Sūra 93 · 11v
Chapter 9311 verses

Ad-Duha

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الضحى
الضحیٰ

سورہٴ ضحٰی

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۱۱ آیات ہیں۔

سُورہ "الضحیٰ" کے مضامین اور اس کی فضیلت

یہ سُورہ جو مکّی سُورتوں میں ہے، اور بعض روایات کے مطابق اس وقت نازل ہوا جب پیغمبرؐ وحی کے وقتی طور پر منقطع ہو جانے اور تاخیر سے پریشان تھے، اور دُشمنوں کی زبان کھلی ہوئی تھی، تو یہ سُورہ نازل ہوا، اور بارانِ رحمت کی طرح پیغمبرؐ کے قلبِ پاک پر اُترا، اور انہیں نئی تاب و توانا بخشی اور بد زبانوں کی زبان کو بند کر دیا۔ اِس سُورہ کی دو قسموں کے ساتھ ابتدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد پیغمبرؐ کو بشارت دیتا ہے کہ خدا نے آپ کو ہرگز نہیں چھوڑا۔ اِس کے بعد آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ خدا آپ کو اس قدر عطا کرے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔ اور آخری مرحلہ میں، پیغمبرؐ کی گزشتہ زندگی کو آپ کی نظر میں مجسم کرتا ہے کہ خدا نے ہمیشہ آپ کو کس طرح اپنی انواع و اقسام کی رحمت کا مشمول قرار دیا ہے، اور زندگی کے سخت ترین لمحات میں اُس نے آپ کی حمایت کی ہے۔ اور اسی لئے آخری آیات میں آپ کو حکم دیتا ہے کہ (خدا کی ان عظیم نعمتوں کے شکرانہ کے طور پر) یتیموں اور حاجت مندوں پر مہربانی کریں اور خدا کی نعمت کو یاد کرتے رہیں۔ اِس سُورہ کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہوا ہے: "من قرأ ھا کان ممن یرضاہ اللہ، ولمحمد(ص) ان یشفع لہ ولہ عشر حسنات بعدد کل یتیم و سائل! "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا وہ ایسے لوگوں میں سے ہو گا جن سے خدا راضی ہو گا، اور وہ اس لائق ہو گا کہ محمدؐ اس کی شفاعت کریں اور ہر یتیم اور سوال کرنے والے مسکین کے برابر دس حسنات اس کے لئے ہوں گے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۱۰ ص ۵۰۳)۔ اور یہ سب فضائل اس کے لئے ہیں جو اسے پڑھے اور اس پر عمل کرے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ متعدد روایات کے مطابق یہ سُورہ اور اس کے بعد والا سُورہ (سورہٴ الم نشرح) ایک ہی سورہ ہیں اور چونکہ ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک مکمل سُورہ پڑھنا چاہئیے، لہٰذا ان دونوں سُورتوں کو اکٹھا ملا کر پڑھنا چاہئیے، (یہی بات "سورہٴ فیل" اور "لایلاف" کے بارے میں بھی کہی گئی ہے)۔ اور اگر ہم صحیح طور پر ان دونوں سورتوں کے مطالب میں غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں کے مطالب ایک دوسرے سے اتنے ہی ملتے جلتے ہیں کہ یقینی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تسلسل قائم ہے، اگرچہ ان دونوں کے درمیان "بسم اللہ" کا فاصلہ ہے۔ اس بارے میں کہ کیا یہ دونوں سُورتیں ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں؟ یا انہیں خصوصیت کے ساتھ نماز میں ایک سُورہ کے حکم میں شمار کرنا چاہئیے؟ اس میں اختلاف ہے، جس کی تفصیل کا فقہ کی کتابوں میں (قراتِ نماز کی بحث میں) مطالعہ کرنا چاہئیے، لیکن بہرحال، علماء کا اجماع اِس بات پر ہے کہ قراتِ نماز میں ان میں سے ایک سُورہ پر قناعت نہیں کرنا چاہیئے۔

1
93:1
وَٱلضُّحَىٰ
قسم ہے دن کی ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
93:2
وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ
اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ساکن ہو جائے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
93:3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
کہ ہرگز نہ تو اللہ نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی تجھ سے خفا ہوا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
93:4
وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ
اور یقینی طور پر تیرے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
93:5
وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ
اور عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔

شانِ نزول

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

اِس سُورہ کے شانِ نزول کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ واضح ذیل کی روایت ہے۔ "ابن عباسؓ" کہتے ہیں: پندرہ دن گزر گئے اور پیغمبرؐ پر وحی نازل نہ ہوئی۔ مُشرکین نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پروردگار نے اُسے چھوڑ دیا ہے اور اس کا دشمن ہو گیا ہے۔ اگر اُس کی یہ بات سچ ہے کہ اس کی ماموریت خدا کی جانب سے ہے تو پھر اس پر مسلسل وحی نازل ہوتی۔ اس موقع پر اُوپر والی سورت نازل ہو ئی (اور اس کی باتوں کا جواب دیا)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق یہ سُورہ نازل ہوا تو پیغمبرؐ نے جبرئیل سے فرمایا: "تُو نے دیر لگا دی حالانکہ مَیں شِدّت سے تیرا مشتاق تھا"، تو جبرئیل نے کہا: و انا کنت اشد الیک شوقا: "مَیں تو خُود آپؐ کا مشتاق تھا، لیکن مَیں بندہٴ مامور ہوں اور پروردگار کی حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتا۔" ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئی اور"ذی القرنین" و "اصحابِ کہف" اور "روح" کی خلقت کے بارے میں سوال کیا: پیغمبرؐ نے فرمایا: "مَیں کل بتاؤں گا"، اور انشاء اللہ نہ کہا، لہٰذا اسی وجہ سے وحی الٰہی کئی دن تک منقطع رہی" اور دُشمنوں کی زبانِ شماتت سے کھل گئی، اور اسی بناء پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غمگین ہو گئے۔ تو یہ سُورہ نازل ہوا تاکہ پیغمبرؐ کے دل کی تسلی کا باعث ہو (لیکن یہ شانِ نزول بعید نظر آتی ہے، کیونکہ یہودیوں کا پیغمبرؐ سے آ کر ملنا اور اس قسم کے سوالات کرنا عام طور پر مدینہ میں تھا نہ کہ مکہ میں)۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نے عرض کیا، اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ پر وحی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ آپؐ نے فرمایا: "کیف ینزل علیّ الوحی و انتم لاتنقون براجمکم و لاتقلمون اظفارکم" "مُجھ پر وحی کیسے نازل ہو جب کہ تم اپنی اُنگلیوں کے جوڑوں کو پاک و صاف نہیں رکھتے، اور ناخن نہیں کترواتے!؟ (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد۱۰، ص ۵۰۴، (تھوڑی سی تلخیص اور اقتباس کے ساتھ)۔ اِس بارے میں کہ انقطاع وحی کی مدت کس قدر تھی؟ مختلف روایات ہیں۔ بعض نے بارہ دن، بعض نے پندرہ دن، بعض نے پچیس دن اور بعض نے چالیس دن تک نقل کئے ہیں، اور ایک روایت میں صرف دو تین شب و روز بھی نقل ہوئے ہیں۔

تفسیر تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہو جائے گا

اِس سُورہ کے آغاز میں بھی دو قسمیں کھائی گئی ہیں: ۱۔ "نور" (روشنی) کی قسم ۲۔ "ظلمت" (تاریکی) کی قسم، فرماتا ہے: "قسم ہے دن کی جب کہ سُورج نکل آئے اور ہر جگہ کو گھیر لے" (وَالضُّحَى)۔ "اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ساکن ہو جائے اور ہر جگہ کو سکون و آرام میں غرق کر دے" (وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى)۔ "ضحی" دن کے پہلے حصہ کے معنی میں ہے جب کہ سُورج آسمان پر اونچا ہو جائے، اور اس کی روشنی ہر جگہ مسلط ہو جائے، اور یہ درحقیقت دن کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ اور بعض کی تعبیر کے مطابق یہ فصل جوانی کے حکم میں ہے، جب کہ گرمیوں کی ہوا ابھی گرم نہیں ہوتی، اور سردیوں میں ہوا کی سردی ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے اور انسان کی روح و جان اس موقع پر ہر قسم کی فعالیت کے لئے آمادہ ہوتی ہے۔ "سجیٰ"، "سجو" (بروزن سرد، اور بروزن غلو) کے مادّہ سے اصل میں سکون و آرام کے معنی میں ہے، اور "چھپانے" اور "تاریک ہونے" کے معنی میں بھی آیا ہے، اسی لئے جب "میت" کو کفن میں لپیٹ دیتے ہیں تو اُسے "مسجی" کہا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ وہی اصلی معنی دیتا ہے جو سکون و آرام ہے۔ اسی وجہ سے ان راتوں کو جن میں ہوا نہ چلے "لیلة ساجیة" (آرام و سکون کی رات) کہتے ہیں، اور طوفان اور امواجِ خروشاں سے خالی سمندر کو "بحر ساج" (پُر سکون سمندر) کہا جاتا ہے۔ بہرحال، جو چیز رات کے سلسلہ میں اہم بات ہے وہی سکون و آرام ہے جو اس پر حکم فرما ہے، اور طبعاً انسان کے اعصاب اور رُوح کو سکون و آرام میں ڈبو دیتی ہے ہے اور کل اور آئندہ آنے والے دنوں میں سعی اور کوشش کے لئے آمادہ و تیار کرتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ بہت ہی اہم نعمت ہے اور اس لائق ہے کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ اِن دونوں قسموں اور آیت کے مضمون کے درمیان شباہت اور ایک قریبی ربط موجود ہے۔ دن تو پیغمبرؐ کے پاک دل پر وحی کے نور کے نزول کی مانند ہے اور رات وقتی طو پر وحی کے انقطاع کے مانند ہے جو بعض مقاطع اور اوقات میں ضروری ہے۔ اِن دونوں عظیم قسموں کے بعد نتیجہ اور جوابِ قسم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "تیرے پروردگار نے ہرگز تجھے چھوڑا نہیں ہے، اور نہ ہی تجھ سے غصہ ہوا ہے۔" (مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)۔ "ودّع"، "تودیع" کے مادّہ سے، چھوڑنے اور وداع کر دینے کے معنی میں ہے۔ "قلیٰ"، "قلا" (بروزن صدا) کے مادّہ سے شدِت بعض و عداوت کے معنی میں، اور مادّہ "قلو" (بروزن سرو) پھینکنے اور دھکا دینے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ راغب کا نظریہ یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں، کیونکہ جو شخص کسی سے دشمنی کرتا ہے تو گویا دل اسے دھکا دے دیتا ہے، اور اُسے قبول نہیں کرتا۔ (تشریحی نوٹ: یہ مادّہ "ناقص یائی" کی صُورت میں بھی آیا ہے اور "ناقص واوی" کی صُورت میں بھی پہلی صورت میں بغض و عداوت کے معنی میں ہے، اور دُوسری صورت میں پھینکنے اور دھکا دینے کے معنی میں ہے، اور جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے دونوں معنی ایک ہی جڑ اور ریشہ کی طرف لوٹتے ہیں)۔ بہرحال، یہ تعبیر پیغمبر کی ذات کے لئے ایک دلداری اور تسلّی کے طور پر ہے کہ اچھی طرح یہ جان لیں کہ اگر کبھی نزولِ وحی میں تاخیر ہو جائے تو وہ کچھ مصالح کی بناء پر ہوتی ہے جسے خدا ہی جانتا ہے، اور ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ دُشمنوں کے قول کے مطابق خدا اس سے خشمگیں اور غصّہ ہو گیا، یا اس کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ ہی خدا کے خاص لُطف و کرم اور عنایات کے مشمول ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس کی خاص حمایت کے زیر سایہ رہتے ہیں۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "بیشک عالمِ آخرت تیرے لئے اس دنیا سے بہتر ہے۔" (وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى)۔ اور تو اس دنیا میں بھی اس کے الطاف کا مشمول ہے، اور آخرت میں اِس سے بیشتر و بہتر ہو گا۔ نہ تو تجھ پر یہاں کی مختصر مدّت میں پروردگار کا غضب ہو گا اور نہ ہی آخرت کی دراز مدّت میں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تُو دنیا میں بھی محترم ہے اور آخرت میں بھی محترم ہے، البتہ دُنیا میں عزیز و محترم تر ہے۔ بعض مفسّرین نے "آخرت" اور "اولیٰ" کی پیغمبرؐ کی عمر کے آغاز و انجام کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تو اپنی آخری عمر میں زیادہ موافق اور زیادہ کامیاب ہو گا۔ اور یہ اسلام کی وسعت اور پھیلاؤ اور مسلمانوں کی دشمنوں پر بار بار کی کامیابیوں اور جنگوں میں ان کی فتوحات اور اسلام کے پودے بارور ہونے اور شرک و بُت پرستی کے آثار کے مِٹ جانے کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں تفسیرکے درمیان جمع میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ اور آخری زیر بحث آیت میں پیغمبرؐ کو افضل و برتر خوش خبری دیتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "عنقریب تیرا پروردگار تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔" (وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى)۔ یہ خدا کا اپنے بندہٴ خاص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بالاترین احترام و اکرام ہے کہ فرماتا ہے: اس قدر تجھے بخشوں گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔" دنیا میں تو دُشمنوں پر کامیاب ہو جائے گا اور تیرا دین عالم گیر ہو جائے گا، اور آخرت میں بھی تو عظیم ترین نعمتوں کا مشمول ہو گا۔ اِس میں شک نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، خاتمِ انبیاء اور عالمِ بشریت کا رہبر ہونے کی حیثیت سے صرف اپنی ہی نجات پر خوش ہو سکتے، بلکہ آپ اس وقت راضی و خوش ہوں گے جب آپ کی شفاعت آپ کی امت کے بارے میں قبول ہو جائے گی۔ اس بناء پر روایات میں آیا ہے کہ یہ آیت اُمید بخش ترین آیت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کے قبول ہونے کی دلیل ہے۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ اُنہوں نے اپنے باپ زین العابدین علیہ السلام سے، انہوں نے اپنے چچا "محمد بن حنفیہ" سے، انہوں نے اپنے باپ امیر المومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن میں موقف شفاعت میں کھڑا ہو جاؤں گا اور گناہ گاروں کی اس قدر شفاعت کروں گا، کہ خدا فرمائے گا: "ارضیت یا محمّدؐ؟! "اے محمّد کیا تم راضی ہو گئے"؟! تُو مَیں کہوں گا، رضیت، رضیت: "مَیں راضی ہو گیا، مَیں راضی ہو گیا"! اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے اہلِ کُوفہ کی ایک جماعت کی طرف رخ کیا اور مزید فرمایا: تمہارا یہ نظریہ ہے کہ قرآنی آیات میں سب سے زیادہ اُمید بخش آیت "قل یا عبادی الّذین اسرفوا علیٰ انفسھم لا تقنطوا من رحمة اللہ" ہے (یعنی اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اُوپر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے نااُمید نہ ہو)۔ اس جماعت نے کہا: جی ہاں! ہم اِسی طرح ہیں: آپ نے فرمایا : "لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ آیاتِ قرآنی میں سب سے زیاد ہ امید بخش آیت "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى" ہے۔ (بحوالہ: "ابو الفتوح رازی"، جلد ۱۲، صفحہ ۱۱۰)۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ پیغمبر کی شفاعت کے لئے کچھ شرائط ہیں، نہ تو آپ ہر شخص کے لئے شفاعت کریں گے اور نہ ہیں ہر گنہگار اس کی توقع رکھ سکتا ہے۔ (اس کی بحث کی تفصیل جلد اول سورہ بقرہ کی آیت۴۸ میں مطالعہ فرمائیے)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فاطمہؑ کے گھر میں داخل ہوئے، جب کہ آپؐ کی بیٹی اُونٹ کی اُون کا سخت لباس پہنے ہوئے تھیں، ایک ہاتھ سے چکی پیس رہی تھیں، اور دوسرے ہاتھ سے اپنے فرزند کو دُودھ پلا رہی تھیں، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا، بیٹی! دنیاکی تلخی کو آخرت کی شیرینی کے مقابلہ میں برداشت کر، کیونکہ خدا نے مُجھ پر یہ نازل کیا ہے کہ تیرا پروردگار اس قدر تجھے دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔" (وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى)۔ (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد۱۰، ص ۵۰۵)۔

ایک نکتہ انقطاعِ وحی کا فلسفہ

اُوپر والی آیات کے مجموعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبرؐ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی جانب سے ہے، یہاں تک کہ نزول وحی میں بھی آپ اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتے، جس وقت خدا چاہے وحی کو منقطع کر دے، اور جس وقت چاہے برقرار کر دے اور شاید انقطاعِ وحی بھی اسی مقصد کے لئے تھا، تاکہ ان لوگوں کا جواب ہو جو پیغمبرِ اکرم صلی علیہ و آلہ وسلم سے اپنے من مانے اور اپنے میلان کے مطابق معجزوں کا تقاضا کرتے تھے، یا آپ سے فرمائش کرتے تھے کہ فلاں حکم فلاں آیت کو بدل دیجئے، اور آپ ان سے یہ فرماتے کہ میں ان امور میں اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا، (جیسا کہ سورہٴ یونس کی آیہ ۱۵ میں آیا ہے)۔

6
93:6
أَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيمٗا فَـَٔاوَىٰ
کیا تجھے یتیم نہیں پایا تو پھر پناہ دی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
93:7
وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ
اور تجھے گمشدہ پایا تو رہنمائی کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
93:8
وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ
اور تجھے فقیر پایا تو بے نیاز کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
93:9
فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ
اب جب کہ یہ بات ہے تو یتیم کو حقیر نہ جان۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
93:10
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ
اور سوال کرنے والے کو نہ دھتکار۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
93:11
وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ
اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کو یاد کر۔

تفسیر اِن تمام نعمتوں کے شکرانے میں جو خُدا نے تجھے دی ہیں۔۔۔

Tafsīr Nemūna · Vol. 14

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس سورہ میں ہدف اور مقصد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تسلی و دلداری اور آنحضرت کے لئے الطاف الہٰی کا بیان ہے۔ لہٰذا گزشتہ آیات کو جاری کرتے ہوئے، جن میں اس مطلب کو بیان کیا گیا تھا، زیر بحث آیات میں پہلے تو پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خدا کی تین خاص نعمتوں کا ذکر کرتا ہے، اور اس کے بعد انہیں سے مربوط تین اہم حکم انہیں دیتا ہے۔ فرماتا ہے: کیا خُدا نے تجھے یتیم نہیں پایا تو تجھے اس نے پناہ دی؟ (أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى)۔ تو ابھی شکم مادر ہی میں تھا کہ تیرا باپ اس دنیا سے چل بسا، تو مَیں نے تجھے تیرے جد عبدالمطلبؑ (سردارِ مکّہ) کی آغوش میں میں پرورش کرائی۔ تو چھ سال کا تھا تیری ماں دُنیا سے چل بسی اور اس لحاظ سے بھی تو اکیلا رہ گیا، لیکن ہم نے تیرے عشق و محبت کو "عبدالمطلب" کے دل میں زیادہ کر دیا۔ تو آٹھ سال کا ہوا تو تیرا دادا "عبدالمطلب" بھی دُنیا سے رُخصت ہو گیا"، تو ہم نے تیرے چچا "ابو طالبؑ" کو تیری خدمت و حمایت کے لئے مقرر کر دیا، تاکہ تجھے جانِ شیریں کی طرح رکھے اور تیری حفاظت کرے۔ ہاں! تو یتیم تھا اور میں نے تجھے پناہ دی۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے کچھ اور دوسرے معنی بیان کئے ہیں جو اس کے ظاہر کے ساتھ سازگار نہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ یتیم سے مُراد وہ شخص ہے جو شرافت و فضیلت میں اپنا مثل و نظیر نہ رکھتا ہو، جیسا کہ بےنظیر موتی کو "دُرِ یتیم" کہتے ہیں، لہٰذا اس جملہ کا معنی یہ ہو گا کہ خدا نے تجھے شرافت و فضیلت میں بےنظیر پایا۔ اس لئے تجھے انتخاب کیا اور مقامِ نبوت بخشا۔ دُوسرا یہ کہ تو خُود ایک دن یتیم تھا لیکن آخرکار تو یتیموں کو پناہ گاہ اور انسانوں کا رہبر ہو گیا۔ اِس میں شک نہیں کہ پہلا معنی ہر لحاظ سے زیادہ مناسب ہے اور ظاہر آیت کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اِس کے بعد دُوسری نعمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور تجھے گم شدہ پایا تو تیری راہنمائی کی۔" (وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى)۔ ہاں! تُو ہرگز نبوت و رسالت سے آگاہ نہیں تھا، اور ہم نے یہ نُور تیرے دل میں ڈالا، تاکہ تو اس کے ذریعہ انسانوں کو ہدایت کرے، جیسا کہ ایک دُوسری جگہ فرماتا ہے: "مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاءُ: "نہ تو تو کتاب ہی کو جانتا ہے اورنہ ہی ایمان کو" (یعنی نزول وحی سے پہلے تو اسلام و قرآن کے مطالب سے آگاہ نہیں تھا) لیکن ہم نے اس کو ایک ایسا نور قرار دیا ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں جسے چاہیں ہدایت کرتے ہیں" (شوریٰ۔ ۵۲)۔ یہ بات واضح ہے کہ پیغمبرؐ کے پاس مقام نبوت و رسالت تک پہنچنے سے پہلے یہ الٰہی فیض نہیں تھا۔ خدا نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر ہدایت فرمائی اور اس مقام تک پہنچا دیا، جیسا کہ سورہٴ یوسف کی آیہ ۳ میں آیا ہے: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ: "ہم نے قرآن کی وحی کے ذریعے ایک بہترین داستان تیرے لئے بیان کی ہے، اگرچہ تُو اس سے پہلے اس سے آگاہ نہیں تھا۔ یقیناً اگر ہدایت الہٰی اور غیبی امدادیں پیغمبرؐ کے ہاتھ کو نہ پکڑتیں تو وہ ہرگز منزلِ مقصود کا راستہ نہ پاتے۔ اِس بناء پر یہاں "جلالت" سے مُراد ایمان، توحید، پاکیزگی اور تقویٰ کی نفی نہیں ہے، بلکہ ان آیات کے قرینہ سے جن کی طرف اُوپر اشارہ ہوا ہے، اسرارِ نبوت اور قوانینِ اسلام سے آگاہی کی نفی، اور اِن حقائق سے عدم آشنائی تھی، جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے لیکن بعثت کے بعد پروردگار کی مدد سے ان تمام امور سے واقف ہو گئے اور ہدایت پائی، (غور کیجئے)۔ سُورہ بقرہ کی آیہ ۲۸۲ میں قرضوں کی سند لکھنے کے مسئلہ میں متعدد گواہوں کے فلسفہ کو ذکر کرتے وقت فرماتا ہے: "أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى:" یہ اس بناء پر ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک گمراہ ہو جائے اور بھول جائے تو دوسرا، اسے یاد دلا دے۔" اس آیت میں "ضلالت" صرف صرف بھول جانے کے معنی میں ہے "فتذکر" کے جملہ کے قرینہ سے۔ یہاں اس آیت کے لئے اور بھی کئی تفاسیر بیان ہوئی ہیں، منجملہ ان کے یہ کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ تو بےنام و نشان تھا، خدا نے تجھے اس قدر بےنظیر نعمتیں عطا کیں کہ تو ہر جگہ پہچانا جانے لگا۔ یا اں اس سے مُراد یہ ہے کہ تو اپنے بچپنے میں کئی مرتبہ گم ہوا۔ (ایک دفعہ مکہ کے درّوں میں جب کہ تو عبدالمطلب کی پناہ میں تھا، اور دوسری مرتبہ اس وقت جب تیری رضاعی ماں "حلیمہ سعدیہ" دُودھ پلانے کی مدت کے اختتام پر تجھے مکہ کی طرف لا رہی تھی تاکہ تجھے عبدالمطلب کے سپرد کر دے تو تو راستہ میں گم ہو گیا، اور تیسری مرتبہ اس وقت جب تو اپنے چچا ابو طالبؑ کے ساتھ اس قافلہ میں جو شام کی طرف جا رہا تھا، ایک تاریک اور اندھیری رات میں گم ہو گیا تھا) اور خدا نے ان تمام موارد میں تیری راہمنائی کی اور تجھے تیرے جد یا چچا کی محبت بھری آغوش میں تک پہنچا دیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "ضال" لغت کے لحاظ سے دو معنی کے لئے آیا ہے:۱۔ "گم شدہ" اور ۲۔ "گم راہ" مثلاً کہا جاتا ہے کہ: الحکمة ضالة المؤمن: "حکمت و دانش مومن کی گم شدہ چیز ہے۔" اور اسی مناسبت سے مخفی اور غائب کے معنی میں بھی آیا ہے جیسا کہ سورہٴ سجدہ کی آیہ ۱۰ میں آیا ہے: منکران معاد کہا کرتے تھے: ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ: کہ جب ہم زمین میں پنہاں اور غائب ہو جائیں گے تو پھر نئی خلقت اختیار کریں گے"؟۔ اگر زیر بحث آیت میں "ضال" گم شدہ کے معنی میں ہو تو پھر کوئی مشکل پیش نہیں آتی، (یعنی تو گمشدہ تھا، لوگ تیری عظمت و شرافت سے ناواقف تھے، پس ہم نے انہیں تیری طرف ہدایت کی،۔ (مترجم)۔ اور اگر یہ "گمراہ کے معنی میں ہو تو اس مراد بعثت سے پہلے راہ نبوت و رسالت تک دسترس نہ رکھتا ہو گا، یا دوسرے لفظوں میں پیغمبر اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں رکھتے تھے، جو کچھ تھا وہ خدا کی طرف سے تھا، اِس بناء پر دونوں ہی صورتوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اس کے بعد تیسری نعمت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: خدا نے تجھے فقیر پایا تو غنی و بےنیاز کر دیا۔" (وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى)۔ (تشریحی نوٹ: "عائل" اصل میں عیال دار شخص کے منعی میں ہے، چاہے وہ غنی و توانگر ہو، لیکن یہ لفظ فقیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور زیر بحث آیت میں اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ "راغب" کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر "عال" اجوف یائی ہو تو فقیر کے معنی میں ہے، اور اجوف واوی ہو تو کثیر العیال کے معنی میں ہوتا ہے، (لیکن ان دونوں کا لازم و ملزوم ہونا بعید نہیں ہے))۔ جناب "خدیجہؓ" جیسی مخلص و باوفا خاتون کی توجہ تیری طرف مبذول کی، تاکہ وہ اپنی عظیم ثروت و دولت کو تیرے اختیار میں دے دے اور تیرے عظیم اہداف و مقاصد کے لئے وقف کر دے، اور اسلام کے غلبہ کے بعد جنگوں میں بکثرت مال ہائے غنیمت تجھے عطا کئے، اس طرح سے کہ تو اپنے عظیم مقاصد تک پہنچنے کے لئے بےنیاز ہو گیا۔ ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؑ نے ان آیات کی تفسیر میں اس طرح فرمایا: "الم یجدک یتیماً فاٰوٰی قال: فرداً لامثل لک فی المخلوقین، فاٰوٰی الناس الیلک، ووجدک ضالاً ای ضالة فی قوم لایعرفون فضلک فھداھم الیک، ووجدک عائلاً تعول اقواماً بالعلم فاغناھم بک:" "کیا ہم نے تجھے اپنی مخلوق کے اندر یتیم یعنی بےنظیر فرد نہیں پایا تو ہم نے لوگوں کو تیری پناہ میں دے دیا، اور تجھے اپنی قوم کے درمیان گمشدہ اور ناپہچانا ہوا پایا، جو تیرے مقامِ فضل کو نہیں پہچانتے تھے، تو خدا نے انہیں تیری طرف ہدایت کی اور تجھے علم و دانش میں اقوامِ عالم کا سرپرست قرار دیا اور انہیں تیرے ذریعے بےنیاز کر دیا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلدا۱۰، ص۵۰۶)۔ البتہ یہ حدیث آیت کے بطون کو بیان کرتی ہے ورنہ آیت کے ظاہر وہی ہے، جو اُوپر بیان کیا گیا۔ لیکن یہ تصور نہیں ہونا چاہئیے کہ یہ امور جو آیت کے ظاہر میں بیان ہوئے ہیں۔ پیغمبرؐ کے مقامِ بلند میں کمی اور نقص کا سبب ہیں، یا آپ کے بارے میں پروردگار کی طرف سے منفی توصیف ہے۔ بلکہ یہ تو حقیقت میں الطافِ الٰہی اور اس عظیم پیغمبرؐ کے بارے میں اس کے اکرام و احترام کا بیان ہے، جب محبُوب دلباختہ عاشق کے بارے میں اپنے لطف و کرم کی بات کرتا ہے تو یہ خود ایک لطف و کرم کی بات کرتا ہے تو یہ خُود ایک لطف و محبت ہے اور اس کے لُطفِ خاص کی دلیل ہے اور اسی بناء پر محبُوب کی طرف سے ان الفاظ کی سُننے سے اس کی رُوح تازہ ہو جاتی ہے، اور ان کی جان میں صفا پیدا ہوتی ہے، اور اس کے دل کو آرام و سکون حاصل ہوتا ہے۔ بعد والی آیات میں گزشتہ آیات کا نتیجہ نکالتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین احکام دیتا ہے، اگرچہ ان میں مخاطب رسول اللہؐ کی ذات گرامی ہے، لیکن یقیناً وہ سب کو شامل ہیں، پہلے فرماتا ہے، "جب معاملہ یہ ہے کہ تو پھر یتیم کی تحقیر و تذلیل نہ کر" (فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ)۔ "تقھر"، "قھر"کے مادّہ سے "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، اس غلبہ کے معنی میں ہے جس کے ساتھ تحقیر ہو، لیکن ان دو معانی میں سے ہر ایک کے لئے علٰیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے، اور یہاں مناسب وہی "تحقیر" ہی ہے۔ یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ یتیموں کے بارے میں اگرچہ اطعام و انفاق کا مسئلہ بھی اہم ہے لیکن اسے سے بھی زیادہ اہم دل جوئی و نوازش اور شفقت کی کمی کو رفع کرنا ہے۔ اسی لئے ایک مشہور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "من مسح علی رأس یتیم کان لہ بکل شعرۃ تمرّ علی یدہ نور یوم القیامة۔" "جو شخص نوازش و مہربانی کے ساتھ یتیم کے سَر پر ہاتھ پھیرے تو ہر بال کی تعداد کے مطابق جس پر اس کا ہاتھ پھرے گا قیامت میں ایک نور ہو گا۔" (بحوالہ: "جمع البیان" جلد۱۰، ص۵۰۶)۔ گویا پیغمبرؐ سے فرماتا ہے: تُو خود بھی یتیم تھا، اور تُو نے بھی یتیمی کا رنج اور تکلیف اُٹھائی ہے، تو اب تو دل و جان سے یتیموں کی نگہبانی کر، اور ان کی پیاسی رُوح کو محبت کے ساتھ سیراب کر۔ بعد والی آیت میں دُوسرے حکم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور سوال کرنے والے کو نہ دھتکار" (وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ)۔ "لا تنھر"، "نھر" کے مادّہ سے "سختی کے ساتھ دھتکارنے" کے معنی میں ہے۔ اور بعید نہیں ہے کہ اس کی اصل "نھر" ہو اور جاری پانی کو نہر کے معنی کے ساتھ ایک ہو، کیونکہ وہ بھی پانی کی شدت کے ساتھ دھکیلتی ہے۔ اِس بارے میں کہ یہاں "سائل" سے کون مراد ہے؟ چند تفسیریں موجود ہیں، پہلی یہ کہ اس سے ایسے افراد مُراد ہیں جو علمی، اعتقادی اور دینی مسائل میں سوالات رکھتے ہیں، اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ یہ حکم اس چیز پر جو گزشتہ آیات میں آیا ہے متفرع ہے، "وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى" خُدا نے تجھے گم شُدہ پایا تو تجھے ہدایت کی، پس اس ہدایتِ الٰہی کے شکرانے کے طور پر ہدایت کے نیاز مندوں کے لئے کوشاں رہ، اور کسی ہدایت کا تقاضا کرنے والے کو اپنے پاس سے نہ دھتکار۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مُراد ایسے لوگ ہیں جو مادہ لحاظ سے فقیر ہیں اور وہ تیرے پاس آتے ہیں، تو جتنی تجھ میں طاقت ہے اس کے مطابق عمل کر اور انہیں مایوس نہ کر اور اپنے پاس سے نہ دھتکار۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ یہ فقرِ علمی اور فقرِ مادّی دونوں کو بیان کر رہی ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ ہر قسم کا سوال کرنے والے کو مثبت جواب دے، یہ معنی پیغمبرؐ کے لئے خدا کی ہدایت کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے، اور ان کی یتیمی کے زمانے میں ان کی سرپرستی سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔ تعجّب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسّرین نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ سائل سے مراد یہاں صرف علمی مسائل کے بارے میں سوال کرنے والا ہے، یہ کہا ہے کہ "سائل کی تعبیر قرآن مجید میں ہرگز مالی تقاضا کرنے والوں کے لئے نہیں آئی۔ (بحوالہ: "تفسیرعبدہ، جزء عم، ص۱۱۳)۔ حالانکہ یہ قرآن میں بارہا اس معنی میں استعمال ہوا ہے، چنانچہ سُورہ ذاریات کی آیہ ۱۹ میں آیا ہے: وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ: "ان کے مالوں میں سائل اور محروم کے لئے حق ہے اور یہی معنی سُورہ معارج کی آیہ ۲۵ اور سُورہ بقرہ آیہ ۱۷۷ میں بھی آیا ہے۔ اور آخر میں تیسرے اور آخری حکم میں فرماتا ہے: اور باقی رہیں تیرے پروردگار کی نعمتیں تو تُو ان کو بیان کر" (وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ)۔ نعمت کو بیان کرنا کبھی تو زبان سے ہوتا ہے اور ایسی تعبیروں سے جو انتہائی شکر و سپاس کی ترجمان ہوتی ہیں، نہ کہ غرور و تکبر اور برتری کے خیال سے، اور کبھی عمل سے بھی ہوتا ہے، اس طرح کے اس سے راہِ خدا میں انفاق و بخشش کرے، ایسی بخشش جو اس بات کی نشان دہی ہو کہ خدا نے اُسے فرواں نعمت عطا کی ہے۔ یہ سخی اور کریم لوگوں کی سُنّت ہے کہ انہیں کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اُسے بیان کرتے ہیں اور خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اور ان کا عمل بھی اس حقیقت کی تائید و تاکید کرتا ہے، پست ہمّت بخیلوں کے برعکس جو ہمیشہ نالہ و فریاد کرتے ہیں، اور اگر ساری دنیا بھی انہیں دے دیں، تو بھی نعمتوں پر پردہ پوشی ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کا چہرہ فقیرانہ اور ان کی باتیں آہ و زاری کے ساتھ، اور ان کا عمل بھی فقر و فاقہ کو بیان کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ اس حالت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "انّ اللہ تعالیٰ اذا انعم علی عبدہ نعمة یحب ان یری اثر النعمة علیہ": "خداوندِ عالم جب کسی بندہ کو کوئی نعمت دیتا ہے، تو وہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ اس پر نعمت کے آثار دیکھے"۔ (بحوالہ: "نہج الفصاحة" حدیث۶۸۳)۔ اِس بناء پر آیت کا ماحصل اس طرح ہے: اس بات کے شکرانے میں کہ تو فقیر تھا اور خدا نے تجھے بےنیاز کیا ہے، تُو بھی نعمت کے آثار کو آشکار، اور گفتار و عمل سے اس خدائی نعمت کو بیان کر۔ لیکن بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہاں "نعمت" سے مُراد صرف معنوی نعمتیں ہیں، منجملہ ان کے نبّوت یا قرآن مجید ہے کہ پیغمبرؐ اس کی تبلیغ کے ذمّہ دار تھے، اور نعمت کو بیان کرنے سے مُراد یہی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تمام مادّی و معنوی نعمتوں کو شامل ہو۔ لہٰذا ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: کہ آیت کا معنی اس طرح ہے: حدث بما اعطاک اللہ، وفضلک، و رزقک، و احسن الیک وھداک: "جو کچھ خدا نے تجھے بخشا ہے، برتری دی ہے، روزی عطا کی ہے، اور تیرے ساتھ نیکی اور احسان کیا ہے اور تجھے ہدایت کی ہے، ان سب کو بیان کر" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۰۷)۔ اور بالآخرہ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک دستور کلّی کے عنوان سے آیا ہے: "من اعطی خیراً فلم یر علیہ، سمی یغیض اللہ معادیاً لنعم اللہ" "جس شخص کو کوئی خیر و نعمت دی جائے، لیکن اس کی شخصیت میں اُس کے آثار نظر نہ آئیں، تو اُسے خدا کا دشمن اور اس کی نعمتوں کا مخالف شمار کرنا چاہئیے۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد ۱۰، ص ۷۱۹۲، اسی معنی کے قریب قریب کافی جلد ۶۔ کتاب الذی و التجمل، حدیث ۲ میں بھی آیا ہے)۔ ہم اس گفتگو کو امیر المومنینؑ کی ایک دوسری حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، آپؑ نے فرمایا: "انّ اللہ جمیل یحب الجمال، و یحب ان یری اثر النعمة علی عبدہ۔" "خدا جمیل ہے اور وہ جمال و زیبائی کو دوست رکھتا ہے، اور اسی طرح سے وہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ اپنے بندے پر نعمت کے آثار دیکھے۔" (بحوالہ: فروع کافی، جلد۶، ص ۴۳۸، حدیث)۔

چند نکات ۱۔ مصائب و آرام کے درمیان سے مبعوث ہونے والا پیغمبر

اُوپر والی آیات جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خدا کی نعمتوں کی تشریح و تفصیل کو بیان کرتی ہیں، ضمنی طور پر اس نکتہ کو بھی بیان کرتی ہیں کہ آپ بچپن کے آغاز سے ہی یتیم تھے، مادی لحاظ سے سخت و شدید حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے، مصائب و آلام میں گھرے ہوئے تھے اور انہیں مصائب میں مبعوث ہوئے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے۔ ایک خُدائی اور انسانی رہبر کو زندگی کی تلخیوں کو چکھنا، پریشانیوں کو ذاتی طور پر لمس کرنا، اور اپنے سارے وجود کے ساتھ تلخیوں کا احساس کرنا چاہئیے، تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کی صحیح طور پر قدر کر سکے، اور ایسے لوگوں کے حالات سے جو مصائب و آلام میں مبتلا ہیں باخبر ہو سکے۔ پھر بچپن میں ہی باپ (کی شفقت) سے محروم ہو جائے، تاکہ اپنے یتیم بچوں کو مصیبت سے باخبر رہے، دن اس کے بھوک میں گزریں اور راتوں کو بھوکا سوئے تاکہ بھوکوں کو درد اور تکلیف کو اپنے سارے وجود کے ساتھ محسوس کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کسی یتیم کو دیکھتے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو جاتے تھے۔ اُسے اپنی گود میں بٹھاتے تھے، اس سے نوازش و شفقت کرتے تھے، اور جان شریں کی طرح اپنی آغوش میں لے لیتے تھے۔ اور پھر اس نے معاشرے کے تمدن میں فقر کو اچھی طرح سے درک کیا ہو، تاکہ جو لوگ علم و دانش کے حصول کے لئے اس کی خدمت میں آئیں ان کا احترام کرے، اور کھلی آغوش کے ساتھ اُن کی پذیرائی کرے۔ نہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلکہ شاید تمام انبیاء مصائب اور محرومیوں کے پروردہ تھے، اور نہ صرف انبیاء بلکہ تمام سچے اور موفق رہبر ایسے ہی ہوئے ہیں اور انہیں ایسا ہی ہونا چاہیئے۔ جس شخص نے ناز و نعمت کے درمیان پرورش پائی ہو، شان و شوکت والے محلوں میں زندگی بسر کی ہو، اُس نے جب بھی کوئی خواہش کی ہو وہ پُوری ہو گئی ہو، وہ محروم لوگوں کے درد و تکلیف کو کس طرح سے درک کر سکتا ہے، اور فقراء و مساکین کے کاشانوں اور یتیموں کے گھروں کا منظر اس کی نظروں میں کیسے مجسم ہو سکتا ہے اور وہ ان کی کمک اور مدد کے لئے بےتابی کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟! ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "ما بعث اللہ نبیاً قط حتی یستر علیہ الغنم یعلمہ بذالک رعیة الناس" "خدا نے ہرگز کسی پیغمبر کو مبعوث نہیں کیا جب تک اس سے بھیڑ بکریوں کی چوپانی کا کام نہیں کرایا، تاکہ وہ اس طریقہ سے انسانوں کی نگہبانی کا طریقہ سیکھ سکیں۔" (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۱۱، ص ۶۴، حدیث ۷)۔ یعنی ایک تو رنج و تکلیف برداشت کیا، دوسرے کم شعور افراد سے مقابلہ میں صبر و تحمل کا تجربہ کیا اور کوہ و صحرا اور فطرت و مادّہ کی آغوش میں توحید و عرفان کے عظیم سبق حاصل کئے۔ ایک اور ایک حدیث میں آیا ہے "موسیٰ بن عمران" نے اپنے خدا سے سوال کیا کہ میں کس بناء پر اس مقام تک پہنچا؟ خطاب قدرت ہوا، کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب گوسفند کا ایک بچہ تیرے گلہ سے بھاگ گیا تھا؟ تُو اُس کے پیچھے گیا اور اس کو پکڑ لیا، اور اس سے کہا: اے حیوان! تُو نے اپنے آپ کو کیوں تھکا لیا؟ پھر تُو اُس کو دوش پر اُٹھا کر گوسفندوں کے گلہ میں واپس لے آیا، مَیں نے اسی بناء پر تجھے مخلوق کا سرپرست بنا دیا ہے۔ (ایک جانور کے مقابلہ میں تیرا یہ عجیب و غریب تحمل و حوصلہ، تیری عظیم روحی قدرت کی دلیل ہے۔ لہٰذا تو اس عظیم مقام کے لائق ہے)۔

۲۔ یتیموں پر نوازش و شفقت

چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کا وجود، جو بچپنے میں اپنے باپ (کی شفقت) سے محروم ہو چکے ہوں، ہر معاشرے میں اجتناب ناپذیر ہے۔ اِن چھوٹے چھوٹے بچوں کی کئی جہات سے حمایت ہونی چاہئیے۔ شفقت و مہربانی کے لحاظ سے بہت سے محرومیاں ہوتی ہیں۔ اگر ان کے وجود کا خلا اس لحاظ سے پر نہ ہو تو غیر صحیح، غیر سالم، اور بہت سے مواقع پر سنگ دل، مجرم اور خطرناک بچے پروان چڑھتے ہیں۔ علاوہ ازیں عواطف انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام لوگ ان کی طرف معاشرے کے تمام بچوں کی طرح توجہ اور حمایت کریں۔ اور ان تمام باتوں سے قطع نظر لوگ اپنے بچوں کے مُستقبل کے بارے میں، جو ممکن ہے انہیں حالات سے دوچار ہو جائیں، مطمئن ہوں۔ بہت سے موارد میں یتیم بچے ایسے مال کے مالک ہوتے ہیں جسے وقت و امانت کے ساتھ ان کے مستقبل کے لئے محفوظ رکھنا چاہئیے۔ اور بہت سے موارد میں ان کے ہاں مالی امکانات و وسائل کا فقدان ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں اس لحاظ سے بھی مورد توجہ ہونا چاہئیے اور دوسرے لوگوں کو، مہربان ماں باپ کی طرح، ان کی رُوح سے یتیمی کے رنج اور تکلیف کو دُور کرنا چاہئیے اور تنہائی کے گرد و غبار کو ان کے چہرے سے ہٹا دینا چاہئیے۔ اسی لئے قرآن مجید کی آیات، اور بہت سی اسلامی روایات میں اس مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے جس میں اخلاقی پہلو بھی ہے اور معاشرتی اور انسانی پہلو بھی۔ یہ حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معروف ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "ان الیتیم اذابکی اھتز لبکائہ عرش الرحمٰن" "جب یتیم روتا ہے کہ خدائے رحمان کا عرش لرز اُٹھتا ہے۔" "خدا اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اس یتیم کو جس کا باپ مٹی میں رُوپوش ہو گیا ہے، کس نے رُلا دیا؟ فرشتے کہتے ہیں: خدایا تُو زیادہ بہتر طور سے جانتا ہے تو خدا فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! مَیں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جو شخص اس کو رونے سے خاموش کرے گا اور اس کے دل کو خوش کرے گا، میں قیامت کے دن اسے خوش کروں گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۰۶)۔ اس سے بالاتر ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "اذا بکی الیتیم وقعت دموعہ فی کف الرحمن۔" "جب یتیم روتا ہے تو اس کے آنسوں خدائے رحمن کے ہاتھ میں پڑتے ہیں۔ (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۳۱، ص ۲۱۹)۔ ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "انا و کافل الیتیم کھاتین فی الجنة اذا اتقی اللہ عزّوجلّ و اشار بالسبابة وا لوسطی" "مَیں اور یتیم کا سرپرست ان دو کی طرح جنت میں ہوں گے، بشرطیکہ وہ خوفِ خدا اور تقویٰ رکھتا ہو۔ پھر آپؐ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کی۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص ۵۹۷، حدیث ۲۳)۔ اس موضوع کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے مشہور وصیت نامہ میں یتیموں کی طرف توجہ اور دھیان دینے کو نماز و قرآن کی طرف توجہ کرنے کے ساتھ قرار دیا ہے، فرماتے ہیں: "اللہ اللہ فی الایتام فلا تغبوا افواھھم ولا یضیعوا بحضرتکم": "خدا کو یاد رکھو، خدا کو یاد رکھو! یتیموں کو کبھی سیر اور کبھی بھوکا نہ رکھو اور تمہارے سامنے وہ ضائع نہ ہوں۔ (بحوالہ: "نہج البلاغہ، خط نمر ۴۷، حصہٴ خطوط)۔ ایک حدیث میں پیغمبرؐ کے ایک صحابی سے آیا ہے، وہ کہتا ہے کہ ہم رسولِ خداؐ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بچہ آپؐ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: "میں ایک یتیم بچہ ہوں، میری ایک یتیم بہن ہے، اور ایک بیوہ ماں ہے، جو کچھ خدا نے آپ کو کھانے کے لئے دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی کھلائیے تاکہ خدا کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے وہ آپؐ کو اس قدر دے کہ آپؐ راضی اور خوش ہو جائیں"! پیغمبر سلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: "بیٹا تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے! پھر آپؐ نے حضرت بلالؓ کی طرف رُخ کر کے فرمایا: جاؤ اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ لے آؤ۔ بلال اکیس (۲۱) خرمے کے دانے لے آئے پیغمبرؐ نے فرمایا: سات دانے تیرے لیے، سات دانے تیری بہن کے لئے اور سات دانے تیری ماں کے لئے۔" "معاذ بن جبلؓ "اُٹھے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا: خُدا تیری یتیمی کی تلافی کرے اور تجھے اپنے باپ کا اچھا جانشین بنائے۔ (یتیم بچہ مہاجرین کی اولاد میں سے تھا)۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے "معاذ" کی طرف رُخ کر کے فرمایا: "تیرے اس کام کا سبب کیا تھا؟ "اُس نے عرض کیا: محبت اور رحمت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص تم میں سے کسی یتیم کی سرپرستی اپنے ذمہ لے، اور اس کا حق ادا کرے، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے تو خدا ہر بال کی تعداد میں اس کے لئے ایک نیکی تحریر کرے گا، اور ہر بال کی تعداد میں اس کی برائیوں کو محو کر دے گا، اور ہر بال کے بدلے اس کو ایک درجہ عطا کرے گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۰)۔ البتہ ایسے وسیع معاشروں میں جیسا کہ آج کے معاشرے ہیں، مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ اس سلسلے میں انفرادی کاموں پر قناعت نہ کریں، بلکہ انہیں چاہئیے کہ اپنی توانائیوں کو یکجا طور پر استعمال کرتے ہوئے یتیموں کو اقتصادی، علمی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے کار آمد بنائیں اور انہیں اسلامی معاشرے کے لائق افراد بنائیں۔ اور یہ اہم کام عمومی تعاون کا محتاج ہے۔

۳۔ نعمتوں کو بیان کرنا

وہ حکم جو اس سلسلہ میں اُوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے، اگر وہ خدا کے شکر و سپاس کے عنوان سے ہو، اور خُود کو بڑا کر کے دکھانے اور فخر کے عنوان سے نہ ہو، تو وہ نہ صرف انسان کو پروردگار کے مقامِ عبودیت میں تکامل و ارتقاء بخشا ہے اور اجتماعی مثبت اثرات رکھتا ہے، بلکہ انسان کی رُوح و جان میں بھی آرام بخش اثر چھوڑتا ہے۔ خدا کی نعمتوں کے ذکر کرنے سے انسان اپنے پاس کسی چیز کے کم ہونے کا احساس ہی نہیں کرتا، بیماری کا شکوہ نہ کرنے سے دوسرے اعضاء کی سلامتی پر شکر گزار ہوتا ہے، کسی چیز کے کھوئے جانے پر جزع و فزع نہ کرنے سے وہ اپنے باقی امکانات و وسائل کو بیان کرتا ہے۔ اس قسم کے افراد زندگی کی سختیوں اور طوفان میں یاس و نامیدی میں گرفتار نہیں ہوتے اور نہ ہی مضطرب و پرشان ہوتے ہیں۔ ان کی رُوح سکون و آرام میں، اور دل مطمئن ہوتا ہے۔ اور مشکلات سے مقابلہ کرنے میں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ خداوندا! تیری نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ انہیں بیان کیا جا سکے، ان کو ہم سے سلب نہ کرنا، اور اپنے فضل و کرم سے ان میں اضافہ فرمانا۔ پروردگارا! ہم اس دنیا میں تیرے احسان میں غرق ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ اُس جہاں میں بھی اسی طرح ہوں۔ بارالٰہا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ہمیشہ محروم لوگوں کے پشتیبان اور یتیموں کے حقوق کے محافظ ہوں۔ آمین یا ربّ العالمین

end of chapter
Ad-Duha (93) — Tafseer e Namoona