Al-Inshiqaq
سورہٴ انشقاق
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس کی ۲۵ آیتیں ہیں۔
سورہٴ انشقاق کے مضامین اور اس کی تلاوت کی فضیلت
یہ سورہ قرآن مجید کے آخری پارے کی بہت سی دوسری سورتوں کے مانند معاد و قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ شروع میں دنیا کے اختتام اور قیامت کے شروع ہونے کے ہولناک اور دل ہلا دینے والے حوادث کی طرف کچھ اشارے کرتا ہے اور بعد والے مرحلہ میں قیامت، نیکو کاروں اور بدکاروں کے اعمال کا حساب اور ان کی سرنوشت کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے۔ تیسرے مرحلہ میں چند ایسے اعمال و عقائد، جو موجب عذابِ الہٰی ہیں، اُن کو پیش کرتا ہے اور چوتھے مرحلہ میں چند قسموں کے بعد انسان کی دنیاوی اور اخروی زندگی کے مرحلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور آخرکار پانچویں مرحلہ میں دوبارہ نیک و بد اعمال اور ان کی سزا و جزا کے بارے میں بات کرتا ہے۔ اس سورہ کی تلاوة کی فضیلت کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبر اسلامؐ منقول ہے (من قراٴ سورة انشقت اعاذہ اللہ ان یؤتیہ کتابہ و راء ظھرہ)، جو شخص سورہ انشقاق کو پڑھے تو خدا قیامت میں اس شر سے اس کو امان میں رکھے گا کہ اس کا نامہ اعمال پس پشت سے دیا جائے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد۱۰، ص ۴۵۸)۔ کتاب ثواب الاعمال میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص ان دونوں سورتوں (انفطار و انشقاق) کو پڑھے اور نمازِ فریضہ و نافلہ میں اپنا نصب العین بنا لے تو خدا اس کو اس کی خواہشات تک پہنچائے گا، کوئی چیز اس کے اور خدا کے درمیان حائل نہیں ہو گی، وہ ہمیشہ لطفِ خدا پر نظر رکھے گا اور خدا اس پر نظر رکھے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے حساب سے فارغ ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کمالِ مطلق کی طرف رنج آمیز سعی و کوشش
Tafsīr Nemūna · Vol. 12جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے مضامین کی تشریح میں کہا ہے، اس سورہ کے آغاز میں ہی عظیم اور عجیب دنیا کے اختتام کے حوادث کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ پروردگارِ عالم فرماتا ہے: "جب آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے اور آسمانی اجرام پراگندہ ہو جائیں گے اور نظامِ کواکب درہم و برہم ہو جائے گا" (إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ)۔ (تشریحی نوٹ: اذا حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ۔۔۔ لاتی الانسان ربہ فحاسبہ و جازاہ)۔ اس کی نظیر جو سورہٴ انفطار کی آئی ہے، اس میں فرماتا ہے: (إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْo وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ)۔ جس وقت آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے اور ستارے پراگندہ ہو جائیں گے اور بکھر جائیں۔ (انفطار۔ ۱،۲)۔ اور یہ اختتام دنیا اور اس کی خرابی و فنا کا اعلان ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "اور اس کے پروردگار کا حکم تسلیم کیا جائے گا اور حقیقت میں ایسا ہی ہونا چاہئیے" (وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ)، مبادا یہ تصور ہو کہ انسان اس عظمت کے باوجود حکم الہٰی کا معمولی سا مقابلہ بھی کرے، وہ مطیع و فرمانبردار بندے کی طرح ہے، جس کا اس کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سرِتسلیم خم ہے۔ "اذنت" اصل میں "اذن" (بروزن افق) سے جو کان کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے اور اس کے معنی کان لگا کر سننا ہیں اور یہاں اطاعتِ فرمان کا کنایہ ہے۔ "حقت" حق کے مادہ سے شائستہ لائق اور سزا وار کے معنی میں ہے۔ کس طرح ہو سکتا کہ وہ سرتسلیم خم نہ کرے جبکہ لمحہ بہ لمحہ وجود خدا ہی سے اس کو فیض پہنچ رہا ہو۔ اگر ایک لمحہ کے لئے بھی یہ رابطہ منقطع ہو جائے تو یہیں ختم ہو کر رہ جائے۔ جی ہاں! آسمان و زمین نہ صرف آغازِ خلقت میں سورہ حٰم سجدہ کی آیت ۱۱ (قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ) کے مطابق، حق تعالیٰ کے فرمان کے مطابق، حق تعالیٰ کے فرمان کے مطیع تھے، بلکہ عمر کے اختتام میں بھی ایسے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ "حقت" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ قیامت کی وحشت اور اس کا خوف ایسا ہے کہ سزاوار ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور شگافتہ ہو جائیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، اور بعد والے مرحلہ میں زمین کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور جس وقت زمین کھینچی جائے گی اور وسیع کی جائے گی" (وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ)۔ پہاڑ قرآن کی بہت سی آیات کی شہادت کے مطابق مکمل طور پر پراگندہ ہو جائیں گے اور تمام بلندیاں اور پستیاں ختم ہو جائیں گی، زمین صاف و شفاف، وسیع و عریض اور اپنے صحن میں تمام بندوں کے حضور کے لئے آمادہ ہو جائے گی۔ جیسا کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰۵ تا ۱۰۷ میں فرماتا ہے: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًاo فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاo لَّا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا)۔ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دے میرا پروردگار انہیں ہوا میں اڑائے گا اور برباد کر دے گا پھر زمین کو ہموار اور صاف کرے گا، اس طرح کہ تو اس میں کوئی بلندی و پستی نہیں دیکھے گا اور اس قسم کی دادگاہ و عدالت جس میں اولین و آخرین جمع ہوں، اس کے لئے ایسے میدان کی ضرورت ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ خدا ایسی زمین کو قیامت میں اس سے کہیں زیادہ وسیع کر دے گا کہ جس حالت میں اب ہے، تاکہ مخلوق کے حشر کے لئے اس میں زیادہ سے زیادہ آمادگی ہو۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر فخر رازی در ذیلِ آیات زیرِ بحث)۔ تیسرے مرحلہ میں مزید کہتا ہے: "زمین اس چیز کو جو اس کے اندر ہے، باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی" (وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ)۔ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام وہ مُردے، جو مٹی اور قبروں میں آرام کر رہے ہیں، اچانک باہر پھینک دئیے جائیں گے اور وہ لباسِ زندگی زیب تن کریں گے۔ یہ اس کے مشابہ ہے جو سورہ زلزال میں آیا ہے (وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا)۔ زمین اپنے وزنی بوجھ باہر نکالے گی۔ یا جو کچھ سورہ نازعات آیت ۱۳ ۔ ۱۴ میں آیا ہے (فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌo فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ)۔ صرف ایک ہی صیحہ ہو گا اور اس کے بعد سب کے سب صفحہٴ زمین پر ظاہر ہو جائیں گے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ انسانوں کے علاوہ معدنیات اور خزانے جو زمین میں پوشیدہ ہیں، سب کے سب زمین سے باہر آ جائیں گے۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین کے اندر پگھلا ہوا مواد ہولناک اور وحشت ناک زلزلوں کی وجہ سے کلی طور پر باہر آ کر گرے گا اور وہ تمام پستیوں کو پُر کر دے گا اس کے بعد زمین کے اندر کا حصہ بالکل خالی اور ساکن ہو جائے گا۔ ان معانی کے درمیان جمع ہونے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس کے بعد زمین اپنے پروردگار کے سامنے سرتسلیم ختم کر دے گی اور شائستہ و لائق ہے کہ سرتسلیم خم کرے" (وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ)۔ یہ عظیم حوادث، جو تمام موجوادت کے سرتسلیم خم کرنے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، ایک طرف تو اس دنیا کے فنا ہونے کو بیان کرتے ہیں، زمین و آسمان انسانوں، خزانوں اور گنجینوں کی فنا، اور دوسری طرف عالم آفرینش میں نئے عالم ہستی کے ایجاد کی دلیل ہیں۔ اور تیسرے خداوندِ عظیم و بزرگ کی ہر چیز خصوصاً معاد و قیامت پر قدرت کی نشانی ہیں۔ جی ہاں! جب یہ حوادث واقع ہوں تو انسان اپنے نیک و بداعمال کا نتیجہ دیکھ لیتا ہے۔ (یہ ایسا جملہ ہے جو تقدیر میں ہے)۔ اس کے بعد انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اور اس راہ میں جو ان کی سرنوشت ہے، ان کے لئے واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اے انسان تُو سعی و کوشش اور رنج و تکلیف کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف بڑھ رہا ہے اور آخرکار اس سے ملاقات کرے گا" (یا ایھا الانسان انک کادحٌ الیٰ ربک کدحاً فملاقیہ)۔ "کدح" (بروزن مدح) سعی و کوشش کے معنی میں ہے، جو رنج و تعب کے ہمراہ ہو اور جسم و جان پر اثر انداز ہو۔ اسی لئے سخت محنت کرنے والے بیل کو، جس میں کام کرنے کے آثار ظاہر ہوں، "ثورینہ کدوح" کہتے ہیں۔ تفسیر کشاف، فخر رازی اور المعانی میں آیا ہے کہ یہ لفظ اصل میں خراش کے معنی میں ہے جو کھال پر لگ جاتی ہے۔ اسی مناسبت سی ان کوششوں پر، جو انسانی پر اثر انداز ہوں، اس کا اطلاق ہوا ہے۔ یہ آیت ایک بنیادی اصل کی طرف اشارہ ہے جو تمام انسانوں کی حیات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی ہمیشہ زحمت اور رنج و تعب اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ اگر مقصود صرف متاعِ دنیا تک پہنچنا ہی ہو، تب بھی، چہ جائیکہ مقصود آخرت، سعادت جاوداں اور قربِ پروردگار ہو۔ دنیاوی زندگی کی یہ طبیعت اور اس کا یہ مزاج ہے یہاں تک کہ وہ افراد جو انتہائی خوش حالی سے عمر گزارتے ہیں وہ بھی رنج و زحمت اور درد و تکلیف سے بچے ہوئے نہیں۔ پروردگار کی ملاقات کی تعبیر سے یہاں مراد چاہے قیامت کے منظر کا دیکھنا ہو، جو اس کی حاکمیتِ مطلقہ کا مظہر ہے، یا اس کی جزا و سزا کا آمنا سامنا ہو، شہود باطن کے طریقہ سے خود اس کی ملاقات ہو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رنج و تعب اس دن تک جاری رہے گا اور اس وقت ختم ہو گا جب اس دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور انسان پاکیزہ عمل کے ساتھ اپنے خدا سے ملاقات کرے گا۔ جی ہاں! رنج و تعب کے بغیر راحت و آرام صرف وہم ہے۔ "انسان" کے لفظ سے خطاب، جو ساری نوعِ انسانی پر حاوی ہے، (انسان کی انسانیت پر انحصار کی طرف توجہ کرتے ہوئے) اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ خدا نے ضروری یہ توانائیاں اس اشرف المخلوقات میں پیدا کی ہیں اور عنوانِ رب پر انحصار اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سعی و کوشش انسانیت کے تکامل و تربیت کے نظام الاوقات کا ایک جز ہے۔ جی ہاں! ہم سب مسافر ہیں جنہوں نے سرحدِ عدم سے رختِ سفر باندھا اور اقلیم وجود میں قدم رکھا ہے۔ ہم سب اس کی راہِ عشق کی راہ رو ہیں اور دوست کے رُخِ انور کی مقناطیسی کشش کی بنا پر آئے ہیں۔ اس تعبیر کی نظیر قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آئی ہے، مثلاً (وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى) اور یہ تمام امور تیرے پروردگار کی طرف لوٹتے ہیں اور تمام خطوط اسی پر منتھیٰ ہوتے ہیں۔ (نجم۔ ۴۲) نیز فرماتا ہے: (وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ) "سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے" (فاطر۔ ۱۸)۔ اور دوسری آیات سب یہ بتاتی ہیں کہ موجودات کے تکامل کا یہ راستہ خداوند تعالی کی طرف جاتا ہے لیکن یہاں تمام انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جیسا کہ فرماتا ہے: "لیکن یہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، عنقریب اس کا آسان حساب کتاب ہو گا" (فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِo فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا)۔ اور وہ مسرور ہو کر اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ جائے گا (وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا)۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو آفرینش کے مدارِ اصلی میں، وہی مدار جو خدا نے اس انسان کے لئے اس کے سرمایوں، طاقتوں اور توانائیوں کے لئے معین کیا ہے، حرکت کرتے ہیں اور ان کی سعی و کوشش ہمیشہ خدا کے لئے ہے اور ان کی حرکت خدا کی طرف ہے۔ وہاں ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیں گے۔ ان کے اعمال کی پاکیزگی، ایمان کی سحت اور قیامت میں نجات کی علامت ہے اور اہل محشر کے مقابلہ میں سرفرازی و سربلندی کا سبب ہے۔ جس وقت میزان عدل کے نیچے کھڑے ہوں گے، وہ میزان جو کم سے کم میزان کو تولتی ہے، تو خدا ان کا حساب کتاب آسان کر دے گا، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے گا اور ایمان و عمل صالح کی وجہ سے ان کی سیّنات کو حسنات میں تبدیل کر دے گا۔ یہ کہ "حساب یسیر" سے کیا مراد ہے، بعض مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد سہل و آسان حساب ہے جس میں سخت گیری و دقت نہ ہو، برائیوں سے درگزر اور حسنات کا اجر ہو۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے: (ثلاث من کن فیہ حاسبہ اللہ حساباً یسیراً و ادخلہ الجنة برحمتہ قالوا و ما ھی یا رسول اللہ؟ قال تعطی من حرمک و تصل من قطعک و تعفو عمن ظلمک) تین چیزیں جس شخص میں موجود ہوں خدا اس کے حساب کو آسان کر دے گا، اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ وہ کونسی چیزیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا تو اس کو عطا کرے جو تجھے محروم کرے، اس سے صلہٴ رحم جو تجھ سے قطع رحم کرے اور اس کو معاف کر جو تجھ پر ظلم کرے۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ یہ مفہوم روایات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت میں حساب و کتاب میں دقت و سخت گیری انسانوں کی عقل و دانش کی میزان سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: (انما یداق اللہ العباد فی الحساب یوم القیامة علی ما اٰتاھم من العقول فی الدنیا) خدا قیامت میں بندوں کے حساب و کتاب میں اس عقل کی مقدار کے مطابق، جو دنیا میں بندہ کو دی گئی ہے، سخت گیری کرے گا۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۳۷)۔ لفظ اہل کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تفسیریں بیان ہوئی ہیں، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد اس کی بیوی اور ایمان دار اولاد ہے۔ مومنین جنت میں اس کے پاس پہنچیں گے اور یہ خود ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان جن سے محبت رکھتا ہے، انہیں جنت میں دیکھے اور ان سے قریب رہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے اہل کو جنت کی حوروں کے معنی میں لیا ہے جو مومنین کے لئے معین ہوئی ہیں۔ بعض نے اسے صاحبان ایمان افراد کے معنی میں لیا ہے جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا۔ ان تمام معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔
چند نکات ۱۔ ایسی حدیث جس میں اعجاز ہے
ایک حدیث میں اذا السماء انشقت کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت علیؑ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا (انھا تنشقّ من المجرۃ) (ستارے) "کہکشاؤں سے الگ ہو جائیں گے۔" (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۳۰، ص ۸۷ و در المنثور، جلد ۶، ص ۳۲۹)۔ یہ حدیث پر معنی اور قابلِ دقّت ہے اور علمی معجزات میں شمار ہوتی ہے اور ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھاتی ہے کہ اس زمانہ کے ماہرین و علماء میں سے کوئی اس تک نہیں پہنچا تھا۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے ماہرین فلکیات نے اپنے نجوم سے متعلق مشاہدات اور دوربینوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ عالم کہکشاؤں کا مجموعہ ہے اور ہر کہکشاں شمسی نظاموں اور ستاروں کا مجموعہ ہے۔ اسی بناء پر انہیں ستاروں کے شہر کا نام دیتے ہیں۔ کہکشاں مشہور شہر کا راستہ ہے جو آنکھ سے نظر آ سکتا ہے اور نظام ہائے شمسی اور ستاروں کے عظیم مجموعہ اور دائرہ کی مانند ہے۔ اس کی ایک سمت ہم سے اس قدر دور ہے کہ اس کے ستارے ہم کو سفید بادل کی شکل میں نظر آتے ہیں لیکن وہ درحقیقت ایک دوسرے سے نزدیک نورانی نقطوں کا مجموعہ ہیں۔ وہ سمت جو ہم سے نزدیک ہے اس کے ستارے قابل رویت ہیں۔ یہ وہی ستارے ہیں جو رات کے وقت ہم آسمان پر دیکھتے ہیں اور اس طرح ہمارا نظامِ شمسی سوائے اس کہکشاں کے اور کچھ نہیں ہے۔ مندرجہ بالا روایت کے مطابق حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ قیامت کے برپا ہونے کے وقت یہ ستارے، جنہیں تم دیکھتے ہو کہکشاں سے جدا ہو جائیں گے اور سب کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس زمانے میں کون جانتا تھا کہ یہ ستارے جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں واقعی اس کہکشاں کا جزو ہیں؛ سوائے اس شخص کے جس کا دل عالم غیب سے مربوط ہو اور علم خدا کے سرچشمے سے سیراب ہوا ہو۔
2۔ دنیا رنج و تکلیف اور دکھ درد کا گھر ہے۔
"کادح" کی تعبیر مندرجہ بالا آیت میں آئی ہے اور سعی و کوشش کی طرف اشارہ ہے جس میں رنج و زحمت کی آمیزش ہو، اس طرف توجہ رکھتے ہوئے، کہ اس کے مخالف تمام انسان ہیں، اس واقعیت کو پیش کرتی ہے کہ اس جہان کی زندگی کی طبیعت کسی مرحلہ میں بھی مشکلات، تکالیف اور رنج و مشقت سے خالی نہیں ہے۔ چاہے یہ مشکلات و تکالیف جسمانی ہوں، چاہے روحانی اور فکری یا دونوں کسی فرد کو اس سے مفر نہیں ہے۔ حضرت علیؑ ابن الحسینؑ کی ایک بہت ہی پُرمعنی حدیث ہے: (الراحة لم تخلق فی الدنیا ولا لاھل الدنیا، انما خلقت الراحة فی الجنة و لاھل الجنة و التعب و النصب خلقا فی الدنیا و لاھل الدنیا وما اعطی احد منھا جفنة الا اعطی من الحرص مثلیھا و من اصاب من الدنیا اکثر کان فیھا اشد فقیراً لانہ یفتقر الیٰ الناس فی حفظ اموالہ و تفتقر الیٰ کل اٰلة من اٰلات الدنیا فلیس فی غنی الدنیا الراحة) راحت و آرام دنیا میں اہل دنیا کے لئے نہیں ہے، راحت و آسائش صرف جنت میں ہے اور اہل جنت کے لئے ہے۔ رنج و تعب دنیا میں ہیں اور اہل دنیا کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے جو ایک پیمانہ اس میں سے حاصل کر لیتا ہے تو دگنا لالچ اس کے نصیب میں شامل ہو جاتا ہے اور جس کے پاس مال دنیا کافی ہے وہ زیادہ فقیر ہے، کیونکہ وہ اپنے مال کی حفاظت کے سلسلہ میں دوسروں کا محتاج ہے اور زیادہ وسائلِ حفاظت کا محتاج ہے۔ لہٰذا دنیا کے مال و دولت میں کوئی راحت و آرام نہیں ہے۔ اس کے بعد امامؑ نے اس حدیث کے ذیل میں فرمایا: (کلّا ما تعب اولیاء اللہ فی الدنیا للدنیا بل تعبوا فی الدنیا للاٰخرة) اولیاء خدا دنیا میں دنیا کی خاطر رنج و تعب میں نہیں مبتلا ہوتے بلکہ دنیا میں ان کا رنج و تعب آخرت کے لئے ہے۔ (بجوالہ: خصال صدیق، جلد جلد۱، باب الدنیا و الاخرة ککفق المیزان، حدیث ۹۵)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر وہ جو شرم و حیا کے باعث اپنا نامہ اعمال پشت کی طرف سے لیں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 12اس بحث کے بعد، جو گزشتہ آیات میں اصحاب الیمین (وہ مومنین جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا) کے بارے میں گزر چکی ہے، ان آیات میں کفار مجرمین اور ان کے نامہ اعمال کی کیفیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے: "باقی رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کی پشت کی طرف سے دیا جائے گا" (وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ)۔ عنقریب وہ فریاد کرے گا کہ وائے ہو مجھ پر کہ میں ہلاک ہو گیا (فَسَوْفَ يَدْعُواْ ثُبُورًا)۔ "اور آگ کے جلانے والے شعلوں میں جلے گا" (وَيَصْلَى سَعِيرًا)۔ یہ کہ ان کے نامہ اعمال کس طرح ان کے پس پشت سے دیں گے اور کس طرح یہ آیت اور وہ آیات جو کہتی ہیں کہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیں، ایک جگہ جمع ہوں گی، اس سلسلہ میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے کہا کہ ان کے دائیں ہاتھ گردن کے ساتھ زنجیر سے بندھے ہوں گے اور ان کے نامہ ہائے اعمال بائیں اور پشت کے پیچھے سے ملیں گے جو ذلت و خواری کے سر نیچے رکھنے اور شرمساری کی علامت ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ قیدیوں کے طرح پیچھے باندھ دئیے جائیں گے۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ سورہ نساء کی آیت ۴۷ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو کہتی ہے: (مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَى أَدْبَارِهَا)۔ "اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور پشت کی طرف پھیر دیں" اس طرح گروہ مجرمین کے منہ عقب کی جانب مڑ جائیں گے اور ضروری ہے کہ وہ اپنے نامہ ہائے اعمال خود پڑھیں۔ لہٰذا وہ ان کے بائیں ہاتھ میں پشت کی جانب انہیں دیں گے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہا جائے کہ اصحاب الیمین سرفرازی اور فخر و مباہات کے ساتھ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں لیئے ہوئے پکار کر کہیں گے (هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيَهْ) "اے اہل محشر آؤ اور میرا نامہ اعمال لے کر پڑھو" (حاقہ ۔ ۱۹)۔ لیکن گناہگاروں کو ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیں گے تو وہ شرمساری اور ذلت سے اپنا ہاتھ پشت کے پیچھے کر لیں گے تاکہ جرم کی سند کم تر دیکھی جائے۔ لیکن فائدہ کچھ نہیں ہو گا اس لئے کہ وہاں کوئی چیز پوشیدہ رہنے والی نہیں ہے۔ (يَدْعُواْ ثُبُورًا)، اس کی تعبیر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کس خطر ناک حادثہ کے موقعہ پر کرتے ہیں اور فریاد بلند کرتے ہیں (واْ ثُبُورًا)، اے وائے کہ مَیں ہلاک ہو گیا۔ توجہ فرمائیں کہ "ثبور" ہلاکت کے معنی میں ہے۔ لیکن یہ آہ نالہ و فریاد کسی کے کان تک نہیں پہنچے گی۔ اس کے بعد (وَيَصْلَى سَعِيرًا) ہے، یعنی وہ جہنم کے جلانے والی آگ میں داخل ہو گا۔ اس کے بعد اس منحوس سرنوشت کی علت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ اس بناء پر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہمیشہ اپنے (کفر و گناہ کی وجہ سے) خوش رہتا تھا (إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا)، ایسا سرور جس میں غرور کی آمیزش تھی اور ایسا غرور جو غفلت اور خدا سے بےخبری کو اپنے ساتھ لیئے ہوئے تھا، ایسا غرور جو دنیا کے ساتھ شدید وبستگی اور موت کے بعد والے جہان سے بےپرواہی کی نشانی تھا۔ واضح رہے کہ ذاتی طور پر سرور و خوش حالی مذموم چیز نہیں ہے بلکہ مومن کو چاہئیے کہ لطفِ خدا سے مسرور ہو اور رہنے سہنے کے انداز میں ہشاش بشاس ہو۔ وہ سرور و خوشی مذموم ہے جو انسان کو یاد خدا سے غافل کر دے اور خواہشات کا اسیر بنا کر رکھ دے۔ اس لئے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "یہ اس بناء پر ہے کہ وہ گمان کرتا تھا کہ کبھی واپس نہیں لوٹے گا اور معاد و قیامت کا کوئی امکان نہیں ہے" (إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ)۔ حقیقت میں اس کی بدبختی کا سبب اصلی اس کا اعتقاد فاسد اور گمان باطل تھا، جس کا دار و مدار انکارِ قیامت پر تھا۔ یہی اعتقاد اس کے غرور و سرور کا باعث ہوا۔ اس نے اس کو خدا سے دور کیا اور خواہشات کا اسیر بنا کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ وہ انبیاء کی دعوت فکر کا مذاق اڑاتا اور جب اپنے گھر والوں کے پاس آتا تو اس مذاق سے خوش ہوتا۔ یہی مفہوم سورہ مطففین کی آیت ۳۱ (وَإِذَا انقَلَبُواْ إِلَى أَهْلِهِمُ انقَلَبُواْ فَكِهِينَ) میں بھی آیا ہے۔ اسی طرح قارون اس مغرور دولت مند اور خدا سے بےخبر انسان کی داستان میں بیان ہوا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے باخبر افراد اس سے کہتے تھے (لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ) اس قدر متکبرانہ طور پر خوش نہ ہو کیونکہ خدا خوش ہونے والے مغروروں کو دوست نہیں رکھتا (قصص۔ ۷۶)۔ "لن یحور" کبھی واپس نہیں لوٹے گا۔" "یحور"، "حور" (بروزن غور) کے مادہ سے تردد اور آمد و رفت کے معنی میں ہے، خواہ یہ آمد و رفت عمل ہو یا فکر و نظر میں، اسی لئے پانی کے حوض یا تالاب میں گردش کرنے کے سلسلہ میں اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور محور اس کو کہتے جس کے گرد چرخہ گھومتا ہے، محاورہ بحث کی آمد و رفت اور ردّ و بدل کے معنی سے ہے اور "حوار" بھی انہی معانی میں ہے اور کبھی اس داد کے معنی میں بھی آتا ہے جو بحث کے دوران بلند ہوتی ہے اور تحیر بھی کسی مسئلہ میں فکر کی آمد و رفت کا نتیجہ ہے جس کا لازمہ عمل میں سرگردانی ہے۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل حبشی ہے۔ اور ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ میں قرآن کے اس جملے کے معنی نہیں جانتا تھا، یہاں تک کہ ایک بیابانی عرب سے مَیں نے سنا کہ وہ اپنی لڑکی سے کہہ رہا تھا "حوری" یعنی واپس آ جا۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب، تفسیر فخر رازی، ابو الفتوح اور دوسری کتب)۔ حواری کی تعبیر حضرت عیسٰیؑ کے نزدیک رہنے والوں کے بارے میں ہے، یا ہر شخص کے قریب بیٹھنے والوں کے متعلق بھی شاید اسی مناسب سے ہے کہ وہ اس کے پاس آمد و رفت رکھتے ہیں۔ بعض نے اسے "حور" کے مادہ سے دھونے اور سفید کرنے کے معنی میں سمجھا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے دلوں کو شرک و گناہ کے زنگ سے پاک و صاف کرتے تھے، اور جنت کی حوروں کو اسی لئے یہ نام دیا گیا ہے کہ ان کا رنگ سفید ہے، یا ان کی آنکھوں کی سفیدی بہت زیادہ ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ جنت کی حوروں کے لئے اس لئے بولا جاتا ہے کہ وہ اس قدر خوبصورت ہیں کہ آنکھ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔ لیکن بہرحال، یہ لفظ زیر بحث آیت میں بازگشت اور معاد کے معنی میں ہے۔ یہ آیت ضمنی طور پر یہ بھی بتاتی ہے کہ قیامت پر ایمان نہ رکھنا، غفلت، غرور اور انواع و اقسام کے گناہوں میں آلودہ ہونے کا سرچشمہ ہے اور آخری زیرِ بحث آیت میں ان کے باطل عقائد کی نفی میں فرماتا ہے: "جی ہاں! اس کا پروردگار اس کے بارے میں بینا تھا" (بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا)۔ اس کے تمام اعمال کو لکھوایا اور روزِ حساب کے لئے ایک نامہ اعمال میں انہیں محفوظ کیا۔ اس آیت کی تعبیر گزشتہ آیت (يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ) کی مانند عقیدہ و معاد پر دلیل و حجت شمار ہو سکتی ہے۔ خصوصاً دونوں آیات میں رب یعنی پروردگار کے عنوان پر انحصار ہوا ہے، اس لئے کہ انسان کی سیرِ ارتقاء یعنی پروردگار تک پہنچنے کا عمل، موت کے آنے پر منقطع نہیں ہوتا اور دنیاوی زندگی ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ خود مقصودِ تکامل ہو نیز انسان کے اعمال کے بارے میں خدا کا بصیر ہونا اور ان کے اعمال کو تحریر کیا جانا حساب و سزا و جزا کی تمہید ہی بن سکتا ہے، ورنہ فضول ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 12تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر تم ہمیشہ دگرگوں ہوتے رہتے ہو
Tafsīr Nemūna · Vol. 12اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں خدا کی طرف سے انسان کی سیرِ تکامل کے بارے میں آئی تھی ان آیات میں ان مفہوم کی تاکید اور مزید توضیح کے لئے فرمایا ہے: "قسم ہے شفق کی" (فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ)۔ اور قسم ہے ان پراگندہ امور کی جنہیں وہ اکھٹا کرتی ہیں (وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ)۔ اور قسم ہے چاند کی جب وہ کامل ہوتا ہے اور چودھویں کے چاند کی صورت اختیار کر لیتا ہے (وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ)، کہ تم سب ہمیشہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے ہو (لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ)۔ فَلَا أُقْسِمُ کے جملے میں لا کا لفظ، جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے، زائدہ ہے اور تاکید کے لئے ہے۔ اگرچہ بعض کا خیال ہے کہ نفی کے لئے ہو، یعنی میں قسم نہیں کھاتا اس بناء پر کہ مفہوم عیاں ہے، قسم کی ضرورت نہیں ہے، یا یہ کہ مطلب اس قدر اہم ہے کہ ان قسموں کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ لیکن پہلے معنی (زائد اور تاکید کے لئے ہونا) زیادہ مناسب ہیں۔ "شفق" مفردات میں راغب کے بقول دن کی روشنی رات کی تاریکی سے آمیختہ ہونا ہے، اس لئے لفظ اشفاق اس توجہ اور عنایت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس میں خوف کا عنصر پایا جاتا ہو۔ مثلاً اگر کوئی فرد کسی شخص کے لئے محبت کے جذبات رکھتا ہو اور اس کے بارے میں کچھ حوادث سے ڈرتا ہو تو اس حالت کو اشفاق اور ایسے شخص کو مشفق کہتے ہیں۔ لیکن فخر رازی کا نظریہ ہے کہ شفق کا لفظ اصل میں رقّت اور نازک ہونے کے معنی میں ہے۔ رقّت کے معنی پتلا ہونا ہے۔ اسی لئے بہت ہی نازک اور پتلے لباس کو شفق کہتے ہیں اور شفقت کا لفظ رقّتِ قلب کی حالت کے لئے بولا جاتا ہے (لیکن راغب کا قول زیادہ صحیح نظر آتا ہے)۔ بہرحال، شفق سے مراد وہی روشنی ہے جو آغاز شب کی تاریکی کی آمیزش رکھتی ہو اور چونکہ ابتدائے شب میں ایک کم رنگ کی سرخی افق مغرب پر پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کی جگہ سفیدی لے لیتی ہے، تو اس میں اختلاف ہے کہ شفق کا اطلاق اس سرخی پر ہے یا سفیدی پر۔ علماء و مفسرین کے درمیان مشہور و معروف وہ پہلے معنی ہیں اور اشعارِ عرب میں بھی اسی پر انحصار کیا گیا ہے اور شفق کو شہیدوں کے خون سے تشبیہ دیتے ہیں اور (دماء الشہداء) کہتے ہیں۔ لیکن بعض مفسرین نے دوسرے معنی کو منتخب کیا ہے جو بہت ضعیف نظر آتے ہیں، خصوصاً یہ کہ اگر اس کی لغوی اصل کے معنی ہم رقّت سمجھیں تو پھر اس کم رنگ کی سرخی سے مناسبت رکھتے ہیں جو سورج کی رقیق اور پتلی روشنی اور نور ہے۔ بہرحال، چونکہ شفق کا ظہور دنیا میں ایک گہری تبدیلی اور دگر گونی کی حالت کی خبر دیتا ہے اور دن کے اختتام اور رات کے آغاز کا اعلان کرتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ایک خاص قسم کا جلدہٴ زیبائی اور خوبصورتی ہے، اور ان سب سے قطع نظر نمازِ مغرب کے وقت کی قسم کھائی ہے تاکہ سب لوگوں کو خبردار اور آمادہ کرے کہ وہ اس خوبصورت آسمانی وجود کے بارے میں غور کریں۔ باقی رہا رات کی قسم کھانا تو وہ ان بہت سے آثار و اسرار کی بنا پر ہے جو اس میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اس پر ہم پہلے مفصل گفتگو کر چکے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نمونہ، جلد ۹، ۱۴۳، سورہ قصص کی آیت ۷۱ تا ۷۳ سے رجوع فرمائیں)۔ "ما وسق" کی تعبیر (تشریحی نوٹ: "ماوسق" میں ما موصولہ ہے اور اس کے مصدریہ ہونے کا احتمال ضعیف ہے اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر بھی محذوف ہے اور تقدیر میں "وما وسقہ" ہے)۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "وسق" بکھری ہوئی چیزوں کے جمع کرنے کے معنی میں ہے، (تشریحی نوٹ: "وسق" (بروزن غضب) اونٹ کے ایک بار یا ساٹھ صاع جس کا ہر صاع تقریباً تین کلو ہے کے معنی میں آیا ہے اور وہ بھی ان سب کے مجتمع ہونے کے معنی میں ہے)۔ اور مختلف قسم کے جانوروں، پرندوں، یہاں تک کہ انسانوں کے اپنے گھروں، آشیانوں اور گھونسلوں کی طرف رات کے وقت لوٹنے کی طرف اشارہ ہے جس کا نتیجہ جانوروں کا عمومی آرام و سکون اور آسائش ہے اور یہ رات کے اہم آثار و اسرار میں سے ایک شمار ہوتا ہے جیسا کہ سورہٴ مؤمن کی آیت ۶۱ میں ہم پڑھتے ہیں (اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ)، خدا وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لیئے خلق کیا ہے تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اذا اتسق کی تعبیر اسی مادہ سے ہے اور مختلف وجودوں کے جمع ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں چودھویں رات کے چاند کی روشنی کے کمال کے معنی میں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ چاند اس حالت میں بہت ہی خوبصورت لگتا ہے اور ہر دیکھنے والی آنکھ کو دل کش نظر آتا ہے۔ اس کا نور صفحہٴ زمین کو روشن کرتا ہے۔ اس کے ہلکے رنگ کی روشنی جو رات کے آرام و سکون کو خراب نہیں کرتی، رات کے مسافروں کو راستہ دکھاتی ہے اس لئے وہ خدا کی عظیم آیات میں سے ایک آیت ہے۔ اسی بناء پر اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ چاروں موضوعات جن کی ان آیات میں قسم کھائی گئی ہے (شفق، رات اور وہ موجودات جنہیں رات جمع کرتی ہے اور چودھویں رات کا چاند)۔ یہ سب ایسے جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک ایسے خوبصورت مجموعہ کو تشکیل دیتے ہیں جو انسانی فکر میں تحریک پیدا کرتا ہے تاکہ وہ تخلیق کی عظیم وقت پر غور و فکر کرے اور ان تیز تبدیلیوں سے وقوعِ قیامت اور قدرت خدا کے بارے میں آشنائی حاصل کرے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مختلف امور کا یہ حصہ ایسے حالات اور تبدیلیوں کی طرف اشارہ ہے جو عالمِ آفرینش میں ایک دوسرے کے ساتھ رونما ہوتی ہیں۔ سورج چہرے پر نقاب ڈالتا ہے تو شفق ظاہر ہو جاتی ہے، جو اس کے نور کا بقیہ ہے۔ انسان، پرندہ، چرند بڑی تیزی سے اپنے ٹھاکانوں اور آشیانوں کی طرف لوٹتے ہیں اور چاند بدرِ کامل کی شکل میں بلند ہوتا ہے۔ توجہ فرمائیں کہ چودھویں کا چاند رات کے اسی ابتدائی حصہ میں طلوع ہوتا ہے اور ان قسموں کو "لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ" کے اس جملے کی تمہید قرار دیتا ہے جو مختلف ایسے حالات کو بیان کرتا ہے جو انسان اپنی راہ حیات میں یکے بعد دیگرے پیدا کرتا ہے۔ اس جملے کے لئے مفسرین نے مختلف تعبیریں بیان کی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے۔ ۱۔ مراد وہ گوناگوں حالات ہیں جو انسان، خدا اور کمالِ مطلق کی جانب سفر کرنے کے پُر مشقت راستے پیدا کرتا ہے۔ پہلے عالمِ دنیا، پھر عالمِ برزخ ہے اور پھر قیامت اور اس کے مختلف حالات ہیں۔ (توجہ فرمائیں کہ "طبق"، "مطابقہ" کے مادہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر قرار دینے کے معنی میں ہے اور ان منزلوں کے معنی میں ہے جنہیں انسان اپنی سیرِ صعودی میں طے کرتا ہے)۔ ۲۔ مراد وہ حالات ہیں جنہیں انسان کو نطفہ سے لے کر موت تک کے سفر میں سامنا کرنا ہوتا ہے۔ بعض محققین نے ایسی ۳۷ حالتیں شمار کی ہیں۔ ۳۔ مراد وہ مختلف حالات و شدائد ہیں جن میں سے انسان دنیاوی زندگی میں صحت و بیماری، غم و اندوہ سرور مسرت، سختی و آرام اور صلح و جنگ کی صورت میں دوچار ہوتا ہے۔ ۴۔ مراد وہ مختلف حالات و شدائد ہیں جن سے انسان قیامت میں دوچار ہو گا یہاں تک کہ حساب سے فارغ ہو کر ہر شخص اپنے اعمال کے نتیجے میں دوزخ اور جنت کی طرف جائے گا۔ ۵۔ مراد وہ حالات ہیں جو گزشتہ قوموں کو پیش آئے یعنی وہی تلخ و شیریں حوادث اور انواع و اقسام کی تردیدیں اور مخالفین کے انکار اس امت میں بھی واقع ہوں گے یہ مضامین ایک اور رویت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئے ہیں۔ ان تفسیروں کا جمع ہونا بھی معنی نہیں رکھتا۔ ہو سکتا ہے کہ آیت ان تمام تبدیلیوں، تغیرات اور مراحل کی طرف اشارہ کر رہی ہو جنہیں انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے۔ بعض مفسرین یہاں مخاطب خود پیغمبرؐ کو سمجھتے ہیں اور آیت کی ان آسمانوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن سے پیغمبر اسلامؐ معراج کی شب گزرے ہیں۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "لترکبن" میں جو "ب" ہے اور پر پیش ہے اور جمع کے معنی دیتا ہے، اس لئے یہ تفسیر مناسب ہے۔ خصوصاً یہ کہ گزشتہ آیات میں بھی مخاطب کل انسان تھے۔ بہرحال، ان حالات کا حدوث اور آدمی کا ایک حالت پر قیام نہ کرنا ایک تو اس کے مخلوق ہونے اور محتاج خالق ہونے کی دلیل ہے، اس لئے کہ ہر متغیر حادث ہے اور ہر حادث کو خالق کی ضرورت ہے، دوسرے اس جہان کی ناپائیدار ہونے کی دلیل ہے۔ تیسرے انسان کی پروردگار عالم کی طرف حرکتِ مستمر مسئلہ معاد و قیامت کی نشانی ہے جیسا کہ گزشتہ آیات میں آیا تھا (يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ)۔ اس کے بعد گزشتہ مباحث ایک نتیجہ کلی اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے "وہ ایمان کیوں نہیں لاتے" (فَمَا لَهُمْ لَايُؤْمِنُونَ)، اس کے باوجود کے حق کے دلائل واضح و آشکار ہیں، توحید و خدا شناسی کے بھی اور معاد و قیامت کے بھی۔ آیات آفاتی بھی جو رات دن کی خلقت اور چاند سورج، نور و ظلمت، طلوع و غروب، آفتاب و شفق، رات کی روشنی اور رات کی روشنی کے تکامل میں چھپے ہوئے ہیں۔ اور آیاتِ انفسی بھی۔ اس لمحے سے لے کر جب انسان کا نطفہ رحم میں قرار پاتا ہے اور یکے بعد دیگرے مختلف مراحل طے کرتا ہے، یہاں تک کہ عالم جنین میں اپنے اوج کمال کو پہنچتا ہے، اس کے بعد ولادت کے لمحے سے لے کر موت تک دوسرے مراحل طے کرتا ہے، تو ان واضح نشانیوں کے باوجود نوع بشر ایمان کیوں نہیں لاتی۔ اس کے بعد کتابِ تکوین سے کتاب حق کی طرف رخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو یہ خضوع اختیار کیوں نہیں کرتے۔" (وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ)۔ قرآن جو آفتاب کے مانند اپنی دلیل آپ ہے، نورِ اعجاز اس کے مختلف پہلوؤں سے عیاں ہے، پھر اس کے مضامین و مشمولات یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسے وحی کے سرچشمہ سے لیا گیا ہے۔ قرآن کے بارے میں ہر غیر جانب دار یہ جانتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ قرآن کسی انسان کے دماغ کی تخلیق ہو۔ پھر انسان بھی ایسا جس نے کبھی کوئی سبق نہیں پڑھا ہو اور ایک ایسے ماحول میں اس نے زندگی بسر کی ہو جو خرافات و ظلمات سے پُر ہو۔ یہاں سجدہ سے مراد خضوع، تسلیم اور اطاعت ہے۔ (تشریحی نوٹ: ان معانی کے شواہد میں سے گزشتہ اور آئندہ آیات کی شہادت کے علاوہ ایک یہ ہے کہ سجدہ جس کے معنی تلاوت قرآن کے وقت زمین پر پیشانی رکھنا ہے، سوائے چند آیات کے نہ واجب ہے نہ مستحب، اس لئے یہ جو کہہ رہا ہے کہ قرأتِ قرآن کے وقت وہ سجدہ کیوں نہیں کرتے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سجدے سے مراد سارے قرآن کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے)۔ اور وہ مشہور سجدہ جس میں پیشانی کو زمین پر رکھتے ہیں، اس مفہوم کلی کا ایک مصداق ہے۔ اور شاید اسی بنا پر بعض روایات میں آیا ہے کہ پیغمبرؐ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی تو سجدہ کیا۔ البتہ فقہائے اہلبیت کے مشہور فتوے کے مطابق یہ سجدہ قرآن کے مستحب سجدوں میں سے ہے اور اہل تسنن کے چاروں مذاہب اس آیت کی تلاوت کے وقت سجدہ کرنا واجب سمجھتے ہیں، سوائے امام مالک کے جن کا نظریہ ہے کہ سورہ کے ختم ہونے کے بعد سجدہ کرنا چاہئیے۔ (بحوالہ: روح البیان، جلد ۱، ص، ۱۳۸۲)۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "بلکہ کفار ہمیشہ آیاتِ الہٰی اور معاد و قیامت کی تکذیب کرتے ہیں" (بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ)۔ یہاں فعل مضارع کا استعمال، جو عام طور پر استمرار کے لئے ہوتا ہے، ان معانی کا گواہ ہے کہ وہ اپنی تکذیب پر مُصر تھے اور یہ ایسا اصرار تھا جو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے تھا۔ ان کی تکذیب ایسی نہیں تھی کہ انہیں اس کے لئے دلیلیں نہیں مل سکی تھیں، بلکہ تعصب، اندھی تقلید، مادی منفعتوں کی حفاظت اور شیطانی خواہشات کی تسکین کے لئے تھی۔ اس کے بعد تہدید آمیز لہجے میں فرماتا ہے: "خدا اسے اچھی طرح جانتا ہے جسے وہ اپنے دل کے اندر پنہاں رکھتے ہیں" (وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ)۔ خدا ان کی نیتوں، مقاصد اور ایسی ترغیبات سے، جو مسلسل تکذیبوں کا سبب بنتی ہیں، باخبر ہے، وہ چاہے کتنی ہی پردہ پوشی کیوں نہ کریں، انجام کار انہیں اس کی سزا ملے گی۔ "یوعون"، "وعاء" کے مادہ سے ظرف اور برتن کے معنی میں ہے، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کی مشہور عبارت سے نہج البلاغہ میں منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: (ان ھٰذہ القلوب اوعیة فخیرھا اوعاھا) یہ دل ظروف ہیں اور ان میں سے بہترین دل وہی ہے جس کی حفاظت اور ظرفیت زیادہ ہو۔ اور بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "پس انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے" (فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ)۔ بشارت کی تعبیر جو عام طور پر خوشخبری کے لئے استعمال ہوتی ہے، یہاں ایک قسم کے طعن اور سرزنش کے طور پر ہے۔ درحقیقت وہ اس طرح مومنین کو جنت کی وسیع نعمتوں کی بشارت دیتا ہے تاکہ تکذیب کرنے والے دوزخی حسرت و اندوہ میں ڈوب جائیں۔ اس سورہ کی آخری آیت میں ایک استثناء کی شکل میں ایک مرتبہ پھر نیک عمل مومنین کی سرنوشت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئیے ان کے لئے اجر و ثواب ہے، ایسا اجر جو ثابت شدہ اور منقطع نہ ہونے والا اور ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہے۔" (إِلَّا الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ)۔ "ممنون"، "من" کے مادہ سے نقصان و انقطاع کے معنی میں آیا ہے اور منت کے معنوں میں بھی ہے۔ (لفظ منون جو موت کے معنوں میں ہے وہ بھی اسی مادہ سے ہے) اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب معانی یہاں جمع ہوں، اس لئے کہ آخرت کی نعمتیں دنیاوی نعمتوں کے برعکس، جو ناپائیدار اور نقصان پذیر بھی ہیں اور عام طور پر غیر مطلوب عوارض کی آمیزش رکھتی ہیں، کسی قسم کی منتِ نقصان، فنا اور غیر مطلوب عوارض نہیں رکھتیں۔ وہ جاودانی ہیں، نقصان ناپذیر ہیں اور ہر قسم کے نامناسب امور اور منت و احسان سے مبرا ہیں۔ یہ استثناء متصل ہے یا منقطع مفسرین کے درمیان اس میں اختلاف ہے۔ بعض نے یہ احتمال تجویز کیا ہے کہ استثنائے منقطع ہے، یعنی کفار کے حالات کی تشریح جو گزشتہ آیات میں تھی اس کو چھوڑ کر مومنین کی جاودانی اجر کی بات کرتا ہے لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ استثناء متصل ہو اور مقصد یہ ہو کہ کفار کے سامنے بازگشت کی راہ کھولے اور انہیں یہ بتائیں کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور اعمالِ صالح انجام دیں، ان سے عذاب دائمی اٹھا لیا جائے گا اور انہیں ایسا اجر دیا جائے گا جو دائمی ہو گا اور جس میں نقصان کا کوئی پہلو نہ ہو گا۔
ایک نکتہ
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس سورہ کی آخری آیات سے پہلے تو اختیار اور ارادہ کی آزادی کا اصل کی فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لئے مجبور افراد کے بارے میں ترک سجدہ اور ترکِ ایمان پر ملامت کرنا خداوند حکیم کے لئے یہ ایک امر قبیح ہے اور وہ جو یہ فرماتا ہے: (فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ)، مسئلہ اختیار پر واضح دلیل ہے۔ اور پھر ترک سجدہ پر ملامت کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ کفار جس طرح اصول دین کے مکلف ہیں اسی طرح فروعِ دین کے بھی مکلف ہیں۔ (یہ گفتگو اس صورت میں ہے جب لفظ سجدہ مذکورہ بالا آیت میں نماز والے سجدے کے معنی میں ہو یا کم از وسیع معانی رکھتا ہو جس میں سجدہٴ نماز بھی شامل ہے)۔ خداوند! جس دن سب لوگ تیری داد گاہِ عدل میں حاضر ہوں گے ہم پر حساب آسان کر دیجو۔ پروردگارا! اس راہ میں جہاں تمام بندے تیری طرف سفر کرتے ہیں صراط مستقیم طے کرنے میں ہماری مدد فرما۔ بار الہٰا! ہم تیرے قرآن کریم کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہیں، ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔ آمین یا رب العالمین