Al-Fajr
سورہ فجر
یہ سورہ مکہّ میں نازل ہوا۔ اس میں تیس آیات ہیں۔
سورہ فجر کے مشمولات اور اس کی فضیلت
یہ سورہ بہت سے دوسرے سوروں کی طرح، جو مکّے میں نازل ہوئے، مختصر، متزلزل کر دینے والی، پُرجلال اور بہت زیادہ ڈرانے والی آیات کا حامل ہے۔ اس سورہ کے پہلے حصّہ میں ہمیں بہت سی قسمیں ملتی ہیں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے نئی ہیں اور یہ قسمیں ظالموں کے لئے عذابِ الہی کی تہدید کے طور پر ہیں۔ اس سورہ کے دوسرے حصہ میں گزشتہ سرکشی کرنے والی بعض اقوام، مثلاً قومِ عاد و ثمود و فرعون اور ان سے خدا کے شدید انتقام لینے کی طرف اشارہ ہے، تاکہ دوسری طاقتیں اپنے انجام پر غور کریں۔ اس سورہ کے تیسرے حصہ میں مسئلہ معاد اور مجرمین و کافرین کی سرنوشت اور اسی طرح مومنین کے اجر کو، جو صاحب نفس مطمّنہ ہیں، موضوع بنایا گیا ہے۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں ہمیں ایک حدیث پیغمبر اسلامؐ کی ملتی ہے (من قرأھا فی لیال عشر غفر اللہ لہ و من قرأھا سائر الایام کانت لہ نوراَ یوم القیامۃ) جو شخص اسے دس راتوں (اوّل ذی الحج کی دس راتوں) میں پڑھے، خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور جو شخص باقی ایام میں پڑھے تو قیامت کے دن اس کے لئے نور و روشنی ہو گی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰ص ۴۸۱)۔ ایک حدیث امام جعفر صادقؑ کی ہے کہ سورہ فجر کو ہر واجب و مستحب نماز میں پڑھو کہ یہ حسینؑ بن علیؑ کا سورہ ہے۔ جو شخص اسے پڑھے گا وہ قیامت میں امام حسینؑ کے ساتھ بہشت میں ان کے درجہ میں ہو گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۸۱)۔ اس سورہ کا تعارف سورہٴ امام حسینؑ کے عنوان سے ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو کہ نفسِ مطمئنہ کا واضح مصداق، جو اس سورہ کی آخری آیات میں واقع ہوا ہے، حسینؑ بن علیؑ ہی ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے انہی آیات کے ذیل میں آیا ہے۔ یا پھر اس بناء پر کہ لیال عشر (دس راتوں سے مراد) تفسیر محرم الحرام کی پہلی دس راتیں ہیں جو حسینؑ بن علیؑ سے خاص رابطہ رکھتی ہیں۔ بہرحال، یہ سب اجر و ثواب و فضیلت ان اشخاص کے لئے ہے جو اس کی تلاوت کو اپنی اصلاح اور تربیت کی تمہید قرار دیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر تمہاری صبح کی سفیدی کی قسم
Tafsīr Nemūna · Vol. 13اس سورہ کے آغاز میں پانچ بیدار کرنے والی قسموں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "قسم ہے فجر اور رات کے سیاہ پردے کے چاک ہونے کی۔" (وَالْفَجْرِ)۔ " اور قسم ہے دس راتوں کی۔" (وَلَيَالٍ عَشْرٍ)۔ "فجر" اصل میں وسیع شگاف کے معنی ہے، چونکہ صبح کا نور شب کی تاریکی میں شگاف ڈال دیتا ہے، لہٰذا اُسے فجر کہا گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ فجر دو قسم کی ہے، کاذب اور صادق۔ فجرِ کاذب طولانی سفیدی ہے جو آسمان میں ظاہر ہوتی ہے اور اسے لومڑی کی دُم سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس کا باریک نقطہ افق کی طرف ہے اور اس کا قاعدہِ مخروط وسط آسمان میں ہے۔ فجرِ صادق ابتداء ہی سے افق میں وسعت پیدا کرتی ہے۔ اس میں نورانیت اور صاف قسم کی شفافیت ہوتی ہے۔ وہ آب زلال کی نہر کی مانند افق مشرق کو گھیر لیتی ہے۔ اس کے بعد پورے آسمان میں پھیل جاتی ہے۔ فجرِ صادق رات کے ختم ہونے اور دن کے آغاز کا اعلان ہے۔ اس موقع پر روزہ داروں کو اکل و شرب سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئے۔ اس وقت صبح کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں فجر کے اس کے مطلق معنی یعنی صبح کی سفیدی مراد لی ہے، جو یقیناً عظمتِ پروردگار کی ایک نشانی ہے، یہ انسانوں اور تمام زمینی موجودات کے لئے نور کی حاکمیت کے آغاز اور ظلمت کے ختم ہونے کا نقطہٴ عطفیٰ ہے۔ یہ زندہ موجودات کی جنبش و حرکت کا آغاز نیند و سکوت کا اختام ہے۔ اس زندگی کی بناء پر خدا اس کی قسم کھاتا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اس سے نئے سال کا پہلا دن یعنی پہلی محرم مراد لی ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر عیدِ قربان کی فجر کی ہے جس میں حج کے اہم مراسم انجام پاتے ہیں اور یہ دس راتوں سے متصل ہے۔ بعض نے اس کو ماہِ رمضان مبارک کی صبح قرار دیا ہے اور بعض نے روزِ جمعہ کی فجر سمجھا ہے۔ لیکن آیت کا وسیع مفہوم ہے جو ان سب مفاہیم پر حاوی ہے، اگرچہ اس کے بعض مصداق دوسرے بعض مصداقوں سے زیادہ واضح اور اہم بھی ہیں۔ بعض نے آیت کے معنی اس سے زیادہ وسیع سمجھے ہیں اور کہا ہے کہ فجر سے مراد ہر وہ روشنی ہے جو تاریکی میں چمکتی ہے۔ اس بناء پر اسلام اور نور پاکِ محمدیؐ کا عصر جاہلیت پر طلوع ہونا اس فجر کا ایک مصداق ہے۔ اسی طرح قیام محمدیؐ کی صبح کی سفیدی کا عالم کے ظلم و ستم کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہونے کے وقت چمکنا، اس کا ایک دوسرا مصداق شمار ہوتا ہے جیسا کہ بعض روایات میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ معنی امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں نقل ہوئے ہیں۔ تفسیر برہان، جلد ۴، ص ۴۵۷، حدیث (۱))۔ علیٰ ہٰذا دشتِ کربلا میں عاشورہٴِ حسینی کا قیام اور اس کا بنی امیّہ کے مظالم کے تاریک پردوں کو چاک کرنا اور اُن دیو صفت لوگوں کے حقیقی چہروں کو بےنقاب کرنا، اس کا ایک اور مصداق ہے۔ اسی طرح تمام سچے انقلاب، جو کفر و جہالت اور ظلم و ستم کے خلاف گزشتہ اور موجودہ تاریخ میں برپا ہوتے ہیں، نہ صرف وہ فجر کے مصداق ہیں بلکہ بیداری کا وہ شعلہ جو گنہگاروں کے تاریک دل میں ظاہر ہوتا ہے اور انہیں توبہ کی دعوت دیتا ہے، وہ بھی فجر ہے۔ البتہ یہ آیت کے مفہوم کی ایک وسعت ہے جبکہ ظاہر آیت وہی فجر ہے، یعنی سپیدہٴ صبح کا طلوع ہونا۔ باقی رہا "لیال عشر" (دس راتیں) تو مشہور وہی ذوالحج کی دس راتیں ہیں جو مسلمانانِ عالم کے سیاسی اور عبادتی عظیم ترین اور نہایت متاثر کرنے والے اجتماعات کی گواہ ہیں۔ یہ معانی ایک حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے واسطے سے پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد، ۱۲، ص ۷۴)۔ بعض مفسرین نے ان دس راتوں کو ماہ مبارکِ رمضان کی آخری دس راتیں قرار دیا ہے جن میں شب قدر ہے۔ بعض نے محرم کی ابتدائی دس راتوں کو "لیال عشر" کا مصداق قرار دیا ہے۔ ان تینوں تفسیروں کو جمع کرنا بھی مکمل طور پر ممکن ہے۔ بعض ایسی روایات جو بطونِ قرآن کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق فجر سے مراد حضرت مہدیؑ کا وجود ذی جود ہے اور یہاں عشران کے پہلے کے دس ائمہ ہیں اور شفیع جو بعد والی آیت میں آیا ہے، اس سے مراد حضرت علیؑ و حضرت فاطمة الزھراؑ ہیں۔ بہرحال، دس راتوں کا خواہ اس کی تفسیر کچھ بھی کیوں نہ ہو، ان کی حد سے زیادہ اہمیت کی دلیل ہے۔ اس لئے کہ قسم ہمیشہ اہم امور کی کھائی جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ "لیال عشر" یہاں نکرہ کی شکل میں بیان ہوئی ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ نکرہ یہاں بیان عظمت کے لئے ہے، لہٰذا یہ عہد کا مفہوم پیدا کرتی ہیں اور یہ ان مخصوص راتوں کی طرف اشارہ ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں)۔ ان تمام معانی کی جمع بھی ممکن ہے۔ اس کے بعد قسموں کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جفت و طاق کی قسم" (وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ)۔ یہ کہ شفع و وتر (زوج و فرد) سے اس آیت میں کیا مراد ہے، مفسرین نے بہت سے اقوال اور احتمال بیان کئے ہیں۔ بعض نے ۲۰ اقوال تک پیش کئے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر فخر رازی، جلد ۳۱، ص ۱۶۴) اور بعض نے اس سے بھی زیادہ یعنی ۳۶ اقوال تک نقل کئے ہیں۔ (بحوالہ: علامہ طباطبائی نے المیزان میں بعض مفسرین سے جلد ۲۰، ص ۴۰۶ پر نقل کیا ہے اور رُوح المعانی نے التحریر و التجیر سے جلد ۳۰، ص ۱۲۰ پر نقل کیا ہے)۔ ان میں سے زیادہ اہم امور مندرجہ ذیل اقوال ہیں: ۱۔ مراد، زوج و فرد اعداد ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق خدا نے ان تمام اعداد کی قسم کھائی ہے جو زوج و فرد سے تشکیل پاتے ہیں۔ وہ اعداد ایسے ہیں کہ تمام حسابات اور تمام نظام ان کے محور کے گرد گھومتے ہیں اور انہوں نے سارے عالم معنی کو گھیر رکھا ہے گویا فرماتا ہے: قسم ہے نظم و ضبط اور حساب و کتاب کی، اور حقیقت میں عالمِ ہستی میں اہم ترین مفہوم یہی نظم و حساب اور عدد کا مسئلہ ہے جو انسانی زندگی میں اصل بنیاد کو تشکیل دیتا ہے۔ ۲۔ شفیع سے مراد مخلوقات ہیں کیونکہ ساری مخلوق جوڑا جوڑا ہیں اور ایک دوسرے کے قرین ہے جب کہ وتر سے مراد خدا ہے، جس کی شبیہ و نظیر و مانند و مثل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تمام ممکنات ماہیت و وجود سے مرکب ہیں، جسے فلسفہ میں زوج ترکیبی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ صرف غیر متناہی شئے جو ماہیت کے بغیر ہے، وہ خدا کی اپنی ذات ہے، اس تفسیر کی طرف معصومین علیہم السلام کی بعض روایات میں اشارہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: ابو سعدی خدری نے اسے پیغمبرؐ سے نقل کیا ہے۔ مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۸۵)۔ ۳۔ زوج و فرد سے مراد اس جہان کی تمام مخلوق ہے جو ایک لحاظ سے زوج اور ایک لحاظ سے فرد ہے۔ ۴۔ مراد نمازیں ہیں جن میں رکعات کی تعداد کے لحاظ سے بعض زوج اور بعض فرد ہیں۔ یہ معنی بھی ایک روایت میں معصوم سے نقل ہوئے ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۸۵)۔ یا یہ کہ وہی نماز شفع وتر ہے جو نمازِ تہجد کے آخر میں پڑھی جاتی ہے۔ ۵۔ شفع سے مراد روز ترویہ ہے (آٹھویں ذی الحج جس دن حاجی عرفات کی طرف کوچ کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں) اور وتر سے مراد عرفہ کا دن ہے جس میں خانہ خدا کے زائرین عرفات میں ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ شفع سےمراد عید قربان کا دن ہے (دس ذی الحج) اور وِتر سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ یہ تفسیر بھی معصومین علیہم السلام کی روایات میں آئی ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۸۵)۔ عمدہ بات یہ ہے کہ اگر الف لام ان دونوں الفاظ میں عموم کے لئے ہوں تو یہ تمام معانی اس میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان تفسیروں میں سے ایک تفسیر کی کوئی نہ کوئی مصداق ہے۔ شفع و وِتر کا خصوصیت سے ذکر ہونا اس مفہوم میں مخصوص ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک واضح مصداق سے مطابقت رکھنے کی قسم سے ہے۔ لیکن الف لام ان دونوں میں عہد کا ہو تو پھر خاص قسم کے زوج و فرد کی طرف اشارہ ہو گا اور یہاں گزشتہ قمسوں کی مناسبت سے سب سے زیادہ دو معنی مناسب ہیں: ایک یہ کہ عید کا دن اور عرفہ کا دن ہو جو ذی الحج کی ابتدائی دس راتوں سے مکمل طور پر مناسبت رکھتا ہے اور مناسکِ حج کا اہم ترین حصہ انہیں دونوں میں انجام پاتا ہے۔ یا یہ کہ مراد نمازیں ہوں جو فجر کی قسم کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں، جو سحر کا اور بارگاہِ خدا میں راز و نیاز کا وقت ہے، خصوصاً جبکہ یہ دونوں تفاسیر ان روایات میں بھی وارد ہوئیں ہیں جو معصومینؑ سے مروی ہیں۔ آخر میں آخری قسم میں فرماتا ہے: "اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ صبح اور دن کی روشنی کی طرف جاتی ہے" (وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ)۔ (تشریحی نوٹ: یسر اصل میں یسری ہے جو مادہ سری کا فعل مضارع ہے اس کے بعد اس کی یاء تخفیف اور گزشتہ آیات سے ہم آہنگی کی بناء پر حذف ہو گئی ہے)۔ کیسی پُرکشش اور عمدہ تعبیر ہے کہ چلنے کی نسبت رات کی طرف وہی ہے، وہ بھی رات کو چلنا اس لئے کہ "یسر"، "سری" کے مادّہ سے (بروزن شما) بقول راغب مفردات میں رات کے چلنے کے معنی میں ہے۔ گویا رات ایک زندہ وجود ہے اور حسّ و حرکت رکھتی ہے جو تاریکی میں قدم بڑھاتی ہے اور روشنی کی طرف جاتی ہے۔ جی ہاں! اس تاریکی کی قسم کھائی ہے جس کا رخ روشنی کی طرف ہے، متحرک تاریکی نہ کہ ٹھہری ہوئی۔ تاریکی اس وقت وحشت ناک ہوتی ہے جب وہ رُکی ہوئی ہو لیکن اس میں اگر نور و روشنی کی طرف حرکت ہو تو اس کی قدر و قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ظلمتِ شب کرہٴ زمین پر حرکت کی حالت میں ہے اور اصولی طور پر جو رات اہم مفید اور حیات بخش ہے وہ وہی رات ہے جو حرکت کی حالت میں ہو، یعنی جو مستقل طور پر بتدریج خود کو دن سے تبدیل کرے، اس لئے کہ اگر رات کرّہٴ زمین کے نصف حصہ پر جا کر رُک جائے اور میخ کی طرح گڑ جائے تو وہ آدھا حصہ بھی ختم ہو جائے اور دوسرا آدھا حصہ بھی جو ہمیشہ سورج کی روشنی کے مقابل ہو۔ رات سے مراد یہاں کیا ہے؟ کیا سب راتیں مراد ہیں، یا کوئی خاص رات؟ اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اگر اس کا الف لام عموم کے لئے ہو تو اس میں تمام راتیں شامل ہوں گی، جو خدا کی آیات میں سے خود ایک آیت ہے اور آفرینش کے مظاہر میں سے خود ایک مظہر ہیں۔ اگر اس کا الف لام عہد ہو تو پھر معین رات کی طرف اشارہ ہے اور گزشتہ قسموں کی مناسبت سے مراد عید قربان کی رات ہے جس میں حجاج کرام مزدلفہ (مشعر الحرام) کی طرف اور اس وادیِ مقدس میں رات گزارنے کے بعد طلوع آفتاب کے وقت سر زمین منیٰ کی طرف راونہ ہو جاتے ہیں۔ یہ تفسیر معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں بھی آئی ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۷۱)۔ جن لوگوں نے اس رات کا منظر قریب سے عرفات و مشعر میں دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح ہرگز گوشہ و کنار سے لاکھوں افراد کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رات اپنے وجود کے ساتھ حرکت کر رہی ہے یہ ٹھیک ہے کہ حاجی چل رہے ہوتے ہیں لیکن یہ حرکتِ عمومی اس قدر وسعت رکھتی ہے گویا زمین و زمان سب حرکت میں ہوں اور یہ سب اس وقت محسوس ہوتا ہے جب انسان عید کی رات اس سرزمین میں ہو اور و اللیل اذا یسر کے معنی اپنی آنکھوں دیکھے۔ بہرحال، رات کسی بھی معنی میں ہو، عام یا خاص، عظمتِ الہٰی کی نشانی ہے اور عالم ہستی کے اہم موضوعات میں سے ہے۔ رات ہَوَا کی حرارت میں اعتدال پیدا کرتی ہے، تمام موجودات کو آرام پہنچاتی ہے اور بارگاہِ خدا میں راز و نیاز کے لئے فضا میں سکون پیدا کرتی ہے۔ باقی رہی عیدِ قربان کی رات جس کا نام (لیلة جمع) ہے، وہ بھی اس مقدس وادی مشعر الحرام میں سال کی عجیب ترین رات ہے۔ بہرحال، ان پانچ قسموں کا رشتہ (فجر کی قسم، دس راتوں کی قسم، زوج و فرد کی قسم اور رات کی قسم) اس صورت میں بالکل واضح ہے جب ہم ان سب کو ایام ذی الحج اور حج کے عظیم مراسم سے متعلق سمجھیں۔ اس صورتِ حال کے علاوہ پھر عالمِ تکوین اور عالمِ تشریع کے اہم حوادث کے مجموعہ کی طرف اشارہ ہے جو خدا کی عظمت کی نشانیاں ہیں اور عالمِ ہستی کے عجیب و غریب اور حیران کن مظاہر ہیں، ان پُر معنی اور بیدار کرنے والی قسموں کے بعد ارشاد ہوتا ہے: "کیا کچھ کہا گیا ہے اس میں صاحبان خرد کے لئے اہم قسم ہے" (هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ)۔ حجر یہاں عقل کے معنی میں ہے اور اصل میں منع کے معنی میں ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ قاضی نے فلاں شخص کو حجر (بروزن زجر) کیا یعنی اسے اس کے اموال میں تصرف کرنے سے منع کر دیا۔ یا یہ کہ کمرہ کو حجرہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ وہ ایک محفوظ و ممنوع جگہ ہوتی ہے کہ اس میں دوسرے وارد نہیں ہو سکتے۔ دامن اور آغوش کو حجر (بر وزن فکر) کہا جاتا ہے دوسروں سے محفوظ ہونے اور ممنوع ہونے کی وجہ سے، اور عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے لہٰذا اسے حجر سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ خود لفظ عقل کے معنی بھی خود منع کرنے کے ہیں۔ اسی لئے وہ رسّی جسے اونٹ کے گھٹنے میں باندھتے ہیں کہ اسے چلنے پھرنے سے روکیں، عقال کہلاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ منقسم بہ (وہ چیز جس کے لئے یہ قسمیں کھائی گئی ہے) کیا ہے؟ اس سلسلہ میں دو احتمال ہیں۔ پہلا یہ کہ جملہ (إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ) تیرا پروردگار کمین گاہ میں ہے، اس قسموں کا جوابِ قسم ہے۔ دوسرا یہ کہ جوابِ قسم محذوف ہے اور آنے والی آیات میں جو سرکشوں کی سزا اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کی بات کرتی ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں۔ یہ معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو کہی گئی ہیں کہ ہم کافروں اور سرکشوں پر عذاب نازل کریں گے۔ (تشریحی نوٹ: تقدیر میں اس طرح ہے کہ لنعذبن الکفار و الطاغین)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر تیرا پروردگار ظالموں کی گھات میں ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 13گزشتہ آیات کے بعد جو سرکشوں کی سزا اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں بامعنی قسموں کی ضمانت لئے ہوئے تھیں، ان آیات میں گزشتہ اقوام میں سے چند طاقتور قوموں کے متعلق، جن میں سے ہر ایک عظیم قوت کی مالک تھی، لیکن ساتھ ہی مغرور بھی متکبر و سرکش بھی تھی، ان کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ان کی درد ناک سرنوشت کو واضح کرتا ہے تاکہ مشرکین مکہ اور دوسری اقوام جو اُن کے مقابلہ میں بہت کمزور ہیں، اپنا اندازہ لگالیں اور خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں۔ پہلے فرماتا ہے: "کیا تُو نے دیکھا نہیں کہ تیرے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا ہے۔" (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ)۔ رویت (دیکھنا) سے یہاں مراد علم و آگاہی ہے چونکہ ان اقوام کی داستانیں اس قدر مشہور و معروف تھیں کہ گویا بعد کے زمانے کے لوگ بھی انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے، لہٰذا رویت کی تعبیر صرف ہوئی ہے۔ البتہ اس آیت میں مخاطب پیغمبرؐ تھے لیکن مقصود سب کو تنبیہ کرنا اور خبردار کرنا ہے۔ "عاد" خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ہودؑ کی قوم ہے۔ بعض مؤرخین کا نظریہ ہے کہ عاد کا اطلاق دو قبیلوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ جو بہت پہلے تھا اور قرآن نے اسے عاد الاولیٰ سے تعبیر کیا ہے۔ (نجم ۔ ۵۰)۔ وہ غالباً تاریخ سے پہلے موجود تھا۔ دوسرا قبیلہ جو تاریخِ بشر کے دَور میں اور تقریباً ولادتِ مسیحؑ سے سات سو سال پہلے تھا اور عاد کے نام سے مشہور تھا۔ یہ احقاف یا یمن میں رہائش پذیر تھا۔ اس قبیلہ کے افراد بلند قامت اور قوی الجثہ تھے اور اسی بنا پر بہت نمایاں جنگو شمار ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ متمدن بھی تھے۔ ان کے شہر آباد اور زمینیں سرسبز و شاداب تھیں۔ ان کے باغات پُر بہار تھے اور انہوں نے بڑے بڑے محل بھی تعمیر کئے تھے۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ عاد اس قبیلہ جدِ اعلیٰ کا نام تھا اور وہ قبیلہ کو اپنے جد کے نام سے موسوم کر کے پکارتے تھے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "وہی پُرشکوہ اور عظیم شہررام" (إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ)، اس بات میں کہ ارم کسی شخص کا نام ہے یا قیبلے کا یا جگہ یا کسی شہر کا، مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ زمخشری کشاف میں نقل کرتا ہے کہ عاد بیٹا ہے عوص کا، وہ بیٹا ہے ارم کا، وہ بیٹا ہے سام ابن نوح کا اور چونکہ قبیلے کے اجداد سے قبیلے منسوب ہوتے تھے، لہٰذا عاد کو ارم بھی کہتے ہیں۔ مؤرخین کا نظریہ یہ ہے کہ ارم وہی عادِ اولیٰ ہے اور عاد دوسرا قبیلہ ہے، جبکہ کچھ اور حضرات کا نظریہ ہے کہ ارم ان کے شہر اور سرزمین کا نام ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر کشاف، جلد ۴، ص ۷۴۷۔ اِس مضمون کو قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ اسی طرح دوسری تفسیروں میں بھی ہے)۔ لیکن بعد والی آیت سے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارم ان کے بےنظیر شہر کا نام ہے۔ عماد کے معنی ستون اور اس کی جمع عمد ہے (بر وزن شتر) پہلی تفسیر کی بناء پر قومِ عاد کے طاقتور جسموں اور ستون جسے پیکروں کی طرف اشارہ ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق باعظمت عمارتوں، بلند و بالا محلات، اور ان عظیم ستونوں کی طرف اشارہ ہے جو عظیم محلوں میں تعمیر کئے کئے تھے اور ان دونوں صورتوں میں قوم عاد کی طاقت و قوت کا اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کی بناء پر ذات کا مؤنث ہونا طائفہ و قبیلہ کی بناء پر ہے جو مؤنث لفظی ہے)۔ دوسری تفسیر (ان کے محلوں کے عظیم ستون) زیادہ مناسب ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "وہی شہر و دیار جن کی مانند و مثل دنیا کے شہروں میں پیدا نہیں ہوئی تھی (الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ)۔ یہ تعبیر بتائی ہے کہ ارم سے مراد وہی شہر ہے، نہ کہ قبیلہ طائفہ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے اسی تفسیر کو قبول کیا ہے اور ہم نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔ (تشریحی نوت: ارم غیر منصرف ہے اسی لئے حالتِ جر میں منصوب ہوتا ہے)۔ بعض مفسرین نے جزیرة العرب کے بیابانوں اور عدن کے صحراؤں میں شہر ارم کے برآمد ہونے کی ایک دلچسپ داستان بیان کی ہے جس میں وہ اس شہر کی بلند و بالا عمارات اور سامانِ زینت وغیرہ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن مذکورہ داستان واقعیت کی نسبت خواب یا افسانے سے زیادہ تعلق رکھتی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قوم عاد طاقتور قبائل پر مشتمل تھی، ان کے شہر ترقی یافتہ تھے اور جیسا کہ قرآن اشارہ کرتا ہے، ان جیسے شہر پھر آباد نہیں ہو سکے۔ بہت سی داستانیں شداد کی، جو عاد کا بیٹا، زبان زدِعام ہیں اور تاریخ میں مرقوم ہیں۔ یہاں تک کہ شداد کی بہشت اور اس کے باغات ضرب المثل کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ لیکن ان داستانوں کی حقیقت کچھ نہیں ہے، یہ محض افسانے ہیں۔ یہ ایسے افسانے ہیں کہ ان کی حقیقت پر بعد میں حاشیہ آرائی کر لی گئی۔ اس کے بعد گزشتہ اقوام کے دوسرے سرکش گروہ کا حوالہ دے کر فرماتا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے قوم ثمود کے ساتھ کیا کیا، جو وادی میں بڑے بڑے پتھروں کو کاٹتی اور ان سے گھر اور قصر بناتی تھی۔ (وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ)۔ ثمود کی قوم قدیم ترین اقوام میں سے ہے۔ ان کے پیغمبر حضرت صالحؑ تھے اور وہ وادی القریٰ نامی سرزمین میں رہتے تھے، جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی۔ ان کا تمدن ترقی یافتہ تھا، زندگی مرفہ الحال تھی اور ان کی عمارتیں عظیم تھیں۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں ثمود اس قبیلے کے باپ کا نام تھا۔ اسی نام سے وہ قبیلہ موسوم ہوا۔ (تشریجی نوٹ: ثمود اہلِ لغت کے لحاظ سے ثمد (بر وزن نمد) اس تھوڑے سے پانی کے معنی میں جس کا کوئی مادہ نہ ہو اور ثمود اس شخص کو کہتے ہیں جس سے زیادہ مال کا مطالبہ کریں، اتنی مقدار جس سے اس کے مال میں نقص پیدا ہو جائے، بعض اس لفظ کو عجمی کہتے ہیں۔ مفردات راغب)۔ جابوا اصل میں جو بہ (بر وزن توبہ) سے لیا گیا ہے جو پست زمین کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد ہر قطعہ زمین کی قطع و برید کے معنی میں آیا ہے۔ کسی بات کے جواب کو اس لئے جواب کہتے ہیں گویا وہ ہوا کو قطع کرتا ہے اور کہنے والے کے منہ سے نکل کر سننے والے کے کان تک پہنچتا ہے (یا اس لحاظ سے کہ سوال کو کاٹ کر دیتا ہے)۔ بہرحال، یہاں مراد پہاڑوں کے ٹکڑوں کا کاٹنا اور اطمینان کے ساتھ ان سے گھر بنانا ہے، جیسا کہ سورہ فجر کی آیت ۸۲ میں اسی قوم ثمود کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں (وَكَانُواْ يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ)۔ وہ دو پہاڑوں کے اندر پُرسکون گھر بناتے تھے۔ ان معنی کی نظیر سورہ شعرا کی آیت ۱۴۹ میں آئی ہے وہاں بیوتاً فارھین کی تعبیر صرف ہوئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان گھروں میں عیش و عشرت سے زندگی بسر کرتے اور ہوس رانی سے کام لیتے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ قومِ ثمود وہ پہلی قوم تھی جنہوں نے پہاڑوں سے پتھر کاٹ کر پہاڑوں کے اندر مضبوط و محکم گھر بنانے کا اقدام کیا۔ "واد" جو اصل میں وادی تھا، دریا یا سیلابوں کی گزرگاہ کے معنی میں ہے اور کبھی درّہ کے معنی میں بھی آیا ہے، اس لئے کہ سیلاب ان سے جو پہاڑوں کے قریب ہوتے ہیں، گزرتے ہیں۔ یہاں سے دوسرے معنی مناسب ہیں یعنی درے اور پہاڑ کے دامن، اس لئے کہ قرآن کی وہ آیات بھی یہی بتاتی ہیں جو اس قوم کے متعلق بیانات دیتی ہیں اور اس کا اوپر بھی اشارہ ہوا ہے کہ قوم ثمود اپنے گھر پہاڑوں کے دامن میں بناتی تھی۔ اس طرح وہ پتھر کاٹتے اور ان کے اندر پر امن گھر بناتے۔ (تشریحی نوٹ: جابوا الصخر بالواد میں باء بظاہر ظرفیت کے معنی رکھتا ہے)۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ غزوہ تبوک کے موقع پر راستہ چلتے ہوئے دبستان کے شمال میں وادیٴ ثمود میں پہنچے۔ آپؐ گھوڑے پر سوار تھے۔ فرمایا جلدی کرو اس وقت تم ملعون و معذب سرزمین پر ہو۔ (بحوالہ: رُوح البیان، جلد ۲، ص ۴۲۵)۔ اس میں شک نہیں کہ قوم ثمود ترقی یافتہ تھا کہ ان کے شہر آباد تھے۔ لیکن پھر ہمیں ایسے اعداد و شمار سے واسطہ پڑتا ہے جو مبالغہ آمیز نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مفسرین کی ایک جماعت نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک ہزار سات سو شہر بنائے تھے جو سب کے سب پتھروں سے تعبیر ہوئے تھے۔ اس کے بعد تیسری قوم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور اسی طرح فرعون صاحبِ ثروت" (و فرعون ذی الاوتاد) جو اس طرف اشارہ ہے کہ کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے طاقتور ظالم اور بیداد گر قومِ فرعون کے ساتھ کیا کیا۔ "اوتاد" جمع ہے وتد کی (بر وزن صمد) جس کے معنی میخ کے ہیں۔ فرعون کو ذی الاوتاد کیوں کہتے ہیں؟ اس کی مختلف تفسیریں ہیں۔ پہلی یہ کہ اس کے بہت سے لشکر تھے جن میں سے بہت سے خیموں میں زندگی گزارتے تھے اور جو خیمے ان کے لئے گاڑے جاتے تھے ان میں میخیں استعمال ہوتی تھیں۔ دوسری یہ کہ فرعون جس شخص پر غضبناک ہوتا، زیادہ تر اس کو یہ سزا دیتا کہ اس کے چاروں ہاتھ پاؤں میخوں سے باندھ دیتا، یا اس کے ہاتھ اور پاؤں میں میخیں گڑوا دیتا اور اس کو چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا۔ یہ تفسیر ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔ (بحوالہ: علل الشرائع، نور الثقلین کی نقل کے مطابق جلد ۵، ص ۵۷۱، حدیث ۶)۔ تاریخ میں آیا ہے کہ جس وقت فرعون کی بیوی حضرت آسیہ حضرت موسیٰؑ پر ایمان لے آئیں تو انہیں بھی یہی سزا دی گئی اور شہید کیا گیا۔ ذی الاوتاد اصولی طور پر قوت اور استقرار حکومت کا کنایہ ہے۔ تینوں تفسیریں آپس میں منافات بھی نہیں رکھتی۔ ہو سکتا ہے کہ آیت کے معنی جمع ہوں۔ اس کے بعد مجموعی طور پر ان تینوں اقوام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: "وہی جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی" (الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ)۔ اور ان میں بہت سا فساد برپا کیا اور خرابی کی (فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ)۔ فساد جو ہر قسم کی ظلم و ستم، تجاوز عن الحدود، عیاشی اور ہوس رانی پر مشتمل تھا۔ واقعی ان کی سرکشی ایک اثر رکھتی ہے اور ہر سرکشی کرنے والی قوم آخرکار ہر قسم کے فساد میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک مختصر اور پُر معنی جملے کے ساتھ ان تمام سرکشِ قوموں کی دردناک سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اضافہ فرماتا ہے: "لہٰذا خدا نے ان کو عذاب کا تازیانہ لگایا" (فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ)۔ "سوط" کے معنی تازیانے کے ہیں۔ اس کے معنی اصل میں ایک چیز کو دوسری چیز سے مخلوط کرنے کے ہیں۔ اس کے بعد اس کا تازیانہ پر بھی اطلاق ہوا ہے جو چمڑے وغیرہ سے بنا ہو۔ بعض مفسرین کے نزدیک عذاب کا کنایہ ہے، ایسا عذاب جو انسان کے گوشت و خون سے مخلوط ہو جائے اور اس کو سخت پریشان و بےحال کر دے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام میں امتحان کے بارے میں ملتا ہے (و الذی بعثہ بالحق لتبلبلن بلبلة و لتغربلن غربلة و لتساطن سوط القدر)۔ "قسم ہے اس کی جس نے پیغمبرؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تم شدت و سختی کے ساتھ موردِ امتحان و آزمائش قرار پاؤ گے، چھلنی کی مانند ہو جاؤ گے، دیگ میں جو چیز ہو اس کی طرح اس کے جوش کھانے اور اُبال آنے کے وقت مل جل جاؤ گے اور اوپر نیچے ہو جاؤ گے۔" (بحوالہ: نهج البلاغه، خطبه ۱۶)۔ "صب" کی تعبیر جو اسل میں پانی انڈیلنے اور پھینکنے کے معنی میں ہے، یہاں اس عذاب کی لذت اور استمرار کی طرف اشارہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ صفحہ زمین کے ان سرکشوں کے وجود سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہو۔ بہرحال، سوط کے تمام معانی میں سے یہاں مناسب وہی پہلے معنی یعنی تازیانہ ہے۔ وہی تعبیر جو روزمرہ کی گفتگو میں بھی رائج ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے دشمن کی پشت پر عذاب کا تازیانہ لگایا۔ یہ مختصر سی تعبیر شدید اور مختلف قسم کے عذابوں کی طرف اشارہ ہے جو اس قوم پر نازل ہوئے۔ قوم عاد تو قرآن مجید کے بقول تیز ٹھنڈی اور جلانے والی ہوا اور آندھی سے ہلاک ہوئی (وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ) (حاقہ ۔ ۶)۔ باقی رہی قوم ثمود تو وہ عظیم آسمانی چیخ کے ذریعہ نابود ہوئی۔ (فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ) (حاقہ۔ ۵) اور قوم فرعون دریائے نیل کی موجوں میں غرق اور دفن ہو گئی (فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ) (زخرف: ۵۵)۔ آخری زیر بحث آیت میں ان تمام لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنے کے لئے، جو اس راستہ پر چلتے ہیں جس پر وہ سرکش لوگ چلتے تھے، فرماتا ہے: "یقیناً تیرا پروردگار کمین گاہ میں ہے" (إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ)۔ "مرصاد" رصد کے مادّہ سے کسی چیز کی نگہبانی کرنے کے لئے آمادگی کے معنی میں ہے۔ فارسی میں اسے کمین گاہ کہتے ہیں۔ یہ لفظ عام طور پر ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کچھ افراد مجبور ہوں کہ کسی گزرگاہ سے گزریں اور کوئی شخص اس گزرگاہ میں ضرب لگانے کے لئے آمادہ و تیار ہو۔ اس ساری گفتگو میں اس طرف اشارہ ہے کہ گمان نہ کرو کہ کوئی شخص عذابِ الہٰی سے بچ کر جا سکتا ہے۔ سب کچھ اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور جس وقت وہ ارادہ کرے ان کو سزا دے سکتا ہے اور ان پر عذاب نازل کر سکتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا کا کوئی مکان نہیں ہے اور وہ کسی گزرگاہ میں بھی نہیں بیٹھتا۔ یہ تعبیر اس بات کا کنایہ ہے کہ پروردگار اپنی قدرت کے ذریعہ تمام سرکشوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: (ان ربک قادر علیٰ ان یجزی اھل المعاصی جزائھم)۔ "تیرا پروردگار قدرت و توانائی رکھتا ہے کہ گنہگاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۸۷)۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: (المرصاد قنطرة علی الصراط لایجوزھا عبد بمظلمة عبد)۔ "مرصاد ایک پل ہے اس راستہ پر جو جہنم کے اوپر سے گزرتا ہے۔ جس شخص کی گردن پر کسی مظلوم کا حق ہو گا وہ اس پر سے نہیں گزر سکے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۸۷)۔ یہ حقیت میں ایک واضح مصداق کے بیان کی قسم میں سے ہے اس لئے کہ خدا کی کمین گاہ قیامت اور مشہور پُل صراط تک محدود نہیں ہے۔ خدا تو اس دنیا میں بھی ہر ظالم کی گھات میں ہے اور گزشتہ تینوں اقوام پر نازل ہونے والا عذاب اس کا واضح مصداق ہے۔ "ربک" (تیرا پرورگار) کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ سنتِ الہٰی تیری امت کی سرکش، ظالم اور ستمگر قوموں کے بارے میں بھی جاری ہو گی۔ پیغمبرؐ اور مومنین کے دلوں کی تسکین بھی ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ یہ ہٹ دھرم اور کینہ پرور دشمن خدا کی قدرت کے چنگل سے کبھی فرار نہیں کر سکیں گے اور یہ ان لوگوں کے لئے خطرہ کی تنبیہ بھی ہے جو پیغمبر اکرمؐ اور مومنین پر ہر قسم کا ظلم و ستم روا رکھتے تھے۔ انہیں جان لینا چاہیئے کہ وہ لوگ جو ان سے زیادہ صاحب طاقت تھے، ایک تیز آندھی، ایک طوفان، ایک شعلہ اور صیحہ آسمانی کے مقابلہ میں تاب مقاومت نہ لا سکے، تو یہ کس طرح سوچتے ہیں کہ اپنے ان غلط اعمال کے باوجود عذابِ الہٰی سے نجات پا سکیں گے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے آپؐ فرماتے ہیں: "جبرائیل امین نے مجھ کو خبر دی ہے کہ جس وقت خداوند و یکتا اولین و آخرین کی مخلوق کو میدانِ حشر میں جمع کرے گا تو جہنم کو لے آئے گا اور پل صراط کو، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، اس پر رکھ دے گا۔ اس صراط پر تین پل ہوں گے۔ پہلے پُل پر امانت و رست گاری اور رحمت و محبت ہے۔ دوسرے پُل پر نماز اور تیسرے پُل پر پروردگار عالم کا عدل ہو گا۔ لوگوں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اس پُل پر سے گزریں۔ جنہوں نے امانت اور رحم میں کوتاہی کی ہو گی وہ پہلے پُل پر ہی رہ جائیں گے۔ اگر اس سے گزر گئے تو نماز میں کوتاہی کی ہو گی تو دوسرے پُل پر ہی رہ جائیں گے اور اگر اس سے بھی گزر گئے تو اپنے راستے کے آخر میں عدل الہٰی پائیں گے اور (ان ربک لبالمرصاد) کے یہی معنی ہیں۔ (بحوالہ: روضہ کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۷۳)۔ حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات و کلمات میں ہم پڑھتے ہیں (ولئن امھل اللہ الظالم فلن یفوت اخذہ وھو لہ بالمرصاد علی مجاز طریقہ و بموضع الشجی من مساغ ریقہ) اگر خدا ظالم کو مہلت دے دے تو اس کی سزا ہرگز ختم نہیں ہو گی۔ وہ ستمگاروں کی گھات میں ہے اور اس طرح ان کے حلق کو اپنے دستِ قدرت میں لئے ہوئے ہے کہ جس وقت چاہے گا اس طرح دبائے گا کہ اس کا لعابِ دہن تک گلے سے نیچے نہیں جا سکے گا۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۹۷)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر نہ اس کی نعمت کے ملنے پر غرور کرو اور نہ سلبِ نعمت پر مایوس ہو
Tafsīr Nemūna · Vol. 13گزشتہ آیات کے بعد جو سرکشی کرنے والوں کو خبردار کر رہی تھیں اور انہیں خدا کے عذاب سے ڈرا رہی تھیں، زیر بحث آیات میں مسئلہ امتحان کو پیش کرتا ہے جو ثواب اور عقاب الہٰی کا معیار ہے اور انسانی زندگی کا اہم مسئلہ شمار ہوتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: لیکن انسان، جس وقت اس کا پروردگار اور اس کی آزمائش کے لئے اس کا اکرام کرے اور نعمت بخشے، تو مغرور ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے عزت دی ہے (فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ)۔ وہ نہیں جانتا کہ خدائی آزمائش کبھی نعمت کے ذریعہ اور کبھی انواع و اقسام کی مصیبتوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔ نہ نعمت کا حصول سببِ غرور بننا چاہئیے اور نہ مصائب مایوسی اور ناامیدی کا سبب بنیں۔ لیکن یہ کم ظرف انسان دونوں حالتوں میں مقصد آزمائش کو بھول جاتا ہے، نعمت کے ملنے کے وقت اس طرح خیال کرتا ہے کہ وہ مقرب بارگاہ خدا ہو گیا اور یہ نعمت اس قرب کی دلیل ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابتداء میں کہتا ہے کہ خدا اسے موردِ اکرام قرار دیتا ہے۔ لیکن آیت کے ذیل میں ہے کہ انسان خود کو مورد اکرام خدا دیکھتا ہے۔ اس کی مذمت ہو رہی ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ پہلا اکرام انعام ہی کے معنی میں ہے اور دوسرا اکرام بارگاہِ خدا کے قرب کے معنی میں ہے۔ لیکن جس وقت امتحان لینے کے لئے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: "میرے پروردگار نے مجھے ذیل و خوار کر دیا ہے" (وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ)۔ ناامیدی اسے ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور وہ اپنے پروردگار سے رنجیدہ و ناخوش ہو جاتا ہے۔ وہ اس سے غافل ہے کہ یہ سب چیزیں تو اس کی آزمائش اور امتحان کے ذرائع ہیں۔ وہ امتحان جو انسان کی پرورش اور ارتقاء کی رمز ہے اور اس کے استحقاقِ ثواب کا سبب اور مخالفت کی صورت میں استحقاقِ عذاب کا باعث ہے۔ یہ دونوں آیتیں خبردار کرتی ہیں کہ نہ تو نعمت کا ورود تقرب خدا کی دلیل ہے اور نہ اس کا سلب ہو جانا حق سے دُوری کی دلیل۔ یہ تو امتحان کی مختلف صورتیں ہیں کہ خدا اپنی حکمت کے مطابق ہر گروہ کی کسی چیز سے آزمائش کرتا ہے۔ یہ کم ظرف انسان ہیں کہ جو کبھی مغرور ہو جاتے ہیں اور کبھی مایوس ہو جاتے ہیں۔ سورہ حٰم سجدہ کی آیت ۵۱ میں بھی آیا ہے: (وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَئَا بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ)۔ جس وقت ہم کسی انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ روگردانی کرتا ہے اور تکبر کر کے حق سے دُور ہو جاتا ہے، لیکن جب اسے تھوڑی سی تکلیف پہنچے تو ہمیشہ دعا کرتا ہے اور بےتابی دکھاتا ہے۔ اسی سورہ ہود کی آیت ۹ میں آیا ہے (وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ)۔ جس وقت ہم انسان کو رحمت کا ذائقہ چکھائیں اور اسے چھین لیں تو ناامید و ناشکرا ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں آیتیں علاوہ اس کے کہ خدا کی آزمائش کے مسئلہ کو مختلف طریقوں سے بیان کرتی ہیں، یہ نتیجہ بھی بخشتی ہیں کہ نعمت سے بہرہ ور ہونا یا اس سے محروم ہونا قربِ خدا یا دُوری پروردگار کی دلیل نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ اور ہر جگہ ایمان و تقویٰ کا معیار ہے۔ کتنے پیغمبر تھے جو اس دنیا میں انواع و اقسام کے مصائب میں مبتلا رہے۔ ان کے مقابلہ میں کتنے کافر تھے جو گونا گوں نعمتوں سے بہرہ مند تھے۔ دنیا کی زندگی کا مزاج و طبیعت یہی ہے۔ اس آیت کے ضمن میں پروردگارِ عالم ابتلائات اور درد ناک حوادث کے فلسفہ کی طرف ایک سربستہ اور اجمالی اشارہ بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد ان اعمال کی تشریح کرتا ہے جو خدا سے دوری اور عذابِ الہٰی کے چنگل میں پھنسنے کا موجب ہیں۔ فرماتا ہے: "ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کرتے ہو (کہ تمہارے اموال پروردگار کے نزدیک تمہارے قرب منزلت کی دلیل ہیں، بلکہ تمہارے اعمال تو تمہاری خدا سے دُوری کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں) "تم تو یتیموں کا احترام نہیں کرتے" (کَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ)۔ "اور ایک دوسرے کو فقراء و مساکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتے۔" (وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یتیموں کو کھانا کھلانے کی بات نہیں کرتا، بلکہ اکرام و احترام کی بات کرتا ہے۔ اس کے لئے یتیموں کے سلسلہ میں صرف بھوک کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا بلکہ اسے احترام سے محرومی کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور وہ یہ احساس کرنے لگتا ہے کہ چونکہ اس کا باپ مر گیا ہے لہٰذا وہ ذلیل و خوار ہو گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کی عزت کی جائے تاکہ وہ باپ کے نہ ہونے کا احساس نہ کرے۔ اسی لئے اسلامی روایات میں یتیموں سے محبت اور ان پر نوازش کرنے کے مسئلہ کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ (ما من عبد یمسح یدہ علی رأس یتیم رحمة لہ الاَّ اعطاہ اللہ بکل شعرہ نوراً یوم القیامة) کوئی شخص کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت نہیں پھیرتا مگر یہ کہ خدا ان بالوں کی تعداد کے برابر جو اس کے ہاتھ کے نیچے آتے ہیں، قیامت میں اُسے نور بخشے گا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۱۵، ص ۱۲۰ (چاپ قدیم))۔ سورہ ضحیٰ کی آیت ۹ میں بھی آیا ہے (فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ) "باقی رہا یتیم تو اسے مورد قہر و تحقیر قرار نہ دے" یہ بالکل اس چیز کے مقابلہ میں ہے جو ایمان و اخلاق سے دور کل کے دَورِ جاہلیت کے معاشرہ کی طرح آج کے معاشرہ میں بھی رواج رکھتی ہے کہ یتیموں کے مال کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنی ملکیت بنایا جاتا ہے اور اس یتیم کو اس طرح تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ باپ کی غیر موجودگی کا دُکھ تلخ ترین شکل میں محسوس کرتا ہے۔ جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یتیموں کا اکرام ان کے مال کی حفاظت تک محدود نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے، بلکہ اس کے ایک واضح، صاف اور وسیع معنی ہیں جو مال کی حفاظت اور دوسرے امور دونوں کے متقاضی ہیں۔ "تحاضون" (تشریحی نوٹ: تحاضون اصل میں تتحاضون تھا جس کی ایک تاتخفیف کے لئے حذف ہو گئی) کا جملہ حض کے مادہ سے تحریص و ترغیب کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ صرف مسکین کو کھانا کھلانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ لوگ ایک دوسرے کو اس کارخیر کے سلسلہ میں شوق دلائیں تاکہ یہ طریقِ کار معاشرہ کی فضا میں وسعت پیدا کرے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ سورہ حاقہ کی آیت ۳۳۔ ۳۴، میں اس موضوع کو خداوندِ عظیم پر ایمان نہ لانے کے برابر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: (إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِo وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ)۔ وہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا اور دوسروں کو مسکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتا۔ (تشریحی نوٹ: طعام اس آیت میں اور زیر بحث آیت میں مصدری معنی رکھتا ہے اور اطعام (کھانا کھلانے) کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد اس کے تیسرے غلط کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں موردِ مذمت و ملامت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے: "تم میراث کو (حلال و حرام طریقہ سے) جمع کر کے کھا جاتے ہو۔ (وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا)۔ (تشریحی نوٹ: "لم" کے معنی جمع کرنا ہیں اور کبھی ایسا جمع کرنا جس میں اصلاح کا مقصد بھی کارفرما ہو، اس کے معنی میں آتا ہے)۔ اس میں شک نہیں کہ اس مال کا کھانا، جو شرعی میراث کے طور پر کسی شخص کو پہنچے، بُرا نہیں ہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں اس کام کی مذمت ہو سکتا ہے کہ ذیل کے امور میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہو۔ پہلی یہ کہ مراد اپنے اور دوسروں کے حق کو جمع کر لیتا ہو، اس لئے کہ "لم" کا لفظ اصل میں جمع کے معنی میں ہے اور بعض مفسریں مثلاً زمخشری نے کشاف میں خصوصیت سے اس کی حرام و حلال کے درمیان جمع کرنے سے تفسیر کی ہے۔ خصوصاً زمانہ جاہلیت کے عربوں کی حالت یہ تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کر دیتے تھے اور ان کا حق خود لے لیتے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ میراث انہیں ملنی چاہئیے جو جنگوں ہوں (اس لئے ان کے ہاتھ جو اموال لگتے تھے ان میں سے بہت سے مال وہ ہوتے تھے جو غارتگری کے نتیجے میں حاصل ہوتے تھے) لہٰذا وہ صرف ان لوگوں کو حقدار سمجھتے تھے جو غارتگری کے قابل ہوں۔ دوسرے یہ کہ جب میراث تم تک پہنچتی ہے تو تم فقیر و مسکین، عزیزوں اور رشتہ داروں اور معاشرہ کے محروم افراد پر بالکل خرچ نہیں کرتے اور جب تم میراث کے مال کے ساتھ، جو بغیر کسی زحمت و تکلیف کے تمہارے ہاتھ آتا ہے، اس طرح کرتے ہو تو یقیناً اپنے کمائے ہوئے مال کے بارے میں تو تم زیادہ بخیل اور سخت ہو گے، جو بہت بڑا عیب ہے۔ تیسرے یہ کہ میراث اور چھوٹے بچوں کے حقوق کھانا ہے، اس لئے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بےایمان افراد، اور وہ جو کسی قانون کے پابند نہیں ہوتے، جب میراث کا مال ان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ یتیم اور چھوٹے بچوں کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور چونکہ وہ یتیم اور چھوٹے بچے اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے، لہٰذا بےایمان لوگ اس مال سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ قبیح ترین شرمناک ترین گناہ ہے۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ (تشریحی نوٹ: تراث اصل میں وارث (تراث ہی وزن پر) تھا اس کی واو تا میں تبدیل ہو گئی ہے)۔ اس کے بعد ان کے چوتھے مذموم عمل کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور تم دولت و ثروت کو زیادہ عزیز رکھتے ہو" (وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا)۔ (تشریحی نوٹ: جم جیسا کہ مصباح اللغة اور مقاییس میں آیا ہے کثیر اور فراواں کے معنی میں اور جمّہ بروزن جبّہ سے کے آگے جمع شدہ بالوں کے معنی میں ہے)۔ تم دنیا پرست اور مال و متاعِ دنیا کے عاشق افراد ہو اور یقینا وہ شخص جو مالِ دنیا سے ایسا لگاؤ رکھے وہ اس کے جمع کرنے کے وقت جائز و ناجائز، حلال و حرام کا خیال نہیں رکھتا۔ اس قسم کا شخص حقوق الہٰی کو بالکل تسلیم نہیں کرتا، یا ان میں کمی کا مرتکب ہوتا ہے، جس شخص کو حُبِ دنیا نے گھیر رکھا ہو، اس کے دل میں یاد خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اس طرح نعمت و بلا کے ذریعہ انسانوں کی آزمائش کے ذکر کے بعد چار ایسی اہم آزمائشوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کے بارے میں یہ مجرم گروہ ناکام ہو کر مردود ہوا تھا: یتیموں کے بارے میں یہ آزمائش، مسکینوں کو کھانا کھلانے آزمائش، میراث کے حصوں کی جائز و ناجائز طریقہ سے جمع کرنے کی آزمائش اور آخر میں بغیر کسی قید و شرط کے اموال جمع کرنے کی آزمائش۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ تمام آزمائشیں مالی پہلو رکھتی ہیں۔ واقعی اگر کوئی شخص مالی آزمائشوں سے عہدہ برآمد ہو جائے تو پھر اس کے لئے دوسری آزمائشیں آسان ہو جائیں گی۔ یہ دنیا کا مال ہی ہے جو مشہور قول "ایمان فلک دادہ بباد" کے مطابق دنیا میں ایمان کو خراب کر دیتا ہے۔ آدم کے بیٹے کی عظیم ترین لغزشیں اسی شعبہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو مال کے ایک حد تک قوامین ہیں، لیکن جب ان کا پیمانہ پُر ہو جائے اور وہ اس حد سے گزر جائیں تو شیطانی وسوسے انہیں خیانت کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں۔ سچے مومنین وہ ہیں جو امانت اور صحتِ عمل کا خیال دوسروں کے واجب و مستحب حقوق کے سلسلہ میں مال کی ہر حد میں بغیر کسی قید و شرط کے رکھتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کو ایمان اور تقویٰ کا دعویٰ زیب نہیں دیتا ہے۔ مختصر یہ کہ جو افراد ہر حالت میں اور مال کی ہر مقدار کے سلسلہ میں امتحان و آزمائش سے عہدہ برا ہو سکیں، وہ قابل اعتماد، متقی، پرہیزگار اور عمدہ شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور بہترین دوست و احباب شمار ہو سکتے ہیں۔ وہ دوسرے معاملات میں بھی (عام طور پر) پاک اور عمدہ افراد ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات جو مالی آزمائشوں تک محدود ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اس دن بیدار ہوں گے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو گا
Tafsīr Nemūna · Vol. 13ان مذمتوں کے بعد جو گزشتہ آیات میں سرکشی کرنے والوں، دنیا پرستوں اور دوسروں کے حقوق پر ہاتھ صاف کرنے والوں کی ہوئی تھیں، ان آیات میں انہیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ آخرکار قیامت آنے والی ہے اور حساب و کتاب اور جزا و سزا کا مرحلہ درپیش ہے۔ ضروری ہے کہ آپ خود کو اس کے لئے تیار کریں۔ پہلے فرماتا ہے: ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں (کہ حساب و کتاب نہیں ہے اور اگر خدا نے انہیں مال دیا ہے تو ان کے احترام و اکرام کی وجہ سے دیا ہے، نہ کہ آزمائش و امتحان کے لئے (کلّا)۔ جس وقت زمین کوٹ کوٹ کرریزہ ریزہ کر دی جائے گی (كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا)۔ دک اصل میں نرم و صاف زمین کے معنی میں ہے۔ پھر اونچی جگہ اور عمارتوں کے لئے کوٹنے اور ریزہ ریزہ کرنے اور صاف کرنے پر اطلاق ہوا ہے۔ "دکان" اس جگہ کو کہتے ہیں جو صاف اور نشیب و فراز کے بغیر ہو۔ "دکہ" (چبوترا) اس اونچی جگہ کو کہتے ہیں جسے بیٹھنے کے لئے صاف اور تیار کرتے ہیں۔ "دک" کی تکرار مندرجہ بالا آیت میں تاکید کے لئے ہے۔ مجموعی طور پر یہ تاکید دنیا کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے زلزلوں اور جھنجوڑ دینے والے حوادث کی طرف اشارہ ہے۔ موجودات میں اس قسم کا تزلزل رونما ہو گا کہ پہاڑ ریزہ ریزہ اور زمینیں ہموار ہو جائیں گی، جیسا کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰۵ سے ۱۰۷ تک آیا ہے: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًاo فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاo لَّا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا) تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دے میرا پروردگار انہیں برباد کر دے گا اور اس کے بعد زمین کو صاف و ہموار اور بے آب و گیاہ کر دے گا، اس طرح کہ تُو اس میں کسی طرح کا نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔ قیامت کے پہلے مرحلہ کے اختتام، یعنی اس جہاں کی ویرانی کے بعد، دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔ سارے انسان زندہ ہو جائیں گے اور عدالت الہٰی میں ظاہر ہوں گے۔ اس وقت تیرے پروردگار کا فرمان آن پہنچے گا۔ فرشتے صف در صف حاضر ہوں گے (وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا)۔ محشر میں موجود لوگوں کا محاصرہ کر لیں گے اور فرمانِ حق کے اجراء کے لئے آمادہ ہوں گے۔ یہ تصویر کشی اس عظیم دن کی عظمت اور عدالت کے چنگل سے انسان کے فرار کرنے کی توانائی نہ ہونے کی ہے۔ (جَاءَ رَبُّكَ) "تیرا پروردگار آئے گا" کی تعبیر اس حقیقت کا کنایہ ہے کہ مخلوقات کے حساب و کتاب کا فرمان پہنچے گا۔ یا پھر خدا کی عظمت کی علامتوں کا ظہور مراد ہے، یا پروردگار کے ظہور سے مراد اس دن اس کی معرفت کا ظہور ہے، اس طرح سے کہ کسی شخص کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ گویا سب لوگ اپنی آنکھوں سے اس کی ذاتِ بےمثال کے جمال کا مشاہدہ کریں گے۔ بہرحال، مسلّم ہے کہ خدا کا آنا، اس لفظ کے حقیقی معنی جن کا لازمہ جسم ہے اور کسی مکان میں منتقل ہونا ہے، کوئی امکان نہیں رکھتے اور وہ مراد نہیں رہی اس لئے کہ خدا جسم اور خواصِ جسم سے مبرا ہے۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتا ہے کہ آیت میں کچھ محذوف ہو سکتا ہے کہ لفظ امر یا قہر جلائل آیات یا ظہور معرفت ہو۔ دوسرے مفسرین نے بھی ان چار الفاظ میں سے خصوصاً پہلے لفظ کو تقدیر آیت کے عنوان سے بیان کیا ہے)۔ یہی مفہوم بڑی صراحت کے ساتھ ایک حدیث میں امام علیؑ بن موسیٰ رضاؑ سے منقول ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ۲۰، ص ۴۱۶)۔ اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیت ۳۳ ہے، جس میں فرماتا ہے: (هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلاَئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ) کیا وہ اس کے علاوہ توقع رکھتے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا تیرے پروردگار کا امر آن پہنچے؟ صفاً صفا کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ملائکہ محشر میں مختلف صفوں میں وارد ہوں گے۔ احتمال ہے کہ ہر آسمان کے فرشتے ایک الگ صف میں حاضر ہوں گے اور اہل محشر کے گرد گھیرا ڈال دیں گے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اور اس دن جہنم کو لے آئیں گے، اس دن انسان متذکر ہو گا لیکن اس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا" (وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى)۔ اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم چلانے کے قابل ہے اور اسے لا کر مجرموں کے قریب کر دیا جائے گا، جیسا کہ جنت کے بارے میں بھی سورہ شعراء کی آیت ۹۰ میں ہم پڑھتے ہیں (وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ)۔ جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کر دی جائے گی۔ اگرچہ مفسرین مائل ہیں کہ ان الفاظ کو مجازی معنوں پر محمول کریں اور جنت و جہنم کے نیکوکاروں اور بدکاروں کے سامنے ظہور کا کنایہ سمجھیں، لیکن اس خلاف ظاہر کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ بہتر ہے کہ انہیں اس کے ظاہر پر چھوڑ دیا جائے، اس لئے کہ عرصہٴ محشر کی حقیقتیں ہم پر مکمل طور پر واضح نہیں ہیں اور وہاں کے حالات ہماری دنیا کے حالات سے بہت مختلف ہیں۔ پھر اس کا کوئی مانع نہیں ہے کہ اس روز دوزخ و جنت کو ان کی جگہ سے ہٹائیں گے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے ہمیں ملتا ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت (وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ) نازل ہوئی تو آپؐ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔ یہ حالت اصحاب پر گراں گزری۔ وہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا۔ حضرت علی علیہ السلام آئے اور پیغمبر اسلامؐ کے دونوں شانوں کے دمیان بوسہ دیا اور کہا: " اے خدا کے رسولؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہو جائیں۔ کیا حادثہ رونما ہوا ہے"؟ آپؐ نے فرمایا! "جبرائیلؑ آئے تھے اور یہ آیت تلاوت کی ہے" حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں: "میں نے عرض کیا کس طرح جہنم کو لے آئیں گے"؟ فرمایا: "ستر ہزار فرشتے ستر ہزار مہاروں کے ذریعہ اسے کھینچ کر لائیں گے اور وہ سرکشی کی حالت میں ہو گی۔ اگر اس کو چھوڑ دیں تو وہ سب کو آگ لگا دے گی، پھر میں جہنم کے سامنے کھڑا ہو جاؤں گا اور وہ کہے گی: اے محمدؐ مجھے آپ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ خدا نے آپ کا جسم مجھ پر حرام کیا ہے۔ اس دن ہر شخص اپنی فکر میں ہو گا لیکن جناب سید المرسلینؐ کہیں گے: "رب امتی رب امتی" (پروردگار میری امت، میری امت)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۸۳۔ ان معنی کے قریب نیز تفسیر در المنثور میں آیا ہے، المیزان کی نقل کے مطابق جلد۲۰، ص ۴۱۵)۔ جی ہاں! جب مجرم انسان ان مناظر کو دیکھے گا تو ہل جائے گا اور غم و اندوہ میں ڈوب جائے گا، اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے گا اور اپنے اعمال سے سخت پشیمان ہو گا۔ لیکن یہ پشیمانی اس کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ انسان آرزو کرے گا کہ واپس پلٹ جائے اور اپنے تاریک ماضی کی تلافی کرے، لیکن واپسی کے دروازے بالکل بند ہوں گے وہ چاہے گا کہ توبہ کرے لیکن توبہ کا زمانہ ختم ہو گیا ہو گا وہ چاہے گا کہ اعمال صالح بجا لائے تاکہ اپنے بُرے اعمال کی تلافی کر سکے، لیکن اعمال کا دفتر بند ہو چکا ہو گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس کی فریاد بلند ہو گی اور وہ کہے گا: "اے کاش! مَیں نے اپنی زندگی کے لئے اعمالِ صالح بھیجے ہوتے" (يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي)۔ قابل توجہ یہ ہے کہ یہ نہیں کہے گا کہ اپنی آخرت کی زندگی کے لئے، بلکہ کہے گا اپنی زندگی کے لئے، گویا زندگی کا لفظ آخرت کی زندگی کے علاوہ کسی اور زندگی کے لئے موزوں نہیں ہے۔ اور جلدی گزرنے والی، انواع و اقسام کے مصائب کی آمیزش رکھنے والی دنیاوی زندگی زندگی شمار ہی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیت ۶۴ میں ہم پڑھتے ہیں (وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ) "یہ دنیا کی زندگی کھیل کود اور لہو و لعب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے اگر تم جانتے ہو۔" جی ہاں! وہ لوگ جنہوں نے یتیموں کا مال کھایا، بھوکوں کے منہ لقمہ نہیں دیا، ان کا مال و میراث غارت کیا اور مالِ دنیا کی محبت نے ان کے دل کو مسخر کر رکھا تھا، وہ اس دن آرزو کریں گے کہ کاش کوئی چیز آخرت کی زندگی کے لئے، جو حقیقی اور جاوداں زندگی ہے، ہم نے آگے بھیجی ہوئی۔ لیکن یہ آرزو بےنتیجہ ہو گی۔ اس کے بعد دو مختصر جملوں میں اس دن کے عذاب کے شدت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس دن خدا اس قسم کی سزا دے گا کہ اس جیسی سزا کوئی بھی نہیں دے سکے گا" (فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ)۔ جی ہاں! یہ سرکش جو اپنی قوت کے وقت بدترین جرائم اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں، اس دن ان کو اس قسم کی سزا ملے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی ہو گی، جیسا کہ نیکوکار اس قسم کی جزا پائیں گے جو کسی کے خیال و گمان میں بھی نہیں گزری ہو گی، اس لئے کہ خدا ارحم الراحمین بھی ہے اور اشد العاقبین بھی۔ نیز اس دن کوئی بھی خدا کی طرح کسی کو قید و بند کی سزا نہیں دے گا۔ (وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ)۔ نہ اس کی قید بند و زنجیر کی کوئی مثال ہے، نہ اس کے عذاب کی کوئی مثل و نظیر ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ انہوں نے اس دنیا میں خدا کے مظلوم بندوں کو جتنا ان سے ممکن تھا قید و بند میں رکھا اور ان کو سخت تکالیف پہچائیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے صاحب نفس مطمئنہ!
Tafsīr Nemūna · Vol. 13اس وحشتناک عذاب کے تذکرے کے بعد جو سرکشوں اور دنیا پرستوں پر قیامت میں نازل ہو گا، زیر بحث آیات میں اس کے برعکس، جو صورتِ حال ہے، اس کو پیش کرتا ہے۔ اب نفسِ مطمئنہ اور ان مومنین کی طرف جو ان عظیم طوفانوں میں مکمل سکون و اطمینا ن سے بہرہ ور رہے، متوجہ ہوا ہے۔ انہیں نہایت لطف و محبت سے مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے نفس مطمئنہ!" (يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ)۔ "اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ، اس حالت میں کہ تُو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔" (ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً)۔ "اور میرے بندوں کی صف میں داخل ہو جا۔" (فَادْخُلِي فِي عِبَادِي)۔ "اور میری جنت میں داخل ہو جا۔" (وَادْخُلِي جَنَّتِي)۔ کیا ہی پُرکشش، دل خوش کن اور روح پرور تعبیریں ہیں، جن سے لطف و صفا اور اطمینان کی خوشبو آتی ہے۔ پروردگار کی دعوتِ مستقیم ایسے نفوس کے لئے، جو ایمان کے سائے میں اطمینان و سکون کی حالت میں پہنچے ہوئے ہیں، انہیں اپنے پروردگار، اپنے مالک و مربی اور مصلح کی طرف بازگشت کی دعوت دیتا ہے، ایسی دعوت جو طرفین کی رضا مندی لئے ہوئے ہے۔ دلدادہ عاشق کی رضا مندی معشوق کے لئے اور محبوب و معبود حقیقی کی رضا مندی۔ اس کے بعد افتخارِ عبودیت کا تاج اس کے سر پر رکھنا اور لباسِ زندگی سے اُسے مفتخر کرنا اور اپنے خاصانِ بارگاہ کی مسلک میں انہیں پرونا اور جگہ دینا۔ اس کے بعد انہیں جنت میں ورود کی دعوت دینا اور وہ بھی "میری جنت میں داخل ہو جا" کی تعبیر کے ساتھ جو بتاتی ہے کہ اس مہمان کا میزبان صرف اور صرف خدا کی ذات پاک ہے۔ عجیب دعوت، عجیب مہمان اور عجیب میزبانی ہے۔ نفس سے مراد یہاں وہی انسان ہے اور مطمئنہ کی تعبیر اس سکون و اطمینان کی طرف اشارہ ہے جو ایمان کے پر تو کے سائے میں پیدا ہوا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: (أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) "جان لو کہ صرف اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (رعد۔ ۲۸) اس قسم کا نفس اللہ کے وعدوں پر بھی اطمینان رکھتا ہے اور جو راہ اس نے اختیار کی ہے اس پر بھی مطمئن ہوتا ہے۔ دنیا اس کی طرف بڑھے، تب بھی اور اس سے منہ موڑے تب بھی، طوفان میں بھی اور حوادث و بلا میں بھی، اور سب سے بالاتر خوف و وحشت اور قیامت کے عظیم اضطراب میں بھی۔ پروردگار کی طرف بازگشت سے مراد، مفسرین کی ایک جماعت کے نظریہ کے مطابق، اس کے ثواب و رحمت کی طرف بازگشت ہے، یعنی اس کے جوار و قرب میں جگہ پانا، معنوی و روحانی بازگشت پانا نہ کہ مادی و جسمانی۔ کیا پروردگار کی طرف یہ بازگشت کی یہ دعوت صرف قیامت میں ہو گی یا جان دینے والے عمر کے لمحات کے ختم ہونے سے متعلق ہے؟ آیات کا سیاق تو البتہ قیامت سے مربوط ہے، اگرچہ خود اس آیت کی تعبیر مطلق و وسیع ہے۔ راضیہ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ثوابِ خداوندی کے تمام وعدوں کو، اس سے زیادہ کہ جتنا وہ تصور کر سکتا تھا، وہ حقیقی طور پر دیکھے گا اور اس طرح خدا کا فضل و کرم اس کے شامل حال ہو گا کہ وہ مجسم رضا بن جائے گا۔ باقی رہا مرضیہ کی تعبیر تو وہ اس بناء پر ہے کہ وہ موردِ قبول و رضائے دوست واقع ہوا ہے۔ اس قسم کا بندہ اس طرح کے اوصاف کے ساتھ اور مکمل رضا و تسلیم کے مقام پر پہنچنے کے ساتھ، جس نے عبودیت کی اس حقیقت کو جو معبود کی راہ میں ہر چیز کو چھوڑ دینا ہے، پا لیا ہے اور اس نے خدا کے بندگانِ خاص کے دائرہ میں قدم رکھا ہے۔ یقیناً اس کے لئے جنت کے علاوہ کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔ بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ آیتیں سید الشہداء حضرت حمزہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکی ہے، یہ حقیقت میں ایک قسم کی تطبیق ہے، نہ کہ شانِ نزول، جیسا کہ امام حسینؑ کے بارے میں بھی ہم نے سورہ کے آغاز میں پڑھا ہے۔ قابل توجہ یہ کہ کافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہمیں ملتا ہے کہ آپ کے ایک صحابی نے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مومن اپنی روح کے قبض ہو جانے سے خوش نہ ہو؟ تو آپ نے فرمایا: "نہیں خدا کی قسم! جب موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ ناخوشی و ناراضی کا اظہار کرتا ہے۔ اس وقت موت کا فرشتہ اس سے کہتا ہے "اے ولی خدا! پریشان نہ ہو قسم ہے اس ذات کی جس نے محمدؐ کو مبعوث کیا ہے، مَیں تجھ پر مہربان باپ سے زیادہ شفیق ہوں۔ ٹھیک طرح سے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھ لے" وہ دیکھے گا رسول خداؐ، امیر المومنینؑ، حضرت فاطمۃ الزہراؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کی ذریّت میں سے باقی ائمہ کو، تو فرشتہ اس سے یہ کہے گا: "یہ رسولِ خداؐ، امیر المؤمنینؑ، حضرت فاطمۃ الزہراؑ، حسنؑ و حسینؑ اور باقی ائمہؑ تیرے دوست و محبوب ہیں۔" وہ اپنی آنکھوں کو کھو لے گا اور دیکھے گا۔ اچانک ایک کہنے والا پروردگار کی طرف سے کہے گا "يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ" اے وہ شخص جو حضرت محمدؐ اور ان کے اہلبیتؑ پر ایمان رکھتا ہے، پلٹ آ، اپنے پروردگار کی جانب، اس حالت میں کہ تُو ان کی ولایت پر راضی ہے اور و ہ اپنے ثواب پر تجھ سے راضی ہیں۔ داخل ہو جا میرے بندوں یعنی محمدؐ اور ان کے اہلبیتؑ کے درمیان اور داخل ہو جا میری جنت میں تو اس موقع پر اس مومن کے لئے کوئی اور چیز زیادہ محبوب نہیں ہو گی۔ وہ چاہے گا کہ جس قدر جلد ہو روح بدن سے رہا ہو اور اس منادی کے ساتھ مل جائے۔" (بحوالہ: کافی، جلد ۳، باب ان المؤمن لایکرہ علی قبض روحہ۔ حدیث ۲)۔ خداوند! ہمیں اس قسم کے اطمینان و سکون سے مفتخر فرما تاکہ ہم اس عظیم خطاب کے لائق و شائستہ بنیں۔ پروردگارا! اس مقام تک پہنچنا تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اپنے لطف و کرم سے نواز۔ خداوندا! یقیناً کوئی چیز تیرے کرم سے کم نہیں ہو گی، اگر ہمیں صاحبانِ نفوسِ مطمئنہ میں سے قرار دے۔ ہم پر احسان و کرم فرما۔ بارالہٰا! ہم جانتے ہیں کہ یہ سکون و اطمنان تیرے ذکر کے سائے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تُو ہمیں اپنے ذکر کی خود توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین