At-Tariq
سورہ طارق
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اور اس میں ۱۷ آیتیں ہیں
سورہ طارق کے مضامین اور ان کی فضیلت
اس سورہ کے مطالب نہایت عمدہ طریقہ سے دو محوروں کے گرد گھومتے ہیں۔ ۱۔ معاد و قیامت کا محور۔ ۲۔ قرآن مجید اور اس کی قدر و قیمت کا محور۔ لیکن سورہ کے آغاز میں فکر آفرین قسموں کے بعد ان نگہبانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خدا کی طرف سے بندوں پر مقرر ہیں اور معاد و قیامت کے امکان کو ثابت کرنے کے بعد پہلی زندگی، یعنی انسان کے نطفہ کے پانی سے پیدا ہونے، کی طرف اشارہ کر کے نتیجہ اخذ کرتا ہے اور فرماتا ہے: "وہ خدا جو قدرت رکھتا ہے کہ اسے اس قسم کی بےقیمت اور ناچیز پانی سے پیدا کرے، وہ نئے سرے سے اس کی بازگشت کی توانائی اور طاقت بھی رکھتا ہے، بعد کے مرحلے میں روز قیامت کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس کے بعد متعدد پُر معنی قسموں کے حوالہ سے قرآن کی اہمیت کو گوش گزار کرتا ہے اور آخرکار سورہ کو خدائی عذاب کی اس تہدید پر ختم کرتا ہے جو کافروں کے لئے ہے۔ اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں ہمیں پیغمبر اسلامؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ (من قرأ ھا اعطاہ اللہ بعدد کل نجم فی السماء عشر حسنات) جو شخص اس کی تلاوت کرے خدا اسے ہر اس ستارے کی تعداد کے مقابلہ میں، جو آسمان میں ہے، دس نیکیاں عطا کرتا ہے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص۴۶۹)۔ اور ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے (من کان قرائتہ فی الفریضۃ والسماء و الطارق کان لہ عند اللہ یوم القیامۃ جاہ و منزلۃ و کان من رفقاء النبین واصحابھم فی الجنۃ) جو شخص نمازِ فریضہ و واجب میں سورہ والسماء والطارق کی تلاوت کرے وہ روزِ قیامت خدا کے ہاں عظیم مقام و منزلت کا حامل ہو گا اور جنت میں پیغمبروں کے رفقاء اور ان کے اصحاب میں سے ہو گا۔ (بحوالہ: ثواب الاعمال مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۴۹)۔ واضح رہے کہ سورہ کے مضامین پر عمل کرنا ہی ایسی چیز ہے جس کا یہ اجرِ عطیم ہے، نہ کہ وہ تلاوت جو عمل اور غور و فکر سے خالی ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے انسان دیکھ کہ تُو کس چیز سے پیدا ہوا ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 13یہ سورۃ بھی قرآن کے آخری پارے کی بہت سی دوسری سورتوں کی طرح خوبصورت اور فکر انگیز قسموں کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ ایسی قسمیں ایک عظیم حقیقت کے بیان کی تمہید ہیں۔ "قسم ہے آسمان کی اور رات کو کھٹکھٹانے والے کی" (وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ)۔ "اور تُو نہیں جانتا کہ رات کو کھٹکھٹانے والا کیا ہے" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ)۔ "بلند و درخشاں اور رات کی تاریکیوں کو چیرنے والا ستارہ ہے۔" (النَّجْمُ الثَّاقِبُ)۔ "طارق" طرق (بروزن برق) کے مادہ سے کوٹنے کے معنی میں ہے۔ راستے کو اسی لئے طریق کہتے ہیں کہ وہ چلنے والے لوگوں کے قدموں سے روندا جاتا ہے اور مطرقہ اس ہتھوڑے کے معنوں میں ہے جسے دھاتوں وغیرہ کو کوٹنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ رات کو گھروں کے دروازے بند کر دیتے ہیں اس لئے وہ شخص جو رات کو آتا ہے دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوتا ہے، لہٰذا رات کو آنے والے شخص کو طارق کہتے ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اشعث بن قیس منافق کے بارے میں، جو رات کے وقت آپ کے دروازہ پر آیا تھا اور حلوہ اپنے ساتھ لایا تھا کہ اپنے خیال ناقص میں حضرت علی علیہ السلام اپنی طرف متوجہ کرے اور کسی معاملے میں آپ سے اپنے موافق حکم حاصل کرے، فرماتے ہیں (و اعجب من ذالک طارق طرقنا بملفوفة وعائھا) اور اس سے زیادہ تعجب کی بات تو اس شخص کی ہے جس نے رات کے وقت دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور وہ لذیذ حلوہ سے پُر ڈھکا ہوا برتن اپنے ہمراہ لایا تھا۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۲۲۴)۔ لیکن قرآن یہاں طارق کی خود تفسیر کرتا ہے اور کہتا ہے یہ رات کا مسافر وہی درخشاں ستارہ ہے جو آسمان پر ظاہر ہوتا ہے اور اس قدر بلند ہے گویا چاہتا ہے کہ آسمان کی چھت میں سوراخ کر دے۔ اس کی روشنی آنکھوں کو اس قدر خیرہ کرنے والی ہے کہ تاریکیوں میں شگاف ڈال دیتی ہے اور انسان کی آنکھوں کے اندر نفوذ کرتی ہے۔ (توجہ فرمائیں کہ ثاقب ثقب کے مادہ سے سوراخ کرنے کے معنی میں ہے)۔ یہ بات کہ اس سے مراد کوئی معین ستارہ ہے، مثلاً ثریا نامی ستارہ (آسمان میں بلندی اور دوری کے لحاظ سے) یا زحل، پھر زہرہ یا شہب، (خیرہ کرنے والی روشنی کے لحاظ سے) یا آسمان کے تمام ستاروں کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں کئی تفسیریں کی گئی ہیں۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعد کی آیت میں اسے نجم ثاقب (نفوذ کرنے والے ستارے) کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر ستارہ نہیں بلکہ وہ درخشاں ستارے ہیں جن کو نور تاریکی کے پردوں میں شگاف ڈال دیتا ہے اور انسان کی آنکھوں میں نفوذ کرتا ہے۔ بعض روایات میں النجم الثاقب کی زحل ستارے سے تفسیر کی گئی ہے جو نظام شمسی کے سیاروں میں سے بہت ہی پُر فروغ اور منور ستارہ ہے، اور یہ معنی اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتے ہیں، جو امام صادق علیہ السلام نے النجم الثاقب کی تفسیر کے سلسلہ میں ایک منجم کو بتائے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: زحل ستارہ ہے جو ساتویں آسمان میں طلوع ہوتا ہے اور اس کی روشنی تمام آسمانوں کو چیرتی ہوئی نچلے آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی لئے خدا نے اسے نجم ثاقب کہا ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ۵، ص۵۵۰، حدیث۴)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ زحل آخری اور سب سے دور جو نظام شمسی ہے، اس کا ستارہ ہے، جو بغیر کسی آلے کی مدد کے خالی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور چونکہ نظام شمسی کے ستاروں کی ترتیب کے اعتبار سے سورج کی نسبت کے پیش نظر ساتویں مدار اور مقام گردش میں قرار پاتا ہے (چاند کے مدار کے حساب سے) تو امام اس حدیث میں اس کا مدار ساتواں آسمان بتاتے ہیں۔ اس ستارے کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسے قابل قسم بناتی ہیں۔ ایک تو یہ نظام شمسی کے سب سے دُور ستاروں میں سے ہے۔ اس وجہ سے ادب عربی میں ہر بلندی کی اس سے مثال دیتے ہیں اور کبھی اسے شیخ النجوم بھی کہتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: دائرة المعارف دھخدا مادہ زحل)۔ زحل ستارہ جس کا فارسی نام کیوان ہے، اس کے کئی نورانی حلقے ہیں جو اس کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے آٹھ چاند ہیں۔ زحل کے نورانی حلقے جو اس کا احاطہ کئے ہوئے عجیب ترین آسمانی مظاہر میں سے ہیں، جن کے بارے میں ماہرینِ فلکیات کے مختلف نظریات ہیں اور وہ حلقے اب بھی پر اسرار موجودات ہیں۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ زحل دس چاند ہیں جن میں سے آٹھ کا عام نجومی دور بینوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور دوسرے دو چاند صرف بہت بڑی دور بینوں سے نظر آ سکتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: دائرة المعارف دھخدا مادہ زحل)۔ مذکورہ اسرار میں اس وقت کسی پر قطعاً واجب نہیں تھے۔ جب قرآن نازل ہوا تھا۔ وہ اس کے صدیوں بعد آشکار ہوئے، بہرحال، نجم ثاقب کی زحل ستارے سے تفسیر خصوصیت کے ساتھ ممکن ہے، ایک واضح مصداق کے بیان کی قبیل سے ہوا ور وہ اس راہ میں حائل نہ ہو کہ آسمان کے دوسرے درخشاں ستاروں سے تفسیر کی جائے، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری روایات میں مصداقی تفسیر بہت زیادہ ہے۔ سورہ صافات کی آیت ۱۰ میں ہم پڑھتے ہیں (إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ) "مگر وہ جو مختصر سے لہجہ میں استراق سمع کے لئے (چوری چھپے کان لگا کر سننے کے لئے) آسمان کے نزدیک ہو تو شہاب ثاقب اس کا تعاقب کرتا ہے۔" تو اس آیت میں شہاب کی توصیف لفظِ ثاقب سے ہوئی ہے اور چونکہ یہ آسمان میں وجود میں آنے والی چیز عجائباتِ عالم میں سے ایک ہے، لہٰذا ممکن ہے کہ زیر بحث آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ہو۔ اس آیت کے لئے جو شانِ نزول بعض کتب تفسیر میں بیان ہوئی ہے وہ بھی ان معانی کی تائید کرتی ہے۔ (بحوالہ: روح المعانی، جلد ۱۰، ص۳۹۷)۔ اب ہم دیکھیں کہ یہ قسمیں کس لئے ہیں۔ بعد میں آنے والی آیت میں فرماتا ہے: "مسلم ہے کہ ہر ایک شخص کا ایک مراقب و محافظ ہے، (إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں ان نافیہ ہے اور لما الّا کے معنی میں ہے)۔ جو اس کے اعمال کو لکھتا ہے اور حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لئے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ سورہ انفطار کی آیت ۱۰۔ ۱۱۔ ۱۲۔ میں ہم پڑھتے ہیں (وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ'o كِرَامًا كَاتِبِينَo يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ) "اور تم پر کچھ محافظ مقرر کر دیئے گئے ہیں، لکھنے والے مکرم و محترم، جو ہمیشہ تمہارے اعمال لکھتے ہیں اور جو کچھ انجام دیتے ہو اس سے واقف ہیں۔" اس طرح تم اکیلے اور تنہا نہیں ہو، اور تم میں سے کوئی بھی ہو اور جہاں کہیں بھی ہو، وہ پروردگار کے مامورین کی زیر نگرانی ہو گا۔ یہ ایسا مفہوم ہے جس کی طرف توجہ انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے بےحد مؤثر ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ یہ حافظ کون ہے اور کن امور کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن قرآن کی دوسری آیتیں گواہی دیتی ہیں کہ حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں اور جن چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ انسان کے اعمال ہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ اطاعتیں ہوں یا معاصی و گناہ۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مُراد انسان کی حوادث و مہلکات سے حفاظت ہے۔ واقعی اگر خدا انسان کی حفاظت نہ کرے تو دنیا میں بہت کم افراد کو طبیعی موت نصیب ہو، اس لئے کہ حوادث کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی بھی ان سے نہیں بچ سکتا۔ خصوصاً وہ بچہ جن کی عمر ابھی چند سال ہی کی ہوتی ہے۔ ممکن ہے یہ بھی مراد ہو کہ شیطانی وسوسوں سے انسان کی حفاظت کی جاتی ہے، اس لیے کہ اگر خدا کی طرف سے فراہم کی ہوئی یہ حفاظت نہ ہو تو جن و انس پر مبنی شیاطین کے وسوسے اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی فرد بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعد والی آیت مسئلہ معاد و قیامت اور اعمال و کردار کے حساب و کتاب میں گفتگو کرتی ہے۔ لہٰذا پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اگرچہ اس آیت میں ان تینوں تفسیروں کو جمع کرنے سے بھی کوئی قباحت پیدا نہیں ہوتی۔ قابلِ توجہ یہ ہے کہ پہلے بیان شدہ قسموں کے اور اعمالِ انسان کی فرشتوں کے ذریعہ حفاظت کے مسئلہ کے درمیان ایک زندہ رابطہ ہے، اس لئے کہ بلند آسمان اور وہ ستارے، جو اپنے منظم راستوں میں مسلسل راہ پیمائی کر رہے ہیں، اس عالم عظیم میں نظم و ضبط اور حساب و کتاب کے موجود ہونے کی دلیل ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان کے اعمال حساب و کتاب کے بغیر ہوں اور مراقبین الہٰی اور محافظین خدائی ان کی نگرانی نہ کریں۔ اس کے بعد مسئلہ معاد کے ایک استدلال کے عنوان سے، ان لوگوں کے مقابلہ میں جو اسے غیر ممکن سمجھتے ہیں، فرماتا ہے: "انسان کو دیکھنا چاہئیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے" (فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ)۔ اس طرح قرآن تمام لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر پہلی خلقت کی طرف واپس لے جاتا ہے اور ایک جملہ استفہامیہ کے ذریعہ ان سے پوچھتا ہے "تمہاری خلقت کس چیز سے ہوئی ہے؟" اور بغیر اس کے کہ ان کے جواب کا انتظار کرے، اس سوال کا جواب جو بالکل واضح ہے، خود دیتا ہے اور مزید کہتا ہے: "وہ ایک ٹپکنے والے پانی سے خلق ہوا ہے" (خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ)۔ جو مرد کے نطفہ کی توصیف کرتے ہوئے کہتا ہے: "جو صلب اور ترائب کے درمیان سے نکلتا ہے" (يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ)۔ "صلب" کے معنی پشت کے ہیں اور ترائب تریبہ کی جمع ہے جو علماء لغت کے مطابق سینے کے اوپر کی ہڈیوں کے معنی میں ہے، جس کے اوپر گلو بند باندھا جاتا ہے، جیسا کہ ابن منظور لسان العرب میں کہتا ہے: (قال اھل اللغة اجمعون موضع القلادة من الصدر)۔ سب اہل لغت کہتے ہیں وہ سینے کے قلادة والی جگہ ہے۔ اس کے باوجود اس کے کئی اور معانی بھی بیان ہوئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ترائب کے معنی ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں ہیں، یہ کہ سینے کی ساری ہڈیاں ہیں۔ یا دائیں طرف کی چار پسلیاں، یا بائیں طرف کی چار پسلیاں، بہرحال، یہ کہ اس آیت شریفہ میں صلب و ترائب سے کیا مراد ہے، اس عنوان پر مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے بہت سی تفسیریں تحریر کی ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں: ۱۔ "صلب" مَردوں کی طرف اشارہ ہے اور "ترائب" عورتوں کی طرف، اس لئے کہ مرد مظہر صلابت اور عورتیں مظہر لطافت و زینت ہیں۔ اسی لئے یہ آیت نطفہٴ انسانی کی ترکیب کی طرف مرد و عورت کے نطفے کے حوالے سے اشارہ کرتی ہے جو موجودہ زمانے کی اصلاح میں "اسپرم" (SPERM) اور "اودل" کے نام سے موسوم ہے۔ ۲۔ "صلب" اشارہ ہے مرد کی پشت کی طرف اور ترائب اشارہ ہے اس کے سینے اور بدن کے اگلے حصہ کی طرف۔ اس بناء پر مراد صرف مرد کا نطفہ ہے، جو شکم کے اندرونی حصوں میں سے پشت اور اگلے حصے کے اندر سے خارج ہوتا ہے۔ ۳۔ مراد عورت کے رحم سے جنین کا خروج ہے جو اس کی پشت اور بدن کے اگلے حصہ میں قرار پاتا ہے۔ ۴۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ایک دقیق علمی نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جس سے اس آخری زمانے کے انکشافات نے پردہ اٹھایا ہے، جو نزولِ َقرآن زمانے میں یقیناً پنہاں تھا اور وہ یہ کہ نطفہ مرد کے بیضے اور عورت کے تخمدان سے لیا جاتا ہے اور ماہرین جنین شناسی کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ابتداء میں جب جنین میں ظاہر ہوتے ہیں تو گُردوں کے قریب میں ہوتے ہیں اور تقریباً پشت کے مہروں کے ستون کے وسط کے مقابلہ میں صلب اور ترائب (پشت اور انسان کی نچلی پسلیاں) کے درمیان قرار پاتے ہیں۔ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد اور ان دونوں اعضاء کے نشوونما سے اس جگہ سے نیچے آ جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی موجودہ جگہ پر آ جاتا ہے۔ چونکہ انسان کی پیدائش عورت و مرد کے نطفہ کی ترکیب سے ہوتی ہے اور دونوں ابتداء میں اصل محل صلب و ترائب کے درمیان قرار پاتا ہے، لہٰذا قرآن نے اس قسم کی تعبیر کو منتخب کیا ہے، وہ تعبیر جو اس زمانے میں کسی کو معلوم نہیں تھی اور جدید علم جنین شناسی نے اس پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر مراغی، جلد ۳۰، ص۱۱۳)۔ زیادہ واضح تعبیر میں مرد کا بیضہ اور عورت کا تخمدان ابتدائے خلقت میں، یعنی اس وقت جب عورت و مرد خود عالمِ جنین میں تھے، ان کی پشت میں قرار پایا تھا، جو تقریباً پشت کے مہروں کے ستون کے وسط کے مدِمقابل تھا۔ اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ مرد کا نطفہ ساز دستگاہ دونوں صلب و ترائب کے درمیان تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ جب مرد و عورت کی خلقت شکمِ مادر میں مکمل ہوتی ہے تو وہاں سے الگ ہو کر آہستہ آہستہ نیچے آتی ہے، اس طرح سے کہ مرد کے بیضے کے تولد کے وقت شکم سے باہر اور آلہ تناسل کے قریب قرار پاتی ہے اور عورت کا تخمدان رحم کے قرب میں قرار پاتا ہے۔ لیکن اس تفسیر پر اہم اعتراض یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ ٹپکنے والا پانی صلب اور ترائب کے درمیان سے خارج ہوتا ہے، یعنی پانی خروج کے وقت ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہے، جبکہ اس تفسیر کے مطابق نطفہ کے پانی کے خروج کے وقت ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ نطفہ ساز دستگاہ اس موقع پر کہ جب خود شکم مادر میں تھی تو اس وقت صلب و ترائب کے درمیان تھی۔ اس سے قطع نظر ترائب کی تعبیر اگر نچلی آخری پسلیوں سے کی جائے تب بھی بحث و تنقید سے خالی نہیں ہے۔ ۵۔ اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ مَنی حقیقت میں انسان کے تمام اجزائے بدن سے لی جاتی ہے۔ اسی لئے خروج کے وقت سارے بدن میں ہیجان ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام بدن میں سُستی آ جاتی ہے۔ اس لئے صلب و ترائب انسان کی عام پشت اور تمام اگلے حصہ کی طرف اشارہ ہے۔ ۶۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ عمدہ ترین مَنی کی پیدائش کا عامل "نخاع شوکی" حرام مغز ہے جو مرد کی پشت اور اس کے بعد دل و جگر ہیں، جن میں سے ایک سینے کی ہڈیوں کے نیچے اور دوسرا دونوں کے درمیان ہے، اور یہی چیز سبب بنی کہ صلب و ترائب کے مابین تعمیر کا اس کے لئے انتخاب ہوا، لیکن ہر چیز سے پہلے مشکل کے حل کرنے کے لئے اس اہم نکتہ کی طرف توجہ کی جائے کہ مندرجہ بالا آیات میں صرف مرد کے نطفہ کے بارے میں گفتگو ہے اس لئے کہ "ماء دافق" کی تعبیر (اچھل کر نکلنے والا پانی) مرد کے نطفہ پر صادق آتی ہے، نہ کہ عورت کے نطفہ پر۔ یہی وجہ ہے کہ بعد والی آیت پر "یخرج" کی ضمیر جس کی طرف لوٹتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ اچھل کر نکلنے والا پانی صلب و ترائب سے خارج ہوتا ہے، تو اس حساب سے اس بحثِ قرآنی میں عورت کو شریک کرنا مناسب نظر نہیں آتا، بلکہ زیاہ مناسب وہی تعبیر ہے کہ کہا جائے کہ قرآن نطفہ کے دو اصلی اجزاء میں سے ایک کی طرف، جو مرد کا نطفہ ہے اور سب کو معلوم ہے، اشارہ کرتا ہے اور صلب و ترائب سے مراد انسان کی پشت اور اگلا حصہ ہے، اس لئے کہ مرد کے نطفہ کا پانی ان ہی دونوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی جب نطفہ سے انسان کی خلقت کی گفتگو درمیان میں آتی ہے تو زیادہ تر مرد ہی کے نطفہ پر، جو ایک محسوس امر ہے، انحصار کیا جاتا ہے۔ سورہ نجم کی آیت ۴۶ اور سورہ قیامت کی آیت ۳۷ کی طرف رجوع فرمائیں)۔ یہ تعبیر واضح اور ہر قسم کی پیچیدگی سے خالی ہے اور لفظ کے معنی کے سلسلہ میں جو کچھ کتبِ لغت میں آیا ہے اس سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے باوجود ممکن ہے کہ اس آیت میں ایک سے زیادہ اہم حقیقت بھی چھپی ہوئی ہو جو ہمارے موجودہ علم کی حد تک ہمارے لئے منکشف نہیں ہوئی اور ماہرین کے آئندہ کے انکشافات اس پر سے پردہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے بعد اس بیان سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وہ جس نے انسان کو نطفہ کے پانی سے پیدا کیا ہے، قادر ہے کہ اسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹائے۔" (إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ)۔ ابتداء میں وہ مٹی تھا۔ پیچیدہ اور تعجب انگیز مراحل طے کرنے کے بعد کامل انسان میں تبدیل ہوا۔ اس لئے اس کی نئی زندگی کی طرف بازگشت کوئی مشکل پیدا نہیں کرتی۔ اس بیان کی نظیر قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی نظر آتی ہے۔ سورہ حج کی آیت ۵ میں فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ) "اے لوگو! اگر قرآن کے بارے میں شک میں مبتلا ہو تو ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے۔" نیز سورہ مریم کی آیت ۶۷ میں ہم پڑھتے ہیں (أَوَلاَ يَذْكُرُ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا) "کیا انسان اس بات کو یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اسے پہلے پیدا کیا، جبکہ وہ کوئی شے نہیں تھا۔" اس کے بعد اس عظیم دن کی تعریف و توصیف کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "یہ بازگشت اس دن تحقق پائے گی جس دن اسرار آشکار ہوں گے۔" (يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ)۔ (تشریحی نوٹ: یوم یہاں ظرف ہے اور رجع کا متعلق ہے۔ جو گذشتہ آیت میں آیا ہے اور اس قسم کے مواد میں مصدر اور اس کے معمول کے درمیان فاصلہ ضرر نہیں رکھتا، اس لئے کہ یہ کسی اجنبی سے فاصلہ نہیں ہے)۔ "تبلیٰ" ، "بلوی" کے مادہ سے آزمائش اور امتحان کے معنی میں ہے اور چونکہ آزمائش کے وقت اشیاء کی حقیقت آشکار و واضح ہو جاتی ہے، لہٰذا یہ مادہ یہاں ظہور و بروز کے معنی میں آیا ہے۔ "سرائر" سریرہ کی جعم ہے جو اندرونی پوشیدہ حالات، صفات اور نیتوں کے معنی میں ہے۔ جی ہاں! اس دن جو یوم الظہور و یوم البروز ہے، اسرار آشکار ہو جائیں گے، قطع نظر اس سے کہ ایمان و کفر نفاق ہوں، یا نیت خیر و شر، یاریا و اخلاص۔ روز بروز یہ ظہور مومنین کے لئے باعثِ افتخار و فراوانی نعمت ہو گا اور مجرموں کے لئے شرمساری اور سر کے جھلکے کا سبب اور ذلت و خواری کا باعث۔ اور کیا ہی درد ناک ہے کہ وہ انسان جس نے اپنی اندرونی خرابیوں اور برائیوں کو عمر بھر لوگوں سے چھپائے رکھا ہو اور ان کے درمیان عزت سے زندگی گزاری ہو ، لیکن اس دن، جس دن تمام اسرار آشکار ہوں گے، تو تمام مخلوق کے سامنے شرمسار اور ندامت سے سرنگوں ہو، اس لئے کہ بعض اوقات عذابِ ندامت دوزخ کی آگ سے بھی زیادہ دردناک ہوتا ہے۔ سورہ رحمن کی آیت ۴۱ میں بھی آیا ہے: (يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ) "قیامت میں گناہگار اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔" نیز دوسری آیات میں ہے کہ "قیامت میں ایک گروہ کے چہرے روشن اور تابناک ہوں گے اور دوسرے گروہ کے چہرے تاریک و غبار آلود ہوں گے۔" (عبس۔ ۳۸۔ ۴۱)۔ جی ہاں! جس طرح طارق اور ستارے رات کے وقت آسمان میں ظاہر ہوتے ہیں اور پردے سے باہر آ جاتے ہیں، وہ محافظ و مراقب جو انسان کے اعمال کے حفظ و ضبط پر مامور ہیں، وہ بھی وہاں سب کچھ ظاہر کر دیں گے۔ ایک روایت میں معاذ بن جبل سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خداؐ سے اس آیت میں جو لفظ سرائر ہے، اس کے معنی پوچھے کہ وہ کون سے اسرار ہیں جن کے ذریعہ خدا قیامت میں بندوں کو آزمائے گا؟ تو آپؐ نے فرمایا: (سرائرکم ھی اعمالکم من الصلٰوة و الصیام و الزکوٰة و الوضوء و الغسل من الجنابة و کل مفروض لان الاعمال کلھا سرائر خفیة فان شاء الرجل قال صلیت ولم یصل و ان شاء قال توضأت و لم یتوضأ فذالک قولہ یوم تبلی السرائر)۔ "تمہارے سرائر تمہارے اعمال ہی ہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰة، وضو، غسلِ جنابت اور ہر واجب عمل، اس لئے کہ تمام اعمال حقیقت میں پنہاں ہیں۔ اگر انسان چاہے تو کہہ دے کہ مَیں نے نماز پڑھی ہے جب کہ اس نے نہ پڑھی ہو اور کہہ سکتا ہے کہ مَیں نے وضو کیا ہے جبکہ وضو نہ کیا ہو۔ یہ ہے خدا کے اس کلام کی تفسیر(يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ)۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰۔ اس مفہوم سے مشابہ تفسیر در المنثور، جلد۶، ص ۳۳۶ میں بھی آئی ہے)۔ اس دن اہم مشکل یہ ہو گی کہ انسان کے لئے کوئی قوت و طاقت اندر سے اور کوئی یاور و ہمدرد باہر سے نہیں ہو گا (فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ)۔ کوئی طاقت جو اس کے بُرے اعمال اور بُری نیت پر پردہ ڈالے اور کوئی مددگار جو اسے عذابِ الہٰی سے رہائی بخشے۔ یہ مفہوم بہت سی قرآنی آیات میں آیا ہے کہ اس دن نہ کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی فدیہ اور فدا ہونے والا قبول ہو گا، نہ ہی کوئی فرار اور بازگشت کی راہ انسان کے سامنے ہو گی اور نہ کوئی راستہ عدالتِ پروردگار کے چنگل سے فرار کرنے کا راستہ ہو گا۔ نجات کا وسیلہ صرف اور صرف عمل صالح ہو گا۔ جی ہاں! نجات کا وسیلہ صرف یہی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 13تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر میں دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتا ہوں
Tafsīr Nemūna · Vol. 13گزشتہ آیات کے بعد، جن میں انسان کے نطفہ اور اس کی پہلی زندگی کی طرف توجہ کے حوالے سے استدلال تھا، ان آیات میں پھر امرِ معاد پر تاکید کرتے ہوئے اور دوسرے دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "قسم ہے بارش سے پُر آسمان کی۔" (وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ)۔ "اور قسم ہے زمین کی جو شگافتہ کی جاتی ہے اور اس میں سے سبزہ پھوٹتا ہے۔" (وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ)۔ "کہ یہ ایک حق بات ہے کہ تم زندہ ہو جاؤ گے۔" (إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ)۔ "یہ پکّی بات ہے اور اس میں کسی قسم کی شوخی اور مزاح نہیں ہے۔" (وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ)۔ "رجع" رجوع کے مادہ سے بازگشت کے معنی میں ہے اور عرب بارش کو رجع کہتے ہیں، اس وجہ سے کہ پانی زمین اور سمندروں سے اٹھتا ہے اور بارش کی صورت میں زمین کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یا یہ کہ مختلف فاصلوں پر بار بار بارش ہوتی ہے۔ وہ گڑھے جن میں بارش جمع ہو جاتی ہے انھیں بھی رجع کہتے ہیں، بارش کے پانی کے جمع ہو جانے کی بناء پر، یا ان لہروں اور موجوں کی بناء پر جو ان کی سطح پر ہوا کی جنبش سے پیدا ہوتی ہیں۔ (بحوالہ: مفردات راغب، مادہ رجع)۔ "صدع" سخت اجسام میں شگاف پڑ جانے کے معنی میں ہے، اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کچھ رجع کے معنی میں کہا گیا ہے اس کو خشک و سخت زمینوں کے بارش کے نزول کے بعد شگافتہ ہونے اور سبزہ کی نشوونما کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ حقیقت میں یہ دونوں قسمیں اشارہ ہیں مردہ زمینوں کی بارش کی وجہ سے زندہ ہونے کی طرف، جسے قرآن نے بار بار مسئلہ معاد کے سلسلہ میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ مثلاً سورہ ق کی آیت ۱۱ (وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ) "ہم نے بارش کے ذریعہ مُردہ زمینوں کو زندہ کیا اور قیامت میں تمہارا خروج بھی اسی طرح ہو گا۔" اسی طرح ان قسموں کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جن کے لئے قسم کھائی گئی ہے، واضح مناسبت ہے۔ یہ قرآن کے محاسن میں سے ایک ہے کہ قسموں کے درمیان اور ان کے درمیان جن کے لئے یہ قسمیں کھائی جا رہی ہیں، ایک عمدہ اور پُرکشش تناسب نظر آتا ہے، جس طرح سورہ حج کی آیت ۵ میں مسئلہ معاد پر نطفہ سے انسان کی خلقت اور جنین کے اسرار استدلال کرتا ہے اور بارش کے نزول کے زیرِ اثر مردہ زمینوں کے زندہ ہونے پر استدلال کرتا ہے، اسی طرح اس سورہ (سورہ طارق) میں بھی ان دونوں مسائل پر انحصار کیا ہے۔ بعض مفسرین نے "وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ" کے جملے کے لئے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ ہے آسمان کے ستاروں کی گردش کی تکرار اور ان کا پہلی حالت کی طرف پلٹنا، زمین کی مختلف ادوار میں اپنے گرد اور سورج کی گردش اور نظام شمسی کے سیاروں کی حرکت، چاند سورج اور ستاروں کی طلوع و غروب کی حرکت۔ یہ سب حرکات بازگشت کی حامل ہیں۔ ان بازگشتوں کا وجود انسان کی حیاتِ تازہ کی طرف بازگشت کی علامت ہے۔ البتہ پہلے معنی زمین کے شگافتہ ہونے اور مسئلہ معاد کے دلائل کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ قول فصل کے معنی ایسی بات کے ہیں جو حق و باطل کو الگ الگ کر دے۔ یہاں گزشتہ آیتوں کے قرینہ سے ایک گروہ نے اسے قیامت کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جبکہ مفسرین کی ایک دوسری جماعت اسے قرآن کی طرف اشارہ سمجھتی ہے۔ معصومین علیہم السلام کی بعض روایات میں بھی اس طرف اشارہ ہوا ہے۔ البتہ قیامت کو یوم الفصل سے تعبیر کرنا قرآن کی بہت سی آیتوں میں نظر آتا ہے، جو ضمنی طور پر معاد کی خبر دیتی ہیں۔ اس طرح دونوں تفسیروں کے درمیان جمع ممکن ہے۔ ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علیؑ کے واسطے سے پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: (انھا ستکون فتنة قلت فما المخرج منھا یا رسول اللہ قال کتاب اللہ فیہ نبأ من قبلکم و خبر مابعدکم و حکم ما بینکم ھو الفصل لیس بالھزل من ترکہ من جبار قصمہ اللہ و من ابتغی الھدی فی غیرہ اضلّہ اللہ)۔ "عنقریب تمہارے درمیان فتنہ ظاہر ہو گا۔ میں نے عرض کیا اے خدا کے رسولؐ اس سے نجات کی کیا صورت ہے؟ فرمایا: قرآن جس میں گزشتہ اور آئندہ لوگوں کی خبریں اور تمہارے درمیان کے فیصلے ہیں اور وہ ایسا کلام ہے جو حق کو باطل سے جدا کر دیتا ہے، محکم و پختہ ہے، اس میں شوخی و مزاح نہیں ہے، جو جبار اس کو چھوڑے گا خدا اس کی کمر توڑے گا اور جو شخص اس کے غیر سے ہدایت چاہے گا خدا اس کو گمراہ کر دے گا۔ (بحوالہ: صحیح ترمذی، سنن داؤد مطابق روح المعانی، جلد ۳، ص ۱۰۰، اور تفسیر مراغی، جلد۳۰، ص ۱۸)۔ اس کے بعد پیغمبرؐ و مومنین کو تسلی دینے کے لئے اور دشمنانِ اسلام کی تہدید کی غرض سے خداوندِ عالم مزید فرماتا ہے: "وہ ہمیشہ مکر و حیلہ کرتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں (إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا)۔ مَیں بھی ان کے مقابلہ میں ایک منصوبہ بناتا ہوں اور ان کی سازش کو خاک میں ملا دیتا ہوں۔ (وَأَكِيدُ كَيْدًا)۔ اب جبکہ معاملہ اس طرح ہے تو کافروں کو تھوڑی سے مہلت دے دے تاکہ وہ اپنے اعمال کا انجام دیکھ لیں۔(فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًاً)۔ ہاں! وہ ہمیشہ منحوس منصوبے تجھ سے لڑنے کے لئے بناتے رہتے ہیں۔ کبھی مذاق اڑاتے ہیں، کبھی دیوانہ کہتے ہیں، کبھی صبح کو ایمان لاتے ہیں اور عصر کے وقت کافر ہو جاتے ہیں تاکہ ایک گروہ کو اپنے ساتھ واپس کفر کی طرف لے جائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ جو لوگ تیرے گرد جمع ہو گئے ہیں وہ فقراء و بےنوا ہیں۔ انہیں دور کر تاکہ تیرا ساتھ دیں۔ کبھی کہتے ہیں کم از کم ہمارے بعض خداؤں کو قانونی طور پر قبول کر لے تو ہم تیرا ساتھ دیں گے۔ کبھی تجھے جلاوطن کرنے کا اور قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہر لمحے ایک نئے بھیس میں آتے ہیں تاکہ تیری جماعت کو متفرق و منتشر کر دیں اور تیرے اصحاب و انصار پر دباؤ ڈالیں یا تجھے ختم کر دیں اور خدا کے نور کو بجھا دیں۔ لیکن انہیں جانتا چاہئیے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ یہ نور عالمگیر ہو جائے۔ یہ خدا کا نور ہے۔ یہ کسی کے پھونک مارنے سے نہیں بجھ سکتا۔ یہ فروزاں آفتاب ہے جو چمگادڑوں کی چشم پوشی سے ختم نہیں ہو سکتا۔ وہ منصوبہ بناتے اور ہم بھی اپنی تدابیر کرتے ہیں۔ " کید" بقول مفرداتِ راغب، ایک قسم کی چارہ جوئی ہے اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مذموم دوسرا پسندیدہ، اگرچہ اس کا استعمال مذموم چارہ جوئی میں زیادہ ہوتا ہے لیکن ممدوح چارہ جوئی میں بھی ہوتا ہے، مثلاً (كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ) "ہم نے اس طرح یوسف کے لئے چارہ جوئی کی۔" (سورہ یوسف۔ ۷۶)۔ دشمنوں کے کیدو مکر کی مراد زیرِ بحث آیت میں واضح ہے۔ یہ وہی صورتِ حال ہے جس کے کچھ عنوانات کے متعلق ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اور قرآن کی ایذا رساں سازشوں اور شرارت پر مبنی واقعات سے پر ہے۔ باقی رہا خدائی کید، اس سے یہاں کیا مراد ہے؟ بعض نے یہاں کہا ہے کہ وہی مہلت دیتا ہے جو دردناک عذاب پر منتھی ہوتی ہے اور بعض نے خود عذاب کے معنی میں سمجھا ہے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہا جائے کہ مراد وہی الطاف الہٰی ہیں جو پیغمبرؐ اور مومنین کے شامل حال تھے اور دشمنانِ اسلام کو غافل کر دیتے اور ان کی کوشش کو ختم کر دیتے۔ ان کی سازشوں کو درہم برھم کر دیتے جس کے نمونے تاریخِ اسلام میں بہت زیادہ ہیں۔ ان آیات میں خصوصیت کے ساتھ پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے لطف و مدارت سے پیش آ، انہیں مہلت دے اور ان کے فنا ہو جانے کے بارے میں عجلت سے کام نہ لے۔ انہیں چھوڑ دے کہ کافی حد تک اتمام حجت ہو جائے اور انہیں رہنے دے تاکہ جو لوگ مختصر سی آمادگی بھی رکھتے ہوں وہ آخرکار مشرف بہ اسلام ہو جائیں۔ اصولی طور پر جلدباز وہ ہوتا ہے جو فرصتوں کے خود اور امکانات کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ رکھتا ہے اور یہ چیز خداوندِ قادر و قاہر کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتی۔ قابلِ توجہ یہ کہ فرماتا ہے: (فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ) "کافروں کو مہلت دے" اور دوبارہ تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے (أَمْهِلْهُمْ) "انہیں مہلت دے۔" ان میں سے ایک باب تفعیل سے ہے اور دوسرا افعال سے اور اس کی تکرار تاکید کے لئے ہے، بغیر اس کے کہ لفظ کی تکرار ہو اور اس کے کانوں کو بوجھ محسوس ہو۔ "رُوَيْدًا"، "رود" (بروزن عود) کے مادہ سے آمد و رفت رکھنے اور کسی کام کو نرمی سے انجام دینے کے معنی میں ہے۔ یہاں اس کے مصدری معنی مراد ہیں اور تصغیر کا پہلو لئے ہوئے ہیں، یعنی انہیں تھوڑی سی مہلت دے۔ (تشریحی نوٹ: اس بنا پر رویداً یہاں مفعول مطلق کا جانشین ہے اور حقیقت میں ایسا ہے کہ جیسا کہ کہا جائے امھلھم امھالا قلیل اور یہ جو بعض نے احتمال پیش کیا ہے کہ رویداً یہاں امر کے معنی رکھتا ہے، اس لئے تین امر پے درپے آئے ہیں، بعید نظر آتا ہے۔ البتہ روید امر کے معنی میں اور اسم مفعول کی شکل میں بھی آیا ہے لیکن زیر بحث آیت سے مناسب اور اس لفظ کے منصوب ہونے کے ساتھ موزوں یہی ہے کہ مفعول مطلق ہو)۔ اس طرح خدا اس مختصر سے جملے میں اپنے پیغمبر کو تین مرتبہ ان سے مدارات کرنے اور انہیں مہلت دینے کی ہدایت کرتا ہے۔ یہ تمام مسلمانوں کے لئے نمونہٴ عمل ہے کہ وہ اپنے کاموں میں، خصوصاً جبکہ ان کا دشمن سے مقابلہ ہو، اس وقت حوصلہ اور صبر و شکیبائی سے کام لیں اور ہر قسم کی جلد بازی سے پرہیز کریں۔ کوئی بےمحل اقدام نہ کریں اور ہر کام کا منصوبہ بنائیں۔ علاوہ ازیں دین حق کی تبلیغ کی راہ میں ہمیشہ جلد بازی سے پرہیز کریں تاکہ وہ تمام افراد، جن کی ہدایت کا احتمال موجود ہے ایمان لے آئیں اور باقی تمام افراد کے بارے میں اتمامِ حجت ہو جائے۔ یہ بات کہ یہ مہلت کم اور مختصر کیوں شمار کی گئی ہے، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اسلام مختصر سی مدت میں دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب ہو گیا تھا اور کافروں کے منصوبے خاک میں مل گئے تھے۔ انہوں نے پہلی ضرب کا مزہ جنگ بدر میں چکھا۔ اس کے بعد بہت جلد میدان احزاب و خیبر و حنین وغیرہ میں ان کے ارادے خاک میں ملے۔ پیغمبرؐ کی زندگی کے آخری دنوں میں نورِ اسلام سارے جزیرة العرب پر چھا گیا اور ایک صدی گذرنے سے پہلے دنیا کے اُس دَور کے عمدہ اور اہم حصّوں پر اس نے اپنا سایہ ڈال دیا۔ یا پھر اس وجہ سے ہے کہ قیامت کا عذاب بھی نزدیک ہے اور اصولی طور پر جو کچھ قطعی ہو وہ نزدیک شمار ہوتا ہے۔ بہرحال یہ سورہ آسمان اور ستاروں کی قسم سے شروع ہوتا ہے اور سازش کرنے والے حقیقت کے دشمن کفار کی تہدید پر ختم ہوتا ہے۔ درمیان میں معاد قیامت کے خوبصورت اور مؤثر دلائل اور انسانوں پر نگہبانوں کے تقرر کے بارے میں پُرلطف بیانات ہیں۔ نیز مومنین کی تشفی و دلداری ہے۔ یہ تمام عنوانات مختصر عبارتوں کے ساتھ، جو نہایت ہی لطیف ہے اور مخصوص قسم کی قاطعیت لئے ہوئے ہیں۔بیان ہوئے ہیں۔ خداوندا! دشمنوں کے کید و مکر کا رُخ، جو ہمارے زمانے میں بہت زیادہ ہو گیا ہے، خود انہی کی طرف کر دے اور ان کے منحوس منصوبے نقش بر آب کر دے۔ پروردگارا!جس روز اسرار کھل جائیں گے اس روز ہمیں شرمندہ نہ کیجؤ۔ بار الہٰا! ہم تیرے علاوہ کوئی قوت، ناصر اور مددگار نہیں رکھتے۔ ہمیں اپنے غیر کے سپرد نہ کیجؤ۔ آمین یا رب العالمین