Sūra 91 · 15v
Chapter 9115 verses

Ash-Shams

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الشمس
الشمس

سورہ الشمس

یہ سُورہ مکہ میں نازل ہوا اس کی ۱۵ آیات ہیں۔

سورہٴِ الشمس اور اس کی فضیلت

یہ سُورہ جو حقیقت میں "تہذیبِ نفس" اور دلوں کو آلائشوں اور ناپاکیوں سے پاک کرنے والا سُورہ ہے، اسی معنی کے محور پر گردش کرتا ہے البتہ اس سُورہ کے آغاز میں۔ اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے کہ فلاح و رست گاری تہذیبِ نفس کی مرہون منت ہے، عالمِ خلقت کے گیارہ اہم موضوعات اور خدا کی ذاتِ پاک کی قسم کھائی گئی ہے۔ اور قرآ ن مجید کی بیشتر قسموں کو مجموعی طور پر اپنے اندر سمو لیا ہے۔ اور سُورہ کے آخر میں باغی اور سرکش قوموں میں سے ایک کا ذکر، جو تہذیبِ نفس کو ترک کرنے کی بناء پر ابدی اور دائمی شقاوت و بدبختی میں ڈوب گئی تھی، اور خدا نے اُسے شدید عذاب میں گرفتار کیا تھا، یعنی قوم "ثمود"۔ بطور نمونہ پیش کرتا ہے، اور ایک مختصر سے اشارے کے ساتھ اِن لوگوں کی سرنوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ مختصر سا سورہ بشر کی زندگی کے سرنوشت ساز مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ کو موضوع بناتا ہے اور انسانوں کے لئے اسلام کے قابلِ قدر نظام کو مشخص کرتا ہے۔ اس سُورہ کی فضیلت کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے: "من قرأھا فکانما تصدق بکل شیء طلعت علیہ الشمس و القمر۔" "جو شخص اس سُورہ کو پڑھے گا تو گویا اس نے ان تمام چیزوں کی تعداد میں جن پر سُورج اور چاند طلوع کرتے ہیں، صدقہ دیا ہے۔ (بحوالہ: "مجمع البیان"، جلد ۱۰، ص۴۹۶)۔ اور مسلّمہ طور پر یہ عظیم فضیلت اس شخص کے لئے ہے، جو اس چھوٹے سے سورہ کے عظیم مطالب پر دل و جان سے عمل کرے اور تہذیب نفس کو اپنا قطعی وظیفہ سمجھے۔

1
91:1
وَٱلشَّمۡسِ وَضُحَىٰهَا
سورج اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی قسم۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
91:2
وَٱلۡقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا
اور چاند کی جب کہ وہ اس کے پیچھے آئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
91:3
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا
اور دن کی جب کہ وہ صفحہ زمین کو روشن کرے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
91:4
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰهَا
اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ زمین کو ڈھانپ لے ۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
91:5
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا
اور قسم ہے آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
91:6
وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا طَحَىٰهَا
اور قسم ہے زمین کی اور جس نے اسے بچھایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
91:7
وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا
اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور جس نے اسے درسست کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
91:8
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا
پھر اسے فجور و تقوی (خیروشر) کا الہام کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
91:9
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا
کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ فلاح پا گیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 10 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
91:10
وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا
اور جس نے اپنے نفس کو معصیت اور گناہ سے آلودہ کیا وہ نا امید اور محروم ہوا۔

تفسیر تہذیب نفس کے بغیر نجات ممکن نہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

وہ پےدَرپے اور اہم قسمیں جو اس سُورہ کے آغاز میں آئی ہیں ایک حساب سے "گیارہ " قسمیں ہیں اور دوسرے حساب سے "سات" قسمیں ہیں، اور قرآن کی بیشتر قسموں کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے۔ یہ چیز اس بات کی اچھی طرح سے نشان دہی کرتی ہے کہ یہاں کوئی بہت ہی اہم مطلب درپیش ہے۔ ایسا مطلب جو آسمانوں، زمین، سُورج اور چاند کی عظمت کے برابر ہے اور ایک ایسا مطلب ہے جو سرنوشت ساز اور حیات بخش ہے۔ پہلے ضروری ہے کہ ہم ان قسموں کی تشریح و تفسیر پیش کریں اور اس کے بعد اس نہایت اہم مطلب پر غور کریں جس کے لئے یہ سب قسمیں کھائی گئی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "سُورج اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی قسم": (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا)۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں قرآن کی قسموں کے عام طور پر دو مقصد ہوتے ہیں، پہلا مقصد اس مطلب کی اہمیت جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے اور دُوسرا ان امور کی اہمیّت جن کی قسم کھائی گئی ہے کیونکہ قسم ہمیشہ اہم موضوعات کی کھائی جاتی ہے۔ اسی بناء پر یہ قسمیں انسان کو غور و فکر کی طرف مائل کر دیتی ہیں تاکہ وہ عالمِ خلقت کے اُن اہم موضوعات کے بارے میں غور و فکر کریں، اور ان سے خدا کی طرف راستہ نکالیں۔ "سُورج" کا انسان اور تمام زندہ زمینی موجودات کی زندگی میں اہم ترین اور پائندہ ترین نقش و اثر ہے، کیونکہ اس بات کے علاوہ کہ وُہ نُور و روشنی اور حرارت کا منبع ہے، اور یہ دونوں انسانی زندگی کے اصلی عوامل میں سے شمار ہوتے ہیں۔ دوسرے حیاتی منابع بھی اسی کے سبب سے وجود میں آتے ہیں۔ ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، نباتات کی پرورش، دریاؤں اور آبشاروں کا چلنا، یہاں تک کہ قوّت پیدا کرنے والے منابع کا ظاہر ہونا، جیسا کہ تیل و پٹرول اور پھتر کا کوئلہ وغیرہ، اگر ہم صحیح طور پر غور کریں تو ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صُورت میں سُورج کی روشنی سے ارتباط رکھتا ہے اس طرح سے کہ اگر کسی دن یہ حیات بخش چراغ ہو جائے تو تاریکی و سکوت اور خاموشی و موت ہر جگہ کو گھیر لے۔ "ضحیٰ" اصل میں سُورج کی روشنی کے پھیلنے کے معنی میں ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب سُؤر اُفق سے اُوپر آ جائے۔ اور اس کی روشنی ہر جگہ کو گھیر لے۔ اس کے بعد دن کے اس موقع پر بھی "ضحیٰ" کا اطلاق ہونے لگا۔ خصُوصیّت کے ساتھ "ضحیٰ" پر تکیہ اس کی اہمیّت کی بناء پر ہے کیونکہ وہ زمین پر سُورج کی روشنی کے تسلّط کا وقت یوتا ہے۔ اِس کے بعد تیسری قسم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "قسم ہے چاند کی جب کہ وہ سُورج کے پیچھے پیچھے آئے" (وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا)۔ یہ تعبیر۔ جیسا کہ مفسّرین کی ایک جماعت نے کہا ہے۔ حقیقت میں چاند کے بدرِ کامل ہونے یعنی چودھویں رات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ چودھویں رات کا چاند غروب آفتاب کے ساتھ ہی اُفق مشرق سے نمودار ہوتا ہے اور اپنے روشن چہرے کو ظاہر کرتے ہوئے اپنا تسلّطا آسمان پر جما لیتا ہے۔ اور چونکہ یہ اس وقت ہر زمانہ سے زیادہ عمدہ اور زیادہ پُر شکوہ ہوتا ہے لہذا اس کی قسم کھائی ہے۔ مفسّرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ اُوپر والی تعبیر چاند کے دائمہ طور پر سُورج کے تابع ہونے اور اس منبع نُور سے روشنی حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے، لیکن اس صُورت میں "إِذَا تَلَاهَا" کا جملہ قیدِ توضیحی ہو گا۔ بعض نے اس آیت کی تفیسر میں کچھ اور احتمال بھی دیئے ہیں جو توجہ کے لائق نہیں ہیں، لہذا ان کو ذکر نہیں کیا گیا۔ چوتھی قسم میں مزید کہتا ہے: "اور دن کی قسم ہے جب کہ وہ صفحہ زمین کو روشن کر دے۔" (وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا)۔ "جَلَّاهَا"، "تجلیۃ" کے مادّہ سے، اظہار و ابراز کے معنی میں ہے۔ اس بارے میں کہ جلاھا کی ضمیر کس طرف لوٹتی ہے، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے اسے زمین یا دُنیا کی طرف لوٹاتے ہیں۔ (جیسا کہ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے)۔ یہ ٹھیک ہے کہ گزشتہ آیات میں "زمین" کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں تھی، لیکن یہ بات قرینہِ مقام سے واضح ہو جاتی ہے۔ بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ یہ ضمیر "سُورج" کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی قسم ہے دن کی جب کہ وہ سُورج کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ بہرحال، اس اہم آسمانی مخلوق کی قسم اس کی نوع بشر اور تمام زندہ موجودات کی زندگی میں اس کی حَد سے زیادہ تاثیر کی بناء پر ہے، کیونکہ دن حرکت، جُنبش اور حیات کا مظہر ہے، اور زندگی کی تمام جدوجہد، کشش اور کوشش عام طور پر دن کی روشنی میں ہی صورت پذیر ہوتی ہے۔ پانچویں قسم میں فرماتا ہے: "رات کی قسم جب کہ وہ صفحہ زمین (یا سُورج) کو ڈھانپ دیتی ہے۔" (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا)۔ اس بارے میں کہ "يَغْشَاهَا" کی ضمیر کس چیز کی طرف لوٹتی ہے؟ یہاں بھی دو نظریے ہیں، ایک تو یہ ہے کہ یہ "زمین" کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ رات ایک پردہ کی مانند ہے جو صفحہ زمین پر گرتا ہے، اور دوسرا یہ ہے کہ یہ "سُورج" کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ رات ایک پردہ کی مانند ہے جو سُورج کے چہرے پر پڑتا ہے، البتہ اس صُورت میں اس کا مفہوم مجازی ہو گا، کیونکہ رات حقیقت میں سُورج پر پردہ نہیں ڈالتی۔ بلکہ سُورج کے غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ حقیقت میں اگر گزشتہ آیت میں ضمیر "ارض" کی طرف لوٹے تو یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہئیے اور اگر "شمس" کی طرف لوٹے تو پھر یہاں بھی اسی طرح ہو گا۔ رات اپنی تمام برکات و آثار کے ساتھ ایک طرف تو سُورج کی دن کی حرارت میں اعتدال پیدا کرتی ہے اور دُوسری طرف تمام زندہ موجودات کے آرام و سکون اور راحت پانے کا سبب بنتی ہے۔ کیونکہ اگر رات کی تاریکی نہ ہوتی، اور مسلسل سُورج ہی چمکتا رہتا تو آرام و سکون کا وجود ہی نہ ہوتا، کیونکہ سُورج کی جلانے والی حرارت ہر چیز کو نابود کر دیتی۔ یہاں تک کہ اگر شب و روز کا نظام موجود کیفیت کے برخلاف ہوتا تو بھی یہی مشکل پیش آتی، جیسا کہ چاند میں جس کی راتیں کُرہ زمین کے دو ہفتوں کے برابر ہوتی ہیں اور دن بھی دو ہفتے کے برابر ہوتے ہیں۔ وہاں دوپہر کے وقت حرارت تقریباً تین سو درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتی ہے، جس میں کوئی بھی زندہ موجود جسے ہم پہچانتے ہیں باقی نہیں رہ سکتا۔ اور آدھی رات کے وقت اس کا درجہ حرارت صفر سے نیچے چلا جاتا ہے کہ اگر وہاں پر کوئی زندہ موجود ہو تو یقینی طور پر برف ہو کر نابُود ہو جائے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں افعال "ماضی" کی صورت میں آئے تھے، اور اس آیت میں مضارع کی صُورت میں آئے ہیں۔ تعبیر کا یہ فر ممکن ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ شب و روز کے ظہور مثلاً حوادث کسی زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے۔ وہ ٓگزشتہ اور آئندہ سب کو شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض فعل ماضی کی صُورت میں اور بعض مضارع کی صُورت میں آئے ہیں، تاکہ ان حوادث کی عمومیت کو زمانہ کے ضمن میں واضح کریں۔ چھٹی اور ساتویں قسم میں آسمان اور خالقِ آسمان کی طرف توجہ کرتا ہے اور مزید فرماتا ہے: "قَسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے آسمان کو بنایا۔" (وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا)۔ ایسی خیرہ کرنے والی عظمت کے ساتھ آسمان کی اصل خلقت، عالمِ خلقت کے عظیم عجائبات میں سے ہے، اور ان تمام ستاروں، اجرام سماوی اور ان پر حاکمِ نظام ایک تعجب چیز ہے۔ اور ان سب سے زیادہ اہم اس آسمان کا خالق ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ لفظ "ما" عربی لغت میں عام طور پر "غیر ذومی العقول موجود" کے لئے آتا ہے۔ لہذا خداوندِ عالم حکیم پر اس کا اطلاق کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے بعض علماء یہاں "ما" کو مصدریہ مراد لینے پر مجبور ہوئے ہیں نہ کہ "موصولہ" اور اس صورت میں آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا۔ قَسم ہے آسمان کی اور اس کی بناء کی۔" لیکن آیات "وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا" کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جن کی تفسیر عنقریب بیان کی جائے گی، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ "ما"، "موصولہ" ہو اور خدا کی ذاتِ پاک کی طرف اشارہ ہو جو تمام آسمانوں کا خالق ہے، اور عربی زبان میں افراد ذوی بالعقول کے بارے میں بھی "ما" کا استعمال ہوتا رہتا ہے، جیسا کہ سُورہ نساء کی آیہ ۳ میں آیا ہے: فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ: جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔ مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ، یہ ہے کہ "ما" (جس چیز) کی تعبیر یہاں اس بناء پر ہے کہ مبدأ جہان کو پہلے مبھم صُورت میں ذکر کیا گیا ہو، تاکہ بعد میں غور و تحقیق اور مطالعہ کے ساتھ اس کے علم و حکمت سے آشنا ہوں، اور "جس چیز"، "اس ذات" کے ساتھ تبدیل ہو جائے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پھر آٹھویں اور نویں قسم میں "زمین" اور "زمین کے خالق" کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے،: "قَسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے زمین کو بچھایا" (وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا)۔ زمین جو انسان اور تمام زندہ موجودات کی زندگی کا گہوارہ ہے۔ زمین جو اپنی تمام حیرت انگیز چیزوں: پہاڑوں، سمندروں، درّوں، جنگلوں، چشموں، دریاؤں، معاون اور اس کے گرانبہا منابع کے ساتھ، کہ ان میں سے ہر ایک اکیلا بھی حق تعالےٰ کی آیت میں سے ایک آیت اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اور اس سے برتر و بالاتر اس زمین کا خالق اور وہ ذات ہے کہ جس نے اُسے بچھایا ہے۔ "طعاھا"، "طحو" (بروزن سھو) کے مادّہ سے بچھانے اور پھیلانے کے معنی میں بھی آیا ہے اور دھکیلنے، اور دُور کرنے اور ختم کرنے کے معنی میں بھی، اور یہاں بچھانے کے معنی میں ہے، کیونکہ اولاً زمین ابتدا میں پانی کے نیچے غرق تھی۔ بتدریج آہستہ آہستہ پانی زمین کے گڑھوں میں قرار پایا اور خشکیوں نے سر نکال لیا اور زمین پھیلتی چلی گئی اور اس کی "دحوالارض" سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ ثانیاً زمین ابتدأ میں پستیوں اور بلندیوں اور ناقابلِ سکونت گڑھوں کی صُورت میں تھی جس پر مسلسل موسلادھار بارشیں برسیں جنہوں نے زمین کی بلندیوں کو دھو دیا اور گھاٹیوں میں پھیلا دیا۔ آہستہ آہستہ انسانی زندگی اور زراعت کے لئے قابلِ استفادہ ہموار زمینیں وجود میں آ گئیں۔ بعض مفسّرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس تعبیر میں زمین کی حرکت کی طرف ایک اجمالی اشارہ موجود ہے، کیونکہ "طعو" کے معانی میں سے ایک معنی دھکیلنا بھی ہے، جو سُورج کے گرد زمین کی انتقالی حرکت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، یا اس کی مخوری حرکت، یا دونوں قسم کی حرکت بھی ہو سکتی ہے۔ اور آخر میں "دسویں" اور "گیارہویں" قسم کے پیش کرتے ہوئے جو اس سلسلہ کی آخری قسم ہے، فرماتا ہے: "قسم ہے انسان کے نفس کی، اور اس ذات کی، جس نے اُسے مرتب و منظم کیا ہے" (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا)۔ وہی انسان جو عالمِ خلقت کا خلاصہ، جہانِ ملک و ملکوت کا نچوڑ اور عالمِ آفرینش کا گلِ سرسید ہے: یہ عجیب مخلوق جو عجائبات اور اسرار سے پُر ہے اس قدر اہم ہے کہ خدا نے خُود اس کی اور اس کے خالق کی ایک ہی جگہ قسم کھائی ہے۔ اِس بارے میں کہ یہاں "نفس" سے مُراد انسان کی رُوح ہے یا جسم و رُوح دونوں؟ مفسرین نے کئی احتمال دیئے ہیں۔ اگر مُراد رُوح ہو تو پھر "سوّاھا" سے مُراد (جو تسویہ کے مادّہ سے ہے) انسان کے روحی قویٰ اور استعدادوں کی، حواس ظاہری سے لے کر ادراک، حافظہ، انتقال، تخیل، ابتکار، عشق، ارادہ، تصمیم اور اسی قسم کے قوایٰ جو "علم النفس" کے مباحث میں بیان ہوئے ہیں، تنظیم و تعدیل ہے۔ اور اگر رُوح و جسم دونوں مُراد ہوں تو پھر بدن کے تمام حیرت انگیز نظاموں اور اس کے مختلف کارخانوں کو۔جن کے بارے میں علم "تشریح الاعضاء" اور "فزیالوجی" (افعال الاعضاء) میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ شامل ہو گا۔ البتہ قران مجید میں نفس کا دونوں معانی پر اطلاق ہوا ہے۔ رُوح کے بارے میں سُورہ زمر کی آیہ ۴۲ میں آیا ہے: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا، "خُدا موت کے وقت ارواح کو لے لیتا ہے۔" اور جسم کے بارے میں سورہ قصص کی آیہ ۳۳ میں آیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں: قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ: موسیٰ علیہ السلام نے کہا، میں نے ان (ظالم فرعونیوں) میں سے ایک کو قتل کر دیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ لیکن یہاں مناسب یہ ہے کہ دونوں کو شامل ہر، کیونکہ خدا کی قدرت کی حیرت انگیزیاں جسم میں بھی موجود ہیں اور رُوح میں بھی، اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہاں "نفس" نکرہ کی صُورت میں بیان ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بات نفسِ انسانی کی اہمیّت و عظمت کی طرف اشارہ ہو، ایسی عظمت جو تصوّر سے مافوق اور ابہام سے ملی ہوئی ہو، جو اس کے انجانے موجود کی صُورت میں تعارف کرائی ہے جیسا کہ موجودہ زمانہ کے ایک عظیم ترین عالم نے انسان کو اسی عنوان سے تعبیر کیا ہے، اور انسان کو موجود "ناشناختہ" نام رکھا ہے۔ بعد والی آیت میں اِنسان کی خلقت سے مربوط ایک اہم ترین مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "انسان کے قومی اور جسم و رُوح کی تنظیم کرنے کے بعد اُسے "فُجُورَ" و "تقویٰ" کا الہام کیا۔ (فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا)۔ ہاں! جب اس کی خقلت کی تکمیل ہو گئی اور اس کی "ہستی" وجود میں آ گئی تو خدا نے اُسے "یا یدھا و نبایدھا" (جو کام کرنے چاہئیں اور جو کام نہیں کرنے چاہئیں) کی تعلیم دی۔ اور اس طرح سے وہ ایک ایسا وجود بن گیا۔ جو خلقت کے لحاظ سے "سڑی ہوئی گیلی مٹی اور رُوحِ الٰہی" کا مجموعہ ہے، تعلیمات کے لحاظ سے "فجور و تقویٰ سے آگاہ ہے" اور نتیجہ کے لحاظ سے وہ ایک ایسا وجود ہے جو قوسِ صعودی میں فرشتوں سے برتر ہو سکتا ہے، فرشتوں سے بھی آگے پرواز کر سکتا ہے، اور جو بات وہم میں بھی نہ آئے وہ بن سکتا ہے، جبکہ قوسِ نزولی میں درندہ جانوروں سے بھی پست تر ہو جائے اور "بل ھم اضل" کے مرحلہ جا پہنچے، اور یہ چیز اس بات پر موقوف ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ "الھمھا"، "الھام" کے مادّہ سے اصل میں تو کسی چیز کے نگلنے یا پینے کے معنی میں ہے، اور اس کے بعد پروردگار کی طرف سے انسان کی رُوح میں کسی مطلب کے القاء سے اصل میں تو کسی چیز کے نگلنے یا پینے کے معنی میں ہے، اور اس کے بعد پروردگار کی طرف سے اِنسان کی رُوح میں کسی مطلب کے القاء کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ گویا انسان کی رُوح اس مطلب کو اس کے سارے وجود کے ساتھ پی لیتی ہے اور نگل جاتی ہے۔ اور کبھی وحی کے معنی میں بھی آیا ہے۔ لیکن بعض مفسّرین کا نظریہ یہ ہے کہ "الہام" اور "وحی" میں فرق یہ ہے کہ وہ شخص جسے الہام ہوتا ہے وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مطلب اُسے کہاں سے حاصل ہوا ہے، جب کہ وحی کے وقت وہ جانتا ہوتا ہے کہ یہ اُسے کہاں سے اور کس ذریعے سے پہنچتی ہے۔ "فجور"، "فجر" کے مادّہ سے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ وسیع شکاف کرنے کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ صبح کی سفیدی رات کے پردہ کو چاک کر دیتی ہے، لہذا اسے "فجر" کہا گیا ہے، اور چونکہ گناہوں کا ارتکاب بھی دیانت کے پردہ کو چاک کر دیتا ہے لہذا اس پر "فجور" کا اطلاق ہوا ہے۔ البتہ زیر بحث آیت میں "فجور" سے مُراد وہی اس کے اسباب، عوامل اور طریقے ہیں۔ اور "تقویٰ" سے مراد، جو "وقایہ" کے مادّہ سے نگہداری کے معنی میں ہے، یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو قباحتوں، بُرائیوں، آلودگیوں اور گناہوں سے محفوظ اور دُور رکھے۔ یہ بات بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ اس آیہ (فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) کے معنی یہ نہیں ہیں، کہ خدا نے فجور و تقویٰ کے عوامل انسان کی رُوح کے اندر ایجاد کر دیئے ہیں، اسیے عوامل جو اُسے فجور و آلودگی اور حیا کے پردوں کو چاک کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اور ایسے عوامل جو اُسے خیرات اور نیکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں، جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے اور آیت کو انسان کے وجود میں تضاد کے موجود ہونے کی دلیل سمجھا ہے۔ بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اس نے ان دو حقیقتوں کا اُسے الہام کیا اور تعلیم دی، یا زیادہ سادہ اور آسان زبان میں اُس کو راہ اور چاہ کی نشا دہی کر دی، جیسا کہ سُورہ بلد کی آیہ ۱۰ میں آیا ہے: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ: "ہم نے انسان کو خیر و شر کی ہدایت کر دی ہے۔ اور دُوسرے لفظوں میں خدا نے اسے تشخیص کی ایسی قدرت اور بیدار عقل و وجدان عطا کیا ہے کہ وہ "فجور" و "تقویٰ" کو "عقل" و "فطرت" کے طریق سے معلوم کر لیتا ہے۔ اسی لیے بعض مفسرین نے یہ کہ ہے۔ کہ یہ آیت حقیقت میں "حسن و قبح عقلی" کے مسئلہ کی طرف ایک اشارہ ہے کہ خدا نے ادراک کی توانائی انسانوں عطا کی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو بےشمار نعمتیں عطا کی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سے یہاں مسئلہ فجور و تقویٰ اور حُسن و قبح کے ادراک پر تکیہ کیا ہے کیونکہ یہ مسئلہ انسان کی زندگی کے مسائل میں سے زیادہ قسمت کو بنانے یا بگاڑنے والا مسئلہ۔ انجام کار ان تمام اہم اور پے در پے قسموں کے بعد ان کے نتیجہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے،: "ان چیزوں کی قسم ہے کہ "جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ نجات پائے گا۔" (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا)۔ "زَكَّاهَا"، "تزکیۃ" کے مادّہ سے اصل میں، جیسا کہ راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے، رشد و نمو کے معنی میں ہے اور زکات بھی اسل میں نشوونما اور رشد کے معنی میں ہے۔ اسی لئے ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے آیا ہے۔ "المال تنقصہ النفقۃ والعلم یزکو ا علی الانفاق" "مال تو خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے لیکن علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے اور نشوونما پاتا ہے۔" (بحوالہ: نہج البلاغہ، کلماتِ قصار کلمہ ۱۴۷)۔ اس کے بعد یہ لفظ طہارت اور پاک کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے، شاید اس مناسبت سے کہ آلودگیوں سے پاک کرنا رشد و نمو کا سبب ہوتا ہے، اور زیر بحث آیت میں دونوں معانی کا امکان ہے۔ ہاں! رست گاری اور نجات اس شخص کے لئے ہے جو اپنے نفس کی تربیّت اور نشوونما کرے اور اسے شیطانی اخلاق و عادات، گناہ و عصیان اور کُفر سے پاک رکّھے۔ حقیقت میں انسان کی زندگی کا اصلی مسئلہ بھی یہی "تزکیہ" ہی ہے کہ اگر یہ ہو تو وہ سعادت مند ہے ورنہ بدبخت و بےنوا ہے۔ اس کے بعد گروہِ مخالف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے،: نااُمید و بدبخت ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو معصیّت و گناہ سے آلودہ کیا۔" (وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا)۔ "خاب"، "خیبۃ" کے مادّہ ہے، مطلوب تک نہ پہنچنے، محروم ہونے، اور نقصان اُٹھانے کے معنی میں ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مفردات" راغب و "قاموس الغہ")۔ "دسّاھا"، "دس" کے مادّہ سے، اصل میں کسی چیز کو کراہت و ناپسندیدگی کے ساتھ داخل کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ قرآن مجید عرب جاہلوں کے اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کے بارے میں فرماتا ہے: أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أ: "اسے کراہت و نفرت سے مٹی میں پنہاں کر دیتا ہے۔" (نحل۔ ۵۹) اور "دسیسۃ" نقصان دہ مخفی کاموں کے لئے بولا جاتا ہے۔ زیر بحث آیت کے ساتھ اس معنی کی مناسبت کے بارے میں مفسّرین نے مختلف بیان دیئے ہیں۔ کبھی تو یہ کہا گیا کہ یہ تعبیر گناہ اور فسق سے کنایہ ہے، کیونکہ اہل تقویٰ و صلاح خود کو آشکار کرتے ہیں، جب کہ آلودہ اور گنہگار لوگ خُود کو چھپاتے ہیں، جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ عربوں میں جو لوگ زیادہ سخی ہوتے تھے وہ اپنے خیمے اُونچی جگہ پر نصب کرتے تھے اور رات کو آگ جلا دیا کرتے تھے تاکہ حاجت مند دن رات میں جب چاہیں ان کے پاس آ سکیں اور ان سے مانوس ہو سکیں، لیکن بخیل اور کنجوس لوگ نسیبی زمینوں میں خیمے لگاتے تھے تاکہ کوئی شخص ان کے پاس نہ آ سکے۔ اور کبھی یہ کہا ہے کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ گنہگار خُود کو صالح لوگوں میں پنہاں کر لیتے ہیں۔ یا اپنے نفس یا اپنی ہیئتِ انسانی کو معاصی و گناہ میں چھپا لیتے ہیں۔ یا معاصی و گناہ کو اپنے نفس کے اندر چھپا لیتے ہیں۔ بہرحال، یہ گناہ و معصیت اور شیطانی عادات سے آلودگی سے ایک کنایہ ہے ، اور یہ ٹھیک تزکیہ کا نقطہ مقابل ہے۔ اِس آیت کے وسیع مفہوم میں ان تمام معانی کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ اِس طرح سے دُنیاوی زندگی کے میدان میں کامیاب ہونے والے اور شکست کھانے والے مشخّص ہو جاتے ہیں اور ان دونوں گروہوں کی قدر و قیمت کا معیار "تزکیہ نفس اور رُوحِ تقویٰ و خداوندی نمود رشد" یا "انواع و اقسام کے معاصی اور گناہوں سے آلودگی" کے سوا اور کچھ نیہں ہے۔ اور اس سے وہ بات واضح ہو جاتی ہے، جو امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے، کہ آپ نے فرمایا: "قد افلح من اطاع و خاب من عصی": "جس نے اطاعت کی وہ نجات پا گیا اور جس نے نافرمانی کی وہ نااُمید اور محروم ہو گا۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۴۹٨)۔ یہ حقیقت میں نتیجہ کا بیان اور مقصود کا ماحصل ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے جس وقت آیہ " قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا" کی تلاوت کی تو توقف فرمایا اور اس طرح دُعا کی: "اللھم ات نفسی تقواھا، انت ولیھا و مولاھا، وزکھا انت خیر من زکاھا۔" "خداوندا! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما، تو اس کا ولی و مولا ہے، اور اس کا تزکیہ فرما، کیونکہ تو بہترین تزکیہ کرنے والا ہے۔" (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۴۹٨)۔ یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس پر پیچ و خم راہ کو عبور کرنا اور اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنا پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم تک کے لئے بھی توفیقِ الہٰی کے بغیر ممکن نہیں ہے، یعنی بندوں کی طرف سے قدم اُٹھانے اور خُدا کی طرف سے تائیدات کے ذریعے۔ لہذا ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اِن دو آیات کی تفسیر میں فرمایا: "افلحت نفس زکاھا اللہ، وخابت نفس خیبھا اللہ من کل خیر!" "جس نفس کا خدا نے تزکیہ کیا وہ نجات پا گیا، اور جس نفس کو خدا نے خیر سے محروم کر دیا وُہ نااُمید و محروم ہو گیا۔" (بحوالہ: درالمنثور، جلد ۶، ص ۳۵۷)۔

چند نکات ۱۔ قرآنی قسموں کا ان کے نتائج کے ساتھ ربط

اِن گیارہ انتہائی قسموں کا، اس حقیقت کے ساتھ جس کے لئے قسم کھائی ہے، کیا رابطہ ہے؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ میں نے تم انسانوں کی سعادت و خوش بختی کے لئے تمام مادی و معنوی و سائل فراہم کئے ہیں۔ ایک طرف تو سُورج اور چاند کے نور اور روشنی سے تمہاری زندگی کے میدان کو روشن کر دیا ہے اور تمہاری رات دن کے حرکت و سکون کے نظام کو منظم کر کے زمین کو تمہاری زندگی کے لئے ہر جہت سے آمادہ کیا ہے۔ دوسری طرف تمہاری رُوح کو تمام صلاحیتوں کے ساتھ خلق کیا ہے۔ یبیدار و وجدان تمہیں عطا کیا ہے، اور اشیاء کے حُسن و قبح کا تمہیں الہام کیا ہے۔ اس بناء پر سعادت کی راہ کو طے کرنے کے لئے تمہارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اس حال میں تم اپنے نفس کا تزکیہ کیوں نہیں کرتے؟ اور شیطان کے بہکانے میں کیوں آتے ہو؟

۲۔ سورج کا عالمِ حیات میں نقش و اثر

سٗورج کے بارے میں، جو نظام شمسی کا مرکز ہے اور اس کے کواکب کا رہبر و سالار ہے، دو مباحث ہیں، ایک تو اس کے عظیم ہونے کی بحث کے بارے میں ہم پہلے بحث کر چکے ہیں، اور دُوسری بحث اس کی برکتوں اور آثار کے بارے میں ہے، جس کے لئے خلاصہ کے طور پر اس طرح کہا جا سکتا ہے۔ ۱۔ انسان اور دوسرے موجودات کی زندگی کے لئے پہلے مرحلے میں حرارت اور روشنی کی ضرورت ہے، زندگی کے یہ دونوں امور اس آتشیں کُرّہ کے ذریعے کامل طور پر اعتدال کے ساتھ مہیا ہوئے ہیں۔ ۲۔ تمام غذائی اشیاء سُورج کی روشنی کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ موجودات جو سمندروں کی گہرائیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ایسی نباتات سے استفادہ کرتے ہیں، جو سمندروں کی سطح پر نورِ آفتاب کے سائے میں اور پانی کی موجوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں نیچے بیٹھ جاتے ہیں، یا اگر زندہ موجودات ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں تو پھر ان میں سے ایک گروہ کی غذا نباتات ہی ہے، جو سُورج کی روشنی کے بغیر پرورش نہیں پاتی۔ ۳۔ وہ تمام رنگ، زیبائیاں اور جلوے، جنہیں ہم عالمِ طبیعات میں دیکھتے ہیں، ایک طرح سے سُورج کی چمک کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں اور یہ معنی مختلف علوم کے ذریعے خصوصاً فزکس میں ثابت ہو چکے ہیں۔ ۴۔ حیات بخش بارشیں بادلوں سے برستی ہیں، اور بادل وہی بخارات ہیں جو سمندروں کی سطح پر سورج کے چمکنے سے وجود میں آتے ہیں، اس بناء پر پانی کے تمام منابع جو بارش سے غذا حاصل کرتے ہیں، چاہے وہ دریا ہوں یا چشمے، نہریں ہوں یا کھال، یا گہرے کنویں، سب سُورج کی روشنی کی برکات سے ہیں۔ ۵۔ وہ ہوائیں جن کا کام فضا کو معتدل کرنا، بادلوں کو مختلف جگہوں تک پہنچانا، نباتات کی تلقیح اور پیوند لگانا، اور گرمی اور سردی کو گرم علاقوں سے سرد علاقوں کی طرف، اور سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔ آفتاب کے نور اور روشنی کے زیر اثر روئے زمین کے مختلف منطقوں کے درجہ حرارت کے بدلنے سے وجود میں آتی ہیں۔ اور اس طرح سے وُہ بھی سُورج سے سرمایہ حاصل کرتی ہیں۔ ۶۔ انرجی پیدا کرنے والے مادے اور منابع، چاہے وہ آبشار ہوں، یا وہ بڑے بڑے بند ہوں، جنہیں کوہستانی علاقوں میں بنایا جاتا ہے، پیٹرول اور تیل کے منابع، اور پتھر کوئلے کی کانیں، یہ سب کے سب ایک طرح سے سُورج کے ساتھ پیوند رکھتے ہیں، کہ اگر وہ نہ ہوتا تو ان منابع میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوتا اور صفحہٴ زمین میں تمام حرکتیں سکوت میں بدل جاتیں۔ ۷۔ نظامِ شمسی کی بقاء جاذبہ و واقعہ کے اعتدال کی بناء پر ہے، جو ایک طرف تو کُرّہ آفتاب کے درمیان اور دوسرے ان سیاروں کے درمیان، جو اس کے گردش کرتے ہیں، وجود رکھتا ہے۔ اس طرح سے سورج ان سیروں کے اپنے مداروں میں محفوظ رہنے میں بہت مؤثر نقش و اثر رکھتا ہے۔ اِس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے، کہ اگر خدا نے پہلی قسم کی ابتداء سورج سے کی ہے، تو اس کی کیا وجہ تھی؟ اسی طرح سے چاند اور دن کی روشنی، اور رات کی تاریکی کرّہٴ زمین میں سے ہر ایک انسان اور غیر انسان کی زندگی میں ایک اہم نقش و اثر رکھتے ہیں۔ اسی بناء پر ان کی قسم کھائی گئی ہے اور ان سب سے بڑھ انسان کی رُوح اور اس کا جسم ہے۔ جو ان سب سے زیادہ اسرار آمیز اور حیرت انگیز ہے۔ تہذیب نفس کے بارے میں ہم اس سُورہ کے آخر میں ایک بحث کریں گے۔

11
91:11
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِطَغۡوَىٰهَآ
قوم ثمود نے سرکشی کی وجہ سے (اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
91:12
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشۡقَىٰهَا
جب کہ ان کا ایک شقی ترین آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
91:13
فَقَالَ لَهُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقۡيَٰهَا
اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول (صالح) نے ان سے کہا: اللہ کے ناقے کو اس کے پانی پینے کے لئے چھوڑ دو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
91:14
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمۡ فَسَوَّىٰهَا
لیکن انہوں نے اس(رسول) کی تکذیب کی، اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں، اور اسے ہلاک کر دیا، لہٰذا ان کے اللہ نے انہیں اس گناہ کی وجہ سے تباہ کر دیا، اور ان کی زمین کو ہموار کر دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
91:15
وَلَا يَخَافُ عُقۡبَٰهَا
اور اللہ کو اس کام کے کرنے میں کوئی خوف نہیں ہے۔

تفسیر سرکشوں کا ہلاکت خیز انجام

Tafsīr Nemūna · Vol. 13

اس تنبیہ کے بعد، جو گزشتہ آیات میں ان لوگوں کے بارے میں آئی تھی، جو اپنے نفس کو آلودہ کرتے ہیں، ان آیات میں نمونہ کے طور پر اس مطلب کی ایک واضح تاریخی مثال کو پیش کیا ہے اور سرکش قوم (ثمود) کی سرنوشت کو قاطع اور پُرمعنی عبارتوں کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "قومِ ثمود نے سرکشی کی وجہ سے (اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی۔" (كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا)۔ "طغویٰ" اور "طغیانی" دونوں ایک ہی معنی میں ہیں، اور وہ حد اور سرحد سے تجاوز کرنا ہے اور یہاں حدودِ الٰہی سے تجاوز کرنا اور اس کے فرامین کے مقابلہ میں سرکشی مراد ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض علماء لغت کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ "طغیان" ناقص وادی کی صورت میں بھی آیا ہے اور ناقص پانی کی صورت میں بھی۔ "طغوی" ناقص وادی کے مادہ سے لیا گیا ہے، اور "طغیان" ناقص پانی سے (غور کیجیے))۔ قومِ ثمود، جن کے پیغمبر کا نام "صالح" تھا قدیم ترین اقوام میں سے ہے، جو "حجاز" اور "شام" کے درمیان ایک کوہستانی علاقے میں رہتی تھی۔ ان کی زندگی مرفہ الحال تھی، زمینیں آباد، ہموار میدان اور زراعت کے لئے عمدہ مٹی، شان و شوکت والے محلات، اور مضبوط و مستحکم گھر رکھتے تھے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ ان سب نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے تھے، بلکہ سرکشی کرتے ہوئے اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام کی تکذیب کے لئے کھڑے ہو گئے، آیاتِ الٰہی کا مذاق اُڑایا اور آخرکار خدا نے انہیں ایک آسمانی بجلی کے ذریعے نابود کر دیا۔ اس کے بعد اس قوم کی ایک ظاہری سرکشی کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے: "جبکہ ان کا ایک شقی ترین آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔" (إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا)۔ "اشقیٰ" اس قوم کے شقی ترین اور سنگ دل ترین آدمی کے معنی میں ہے جو اس شخص کی طرف اشارہ ہے جس نے ناقہٴ صالح علیہ السلام کو ہلاک کیا تھا، وہی اونٹنی (ناقہ) جو ایک معجزہ کے طور پر اس قوم کے درمیان ظاہر ہوئی تھی اور اس کو ہلاک کرنا اس پیغمبرِ الٰہی کے ساتھ اعلان جنگ تھا۔ مفسرین اور مؤرخین کے قول کے مطابق اس شخص کا نام "قدار بن سالف" تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "من اشقی الاولین؟" "پہلی قوموں میں سب سے زیادہ شقی اور سنگ دل کون تھا؟" علی علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا: "عاقر الناقة" "وہ جس نے ناقہ ثمود کی کونچیں کاٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔" پیغمبرؐ نے فرمایا: "صدقت، فمن اشقی الاٰخرین؟" "تم نے سچ کہا، تو آخری اقوام کا شقی ترین آدمی کون ہے؟" علی علیہ السلام کہتے ہیں: میں نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مجھے معلوم نہیں ہے، تو پغیمبرؐ نے فرمایا: "الذی یضربک علی ھذہ، واشار الی یافوخہ" "وہ شخص جو تمہارے سر کے اس مقام پر تلوار کی ضرب لگائے گا" اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے آپ کی اپنی پیشانی کے اُوپر والے حصّہ کی طرف اشارہ کیا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۹۹۔ یہی معنی کچھ مختصر صُورت میں تفسیر قرطبی میں بھی آیا ہے۔ جلد ۶، ص ۷۱۶۸)۔ (تشریحی نوٹ: "یافوخ" سر کے اس اگلے حصّہ کو کہا جاتا ہے، جو بچوں میں بالکل نرم ہوتا ہے، اور آہستہ آہستہ ہڈی کی صُورت اختیار کرتا ہے اور مضبُوط ہوتا ہے، اور وہ سر کا حساس ترین مقام ہے)۔ بعد والی آیت میں قوم ثمود کی سرکشی کے بارے میں مزید تشریح پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اللہ کے رسول (حضرت صالحؑ) نے ان سے کہا: خدا کے ناقہ کو اس کا پانی پینے کے لئے آزاد چھوڑ دو اور اس کی مزاحمت نہ کرو۔" (فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا)۔ (تشریحی نوٹ: "ناقة اللہ" منصوب ہے، ایک فعل محذوف سے اور تقدیر میں اس طرح ہے، "ذروا ناقة اللہ و سقیاھا۔" اس کے مشابہ کو سورہ اعراف، آیہ ۷۳ اور سورہ ہود، آیہ ۶۴ میں بھی پایا جاتا ہے)۔ یہاں "رسول اللہ" سے مُراد قومِ ثمود کے پیغمبر، حضرت صالح علیہ السلام ہیں، اور ناقہ اللہ (وہ اونٹنی جو خدا کی طرف منسُوب ہے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اُونٹنی کوئی معمولی اُونٹنی نہیں تھی بلکہ صالح علیہ السلام کی صداقت کی ایک گویا و ناطق سند اور معجزہ کے عنوان سے بھیجی گئی تھی۔ مشہور روایت کے مطابق اس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ مذکورہ اونٹنی پہاڑ کے ایک پتھر کے اندر سے نکلی تھی تاکہ وہ ہٹ دھرم منکرین کے لئے ایک گویا و ناطق معجزہ ہو۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں یہ خبر دی تھی کہ بستی کے پینے کا پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہو۔ ایک دن ناقہ کے لئے ہو گا اور ایک دن بستی والوں کے لئے ہو گا، اور ان میں سے ہر ایک اپنی باری پر پانی سے فائدہ اٹھائے گا اور ایک دوسرے کے لئے مزاحم نہیں ہو گا: "وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ" (قمر۔۲۸) اور انہیں خصوصیت کے ساتھ بتلا دیا گیا: "اگر تم نے اس ناقہ کو ہاتھ لگایا تو عذابِ الٰہی تمہارے دامن گیر ہو جائے گا": "وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ" (شعراء: ۱۵۶) اور بعد والی آیت میں فرماتا ہے: "اس سرکش قوم نے اس عظیم پیغمبر کے کلمات اور اس کی تنبیہات کی کوئی پرواہ نہ کی، اس کی تکذیب کی اور ناقہ کو ہلاک کر دیا" (فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا)۔ "عقروھا"، "عقر" کے مادّہ سے (جو ظلم کے وزن پر ہے) کسی چیز کی اصل اور جڑ بُنیاد کے معنی میں ہے، اور عقر ناقہ کا معنی اس کی جڑ کاٹنے اور ہلاک کرنے کے معنی میں ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد اس کی کونچیں یعنی اس جانور کے پاؤں کے نچلے حصے کو کاٹنا اور اُسے زمین پر پھینکنا ہے کہ اس کا نتیجہ بھی اس حیوان کی موت ہی ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جس شخص نے ناقہ کو ہلاک کیا تھا وہ ایک ہی تھا جسے قرآن نے "اشقی" سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن اُوپر والی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس عمل کی قومِ ثمود کے تمام سرکشوں اور طغیان گروں کی طرف نسبت دی گئی ہے، اور "عقروھا" جمع کے صیغہ کی صُورت میں آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس اس طرح سے اس کام میں حصّہ دار تھے، کیونکہ اولاً اس قسم کی سازشیں عموماً گروہ اور جمعیّت کے توسّط سے پیش آتی ہیں۔ اس کے بعد معیّن آدمی یا چند افراد کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ ثانیاً چونکہ دُوسروں کی رضا اور خوشنودی سے انجام پاتی ہے تو وہ ان کی اس کام میں شرکت کا بن جاتا ہے، یعنی رضا مندی نتیجتہ میں شرکت کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فصیح و بلیغ کلام میں آیا ہے: "انما عقر ناقہ ثمود رجل واحد فعمھم اللہ بالعذاب، لما عموہ بالرضی، فقال سبحانہ: فعقروھا فاصبحوا نادمین" "ناقہ ثمود کو صرف ایک ہی شخص نے ہلاک کیا تھا، لیکن خدا نے عذاب میں سب کو شامل کیا ہے کیونکہ وہ سب اس امر پر راضی تھے۔ اسی لیے فرماتا ہے: "ان (سب نے) ناقہ کو ہلاک کیا، اور اس کے بعد وہ سب سے سب اپنے کیے پر نادم ہوئے۔" (لیکن اس وقت جب پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں تھا)۔ (بحوالہ: نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۱)۔ اِس تکذیب اور شدید مخالفت کے بعد خدا نے انہیں ایسی سزا دی کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، جیسا کہ اسی آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے: "ان کے پروردگار نے ان کے اس گناہ کی بناء پر جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے سب کو نابود کر دیا، اور ان کی سرزمین کو صاف اور ہموار بنا دیا۔" (فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا)۔ صاعقہ یعنی اس عظیم آسمانی چیخ نے چند ہی لمحوں کے اندر اندر ان کی سرزمین کو ہلاک کر دیا اور ایسا زلزلہ پیدا کیا کہ ان کے سارے مکانات زمین بوس ہو گئے، اور ان کے گھروں کو ان کی قبروں میں بدل کر رکھ دیا۔ "دمدم"، "دمدمة" کے مادّہ سے، کبھی تو ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے، اور کبھی عذاب اور مکمل سزا کے معنی میں، بعض اوقات کوٹنے اور نرم کرنے کے معنی میں آیا ہے، اور کبھی جڑ سے اُکھاڑنے کے معنی میں، اور کبھی غضبناک ہونے کے معنی میں یا احاطہ کرنے اور گھیر لینے کے معنی میں، (تشریحی نوٹ: مفرداتِ راغب، لسان العرب، مجمع البیان اور دیگر تفسیری کتب)۔ اور زیر بحث آیت میں یہ سب معانی صادق آتے ہیں، کیونکہ اس وسیع عذاب کا سرچشمہ غضب الٰہی ہے، اور ان سب کی اس نے سرکوبی کی، انہیں کمزور کیا اور جڑ سے اُکھاڑ پھینکا۔ "فسواھا"، "تسویہ" کے مادّہ سے، ممکن ہے کہ صیحہ عظیم اور صاعقہ و زلزلہ کی وجہ سے ان کے گھروں کا صفایا کرنے اور ان کی زمینوں کو صاف کرنے کے معنی میں ہو، یا اس گروہ کو ایک طرف ٹھکانے لگانے کے معنی میں ہو، یا ان سب کی سزا و عذاب میں مساوات کے لئے ہو اس طرح کہ اِن میں سے کوئی بھی اس ماجرے سے صحیح و سالم نہ بچا۔ اِن معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ "سوّاھا" میں ضمیر "قبیلہ" ثمود کی طرف لوٹی ہے، یا ان کے شہروں اور آبادیوں کی طرف، جنہیں خدا نے مٹی میں ملا کر یکساں کر دیا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ "دمدم" کی طرف لوٹتی ہے جو بعد والے جُملہ سے معلوم ہوتی ہے، یعنی خدا نے اس خشم و غضب و ہلاکت کو ان کے درمیان یکساں قرار دیا، اس طرح سے کہ تمام کو اس نے گھیر لیا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ ضمنی طور پر اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سزا اور عذاب ان کے گناہ کا نتیجہ، اور اس کے ساتھ مناسبت رکھتا تھا اور یہ عین عدالت و حکمت ہے۔ بہت سی اقوام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ آثارِ عذاب کے ظہور کے وقت پشیمان ہو گئیں، اور توبہ کی راہ اختیار کر لی، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جس وقت صالح علیہ السلام کی قوم نے عذاب کی نشانیاں دیکھیں تو وہ صالح علیہ السلام کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ جہاں کہیں بھی وہ مل جائیں، انہیں ہلاک کر دیں۔ (بحوالہ: رُوح البیان، جلد ۱۰، ص ۴۴۶)۔ اور یہ خدا اور پیغمبر کے مقابلہ میں ان کے عصیان و سرکشی کے شدید ہونے کی دلیل ہے۔ لیکن خدا نے صالح علیہ السلام کو نجات دی اور اس قوم کو ہلاک کر دیا، اور ان کی زندگی کے دفتر کو کلی طور پر لپیٹ دیا۔ انجام کار، آخری آیت میں ان تمام لوگوں کو جو اسی راستے پر چلتے ہیں، سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اور خدا کو اس کام کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔" (وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا)۔ بہت سے حاکم ایسے حاکم ہیں جو سزا دینے پر قدرت رکھتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ اس کے نتیجے اور انجام سے ڈرتے رہتے ہیں، ان کے ردّعمل اور عکس العمل سے خوف زدہ رہتے ہیں اور اسی بناء پر اپنی قدرت سے فائدہ نہیں اُٹھاتے، اور زیادہ صحیح تعبیر میں ان کی قدرت ضعف و ناتوانی کے ساتھ اور ان کا علم جہالت کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ان میں اس کے بُرے نتائج کے مقابلہ کی طاقت نہ ہو۔ لیکن خداوندِ قادرِ و متعال جس کا علم ان تمام امور اور ان کے عواقب و آثار پر مکمل احاطہ رکھتا ہے، اور جس کی قدرت میں حوادث کے بُرے نتائج کے مقابلہ میں ضعف و ناتوانی کی آمیزش نہیں ہوتی۔ اسی بناء پر انتہائی قدرت اور قاطعیت کے ساتھ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اُسے انجام دے دیتا ہے۔ سرکشوں کو بھی اپنے کیے کی سزا بُھگتنی پڑے گی، لہٰذا انہیں اپنے اعمال کی وجہ سے خدا کے خشم و غضب کا مشمول ہونے سے خُود کو بچانا چاہیے۔ "عقبٰی" اختتام، انتہا اور انجامِ کار کے معنی میں ہے اور "عقباھا" کی ضمیر "دمدمہ" اور ہلاکت کی طرف لَوٹتی ہے۔

چند نکات ۱۔ قوم ثمود کی سرگزشت کا خلاصہ

قوم "ثمود" جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، مدینہ اور شام کی درمیانی سرزمین میں (جس کا نام وادی القریٰ ہے) زندگی بسر کرتی تھی۔ ان کا دین و مذہب بُت پرستی تھا اور وہ انواع و اقسام کے گناہوں میں ملوث تھے۔ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام ان میں مبعوث ہوئے اور ان کی ہدایت اور نجات کے لئے کمرِ ہمّت باندھی، لیکن نہ تو یہ لوگ بُت پرستی سے دست بردار ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سرکشی اور گناہ کے بارے میں اپنا نظریہ بدلا۔ جب اُنہوں نے معجزہ کا تقاضا کیا تو خدا نے ایک ناقہ (اُونٹنی) اعجاز آمیز اور خارق العادۃ طریقے سے پہاڑ کے اندر سے نکالی، لیکن اس بناء پر کہ اس بارے میں ان کی آزمائش کرے یہ حکم دیا کہ اس بستی کا ایک دن کا سارا پانی اس اُونٹنی کے لئے رہے گا اور دوسرے دن کا پانی وُہ خُود استعمال کریں گے، یہاں تک کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جس دن وہ پانی سے محروم ہوتے تھے تو اس اُونٹنی کے دُودھ سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔ لیکن یہ عظیم معجزہ بھی ان کی ہٹ دھرمی اور فسق و فجور میں کمی نہ کر سکا۔ لہٰذا انہوں نے ناقہ کو نابُود کرنے کا منصُوبہ بنایا اور حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا بھی، کیونکہ وہ انہیں اپنی خواہشات اور ہوا و ہوس کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ناقہ کی نابودی کا منصُوبہ ایک انتہائی بےرحم اور شقی آدمی، "قدار بن سالف"، کے ذریعے عمل میں آیا، جس نے کئی ضربوں کے ساتھ ناقہ کو زمین پر ڈھیر کر دیا۔ یہ بات حقیقت میں خدا کے ساتھ اعلانِ جنگ تھا، کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ناقہ کو ختم کر دینے سے، جو صالح علیہ السلام کا معجزہ تھی، نورِ ہدایت کو خاموش کر دیں گے۔ اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے اُنہیں آگاہ کیا کہ وہ تین دن تک اپنے گھروں میں جس نعمت سے لذّت حاصل کرنا چاہیں کر لیں، لیکن وہ اچھی طرح جان لیں کہ تین دن کے بعد عذابِ الٰہی سب کو گھیر لے گا۔ (سورہ ہود، آیت ۶۵)۔ یہ تین دن آخری غور و فکر کے لئے مہلت تھی، اور توبہ و بازگشت کے لئے ایک آخری فرصت۔ لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کہ تجدیدِ نظر نہیں کی، بلکہ ان کے ظغیان و سرکشی میں اضافہ ہو گیا۔ اس موقع پر عذابِ الٰہی ان پر نازل ہوا اور "صیحہ آسمانی" (تشریحی نوٹ: صیحہ آسمانی جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے "صاعقہ" کے معینی میں ہے جو ایک عظیم آواز بھی رکھتی ہے اور سخت قسم کا زلزلہ بھی پیدا کرتی ہے، اور آگ اور جلانے کے ساتھ توام ہوتی ہے اور علمی نظریہ کے مطابق ایک عظیم برقی شعلہ ہے، جو بادلوں کے درمیان جو مثبت برقی ہار کے حاصل ہوتے ہیں اور زمین جو منفی بار رکھتی ہے، وجود میں آتا ہے)۔ نے ان کی سرزمین کو درہم و برہم کر کے رکھ دیا اور وہ سب کے سب اپنے گھروں میں زمین پر اوندے گر پڑے اور مر گئے"، " وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ " (ھود۔۶۷)۔ وہ ایسے نابُود ہوئے، اور ان کی سرزمین اس طرح خاموش ہوئی کہ گویا ہرگز ان گھروں میں کوئی رہتا ہی نہیں تھا۔ لیکن خدا نے صالحؑ اور ان کے مومن اصحاب کو اس مہلک سے نجات بخشی۔" (ھود۔ ۶۶)۔ قوم ثمود کی سرگزشت کی مزید تفصیل کے بارے میں "تفسیرِ نمونہ" جلد ۵، صفحہ ۳۱۲ سے آگے مطالعہ کریں۔

۲۔ "اشقی الاولین" و "اشقی الاٰخرین"

شیعہ و سُنی بزرگ علماء کی ایک جماعت منجملہ ثعلبی، واحدی، ابن مردویہ، خطیب بغدادی، طبری موصلی اور احمد حنبلؒ وغیرہ نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عمار یاسرؓ، جابر بن سمرہؓ اور عثمان بن صہیبؓ کی وساطت سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس طرح نقل کیا ہے کہ آپؐ نے علی علیہ السلام سے فرمایا: یَا عَلِی! أَشْقَی الْأَوَّلِینَ عَاقِرُ النَّاقَةِ، وَأَشْقَی الْآخِرِینَ قَاتِلُکَ، و فی روایۃ من یخضب ھذہ من ھذا: "اے علی! پہلے لوگوں میں سے بدبخت ترین شخص وہ تھا جس نے ناقحۂ صالح کو قتل کیا، اور پچھلے لوگوں میں سے زیادہ بدبخت ترین آدمی تیرا قاتل ہے اور ایک روایت میں آیا ہے کہ جو اس کو اسے رنگین کرے گا، (جو اس طرف اشارہ ہے کہ تیری داڑھی کو تیرے سر کے خون سے خضاب کرے گا)۔ (بحوالہ: "تفسیر نور الثقلین" جلد ۵، ص۵۸۷)۔ قدار بن سالف اور ابن ملجم کی مشابہت حقیقت میں ناقحۂ صالحؑ کی کونچیں کاٹنے والے "قدار بن یوسف" اور امیر المؤمنین کے قاتل "عبدالرحمن بن ملجم مرادی" کے درمیان ایک شباہت موجود تھی۔ بلکہ دونوں ہی یہ چاہتے تھے کہ نورِ حق کو خاموش کر دیں۔ اور جس طرھ ناقہ صالحؑ کے ماجرے کے بعد اس طاغی اور سرکش قوم کو عذابِ الٰہی نے گھیر لیا تھا، مسلمان بھی امیر المؤمنین علیؑ کی مظلومانہ شہادت کے جابر اور بیداد گر بنی اُمیہ کی حکومت کی زیر تسلط درد ناک ترین عذابوں کے شاہد ہوئے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "حاکم جسکانی" نے "شواہد التنزیل" میں اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں، جو مضمون و مطالب کے لحاظ سے اُوپر والی بالا روایت کے مشابہ ہیں۔ (بحوالہ: "شواہد التنزیل"، جلد ۲، ص۳۳۴ تا ۲۴۲)۔

۳۔ تہذیب نفس ایک عظیم خدائی وظیفہ ہے

جس قدر قرآنی قسمیں کسی چیز کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ محکم ہوں وہ اس موضوع کی اہمیّت کی دلیل ہوتی ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ زیادہ طولانی اور زیادہ تاکیدی قسمیں اسی سُورہ میں ہیں، خصوصاً خدا کی ذاتِ پاک کی قسم کا اس میں تین مرتبہ تکرار ہوا ہے۔ اور انجام کار اس مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے کہ فلاح و رستگاری تزکیۂ نفس میں ہے۔ اور محرومیت اور شکست و بدبختی تزکیہ کو ترک کر دینے میں ہے۔ حقیقت میں انسانی زندگی کا اہم ترین مسئلہ بھی یہی مسئلہ ہے۔ اور حقیقتاً قرآن نے اُوپر والے معنی کے ساتھ مفہوم کو واضح کر دیا ہے کہ انسان کی نجات و رستگاری تصورات اور خیالوں کی مرہونِ منت نہیں ہے، نہ ہی مال و ثروت اور مقام و منصب کے سایہ میں اور نہ ہی دوسرے اشخاص کے اعمال کے ساتھ وابستہ ہے۔ (جیسا کہ عیسائی خیال کرتے ہیں کہ ہر شخص کی نجات عیسیٰ مسیح کی فداکاری کی مرہون منت ہے) اور نہ ہی اس قسم کی دُوسری باتوں میں۔ بلکہ نجاتِ انسانی ایمان و عمل صالح کے سائہ میں رُوح و جان کی پاکیزگی اور بلندی کی مرہونِ منت ہے۔ اِنسان کی بدبختی اور شکست نہ تو اجباری قضا و قدر میں ہے، نہ ہی الزامی سرنوشتوں میں، اور نہ ہی دوسروں کے کیے ہوئے کاموں میں۔ بلکہ وہ صرف اور صرف گناہ کی آلودگی سے بچے رہنے میں ہے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنے میں ہے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا) نے، جب یوسفؑ خزانوں کے مالک اور سرزمینِ مصر کے حاکم بن گئے، ان سے ملاقات کی اور کہا: إِنَّ الْحِرْصَ وَالشَّهْوَةَ تُصَيِّرُ الْمُلُوكَ عَبِيدًا، وَإِنَّ الصَّبْرَ وَالتَّقْوَى یصَيِّرُ الْعَبْیدَ مُلُوكًا، فقال یوسف قال اللہ تعالیٰ: "إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ۔" "حرص و شہوت بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہے اور صبر و تقویٰ غلاموں کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔ یوسفؑ نے اس کی بات کی تصدیق کی، اور یہ کلام اُسے یاد دلایا: "جو شخص تقویٰ اور صبر و شکیبائی اختیار کرے گا تو خدا نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا-" (بحوالہ: "محجة البیضاء"، جلد ۵، صفحہ ۱۱۶)۔ یہی مطلب ایک دوسری عبارت میں نقل ہوا ہے کہ عزیزِ مصر کی بیوی ایک راہ گزر میں بیٹھی ہوئی تھی، کہ یوسفؑ کی سواری وہاں سے گزری، تو زلیخا نے کہا: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْمُلُوكَ بِمَعْصِيَتِهِمْ عَبِيدًا، وَجَعَلَ الْعَبِيدَ بِطَاعَتِهِمْ مُلُوكًا" "سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے بادشاہوں کو معصیت اور نافرمانی کی بناء پر غلام بنا دیا، اور غلاموں کو اطاعت و فرمانبرداری کی وجہ سے بادشاہ۔" (بحوالہ: "محجة البیضاء"، جلد ۵، صفحہ ۱۱۷)۔ ہاں! نفس کی بندگی انسان کی غلامی کا سبب ہے، اور تقویٰ و تہذیبِ نفس عالم ہستی پر حکومت کرنے کا سبب ہے۔ ایسے افراد کتنے زیادہ ہیں جو خدا کی بندگی اور اطاعت کی وجہ سے ایسے بلند مقام تک پہنچے ہیں کہ ولایتِ تکوینی کے مالک بن گئے، خدا کے اذن سے اس عالم کے حوادث میں اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کرامات و خوارقِ عادات پر دسترس رکھ سکتے ہیں۔ خداوندا! ہوائے نفس کے ساتھ مبارزہ کرنے میں تو ہماری مدد اور نصرت فرما۔ پروردگارا! تُو نے ہمیں "فجور" و "تقویٰ" کا الہام کیا ہے۔ ہمیں اس الہام سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرما۔ بارِ الٰہا! شیطان کے مکر و فریب انسان کے نفس میں مخفی و پوشیدہ ہیں، ہمیں ان مکروں کی شناخت سے آشنا کر دے! آمین یا رب العالمین

end of chapter
Ash-Shams (91) — Tafseer e Namoona