Adh-Dhariyat
سورہ ذاریـات
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٦٠ آیات ہیں
سوره ذاریـات کے مطالب
اس سُورہ میں بحث کا محور پہلے درجہ میں معاد و قیامت اور مؤمنین اور کفار کی جزاء و سزا سے مربوط مسائل ہیں، لیکن اس لحاظ سے سورہ "ق" کی طرح نہیں ہے، بلکہ اس سُورہ میں بحث کے لیے دوسرے عنوانات بھی نظر آتے ہیں۔ کلی طور پر کہا جا سکتا ہے، کہ اس سُورہ کے مباحث ذیل کے پانچ محوروں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ ١۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، اس کے ایک حصہ میں معاد و قیامت اور اس کے متعلقات کے مباحث بیان ہوئے ہیں۔ ٢۔ اس سُورہ کے دوسرے حِصّہ میں مسئلہ توحید اور نظام آفرینش میں خدا کی آیات اور نشانیوں کا بیان ہوا ہے، جو طبی طور سے معاد کے مباحث کی تکمیل کرتا ہے۔ ٣۔ تیسرا حِصّہ ان فرشتوں کی داستان کے بارے میں ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کے مہمان ہُوئے تھے۔ ٤۔ اس سُورہ کی دوسری آیات موسیٰ علیہ السلام و قومِ عاد و ثمود اور قومِ نوح کے داستانوں سے متعلق مختصر اشارے ہیں، اور ان کے ذریعہ دوسرے کفار اور مجرموں کو خبردار کرتا ہے۔ ٥۔ اور آخر میں اس سُورہ کا ایک حصہ متعصب اور ہٹ دھرم اقوام کے گزشتہ انبیاء سے مبارزہ کرنے کو بیان کرتا ہے اور پیغمبر اسلامؐ کو جو سخت ترین مخالفین کے مقابلہ میں قرار پائے تھے۔ تسلّی دیتا ہے، اور استقامت کی دعوت۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
اس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے: " من قرأ سورة الذاريات فى يومه او ليلته اصلح الله له معيشته وَأتاه برزق واسع و نور له فى قبره بسراج يزهر إلى يومِ القيامة": "جو شخص دن یا رات کے وقت سُورۂ ذاریات کو پڑھے گا خدا اس کی زندگی کے حالات اور معیشت کی اصلاح کرے گا، اس کو وسیع روزی دے گا، اور اس کی قبر کو ایک ایسے چراغ سے روشن کرے گا، جو قیامت کے دن تک چمکتا رہے گا۔"(بحوالہ: مجمع البیان، آغاز سُورہ ذاریات، ثواب الاعمال، مطابق نقل تفسیر نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ١٢٠)۔ ہم بارہا بیان کر چکے ہیں، کہ ان عظیم اجروں کو حاصل کرنے کے لیے صرف زبان کافی نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ایسی تلاوت ہے، جو فکر و نظر میں تحریک پیدا کرے۔ اور انسان کو عمل پر ابھارے۔ ضمنی طور پر اس سُورہ کی نامگذاری "ذرایات" کے ساتھ سُورہ کی پہلی آیت کی مناسبت سے ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر طوفانوں اور بارش لانے والے بادلوں کی قسم
Tafsīr Nemūna · Vol. 8سُورہ "والصّافات" کے بعد یہ دوسری سُورت ہے جو بار بار کی قسموں کے ساتھ شروع ہوتی ہے، پُرمعنی اور فکر انگیز قسمیں، بیدار کرنے والی اور آگاہی بخش قسمیں۔ قرآن کی بہت سی دوسری سُورتیں، جن سے ہم ان شاء اللہ آئندہ کے مباحث میں گفتگو کریں گے، اسی قسم کی ہیں، اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ قسمیں غالباً مسئلہ معاد و قیامت کے بیان کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہیں، چند موقعوں کے سوا جو مسئلہ توحید اور دوسری باتوں کے ساتھ مربوط ہیں، اور یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان قسموں کا مضمون قیامت کے مطالب کے ساتھ ایک خاص ربط رکھتا ہے، اور ایک خاص عمدگی اور زیبائی کے ساتھ قرآن اس اہم بحث کا مختلف طریقوں سے جواب دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنی قسمیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس آسمانی کتاب کے اعجاز کی صورتوں، اور قرآن کے زیبا ترین اور روش ترین حصّوں میں سے ایک ہے، جن میں سے ہر ایک کی تشریح و تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ اس سُورہ کے آغاز میں خدا نے پانچ مختلف موضوعات کی قسم کا ذکر کیا ہے، جن میں سے چار تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، اور ایک حِصہ علیحدہ صورت میں آیا ہے۔ پہلے فرماتا ہے "قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو فضا میں چلاتی ہیں اور گرد و غبار اور گیاہ اور پھولوں کے بیج روئے زمین میں ہر جگہ بکھیرتی ہیں" (وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا)۔ (تشریحی نوٹ: "ذاریات" جمع ہے "ذاریہ" کی، ایسی ہواؤں کے معنی میں جو چیزوں کو اڑاتی ہیں)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے،: "قسم ہے ان بادلوں کی جو بارش کا سنگین بوجھ اپنے ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں" (فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا)۔ (تشریحی نوٹ: "وقر" (بروزن فکر) بھاری بوجھ کے کے معنی میں ہے، نیز کانوں کے بھاری ہونے کے معنی میں آیا ہے"وقار" بھی سنگینی حرکات اور سکون و بربادی کے معنی میں ہے)۔ "اور قسم ہے ان کشتیوں کی جو عظیم درپاؤں اور سمندروں کی سطح پر آسانی کے ساتھ چلتی ہیں" (فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا)۔ (تشریحی نوٹ: جاریات "جاریہ" کی جمع ہے جو کشتی کے معنی میں ہے، جاری پانی کی نہروں کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ" (غاشیہ،١٢) اور اسی طرح سُورج کے معنی میں، آسمان میں اس کی حرکت کی بناء پر، اور نوجوان لڑکی کو بھی "جاریة" کہا جاتا ہے، کیونکہ جوانی کو خوشی اس کے تمام وجود میں جاری ہوتی ہے)۔ "اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کاموں کو تقسیم کرتے ہیں" (فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا)۔ ایک حدیث میں جسے بہت سے مفسرین نے اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے یہ کہ آیا ہے کہ "ابن الکوا" (بحوالہ: اس کا نام عبداللہ تھا، جو امیرالمومنین علی علیہ السلام کے زمانہ میں رہتا تھا اور آپ کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا، خود کو ان کو دوست کہتا تھا اور کار شکنی کرتا تھا)۔نے ایک دن علی علیہ السلام سے، جبکہ آپ علیہ السلام منبر پر خطبہ دے رہے تھے، سوال کیا "الذاریات ذرواً" سے کیا مراد ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہوائیں! اس نے عرض کیا: "فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا" فرمایا بادل! اس نے عرض کیا: "فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا": فرمایا: کشتیاں! اس نے عرض کیا: "فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا" فرمایا: فرشتے مراد ہیں! اس کے باوجود دوسری تفسیریں بھی ہیں، جو اس تفسیر کے ساتھ قابلِ جمع ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ "جَارِيَاتِ يُسْرًا" سے مراد وہ نہریں اور دریا ہیں جو بارشوں کے ذریعہ جاری ہوتے ہیں، اور "فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا" سے مراد وہ رزق ہیں جو فرشتوں کے ذریعہ کھیتی باڑی کے طریق سے تقسیم ہوتے ہیں۔ اس طرح سے ہواؤں کے بارے میں پھر بادلوں کے بارے میں اور اس کے بعد دریاؤں اور نہروں کے بارے میں، اور آخر میں نباتات کے اگانے کے سلسلے میں گفتگو ہوئی ہے، جو مسئلہ معاد کے ساتھ جو اس کے بعد آیا ہے، قریبی مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امکانِ معاد کی ایک دلیل مردہ زمینوں کو بارش کے ذریعہ زندہ کرنے کا مسئلہ ہے جو قرآن میں بارہا مختلف عبادتوں میں ذکر ہوا ہے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ ممکن ہے یہ چاروں اوصاف سب کے سب ہواؤں کے اوصاف ہوں، وہ ہوائیں جو بادلوں کو پیدا کرتی ہیں، اور وہ ہوائیں جو انہیں اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں اور وہ ہوائیں جو انہیں ہر طرف چلاتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے قطروں کو ہر طرف بکھیرتی ہیں۔ (بحوالہ: "تفسیر قخر رازی" جلد ٢٧، صفحہ ١٩٠)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ ان آیات کی تعبیریں جامع اور کلی ہیں، لہٰذا وہ ان تمام معانی کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہیں، لیکن عمدہ وہی پہلی تفسیر ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر فرشتے مراد ہوں، تو فرشتے کن امور کو تقسیم کرتے ہیں؟ اس کے لیے ہمارا جواب یہ ہے کہ: تقسیم کار ممکن ہے کہ اس عالم کے کل امور کی تدبیر ہے مربوط ہو، کیونکہ فرشتگان الہی کے کچھ گروہ خدا کے فرمان سے اس کے امور کی تدبیر کو اپنے ذمہ لیے ہُوئے ہیں، اور بھی ممکن ہے کہ یہ تقسیم ارزاق، یا زمین کے مختلف منطقوں میں بارش کے قطرات کے تقسیم سے مربوط ہو، (تشریحی نوٹ: اس نکتہ کی توجہ بھی ضروری ہے کہ "والذاریات" میں "واؤ" قسم کا واؤ ہے، اور "فا" بعد والے جملہ میں فاء عاطفہ ہے، جو یہاں قسم کا مفہوم رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود ان چار قسموں میں ایک قسم کے ربط کو بیان کرتی ہے)۔ ان چار قسموں کو بیان کرنے کے بعد جو سب کی سب اُس مطلب کی اہمیّت کو بیان کرتی ہیں، جو اُن کے بعد آ رہا ہے، فرمانا ہے : "جو کچھ تمہیں وعدہ دیا گیا ہے، وہ یقینا سچ ہے۔(إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھنی چاہیے کہ "إنّمَا" میں "ما" موصولہ ہے اور "إنَّ" کا اسم ہے اور"صادق" اس کی خبر ہے)۔ دوبارہ تاکید کے عنوان سے مزید کہتا ہے: "اس میں شک نہیں کہ اعمال کی جزاء واقع ہو کر رہے گی" (وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ)۔ دین یہاں جزاء کے معنی میں ہے، جیسا کہ "مالکِ یوم الدّین" میں آیا ہے، اور اصولاً قیامت کا ایک نام "یوم الدّین" (روز جزا ) ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے، کہ واقع ہونے والے وعدوں سے مراد، یہاں قیامت و حساب و جزا و سزا بہشت و دوزخ سے مربُوط وعدے، اور معاد سے مربوط تمام امور ہی، اس بناء پر پہلا جُملہ قیامت کے تمام وعدوں کو شامل ہے، اور دوسرا جُملہ مسئلہ جزاء پر ایک تاکید ہے۔ بعد کی چند آیات میں بھی "یوم الدین" کے بارے میں گفتگو آئی ہے، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے وہ قسمیں جو اس سُورہ کے آغاز میں آئی ہیں، وہ ان قسموں کے نتائج کے ساتھ ایک واضح و روشن تعلق اور مناسبت رکھتی ہیں، کیونکہ بادلوں، کا چلنا، بارش کا برسنا، اور اس کے نتیجہ میں مردہ زمینوں کا زندہ ہونا خود قیامت و معاد کے منظر کی اس دُنیا میں نشاندہی کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے "ماتوعدون" کی یہاں ایک زیادہ وسیع مفہوم کے ساتھ تفسیر کی ہے، جو خدا کے تمام وعدوں، قیامت و دنیا و تقسیم ارزاق اور اس جہان میں اور دوسرے جہان میں مجرموں کی سزا کے ساتھ مربوط ہیں اور مومنین صالح کی کامیابی کو شامل ہیں، اسی سورہ کی آیت ٢٢ جو کہتی ہے۔ "وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ" (تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے آسمانوں میں ہے) ممکن ہے اسی معنی کی تائید ہو، اور چونکہ آ یت کا لفظ مطلق ہے، لہٰذا یہ عمومیت بعید نہیں ہے۔ بہرحال، خدا کے سب وعدے سچے ہیں، کیونکہ وعدہ کی مخالفت یا تو جہالت کے سبب سے ہوتی ہے، یا "عجز" ہے، وہ جہالت جو وعدہ کرنے والے کی فکر اور سوچ کو بدل کر رکھ دیتی ہے، اور وہ عجز جو اُسے وعدہ کی وفا سے روک دیتا ہے، لیکن خدا "عالم" اور "قادر" ہے، لہٰذا اس کے وعدے تخلف ناپذیر ہیں، یعنی پکّے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قسم ہے آسمان کی اور اس کی زیبا شکنوں کی
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات بھی گزشتہ آیات کی طرح قسم کے ساتھ شروع ہو رہی ہیں، اور قیامت کے بارے میں کافروں کے اختلافات، اور دوسرے مختلف مسائل منجملہ ان کے پیغمبر اسلامؐ کی شخصیت اور مسئلہ توحید کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "قسم ہے آسمان کی جو خوبصورت شکنوں والا ہے" (وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ)۔ "حبک" (بروزن کتب) جمع حباک (بروزن کتاب)کے لغت میں بہت سے معنی بتائے گئے ہیں، منجملہ اس کے: راستے، بل اور شکن ہے جو بیابان کی ریت پر ہواؤں کی وجہ سے یا پانی کی سطح پر یا آسمان کے بادلوں پر پیدا ہوتے ہیں۔ "مجعد" (گھنگھریالے) بالوں کو بھی "حبک" کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات مفسرین نے حبک کی زیبائی اور زینت میں بھی تفسیر کی ہے۔ اور اسی طرح موزوں و مرتب شکل و صورت کے معنی میں بھی۔ اور اس کا اصلی ریشہ اور جڑ "حبک" (بروزن کبک) ہے جو باندھنے اور محکم کرنے کے معنی میں ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ سب معانی ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ ایسے خوبصورت بل اور شکن ہیں، جو موجوں کے درمیان، آسمان کے بادلوں، بیابان کے ریت کے ٹیلوں اور سر کے بالوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اب رہی اس معنی کی آسمانوں پر تطبیق تو یہ یا تو فلکی صورتوں اور عام ستاروں کی مختلف شکلوں کی وجہ سے ہے۔ (ثابت ستاروں کا وہ مجموعہ جو ایک خاص شکل بنا لیتا ہے صورت فلکی کہلاتا ہے)۔ یا آسمانی بادلوں میں جو پُر کشش موجیں اور لہریں پیدا ہو جاتی ہیں ان کی وجہ سے ہے، جو بعض اوقات اس قدر خوبصورت اور زیبا ہوتی ہیں کہ مدتوں تک انسان کی آنکھ کو اپنی طرف متوجہ کیے رہتی ہیں۔ یا کہکشاؤں کا وہ عظیم انبیوہ ہے جو مجعد اور گھنگریالے بالوں کی طرح پیچ و خم کھاتی ہوئیں آسمان پر ظاہر ہوتی ہیں خاص طور سے وہ عمدہ عکس، جو ماہرین نے دُور بینوں کے ذریعہ ان کہکشاؤں کے لیے دیکھے ہیں، کامل طور سے مجعد اور گھنگریالے پیچدہ بالوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس معنی کی بناء پر، قرآن آسمان اور ان عظیم کہکشاؤں کی جن پر اس زمانہ میں علم و دانش کی تیز آنکھ ابھی تک نہیں پڑی تھی قسم کھاتا ہے۔ (بحوالہ: "لسان العرب" اور "مفردات راغب" میں مادۂ "حبک" کی طرف رجوع کریں)۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے، کہ یہ معانی ایک دوسرے سے کوئی منافات نہیں رکھتے، ممکن ہے کہ وہ سب ہی اس قسم میں جمع ہوں، سورہ مؤمنون کی آیت ١٧ میں بھی یہ آیا ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ: "ہم نے تمہارے اوپر سات راستے خلق کیے ہیں" جو آسمانوں کے تنوع اور ان کی کثرت اور کرّوں اور کہکشاؤں اور مختلف عوالم کی طرف اشار ہ ہے۔ (بحوالہ: اس آیت کی تفسیر میں مبسُوط شرح تفسیر نمونہ جلد ٨ سورہ مؤمنون آیت ١٧ کے ذیل میں آ چکی ہے)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "حبک" کے رشیہ اصلی کا آسمانوں کے استحکام اور کرّو کے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط پیوند سے جیسا کہ نظامِ شمسی کا سُورج کے ساتھ تعلق ہے، اشارہ ہو سکتا ہے۔ بعد والی آیت جواب قسم، یعنی وہ مطلب جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے، کو پیش کرتے ہُوئے مزید کہتی ہے: "تم سب کے سب مختلف اور قسم قسم کی گفتگو میں پڑے ہوئے ہو" (إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ)۔ تم ہمیشہ ایک دوسرے کی ضد اور نقیض باتیں کرتے ہو، اور یہی تناقض تمہاری باتوں کے بےبنیاد ہونے کی دلیل ہے۔ معاد و قیامت کے بارے میں کبھی تو یہ کہتے ہو کہ: ہم اصلاً یہ بات باور نہیں کرتے کہ بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو جائیں۔ اور کبھی یہ کہتے ہیں ہو کہ ہمیں اس بارے میں شک و تردد ہے۔ اور کبھی اور بڑھا کر کہتے ہو کہ ہمارے آباؤ اجداد اور بڑوں کو لے آؤ تاکہ وہ گواہی دیں کہ موت کے بعد قیامت اور معاد ہے تو پھر ہم قبول کریں گے۔ اور پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں کبھی تو یہ کہتے ہو کہ وہ دیوانہ ہے، کبھی یہ کہتے ہو کہ وہ شاعر ہے، کبھی اُسے جادو گر بتاتے ہو اور کبھی یہ کہتے ہو کہ اس کا کوئی معلم و استاد ہے جو ان باتوں کی اُسے تعلیم دیتا ہے۔ اسی طرح قرآن کے بارے میں کبھی تو اُسے "أساطیرُ الأوّلین" (گزشتہ لوگوں کے افسانے اور خرافات) کا نام دیتے ہو، کبھی اُسے شعر کہتے ہو اور کبھی جادو، اور کبھی جُھوٹ۔ قسم ہے آسمان کے شکنوں کی، کہ تمہاری باتیں تناقص اور پیچ و خم سے پر ہوں اگر تم اصل بنیاد رکھتے ہوتے، تو کم از کم ایک مطلب پر تو ٹھہرتے، اور ہر روز کسی نئے مطلب کے پیچھے نہ جاتے۔ یہ تعبیر حقیقت میں مخالفین کے دعووں کے بطلان پر ایک استدلال ہے، جو وہ توحید، معاد، پیغمبر اور قرآن کے بارے میں کرتے ہیں۔ (اگرچہ اُن آیات کے قرینہ سے جو بعد میں آئیں گی، اِن آیات کا اصلی تکیہ مسئلہ معاد پر ہے)۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جُھوٹے دعویداروں کے جھُوٹ کا پول کھولنے میں، چاہے قضائی مسائل میں ہو یا دوسرے مسائل میں۔ ان کی ایک دوسری کے خلاف باتوں سے استناد ہوتا ہے، قرآن بھی ٹھیک اسی مطلب پر تکیہ کرتا ہے۔ بعد والی آیت میں حق سے اس انحراف کی علّت کو بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "قیامت پر ایمان سے وہی لوگ منحرف ہوتے ہیں جو حق کے دلائل کو قبول کرنے اور منطق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے روگردانی کرتے ہیں ورنہ موت کے بعد کی زندگی، کے دلائل واضح و آشکار ہیں۔ (يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ)۔ توجہ رکھنی چاہیے کہ آیت کی تعبیر کلی اور سربستہ ہے، جس کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے: لوٹائے جائیں گے اس سے وہ جس سے وہ لوٹائے گئے ہیں۔ "کیونکہ "إفک" اصل میں منصرف کرنے اور کسی چیز سے پھیرنے کے معنی میں ہے، اسی لیے "جھوٹ" کو جوانحرافی پہلو رکھتا ہے، "إفک" کہا جاتا ہے، جیسا کہ مختلف ہواؤں کو "مُؤتفکات" کہا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ گزشتہ آ یات میں قیامت کے بارے میں گفتگو تھی، لہٰذا ظاہر ہے کہ اصلی مقصود اسی عقیدہ سے انحراف ہے، اور چونکہ گزشتہ آیت میں گفتگو کافروں کی ایسی باتوں سے متعلق تھی، جو ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں، لہٰذا معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو واضح منطق اور دلیل سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر مجموع آیت اس طرح معنی دیتی ہے: وہی لوگ قیامت پر ایمان رکھنے سے منحرف ہوں گے، جو دلیل ِعقل کی راہ اور حق طلبی کی منطق سے منحرف ہو گئے ہیں۔ البتہ کوئی مانع نہیں ہے کہ مراد ہر قسم کے حق سے انحراف ہو، چاہے وہ قرآن سے انحراف ہو یا توحید و نبوتِ پیغمبر و معاد سے ہو، (اور ان ہی میں سے آئمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت کا مسئلہ ہے، جو بعض روایات میں وارد ہوا ہے) لیکن بہرحال، مسئلہ قیامت جو اصل موضوع ہے، یقینی طور پر اس میں شامل ہے۔ بعد والی آیت میں جُھوٹ بولنے والوں اور اُسے بیان کرنے والوں کو شدّت کے ساتھ مذمّت اور تہدید کرتے ہوئے کہتا ہے: "قتل کیے جائیں جُھوٹ بولنے والے اور ان کے لیے موت ہو (مُردہ باد)" (قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ)۔ "خراص" مادہ "خرص" (بروزن درس) سے اصل میں ہر اس بات کے معنی میں ہے، جو گمان تخمینہ اور اندازے کی بناء پر کہی جائے (اٹکل پچو) اور چونکہ اس قسم کی باتیں جھوٹ ہوتی ہیں، لہٰذا یہ لفظ جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس طرح سے "خراصون" وہ لوگ ہیں جو بےبنیاد اور بےسروپا باتیں کرتے ہیں، اور یہاں بعد والی آیات کے قرینہ سے وہ لوگ مراد ہیں، جو قیامت کے بارے میں بےبنیاد اور منطق سے دُور باتوں کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن بہرصورت یہ جُملہ ان پر نفرین کی صورت ہے، ایسی نفرین جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہے کہ وہ ایسی موجودات ہیں، جو موت اور نابودی کے لائق ہیں، اور وہ اس طرح ہیں جن کا عدم ان کے وجود سے بہتر ہے۔ بعض نے "قتل" کی یہاں لعن و طرد اور رحمتِ خدا سے محرومیّت کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ اور یہاں سے اس حکم کلی کو بھی معلوم کیا جا سکتا ہے، کہ اصولی طور پر وہ فیصلے جن کا واضح مدرک موجود نہ ہو اور اندازے و تخمین اور بےبنیاد گمانوں پر قائم ہوں، ایسے کام ہیں، جو گمراہ کرنے والے اور نفرین و عذاب کے مستحق ہیں۔ اس کے بعد ان اٹکل پچو باتیں کرنے والے جھوٹے لوگوں کا تعارف کراتے ہُوئے مزید کہتا ہے،: "وہ ایسے لوگ ہیں جو جہالت، غفلت اور بےخبری میں ڈوبے ہُوئے ہیں" (الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ)۔ "غمرة" اصل میں اس زیادہ پانی کے معنی میں ہے، جو کسی جگہ کو ڈھانپ لے، اس کے بعد عمیق اور گہری جہالت و نادانی پر جو کسی کو ڈھانپ لے، اطلاق ہوا ہے۔ "ساھون"، "سھو"کے مادہ سے ہر قسم کی غفلت کے معنی میں ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ جہالت کا پہلا مرتبہ "سہو و اشتباہ" ہے، اس کے بعد "غفلت" اور پھر "غمرہ" ہوتا ہے۔ اس بناء پر وہ سہو کے مرحلہ سے شروع کرتے ہیں، اس کے بعد غفلت و بےخبری تک پہنچتے ہیں، اور اس راہ کو جاری رکھتے ہُوئے مکمل طور پر جہالت میں ڈوب جاتے ہیں، اور ان دونوں تعبیروں، سہو وغیرہ، کے درمیان جمع کرنا، مُمکن ہے اوپر والی آیت میں اس حرکت کے آغاز و انجام کی طرف اشارہ ہو۔ اس طرح کہ "خراصون" سے مراد وہ لوگ ہیں، جو اپنی جہالت و نادانی میں غرق ہیں اور حق سے فرار کرنے کے لیے ہر روز کوئی نہ کوئی بہانہ، اور بےبنیاد باتیں بناتے رہتے ہیں۔ اور اسی لیے ہمیشہ سوال کرتے ہیں کہ روزِ جزا کس وقت ہو گا اور قیامت کب آئے گی (يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ)۔ یسئلون کی تعبیر فعل مضارع کی صُورت میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ یہی سوال کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ اصولی طور پر ضروری ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت مخفی اور پوشیدہ ہے، تاکہ ہر شخص ہر زمانہ میں اس کے واقع ہونے کا احتمال دے اور قیامت پر ایمان کا تربیتی اثر جو ہمیشہ کی آمادگی اور خودسازی ہے، وہ حاصل ہو۔ یہ گفتگو اس کے مانند ہے کہ بیمار ڈاکٹر سے بار بار سوال کر کے کہ میری عمر کا اختتام کب ہو گا؟ تو ہر شخص اس سوال کو بےبنیاد سمجھے گا اور کہے گا کہ اہم بات تو یہ ہے کہ تو یہ جانے کہ موت حق ہے تاکہ تو اپنا علاج کرے تاکہ کہیں "جلدی آنے والی موت" میں گرفتار نہ ہو جائے۔ لیکن ان کا تو ٹھٹھا کرنے اور بہانہ جوئی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں تھا، وہ واقعی طور پر قیامت کے برپا ہونے کی تاریخ معلوم کرنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود قرآن انہیں چھبتا ہوا جواب دیتے ہُوئے کہتا ہے: "قیامت اس دن ہو گی جب انہیں آگ پر جلایا جائے گا" (يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ)۔ اور انہیں کہا جائے گا: اپنے عذاب کو چکھو، یہ وہی چیز تو ہے، جس کے لیے تم جلدی کیا کرتے تھے" (ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ)۔ "فتنہ" اصل میں سونے کو کٹھالی میں رکھنے کے معنی میں ہے، تاکہ اچھا اور خالص سونا کھوٹے اور ناخالص سے پہچانا جائے، اور اسی مناسبت سے ہر قسم کی آزمائش اور امتحان کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور "انسان کے آگ میں داخل ہونے" کے معنی میں بھی آیا ہے، اور کبھی بلا و عذاب اور پریشانی کے معنی میں بھی آیا ہے، جیسا کہ زیر بحث آیت میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر نیکو کار سحر خیزوں کا اجر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیات کے بعد، جن میں جاہل جھوٹ بولنے والوں، اور قیامت و معاد کے منکرین اور ان کے عذاب کے بارے میں گفتگو تھی، زیر بحث آیات میں پرہیزگار مومنین اور ان کے اوصاف اور اجر و پاداش کی بات ہو رہی ہے تاکہ ایک دوسرے کا موازنہ کر کے، جیسا کہ قرآن مجید کی روش ہے، حقائق اور زیادہ واضح و روشن ہو جائیں۔ فرماتا ہے: "پرہیزگار جنت کے باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے" (إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ)۔ یہ ٹھیک ہے کہ باغ میں قدرتی طور پر پانی کی نہریں ہوتی ہیں، لیکن اس کا لطف اور عمدگی اس بات میں ہے کہ چشمے خود باغ کے اندر سے پھوٹیں اور درختوں کو ہمیشہ سیراب کرتے رہیں، یہ وہ امتیاز اور خصوصیت ہے جو جنت کے باغات میں پائی جاتی ہے، نہ صرف ایک ہی قسم کا چشمہ بلکہ اس میں انواع و اقسام کے چشمے موجود ہیں۔ (تشریحی نوٹ: لفظ "فی" کا "جنّات" کے بارے میں مفہوم واضح ہے، کیونکہ پرہیزگار جنّت کے اندر ہیں، لیکن "عیون" (چشموں) بارے میں اس معنی میں نہیں ہے، کہ وہ چشموں کے اندر ہوں گے بلکہ وہ بہتے ہُوئے چشموں کے درمیان میں ہوں گے)۔ اس کے بعد جنت کی دوسری نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے اجمالی اور سربستہ صورت میں کہتا ہے: "ان کے پروردگار نے جو کچھ انہیں مرحمت فرمایا ہے، وہ اسے حاصل کرتے ہیں" (آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ)۔ یعنی وہ انتہائی رغبت اور شوق اور کمال رضا کے ساتھ اور خوشی خدا کی ان نعمتوں کو قبول کریں گے۔ اور آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے، کہ یہ عظیم اجر اور جزا بلاوجہ نہیں ہیں، "وہ اس سے پہلے وارد دُنیا میں نیکو کاروں میں سے تھے" (إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: " قَبْلَ ذلِكَ" سے مراد، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے قیامت اور بہشت میں وارد ہونے سے پہلے ہے۔ یعنی عالم دنیا میں، لیکن بعض نے اُسے شریعت کے آنے سے پہلے کے معنی میں لیا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ "مستقلاتِ عقلیہ" پر وحی کے نازل ہونے سے پہلے ہی عمل کیا کرتے تھے، لیکن یہ معنی بعید نظر آتا ہے)۔ احسان اور نیکو کاری جو یہاں آئی ہے، ایک وسیع معنی رکھتی ہے، جو خدا کی اطاعت کو بھی شامل ہے اور خلقِ خدا سے انواع و اقسام کی نیکیوں کو بھی۔ بعد والی آیات ان کے نیکو کار ہونے کی کیفیت کو واضح کرتے ہُوئے، ان کے اوصاف میں سے تین اوصاف کو بیان کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ "وہ راتوں کے تھوڑے حصّہ میں سوتے تھے" (كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ)۔ "يَهْجَعُونَ"، "هجوع" کے مادہ سے رات کو سونے کے معنی میں ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ رات کے اکثر حصّہ میں بیدار رہتے ہیں اور تھوڑا حِصّہ سوتے تھے اور اصطلاح کے مطابق ہمیشہ شب زندہ دار تھے۔ لیکن چونکہ یہ حکم پرہیزگاروں اور محسنین کے لیے ایک عمومی حکم کی صورت میں بعید نظر آتا ہے، لہٰذا یہ تفسیر مناسب نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لیے کم اتفاق ہوتا تھا کہ وہ ساری رات سوئیں، دوسرے لفظوں میں "لیل" (رات) جنس اور عموم کی صُورت میں مدّنظر ہے۔ اس بناء پر وہ ہر رات کے ایک حِصّہ میں بیدار رہتے تھے اور عبادت و نماز شب میں مشغول رہتے تھے، اور ایسی راتیں جن میں وہ ساری رات سوئے رہے ہوں، اور رات کی عبادت کلی طور پر اُن سے فوت ہو گئی ہو، بہت کم تھیں۔ یہ تفسیر ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مرحوم "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے (جلد ٩، صفحہ ١٥٥) تفسیر صافی میں بھی یہ حدیث کافی سے اس صورت میں نقل ہوئی ہے كانوا أقلّ اللّيالى يفوتهم لايقومون فيها:(بہت کم راتیں ان سے فوت ہوتی تھیں جن میں وہ عبادت کے لیے نہ اٹھتے ہوں) (تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ اس آیت کے لیے دوسری تفسیریں بھی ذکر کی گئی ہیں، لیکن چونکہ وہ بعید نظر آتی تھیں، لہٰذا ان کو بیان نہیں کیا گیا۔ (تشریحی نوٹ: "مَا يَهْجَعُونَ" میں "ما" ممکن ہے زائدہ ہو اور تاکید کے لیے ہو، یا موصولہ ہو، یا مصدریہ ہو، (جیسا کہ تفسیر فخر رازی اور المیزان میں آیا ہے) اگرچہ بعض نے صرف زائدہ اور مصدریہ کہا ہے (جیسا کہ قرطبی اور روح البیان میں آیا ہے) لیکن یہ جو بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ "نافیہ" ہے تو یہ بہت ہی بعید نظر آتا ہے)۔ ان کی دوسری صفت کو اس طرح بیان کرتا ہے،: "وہ ہمیشہ سحر کے اوقات میں إستغفار کرتے ہیں" (وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ)۔ آخر شب میں جب غافلوں کی آنکھیں نیند میں ہوتی ہیں، اور ماحول ہر لحاظ سے پُرسکون ہوتا ہے، مادی زندگی کا شور و غل خاموش ہوتا ہے، اور وہ عوامل جو انسان کی فکر کو اپنی طرف مشغول رکھتے ہیں، سب خاموش ہیں، یہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوتے ہیں، اور اس کے حضور میں راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ اپنے گناہوں سے إستغفار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں إستغفار سے مراد وہی "نماز شب" ہے، اس بناء پر کہ "نماز وتر کا قنوت" إستغفار پر مشتمل ہے۔ "أسحار"، "سحر" (بروزن بشر) کی جمع ہے، اصل میں پوشیدہ اور پہناں) ہونے کے معنی میں ہے، اور چونکہ رات کی آخری گھڑیوں میں ایک خاص قسم کی پوشیدگی ہر چیز پر چھائی ہوتی ہے، لہٰذا اس کا نام سحر رکھا گیا ہے۔ لفظ "سحر" (بروزن شعر) بھی ایسی ہی چیز کو کہا جاتا ہے جو حقائق کے چہرے کو ڈھانپ دے، یا جس کے اسرار دوسروں سے پوشیدہ ہیں۔ تفسیر "درمنثور" میں ایک روایت میں آیا ہے، کہ پیغمبر گرامی اسلامؐ نے فرمایا: " إنّ آخر اللّيل فى التّهجد أحبّ إلى من اوله، لانّ الله يقول وَبِالاسحار هُم یستغفرون: "آخری رات تہجد (نمازِ شب) کے لیے میرے نزدیک محبوب ہے، اس کے اوّل سے کیونکہ خدا فرماتا ہے: پرہیزگار سحر کے وقتوں میں إستغفار کرتے ہیں" (بحوالہ: درالمنثور، جلد٦، صفحہ ١١٣)۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہوا ہے: " كانوا يستغفرون الله فِى الوتر سبعين مرة فِى السّحر": "بہشتی نیکوکار سحر کے وقت نماز وتر میں ستر مرتبہ خدا سے طلبِ مغفرت کرتے ہیں۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ اس کے بعد بہشتی پرہیزگاروں کا تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ان کے اموال میں سائل و محروم کے لیے ایک حق ہے" (وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)۔ "حق" کی تعبیر یہاں یا تو اس بناء پر ہے کہ خدا نے ان پر لازم قرار دیا ہے (مثلاً زکوٰة، خمس اور سارے واجب شرعی حقوق) یا انہوں نے خود سے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، اور عہد کیا ہے کہ تو اس صورت میں حقوق واجب کے علاوہ کوئی بھی شامل ہو گا۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت صرف دوسری قسم کے لیے ہے، اور حقوق واجب کو شامل نہیں ہے، کیونکہ حقوق واجب تو سب لوگوں کے اموال میں ہوتے ہیں، چاہے وہ پرہیزگار ہوں، یا دوسرے، یہاں تک کہ کفار بھی، اس بنا پر جب وہ یہ کہتا ہے: ان کے اموال میں اس قسم کا حق ہے، یعنی واجبات کے علاوہ وہ اپنے اوپر لازم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اموال میں سے راہِ خدا میں سائلوں اور محروموں پر خرچ کریں، لیکن کہا جا سکتا ہے، کہ نیکو کاروں کا دوسروں سے فرق یہ ہے کہ نیکوکار ان حقوق کو ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اس کے پابند نہیں ہیں۔ یہ تفسیر بھی بیان کی گئی ہے کہ "سائل" کی تعبیر حقوق واجب کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ سوال اور مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں، اور "محروم" کی تعبیر مستحب حقوق میں ہے جن میں مطالبہ کا حق نہیں ہے۔ "فاضل مقداد"، "کنز العرفان" میں تصریح کرتے ہیں کہ حق معلوم سے مراد وہ حق ہے جو وہ خود اپنے مال میں قرار دیتے ہیں، اور خود کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ (بحوالہ: "کنز العرفان" جلد١، صفحہ ٢٢٦)۔ اس معنی کی نظیر سورۂ معارج کی آیہ٢٤م ٢٥ میں بھی آئی ہے فرماتا ہے: وَالَّذِينَ فِي أَمْوالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوم۔ اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ وجوبِ زکوٰة کا حکم مدینہ میں نازل ہوا، اور اس سُورہ کی تمام آیات مکّی ہیں، آخری نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ ان روایات سے بھی جو منابع اہل بیت علیہم السلام سے پہنچی ہیں، اس بات کی تاکید ہوئی ہے کہ "حق معلوم" سے مراد زکوٰة واجب کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: " لكن الله عزّوجلّ فرض فى أموال الاغنياء حقوقا غير الزّكاة، فقال عزّوجلّ: وَ الَّذِينَ فِي أَمْوالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ، فالحقّ المعلوم غير الزّكاة، و هو شىء يفرضه الرّجل على نفسه فى ماله ... إن شاء فى كل يوم و إن شاء فى كل جمعة و ان شاء فى كل شهر...۔۔" "لیکن خدا نے دولت مندوں کے مال میں زکوٰة کے علاوہ کچھ حقوق قرار دیئے ہیں، منجملہ ان کے فرمایا ہے: ان کے اموال میں سائل و محروم کے لیے حق معلوم ہے، اس بناء پر حق معلوم زکوٰة کے علاوہ ہے اور وہ ایسی چیز ہے جو انسان خود اپنی ذات پر لازم کرتا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے دے ... چاہے تو روزانہ دے یا ہر جمعہ کو دے یا ماہانہ دے ..."(بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد ٦، صفحہ ٢٧ (ابواب ماتجب فیہ الزکات باب ٧، حدیث ٢)۔ اس سِلسلہ میں دوسری متعدد احادیث مختلف تعبیروں کے ساتھ امام علی بن الحسین علیہ السلام، امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں۔ (سابقہ حوالہ)۔ اور اس طرح سے آیت کی تفسیر واضح و روشن ہے۔ اس بارے میں کہ "سائل" اور "محروم" میں کیا فرق ہے؟ ایک گروہ نے تو یہ کہا ہے: "سائل" وہ شخص ہے جو لوگوں سے مدد کا تقاضا کرے، لیکن "محروم" وہ آبرو مند شخص ہے جو معاش کے لیے اپنی انتہائی جدّ و جہد اور کوشش کرتا ہے، لیکن اس کا ہاتھ کہیں نہیں پہنچتا اور اس کا کسب وکار اور زندگی پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے باوجود اپنی غیرت کی حفاظت کرتا ہے، اور کسی سے مدد نہیں مانگتا۔ یہ وہی شخص ہے جسے "محارف" سے تعبیر کرتے ہیں، کیونکہ محارف کی تفسیر میں کتب لغت اور روایات اسلامی میں یہ بیان کیا گیا ہے۔ "وہ ایک ایسا آدمی ہے، جو جس قدر بھی کوشش کرتا ہے، اس کی کوئی درآمد نہیں ہوتی، گویا زندگی کے راستے اس کے سامنے بند ہو گئے ہیں۔ بہرحال یہ تعبیر اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ ہرگز اس انتظار میں نہ بیٹھے رہو کہ حاجت مند تمہارے پاس آئیں، اور مدد کی درخواست کریں، بلکہ تم پر لازم ہے کہ تم جستجو کرو، اور آبرومند محروم افراد کو جو قرآن کے قول کے مطابق (بقرہ ٢٧٣) يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ: بےخبر لوگ پاک دامنی کی وجہ سے انہیں غنی اور مالدار خیال کرتے ہیں پیدا کرو، اور ان کی مدد کرو، ان کی مشکلات کی گراہ کھولو اور ان کی عزّت و آبرو کی حفاظت کرو، اور یہ ایسا اہم حکم ہے، جو محروم مسلمانوں کی شخصیت و حیثیت کی حفاظت کے لیے بہت اہم ہے۔ یقیناً ان لوگوں کو (اسی سُورہ بقرہ کی آیت میں قرآن کے قول کے مطابق) ان کے چہروں سے پہنچانا جا سکتا ہے۔ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ۔ ہاں! اگرچہ وہ خاموش ہیں، لیکن آگاہ افراد کے لیے ان کے چہرے کی گہرائی میں ان کی اندرونی جانکاہ تکلیفات کی انشانیاں واضح و آشکار ہیں، اور "ان کے چہرے کا رنگ ان کے اندرونی بھید کی خبر دیتا ہے۔"
چند نکات ۱۔ "خدا" اور "خلقِ خدا" کی طرف توجہ
ان آیات میں "متقین" اور "محسنین" کے جواد صاف کیے گئے ہیں، حقیقت میں ان کا دو حصّوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے، خالق کی طرف توجہ وہ بھی ایسے لمحات میں جو ہر لحاظ سے اس کے ساتھ راز و نیاز اور حضور قلب کے لیے فراہم ہیں اور فکری مشغولیت کے عوامل، اور ذہنی مصروفیات کم سے کم ہوتے ہیں، یعنی رات کے آخری حصّوں میں۔ اور دوسرے حاجت مندوں کی حاجات کی طرف توجہ، چاہے وہ اپنی حاجت کو ظاہر کریں یا پوشیدہ رکھیں۔ یہی وہ مطلب ہے جس کے لیے قرآن کی آیات میں بارہا نصیحت و وصیّت کی گئی ہے، اور وہ آیات جو نماز و زکوٰة کو یکے بعد دیگرے بیان کرتی ہیں اور ان دونوں پر تکیہ کرتی ہیں، ان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ نماز خالق کے ساتھ تعلق کا، نمایاں ترین مظہر ہے، اور زکوٰة مخلوقِ خدا کے ساتھ تعلق کی واضح ترین راہ ہے۔
٢۔ شب خیز کہ عاشقان بہ شب راز کنند
رات کو اُٹھ کیونکہ عشاق رات کے وقت راز و نیاز کرتے ہیں! باوجودیکہ نماز شب نوافل اور مستحب نمازوں میں سے ہے، لیکن قرآن مجید میں بارہا اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اور یہ اس کی حد سے زیادہ اہمیّت کی نشانی ہے، یہاں تک کہ قرآن اُسے "مقامِ محمود" تک پہنچنے کا وسیلہ (سورہ اسراء۔٧٩) اور روشنی چشم کا سبب(جیسا کہ سورہ الم و سجدہ کی آیہ ١٧ میں آیاہے) شمار کرتا ہے۔ اسلامی روایات میں بھی اس شبانہ راز و نیاز اور سحر گاہانہ بیداری پر حد سے زیادہ تکیہ ہوا ہے۔ ایک جگہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گناہوں کا کفارہ شمار کرتے ہُوئے فرماتے ہیں: "يا على ثلاث كفارات، منها التهجد بالليل والنّاس نيام: تین چیزیں گناہ کا کفّارہ ہیں، ان میں ایک رات کو تہجد پڑھنا ہے، جبکہ لوگ سوئے ہُوئے ہوں۔ (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد٥، صفحہ ٢٧٣)۔ ایک دوسری حدیث میں رسولؐ خدا سے منقول ہے: " أشراف أمّتى حملة القرآن وَأصحاب اللّيل": "میری اُمت میں زیادہ شریف حاملین قرآن اور رات کے وقت عبادت کرنے والے ہیں۔" (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد٥، صفحہ ٢٧٥)۔ ایک اور حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصایا میں آیا ہے کہ آپ نے چار مرتبہ تکرار فرمایا ہے: "علیک بصلوٰة اللیل۔" "نماز تہجد کو ہرگز ترک نہ کرنا۔" (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد٥، صفحہ ٢٧٧)۔ اور امام صادق علیہ السلام سے زیر بحث آیت (كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ) کی تفسیر میں اس طرح نقل ہوا ہے: "کانوا اقلّ اللیالی تفوتھم لایقومون فیھا": "بہت کم راتیں ایسی گزارتی ہیں کہ وہ بیدار نہ ہوں اور عبادت نہ کریں۔" (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد٥، صفحہ ٢٧٩)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرؐ نے فرمایا: "الرکعتان فی جوفِ اللّیل احبّ الی من الدّنیا وَمَا فیھا۔" "دو رکعت نماز جو رات کی تاریکی میں پڑھی جائے میرے نزدیک دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔" (بحوالہ: "وسائل الشیعہ" جلد٥، صفحہ ١٤٨)۔ نیز ایک حدیث میں منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے (اپنے ایک صحابی) سلیمان دیلمی سے فرمایا: " لا تدع قيام الليل فان المغبون من حرم قيام الليل": "عبادت کے لیے قیام شب کو فراموش نہ کرو، وہ شخص خسارے میں ہے جو رات کے قیام سے محروم ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ٨٧، صفحہ ١٤٦)۔ البتہ اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات ہیں اور ان میں حد سے عمدہ تعبیریں نظر آتی ہیں، خاص طور سے نمازِ شب گناہوں کی بخشش، فکر و نظر کی بیداری، دل کی روشنی، جلب رزق، فراواں روزی اور تندرستی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر متعارف ہوئی ہے اگر ان روایات کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب بن جاتی ہے۔ (بحوالہ: ان روایات سے آگاہی کے لیے "وسائل الشیعہ" کی جلد ٥ اور "مستد رک الوسائل" کی جلد اوّل، اور"بحار الانوار" کی جلد ٨٧ کی طرف رجوع کریں)۔ اس سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد ٦، صفحہ ٦٥٣ (سورہ اسراء کی آیہ ٧٩ کے ذیل میں) اور جلد ٩، صفحہ ٥١٦ (سورہ الم سجدہ کی آیت ١٧ کے ذیل میں) اور دوسرے مباحث بھی ہم نے پیش کئے ہیں۔
٣۔ سائل و محروم کا حق
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات میں یہ کہا گیا ہے، کہ ہمیشہ نیکوکاروں کے اموال میں سائل و محروم کے لیے حق ہے یہ تعبیر اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو حاجت مندوں اور محروم افرادکے لیے دیندار سمجھتے ہیں اور انہیں حق دار اور طلب گار جانتے ہیں، ایسا حق جسے ہر حالت میں ادا ہونا چاہیے اور اس کے ادا کرنے میں کسِی قسم کا کوئی احسان نہیں ہے ٹھیک دوسرے طلب گاروں کی طلب کے مانند۔ اور جیسا ہم بیان کر چکے ہیں، کہ مختلف قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تعبیر زکوٰة واجب ہے اور اس قسم کے امور سے مربوط نہیں ہے، بلکہ مستحب قسم کے انفاقات سے مربوط ہے جنہیں پرہیزگار اپنے اوپر دین اور قرض سمجھتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ان آیات کا مکہ میں نزول، اور اس حکم کا خصوصیت کے ساتھ جنتی نیکوکاروں کے بارے میں وارد، اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات ایسے قرائن ہیں جو ان آیات کی زکوٰة کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 23 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر خدا کی نشانیاں تمہارے وجود کے اندر ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیات کے بعد، جن میں معاد اور زخیوں اور جنتیوں کے صفات کے بارے میں بیان ہوا تھا، زیر بحث آیات میں ان نشانیوں کے بارے میں جو زمین اور خود انسان کے وجود کے اندر ہیں گفتگو ہو رہی ہے، تاکہ ایک طرف تو مسئلہ توحید، خدا کی معرفت، اور اس کی صفات کی پہچان سے، جو تمام خیرات کی طرف مبدأ حرکت ہے، وہ آشناہوں اور دوسری طرف مسئلہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی پر اس کی قدرت کا انہیں پتا چلے۔ کیونکہ جو روئے زمین میں ان تمام عجائبات میں حیات کا خالق ہے، وہ تجدید حیات پر بھی قادر ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "زمین میں ان لوگوں کے لیے جو اہل حق ہیں اور حق کے طلب گار ہیں، اہم نشانیاں ہیں" (وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ)۔ واقعاً اس کُرّہ خاکی میں خدا کے غیر محدُود علم و حکمت اور حق و قدرت کی بےپایاں نشانیاں اس قدر فراواں ہیں کہ کسی بھی انسان کی عمر ان سب کو پہنچاننے کے لیے کافی نہیں ہے۔ زمین کا حجم، اس کا سُورج سے فاصلہ، اس کی اپنے گرد حرکت اور اس کی سُورج کے گرد حرکت، اور وہ قوت جاذبہ وافعہ جو اس حجم اور اس حرکت سے وجود میں آتی ہے، اور کامل طور سے ایک دوسرے کے برابر اور یکساں ہے اور پھر ان سب کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی، تاکہ صفحہ زمین پر حیات اور زندگی کے لیے ماحول فراہم کرے، یہ سب چیزیں خدا کی عظیم آیات میں سے ہیں۔ حالانکہ اگر ان حرکات و روابط اور خصوصیات میں سے کوئی ایک چیز بھی کم سے کم تغیر پیدا کرے تو صفحہ زمین پر حیات و زندگی کے حالات درہم برہم ہو جائیں۔ وہ مواد جن سے زمین بنی ہے اور مختلف منابع جو سطح زمین اور زیر زمین حیات و زندگی کے لیے آمادہ ہُوئے ہیں ان میں سے ہر ایک اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ پہاڑ اور صحرا، درّے اور جنگل، دریا اور چشمے جن میں سے ہر ایک حیات کو جاری رکھتے اور اس کے حالات کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک نقش مؤثر رکھتے ہیں، دوسری نشانیاں ہیں۔ لاکھوں قسم کی نباتات و حشرات و حیوانات (جی ہاں لاکھوں قسم کے) ہر ایک اپنے خصوصیات اور عجائبات کے ساتھ،جو زمین شناسی نباتات شناسی اور حیوان شنانسی کی کتابوں کے مطالعہ کے وقت انسان کو حیرت میں ڈبو دیتی ہے، دوسری نشانیاں ہیں۔ اس کرّہ خاکی کے گوشہ و کنار میں ایسے ایسے عمدہ اسرار ہیں کہ شاید بہت ہی کم افراد ان کی طرف توجہ کرتے ہیں، لیکن ماہرین کی محققانہ تطروں نے اُن سے پردہ اٹھا دیا ہے، اور آفریدگار کی عظمت کو واضح و آشکار کر دیا ہے۔ ہم یہاں اگر دنیا کے ایک مشہور ماہر فن کی باتوں کے ایک گوشہ کی طرف، جس نے اس سلسلے میں کافی مطالعہ کیا ہے ذرا توجہ دیں تو نامناسب نہ ہو گا۔ "کرسی موریسین" کہتا ہے ،:" عوامل طبعی کی تنظیم میں انہتائی وقت اور باریک بینی سے کام لیا گیا ہے، مثلاً اگر کرّہ زمین کا خارجی قشر، اس سے کہ جواب ہے دس حصّہ زیادہ ضخیم ہوتا، تو آکسیجن... یعنی زندگی کا اصل مادہ، وجود میں نہ آتا، یا اگر سمندروں کی گہرائی موجودہ گہرائی سے کچھ حصّہ زیادہ ہوتی تو اس وقت زمین کا سارا آکسیجن اور کاربن جذب ہو جاتا، اور پھر سطح زمین پر نباتی یا حیوانی زندگی کا کسی قسم کا امکان باقی نہ رہتا۔ ایک دوسری جگہ قشر ہوائی کے بارے میں، جو اطراف زمین کو ہر طرف سے گھیرے ہُوئے ہے، کہتا ہے: "اگر اطراف زمین کی ہوا موجود حالت سے تھوڑی سی پتلی اور رقیق ہوتی، تو وہ شہابِ ثاقب جو ہر روز لاکھوں کی تعداد میں زمین کی طرف جذب ہوتے ہیں، اور زمین سے باہر کی اسی فضا میں (قشر ہوا سے ٹکرانے کی وجہ سے) نابود ہو جاتے ہیں، ہمیشہ سطح زمین تک پہنچتے اور اس کے ہر گوشہ کو نقصان پہنچاتے۔ اور اگر شہابوں کی حرکت کی سرعت جتنی ہے اس سے کم تر ہوتی، (تو ہرگز ہوا کے ساتھ ٹکرانے سے نہ پھٹنے) وہ سب کے سب سطح زمین پر آ کر گرتے، اور ان کی تباہ کاری کا نتیجہ معلوم تھا۔ ایک اور دوسری جگہ کہتا ہے: اطراف زمین کی ہوا میں صرف اکیس فی صد آکسیجن ہے... اگر ہوا میں موجودہ آکسیجن کی مقدار اکیس فی صد کی بجائے پچاس فی صد ہوتی، تو اس عالم کے تمام جلنے والے مواد جل کر خاکستر ہو جاتے اور اگر کوئی چنگاری جنگل کے کسی درخت تک پہنچ جاتی تو تمام جنگل مکمل طور پر راکھ ہو جاتے۔" زمین پر محیط ہوا کی موٹائی اس قدر ہے کہ سُورج کی شعاعوں کو اتنی مقدار میں زمین کی طرف عبور کرنے دیتی ہے کہ جتنی مقدار نباتات کی رشد اور نشوونما کے لیے ضروری ہے، اور تمام مضر جراثیم کو فضاء میں ہی معدوم کر دیتی ہے، اور مفید ویٹا منون کو ایجاد کرتی ہے۔ یا مختلف بخارات کا وجود جو طویل زمانوں کے عرصہ میں زمین کی گہرائیوں سے باہر نکلا ہے، اور ہوا میں پھیل گیا ہے، اور ان میں زیادہ ترہیں بھی زہریلی گیسیں، لیکن اس کے باوجود زمین کے محیط ہوا میں آلودگی پیدا نہیں ہوئی، اور ہمیشہ سے اسی یکساں حالت میں جو حیات انسانی کو جاری رکھنے کے لیے مناسب ہے، باقی ہے۔ وہ عظیم دستگاہ جو اس عجیب توازن کو ایجاد کرتی ہے، اور یکسانیّت کی حفاظت کرتی ہے، وہی بڑے بڑے دریا اور سمندر ہیں، جن کے وجود کے فیض سے، مواد حیاتی و غذائی، بارش و اعتدال ہوا و نباتات اور آخر میں خود انسان، زندگی حاصل کرتے ہیں۔ جو شخص حقیقت کا اداراک رکھتا ہے اُسے چاہیے کہ سمندر کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے (اور سمندرکے پیدا کرنے والے) اور اس کی نعمتوں کا شکر گزار ہو۔ (بحوالہ: "راز آفرینش انسان" تالیف "کرسی موریس" ترجمہ "محمد سعیدی" از صفحہ ٣٣ تا صفحہ ٣٦)۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "خود تمہارے وجود میں بھی خدا کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں" (وَفِي أَنفُسِكُمْ)۔ "کیا تم آنکھیں نہیں کھولتے، اور حق کی ان تمام آیات اور ظاہر نشانیوں کو نہیں دیکھتے۔"!! (أَفَلَا تُبْصِرُونَ)۔ بلاشک انسان عالم ہستی کا ایک عجوبہ ہے، اور جو کچھ عالم کبیر میں ہے وہ سب کچھ اس عالم صنعیر میں بھی موجُود ہے۔ بلکہ اس میں ایسے عجائبات ہیں جو دُنیا میں کسی جگہ بھی نہیں ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ انسان اس ہوش و عقل و علم کے ہوتے ہُوئے، اور اس تمام خلاقیت و ابتکارات اور عجیب و غریب صنائع کے باوجود، پہلے دن ایک چھوٹے سے بےقدر و قیمت نطفہ کی صورت میں تھا، لیکن جونہی کہ وہ عالم رحم میں قرار پاتا ہے تو عجیب سرعت کے ساتھ تکامل و ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہے، روز بروز شکل تبدیل کرتا ہے، اور لمحہ بہ لمحہ دگرگوں ہوتا ہے، اور وہ ناچیز نطفہ مختصر سی مدت میں انسانِ کامل میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک خلیہ جو اس کے اجزاء و بدن کا ایک چھوٹا ساحِصّہ ہے، تہ بہ تہ اور عجیب و غریب ساخت رکھتا ہے، اور ماہرین کے قول کے مطابق ایک صنعتی شہر کے برابر تشکیلات اس میں موجود ہیں۔ علم الحیات کا ایک ماہر کہتا ہے،: یہ عظیم شہر، ہزارہا عجیب و غریب عمدہ دروازوں، ہزار ہا کارخانوں، سٹوروں، آب رسانی کے جال، فرماندہی کا مرکز اس کی فراواں تاسیسات، عمارتوں بہت سے رابطوں اور دوسرے حیاتی کاموں کے ساتھ، وہ بھی ایک چھوٹے سے خیلے ہیں، پیچیدہ تریں اور عجیب ترین شہروں میں سے ہے، اگر ہم چاہیں کہ ایسی عمارتیں بنائیں، جو وہی اعمال انجام دیں.. . اور ہم ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہیں، تو ہمیں دسیوں ہزار ایکڑ زمین کو تاسیسات، مختلف عمارتوں اور پیچیدہ آلات والی مشینوں کے نیچے لے جانا پڑے گا، تاکہ وہ اس قسم کے پروگرام کو انجام دینے کے لیے آمادہ ہوں، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ دستگاہ آفرینش نے ان سب کو "پندرہ میلیونیم ملی میٹر"کے برابر رقبہ میں قرار دیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ٢"سفری به اعماق وجود انسانی" (بخش سلولھا)۔ وہ کارخانے جو انسان کے بدن میں ہیں، مثلاً دل، گردے، پھیپھڑے، اور خاص طور سے دسیوں ہزار کلو میڑ کی موٹی اور پتلی رگیں، یہاں تک کہ وہ بال جیسی باریک رگیں جو آنکھ سے نظر نہیں آتیں اور وہ پانی، غذا اور ہوا پہنچانے کا کام انجام دیتی ہیں، (دس ملیون میلیار) بدن انسانی کے خلیے ہیں، اور مختلف حواس، جیسے بنیائی، شنوائی اور دوسرے حواس میں سے ہر ایک اس کی عظیم آ یات میں سے ہر ایک آیت ہے۔ اور سب سے زیادہ حیات و زندگی کا معما ہے، جس کے اسرار اسی طرح سے غیر شناختہ رہے ہُوئے ہیں اور انسان کی رُوح و عقل کی عمارت ہے، جس کے ادراک سے تمام انسانوں کی عقلیں عاجز ہیں اور یہ وہ منزل ہے کہ انسان بےاختیار خدا کی تسبیح اور حمد و ثنا کے لیے بول اٹھتا ہے۔ اور اس کی بارگاہِ عظمت میں سرتعظیم جھکا دیتا ہے، اور ان اشعار کے ساتھ ترنم کرتا ہے: فيك يا اعجوبة الكون غدا الفكر كليلا انت حيرت ذوى اللب وبلبلت العقولا كلما قدم فكرى فيك شبرًا فرميلا ناكصًا يخبط فى عمياء لا يهدى سبيلا " اے عالم ہستی کے اعجوبہ (اے خدائے بزرگ) تجھ میں فکر خستہ و ماندہ ہو کر رہ گئی ہے۔" "تو نے صاحبانِ فکر و دماغ کو حیران کر دیا ہے، اور عقلوں کو مضطرب بنا دیا ہے۔" "جس وقت میری فکر تجھ سے ایک بالشت قریب ہوتی ہے، تو ایک میل فرار کر جاتی ہے۔" "ہاں وہ پیچھے کی طرف پلٹ جاتی ہے، اور تاریکیوں میں غرق ہو جاتی ہے، اور اُسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے۔" ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر گرامی اسلامؐ نے فرمایا: "من عرف نفسه فقد عرف ربّه۔" "جو شخص اپنے آپ کو پہچان لے گا وہ اپنے خدا کو پہچان لے گا" (بحوالہ: سفینة البحار، جلد٢، صفحہ ٦٠٣ مادہ "نفس")۔ ہاں! "خود شناسی تمام مراحل میں "خدا شناسی" کی راہ ہے۔ " أَفَلا تُبْصِرُونَ" (کیا تم نہیں دیکھتے) کی تعبیر ایک لطیف تعبیر ہے، یعنی یہ آیاتِ الہٰی تمہارے ارد گرد، تمہاری جان کے اندر، تمہارے سارے پیکر میں پھیلی ہوئی ہیں، اگر تم تھوڑی سی آنکھ کھولو تو انہیں دیکھ لو گے اور تمہاری رُوح اس کی عظمت کے اوراک سے سیراب ہو جائے گی۔ تیسری زیر بحث آیت میں عظمت پروردگار کی نشانیوں کے تیسرے حصّے، اور معاد پر اس کی قدرت کے بارے میں اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "تمہاری روزی آسمان میں ہے اور اس چیز کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے" (وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ)۔ اگرچہ بعض اسلامی روایات میں "رزق" کی اس آیت میں بارش کے حیات بخش قطرات سے تفسیر ہوئی ہے، جو زمین میں ہر خیر و برکت کا منبع ہے، اور سُورۂ جاثیہ کی آیہ ٥ بھی اس کے موافق ہے: وَمَا أَنزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا "جو کچھ خدا نے آسمان سے رزق نازل کیا ہے تو اس کے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ فرمایا ہے۔ لیکن یہ معنی ہو سکتا ہے کہ آیت کے واضح مصادیق میں سے ایک ہو، جبکہ مفہوم رزق کی وسعت بارش کو بھی شامل ہے، اور سُورج کی روشنی کو بھی جو آسمان سے ہماری طرف آتی ہے اور اس کا نقش و اثر پوری زندگی میں حد سے زیادہ محسوس ہوتا ہے، اور اس طرح ہوا کو بھی جو تمام زندہ موجودات کے لیے سبب حیات ہے، رزق میں شامل سمجھئے۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ ہم سماء کی اسی ظاہری آسمان کے ساتھ تفسیر کریں، لیکن بعض مفسرین نے سماء کو عالم الغیب، ماوراء طبعیت اور لوح محفوظ کے معنی میں لیا ہے،کہ انسانوں کے ارزاق کی تقدیر وہاں سے ہوتی ہے۔ البتہ دونوں معانی میں جمع ممکن ہے، اگرچہ پہلی تفسیر زیادہ واضح اور روشن نظر آتی ہے۔ باقی رہا "مَا تُوعَدُونَ" (جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے) کا جملہ، تو ہو سکتا ہے، کہ یہ مسئلہ رزق اور اس سلسلے میں وعدۂ الہٰی پر ایک تاکید ہو، یا بہشت موعود کے معنی میں ہو، کیونکہ "والنّجم" کی آیہ ١٥ میں یہ آیا ہے کہ: عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى: "بہشت موعود سدرة المنتہیٰ کے پاس آسمانوں میں ہے اور یا ہر قسم کی خیر و برکت یا اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے، اور یا ان تمام مفاہیم کی طرف ناظر ہے، کیونکہ "مَا تُوعَدُونَ " کے جملہ کا مفہوم وسیع اور کشادہ ہے۔ بہرحال ان تینوں آیات میں ایک لطیف ترتیب پائی جاتی ہے: پہلی آیت کرّہ زمین میں انسان کے عوامل وجود کے بارے میں گفتگو کرتی ہے، اور دوسری آیت خود انسان کے وجود کے بارے میں، اور تیسری آیت خود اس کے دوام و بقاء کے عوامل کے بارے میں۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ: وہ چیز جو انسان کی بصیرت میں مانع ہے، اور اس کو اسرار آفرینش کے مطالعہ، یعنی اسرار زمین اور خود اس کے وجود کے عجائب سے آگاہ ہونے سے باز رکھتی ہے، وہ روزی کی حرص ہے، خدا آیت کے آخر میں اطمینان دلاتا ہے، کہ اس کی روزی کی ضمانت دی جا چکی ہے، تاکہ وہ راحت و آرام کے ساتھ عالم ہستی کے عجائبات میں غور و فکر کر سکے، اور "أَ فَلَا تُبصِرُون" کا جملہ اس کے حق میں پورا ہو۔ لہٰذا اس مطلب کی تاکید کے لیے آخری زیر بحث میں قسم کھاتے ہُوئے کہتا ہے: "آسمان و زمین کے خدا کی قسم یہ مطلب حق ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے تم بات کرتے ہو" (فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ)۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ خدا اپنی عظمت و قدرت کے باوجود، بہت شک کرنے والوں، دیر سے یقین کرنے والوں ضعیف النفس اور حریص بندوں کو اطمینان دلانے کے لیے قسم کھا رہا ہے، کہ رزق و روزی اور قیامت کے ثواب و عقاب کے وعدوں کے بارے میں جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "انہ" کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض اسے "رزق" کی طرف " مَا تُوعَدُونَ " کی طرف اور بعض اس کو پیغمبرؐ اور قرآن کی طرف راجع قرار دیتے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے)۔ "مِثْلَ ما أَنَّکُمْ تَنْطِقُون" (جس طرح تم بات کرتے ہو) کی تعبیر ایک لطیف اور جچی تلی تعبیر ہے، ایک محسوس ترین چیز کے بارے میں کیونکہ، بعض اوقات انسان کے دیکھنے اور سننے میں تو خطا اور غلطی واقع ہو جاتی ہے، لیکن بات کرنے میں اس قسم کی کوئی خطا اور غلطی نہیں ہوتی کہ انسان یہ احسان کرے کہ اس نے بات کی ہے، حالانکہ اس نے بات نہ کی ہو، لہٰذا قرآن کہتا ہے: جس قدر تمہارا بات کرنا تمہارے لیے ایک محسوس و حقیقت ہے اور واقعیت رکھتا ہے، رزق اور خدائی وعدے بھی اسی طرح ہیں۔ اس سے قطع نظر، بات کرنے کا مسئلہ، خود پروردگار کی ایک عظیم ترین روزی اور نعمتوں میں سے ہے، کیونکہ انسان کے سوا کسی بھی زندہ موجود کو یہ نعمت نہیں ملی، اور انسانوں کی اجتماعی زندگی، تعلیم و تربیت، علوم و دانش کے انتقال، اور زندگی کے مشکلات کے حل کے بارے میں بات کرنے کا اثر و نفوذ کسِی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
چند نکات ١۔ اصمعی کی لرزا دینے والی داستان
"زمخشری" تفسیر کشاف میں اصمعی سے نقل کرتا ہے کہ: (تشریحی نوٹ: اس کا نام "عبد المک ابن قریب" تھا ہارون الرشید کے زمانہ میں ہوا ہے، اس کا حافظ عجیب و غریب اور اس کے معلومات تاریخ و ادب اور اشعار عرب سے بہت زیادہ تھے اور اس نے ٢١٦ھ میں بصرہ میں وفات پائی، (الکنی والا لقاب، جلد ٢، صفحہ ٣٧) میں بصرہ کی مسجد سے باہر آیا تو اچانک میری نگاہ ایک بیابانی عرب پر پڑی جو انپی سواری پر سوار تھا، وہ میرے سامنے آیا تو مجھ سے پوچھا: تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے کہا "بنی اصمع" سے اس نے کہا:کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا وہاں سے جہاں خداوند رحمن کا کلام پڑھتے ہیں، اس نے کہا میرے لیے بھی پڑھو! میں نے اس کے لیے سُورہ الذاریات کی کچھ آیات پڑھیں، یہاں تک کہ آیہ "وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ" تک پہنچا، اس نے کہا بس کافی ہے، وہ اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اونٹ جو اس کے ساتھ تھا اُسے نحر کر ڈالا، اور اس کا گوشت، ان ضرورت مندوں میں جو آ جا رہے تھے، تقسیم کر دیا، اس نے اپنی تلوار اور کمان بھی توڑ ڈالی اور ایک طرف پھینک دی اور پشت پھیر کر چلتا بنا، یہ واقعہ گزر گیا۔ جس وقت میں ہارون الرشید کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کے لیے گیا تو میں طواف میں مشغول ہو گیا، اچانک میں نے دیکھا کہ کوئی آہستہ آواز کے ساتھ مجھے پکار رہا ہے، میں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ وہی مرد عرب ہے، لاغر اور کمزور ہو چکا ہے، اس کے چہرہ کا رنگ زرد پڑھ گیا ہے، (صاف ظاہر تھا کہ آتشِ عشق کا اس پر غلبہ ہو گیا ہے جس نے اس کو بےقرار کر دیا ہے) اس نے مجھے پر سلام کیا، اور دوبارہ مجھ سے خواہش کی کہ اُسی سورہ ذاریات کو اس کے لیے پڑھوں، جب میں اس آیت پر پہنچا، تو اس نے چلا کر کہا، ہم نے اپنے خدا کے وعدہ کو اچھی طرح پا لیا ہے، اس کے بعد اس نے کہا کیا اس کے بعد بھی کوئی آیت ہے تو میں نے بعد والی آیت کو پڑھا: فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ ، تو اس نے دوبارہ چیخ مار کر کہا: " يَا سبحان الله من ذا الّذى أغضبَ الجليل حتى حلف يصدقوه بقولِه حتى ألجئوه إلى اليَمين؟! "یہ کتنی عجیب بات ہے، کون تھا وہ جس نے خداوند جلیل کو غضبناک کیا، اور اُسے اس طرح قسم کھانی پڑی، کیا انہوں نے اس کی باتوں پر یقین نہیں کیا، کہ وہ قسم کھانے کے لیے ناچار ہوا؟! اس نے اس پر جُملہ کو تین مرتبہ دہرایا، اور زمین پر گر پڑا، اور اس کی رُوح آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔ (بحوالہ: "تفسیر کشاف" جلد ٤، صفحہ ٤٠٠)۔
٢۔ بہشت کیاں ہے ؟
جیسا کہ ہم آیات کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ بعض نے "وَما تُوعَدُونَ " کے جُملہ کی بہشت کے ساتھ تفسیر کی ہے انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، کہ بہشت آسمانوں میں ہے، لیکن ان کی یہ بات اس چیز سے جو سورہ آلِ عمران کی آیہ ١٢٣ میں آئی ہے، جو کہتی ہے کہ بہشت آسمانوں اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، سازگار نظر نہیں آتی ۔ اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، یہ تفسیر جملہ "مَا تُوعَدُون" کے لیے مُسلم نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ یہ وعدہ رزق یا آسمانی عذابوں کی طرف اشارہ ہو۔ اور اگر سورہ نجم کی آیہ ١٥ میں یہ آیا ہے کہ "جَنَّةُ الْمَأْوٰی" آسمانوں میں "سدرة المنتہیٰ" کے پاس ہے، تو یہ اس معنٰی پر دلیل نہیں ہو گی، کیونکہ "جَنَّةُ الْمَأْوی" بہشت کے باغات کا ایک حصّہ ہے نہ کہ تمام بہشت (غور کیجئے گا)۔
٣۔حق تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آمادگی ضروری ہے
جس وقت قرآن کی آیات، عالم ہستی میں خدا کی نشانیوں اور اسرار آفرینش کے متعلق گفتگو کرتی ہیں، تو کبھی فرماتاہے: "یہ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو کان دھر کے سنتے ہیں" (لِقَوْمٍ یَسْمَعُون)(یونس ۔٦٧) کبھی کہتا ہے: "ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں" (لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ) (رعد۔٣)۔ کبھی فرماتا ہے: "ان لوگوں کے لیے جو تعقل کرتے ہیں "(لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ)(رعد۔٤)۔ کبھی کہتا ہے: "ان لوگوں کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شکر گزار ہیں" (لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ) (ابراہیم ۔ ٥)۔ کبھی کہتا ہے: "ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں" (لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) (نحل ۔ ٧٩)۔ کبھی کہت اہے: صاحبان دماغ کے لیے نشانیاں ہیں" (لَآياتٍ لِأُولِي النُّهى) (طٰہٰ۔٥٤)۔ کبھی فرماتا ہے:"جو ہوش میں سرشار ہیں" (لَآیاتٍ لِلْمُتَوَسِّمینَ) (حجر۔٧٥)۔ اور بالآخر کبھی یہ کہتا ہے! "صاحبانِ علم کے لیے نشانیاں ہیں" (لَآیاتٍ لِلْعالِمین) (روم ۔٢٢)۔ زیر بحث آیات میں کہتا ہے کیا تم دیکھتے نہیں؟ کہ خدا کی آیتیں، زمین میں اور تمہارے وجود کے اندر، ان لوگوں کے لئے جو چشم بینا رکھتے ہیں، واضح و آشکار ہیں۔ یہ سب تعبیریں اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بےشمار آیات اور بہت سی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو اس کے وجود پاک کے لیے، سارے عالم آفرینش میں موجود ہیں، ایک آمادہ زمین کی ضرورت ہے، ایک بنیا آنکھ، ایک سننے والا کان، ایک بیدار فکر اور ایک باہوش دل، اور ایک ایسی روح جو حقائق کی پیاسی اور اُسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو، ضروری ہے، ورنہ ممکن ہے کہ انسان سالہا سال ان آیات کے درمیان زندگی بسر کرتا رہے، لیکن جانوروں کی طرح اصطبل اور گھاس کے علاوہ کسی چیز کو نہ پہچانے۔
٤۔ رزق حق ہے
منجملہ ان امور کے جن پر ایک دقیق نظام حاکم ہے، یہی روزی کا مسئلہ ہے، جس کی طرف زیر بحث آیت میں واضح اشارے ہُوئے ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تلاش و کوشش شرط ہے، اور کاہلی و سستی محرومیّت اور درماندگی کا سبب بنتی ہے، لیکن یہ گمان کر لینا بھی اشتباہ اور غلط ہے کہ حرص و طمع اور نامناسب کاموں سے انسان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے، اور عفت و متانت اور خود داری سے روزی کم ہو جائے گی۔ اسلامی احادیث میں اس سِلسلے میں عمدہ تعبیریں نظر آتی ہیں۔ ایک حدیث میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے: إنّ الرّزق لَايجره حرص حريص، وَلَايصرفه كره كاره: "روزی خدا کی طرف سے مقدر شدہ ہے، حریص کا حرص اُسے جلب نہیں کرتا، اور نہ ہی لوگوں کی ناپسندیدگی اُسے روکتی ہے۔" (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد٥، صفحہ ١٢٦)۔ ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس شخص کے جواب میں جس نے موعظ کا تقاضا کیا تھا فرمایا: "وان کان الرزق مقسوماً فالحرص لماذا؟..." "جب رزق تقسیم شدہ ہے تو پھر حرص و لالچ کس بنا پر .... (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد٥، صفحہ ١٢٦)۔ ان بیانات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کوئی کوشش ہی نہ کی جائے، بلکہ حریص اور لالچ لوگوں کو۔ رزق کے مقدر ہونے کی وجہ سے ان کے حرص سے روکا گیا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ احادیث اسلامی میں جلب رزق یا اس کے موانع کے عنوان سے بہت سے امور بیان کیے گئے ہیں، جن سے ہر ایک اپنی نوعیّت کار آمد ہے۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے۔ وَالّذى بعث جدى بِالحقّ نبيا إنّ الله تبارك وتعالى يَرزقُ العبد عَلى قدرِ المروة، وَإن المعونة تنزل على قدر شدّة البلاء: "اس ذات کی قسم جس نے میرے جد کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ خداوند تعالیٰ انسان کو اس کی مروت و شخصیّت کے مطابق روزی دیتا ہے، اور پروردگار کی کمک اور مدد شدتِ بلا اور حادثہ کی مناسبت سے ہوتی ہے۔ (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد٥، صفحہ ١٢٥(حدیث ٣١)۔ ایک اور دوسری حدیث میں انہی حضرت سے منقول ہے: كف الاذى وَقلّة الصخب يزيدان فِى الرّزق: "لوگوں کو تکلیف و آزار پہنچانے سے رُکنا اور شور شرابہ اور جھگڑے کو ختم کرنے سے، روزی میں اضافہ ہوتا ہے۔" (بحوالہ: وہی مدرک جلد٥، صفحہ ١٢٥(حدیث ٣٥ و٣٧)۔ پیغمبراسلامؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "التوحيد نصف الدين و استنزل الرزق بالصدقة": "توحید نصف دین ہے اور روزی کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے نازل کرو۔" (بحوالہ: وہی مدرک جلد٥، صفحہ ١٢٥(حدیث ٣٥ و٣٧)۔ اس طرح کچھ اور امور جیسے گھر کے اطراف کو صاف ستھرا رکھنا اور برتنوں کو دھونا روزی کی زیادتی کے اسباب میں سے بیان کیے گئے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ابراہیم (ع) کے مہمان
Tafsīr Nemūna · Vol. 8ان آیات سے آگے گزشتہ مطالب کی تاکید و تائید کے لیے، گزشتہ انبیاء اور گزشتہ اقوام کی سرگذشت کا ایک گوشہ پیش کیا جا رہا ہے اور اس کا پہلا حِصّہ ان فرشتوں کی سرگزشت ہے، جو قوم لُوط کو عذاب کرنے کے لیے آدمیوں کی شکل میں ابراہیمؑ پر ظاہر ہوئے اور ایک بیٹے کے تولد کی بشارت دی، جبکہ ابراہیمؑ بھی بڑھاپے کے سن کو پہنچے ہُوئے تھے اور ان کی بیوی بھی سن رسیدہ اور بانجھ تھی۔ اس باعزت بیٹے کا اس سن و سال میں، بوڑھے ماں باپ کو عطا کرنا، ایک طرف تو، اس چیز کے لیے، جو ہر قسم کی روزیوں کے مقدر ہے ہونے کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں آئی تھی، ایک تاکید ہے۔ اور دوسری طرف حق کی قدرت و توانائی پر ایک اور خدا شناسی کی آیات میں سے ایک آیت ہے، جس کے بارے میں گزشتہ آیات میں بحث ہوئی ہے۔ اور تیسری طرف صاحب ایمان اقوام کے لیے جو حمایت حق کے مشمول ہیں ایک بشارت ہے، جیسا کہ بعد والی آیات جو قوم لُوط کے ہولناک عذاب کی بات کرتی ہیں،بےایمان مجرموں کے لیے ایک تہدید اور تنبیہ ہے۔ پہلے رُوئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہُوئے فرماتا ہے: کیا ابراہیمؑ کے محترم مہمانوں کی خبر تجھ تک پہنچی ہے" (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ضیف" وصفی معنی رکھتا ہے، اور مفرد و جمع دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، لہٰذا "مکرین" کے ساتھ جو جمع ہے اس کی توصیف ہوئی ہے، اور یہ جو بعض نے کہا ہے کہ وہ مصدر ہے اور اس کا تثنیہ اور جمع نہیں ہے ٹھیک نظر نہیں آتا۔ لیکن "کشاف" میں "زمخشری" کے قول کے مطابق چونکہ اصل میں وہ مصدر تھا، جب اس نے اپنے آپ میں وصفی نہیں معنی لے لیا تو مفرد و جمع دونوں استعمال ہونے لگا)۔ "مکرمین" (اکرام کئے گئے) کی تعبیر یا تو اس بناء پر ہے کہ یہ فرشتے حق تعالیٰ کے مامور تھے، اور سُورہ انبیاء کی آیہ ٢٦ میں بھی فرشتوں کے بارے میں یہ آیا ہے: بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ: "وہ مکرم و محترم بندے ہیں" یا ان احترامات کی وجہ سے ہے جو ابراہیمؑ ان کے لیے بجا لائے اور یا دونوں جہات سے۔ اس کے بعد ان کے حالات کی تشریح کرتے ہُوئے کہتا ہے: "جس وقت وہ ابراہیمؑ پر وارد ہُوئے اور کہا: تجھ پر سلام! تو اس نے کہا: تم پر بھی سلام ہو: تمہیں پہچانا نہیں" (إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "سلاماً" ایک فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے، اور تقدیر میں اس طرح ہے،: "نسلم علیکم سلاماً" اور سلام مبتداء ہے، اور اس کی خبر محذوف ہے اور اصل میں "علیکم سلام" یا(سلام علیکم) تھا، گویا ابراہیمؑ چاہتے تھے کہ ان کے سلام سے بالاتر سلام اور تحیت کہیں، کیونکہ "جُملہ اسمیہ" اثبات و دوام پر دلالت کرتا ہے (تفسیر کشاف، جلد٤، صفحہ ٤٠١)۔ بعض نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ناشناختہ ہونے کی بات اپنے دل میں کی نہ کہ آشکار اصُورت میں (کیونکہ یہ بات مہمان کے مسئلہ احترام کے ساتھ سازگار نہیں ہے)۔ لیکن یہ بات معمول کے مطابق ہے، کہ بعض اوقات میزبان مہمان کے احترام کے باوجود کہتا ہے: معلوم نہیں میں نے آپ کو کہاں دیکھا ہے؟ اور میں آپ کو اچھی طرح پہچانتا ہوں، اس بناء پر ظاہر آیہ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے، کہ ابراہیمؑ نے یہ بات ان کے سامنے ہی کی ہو، اگرچہ پہلا احتمال بھی بعید بھی نظر آتا، خاص طور سے جبکہ مہمانوں کی طرف سے اپنے تعارف کے سلسلے میں یہاں کوئی جواب بھی نظر نہیں آ تا، اور اگر ابراہیمؑ نے اس قسم کی کوئی بات آشکارا کی تھی، تو ضرور وہ اس کا جواب دیتے۔ بہرحال، ابراہیم علیہ السلام جیسے مہمان نواز اور سخی نے اپنے مہمانوں کی پذیرائی کے لیے فوراً کام شروع کر دیا، پوشیدہ طور پر اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک موٹا تازہ بُھنا ہوا بچھڑا ان کے لیے لے آئے" (فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ)۔ "راغ" جیسا کہ راغب مفرادت میں کہتا ہے: "روغ" (بروزن شوق) ایک پوشیدہ منصوبے کے ساتھ چلنے کے معنی میں ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ ممکن تھا، کہ اگر مہمان متوجہ ہو جائیں، تو اس قسم کی پُرخرچ میزبانی سے منع کر دیں۔ لیکن ابراہیمؑ نے معدو دے چند مہمانوں کے لیے، جو بعض کے قول کے مطابق تین افراد اور زیادہ سے زیادہ بارہ افراد تھے۔ (بحوالہ: اقتباس از "روح البیان" اور "حاشیہ تفسیر صافی" زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ اتنا فراواں اور بافراغت کھانا کیوں تیار کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ عام طور پر سخی افراد ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی مہمان آ جائے تو وہ صرف مہمانوں کے انداز کے مطابق کھانا تیار نہیں کرتے، بلکہ وہ اتنی غذا تیار کرتے ہیں کہ مہمانوں کے علاوہ وہ تمام لوگ جو ان کے لیے کام کرتے ہیں اس میں شریک ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ ہمسایوں قرابت داروں اور دوسرے گرد و پیش کے لوگوں کو بھی نظر میں رکھتے ہیں۔ اس بناء پر ہرگز اس قسم کی اضافی غذا اسراف اور فضُول خرچی میں شمار نہیں ہوتی، اور یہ چیز موجودہ زمانہ میں بہت سے قبیلوں، اور ان لوگوں میں جو سابقہ طور طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، نظر آتی ہے۔ "عجل" (بروزن طفل) بچھڑے کے معنی میں ہے (اور یہ جو بعض نے کہا ہے کہ گوسفند کے معنی میں ہے وہ متونِ لغت کے مطابق نہیں ہے) یہ لفظ اصل میں عجلہ کے مادہ سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ جانور اس سن و سال میں عجولانہ حرکات کرتا ہے اور جب بڑا ہو جاتا ہے تو انہیں کلی طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ "سمین" موٹے تازے کے معنی میں ہے اور اس قسم کے بچھڑے کا انتخاب مہمانوں کے احترام اور آس پاس کے اشخاص کے زیادہ سے زیادہ استفادہ کے لیے تھا۔ سُورہ ہود کی آ یت ٦٩ میں آیا ہے کہ یہ بچھڑا بھُنا ہوا تھا: (بِعِجْلٍ حَنِيذٍ) اگرچہ زیر بحث آ یت اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتی، لیکن اس کے منافی بھی نہیں ہے۔ "ابراہیم علیہ السلام خود یہ کھانا مہمانوں کے لیے لے کر آئے، اور ان کے نزدیک رکھ دیا" (فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ)۔ لیکن انتہائی تعجب کے ساتھ مشاہدہ کیا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: "کیا تم کھانا نہیں کھاتے؟ (قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ)۔ ابراہیم علیہ السلام خیال کرتے تھے کہ وہ جنس بشر میں سے ہیں،: "جب انہوں نے دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تو دل میں وحشت محسُوس کی" (فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً)۔ کیونکہ اس زمانہ میں، اور اس زمانہ میں بھی بہت سی اقوام ہیں جو سنتی اخلاق کے پابند ہیں، جب کوئی کسی کے دستر خوان پر کھانا کھا لیتا تھا تو پھر اس کو تکلیف و آزار نہیں پہنچاتا تھا، اور کوئی خیانت نہیں کرتا تھا، اور جہاں نمک کھاتے ہیں وہاں نمک دان کو نہیں توڑتے (نمک حرامی نہیں کرتے) لہٰذا اگر مہمان غذا کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاتا، تو یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ وہ کسی خطرناک کام کے لیے آیا ہے، یہ ضرب المثل بھی عربوں میں مشہور ہے کہ وہ کہتے ہیں: " مَن لَم يَأكُل طَعَامَك لَم يَحفظ ذمامك": "جو شخص تیرا کھانا نہیں کھاتا وہ تیرے عہد و پیمان کی وفا نہیں کرے گا۔" "ایجاس"، "وجس" (بروزن مکث)کے مادہ سے اصل میں مخفی آواز کے معنی میں ہے، اسی بناء پر "ایجاس" پنہانی اور اندرونی احساس کے معنی میں آیا ہے، گویا انسان اپنے اندر سے آواز سنتا ہے، اور جب "خیفة" کے ہمراہ ہو، تو احساس خوف کے معنی میں ہے۔ یہاں پر مہمانوں کے۔ جیسا کہ سُورہ ہُود کی آ یت ٧٠ میں آیا ہے اس سے کہا کہ ڈرو نہیں اور اس کو تسلی دی،: (قَالُواْ لَا تَخَفْ)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: انہوں نے اُسے ایک دانا اور عالم بیٹے کی بشارت دی" (وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ)۔ واضح رہے کہ بیٹا تولد کے وقت تو عالم نہیں ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ اس میں استعداد ہو کہ وہ آئندہ عالم اور عظیم دانشمند بنے اور یہاں یہی مراد ہے۔ اس بارے میں کہ یہ بیٹا اسمعیل تھا یا اسحاق؟مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، اگرچہ مشہور یہی ہے کہ وہ حضرت اسحق تھے۔ لیکن یہ احتمال کہ اسماعیل تھا، سُورہ ہود کی آ یہ ٧١ کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو کہتی ہے،: فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحٰقَ: درست نظر نہیں آتا اس بناء پر کوئی شک نہیں ہے کہ وہ عورت جس کے بارے میں بعد کی آیات میں گفتگو آئی ہے، وہ ابراہیمؑ کی بیوی سارہ ہے اور یہ بیٹا "اسحق" ہے۔ "اس وقت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی آگے آئی، درحالیکہ وہ خوشی اور تعجب سے بلند آواز میں بول رہی تھی۔ اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا میرے فرزند ہو گا؟ حالانکہ میں ایک بانجھ بڑھیا ہوں" (فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ)۔ سورہ ہود کی آ یت ٧٢ میں بھی یہ آیا ہے: قالَتْ يا وَيْلَتى أَ أَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهذا بَعْلِي شَيْخاً: "اس نے کہا: وائے ہو مُجھ پر کیا میں اب بچہ جنونگی، جب کہ میں بانجھ بڑھیاں ہوں، اور یہ میرا شوہر بھی بوڑھا ہے یہ تو واقعاً ایک عجیب چیز ہے۔ اس بناء پر اس کا چیخنا تعجب اور خوشی کی وجہ سے چیخنا تھا۔ (یعنی بلند آواز میں اظہار مسرت و حیرت)۔ لفظ "صرة"، "صر" (بروزن شر)کے مادہ سے دراصل باندھنے اور وابستگی کے معنی میں ہے، اور شدّت سے چیخنے اور اسی طرح پےدرپے جمعیت پر بھی بولا جاتا ہے، چونکہ اس میں شدت اور ایک دوسرے سے پیوسگی ہوتی ہے، شدید اور سرد ہواؤں کو بھی "صرصر" کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ انسانوں کو لپیٹ کر رکھ دیتی ہے، اور ؔصرورة" اس عورت یا مرد کو کہتے ہیں۔ جس نے ابھی تک حج نہ کیا ہو، یا شادی کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، کیونکہ ان میں ایک قسم کی بستگی اور امتناع ہے اور زیر بحث آیت میں اسی شدت کے ساتھ چلّانے کے معنی میں ہے۔ "صکت صک" (بروزن شک)کے مادہ سے شدت سے مارنے یا چہرے پر مارنے کے معنی میں ہے، اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ابراہیم کی بیوی نے جس وقت بیٹے کے تولد کی بشارت سنی ... تو جیسا کہ عورتوں کی عادت، شدت تعجب اور شرم و حیا سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر مارے۔ بعض نے مفسرین کے قول کے مطابق اور اسی تورات کے سفر تکوین کے مطابق، ابراہیمؑ کی بیوی نوّے سال یا اس سے زیادہ عمر کی تھی، اور خود ابراہیمؑ تقریباً سو سال یا اس سے زیادہ تھے۔ لیکن قرآن بعد والی آیت میں، فرشتوں کے جواب کو، جو انہوں نے اُسے دیا، نقل کرتا ہے: "انہوں نے کہا کہ تیرے پروردگار نے اسی طرح کہا ہے، اور وہ حکیم و دانا ہے" (قَالُوا كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكِ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ)۔ اگرچہ تو بڑھیا ہے اور تیرا شوہر بھی اس طرح ہے، لیکن جب تیرے پروردگار کا فرمان صادر ہو اور اس کا ارادہ کسی چیز سے متعلق ہو جائے تو بلاشک و شبہ وہ پورا ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسی جہان جیسا کہ اور عظیم جہان امر "کن" (ہو جا)کے ساتھ پیدا کر دینا اس کے لیے سہل اور آسان ہے۔ "حکیم" اور "علیم" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تو اپنے بڑھاپے اور بانجھ ہونے اور اپنے شوہر کے کہن سال ہونے کی خبر دے، خدا ان سب باتوں کو جانتا ہے اور اگر ابھی تک اس نے تمہیں بیٹا نہیں دیا اور اب آخر عمر میں مرحمت کر رہا ہے تو اس میں بھی حکمت ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ سُورہ ہود کی آیت ٧٣ میں یہ آیا ہے کہ فرشتوں نے اس سے کہا: أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللهِ رَحْمَتُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ: "کیا تو خدا کے حکم پر تعجب کر رہی ہے، یہ خدا کی رحمت اور اس کی برکات تمہارے گھرانے پر ہیں اور وہ حمید و مجید ہے۔" ان دونوں تعبیروں کا فرق اس بناء پر ہے، کہ فرشتوں نے یہ سب باتیں سارہ سے کہی تھیں، فرق یہ ہے کہ سورہ ہود میں اس کے ایک حصہ کی طرف اشارہ اور یہاں دوسرے حصّہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، وہاں خدا کی رحمت اور برکات کی گفتگو ہے اور وہ حمید و مجید ہونے کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔(وہ ذات جس کی نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی حمد و تمجید کرتے ہیں)۔ لیکن یہاں ان دونوں بیوی کے بچّہ جننے کے لیے عدم آمادگی کی نسبت خدا کی آگاہی، اور اس خاتون کے ظاہری اسباب کی بنا پر عقیم ہونے کے سلسلہ میں گفتگو ہے، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ کہا جائے ، خدا ان سب چیزوں سے آگاہ ہے، اور اگر یہ سوال ہو کہ جوانی میں یہ نعمت انہیں کیوں نہیں دی؟ تو کہا جائے گا: اس میں کوئی حکمت ہو گی، کیونکہ وہ حکیم ہے۔
ایک نکتہ پیغمبروں کی سخاوت
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض خشک قسم کے افراد سخاوت اور بلند نظری کا اسراف اور فضول خرچی سے اشتباہ کرتے ہیں اور خسیس ہونے اور تنگ نظری کو زہد و پارسائی کے مسئلہ سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ قرآن اُوپر والی آیات اور سُورہ ہود کی آیات میں اس حقیقت کو کھول کر بیان کر رہا ہے کہ مہمان کی پذیرائی کُھلے دل پسندیدہ ہونے کی دلیل ہے، لیکن وہ ایسی پذیرائی ہو، جس کی شعاع دوسروں کو بھی بہرہ ور کرے، جیسا کہ شریف اور سخی افراد کی رسم ہے۔ خدا نے کبھی بھی زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کو حرام نہیں کیا، اور اموال حلال اپنے پاس رکھنا، جیسا کہ ابراہیم کے پاس تھے، جن سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے تھے، اُسے کبھی عیب شمار نہیں کیا۔ ابراہیم علیہ السلام اتنا بہت سارا مال ہونے کے باوجود کبھی بھی یادِ خدا سے غافل نہیں ہُوئے، اور کبھی اس سے خواہ مخواہ کی دلبستگی نہ رکھی اور کسی زمانہ میں بھی اس کے منافع کو اپنے تک منحضر نہیں رکھا۔ قرآن سورہ اعراف کی آیہ ٣٢ میں کہتا ہے: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ: کہہ دے خدا کی زمینوں کو جو اس نے بندوں کے لیے خلق کی ہیں، اور پاکیزہ روزیوں کو کس نے حرام کیا ہے؟ کہہ دے: یہ دنیا کی زندگی میں انہیں لوگوں کے لیے تو ہیں جو ایمان لائے ہیں (اگرچہ دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہیں لیکن) قیامت میں تو یہ خالصتاً مؤمنین کے لیے ہی ہوں گی، ہم اسی طرح سے اپنی آیات کی ایسے لوگوں کے لیے جو آگاہ ہیں، تشریح و تفصیل کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم تفصیلی بحث جلد٤، سورہ اعراف کی آیہ ٣٢ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قومِ لوط کے بلادیدہ شہر ایک آیت اور عبرت ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8فرشتوں کے براہیم کے پاس آنے، اور انہیں اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دینے کے واقعہ کے بعد، اس گفتگو کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے، جو "ابراہیم" اور "فرشتوں" کے درمیان قوم "لوط" کے سلسلہ میں ہوئی۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: ابراہیم شام کی طرف جلاوطن ہونے کے بعد لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینے اور ہر قسم کے شرک بُت پرستی کے خلاف مبارزہ کرنے میں مصروف تھے، حضرت "لوط" جو ایک عظیم پیغمبر تھے، ان ہی کے زمانہ میں ہوئے ہیں اور احتمال یہ ہے کہ آپ ہی کی طرف سے مامور ہُوئے تھے، کہ گمراہوں کو تبلیغ و ہدایت کرنے کے لیے شام کے ایک علاقہ (یعنی سدوم کے شہروں کی طرف) سفر کریں۔ وہ ایک ایسی گناہ ہگارقوم کے درمیان آئے جو شرک اور بہت سے گناہوں میں آلودہ تھی، اور سب سے قبیح گناہ اغلام اور لواطت تھی،آ خرکار فرشتوں کا ایک گردہ، اس قوم کی ہلاکت پر مامور ہوا، لیکن وہ پہلے ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ ابراہیم مہمانوں کو وضع قطع سے سمجھ گئے کہ یہ کسی اہم کام کے لیے جا رہے ہیں، اور صرف بیٹے کی ولادت کی بشارت کے لیے نہیں آئے، کیونکہ اس قسم کی بشارت کے لیے تو ایک ہی شخص کافی تھا، یا اس عجلت کی وجہ ہے جو وہ چلنے کے لیے کر رہے تھے، اس سے محسوس کیا کہ کوئی اہم ڈیوٹی رکھتے ہیں۔ لہٰذا پہلی آیت میں کہتا ہے: "اے خدا کے بھیجے ہُوئے فرشتو! تم کون سے اہم کام کے لیے مامور ہُوئے ہو:؟ (قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھنی چاہیے، کہ "خطب" ہر قسم کے کام کو نہیں کہتے، بلکہ یہ اہم کاموں کے معنی میں ہے، جبکہ شغل، امر، فعل اور اس قسم کے الفاظ ایک عام مفہوم رکھتے ہیں)۔ فرشتوں نے اپنی ڈیوٹی کی، اور ابراہیم سے کہا :ہم ایک مجرم اور تباہ کار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں" (قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ)۔ ایسی قوم جو عقیدہ کے فساد اور خرابی کے علاوہ انواع و اقسام کی آلودگیوں، اور مختلف گناہوں میں جو قبیح اور شرمناک ہیں گرفتار ہیں۔ (تشریحی نوٹ: قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورۂ ہود میں اس واقعہ کو ذکر کرتے وقت کہتا ہے: " إِنَّا أُرْسِلْنا إِلى قَوْمِ لُوطٍ"، "ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں" تعبیر کا یہ فرق جو زیر بحث آیات اور سُورہ ہود کی آیت کے درمیان ہے، اس بناء پر ہے کہ ان سے ہر ایک واقعہ کے ایک حصّہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ تمام مسائل واقع ہُوئے ہیں البتہ ان میں سے بعض زیر بحث آیات کے ضمن میں آئے ہیں اور بعض دوسری سورتوں میں ہیں)۔ اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: ہم اس بات کے لیے مامور ہُوئے ہیں کہ ان پر "سنگ۔ گل" کی بارش کریں اور انہیں اس کے ذریعہ تہ و بالا کر کے ہلاک کر دیں" (لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن طِينٍ)۔ "حِجَارَةً مِّن طِينٍ" (مٹی کے پتھر) کی تعبیر، وہی چیز ہے، جسے سورہ ہود کی آیہ ٨٢ میں، اس کی بجائے "سجیل" اور "سجیل" اصل میں ایک فارسی لفظ ہے، جو "سنگ" و "گل" سے لیا گیا ہے، اور عربی زبان میں "سجیل" کی صورت اختیار کر لی ہے، تو اس بناء پر یہ ایک ایسی چیز ہے جو نہ پتھر کی طرح سخت ہے اور نہ مٹی کی طرح نرم اور مجموعی طور پر شاید اس معنی کی طرف اشار ہو کہ اس مُجرم قوم کو نابُود کرنے کے لیے آسمان سے بڑے بڑے پتھروں کے نازل کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی، بلکہ چھوٹے چھوٹے ریت کے ذرات کی بارش جو زیادہ محکم نہیں تھے، بارش کے قطرات کی مانند ان پر برسے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ پتھر تیرے پروردگار کی طرف سے اسراف کرنے والوں کے لیے نشان لگائے ہُوئے تھے" (مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ)۔ "مسوّمة" اس چیز کو کہتے ہیں، جس پر کوئی علامت اور نشانی ہو، اور اس بارے میں کہ وہ کس طرح کے نشاندار تھے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے تو یہ کہا ہے کہ: ان کی ایک مخصوص شکل تھی جو اس بات کی نشاندہی کرتی تھی کہ یہ عام پتھر نہیں ہیں، بلکہ عذاب کا ذریعہ ہیں۔ اور ایک جماعت نے یہ کہا ہے: ہر ایک پر ایک علیٰحدہ نشانی تھی اور ایک معین فرد اور ایک خاص نقطہ کے لیے نشانہ بنایا گیا تھا، تاکہ لوگ جان لیں کہ خدا کے عذاب ایسے حساب شدہ ہوتے ہیں کہ یہ تک معلوم ہے، کہ کون سا مُجرم شخص کس پتھر کے ساتھ ہلاک ہو گا! "مُسرِفِین" کی تعبیر ان کے گناہوں کی کثرت کی طرف اشارہ ہے، اس طرح سے کہ وہ حد سے گزر گئے تھے اور حیاء و شرم کا پردہ چاک کر چکے تھے، اگر کوئی شخص قوم لُوط کے حالات اور ان کے گناہوں کے اقسام میں غور کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ ان کے بارے میں یہ تعبیر بہت ہی پُر معنی ہے۔ ( بحوالہ: تفسیر نمونہ کی جلد ٩، صفحہ ١٨٣ کی طرف رجوع کریں (سورہ ہود کی آ یت ٨١ کے ذیل میں)۔ ہر انسان ممکن ہے کبھی کبھی کسی گناہ سے آلودہ ہو جائے ، لیکن اگر وہ جلدی بیدار ہو جائے اور اس کی تلافی اور اصلاح کر لے، تو زیادہ مشکل نہیں ہے، مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب کام اسراف کی حد تک پہنچ جائے۔ یہ تعبیر اس کے ساتھ، ہی ایک اور مطلب کو بھی واضح کرتی ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ آسمانی پتھر قوم لوط کے لیے نشان لگائے گئے بلکہ یہ تمام اسراف کرنے والے گنہگاروں کے انتظار میں ہیں۔ قرآن نے یہاں پروردگار کے ان فرشتوں کے بعد کے واقعہ کو، کہ وہ لوط کے پاس آئے، اور مہمانوں کے عنوان سے وارد ہوئے، اور وہ بے شرم قوم، اس خیال سے کہ وہ نوع بشر کے خوبصورت جوان میں ہیں، ان کی طرف آئی لیکن بہت جلد ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا، اور ان سب کی آنکھیں اندھی ہو گئیں__ چھوڑ دیا ہے،اور خدا کی گفتگو کے آخری حصہ کو بیان کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ یہ ماجرا سورہ ہود کی آیت میں نقل ہوا ہے، لیکن اس کی تعبیریں اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں، کہ ابراہیم سے ان فرشتوں کی ملاقات قوم لوط کے عذاب سے سے پہلے تھی، جب کہ زیر بحث آیات میں کچھ تعبیریں یہ بتاتی ہیں کہ یہ ملاقات بعد میں ہوئی، اس مسئلہ کے حل کا راستہ یہ ہے کہ "مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفینَ" تک فرشتوں کی گفتگو ہے، اور بعد کی تین آیات جو اوپر ذکر ہو چکی ہیں، خدا کا کلام ہے، اور اس کے مخاطب پیغمبر اسلام اور مسلمان ہوں، اور وہ اسے ایک واقعہ کے عنوان سے جو گزشتہ زمانہ میں صورت پذیر ہوا بیان کر رہا ہے۔(غور کیجئے)۔ فرماتا ہے، ہم نے ان تمام مؤمنین کو جو قوم لوط کے شہروں میں رہتے تھے، بلا کے نازل ہونے سے پہلے ہی نکال دیا" (فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ)۔ "لیکن ان تمام علاقوں میں ہمیں ایک گھرانے کے سوا اور کوئی صاحب ایمان نہ ملا" (فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ)۔ ہاں! ہم ہرگز خشک و تر کو ملا کر نہیں جلاتے، اور ہماری عدالت اجازت نہیں دیتی کہ مومن کو کافر کی سزا میں گرفتار کریں یہاں تک کہ اگر لکھو کھا بےایمان اور مجرم لوگوں میں ایک فرد بھی باایمان اور پاک ہو تو ہم اسے بھی نجات دیتے ہیں۔ یہ وہی مطلب ہے جو سورہ حجر کی آ یت ٥٩، ٦٠ میں اس صورت میں آیا ہے۔:" إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ۔" مگر لوط کا خاندان کہ ہم ان سب کو نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے، جس کے لیے ہم نے یہ مقدر کر دیا تھا کہ وہ شہر میں رہے اور ہلاک ہو جائے۔ اور سورہ ہود کی آیت ٨١ میں آیا ہے: "فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ۔" رات کے وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ روانہ ہو جا، اور تم میں سے کوئی بھی اپنے پیچھے کی طرف مڑ کر نہ دیکھے، سوائے تیری بیوی کے کہ وہ بھی اسی عذاب میں جس میں وہ گرفتار ہوں گے، گرفتار ہو گی۔ اور سورہ عنکبوت کی آیت ٢٣ میں یہی واقعہ اس صورت میں بیان کیا گیا ہے: "قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ۔"، "ابراہیم نے کہا: اس شہرو اور آبادی میں تم جسے نابود کرنے کا (تم اے فرشتوں!) ارادہ رکھتے ہو، لوط بھی رہتا ہے، انہوں نے کہا،: ہم نے نیکوں سے جو اس میں ہیں بخوبی آ گاہ ہیں، ہم اس کو اور اس کے گھر والوں کو تو نجات عطا کریں گے، مگر اس کی بیوی شہر کے لوگوں کے درمیان ہی رہ جائے گی۔" پھر یہی موضوع سورہ اعراف کی آیت ٨٣ میں اس طرح بیان ہوا ہے: فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ: "ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات بخشی، مگر اس کی بیوی جو شہر میں رہ جانے والوں میں سے تھی (اور نہی کے انجام کو پہنچی)۔ جیساکہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں، قوم لوط کے ماجرے کا یہ حصہ قرآن کی ان پانچ سورتوں میں مختلف عبارتوں میں بیان ہوا ہے۔ جو سب کے سب ایک ہی حقیقت کو بیان کرتے ہیں، لیکن چونکہ ایک حادثہ کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور ہر نگاہ میں اس کے کسی ایک پہلو کو مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے قرآن مجید میں بھی تاریخی حوادث عام طور پر اسی طرح پیش ہوئے ہیں، اور دہرائے گئے ہیں، اور اوپر والی آیات کی مختلف تعبیر بھی اسی معنی کی گواہ ہیں، علاوہ ازیں، چونکہ قرآن ایک تربیتی اور انسان سازی کی کتاب ہے، اور مقام تربیت گاہ میں ضروری ہے کہ ایک اہم مسئلہ پر بارہا تامل کیا جائے تاکہ پڑھنے والوں کے ذہن میں گہرا اثر چھوڑے، البتہ ضروری ہے کہ یہ تکرار عمدہ، دلنشین اور گوناں گوں تعبیروں کے ساتھ صورت پذیر ہو، تاکہ دل کو ملال حاصل نہ ہو اور فصیح و بلیغ ہو، (ابراہیم کے مہمانوں کے واقعہ اور ابراہیم کی اُن سے گفتگو، اور پھر قوم لوط کے دردناک اور عبرت انگیز انجام، کی مزید وضاحت کے لیے، تفسیر نمونہ جلد ٦، صفحہ ٢١٢ سے آگے اور جلد ٩ صفحہ ١٨٣ اور جلد ١١ صفحہ ١٠٣ اور جلد ١٦ صفحہ ٢٢٤ سورہ اعراف، ہود، حجر اور عنکبوت کی آیات کے ذیل میں رجوع فرمائیں)۔ بہرحال، خداوند عالم نے اس آلودہ قوم کو زمین کے ایک سخت اور ویران کرنے والے زلزلہ سے تہ و بالا کر دیا، اس کے بعد آسمانی پتھروں کی بارش برسائی اور ان کا نام و نشان مٹا دیا، یہاں تک کہ ان کے پلید بدن بھی آسمانی گرد و غبار اور پتھروں کے نیچے دفن ہو گئے، تاکہ وہ آئندہ آنے والوں، اور تمام بےایمان مجرم اور آلودہ افراد کے لیے، ایک عبرت ہوں۔ اسی لیے آخری زیر بحث آیت میں مزید کہتا ہے: "ہم نے ان لوگوں کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں، اس سرزمین میں ایک واضح نشانی رکھ چھوڑی ہے" (وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ)۔ یہ تعبیر اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان آیات اور خدا کی نشانیوں سے وہی لوگ پند و نصیحت حاصل کرتے ہیں، جن میں قبول کرنے کے لیے آمادگی ہو، اور جو مسؤلیت اور ذمہ داری کا احساس کریں۔
ایک نکتہ قوم لُوط کے شہر کہاں تھے؟
یہ بات مسلمہ ہے کہ ابراہیم عراق اور سرزمین بابل سے ہجرت کرنے کے بعد شامات کی طرف گئے، کہتے ہیں کہ لوط بھی ان کے ساتھ تھے۔ لیکن کچھ مدت کے بعد (توحید کی طرف دعوت دینے اور فتنہ و فساد سے مبارزہ کے لیے) شہر "سدوم" کی طرف گئے۔ "سدوم" قوم لوط کے ایک شہر اور آبادی کا نام تھا، جو شامات (ملک اردن میں) بحرالمیت کے قریب واقع تھا، جو آبادی اور درختوں اور سبزہ زار سے بھرا تھا، لیکن اس بدکار و بےغیرت قوم پر عذاب الہٰی کے نازل ہونے کے بعد، ان کے شہر مسمار اور تہ و بالا ہو گئے، چنانچہ انہیں "مدائن مؤتفکات" (تہ و بالا ہونے والے شہر) کہتے ہیں۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ ان شہروں کے ویرانے زیر آب آ گئے ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بحرالمیت کے ایک گوشہ میں کچھ ستون اور دوسرے آثار جوان شہروں کے خرابوں پر دلالت کرتے ہیں دیکھتے ہیں۔ اور یہ جو بعض اسلامی تفاسیر میں آیا ہے کہ "وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً" کے جملہ سے مراد وہی گندے پانی ہیں جنہوں نے ان شہروں کی جگہ کو ڈبو دیا ہے۔ ممکن ہے کہ اسی معنی کی طرف اشارہ ہو کہ شدید زلزلوں اور زمین کے شگافتہ ہونے کے بعد بحرالمیت سے ایک راستہ اس سرزمین بلادیدہ کی طرف کھل گیا ہو اور یہ سب شہر زیر آپ آ گئے ہوں۔ جب کہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ قوم لوط کے شہر زیر آپ نہیں آئے اور اب بھی بحرالمیت کے قریب ایک علاقہ ہے جو سیاہ پتھروں کے نیچے ڈھکا ہوا ہے، احتمال ہے کہ قوم لوط کے شہروں کی یہی جگہ ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ ابراہیم کا مرکز شہر "حبرون" میں تھا، جو شہر "سدوم" سے چنداں دور فاصلہ پر نہیں تھا، اور جس وقت زلزلہ یا صاعقہ کے زیر اثر ان کے شہروں کو آگ لگی تو اس وقت ابراہیم حبرون کے قریب کھڑے ہوئے تھے، اور شہر سے جو دھنواں اٹھ رہا تھا اُسے اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ (بحوالہ: اقتباس از کتاب "قاموس مقدس"، "دائرة المعارف دھخدا" اور "المنجد" حصہ اعلام)۔ اس گفتگو کے مجموعہ سے ان شہروں کے قریب قریب حدود واضح ہو گئے، اگرچہ ان کے جزئیات ابھی تک پردہ ابہام میں ہیں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 46 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گزشتہ لوگوں کی تاریخ میں یہ سب عبرت کے درس ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8قرآن ان آیات میں، قوم لوط کی داستان اور اس دردناک انجام کو، جو انہوں نے قبیح اور شرمناک گناہوں کی وجہ سے پایا تھا، بیان کرنے کے بعد، گزشتہ اقوام میں سے چند قوموں کی سرگذشت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے: "موسیٰ اور اس کی زندگی کی تاریخ میں بھی ایک نشانی اور درس عبرت تھا، جب ہم نے اسے فرعون کی طرف واضح اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا" (وَفِي مُوسَى إِذْ أَرْسَلْنَاہُ إِلَى فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ)۔ "سلطان" اس چیز کو کہتے ہیں جو تسلط کا سبب بنے، اور یہاں معجزہ یا عقلی قوی دلیل و منطق ہے، یا دونوں میں، کہ موسیٰ نے فرعون کے مقابلہ میں ان سے فائدہ اٹھایا۔ سلطان مبین کی تعبیر قرآن کی مختلف آیات میں بہت زیادہ استعمال ہوئی ہیں، اور عام طور پر واضح و آشکار منطقی دلیل کے معنی میں ہے۔ لیکن فرعون نے نہ تو موسیٰ علیہ السلام کے عظیم معجزات کے سامنے سرتسلیم خم کیا، جو ان کے خدا سے ارتباط کے گواہ تھے، اور نہ ہی ان کے منطقی دلائل کے آگے سرتعظیم جھکایا، بلکہ اس غرور تکبر کی وجہ سے جو وہ رکھتا تھا، اپنے پورے وجود کے ساتھ اس سے پھر گیا اور کہا: یہ شخص یا تو جادو گر ہے یا دیوانہ ہے" (فَتَوَلَّى بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ)۔ "رکن" اصل میں ستون اور پایہ اصلی اور ہر چیز کے اہم حصہ کے معنی میں ہے اور یہاں ممکن ہے بدن کے تمام ارکان کی طرف اشارہ ہو، یعنی فرعون نے مکمل طور پر اپنے تمام ارکان بدن کے ساتھ موسیٰ کی طرف پشت کی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے، کہ یہاں اس کا لشکر مراد ہے، یعنی اس نے اپنے ارکانِ لشکر پر تکیہ کیا، اور پیام حق سے روگردانی اختیار کی۔ یا یہ کہ اس نے خود بھی فرمان خدا سے منہ پھیرا، اور اپنے ارکانِ حکومت اور لشکر کو بھی منحرف کیا۔ (تشریحی نوٹ: توجہ کرنا چاہیے کہ "برکنه" میں "باء" پہلی تفسیر کے مطابق "باء مصاحبه" اور دوسری تفسیر کے مطابق "باء سببیت" ہے اور تیسری تفسیر کے مطابق "باء تعدیہ" ہے)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جھوٹے جبار اور سرکش لوگ ان تہمتوں اور جھوٹی نسبتوں میں، جو وہ عظیم پیغمبروں کی طرف دیتے تھے، ایک عجیب حیرانی، تناقض اور پریشان گوئی میں گرفتار تھے، کبھی انہیں ساحر و جادو گر کہتے اور کبھی مجنون و دیوانہ، حالانکہ ساحر و جادوگر ایک ہوشیار آدمی ہونا چاہیے، جو باریک کام کرنے، اور نفسیاتی مسائل اور مختلف چیزوں کے خواص سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیرت انگیز کام کرے، اور لوگوں کو غفلت میں رکھے، جب کہ مجنون اس کا نقطۂ مقابل ہے۔ لیکن قرآن فرعونِ جبار اور اس کے ساتھیوں کے انجام کے بارے میں اس طرح خبر دیتا ہے،: ہم نے اُسے اور اس کے لشکر کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور اسے دریا میں پھینک دیا، کیونکہ وہ ایسے اعمال کا مرتکب ہوا تھا، جو سرزنش اور ملامت کے قابل تھے" (فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "ملیم" اسم فاعل ہے باب "افعال" سے، مادہ لوم سے سرزنش کے معنی میں ہے، اور ایسے موقعوں میں اس شخص کے معنی میں ہے، جو قابل ملامت کام کا مرتکب ہوا ہو، جیسا کہ "مغرب" اس شخص کے معنی میں ہے جو عجیب و غریب کام انجام دیتا ہے)۔ "یم" جیسا کہ لغت اور کتب حدیث سے معلوم ہوتا ہے، سمندر کے معنی میں ہے اور تیل جیسے عظیم دریاؤں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے جلد چھ صفحہ ... سورہ اعراف کی آیت ١٣٦ کے ذیل میں بیان ہوا ہے)۔ " نَبَذْناهُم" ہم نے ان کو پھینک دیا) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ نہ صرف خدائی عذاب نے اس قوم کو محو کر دیا، بلکہ ان کی وہ تاریخ جو باقی رہ گئی ہے۔ان کے لیے باعث ننگ و نام ہے اور ان کے شرم آور اعمال کی بھی محافظ ہے، اور اس نے ان کے ظلم و جرم اور کبر و غرور سے اس طرح سے پردہ اٹھایا ہے کہ ہمیشہ کے لیے قابل مذمت بن گئے ہیں۔ اس کے بعد ایک دوسری قوم یعنی عاد کی اجمالی سرنوشت پیش کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے: "قوم عاد کی طرف سرگذشت میں بھی ایک آیت و عبرت ہے، جبکہ ہم نے ان پر ایک عقیم اور بغیر بارش کا طوفان بھیجا" (وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ)۔ ہواؤں کا عقیم اور بانجھ ہونا اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ بارش برسانے والے بادل اپنے ساتھ لے کر نہ چلیں، گیاہ و نباتات میں اپنے عمدہ اثرات نہ چھوڑیں، اور ان میں کوئی فائدہ اور برکت نہ ہو، اور ہلاکت و نابودی کے سوا کوئی چیز ہمراہ نہ لائیں۔ اس کے بعد اس سخت آندھی کی خصوصیت، جو قوم عاد (پر مسلط ہوئی تھی بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے،: وہ جس چیز کے پاس سے گزرتی تھی اس کو نابود کئے بغیر نہ چھوڑتی تھی، اور خشک کٹی پھٹی گھاس یا بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں لے آتی تھی، : (مَا تَذَرُ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ)۔ "رمیم"، "رمة" (بروزن منة)کے مادہ سے بوسیدہ ہڈیوں کے معنی میں ہے۔ اور "رمه" (بروزن قبه) بوسیدہ رسی کو کہا جاتا ہے اور "رم" (بروزن جن) ان چھوٹے چھوٹے اجزاء کو کہا جاتا ہے، جو لکڑی یا گھاس میں زمین پر گر پڑتے ہیں۔ (بحوالہ: مفردات راغب (مادہ۔رم)۔ "رم" اور "ترمیم" پرانی اور بوسیدہ اشیاء کی اصلاح کے معنی میں آتا ہے۔(بحوالہ: "لسان العرب" و مفردات (مادہ۔رم)۔ یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قوم عاد کی تیز آندھی ایک عام تیز آندھی نہیں تھی، بلکہ انہیں تباہ کرنے اور کوٹنے چھیتنے کے علاوہ اور اصطلاح کے مطابق۔ فزیکل دباؤ سے، جلانے اور زہریلا بنانے کی خاصیت رکھتی تھی، جو طرح طرح کی اشیاء کو بوسیدہ اور کہنہ بنا دیتی تھی۔ ہاں! خدا کی قدرت ایسی ہے، جو "نسیم" کی ایک حرکت سریع کے ذریعہ طاقتور اور مشہور و معروف اقوام کو اس طرح کی طرف جو سرزمین احقاف (عمان اور حضر موت کے درمیان کا علاقہ) میں رہتے تھے... ایک مختصر سا اشارہ تھا۔ اس کے بعد قوم "ثمود" کی نوبت آتی ہے، اور ان کے بارے میں فرماتا ہے: قوم ثمود بھی ایک آیت اور عبرت ہے، جبکہ ان سے کہا گیا: تم زندگی کی تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھا لو۔ (اور پھر عذاب الہٰی کے منتظر رہو) (وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّى حِينٍ)۔ "حتیٰ حین سے مراد وہی مہلت کے تین دن ہیں جن کی طرف سورہ ہود کی آیت ٦٥ میں ارشارہ ہوا ہے: فَعَقَرُوها فَقالَ تَمَتَّعُوا فِي دارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ: انہوں نے اس اونٹنی کی جو بطور اعجاز آئی تھی، کونچیں کاٹ دیں، اور ان کے پیغمبر صالح نے ان سے کہا، بس تین دن اپنے گھروں میں مزے اڑالو، اور اس کے بعد عذابِ الہٰی کے منتظر رہو، یہ نہ ٹلنے والی وعید ہے۔" باوجود اس کے کہ خدا ان کے پیغمبر صالح کے ذریعہ انہیں بارھا انذار فرما چکا تھا، لیکن پھر بھی مزید اتمام حجت کے لیے انہیں تین دن کی مہلت اور دی گئی، تاکہ وہ اپنے تاریک ماضی کی تلافی کر لیں، اور گناہ کا زنگ توبہ کے پانی کے ساتھ دل و جان سے دھو لیں، بلکہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان تین دنوں میں ان کے بدن کی جلد میں کچھ تبدیلیاں ظاہر ہوئیں پہلے زرد ہوئیں پھر سرخ ہوئیں اور بعد میں سیاہ ہو گئیں، تاکہ اس مشرک سرکش قوم کے لیے تنبیہیں ہوں، لیکن افسوس ان امور میں سے کوئی چیز بھی فائدہ مند نہ ہوئی، اور وہ غرور کی سواری سے نیچے نہ اترے۔ ہاں! "انہوں نے اپنے پروردگار کے فرمان سے سرتابی کی، اور صاعقہ نے انہیں ناگہانی طور پر آ گھیرا جب کہ وہ حیرانی کے ساتھ دیکھ رہے تھے، اور ان میں اپنا دفاع کرنے کی کوئی قدرت نہ تھی" (فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ)۔ "عتوا"، "عتو" (بروزن غلو) کے مادہ سے، اطاعت سے روگردانی کرنے کے معنی میں ہے ظاہر ہے کہ یہ جملہ ان تمام روگردانیوں کی طرف اشارہ ہے، جو وہ صالح کی دعوت کے سارے عرصہ میں کرتے رہے، مثلاً بت پرستی، ظلم و ستم اور صالح کی اونٹنی کی نچوں کا کاٹنا جو ان کا ایک معجزہ تھا، نہ کہ صرف وہ روگردانیاں جو ان تین دنوں میں انہوں نے انجام دیں، اور بارگاہ خدا میں تو بہ وانا بہ کے بجائے غفلت اور غرور میں ڈوبے رہے۔ اس بات کی شاہد سورہ اعراف کی آیت ٧٧ ہے جو یہ کہتی ہے،: (فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ َتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقالُوا يا صالِحُ ائْتِنا بِما تَعِدُنا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ): پھر انہوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں، اور پروردگار کے فرمان سے سر پیچی کی اور کہا: اے صالح اگر تو خدا کا بھیجا ہوا ہے، تو جس چیز کی ہمیں دھکمی دے رہا ہے وہ لے آ۔" "صاعقہ" اور "صاقعہ" دونوں قریب المعنی ہیں، اصلی میں شدید آواز کے ساتھ نیچے گرانے کے معنی میں ہے، اس فرق کیساتھ کہ صاعقہ آسمانی اجسام میں کہا جاتا ہے، اور "صاقعہ" زمینی اجسام میں اور بعض اہل لغت کے قول کے مطابق صاعقہ کبھی موت کے معنی میں، کبھی عذاب کے معنی میں، اور کبھی آگ کے معنی میں آتا ہے، یہ لفظ عام طور پر اسی شدید آواز پر بولا جاتا ہے، جو آسمان سے مرگ بار آگ کے ساتھ بلند ہوتی ہے، کہا جاتا ہے کہ اس میں (موت و عذاب اور نیند) تینوں ہی معنی جمع ہیں۔ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ جس وقت وہ بادل جن میں مثبت بجلی ہوتی ہے، ایسی زمین کے نزدیک ہو جائیں، جو منفی بجلی کی حامل ہے، تو ان دونوں کے درمیان سے بجلی کا ایک عظیم شعلہ نکلتا ہے، جس کے ساتھ ایک وحشتناک آواز اور جلانے والی آ گ ہوتی ہے، اور وہ اس کے واقع ہونے کے مقام کو لرزا کر رکھ دیتی ہے۔ قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت ١٩ میں اس معنی کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، کیونکہ بادل و بارش اور رعد و برق کی گفتگو کرنے کے بعد مزید کہتا ہے: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ: مفافقین ان راستہ چلنے والے لوگوں کے مانند ہیں جو اندھیری رات میں، جس میں رعد کڑک رہی ہو اور بجلی چمک رہی ہو... بیابان سے گذرتے ہیں، اور مرنے کے خوف سے (اور اس لیے کہ صاعقہ آواز کو نہ سنیں) اپنے کان میں انگلی رکھ لیتے ہیں۔ انجام کار آخری جملہ جو اس سرکش قوم کے بارے میں فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ "وہ اس طرح سے زمین پر گر پڑے کہ ان میں کھڑے ہونے کی بھی قدرت نہ تھی، اور نہ ہی کسی سے مدد طلب کر سکتے تھے" (فَمَا اسْتَطَاعُوا مِن قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنتَصِرِينَ)۔ ہاں! صاعقہ نے انہیں اس طرح غفلت میں پکڑ کر زمین پردے ٹپکا کہ نہ تو ان میں کھڑے ہونے کی طاقت تھی نہ اپنا دفاع کرنے کی قدرت اور نہ ہی نالہ و فریاد اور مدد طلب کرنے کی قوت، اور انہوں نے اسی حالت میں جان دے دی، اور ان کی سرگذشت دوسروں کے لیے ایک درس عبرت بن گئی۔ ہاں! قوم ثمود جو عرب کے معروف قبیلوں میں سے تھی، اور سرزمین حجر میں (جو حجاز کے شمالی میں ایک علاقہ ہے) امکانات و وسائل، فراواں ثروت، طولانی عمر، اور محکم عمارتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، فرمان خدا سے روگردانی، سرکشی، طغیان، شرک اور ظلم و ستم کی بنا پر نابود ہو گئے اور ان کے آثار دوسروں کے لیے ایک درس گویا منہ بولتا سبق بن گئے۔ آخری زیر بحث آیت میں پانچویں قوم یعنی قوم نوح کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور ہم نے قوم نوح کو ان سے پہلے ہلاک کیا تھا، کیونکہ وہ ایک فاسق قوم تھی" (وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ میں ایک محذوف ہے اور "کشاف" میں "زمخشری" کے قول کے مطابق تقدیر میں اس طرح ہے "واھلکنا قوم نوح" اگرچہ پہلی آیات میں "اھلکنا" نہیں تھا، لیکن ان کے مضمون سے ان کا اچھی طرح سے استفادہ ہوتا ہے)۔ "فاسق" اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کے فرمان کی حدود سے باہر قدم نکالے اور کفر و ظلم یا دوسرے تمام گناہوں میں آلودہ ہو۔ من قبل (ان سے پہلے) کی تعبیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قوم فرعون، لوط، عاد و ثمود نے قوم نوح کی افسوس ناک گذشت، جو اُن سے پہلی تھی ... سن رکھی تھی، لیکن افسوس کہ اس نے انہیں بیدار نہ کیا، اور خود اس سے مشابہ سرنوشت میں گرفتار ہو گئے۔
چند نکات ١۔ عذاب الہٰی کی مختلف صورتیں
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات اور گزشتہ آیات میں گزشتہ اقوام میں سے پانچ قوموں کی سرگذشت کی طرف اشارہ ہوا ہے، (قوم لوط، عاد، ثمود، فرعون، اور قوم نوح) جن میں سے پہلی چار قوموں کے عذاب کا بیان تو ہوا ہے، لیکن قوم نوح کے عذاب کی طرف اشارہ نہیں ہوا، اور جس وقت ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی چار اقوام میں سے ہر ایک کو چار مشہور عناصر میں سے کسی ایک کے ساتھ سزا ملی ہے، قوم "لوط" زلزلہ اور آسمانی پتھروں سے تباہ ہوئی یعنی "مٹی" کے ساتھ، قوم "فرعون"، "پانی" کے ساتھ، قوم عاد تیز آندھی اور ہوا کے ساتھ، اور قوم ثمود صاعقہ اور آگ کے ساتھ۔ یہ ٹھیک ہے کہ موجودہ زمانہ میں یہ چاروں چیزیں ایک عنصر یعنی جسم بسیط کے عنوان سے نہیں پہچانی جاتیں (کیونکہ ہر ایک دوسرے اجسام کے ساتھ مرکب ہے) لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چاروں اہم ارکان انسانوں کی زندگی کو برقرار رکھتے ہیں، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی انسان کی زندگی سے کلی طور پر حذف ہو جائے تو زندگی کا برقرار رہنا ناممکن ہو جائے گا، چہ جائیکہ یہ سب کے سب۔ ہاں! خدا نے ان اقوام کی موت اور نابودی ایسی چیز میں قرار دی، جو ان کی زندگی کا عامل اصلی تھی، جس کے بغیر وہ اپنی زندگی کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے۔ اب اگر قوم نوح علیہ السلام کے عذاب کے عامل کو بیان نہیں کیا تو شاید وہ اسی بناء پر ہے کہ ان کا عذاب بھی قوم فرعون کی طرح پانی سے تھا، اور یہاں اس کے تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔
٢۔ تولید کرنے والی اور بانجھ ہوائیں
اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے کہ خدا نے قوم عاد کو تیز اور بانجھ ہوا کے ذریعہ سزا دی، اور سورہ "حجر" کی آیہ ٢٢ میں یہ آیا ہے: "وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً۔" "ہم نے ہواؤں کو تلیقح اور باور کرنے کے لیے بھیجا، اور آسمان سے پانی نازل کیا۔" اگرچہ یہ آیت زیادہ تر بادلوں کی تلیقح اور بارش کے نزول کے لیے ایک دوسرے سے ملنے کی طرف نازل ہے۔" لیکن یہ کلی طور پر انسانوں کی زندگی میں ہواؤں کے نقش و اثر کو واضح کرتی ہے، ہاں! ان کا کام بارور کرنا ہے، بادلوں کو بارور کرنا گیاہ و نباتات کو بارور کرنا، یہاں تک کہ مختلف جانوروں کے اجناس و انواع کو "بارور ہونے" کے لیے آمادہ کرنے کے لیے بھی مؤثر ہے۔ لیکن یہی ہوا جب عذاب کے فرمان کی حامل ہو، تو وہ حیات و زندگی پیدا کرنے کی بجائے، موت اور نابودی کا عامل بن جاتی ہے، اور سورہ قمر آیت ٢٠ میں، قرآن کے قول کے مطابق... جس میں قوم عاد کے بارے میں گفتگو ہے یہ کہا ہے: "تَنْزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ" انہیں (جو قدآور سخت و مضبوط جسم رکھتے تھے) وہ زمین سے اکھاڑ پھینکتی تھی اور سر کے بل زمین پر ٹپک دیتی تھی، اس طرح سے ان کے سر تن سے جدا ہو جاتے تھے، جیسے کہ کسی کھجور کا درخت ہے جو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
Tafseer
Tafsīr Nemūna · Vol. 8tafseer for this ayah is linked with ayah below.
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 51 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہم ہمیشہ آسمانوں کو وسعت دیتے رہتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات ایک مرتبہ پھر عالم آفرینش میں آیات خدا کی عظمت کے مسئلہ کو پیش کرتی ہیں، اور حقیقت میں ان مباحث کو جو اسی سورہ کی آیت ٢٠و٢١ میں، زمین اورانسانی وجود میں اس کی نشانیوں کے بارے میں، گذر چکی ہیں ___ تکمیل کرتی ہیں، اور ضمنی طور پر مسئلہ معاد اور موت کے بعد کی زندگی پر خدا کی قدرت کی ایک دلیل ہے، پہلے فرماتا ہے،: "ہم نے آسمان کو قدرت کے ساتھ بنایا، اور ہم ہمیشہ اُسے وسعت دیتے رہتے ہیں": (وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ)۔ "اور ہم نے زمین کو بچھایا، اور ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں" (وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ)۔ "اید" (بروزن صید) قدرت و قوت کے معنی میں ہے، اور قرآن مجید کی آیات میں بارھا اس معنی میں آیا ہے، اور یہاں آسمانوں کی خلقت کے بارے میں خدا سے عظیم کی قدرت کاملہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس عظیم قدرت کی نشانیاں آسمانوں کی عظمت میں بھی اور اس خاص نظام میں بھی، جو ان میں کار فرما ہے، اچھی طرح سے واضح ہے۔ (تشریحی نوٹ: یہاں ان چند اشتباہات کا ذکر جو بعض مفسرین یا غیر مفسرین کو ہوئے.ضروری ہے۔ ۱۔ بعض مفسرین نے "اید" کی دو معانی میں تفسیر کی ہے، "قدرت" و "نعمت" جب کہ لغت کے لحاظ سے "اید" قدرت کے معنی میں ہے، لیکن "ید" جس کی جمع "أیدی" اور جمع الجمع "ایادی" بنتی ہے، وہ قدرت و نعمت دونوں معنی میں آیا ہے، (ہم نے بھی سورہ ص کی آ یت ١٧ کی تفسیر میں طبرسی کی مجمع البیان کی پیروی کرتے ہوئے "اید" کے لیے دو معانی ذکر کئے ہیں جس کی اب اصلاح کر رہے ہیں)۔ ۲۔ المعجم المفہرس (محمد فواد عبدالباقی) میں زیر بحث آیت "ایید" کے مادہ میں (باد و "یاء" کے ساتھ) ذکر ہوا ہے اور اس کو "اید" کے مادہ سے الگ کیا ہے یہ اشتباہ ظاہراً بعض قرآنوں کے رسم الخط سے پیدا ہوا ہے، ورنہ سب مفسرین نے جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ زیر بحث آیت میں وہی "اید"، "قدرت" کے معنی میں ہے)۔ اس بارے میں "انالموسقون" (ہم ہمیشہ وسعت دیتے ہرتے ہیں) سے یہاں کیا مراد ہے؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے اسے بندوں پر بارش کے نزول کے ذریعہ خدا کی جانب سے وسعت رزق کے معنی میں سمجھا ہے،اور بعض اسےہر لحاظ سےوسعت رزق کےمعنیمیں سمجھتے ہیں۔ اور بعض نےاس کی، خدا کےغنی اور بےنیاز ہونے کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے،کیونکہ اس کے خزانے اس قدر وسیع ہیں کہ مخلوقات کو رزق عطا کرنے سے کبھی بھی ختم نہیں ہوتے، اور نہ ان میں کوئی کمی ہوتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے جملہ میں اسمانوں کی خلقت کے مسئلہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اور ماہرین کے آخری انکشافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ... جو انہوں نے جہان اور عالم ہستی کے پھیلاؤ اور وسعت کے سلسلے میں کئے ہیں، اور حسی مشاہدات کے طریقہ سے بھی جس کی تائید ہوتی ہے ...آیت کا ایک اور زیادہ لطیف معنی حاصل کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ خدا نے آسمانوں کو پیدا کیا اور ہمیشہ انہیں وسعت دیتا رہتا ہے۔ موجودہ علم یہ بتاتا ہے: نہ صرف کرہ زمین آسمانی مادوں کو جذب کرتے کرتے بتدریج موٹی اور وزنی ہوتی جا رہی ہے بلکہ آسمان بھی وسیع، اور پھیلتے جا رہے ہیں، یعنی وہ ستارے جو ایک کہکشاں میں ہیں، بڑی تیزی کے ساتھ کہکشاں کے مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے موقعوں پر اس پھیلاؤ کی سرعت کا اندازہ بھی لگایا ہے۔ کتاب "مرزہای نجوم"، "تالیف فرد ھویل" میں یہ بیان کیا گیا ہے، کروں کے پھیلنے کی زیادہ سے زیادہ سرعت کا ابت تک جو اندازہ لگایا گیا ہے وہ تقریباً ٦٦ ہزار کلو میٹر فی سیکنڈ ہے! زیادہ دوری پر واقع کہکشائیں میں ہماری نگاہ کے آگے اتنی کم نور ہیں کہ کافی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سرعت کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ آسمان سے جو تصویریں حاصل کی گئی ہیں، وہ اس اہم انکشاف کی واضح طور پر نشاندہی کرتی ہیں، کہ: ان کہکشاؤں کا فاصلہ نزدیک کی کہکشاؤں کی نسبت بہت سرعت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ مؤلف مذکور نے اس کے بعد "ابرسنبلہ واکلیل" اور "شجاع" وغیرہ نام کی کہکشاؤں کی سرعت کی تحقیق پیش کی ہے، اور حساب لگانے کے بعد اس سلسلہ میں بہت سی حیران کن اور عجیب و غریب سرعتوں کو بیان کیا ہے۔ (بحوالہ: "مرزہادی نجوم" ترجمہ "رضا اقصی" صفحہ ٣٣٨ تا٣٤٠)۔ اس سلسلہ میں چند باتیں آقائے جان الدر کی بھی سن لیں وہ کہتا ہے، : ستاروں سے جو موجیں نکلتی ہیں، وہ بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ستاروں کا وہ مجموعہ جس سے مل کر یہ جہان بنا ہے، اتنا ہی ان کی رفتار کی تیزی بڑھتی جا رہی ہے، اس کی مثال یوں ہے کہ ایک وقت یہ سب ستارے اس مرکز میں جمع تھے۔ اور اس کے بعد وہ ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہو گئے ، اور بڑے ستاروں کا مجموعہ ان سے الگ ہو کر تیزی اور سرعت کے ساتھ ہر طرف کو روانہ ہو گیا۔ ماہرین نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے، کہ یہ جہان ایک نقطۂ آغاز کا حامل تھا۔ (بحوالہ: "آغاز و انجام جہان" صفحات ٧٤، ٧٧ (تلخیص کے ساتھ)۔ "ژرژگاموف" کتابِ آفرینش جہان میں اس بارے میں اس طرح لکھتا ہے: عالم کی فضا جوار بوں کہکشاؤں سے مل کر بنی ہے ایک ایسی حالت میں ہے جو تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ جہان حالت سکون میں نہیں ہے، بلکہ اس کا پھیلتے جانا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس بات کی حقیقت کو معلوم کرنے، اور تہ تک پہنچنے سے: کہ ہمارا جہان مسلسل پھیل رہا ہے، اور حالت انبساط میں ہے، جہاں شناسی کے معموں کے خزانوں کی اصلی کلید معلوم ہو جاتی ہے، کیونکہ اگر اس وقت جہاں حالت انبساط میں ہو تو یہ بات لازم آئی ہے کہ وہ کسی وقت میں بہت شدید حالت انقباض میں تھا۔ (بحوالہ: "آغاز و انجام جہان" صفحات ٧٤۔ ٧٧ (تلخیص کے ساتھ)۔ صرف مذکورہ ماہرین ہی اس حقیقت کا اعتراف نہیں کیا، بلکہ دوسرے افراد نے بھی اس معنی کو اپنی تحریروں میں نقل کیا ہے۔ جن کے کلمات کے نقل کرنے سے عبارت طویل ہو جائے گی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ " إِنَّا لَمُوسِعُون" (ہم وسعت دینے والے ہیں) کی تعبیر جملہ اسمیہ اور اسم فاعل کے جملہ سے استفادہ کرتے ہوئے، اس موضوع کے ہمیشہ ہمیشہ ہوتے رہنے کی دلیل ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے،کہ یہ ہمیشہ سے تھی اور اسی طرح جاری رہے گی، اور یہ ٹھیک وہی چیز ہے، جس تک موجودہ زمانے میں پہنچے ہیں کہ تمام کرات آسمانی اور کہکشائیں میں ابتداء میں ایک ہی مرکز میں جمع تھیں (ایک خاص وزن کے ساتھ جو حد سے زیادہ بوجھل تھا) اس کے بعد ایک انتہائی وحشتناک اور عظیم انفجار واقع ہوا (یعنی یہ مرکز پھٹ پڑا) اور اس کے ساتھ ہی اس جہان کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہو کر بکھر گئے۔ اور انہوں نے کروں کی صورت اختیار کر لی، اور وہ بڑی سرعت کے ساتھ پیچھے ہٹتے اور پھیلتے جا رہے ہیں۔ لیکن زمین کی خلقت کے بارے میں "ماھدون" کی تعبیر ایک لطیف تعبیر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ خدا نے انسانوں کی زندگی کے لیے تمام آرام و آسائش کے وسائل اور ذرائع کے ساتھ (ایک گہوارے کے طور پر) آمادہ اور تیار کیا ہے، کیونکہ "ماھد"، "مھد" کے مادہ سے گہوارہ کے معنی میں ہے۔ یا ہر اس جگہ کے معنی میں ہے، جسے راحت و آرام کے لیے آمادہ اور تیار کرتے ہیں، اس قسم کی جگہ راحت و آرام مطمئن، محفوظ اور گرم و نرم ہونی چاہیے اور یہ تمام چیزیں کرہ زمین میں حاصل ہیں۔ فرمان الہٰی سے ایک طرف تو پتھر نرم اور مٹی میں تبدیل ہو گئے اور دوسری طرف سے پہاڑوں کی سختی اور زمین کی سخت جلد نے اسے مدد جزر کے دباؤ سے بچایا، اور تیسری طرف سے وہ قشر ہوائی جس نے اُسے چاروں طر ف سے گھیر رکھا ہے، سورج کی روشنی کو حسب ضرورت پہنچنے دیتا ہے اور ایک عظیم لحاف کی طرح اس کو وسیع بستر پر ڈالتا ہے اور ان آسمانی پتھروں کے حملہ کے مقابلہ میں، جنہیں وہ قلمر و زمین میں داخل ہوتے ہی آگ لگا کر خاکستر کر دیتا ہے، ایک مضبوط اور قوی ڈھال بھی ہے۔ اور اس طرح انسان کی پذیرائی اور مہمانی کے لیے خدا کی طرف سے (جو اس کرہ خاکی میں خدا کا مہمان ہے) آرام و آسائش کے تمام اسباب فراہم ہوئے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت کے بعد آسمان اور زمین کے مختلف موجودات اور انواع و اقسام کے نباتات و حیوانات کی نوبت آتی ہے، اور اس سلسلے میں بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "ہم نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کئے ہیں، تاکہ تم غور کرو سمجھو" (وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ)۔ بہت سے مفسرین نے یہاں "زوج" کو مختلف اصناف کے معنی میں سمجھا ہے، اور اوپر والی آیت کو اس جہان کے موجودات کے مختلف اصناف کی طرف اشارہ لیا ہے۔ جو "زوج"، "زوج" کی صورت میں آئے ہیں، مثلاً "رات اور دن"، "نور اور ظلمت"، "دریا اور صحرا"، "سورج اور چاند"، "نر اور مادہ" وغیرہ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی مشابہ آیات کے ذیل میں بیان کیا ہے اس قسم کی آیات میں ایک زیادہ دقیق معنی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ عام طور پر لفظ "زوج" نر و مادہ کی دو جنسوں کو کہتے ہیں چاہے وہ عالم حیوانات میں ہو یا عالم نباتات میں، اور اگر ہم اسے تھوڑی سی وسعت اور دین، تو یہ معنی تمام مثبت و منفی قویٰ کو شامل ہو گا۔ اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے، کہ قرآن اوپر والی آیت میں کہتا ہے،: (من کل شیء) (تمام موجودات میں سے) نہ صرف موجودات زندہ، بلکہ ممکن ہے کہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو، کہ مثبت و منفی ذرات سے بنی ہوئی تمام اشیاء عالم، اور آج کے علمی نکتہ نظر سے یہ بات مسلم ہے کہ "ایٹم" مختلف اجزاء سے مل کر بنے ہیں، منجملہ ان کے وہ اجزاء جو منفی برقی بار کے حامل ہیں اور انہیں "الکڑون" کہا جاتا ہے اور وہ اجزء جو مثبت برقی بار کے حامل ہوتے ہیں جو "پروٹون" کہلاتے ہیں۔ اس بناء پر شیء کی حتمی طور پر حیوان یا نبات کے معنی میں تفسیر کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی زوج کو جنس یا صنف کے معنی میں سمجھنا، (اس سلسلہ میں ہم دوسری توضیحات جلد ٨ تفسیر نمونہ سورہ شعراء کی آیت ٧ کے ذیل میں اور جلد ٥ صفحہ ٦٢١ اور جلد ١٠ صفحہ ٣٤٤ میں بیان کر چکے ہیں) توجہ رکھنا چاہیے کہ اس کے باوجود دونوں تفاسیر قابل جمع ہیں۔ ضمنی طور پر "لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ" کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے،کہ تمام اشیاء جہان میں زوجیت و کثرت اور دوگانکی، انسان کو اس مطلب سے آگاہ کرتی ہے، کہ جہان کا خالق واحد ویگانہ ہے کیونکہ وہ گانگی مخلوقات کی خصوصیات میں سے ہے۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے بھی اس معنی کی طرف اشارہ ملتا ہے،جہاں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: " بِمضادته بينَ الاشياء عرف أن لا ضدّ له، بمقارنته بينَ الاشياء عرف ان لا قرين له، ضاد النور بالظلمة، واليبس بالبلل، وَالخشن باللين، وَالصرد بالحرور، مؤلفا بين متعادياتها، مفرقا بين متدانياتها، دالة بتغريقها على مفرقها، وَبتاليفها على مؤلفها، وَذلك قوله" وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ"۔ "اس نے دنیا جہان کی چیزوں کو ایک دوسرے کی ضد پیدا کیا ہے، تاکہ واضح ہو جائے کہ اس کے لیے کوئی ضد نہیں ہے اور انہیں ایک دوسرے کا قرین قرار دیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کا کوئی قرین نہیں ہے، نور کو ظلمت کی ضد، خشکی کو تری کی ضد، سختی کو نرمی کی ضد اور سردی کو گرمی کی ضد قرار دیا، اس کے باوجود ان اشیاء کو جو ایک دوسرے کی ضد ہیں جمع کر دیا، تاکہ یہ جدائی جدا کرتے والے پر دلیل ہو اور یہ پیوسگی ملانے والے پر دلیل ہو، اور یہ ہے (وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ)۔ (بحوالہ: "توحید صدوق" مطابق نقل "نورالثقلین" جلد ٥ صفحہ ١٣٠)۔ بعد والی آیت میں گذشتہ توحیدی مباحث سے نتیجہ نکالتے ہوئے، مزید کہتا ہے: "اس بنا پر تم خدا کی طرف دوڑو کیونکہ میں اس کی طرف سے تمہارے لیے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں" (فَفِرُّوا إِلَى اللهِ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ)۔ یہاں "فراز" کی تعبیر ایک عمدہ اور لطیف تعبیر ہے، عام طور پر فرار ایسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں انسان ایک طرف سے کسی موجود یا وحشتناک حادثہ سے روبر ہو گیا، اور دوسری طرف سے کسی جگہ کوئی پناہ گاہ رکھتا ہو، لہٰذا پوری تیزی کے ساتھ جائے حادثہ سے دور ہو جاتا ہے، اورامن و امان کے نقطہ کی طرف رخ کرتا ہے، تم بھی شرک و بت پرستی سے، جو ایک وحشتناک عقیدہ ہے گریز کرو، اور توحید خالص کی طرف جو واقعی امن و امان کا علاقہ ہے تیزی سے رخ کرو۔ عذاب خدا سے گریز کرو اس کی رحمت کی طرف جاؤ۔ اس کی نا فرانیوں اور عصیاں سے فرار کرو اور توبہ و انابہ سے توسل اختیار کرو۔ خلاصہ یہ کہ قباحتوں، برائیوں،بےایمانی، جہالت کی تاریکی اور عذاب جاودانی سے بھاگو اور رحمت حق کی آغوش اور جاودانی سعادت میں داخل ہو جاؤ۔ پھر مزید تاکید کے لیے وحدت پرستی کے مسئلہ پر تکیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا کے ساتھ دوسرا معبود قرار نہ دو، کہ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے واضح ڈرانے والا ہوں" (وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ گذشتہ آیت اصل ایمان باللہ کی طرف دعوت کرتی ہو، اور یہ آیت اس کی ذات پاک کی یکانگت کی طرف دعوت ہو، لہٰذا "إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ" ایک موقع پر ایمان باللہ کے ترک کرنے پر ڈرانے کے عنوان سے ہو، اور دوسرے موقع پر شرک اور دُوئی کے مقابلہ میں انذار ہو، تو اس طرح سے ہر ایک الگ الگ مطلب کی طرف اشارہ ہو۔ بعض روایات میں جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں "خدا کی طرف فرار" سے مراد حج اور اس کے گھر کی زیارت ہے۔ (بحوالہ: اس سلسلہ میں امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے چند احادیث تفسیر نورالثقلین، جلد۵، صفحہ۱۳۰و ۱۳۱ پر نقل ہوئی ہیں)۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس سے مراد، خدا کی طرف فرار کے ایک واضح مصادیق میں سے ہوتا ہے، کیونکہ حج انسان کو حقیقت توحید، اور توبہ و انابہ سے آشنا کرتا ہے، اور الطاف خداوندی کی پناہ میں جگہ دیتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر نصیحت کر کیونکہ نصیحت و تذکرفائدہ مند ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اسی سورہ کی آیت ٣٩ میں یہ آیا ہے کہ فرعون نے، موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خداوند یکتا اور ظلم و بیداد گری کے ترک کرنے کی دعوت کے مقابلہ میں موسیٰ کو متہم کیا کہ وہ ساحر یا مجنون ہے، یہ نسبت مشرکین کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دی جاتی تھی، یہ بات ابتدائی دور کے تھوڑے سے مومنین کے لیے بہت گراں تھی، اور پیغمبرؐ کی روح کو آزردہ کرتی تھی۔ زیر بحث آیات میں پیغمبرؐ اور مومنین کی دلدار کے لیے کہتا ہے،: صرف تو ہی نہیں ہے جو ان زہر آلود تہمت کے تیروں کا ھدف قرار پایا ہے،: "اسی طرح ہے کہ ان سے پہلے کی کسی قوم کی طرف کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا، مگر یہ کہ انہوں نے کہا، وہ جادوگر یا دیوانہ ہے (كَذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ)۔ (تشریحی نوٹ: " كَذَلِكَ" ایک محذوف مبتداء کی خبر ہے، اور تقدیر میں (الأمر كذلك) (معاملہ یوں ہی ہے)۔ وہ انہیں اس لیے "ساحر" کہتے تھے،کیونکہ ان کے پاس ان کے عینی معجزات کا کوئی منطقی جواب نہیں تھا، اور "مجنون" کہہ کر اس لیے خطاب کرتے تھے کیونکہ وہ محیط اور ماحول کے ساتھ ہم رنگ نہیں تھے، اور مادی امتیازات کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہیں کرتے تھے۔ اس بناء پر تم پریشان نہ ہو اور غم و اندوہ نہ کرو اور اپنی استقامت و پائیداری اور صبر و شکیبائی میں اضافہ کرو، کیونکہ اس قسم کی بےبنیاد باتیں اور نسبتیں ہمیشہ مردان حق کے مقابلہ میں کہی جاتی رہی ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کیا یہ کافر عناد رکھنے والی اقوام ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتی تھیں کہ تمام انبیاء پر یہ تہمتیں لگائیں؟ (أَتَوَاصَوْا بِهِ)۔ اس طرح سے ہم آہنگی کے ساتھ اور ایک ہی طرز پر عمل کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے ماوراء تاریخ میں کوئی مجلس تشکیل دی ہو، اور مشورہ کے لیے بیٹھے ہوں، اور ایک دوسرے کو وصیت و نصیحت کرتے رہے ہوں، کہ انبیاء کہ عموماً سحر و جنوں کے ساتھ متہم کرتے رہنا، تاکہ عوام میں ان کے اعتبار کا نفوذ کم ہو جائے۔ اور شاید ان میں سے ہر ایک جب اس دنیا سے جانا چاہتا تھا، تو اپنی اولاد اور دوستوں سے یہ بات کہتے تھے اور وصیت کرتے تھے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "بلکہ وہ ایک سرکش اور طوفان اٹھانے والی قوم ہے" (بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت میں"بل" اضرابیہ ہے)۔ یہ سرکشی اور شرانگیزی کا ہی اثر ہے کہ مردان حق کو میدان سے نکالنے کے لیے ہر قسم کے جھوٹ اور تہمت سے متوسل ہوتے تھے، اور چونکہ ابنیاء معجزات اور نئے احکام کے ساتھ قوموں کے درمیان آتے تھے، تو وہ ان کے لیے بہترین لیبل یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جادو اور جنون سے متہم کریں، اس بنا پر ان کے وحدت عمل کا عامل سرکشی و شرانگیزی کی وہی مشترکہ روح تھی۔ پھر دوبارہ تسلی خاطر اور زیادہ سے زیادہ دلداری کے لیے پیغمبرؐ سے فرماتا ہے: "اب جب کہ یہ طاغی و سرکش قوم حق بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے، تو ان سے منہ پھیر لے" (فَتَوَلَّ عَنْهُمْ)۔ اور تو مطمئن رہ کر تو نے اپنے وظیفہ اور ذمہ داری کو کامل طور سے انجام دے دیا ہے، اور تو "ہرگز سرزنش اور ملامت کے لائق نہیں ہے" (فَمَا أَنتَ بِمَلُومٍ)۔ اگر وہ حق کو قبول نہ کریں تو غم نہ کھاؤ، کیونکہ شائستہ اور صلاحیت رکھنے والے دل کو قبول کر لیں گے۔ یہ جملہ حقیقت میں دوسری آیات کی یاد دلاتا ہے، اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اس قدر دلسوز تھے، کہ بعض اوقات ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے سخت تکلیف میں مبتلا ہو جائیں، جیسا کہ سورہ کہف کی آیت ٦ میں آیا ہے: ففَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا۔ "گویا تو چاہتاہے کہ اپنے آپ کو ان کے اعمال پر غم و اندوہ کی بناء پر ہلاک کر دے، کیونکہ وہ اس قرآن پر ایمان نہیں لائے ہیں۔" یقیناً ایک سچے رہبر کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مفسرین کا بیان ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبرؐ اور مؤمنین اندوہگین ہوئے اور خیال کیا کہ مشرکین کے مقابلہ میں یہ آخری بات ہے، اور وحی آسمانی قطع ہو گئی ہے، اور جلدی ہی عذاب الہٰی نازل ہو گا، لیکن زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ بعد والی آیت نازل ہوئی، اور پیغمبرؐ کو حکم دیا: تم ہمیشہ پند و نصیحت کرتے رہو، کیونکہ پند و نصیحت سے مومنین کو فائدہ پہنچتا ہے (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ)۔ یہ وہ منزل تھی کہ سب نے اطمینان و سکون کا سانس لیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آمادہ و تیار دل گوشہ و کنار میں تیری باتوں کے انتظار میں ہیں، اگر ایک گروہ حق کے مقابلہ میں مخالفت کے لیے کھڑا ہے تو دوسرا گروہ دل و جان سے اس کا مشتاق ہے اور تیری دل نشین گفتگو ان کے نفوس میں اپنی تاثیر چھوڑتی ہے۔
ایک نکتہ حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ دلوں کی ضرورت ہے
کسی کسان کو نظر میں رکھو جو بیج بکھیرنے میں مشغول ہے، ممکن ہے وہ ان بیجوں کے ایک حصہ کو پتھر پر ڈال دے یقینی طور پر وہ کبھی بھی بار آور نہیں ہو گا۔ دوسرے حصہ کو مٹی کی ان باریک تہوں پر گراتا ہے جنہوں نے سخت پتھروں کو ڈھانپ رکھا ہے، یہاں بیج کونپل تو نکالے گا، لیکن چونکہ اس کی جڑوں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے، تو وہ بہت جلد خشک ہو جائے گا اور ختم ہو جائے گا۔ ایک دوسرے حصہ کو ایسی مٹی کے اوپر ڈالتا ہے جو زیادہ گہری ہے، لیکن اس بیج کے درمیان مٹی میں فضول قسم کی گھاس بھی رکاوٹ کرنے والی موجود ہے، تو یہ بیج نمو بھی کرے گا، جڑیں بھی پکڑے گا، لیکن بہت جلد کانٹے اور فضول گھاس اس سے لپٹ جائیں گے اور اس کا گلا دبا دیں گے۔ ان تمام بیجوں میں سے زیادہ خوش نصیب بیج وہ ہے جو گہری مٹی کے درمیان بغیر کسی مزاحمت و رکاوٹ کے قرار پائے ، کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ کونپل نکالتا ہے شاخیں اور پتے نکالتا ہے اور تناور ہو کر پھلتا پھولتا ہے۔ وہ حق کی باتیں جو انبیاء اور خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور ان کے معصوم جانشینوں کے دہن مبارک سے نکلتی ہیں، انہیں بیجوں کی طرح ہیں، وہ دل جو سخت پتھر کے مانند ہے وہ انہیں ہرگز قبول نہیں کرتے، اور وہ دل جن میں کمزور سی اور تھوڑی سی بھی نرمی ہے وہ وقتی طور پر اسے قبول کر لیتے ہیں اس کے بعد اسے باہر نکال پھینکتے ہیں، اور وہ دل جو قبول کرنے کے لیے آمادہ و تیار تو ہیں، لیکن ہوا و ہوس اور صفات رذیلہ اور شہوات کے کانٹے ان میں اُگے ہوئے ہیں، وہ ان کے اثر کو ختم کر دیتے ہیں۔ صرف وہی دل ان عظیم پیشواؤں کی باتوں کو قبول کرتے ہیں، اور ان کی پرورش کر کے انہیں باور کرتے ہیں، جو حق جوئی اور حق طلبی کی روح کے حامل ہیں اور وہ ان صفات سے بھی خالی ہیں۔ اور وہ مؤمنین کے دل ہیں، ہاں! (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ)۔ پند و نصیحت کرتے رہو کیونکہ یہ مومنین کو فائدہ دیتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 58 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قرآن کی نظر میں انسان کی خلقت کا مقصد
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اہم ترین سوالات میں سے وہ سوال جو ہر شخص اپنے آپ سے کرتا ہے یہ ہے کہ: "ہم کس لیے پیدا کیے گئے ہیں اور انسان کی خلقت اور اس جہان میں آنے کا مقصد کیا ہے"؟ اوپر والی آیات، اس اہم اور ہمیشہ کے سوال کا مختصر اور پرمعنی تعبیروں کے ساتھ جواب دے رہی ہیں، اور اس بحث کی، جو گزشتہ آیات میں سے آخری آیت میں مومنین کی یاد آوری کے سلسلہ میں بیان ہوئی تھی، تکمیل کر رہی ہیں، کیونکہ یہ ایک اہم ترین اصول ہے کہ جس کی پیغمبرؐ کو پیروی کرنی چاہیے، ضمنی طور پر خدا کی طرف فرار کا مطلب بھی جو گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا واضح ہو جاتا ہے۔ فرماتا ہے: "میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں": (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)۔ میری ان سے کوئی حاجت نہیں ہے: "اور میں ہرگز ان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں" (مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ)۔ "خدا ہی ہے جو جل بندوں کو روزی دیتا ہے اور وہ صاحب قدرت و قوت ہے" (إِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّةِ الْمَتِينُ)۔ یہ چند آیات جو انتہائی مختصر اور جامع ہیں، اس حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہیں،کہ جس سے آگاہی کے تمام خواہاں ہیں، اور ہمیں ایک عظیم مقصد سے روشناس کرا رہی ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: بلاشک و شبہ ہر دانش مند اور عاقل جو کام بھی انجام دیتا ہے،کوئی نہ کوئی مقصد اس کے پیش نظر ہوتا ہے، اور چونکہ خدا سب سے زیادہ عالم اور حکیم ہے، بلکہ کسی شخص کے ساتھ اس کا قیاس کیا ہی نہیں جا سکتا، یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس نے انسان کو کیوں پیدا کیا ہے؟ کیا کوئی کمی تھی جو انسان کی خلقت سے پوری ہو جاتی؟ یا اسے کوئی حاجت اور ضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا وجود ہر جہت سے کامل اور انتہائی لامتناہی ہے اور وہ غنی بالذات ہے۔ پس پہلے مقدمہ کے مطابق تو ہمیںیہ قبول کرنا پڑے گا کہ اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تھا، اور دوسرے مقدمہ کے مطابق ہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ انسان کی پیدائش سے اس کا کوئی ایسا مقصد نہیں تھا جو اس کی پاک ذات کے لیے ہو۔ نتیجتاً اس مقصد کو اس کی ذات سے باہر تلاش کرنا پڑے گا، ایسا مقصد جو خود مخلوقات کی طرف لوٹتا ہے اور انہیں کے کمال کا سبب ہے۔ اور دوسری طرف قرآن کی آیات میں انسان کی پیدائش کے مقصد کے بارے میں مختلف تعبیریں بیان کی گئی ہیں۔ ایک جگہ بیان ہوا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا "وہی ہے کہ جس نے موت اور زندگی کو خلق کیا تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے" (ملک۔٢) یہاں انسانوں کی آزمائش اور امتحان کا مسئلہ "حسن عمل" کے لحاظ سے ایک ہدف اور مقصد کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک دوسری آیت میں آیا ہے: اللهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا: "خدا وہ ہے جس نے سات آسمان اور اتنی ہی زمینیں خلق فرمائی ہیں اس کا فرمان ان کے درمیان نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اور اس کا علم تمام موجودات پر احاطہ رکھتا ہے۔" (طلاق۔١٢)۔ یہاں "خدا کی قدرت اورعلم سے علم و آگاہی آسمانوں اور زمین (اور جو کچھ ان کے درمیان ہے) کی خلقت کے لیے ایک ہدف اور مقصد کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں۔ ایک دوسری آیت میں بیان ہوا ہے: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَo إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ: "اگر تیرا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو(بغیر کسی اختلاف کے ) امت واحدہ قرار دے دتیا، لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پر تیرا پروردگار رحم کرے، اور اسی رحمت کے لیے انہیں پیدا کیا ہے۔" (ھود۔ ١١٨،١١٩)۔ اس آیت کے مطابق رحمت الہٰی انسان کی خلقت کا اصلی ہدف ہے، لیکن زیر بحث آیات صرف عبودیت اور بندگی کے مسئلہ پر تکیہ کرتی ہیں، اور پوری صراحت کے ساتھ اس کو جن و انس کی خلقت کے اصلی ھدف اور مقصد کے عنوان سے تعارف کراتی ہیں۔ ان آیات اور ان سے مشابہ آیات میں تھوڑا سا تامل اور غور و فکر یہ نشاندہی کر دیتا ہے کہ ان کے درمیان کسی قسم کا تضاد اور اختلاف نہیں ہے، فی الحقیقت ان میں سے بعض ھدف اور مقصد تو مقدمہ کے طور پر بیان ہوئے ہیں بعض وسطی اور بعض آخری، اور بعض ان کا نتیجہ ہیں۔ اصلی ھدف وہی "عبودیت" ہے، جس کی طرف زیر بحث آیات میں اشارہ ہوا ہے، اور مسئلہ "علم و دانش" اور "امتحان و آزمائش" ایسے اھداف و مقاصد ہیں جو عبودیت کی منزلیں طے کرتے ہوئے راستہ میں آتے ہیں۔ اور رحمتِ خداوند اس عبودیت کا نتیجہ ہے۔ اس طرح سے واضح ہو جاتا ہے، کہ ہم سب پروردگار کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ "عبادت" کی حقیقت کیا ہے؟ کیا صرف رکوع و سجود، قیام و قعود اور نماز و روزہ جیسے مراسم کا انجام دینا مراد ہے، یا ان کے علاوہ کوئی اور حقیقت ہے؟ اگرچہ رسمی عبادات بھی سب کی سب اہمیت کی حامل ہیں۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے "عبد" و "عبودیت" کے الفاظ پر غور کرنا ہو گا، اور ان کی تحلیل و تجزیہ کرنا پڑے گا۔ "عبد" لغت کے لحاظ سے اس انسان کو کہتے ہیں جو سرتاپا اپنے مولا اور آقا و مالک سے تعلق رکھتا ہے، اس کا ارادہ اس کے ارادہ کے تابع، اور اس کی خواہش اس کی خواہش اور مرضی کے تابع ہے یہ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہے، اور اس کی اطاعت میں کسی قسم کی کوتاہی اور سستی نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں "عبودیت" جیسا کہ متون لغت میں آیا ہے، معبود کے سامنے آخری درجہ کے خضوع کا اظہار ہے اور اسی بناء پر صرف وہی ذات معبود ہو سکتی ہے جس نے انتہائی انعام و اکرام کیا ہو، اور وہ خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ اس بناء پر "عبودیت" ایک انسان کے ارتقاء و تکامل کی انتہائی معراج اور خدا سے اس کا قرب ہے۔ "عبودیت اس کی ذات پاک کے آگے انتہائی تسلیم ہے، عبودیت، بلاقید و شرط اطاعت اور تمام مراحل میں فرمانبرداری کرنا ہے۔" اور آخر میں عبودیت کامل یہ ہے کہ انسان سوائے معبود حقیقی یعنی کمال مطلق کے کسی کا بھی تصور اور خیال نہ کرے، اس کی راہ کے علاوہ اور کسی راہ پر قدم نہ اٹھائے، اس کے سوا ہر چیز کو بھول جائے، یہاں تک کہ خود اپنے آپ کو بھی۔ اور خلقتِ بشر کا ھدف اصلی یہی ہے، جس تک پہنچنے کے لیے خدا نے آزمائش کا میدان فراہم کیا ہے، اور انسان کو علم و آگاہی عطا فرمائی ہے، اور اس کا اصلی اور واقعی و حقیقی نتیجہ بھی اس کی رحمت کے سمندر میں خود کو سمونا ہے۔
چند نکات ١۔ خدا غنی مطلق ہے
"مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ" کا جملہ حقیقت میں پروردگار کی ہر شخص اور ہر چیز سے بےنیازی کی طرف اشارہ ہے۔ اور اگر اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبودیت کی دعوت دی ہے، تو یہ اس لیے نہیں ہے کہ وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل کرے، بلکہ وہ تو انسانوں کے درمیان مسئلہ عبودیت کے برعکس، یہ چاہتا ہے کہ ان پر سخاوت اور بخشش کرے، کیونکہ لوگ غلاموں کو اس لیے انتخاب کرتے تھے تاکہ وہ ان کے لیے آمدنی کے حصول اور رزق و روزی کے لیے کام کریں، یا گھر کا کام کاج کریں، اور کھلانا کھلانے اور پذیرائی کرنے میں مشغول رہیں، اور دونوں حالتوں میں اس کا فائدہ مالکوں کو ہی ہوتا ہے، اور یہ چیز انسان کی نیاز اور احتیاج سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں خدا کے بارے میں بےمعنی ہیں، کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ سب سے بےنیاز ہے، بلکہ سب کی نیاز اور حاجت کو اپنے لطف و کرم سے پورا کرتا ہے، اور سب کا رزاق وہی ہے۔
٢۔ وہ صاحب "قوت" اور "متین" ہے۔
"متین"، "متن" کے مادہ سے اصل میں اسی قوی پٹھے کے معنی میں ہے، جو پیٹھ کے مہروں کے ستون کے دونوں طرف ہوتا ہے، اور انسان کی پشت کو مضبوط بناتا ہے، اور اسے بھاری دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے، اور اسی مناسبت سے کامل قدرت و قوت کے معنی میں آیا ہے، اس بنا پر "ذوالقوة" کے لفظ کے بعد اس کا بیان تاکید کے عنوان سے ہے، کیونکہ " ذوالقوة " پروردگار کی اصلی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور "متین" اس کے کمال قدرت کی طرف، اور جس وقت وہ "رزّاق" کے لفظ کے ہمراہ ہو کر وہ بھی ایک مبالغہ کا صیغہ ہے تو اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے، کہ خدا بندوں کو روزی دینے کے سلسلے میں انتہائی قدرت و طاقت اور تسلط رکھتا ہے، چاہے وہ اس وسیع جہان کے جس کونے میں ہوں، سمندروں کی گہرائیوں میں ہوں، دروں کے درمیان ہوں، پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہوں، پتھروں کے اندر ہوں، اور آسمانی کروں کے جس مقام میں ہوں، ان کی ضرورت کے مطابق روزی انہیں پہنچاتا ہے اور سب کے سب اسی کے خوان احسان پر جمع ہیں۔ پس اگر انہیں پیدا کیا ہے تو کسی ضرورت و حاجت کی بنا پر نہیں، بلکہ ایک لطف خاص اور فیض پہنچانے کی بنا پر۔
٣۔ جنوں کا ذکر پہلے کیوں؟
باوجود اس کے کہ قرآنی آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے، کہ انسان گروہ جن سے افضل و برتر ہیں، لیکن اس کے باوجود اوپر والی آیت میں ان کا نام مقدم رکھا ہے، ظاہرً یہ اس بناء پر ہے کہ ان کی خلقت انسان کی خلقت سے پہلے ہوئی تھی، جیسا کہ سورہ حجر کی آیت ٢٧ میں بیان ہوا ہے۔:وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِالسَّمُومِ: "اور ہم نے جنوں کو پہلے (انسان کی خلقت سے پہلے) جلانے والی آگ سے پیدا کیا تھا۔
٤۔ فلسفہ کی نظر سے خلقت کا فلسفہ
ہم بیان کر چکے ہیں کہ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ سوال اپنے آپ سے یا دوسروں سے نہ کیا ہو گا، کہ ہماری خلقت کا ھدف اور مقصد کیا ہے؟ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں،کچھ اس جہان سے رخصت ہو جاتے ہیں، اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں، اس آمد و رفت کا مقصد کیا ہے؟ واقعاً اگر ہم انسان اس کرہ خاکی پر زندگی نہ گذارتے، تو اس عالم میں کون سی خرابی آ جاتی؟ اور کیا مشکل پڑ جاتی؟ کیا ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ہم کیوں آئے ہیں، اور کیوں چلے جاتے ہیں؟ اور اگر ہم اس چیز سے آگاہ ہونا چاہیں تو کیا ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں، اور اس سوال کے پیچھے بہت سے دوسرے سوالات فکر انسانی کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ یہ سوال اگر مادہ پرستوں کی طرف سے پیش ہو تو ظاہراً اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔کیونکہ مادہ اور طبیعت اصلاً کوئی عقل و شعور نہیں رکھتے، کہ ان کا کوئی ھدف ہو، اور اسی بناء پر انہوں نے اپنے آپ کو اس لحاظ سے آسودہ کر لیا ہے، اور انہوں نے یہ عقیدہ اپنا لیا ہے کہ خلقت بےمقصد اور فضول ہے! اور کتنی قابل مذمت اور تکلیف دہ بات ہے یہ کہ انسان اپنی زندگی کے جزئیات کے لیے چاہے وہ تحصیل علم ہو یا کسب کار کے لیے یا بیماری و صحت ہو یا ورزش کے لیے، تو دقیق مقاصد و اھداف اور منظم پروگرام نظر میں رکھتا ہے، لیکن مجموعہ زندگی کو فضول، بےھدف اور بےمقصد سمجھتا ہے؟ اس کے لیے تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ ان میں سے ایک گروہ جب ان مسائل میں غور و فکر کرتا ہے تو اس فضول اور بےمقصد زندگی سے سیر ہو جاتا ہے، اور خودکشی پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہی سوال جب ایک خدا پرست اپنے آپ سے کرتا ہے تو وہ کسی قسم کی الجھن اور تنگی سے دوچار نہیں ہوتا، کیونکہ ایک طرف تو وہ یہ جانتا ہے کہ اس جہان کا خالق حکیم ہے، حتمی و یقینی طور پر اس کی خلقت میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے، چاہے ہم اس حکمت سے بےخبر ہوں، اور دوسری طرف اپنے اعضاء کے ایک ایک جز پر نظر ڈالتا ہے، تو اسے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی مقصد اور فلسفہ نظر آتا ہے، نہ صرف دل و دماغ اور عروق و اعصاب جیسے اعضار کے لیے، بلکہ ناخنوں، پلکوں، انگلیوں کی لکیروں، ہتھیلیوں اور پاؤوں کے تلوے کے نشیب میں سے ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی فلسفہ ہے، جو موجودہ زمانے میں سب کے سب معلوم کر لیے گئے ہیں۔ کس قدر کوتاہ فہمی کی بات ہے کہ ہم ان سب کے لیے تو ھدف اور مقصد کے قائل ہوں، لیکن مجموعی زندگی کو بےمقصد سمجھیں۔ یہ کیسی سادہ لوحی کا فیصلہ ہے کہ ہم شہر کی ہرہر منزل و مکان کے لیے تو فلسفہ کے قائل ہوں، لیکن مجموعہ شہر کے لیے کسی فلسفہ کے قائل نہ ہوں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انجینئر ایک عظیم عمارت تعمیر کرے، اور کمرے، صحن، کھٹرکیاں، دروازے، حوض، باغیچے اور آرائشیں تو ہر ایک حساب و کتاب اور خاص مقصد کے لیے بنائے، لیکن اس نے اس عظیم عمارت کے مجموعہ کو بغیر کسی مقصد کے بنا دیا ہو۔ یہی باتیں ہیں جو ایک خدا پرست مومن انسان کو اطمینان دلاتی ہیں، کہ اس کی خلقت ایک ہی عظیم مقصد رکھتی ہے، لہٰذا اس کو کوشش کرنی چاہیے، اور عقل و علم کی قوت سے اسے اصل حقیقت معلوم کرنا چاہیے۔ تعجب کی بات ہے کہ یہ خلقت کو فضول جاننے والے، اور اس کے بےمقصد ہونے کے طرفدار، علوم طبیعی کے جس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں، تو مختلف کو فضول جاننے والے، اور اس کے بےمقصد ہونے اور ھدف کی تلاش میں لگے رہتے ہیں، اور جب تک اس کا ۔دف اور مقصد دریافت نہ کر لیں چین سے نہیں بیٹھتے، یہاں تک کہ اس کے وجود کا فلسفہ معلوم کرنے کے لیے سالہا سال مطالعہ اور آزمائش کرتے رہیں۔ لیکن جب وہ انسان کی اصل آفرینش و خلقت پر پہنچتے ہیں تو صراحت کے ساتھ کہتے ہیں، کہ اس کا کوئی ہدف اور مقصد نہیں ہے۔ کتنا حیرت انگیز اور تعجب خیز تناقض ہے؟ بہرحال، ایک طرف خدا کی حکمت پر ایمان، اور دوسری طرف انسان کے وجود کے اعضاء کا معنی خیز ہونا، اس بات پر ہمارا ایمان بختہ کر دیتا ہے،کہ انسان کی آفرینش و خلقت میں ایک عظیم مقصد ہے۔ اب ہمیں اس ہدف اور مقصد کو تلاش کرنا چاہیے اور حتی المقدور اسے معلوم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، اور اس راہ میں قدم اٹھانا چاہیے۔ چند مقدمات کی طرف توجہ ایسے چراغ اور روشنی ڈالنے والی چیزیں مہیا کر سکتی ہے جو اس تاریک راستہ کو ہمارے لیے روشن کر دے گی۔ ١۔ ہم اپنے کاموں میں کوئی نہ کوئی ہدف رکھتے ہیں، اور یہ ہدف عام طور پر ہماری کسی کمی یا حاجتوں کو دفع کرنا ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر ہم کسی دوسرے کی خدمت کرتے ہیں، یا کسی مصیبت میں گرفتار شخص کی دست گیری کرتے ہیں، اور اسے مصیبت سے نجات دلاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی ایثار و قربانی بھی کرتے ہیں تو یہ بھی ہماری کسی معنوی کمی کو دُور کرتا ہے، اور ہمارا مقدس حاجات و ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اور چونکہ ہم صفات و افعال خدا کے بارے میں اکثر اپنے پر قیاس کرنے اور موازنہ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ کبھی یہ تصور کر لیا جائے کہ خدا میں وہ کون سی کمی تھی جو ہماری خلقت سے دور ہوتی تھی؟ اور یا اگر ہم اوپر والی آیات میں یہ پڑھتے ہیں کہ انسان کی خلقت کا ہدف عبادت ہے، تو ہم کہتے ہیں، اسے ہماری عبادت کی کیا حاجت اور ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ طرز فکر خالق و مخلوق اور واجب و ممکن کی صفات میں قیاس اور موازنہ کی پیداوار ہے۔ اس بنا پر کہ ہمارا وجود محدود ہے ہم اپنی کمیوں اور نقائص کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمارا سب اعمال اسی سلسلہ میں ہوتے ہیں، لیکن ایک غیر محدود موجود کے بارے میں یہ معنی امکان پذیر نہیں ہے، لہٰذا اس کے افعال کے ہدف کو ہمیں اس کے وجود کے علاوہ دوسرے موجودات میں تلاش کرنا چاہیے۔ وہ تو ایک فیض بخش چشمہ ہے اور ایک نعمت آفرین مبدء ہے، جو موجودات کو اپنی حمایت کے سائے میں لے لیتا ہے اور ان کی پرورش کر کے نقص سے کمال کی طرف لے جاتا ہے، اور ہماری عبودیت و بندگی کا حقیقی و واقعی ہدف یہی ہے، اور ہماری عبادات اور بندگیوں کا فلسفہ بھی یہی ہے، جو سب کی سب ہمارے تکامل و ارتقاء کے درجات ہیں۔ اس طرح ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہماری آفرینش و خلقت کا ہدف و مقصد ہماری ہستی کی پیش رفت اور تکامل و ارتقاء ہے۔ بنیادی طور پر اصل آفرینش و خلقت ہی تکامل کی طرف ایک عظیم قدم ہے۔ یعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا اور نیست سے ہست کرنا اور صفر سے عدد کے مرحلے میں لانا۔ اس عظیم تکاملی قدم کے بعد تکامل و ارتقاء کے دوسرے مراحل شروع ہوتے ہیں، اور تمام دینی اور خدائی پروگرام اسی طریقہ سے وقوع میں آتے ہیں۔ ٢۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے۔کہ اگر خلقت کا ہدف و مقصد بندوں پر سخاوت و بخشش کرنا ہے، اور اس میں پیدا کرنے والے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سخاوت انسانوں کے ارتقاء کے طریقہ سے ہے، تو پھر اس جو ادو کریم خدا نے ابتدا سے ہی بندوں کا کامل پیدا کیوں نہ کیا؟ تاکہ سب ہی اس کے جوار قرب میں جگہ حاصل کرتے، اور اس کی پاک ذات کی قربت کےبرکات سے بہرہ ور ہوتے۔ اس سوال کا جواب واضح ہے، انسان کا تامل و ارتقاء کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کو "جبر" کے ساتھ پیدا کیا جا سکے۔ بلکہ ایسا طولانی اور دور و دراز راستہ ہے جسے انسانوں کو خود اپنے پاؤں سے چل کر ہی طےکرنا چاہیے، اور تصحیم و ارادہ اور اختیاری افعال کے ساتھ اس کی بنیاد ڈالنی چاہیے۔ اگر کسی شخص سے ایک ہسپتال بنانے کے لیے بہت زیادہ رقم، زبردستی، جبری طور سے، نوک نیزہ کے زور پر، وصول کر لی جائے، تو کیا اس کے لیے اس عمل کا کوئی اثر اخلاقی و روحانی ارتقاء پر مرتب ہو گا؟ یقیناً نہیں، لیکن اگر وہ اپنے ارادہ اور خوشی سے ایک آنہ یا دس پیسے کے ساتھ بھی اس مقدس ہدف اور مقصد کے لیے مدد کرے تو اس نے نسبت سے اخلاقی کمال کی راہ طے کر لی ہے۔ اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں،کہ خدا کے لیے لازم ہے کہ وہ امر و نواہی اور تربیتی پروگراموں کے ساتھ جو قوت عقل کے وسیلہ سے اور اس کے پیغمبروں کے ذریعہ پہنچائے جاتے ہیں... اس راہ کو ہمارے لیے واضح و روشن کر دے، اور ہم اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ اس راستے کو طے کریں۔ ٣۔ پھر یہاں ایک دوسرا سوال سامنے آتا ہے، کہ جس وقت بعض لوگ اوپر والی توضیحات کو سنتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں: بہت خوب، مانا کہ خلقت کا ہدف اور مقصد تو تکامل انسانی ہے، یا دوسرے لفظوں میں پروردگار کا قرب، اور ایک ناقص وجود کی ایک لامتناہی کامل وجود کی طرف حرکت ہے، لیکن اس تکامل و ارتقاء کا بذات خود ہدف کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی اس جملہ کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے، کہ تکامل و ارتقاء ہی اصلی ہدف اور آخری مقصد ہے، یا دوسرے لفظوں میں "غایة الغایات" ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: اگر ہم کسی طالب علم سے یہ سوال کریں کہ تم سبق کیوں پڑھتے ہو؟ تو وہ کہے گا، تاکہ میں یونیورسٹی تک پہنچ سکوں۔ اگر ہم پھر سوال کریں کہ تم پونیورسٹی کیوں جانا چاہتے ہو؟ تو وہ جواب دے گا: اس لیے کہ مثلا ڈاکٹر یا ایک لائق انجینئر بنوں۔ ہم اس سے پھر پوچھتے ہیں کہ تم ڈاکٹر اور انجینئر کا علم کیوں حاصل کرنا چاہتے ہو؟ تو وہ جواب دے گا: اس لیے کہ کچھ اچھے کام سرانجام دوں اور اچھی آمدنی پیدا کروں۔ ہم پھر کہتے ہیں: تم اچھی آمدنی کس لیے چاہتے ہو؟ تو وہ جواب دے گا: اس لیے کہ آ برومندانہ اور خوشحال زندگی بسر کر سکوں۔ آخر میں ہم پوچھتے ہیں کہ تم خوشحال اور آبرو مندانہ زندگی کس لیے چاہتے ہو؟ اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی گفتگو کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے، اور کہتا ہے: بس میں چاہتا ہوں کہ خوشحال اور آبرو مندانہ زندگی بسر کروں، یعنی پھر اسی پہلے جواب کو دہرا دیتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے آخری جواب، اور اصطلاح کے مطابق غایة الغایات تک پہنچ گیا ہے جس کے بعد کوئی اور جواب نہیں ہے، اور وہی اس کا آخری ہدف اور مقصد، یہ بات تو مادی زندگی کے مسائل میں سے ہے، معنوی زندگی میں بھی مطلب اسی طرح کا ہے جب یہ کہا جاتا ہے،کہ انبیاء کا آنا، آسمانی کتابوں کا نازل ہونا، اور اوامر و نواہی کی ذمہ داریاں اور سارے تربیتی پروگرام کس لیے ہیں؟ تو ہم کہتے ہیں: انسانی تکامل و ارتقاء اور قرب خدا کے لیے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ تکامل و ارتقا اور قرب خدا کے لیے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ تکامل و ارتقاء اور قرب پروردگار کس مقصد کے لیے ہے، تو ہم دیں گے کہ قرب پروردگار کے لیے! یعنی یہ اصلی اور آخری مقصد ہے، اور دوسرے لفظوں میں ہم ہر چیز تو تکامل اور قربِ خدا کے لیے چاہتے ہیں، لیکن قرب خدا کو خود اسی کے لیے چاہتے ہیں (یعنی قرب پروردگار کے لیے)۔ ٤۔ یہاں پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے، خدا وند فرماتا ہے: کنت کنزًا مخفیّاً فاحببت ان اعرف و خلقت الخق لکی اعرف "میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا، تاکہ میں پہچانا جاؤں۔" تم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے یہ حدیث کیا مناسبت رکھتی ہے۔ ہم جواب میں کہتے ہیں! قطع نظر اس سے کہ یہ حدیث ایک خبر واحد ہے، اور اعتقادی مسائل میں خبر واحد کام نہیں دیتی، حدیث کا مفہوم یہ ہے، مخلوق کے لیے خدا کی پہچان ان کے تکامل کا ذریعہ ہے، یعنی میں نے یہ چاہا کہ میری رحمت کا فیض ہر جگہ کو گھیر لے، پس اسی بناء پر میں نے مخلوق کو پیدا کیا، اور ان کی سیر کمال کے لیے اپنی معرفت کے راہ و رسم اسے سکھائے، کیونکہ میری معرفت و شناخت ہی ان کے تکامل کی رمز ہے۔ ہاں! بندوں کو چاہیے کہ وہ خداوند تعالیٰ کی ذات کو، جو تمام کمالات کا منبع ہے، پہچانیں، اپنے آپ کو اس کے کمالات کے مطابق ڈھالیں اور اس کا سایہ اپنے وجود پر ڈالیں (اس کے رنگ میں خود فروازں کو رنگ لیں) تاکہ ان صفات کمال و جمال کا نوران کے وجودمیں ہو، کیونکہ تکامل و ارتقا اور قرب خدا، اس کے اخلاق کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اس کے اخلاق کو اپنانا اس کی معرفت و شناخت کی فرع ہے۔(غور کیجئے) ٥۔ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہم آخری نتیجہ سے قرب ہوتے جا رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ خدا کی عبادت اور عبودیت یعنی اس کی مشیت کی راہ میں قدم اٹھانا، اور روح اور جان کو اس کے سپرد کر دینا، اور اس کے عشق کو اپنے دل میں جگہ دینا، اور اپنے آپ کو اس کے اخلاق سے آراستہ کرنا۔ اور اگر اوپر والی آیات میں عبادت کو خلقت کا آخری ہدف اور مقصد بیان کیا گیا ہے، تو اس کا مفہوم یہی ہے کہ اس کو دوسرے لفظوں میں تکامل انسانی کے عنوان سے یاد کیا جائے۔ ہاں! انسان کامل ہی خدا کا سچا بندہ ہے۔
٥۔ انسان کی خلقت کے فلسفہ کے سلسلہ میں اسلامی روایات پر ایک نظر
ہم نے اوپر دو طریقوں سے انسان کی خلقت کے ہدف کا تعاقب کیا ہے، ایک آیات قرآنی کی تفسیر کے طریقہ سے اور دوسرے فلسفہ کے طریقہ سے اور دونوں نے ہمیں ایک ہی نقطہ تک پہنچایا ہے۔ اب تیسری راہ سے، یعنی اسلامی روایات کے طریقہ سے، اس نصیب ساز مسئلہ کو بیان کرنے کی باری ہے۔ ذیل کی روایات میں غور و فکر جوان روایات کا حصہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک زیادہ عمیق اور گہری بصیرت عطا کرتا ہے ایک حدیث میں امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آنحضرت سے لوگوں نے سوال کیا کہ پیغمبر کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے: اعملوا فکل میسرلما خلق لہ "جہاں تک ہو سکے عمل کرو کیونکہ تمام انسان جس مقصد کے لیے خلق کے گئے ہیں اس کے لیے آمادگی رکھتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: إنّ الله عزّوَجلّ خلق الجِنّ وَالانس ليعبدوه، وَلم يخلقهم ليعصوه وَذلك قوله عزّوَجلّ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ فيسر كلا لما خلق له، فويل لمن إستحب العمى على الهدىٰ "خداوند تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت اور اطاعت کریں، اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ اس کی نافرمانی کریں، اور یہ وہی چیز ہے جو فرماتا ہے: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" اور چونکہ انہیں اطاعت کے لیے پیدا کیا ہے، لہٰذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ان کے لیے راستہ کو آسان اور ہموار کر دیا ہے، پس وائے ہے اس شخص کے لیے جو آنکھ بند کر کے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دے۔" (بحوالہ: توحید صدوق (مطابق نقل المیزان، جلد١٨ صفحہ ٤٢٣)۔ یہ حدیث اس حقیقت کی طرف ایک پرمعنی اشارہ ہے کہ چونکہ خدا نے انسانوں کو تکامل و ارتقاء کے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، لہٰذا اس نے تکوین و تشریع کے لحاظ سے اس کے وسائل و ذرائع فراہم کئے ہیں اور اس کے اختیار میں دے دیئے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب کے سامنے آئے اور اس طرح فرمایا: إنّ الله عزّوَجلّ مَا خلق العباد إلّا لِيَعرفوه، فَإذا عرفوه عبدوه، فَإذا عبدوه استغنوا بعبادته عن عبادة من سواہ۔ "خدائے عزوجل نے بندوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس لیے کہ وہ اس کو پہچانیں، جب اس کو پہچان لیں تو اس کی عبادت کریں، اور جب وہ اس کی عبادت کریں گے تو اس کے غیر کی عبادت و بندگی سے بےنیاز ہو جائیں گے۔" (بحوالہ: "علل الشرائع" صدوق (مطابق نقل مدرک اول)۔
٦۔ ایک سوال کاجواب
یہاں ایک اور سوال جو سامنے آتا ہے یہ ہے کہ اگر خدا نے بندوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، تو پھر ایک گروہ کفر کی راہ کیوں اختیار کر لیتا ہے؟ کیایہ ممکن ہے کہ خدا کا ارادہ اس کے ہدف کے خلاف ہو؟ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، انہوں نے ارادہ تکوینی اور ارادہ تشریعی میں اشتباہ کیا ہے، اور انہیں ایک دوسرے میں غلط ملط کر دیا ہے کیونکہ ہدف عبادت جبری نہیں تھا، بلکہ یہ عبادت و بندگی ارادہ و اختیار کے ساتھ تھی، اور ایسے حالات میں ہدف حالات کو آمادہ کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، مثلاً جب یہ کہا جاتا ہے، کہ میں نے یہ مسجد نماز پڑھنے کے لیے بنائی ہے، تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے اسے اس کام کے لیے آمادہ کیا ہے۔ نہ یہ کہ میں لوگوں کو جبراً نماز پڑھواؤں گا، اسی طرح دوسرے موقعوں میں جیسے تحصیل علم کے لیے مدرسہ بنایا، اور علاج کے لیے ہسپتال بنانا، اور مطالعہ کے لیے کتاب خانہ بنانا۔ اس طرح سے خدا نے انسان کو اطاعت و بندگی کے لیے آمادہ کیا ہے، اور ہر قسم کے وسائل و ذرائع جیسے عقل اور دوسرے عواطف اور قوی اندرونی طور سے، اور پیغمبر، آسمانی کتابیں اور تشریعی پروگرام باہر سے اس کے لیے فراہم کئے ہیں۔ مسلمہ طور سے یہ بات مومن و کافر دونوں کے لیے یکساں ہے، اگرچہ مومن نے اپنے وسائل و ذرائع سے فائدہ اٹھایا ہے، اور کافر نے یہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، کہ جس وقت آپ سے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) والی آیت کی تفسیر کے متعلق سوال ہوا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: خلقھم للعبادة: انہیں عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ روای کہتا ہے میں نے سوال کیا: خاصة ام عامة؟ "کیا اس سے کوئی خاص گروہ مراد ہے یا سب لوگ"؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: عامة: "سب لوگ" (بحوالہ: بحارالا نوار، جلد ٥، صفحہ ٣١٤ حدیث ٧)۔ ایک دوسری حدیث میں اسی امام علیہ السلام سے منقول ہوا ہے،کہ جب آپ علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " خلقهم لِيأمُرُهُم بالعبادة انہیں اس لیے خلق کیا ہے تاکہ انہیں عبادت کا حکم دے۔ (بحوالہ: وہی مدرک حدیث ٥)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقصد بندگی اور عبادت پر مجبور کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے حالات کو سازگار بنانا تھا اور یہ بات سب لوگوں کے حق میں صادق آتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے، کہ الإنس اور الجن میں الف و لام استغراق کے لیے ہے، اور اس میں تمام افراد شامل ہیں نہ کہ جنس کے لیے اس طور پر کہ صرف ایک ہی گروہ شامل ہو، جیسا کہ بعض تفاسیر میں آیا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 60 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر یہ بھی عذاب الہٰی میں حِصّہ دار ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اوپر کی دو آیات جو سورہ ذاریات کی آخری آیات ہیں، درحقیقت، اس سورہ کی مختلف آیات سے ایک قسم کا نتیجہ پیش کرتی ہیں، خصوصا وہ آیات جو گزشتہ اقوام جیسے قوم فرعون و قوم لوط و عاد ثمود کی سرنوشت کے سلسلہ میں گفتگو کرتی ہیں، اسی طرح وہ گزشتہ آیات جو ہدف آفرینش اور مقصد خلقت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ فرماتا ہے: اب جبکہ یہ معلوم ہو چکا ہے، کہ مشرک و گنہگار قوم آفرینش کے اصلی ہدف سے منحرف ہو چکی ہے، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ ان کے لیے بھی عذاب الہٰی کا ایک عظیم حصہ ہے، ایسا ہی حصہ جیسا کہ گزشتہ اقوام میں سے ان کے ساتھی رکھتے تھے: (فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ)۔ "اس بناء پر جلدی نہ کریں، اور بار بار یہ مطالبہ نہ کریں کہ اگر عذاب الہٰی حق ہے تو پھر وہ ہماری طرف کیوں نہیں آتا؟ (فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ کرنا چاہیے کہ "یَسْتَعْجِلُون" کی نون مکسور ہے، حالانکہ جمع کی نون مفتوح ہونا چاہیے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اصلی میں "یَسْتَعْجِلُونی" (مجھ سے جلدی نہ کریں) تھا)۔ اس گروہ کے بارے میں ظلم کی تعبیر اس بناء پر ہے کیونکہ "شرک" اور کفر عظیم ترین ظلم ہے، ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے لائق جگہ میں نہ رکھا جائے اور مسلمہ طور سے بت کو خدا کی جگہ قرار دینا ظلم کا اہم ترین مصداق شمار ہوتا ہے، اور اسی بناء پر وہ بھی اسی سلوک کے مستحق ہیں۔ جس کی گزشتہ مشرک اقوام مستحق تھیں۔ "ذنوب" (بروزن قبول) اصل میں اس گھوڑے کے معنی میں ہے، جس کی دم لمبی ہو، اسی طرح وہ بڑے ڈول جو دنبالہ رکھتے ہوں۔ گزشتہ زمانے میں حیوانات کے ذریعہ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے بڑے بڑے ڈول مہیا کئے جاتے تھے، جن کے ایک دنبالہ ہوتا تھا، اور ڈول کے دہانے کے علاوہ، اس کے دنبالہ کے ساتھ ایک رسی بھی متصل ہوتی تھی، جس سے اس بڑے ڈول کو خالی کرنے کے لئے استفادہ کیا کرتے تھے۔ اور چونکہ بعض اوقات چند گروہوں کے درمیان پانی تقسیم کرنے کے لیے ان ڈولوں سے کام لیا جاتا تھا اور ہر ایک کو ایک یا چند ڈول دیتے تھے، لہٰذا یہ لفظ حصّہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، زیر بحث آیت میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ البتہ یہاں بڑے حصّہ کی طرف اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: ایک عرب شاعر کہتا ہے: لنا ذنوب و لكم ذنوب فان ابيتم فلنا القليب! ہمارے لیے بڑا ڈول ہے اور تمہارے لیے بھی بڑا ڈول ہے۔ اور اگر تم قبول نہیں کرتے تو تمام کنواں ہمارا ہے)۔ کیا اس آیت میں دنیا کے عذاب کی دھمکی ہے یا آخرت کے عذاب کی؟ مفسرین کے ایک گروہ نے دوسرے معنی کو قبول کیا ہے، جب کہ بعض نے پہلے معنی کا احتمال دیا ہے۔ ہمارے نظریہ کے مطابق قرائن عذاب دنیا کی گواہی دیتے ہیں، کیونکہ اولاً وہ عجلت جو بعض کفار رکھتے تھے زیادہ تر اسی لیے تھی، کہ وہ پیغمبر سے کہا کرتے تھے: اگر تو سچ کہتا ہے تو پھر ہم پر عذاب الہٰی کیوں نازل نہیں ہوتا اور یہ مسلمہ طور سے عذابِ دنیا کی طرف اشارہ ہے۔ (بحوالہ: سورہ انعام کی آیت ٥٧، ٥٨ اور سورہ نحل کی آیت ٧٢ اور اسی قسم کی دوسری آیات کی طرف رجوع کریں، البتہ یہ تعبیرات قرآنی آیات میں بعض اوقات قیامت کے بارے میں بھی استعمال ہوئی ہیں)۔ دوسرے یہ کہ "مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحابِهِم" کی تعبیر ظاہراً ایسی اقوام کی سرگذشت کی طرف اشارہ ہے، جن کا اسی سورہ میں ذکر آیا ہے، مثلاً قوم لوط و قوم فرعون و عاد و ثمود، جن میں سے ہر ایک دنیا کے کسی نوع کے عذاب میں گرفتار ہوئی ہے اور تباہ و برباد ہوئی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر یہ آیت عذاب دنیا کے ساتھ مربوط ہے، تو پھر یہ خدائی وعدہ ان کے بارے میں کیوں پوارا نہ ہوا؟ اس سوال کے دو جواب ہیں: ١۔ یہ وعدہ ان میں سے بہت سوں کے لیے، مثلاً ابوجہل اور ایک اور جماعت کے بارے میں جنگ بدر وغیرہ میں پورا ہو گیا۔ ٢۔ ان سب کے لیے اس عذاب کا نزول خدا کی طرف بازگشت نہ کرنے، اور شرک سے توبہ نہ کرنے کے ساتھ مشروط تھا، لیکن جب ان میں سے اکثر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گئے تو یہ شرط دور ہو گئی اور عذاب الہٰی برطرف ہو گیا۔ اور آخری آیت میں دنیا کے عذاب کی تہدید کی، آخرت کے عذاب کی تہدید کے ساتھ تکمیل کرتے ہوئے کہتا ہے: "ان لوگوں پروائے ہے جو کافر ہو گئے، اُس دن سے جس کا ان سے وعدہ لیا گیا ہے" (فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ)۔ جس طرح سے یہ سورہ مسئلہ معاد و قیامت کے ساتھ شروع ہوا تھا، اسی مسئلہ پر تاکید کے ساتھ ختم ہو رہا ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ آیت بھی عذاب دنیا کی طرف اشارہ ہو، حالانکہ اس قسم کی تعبیر قرآن مجید میں عام طور پر قیامت کے لیے ہوتی ہے)۔ "ویل" لغتِ عرب میں ان موقعوں پر بولا جاتا ہے جہاں ایک فرد یا کئی افراد ہلاکت میں جا پڑیں، اور یہ عذاب و بدبختی کا معنی دیتا ہے، اور بعض کے قول کے مطابق عذاب سے بھی زیادہ شدید مفہوم رکھتا ہے۔ "ویل" و "ویس" و "ویح" کے الفاظ لغت عرب میں ان موقعوں پر استعمال ہوتے ہیں، جہاں ایک شخص دوسرے کی حالت پر افسوس کرے، البتہ "ویل" بُرے اور قبیح کاموں کے موقعوں پر بولا جاتا ہے اور "ویس" حقیر سمجھنے کے موقعوں پر اور "ویح" رحم کھانے کے مقام پر۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ویل دوزخ میں ایک کنواں یا درہ ہے، لیکن یہ کہنے والوں کی مراد یہ نہیں ہے کہ لغت میں اس معنی میں آیا ہے، بلکہ حقیقت میں ایک قسم کے مصداق کا بیان ہے۔ یہ تعبیر قرآن مجید میں بہت سے موقعوں پر، جیسے کفار، مشرکین، دروغ گوئی کرنے والوں، تکذیب کرنے والوں، گنہگاروں کم فروش کرنے والوں اور بےخبر نماز گذاروں کے بارے میں استعمال ہوئی ہے، لیکن اس کا زیادہ تر استعمال قرآن مجید میں تکذیب کرنے والوں کے لیے ہوا ہے، منجملہ ان کے سورہ مرسلات میں اس جملہ کا دس مرتبہ تکرار ہوا ہے، "وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِين" قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے وائے ہے جنہوں نے پیغمبروں اور آیات الہٰی کی تکذیب کی۔" خداوندا! ہمیں اس عظیم دن کے عذاب اور وحشتناک رسوائی سے اپنے لطف و کرم کی پناہ میں رکھ۔ بارالہٰا! ہمیں قبول کرنے کے لیے آمادہ ہونے، اور اپنی عبودیت اور بندگی کے افتخار کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگار ا! ہمیں ان اقوام کی درد ناک سرنوشت میں جنہوں نے تیرے پیغمبروں اور آیات کی تکذیب کی ہے یا انہیں پس پشت ڈالا ہے، مبتلا نہ کر، اور وقت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کر دے۔ آمین یَا ربّ العالمین