Sūra 27 · 93v
Chapter 2793 verses

An-Naml

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
النمل
النمل

سورہ نمل

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں 93 آیات ہیں

سورہ نمل کے مضامین

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں مشہور قول کی بناء پر یہ سورہ مکہ میں سورہ شعراء کے بعد نازل ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر اس سورة کے مضامین بھی وہی ہیں جو دوسری مکی سورتوں کے ہوتے ہیں یعنی اعتقادی لحاظ سے زیادہ تر مبداء و معاد پر زور دیا گیا ہے اور قرآنِ مجید، وحی، عالمِ آفرینش میں خداوندِ عالم کی نشانیوں اور قیامت کی کیفیت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ عملی اور اخلاقی مسائل کی رو سے اللہ تعالی کے پانچ عظیم نبیوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ منحرف اور گمراہ اقوام کے ساتھ ان کے مقابلے کا ذکر ہے کہ اس طرح سے ایک تو ان مومنین کی تسلی کا سامان فراہم کیا جا سکے جو خاص طور پر ان دنوں مکہ میں نہایت اقلیت میں تھے اور دوسرے ہٹ دھرم اور ظالم مشرکین کے لیے تنبیہ ہوتا کہ وہ صفحہ تاریخ میں گزشتہ سرکشوں کا انجام دیکھ کر کچھ عبرت حاصل کریں بیدار ہوں اور ہوش میں آجائیں۔ اس سورہ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سباء کی داستان، ملکہ کے توحید پر ایمان لانے کی کیفیت، جنابِ سلیمانؑ کے ساتھ ہدہد جیسے پرندوں اور چیونٹی جیسے حشرات کی گفتگو پر مشتمل ہے۔ اسی وجہ سے اس سورت کا نام بھی "نمل" (چیونٹی) ہے۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ بعض روایات میں اسے "سورہ سلیمان" کے نام سے یاد کیا گیا ہے (کبھی سورة سلیمان اور کبھی سورہ نمل) اور جیسا کہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ اس کے یہ نام بہت ہی مناسب ہیں اور پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے لیے گئے ہیں۔ ان میں ایسے اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے کہ لوگ عام طور پر ان سے بے خبر تھے۔ ساتھ ہی اس سورت میں پروردگارِ عالم کے بے انتہا علم، کائنات میں اس کی ہر چیز پر نگرانی اور بندوں پر اس کی حاکمیت کہ جس کی طرف توجہ انسان کی تربیت کے لیے نہایت ہی موثر ہے کا ذکر بھی ہے۔ یہ سورت "بشارت" کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور "تنبیہ" پر ختم ہو جاتی ہے۔ بشارت وہ جو قرآنِ مجید مومنین کے لیے لایا ہے اور تنبیہ اس بات کی کہ خداوندِ عالم تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔

سورہ نمل کی فضیلت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے: من قرء طس سليمان كان له من الاجر عشر حسنات، بعد دمن صدق سليمان، و کذب به ، هود و شعيب و صالح و ابراهيم ويخرج من قبره و هو ينادي لا اله الا الله جو شخص سورہ طس سلیمان (سورہ نمل) کی تلاوت کرے گا خداوندِ عالم اسے ان لوگوں کی تعداد سے دس گنا اجر دے گا، جنہوں نے سلیمان کی تصدیق یا تکذیب کی۔ اسی طرح ان لوگوں کی تعداد سے بھی جنہوں نے جنابِ ھود، شعیب، صالح اور ابراھیم علیہم السلام کی تصدیق یا تکذیب کی اور بروزِ قیامت جب وہ اپنی قبر سے باہر نکلے گا تو اس کے منہ پر "لا الہ الا الله" كا ورد ہو گا۔ [مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں]۔ ہر چند کہ اس سورت میں جنابِ موسٰی، سلیمان، داؤد، صالح اور لوط علیہم السلام کا تذکرہ ہے اور جناب ھود، شعیب اور ابراھیم علیہم السلام کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن چونکہ دعوت کے لحاظ سے تمام انبیاء یکساں ہیں لہذا یہاں روایت میں ان کا ذکر باعث تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت امام جعفرِ صادق علیہ اسلام کی ایک حدیث میں ہے: جو شخص طواسین ثلات (سورہ شعراء، نمل اور قصص کہ جن کے آغاز طس ہے) کی ہر شب تلاوت کرے گا وہ اولیاء اللہ سے ہو گا۔ اسی کے جوار اور اس کے لطف و حمایت کے زیرِ سایہ رہے گا۔ [ثواب الاعمال (منقول از نور الثقلين جلد 4 ص 74]۔

1
27:1
طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ
طس۔ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
27:2
هُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
مومنین کیلئے ہدایات اور بشارت ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
27:3
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
وہی جو نماز قائم کرتے ہیں،زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
27:4
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُونَ
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم ان کے (برے) اعمال کو یوں خوشنما بنائیں گے کہ وہ بھٹکتے ہی پھریں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
27:5
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ وَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ
وہ ایسے لوگ ہیں جن کیلئے برا(اور درد ناک) عذاب ہے اور وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 6 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
27:6
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلۡقُرۡءَانَ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
اور یقیناً یہ قرآن خداوند حکیم و دانا کی طرف سے تجھ پر بھیجا جاتاہے۔

قرآن ایک حکیم دانا کی طرف سے ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس سورت کے آغاز میں ہم ایک بار پھر حروف مقطّعات کا سامنا کر رہے ہیں اور پھر یہ کہ ان حروف کے فوراً ہی بعد قرآنِ مجید کی عظمت کی بات ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کا ایک راز یہ ہو کہ یہ عظیم کتاب اور اس کی آیات مبین تو الف، با جیسے ساده و معمولی حروف سے بنی ہیں لیکن تعریف کے لائق تو وہ آفریدگار ہے جس نے ایسا محیّر العقول کارنامہ معمولی اور سادہ سے مواد کے ذریعے ظاہر کیا۔ اس سلسلے میں ہم سوره بقره، آلِ عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں کافی اور مفصّل گفتگو کر چکے ہیں (تفسیرِ نمونہ کی جلد اول، دوم اور ششم کا مطالعہ فرمائیے)۔ پھر فرمایا گیا ہے: یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں (تلک ايات القران و کتاب مبین)۔ لفظ "تلك" دور کے لیے اسمِ اشارہ ہے۔ یہاں یہ ان آسمانی آیات کی عظمت کے اظہار کے لیے ہے اور "مبین" کی تعبیر اس بات کی تاکید ہے کہ یہ قرآن خود بھی واضح اور آشکار ہے اور حقائق کو آشکار کرنے والا بھی ہے۔ ["مبين" "ابانہ" کے مادہ سے ہے اور جیسا کہ بعض مفسرين نے (جیسے آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں) کہا ہے کہ یہ مادہ کبھی فعلِ لازم کے معنی آتا ہے اور کبھی فعلِ متعدی کے معنی میں۔ پہلی صورت میں "مبین" کا معنی ہے واضح اور آشکار اور دوسری صورت میں آشکار کرنے والا]۔ اگرچہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "قرآن" اور "کتابِ مبین" کے دو الگ الگ معنی ہیں اور کتابِ مبین سے مراد "لوحِ محفوظ" ہے لیکن آیت کا ظاہر بتاتا ہے کہ دونوں ہی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ پہلا الفاظ اور تلاوت کے لباس میں اور دوسرا تحریر و کتابت کے لباس میں۔ اسی سلسلے کی دوسری آیت میں قرآنِ مجید کی ایک اور نعمت بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ "یہ ایسا قرآن ہے جو مومنین کے لیے ہدایت کا ذریعہ اور بشارت کا وسیلہ ہے" (هدًی و بشرٰى للمؤمنین)۔ "وہ وہی لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں" (الذین یقیمون الصلوة ويؤتون الزکوة وهم بالاخرة ھم يوقنون)۔ اس لحاظ سے ایک تو ان کا مبداء اور معاد پر پختہ عقیدہ ہے۔ دوسرے ان کا خدا اور خلق خدا کے ساتھ محکم تعلق ہے اسی لیے مندرجہ بالا اوصاف ان کے مکمل عقیدے اور طرزِ عمل کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مومنین اعتقادی اور عملی لحاظ سے صاف اور واضح راستہ اختیار کر چکے ہیں تو پھر کیا ضرورت ہے کہ قرآن ان کی ہدایت کے لیے آئے؟ اگر توجہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ ہدایت کے مختلف مراحل ہیں اور ہر مرحلہ اپنے سے بالا تر مرحلے کے لیے مقدمہ اور زمینہ ہوتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ اوپر کو چلا جاتا ہے اسی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت کا دائم اور برقرار رہنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی ہم اپنی شب و روز کی نمازوں میں ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگا کرتے ہیں "اهدنا الصراط المستقيم" کہ خداوندا! ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھ اور اس پر قائم و دائم رکھ کیونکہ تیری مہربانی کے بغیر ایسا قطعاً ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ قرآن اور کتابِ مبین کی آیات سے استفادہ کرنا صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے اندرحقیقت طلبی اور حق جوئی کی تڑپ پائی جاتی ہو ہر چند کہ وہ مکمل ہدایت تک نہ بھی پہنچے ہوں۔ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں پر قرآنِ مجید کو "پرہیز گاروں" کے لیے ہدایت کہا گیا ہے (بقرہ ـــــ 2) کہیں پر "مسلمانوں" کے لیے ہدایت کہا گیا ہے (نحل 103) اور یہاں پر "مومنین" کے لیے ہدایت کہا گیا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب تک کم از کم تقویٰ، تسلیم اور حقیقت پر ایمان انسان کے دل میں نہ تو اس وقت تک وہ حق کی تلاش میں نہیں نکل سکتا اور کتابِ مبین کے نور سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ظرف میں استعداد اور قابلیت کا ہونا بھی شرط ہے۔ اس سے قطع نظر "ہدایت" اور "بشارت" باہمی طور پر صرف مومنین کے لیے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لیے ایسی بشارت نہیں ہے۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اگر قرآن کی بعض آیات میں آیت کو عام لوگوں کے لیے شمار کیا گیا ہے۔ اور "هدًی للناس" (بقرہ 185) کہا گیا ہے تو اس سے مراد تمام وہ لوگ ہیں جن کے اندر حق کی قبولیت کے لیے قابلیت پائی جاتی ہے ورنہ متعصب قسم کے ہٹ دھرم لوگ تو دل کے ایسے اندھے ہوتے ہیں کہ اگر ایک کی بجائے ہزاروں سورج ان کے لیے چمکنے لگ جائیں تو بھی وہ ذرہ برابر بہرہ یاب نہیں ہو پائیں گے۔ پھر قرآن ان لوگوں کے حالات بیان فرماتا ہے جو مومنین کے برعکس ہیں اور ان کے نہایت الم ناک حالات کا ایک رخ یوں بیان فرماتا ہے: جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم ان کے برے اعمال کو بنا سنوار کر پیش کریں گے۔ وہ زندگی کی راہوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں (ان الذين لايؤمنون بالأخرة زينا لهم أعمالهم فهم يعمهون)۔ ان کی نگاہوں میں نجاست، طہارت ہوتی ہے۔ برائی، بھلائی ہوتی ہے۔ پستی بلندی ہوتی ہے اور بدبختی سعادت و کامیابی ہوتی ہے۔ جی ہاں! یہی انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو غلط راہ پر گامزن ہوتے ہیں اور اسی راہ پر ڈٹے رہتے ہیں۔ جب انسان غلط کام کرتا ہے تو آہستہ آہستہ برائی اس کی نظروں میں کم ہو جاتی ہے اور وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے جب ایک عرصے تک اس سے مانوس ہو جاتا ہے تو پھر اس کے لیے مختلف توجیہات گھڑنا شروع کر دیتا ہے اور پھر ایک مدت کے بعد وہ برائی اس کی نگاہوں میں خوبصورت چیز بلکہ ایک فریضہ بن جاتی ہے اور دنیا میں کتنے مجرم لوگ ہیں جو اپنے ان ناشائستہ اور غلط کاموں پر فخر و مباہات کرتے اور انھیں مثبت کام شمار کرتے ہیں۔ اقدار اور معیار جب یوں بدل جاتے ہیں تو انسانی زندگی بے راہ اور سرگرداں ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ انسانی زندگی کی بدترین کیفیت ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسی آیت میں اور سورہ انعام کی آیت 108 میں "زینت دینے" کی نسبت "خدا" کی طرف دی گئی ہے جبکہ آٹھ مقامات پر "شیطان" کی طرف اور دو جگہوں میں فعلِ مجہول "زین" آیا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو سب ہی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ یہ جو خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ "مسبب الاسباب" ہے یعنی اسباب کا پیدا کرنے والا وہی ہے اس لحاظ سے ہر کام کے نتیجے کا تعلق خدا سے بنتا ہے اور خداوندِ عالم نے یہ خاصیت تکرارِ عمل میں رکھ دی ہے کہ آہستہ آہستہ جب انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے تو پہچان کی حس تبدیل ہو جاتی ہے اور اس سے انسان بھی جواب دہ رہتا ہے اور خدا پر بھی کوئی اعترض وارد نہیں ہوتا (غور کیجیئے گا)۔ اور اگر شیطان یا خواہشاتِ نفسانی کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے تو اس لیے کہ اس کے نزدیکی اور بلا واسطہ عوامل یہی ہوتے ہیں۔ اور اگر کہیں پر فعلِ مجہول کی صورت میں آیا ہے تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمل کی فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بار بار کے ارتکاب سے انسان کے اندر یہ عمل "حالت"، "ملکہ" اور "عشق" کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر "اعمال کے مزّین کرنے" کا نتیجہ بیان فرماتے ہوئے ایسے لوگوں کا انجام اس طرح بیان کیا گیا ہے: یہی وہ لوگ میں جن کے لیے سخت اور درناک انجام ہے (اولئك الذين لهم سوء العذاب)۔ دنیا میں سرگرداں، مایوس، حیران و پریشان ہوں گے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ "اور وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے" (وهم في الاخرة هم الأخسرون)۔ ان کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے کی وجہ وہی ہے جو سورہ کہف کی آیه 103 ــــــــ 104 میں آئی ہے۔ قل هل ننبئکم بالاخسرين اعمالاً الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وھم یحسبون انهم يحسنون صنعًا کہہ دیجئے کہ آیا میں تمھیں اعمال کے لحاظ سے زیادہ نقصان اٹھانے والے لوگوں کا تعارف کراؤں؟ وہ وہی لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں بیکار ہو گئی ہیں جبکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ نیک اعمال انجام دے رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نقصان ہو گا کہ انسان اپنے برے اعمال کو نیک اعمال سمجھے اور اپنی تمام توانائیاں ان پر صرف کر دے اور مثبت کام سمجھ کر انھیں بجا لاتا رہے لیکن ان کا انجام بدبختی، سیاہ بختی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اسی سلسلے کی آخری آیت جو قرآنی مضامین کی عظمت کے سلسلے میں گزشتہ اشاروں کی تکمیل کے طور پر اور انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات زندگی کے لیے جو ابھی شروع ہونے والے ہیں کے مقدمے کی صورت میں ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے کہ یہ قرآن خداوندِ حکیم و دانا کی طرف سے تیری جانب بھیجا جاتا ہے (و انك لتلقى القران من لدن حکیم علیم)۔ اگرچہ "حکیم" اور "علیم" ہر دو خدا کی دانائی کی طرف اشارہ ہیں لیکن "حکمت" عام طور پر عملی پہلو کو بیان کرتی ہے اور "علم" نظری پہلو کو باالفاظ دیگر "علیم" خداوندِ عالم کے بے انتہا علم کی خبر دیتا ہے اور "حکیم" کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس عالم کے معرض وجود میں لانے اور قرآن کے نازل کرنے میں حساب و کتاب اور ہدف و مقصد کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اور اس طرح کا قرآن جب ان صفات کے مالک پروردگار کی طرف سے نازل ہو تو اسے مبین اور آشکار کرنے والی کتاب ہی ہونا چاہیئے جو مومنین کے لیے ہدایت اور بشارت کا سبب ہو اور اس کی داستانیں ہر طرح کی خرافات اور تحریف سے پاک ہوں۔ ["تلقی" باب تفعيل کا فعل مضارع ہے اور مجہول کا صیغہ ہے جس کا ثلاثی مجرد کا صغیہ ایک معفول کی طرف متعدی ہوتا ہے (لقی) اور ثلاثی مزید فیہ کا صیغہ دو مفعلوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اس امت میں خداوندِ عالم فاعل اور قرآن کا نازل کرنے والا ہے۔ پیغمبرِ اکرمؐ مفعول اول ہیں اور قران مفعول دوم ہے یہاں پر چونکہ فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے لہذا پہلا مفعول نائب فاعل ہے اور دوسرا مفعول ظاہری طور پر ذکر ہوا ہے]۔

حق بینی اور ایمان

انسانی زندگی کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق کو اسی طرح سمجھے جیسا کہ وہ ہیں اور ان کے بارے میں میں صحیح موقف رکھتا ہو۔ نظریات، خواہشات، انحرافی میلان اور حب و بغض حقائق کو صحیح طور پر دیکھنے اور سمجھنے میں مانع نہ ہوں اور فلسفہ کی جو سب سے اہم تعریف کی گئی ہے وہ بھی یہی ہے یعنی "حقائق کا ادراک جیسا کہ وہ ہیں"۔ یہی وجہ ہے معصومین نے خداوندِ عالم سے جو اہم ترین تقاضا کیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ: اللهم ارني الاشياء كما هي خداوندا! حقائق اور موجودات کو ہمیں ویسے ہی دکھا جیسے وہ ہیں (تاکہ ہم اقدار کو صحیح معنوں میں سمجھ کر ان کا حق ادا کریں)۔ اور یہ حالت ایمان کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ سرکش خواہشاتِ نفسانی اس راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ رکاوٹیں تقوٰی کے بغیر اور خواہشات نفسانی پر کنٹرول کیے بغیر دور نہیں ہو سکتیں۔ اسی لیے ہم نے مندرجہ بالا آیات میں پڑھا ہے: جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم ان کے برے اعمال کو زنیت دیتے ہیں اور وہ سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ اس کا ظاہری نمونہ ہم اپنی آنکھوں کے ساتھ اپنے دور کے دنیا پرست افراد کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایسی چیزوں پر فخر کرتے ہیں اور ایسے امور کو اپنے تمدن کا حصہ شمار کرتے ہیں جو درحقیقت ننگ و عار، گناہ اور رسوائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ وہ بے لگامی اور بے مہاری کو "آزادی" کی علامت، عورتوں کی عریانی اور فحاشی کو "تہذیب" کا نشان، مقابلہ حسن کو "شخصیت" کی علامت، مختلف گناہوں میں آلودگی کو "حریت" کی نشانی، آدم کشی، جرائم کے ارتکاب اور تباہ کاری کو "طاقت" کی دلیل، تخریب کاری اور دوسروں کے سرمایے کی لوٹ مار کو "نو آبادیات"، ذرائع ابلاغ کو فحاشی اور اخلاق باختگی میں استعمال کرنے کو "احترامِ آدمیت"، مظلوموں کے حقوق کی پامالی کو "انسانی حقوق کا احترام"، نشے کی عادت ڈالنے، ہوا و ہوس اور ننگ و رسوائی میں مبتلا کرنے کو "آزادی کی ایک صورت"، دروغ، ٹھگ بازی اور لوٹ کھسوٹ اور ہر جائز و ناجائز ذریعے سے دوسروں کے مال و ثروت کے اصول کو "استعداد اور صلاحیت کی علامت"، عدل و انصاف کے اصولوں کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کو "نااہلی اور نالائقی کی علامت"، جھوٹ، وعدہ خلافی، دو رنگی اور فریب کاری کو "سیاست" قرار دیتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ برے اور باعث ننگ و عار کاموں کو ان کی نظروں میں اس حد تک بنا سجا کر پیش کیا گیا ہے کہ یہی نہیں کہ وہ اس سے شرم محسوس نہیں کرتے بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔ جب صورتِ حال ایسی ہو تو واضح ہے کہ ایسی دنیا کا چہرہ مہرہ کیسا ہونا چاہیئے اور یہ بھی معلوم ہے کہ جو راستہ وہ اختیار کیے ہوئے ہیں کہاں کو جا رہا ہے؟

7
27:7
إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ
(اس وقت کو یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا:مجھے دور سے آگ دکھائی دے رہی ہے (تم یہیں ٹھہرو) میں تمہارے لئے کوئی اچھی خبر لاتا ہوں یا آگ کا شعلہ تاکہ تم اسے تاپ سکو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
27:8
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جب وہ آگ کے نزدیک پہنچے تو ایک آواز سنائی دی کہ بابرکت ہے وہ ذات جو آگ میں ہے اور وہ جو اس کے اطراف میں ہے اور پاک و منزہ ہے وہ اللہ جو عالمین کا پروردگار ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
27:9
يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
اے موسیٰ! میں عزیز و حکیم اللہ ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
27:10
وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
تم اپنا عصا پھینک دو۔جب اسے دیکھا تو وہ(جلدی کے ساتھ) چھوٹے چھوٹے سانپوں کی مانند ادھر ادھر دوڑ رہا ہے۔(تو وہ گھبرا گئے اور) واپس مڑے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔اے موسیٰ! ڈرو نہیں کہ رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
27:11
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
مگر یہ کہ کسی نے ظلم کیا ہو اور پھر وہ برائی کو نیکی میں تبدیل کرے تو(میں اس کی توبہ کو قبول کرتا ہوں اور) میں غفور و رحیم ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
27:12
وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
اور اپنا ہاتھ ذرا اپنے گریبان میں ڈال دو۔ جب باہر نکلے گا تو چمکدار اور روشن ہو گا اور اس میں کوئی عیب نہیں ہو گا اور یہ ان نو معجزوں میں سے ہے جن کے ساتھ تم فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجے جاؤ گے۔وہ فاسق اور سرکش لوگ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
27:13
فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَٰتُنَا مُبۡصِرَةٗ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور جب ہماری روشنی عطا کرنے والی آیات ان کے پاس آئیں تو انہوں نے کہا:کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
27:14
وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
اور انہوں نے ان معجزات کا انکار ظلم و تکبر کی بنا پر کیا جبکہ ان کے دل میں مکمل یقین اوراطمینان تھا۔ دیکھئے مفسد لوگوں کا کیا انجام ہوا!

موسٰیؑ آگ کے شعلے کی امید لے کر آئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ اس سورت میں قرآنِ مجید کی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد، خدا کے پانچ عظیم انبیاء اور ان کی ا قوام کے حالات کا تذکرہ ہے جن میں مومنین کی کامیابی اور کافروں کی سزا کا واضح طور پر وعدہ موجود ہے۔ سب سے پہلے خدا کے ایک اولوالعزم نبی جناب موسٰی علیہ اسلام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں اور براہِ راست ان کی زندگی کے نہایت حساس لمحات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بات اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وحی کی پہلی کرن ان کے دل پر پڑی اور وہ خداوندِ عالم کے پیغام اور کلام سے آشنا ہوئے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کو یاد کیجیئے جب موسٰیؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا: مجھے دور سے آگ دکھائی دی ہے (اذ قال موسٰی لاهله انى انست نارًا)۔ ["انست"، "ایناس" کے مادہ سے ہے جس کا معنی کسی چیز کو آرام و اطمینان سے دیکھنا اور انسان کو انسان بھی اسی معنی کہا جاتا ہے]۔ "تم یہیں ٹھہر جاؤ" میں ابھی تمھارے لیے کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا شعلہ تاکہ تم اسے تاپ سکو (ساتیکم منها بخبر او اتیکم بشهاب قبس لعلکم تصطلون)۔ [تشریحی نوٹ: "شہاب" اس روشنی کے معنی میں ہے جو آگ کے ستون کی مانند چمکتی ہے اور جس روشنی میں بھی ستون کی ماننده چمک ہو اسے "شہاب" کہا جاتا ہے اور در اصل شہاب ان سرگرداں آسمانی پتھروں کو کہا جاتا ہے جو اطراف زمین میں پائی جانے والی ہواؤں سے نہایت تیزی کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو ان سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں اور فضا میں آگ کا ستون بنا دیتے ہیں۔ "قبس" (قفس کے وزن پر) آگ کے اس شعلے کو کہتے ہیں جو آگ سے الگ کیا جاتا ہے۔ "تصطلون" "اسطلاء" کے مادہ سے ہے جس کا معنی آگ تاپنا ہے]۔ اور یہ اس رات کا واقعہ ہے جب جنابِ موسٰی علیہ اسلام اپنی زوجہ دختر شعیب کے ہمراہ مصر جا رہے تھے تو راستے میں ایک بیانان تاریک میں پھنس گئے اور انہیں رات پڑ گئی، راستہ کھو بیٹھے اور طوفانی ہوائیں چلنے لگیں پھر یہ کہ اسی وقت ان کی بیوی کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہو گئی۔ جناب موسٰیؑ نے سردی دور کرنے کے لیے آگ کی بہت ضرورت محسوس کی لیکن اس بیابان میں کچھ بھی نہیں تھا اچانک انھیں دور سے آگ کا شعلہ نظر آیا تو بہت خوش ہوئے اور اسے انسانوں کی موجودگی کی دلیل سمجھا انھوں نے کہا میں جاتا ہوں یا تو تمھارے لیے کوئی خبر لاؤں گا یا پھرآگ کا شعلہ جسے تم تاپ سکو۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ موسٰیؑ فرماتے ہیں میں "تمھارے لیے کوئی خبر لاؤں گا یا آگ کا شعلہ" (" تمھارے لیے" جمع کی ضمیر ہے) ہو سکتا ہے یہ اس لیے ہو کہ آپ کی بیوی کے علاوہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی بچہ یا بچے ہوں کیونکہ مدین میں آپ کی شادی کو دس سال گزر چکے تھے یا پھر اس لیے کہ بیابان میں اس قسم کی گفتگو مخاطب کے بیشتر اطمینان اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے اہل خاندان کو وہیں چھوڑا اور اس طرف کو چل دیئے جدھر آگ جلتی دیکھی تھی۔ جب اس کے نزدیک پہنچے تو آواز آئی بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اطراف میں ہے اور پاک و منزہ ہے وہ اللہ جو عالمین کا پروردگار ہے (فلما جاءها نودی ان بورك من في النار و من حولها وسبحان الله رب العالمین)۔ "جو اس آگ میں ہے" اور "جو اس کے اطراف میں ہے" سے کون مراد ہے؟ مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال پیش کئے ہیں ان میں سے جو احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ "جو آگ میں ہے" سے مراد جنابِ موسٰیؑ ہیں کیونکہ آگ کے وہ شعلے جو سبز درخت کے درمیان سے ظاہر ہو رہے تھے موسٰی علیہ اسلام سے اس قدر نزدیک تھے کہ گویا وہ خود اس کے اندر تھے اور "جو اس کے اطراف میں ہے" سے مراد خداوندِ عالم کے مقرّب فرشتے ہیں جو اس خاص لمحے اس مقدس سرزمین کو گھیرے ہوئے تھے۔ یا پھر اس کے برعکس یعنی جو اس آگ میں ہیں سے مراد فرشتے ہیں اور جو اطراف میں ہے سے مراد موسٰی علیہ السلام ہیں۔ بہرحال، بعض روایات میں ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام آگ کے نزدیک پہنچے تو رک گئے اور خوب غور سے دیکھنے لگے تو نظر آیا کہ درخت کی سبز ٹہنی سے شعلہ آتش بھڑک رہا ہے جوں جوں یہ شعلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سبز درخت مزید روشن اور خوبصورت ہوتا جا رہا ہے۔ نہ تو آگ کی حرارت درخت کو جلاتی ہے اور نہ ہی درخت کی رطوبت آگ کو بجھاتی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ تعجب کرنے لگے۔ ہاتھ میں ایک چھوٹی ٹہنی لیے ہوئے تھے وہاں سے آگ لینے کی غرض سے تھے تو آگ خود بخود ان کی طرف آنے لگی، ڈر کر پیچھے ہٹے، کبھی وہ آگ کی طرف بڑھتے اور کبھی آگ ان کی طرف لپکتی کہ اسی اثناء میں ایک اور آواز آئی اور انھیں وحی کی بشارت دی گئی۔ مراد یہ ہے کہ موسٰی علیہ السلام آگ سے اس قدر نزدیک تھے کہ "من في النار" کے جملے کا مصداق بن گئے۔ تیسری تفسیر جو اس جملہ کی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ "من في المنار" سے مراد خدا کا نور ہے جو آگ کے شعلے میں جلوہ نمائی کر رہا تھا اور "من حولها" سے مراد جناب موسٰی علیہ اسلام ہیں جو اس شعلہ کے نزدیک موجود تھے اور تمام صورتوں میں خدا کے بارے میں "جسم" ہونے کے تصور اور تو ہم کو دور کرنے کے لیے آیت کے آخر میں "سبحان الله رب العلمين" کا جملہ لایا گیا ہے جو خدا کے ہر قسم کے عیب و نقص، جسم و جسمانیت اور جسمانی عوارض سے مبرّا، منزّہ اور پاک ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک بار پھر آواز بلند ہوئی اور موسٰیؑ کو مخاطب کر کے کہا: اے موسٰیؑ! میں عزیز اور حکیم اللہ ہوں (یا موسٰی انه انا الله العزيز الحكيم)۔ یہ جملہ اس لیے تھا تاکہ موسٰی علیہ اسلام سے ہر قسم کا شک و شبہ دور کیا جا سکے اور وہ جان لیں کہ یہ خداوندِ عالم ہی ہے جو ان سے مخاطب ہے نہ کہ آگ کا شعلہ یا درخت۔ وہ خدا جو "ناقابل شکست" اور "صاحبِ حکمت و تدبیر" ہے۔ یہ تعبیر درحقیقت اس معجزے کے لیے مقدمہ کے طور پر ہے جو بعد والی آیت میں بیان ہو گا۔ کیونکہ اعجاز بھی پروردگارِ عالم کی ان دو صفات کی وجہ منصہ شہود پر آتا ہے۔ ایک قدرت اور دوسری حکمت۔ لیکن بعد والی آیت تک پہنچنے سے پہلے یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسٰی علیہ اسلام کو کیسے یقین پیدا ہوا کہ یہ خدائی ندا ہے۔ غیر خدا کی آواز نہیں؟ تو اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اس آواز کے ساتھ ایک روشن معجزہ بھی تو ہے اور وہ ہے سبز درخت کی ٹہنیوں میں سے آگ کے شعلے کا بلند ہونا، جو اس بات کا زندہ گواہ تھا کہ یہ ایک خدائی امر ہے۔ اس کے علاوہ اگلی آیت میں دیکھیں گے کہ اس آواز کے فوراً بعد موسٰیؑ علیہ اسلام کو حکم ہوتا ہے جس کے تحت وہ عصا اور یدِ بیضا کا معجزہ حاصل کرتے ہیں اور یہ دو سچے گواہ تھے اس آواز کی حقانیت اور صداقت پر۔ ان سب سے قطع نظر قاعدہ کے مطابق خدائی آواز کی اپنی خصوصیّت ہوتی ہے جو اسے تمام دوسری آوازوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب انسان اسے سنتا ہے تو اس کے قلب و روح پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ اس کے ندائے الٰہی ہونے میں ذره بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ چونکہ رسالت کے امور بجا لانے کے لیے ظاہری قدرت و طاقت اور حقانیّت کی سند کی ضرورت ہوتی ہے خاص کر جب امور رسالت کی ادائیگی فرعون جیسے ظالم اور جابر شخص کے سامنے ہو تو اس مقام پر حکم ہوتا ہے: اپنا عصا زمین پر پھینکو (والق عصاك)۔ موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر دے مارا تو اچانک وہ بہت بڑا سانپ بن گیا جب موسٰی علیہ اسلام نے اس پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے سانپوں کی طرح ادھر ادھر دوڑ رہا ہے تو ڈر کر واپس ہوئے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (فلما راها تهتز كانها جان ولى مدبرًا ولم یعقب)۔ [بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "جانّ" وہی "جن" ہے جس کا معنی نہ دیکھی جانے والی مخلوق ہے کیونکہ چھوٹے اور باریک سانپ عمومًا گھاس پھونس اور زمین کی دراڑوں میں چھپے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر چلتے رہتے ہیں]۔ یہ احتمال بھی ہے کہ عصا پہلے تو چھوٹے سے سانپ میں تبدیل ہوا ہو پھر مختلف مراحل کے بعد بہت بڑے اژدہا میں تبدیل ہو گیا ہو۔ یہاں پر ایک بار پھر موسٰی علیہ اسلام سے خطاب ہوتا ہے: اے موسٰی! ڈرو نہیں کیونکہ رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے (یا موسٰی لا تخف اني لايخاف لدى المرسلون)۔ یہ قرب پروردگار کا مقام ہے وہ پروردگار جو قادر و توانا ہے۔ یہ اس کی بارگاہِ امن ہے۔ یہاں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں پر خوف و ہراس کا وجود ہی نہیں ہے یعنی اے موسٰی! تم عظیم پروردگار کے سامنے ہو اور اس کی ذات کے سامنے ہونے کا خاصہ یہ ہے کہ یہاں پر مطلق امن و سکون ہے۔ اسی طرح کی ایک اور تعبیر سورہ قصص کی آیت 31 میں بھی ہے: یا موسٰی اقبل ولاتخف انك من الأمنين اے موسٰی! لوٹ جاؤ اور گھبراؤ نہیں کیونکہ تم امن میں آ چکے ہو۔ لیکن بعد والی آیت میں "انى لايخاف لدى المرسلون" کے جملے کا استثناء کرتے ہوئے فرمایا ہے مگر جن لوگوں نے ظلم کیا ہے پھر توبہ کر کے اپنے گناہوں کی تلافی کی ہے اور اپنی برائیوں کو نیکی میں تبدیل کر دیا ہے تو میں بھی غفور و رحیم ہوں (الا من ظلم ثم بدل حسنًا بعد سوء فاني غفور رحیم)۔ اس استثناء کا پہلے جملے سے کیا ربط ہے؟ مفسرین کی طرف سے اس دو مختلف نظریئے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ گزشتہ آیت میں ایک محذوف موجود ہے اور وہ کہ "پیغمبروں کے علاوہ دوسرے لوگ امان میں نہیں ہیں" پھر استثناء کر کے کہتا ہے مگر جن لوگوں نے ظلم و گناہ کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کر لی تو وہ بھی خدا کی حدود امن میں داخل ہو جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ خود جملہ مذکورہ ہی سے استثناء ہے اور ظلم سے ترکِ اولٰی کی طرف اشارہ ہے۔ جو کبھی کبھار انبیاء سے سرزد ہو جاتا ہے اور مقامِ عصمت کے بھی منافی نہیں ہے یعنی اگر انبیاء ترک اولٰی کا ارتکاب کریں تو وہ بھی امن و امان میں نہیں ہیں اور خدا ان کا بھی سخت مواخذه اور محاسبہ کرتا ہے جیسا کہ جناب آدم اور جناب نوح عليہ السلام کے بارے میں قرآنی آیات میں مذکور ہے۔ مگر وہ انبیاء جو اپنے ترک اولٰی کی جانب فوراً متوجه ہو جاتے ہیں اور خداوندِ کریم کے دامن محبت میں پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال صالحہ اور حسنات کے ذریعے اس کی تلافی کرتے ہیں جیسا کہ موسٰی علیہ السلام کی داستان میں اس قبطی شخص کے قتل کا تذکره آتا ہے جس میں جناب موسٰی علیہ اسلام نے اپنے ترک اولٰی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کی: رب انى ظلمت نفسى فاغفرلی پروردگارا میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے (قصص / 16) پھر خدا نے انہیں دوسرا معجزہ دکھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں لے جاؤ جب وہ نکلے گا تو چمک رہا ہوگا بغیر اس کے کہ اس میں کسی قسم کا عیب ہو (و ادخل يدك في جيبك تخرج بيضاء من غير سوء)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سفیدی، برص کی بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی نہیں بلکہ وہ نورانیت اور روشنی ہے جو بذات خود ایک معجزے اور خارق العادت امر کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔ پھر موسٰی علیہ اسلام پر مزید مہربانی کے طور پر اور راہِ راست سے انحراف کرنے والوں کے لیے ہدایت کے مزید امکانات کے لیے فرمایا گیا ہے: تمھارے معجزات صرف یہی دو نہیں بلکہ یہ دو ان نو معجزوں میں سے ہیں جنہیں لے کر تم فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجے جاؤ گے کیونکہ وہ باغی اور فاسق لوگ چلے آ رہے ہیں اور انھیں ایسی ہدایت و رہنمائی کی ضرورت ہے جس کے ہمراہ بہت بڑے معجزات ہوں (في تسع آيات الى فرعون وقومه انهم كانوا قومًا فاسقین)۔ ["في تسع ابات" میں جار اور مجرور یا تو "اذهب" سے متعلق ہیں یا پھر کسی ایسے عمومی فعل سے جو تقدیری ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے "في" کا لفظ "مع" کے معنی میں ہو اور"الٰى فرعون" بھی یا اسی مقدّر جملے سے متعلق ہے یا پھر ایک اور مقدر جملے "انت مرسل بها" سے متعلق ہے]۔ اس آیت کے ظاہر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو معجزے بھی موسٰی علیہ السلام کے ان نو مشہور معجزوں میں شامل ہیں، جو اللہ نے انہیں عطا کیے تھے۔ اس کے بارے میں ہم تفصیلی گفتگو سورہ بنی اسرائیل کی آیت 101 کے ذیل میں کر چکے ہیں اور یہ واضح کر چکے ہیں کہ دوسرے سات معجزے یہ تھے: طوفان، زرعی آفات، ٹڈی دل، مینڈکوں کی فراوانی اور دریائے نیل کے پانی کا خون کے رنگ میں تبدیل ہو جانا، ان پانچ حوادث میں سے ہر ایک فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک تنبیہ تھی۔ وہ جب بھی ان میں سے کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو فوراً موسٰی علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہو جاتے تاکہ یہ بلائیں دور ہوں۔ دوسرے دو معجزات ایک تو "خشک سالی" اور دوسرا "میووں کی قلت" تھی۔ جن کی طرف سورہ اعراف کی آیت 130 میں ارشاد موجود ہے کہ: ولقد اخذنا ال فرعون بالسنين ونقص من الثمرات لعلهم يذكرون ہم نے فرعون والوں کو خشک سالی اور میووں کی قلت میں مبتلا کر دیا تاکہ وہ سنبھل جائیں۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیرِ نمونہ کی جلد 7 صفحہ 719 (اردو ترجمہ) ملاحظہ فرمائیں۔ آخرکار جنابِ موسٰی علیہ السلام معجزے کے نہایت طاقتور ہتھیار سے مسلح ہو کر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے اور انھیں دینِ حق کی طرف دعوت دی، قرآنِ مجید بعد والی آیت میں فرماتا ہے: جب ہماری روشنی عطا کرنے والی آیات ان کے پاس آئیں تو انھوں نے کہا یہ تو بالکل کھلا جادو ہے (فلما جاءتھم ياتنامیصرۃ قالو اھذ اسحر مبین)۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ تہمت تنہا جناب موسٰی پر نہیں لگائی گئی بلکہ متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں نے انبیاء کے ساتھ مخالفت کی توجیہہ اور دوسروں کا راستہ روکنے کے لیے تمام انبیاء پر تہمت لگائی اور یہ ان کے مشن کی عظمت کی واضح دلیل ہے۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کرام خداوندِ عالم کے برگزیدہ، حق طلب اور پارسا بندے تھے اور جادوگر تو منحرف، مادیت پرست اور ٹھگ قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جادوگر ہمیشہ ایسا کام کر سکتے ہیں جو بالکل محدود ہوتا ہے اور انبیاء کے معجزات غیر محدود ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کے مطالب اور ان کے تمام پروگرام حق و حقیقت پر مشتمل ہوتے ہیں ان کا اور جادوگروں کا کیا مقابلہ؟ اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن نے زیرِ نظر آیات کے آخر میں ایک اور اہم انکشاف کیا ہے اور وہ یہ کہ ان کے یہ اتہامات اس لیے نہیں تھے کہ وہ سچ مچ شک و شبہ میں مبتلا تھے بلکہ "انھوں نے ان معجزات کا انکار ظلم اور تکبر کی وجہ سے کیا جبکہ ان کے دل میں مکمل یقین اور اطمینان تھا" (وجحدوا بها و استيقنتها انفسهم ظلمًا وعلوا)۔ اس تعبیر سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان ایک علحیدہ حقیقت ہے علم و یقین علیحدہ حقیقتیں! اور یہ بات بالکل ممکن ہے کہ علم و آگاہی کے ہوتے ہوئے بھی انکار سرزد ہوتا رہے۔ دوسرے لفظوں میں ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ "حق کے آگے ظاہری اور باطنی دونوں صورتوں میں جھک جانا"۔ بنابریں اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق یقین تو رکھتا ہے لیکن ظاہر و باطن میں اس کے آگے جھکتا نہیں ہے تو اس پر اس کا ایمان نہیں ہے بلکہ وه کافر اور منکر ہے اور یہ ایک لمبی بحث ہے جس سے فی الحال ہم انھی اشاروں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام نے ایک حدیث میں کفر کی پانچ اقسام میں سے ایک کفر جحودی (انکاری کفر) بھی بتائی ہے اور "جحود" کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ یہ بتایا ہے: هو ان يجحد الجاحد و هو يعلم انه حق قد استقر عنده اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی چیز کا انکار کرے جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے اور یہ حق اس کے نزدیک ثابت بھی ہو چکا ہو۔ پھر امام نے اسی آیت کو ثبوت کے لیے تلاوت فرمایا۔[ کافی جلد 2 بابِ وجوہ الکفر 287]۔ اور یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے فرعونیوں کے انکار کے اسباب دو بتائے ہیں: ایک ظلم اور دوسرا "بڑا بننے کی خواہش"۔ ممکن ہے کہ "ظلم" سے دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی طرف اشارہ ہو اور"علوًا" سے مراد ان کی بنی اسرائیل پر فوقیت طلبی ہو یعنی وہ دیکھ رہے تھے کہ اگر وہ موسٰی علیہ السلام کے معجزات کو تسلیم کرتے ہیں تو ان کے غلط مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے اور ساتھ ہی وہ اپنے غلاموں یعنی بنی اسرائیل کی صف میں آ کھڑے ہوں گے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی ان کے لیے قابل نہ تھی۔ یا پھر "ظالم" سے مراد اپنی ذات پر ظلم ہے اور "علوًا" سے مراد دوسروں پر ظلم ہے۔ جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت 9 میں آیا ہے: بما كانوا باٰیاتنا يظلمون اس لیے کہ وہ ہماری آیات پر ظلم کرتے تھے۔ بہرحال، اسی آیت کے آخر میں ایک نہایت ہی مختصر مگر جامع فقرے کے ذریعے فرعون اور فرعون والوں کے انجام کو درسِ عبرت کے طور پر بیان کیا گیا ان کے غرق اور نیست و نابود ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: دیکھیے مفسد لوگوں کا کیا انجام ہوا (فانظر كيف كان عاقبة المفسدین)۔ قرآنِ مجید نے اس مقام پر اس بات سے پردہ نہیں اٹھایا کیونکہ اس قوم کی عبرتناک کہانی وہ دوسری آیات میں پڑھ چکے تھے اور اس مختصر سے اشارے سے وہ جو کچھ سمجھ سکتے تھے سمجھ لیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتاتے چلیں کہ فرعونیوں کی تمام برائیوں کو لفظ "مفسد" میں جمع کر کے بیان کر دیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس کا مفہوم جامع ہے اور دوسرا عقیده اور عمل کی تباہی دونوں اس میں شامل ہیں نیز انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی برائیوں کی طرف اشارہ اس میں موجود ہے۔ لفظ "افساد" میں ان کے تمام اعمال کو اکٹھا کر کے بیان کر دیا گیا ہے۔

15
27:15
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ عِلۡمٗاۖ وَقَالَا ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّنۡ عِبَادِهِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ہم نے داؤد اور سلیمان کو اچھا خاصا علم عطا فرمایااور انہوں نے کہا:اس خدا کیلئے حمد ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
27:16
وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنطِقَ ٱلطَّيۡرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيۡءٍۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡمُبِينُ
اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور سلیمان نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی گفتگو کی تعلیم دی جا چکی ہے اورہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے،اور یہ ایک واضح و روشن فضیلت ہے۔

داؤدؑ اور سلیمانؑ کی حکومت

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

جنابِ موسٰی علیہ السلام کی داستان کا ایک گوشہ بیان کرنے کے بعد خدا دو اور عظیم انبیاء "داؤد" اور "سلیمان" کے واقعات بیان کرتا ہے البتہ داؤد کے بارے میں ایک اشارہ سا ہے لیکن سلیمان کے بارے میں مفصل گفتگو ہے۔ ان دو انبیاء کی داستان کا یہ حصہ جناب موسٰی کی داستان کے بعد اس لیے ذکر ہوا ہے کیونکہ یہ باپ بیٹا بھی بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے ان کی اور دوسرے انبیاء کی تاریخ کا فرق یہ ہے کہ انھوں نے بنی اسرائیل کی فکری اور اجتماعی آمادگی کے پیشِ نظر ایک عظیم حکومت تشکیل دی اور اسی حکومت کے ذریعے دین الٰہی کو وسعت ملی لہذا یہاں پر دوسرے انبیاء کی نسبت گفتگو کا انداز بھی کچھ اور ہے۔ دوسرے انبیاء کے بارے میں ہے کہ انھیں اپنی قوم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ بعض کو تو ان کی قوم نے شہر بدر کر دیا لیکن یہاں پر ایسی چیزوں کا تذکرہ نہیں ہے۔ یہاں بات بالکل مختلف ہے۔ یہاں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اگر خداوندِ عالم کی طرف دعوت دینے والے افراد کو حکومت تشکیل دینے کی توفیق حاصل ہو جائے تو کس قدر مشکلات حل ہو سکتی ہیں اور کس حد تک حالات سدھر سکتے ہیں؟ بہرحال، یہاں پر علم قدرت اور عظمت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ جن وانس سمیت تمام مخلوقات کے حکومتِ الٰہیہ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ پرندوں کا بھی اس حکومت کے تابع ہونے کا ذکر ہے۔ اور آخر میں منطقی اور مدلل دعوت کے ذریعے بت پرستی کے خلاف زبردست معرکے اور پھر حکومت کی طاقت سے صحیح صحیح سے فائدہ اٹھانے کا تذکرہ ہو گا۔ یہی وه امتیازات ہیں جو ان دو پیغمبروں کو دوسرے انبیاء سے جدا کرتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے علم عطا کرنے کے ذکر سے ان انبیاء کی داستان کا ذکر کیا ہے جو کسی صالح اور طاقتور حکومت کا بنیادی عنصر ہے۔ فرمایا گیا ہے: ہم نے داؤد اور سلیمان کو اچھا خاصا علم عطا فرمایا۔ (ولقد أتينا داؤد و سلیمان علمًا)۔ بعض مفسرین نے یہاں پر اپنے آپ کو خواہ مخواہ زحمت میں ڈالا ہے اور یہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس علم سے مراد کون سا علم ہے جو داؤد اور سلیمان کو عطا کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے دوسری آیت کے قرینے سے قضا اور فیصلے کا علم مراد لیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: وأتيناه الحكمة وفصل الخطاب "ہم نے داؤد کو حکمت عطا کی اور جھگڑوں کے ختم کرنے کا طریقہ بتایا"۔ (ص / 20) وكل أتينا حکمًا و علمًا ہم نے ان میں سے ہر ایک (داؤد اور سلیمان) کو فیصلے کرنے کی قوت اور علم عطا کیا۔ (انبیاء / 79) بعض مفسران نے انھی آیات میں موجود منطق الطیر (پرندوں کی زبان) کے قرینے سے پرندوں کے ساتھ گفتگو کا علم مراد لیا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے قرآنی آیات کے قرینے سے زرہ وغیرہ کے بنانے کا علم مراد لیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہاں پر "علم" وسیع معنوں میں ہے جس میں توحید، مذہبی عقائد اور دینی قوانین کا علم بھی شامل ہے اور قضا کا علم بھی بلکہ وہ تمام علوم بھی جو اس طرح کی وسیع اور طاقتور حکومت کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ کسی حکومتِ الٰہیہ کی تشکیل جو عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہو اور آباد و آزاد ہو وہ ایک وسیع اور سرشار علم کے بغیر ناممکن ہے۔ اس طرح سے قرآنِ مجید نے انسانی معاشرے اور حکومت کی تشکیل میں علم کے مقام کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معاشرے اور حکومت کے لیے اس کی حیثیت عمارت کے بنیادی پتھر کی سی ہے۔ اور اس کے بعد جنابِ داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی زبانی یہ جملہ نقل کیا گیا ہے: اور انھوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے (وقالا الحمد لله الذي في فضلنا على كثير من عباده المؤمنین)۔ اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ "علم" کی عظیم نعمت کے فوراً بعد "شکر" کی بات آئی ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہر نعمت کا شکر لازم ہے اور شکر کی حقیقت یہ ہے کہ جس نعمت کو جس کام کے لیے خلق کیا گیا ہے اسے اسی کے لیے استعمال کیا جائے اور خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں نے اپنے خداداد علم سے ایک حکومت الٰہیہ کو منظم کرنے میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ضمنی طور پر یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ انھوں نے اپنی دوسروں ہر فضلیت کا معیار "علم" کو قرار دیا ہے نہ کہ اقتدار اور حکومت کو۔ نیز شکر بھی علم کی نعمت عطا ہونے پر ادا کیا ہے کیونکہ اگر کسی کی قدر و قیمت ہے تو علم سے ہے اور ہر قدرت و طاقت علم ہی سے میسر آتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ وہ ایک باایمان قوم پر حکومت کرنے پر شکر ادا کر رہے ہیں کیونکہ فاسد اور بے ایمان لوگوں پر حکومت کوئی قابلِ فخر بات نہیں ہے۔ یہاں پر سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے شکر کے موقع پر کیوں فرمایا ہے کہ خدا نے ہمیں بہت سے مومنین پر فضلیت عطا فرمائی ہے یہ کیوں نہیں فرمایا تمام مومنین پر جبکہ وہ اپنے دور کے تمام لوگوں سے افضل تھے۔ ممکن ہے کہ ان کے یہ الفاظ ادب اور انکساری کے پیشِ نظر ہوں کیونکہ ایسے انسان کبھی بھی اپنے آپ کو تمام دوسروں سے برتر نہیں سمجھتے۔ یا پھر اس لیے کہ انھوں نے کسی خاص زمانے کو مدِّنظر نہ رکھا ہو بلکہ تمام زمانے ان کے پیشِ نظر ہوں اور معلوم ہے کہ تاریخِ بشریت میں ان سے بھی عظیم کئی انبیاء گزرے ہیں۔ بعد والی آیت میں پہلے حضرت داؤدؑ سے جناب سلمانؑ کے وراثت پانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوتے (و ورث سلیمان داؤد)۔ یہاں پر "ارث" سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں: بعض مفسرین اسے علم و دانش کی میراث سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی سمجھ کے مطابق انبیاء کی کوئی میراث نہیں ہوتی۔ بعض نے اسے مال اور حکومت کی میراث میں منحصر قرار دیا ہے کیونکہ اس کلمہ سے سب سے پہلے ذہن میں یہی معنی آتا ہے بعض نے پرندوں کے ساتھ گفتگو کرنے کے علم کو میراث بتایا ہے (منطق الطیر)۔ لیکن اگر آیت پر توجہ دی جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ آیت مطلق ہے اور بعد والے جملوں میں علم کا بیان بھی آیا ہے اور دوسری نعمتوں کا بھی (اوتینا من كل شيء) تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیت کے مفہوم کو محدود کر دیں لہذا جنابِ سلیمان علیہ اسلام اپنے باپ کی ہر چیز کے وارث بنے۔ جو روایات اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہلبیت علیهم السلام کے سامنے جو بھی یہ کہتا کہ انبیاء اپنی میراث نہیں چھوڑتے اور "نحن معاشر الانبياء لانورث" (ہم انبیاء کا گروہ اپنی کوئی میراث نہیں چھوڑتے) سے استدلال کرتا تو وہ اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرماتے اور اس سے یہ ثابت کرتے کہ مذکورہ حدیث چونکہ کتاب خدا کے مخالف ہے لہذا قطعاً قابلِ اعتبار نہیں۔ جو حدیث اہلِ بیت سے وارد ہوئی ہے اس میں ہے: جب ابوبکر نے مصمّم ارادہ کر لیا کہ فدک کو جناب فاطمہ علیہ السلام سے چھین لے اور یہ بات جنابِ فاطمہ تک پہنچی تو آپ ابوبکر کے پاس تشریف لے گئیں اور فرمایا: افی كتاب الله أن ترث اباك ولاارث ابي، لقد جئت شيئا فريا، فعلى عمد تركتم کتاب الله ونبذتموه وراء ظهورکم اذ يقول، وورث سلیمان داؤد کیا کتاب خدا میں ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو لیکن میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں یہ تو عجیب بات ہے!! کیا تم نے کتاب اللہ کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ جبکہ خدا فرماتا ہے کہ سلیمان داؤد کے وارث بنے۔ [کتاب احتجاج طبرسی منقول از تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 75]۔ پھر قرآن فرماتا ہے: سلیمان نے کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی گفتگو کی تعلیم دی گئی ہے (وقال يايها الناس علمنا منطق الطیر)۔ اور ہمیں سب کچھ دیا گیا ہے۔ اور یہ واضح اور روشن فضیلت ہے (واو تینا من كل شي ان هذا لهو الفضل المبین)۔ اگرچہ بعض لوگوں کا دعوٰی ہے کہ نطق اور بولنے کا لفظ انسان کے علاوہ کسی اور کے لیے صحیح نہیں البتہ مجازی معنی کی اور بات ہے لیکن اگر غیر انسان بھی اپنے منہ سے ایسی آواز اور الفاظ نکالیں جو معانی اور مطالب کو بیان کرتے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے نطق نہ کہیں! کیونکہ "نطق" ہر وہ لفظ ہوتا ہے جو کسی حقیقت اور مفہوم کو بیان کرتا ہو۔ ["ابنِ منظور" کتاب "لسان العرب" میں کہتے ہیں کہ نطق کا معنی گفتگو کرنا ہے۔ پھر کہتے ہیں"وكلام كل شئ منطقه ومنه قوله تعالی علمنا منطق الطیر" ہر چیز کا کلام اس کا نطق ہوتا ہے علمنا منطق الطیر والی آیت بھی اسی باب سے ہے پھر علماءِ ادب میں سے ابنِ سیڈے سے یہ بات نقل کرتے ہیں (یہ جو کہتے ہیں کہ بات کرنا صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے اس کے برخلاف) کبھی غیر انسان کے لیے بھی نطق کا استعمال ہوتا ہے۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازمی ہے کہ علمائے منطق اور فلسفہ کے نزدیک نطق اس قدرتِ تفکر کو کہتے ہیں جو انسان کو بولنے کی طاقت عطا کرتی ہے]۔ البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ مخصوص آوازیں جو بعض جانور غم و غصے کے وقت یا خوشی کے موقع پر یا درد کے موقع پر یا اپنے بچوں سے پیار کے وقت نکالتے ہیں وہ بھی نطق ہے ایسا نہیں ہے بلکہ ایسی آوازیں ہیں جو خاص حالت کے ساتھ منہ سے نکلتیں ہیں لیکن جیسا کہ آگے چل کر آیات سے مفصل معلوم ہو گا کہ جناب سلیمان علیہ السلام ہدہد کے ساتھ معانی اور مطالب پر مبنی گفتگو کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے پیغام بھیجتے اور اسے پیغام کا جواب لانے کا حکم دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات ان آوازوں کے علاوہ جو ان کے حالات بیان کر رہی ہوتی ہیں، خداوندِ عالم کے حکم کے مطابق اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ خاص مواقع پر گفتگو کریں۔ اسی طرح آینده آیات میں "چیونٹی" کی گفتگو کے بارے میں بھی بحث ہو گی۔ البتہ قرآنِ مجید میں بعض مقامات پر نطق اپنے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے جو "نطق" کی روح اور نتیجہ کی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور وہ ہے "مافی الضمیر کا بیان" اور یہ بیان خواہ الفاظ اور گفتگو کی صورت میں ہو یا دوسرے حالات کی صورت میں جیسے یہ آیت ہے: هذا كتابنا ينطق علیکم بالحق یہ ہماری کتاب ہے جو حق بات تمھیں بتاتی ہے۔ (جاثیہ /29) لیکن جنابِ سلمان کی پرندوں کے ساتھ گفتگو کو اس معنی میں تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ ان مندرہ بالا آیات کے ظاہر کی رو سے پرندوں کے خاص الفاظ کو سمجھ سکتے تھے جو وہ اپنا مطلب بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے اور پرندوں کے ساتھ گفتگو بھی کر سکتے تھے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل انشا اللہ چند اہم نکات کے ذیل میں آئے گی۔ "اوتينا من كل شئ" (ہمیں ہر چیز سے عطا کیا گیا ہے) یہ جملہ اس محدودیت کے خلاف ہے جس کے بعض مفسرین قائل ہیں۔ اس کا وسیع مفہوم ہے اور اس میں وہ تمام وسائل شامل ہیں جو مادی اور روحانی لحاظ سے حکومتِ الہیہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور اصولاً اس کے بغیر یہ کلام ناقص ہو گا اور گذشتہ آیات کے ساتھ اس کا کوئی واضع تعلق نہیں ہو گا۔ اس مقام پر فخرِ رازی نے ایک سوال پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ آیا "علمنا" اور "اوتينا" (ہم کو تعلیم دی گئی، ہم کو عطا کیا گیا) متکبرین کا سا کلام نہیں ہے؟ پھر اس کا جواب بھی انھوں نے خود ہی دیا ہے اور وہ یہ کہ یہاں جمع کی ضمیر سے مراد خود جنابِ سلیمان اور ان کے والد ہیں یا خود سلیمان اور ان کے رفقائے حکومت ہیں اور یہ معمول ہے کہ جب کوئی سربراہِ مملکت گفتگو کرتا ہے تو جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔

چند اہم نکات: 1- دین اور سیاست

بعض کوتاہ نظریہ سمجھتے ہیں کہ دین وعظ و نصیحت یا انسان کی شخصی اور نجی زندگی کے مسائل کا نام ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ دین مجموعہ ہے تمام قوانین حیات کا اور ایسا وسیع پروگرام ہے جو تمام انسانی زندگی خصوصاً اس کے اجتماعی مسائل کو اس کے اندر لیے ہوئے ہے۔ انبیاء کو اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ عدل کو قائم کریں۔ (حدید / 25) دین انسان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور بنی نوعِ انسان کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔ (سوره اعراف / 157) دین مستضعفین کو ظالموں کے چنگل سے آزاد کروانے اور ظالموں کا تسلط ختم کرنے کے لیے ہے۔ مختصر یہ کہ دین تزکیہ نفس کی راہ پر تعلیم و تربیت کر کے انسانِ کامل بنانے کے لیے آیا ہے۔ (جمعہ / 2) ظاہر ہے کہ عظیم مقاصد حکومت تشکیل دیئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔ کون شخص اخلاقی نصیحتوں کے ذریعے عدل و انصاف کا راج قائم کر سکتا ہے اور ظالموں کے ہاتھوں کو مظلوموں کے گریبانوں تک جانے سے کون شخص وعظ و نصیحت کے ذریعے روک سکتا ہے؟ کون شخص غلاموں کے ہاتھوں سے غلامی کی زنجیریں طاقت کا سہارا لیے بغیر توڑ سکتا ہے؟ جس معاشرے میں ذرائع ابلاغ اور پروپگینڈہ مشینری فاسد اور مفسد لوگوں کے ہاتھ میں ہو، وہاں تعلیم و تربیت کے صحیح اصولوں کا نفاذ کون شخص کر سکتا ہے؟ اور کون شخص اخلاقی فضائل کو انسان کے اندر اس کے بغیر پروان چڑھا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے ہم کہتے ہیں کہ "دین" "سیاست" سے جدا نہیں ہے اور یہ دونوں ایسے عناصر ہیں جو ایک دوسرے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اگر دین سیاست سے جدا ہو جائے تو دین اپنا انتظامی بازو کھو دے گا۔ اگر سیاست دین سے جدا ہو جائے تو ایک ایسے تخریبی عنصری تبدیل ہو جائے گی، جو خودسر لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔ اگر پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ نے اپنے آسمانی دین کو دنیا بھر میں بڑی تیزی سے متعارف کروایا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آپؐ نے موقع ملتے ہی ایک حکومت تشکیل دی اور اسی حکومتِ الٰہیہ کے ذریعے آپ نے خدا کے بتائے ہوئے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔ اگر کچھ اور انبیاء کو بھی اس قسم کا موقع ملا تو انھوں نے بھی بہتر انداز میں دعوتِ حقّہ پیش کی لیکن جو انبیاء مشکلات میں گھرے ہوئے تھے اور حالات نے انھیں حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی تو وہ اپنی دعوت کو اس انداز میں پیش کر کے زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

2- نظام حکومت الٰہیہ

کتنی جاذبِ نظر بات یہ ہے کہ جنابِ سلیمانؑ و داؤد نے شرک اور بت پرستی کے آثار کا بہت جلد خاتمہ کر کے نظامِ الٰہی کا نفاذ کر دیا۔ ایک ایسا نظام جس کا اصلی اور بنیادی عنصر علم و دانش اور مختلف شعبوں میں آگاہی ہے۔ ایسا نظام جس کے تمام پروگراموں اور منصوبوں میں "خدا" کا نام سرِفہرست ہے۔ ایسا نظام جس میں تمام لائق عناصر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ حتٰی کہ مقصد کے حصول کے لئے ایک پرندے سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ ایسا نظام جس میں دیووں کو مقیّد کر دیا گیا اور ظالموں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ مختصر یہ کہ ایسا نظام جس کے پاس فوجی طاقت بھی بہت حد تک تھی اور جاسوسی کے ذرائع بھی کافی تھے جو لوگ اقتصاديات اور پیداوار کے مختلف امور میں مہارت یا کافی حد تک واقفیت رکھتے تھے ان سب کو ایمان اور توحید کے پرچم تلے جمع کر دیا۔

3- پرندوں کی بولی

مندرجہ بالا آیات میں بھی اور آگے چل کر ہدہد اور سلیمان علیہ اسلام کی داستان کے سلسلے کی آیات میں بھی، پرندوں کی گفتگو اور اس کے ادراک کے بارے میں واضح اشارہ موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دوسرے جانوروں کی مانند پرندے بھی مختلف حالات میں مختلف آوازیں نکالتے ہیں کہ اگر غور و خوض سے کام لیا جائے تو ان کی آوازوں سے ان کی مختلف کیفیتوں کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ کون سی آواز غصے کی ہے اور کون سی خوشی کی، کسی آواز سے ان کی بھوک کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ کس سے ان کی تمنا کا، کس آواز سے وہ اپنے بچوں کو بلاتے ہیں اور کس سے وہ انھیں وحشتناک حادثے کی خبر دیتے ہیں۔ اس حد تک تو پرندوں کی آواز میں کسی کو شک و شبہ نہیں اور ہم میں سے ہر ایک کم و بیش اس چیز سے آگاہ ہے۔ لیکن اس سورت کی آیات ظاہراً اس سے بڑھ کر کچھ اور مطلب بیان کرتی ہیں۔ یہاں ان کے خاص انداز سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے جس میں عجیب و غریب مطالب بیان ہوئے ہیں۔ ایک انسان کے ساتھ ان کے افہام و تفہیم کی بات کی گئی ہے اگرچہ یہ چیز بعض لوگوں کو عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ان مطالب کی طرف توجہ کی جائے جسے پرندوں کے بارے میں ماہرین نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے اور اسی طرح جو چیزیں بعض لوگوں کے ذاتی مشاہدے میں آئی ہیں انھیں رکھا جائے تو یہ بات قطعاً عجیب معلوم نہیں ہو گی۔ ہم تو جانوروں خاص کر پرندوں کی فہم اور سمجھ کے بارے میں بھی اس سے بھی بڑھ کر عجیب و غریب معلومات رکھتے ہیں۔ بعض جانور اور پرندے ایسے ہوتے ہیں جو اپنا گھر یا گھونسلا بنانے میں اس قدر ماہر ہیں کہ بعض مواقع پر ماہر انجینیروں پر بھی بازی لے جاتے ہیں۔ بعض پرندے اپنے آئنده پیدا ہونے والے بچوں کے مستقبل کے بارے میں اور ان کی ضروریات اور مشکلات کے سلسلے میں اس حد تک باخبر ہوتے ہیں اور ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے اس قدر کوشش کرتے ہیں کہ ہم سب کے لیے باعث حیرت ہے۔ ان کی موسم کے بارے میں پیش گوئی حتٰی کہ بعض اوقات تو وہ کئی ماہ پہلے ہی موسم کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ ایسے پرندے بھی ہیں جو زلزلوں کی قبل از وقت اطلاع دے دیتے ہیں، یہاں تک کہ خفیف ترین جھٹکوں کی اطلاع دینے والے آلات سے بھی بہت پہلے بتا دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں حیوانات کو سدھا کر سرکسوں میں ان سے جو کام لیے جاتے ہیں انھیں دیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے کیونکہ و ہ وہاں پر واقعاً محیرالعقول کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ "چیوٹیوں" کے حیرت ناک کارنامے اور ان کا حیرت کن تمدن! "شہد کی مکھیوں" کے عجائباتِ زندگی اور ان کی حیرت انگیز سراغ رسانی! "مہاجر پرندوں" کی عجیب و غریب معلومات اور اس قدر عظیم سفر کے درمیانی راستے سے باخبری کہ جن کی وجہ سے وہ قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی کا درمیان لیکن بہت طولانی فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ سمندروں کی گہرائیوں کے بارے میں "آزاد مچھلیوں" کی بہت زیادہ معلومات کہ جن کے ذریعے وہ اجتمائی صورت میں سارا سال مختلف سمندروں میں گھومتی پھرتی ہیں، عمومی طور پر ایسے مسائل ہیں جو علمی لحاظ سے مسلم ہیں اور ان کے ادراک یا جبلّت یا اسے جو بھی نام دیں پر بیّن دلیل ہے۔ بعض جانوروں کے بعض حواس قوی ہوتے ہیں جیسے چمگادڑ میں راڈار جیسی مشینری ہوتی ہے یا بعض حشرات کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے۔ بعض پرندوں کی نگاہیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ یہ سب چیزیں بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ حیوانات وغیرہ تمام چیزوں میں ہم سے زیادہ پسماندہ نہیں ہیں۔ مندرجہ بالا امور کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مخصوص انداز میں گفتگو بھی کر سکتے ہیں اور جو ان کی گفتگو کے الفاظ اور طریقے سے واقف ہیں ان سے ہم کلام ہو سکتے ہیں۔ قرآنی آیات میں بھی مختلف عنوانات کے تحت اس امر کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے مثلاً سورہ انعام کی آیت 38 میں ہے: و مامن دابة في الارض و لا طائر يطير بجناحيه الا امم امثالكم روئے زمین پر ایسا کوئی حرکت کرنے والا جانور اور اپنے دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرنده ایسا نہیں ہے جن کی تم جیسی امتیں نہ ہوں۔ [سوره انعام کی آیت 38 کے ذیل میں ایک اور تفصیلی گفتگو بھی ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد 3)]۔ روایات میں بھی بہت سی ایسی چیزیں موجود ہیں جو جانوروں، خاص کر پرندوں کی گفتگو پر دلالت کرتی ہیں حتی کہ ان میں سے ہر ایک کی زبان کو نعروں کی طرح کی بولی بتایا گیا ہے۔ اگر اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو بات لمبی ہو جائے گی۔ [انہی آیات کے ذیل میں مزید معلومات کے لیے "تفسیر قرطبی" کا مطالعہ فرمائیے اور تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 77 کی طرف رجوع فرمائیں]۔ ایک روایت میں ہے کہ جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے عبد الله بن عباس سے فرمایا: أن الله علمنا منطق الطير کماعلم سلیمان بن داؤد و منطق كل دابة في برا وبحر خداوندِ عالم نے ہمیں پرندوں کی بولی کی بھی تعلیم دی ہے جس طرح سلیمان بن داؤد کو تعلیم دی تھی اور خشکی اور تری میں چلنے والی ہر مخلوق کی بولی بھی سکھائی ہے۔ [مذکورہ حوالہ]۔

4- "لاوارث" حدیث

اہلِ سنت کی مختلف کتابوں میں پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ایک حدیث موجود ہے جو اس طرح کے مضمون پر مشتمل ہے۔ نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة ہم پیغمبر لوگ اپنی میراث نہیں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہِ خدا میں صدقے کے طور پر خرچ کر دیا جائے۔ اور بعض کتابوں میں "لا نورث" کا جملہ نہیں ہے کہ "ماتركناه صد قة" کی صورت میں نقل کیا گیا ہے اس روایت کی سند عام طور پر ابوبکر تک جا کر ختم ہو جاتی ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد مسلمانوں کی زمامِ امور اپنے قبضے میں لے لی تھی اور جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا یا پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعض بیویوں نے ان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس حدیث کا سہارا لے کر انہیں میراث سے محروم کر دیا۔ اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (جلد 3 کتاب الجہاد والسیرص 1379) میں ہنجاری نے جزو ہشتم کتاب الفرائض کے صفحہ 185 پر اور اسی طرح بعض دیگر افراد نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ مذکورہ کتابوں میں سے بخاری میں بی بی عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے: فاطمه زهرا علیها السلام اور جنابِ عباس بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد) ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا۔ اس وقت انھوں نے اپنی فدک کی اراضی اور خیبر سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: "ہم میراث میں کوئی چیز نہیں چھوڑ جاتے، جو کچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے"۔ جنابِ فاطمہ زہرا علیہا السلام نے جب یہ سنا تو ناراض ہو کر وہاں سے واپس آ گئیں اور مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی۔ [صحیح بخارای جزو 8 ص 185]۔ البتہ یہ حدیث مختلف لحاظ سے تجزیہ و تحلیل کے قابل ہے لیکن اس تفسیر میں چند ایک نکات بیان کریں گئے: 1- یہ حدیث، قرآنی متن کے مخالف ہے اور اس اصول اور کلیہ قاعدہ کی رو سے ناقابل اعتبار ہے کہ جو بھی حدیث کتاب الله کے مطابق نہ ہو اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور ایسی حدیث کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا دیگر معصومین علیہم السلام کا قول سمجھ کر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرتِ سلیمان علیہ السلام جناب داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور آیت کا ظاہر مطلق ہے کہ جس میں اموال بھی شامل ہیں۔ جنابِ یحیٰی اور حضرتِ زکریا علیہما السلام کے بارے میں ہے: یرثني ویرث من أل یعقوب خداوندا! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ (مریم / 6) حضرت "زکریا" کے بارے میں تو بہت سے مفسرین نے مالی وراثت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآنِ مجید میں "وراثت" کی آیات کا ظاہر بھی عمومی ہے کہ جو بلا استثناء سب کے لیے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے مشہور عالم علامہ قرطبی نے مجبور ہو کر اس حدیث کو غالب اور اکثر فعل کی حیثیت سے قبول کیا ہے نہ کہ عموعی کلیے کے طور پر اور اس کے لیے یہ مثال دی ہے کہ عرب ایک جملہ کہتے ہیں: (انا معشر العرب اقرى الناس للضيف) ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ کر مہمان نواز ہیں (حلانکہ یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے)۔ [تفسیر قرطبی جلد 7 ص 4880]۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات اس حدیث کی اہمیت کی نفی کر رہی ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ اور حضرت یحٰیؑ کے بارے میں اس قسم کا عذر قبول کر لیں تو پھر دوسرے کے لیے بھی یہ قطعی نہیں رہ جاتی۔ 2- مندرجہ بالا روایت ان دوسری روایات کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے جنابِ فاطمہ زہرا کو فدک واپس لوٹانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا لیکن دوسرے لوگ اس میں حائل ہو گئے تھے چنانچہ سیرت حلبی میں ہے۔ فاطمہ بنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، ابوبکر کے پاس اس وقت آئیں جب وہ منبر پر تھے۔ انھوں نے کہا: اے ابوبکر کیا یہ چیز قرآنِ مجید میں ہے کہ تمھاری بیٹی تمھاری وراثت لے لیکن میں اپنے باپ کی میراث نہ لوں؟ یہ سن کر ابوبکر رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے پھر وہ منبر سے نیچے اترے اور فدک کی واپسی کا پروانه فاطمہ کو لکھ دیا۔ اسی اثناء میں عمر آ گئے۔ پوچھا یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ فاطمہ کو ان کے باپ سے ملنے والی وراثت واپس لوٹا دوں! عمر نے کہا! اگر آپ یہ کام کریں گے تو پھر دشمنوں کے ساتھ جنگی اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیا ہوا ہے۔ یہ کہا اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کر دیا۔ [سیرت حلبی جلد 3 ص 391]۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبرِ اکرامؑ نے تو صریحی طور ممانعت کی ہو اور ابوبکر اس کی مخالفت کی جرات کریں؟ اور پھر عمر نے جنگی اخراجات کا تو سہارا لیا لیکن پیغمبرِ اکرم کی حدیث پیش نہیں کی۔ مندرجہ بالا روایت پر اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہاں پر اسلام کی طرف سے ممانعت کا سوال نہیں تھا، بلکہ سیاسی مسائل آڑے تھے اور ایسے موقع پر معتزی عالم ابن ابی الحدید کی گفتگو یاد آ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد علی بن فارقی سے پوچھا کہ کیا فاطمہ اپنے دعویٰ میں سچی تھیں؟ تو انھوں نے کہا جی ہاں! پھر میں نے پوچھا تو ابوبکر نے انہیں فدک کیوں نہ دیا، جب کہ وہ انہیں سچا اور برحق بھی سمجھتے تھے۔ اس موقع پر میرے استاد نے معنی خیز تبسم کے ساتھ نہایت ہی لطیف اور پیارا جواب دیا حالاکہ ان کی مذاق کی عادت نہیں تھی۔ انھوں نے کہا: لواعطاها اليوم فدك بمجرد دعواها لجائت اليه غدًا وادعت لزوجها الخلافۃ! و زحزحته عن مقامه ولم يمكنه الاعتذار والموافقة بشيء۔ اگر وہ آج انہیں صرف ان کے دعویٰ کی بناء پر ہی فدک دے دیتے تو پھر کل اپنے شوہر کی خلافت کا دعوی دائر کر کے ابوبکر کو ان کے مقام سے متزلزل کر دیتیں تو پھر نہ تو ان کے لیے کسی عزر کی گنجائش باقی رہتی اور نہ ہی ان سے موافقت کا امکان۔ [شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید جلد 16 ص 284]۔ 3- پیمغبرِ السلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جسے شیعہ اور سنی میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ حدیث یہ ہے: العلماء ورثة الأنبياء علماء، انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ [صحیح ترمذی باب لعلم حدیث 19 و سنن ابن ماجہ مقدمہ حدیث 17]۔ نیز یہ قول بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی سے منقول ہے: ان الانبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا انبیاء اپنی میراث میں نہ تو دینار چھوڑتے ہیں اور نہ ہی درہم۔ [اصولِ کافی جلد اول باب صفۃ العلم حدیث 6]۔ ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ بات باور کرائیں کہ انبیاء کے لیے سرمایہ افتخار ان کا علم ہے اور اہم ترین چیز جو وہ یادگار کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں ان کا ہدایت و راہنمانی کا پروگرام ہے اور جو لوگ علم و دانش سے زیادہ بہرہ مند ہوں کے وہی انبیاء کے اصلی وارث ہوں گے۔ بجائے اس کے کہ ان کی مال پر نگاه ہو اور اسے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔ اس کے بعد اس حدیث کو نقل بہ معنی کر دیا گیا اور اس کی غلط تعبریں کی گئیں اور شاید "ما تركناه صدقة" والے جملے کی بعض روایات میں اس پر اضافہ کر دیا گیا۔ اس مقام پر اپنی بحث کو اہلِ سنت کے مشہور مفسر فخرِ رازی کی اس گفتگو پر ختم کرتے ہیں جو انھوں نے سورہ نساء کی آیت 11 کے ضمن میں کی ہے تاکہ بات زیادہ لمبی نہ ہو جائے۔ فخرِ رازی لکھتے ہیں: "اس آیت (اولاد کی وراثت والی آیت) کی منجملہ اور تخصیصات کے ایک تخصیص وہ چیز ہے۔ جو اکثر مجتہدین (اہل سنت) کا مذہب ہے کہ انبیائے کرام اپنی وراثت کے طور کچھ نہیں چھوڑ جاتے لیکن (عمومی طور پر) شیعوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے۔ روایت میں ہے کہ جب فاطمہ (علیها السلام) نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے اس حدیث کے ذریعے انھیں اپنی وراثت سے محروم کر دیا کہ "نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة" یعنی ہم پیغمبر لوگ کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں صدقہ ہوتا ہے۔ تو اس موقع پر جنابِ فاطمہ نے (اولاد کی وراثت والی) عمومی آیت سے استدلال پیش کیا گویا وہ اس طرح سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی تھیں کہ قرآن کے عمومی حکم کو خبر واحد کے ساتھ کہ محدود نہیں کیا جا سکتا۔ فخرِ رازی آگے کہتے ہیں کہ شیعہ لکھتے ہیں کہ: بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ قرآن کو خبر واحد کے ذریعے محدود کیا جا سکتا ہے تو یہاں پر تین دلیلوں کی وجہ میں تخحیص جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ: قرآنِ مجید واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ زکریا نے خدا سے درخواست کی کہ وہ انھیں ایسافرزند عطا کرے جو ان کا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ اسی طرح قرآن ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ سلیمان نے داؤد سے وراثت پائی۔ چونکہ ان آیات کو علم اور دین جیسی وراثت پر لاگو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس قسم کی وراثت مجازی وراثت کہلاتی ہے اس لیے کہ ان انبیاء نے اپنی اولاد کو علم اور دین کی تعلیم دی نہ یہ کہ یہ چیزیں وراثت کے طور پر حاصل کر کے اپنی اولاد کو ان کا وارث بنا دیا۔ وراثتِ حقیقی صرف اور صرف مال ہی میں تصور کی جا سکتی ہے (جو کسی سے حاصل کیا جائے اور دوسروں کو دیا جائے)۔ دوسری بات یہ ہے کہ: یہ کیونکر ممکن ہے کہ جس مسئلہ کی ابوبکر کو ضرورت ہی نہیں تھی اس سے تو وه آگاہ ہوں لیکن فاطمہ، علی اور عباس جو عظیم ترین زاہد اور عالم تھے اور پیغمبرِ اسلامؐ کی وراثت سے بھی انھیں سروکار تھا، اس سے بالکل بے خبر ہوں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ یہ حدیث اس شخص کو تعلیم دیں جسے ضرورت نہ ہو اور ان سے مخفی رکھیں جنہیں اس کی ضرورت ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ: "ما تركناه صدقة " والا جملہ "لا نورث" کے بعد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جن اموال کو ہم نے صدقہ قرار دیا ہے وہ میراث کے دائرہ میں نہیں آتے کیونکہ وہ صدقہ کے ساتھ مخصوص ہو جاتے ہیں نہ کہ تمام اموال! پھر فخرِ رازی مذکورہ بالا مشہور استدلالات کا مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: "فاطمہ زہراؑ نے جب اس ابوبکر کے ساتھ بات چیت کی تو اس پر راضی ہوگئیں"۔ اس کے علاوہ اجماع بھی اس بات پر ہے کہ ابوبکر کی بات صحیح تھی۔[تفسیر فخرِ رازی جلد 9 ص 210]۔ لیکن ظاہر ہے کہ فخرِ رازی کا یہ استدلال قابل قبول نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی ابھی اہلِ سنت کی مشہور اور معتبر کتابوں سے ثابت کر آئے ہیں کہ فاطمہ زہرا علیهما السلام نہ صرف یہ کہ ابوبکر سے راضی نہیں ہوئیں بلکہ اس قدر ان پر ناراض ہوئیں کہ مرتے دم تک ان سے گفتگو نہیں کی۔ اس سے قطع نظر یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ایسے مسئلہ پر اجماع قائم ہو جائے جس میں وحی کے زیرِ سایہ تربیت پانے والے افراد علی و زہرا علیہما السلام اور جنابِ عباس جیسی شخصیتیں نہ صرف شریک ہی نہیں بلکہ مخالف بھی ہیں۔

17
27:17
وَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ
اورسلیمان کے جنو ں، انسانوں اور پر ندوں کے لشکر ان کے پاس جمع ہوئے اور وہ اس قدر زیا دہ تھے کہ آپس میں ملحق ہونے کے لئے انہیں تو قف کر ناپڑتا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
27:18
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
یہاں تک کہ وہ ایک روز وہ چیو نٹیوں کی سر زمین کی طرف آنکلے، تو ایک چیو نٹی نے کہا: اے چیونٹیو! تم اپنے بلوں میں گھس جا ؤ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں روند نہ ڈالے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 19 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
27:19
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
(سلیمان) اس کی بات پر مسکرا دیئے اور ہنس کر فرمایا: پروردگارا! جو نعمتیں تو نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں مجھے ان کے شکر کی تو فیق عطا فر ما اور مجھے توفیق دے کہ میں وہ عمل صا لح انجام دوں جو تیری رضا کا سبب بنے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں کے زمرے میں داخل فرما۔

حضرتِ سلیمان وادی نمل میں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

اس سورت کی اور سورہ سبا کی آیات سے یہ بات بخوبی سمجھی جاتی ہے کہ حضرتِ سلیمانؑ کی داستانِ حکومت کوئی عام سا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف قسم کی غیر معمولی باتیں ہیں اور بہت سے معجزات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اسی سورت میں بیان ہوئے ہیں: مثلاً جناب سلیمانؑ کا جنوں اور پرندوں پر حکومت کرنا۔ چیونٹیوں کا کلام سمجھ لینا اور ہدہد سے ہم کلام ہونا، اسی طرح کچھ واقعات سوره سبا میں بیان ہوئے ہیں۔ درحقیقت خداوندِ عالم نے ایسی عظیم حکومت کے قیام اور اتنی عظیم طاقتیں جنابِ سلیمان کے لیے مسخر کر کے اپنی قدرت کا مظاہرہ فرمایا ہے اور ایک موحد انسان کے نزدیک قدرتِ خدا کے آگے یہ کام بالکل آسان ہے۔ انھی آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: سلیمان کے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر ان کے پاس جمع ہو گئے (وحشر لسليمان جنودہ من الجن و الانس والطير)۔ لشکر والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکم دیا جاتا کہ "اگلی صفوں کو روکے رکھیں اور پچھلی صفوں کو چلاتے رہیں تاکہ سب مل کر حرکت کریں" (فهم يوزعون)۔ "یوزعون"، "وزع" (بر وزن "جمع") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے روکنا اور جب اس کا اطلاق فوج اور لشکر وغیرہ پر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ لشکر کے اگلے حصے کو روکے رکھیں تاکہ پچھلے حصے کے فوجی بھی اس کے ساتھ آ ملیں۔ اور افتراق و بدنظمی پیدا نہ ہو۔ "وزع" کسی چیز کے بارے میں لالچ کرنے اور اس کے ساتھ ایسا زبردست تعلق پیدا کرنے کے معنی میں ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنابِ سلیمان کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا اور خاص نظم و ضبط کے تحت حرکت کرتا تھا۔ "حشر"، "حشر" (بر وزن "نشر") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کثیر تعداد کے افراد کو اپنے ٹھکانوں سے نکال کر میدان جنگ وغیرہ کی طرف لے چلنا۔ اس سے اور اسی طرح بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرتِ سلیمان نے کسی علاقے پر لشکر کشی کی تھی لیکن اس لشکر کشی کی تفصیل واضح طور پر معلوم نہیں ہے۔ چونکہ بعد والی آیت "وادي نمل" کے بارے میں گفتگو کرتی ہے لہذا بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ وہ "وادی لنمل" (چیونٹیوں کی سرزمین) طائف کے قریب کا علاقہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ شام کے نزدیک کی سرزمین ہے۔ لیکن چونکہ اس موضوع کے بیان میں کوئی اخلاقی یا تربیتی پہلو نہیں پایا جاتا۔ لہذا آیت میں اس بارے میں مزید گفتگو نہیں ہوئی۔ بعض مفسرین نے اس بارے میں بھی اختلاف کیا ہے کہ کیا تمام جن و انس اور پرندے حضرتِ سلیمان کے لشکر میں شامل تھے (ایسی صورت میں "من"، "تبعیض" کا ہو گا) یہ ایک اضافی بحث معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس بات میں شک نہیں کہ جنابِ سلیمان علیہ السلام کی تمام روئے زمین پر حکومت نہیں تھی بلکہ ان کی حکومت میں شام، بیت المقدس اور شاید اس کے اطراف کا کچھ علاقہ شامل تھا۔ حتیٰ کہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں آپ نے یمن کی سرزمین پر بھی تسلط حاصل نہیں کیا تھا بلکہ "ہدہد" کے واقعے اور ملکہ سباء کے ایمان لانے کے بعد آپ نے وہاں غلبہ پایا۔ "تفقد الطير" سے معلوم ہوتا ہے کہ جنابِ سلیمان کے زیرِ فرمان پرندوں میں ایک ہدہد بھی تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام نے اسے غیر حاضر پایا تو اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اگر تمام پرندے ہوتے جن میں ہزاروں کی تعداد میں ہدہد بھی ہوتے اور ان میں سے ایک یہ پرنده بھی تو یہ تعبیر صحیح نہ ہوتی۔ (غور کیجئے گا)۔ بہرحال، جنابِ سلیمانؑ اس عظیم لشکر کے ساتھ چلے حتٰی کہ چیونٹیوں کی سرزمین پر پہنچ گئے (حتى اذا اتوا على واد النمل)۔ یہاں پر چیونٹیوں میں سے ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے مخاطب ہو کر کہا: اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں چلی جاؤ تاکہ سلیمان اور ان کا شکر تمھیں بے خبری میں پامال نہ کر دے (قالت نملة یا ایها النمل ادخلوا مساكنكم لايحطعنكم سلیمان وجنودہ و ھم لايشعرون)۔ [بعض مفسرین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ "نملة" میں "تا" بیان و حدت کے لیے ہے اور فعل کو ظاہر کلمہ کی رعایت سے مونث لایا گیا ہے]۔ اس سرزمین میں جنابِ سلیمان اور ان کے لشکر کی آمد سے چیونٹی کیونکر مطلع ہوئی اور اس نے اپنی آواز دوسری چیونٹیوں تک کیونکر پہنچائی، اس بارے تفصیلی گفتگو انشااللہء نکات کی بحث میں آئے گی۔ البتہ ضمنی طور پر اس جملے سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سلیمان کی عدالت چیونٹیوں پر آشکار ہو گئی کیونکہ اس جملے کا مفہوم ہے کہ اگر وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوں تو ایک کمزور سی چیونٹی کو بھی پامال کرنا گوارا نہیں کرتے چنانچہ اگر وہ پامال کرتے ہیں تو ان کی اس طرف توجّہ نہیں ہوتی! حضرتِ سلیمانؑ یہ سن کر مسکرا دیئے اور ہنسے (فتبسم صناحکًا من قولها)۔ حضرت سلیمان کس وجہ سے ہنسے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ظاہر امر یہ ہے کہ بذات خود یہ قضیہ ایک عجیب چیز تھی کہ ایک چیونٹی اپنے ساتیوں کو سلیمان کے عظیم لشکر سے آگاہ کرے اور اس کی بے توجہی کا ذکر کرے اور یہی عجب امر جنابِ سلیمان کے ہسننے اور مسکرانے کا سبب بنا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی یہ ہنسی، خوشی کی ہنسی تھی کیونکہ آپ کو معلوم ہو گیا کہ چیونٹی تک کی مخلوق ان کی اور ان کے لشکر والوں کی عدالت او تقویٰ کا اعتراف کرتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ کی خوشی کا سبب یہ تھا کہ خداوندِ عالم نے انھیں اس قدر قدرت عطا فرمائی ہے کہ لشکرِ عظیم کے شور و غل کے باوجود وہ چیونٹی جیسی مخلوق کی آواز سے غافل نہیں ہیں۔ بہرحال، وجہ خواہ کچھ بھی ہو، اس موقع پر جنابِ سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں چند معروضات پیش کیں۔ پہلی کہ خداوندا! جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں ان کا شکر کرنے کا طریقہ مجھے سکھا دے۔ (و قال رب اوزعنی ان اشكر نعمتك التي انعمت علی وعلی والدی)۔ ["اوزعني"، "ایزاع" بمعنی "الہام" کے معنی میں ہے یا انحراف کے روکنے کے معنی ہے یا پھر عشق و محبت کے معنی میں ہے لیکن بیشتر مفسرین نے پہلا معنی اختیار کیا ہے]۔ تاکہ میں اپنی ان تمام عظیم نعمتوں کو تیری اس راہ میں بروئے کار لاؤں جس میں تیری خوشی اور رضا ہے اور میں جاده حق سے انحراف نہ کروں کیونکہ ان تمام نعمتوں کا شکر تیری امداد اور نصرت کے بغیر ناممکن ہے۔ دوسری یہ کہ "مجھے توفیق عطا فرما تاکہ ایسا نیک عمل بجا لاؤں کہ جس سے تو راضی ہو" ( وان اعمل صالحا ترضاه)۔ کیونکہ میرے لیے یہ لشکر و سپاہ اور حکومت و سلطنت کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اہم چیز یہ ہے کہ میں ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جس سے تو راضی ہو۔ چونکہ "اعمل" فعلِ مضارع کا صیغہ ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنابِ سلیمان نے دائمی توفیق کی درخواست کی ہے۔ آخر میں تیسری عرض داشت یہ پیش کی کہ پروردگارا! مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں کے زمرے میں شامل فرما (وادخلني برحمتك في عبادك الصالحين)۔

چند اہم نکات: 1- جناب سلیمان کا جانوروں کی بولی جاننا

حیوانات کی دنیا کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور اس بارے میں تمام ترقی کے باوجود ابھی تک اس پر شک و ابہام کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ البتہ بہت سے کاموں میں ہم ان کی فہم، سمجھ اور مہارت کے آثار ضرور دیکھتے ہیں۔ شهد کی مکھیوں کا گھر بنانا، شہد کے چھتے کا منظم و مضبوط کرنا، چیونٹیوں کا موسم سرما کی ضروریات کے لیے اپنی غذا کو زخیرہ کرنا، جانوروں کا دشمن سے اپنا دفاع کرنا، حتی کہ ان کا بہت سی بیماریوں کے علاج سے باخبر ہونا، دور دراز کے فاصلوں سے اپنے آشیانوں اور بلوں تک واپس لوٹ آنا، لمبے اور طویل فاصلے طے کر کے منزل مقصود تک پہنچنا، آئنده حوادث کے بارے میں پیشگی اندازہ لگا لینا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات کی پراسرار زندگی کے بارے میں ابھی تک بہت سے مسائل ایسے ہیں جو قابلِ حل ہیں۔ ان تمام باتوں سے ہٹ کر بہت سے جانور ایسے ہیں کہ اگر نہیں سدھایا جائے اور ان کی تربیت کی جائے تو وہ ایسے ایسے عجیب و غریب کارنامے انجام دیتے ہیں جو انسان کے بھی بس میں نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بھی اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ انسانی دنیا کے کس حد تک باخبر ہیں؟ کیا وہ واقعاً یہ جانتے ہیں کہ ہم (انسان) کون لوگ ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے ہمیں ان میں اس قسم کے ہوش اور سمجھ کے آثار نہ ملیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان میں ان چیزوں کا فقدان ہے۔ اسی بناء پر اگر ہم نے مندرجہ بالا داستان میں ہی پڑھا ہے کہ چیونٹیوں کو جنابِ سلیمان کے اس سرزمین میں آنے کی خبر ہو گئی تھی اور انھیں اپنے بلوں میں گھس جانے کا حکم ملا تھا تاکہ وہ لشکر کے پاؤں تلے کچلی نہ جائیں اور سلیمان بھی اس بات سے باخبر ہو گئے تھے تو زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں سلیمان کی حکومت غیر معمولی اور معجزانہ امور پر مشتمل تھی۔ اسی بناء پر بعض مفسرین نے اپنے نظریے کا اس طرح اظہار کیا ہے کہ سلیمان علیہ اسلام کے دورِ حکومت میں بعض جانوروں میں اس حد تک آگاہی کا پایا جانا ایک اعجاز اور خارق عادت بات تھی لہذا اگر دوسرے ادوار میں اس قسم کی باتیں جانوروں میں نہیں ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ ان کی اس قسم کی گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں سلیمان اور چیونٹی یا سلیمان اور ہدہد کی داستان کو کنایہ مجاز یا زبان حال وغيرہ پر محمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس امر کی حفاظت اور حقیقی معنی محمول کرنے کا امکان بھی موجودہ ہے۔ [ہم تفسیر نمونہ کی جلد پنجم میں سورۃ انعام کی آیت 38 کے ذیل میں بھی اس بارے میں گفتگو کر چکے ہیں]۔

2- حضرت سلیمان اور شکرِ الٰہی

الٰہی حکمرانوں اور ظالم و جابر حکمرانوں کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کے جب ظالموں کو حکومت حاصل ہوتی ہے تو وہ غرور اور غفلت میں غرق ہو کر تمام انسانی اقدار کو فراموش کر دیتے ہیں اور اپنی خودسری کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ خدائی حکام جب اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو اسے اپنے دوش پر ایک عظیم ذمہ داری سمجھتے ہیں، دوسروں سے زیادہ خدا کی بارگاہ کا رخ کرتے ہیں۔اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق خدا سے طلب کرتے ہیں جیسا کہ سلیمان علہیہ اسلام نے سریرِ قدرت پر پہنچنے کے بعد جس سب سے اہم چیز کا خدا سے سوال کیا وہ شکر خدا کی ادائیگی اور ان نعمتوں کو راہِ حق اور بندوں کی فلاح میں استعمال کرنے کا سوال تھا۔ اور پھر قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ انھوں نے اپنی درخواست کو "اوزعنی" کے لفظ سے شروع کیا ہے جس کا مفہوم اس عظیم مقصد کے انجام دینے کے لئے اندرونی ہدایت اور تمام باطنی طاقتوں کو اکٹھا کرنا ہے گویا سلیمان خدا سے دعا کر رہے ہیں خدایا مجھے اس قدر قدرت عطا فرما کہ میں اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے اپنی تمام اندرونی توانائیوں کو اکٹھا کر کے تیرا شکر ادا کروں اور اپنے فرائض کو پورا کروں اور تو ہی مجھے اس راستے پر چلاتا رہ کیونکہ یہ نہایت ہی کٹھن، خوفناک اور طولانی سفر ہے اور اس عظیم حکومت میں تمام لوگوں کے فرق کی ادائیگی کا ہی راستہ ہے۔ جنابِ سلیمان نے صرف ان نعمتوں کے شکر کی توانائی کا تقاضا نہیں کیا کہ جو خود ان کو ذاتی طور عطا کی گئی تھیں بلکہ اپنے ماں باپ کو عطا کی جانے والی نعمتوں کے شکر کی توقفیت بھی چاہی کی کہ انسان کو ملنے والی بہت سی نعمیتیں اسے ماں باپ کی طرف سے میراث میں ملتی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ خداوندِ عالم جو وسائل ماں باپ کو عطا کرتا ہے وہ اولاد کے لیے بڑی حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں۔

3- حضرت سلیمان اور عمل صالح

یہ بات بھی باعثِ دلچسپی ہے کہ باوجودیکہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کے پاس اس قدر بے نظیر طاقت اور حکومت تھی لیکن انھوں نے خدا سے سوال کیا کہ آپ کو ہیمشہ شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے بڑھ کر کہ ان کا خدا کے نیک بندوں میں شمار ہو۔ اس درخواست سے واضح ہوتا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے اقتدار حاصل کرنے کا مقصد اعمالِ صالح کی بجا آوری ہے اور باوقار عمل، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ان اعمال کی بجا آوری کے لیے مقدمہ ہیں۔ اعمالِ صالح بھی خدا کی رضا و خوشنودی کے حصول کا مقدمہ میں جو منتہائے مقصود اور سب غایتوں کی آخری غایت ہے۔ دوسری بات یہ کہ، صالح افراد کے زمرے میں شمولیت اعمالِ صالحہ کی ادائیگی سے بھی بڑھ کر ایک بلند درجہ ہے کیونکہ پہلا مرحلہ ذاتی درستی کا ہے اور دوسرا عمل کی درستی کا۔ (غور کیجیئے گا)۔ دوسرے لفظوں میں بسا اوقات انسان اعمالِ صالح بجا لاتا ہے لیکن یہ اس کی ذات روح اور وجود میں رچ بس نہیں جاتے لہذا سلیمانؑ خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انھیں اپنی عنایات میں اس حد تک شامل کر دے کہ ان کا صلح ہونا ان کے اعمال سے بھی بڑھ جائے اور ان کی روح اور رگ و ریشے میں رچ بس جائے اور یہ بات خدا کی رحمت کے بغیر قطعاً ناممکن ہے۔ سچ مچ خدا کا صالح بنده ہونا کس قدر قیمتی اور انمول عطیہ ہے کہ جنابِ سلیمان اس قدر جاہ و جلال ملک و سلطنت، حکومت و حشمت کے باوجود یہی درخواست کرتے ہیں کہ خداوندا انھیں اپنی رحمت کے زیرِ سایہ اپنے خاص بندوں میں قرار دے اور ہر وقت ان میں ایسی لغزشوں سے محفوظ رکھے جو انسانوں سے سرزد ہو جاتی ہیں، خاص کر بڑے منصب پر فائز لوگوں سے اور سربرہان حکومت سے۔

20
27:20
وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَالِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ
(سلیمان نے ہدہد) پرندے کی تلاش شروع کی اور کہا کہ مجھے ہدہد دکھائی کیوں نہیں دے رہا، یا کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
27:21
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
میں اسے یقیناً سخت سزا دوں گیا اسے ذبح کر ڈالوں گایا وہ (اپنی غیر حاضری کی) کوئی واضح دلیل میرے سامنے پیش کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
27:22
فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيدٖ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ وَجِئۡتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٖ يَقِينٍ
زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ (ہدہد آگیا اور) عرض کیا: مجھے ایسی چیز کا پتہ چلا ہے جس سے آپ آگاہ نہیں ہیں۔میں سر زمین سبا سے ایک سچی خبر لایا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
27:23
إِنِّي وَجَدتُّ ٱمۡرَأَةٗ تَمۡلِكُهُمۡ وَأُوتِيَتۡ مِن كُلِّ شَيۡءٖ وَلَهَا عَرۡشٌ عَظِيمٞ
میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو وہاں کے لوگوں پر حکومت کر رہی ہے اور اس کے پاس سب کچھ ہے، خصوصاً بہت عظیم تخت۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
27:24
وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ
(لیکن)میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں مزین کر رکھا ہے، انہیں صحیح راستہ سے بھٹکا دیا ہے اور وہ ہدایت پانے والے نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
27:25
أَلَّاۤ يَسۡجُدُواْۤ لِلَّهِ ٱلَّذِي يُخۡرِجُ ٱلۡخَبۡءَ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ
وہ کیوں ایسے خدا کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں مخفی چیزوں کو ظاہرفرماتاہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 26 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
27:26
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ۩
وہ ایسا خدا ہے جس کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

ہدہد اور ملکۂ سبا کی داستان

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

آیات کے اس حصّے میں خداوندِ عالم حضرت سلیمان کی حیرت انگیز زندگی کے ایک اور اہم واقعے کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور ہدہد اور ملکہ سبا کا قصہ بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے: سلیمان کو ہدہد دکھائی نہ دیا تو وہ اسے ڈھونڈھنے لگے۔ (وتفقد الطير)۔ یہ تعبیر اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتی ہے حضرت سلیمان اپنی حکومت کے حالات اور ملک کی کیفیت کو اچھی طرح مدِّ نظر رکھتے تھے یہاں تک کہ ایک پرندہ ہی ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں تھا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر پرندے سے مراد ہدہد ہے جیسا کہ قرآن اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کیا ہوا کہ مجھے ہدہد دکھائی نہیں دے رہا (فقال ما لي لااری الهدهد)۔ یا کیا وہ غائب ہے (ام كان من الغائبين)۔ سلیمان کو کیسے معلوم ہوا کہ ہدہد غیر حاضر ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ جب آپ سفر کرتے تو پرندے آپکے سر پر سایہ کیے رہتے تھے، چونکہ اس وقت اس سائبان میں اس کی جگہ خالی نظر آئی لہذا انھیں معلوم ہو گیا کہ هدهد غیر حاضر ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ سلیمان کے نظم حکومت میں پانی کی تلاش کا کام ہدہد کے ذمہ تھا لہذا پانی کی ضرورت کے وقت جب اسے تلاش کیا گیا تو وہ نہیں ملا۔ بہرحال، اس گفتگو کی ابتداء میں حضرتِ سلیمان نے فرمایا: مجھے وہ دکھائی نہیں دے رہا، پھر فرمایا "یا یہ کہ وہ غائب ہے"۔ ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کیا وہ کسی معقول عذر کے بغیر غیر حاضر ہے یا معقول عذر کی وجہ سے غائب ہے۔ بہرصورت ایک بااستقلال، منظم اور طاقتور حکومت میں یہی ہوتا ہے کہ ملک میں جو بھی اتار چڑھاؤ ہو وہ سربراہِ حکومت کی نظر میں ہو حتٰی کسی پرندے کی حاضری اور غیر حاضری، ایک عام ملازم کی موجودگی اور عدمِ موجودگی اس کے پیشِ نظر ہو اور یہ ایک بہت بڑا درس ہے۔ حضرتِ سلیمان نے دوسروں کو درس دینے اور حکم عدولی پر سزا دینے کی خاطر مندرجہ ذیل جملہ کہا تاکہ ہدہد کی غیرحاضری دوسرے پرندوں پر بھی اثر کرے چہ جائیکہ اہم عہدوں اور اعلی مناصب پر فائر انسان، فرمایا: میں یقیناً اسے سخت سزا دوں گا (لاعذبنه عذابًا شديدًا)۔ یا اسے ذبح کر ڈالوں گا (اولاً اذبحه)۔ یا پھر وہ اپنی غیرحاضری کی میرے سامنے واضح دلیل پیش کرے (او لیاتینی بسلطان مبین)۔ اس بیان پر "سلطان" سے مراد ایسی دلیل ہے کہ انسان کے مقصود کو ثابت کرنے کے لیے اس کے تسلّط کا سبب بنتی ہے اور پھر "مبین" کے ساتھ اس کی تاکید اس لیے کہ خلاف ورزی کرنے والا اپنی خلاف ورزی کی مکمل طور پر واضح اور روشن دلیل لائے۔ درحقیقت، جناب سلیمانؑ نے غیرحاضری کی صورت میں یک طرفہ فیصلہ دینے کی بجائے خلاف ورزی ثابت ہو جانے پر سزا کی تنبیہ کی ہے اور اپنی اس تنبیہ میں بھی دو مراحل بیان کیے ہیں جو جرم کی نوعیت کے مطابق ہیں ایک مرحلہ بغیر موت کے سزا ہے اور دوسرا سزائے موت کا مرحلہ ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ انھیں اپنی حکومت اور طاقت کا گھمنڈ نہیں ہے کہ اگر کہیں کمزور سا پرندہ معقول اور واضح دلیل پیش کرے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہدہد کی غیرحاضری کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا (فمكث غیر بعید)۔ کہ ہدہد واپس آ گیا اور سلیمان کی طرف رخ کر کے کہنے لگا: مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس سے آپ آگاہ نہیں ہیں، میں آپ کے لیے سرزمینِ سبا سے ایک یقینی (اور بالکل تازه) خبر لایا ہوں (فقال احطت بمالم تحط به وجئتك من سبأ بنبأ یقین)۔ گویا ہدہد نے جنابِ سلیمان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھ لیے تھے لہذا ان کی ناراضی دور کرنے کے لیے سب پہلے اس نے ایک ایسے اہم مطلب کی مختصر الفاظ میں خبر دی جس سے جنابِ سلیمان اس قدر علم و دانش رکھنے کے باوجود بےخبر تھے۔ جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے اس ماجرا کی تفصیل بیان کی۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ سلیمان کے لشکر والے حتٰی کہ پرنده تک کو بھی جو ان کے تابع فرمان تھے جنابِ سلیمان نے اس قدر آزادی، امن و امان اور جسارت عطا کی ہوئی تھی کہ ہدہد نے کھل کر ان سے کہہ دیا مجھے ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپؑ کو بھی خبر نہیں ہے۔ اس کی گفتار کا طریقہ ایسا نہیں تھا جیسے چاپلوس درباریوں کا جابر بادشاہوں کے سامنے ہوتا ہے کہ کسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے مدتوں خوشامد کرتے رہتے ہیں اپنے آپ کو ذرّہ ناچیز بتلاتے ہیں پھر چاپلوسی اور خوشامد کے ہزاروں پردوں میں کوئی بات "بادشاہ سلامت" کے قدموں پر نثار کرتے ہیں اور کبھی بھی اپنی بات کھول کر بیان نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ پھول کی پتی سے بھی نازک کنایوں کا سہارا لیتے ہیں مبادا بادشاہ سلامت کی خاطرِ مبارک ملول ہو جائے۔ ہاں ہدہد نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ میری غیرحاضری کسی دلیل کے بغیر نہیں تھی۔ میں ایک ایسی ایک خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بےخبر ہیں۔ ضمنی طور پر یہ سب لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا درس بھی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہدہد جیسی ایک چھوٹی سی مخلوق ایسی بات جانتی ہو جس سے اپنے دور کے بہت بڑے دانشور بھی بےخبر ہوں۔ انسان کو نہیں چاہیے کہ اپنے علم و دانش پر گھمنڈ کرے چاہے وہ نبوت کے وسیع علم کا مالک سلیمان ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال، ہدہد نے ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا: میں سرزمینِ سبا میں چلا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت وہاں کے لوگوں پر حکومت کر رہی ہے اس کے قبضے میں سب کچھ ہے خاص طور پر اس کا ایک بہت بڑا تخت بھی ہے (انی وجدت امراۃ تملكهم واوتيت من كل شیء و لها عرش عظیم) ہدہد نے تین جملوں میں ملکِ سبا کی تقریباً تمام خصوصیات بتا دیں اور وہاں کے طرزِ حکومت سے بھی سلیمان کو باخبر کر دیا۔ پہلی خصوصیت تو یہ ہے وہ ایک ایسا آباد شاد ملک ہے کہ جس میں ہر طرح کی نعمتیں اور سہولیات مہیّا ہیں۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے جس کا ایک نہایت ہی آراسته دربار ہے حتی کہ سلیمانؑ کے دربار سے بھی زیادہ آراستہ کیونکہ ہدہد نے حضرت سلیمان کا تخت دیکھا ہوا تھا اس کے باوصف اس نے ملکہ سبا کے تخت کو "عرشِ عظیم" عنوان سے یاد کیا۔ ان الفاظ کے ساتھ اس نے سلیمان کو یہ بات جتلا دی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ یہ تصور کرلیں کہ تمام جہان آپ کے قلم رو حکومت میں ہے اور صرف آپ کا تخت باعظمت ہے۔ سلیمان ہدہد کی یہ بات سن کر ایک گہری سوچ میں پڑ گئے لیکن ہدہد نے انھیں مزید سوچنے کی مہلت نہ دی اور فوراً ہی ایک اور بات پیش کر دی اس نے کہا: جو عجیب و غریب اور تکلیف دہ چیز میں نے وہاں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ عورت اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر سورج کے سامنے سجدہ کرتے ہیں (وجدتها و قومها يسجدون للشمس من دون الله)۔ شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر رکھا ہے (لہذا وہ سورج کوسجدہ کرنے میں فخر محسوس کرتےہیں (وزین لهم الشيطان أعمالهم)۔ اس طرح سے "شیطان نے انھیں راہِ حق سے روک رکھا ہے" (فصدھم عن السبيل)۔ وہ بت پرستی میں اس قدر غرق ہو چکے ہیں کہ مجھے یقین نہیں کہ وہ آسانی سے اس راہ سے پلٹ جائیں۔ وہ بالکل ہدایت نہیں پائیں گے (فهم لايهتدون)۔ ہدہد نے ان الفاظ کے ساتھ ان کی مذہبی اور روحانی حیثیت بھی واضح کر دی کہ وہ بت پرستی میں خوب مگن ہیں، حکومت آفتاب پرستی کو ترویج کرتی ہے اور لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہیں۔ ان کے بت کدوں اور دوسرے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس غلط راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ جنون کی حد تک محبت کرتے اور اپنی اس غلط روش پر فخر کرتے ہیں ایسے حالات میں جبکہ حکومت اور عوام ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں ان کا ہدایت پانا بہت مشکل ہے۔ پھر کہا: وہ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکلاتا ہے اور اسے بھی جانتا ہے ہم جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو (الا یسجدوا لله الذي يخرج الخبأ في السماوات والارض و یعلم ما تخفون و ماتعلنون)۔ ["الا" کا کلمہ اس جگہ پر بعض مفسرین کے نزدیک "ان" اور "لا" سے مرکب ہے اور وہ اسے "صدهم" يا "زین لھم" کے متعلق جانتے ہیں اور "لام" کو مقدر سمجھتے ہیں جو مجموعی طور پر یوں ہو گا "صدھم عن السبيل لئلا یسجدو الله" لیکن ظاہر یہ ہے کہ "لا" یہاں پر حروف اور"ھلا" کے معنی میں ہے اور جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں یہ بھی ہدہد کے کلام کا حصہ ہے۔ ہر چند کہ بعض مفسرین نے اسے جملہ استینافیہ بتا کر کلامِ الٰہی قرار دیا ہے]۔ "خبا" (بر وزن "صبر") ہر مخفی اور پوشیدہ چیز کے معنی میں ہے اور یہاں پر خداوندِ عالم کے آسمان اور زمین کے غیب پر محیط ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ لوگ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمان و زمین کے پوشیدہ امور کو جانتا ہے۔ یہ جو بعض مفسرین نے آسمان کی مخفی چیزوں سے خصوصی طور پر بارش اور زمین کی چیزوں سے بالخصوص نباتات مراد لیا ہے تو درحقیقت یہ اس بیان کے واضح مصداق ہیں۔ اسی طرح جنھوں نے موجودات کو غیب، عدم کے پردے سے باہر نکالنا مراد لیا ہے وہ بھی اس کا ایک مصداق ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پہلے تو خدا کے آسمان و زمین کے مخفی امور سے باخبر ہونے کی بات ہوئی ہے پھر انسان کے دل میں چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہی کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی اور بھی تو کئی صفات ہیں مگر ہدہد نے صرف خدا کے کائنات میں عالم الغیب ہونے کا ذکر کیوں کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شاید اس مناسبت سے ہو کہ جنابِ سلیمان اپنی تمام قدرت و توانائی کے باوجود ملک سبا کی ان خصوصیات سے بےخبر تھے اور ہدہد کہتا ہے کہ اس خد کے دامنِ لطف سے متمسک ہونا چاہیے جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ یا پھر مناسبت کی وجہ سے کہا ہے کیونکہ مشہور ہے کہ ہدہد کے اندر ایک خاص حِس پائی جاتی ہے جس کے ذریعے زمین کے اندر موجود پانی کا اسے پتہ چل جاتا ہے لہذا اس نے خداوندِ عالم کی بات کی ہے اور وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ تو صرف ذاتِ خداوندِ متعال ہی ہے جو عالمِ ہستی کی تمام پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے۔ وہ اپنی گفتگو کو ان الفاظ پر ختم کرتا ہے: وہ خدا وہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جو عرشِ عظیم کا پروردگار اور مالک ہے۔ (اللہ لا اله الا هو رب العرش العظيم)۔ اس طرح سے اس نے پروردگار کی "توحید عبادت" اور "توحید ربوبیت" کو بیان کر کے اور ہر طرح کے شرک کی نفی کر کے اپنی گفتگو کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔

چند اہم نکات: 1- چند سبق آموز باتیں

مندرجہ بالا چند آیات میں بہت سے ایسے نکات موجود ہیں جو تمام لوگوں کی زندگی اور حکومتوں کے چلانے کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔ 1- کسی حکومت کا سربراہ یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے انتظامی امور میں اس قدر باریک بین ہو کہ ایک عام اور معمولی فرد کی غیرحاضری تک کا نوٹس لے۔ 2- کسی ادارے کا سربراہ ایک فرد کی قانون شکنی تک کا نوٹس لے تاکہ اس کی خلاف ورزی دوسرے افراد میں سرایت نہ کر جائے لہذا اس کی سختی سے پیش بندی کرے۔ 3- کسی کی غیرحاضری اور عدم موجودگی میں اس پر مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے بلکہ اسے حتی الامکان اپنے دفاع کا موقع دینا چاہیے۔ 4- جتنا جرم ہو سزا اتنی ہی ملنی چاہیئے۔ 5- حیثیت و طاقت کے لحاظ سے انسان خواہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو اسے دلیل اور منطق قبول کر لینی چاہیے خواہ وہ کسی چھوٹے شخص کے منہ سے کیوں نہ نکلے۔ 6- عوامی ماحول میں اس قدر آزادی ہونی چاہیئے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے سربراہِ مملکت کو آزادانہ طور پر کہہ کسے "کہ میں ایسی چیز جانتا ہوں جو آپ نہیں جانتے"۔ 7- ہو سکتا ہے ایک عام اور معمولی فرد ایسے مسائل سے باخبر ہو جسے بہت بڑے عالم اور طاقتور لوگ بھی نہ جانتے ہوں اور انسان کو کبھی بھی اپنے علم و دانش پر غرور نہیں ہونا چاہیے۔ 8- انسان کی اجتماعی زندگی کی ضروریات اس قدر زیادہ ہیں بعض اوقات سلیمانؑ جیسے بہت بڑے انسانوں کو بھی ایک چھوٹے سے پرندے کی ضرورت درپیش آ جاتی ہے۔ 9- اگرچہ عورت میں بہت سے کاموں کی صلاحیّت پائی جاتی ہے حتٰی کہ خود یہی داستان بھی آگے چل کر بتائے گی کہ ملکہ سبا میں بہت زیادہ فہم و ذکا پائی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود حکومت کی سربراہی اس کے جسم و روح کی ساخت سے چنداں مناسبت نہیں رکھتی، حتٰی کہ ہدہد جیسے پرندے کو بھی اس بات پرتعجب کرنا پڑا کہ "میں نے ایک عورت کو ان پر حکمرانی کرتے دیکھا ہے"۔ 10- عموماً لوگوں کا بھی وہی دین ہوتا ہے جو ان کے بادشاہوں کا ہوتا ہے لہذا اسی داستان میں ہم نے پڑھا ہے کہ ہدہد نے کہا کہ میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ سورج کی پوجا کر رہے ہیں (پہلے ملکہ کی بات کی اور پھر اس کی قوم کی)۔

2- چند سوال اور ان کا جواب

بعض مفسرین نے یہاں پر چند ایک سوال پیش کیے ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سلیمان کے پاس اس قدر علم تھا اور وسائل بھی پھر ایسے ملک کے وجود سے بےخبر کیوں تھے اور پھر یمن اور سلیمان کا مرکزِ حکومت جو ظاہراً شام تھا کا طویل فاصلہ ہدہد ہونے کیونکر طے کیا اور پھر یہ کہ کیا ہدہد بھول کر وہاں پہنچ گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔ پہلے سوال کے بارے میں ممکن ہے کہ یہ جواب دیا جائے کہ سلیمان اس ملک سے قاعدۃً باخبر تھے لیکن اس کی خصوصیات و تفصیلات اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ علاوہ ازیں ان دو ملکوں کے درمیان حجاز کے بیابان کا فاصلہ بھی تھا اور ذرائع رسل و رسائل ہمارے آج کے ذرائع کی طرح بھی نہیں تھے (البتہ علمِ غیب اور الہامِ الہی کی بات دوسری ہے)۔ رہا ہدہد کے لیے اس مسافت کا طے کرنا تو کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے کیونکہ ہم ایسے پرندوں کو بھی جانتے ہیں جو زمین کے قطب شمالی اور قطب جنوبی کا درمیانی فاصلہ طے کرتے رہتے ہیں جبکہ یمن اور شام کا درمیانی فاصلہ مذکورہ فاصلے کے مقابلہ میں بالکل ہی ناچیز ہے۔ ممکن ہے ہدہد اس علاقے میں آیا ہو کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ جنابِ سلیمان خانۂ خدا کی زیارت کے لیے شام سے مکہ تشریف لائے ہوئے تھے تاکہ ابراہیمؑ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق حج بجا لائیں پر وہ وہاں سے جنوب کی طرف چلے یہاں تک کہ ان کا یمن کی سرزمین سے زیادہ فاصلہ نہیں رہ گیا تھا اور جب آپ آرام فرما رہے تھے تو ہدہد موقع غنیمت جان کر وہاں سے پرواز کر کے ملکہ سبا کے محل پر آ بیٹھا اور وہاں پر عجیب و غریب صورتحال نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی۔ [اس واقعے کی مزید تفصیلات کے لیے "دائرة المعارف فرید وجدی" جلد 10 ص 470 ماده "ہدہد" ملاحظہ فرمائیں۔ ہر چند کہ اس کی مفصل روایت مبالغے سے خالی نہیں ہے]۔

27
27:27
۞قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
(سلیمان نے) کہا:ہم تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
27:28
ٱذۡهَب بِّكِتَٰبِي هَٰذَا فَأَلۡقِهۡ إِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَٱنظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُونَ
میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کے سامنے ڈال دے۔ پھر لوٹ آ، (ایک کونے میں چھپ کر) دیکھ کہ وہ کیا رد عمل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
27:29
قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ إِنِّيٓ أُلۡقِيَ إِلَيَّ كِتَٰبٞ كَرِيمٌ
(ملکہ سبا نے) کہا: اے سردارو! یہ ایک نہایت ہی (اہم اور) با عظمت خط میرے پاس گرا یا گیا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
27:30
إِنَّهُۥ مِن سُلَيۡمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس طرح ہے: رحمٰن ورحیم اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
27:31
أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
(تمہیں میری یہی نصیحت ہے) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اورحق کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
27:32
قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَفۡتُونِي فِيٓ أَمۡرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمۡرًا حَتَّىٰ تَشۡهَدُونِ
(پھر) کہا: اے سردارو (اور اے بزرگو)!اس اہم معاملے میں اپنی رائے دو، کیونکہ میں نے کوئی بھی اہم کام تمہاری شرکت کے بغیر انجام نہیں دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
27:33
قَالُواْ نَحۡنُ أُوْلُواْ قُوَّةٖ وَأُوْلُواْ بَأۡسٖ شَدِيدٖ وَٱلۡأَمۡرُ إِلَيۡكِ فَٱنظُرِي مَاذَا تَأۡمُرِينَ
درباریوں نے کہا: ہم بہت طاقت ورہیں اور ہمارے پاس بہت بڑی جنگی قوت ہے۔ لیکن آخری فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے۔ آپ کیاحکم دیتی ہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

34
27:34
قَالَتۡ إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرۡيَةً أَفۡسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهۡلِهَآ أَذِلَّةٗۚ وَكَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
ملکہ نے کہا:جب بادشاہ کسی آبادی والے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لو گوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ (جی ہاں ) ان کے کام ایسے ہی ہوتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
27:35
وَإِنِّي مُرۡسِلَةٌ إِلَيۡهِم بِهَدِيَّةٖ فَنَاظِرَةُۢ بِمَ يَرۡجِعُ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
میں (اس وقت جنگ کو خلاف مصلحت سمجھتی ہوں لہٰذا) ایک قیمتی تحفہ ان کی طرف بھیجتی ہوں۔ پھر دیکھوں گی کہ میرے ایلچی کیا خبر لاتے ہیں۔

بادشاہ تباہیاں لاتے ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

حضرتِ سلیمان نے غور سے ہدہد کی باتیں سنیں اور سوچنے لگ گئے۔ ممکن ہے ان کا زیادہ گمان یہی ہو کہ یہ خبر سچی ہے اور اس کے جھوٹا ہونے پر کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے لیکن چونکہ یہ بات معمولی نہ تھی کہ ایک ملک اور ایک بڑی قوم کی تقدیر اس سے وابستہ تھی لہذا انھوں نے ایک فرد کی خبر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ اس حساس موضوع پر مزید تحقیق کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اس طرح فرمایا ہم اس بارے میں تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے (قال سننظر اصدقت ام كنت من الكاذبین)۔ اس بات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اہم اور نتیجہ خیز مسائل کے بارے میں توجہ دینی چاہیے خواہ اس کی اطلاع کسی معمولی سے فرد کی جانب سے کیوں نہ ملے اور جلد ہی اس کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے (جیسا کہ "سنتظر" میں "سین" کا اقتضاء ہے)۔ سلیمان علیہ السلام نے نہ تو ہدہد کو جھوٹا کہا اور نہ ہی بغیر دلیل کے اس کی بات کو تسلیم کیا بلکہ اس بارے میں تحقیقات کا حکم صادر فرمایا۔ بہرحال، سلیمانؑ نے ایک نہایت مختصر لیکن جامع خط تحریر فرمایا اور ہدہد کو دے کر کہا: "میرا یہ خط لے جاؤ اور ان کے پاس جاکر ڈال دو پھر لوٹ آؤ اور ایک کونے میں ٹھہر جاؤ اور دیکھو وہ کیا رد عمل کرتے ہیں"۔ (اذهب بكتابي هذا في فالقه الیهم ثم تول عنهم فانظر ماذا یرجعون)۔ [بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "ثم تول عنہم" معنی کے لحاظ سے مؤخر ہے اور عبارت میں مقدم ہے اور تقدیر کی صورت میں یوں ہو گا " فانظرما وایرجون ثم تول عنهم " یہ اس لیے ہے کہ انھوں نے اس جملے کو واپس قوم کی طرف سے واپس لوٹ آنے سے معنی میں لیا ہے جبکہ آیت کا ظاہری معنی یہ ہے کہ تو ان سے رخ پھیر کر ایک کونے میں انتظار کر کہ وہ کیا رد عمل کرتے ہیں]۔ "القه اليهم" (تو ان کی طرف ڈال دے) کی تعبیر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد کو حکم دیا گیا کہ اس خط کو اس وقت ان کے پاس جا کر ڈال دیا جب ملکہ سباء اپنے درباریوں کے ساتھ محفل جمائے ہوئے ہو، تاکہ فراموشی اور اخفا کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ہدہد کے محل میں داخل ہو کر اس کے سونے کے کمرے میں پہنچ گیا اور خط اس کے سینے یا گردن پر ڈال دیا اس کے لیے کوئی خاص دلیل نہیں ہے اگرچہ بعد والی آیت میں ہے۔ اني القى الىّ کتاب کریم میری طرف ایک اہم خط پھینکا گیا ہے۔ یہ آیت اس دعویٰ سے موافقت رکھتی ہے۔ ملکہ سبا نے خط کھولا اور اس کے مندرجات سے آگاہی حاصل کی۔ چونکہ اس نے اس سے پہلے سلیمانؑ کا نام اور شهرت سن رکھی تھی اور خط کے مندرجات سے بھی واضح ہوتا تھا کہ جنابِ سلیمان نے سباء کے بارے میں سخت فیصلہ کر لیا ہے لہذا وہ گہری سوچ میں پڑگئی اور چونکہ ملک کے اہم ترین مسائل میں وہ اپنے مصاحبین سے مشورہ کیا کرتی تھی لہذا اس بارے میں بھی انھیں اظہارِ خیال کی دعوت دی اور ان سے مخاطب ہو کر کہا اے سردارو! اور بزرگو ایک نہایت ہی باوقار خط میری طرف پھینکا گیا ہے (قالت یا ایها الملوا اني القي الی کتاب کریم)۔ کیا سچ مچ ملکہ سبا نے چٹھی رساں کو نہیں دیکھا تھا اور خود خط کے اندر موجود قرائن سے اس نے خط کی حقانیّت کو تسلیم کر لیا تھا اور اسے یہ احتمال بھی پیدا نہ ہوا کہ یہ خط جلعی ہے۔ یا اپنی آنکھوں سے قاصد کو دیکھ لیا تھا اور اس کی محیر العقول کیفیت بذات خود اس بات کی دلیل تھی کہ اس کے پسِ پردہ یقیناً کوئی حقیقت کارفرما ہے اور کوئی معمولی بات نہیں ہے بات خواہ کچھ بھی ہو اسے خط پر یقین آگیا۔ ملکہ نے یہ کیوں کہا کہ یہ بہت ہی باعظمت خط ہے یا تو اس لیے کہ اس خطے کے مطالب بہت ہی گہرے تھے یا پھر اس لیے کہ اس کا آغاز خدا کے نام سے ہوا تھا اور اختتام پر جنابِ سلیمانؑ کے صحیح دستخط تھے اور مہر لگی تھی۔ [حدیث میں آیا ہے کہ کسی خط کی عظمت اور وقار اس کی مہر میں ہے (تفسیر مجمع البیان، المیزان اور قرطبی)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام نے عجم کے لیے خط لکھنا چاہا تو آپ سے عرض کی گئی کہ عجمی لوگ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے تو آپ نے حکم دیا کہ ایک انگوٹھی تیار کروائی جائے جس کے نگینے پر یہ الفاظ کندہ ہوں لا اله الا الله محمد رسول الله اور یہی مہر آپ خط پر لگا دیا کرتے تھے (تفسیر قرطبی اسی آیت کےذیل میں)]۔ یا اس کا لکھنے والا باعظمت انسان تھا۔ مفسرین نے یہ مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں ممکن ہے کہ یہ سب احتمالات جامع مفہوم میں جمع ہوں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ لوگ سورج پرست تھے لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے بت پرست خدا پر بھی ایمان رکھتے تھے اور اسے"رب الارباب" کا نام دیتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے اور تعظیم بجا لاتے تھے۔ پھر ملکہ سبا نے خط کا مضمون سناتے ہوئے کہا "یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کے مندرجات یوں ہیں: رحمان و رحیم کے نام سے۔.......(انه من سليمان و انه بسم الله الرحمن الرحیم)۔ "میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم میرے مقابلے میں سرکشی سے کام نہ لو اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ (الا تعلوا علي و أتوني مسلمين)۔ [ممکن ہے "الا تعلوا على" کا جملہ مجموعی طور پر "کتاب" سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ یہاں پر "ان" بمعنی "ای" کے ہو اور تفسیر کے لیے ہو اور یہ احتمال بھی ہے اور ایک محذوف جملہ سے متعلق ہو اور وه "اوصیکم" ہو سکتا ہے]۔ بعید معلوم ہوتا ہے کہ جنابِ سلمانؑ نے اسی عبارت اور انھی عربی الفاظ میں خط لکھا ہو بنابریں ممکن ہے مندرجہ بالا جملے یا تو صرف معنی کو بیان کر رہے ہیں یا پھر سلیمان کے خط کا خلاصہ ہوں جسے ملکہ سباء نے ان افراد کے سامنے بیان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خط کا مضمون درحقیقت صرف تین جملوں پر مشتمل ہے۔ پہلے جملے میں خدا کا نام اور اس کے رحمان اور رحیم ہونے کا ذکر ہے۔ دوسرے جملے میں خواہشاتِ نفسانی پر کنٹرول کرنے اور تکبر و برتری کی خواہش کو ترک کرنے کا حکم ہے کہ جو تمام انفرادی اور اجتمائی برائیوں کی جڑ ہے۔ اور تیسرے جملے میں حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینے کا تذکرہ ہے۔ اگر غور سے کام لیں تو معلوم ہو گا، اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز تھی بھی نہیں جو قابل ذکر ہو۔ حضرتِ سلیمان کے خط کا تذکرہ کرنے کے بعد اہلِ دربار کی طرف رخ کر کے ملکہ نے یوں کہا اے سردارو! اس اہم معاملے میں تم اپنی رائے کا اظہار کرو۔کیونکہ میں کوئی بھی اہم کام تمھاری شرکت اور تماری رائے کے بغیر انجام نہیں دیتی ہوں (قالت یاایها الملوا افتونی فی امری ماکنت قاطعة امرًا حتی تشهدون)۔ اس رائے طلبی سے وہ ان کے درمیان اپنی حیثیت ثابت کرنا چاہتی تھی اور ان کی نظر اور توجہ اپنی طرف مبذول کرنا چاہتی تھی۔ تاکہ اس طرح سے وہ ان کی رائے اور اپنے فیصلے کو ہم آہنگ کر سکے۔ "افتونی"، "فتویٰ" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے پچیدہ مسائل میں خوب سوچ بچار کر کے صحیح صحیح فیصلہ کرنا۔ چنانچہ اس طرح سے ملکہ سباء نے ایک تو ان کے آگے مسئلے کی پیچیدگی کو واضح کر دیا اور دوسرے اس نکتہ کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی کہ اپنے نظریئے کا اظہار کرتے وقت خوب غور و فکر سے کام لیں تاکہ بعد میں غلط نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ "تشهدون"، "شہود" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایسی موجودگی جو تعاون اور مشورے پر مشتمل ہو۔ اشرافِ قوم نے جواب میں کہا ہم بڑی طاقت والے اور جنگجو لوگ ہیں لیکن آخری فیصلہ آپ کے کہ ہاتھوں میں ہے دیکھیے، آپ کیا حکم دیتی ہیں؟ (قالوا نحن اولو قوۃ و اولوا بأس شديد و الامر اليك فانظري ماذا تامرین)۔ اس طرح سے انہوں نے ایک تو اس کے سامنے اپنی فرمانبرداری کا اظہار کر دیا اور دوسرا اپنی قوت کا ذکر کر کے میدانِ جنگ میں لڑنے کا مشورہ بھی دے دیا۔ جب ملکہ نے ان کا جنگ کی طرف رجحان دیکھا اور اندرونی طور پر اس کا قطعاً یہ ارادہ نہیں تھا تو اس جنگی پیاس کو بجھانے نیز صحیح حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے انہیں قانع کرنے کے لیے کہا "جب بادشاہ کسی آباد علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو انھیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں" (قالت ان الملوك اذا دخلوا قرية افسدوها)۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں (وجعلوا اعزة اهلها اذلة)۔ کچھ کو مار ڈالتے ہیں، کچھ کو قیدی بنا لیتے ہیں اور کچھ کو بے گھر کر دیتے ہیں۔ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا ہے۔ لوٹ مار کرتے ہیں۔ پھر اس نے تاکید کے طور پر بلکہ یقینی صورت میں کہا "جی ہاں! وہ ایسا ہی کرتے ہیں" (وكذلك يفعلون)۔ درحقيقت ملکہ سبا خود بھی ایک "بادشاہ" تھی لہذا وہ بادشاہوں سے اچھی طرح واقف تھی کہ بادشاہوں کی جنگی حکمتِ عملی دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے ایک تباہی اور بربادی اور دوسرا باعزت افراد کو ذلیل کرنا کیونکہ انھیں تو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، قوم و ملت کے مفادات اور ان کی سربلندی سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لہذا عمومی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔ پھر ملکہ نے کہا: ہمیں سب سے پہلے سلیمان اور اس کے ساتھیوں کو آزمانہ چاہیئے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ واقعاً میں کیسے لوگ؟ آیا سلیمان بادشاہ ہے یا پیغمبر ہے؟ تباہ کار ہے یا مصلح، اقوام و ملل کو ذلیل کرتا ہے یا عزت بخشتا ہے؟ تو اس کام کے لیے ہمیں تحفے تحائف سے استفادہ کرنا چاہیے لہذا میں ان کی طرف کچھ معقول تحفے بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ میرے قاصد ان کی طرف سے کیا رد عمل لاتے ہیں (واني مرسلة اليهم بهدية مناظرة بھر یرجع المرسلون)۔ بادشاہوں کو تخفے تحائف سے بڑی محبت ہوتی ہے اور یہ تحفے اور ہدیے ہی ان کی بہت بڑی کمزوری ہوتے ہیں۔ انھیں تحفے دے کر جھکایا جا سکتا ہے ہم دیکھیں گے اگر سلیمان نے ان تحائف کو قبول کر لیا تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بادشاه ہے اور ہم بھی ڈٹ کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اپنی پوری طاقت استعمال کریں گے کیونکہ ہم بہرحال، طاقتور ہیں اور اگر اس نے ان تحائف سے بے رخی برتی اور اپنی باتوں پر ڈٹا رہا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ خدا کا نبی ہے تو ایسی صورت میں ہمیں بھی عقل مندی سے کام لینا ہو گا۔ ملکہ سباء نے جنابِ سلیمانؑ کے لیے کیا تحائف بھیجے؟ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں بتایا۔ صرف کلمہ "ہدیہ" نکره کی صورت میں بیان کر کے اس کی عظمت کو ضرور واضح کر دیا ہے البتہ مفسّرین نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے جن میں سے بعض باتیں مبالغہ آرائی اور افسانوی رنگ سے خالی نہیں ہیں۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پانچ سو بہترین غلام اور پانچ سو بہترین کنیزیں ان کے لیے بھیجی گئیں۔ غلاموں کو زنانہ لباس میں اور کنیزوں کو مردانہ لباس میں، غلاموں کے کانوں میں گوشوارے اور ہاتھوں میں کنگن اور کنیزوں کے سر پہ خوبصورت ٹوپیاں تھیں ملکہ نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو غلاموں اور کنیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیں۔ انھیں زرد جواہرات اور قیمتی زیورات سے آرستہ کر کے بہترین سواریوں پر سوار کر کے اور جواہرات کی معقول مقدار دے کر جنابِ سلیمان کی خدمت میں بھیجا گیا۔ اور ساتھ ہی ملکہ نے قاصد کو یہ بات بھی سمجھا دی کہ تمھارے دربار میں پہنچتے ہی اگر سلیمان نے تمھیں خشم آلود اور غضب ناک نگاہوں سے دیکھا تو سمجھ لینا کہ بادشاہوں کا انداز ہے اور اگر پیار بھرے انداز میں خندہ پیشانی کے ساتھ تمھیں شرفِ حضور بخشا تو سمجھ لینا کہ خدا کا نبی ہے۔

چند ایک نکات: 1- نامہ نگاری کے آداب

مندرجہ بالا آیات میں اہلِ سبا کے نام حضرتِ سلیمان کے خط کے بارے میں جو کچھ مذکور ہے وہ طرزِ نامه نگاری کا ایک اعلٰی نمؤنہ ہے جو اہم اور دور رس نتائج کا حامل ہے جس نے خداوندِ رحمان و رحیم کے نام سے شروع ہو کر صرف دو جچے تلے جملوں میں تمام مفہوم کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔ اسلامی تاریخ اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عظیم پیشواؤں کا ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا ہے کہ خط کو مختصر اور جامع انداز میں تحریر کیا جائے جو تمام غیر تعلق اور بے فائدہ باتوں سے بالکل پاک ہو اور ہمیشہ سوچ سمجھ کر خط لکھا جائے۔ حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ اسلام نے اپنے ملازمین اور نمائندوں کو خط کے بارے میں باقاعدہ سرکاری طور پر یہ ہدایت جاری فرمائیں: "ادقوا اقلامكم وقاربوا بین سطوركم، و احذفوا عني فضولكم، واقصدوا قصد المعاني، و ایاکم و الاكثار، فان اموال المسلمين لاتحتمل الاضرار" نوکِ قلم باریک رکھو، سطروں کو نزدیک رکھو، میرے لیے لکھے جانے والے خطوط میں زائد اور اضافی باتوں کو نکال دیا کرو، معانی پر زیادہ توجہ رکھا کرو، زیادہ باتوں سے پرہیز کرو کیونکہ مسلمانوں کے اموال ایسی فضول خرچیاں برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔ [بحار الانور جلد 76 ص 49]۔ نوکِ قلم کو باریک کرنے سے الفاظ چھوٹے لکھے جائیں گے اور سطور کو قریب کر کے لکھنے اور بے فائدہ اور اضافی چیزوں کو حذف کر دینے سے نہ صرف مسلمانوں کے بیت المال یا ذاتی احوال میں بچت ہو گی بلکہ لکھنے اور پڑھنے والے کا وقت بھی بچے گا حتی کہ کبھی ایسا بھی نہیں ہوتا ہے کہ تکلفات پر منبی عبارت تحریر کرنے سے اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے جس سے تو لکھنے والے کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا اس سے کچھ سمجھ پاتا ہے۔ گزشتہ دنوں یہ معمول ہو گیا تھا کہ ابتدائے اسلام کے طریقہ کار کےخلاف لوگ خط لکھنے لگے تھے۔ ان میں القاب، الفاظ اور تکلفات کی بھرمار ہوا کرتی تھی جس سے ایک قیمتی وقت ضائع ہوتا اور دوسرا سرمایہ۔ یہ نکتہ بھی خصوصی طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اس دور میں جبکہ کسی خط کو مخصوص قاصد کے ذریعے بھیجا جاتا اور جس کے پہنچانے کے لیے بسا اوقات کئی ہفتے درکار ہوتے تھے اور کافی سرمایہ خرچ ہوتا تھا اس کے باوجود نہایت ہی اختصار کو مدِّ نظر رکھا جاتا تھا جس کا نمونہ پیغمبرِ اسلام کے خسرو پرویز، قیصرِ روم اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے نام خطوط میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کسی کا خط اس کی شخصیت کا اسی طرح آئینہ دار ہوتا ہے جس طرح اس کا ایلچی اور پیغام رساں۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں حضرت علی کا فرمان ہے: رسولک ترجمان عقلك وكتابك ابلغ من ينطق عنك تمھارا ایلچی تمھاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمھارا خط تمھاری طرف سے سب سے بہتر بات کرنے والا ہوتا ہے۔ [نہج البلاغہ کلمات قصار جملہ 301]۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "يستدل بكتاب الرجل على عقله، و موضع بصيرته، وبرسوله على فهمه وفطنته" کسی شخص کا خط بتاتا ہے کہ اس میں کتنی عقل و بصیرت ہے اور اس کا ایلچی اس کی فہم و ذکا کی نشانی ہوتا ہے۔ [بحار الانوار جلد 76 ص 50]۔ اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا جواب بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح سلام کا جواب۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کی حدیث ہے: وجواب الكتب واجب کوجوب رد السلام خط کا جواب دینا اسی طرح واجب ہے جس طرح اسلام کا جواب۔ [وسائل الشعیہ جلد 8 ص 437 (کتاب الحج ابواب العشرة باب 33)]۔ چونکہ عام طور پر خط میں سلام و دعا ہوتا ہے لہذا بعید نہیں ہے کہ اس آیت شریفہ کے ضمن میں آتا ہو: واذ احييتم بتحية فحيوا باحسن منها اور ردّوها جب تمھیں دعا و سلام کہا جائے تو تم بھی اس کا اس سے بہتر یا اسی جیسا جواب دیا کرو (نساء / 86)

2- آیا سلیمانؑ نے اپنی پیروی کی دعوت دی

بعض مفسرین نے جنابِ سلیمان کے خط سے ظاہراً یہ سمجھا ہے کہ اہلِ سبا کو اپنی دعوت بِلا دلیل قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے تھے۔ پھر انھوں نے اس کا جواب بھی خود ہی دیا ہے کہ ہدہد کا معجزانہ طور پر ان لوگوں کے پاس آنا بذاتِ خود حضرت سلیمان کی دعوت کے برحق ہونے کی دلیل ہے۔ [تفسیر فخر رازی، انہی آیات کے ذیل میں]۔ لیکن ہمارے خیال میں اس قسم کے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ انبیاء کا کام دعوت دینا ہے اور دوسروں کا کام اس کی تحقیق کرنا ہے باالفاظ دیگر دعوت تحقیق کا سبب ہے جیسا کہ ملکہ سباء نے یہ کام انجام دیا ہے اور حضرتِ سلیمان کی دعوت کی تحقیق کی کہ کیا وہ ایک بادشاہ ہیں یا خدا کے پیغمبر؟

3- اس داستان کے اہم اشارے

حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان کے اس حصے میں بھی بعض اہم مطالب کی طرف مختصر اشارے ملتے ہیں۔ 1- انبیاء کی دعوت ہر قسم کی خواہشِ برتری اور تکبر کی نفی کرتی ہے جو درحقیقت ہر قسم کے استعمار کی نفی اور قانونِ حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ 2- جب ملکہ سبا کے مصاحبین نے جنگ کے لیے آمادگی کا اعلان کیا تو چونکہ اس کی زنانہ طبع نازک جنگ کے حق میں نہیں تھی لہذا اس نے ان لوگوں کی توجہ دوسرے مسائل کی جانب موڑ دی۔ 3- اس کے علاوہ اگر وہ ان کے جنگ پر مبنی مشورے کو مان لیتی تو راہِ حقیقت سے ہٹ جاتی اور جیسا کہ ہم آگے پڑھیں گے کہ اس نے قاصد کے ذریعے تحفے تحائف بھیج کر سلیمان کی جس طرح سے آزمائش کی اس کے بہترین نتایج ظاہر ہوئے جو خود اس کی ذات کے لیے بھی اور ملکِ سبا کے باشندوں کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہوئے اور اس بات کا موجب بن گئے کہ وہ حق کی راہ کو پا لیں اور خوں ریزی سے بچ جائیں۔ 4- اس واقعے سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے ضروری نہیں کہ شوریٰ کا نظام ہمیشہ حق پر انجام پذیر ہو۔ کیونکہ یہاں پر ملکہ سبا کے اکثر ساتھیوں کا یہ نظریہ تھا کہ فوجی طاقت کا مظاہرہ دوسری تمام باتوں پر فوقیت رکھتا ہے جبکہ ملکہ کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا اور اس داستان کے آخر میں جا کر معلوم ہو گا کہ حق ملکہ کے ساتھ تھا۔ یہاں پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس قسم کے مشورے ان مشوروں سے بالکل جدا ہیں جو آج کل ہمارا معمول بن چکے ہیں کیونکہ ہم اکثریت کے نظریے کو معیار سمجھتے ہیں اور فیصلے کا حق اکثریت کو دیتے ہیں جبکہ اس قسم کے مشوروں میں کسی قسم کے فیصلے کا حق عوام کے قائد کو ہوتا ہے اور مشیر لوگ صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں اور مندرجہ ذیل آیت مشورے کی اسی دوسری قسم کی طرف اشارہ ہے: شاورهم في الامر فاذ اعزمت فتوکل علی الله اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کر لیا کریں اور جب کوئی فیصلا کر لیں تو پھر خدا پر بھروسہ کریں (آل عمران / 159) جبکہ سورہ شوریٰ کی آیت 38 کا ظاہراً مشورے کی پہلی قسم کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا گیا ہے: و امرهم شورٰی بینهم مومنین کا کا مشورے سے انجام پانا چاہیے۔ [مشورے کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد 3 میں سورہ آلِ عمران کی آیت 159 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں]۔ 5- ملکہ سبا کے مشیروں نے اسے کہا کہ ہم صاحبِ قوت اور جنگجو ہیں۔ ممکن ہے کہ ان دو لفظوں کی باہمی فرق یہ ہو کہ "قوة" لشکر کی عظیم تعداد کی طرف اشارہ ہو اور"باس شدید" ان کے جنگی کاموں اور طریقہ کار سے واقفیت اور فوج کی شجاعت کی طرف اشارہ ہو یعنی وه زبانِ حال سے یہ کہنا چاہتے ہوں کہ ہم لشکر کی تعداد کے لحاظ سے بھی اور اس کی کیفیت کے لحاظ سے دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے بالکل آمادہ ہیں۔

4- بادشاہوں کی علامت

ان آیات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ استبدادی حکومت اور سلطنت ہر جگہ پر فساد و تباہی اور کسی قوم کے باعزت افراد کو ذلیل کرنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس میں باحیثیت افراد کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے اور چاپلوس اور خوشامدی لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے ہر قدم پر انہیں اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے انھیں صرف تھے تحائف بھیجنے والوں، رشوت دینے والوں اور زر و جوہرات پیش کرنے والوں سے ہی سروکار ہوتا ہے پھر جو ظالم لوگ ان امور پر دسترس رکھتے ہیں فطری طور پر ان کے منظور نظر اور محبوبِ خاطر ہوتے ہیں۔ بادشاہوں کا دھیان ہی ہمیشہ مقام و منصب، تحفے تحائف اور زر و جواہر کی طرف ہوتا ہے۔ جبکہ انبیاء الٰہی کے سامنے امت کی اصلاح کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔

36
27:36
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٖ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيۡرٞ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُمۚ بَلۡ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُونَ
جب (ملکہ سباء کے ایلچی) سلیمان کے پاس آئے تو اس نے کہا:تم مجھے مال کے ذریعہ مدد(اور فریب دینا) چاہتے ہو۔ جو خدا نے مجھے عطافرمایا ہے وہ اس سے کہیں بہترہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔یہ تو تم ہی ہو جو اپنے تحفے تحائف پر خوش ہوتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔

37
27:37
ٱرۡجِعۡ إِلَيۡهِمۡ فَلَنَأۡتِيَنَّهُم بِجُنُودٖ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخۡرِجَنَّهُم مِّنۡهَآ أَذِلَّةٗ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
ان کے پاس لوٹ جاؤ،(اور انہیں جا کر بتادو کہ) ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان کی طرف آئیں گے جن سے مقابلہ کی طاقت ان میں نہیں ہو گی اور انہیں اس سر زمین سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ نہایت ہی حقیر ہوں گے۔

مجھے مال کے ذریعہ نہ ورغلاؤ

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ملکہ سبا کے روانہ کیے ہوئے افراد نے سرزمینِ یمن کو خیرباد کہا اور شام اور جنابِ سلیمان کے مرکز حکومت کی طرف چل دیئے۔ دل میں یہی تصور لیے ہوئے سلیمان ان کے تحائف قبول کر لیں گئے اور خوش ہو کر انھیں شاباش کہیں گے۔ لیکن جوں ہی وہ سلیمان کے حضور پیش ہوئے (فلماجاء سليمان) تو وہاں پر عجیب و غریب منظر دیكھا سلیمان نے نہ صرف ان کا استقبال نہیں کیا بلکہ انھیں یہ بھی کہا "کیا تم یہ چاہتے ہو کہ (اپنے) مال کے ذریعے میری مدد کرو"؟ حالانکہ یہ مال میری نگاہ میں بالکل بے قیمت سی چیز ہے جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے اس سے کئی حصے بہتر اور کہیں قیمتی ہے (قال اتمدونن بمال فما أتاني الله خير مما اٰتاکم)۔ نبوت، علم و دانش، ہدایت اور تقوی کے مقابلے میں مال کی کیا حیثیت ہے؟ "یہ تو تم ہو جو اپنے تحفے تحائف پر خوش ہوتے ہو" (بل انتم بهديكم تفرحون)"۔ جی ہاں! یہ تمہی لوگ ہو کہ اس قسم کے حسین اور قیمتی تحفے اگر میرے لیے بھی بھیجو تو اس قدر مسرور و شادماں نظر آتے ہو کہ خوشی کی چمک تمھاری آنکھوں سے نمایاں ہوتی ہے لیکن میری نگاہوں میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اس طرح سے جنابِ سلیمان علیہ اسلام نے ان کی اقدار اور معیار کی نفی کر دی اور تحائف کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا کر ثابت کر دیا ان کے نزدیکی اقدار اور معیار کچھ اور ہیں، دنیا پرستوں کے مقرر کردہ معیار جن کے سامنے ہیج اور بے قیمت ہیں۔ جنابِ سلیمان نے حق و باطل کے مسئلے میں اپنے اس عزم بالجزم کو ثابت کرنے کے لیے ملکہ سبا کے خاص ایلچی سے فرمایا: تم ان کی طرف واپس پلٹ جاؤ (اور اپنے یہ تحفے بھی ساتھ لے جاو) لیکن یہ ضرور یاد رکھو کہ ہم کئی لشکر لے کر ان کے پاس بہت جلد پہنچ رہے ہیں جن کے مقابلے کی طاقت ان میں نہیں ہوگی (ارجع اليهم فلناتينهم بجنوده لاقبل لهم بها)۔ اور ہم انھیں اس سرزمین سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ نہایت ہی حقیر ہوں گے (و لنخرجنهم منها اذلة وهم صاغرون)۔ درحقیقت "اذلة" پہلا حال ہے اور "هم صاغرون" دوسرا حال جس کا معنی یہ ہے کہ ہم نہ صرف اس سرزمین سے انہیں نکال باہر کریں گے بلکہ نہایت ہی ذلت اور حقارت کی حالت میں انہیں ملک بدر کر دیں گے اور وہ اپنے تمام محلّات و قصور، مال و دولت اور جاہ و جلال سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے کیونکہ انہوں نے آئینِ حق کے سامنے جھک کر ہماری طرف رجوع نہیں کیا کہ بلکہ مکر و فریب کے ذریعے ہم سے رابطہ کیا ہے۔ جنابِ سلیمان کی یہ دھمکی ان لوگوں کے نزدیک صحیح اور قابلِ عمل بھی تھی کیونکہ انہوں جنابِ سلیمان اور ان کے جاہ و جلال اور فوج و لشکر کو نزدیک سے دیکھا تھا۔ پہلے کی آیات جو ہم پڑھ چکے ہیں اگر ان کی طرف رجوع کی جائے تو معلوم ہو گا کہ جنابِ سلیمان نے ان سے دو چیزوں کا تقاضا کیا تھا کیا ایک تو "برتری طلبی کو ترک کر دیں" اور دوسرا "حق کے آگے جھک جائیں"۔ اہلِ سبا کا ان دونوں چیزوں کا مثبت جواب نہ دینا اور اس کی بجائے تحائف کا بھیجنا اس بات کی دلیل تھا کہ وہ حق کو قبول نہیں کرتے اور نہ ٓہی برتری طلبی سے باز آتے ہیں لہذا سلیمان نے ان پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ جبکہ ملکہ سبا نے اور اس کے درباریوں نے دلیل اور ثبوت یا معجزہ وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا لہذا انہیں موقع فراہم کیا کہ مزید تحقیق کریں لیکن تحفوں کے بھیجنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ انکار کر چکے ہیں۔ یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے کہ جنابِ سلیمان کو ہدہد نے جو ناخوشگوار خبر سنائی تھی وہ یہ کہ ملکِ سبا کے لوگ سورج پرست اور غیب و حضور کے جاننے والے خدا سے روگردانی کیے ہوئے ہیں اور مخلوق کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ حضرتِ سلیمان کو اسی بات سے سخت دکھ پہنچا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ بت پرستی ایک ایسی بات ہے جس کے سامنے کوئی بھی خدائی دین خاموش تماشائی نہیں بن سکتا اور نہ ہی بت پرستوں کو ایک مذہبی اقلیّت مان سکتا ہے بلکہ بوقتِ ضرورت زبردستی بھی بتکدوں کو مسمار اور شرک و بت پرستی کو نیست و نابود کر سکتا ہے۔ مندرجہ بالا توضیحات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے سلیمان کی دھمکی "لا اکراہ فی الدین" کے بنیادی اصول سے بھی متصادم نہیں ہے کیونکہ بت پرستی کوئی دین نہیں بلکہ ایک خرافات اور راہِ حق سے انحراف ہے۔

چند ایک نکات: 1- زہد مادی وسائل سے استفادہ نہ کرنے کا نام نہیں

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ خدا کے کسی بھی دین میں زہد کا معنی یہ نہیں کہ انسان مال و دولت اور دنیاوی وسائل سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ زہد کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے لاکھوں"اسیر" ہو کر نہ رہ جائے بلکہ ان پر "امیر" ہو کر رہے۔ خدا کے عظیم پیغمبر جنابِ سلیمانؑ نے ملکہ سبا کے قمیتی تحائف کو ٹھکرا کر یہ بات ثابت کر دی کہ وہ "امیر" ہیں "اسیر" نہیں۔ حضرت امام جعفرِ صادق سے مروی ایک حدیث میں ہے: الدنيا اصغر قدرًا عند الله و عن دانبياءه واوليائه من ان يفرحوا بشئ منها، ويحزنوا عليه فلا ينبغي لعالم ولا لعاقل ان يفرح بعرض الدنيا دنیا خداوندِ عالم، اس کے انبیاء اور اولیاء کے نزدیک اس قدر پست اور حقیر ہے که وه اس سے کبھی خوش نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے ہاتھ سے چلے جانے سے غمگین ہوتے ہیں بنابریں کسی عالم اور عاقل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیا کی متاعِ ناپائیدار پر خوشی منائے۔ [تفسیر روح البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔

2- کچھ سبق آموز باتیں

داستان کے اس حصے میں بھی چند سبق آموز باتیں موجود ہیں جو پرمعانی آیات میں موجود ہیں مثلاً: الف: لشکر کشی کا یہ ہدف نہیں تھا کہ انسانوں کا قتل عام کیا جائے بلکہ اس کا مقصد دشمن کو اس حد تک ڈرانا تھا کہ وہ مقابلے کی جرات نہ کر سکے (جنود لا قبل لهم بها)۔ یہ تعبیر بعینہٖ اس آیت کے مترادف ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے: واعدوا لهم ما استطعتم من قوة۔..... ترهبون به عدو الله (الانفال / 60)۔ اس قدر طاقت فراہم کرو کہ دشمن پر اس کا خوف طاری ہو جائے۔ ب: حضرتِ سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو قتل کی دھمکی نہیں دی بلکہ انھیں ان کے محلات سے ذلت و خواری کے ساتھ نکال باہر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ج : حضرتِ سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو غفلت میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں حملہ کرنے کی صاف صاف دھمکی دی۔ د: جنابِ سلیمان علیہ السلام دوسروں کے مال پر نظریں نہیں ڈالتے بلکہ فرماتے ہیں: جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ وہ خدائی عنایات کو مادی اور مالی چیزوں میں منحصر نہیں سمجتے بلکہ علم و ایمان اور معنوی عطاء و بخشش پر نازاں ہیں۔

38
27:38
قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَيُّكُمۡ يَأۡتِينِي بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ أَن يَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
(سلیمان نے)کہا: اے سردارو! تم میں سے کون شخص اس کا تخت میرے پاس لاسکتا ہے قبل اس کے کہ وہ خود میرے پاس آئے اور سر تسلیم خم کرے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
27:39
قَالَ عِفۡرِيتٞ مِّنَ ٱلۡجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَۖ وَإِنِّي عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٞ
جنوں میں سے ایک عفریت نے کہا: میں اسے آپ کے مجلس سے اٹھنے سے پہلے آپ کے پاس لے آؤں گا اور میں اس کو لانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔

40
27:40
قَالَ ٱلَّذِي عِندَهُۥ عِلۡمٞ مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن يَرۡتَدَّ إِلَيۡكَ طَرۡفُكَۚ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسۡتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضۡلِ رَبِّي لِيَبۡلُوَنِيٓ ءَأَشۡكُرُ أَمۡ أَكۡفُرُۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيّٞ كَرِيمٞ
لیکن جس کے پاس(آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا اس نے کہا:میں اسے آپکے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا اور جب سلیمان نے اس (تخت) کو اپنے پاس موجود دیکھا تو کہا: یہ سب میرے پروردگار کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں اس کاشکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کر تاہو ں کیونکہ جو شخص شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے میں شکر کرتا ہے اور جو کفران نعمت کرتا ہے تو(جان لے) کہ میرا رب بے نیاز اور کر یم ہے۔

تفسیر: پلک جھپکتے ہی تخت موجود

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

آخرکار ملکہ کے کارندے اپنے تحفے تحائف اور ساز و سامان اکٹھا کر کے اپنے ملک واپس چلے گئے اور سارا ماجرا ملکہ اور اس کے مصاحبین سے جا کر بیان کیا، اسی طرح حضرت سلیمان کے ملک کی معجزانہ عظمت بھی بیان کی جن میں سے ہر ایک بات اس امر کی دلیل تھی کہ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہیں اور نہ ہی عام دنیاوی بادشاہ ہیں بلکہ خدا کے سچے پیغمبر ہیں اور ان کی حکومت ایک خدائی حکومت ہے۔ یہاں پر ان کے لیے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ نہ صرف جنابِ سلیمان کے ساتھ فوجی مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ اگر بالفرض مقابلہ کریں بھی تو قوی احتمال یہی ہے کہ ان کا خدا کے ایک زبردست طاقتور نبی سے مقابلہ ہو گا۔ لہذا ملکہ سبا نے اپنی قوم کے بہت سے سرداروں کے ساتھ مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ سلیمان کے پاس ذاتی طور پر جا کر اس اہم مسئلے کے بارے میں تحقیقات کریں تاکہ پتہ چل سکے کہ سلمان کا کیا مسلک ہے؟ کسی بھی صورت میں یہ خبر حضرتِ سلیمان تک بھی پہنچ گئی لہذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب جبکہ ملکہ اور اس کے ساتھی راستے میں ہیں انھیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ انھیں پہلے سے زیادہ ان کے اعجاز کی حقیقت کا علم ہو جائے اور وہ ان کی دعوت قبول کر لیں۔ لہذا حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں سے مخاطب ہو کر کہا اے بزرگو، تم میں سے کون شخص اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ خود میرے پاس آئیں اور سرِتسلیم خم کریں "قال یا ایھا الملوا ايّكم يأتيني بعرشها قبل ان يأتوني مسلمين"۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ملکہ سبا کے تخت کو یہاں پر لانے کی دلیل کے سلسلے میں اپنے آپ کو بہت زحمت میں ڈالا ہے بلکہ کچھ اسے احتمالات بھی ذکر کیے ہیں جو کسی بھی صورت میں آیت کے موضوع سے مناسبت نہیں رکھتے لیکن واضح سی بات ہے کہ جنابِ سلیمان کے اس کام کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ وہ تو ان سے اپنی طاقت کا لوہا منوانا چاہتے تھے تاکہ اس طرح سے ایک نہایت اہم مقصد حاصل ہو یعنی اس طرح سے ان کے غیر مشروط طور پر ان کے دین کے آگے جھکنے اور قدرتِ خدا پر ایمان لانے کے راستے ہموار ہو جائیں اور میدانِ جنگ میں جانے اور خوں ریزی کی نوبت نہ آنے پائے۔ وہ چاہتے تھے کہ ملکہ سباء اور اس کے رفقاءِ کار کے وجود کی گہرائیوں میں ایمان اچھی طرح راسخ ہو جائے تاکہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی ایمان لانے کی دعوت دے سکیں۔ اس موقع پر دو قسم کے افراد نے کہا کہ ہم یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جن میں سے ایک عجیب اور دوسرا عجیب تر تھا۔ سب سے پہلے جنّوں میں سے ایک عفریت نے ان کی طرف منہ کر کے کہا: میں اس کا تخت آپ کے مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے آپ کے پاس لا دوں گا (قال عفریت من الجن انا أنتيك به قبل ان تقوم من مقامك)۔ [اٰتی کے بارے میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ وہ "اتی" مادہ سے "اسم فاعل" ہو اور دوسرا اسی مادہ سے "فعل مضارع" بھی ہو سکتا ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے]۔ یہ کام میرے لیے مشکل نہیں ہے اور نہ ہی میں اس بارے میں کسی قسم کی خیانت کروں گا کیونکہ میں اس سلسے میں طاقتور بھی ہوں اور امین بھی (وانی علیه لقوی امین)۔ "عفریت" کا معنی ہے مغرور، سرکش اور خبیث اور "انی عليه لقوی امین" کے جملہ کی کئی لحاظ سے تاکید کی گئی ہے ("ان" لفظ اسمیہ اور لام کے ساتھ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عفریت میں کئی لحاظ سے خیانت کا اندیشہ تھا لہذا اسے اپنا دفاع کرنا پڑا اور امانت و وفاداری کا یقین دلانا پڑا۔ صورتحال خواہ کچھ ہو جنابِ سلیمان کی زندگی عجائبات اور مجرات سے بھری پڑی ہے اور کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے کہ ایک عفریت اس قسم کا کارنامہ ایک یا چند گھنٹوں میں انجام دے یعنی جتنی دیر سلیمان لوگوں میں فیصلے کے لیے یا امورِ مملکت میں غور و فکر کر کے لیے یا عوام کو وعظ و نصیحت کے لیے بیٹھتے ہیں اتنی دیر میں وہ بھی ملکہ سبا کا تخت لا کر حاضر کر دیتا۔ دوسرا ایک صالح اور متقی انسان تھا اور "کتابِ خدا" سے بھی اسے اچھی خاصی واقعیت تھی۔ جیسا کہ اس شخص کے بارے میں خود قرآن کہتا ہے "جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا اس نے کہا میں آپ کے پلک جھپکنے سے بھی پہلے اس تخت کو لے آؤں گا" (قال الذى عنده علم من الکتاب انا اٰتیک بہ قبل ان یرتد اليك طرفك)۔ جب حضرت سلیمان نے اس کی پیش کش منظور کر لی تو اس نے بھی اپنی معنوی طاقت کے ذریعے ملکہ صبا کا تخت پلک جھپکنے میں آپ کے پاس حاضر کر دیا اور جب سلیمان نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہنے لگے: یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر بجا لاتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں (فلما رأه مستقرا عنده قال هذا من فضل ربى ليبلوني اشكر ام اكفر)۔ پھر خود ہی فرماتے ہیں: جو شخص شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ میں شکر کرتا ہے اور جو کفرانِ نعمت کرتا ہے سو میرا پروردگار بےنیاز اور کریم ہے (ومن شکر فانما يشكر لنفسه ومن كفر فان ربي غني كريم)۔ یہ شخص کون تھا، اسے یہ عجیب و غریب طاقت کہاں سے ملی اور علم الکتاب سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص جنابِ سلیمان کے مومن اور قریبی رشتہ داروں اور خاص دوستوں میں سے تھا۔ تواریخ میں اس کا نام "آصف بن برخیا" لکھا ہے۔ وہ جنابِ سلیمان علیہ السلام کے وزیر اور بھانجے تھے۔ [بعض لوگوں نے اس سے حضرت سلیمان علیہ السلام یا جناب جبرائیل علیہ السلام مراد لیے ہیں۔ ان کا یہ دعوی بِلا دلیل ہے اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں تو ظاہر آیات کے بھی قطعاً خلاف ہے]۔ اور "علم کتاب" سے ان کی آسمانی کتابوں سے واقعیت مراد ہے ایسی عمیق اور گہری واقفیت جس سے ان کے لیے ممکن ہو گیا کہ وہ اس طرح کا معجزانہ کارنامہ انجام دیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے یعنی علمِ الہٰی کی لوح اور اس کے صرف ایک گوشے کا اس بندہ خدا کو علم حاصل تھا جس کی وجہ سے وہ ملکہ کے تخت کو "سبا" سے آنکھ جھپکنے کی دیر میں لانے پر قادر تھا۔ بہت سے مفسرین اور غیر مفسّرین کا کہنا ہے کہ یہ مردِ مومن اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم سے باخبر تھا۔ یعنی ایسا باعظمت اور بزرگ نام جس کے سامنے دنیا کی ہر چیز سر جھکائے ہوئے ہے اور وہ انسان کو بےحد و انداز قدرت عطا کرتا ہے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر لوگ یہ سجھتے ہیں کہ اسمِ اعظم سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص کلمہ کے زبان سے نکال دینے سے اس کے اس قدر عجیب و غریب اثرات ظاہر ہو جاتے نہیں ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اس نام اور اس کی صفات کو اپنانا ہوتا ہے اور دل و جان سے اس پر عمل کرنا ہوتا ہے اور علم، اخلاق، تقویٰ اور ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو کر خود کو اس کا مظہر بنانا ہوتا ہے تب کہیں جا کر اس اسمِ اعظم کے پَرتو میں انسان کے اندر معجزانہ امور کی انجام دہی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ [خدا کے "اسمِ اعظم" کے بارے میں تفسیرِ نمونہ جلد ۴ "سورہ اعراف کی ایت ۱۸۰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ہم نے وہاں تفصیلی بحث کی ہے]۔ "قبل ان یرتد اليك طرفك" كے بارے میں بھی مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں لیکن اگر قرآنِ مجید کی دوسری آیات کو مدِّنظر رکھا جائے تو اس جملے کی حقیقت واضع ہو جائے گی۔ چنانچہ سورہ براہیم آیت ۴۲ میں ہے: لا يرتد اليهم طرفهم لوگ بروزِ قیامت اس قدر وحشت زدہ ہو جائیں گے کہ ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی حتٰی کہ وہ جھپکیں گی بھی نہیں۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ خوف و وحشت کی حالت میں انسان کی آنکھیں پتھرا کر کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں، جیسے مردے کی آنکھوں کی کیفیت ہوتی ہے۔ بنابریں اس کا معنی یہ ہو گا کہ آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے میں ملکہ سباء کا تخت آپ کے سامنے لے آؤں گا۔ [بعض لوگوں نے کہا ہے کہ "یرتد الیک طرفک" سے مراد کسی چیز پر نگاہ ڈالنا اور نظر کا انسان کی طرف واپس لوٹ آنا ہے لیکن اس کے اس مدعا پر کوئی دلیل نہیں ہے اسی طرح یہ جملہ "آنکھ سے شعاع نکلنے" کے نظریہ پر بھی دلیل واقع نہیں ہو سکتا جو فلسفہ قدیم میں موجود ہے غور کیجئے گا]۔

چند ایک نکات: ا۔ چند سوال اور ان کے جواب:

مندرجہ بالا آیات کے مضمون میں چند ایک سوال پیدا ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ آخر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ معجزانہ کام خود کیوں انجام نہیں دیا؟ جب وہ خود اللہ کے عظیم پیغمبر اور صاحبِ معجزہ نبی تھے تو پھر آپ نے یہ فریضہ جنابِ آصف بن برخیا کے ذمہ کیوں لگایا؟ جواباً عرض ہے کہ یہ ممکن ہے کہ یہ اس لیے ہو کہ وہ جناب سلیمان علیہ السلام کے وصی تھے اور وہ اس ذریعے سے اپنے طاقتور وصی کا تمام لوگوں سے تعارف کرانا چاہتے ہوں۔ [یہ جواب تفسیر عیاشی میں حضرت امام علی نقی علی السلام سے منقول ہے جو آپ نے تفصیل کےساتھ یحییٰ بن کثم کو دیا تھا (تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ص ۹۱)]۔ علاوہ ازیں یہ بات بہت اہم ہے کہ استاد ضروری مواقع پر اپنے شاگردوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کی استعداد، لیاقت اور اہلیّت سے مطلع ہو اور اصولی طور پر شاگردوں کی لیاقت اور اہلیّت استاد کی اہلیّت اور لیاقت کی واضح دلیل ہوتی ہے۔ اگر شاگرد کوئی اہم کارنامہ انجام دیں تو استاد زیادہ قابلِ تعریف ہوتا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرتِ سلیمان نے کس بناء پر ملکہ سبا کا تخت اس کی اجازت کے بغیر اپنے پاس منگوایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے اس کا ایک نہایت عظیم ہدف ہو اور اس سے ان لوگوں کی ہدایت و رہنمائی اور انہیں معجزہ دکھانا مقصود ہو۔ علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ بادشاہوں کا مال اپنا مال تو ہوتا نہیں بلکہ عام طور پر دوسرے لوگوں کا غصب کردہ مال ہوتا ہے۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ عفریت جن میں، ایسے خارقِ عادت کام انجام دینے کی طاقت کیونکر ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب تو ہم اعجاز سے متعلق بحث میں دے چکے ہیں اور وہاں پر بتا چکے ہیں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ غیر مومن لوگ بھی زبردست ریاضتوں اور مشقتوں کی وجہ سے کچھ ایسے امور کی انجام دہی پر قادر ہو جاتے ہیں کہ عموما جو خلافِ معمول ہوتے ہیں لیکن ان کے کاموں میں اور معجزات میں فرق ہوتا ہے کیونکہ ان کے اس قسم کے کام محدود بشری طاقت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں جبکہ معجزات کا دارومدار خداوندِ عالم کی بےپایاں اور لایزال قدرت پر ہوتا ہے جو خود خدا کی دوسری صفات کی مانند غیرمحدود ہوتی ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ عفرمیت جن اپنی توانائی کو ملکہ سبا کے تخت کو لانے کے لیے جنابِ سلیمان کی مجلس برخاست کرنے میں محدود کرتا ہے جبکہ جناب آصف بن برخیا نے اپنی توانائی کو کسی حد میں محدود نہیں کیا اگر وہ پلک جھپکنے کی بات بھی کرتے ہیں تو درحقیقت ایک کم از کم وقت کی طرف اشارہ ہے جس سے کم مدت اور کوئی ہو نہیں سکتی۔ اور مسلم ہے کہ جابِ سلیمان بھی اس قسم کے کاموں میں صالح شخص کی حمایت کریں گے کیونکہ اس طرح سے اس کا تعارف ہو گا اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں گے نہ کہ ایک عفریت کی کہ جس کی وجہ سے کوتاہ بیں لوگ شک میں پڑ جائیں اور اسے اس کی پاکیزگی اور اچھائی کی دلیل سمجھنے لگ جائیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کسی معاشرے میں کوئی اہم کام انجام دے اور لوگوں میں بھی مقبول ہو جائے تو وہ اپنے نظریے کا پرچار بھی شروع کر دیتا ہے لہذا جناب سلیمان کی حکومت الہیہ میں امور مملکت کی باگ ڈور اور ان کی ترویج عفریت کے ہاتھوں میں نہیں آنی چاہیے تھی۔ بلکہ جن لوگوں کے پاس کتابِ اِلہٰی کا کچھ علم تھا انھی کو لوگوں کے افکار و اذہان پر حکومت کرنا چاہیے تھی۔

2- دو اہم چیزیں۔ طاقت اور امانت

مندرجہ بالا آیات اور سوره قصص کی آیت 26 میں کسی اچھے اور مثالی کارکن اور کام کرنے والے کے لیے دو چیزيں اہم شرائط کے طور پر بیان ہوئی ہیں ایک طاقت و توانائی اور دوسرے امانت و دیانتداری۔ البتہ کبھی تو انسان کی اپنی فکری اور اخلاقی بنیادیں اس بات کی متقاضی ہوتی ہیں کہ اس میں یہ شرائط پائی جائیں (جیسا کہ سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں مذکور ہوا ہے) اور کبھی معاشرتی نظام اور صالح حکومت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عفریت جن جیسے افراد بھی ان دو صفات سے ضرور متصّف ہوں لیکن صورت خواہ کچھ بھی ہو جب تک معاشرے میں دو بنیادی شرائط نہ پائی جائیں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا کام انجام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ شرائط خواہ انسان کے ذاتی تقویٰ کی وجہ سے پیدا ہوں یا معاشرے کے قانونی نظام کی وجہ سے (غور کیجئے گا)۔

3- علم من الكتاب اور علم الكتاب میں فرق

زیرِ نظر آیات میں جس شخص نے ملکہ سباء کا تخت پلک جھپکنے کی تھوڑی سی مدت میں سلیمانؑ کے دربار میں لا کر حاضر کیا اس کے بارے میں ہے کہ اس کے پاس "علم من الكتاب" (کتاب کا کچھ علم) تھا۔ جبکہ سورہ رعد کی آیت 43 میں حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے گواہوں کی حقانیت کے بارے میں ہے: قل کفی بالله شهیدًا بینی و بینکم و من عنده علم الكتاب کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے ایک تو خدا کافی ہے اور دوسرے وہ شخص جس کے پاس "کتاب کا علم" ہے۔ ابوسعید خدری سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سلیمان کی داستان میں مذکور) "الذي عندہ علم من الكتاب" کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کے وصی تھے۔ تو پھر میں نے "ومن عنده علم الكتاب" کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ذاك اخي علي بن ابي طالب وہ میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں۔ [اس حدیث کو بہت سے مفسرین اور علماءِ اہلِ سنت نے بیان فرمایا ہے بالکل اس عبارت کے ساتھ یا اس سے ملتی جلتی عبارت کے ساتھ۔ مزید تفصیل کے لیے احقاق الحق کی تیسری جلد ص 280 اور ص 281 ملاحظہ فرمائیں]۔ "علم من الكتاب" جزوی علم کو ظاہر کرتا ہے اور "علم الکتاب" جو کلی علم کو ظاہر کرتا ہے ان کے درمیان فرق کو دیکھا جائے تو اچھی طرح واضح ہو جائے گا کہ جنابِ آصف اور حضرت علی کے درمیان کتنا فرق ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بہت سی روایات میں ہے کہ خداوندِ عالم کے اس اسمِ اعظم کے تہتر حروف ہیں جن میں سے صرف ایک "آصف بن برخیا" کے پاس تھا جس کی وجہ سے انھوں نے ایسا معجزانہ کام انجام دیا کہ پلک جھپکنے کی دیر میں تختِ ملکہ سبا کو سلیمانؑ کے قدموں میں پہنچا دیا اور ان اہلِ بیت علیهم السلام کے پاس بہتر حروف ہیں اور ایک حرف صرف اور صرف ذات خداوندِ عالم کے ساتھ مخصوص ہے۔ [اصول کافی اور تفسیر نور الثقلین کی طرف رجوع فرمائیں]۔

4- هذا من فضل ربی

مغرور دنیا پرست جب بر سرِاقتدار آ جاتے ہیں تو اپنے سوا سب کو بھلا دیتے ہیں اور جب تمام مادی وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں تو قارون کی مانند ہر چیز کو اپنی طرف سے سمجھتے ہیں کسی اور کی جانب سے نہیں جیسا کہ قارون نے کہا ہے: انما اوتيته علٰى علم عندی میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرے اپنے علم کی بناء پر ہے۔ (قصص / 78) جبکہ خدا کے نیک بندے کسی بھی اعلی سے اعلی عہدے اور منصب پر پہنچ جانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں: هذا من فضل ربی یہ سب کچھ میرے پروردگار کا عطیہ ہے۔ پھر قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے ملکہ سبا کا تحت اپنے پاس پا کر صرف یہی نہیں کہا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ یہ اس لیے ہے تاکہ میرا خدا مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر بھی ادا کرتا ہوں یا نہیں؟ اسی سورت کے اوائل میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ جنابِ سلیمانؑ اپنی تمام نعمتوں کو خداوندِ عالم کا عطیہ سمجھتے ہیں اور نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: پروردگارا! مجھے ان تمام نعمتوں کے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق دے۔ مغرور دنیا پرستوں اور خدا کے خالص توحید پرستوں کے فرق کا یہی معیار ہے اور کم ظرف خود پرستوں اور باظرف و باکردار شخصیتوں میں یہی فرق ہے۔ اگرچہ اب یہ معمول سا بن گیا ہے کہ بعض ظاہر پسند اور ریاکار لوگ جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس معنی خیز جملے "هذا من فضل ربی" کو اپنے طاغوطی محلات اور عمارتوں کی پیشانی پر بڑے جلی حروف میں تحریر کرتے ہیں۔ جبکہ نہ تو اس پر ان کا ایمان ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے عمل سے ذرہ برابر بھی کوئی اشارہ ملتا ہے۔ لیکن جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح عمارتوں کی پیشانی پر اسے جلی حروف میں لکھا جاتا ہے اسی طرح یہ انسان کی اپنی پیشانی پر اور اس کے دل میں بھی نقش ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ بات ظاہر کرے کہ اس کے پاس تو جو کچھ بھی ہے وہ فضلِ خداوندی ہے اور اسی کی جانب سے عطا کردہ ہے۔ پھر اس کا شکر بجا لائے اور شکر بھی ایسا جو اس کے اعمال اور وجود سے ظاہر ہو نہ کہ صرف زبان سے۔ [شکر کی اہمیت اور نعمتوں کی فراوانی میں اس کی تاثیر اور شکر کی اقسام "شکر تکوینی اور شکر تشریعی" کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد 2 "سورہ ابراہیم کی آیت 7 کے ذیل" میں تفصیل سے بحث کی ہے]۔

5- تخت کو کیسے حاضر کر دیا

یہ پہلا خارقِ عادت کام نہیں ہے جو ہم حضرت سلیمان علیہ اسلام کی داستان میں پڑھ رہے ہیں یا بطورِ کلّی انبیاء کی داستان میں دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ اس قسم کی تعبیرات کی توجیہہ کر کے ان کے ظاہری معنی کو بدل دینا چاہتے ہیں اور انھیں کنایہ یا کوئی اور معنوی رنگ دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ انبیاء کے معجزات کے بارے میں اپنے نظریے کا دو ٹوک کا اظہار کریں اور بتائیں معجزات کے بارے میں ان کیا عقیدہ ہے۔ کیا وہ انبیاء یا ان کے جانشینوں سے خارقِ عادت کاموں کے انجام پانے کو محال سمجھتے ہیں اور مکمل طور پر اس کا انکار کرتے ہیں؟ اگر ان کا یہی عقیدہ ہے تو پھر یہ عقیدہ نہ تو توحید اور کائنات پر حکم فرما قدرتِ خداوندی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو تمام قوانینِ ہستی پر حکم فرما ہیں اور نہ ہی قرآن کی بہت صریح آیات سے مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن اگر وہ معجزے کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر حضرتِ عیسٰیؑ کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا ہو یا مادرزاد اندھوں کو شفا ملنا ہو یا آصف بن برخیا کے ذریعے سبا سے ملکہ کا تخت آنا ہو ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر مرموز روابط اور ان جانی علتیں کارفرما ہیں جن سے ہمارا محدود علم بالکل ناآشنا ہے۔ ہم تو صرف اس قدر جانتے ہیں کہ اس قسم کا کام محال ہرگز نہیں ہے۔ آیا آصف بن برخیا نے ملکہ سبا کے تخت کو نور کی لہروں میں تبدیل کر کے ایک ہی لمحے میں اسے سلیمان کے پاس پہنچایا اور دوبارہ اسے اپنے اصلی مادے میں تبدیل کر دیا؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں اس کا پورا علم نہیں ہے۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ سائنس کی موجودہ ترقی کے ذریعہ آج انسان ایسے ایسے کارنامے انجام دے رہا ہے کہ اگر ان کارناموں کا ذکر آج سے دو سو سال قبل کیا جاتا تو ممکن ہے لوگ اسے محال سمجھتے۔ مثلاً اگر چند سو سال پہلے کسی کو کہا جاتا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اگر ایک شخص مشرق میں بیٹھ کر گفتگو کرے گا تو اسی وقت مغرب میں رہنے والے لوگ اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور اس کی صورت کو بھی دیکھیں گے تو اس زمانے کے لوگ اسے مجذوب کی بڑیا پریشان خیالی کا نمونہ سمجھتے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے محدود علم کے پیمانوں میں پرکھنا چاہتا ہے جبکہ اس کے علم و قدرت کے ماوراء کروڑوں اسرار و رموز موجود ہیں۔

41
27:41
قَالَ نَكِّرُواْ لَهَا عَرۡشَهَا نَنظُرۡ أَتَهۡتَدِيٓ أَمۡ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهۡتَدُونَ
(سلیمان نے) کہا: اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
27:42
فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرۡشُكِۖ قَالَتۡ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ وَأُوتِينَا ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهَا وَكُنَّا مُسۡلِمِينَ
پس جب وہ آگئی تو اسے کہا گیا کہ کیا تمہارا تخت اس جیسا ہے؟(جواب میں ) اس نے کہا: یہ تو خود وہی معلوم ہوتا ہے۔ہم تو پہلے ہی جان چکے تھے اور سرتسلیم خم کرچکے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

43
27:43
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعۡبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ إِنَّهَا كَانَتۡ مِن قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ
اس طرح(سلیمان نے) اسے غیر خدا کی عبادت سے روک دیا کیونکہ وہ کافروں میں سے تھی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
27:44
قِيلَ لَهَا ٱدۡخُلِي ٱلصَّرۡحَۖ فَلَمَّا رَأَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةٗ وَكَشَفَتۡ عَن سَاقَيۡهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرۡحٞ مُّمَرَّدٞ مِّن قَوَارِيرَۗ قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اسے کہا گیا کہ محل کے صحن میں داخل ہو جائے،لیکن جب اس نے دیکھا تو سمجھا کہ یہ پانی کی نہر ہے۔اس نے(گزرنے کے لیے پائنچے اٹھائے اور) اپنی پنڈلیاں ظاہر کر دیں (لیکن سلیمان نے)کہا: یہ (پانی نہیں بلکہ) صاف بلور کا محل ہے(ملکہ سبا) کہنے لگی:پروردگارا! میں تو اپنے آپ پر ظلم کر تی رہی اور اب سلیمان کے ساتھ مل کر عالمین کے پروردگار کو تسلیم کر تی ہوں۔

ملکہ سبا کے دل میں نورِ ایمان

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

ان آیات میں سلیمان اور ملکہ سبا کی سبق آموز داستان سے متعلق ایک اور پہلو پیش کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کی عقل و خرد کو آزمانے اور خدا پر اس کے ایمان لانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کرنے کا حکم دیا۔ تاکہ وہ پہچانا نہ جا سکے چنانچہ انھوں نے کہا: اس کے تخت میں کچھ تبدیلی کر دو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پاتے (قال نكروا لها عرشها نتظر انھتدی ام تكون من الذين لايهتدون)۔ اگرچہ ملکہ کے تخت کا سباء سے شام میں آ جانا ہی اس بات کے لیے کافی تھا کہ وہ اسے آسانی کے ساتھ نہ پہچان سکے لیکن اس کے باوجود جناب سلیمانؑ نے حکم دیا کہ اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کر دی جائیں ممکن ہے کہ یہ تبدیلیاں بعض علامتوں اور جواہرات کو ادھر ادھر کر کے کی گئی ہوں یا بعض رنگوں کو تبدیل کر دیا گیا ہو لیکن یہاں پر جو سوال درپیش ہے وہ یہ ہے کہ آخر جنابِ سلیمان، اس کی عقل و خرد اور فہم و ذکا کو کیوں آزمانا چاہتے تھے۔ ہو سکتا ہے اس لیے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ اس کے ساتھ کس انداز میں پیش آنا چاہیے اور اپنے عقیدہ کے اثبات کے لیے کون سی دلیل پیش کرنی چاہیے۔ یا ان کا خیال تھا کہ اسے شادی کی پیش کش کریں لہذا وہ دیکھنا یہ چاہتے تھے کیا اس میں آپ کی زوجیت کی لیاقت بھی ہے یا نہیں؟ یا ہو سکتا ہے کہ اس کے ایمان لانے کے بعد کچھ اہم امور کی ذمہ داری اسے سونپنا چاہتے ہیں لہذا وه اس طرح سے اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت کو جاننا چاہتے ہوں۔ "اتهتدی" کے بارے میں دو تفسیریں ذکر ہوئی ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد اس کے اپنے تخت کی پہچان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد معجزات دیکھ کر راہِ خدا کی ہدایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن ظاہراً پہلا معنی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اگرچہ پہلا معنی دوسرے کا مقدمہ ہے۔ صورتِ حال خواہ کچھ ھو جب ملکہ پہنچی تو کسی نے (تخت کی طرف اشارہ کر کے) کہا: کیا آپ کا تخت اسی طرح کا ہے (فلما جاءت قیل اھكذ اعرشك)۔ ظاہراً یہ جملہ کہنے والے خود حضرت سلیمانؑ نہیں تھے وگرنہ "قیل" (کہا گیا) کی تعبیر مناسب نہیں تھی کیونکہ جنابِ سلیمان کا نام اس سے پہلے آ چکا ہے اور بعد میں بھی اور ان کی باتوں کو "قال" کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پھر جنابِ سلیمان کے شایان شان بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے آتے ہی اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے۔ لیکن سوال خواہ کسی نے کیا ہو ملکہ سبا نے نہایت ہی زیرکانہ انداز میں ایک بہت شائستہ اور جچا تلا جواب دیتے ہوئے کہا یہ خود وہی تخت معلوم ہوتا ہے (قالت كانه هو)۔ اگر وہ کہتی کہ اس جیسا ہے تو جواب صحیح نہ ہوتا اور اگر کہتی کہ بالکل وہی ہے تو خلاف احتیاط بات تھی کیونکہ اس قدر لمبے فاصلوں سے اس کے تخت کا سرزمینِ سلیمان میں آنا عام حالات میں ممکن نہیں تھا۔ اس کی صرف ایک ہی صورت رہ جاتی اور وہ ہے معجزہ۔ اس کے علاوہ تاریخ میں ہے کہ ملکہ نے اپنے اس گراں قیمت تخت کی بڑی حفاظت کی تھی اسے اپنے خصوصی محل کے اس خاص کمرے میں اہم مقام پر نصب کیا ہوا تھا جس کی حفاظت کے لیے خصوصی دستہ مقرر تھا اور اس محل کو نہایت مضبوط دروازے لگے ہوئے تھے۔ لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود ملکہ نے اپنے تخت کو پہچان لیا تھا۔ اس نے فوراً کہا: ہم تو اسے پہلے ہی جان چکے تھے اور سرِتسلیم خم کر چکے تھے (و او تینا العلم من قبلها وكنا مسلمين)۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ ان سارے کاموں سے سلیمان کا مقصد تھا کہ ہم اس کے معجزے پر ایمان لے آئیں لیکن ہم اس سے پہلے ہی دوسری علامتوں کی وجہ سے ان کی حقانیّت کے معترف ہو چکے ہیں اور ان غیر معمولی چیزوں کو دیکھنے سے پہلے ہی ان پر ایمان لا چکے ہیں اس طرح کے کاموں کی اب چنداں ضرورت نہیں تھی۔ تو اس طرح سے (سلیمان نے) اسے ہر غیر خدا کی عبادت سے روک دیا (و صدها ما كانت تعبد من دون الله)۔ [تشریحی نوٹ: "صد" کا فاعل کون ہے اور اسی طرح "ما کانت" میں "ما" موصولہ ہے یا مصدریہ؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض نے (جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں) اس کا فاعل سلیمان کو جانا ہے اور بعض نے خداوندِ عالم کو۔ لیکن نتیجے کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کے مطابق "ها" کی ضمیر مفعول اول ہے اور "ما كانت" حرفِ "جار" کے حذف کے ساتھ دوسرا مفعول ہے اور ان کی تقدیر یوں ہو گی "صدها سلیمان۔یا۔ صدها الله عما كانت تعبد من دون الله" لیکن بعض دوسرے مفسرین نے "ماكانت" کو "صدها " کا فاعل جانا ہے تو ایسی صورت میں اس کا معنی یوں ہو گا: ملکہ کے معبودوں نے اسے حق کی پرستش سے روک دیا۔ لیکن چونکہ یہاں پر اس کے ایمان کی گفتگو ہو رہی ہے نہ کفر کی، لہذا پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ "ما" یہاں پر موصولہ ہو یا مصدریہ ہو]۔ ہر چند کہ وہ اس سے پہلے کافروں میں سے تھی (انها كانت من قوم کافرین)۔ تو اس نے یہ واضح اور روشن علامات دیکھ کر اپنے تاریک ماضی کو الوداع کہا اور اپنی زندگی کے نئے مرحلے میں قدم رکھا، جو نورِ ایمان و یقین سے بھرپور تھا۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں ایک داستان کا ایک اور منظر پیش کیا گیا ہے اور وہ ہے ملکہ سباء کا حضرت سلیمان کے خصوصی محل میں داخلہ۔ حضرت سلیمانؑ نے حکم دے دیا تھا کہ ان کے ایک محل کے صحن کو بلور سے تیار کیا جائے اور اس کے نیچھے پانی چلا دیا جائے۔ تو جب ملکہ سباء وہاں پہنچی تو اسے کہا گیا کہ محل کے صحن میں داخل ہو جاؤ (قيل لها ادخلى الصرح)۔ ["صرح" (بر وزن "طرح") کا ایک معنی تو وسیع و عریض فضا ہے اور دوسرا معنی بلند و بالا عمارت یا محل۔ لیکن یہاں پر بظاہر محل کے دالان کے معنی میں ہے]۔ ملکہ نے جب صحن کو دیکھا تو اس نے سمجھا کہ پانی کی نہر چل رہی ہے اس نے پنڈلی سے کپڑا اٹھایا تاکہ پانی کو عبور کرے (اور وہ تعجب میں غرق تھی کہ پانی کی نہر کا یہاں کیا کام؟) (فلما راته حسبته لجة و كشفت عن ساقيها)۔ ["لجه" در اصل "لجاح " کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی کام کی انجام دہی میں سختی کرنا۔ پھر گلے میں آواز کی آمد و رفت پر "لجہ" (بر وزن "ضجۃ") کا اطلاق ہونے لگا اور سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کو "لجہ" (بر وزن "جبہ") کہتے ہیں۔ مذکورہ آیت میں موجزن اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے پانی کی طرف اشارہ ہے]۔ لیکن سلیمانؑ نے اسے کہا محل کا صحن صاف و شفاف بلور سے بنا ہوا ہے (یہ پانی نہیں ہے کہ جسے عبور کرنے کے لیے تم نے پائنچے اٹھا رکھے ہیں) (وقال انه صرح ممرد من قواریر)۔ ["صمود" کے معنی "صاف و شفاف" کے ہیں اور "قواریر" "قارورة" کی جمع ہے جس کا معنی بلور اور شیشہ ہے]۔ اس مقام پر ایک نہایت ہی اہم سوال پیش آتا ہے اور وہ یہ کہ جناب سیمانؑ اللہ کے ایک عظیم پیغمبر تھے وہ اس قدر آرائشی اور زیبائشی کاموں میں کیوں لگ گئے؟ یہ ٹھیک ہے کہ وہ ایک بادشاہ اور فرمانروا تھے لیکن دوسرے انبیا کی طرح کیا وہ سادگی کو اختیار نہیں کر سکتے تھے؟ جواباً عرض ہے کہ اگر حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو مسلمان بنانے کے لیے اس طرح کی آرائش و زیبائش سے کام لیا ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟ خصوصاً جبکہ ملک اپنی تمام طاقت و عظمت خوبصورت تاج و تخت، باشکوہ محل و قصر اور زرق برق و آرائش و زیبائش میں ہی سمجھتی تھی چنانچہ حضرت سلیمان نے اسے اپنی سلطنت کی ایک جھلک دکھائی تو ملکہ کی آنکھوں کے سامنے اپنی حکومت کی تمام سج دھج ماند پڑ گئی اور حقیر دکھائی دینے لگی اور یہی بات اس کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی جس میں اسے اقدار اور معیارِ زندگی کے بارے میں تبدیلی کرنا پڑی۔ آخر اس بات میں کیا حرج ہے کہ انھوں نے نقصان دہ اور خونریز لشکر کشی کی بجائے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی کہ ملکہ کا دماغ چکرانے لگا وہ اس قدر مہبوت ہو گئی کہ جنگ کا تصور ہی اس کے دماغ سے کافور ہو گیا خصوصاً جبکہ وہ ایک عورت تھی اور عورت کی سب سے بڑی کمزوری اس قسم کے تکلفات ہوتے ہیں کیونکہ عورت ایسے تکلفات کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس بات کی تصریح بھی کی ہے کہ ملکہ سبا کے سرزمینِ شام میں قدم رکھنے سے پہلے حضرت سلیمان نے حکم جاری کر دیا تھا کہ اس قسم کا ایک عظیم محل تیار کیا جائے جس سے ان کا مقصد ملکہ کو مطیع کرنے کے لیے اپنی طاقت کے مظاہره کرنا تھا اور اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ظاہری طاقت کے لحاظ سے بھی عظیم جناب سلیمانؑ کے پاس ایک بڑی طاقت ہے جس کے ذریعے انھوں نے ایسا کام انجام دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک وسیع و عریض علاقے کا امن و امان، دینِ حق کی قبولیت اور بے پناہ جنگی اخراجات سے بچنے کے لیے اس قسم کے اخراجات کوئی بڑی بات نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملکہ سبا نے ان مناظر کو دیکھا تو فوراً کہا: پروردگارا! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے (قالت رب أني ظلمت نفسي)۔ اور اب میں سلیمان کے ساتھ مل کر اس اللہ کی بارگاہ میں سرِتسلیم خم کرتی ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے (واسلمت مع سليمان لله رب العالمين)۔ میں پہلے سورج کی پوجا کیا کرتی تھی۔ زیب و زینیت میں کھو چکی تھی اور خود کو دنیا کا سب سے بہتر اور برتر انسان سمجھتی تھی۔ لیکن اب پتہ چلا ہے کہ میری طاقت کتنی کمزور اور حقیر تھی بلکہ اصولی طور پر یہ زر و جواہر اور قیمتی زیورات انسانی روح کو کبھی سیراب نہیں کر سکتے۔ خداوندا! میں اپنے رہبر سلیمانؑ کے ساتھ مل کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، اپنے کیے پر نادم ہوں اور تیرے آستان قدسی پر میں نے اپنا سر جھکا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پر لفظ "مع" استعمال کیا گیا ہے (یعنی سلیمانؑ کے ساتھ) تاکہ واضح ہو جائے کہ راہِ خدا میں سب برابر ہیں نہ کہ ظالم اور جابر بادشاہوں کی مانند کہ جن کے ہاں ایک دوسرے پر مسلط ہوتا ہے خدا کے سامنے نہ کوئی غالب ہے اور نہ مغلوب، جب حق کو قبول کر لیا تو سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ملکہ اس سے پہلے بھی اپنے ایمان کا اعلان کر چکی تھی جیسا کہ ہم گزشتہ آیات میں اس کی اپنی زبانی سن چکے ہیں کہ: واو تيتا العلم من قبلها وكنا مسلمين ہم اس تخت کو یہاں پر لائے جانے سے پہلے ہی جان چکے تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے۔ لیکن اس مرحلے پر پہنچ کر ملکہ کا اسلام اپنے عروج کو جا پہنچا لہذا اس نے پہلے سے زیادہ زوردار طریقے سے اس کا اظہار کیا۔ ملکہ دعوتِ سلیمان کی حقانیت کی علامتیں پہلے سے دیکھ چکی تھی: ہدہد کا خاص انداز میں آنا۔ ملکہ کی طرف سے ارسال شدہ عظیم تحائف کا واپس لوٹا دینا۔ مختصر سے عرصہ میں دور دراز کے سفر سے اس کا تخت یہاں پر لانا۔ المختصر سلیمانؑ کی انتہائی زیادہ عظمت و طاقت کا مشاہدہ کرنا اور پھر اس سب کچھ کے باوجود جنابِ سلیمان کا عظیم اخلاق دیکھنا کہ جو بادشاہوں کے اخلاق سے ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتا۔

چند اہم نکات: 1- ملکہ سباء کا انجام

ملکہ سبا کے بارے میں جو کچھ قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہی ہے جو ہم نے ابھی پڑھا ہے۔ آخرکار وہ ایمان لے آئی اور صالحین کے کارواں میں شامل ہو گئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ ایمان اختیار کرنے کے بعد وہ اپنے ملک کو واپس لوٹ گئی اور سلیمان کی طرف سے ملک پر حکمرانی کرتی رہی یا سلیمان کے پاس رہ گئی اور انہی کے ساتھ شادی کر لی، یا سلیمانؑ کے مشورے پر یمن کے کسی بادشاہ سے جسے "تبع" کہا جاتا تھا کے ساتھ عقد کر لیا۔ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں بتایا۔ چونکہ قرآن کا ہدف اصلی تربیتی مسائل بیان کرنا ہے اور یہ بات ان مسائل سے غیر معتلق تھی لہذا اسے بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی لیکن مفسرین اور مورخین نے اس بارے میں مختلف راستے اختیار کیے ہیں جن کی تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کے بقول مشہور و معروف یہی ہے کہ وہ حضرت سلیمان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی۔ [روح المعانی از آلوسی]۔ البتہ اس مقام پر ایک نکتے کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جنابِ سلیمان اور ان کے لشکر و حکومت کے بارے میں نیز ملکہ سبا اور اس کی تفصیلی زندگی کے بارے میں بہت ہی افسانہ طرازی کی گئی ہے کہ بعض مواقع پر تو عوام الناس کے لیے حق و باطل میں تمیز کرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے اور بعض موقعوں پر اس صحیح تاریخی واقعے پر ایسے تاریک پردے ڈال دیئے جاتے ہیں کہ تو اس کی اصلیت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ ان خرافات کا غلط نتیجہ ہوتا ہے جو حقائق کے ساتھ ملا دیئے جاتے ہیں لہذا ایسے خرافات سے پوری طرح چوکنا رہنا چاہیئے۔

2- سلیمان کی داستان کا خلاصہ

حضرتِ سلیمان کے حالات کا کچھ حصہ جو مندرجہ بالا تیس آیات میں ذکر ہوا ہے۔ بہت سے مسائل بیان کرتا ہے جن میں سے کچھ تو تفصیلی طور پر پڑھ چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ 1- داستانِ حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤد علیہ اسلام کو خدا کی طرف سے علم ہونے کے ذکر سے شروع ہوتی ہے۔ توحید و فرمانِ الٰہی کے سامنے جھک جانے پر ختم ہو جاتی ہے اور توحید بھی ایسی کہ جس کا مرکز "علم" ہے۔ 2- یہ داستان بتاتی ہے کہ کسی پرندے کا غائب ہو جانا اور کسی علاقے پر اس کا پرواز کرنا بعض اوقات کسی ملت کی تاریخ کے دھاروں کو بھی بدل سکتا ہے اسے شرک سے ایمان کی طرف اور برائی سے اچھائی کی طرف پلٹا سکتا ہے اور یہی چیز پروردگارِ عالم کی قدرت کاملہ اور حکومتِ حقّہ کا ایک ادنی سا نمونہ ہے۔ 3- اس داستان سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نورِ توحید تمام دلوں میں جلوہ فگن ہے حتی کہ ایک پرنده بھی جو ظاہراً خاموش ہے توحید کے اسرارِ پوشیدہ کی خبر دیتا ہے۔ 4- کسی انسان کو اس کی اصلی قدر و قیمت کی طرف توجہ دلانے اور اسے اللہ کی طرف ہدایت دینے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کی رعونت اور تکبّر کو توڑا جائے تاکہ آنکھوں پر پڑے ہوئے تاریک پردے اس کی حقیقت میں نگاہوں کے آگے سے ہٹ جائیں جیسا کہ جناب سلیمانؑ نے دو کام کر کے ملکہ کے غرور و تکبر کو چکنا چور کر دیا، ایک تو اس کا تخت منگا کر اور دوسرے اپنے محل کے ایک حصے میں اسے مغالطے میں ڈال کر۔ 5- انبیاء کرام کی حکومت میں ان کا منتہائے مقصود کشور کشائی نہیں ہوتا بلکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اس سلسلے کی آخری آیت میں ہم نے پڑھا ہے یعنی سرکش لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور رب العالمین کے حضور سرتسلیم خم کر دیں اسی لیے قرآنِ مجید نے بھی اس داستان کا اختتام اسی نکتے پر کیا ہے۔ 6- "ایمان" کی روح "تسلیم" ہے یہی وجہ ہے کہ جناب سلیمانؑ نے بھی اپنے خط میں اسی بات پر زور دیا تھا اور ملکہ سبا بھی آخر میں یہی کہتی رہی ہے۔ 7- کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کسی انسان کے پاس دنیا کی بہت طاقت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسے پرندے جیسی کمزور سی مخلوق کی ضرورت پڑ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اس کے علم سے بلکہ اس کے کام سے بھی استفادہ کرتا ہے اور کبھی چیونٹی جیسی کمزور و ناتواں مخلوق اس کی تحقیر کر دیتی ہے۔ 8- ان آیات کا مکّہ میں اس وقت نازل ہونا جب مسلمان زبردست مشکلات کا شکار تھے اور دشمن نے ہر طرف سے ان گھراؤ کر رکھا تھا، مسلمانوں کی دلجوئی اور ان کی تقویت کا باعث تھا اور انھیں مستقبل میں خدا کی طرف سے کامیابیوں کی امید دلانے کا باعث تھا۔

45
27:45
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمۡ فَرِيقَانِ يَخۡتَصِمُونَ
اور ہم نے(قوم) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدائے واحد کی عبادت کرو۔لیکن وہ دوحصوں میں تقسیم ہو کر جھگڑا کرنے لگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
27:46
قَالَ يَٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِۖ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
(صالح نے) کہا: اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو؟ خداوند عالم سے اپنی بخشش کی درخواست کیوں نہیں کرتے ہو تاکہ تم بھی رحمت الٰہی میں شامل ہو جاؤ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 47 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
27:47
قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَـٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ
انہوں نے کہا:ہم نے تمہیں بھی اور جو لوگ تمہارے ساتھ ہیں انہیں بھی فال بدسمجھا ہے۔(صالح نے) کہا:بد(اور نیک) فال تو خدا کے پاس ہے۔ تم ایسے لوگ ہو جنہیں آزمایا جار ہا ہے۔

حضرتِ صالح اپنی قوم کے سامنے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں خداوندِ عالم کے تین پیغمبروں موسٰیؑ، داؤدؑ اور سلیمانؑ کا تذکرہ ہے اب یہاں پر جس چوتھے نبی اور اس کی قوم کا ذکر ہوا ہے وہ حضرت صالح علیہ السلام اور ان کی قومِ ثمود ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ ہم نے قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو عبادتِ خدا کی دعوت دیں (ولقد ارسلنا الى ثمود اخاهم صالحًا ان اعبدوا الله)۔ ["ان اعبدوا الله" کا جملہ اس حرفِ جر کے ساتھ مجرور ہے جو مقدر ہے اور اس کی اصل یوں ہے "ولقد ارسلنا الى ثمود اخاهم صالحًا بعبادة الله"]۔ جیسا کہ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ انبیاء کی داستان میں "اخاهم" (ان کے بھائی) کی تعبیر کا مقصد ان انبیاء کے اپنی قوم سے نہایت دلسوزی اور محبت کے اظہار کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور بعض مقامات پر اس کے علاوہ رشتہ داری کی طرف اشاره ہوتا ہے۔ بہرحال، اللہ کے اس باعظمت نبی کی دعوت اور تبلیغ کو صرف ایک جملے میں خلاصہ کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے "ان اعبدوا الله" یقینًا عبادتِ خداوندی ہی تمام خدائی پیغمبروں کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے: وہ لوگ صالح کی دعوت کے سلسلے میں دو حصوں میں بٹ گئے اور لڑنے جھگڑنے لگے (ایک طرف مومن تھے اور دوسری طرف ضدی مزاج منکر)- (فاذاهم فريقان يختصمون)۔ ["فریقان" تثینہ ہے اور اس کا فعل "يختصمون" جمع کی صورت میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر طریق ایک گروہ سے تشکیل پاتا ہے اور مل ملا کر ایک مجموعہ بنتا ہے]۔ سورہ اعراف کی 75 ویں اور 76 ویں آیت میں ان دو گروہوں کو "مستکبرین" اور "مستضعفین" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو: قال الملا الذين استكبروا من قومہ للذين استضعفوا لمن اٰمن منهم اتعلعون ان صالحًا مرسل من ربه قالوا انا بما ارسل به مؤمنون قال الذين استكبروا انا بالذي أمنتم به كافرون قومِ صالح کے بڑے بڑے مستکبرین نے مستضعف مومنین سے کہا کیا تمھیں یقین ہے کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تو انھوں نے کہا جی ہاں! ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو وہ لے کر آئے ہیں، لیکن مستکبرین نے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ البته مومنین اور کافرین کے درمیان اس قسم کی لڑائی اكثر انبیاء کے زمانے میں رہی ہے ہر چند کہ بعض انبیاء تو اتنی مقدار میں بھی طرف داروں سے محروم رہے ہیں اور تقریباً سب لوگ ان کے منکرین کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔ حضرت صالح علیہ اسلام نے انھیں بیدار کرنے کے لیے انھیں تنبیہ کرنا شروع کی اور دردناک عذاب میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں نے نہ صرف نصیحت حاصل نہ کی اور بیدار نہ ہوئے بلکہ اسی چیز کو اپنی ہٹ دھرمی کی ایک آڑ بنا کر اس بات پر اصرار کرنے لگے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر ہم پر عذابِ الہی کیوں نازل نہیں ہوتا؟ (یہی چیز سوره اعراف کی آیت 77 میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے)۔ لیکن صالحؑ نے انھیں کہا: اے میری قوم! تم نیکیوں کی کوشش اور ان کی تلاش سے پہلے ہی عذاب اور برائیوں کے لیے جلدی کیوں کرتے ہو؟ (قال ياقوم لم تستعجلون بالسيئة قبل الحسنة)۔ تم اپنی تمام تر فکر عذابِ الٰہی کے نازل ہونے پر کیوں مرکوز کرتے ہو؟ اگر تم پر عذاب نازل ہو گیا تو پھر تمھارا خاتمہ ہو جائے گا اور ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے چلا جائے گا۔ آؤ اور خدا کی رحمت اور اس کی رحمت کے ساتھ ایمان کے زیرِ سایہ میری سچائی کو آزماؤ۔ تم خدا کی بارگاہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیوں نہیں کرتے؟ تاکہ اس کی رحمت میں شامل ہو جاؤ (لولا تستغفرون الله لعلكم ترحمون)۔ صرف برائیوں اور عذاب نازل ہونے کا تقاضا کیوں کرتے ہو؟ یہ ہٹ دھرمی اور پاگل پن کی باتیں آخر کس لیے؟ یہ صرف صالح علیہ اسلام کی قوم کے افراد ہی نہیں تھے جنھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرا کر موعود عذاب کا تقاضا کیا بلکہ قرآنِ مجید میں اس قوم کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں جن میں سے ایک قومِ ہود کا واقعہ بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سوره اعراف کی آیت 70۔ حضرت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سرکش معتصب مشرکین کے بارے میں ہے: و اذ قالوا اللهم ان كان هذا هو الحق من عندك فأمطر علينا حجارة من السماء او ائتنا بعذاب الیم وہ وقت یاد کرو جب انھوں نے کہا: اگر محمد کی یہ دعوت برحق ہے اور تیری جانب سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہمیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے۔ (انفال / 32) یہ بات واقعاً عجیب ہے کہ انسان دعوائے محبت کی صداقت کو تباہ کن عذاب کے ذریعے اپنے جانچ رہا ہے کہ رحمت کا سوال کر کے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ قلبی طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی صداقت کے معترف تھے لیکن زبان سے اس انکار کیا کرتے تھے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے کوئی شخص علم طب کا مدعی ہو اور اسے معلوم ہو کہ فلاں دوا سے صحت اور شفا حاصل ہوتی ہے اور فلاں سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن وہ ایسی دوا حاصل کرنے کی کوشش کرے جو مہلک ہے نہ کہ مفید اور شفا بخش ہے۔ یہ جہالت نادانی اور تعصب کی نہایت ہی بد ترین مثال ہو گی اور جہالت کے ستم کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔ بہرحال، اس سرکش قوم نے اس عظیم پیغمبر کی ہمدردانہ نصیحتوں کو دل کے کانوں سے سننے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی بجائے واہیات اور بےکار باتوں کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی، منجملہ اور باتوں کے انھوں نے کہا ہم تمھیں اور جو لوگ تمھارے ساتھ ہیں سب کو ایک بُرا فال سمجھتے ہیں (قالوا اطيرنا بك وبمن معک)۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ سالِ خشک سالی اور قحط سالی کا تھا اسی لیے وہ صالح علیہ اسلام سے کہنے لگے کہ یہ سب کچھ تمھارے اور تمھارے ساتھیوں کے نامبارک قدموں کی بدولت ہوا ہے۔ منحوس لوگ ہو ہمارے معاشرے میں تم ہی بدبختی اور نحوست لائے ہو وہ برے فال کو اس بہانے سے جو درحقیقت بےکار اور شریر لوگوں کا بہانہ ہوتا ہے۔ جناب صالح علیہ السلام کے وزنی دلائل کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جنابِ صالح نے جواب میں کہا: برا فال (اور تمھارا نصیب) تو خدا کے پاس ہی ہے (قال طائرکم عند الله)۔ اسی نے تمھارے اعمال کی وجہ سے تمھیں ان مصائب میں ڈال دیا ہے اور تمھارے اعمال ہی تمھاری اس سزا کا سبب بنے ہیں۔ درحقیقت تمھارے لیے یہ خدا کی ایک عظیم آزمائش ہے جی ہاں! "تم ہی ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جائے گی" (بل أنتم قوم تفتنون)۔ یہ خدا کی آزمائش ہوتی ہے اور خبردار کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں تاکہ جو لوگ سنبھل جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ سنبھل جائیں، خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں غلط راستے کو چھوڑ کر خدائی راستے کو اختیار کر لیں۔

ایک نکتہ: "فال" اور"تطيّر"

"تطیّر" (بدشگونی) "طیر" کے مادہ سے پرندے کے معنی میں ہے۔ چونکہ عرب لوگ پرندوں کے ذریے بری فال لیا کرتے تھے لہذا "تطیر" بری فال (بدشگونی) کے معنی میں آتا ہے۔ جو "تفال" یعنی نیک فال کے مقابلے میں ہے۔ قرآنِ مجید میں بار ہا یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بے ہودہ مشرکین، انبیاء کرام کے مقابلے میں اسی حربے سے کام لیا کرتے تھے جیسا کہ جنابِ موسٰیؑ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہے کہ: وان تصبھم سيئة يطيروا بموسٰى ومن معہ جب بھی فرعون والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ اسے موسٰیؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے۔ (اعراف - 131) زیرِ نظر آیات کے مطابق قومِ ثمود کے مشرکین نے صالح علیہ اسلام کے بارے میں یہی منطق اختیار کی۔ سورہ یٰس کے مطابق (انطاکیہ کی طرف) حضرت عیسٰیؑ کے نمائندوں کے مقابلے میں بھی مشرکین نے یہی منطق اپنائی اور انھیں بدشگونی کا الزام دیا۔ (یٰسں-18)۔ بات در اصل یہ ہے کہ انسان حوادثات کے اسباب و علل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، اسے ہر حادثے اور وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی علت کی تلاش رہتی ہے اگر تو وه موحد اور خدا پرست ہے اور واقعات کے اسباب کا مرکز ذاتِ خداوند ذوالجلال کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کی حکمت کے تحت ہی ہر کام کسی حساب کے تحت انجام پاتا ہے اور قدرتی علت و معلول کے لحاظ سے بھی اپنے علم پر انحصار کرتا ہے پھر تو اس کی مشکل حل ہو جاتی ہے وگرنہ موہوم اور خرافاتی کی علتوں کا ایک سلسلہ از خود گھڑنا شروع کر دیتا ہے کہ جس کی نہ تو کوئی حد ہوتی ہے اور نہ ہی حساب جس کا ایک واضح نمونہ بدشگونی کا نظریہ ہے۔ زمانہ جاہلیّت کے عربوں میں تھا کہ اگر پرندہ ان کی دائیں طرف سے گزر جاتا تو اسے نیک فال اور کامیابی کی دلیل سمجھتے تھے اور اگر بائیں طرف سے حرکت کرتا تو اسے بدشگونی تصّور کرتے اور اپنی ناکامی اور شکست کی دلیل سمجھتے۔ ان کے اندر اس قسم کے اور بھی کئی خرافات اور موہومات پائے جاتے تھے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ان خرافات اور موہومات پر بہت ایمان رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا خدا پر ایمان نہیں ہوتا اگرچہ جدید علم کے لحاظ سے وہ بہت بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں حتی کہ ایک نمک دانی کا زمین پر گر جانا انھیں سخت پریشان کر دیتا ہے اور جس گھر یا میز یا کرسی کا نمبر 13 ہو وہ اس سے گبھرا جاتے ہیں۔ اب بھی رمّالوں اور فال نکالنے والوں کا بازار گرم ہے اور یہ مسئلہ ابھی تک بہت رائج ہے۔ لیکن قرآن صرف ایک مختصر سے جملے میں اس بات کا جواب دیتا ہے "طائركم عند الله" یعنی تمھارا بخت و طالع، فتح و شکست اور کامیابی و ناکامی غرض سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ خدا جو صاحبِ حکمت ہے اور اپنی نعمتیں، لیاقتوں اور صلاحیتوں کی بنا پر عطا کرتا ہے جو انسان کے ایمان و عمل اور گفتار و کردار کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ تو اس طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو خرافات سے حقیقت اور بے راہروی سے صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔ (فال اور شگون کے بارے میں تفسیرِ نمونہ کی جلد 4 سورہ اعراف کی 131 ویں آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔

48
27:48
وَكَانَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٖ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
اور اس شہر (وادی القریٰ) میں نوٹولے تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح کر نے والے نہیں تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
27:49
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ أَهۡلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
انہوں نے کہا:آؤ اور خدا کی قسم کھاؤ کہ اس (صالح) پر اور اس کے خاندان پر شبخون ماریں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔پھر اس کے خون کے وارث سے کہدیں گے کہ ہمیں اسکے اہل خاندان کی ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے اور ہم اپنی اس بات میں بالکل سچے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
27:50
وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا وَمَكَرۡنَا مَكۡرٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
انہوں نے ایک اہم منصوبہ بنایا اور ہم نے بھی ایک اہم منصوبہ بنایا جبکہ وہ اس سے بے خبر تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

51
27:51
فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ أَنَّا دَمَّرۡنَٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ أَجۡمَعِينَ
ذرا دیکھو کہ ان کی سازش کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو نیست و نابود کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
27:52
فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
پس یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے خالی ہو چکے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے واضح نشانی ہے جو آگاہی رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 53 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
27:53
وَأَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا تھا۔

نو مفسد ٹولوں کی سازش

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

یہاں پر حضرتِ صالح اور ان کی قوم کی داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے جو درحقیقت گزشتہ حصے کا تمتّہ ہے اور اسی پر اس داستان کا اختتام ہوتا ہے اس میں حضرت صالح علیہ اسلام کے قتل کے منصوبے کا ذکر ہے جو نو کافر اور منافق لوگوں نے تیار کیا تھا اور خدا نے ان کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ فرمایا گیا ہے: اس شہر (وادی القریٰ) میں نو ٹولے تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے (وكان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الارض و لايصلحون)۔ چونکہ "رهط " کا معنی ہے دس سے کم یا چالیس سے کم افراد کا مجموعہ۔ اس لیے یہاں سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ دو چھوٹے چھوٹے ٹولے نے جن میں سے ہر ایک کی اپنی علیحدہ پالیسی تھی اور ان کی قدر مشترک زمین میں فساد پھیلانا اور اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنا اور اعتقادی و اخلاقی بنیادوں کا اکھیڑنا تھا اور "لايصلحون" اسی بات کی تاکید ہے کیونکہ بعض اوقات انسان فساد برپا کرتا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہو جاتا ہے اور پھر اصلاح کی ترکیبیں سوچتا ہے۔ لیکن حقیقی مفسد ایسا نہیں کرتے ان کا کام ہمیشہ فساد برپا کرنا ہوتا ہے وہ کبھی بھی اصلاح کی نہیں سوچتے۔ بالخصوص جبکہ "يفسدون" فعلِ مضارع ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے اور بتا رہا ہے کہ ان کا یہ کام مسلسل ہوتا ہے۔ ان نو میں سے ہر گروہ کا ایک ایک سربراہ بھی تھا اور شاید ان میں سے ہر ا یک کسی نہ کسی قبیلے کی طرف منسوب بھی تھا۔ ظاہر ہے کر جب صالح علیہ اسلام نے ظہور فرمایا اور اپنا مقدس اور اصلاحی آئین لوگوں کے سامنے پیش کیا تو ان ٹولوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد والی آیت کے مطابق انھوں نے کہا: خدا کی قسم اٹھا کر عہد کریں کہ صالح اور ان کے خاندان پر شب خون مار کر انھیں قتل کر دیں گے پھر ان کے خون کے وارث سے کہیں گے کہ ہمیں اس کے خاندان کے قتل کی کوئی خبر نہیں اور اپنی اس بات میں ہم بالکل سچے ہیں (قالوا تقاسموا بالله لنبيتنه و اهله ثم لنقولن لوليہ ما شهدنا مهلك أهله و انا لصادقون)۔ "تقاسموا" فعلِ امر ہے جس کا معنی ہے قسم اٹھانے میں سب شریک ہو جاؤ اور اس بڑی سازش میں ایسا عہد کرو جس میں کوئی لچک نہ ہو۔ پھر لائقِ غور بات یہ ہے کہ انھوں نے قسم بھی "الله" کی اٹھائی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بتوں کو پوجنے کے علاوہ زمین و آسمان کے خالق اللہ پر بھی عقیدہ رکھتے تھے اور اپنے اہم مسائل میں اسی کے نام کی قسم کھاتے تھے۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اتنے مغرور اور بدمست ہو چکے تھے کہ اس قدر ہولناک جرم کے ارتکاب کے لیے بھی انھوں نے خدا ہی نام لیا۔ گویا وہ کوئی اہم عبادت یا کوئی ایسا کام انجام دینے لگے ہوں اللہ کو منظور ہے۔ خدا سے بےخبر مغرور اور گمراه لوگوں کا وطیرہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ "لنبيته" "تنبیت" کے مادہ سے ہے جس کا معنی شب خون مارنا اور رات کے وقت غافل پا کر حملہ کرنا ہے۔ اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صالحؑ کے ہمنواؤں اور ان کے قوم و قبیلے سے خوف کھاتے تھے۔ لہذا انھوں نے ایسا منصوبہ بنایا کہ جس سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں اور صالح کے طرفداروں کے غیظ و غضب کا شکار بھی نہ ہوں۔ گویا وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے۔ بنابریں انھوں نے رات کے وقت حملے کی ترکیب سوچی اور طے کر لیا کہ جب بھی کوئی شخص ان سے پوچھ گچھ کرنے گا توسب متفق ہو کر قسم اٹھائیں گے کہ اس منصوبے میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا حتی کہ وہ اس وقت موجود بھی نہیں تھے۔ (کیونکہ ان کی صالح کے ساتھ مخالفت پہلے سے دنیا کو معلوم تھی)۔ تاریخوں میں ہے کہ ان کی سازش کچھ یوں تھی کہ شہر کے اطراف میں ایک پہاڑ تھا اور پہاڑ میں ایک غار تھی جب بھی جنابِ صالح علیہ اسلام عبادت کیا کرتے تھے اور کبھی کبھار وہ رات کو اسی غار میں جا کر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے تھے اور اس سے راز و نیاز کیا کرتے تھے۔ انھوں نے طے کر لیا کہ وہاں کمین لگا کر بیٹھ جائیں گے جب بھی صالح وہاں آئیں گے انھیں قتل کر دیں گے۔ ان کی شهادت کے بعد ان کے اہلِ خانہ پر حملہ کر کے انھیں بھی راتوں رات موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔پھر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے اگر ان سے اس بارے میں کسی نے پوچھ ہی لیا تو اس سے لاعلمی کا اظہار کر دیں گے۔ لیکن خداوندِ عالم نے ان کی اس سازش کو عجیب و غریب طریقے سے ناکام بنا دیا اور ان کے اس منصوبے کو نقش بر آب کر دیا۔ جب وہ ایک کونے میں گھات لگائے بیٹھے تھے تو پہاڑ سے پتھر گرنے لگے اور ایک بہت بڑا ٹکڑا پہاڑ کی چوٹی سے گرا اور آن کی آن میں اس نے ان سب کا صفایا کر دیا۔ لہذا قرانِ مجید بعد والی آیت میں کہتا ہے: ادھر انھوں نے ایک اہم منصوبہ بنایا اور ادھر ہم نے زبردست منصوبہ تیار کیا اور انھیں اس کا کوئی علم نہیں تھا (و مكروا مكرًا و مکرنا مکرًا وهم لايشعرون)۔ پھر فرمایا گیا ہے۔ ذرا دیکھو کہ ان کی سازش اور مکّاری کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان کو اور ان کی تمام قوم اور طرفداروں کو نیست و نابود کر دیا (فانظر كيف كان عاقبة مكرهم انا دمرناهم وقومهم اجمعين)۔ "مکر" کا لفظ جیسا کہ ہم پہلے (تفسیرِ نمونہ کی دوسری جلد ص 131 پر) بھی بتا چکے ہیں کہ عربی ادب میں ہر قسم کی چارہ جوئی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے آج کل فارسی میں یہ لفظ شیطانی چالوں اور نقصان دہ منصوبوں کے لیے استعمال ہوتا ہے عربی میں ایسا نہیں ہے بلکہ اچھے اور برے دونوں طرح کے منصوبوں اور چارہ جوئی کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ [اردو میں بھی یہ لفظ فارسی مفہوم سے ہم آہنگ ہے۔ (مترجم)]۔ راغب "مفردات" میں کہتے ہیں: المکر صرف الغير عما يقصده مکر یہ ہے کہ کسی کو اپنے مقصد تک پہنچنے سے روکا جائے۔ بنابریں جب یہ لفظ خداوندِ عالم اور کے بارے میں استعمال ہو تو اس کا مفہوم ہو گا کسی نقصان دہ منصوبے اور سازش کو ناکام بنانا اور جب فسادی لوگوں کے بارے میں استعمال ہو گا تو اس کا معنی ہو گا اصلاحی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے روکنا۔ پھر قرآنِ پاک ان کی ہلاکت کی کیفیت اور ان کے انجام کو یوں بیان کرتا ہے۔ دیکھو یہ ان لوگوں ہی کے گھر ہیں کہ جو اب ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں (فتلك بيوتهم خاوية بما ظلموا)۔ نہ وہاں سے کوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ نہ کسی کا قسم شور شرابہ سننے میں آتا ہے۔ اور نہ ہی زرق برق گناہ بھری محفلیں دکھائی دیتی ہیں، جی ہاں! وہاں پر ظلم و ستم کی آگ بھڑکی جس نے سب کو جلا کر راکھ کر دیا۔ ظالموں کے اس انجام میں خداوندِ عالم کی قدرت کی واضح نشانی اور درسِ عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو علم و آگہی رکھتے ہیں (ان في ذلك لاية لقوم يعلمون)۔ لیکن اس بھٹی میں سب خشک و تر نہیں ہے بلکہ بے گناہ افراد گناہ کاروں کی آگ میں جلنے سے بچ گئے۔ ہم نے ان لوگوں بچا لیا اور جو ایمان لا چکے تھے اور تقوی اختیار کر چکے تھے (و انجينا الذين آمنوا وكانوا یتّقون)۔

1- قومِ ثمود کو کیا سزا ملی؟

۱۔ قوم ثمود کو کیا سزا ملی؟ اس سرکش اور ظالم قوم کے بارے میں کبھی تو قرآن یوں فرماتا ہے: فاخذتهم الرجفة انھیں زلزلے نے آ لیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ (اعراف / 78) کبھی فرماتا ہے: فاخذتهم الصاعقة کڑکنے والی، بجلی ان پر گری۔ (ذاریات/ 44) اور کبھی کہتا ہے: واخذ الذين ظلموا الصيحة آسمانی چیخ نے ان کا کام تمام کر دیا۔ (ہود / 67) اگر غور کیا جائے تو ان تینوں تعبیروں میں کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا کیونکہ "صاعقه" بھی بجلی کی بہت بڑی چنگاری ہوتی ہے جو بادل کے ٹکڑوں اور زمین کے درمیان کی آتی جاتی رہتی ہے۔ عظیم اور مہیب آواز بھی اس کے ہمراہ ہوتی ہے اور اطرافِ زمین میں شدید قسم کا زلزلہ بھی ساتھ لاتی ہے (آسمانی چیخ کے بارے میں مزید تفصیل ہم نے تفسیر نمونہ جلد ۵ سورہ ہود کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں بیان کی ہے)۔ ۲۔ بچ جانے والے: بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرتِ صالح علیہ السلام کے دوستوں کی تعداد چار ہزار تھی جو آپ کے ساتھ عذاب سے بچ گئے تھے اور حکمِ پروردگار کے مطابق فساد و گناہ سے لبریز اس علاقے سے کوچ کر کے حضرموت جا پہنچے تھے۔ [طبرسی نے مجمع البیان میں، آلوسی نے روح المعانی میں اور قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں انھی آیات کے ذیل میں یہ بات لکھی ہے]۔ ۳۔ "خاویه" کا مفہوم: "خاوية"، "خواء" (بر وزن "هواء") کے مادہ سے ہے جس کا ایک معنی تو سقوط کرنا اور ویران ہونا ہے اور ایک معنی خالی ہونا اور شہابی تاروں کے بارے میں بھی یہی تعبیر استعمال کی جاتی ہے جیسا کہ کہتے ہیں: "خوی النجم" یعنی ستارہ گرا۔ راغب اپنی کتاب مفردات میں کہتے ہیں "خویٰ" کا اصلی معنی خالی ہونا ہے اور بھوکے پیٹ، خالی اخروٹ اور بارش سے خالی ستاروں کے بارے میں اس کا اطلاق ہوتا ہے (زمانہ جاہلیت کے عربوں کا نظریہ تھا کہ جو ستارہ بھی افق نے ظاہر ہوتا ہے اپنے ساتھ بارش لاتا ہے)۔ ۴۔ ظلم کا نتیجہ: ایک روایت میں ابنِ عباس سے مروی ہے کہ قرآنِ مجید سے مجھے اس بات کا بخوبی علم ہوا ہے کہ ظلم گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ پھر انھوں نے اس آیت کو اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش کیا "فتلک بیوتھم خاویہ بما ظلموا"۔ [تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ اور حقیقت یہ ہے کہ شہروں کی تباہی اور معاشروں کی بربادی میں ظلم ایک ایسا عنصر ہے جس کے ساتھ کسی اور چیز کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ ظلم مار ڈالنے والی گرجدار بجلی ہے۔ ظلم اجاڑ کر رکھ دینے والا زلزلہ ہے۔ اور ظلم آسمانی چیخ کی مانند تباہ کر دینے والا موت کا پیغام ہے۔ تاریخ نے بارہا کے تجربات سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ممکن ہے دنیا کفر کے ساتھ تو برقرار رہ جائے لیکن ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتی۔ ۵۔ قوم ثمود کو سزا کب ملی؟ اس میں شک نہیں ہے کہ قومِ ثمود کو عمومی طور پر سزا ناقہ صالح کے قتل کرنے کے بعد ملی جیسا کہ سورہ ہود کی آیت ۶۵ تا ۶۷ میں ہے کہ جب انھوں نے ناقہ کو قتل کر دیا تو صالح نے فرمایا: تم تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو اس کے بعد تمہیں خدا کا عذاب ضرور اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور جب ہمارا حکم پہنچ گیا تو ہم نے صالح اور ان لوگوں کو نجات دے دی جو صالح پر ایمان لا چکے تھے اور ظالموں کو آسمانی چیخ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ اپنے ہی گھروں میں زمین پر گر پڑے اور مر گئے۔ بنابریں حضرتِ صالح کے قتل کی سازش کے بعد ہی عذاب نازل نہیں ہوا بلکہ قوی احتمال یہ ہے کہ خدا کے اس پیغمیر کے قتل کی سازش کے واقعے میں فقط سازشی ٹولے ہلاک ہوئے اور دوسرے ظالموں کو سنبھل جانے کے لیے مہلت دی گئی، لیکن ناقہ کے قتل کے بعد تمام ظالم اور بے ایمان گناہگار فنا ہو گئے۔ لہذا اس سورہ کی اور سورہ ہود اور سورہ اعراف کی آیات کے ملانے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ بالفاظ دیگر زیرِ نظر آیات میں حضرت صالح اور ان کے اہلِ خانہ کے قتل کی سازش کے نیتجے میں نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ ہے اور سوره اعراف اور ہود کی آیات میں ناقہ صالح کے قتل کے نتیجے میں عذاب کے نازل ہونے کا بیان ہے تو ان دونوں صورتوں کو ملا کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ ان ظالموں نے پہلے تو جناب صالح کے قتل کے منصوبے بنائے لیکن جب اس میں انھیں کامیابی نہ ہوئی تو پھر ان کے عظیم معجزہ یعنی ناقہ کو قتل کر دیا اور تین دن کی مہلت کے بعد انھیں دردناک عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ انھوں نے پہلے تو ناقہ کو قتل کیا ہو اور جب جناب صالح علیہ السلام نے انھیں تین دن کے بعد نازل ہونے والے عذاب سے ڈرایا ہو تو انھیں بھی شہید کرنے کی ٹھان لی ہو لیکن اس شیطانی منصوبے میں ناکامی کے بعد تباہ و برباد ہو گئے ہوں۔["تفسير روح البیان" اسی آیت کے ذیل میں]۔

54
27:54
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ
اور لوط کو یاد کیجئے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا:کیا تم برے کاموں کی طرف جاتے ہو (ان کی برائی اور غلط نتائج) جبکہ تم دیکھ رہے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 55 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
27:55
أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ
کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو؟ تم تو جاہل قوم ہو۔

قومِ لوط کی بے راہروی

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

حضرت موسٰیؑ، حضرت داؤدؑ، حضرتِ سلیمان اور حضرت صالح اور ان کی اقوام کے واقعات بیان کرنے کے بعد جس پانچویں پیغمبر کی زندگی کی طرف اس سورہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ خدا کے باعظمت نبی حضرت لوط علیہ السلام ہیں۔ قرآن نے ان کے واقعات صرف اسی مقام پر بیان نہیں کیے بلکہ کئی اور مقامات پر بھی ان کے واقعات بیان کیے جا چکے ہیں مثلاً سورة حجر، ہود، شعراء اور اعراف میں ان کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ ایسے واقعات کا تکرار اس لیے ہے کیونکہ قرآن کوئی تاریخی کتاب تو ہے نہیں کہ ایک مرتبہ کسی واقعے کو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد پھر اس کا تذکرہ بھی نہ کرے بلکہ یہ ایک انسان ساز اور تربیتی کتاب ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے تربيتی مسائل میں بعض اوقات ضرورت پیش آ جاتی ہے کسی ایک واقعے کو ایک نہیں کئی مرتبہ دہرایا جائے اس کے مختلف زاویوں کو دیکھا جائے اور مختلف لحاظ سے اس سے تاریخ اخذ کیے جائیں۔ بہرحال، قومِ لوط کی جنسی بے راہروی، ہم جنس بازی اور دوسری برائیوں کی داستانیں مشہورِ عالم ہیں اور اس طرح اس قوم کا دردناک انجام ان لوگوں کے لیے درس عبرت ثابت ہو سکتا ہے جو شہوات اور خواہشاتِ نفسانی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور چونکہ یہ آلودگی اور بے حیائی لوگوں میں سرایت کر چکی ہے لہذا ضروری ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو بار بار دہرایا جائے۔ زیرِ نظر آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: اور لوط کو یاد کیجیے جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم برے کاموں کی طرف جاتے ہو۔ جبکہ (ان کی برائی اور غلط نتائج) تم دیکھ رہے ہو (ولوطًا اذ قال لقومه أتأتون الفاحشة و انتم تبصرون)۔ [ممکن ہے کہ "لوطًا"، "ارسلنا" فعل کی وجہ منصوب ہو جو سابقہ آیات میں گزر چکا ہے یا "اذکر" جیسے مقدر فعل کے وجہ سے منصوب ہو لیکن "اذ قال" کے جملے کے پیشِ نذر دوسرا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے]۔ "فاحشة" کے بارے میں ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کاموں کو کہا جاتا ہے جن کی برائی اور قباحت واضح اور آشکار ہو۔ یہاں پر اس سے مراد "لواطہ" اور ہم جنس بازی کا فعلِ قبیح ہے۔ "انتم تبصرون" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے اس قبیح فعل کی قباحت اور برائیاں نیز شرمناک اور خطرناک نتائج دیکھ رہے ہو کہ کس طرح اس نے تمہارے معاشرے کو ناپاک اور آلودہ کر کے رکھ دیا ہے حتی کہ تمھارے چھوٹے چھوٹے اور کمسن بچے بھی اس گناہ سے محفوظ نہیں ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود تم بیدار نہیں ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر یہ احتمال پیش کیا ہے کہ یہ آیت شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ فعلِ قبیح کا ارتکاب ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے یہ بات ظاہری عبارت سے ہرگز مطابقت نہیں کھتی کیونکہ لوط چاہتے تھے کہ ان کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجھوڑیں اور بیدار کریں اور ان کی باطنی آواز کو ان کے کانوں تک پہنائیں۔ درحقیقت وہ ان کی بصیرت کو دعوت دے رہے تھے۔ اس فعل کے تباہ کن نتائج اور انھیں بیدار کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ آگے چل کر قرآن فرماتا ہے: کیا تم عورتوں کی بجائے شہوت کے ساتھ مردوں کے پاس جاتے ہو؟ (ائنکم لتأتون الرجال شهوة من دوان النساء)۔ درحقیقت پہلے تو اس قبیح فعل کو "فاحشہ" (برا کام) کہا پھر اسے مزید واضح کر کے بیان کر دیا تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہ جائے یہ انداز اہم ترین مسائل کو بیان کرنے کے فنوانِ بلاغت میں سے ایک ہے چونکہ اس برے کام کا سبب جہالت اور نادانی ہے لہذا قرآن آگے فرماتا ہے: تم نادان اور جاہل قوم ہو (بل انتم قوم تجهلون)۔ خداے سے جہالت، مقصدِ تخلیق سے جہالت، ناموسِ خلقت سے جہالت اور اس بے شرمانہ گناہ کے آثار و نتائج سے جہالت اگر تم خوب غور سے کام لو اور خوب سوچو تو اس حقیقت کو یقیناً سمجھ لو گے کہ یہ قبیح فعل کس حد تک جاہلانہ کام ہے۔ اس جملے کو استفہام کی صورت میں بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس کا جواب وہ اپنے ضمیر سے خود سنیں تاکہ اس کا بہتر اثر ہو۔

56
27:56
۞فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٖ مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ
انہوں نے اس کا جواب صرف یہ دیا ہے کہ ایک دوسرے سے کہا: لوط کے خاندان کو اپنے شہر اور علاقے سے نکال باہر کر و کہ یہ بڑے پا کد امن لوگ(بنتے) ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
27:57
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَٰهَا مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
ہم نے اسے اور اس کے اہل خاندان کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے کہ ہم نے مقدر کر دیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

58
27:58
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
پھر ہم نے ان پر(پتھروں کی) بارش برسائی اور یہ کتنی بری بارش تھی ان کے لیے جنہیں ڈرایا گیا تھا!

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
27:59
قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ
کہہ دیجئے حمد خداہی کے ساتھ مخصوص ہے اور (درود و) سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر تو کیا خداوند عالم بہتر ہے یا وہ بت کہ جنہیں خدا کا شریک بناتے ہیں۔

جہاں پاکدامنی عیب بن جاتی ہے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ گفتگو میں ہم اللہ کے عظیم نبی جنابِ لوط علیہ اسلام کے منطقی دلائل کو ملاحظہ کر چکے ہیں تو انھوں نے گناہ سے آلودہ بےراہروی کے شکار لوگوں کے سامنے پیش کیے تھے۔ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کا انھوں نے کس عمدہ اور استدلالی انداز میں لواطہ جیسے قبیح فعل سے انھیں روکنے کی کوشش کی ہے اور کس طرح انھیں سمجھایا ہے کہ یہ کام جہالت و نادانی اور قانونِ فطرت اور دوسرے تمام انسانی اقدار سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ اب دیکھنا یہ چاہیئے کہ اس کثیف اور خبیث قوم نے آپ کی اس منطقی گفتار کا کیا جواب دیا؟ تو قرآن کی زبانی سن لیجیے قرآن کہتا ہے ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی جواب نہیں تھا کہ ایک دوسرے سے کہا: لوط کے خاندان کو اپنے شہر اور علاقے سے نکال باہر کرو کیونکہ وہ بڑے پاکباز لوگ ہیں اور یہ اپنے تئیں ہم سے ہم آہنگ نہیں کر سکتے (فما كان جواب قومه الا ان قالوا اخرجوا آل لوط من قريتكم انهم اناس يتطهرون)۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو ان کی فکری پستی اور انتہائی خلاقی تنزّل کا آئینہ دار ہے۔ جی ہاں! مجرم اور گناہ سے آلودہ ماحول میں پاکیزگی ایک جرم و عیب ہوا کرتی ہے۔ یوسف جیسے پاکدامن کو عفت و پارسائی کے جرم میں زندانوں میں ڈالا جاتا ہے۔ خدا کے باعظمت نبی جنابِ لوط کے خاندان کو گناہوں سے پرہیز اور دوری اختیار کرنے کی پاداش میں شہر بدر کیا جاتا ہے جبکہ زلیخائیں اس ماحول میں آزاد اور صاحبِ جاہ و مقام ہوا کرتی ہیں اور قومِ لوط اپنے لیے گھروں میں آرام و آسائش کے ساتھ رہتی ہے۔ یہیں پر قرآنِ مجید کا مصداق واضح ہو جاتا ہے جو وہ گمراہ لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ: ہم (ان کے اپنے اعمال کی بناء پر) ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں اور ان کے کان بہرے ہو چکے ہیں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ گناہوں کی دلدل میں اس حد تک پھنس چکے تھے کہ لوط کے خاندان کا تمسخر اڑا کر کہتے تھے کہ وہ ہمیں ناپاک سمجھتے ہیں اور خود بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ کیسا مذاق ہے؟ یہ عجیب بات نہیں تو اور کیا ہے کہ بے حیائی اور بے شرمی کے فعل سے مانوس ہو جانے کی وجہ سے انسان کی حِس شناخت ہی یکسر بدل جائے۔ یہ بالکل اس چمڑا رنگنے والوں کی مثال ہے جو بد بو سے مانوس ہو چکا تھا اور جب ایک مرتبہ وہ عطاروں کے بازار سے گزر رہا تھا تو عطر کی نامانوس بو کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا جب اسے حکیم کے پاس لے گئے تو اس نے حکم دیا کہ اسے دوبارہ چمڑا رنگنے والوں کے بازار میں لے جایا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور وہ ہوش میں آ گیا اور مرنے سے بچ گیا اور واقعاً اس بارے میں یہ ایک دلچسپ حِسّی مثال ہے۔ روایات میں ہے کہ جناب لوط علیہ اسلام نے اس قوم کو تیس سال تک تبلیغ کی لیکن اپنے خاندان کے سوا (اور وہ بھی بیوی کو متثنٰی کر کے کیونکہ وہ مشرکین کے ساتھ ہم عقیدہ ہو گئی تھی) اور کوئی بھی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ [تفسیر نورالثقلین جلد 2 ص 382]۔ اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی اصلاح کی امید بالکل ختم ہو جائے انھیں دنیا میں جینے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے بلکہ ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے تو بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید بعد والی آیت میں فرماتا ہے: ہم نے لوط اور ان کے اہلِ خانہ کو نجات دی۔ سوائے لوط کی زوجہ کے کہ جس کا مقدّر ہم نے باقی رہ جانے والوں سے منسلک کر دیا تھا (فانجيناه واهله الا امراته قدرناها من الغابرین)۔ ["غابر" اسے کہتے ہیں جو اپنے ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد ٹھہرا رہے]۔ ایک مقرّره وقت کے مطابق ان کے باہر نکل جانے کے بعد (اس رات کی صبح کو جبکہ شهر گناہوں میں پوری طرح غرق ہو چکا تھا صبح کا وقت ہوا تو ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کر دی (کہ وہ سب لوگ اس میں دفن ہو کر رہ گئے اور وہ یہ اس وقت ہوا جب زلزلے نے مکمل طور پر ان کو تہہ و بالا کر دیا)۔ (وامطرنا عليهم مطرًا)۔ "اور کس قدر بری، سخت اور ناگوار ہے ڈرائے جانے والے لوگوں پر پتھروں کی یہ بارش" (فساء مطر المنذرین)۔ قومِ لوط اس کے انجام اور ہم جنس بازی کے برے اثرات کے بارے میں ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد 5 (سورہ ہود کی آیات 77 تا 83) میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں لہذا یہاں پر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں پر ہم صرف ایک نکتے کو بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہ: قانونِ خلقت نے ہمارے لیے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کر دی ہے کہ جس پر چل کر ہم ارتقائی مراحل طے کر سکتے ہیں اور اسی میں ہماری زندگی کا راز مضمر ہے اور اس کی مخالفت ہماری پستی اور موت کا سبب بن جاتی ہے۔ قانونِ خلقت نے جنسی جذبے کو نسلِ انسانی کی بقاء اور انسان کی روحانی تسکین کو دو مخالف جنسوں میں قرار دیا ہے اگر یہ راستہ "ہم جنس بازی" کی سمت موڑ دیا جائے تو نہ صرف اس سے روحانی تسکین ختم ہو جاتی ہے بلکہ اجتماعی سکون بھی غارت ہو جاتا ہے اور چونکہ اجتماعی قوانین کے ڈانڈے فطرت سے جا ملتے ہیں لہذا ان کی مخالفت انسان کی جسمانی ساخت پر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ خدا کے باعظمت نبی جنابِ لوط علیہ اسلام نے اپنی گمراہ اور بےراہرو قوم کو بهی اسی فطری امر کی طرف توجہ دلائی اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر فرمایا کیا تم ایسی برائی کے پیچھے لگے ہوئے ہو حالانکہ تم اس کے خطرناک نتائج کو بھی دیکھ رہے ہو، تمھاری یہ جہالت قانونِ حیات سے لاعلمی درحقیقت تمھاری حماقت، نادانی اور بےوقوفی ہے جو تمہیں اس حد تک بے راہ رو اور گمراہ کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس گمراہ قوم کے بارے میں دوسرے قوانین بھی تبدیل ہو جائیں تو مقامِ تعجّب نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی جو کہ مایہ زندگی ہے کی بجائے پتھر برسنے لگ جائیں اور امن و سکون کا گہوارہ ان کی سرزمین زلزلوں کی وجہ سے تہ و بالا ہو جائے اور وہ صرف نیست و نابود ہی نہ ہو جائیں بلکہ ان کا نشان تک ہی باقی نہ رہے تو تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں پانچ عظیم انبیاء کے تفصیلی حالات اور ان کی قوموں کا انجام بیان کرنے کے بعد گزشتہ واقعات کو بطورِ نتیجہ اور مشرکین سے گفتگو کے مقدمہ کے عنوان سے روئے سخن پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ والہ وسلم کی طرف کر کے فرمایا گیا ہے۔ کہہ دیجیے: حمد و ستائش ذاتِ خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے (قل الحمد لله)۔ حمد و تعریف صرف اس خدا کے لیے مخصوص ہے جس نے قومِ لوط جیسی بے حیاء قوم کو نیست و نابود کر دیا تاکہ ان کے اس قبیح فعل کی آلودگیوں سے باقی دنیا محفوظ رہ جائے۔ حمد و ستائش اس خدا کے ساتھ مخصوص ہے جس نے ثمود جیسی فاسد و مفسد قوم کو اور فرعونیوں اور فرعون جیسے متکبرین کو ملکِ عدم میں بھیج دیا تاکہ ان کا طرزِ عمل دوسروں کے لیے اسوہ اور نمونہ قرار نہ پایا جائے۔ اور تمام تعریفیں صرف اس کے لیے مخصوص ہیں جس نے اپنی ہر طرح کی نعمتیں داؤد و سلیمان جیسے اپنے باایمان بندوں کو عطا فرمائیں اور قومِ سبا جیسی گمراہ ملت کو ان کے ذریعے ہدایت بخشی۔ پھر فرمایا گیا ہے: درود و سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر (وسلام على عبادہ الذین اصطفی)۔ سلام ہو موسٰیؑ، صالحؑ، لوطؑ، سلیمانؑ اور داؤدؑ پر اور سلام ہو تمام انبیاء اور ان کے سچے جانشینوں پر۔ بعد میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ خدا بہتر ہے جس نے یہ سب توانائی، قدرت و طاقت، نعمت و انعام عطا فرمائے ہیں یا وہ بت جو مطلقاً کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتے اور یہ لوگ انھیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں (آلله خير امّا یشرکون)۔ ["آلله" دراصل، "الله" تھا اور اس میں سے ایک ہمزہ الف میں تبدیل کر دینے سے مد کی صورت اختیار کر گیا اور "ما يشركون" در اصل "ام ما یشرکون" تها- کیونکہ "ام" استفہام کے لیے ہے اور "ما" موصولہ ہے۔ دونوں میم آپس میں مدغم کر دی گئی ہیں]۔ ہم نے انبیائے ماسلف کی ان داستانوں میں دیکھ لیا ہے کہ عذاب کے نزول کے موقع پر بت اپنے عبادت گزاروں کی زره بھر بھی امداد نہ کر سکے۔ جبکہ خداوندِ عالم نے کسی بھی مشکل مرحلے میں مومنین کو تنہا نہیں چھوڑا اور اس کی بے پایاں رحمت ہر وقت ان کی مدد کو پہنچی۔

60
27:60
أَمَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهۡجَةٖ مَّا كَانَ لَكُمۡ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ يَعۡدِلُونَ
(کیا جو بت تمہارے معبود ہیں وہ بہتر ہیں )یا وہ ذات جس نے آسمان اور زمین کو خلق فرمایا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا ہے؟ پھر ہم ہی نے اس کے ذریعے خو بصورت اور سرورانگیز باغات اگائے۔تمہارے بس کی تو بات ہی نہ تھی کہ تم درخت اگا سکتے۔ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ نہیں !بلکہ وہ تو ایسے نادان لوگ ہیں کہ خدا کی مخلوق کو اس کے برابر قراردیتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

61
27:61
أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
یا وہ جس نے زمین کو جائے آرام و قرار کی جگہ بنایا ہے اور اس میں دریا جاری کیے ہیں اور زمین کے لیے ثابت و محکم پہاڑ بنائے ہیں اور دو(میٹھے اور کڑوے)سمندروں کے درمیان حد فاصل بنائی ہے (تاکہ وہ آپسمیں مل نہ جائیں،تو اس حالت میں ) کیا خدا کے ساتھ کوئی معبود ہے؟ نہیں ! بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

62
27:62
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ
یا وہ جو مضطر وبے چین کی دعا قبول کرتا ہے اور اس کی مصیبت دور کرتا ہے اور تمہیں زمین پر خلیفہ بناتا ہے،تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم میں سے بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

63
27:63
أَمَّن يَهۡدِيكُمۡ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَمَن يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦٓۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
یا وہ جو تمہیں صحرا کی تاریکیوں اور سمندر میں (ستاروں کے زریعہ) رستہ دکھاتا ہے اور وہ جو اپنی رحمت کے نازل ہونے سے پہلے ہو اؤں کو خوشخبری بنا کر بھیج دیتا ہے؟ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ اللہ اس بات سے برترو بالا ہے کہ اس کے ساتھ شریک قرار دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 64 کے تحت ملاحظہ کریں۔

64
27:64
أَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
یا وہ جس نے خلقت کا آغاز کیا اور پھر اسے پلٹائے گا اور وہ جو تمہیں زمین وآسمان سے روزی عطا فرماتا ہے، کیا کوئی اورمعبود خدا کے ساتھ ہے؟ کہہ دیجئے کہ اپنی دلیل پیش کر و،اگر تم سچے ہو؟

یہ دلائل اور پھر بھی شرک

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ گفتگو کے سلسلہ آیات کی آخری آیت میں (پانچ عظیم انبیاء کی چونکا دینے والی داستانوں کے بعد) ایک مختصر مگر جامع سوال کیا گیا ہے کہ "کیا خداوندِ قادر و توانا بہتر ہے یا ان کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے قدر و قمیت بت؟ زیرِ نظر آیات میں اس جملے کی تشریح کی گئی ہے اور پانچ آیات میں پانچ جچے تلے سوال کیے گئے ہیں اور مشرکین کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان سوالات کا جواب طلب کیا گیا ہے تو پانچ آیات میں خداوندِ عالم کی بارہ عظیم نعمتیں توحید کے دلائل کے طور پر ذکر کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے آسمان و زمین کی خلقت، بارانِ رحمت کا نزول اور اس سے پیدا ہونے والی برکتوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کیا وہ بت بہتر ہیں جو تمهارے معبود ہیں یا وہ جس نے انسانوں اور زمین کو خلق فرمایا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا ہے اور ہم نے اس سے خوبصورت اور سرور انگیز باغات اگائے ہیں (من خلق السماوات والارض وانزل لكم من السماء ماء فانبتنا به حدائق ذات بهجة)۔ [درحقیقت اس کا ایک محذوف ہے اور اس کی تقدیر یوں ہے "ما یشرکون خير امن خلق السماوات والارض" درحقیقت اس سے پہلی آیت میں سوال یوں تھا کہ آیا وہ خدا جو بندوں کو نجات دیتا ہے بہتر ہے یا وہ بت کہ جنھیں لوگ اس کا شریک بناتے ہیں؟ لیکن اس آیت میں سوال بتوں سے شروع کرتا ہے کہ آیا وہ بہتر ہیں یا خداوندِ متعال جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے]۔ "حدائق"، "حديقه" کی جمع ہے اور جس طرح بہت مفسّرین نے کہا ہے کہ اس باغ کے معنی میں ہے جس کے اطراف میں دیوار کھینچی گئی ہو اور ہر لحاظ سے محفوظ ہو جیسا کہ آنکھ کما "حدقه" (ڈھیلا) پلکوں کے درمیان محصور ہے۔ راغب اصفهانی اپنی کتاب "مفردات" میں کہتے ہیں: حدیقہ در اصل اس زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی ٹھہرا رہے جیسا کہ آنکھ کا حدقہ (ڈھیلا) ہے کہ ہمیشہ پانی اس میں موجود رہتا ہے۔ تو ان دونوں اقوال کو ملا کر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ "حدیقہ" اس باغ کو کہتے ہیں جس کے اطراف میں دیوار بهی ہو اور اس میں پانی بھی خوب موجود ہو۔ "بهجة" (بر وزن "لهجة") کا معنی رنگ کی ایسی زیبائی اور ظاہری خوبصورتی ہے جسے دیکھتے ہی لوگ خوشی میں ڈوب جائیں۔ ["ذات بهجة" میں " ذات" کا لفظ مفرد آیا ہے جبکہ "حدائق" جمع کا صیغہ ہے اور اس کا موصوف ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ حدائق جمع مکسر ہے اور جمع مکسر کبھی"جماعت کے مفہوم میں بھی آتی ہے جو کہ مفرد ہے اور مفرد کی صفت بھی مفرد ہوا کرتی ہے]۔ اسی آیت میں روئے سخن بندوں کی طرف کر کے فرمایا گیا ہے: تمھارے بس سے یہ بات باہر ہے کہ تم ایسے خوش نما درخت اگا سکو (ما کان لکم ان تنبتوا شجرها)۔ تمھارا کام صرف اور صرف بیج ڈالنا اور آبپاشی کرنا ہے اور بس! جو ذات ان بیجوں کے دل میں روحِ حیات ڈالتی ہے اور ان کے اگانے کے لیے نورِ افتاب، قطراتِ باران اور ذراتِ خاک کو مامور کرتی ہے وہ ذاتِ خداوند ذوالجلال ہی ہے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی انھیں غیرِ خدا کی طرف نسبت دے سکتا ہے وہ خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوخلق فرمایا ہے اور بارش نازل کرتا ہے اور وہی عالمِ حیات میں حسن و جمال اور زیبائی وخوشنمائی کا خالق ہے۔ حتی کہ اگر ایک خوش نما پھول کی آمیزی کے بارے میں غور کیا جائے اور لطیف اور منظم پتیوں کو غور سے دیکھا جائے جو ایک دوسرے کے اندر رہ کر پھول کے مرکزی حصے کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے زندگی کا راگ الاپ رہی ہیں تو کافی ہو جائے گا کہ انسان اس کے خالق کی عظمت، قدرت اور رحمت کو سمجھ جائے، یہی چیز انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں اور خالقِ کائنات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خلقت میں توحید (توحید کے خالق) اور ربوبیت میں توحید (مدبر کائنات کی توحید) کو "معبود کی توحید" کے بنیادی ستون شمار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ءاله مع الله)۔ لیکن وہ نادان لوگ ہیں جو پروردگارِ عالم سے منہ موڑ کر غیراللہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں جس میں کچھ بھی قدرت نہیں ہے (بل هم قوم یعدلون)۔ [تشریحی نوٹ: "يعدلون" کے بارے میں ایک احتمال یہ ہے کہ ممکن ہے کہ وہ "عدول" انحراف اور حق سے باطل کی طرف لوٹ جانے کے معنی میں ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ "عدل" (بر وزن "قشر") برابر مشابہ اور نظیر کے معنی میں ہو۔ پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ خدائے وحدۂ لاشریک سے انحراف و عدول کرتے ہیں اور دوسری صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ انھیں اس کے مشابہ، ہم پلہ اور نظیر تسلیم کرتے ہیں]۔ دوسرا سوال زمین کی آرام و سکون کی نعمت اور اس جہان میں انسان کی قرارگاہ کے بارے میں ہے: کیا ان کے بناوٹی معبود بہتر ہیں اور یا وہ کہ جس نے زمین کو آرام کی جگہ بنایا ہے اور اس میں دریا چلائے ہیں اور زمین کے لیے محکم اور ٹھہرے ہوئے پہاڑ بنائے ہیں (تاکہ زمین کو زلزلے سے محفوظ رکھیں)۔ (امن جعل الارض قرارًا و جعل خلالها انهارًا وجعل لھا رواسی)۔ ["خلال" در اصل دو چیزوں کے درمیان شگاف کو کہتے ہیں اور "رواسی" "راسية" کی جمع ہے جس کا معنی ہے ٹھہرا ہوا اور برقرار]۔ نیز دو (میٹھے اور کڑوے) سمندروں کے درمیان ایک حدِّ فاصل قرار دی ہے تاکہ وہ آپس میں مل نہ جائیں (وجعل بین البحرین حاجزًا)۔ تو اس طرح سے اس آیت میں چار عظیم نعمتوں کا ذکر آیا ہے اور تین حصّوں میں آرام و سکون کی بات کی گئی ہے۔ زمین کا اپنا آرام کہ اس کے اپنے محور اور سورج کے گرد تیز رفتاری کے ساتھ گھومنے اور مجموعی طور پر نظامِ شمسی کی حرکت کے باوجود یہ زمین اس قدر ایک حالت پر قائم اور پرسکون ہے کہ اس کے اوپر رہنے والوں کو اس کی حرکت کا کچھ بھی احساس نہیں ہوتا گویا وہ ایک جگہ پر ایسی کھڑی ہوئی ہے کہ حرکت کا نام و نشان ہی نہیں ملتا۔ دوسری نعمت پہاڑوں کی ہے جیسا کہ ہم پیلے بھی بتا چکے ہیں کہ وہ زمین کے چاروں اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی بنیادیں آپس میں پیوستہ ہیں جو ایک طاقتور زرہ کا کام دیتے ہیں اور زمین کے اندرونی دباؤ اور بیرونی مدّ و جزر کا جو چاند کی کشش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے عظیم طوفانوں سے زمین کو بچاتے ہیں جو زمینی زندگی کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیں۔ [زمین کےبرقرار اور رکے رہنےمیں پہاڑ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے اور کیا فوائد ہیں۔ اس کی تفصيل ہم تفسیرنمونہ جلد 10 (سوره رعد کی آیت 3 کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں]۔ ایک اور نعمت قدرتی حدِّ فاصل ہے جو سمندروں کے میٹھے اور کڑوے پانی کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھتی ہے اور یہ نادیدہ حجاب میٹھے اور کڑوے پانی کے ہلکے اور بھاری درجوں کے فرق کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں جسے اصطلاح میں مخصوص وزن کا فرق کہا جاتا ہے اور یہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ جب بڑے بڑے دریاؤں کا پانی سمندروں میں گرتا ہے تو بہت عرصے میں نمکین پانی میں تحلیل ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس پانی کو سمندر کا مدجزر ساحل کے وسیع و عریض علاقے میں دھکیل دیتا ہے اور اس سے زراعت کے لیے آبپاشی کی جاتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اسی جلد سورہ فرقان کی آیت 53 کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود زمین کے مختلف حصوں میں پانی کی نہریں اور دریا جاری ہیں جو حیات اور زندگی کا سرمایہ، شادابی و تازگی کا سرچمشہ اور لہلہاتے کھیتوں اور ثمرآور باغات کا ذریعہ حیات ہیں۔ یہ پانی کچھ تو پہاڑوں کے اندر موجود ہے اور کچھ خود زمین کے اندر۔ تو کیا اس قسم کے منظم اور جچّا تلّا نظام اندھے اور بہرے "اتفاق" اور عقل و خرد سے عاری "مبداء" کا شاہکار ہو سکتا ہے؟ کیا اس حیرت انگیز اور تعجب خیز نظام میں بتوں کا کوئی حصہ ہو سکتا ہے؟ (نہیں اور ہرگز نہیں!!) حتی کہ خود بت پرستوں نے بھی اس بات کا دعوی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں اس سوال کو ایک بار پھر دہراتا ہے کہ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ءاله مع اللہ)۔ نہیں کوئی نہیں "بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان اور بےخبر ہیں (بل اکثرهم لايعلمون)۔ اسی سلسلے کے پانچ سوال ہیں جو درحقیقت ایک معنوی اور باطنی مقدمے کی تفتیش کے سلسلہ میں ہیں۔ تیسرے سوال میں حلِّ مشکلات، رکاوٹوں کے دور کرنے اور دعا کے قبول ہونے کی بات ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: کیا تمھارے بےقدر و قميت معبود بہتر ہیں یا وہ جو عاجز و درمانده اور مضطر انسان کی دعا قبول کرتا اور اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے (امن يجيب المضطر اذا دعاہ و یكشف السوء)۔ جی ہاں! جب عالمِ اسباب کے تمام دروازے انسان پر بند ہو جاتے ہیں، جب وہ مایوس اور پریشان اور درماندہ و مضطر ہو جاتا ہے تو خدا ہی ان مشکلات کو حل کرتا ہے۔ مایوسیوں کو دور کرتا ہے۔ امید کی کرن دلوں میں روشن کرتا ہے اور عاجز و درماندہ لوگوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس کی پاک ذات ہو سکتی ہے اور کوئی نہیں۔ چونکہ حقیقت ایک فطری احساس کے طور پر تمام انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے تو بت پرست بھی جب سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو اپنے تمام بناوٹی خداؤں کو فراموش کر کے حقیقی معبود "اللہ" کی رحمت کا سہارا طلب کرتے ہیں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: فاذا ركبوا في الفلک دعوا الله مخلصين له الدين جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا ہی کو پکارتے اور عبادت و پرستش بھی اسی کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔ (عنکبوت ـــــــــ 65) پھر فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف اللہ مشکلات اور مصائب کو دور کرتا ہے بلکہ "تمھیں زمین کے خلفاء بھی قرار دیتا ہے"۔ (ويجعلکم خلفاء الارض)۔ تو کیا پھر بھی خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ءاله مع الله)۔ "تم لوگ بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو اور ان واضح دلائل کے باوجود تم کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتے"۔ (قليلًا ما تذكرون)۔ ["قليلًا ما تذکرون" میں بظاہر "ما" زائدہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر حروف زائدہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تاکید کا معنی دیتے ہیں اور "قليلًا" مصدر محذوف کی صفت ہے جو تقدیری طور پر یوں ہے "تتذکرون تذکرًا قليلًا "]۔ "مضطر" کے مفہوم اور قبولیت دعا اور ان کی شرائط کے بارے میں انھی آیات کے آخری نکات کی بحث میں مفصل گفتگو ہو گی۔ "خلفاء الارض" سے ممکن ہے ساکنین و صاحبانِ زمین مراد ہوں کیونکہ خداوندِ عالم نے زمین میں جو امن و سکون، آرام و اطمینان، نعمتیں اور اسبابِ رفاه قرار دیئے ہیں اس کے باوجود انسان کو اس کرّه خاکی کا حکمران بنا دیا ہے اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے اسے صلاحیّت عطا کی ہے۔ خاص طور پر جب انسان حالتِ اضطرار میں ہوتا ہے اور مشکلات میں گھر جاتا ہے تو وہ بارگاہِ خداوندی کی طرف رخ کرتا ہے اور خدا کی اپنی مہربانی سے اس کی تمام مشکلات و مصائب کو دور کر دیتا ہے تو اس خلافت کا پایہ اور مضبوط ہو جاتا ہے (اور یہیں سے آیت کے ان دونوں حصوں کا باہمی ربط بھی واضح ہو جاتا ہے)۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خداوندِ عالم نے سلسلہ حیات کو کچھ اس طرح خلق فرمایا ہے کہ ہمیشه کچھ قومیں آتی رہتی ہیں اور دوسری قوموں کی جانشین ہوتی رہتی ہیں۔ اگر باریوں کا یہ سلسلہ نہ ہو تو ارتقاء اور تکامل کبھی بھی واقع نہ ہو۔ [بنابریں "خلفاء الارض" کے معنی "خلفاء في الارض" ہو گا]۔ چوتھے سوال میں مسئلہ ہدایت پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کیا یہ بہتر ہیں یا وہ جو تمھیں صحراؤں اور سمندروں کی تاریکیوں میں (ستاروں کے ذریعے) ہدایت کرتا ہے؟ (امن یھدیکم في ظلمات البرّ والبحر)۔ "اور وہ جو اپنی رحمت کے نزول سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجتا ہے" (ومن یرسل الرياح بشرًا بين يدي رحمته)۔ ہوائیں بارش کے نزول کا پیش خیمہ ہوتی ہیں اور خوشخبری دینے والے قاصد کی مانند اس کے آگے آگے چلتی رہتی ہیں درحقیقت ان کا کام بھی نزولِ باران کی جانب لوگوں کو ہدایت کرنا ہوتا ہے۔ ہواؤں کے بارے میں "بشرًا" (خوشخبری دینے والی) اور بارش کے بارے میں "رحمت" کی تعبیریں بھی دلچسپ ہیں کیونکہ ہوائیں ہی ہوتی ہیں جو سمندروں سے رطوبت اور بادلوں کے ٹکڑوں کو اپنے دوش پر سوار کر کے خشک اور پیاسے علاقوں میں لے جاتی ہیں اور بارش کی تشریف آوری کی خبر دیتی ہیں۔ اسی طرح بارش ہے جو تمام کرّہ خاکی پر زندگی اور حیات کا اعلان کرتی ہے اور جہاں پر بھی نازل ہوتی ہے خیر و برکت اور رحمت و حیات کو وجود میں لے آتی ہے۔ ["بشر" (بر وزن "عشر") جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ "بُشُر" (بر وزن "کُتُب") کا مخفف ہے جس کی جمع "بشور" (بر وزن "قبول") آتی ہے جس کا معنی ہے مبشر یعنی بشارت دینے والا]۔ (مزید تفصیل تفسیرِ نمونہ کی جلد 4 سوره اعراف کی 57 ویں آیت کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں کہ بارش برسانے میں ہوائيں کیا کردار ادا کرتی ہیں؟) آیت کے آخر میں مشرکین کو ایک بار پھر خطاب کر کے قرآن فرماتا ہے: آیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ (ءاله مع الله)۔ پھر ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی فرماتا ہے: خدا اس سے بلند و بالا ہے کہ اس کا شریک قرار دیں۔ (وتعالى الله عما يشركون)۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں پانچویں سوال کو پیش فرماتا ہے جو مبداء اور معاد سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے: کیا تمھارے وہ معبود بہتر ہیں یا وہ جس نے خلقت کا آغاز کیا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرے گا (امن بيدوا الخلق ثم بعيدہ)۔ اور وہ جو تمہیں آغاز اور انجام کے اس دورانیے میں آسمان و زمین سے روزی عطا کرتا ہے (ومن یرزقکم من السماء والأرض)۔ کیا پھر بھی تمھارا عقیدہ یہی ہے کہ خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ (ءاله مع الله)۔ "تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہی ہے تو اپنی دلیل لے آؤ اگر سچ کہتے ہو" (قل هاتوا برهانكم ان کنتم صادقين)۔ درحقیقت گزشتہ آیات سب کی سب مبداء اور عالمِ ہستی میں خداوندِ عالم کی عظمت اور اس کی نعمتوں کی علامات کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں لیکن آخری آیت میں بڑے لطیف انداز میں گفتگو کا رخ معاد کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ آغازِ آفرنیش بذاتِ خود اس کے انجام کی دلیل ہے اور تخلیق کی قدرت بذاتہ معاد کی ایک واضح اور روشن برہان ہے۔ اسی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے جسے بہت سے مفسرین پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ان آیات کا روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور مشرکین میں ان کے مخاطب ہیں اور اکثر مشرکین معادِ (جسمانی) کے قائل نہیں ہیں تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ان سے سوال کر کے اس چیز کا اقرار لیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سوال دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں سے فریقِ مخالف کو اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر وہ صرف یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ آغازِ آفرینش اسی کی طرف سے ہے اور یہ تمام نعمتیں اور رزق و روزی بھی وہی ذاتِ پروردگار عطا فرماتی ہے تو یہی بات اس اقرار کے لیے کافی ہے کہ یہ چیز بھی تسلیم کر لیں کہ بروزِ قیامت دوبارہ جی اٹھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ضمنی طور پر بھی بتاتے چلیں کہ "آسمان کے رزق" سے مراد بارش، سورج کی روشنی اور ان جیسے امور ہیں اور "زمین کے رزق" سے مراد نباتات اور مختلف غذائیں اور اناج ہیں جو یا تو براهِ راست زمین سے اگتے ہیں یا بالواسطہ اس سے کمک حاصل کرتے ہیں جیسے چوپائے وغیرہ یا معدنیات اور دوسری گوناگوں چیزیں کہ جن سے انسان اپنی زندگی میں بہرہ مند ہوتا ہے۔

چند اہم نکات: 1- مضطر کون ہے؟

اگرچہ خداوندِ عالم (شرائط کی موجودگی میں) ہر ایک کی دعا کو قبول فرماتا ہے: لیکن مندرجہ بالا آیات میں "مضطر" کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ قبولیتِ دعا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان اپنی آنکھیں مکمل طور پر عالمِ اسباب سے ہٹا کر اپنے دل و جان کو پوری طرح خدا کے اختیار میں دے دے۔ سب کچھ اسی کی طرف سے جانے اور ہر مشکل کا حل اسی کی طرف سے سمجھے اور یہ سب اضطرار کی حالت میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ دنیا عالمِ اسباب ہے اور مومن شخص اس بارے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئےکار لاتا ہے لیکن کسی بھی صورت میں عالمِ اسباب میں کھو نہیں جاتا۔ بلکہ عالمِ اسباب کے وسائل و ذرائع کو بھی اسی کا عطیہ سمجھتا ہے اور اسباب کے پسِّ پردہ "مسبب الاسباب" کی ذات کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اسی سے طلب کرتا ہے۔ یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کی تفسیر حضرت مہدی (صلوات الله وسلامیہ علیہ) کے ظہور سے کی گئی ہے چناچہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے: و الله! كاني انظر الى القائم وقد أسند ظهره الى الحجرثم ینشد الله حقه۔... قال هو و الله المضطر في كتاب الله في قوله: اَمن یجیب المضطر اذا دعاه و يكشف السوء ويجعلکم خلفاء الارض خدا کی قسم! میں مہدی کو دیکھ رہا ہوں کہ حجر اسود سے ٹیک لگائے خدا کو اپنے حق کی قسم دے کر دعا مانگ رہے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! قرآنِ مجید کی آیت "امن یجیب المضطر............." میں "مضطر" سے مراد بھی وہی ہیں"۔ [تفسير نور الثقلین جلد 4 ص 94]۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ اسلام کی ایک اور حدیث میں ہے: نزلت في القائم من آل محمد علیهم السلام هو و الله المضطر اذا صلي في المقام رکعتین و دعا الى الله عزّوجلّ فاجابه و یكشف السوء و يجعله خليفة في الارض یہ آیت مهدی آلِ محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ خدا کی قسم وہی مضطر ہے۔ جب وہ مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز بجا لائے گا اور خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہو کر اس سے سوال کرے گا تو خدا اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کی مشکلات کو دور کر کے اسے زمین کا خلیفہ بنائے گا۔ [تفسير نور الثقلین جلد 4 ص 94]۔ جیسا کہ اور مقامات پر بھی اس قسم کی تفسیر بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کو حضرت مهدی کے وجود ذی جود میں منحصر کیا جائے بلکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے کہ جس کا ایک واضح مصداق حضرت مهدی کا وجودِ گرامی بھی ہے کہ اس دور میں جبکہ ہر طرف فتنہ و فساد پھیل چکا ہو گا، امیدوں کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں گے انسانی مصیبتیں انتہا کو پہنچ چکی ہوں گی، بشریت چلا رہی ہو گی تمام کائنات پر اضطرار کی حکومت ہو گی تو ایسی حالت میں وہ روئے زمین کے مقدس ترین حصے پر دعا کے لیے ہاتھ بلند کر کے مشکلات کے دور ہونے کی دعا کریں گے اور خداوندِ عالم ان کی اس دعا کو مقدس عالمی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دے گا۔ "ويجعلکم خلفاء الارض" کے مصداق انھیں اور ان کے یار و انصار کو روئے زمین کا وارث اور خلیفہ بنائے گا۔ [عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ گفتگو بھی ٹھیک 15 شعبان المعظم 1403ھ بروزِ ولادت با سعادت حضرت مهدی آخر الزمان معرضِ تحریر میں آئی ہے]۔ دعا کی اہمیت، اس کی قبولیت کی شرائط اور بعض دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے اسباب کے بارے میں ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد اوّل سورہ بقرہ کی آیت 186 کے ذیل میں تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں۔

2- ہر جگہ منطقی دلائل کی دعوت

ہم قرآنِ مجید میں کئی مرتبہ پڑھ چکے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین سے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے خاص کر "هاتوا برهانكم" (اپنی دلیل لے آؤ) کا جملہ چار مقامات پر دہرایا گیا ہے (سورہ بقرہ کی آیت 111، سورہ انبیا کی آیت 24، سورہ نمل کی آیت 64 اور سورہ قصص کی آیت 75 میں) اور ان کے علاوہ دوسرے کئی مقامات پر لفظ "برهان" پر خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے (برہان ایسی محکم دلیل کو کہتے ہیں جس میں ہمیشہ سچائی پائی جائے)۔ اسلام کی برہان طلبی کی یہ منطق درحقیقت اس کے قوی اور بے نیاز ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اسلام کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے بھی منطق کی رو سے مقابلہ کرتا ہے جب وہ دوسروں سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے تو پھر خود اس سے کیونکر بے پرواہ ہو سکتا ہے؟ قرآنی آیات مختلف مسائل میں مختلف سطح پر منطقی دلائل اور علمی براہین سے جھلک رہی ہیں۔ یہ چیز آج کی تحریف شده مسیحیّت کے بالکل برعکس ہے کہ جس پر آج کی عیسائیت انحصار کیے ہوئے ہے اور مذہب کو دل کے تابع سمجھے ہوئے ہے اور عقل کو مذہب سے کوسوں دور سمجھتی ہے کہ عقلی تضادات (توحید در تثلیث جیسے مسائل) کو مذہب کا جزو سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب میں طرح طرح کے خرافات داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے حالانکہ اگر مذہب کو عقل سے جدا کر ديا جائے تو اس کی حقانیت کی دلیل ہی باقی نہیں رہ جاتی اور مذہب اور اس کی ضد میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ اسلام کے اس طرزِ عمل (برہان پر اخصار اور مخالفین کو منطقی دلائل کی دعوت) کی اہمیت اس وقت زیادہ آشکار ہوتی ہے جب ہم اس بات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ اسلام ایک ایسے ماحول میں نمودار ہوا تھا جس میں بےاساسی خرافات اور غیر منطقی مسائل کی حکمرانی تھی۔

3- گزشتہ آیات کا خلاصہ

گزشتہ آیات میں قرآنِ مجید نے توحیدِ معبود کو ثابت کرنے کے لیے "توحید خالق" اور "توحید رب" (تخلیق و تدبیر کی توحید) پر زیادہ زور دیا ہے اور کائنات میں خداوندِ عالم کی بارہ عظیم نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ (آسمان و زمین، نزولِ باران، بارش کے حیات بخش اثرات، انسان کی قرارگاہ کا سکون، جاری دریا، عظیم اور ساکن پہاڑ، میٹھے اور کڑوے پانی کے درمیان حد فاصل، بندوں کی دعا کی قبولیت، خشکی اور تری میں ان کی راہنمائی، نزولِ باران کا پیغام لانے والی ہوائیں، مخلوق کی تجدیدِ حیات اور انسان کو زمین و آسمان سے روزی کی فراہمی)۔ یہ بارہ نعمتیں پانچ آیات میں پانچ سوالوں کے ضمن میں بیان ہوئی ہیں جو بالترتیب ان پانچ مسائل کو بیان کرتی ہیں۔ خلقت، سکون، حلِّ مشکلات، ہدایت اور دوبارہ زندگی کی طرف بازگشت۔ اس ہر ایک سوال کے ذیل میں اس جملے کو دہرایا گیا ہے۔ ءاله مع الله آیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ اس سوال کے بعد پہلی آیت میں فورًا ہی ان کے حق سے انحراف کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ دوسری آیت میں ان کی جہالت و نادانی کی طرف، تیسری آیت میں ان کے سوچ بچار سے کام نہ لینے، چوتھی آیت میں ان کی فکری پستی کی طرف اور پانچویں آیت میں ان سے استدلال کا مطلبہ کیا گیا ہے جو مل کر ایک متحد اور منظم بات کی نشاندہی کرتا ہے۔

65
27:65
قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
کہہ دو: جو بھی زمین وآسمان میں ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا کے سوا غیب سے آگاہ نہیں ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

66
27:66
بَلِ ٱدَّـٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّنۡهَاۖ بَلۡ هُم مِّنۡهَا عَمُونَ
یہ مشرک لوگ آخرت کے بارے میں کچھ بھی صحیح علم نہیں رکھتے بلکہ (یہ خو د) اس کے بپا ہونے کے بارے میں بھی شک کرتے ہیں، بلکہ یہ تو اس سے بالکل نابینا ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

67
27:67
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبٗا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخۡرَجُونَ
کافروں نے کہا:جب ہم اور ہمارے آباؤ اجداد خاک ہو جائیں گے تو کیا وہ پھر دوبارہ نکالے جا ئیں گے؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 68 کے تحت ملاحظہ کریں۔

68
27:68
لَقَدۡ وُعِدۡنَا هَٰذَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
یہ وہی وعدہ ہے جو ہم سے اور ہمارے آباؤ اجداد سے پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔ یہ تو صرف پہلے لو گوں کے افسانے ہیں۔

تفسیر: معاد کے مختلف پہلو

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات کے آخر میں قیامت اور معاد کی بات ہو رہی تھی لہذا ان آیات میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی نظر ڈالی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے جو بارہا مشرکین کی طرف سے کیا جاتا تھا کہ قیامت کب بپا ہو گی؟ ارشاد ہوتا ہے: کہہ دو کہ اللہ کے سوا زمین و آسمان کے سب باسی غیب سے آگاہ نہیں ہیں، وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (قل لايعلم من في السماوات والارض الغيب الا الله وما يشعرون ایّان یبعثون)۔ اس میں شک نہیں ہے کہ قیامِ قیامت کی تاریخ سمیت غیب کا علم خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ "کچھ" علمِ غیب کسی کے بھی اختیار میں دے دے۔ جیسا کہ سورہ جن کی آیات 26 اور 27 میں فرمایا گیا ہے: عالم الغيب فلايظهر على غيبه أحدا الّا من ارتضی من رسول خدا عالمِ غیب ہے اور کسی کو بھی اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر جس رسول پر راضی ہو جائے اور اسے نبوت کے لیے چن لے۔ دوسرے لفظوں میں علمِ غیب ذاتی طور پر، مستقل صورت میں اور غیر محدود انداز میں تو خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور اس کے علاوہ دوسرے افراد جو بھی جانتے ہیں اسی کی جانب سے عطا کردہ ہوتا ہے لیکن قیامت کی تاریخ کا علم پھر بھی اس سے مستثنی ہے اور کوئی بھی شخص اس سے ہرگز آگاہ نہیں ہے۔ [علمِ غیب کے بارے میں ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد 3 ص 351، جلد 4 ص 357 پر تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں]۔ پھر مشرکین کی قیامت سے بےخبری اور اس کے بارے میں ان کے شک کے متعلق فرمایا گیا ہے: وہ مرنے کے بعد کی دنیا سے آگاہ نہیں ہیں بلکہ وہ در اصل شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ وہ تو اندھے ہیں (بل ادّارك علمهم في الأخرة بل هم في شک منها بل هم منها عمون)۔ "ادارک" در اصل "تدارک" تھا جس کا معنی ایک دوسرے کے پیچھے قرار پانا ہے بنابریں "بل ادارک علمهم في الأخرة" کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے آخرت کے بارے میں اپنی تمام معلومات سے کام تو لیا ہے لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ لہذا اس کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں بلکہ اندھے ہیں کیونکہ آخرت کی نشانیاں تو اسی دنیا میں آشکار ہیں مثلاً موسمِ بہار میں مردہ زمینوں کا زندہ ہو جانا، موسم خزاں میں خشک ہو جانے والے درختوں کا بارآور ہو جانا اور مجموعی طور پر عالمِ آفریش میں عظمتِ الٰہی کا مشاہدہ، غرض سب کے سب دوبارہ زندگی کے امکان پر دلالت کرتے ہیں لیکن مشرک لوگ اندھوں کی مانند ان کے پاس سے گزر جاتے ہیں اور غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ البتہ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا جملے کی اور بھی کچھ تفسیریں بیان کی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "ادارك علمهم في الأخرة " سے مراد یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں حصولِ علم کے اسباب بہت سے ہیں اور یکے بعد دیگرے موجود ہیں لیکن ان کی آنکھیں ان کو دیکھ نہیں پاتیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مشرکین اگلے جہان میں حقائق سے باخبر ہوں گے۔ جب تمام پردے ہٹا دیئے جائیں گے۔ لیکن ان تینوں تفاسیر میں سے پہلی تفسیر آیت کے دوسرے جملوں اور بعد کی آیات میں آنے والی گفتگو سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اس طرح سے آخرت کے منکرین کی بات کی تین نشانیاں بیان ہوئی ہیں: پہلی یہ کہ ان کا انکار اور اعتراض اس بناء پر ہے کہ وہ آخرت کی خصوصیات کو نہیں جانتے اور جس نے حقیقت کو سمجھا ہی نہیں وہ افسانہ طرازیاں ہی کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اصل آخرت کے وجود میں شک کرتے ہیں اسی لیے وہ قیامت کے قیام کی تاریخ کا سوال کرتے ہیں۔ تیسری یہ کہ ان کی یہ جہالت اور شک اس وجہ سے نہیں کہ آخرت کے بارے میں ان کے پاس کوئی کافی اور شافی دلیل نہیں، بلکہ دلائل تو بہت ہیں لیکن وہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان دلائل کو نہیں دیکھ پاتے۔ بعد والی آیت روزِ قیامت کے منکرین کی منطق کو ایک جملے میں بیان کرتی ہے: کافروں نے کہا کہ جب ہم اور ہمارے آباؤ اجداد خاک ہو جائیں گے تو کیا پھر بھی اسی خاک سے نکالے جائیں گے (وقال الذین کفروا ءاذا كنّا ترابًا و أباؤنا ائنا لمخرجون)۔ انھوں نے اسی پر اکتفا کر لیا ہے کہ یہ ان ہونی بات ہے کہ انسان ایک مرتبہ گل سڑ کر خاک بن جائے اور پھر زندہ ہو جائے، حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ پہلے بھی تو وہ خاک تھے اور خاک ہی سے اٹھائے گئے ہیں تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ ایک مرتبہ پھر خاک میں تبدیل ہو کر جی اٹھیں۔ پھر مزے کی بات ہے کہ قرآنِ مجید کے آٹھ مقامات پر ہمیں کفار کی اس قسم کی گفتگو ملتی ہے کہ وہ فقط اس بات کو بعید سمجھنے کی وجہ سے منکر قیامت ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں: "یہ بےاساس وعدہ ہے جو ہم سے اور ہمارے آباؤ اجداد سے پہلے بھی کیا جا چکا ہے"۔ اس کا قطعًا کوئی اثر نہ تو ظاہر ہوا ہے اور نہ ہی ہو گا۔ (لقد و عدنا هذا نحن و اباؤنا من قبل)۔ "یہ سب کچھ گزشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں" اور ان کی اوہام و خرافات سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں (ان هذا الا اساطیر الاولین)۔ بنابریں سب سے پہلے انھوں نے استبعاد سے سلسلہ گفتگو شروع کیا تھا اور انکارِ مطلق پر آ کر تان توڑی، گویا وہ منتظر تھے کہ قیامت جلد رونما ہونے والی ہے اور چونکہ انھوں نے اس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کیا لہذا اس کے منکر ہو گئے۔ بہرحال، ان کی اس قسم کی باتیں ان کے غرور اور غفلت کی علامت ہیں۔ ضمنی طور پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ وہ اس طرح سے قیامت کے بارے میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی توہین و تحقیر کرنا چاہتے تھے اور یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ وہی پرانے وعدے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے جو دوسرے انبیاء ہمارے آباؤ اجداد سے کرتے رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں ہے جس پر سوچ بچار کی جا سکے۔

69
27:69
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
کہہ دیجئے: روئے زمین پر چل پھر کے دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

70
27:70
وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُن فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ
ان کے جھٹلانے اور انکار کرنے سے نہ گھبراؤ اور نہ ہی تمہیں ان کی سا زشوں سے دل تنگ ہونا چاہیے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

71
27:71
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
وہ کہتے ہیں کہ(عذاب کا) یہ وعدہ(جو تو ہم سے کر رہا ہے)،اگر تو سچا ہے تو بتا کہ وہ کب آئے گا؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

72
27:72
قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي تَسۡتَعۡجِلُونَ
کہہ دو کہ جس کے بارے میں تم جلدی کرتے ہو شاید اس کا کچھ حصہ تمہارے نزدیک اور آس پاس ہی ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

73
27:73
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ
اور تمہارا پرودگار تو لوگوں پر فضل و رحمت کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر گزار نہیں ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

74
27:74
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ
اور تمہارا رب اس چیز سے بھی آگاہ ہے جو وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور اس سے بھی با خبر ہے جو وہ کھلم کھلا کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 75 کے تحت ملاحظہ کریں۔

75
27:75
وَمَا مِنۡ غَآئِبَةٖ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ
اور زمین و آسمان میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں ہے جوکتاب مبین(لوح محفوظ اور پروردگا کے غیر متناہی علم)میں موجود نہ ہو۔

تفسیر:ان کی سازشوں سے نہ گھبرائیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں متعصب کفّار کی طرف سے معاد کے انکار کے بارے میں گفتگو تھی۔ چونکہ اس ہٹ دھرم قوم کے ساتھ منطقی بحث بیکار تھی اور پھر بھی کہ قرآنِ مجید کی اور بھی بہت سی آیات میں معاد و قیامت کے بارے میں دلائل پیش کیے جا چکے ہیں اور ایسے دلائل بھی موجود ہیں جو عالمِ نباتات، عالمِ جنین اور اس طرح کی دوسری چیزوں میں روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کیے جاتے ہیں لہٰذا زیرِ تفسیر آیات میں ان کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے انھیں درپیش آنے والے عذاب الہٰی سے ڈرایا جا رہا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہہ دو کہ روئے زمین میں چلو پھرو، گذشتہ لوگوں کے آثا اور نشانیوں کو دیکھو اور یہ بھی دیکھو کہ مجرموں اور گناہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے (قل سیروا فی الارض فانظروا كيف كان عاقبة المجرمين)۔ تم کہتے ہو کہ اس قسم کے دوسرے ہمارے باپ دادا سے بھی کیے جا چکے ہیں اور انھوں نے بھی ایسے وعدوں کی پرواہ نہیں کی اور کوئی نقصان بھی نہیں اٹھایا۔ لیکن اگر تم تھوڑا سا بھی اس دنیا میں چلو پھرو اور مجرموں، گناہ گاروں اور توحید و قیامت کے منکروں کے آثار دیکھو، خاص طور پران آثار کو دیکھو جو تمھاری اسی سرزمینِ حجاز کے اردگرد بکھرے پڑے ہیں تو تمہیں خود اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ عنقریب تمھاری باری بھی آ جائے گی، جلدی کیوں کرتے ہو؟ اگر تم نے بھی ان جیسا طریقہ کار جاری رکھا تو تمہارا بھی وہی برا انجام ہو گا۔ قرآنِ مجید نے بارہا لوگوں کو گھومنے پھرنے اور سیر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ زمین میں چل پھر کر گزشتہ لوگوں کے آثار اور ان اقوام کی تباہ شدہ سرزمین کو دیکھیں جو عذاب میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ بادشاہوں کے ٹوٹے پھوٹے محلات اور مستکبرین کی تباہ حال قبروں اور بوسیدہ ہڈیوں کو ملاحظہ کریں۔ مغرور ثروت مندوں کے مال و دولت کو دیکھیں جن کا اب اپنا کوئی وارث نہیں رہا۔ پھر اس بات کی خصوصی طور پر صراحت کی گئی ہے کہ گزشتہ لوگوں کے ان آثار کا مطالعہ جو ایک زندہ، گویا اور محسوس تاریخ ہے دلوں کو بیدار اور آنکھوں کو بینا کرتا ہے اور یہ بھی حقیقت، کیونکہ بعض اوقات آثارِ قدیمہ میں سے کسی ایک کا مشاہدہ انسان کے قلب و روح میں اس قدر طوفان برپا کر دیتا ہے کہ تاریخ کی کئی موٹی موٹی کتابوں کے مطالعے سے بھی اس قدر تاثیر نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد (سورۃ آلِ عمران کی آیت ۱۳۷ کی تفسیر) میں بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہاں پر "مکذبین" (قیامت کو بھلانے والوں) کی بجائے "مجرمین" کہا گیا ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی تکذیب اس وجہ سے نہیں تھی کہ انھوں نے تحقیق کرنے میں غلطی کی ہے بلکہ ان کی تکذیب کا اصل سبب ہٹ دھرمی، ضد، عناد، دشمنی اور مختلف جرائم میں ملوث ہونا تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے انکار اور مخالفت کا سخت دکھ ہوتا تھا اور وہ دل ہی میں ان کے لیے رنجیدہ رہتے تھے کیونکہ وہ سچّے دل سے ان کی ہدایت اور بیداری کے خواہاں تھے لیکن دوسری طرف انھیں متواتر ان کی سازشوں کا سامنا بھی تھا لہذا بعد والی آیت آنحضرت صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی دلجوئی کرتے ہوئے کہتی ہے: تم ان کی تکذیب و انکار سے گھبراؤ نہیں اور غم نہ کھاؤ (ولا تحزن عليهم)۔ ان کی سازشوں سے پریشان نہ ہوں اور اس وجہ سے تمہیں رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم تمہارے حامی و ناصر ہیں (ولا تكن في ضيق مما يمكرون)۔ لیکن یہ ضدی مزاج منکر بجائے اس کے کہ اپنے مہربان غم خوار پیغمبر کی نصیحتوں پر عمل کرتے اور مجرمین کے انجام سے عبرت حاصل کرتے، الٹا مذاق اڑانے پر تل گئے اور انھوں نے کہا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو عذابِ الہٰی کا یہ وعدہ کب پورا ہو گا (ویقولون متٰی ھذا الوعد ان کنتم صادقین)۔ باوجودیکہ ان کے مخاطب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے لیکن وہ یہ بات جمع کے صیغے کے ساتھ کر رہے تھے کیونکہ سچّے مومن بھی اس گفتگو میں آنحضرت کے ہم صدا تھے لہٰذا طبعی طور پر وہ بھی ان کے مخاطب تھے۔ اس موقع پر قرآنِ مجید ان کے مذاق کو حقیقی سمجھ کر انہیں حقیقت پر مبنی جواب دیتا ہے کہ "انہیں کہہ دو کہ جس عذاب کی تم جلدی کرتے ہو شاید اس کا کچھ حصہ تمہارے نزدیک اور آس پاس ہی ہو" "قل عسٰی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون"۔ جلدی کیوں کر رہے ہو؟ عذابِ الہٰی کو حقیر کیوں سمجھ رہے ہو؟ کیوں اپنے آپ پر رحم نہیں کرتے ہو یہ آخر عذابِ خداوندی کوئی مذاق نہیں ہے۔ سمجھ لو کہ میں تمھارے انھی الفاظ کی وجہ سے عذابِ الہٰی اور قہر و غضبِ ذوالجلال تمھارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور ابھی تم پر نازل ہوا ہی چاہتا ہے اور تمہیں نیست و نابود کر کے رکھ دینے کے لیے بالکل تیار کھڑا ہے۔ اتنے ہٹ دھرم کیوں بن رہے ہو؟ "ردف" (بروزن "حرف") کسی چیز کے پیچھے آنے کے معنی میں ہے لہٰذا جو شخص گھوڑے پر کسی کے پیچھے بیٹھتا ہے اسے "ردیف" کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ان افراد اور چیزوں کو بھی "ردیف" کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے پیچھے ہوتی ہیں۔ اس عذاب سے کیا مراد ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ سخت وار ہے جو ان سرکشی اور ہٹ دھرم مجرمین کے پیکر پر جنگِ بدر کے دن پڑا۔ جنگ بدر مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہونے والی سب سے پہلی جنگ ہے جس میں کفار کے ستر نامی گرامی افراد مارے گئے اور ۷۰ آدمی اسیر ہوئے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد عمومی دردناک عذاب ہو لیکن "رحمۃ للعالمین" نبی کے وجود اقدس کی وجہ سے ان سے ہٹا لیا گیا ہو۔ سورہ انفال کی آیت ۳۳ اسی بات کی شاہد ہے۔ خدا فرماتا ہے: وما كان الله ليعذبهم و انت فيهم جب تک تم ان لوگوں میں موجود ہو خداوندِ عالم ان کو معذّب نہیں کرے گا۔ "عسٰی" {شاید} کی تعبیر پیغمبرِ اسلام کی زبانی ہے بلکہ بعض لوگوں کی سوچ کے برعکس کلامِ الہٰی میں بھی اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ کسی چیز کے مقدمات اور اقتصاد کے وجود کی طرف اشارہ ہے ہر چند ہی ممکن ہے ان مقدمات کو کوئی رکاوٹ اور مانع پیش آ جائے اور وہ چیز اپنے آخری مقصد تک نہ پہنچ سکے (غور کیجیے گا)۔ پھر اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر خداوندِ عالم تمہیں عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا تو اس کی وجہ اس کا تم پر فضل و رحمت ہے تاکہ تمھیں اپنی اصلاح اور گناہوں کی تلافی کا موقع مل سکے ارشاد ہوتا ہے: تمہارا رب تمام لوگوں پر فضل و رحمت کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہیں (وان ربک لذوفضل على الناس ولكن اکثرھم لایشکرون)۔ اگر ان کا یہ خیال ہو کہ خداوندِ عالم انھیں عذاب اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ان کی بری نیتّوں اور غلط سوچوں سے بےخبر ہے تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ "تمہارا پروردگار تو اس چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے کہ جو وہ سینوں میں چھپاتے ہیں اور اس سے بھی باخبر ہے جسے وہ اعلانیہ انجام دیتے ہیں" (وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون)۔ ["تکن"، "کن" بر وزن "جن" کے مادہ سے ہے اور اس چیز کو کہا جاتا ہے جس میں دوسری اشیاء کو چھپا کر رکھا جاتا ہے اور یہاں پر مراد کفّار کے اسرار، افکار اور سازشیں ہیں جنہیں وہ دل میں چھپا کر رکھتے ہیں]۔ وہ ان کے باطن سے بھی اسی قدر آگاہ ہے جس قدر ظاہر سے، اصولی طور پر ظاہر و باطن اور غیب و شہود اس کے لیے سب کیساں ہیں۔ یہ تو ہمارا محدود علم ہے کہ ہم نے ایسے مفاہیم وضع کر لیے ہیں وگرنہ ایک غیرمحدود اور لامتناہی ذات کے لیے تو اسی قدر ظاہر ایسے مفاہیم کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہاں پر خداوند عالم کے عالم الغیب ہونے کا ذکر افعال کے عالم ہونے پر مقدم ہے اور یہ نیت اور ارادے کے اہم ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس لیے ہو کہ ظاہری افعال کا سرچشمہ داخلی نیت ہی ہوتی ہے اور علت کے علم کو معلول کے علم پر مقدم ذکر کیا گیا ہے۔ پھر قرآن فرماتا ہے کہ خدا صرف ان کے ظاہری اور باطنی حالات و کردار ہی کو نہیں جانتا بلکہ اس کا علم اس قدر وسیع اور محیط ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی موجود بھی ایسا پنہاں اور مخفی نہیں ہے جو علمِ پروردگار کی کتاب میں میں درج نہ ہو۔ و ما من غائبة في السماء والارض الا في كتاب مبين۔ ["غائبة" ایک صفت ہے اور بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق اس میں "تاء" تانیث کی نہیں ہے بلکہ مبالغہ کے لیے ہے اور یہ ان چیزوں کی طرف اشارہ ہے جو بہت زیادہ مخفی اور پوشیدہ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک یہ احتمال بھی ہے کہ شاید " تاء" تانیث کی ہو اور اس کا موصوف یا تو لفظ "اشیاء" ہے اور یا خصلت وغیرہ کہ محذوف ہے]۔ ظاہر سی بات ہے کہ "غائبة" کا ایک وسیع معنی ہے جو بھی ہماری حس سے مخفی ہے وہ اس کے دائرے میں آ جاتا ہے خواہ وہ بندوں کے مخفی اعمال ہوں یا ان کی باطنی نیتیں، خواہ وہ آسمان و زمین کے مخفی اسرار ہوں یا قیامت کا برپا ہونا اور عذاب کے نزول کا زمانہ وغیرہ اور اگر ہم غائتہ کی مذکورہ امور میں سے کسی ایک سے تفسیر کریں گے تو یہ بِلا دلیل ہو گی۔ "کتاب مبین" سے مراد لوحِ محفوظ ہے یہ خداوندِ عالم کے لامحدود علم کا دوسرا نام ہے جس کی تفصیل تفسیر نمونہ کی جلد ۳ سورہ انعام کی آیت ۵۹ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

ایک نکتہ

آیات بالا میں تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاد کے منکر لوگ قیامت پر ایمان لانے اور اس ایمان کی وجہ سے عائد ہونے والے فرائض سے جان چھڑانے کے لیے تین طرح کے اشکال کیا کرتے تھے۔ ۱۔ خاک ہو جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو وہ بعید سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کے نظریے کے مطابق خاک سرچشمہ حیات نہیں ہو سکتی۔ ۲۔ یہ ایک پرانا عقیدہ ہے کوئی نئی بات اس میں دکھائی نہیں دیتی۔ ۳۔ منکرینِ معاد پر عذاب نازل نہیں ہوتا کیونکہ اگر منکرینِ معاد واقعاً عذاب میں مبتلا ہوں گے تو پھر یہ ان پر کیوں نازل نہیں ہوتا۔ قرآنِ مجید نے پہلے اور دوسرے سوال کا جواب تو اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ یہ بالکل واضح ہے۔ کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہتے ہیں کہ مٹی زندگی کا سرچشمہ بنتی ہے کیونکہ خود ہم بھی پہلے مٹی تھے پھر ہم نے ایک زندہ موجود کی صورت اختیار کر لی۔ نیز کسی چیز کا قدیمی ہونا اس کی اہمیت کو ہرگز کم نہیں کر دیتا، کیونکہ اس کائنات کے اصلی اور بنیادی قوانین ازل سے ابد تک ثابت، اٹل اور برقرار ہیں۔ اصولِ فلسفہ ہوں یا مسائلِ ریاضی اور دوسرے علوم، ان میں سے اکثرد بیشتر اٹل اور ناقابلِ انکار ہیں۔ مثلاً کیا اجتماع نقیضین کا محال ہونا یا فیثا غورث کا جدول ضرب اپنے قدیمی ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوں گے؟ یا اگر ہم دیکھتے ہیں کہ عدالت اچھی چیز ہے اور ظلم بری چیز ہے اور ان کی یہ اچھائی اور برائی ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور ہمیشہ تک رہے گی تو کیا یہ ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے؟ بلکہ اصولی طور پر تو کس چیز کا قدیم ہونا اس کی اصالت پر دلالت کرتا ہے۔ تیسرے اعتراض کا یوں جواب دیا گیا ہے کہ نزولِ عذاب کے بارے میں عجلت سے کام نہ لو یہ تو خدا کی مہربانی ہے کہ تمہیں جلد عذاب نہیں دیتا تاکہ تمہیں کچھ مہلت مل جائے اور سمجھ جاؤ لیکن یہ بات ضرور ذہن نشین کر لو کہ "عذابِ الہٰی اگرچہ دیر سے آئے لیکن آئے گا ضرور۔"

76
27:76
إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَكۡثَرَ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
یہ قرآن بنی اسرائیل کے لئے ان اکثر چیزوں کو بیان کرتا ہے جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

77
27:77
وَإِنَّهُۥ لَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
اور مومنین کے لیے یہ ہدایت و رحمت ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

78
27:78
إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُم بِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡعَلِيمُ
بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ اور وہ قادر و علیم ہے

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

79
27:79
فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلۡحَقِّ ٱلۡمُبِينِ
پس تم خدا پر توکل کرو کیونکہ تم واضح حق پر ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

80
27:80
إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ
تم نہ تو اپنی باتیں (ان زندہ نما) مر دوں کے کانوں تک پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی ان بہروں کو بلا سکتے ہو جب وہ منہ پھیر کر پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 81 کے تحت ملاحظہ کریں۔

81
27:81
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِي ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ
اور نہ ہی تم اندھوں کو گمراہی سے نجات دلا سکتے ہو۔ تم تو فقط ان لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوں اور حق کے سامنے جھک جائیں۔

تفسیر: اندھے اور بہرے آپ کی بات نہیں مانیں گے

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں مبداء اور معاد کی بات ہو رہی تھی اور زیرِ نظر آیات میں نبّوت اور قرآن کی حقانیت کو بیان کرنے کے بعد اس گفتگو کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ گزشتہ آیات میں خداوندِ عالم کے غیر محدود اور لامتناہی علم کی بات ہو رہی تھی اور زیرِ نظر آیات میں اس کی مزید تفصیل بیان ہوئی ہے۔ پھر یہ کہ گزشتہ آیات میں روئے سخن مشرکین کی طرف تھا جبکہ ان آیات میں دوسرے کفار مثلاً یہود اور ان کے درمیان اختلافات کی بات ہو رہی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے (ان هذا القرآن يقص على بنى اسرائيل اكثر الذي هم فيه يختلفون)۔ بنی اسرائیل کا آپس میں بہت سے مسائل میں اختلاف تھا۔ جنابِ مریم اور حضرت عیسی کے بارے میں ان کا اختلاف تھا، جس پیغمبر کے بارے میں تورات میں خوشخبری دی جا چکی تھی اس میں ان کا اختلاف تھا کہ وہ کون پیغمبر ہے اور اسی طرح بہت سے دینی اور مذہبی احکام میں ان کے اختلافات تھے قرآن نے آکر اس سلسلے میں حقِ مطلب ادا کر دیا اور فرمایا: مسیح نے صریح الفاظ میں اپنا تعارف یوں کروایا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اسی نے مجھے (آسمانی) کتاب عطا کی ہے اور مجھے پیغمبر بنایا ہے قال انی عبد الله اتاني الكتاب وجعلني نبيًّا۔ (مریم ۳۰) اور قرآن نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ جناب عیسٰی علیہ السلام صرف باپ کے بغیر پیدا ہو گئے ہیں اور یہ بات خدا کے لیے محال نہیں ہے کیونکہ اس نے ماں اور باپ دونوں کے بغیر آدم کو خلق فرمایا ہے: ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب۔ ( آل عمران / ۵۹) جس پیغمبر کی نشانیاں تورات میں بتائی گئی تھیں وہ سب کی سب پیغمبرِ اسلام پر منطبق بتائیں کیونکہ آپ کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتیں۔ بہرحال، قرآنِ مجید کے دیگر فرائض کے علاوہ ایک فریضہ یہ بھی ہے کہ ان اختلافات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور اپنا صحیح فیصلہ سنائے جو خرافات، انبیاء کی تعلیمات کے حقائق کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اور یہ ہر نبی اور رسول کا فرض بنتا ہے کہ تحریفات اور باطل کے حق کے ساتھ گڈمڈ ہو جانے کی وجہ سے جو اختلافات پیدا ہوں ان کا خاتمہ کرے اور لوگوں کو صحیح راہ کی طرف راہنمائی کرے۔ چونکہ یہ کام دورِ جہالت میں رہنے والے اور کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ نہ کرنے والے شخص سے انجام پا رہا ہے لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس شخص کا نہیں جبکہ خداوندِ عالم ہی کا کام ہے۔ نیز ہر قسم کے اختلافات کا نتیجہ ہدایت و رحمت کا سبب ہوتا ہے لہذا بعد والی آیت میں ایک قاعدہ کلیہ کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ قرآن مومنین کے لیے ہدایت و رحمت ہے (وانه لھدًی و رحمة للمؤمنين)۔ ہدایت و رحمت اس لحاظ سے ہے کہ اختلافات کو دور کرتا اور خرافات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ ہدایت اور رحمت اس لحاظ سے ہے کہ اس کی عظمت کی دلیل اس کے عظیم مطالب میں مضمر ہے۔ ہدایت اور رحمت ہے اس لحاظ سے کہ صحیح راہ کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور راہ پر چلنے کے انداز بھی بتاتا ہے۔ اور "مومنین" کا اس مقام پر خصوصی ذکر اس لیے ہے (جیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ جب تک انسان کے اندر حق کی قبولیت اور پروردگارِ عالم کے سامنے سر جھکا دینے کی آمادگی نہیں پائی جائے گی اس وقت تک وہ اس منبع فیضِ الہٰی سے کماحقہ بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔ بنی اسرائیل کے کچھ گروہ قرآنِ مجید کی طرف سے حقائق بیان ہونے کے باوجود اپنی ضد پر قائم رہے اور انھوں نے حقائق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لہذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار ان کے درمیان اپنا فیصلہ کرے گا اور وہی غالب اور عالم ہے (ان ربك يقصى بينهم بحكمه وهو العزیز العلیم)۔ اگرچہ مندرجہ بالا آیت میں اس بات کی تو صراحت نہیں کی گئی کہ آخری فیصلہ بروزِ قیامت سنایا جائے گا لیکن دو دوسری آیات کے قرینے کی رو سے جن میں بنی اسرائیل کے اختلافات اور خداوندِ عالم کے فیصلے کا واضح طور پر ذکر ہے زیرِ نظر آیت میں بھی یہی چیز مقصود ہے۔ سورۃ جاثیہ کی آیت ۱۷ میں ہے: ان ربك يقضى بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون تمھارا پروردگار قیامت کے دن ان لوگوں کے درمیان ان چیزوں میں فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اسی قسم کا مفہوم سورہ یونس کی آیت ۹۳ میں بھی آیا ہے۔ یہاں پر خداوندِ عالم کی دو اوصاف کے ساتھ توصیف کی گئی ہے ایک "عزیز" اور دوسرے "علیم" اور یہ ان دو اوصاف کی طرف اشارہ ہے جو کسی قاضی میں ضرور ہونی چاہئیں۔ ایک تو کافی حد تک علم ہو اور دوسرے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی طاقت ہو اور خدا میں یہ دونوں صفات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ آگاہ اور سب سے زیادہ قدرت مند ہے۔ چونکہ یہ الفاظ قرآنِ مجید کی عظمت بیان کرنے اور بنی اسرائیل کو متنبہ کرنے کے علاوہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی تسکین اور قلبی سکون کا سبب بھی ہیں لہذا بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: بنابریں خدا پر بھروسہ کرو۔ (فتوكل على الله)۔ اس خدا پر بھروسہ کرو جو غالب اور ناقابلِ تسخیر ہے اور دنیا کی ہر چیز سے آگاہ ہے۔ اس خدا پر بھروسہ کرو جس نے اس قدر باعظمت قرآن تمھیں عطا فرمایا ہے۔ اس پر توکل کرو اور ان لوگوں کی مخالفت سے نہ گھبراؤ کیونکہ تم واضح حق پر ہو (انك على الحق المبين)۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن واضح طور پر حق ہے تو پھر یہ لوگ اس کی اس حد تک مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ بعد والی آیات درحقیقت اس سوال کا جواب دے رہی ہیں کہ: اگر وہ حقِ مبین کو قبول نہیں کرتے اور تمھاری گرما دینے والی باتیں کے سرد دلوں پر اثر نہیں کرتیں اس پر تعجّب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ تم مردوں کے کانوں تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتے (انک لا تسمع الموتٰی)۔ [بعض مفسرین نے اس جملے اور بعد والے جملوں کو پیغمبر اکرم کے توکل بر خدا کرنے اور مایوس نہ ہونے کی دلیل مانا ہے جب کہ ظاہری طور پر یہ اس سوال کا جواب ہے جو قرآن کے "مبین" ہونے کے بارے میں ہوا ہے]۔ میرے پیغمبر، تمہارے مخاطب تو زندہ لوگ ہیں، جن میں زندہ، بیدار اور حق طلب روح پائی جاتی ہے نہ کہ زندہ نما مردہ لوگ کہ تعصب، ضد اور گناہوں پر اصرار نے ان سے ان کی سوچ اور فہم و فراست کو سلب کر لیا ہے۔ حتی کہ ان لوگوں تک بھی تم اپنی آواز نہیں پہنچا سکتے جو زندہ تو ہیں لیکن بہرے ہیں خاص طور پر جب وہ تم سے پشت پھیر لیں اور تم سے دور ہو جائیں (ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولـوا مـدبرين)۔ اگر وہ تمھارے قریب ہوتے پھر تو ممکن تھا کہ تم اپنا منہ ان کے کانوں کے نزدیک لے جا کر بلند آواز سے ان تک حق کی آواز پہنچاتے اور شاید ان کے بہرے کان کچھ نہ کچھ سن لیتے۔ لیکن وہ تو ایسے بہرے ہیں جو تم سے روز بروز دور بھاگتے نظر آتے ہیں۔ پھر بھی اگر سننے والے کانوں کی بجائے ان کی دیکھنے والی آنکھیں ہی ہوتیں۔ اگرچہ ان کے کانوں تک کسی قسم کی آواز نہ پہنچتی لیکن ممکن تھا کہ علامتوں اور اشاروں سے ہی صراطِ مستقیم تلاش کر لیتے لیکن افسوس کہ وہ نابینا بھی ہیں "اور تم نابیناؤں کو ان کی گمراہی سے نہ باز رکھ سکتے ہو نہ انہیں ہدایت کر سکتے ہو" (وما انت بهادی العمی عن ضلالتھم)۔ "تم تو صرف اپنی حق باتیں ان لوگوں کے کانوں تک پہنچا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لے آتے ہیں اور حق کے آگے سر جھکانے کی روح اپنے اندر رکھتے ہیں" (ان تسمع الا من يؤمن بأياتنا فهم مسلمون)۔ درحقیقت مندرجہ بالا دونوں آیات انسان کی بیرونی دنیا سے شناخت کے عوامل اور اس کے اس جہان سے مربوط ہونے کے طریقوں کا ایک واضح مجموعہ ہیں۔ دل کے مردہ ہو جانے کے مقابلے میں "تشخیص کی حِس" اور بیدار عقل۔ قوتِ سامعہ کے ذریعے حق بات کو قبول کرنے کے لیے "سننے والے کان"۔ قوتِ باصرہ کے ذریعہ حق و باطل کے چہروں کو دیکھنے کے لیے "دیکھنے والی آنکھ"۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی، ضد اور اندھی تقلید اور ارتکابِ گناہ نے ان کی حقیقت میں آنکھوں کو اندھا اور کانوں کو بہرا بلکہ ان کی عقل و دل کو بےکار کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر اس قسم کے لوگوں کو تمام انبیاء، اولیاء اور فرشتے بھی مل کر ہدایت کریں پھر بھی وہ ہدایت حاصل نہیں کریں گے، کیونکہ ان کا اپنے وجود کی بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہو چکا ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے من کی دنیا میں ہی ڈوب چکے ہوتے ہیں۔ اس قسم کا مفہوم سورہ بقرہ، سورہ روم اور قرآنِ مجید کی کئی اور سورتوں میں بھی ملتا ہے اور ہم نے "شناخت کے آلات کی نعمت" کی اہمیت کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد میں سورہ نحل کی آیت ۷۸ کے ضمن میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہم اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ ایمان اور تسلیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دینی حقائق کو پہلے سے قبول کر چکا ہو کیونکہ اس سے تحصیل حاصل لازم آئے گی بلکہ مقصد یہ ہے کہ جب تک انسان کے اندر فرمانِ خدا کے آگے خضوع اور حق طلبی کی روح پیدا نہیں ہو گی اس وقت تک وہ انبیاء کی باتوں پر کان نہیں دھرے گا۔

چند ایک نکات: ا۔ توکل کے اسباب:

"توکل" "وکالت" کے مادہ سے ہے قرآنی منطق کی رو سے خدا کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ کرنے، اسے اپنا دلی اور وکیل بنانے اور ہزاروں قسم کی مشکلات اور رکاوٹوں سے نہ گھبرانے کے معنی میں ہے۔ یہ ایمان کی ایک اہم ترین نشانی اور مشکلات سے نبرد آزمائی میں کامیابی کے حصول کے لیے اہم ترین عوامل میں سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں توکّل کی دلیل میں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں: ایک تو قدرت اور علم و آگاہی کہ جس کی وجہ سے انسان خدا پر اعتماد کرتا ہے اور دوسری اس راہ کا روشن ہونا ہے جسے انسان نے اختیار کیا ہے۔ درحقیقت وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ آپ کو گھبرانے اور خوف کھانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کی امیدوں کا سہارا اور آپ کی آرزوؤں کا مرکز وہ خدا ہے جو عزیز اور ناقابلِ تسخیر بھی ہے اور علیم وآگاہ بھی ہے نیز آپص بھی حقِ مبین کی راہ پر گامزن ہیں جو شخص حق مبین کا دفاع کر رہا ہو اسے کیوں گھبرانا اور خوف کھانا چاہیے۔ اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ لوگ آپ کے مخالف ہیں تو آپ کو اس چیز کی ہرگز پرواہ نہیں کرنا چاہیے، نہ تو ان کی آنکھیں بینا ہیں نہ کان سنتے ہیں اور نہ ہی قلوب زندہ ہیں بلکہ اصولی طور پر وہ تو آپ کے حلقہ تبلیغ سے ہی خارج ہیں۔ صرف حق طلب، خدا کے عاشق اور عدالت کے پیاسے ہی آپ کے قرآنی چشمہ آبِ زلال کی طرف لپک کر آئیں گے تاکہ اس سے سیراب ہو سکیں۔

۲۔ موت اور حیات قرآن کی رو سے:

بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو مختلف زاویہ فکر سے اپنے لیے مختلف معانی پیدا کر لیتے ہیں جن میں "موت" اور "حیات" کے الفاظ بھی ہیں جنہیں اگر مادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کا صرف طبیعیاتی { Physical} معنی ہی ہو گا یعنی جب تک دل کام کرتا رہے۔ اعضاءِ بدن میں خون کی گردش جاری ہے جسم میں حس و حرکت اور جاذبہ و واقعہ کا سلسلہ جاری رہے تو کہا جاتا ہے کہ انسان زندہ ہے لیکن جب یہ سلسلہ رک جائے تو اس کی موت کی قطعی دلیل بن جاتا ہے اور اس امر کا پتہ اچھی طرح دیکھ بھال کے ذریعے تھوڑی سی دیر میں لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن قرآنی منطق کی رو سے بہت سے ایسے افراد ہیں جو طبیعاتی طور پر تو زندہ ہیں لیکن ان کا شمار مردوں میں ہوتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی طرف آیات زیرِ بحث میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس کے برعکس کچھ افراد وہ بھی ہیں جو ظاہراً تو مردہ ہیں لیکن درحقیقت زندہ جاوید ہیں جیسے شہداءِ راہ خدا۔ ان مختلف نظریات کا سبب یہ ہے کہ اسلام نے جہاں انسانی زندگی اور اس کی شخصیت کا معیار اس کی روحانی اقدار میں منحصر کیا ہے وہاں پر وجود کے فائدہ مند ہونے کو حیات اور بےفائدہ ہونے کو عدمِ حیات پر محمول کیا ہے۔ جو شخص ظاہری طور پر زندہ ہے لیکن وہ نفسیاتی خواہشات میں اس قدر مگن ہو چکا ہے کہ نہ فریاد سنتا ہے نہ ہی منادی حق کسی بےنوا کا چہرہ دیکھتا ہے اور نہ ہی عالمِ وجود میں پروردگار کی عظمت کے نشانات پر نظر کرتا ہے حتی کہ اپنے ماضی اور مستقبل پر ایک لحظہ کے لیے نہیں سوچ سکتا تو قرآنی منطق کی رو سے ایسا شخص مردہ ہے لیکن جو لوگ اپنے مرنے کے بعد بھی ایسے آثار چھوڑ گئے ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کے افکار اور بتائے ہوئے راستے دنیا والوں کے لیے اسوہ نمونہ اور راہنما اصولوں کی حیثیت رکھتے ہیں تو ایسے لوگ زندہ جاوید ہیں۔ [روحانی زندگی اور موت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۴، سورہ انفال کی آیت ۲۴ میں تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں]۔ ان سب سے ہٹ کر بھی ہمارے پاس بہت سے ایسے ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسانوں کی برزخی زندگی کو تسلیم کرتا ہے اور تعجب تو ان بعض بےخبر "وہابیوں" پر ہوتا ہے جو پیغمبرِ اسلام کی ذات تک کے لیے بھی حیات بعد از موت کے قائل نہیں ہیں یعنی انھیں بھی مردہ تسلیم کرتے ہیں اور آپ کو وسیلہ نہ ماننے کے لیے ان کی ایک دلیل یہی ہے کہ مردوں کو وسیلہ نہیں بنایا جا سکتا وہ کہتے ہیں کہ وہ تو مر چکے ہیں اور مردے کوئی بھی کام نہیں کر سکتے۔ اس سے بڑھ کر قابلِ تعجّب بات یہ ہے کہ وہ اپنے مدعا پر زیرِ نظر آیات سے استدلال کرتے ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے وہابیوں نے اس بات کی صراحت کر دی ہے کہ وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک طرح کی برزخی زندگی ہے یہ زندگی حیاتِ شہداء سے بھی بڑھ کر ہے جس کے بارے میں قرآن نے تصریح کر دی ہے حتیٰ کہ وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ آنحضرت ان لوگوں کے سلام کو بھی سنتے ہیں جو آپ پر سلام بھیجتے ہیں۔ [محمد بن عبد الوہاب کے رسائل "الہدية السنية" میں سے دوسرا رسالہ ص ۴۱]۔ شیعہ اور سنی کتابوں میں اس بارے میں بہت سی ایسی روآیات موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت آئمہ اطہار علیہ السلام ان لوگوں کا سلام سن لیتے ہیں جو ان پر دور یا نزدیک سے بھیجتے ہیں اور ان کے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں حتی کہ امت کے اعمال بھی ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ [مزید تفصیل کے لیے سید محسن امین عاملی کی کتاب "کشف الارتیاب" ص ۱۰۹ کا مطالعہ کیجیے]۔ جنگ بدر کے بارے میں صحیح بخاری میں ایک حدیث یوں مرقوم ہے: کفار کی شکست اور جنگ کے خاتمے کے بعد رسول اللہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ اس کنوئیں کے پاس پہنچے جہاں مشرکین کی لاشیں ڈالی گئی تھیں آپ نے انہیں نام لے لے کر پکارا اور فرمایا "کیا بہتر نہیں تھا کہ تم خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ جو وعدہ ہم سے خدا نے کیا تھا اسے تو ہم نے پالیا ہے کیا تم نے بھی اپنے پروردگار کے وعدہ کو پالیا ہے"۔ اس موقع پر جب حضرتِ عمر نے کہا یا رسول اللہ! آپ ایسے جسموں سے ہم کلام ہیں جن میں روح نہیں ہے۔ تو آنحضرت نے فرمایا: والذی نفس محمد بيده ما انتم باسمع لما اقول منهم۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے ہو۔ [صحیح بخاری جلد ۵ ص ۹۷ (بابِ قتل ابوجہل)]۔ جنگ جمل کے واقعات میں ہے کہ اصحابِ جمل کی شکست کے بعد حضرت علی مقتولین کے درمیان سے گزر رہے تھے جب قاضی بصرہ کعب بن سور کی نعش کے پاس پہنچے تو فرمایا اسے بٹھا دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا پھر آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: کعب، وائے ہو تم پر، تمھارے پاس علم کا خزانہ تو تھا لیکن اس نے تمھیں ذرہ بھر فائدہ نہ پہنچایا اور شیطان نے تجھے گمراہ کر کے جہنم بھیج دیا۔ [شرح نہج البلاغه از ابن ابی الحدید جلد ۱ ص ۲۴۸]۔ نہج البلاغہ میں ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام جنگ صفین سے کوفہ واپس لوٹ رہے تھے تو شہرِ کوفہ کی دیوار کے اس طرف ایک قبرستان تھا، آپ قبرستان کے قریب پہنچے تو مردوں سے مخاطب ہو کہ بےثباتی اور ناپائیداری کے سلسلے میں ارشاد فرمایا: یہ تو ہمارے ہاں کی خبر تھی۔ تمھارے ہاں کی کیا خبر ہے؟ پھر آپ نے خود ہی ارشاد فرمایا: اما لو اذن لهم في الكلام لاخبروكم ان خير الزاد التقوى اگر انھیں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو بتائیں کہ آخرت کا بہترین توشہ اور زادِ راہ تقوی ہے- اور یہ بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ مردے بھی بات سنتے ہیں اور باتوں کا جواب بھی دے سکتے ہیں لیکن انھیں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ [نہج البلاغه کلماتِ قصار جملہ ۱۳۰]۔ یہ سب تعبیرات انسان کی برزخی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

82
27:82
۞وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ
اور جب ان پر عذاب کا حکم آپہنچے گا(اور وہ قیامت کے کنارے پہنچ جائینگے)تو ہم ایک چلنے والا زمین سے نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا اور کہے گا کہ لوگ ہماری آیات پر ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

83
27:83
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ فَوۡجٗا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمۡ يُوزَعُونَ
اس دن کے متعلق سوچو جب ہم ہر امت سے ایک ایسے گروہ کو محشور کرینگے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے اور انہیں روکے رکھیں گے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے آملیں،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

84
27:84
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبۡتُم بِـَٔايَٰتِي وَلَمۡ تُحِيطُواْ بِهَا عِلۡمًا أَمَّاذَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
یہا نتک (کہ جب وہ حساب کے لئے)پیش ہونگے تو(اللہ) ان سے کہے گا: کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا ہے اور تحقیق سے کام نہیں لیا؟ تم کیا اعمال انجام دیتے رہے ہو؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 85 کے تحت ملاحظہ کریں۔

85
27:85
وَوَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمۡ لَا يَنطِقُونَ
اس وقت ان پر ان کے کئے ہوئے ظلم کی وجہ سے عذاب آجائے گا اور وہ کوئی بات نہیں کر سکیں گے۔

تفسیر ہٹ دھرم منکرین کا دردناک انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشته آیات میں عذاب اور قیامت کے وقوع پزیر ہونے کے بارے میں کفار کی جلد بازی کا ذکر تھا اور وہ بڑی بےچینی سے اس کا انتظار کیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ جس عذاب کا آپ وعدہ کیا کرتے ہیں وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا؟ قیامت کیوں نہیں برپا ہوتی؟ زیرِ نظر آیات میں ایسے چند واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قیامت کے قریب واقع ہوں گے نیز ہٹ دھرم منکرین کا دردناک انجام بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ جب عذاب کا حکم آ پہنچے گا اور وہ قیامت کے کنارے پہنچ جائیں گے تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک چلنے والا ظاہر کریں گے جو ان سے باتیں کرے گا اور وہ کہے گا کہ لوگ خدا کی آیات پر ایمان نہیں لاتے (و اذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا بآياتنا لايوقنون)- "وقع القول عليهم" سے مراد یا تو خدا کا فرمان اور وہ عذاب ہے جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے یا پھر قیامت کا قیام اور اس کی علامتوں کا ظہور ہے ایسی علامات جن کو دیکھ کر ہر شخص سرِ تسلیم خم کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ خدائی وعدے برحق تھے اور قیامت بالکل قریب ہے تو اس وقت توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے کیونکہ ان حالات میں ایمان لانا ایک اضطراری عمل ہو گا۔ البتہ یہ دونوں معانی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں کیونکہ قربِ قیامت اور گنہگاروں پر عذاب دونوں اکٹھے ہوں گے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ "دابة الارض" کیا ہے اور کون ہے؟ اس کا کیا کام ہو گا؟ قرآن نے اسے مجمل صورت میں ذکر کیا ہے اور گویا اجمال کی صورت میں ہی اس سے گزرنا چاہتا ہے بعض اوقات بعض باتیں اس وقت موثر ہوتی ہیں جب کسی ہولناک بات کو در پردہ بیان کیا جائے۔ قرآن صرف یہ کہتا ہے کہ وہ ایک متحرک اور چلنے والا ہے خداوندِ عالم اسے قیامت کے قریب زمین سے ظاہر کر دے گا وہ لوگوں سے باتیں کرے گا اور کہے گا کہ لوگ آیات خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا کام مختلف لوگوں میں ایسی تمیز کرنا ہے کہ منکر اور منافق لوگ خالص مومنین سے الگ ہو جائیں۔ "دآبۃ الارض" کی تفصیلات، صفات اور خصوصیات کے بارے میں متعدد روآیات موجود ہیں شیعہ اور سنی حضرات کی تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں بہت کچھ بیان ہوا ہے اس پر ہم انشاء اللہ نکات کی بحث میں تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ پھر قیامت کی ایک اور علامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ اس دن کا سوچو کہ جب ہم ہر امّت میں سے ان لوگوں کے گروہ محشور کریں گے جو ہماری نشانیوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور انھیں روکے رکھیں گے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ مِل جائیں (ويوم نحشر من كل امة فوجًا ممن يكذب بأياتنا فهم يوزعون)۔ "حشر" کا معنی کسی گروہ کو اس کے اپنے ٹھکانے سے نکال کر میدان (جنگ) وغیرہ کی طرف حرکت دینا ہے۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں بتایا ہے فوج کا معنی ہے ایسا گروہ جو جلدی جلدی چلتا ہے۔ "يوزعون" کا معنی ہے افراد کی بہت بڑی تعداد کو روکے رکھنا تاکہ دوسرے تمام گروہ بھی ان سے آ ملیں۔ یہ لفظ عموماً افراد کی بہت بڑی اور کثیر تعداد کے لیے بولا جاتا ہے جیسا کہ اسی سورت میں ہم حضرتِ سلیمان کے لشکر کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ بنابریں مجموعی طور پر آیت سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ خداوندِ عالم ہر قوم سے ایک ایک گروہ کو محشور کرے گا اور انھیں اپنے کیے کی سزا کے لیے حاضر کرے گا۔ بعض بزرگ مفسرین اس آیت کو مسئلہ رجعت اور قیامت کے نزدیک نیک اور بد لوگوں کے گروہوں کو اسی دنیا میں پھر لوٹ آنے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ اگر اس سے قیامت کی طرف اشارہ ہو تو پھر من "كل امة فوجًا" (ہر قوم سے ایک گروہ) کی تعبیر صحیح نہیں ہو گی وہ اس لیے کہ قیامت میں تو سب کے سب لوگ جی اٹھیں گے جیسا کہ خود قرآن مجید سورۃ کہف کی آیت ۴۷ میں کہتا ہے: وحشرناهم فلم نغادر منهم احدًا اس کا ایک اور شاہد اسی آیت سے پہلے والی آیت ہے جس میں اس دنیا کے خاتمے پر قیامت کی نشانیاں بتائی گئی ہیں اور بعد کی آیات میں تھی اسی موضوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بنابریں یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ قبل اور بعد والی آیت تو قیامت سے پہلے واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں گفتگو کریں اور درمیانی آیت خود قیامت کے بارے میں۔ آیات کی ہم آہنگی اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام آیات قبل از قیامت کے بارے میں ہوں۔ اس سلسلے میں بہت سی روآیات بھی موجود ہیں جنہیں ہم نکات کی گفتگو میں "رجعت" کی تفسیر کے ضمن میں بیان کریں گے۔ البته مفسرین اہلسنت عام طور پر اس آیت کو قیامت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور لفظ "فوج" کو ہر گروہ اور قوم کے سرداروں کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں اس بارے میں آیات کی عدم موافقت اور نہ ہم اہنگی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ تاخیر اور تقدیم کے حکم میں ہیں گویا آیت ۸۳ آیت ۸۵ کے بعد قرار پاتی ہے۔ لیکن معلوم ہے کہ ایک تو لفظ فوج کی تفسیر اس معنی میں خلافِ ظاہر ہے اور دوسرے آیات کی تاخیر اور تقدیم کے ساتھ بھی یہ تفسیر خلافِ ظاہر ہے۔ انجامِ کار اس گروہ کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے گا اور اللہ ان سے کہے گا کہ تم نے میری آیات کو جھٹلایا، جبکہ اس سے تم آگاہ بھی نہیں تھے اور تم نے تحقیق سے بھی کام نہیں لیا" (حتی اذاجاءو قال اكذبتم بأياتي ولم تحيطوا بها علمًا)۔ "اور تم کیا کام کیا کرتے تھے"؟ (اما ذاكنتم تعملون)۔ ["ماذا كنتم تعملون" جملہ استفہامیہ ہے اور "اما" مرکب ہے"ام" اور"ما" سے جبکہ "ام" حرفِ عطف ہے اور عموماً ہمزہ استفہام کے بعد دو چیزوں کی برابری کے لیے آتا ہے اور"ما" استفہامیہ ہے اور اس کا مجموعی طور پر یہ معنی بنے گا "اوای شیء کنتم تعملونه"]۔ یہ بات کہنے والا خداوندِ عالم ہے اور آیات سے مراد انبیاء علیہم السلام کے معجزات یا فرامین الہٰی ہیں یا یہ سب۔ "ولم تحيطوا بھا علمًا" سے مراد یہ ہے کہ تم کسی قسم کی تحقیق کیے بغیر اور حقیقتِ امر سے آگاہی حاصل کیے بغیر جھٹلانے لگ گئے تھے اور جہالت اور نادانی کی یہ انتہا ہے کہ انسان کسی قسم کی تحقیق کیے بغیر اور معلومات حاصل کیے بغیر کی چیز کو جھٹلانے لگ جائے۔ درحقیقت ان سے ایک سوال تو یہ ہوا کہ بِلاتحقیق اور معلومات حاصل کیے بغیر حقائق کو یوں جھٹلایا؟ اور دوسراسوال ان کے دیگر اعمال کے بارے میں ہو گا۔ اگر مندرجہ بالا آیت روزِ قیامت اور معاد کے بارے ہیں ہو تو اس کا مفہوم واضح ہے لیکن اگر مسئلہ رجعت کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ آیات کی ہم آہنگی ہے تو یہ اس اس دنیا میں کچھ بدکار لوگوں کی رجعت کے وقت خدا کا نمائندہ اور ولی امر ان سے باز پرس کرے گا پھر اسے ان کے کیے کی دنیاوی سزا دے گا اور اس سزا کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں آخرت کا عذاب نہیں ہو گا۔ جیسا کہ بہت سے مجرم لوگوں پر اس دنیا میں شرعی حدود جاری کی جاتی ہیں لیکن توبہ نہ کرنے کی صورت میں انہیں آخرت میں بھی سزا ضرور ملے گی۔ ظاہر ہے کہ ان مجرمین کے پاس ان دو سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہو گا لہذا تفسیر آیات کے سلسلے کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے: ان کے بارے میں عذابِ الہٰی کا حکم جاری ہو گا اور ان کے پاس کرنے کی کوئی بات نہیں ہو گی (و وقع القول عليهم بما ظلموا فهم لاينطقون)۔ اگر اس آیت کو رجعت کے معنی میں لیں تو یہ عذاب، دنیاوی عذاب ہو گا اور اگر آیت کو قیامت کے معنی میں لیں تو یہ عذاب آخرت کا عذاب ہو گا۔

چند ایک نکات: ۱۔ "دابة الارض" سے کیا مراد ہے؟

"دابة" بمعنی "چلنے والا" اور "ارض" کا معنی ہے "زمین"۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا اطلاق صرف غیر انسان پر ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے جبکہ انسان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ سورہ ہود کی چھٹی آیت میں ہے: وما من دابة في الارض الا على الله رزقها زمین میں کوئی بھی چلنے والا ایسا نہیں کہ جس کی روزی خدا کے ذمہ نہ ہو۔ نیز سورہ نحل کی آیت ۱۱ میں ہے: ولو يؤاخذ الله الناس بظلمهم ما ترك عليها من دابة اگر خدا لوگوں سے ان کے ظلم کا مواخذہ کرنے لگ جائے تو روئے زمین پر ایک بھی چلنے پھرنے والا نہ چھوڑے۔ سورۃ انفال کی آیت ۲۲ میں ہے: ان شرّ الدوآب عند الله الصم البكم الذين لايعقلون اللہ کے نزدیک چلنے پھرنے والوں میں سے بدترین وہ گونگے اور بہرے افراد ہیں جو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ لیکن اس کلمے کی تطبیق کے سلسے میں، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے ایک اجمالی بات کی ہے صرف ایک صفت بیان کی ہے کہ وہ لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور بےایمان افراد کو اجمالاً مشخص کرے گا لیکن اس بارے میں روآیات میں اور مفسرین کی گفتگو میں بہت بحث کی گئی ہے جس کا ان دو نکات میں خلاصہ پیش کیا جا سکتا ہے: ۱۔ بعض نے اسے ایک ایسی جاندار مخلوق سمجھا ہے جو عجیب و غریب ہو گی اور انسانوں میں سے بھی نہیں ہو گی اس کے لیے انھوں نے کئی عجیب و غریب باتیں نقل کی ہیں جو خارقِ عادت ہیں اور انبیاء کے معجزات سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ۲۔ بعض دیگر نے اس سلسلے میں وارد ہونے والی بہت سی روآیات کی روشنی میں اس سے مراد ایک انسان لیا ہے۔ ایک غیرمعمولی انسان، ایک متحرک اور فعال انسان، جس کا ایک اصلی کام ہی مومنین کی صفوں سے منافقین کو جدا کرنا اور ان کی نشاندی کرنا ہو گا اگر بلکہ بعض روآیات سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنابِ موسی علیہ السلام کا عصا اور حضرتِ سلمان علیہ السلام کی انگوٹھی بھی اس کے پاس ہو گی۔ ہم جانتے ہیں کہ عصائے موسیٰ قدرت اور اعجاز کی علامت ہے اور سلیمان کی انگشتری خدائی حکومت اور تسلط کی نشانی ہے گویا وہ ایک طاقتور اور حقائق واضح کرنے والا انسان ہو گا۔ حذیفہ یمانی سے مروی ہے کہ جناب رسآلت مآب صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "دابۃ الارض" کی ان الفاظ میں تعریف فرمائی ہے: لا يدركها طالب ولا يفوتها هارب فتسم المؤمن بين عينيه، ویكتب بين عينيه مومن، وتسم الكافر بين عينيه وتكتب بين عينيه كافر و معها عصا موسی و خاتم سلیمان وہ اس قدر طاقتور ہو گا کہ کوئی شخص اسے نہیں پا سکے گا اور کوئی شخص اس سے بچ کر نہیں جا سکے گا وہ مومن کی پیشانی پر نشان لگائے گا تو "مومن" لکھا جائے گا اور کافر کی پیشانی کو داغے گا تو "کافر" لکھا جائے گا، اس کے پاس عصائے موسیٰ اور سلیمان کی انگشتری بھی ہو گی۔ [تفسیر مجمع البیان، اسی آیت کے ذیل میں]۔ متعدد روآیات میں یہ علامات امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پر صادق آتی ہیں۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ: ایک شخص نے عمار یاسر سے کہا کہ قرآنِ مجید میں ایک ایسی آیت ہے جس نے پریشان فکر کر رکھا ہے اور مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔ عمار نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا کہ یہ آیت: واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانوا باياتنا لا يوقنون- آپ بتائیں کہ یہ "دابتہ الارض" کیا چیز ہے؟ عمار نے کہا: خدا کی قسم، جب تک میں تمھیں وہ "دابتہ الارض" نہ دکھا دوں، زمین پر نہ بیٹھوں گا نہ کھانا کھاؤں گا اور نہ ہی پانی پیوں گا۔ یہ کہہ کر وہ اسے حضرت علی کی خدمت میں لے آئے۔ آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، جب امام علیہ السلام کی نگاہ عمار پر پڑی تو آپ نے فرمایا: ادھر آؤ، عمار امام کی خدمت میں پہنچے اور بیٹھ کر ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ وہ شخص بہت حیران ہوا اور اس منظر کو بہت غور سے دیکھنے لگا، کیونکہ عمار نے اس سے قسم کھا کر کہا تھا کہ جب تک اپنا وعدہ پورا نہیں کر لے گا اس وقت تک وہ کھانا نہیں کھائے گا اس نے خیال کیا کہ شاید عمار نے اپنی قسم فراموش کر دی ہے۔ جب عمار اٹھے اور حضرت امیر سے خدا حافظی کی تو اس شخص نے عمار سے مخاطب ہو کر کہا: حیرت ہے آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ جب تک آپ مجھے"دابة الارض" نہیں دکھا پائیں گے اس وقت تک آپ کھانا کھائیں گے نہ پانی پیئیں گے اور نہ ہی زمین پر بیٹھیں گے، آپ نے یہ کیا کیا؟ اريتكها ان كنت تعقل اگر تمھیں سمجھ ہوتی تو میں اسے تمھیں دکھا چکا ہوں اور وہ تم دیکھ چکے ہو۔ [مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ اسی طرح کی ایک اور روایت جنابِ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے بھی تفسیر عیاشی میں نقل ہوئی ہے۔ [مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں]۔ علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحار الانوار میں معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث اس قسم کی نقل کی ہے کہ: علی مسجد میں سوئے ہوئے تھے کہ پیغمبر خدا وہاں تشریف لائے علی کو بیدار کر کے فرمایا: قم يا دابة الله اے دابتہ اللہ اٹھو۔ رسول اللہ کے ساتھیوں میں سے کسی نے عرض کی یا رسول اللہ کیا ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ایک دوسرے کو اس نام سے پکاریں تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا، یہ علی کا خاص نام ہے اور یہ وہی "دابة الارض" ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے "و اذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الأرض......" پھر آپ نے فرمایا: علی! آخری زمانے میں خداوندِ عالم تمھیں بہترین صورت میں زندہ کرے گا اور تمھارے ہاتھ میں ایک ایسی چیز عطا فرمائے گا جس سے تم دشمنوں پر نشان لگاؤ گے۔ [بحار الانوار جلد ۵۳ ص ۵۲]۔ مرحوم ابو الفتوح رازی اپنی تفسیر میں مندرجہ بالا آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں: ان روآیات کی رو سے جو ہمارے علماء کے ذریعے تم تک پہنچی ہیں۔ "دابة الارض" حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لیے کنایہ ہے۔ [تفسیر ابو الفتوح رازی جلد ۸ ص ۴۲۳]۔ اس حدیث کو اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کو پیشِ نظر رکھ کر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ "دآبۃ الارض" کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر اس عظیم پیشوا پر صادق آتا ہے جو آخری زمانے میں قیام فرمائے گا اور ایک عظیم تحرک کرے گا اور حق و باطل اور مومن و کافر کو ایک دوسرے سے جدا کرے گا۔ یہ جو روآیات میں مذکور ہوا ہے کہ اس کے پاس موسیٰ کا عصا اور سلیمان کی انگشتری ہو گی اور یہ دونوں چیزیں قوت و طاقت، فتح و کامرانی اور حکومت کی علامت ہیں، اس پر دلالت کرتی ہے"دابة الارض" سے مراد ایک نہایت ہی فعال انسان ہے نہ کہ کوئی حیوان۔ اور یہ چیز جو روآیات میں بیان ہوئی ہے کہ وہ مومن اور کافر کو نشان لگا کر انہیں ایک دوسرے سے جدا کرے گا یہ بھی کسی انسان سے متعلق ہو سکتی ہے۔ قرآن کی آیت کے مطابق اس کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں سے باتیں کرے گا یہ بات بھی اسی معنی سے مطابقت رکھتی ہے۔ مندرجہ بالا تمام گفتگو کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک طرف تو لفظ "دابۃ" کا استعمال بیشتر انسان کے علاوہ پر استعمال ہوتا ہے (ہر چند کہ قرآن میں اس کا استعمال انسان اور غیر انسان یا صرف انسان کے لیے بھی ہوا ہے) دوسری طرف خود آیت میں متعدد قرینے پائے جاتے ہیں اور اس آیت کی تفسیر میں وارد ہونے والی بہت سی روآیات بھی بتلاتی ہیں کہ اس آیت میں "دابة الارض" سے مراد آیت میں مذکور خصوصیات کا حامل نہایت ہی فعال انسان ہے جو حق کو باطل سے اور مومنین کو منافقین و کفّار کی صفوں سے جدا کرے گا وہ ایسا انسان ہے جو قیامت سے پہلے پہلے ظاہر ہو گا اور وہ خود بھی عظمت پروردگار کی آیات میں سے ایک آیت ہو گا۔

۲۔ "رجعت" کتاب و سنت کی روشنی میں:

مندرجہ بالا آیات میں جو مسائل غور طلب اور قابل تشریح ہیں ان میں سے ایک مسئلہ رجعت بھی ہے۔ "رجعت" مذہب شیعہ کے مشہور عقائد میں سے ہے جس کی تفسیر ایک مختصر سے جملہ میں یوں کی گئی ہے: حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد اور قیامت کے نزدیک کچھ "خالص مومنین" اور کچھ "نہایت ہی شریر باغی اور کافر لوگ" اس دنیا میں واپس لائے جائیں گے پہلا گروہ کمال کے مدارج طے کرے گا اور دوسرے گروہ کو سخت سزا ملے گی۔ مرحوم سید مرتضیٰ جن کا شمار مذہب شیعہ کے اکابر علماء میں ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں یوں فرماتے ہیں: خداوندِ متعال امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد کچھ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں واپس بھیجے گا، جو قبل ازاں وفات پا چکے ہوں گے تاکہ وہ امام کی نصرت کا اعزاز اور ثواب حاصل کر سکیں اور ساری دنیا پر حق کی حکومت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں، اسی طرح وہ سخت دشمنوں کو بھی زندہ کرے گا تاکہ ان سے انتقام لیا جائے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں: اس عقیدے کی درستی کی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی عقل مند اس بارے میں قدرتِ خدا کا انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ بات محال نہیں ہے جبکہ ہمارے کچھ مخالف حضرات اس امر کا انکار کرتے ہیں گویا وہ اسے محال اور ناممکن سمجھتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں: اس عقیدے کے ثبوت کی دلیل مذہب امامیہ کا اس پر اجماع ہے کیونکہ اس مذہب کے کسی بھی پیروکار نے اس عقیدے کی مخالفت نہیں کی ہے۔ [سفینہ البحار جلد اوّل ص ۵۱۱ مادہ رجع]۔ البته بعض قدیم شیعہ علماء مثلا مرحوم طبرسی کی تفسیر مجمع البیان کے الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب کی ایک نہایت ہی قلیل تعداد اس عقیدے کی مخالف تھی ان کے نزدیک رجعت سے مراد اہلِ بیت علیہم السلام کی حکومت اور سلطنت ہے نہ کہ مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا، لیکن ان کی مخالفت ایسی ہے جس سے اجماع کو کوئی خدشہ لاحق نہیں ہے۔ بہرحال، اس سلسے میں بہت گفتگو کی گئی ہے لہذا ہم چاہتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ باتیں مختصر اور جامع انداز میں حدودِ تفسیر کے اندر رہتے ہوئے بیان کر دیں: (۱) اس بات میں قطعاً شک نہیں ہے کہ اس دنیا میں بعض مردوں کا زندہ کیا جانا کوئی محال بات نہیں ہے۔ جس طرح قیامت کے دن تمام انسانوں کو زندہ کیا جانا ناممکن نہیں ہے۔ اس امر پر تعجب کرنا ایسے ہے جیسے زمانہ جاہلیت کے مشرکین مسئلہ معاد پر تعجب کیا کرتے تھے۔ اس مسئلے کا مذاق اڑانا بھی مشرکین کے مسلہ معاد کے مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ ایسے کام کو عقل سلیم محال نہیں سمجھتی اور خدا کی قدرت اس قدر وسیع اور حاوی ہے کہ اس قسم کے تمام امور اس کے سامنے آسان اور معمولی ہیں۔ (۲) قرآنِ مجید میں پانچ مقامات پر گذشتہ امتوں میں رجعت کے وقوع کا اجمالی تذکرہ آیا ہے: الف: اس پیغمبر کے بارے میں جو ایک گاؤں سے گزر رہے تھے دیکھا کہ بستی کی دیواریں گِر چکی ہیں اور بستی میں رہنے والوں کے اجسام اور ہڈیاں اِدھر ادھر بکھری پڑی ہیں، انھوں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ خداوندِ عالم انہیں مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا؟ تو خداوندِ عالم نے انہیں ایک سو سال تک موت دے دی اور پھر زندہ کیا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ سوئے رہے ہو؟ تو انھوں نے عرض کیا، ایک دن یا دن کا کچھ حصّہ۔ خدا نے فرمایا: نہیں بلکہ پورے ایک سو سال تم پر بِیت چکے ہیں۔ (بقرہ ۲۵۹) یہ پیغمبر جنابِ عزیر ہوں یا کوئی اور، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اہم بات یہ ہے کہ خداوندِ عالم نے انہیں مرنے کے بعد اسی دنیا میں دوبارہ زندہ کیا (فاماته الله مأة عام ثم بعثه)۔ ب: سورۃ بقرہ ہی کی آیت ۲۴۳ میں کچھ اور لوگوں کا ذکر ہے جو موت کے ڈر سے (بعض مفسرین کے بقول میدانِ جہاد میں شرکت کے خوف سے طاعون کا بہانہ بنا کر) اپنے گھر بار چھوڑ کر باہر چلے گئے تو خداوندِ عالم نےموت کا حکم دے دیا۔ اور انھیں دوبارہ زندہ کیا (فقال لھم اللہ موتواثم احياهم)۔ اگرچہ بعض مفسرین اس غیرمعمولی واقعے کو برداشت نہیں کر سکے لہذا انہوں نے اسے مثال شمار کیا ہے لیکن واضح ہے کہ آیت کے ظہور بلکہ صراحت کے مطابق یہ واقعہ رونما ہوا ہے اس کے مقابلے میں اس قسم کی تاویلیں قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ ج: سورۃ بقرہ کی آیات نمبر ۵۵ اور ۵۶ جو بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں، کے مطابق کچھ لوگوں نے خدا کے دیدار کی درخواست کی تو وہ مہلک بجلی کا شکار ہو گئے اور اس دنیا سے چل بسے، خداوندِ عالم نے انہیں دوبارہ زندہ کیا تاکہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں (ثم بعثنا كم من بعد موتكم لعلكم تشكرون)۔ د: سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۰ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کے ذکر میں ہم پڑھتے ہیں: واذ تخرج الموتى باذني تم میرے فرمان کے مطابق مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے (مردوں کے زندہ کرنے والے) اس معجزے کو دنیا کے سامنے پیش کیا بلکہ فعلِ مضارع (تخرج) کی تعبیر سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اسے بار بار دہرایا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ بھی رجعت کی ایک قسم ہے۔ لا: سورہ بقرہ کی آیت ۷۳ میں بنی اسرائیل کے اس مقتول کے قاتل کا سراغ لگانے کا واقعہ ہے کہ جس کے بارے میں تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا، قرآن کہتا ہے: حکم ملا کہ ایک گائے کو ذبح کیا جائے جس کی خاص علامتیں ہوں تاکہ اس کے بدن کا ایک ٹکڑا مقتول کو مارا جائے اور وہ اس سے زندہ ہو جائے (اور قاتل کا نام و نشان بتائے جس سے اس جھگڑے کا خاتمہ ہو) (فقلنا اضربوه ببعضها كذلك يحيى الله الموتي ويريكم أياته لعلكم تعقلون)۔ ان پانچ مقامات کے علاوہ اور بھی کئی مقامات قرآن میں ملتے ہیں۔ اسی طرح اصحابِ کہف کی داستان بھی رجعت سے ملتی جلتی ہے نیز حضرت ابراہیم کے ان چار پرندوں کا واقعہ بھی رجعت کے حوالے سے قابلِ غور ہے اس واقعے میں ان پرندوں کو ذبح کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا تاکہ ان لوگوں کے بارے میں معاد کے امکان کو واضح کیا جا سکے۔ بات خواہ کچھ ہو یہ کیونکر مکن ہے کہ کوئی شخص قرآنِ مجید کو ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے بھی مانے اور پھر اس قدر واضح اور روشن آیات کے باوجود رجعت کے امکان کا انکار کر دے۔ کیا اصولی طور پر "رجعت" کا معنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے علاوہ کچھ اور ہے؟ کیا رجعت اس چھوٹی سی دنیا میں قیامت (معاد) کا ایک چھوٹا سا نمونہ نہیں ہے؟ جو شخص قیامت کو اس وسعت کے ساتھ مانتا ہے وہ مسئلہ رجعت کا اس قدر جلدی انکار کیوں کر دیتا ہے یا اس کا مذاق کیوں اڑاتا ہے؟ جیسا کہ احد امین مصری اپنی کتاب "فجر الاسلام" میں کہتا ہے: اليهودية ظهرت بالتشيع بالقول بالرجعة رجعت کے عقیدے کی وجہ سے مذہب شیعہ میں یہودیت نمایاں نظر آتی ہے۔ ["عقائد الامامیہ" از شیخ محمد رضا مظفر ص ۷۱]۔ اب آپ ہی بتائیے کہ احمد امین مصری کی ان باتوں میں اور زمانہ جاہلیت کے عربوں کے جسمانی معاد کے انکار میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ (۳) اب تک جو کچھ ہم نے بتایا ہے وہ رجعت کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں ہے کہ یہ بات قطعاْ ناممکن نہیں ہے اور اس بات کی تائید بہت سی روآیات سے ہوتی ہے جنہیں بہت سے ثقہ راویوں نے آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے نقل کیا ہے۔ ان سب روآیات کے یہاں پر لکھنے کی گنجائش نہیں ہے لہذا ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ وہ اعداد و شمار درج کر دیں جو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے جمع کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: یہ بات کیونکر مکن ہے کہ کوئی شخص آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے اقوال کی صداقت پر تو ایمان رکھتا ہو لیکن رجعت کے بارے میں متواتر حدیث کو قبول نہ کرے اس بارے میں دو سو کے نزدیک صریح احادیث موجود ہیں جنھیں چالیس سے زیادہ ثقہ راویوں اور علماءِ اسلام نے ہر پچاس سے زیادہ کتابوں میں درج کیا ہے۔۔۔۔۔۔اگر یہ احادیث متواتر نہیں ہیں تو پھر کونسی حدیث متواتر ہو گی۔ [بحار الانوار جلد ۵۳ ص ۱۲۲]۔

۳۔ رجعت کا فلسفہ

عام طور پر اس عقیدے کے بارے میں جو اہم سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قیامِ قیامت سے قبل رجعت کے وقوع پذیر ہونے کا کیا فلسفہ ہے؟ روآیات اسلامی کے پیشِ نظر رجعت سب کے لیے نہیں ہے بلکہ ایسے خاص خاص نیک اور صالح مومنین کے لیے مخصوص ہے جو ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اسی طرح ان کفار اور سرکش ظالموں کے لیے کہ جو کفر ظلم کے لحاظ سے نہایت ہی پستی کا شکار تھے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کا دنیاوی زندگی کو دوبارہ حاصل کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ پہلا گروہ کمال و ارتقاء کے اعلیٰ ترین مرحلے کو پہنچ جائے اور دوسرا گروہ اس دنیاوی عذاب کا مزہ بھی چکھ لے۔ باالفاظِ دیگر وہ خالص مومنین جو اپنی زندگی میں کچھ رکاوٹوں کی وجہ سے اعلیٰ ارتقائی مرحلے تک نہیں پہنچ سکے، حکمتِ الہٰی اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں جا کر اپنا ارتقائی سفر طے کریں اور حق و عدالت کی عالمی حکومت کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس حکومت کی تشکیل میں حصّہ لیں کیونکہ ایسی حکومت کی تشکیل بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس کے برعکس بڑے منافق اور ظالم لوگ بھی قیامت کے دن اپنی مخصوص سزا کے علاوہ اس دنیا میں بھی اپنی سزا پا لیں اور اپنے کیے کا مزہ چکھ لیں جس طرح سابقہ امتوں کے سرکش افراد نے اس دنیا میں بھی سزا پائی تھی۔ جیسے فرعون اور اس کے ماننے والے، عاد و ثمود اور قومِ لوط وغیرہ اسی دنیا میں عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے اور اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے "رجعت"۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں: ان الرجعة ليست بعامة ، وهي خاصة ، لا يرجع الا من محض الايمان محضا ، ا و محض الشرك محضاً رجعت عمومی نہیں بلکہ خصوصی ہے جس میں صرف اور صرف وہی لوگ واپس لوٹیں گے جو خاص مومن یا خالص مشرک ہوں گے۔ [بحار الانوار جلد ۵۳ ص ۳۹]۔ ممکن ہے کہ سورہ انبیاء آیت ۹۵ بھی اسی امر کی طرف اشارہ کر رہی ہو جس میں کہا گیا ہے: "و حرام على قرية اھلکناها انهم لايرجعون"۔ یعنی جس شہر و دیار والوں کو ہم نے (ان کے گناہوں کی وجہ سے) تباہ و برباد کر دیا تھا ان پر حرام ہے کہ وہ واپس لوٹ آئیں۔ کیونکہ یہ واپس لوٹنے کا فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس دنیا میں اپنی سخت ترین سزا پا چکے ہیں لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ایسی سزائیں نہیں ملی ہیں وہی واپس لوٹیں گے اور سزا پائیں گے (غور کیجیے گا)۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ایسے لوگوں کا تاریخ بشریت کے ایک اہم موڑ پر اس دنیا میں واپس آنا ممکن ہے کہ دو عظیم درس ہوں اور عظمتِ الہٰی اور قیامت کے بارے میں دو اہم ترین نشانیاں ہوں۔ تاکہ اسے دیکھ کر یہ لوگ اپنے معنوی ارتقاء اور کمالِ ایمان کی آخری حدوں تک پہنچ جائیں اور کسی قسم کی کوئی کمی نہ پائی جائے۔

۴۔ رجعت اور ارادے کی آزادی:

بعض لوگوں کے گمان کے مطابق رجعت کا عقیدہ انسان کی آزادی، ارادہ اور اختیار کے منافی ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کیونکہ ان کا اس دنیا میں لوٹ آنا عام حالات کے تحت ہو گا جن میں وہ مکمل طور پر آزاد اور صاحبِ اختیار ہوں گے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ظالم اور کافر لوگ اس دنیا میں واپس آ کر توبہ کر لیں گے اور راہِ حق اختیار کر لیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ ظلم و جور میں اس حد تک غرق ہو چکے ہوں گے کہ یہ امور ان کے وجود میں رچ بس چکے ہوں گے اور ان کے رگ و ریشے میں سرایت کر چکے ہوں گے جن سے جدا ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ خداوندِ عالم ان اہلِ دوزخ کے جواب میں فرماتا ہے جو بروزِ قیامت درخواست کریں گے کہ انہیں دنیا میں لوٹ جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں اپنی غلط کاریوں کا ازالہ کر سکیں: ولو ردوا لعادوا لما نهوا عنه اگر وہ واپس آ بھی جائیں تو وہی کچھ کریں گے جن سے انہیں روکا گیا تھا۔ (انعام ۲۸) نیز بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ رجعت کا مفہوم سورہ مومنون کی آیت ۱۰۰ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ مشرک لوگ دنیا میں واپس لوٹ آنے کی درخواست کریں گے تاکہ وہ نیک اعمال بجا لائیں اور کہیں گے: رب ارجعون لعلى اعمل صالحا فيما تركت پروردگارا ہمیں لوٹا دے تاکہ جو نیک کام ہم سے رہ گئے ہیں ہم انہیں انجام دے سکیں۔ تو انھیں منفی جواب ملے گا اور کہا جائے گا: كلا أنها كلمة هو قائلها یہ سب ان کی باتیں ہیں اور کچھ نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے اور رجعت کا مفہوم خاص ہے (خوب غور کیجیے گا)۔

۵۔ عقیده رجعت اسلام کی بنیادی شرائط میں سے نہیں:

اس سلسلے کی آخری بات کے طور پر عرض کرتے چلیں۔ اگرچہ شیعوں نے اپنا یہ عقیدہ مکتبِ اہلِ بیت اور آئمہ اطہار سے لیا ہے لیکن وہ رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے کیونکہ رجعت شیعہ ہونے کے لحاظ سے ضروری ہے لیکن مسلمان ہونے کی ضروری شرائط میں سے نہیں ہے۔ بنابریں اس عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کا اسلامی رشتہ اخوت آپس میں نہیں ٹوٹتا۔ البتہ شیعہ حضرات منطقی طریقے سے اپنے اس عقیدہ کا دفاع ضرور کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات مسئلہ رجعت کے ساتھ بعض ایسی خرافاتی باتیں ملا دی جاتی ہیں جن سے بعض لوگوں کے سامنے اس کا صحیح چہرہ پیش نہیں ہوتا لہذا ضروری ہے کہ اس کی بنیاد صحیح احادیث پر رکھی جائے اور مشکوک و مخدوش احادیث سے پرہیز کیا جائے۔ ہم نے یہاں پر رجعت سے متعلق مباحث کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے مزید تفصیلات اور معلومات کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ کیا جائے جو اس سلسلے میں تحریر کی گئی ہیں۔ مندرجہ بالا تفصیلات کو پیشِ ںظر رکھ کر ان حملوں کا بخوبی جواب دیا جا سکتا ہے جو بعض ناآگاہ اہلسنت مفسرین نے مذہب شیعہ پر کیے ہیں (جیسا کہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں انھی آیات کے ذیل میں کیا ہے) کیونکہ ایسے معترضین نے حقیقتِ حال کو سمجھے بغیر ہی اسے افسانہ بنا دیا ہے۔

86
27:86
أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات اس لئے بنائی ہے تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشنی دینے والا بنایا ہے؟ان امور میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان لانے کو تیار ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

87
27:87
وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ
اس دن کے متعلق سوچو جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ جو کہ آسمانوں میں ہیں یا زمین پر، سب کے سب وحشت زدہ ہو جائیں گے،سوائے ان لوگوں کے جنہیں خدا بچانا چاہے گااور سب لوگ خضوع و خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 88 کے تحت ملاحظہ کریں۔

88
27:88
وَتَرَى ٱلۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةٗ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنۡعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ أَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفۡعَلُونَ
تم پہاڑوں کو دیکھو تو سمجھتے ہو کہ ساکن و جامد ہیں، حالانکہ وہ بادل کی مانند چل رہے ہیں۔یہ خدا وند عالم کی صنعت اور تخلیق ہے جس نے ہرچیز کو پختہ بنایا ہے۔وہ تمہارے ان کاموں سے بھی باخبر ہے جنہیں تم انجام دیتے ہو۔

تفسیر: زمین کی حرکت، قرآن کا ایک سائنسی معجزہ

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

قرآن مجید ایک بار پھر ان آیات میں، مبداء و معاد اور کائنات میں خداوند عالم کی قدرت و عظمت کی نشانیوں اور اسی طرح حوادثِ قیامت کو بیان کرتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو ان کے آرام کت لیے بنایا ہے (الم یروا انا جعلنا اليل لیسكنوا فيه)۔ اور دن کو روشنی عطا کرنے والا (و النهار مبصرًا)۔ ان امور میں خدا کی قدرت و نعمت کی روشن نشانیاں اور دلائل ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (ان في و ذلك لآيات لقوم یؤمنون)۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قرآنِ مجید رات اور دن کے حیات بخش آثار اور نورِ ظلمت کے نظام کے بارے میں گفتگو کر رہا ہو اور نہ ہی اس سلسلے کی آخری گفتگو ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید تعلیم و تربیت اور انسان سازی کی کتاب ہے اور ہر کوئی جانتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے اصول کبھی اس امر کے متقاضی ہوتے ہیں کہ ایک ہی موضوع کو مختلف حوالوں کے ساتھ مختلف مواقع پر پیش کیا جائے اور اسے بار بار دہرایا جائے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ تاریکی شب کی وجہ سے حاصل ہونے والی سکون کی ناقابلِ تردید علمی حقیقت ہے۔ رات کے تاریک پردے دن کی سرگرمیوں کو جبری طور پر روکنے کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ انسان اور دوسرے جانداروں کے اعصاب پر بھی ان کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ آرام کرتے اور گہری نیند کے مزے لیتے ہیں، اس بات کو قرآنِ مجید نے "سکوت" سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح دن کی روشنی کا حرکت اور دوڑ دھوپ سے تعلق بھی سائنسی نقطہ نظر سے ناقابل تردید ہے۔ آفتاب کا نور صرف مناظر زندگی کی کو منور اور آنکھ کو فعال نہیں کرتا، بلکہ وجودِ انسانی کے تمام ذرات کو بھی بیدار اور فعال بنا دیا ہے۔ یہ آیت "توحیدِ ربوبی" کے ایک گوشے کو بیان کر رہی ہے اور چونکہ معبودِ حقیقی، عالمِ ہستی کا رب اور منتظم و مدبر ہی ہے لہذا قرآن اس سے دوسرے تمام بتوں اور بناوٹی معبودوں پر خط تنسیخ کھینچ کر مشرکین کو اپنے عقائد پر نظرثانی کی دعوت دے رہا ہے۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ خود کو اس نظام سے ہم آہنگ کر لے، رات کو آرام کرے اور دن کو اپنی دوڑ دھوپ میں لگ جائے۔ تاکہ ہمیشہ صحیح و سالم رہے۔ ان ہوس کے بندوں کی مانند نہیں جو راتوں کو تو جاگتے ہیں لیکن دن کو دوپہر تک سوئے رہتے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ "مبصر" کا لفظ تو در اصل "بينا " (یعنی دیکھنے والا) اس کے معنی میں ہے یہ دن کی صفت کے طور پر بیان ہو رہا ہے جبکہ دن کے وقت انسانوں کی صفت ہونا چاہیے یہ ایک طرح کی عمدہ تاکید ہے جس طرح بعض اوقات "سو جانا" رات کی صفت کے طور پر آتا ہے اور کہتے ہیں "لیل نائم" (سو جانے والی رات)۔ روز و شب کے فوائد آیت میں دو مختلف تعبیریں بیان کی گئی ہیں ایک جگہ "لتسكنوا فيه" فرمایا گیا ہے اور دوسری جگہ "مبصرا" اور ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ رات کا اصل مقصد تو سکون اور آرام ہے لیکن دن کی روشنی کا اصل مقصد صرف دیکھتے رہنا نہیں بلکہ دیکھنا تو زندگی کی نعمتوں تک پہنچنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ بہرحال، یہ آیت اگرچہ براہِ راست توحید اور کائنات کے نظام کو چلانے کی بات کر رہی ہے لیکن معاد کے مسئلے کی طرف بھی ایک لطیف سا اشارہ کر رہی ہے کیونکہ نیند موت کی مانند ہے اور بیداری مرنے کے بعد جی اٹھنے کی مانند۔ بعد والی آیت معاد اور اس کے مقدمات کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: اس دن کا سوچیے کہ جب صور پھونکا جائے گا اور ہر کوئی خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں وحشت زده ہو جائے گا سوائے ان لوگوں کے جنہیں خدا بچانا چاہے گا اور سب لوگ خضوع و خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے (و یوم ینقح في الصور ففع من في السماوات ومن في الارض الا من شاء الله كل اتوه داخرین)۔ قرآنِ مجید کی آیات کے مجموعی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دو یا تین مرتبہ صور پھونکا جائے گا ایک تو اس وقت جب دنیا ختم ہونے کے قریب اور قیامت کے دہانے پر پہنچ جائے گی اس وقت تمام لوگ گھبرا جائیں گے۔ دوسری بار تمام دنیا اس کے سنتے ہی مر جائے گی ممکن ہے کہ یہ دونوں یکے بعد دیگرے ہوں۔ تیسری بار دوبارہ جی اٹھنے اور قیامت کے قائم ہونے کے وقت کیوں کہ صور پھونکے جاتے ہی تمام مردے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے اور نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ اس آیت میں پہلی اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کی طرف اشارہ ہے یا تیسری مرتبہ کی طرف؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے خود اسی آیت میں اور بعد والی آیات میں ایسے قرینے موجود ہیں جو دونوں نظریات کی تائید کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مذکورہ تمام صور پھونکنا مراد لیا ہے۔ اگر آیت کے ظاہری معنی کو دیکھا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ پھونکے جانے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دنیا کے اختتام کے نزدیک ہو گا کیونکہ "فزع" کا معنی ایسا خوف اور وحشت ہے جو انسان کے دل کو ہلا کر رکھ دے اور اسے پہلی مرتبہ کی پھونک کے آثار سے شمار کیا گیا ہے کیونکہ قیامت کی پھونک سے جو خوف و حشت طاری ہو گی وہ اعمال کی وجہ سے ہو گی پھونک نہ کہ اثر سے۔ با الفاظ دیگر "ففزع" میں "فاء تفریع" ظاہرًا اس لیے ہے کہ "فزع"، یعنی خوف و وحشت صور پھونک جانے کی وجہ سے ہوئی اور "فزع" پہلی پھونک کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ آخری پھونک توصرف دہلا دینے والی ہی نہیں ہو گی بلکہ زندگی اور تحرک کا سبب بھی ہو گی اگر وحشت ہو گی تو انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہو گی۔ اب ہم "نفخ صور" کے مفہوم کی طرف آتے ہیں، "نفخ" کے معنی پھونکنے کے ہیں اور"صور" کا معنی "قرنا" ہے۔ یہاں پر اس تعبیر سے کیا مراد ہے؟ تو اس بارے میں کرنے کی بہت سی باتیں ہیں انشاءاللہ تعالٰی سوره زمر کی آیت 68 کے ضمن میں بیان کریں گے۔ اسی آیت میں ایک جملہ ہے "الا من شاء الله" کہ جس میں اس عمومی خوف و وحشت سے کچھ افراد کے لیے استثناء کا تذکرہ ہے جو نیک اور پاک افراد کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ فرشتے ہوں یا وہ مومن جو آسمانوں اور زمین میں رہتے ہیں تو یہ سب افراد ایمان کے زیرِ سایہ ایک خاص اطمینان و سکون سے بہرہ ور ہوں گے نہ تو انھیں پہلی پھونک سے کوئی گھبراہٹ ہو گی اور نہ ہی آخری پھونک سے کوئی وحشت۔ بعد والی آیت میں بھی ہے کہ جو لوگ نیکی بھرے دامن سے بارگاہِ رب العزت میں حاضر ہوں گے وہ اس دن کے ہر طرح کے خوف و وحشت سے امان میں ہوں گے: من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع یومئذ امنون "کل اتوہ داخرين" یعنی سب کے سب اس کی بارگاہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ سر جھکائے پیش ہوں گے یہ جملہ بظاہر عام ہے اور اس میں کسی قسم کا استثناء بھی نہیں ہے حتی کہ انبیاء اور اولیا بھی اس کی بارگاہ اقدس میں خاضع اور خاشع ہوں گے اور اگر ہم سورہ صافات کی آیت 127 - 128 میں پڑھتے ہیں کہ: فانھم لمحضرون الا عباد اللہ المخلصین سب لوگ اس کے حضور پیش ہوں گے سوائے خدا کے خاص بندوں کے۔ تو اس کا زیرِ تفسیر آیت کی عمومیت سے کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ زیرِ تفسیر آیت بروز محشر اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت حساب و کتاب اور اعمال کے مواخذے کی جانب اشارہ ہے۔ بعد والی آیت کائنات میں عظمتِ الٰہی کی آیات میں سے ایک آیت کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے تم پہاڑوں کو دیکھو گے تو انھیں ٹھہرا ہوا سمجھو گے جبکہ وہ بادل کی مانند حرکت کر رہے ہیں۔ (وتری الجبال تحسبها جامدة وهي تمرّ مرّ السحاب)۔ یہ اس اللہ کی صنائی اور تخلیق ہے جس نے ہر چیز کو محکم اور مقین بنایا ہے (صنع الله الذي انقن کل شیء)۔ ["صنع الله" "انذر" یا "صنع" جیسے فعلِ مقدر کی وجہ سے منصوب ہے]۔ جس کا تخلیقی نظام اس قدر منظم اور حساب شدہ ہے وہ یقینا تمھارے ان کاموں سے بھی باخبر ہے جو تم انجام دیتے ہو (انه خبير بما تفعلون)۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت قیامت کے قریب کے حالات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا کے اخنتام اور دوسرے جہان کے آغاز کے موقع پر زلزلے، دھماکے اور دوسری عظیم تبدیلیاں رونما ہوں گی پہاڑ ایک دوسرے سے کٹ کٹ کر جدا ہو جائیں گے۔ یہ نکتہ قرآنِ مجید کی بہت سی آخری سورتوں میں بھی صریحًا بیان ہوا ہے۔ اس آیت کو قیامت کے سلسلے کی دو دوسری آیات کے درمیان آنا اسی تفسیر کا شاہد ہے۔ البتہ بہت سے دوسرے ایسے قرائن بھی ملتے ہیں جو ایک اور تفسیر کی تائید کرتے ہیں اور وہ یہ کہ یہ آیت اسی دنیا میں خداوندِ عالم کی توحید اور اس کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور وہ کرهّ زمین کی حرکت کی طرف اشارہ ہے جسے ہم محسوس نہیں کرتے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ: 1- آیت مذکورہ کے الفاظ ہیں کہ تم سمجھتے ہو کہ پہاڑ ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادل کی طرح حرکت کر رہے ہیں۔ واضح ہے کہ اس قسم کی تعبیر آغازِ قیامت کے تغیرات سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ یہ حوادث اس قدر آشکار ہوں گے کہ خود قرآن کے الفاظ میں ان کو دیکھ کر مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور لوگ سخت وحشت کی وجہ سے حواس کھو بیٹھیں گے حالانکہ وہ مست نہیں ہوں گے۔ (سورہ حج / 2) 2- بادلوں کی حرکت کے تشبیہ کا مطلب یہ ہےکہ وہ ایک حالت میں بالکل نرمی کے ساتھ اور بغیر کسی شور و غل کے ہے نہ کسی دھماکے کے ساتھ۔ جبکہ رعد کی ایک معمولی کڑک سے بھی کان گویا پھٹے جاتے ہیں۔ 3- مذکورہ بالا تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہاڑ ظاہرًا ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ در حقیقت وہ تیزی سے حرکت کر رہے ہیں (یعنی ایک چیز کی ایک ہی آن میں دو مختلف حالتوں کو بیان کیا جا رہا ہے)۔ 4- "اتقان" کا معنی ہے منظم اور محکم بنانا۔ یہ تعبیر بھی اس زمانے سے ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے جب یہ نظام برقرار و بحال ہو نہ کہ اس دورانیے سے جبکہ یہ نظام تباہ ہو رہا ہو۔ 5- "انه خبير بما تفعلون" کا جملہ خاص کر "تفعلون" کا کلمہ جو کہ فعلِ مضارع ہے بتا رہا ہے کہ یہ اسی دنیا سے متعلق ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے جو اعمال بھی تم زمانہ حال یا آئندہ زمانے میں انجام دوگے اس سے وہ اچھی طرح باخبر ہے اور اس کا تعلق اس دنیا کے خاتمے سے ہوتا تو یوں فرماتا "ما فعلتم" جو کام تم نے انجام دیا ہے اس سے باخبر ہے۔ (غور کیجیے گا)۔ ان تمام قرائن سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت تخلیقِ کائنات کی ایک اور عجیب چیز کو بیان کر رہی ہے جو در حقیقت پہلی دو ان آیات میں بیان ہونے والے عجائبات کی طرح ہے "الم یروا انا جعلنا الیل ليسكنوا فيه .... "۔ پس معلوم ہوا کہ زیرِ نظر آیات کا کچھ حصہ توحید کے بارے میں ہے اور کچھ معاد کے سلسلے میں۔ اس تفسیر سے ہم جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن پہاڑوں کو ساکن تصوّر کرتے ہیں وہ بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں اور یقینی بات ہے کہ پہاڑوں کی حرکت ان سے متصل زمین کی حرکت کے بغیر بے معنی ہے۔ لہذا دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ بنے گا کہ زمین بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہی ہے جیسے بادل حرکت کرتے ہیں۔ دور حاضر کے سائنس دانوں کے نزدیک زمین، اپنے محور کے گرد تیس کلومیٹر فی منٹ کے حساب سے گھومتی ہے جبکہ سورج کے گرد اس کی رفتار اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر قرآن نے پہاڑوں ہی کو مرکزِ گفتگو کیوں قرار دیا ہے؟ تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پہاڑوں کا ثقل، بوجھ اور ٹهہراو ضرب المثل ہے اور یہ قدرتِ الہی کی وضاحت اور تشریح کے لیے بہترین نمونہ سمجھے جا سکتے ہیں یعنی جہاں پر پہاڑ اپنی اس عظمت اور بوجھ کے باوجود حکمِ خدا سے (زمین سمیت) حرکت کر رہے ہوں تو دوسری تمام چیزوں پر اس کی قدرت و طاقت مسلم ہو گی۔ بہرحال، مندرجہ بالا آیت قرآنِ مجید کے سائنسی معجزوں میں سے ہے کیونکہ سائنس دانوں نے سب سے پہلے زمین کی حرکت کا انکشاف کیا وہ اٹلی کے گلیلیو اور پولینڈ کے "کوپرنک" تھے۔ انھوں نے سولہویں صدی عیسوی کے آخر اور سترھویں صدی کے آغاز میں اس نظریے کا اظہار کیا جس سے انھیں اربابِ کلیسا کے زبردست دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن قرآنِ مجید نے تو ان سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیا تھا اور مندرجہ بالا صورت میں اسے توحید کی علامتوں سے ایک علامت کے عنوان سے پیش کیا۔ بعض مسلمان فلاسفہ دوسری تفسیر (اسی دنیا میں پہاڑوں کی حرکت) کو قبول کرنے کے باوجود آیت کو چیزوں کی "حرکتِ جوہری" کے بارے میں سمجھتے ہیں اور اسے مشہور جوہری حرکت کے نظریہ کا موئید سمجھتے ہیں۔ [تشریحی نوٹ: جوہری حرکت سے مراد یہ ہے کہ کائنات کی مادی اشیاء کی کیفیت، کمیت اور مکان وغیرہ میں مختلف تبدیلیوں کے علاوہ اپنی ذات کے اندر بھی حرکت موجود رہتی ہے یعنی ان کی ذات ایک متحرک وجود ہے اور ان میں ظاہری تبدیلیاں در اصل نتیجہ ہوتی ہیں ان کی مسلسل باطنی تبدیلیوں کا دوسرے لفظوں میں ہمارے دو وجود ہیں جو ذاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ایک ثابت وجود (جو مادی وجود سے ماورا ہوتا ہے) اور دوسرا متحرک وجود (جو مادی وجود کہلاتا ہے) اور اس نظریہ کے ثبوت کی اہم ترین دلیل مادی اشیاء کا ایک زمانے کا حامل ہونا اور اندرونی تبدیلیوں سے بیرونی تبدیلی ہرگز جدا نہیں ہے۔ اس بحث کی تفصیل ہمارے موضوع سے خارج ہے]۔ حالانکہ آیت کی تعبیرات اس نظریے کے بارے میں نہیں ہیں کیوں کہ پہاڑوں کی حرکت کو بادلوں کی حرکت سے تشبیہ دینا مکانی حرکت (این میں حرکت) سے تو مناسبت رکھتی ہے جوہری حرکت سے نہیں۔ بنابریں ظاہری طور پر آیت صرف ایک ہی تفسیر کو قبول کرتی ہے اور وہ ہے زمین کی (اپنے یا سورج کے گرد) مکینیکل حرکت۔

89
27:89
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ
جو لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ اس کی جزا اس سے بہتر پائیں گے اور وہی لوگ اس دن(قیامت) کی وحشت سے امان میں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

90
27:90
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور جو لوگ برے کام کرتے ہیں وہ منہ کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے کیا جو کام تم انجام دیتے ہو اس کے علاوہ تمہیں جزا ملے گی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

91
27:91
إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَيۡءٖۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
(اے رسول: کہدو) مجھے حکم دیا جا چکا ہے کہ میں اس مقدس شہر (مکہ) کے پروردگار کی عبادت کروں، اسی کی جس نے اس شہر کو حرمت عطا فرمائی ہے اور سب کچھ اسی کا ہے۔نیز مجھے حکم ملا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

92
27:92
وَأَنۡ أَتۡلُوَاْ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
اور قرآن کی تلاوت کروں۔ پس جو شخص ہدایت پالے وہ اپنے لئے ہدایت پائے گا اور جو گمراہ ہو جائے (تو اس کا گناہ خود اسی کی گردن پر ہے) کہہ دو: میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

تفسیر آیت 93 کے تحت ملاحظہ کریں۔

93
27:93
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَتَعۡرِفُونَهَاۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
کہہ دو:تمام حمد ذات خدا کے لئے مخصوص ہے۔ وہ بہت جلد اپنی نشانیاں تمہیں دکھلائے گا تاکہ تم انہیں پہچان لو اور جو تم انجام دیتے ہو تمہارا پرودگار اس سے غافل نہیں ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی ذمہ داری

Tafsīr Nemūna · Vol. 4

گزشتہ آیات میں بندوں کے اعمال اور خدا کی ان اعمال سے آگاہی کا ذکر تھا، زیرِ نظر آیات میں سب سے پہلے نیک اعمال کی جزا اور قیامت کی ہلاکت آفرینیوں سے ان کے محفوظ رہنے کی بات ہو رہی ہے۔ فرمایا گیا ہے: جو لوگ نیک اعمال بجا لائیں گے وہ ان کی جزا ان سے بہترا پائیں گے اور اس دن کی وحشت سے امان میں ہوں گے (من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع يومئذ أمنون)۔ "حسنة" سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں: کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد کلمہ توحيد "لا اله الا الله" اور خدا پر ایمان ہے۔ بعض مفسرین اسے امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ اسلام کی ولایت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور اس بارے میں اہلبیت اطہار کے حوالے سے وارد ہونے والی متعدد روایات بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں منجملہ ان کے: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں ہے کہ: حضرت علی علیہ اسلام کے دوستوں میں سے ایک شخص ابوعبداللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام نے فرمایا: کیا خدا کے اس فرمان "من جاء بالحسنة فله خير منها۔.." (آیت کے آخر تک) کے بارے میں تمھیں بتاؤں؟ جو انھوں نے عرض کیا: جی ہاں امیرالمومنین! میں آپ پر قربان جاؤں۔ تو امام نے فرمایا: الحسنه معرفة الولاية و حبنا أهل البيت و السیئة انكار الولایة و بغضنا اهل البیت حسنۃ ہماری ولایت اور ہم اہلِ بیت کی دوستی کی شناخت کا نام ہے اور"سیئہ" اہلبیت کی ولایت کا انکار اور دشمنی کا نام ہے۔ [اصولِ کافی منقول از تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 104]۔ البتہ جیسا کہ ہم پہلے بھی بار ہا بتاچکے ہیں کہ آیات کا معنی وسیع ہوتا ہے اور یہاں پر "حسنہ" اور"سئیہ" کا معنی بھی وسیع ہے جو تمام نیکیوں پر محیط ہے جن میں خدا و رسول اور آئمہ کی ولایت پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے جو تمام نیکیوں کے سرِّفہرست ہے اور یہ امر اس بات سے بھی مانع نہیں ہے کہ دیگر اعمالِ صالح بھی اس آیت کا مصداق ہیں۔ بعض لوگوں کو لفظ "خیر" کی عمومیت دیکھ کر ایک پریشانی ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ایمانِ خدا سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے جس کی جزا زیادہ ہو تو اس کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ خدا کی رضا اور خوشنودی اس پر ایمان سے بھی بالاتر ہے باالفاظ دیگر یہ سب کچھ خوشنودی رب کا مقدمہ ہیں اور ہر چیز اپنے مقدمہ سے افضل ہوتی ہے۔ ایک اور سوال جو یہاں پر پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ (سورہ حج کی آیت 3 جیسی) بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے خوف کی لپیٹ میں سب لوگ آجائیں گے تو پھر نیکوکار اس سے کیونکر مستثنٰی ہوں گے۔ سوره انبیا کی آیت 103 اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ جس میں ہے: صالح مومنین اس عظیم وحشت سے امان میں ہوں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم وحشت سے مراد روزِ قیامت اور جہنم کا خوف ہے نہ کہ وہ خوف کہ جو صور پھونکنے کے وقت لاحق ہو گا۔ (غور کیجیے گا) پھر اس گروہ کے مدِّ مقابل گروہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو لوگ برے کام کریں کے وہ منہ کے بل آتش جہنم ڈالے جائیں گئے (و من جاء بالسيئة فكبت وجوههم في النار)۔ اور انھیں اس کے علاوہ کوئی اور توقع رکھنا بھی نہیں چاہیے "کیا تمھارے ان اعمال کی پاداش اس کے علاوہ کچھ اور ہو سکتی ہے؟ (هل تجزون الا ما کنتم تعملون)۔ "کبت" "کب" (بر وزن "جد") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو اوندھے منہ زمین پر ڈالنا۔ آیت میں لفظ "وجوہ" کا ذکر تاکید کے لیے ہے۔ ایسے لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالنا عذاب کی ایک بدترین قسم ہو گا۔ علاوہ ازیں جب یہ لوگ حق سے اپنا منہ موڑ لیا کرتے تھے اور اسی منہ کے ساتھ گناہوں کا استقبال کیا کرتے تھے اب انھیں سزا بھی اسی نوعیت کی ملنی چاہیے۔ ممکن ہے کر "هل تجزون الاّ ماكنتم تعملون" کا جملہ اس سوال کا جواب ہو جو یہاں پر پیش آ سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص کہے "یہ بہت ہی سخت قسم کی سزا ہے" تو اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ وہی تمھارے اعمال ہیں جو تمھیں دامن گیر ہو چکے ہیں اور تمھاری جزا صرف تمھارے اعمال ہی ہیں۔ (غور کیجیے گا) پھر آخری تین آیات میں روئے سخن پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہوتا ہے اور آپ سے کچھ حقائق بیان کیے جاتے ہیں جو در اصل اس حقیقت کو بیان کر رہے ہیں کہ آپ ان سے کہہ دیجیے میں تو اپنے فرائض بجا لاتا رہوں گا خواہ تم ہٹ دھرم مشرکین ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ سب سے پہلے فرمایا گیا ہے: (کہہ دو) مجھے حکم دیا جا چکا ہے کہ اس (مقدس) شهر (مکہ) کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں (انما امرت ان اعبد رب هذه البلدة)۔ یہ ایک ایسا مقدس شہر ہے جس سے تمھارے تمام اعزازات اور آبروئیں وابستہ ہیں ایسا مقدس شہر ہے کہ جس کی برکتیں خدا نے تمھیں عنایت فرمائی ہیں لیکن تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے انکار کرتے ہو۔ ایسا مقدس شہر حرمِ امن خدا بھی ہے۔ روئے زمین کا معزز ترین نقطہ بھی ہے اور توحید کی قدیم ترین عبادت گاہ بھی۔ جی ہاں مجھے تو حکم ہی یہ ہے کہ "میں اسی پروردگار کی عبادت کروں جس نے اس شهر کو حرمت بخشی ہے"۔ (الذی حرمها)۔ اللہ نے اس شہر کو کچھ خصوصیات عطا فرمائی ہیں، کچھ خوبیاں بخشی ہیں، اس کے لیے کچھ خاص احترام اور احکام مقرر فرمائے ہیں، اس کے لیے کچھ پابندیاں مقرر کی ہیں جو دوسرے شہروں کے لیے نہیں ہیں۔ لیکن تم یہ بھی نہ سمجھ لینا کہ صرف یہی سرزمین خدا کی ملکیت ہے اور بس! نہیں بلکہ کائنات کی ہر شے اسی کے لیے ہے (وله كل شيء)۔ اور دوسرا حکم جو مجھے دیا گیا ہے یہ ہے کہ "میں مامور ہوں کہ مسلمین میں سے رہوں" پروردگارِ عالم کے حکم کے سامنے غیر مشروط طور پر سر جھکائے رہوں نہ کہ اس کے غیر کے سامنے (و امرت ان اكون من المسلمين)۔ تو اس طرح سے پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دو اہم ذمّہ داریوں اور فرائض منصبی کو بیان کر دیا۔ ایک تو "خداوندِ وحده لا شریک کی عبادت" اور دوسرے "اس کے حکم کی غیر مشروط طور پر پابندی"۔ پھر ان دو مقاصد تک پہنچنے کا ذریعہ یوں بیان کرتے ہیں "مجھے حکم ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کروں" (وان اتلوا القران)۔ اس کے چراغ سے روشنی حاصل کروں اس کے چشمہ آب حیات سے پانی پیوں اور اپنی زندگی کے تمام پروگراموں میں اس سے راہنمائی حاصل کروں کیوں کہ ان دو مقدس مقاصد تک پہنچنے کے لیے یہ میرا وسلیہ ہے اور ہر قسم کے شرک، کج روی اور گمراہی سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: تم یہ نہ سمجھنا کہ تمھارے ایمان لانے سے میرا یا اس سے بڑھ کر خداوندِ عظیم کا کوئی فائدہ ہو گا نہیں نہیں"بلکہ جو ہدایت پا جائے گا وہ اپنے لیے ہدایت پائے گا" (فمن اهتدى فانما یهتدی لنفسه)۔ اور اس ہدایت سے حاصل ہونے والے فوائد خواہ اس دنیا میں ہوں یا آخرت میں تمھارے ہی لیے ہوں گے۔ اور جو شخص گمراہ ہو جائے گا تو اس کا بوجھ اور وبال اس کے اپنے اوپر ہو گا اور تم کہہ دو کہ میں تو صرف ڈرانے والوں ميں سے ہوں (ومن ضل فقل انما انا من المنذرین)۔ اس کے خطرناک نتائج میرا گریبان نہیں پکڑیں گے۔ میرا کام تو واضح تبلیغ ہے۔ میرا فریضہ یہی ہے کہ میں تمھیں سیدھی راہ کی ہدایت کرتا ہوں لیکن جو شخص اس بات پر مصر ہے کہ گمراہی میں ہی پڑا رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو بدبخت کرے گا۔ یہاں پر یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ ہدایت کے بارے میں قرآن فرماتا ہے جو شخص ہدایت پائے گا اس کے اپنے مفاد میں ہو گا لیکن گمراہی کے بارے میں نہیں فرماتا کہ جو گمراہ ہو گا اس کا اپنا نقصان ہو گا بلکہ رسول اللہ کی زبانی فرماتا ہے کہ "میں تو ڈرانے والوں میں سے ہوں" ممکن ہے کہ تعبیرات کا یہ اختلاف اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ میں گمراہ لوگوں کے سامنے کبھی خاموشی اختیار نہیں کروں گا انھیں اپنے حال پر نہیں چھوڑوں گا جبکہ انھیں برابر ڈراتا رہوں گا اور اس کام سے کبھی نہ تو باز آؤں گا اور نہ ہی کسی قسم کی تھکاوٹ کا اظہار کروں گا کیونکہ میں "نذیر" ہوں البتہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں دونوں تعبیریں ایک جیسی آئی ہیں لیکن واضح ہے کہ تعبیرات ہمیشہ موقع و محل کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں اور بعض اوقات مختلف معانی کو بیان کرنے کے لیے بھی مختلف تعبیریں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ سورت قرآن مجید کی اہمیت سے شروع ہوئی اور تلاوتِ قرآن کی تاکید پر ختم ہو رہی ہے گویا اس کا آغاز بھی قرآن کے سلسلے سے ہوا اور انجام بھی اسی پر۔ اور آخر میں اسی سورہ کی آخری آیت میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ خداوندِ عالم کی اس قدر عظیم نعمتوں خاص کر ہدایت جیسی نعمت کے بدلے میں خدا کی حمد بجا لائیں ارشاد ہوتا ہے: اور کہہ دو کہ تمام تعریفیں خدا کے لیے ہیں۔ "وقل الحمد لله"۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حمد اور تعریف قرآن جیسی نعمت اور ہدایتِ الہٰی کی عنایت پر ادا کی جا رہی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد والے جملے کے لیے مقدمہ بن رہی ہو جس میں فرمایا گیا ہے: بہت جلد خدا انھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تاکہ تم انہیں پہچان لو (سيريكم آياته فتعرفونها)۔ یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مرورِ زمان اور انسان کے علم و دانش اور عقل و خرد کی ترقی کے ساتھ ساتھ نت نئی نشانیوں اور عالمِ ہستی کے تازہ ترین اسرار سے پردہ اٹھتا جائے گا اور تم پروردگار کی عظیم قدرت و حکمت سے روز بروز بیشتر آشنائی حاصل کرتے رہو گے اور یہ سلسلہ برابر جاری رہے گا اور کبھی منقطع ہونے میں نہیں آئے گا جب تک بنی نوع انسان اس دنیا میں موجود ہے آیات الہٰی کا یہ سلسلہ بھی قائم اور برقرار ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر تم غلط راستے پر چل نکلو گے یار او راست سے ہٹ جاؤ گے تو یاد رکھو تمہارا پروردگار ہرگز تمہارے ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم انجام دیتے ہو (و ما ربك بغافل عما تعملون)۔ اگر خداوند عالم اپنی مہربانی کی وجہ سے تمھاری سزاؤں میں تاخیر سے کام لیتا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ وہ تمھارے اعمال سے آگاہ نہیں یا اس کا حساب و کتاب غیر محفوظ ہے۔ "وما ربك بغافل عما تعملون" کا جملہ بعینہ یا تھوڑے سے فرق کے ساتھ قرآن مجید میں نو مقامات پر آیا ہے جو ہے تو ایک مختصر سا جملہ لیکن تمام انسانوں کے لیے ایک معنی خیز تنبیہ اور زبردست دھمکی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سورہ نمل کی اس آخری آیت کے ساتھ ہی تفسیر نمونہ پندرہویں جلد کا اختتام ہوتا ہے۔ اس وقت ۱۴۰۳ھ کے ماہ شعبان کا آخری دن ہے اور عنقریب ماہِ رمضان کا چاند دکھائی دینے والا ہے۔ پروردگارا! ہم تجھے تیرے ان باعظمت مہینوں کی قسم دے کر سوال کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی خالص بندگی، اپنے فرمان کے آگے سر جھکا دینے اور اپنے قرآنِ مجید کی تلاوت کی توفیق عنایت فرما۔ خداوندا! ہمیں ہر روز اپنی نت نئی نشانیاں دکھلا تاکہ ہم تجھے ہر روز پہلے سے بہتر پہنچانتے رہیں اور ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں جو تو نے ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ بارا لہا! ہمارے اسلامی معاشرے کو گوناگوں مشکلات نے گھیر رکھا ہے اور اندرونی اور بیرونی دشمن اس بات کی زبردست کوشش کر رہے ہیں کہ تیرے نور کو بجھادیں۔ لیکن تو نے ہی سلیمان کو اس قدر قدرت عطا فرمائی، موسٰی کو فرعون اور فرعونیوں کے مقابلے میں اس قدر قوت عطا فرمائی، ہمیں بھی ان دشمنوں پر کامیابی عطا فرما اور جو لوگ قابلِ ہدایت نہیں انھیں قوم عاد، قوم ہود و ثمود اور قوم لوط کی طرح نیست و نابود فرما۔

end of chapter