوں" (قُلْ یَااَیُّھَا النَّاسُ إِنِّی رَسُولُ اللهِ إِلَیْکُمْ جَمِیعًا)۔ یہ آیت بھی دیگر بہت سی قرآنی آیات کی طرح اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کی رسالت عالمی اور جہانی تھی۔ اسی طرح سورہٴ سبا کی ۲۸ ویں آیت میں ہے: وَمَا اَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ کَافَّةً لِلنَّاسِ ہم نے تمھیں نہیں بھیجا ہے مگر تمام انسانوں کی طرف" اور سورہٴ انعام کی ۱۹ ویں آیت میں ہے: وَاُوحِیَ إِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْآنُ لِاُنذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ اس قرآن کی وحی میری طرف اس لئے ہوتی ہے کہ تمھیں اس کے ذریعے ڈراؤں اور ان لوگوں کو ڈراؤں جن تک اس (قرآن) کی آواز پہنچے۔ اور سورہ فرقان کے شروع میں ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا پائبند وبرقرار ہے(برکتوں والا ہے۔مترجم) وہ خدا جس نے اپن بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہانوں کے رہنے والوں کو (ان پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کے بارے میں ڈارئے۔ یہ آیتیں نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں جو اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ کی رسالت جہانی تھی، نیز اس کے بارے میں انشاء الله ہم سورہٴ شوریٰ کی آیت ۷ کے ذیل میں مزید بحث کریں گے نیز سورہٴ انعام کی آیت ۹۲ کے ذیل میں بھی ہم اس موضوع پر کافی بحث کر آئے ہیں۔( تفسیر نمونہ، ج۳) اس کے بعد جس خدا کی طرف پیغمبر نے دعوت دی اس کی تین صفتیں بیان ہوتی ہیں: وہ خد اجس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمینوں کی حکومت ہے: الذی لہ ملک السمٰوٰت والارض۔ وہ خدا جس کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ایسا موجود نہیں ہے جو پرستش کے لئے سزاوار ہو (لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ)۔ ایسا خدا جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور زندگی اور موت کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے (یُحْیِ وَیُمِیتُ)۔ اس طرح سے یہ آیت ہر اس الوہیت کی نفی کرتی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کی خالق نہ ہو، اسی طرح ہر قسم کی بت پرستی، تثلیث مسحیت کی نفی کرتی ہے، نیز اس بات کی بھی مظہر ہے کہ وہ اس بات کی قدر رکھتا ہے کہ سارے جہانوں کے لئے کوئی رسول بھیجے اور وہ روزِ قیامت برپا کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ آخر میں تمام اہلِ جہان کو دعوت دی گئی ہے کہ: ایمان لے آؤ الله پر اور اس کے اس رسول پر جس نے کسی سے درس نہیں پڑھا اور وہ عام لوگوں کے گروہ میں سے مبعوث ہوا ہے (فَآمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ)۔ "ایک ایسا پیغمبر جو صرف دوسرے لوگوں کو ہی ان حقائق کی دعوت نہیں دیتا بلکہ پہلے وہ اپنی بات پر یعنی خدا اور اس کے فرمانوں پر ایمان رکھتا ہے" (الَّذِی یُؤْمِنُ بِاللهِ وَکَلِمَاتِہِ)۔ وہ صرف ان آیات کو قبول نہیں کرتا کہ جو اس کے اوپر نازل ہوئی ہیں بلکہ وہ تمام سچّے گذشتہ نبیوں کو بھی مانتا ہے۔ اس کا اپنے آئین پر ایمان لانا اس کے اعمال وکردار سے صاف آشکار ہے جو اس کی حقانیت پر ایک روشن دلیل ہے کیونکہ کسی کہنے والے کا عمل کافی حد تک اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اپنی بات پر خود کتنا ایمان رکھتا ہے، اپنی بات پر بات پر ایمان رکھنا اس کی صداقت کی دلیلوں میں سے ایک ہے، حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنے احکام کی کتنی لاج رکھتے تھے اور آپ کو اپنی گفتار پر کس قدر یقین وایمان تھا۔ ہاں "ایسے پیغمبر کی پیروی، تاکہ ہدایت کا نور تمھارے دلوں میں چمک اٹھے اور تم سعادت کے راستے پر چل پڑو" (وَاتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُونَ)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تنہا ایمان کافی نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت مفید ہے جب عملی پیروی کے ساتھ ساتھ ہو، اسی صورت میں یہ ایمان مکمل ہو گا۔ جاذبِ توجہ یہ امر ہے کہ آیت مذکورہ بالا مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب پیروانِ اسلام نہایت اقلیت میں تھے ان کی تعداد اس قدر کم تھی کی کسی کو یہ گمان نہ ہوتا تھا شاید پیغمبر اسلام ایک آنے والے وقت میں مکّہ پر مسلط ہو سکتے ہیں چہ جائیکہ جزیرة العرب یا دنیا کا ایک حصّہ ان کے زیرِ اقتدار آ سکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پیغمبر اسلام نے پہلے تو صرف مکّہ والوں کے لئے اپنی رسالت کا دعویٰ کیا تھا، پھر جب ان کے مشن نے قوت پکڑی اور لوگ زیادہ سے زیادہ دینِ اسلام اختیار کرنے لگے تو انھیں پورے حجاز پر قبضہ کرنے کی فکر ہوئی پھر اس کے بعد دیگر ممالک کو فتح کرنے کا خیال آیا اور دنیا کے مختلف بادشاہوں کو خط لکھے جانے لگے اور تب انھوں نے اپنے آئین کے عالمی ہونے کا اعلان کیا، ان تمام باتوں کا جواب آیہٴ مذکورہ بالا دے رہی ہے جو مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ آیت صاف اعلان کررہی ہے کہ آپ نے اپنی رسالت کے آغاز میں اس کے جہانی اور عالمی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 160 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بنی اسرائیل پر الله کی نعمتوں کی ایک جھلک
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل اور ان کی سرگزشت کی ذکر ہوا ہے۔ پہلی آیت میں ایک ایسی واقعیت کی طرف اشارہ ہے جس کی شبیہ اور مثل ہم قرآن میں دیکھ چکے ہیں، یہ ایک ایسی واقعیت ہے جو قرآن کریم کی روحِ حق طلبی کی حکایت کرتی ہے یعنی نیک کردار اقلیتوں کا پاس ولحاظ یعنی: ایسا نہ تھا کہ بنی اسرائیل تمام کے تمام فاسد ومفسد تھے جس کے نتیجے میں یہ قوم ایک سرکش وگمراہ قوم کی حیثیت سے پہچانی جائے، بلکہ ان کی فتنہ انگیز اکثریت کے مقابلے میں ان کی ایک ایسی اقلیت بھی تھی جو صالح تھی اور وہ اکثریت کے مذاق کے برخلاف تھی، قرآن اس صالح اقلیت کے لئے ایک خاص اہمیت کا قائل ہے، وہ کہتا ہے: اور قومِ موسیٰ میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور حق وعدالت کے ساتھ حاکم ہے (وَمِنْ قَوْمِ مُوسیٰ اُمَّةٌ یَھْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ)۔ ممکن ہے اس آیت کے ذریعے ان تھوڑے سے افراد کی طرف اشارہ مقصود ہو جنھوں نے سامری کے حکم کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا بلکہ وہ ہرحال میں حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے پیغام کے حامی وطرفدار تھے، یا اس سے وہ صالح گروہ مراد ہو جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے بعد برسرِ عمل آیا۔ لیکن یہ معنیٰ آیت کے ظاہر سے بہت زیادہ مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ "یھدون" اور "یعدلون" فعل مضارع کے صیغے ہیں جو کم از کم زمانہٴ حال یعنی زمان نزولِ قرآن کی حکایت کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسا گروہ اس وقت بھی موجود تھا، الّا یہ کہ یہاں پر ایک لفظ "کان" کو مقدر مانا جائے تاکہ اس آیت کا مطلب حال کے بدلے ماضی میں ہو جائے مگر ہمیں معلوم ہے کہ بغیر کسی قرینہ کے کسی لفظ کو عبارت میں مقدر کرنا خلافِ ظاہر ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم سے مراد زمانہٴ حضرت رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم کے زمانہ کے وہ انصاف پسند یہودی ہوں جنھوں نے آنحضرت کی دعوت پر توجہ دی اور بعدمیں وہ آہستہ آہستہ مسلمان ہوتے چلے گئے۔ یہ تفسیر اس آیت کے الفاظ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اب رہی یہ بات کہ بعض شیعہ اور سنّی روایات میں جو آیا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کا وہ چھوٹا سا گروہ ہے جو ماوراء چین میں زندگی بسر کرتا ہے، یہ لوگ عادلانہ، تقویٰ اور خدا سناشی اور خدا پرستی کی زندگی بسر کرتے ہیں، یہ تفسیر علاوہ اس کے کہ ہمارے اس علم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی جو ہمیں دنیا کے متعلق حاصل ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے، مذکورہ احادیث سند کی رُو سے بھی معتبر نہیں ہیں اس لئے ایسی روایات کا سہارا نہیں لیا جا سکتا ہے۔ *** اس کے بعد آیت میں ان چند نعمتوں کا ذکر ہے جو الله نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھیں: پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ گروہوں میں تقسیم کیا (وَقَطَّعْنَاھُمْ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا)۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جب ایک قوم کی تقسیم بندی انتظامی طور پر کی جائے جس کا ہر حصّہ یا ہر گروہ ایک لائق رہبر کے زیر انتظام بھی ہو تو اس کی نگہداشت وتربیت زیادہ آسان ہو جاتی ہے اور ان کے درمیان عدالت وانصاف کرنا بھی سہل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تمام ممالک اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اس قاعدہ کی پیروی کریں۔ کلمہ "اسباط" جمع ہے "سبط" (بروزن "ثبت" اسی طرح بروزن "سفت") کی جس کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کو بآسانی وسعت دینا، بعد ازاں اس لفظ کو اولادِ انسانی کی ایک خاص قسم یعنی نواسہ کو کہا جانے لگا۔ نیز خداندان کے دوسرے شعبوں کو بھی سبط یا اسباط کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو ملنے والی دوسری نعمت یہ تھی کہ وہ جس وقت اس تپتے ریگستان میں بیت المقدس کی طرف سفر کررہے تھے اور انھیں خطرناک اور جان لیوا تشنگی نے آ لیا اور انھوں نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) سے پانی طلب کیا تو "ہم نے موسیٰ کی طرف یہ وحی کی کہ اپنا عصا پتھر پر مارو، انھوں نے جب یہ عمل کیا تو ناگہاں اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے" (وَاَوْحَیْنَا إِلیٰ مُوسیٰ إِذْ اسْتَسْقَاہُ قَوْمُہُ اَنْ اضْرِب بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا)۔ اور یہ چشمے اس طرح سے ان کے درمیان تقسیم کر دیئے گئے کہ ان میں سے "ہر ایک بخوبی اپنے چشمے کو جانتا پہچانتا تھا" (قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَشْرَبَھُمْ)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بارہ چشمے جو اس عظیم پتھر سے نمودار ہوئے تھے، آپس میں الگ الگ نشانیاں رکھتے تھے اور ایک دوسرے سے مختلف تھے جس کی بناپر بنی اسرائیل کے قبائل میں سے ہر ایک اپنے چشمے کو پہچانتا تھا، اور یہ بجائے خود اس بات کا سبب تھا کہ بنی اسرائیل آپس میں اختلاف نہ کریں۔ان میں آپس کا نظم وانضباط برقرار ہے اور وہ آسانی کے ساتھ سیراب ہو جائیں۔ ایک اور نعمت الله کی طرف سے ان کو ملی تھی جبکہ وہ انتہائی گرم اور جھلسانے والے بیابان میں سرکردان تھے اور ان کے لئے سر چھپانے کی کوئی پناہ گاہ نہ تھی "کہ ہم نے ان کے اوپر بادل سایہ فگن کیا" (وَظَلَّلْنَا عَلَیْھِمْ الْغَمَامَ)۔ بالآخر چوتھی نعمت ان کے لئے یہ تھی کہ "من وسلویٰ کو دو لذیذ اور مقوی غذاؤں کے طور پر ان کے لئے بھیجا تھا(وَاَنزَلْنَا عَلَیْھِمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی)۔ "من وسلویٰ" ان دو دل پسند غذاؤں (جو الله نے اس بیابان میں بنی اسرائیل کو عطا فرمائی تھیں) کے بارے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں بیان کی ہیں جنھیں ہم اسی کتاب کی جلد اوّل میں سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۷ کی تفسیر میں بیان کرآئے ہیں، وہاں ہم نے کہا ہے کہ یہ بات بعید نہیں کہ "مَن" ایک طرح کا شہد تھا جو اطراف کے پہاڑوں میں پایا جاتا تھا، یا مخصوص درختوں کا شیرہ تھا جو اسی بیابان کے درختوں سے نکلتا تھا اور "سلویٰ" کبوتر کی طرح کا ایک پرندہ تھا۔ ("من وسلویٰ" کے بارے میں مزید توضیح کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ، جلد اوّل سورہٴ بقرہ آیت ۵۷ کے ذیل میں) اور ہم نے ان سے کہا کہ "جو پاک وپاکیزہ غذائیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ (اور خدا کے فرمان پر چلو) (کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ)۔ لیکن انھوں نے کھایا اور ناشکری کی، ان لوگوں نے "ہم پر ستم نہیں کیا بلکہ خود اپنی جانوں پر ستم ڈھایا" (وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِنْ کَانُوا اَنفُسَھُمْ یَظْلِمُونَ)۔ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اس آیت کا مضمون تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورہٴ کی آیت ۵۷ و۶۰ میں بھی گذر چکا ہے اِلّا یہ کہ وہاں پر بجائے "انبجست"کے "انفجرت" آیا ہے اور جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان دونوں لفظوں میں فرق یہ ہے کہ "انفجرت"کے معنی زیادہ پانی کے زور کے ساتھ پھوٹنے کے ہیں، جبکہ "انبجست" کے تھوڑے پانی کے باہر نکلنے کے ہیں۔ اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ چشمہ یک بیک زور اور کثرت کے ساتھ باہر نہیں نکل پڑا ورنہ اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا اور لوگ گھبرا جاتے بلکہ وہ پہلے آہستہ آہستہ اور کم مقدار میں نمایاں ہوا پھر اس کے بعد زور اور مقدار میں اضافہ ہوا، جبکہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ دونوں کلمے ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 162 کے تحت ملاحظہ کریں۔
الہی نعمتیں اور بنی اسرائیل کی سرکشی
Tafsīr Nemūna · Vol. 1پچھلی آیات کا تسلسل باقی رکھتے ہوئے، ان دو آیتوں میں بھی پروردگارِ عالم نے بنی اسرائیل کے لئے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ انھوں نے اپنی سرکشی اور طغیان کے ذریعے کسی طرح اس کا بدلہ دیا۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ اس سرزمین (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور وہاں کی بکثرت نعمتوں سے، ہر جگہ سے جس طرح چاہو استفادہ کرو (وَإِذْ قِیلَ لَھُمْ اسْکُنُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ وَکُلُوا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ)۔ اور ہم نے ان سے کہا "خداسے اپنے گناہوں کے جھڑنے اور اپنی خطاؤں کے بخشے جانے کی درخواست کرو اور بیت المقدس میں بڑی فروتنی کے ساتھ داخل ہو جاؤ (وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا)۔ پس اگر تم نے اس بات پر عمل کیا تو ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے اور تم میں سے جو نیکوکار ہیں انھیں بہتر بدلہ عطا کریں گے" (نَغْفِرْ لَکُمْ خَطِیئَاتِکُمْ سَنَزِیدُ الْمُحْسِنِینَ)۔ لیکن باوجودیکہ الله کی رحمت کے دروازے ان پر کھول دیئے گئے تھے اور انھیں اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس موقع سے استفادہ کریں تو اپنے گذشتہ اور آئندہ اعمال کی اصلاح کر لیں مگر بنی اسرائیل کے ظالموں نے نہ صرف یہ کہ اس موقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ انھوں نے فرمانِ پروردگار کے برعکس عمل کیا (فَبَدَّلَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَھُمْ)۔ "آخرکار ان کی اس نافرمانی اور اپنی حانوں پر ستم کرنے کی وجہ سے ہم نے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا" (فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ)۔ اس بات کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ ان دونوں آیتوں کا مضمون بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورہٴ بقرہ کی آیت ۵۸ اور ۵۹ میں آ چکا ہے اور اس کی تفسیر بھی ہم شرح وبسط کے ساتھ وہاں بیان کر چکے ہیں(ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد اوّل) دونوں مقامات پر جو فرق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ یہاں پر آخر میں فرمایا گیا ہے: "بِمَا کَانُوا یَظْلِمُونَ" اور وہاں ارشاد ہوا ہے: "بِمَا کَانُوا یَفْسقُونَ"اور شاید ان دونوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ گناہوں کے دو رخ ہوتے ہیں، ایک وہ جس کا تعلق خدا سے ہوتا ہے دوسرا وہ جس کا تعلق خود انسان سے ہوتا ہے۔ سورہٴ بقرہ کی آیت میں لفظ "فسق" استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے: "پروردگارِ عالم کے فرمان سے خروج" جبکہ اِس آیت میں "ظلم" سے تعبیر کرکے دوسرے رخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
"حطّة" کیا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں؟
"حطّة" کیا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں؟ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ملا تھا کہ جب وہ بیت المقدس میں وارد ہوں تو ایک خالص اور واقعی توبہ کے ذریعہ جو لفظ "حطّہ" کے اندر مضمر ہے، اپنے دل ودماغ کو گناہوں کی آلائش سے دھو ڈالیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں جو بیت المقدس پہنچنے سے پہلے انھوں نے خصوصاً اپنے اس عظیم پیغمبر حضرت موسیٰ(علیه السلام) کو تکلیفیں پہنچائی تھیں ان سب کی خدا سے معافی طلب کریں۔ کلمہ "حطّہ" جو بیت المقدس پہنچنے کے وقت ان لوگوں کا نعرہ تھا "مسئلتنا حطّة" کا مخفف تھا جس کے معنی ہیں "ہم اپنے گناہوں کے جھڑنے کا سوال کرتے ہیں" کیونکہ "حطّہ" کے معنی کسی چیز کے اوپر سے نیچے کی طرف آنے کے ہیں۔ لیکن اس نعرہ کا مقصد صرف یہ نہ تھا کہ دوسرے نعروں کی طرح یہ بھی صرف اپنی پر آ کر رہ جائے اور دل گہرائیوں میں نہ اترے، نہیں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ ان کی زبان کی روح اور ان کے تمام ذرّاتِ وجود کی ترجمان ہو لیکن جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے ان میں سے بہتوں نے اس اصلاحی نعرہ کو بھی مسخ کر دیا اور اسے ایک ناشائستہ شکل دے دی اور اسے مذاق اڑانے کا ذریعہ بنا لیا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 166 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک عبرت انگیز سرگذشت
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں بنی ا سرائیل کی ایک اور پُرحوادث سرگزشت کا ذکر ہے۔ اس میں بنی اسرائیل کی اس جماعت کا تذکرہ ہے جو سمندر کے کنارے رہتی تھی۔ مگر یہ کہ ان آیات میں خطاب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ہے اور ان سے کہا گیا کہ تم اپنے زمانے کے یہودیوں سے ان لوگوں کے متعلق سوال کرو۔ مقصد یہ ہے کہ اس واقعے کی یاد ان کے ذہنوں میں سوال کے ذریعے تازہ کرو تاکہ یہ اس سے عبرت حاصل کریں اور طغیان وسرکشی اور اس کے نتیجے میں انھیں جو سزا ملنے والی ہے اس سے اجتناب کریں۔ جیسا کہ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے یہ سرگزشت بظاہر ان یہودیوں کی ہے جو ایک سمندر (بظاہر بحیرہٴ احمر جو فلسطین کے پاس ہے) کے کنارے شہر "راملہ" (جسے آج کل "ایلات" کہتے ہیں) میں رہتے تھے۔ ان کی آزمائش کے لئے الله نے انھیں حکم دیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کریں، سارے دنوں میں شکار کریں صرف ایک دن تعطیل کر دیا کریں لیکن ان لوگوں نے اس حکم کی صریحاً مخالفت کی جس کے نتیجے میں وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوئے جس کی تفصیل ان آیات میں بیان کی گئی ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: جو یہودی تمھارے زمانہ میں موجود ہیں ان سے اس شہر کے ماجرے کے متعلق سوال کرو جو سمندر کے کنارے آباد تھا (وَاسْاَلْھُمْ عَنْ الْقَرْیَةِ الَّتِی کَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ)۔ "اور انہیں وہ زمانہ یاد دلاو جبکہ وہ ہفتہ کے روز قانونِ الہی کی مخالفت کرتے تھے۔" (اذ یعدون فی السبت) کیونکہ ہفتہ کے روز ان کی تعطیل کا دن تھا جس میں ان کوحکم ملا تھا کہ اس روز وہ اپنا کاروبار ترک کر دیں اور عبادتِ حدا میں مشغول ہوں لیکن انھوں نے اس حکم کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد قرآن کریم اس جملے کی جو اجمالی طور پر پہلے گذر چکا ہے اس طرح تشریح کرتا ہے کہ "یاد کرو جب ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر ظاہر ہوتی تھیں اور دوسرے دنوں میں وہ کم دکھلائی دیتی تھیں" ( إِذْ تَاْتِیھِمْ حِیتَانُھُمْ یَوْمَ سَبْتِھِمْ شُرَّعًا)۔ "سبت" کے معنی لغت میں استراحت کے لئے تعطیل کرنے کے ہیں اور یہ جو قرآن میں سورہٴ "نباٴ" (عمّ یتسائلون)میں ہم پڑھتے ہیں: وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا ہم نے تمھاری نیند کو استراحت کا سبب قرار دیا ہے۔ اس سے بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ چونکہ ہفتہ کے روز یہودیوں میں کاروبار بند ہو جاتا ہے اس لئے اس دن کو"سبت" کہا جانے لگا اور یہی نام آج تک باقی رہ گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ لوگ سمندر کے کنارے زندگی بسر کرتے تھے ان کی خوراک اور آمدنی کا بڑا ذریعہ مچھلی کا شکار ہوتا تھا اور چونکہ ہفتہ کے روز مسلسل تعطیل ان کے درمیان رائج رہی تھی لہٰذا اس روز مچھلیاں امن محسوس کرتی تھیں اور وہ گروہ در گروہ پانی کی سطح پر ظاہر ہوتی تھیں لیکن دوسرے دنوں میں چونکہ ان کا شکار کیا جاتا تھا اس لئے وہ گہرے پانی میں بھاگ جاتی تھیں۔ بہرحال یہ کیفیت چاہے کسی فطری امر کے نتیجہ میں ہو یا کوئی خلاف معمول الٰہی بات ہو اس سے ان لوگوں کی آزمائش مطلوب تھی جیسا کہ قرآن بیان کرتا ہے: ہم نے اس طرح ان لوگوں کی آزمائش کی اس چیز کے ذریعے جس کی وہ مخالفت کرتے تھے (کَذٰلِکَ نَبْلُوھُمْ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ) درحقیقت جملہٴ "بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ" کے ذریعے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی آزمائش اس چیز کے ذریعے کی گئی تھی جو انھیں اپنی طرف جذب کرتی تھی اور انھیں نافرمانی کی طرف دعوت دیتی تھی اور تمام آزمائشیں اسی طرح کی ہوتی ہیں کیونکہ آزمائش کا کام یہ ہے کہ وہ کشش گناہ کے مقابلہ میں لوگوں کی قوت کو معین کرے، اگر گناہ اپنے میں کوئی کشش نہ رکھے تو آزمائش کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا۔ جس وقت بنی اسرائیل اس بڑی آزمائش سے دوچار ہوئے جو ان کی زندگی کے ساتھ وابستہ تھی تو وہ تین گروہوں میں بٹ گئے: اوّل: جن کی اکثریت تھی، وہ لوگ جنھوں نے اس فرمان الٰہی کی مخالفت پر کمر باندھ لی۔ دوّم: جو حسب معمول ایک چھوتی اقلیت پر مشتمل تھا وہ گروہِ اوّل کے مقابلے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی شرعی ذمہ داری ادا کرتا تھا۔ سوّم: یہ وہ لوگ تھے جو ساکت اور غیرجانبدار تھے۔ یہ نہ تو گنہگاروں کے ساتھ تھے اور نہ انھیں گناہوں سے منع کرتے تھے۔ دوسری زیرِ بحث آیت میں اس گروہ نے دوسرے گروہ سے جو گفتگو کی ہے اسے نقل کیا گیا ہے: اس وقت کو یاد جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے سے کہا: تم ان لوگوں کو کیوں وعظ ونصیحت کرتے ہو جنھیں آخرکار خدا ہلاک کرنے والا ہے یا دردناک عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے (وَإِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِنْھُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُھْلِکُھُمْ اَوْ مُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیدًا)۔ (تشریحی نوٹ: ان لوگوں کو "امة منھم" سے جو تعبیر کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروہِ اوّل سے تعداد میں کم تھا کیونکہ پہلے گروہ کے لئے "قوماً" کی تعبیر استعمال کی گئی ہے (بغیر کلمہٴ "منھم" کے) بعض روایات میں اس طرح ملتا ہے کہ اس شہر کی تعداد اسّی ہزار سے زیادہ تھی جس میں ستّر ہزار نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا۔بحوالہ: تفسیر برہان، ج۲، ص۴۲) انھوں نے جواب میں کہا:ہم اس لئے برائی سے منع کرتے ہیں کہ خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور وہ اس بارے میں ہم سے کوئی بازپرس نہ کرے۔ علاوہ ازیں شاید ان کے دلوں میں ہماری باتوں کا اثر ہو جائے اور وہ طغیان وسرکشی سے ہاتھ اٹھالیں (قَالُوا مَعْذِرَةً إِلیٰ رَبِّکُمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَّقُونَ)۔ مذکورہ بالا جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نصیحت کرنے والے دو غرض کے ماتحت یہ کام انجام دیتے تھے، ایک تو یہ کہ شاید گناہگاروں کے دل میں یہ بات اتر جائے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر احتمالِ تاثیر نہ بھی ہو تب بھی نصیحت کرنا چاہیے، جبکہ مشہور یہ ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی اوّلین شرط یہ ہے کہ احتمال تاثیر ہو۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حقائق اور اپنی ذمہ داریوں کا بیان کرنا واجب ہو جاتا ہے چاہے تاثیر کا احتمال نہ بھی ہو۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب حالت یہ ہو کہ اگر حکمِ الٰہی بیان نہ کیا جائے اور گناہ پر تنقید نہ کی جائے تو وہ حکمِ الٰہی نذر طاقِ نسیان کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ حکمِ خدا کو آشکارا طور پر ہر جگہ بیان کیا جائے چاہے گنہگاروں پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ نہی کرنے والے یہ کہتے تھے: ہم چاہتے ہیں کہ تمھارے پروردگار کی بارگاہ میں ہم معذور سمجھے جائیں۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ تم بھی خدا کے سامنے مسئولیت رکھتے ہو یہ صرف ہماری شرعی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تمھاری ذمہ داری بھی ہے۔ اس کے بعد والی آیت کہتی ہے کہ: آخرکار دنیا پرستی نے ان پر غلبہ کیا۔اور انھوں نے خدا کے فرمان کو فرماوش کر دیا، اس وقت ہم نے ان لوگوں کو جو لوگوں کو گناہ سے منع کرتے تھے، نجات دی، لیکن گناہگاروں کو ان کے گناہ کے سبب سخت عذاب میں مبتلا کر دیا (فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ اَنْجَیْنَا الَّذِینَ یَنْھَوْنَ عَنْ السُّوءِ وَاَخَذْنَا الَّذِینَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِیسٍ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ)۔(تشریحی نوٹ: لفظ "بئیس" کی "باٴس" ہے جس کے معنی "شدید" ہیں۔) اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ "‘فراموشی" ایسی حقیقی فراموشی نہ تھی جو موجب عذر ہوتی ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے خدائی فرمان سے اس طرح بے اعتنائی برتی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ انھوں نے اسے بالکل فراموش کر دیا ہے۔ اس کے بعد انھیں سزا دیئے جانے کی کیفیت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے: انھوں نے اس بات کے مقابلے میں سرکشی کی جس سے انھیں روکا گیا تھا (لہٰذا) ہم نے ان سے کہا دھُتکارے ہوئے بندروں کی شکل میں ہو جاؤ (فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُھُوا عَنْہُ قُلْنَا لَھُمْ کُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِینَ)۔(تشریحی نوٹ: لفظ "عتوا" کی اصل "عتو"(بروزن "غلو") ہے جس کے معنی ہیں: "نافرمانی" جن مفسرین نے اس کے معنی "رکنے" کے کئے ہیں وہ اہل لغت کے اقوال کے خلاف ہے۔) ظاہر ہے کہ امر "کونوا" (ہو جاؤ) یہاں پر ایک فرمانِ تکوینی ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے: <إِنَّمَا اَمْرُہُ إِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ (یاسین/۸۲)
چند قابل توجہ باتیں: ۱۔ بنی اسرائیل نے کس طرح گناہ کیا تھا؟
اس امر میں کہ بنی اسرائیل نے کس وقت قانون شکنی کی، مفسرین کے درمیان بحث ہے۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ایک حیلہ اختیار کیا، انھوں نے سمندر کے کنارے بہت سے حوض بنا لیے تھے اور انھیں نہروں کے ذریعے سمندر سے ملا دیا تھا۔ ہفتہ کے روز ان حوضوں کے راستے کھول دیتے تھے پانی کے ساتھ مچھلیاں ان حوضوں کے اندر آجاتی تھیں، غروب کے وقت جب واپس جانا چاہتی تھیں تو واپسی کا راستہ بند کر دیتے تھے۔ جب اتوار کا دن ہوتا تھا تو پھر ان کا شکار کر لیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم نے ہفتہ کے روز شکار تھوڑا کیا ہے بلکہ ہم نے صرف انھیں حوضوں میں محصور کر لیا تھا اصل شکار تو اتوار کے زور ہُوا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان/ج۲،ص۴۲. یہ بات ابن عباس سے تفسیر مجمع البیان میں بھی اس آیت کے ذیل میں نقل ہوئی ہے) ۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ وہ لوگ ہفتہ کے روز پکرنے کے کانٹوں کو دریا میں ڈال دیتے تھے اس کے بعد جب اس میں مچھلیاں پھنس جاتی تھیں تو دوسرے روز انھیں نکال لیتے تھے اور اس حیلہ سے ان کا شکار کرتے تھے۔ بعض روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بغیر کسی حیلہ کے بروز شنبہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ شکار میں مشغول ہوتے تھے۔ ممکن ہے یہ تمام روایات صحیح ہوں اس طرح کہ ابتداء میں حوضوں یا قلابوں کے ذریعے حیلے سے شکار کرتے ہوں، جب اس طرح سے ان کی نظر میں گناہ کی اہمیت کم ہو گئی ہو تو پھر انھوں نے اعلانیہ گناہ کرنا شروع کر دیا ہو اور ہفتہ کے دن کی حرمت کو ضائع کرکے مچھلی کی تجارت سے مالدار ہو گئے ہوں۔
۲۔ کن لوگوں کو عذاب سے نجات ملی؟
مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تین گروہ تھے: ۱۔ افراد گناہگار. ۲۔ سکوت کرنے والے. ۳۔ نصیحت کرنے والے. ان میں تیسرے گروہ کو عذاب الٰہی سے رہائی نصیب ہوئی اور جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انھوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی بات نہیں مانتے اور برابر گناہ میں مشغول ہیں تو انھیں دُکھ ہوا اور انھوں نے کہا، اب ہم شہر سے باہر چلے جاتے ہیں اب ہم تم لوگوں کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ رات کے وقت شہر سے باہر چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد عذابِ خدا نازل ہو گیا جس نے باقی دونوں گروہوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بعض مفسرین نے یہ جو خیال کیا ہے کہ یہ عذا صرف گناہگار افراد پر نازل ہُوا تھا اور جو لوگ خاموش تھے وہ بھی محفوظ بچ گئے تھے، بظاہر مذکورہ بالا آیت سے موافقت نہیں رکھتا۔
۳۔ کیا دونوں گروہوں کو ایک ہی طرح کی سزا ملی؟
مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ مسخ ہونے کی سزا گنہگاروں کے ساتھ مخصوص تھی کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: "فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُھُوا عَنْہُ ..." (جب انھوں نے اس چیز کے مقابلے میں سرکشی کی جس سے انھیں روکا گیا تھا...) لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب سے نجات پانے والے صرف وہ لوگ تھے جو بدکاروں کو برائی سے روکتے تھے؛ کیونکہ ارشاد ہوتا ہے: "اَنْجَیْنَا الَّذِینَ یَنْھَوْنَ عَنْ السُّوءِ" ہم نے ان لوگوں کو عذاب سے نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے۔ ان دونوں آیتوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سزا تو دونوں گروہوں کی ملی تھی لیکن مسخ کیے جانے کی سزا صرف گنہگاروں کو ملی تھی، جبکہ دوسرے لوگوں کی سزا احتمال کے طور پر صرف ان کی ہلاکت تھی؛ اگرچہ گنہگار افراد بھی مسخ ہونے ہونے کے بعد چند روز بعد مر گئے تھے(تشریحی نوٹ: اگر بعض روایات سے اس کے برخلاف کوئی بات سامنے آتی ہے تو وہ جہاں آیت مذکورہ کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے قابل غور اعتماد نہیں ہو سکتی وہاں سند کے لحاظ سے بھی اس کی تضعیف کی گئی ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ اس کے راوی سے غلطی ہو گئی ہو۔)
۴۔ بنی اسرائیل کا مسخ جسمانی تھا یا روحانی؟
"مسخ" یا دوسرے لفظوں میں "انسانی شکل کا کسی حیوان کی شکل میں تبدیل ہو جانا" مسلّمہ طور پر ایک خلافِ معمول اور خلافِ طبیعت بات ہے۔ اگرچہ میوٹیشن (MUTATION) بعض حیوانات کا دوسرے کی شکل اختیار کر لینا نادر طور پر دیکھا گیا ہے اور سائنس میں تکامل حیات کی بنیاد بھی اسی بات پر رکھی گئی ہے، لیکن میوٹیشن (MUTATION) جہاں دیکھا گیا ہے وہ بہت نادر المواقع موارد ہیں، وہ بھی حیوانات کی جزوی صفات میں پایا جاتا ہے نہ کہ ان کی کلی صفات میں۔ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ میوٹیشن (MUTATION) کی وجہ سے ایک حیوان اپنی نوع مثلاً بندر سے بکری بن گیا ہو۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی حیوان کی خصوصیات دگرگوں ہو جائیں، پھر یہ کہ یہ تبدیلی اس کی نسل میں پیدا ہوتی ہے نہ کہ جو حیوان پیدا ہو گیا ہے اس کی شکل یک بیک بدل گئی ہو۔ بنابریں، کسی انسان یا حیوان کی شکل کا بدل کر دوسری نوع اختیار کر لینا ایک خلافِ معمول بات ہے۔ ہم نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جو طبیعت اور عادت کے برخلاف واقع ہوتے ہیں جو کبھی تو پیغمبروں کے معجزوں کی صورت میں اور کبھی بعض خارق العادت کاموں کی صورت میں بعض انسانوں سے ظاہر ہوتے ہیں چاہے وہ انسان پیغمبر نہ بھی ہوں۔ (ایسے افعال میں اور معجزات میں فرق ہوتا ہے) لہٰذا جب خارق العادت امور اور معجزات کے وقوع کو قبول کر لیا جائے تو مسخ ہو جانا یا ایک انسان کا دوسرے انسان کی صورت اختیار کر لینا کوئی خلاف عقل بات نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے اعجاز انبیاء کی بحث میں بیان کیا ہے کہ اس طرح کا خارق العادت واقع رونما ہونا، نہ تو قانون علل واسباب میں کوئی استثنا ہے اور نہ ہی عقل وخرد کے برخلاف، بلکہ اس میں صرف ایک "عادی" وطبیعی کلیہ کی شکست ہے جس کی نظیر ہم نے بعض استثنائی انسانوں میں بارہا دیکھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض معاصر اہلِ قلم نے مدارک اور حوالوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ایسے استثنائی انسانوں یا حیوانوں کے حالات پر کتاب لکھی ہے جو بہت دلچسپ ہے، ان میں سے ایسے لوگوں کا تذکرہ ہے جو اپنی غلطیوں کے ذریعے تحریر کو پڑھ سکتے ہیں! یا ایک عورت جس نے دو مہینوں کے فاصلہ سے دوبارہ بچہ جنم دیا اور ہر دفعہ دو جڑواں بچے پیدا ہوئے یا ایک بچہ متولد ہوا جس کا دل قفس سینہ کے اوپر تھا، یا ایک ایسی عورت جسے بچہ پیدا ہونے تک اپنے حاملہ ہونے کی کوئی اطلاع نہ تھی۔ اسی طرح کے دیگر خارقِ عادت واقعات مذکورہ بالا امور کے حوالوں کے لئے ملاحظہ کریں کتاب، "آیا صبح نزدیک نیست"، ۸۴۔۸۶.) بنابریں، اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کلمہ "مسخ" کاجو ظاہری مفہوم ہے اسی کو ماناجائے جو اس آیت میں بھی آیا ہے اور دیگر آیات میں بھی آیا ہے نیز دیگر مفسرین نے بھی زیادہ تر یہی معنی مراد لیے میں. لیکن بعض مفسرین جو اقلیّت میں ان کا خیال ہے کہ مسخ سے "مسخ روحانی" اور صفات اخلاقی کی تبدیلی مراد ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ان سرکش لوگوں میں بندر خنزیر کی صفات پیدا ہو گئی تھیں۔ مثلاً اندھی تقلید کرنا، شکم پرستی اور شہوت رانی جو ان جانوروں کی نمایاں صفتیں ہیں، وہ ان میں نمایاں ہو گئی تھیں۔ مذکورہ احتمال ایک قدیمی مفسّر "مجاہد" سے نقل کیا گیا ہے۔ بعض افراد نے یہ کہا ہے کہ "مسخ" ہونا قانونِ تکامل کے خلاف اور خلقتِ تدریجی سے پیچھے ہٹنا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیونکہ "قانونِ تکامل"ان افراد سے مخصوص ہے جو راہِ تکامل پر گامزن ہوں، نہ ان مخلوقات کے لئے جو اس جادہ سے منحرف ہو گئی ہوں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک سالم وتندرست انسان اپنے بچپن میں برابر نشو ونما کرتا ہے، لیکن اگر اس کے بدن میں کوئی نقص پیدا ہو جائے تو ممکن ہے کہ نہ صرف اس کی نشو ونما رک جائے، بلکہ وہ عقب کی طرف پلٹ جائے اور اس کی ذہنی اور جسمانی ترقی تدریجاً ضائع ہو جائے۔ لیکن ہرحال میں یہ ملحوظِ نظر رکھنا چاہیے کہ وہ مسخ ہونا ہو یا جسمانی تغیّر، یہ ان اعمال کی مناسبت سے ہو گا جنھیں یہ شخص گنہگار بجا لاتا رہا ہے، یعنی چونکہ گنہگاروں میں کچھ افراد نے نفس پرستی اور شہوت رانی کے جذبہ سے متاثر ہوچ کر خدا کی نافرمانی کی، جبکہ دوسرے افراد وہ تھے جنھوں نے اندھی تقلید کی عادت کی بناپر گناہ کیا لہٰذا مسخ کیے جانے کے وقت ہر گروہ اپنے اعمال کی مناسب شکل میں ظاہر ہوا۔ اگرچہ زیرِ بحث آیات میں صرف "قردة" (بندروں) کا ذکر آیا ہے اور "خنازیر" (سُوروں) کا تذکرہ نہیں ہے لیکن سورہٴ مائدہ کی آیت ۶۰ میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی تذکرہ ہے جن کی صورت مسخ کے وقت مذکورہ بالا دونوں جانورں (بندر اور سُور) کی ہو گئی تھی، بعض مفسرین مثلاً ابن عباس کے قول کے مطابق یہ آیت بھی انہی اصحاب سبت کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی شکم پرست اور بوالہوس بوڑھے خنزیر کی شکل میں اور اندھی تقلید کرنے والے جوان بندروں کی شکل میں مسخ ہو گئی تھی۔ لیکن اس امر کی طرف بھی توجہ رکھنا چاہیے کہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مسخ ہونے والے انسان صرف چند روز زندہ رہ کر مر گئے اور ان کی نسل بھی دنیا میں باقی نہیں رہی تھی۔
۵۔ شریعت کی آڑ میں الہی فرمان کی خلاف ورزی
اگرچہ مذکورہ آیات میں اصحاب سبت کی حیلہ گری کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے سابقاً اشارہ کیا کہ بہت سے مفسّرین نے ان آیات کی شرح میں چھوٹے چھوٹے حوض بنانے یا ہفتہ کے دن دریا میں کانٹے ڈالنے کی داستان بیان کی ہے۔ نیز روایات اسلامی میں بھی یہ امر دکھلائی دیتا ہے۔ بنابریں، سزا اور کیفر جو اس شدّت کے ساتھ ان لوگوں کو مل اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیلہ گری اور شریعت کی آڑ لینے کی وجہ سے حقیقتِ گناہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گناہ بہرحال گناہ ہے چاہے وہ اعلانیہ طور پر کیا جائے یا شریعت کی آڑ لے کر کیا جائے۔ لہٰذا وہ لوگ اس خام خیال میں مبتلا ہیں کہ گناہ اور حرام فعل کو توڑ موڑ کر شریعت کی آڑ میں جائز کیا جا سکتا ہے۔ وہ درحقیقت خود فریبی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ بدبختی سے یہ حرکت بعض ایسے نادانوں میں دیکھی گئی ہے جو اپنے کو دین کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں اور یہی بات ہے جس کی وجہ سے دین ومذہب کا چہرہ دور سے دیکھنے والوں کی نگاہ میں سخت بدنما معلوم ہوتا ہے۔ اس عمل میں مذہب کے چہرہ کو بدنما کرنے کے علاوہ ایک بہت بُرائی جو ہے وہ یہ ہے کہ اس سے دوسروں کی نظر میں گناہ حقیر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دیگر افراد میں اسے کرنے کی جرئت پیدا ہو جاتی ہے۔ ”نہج البلاغہ“ میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حضرت رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلّم سے یہ حدیث نقل کی ہے: ایک روز ایسا بھی آئے گا جبکہ لوگوں کی آزمائش ان کے مالوں کے ذریعے سے کی جائے گی، یہ خدا پر احسان جتاتے ہیں کہ دیندار ہیں اور اس عالم میں وہ خدا کی رحمت کے امیدوار بھی ہیں اور اس کے عذاب سے خود کو امان میں سمجھتے ہیں۔ ”یستحلون حرامہ بالشبھات الکاذبة والاھواء الساھیة فیستحلون الخمر بالنبیذ والسحت بالھدیة والربا بالبیع“ یہ حرام خدا کو جھوٹے شبہات اور واہیات افکار کے ذریعے حلال سمجھتے ہیں، شراب پر ”نبیذ“، رشوت پر ”ہدیہ“اور ”ربا“ پر ”بیع“ کا لیبل لگاکر اپنے اوپر حلال کرلیتے ہیں۔ (نہج اللاغہ،۱۵۶ویں خطبہ کا آخری حصّہ) (تشریحی نوٹ: "نبیذ" کے معنی یہ ہیں کہ تھوڑی سی کھجور یا کشمش کسی برتن میں پانی کے ساتھ بھگو دیتے تھے، اسے چند روز گذر جاتے تھے، اس کے بعد وہ پانی صاف کر کے پیتے تھے۔ اس کو اگرچہ شراب تو نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن گرمی کے اثر سے اس میں جو میٹھا تھا وہ ایک ہلکے "الکحل" کی شکل میں تبدیل ہو جاتا تھا ۔) اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ اس قسم کی حیلہ گریوں کا باعث یا تو یہ تھا کہ وہ اپنے باطنی چہرہ کو افکارِ عمومی سے چھپانا چاہتے تھے یا وہ اس سے خود کو دھوکا دیتے تھے۔
۶۔ آزمائش الٰہی کی مختلف شکلیں
یہ بات درست ہے کہ دریا کے ساحل پر رہنے والوں کے لئے مچھلی کا شکار کرنا کوئی بُرا کام نہیں ہے لیکن یہ بات ممکن ہے کہ کبھی خدا آزمائش کے طور پر کچھ لوگوں کو اس عمل سے منع کر دے تاکہ ان کی فداکاری کا حال معلوم ہو جائے۔ یہ خدائی امتحان وآزمائش کی شکل ہے۔ علاوہ ازیں، روز شنبہ یہودیوں کے دین میں ایک مقدس دن تھا، اس دن شکار سے منع کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ اس دن دنیاوی کاموں کی تعطیل کرکے پوری طرح سے خدا کی طرف متوجہ ہو جائیں اور الله کی عبادت کریں۔ لیکن شہر ”ایلہ“ کے ساحل نشینوں نے ان تمام باتوں کو نظر انداز کر دیا اور کھلے دل کے ساتھ الله کے حکم کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے انھیں ایسی سخت سزا ملی جو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے درسِ عبرت بن گئی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 168 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں کا پراکندہ ہونا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1درحقیقت ان آیات میں قوم یہود کی ان دنیوی سزاؤں کا ایک حصّہ بیان کیا گیا ہے جو انھیں اس وجہ سے دی گئیں کہ انھوں نے فرمانِ الٰہی کا مقابلہ اپنی نافرمانی اور سرکشی سے کیا، اور حق وعدالت کو اپنے پَیروں تلے روند ڈالا۔ سب سے پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے یہ خبر دی تھی کہ اس گنہگار قوم پر کچھ ایسے لوگ مسلط کرے گا جو قیامت تک کے لئے انھیں عذاب دیتے رہیں (وَإِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْھِمْ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَنْ یَسُومُھُمْ سُوءَ الْعَذَابِ)۔ "تَاَذَّنَ" اور "اذن"دونوں کے معنی اطلاع اور خبر دینے کے ہیں، نیز اس کے معنی قسم کھانے کے بھی ہیں، اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے خدا نے یہ قسم کھائی ہے کہ وہ ان لوگوں پر ایسے لوگوں کو مسلط کرے گا جو قیامت تک کے لئے ان کو تکلیف وعذاب دیتے رہیں گے۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سرکش گروہ قیامت تک راحت وآرام نہ پائے گا چاہے اپنے لئے ایک حکومت وسلطنت بنالے، اس کے باوجود ہمیشہ اغیار کے دباؤ اور رنج والم میں مبتلا رہے گا الّا یہ کہ قوم واقعاً اپنا طریقہٴ کار بدلے اور ظلم وفساد سے اپنا ہاتھ روک لے۔ آیت کے آخر میں اضافہ فرمایا گیا ہے: تمھارا پروردگار ایسا ہے کہ مستحقینِ عذاب کے لئے اس کی سزا بھی جلدی ہے اور توبہ کرنے والوں کے لئے اس کی بخشش ومہربانی بھی (إِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ اس جملہ سے پتہ چلتا ہے کہ خداوندکریم نے ان کے لئے واپسی کا راستہ کھلا رکھا ہے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ قسمت کے لکھے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوئی کہ وہ بدبخت ہو کر الٰہی سزا کے مستوجب بنے۔ اس کے بعد کی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودی سارے جہاں میں کس طرح تتر بتر ہو گئے: ہم نے انھیں زمین میں تبر بتر کر دیا اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے، ان میں سے بعض صالح ونیکوکار تھے اسی بنا پر جب انھوں نے حضرت رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلّم کے فرمانِ حق کو سنا تو وہ فوراً ایمان لے آئے اور بعض دیگر افراد ایسے (حق پرست) نہ تھے چنانچہ انھوں نے حق کی دعوت کو پسِ پشت ڈال دیا اور اپنی مادّی زندگی کو اچھا بنانے کے لئے کسی عمل سے دریغ نہیں کیا (وَقَطَّعْنَاھُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا مِنْھُمْ الصَّالِحُونَ وَمِنْھُمْ دُونَ ذٰلِکَ)۔ اس آیت میں یہ حقیقت دوبارہ ظہور پذیر ہو رہی ہے کہ اسلام کو نسلِ یہود سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی اسلام انھیں ایک خاص مذہب یا خاص مکتبِ فکر رکھنے کی وجہ سے بُرا سمجھتا ہے، بلکہ ان کی قدر وقیمت ان کے اعمال کے لحاظ سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: ہم نے مختلف ذریعوں سے نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے ان کا امتحان لیا کہ شاید وہ پلٹیں (وَبَلَوْنَاھُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ)۔ کبھی ہم نے انھیں شوق دلایا اور انھیں خوشحالی اور نعمت میں رکھا تاکہ ان میں شکرگزاری کا احساس بیدار ہو اور وہ حق کی طرف پلٹ کر آجائیں، اور کبھی اس کے برخلاف انھیں سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ غرور وتکبّر کی سواری سے اتر آئیں اور اپنی کمزوری وناتوانی کا احساس کریں اور بیدار ہوں اور خدا کی طرف پلٹیں، ان دونوں طریقوں کے استعمال کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ ان کی اخلاقی تربیت ہو اور وہ حق کی جانب پلٹ کر آئیں۔ لہٰذا لفظ "حسنات" ہر طرح کی نعمت، خوش حالی، آسائش اور آرام اپنے مفہوم میں لئے ہے جبکہ لفظ "سیئات" ہر طرح کی تکلیف اور سختی کا مفہوم لئے ہوئے ہے۔ لہٰذا ان دونوں لفظوں کے معنی کو اچھائیوں اور برائیوں میں محدود کرنے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 170 کے تحت ملاحظہ کریں۔
یہودیوں کی دنیا پر فریفتہ نسل
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیات میں ان کے بزرگوں کا تذکرہ کیا گیا تھا لیکن مذکورہ بالا آیت میں ان کے فرزندوں اور ذریّت کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ پہلے اس بات کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ "ان کے بعد ان کی اولاد ان کی جانشین ہوئی جنھوں نے اپنے اجداد سے کتاب توریت کی میراث پائی لیکن اس کے باوجود وہ اس دنیائے فرومایہ کے زیب وزین پر فریفتہ ہو گئے اور انھوں نے اپنے مادّی فائدوں کے بدلے حق وہدایت کو فروخت کر ڈالا" (فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْکِتَابَ یَاْخُذُونَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنَی)۔ "خلف" (بروزنِ "حرف") بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ لفظ غیر صالح اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے، جبکہ "خلف" (بروزنِ "شرف") کے معنی صالح ونیک اولاد کے ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان وتفسیر ابوالفتوح رازی زیرِ بحث آیت کے ذیل میں) اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے کہ وہ لوگ جس وقت اس کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ایک طرف انھیں وجدان منع کرتا ہے اور دوسری طرف ان کے مادّی منافع برائی کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس وقت وہ جھوٹی امیدوں کا سہارا لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: اس وقت تو ہم اس منفعت کو جائز یا ناجائز جس طرح بھی ہو حاصل کر لیں، خدائے رحیم ومہربان ہمیں بخش دے گا (وَیَقُولُونَ سَیُغْفَرُ لَنَا)۔ اس جملے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ اس قسم کے کام کرنے کے بعد زود گذر پشیمانی اور جھوٹی توبہ کی حالت میں مبتلا ہوتے تھے لیکن جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ان کی یہ ندامت وپشیمانی ناپائیدار ہوتی تھی۔ اسی بناپر اگر اسی طرح کا فائدہ انھیں دوبارہ ملتا تھا تو اسے وہ حاصل کر لیتے تھے(وَإِنْ یَاْتِھِمْ عَرَضٌ مِثْلُہُ یَاْخُذُوہُ)۔ "عرض" (بروزنِ "غرض") کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو عارضی، کم دوام اور ناپائیدار ہو(تشریحی نوٹ: اس امر کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ "عرض" (بروزنِ "غرض") دو مختلف الفاظ ہیں جن کے معنی بھی مختلف ہیں کیونکہ پہلے لفظ کے معنی مادّی دنیا کے ہر طرح کے سرمائے کے ہیں، جبکہ دوسرے لفظ کے معنی نقد پیسہ کے ہیں۔) اسی وجہ سے یہ لفظ دنیائے مادی کی چیزوں پر بولا جاتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ناپائیدار ہوتی ہیں حالانکہ ایک روز ایسا آنے والا ہے کہ ان کا حساب ہاتھ سے نکل جائے گا اور وہ انسان کے اختیار سے اس طرح دور ہو جائے گا کہ اس کے ذرا سے حصّہ کے انتظار میں وہ ٹھنڈی آہ بھرے گا۔ اس کے علاوہ اس دنیا میں تمام نعمتیں ناپائیدار او زوال پذیر ہیں۔ بہرحال، اس جملے میں یہودیوں کی جماعت کی رشوت ستانی اور اس کی خاطر تحریفِ آیات آسمانی اور جو احکام ان کے مفادات سے مطابقت نہ رکھتے ان کی فراموشی کی طرف اشارہ ہے۔ اس بناپر اس کے بعد ہی فرمایا گیا ہے: کیا ان لوگوں نے اپنی آسمانی کتاب توریت کے ذریعے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دیں گے اور حق کے سوا کوئی بات نہیں کہیں گے (اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِیثَاقُ الْکِتَابِ اَنْ لَایَقُولُوا عَلَی اللهِ إِلاَّ الْحَقَّ)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اگر انھیں آیاتِ الٰہی کا علم نہ ہوتا اور لا علمی کی حالت میں حکمِ الٰہی کے خلاف یہ کام بجالاتے تو ممکن تھا کہ ان کے لئے عذر تراشی کی مجال ہوتی لیکن قابلِ اشکال بات یہ ہے کہ "ان لوگوں نے بارہا توریت کے مطالب کو دیکھا اور سمجھا تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے انھیں ضائع کر دیا اور اس کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیا (وَدَرَسُوا مَا فِیہِ)۔ "درس" کے لغوی معنی کسی چیز کی تکرار کرنے کے ہیں۔ اسی لئے جو مطالب کسی استاد کے ذریعے حاصل کیے جائیں اور باربار ان کی تکرار کرنے کی جائے، انھیں "درس" کہا جاتا ہے۔ مکانات وغیرہ کی گہنگی اور فرسودگی کو بھی جو "درس یا اندراس" کہتے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہواؤں اور بارشوں اور دیگر حوادث کے بار بار آنے کی وجہ سے عمارتیں کہنہ اور فرسودہ ہو جاتی ہیں۔ آخرکار فرمایا گیا ہے: یہ لوگ غلطی پر ہیں، یہ اعمال اور مال ومتاع انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے بلکہ "آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے" (وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ اَفَلَاتَعْقِلُونَ)۔ اس کے بعد قرآن مذکورہ بالاگروہ کے برخلاف ایک دوسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ لوگ نہ صرف ہر قسم کی تحریف اور کتمانِ آیات سے پرہیز کرتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ تمسک کرتے ہیں اور ان پر حرف بحرف عمل بھی کرتے ہیں۔ قرآن نے اس گروہ کا نام "مصلحانِ جہان" رکھا ہے اور ان کے لئے اہم اجزا کا وعدہ کیا ہے ان کے متعلق اس طرح فرماتا ہے: جولوگ کتابِ پروردگار سے تمسک اختیار کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ان کے لئے بڑی جزا ہے۔ کیونکہ ہم اصلاح کرنے والوں کا بدلہ ضائع نہیں کریں گے (وَالَّذِینَ یُمَسِّکُونَ بِالْکِتَابِ وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَانُضِیعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِینَ)۔ اس کتاب سے توریت مراد ہے یا قرآنِ کریم؟ مفسرین نے دونوں طرح کی تفسیریں کی ہیں لیکن اگر گذشتہ آیات کی جانب توجہ کی جائے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے اس گروہ کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جنھوں نے اپنا حساب گمراہ لوگوں سے الگ کر لیا تھا، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ توریت وانجیل سے تمسک کرنا، ان بشارتوں کودیکھتے ہوئے جو ان دونوں کتابوں میں پیغمبر اسلام کے متعلق موجود ہیں، اس پیغمبر پر ایمان سے جدا نہ ہو گا۔ کلمہٴ "یمسکون" جس کے معنی تمسک کرنے کے ہیں اپنے دامن میں ایک جاذب نظر نکتہ لئے ہوئے ہے، کیونکہ تمسک کے معنی کسی چیز کو لینے اور اس کی حفاظت کی خاطر اس کے ساتھ چمٹ جانے کے ہیں۔ یہ اس کی حسی صورت ہے اور اس کی معنوی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کے ساتھ کسی عقیدے یا نظام کا پابند ہو جائے اور اس کی بقا وحفاظت کے لئے اپنی پوری پوری کوشش صرف کر دے۔ اس بناپر کتاب الٰہی سے تمسک کے یہ معنی نہیں کہ انسان قرآن یا توریت یا کسی دوسری کتاب کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی کے ساتھ تھام لے اور اس کے صفحات یا اس کی جلد کی حفاظت میں اپنی پوری کوشش صرف کر دے، بلکہ حقیقی تمسک یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس بات کی قطعی اجازت نہ دے کہ کسی پہلو سے اس کتاب کے فرامین کی مخالفت کی جائے بلکہ اس کے مفاہیم واحکام کے تحقق پانے اور عملی صورت اختیار کرنے میں اپنی جان ودل کے ساتھ کوشش کرے۔ مذکورہ بالا آیات سےیہ بھی پتہ چلتا ہے کہ روئے زمین پر اصلاح واقعی کتاب آسمانی سے تمسک کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ تعبیر ایک مرتبہ اور اس حقیقت کو بیان کر رہی ہے کہ دین ومذہب ایک ایسا نظام العمل نہیں ہے جس کا تعلق محض یا عالمِ ماوراء الطبیعت سے ہو، بلکہ یہ ایک ایسا آئین ہے جس کا تعلق تمام نوعِ بشر کی زندگیوں سے ہے۔ کیونکہ یہ مذہب ہی ہے جس کی تمام افرادِ انسانی میں عدالت، صلح، رفاہیت، آسائش اور آرام کے اصول رائج ہوتے ہیں بلکہ "اصلاح" کے تمام مفہوم میں جتنی چیزیں آ سکتی ہیں وہ سب اس میں داخل ہیں۔ ہاں، یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے تمام فرمانوں میں سے یہاں نماز ہی کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ ایک حقیقی نماز انسان کا اس کے رب سے رشتہ اس قدر مضبوط کر دیتی ہے کہ بندہ اپنے ہر کام کے وقت اپنے خدا کو ہمیشہ حاضر وناظر اور اپنے اعمال کا نگران پاتا ہے۔ یہ نماز ہی کی صفت ہے کہ جس کا ذکر دیگر آیات میں آیا ہے کہ نماز نہی عن المنکر کرتی ہے اس موضوع کا انسانی سوسائٹی اور اس کی اصلاح کے ساتھ ربطِ خاص ہے وہ محتاجِ بیان ہے۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوہ کہ یہ نظام العمل صرف قومِ یہود کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانون ہے جو تمام امتوں اور ملتّوں میں کار فرما ہے۔ اس بناپر یہ کہنا درست ہے کہ جو لوگ حقائق کو چھپاتے ہیں اور ان میں تحریف اور تبدیلی کرکے اپنے لئے متاع ناپائیدار اور زود گذر منافع فراہم کرتے ہیں اور جب اس عمل کے بُرے نتائج سامنے آتے ہیں تو وہ اپنے میں ایک جھوٹی توبہ کی حالت پیدا کرتے ہیں اور ایسی توبہ جو ذرا سی مادّی منفعت کی چمک دمک سے یوں بہہ جاتی ہے جس طرح گرمی کے سورج کے سامنے تھوڑی سی برف بہہ جاتی ہے، ایسے لوگ درحقیقت معاشرے کی اصلاح کے مخالف ہیں، یہ اپنے ذاتی منافع پر اجتماعی منافع کو قربان کر دیتے ہیں، یہ عمل چاہے کسی یہودی سے سرزد ہوا ہو یا کسی مسیحی سے یا کسی مسلمان سے!
قوم یہود کے بارے میں آخری بات
Tafsīr Nemūna · Vol. 1"نتقنا" کی اصل "نتق" (بروزن "قلع") ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی جگہ سے اکھیڑ کر کسی دوسری جگہ پھینک دینے کے ہیں۔ جن عورتوں کے ہاں زیادہ بچے ہوتے ہیں انھیں بھی "ناتق" کہتے، کیونکہ وہ بچے کو اپنے رحم سے آسانی کے ساتھ جدا کر کے باہر ڈال دیتی ہے۔ یہودیوں کی سرگزشت جو اس سورہ میں بیان کی گئی ہے یہ آیت اس سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ اس میں یہودیوں کی ایک اور سرگزشت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ ایک ایسی سرگزشت ہے جس میں ایک درسِ عبرت ہے اور ایک عہدوپیمان کا ذکر بھی۔ ارشاد ہوتا ہے: اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو ان کے سر کے اوپر قرار دیا اس طرح جیسے ایک سائبان سایہ فگن ہو (وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّہُ ظُلَّةٌ)۔ "اور اس طرح کہ انھیں لگتا تھا جیسے وہ ان کے سر پر گرپڑے گا" وہ دیکھ کر سراسیمہ اور پریشان ہو گئے اور گڑ گڑانے لگے (وَظَنُّوا اَنَّہُ وَاقِعٌ بِھِمْ)۔ اس حال میں ہم نے ان سے کہا: "ہم نے جو احکام تمھیں دیئے ہیں انھیں مضبوطی سے تھام لو" (خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ)۔ "اور جو کچھ ان احکام میں آیا ہے اسے ذہن نشین کر لو تاکہ پرہیزگار ہو جاؤ"۔ خدا کی سزا سے ڈرو اور اس (کتاب) میں ہم نے تم سے عہد وپیمان لئے ہیں ان پر عمل کرو (وَاذْکُرُوا مَا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ) یہ آیت، نیز سورہٴ بقرہ کی آیت ۶۳ تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے مشہور مفسّر علامہ طبرسی نے اپنی کتاب "مجمع البیان" میں ابنِ زید کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت موسیٰ(علیه السلام) کوہِ طور سے پلٹ رہے تھے اور توریت کے احکام ان کے ساتھ تھے٫ انھوں نے جب اپنی قوم کو ان کی ذمہ داریوں اور حلال وحرام کے قوانین سے آگاہ کیا تو ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ ان تمام احکام پر عمل کرنا ایک بہت بڑا مشکل کام ہے۔ چنانچہ انھوں نے مخالفت پر کمر باندھی۔ اس موقع پر ایک پہاڑ سے ایک بہت بڑی چٹان الگ ہو کر ہَوا میں بلند ہوئی اور ان کے سروں پر آکر ٹھہر گئی، اس وقت وہ لوگ اتنے خوفزدہ ہو گئے کہ انھوں نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے سامنے گڑگڑانا شروع کر دیا۔ حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے اسی حال میں فرمایا: اگر تم ان احکام پر عمل کرنے کا عہد کر لو تو یہ خطرہ تم سے دور ہو جائے گا۔ یہ سنتے ہی انھوں نے قبول کر لیا اور سجدے میں گر پڑے اور وہ بلا ان سے دور ہو گئی۔ یہاں پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں جنھیں ہم نے سورہٴ بقرہ کی تفسیر میں ذکر کیا ہے اور ان کا جواب بھی دیا ہے، یہاں پر ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ پہلا سوال: کیا اس طرح کسی سے عہد لینا درست ہے؟ کیا اس میں جبر کا پہلو نہیں ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں جبر کا پہلو ضرور ہے لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ جب ان سے خطرہ دور ہو گیا تو اختیار پلٹ آیا یعنی وہ باقی راستہ اپنی مرضی اور اختیار کے ساتھ طے کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک جواب اور بھی دیا جا سکتا ہے کہ عقائد کے معاملے میں جبر واکراہ لا یعنی چیز ہے لیکن جو امور انسان کے فعل وعمل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں نوعِ بشر کی خیر وسعادت ہے ان میں جبر واکراہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ اگر کسی کو نشہ پینے سے جبراً روکا جائے یا اسے کسی خطرناک راستے پر چلنے سے جبراً روک دیا جائے تو کیا یہ کوئی بُری بات ہے؟ دوسرا سوال: پہاڑ ان کے سروں پر کس طرح ٹھہرا رہا؟ جواب یہ ہے کہ بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ حکمِ خدا کی وجہ سے کوہِ طور اپنی جگہ سے جدا ہو کر ان کے سروں پر سائبان کی طرح سایہ فگن ہو گیا تھا۔ بعض کا کہنا ہے کہ ایک شدید زلزلے کی وجہ سے پہاڑ اس طرح ہلا اور ٹیڑھا ہو گیا کہ جو لوگ اس پہاڑ کے دامن میں تھے ان کے سروں پر پہاڑ کی چوٹی کا سایہ پڑنے لگا۔ یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ اس پہاڑ سے ایک بہت بڑا پتھر الگ ہو کر ذار سی دیر کے لئے ان کے سروں پر ٹھہرا اور اس کے بعد وہ وہاں سے گذر گیا اور طرف گِر گیا۔ بہرحال، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک خارقِ عادت اور غیر معمولی بات تھی، طبیعت کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ ایک دوسری بات جو اس آیت میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے یہ نہیں کہا کہ وہ پہاڑ ان کے سروں پر سائبان بن گیا بلکہ یہ فرمایا کہ: گویا سائبان بن گیا (کانّہ ظلة)۔ یہ تعبیر یا تو اس وجہ سے ہے کہ اگر کسی کو اوپر سائبان بنایا جاتا ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے بر بنائے محبّت بنایا جاتا ہے، جبکہ یہ سائبان بعنوان تہدید وخوف بنایا گیا تھا؛ اور یا اس وجہ سے یہ تعبیر ذکر کی گئی ہے کہ سائبان عام طور پر دائمی ہوتا ہے جبکہ یہ پتھر ان کےسروں پر تھوڑے سے وقت کےلیے تھا۔ ہم نے پہلے بھی کہا کہ قوم بنی اسرائیل کی سرگذشت اور ان کے گونا گوں واقعات ان کی تلتلخ و شیریں یادیں، یہ سب کچھ اس سورۃ کے ذریعے اپنے اختتام کو پہنچ گئے اور یہ سرگذشتِ انبیاء کا آخری حصہ ہے جس کا اس سورہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ انبیاء کے حالات کے اختتام پر اس آیت کا ذکر جبکہ آخری واقعہ اس قوم سے مربوط نہیں ہے۔ ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ ان تمام واقعات کا ذکر کرنے کا آخری مقصد یہ تھا کہ آیاتِ الہی سے تمسک کیا جائے اور اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان پر عمل کر کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی منزل تک پہنچا جائے جس کا ذکر اس آیت میں اور اس سے قبل کی آیت میں بھی کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی ساری رسالت، نیز دیگر انبیائے الہی کی باطل سے جنگیں، ان کا طرح طرح کے مصائب اور سختیوں کو برداشت کرنا، یہ سب کچھ اسی لیے تھا کہ فرمانِ خدا کا احترام کیا جائَےاور اس کے نتیجے میں حق و عدالت اور طہارت و تقوی کے اصول تمام افرادِ بشر کے درمیان پورے طور پر رائج ہو جائیں اور لوگ اللہ کے سیدھے راستے پر چلنے لگیں۔۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 174 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 174 کے تحت ملاحظہ کریں۔
پہلا عہد وپیمان اور عالمِ ذر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مذکورہ بالا آیات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ توحید کا اقرار ایک فطری تقاضا ہے اور ہر انسانی روح کی گہرائیوں میں خدا کے وجود کی گواہی موجود ہے۔ اسی بناپر جو بحث وتمحیص اس سورہ کی گذشتہ آیات میں توحید استدلالی کے بارے میں کی گئی ہے یہ اُن کی تمکیل کرتی ہے۔ اگرچہ اس پہلی آیت کی تفسیر کرتے وقت مختلف مفسّرین کے درمیان زوروشور سے بحثیں ہوئی ہیں اور اس آیت کے متعلق مختلف طرح کی احادیث بھی ملتی ہیں، تاہم ہماری کوشش یہ ہو گی کہ اوّل اس آیت کی اجمالی تفسیر کریں پھر مفسرین کی اہم ترین مباحث کا تذکرہ کریں اور آخر میں ان تمام مباحث کی روشنی میں محتاط انداز سے اپنا استدلالی نقطہٴ نظر پیش کریں۔ اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مخاطب ہے. پہلے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے اولادِ آدم کی صلب سے اُن کی ذرّیت کو لیا اور پھر انھیں ظاہر کیا اور انھیں خود اُن کا گواہ بنا کر اُن سے پوچھا کہ کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں تو اُنھوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے (وَإِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُھُورِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلیٰ اَنفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلیٰ شَھِدْنَا)۔ لفظ "ذریة" لغت میں علماء کے مطابق "چھوتی اور کم سن اولاد" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات"تمام اولاد" کو کہتے ہیں۔ بعض اوقات مفرد اور بعض اوقات جمع کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ لفظ جمع کا مفہوم رکھتا ہے۔ اس لفظ کے مادہ کے بارے میں مختلف آراء ملتی ہیں بعض اسے "ذرء" (بروزن "زرع") پیدائش وآفرینش کے معنی میں لیتے ہیں. اس بناپر "ذریة" کا اصل مطلب "مخلوق" اور "پیدا شدہ"ہے۔ اور بعض اسے "ذر" (بروزن "شر") کے مادہ سے سمجھتے ہیں جس کا معنی ہے بہت چھوٹے موجودات جیسے گردوغبار کے ذرّات اور بہت ہی چھوٹی چیونٹیاں. انسانی اولاد بھی ابتداء میں بہت ہی چھوٹے سے ذرّے (نطفہ) سے زندگی کا آغاز کرتی ہے. اس لئے اسے "ذریت" کہتے ہیں. تیسرا "ذور" (بروزن "مرو") کے مادہ سے پراگندہ اور منتشر ہونے کے معنی لیا گیا ہے اور انسان کی اولاد کو "ذریة" اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ پایہٴ تکمیل کو پہنچنے میں زمین میں چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ اس کے بعد مسئلہ توحید کے سلسلے میں سوال وجواب اور اولادِ آدم سے عہدوپیمان لینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: یہ کام خدا نے اس لئے انجام دیا تاکہ قیامت کے دن وہ یہ نہ کہیں کہ ہم تو اس حقیقت توحید وخدا شناسی سے ناآشنا تھے (اَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غَافِلِینَ)۔ خدا نے اُن لوگوں سے جو وعدہ لیا تھا اس میں سے ایک اور بھی مقصد پوشیدہ تھا، جس کا دوسری آیت میں اشارہ ملتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یہ عہد وپیمان ہم نے اس لئے لیا تھا تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ "ہمارے آباء واجداد چونکہ ہم سے پہلے بُت پرست تھے اور ہم بھی کیونکہ اُنہی کی اولاد تھے اس لئے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ ہم ان کی پیروی کرتے تو کیا خدا ہمیں ان لوگوں کے باعث سزا دیتا ہے جنھوں نے بیہودہ کام کیا (اَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا اَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّةً مِنْ بَعْدِھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ)۔ ہاں ہم اپنی آیات اس لئے کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ توحید کا نُور اور روشنی ابتداء ہی سے ان روح میں موجود تھی. شاید وہ ان حقائق کی طرف توجہ کرتے ہوئے حق کی طرف پلٹ آئیں (وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ)
عالم ذر کے بارے میں فیصلہ کن بحث
جیسا کہ ہم نے پڑھا ہے زیر نظر آیات میں الله تعالیٰ کے ساتھ اولاد آدم کے عہد وپیمان کا تذکرہ موجود ہے۔ وہ عہد وپیمان جو آدم کی اولاد سے سربستہ طریقے سے لیا گیا لیکن اس عہد وپیمان کی تفصیلات آیت کے متن میں نہیں ہیں۔ ان آیات سے متعلق اسلامی کتب مصادر میں جو مختلف طرح کی روایات موجود ہیں مفسرین نے اُن کو بنیاد بنا کر کئی نظریے قائم کئے ہیں جن میں زیادہ اہم دو نظریات ہیں جو درج ذیل ہیں: ۱۔ جس وقت حضرت آدم (علیه السلام) پیدا ہوئے تو آخری بشر تک ان کی اولاد ذرّات کی شکل میں ان کی پشت سے باہر نکلی (اور بعض روایات کے مطابق یہ ذرّات آدم کی مٹّی سے نکلے) وہ بات سُننے اور جواب دینے کی حد تک کافی عقل وشعور کے حامل تھے تو اُس وقت خدا اُن سے مخاطب ہوا: "الستُ بربّکم " کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں" تو سب نے جوابا عرض کیا: "بلیٰ شھدنا "جی ہاں ہم اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔" پھریہ سب ذرّ ات آدم کی پشت (یا آدم کی مٹی) کی طرف واپس لوٹ گئے۔ اس بناء پر اس عالم کو عالم ذر اور اس پیمان کو پیمان الست کہتے ہیں۔ اس لئے کہ مذکورہ پیمان، ایک تشریعی پیمان اور انسانوں اور اُن کے پروردگار کے درمیان ایک خودآگاہی کی قرارداد تھی۔ ۲۔ اس عالم اور اس پیمان سے مراد وہی "عالم استعداد" اور "پیمان فطرت" اور عہدِتکوین ہے۔ اس طرح سے کہ باپوں کی پشت اور ماؤں کے رحم سے "نطفہ" کی صورت میں اولاد آدم کے خروج کے وقت جبکہ اُن کی حیثیت ذرّات سے زیادہ نہ تھی تو خدا نے توحید کی گواہی کے لئے انھیں استعداد اور اہلیت عنایت کی۔ پھر ان کی سرشت اور فطرت میں یہ خدائی راز ایک اندرونی ذاتی حس کے طور پر انھیں ودیعت کیا اور اسے ایک جانی پہچانی حقیقت کے طور پر شعور میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انسان رُوح توحید سے شناسائی کے حامل ہیں اور خدا نے جو اُن سے سوال کیا تھا وہ تکوین وآفرینش کی زبان میں تھا اور اُنھوں نے جو جواب دیا تھا وہ بھی اسی زبان میں تھا۔ ایسا انداز روز مرّہ کی گفتگو میں بھی بکثرت ملتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے: "انسان کے چہرے کا رنگ اُس کے اندرونی راز کی نشاندہی کرتا ہے" یا ہم کہتے ہیں کہ "کسی کی آنکھوں کا بند ہونا یہ بتاتا ہے کہ وہ رات سویا نہیں" ایک عرب ادیب کہتا تھا: "سل الارض من شق انھارک وغرس اشجارک واینع ثمارک فإن لم تجبک حواراً اجابتک اعتباراً" زمین سے پوچھو کس نے تیرے دریاؤں کے راستے بنائے، کس نے تیرے درختوں کو بویا اور تیرے پھلوں کو پکایا۔ اگر زمین نے عام زبان سے جواب نہ دیا تو زبانِ حال سے جواب دے گی۔ قرآن مجید میں بھی زبانِ حال میں گفتگو کرنے کا اسلوب بعض آیات میں آیا ہے مثلاً: فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَائِعِین خدا نے زمین وآسمان سے فرمایا: اپنی رضا ورغبت سے یا مجبوراً آؤ اور فرمانبرداری کرو، تو اُنھوں نے کہا: ہم تیری اطاعت کرتے ہوئے اپنی رضایت ورغبت سے آتے ہیں(حم سجدہ/۱۱) ان آیات کی تفسیر کے بارے میں یہ دو مشہور نظریات کا خلاصہ تھا۔ لیکن پہلی تفسیر پر مندرجہ ذیل اعتراضات بھی کئے جاتے ہیں: ۱۔ آیات کے متن میں اولادِ آدم کی پشت سے ذرّات کے خارج ہونے کے بارے میں گفتگو ہے نہ کہ خود آدم سے (من بنی آدم/ من ظھورھم ذریّتھم) جبکہ پہلی تفسیر خود آدم کی مٹّی سے نکلنے کی بات کرتی ہے۔ ۲۔ اگر یہ عہد وپیمان کافی خود آگاہی اور عقل وشعور سے لیا گیا تھا تو پھر کس طرح سب کے سب اسے بھول گئے ہیں۔ کسی شخص کے دل میں بھی اس کی یاد نہیں ہے۔ جبکہ اس کا فاصلہ ہمارے زمانے کی نسبت اس جہان اور دوسرے جہان اور قیامت سے زیادہ نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن مجید کی کئی آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ بنی نوع انسان (قطع نظر اس سے کہ وہ جنتی ہوں یا جہنمی) قیامت میں دُنیا کے حالات کو نہیں بھولیں گے اور وہ انھیں بہت اچھی طرح یاد ہوں گے تو عالم ذر کے بارے میں یہ فراموشی کسی طرح بھی قابل توجیہ نہیں ہے۔ ۳۔ اس عہدو پیمان کا کیا مقصد تھا۔ کیا یہ مقصود تھا کہ عہدوپیمان کرنے والے اس قسم کے عہدوپیمان کو یاد کر کے راہ حق میں قدم اٹھائیں اور خدا شناسی کے سوا کسی اور راستے پر نہ چلیں؟ تو کہنا چاہیے کہ یہ مقصد تو کسی طرح بھی اس عہدوپیمان سے حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ سب اسے بھول چکے ہیں اور اصطلاح کے مطابق کے بہتر "لا" پر سوئے ہوئے ہیں اور اس ہدف اور مقصد کے بغیر یہ پیمان لغو اور فضول نظر آتا ہے۔ ۴۔ اس قسم کے جہان کے وجود کا اعتقاد حقیقت میں ایک قسم کے تناسخ کے قبول کرنے کے متبادل ہے کیونکہ اس تفسیر کے مطابق یہ قبول کرنا پڑے گا کہ روحِ انسانی موجودہ پیدائش سے پہلے اس جہان میں قدم رکھ چکی ہے اور کم یا طویل دور طے کرنے کے بعد اس جہاں سے واپس چلی گئی ہے۔ تو اس طرح تناسخ کے بہت سے اعتراضات اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ لیکن اگر ہم دوسری تفسیر کو قبول کر لیں تو ان میں سے کوئی اعتراض متوجہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس صورت میں سوال وجواب اور مذکورہ عہدوپیمان ایک فطری پیمان ہو گا جس کے آثار اب بھی ہر شخص کو اپنی روح کے اندر نظر آتے ہیں؛ یہاں تک کہ متاخرین ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق "حس مذہبی" ہونا خود آگاہ انسان کے بنیادی نفسیاتی احساسات میں سے ایک ہے اور یہی وجہ ہے جو انسان کی ہمیشہ خدا شناسی کی طرف رہنمائی کرتی رہی ہے اور اس فطرت کے ہوتے ہوئے کبھی بھی انسان یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ ہمارے آباء واجداد تو بت پرست تھے "فِطْرَةَ اللهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا" (روم/۳۰) دوسری تفسیر پر صرف ایک اہم اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں سوال وجواب اپنے اندر منشا کا پہلو لے لیں گے لیکن جس چیز کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ تعبیریں عربی زبان اور دیگر زبانوں میں موجود ہیں تو پھر اس پر کوئی بھی اعتراض نہیں ہو سکتا اور یہ تفسیر تمام تفاسیر کی نسبت زیادہ قریب نظر آتی ہے۔
عالم ذر اور اسلامی روایات
شیعہ اور سنّی کے مختلف کُتب ومصادر میں عالم ذر کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو پہلی نظر میں ایک مسلسل روایت کے حصّے معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً تفسیر برہان میں ۳۷ روایات اور تفسیر نورالثقلین میں ۳۰ روایات مذکورہ بالا آیات کی ذیل میں نقل ہوئی ہیں اور جن میں بعض مشترک اور بعض مختلف ہیں اور جن روایات میں تفاوت وفرق پایا جاتا ہے اُن کا مجموعہ شاید چالیس سے زیادہ ہو۔ لیکن اگر صحیح طریقے سے ان روایات کی درجہ بندی اور تجزیہ وتحلیل کی جائے، نیز ان کے مضامین اور اسناد کی جانچ پڑتال کی جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ان پر ایک معتبر روایت کی حیثیت سے (چہ جائیکہ متواتر روایت کی حیثیت میں) بھی بھروسہ اور اعتماد نہیں کیا جا سکتا (غور کیجئے)۔ ان میں سے بہت سی روایات تو "زرارہ" سے ہیں ۔کچھ "صالح بن سہل" سے، کچھ "جابر" اور کچھ "عبدالله بن سنان" سے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ہی شخص ایک مضمون کی کئی روایات نقل کرے تو وہ سب ایک ہی روایات شمار ہوں گی اور نتیجتاً مندرجہ بالا روایات کی تعداد اس کثیر عدد سے جو شروع میں نظر آتا تھا گر جائے گی اور شاید دس سے لے کر بیس روایات سے تجاوز نہ کرے یہ تو سند کے لحاظ سے ہے۔ لیکن مضمون اور دلالت کے لحاظ سے ان روایات کے مفاہیم مکمّل طور سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بعض پہلی اور بعض دوسری تفسیر سے موافقت رکھتے ہیں اور بعض مفاہیم ان میں سے کسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلاً وہ روایات جو "زرارہ" سے نقل کی ہیں اور محل بحث آیات کے ذیل میں تفسیر برہان میں ۳۔۴۔۸۔۱۱۔ اور ۲۹ شمارہ میں نقل ہوئی ہیں، وہ پہلی تفسیر کے ساتھ مواقف ہیں اور وہ جو عبدالله بن سنان سے تفسیر برہان میں ۷ اور ۱۲ کے شمارہ کے تحت ذکر ہوئی ہیں وہ دوسری تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان روایات میں سے بعض مبہم ہیں۔ جن کا سوائے کنایہ کی شکل اور اصطلاح کے مطابق "سمبولیک" کی شکل میں کوئی مفہوم نہیں۔ مثلاً اٹھارہ اور تیئسویں روایت جو "ابوسعید خدری" اور "عبدالله کلبی" سے اسی تفسیر میں نقل ہوئی ہے۔ کچھ مذکورہ روایات میں صرف بنی آدم کی ارواح کی طرف اشارہ ہوا ہے (مثلاً مفضل کی روایت جس کا شمارہ ۲۰ میں ذکر ہوا ہے) علاوہ ازیں، اوپر والی روایات میں سے بعض سند معتبر کی حامل ہیں اور بعض سند کے بغیر ہیں۔ اُن روایات کے ایک دوسرے سے متعارض ہونے کی وجہ سے ان پر ایک معتبر دستاویز کے لحاظ سے اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، یا کم از کم جیسا کہ بزرگ علماء نے اس ضمن میں کہا ہے کہ ان روایات کے علم وفہم کو صاحبانِ روایات کے سپرد کرنا چاہیے اور وہ ان کے متعلق مناسب قسم کے فیصلے کر لیں۔ تو اس صورت میں ہم ہیں اور اُن روایات کا متن جو قرآن میں آئی ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ دوسری تفسیر آیات کے زیادہ قریب ہے اور اگر ہماری بحث میں تفسیر اور تشریح کی اجازت ہوتی تو ہم تمام حوالہ جات اور روایات کا شرح وبسط سے ذکر کرتے اور ہر ایک میں بحث وتمحیص کرتے تاکہ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور زیادہ واضح ہو جاتا۔ لیکن دلچسپی لینے والے حضرات تفسیر "نورالثقلین"، "برہان" اور "بحار الانوار" کی طرف رجوع کر کے گذشتہ بحث کی بنیاد پر روایات کی درجہ بندی اور اسناد کی تحقیق کر سکتے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 178 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 178 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 178 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک عالم جو فرعونوں کا خدمتگار ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے جو اُن لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ ہے جو اس قسم کی صفات رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم ان آیات کی تفسیر کے دوران پڑھیں گے مفسرین نے اس شخص کے بارے میں جس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں، متعدد شکوک کا اظہار کیا ہے لیکن یہ درست ہے کہ آیت کا مفہوم دیگر آیات کی طرح کہ جو اگرچہ خاص حالات میں نازل ہوئیں، کلی اور عمومی ہے۔ پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اُس شخص کا واقعہ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں لیکن بالآخر وہ ان سے بھٹک گیا اور شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہو کر گمراہوں کے زمرے میں داخل ہو گیا، ان سے بیان کرو (وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ الَّذِی آتَیْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْھَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِینَ)۔ یہ آیت واضح طور پر کسی ایسے شخص کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو پہلے مومنین کی صف میں شامل تھا اور آیات وعلوم الٰہی پر ایمان رکھتا تھا، پھر وہ اس راستہ سے بھٹک گیا اس بناء پر شیطان نے اُسے وسوسہ میں ڈالا اور اُس کا انجام گمراہی اور بدبختی تک جاپہنچا۔ "انسلخ" مادہٴ "انسلاخ" سے ہے جو اصل میں چمڑے سے باہر آنے معنی میں ہے، یہ لفظ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آیات خداوندی اور علوم الٰہی نے ابتداء میں اس کا اس طرح احاطہ کیا ہوا تھا کہ وہ اس کے بدن کے چمڑے کی طرح ہو گئے تھے مگر اچانک وہ اس چمڑے کے محیط سے باہر نکل آیا اور اس نے ایک تیز چکّر کھاتے ہوئے اپنا راستہ مکمل طور پر بدل لیا۔ "فاٴتبعہ الشیطان" سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیطان پہلے تو اس سے اپنی اُمید منقطع کرچکا تھا کیونکہ وہ مکمل طور پر حق کے راستے پر گامزن تھا، لیکن مذکورہ انحراف کے بعد شیطان نے تیزی سے اس کا پیچھا کیا اور اس کی تاک میں لگا رہا اور اس کے دِل میں وسوسے ڈالنے لگا اور آخرکار اسے گمراہ، شقی اور بدبخت لوگوں کی صف میں لاکھڑا کیا(تشریحی نوٹ: "اتبعہ" اور "تبعہ" "لحقہ وادرکہ" (اس سے ملحق ہوا اور اسے پا لیا) کے معنی میں آیا ہے۔) بعد والی آیت اس بات کی اس طرح تکمیل ہے کہ "اگر ہم (خدا) چاہتے تو اسے جبراً حق کی راہ پر قائم رکھ سکتے تھے اور اِن آیات وعلوم کے ذریعہ اسے بلند مقام دے سکتے تھے (وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِھَا) لیکن یہ مسلّم ہے کہ جس پروردگار کی سنّت انسان کو ارادہ وفیصلہ کی آزادی واختیار دیتا ہے افراد کو جبراً حق کی راہ پر چلانا اس کی اس سنّت سے مناسبت نہیں رکھتا اور یہ بات کسی کی شخصیت وعظمت کی نشانی نہیں بن سکتی۔ لہٰذا بِلاتوقف مزید ارشاد فرماتا ہے: ہم نے اسے اس کے اختیار پر چھوڑ دیا اور وہ بجائے اس کے کہ اپنے علوم ودانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز بلند مقام کی طرف بڑھتا، پستی کی طرف جھکا اور ہواوہوس کی پیروی کی وجہ سے اپنے تنزّل کی جانب مائل ہوا (وَلَکِنَّہُ اَخْلَدَ إِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ)۔ "اخلد"، "اخلاد" کے مادہ سے ہے، جس کا مطلب ہے "کسی جگہ دائمی سکونت اختیار کرنا" اس بناء پر "اَخْلَدَ إِلَی الْاَرْضِ " کا معنی ہے کہ ہمیشہ کے لئے زمین سے چمٹ گیا جو یہاں کنایہ ہے اور اس مادّی دنیا کی چمک دمک اور غیر شرعی لذّات اور آسائشوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد اس شخص کو کتّے سے تشبیہ دی ہے، ایسا کتّا جو اپنی زبان پیاسے جانوروں کی طرح ہمیشہ باہر نکالے رکھتا ہے، ارشادِ ربّانی ہے: وہ کتّے کی طرح ہے۔ اگر اس پر حملہ کرو تو اس کا منھ کھلا ہوا ہے اور زبان باہر نکلی ہے اور اگر اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیں تو بھی اسی طرح رہتا ہے (فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْھَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْھَثْ)۔ اس نے لذّت پرستی کی شدّت اور اس مادی دُنیا کی بے تحاشا محبّت سے مغلوب ہو کر ایک لامحدود اور ختم نہ ہونے والی پیاس کی حالت اپنا رکھی ہے کہ ہمیشہ وہ دنیا پرستی کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ ایک بیمار کی طرح، باؤلے کتّے کی مانند کہ جس پر باؤلے پن کی وجہ سے پیاس کی ایک جھوٹی کیفیت طاری رہتی ہے اور کسی وقت بھی سیراب نہیں ہوتا۔ یہی حالت اُن دنیا پستوں اور پست ہمّت ہواوس کے پچاریوں کی ہے جنھیں دُنیا کی آسائشیں میسّر ہوں لیکن اُن کی نیّت سیر نہیں ہوتی۔ مزید ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مثال کسی مخصوص شخص کے ساتھ منسوب نہیں بلکہ یہ ان تمام گروہوں کی مثال ہے جو آیات خدا کو جھٹلاتے ہیں (ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ یہ واقعات ان کے سامنے بیان کرو ہو سکتا ہے کہ وہ ان پر سوچ بچار کریں اور صحیح راستے کا یقین کر لیں (فَاقْصُصْ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُونَ)۔
دُنیا پرست اور منحرف عالم بلعم باعورا
جیسا کہ آپ نے دیکھا اوپر والی آیات میں کسی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ایک عالم کے متعلق گفتگو ہوئی ہے جو پہلے حق کے راستے پر گامزن تھا اور کوئی ا س کے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کسی دِن یہ حق سے منحرف ہو جائے گا لیکن آخرکار دُنیاپرستی اور خواہشات نفسانی نے اُس پر ایسا غلبہ پایا اور اُسے پستیوں میں دھکیل دیا کہ وہ گمراہوں اور شیطان کے پیروکار کی صف میں جاکھڑا ہوا ۔ بہت سی روایات اور مفسرین کے کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد بلعم باعور نامی ایک شخص تھا جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے زمانہ میں رہتا تھا اور بنی اسرائیل کے نامی گرامی علماء میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اُس سے ایک بڑے مبلغ کی حیثیت کام لیتے تھے اور وہ اس درجے پر فائز تھا کہ اس کی دُعا بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت پاتی تھی۔ لیکن وہ فرعون کی ظاہری شان وشوکت اور اُس کے وعدوں سے اتنا متاثر ہُوا کہ راہ حق سے بھٹک گیا۔ لہٰذا اس کی تمام قدرومنزلت جاتی رہی۔ حتّیٰ کہ وہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے مخالفین کی صف میں جا شامل ہوا ۔(تشریحی نوٹ: موجودہ تورات میں بھی بلعم باعور کے ماجرا کی تفصیل آئی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ تورات آخرکار اسے انحراف سے بری الذمہ قرار دیتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے سفر اعداد کے باب ۲۲ سے رجوع کریں ۔) باقی رہا یہ احتمال کہ یہ شخص امیہ ابن ابی الصلت ہے جو زمانہٴ جاہلیت کا مشہور شاعر ہے جو پہلے گذشتہ کتبِ آسمانی آگاہی رکھنے کی وجہ سے آخری پیغمبر کے ظہور کے انتظار میں تھا، لیکن پھر وہ یہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے کہیں وہ خود ہی پیغمبر ہے۔ اس لئے اس نے بعثتِ پیغمبر کے بعد رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے حسد کو مخالفت کی بنیاد بنایا۔ یہ بھی احتمال پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مشہور راہب ابوعامر مراد ہے، جو زمانہٴ جاہلیت میں لوگوں کو پیغمبر اسلام کے ظہور کی خوشخبری دیتا تھا لیکن پیغمبر کے ظہور کے بعد اس نے مخالفت کی راہ اپنائی۔ تو یہ دونوں احتمال حقیقت سے دُور نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ”واتل“، ”نباء“ اور ”فاقصص القصص“ کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے ہمعصر افراد سے متعلق نہیں تھا بلکہ یہ گذشتہ اقوام کی سرگزشت ہے۔ علاوہ ازیں، سورہٴ اعراف ان سورتوں میں سے ہے جو مکّہ میں نازل ہوئی ہیں اور ابوعامر راہب اور امیہ بن ابوصلت کا تعلق مدینہ سے ہے۔ تفسیر المنار میں پیغمبر اسلام سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں بلعم باعور کی مثال اس امّت میں امیّہ بن ابی الصلت ایسی ہے۔ (بحوالہ: المنار، ج۹، ص۱۱۴) اسی طرح امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”الاصل فی ذٰلک بلعم، ثمّ ضربہ اللّٰہ مثلا لکل موٴثر ھواہ علی ھدی اللّٰہ من اھل القبلة“ اصل آیت بلعم کے بارے میں ہے اس کے بعد خدا نے اسے ایک مثال کے طور پر ایسے اشخاص کے لئے کیا ہے جنھوں نے اس امّت میں ہوس پرستی کو خدا پرستی اور خدا کی ہدایت پر مقدم گردانا ہے(بحوالہ: مجمع البیان، ج 4، ) اصولی طور پر انسانی معاشروں میں اتنا خطرہ کسی چیز سے نہیں جتنا ان علماء سے ہوتا ہے جو اپنے علم وافکار کو اپنے زمانے کے فرعونوں اور جابروں کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور ہوس پرستی اور مادی دنیا کی شان وشوکت (وخلاد الی الارض) سے مرعوب ہوکر اپنا تمام سرمایہٴ فکر ونظر طاغوتوں کے قبضے میں دے دیتے ہیں اور وہ بھی عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے اس قسم کے افراد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ امر صرف حضرت موسیٰ(علیه السلام) یا باقی انبیاء کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ زمانہٴ پیغمبر سے لے کر اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، کہ بلعم باعور، ابوعامر اور امیہ بن ابوالصلت جیسے عالم اپنے علم ودانش اور اجتماعی اثر ورسوخ کو درہم ودینار یا مقام ومنزلت کے عوض بیچ دیتے یا پھر کینہ وحسد کی بناء پر منافقین، دشمنانِ حق، فرعونوں، بنی اُمیّہ اور بنی عباس جیسے طاغوتوں کے اختیار میں دیئے ہیں ۔ مذکورہ بالا آیات میں علماء کے اس گروہ کی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن کے ذریعے انھیں پہچانا جاسکتا ہے، وہ ایسے مادہ پرست ہیں جنھوں نے دنیا کی محبّت میں خدا کو بھلادیا ہے، وہ اتنے کم ظرف ہیں کہ بارگاہِ خداوندی اور خلقِ خدا کی نظر میں بلند مقام حاصل کرنے کی بجائے ذلّت کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، اپنی اسی کم ظرفی کی وجہ سے سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں، وہ شیطان کے شدید وسوسوں میں گھرے ہوئے ہیں اور انھیں آسانی سے خریدا اور بیچا جاسکتا ہے، وہ بیمار اور باؤلے کتّوں کی مانند ہیں جو کبھی سیراب نہیں ہوتے، انہی وجوہ کی بناء پر انہوں نے حق کو چھوڑدیا ہے اور بے راہ روی اختیار کرلی ہے وہ گمراہوں کے پیشوا ہیں، ایسے افراد کی پہچان لازمی ہے تاکہ سختی سے ان کے شر سے محفوظ رہا جاسکے۔ بعد والی دونوں ایات میں بلعم اور دنیا پرست علماء کی سرگزشت سے ایک کلی اور عمومی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے: کیا بُری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات سے انکار کرتے ہیں اور کیسا بُرا انجام اور ذلّت اُن کے انتظار میں ہے (سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا)۔ لیکن وہ ہم پر ظلم وستم نہیں کرتے تھے بلکہ خود اپنے اوپر ستم روا رکھتے تھے (وَاَنفُسَھُمْ کَانُوا یَظْلِمُونَ)۔ اور اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ معنوی علم ودانش کا سرمایہ ح۔جو خود ان کے معاشرے کی سربلندی کا باعث بن سکتا تھا، صاحبِ زر اور صاحبِ اقتدار کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور سستے داموں اُسے فروخت کرکے بالآخر اپنے آپ کو اور معاشرے کو پستی میں دھکیل دیتے ہیں ۔ لیکن اس قسم کی لغزشوں اور شیطانی دام وفریب سے خبردارد رہو کیونکہ ان سے رہائی خدا کی توفیق اور ہدایت کے بغیر ممکن نہیں، جال اور پھندا بڑا ہی سخت ہے مگر یہ کہ رحمتِ الٰہی مددگار ہو۔ ”جسے خداہدایت دے اور اپنی رحمت کو اس کا مددگار بنادے تو حقیقتاً وہی ہدایت پانے والا ہے“ <مَنْ یَھْدِ اللهُ فَھُوَ الْمُھْتَدِی ”اور جس خص کو خدا اس کے (بُرے) اعمال کے نتیجہ میں اپس کے حال پر چھوڑدے یا کامیابی اور موافقت کے ذرائع شیطانی وسوسوں کے مقابلہ میں اُس سے چھین لے تو وہ واقعی زیانکار اور خسارے میں ہے۔ <وَمَنْ یُضْلِلْ فَاُوْلٰئِکَ ھُمَ الْخَاسِرُونَ بارہا ہم نے کہا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور کمراہی نہ جبری پہلو رکھتی ہے اور نہ ہی بغیر کسی وجہ اور حساب وکتاب کے ہے، ان دونوں سے مراد وسائل ہدایت فراہم کرنا یا اس قسم کے ذرائع کو روک لینا ہے، وہ بھی انسان کے گذشتہ اچھے بُرے یا اعمال کی وجہ سے جو اس نے انجام دیئے ہیں، بہرحال آخری پختہ ارادہ خود انسان کا اپنا ہوتا ہے، اس بناء پر زیرنظر آیت ان گذشتہ آیات سے مکمل مطابقت رکھتی ہے جو ارادہ کی آزادی کی تائید کرتی ہیں اور ان کے درمیان اختلاف نہیں ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 181 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 181 کے تحت ملاحظہ کریں۔
دوزخیوں کی نشانیاں
Tafsīr Nemūna · Vol. 1یہ آیات اس بحث کی تکمیل کرتی ہیں جو گذشتہ آیات میں دنیا پرست علماء اور اسی طرح ہدایت اور گمراہی کے عوامل کے ضمن میں گزری ہے۔ ان آیات میں لوگوں کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک گروہ کی صفات کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ ہیں دوزخیوں کا گروہ اور بہشتیوں کا گروہ۔ اوّل دوزخیوں کے بارے میں جو پہلا گروہ ہے قسم اور تاکید کا سہارا لیتے ہوئے کہا گیا ہے: :ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا (وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ)۔ "ذَرَاْنَا‘‘، "ذرء" (بروزن زرع) یہاں خلقت وآفرینش کے معنی میں ہے۔ لیکن در اصل پراگندہ اور منتشر کرنے کے معنی آیا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: "تذروہ الریاح" ہوائیں اسے پراگندہ کرتی ہیں" (سورہٴ کہف/۴۵) اور چونکہ موجودات کی پیدائش روئے زمین میں ان کے انتشارار اور پھیلنے کا سبب ہے لہٰذا یہ لفظ خلقت وآفرینش کے معنی بھی آیا ہے۔ بہرحال، یہاں جو اہم اعتراض سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کیونکر یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے بہت سے جن وانس کو دوزخ کے لئے پیدا کیا۔ جبکہ ایک اور مقام پر ہے کہ: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِی(سورہٴ ذاریات/۵۶) اس آیت کے مطابق تمام جن وانس خدا کی پرستش، ترقی اور فرمانبرداری کے لئے پیدا کئے گئے۔ اسی لئے تو مذہب جبر کے بعض طرفداروں نے اپنے مذہب کے اثبات کے لئے اس آیت سے استدلال کیا ہے جیسے فخرالدین رازی وغیرہ۔ لیکن اگر آیات قرآن کو ایک دوسرے کی روشنی میں غور سے دیکھا جائے اور سطحی نتائج اخذ کیے جائیں تو اس سوال کا جواب خود آیت میں موجود ہے اور دوسری آیات میں تو اس طرح وضاحت کے ساتھ نظر آتا ہے کہ قارئین کے لئے غلط فہمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ پہلے تو یہ تشریح اس طرح درست ہے کہ مثلاً ایک بڑھئی کہتا ہے کہ جو لکڑیاں صاف ستھری، مضبوط اور صحیح وسالم ہیں انھیں پہلے مصرف میں لاؤں گا اور جو لکڑیاں خراب اور ٹوٹی پھوٹی ہیں انھیں دوسرے کام میں صرف کروں گا تو ظاہر یہ ہوا کہ بڑھئی کے دو مقاصد ہیں: ایک حقیقی اور اصلی اور دوسرا ثانوی۔ اس کا ہدف تو بہترین دروازے، ان پر خوبصورت نقش ونگار اور لکڑی کا دیگر سامان تیار کرنا ہے۔ اور وہ اپنی تمام تر کوشش اس مقصد کے حصول میں صرف کرے۔ لیکن جب وہ دیکھے گا کہ کچھ لکڑی ناکارہ ہے اور اس کے کام کی نہیں تو مجبوراً اُسے جلانے کے لئے الگ کر دے گا۔ تو یہ ثانوی ہدف ومقصد ہے نہ کہ اصلی (غور کیجئے گا)۔ اس مثال میں اور ہمارے زیرِ بحث موضوع میں فرق صرف یہ ہے کہ لکڑیوں کا ایک دوسرے سے فرق اختیاری نہیں ہے۔ لیکن انسانوں کا فرق خود اُن کے اعمال سے وابستہ ہے اور اُن کے اختیار میں ہے۔ اس گفتگو کا بہترین ثبوت ہیں جو جہنمی اور بہشتی گروہ کی ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھتے ہیں۔ جو نشاندہی کرتی ہیں کہ اس گروہ کا سرچشمہ خود انھی کے اعمال ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خدا نے مختلف آیات میں صریحاً بتایا ہے کہ اُس نے سب کو پاک وپاکیزہ خلق فرمایا ہے اور یہ ان کے اختیار میں ہے کہ وہ چاہیں تو نیکی کے راستے پر چلیں اور ترقی پائیں لیکن ایک گروہ اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم کا راستہ اختیار کرتا ہے جو بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ اور ایک گروہ اپنے اعمال کی بنا پر اپنے آپ کو بہشت کے لئے نامزد کرتا ہے۔ اور اس کا انجام خوش بختی ہے۔ اس کے بعد دوزخی گروہ کی صفات کا خلاصہ تین جملوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ دل تو رکھتے ہیں لیکن ان سے غوروفکر اور ادراک کا کام نہیں لیتے (لَھُمْ قُلُوبٌ لَایَفْقَھُونَ بِھَا)۔ یہ بات متعدد مقامات پر کہی جا چکی ہے قرآن کی اصطلاح میں روح فکر اور قوتِ عقل کے معنی میں ہے یعنی اس کے باوجود کہ وہ قوت فکر رکھتے ہیں اور چوپاؤں کی طرح بے شعور نہیں پھر بھی اس فضیلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ ہی سوچ بچار کرتے ہیں اور حوادث کے عوامل ونتائج پر غور نہیں کرتے اور اس عظیم بدبختی کے چنگل سے نجات پانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو برُوئے کار نہیں لاتے۔ دوسرا یہ کہ روشن اور حقیقت کو دیکھنے والی آنکھیں تو رکھتے ہیں لیکن حقائق پر نگاہ نہیں ڈالتے اور اندھوں کی طرح ان کے قریب سے گزر جاتے ہیں (وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَایُبْصِرُونَ بِھَا)۔ تیسرا یہ کہ صحیح وسالم کان رکھنے باوجود سچائی کی بات نہیں سنتے اور بہروں کی طرح اپنے آپ کو حرفِ حق سننے سے محروم رکھتے ہیں (وَلَھُمْ آذَانٌ لَایَسْمَعُونَ بِھَا)۔ یہ لوگ درحقیقت چوپایوں کی طرح ہیں کیونکہ چوپایوں سے انسان کا امتیاز بیدار فکر، چشم بینا اور سننے والے کان کی بناپر ہے۔ افسوس کہ یہ ان سب صلاحیتوں کو گنوا چکے ہیں (اُوْلٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ)۔ بلکہ وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور پست تر ہیں (بَلْ ھُمْ اَضَلُّ)۔ کیونکہ چوپائے تو یہ استعداد اور وسائل نہیں رکھتے لیکن یہ عقل سلیم، دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان کی بدولت ہر قسم کی ترقی وسعادت کا امکان رکھتے ہیں۔ چونکہ اُن کا رجحان ہوس پرستی اور ذلّت کی طرف ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتے اور یہیں سے اُن کی بدبختی شروع ہو جاتی ہے۔ "وہ غافل اور بے خبر افراد ہیں"۔ اور اسی لئے وہ بے راہ روی کا شکار ہیں (اُوْلٰئِکَ ھُمَ الْغَافِلُونَ)۔ آبِ حیات کا چشمہ اُن کے پاس ہے پھر بھی وہ پیاس کے مارے فریاد کر رہے ہیں۔ بھلائی کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے ہیں لیکن ان کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی بدبختی کو خود دعوت دیتے ہیں اور گراں قدر عقل، آنکھ اور کان جیسی نعمتوں سے فیض نہیں اٹھاتے۔ یہ نہیں کہ خدا نے اُنھیں جبری طور پر دوزخیوں کی صف میں شامل کر دیا ہے۔
وہ چوپایوں کی طرح کیوں ہیں؟
قرآنِ مجید میں بے خبر غافلین کو بارہا بے شعور چوپایوں اور حیوانات سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے مویشیوں سے تشبیہ اس لئے دی گئی ہو کہ وہ صرف کھانے پینے، سونے اور جنسی شہوات میں لگے رہتے ہیں۔ بالکل ان اقوام وملل کی طرح جو پرفریب نعروں کے ذریعے عدالتِ اجتماعی اور قوانین بشری کا آخری مقصد روٹی، پانی اور ایک آسودہ مادی زندگی کا حصول قرار دیتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام "نہج البلاغہ" میں اس سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں: "کالبھیمة المربوطة ھمھا علفھا والمرسلة شغلھا تقممھا" مثل بندھے ہوئے جانور کے جو صرف گھاس کی فکر میں ہے یا آزاد شدہ جانور کی مانند جس کا مشغلہ چارا نگلنا ہوتا ہے۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خط نمبر۴۵) بالفاظ دیگر آسودہ حال اور دولت مند گروہ گھر میں پرورش پانے والی بندھی ہوئی بھیڑ بکریوں کی طرح ہے اور جو گروہ خوشحال نہیں وہ ان مویشیوں کی طرح ہے جو بیابان میں دربدر پانی اور گھاس کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں لیکن ان دونوں گروہوں کا مقصد شکم سیری کے سوا کچھ نہیں۔ جو کچھ اوپر کہا گیا ہے ہو سکتا ہے یہ ایک ہی فرد پر صادق آئے یا ایک قوم وملت پر۔ وہ قومیں جنھوں نے اپنی فکر وسوچ کو ناکارہ کر دیا ہے اور وہ غیرمہذّب سرگرمیوں میں مصروف ہیں نہ تو وہ اپنی بدبختی کی اصل بنیادوں پر غور روفکر کرتی ہیں اور نہ اپنی ترقی کی بنیادوں پر سوچ بچار کرتی ہیں۔ ان کے کان سنتے ہیں، نہ آنکھیں دیکھتی ہیں۔ تو یہ بھی دوزخی ہیں نہ صرف قیامت کی دوزخ میں ہوں گے، بلکہ وہ اس دنیا میں بھی زندگی کی دوزخ میں گرفتار ہیں۔ بعد والی آیت میں اہلِ بہشت کی وضع وکیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اوّل دوزخیوں کی صف سےباہر نکالنے کے لئے لوگوں کو خدا کے اسماء حسنیٰ پر گہری توجہ دینے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: خدا کے لئے بہترین نام ہیں اسے انہی کے ساتھ پکارُو (وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِھَا)۔ اسماء حسنیٰ سے مراد پروردگار کی مختلف صفات ہیں جو سب اچھی اور سب کی سب حسنیٰ ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم ہے، قادر ہے، رازق ہے، عادل ہے، جواد ہے، کریم ہے، رحیم ہے اور اسی طرح اس کی اور بھی بہت سی صفات ہیں۔ خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ ان الفاظ کو ہم اپنی زبان پر جاری کر لیں۔ مثلاً ہم کہیں یا عالم، یا قادر، یا "ارحم الراحمین" بلکہ چاہیے یہ کہ ہم ان صفات کو حتی المقدور اپنے اندر پیدا کریں۔ خدا کے علم ودانش کا پرتو، اس کی قدرت وتوانائی کی ایک کرن اور اس کی وسیع رحمت کا ایک اہم ذرّہ ہم ہیں اور ہمارے معاشرے میں عملی شکل اختیار کر لے۔ دوسرے لفظوں میں اس جیسے اوصاف خود میں پیدا کریں اور اس کے اخلاقِ حسنیٰ کو اپنائیں اور اُسے مسعل راہ بنائیں تاکہ اس علم وقدرت اور اسی عدالت ورحمت کے سائے میں ہم اپنے آپ کو اور اس معاشرے کو جس میں زندگی بسرے کر رہے ہیں دوزخیوں کی صف سے نکال لیں۔ اس کے بعد خدا لوگوں کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ وہ اُس کے ناموں میں تحریف نہ کریں لہٰذا ارشاد ہوتا ہے: انھیں چھوڑ دو جو خدا کے ناموں میں ردّوبدل کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے بُرے اعمال کی سزا پائیں گے (وَذَرُوا الَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِی اَسْمَائِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ)۔ "الحاد" اصل میں "لحد" (بروزن مہد) اس گڑھے کے معنی میں ہے جو ایک ہی طرف ہو. اسی بناپر گڑا جو قبر کی ایک طرف ہو اسے لحد کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہر اس کام کو الحاد کہا جانے لگا جو اعتدال اور وسط کی حد سے افراط وتفریط کی طرف مائل ہو۔ شرک وبت پرستی پر بھی اسی وجہ سے الحاد کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسماء خدا میں الحاد سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کے ان الفاظ اور مطالب کو تبدیل کر دیں یا اسے اوصاف کے ساتھ متصف کریں کہ جو خدا کے شایانِ شان نہ ہو۔ عیسائیوں کی طرح جو تین خداؤں کو مانتے ہیں یا یہ کہ خدا کی صفات کو اس کی مخلوق پر منطبق کریں بت پرستوں کی طرح جو بتوں کے ناموں کو خدا کے نام سے اخذ کرتے تھے مثلاً ایک بت کو "اللات" دوسرے کو "العزیٰ" اور تیسرے کو "منات" کہتے تھے جو بالترتیب "الله"، "العزیز" اور "المنّان" سے مشتق تھے۔ یا مثل عیسائیوں کے جو خدا کا نام عیسیٰ اور روح القدس کو دیتے ہیں۔ یا یہ کہ اس کی صفات میں اس طرح ردّوبدل کریں کہ جس کا نتیجہ مخلوقات سے تشبیہ یا صفات کی تعطیل یا اس قسم کی کوئی چیز ہو یا صرف نام پر اکتفاء کریں بغیر اس کے کہ ان صفات کو اپنے اُوپر یا اپنے معاشرے پر منطبق کریں۔ آخری آیت میں دو حصّوں کی طرف کہ جو بہشتی گروہ کی بنیادی صفات ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان میں سے کہ جنھیں ہم نے خلق کیا ہے ایک امّت اور گروہ ایسا ہے جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور حق کے مطابق حکم کرتا ہے (وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّةٌ یَھْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ)۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دو واضح پروگرام ہیں۔ ان کی فکر، ان کا ہدف، ان کی دعوت اور ان کی تہذیب و تمدن حق اور جانبِ حق ہے۔ نیز ان کا عمل، ان کا پروگرام اور ان کی حکومت حق اور حقیقت کی بنیاد پر قائم ہے۔
چند اہم نکات ۱۔ اسمائے حسنی کیا ہیں؟
شیعہ وسنّی کتب وتفسیر میں اسماء حسنیٰ کے سلسلہ میں تفصیلی مباحث ملتی ہیں کہ جن کا خلاصہ اور اپنا نکتہٴ نظر ہم یہاں پر بیان کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ "اسماء حسنیٰ " کا مطلب "اچھے نام" ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ پروردگار کے سب نام اپنے اندر اچھے مفاہیم ہی رکھتے ہیں تو اس بناپر اس کے سب نام ہی حسنیٰ ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ ذات پاک کی صفات ثبوتیہ میں سے ہوں مثلاً "عالم و قادر"یا یہ کہ ذات مقدس کی صفات سلبیہ میں سے ہوں۔ جیسا کہ "قدوس" یا وہ جو صفات فعل ہیں جو اس کے کسی فعل کی ترجمانی کرتی ہیں مثلاً خالق، غفور، رحمٰن اور رحیم۔ دوسری طرف اس میں بھی شک نہیں کہ صفات باری تعالیٰ کا احاطہ اور شمار نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے کمالات اور لامحدود ہیں اور اس کے ہر کمال کے لئے کوئی نام اور صفت ہم انتخاب کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی صفات میں سے بعض بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں اور "اسماء حسنیٰ" جو کہ اُوپر والی آیت میں آئے ہیں شاید ان میں ممتاز تر صفات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ وہ روایات جو پیغمبر اکرم اور آئمہ اہلبیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں بارہا یہ مطلب نظر سے گذرا ہے کہ خدا کے ننانوے نام ہیں اور جو شخص بھی اسے ان ناموں کے ساتھ پکارے اس کی دعا مستجاب ہو گی اور جو انھیں شمار کرے وہ اہل بہشت میں سے ہے۔ مثلاً وہ روایت جو کتاب توحیدِ صدوق میں امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء واجداد کے حوالہ سے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ پیغمبر نے فرمایا: "إنّ للّٰہ تبارک وتعالیٰ تسعة وتسعین إسماً، ماٴة الّا واحدة، من اٴحصاھا دخل الجنة...(تفسیر المیزان؛ مجمع البیان اور نور الثقلین آیہ ہٰذا کے ذیل میں) یعنی: "اللہ کے ننانوے نام ہیں جو انہیں شمار کرے جنت میں داخل ہو گا۔ نیز کتاب توحید ہی میں امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے ان کے اباء واجداد کے حوالے سے حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: "إنّ اللّٰہ عزّوجلّ تسعة وتسعین إسماً مَن دَعا اللّٰہ بھا استجاب لہ ومن اٴحصاھا دخل الجنة...(سابقہ حوالہ) "یعنی خدا تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کے ذریعے الله کو پکارے اُس کی دعا مستجاب ہو گی اور جو انھیں شمار کرے وہ داخلِ جنت ہو گا" صحیح مسلم، بخاری، ترمذی اور اہل سنت کی دیگر کتب احادیث میں بھی یہی مضمون خدا کے ننانوے ناموں کے بارے میں درج ہے اور یہ بھی کہ جو شخص خدا کو اُن کے ساتھ پکارے اس کی دعا قبول ہو گی یا جو شخص انھیں شمار کرے وہ اہلِ بہشت میں سے ہو گا(سابقہ حوالہ) ان میں سے بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ننانوے نام قرآن مجید میں ہیں۔ مثلاً وہ روایت جو ابنِ عباس سے منقول ہے کہ پیغمبر نے فرمایا: "للّٰہِ تسعة وتسعون إسماً من احصاھا دخل الجنة وھی فی القرآن"(سابقہ حوالہ) الله کے ننانوے نام گننے والا جنت میں جائے گا اور وہ قرآن میں ہیں۔" اس لئے بعض علماء نے کوشش کی ہے کہ وہ ان ناموں اور صفات کو قرآن مجید سے اخذ کریں لیکن خدا کے جو نام قرآن مجید میں آئے ہیں وہ ننانوے سے زیادہ ہیں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ اسماء حسنیٰ انھیں کے درمیان ہوں اور یہ درست نہیں کہ ننانوے ناموں کے علاوہ خدا کا اور کوئی نام نہیں۔ بعض روایات میں یہ ننانوے نام آئے ہیں، ہم ذیل میں ان میں سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں (لیکن یاد رہے کہ ان میں سے بعض نام جس طرح اس روایت میں آئے ہیں اس طرح متن قرآن میں نہیں ہیں لیکن ان کا مضمون ومفہوم قرآن میں موجود ہے) اور یہ وہ روایت ہے جو "توحیدِ صدوق" میں امام صادق علیہ السلام سے ان کے آباء واجداد کے حوالے سے حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے کہ جس میں اس طرف اشارہ فرمانے کے بعد خدا کے ننانوے نام ہیں آپ فرماتے ہیں: وھی اللّٰہ، الالٰہ، الواحد، الاحد، الصمد، الاوّل، الاٰخر، السمیع، البصیر، القدیر، القادر، العلّی، الاعلیٰ، الباقی، البدیع، الباریء، الا کرم، الباطن، الحی، الحکیم، العلیم، الحلیم، الحفیظ، الحق، الحسیب، الحمید، الحفی، الرب، الرحمان، الرحیم، الذارء، الرازق، الرقیب، الروٴف، الرائی، السلام، الموٴمن، المھیمن، العزیز، الجبّار، المتکبر، السید، السبوح، الشھید، الصادق، الصانع، الظاھر، العدل، العفو، الغفور، الغنی، الغیاث، الفاطر، الفرد، الفتاح، الفالق، القدیم، الملک، القدوس، القوی، القریب، القیوم، القابض، الباسط، قاضی الحاجات، المجید، المولیٰ، المنّان، المحیط، المبین، المغیث، المصوّر، الکریم، الکبیر، الکافی، الکاشف الضّر، الموتر، النّور، الوھّاب، الناصر، الواسع، الودود، الھادی، الوفی، الوکیل، الوارث، البرّ، الباعث، التوّاب، الجلیل، الجواد، الخبیر، الخالق، خیرالناصرین، الدیّان الشکور، العظیم، اللّطیف، الشافی۔ (بحوالہ: المیزان،ج۸، ص۳۷۶ (منقول از توحید صدوق). لیکن جو چیز یہاں پر زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور خصوصیت کے ساتھ جس کی طرف توجہ دینی ہے وہ یہ ہے کہ خدا ان ناموں سے پکارنے یا پررودگار کے اسماء حسنیٰ کو شمار کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے معانی ومفاہیم کی طرف توجہ کیے بغیر صرف الفاظ ادا کئے جائیں تو کوئی شخص سعادت مند ہو جائے گا یا اُس کی دعا قبول ہو جائے گی؛ بلکہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ ان اسماء اور صفات پر ایمان رکھتا ہو اور کوشش کرے کہ اپنے وجود میں ان کے مفاہیم کا پرتو یعنی عالم، قادر، رحمان، رحیم، حلیم، غفور، قوی، غنی، رازق، وغیرہ کا مفہوم اپنے وجود میں منعکس کرے۔ مسلّم ہے کہ ایسا شخص بہشتی بھی ہو جائے گا اور اس کی دعا بھی قبول ہو گی اور ہر خیرونیکی کو بھی پائے گا۔ جو کچھ ضمناً بیان ہوا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کچھ روایات اور دعاؤں میں ان ناموں کے علاوہ خدا کے اسماء کا تذکرہ ملتا ہے اور بعض دعاؤں میں خدا کے ناموں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، تو ہمارا بیان ان کے منافی نہیں کیونکہ خدا کے اسماء کی کوئی انتہا نہیں اور خدا کی ذات باکمال ولازوال کی طرح وہ غیر محدود ہیں اگرچہ ان میں سے کچھ صفات اور اسماء ممتاز ہیں۔ بعض اور بھی روایات ہیں مثلاً وہ روایت جو کافی میں امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: نحن واللّٰہ الاسماء الحسنیٰ خدا کی قسم ہم خدا کے اسماء حسنیٰ ہیں(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۱۰۳)۔ تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صفات خداوندی کا قوی پرتو ہمارے وجود میں منعکس ہوا ہے اور ہماری معرفت اس کی پاک ذات معرفت کے لئے ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ایسی روایات بھی سطورِ بالا پیش میں کئے گئے مفہوم سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں یا پھر دوسری احادیث میں درج ہے کہ تمام اسماء حسنیٰ کا خلاصہ "خالص توحید" میں ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کی تمام صفات اس کی یکتا ذات پاک طرف لوٹتی ہیں۔ فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک لحاظ سے قابلِ غور ہے کہ پروردگار کی تما صفات ان دو حقیقتوں کی نشاندہی کرتی ہیں: "اس کی ذات کی ہر چیز سے بے نیازی" یا "ہر چیز کی اس کی ذات کی طرف نیازمندی"۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، ج۱۵، ص۶۶)
فلاح و نجات پانے والا گروہ
جیسا کہ مذکورہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ بندگان خدا کا ایگ گروہ حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور حق کے مطابق حکم کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گروہ سے کون لوگ مراد ہیں ان روایات میں جو احادیث اسلام میں آئی ہیں مختلف تعبیریں نظر سے گزرتی ہیں، بشمول ان کے امیرالمومنین(علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: اس سے مراد امت محمد صلی الله علیہ وآلہ سلّم ہے(بحوالہ: نور الثقلین، ج۲، ص۱۰۵)۔ یعنی وہ لوگ جو رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ سلّم کے سچّے پیروکار ہیں اور آنحضرت کی تعلیمات میں کسی قسم کے ردّوبدل، تغیّر، بدعت اور انحراف سے کنارہ کش ہیں۔ اسی بناپر ایک اور حدیث میں رسول اکرمصلی الله علیہ وآلہ سلّم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "والذّی نفسی بیدہ لتفرقن ھٰذہ الامة علیٰ ثلاثة وسبعین فرقة، کلھا فی النار الّا فرقة" وممن خلقنا امة یھدون بالحق وبہ یعدلون" وھٰذہ التی تنجو من ہٰذہ الامة" قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ امّت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی کہ جو سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے کہ جن کی طرف خدا نے آیہٴ "وممن خلقنا امة... " میں اشارہ کیا ہے صرف وہی اہلِ نجات ہیں۔ (سابقہ حوالہ) ہو سکتا ہے ۷۳ کا عدد کثرت یا بہتات کے لئے استعمال ہوا ہو اور مختلف گروہوں کی طرف اشارہ مطلوب ہو جو اسلام کی پوری تاریخ میں عجیب وغریب عقائد کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے رہے اور خوش قسمتی سے ان میں زیادہ تر ختم ہو گئے ہیں اور "تاریخ عقائد" کی کتب میں صرف اُن کے نام رہ گئے ہیں۔ایک اور حدیث میں جو اہل سنّت کے منابع میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ان مختلف گروہوں کے ضمن میں جو آئندہ امّت اسلامی پیدا ہونے والے تھے، ارشاد فرمایا ہے: وہ گروہ جو اہلِ نجات ہے وہ میرے شیعہ اور میرے مکتب کے پیروکار ہیں۔(بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ۲، صفحہ ۵۳)۔ بعض روایات میں یہ بھِ آیا ہے کہ اس آیت سے مراد، آئمہ اہل بیت ہیں۔ )نورالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۴ و صفحہ ۱۰۵( واضح ہے کہ اوپر والی تمام روایات ایک ہی سچائی و حقیقت کی تصدیق کر رہی ہیں اور اس حقیق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کر رہی ہیں۔ یعنی آیت میں ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دعوت حق دیتا ہے اور جس کا قول و فعل نظام حکومت اور پروگرام سراسر حق ہے اور وہ سچے اور صحیح اسلام کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور یہ امر قابل توجہ ہے کہ تمام تضادات کے باوجود جو علمی، نسلی اور لسانی معاملات میں ہوتے ہیں وہ (پھر بھی) ایک ہی امت اور ایک گروہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ کیونکہ قرآن ان کے بارے میں اُمّت (نہ کہ امم) کا لفظ استعمال کرتا ہے۔
خدا کا اسم اعظم
بعض روایات میں کہ جو "بلعم باعورا" کے واقعہ سے متعلق ہیں، جس کا تذکرہ ہو چکا ہے یہ آیا ہے کہ وہ خدا کے "اسم اعظم" کو جانتا تھا۔ اوپر والی آیات کی مناسبت سے جن میں خدا کے اسماء حسنیٰ پر گفتگو ہوئی ہے مناسب ہو گا کہ ہم اس موضوع کی طرف اشارہ کریں۔ اسم اعظم کے سلسلے میں گونا گوں روایات ملتی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اس اسم سے باخبر ہو نہ صرف اس کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ یہ فیض بھی اٹھاتا ہے کہ خدا کے حکم سے عالم طبیعت میں تصرف بھی کر سکتا ہے اور اہم کام انجام دے سکتا ہے۔ اس بارے میں کہ خدا کے ناموں میں سے اسم اعظم کو ن سا ہے بہت سے علماء اسلام نے بحث کی ہے اور زیادہ تر مباحث جس محور کے گرد گھومتی ہیں، وہ یہ ہے کہ خدا کے ناموں میں سے وہ اس نام کا سراغ لگائیں جو یہ عجیب اور عظیم خاصیت رکھتا ہو۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس بات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ ہم ایسے نام اور صفات کا پتہ لگائیں کہ جن کے مفہوم کو اپنا نے سے ہم ایسا روحانی کمال حاصل کریں کہ جس سے وہ آثار مرتب ہوں۔ بالفاظ دیگر اصل مسئلہ ان صفات کو خود میں پیدا کرنا، ان مفاہیم کا واجد ہونا اور ان اوصاف سے متصف ہونا ہے۔ ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ گناہوں سے آلودہ ایک شخص مستجاب الدعوة وغیرہ ہو جائے۔ اور اگر ہم سنتے ہیں کہ بلعم اسم اعظم کا حامل تھا اور اسے ہاتھ سے کھو بیٹھا تو اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ خود سازی، ایمان کی آگاہی اور پرہیزگاری کی وجہ سے روحانیت کے اس مرتبہ پر فائز ہو گیا تھا کہ اس کی دعا بارگاہ ایزدی میں رد نہیں ہوتی تھی لیکن پھر وہ ان لغزشوں کے نتیجے میں کہ جن سے بہرحال انسان محفوظ نہیں ہے اور ہوس پرستی میں مبتلا ہونے سے، فرعونوں اور طاغوتوں کی خدمت گزاری کی وجہ سے وہ روحانیت و معنویت سے مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھا اور اس مقام و مرتبہ کو کھو بیٹھا اور اسمِ اعظم کے بھول جانے سے مراد ہو سکتا ہے یہی معنی ہو۔ نیز اگر مرقوم ہے کہ رسولِ اعظم اور ہادیانِ برحق اسم اعظم سے آگاہ تھے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے اس عظیم ترین اسم کی حقیقت کو اپنے وجود میں جذب کر لیا تھا اور اس حالت و کیفیت کی وجہ سے خدا نے انھیں یہ بلند مقام عطا فرما دیا تھا۔کی قدرت نہیں رکھتا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 183 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تدریجی سزا
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں دوزخیوں کے بارے میں ہوئی تھی، ان دو آیات میں خدا کی طرف سے سزا کا ذکر ہے جو ایک سنت کے طور پر بہت سے سرکش گنہگاروں کو دی جاتی ہے اور یہ وہی سزا ہے جسے ”عذاب استدراج“ یا ”تدریجی سزا “کہتے ہیں ۔ ”استدراج“ قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے۔ ایک زیر نظر آیت میں اور دوسرا سورہٴ ”قلم“ کی آیت ۴۴ میں۔ دونوں مواقع پر ”استدراج“کا استعمال آیاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں کے لئے ہوا ہے۔ لغت میں ”استدراج“ کے دومعانی ہیں: ایک یہ کہ کسی چیز کو تدریجاً اور آہستہ آہستہ لینا (کیونکہ یہ لفظ ”درجہ“ سے اخذ کیا ہے جو سیڑھی کے ایک قدم کے معنی میں ہے۔ جس طرح انسان اوپر چڑھنے اور نیچے اتر نے یا عمارت کے نچلے حصّوں سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے سیڑھی کے درجوں یا قدموں سے فائدہ اتھاتا ہے، اسی طرح جب کسی چیز کو تدریجاً اور مرحلہ بمرحلہ لیں یا گرفتار کریں تو اس عمل کو استدراج کہتے ہیں) استدراج کا دوسرا معنی ہے لپیٹنا اور تہ کرنا ۔ جس طرح کاغذوں کے ایک پلندے کو لپیٹتے ہیں (ان دونوں معانی کو راغب نے کتاب مفردات میں بھی بیان کیا ہے( لیکن غور کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں معانی ایک کلی اور جامع مفہوم "تدریجی انجام" کی ہی ترجمانی کرتے ہیں۔ استدراج کا معنی واضح ہوجانے کے بعد ہم آیت کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ خداوند عالم پہلی آیت میں فرماتا ہے: جنہوں نے ہماری آیات کی تذلیل کی اور انکار کیا تدریجاً اور آہستہ آہستہ اس راستے سے کہ جسے وہ نہیں جانتے ہم سزا کے پھندے میں انھیں گرفتار کر لیں گے اور ان کی زندگی (کی بساط) کو لپیٹ دیں گے ( وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُونَ)۔ دوسری آیت میں تاکید مطلب کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اس طرح نہیں کہ جلدبازی میں ایسے افراد کو ہم فوراً سزا دے دیں، بلکہ انھیں ہم کافی مہلت اور وقت دیتے ہیں تاکہ وہ واپس سیدھے راستے پر آجائیں اور ہوش میں آ جائیں اور جب وہ نہیں سمجھتے تو انھیں گرفتار کرتے ہیں ( وَاُمْلِی لَھُم)۔ کیونکہ جلدبازی اور تیزی کرنا تو ان لوگوں کا کام ہے جو کافی قدرت نہیں رکھتے اور انھیں ڈر ہوتا ہے کہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ ”لیکن میرا طریقہٴ کار قوی ہے اور سزا اس طرح منصوبہ کے مطابق ہوتی ہے کہ کسی شخص میں اس سے فرار کی قدرت نہیں “ (إِنَّ کَیْدِی مَتِینٌ)”متین“ قوی اور شدید کے معنی میں ہے اور اصل میں ”متن“ سے لیا گیا ہے کہ جو اس مضبوط پٹھے کو کہتے ہیں جو پشت پر ہوتا ہے۔ "کید “اور ”مکر “ہم معانی ہیں اورجس طرح سورہٴ آلِ عمران کی آیت ۵۴(جلد۲)میں بیان کیا گیا ہے۔ ”مکر“لغت میں چارہ جوئی ، باز رکھنے اور کسی کے مقصد تک پہنچنے کے معنی میں ہے اور ”تکلیف دہ سازشیں“ والا معنی جو آج کل کی فارسی میں پایا جاتا ہے وہ اس کے عربی مفہوم میں نہیں ہے۔ ”استدراجی سزا“ کے بارے میں کہ جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے اور دوسری آیات قرآن اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے توضیح یہ ہے کہ خدا گنہگاروں اور منہ زور سرکشوں کو ایک سنت کے مطابق فوراً سزا نہیں دیتا، بلکہ نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دیتا ہے تو وہ زیادہ سرکشی دکھاتے ہیں۔ خدا کی نعمتوں کو ضرورت سے زیادہ اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں یا تو یہ نعمتیں ان کی اصلاح اور سیدھے راستے پر آنے کا سبب بن جاتی ہیں اور اس موقع پر ان کی سزا دردناک مرحلہ پر پہنچ جاتی ہے کیونکہ جب وہ خدا کی بے شمار نعمتوں اور عنائتوں میں غرق ہوجاتے ہیں تو خدا ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لیتا ہے اور زندگی کی بساط لپیٹ دیتا ہے۔ ایسی سزا بہت ہی سخت ہے۔ البتہ یہ معنی اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف لفظ استدراج میں پنہاں نہیں ہے، بلکہ (من حیث لایعلمون) کی شرط کی طرف متوجہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے۔ بہر حال اس آیت میں تمام گنہگاروں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ عذاب الٰہی کی تاخیر کو اپنی پاکیزگی اور راستی یا پروردگار کی کمزوری پر محمول نہ کریں اور وہ عنایات اور نعمتیں جن میں وہ غرق ہیں انھیں خدا سے اپنے تقرب سے تعبیر نہ کریں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو کامیابیاں اور نعمتیں انھیں ملتی ہیں، پروردگار کی استدراجی سزا کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔ خدا انھیں اپنی نعمتوں میں محو کردیتا ہے اور انھیں مہلت دیتا ہے؛ انھیں بلند سے بلندتر کرتا ہے لیکن آخر کار انھیں اس طرح زمین پر پٹختا ہے کہ ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ اور ان کے تمام کاروبار زندگی اور تاریخ کو لپیٹ دیتا ہے۔ امیرالمومنین حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں : انہُ من وسع علیہ فی ذات یدہ فلم یرہُ ذٰلک استدراجاً فقد امن مخوفا ”وہ شخص کہ جسے خدا بے بہا نعمات اور وسائل دے اور وہ اسے استدراجی سزا نہ سمجھے تو وہ خطرے کی نشانی سے غافل ہے۔“(بحوالہ: نوالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۶)۔ نیز حضرت علی (علیه السلام) سے کتاب ”روضہ کافی“ میں نقل ہوا ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کوئی چیز حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ ظاہر اور خدا اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔“ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اس زمانے میں کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ صرف قرآن کی ایک آیت سن کر (اس کی تحریف کریں گے) اور خدا کے دین سے نکل جائیں گے اور ہمیشہ وہ ایک حاکم کے دین کی طرف اور ایک شخص کی دوستی سے دوسرے کی دوستی کی طرف اور ایک حکمران کی اطاعت سے دوسرے حکمران کی اطاعت کی طرف اور ایک کے عہد و پیمان سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے اور آخر کار ایسے راستے سے کہ جس کی طرف ان کی توجہ نہیں ، پروردگار کی استدراجی سزا میں گرفتار ہو جائیں گے۔“(بحوالہ: نوالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۶)۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: کم من مغرو ر بما قد انعم اللّٰہ علیہ و کم من مستدرج یستر اللّٰہ علیہ و کم من مفتون بثناء الناس علیہ. ” "کتنے لوگ ایسے ہیں جو پروردگار کی نعمتوں کی وجہ سے مغرور ہو جاتے ہیں اور کتنے گنہگار ایسے ہیں جن کے گناہوں پر خدا نے پردہ ڈال رکھا ہے لیکن وہ گناہ کو جاری رکھتے ہوئے سزا کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں کہ لوگوں کی خوشامد سے دھوکا کھا جاتے ہیں ۔“(سابقہ حوالہ) نیز امام جعفر صادق(علیه السلام) سے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے ارشاد فرمایا: ھو العبد یذنب الذنب فتجدد لہ النعمة معہ تلھیة تلک النعمة عن الاستغفار عن ذٰلک الذنب۔ ”اس آیت سے مراد وہ گنہگار بندہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے اور خدا اسے اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے (کہ شاید وہ سدھر جائے) لیکن وہ اس نعمت کو اپنی اچھائی کے حساب میں ڈال لیتا ہے اور وہ اسے گناہ سے توبہ کرنے کی بجائے غفلت میں ڈال دیتی ہے۔“(سابقہ حوالہ) ۔ نیز اسی امام (علیه السلام) سے کتاب کافی میں اس طرح نقل ہوا ہے: ان اللّٰہ اذا اراد بعبد خیراً فاذنب ذنباً اتبعہ بنقمة و یذکرہ الا ستغفار و اذا اراد بعبد شراً فاذنب ذنبا اتبعہ بنعمة لینسیہ الاستغفار و یتمادی بھا و ھو قولہ عزوجل سنستد رجھم من حیث لایعلمون بالنعم عند المعاصی ۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ صفحہ ۵۳)۔ ”جب خدا کسی بندے کی خیر چاہتا ہے تو جب وہ گناہ کرتا ہے تو (فوراً) اسے سزادے دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کو یاد رکھے اور جب کسی بندے کی برائی (اس کے اعمال کے نتیجہ میں) چاہتا ہے تو جب وہ گناہ کرتا ہے تو اسے نعمت عطا کرتا ہے تاکہ وہ استغفار کو بھول جائے اور اس (گناہ) کو جاری رکھے۔“ اور یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: سنستدرجہم من حیث لایعلمون، یعنی نعمتوں کے ذریعہ گناہوں کے وقت تدریجاً ایسے طریقے سے کہ جسے وہ نہیں جانتے ہم انھیں سزا میں مبتلا کرتے ہیں ۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 186 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 186 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1مفسرین نے بیان کیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ابھی مکہ میں تھے تو ایک رات آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور لوگوں کو ایک خدا کو ماننے اور اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ خصوصاً آپ نے تمام قبائل قریش کو پکارا اور انھیں خدا کی سزا سے ڈرایا یہاں تک کہ رات کا کافی حصّہ گزر گیا تو بت پرست کہنے لگے (ان صاحبھم قد جنّ بات لیلا یصوت الی الصباح) ان کا ساتھی پاگل ہو گیا ہے شام سے لے کر صبح تک پکارتا رہتا ہے۔ اس موقع پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں منہ توڑ جواب دیا گیا۔ باوجودیکہ اس آیت کی مخصوص شان نزول ہے، پھر بھی اس میں چونکہ پیغمبر کا تعارف اور اس کی تخلیق کا مقصد اور دوسری زندگی کے لئے تیاری کی دعوت ہے، یہ گذشتہ مباحث سے تعلق رکھتی ہے جو دوزخی اور بہشتی گروہوں کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔
تہمت تراشیاں اور بہانہ سازیاں
اس آیت میں پہلے پیغمبر پر جنون کے الزام کے بارے میں بت پرستوں کی بے بنیاد بات کا خداوند تعالیٰ اس طرح جواب دیتا ہے: کیا وہ اپنی سوچ بوجھ سے کام نہیں لیتے تاکہ جان لیں کہ ان کا ہم نشین (پیغمبر) میں کسی قسم کے جنون کے آثار نہیں (اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا مَا بِصَاحِبِھِمْ مِنْ جِنَّةٍ)۔ (جیسا کہ بزرگ اہل لغت نے کہا ہے: ”جنة“ جنون کے معنی میں ہے اور اس کا اصلی معنی پوشش ڈھاپنا اور حائل ہونا ہے گویا جنون کے وقت ایک پردہ عقل کے اوپر پڑجاتا ہے (مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم) نمونہ صفحہ ۲۵۷ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ یہ آیت اس طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے درمیان کوئی اجنبی نہ تھے، بلکہ ان کی اپنی اصطلاح میں ”صاحب“ یعنی دوست وہمسر تھے۔چالیس سال سے زیادہ عرصہ سے ان میں آپ کا آنا جانا تھا۔ ہمیشہ انہوں نے آپ کے فکر وتدبّر کو دیکھا اور ہمیشہ دانشمندی کے آثار آپ میں مشاہدہ کئے۔ جو شخص اس دعوت سے پہلے معاشرے کے مدبّر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا تو کس طرح انہوں نے اچانک اس پر یہ بہتان لگا دیا۔ اس قسم کا بیہودہ الزام لگانے سے بہتر نہیں تھا کہ وہ سوچتے کہ ہو سکتا ہے وہ درست ہی کہہ رہا ہو اور دعوت حق کے لئے خدا نے ہی اُسے مامور کیا ہو۔ جس طرح اس پر الزام تراشی کے بعد قرآن کہتا ہے: ”وہ فقط واضح ڈارنے والا ہے جو اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے خبردار کرتا ہے“ (إِنْ ھُوَ إِلاَّ نَذِیرٌ مُبِینٌ)۔ مذکورہ بالا دوسری آیت میں اس بیان کی تکمیل کے لئے عالمِ ہستی، آسمانوں اور زمین کے مطالعہ کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: ”کیا وہ آسمان وزمین کی حکومت اور اُس مخلوق پر جسے خدا نے پیدا کیا ہے، راستی کی نظر نہیں ڈالتے (اَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ)۔ تاکہ وہ جان لیں کہ اس وسیع عالم کو بنانا اور اس میں حیرت انگیز نظام قائم کرنا فضول نہیں، بلکہ اس کا کوئی مقصد تھا اور پیغمبر جو دعوت حق دیتے ہیں وہ درحقیقت اُسی مقصد خلقت کی تکمیل اور انسان کی تربیت وترقی کے مقصد کی ہی ایک کڑی ہے۔ ”مَلَکُوت“ در اصل ”ملک“ سے بنا ہے، جو حکومت اور مالکیت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں ”واو“ اور ”ت“ کا اضافہ تاکید اور مبالغہ کے لئے آتا ہے اور عام طور پر عالم ہستی پر خدا کی مکمل حکومت کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس عالم ہستی کے بہترین نظام پر نظر ڈالنا جو خدا کے ملک وحکومت کی وسعت رکھتا ہے ایک تو خدا پرستی اور حق پر ایمان کو تقویت دیتا ہے، ساتھ ہی اس عظیم ومنظم عالم میں ایک اہم مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ دونوں باتیں انسان سے اس بات کا تقاضا کرتی ہیں اور اُسے خدا کے نمائندے اور اس کی رحمت کی جستجو پر ابھارتی ہیں تاکہ انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا کر سکے۔ اس کے بعد اُنھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: کیا انہوں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی زندگی کی آخری گھڑیاں آ پہنچی ہوں اور اگر آج ایمان نہ لائے اور اس پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کیا اور جو قرآن اس پر نازل ہوا ہے اسے ان واضح نشانیوں کے باوجود تسلیم نہ کیا تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے (وَاَنْ عَسیٰ اَنْ یَکُونَ قَدْ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ فَبِاَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ)۔ یعنی ¬---پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کی عمر جاودانی اور دائمی ہو۔ مہلت کی گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل زندہ ہو گا یا نہیں۔ تو پھر ایسے میں آج اور کل کرنا اور مسائل کو پسِ پشت ڈالنا ہرگز دانشمندانہ کام نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ قرآن پر باوجود ان سب نشانیوں کے جو خدا کی طرف سے اس میں ہیں، ایمان نہ لائے تو کیا اس سے برتر اور بالاتر کتاب کے انتظار میں ہیں؟ کیا ممکن ہے کہ وہ کسی دوسری بات اور دعوت پر ایمان لے آئیں گے؟ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں زیرِ نظر آیت نے مشرکین کے لئے تمام راستے بند کردیے ہیں۔ ایک طرف سے انہیں رسول الله کی اعلانِ رسالت سے قبل کی عقل ودانش کی متوجہ کیا گیا ہے تاکہ وہ آپ پر جنون کی تہمت لگا کر ان کی دعوت سننے سے فرار نہ کریں۔ دوسری طرف سے انھیں نظام خلقت، خالق اور مقصدِ خلقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ تیسری طرف سے انھیں دنیا کی زندگی کے جلد گزر جانے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ اور چوتھی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس طرح کی واضح کتاب پر ایمان نہیں لائے تو کسی چیز پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ اس سے بالاتر کا تصوّر نہیں ہو سکتا ۔ آخرکار زیرِ نظر آیات میں سے آخری آیت میں گفتگو کو یوں سمیٹا گیا ہے کہ: جسے خدا اُس کے قبیح اور دائمی بُرے اعمال کی وجہ سے گمراہ کر دے اس کے لئے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے اور خداوندعالم انھیں اس طرح طغیان وسرکشی میں چھوڑ دے گا تاکہ وہ حیران وسرگرداں رہیں (مَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَلَاھَادِیَ لَہُ وَیَذَرُھُمْ فِی طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُونَ)۔ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایسی تعبیریں تمام کافروں اور گنہگاروں کےلیے نہیں ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کےلیے مخصوص ہیں جو حقائق کے سامنے اس طرح کی پٹ دھرمی، تعصب اور عناد کا مظآہرہ کرتےہیں کہ گویا ان کی آنکھ، کان اور دل پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ایسے تاریک پردے جو ان کے اعمالکا نتیجہ ہیں اور اضلالِ الہی )یعنی خدا کی طرف سے گمراہ کیے جانے( سے بھی یہی مراد ہے۔
شان نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 1جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے(بحوالہ: تفسیر برہان: ج۲، ص۵۴.) قریش نے چند آدمیوں کو مامور کیا کہ وہ نجران جائیں اور یہودی علماء سے ملیں (کیونکہ عیسائیوں کے علاوہ نجران میں یہودی بھی آباد تھے) ان کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان سے پیچیدہ قسم کے سوالات پوچھ آئیں تاکہ وہ سوالات پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کی خدمت میں پیش کئے جا سکیں (ان کا گمان تھا کہ رسولِ خدا ان کے جواب نہ دے پائیں گے) ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قیامت کب برپا ہو گی؟ جب انھوں نے یہ سوال رسول الله سے کیا تو زیرِ نظر آیت کے ذریعے اُنھیں جواب دیا گیا۔(تشریحی نوٹ: بعض مفسری---مثلاً مرحوم طبرسی---نے اس آیت کی شانِ نزول یہودیوں کے بارے میں ذکر کی ہے کہ وہ خدمت پیغمبر میں آئے اور انھوں نے قیامت کے متعلق سوال کیا لیکن یہ سورت چونکہ مکّہ میں نازل ہوئی ہے اور وہاں پیغمبر اکرم کا یہودیوں سے سابقہ نہیں پڑتا تھا لہٰذا یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے)۔
قیامت کب برپا ہو گی؟
اگرچہ آیت کے لئے مخصوص شان نزول بیان کی گئی ہے تاہم یہ قبل کی آیات سے واضح طور سے وابستہ ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں مسئلہ قیامت کا ذکر تھا اور ساتھ ہی اس کے لئے تیاری کو لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے۔ فطری طور پر ایسی بحث کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ لہٰذا قرآن کہتا ہے: تجھ سے ساعت (روزِ قیامت) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی (یَسْاَلُونَکَ عَنْ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسَاھَا)۔ لفظ "ساعت" اگرچہ "دنیا سے جانے کے آخری وقت" کے مفہوم میں بھی آتا ہے لیکن زیادہ تر اور بقول بعض ہمیشہ قرآن مجید میں "قیام قیامت" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ کچھ قرائن بھی اسی بات پر تاکید کرتے ہیں جن کا ہم اس بحث کے ضمن میں ذکر کریں گے: مثلاً شانِ نزول کا جملہ "متیٰ تقوم الساعة" (یعنی قیامت کب برپا ہو گی)۔ لفظ "ایّان"، "متی" کے مساوی ہے اور زمانے کے بارے میں سوال کے لئے ہے۔ "مرسیٰ" جو کہ اصطلاح کے مطابق مصدر میمی ہے، "آرساء" کا ہم معنی ہے اور کسی چیز کے اثبات یا وقوع کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے مستحکم اور ثابت پہاڑوں کو جبال راسیات کہا جاتا ہے۔ لہٰذا "اَیَّانَ مُرْسَاھَا"کا مفہوم ہے "قیامت کس زمانے میں وقوع پذیر اور ثابت ہو گی"۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! اس سوال کے جواب میں صراحت سے کہہ دو کہ یہ علم صرف پروردگار کے پاس ہے اور اس کے علاوہ کوئی اس وقت کو ظاہر نہیں کر سکتا (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّی لَایُجَلِّیھَا لِوَقْتِھَا إِلاَّ ھُوَ)۔ لیکن سربستہ طور پر اس کی دو نشانیاں ہیں۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قیامت کا برپا ہونا آسمانوں اور زمین میں ایک سخت معاملہ ہے (ثَقُلَتْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ)۔اس سے سنگین اور سخت حادثہ اور کون سا ہو سکتا ہے کیونکہ آستانہٴ قیامت میں تمام آسمانی کرات ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں گے، آفتاب بے نور ہو جائے گا، ماہتاب تاریک ہو جائے گا، ستارے اپنی روشنی سے محروم ہو جائیں گے اور ذرّارت عالم ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ ان میں سے جو کچھ بچے گا اس سے ایک نیا جہان معرضِ وجود میں آئے گا۔(تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے مراد یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں جاننا اور آگاہی حاصل کرنا اہلِ آسمان وزمین کے لئے ثقیل اور بوجھل ہے۔ لیکن حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے کیونکہ لفظ "علم" اور "اھل" کو محذوف مانن آیت کے ظاہر کے خلاف ہے)۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: تجھ سے یوں پوچھتے ہیں گویا تو قیامت کے زمانہٴ وقوع سے باخبر ہے (یَسْاَلُونَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَا)۔ (تشریحی نوٹ: "حفی" اصل میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو پے درپے کسی چیز سے متعلق سوال کرے اور اصرار سے اس کے پیچھے پڑا رہے اور چونکہ سوال میں اصرار انسان کے علم میں پیش رفت کا باعث ہوتا ہے اس لئے کبھی یہ لفظ "عالم" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: ان کے جواب میں "کہو کہ یہ علم صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت سے آگاہی نہیں رکھتے" کہ یہ علم اس ذاتِ پاک سے مخصوص ہے۔ لہٰذا پے درپے اس کے متعلق سوال کرتے ہیں (قُلْ إِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللهِ وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ)۔ ہو سکتا ہے یہ سوال کیاجائے کہ یہ علم ذاتِ خدا سے کیوں مخصوص ہے اور کیوں کسی کو یہاں تک کہ انبیاء کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وقوعِ قیامت سے عدم آگاہی سے اس کے عظیم موقع کے ناگہانی ہونے کا مقصد حاصل ہوتا ہے تاکہ لوگ کسی وقت بھی قیامت کو دور نہ سمجھیں اور ہمیشہ اس کے انتظار میں رہیں اور اس طرح سے اس موقع پر اپنے آپ کو نجات دلانے کے لئے تیار رہیں۔ یہ عدم آگاہی تربیت نفوس، ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہونے اور گناہ سے پرہیز کرنے کے لئے مثبت اور واضح طور پر موٴثر ہے۔
پوشیدہ اسرار صرف خدا جانتا ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس آیت کے لئے بھی اگر چہ ایک خاص شان نزول مذکور ہے تاہم گذشتہ آیت سے اس کا ارتباط واضح ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں اس سلسلے میں تھی کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور زیر نظر آیت میں علم غیب کی خدا کے علاوہ کسی کے لئے کاملاً نفی کی گئی ہے۔ پہلے جملے میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ اپنے بارے میں میں کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر وہ کہ جو خدا چاہے (قُلْ لَااَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَاضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ)۔ اس میں شک نہیں کہ ہر شخص اپنے لئے نفع حاصل کر سکتا ہے یا ضرر اپنے سے دور کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں مطلقاً ہر بشر کی اس قدرت کی نفی کی گئی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ درحقیقت انسان اپنے کاموں کے لئے اپنی طرف سے کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتا بلکہ تمام قدرتیں خدا کی طرف سے ہیں اور وہی ہے جس نے یہ قدرتیں انسانی اختیار میں دی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمام قدرتوں کا مالک اور عالم ہستی میں بالذات صاحبِ اختیار صرف خدا کی ذاتِ پاک ہے اور باقی سب یہاں تک کہ انبیاء اور ملائکہ بھی اسی سے قدرت حاصل کرتے اور ان کی مالکیت اور قادریت بالغیر ہے۔ الا ما شاء اللہ [مگر وہ جو خدا چاہے اور میرے اختیار میں دے دے]۔ یہ بھی اسی مطلب پر گواہ ہے۔ قرآن مجید کی اور بہت سی آیات میں بھی نفع و نقصان اور سود وزیاں کی غیر خدا سے مالکیت کی نفی کی گئی ہے۔ اسی بناء پر بتوں اور جو کچھ غیر خدا ہے، اس کی پرستش سے منع کیا گایا ہے۔ سورہ فرقان آیہ ۳ میں ہے: وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا انہوں نے خدا کے علاوہ اپنے لیے معبود قرار دے رکھے ہیں؛ ایسے معبود جو کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے؛ بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور اپنے بارے میں سود و زیاں پر اختیار نہیں رکھتے [چہ جائیکہ دوسروں کے بارے میں کچھ کرنے پر قادر ہوں]۔ ہر مسلمان خدا کے علاوہ کسی کو بھی خالق، رازق اور نفع و نقصان کا مالک نہیں سمجھتا۔ اسی لیے اگر وہ کسی سے کوئی چیز مانگتا بھی ہے تو یہ حقیقت اس کی نظر میں ہوتی ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ [غور کیجیے گا]۔ یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جو لوگ انبیاء اور آئمہ کو کسی بھی کام میں وسیلہ قرار دینے کی نفی میں اس آیت کو دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے ایک قسم کا شرک سمجھتے ہیں، دراصل، اشتباہ کا شکار ہیں۔ انہوں نے تصور کر لیا ہے کہ پیغمبر اور امام خود سے کچھ نہیں رکھتے، بلکہ جو کچھ چاہتے ہیں، خدا سے چاہتے ہیں۔ اس حالت میں ان سے توسل یا شفاعت و سفارش چاہنا تو عینِ توحید اور عینِ اخلاص ہے۔ "الّا ما شاء اللہ"_ میں قرآن نے اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز "من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ" میں "الّا باذنہ" بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ اس بنا پر دو گروہ توسل کے معاملے میں اشتباہ کا شکار ہیں۔ ایک، وہ جو پیغمبر یا امام کےلیے خدا کے مقابلے میں بالذات قدرت اور مستقل آستانے کے قائل ہیں اور یہ ایک قسم کا شرک اور بت پرستی ہے۔ اور دوسرے، وہ جو انبیاء اور آئمہ سے قدرت بالغیر کی نفی کرتے ہیں اور یہ بھی صریح آیات قرآن سے انحراف ہے۔ راہِ حق یہ ہے کہ انبیاء اور آئمہ حکمِ خدا سے اس کے ہاں شفاعت کرتے ہیں اور متوسل ہونے والے کی مشکل کا حل خدا سے چاہتے ہیں۔ یہ بات بیان کرنے کے بعد قرآن نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ یہ مسئلہ دراصل، ایک گروہ نے پیغمبر اکرم سے پوچھا تھا جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے: "ان سے کہہ دو کہ میں غیب اور پوشیدہ اسرار سے آگاہ نہیں ہوں؛ کیونکہ اگر اسرار نہاں سے آگاہ ہوتا تو اپنے لیے بہت سے منافع مہیا کر لیتا اور مجھے کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچتا [وَلَوْ کُنتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِی السُّوءُ] [تشریحی نوٹ: درحقیقت زیر نظر آیت میں "و لا اعلم الغیب" کا جملہ محذوف ہے اور بعد والا جملہ اس پر گواہ ہے]۔کیونکہ جو شخص تمام مخفی اسرار سے آگاہ ہو وہ ان چیزوں کو انتخاب کر سکتا ہے جو اس کےلیے نفع بخش ہیں اور جن سے اس کا نقصان ہو سکتا ہے، اس سے پر ہیز کرے گا۔ اس کے بعد اپنی رسالت کے حقیقی مقام کو ایک مختصر اور صریح جملے میں بیان فرمایا ہے: "میں صرف ایمان لانے والوں کو ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں" [ِنْ اَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ]
کیا پیغمبر غیب نہیں جانتے تھے؟
کچھ لوگ جن کا مطالعہ محدود ہے اور جو کسی ایک آیت کو فقط سطحی طور پر دیکھتے ہیں اور دوسری آیاتِ قرآن کو نگاہ میں نہیں رکھتے بلکہ خود اسی آیت میں موجود تمام قرائن پر توجہ نہیں دیتے، فیصلہ کر دیتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیت کو بھی ایسے لوگوں نے انبیاء کرام(علیه السلام) سے علم غیب کی مطقاً نفی کی دلیل سمجھا ہے۔ حالانکہ یہ آیت پیغمبر سے علم بالذات ومستقل کی نفی کرتی ہے جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں نفع ونقصان کا مالک ہے۔ لہٰذا قبل کا جملہ گواہ ہے کہ سود وزیاں کی مالکیت کی نفی یا علم غیب کی نفی سے نفیٴ مطلق مراد نہیں ہے، بلکہ ہدف نفیٴ استقلال ہے۔ دوسرے لفظوں میں پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں جانتے تھے بلکہ جو کچھ خدا نے غیب اور اسرار نہاں سے انھیں عطا کیا تھا وہ اسے جانتے تھے۔ جیسا کہ سورہٴ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے: عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہِ اَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُولٍ خدا تمام امورِ غیب سے آگاہ ہے اور وہ کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جن سے وہ راضی ہے۔ اصولی طور پر مقام رہبری کی تکمیل کے لئے اور بالخصوص ایک عالمی قیادت کے لئے تمام مادی وروحانی امور میں بہت سے مسائل سے آگاہی ضروری ہے۔ قیادت کے اس مرتبے کے لئے بہت سے ایسے امور سے واقفیت ضروری ہے جو دوسرے لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔ ایسے رہبر کے لئے نہ صرف احکام وقوانین کا علم ضروری ہے، بلکہ جہان ہستی کے اسرار، انسانی آبادکاری کے امور اور ماضی ومستقبل کے حوادث کا علم کچھ خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے نمائندوں کوعطا کرتا اور اگر نہ کرے تو ان کی رہبری کی تکمیل نہیں ہوتی۔ بالفاظ دیگر کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اسرارِ غیب سے بالکل آگاہ نہ ہوں تو ان کے اقدامات اور گفتگو زمان ومکان میں محدود ہو کر رہ جائیں گے اور ان کا قول وعمل ایک دور اور ایک ماحول میں مقید ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ اسرارِ غیب میں سے ایک حصّہ پر مطلع ہوں تو وہ پروگراموں کی اس طرح تشکیل دیں گے کہ وہ آنے والے اور دوسرے حالات ومقتضیات میں موجود لوگوں کے لئے بھی مفید اور کافی وافی ہوں گے۔ غیب کی آگاہی--- کے سلسلے میں مزید توضیح تفسیر نمونہ جلد۵ صفحہ۲۰۶ پر ملاحظہ کیجئے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 193 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 193 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 193 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 193 کے تحت ملاحظہ کریں۔
ایک عظیم نعمت کا کفران
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں مشرکین کے حالات اور طرزِ فکر کے ایک اور پہلو اور ان کے اشتباہ کا جواب دیا گیا ہے۔ گذشتہ آیت میں سود وزیاں اور علم غیب سے آگاہی کو خدا میں منحصر قرار دیا گیا ہے اور درحقیقت خدا تعالٰی کی توحید افعالی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اب یہ آیات گذشتہ آیات کے مضمون کی تکمیل شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھی خدا کی توحیدِ افعالی کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اس کی بیوی کو اس کی جنس سے قرار دیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے (ھُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ إِلَیْھَا)۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے پہلو میں آرام بخش زندگی گزار رہے تھے "لیکن جب شوہر نے اپنی بیوی سے جنسی رابطہ برقرار کیا تو وہ ہلکے سے بوجھ سے حاملہ ہو گئی۔ ابتداء میں تو اس حمل سے کوئی مشکل پیدا نہ ہوئی اور حاملہ ہونے کے باوجود اپنے دوسرے کاموں کو جاری رکھے ہوئے تھی (فَلَمَّا تَغَشَّاھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیفًا فَمَرَّتْ بِہِ)۔ (تشریحی نوٹ: "تغشاھا " "تغشیٰ " کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے ڈھاپنا اور چھپانا۔ یہ لفظ عربی زبان میں مباشرت کے لئے ایک لطیف اشارہ ہے) ۔ لیکن جوں جوں روز وشب گزرے حمل کا بوجھ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اس نے بہت بوجھ محسوس کیا (فَلَمَّا اَثْقَلَتْ)۔ اس وقت وہ دونوں ایک فرزند کے انتظار میں تھے اور ان آرزو تھی کہ خدا انھیں نیک فرزند عطا فرمائے۔ لہٰذا وہ بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اپنے پروردگار کو اس طرح پکارا: بارالٰہا! اگر تونے ہمیں صالح اور نیک فذزند عطا کیا تو ہم شکر گزاروں میں سے ہوں گے (دَعَوَا اللهَ رَبَّھُمَا لَئِنْ آتَیْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِینَ)۔لیکن جب خدا نے انھی صحیح وسالم اور باصلاحیت فرزند عطا کیا تو وہ اس عظیم نعمت کی عنایت میں خدا کے شرکاء کے قائل ہو گئے۔ لیکن خدا ان کے شرک سے برتر وبالاتر ہے (فَلَمَّا آتَاھُمَا صَالِحًا جَعَلَالَہُ شُرَکَاءَ فِیمَا آتَاھُمَا فَتَعَالَی اللهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ)۔
ایک اہم سوال کا جواب
مندرجہ بالا آیات میں جن میاں بیوی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے وہ کون ہیں؟ اس سلسلے میں مفسّرین میں بہت اختلاف ہے۔ کیا نفس واحدہ اور اس کی بیوی سے مراد آدم اور حوّا ہیں، جبکہ آدم نبی تھے اور حوّا ایک اچھی باایمان خاتون تھیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ راہِ توحید سے منحرف ہو کر راہِ شرک پر چل پڑے ہوں؟ اور اگر آدم کے علاوہ کوئی اور مراد ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہے تو لفظِ "واحدة" سے یہ بات کیسے مناسبت رکھتی ہے؟ اس سے قطع نظر یہاں کس عمل یا فکر ونظر کو شرک قرار دیا گیا ہے؟ ان باتوں کا جواب پیش خدمت ہے: ان آیات کی تفسیر میں ہمارے سامنے دو راستے ہیں، اس سلسلے میں مفسرین کی جو مختلف باتیں سامنے آئی ہیں شاید ان سب کی بنیاد انہی سے سمجھ میں آجائے۔ ۱۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ "واحد" سے مراد آیت میں "واحد شخصی" ہے؛ جیسا کہ بعض دوسری آیات میں بھی ہے۔ مثلاً سورہٴ نساء کی پہلی آیت میں بھی ایسا ہی ہے۔( تفسیر نمونہ، ج۳، ص۱۸۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ "نفس واحدہ" قرآنِ مجید میں پانچ مقامات پر آیا ہے، ایک زیر بحث آیت میں، دوسرا سورہٴ نساء کی پہلی آیت میں، تیسرا انعام آیہ ۹۸ میں، چوتھا لقمان آیہ ۲۸ میں اور پانچواں زمر آیہ ۶ میں۔ ان میں سے بعض مقامات کا ہماری موجودہ بحث سے تعلق نہیں ہے؛ البتہ بعض مقامات زیرِ بحث آیت کے مشابہ ہیں۔ لہٰذا "واحد شخصی" کا مطلب یہ ہو گا کہ یہاں پر مختصر طور پر حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی بیوی کی طرف اشارہ ہے۔ مسلّم ہے کہ اس صورت میں شرک سے مراد غیر خدا کی پرستش اور پروردگار کے علاوہ کسی کی الوہیت کا اعتقاد نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ اس سے مراد بیٹے کی طرف ایک طرح کا میلان ہو کہ کبھی بعض میلانات بھی خدا سے غافل کر دیتے ہیں۔ ۲۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ "واحد" سے مراد یہاں "واحد نوعی" ہے یعنی خدا نے تم سب کو ایک ہی نوع سے پیدا کیا ہے اور تمھاری بیویوں کو بھی تمھاری جنس میں سے قرار دیا ہے۔ اس صورت میں دونوں آیات اور بعد والی آیات نوعِ انسانی کی طرف اشارہ ہیں۔ یعنی انسان بچے کی پیدائش کے انتظار کے دنوں میں تو بہت دستِ دعا بلند کرتے ہیں اور خدا سے نیک اور قابل اولاد کی خواہش کرتے اور ان لوگوں کی طرح جو مشکل اور خطرے کے وقت تو پورے خلوص سے بارگاہِ خداوندی کی طرف جاتے ہیں اور اس سے عہد کرتے ہیں کہ وہ حاجات پوری ہونے اور مشکلات حل ہونے کے بعد شکر گزار رہیں گے لیکن جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے یا ان کی مشکل حل ہو جاتی ہے تو تمام عہدوپیمان فراموش کر دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا اگر صحیح وسالم اور خوبصورت ہے تو ماں باپ پر گیا ہے اور قانونِ وراثت کا تقاضا تھا۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہماری غذا، طریقہ اور دیگر امور اور حالات سازگار اور اچھے تھے، لہٰذا یہ انہی کا نتیجہ ہے۔ اور کبھی ان بتوں کا رخ کرتے ہیں کہ جن کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے بچّے پر انہی کی نظرِ کرم تھی۔ اسی طرح باتیں کرتے ہیں اور خلقتِ الٰہی کے تمام نقوش نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس نعمت کی علت وسبب عوامل طبیعی کو قرار دیتے ہیں یا پھر اسے اپنے بیہودہ معبودوں کا کرشمہ شمار کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے ابتدائے آیت کو حضرت آدم(علیه السلام) کے لئے اور ذیل آیت کو اولادِ آدم کے لئے قرار دیا ہے جو آیت کے ظاہری مفہوم سے کسی طرح سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور اصطلاح کے مطابق حذف اور تقدیر یا ضمیر کا مرجع کے غیر کی طرف پلٹانے کا محتاج ہے) ۔ مندرجہ بالا آیات میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جو دوسر ی تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں؛ مثلاً: ۱۔ آیات کی تعبیریں ایسے میاں بیوی کی حالت بیان کرتی ہیں جو پہلے سے کسی معاشرے میں رہتے تھے اور اچھی بری اولاد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنے خدا سے اچھی اولاد کا تقاضا کیا اور اگر آیات آدم وحوّا سے متعلق ہوتیں تو ان کے ہاں تو ابھی بچہ ہی نہیں ہوا تھا اور ابھی صالح وغیر صالح اور اچھے برے کا وجود ہی نہ تھا کہ وہ خدا سے اپنے لئے اچھے بیٹے کی درخواست کرتے۔ ۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسری آیت اور اس کے بعد والی آیات میں سب جمع کی ضمیریں ہیں۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ تثنیہ کی ضمیر سے مراد دو گروہ تھے، نہ کہ دو شخص۔ ۳۔ تیسری بات یہ ہے کہ بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ ان آیات میں شرک سے مراد بت پرستی ہے، نہ کہ اولاد کی محبت وغیرہ اور یہ بات حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی زوجہ کے لئے روا نہیں ہے۔ ان قرائن کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اُوپر والی آیت نوعِ انسانی اور شوہروں اور بیویوں کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔ جیسا کہ ہم اس تفسیر کی تیسری جلد صفحہ۱۸۲ (اردو ترجمہ) میں اشارہ کر آئے ہیں، انسان کی بیوی کا انسان سے پیدا ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اس کے لئے مرد کے بدن کا کوئی حصّہ الگ ہو کر بیوی بن گیا ہے(جیسا کہ ایک جعلی اور اسرائیلی روایت میں ہے کہ حوّا، آدم(علیه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں) بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی بیوی اس کی نوع سے ہے؛ جیسا کہ سورہٴ روم کی آیہ ۲۱ میں ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ اَنفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْھَا قدرتِ خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے تمھاری بیویاں تمہاری نوع سے پیدا کی ہیں تاکہ ان سے سکون حاصل کرو۔
ایک مشہور اور جعلی روایت
اہل سنّت کی بعض کتب میں اور کچھ غیر معتبر کتب میں مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے جو انبیاء(علیه السلام) کے بارے میں اسلامی عقائد سے کسی لحاظ سے بھی مناسبت نہیں رکھتی اور وہ یہ ہے: سمرہ بن جندب، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے حوالے سے بیان کرتا ہے: لمّا ولدت حوّاء طاف بھا ابلیس وکان لایعیش لھا ولد فقال سمیہ عبدالحارث فعاش وکان ذٰلک من وحی الشیطان وامرہ. یعنی جب حوّا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو شیطان اس کے چکر لگانے لگا اور اس سے پہلے حوّا کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا۔ شیطان نے حوّا سے کہا: اس کا نام عبدالحارث رکھو (کیونکہ حارث شیطان کے ناموں میں سے ہے، لہٰذا عبدالحارث کا معنی ہے شیطان کا بندہ) حوّا نے ایسا کیا اور وہ بچہ زندہ رہ گیا اور ایسا شیطان کی وحی اور حکم سے ہوا۔ (بحوالہ: المنار، ج۹، بحوالہٴ مسند احمد) ۔ اسی مضمون کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) بھی اس بات پر راضی ہو گئے تھے۔ اس روایت کا راوی چاہے مشہور کذّاب سمرہ بن جندب یا کعب الاحبار اور وہب بن منبہ جیسے افراد جو یہودیوں کے مشہور لوگوں میں سے تھے اور پھر مسلمان ہو گئے اور بعض علماء اسلام کے نظریے کے مطابق تورات اور بنی اسرائیل کی خرافات یہی دونوں مسلمانوں میں لائے۔ بہرحال، جو بھی ہو روایات کا مضمون خود ہی اس کے بطلان کی دلیل ہے۔ کیونکہ آدم(علیه السلام) جو خلیفة الله اور خدا کے عظیم پیغمبر تھے اور علّم الاسماء کے حامل تھے، اگرچہ وہ ترک اولیٰ کی وجہ سے جنت سے زمین پر آئے تاہم وہ ایسی شخصیت نہ تھے کہ شرک کی راہ انتخاب کرتے اور اپنے بیٹے کا نام "بندہٴ شیطان" رکھتے۔ ایسا کام توصرف کسی بت پرست، جاہل، نادان اور بے خبر ہی کے شایانِ شان ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ روایت میں شیطان کا معجزہ اور کرامت بیان کی گئی ہے کہ اس بچّے کا نام جب اُس کے نام پر رکھا گیا تو گذشتہ تمام بچوں کے برخلاف زندہ رہا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ بعض گذشتہ مفسرین ایسی روایات سے اتنے متاٴثر ہوئے کہ انھیں تفسیر کے طور پر بیان کر دیا۔ بہرکیف، یہ روایت چونکہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی، لہٰذا اسے کسی ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد قرآن بت پرستی کی دوبارہ سخت الفاظ میں مذمّت کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: کیا یہ لوگ کچھ ایسے موجودات کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں جو کوئی چیز پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، بلکہ وہ خود اس کی مخلوق ہیں (اَیُشْرِکُونَ مَا لَایَخْلُقُ شَیْئًا وَھُمْ یُخْلَقُونَ)۔ علاوہ ازیں، یہ جعلی معبود پیدا اپنے پجاریوں کی کسی بھی مشکل میں مدد نہیں کر سکتے یہاں تک کہ وہ مشکلات میں خود اپنی مدد نہیں کر سکتے (وَلَایَسْتَطِیعُونَ لَھُمْ نَصْرًا وَلَااَنفُسَھُمْ یَنصُرُونَ)۔ یہ معبود ایسے ہوتے ہیں کہ "اگر تم انھیں ہدایت کرنا چاہو تو وہ تمھاری پیروی نہیں کریں گے یہاں تک کہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے" (وَإِنْ تَدْعُوھُمْ إِلَی الْھُدیٰ لَایَتَّبِعُوکُمْ)۔ جو ہادیوں کی پکار اور ندا کو بھی نہیں سنتے اور وہ دوسروں کی ہدایت کیسے کر سکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے کے لئے ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور یہ کہ "ھُمْ "کی ضمیر بت پرستوں اور مشرکوں کے لئے ہے؛ یعنی ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم اور متعصّب ہے کہ انھیں جتنی بھی توحید کی دعوت دی جائے وہ اسے تسلیم اور قبول نہیں کرتے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اگر تم ان سے ہدایت کا تقاضا کرو تو اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ بہرحال، "تمھارے لئے برابر ہے کہ انھیں دعوت حق دو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں ہٹ دھرم بت پرست اپنے رویّے سے دست بردار نہیں ہوں گے (سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْتُمُوھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُونَ)۔ دوسرے احتمال کے مطابق اس جملے کا معنی یہ ہے کہ: تمھارے لئے برابر ہے، چاہے بتوں سے کسی چیز کا تقاضا کرو یا چُپ رہو، دونوں صورتوں میں نتیجہ منفی ہے۔ کیونکہ بت کسی کی تقدیر میں کوئی اثر نہیں رکھتے اور کسی کی خواہش پوری نہیں کر سکتے۔ فخرالدین رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: مشرکین جب کسی مشکل میں پھنس جاتے تھے تو بتوں کے سامنے فریاد کرتے اور جب انھیں کوئی مشکل درپیش نہ ہوتی تو خاموش رہتے۔ قرآن ان سےکہتا ہے: چاہے ان کے سامنے تضرع وزاری کرو یا چُپ رہو، دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 195 کے تحت ملاحظہ کریں۔
عبادت میں شرک، عقل و منطق سے عاری کام
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان دونوں آیات میں توحید کی بحث اور شرک سے مقابلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ بحث کی ان میں تکمیل ہوئی ہے۔ ان میں عبادت میں شرک اور غیر خدا کی پرستش کو احمقانہ اور عقل ومنطق سے عاری کام قرار دیا گیا ہے۔ ان روایات کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ چار دلیلوں سے بت پرستوں کی منطق باطل ہو جاتی ہے۔ قرآن مختلف طرح کے استدلال سے اس مسئلہ پر بحث کرتا ہے اور ہر وقت اس پر ایک نیا برہان پیش کرتا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ شرک ایمان کا اور انفرادی واجتماعی سعادت کا بدترین دشمن ہے اور چونکہ افکارِ بشر کی مختلف جڑیں اور شاخیں ہیں اور ہر دور میں شرک ایک نئی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور انسانی معاشروں کو خطرے سے دوچار کر دیتا ہے، لہٰذا قرآن اس کی خبیث جڑوں اور شاخوں کو کاٹنے کے لئے ہر موقع پر فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے: جنھیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو اور جن سے مدد طلب کرتے ہو وہ تمھاری طرح کے بندے میں (إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ)۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ انسان ایسی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہو جو خود اس جیسی ہے اور اپنی تقدیر اور سرنوشت اس کے ہاتھ میں سمجھ لے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غور کرو تو دیکھو گے کہ وہ جسم بھی رکھتے ہیں، زمان ومکان کی زنجیر میں اسیر ہیں، قوانینِ طبیعت کے بھی محکوم ہیں اور زندگی اور دیگر توانائیوں کے لحاظ سے بھی محدود ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ تم سے کوئی امتیاز نہیں رکھتے، تم نے صرف وہم خیال سے ان کے لئے امتیاز گھڑ رکھا ہے۔ آیت میں بت پرستوں کے معبودوں کو "عباد" کہا گیا ہے جو "عبد" کی جمع ہے اور جس کا معنی ہے "بندہ" جبکہ "عبد" زندہ موجود کو کہا جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ _____ اس کی کئی ایک تفاسیر کی گئی ہیں: پہلی یہ کہ ممکن ہے یہاں ان معبودوں کی طرف اشارہ ہو جو انسانوں میں سے ہیں؛ جیسے عیسائیوں کے لئے عیسیٰ، عرب بت پرستوں کے لئے فرشتے وغیرہ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس توہم کی وجہ جو وہ بتوں کے متعلق رکھتے تھے، یہ کہا گیا ہو کہ فرض کریں کہ وہ عقل وشعور بھی رکھتے ہیں (پھر بھی وہ) تم سے برتر موجود تو نہیں ہیں۔ تیسری یہ کہ "عبد" لغت میں بعض اوقات ایسے موجود کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو دوسرے کے زیرِ تسلط اور زیر فرمان ہو اور اس کے سامنے خاضع ہو، چاہے وہ عقل وشعور نہ رکھتا ہو۔ جیسے ایسی سڑک کو "معبد" (بروزن مقدم) کہتے ہیں جس پر ہمیشہ آمد ورفت رہتی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے: تم سوچتے ہو کہ وہ قدرت وشعور رکھتے ہیں تو "انھیں پکار کر دیکھو کیا وہ تمھیں جواب دیتے ہیں، اگر تم سچ کہتے ہو (فَادْعُوھُمْ فَلْیَسْتَجِیبُوا لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ)۔ ان کی منطق کو باطل کرنے کے لئے یہ دوسری دلیل بیان کی گئی ہے کہ ان کا موت کا سا سکوت وخاموشی ان کے بے ارزش ہونے اور کسی چیز پر ان کی قدرت نہ ہونے کی نشانی ہے۔ پھر مزید واضح کیا گیا ہے کہ: حتّیٰ کہ وہ اپنے عبادت گزاروں سے زیادہ پست اور عاجز ہیں "اچھی طرح دیکھ لو کہ کیا وہ کم از کم تمھاری طرح پاؤں رکھتے ہیں کہ جن سے چل پھر سکیں" (اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَمْشُونَ بِھَا)۔ "یا کیا وہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ جن سے کوئی پکڑ سکیں اور کوئی کام کر سکیں (اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَبْطِشُونَ بِھَا) "یا کیا وہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ جن سے دیکھ سکیں (اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُبْصِرُونَ بِھَا)۔ "یا کیا پھر وہ کان رکھتے ہیں کہ جن سے سن سکیں" (اَمْ لَھُمْ آذَانٌ یَسْمَعُونَ بِھَا)۔ وہ تو اس قدر ضعیف ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لئے تمھاری مدد کے محتاج ہیں اور خود اپنے وجود کی حفاظت کے لئے کمک محتاج ہیں، نہ وہ دیکھنے والی آنکھ رکھتے ہیں، نہ سننے والے کان اور نہ کوئی اور قوتِ حس ان کے پاس ہے۔ آیت کے آخر میں چوتھا استدلال یوں پیش کیا گیا ہے: اے پیغمبر! ان سے کہو کہ یہ معبود جنھیں تم نے خدا کا شریک قرار دے رکھا ہے انھیں میرے برخلاف بلاؤ اور تم سب ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر جتنی کر سکو میرے خلاف سازش کر لو اور اس کام میں کسی قسم کی تاخیر روا نہ رکھو۔ پھر دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود تم کیا کر سکتے ہو (قُلْ ادْعُوا شُرَکَائَکُمْ ثُمَّ کِیدُونِی فَلَاتُنظِرُونِ) یعنی اگر میں جھوٹ بولتا ہوں اور وہ مقربان خدا ہیں اور میں نے ان کے حریم احترام میں جسارت کی ہے تو پھر وہ مجھ پر غضب کیوں نہیں کرتے اور تم اور وہ مل کر مجھ پر کوئی اثر نہیں کر پاتے۔ لہٰذا جان لو کہ یہ غیر موٴثر موجودات ہیں کہ جنھیں تمھارے توہمات نے قوت بخشی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 198 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 198 کے تحت ملاحظہ کریں۔
بے وقعت ’معبود‘
Tafsīr Nemūna · Vol. 1گذشتہ آیت میں تھا کہ تم اور تمھارے بت مجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ زیر بحث پہلی آیت میں اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ارشاد ہوا ہے: میرا ولی، سرپرست اور بھروسہ خدا ہے جس نے مجھ پر یہ آسمانی کتاب نازل کی ہے (إِنَّ وَلِیِّی اللهُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَاب)۔ نہ صرف میری، بلکہ وہ تمام صالح اور شائستہ لوگوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا ہے اور اپنا لطف و عنایت ان کے شامل حال کرتا ہے (وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ)۔ اس کے بعد پھر تاکیداً بت پرستی کے بطلان پر دلائل دیتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خدا کے علاوہ تم جن معبودوں کو پکار تے ہو ان سے کچھ بھی نہی ہو سکتا، وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی مدد کر سکتے ہیں (وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ لَایَسْتَطِیعُونَ نَصْرَکُمْ وَلَااَنفُسَھُمْ یَنصُرُونَ)۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ "اگر مشکلات میں ان سے ہدایت اور راہنمائی چاہو تو یہاں تک کہ وہ تمہاری بات بھی نہیں سن سکتے (وَإِنْ تَدْعُوھُمْ إِلَی الْھُدیٰ لَایَسْمَعُوا )۔" حتیّٰ کہ اپنی مصنوعی آنکھوں سے، جن سے گویا تیری طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں درحقیقت کچھ نہیں دیکھ پاتے (وَتَرَاھُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْکَ وَھُمَ لایُبْصِرُونَ). ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ آخری آیت ممکن ہے بتوں کی طرف اشارہ ہو یا بت پرستوں کی طرف۔ پہلی صورت میں اس کا مفہوم وہی ہے جو بیان کیا جا چکا ہے اور دوسری صورت میں اس کی تفسیر یہ ہو گی کہ اگر تم مسلمان ان ہٹ دھرم مشرکوں اور بت پرستوں کو صحیح توحیدی راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہیں کریں گے۔ وہ اپنی آنکھوں سے تمہاری طرف دیکھتے تو ہیں اور صدق و حقیقت کی نشانیاں بھی انھیں تم میں نظر آتی ہیں لیکن پھر بھی وہ حقائق کو نہیں دیکھ پاتے۔ آخری دو آیات کا مضمون گذشتہ آیات میں بھی آیا ہے اور یہ تکرار زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے ہے تاکہ بت پرستی کا مقابلہ کیا جائے اور مشرکین کی فکر اور روح سے اس کی ریشہ کنی کی جائے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 203 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شیطانی وسوسے
Tafsīr Nemūna · Vol. 1ان آیات میں تبلیغ اور لوگوں کی رہبری و پیشوائی کی شرائط جاذب نظر طریقے سے اور جچے تلے انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ ان آیات کا مفہوم گذشتہ آیات سے بھی مناسبت رکھتا ہے جو کہ مشرکین کے لئے تبلیغ کے طور پر ہی تھیں۔ پہلی آیت میں رسول خدا سے خطاب کی صورت میں رہبروں اور مبلغوں کے فرائض کے تین حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: لوگوں سے سخت گیری نہ کرو اور ان سے نرمی برتو؛ ان کے عذر قبول کرو اور وہ جتنی قدرت رکھتے ہیں ان سے اس سے زیادہ خواہش نہ کرو (خُذْ الْعَفْوَ )۔ "عفو" بعض اوقات کسی چیز کی اضافی مقدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کبھی "حدّ وسط" کے مفہوم کے لئے آتا ہے، کبھی خطا کاروں کے عذر قبول کرنے اور انھیں بخش دینے کا معنی دینا ہے اور کبھی کاموں کو آسان سمجھنے کا مفہوم لئے ہوتا ہے۔ آیات کے قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ زیر نظر آیت بعض مفسرین کے قول کے برخلاف مالی مسائل اور لوگوں کے مال سے اضافی مقدار لینے سے کوئی ربط نہیں رکھتی، بلکہ یہاں اس کے لئے مناسب مفہوم آسان سمجھنا، درگزر کرنا اور حدّ وسط انتخاب کرنا ہی ہے۔(تشریحی نوٹ: لفظ "عفو" کی مزید و وضاحت کے لئے تفسیر نمون جلد دوم (ص ۷۳۔ ۷۴ اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں)۔ واضح ہے کہ رہبر اور مبلغ اگر سخت گیر شخص ہو تو بہت جلد لوگ اس کے گردا گرد سے منتشر ہو جائیں گے اور دلوں میں اس کا نفوذ ختم ہو جائے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے: وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِک اگر تم سخت گیر، بد اخلاق اور سنگدل ہوتے تو مسلم ہے کہ لوگ تمھارے ارد گرد سے پراگندہ ہو جاتے۔ (آل عمران۔۱۵۹) اس کے بعد دوسرا حکم دیا گیا ہے: لوگوں کو نیک کاموں کا اور وہ کہ جنہیں عقل و خرد شائستہ قرار دے اور خدا ان کی نیکی اور اچھائی کے طور پر تعارف کروائے، حکم دو (وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سخت گیری نہ کرنے مطلب "سب اچھا" اور خوشامد نہیں، بلکہ رہبر اور مبلغ کو چاہیے کہ وہ حقائق پیش کرے اور لوگوں کو حق کی دعوت دے اور کوئی چیز فروگذاشت نہ کرے۔ تیسرے مرحلے میں جاہلوں کے مقابلے میں تحمل وبردباری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جاہلوں سے رُخ موڑ لو اور ان سے لڑو جھگڑو نہیں (وَاَعْرِضْ عَنْ الْجَاھِلِینَ)۔ جب کسی رہبر اور مبلغ کو ہٹ دھرم، متعصب، جاہل اور کوتاہ فکر اور پست اخلاق افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو گالیاں سننا پڑتی ہیں، تہمتیں لگتی ہیں، اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور اس پر پتھر پھینکے جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کامیابی کا طریقہ یہ نہیں کہ جاہلوں سے دست وگریباں ہوا جائے، بلکہ بہترین راہ تحمل، حوصلہ اور چشم پوشی ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جاہلوں کی بیداری اور ان کے غضب، حس اور تعصّب کی آگ خاموش کرنے کے لئے یہ بہترین طریقہ ہے۔ بعد والی آیت میں ایک اور حکم دیا گیا ہے جس میں درحقیقت رہبروں اور مبلغوں کے لئے ان کی چوتھی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ مقام ومنزلت، مال ودولت اور خواہشات وشہوت وغیرہ کی صورت میں شیطانی وسوسے ہمیشہ ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیطان اور شیطان صفت لوگ ان وسوسوں کے ذریعے انھیں ان کے راستے سے منحرف کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ قرآن حکم دیتا ہے: اگر شیطانی وسوسوے تیرا رخ کریں تو اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں دے دے، خود کو اُ س کے سپرد کر دے اور اسی کے لطف سے مدد طلب کر کیونکہ وہ تیری بات سنتا ہے، تیرے اسرارِ نہاں سے آگاہ ہے اور شیطانوں کے وسوسوں سے باخبر ہے (وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ إِنَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "یَنزَغَنَّکَ" کا "نزَغَ" (بروزن "نزَعَ") ہے، اس کامعنی ہے کسی کام میں خرابی پیدا کرنا یا اس کی تحریک دینا).
جامع اخلاقی ترین آیت
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: قرآن مجید میں کوئی آیت اخلاقی مسائل میں اس آیت سے زیادہ جامع نہیں ہے۔(بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ بعض علماء نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ہے کہ قوائے انسانی کے اصول تین ہیں: عقل، غضب اور شہوت اور اخلاقی فضائل بھی تین حصّوں میں ہیں: ۱۔ فضائل عقلی: جن کا نام "حکمت" ہے اور آیت میں "وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ" میں ان کا خلاصہ کیا گیا ہے (یعنی نیک اور شائستہ کاموں کا حکم دے) ۲۔ فضائل نفسی: جو کہ طغیان اور شہوت کے مقابلے میں ہیں۔ انھیں "عفّت" کہتے ہیں اور زیرِ بحث آیت میں "خذ العفو" میں ان کی تلخیص کی گئی ہے۔ ۳۔ قوتِ غضبیہ کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول کو "شجاعت" کہتے ہیں۔ اس کی طرف اشارہ "وَاَعْرِضْ عَنْ الْجَاھِلِینَ" میں کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا حدیث کی تشریح چاہے اس صورت میں کی جائے جیسے مفسرین نے کی ہے یا رہبر کی شرائط کی صورت میں جیسے ہم نے بیان کیا ہے، بہرحال، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ زیر نظر آیت میں مختصر اور اچھے انداز میں اخلاقی اور اجتماعی حوالے سے ایک جامع، وسیع اور ہمہ گیر پرورگرام پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح سے کہ اس میں تمام مثبت اصلاحی امور اور انسانی فضائل مل سکتے ہیں۔ بعض مفسّرین کے بقول اس آیت میں جچے تلے انداز میں جس طرح سے معانی کی وسعت وگہرائی سمو دی گئی ہے وہ اعجازِ قرآن کی مظہر ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ ضر وری ہے کہ آیت میں مخاطب اگرچہ پیغمبر اکرم ہیں لیکن آیت ساری امت اور تمام رہبروں اور مبلغوں کے بارے میں ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں مقام علم عصمت کے خلاف کوئی مطلب موجود نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اور معصوم ہستیوں کو بھی وساوسِ شیطانی کے مقابلے میں اپنے آپ کو سپردِ خدا کرنا چاہیے اور وساوسِ شیاطین کے مقابلے میں کوئی بھی خدا کے لطف اور حمایت سے بے نیاز نہیں؛ یہاں تک کہ معصومین بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے اس کے بارے میں جبرئیل سے وضاحت چاہی (کہ لوگوں سے کس طرح سے نرمی برتی جائے اور سخت گیری نہ کی جائے)۔ جبرئیل نے کہا: میں تو نہیں جانتا، لازم ہے کہ میں سے سوال کروں جو جانتا ہے۔ اس کے بعد جبرئیل دوبارہ نازل ہوئے اور کہا: یا محمد انّ اللّٰہ یاٴمرک اٴن تعفوا عمّن ظلمک وتعطی عمّن حرمک وتصل من قطعک یا محمد!خدا آپ کو حکم دیتا ہے کہ جنھوں نے آپ پر ظلم کیا ہے (جب آپ میں قدرت آ جائے) تو ان سے انتقام نہ لیں اور درگذر کر دیں، جنھوں نے آپ کو محروم کیا ہے انھیں عطا کریں اور جنھوں نے آپ سے قطع رحمی کی ہے ان سے صلہ رحمی کریں(بحوالہ: مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ ایک اور حدیث میں ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی اور پیغمبر خدا کو حکم دیا گیا کہ جاہلوں کے مقابلے میں تحمل کیجئے، تو پیغمبر نے عرض کیا: پروردگار! خشم وغضب کے ہوتے ہوئے کیسے تحمل کیا جا سکتا ہے؟ اس پر دوسری آیت نازل ہوئی اور پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ ایسے موقع پر اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیں۔ (تشریحی نوٹ: المنار کے موٴلف نے جلد ۹ صفحہ۵۳۸ پر یہ حدیث اس عنوان کے تحت درج کی ہے: روی عن جدنا الامام جعفر الصادق رضی اللّٰہ عنہ.... یعنی ہمارے جد امام جعفر صادق رضی الله عنہ سے یوں نقل کیا گیا ہے.... ( اس نکتے کا ذکر بھی مناسب ہے کہ دوسری آیت بعینہ سورہٴ حٰم السجدہ کی آیت ۳۶ ہے؛ صرف فرق اتنا ہے کہ "انّہ سمیع علیم" کی جگہ وہاں پر "انہ ھو السمیع العلیم" ہے۔ بعد والی آیت میں پشیطانی وسوسوں پر غلبے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: شیطان وسوسے جب پرہیزگار لوگوں کو گھیر لیتے ہیں تو وہ خدا کو یاد کر لیتے ہیں۔ اس کی لامتناہی نعمات کا ذکر کرتے ہیں اور گناہوں کے بُرے نتائج اور دردِ عذاب کو یاد کرتے ہیں تو اس وقت وسوسوں کے تاریک بادل اطرافِ قلب سے چھٹ جاتے ہیں اور وہ راہ حق کو دیکھتے ہیں اور اُسے ہی انتخاب کر لیتے ہیں(إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّھُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوا فَإِذَا ھُمْ مُبْصِرُونَ)۔ "طائف" کا معنی ہے "طواف کرنے والا"۔ گویا شیطانی وسوسے طواف کرنے والے کی طرح انسانی روح اور فکر کے مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں تاکہ نفوذ کرنے اور اندر جانے کا کوئی راستہ پا لیں۔ ایسے موقع پر اگر انسان خدا کو یاد کرے اور گناہوں کے برے نتائج پر نظر کرے تو انھیں دور کر کے رہائی حاصل کر لیتا ہے ورنہ آخر کار ان وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ اصولی طور پر ہر شخص ایمان کے ہر مرحلے میں اور ہر عمر میں کبھی نہ کبھی شیطانی وسوسوں میں گرفتار رہتا ہے اور کبھی یوں محسوس کرتا ہے کہ خود اس کے اندر کوئی سخت محرک قوت پیدا ہو گئی ہے جو اسے گناہ کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ مسلّم ہے کہ یہ وسوسے اور تحریکیں جوانی میں زیادہ ہوتی ہیں اور اسی طرح گناہ کے ماحول میں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ جیسے آج کل کے آلودہ معاشرے اور ماحول کہ جن میں فسادِ اخلاقی کے مراکز بہت زیادہ ہیں۔ ہر طرف بے قید و بند آزادی میسر ہے، نشرو اشاعت کے ادارے زیادہ تر شیطان کی خدمت میں مصروف ہیں اور شیطانی وسوسوں کی اشاعت کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں نجات کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے "تقویٰ" کہ جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ اس کے بعد مراقبت ہے اور آخر میں اپنی طرف توجہ کرنا، خدا سے پناہ مانگتا، اس کے الطاف و نعمات کو یاد کرنا اور خطا کاروں کے دردناک عذاب کو یاد کرنا ہے۔ روایات میں بارہا شیطانی وساوس کو دور کرنے کے لئے ذکر خدا کی گہری تاثیر کا تذکرہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے صاحب ایمان علماء اور شخصیات ہمیشہ شیطانی وسوسوں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مراقبت کے ذریعے اپنا دفاع کرتے تھے۔ (مراقبت علم اخلاق میں ایک تفصیلی موضوع ہے)۔ اصولی طور پر نفس اور شیطان کے وسوسے بیماری کے جراثیم کی طرح ہیں جو ہر کسی میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کمزور اور ناتوان گوشوں اور جسموں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ وہاں نفوذ کریں لیکن جن کا جسم صحیح سالم، قوی اور طاقتور ہے وہ ان جراثیم کے اثرات سے خود کو بچا لیتے ہیں "اذا ھم مبصرون" (یعنی یاد خدا کے وقت ان کی آنکھیں بینا ہو جاتی ہیں اور وہ حق کو دیکھ لیتے ہیں) یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شیطانی وسوسے انسان کی باطنی نگاہ پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور حالت یہ ہو جاتی ہے کہ راہ اور چاہ کی، دوست اور دشمن کی اور نیک اور بد کی پہچان نہیں رہتی۔ لیکن خدا کی یاد انسان کو بینائی اور روشنی بخشتی ہے اور اسے حقائق کی شناخت کی قدرت عطا کرتی ہے۔ ایسی شناخت اور معرفت کے جس کے ذریعے انسان وسوسوں کے چنگل سے نجات پالیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ پرہیزگار ذکر خدا کے سائے میں شیطانی وسوسوں سے رہائی حاصل کرتے ہیں لیکن یہ اس حالت میں ہے کہ جب گناہ آلودہ افراد جو شیطان کے بھائی ہیں، اس کے دام اور جال میں گرفتار ہوں۔ اگلی آیت میں قرآن اس بارے میں کہتا ہے: ان ان کے بھائی یعنی شیاطین مسلسل انہیں گمراہی میں آگے لے جاتے ہیں اور انہیں گمراہ کرنے سے باز نہیں آتے، بلکہ بے رحمی سے ان پر اپنے حملے جاری رکھتے ہیں (وَإِخْوَانُھُمْ یَمُدُّونَھُمْ فِی الغَیِّ ثُمَّ لَایُقْصِرُونَ)۔ "اخوان"، شیاطین کے لئے کنایہ ہے اور "ھم" کی ضمیر مشرکوں اور گناہگاروں کے لئے ہے۔ جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت ۲۷ میں ہے: إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں "یمدونہم"، "امداد" کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے مدد دینا، دوام بخشنا اور اضافہ کرنا۔ یعنی وہ اس راہ کی طرف ہمیشہ اور مسلسل انھیں کھینچتے رہتے ہیں اور آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ "لا یقصرون " کا معنی ہے کہ شیاطین انھیں گمراہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ اس کے بعد مشرکوں اور گنہگاروں کی ایک جماعت کی حالت بیان کرتا ہے۔ یہ لوگ منطق و استدلال سے دور ہیں۔ فرمایا گیا ہے: جب ان کے سامنے قرآن کی آیات پڑھو تو وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور جب ان کے لئے کوئی آیت نہ لاؤ اور نزولِ وحی میں تاخیر ہو جائے تو کہتے ہیں کہ ان آیات کا کیا بنا، اپنی طرف سے کیوں نہیں بنا لیتے ہیں، یہ سب خدا کی وحی تھوڑی ہیں (وَإِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِآیَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَا)(تشریحی نوٹ: "اجتباء" "جبایت" سے ہے۔ اس کا معنی ہے حوض یا اس قسم کی چیز میں پانی جمع کرنا۔ اس لئے حوض کو "جابیة" کہا جاتا ہے۔ خراج کی جمع آوری کو بھی "جبایت" کہتے ہیں۔ بعد ازاں کسی چیز کو انتخاب کے لئے جمع کرنے کو "اجتباء" کہا جانے لگا۔ " لولا اجتبیتہا " کا معنی ہے کہ "تو نے کیوں انتخاب نہیں کیا؟")۔ لیکن ان سے "کہہ دو کہ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے اور جو کچھ خدا نازل کرتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہتا" (قُلْ إِنَّمَا اَتَّبِعُ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ مِنْ رَبِّی)۔ یہ قرآن اور اس کی نورانی آیات پروردگار کی طرف سے بینائی اور بیداری کا ذریعہ ہیں کہ جو ہر آمادہ انسان کو بصارت، روشنی اور نور عطا کرتی ہیں (ھٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ)۔ "اور باایمان اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے افراد کے لئے سرمایہ ہدایت اور رحمت ہے۔" اس آیت سے ضمنی طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی تمام گفتار اور کردار کا سرچشمہ وحی آسمانی تھی اور جو لوگ اس بات کے خلاف کچھ کہتے ہیں وہ در اصل قرآن سے ناواقف ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 206 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 1تفسیر آیت 206 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تلاوتِ قرآن ہو رہی ہو تو خاموش رہو
Tafsīr Nemūna · Vol. 1اس سورة (اعراف) کا آغاز عظمتِ قرآن کے بیان سے ہوا ہے اور قرآن ہی کے بارے میں اس کی آخری آیات گفتگو کر رہی ہیں۔ بعض مفسّرین نے زیر بحث آیات میں سے پہلی آیت کے بارے میں کئی ایک شان نزول ذکر کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن عباس اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ابتداء میں کبھی کبھی نماز میں باتیں کر لیتے تھے۔ کبھی یوں ہوتا کہ جماعت ہو رہی ہوتی اور نیا آنے والا پوچھ لیتا کہ کتنی رکعتیں ادا ہو چکی ہیں اور وہ جواب دیتے کہ اتنی رکعتیں ادا ہو چکی ہیں۔ اسی صورتِ حال کے پیش نظر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے منع کیا گیا۔ نیز زہری سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے تو ایک انصاری نوجوان بلند آواز سے قرآن پڑھتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے روکا گیا۔ بہرصورت، قرآن مندرجہ بالا آیت میں حکم دیتا ہے: جب قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو تو توجہ سے اسے سنو اور خاموش رہو، شاید رحمتِ خدا تمھارے شاملِ حال ہو (وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَاَنصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ)۔ "اَنصِتُوا"، "انصات" کے مادہ سے ہے۔ اس کا معنی ہے کان دھر کر خاموشی سے سننا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خاموشی اور سننے کا یہ حکم تمام مواقع کے لئے ہے کہ جب قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو یا صرف حالت نماز کے لئے ہے جبکہ امام جماعت قراٴت کر رہا ہو۔ اس سلسلے میں مفسّرین میں بہت اختلاف ہے۔ اس ضمن میں حدیث و تفسیر کی کتابوں میں مختلف احادیث نقل کی گئی ہیں۔ ظاہر آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ حکم عمومی ہے اور سب کے لئے ہے اور کسی معین حالت سے مخصوص نہیں ہے۔ لیکن متعدد روایات جو ہادیاں اسلام سے نقل ہوئی ہیں سے معلوم ہوتا ہے اور علماء نے بھی جس امر پر اجماع و اتفاق کیا ہے یہ ہے کہ تمام اوقات میں استماع اور تلاوت کا سننا واحب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستحب حکم ہے۔ یعنی بہتر اور مستحب یہ ہے کہ جہاں کہیں اور جس حالت میں کوئی تلاوت قرآن کر رہا ہو دوسرے سننے والے احترام قرآن میں سکوت اور خاموشی اختیار کریں اور کان لگا کر خدا کا پیغام سنیں اور اپنی زندگی میں اس سے سبق حاصل کریں کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکے سمجھنے اور اس کے بعد عمل کرنے کی کتاب ہے۔ اس مستحب حکم کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ بعض روایات میں اسے واجب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: یحب الانصات للقرآن فی الصلٰوة و فی غیرھا و اذا قرء عندک القراٰن وجب علیک الانصات والا ستماع تجھ پر واجب ہے کہ نماز کے علاوہ بھی تلاوت قرآن ہورہی ہو تو خاموشی اختیار کرے اور اسے سنے اور جب تیرے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ضروری ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے اور کان دھر کے اسے سنا جائے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۷)۔ یہاں تک کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام جماعت قراٴت میں مشغول ہو اور کوئی دوسرا آدمی کسی آیت کی تلاوت کرنے لگے تو مستحب ہے کہ امام خاموش ہو جائے یہاں تک کہ وہ آیت ختم کرے؛ پھر امام قراٴت کی تکمیل کرے۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: حضرت علی علیہ السلام نماز صبح میں مشغول تھے اور (ایک تاریک دل منافق) "ابن کوا" آپ(علیه السلام) کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ اچانک اس نے نماز میں اس آیت کی تلاوت کی: و لقد اوحیٰٓ الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین۔ (اس آیت کی تلاوت سے اس کا مقصد یہ تھا کہ بطور کنایہ حضرت علی (علیه السلام) پر احتمالی طور پر میدان صفین میں حکمیت قبول کرنے پر اعتراض کرے)۔ لیکن امام نے اس حالت میں بھی احترام قرآن میں سکوت اختیار کیا یہاں تک کہ اس نے آیت ختم کی اس کے بعد امام(علیه السلام) اپنی نماز کی قراٴت کی طرف لوٹے۔ "ابن کوا" نے دوبارہ وہی کام امام نے پھر سکوت اختیار کیا۔ "ابن کوا" نے تیسری مرتبہ آیت کا تکرار کیا اور حضرت علی (علیه السلام)نے پھر سے احترام قرآن میں سکوت فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: فاصبرانّ وعد اللّٰہ حق ولا یستخفنک الّذین لا یوٴمنون (یہ اس طرف اشارہ تھا کہ خدا کا دردناک عذاب منافقین اور بے ایمان لوگوں کے انتظار میں ہے اور ان کے مقابلے میں تحمل اور حوصلہ مندی کا ثبوت دو)۔ آخر کار امام نے سورت کو تمام کیا اور رکوع میں گئے۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۶)۔ اس ساری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی آیات کو سنتے وقت استماع اور سکوت بہت ہی مناسب اور اچھا کام ہے لیکن ایسا کلی طور پر واجب نہیں اور شاید اجماع اور روایات کے علاوہ "لعلکم ترحمون" (شاید رحمت خدا تمھارے شاملِ حال ہو) بھی اس حکم کے مستحب ہونے کی طرف اشارہ ہو۔ صرف ایک ہی مقام پر یہ حکم الٰہی واجب ہے اور وہ نماز جماعت کا موقع ہے کہ جہاں ماموم کو امام کی قرائ سنتے وقت سکوت کتنا چاہیے اور کان دھر کے قرائت سننا چاہیے؛ یہاں تک کہ بعض فقہاء نے اس آیت کو ماموم سے حمد اور سورة کی قراٴت کے سقوط کی دلیل سمجھا ہے۔ منجملہ ان روایات کے جو اس حکم پر دلالت کرتی ہیں ایک حدیث ہے جو امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے جس میں آپ(علیه السلام) نے فرمایا ہے: و اذا قرء القرآن فی الفریضة خلف الامام فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون اور جب قرآن نمازِ واجب میں پڑھا جا رہا ہو اور تم پیش نماز کے پیچھے ہو تو کان دھر کر سنو اور خاموش رہو۔ شاید رحمت خدا تمھارے شامل حال ہو۔ (بحوالہ: تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۷) رہا سوال لفظ "لعل" (شاید)کے بارے میں جو ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔ تو پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رحمت خدا تمھارے شامل حال ہونے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ بس تم سکوت اختیار کرو اور اسے کان دھر کے سنو، بلکہ اس کی اور بھی شرائط ہیں کہ جن میں سے ایک اس پر عمل کرنا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی برمحل ہے کہ مشہور فقیہ "فاضل مقداد" نے کتاب "کنز العرفان" میں اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد آیات قرآن کا سننا، ان کے مفاہیم کو سمجھنا اور اس کے معجزہ ہونے کا کھوج لگانا ہے۔ یہ تفسیر شاید اس بناء پر کی گئی ہو کہ اس سے پہلے کی آیت میں مشرکین کے متعلق گفتگو تھی کہ وہ نزول قرآن کے بارے میں بہانہ جوئی کرتے تھے، لہٰذا قرآن ان سے کہتا ہے: خاموش رہو اور کان لگا کر سنو تاکہ حقیقت کو پا سکو۔ (بحوالہ: کنز العرفان جلد اول ص ۱۹۵)۔ اس میں کوئی مانع نہیں کہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم اس قدر وسیع سمجھا جائے کہ اس میں مسلمان اور کافر سب سے خطاب ہو۔ غیر مسلمان سنیں تو سکوت اختیار کریں اور اس میں غور و فکر کریں تاکہ ایمان لے آئیں اور خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہو اور مسلمان بھی کان دھریں، اس کے مفاہیم کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ رحمت الٰہی انھیں اپنے جلوہ میں لے لے کیونکہ قرآن سب کے لئے ایمان،علم اور عمل کی کتاب ہے اور یہ کسی ایک گروہ کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ اگلی آیت میں مندرجہ بالا حکم کی تکمیل کے لئے پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے (البتہ یہ ایک عمومی حکم ہے اگر چہ روئے سخن پیغمبر کی طرف ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں دیگر مقامات پر بھی ایسا ہوا ہے): اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع وزاری اور خوف کے ساتھ یاد کرو (وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَخِیفَة)۔ (تشریحی نوٹ: "تضرع""ضرع"کے مادہ سے "پستان" کے معنی میں ہے اس شخص کے کام کو بھی "تضرع"کہتے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے دودھ دوہے۔ بعد ازاں یہ لفظ اظہار خضوع اور تواضع کے لئے استعمال ہونے لگا) ۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: اور آہستہ، آرام اور سکون کے ساتھ اس کا نام زبان پر لاؤ (وَدُونَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ ) اور ہمیشہ صبح و شام یہ کام جاری رکھو (بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ )۔ "اٰصال"، "اصیل" کی جمع ہے جو غروب اور شام کے قریب کا معنی دیتا ہے۔ اور یاد خدا سے غافل اور بے خبر لوگوں میں سے ہرگز نہ ہو جا (وَلَاتَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ)۔ ہر حالت میں، ہر روز صبح و شام خدا کی یاد دلوں کی بیداری کا سب ہے اور غفلت کے تاریک بادلوں کو انسان سے دور رکھنے کا ذریعہ ہے۔ یاد خدا باران بہار کی طرح ہے کہ اس کی پھوار جب دل پر پڑتی ہے تو بیداری، توجہ، احساسِ ذمہ داری، روشن بینی اور ہر قسم کے مثبت اور اصلاحی عمل کے پھول اُگاتی ہے۔ اس کے بعد سورة کو اس گفتگو پر ختم کیا گیا ہے کہ نہ صرف تمھیں ہی ہر حالت میں یاد خدا میں رہنا چاہیے بلکہ مقرب بارگاہ پروردگار فرشتے اور وہ جو مقامِ قرب میں تیرے پروردگار کے قریب ہیں کسی وقت بھی اس کی عبادت کرنے پر تکبر نہیں کرتے اور مسلسل اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کی پاک ذات کو ہر اس چیز سے منزہ سمجھتے ہیں جو اس کے مقام و منزلت کے لائق نہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں (إِنَّ الَّذِینَ عِنْدَ رَبِّکَ لَایَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیُسَبِّحُونَہُ وَلَہُ یَسْجُدُونَ )۔ "عند ربک" یعنی وہ جو تیرے پروردگار کے پاس ہیں، یہ قربِ مکانی کے معنی میں نہیں ہے۔ کیونکہ خدا کا کوئی مکان نہیں ہے، بلکہ قربِ مقام کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ اس حیثیت ومقام کے باوجود بندگی، سجدہ اور تسبیح میں کوتاہی نہیں کرتے لہٰذا تم بھی کوتاہی نہ کرو۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت سجدہ کرنا مستحب ہے لیکن بعض اہل سنّت مثلاً ابوحنیفہ کے پیروکار اسے واجب شمار کرتے ہیں۔ ********