Al-Ma'arij
سورہ معارج
یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اس میں ٤٤ آیات ہیں۔
سورہ معارج کے مطالب
مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ سورہ معارج مکی سورتوں میں سے ہے اور "فہرست ابنِ ندیم" و "کتاب نظم المدر" و "تناسق الآیات و السور" کی بنیاد پر، ابو عبداللہ زنجانی کی "تاریخ القرآن" کے مطابق، یہ سورہ (٧٧) ستترہواں سورہ ہے جو مکہ میں نازل ہوا۔ لیکن یہ چیز اس سے مانع نہیں ہے کہ اس کی بعض آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور یہ بات سورہ معارج پر ہی منحصر نہیں ہے کیونکہ قرآن کے بہت سے سورے ایسے ہیں جو مکی ہیں لیکن ان میں ایک یا کئی آیات ایسی ہیں جو مدینہ میں نازل ہوئی ہوں اور اسی طرح اس کے برعکس بعض مدنی سورتوں میں مکی آیات موجود ہیں۔ اس موضوع کے بہت سے نمونے "علامہ امینی" نے "الغدیر" میں پیش کیے ہیں۔ (بحوالہ: القدیر، جلد ١، ص ٢٥٥ تا ٢٥٧)۔ اس بات کی دلیل کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں، وہ بہت سی روایات ہیں جو ان شاء اللہ ان آیات کی تفسیر میں بیان کی جائیں گی۔ بہرحال، مکی سورتوں کی خصوصیات، مثلاً اصولِ دین کے بارے میں بحث، خاص طور پر معاد اور مشرکین و مخالفین کو ڈرانے کے بارے میں اس سورہ میں کامل طور سے نمایاں ہے اور مجموعی طور سے یہ سورہ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ: اس شخص کے لئے جلدی ہونے والے عذاب کی بات کرتا ہے جس نے پیغمبر کے بعض ارشادات کا انکار کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات حق ہے تو مجھ پر عذاب نازل فرما اور عذاب نازل ہو گیا۔ (آیہ ١ تا ٣) دوسرا حصہ: قیامت کی بہت سی خصوصیات اور اس کے مقامات، اور اس دن کفار کے حالات کے بارے میں آیا ہے۔ (آیہ ٤ تا ١٨) تیسرا حصہ: اچھے اور بُرے انسانوں کی صفات کے ان حصوں کو بیان کرتا ہے جو اسے جنتی اور دوزخی بنا دیتے ہیں۔ (آیہ ١٩ تا ٣٤) چوتھا حصہ: مشرکین و منکرین کو ڈرانے والی باتوں پر مشتمل ہے اور پھر دوبارہ مسئلہ قیامت کی طرف لوٹنا اور سورہ کو ختم کرتا ہے۔
اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبرؐ سے آیا ہے: "من قرٲ "سٲل سائل" اعطاہ اللہ ثواب الذین ھم لاماناتھم و عھدھم راعون و الذین ھم علیٰ صلواتھم یحافظون": "جو شخص سورہ "سٲل سائل" کو پڑھے تو خدا اسے ان لوگوں کا ثواب دے گا جو اپنی اماتنوں اور عہد و پیمان کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص ٢٥٠)۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: "من ادمن قرٲۃ "سٲل سائل" لم یسٲلہ اللہ یوم القیامۃ عن ذنب عملہ واسکنہ جنتہ مع محمد (ص)۔" "جو ہمیشہ سورہ "سٲل سائل" کو پڑھے تو خدا قیامت کے دن اس کے گناہوں کی باز پرس نہیں کرے گا اور اس کو جنت میں حضرت محمد صلی اللہ عیلہ و آلہ وسلم کے ساتھ سکونت عطا فرمائے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص ٢٥١)۔ یہی مضمون امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ بات جو انسان کو ان سب عظیم ثوابوں کا مشمول قرار دیتی ہے، وہ ایسی تلاوت ہے جو عقیدہ و ایمان کے ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عمل بھی ہو، نہ یہ کہ وہ آیات اور سورہ کو تو پڑھے لیکن اس کی روح اور فکر و عمل میں کسی قسم کا انعکاس نہ ہو۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 3 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 10بہت سے مفسّرین اور محدثین نے ان آیات کی ایک شانِ نزول بیان کی ہے، جس کا ماحصل اس طرح ہے: "جب رسولِ خداؐ نے علیؑ کو "غدیرِ خم" کے دن خلافت پر نصب فرمایا تو ان کے بارے میں یہ ارشاد کیا: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ"۔ "جس جس کا میں مولیٰ ہوں، اس اس کے علیؑ مولیٰ و ولی ہیں۔" زیادہ دیر نہ گذرنے پائی تھی کہ یہ بات سارے شہروں اور بستیوں میں پھیل گئی۔ نعمان بن حارث فہری، پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم یہ گواہی دیں کہ خدا واحد و یگانہ ہے اور آپ اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو ہم نے گواہی دی۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں جہاد، حج، روزہ، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہم نے ان سب کو قبول کر لیا لیکن آپ ان سب چیزوں پر راضی نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ اس جوان کو (علیؑ کی طرف اشارہ کیا) اپنی جانشینی اور خلافت پر نصب فرمایا اور یہ کہا کہ "من کنت مولا فعلی مولاہ" کیا یہ بات خود آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ خدا کی جانب سے ہے۔ پیغمبرؐ نے فرمایا: "قسم ہے اس خدا کی جس کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے۔ یہ بات خدا کی طرف سے ہے۔" نعمان نے منہ پھیر لیا اور یہ کہتا جاتا تھا: اللٰٗھم ان کان ھٰذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء: خداوند! اگر یہ بات حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا۔" اسی وقت ایک پتھر آسمان سے اس کے سر پر گرا اور اسے مار ڈالا، اسی موقع پر آیہ "سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍo لِّلْكَافِرينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ" نازل ہوئی۔ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے، یہ اس عبارت کا خلاصہ ہے جو "مجمع البیان" میں "ابو القاسم حسکانی" سے اس کے سلسلہ سند کے ساتھ "امام صادقؑ" سے نقل ہوئی۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، ص ٢٥٢)۔ اس مضمون کو اہلِ سنت کے بہت سے مفسرین اور راویانِ حدیث نے بھی مختصر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔ مرحوم "علامہ امینی" نے "الغدیر" میں اسے اہلِ سنت کے تیس مشہور علماء سے نقل کیا ہے۔ (حوالہ اور اصل عبارت کے ساتھ) منجملہ ان کے: تفسیر "غریب القرآن"۔ حافظ ابو عبید ہردی۔ تفسیر "شفأ الصدور"۔ ابو بکر نقاش موصلی۔ تفسیر "الکشف والبیان"۔ ابو اسحاق ثعالبی۔ تفسیر "ابو بکر یحییٰ"۔ القرطبی۔ تذکرہ "ابو اسحاق"۔ ثعلبی۔ کتاب "فرائد السمطین"۔ صموایتی۔ کتاب "دررالسمطین"۔ شیخ محمد زرندی۔ تفسیر "سراج المنیر"۔ شمس الدین شافعی۔ کتاب "سیرہ حلبی" کتاب "نور الابصار"۔ سید مومن شبلنجی۔ کتاب "شرح جامع الصغیر سیوطی"۔ شمس الدین شافعی۔ وغیرہ۔ (بحوالہ: الغدیر، جلد ١، ص٢٣٩)۔ ان کتابوں میں سے بہت سی میں یہ تصریح ہوئی ہے کہ اوپر والی آیات اس سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں، البتہ اس سلسلہ میں کہ یہ شخص "حارث بن نعمان" تھا یا "جابر بن نذر" یا "نعمان بن حارث فہری" اختلاف ہے، اور ہم یہ جانتے ہیں کہ اس بات کا اصل مطلب پر کوئی تلف اثر نہیں پڑتا۔ البتہ بعض مفسرین و محدثین جو علیؑ کے فضائل کو خوشی سے قبول نہیں کرتے، انھوں نے اس شانِ نزول پر اعتراضات کیے ہیں جن کی طرف ان شاء اللہ بحث کے آخر میں اشارہ ہو گا۔
فوری عذاب
سورہ معارج یہاں سے شروع ہوتی ہے: "ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا تقاضا کیا جو واقع ہو گیا۔" (سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ)۔ یہ سوال کرنے والا جیسا کہ ہم نے شانِ نزول میں بیان کیا ہے "نعمان بن حارث" یا "نضر بن حارث" جو علیؑ کے "غدیر خم" کے مقام پر خلافت و ولایت پر منصوب ہونے، اور اس خبر کے تمام شہروں میں منتشر ہونے پر بہت غصہ میں بھرا ہوا تھا، پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور کہا: کیا یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ خدا کی طرف سے ہے؟ پیغمبرؐ نے صراحت کے ساتھ فرمایا: یہ بات خدا کی طرف سے ہے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ پریشان ہو گیا اور اس نے کہا: خداوندا! اگر یہ بات حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر نازل فرما، اسی وقت ایک پتھر گرا اور اس کے سر پر لگا اور اسے مار ڈالا۔ (تشریحی نوٹ: اس تفسیر کے مطابق "بعذاب واقع" میں "باء" زائد اور تاکید کے لیے ہے اور بعض کے نظریہ کے مطابق "عن" کے معنی میں ہے اور یہ دوسری تفسیر کے مطابق ہے (اس پر توجہ رہے کہ اگر سوال، تقاضا اور درخواست کے معنی میں ہو تو پھر دو مفعولوں کی طرف معتدی ہو گا اور اگر "استخبار" کے معنی میں ہو تو پھر اس کا دوسرا مفعول یقیناً "عن" کے ساتھ ہو گا))۔ اس تفسیر کے مقابلہ میں ایک اور تفسیر بھی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے پیغمبرؐ سے سوال کیا کہ یہ عذاب جو آپ کہتے ہیں کس پر واقع ہو گا تو بعد والی آیت جواب دیتی ہے کہ کافروں کے لیے ہو گا۔ اور تیسری تفسیر کے مطابق یہ سوال کرنے والے خود پیغمبرؐ ہیں جنھوں نے کفار کے لیے عذاب کا تقاضا کیا اور وہ نازل ہوا۔ لیکن پہلی تفسیر، علاوہ اس کے کہ خود آیت کے ساتھ سازگار ہے، ان متعدد روایات پر منطبق بھی ہے جو شانِ نزول میں وارد ہوئی ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ عذاب کافروں کے لیے مخصوص ہے اور کوئی بھی اسے نہیں روک سکتا۔" (لِّلْكَافِرينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "واقع" عذاب کی صفت ہے اور "للکافرین" دوسری صفت ہے اور "لیس لہ دفع" تیسری صفت۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ "للکافرین"، "عذاب" سے متعلق ہو اور اگر "لام"، "علی" کے معنی میں ہو تو پھر "واقع" سے متعلق ہو گا)۔ بعد والی آیت میں اس ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کی طرف سے یہ عذاب ہے، کہتا ہے: "یہ عذاب اس خدا کی طرف سے ہے، جو ان آسمانوں کا مالک ہے جن کی طرف فرشتے صعود کرتے ہیں۔" (مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ)۔ "معارج"، "معرج" کی جمع ہے، جو سیڑھی یا اس جگہ کے معنی میں ہے جہاں سے صعود کرتے اور اوپر جاتے ہیں اور چونکہ خدا نے فرشتوں کے لیے مختلف مقامات قرار دیئے ہیں کہ وہ مراتب کے لحاظ سے قرب خدا کی طرف پیش رفت کرتے ہیں، لہذا خدا کی "ذی المعارج" کے ساتھ توصیف کی گئی ہے۔ ہاں فرشتے ہی کافروں اور مجرموں کے عذاب پر مامور ہوتے ہیں اور وہ بھی فرشتے ہی تھے جو ابراہیم خلیل پر نازل ہوئے تھے اور انھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم قوم لوط کی بربادی پر مامور ہوئے ہیں اور صبح کے وقت انھوں نے اس آلودہ جرائم قوم کے شہروں کو تہ و بالا کر دیا (بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ٦، ص ٢٠٢ تا ٢١٠ کی طرف رجوع کریں)۔ وہی فرشتے دوسرے مجرموں پر عذاب نازل کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے "معارج" کی فضائل و مواہب الہیہ کے معنی میں اور بعض نے "فرشتوں" کے بارے میں تفسیر کی ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب اور اس لفظ کے لغوی معنی کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔
ایک نکتہ بہانہ تراشوں کے بے ہودہ اعتراضات
عام طور پر وہ موارد، جن میں آیات و روایات، امیر المومنین علیؑ کے مخصوص فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ان میں بعض لوگ اتنا اصرار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے مطلب کو اہمیت نہ دی جائے، یا تو اسے نظر انداز کر دیا جائے یا اس کی کوئی انحرافی توجیہ کر دی جائے اور ایک خاص وسوے اور باریکی کے ساتھ مسئلہ کو بیان کیا جائے، حالانکہ اگر یہ فضائل دوسرے لوگوں کے ہوتے تو دریا دلی اور سہولت کے ساتھ انھیں قبول کرتے۔ اس بات کا زندہ ثبوت اور واضح نمونہ وہ سات اعتراضات یہں جو "ابن تیمیہ" نے "کتاب منہاج السنہ" میں ان احادیث کے بارے کیے ہیں جو اوپر والی آیات کے شان نزول میں آئی ہیں، جنھیں ہم اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ١۔ غدیر کا واقعہ، پیغمبرؐ کے حجۃ الوداع سے لوٹنے کے بعد یعنی سن دس ہجری میں واقع ہوا جبکہ سُورۃ معارج مکی سورتوں میں سے ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ جواب: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں بہت سے سُورے ایسے ہیں جو مکی کے نام سے موسوم ہیں جبکہ ان کی بعض ابتدائی آیات مفسرین کی تصریح کے مطابق مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس برعکس کچھ سُورتیں ایسی ہیں جو مدنی کے نام سے موسوم ہیں۔ لیکن ان کی بعض آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔ ٢۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ "حارث بن نعمان" پیغمبرؐ کی خدمت میں "ابطح" میں پہنچا اور ہم جانتےہیں کہ "ابطح" مکہ میں ایک درہ ہے اور یہ امر واقعہ غدیر کے بعد آیت کے نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ جواب: اوؔلاً: "ابطح" کی تعبیر صرف بعض روایات میں ہے نہ کہ سب میں، ثانیاً: "ابطح" یا "بطحاء" ہر اس ریگزار زمین کے معنی میں ہے جس میں سیلاب کا پانی بہتا ہو اور اتفاقاً مدینہ کی سرزمین میں ایسے علاقے ماجود ہیں جنھیں "ابطح" یا "بطحاء" کہا جاتا ہے اور اشعار عرب اور روایات میں ان کی طرف بہت زیادہ اشارہ ہوا ہے۔ ٣۔ آیہ (وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ)۔ (انفال۔ ٣٢) مسلمہ طور پر جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی اور یہ واقعہ غدیر سے کئی سال پہلے کا ہے۔ جواب: کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ مذکورہ آیت کا شان نزول واقعہ غدیر ہے، بلکہ بحث آیہ (سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ) کے بارے میں ہے۔ لیکن سورہ انفال کی آیہ ٣٢ ایک ایسی چیز ہے جس سے "حارث بن نعمان" نے اپنے کلام میں استفادہ کیا ہے اور اس بات کا شانِ نزول کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے، لیکن افراطی تعصبات کے سبب سے، انسان ایسے واضح مطلب سے غافل ہو جاتا ہے۔ ٤- قرآن مجید کہتا ہے: وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔ خدا انھیں عذاب نہیں کرے گا جبکہ تم ان میں موجود ہو اور خدا انھیں عذاب نیہں کرے گا۔ درآنحالیکہ وہ استغفار کرتے ہیں۔ (انفال ــــ ٣٣)۔ یہ آیت کہتی ہےکہ: پیغمبرؐ کی موجودگی میں ہرگز کوئی عذاب نازل نہیں ہو گا۔ جواب: جو بات قابل قبول ہے، وہ یہ ہے کہ پیغمبر کے ہوتے ہوئے عمومی اور سب لوگوں کے لیے عذاب نہیں تھا۔ لیکن خصوصی اور شخصی عذاب بارہا بعض لوگوں پر نازل ہوئے، جیسا کہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ کئی افراد مثلاً "ابوزمعہ" و "مالک بن طلالہ" و "حکم بن ابی العاص" وغیرہ پیغمبر کی نفرین سے یا اس کے بغیر عذاب میں گرفتار ہوئے۔ علاوہ ازیں، اوپر والی آیات کی اور تفاسیر بھی ہیں، جن کے مطابق اس مقام پر اس آیت سے استدلال ممکن نہیں (تفسیر نمونہ جلد ٧ ص ١٥٤ میں آیہ ٣٣ انفال کے ذیل میں رجوع کیا جائے)۔ ٥- اگر اس قسم کا شانِ نزول صحیح ہوتا تو اصحاب فیل کی طرح مشہور ہوتا۔ جواب:- یہ شان نزول بقدر کافی مشہور و معروف ہے اور ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ کم از کم تیس کتب تفسیر و حدیث میں آیا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ ایک شخصی واقعہ، اصحابِ فیل جیسے عمومی واقع کی طرح مشہور ہو، کیونکہ وہ داستان ایک عمومی پہلو رکھتی تھی سارا مکہ اس کی لپیٹ میں تھا اور ایک بہت بڑا لشکر اس کے اندر نابود ہوا تھا۔ لیکن "حارث بن نعمان" کا واقعہ صرف ایک ہی شخص کے ساتھ مربوط تھا۔ ٦- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ "حارث بن نعمان" کو صبانی اسلام قبول تھے، تو کسی مسلمان کا عصر پیغمبر میں، اس قسم عذاب میں گرفتار ہو جانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ جواب:- یہ اعتراض بھی شدید تعصب کی پیداوار ہے کیونکہ اوپر والی احادیث اچھی طرح سے بتاتی ہیں کہ وہ نہ صرف پیغمبرؐ کے ارشاد کو قبول نہیں کرتا تھا بلکہ خدا پر بھی معترض تھا کہ اس نے اس قسم کا حکم علیؑ کے بارے میں کیوں دیا، اور یہ کفر و ارتداد کا شدید ترین مرتبہ شمار ہوتا ہے۔ ٧- "استیعاب" جیسی مشہور کتاب، جن میں "صحابہ" کے نام آئے ہیں "حارث بن ںعمان" کا نام نہیں ہے۔ جواب: اس کتاب میں یا اسی جیسی دوسری کتابوں میں صحابہ کے جتنے نام آئے ہیں وہ صحابہ کے صرف ایک حصہ کی تعداد کو ظاہر کر رہے ہیں۔ مثلاً کتاب "اسد الغابۃ میں جو ایک اہم ترین کتاب ہے جس نے اصحاب پیغمبرؐ کو شمار کیا ہے صرف سات ہزار پانچ سو چون (٧٥٥٤) افراد کے نام آئے ہیں- حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف حجتہ الوداع میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد بارگاہ پیغمبر میں حاضر تھے۔ اس بناء پر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے اصحاب پیغمبر کے نام ان کتب میں نہیں آئے۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والے جوابات کے سلسلے میں، اور ہر ایک کے تاریخی یا روایتی شواہد کے بارے میں کتاب نفیس "الغدیر" کی جلد١، ص ٢٤٧ تا ٢٦٦ کا مطالعہ فرمائیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 7 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر پچاس ہزار سال کے برابر دن
Tafsīr Nemūna · Vol. 10ایک شخص کے دنیاوی عذاب کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد۔ جس نے عذابِ الہی کا تقاضا کیا تھا۔ معاد اور مجرموں کے اس دن کے اخروی عذابوں کے مباحث کا بیان شروع کرتا ہے، پہلے فرماتا ہے: "وہ فرشتے اور روح، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی، اس (خدا) کی طرف عروج کریں گے۔" (تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ)۔ مسلمہ طور سے "فرشتوں کے عروج" سے مراد جسمانی عروج نہیں ہے بلکہ اس سے مراد روحانی عروج ہے، یعنی وہ خدا کے مقامِ قرب کی طرف بڑھیں گے اور اس دن، جو قیامت کا دن ہے، فرمان خداوندی کو حاصل کرنے اور اس کے اجراء کے لیے آمادہ ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے سُورہ "حاقہ" کی آیہ ١٧ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ "والملک علی اوجائھا" (فرشتے آسمان کے اطراف میں قرار پائیں گے) کے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس دن وہ آسمانوں کے گردا گرد کھڑے ہوں گے اور ہر قسم کے فرمان کو انجام دینے کے لیے آمادہ ہوں گے۔ (تشریحی نوٹ: "فرشتوں کے عروج" کی اور بھی تفسیر بیان کی گئی ہیں جن میں سے کوئی بھی مناسب نظر نہیں آتی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے نزول و صعود کا زمانہ ہے جو آغاز دنیا سے لے کر اس کے اختتام تک ہے اور وہ مجموعی طور پر پچاس ہزار سال ہے، جو دنیا کی تمام عمر ہے لیکن بعد والی آیات اچھی طرح بتاتی ہیں کہ گفتگو قیامت کے دن کے بارے میں ہے نہ کے دنیا کے متعلق (غور کیجئے)۔ "روح" سے مراد وہی "روح الامین" ہے جو سب فرشتوں سے بزرگ ہے اور جس کی طرف سُورہ "قدر" میں بھی اشارہ ہوا ہے، جہاں کہتا ہے: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ: "شب قدر میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے حکم سے امور کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں۔" (قدر ــــ ٤)۔ البتہ "روح" کے مختلف معانی ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہر موقع پر موجود قرائن کی مناسبت سے ایک خاص مفہوم دے۔ روح انسان، روح قرآن، روح یعنی روح القدس اور روح بمعنی فرشتے وحی، یہ سب روح کے معانی ہیں۔ جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ، جلد ١٢، ص ٢٥٠ تا ٢٥٣ کی طرف رجوع کریں)۔ اب رہی پچاس ہزار سال کی تعبیر تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ زیر بحث دن دنیا کے سالوں کے حساب سے اتنا طولانی ہو گا اور یہ بات اس چیز سے کہ جو سُورہ سجدہ کی آیہ ١٥ میں آئی ہے کہ اس کی مقدار ایک ہزار سال ہے، اختلاف نہیں رکھتی، کیونکہ۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہےـــــــ قیامت میں پچاس موقف ہوں گے اور ہر موقف ایک ہزار سال کی مقدار کے برابر ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: یہ حدیث وائی شیخ میں امیر المومین علیؑ سے نقل ہوئی ہے، بمطابق نقل نور الثقلین، جلد ٥، ص ٤١٣)۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہےکہ "پچاس ہزار سال" کا عدد تکثیر کے لیے ہے، نہ کہ تعداد کے لیے، یعنی وہ دن بہت طولانی ہو گا۔ بہرحال، یہ مجرموں، ظالموں اور کافروں کے لیے ہو گا، اسی لیے ایک حدیث میں "ابو سعید خدری" سے آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کسی نے عرض کی اے اللہ کے رسولؐ! وہ دن کتنا طولانی ہو گا؟۔ آپؐ نے فرمایا: "والذی نفس محمد بیدہ انہ لیخف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلاۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا" "اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے وہ دن مومن کے لیے بہت ہلکا اور آسان ہو گا، یہاں تک کہ وہ ایک واجب نماز سے بھی آسان ہو گا، جو وہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ١٠، ص ٣٥٣، اور "قرطبی" جلد ١٠، ص ٦٧٦١)۔ بعد والی آیت میں پیغمبر اکرمؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "صبر جمیل اختیار کر اور ان کے استہزاء، تکذیب اور آزار کے مقابلہ میں صبر سے کام لے۔ (فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا)"۔ "صبر جمیل" کا معنی خوبصورت اور قابلِ توجہ صبر و شکیبائی ہے اور وہ وہی صبر و استقامت ہے جس میں دوام و استمرار ہو، جس میں یاس و ناامیدی نہ ہو، اور وہ بےتابی، جزع و فزع و شکوہ اور آہ نالہ سے تواُم نہ ہو، اس صورت کے علاوہ وہ جمیل نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "صبر جمیل" کے سلسلہ میں ہم نے تفسیر نمونہ (جلد ٥) میں یعقوب و یوسف کی داستان میں تفصیل سے بیان کیا ہے)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "کیونکہ وہ اس قسم کے دن کو بعید اور دور سمجھتے ہیں۔" (إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا)۔ "اور ہم اسے قریب اور نزدیک سمجھتے ہیں۔" (وَنَرَاهُ قَرِيبًا)۔ وہ بالکل باور ہی نہیں کرتے کہ اس قسم کا دن بھی ہو گا جس میں تمام مخلوق کا حساب لیا جائے گا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی گفتار و رفتار کا بھی محاسبہ ہو گا۔ وہ بھی ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال طولانی ہو گا لیکن حقیقت میں ایسے لوگوں نے خدا کو پہچانا نہیں اور وہ اس کی قدرت میں شک اور ترّود رکھتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں: کیا یہ ممکن ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں اور وہ مٹی جس کا ہر ذرہ مختلف گوشوں میں پراگندہ ہو جائے گا، دوبارہ جمع ہو کر زندگی کا لباس زیب تن کر لیں گی۔ (جیسا کہ قرآن نے اپنی آیات میں یہ تعبیریں ان سے نقل کی ہیں)۔ اس کے علاوہ کیا پچاس ہزار سال کا دن ممکن ہے؟ !۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا علم یہ کہتا ہے کہ آسمانی کرات میں، دن کی مقدار ہر کُرہ کی دوسری کُرہ سے مختلف ہے، کیونکہ وہ اس زمانہ کی مقدار کی تابع ہوتی ہے، جس میں وہ کُرہ اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے، اس لیے چاند کے کُرہ کا دن زمین کے دو ہفتوں کے برابر ہے، یہاں تک کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ زمین زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اپنی وضعی حرکت کی سرعت اور تیزی میں کمی کر دے اور اس کے ایک دن کی مقدار ایک ماہ یا ایک سال یا کئی سو سال کے برابر ہو جائے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قیامت کا دن اس طرح ہو گا، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کے بعد دن، اس دنیا کے اندازوں کے ساتھ بھی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر وہ دن کہ جس میں کوئی مخلص دوست اپنے دوست کی خبر گیری نہیں کرے گا۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10ان آیات میں، قیامت کے بارے میں، گزشتہ مباحث کو، مزید تشریح و توضیح کے ساتھ جاری رکھا ہے، فرماتا ہے: "اس دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کے مانند ہو جائے گا۔" (يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ)۔ (تشریحی نوٹ: "یوم" کے عمل اعراب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ "قریباً" سے جو گزشتہ آیت میں آیا ہے بدل ہو یا ایک فعل مخدوف سے متعلق ہو، مثلاً "اذکم")۔ "اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے۔" (وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ)۔ "مھل" (برزون قفل) پگلی ہوئی دھات کے معنی میں ہے اور کبھی ایک خاص قسم کی تلچھٹ کے معنی میں ہوتا ہے جو زیتون کے تیل کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے اور یہاں وہی پہلا معنی ہی مناسب ہے، اگرچہ تشبیہ کے اعتبار سے آپس میں کوئی خاص فرق نہیں رکھتے۔ "عھن" دھنکی ہوئی رنگین اون کے معنی میں ہے۔ ہاں! اس دن آسمان ایک دوسرے سے جدا ہو کر پگھل جائیں گے اور پہاڑ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور پھر تیز آندھی سے فضا میں بکھر جائیں گے، اس اون کی طرح جسے تیز ہوا اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتی ہے، اور چونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، اس لیے انھیں رنگین اون سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس ویرانی کے بعد، ایک نیا عالم ایجاد ہو گا اور انسان اپنی حیاتِ نو کو نئے سرے سے حاصل کرے گا۔ جب اس جہانِ نو میں قیامت برپا ہو گی تو اس طرح سے حساب و کتاب اور اعمال کی جانچ پڑتال کی کیفیت وحشت ناک ہو گی، اور ہر شخص کو اپنی فکر ہو گی، کوئی دوسرے کی خبر نہیں لے گا اور کوئی گہرا اور مخلص دوست اپنے دوست کا حال نہیں پوچھے گا۔ (وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا)۔ (تشریحی نوٹ: "حمیم" جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، اصل میں گرم اور جلانے والے پانی کے معنی میں ہے، اس کے بعد یہ لفظ گرم جوشی دکھانے والے مخلص اور دلی دوستوں پر بھی بولا جانے لگا)۔ سب کے سب اپنے کام میں مشغول ہوں گے، ہر ایک کو اپنی ہی نجات کی فکر ہو گی، جیسا کہ سورہ عبس کی آیہ ٣٧ میں آیا ہے: (لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ) اس دن ان میں سے ہر ایک اس طرح گرفتار ہو گا کہ اسے صرف اپنی ہی اپنی فکر ہو گی۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت کے لیے اور دوسری تفاسیر بھی بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے حالات کے متعلق سوال نہیں کرے گا، کیونکہ سب کی وضع و کیفیت ان کے چہرے سے عیاں ہو گی (وآنجا کہ عیاں است چہ حاجت بہ بیان است)؟ دوسری یہ کہ کوئی شخص دوسرے سے یہ نہیں کہے گا وہ اس کے اعمال کی ذمہ داری اٹھائے، کیونکہ یہ بات ممکن ہی نہیں ہے، لیکن صحیح وہی اوپر والی تفسیر ہے)۔ ایسا نہیں ہو گا کہ دوست وہاں پر دوستوں کو پہچانیں گے نہیں بلکہ خصوصیت کے ساتھ "ان کے دوست انھیں دکھائے جائیں گے، لیکن اس باوجود ہر شخص اپنی ہی مصیبت میں مبتلا ہو گا" (يُبَصَّرُونَهُمْ)۔ (تشریحی نوٹ: باوجود اس کے کہ "حمیم" دونوں مرحلوں میں مفرد کی صورت میں ہے، لیکن "یبصرونھم" میں دونوں ضمیریں جمع کی صورت میں آتی ہیں، کیونکہ وہ جنس کے معنی میں ہے)۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہول و وحشت اس سے کہیں زیادہ ہو گی کہ کوئی دوسرے کی فکر کر سکے۔ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اور اس وحشت ناک منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: حالت یہ ہو گی کہ مجرم و گنہگار یہ چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اس دن کے بدلے میں فدا کر دے۔ (يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ)۔ نہ صرف اپنی اولاد کو، بلکہ وہ یہ چائے گا کہ "اپنی بیوی کو بھی اور اپنے بھائی کو بھی فدا کر دے" (وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ)۔ اور اسی بناء پر اس خاندان اور قبیلہ کو بھی جو اس سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی حمایت کیا کرتا تھا۔ (وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ)۔ بلکہ تمام لوگوں کو جو روئے زمین میں ہیں، سب کو فدا کر دے تاکہ اس کی نجات ہو جائے (وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ)۔ ہاں! اس دن خدا کا عذاب اتنا ہولناک ہو گا، کہ انسان یہ چائے گا کہ وہ اپنے عزیز ترین رشتہ داروں کو------جن کا یہاں چار گروہوں (اولاد، بیویاں، بھائی اور قریبی رشتہ دار جو اس کے یار و مددگار تھے) میں خلاصہ کیا گیا ہے------اپنی نجات کے لیے قربان کر دے۔ نہ صرف انہیں کو، بلکہ وہ تو اس بات کے لئے بھی تیار ہو گا کہ روئے زمین کے تمام انسان اس کی عذاب سے رہائی کے لئے قربان ہو جائیں۔! "یود"، "ود" کے مادہ سے (جو حب کے وزن پر ہے)۔ "تمنی" سے تواُم "دوست رکھنے" کے معنی میں ہے اور بقول "راغب" ان دونوں معانی میں سے ہر ایک کے لیے (بلکہ دونوں معانی میں) بھی استعمال ہوتا ہے۔ "یفتدی"، "فداء" کے مادہ سے، کوئی چیز دے کر اپنے آپ کو مصائب و مشکلات سے محفوظ کرنے کے معنی میں ہے۔ "فصیلۃ" بر معنی "عشیرہ" اس خاندان اور قبیلہ کو کہتے ہیں جس سے انسان مقصل اور جدا ہوا ہو۔ "تویہ"، "ایواء" کے مادہ سے، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ضم کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد پناہ دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "ثم ینجیہ" کے جملہ میں "ثم" کی تعبیر یہ بتاتی ہے، کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان فدیوں اور قربانیوں کا اثر کرنا بہت بعید ہے (کیونکہ "ثم" عام طور پر، بعد، فاصلہ اور تراخی کے لیے آتا ہے)۔ لیکن ان تمام تمناؤں اور آرزوؤں کے مقابلہ میں فرماتا ہے: "ہرگز نہیں ہو گا" کوئی فدیہ اور قربانی قبول نہیں کی جائے گی۔ (كَلَّا)۔ "وہ تو آگ کے جلانے والے شعلے ہیں" (إِنَّهَا لَظَى)۔ ہمیشہ اس کے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں اور چیز بھی اس کے پاس یا اس کی راہ میں آتی ہے اسے جلا دیتی ہے۔ "ہاتھ، پاؤں اور سر کے چمڑے کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔" (نَزَّاعَةً لِّلشَّوَى)۔ "لظی" آگ کے خالص شعلہ کے معنی ہے اور جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے، اور اوپر والی آیات میں دونوں معنی ممکن ہیں۔ "نزاعۃ" اس چیز کے معنی میں ہے جو پے در پے جدا کرتی ہے۔ اور "شویٰ" ہاتھ، پاؤں اور اطرافِ بدن کے معنی میں ہے اور بعض اوقات بریاں کرنے اور بھوننے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے، کیونکہ جس وقت جلانے والی اور شعلہ ور آگ کسی چیز کو لگتی ہے تو پہلے اس کے اطراف جوانب اور شاخ و برگ کو جلاتی ہے اور اس سے جدا کر دیتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں "شوی" کی بدن کی جلد کے معنی میں، اور بعض نے سر کی جلد کے معنی میں، اور بعض نے پنڈلی کے گوشت کے معنی میں تفسیر کی ہے، اور یہ سب معانی، اس وسیع مفہوم میں جو ہم نے بیان کیا ہے، جمع ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس ساری مصیبت اور تکلیف کے باوجود موت اور مرنا درمیان میں نیہں ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو اس قسم کی آگ کا لقمہ ہیں، فرماتا ہے: "یہ جلانے والا شعلہ ان لوگوں کو، کہ جنھوں نے حکم خدا سے پشت پھیری اور اس کی اطاعت سے روگردانی کی، آواز دیتا ہے اور اپنی طرف بلاتا ہے" (تَدْعُواْ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّى)۔ اور انھیں بھی، کہ جنھوں نے مال جمع کیے اور ان کا ذخیرہ کیا، اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کیا۔ (وَجَمَعَ فَأَوْعَى) اس طرح سے یہ جلانے والی آگ، زبان حال سے، اور اس مخصوص کشش کے ساتھ، جو مجرموں کے لیے رکھتی ہے، یا زبانِ قال سے خدا نے اسے دی ہے، مسلسل انھیں آواز دیتی ہے، اور انھیں اپنی طرف بلاتی ہے، انھیں کو جو ان دو صفات کے حامل ہیں، ایمان کی طرف سے پشت کیے ہوئے اور خدا اور رسولؐ کی اطاعت سے سرتابی کیے ہوئے، اور دوسری طرف سے، ہمیشہ حرام و حلال سے جمع کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے میں لگے ہوئے تھے، اور فقراء و مساکین کے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں کیا کرتے تھے، یا اصلاً اس نعمت الہی، یعنی مال کے فلسفہ کو سمجھتے ہی نہ تھے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 28 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر شائستہ انسانوں کے اوصاف
Tafsīr Nemūna · Vol. 10قیامت کے عذابوں کے ایک گوشہ کا ذکر کرنے کے بعد، بےایمان افراد کے اوصاف، اور ان کے مقابلہ میں سچے مومنین کے اوصاف بیان کرتا ہے، تاکہ معلوم ہو جائے کہ ایک گروہ اہلِ نجات کیوں ہے؟ پہلے فرماتا ہے: "انسان حریص اور کم طاقت پیدا کیا گیا ہے۔" (إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا)۔ جب اسے کوئی برائی پہنچے تو جزع و فزع اور بیتابی کرتا ہے۔ (إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا)۔ اور جب اسے کوئی بھلائی پہنچے تو دوسروں سے دریغ کرتا ہے (اور روکتا ہے)۔ (وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا)۔ بہت سے مفسرین اور اربابِ لغت نے "ھلوع" کا معنی حریص کہا ہے اور ایک گروہ نے اس اس کی "کم طاقت" کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ پہلی تفسیر کی بناء پر یہاں اس قسم کے انسانوں کے وجود میں تین منفی اخلاقی نکتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ "حرص" و "جزع" و "بخل"، کیونکہ دوسری اور تیسری آیت "ھلوع" کے معنی کی تفسیر ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس لفظ میں دونوں معانی اکھٹے مراد ہوں، کیونکہ یہ دونوں صفات ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہیں، حریص افراد عام طور پر بخیل ہوتے ہیں اور بُرے حوادیث میں کم تحمل ہوتے ہیں اور اس کا عکس بھی صادق اور سچا ہے۔ یہاں ایک یا کئی سوالات سامنے آتے ہیں، کہ اگر خدا نے انسان کو سعادت و کمال کے لیے پیدا کیا ہے، تو پھر اس کی طبیعت میں شر اور بدی کو کیوں قرار دیا ہے؟ اور پھر یہ بات بھی ہے، کہ خدا کسی چیز کو، کسی صفت کے ساتھ پیدا کرے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ پھر اپنی خلقت کی مذمّت بھی کرے؟ اور ان تمام باتوں سے قطع نظر، قرآن سورہ "تین کی آیہ ٤ میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے: (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ)۔ "ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں اور ساخت میں پیدا کیا ہے۔" مسلمہ طور پر اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کا ظاہر تو اچھا ہے لیکن اس باطن قبیح اور بُرا ہے، بلکہ انسان کی تمام خلقت "احسن تقویم" کی صورت میں ہے اور اسی طرح وہ دوسری آیات جو انسان کے بلند مقام کی تعریف کرتی ہیں، تو یہ سب آیات زیرِ بحث آیت کے ساتھ کس طرح سازگار ہیں؟ ان تمام سوالات کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے انسان میں ایسی قوتیں، غرائز اور صفات خلق فرمائی ہیں، جو اس کے تکامل و ارتکاء اور سعادت کا بالقوہ ذریعہ شمار ہوتی ہیں۔ اس بناء پر مذکورہ صفات و غرائز ذاتی طور پر بُری نہیں ہیں، بلکہ کمال کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں، لیکن جب یہی صفات انحرافی راہ اختیار کر لیں اور ان سے سوء استفادہ ہونے لگے، تو نکبت، بدبختی اور شر و فساد کا سب بن جاتی ہیں۔ مثلاً یہ حرص ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ جلدی سعی و کوشش سے رُک جائے اور کسی نعمت تک پہنچ کر سر ہو جائے۔ یہ تو ایک بھڑکی ہوئی پیاس ہے، جو انسان کے وجود پر مسلط ہے۔ اگر یہی صفت تخصیل علم و دانش کی راہ میں استعمال ہو، اور انسان علم حصول میں حریص ہو جائے یا دوسرے لفظوں میں علم کا پیاسا اور عاشق بےقرار ہو جائے تو مسلمہ طور پر یہ بات، اس کے کمال کا سبب بنے گی، لیکن اگر وہ مادیات کی راہ میں استعمال ہونے لگے، تو پھر شر و بدبختی اور بخل کا سبب بنے گی۔ دوسرے لفظوں میں، یہ صفت حُب ذات کی ایک شاخ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ حب ذات ایک ایسی چیز ہے، جو انسان کو کمال کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن اگر یہ انحرافی راہ پر پڑ جائے تو انحصار طلبی (خود غرضی) و بخل و حسد وغیرہ کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسرے مواہب کے بارے میں بھی مطلب اسی طرح سے ہے، خداوند تعالیٰ نے ایٹم کے اندر ایک عظیم قوت پیدا کی، جو مسلّمہ طور پر مفید اور سود مند ہے لیکن اگر ایٹم کی اس اندرونی قوت سے سوء استفادہ ہونے لگے اور اس سے ویران و تباہ کرنے والے ایٹم بم بنئے جانے لگیں، نہ کہ بجلی کے پاور ہاؤس اور دوسری صنعتوں کے وسائل، تو پھر یہی شر و فساد کا سبب بن جائے گا۔ اوپر والے بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ان تمام آیات کے معانی و مطالب کو ـــــــــــــ جو قرآن مجید میں انسان کے بارے میں آئی ہیں ــــــــــــــــــــــــــــــ جمع کیا جا سکتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: ہم نے تفسیر نمونہ جلد ٥ کے ص ٩٦ تا ٩٨ پر "انسان در قرآن کریم" کے عنوان کے تحت (یونس آیہ ١٢ کے ذیل میں) ایک اور وضاحت بھی کی ہے)۔ اس کے بعد شائستہ اور لائق انسانوں کا بیان ــــــــــ ایک استثنائی صورت میں ـــــــــ نو(٩) عمدہ صفات کے ضمن میں پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "مگر نماز پڑھنے والے" (إِلَّا الْمُصَلِّينَ)۔ "وہی نماز گزار جو اپنی نمازوں کو دوام بخشے ہیں۔" (الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ)۔ یہ ان کی پہلی خصوصیت ہے، جو خداوند تعالٰی کی بارگاہ میں مسلسل اور دائمی طور پر ارتباط رکھتے ہیں اور یہ ارتباط نماز کے ذریعے پورا ہوتا ہے وہ نماز جو انسان کو فخشاء و منکر سے روکتی ہے، وہ نماز جو انسان کی روح اور جان کی پرورش کرتی ہے، اور اس کو ہمیشہ خدا کی یاد دلاتی رہتی ہے، یہ مسلسل اور دائمی توجہ، غفلت، غرور اور دریائے شہوت میں ڈوب جائے، اور شیطان اور ہوائے نفس کے چنگل میں اسیر ہونے سے باز رکھتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نماز پر مدادمت سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ حالتِ نماز میں رہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ متعین اوقات میں نماز کو انجام دیتے ہیں۔ اصولی طور پر ہر کارِ خیر اس وقت انسان میں مثبت اثر کرتا ہے، جب کہ اس کی مدادمت ہو، اور اسی لیے پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں آیا ہے: ان احب الاعمال الی اللہ ما دام و ان قل خدا کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہے کہ جس میں مدادمت ہو، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ (بحوالہ: المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث، جلد ٢، ص ١٦٠ (مادہ دوام))۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے کہ: "اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی انسان نوافل میں سے کوئی چیز اپنے اوپر فرض کرے تو ہمیشہ اس کی مدادمت کرتا رہے۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص ٤١٥)۔ ایک اور حدیث میں اسی امام سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: یہ آیات نافلہ کی طرف اشارہ ہے اور آیہ (وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ) "جو کچھ آیات کے بعد آئے گی" نماز فریضہ کو بیان کرتی ہے۔ (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص ٤١٦)۔ یہ فرق ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ محافظت کی تعبیر تو واجب نمازوں کے ساتھ مناسب ہے اور انھیں خاص طور پر متعین میں ہی انجام دینا چاہیے۔ باقی رہی مدام کی تعبیر تو یہ مستحب نمازوں کے ساتھ مناسب ہے، کیونکہ انسان انھیں انجام بھی دے سکتا ہے اور کبھی چھوڑ بھی سکتا ہے۔ بہرحال نماز کے ذکر کے بعد ـــــــــ جو بہترین عمل اور مومنین کی بہترین حالت ہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ان کی دوسری خصوصیت پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ لوگ کہ جن کے اموال میں ایک حق معلوم ہے۔" (وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ)۔ "سوال کرنے والوں اور محروموں کے لیے۔" (لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)۔ اس طرح سے وہ خالق سے اپنے ارتباط کی بھی حفاظت کرتے ہیں، اور مخلوقِ خدا کے ساتھ بھی اپنے رشتہ اور تعلق کو برقرار رکھتے ہیں۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں "حق معلوم" سے مراد وہی "زکات" ہے۔ جس ایک مقدار معین ہے اس کے مصارف میں سے "سائل" اور "محروم" ہیں، جبکہ ہم جانتے ہی کہ یہ سُورہ مکی ہے، اور زکوٰۃ کا حکم مکہ میں نازل نہیں ہوا تھا یا اگر نازل ہوا تھا تو اس کی کوئی مقدار معین نہیں تھی، لہذا بعض دوسروں کا نظریہ یہ ہو کہ "حق معلوم" سے مراد زکات کے علاوہ کوئی اور چیز ہے، جسے انسان اپنے اوپر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ حاجت مندوں کو دے گا، اس تفسیر شاہد و گواہ وہ حدیث ہے جو امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے، کہ جس وقت لوگوں نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ زکات کے علاوہ کوئی چیز ہے؟ تو آپ نے فرمایا: "ھو الرجل یؤتیہ اللہ الثروۃ من المال فیخرج منہ الالف والالفین والثلاثۃ اٰلاف و الاقل والاکثر، فیصل بہ رحمہ، و یحمل بہ الکل عن قومہ": ہاں! یہ اس شخص کے بارےمیں ہے، جسے خدا مال و ثروت و عطا فرماتا ہے، اور وہ اس میں سے ایک ہزار، دو ہزار اور تین ہزار یا اس سے زیادہ یا کم الگ کر دیتا ہے اور اس سے صلہ رحمی کرتا ہے، اور اس ذریعے اپنی قوم سے مشقت اور بوجھ کو اٹھا لیتا ہے۔ (بحوالہ: "نور الثقلین"، جلد ٥، ص ٤١٧ (حدیث ٢٥-٢٧))۔ "سائل" اور "محروم" کے درمیان فرق یہ ہے کہ سائل تو اس شخص کو کہتے ہیں، جو اپنی حاجت پیش کر کے تقاضا اور سوال کرتا ہے اور "محروم" وہ شخص ہے جسے شرم و حیا، سوال و تقاضا کرنے سے مانع ہوتی ہے، اور ایک حدیث میں امام صادق سے آیا ہے: "محروم" وہ شص ہے جو کسب و کار میں زحمت و تکلیف اٹھاتا ہے لیکن اس کی زندگی پیچیدہ ہو گئی ہے۔ (بحوالہ: ایضاً)۔ مذکورہ حق کی مزید تشریح اور "سائل" و "محروم" کی تفسیر، تفسیر نمونہ کی جلد ١٢، ص ٥٧٢ میں آ چکی ہے۔ (ذاریات آیہ ١٩ کے ذیل میں)۔ بہرحال اس کام انجام دینا ایک طرف تو اجتماعی اثر رکھتا ہے اور فقر و فاقہ اور محرومیت کے ساتھ مبارزہ کرتا ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں پر جو اس پر عمل کرتے ہیں، اخلاقی اثر چھوڑتا ہے اور ان کے دل و جان کو حرص و بخل اور دنیا پرستی سے پاک کرتا ہے۔ بعد والی آیت ان کی تیسری خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہے: "وہ لوگ جو روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں۔" (وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ)۔ اور چوتھی خصوصیت میں کہتا ہے: "اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔" (وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ)۔ "کیونکہ وہ کسی شخص کو پروردگار کے عذاب سے امان میں نہیں سمجھتے۔" (إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ)۔ وہ ایک طرف تو روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں، اور "یصدقون" کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو فعل مضارع ہے اور استمرار پر دالالت کرتا ہے، وہ ہمیشہ اس بات پر توجہ رکھتے ہیں کہ حساب و کتاب اور جزا و سزا سے واسطہ پڑے گا۔ بعض مفسرین نے اس کی "تصدیق عملی" کے معنی میں، یعنی انجام و وظائف اور ترک محرمات سے تفسیر کی ہے، لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے جو علمی اور عملی دونوں تصدیقوں کو شامل ہے۔ لیکن چونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص روز جزا پر ایمان تو رکھتا ہو۔ لیکن وہ اپنے آپ کو سزا کا مشمول نہ سمجھتا ہو، اس لیے کہتا ہے: "وہ ہرگز اپنے آپ کو امان میں نہیں سمجھتے۔" یعنی وہ ہمیشہ باز پرس کا احساس رکھتے ہیں۔ اپنے حسنات اور ناچیز اور اپنی برائیوں کو بڑا شمار کرتے ہیں۔ اسی لیے ایک حدیث میں امیر المومنین علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: خف اللہ خوفاً انک لو اتینہ بحسنات اھل الارض لم یقبلھا منک، و ارج اللہ رجاءًا انک لو اتیتہ بسیئات اھل الارض غفرھا لک: اے میرے فرزند! تو خدا سے اس طرح خائف رہ کہ اگر تو روئے زمین کے لوگوں کی نیکیاں لے کر بھی آئے تو بھی یہ احتمال دے کہ (شاید) خدا تجھ سے قبول نہ کرے، اور اس طرح اس سے امید وار رہ کہ اگر تو تمام اہل زمین کے گناہ بھی رکھتے ہو تو بھی یہ احتمال دے کہ وہ تجھے بخش دے۔" (بحوالہ: جامع الاخبار، ص ١١٢)۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر یہ فرمایا کرتے تھے: لن یدخل الجنۃ احدًا عملہ قالوا ولا انت یا رسول اللہ قال ولا انا، الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ!: "کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا، لوگوں نے عرض کیا اے رسولِؐ خدا کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں! میں بھی اسی طرح ہوں مگر یہ کہ خدا کی رحمت میرے شامل حال ہو۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 35 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر بہشتیوں کی خصوصیات کا ایک اور حصہ
Tafsīr Nemūna · Vol. 10گزشتہ آیات میں مومنین اور ان لوگوں کی، جو قیامت میں اہل جنت ہوں گے، مخصوص اوصاف میں سے چار صفات کا بیان ہوا تھا اور ان آیات میں دوسری پانچ صفات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو مجموعی طور پر نو صفات ہو جاتی ہیں۔ پہلی توصیف کے بارے میں فرماتا ہے: "وہ لوگ جو اپنی عفت (تشریحی نوٹ: "فروج"، "فرج" کی جمع ہے۔ عضو تناسل کی طرف کنایہ ہے) کی حفاظت کرتے ہیں۔" (وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ)۔ "مگر اپنی بیویوں اور کنیزوں کی نسبت، جن سے فائدہ اٹھانے میں انھیں کسی قسم کی ملامت اور سرزنش نہیں ہے۔ (إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ)۔ اس میں شک نہیں ہے کہ خواہش جنسی، انسان کی سرکش خواہشات میں سے ہے اور بہت سے گناہوں کا سرچشمہ ہے، یہان تک بعض لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ تمام اہم جرائم کے اعمال ناموں میں، اسی خواہش کا اثر نظر آتا ہے، اس لیے اس پر کنٹرول کرنا اور اس حدود کی حفاظت کرنا، تقوٰی و پرہیز گاری کی اہم نشانیوں میں سے ہے، اسی بناء پر نماز، ضرورت مندوں کی مدد، قیامت کے دن پر ایمان اور عذاب الٰی سے خوف کے ذکر کے بعد، اسی خواہش پر کنٹرول کا ذکر ہوا ہے۔ وہ استثناء جو اس کے ذیل میں بیان ہوا ہے، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام کی ہرگز یہ منطق نہیں ہے کہ یہ عزیزہ اور خواہیش کلی طور پر محو اور نابود ہو جائے اور کوئی شخص راہبوں اور پادریوں کی طرح قانونِ خلقت کے برخلاف قدم اٹھائے، کیونکہ یہ عمل غالباً غیر ممکن ہے اور یہ فرض امکان غیر منطقی ہے، اسی لیے راہب بھی اس خواہش کو زندگی کے منظر سے حذف نہیں کر سکے اور اگر وہ رسمی طور پر شادی بیاہ نہیں کرتے، تو ان میں سے بہت سے "چون بخلوت، می روندآں کار دیگر می کنند" (جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو پھر دوسرا ہی کام کرتے ہیں)۔ اور اس طریقہ سے جو رسوائیاں ہوئی ہیں وہ کم نہیں، مسحیی مورخین "ویل دورانت" وغیرہ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ "ازدواج" کی تعبیر دائمی اور مؤقت دونوں بیویوں کے لیے استعمال ہوتی ہے اور یہ جو بعض نے گمان کیا ہے کہ یہ آیت "ازدواج موقت" (متعہ) کی نفی کرتی ہے، اس بناء پر ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ (عقد متعہ) بھی ازدواج (و شادی) کی ایک قسم ہے۔ بعد والی آیت میں اس موضوع پر مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتا ہے: "اور جو لوگ اس کے علاوہ طلب کریں وہ تجاوز کرنے والے:، اور خدائی حدود سے خارج ہیں۔" (فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ)۔ اور اس طرح سے اسلام ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالتا ہے کہ جس میں فطری غرائز و خواہشات کا جواب بھی مل سکے اور وہ فحشاء و فساد جنسی اور اس پیدا ہونے والے مفاسد سے بھی آلودہ نہیں ہے۔ البتہ کنیزیں اسلام کے نقطہ نظر سے بیوی کے بہت سے شرائط اور قانونی ضابطوں کی حامل ہیں، اگرچہ ہمارے زمانے میں ان کا موضوع نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس بعد ان کے دوسرے اور تیسرے اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کی رعایت کرتے ہیں۔" (وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ)۔ البتہ "امانت" کا ایک وسیع معنی ہے، جو نہ صرف لوگوں کی ہر قسم کی مادی امانتوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے، بلکہ خدا، پیغمبروں اور ائمہ معصومین کی امانتوں کو بھی شامل ہے۔ خدا کی نعمتوں میں سے ہر نعمت اس کی ایک امانت ہے، اجتماعی مناسب خصوصاً حکومت کا منصب اہم ترین امانتوں میں سے ہے، اسی لیے امام باقرؑ اور امام صادقؑ کی مشہور حدیث میں آیہ "إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّواْ الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" کی تفسیر میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ "ولایت و حکومت کو اس کے اہل کے سپرد کرو۔" (بحوالہ: تفسیر برہان، جلد ١، ص ٢٨٠)۔ سُورہ احزاب کی آیہ ٧٢ میں بھی یہ آیا ہے کہ تکہیف و مسؤلیت (فرائض و واجبات) کا مسئلہ، خدا کی ایک عظیم امانت ہے: (إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) اور سب سے اہم ترین، خدا دین و آئین اور اس کی کتاب قرآن، اس کی عظیم امانت ہے، جس کی حفاظت کی کوشش کرنا چاہیے۔ "عہد" بھی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو لوگوں کے عہد اور پیمانوں کو بھی شامل ہے اور خدا کے عہد اور پیمانوں کو بھی۔ کیونکہ "عہد" ہر وہ اقرار اور وعدہ ہے جو انسان دوسرے کے ساتھ کرتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاتا ہے، تو اس نے اس ایمان کے ساتھ ہی بہت وسیع ذمہ داریوں کو قبول کر لیا ہے۔ اسلام میں امانت کی حفاظت اور معاہدوں کا پابند ہونے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اسے اسلام کی اہم ترین نشانیوں میں بتایا گیا ہے۔ ہم سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد ٢، سُورہ نساء کی آیہ ٥٨ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ چوتھی صفت کے بارے میں مزید کہتا ہے: "وہ لوگ جو شہادتِ حق کی ادائیگی کے لیے قیام کرتے ہیں۔" (وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ)۔ کیونکہ عادلانہ شہادت کو قائم کرنا اور اس کو نہ چھپانا انسانی معاشرے میں قیام عدالت کی اہم ترین بنیادوں میں سے ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں، کہ ہم کسی کے خلاف گواہی دے کر ان کی عداوت و دشمنی مول کیوں لیں، اور اپنے لیے درد سر کیوں پیدا کریں، ایسے لوگ حقوق انسانی کی طرف سے بےاعتنا، روحِ اجتماعی کے ناقد اور اجرائے عدالت کے سلسلہ میں غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے مسلمانوں کو کئی آیات میں شہادتِ حق کی دعوت دی ہے اور شہادت کے چھپانے کو گناہ قرار دیا ہے۔ (بحوالہ: بقرہ ٢٨٢-١٤٠، مائدہ ١٠٦، طلاق ٢)۔ فقہ اسلامی میں بھی شہادت ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، اور بہت سے انفرادی اور اجتماعی حقوق کے اثبات کے لئے بنیاد شمار ہوئی ہے، اور اس کے لئے خاص احکام ہیں۔ آخری صفت میں جو حقیقت میں اس مجموعہ صفات کی نویں صفت ہے، پھر دوبارہ نماز کے مسئلہ کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ ان کا آغاز بھی نماز ہی سے ہوا تھا، فرماتا ہے: "وہ لوگ جو نماز کی حفاظت کرتے ہیں" (وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ)۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں، بعض قرائن کی طرف توجہ کرتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "نماز"، "واجب نماز" کی طرف اشارہ ہے اور گزشتہ آیت میں "نماز نافلہ" کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ پہلی صفت میں، نماز کے قائم رکھنے کی طرف اشارہ تھا، لیکن یہاں اس کے آداب و شرائط، ارکان و خصوصیات کی حفاظت کے متعلق گفتگو ہے، ایسے آداب جو نماز کے ظاہر کو بھی اس چیز سے کہ جو باعث فساد ہے محفوظ رکھتے ہیں اور روحِ نماز کو بھی، جو حضور قلب ہے۔ تقویت دیتے ہیں اور اخلاقی رکاوٹوں کو بھی جو اس کی قبولیت کی راہ میں مانع ہوتے ہیں، دور کر دیتے ہیں، تو اسی بناء پر یہ ہرگز تکرار شمار نہیں ہو گا۔ یہ آغاز و اختتام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ ان تمام اوصاف میں، نماز کی طرف توجہ، ان سب سے زیادہ برتر اور سب سے زیادہ اہم ہے، ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ "نماز تربیت کا عالی مکتب" اور تہذیبِ نفوس اور معاشرہ کی پاکسازی کا اہم ترین وسیلہ ہے۔ اور اس گفتگو کے آخر میں، ان اوصاف والوں کی اصلی راہ کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ گزشتہ آیات میں مجرموں کی اصلی راہ کی تشیح کی تھی، یہاں ایک مختصر اور پُر معنی جملہ میں فرماتا ہے: "وہ لوگ جو ان اوصاف کے حامل ہیں، ان کا ٹھکانا جنت کے باغات ہیں اور انھیں ہر لحاظ سے عزت کے ساتھ رکھا جائے گا۔" (أُوْلَئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "فی جنات"، "اولئک" کی خبر ہے اور "مکرمون" دوسری خبر ہے، یا یہ کہ "مکرمون" خبر ہے اور "فی جنات" اس سے متعلق ہے۔ (غور کیجیے))۔ وہ محترم اور معزز کیوں نہ ہوں؟ جبکہ وہ خدا کے مہمان ہیں اور خدائے قادر و رحمٰن نے، تمام ضروری وسائل ان کے لیے فراہم کر دیئے ہیں، اور حقیقت میں یہ دونوں تعبیریں ("جنات" و "مکرمون") مادی و معنوی دونوں قسم کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اس گروہ کے شامل حال ہوں گی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 41 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر کس منہ سے جنّت کی طمع؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 10اس سورہ کی گزشتہ آیات میں، مومنین اور کفار کی نشانیوں اور ان دونوں گروہوں کی سرنوشت کے بارے میں مختلف مباحث آئے ہیں، اوپر والی آیات میں پھر کفار کی وضع و کیفیت اور مقدماتِ اسلام کے بارے میں ان کے استہزاء اور تمسخر کی تفصیل کی طرف لوٹتا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ آیات مشرکین کے ان گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، اس وقت جبکہ پیغمبرؐ معاد کی آیات کو مسلمانوں کے سامنے پڑھتے تھے، تو وہ ہر گوشہ و کنار سے آ جاتے تھے اور یہ کہتے تھے، کہ اگر معاد ہوئی تو ہماری وضع و کیفیت اس عالم میں بھی، ان افراد سے جو تجھ پر ایمان لائے ہیں، بہتر ہو گی، جیسا کہ اس دنیا میں بھی ہماری وضع و کیفیت ان سے بہتر ہے۔ قرآن ان کے جواب میں اس طرح کہتا ہے: "ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے، جو سرعت کے ساتھ تیرے پاس آتے ہیں۔" (فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ)۔ دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی گروہ در گروہ آتے ہیں اور جنت کی طمع رکھتے ہیں۔" (عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ)۔ "کیا ان میں سے ہر ایک یہ طمع رکھتا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں والی جنت میں داخل ہو جائے گا۔" (أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ)۔ یہ کون سے ایمان اور کون سے عمل کی بناء پر اپنے لیے اس قسم کی شائستگی اور لیاقت کے قائل ہیں؟! "مھطعین"، "مھطع" کی جمع ہے جو اس شخص کے معنی میں ہے، جو گردن اٹھا کر تیزی کے ساتھ چلتا ہے اور کسی چیز کی جستجو میں ہوتا ہے اور کبھی صرف خبر معلوم کرنے کے لئے گردن اٹھانے کے معنی میں آتا ہے۔ "عزین"، "عزۃ" (بر وزن ہبہ) کی جمع ہے، جو پراگندہ جماعتوں اور گروہوں کے معنی میں ہے اور اس کا ریشہ اور اصلی جڑ "عزو" (بر وزن جذب) نسبت دینے کے معنی میں ہے اور چونکہ وہ گروہ جو ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ نسبت اور ارتباط رکھتے ہیں، یا ان کا ہدف اور مقصد ایک ہی ہوتا ہے لہذا جماعت اور گروہ کو "عزہ" کہا گیا ہے۔ بہرحال، خود غرض اور خود پرست مشرکین اس قسم کے بہت سے بےبنیاد دعوے رکھتے تھے اور اپنی مادی زندگی کے مرقہ اور خوش حال ہونے کوــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو عموماً ناجائز اور لوٹ مار وغیرہ کے طریقوں سے حاصل ہوتی تھی، خدا کی بارگاہ میں اپنے مقام کی بلندی اور پروردگار کے نزدیک اپنی محبوبیت کی دلیل سمجھتے تھے، اور اس کے بعد ایک بےمعنی موازنہ کے ساتھ قیامت میں اپنے لئے بلند مقامات کے قائل تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ "معاد" پر اس طرح سے جیسا کہ قرآن بیان کرتا ہے، عقیدہ نہیں رکھتے تھے، لیکن کبھی کبھی احتمال کی بناء پر معاد پر بحث کیا کرتے تھے کہ اگر ایسا ہوا تو ہم اس دوسرے جہان میں اس طرح اور ایسے ہوں گے، شاید وہ یہ بات استہزاء اور تمسخر کے طور پر بھی کہتے تھے۔ یہاں قرآن ان کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: "ہرگز ایسا نہیں ہو گا کہ وہ بہشت میں داخل ہو جائیں، کیونکہ ہم نے انہیں جس چیز سے پیدا کیا ہے، اس کا انہیں خود علم ہے۔" (كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ)۔ درحقیقت، خدا یہ چاہتا ہے کہ پہلے تو اس جملہ کے ذریعہ ان کا غرور اور تکبر توڑ دے، کیونکہ وہ کہتا ہے: تم خود اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم نے تمہیں کس چیز سے پیدا کیا ہے"؟ ایک بےقدر و قیمت نطفہ سے، ایک گندے اور پست پانی سے، تو پھر یہ اتنا غرور و نخوت کی بناء پر ہے؟۔ دوسرے معاد کا مذاق اڑانے والوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تم معاد و قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو، تو جاؤ اور نطفہ کی حالت کی تحقیق کرو اور دیکھو کہ ہم ایک بےقدر و قیمت پانی کے قطرے سے کس طرح ایک نیا اور عمدہ وجود پیدا کر دیتے ہیں، جو جنین کی صورت میں ہر روز ایک نئی خلقت اختیار کرتا ہے۔ تو کیا نطفہ سے انسان کو پیدا کرنے والا، اس بات پر قادر نہیں ہے، کہ وہ مٹی ہو جانے کے بعد، انسان کے بدن پر لباس حیات پہنا دے۔ "تیسرے" یہ لوگ کس طرح جنت کی طمع رکھتے ہیں، جبکہ وہ اپنے صحیفہ اعمال میں اس قدر افعال گناہ رکھتے ہیں، کیونکہ وہ موجود جو ایک بےقدر و قیمت نطفہ سے پیدا ہوا ہے، مادی لحاظ سے تو کوئی شرافت و عظمت نہیں رکھتا، اگر کوئی شرف ہے تو وہ ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ہے اور وہ ان کے پاس نہیں ہے، تو پھر یہ لوگ کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ وہ جنت کے باغوں میں قدم رکھیں گے۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والی آیت کی تفسیر میں دوسرے احتمال بھی دئیے گئے ہیں، منجلہ ان کے یہ ہے کہ "مما یعلمون" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں عقل و شعور کے ساتھ پیدا کیا ہے، نہ کہ حیوانات اور بائیم کی طرح، اس بناء پر وہ اپنے اعمال کے لئے جواب دہ ہیں۔ دوسرا احتمال یہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں کے اہداف و مقاصد کے لئے جنہیں وہ خود جانتے ہیں۔ یعنی انہیں فرائض کی ادائیگی اور اطاعت کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ سب احتمال بعید نظر آتے ہیں۔ لہذا اکثر مفسرین نے وہی معنی جسے ہم نے اوپر بیان کیا ہے، قبول کیا ہے)۔ اس کے بعد اس مطلب کی تاکید کے لئے مزید کہتا ہے: "مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم ہم اس بات پر قادر ہیں۔۔۔" (فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ)۔ یہ جملہ ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہم نے نہ صرف اس بات پر قادر ہیں کہ انہیں مٹی ہو جانے کے بعد نئی زندگی اور حیات کی طرف پلٹا دیں، بلکہ ہم انہیں ایک زیادہ کامل اور بہتر موجودات میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں، اور اس کام میں کوئی چیز مانع نہیں ہو گی۔ اس طرح سے اوپر والی تعبیر قیامت کی بحث کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہمارے لئے کوئی مانع نہیں ہے کہ ہم تمہیں تمہارے کیفر کردار کی بناء پر نابود کریں اور شائستہ، آگاہ اور مومن افراد کو تمہارا جانشین بنا دیں، تاکہ وہ ہمارے پیغمبرؐ کے یار و مددگار ہوں، ہمیں اس کام سے کوئی چیز مانع نہیں ہو گی۔ اس بناء پر اگر ہم تم سے یہ اصرار کرتے ہیں کہ تم ایمان لے آؤ، تو وہ کسی حاجت یا عجز کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ بشر کے لئے ہدایت و ترتیب کی مصلحت کلی کا تقاضا ہے۔ "رب المشارق والمغارب" (مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار) کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہی خدا جو اس بات پر قادر ہے، کہ اتنے عظیم سورج کو ہر روز ایک نئے مشرق اور ایک نئے مغرب میں قرار دیتا ہے، اور یہ حساب کتاب اتنا دقیق ہو کر وہ کوئی ملین سال سے اپنے سالانہ دورے کو بےکم و کاست طے کرے، تو وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ایک دفعہ پھر انسان کو زندگی کی طرف لوٹا دے، اور اسے ایک نئی زندگی بخش دے، یا ایک گروہ کو لے جائے اور کسی دوسرے شائستہ اور لائق گروہ کو ان کا جانشین بنا دے۔
ایک نکتہ "مشارق"، "مغارب" کا خدا
قرآن مجید کی آیات میں کبھی تو "مشرق و مغرب" کی تعبیر مفرد کی صورت میں آئی ہے، مثلاً سورہ بقرہ کی آیہ ١١٥ میں "وَلِلّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ " مشرق و مغرب خدا ہی کے لئے ہے اور کبھی تثنسیہ کی صورت میں آئی ہے، مثلاً سورہ رحمن کی آیہ ١٧ میں "رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ، "دو مشرقوں کا پروردگار اور دو مغربوں کا پروردگار" اور کبھی "جمع" کی صورت میں المشارق و مغارب جیسے زیر بحث آیت ہے۔ بعض کوتاہ نظر لوگوں نے ان تعبیروں کو متضاد خیال کیا ہے، حالانکہ وہ سب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں، اور ہر ایک کسی ایک نکتہ کی طرف اشارہ ہے، اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ سورج ہر روز ایک نئے نقطہ سے طلوع اور ایک نئے نقطہ میں غروب کرتا ہے، اس بناء پر سال کے دنوں کی تعداد کے برابر مشرق و مغرب ہیں اور دوسری طرف ان تمام مشرقوں اور مغربوں میں دو مشرق اور دو مغرب ممتاز ہیں، جن میں سے ایک موسم گرما کے آغاز میں یعنی مدار شمالی لیں، خورشید کی بلندی کی زیادہ سے زیادہ حد کے موقع پر، اور ایک موسم سرما کے آغاز میں، یعنی مدار جنوبی میں سورج کے نیچے آنے کی آخری حد (جن میں سے ایک کو "مدار راس السرطان" سے اور دوسرے کو "مدار راس الجدی" سے تعبیر کرتے ہیں اور چونکہ یہ دونوں پورے طور پر مشخص ہیں لہذا خصوصیت کے ساتھ ان کی بات ہوئی ہے، ان کے علاوہ دوسری دو مشرقیں اور دو مغربیں بھی ہیں، جنہیں مشرق اعتدال اور مغرب اعتدالی کا نام دیتے ہیں (اوّل بہار اور اوّل خزاں میں جبکہ ساری دنیا میں رات دن برابر ہوتے ہیں) یہ بھی مشخص ہیں اور بعض نے "رب المشرقین و رب المغربین" کو اس کی طرف اشارہ سمجھا ہے، اور یہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ لیکن جہاں یہ مفرد کی صورت میں ہے تو وہاں جنس کا معنی رکھتا ہے، کہ توجہ صرف اہل مشرق و مغرب پر رہے، قطع نظر اس سے کہ افراد پر نظر کی جائے، اس طرح سے اوپر والی مختلف تعبیروں میں ہر کوئی ایک نکتہ رکھتی ہے اور انسان کو سورج کے طلوع و غروب کے مختلف تغیرات، اور سورج کے مداروں کے منظم تغیرات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 44 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر گویا اپنے بتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 10ان آیات میں جو سُورہ معارج کی آخری آیات ہیں۔ ہٹ دھرم، ٹھٹھہ کرنے والے اور سخت کافروں کو انڈار و تہدید کے عنوان سے فرماتا ہے: "انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے، تاکہ وہ اپنے باطل مطالب میں ڈوبے رہیں اور کھیل کود میں ڈوبے رہیں یہاں تک کہ وہ اپنے یوم موعود سے ملاقات کریں" (فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: "یخوضوا"، "خوض" (بر وزن خوض) کے مادہ سے اصل میں پانی چلے کے معنی میں ہے۔ اس کے کنایہ کے طور پر ان موارد میں جہاں انسان باطل مطالب میں غوطہ زن ہو، استعمال ہوا ہے)۔ اس سے زیادہ استدلال اور موعظہ کی ضرورت نہیں ہے، وہ نہ تو اہل منطق ہیں اور نہ ہی بیدار ہونے کے لیے آمادگی رکھتے ہیں، چھوڑو انھیں وہ اپنی باطل اور بےہودہ باتوں میں غوطہ زن ہیں اور بچوں کی طرح کھیل کود میں لگے رہیں، یہاں تک کہ ان کا موعود دن، قیامت کا دن آن پہنچے اور وہ ہر چیز کو اپنی انکھ سے دیکھ لیں۔ یہ آیت اسی تعبیر کے ساتھ اور کسی قسم کی تبدیلی کے بغیر سورہ زخرف کی آیہ ٨٣ میں بھی آئی ہے۔ اس کے بعد اس موعود دن کا تعارف کراتے ہوئے اس وحشت ناک اور ہولناک دن کی نشانیاں بیان کرتا ہے، اور فرماتا ہے، وہی دن جس میں وہ اپنی قبروں سے تیزی کے ساتھ خارج ہوں گے اور اس طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے، گویا کہ وہ اپنے بتوں کی طرف جا رہے ہیں" (يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ)۔ کیسی عجیب تعبیر ہے؟ قیامت میں ان کی حاکت کی کیفیت کی، جبکہ وہ تیزی کے ساتھ دادگاہ عدلِ الہٰی کی طرف چل رہے ہوں گے ان کے کسی جشن یا عزا کے دن بتوں کی طرف، ہجوم کرنے کی ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، لیکن وہ کہاں اور یہ کہاں؟ اور حقیقت میں یہ ان بےہودہ عقائد کے بارے میں، جو وہ دنیا میں رکھتے تھے، ایک تمسخر اور استہزاء ہے۔ "اجداث"، "جدث" (برزن عبث) کی جمع ہے جو "قبر" کے معنی میں ہے۔ "سراع"، "سریح" کی جمع ہے (جیسے ظراف و ظریف) اس شخص یا چیز کے معنی میں ہے، جو جلدی سے چلے۔ "نصب"، "نصیب" کی جمع ہے اور وہ بھی بعض کے قول کے مطابق "نصب" (بر وزن سقف) کی جمع ہے، یہ اصل میں اس چیز کے معنی میں ہے جو کسی جگہ نصب ہوئی ہو اور ان بتوں کو بھی کہتے ہیں، جنھیں ایک پتھر کے ٹکڑے کی صورت میں کسی جگہ نصب کر کے اس کی پرستش کرتے تھے، اور اس کے اوپر قربانی کر کے اس کا خون اس پر ڈال دیتے تھے اور اس میں اور "صنم" میں یہ فرق تھا کہ "صنم" تو وہ بت تھا، جس کی کوئی خاص شکل و صورت ہوتی تھی، لیکن "نصب" پتھر کے ایسے ٹکڑے ہوتے تھے جن کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی تھی جن کی وہ کسی سبب سے پرستش کرتے تھے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ ٣ میں آیا ہےکہ وہ حرام گوشتوں میں سے اس جانور کے گوشت کو بھی شمار کرتے تھے جو ان بتوں پر ذبح ہوتے تھے (وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ)۔ "یوفضون"، "افاضہ" کے مادہ سے، تیز چلنے کے معنی میں ہے، پانی کے چشمہ سے چلنے کی تیزی سے مشابہ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں نصب سے مراد وہ پرچم ہیں جنھیں لشکروں یا قافلوں کے درمیان کسی ایک جگہ نصب کر دیتے ہیں اور ہر شخص تیزی سے اپنے آپ کو ان تک پہنچاتا ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اس کے بعد دوسری نشانیاں پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "یہ اس حالت میں ہو گا کہ ان کی آنکھیں ہول اور وحشت کی وجہ سے نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ خضوع کے ساتھ دیکھ رہے ہوں گے۔" (خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ)۔ "اور ذلت و خواری کے پردہ نے انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا۔" (تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "ترھقھم"، "رھق" (بر وزن سفق) کے مادہ ہے، جبری طور پر ڈھانپنے کے معنی میں ہے)۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "یہ وہی دن ہے جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔" (ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ)۔ ہاں! یہ وہی موعود دن ہے، جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے اور بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے: فرض کریں کوئی ایسا دن ہو بھی تو پھر بھی ہماری حالت مومنین سے بہتر ہو گی، لیکن اس دن ان میں شدّت خوف، وحشت و شرمساری کی وجہ سے سر اٹھانے کی جرات نہ ہو گی، ذلت کا گرد و غبار ان کے سر اور چہر پر پڑا ہوا ہو گا، اور وہ غم و اندوہ کے ہالے میں گھرے ہوئے ہوں گے، یقیناً اس دن وہ نادم و پشماں ہوں گے، لیکن کیا فائدہ؟ خداوندا! اس ہولناک دن ہمیں اپنی رحمت کے پردے میں ڈھانپ لینا۔ پروردگارا! شیطان کے جال سخت، ہوائے نفس غالب اور لمبی چوڑی آرزوئیں فریب دینے والی ہیں، تو خود ہی بیداری و آگاہی اور راہِ ہدایت سے عدم انحراف کی ہمیں توفیق مرحمت فرما۔ بارِ الہا! ہمیں ان مومنین میں سے قرار دے، جنہوں نے اپنے عہد کو وفا کرنے، اور تیری اطاعت کے لئے کمر ہمت باندھی ہوئی ہے۔ آمین یا رب العالمین