At-Takathur
سُورہٴ التکاثر
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اِس میں ۸ آیات ہیں۔
سُورہ "تکاثر" کے مطالب اور اس کی فضیلت
بہت سے مفسّرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا ہے۔ اس بناء پر اس میں تفاخر کے بارے میں جو گفتگو آئی ہے وہ اصولی طور پر قبائلِ قریش کے ساتھ مربوط ہے جو موہومِ امور کی بناء پر ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے۔ لیکن__ جیسا کہ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں لکھا ہے۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ مدینہ میں نازل ہوا ہے اور اس میں تفاخر کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یہودیوں یا انصار کے دو قبیلوں کے بارے میں ہے، لیکن اِس سُورہ کا مکی سورتو ں سے زیادہ مشابہت رکھنے کی وجہ سے مکی ہونا زیادہ صحیح نظر آتا ہے۔ اس سُورہ کے مطالب میں مجموعی طور سے پہلے تو ایسے لوگوں کی، جو موہوم مطالب کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرتے تھے، سرزنش اور ملامت ہے۔ اس کے بعد قیامت و معاد اور جہنم کی آگ کے مسئلہ پر تنبیہ ہے اور آخر میں نعمتوں کے بارے میں سوال اور باز پرس کے مسئلہ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ اس سُورہ کا نام اس کی پہلی آیت سے سے لیا گیا ہے۔ اس کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "و من قراٴھا لم یحاسبہ اللہ بالنعیم الذی انعم علیہ فی دار الدنیا و اعطی من الاجر کانما قرء الف اٰیة": "جو شخص اس کو پڑھے گا تو خدا اس سے ان نعمتوں کا حساب نہیں لے گا جو اُس نے اسے دار دُنیا میں دی ہیں، اور اسے اس قدر اجر و ثواب عطا کرے گا گویا کہ اس نے قرآن کی ہزار آیتوں کی تلاوت کی ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۳۲)۔ اور ایک حدیث سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ "اس سورہ کا واجب اور مستحب نماز میں پڑھنا شہداء کی شہادت کا ثواب رکھتا ہے۔ (بحوالہ: "وہی مدرک" (تلخیص کے ساتھ))۔ واضح ہو کہ یہ سب ثواب ان لوگوں کے لیے ہیں جو اسے پڑھیں اور اسے اپنی زندگی کا پروگرام بنائیں اور دل جان سے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 15جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سورہ ان قبائل کے بارے میں نازل ہوا ہے جو ایک دوسرے پر فخر مباہات کیا کرتے تھے اور اپنی جمیعت، افراد کی کثرت یا مال و دولت کی زیادتی کے باعث ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے، یہاں تک کہ اپنے قبیلہ کے افراد کی تعداد کو بڑھانے کے لیے قبرستان میں جاتے تھے اور ہر قبیلہ کی قبریں شمار کرتے تھے۔ البتہ بعض مفسرین تو اس کو مکہ میں قریش کے دو قبیلوں کے بارے میں سمجھتے ہیں، اور بعض مدینہ میں انصارِ پیغمبر کے بارے میں اور بعض یہودیوں کے دوسرے لوگوں پر فخر کرنے کے بارے میں۔ اگرچہ اس کا مکمل ہونا صحیح نظر آتا ہے۔ لیکن یہ امر یقینی ہے کہ شان نزول چاہے جو کچھ ہو آیت کے مفہوم کو ہرگز محدُود نہیں کرتی۔
تفسیر تکاثر و تفاخر کی مصیبت
ان آیات میں پہلے ملامت بھرے لہجہ میں فرماتا ہے: "تفاخر اور ایک دوسرے پر کثرت رکھنے کے خیال نے تمہیں خدا اور قیامت سے غافل کر کے اپنی طرف مشغول کر دیا ہے۔" (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ)۔ "یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت اور دیدار کے لیے بھی گئے اور تم نے اپنے مردوں کی قبروں کو شمار کیا" (حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ)۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ "تکاثر" اور "تفاخر" نے انہیں اس طرح سے اپنی طرف مشغول کر لیا ہے کہ وہ قبروں میں وارد ہونے کے لمحہ تک جاری و ساری ہے۔ لیکن پہلا معنی "زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ" کی تعبیر، اور اسی طرح شانِ نزول اور نہج البلاغہ کے خطبہ کے ساتھ، جس کی طرف انشاء اللہ بعد میں اشارہ ہو گا، زیادہ سازگار ہے۔ "الھاکم"، "لھو" کے مادّہ سے، چھوٹے چھوٹے کاموں میں مشغول ہو جانا، اور کاموں سے غافل رہنے کے معنی میں ہے۔ "راغب"، "مفردات" میں کہتا ہے "لھو" اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اپنی طرف مشغول رکھتے ہوئے اس کے اہداف و مقاصد سے باز رکھتی ہے۔ "تکاثر"، "کثرت" کے مادّہ سے، تفاخر اور مباہات اور ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتلانے کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: فارسی کے روز مرّہ کے استعمالات میں "تکاثر" دولت جمع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، حالانکہ یہ معنی لغت کی اصل کے اعتبار سے نہیں ہے۔ لیکن بعض روایات میں جن کی طرف اشارہ کریں گے، اس قسم کا استعمال ہوا ہے)۔ "زرتم"، "زیارة" اور "زور" (بروزن قول) کے مادّہ سے اصل میں سینہ کے اوپر والے حصہ کے معنی میں ہے اس کے بعد ملاقات کرنے اور روبرو ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اور "زور" (بروزن قمر) سینہ کے اُوپر والے حصہ کے ٹیڑھا ہو جانے کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ جھوٹ ایک قسم کا حق سے انحراف ہے، اس لیے اس پر "زور" (بروزن نور) کا اطلاق ہوتا ہے۔ "مقابر"، "مقبرة" کی جمع ہے جو میت کی قبر کی جگہ کے معنی میں ہے اور یہاں قبروں کی زیارت کرنا یا تو (بعض تفاسیر کے مطابق) موت سے کنایہ ہے یا شمار کرنے اور فخر و مباہات کرنے کے لیے قبروں کے پاس جانے کے معنی میں ہے (جو اس کی مشہور تفسیر کے مطابق ہے)۔ اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے دوسرا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے اور اس کے شواہد میں سے ایک امیر المومنین علی علیہ السلام کا وہ کلام ہے جو اس سلسلہ میں نہج البلاغہ میں آیا ہے، جو آپ نے "أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُO حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ" کے بعد فرمایا ہے: "یا لہ مراماً ما ابعدہ؟ و زوراً ما اغفلہ؟ و خطراً ما افظعہ؟ لقد استخلوا منھم ایّ مدّکر و تناو شوھم من مکان بعید افبمصارع اٰبائھم یفخرون؟ ام بعدید الھلکی یتکاثرون؟ یرتجعون منھم اجساداً خوت، و حرکات سکنت، ولان یکونو عبراً احقّ من ان یکونوا مفتخراً!": "تعجب ہے وُہ مقصد سے کتنے زیادہ دُور ہیں اور کیسے غافل زیارت کرنے والے ہیں؟ اور کیسا موہوم اور رُسوا کرنے والا افتخار ہے؟ ایسے افراد کی بوسیدہ ہڈیوں کی یاد میں بڑے ہوئے ہیں جو سالہا سال سے مٹی ہو چکے ہیں اور وہ یاد بھی کیسی؟ اتنے دُور دراز کے فاصلہ پر ایسے لوگوں کی یاد میں پڑے ہیں جو ان کی حالت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ کیا وہ اپنے آباؤ اجداد کی نابودی کی جگہ پر فخر کرتے ہیں یا اپنے مُردوں اور معدودمین کی تعداد کو شمار کر کے خُود کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں۔ وہ ایسے جسموں کی بازگشت کے خواہاں ہیں جن کا تارد پود بکھر چکا ہے اور جن کی حرکتیں ختم ہو چکی ہیں، یہ بوسیدہ جسم اگر عبرت کا باعث ہوں تو وہ اس سے زیادہ سزاوار ہیں کہ جب موجبِ افتخار ہوں۔" (بحوالہ: "نهج البلاغه"، خطبه ٢٢۱)۔ یہ خطبہ جس کے صرف ایک حصہ کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس قدر ہلا دینے والا گویا و صریح ہے کہ "ابن ابی الحدید معتزلی" کہتا ہے کہ: مَیں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی تمام اُمّتیں قسم کھاتی ہیں کہ مَیں نے پچھلے پچاس سال سے لے کر آج تک اس خطبہ کو ایک ہزار بار پڑھا ہے، اور ہر بار میرے دل میں ایک نیا لرزہ و خوف اور ایک نئی پند و نصیحت پیدا ہوئی ہے، اور اس نے میری رُوح کے اندر ایک شدید اثر چھوڑا ہے اور میرے اعضاء و جوارح لرزنے لگے اور کبھی ایسا نہیں ہوا، کہ میں اس میں غور و فکر کروں اور اس حال میں اپنے خاندان، عزیزوں اور دوستوں کی موت کو یاد نہ کروں، اور ٹھیک میرے سامنے یہ بات مجسم ہو جاتی تھی کہ مَیں وحی ہوں جس کی امام نے وضاحت کی ہے۔ اس سلسلے میں کتنے ہی واعظوں، خطباء، سخن وروں اور فصیح افراد نے گفتگو کی ہے، اور مَیں نے انہیں کان لگا کر سُنا ہے اور ان کی باتوں میں غور و فکر کیا ہے۔ کسیی ایک میں بھی میں نے کلامِ امامؑ والی تاثیر نہیں پائی۔ یہ تاثیر جو ان کا کلام میرے دل میں چھوڑتا ہے، یا تو اس کا سرچشمہ اس کا وہ ایمان ہے جو اس کا کہنے والا رکھتا ہے، یا اس کے یقین و اخلاص والی نیت اس بات کا سبب بن گئی ہے کہ وہ اس طرح ارواح میں نفوذ کرے اور دلوں میں جا گزیں ہو جائے۔ (بحوالہ: "شرح نہج البلاغہ"، "ابن ابی الحدید" جلد۱۱، ص ۱۵۳)۔ "ابن ابی الحدید" اپنی گفتگو کے ایک اور حصہ میں کہتا ہے: "ینبغی لو اجتمع فصحاء العرب قاطبة فی مجلس و تلی علیہم ان یسجدوا لہ!": "یہ خطبہ اس لائق ہے کہ، اگر فصحائے عرب سب کے سب کسی مجلس میں جمع ہوں اور یہ خطبہ ان کے سامنے پڑھا جائے، تو وہ اس کے سامنے سجدہ کریں۔" اور اسی مقام پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی فصاحت کے بارے میں معاویہ کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے: "و اللہ ما سنّ الفصاحة لقریش غیرہ": "خُدا کی قسم قریش کے لیے علیؑ کے سوا کسی نے فصاحت و بلاغت کی بنیاد نہیں رکھی۔ بعد والی آیت میں ان لوگوں کو اس بات کے ساتھ سختی سے تہدید کرتے ہوئے فرماتا ہے: "ایسا نہیں ہے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، اور تم اس کے ذریعے ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرتے ہو۔ تم عنقریب اس موہوم تفاخر کا نتیجہ دیکھ لو گے۔" (كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ)۔ پھر دوبارہ مزید تاکید کے لیے کہتا ہے: "پھر بھی اس طرح نہیں ہے جس طرح تم خیال کرتے ہو۔ عنقریب تم جان لو گے۔" (ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ)۔ مفسّرین کی ایک جماعت نے ان دونوں آیتوں کو ایک ہی مطلب کی تکرار اور تاکید سمجھا ہے اور یہ دونوں ہی سربستہ طور پر اُن عذابوں کی خبر دیتی ہیں، جو ان متفاخر مستکبرین کے انتظار میں ہے۔ جب کہ بعض دوسروں نے پہلی آیت کو عذابِ قبر اور عذابِ برزخ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جس سے انسان کی موت کے بعد رُوبرو ہو گا اور دوسری کو عذابِ قیامت کی طرف۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "ما زلنا نشکّ فی عذاب القبرحتیٰ نزلت الھاکم التکاثر، الیٰ قولہ کلّا سوف تعلمون، یرید فی القبر، ثم کلا سوف تعلمون بعد البعث۔" "ہم میں سے ایک گروہ ہمیشہ عذابِ قبر کے بارے میں شک کیا کرتا تھا یہاں تک کہ سورہ "الھاکم التکاثر" نازل ہوئی، یہاں تک کہ فرماتا ہے: "کلا سوف تعلمون" اس سے مراد عذابِ قبر ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "ثم کلا سوف تعلمون" اس سے مراد قیامت کا عذاب ہے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۳۴)۔ تفسیر کبیر فخر رازی میں یہ مطلب علی علیہ السلام کے ایک صحابی "زر بن جیشن" سے نقل ہوا ہے، جو کہتا ہے: "ہم عذابِ قبر کے بارے میں شک کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے علی علیہ السلام سے سُنا کہ آپؑ فرماتے ہیں:" "یہ آیت عذابِ قبر پر دلیل ہے۔" (بحوالہ: "تفسیر فخر رازی" جلد ۲۲، ص ۷۸)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "ایسا نہیں ہے جیسا کہ تم ایک دوسرے پر فخر کرنے والے خیال کرتے ہو۔ اگر تُمہارا آخرت پر ایمان ہوتا اور علم الیقین کے ساتھ اُسے جان لیتے، تو ہرگز ایسا کام نہ کرتے اور ان باطل مسائل پر فخر و مباھات کرنے سے باز آتے۔ (كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ)۔ (تشریحی نوٹ: بعض کا نظریہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر لفظ "کلا" تاکید کے لیے ہوتا ہے اور "حقاً" کے معنی میں ہوتا ہے، یہ بات طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "العرب توٴکد بکلّا و حقّاً" عرب لفظ کلا اور حقا سے تاکید کرتے ہیں)۔ پھر دوبارہ تاکید اور مزید ڈرانے کے لیے اضافہ کرتا ہے: تم یقینی طور پر جہنم کو دیکھو گے۔" (لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ)۔ "پھر اس میں داخل ہو کر عین الیقین کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرو گے۔" (ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ)۔ "پھر اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں، سوال کیا جائے گا۔" (ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ)۔ اس دن تمہیں اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ تم نے ان خداداد نعمتوں کو کس طریقہ سے صَرف کیا ہے؟ اور ان سے تم نے خدا کی اطاعت کے لیے مدد لی ہے یا اس کے معصیت کے لیے، یا ان نعمتوں کو ضائع کر کے ہرگز ان کا حق ادا نہیں کیا ہے؟
چند نکات ۱۔ تفاخر کا سرچشمہ
اُوپر والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تفاخر اور ایک دوسرے پر فخر و مباھات کرنے کے عوامل اصل میں ایک، وہی خدائی جزاء و سزا کے بارے میں جہالت و نادانی اور معاد کے بارے میں ایمان کا نہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کا اپنی پیدائش کے آغاز سے لے کر انجام تک ہی کمزوریوں اور مصیبتوں سے بےخبر رہنا بھی کبر و غرور اور تفاخر کے عوامل میں سے ایک عامل ہے۔ اسی بناء پر قرآن مجید اس تفاخر و تکاثر کو توڑنے کے لیے گزشتہ اقوال کی سرگزشت کو مختلف آیات میں بیان کرتا ہے کہ یہ قومیں اتنے امکانات اور فراواں قدرت رکھنے کے باوجود اتنے سادہ عام قسم کے وسائل کے ذیعے کس طرح سے نابود ہو گئیں۔ ہواوٴں کے چلنے سے آسمانی بجلی (صاعقہ) کے کوندنے سے، زمین کے ایک زلزلہ سے، حُد سے زیادہ بارش کے برسنے سے، خلاصہ یہ ہے کہ پانی، ہوا اور مٹی سے اور بعض اوقات "سجیل" (کنکریوں) اور چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے نابود ہو گئے۔ اِن حالات میں یہ سب تفاخر و غرور کس لیے ہے؟ اِس بات کے لیے دوسرا عامل وہی ضعف و حقارت کا احساس ہے جو ناکامیوں اور شکستوں سے پیدا ہوتا ہے کہ کچھ افراد اپنی شکستوں کی پردہ پوشی کے لیے تفاخر و مباھات کی پناہ لیتے ہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "ما من رجل تکبّر او تجبّر الا لذلۃ وجدھا فی نفسہ" "کوئی شخص تکبر اور فخر و مباھات نہیں کرتا مگر اس ذلّت کی وجہ سے جسے وہ اپنے نفس کے اندر پاتا ہے۔" (بحوالہ: ۔"اصول کافی" جلد ۲، ص ۲۳۶، باب الکبر، حدیث ۱۷)۔ لہٰذا جب وہ یہ احساس کرتا ہے کہ وہ حد کمال کو پہنچ گیا ہے، تو پھر وہ تفاخر کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "ثلاثة من عمل الجاھلیة، الفخر بالانساب، و الطعن فی الاحساب و الاستسقاءُ بالانواء" "تین چیزیں ایسی ہیں جو زمانہٴ جاہلیت کے عمل میں سے ہیں، نسب پر فخر کرنا، لوگوں کی شخصیت اور خاندانی شرافت میں طعن کرنا ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا۔ (بحوالہ: "بحار الانوار"جلد ۷۳، ص ۲۹۱)۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے آیا ہے: "اھلک النّاس اثنان: خوف الفقر، و طلب الفخر" "دو چیزوں نے لوگوں کو ہلاک کیا: فقر و فاقہ کا خوف (جو انسان کو ہر طریقہ اور ہر ذریعہ سے مال جمع کرنے پر اُبھارتا ہے ) اور ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۳، ص ۲۹۰، حدیث ۱۲)۔ اور حقیقتاً حرص، بُخل، دُنیا پرستی اور تباہ کرنے والی رقابتوں اور بہت سے اجتماعی مفاسد کے اہم ترین عوامل میں سے ایک یہی فقر و فاقہ کا بلاوجہ خوف اور افراد و قبائل اور اُمّتوں کے درمیان ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرنا اور برتری کا اظہار کرنا ہے۔ اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "ما اخشی علیکم الفقر، ولکن اخشی علیکم التکاثر" "مَیں تم پر فقر و فاقہ سے نہیں ڈرتا، لیکن میں تمہارے تکاثر و تفاخر سے ڈرتا ہوں" (بحوالہ: "الدر المنثور" جلد ۶، ص ۳۸۷)۔ "تکاثر" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی تذکرہ کیا ہے اصل میں تفاخر کے معنی میں ہے، لیکن بعض اوقات یہ زیادہ طلب اور مال جمع کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے چنانچہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "التکاثر، (فی) الاموال جمعھا من غیر حقھا، و منعھا من حقھا، و شدّھا فی الاوعیة" "تکاثر، غیر شرعی طریقہ سے مال جمع کرنا، اور اس کا حق ادا نہ کرنا اور اسے صندوقوں اور خزانوں میں جمع کرنا۔ (بحوالہ: "نور الثقلین" جلد ۵، ص۶۶۲، حدیث۸)۔ ہم اس وسیع بحث کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک پُر معنی حدیث پر ختم کرتے ہیں، جو آپ نے "الھاکم التکاثر" کی تفسیر میں بیان فرمائی ہے: "یقول ابن اٰدم مالی مالی، ومالک من مالک الاما اکلت فافنیت او لبست فابلیت او تصدقت فامضیت۔ "انسان کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال تو صرف وہ غذا ہے جو تو کھاتا ہے، وہ لباس جو تُو پہنتا ہے اور وہ صدقات ہیں جو تو راہ خدا میں دیتا ہے۔" (بحوالہ: "صحیح مسلم" (مطابق نقل مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۵۳۴)۔ اور یہ ایک بہت ہی عُمدہ نکتہ ہے کہ اس فراواں مال میں سے ہر شخص کا حصہ، جسے وہ جمع کرتا ہے، اور اس کے حلال و حرام ہونے کے بارے میں کبھی تھوڑی سی دیر کے لیے بھی غور و فکر نہیں کرتا، اس تھوڑے سے کھانے پینے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ وہ جو کچھ اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے وہ بہت ہی کم، حقیر اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور کیا ہی اچھا ہو کہ وہ راہِ خدا میں خرچ کرنے میں اپنا حصہ زیادہ کرے۔
۲۔ یقین اور اس کے مراحل
"یقین"، "شک" کا نقطہ ٴمقابل ہے، جیسا کہ علم، جہالت کا نقطہٴ مقابل ہے، اور کسی چیز کے واضح اور ثابت ہونے کے معنی میں آیا ہے، اور اختیار و روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے مطابق ایمان کے اعلیٰ مرحلہ کو یقین کہا جاتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "ایمان اسلام سے ایک درجہ بالاتر ہے، اور تقویٰ ایمان سے ایک درجہ بالاتر ہے، اور یقین تقویٰ سے ایک درجہ بالاتر ہے۔ اس کے بعد آپؑ نے فرمایا: "ولم یقسم بین الناس شیء اقل من الیقین" "لوگوں میں یقین سے کمتر کوئی چیز تقسیم نہیں ہوئی ہے۔" راوی نے سوال کیا: یقین کیا ہے؟ امام ؑ نے فرمایا: "التوکل علی اللہ، والتسلیم للہ، والرضا بقضاء اللہ، والتفویض الی اللہ" "یقین کی حقیقت اللہ پر توکل کرنا، اللہ کی پاک ذات کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، قضائے الٰہی پر راضی رہنا اور اپنے تمام کاموں کا خدا کے سپرد کر دینا ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد۷۰، ص ۱۳۸، حدیث ۴)۔ مقامِ تقویٰ و ایمان و اسلام سے مقامِ یقین کی برتری ایک ایسی چیز ہے جس پر دوسری روایات میں بھی تاکید ہوئی ہے۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد ۷۰، ص ۱۳۵۔ ۱۳۷)۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "من صحة یقین المراٴ المسلم ان لایرضی الناس بسخط اللہ، ولا یلومھم علی مالم یوٴتہ اللہ۔۔۔ ان اللہ بعدلہ و قسطہ جعل الروح والراحۃ فی الیقین و الرضا و جعل الھم و الحزن فی الشک و السخط: "مرد مسلمان کے یقین کے صحیح ہونے کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وُہ خدا کو ناراض کر کے لوگوں کو راضی نہ کرے اور جو کچھ خدا نے اُسے نہیں دیا اس پر لوگوں کو ملامت نہ کرے (انہیں اپنی محرومیوں کا ذمہ دار نہ ٹھہرائے) خدا نے اپنے عدل و انصاف کی بناء پر راحت و آرام، یقین و رضا میں رکھا ہے، اور غم و اندوہ کو شک اور ناراضی میں قرار دیا ہے۔"! اِن تعبیرات اور دوسری تعبیروں سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ جب انسان یقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے تو ایک خاص قسم کا سکون و آرام اس کے سارے دل و جان میں سرایت کر جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یقین کے لیے کئی مراتب ہیں جن میں سرایت کر جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یقین کے لیے کئی مراتب ہیں جن کی طرف اُوپر والی آیات اور سورہٴ واقعہ کی آیہ (انّ ھٰذا لھو حق الیقین) میں اشارہ ہوا ہے، اور وہ تین مرحلہ ہیں۔ (بحوالہ: "بحار الانوار" جلد۷۰، ص ۱۴۳)۔ ۱۔ علم الیقین: یہ ہے کہ انسان مختلف دلائل سے کسی چیز پر ایمان لائے، اس شخص کے مانند جو دھوئیں کو دیکھ کر آگ کے ہونے پر ایمان لے آتا ہے۔ ۲۔ عین الیقین: اس مقام پر حاصل ہوتا ہے جب انسان مشاہدہ کے مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے، اور اپنی آنکھ سے مثلا کسی آگ کو دیکھ لے۔ ۳۔ حق الیقین: اور وہ اس شخص کے مانند ہے جو آگ میں داخل ہو جائے، اور اس کے سوزش اور حرارت کو لمس کرے، اور یہ یقین کا بالاترین مرحلہ ہے۔ محقق طوسی اپنی ایک گفتگو میں کہتے ہیں: "یقین" وہی پختہ، اور ثابت اعتقاد ہے، جس کا زوال ممکن نہیں ہے اور حقیقت میں وہ دو علموں سے مرکب ہے۔ ایک معلوم کے متعلق علم، اور دوسرا یہ علم کہ اس علم کے خلاف محال ہے، اور اس کے کئی مراتب ہیں۔ "علم الیقین" و "عین الیقین" و "حق الیقین" (بحوالہ: "مطابق نقل بحار الانوار" جلد ۷۰، ص ۱۴۳)۔ حقیقت میں پہلا مرحلہ عمومی پہلو رکھتا ہے اور دوسرا مرحلہ پر ہیزگاروں کے لیے ہے اور تیسرا مرحلہ خواص اور مقربین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی سے ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں صحابہ نے عرض کیا: ہم نے سُنا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض اصحاب پانی پر چلتے تھے؟! آپؐ نے فرمایا: "لو کان یقینہ اشدّ من ذالک لمشی علی الھواء" "اگر اس کا یقین اس سے زیادہ پختہ اور محکم ہوتا تو وہ ہوا پر چلتا"! مرحوم "علامہ طباطبائی" اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد مزید کہتے ہیں: تمام چیزیں خداوند سُبحان پر یقین اور عالم تکوین کے اسباب کی تاثیرکے استقلال کو محو کرنے کے محور کے گرد گھومتی ہیں، اس بناء پر انسان کا قدرت مطلقہ الٰہیہ پر اعتقاد و ایمان جتنا زیادہ ہو گا، اشیاء عالم اسی نسبت سے اس کے سامنے مطیع و منقاد ہو جائیں گی۔ (بحوالہ: "المیزان" جلد ۶، ص ۲۰۰ (سُورہٴ مائدہ کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں)۔ اور عالمِ آفرینش میں یقین اور خارق العادت تصرف کے رابطہ کی یہی رمز ہے۔
۳۔ سب لوگ دوزخ کا مشاہدہ کریں گے
"لترون الجحیم" کے جملہ کی دو تفسیریں ہیں۔ پہلی یہ کہ اس سے مُراد آخرت میں دوزخ کا مشاہدہ کرنا ہے جو کفّارکے ساتھ مخصوص ہے۔ اور یا یہ تمام جنّ و انس کے لیے عام ہے، کیونکہ قرآن کی بعض آیات کے مطابق سب کو ہی جہنّم کے پاس سے گُزرنا پڑے گا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مُراد اسی عالم دنیا میں شہودِ قلبی ہے، اور اس صُورت میں یہ جملہ قضیہ شرطیہ کا جواب ہے، فرماتا ہے: "اگر تم "علم الیقین" رکھتے ہوتے تو "جہنم" کو اسی عالم میں دل کی آنکھ سے مشاہدہ کر لیتے" کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہشت و دوزخ اَب بھی خلق شدہ موجود ہیں، اور وجودِ خارجی رکھتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ پہلی تفسیر بعد والی آیات کے ساتھ، جو روزِ قیامت کی بات کر رہی ہیں، زیادہ زیاہ مناسب ہے۔ اس بناء پر یہ ایک قطعی اور غیر مشروط قضیہ ہے۔
۴۔ قیامت میں کونسی نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا؟
اس سورہ کی آخری آیت میں آیا ہے کہ یقینی طور پر تم سب سے قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں باز پُرس ہو گی۔ بعض نے تو یہ کہا ہے اس نعمت سے مراد "سلامتی" اور "فراغتِ خاطر" ہے، اور بعض اسے "تندرستی" اور "امن و امان" سمجھتے ہیں، اور بعض نے تمام ہی نعمتوں کو اس آیت کا مشمول سمجھا ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے: "النعیم الرطب، و الماء البارد" "نعیم سے مُراد تازہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔" جب کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ "ابو حنیفہ" نے "امام جعفر صادق علیہ السلام" سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے اس کے سوال کو اسی کی طرف پلٹا کر فرمایا: تیرے نظریہ کے مطابق نعیم سے مراد کیا ہے"؟ اس نے عرض کیا: غذا ہے اور کھانا اور ٹھنڈا پانی ہے"۔ آپؑ نے فرمایا: اگر خدا قیامت کے دن تجھے اپنی بارگاہ میں اس لیے کھڑا کرے کہ وہ ہر اس لقمہ کا جو تو نے کھایا ہے، اور ہر اُس گھونٹ کا جو تُو نے پیا ہے، تجھ سے سوال کرے، پھر تو تجھے وہاں بہت زیادہ دیر تک ٹھہرنا پڑے گا"! اس نے عرض کیا: پھر نعیم کیا ہے"؟ آپ نے فرمایا: "وہ ہم اہل بیت ہیں کہ خدا نے ہمارے ہی ذریعے اپنے بندوں کو نعمت عطا کی ہے اور ان کے درمیان اختلاف کے بعد الفت بخشی ہے، ان کے دلوں کو ہماری وجہ سے آپس میں جوڑ دیا ہے اور انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا جب کہ وہ ایک دوسرے کے دُشمن تھے۔ اور ہمارے ہی ذریعے انہیں اسلام کی طرف ہدایت کی ہے"۔۔۔۔۔ ہاں! نعیم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل بیت ہی ہیں۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۳۵)۔ ان روایات کی تفسیر، جو ظاہراً مختلف ہیں، جو تمام مواہب الٰہی کو، چاہے وہ معنوی ہوں جیسے دین، ایمان، اسلام و قرآن اور ولایت یا انواع و اقسام کی انفرادی و اجتماعی نعمتیں ہوں، ان سب کو شامل ہے۔ البتہ جو نعمتیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، مثلاً نعمتِ "ایمان و ولایت" تو ان کے بارے میں زیادہ سوال ہو گا کہ ان کا حق ادا ہوا ہے یا نہیں؟ اور ظاہراً وہ روایات جو اس آیت کے مادّی نعمتوں کے شمول کی نفی کرتی ہیں وہ اس معنی میں ہیں کہ تمہیں اہم تر مصادیق کو چھوڑ کر بہت چھوٹے مصادیق کی طرف نہیں جانا چاہیئے۔ اور حقیقت میں یہ لوگوں کو خدائی نعمتوں اور مواہب کے مراتب کے سلسلے میں ایک تنبیہ ہے کہ ان کے لیے ان سے بہت سخت قسم کی باز پُرس ہو گی۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ان نعمتوں کے بارے میں سوال نہ ہو حالانکہ یہ بہت ہی بڑے سرمائے ہیں جو نوع بشر کے اختیار میں دیے گئے ہیں۔ اور انہیں ان میں سے ہر ایک کی بڑی باریکی کے ساتھ قدر دانی کرنی چاہیئے اور ان کا شکر بجا لانا چاہئیے۔ اور انہیں ان کے صحیح موارد میں صرف کرنا چاہئیے۔ خداوندا! تو اپنی بےانتہا نعمتوں کو، خصوصاً ایمان و ولایت کی نعمت کو ہمیشہ ہمیشہ ہم پر جاری رکھ۔ پروردگارا! ہمیں ان نعمتوں کے حق کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرما۔ بارلٰہا! ہم پر ان عظیم نعمتوں میں اضافہ کرتا رہ، اور انہیں ہرگز ہم سے سلب نہ کرنا۔ آمین یا رب العالمین