Sūra 55 · 78v
Chapter 5578 verses

Ar-Rahman

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الرحمن
الرحمن

سوره الرحمن

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۷۸ آیات ہیں۔

سوره الرحمن کا مضمون

یہ سُورہ کلی طور پر خدا کی ان مختلف مادی و معنوی نعمتوں کو بیان کرتا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے ارزانی فرمائی ہیں اور انہیں ان میں محصور کیا ہے۔ اِن نعمتوں کا بیان اس انداز میں ہے کہ اس سُورہ کا نام "سورۂ رحمت" یا "سورۂ نعمت" رکھا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سورہ "الرَّحْمٰنُ" سے شروع ہوا، جو خدا کا اسمِ مبارک ہے اور اس کی رحمتِ واسعہ کو بیان کرتا ہے اور ختم ہوا خُدائے ذوالجلال کے اجلال و اکرام پر۔ فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان کا جملہ، جس کے ذریعے خدا نے اپنی نعمتوں کا اپنے بندوں سے اقرار لیا ہے، اکتیس مرتبہ اس سُورہ میں آیا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ سارا سُورہ خداوندِ منّان کی مختلف نعمتوں کا باہم پیوستہ ایک ہی حصہ ہے، لیکن دوسرے لحاظ سے اس کے مضامین کو چند حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ: جو سُورہ کا مقدمہ اور آغاز ہے۔ یہ خدا کی عظیم نعمتوں، خلقت، تعلیم و تربیت، حساب و میزان، انسان کے رفاہی وسائل و ذرائع اور اس کی جسمانی و روحانی غذاؤں کی گفتگو کرتا ہے۔ دوسرا حصہ: جن و انس کی خلقت کی کیفیت کے مسئلے کی ایک وضاحت ہے۔ تیسرا حصہ: زمین و آسمان میں جو خدا کی آیات اور نشانیاں ہیں، ان کو بیان کرتا ہے۔ چوتھا حصہ: یہاں دُنیاوی نعمتوں سے آگے بڑھ کر دوسرے جہان کی نعمتوں کے بارے میں گفتگو ہے۔ اس میں دقتِ نظر اور شیرینیِ گفتار کے ساتھ جنت کی نعمتوں کی تمام جزئیات، عام اس سے کہ وہ باغات ہوں یا چشمے، پھل ہوں یا خوبصورت و باوفا ازواج، یا انواع و اقسام کے لباس، ان سب کی وضاحت کی ہے۔ اس سورہ کے پانچویں اور آخری حصہ میں مجرمین کے انجام کی طرف ایک مختصر اشارہ ہے اور ان کی دردناک سزا کا ذکر ہے۔ چونکہ اس سورہ کی اساس و بنیاد رحمتِ الٰہی کا بیان ہے، اس لیے اس آخری حصے کی زیادہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس کے برعکس جنت کی نعمتوں کی تفصیل و تشریح اتنی وسعت کے ساتھ ہے کہ اس نے مومنین کے دلوں کو سرور و مسرت سے ہمکنار کر دیا ہے اور غم و اندوہ کے غبار کو ان کے دلوں سے دھو ڈالا ہے اور کشتِ دل میں نہالِ شوق کی تخم ریزی کی ہے۔ فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان کی تکرار، جو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد آتی ہے، اس سورہ کو جاذبِ نظر اور خوبصورت آہنگ بخشتی ہے۔ جب اس آہنگ کو اس کے خوبصورت مضامین کے ساتھ ملا دیا جائے تو حیران کُن کشش محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کوئی تعجب محسوس نہیں ہوتا جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ایک حدیث نظر کے سامنے آتی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "لِكُلِّ شَيْءٍ عَرُوسٌ، وَعَرُوسُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الرَّحْمٰنِ جَلَّ ذِكْرُهُ"۔ "ہر ایک کے لیے عروس ہے اور عروس القرآن سورۂ رحمن ہے"۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، آغاز "سورہ رحمٰن" یہ حدیث "دُرّ المنثور"، جلد ۶، صفحہ ۱۴۰ پر مندرج ہے]۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ لفظ "عروس" اگرچہ فارسی زبان میں صرف عورت کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن لغتِ عرب میں عورت و مرد دونوں کے لیے، جب تک وہ مراسمِ عروسی میں رہیں، ان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ [بحوالہ: لسان العرب، مجمع البحرین، صحاح اللغات]۔ اور چونکہ عورت و مرد اس قسم کے مراسم میں بہترین حالات اور کامل ترین احترامات کے عالَم میں ہوتے ہیں، اس لیے یہ لفظ بہت ہی خوبصورت، محترم اور گرامی قدر موجودات کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سُورہ کے لیے "الرَّحْمٰنُ" کا نام اِس قدر موزوں اور مناسب ہے کہ جس کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔

سورۂ رحمن کی تلاوت کی فضیلت

چونکہ یہ سُورہ نعمتوں کی شکر گزاری کے احساس کو انسانوں میں نہایت عمدہ انداز میں بیدار کرتا ہے اور دنیا و آخرت کے مادی و معنوی مواہب کے بیان سے انسان کے شوقِ بندگی و اطاعت میں اضافہ کرتا ہے، اس لیے اس کی تلاوت کی فضیلتیں بھی بہت زیادہ بیان ہوئی ہیں۔ تلاوت وہ کہ جو انسان کی روح کی گہرائیوں میں نفوذ کرے اور احساسِ حقائق کے لیے تحریک کا باعث ہو، نہ کہ صرف زبان تک محدود ہو۔ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الرَّحْمٰنِ، رَحِمَ اللَّهُ ضَعْفَهُ، وَأَدَّى شُكْرَ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ"۔ "جو شخص سورۂ رحمن کو پڑھے، تو خدا نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے سلسلہ میں اس کی کمزوری پر رحم کرے گا اور نعمتوں کی شکرگزاری کا حق، کہ جو اسے عطا کی گئی ہیں، خود ادا کرے گا"۔ [بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ١٨٧]۔ ایک اور حدیث میں، جو "ثواب الأعمال" کے بارے میں ہے، امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ: "سُورَةَ الرَّحْمٰنِ کی تلاوت اور اس کے ساتھ قیام کو ہرگز نہ چھوڑنا کیونکہ یہ سُورہ منافقین کے دل میں ہرگز استقرار نہیں پاتا اور خُدا اس سورہ کو قیامت کے دن ایک انسان کی شکل عطا کرے گا جو بہت ہی خوبصورت ہو گا اور جس میں سے بہت ہی عمدہ خوشبو آتی ہو گی۔ پھر وہ ایسی جگہ قیام کرے گا جو خداوندِ متعال سے بہ اعتبارِ معنی بہت زیادہ قریب ہو گی۔ تو خدا اس سورہ سے پوچھے گا کہ دُنیاوی زندگی میں کون سا شخص تیرے مضامین کے ساتھ قیام پذیر ہوتا تھا اور ہمیشہ تیری تلاوت کرتا تھا"؟ وہ سُورہ جواب میں کہے گا کہ: "پروردگار! وہ فلاں فلاں اشخاص ہیں"۔ اس وقت ان افراد کے چہرے چمکنے لگیں گے۔ اب خُدا ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ: "تم جس جس کے لیے چاہتے ہو، بخشش کی سفارش کرو"۔ وہ جتنی آرزو اپنے دل میں رکھتے ہوں گے، اپنے لوگوں کی بخشش کی سفارش کریں گے اور ہر وہ شخص جس کی بخشش کی وہ سفارش کریں گے، اس سے کہا جائے گا کہ: "جنت میں داخل ہو جا اور جہاں چاہتا ہے، سکونت اختیار کر لے"۔ [بحوالہ: بحار الأنوار، جلد ٩٢، صفحہ ۳۰۶]۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ عِنْدَ كُلِّ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان) لَا بِشَيْءٍ مِنْ آلَائِكَ رَبِّ أُكَذِّبُ، فَإِنْ قَرَأَهَا لَيْلًا ثُمَّ مَاتَ، مَاتَ شَهِيدًا، وَإِنْ قَرَأَهَا نَهَارًا فَمَاتَ، مَاتَ شَهِيدًا"۔ "جو شخص سُورۂ رحمن کی تلاوت کرے، جب وہ آیت فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان پڑھے تو کہے: لَا بِشَيْءٍ مِنْ آلَائِكَ رَبِّ أُكَذِّبُ یعنی "خداوندا! میں تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرتا"۔ اگر وہ رات کو تلاوت کرے اور اسی شب انتقال کر جائے تو وہ شہید قرار پائے گا اسی طرح اگر دن کو تلاوت کی ہو اور وہ اسی دن انتقال کر جائے تو بھی شہید قرار پائے گا۔

1
55:1
ٱلرَّحۡمَٰنُ
خداوند رحمن نے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
55:2
عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ
قرآن کی تعلیم دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
55:3
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ
انسان کو خلق کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
55:4
عَلَّمَهُ ٱلۡبَيَانَ
اور اسے بیان کرنا سکھایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
55:5
ٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٖ
سورج اور چاند منظم حساب کے تحت گردش کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
55:6
وَٱلنَّجۡمُ وَٱلشَّجَرُ يَسۡجُدَانِ
اور ستارے اور درخت اسے سجدہ کرتے ہیں۔

تفسیر: خدا کی نعمتوں کا آغاز

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

چونکہ یہ سُورہ خدائے عظیم کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو بیان کرتا ہے، اس لیے "رحمن" کے اس مقدّس نام سے شروع ہوتا ہے جو اس کی رحمتِ واسعہ کی رمز ہے۔ اگر اس میں رحمانیت کی صِفت نہ ہوتی تو بلاامتیاز دوست و دشمن وہ اس قسم کا خوانِ نعمت نہ بچھاتا۔ اسی لیے فرماتا ہے: "خداوندِ رحمٰن نے" الرَّحْمٰنُ۔ "قرآن تعلیم دی" عَلَّمَ الْقُرْآنَ۔ [تشریحی نوٹ: "الرَّحْمٰنُ" مبتدا ہے اور "عَلَّمَ الْقُرْآنَ" اس کی خبر ہے اور "خَلَقَ الْإِنْسَانَ" خبر کے بعد خبر ہے۔ اس جملے کی ترکیب میں اور احتمالات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے، لیکن چونکہ وہ قابلِ توجہ نہیں تھے، لہٰذا ان کے ذکر سے پہلو تہی کی گئی ہے]۔ پروردگارِ عالم اس طرح سب سے پہلے اپنی اہم ترین نعمت یعنی تعلیمِ قرآن کو بیان کرتا ہے۔ یہ بہت ہی پُرکشش اور پُرمعنی تعبیر ہے۔ اگر ہم صحیح فکر سے کام لیں تو ہمیں معلوم ہو جائے کہ قرآن مجید تمام نعمتوں کا سرچشمہ بھی ہے اور ہر نعمت تک پہنچنے کا ذریعہ بھی۔ ہم اس کے ذریعے مادی اور معنوی نعمتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ جو چیز بہت زیادہ قابلِ توجہ ہے، وہ یہ کہ پروردگارِ عالم تعلیمِ قرآن کی نعمت کے بیان کو خلقتِ انسان اور تعلیمِ بیان اِن دونوں سے پہلے بیان فرماتا ہے، حالانکہ ترتیبِ طبیعی کے لحاظ سے پہلے خلقتِ انسان کا، پھر تعلیمِ بیان کا اور پھر تعلیمِ قرآن کی نعمت کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن عظمتِ قرآن کا یہ تقاضا تھا کہ ترتیبِ طبیعی کے برخلاف سب سے پہلے تعلیمِ قرآن کو موضوعِ گفتگو بنائے۔ یہ آیت مشرکینِ عرب کے جواب کے طور پر ہے۔ جب پیغمبرِ اسلام نے مشرکین سے کہا کہ خدائے رحمن کو سجدہ کریں تو انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ: وَمَا الرَّحْمٰنُ "رحمن کیا ہے؟" (الفرقان: ۶۰) قرآن کہتا ہے: "خداوندِ رحمن وہ ہے جس نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو پیدا کیا اور پھر اسے بیان کی تعلیم دی"۔ بہرکیف، "رحمن" کا نام پروردگارِ عالم کے تمام ناموں کے مقابلے میں، "اللہ" کے بعد، سب سے زیادہ مفہوم کا حامل ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ خدا دو قسم کی رحمتوں کا مالک ہے: ایک رحمتِ عام۔ دوسری رحمتِ خاص۔ "رحمن" کا نام اس کی اس رحمتِ عام کی طرف اشارہ ہے کہ جو اہلِ ایمان و اطاعت کے حال پر ہے اور صرف ان کے لیے مخصوص ہے۔ اس وجہ سے "رحمن" کے نام کا اطلاق کبھی غیرخدا پر نہیں ہوتا، سوائے اس صورت میں جب وہ لفظ "عبد" کے ساتھ ہو۔ لیکن "رحیم" کی صفت دوسروں کے لیے بھی بولی جاتی ہے، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی بھی رحمتِ عامہ کا مالک نہیں ہے۔ جہاں تک رحمتِ خاص کا تعلق ہے، تو وہ کمزور شکل ہی میں سہی، لیکن انسانوں اور دوسرے موجودات میں پائی جاتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے: "الرَّحْمٰنُ اسم خاص بصفة عامة، والرَّحِيمُ اسم عام بصفة خاصة"۔ "رحمن ایک خاص اسم ہے جو صفتِ عمومیت رکھتا ہے، یعنی ایسا نام ہے جو خدا کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن اس کی رحمت سب کے شاملِ حال ہے"۔ "رحیم" ایک عام نام ہے لیکن خاص صفت کے ساتھ، یعنی یہ صفت خدا اور غیرخدا دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن مجید نے پیغمبرِ اسلام کو "'رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ'" کہا ہے۔ (التوبہ: ۱۲۸) لیکن یہ رحمت مخصوص و معین ہے۔ یہ سوال کہ خدا نے قرآن کی تعلیم کسے دی؟ مفسّرین نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔ کبھی جبرئیل اور دوسرے فرشتوں کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے، کبھی پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ذاتِ والا صفات کو، کبھی تمام انسانوں کو، حتیٰ کہ جنات کو بھی۔ چونکہ یہ سورت جن و انس پر ہونے والی خدا کی نعمتوں کو بیان کرتی ہے، اس لیے اکتیس مرتبہ ان کے مباحث پیش کرنے کے بعد جن و انس سے سوال کرتا ہے کہ: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" سب سے مناسب یہی تفسیر ہے کہ خدا نے اپنے عظیم پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے ذریعے جن و انس کو قرآن کی تعلیم دی۔ [تشریحی نوٹ: یہ کہ "عَلَّمَ" کا پہلا مفعول محذوف ہے یا دوسرا مفعول مفسّرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے۔ مناسب یہی ہے کہ پہلا مفعول حذف ہوا ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے: (عَلَّمَ الْإِنْسَ وَالْجِنَّ الْقُرْآنَ)۔ بعض مفسرین نے جو یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ "عَلَّمَ" کا ایک سے زیادہ مفعول نہیں ہے اور "علامت قرار دینے" کے معنی میں ہے، یہ مفہوم بہت بعید ہے]۔ قرآن کی بےمثال نعمت کے تذکرے کے بعد، اہم ترین نعمت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "انسان کو پیدا کیا۔" خَلَقَ الْإِنسَانَ۔ یہاں "انسان" سے مراد نوعِ انسانی ہے، نہ کہ حضرت آدم علیہ السلام، کیونکہ چند آیتوں کے بعد ان کے بارے میں علیحدہ گفتگو کی گئی ہے۔ اس سے مراد پیغمبرِ اسلام ﷺ بھی نہیں ہیں، اگرچہ آنحضرت ﷺ اس کے بہترین اور عمدہ ترین مصداق ہیں۔ دوسری نعمت، جو نعمتِ بیان ہے اور جس کا تذکرہ اس کے بعد ہے، وہ بھی اس امر کی شاہد ہے کہ "الإنسان" سے مراد عالمِ نوعِ انسانی ہے۔ باقی دوسری تفسیریں صحیح نظر نہیں آتیں۔ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ انسان ایک عجیب مجموعۂ عالمِ ہستی بھی ہے اور خلاصۂ موجودات بھی، ایسا عالمِ اصغر کہ جس میں عالمِ اکبر موجود ہے۔ اس کی خلقت ایک بےنظیر، بےمثل نعمت ہے، اس لیے کہ اس کے وجود کا ہر جُز بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اگرچہ اپنے وجود کے آغاز میں وہ ایک بےقیمت نُطفہ ہے، یا زیادہ صحیح لفظوں میں ایک حقیر سا وجود ہے جو اس نُطفے میں تیرتا ہے، لیکن پروردگارِ عالم کی ربوبیت کے سائے میں وہ اپنی تکمیل کے مراحل اس طرح طے کرتا ہے کہ عالمِ خلقت کے شریف ترین مقام پر ارتقا پذیر ہو جاتا ہے۔ قرآن کے بعد انسان کے نام کا ذکر بھی قابلِ غور ہے، کیونکہ قرآن تدوینی صورت میں اسرارِ ہستی کا مجموعہ ہے اور انسان تکوینی صورت میں ان اسرار کا خلاصہ ہے اور ان میں سے ہر ایک اس وسیع و عظیم عالم کا ایک نسخۂ "کتاب" ہے۔ بعد والی آیت، خلقتِ انسان کی نعمت کے بعد ایک اہم ترین نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہے: "خدا نے اسے بیان کی تعلیم دی"۔ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ۔ "بیان" لغوی مفہوم کے اعتبار سے ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور یہ ہر اُس چیز کے لیے بولا جا سکتا ہے جو دوسری چیز کی مبین اور واضح و آشکار کرنے والی ہو۔ اس بنا پر یہ نہ صرف نطق اور سخن کے معنوں میں ہے بلکہ اس سے مراد کتابت، تحریر اور انواع و اقسام کے عقلی و منطقی استدلال بھی ہیں جو مختلف اور پیچیدہ مسائل کے واضح کرنے والے ہیں۔ وہ سب کے سب بیان کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اگرچہ معانی کے اِس مجموعہ کی طرف اشارہ کرنے والی چیز وہی "بات کرنا" ہے، ہم کو عادت ہے کہ ہم بات کرنے کو ایک سادہ سی بات سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات کرنا انسانی اعمال میں سے ایک پیچیدہ ترین اور خوب ترین عمل ہے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی کام بھی ایسی پیچیدگی اور ذہانت پر مبنی نہیں جتنا کہ "بات کرنا"۔ اور وہ اس لیے کہ: • ایک طرف، مختلف قسم کی آوازیں نکالنے کے لیے آواز سے تعلق رکھنے والے کل پرزے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ • پھیپھڑے ہوا کو اپنے اندر جمع کرکے تدریجاً نرخرہ سے باہر بھیجتے ہیں اور آواز سے تعلق رکھنے والے تاروں میں آواز پیدا کرتے ہیں۔ • حالانکہ آوازیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی رضامندی کی نشانی ہوتی ہے تو کوئی غیظ و غضب کی، کوئی عام گفتگو کے لیے ہوتی ہے، کوئی مدد طلب کرنے کے لیے، کوئی محبت کی علامت ہوتی ہے اور کوئی عداوت کی۔ • پھیپھڑے ان آوازوں کو وجود میں لاتے ہیں، اس کے بعد زبان، ہونٹ، دانتوں اور فضائے ذہن کی مدد سے یہ آوازیں حروف و الفاظ کو نہایت تیزی کے ساتھ وجود میں لاتی ہے۔ بالفاظِ دیگر، وہ طویل اور یکساں آواز جو نرخرہ سے باہر آتی ہے، مختلف طریقوں سے قطع و برید ہوتی ہے جس سے حروف تشکیل پاتے ہیں۔ دوسری طرف، لغتوں کی تشکیل کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ انسان فکری ترقی کے زیرِ اثر، اپنی مادی و معنوی ضرورتوں کے مطابق، مختلف قسم کی زبانیں بناتا ہے۔ اس زبان سازی کی کوئی حد مقرر نہیں۔ دنیا میں موجود زبانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کا صحیح شمار بھی مشکل ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نئی زبانیں اور لغتیں بتدریج تشکیل پاتی رہتی ہیں۔ بعض محققین کے نزدیک دنیا میں رائج زبانوں کی تعداد تقریباً تین ہزار کے قریب ہے اور بعض کے نزدیک یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ [بحوالہ: "دائرة المعارف" فرید وجدی، جلد ۸، ص ۳۶۴، مادہ "لغت"]۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کا مقصد یہ تھا کہ وہ صرف بنیادی اور اصولی زبانوں کو شمار کریں ورنہ اگر مقامی بولیوں پر بھی نظر کی جائے تو زبانوں کی تعداد کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ بعض اوقات قریب قریب واقع دو دیہات کے باشندے دو مختلف مقامی بولیوں میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ سوم عقل و فکر کے مطابق احساسات کے بیان اور استدلال و جملہ سازی کی تنظیم کا وہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ جو بیان اور نطق کی رُوح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گفتگو انسان سے وابستہ ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مختلف قسم کے جانور اپنی ضرورتوں کو سمجھانے کے لیے مختلف آوازیں نکالتے ہیں، لیکن ان آوازوں کی تعداد بہت ہی کم اور غیر واضح ہے، جب کہ غیر محدود اور وسیع شکل کا جو بیان ہے، وہ انسان ہی کے اختیار میں ہے، کیونکہ خدا نے گفتگو کرنے کی قدرت زیادہ تر اسی کو بخشی ہے۔ اِس سے آگے بڑھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ اگر ہم بیان کے نقوش اور اس کے اثرات، انسانی زندگی کے بتدریج ارتقا اور تمدنوں کی تخلیق کو پیشِ نظر رکھیں تو ہم اِس بات کا یقین حاصل کر لیں گے کہ اگر بیان کی نعمت نہ ہوتی تو انسان اپنے علوم و تجربات کو آسانی کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل نہ کر سکتا اور وہ علم و دانش، تمدّن اور اخلاق کی ترقی کا باعث نہ بنتا۔ اگر کبھی یہ نعمت انسان سے سلب کر لی جائے تو انسانی معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ تنزل کا شکار ہو جائے۔ اگر بیان کو اس کے وسیع معانی میں لیا جائے، جو تحریر و کتابت، انواع و اقسام کے ہنر اور فنون پر حاوی ہے، تو انسانی زندگی میں اس کے اثرات نہایت اہم انداز میں واضح ہوں گے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سورۂ الرحمن، جو پروردگارِ عالم کی نعمتوں کے حوالوں کا مجموعہ ہے، میں نعمتِ خلقتِ انسان کے بعد تعلیمِ بیان کی گفتگو کیوں ہوئی ہے۔ اِس کے بعد پروردگارِ عالم نے اپنی نعمتوں میں سے چوتھی نعمت کو موضوعِ گفتگو بنا کر فرمایا ہے: چاند اور سورج ایک منظم حساب کے ماتحت گردش کرتے ہیں۔(الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ) [تشریحی نوٹ: "حِسَابٌان" بروزن "غُفْرَانٌ" مصدر ہے جو حساب اور نظم و ترتیب کے معنی میں ہے اور آیت میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: (الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ تَجْرِیَانِ بِحُسْبَانٍ) "سورج اور چاند کا سفر حساب کے ساتھ جاری ہے"]۔ خود سورج کا وجود انسان کے لیے عظیم ترین نعمت ہے، اور وہ اس لیے کہ اس سے حرارت اور نور حاصل کیے بغیر نظامِ شمسی میں زندہ رہنا غیرممکن ہے۔ اس سے قبل ہم عرض کر چکے ہیں کہ کرۂ خاکی میں جو بھی جنبش و حرکت صورت پذیر ہے، اس کا اصل سرچشمہ سورج کی حرارت اور اس کی روشنی ہے۔ گھاس کا اگنا، بڑھنا، غذائی ذخیرے، بارشیں، ہواؤں کا چلنا یہ سب اسی نعمت کی برکت کی وجہ سے ہے۔ چاند بھی حیاتِ انسانی کے سلسلے میں اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، چاند انسان کی تاریک راتوں کا چراغ ہے۔ وہ قوّتِ جاذبہ، جو سمندروں کے مدّ و جزر کا سرچشمہ ہے، سمندر سے متعلق زندگی کے باقی رہنے کا ایک بڑا سبب ہے اور بہت سے ساحلوں کو سیراب کرنے کا باعث ہے کہ دریا، جن کی مجاورت میں سمندر میں گِر جاتے ہیں۔ اِس سب پر مستزاد یہ کہ یہ طے شدہ ہے کہ چاند اور سورج کی حرکت کا نظام (بالفاظِ دیگر چاند کی گردش زمین کے گرد اور زمین کی گردش سورج کے گرد) رات اور دن، مہینے اور سال اور مختلف موسموں کی مرتب و منظم تخلیق کا باعث ہے اور یہ انسانوں کی زندگی، ان کے صنعتی، زرعی اور تجارتی امور کے لیے نظم و ضبط کا سبب ہے۔ اگر یہ منظم سفر نہ ہوتا تو انسانی زندگی کا نظام ہرگز تشکیل نہ پاتا۔ نہ صرف یہ کہ ان آسمانی کرّوں کی حرکت بہت دقیق نظام رکھتی ہے، بلکہ ان کے اجسام اور قوتِ جاذبہ، زمین سے ان کا فاصلہ اور آپس میں ایک دوسرے سے فاصلہ یہ سب ازروے حساب ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ چیزیں ایک دوسرے سے متصادم ہو جائیں تو نظامِ شمسی میں عظیم انقلابات برپا ہو جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی بھی درہم برہم ہو جائے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جس وقت اس نظام کے اجرائے کرۂ خورشید سے جدا ہوئے، تو وہ بہت ہی بکھرے ہوئے اور غیر مرتب نظر آتے تھے، لیکن آخرکار ان کی موجودہ ترتیب صورت پذیر ہوئی۔ اِس سلسلہ میں امورِ طبیعی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ: "ہمارا نظامِ شمسی بظاہر ایک ایسے مخلوط درہم برہم مواد سے وجود میں آیا ہے جو سورج سے بارہ ہزار درجے کی حرارت لیے ہوئے جدا ہوا اور ناقابلِ تصور تیزی سے فضائے لامحدود میں بکھر گیا۔ لیکن اس ظاہری بےترتیبی اور فضائی انقلاب سے اس قسم کی دقیق ترتیب عالمِ وجود میں آئی کہ ہم آج آئندہ حادثات کے منٹ اور سیکنڈ کے بارے میں پیشین گوئی کر سکتے ہیں۔ اس نظام و ترتیب کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اوضاعِ فلکی ہزار ملین سال گزر جانے کے باوجود اسی حالت پر باقی ہیں"۔ [بحوالہ: "رازِ آفرینشِ انسان"، ص ۲۸]۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ سورج، اگرچہ نظامِ شمسی کے وسط میں بظاہر بغیر کسی حرکت کے قائم ہے، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ بھی اپنے تمام چاند اور ستاروں کے ہمراہ، اسی کہکشاں کے اندر جس سے وہ تعلق رکھتا ہے، معین نقطے کی طرف حرکت کر رہا ہے اور اس کی یہ حرکت بھی ایک معین تیزی و تنظیم رکھتی ہے۔ پانچویں عظیم نعمت کے سلسلہ میں پروردگارِ عالم آسمان سے زمین کی طرف رخ کر کے فرماتا ہے: "گھاس اور درخت اس کے لیے سجدہ کرتے ہیں"۔ (وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ) "نجم" کبھی تو ستارے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی ایسی گھاس کے معنی میں جس کا کوئی ہو اور یہاں "شجر" کے قرینے سے دوسرے معنی مراد ہیں، یعنی وہ گھاس جو تنے کے بغیر ہو۔ [بحوالہ: راغب "مفردات" میں کہتا ہے: "النَّجْمُ مَا لَا سَاقَ لَهُ مِنَ النَّبَاتِ" جس نبات کا تنا نہ ہو، وہ نجم ہے]۔ اصولی طور پر یہ لفظ طلوع کے معنی میں ہے اور گھاس کو اگر نجم کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ زمین سے سر نکالتی ہے اور ستارے کو نجم کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی بنا پر کہ وہ طلوع ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انسانوں کا تمام موادِ غذائی اس امتیاز کے ساتھ نباتات سے لیا گیا ہے کہ بعض کو تو انسان براہِ راست اپنے مصرف میں لاتا ہے اور بعض نباتات ایسے جانوروں کی غذا بنتے ہیں جو انسانوں کے غذائی مواد کا جُز ہیں۔ یہ معنی دریائی جانوروں کے سلسلے میں بھی صحیح طور پر منطبق ہوتے ہیں، کیونکہ وہ بھی بہت سے ایسے چھوٹے نباتات سے غذا حاصل کرتے ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں سمندر کے گوشہ و کنار میں سورج کی روشنی کے پرقو میں اگتے ہیں اور سمندروں کی موجوں کے درمیان چلتے پھرتے ہیں۔ اِس طرح نجم مختلف قسم کے چھوٹے اور رینگنے والے نباتات وغیرہ (مثلاً کدو اور کھیرے کے بوٹے) کو کہتے ہیں، اور شجر مختلف قسم کے تنہ دار نباتات کو کہتے ہیں، جیسے غلّے اور میوہ دار درخت وغیرہ۔ اور (یَسْجُدَانِ) "یہ دونوں سجدہ کرتے ہیں" کا مفہوم قوانینِ آفرینش کے مقابلے میں انسانوں کی منفعت کے لیے ان دونوں کا بغیر کسی قید و شرط کے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو خدا نے ان کے لیے مقرر کیا ہے اور یہ اس پر بلاچون و چرا مصروفِ سفر ہیں۔ ضمنی طور پر یہ ان کے سرِ وحدت کی طرف بھی اشارہ ہے اور وہ اس طرح کہ نبات کے ہر پتّے اور ہر دانے پر پروردگارِ عالم کی عظمت اور اس کے علم کی عجیب و غریب نشانیاں موجود ہیں اور ہر ورق معرفتِ پروردگار کا دفترِ بےپایاں ہے۔ [تشریحی نوٹ: عالمِ ہستی کے مختلف موجودات کے سجود کے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ جلد ۷ (سورۂ حج، آیت ۱۸ کے ذیل میں) بحث کر چکے ہیں۔ اسی طرح جلد ۶ (سورۂ اسرا، آیت ۴۴ کے ذیل میں) ہم مفصل بحث کر چکے ہیں]۔ مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اوپر والی آیت میں النجم سے مراد آسمان کے ستارے ہیں، لیکن جو کچھ ہم نے اوپر کہا ہے، وہ آیت میں موجود قرائن کی بنا پر زیادہ مناسب ہے۔

ایک نکتہ: چند روایات پر ایک نظر

مذکورہ بالا آیات کے ذیل میں اسلامی سرچشموں میں ایسی روایات موجود ہیں جو تفسیرِ کلی کی حیثیت سے روشن ہونے کے مصداق ہیں اور ہر ایک، تفسیرِ آیات کے ایک حصے کو واضح کرتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے کہ آپ نے (عَلَّمَهُ الْبَيَانَ) کی تفسیر کے سلسلے میں فرمایا: "البَيَانُ الِاسْمُ الأَعْظَمُ الَّذِي بِهِ عُلِمَ كُلُّ شَيْءٍ" بیان وہی اسمِ اعظم ہے، جس کے ذریعے تمام چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ [بحوالہ: تفسیر "مجمع البیان"، جلد ۹، صفحہ ۱۹۷]۔ اسمِ اعظم اور اس کی تفسیر کے بارے میں جلد ۴ میں (سورۂ اعراف کی آیت ۱۸۰ کے ذیل میں) ہم نے بحث کی ہے۔ ایک اور حدیث میں امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ: "(الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ)" سے مراد یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر کو قرآن کی تعلیم دی اور "خَلَقَ الْإِنْسَانَ" سے مراد امیر المومنین علیہ السلام کی تخلیق ہے اور "(عَلَّمَهُ الْبَيَانَ)" ان تمام امور کا بیان ہے جن کے لوگ محتاج ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ مذکورہ روایات ان آیات کے مفہوم کی عمومیت کو محدود نہیں کرتیں بلکہ ان کے واضح مفہوم کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔

7
55:7
وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلۡمِيزَانَ
اور (اللہ نے) آسمان کو بلند کیا اور(اس میں ) میزان قرار دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
55:8
أَلَّا تَطۡغَوۡاْ فِي ٱلۡمِيزَانِ
تم بھی میزان کی رعایت کرو اور اس میں سر کشی نہ کرو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
55:9
وَأَقِيمُواْ ٱلۡوَزۡنَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُواْ ٱلۡمِيزَانَ
وزن کو عدل کی بنیاد پر قائم کرو اور میزان کو کم نہ رکھو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
55:10
وَٱلۡأَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡأَنَامِ
اور زمین کو لوگوں کے نفع کیلئے پیدا کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
55:11
فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَٱلنَّخۡلُ ذَاتُ ٱلۡأَكۡمَامِ
جس میں پھل اور شگوفوں سے پر نخلستان ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
55:12
وَٱلۡحَبُّ ذُو ٱلۡعَصۡفِ وَٱلرَّيۡحَانُ
اور ایسے دانے کہ جن میں تنے اور پتے ہیں جو کاہ اور خوشبودار گھاس کی شکل میں نکلتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 13 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
55:13
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن وانس! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر: آسمان کو بلند کیا اور ہر چیز کے لیے میزان قرار دی

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

یہ آیتیں گزشتہ بیان شدہ آیتوں کے ذکر کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، ان آیات میں پروردگارِ عالم پانچ ایسی عظیم نعمتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اہم ترین ہیں۔ یہاں پہلی آیت میں چھٹی نعمت کی طرف، جو خلقتِ آسمان ہے، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا نے آسمان کو بلند کیا"۔ (وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا)۔ آسمان سے اس آیت میں مراد چاہے اس کی اوپر والی جہت ہو، چاہے ستارے یا زمین کی فضا (وہ عظیم فضائی کھال جو اس کُرۂ زمین کے اطراف کو گھیرے ہوئے ہے اور عالمی شعاعوں اور آسمانی پتھروں کے مقابلے میں سپر کی طرح اس کی حفاظت کرتی ہے)، نیز سورج کی گرمی اور سمندر سے اٹھنے والی رطوبت کو بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نزول کے لیے اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے، کچھ بھی ہو، وہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ اس کے بغیر انسان کے لیے زندگی گزارنا یا تو ناقص ہے یا محال ہے۔ جی ہاں! نور و روشنی، جو گرمی، ہدایتِ حیات اور حرکت کا سبب ہیں، آسمان کی طرف سے آئے ہیں، بارش آسمان کی طرف سے آئی ہے، نزولِ وحی بھی آسمان کی طرف سے ہے (اس صورت میں آسمان مادّی اور معنوی اعتبار سے ایک مفہوم رکھتا ہے)۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر، بلند شدہ آسمان اپنے تمام معانی و مفاہیم کے ساتھ خدا کی ایک عظیم نشانی ہے اور اس کی معرفت کے راستے میں انسان کی بہترین مدد کرتی ہے۔ جس وقت اربابِ دانش اس میں غور کرتے ہیں تو بےاختیار کہہ اٹھتے ہیں: "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا"۔ (پروردگار! تُو نے اس عظیم کارخانے کو بےکار پیدا نہیں کیا)۔ (آل عمران: ١٩١) اس کے بعد پروردگارِ عالم ساتویں نعمت کا حوالہ دے کر فرماتا ہے: "خدا نے میزان قرار دی"۔ (وَوَضَعَ الْمِيزَانَ)۔ میزان ہر قسم کی ناپ تول کے پیمانے کو کہتے ہیں۔ باطل سے حق کا تقابل، ظلم و ستم سے عدالت کا تقابل، قیمتوں کا تعیّن اور مختلف اجتماعی مرحلوں میں حقوقِ انسانی کا تعیّن، یہ سب چیزیں میزان ہیں۔ میزان قانونِ تکوینی اور دستورِ تشریعی کے معنی بھی رکھتا ہے، اس لیے کہ یہ سب وسیلۂ تقابل و توازن ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ لغت کے اعتبار سے میزان ترازو کو کہتے ہیں، جو اجسام کے وزن کو معلوم کرنے کا ذریعہ ہے، لیکن یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جس میزان کی طرف اس آیت میں خلقتِ آسمان کے ذکر کے بعد اشارہ ہوا ہے، وہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، جو ناپ تول کے ہر ذریعہ اور تمام تشریعی و تکوینی قوانین کا احاطہ کر لیتی ہے۔ اس سے نہ صرف اجناس کے وزن کو معیّن کرنے والا پیمانہ مراد ہے بلکہ اصولی طور پر آسمان کا بلند ہونا اور وہ دقیق نظم و ضبط، جو کروڑوں آسمانی کُروں پر حاکم ہے، وہ سب کچھ مراد ہے۔ اس لیے کہ یہ سب طے شدہ میزان و قوانین کے بغیر وجود میں آ ہی نہیں سکتا۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ بعض عبارتوں میں میزان، قرآن، عدل، شریعت یا ترازو کے معنی میں استعمال ہوا ہے، تو حقیقت میں ان میں سے ہر ایک اس مکمل اور وسیع مفہوم کا ایک صحیح مصداق ہے۔ پروردگارِ عالم بعد والی آیت میں اس موضوع سے ایک پُرکشش اور عمدہ نتیجہ نکالتے ہوئے فرماتا ہے: "أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ"۔ (تاکہ تم میزان میں زیادتی نہ کرو)۔ عالمِ ہستی میں میزان کے قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم بھی میزان کی رعایت کرو اور اس میں سرکشی نہ کرو۔ تم بھی اس عظیم عالم کا ایک حصہ ہو اور اس وسیع جہان میں تم ایک بےجوڑ ٹکڑے کی طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔ تمام عالم کا ایک میزان و حساب ہے، تمہارا بھی ایک میزان و حساب ہونا چاہیے۔ اگر اس عالمِ عظیم سے میزان و قانون کو ختم کر دیا جائے تو یہ تمام کا تمام فنا ہو جائے اور اگر تم نظم و میزان سے بےبہرہ ہو جاؤ تو تم بھی منزلِ فنا کے راہی بن جاؤ گے۔ کتنی پُرکشش اور عمدہ تعبیر ہے جو کل عالمِ ہستی سے انسان کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور عالمِ کبیر پر حکم چلانے والے قانون کو عالمِ صغیر یعنی انسانی زندگی پر جو حاکم ہیں، ان قوانین سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔ یہ ہے حقیقتِ توحید کہ تمام عالم پر حکومت کرنے والے اصول ایک ہی جیسے ہیں۔ دوبارہ مسئلۂ عدالت اور وزن پر زور دیتے ہوئے فرماتا ہے: "تم وزن کو عدالت کی بنیاد پر قائم کرو اور میزان میں کسی قسم کی کمی نہ رکھو"۔(وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ) قابلِ توجہ یہ ہے کہ ان تین آیات میں تین مرتبہ میزان کا ذکر ہوا ہے، حالانکہ دوسرے اور تیسرے مرحلہ میں ضمیر سے کام چلایا جا سکتا تھا۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ "میزان" ان تین آیتوں میں الگ الگ معنی لیے ہوئے ہے۔ محض ضمیر کے حوالے سے صحیح معنی واضح نہیں ہوسکتے تھے، نیز آیات کا تناسب بھی اسی امر کو قبول کرتا ہے، کیونکہ پہلے مرحلے میں گفتگو ایسی میزان اور ایسے معیار و قوانین سے ہے جو خدا نے سارے عالمِ ہستی میں قرار دیے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں گفتگو انسانوں کے انفرادی و اجتماعی تمام موازینِ حیات میں طغیان و سرکشی نہ کرنے کی ہے، جو فطرتاً زیادہ محدود دائرہ رکھتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں وزن کے خاص معنی پر زور دیتے ہوئے حکم نافذ کرتا ہے کہ چیزوں کی ناپ تول اور وزن کرتے وقت کسی قسم کی کمی نہ کرو اور کوئی کسر باقی نہ چھوڑو۔ ظاہر ہے کہ یہ مرحلہ محدود ہے۔ اس طرح تینوں آیات میں میزان اور ناپ تول کے مسئلے میں ایک نہایت پُرکشش اور خوبصورت سلسلۂ مراتب استعمال ہوا ہے، جو بڑے دائرے سے چھوٹے دائرے کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "فخر رازی" اپنی تفسیر میں کہتا ہے کہ "میزان" پہلی آیت میں اسمِ آلہ ہے (ناپ تول کے پیمانوں کے معنی میں)، دوسری آیت میں مصدری معنی رکھتا ہے (وزن کرنا) اور تیسری آیت میں مفعولی معنی رکھتا ہے اور(جنس موزوں کے معنی میں ہے)]۔ اِنسانی زندگی میں میزان کی اہمیت اپنے تمام معانی کے اعتبار سے اس طرح ہے کہ محدود ترین مصداق، یعنی ترازو، چیزوں کے تبادلے کے سلسلہ میں اگر ایک دن کے لیے درمیان سے ہٹا دیا جائے تو ہم جھگڑوں اور قضیوں کے کتنے دردِ سر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس اعتبار سے اس لفظ "میزان" کے جو لامحدود مفاہیم ہیں، اگر وہ اپنی جگہ باقی نہ رہیں تو ہمیں لامحدود پریشانیاں لاحق ہو جائیں۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو بعض روایات میں میزان سے مراد "وجودِ امام" لیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام کا وجودِ مبارک حق و باطل کے تقابل و تعیّن اور تشخیصِ حقائق کا معیار ہے اور ہدایت کے لیے ایک مؤثر عامل ہے۔ [بحوالہ: یہ حدیث تفسیر "علی بن ابراہیم" میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے مروی ہے۔ یہ حدیث مفصل ہے، ہم نے اس کے صرف ایک حصے کا مضمون نقل کیا ہے۔ (تفسیر علی بن ابراہیم، جلد ٢، صفحہ ٣٤٣)]۔ اسی طرح میزان سے مراد اگر قرآن لیا جائے تو وہ بھی انہی معانی کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، اس طرف توجہ دیتے ہوئے کہ یہ تمام آیتیں اللہ کی نعمتوں کے ذکر سے متعلق ہیں، یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ میزان کا وجود، خواہ سارے نظامِ عالم میں ہو، خواہ انسانی معاشرہ کے اجتماعی روابط میں اور خواہ معاملاتِ تجارت میں ہو، یہ سب خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم آسمان سے ہٹ کر زمین کو موضوع بناتا ہے اور فرماتا ہے: "خدا نے زمین کو انسانی زندگی کے لیے پیدا کیا ہے"۔ (وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ)۔ "اَنام" کے بعض مفسرین نے انسانوں کے معنی میں، بعض نے جن و اِنس کے معنی میں اور بعض نے ہر ذی روح کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ البتہ اربابِ لغت اور مفسرین کی ایک جماعت اسے "خلقِ مطلق" کے معنی میں لیتی ہے، لیکن سورہ میں موجود قرائن اور جن و انس سے مخاطبت، دونوں یہ بتاتے ہیں کہ اس سے یہاں مراد "جن و انس" ہی ہیں۔ جی ہاں! یہ کرۂ خاکی، جسے اس آیت میں ایک عظیم نعمتِ الہٰی قرار دیا گیا ہے اور دوسری آیتوں میں اسے "مِھاد" یعنی گہوارے کے طور پر یاد کیا گیا ہے، ایک اطمینان بخش اور آرام دہ مقام ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ عام حالات میں اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کر سکتے، لیکن جب ایک چھوٹا سا زلزلہ زمین کی ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، یا ایک آتش فشاں کسی شہر کو عذاب کے موارد، دھویں اور آگ کے نیچے دفن کر دیتا ہے، تو پھر ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ ساکن و آرام دہ زمین اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ خصوصاً جب ہم اس چیز پر غور کریں کہ جو ماہرین نے زمین کی اپنے گرد چکر لگانے والی حرکت کی تیزی کے طور پر تجویز کی ہے اور سورج کے گرد اس کی حرکت بتاتی ہے، تو نہ صرف اس سریع اور لرزہ بر اندام کرنے والی حرکت بلکہ انواع و اقسام کی حرکتوں کے باوجود اس کے سکون و آرام کی اہمیت ہم پر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ [بحوالہ: ماہرین نے زمین کی سرعتِ حرکت سورج کے گرد حرکت (حرکتِ انتقالی) کی رفتار ایک منٹ میں ۳۵ کلومیٹر بیان کی ہے اور اس کی اپنے محور کے گرد تیزیٔ رفتار خطِ استوا پر ایک گھنٹے میں ۱۶۰۰ کلومیٹر بتائی ہے]۔ زمین کے بارے میں "وَضَعَ" کا لفظ آیا ہے اور آسمان کے بارے میں "رَفَعَ" استعمال ہوا ہے۔ اس تقابل میں جو لطافت ہے، اس کے علاوہ اس میں ایک معنی خیز اشارہ بھی ہے اور وہ زمین اور اس کے ان ذرائع کی طرف ہے جو انسان کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں، جیسا کہ سورہ ملک کی آیت ۱۵ میں فرمایا گیا: "هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ"۔ (وہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے، اس کے مختلف راستوں پر چلو پھرو اور جو رزقِ الہی کے طور پر اس میں پیدا ہوا ہے اس سے فائدہ اٹھاو)۔ اس طرح پروردگار اس سلسلہ کی آٹھویں نعمت کو معیّن فرماتا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں نویں اور دسویں ان نعمتوں کی طرف جو انسان کے موادِ غذائی کے ایک حصہ کو تشکیل دیتی ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:"زمین میں پھل اور شگوفوں سے پر نخلستان ہیں۔" (فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ)۔ "فَاكِهَةٌ" ہر قسم کے پھل کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے، اور یہ جو بعض نے اسے "خرما اور رطب" کے علاوہ تمام پھلوں کے معنی میں لیا ہے، اس کی سوائے اس کے کوئی دلیل نہیں ہے کہ "نَخْل" علیحدہ شکل میں آیت میں موجود ہے جب ممکن ہے کہ یہ تکرار ہو اور اس اہمیت کی بنا پر ہو جو کھجور کو حاصل ہے۔ سورہ نحل کی آیت ۱۱ اور سورہ مریم کی آیت ۲۵ کے ذیل میں ہم نے ایک تفصیلی بحث کھجور کے موادِ غذائی کے حیات بخش فوائد کے بارے میں کی ہے۔ [بحوالہ: تفسیرِ نمونہ جلد ٧، صفحہ ۲۵۴ سے آگے اور جلد ۶، صفحہ ۲۵۲ سے آگے رجوع فرمائیں]۔ "أَكْمَامِ" جمع "کِمٌّ" (بروزنِ جِنّ) کی ہے اور یہ اس غلاف کو کہتے ہیں جو پھل کو چھپاتا ہے۔ "کُمّ" (بروزنِ قُمّ) اس آستین کے معنی میں ہے جو ہاتھ کو چھپاتی ہے اور "کُمَّة" (بروزنِ قُبَّہ) شب کلاہ ہے 'رات کو پہننے والی ٹوپی' سر کو ڈھانپتی ہے۔ [بحوالہ: اس سلسلہ میں جلد ٢٠ میں ہم نے تفصیل بیان کی گئی ہے (سورہ حم سجدہ کی آیت ۴۷ کے ذیل میں)]۔ کھجور کے درخت کے بارے میں اس صفت کا انتخاب کہ شروع میں وہ غلاف میں پنہاں ہوتا ہے اور بعد میں غلاف کو چیر کر خوشہ نخل کو ایک پرکشش انداز میں باہر نکالتا ہے، ممکن ہے کہ اس کی حیران کر دینے والی خوبصورتی کی بنا پر ہو، یا ان منفعتوں کے باعث ہو جو اس غلاف میں پوشیدہ ہیں اور جو اس مخصوص مادّے کے نچوڑ کا حامل ہے۔ یہ غذا کے طور پر بھی کام آتا ہے اور دوا کے طور پر بھی۔ ان سب سے قطع نظر، یہ غلاف شکمِ مادر کی طرح ہے، جو کھجور کے "بچوں" کو ایک مدت تک اپنے اندر پرورش کرتا ہے اور آفات سے ان کی حفاظت کرتا ہے اور جب وہ ہوا اور روشنی کے مقابلے کے قابل ہو جاتے ہیں تو پھر غلاف ایک طرف ہٹ جاتا ہے۔ ان سب کے علاوہ، اس درخت کی ایک خاص وضع اور کیفیت ہے کہ پہلے یہ غلاف میں ہوتا ہے، پھر خوشہ کی شکل میں باہر آتا ہے۔ یہ کیفیت اس پھل کے توڑنے اور چننے کو آسان کر دیتی ہے اور اگر ایسا ہوتا کہ کھجور کے درخت کے طویل القامت ہونے کے باوجود اس کے پھل سیب کے درخت کے پھلوں کی طرح مختلف اطراف میں بکھرے ہوتے، تو ان کا توڑنا اور چننا بہت مشکل ہو جاتا۔ آخر میں اپنی گیارہویں اور بارہویں نعمت کے بارے میں یوں گفتگو فرماتا ہے: "اور زمین میں دانے ہیں، ڈنٹھل اور پتوں کے ہمراہ جو تنکہ کی شکل میں نکلتے ہیں اور اسی طرح خوشبودار گیاہ و نبات۔" (وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ)۔ غذائی دانے انسانوں کی خوراک ہیں اور ان کے خشک و تر پتّے ان حیوانوں کی خوراک ہیں جو انسان کی خدمت پر مامور ہیں، جن کے دودھ، گوشت، کھال اور اُون سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے۔ تو اس طرح کوئی چیز بھی بیکار اور پھینک دینے کے قابل نہیں ہے۔ دوسری طرف خوشبو، گیاہ اور پھولوں کو بھی زمین سے پیدا کیا ہے جو شامِ جاں کو معطّر کرتے ہیں اور رُوح کو سکون، نشاط، آرام اور سرخوشی عطا کرتے ہیں اور اس طرح اس نے انسان پر اپنی نعمتیں تمام کی ہیں۔ "حب" ہر قسم کے دانے کو کہتے ہیں اور "عصف" (بروزنِ اسپ) پتّوں اور گھاس کے ان اجزاء کے معنی میں ہے جو گھاس سے الگ ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ہواؤں کی وجہ سے ہر طرف بکھر جاتے ہیں۔ "حب" کٹی ہوئی گھاس کو بھی کہتے ہیں۔ "ریحان" کے بہت سے معنی ہیں، اس کے ایک معنی خوشبودار گھاس اور نباتات کے بھی ہیں، ہر قسم کی روزی کو بھی "ریحان" کہتے ہیں، لیکن اس جگہ پہلے معنی ہی مناسب ہیں۔ اِن مادی اور معنوی مختلف قسم کی نعمتوں کے ذکر کے بعد آخری آیت میں جن و انس کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟"(فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ) وہ نعمتیں جن میں سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ گراں بہا اور قیمتی ہے اور وہ نعمتیں جنہوں نے تمہاری ساری زندگی کا احاطہ کر رکھا ہے، ان میں سے ہر ایک تمہارے پروردگار کی قدرت، لطف و کرم اور مہربانی کی نشانی ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ تم اس کی تکذیب کرو؟ یہ استفہام، استفہامِ تقریری ہے جسے اقرار لینے کے وقت زبان پر لایا جاتا ہے۔ ایک روایت، جسے سورہ کی ابتداء میں ہم نے پیش کیا ہے، اس میں حکم دیا گیا ہے کہ اِس جملہ کے بعد ہم عرض کریں: "پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی کی تکذیب نہیں کرتے"۔ (لَا بِشَيْءٍ مِنْ آلَائِكَ رَبِّ أُكَذِّبُ)۔ گزشتہ آیات میں اگرچہ گفتگو انسانوں کے بارے میں ہوئی تھی اور گروہِ جن کے بارے میں بالکل نہیں تھی، لیکن بعد والی آیت بتاتی ہے کہ "کما" کی ضمیر میں یہ دونوں مخاطب ہیں۔ بہرحال، خدا اس جملے کے ساتھ جن و انس دونوں گروہوں مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اِن مسائل کے بارے میں غور کریں اور اس کے بعد بغیر اس کے کہ کسی دوسرے کی تعلیم کی ضرورت ہو اپنی عقل سے یہ سوال کریں کہ کیا خدا کی ان نعمتوں میں سے کوئی نعمت قابلِ انکار ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو پھر اپنے ولیِ نعمت کو کیوں نہ پہچانیں؟ اور شکرِ منعمِ حقیقی کو کیوں نہ اس کی معرفت کا وسیلہ قرار دیں؟ اور اس کے آستانِ اقدس پر سرِ تسلیم کیوں نہ خم کریں؟ "أَيُّ" کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ان نعمتوں میں سے ہر ایک پروردگار کے مقامِ ربوبیت اور اس کے لطف و کرم کی دلیل ہے۔ چہ جائیکہ ان کا مجموعہ۔

چند نکات: ١۔ نعمتوں کی شناخت خُدا کی معرفت کا زینہ ہے

مذکورہ بالا نعمتوں (قرآن، خلقتِ انسان، تعلیمِ بیان، زمانہ کا منظم حساب، مختلف درختوں اور گھاس کی پیدائش، آسمان کی تخلیق، قوانین کی حاکمیت، زمین کی خلقت اس کی خصوصیات کے ساتھ، پھلوں کی تخلیق، کھجور کی خلقت، حیوانات کی تخلیق، خوشبودار گھاس اور پھولوں کی تخلیق) کے بارے میں تھوڑا سا غور و خوض، ان جزئیات، خصوصیات اور اسرار کے ساتھ جو ان میں سے ہر ایک میں چھپے ہوئے ہیں، اس بات کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان میں احساسِ شکرگزاری پیدا کرے اور انہی نعمتوں کے سرچشمے کی معرفت کرائے۔ اِس بنا پر خداوندِ متعال اپنے بندوں سے ان نعمتوں کے بیان کے بعد، ایک ایک لطف و کرم کا اقرار لیتا ہے اور اس جملے کو آنے والی آیتوں میں بھی دوسری نعمتوں کے ذکر کے بعد تکرار کرتا ہے۔ اس جملے کو اس نے ٣١ بار دہرایا ہے۔ یہ تکرار فصاحت کو مجروح نہیں کرتی بلکہ خود فصاحت کا ایک انداز ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی باپ اپنے فرائض سے غافل بیٹے کو مخاطب کرے اور کہے: "کیا تُو بھول گیا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا کمزور بچہ تھا؟ تیری پرورش کے لیے میں نے کیسے کیسے خونِ جگر پئے! کیا تُو بھول گیا ہے کہ جب تُو بیمار تھا تو میں نے تیرے علاج کے لیے بہترین ڈاکٹر اور حکیم مہیا کیے اور میں نے کون سی زحمتیں نہیں اٹھائیں؟ کیا تُو بھول گیا ہے کہ جب تُو نے منزلِ شباب میں قدم رکھا اور تجھے بیوی کی ضرورت ہوئی تو تیرے لیے میں نے پاک و پاکیزہ بیوی منتخب کی؟ کیا تُو بھول گیا ہے کہ جب تُو مکان، زندگی اور وسائلِ زندگی کا محتاج تھا تو میں نے یہ تمام چیزیں تیرے لیے فراہم کیں؟ تو پھر یہ سرکشی و نافرمانی، بےمروتی و بےوفائی کس لیے ہے"؟ خداوندِ منان بھی اپنی انواع و اقسام کی نعمتیں اپنے ان غفلت شعار بندوں کو یاد دلاتا ہے اور ان نعمتوں کے ہر حصے کے ذکر کے بعد ان سے سوال کرتا ہے کہ ان میں سے کن کن نعمتوں کا تم انکار کرتے ہو؟ پس یہ نافرمانی اور سرکشی کس بنا پر ہے، جب کہ میری اطاعت بھی خود تمہارے تدریجی ارتقاء اور ترقی کی ضمانت ہے اور تمہارے پروردگار کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے؟

٢۔ زندگی میں نظم و حِساب کا مسئلہ

ہمارے جسم میں بیس سے زیادہ دھاتیں اور دھاتوں سے مشابہت رکھنے والی چیزیں استعمال ہوئی ہیں، اور جس وقت ان کی معیّن و مقررہ مقدار و کیفیّت میں تھوڑی سی بھی تبدیلی واقع ہو، تو ہماری سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مثلاً، گرمی کے موسم میں جب انسان کو زیادہ پسینہ آتا ہے تو وہ گرمی کی شدت کا شکار ہو جاتا ہے، اور بغیر اس کے کہ کوئی اور بیماری اسے لاحق ہو، یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اس کی موت واقع ہو جائے۔ حالانکہ اس بیماری کا سبب اور اس کی علت ایک بہت ہی آسان اور سادہ مسئلہ ہے، یعنی پانی اور خون کے نمک کی کمی۔ اور اس کا علاج زیادہ پانی پینے اور نمک کھانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسے ہمارے بدن کی عمارت میں نظم و حساب کا ایک سادہ سا نمونہ سمجھیں۔ بعض اوقات مخلوقات کے ڈھانچے کے بارے میں جو نتائج اخذ کیے جاتے ہیں، وہ بہت ہی عجیب و پُرلطف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سیل یا ایٹم جو اس قدر مختصر ہیں کہ ان کا ہزارواں حصہ اور کبھی ایک ملین ملی میٹر یا ملی گرام ہی ان کا سب کچھ ہوتا ہے، اتنے باریک ہیں کہ ماہرین مجبور ہیں کہ ان کے دقیق اور باریک حسابات کے سلسلہ میں الیکٹرانکی دماغوں (کمپیوٹرز) سے استفادہ کریں۔ یہ تو نظامِ تکوین ہے، لیکن اجتماعی حالات میں بھی قانونِ عدالت سے انحراف بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پوری قوم کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔ قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے ان مفاہیم کے حوالے سے، جو مندرجہ بالا آیات میں ہم تک پہنچے ہیں، اس حقیقت کو بےنقاب کیا ہے اور "وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ، أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ" کے جملوں میں کہنے کی تمام باتیں کہہ ڈالی ہیں۔ اور شرعی قوانین کی نافرمانی اور ان سے انحراف و روگردانی کو احکامِ تکوینی سے سرکشی کے برابر قرار دیا ہے، جو آسمانوں پر حاکم ہیں۔ قرآن ان آیتوں میں جہانِ ہستی اور عالمِ انسانیت کی ایک قابلِ توجہ اور عمدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ وہاں یہ بھی بتاتا ہے کہ یہی جہاں نہیں، دوسرا جہاں بھی یومُ الحساب ہے اور موازین کے نصب ہونے کا دن ہے، بلکہ وہاں کا حساب اور اس کی میزان تو یہاں کے حساب اور میزان سے کہیں زیادہ باریک ہے۔ اسی بنا پر اسلامی روایات میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ: "اس سے قبل کہ ہم سے حساب لیا جائے، ہم خود اپنا حساب کریں اور اس سے پہلے کہ ہمارا وزن کیا جائے، ہم اپنا وزن کر لیں"۔ (حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا وَوَزِنُوا قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا)۔

14
55:14
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ
انسانوں کو ٹھیکری جیسے خشک شدہ گارے سے پیدا کیا

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
55:15
وَخَلَقَ ٱلۡجَآنَّ مِن مَّارِجٖ مِّن نَّارٖ
اور جنوں کو آگ کے ملے جلے متحرک شعلے سے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
55:16
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
55:17
رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقَيۡنِ وَرَبُّ ٱلۡمَغۡرِبَيۡنِ
وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا پروردگار ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
55:18
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن وانس! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر: اِنسان کی خلقت ٹھیکری جیسی خاک سے ہوئی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

خدا نے گزشتہ نعمتوں کے ذکر کے بعد، جن میں انسان کی خلقت بھی تھی اور جسے بستہ شکل میں پیش کیا گیا تھا، زیرِ بحث آیات میں پہلے انسان اور جن کی خلقت کے بارے میں تشریح کی ہے، تشریح بھی ایسی جو اس کی قدرتِ کاملہ کی نشان دہی بھی ہے اور سب کے لیے درسِ عبرت بھی۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "انسان کو ٹھیکری جیسے خشک شدہ گارے سے پیدا کیا"۔ (خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ)۔ "صلصال" اصل میں "خشک جسم میں آواز کے آنے جانے" کے معنی میں ہے۔ اگر اس خشک ہو جانے والی مٹی کی طرف اشارہ کریں اور وہ آواز دے تو اسے "صلصال" کہا جاتا ہے۔ برتن میں بچے ہوئے پانی کو بھی "صلصلہ" کہتے ہیں کیونکہ وہ اِدھر اُدھر حرکت دینے سے صدا دیتا ہے۔ بعض مفسرین کا یہ قول ہے کہ "صلصال" کے معنی "بدبودار کیچڑ (لجن)" کے ہیں، لیکن پہلے معنی زیادہ مشہور ہیں۔ "فخّار" کا مادّہ "فخر" ہے، اس کے معنی اس شخص کے ہیں جو بہت زیادہ فخر کرتا ہو اور چونکہ اس قسم کے افراد اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں اور باتیں زیادہ بناتے ہیں، اس لیے یہ لفظ کوزہ اور ہر اس قسم کی ٹھیکری کے لیے بولا جاتا ہے جس میں سے زیادہ آواز نکلتی ہے، بولا جاتا ہے۔ [بحوالہ: مفرداتِ راغب]۔ قرآن میں درج مختلف آیات اور ان مفاہیم سے، جو انسان کی ابتدائے آفرینش کے موضوع سے تعلق رکھتے ہیں، یہ اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ: • انسان شروع میں خاک تھا۔ (سورہ حج: ۵) • پھر اس کی پانی کے ساتھ آمیزش ہوئی اور یہ کیچڑ کی شکل اختیار کر گیا۔ (سورہ انعام: ۲) • اور پھر "لجن" بدبودار کیچڑ ہو گیا۔ (سورہ حجر: ۲۸) • اس کے بعد چپک جانے کی صورت اختیار کی۔ (سورہ صافات: ۱۱) • پھر منجمد شئے کی شکل اختیار کی اور "صلصالٍ کالفخّار" بن گیا "آیہ زیر بحث"۔ ان مراحل نے بعد زمانے کے تقاضوں کے مطابق کس قدر طول کھینچا؟ انسان نے ہر مرحلہ میں کس قدر توقف کیا؟ اور یہ منتقل ہونے والے حالات کن اسباب و عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئے؟ یہ ایسے مطالب ہیں جو ہمارے علم و دانش سے پوشیدہ ہیں۔ اس کو صرف خدا ہی جانتا ہے اور بس۔ جو کچھ مسلم ہے وہ یہ ہے کہ یہ مذکورہ مفاہیم ایک ایسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں جو انسان کے تربیتی مسائل کے ساتھ نہایت اہم تعلق رکھتی ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کا اوّلین مادّہ بہت ہی بےقیمت و کم مقدار تھا اور یہ زمین کی حقیر ترین شے سے بنا تھا، لیکن خدا نے اس قسم کے بےقیمت مادّہ سے ایسی بیش بہا مخلوق پیدا کی جو گلستانِ آفرینش کا گلِ سرسبد بن گیا۔ ان تعبیرات و مفاہیم سے ضمنی طور پر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کی حقیقی قدر و قیمت وہی روحِ الٰہی اور نغمۂ ربانی ہے، جو قرآن کی دوسری آیات میں، مثلاً سورہ حجر کی آیت ۲۵ میں آیا ہے، تشکیل دیتا ہے تاکہ انسان اس حقیقت کو پہچاننے کے بعد اپنی راہِ ارتقاء کو اچھی طرح پالے اور یہ سمجھ لے کہ کس راستے پر چل کر اسے سفرِ حیات طے کرنا ہے، تاکہ وہ بزمِ ہستی میں اپنی حقیقی قدر و قیمت کو حاصل کرنے کے قابل ہو جائے۔ اس کے بعد پروردگارِ عالم جنّات کی خلقت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور جنّوں کو آگ کے مخلوط اور متحرک شعلوں سے پیدا کیا"۔ (وَ خَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ)۔ "مارج" اصل میں "مرج" (بروزن مرض) سے بنا ہے، جس کے معنی اختلاط و آمیزش کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد آگ کے مختلف شعلوں کا اختلاط و امتزاج ہے۔ آگ جس وقت شعلہ فشاں ہوتی ہے تو کبھی سرخ ہوتی ہے کبھی زرد اور کبھی نیلا، کبھی سفید بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس "مرج" میں تحرک کے معنی بھی ہیں "امرجت الہ ابۃ" "میں نے جانور کو چراہ گاہ میں چھوڑ دیا" کیونکہ "مرج" کے ایک معنی چراگاہ کے بھی ہیں۔ پھر ہمارے لیے یہ بات واضح نہیں کہ جن کی خلقت اس رنگ برنگی آگ سے کس طرح ہوئی، جب کہ اس کی دوسری خصوصیات صبحِ صادق یعنی قرآن مجید اور وحی الٰہی کے ذریعے ہم پر ثابت ہو چکی ہیں۔ مجہولات کے مقابلے میں ہمارے معلومات کا محدود ہونا ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم ان حقائق کا، اس کے بعد کہ وہ وحی الہی سے ثابت ہو چکے ہوں، انکار کریں یا انہیں نظرانداز کریں، خواہ ہمارا علم ان تک رسائی حاصل کرے یا نہ کرے۔ (ان شاء اللہ جنّ کی خلقت اور اس کی خصوصیات کے بارے میں مزید تفصیل سورہ جنّ کی تفسیر میں درج کی جائے گی)۔ بہرحال، زیادہ تر مخلوقات جن سے ہمارا سروکار ہے، وہ پانی، مٹی، ہوا اور آگ ہیں۔ ہم انہیں چاہے قد ماء کی طرح عنصر اور بسیط سمجھیں یا موجودہ ماہرین کے نقطۂ نظر کے اعتبار سے مختلف الاجسام اجزا سے مرکب خیال کریں، لیکن ہر صورت میں: • انسان کی خلقت کا مبدأ مٹی اور پانی ہے۔ • جنّ کی خلقت کا مبدأ ہوا اور آگ ہے۔ مبدأ آفرینش کی یہ دو رنگی ان دونوں مخلوقوں کے درمیان بہت سے اختلافات کا سرچشمہ ہے۔ پھر ان نعمتوں کے بعد، جو خلقتِ انسان کی ابتدا میں شامل تھیں اس جملہ کی تکرار ہے کہ: "پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرتے ہو"۔ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد ایک اور نعمت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا پروردگار ہے"۔ (رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ)۔ یہ درست ہے کہ سورج سال کے ہر روز ایک نقطہ سے طلوع ہو کر دوسرے نقطہ پر غروب ہوتا ہے اور اس ترتیب کے اعتبار سے ایک مشرق اور ایک مغرب ہی بنتی ہے۔ لیکن سورج کے حوالے سے زمین کے شمالی جھکاؤ اور جنوبی جھکاؤ کی حدِ اکثر کی طرف توجہ دینے سے پتہ چلتا ہے کہ فی الحقیقت دو مشرق ہیں اور دو مغرب اور باقی ان دونوں کے درمیان کا حصہ ہے۔ [تشریحی نوٹ: اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ چونکہ زمین کا محور اس کی سطحِ مدار کی بہ نسبت جُھکا ہوا ہے اور تقریباً ٢٣ درجہ کا زاویہ بناتا ہے اور زمین اس حالت میں سورج کے گرد گردش کرتی ہے، لہٰذا سورج کا طلوع و غروب ہمیشہ متغیّر نظر آتا ہے۔ ٢٣ درجے ثمِ اعظم شمالی سے (گرمیوں کے شروع میں) ٢٣ درجے ثمِ اعظم جنوبی (سردیوں کے شروع میں) تک متغیّر رہتا ہے، جس کے پہلے مدار کو مدارِ راس السرطان اور دوسرے مدار کو مدارِ راس الجدی کہتے ہیں۔ یہ ہیں سورج کے دو مشرق اور دو مغرب، باقی جتنے مدار ہیں وہ ان دونوں مداروں کے درمیان ہیں]۔ یہ نظام، جو حقیقت میں چار قسم کے بہت بابرکت موسموں کی خلقت کا سرچشمہ ہے، حقیقت میں ان آیتوں کی تکمیل و تائید ہے کہ جو پہلے آ چکی ہیں۔ اس مقام پر کہ جہاں چاند اور سورج کی گردش کے متعلق گفتگو ہے اسی طرح آسمانوں کی خلقت میں میزان کے وجود کی آیات ہیں۔ مجموعی اعتبار سے وہ آیتیں زمین، چاند اور سورج کی خلقت اور حرکت کے دقیق نظاموں کے بیان پر مشتمل ہیں ان میں ان نعمتوں اور برکتوں کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو ان وسائل سے انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کی تفسیر سورج کے طلوع و غروب اور چاند کے طلوع اور غروب کے اعتبار سے کی ہے اور اسے گزشتہ آیت الشمس والقمر بحسبان کے مطابق سمجھے ہیں، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ بعض اسلامی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ منجملہ دیگر حدیثوں کے، امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہماری نظر کے سامنے آتی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "ان مشرق الشتاء علی حدہ و مشرق الصیف علی حدہ ام تعرف ذالک من قرب الشمس و بعدھا"۔ "سردیوں کے آغاز کا مشرق الگ ہے اور گرمیوں کے آغاز کا مشرق الگ ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ سورج ان دونوں موسموں میں قریب و دور ہوتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں آسمان پر سورج کے اوپر آنے اور سردیوں کے موسم میں اس کے نیچے چلے جانے کی طرف اشارہ ہے"۔ [بحوالہ: تفسیر "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ١٩٠]۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے یہ نکتہ اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ بعض آیاتِ قرآنی میں یہ کیوں آیا ہے: "فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ"۔ (معارج: ۴۰) "مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم۔" کیونکہ اس میں پورے سال کے تمام مشرقوں اور مغربوں کی طرف اشارہ ہے، جبکہ زیرِ بحث آیت میں صرف اس کی انتہائی قوسِ صعودی و نزولی کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال، اس نعمت کے ذکر کے بعد پھر اس نے جن و انس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔" (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔

19
55:19
مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيَانِ
دومختلف سمندروں کو ایک دوسرے کے قریب قراردیا درآنحالیکہ وہ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
55:20
بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٞ لَّا يَبۡغِيَانِ
لیکن دونوں کے درمیان ایک برزخ ہے کہ وہ ایکدوسرے پر غلبہ نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
55:21
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
55:22
يَخۡرُجُ مِنۡهُمَا ٱللُّؤۡلُؤُ وَٱلۡمَرۡجَانُ
ان دونوں میں سے لولو اور مرجان نکلتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
55:23
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
55:24
وَلَهُ ٱلۡجَوَارِ ٱلۡمُنشَـَٔاتُ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ
اور اس کے لئے بنی ہوئی کشتیاں ہیں کہ جو پہاڑ کی طرح سمندر میں چلتی ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
55:25
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر: سمندر اپنے گراں بہا ذخائر کے ساتھ

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

پروردگارِ عالم اپنی نعمتوں کے تذکرے کی تشریح کو جاری رکھتے ہوئے سمندروں کی بات کرتا ہے، لیکن سب سمندروں کی نہیں بلکہ چند سمندروں کی ایک کیفیتِ خاص کی بات کہ جو ایک عجیب سی چیز ہے، خدا کی لامحدود قدرت کی نشانی بھی ہے اور بعض مفید انسانیت چیزوں کے ظاہر ہونے کا وسیلہ بھی فرماتا ہے: "دو مختلف سمندروں کو ایک دوسرے کے پاس قرار دیا کہ جو ایک دوسرے سے مل رہے ہیں" (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ)۔ "لیکن ان دونوں کے درمیان ایک دیوار ہے کہ جو ایک دوسرے پر غلبہ کی راہ میں رکاوٹ ہے" (بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ)۔ "مرج" (بروزن فلج) کا مادّہ خلط ملط کرنے یا بھیجنے اور چھوڑنے کے معنی میں ہے اور یہاں "بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ" کے جملے کے قرینے سے بھیجنے اور ایک دوسرے کے ساتھ قرار دینے کے معنی میں ہے۔ ان دو سمندروں سے مراد، سورۂ فرقان کی آیت ۵۳ کی گواہی کے مطابق، میٹھے اور کھاری پانی والے دو سمندر ہیں، جہاں پروردگار فرماتا ہے: "وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا"۔ "وہ وہی ہے کہ جس نے دو سمندر ایک دوسرے کے پاس قرار دیے، جن میں سے ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھاری۔ اس نے ان دونوں کے درمیان ایک برزخ (حد فاصل) قرار دیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے مل نہ جائیں"۔ باقی رہا یہ کہ یہ دو سمندر میٹھے اور کھاری کہاں ہیں جو ایک دوسرے پر غلبہ نہیں کرتے؟ اور یہ برزخ جو ان دونوں کے درمیان قرار پایا ہے، وہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلافات ہیں۔ بعض افراد ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس زمانہ میں سمندروں کی کیفیت سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ منجملہ اس کے ان مفسرین نے کہا ہے کہ ان دو سمندروں سے مراد بحر فارس اور بحر روم ہیں۔ حالانکہ اب اس زمانے میں ہم خوب جانتے ہیں کہ ان دونوں سمندروں کا پانی کھاری ہے اور پھر ان کے درمیان زمین کوئی برزخ بھی نہیں ہے۔ یا پھر انہوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر ہے جس میں سے پہلا شیریں اور دوسرا تلخ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آسمان میں کوئی سمندر نہیں ہے، سوائے ان بادلوں اور بخارات کے جو زمین کے سمندروں سے اٹھتے ہیں۔ یا پھر انہوں نے کہا ہے کہ "شیریں سمندر" سے مراد وہ پانی ہے جو زیرزمین ہے اور وہ سمندر کے پانی سے مل جاتا ہے اور ان دونوں کے درمیان جو خزانوں کی دیواریں ہیں، وہ ان کا برزخ ہے۔ حالانکہ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ زیرِزمین سمندر کی شکل میں کوئی چیز بہت کم پائی جاتی ہے۔ البتہ پانی کے قطرات، مرطوب مٹی اور ریت کے ذرّوں کے درمیان ضرور پوشیدہ ہوتے ہیں، جس وقت کسی جگہ کنواں کھودا جاتا ہے تو یہ رطوبتیں رفتہ رفتہ جمع ہو جاتی ہیں اور اس طرح پانی نکل آتا ہے۔ علاوہ ازیں، لؤلؤ و مرجان، جن کی طرف بعد کی آیات میں اشارہ کیا گیا ہے، زیرزمین پانی سے حاصل نہیں ہوتے، لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو دریاؤں سے کیا مراد ہے؟ پہلے ہم سورۂ فرقان میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ آبِ شیریں کے بڑے دریا اور نہریں جب سمندروں میں گرتے ہیں تو عام طور پر ساحل کے قریب آبِ شیریں کا سمندر تشکیل پاتا ہے اور وہ آبِ تلخ کو پرے دھکیل دیتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ دو—یعنی میٹھے اور کھاری سمندر—پتلے اور گاڑھے ہونے کی بنا پر ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ایسے علاقوں میں، جہاں یہ دریا سمندر میں گرتے ہیں، ان میٹھے اور کھاری سمندروں کا منظر، جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں اور اس کے باوجود ایک دوسرے سے جدا ہیں، بلندی سے صاف طور پر نظر آتا ہے۔ جس وقت ان پانیوں کے کنارے ایک دوسرے سے مخلوط ہوتے ہیں تو تازہ میٹھا پانی ان کی جگہ لے لیتا ہے اور اس طرح ان دو الگ رہنے والے سمندروں کو ہمیشہ دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ سمندر میں مدّ و جزر کے موقع پر، جب سمندر کا نیچے کا پانی اوپر آ جاتا ہے، تو میٹھا پانی دھکیل دیا جاتا ہے بغیر اس کے کہ کھاری پانی اس میں مخلوط ہو—مگر خشک سالی اور پانی کی کمی کے موقع پر اور وہ خشکی کے کافی حصہ کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس لیے ساحل کے قریب رہنے والے لوگ ان علاقوں میں میٹھے پانی کو کنٹرول میں رکھ کر ساحلی علاقوں میں بہت سی نہریں بنا لیتے ہیں جن کے ذریعے زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔ یہ نہریں کہ جو ساحلی مدّ و جزر کی برکت اور ان نہروں کے پانی پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے چوبیس گھنٹے میں دو مرتبہ میٹھے پانی سے خالی ہو کر لبریز ہوتی ہیں اور ان علاقوں کی سیرابی کا بہت ہی موثر ذریعہ ہیں۔ ان دو سمندروں کے بارے میں بعض علما نے ایک اور دلچسپ تفسیر بیان کی ہے۔ ان کے نزدیک اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے مراد "گلف اسٹریم" (Gulf Stream) کا بہاؤ ہو۔ ہم اس کی تفصیل ان شاء اللہ انہی آیات کے ذیل میں بیان ہونے والے نکات کی بحث میں پیش کریں گے۔ پروردگارِ عالم ایک مرتبہ پھر اپنے بندوں کو مخاطب کر کے ان نعمتوں کے حوالے سے ان سے سوال کرتا ہے اور فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاو گے"۔ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ) پھر اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "ان دونوں سمندروں سے لؤلؤ اور مرجان نکلتے ہیں"۔ (يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ)۔ "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاو گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ) لؤلؤ و مرجان پُرکشش زینت کے دو وسیلے ہیں۔ از روئے طب، ان دونوں سے بیماریوں کے علاج کے سلسلہ میں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ضمنی طور پر یہ بھی ایک بات ہے کہ یہ اچھے اسبابِ زندگی اور مالِ تجارت ہیں جن سے بہت سا نفع حاصل ہوتا ہے۔ انہی اسباب کی بنا پر گزشتہ آیتوں میں دو نعمتوں کی حیثیت سے ان کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ رہا لؤلؤ، جسے فارسی میں "مروارید" کہتے ہیں، وہ صاف و شفاف قیمتی موتی ہوتا ہے جو دریا کی تہہ اور سمندروں کی گہرائی میں بطنِ صدف میں پرورش پاتا ہے۔ وہ جتنا موٹا ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ طب میں اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ قدیم اطباء اسے اعصاب کی تقویت، خفقات، خوف و وحشت، جگر کی قوت، منہ کی بدبو، گردے و مثانے کی پتھری اور یرقان کے لیے دوائیں تیار کرنے میں استعمال کرتے تھے، حتیٰ کہ آنکھ کی بیماریوں میں بھی اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ [بحوالہ: "تحفہ حکیم مومن" اور دائرة المعارف وہ خدا و دیگر منابع]۔ "مرجان" کی تفسیر بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے لؤلؤ ہوتے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ مرجان درخت کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیوں کی مانند ایک زندہ وجود ہوتا ہے جو سمندروں کی گہرائی میں درخت کی طرح اگتا ہے۔ ماہرین ایک عرصے تک اسے ایک قسم کی گھاس سمجھتے رہے، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ وہ ایک قسم کا جانور ہے۔ اگرچہ وہ سمندروں کے جھاگ کے پتھروں سے چپک جاتا ہے اور بعض اوقات وسیع جگہ کو گھیر لیتا ہے، بتدریج بڑھتا رہتا ہے اور جزیروں کی تشکیل کا باعث بنتا ہے، جو "جزائرِ مرجان" کہلاتے ہیں۔ مرجان عام طور پر ٹھہرے ہوئے پانی میں نشوونما پاتا ہے اور جو اس کے شکاری ہیں، وہ اسے دریائے احمر کے ساحلوں، میڈی ٹرینین اور بعض دوسرے علاقوں میں شکار کرتے ہیں۔ وہ مرجان جو زینت کے کام آتا ہے، سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور جتنا زیادہ سرخ ہو، اتنا ہی زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ شاعر جو اس کو تشبیہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ اس کی سرخی ہی کی بنا پر ہے۔ اس کی سب سے خراب قسم "مرجانِ سفید" ہے، جو بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ان دونوں کے علاوہ ایک مرجان سیاہ بھی ہوتا ہے۔ مرجان زیب و زینت کے علاوہ دوا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ طبیبوں نے اس کے بہت سے خواص بیان کیے ہیں، منجملہ یہ کہ اس سے دوائیں تیار کی جاتی ہیں جو دل کو تقویت دینے، سانپ کے زہر کی تاثیر کو دور کرنے، اعصاب کو قوت بخشنے، اسہال کو روکنے اور رحم سے بہنے والے خون کو بند کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مرگی کی بیماری کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ [بحوالہ: دائرة المعارف فرید وجدی اور دوسری کتب]۔ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق، لؤلؤ و مرجان صرف کھاری پانی میں پرورش پاتے ہیں، لہٰذا وہ آیت "يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ" کی تفسیر میں، کہ ان دونوں میں سے لولو و مرجان نکلتے ہیں الجھ گئے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان دو میں سے مراد صرف ایک ہے سورہ زخرف کی آیت ۳۱ لیکن ہمارے پاس ان معنی کے ثبوت کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے تو یہ کہا ہے کہ لؤلؤ و مرجان میٹھے اور کھاری دونوں پانی میں پائے جاتے ہیں۔ نعمتوں کی بحث کے اس حصے کو جاری رکھتے ہوئے، کشتیوں کی طرف، کہ جو گزشتہ زمانے میں بھی اور زمانۂ حال میں بھی انسانوں کے لیے حمل و نقل کے وسائل میں سب سے اہم ذریعہ ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور خدا ہی کے لیے ہیں وہ کشتیاں جو سمندر میں چلتی ہیں اور پہاڑ معلوم ہوتی ہیں"۔ "وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ"۔ "جوار" جمع ہے "جاریہ" کی، وہ صفت ہے "سفن" کی جس کے معنی کشتیاں ہیں اور اختصار کی وجہ سے اس لفظ کو حذف کر دیا گیا ہے کیونکہ جو چیز زیادہ قابلِ توجہ ہے، وہ کشتیاں نہیں بلکہ ان کا پانی میں چلنا ہے۔ اس وجہ سے صرف اس صفت پر انحصار کیا گیا ہے۔ "غور فرمائیے"۔ "کنیز" کو "جاریہ" کہتے ہیں وہ بھی اس کے چلنے پھرنے اور خدمات بجا لانے کے لیے جدوجہد کی بنا پر ہے اور اگر جوان لڑکی کو جاریہ کہا جاتا ہے تو وہ اس کے وجود میں نشاط جوانی کے تحرک کی بنا پر ہے۔ "منشات" جمع ہے "منشأ" کی، جو اسم مفعول ہے۔ اس کے معنی "ایجاد" کے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ عین اس وقت جب منشآت کی تعبیر کے سلسلے میں انسان کے ہاتھ سے کشتی بنانے کی بات ہو رہی ہے تو فرمایا گیا: "وَلَهُ" یعنی "یہ خدا کے لیے ہیں۔" یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کشتی کے بنانے والے، خدا کی عطا کردہ ان مختلف خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو کشتی سے استفادے کے لیے ضروری ہیں۔ اس طرح وہ دریاؤں اور سمندروں کے سیال ہونے کی خاصیت اور ہواؤں کے چلنے کی قوت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ وہ خدا ہی ہے جس نے ان چیزوں میں، سمندر میں اور ہوا میں یہ خواص و آثار ودیعت کیے ہیں۔ اسی لیے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں لفظ "تسخیر" آیا ہے: "وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ"۔ "خدا نے کشتی کو تمہارا فرماں بردار بنایا کہ جو اس کے حکم سے دریا میں چلتی ہے"۔ (ابراہیم: ۳۲) بعض مفسرین نے "منشا" کو "انشاء" کے مادہ سے "بلند کرنے" کے معنی میں تفسیر کی ہے اور وہ اس سے بادبانی کشتی مراد لیتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ بادبانوں کے بلند کرنے سے اور انہیں ہوا کے راستے میں نصب کرنے سے لوگ کشتیوں کے چلانے کا کام لیتے تھے۔ "أعلام" جمع ہے "عَلَم" (بروزن "قَلَم") کے معنی "پہاڑ" ہیں۔ اگرچہ اصل میں اس کے معنی "علامت" کے ہیں جو کسی چیز کی نشان دہی کرتی ہے۔ چونکہ پہاڑ دور سے نمایاں ہوتے ہیں، لہذا انہیں "عَلَم" کہا گیا ہے، جس طرح جھنڈے کو بھی "عَلَم" کہتے ہیں۔ اس طرح قرآن نے بڑی بڑی کشتیوں پر کہ جو سمندروں میں چلتی ہیں، انحصار کیا ہے۔ بعض لوگ ایسا خیال کرتے ہیں لیکن بڑی کشتیاں اور اسٹیمرز وغیرہ زمانہ حال کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ یونانیوں کی جنگ کی داستانوں میں ہمیں ملتا ہے کہ وہ نہایت عظیم اور بڑی کشتیوں سے کام لیتے تھے۔ دوبارہ اسی پُرمعنی سوال کی تکرار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے"؟ "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"۔

چند اہم نکات: ١۔ سمندر خُدا کی نعمتوں کے مرکز:

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، آیتوں کے اس حصے میں سمندر اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت پر گفتگو ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سمندر زمین کے تین چوتھائی حصہ کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ اسبابِ غذا، دواؤں اور سامانِ زینت کے لیے منبعِ عظیم ہے۔ انسانوں اور ان کے مال و متاع کے لیے حمل و نقل کے سلسلہ میں اہم وسیلہ ہے۔ اور سب سے زیادہ اہم بارش کا برسنا، ہواؤں کا اعتدال، یہاں تک کہ ہواؤں کا چلنا، یہ سب سمندروں کی برکتوں میں سے ہے۔ اگر سمندروں کی سطح جیسی اب ہے، اس سے کچھ کم یا زیادہ ہوتی یا کرۂ ارض خشکی کی طرف مائل ہوتا یا زیادہ مرطوب ہوتا تو زندگی کے باقی رہنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ اس لیے قرآن بارہا مختلف تعبیروں کے ذریعے انسانوں کی اس طرف توجہ مبذول کراتا ہے اور انہیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ کبھی کہتا ہے: "خدا نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کیا" (سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ) (الجاثیہ: ۱۲)، کبھی کہتا ہے: "کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا ہے" (سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ) (ابراہیم: ۳۲)، کبھی کہتا ہے: "جو کچھ زمین میں ہے، اسے تمہارے لیے مسخر کیا ہے" (سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ) (الحج: ۶۵)۔ ان سب سے قطع نظر، سمندر عجائباتِ عالم میں سے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی خوردبین سے نظر آنے والی گھاس اور دنیا کے بہت بڑے بڑے درخت سمندروں میں اگتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا جانور اور عظیم ترین، دیوقامت حیوانات سمندروں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ سمندروں کی گہرائی میں زندگی گزارنا، جہاں نہ روشنی ہے نہ غذا، اس قدر تعجب خیز و حیرت انگیز ہے کہ انسان اس کے مطالعے سے سیر نہیں ہوتا۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہاں جانور خود اپنے اندر سے روشنی نکالتے ہیں اور جو چیزیں ان کو غذا کے لیے درکار ہوتی ہیں، وہ پانی کی سطح پر تیار ہوتی ہیں اور تہہ نشین ہو جاتی ہیں۔ ان کے جسم اس قدر مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں اور اندرونی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ پانی کے اس عظیم دباؤ کے مقابلے اگر انسان کو عام حالات میں وہاں رکھا جائے تو اس کی ہڈیاں آٹے میں تبدیل ہو جائیں، وہ زندگی گزارتے ہیں۔

٢۔ گلف سٹریم، بڑے بڑے سمندر، دریا اور نہریں

آپ کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ دنیا کے سمندروں میں بہت بڑے بڑے دریا جاری ہیں، جن میں سب سے زیادہ قوت دار "گلف اسٹریم" ہے۔ یہ عظیم دریا مرکزی امریکہ کے ساحلوں سے شروع ہوتا ہے اور سارے "بحرِ اطلس" کو عبور کر کے شمالی یورپ کے ساحل تک جا پہنچتا ہے۔ وہ پانی کہ جو خطِ استوا کے قریبی علاقوں سے چلتے ہیں، وہ گرم ہیں، یہاں تک کہ ان کا رنگ کبھی کبھی ہمراہ چلنے والے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عظیم سمندری دریا "گلف اسٹریم" کا عرض تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر اور اس کی گہرائی کئی سو میٹر ہے۔ اس کی تیزی و روانی بعض علاقوں میں اتنی ہے کہ وہ ایک دن میں ۱۶۰ کلومیٹر کی راہ طے کرتا ہے۔ ان پانیوں کے درجہ حرارت کا فرق، ہمراہ بہنے والے پانیوں سے دس سے لے کر ۱۵ درجہ تک ہے۔ اسی لیے اس کے مغربی کنارے کو ٹھنڈی دیوار کہتے ہیں۔" گلف اسٹریم" سے گرم ہوائیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ اپنی حرارت کی اچھی خاصی مقدار برِّاعظم یورپ کے شمالی ملکوں تک لے جاتی ہیں۔ اس طرح یہ گلف اسٹریم ان ملکوں کی ہوا کو بہت ہی خوشگوار بنا دیتا ہے۔ اگر پانی کا یہ بہاؤ نہ ہوتا تو ان ملکوں میں زندگی بسر کرنا بہت ہی دشوار اور قوت شکن ہوتا۔ ہم پھر دہراتے ہیں کہ گلف اسٹریم ان دریاؤں میں سے ایک ہے اور دنیا کے پانچ برِّاعظموں کے پانیوں میں ایسے دریاؤں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ان دریاؤں کا سب سے بڑا عامل اور سبب زمین کے منطقۂ استوائی اور منطقۂ قطبی کی حرارت کا فرق ہے، جو سمندروں کے اس پانی میں تحریک پیدا کرتا ہے۔ اس موضوع کا ادراک ایک معمولی تجربے سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہمارے پاس پانی کا ایک بہت بڑا برتن ہو، اس کے ایک طرف ہم برف کا ایک ٹکڑا رکھ دیں اور دوسری طرف گرم لوہے کا ٹکڑا رکھیں اور سطحِ آب پر تھوڑی سی کٹی ہوئی گھاس ڈال دیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس پانی کی سطح میں ایک تحرک پیدا ہو جائے گا اور پانی آہستہ آہستہ گرم جگہ کی طرف سے ٹھنڈی جگہ کی طرف چلنا شروع کر دے گا۔ بعینہ یہی صورتِ حال دنیا کے تمام پانیوں میں موجود ہے اور وہ ان سمندری دریاؤں کے پیدا ہونے کا سرچشمہ ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ عظیم سمندری دریا اپنے اطراف کے پانی میں بہت کم آمیزش کرتے ہیں اور ہزاروں کلومیٹر کا راستہ اسی طرح طے کرتے ہیں، (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ، بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیَانِ) کے مصداق بنتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ساتھ ساتھ چلنے والے ان گرم اور ٹھنڈے پانیوں کے بالمقابل ہونے کی جگہ پر ایک ایسی چیز پیدا ہوتی ہے جو انسان کے لیے بہت ہی مفید ہے۔ کیونکہ ان گرم و سرد پانیوں کے ٹکراؤ کے مقام پر خوردبین سے نظر آنے والے ان جانوروں کے لیے ایک ایسی بےحسی اور موت کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ پانی میں معلق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بےشمار غذائی ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے اور یہاں مچھلیوں کے بڑے جمگھٹے ہو کر اس کو کھاتے ہیں۔ اسی لیے کرۂ زمین پر یہ علاقہ مچھلی کے شکار کی بہترین جگہ ہے۔ [بحوالہ: دائرۃ المعارف "فرہنگ نامہ" جلد ۱۲، صفحہ ۱۲۲۸ و نشریہ "بندر و دریا" شمارہ ۴، صفحہ ۱۰۰ اور دوسرے منابع]۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیتوں کی ایک تفسیر یہ بھی ہے اور یہ دوسری تفسیروں سے متصادم بھی نہیں ہے۔ ان سب کا باہم مل جانا ممکن ہے۔

٣۔ بطونِ آیات میں سے ایک تفسیر

ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے "مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ..." کی تفسیر میں فرمایا: "عَلِیٌّ وَ فَاطِمَةُ بَحْرَانِ عَمِیقَانِ، لَا یَبْغِی أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ، یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"۔ "علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا عمیق سمندر ہیں کہ جن میں سے کوئی ایک دوسرے پر تجاوز نہیں کرتا اور ان دو دریاؤں سے لؤلؤ و مرجان یعنی حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام برآمد ہوئے ہیں"۔ [بحوالہ: تفسیر قمی، جلد ۲، صفحہ ۲۴۴]۔ تفسیر دُرّمنثور میں یہی معنی بعض اصحابِ پیغمبر کی زبانی بیان ہوئے ہیں۔ [بحوالہ: دُرّ المنثور، جلد ۶، صفحہ ۱۴۲]۔ مرحوم "طبرسی" نے بھی "مجمع البیان" میں اسی چیز کو مختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید کے کئی بطون ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ایک ہی آیت متعدد معانی رکھتی ہو اور جو کچھ اس حدیث میں آیا ہے، بطونِ قرآن میں سے ہے جو اس کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں ہوتا۔

26
55:26
كُلُّ مَنۡ عَلَيۡهَا فَانٖ
وہ تمام لوگ کہ جو اس زمین پر ہیں فنا ہوجائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
55:27
وَيَبۡقَىٰ وَجۡهُ رَبِّكَ ذُو ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ
اور صرف تیرے پروردگار کی ذات ذوالجلال و الاکرام باقی رہ جائے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
55:28
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
55:29
يَسۡـَٔلُهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ
تمام وہ لوگ جو آسمان اور زمین میں ہیں اس سے سوال کرتے ہیں جبکہ وہ ہر روز ایک نئی شان میں جلوہ گر ہو تا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
55:30
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر: ہم سَب فانی ہیں اور بقا صِرف تیرے لیے ہے:

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

اپنی نعمت کو جاری رکھتے ہوئے ان آیتوں میں مزید فرماتا ہے: "تمام وہ لوگ جو زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں، فنا ہو جائیں گے" (کُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ فنا اللہ کی نعمتوں میں کس طرح شمار ہو سکتا ہے؟ ممکن ہے کہ اس اعتبار سے ہو کہ اس فنا سے مراد فنائے مطلق نہیں ہے، بلکہ یہ عالم بقا کے لیے ایک دریچے کا کام دیتی ہے۔ یہ ایک دالان اور گزرگاہ ہے جس کو عبور کرنا سرائے تک پہنچنے کے لیے ضروری اور لابدی ہے۔دنیا اپنی تمام نعمتوں کے باوجود مومن کے لیے زندان ہے اور اس دنیا سے جانا تنگ و تاریک زندان سے نکلنے کے مترادف ہے۔ یا پھر فنا کا ذکر اس نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے کہ گزشتہ نعمتوں کا بیان ممکن ہے ایک گروہ کے لیے اکل و شرب کی چیزوں، لؤلؤ و مرجان اور سواریوں میں مستغرق ہونے کا باعث بن جائے، لہٰذا یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان چیزوں میں دل لگا بیٹھو اور اپنے رب کی راہ میں ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ۔ یہ یاد دلانا بھی بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ "عَلَیْهَا" کی ضمیر زمین کی طرف لوٹتی ہے، جس کی طرف گزشتہ آیتوں میں بھی اشارہ ہوا ہے، علاوہ ازیں قرائن سے بھی واضح ہے کہ "مَنْ عَلَیْهَا" سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمین پر ہیں، یعنی جنّ و انس۔ اگرچہ بعض مفسرین نے اس احتمال کو تقویت دی ہے کہ یہ حیوانات اور دوسری چلنے والی مخلوق کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، لیکن "مَنْ" کے لفظ کے پیش نظر، جو ہمیشہ ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے، پہلی تفسیر ہی مناسب ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ فنا کا مسئلہ صرف جن و انس تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ قرآن کی تصریح کے مطابق تمام اہلِ آسمان و زمین بلکہ تمام موجوداتِ عالم فنا ہو جائیں گے: (كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ) (القصص: ۸۸) لیکن چونکہ گفتگو ساکنانِ زمین سے تھی، لہٰذا صرف انہی کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے: "یعنی صرف تیرے پروردگار کی ذات ذُوالجَلالِ وَالإِكرَامِ باقی رہ جائے گی۔" (وَیَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ)۔ لغت کے اعتبار سے "وَجْه" کے معنی چہرے کے ہیں۔ کسی شخص سے جب ہمارا آمنا سامنا ہو اور ہم اس سے ملاقات کریں تو ہم اس کے روبرو ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ خدا کے لیے استعمال ہو تو پھر مراد اس کی ذات پاک ہی ہوتی ہے۔ مفسرین نے "وَجْهُ رَبِّكَ" کو یہاں پروردگار کی صفات کے معنی میں لیا ہے، جن کی وجہ سے انسان پر برکتیں اور نعمتیں نازل ہوتی ہیں، مثلاً: علم، قدرت، رحمت اور مغفرت۔ یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو خدا کے لیے انجام دیے جاتے ہیں، تو اس بنا پر سب فنا ہو جائیں گے، لیکن وہ اکیلی چیز یعنی وہ اعمال باقی رہ جائیں گے جو خلوصِ نیت سے اس کی رضا کے لیے انجام دیے گئے ہیں۔ لیکن پہلے معنی سب سے زیادہ مناسب ہیں۔ باقی رہا "ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" جو "وَجْهُ" کی صفت ہے، تو اس سے خدا کی صفاتِ جلال و جمال کی طرف اشارہ ہے۔ "ذُو الْجَلَالِ" ایسی صفات کی خبر دیتا ہے جن سے خدا اجل و برتر ہے (صفاتِ سلبیہ) اور "الإِكرَامِ" ان صفتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی چیز کے حسن اور قدر و قیمت کو واضح کرتی ہیں اور وہ خدا کی صفاتِ ثبوتیہ ہیں، مثلاً: اس کا علم، قدرت اور حیات۔ تو اس بنا پر اس مجموعہ کے معنی یہ ہوں گے کہ صرف خدا کی وہ ذات پاک، جو صفاتِ ثبوتیہ سے متصف اور صفاتِ سلبیہ سے مبرا و منزہ ہے، اس عالم میں برقرار رہے گی۔ بعض مفسرین خدا کے "صاحبِ اکرام" کو "صاحبِ الطاف و نعمات" ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنے اولیاء کا اکرام کرتا ہے اور انہیں گرامی قدر بناتا ہے۔ مذکورہ بالا آیتوں میں ان سب معانی کا جمع ہونا ممکن ہے۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص بارگاہِ پیغمبر میں نماز میں مصروف تھا، اس کے بعد اس نے اس طرح دعا کی: اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ۔ پیغمبر نے اپنے اصحاب و انصار سے کہا: "جانتے ہو اس نے خدا کو کس نام سے پکارا ہے"؟ انہوں نے کہا: "خدا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں"۔ تو آپ نے فرمایا: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَىٰ"۔ "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اس نے خدا کو اس کے اسمِ اعظم کے حوالے سے پکارا ہے، جس وقت کوئی خدا کو اس نام سے پکارے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعے سے سوال کرے تو وہ عطا فرماتا ہے"۔ [بحوالہ: تفسیر روح المعانی، جلد ٢٧، صفحہ ۹۵]۔ پروردگارِ عالم پھر ایک مرتبہ اپنی مخلوق کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد والی آیت کا نفسِ مضمون قبل کی آیتوں کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ فرماتا ہے: "وہ تمام کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اپنی حاجتیں اسی سے طلب کرتے ہیں اور اسی سے سوال کرتے ہیں"۔ (یَسْئَلُہُ مَنْ فِی السَّماواتِ وَالأرْضِ)۔ ایسا کیوں نہ ہو حالانکہ وہ تمام فنا ہونے والے ہیں اور خدا باقی ہے۔ یہ نہیں کہ اس جہاں کے اختتام پر ساری کائنات سوائے پروردگار کی پاک ذات کے راہِ فنا طے کرے گی، بلکہ اِس وقت بھی اُس کے مقابلے میں سب فانی ہیں اور ان کی بقا، اس کی بقا اور مشیّت سے وابستہ ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے بھی وہ اپنا لطف و کرم کائنات سے اٹھا لے "تو سب فنا ہو جائیں"۔ اِن حالات میں اس کے علاوہ کون ہے جس سے اہل زمین اور اہل آسمان سوال کریں؟ "یَسْأَلُهُ" کی تعبیر فعل مضارع کی شکل میں اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ سوال اور تقاضا دائمی ہے۔ سب کے سب زبانِ حال سے اس مبدأ فیاض سے ہمیشہ فیض کے طالب ہیں، زندگی چاہتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کا سوال کرتے ہیں۔ یہ ممکن الوجود کی ذات کا اقتضا ہے کہ نہ صرف حدوث میں بلکہ اپنی بقا میں بھی وہ واجب الوجود کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "خدا ہر روز ایک نئی شان اور نئے کام میں ہے"۔ (اللَّهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ)۔ جی ہاں، اس کی تخلیق دائم اور مستمر ہے اور سوال کرنے والوں اور صاحبانِ حاجات کو جواب دینا بھی اسی طرح ہے۔ وہ ہر روز ایک نئی طرح ڈالتا ہے۔ • ایک دن وہ کچھ قوموں کو طاقت و قدرت عطا کرتا ہے، دوسرے دن انہیں زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔ • ایک روز صحت و سلامتی و جوانی عطا فرماتا ہے، دوسرے دن ضعف و ناتوانی۔ • ایک دن دل سے غم و اندوہ دور کرتا ہے، دوسرے دن غم و اندوہ کا سبب پیدا کر دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ ہر روز حکمت و نظامِ احسن کے مطابق کوئی نئی مخلوق، نیا موجود اور نیا حادثہ وجود میں لاتا ہے۔ اس حقیقت کی طرف اگر توجہ کی جائے تو وہ ہم پر یہ واضح کر دینے کے لیے کافی ہے کہ ایک تو ہماری حاجتیں دائمی طور پر اس کی ذاتِ پاک سے وابستہ ہیں۔ دوسرے اس طرح ہمارے دل مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ تیسرے یہ توجہ ہماری غفلت اور غرور کو ختم کرتی ہے۔ جی ہاں، اس کی ہر روز ایک نئی شان ہے اور وہ ایک نئے کام میں مصروف ہے۔ اگرچہ مفسرین میں سے ہر ایک نے ان وسیع معانی کے کسی ایک گوشہ کو آیت کی تفسیر کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ بعض نے صرف گناہوں کی بخشش، غم و اندوہ کو دور کرنے اور اقوام کی بلندی و زوال کو عنوان بنایا ہے، بعض نے صرف مسئلہ آفرینش، رزق، زندگی، موت اور عزت و ذلت کو، بعض نے صرف انسانوں کی خلقت اور موت کو عنوانِ کلام بنایا ہے اور کہا ہے کہ خدا کے پاس ہر روز تین لشکر ہیں: ایک لشکر باپوں کے صلبوں سے ماؤں کے رحموں کی طرف کوچ کرتا ہے، دوسرا لشکر ماؤں کے رحموں سے اس دنیا میں قدم رکھتا ہے، اور تیسرا لشکر دنیا سے قبر کی طرف جاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے، آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، اس دنیا کی ہر نئی تخلیق، پیدائش اور انقلاب اپنے اندر تحول لیے ہوئے ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ آپ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: "اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، لِأَنَّهُ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ مِّنْ إِحْدَاثِ بَدِيعٍ لَمْ يَكُنْ"۔ (حمد و ستائش مخصوص ہے اس خدا کے لیے جو ہرگز نہیں مرتا، اس کے عجائباتِ خلقت ختم نہیں ہوتے، کیونکہ اس کی ہر روز ایک نئی شان ہوتی ہے اور وہ ایک نیا موضوع پیدا کرتا ہے جو پہلے ہرگز نہیں تھا)۔ [بحوالہ: اصول کافی مطابق نقل تفسیر نور الثقلین، جلد ۵، صفحہ ١٩٣]۔ ایک اور حدیث میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے: آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا وَيَضَعَ آخَرِينَ"۔ (اس کے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گناہ کو بخشتا ہے، رنج و تکلیف کو برطرف کرتا ہے، ایک گروہ کو بلند کرتا ہے اور دوسرے کو گرا دیتا ہے)۔ [بحوالہ: مجمع البیان درج ذیل آیات زیر بحث، یہ حدیث رُوح المعانی میں بھی صحیح بخاری سے نقل ہوئی ہے]۔ یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں "یَوْمٍ" اس دن کے معنوں میں نہیں ہے جو رات کے مقابلہ میں ہے بلکہ ایک طولانی دور پر حاوی ہے اور ساعات و لمحات پر بھی۔ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ خداوند تعالی کی ہر زمانے میں ایک نئی شان ہے اور وہ ایک نیا کام کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے لیے ایک شانِ نزول بھی بیان کی ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے قول کی تردید کے لیے نازل ہوئی ہے۔ یہودیوں کا نظریہ یہ ہے کہ خدا ہفتہ (Saturday) کے دن کوئی کام نہیں کرتا، اس دن تعطیل کرتا ہے اور کوئی حکم و فرمان جاری نہیں کرتا۔ [بحوالہ: مجمع البیان، جلد ٩، صفحہ ٢٠٢]۔ قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اور تدبیرِ امور کا پروگرام ایک لمحے کے لیے بھی تعطیل کا متحمل نہیں ہوتا۔ پروردگارِ عالم پھر اس مستقل نعمت اور تمام مخلوقات کی حاجات کی جواب دہی کے بعد فرماتا ہے: "تم اپنے رب کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟"۔(فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔

چند اہم نکات: ١۔ فنا کی کیا حقیقت ہے؟

ہم نے مندرجہ بالا آیتوں میں پڑھا ہے کہ خدا کے علاوہ سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ یہ فنائے مطلق کے معانی میں نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ روح انسانی بھی نابود ہو جائے گی یا انسان کے جسم سے حاصل ہونے والی مٹی بھی ختم ہو جائے گی، کیونکہ قرآن کی آیتیں قیامت کے دن تک عالمِ برزخ کی تصریح کرتی ہیں [بحوالہ: (مومنون ۔ ١٠٠)]۔ دوسری جانب وہ بارہا کہتا ہے: مُردے قیامت میں قبروں سے اٹھیں گے [بحوالہ: (یٰسین ۔ ۵۱)]، بوسیدہ ہڈیاں خدا کے حکم سے اپنے جسم پر لباسِ حیات پہنیں گی [بحوالہ: (یٰسین ۔ ٧٩)]۔ یہ سب چیزیں اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اس آیت میں اور اس سے مشابہت رکھنے والی آیتوں میں فنا، نظامِ جسم و جاں کے درہم برہم ہونے، رشتوں کے قطع ہونے اور عالمِ خلقت کے نظم و ترتیب کے درہم برہم ہو کر ایک نئے عالم کی جگہ لینے کے معنوں میں ہے۔

٢۔ وہ ہر روز ایک نئی چیز کی تخلیق کرتا ہے۔

ہم کہہ چکے ہیں کہ (کُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ) والی آیت اُمید آفریں بھی ہے اور غرور شکن بھی، نیز یہ استمرارِ آفرینش و دوامِ خلقت کی نشانی بھی ہے۔ اسی وجہ سے بعض اوقات پیشوایانِ اسلام افراد کو اُمید دلانے کے لیے خصوصیت کے ساتھ اس آیت پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابوذر کی "ربذہ" کی طرف جلاوطنی کے واقعہ میں ہمیں ملتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بہت ہی گہرے اور پُرمعانی جملوں کے ساتھ حضرت ابوذر کی مشایعت کے موقع پر ان کی دلداری کی اور انہیں تسلّی دی۔ اس کے بعد امام حسن علیہ السلام، فرزندِ رشید امیر المؤمنین، نے حضرت ابوذر کو چچا کہہ کر کچھ جملے فرمائے۔ پھر شہیدوں کے سالار، حضرت امام حسین علیہ السلام نے لب کشائی کی اور فرمایا: "یا عماه إن الله تعالی قادر أن یُغَیِّرَ ما قد تری، الله کلَّ یومٍ هو فی شأن، وقد منعک القومُ دُنْیاهُمْ، ومنعتَهُمْ دینَکَ ... فاسئل الله الصبرَ والنصرَ"۔ "چچا جان! خداوندِ متعال قادر ہے کہ ان حالات کو بدل دے، اس کی ہر روز ایک نئی شان ہے۔ انہوں نے آپ کو اپنی دنیا میں مزاحم دیکھا اور آپ کو روک دیا، آپ نے انہیں اپنے دین میں مداخلت کرتے ہوئے دیکھا اور انہیں روکا۔ خدا سے نصرت اور صبر و شکیبائی کی دعا کیجیے"۔ [بحوالہ: الغدیر، جلد ۸، صفحہ ۳۰۱]۔ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام جس وقت کربلا کی طرف آ رہے تھے تو جب آپ صفاح نامی منزل پر پہنچے تو فرزدق نامی شاعر نے آپ علیہ السلام سے ملاقات کی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "بَيِّنْ لي خبرَ الناسِ من خلفِك"۔ "مجھے بتاؤ کہ لوگوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا ہے"؟ (عراق کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے) فرزدق نے عرض کیا: "(الخبیر سئلت، قلوبُ الناسِ معک، وسُیُوفُهُم مع بنی أمیة، والقضاءُ یَنْزِلُ مِنَ السّماء، والله یفعلُ ما یشاء)"۔ "آپ نے ایک آگاہ شخص سے سوال کیا ہے، لوگوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں بنی اُمیّہ کے ساتھ ہیں۔ البتہ فرمانِ الٰہی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور خدا جو اس کی مصلحت ہوتی ہے اور ارادہ کرتا ہے، اسے انجام دیتا ہے"۔ اس پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "(صدقت، لله الأمر یفعل ما یشاء، وکل یومٍ ربُّنا في شأنٍ)"۔ "تو نے سچ کہا، خدا جو کچھ چاہتا ہے انجام دیتا ہے اور ہمارے پروردگار کی ہر روز نئی شان ہے اور اس کا نیا کام ہے"۔ [بحوالہ: کامل ابنِ اثیر، جلد ۴، صفحہ ۴۰]۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ یہ آیت مومنین کے لیے حوصلہ افزا آیت ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے وزیر سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں سوال کیا لیکن اس نے بےخبری کا اظہار کیا اور دوسرے دن تک مہلت مانگی۔ وزیر جب مایوسی کی حالت میں اپنے گھر پہنچا تو اس کے ایک غلام نے، جو صاحبِ معرفت تھا، پوچھا: "کیا بات ہے"؟ وزیر نے سارا ماجرا بیان کیا۔ اس نے کہا آپ امیر کے پاس جائیں، اگر وہ اجازت دے تو میں اس کے سامنے پیش کروں گا۔ بہرحال، امیر نے اس غلام کو طلب کیا اور اس سے سوال کیا، تو اس نے جواب میں کہا: "یا أمیر، شأنه یُولِجُ اللّیلَ فی النّهار، و یُعافی مبتلی، ویُخرج الحيّ من المیت والمیتَ من الحيّ، ویَشفي سقیماً، ویُسقمُ سلیماً، ویَبتلی مُعافیًا، ویُعافي مُبتلیًا، ویُعِزُّ ذلیلاً، ویُذِلُّ عزیزًا، ویُفقرُ غنیًّا، ویُغني فقیراً"۔ "اے امیر! خدا کی شان یہ ہے کہ دن اور رات کو ایک دوسرے کے بعد لاتا اور لے جاتا ہے، بیمار کو شفا دیتا ہے، صحت مند کو بیمار کرتا ہے، تندرست کو مبتلا کرتا ہے، مبتلا کو عافیت بخشتا ہے، ذلیل کو عزّت دیتا ہے، عزّت دار کو ذلیل کرتا ہے، دولت مند کو فقیر بناتا ہے اور فقیر کو دولت مند بناتا ہے"۔ امیر نے کہا: "فرَّجْتَ عنِّي، فرَّجَ اللهُ عنك"۔ "تو نے میری مشکل حل کر دی، خدا تیری مشکل حل کرے"۔ اس کے بعد اس غلام کو انعام و اکرام سے نوازا۔ [بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ۹، صفحہ ۶۳۳۷]۔

٣۔ حرکتِ جوہری

"حرکتِ جوہری" کے بعض طرفداروں نے قرآن کی چند آیتوں سے استدلال کیا ہے، یا کم از کم اُسے اپنے مقصود کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ منجملہ دیگر آیتوں کے، ایک یہ آیت بھی ہے: (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ)۔ اس کی وضاحت یہ ہے: قدیم فلسفیوں کا نظریہ یہ تھا کہ حرکت صرف چار عرضی مقولوں میں ممکن ہے (مقولۂ این، کیف اور وضع)۔ زیادہ آسان اور سادہ مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ ایک جسم مکان کے لحاظ سے تغیّر کرے، یا اس طرح اس کی نشوونما ہو کہ اس جسم کی مقدار میں اضافہ ہو جائے، یا اس کے رنگ، بو اور ذائقہ میں تبدیلی پیدا ہو جائے (مثلاً ایک سیب جو درخت پر لگا ہوا ہے)، یا اپنی جگہ پر اپنے گرد گردش کرے (زمین کی حرکتِ وضعی کی طرح)۔ لیکن ان کا نظریہ یہ تھا کہ جسم کے جوہر اور اس کی ذات میں حرکت کا کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ حرکت میں ذاتِ متحرک کو ثابت و برقرار ہونا چاہیے۔ اس کے محض عوارض و گرگوں ہوں، بصورت دیگر حرکت کا کوئی مفہوم نہ ہو گا۔ لیکن فلاسفۂ متاخرین نے اس نظریہ کو ردّ کیا ہے اور وہ حرکتِ جوہری کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حرکت کی اساس اور بُنیاد خود جوہر میں ہے، جس کے آثار عوارض میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پہلا شخص جس نے اس نظریہ کو معقول شکل میں پیش کیا "ملا صدرائے شیرازی" تھا۔ اس نے کہا کہ تمام ذرّاتِ کائنات اور دنیا مادّۂ حرکت کا ایک مجموعہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اجسام کا مادہ ایک سیال وجود ہے، جس کی ذات ہمیشہ متغیّر ہوتی رہتی ہے اور اس کا ہر لمحہ ایک نیا وجود ہے، جو قبل کے لمحے سے مختلف ہے۔ لیکن چونکہ یہ تبدیلیاں ایک دوسرے سے متصل ہوتی ہیں، اس لیے ایک ہی شے شمار کی جاتی ہیں۔ اس نظریہ کی بنا پر ہم ہر روز ایک نیا وجود ہیں، لیکن یہ وجود متصل و مستمر ہیں اور ایک ہی صُورت رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مادہ چار جہتیں رکھتا ہے: طول، عرض، عمق اور بُعد۔ یہ بُعد وہ ہے جسے زمان کا نام دیتے ہیں اور یہ زمان جوہری حرکت کے علاوہ دوسری کوئی چیز نہیں ہے۔ غور کیجئے! یہ غلط فہمی نہ ہو کہ حرکتِ جوہری ایٹموں کی اندرونی حرکت کے مسئلہ سے ارتباط نہیں رکھتی، کیونکہ وہ حرکت مکان میں ہے اور عرضی حرکت ہے۔ حرکتِ جوہری ایک زیادہ عمیق اور گہرا مفہوم رکھتی ہے، جو جسم کی ذات اور اس کی انفرادیت پر حاوی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں متحرک عینِ حرکت ہو جاتا ہے اور چیزیں خود اپنے داخل ہونے کی جگہ بن جاتی ہیں۔ غور کیجئے! ان کے پاس اس مقصد کے اثبات کے لیے مختلف دلائل ہیں، جن کی تشریح کی یہاں گنجائش نہیں، لیکن یہ امر معیوب نہیں ہے کہ ہم یہاں اس فلسفیانہ عقیدہ کے نتیجے کی طرف اشارہ کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم خدا شناسی کے مسئلہ کا ہر گزشتہ لمحے سے زیادہ واضح طور پر ادراک کریں، کیونکہ خلقت اور آفرینش صرف دنیا کے آغاز ہی میں نہیں تھی بلکہ ہر ساعت اور ہر لمحے اس کا آغاز ہے اور خدا ہمیشہ نئی خلقت اور آفرینش میں مصروف ہے اور ہم وقتاً فوقتاً اس سے وابستہ اور اس کے فیض سے مستفیض ہیں۔ انہوں نے (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ) کی تفسیر انہی معانی میں کی ہے۔ البتہ اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہ تفسیر بھی آیت کے وسیع مفہوم کا ایک جُز ہو۔

31
55:31
سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ
اے گروہ جن و انس عنقریب ہم تمہارا احتساب کریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
55:32
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
55:33
يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ إِنِ ٱسۡتَطَعۡتُمۡ أَن تَنفُذُواْ مِنۡ أَقۡطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ فَٱنفُذُواْۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلۡطَٰنٖ
اگر تم سے ہو سکے تو زمین و آسمان کی سرحدوں سے نکل جاؤ مگر تم ہر گز قدرت نہیں رکھتے مگر سوائے (خدائی) قوت کے ساتھ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
55:34
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
55:35
يُرۡسَلُ عَلَيۡكُمَا شُوَاظٞ مِّن نَّارٖ وَنُحَاسٞ فَلَا تَنتَصِرَانِ
وہ دھویں سے خالی آگ کے اور کم رفتار (اور بہت) دھویں والی آگ کے شعلے تمہاری طرف بھیجے گا اور تم کسی سے مدد طلب نہیں کر سکو گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
55:36
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر: اگر قُدرت رکھتے ہو تو آسمانوں کی سرحدوں سے آگے نکل جاؤ

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

جو نعمتیں اب تک اس سورہ میں پیش کی گئی ہیں وہ اسی دُنیا سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن زیر بحث آیتوں میں قیامت کے حساب کتاب اور معاد کی بعض دوسری ضرورتوں کے بارے میں گفتگو ہے، جو مجرموں کے لیے تہدید ہے اور مومنین کے لیے نہ صرف تربیت، آگاہی اور بیداری کا وسیلہ ہے بلکہ تشویق و حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی ہے، اسی بنا پر یہ نعمت شمار ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ایک کے بیان کے بعد، اسی سوال کی کہ جو نعمتوں کے بارے میں ہے، پروردگارِ عالم تکرار کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "اے جنّ و اِنس! ہم عنقریب تمہارا حساب کریں گے" (سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلانِ)۔ [تشریحی نوٹ: توجہ کرنی چاہیے کہ قرآن مجید کے قدیم رسم الخط میں چند موارد میں "أَیُّهَا"، "أَیْهَ" کی صورت میں لکھا ہوا ہے، جو زیر بحث آیت اور دو دوسری (سورہ نور کی آیت ۳۱ اور زخرف کی آیت ۴۹) میں ہے، جب کہ دوسری آیتوں میں "أَیُّهَا" کا رسم الخط آخری کشیدہ الف کے ساتھ تحریر ہوا ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ قدیم رسم الخط کے ضابطے اور بنیاد پر تھا]، [تشریحی نوٹ: باوجود یکہ "الثَّقَلَانِ" تثنیہ ہے، لیکن "لَکُم" میں ضمیر جمع کی آئی ہے، اس بنا پر کہ دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے]۔ جی ہاں! اس دن خداوند قادر جنّ و اِنس کے تمام اعمال، گفتار اور نیتوں کا نہایت باریک بینی سے حساب کرے گا اور ان کے لیے مناسب جزا و سزا تجویز کرے گا۔ خدا جس وقت کسی چیز میں مصروف ہوتا ہے تو دوسری چیزوں سے غافل نہیں ہوتا اور ہر آنِ واحد میں تمام کائنات پر علمی احاطہ رکھتا ہے اور کبھی بھی کوئی چیز اسے دوسری چیز سے غافل نہیں کرتی (لَا يَشْغَلُهُ شَأْنٌ عَنْ شَأْنٍ)، لیکن اس کے باوجود "سنفرغ" کے الفاظ جاذبِ توجہ ہیں، کیونکہ گفتگو کی یہ صورتِ حال وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں ایک شخص اپنے تمام کام چھوڑ دیتا ہے تاکہ پوری تن دہی اور ہوش و حواس سے اس کام کو انجام دے۔ لیکن یہ چیز صرف مخلوقات کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ اپنی محدودیت کی بنا پر جب ایک چیز کی طرف متوجہ ہوتی ہیں تو دوسری چیز سے غافل ہو جاتی ہیں۔ خدا کے بارے میں اس تعبیر کا استعمال حساب و کتاب کی تحقیق و تفتیش کے معاملے میں تاکید کے علاوہ کچھ اور معانی نہیں رکھتا۔ ذرہ برابر کوئی شے اس کے قلمِ انصاف کی زد سے نہیں بچے گی۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ خداوندِ بزرگ و عظیم اپنے حقیر بندوں کا حساب و کتاب اپنے ذمے لے! اور کس قدر وحشت ناک اور ہولناک ہے اس قسم کی جانچ پڑتال اور محاسبہ! "ثقلان" کا مادہ "ثقل" (بروزنِ کِبَر) ہے، جس کے معنی بارِ سنگین کے ہیں اور یہ وزن کے معنی میں بھی آتا ہے۔ باقی رہا "ثَقَل" (بروزنِ خَبَر)، تو عام طور پر یہ لفظ مال و متاع اور مسافر کے سامان کے لیے بولا جاتا ہے۔ جن و اِنس کے گروہ پر اس کا اطلاق ان کی معنوی سنگینی کی بنا پر ہے، کیونکہ خدا نے انہیں عقل و شعور اور علم و آگہی کے لحاظ سے مخصوص وزن اور قدر عطا کی ہے۔ جسمانی طور پر بھی، مجموعی حیثیت سے، وہ قابلِ ملاحظہ سنگینی کے حامل ہیں۔ اسی لیے سورہ زلزال کی آیت ۲ میں ہم دیکھتے ہیں۔ "وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا"۔ جس کے ایک معنی قیامت کے دن انسانوں کا قبروں سے خروج ہے۔ لیکن بہرحال زیر بحث آیت کا یہ مفہوم زیادہ تر جنبہ معنوی رکھتا ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ گروہِ جن کے بارے میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی خاص وزنی جسم نہیں رکھتے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان دو گروہوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس بنا پر ہے کہ وہ عمدہ گروہ جو تکلیفِ شرعی سے مکلف ہیں یہی وہ دونوں ہیں۔ اس مفہوم کو بیان کرنے کے بعد دوبارہ اس سوال کی تکرار کرتا ہے: "تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلا ؤ گے"؟ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ گزشتہ آیت کہ جو خدا کی طرف سے کیے جانے والے احتساب کے مسئلہ کو پیش کرتی ہے، اس کے بعد پروردگارِ عالم ایک مرتبہ پھر جنّ و اِنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "تم چاہو کہ خدا کی طرف سے دی جانے والی سزا سے بچ سکو تو، اگر ایسی قوت رکھتے ہو، تو زمین و آسمان کی سرحدوں سے نکل جاؤ اور خدا کے احاطۂ قدرت سے باہر ہو جاؤ، لیکن تم اس کام پر ہرگز قادر نہیں ہو، سوائے اس کے کہ خدائی قوت و طاقت تمہیں حاصل ہو اور یہ خدائی قوت تمہارے اختیار میں نہیں ہے"۔ (يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ)۔ اس طرح تم ہرگز خدا کی عدالت، انصاف اور اس کے حکم سے صادر شدہ سزاؤں سے فرار کی قدرت و توانائی نہیں رکھتے۔ جہاں کہیں جاؤ گے، خدا کا ملک ملے گا اور جہاں کہیں رہو گے، وہ اس کی حکومت کا مقام ہے۔ جی ہاں! یہ ضعیف و ناتواں مخلوق قدرتِ خدا کے میدان سے بھاگ کر کہاں جا سکتی ہے؟ حضرت امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) دعائے کمیل میں فرماتے ہیں: "وَلَا يُمْكِنُ الْفِرَارُ مِنْ حُكُومَتِكَ"۔ "معشر"، "عشر" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی "دس" ہیں، چونکہ دس کا عدد ایک کامل عدد ہے، اس لیے لفظ "معشر" ایک مکمل جمعیت کے لیے بولا جاتا ہے جو مختلف صنفوں اور گروہوں سے تشکیل پاتی ہے۔ "أقطار"، "قطر" کی جمع ہے، یہ کسی چیز کے اطراف کے معنی میں ہے۔ "تنفذوا" کا مادہ "نفوذ" ہے، جس کے معنی کسی چیز کو ٹکڑے کرنے کے بعد اس کو عبور کر جانے کے ہیں۔ اور "من أقطار" کے الفاظ اس طرف اشارہ ہیں کہ آسمانوں کے اطراف و جوانب کو چیر کر ان سے نکل جاؤ اور ان کے باہر سفر کرو، ضمنی طور پر یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ "جِنّ" کو جو مقدم کیا گیا ہے ہو سکتا ہے ہو کہ وہ اس بنا پر کہ وہ آسمانوں کی سیر پر زیادہ آمادہ رہتے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت، قیامت کے ساتھ مربوط ہے یا دنیا سے، مفسّرین کا اس میں اختلاف ہے، چونکہ اس کے قبل و بعد کی آیتیں دارِ آخرت کی روداد سے متعلق ہیں، لہٰذا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی قیامت میں عدالتِ الہٰی کے چنگل سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے متعلق ہے، لیکن لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ (تم نہیں گزر سکتے مگر قوّت کے ساتھ) کو نظر میں رکھ کر بعض مفسّرین اسے انسانی ہوائی سفروں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ قرآن نے علمی و صنعتی تسلّط کو اس کی شرط قرار دیا ہے۔ یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ قیامت کی طرف بھی نظر ہے اور دنیا کی طرف بھی، یعنی تم نہ یہاں قدرت رکھتے ہو کہ قدرتِ الہٰی کے بغیر اطرافِ آسمان میں نفوذ کر جاؤ اور نہ آخرت میں، البتہ دنیا میں محدود وسیلہ اور ذریعہ تمہارے اختیار میں ہے، لیکن وہاں تو کوئی بھی ذریعہ یا وسیلہ نہ ہو گا۔ بعض مفسّرین نے اس کی ایک چوتھی تفسیر بھی کی ہے کہ آسمان کے اطراف میں نفوذ سے مراد فکری و علمی نفوذ ہے کہ جو استدلال کی قوّت کی وجہ سے انسان کے لیے ممکن ہے۔ لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے، بعض اخبار و روایات اس کی تائید بھی کرتے ہیں جو منابعِ اسلامی میں مندرج ہیں۔ منجملہ دیگر حدیثوں کے، ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ قیامت کے دن خدا تمام بندوں کو ایک ہی مقام پر جمع کرے گا اور آسمانِ اوّل کے فرشتوں کو حکم دے گا کہ نیچے اُتر آؤ۔ وہ فرشتے، جو رُوئے زمین پر بسنے والے جنّ و انس سے تعداد میں دوگنے ہیں، نیچے اُتر آئیں گے۔ اس کے بعد دوسرے آسمان کے فرشتے بھی، جو اتنی ہی تعداد میں ہیں، نیچے اُتر آئیں گے۔ اس طرح سات کے سات آسمانوں کے فرشتے اُتر آئیں گے اور سات پردوں کی مانند جنّ و انس کا چاروں طرف سے احاطہ کر لیں گے۔ یہ وہ مقام ہے کہ منادی ندا دے گا کہ اے جنّ و انس کی جمعیّت، اگر ہو سکتا ہو تو آسمانوں اور زمین کے اطراف سے نکل جاؤ، قدرتِ الہٰی کے بغیر ہرگز نہیں نکل سکتے اور تم یہاں دیکھ رہے ہو کہ ان اطراف کو فرشتوں کے ساتھ عظیم گروہوں نے گھیر رکھا ہے (اب عدالت کے شکنجے سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے)۔ [بحوالہ: تفسیر صافی، صفحہ ۵۱۷، تفسیر مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۲۰۵]۔ مختلف تفسیروں کے معانی کا اجتماع بھی ممکن ہے، یہاں پھر دونوں گروہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ) یہ ٹھیک ہے کہ مذکورہ بالا تہدید بظاہر سزا و عذابِ الہٰی کے سلسلے کی بات ہے، لیکن چونکہ اس کا ذکر تمام انسانوں کے لیے تنبیہ ہے اور اصلاح و تربیّت کا سبب ہے، لہٰذا قدرتی طور پر نعمت ہے۔ بنیادی طور پر حساب و کتاب کا وجود کسی بھی نظام میں ایک نعمت ہی ہے، کیونکہ اس کی بنا پر سب کا حساب کتاب ہو گا۔ اس کے بعد والی آیت جنّ و انس کے عدالتِ الہٰی کے شکنجے سے فرار کے سلسلے میں اور ان کے عدمِ اختیار کے بارے میں، جو کچھ قبل کی آیت میں آیا تھا، اس کی تاکید کرتے ہوئے مزید کہتی ہے: "بغیر دھویں کی آگ اور بہت سا تہہ بہ تہہ دھواں بھیجا جائے گا اور اس طرح سے تمہیں ہر طرف سے گھیر لے گا کہ کوئی راہِ فرار نہیں ہو گی، اس وقت تم کسی سے مدد طلب نہیں کر سکو گے۔" (یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ)۔ ایک طرف تمہارا فرشتوں نے احاطہ کر رکھا ہے اور دوسری طرف آگ کے گرم اور جلانے والے شعلوں اور تیرہ اور تار دم گھونٹنے والے دھویں نے اطرافِ محشر کو گھیر رکھا ہے اور بھاگنے کے لیے کوئی راہ نہیں ہے۔ "شُوَاظٌ" راغب کی "مفردات" اور "ابنِ منظور" کی "لسان العرب" اور دوسرے مفسرین کے مطابق بغیر دھویں والی آگ کے شعلوں کے معنی میں ہے اور بعض نے آگ کے ان شعلوں کو اس کے معنی بتایا ہے کہ جو بظاہر خود آگ سے الگ ہو جائیں گے اور سبز رنگ کے ہوں گے۔ بہرکیف، اس تعبیر میں آگ کی شدّتِ حرارت کی طرف اشارہ ہے۔ "نُحَاسٌ" کے معنی دھواں ہے (سرخ شعلوں اور دھویں سے پُر آگ) جو تانبے کا رنگ اختیار کرے گی۔ بعض نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گی، لیکن یہ معنی بظاہر زیر بحث آیت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ گفتگو ایسے موجود کے بارے میں ہے جو قیامت میں انسان کا احاطہ کیے ہوئے ہو گا اور اسے عدالتِ الہٰی سے فرار سے روکے گا۔ قیامت کی عدالتِ انصاف کتنی عجیب ہے! اس وقت انسان جلانے والی آگ اور دم گھونٹنے والے دھویں اور منجانب اللہ مامور فرشتوں کے حصار میں ہو گا اور اس کے لیے اس عدالت کے حکم کے ماننے کے علاوہ کوئی جادۂ گریز نہیں ہو گا۔ پھر ایک مرتبہ فرماتا ہے: "اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ یہاں بھی ان آیات کو مبنی بر نعمت کہنا اسی استدلال کی بنا پر ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔

37
55:37
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ وَرۡدَةٗ كَٱلدِّهَانِ
جس وقت آسمان پھٹ جائے گا اور پگھلے ہوئے روغن کی طرح سرخ ہو جائے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
55:38
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
55:39
فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُسۡـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٞ وَلَا جَآنّٞ
اس دن جن و انس میں سے کسی سے اس کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
55:40
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
55:41
يُعۡرَفُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ بِسِيمَٰهُمۡ فَيُؤۡخَذُ بِٱلنَّوَٰصِي وَٱلۡأَقۡدَامِ
بلکہ مجرمین اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔ اس وقت ان کے سرکے اگلے بال اور پاؤں پکڑ لئے جائیں گے (اور وہ دوزخ میں پھینک دیے جائیں گے)۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
55:42
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
55:43
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ
(کفار سے کہا جائے گا)یہ وہی دوزخ ہے کہ مجرم جس کا انکار کر تے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
55:44
يَطُوفُونَ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَ حَمِيمٍ ءَانٖ
آج دوزخ اور اس جلانے والے پانی کے درمیان وہ آمدورفت رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
55:45
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر: گنہگار اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

گزشتہ آیتوں کے تتبع میں کہ جو قیامت کے بعض حوادث کو بیان کرتی تھیں، یہ آیتیں بھی اسی طرح اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے قیامت کے منظر کی کچھ خصوصیات اور حساب و کتاب کی کیفیت اور عذاب و سزا کے بیان پر مبنی ہیں۔ پروردگارِ عالم پہلے فرماتا ہے: "جس وقت کہ آسمان شگافتہ ہو کر پگھلے ہوئے روغن کی طرح گلگون ہو جائے تو ہولناک حوادث واقع ہوں گے جن کے تحمل کی کسی میں طاقت نہیں ہو گی"۔ (فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ)۔ [تشریحی نوٹ: یہ کہ "إِذَا" اس جملے میں شرطیہ ہے یا فجائیہ یا ظرفیہ، اس میں کئی احتمالات ہیں، لیکن بہتر وہی پہلا احتمال ہے اور شرط کی جزا محذوف ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تقدیرِ عبارت اس طرح ہو: "فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ كَانَ أَهْوَالٌ لَا يُطِيقُهَا الْبَيَانُ"۔ جب آسمان پھٹ کر پگھلے ہوئے تیل کی طرح ہو گا تو ایسے خوفناک ہوں گے کہ جو بیان نہیں ہو سکتے]۔ قیامت سے تعلق رکھنے والی تمام آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن دنیا کا موجودہ نظام کلی طور پر درہم برہم ہو جائے گا اور دنیا میں بہت ہی ہولناک حوادث رونما ہوں گے۔ ستارے، سیّارے، زمین، آسمان سب تلپٹ ہو جائیں گے اور وہ مسائل، کہ جن کا تصور آج ہمارے لیے مشکل ہے، درپیش ہوں گے۔ منجملہ ان مسائل کے کہ جو مذکورہ بالا آیات میں آئے ہیں، یہ ہے کہ آسمانی کرّے شق ہو جائیں گے اور سُرخ رنگ کے روغن کی طرح پگھلی ہوئی شکل اختیار کر لیں گے۔ "وَرْدَةٌ" اور "وَرْدٌ" کے معنی پھول ہیں اور چونکہ پھول عام طور پر سرخ رنگ کے ہوتے ہیں، لہٰذا یہاں سرخ رنگ پر دلالت کرتا ہے۔ یہ لفظ سرخ گھوڑوں کے لیے بھی آیا ہے اور اس بنا پر کہ اس قسم کے گھوڑے مختلف موسموں میں اپنا رنگ بدل لیتے ہیں—فصلِ بہار میں وہ زردی مائل ہو جاتے ہیں، سردی کے موسم میں سرخ رنگ کے اور زیادہ سردی پڑے تو سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں—لہٰذا وہ تبدیلیاں جو قیامت کے دن آسمان میں واقع ہوں گی، ان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ کبھی آسمان آگ کے شعلوں کی طرح سرخ و سوزاں، کبھی دھویں سے آلودہ سیاہ ہو گا۔ "دِهَانٌ" (بروزن کتاب) پگھلے ہوئے روغن کو کہتے ہیں، کبھی اس تلچھٹ کے لیے آتا ہے جو روغن میں تہہ نشین ہوتی ہے اور عام طور پر اس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تشبیہ اس وجہ سے ہو کہ آسمان کا رنگ پگھلے ہوئے روغن کی شکل میں سرخ نکل آئے گا، یا پھر اس سے آسمانی کرّوں کے پگھل جانے کی طرف اشارہ ہے یا اس کے مختلف رنگوں کی طرف۔ بعض مفسرین نے دِهَانٌ کی تفسیر سرخ رنگ کے چمڑے سے بھی تفسیر کی ہے۔ بہرصورت، یہ تمام تشبیہات اس ہولناک منظر کا صرف ایک ہیولا پیش کر سکتی ہیں کیونکہ وہ صورتِ حال دنیا کے کسی واقعہ سے حقیقی مشابہت نہیں رکھتی۔ وہ ایسے مناظر ہیں کہ جب تک کوئی انہیں دیکھ نہ لے، سمجھ نہیں سکتا۔ چونکہ میدانِ قیامت میں یا اس سے پہلے ان ہولناک حوادث کے وقوع کی خبر دینا مجرمین و مومنین کے لیے تنبیہ ہے، لہٰذا الطافِ الٰہی میں سے ایک لطف ہے۔ اسی بنا پر ساتھ جملے کی تکرار ہوتی ہے اور پروردگار عالم فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟" (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد کی آیت میں قیامت کے حوادثِ تکوینی کی وجہ سے اس روز گنہگار انسان کی جو حالت ہو گی، اسے پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "اس دن جن و انس میں سے کسی شخص سے بھی اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔" (فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ)۔ سوال کیوں نہیں ہو گا؟ اس لیے کہ اس دن سب کچھ واضح اور آشکار ہو گا، وہ "یوم البروز" ہے۔ ہر انسان کے اعمال اس کے چہرے سے ظاہر ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ یہ آیت ان آیتوں سے متصادم ہے جو قیامت میں بندوں سے سوال کے مسئلے پر تاکید کرتی ہیں، مثلاً سورہ صافات، آیت ٢۴:(وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ) "انہیں روکو تاکہ ان سے سوال کیا جا سکے۔" اور سورہ حجر، آیات ٩٢-٩٣: (فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ)۔ "تیرے پروردگار کی قسم، ان سب سے سوال کریں گے ان کاموں کے متعلق جو وہ انجام دیتے تھے۔" لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے یہ مشکل حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ قیامت ایک بہت طویل دن ہے اور انسان کو متعدد مواقف اور گزرگاہوں میں سے گزرنا ہے اور ہر منظر و موقف میں ایک مدت تک ٹھہرنا ہے۔ بعض روایات کے مطابق پچاس مواقف ہوں گے۔ ان میں سے بعض میں بالکل سوال نہیں ہو گا بلکہ رخسار کا رنگ اندرونی کیفیت کا پتہ دے گا، جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں آئے گا۔ بعض مواقف میں انسان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضائے بدن شہادت دینے کے لیے مستعد ہو جائیں گے۔ [بحوالہ: سورہ یٰسین: ۶۵]۔ اور بعض مواقف میں انسانوں سے نہایت باریک بینی کے ساتھ سوال ہوں گے [بحوالہ: مثلاً آیت زیر بحث اور وہ دو آیات جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے]، بعض دوسرے مواقف میں انسان اپنے دفاع کے لیے لڑائی جھگڑا کرنے لگیں گے۔ [بحوالہ: سورہ نحل: ۱۱۱]۔ خلاصہ یہ کہ ہر منظر کے کچھ تقاضے ہیں اور ہر منظر دوسرے منظر سے زیادہ خوفناک ہے۔ پھر اس کے تتبع میں سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے"؟ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ جی ہاں! اس دن سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرم اپنی علامتوں سے پہچانے جائیں گے۔ (يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ)۔ [تشریحی نوٹ: "سِيمَا" اصل میں علامت و نشانی کے معنوں میں ہے، اور ہر قسم کی علامت جو ان کے چہرے یا بدن کے دوسرے حصے میں ہو، اس پر حاوی ہے، لیکن چونکہ عام طور پر خوشحالی و بدحالی کی علامتیں چہرے ہی پر نمایاں ہوتی ہیں، لہٰذا اس لفظ کے بیان سے چہرہ ہی سامنے آتا ہے]۔ ایک گروہ ایسا ہو گا کہ جن کے چہرے نورانی اور درخشاں ہوں گے، جو ان کے ایمان و عملِ صالح پر دلالت کرتے ہوں گے۔ دوسرا گروہ سیاہ، تاریک اور قبیح چہروں والا ہو گا، جو ان کے کفر اور گناہ کی علامتیں ہیں، جیسا کہ سورہ عبس کی آیت ۳۸ تا ۴۱ میں ہمیں ملتا ہے: (وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ، ضَاحِکَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ، وَوُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌ، تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ)۔ اس دن نورانی اور درخشاں چہرے بھی ہوں گے اور تاریک چہرے بھی، جنہیں خاص قسم کی سیاہی نے گھیر رکھا ہو گا۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اس کے بعد سر کے آگے کے بال اور پاؤں پکڑے جائیں گے اور انہیں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا"۔ (فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالْأَقْدَامِ)۔ "نواصی" ناصیہ کی جمع ہے، جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے کہ ناصیہ اصل میں سر کے آگے کے بالوں کے معنی میں ہے۔ اس کا مادہ "نَصَأَ" (بروزنِ "نَصَرَ") ہے، جس کے معنی اتصال و پیوستگی کے ہیں اور "أَخَذَ بِالنَّاصِیَةِ" سر کے اگلے بالوں کے پکڑنے کے معنی میں ہے اور کبھی کسی چیز پر مکمل قبضے کے کنایہ کے طور پر بھی آتا ہے۔ "أقدام" جمع ہے "قدم" کی، جس کے معنی پاؤں ہیں۔ مجرموں کے سروں کے اگلے بالوں اور ان کے پاؤں کا پکڑنا ممکن ہے کہ حقیقی معانی کے اعتبار سے ہو، یعنی مامورینِ من اللہ ان دو چیزوں کو پکڑ کر زمین سے اٹھا کر نہایت ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ میں پھینک دیں گے، یا یہ کہ مجرمین کو انتہائی ذلت کے ساتھ جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ منظر کیا ہی دردناک اور وحشت ناک ہو گا۔ چونکہ معاد کے سلسلہ میں ان چیزوں کا یاد دلانا تنبیہ ہونے کی وجہ سے سب کے لیے ایک نوازش ہے، لہٰذا سب کو مخاطب کر کے مزید کہتا ہے:"تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟" (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے: "یہ وہی دوزخ ہے جس کا مجرم ہمیشہ انکار کرتے ہیں"۔ (هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ)۔ چونکہ مخاطب محشر میں موجود ہوں گے اور قیامت میں ان سے یہ بات کہی جائے گی، یا مخاطب ذاتِ پیغمبر ہے اور دنیا میں اس سے کہا گیا ہے، اس لیے مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں، لیکن آیت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جو دوسرے معانی کو تقویت دیتے ہیں، کیونکہ فعلِ مضارع "يُكَذِّبُ" کا استعمال اور جملہ غائب کا مجرموں کے عنوان سے استفادہ اس چیز پر دلالت کرتا ہے کہ خدا اپنے پیغمبر (ﷺ) سے کہتا ہے کہ یہ اوصاف اس دوزخ کے ہیں جس کا مجرمین ہمیشہ انکار کرتے ہیں، یا پھر یہ کہ مخاطب تمام جن و انس ہیں، جنہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ وہ جہنم، جس کا مجرمین انکار کرتے ہیں، اس قسم کے اوصاف کا حامل ہے کہ جنہیں تم سن رہے ہو، لہٰذا خبردار رہو، کہیں تمہارا انجام تمہیں وہاں نہ لے جائے۔ دوبارہ جہنم کی تصریح اور اس کے دردناک عذاب کے سلسلے میں مزید کہتا ہے: "مجرم دوزخ اور جلانے والے پانی کے درمیان آمد و رفت رکھتے ہیں"۔ (يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ)۔ "آن" اور "آنی" یہاں اس پانی کے معنوں میں ہے جو کھولتا ہوا ہو۔ اصل میں "أنا" (بروزنِ "رضا") کے مادہ سے وقت کے معنی میں آتا ہے، کیونکہ جلانے والا پانی اپنی آخری حد کو پہنچ چکا ہے۔ تو اس طرح، ایک طرف تو جہنم کے جلانے والے شعلوں کے درمیان چلیں گے اور پیاسے ہوں گے اور پانی کی تمنا کریں گے، دوسری طرف انہیں کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا (یا ان پر پھینکا جائے گا) اور یہ دردناک سزا و عذاب ہے۔ بعض آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ "حمیم" نامی جلانے والا چشمہ جہنم کے قریب ہے، کہ پہلے دوزخیوں کو اس میں لے جائیں گے اور پھر انہیں جہنم کی آگ میں پھینکیں گے: (يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ) (المؤمن: ۷۱-۷۲) (يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ) کی تعبیر زیر بحث آیت میں انہی معنوں سے مناسبت رکھتی ہے۔ پھر اس شدید خطرے سے بیدار کرنے کی حالت اور اس تنبیہ کو، جو بجائے خود ایک لطفِ پروردگار ہے، بیان کر کے کہتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے"؟ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔

46
55:46
وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ
اور اس شخص کے لئے کہ جو اپنے پروردگار سے ڈرے جنت کے دوباغ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
55:47
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
55:48
ذَوَاتَآ أَفۡنَانٖ
جنت کے ان دوباغوں میں انواع و اقسام کی نعمتیں اور طراوت رکھنے والے درخت ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
55:49
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
55:50
فِيهِمَا عَيۡنَانِ تَجۡرِيَانِ
ان میں مسلسل دو چشمے جاری ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
55:51
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
55:52
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَٰكِهَةٖ زَوۡجَانِ
ان دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو دو ، قسمیں موجود ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
55:53
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
55:54
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشِۭ بَطَآئِنُهَا مِنۡ إِسۡتَبۡرَقٖۚ وَجَنَى ٱلۡجَنَّتَيۡنِ دَانٖ
یہ اس حالت میں ہے کہ وہ ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں کہ جن کے استر ریشم کے ہیں اور ان دونوں باغوں کے پکے ہوئے پھل ان کی دسترس میں ہوں گے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
55:55
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر: یہ دونوں جنتیں خائفین کے اِنتظار میں ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

اِن آیتوں میں دوزخیوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر پروردگارِ عالم نے جنّتیوں کو موضوعِ گفتگو بنایا ہے، اس طرح اللہ نے جنّت کی دلپذیر اور شوق انگیز نعمتوں کا شمار کرایا ہے تاکہ اِن نعمتوں کا دوزخیوں پر نازل ہونے والے عذابوں اور سزاؤں سے موازنہ کر کے دونوں میں سے ہر ایک کی اہمیت کو واضح کرے۔ وہ فرماتا ہے: "اس شخص کے لیے کہ جو اپنے پروردگار کے مرتبے سے خائف ہے، جنّت کے دو باغ ہیں" (وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ)۔ "مقامِ پروردگار سے خوف" سے مراد قیامت کے مختلف موقفوں میں قیام کا خوف، حساب کی غرض سے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونے کا خوف، یا خدا کے اس علم اور دائمی نگہبانی کا خوف ہے جو وہ تمام انسانوں کے بارے میں رکھتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: پہلی صورت میں یہ لفظ "مقام" اسم مکان ہے، دوسری صورت میں مصدر ہے]۔ دوسری تفسیر اس بات سے مناسبت رکھتی ہے جو سورۂ رعد کی آیت ٣٣ میں آئی ہے جہاں خدا فرماتا ہے: (أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ)۔ "کیا وہ جو سب کے سرہانے موجود ہے اور سب کے اعمال کا نگہبان و نگران ہے، اس شخص کی مانند ہے جو یہ صفتیں نہیں رکھتا؟" ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ يَرَاهُ وَ يَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَ يَعْلَمُ مَا يَعْمَلُهُ مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرٍّ فَيَحْجُزُهُ ذَٰلِكَ عَنِ الْقَبِيحِ مِنَ الْأَعْمَالِ فَذَٰلِكَ الَّذِي خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ"۔ "جو شخص جانتا ہے کہ خدا اسے دیکھتا ہے اور جو کچھ یہ کہتا ہے وہ سنتا ہے اور خیر و شر میں سے جو کچھ یہ انجام دیتا ہے اسے وہ جانتا ہے اور یہ توجہ اس انسان کو اعمالِ قبیح سے روکتی ہے، تو یہی وہ شخص ہے جو اپنے رب کے مقام سے خائف ہے اور اس نے اپنے آپ کو ہوائے نفس سے باز رکھا ہے"۔ [تشریحی نوٹ: اصولِ کافی کے مطابق "نور الثقلین" جلد ۵، صفحہ ١٩٧ کی تشریح حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام نے یہ گفتگو سورہ نازعات کی آیت ۴۰ (وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ) کی تفسیر میں فرمائی۔ اگرچہ دونوں آیات کا مفہوم ایک ہی ہے]۔ ایک تیسری تفسیر اور بھی ہے اور وہ یہ کہ یہاں مراد صرف خدا کا خوف ہے، نہ جہنم کی آگ کا نہ نعماتِ جنّت کے لالچ کی وجہ سے کوئی خوف ہے بلکہ صرف مقامِ پروردگار اور اس کے جلال کا خوف ہے۔ ایک چوتھی تفسیر بھی ہے کہ "مقامِ پروردگار" سے مراد عدالتِ الٰہی کا مقام ہے، کیونکہ اس کی ذاتِ مقدس خوف کا باعث نہیں بلکہ خوف اگر ہے تو اس کی عدالت سے ہے اور عدالت سے خوف کی بازگشت بھی خود انسان کے اپنے اعمال کی طرف ہے۔ کیونکہ جس کا حساب پاک ہے، اسے محاسبہ سے کیا باک ہے؟ مجرم جس وقت عدالت یا زندان کے پاس سے گزرتے ہیں تو ڈرتے ہیں، لیکن بےگناہ لوگوں کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہاں عدالت ہے یا کوئی اور جگہ۔ پروردگار سے خائف ہونے کے مختلف سرچشمے ہیں: • کبھی تو ناپاک اعمال اور غلط افکار کی وجہ سے خوفِ خدا لاحق ہوتا ہے۔ • اور کبھی مقربین بارگاہِ الہی کے لیے اس کے قرب کی بنا پر کبھی چھوٹا سا ترک اولی اور معمولی سی غفلت بھی خوف خدا کا سبب بن جاتی ہے۔ • کبھی ان سب سے ہٹ کر جب اس کی لامحدود ذات اور لامتناہی عظمت کا تصور کرتے ہیں تو اس کے مقابلے میں اپنی حقارت کا احساس کرنے سے خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ وہ خوف ہے جو پروردگار کی انتہائی معرفت کے وقت حاصل ہوتا ہے اور اس کی بارگاہ کے مخصوص عارف اور مخلص فرد کو لاحق ہوتا ہے۔ یہ چاروں تفسیریں آپس میں تضاد نہیں رکھتیں اور یہ ممکن ہے کہ مفہومِ آیت میں ان سب کا اجتماع ہو۔ باتی رہیں دو جنتیں (بہشت کے دو باغ) تو ہو سکتا ہے کہ ایک بہشتِ مادی و جسمانی ہو اور دوسری بہشت معنوی و روحانی، جیسا کہ سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۵ میں آیا ہے: (لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَ أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ)۔ اس آیت میں جسمانی جنت کے علاوہ، کہ جس کے درختوں کے نیچے سے نہریں گزرتی ہیں اور اس میں پاکیزہ بیویاں ہیں معنوی بہشت کہ جو خوشنودی خدا ہے اس کا بھی بیان ہے۔ یا یہ کہ پہلی جنت انہیں ان کی نیک اعمال کے صلہ میں دی جائے گی اور دوسری بہشت بطور تفضل عطا کی جائے گی۔ جیسا کہ سورۂ نور کی آیت ٣٨ میں آیا ہے: (لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَ يَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ)۔ مقصد یہ ہے کہ خدا ان کو ان کے بہترین اعمال کا اجر دے گا اور اپنے فضل سے اس پر مزید اضافہ کرے گا۔ یا یہ کہ ایک جنت اطاعت کی بنا پر اور دوسری معصیت کے ترک کی بنا پر ہے۔ یا ایک ایمان و عقیدہ کی وجہ سے ہے اور دوسری اعمالِ صالح اور اسی قسم کے دوسرے امور کے صلہ میں ہے۔ یا یہ کہ چونکہ مخاطب جنّ و انس ہیں تو ان دونوں جنتوں میں سے ہر ایک الگ گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اِن تفاسیر میں سے کسی کے حق میں بھی کوئی خاص دلیل نہیں ہے، جب کہ یہ ممکن ہے کہ آیت سے یہ سب کی سب تفسیریں مراد ہوں۔ وہ چیز جو طے شدہ اور یقینی ہے کہ خدا جنّت کے کئی باغات اپنے صالح بندوں کے اختیار میں دے گا، جن میں ان کی آمد و رفت ہو گی اور دوزخی آگ اور جلانے والے پانی کے درمیان مقیم ہوں گے، یہ تھے جنّت کے دو باغ، پھر اس عظیم نعمت کے بعد سب کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد ان دونوں بہشتوں کی تعریف و توصیف میں مزید ارشاد فرماتا ہے: وہ انواع و اقسام کی نعمتوں اور طراوت رکھنے والے شاخ دار درختوں کی حامل ہیں (ذَوَاتَا أَفْنَانٍ)۔ "ذواتا" "ذات" کا تثنیہ ہے جس کے معنی صاحب و حامل کے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین کے نظریے کے مطابق "ذات" کی اصل، جو کہ مفرد مؤنث ہے، "ذوات" تھی، جس کی داؤ تخفیف کی وجہ سے حذف ہو گئی اور "ذات" کی شکل میں رہ گئی۔ چونکہ تثنیہ الفاظ کو ان کی اصل کی طرف پلٹا دیتا ہے، تو یہاں "ذواتان" ہو گیا ہے اور اضافت کی وجہ سے اس کا نون حذف ہو گیا ہے۔ مجمع البحرین میں آیا ہے کہ "ذو" بروزنِ صدا تھی، تو اس بنا پر تعجب کی بات نہیں کہ اس کی مؤنث ذوات ہو]۔ "أفنان" جمع ہے "فنن" (بروزن قلم) کی، یہ تروتازہ شاخوں اور ٹہنیوں کے معنی میں ہے جن میں خوب پتّے لگے ہوئے ہوں۔ یہ لفظ بعض اوقات "نوع" کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور زیر بحث آیت میں اس بات کا امکان ہے کہ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہو۔ پہلی صورت میں جنّت کے درختوں کی طراوت رکھنے والی تروتازہ شاخوں کی طرف اشارہ ہو برخلاف دنیا کے درختوں کی شاخوں کے کہ جو پُرانی اور نئی دونوں قسم کی شاخوں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں بہشت کی نعمتوں کے تنوع اور اس کی مختلف نعمتوں کی طرف اشارہ ہو، ان دونوں معانی کے اختیار کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ جنّت کے درخت اس قسم کے ہیں کہ ایک ہی درخت کی بہت سی شاخیں ہیں اور ہر شاخ پر مختلف قسم کے پھل ہیں۔ اس نعمت کے بیان کے بعد پھر اسی سوال کی تکرار ہے کہ "تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ چونکہ ایک سرسبز پُرمسرت اور طراوت رکھنے والے باغ میں درختوں کے علاوہ پانی کے چشمے بھی جاری ہونے چاہئیں، لہٰذا بعد والی آیت میں کہتا ہے: "ان دو بہشتوں میں دو چشمے ہیں کہ جو ہمیشہ جاری رہتے ہیں" (فِیهِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِ)۔ پھر اس نعمت کے مقابلے میں وہی سوال کرتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کو جھٹلاؤ گے" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اگرچہ مذکورہ بالا آیت میں ان دونوں چشموں کی کیفیت کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہے، صرف اس کے متعلق "نکرہ" کے عنوان کے ماتحت ایک تعبیر نظر آتی ہے کہ جو اس قسم کے مواقع پر عظمت و اہمیت کی دلیل ہے، لیکن بعض مفسرین نے ان دو چشموں کو "سلسبیل" اور "تسنیم" نام کے دو چشمے، جو بالترتیب سورہ "دھر" کی آیت ۱۸ اور "مطففین" کی آیت ۲۷ میں بیان کیے گئے ہیں، بطور تفسیر پیش کیے ہیں۔ کبھی کہا ہے کہ ان دونوں چشموں میں سے ایک شراب طہور اور دوسرا عسل مصفیٰ کا ہے، ان دونوں کا ذکر سورہ "محمد" کی آیت ۱۵ میں ہے۔ اور اگر ہم "جنتان" کی تفسیر گزشتہ آیتوں میں موجود معنوی اور مادی جنّتوں کے اعتبار سے کریں تو قدرتاً یہ دونوں چشمے بھی ایک معنوی (چشمۂ معرفت) اور دوسرا مادی چشمہ (آب زلال، دودھ، شرابِ طہور یا شہد کا) ہو گا، لیکن ان تفسیروں کے لیے ہمارے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جب گفتگو بہشتی باغوں کے پھلوں اور میووں تک پہنچ جاتی ہے تو فرماتا ہے: "ان میں ہر ایک پھل کی دو قسمیں موجود ہیں" (فِیهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ)۔ ایک وہ قسم جس کا نمونہ دنیا میں انہوں نے دیکھا ہے اور دوسری وہ قسم جس کی مثل و نظیر اس دنیا میں ہرگز نہیں دیکھی۔ بعض مفسّرین دو قسم کی تفسیر گرمی اور سردی کے پھلوں، خشک و تر یا چھوٹے بڑے پھلوں کے اعتبار سے کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی واضح دلیل نہیں ہے، اتنی بات طے شدہ ہے کہ جنّت کے پھل مکمل طور پر متنوع اور گوناگوں ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ پُرکشش اور عمدہ ہے۔ اس کے بعد پروردگار عالم پھر فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کِس کِس نعمت کا انکار کرو گے" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ گزشتہ آیتوں میں جنّت کے ان دونوں باغوں کی خصوصیات کے تین حصّے بیان ہوئے ہیں، اب ہم اس کی چوتھی خصوصیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "یہ اس حالت میں ہیں کہ جنّتی فرش پر بیٹھے ہیں اور تکیے لگائے ہوئے ہیں کہ جن کے استر ریشم اور استبرق کے ہیں" (مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ)۔ [تشریحی نوٹ: "مُتَّکِئینَ" حال ہے ان بہشتیوں کا، جو گزشتہ آیتوں میں (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ) کے عنوان سے بیان کیے گئے ہیں]۔ عام طور پر انسان تکیہ اس وقت لگاتا ہے کہ جب انتہائی آرام اور امن کے ماحول میں ہو، یہ تعبیر بہشتیوں کی روح کی مکمل تسکین و آرام کی نشاندہی کرتی ہے۔ "فرش" (بروزن شتر) جمع اس کی "فراش" ہے جس کے معنی ہیں ایسے فرش جو بچھائے جاتے ہیں۔ "بطائن" جمع ہے "بطانہ" کی جس کے معنی استر کے ہیں اور "استبرق" موٹے اور ضخیم ریشم کے معنوں میں ہے۔ قابلِ توجہ اور پُرکشش بات یہ ہے کہ یہاں بہت قیمتی کپڑا جس کا دنیا میں تصور ہو سکتا ہے، اس کا ان فرشوں کے استر کے طور پر ذکر ہوا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا اوپر والا حصہ ایسی چیز ہے کہ جس کی لطافت، زیبائی اور جاذبیت تعریف و توصیف سے ماورا ہے۔ کیونکہ عام طور پر دنیا میں استر کو اس وجہ سے کہ وہ دکھائی نہیں دیتا، کم قیمت جنس سے تیار کرتے ہیں تو اس طرح اس جہاں کی کم قیمت اجناس کی جگہ اس جہان میں نہایت قیمتی جنس مستعمل ہے۔ تو اب سوچنا چاہیے کہ اس جہاں کی بیش قیمت چیزیں کیسی ہوں گی۔ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ پروردگارِ عالم کی ان نعمتوں میں سے کہ جو دوسرے جہان سے متعلق ہیں، کوئی نعمت ایسی نہیں کہ جو الفاظ میں بیان ہو سکے یا یہ کہ ہم ان کے تصور کی طاقت رکھتے ہوں۔ ہمارے ذہنوں پر صرف ایک تصوّراتی پیکر دُور ہی سے متجلّی ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی ہمیں ملتا ہے کہ جنتی "ارائک" یعنی سائبان والے تخت اور بغیر سائبان کے تخت پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے لیکن یہاں فرماتا ہے: کہ فرش پر تکیہ لگائے ہوں گے، ہو سکتا کہ یہ لذّاتِ بہشتی کے تنوع کی بنا پر ہو کہ کبھی تخت پر اور کبھی فرش پر تکیہ لگا کر بیٹھیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان بیش قیمت فرشوں کو ان تختوں پر بچھا دیں۔ یا پھر اس سے زیادہ معاملات کی طرف اشارہ ہو جن کا ادراک اس دنیا میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہیں ہے، آخر میں پانچویں نعمت کے سلسلہ میں اسی بہشتی باغ کی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ان دونوں بہشتوں کے پکے ہوئے پھل ان کی دسترس میں ہوں گے (وَجَنَی الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ)۔ جی ہاں! وہ زحمت و تکلیف کہ جو عام طور پر دنیا میں پھل حاصل کرنے میں ہوتی ہے، وہاں کسی بھی طرح نہیں ہے۔ "جنی" (بروزن بقا) اس پھل کو کہتے ہیں جس کو توڑنے کا وقت آ پہنچا ہو اور "دان" اصل میں "دانی" ہے، اس کے معنی نزدیک کے ہیں۔ پھر سب کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے"؟ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔

56
55:56
فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ إِنسٞ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنّٞ
جنت کے باغوں میں ایسی خواتین ہیں کہ جو سوائے اپنے شوہروں کے کسی سے محبت نہیں رکھتیں اور اس سے پہلے کسی جن وانس نے انہیں مس نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
55:57
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
55:58
كَأَنَّهُنَّ ٱلۡيَاقُوتُ وَٱلۡمَرۡجَانُ
وہ یا قوت و مرجان کی مانند ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
55:59
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

60
55:60
هَلۡ جَزَآءُ ٱلۡإِحۡسَٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَٰنُ
کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے علاوہ کچھ اور ہے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 61 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
55:61
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تفسیر: بهشت کی خوبصورت بیویاں

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "بہشت کے محلوں میں ایسی عورتیں ہیں کہ جنہوں نے اپنے شوہروں کے علاوہ کبھی کسی دوسرے مرد کی طرف نہیں دیکھا اور ان کے علاوہ کبھی کسی دوسرے فرد سے محبت نہیں کی" (فِیہِنَّ قاصِرَاتُ الطَّرْفِ)۔ [تشریحی نوٹ: "فیہِنَّ" میں جمع کی ضمیر ممکن ہے کہ بہشتی محلات، ان دو جنتوں کے مختلف باغات، یا ان کی نعمتوں کی طرف لوٹے]۔ "اور کسی جنّ یا انسان نے اس سے پہلے ان سے ملاقات نہیں کی" (لَمْ یَطْمِثْہُنَّ إِنسٌ قَبْلَہُمْ وَلا جَانٌّ)۔ [تشریحی نوٹ: "لَمْ یَطْمِثْہُنَّ" کا مادہ "طمث" ہے جس کے معنی ماہواری کے خون کے ہیں۔ یہ زوال بکارت کے معنوں میں بھی آیا ہے اور یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ جنت کی باکرہ عورتیں ہرگز شوہر نہیں رکھتیں]۔ اس وجہ سے وہ دوشیزہ ہیں، کسی نے ان کو ہاتھ نہیں لگایا، یا وہ ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جنت والی بیوی اپنے شوہر سے کہے گی: "مجھے پروردگار کی عزّت کی قسم ہے کہ میں جنت میں تجھ سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتی۔ حمد و سپاس مخصوص ہے اس خدا کے لیے جس نے مجھے تیری بیوی اور تجھ کو میرا شوہر قرار دیا"۔ [بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۹، صفحہ ۲۰۸]۔ "طرف" (بروزن "حرف") کے معنی پلک کے ہیں، چونکہ دیکھنے کے وقت پلکیں حرکت کرتی ہیں، لہٰذا یہ کنایہ ہے دیکھنے کا۔ اس بنا پر "قاصِرَاتُ الطَّرْفِ" کے الفاظ ایسی عورتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جن کی نگاہ کوتاہ ہے، یعنی وہ صرف اپنے شوہروں سے ہی لگاؤ رکھتی ہیں۔ اور یہ ایک بیوی کا عظیم ترین امتیاز ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی دوسرے کا تصور بھی نہ کرے اور کسی سے کوئی تعلق نہ رکھے۔ پروردگارِ عالم اس نعمت بہشتی کے بعد پھر فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلا ؤ گے" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد ان بہشتی عورتوں کی اور تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہیں" (کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ)۔ سرخی، صفائی اور آب و تاب میں یاقوت اور خوبروئی و سفیدی میں مرجان۔ اس وقت کہ جب یہ دونوں رنگ، سفید اور صاف سرخ، آپس میں ملتے ہیں تو ایک نہایت خوبصورت رنگ بنتا ہے۔ "یاقوت" ایک معدنی پتھر ہے جو عام طور پر سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور مرجان ایک دریائی جانور ہے کہ جو درخت کی شاخ سے مشابہ ہوتا ہے، جو کبھی سفید، کبھی تیز سرخ یا مختلف رنگوں کا ہوتا ہے۔ یہاں بظاہر مراد اس کی سفید قسم سے ہے۔ [تشریحی نوٹ: مرجان کے بارے میں اس سورہ کے آغاز میں آیت ۲۲ کے ذیل میں ہم نے تشریح کی ہے]۔ بارِ دگر جنت کی اس نعمت کے بیان کے بعد فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلا ؤ گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس بحث کے آخر میں فرماتا ہے: "کیا نیکی کی جزا نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز ہو سکتی ہے"؟ (ہَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ)۔ [تشریحی نوٹ: "ھل" اس آیت میں استفہام انکاری کے طور پر ہے۔ حقیقت میں یہ آیت ان گزشتہ آیتوں کی دلیل ہے جن میں جنت کی چھ نعمتوں کا ذکر تھا]۔ وہ افراد کہ جنہوں نے دنیا میں نیک کام کیے ہیں، کیا خدا کی طرف سے ان کے لیے عمدہ جزا کے علاوہ کسی اور شے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ اگرچہ اسلامی روایات یا مفسرین کی تفسیروں میں "احسان" سے مراد توحید ہے یا توحید و معرفت یا اسلام، لیکن یہ امر واضح ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ کوئیسی بھی نیکی، جو عقیدہ، گفتار اور عمل میں ہو، اس کے مفہوم پر حاوی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہے: آیَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مُجْمَلَةٌ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ جَرَتْ فِي الْكَافِرِ وَالْمُؤْمِنِ، وَالْبَرِّ وَالْفَاجِرِ، وَمَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَعَلَيْهِ أَنْ يُكَافِيَ بِهِ، وَلَيْسَ الْمُكَافَأَةُ أَنْ تَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ، حَتَّى تَرْبُوَ، فَإِنْ صَنَعْتَ كَمَا صَنَعَ كَانَ لَهُ الْفَضْلُ بِالِابْتِدَاءِ"۔ "قرآن میں ایک آیت ہے جو عمومیت کامل رکھتی ہے"۔ راوی نے عرض کیا: "وہ کون سی آیت ہے؟" فرمایا: "خداوند تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ (ہَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) کہ جو کافر و مومن، نیک و بد سب کے بارے میں ہے (کہ نیکی کا جواب نیکی سے دینا چاہیے)"۔ جس شخص کے ساتھ نیکی کی جائے، اسے نیکی سے بدلہ ادا کرنا چاہیے۔ اور بدلہ یہ نہیں کہ اس کی نیکی کی مقدار کے برابر نیکی کی جائے بلکہ اس سے زیادہ نیکی کرنی چاہیے۔ اگر نیکی کی اتنی ہی مقدار ہو گی تو اس کی نیکی افضل و برتر ہو گی کیونکہ اس نے ابتدا کی ہے۔ [بحوالہ: "تفسیر عیاشی"، مطابق نقل "نور الثقلین"، جلد ۵، صفحہ ۱۹۹ اور "تفسیر مجمع البیان"، جلد ۹، صفحہ ۲۰۸]۔ اسی وجہ سے بندے کے نیک اعمال کے بدلے میں خدا کی طرف سے جو سلوک ہو گا، وہ زیادہ بہتر ہو گا۔ یہ اس استدلال کی بنا پر ہے کہ جو امام نے مندرجہ بالا حدیث میں ارشاد فرمایا۔ راغب "مفردات" میں کہتا ہے: "احسان ایک ایسی شے ہے جو انصاف سے بہتر ہے، کیونکہ انصاف یہ ہے کہ انسان جو کچھ اس کے ذمے واجب ہے، اسے ادا کرے اور جو اس کا دوسرے پر حق ہے، وہ لے لے۔ لیکن احسان یہ ہے کہ انسان اس سے زیادہ کہ جس کا وہ ذمے دار ہے عطا کرے اور جتنا اس کا حق ہے، اس سے کم لے"۔ پروردگارِ عالم پھر اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے"؟ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ وہ اس لیے کہ یہ قانون، کہ احسان کا بدلہ احسان ہے، بجائے خود ایک عظیم نعمت ہے جو خداوند عظیم کی طرف سے ہے۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ اپنے نیک بندوں سے جو سلوک ہو گا، وہ اس کے اپنے کرم کی بنا پر ہو گا، نہ کہ ان کے اعمال کے مطابق۔ اب اگر وہ اطاعت کرتے ہیں اور نیک عمل بجا لاتے ہیں تو وہ بھی اس کی دی ہوئی توفیق کی نعمت کی بنا پر ہے۔ خدا کی برکتیں بندوں ہی کی طرف لوٹتی ہیں۔

نکتہ: نیکی کی جز ا نیکی ہے

جو کچھ ہم نے مندرجہ بالا آیت میں پڑھا: (هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ)، قرآنی منطق کی رُوسے ایک عمومی قانون ہے کہ جو خدا، مخلوق اور تمام بندگانِ خدا پر حاوی ہے۔ اس قانون کی عمومیت تمام مسلمانوں کو یہ درس دیتی ہے کہ جس شخص کے ساتھ جو نیکی ہو، وہ اس کے بدلے میں ضرور نیکی کرے۔ اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق، اس کا بدلہ یہ نہیں ہے کہ ویسی ہی نیکی کی جائے، بلکہ اس سے بہتر و برتر نیکی بروئے کار لائی جائے۔ ورنہ جس نے احسان کرنے میں پہل کی ہے، اس کی برتری اپنی جگہ مسلم ہے۔ بارگاہِ خداوندی میں ہمارے اعمال کا مسئلہ ایک اور رُخ اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ خدا خود ایسا کریم ہے کہ جس کی رحمت کی موجوں نے تمام عالمِ امکان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اور اس کا انعام و اکرام وہ ہے جو اس کی ذات کو زیب دیتا ہے، ایسا نہیں کہ وہ بندوں کے اعمال کے برابر ہو۔ اس وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ تاریخِ اُمم میں ہمیں متعدد بار ایسا ملتا ہے کہ پُرخلوص افراد کو چھوٹا سا کام انجام دینے کے نتیجے میں بڑے انعامات سے نوازا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، بعض مفسّرین نے تحریر کیا ہے کہ ایک مسلمان نے ایک کافر بڑھیا کو دیکھا جو سردی کے موسم میں پرندوں کے لیے دانے ڈال رہی تھی۔ اس مسلمان نے بڑھیا سے کہا: "تجھ جیسی فرد کا یہ عمل بارگاہِ خداوندی میں قابلِ قبول نہیں ہے"۔ اس بڑھیا نے جواب دیا: "میں یہ عمل ضرور کرتی رہوں گی، چاہے قابلِ قبول ہو یا نہ ہو!" بات آئی گئی ہوئی ایک مدت کے بعد اسی مسلمان کو اس بڑھیا نے حرمِ کعبہ میں دیکھا اور کہا کہ اے بندۂ خدا! پرندوں کے لیے مُٹھی بھر دانے ڈالنے کی برکت نے مجھے نعمتِ اسلام سے نوازا ہے"۔ [بحوالہ: روح البیان، جلد ۹، صفحہ ۳۱۰]۔

62
55:62
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
اور ان سے بہت نیچے دو اور باغ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
55:63
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
55:64
مُدۡهَآمَّتَانِ
دونوں مکمل طور پر پرمسرت و سرسبز ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

65
55:65
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
55:66
فِيهِمَا عَيۡنَانِ نَضَّاخَتَانِ
ان میں دو چشمے جوش کی حالت میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
55:67
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
55:68
فِيهِمَا فَٰكِهَةٞ وَنَخۡلٞ وَرُمَّانٞ
ان میں پھل کثرت سے ہیں اور کھجور اور انار کے درخت (بھی) ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 69 کے تحت ملاحظہ کریں۔

69
55:69
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟

تفسیر: دو اور جنّتیں اپنے حیران کُن اوصاف کے ساتھ

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

گزشتہ بحث کو جاری رکھتے ہوئے، جس میں خوفِ خدا رکھنے والوں کو نصیب ہونے والی عالی قدر بہشتوں کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا، پروردگارِ عالم ان آیتوں میں دو اور جنتوں کی بات کرتا ہے جو پست درجہ میں ہیں اور قدرتاً ایسے افراد کے لیے ہیں جو ایمان اور خوفِ الٰہی کی بہت نچلی سطح پر فائز ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ایمان اور عملِ صالح کے اعتبار سے مختلف مراتب آتے ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "اور ان سے نیچے دو اور بہشت ہیں"۔ (وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ)۔ مفسرین نے اس جملے کی دو تفسیریں کی ہیں: ایک تو وہی جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ "مِنْ دُونِهِمَا" کے الفاظ یعنی ان دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں ان مومنین کے لیے ہیں جو نئی نئی اشیاء کے اشتیاق میں بہشت کے ان باغات میں سیر کر رہے ہیں۔ انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج نئی نئی اشیاء میں دلچسپی کا عادی ہے اور اس سے اسے لطف حاصل ہوتا ہے، لیکن ان آیتوں کے لب و لہجے سے اور ان روایتوں کی روشنی میں جو اس تفسیر میں وارد ہوئی ہیں، پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفہیم کے بارے میں فرمایا: "جنتان من فضة وآنيتهما وما فيهما، وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما"۔ "دو جنتیں جن کی عمارت اور جو اشیاء ان میں ہیں وہ سب چاندی کی ہیں اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ جن کی عمارت اور جو کچھ ان میں ہے وہ سب سونے کا ہے"۔ سونے اور چاندی کی تعبیر ممکن ہے کہ ان دونوں نعمتوں کے فرق کی طرف اشارہ ہو۔ [بحوالہ: "مجمع البیان" زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔ ایک اور حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے اس میں ہمیں ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "لا تقولن الجنة واحدة، إن الله يقول: 'ومن دونهما جنتان'، ولا تقولن درجة واحدة، إن الله يقول: 'درجات بعضها فوق بعض'، إنما تفاضل القوم بالأعمال"۔ "یہ نہ کہہ کہ ایک جنت ہے، کیونکہ خدا فرماتا ہے: ان دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔ اور یہ بھی نہ کہو کہ صرف ایک ہی درجہ ہے، کیونکہ خدا فرماتا ہے: کئی درجات ہیں جن میں سے بعض بعض سے بہتر ہیں۔ اور یہ فرق اعمال کی بنیاد پر ہے"۔ [بحوالہ: "مجمع البیان" زیرِ بحث آیات کے ذیل میں]۔ اسی وجہ سے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک اور حدیث میں ہے: "جنتان من ذهب للمقربين، وجنتان من ورق لأصحاب اليمين"۔ "دو سونے کی جنتیں ہیں کہ جو مقربین بارگاہ کے لیے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی ہیں جو اصحاب الیمین کے لیے ہیں"۔ ["درالمنثور" جلد ۶، صفحہ ۱۴۶جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، سونے اور چاندی کی تعبیر ممکن ہے کہ ان دونوں جنتوں کے مرتبے کے فرق کی طرف اشارہ ہو]۔ اس کے بعد پھر فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟" (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد ان دونوں جنتوں کی وہ پانچ خصوصیات کہ جن میں سے کچھ اس کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جو سابقہ دو جنتوں کے بارے بتائی گئیں اور کچھ ان سے مختلف ہیں اور ان کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ دونوں پُرمسرت و سرسبز ہیں"۔ (مُدْهَامَّتَانِ)۔ "مُدْهَامَّتَانِ" کا مادہ "ادھیمام" ہے اور "دھمہ" (بروزنِ تہمہ) کی جڑ سے سیاہی اور رات کی تاریکی کے معنوں میں ہے۔ خوش رنگ سبز پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور چونکہ یہ رنگ گھاس اور درختوں کی انتہائی شادابی کی علامت ہے، لہٰذا یہ تعبیر ان دونوں جنتوں کی انتہائی سرسبزی و شادابی کو بھی واضح کرتی ہے۔ اس مقام پر پھر اضافہ کرتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاو گے"۔ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ) اس کے بعد والی آیت ان دونوں جنتوں کے پھلوں کے بارے میں کہتی ہے: "ان دونوں جنتوں میں دو چشمے ہیں جو جوش مار رہے ہیں"۔ (فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ)۔ "نَضَّاخَتَانِ" کا مادہ "نَضْخٌ" ہے، جس کے معنی پانی کے ابل کر نکلنے کے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر جن و انس سے استفہام انکاری کی صورت میں پوچھتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاو گے"۔ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ) اس کے بعد کی آیت ان دونوں جنتوں کے پھلوں کے بارے میں کہتی ہے: "ان میں پھل کثرت سے ہیں اور خرما اور انگور کے درخت ہیں"۔ (فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ "فَاكِهَةٌ" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس سے تمام قسم کے پھل مراد ہوتے ہیں، لیکن کھجور اور انار کی اہمیت اس کا سبب بنی ہے کہ ان دو پھلوں کا بطور خاص ذکر کیا جائے۔ اور یہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے کہ مذکورہ دونوں پھل "فَاكِهَةٌ" کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں، یہ غلط ہے، کیونکہ علمائے لغت نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ اصولاً، "عام" پر "خاص" کا عطف ایسے مواقع پر جب کوئی خاص امتیاز نہ رکھتا ہو، معمول میں داخل ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۹۸ میں ہے: "مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ"۔ "جو شخص خدا، اس کے ملائکہ اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور جبرائیل و میکائیل کا دشمن ہو (اور کافر ہو) تو خدا کافروں کا دشمن ہے"۔ یہاں جبرائیل و میکائیل، جو خدا کے عظیم فرشتوں میں سے دو فرشتے ہیں، ملائکہ کے بیان کے بعد بطورِ خاص موردِ توجہ قرار پائے ہیں۔ پھر اس سوال کی تکرار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاو گے"۔ (فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ)

نکتہ: پھلوں کی قدر و قیمت

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیتوں میں جنّت کی غذاؤں کے سلسلہ میں صرف پھلوں پر انحصار کیا گیا ہے اور تمام پھلوں میں سے خرما اور انار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ کھجور کے درخت کو "نخل" کہا گیا ہے، لیکن انار کے بارے میں خود پھل کا نام لیا گیا ہے۔ یقیناً ہر ایک میں کوئی نکتہ پوشیدہ ہے۔ جنّت کی غذاؤں کے سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ پھلوں کا ذکر اس اہمیت کی بنا پر ہے کہ جو غذائیت کے سلسلہ میں پھلوں کو حاصل ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کو پھل کھانے والی مخلوق کہا جاتا ہے۔ پھلوں کا نقش اور ان کا اثر انسان کی خوشی اور شادابی کے سلسلہ میں نہ صرف علمی نقطہ نظر سے بلکہ عام تجربات کی رو سے بھی نمایاں ہے۔ باقی رہا کھجور کے درخت کا ذکر اس کے پھل کی بجائے، تو ممکن ہے یہ اس لحاظ سے ہو کہ کھجور کا درخت اپنے پھل کے علاوہ بھی کئی حیثیتوں سے فائدہ مند ہے، جب کہ انار کا درخت ایسا نہیں ہے۔ کھجور کے پتوں سے مختلف قسم کا سامان تیار کیا جاتا ہے، مثلاً فرش، ٹوپی، حمل و نقل کے مختلف ذرائع، حتیٰ کہ اس سے سونے کے لیے چارپائی بھی بنائی جاتی ہے۔ اس کے چھلکوں سے مختلف فائدے اٹھائے جاتے ہیں اور اس کے بعض اجزاء بطور دوا کام آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے تنوں سے بعض مکانوں کے ستون کا کام لیا جاتا ہے۔ یا پھر انہیں کسی چھوٹی نہر کو عبور کرنے کے لیے پل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ جنّت کے پھلوں میں سے صرف دو کا ذکر کیوں ہوا، تو یہ ان دونوں کے تنوع کی وجہ سے ہے۔ ان میں سے ایک عام طور پر گرم علاقوں میں اُگتا ہے، دوسرا سرد علاقوں میں۔ ایک میں قند و شکر کا مادہ ہے، دوسرے میں تیزابی ایک مزاج و طبیعت کے اعتبار سے گرم ہے، دوسرا سرد۔ ایک غذا ہے اور دوسرا پیاس کو دور کرتا ہے۔ کھجور میں موجود موادِ حیاتی اور اس کے کئی وٹامن، کہ جو موجودہ زمانے میں معلوم ہوئے ہیں، ان کے بارے میں یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ کھجور میں تیرہ سے زیادہ حیاتیاتی مادہ اور پانچ قسم کے وٹامنز ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اور دوسرے خواص ہیں، جن کے بارے میں ہم سورۂ مریم کی آیت ۲۵ کے ذیل میں ایک قوّت بخش غذا کے عنوان کے تحت گفتگو کر چکے ہیں۔ [بحوالہ: "تفسیر نمونہ"، جلد ۷، صفحہ ۲۵۲]۔ باقی رہا انار، تو وہ بعض اسلامی روایات میں "سید الفاکھة" یعنی بہترین پھل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ [بحوالہ: یہ تعبیر ایک حدیث میں پیغمبر اسلام ﷺ سے منقول ہے، "بحار الانوار"، جلد ۶۶، صفحہ ۱۶۳]۔ وہ ماہرین جو غذا شناسی میں امتیازِ خاص رکھتے ہیں، انہوں نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہی ہیں۔ منجملہ دوسری خصوصیات کے، انہوں نے کھجور میں خون صاف کرنے کی صلاحیت کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس میں وٹامن C کی کافی مقدار ہوتی ہے۔ انار کے بارے میں بھی بہت سے فوائد کتابوں میں ملتے ہیں: • یہ معدہ کو تقویت دیتا ہے۔ • پرانے زخم کو اچھا کرتا ہے۔ • پرقان اور صفرا کے بخار کو دور کرتا ہے۔ • دفع خارش کے لیے مفید ہے۔ • نظر کو تقویت دیتا ہے۔ • مسوڑھوں کے لیے قوت بخش ہے۔ • اسہال کو ختم کرتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے: "اَطعِموا صِبیانَکُمُ الرّمانَ فَاِنَّهُ اَسرَعُ لِشَبابِهِم"۔ "اپنے بچوں کو انار کھلاؤ، یہ ان کو جلد جوان کرتا ہے"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۶۶، صفحہ ۱۶۴]۔ ایک اور حدیث میں ہے: "فَاِنَّهُ اَسرَعُ لِاَلسِنَتِهِم"۔ "انار کھانے سے بچے زیادہ جلدی بولنے لگتے ہیں"۔ [بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۶۶، صفحہ ۱۶۵]۔ ایک اور حدیث امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، جس میں آپ نے فرمایا: "ما عَلیٰ وَجهِ الاَرضِ ثَمَرَةٌ کانَت اَحَبَّ اِلیٰ رَسُولِ اللّٰہِ مِنَ الرّمانِ"۔ "رسول اللہ ﷺ کو انار سے زیادہ روئے زمین کا کوئی پھل پسند نہیں تھا"۔ [بحوالہ: کافی، جلد ۶، صفحہ ۳۵۲]۔

70
55:70
فِيهِنَّ خَيۡرَٰتٌ حِسَانٞ
ان بہشت کے باغوں میں اچھے اخلا ق والی عورتیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
55:71
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کی تکذیب کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
55:72
حُورٞ مَّقۡصُورَٰتٞ فِي ٱلۡخِيَامِ
ایسی حوریں کہ جو جنت کے مستورخیموں میں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
55:73
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
55:74
لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ إِنسٞ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنّٞ
ایسی عورتیں کہ جن سے کبھی پہلے کسی انسان یا جن نے ملاقات نہیں کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
55:75
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کا انکار کروگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

76
55:76
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ رَفۡرَفٍ خُضۡرٖ وَعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٖ
یہ اس حالت میں ہے کہ جنتی لوگ تختوں پر تکئے لگائے ہوئے ہیں جن پر بہترین اور خوبصورت ترین سبزرنگ کے فرش بچھائے گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
55:77
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس تم اپنے پروردگارکی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

تفسیر آیت 78 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
55:78
تَبَٰرَكَ ٱسۡمُ رَبِّكَ ذِي ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ
بابرکت اور زوال نا آشنا ہے تیرے صاحب جلال و جمال پروردگار کا نام۔

تفسیر: جنّت کی بیویوں کا دُوسری مرتبہ تذکرہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 8

اِن دونوں جنّتوں کی نعمتوں کی تشریح کو جاری رکھتے ہوئے، کہ جن کا ذکر سابقہ آیتوں میں ہوا ہے، ان آیتوں میں بھی ان نعمتوں کے ایک اور حصہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ان دونوں جنّتوں میں بھی عورتیں ہیں جو اچھے اخلاق والی اور خوبصورت ہیں" (فِیہِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ)۔ [تشریحی نوٹ: "فیھن" کی ضمیر جمع مؤنث ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ ان چاروں جنّتوں کی طرف پلٹ رہی ہو جن کا گزشتہ آیات میں تذکرہ ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخری دو جنّتوں کی طرف مختلف قسم کے محل اور باغات کی بنا پر لوٹے اور یہ تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس نے ان کے معاملے کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا ہے]۔ ایسی عورتیں کہ جن میں حُسنِ سیرت اور حُسنِ صورت دونوں ہیں، اس لیے کہ "خَیْرَ" عام طور پر اچھی صفات اور معنوی خوبصورتی کے لیے اِستعمال ہوتا ہے اور حسن زیادہ تر خوبصورتی یعنی جمالِ ظاہر کے لیے آتا ہے۔ ان روایتوں میں، جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں، جنت کی بیویوں کی بہت سی خوبیاں گنوائی گئی ہیں، جو دنیا کی عالی صفت عورتوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے تاکہ وہ تمام عورتوں کے لیے نمونہ بنیں۔ منجملہ دیگر خوبیوں کے ایک خوبی یہ ہے کہ وہ خوش بیان ہیں۔ ان میں پاکیزگی ہے، وہ تکلیف نہیں پہنچاتیں، غیروں کی طرف نہیں دیکھتیں وغیرہ وغیرہ۔ خلاصۂ کلام یہ کہ ان میں جمال و کمال کی وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک عمدہ بیوی میں ہونی چاہئیں اور جو خوبیاں تمام عورتوں میں ہوں، وہ ان میں سے ہر ایک میں ہیں۔ اسی بنا پر قرآنِ مجید مختصر اور پُرمعنی الفاظ میں انہیں "خَیْرَاتٌ حِسَانٌ" قرار دیتا ہے۔ [تشریحی نوٹ: "خیرات" کے بارے میں بعض نے کہا ہے کہ "خیّرہ" (بروزن سیدہ) کی جمع ہے جسے تخفیف کی بنا پر "خیرات" پڑھا گیا ہے۔ بعض مفسرین اسے "خیرہ" (بروزنِ حیرہ) کی جمع سمجھتے ہیں، بہرحال وہ وصفی معنی رکھتا ہے نہ کہ افعال التفضیل کے معنی، کیونکہ افعل التفضیل کی جمع نہیں بنائی جاتی]۔ اس نعمت کے تذکرہ کے بعد پھر اعادہ کرتا ہے: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد بہشت کی ان عورتوں کی تعریف و توصیف کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "وہ ایسی حُوریں ہیں جو جنّت کے خیموں میں مستور ہیں" (حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ)۔ "حُور" جمع ہے "حوراء" اور "أعور" کی، اس کے معنی ہیں ایسی عورت جس کی آنکھ سیاہ ہو اور اس کا سفید حصہ صاف، شفاف اور چمکدار ہو۔ یہ لفظ بعض اوقات ان عورتوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے، جن کا چہرہ بالکل گورا ہو۔ "مَقْصُورَاتٌ" کی تعبیر اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ صرف اپنے شوہروں سے تعلق رکھتی ہیں اور دوسروں سے بالکل پوشیدہ ہیں۔ "خِیَام" "خَیْمَہ" کی جمع ہے، لیکن جیسا کہ مسلم روایات میں مندرج ہے، جنت کے خیمے دنیا کے خیموں سے مشابہت نہیں رکھتے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مفسّرین اور اربابِ لغت کے نزدیک خیمہ صرف وہ نہیں ہے جو کپڑے سے بنا ہو، جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے، بلکہ لکڑی سے بنے ہوئے گھروں کو بھی "خَیْمَہ" کہا جاتا ہے۔ [بحوالہ: "لسان العرب"، "مجمع البحرین" اور "المنجد"]۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیمہ ہر اس گھر کو کہتے ہیں جو اینٹ، پتھر وغیرہ سے نہ بنا ہو۔ پھر اس پُرمعنی سوال کی تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ اس کے بعد کی آیت میں جنّت کی حُوروں کی تعریف کا ایک اور پہلو ہے: لَمْ یَطْمِثْہُنَّ إِنسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَانٌّ۔ [تشریحی نوٹ: "طمث" کے معنی کے سلسلہ میں اسی سورہ کی آیت ۵۶ کے ذیل میں کافی وضاحت ہو چکی ہے]۔ البتہ، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے، وہ عورتیں اور مرد، جن کی اس دنیا میں شادی ہوئی ہے، اگر دونوں صاحبانِ ایمان اور جنّتی ہوئے تو وہاں ایک دوسرے سے ملحق ہوں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہترین حالت اور کیفیت میں زندگی بسر کریں گے۔ [بحوالہ: (رعد۔۲۳، مومن۔۸)]۔ روایات سے یہاں تک بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں کا مرتبہ جنّت کی حُوروں سے زیادہ ہو گا [بحوالہ: "دُر المنثور" صفحہ ۵۱]، ان اعمالِ صالح اور عبادتوں کی بنیاد پر جو دنیا میں انہوں نے انجام دیے ہیں۔ اس کے بعد پھر فرمایا گیا: "تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ) جنت کی عورتوں کی آخری توصیف ان آیتوں میں ہے وہ یہ ہے کہ: "اس بہشت کے رہنے والے اس حالت میں ہیں کہ تخت اور پلنگ پر تکیے لگائے ہوئے ہیں، جن پر سبز رنگ کے کپڑوں کا بہترین فرش بچھایا گیا ہے۔ (مُتَّکِئِینَ عَلَیٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ)۔ "رَفْرَفٌ" دراصل درختوں کے بڑے اور چوڑے پتوں کے معنی میں ہے اور اس کے بعد رنگ برنگ کے ان خوبصورت کپڑوں پر بھی اطلاق پانے لگا، جو باغات کے منظر سے مشابہت رکھتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: بعض مفسرین نے یہاں نوشیرواں کے نگارستان کے مشہور فرش کا بطور مثال تذکرہ کیا ہے، وہی فرش تھا جو حد سے زیادہ بیش قیمت تھا اور ایک باغ کے منظر کو پیش کرتا تھا]۔ "عَبْقَرِیٌّ" دراصل ہر بےنظیر شے کے لیے استعمال ہوتا ہے یا ایسی چیز کے لیے جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔ اسی لیے ایسے علماء اور دانشوروں کو جو نادرالوجود ہوں، "عباقرة" کہا جاتا ہے۔ بعض مفسّرین کا نظریہ یہ ہے کہ لفظِ "عَبْقَرُ" ابتدا میں ایک نام تھا، جسے عربوں نے "پریوں کے شہر" کے لیے منتخب کیا تھا اور چونکہ یہ شہر ایسا تھا جسے کسی نے دیکھا نہ تھا اور اپنے ساتھ ایک ندرت کا تصور رکھتا تھا، لہذا وہ ہر بےمثل چیز کو اس سے منسوب کرتے ہیں اور "عَبْقَرِیٌّ" کہتے ہیں۔ بعض کا یہ قول ہے کہ "عَبْقَرُ" ایک شہر ہے، جہاں ریشم کے بہترین کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ [بحوالہ: تفسیر "ابو الفتوح رازی" زیر بحث آیت کے ذیل میں]۔ بہرحال، اس کی اصل عملی طور پر متروک ہو چکی ہے اور عبقری ایک مستقل لفظ کی شکل میں نادر الوجود یا عزیز الوجود کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ باجود اس کے کہ یہ مفرد ہے، کبھی کبھی جمع کے معنوں میں بھی آتا ہے (مثلاً زیر بحث آیت)۔ "حسان" (جمع حسن، بروزن چمن) کے معنی اچھے اور خوبصورت کے ہیں، بہرحال یہ سب تعبیریں اس چیز کو بیان کرتی ہیں کہ جنّت کی تمام چیزیں ممتاز ہیں۔ اس کے پھل، کھانے، محل اور فرش، قصہ مختصر یہ کہ اس کی ہر شے اپنی نوع کے اعتبار سے بےمثل و بےنظیر ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ بھی ان بےنظیر مفاہیم کو اپنے اندر نہیں سمیٹ سکتے، یہ ہمارے ذہن میں ان کا ایک ہلکا سا نقشہ بناتے ہیں۔ اس کے بعد آخری مرتبہ اور اکتیسویں مرتبہ جن و انس کے تمام افراد سے سوال کرتا ہے: تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)۔ تم معنوی نعمتوں کے منکر ہو یا مادی نعمتوں کے؟ اس جہان کی نعمتوں کے منکر ہو یا جنّتوں کی نعمتوں کے منکر ہو؟ وہ نعمتیں کہ جنہوں نے تمہارے وجود کا احاطہ کر رکھا ہے اور تم ان میں مستغرق ہو اور کبھی غرور و غفلت کی بنا پر ان سب کو فراموش کر دیتے ہو اور ان سب نعمتوں کو بخشنے والے اور آئندہ جس کی نعمتوں کے منتظر ہو، تم اس کی کون سی نعمتوں کا انکار کرتے ہو۔ اس سورہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے: "بابرکت اور زوال ناپذیر ہے تیرے پروردگار کا نام کہ جو صاحبِ جلال و اکرام ہے"۔ (تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ)۔ "تبارک"، "برک" (بروزن درک) کی اصل سے ہے اور اونٹ کے سینے کے معنی میں ہے۔ اونٹ جب کسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں تو اپنا سینہ زمین کے ساتھ چمٹا لیتے ہیں، اس بنا پر یہ لفظ ثابت قدم رہنے اور پائیدار ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نیز زوال ناآشنا ہونے کی صورت میں چونکہ سرمائے سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لیے مفید چیز کو مبارک کہا جاتا ہے اور ان معانی کی سب سے زیادہ مستحق جو ذات ہے وہ خدائے پاک ہے جو تمام برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سورہ میں چونکہ پروردگارِ عالم کی انواع و اقسام کی نعمتوں کا ذکر ہے، ایسی نعمتیں جو زمین و آسمان میں نوعِ بشر کی خلقت اور دنیا و آخرت سے تعلق رکھتی ہیں اور پروردگارِ عالم کے بابرکت وجود سے ان کا فیضان جاری ہے۔ لہذا مناسب ترین تعبیر وہی ہے کہ جو اس آیت میں آئی یے کیونکہ اسم سے یہاں مراد پروردگارِ عالم کے اوصاف ہیں، بالخصوص صفتِ رحمانیت کہ جو ان تمام برکتوں کا منشا ہے، بالفاظِ دیگر، خدا کے افعال کا سرچشمہ اس کی صفات ہیں۔ اگر عالمِ ہستی کو اس نے ایک نظام کے تحت پیدا کیا ہے اور ہر چیز میں ایک میزان رکھی ہے، تو یہ اس کی حکمت کا ایک تقاضا ہے۔ اگر قانونِ عدالت کو ہر چیز میں جاری و ساری کیا تو یہ اس کے علم و عدل کا تقاضا ہے۔ اگر وہ مجرموں کو مختلف قسم کی سزائیں دیتا ہے اور ان پر عذاب نازل کرتا ہے تو اس کے منتقم ہونے کا یہی اقتضا ہے۔ اگر صالحین کو اس دنیا میں اور دوسری دنیا میں انواع و اقسام کی معنوی اور مادی نعمتوں سے بہرہ ور فرماتا ہے، تو یہ اس کے فضل و کرم اور رحمتِ واسعہ کا ایک تقاضا ہے۔ اس بنا پر اس کا اسم اس کی صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس کی صفات عین ذات ہیں۔ "ذی الجلال والاکرام" کے الفاظ اس کی تمام صفاتِ جلال و جمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں (ذی الجلال سے صفاتِ سلبیہ کی طرف اور ذی الاکرام سے صفاتِ ثبوتیہ کی طرف اشارہ ہے)۔ پُرکشش بات یہ ہے کہ یہ سورہ خدا کے نام یعنی لفظ "رحمن" سے شروع ہوا ہے اور "ذی الجلال والاکرام" پر ختم ہو رہا ہے اور یہ دونوں (آغاز و انجام) سورہ کے تمام مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

چند نکات

۱۔ اس سورہ کی آیت ۲۷ میں دنیا کی مختلف مادی اور معنوی نعمتوں کے ذکر کے بعد فرماتا ہے: "وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"، اور سورہ کے آخر میں انواع و اقسام کی بہشتی نعمتوں کے ذکر کے بعد فرماتا ہے: "تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"۔ یہ دونوں جملے اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ تمام خطوط اس کی ذاتِ پاک پر جا کر ختم ہو جاتے ہیں اور جو کچھ ہے اس کی ہی طرف سے ہے۔ دنیا بھی اسی کی طرف سے ہے اور عُقبیٰ بھی اسی کی طرف سے ہے اور اس کے حلال و حرام نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ۲۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ ایک شخص آپ کے سامنے دعا کر رہا تھا اور کہتا تھا: "یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" (اے وہ خدا جو صاحبِ جلال و اکرام ہے)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ"۔ اب جب کہ تو نے خدا کو اس نام سے پکارا ہے تو تیری دعا مستجاب ہے، جو کچھ چاہتا ہے اس سے سوال کر۔ [بحوالہ: تفسیر "دار المنثور" جلد ۶ ص ۱۵۳]۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرد کو دیکھا جو نماز میں مشغول تھا۔ اس نے رکوع، سجدہ اور تشہد کے بعد دعا میں اس طرح کہا: "اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، المنان، بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك..." تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لَقَدْ دَعَا اللّٰهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى"۔ "اس شخص نے خدا کو اس کے عظیم نام سے پکارا، جب اس نام سے اسے پکارا جائے اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور اگر اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو عطا کرتا ہے"۔ [بحوالہ: تفسیر "دار المنثور" جلد ۶ ص ۱۵۳]۔ ۳۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے آیہ "تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" کی تفسیر میں فرمایا: "نحن جلال الله وكرامته التي أكرم الله العباد بطاعتنا"۔ "ہم اللہ کا جلال اور اس کی کرامت ہیں، کہ جس نے بندوں کو ہماری اطاعت سے عزت بخشی ہے"۔ [بحوالہ: تفسیر برھان جلد ۴ ص ۲۷۲]۔ یہ امر واضح رہے کہ اہل بیتِ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی طرف رہنمائی نہیں فرماتے تھے اور سوائے اس کی اطاعت کے کسی اور چیز کی طرف نہیں بلاتے تھے۔ وہ ہادیانِ راہ ہیں اور زندگی کے اس متلاطم سمندر میں نجات کی کشتیاں ہیں۔ اس بنا پر خدا کے جلال و اکرام کا ایک مصداق شمار ہوتے ہیں، کیونکہ خدا اپنے اولیاء کے ذریعے بندوں کو نعمتِ ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ۴۔ بعض علماء نے نقل کیا ہے کہ قرآن مجید کا پہلا حصہ جو مکہ میں قریش کے سامنے پڑھا گیا، وہ اسی سورۂ رحمن کی ابتدائی آیات تھیں۔ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جمع ہوئے اور کہا کہ ابھی تک قریش نے قرآن کا کوئی حصہ نہیں سنا، تو ہم میں سے کون شخص ہے جو ان کے سامنے کھلم کھلا قرآن پڑھے؟ میں نے کہا کہ وہ شخص میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوف ہے کہ وہ تجھے ایذا پہنچائیں گے، بہتر یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص یہ کام اپنے ذمے لے جس کا قبیلہ طاقتور ہو کہ جو اس کا دفاع کر سکے۔ میں نے کہا کہ مجھے میری حالت پر چھوڑ دیں، خدا میرا دفاع کرے گا اور مجھے بچائے گا۔ دوسرے دن ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوپہر کے وقت مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے۔ اس وقت وہاں قریش اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا: "بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، عَلَّمَ الْقُرْآنَ"۔ وہ اسی طرح پڑھتے رہے، قریش خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کے بعد کہنے لگے: یہ فضول شخص کیا کہتا ہے؟ تو ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ ان باتوں کے کچھ حصے بیان کر رہا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہیں۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ابن مسعود کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے، لیکن ابن مسعود نے اس سورہ کی تلاوت اسی طرح جاری رکھی اور اسے اتنا پڑھا جتنا کہ خدا نے چاہا۔ اس کے بعد ابن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آئے۔ ان کا چہرہ زخموں کے نشان سے نمایاں تھا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اس چیز کا تیرے بارے میں پہلے ہی سے خوف تھا۔ ابن مسعود نے کہا: مجھے معلوم نہ تھا کہ دشمنانِ خدا اتنے گھٹیا نکلیں گے، اگر تم لوگ کہو تو میں کل بھی اس کام کو جاری رکھوں گا، اب مجھے کسی قسم کا خوف لاحق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں، اتنا ہی کافی ہے جو ان کی مرضی کے بغیر تو نے ان کے سامنے پڑھا۔ [بحوالہ: سیرۃ ابن ہشام جلد ۱ ص ۳۳۶]۔ اسی بنا پر ابن مسعود پہلے شخص شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے مشرکینِ مکہ کے سامنے کھلم کھلا قرآن پڑھا۔ [بحوالہ: اسد الغابہ جلد ۳ ص ۲۵۷]۔ خداوندا! تو ذو الجلال والاکرام ہے۔ تجھے تیرے جلال و اکرام کی قسم، ہمیں بہشت کی نعمتوں سے محروم نہ رکھ۔ اے پروردگارا! تیری رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے، اگرچہ ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو تیری رحمت کے شایانِ شان ہو، پھر بھی تو ہمارے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے مقامِ رحمت کے شایانِ شان ہے۔ بارِ الٰہا! ہم تیری کسی نعمت کی کبھی تکذیب نہیں کرتے اور اپنے آپ کو تیرے احسان میں ہمیشہ محصور و مستغرق جانتے ہیں۔ ہمیں ان نعمتوں سے ہمیشہ بہرہ ور فرما۔ آمین، یا رب العالمین۔

end of chapter
Ar-Rahman (55) — Tafseer e Namoona