Al-Kafirun
سُورہ کافرون
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۶ آیات ہیں۔
سورہ کافرون کے مطالب اور اس کی فضیلت
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس کا لب و لہجہ اور اس کے مطالب اس بات کے واضح گواہ ہیں۔ اسی طرح وُہ شانِ نزول جس کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا، اس مدعا پر دُوسری دلیل ہے۔ یہ جو بعض نے اس کے مدنی ہونے کا احتمال دیا ہے، بہت بعید نظر آتا ہے۔ سُورہ کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ یہ سُورہ ایسے زمانہ میں نازل ہوا جب مسلمان اقلیت میں تھے اور کفار اکثریت میں۔ پیغمبرؐ پر ان کی طرف سے سخت دباؤ تھا اور انہیں اصرار تھا کہ کسی طرح سازش کر کے آ پ کو شرک کی طرف کھینچ لیں۔ پیغمبرؐ نے ان کی اس پیش کش کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور انہیں کُلی طور پر مایوس کر دیا اور ان کے ساتھ اُلجھے بھی نہیں۔ یہ بات تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ ہے کہ وہ اسلام اور دین کی اساس کے بارے میں دشمن کے ساتھ کسی حالت میں بھی مصالحت نہ کریں اور جب بھی ان کی طرف سے اس قسم کی خواہش کی جائے تو انہیں کامل طور سے مایوس کر دیں۔ اس سُورہ میں اس معنی پر خصوصیت کے ساتھ دو مرتبہ تاکید ہوئی ہے کہ "میں تمہارے معبودوں کی پرستش نہیں کروں گا" اور یہ تاکید انہیں مایوس کرنے کے لئے ہے۔ اسی طرح اس بات کی بھی دو مرتبہ تاکید ہوئی ہے کہ "تم بھی ہرگز میرے معبود، خدائے یگانہ کی عبادت نہیں کرو گے۔" یہ ان کی ہٹ دھرمی کی ایک دلیل ہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ "میں ہوں اور میرا دین توحید، اور تم ہو اور تمہارا شرک آلود دین۔" اس سُورہ کی فضیلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، جو اس کے مطالب کی حد سے زیادہ اہمیت کی ترجمان ہیں۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "من قراٴ قل یا ایھا الکافرون فکاٴنّما قراٴ ربع القراٰن و تباعدت عنہ مردة الشیاطین، و براٴ من الشرک و یعافی من الفزع الاکبر: "جو شخص "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" کو پڑھے گا تو ایسا ہے جیسے اس نے چوتھائی قرآن پڑھا ہو، سرکش شیاطین اس سے دُور رہیں گے، وہ شرک سے پاک ہو جائے گا اور"روز قیامت" کی گھبراہٹ سے امان میں ہو گا۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۵۱)۔ "ربع القراٰن" (چوتھائی قرآن) کی تعبیر شاید اس بناء پر ہے کہ قرآن کا تقریباً چوتھا حصہ شرک و بت پرستی سے مبارزہ میں ہے اور اس کا نچوڑ اور خلاصہ اس سُورہ میں آیا ہے۔ اور سرکش شیاطین کا دور ہونا اس بناء پر ہے کہ اس سُورہ میں مشرکین کی پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ شرک شیطان کا اہم ترین آلہ ہے۔ قیامت میں نجات پہلے درجہ میں توحید اور نفیِ شرک کی مرہونِ منت ہے، وہی مطلب کے محور پر یہ سورہ گردش کرتا ہے۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے آیا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھا کروں، آپؐ نے فرمایا: "اذا اخذت مضجعک فاقراٴ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثم نم علی خاتمھا فانھا براءة من الشرک": "جب تو اپنے بستر پر جائے تو سورہ قل یا ایھا الکافرون کو پڑھ۔ اس کے بعد سو جا کیونکہ یہ شرک سے بیزاری ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۵۱)۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے "جبیر بن مطعم" سے فرمایا: "کیا تُو اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ جب تو سفر پر جائے تو زادِ راہ اور توشہ کے لحاظ سے اپنے ساتھیوں میں سب سے بہتر ہو"؟َ اس نے عرض کی: ہاں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "ان پانچ سورتوں کو پڑھا کرو: "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" و "إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ" و "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" و "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" و "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" اور اپنی قراٴت کی ابتداء "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے کیا کرو۔ اور ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "میرے والد کہا کرتے تھے کہ "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" رُبع قرآن ہے اور جب آپ اس کی قرأت سے فارغ ہوتے تھے تو فرماتے: "اعبد اللہ وحدہ، اعبد اللہ وحدہ"، "مَیں صرف خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں"، "مَیں صرف خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 16تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 16روایات میں آیا ہے کہ یہ سُورہ مشرکین کے سرغنوں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ مثلاً "ولید بن مغیرہ"، "عاص بن وائل"، "حارث بن قیس" اور "اُمیہ بن خلف" وغیرہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ اے محمّدؐ! آوٴ تم ہمارے دین کی پیروی کر لو، ہم بھی تمہارے دین کی پیروی کر لیتے ہیں اور ہم تمہیں اپنے تمام امتیازات میں شریک کر لیں گے۔ ایک سال تو تم ہمارے خداوٴں کی عبادت کیا کرو اور دوسرے سال ہم تمہارے خدا کی عبادت کیا کریں گے۔ اگر تمہارا دین بہتر ہے تو ہم اس میں شریک ہو گئے ہیں اور اپنا حصہ اس میں سے لے لیا۔ اور اگر ہمہارا دین ہو تو تم ہمارے دین میں شریک ہو گئے اور تم نے اس میں سے اپنا حصہ لے لیا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مَیں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی چیز کو اس کا شریک قرار دوں۔" اُنہوں نے کہا: کم از کم ہمارے خداوٴں کو چھو ہی لو اور ان سے تبرک حاصل کر لو تو ہم تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے خدا کی پرستش کرنے لگیں گے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "مَیں تو اپنے پروردگار کے حکم کا منتظر ہوں۔ تو اس موقع پر سُورہ "قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد الحرام میں آئے جب کہ قریش کے سرداروں کی ایک جماعت وہاں جمع تھی۔ تو آپؐ نے ان کے سروں کے اُوپر کھڑے یہ سورہ آخر تک ان کے سامنے پڑھا۔ جب اُنہوں نے اس سُورہ کے پیام کو سُنا تو مکمل طور پر مایوس ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ و سلم اور آپؐ کے صحابہ کو آزار پہنچانے لگے۔" (تشریحی نوٹ: اس شانِ نزول کو عبارتوں میں مختصر سے اختلاف کے ساتھ بہت سے مفسّرین نے نقل کیا ہے، منجملہ "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں، "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں، "ابو الفتوح رازی" نے اپنی تفسیر میں، اور "سیوطی" نے "در المنثور" میں)۔
تفسیر بت پرستوں کے ساتھ ہرگز مصالحت نہیں ہو سکتی
اس سورہ کی آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں: "کہہ دو اے کافرو! (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ)۔ "تم جن کی پرستش کرتے ہو میں ان کی پرستش نہیں کرتا۔" (لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ)۔ "اور نہ ہی تم اس کی پرستش کرو گے جس کی میں پرستش کرتا ہوں۔" (وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ)۔ اس طرح اپنی مکمل علیٰحدگی کو مشخص کرتا ہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے، "مَیں ہرگز کبھی بُت پرستی نہیں کروں گا" اور تم بھی اپنی اس ہٹ دھرمی اور اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کے باعث، جس پر تمھیں اصرار ہے، اور بُت پرستوں کی طرف سے جو بکثرت ناجائز منافع تمہیں حاصل ہوتے ہیں اس وجہ سے ہرگز شرک سے خالص خدا پرستی کی طرف نہیں آ سکتے۔ بُت پرستوں کو توحید و بُت پرستی میں کس قسم کی مصالحت سے مکمل طور پر مایوس کرنے کے لئے دوبارہ مزید فرماتا ہے: اور نہ ہی میں ہرگز ان کی پرستش کروں گا جن کی تم پرستش کرتے ہو" (وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ)۔ "نہ ہی تم اس کی پرستش کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں": (وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ)۔ اِس بناء ہر بُت پرستی کے مسئلہ پر بےجا مصالحت کے لئے اصرار نہ کرو، کیونکہ کہ یہ بات غیر ممکن ہے۔ "اَب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے" (لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ) "بہت سے مفسّرین نے یہ تصریح کی ہے کہ یہاں "کافرون" سے مُراد مکّہ کے بت پرستوں کے سرغنوں کا ایک خاص گروہ ہے، اس بناء پر "الکافرون" پر "الف و لام" اصطلاح کے مطابق "عہد کا ہے "جمع" کا نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ اس مطلب پر ان کی دلیل۔ اس چیز کے علاوہ جو شان نزول میں کی جا چکی ہے۔ یہ ہو کہ مکہ کے بت پرستوں میں سے بہت سے آخرکار ایمان لے آئے تھے۔ اس بناء پر اگر وہ یہ کہتا ہے کہ، "نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے نہ ہی میں تمہارے معبودوں کی، تو یقینی طور پر یہ شرک و کفر کے سرغنوں کے اس گروہ کے بارے میں ہے جو آخری عمر تک ہرگز ایمان نہیں لایا، ورنہ فتح مکہ کے موقع پر بہت سے مشرکین فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ یہاں چند سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔
۱۔ یہ سورہ "قل" (کہہ دے) کے ساتھ شروع کیوں ہوا؟
کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ "قل" اس کے آغاز میں لائے بغیر" يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" کہا جاتا؟ دوسرے لفظوں میں پیغمبرؐ کو خدا کے حکم کا اجراء کرنا چاہیے تھا اور انہیں "يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ" کہنا چاہیئے تھا، نہ کہ جملہ "قل" کا بھی تکرار کریں اس سوال کا جواب سُورہ کے مضمون کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کیونکہ مشرکین عرب نے پیغمبر کو بتوں کے سلسلے میں مصالحت کرنے کی دعوت دی تھی، لہٰذا آپ کے لئے اپنی طرف سے اس مطلب کی نفی کرنا ضروری تھا اور یہ کہنا چاہییے تھا کہ مَیں ہرگز تمھاری بات نہیں مانوں گا اور اپنی عبادت کو شرک سے آلودہ نہیں کروں گا۔ اگر اس سُورہ کے آغاز میں لفظ "قل" نہ ہوتا تو یہ بات خدا کی بات ہو جاتی اور اس صورت میں "لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ" (تم جن کی عبادت کرتے ہو مَیں ان کی عبادت نہیں کروں گا) کا جملہ اور اسی قسم کے دوسرے جملوں کا کوئی مفہوم نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ چونکہ جبرئیل کے پیام میں لفظ "قل" خدا کی طرف سے تھا، لہٰذا پیغمبرؐ کی ذمّہ داری یہ ہے کہ قرآن کی اصالت کی حفاظت کے لیے اسے بعینہ بیان کریں اور خود یہی چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ "جبرئیل" اور اس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے وحی الٰہی کے نقل کرنے میں معمولی سی بھی تبدیلی نہیں کی اور اُنہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایسے مامور ہیں جو فقط فرمان الٰہی پر ہی کان دھرتے ہیں جیسا کہ سُورہ یونس کی آیت ۱۵ میں آیا ہے: قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ: کہہ دیجئے مجھے اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ قرآن کو اپنی طرف سے بدل دوں، مَیں تُو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے۔
۲۔ کیا بت پرست خدا کے منکر تھے؟
ہم جانتے ہیں کہ بُت پرستوں کو ہرگز خدا کا انکار نہیں تھا۔ اور قرآن کی صریح آیات کے مطابق جب ان سے آسمان و زمین کے خالق کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ وہ خدا ہے: وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ۔ (لقمان۔۲۵)۔ تُو پھر وہ اس سُورہ میں یہ کیسے کہتا ہے: "نہ تو میں تیرے معبود کی پرستش کروں گا اور نہ ہی تم میرے معبود کی پرستش کرو گے"؟ اِس سوال کا جواب بھی اس چیز کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ بحث مسئلہ خلقت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ عبادت کے بارے میں ہے۔ بُت پرست، خالق جہاں خدا ہی کو سمجھتے تھے۔ لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عبادت بتوں ہی کی کرنی چاہئیے۔ تاکہ وہ بارگاہِ خدا میں واسطہ بنیں، یا یہ کہ ہم اصلاً اس لائق نہیں ہیں کہ خدا کی پرستش کریں، لہٰذا ہمیں جسمانی بتوں کی عبادت کرنی چاہئیے۔ اس موقع پر قرآن ان کے اوہام اور خیالات پر سُرخ لکیر کھینچتے ہوئے ردّ کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ عبادت تو صرف خدا ہی کی ہونا چاہئیے، نہ کہ بُتوں کی ہونا چاہئیے اور نہ ہی دونوں کی۔
۳۔ یہ تکرار کس لیے ہے؟
اِس بارے میں کہ پیغمبرؐ کی طرف سے بُتوں کی عبادت کی نفی کی تکرار اور مشرکین کی طرف سے خدا کی عبادت کی نفی کی تکرار کس بناء پر ہے، بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ تکرار تاکید اور مشرکین کو مکمل طور پر مایوس کرنے، ان کے راستے کو اسلام کے راستے سے جُدا کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے ہے کہ توحید و شرک کے درمیان مصالحت کا امکان نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو شِرک کی طرف دعوت دینے میں اصرار کے ساتھ تکرار کرتے تھے، لہٰذا قرآن بھی ان کے ردّ کرنے میں تکرار کرتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ (امام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانے کے ایک زندیق) "ابو شاکر دیصانی" نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی "ابو جعفر احول" (محمّد بن علی نعمانی کوفی معروف بہ مومن طاق) سے ان آیات کے تکرار کی دلیل کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہا کہ کیا کسی عقل مند آدمی سے یہ بات ممکن ہے کہ اس کے کلام میں اس قسم کی تکرار ہو؟ ابو جعفر احول کے پاس چونکہ اس کا کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ پہنچے اور اس سلسلہ میں سوال کیا، تو امامؑ نے فرمایا: "ان آیات کے نزول اور ان میں تکرار کا سبب یہ تھا کہ قریش نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایک سال آپ ہمارے خداؤں کی پرستش کریں اور دوسرے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، اوراسی طرح بعد والے سال میں آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کریں اور اس کے اگلے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، تو اُوپر والی آیات نازل ہوئیں اور تمام تجاویز کی نفی کی۔" جب ابو جعفر"احول" نے "ابو شاکر" کو یہ جواب دیا تو اس نے کہا: "ھٰذا ما حملہ الابل من الحجاز۔" "یہ وہ بار ہے جسے اُونٹ حجاز سے اٹھا کر لائے ہیں۔" (بحوالہ: "تفسیر علی بن ابراہیم" جلد ۲، ص ۴۴۵)۔ (یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تیرا جواب نہیں ہے بلکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا قو ل ہے): بعض دوسروں نے یہ کہا ہے کہ تکرار اس بناء پر ہے کہ ایک جملہ تو حال کے بیان کے لیے ہے اور دوسرا مستقبل کے بیان کے لیے، یعنی میں ہرگز بھی نہ تو حال میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ ہی کبھی آئندہ تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا۔ لیکن ظاہراَ اس تفسیر پر کوئی شاہد موجود نہیں ہے۔ ایک تیسری تفسیر بھی اس تکرار کے لیے بیان کی گئی ہے کہ پہلا جملہ تو معبودوں کے اختلاف کو اور دوسرا عبادت کے اختلاف کو بیان کرتا ہے۔ یعنی نہ تو میں ہرگز تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا اور نہ ہی میری عبادت تمہاری عبادت کی طرح ہے، کیونکہ میری عبادت مخلصانہ اور ہر قسم کے شرک سے خالی ہے۔ علاوہ ازیں تمہارا بتوں کی عبادت کرنا بڑوں کی اندھی تقلید کی بناء پر ہے۔ لیکن میرا اللہ کی عبادت کرنا تحقیق و شکرانے کے طور پر۔ (تشریحی نوٹ: اِس تفسیر کی بناء پر "ما" دوسری اور تیسری آیت میں "ماموصولہ" ہے، اور چوتھی اور پانچویں آیت میں "مصدریہ" اس وجہ کو ابو الفتوح رازی نے ایک تفسیر کے عنوان سے جلد ۱۲، ص ۱۹۲ پر نقل کیا ہے اور مرحوم طبرسی نے بھی زیرِ بحث آیات کے ذیل میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے)۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تکرار تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ ہم نے اُوپر وضاحت کی ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ یہاں ایک چوتھی تفسیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: "دُوسری آیت میں تو یہ فرماتا ہے کہ جن کی تم اَب عبادت کر رہے ہو میں ان کی عبادت نہیں کروں گا اور چوتھی آیت میں فرماتا ہے کہ "میں نے گزشتہ زمانہ میں بھی کبھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کی ہے چہ جائیکہ اَب کروں" یہ فرق اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ دوسری آیت میں "تعبدون" فعل مضارع کی صورت میں ہے، اور چوتھی آیت میں"عبد تم" فعل ماضی کی صورت میں ہے، بعید نظر نہیں آتا۔ (تشریحی نوٹ: اس بناء پر "عابد" کو بھی جو اسم فاعل ہے اس آیت میں ماضی کا معنی دینا چاہئے)۔ اگرچہ یہ تفسیر صرف دوسری اور چوتھی آیت کے تکرار کو تو حل کرتی ہیں، لیکن تیسری اور پانچویں آیت اسی طرح اپنی پوری قوّت کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: ضمنی طور پر اس بات پر بھی توجہ کرنا چاہئے کہ "ماموصولہ" اگرچہ عام طور پر غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے لیکن بہت سے مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ یہ ذوی العقول کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، قرآن کی آیات بھی اس مطلب کی شاہد ہیں)۔
۴۔ کیا "لکم دینکم۔۔۔" کی آیت کا مفہوم بت پرستی کا جواز ہے؟
کبھی یہ خیال کیا گیا ہے کہ اس سورہ کی آخری آیت جو یہ کہتی ہے کہ: "تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے" تو اس کا مفہوم وہی "صلح کل" ہی ہے اور یہ انہیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے دین پر برقرار رہیں کیونکہ یہ دینِ اسلام کو قبول کرنے پر اصرار نہیں کرتی۔ لیکن یہ خیال انتہائی کمزور اور بےبنیاد ہے کیونکہ آیات کا لب و لہجہ اچھی طرح سے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ تعبیر ایک قسم کی تحقیر و تہدید ہے، یعنی تمہارا دین خود تمہیں ہی مبارک ہو اور تم جلدی ہی اس کے بُرے انجام کو دیکھ لو گے، جیسا کہ سُورہ قصص کی آیہ ۵۵ میں آیا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ: "مومنین جب کوئی لغو اور بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے رُوگردانی کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال ہمہارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ تم پر سلام (وداع اور جدائی کا سلام) ہم جاہلوں کے طلب گار نہیں ہیں"! قرآن مجید کی سینکڑوں آیتیں اس مفہوم کی گواہ ہیں جو شرک کی ہر صورت میں سرکوبی کرتی ہیں، اسے ہر کام سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھتی ہیں اور اسے نہ بخشا جانے والا گناہ خیال کرتی ہیں۔ علماء نے اس سوال کے دوسرے جواب بھی دیے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آیت میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے: "لکم جزاء دینکم ولی جزاء دینی"، "یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لیے اور میرے دین کی جزا میرے لیے۔" دوسرے یہ کہ یہاں "دین" جزاء کے معنی میں ہے اور آیت میں کوئی بھی چیز محذوف نہیں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی جزا لو گے اور میں اپنی جزا لوں گا۔ (تشریحی نوٹ: ضمناً توجہ رکھنا چاہئے کہ ولی دین کے جملہ میں 'دین' مکسور ہے اور اس کا کسرہ یاء محذوف پر دلالت کرتا ہے، اور اصل میں یہ ولی دینی تھا)۔ لیکن پہلی تفسیر اور پہلا جواب زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔
۵۔ آپ نے ایک لمحہ کے لیے بھی شرک سے مصالحت نہیں کی۔
اس سُورہ میں جو کچھ آیا ہے وہ حقیقت میں اس واقعیت کو بیان کرتا ہے کہ توحید و شِرک دو متضاد پروگرام اور مکمل طور پر دو الگ الگ راستے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں ہے۔ توحید انسان کو خدا سے مربوط کرتی ہے۔ جب کہ شِرک اس کو خدا سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ توحید تمام مرحلوں اور میدانوں میں وحدت و یگانگی کی رمز ہے جب کہ شِرک زندگی کے تمام شئون میں تفرقہ اور پراگندگی کا سبب ہے۔ توحید انسان کو عالمِ مادّہ اور جہانِ طبعیت سے بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور ماوراء طبیعت میں خدا کے لامتناہی وجود کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑ دیتی ہے، جبکہ شِرک انسان کو طبیعت کے کنویں میں سرنگوں کر دیتا ہے اور اس کا رشتہ محدود ٓ، کمزور اور فانی موجودات کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ اسی بناء پر پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور تمام انبیاء عظّام نے نہ صرف شِرک کے ساتھ مصالحت نہیں کی، بلکہ ان کا پہلا اور اہم ترین پروگرام شِرک کے ساتھ مبارزہ کرنا تھا۔ اج بھی راہِ حق کے تمام چلنے والوں اور اس دین کے علماء و مبلغین کےو یہی راستہ اور طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور ہر جگہ اور ہر قسم پر ہر قسم کے شِرک اور مشرکین سے ساز باز اور مصالحت سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کرنا چاہئے۔ یہی اسلام کی اصل راہ ہے۔ خداوندا! ہمیں شِرک اور شرک آلودہ افکار و اعمال سے دُور رکھ۔ پروردگارا! ہمارے زمانہ کے مشرکین کے وسوسے بھی خطرناک ہے، ہمیں ان کے دامِ فریب میں گرفتار ہونے سے محفوظ رکھ۔ بارِالہٰا! ہمیں ایسی شجاعت اور صراحت و قاطعیت مرحمت فرما کر ہم بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرح ہر قسم کے کفر و شِرک کی مصالحت کی پیش کش کو ردّ کر دیں۔ آمین یا ربّ العالمین