Al-Masad
سُورہ اللھب (تبّت)
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵ آیات ہیں۔
سُورہٴ "لہب" (تبّت) کے مطالب اور اس کی فضیلت
یہ سُورہ جو مکہ میں اور تقریباً پیغمبر اسلامؐ کی آشکارا دعوت کے آغاز میں نازل ہوا تھا، وہ واحد سُورہ ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور اسلام کے دشمنوں میں سے اس زمانہ کے ایک دشمن (یعنی ابو لہب) پر نام لے کر سخت حملہ کیا گیا ہے اور اس کا مضمون اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اسے پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ خصوصی عداوت تھی اور وہ اور اس کی بیوی کام بگاڑنے اور بدزبانی کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے تھے۔ قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ دونوں جہنمی ہیں اور ان کے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے۔ یہ معنی صیحح ثابت ہوا ہے اور وہ دونوں کے دونوں انجام کار دنیا سے بےایمان ہو گئے۔ یہ قرآن کی ایک کھلی ہوئی پیش گوئی ہے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "من قرأھا رجوت ان لایجمع اللہ بینہ وبین ابی لھب فی دار واحدة" "جو شخص اس کی تلاوت کرے گا مجھے امید ہے کہ خدا اسے اور ابو لہب کو ایک گھر میں اکٹھا نہیں کرے گا (یعنی وہ اہل بہشت سے ہو گا، جب کہ ابو لہب اہل دوزخ سے ہے)۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص۵۵۸)۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ یہ فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو اس سورہ کو پڑھ کر اپنا راستہ ابو لہب کے راستے سے جدا کرے، نہ کہ وہ لوگ جو زبان سے تو پڑھیں لیکن ابو لہب جیسا عمل کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 16"ابن عباس" سے نقل ہوا ہے کہ جس وقت آیہ "و انذر عشیرتک الاقربین" نازل ہوئی اور پیغمبرؐ اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار کرنے اور اسلام کی دعوت دینے (اور اپنی دعوت کا اعلان کرنے) پر مامور ہوئے، تو پیغمبرؐ کوہِ صفا پر آئے اور پکار کر کہا "یا صبا حاہ" (یہ جملہ عرب اس وقت کہتے تھے جب ان پر دشمن کی طرف سے غفلت کی حالت میں حملہ ہو جاتا تھا تاکہ سب کو باخبر کر دیں اور وہ مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں، لہٰذا کوئی شخص "یا صبا حاہ" کہہ کر آواز دیتا تھا! "صباح" کے لفظ کا انتخاب اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ عام طور پر غفلت کی حالت میں حملے صبح کے وقت کیے جاتے تھے)۔ مکہّ کے لوگوں نے جب یہ صدا سنی تو انہوں نے کہا کہ یہ کون ہے جو فریاد کر رہا ہے۔ کہا گیا کہ یہ "محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم" ہیں۔ کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے قبائل عرب کو ان کے نام کے ساتھ پکارا۔ آپؐ کی آواز پر سب کے سب جمع ہو گئے تو آپ نے ان سے فرمایا: "مجھے بتلاؤ! اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ دشمن کے سوار اس پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنے والے ہیں، تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے۔" انہوں نے جواب دیا: "ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔" آپؐ نے فرمایا: "انی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید" "مَیں تمہیں خدا کے شدید عذاب سے ڈراتا ہوں" (مَیں تمہیں توحید کا اقرار کرنے اور بتوں کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہوں) جب ابو لہب نے یہ بات سنی تو اس نے کہا: "تبالک! أما جمعتنا الا لھذا؟!: "تو ہلاک ہو جائے! کیا تو نے ہمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا ہے"؟ اِس موقع پر یہ سورہ نازل ہوا: "تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ" اے ابو لہب تو ہی ہلاک ہو اور تیرے ہاتھ ٹوٹیں، تُو ہی زیاں کار اور ہلاک ہونے والا ہے۔ بعض نے اس موقع پر اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ ابو لہب کی بیوی "اُم جمیل" نے یہ خبر سنی کہ یہ سورہ اس کے اور اس کے شوہر کے بارے میں نازل ہوا ہے تو وہ آپ کے پاس آئی، لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ سکی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے سنا ہے"محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے مل گیا تو میں یہ پتھر اس کے منہ پر دے ماروں گی، مَیں خود بھی شاعر ہوں"! اس کے بعد اصطلاح کے مطابق اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مذمّت میں شعر کہے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "تفسیر قرطبی" جلد ۱۰، ص۷۳۲۴، (تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ) اسی مضمون کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں، "ابن اثیر" نے "الکامل" جلد ۲، ص ۶۰" میں اور "در المنثور" و "ابو الفتوح رازی" اور "فخر رازی" اور "فی ظلال القرآن" میں اس سورہ کی تفسیر میں نقل کیا ہے)۔ اِسلام کے لیے ابو لہب اور اس کی بیوی کا خطرہ اور ان کی عداوت اسی تک منحصر نہیں تھی۔ اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے ان پر سخت شدید حملہ کیا ہے اور صراحت کے ساتھ ان کی مذمّت کر رہا ہے تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن کی طرف انشاء اللہ بعد میں اشارہ ہو گا۔
تفسیر ابو لہب کا ہاتھ کٹ جائے
جیسا کہ ہم نے اس سُورہ کے شان نزول میں بیان کیا ہے یہ سُورہ حقیقت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے چچا، عبد المطلب کے بیٹے"ابو لہب کی بُری باتوں کا جواب ہے جو اسلام کے سخت دشمنوں میں سے تھا اور جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی آشکار اور عمومی دعوت اور عذابِ الٰہی کے بارے میں آپ کے انداز کو سُن کر یہ کہا تھا کہ: "تُو ہلاک ہو جائے، کیا تُو نے ہمیں انہی باتوں کے لیے پکارا تھا"؟ قرآن مجید اس بدزبان شخص کے جواب میں فرماتا ہے: "ابو لہب کے دونوں ہاتھ کٹ جائیں، یا وہ ہلاک ہو جائے اور خسارہ اُٹھائے۔" (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ)۔ "تب" و "تباب" (بر وزنِ خراب) "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق دائمی خسارے کے معنی میں ہے لیکن "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں یہ کہا ہے کہ یہ اس نقصان کے معنی ہے جو ہلاکت پر منتہی ہو۔ بعض ارباب لغت نے اس کی "قطع کرنے" کے معنی میں بھی تفسیر کی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہلاکت پر منتہی ہونے والا دائمی نقصان طبعاَ قطع ہونے اور کٹ جانے کا سبب بنتا ہے۔ ان معانی کے مجموعہ سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ہم نے آیہ کے معنی میں بیان کی ہے۔ البتہ یہ ہلاکت اور نقصان ممکن ہے دنیوی پہلو رکھتا ہو یا معنوی و اُخروی یا دونوں۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن مجید نے اپنی روش اور سیرت کے برخلاف ایک شخص کا نام کیسے لے لیا اور اس شدّت کے ساتھ اس پر حملہ کیوں کیا ہے؟ لیکن ابو لہب کی حثییت معلوم ہونے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ اس کا نام "عبد العزیٰ" (عزی بت کا بندہ) اور اس کی کنیت "ابو لہب" تھی۔ اس کے لیے اس کنیت کا انتخاب شاید اس وجہ سے تھا کہ اس کا چہرہ سرخ اور بھڑکتا ہوا تھا، چونکہ لغت میں لہب آگ کے شعلہ کے معنی میں ہے۔ وہ اور اس کی بیوی "اُمِ جمیل" جو ابو سفیان کی بہن تھی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے نہایت بدزبان اور سخت ترین دشمنوں میں سے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ "طارق محاربی" نامی ایک شخص کہتا ہے: میں "ذی المجاز" کے بازار میں تھا۔ (ذی المجاز عرفات کے نزدیک مکہّ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے) اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھا جو پکار پکار کر کہہ رہا تھا: اے لوگوں! لا الٰہ الاّاللہ کا اقرار کر لو تو نجات پا جاؤ گے۔ اور اس کے پیچھے پیچھے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس کے پاؤں کے پچھلے حصہ پر پتھر مارتا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پاؤں سے خون جاری تھا اور وہ چلا چلا کر کہہ رہا تھا "اے لوگوں! یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ ماننا"! مَیں نے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: "یہ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم" ہے جس کا گمان یہ ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور یہ بوڑھا اس کا چچا ابو لہب ہے جو اس کو جھوٹا سمجھتا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۵۹)۔ ایک اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ "ربیع بن عباد" کہتا ہے: مَیں اپنے باپ کے ساتھ تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو دیکھا کہ وہ قبائل عرب کے پاس جاتے اور ہر ایک کو پکار کر کہتے: مَیں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں: تم خدائے یگانہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ جب وہ اپنی بات سے فارغ ہو جاتا تو ایک خوبرو بھینگا آدمی جو ان کے پیچھے پیچھے تھا، پکار کر کہتا: "اے فلاں قبیلہ: یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ تم لات و عزی بُت اور اپنے ہم پیمان جنوں کو چھوڑ دو اور اس کی بدعت و ضلالت کی پیروی کرنے لگ جاؤ۔ اس کی بات نہ سُننا، اور اس کی پیروی نہ کرنا"! مَیں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تُو انہوں نے بتایا کہ یہ "اس کا چچا ابو لہب ہے۔" (بحوالہ: "فی ظلال القرآن" جلد ۸، ص۶۹۷)۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب مکہّ سے باہر کے لوگوں کا کوئی گروہ اس شہر میں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبرؐ سے اس کی رشتہ داری اور سن و سال کے لحاظ سے بڑا ہونے کی بناء پر ابو لہب کے پاس جاتا تھا اور رسول اللہؐ کے بارے میں تحقیق کرتا تھا۔ وہ جواب دیتا: محمّد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایک جادو گر ہے۔ وہ بھی پیغمبرؐ سے ملاقات کیے بغیر ہی لوٹ جاتے۔ اسی اثناء میں ایک ایسا گروہ آیا جنہوں نے یہ کہا کہ ہم تو اسے دیکھے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ ابو لہب نے کہا: "ہم مسلسل اس کے جنون کا علاج کر رہے ہیں! وہ ہلاک ہو جائے! (بحوالہ: "تفسیر القرآن" جلد۳۰، ص۵۰۳)۔ ان روایات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر مواقع پر سایہ کی طرح پیغمبرؐ کے پیچھے لگا رہتا تھا اور کسی خرابی سے فروگذاشت نہ کرتا تھا۔ خصوصاَ اس کی زبان بہت ہی گندی اور آلودہ ہوتی تھی اور وہ رکیک اور چبھنے والی باتیں کیا کرتا تھا۔ اور شاید اسی وجہ سے پیغمبر اسلامؐ کے سب دشمنوں کا سرغنہ شمارہوتا تھا۔ اسی بناء پر زیر بحث آیات اس پر اس کی بیوی ام جمیل پر ایسی صراحت اور سختی کے ساتھ تنقید کر رہی ہیں۔ وہی ایک اکیلا ایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بنی ہاشم کی حمایت کے عہد و پیمان پر دسخظ نہیں کیے تھے اور اس نے آپ کے دشمنوں کی صف میں رہتے ہوئے دشمنوں کے عہد و پیمان میں شرکت کی تھی۔ ان حقائق کی طرف توجہ کرنے سے اس سورہ کی استثنائی کیفیت کی دلیل واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے: اس کے مال و ثروت نے اور جو کچھ اس نے کمایا ہے اس نے، اسے ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اسے عذاب الٰہی سے نہیں بچائے گا۔" (مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ)۔ (تشریحی نوٹ: "ما کسب" میں "ما" ممکن ہے "موصولہ" یا "مصدریہ" ہو، بعض اس کے لیے ایک وسیع معنی کے قائل ہیں جو نہ صرف اس کے اموال بلکہ اس کی اولاد کو بھی شامل ہے، اور "ما اغنیٰ عنہ" میں "ما" مسلمہ طور پر "مانا فیہ" ہے)۔ اِس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دولت مند مغرور شخص تھا جو اپنی اسلام دشمن کوششوں کے لیے اپنے مال ِو دولت پر بھروسہ کرتا تھا۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "وہ جلدی ہی اس آگ میں داخل ہو گا جس کے شعلے بھڑکنے والے ہیں۔" (سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ)۔ اگر اس کا نام "ابو لہب" تھا تو اس کے عذاب کی آگ بھی "ابو لہب" ہے اور وہ بہت ہی عظیم شعلے رکھتی ہے۔ (اس بات پر توجہ رہے کہ "لہب" یہاں نکرہ کی صورت میں آیا ہے اور یہ اس شعلہ کی عظمت کی دلیل ہے)۔ نہ صرف ابو لہب کو بلکہ کسی بھی کافر اور بدکار کو اس کا مال و ثروت اور اس کی اجتماعی و معاشرتی حثییت جہنم کی آگ اور خدا کے عذاب سے رہائی نہیں بخشیں گے، جیسا کہ سورہ شعراء کی آیہ ۸۸ و ۸۹ میں آیا ہے: يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَo إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ: قیامت ایک ایسا دن ہے جس میں انسان کو نہ تو اس کا مال ہی کوئی فائدہ دے گا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد، سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم (یعنی ایمان و تقویٰ کی روح کے ساتھ) پروردگار کے دربار میں حاضر ہو۔ مسلّمہ طور پر آیہ "سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ" سے مُراد جہنم کی آگ ہے، لیکن بعض نے احتمال دیا ہے کہ اس میں دنیا کی آگ بھی شامل ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ جنگ "بدر" اور سخت شکست کے بعد، جو مشرکین قریش کو اُٹھانی پڑی تھی، ابو لہب نے جو خود میدان جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا۔ ابو سفیان کے واپس آنے پر اس سے ماجرے کے بارے میں سوال کیا: ابو سفیان نے قریش کے لشکر کی شکست اور سرکوبی کی کیفیت اس سے بیان کی۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: خدا کی قسم ہم نے اس جنگ میں آسمان و زمین کے درمیان ایسے سوار دیکھے ہیں جو محمّدَ کی مدد کے لیے آئے تھے۔ اِس موقع پر "عباس" کے ایک غلام "ابو رافع" نے کہا: میں وہاں بیٹھا ہوا تھا، میں نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا کہ وہ آسمانی فرشتے تھے۔ اس سے ابو لہب بھڑک اُٹھا اور اس نے ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا۔ مجھے اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مجھے پیٹے چلے جا رہا تھا۔ وہاں عباس کی بیوی "ام الفضل" بھی موجود تھی اس نے ایک چھڑی اُٹھائی اور ابو لہب کے سر پر دے ماری اور کہا: "کیا تو نے اس کمزور آدمی کو اکیلا سمجھا ہے؟" ابو لہب کا سر پھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا۔ سات دن کے بعد اس کے بدن میں بدبو پیدا ہو گئی، اس کی شکل میں طاعون کے دانے نکل آئے اور وہ اسی بیماری سے واصل جہنم ہو گیا۔ اس کے بدن سے اتنی بدبو آ رہی تھی کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے مکہّ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانی ڈالا اور اس کے بعد اس کے اُوپر پتھر پھینکے۔ یہاں تک کہ اس کا بدن پتھروں اور مٹی کے نیچے چھپ گیا۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۱۹، ص۲۲۷)۔ بعد والی آیت میں اس کی بیوی "اُمِ جمیل" کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس کی بیوی بھی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گی، جو اپنے دوش پر ایندھن اُٹھاتی ہے۔" (وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ)۔ (تشریحی نوٹ: "امراتہ"، "سیصلیٰ" میں پوشیدہ ضمیر پر عطف ہے اور "حمالة الحطب" حال ہے اور منصوب ہے، اور بعض نے مثل "زمخشری" کے "کشاف" میں اسے "ذم" کے عنوان سے منصوب جانا ہے۔ اور تقدیر میں اس طرح ہے اذا حمالة الحطب۔لیکن مسلمہ طور پر پہلا معنی بہتر ہے)۔ "اور اس کی گردن میں خرما کی چھال کی رسیّ یا گردن بند ہے۔" (فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ)۔ کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ابو لہب کی بیوی۔ جو "ابو سفیان" کی بہن اور معاویہ کی پھوپھی تھی۔ اسلام کے بر خلاف اپنے شوہر کی عداوتوں اور خرابیوں میں برابر کی شریک تھی لیکن اس بارے میں کہ قرآن نے اس کی حمالة الحطب (دوش پر ایندھن اُٹھانے والی عورت) کے ساتھ توصیف کیوں کی ہے، مفسرین نے متعدد تفسیریں بیان کی ہیں: بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ کاٹیں دار جھاڑیاں کندھے پر اُٹھا کر لاتی تھی اور پیغمبر کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی تاکہ وہ آپ کے پاؤں میں چبھ جائیں۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تعبیر اس کی سخن چینی اور چغل خوری کے بارے میں آئی ہے، جیسا کہ کسی نے کہا ہے: میان دوکس جنگ چوں آتش است سخن چین بدبخت ہیزم کش است دو آدمیوں کے درمیان جنگ آگ کے مانند ہے اور بدبخت چُغل خور ایندھن اُٹھانے والا ہے۔ بعض اسے اس کے شدت سے بُخل سے کنایہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ اتنی دولت مند ہونے کے باوجود کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے تیار ہی نہیں ہوتی تھی۔ اسی لیے اسے "ہیزم کش" ایندھن اُٹھانے والے فقیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت میں بہت سے گروہوں کے گناہوں کو اپنے کندھے پر اُٹھائے ہوئے ہو گی۔ اِن معانی میں سے پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب ہے، اگرچہ ان کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے۔ "جید" (بر وزن دید) "گردن" کے معنی میں ہے اور اس کی جمع "اجیاد" ہے۔ بعض اربابِ لغت کا نظریہ یہ ہے کہ "جید" و "عنق" اور "رقبہ" تینوں کے ایک ہی معنی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ "جید" سینہ سے اُوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے، "عنق" گردن کی پشت یا ساری گردن کو اور "رقبہ" مطلقاَ گردن کو کہا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات ایک انسان کو بھی "رقبہ" کہتے ہیں، مثلاَ: "فک رقبہ" یعنی انسان کو آزاد کرنا۔ (بحوالہ: "التحقیق فی کلمات القرآن الکریم" جلد۲، ص۱۵۸۔) "مسد" (بروزن حسد) اس رسُی کے معنی میں ہے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ "مسد" وہ رسی ہے جو جہنم میں اس کی گردن میں ڈالیں گے جس میں کھجور کے پتوں جیسی سختی ہو گی اور اس میں آگ کی حرارت اور لوہے کی سنگینی ہو گی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ چونکہ بڑے لوگوں کی عورتیں اپنی شخصیت کو آلات و زیورات خصوصاَ گردن کے قیمتی زیورات سے زینت دینے میں خاص بات سمجھتی ہیں، لہٰذا خدا قیامت میں اس مغرور و خود پسند عورت کی تحقیر کے لیے لیف خرما کا ایک گردن بند اس کی گردن میں ڈال دے گا۔ یا یہ اصلاَ اس کی تحقیر سے کنایہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس تعبیر کے بیان کرنے کا سبب یہ ہے کہ "اُمِ جمیل" کے پاس جواہرات کا ایک بہت ہی قیمتی گردن بند تھا اور اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی دشمنی میں خرچ کرے گی، لہٰذا اس کے اس کام کے بدلے میں خدا نے بھی اس کے لیے ایسا عذاب مقرر کر دیا ہے۔
چند نکات ۱۔ قرآن کے اعجاز کی ایک اور نشانی
ہم جانتے ہیں کہ یہ آیات مکہّ میں نازل ہوئیں اور قرآن کریم نے دو ٹوک طریقہ سے یہ خبر دی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی جہنم کی آگ میں ہوں گے، یعنی وہ ہرگز بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انجام کار ایسا ہی ہوا، بہت سے مشرکین مکہّ تو واقعی طور پر ایمان لے آئے اور بعض ظاہری طور پر مسلمان ہو گئے، لیکن وہ افراد جو نہ تو واقع میں ایمان لائے اور نہ ہی ظاہر بظاہر، وہ یہ دونوں تھے۔ یہ قرآن مجید کے غیبی اخبار میں سے ایک ہے اور قرآن نے دوسری آیات میں بھی اس قسم کی خبر یںدی ہیں جن میں قرآن کی غیبی خبروں کے عنوان کے تحت اعجازِ قرآن کی ایک فصل کو مخصوص کیا گیا ہے اور ہم نے ان آیات میں سے ہر ایک کے ذیل میں مناسب بحث کی ہے۔
۲۔ ایک اور سوال کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی ان پیشین گوئیوں کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی ایمان لے آتے، ورنہ یہ خبر جھوٹی اور دردغ ہو جاتی۔ یہ سوال اسی معروف سوال کے مانند ہے جو "علمِ خدا" کے مسئلہ کے بارے میں جبر کی بحث میں پیش ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ خدا جو ازل سے ہر چیز کا عالم تھا، وہ گنہگاروں کے گناہ اور اطاعت گزاروں کی اطاعت کو جانتا تھا۔ اس بناء پر اگر گنہگار گناہ نہ کرتے تو خدا کا علم جہالت میں بدل جائے۔ علماء اور فلاسفئہ اسلام قدیم سے اس سوال کا جواب دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا جانتا ہے کہ ہر شخص اپنے اختیار و آزادی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کون کون سے کام انجام دے گا، مثلاَ زیرِ بحث آیات میں خدا ابتداء سے جانتا تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی اپنی خواہش و رغبت اور ارادہ و اختیار سے ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، جبری اور لازمی طور نہیں۔ دوسرے الفاظ میں ارادہ و اختیار کی آزادی کا عنصر بھی خدا کو معلوم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ بندے صفت اختیار کے ساتھ اور اپنے ارادہ سے کون سے عمل انجام دیں گے۔ مسلّمہ طور پر ایسا علم اور مستقبل کے بارے میں اس قسم کی خبر دینا، مسئلہ اختیار کی تاکید ہے، جبر اور مجبوری کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ (غور کیجئے)۔
۳۔ بےبصیرت رشتہ دار ہمیشہ دور ہوتے ہیں۔
یہ سُورہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تاکید کر رہا ہے کہ ایسی رشتہ داری جس میں ایمان اور عقیدہ کا رشتہ نہ ہو اس کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت نہیں ہوتی، اور مردانِ خدا منحرف، جبار اور سرکش لوگوں کے مقابلہ میں کسی قسم کا میلان نہیں رکھتے تھے چاہے وہ ان کے کتنے ہی قریبی رشتہ دار ہوں۔ باوجود اس کے کہ ابو لہب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا چچا تھا اور آپ کے قریب ترین رشتہ داروں میں شمار ہوتا ہے، جب اس نے اپنا اعتقادی اور عملی راستہ آپ سے جدا کر لیا تو اس کی بھی دوسرے منحرف اور گمراہ لوگوں کی طرح سخت ملامت اور سرزنش کی گئی۔ اس کے برعکس ایسے دور دراز کے لوگ بھی تھے جو نہ صرف پیغمبر کے رشتہ داروں میں شمار نہ ہوتے تھے، بلکہ آپ کے خاندان اور اہل زبان سے بھی نہیں تھے، لیکن وہ فکری، اعتقادی اور عملی رشتہ کی بناء پر اس قدر نزدیک ہو گئے، کہ مشہور حدیث میں سلمان منا اھل البیت (سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں) کے مطابق گویا خاندانِ رسالت کا جزء ہو گئے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے اس سلسلہ میں، جلد ص پر سُورہ ھود کی آیہ ۴۶ کے ذیل میں نوح کے بیٹے کے حال کی مناسبت سے، زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے)۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس سورہ کی آیات صرف ابو لہب اور اس کی بیوی کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ صرف ان کے صفات کی وجہ سے ان کی ایسی مذمت کی گئی ہے۔ اس بناء پر جو شخص یا جو گروہ اُنہیں اوصاف کا حامل ہو گا اس کی سرنوشت بھی انہیں جیسی ہو گی۔ خداوندا! ہمارے دل کو ہر قسم کی ہٹ دھرمی اور عناد سے پاک کر دے۔ پروردگار! ہم سب اپنے انجام اور عاقبت کار سے ڈرتے ہیں، ہمیں امن و سکون اور آرام بخش دے و اجعل عاقبة امرنا خیراَ، (ہماری عاقبت بخیر کر)۔ بارِالہا! ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم عدالت میں نہ تو مال و دولت کام آتے ہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ داری فائدہ دیتی ہے، صرف تیرا لطف و کرم ہی کام آتا ہے، لہٰذا ہم پر اپنا لطف و کرم کر۔ آمین یا ربّ العالمین