Al-Haqqah
سوره حاقه
سورہ مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٥٢ آیات ہیں۔
سورۂ حاقہ کے مضامین
اِس سُورہ کے مباحث تین محوروں پر گردش کرتے ہیں: پہلا محور: جو اس سورہ کی بحث کا اہم ترین موضوع ہے وہ قیامت سے مربُوط مسائل اور اس کی بہت سی خصوصیات ہیں۔ اِسی لیے قیامت کے تین نام "حاقہ"، "قارعة" اور "واقعہ" اس سورہ میں آئے ہیں۔ دُوسرا محور: وہ مباحث ہیں جو گزشتہ کافر اقوام خصوصاً قوم عاد، ثمود اور قومِ فرعون کی سرنوشت کے بارے میں ہیں۔ جو تمام کفّار اور منکرینِ قیامت کے لیے قوی اور مُؤکّد انداروں پر مشتمل ہیں۔ تیسرا محور: وہ مباحث ہیں جو قرآن کی عظمت، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مقام نیز تکذیب کرنے والوں کی سزا اور عذاب کے بارے میں ہیں۔
تلاوت کی فضیلت
ایک حدیث میں پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے آیا ہے: "من قرأ سورة الحاقة حاسبہ اللہ حساباً یسیراً۔" جو شخص سورة حاقہ کی تلاوت کرے گا خدا قیامت میں اس کے حساب کو آسان کر دے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٤٢)۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے: "اکثروا من و قرائة الحاقة، فان قرائتھا فی الفرائض و النوافل من الایمان باللہ و رسولہ ولم یسلب قارئھا دینہ حتی یلقی اللہ۔" سُورہ حاقہ کی بہت زیادہ تلاوت کیا کرو، کیونکہ فرائض و نوافل میں اس کی قرأت خدا اور اس کے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایمان کی نشانی ہے، اور جو شخص اسے پڑھے گا اور اس کا دین محفوظ رہے گا، یہاں تک کہ لقاء اللہ پر پہنچ جائے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٤٢)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سرکشی کرنے والی قوم کے لیے سرکش عذاب
Tafsīr Nemūna · Vol. 10یہ سورة مسئلہ قیامت سے اور وہ بھی ایک نئے عُنوان کے ساتھ شروع ہوتا، فرماتا ہے: "وہ تحقق پانے والا دن۔" (الْحَاقَّةُ)۔ "وہ تحقق پانے والا دن کیا ہے۔" (مَا الْحَاقَّةُ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جملہ کی ترکیب میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے۔ "الحاقة" مبتداء ہے اور ما استفہامیہ دوسرا مبتداء ہے۔ اس کے بعد والا "الحاقة" خبر ہے دوسرے مبتداء کی اور ان کا مجموعہ خبر ہے پہلے مبتداء کی)۔ "اور تجھے کیا معلوم کہ وہ تحقق پانے والا دن کیا ہے؟" (وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ)۔ تقریباً تمام مفسّرین نے حاقة کی قیامت کے دن کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسا دن ہے جو قطعی اور یقینی طور پر واقع ہو گا، جیسا کہ سورہ "واقعہ" میں "الواقعة" کی تعبیر ہے۔ یہی تعبیر اسی سورہ کی آیت ١٦ میں بھی آئی ہے اور یہ سب اس عظیم دن کے یقینی ہونے کی حکایت بیان کرتی ہیں۔ "مَا الْحَاقَّةُ"کی تعبیر، اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، ٹھیک اسی طرح جیسا کہ ہم روز مرّہ کی تعبیروں میں کہتے ہیں: فلاں شخص انسان ہے، کیا ہی انسان ہے؟ یعنی اس کی انسانیّت کی تعریف و توصیف کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ (یعنی بہت اچھا انسان ہے)۔ "مَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ" کی تعبیر دوبارہ اس عظیم دن کے حوادث کو عظمت پر مزید تاکید ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے خطاب ہوتا ہے کہ تو نہیں جانتا وہ دن کِس قسم کا ہے؟ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے حقائق کو درک کرنا ہم دنیاوی زنداں کے قیدیوں کے لیے امکان پذیر نہیں ہے، جیسا کہ دنیا سے مربُوط مسائل کا درک کرنا شکمِ مادر کے جنین کے لیے کسِی بھی بیان سے میّسر نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ "مَا أَدْرَاكَ" کا جملہ قرآن میں اس جگہ کہا گیا ہے جہاں مطلب معلوم اور مسلّم ہے۔ لیکن "وما یدریک" ان موارد میں آیا ہے جہاں مطلب نامعلوم ہے۔ (مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٤٣) بعض دوسرے مفسّرین مثلاً قرطبی نے بھی اسی معنی کو نقل کیا ہے)۔ ایک اور احتمال جو ان آیات کی تفسیر میں ہے، اگرچہ بہت کم مفسّرین نے اسے قبول کیا ہے، یہ ہے کہ "الحاقة" ان عذابوں کی طرف اشارہ ہے جو سرکش، طاغی، خود خواہ و خود پسند مجرموں کو اچانک اور ناگہانی طور پر اس دُنیا میں دامن گیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ بعد والی آیت میں "القارعة" بعض مفسّرین کے کلام میں اسی معنی میں استعمال ہُوا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہی تفسیر آئندہ والی آیات کے ساتھ جو قوم عاد، قوم ثمود، قومِ فرعون اور قومِ لُوط کی سرکوبی کرنے والے عذابوں کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں، زیادہ مناسب نظر آتی ہیں۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی آیا ہے۔ "الحاقة، الحذر بنزول العذاب" جیسا کہ (سورۂ مؤمن کی آیت ٤٥ میں) آلِ فرعون کے بارے میں فرماتا ہے: وحاق باٰلِ فرعون سوء العذاب۔ بُرا عذابِ آل فرعون پر نازل ہوا (اور اس نے انہیں گھیر لیا)۔ (بحوالہ: تفسیر علی بن ابرہیم، جلد ٢، صفحہ ٣٨٣۔(توجہ رکھیں کہ "حاقة" اور "حاق" کا مادہ ایک ہی ہے))۔ اِس کے بعد ان قوموں کی سرنوشت کو بیان کرتا ہے جنہوں نے قیامت کے دن (یا دنیا میں عذابِ الہٰی کے نزول) کا انکار کیا۔ لہٰذا مزید کہتا ہے: "قوم عاد و ثمود نے خدا کے سرکوبی کرنے والے عذاب کا انکار کیا۔" (كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ)۔ "پس قوم ثمود تو سرکش عذاب کے ذریعہ ہلاک ہُوئی۔" (فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُہْلِکُوا بِالطَّاغِیَةِ)۔ ثمود وہ قوم تھی جو حجاز و شام کے درمیان کوہستانی علاقہ میں آباد تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث ہوئے لیکن وہ ہرگز ایمان نہ لائے اور ان سے مبارزہ کے لیے تیار ہو گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر تو سچ کہتا ہے تو وہ عذاب جس کا تو ہمیں وعدہ دیتا ہے اسے نازل کر دے۔ اس وقت ایک تباہ کرنے والی بجلی ان پر مُسلّط ہو گئی جس نے چند لمحوں کی اندر ان کے مضبوط گھروں اور مستحکم محلوں میں لرزہ پیدا کر دیا۔ ان سب کو تہس نہیں کر دیا اور ان کے بےجان جسم زمیں پر پڑے رہ گئے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ قرآن اس نافرمان قوم کی نابودی کے عامل کو سرکش عذاب شمار کرتا ہے۔ "الطاغیة" اور یہ سرکش عذاب سورہ اعراف کی آیت ٧٨ میں "رجعفہ" (زلزلہ) کے عنوان سے ذکر ہوا۔ سورہ حٰم سجدہ کی آیت ١٣ میں "صاعقة" اور سورہ ہود کی آیت ٦٧ میں "صیحة" کے نام سے مذکورہ ہے۔ یہ سب الفاظ حقیقت میں ایک ہی معنی کی طرف لوٹے ہیں۔ کیونکہ صاعقہ (بجلی) ہمیشہ ایک مہیب آ واز کے ساتھ ہوتی ہے۔ (کڑ کتی ہے) جس جگہ آ کر گرتی ہے اس میں لرزہ پیدا کر دیتی ہے اور وہ سرکش عذاب بھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: قوم ثمود کی سرگذشت تفسیر نمونہ کی جلد ٤ میں تفصیل کے ساتھ آئی ہے۔ اس کے بعد قوم عاد کی سرنوشت بیان کرتا ہے وہ قوم جو سرزمینِ احقاف (جزیرہ نمائے عرب یا یمن) میں آباد تھے ان کے قد و قامت طویل، بدن قوی، شہر آباد، زمینیں سر سبز و شاداب اور ہرے بھرے باغات تھے۔ اِن کے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام تھے۔ ان لوگوں نے بھی اپنے طغیان و سرکشی کو اس حد تک پہنچا دیا تھا کہ خدا نے ایسے درد ناک عذاب کے ساتھ جس کی تشریح انہیں آیات میں آئی ہے، ان کی زندگی کے دفتر کو لپیٹ دیا۔ پہلے فرماتا ہے: "باقی رہی قوم عاد تو وہ ایک تیز سرکش، زناٹے دار، اونچی آواز والی سرد اور زہریلی آندھی کے ذریعہ ہلاک ہو گئی۔" (وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ)۔ "صرصر" (بر وزن دفتر) سرد یا زناٹے دار آواز والی یا زہریلی ہواؤں کو کہا جاتا ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہ تینوں معانی ذکر کیے ہیں، اور ان کے درمیان جمع بھی ممکن ہے۔ "عاتیة"، "عتو" (بر وزن غلو) کے مادہ سے سرکش کے معنی میں ہے۔ البتّہ فرمانِ خدا سے سرکش نہیں بلکہ معمولی اور سبک رفتار ہواؤں کے معیار سے سرکش۔ اِس کے بعد اس تیز سرکوبی کرنے والی آندھی کی ایک دوسری توصیف کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "خدا نے اس کو اس قوم پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ان کی بنیادیں اکھاڑنے کے لیے مسلّط کیے رکھا": (سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا)۔ "حسوماً"، "حسم" (بر وزن اسم) کے مادہ سے کسِی چیز کے آثار ختم کرنے کے معنی میں ہے۔ اگر تلوار کو حسّام (بر وزن غلام) کہا جاتا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ سخت آندھی نے سات راتوں اور آٹھ دنوں میں اس عظیم قوم کی وسیع اور بارونق زندگی کو یکسر تباہ و برباد کیا، اور ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پراگندہ کر دیا۔ (تشریحی نوٹ: توجّہ رہے کہ حسوماً، سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (سات راتیں اور آٹھ دن) کی صفت ہے اور بعض نے اسے ریح سے حال یا "مفعول لہ" سمجھا ہے)۔ نتیجہ وہ ہوا کہ قرآن کہتا ہے: اگر تو وہاں ہوتا تو مشاہدہ کر تاکہ وہ ساری کی ساری قوم منہ کے بَل گری پڑی ہے۔" (فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ)۔ کتنی عمدہ تشبیہ ہے، جو ان کے طویل قد و قامت کو بھی مشخص کرتی ہے، ان کے جڑ سے اکھڑ جانے کو بھی ظاہر کرتی ہے اور خُدا کے عذاب کے مقابلہ میں ان کے اندر سے خالی ہونے کو بھی بیان کرتی ہے، اِس طرح کہ وہ تیز آندھی جدھر چاہتی ہے انہیں آسانی کے ساتھ لے جاتی ہے۔ "خَاوِيَةٍ"، "خواء" (بر وزن ہواء) کے مادہ سے اصل میں خالی ہونے کے معنی میں ہے۔ یہ تعبیر بھوکے شکموں، (زمانۂ جاہلیت کے عربوں کے عقیدے کے مطابق) بارش سے خالی ستاروں اور بےمغز اخروٹ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ آخری آیت میں مزید کہتا ہے: "کیا تم ان میں سے کسی کو باقی دیکھتے ہو۔" (فَهَلْ تَرَى لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "باقیة" ایک مقد موصوف کی صفت ہے اور اصل میں "نفس باقیہ" ہے)۔ ہاں! آج نہ صرف قوم عاد کا کوئی نام و نشان باقی نہیں بلکہ ان کے آباد شہروں اور پُرشکوہ عمارتوں کے کھنڈرات اور ان کے سرسبز کھیتوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ قومِ عاد کی سرگذشت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ٥ (سورہ ہود کی آیت ٥٨ تا ٦٠ اور اسی طرح جلد ٢٠ میں بھی تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 12 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر سننے والے کان کہاں ہیں؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 10قومِ عاد و ثمود کی سرگذشت کے ایک گوشہ کو بیان کرنے کے بعد دوسرے اقوام جیسے قوم نوح اور قومِ لُوط کی طرف توجّہ کرتا ہے، تاکہ ان کی زِندگی سے بیدار دل افراد کو ایک اور درسِ عبرت دے، فرماتا ہے: فرعون اور وہ لوگ جو اس سے پہلے تھے اور تہ و بالا ہونے والے شہروں کے لوگ (قومِ لُوط) بہت بڑے گناہوں کے مُرتکب ہوئے۔" (وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ)۔ "خا طئة"، "خطا" کے معنی میں ہے (دونوں مصدری معنی رکھتے ہیں) اور یہاں خطا سے مُراد شرک و کفر، ظلم و فساد اور انواع و اقسام کے گناہ ہیں۔ "مؤتفکات"، "مؤتفکة" کی جمع ہے۔ "أ أتفاک" کے مادّہ سے اُلٹ پلٹ اور تہ و بالا ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں قومِ لُوط کے شہروں کی طرف اشارہ ہے جو ایک شدید زلزے کی وجہ سے تہ و بالا ہو گئے۔ "من قبلہ" سے مُراد وہ قومیں ہیں جو فرعون سے پہلے تھیں۔ مثلاً قومِ شعیب اور قومِ نمرود جیسے سرکش لوگ۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "وہ اپنے پروردگار کے بھیجے ہُوئے رسُول کی مخالفت کے لیے کھڑے ہو گئے اور خُدا نے انہیں شدید عذاب میں گرفتار کر لیا۔" (فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً)۔ فرعونی، موسٰی اور ہارون کی مُخالفت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ سدوم کے شہروں میں رہنے والوں نے لُوط علیہ السلام کی مخالفت کی اور دوسری اقوام نے بھی اپنے پیغمبروں کے فرمان سے روگردانی کی۔ ان سرکشوں میں سے ہر گروہ ایک خاص قسم کے عذاب میں گرفتار ہُوا۔ فرعونی نیل کی موجود میں، جو ان کی حیات و آبادی اور مُلک کی برکت کا سبب تھا، غرق ہو گئے، اور قومِ لُوط علیہ السلام کے لوگ شدید زلزلہ اور اس کے بعد پتھروں کی بارش سے تباہ و برباد اور نابُود ہو گئے۔ "رابیة" اور "ربا" ایک ہی مادّہ سے ہیں اور آزمائش اور اضافہ کے معنی میں ہیں، یہاں وہ عذاب مُراد ہے، جو بہت ہی سخت اور شدید تھا۔ قومِ فرعون کی داستان کی تفصِیل قرآن کی بہُت سی سورتوں میں آئی ہے۔ سب سے زیادہ تفصیل تفسیر نمونہ جلد ١٥ سُورہ شعراء کی آیت (١٠ تا ٦٨) میں، تفسیر نمونہ، جلد ٦ (سُورہ اعراف آیت ١٠٣ تا ١٣٧) میں اور تفسیر نمونہ جلد ٧ (سورہ طٰہ آیہ ٔ ٢٤ سے ٧٩) میں آئی ہے۔ قومِ لُوط علیہ السلام کی داستان بھی قرآن کی بہت سی سورتوں میں ہے، چنانچہ تفسیر نمونہ جلد ٦ (سورہ حجر آیت ٦١ تا ٧٧) اور تفسیر نمونہ جلد ٥، سورہ ہود آیت ٧٧ تا ٨٣) میں آیا ہے۔ آخر میں قومِ نوح کی سرنوشت اور ان کے درد ناک عذاب کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے: "ہم نے اس وقت جب پانی طغیانی آئی تو تمہیں کشتی میں سوار کر دیا۔" (إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ)۔ پانی کی طغیانی اِس طرح تھی کہ تیرہ و تاریک بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا تھا۔ اس کے ساتھ ایسی بارش ہُوئی کہ گویا آسمان کی طرف سے سیلاب گر رہا ہے اور زمین سے بھی چشمے اُبلنے لگے۔ پھر یہ دونوں طرف کے پانی ایک دُوسرے کے ساتھ مل گئے اور ہر چیز پانی میں ڈوب گئی، پس باغات، کھیتیاں اور سرکش قوم کے محلّات اور مکانات سب غرقاب ہو گئے۔ جن لوگوں سے نجات پائی ان میں صرف وہ مومنین تھے جو نوح علیہ السلام کے ہمراہ کشِتی میں سوار ہو گئے تھے۔ "حملناکم" (تمہیں کِشتی میں سوار کیا) کی تعبیر ہمارے اسلاف اور بڑوں سے کنایہ ہے، کیونکہ اگر انہوں نے نجات حاصل نہ کی ہوتی تو آج ہم موجود نہ ہوتے۔ (تشریحی نوٹ: اس طرح بعض نے یہ کہا ہے کہ آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں حملنا اٰبائکم تھا)۔ اس کے بعد ان سزاؤں کے ہدف اصلی کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "مقصد یہ تھا کہ اسے تمہاری یاد آوری اور تذکر کے لیے وسیلہ قرار دیں۔" (لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً)۔ "اور سننے والے کان اس کی حفاظت کریں۔" (وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ)۔ ہم ہرگز ان سے انتقام لینا نہیں چاہتے تھے، بلکہ ہدف انسانوں کو تربیت اور راہِ کمال میں ان ہدایت، راستہ دکھانا اور مطلوب تک پہنچانا تھا۔ "تعیھا"، "وعی" (بر وزنِ سعی) کے مادّہ سے ہے حس طرح راغب نے مفردات میں اور 'ابن منظور' نے "لسان العرب" میں کہا ہے۔ اصل میں کسِی چیز کو دل میں محفوظ رکھنے کے معنی میں ہے۔ اس کے بعد ہر برتن کو دُعا کیا گیا، کیونکہ وہ اپنے اندر کسِی چیز کو محفوظ رکھتا ہے۔ زیرِ بحث آیت میں یہ صفت کارں کے لئے بیان ہوئی ہے۔ وہ کان جو حقائق کو سنتے ہیں اور اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں بعض اوقات انسان ایک بات کو سنتا ہے اور فوراً اُسے کان سے باہر نکال دیتا ہے، جیسا کہ عام لوگوں کی تعبیروں میں کہا جاتا ہے: "ایک کان سے سُنی اور دوسرے کان سے نکال دی۔" لیکن بعض اوقات وہ اس بات میں غور و فکر کرتا ہے، اسے اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور اس کو اپنی زندگی کی راہ کا چراغ شمار کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے "وعی" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
چند نکات ١: علیؑ کے فضائل میں سے ایک اور فضیلت
بہت سی مشہور اسلامی کتابوں میں، چاہے وہ تفسیر کی ہوں یا حدیث کی، یہ آیا ہے کہ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اوپر والی آیہ (وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ) کے نزول کے وقت فرمایا: "سألت ربی ان یجعلھا اذن علی" "میں نے خُدا سے سوال کیا ہے کہ علی علیہ السلام کے کان کو ان سننے والے حقائق کو محفوظ رکھنے والے کانوں میں سے قرار دے۔" اس کے بعد امام علیؑ فرماتے تھے: "ما سمعت من رسول اللہؐ شیئاً قط فنسیتہ الا و حفظتہ۔" "میں نے رسُولِ خداؐ سے کوئی چیز نہیں سُنی جسے بھُول گیا ہوں بلکہ وہ ہمیشہ میرے حافظ میں رہیں ہے"۔ (بحوالہ: تفسیر قرطبی، جلد ١٠، صفحہ ٦٧٤٣، مجمع البیان، روح البیان، رُوح المعانی، ابو الفتوح رازی، المیزان میں زیر بحث آیات کے ذیل میں، نیز یہ حدیث "مناقب ابن مغاذلی شافعی" صفحہ ٢٦٥ (طبع اسلامیہ) میں بھی آئی ہے)۔ "غایة المرام" میں اس سلسلہ میں سولہ احادیث شیعہ اور اہل سنّت کے طرق سے نقل ہُوئی، اور محدّث بُحرانی نے تفسیر 'البرہان' میں محمد بن عبّاس سے نقل کیا ہے کہ اس سلسلہ میں تیس احادیث عامہ اور خاصہ کے طرق سے نقل ہوئی ہیں۔ ہاں! یہ اسلام کے عظیم پیشوا اور امام علیؑ کی ایک عظیم فضیلت ہے کہ وہ اسرارِ پیغمبرؐ کے خزینہ اور رسُولِ خداؐ کے تمام علوم کے وارث ہیں۔ اِسی بناء پر آنحضرتؐ کے بعد ان مشکلات میں جو اسلامی معاشرے کو پیش آتی تھیں، موافق و مخالف سبھی لوگ آپ کی پناہ لیتے، اور آپ سے ہی مشکل کا حل چاہتے تھے۔ یہ واقعات کتبِ تواریخ میں تفصیل کے ساتھ آئے ہیں۔
٢: گناہ اور سزا میں تناسب
جو تعبیریں اوپر والی آیات میں آئی ہیں قابلِ توجّہ ہیں۔ قومِ ثمود کے عذاب کے بارے میں "طاغیة" قومِ عاد کے بارے میں "عاتیة" قوم فرعون اور قوم لُوط کے بارے میں رابیة اور قوم نوح کے بارے میں "طفا الماء" کی تعبیر لاتا ہے، ان سب میں طغیان اور سرکشی کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ اِس طرح سے اس سرکشی کرنے والی قوم کے عذاب میں زندگی کی بعض نعمتوں کے سرکش ہونے کو شمار کیا گیا ہے، چاہے وہ پانی، ہوا یا مٹی اور آگ ہو۔ یہ تعبیریں اس حقیقت پر ایک تاکید ہیں کہ دنیا و آخرت کے عذاب خود ہمارے اعمال ہی کا تجسّم ہیں اور یہ خود انسانوں کا کردار ہی ہے جو انہیں کی طرف لوٹا یا جائے گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 17 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر وہ دن جس میں وہ عظیم واقعہ رونما ہو گا۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10اس سورة کی ابتدائی آیات کو جاری رکھتے ہُوئے جو معاد اور قیامت کے مسئلہ کو بیان کرتی تھیں، زیر بحث آیات اس عظیم قیامت کے حوادث کے مباحث کو پیش کرتی ہیں، ایسی ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی تعبیروں کے ساتھ جو انسان کو ان وقائع عظمت سے آشنا کرتی ہیں جو اسے درپیش ہوں گے۔ پہلے فرماتا ہے: "جب ایک دفعہ صورت میں پھونکا جائے گا۔" (فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کے اختتام اور دُوسرے جہان کے آغاز میں ناگہاں اور اچانک ایک عظیم صدا پیدا ہو گی، جسے نفخۂ صُور (ناقوس میں پھونکنے سے) تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ زمانہ میں اور آج بھی لشکر کو اکٹھا اور تیّار کرنے کے لیے یا اُسے آرام گاہ یا چھاؤنی کی طرف بھیجنے کے لیے بگل سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ جب آرام کرنے اور سونے کا بگل بجایا جاتا ہے تو سب سپاہی آرام گاہ میں چلے جاتے ہیں اور جب جمع کرنے اور تیّاری کرنے کے لیے بجایا جاتا ہے تو تمام سپاہی اپنی جگہ سے چل پڑتے ہیں اور اپنی صفوں کو منظم کرتے ہیں۔ گویا خدا یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس جہان کے ختم کرنے اور دوسرے جہان کے آغاز کا مسئلہ میری قُدرت کے مقابلہ میں ایک بگل میں پُھونکنے جتنا آسان ہے۔ ایک ہی فرمان سے ایک لمحہ کے اندر اندر تمام اہل آسمان اور سب اہل زمین مر جائیں گے۔ پھر ایک دوسرے فرمان کے ساتھ سب کے سب زندہ ہو جائیں گے اور حساب کے لیے تیّار ہو جائیں گے۔ "صُور" کی خصوصیات اور اس میں نفع کی کیفیّت پھونکنے کی مقدار اور ان کے درمیان فاصلہ کے بارے میں بہت سے مطالب ہیں۔ وہ ہم نے تفسیر نمونہ جلد ١١ سورہ زمر کی آیت ٦٨ کی تفسیر میں بیان کر دیئے ہیں۔ یہاں ان کے تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک چیز کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ نفخہ صُور: جیسا کہ اوپر بھی اشارہ ہُوا ہے وہ نفخے ہیں، "موت کا نفخہ" اور "حیاتِ جدید کا نفخہ"۔ اِس بارے میں کہ زیر بحث آیت میں جو نفخہ آیا ہے پہلا نفخہ ہے یا دوسرا، مفسّرین کا اس سلسلہ میں کوئی ایک نظریہ نہیں ہے کیونکہ جو آیات بعد میں آئی ہیں ان میں سے بعض موت کے نفخہ سے اور بعض حیات و معاد اور قبروں کے اُٹھنے کے نفخہ سے مناسبت رکھتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ آیات پہلے نفخہ کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں اور وہ اِختتامِ جہاں کا نفخہ ہے۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور جب زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی ضرب کے ساتھ درہم برہم اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔" (وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً)۔ "دک" جیسا کہ راغب، مفردات میں کہتا ہے: اصل میں صاف اور نرم زمین کے معنی میں ہے چونکہ ایک ناہموار زمین کو صاف کرنے کے لیے اسے کوٹنا پیٹنا پڑتا ہے۔ لہٰذا بہت سے موارد میں یہ لفظ شدّت سے کوٹنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بعض منابع لغت سے معلوم ہوتا ہے کہ "دک" کا اصل معنی کو کوٹنا اور ویران کرنا ہے۔ چونکہ کوٹنے اور ویران کرنے کا لازمہ صاف اور ہوار کرنا ہے لہٰذا یہ لفظ اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: اقرب الموارد مادہ "دک")۔ بہرحال، زیر بحث آیت میں یہ لفظ پہاڑوں اور ناہموار زمینوں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے اور کوٹے جانے کے معنی میں ہے، اِس طرح کہ ایک ہی دفعہ میں ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہو جائیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اس دن جہان میں واقعۂ عظیم رُونما ہو گا اور قیامت برپا ہو گی۔" (فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ)۔ نہ صرف زمین اور پہاڑ بکھر کر پراگندہ ہو جائیں گے بلکہ آسمانوں اور زمینوں میں بھی شگاف پڑ جائیں گے اور وہ کمزور اور غیر محکم ہو جائیں گے۔" (وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ)۔ عظیم آسمانی کرّے بھی اس ہولناک اور وحشتناک حادثہ سے بچ کر نہیں رہ سکتے، وہ بھی شگافتہ اور پراگندہ ہو کر بکھر جائیں گے اور اپنی مضبوطی اور استحکام کے باوجود وہ اس قدر کمزور ہو جائیں گے کہ سورہ الرحمن کی آیت ٣٧ میں قرآن کے قول کے مطابق آسمان پھٹ کر پگھلے ہُوئے روغن کی طرح سُرخ ہو جائیں گے۔" (فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ)۔ یا دوسرے لفظوں میں موجودہ زمین و آسمان ویران ہو جائیں گے اور ان کے ویرانوں اور کھنڈرات پر ایک نیا جہان برپا ہو گا جو موجودہ جہاں سے برتر، بالاتر اور کامل تر ہو گا۔ "اور فرشتے آسمانوں کی طرفوں اور کناروں پر ہوں گے۔" (وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا)۔ "ارجاء"، "رجا" کی جمع ہے جو کسِی چیز کے اطراف و جوانِب کے معنی میں ہے۔ "ملک" اگرچہ یہاں صیغۂ مُفرد میں آیا ہے۔ لیکن اِس سے مراد جنس و جمع ہے۔ گویا فرشتے اس دن مامورین کی طرح، جو کسِی میدان کے اطراف میں کھڑے ہوں اور کام انجام دینے کے لیے فرمان کے منتظر ہوں، آسمان کے گروہ گرو صف باندھے ہُوئے ہوں گے اور حق تعالےٰ کے فرمان کے منتظر ہوں گے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: "اور اس دن آٹھ فرشتے اپنے پروردگار کا عرش اٹھائے ہوئے ہوں گے۔" (وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ)۔ یہ حاملین عرش اگرچہ صراحت کے ساتھ اس آیت میں مُعیّن نہیں ہُوئے ہیں کہ وہ فرشتوں میں سے ہوں گے یا ان کے علاوہ کوئی اور ہوں گے لیکن پُوری آیت کی تعبیریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ فرشتوں میں سے ہوں گے، لیکن یہ مشخّص نہیں ہے کہ وہ آٹھ فرشتے ہوں گے یا وہ فرشتوں کے آٹھ چھوٹے یا بڑے گروہ ہوں گے۔ البتّہ اِسلامی روایات میں آیا ہے کہ اس وقت بھی حاملین عرش چار نفر ہیں، لیکن قیامت میں وہ دُگنے ہو جائیں گے۔ جیسا کہ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے ایک حدیث میں آیا ہے۔ "انھم الیوم اربعة فاذا کان یوم القیامة ایدھم باربعة اٰخرین، فیکونون ثمانیة۔" "وہ اس وقت چار افراد ہیں اور قیامت کے دن دُوسرے چار افراد سے ان کو تقویت دے گا اور وہ آٹھ ہو جائیں گے۔" (بحوالہ: تفسیر علی بن ابراہیم، جلد٢، صفحہ ٢٨٤)۔ لیکن عرش کیا ہے؟ اور یہ فرشتے کون ہیں؟ مسلّمہ طور پر عرش سے مراد ایک جسمانی تختِ سلطنت نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی لفظ عرش کی تفسیر میں بیان کیا ہے جہان ہستی کے مجموعہ کے معنی میں ہے جو خدا کی حکومت کا عرش ہے۔ پس ان فرشتوں کے ذریعہ، جو خدا کے حکم و فرمان کو جاری کرتے ہیں، اس کا ارادہ و تدبیر کی جاتی ہے۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ایک روایت میں آیا ہے قیامت میں عرش خدا کے اٹھانے والے چار افراد اوّلین میں سے اور چار آخرین میں سے ہوں گے۔ اوّلین میں سے تو نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور آخرین میں سے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام ہوں گے۔ (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ١٠، صفحہ ٣٤٦)۔ یہ تعبیر ممکِن ہے ان حضرات کے اوّلین و آخرین میں مقامِ شفاعت کی طرف اشارہ ہو، لیکن یہ شفاعت ایسے افراد کے بارے میں ہو گی جو شفاعت کے لائق ہوں گے۔ بہرحال یہ تعبیر 'عرش' کے مفہوم کی وسعت کو بتاتی ہے۔ البتّہ اگر عرش کے اٹھانے والے آٹھ گروہ ہوں تو پھر ممکِن ہے کہ کچھ گروہ تو فرشتوں کے ہوں اور کچھ گروہ انبیاء اور اولیاء کے ہوں کہ جو اس اہم مقام کے عہدہ دار انبیاء و اولیاء ہوں گے۔ لیکن یہ سب حکمِ خُدا کے ساتھ ہو گا۔ اِس بارے میں فوقھم (ان کے اوپر) میں ھم کی ضمیر انسانوں کی طرف لوٹتی ہے یا فرشتوں کی طرف، کئی اِحتمال دیئے گئے ہیں۔ چونکہ اِس سے قبل کے جُملہ میں گفتگو فرشتوں کے بارے میں ہے لہٰذا ظاہر یہ ہے کہ یہ ضمیرا نہیں کی طرف لوٹتی ہے۔ اِس طرح سے فرشتے سارے جہان کو ہر طرف سے گھیر لیں گے۔ اور (مقام کے لحاظ سے) ان کے اوپر آٹھ فرشتے خُدا کے عرش کو اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ احتمال بھی ہےکہ خدا کے عرش کو اٹھانے والے ایسے افراد ہیں جو فرشتوں سے برتر و بالا ہیں۔ اِس صورت میں یہ بیان گزشتہ حدیث جو خدا کے عرش کو اٹھانے والے انبیاء و اولیاء میں سے آٹھ افراد کو شمار کرتی ہے کے مطابق ہو گا۔ اس میں شک نہیں کہ اس دن عرش کو اٹھانے والوں کا تو کہنا ہی کیا قیامت سے مربُوط حوادث بھی اس قسم کی چیز نہیں ہیں جو ہم اس محدُود تاریک جہان کے رہنے والوں کے لیے دقیق طور پر واضح و روشن ہوں، جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ ایک شبح (سایہ یا ہیولا سا) ہے جسے ہم آیاتِ الہٰی کے سائے میں بہُت دُور سے دیکھتے ہیں، ورنہ ان کی حقیقت تو ہمیں وہاں جانے کے بعد ہی نظر آئے گی۔ (تشریحی نوٹ: "لغت" اور "قرآن مجید" کے لحاظ سے عرش کے معانی کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ میں کئی مرتبہ بحث کی ہے۔ منجملہ ان کے جلد ٦، سورۂ اعراف آیت ٥٤ کے ذیل میں گفتگو کی گئی ہے)۔ اِس نکتہ کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ پہلے "نفخۂ صُور" میں آسمانوں اور زمین کے تمام ذی رُوح مر جائیں گے۔ اس بناء پر عرش کے اٹھانے والوں کے بارے میں جو بحث ہے وہ نفخۂ دوم کے ساتھ مربُوط ہے جس میں سب زندہ ہو جائیں گے، اگرچہ آیت میں دوسرے نفخہ کے بارے میں گفتگو نہیں ہے۔ لیکن قرائن سے واضح ہوتا ہے۔ کہ جن مطالب کو ہم بعد والی آیات میں پڑھتے ہیں وہ بھی اسی نفخہ دوم کے ساتھ ہی مربُوط ہیں۔ (تشریحی نوٹ: حقیقت میں آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے "ثم نفخ فیہ اخرٰی" (پھر اس میں، دوبارہ پھونکا جائے گا)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 24 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے اہل محشر میرا نامۂ اعمال پڑھو۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10گزشتہ آیات کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے کہ "نفخِ صور" دو مرتبہ رُونما ہو گا۔ پہلی دفعہ سب ذی رُوح مر جائیں گے اور نظامِ زندگی بکھر کر رہ جائے گا۔ دوسری مرتبہ ایک نیا جہاں اور ایک نیا عالم برپا ہو گا، انسان اور فرشتے ایک نئی زندگی حاصِل کریں گے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ان آیات کا آغاز تو پہلے نفخہ کی اور ان کا آخر دوسرے نفخہ کی خبر دیتا ہے۔ اسی مطلب کو جاری رکھتے ہُوئے زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: "اس دن تم سب کے سب بارگاہِ خداوندی میں پیش کیے جاؤ گے اور تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی۔" (يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ)۔ تعرضون، عرض کے مادّہ سے کسِی چیز کو دکھانے اور پیش کرنے کے معنی میں ہے۔ چاہے معاملہ کے وقت مال اور جنس ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔ البتّہ انسان اور ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس دنیا میں بھی ہمیشہ اس کے سامنے ہیں۔ لیکن یہ بات قیامت میں زیادہ سے زیادہ نمایاں اور ظاہر ہو گی جیسا کہ خدا کی حاکمیت عالمِ ہستی پر دائمی ہے لیکن یہ حاکمیت اس دن ہر زمانہ اور وقت سے زیادہ واضح اور آشکار ہو گا۔ "لا تَخْفی مِنْکُمْ خافِیَة" کا جُملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس دن غیب اور لوگوں کے اسرار، شہود و ظہور میں بدل جائیں گے، جیسا کہ قرآن قیامت کے بارے میں کہتا ہے: یوم تبلی السرائر: "وہ ایسا دن ہو گا جس میں سارے پوشیدہ صفات ظاہر ہو جائیں گے۔" (طارق۔ ٩)۔ نہ صرف انسانوں کے مخفی اعمال، بلکہ ان کے صفات، جذبات، اخلاق اور نیّتیں، سب کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ یہ ایک عظیم حادثہ ہے اور بعض مفسّرین کے مطابق پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے اور آسمانوں کے کرّوں کے پھٹ جانے سے زیادہ، عظیم بدکاروں کی عظیم رسوائی اور مومنین کی بےمثال سربلندی کا دن ہے۔ وہ ایسا دن ہو گا جس میں انسان اس میدان میں، اعمال اور اندرونی اسرار کے لحا سے عُریاں ظاہر ہو گا۔ ہاں! اس دن ہمارے وجود کی کوئی چیز پنہاں اور مخفی رہے گی۔ ممکِن ہے کہ یہ اس دن خُدا کے ہر چیز پر احاطہ علمی کی طرف اشارہ ہو، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ لہٰذا اس کے بعد کہتا ہے: لیکن وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ہو گا وہ فرطِ مسرّت میں پکار اُٹھے گا، لو آؤ اور میرا نامۂ اعمال پڑھو۔" (فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيَهْ)۔ (تشریحی نوٹ: "ھاؤم" ارباب لغت کے قول کے مُطابق، "لے لو" کے معنی میں ہے اگر مخاطب مردوں کی جماعت ہو تو "ھاوم" کہا جاتا ہے۔ عورتوں کی جماعت ہو تو ھائن اور اگر مفرد مذکر ہو تو "ھا" (زبر کے ساتھ) اور مفرد مونّث ہو تو "ھاء" (زیر کے ساتھ) اور تثنیہ کے لیے "ھائما" کہا جاتا ہے راغب مفرادت میں کہتا ہے۔ "ھاء" لینے کے معنی میں اور "ھات" دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)۔ گویا خوشی سے پھولا نہیں سماتا اور ان سب نعمتوں، توفیقات اور ہدایت کی وجہ سے جو خُدا نے اُسے دی ہیں اس کے وجُود کو ہر ہر ذرّہ شکر گزار ہے اور وہ بےساختہ "الحمد للہ" پکار رہا ہے۔ اِس کے بعد اپنے عظیم ترین افتخار افتخار کو اس کلمہ میں خلاصہ کرتے ہُوئے کہتا ہے: "مجھے یقین تھا کہ قیامت آ کے رہے گی اور مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے گا۔" (إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ)۔ (تشریحی نوٹ: "حسابیہ" میں ھاء استراحت کی یا سکتہ کی ہے اور اس کا کوئی خاص معنی نہیں ہے، جیسا کہ کتابیہ میں بھی ایسا ہی ہے)۔ "ظن" اِس قسم کے موارد میں "یقین" کے معنی دیتا ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ مجھے جو کچھ نصیب ہوا ہے، وہ اس دن پر ایمان کی وجہ سے ہے، واقعاً بات یہی ہے کہ حساب و کتاب پر ایمان، انسان کو تقوٰی اور پرہیز گاری کی رُوح عطا کرتا ہے، تعہد اور مسئولیّت کا احساس پیدا کرتا ہے اور انسان کی تربیت کا اہم ترین عامل ہے۔ بعد والی آیت میں اس قسم کے افراد کے اجر و ثواب کے ایک گوشہ کو بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "وہ ایک کامل اور پسندیدہ زندگی میں قرار پائے گا۔" (فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اگرچہ "رضایت اور خوشی" اس زندگی والوں کی ایک صفت ہے لیکن اوپر والی آیت میں اسے خود زندگی کی صفت قرار دیا ہے۔ یہ چیز انتہائی تاکید کا فائدہ دیتی ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی زندگی ہے جو ساری کی ساری رضایت و خوشی ہے)۔ اگرچہ اس نے اسی ایک جُملہ کے ساتھ کہنے کی باتیں کہہ دی ہیں لیکن مزید وضاحت کے لیے کہتا ہے: "وہ عالی مرتبہ بہشت میں ہو گا۔" (فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ)۔ وہ بہشت جو اتنی بلند و بالا اور رفیع و والا قد رہے کہ نہ کسی شخص نے دیکھی ہے نہ سُنی ہے اور نہ ہی کبھی اس کا تصوّر کیا ہے۔ ایسی بہشت جِس کے پھل دسترس میں ہوں گے۔" (قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ)۔ نہ پھلوں کو توڑنے کی زحمت اٹھانا پڑے گی، نہ ہی اس کے لدے پھندے درختوں کے قریب ہونے میں کوئی مشکل ہو گی اور اصولی طور پر اس کی تمام نعمتیں بغیر کسی استثناء کے دسترس میں ہوں گی۔ (تشریحی نوٹ: قطوف، قطف (بر وزن "حزب") کی جمع ہے جو چُنے ہُوئے پھلوں کے معنی میں ہے اور کبھی چُننے کے لیے تیّار پھلوں کے لیے بھی آیا ہے)۔ آخری زیر بحث آیت میں، ان بہشتیوں کے لیے خدا کے محبّت آمیز خطاب کو اس طرح بیان کیا ہے: "مزے مزے سے کھاؤ اور پیو، یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جنہیں تم نے گزشتہ ایّام میں انجام دیا تھا۔" (كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ)۔ ہاں! یہ عظیم نعمتیں بےحساب نہیں ملیں گی۔ یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جنہیں تم نے دنیا میں آج کے لیے ذخیرہ کیا اور آگے بھیجا ہے، لیکن یہ ناچیز اعمال جب فضل و رحمتِ الہٰی کے افق میں قرار پائے ہیں تو اس قسم کے ثمرات، و نتائج تک منتہی ہُوئے ہیں۔
چند نکات ١: لفظِ عرش کی ایک اور تفسیر
ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "حملة العرش، والعرش العلم، ثمانیة اربعة منا، و اربعة ممن شاء اللہ۔" "عالمین عرش، عرش سے مراد علمِ خدا ہے۔ آٹھ افراد میں چار تو ہم میں سے ہیں اور چار ان میں سے جنہیں خُدا نے چاہا ہے۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، ص ٤٠٦، حدیث ٢٨)۔ ایک اور حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے: "فالذین یحملون العرش، ھم العلماء الذین حملھم اللہ علمہ۔" "حاملین عرش وہ علماء اور دانش مند ہیں جنہیں خدا نے اپنے علم کی تعلیم دی ہے۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٤٠٦، حدیث ٢٦)۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے: "العرش لیس ھو اللہ والعرش اسم علم و قدرة۔" "عرش خدا نہیں ہے، بلکہ اس کے علم و قدرت کا نام ہے۔" (بحوالہ: نور الثقلین، جلد ٥، صفحہ ٤٠٥، حدیث ٢٧)۔ ان احادیث سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ عرش کی اس تفسیر کے علاوہ، جو ہم نے پہلے بیان کی تھی، ایک اور تفسیر بھی ہے، یعنی وہ خدا کے "علم و قدرت" جیسی صفات ہیں۔ اس بناء پر عرش الہٰی کے حامل اس کے علم کے حامل ہیں۔ پس انسان یا فرشتے جتنا زیادہ علم رکھتے ہوں گے، اتنا ہی زیادہ حصّہ اس عظیم عرش کا اُٹھائے ہُوئے ہوں گے۔ اِس طرح یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے،کہ عرشِ تختِ سلطنت کے مشابہ کسِی جسمانی تخت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ جب خدا کے بارے میں استعمال ہوتا ہے، تو مختلف کنائی معانی رکھتا ہے۔
٢: علیؑ اور ان کے شیعوں کا مقام
کئی روایات میں آیا ہے آیت فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ۔۔۔ علی علیہ السلام کے بارے میں ہے، یا علی علیہ السلام اور ان کی شیعوں کے بارے میں ہے۔ (بحوالہ: تفسیر المیزان، جلد ٢٠، صفحہ ٦٦)۔ حقیقت میں یہ واضح مصادیق کے بیان کے قبیل سے ہے۔ اس سے آیت کے مفہوم کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
٣: ایک سوال کا جواب
ممکن ہے یہاں ایک سوال کیا جائے کہ کیا وہ مومنین جو اوپر والی آیات کے مطابق پکاریں گے۔ " اے اہل محشر آؤ اور ہمارے نامۂ اعمال کو پڑھو، تو کیا ان کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اس سوال کا جواب بعض احادیث سے معلوم کیا جا سکتا ہے، منجملہ ان کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول ہے: "خدا قیامت میں پہلے اپنے بندوں سے ان کے گناہوں کا اقرار لے لے گا پھر فرمائے گا، "میں نے تمہارے یہ گناہ دنیا میں بھی مستور اور پوشیدہ رکھے ہیں اور آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں۔" اس کے بعد (صرف) ان کے حسنات اور نیکیوں کا دفتر ان کے دائیں ہاتھ میں دے دے گا۔ (بحوالہ: فی ظلال القرآن، جلد ٨، صفحہ ٢٥٦)۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس دن خدا مومنین کے سیئات اور برائیوں کو حسنات اور نیکیوں میں بدل دے گا۔ اسی وجہ سے ان کے سارے نامۂ اعمال میں کوئی ضعیف نقطہ نہیں ہو گا۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے کاش مجھے موت آ ٰجاتی۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10گزشتہ آیات میں گفتگو "اصحاب الیمین" اور ان مومنین کے بارے میں تھی کہ جن کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ فخریہ اہل محشر کو پکاریں گے اور انہیں اپنے اعمال کو پڑھنے کی دعوت دیں گے، اس کے بعد بہشت جاوداں میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن زیر بحث آیات ٹھیک ان کے نقطۂ مقابل یعنی اصحابِ شمال کو پیش کرتی ہیں اور ایک موازنہ میں ان دونوں کی کیفیّت کو کامل طور پر واضح کر دیتی ہیں۔ پہلے فرماتا ہے: "لیکن جِس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: "اے کاش میرا نامۂ اعمال کبھی بھی مجھے نہ دیا جاتا۔" (وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ)۔ (تشریحی نوٹ: کتابیہ اور اسی طرح حسابیہ و مالیہ وسلطانیہ میں 'ھا' جو بعد میں آیات میں آئے گا ھاء سکت، استراحت ہے۔ نیز جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس طرح کا کوئی خاص معنی نہیں ہے بلکہ یہ اس قسم کے کلمات میں ایک خوبصورت وقف شمار ہوتا ہے۔ یہ ان اشخاص کے حالات اور نفس کی کیفیّت کے ساتھ ایک قسم کی مناسبت رکھتا ہے، جو یہ بات کریں گے)۔ "اور اے کاش! میں اپنے حساب کتاب سے ہرگز خبردار نہ ہوا ہوتا۔" (وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ)۔ "اور اے کاش مجھے موت آ جاتی جو میری اس حسرت ناک زندگی کو ختم کر دیتی۔" (يَالَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ)۔ (تشریحی نوٹ: "کانَتِ الْقاضِیَة" کے جملہ میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے۔" (کانت ھذہ الحالة القاضیہ))۔ ہاں! اس عظیم عدالت میں، اس "یوم البروز" اور "یوم الظہور" میں جب اپنے تمام قبیح اعمال کو برملا دیکھے گا تو اس کی فریاد بلند ہو گی۔ وہ دل سے پے در پے آہِ سوزاں کھینچے گا۔ ایسی آہ جو حسرت بار ہو گی اور ایسا نالہ جو شرر بار ہو گا۔ وہ یہ آرزو کرے گا کہ اس کا اپنے ماضی سے کلّی طور پر رابط ختم ہو جائے، وہ خدا سے موت و نابودی اور اس عظیم رُسوائی سے نجات کی آرزو کرے گا، جیسا کہ سورة نباء کی آیت ٤٠ میں بھی آیا ہے: "وَ یَقُولُ الْکافِرُ یا لَیْتَنی کُنْتُ تُرابا": "کافر اس دن یہ کہے گا، اے کاش! میں مٹی ہوتا اور ہرگز انسان نہ بنتا۔" "يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ" کے جملہ کی اور تفاسیر بھی بیان کی گئی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ "قاضیة" سے مراد پہلی موت ہے، یعنی اے کاش! جب ہم دنیا میں مر ہی گئے تھے تو پھر وہ دوبارہ زندہ نہ ہوتے۔ یہ اس حالت میں ہے کہ دنیا میں کوئی چیز اس کی نظر میں موت سے زیادہ ناخوش آئند نہیں تھی، لیکن قیامت میں آرزو کرے گا، اے کاش وہ موت ہی برقرار رہتی۔ بعض نے اسے صُور کے پہلے نفخہ کے بارے میں سمجھا ہے، جسے قارعة سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اے کاش! دوسرا نفخہ واقع ہی نہ ہوتا۔ لیکن وہ تفسیر جو ہم نے ابتداء میں بیان کی ہے سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "یہ گنہگار مجرم اور اعتراف کرتے ہُوئے کہے گا: میرے مال و دولت نے مجھے ہرگز بےنیاز نہیں کیا، اور آج کی مصیبت میں جو میری بیچارگی کا دن ہے، میرے کچھ کام نہ آیا۔" (مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ)۔ نہ صرف میرے مال و دولت نے مجھے بےنیاز نہیں کیا اور میری کسِی مُشکل کو حل نہیں کیا، "بلکہ میری قدرت و سلطنت بھی نابود ہو گئی اور ہاتھ سے چلی گئی۔" (هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ)۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو مال ہی کام آیا اور نہ ہی مقام و منصب، آج خالی ہاتھ، انتہائی ذلّت و شرمساری کے ساتھ داد گاہِ عدلِ الہٰی میں حاضر ہوں، نجات کے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں، میری طاقت و قدرت برباد ہو گئی ہے اور میری اُمید ہر جگہ سے ختم ہو چکی ہے۔ بعض نے یہاں سلطان کو دلیل و بُرہان کے معنی میں سمجھا ہے جو انسان کی کامیابی کا سبب ہوتا ہے۔ یعنی آج میرے پاس کوئی ایسی دلیل اور حجّت نہیں ہے جس کے ذریعے میں بارگاہِ خدا میں اپنے اعمال کی توجیہہ کر سکوں۔ بعض مفسّرین نے یہ بھی کہا ہے یہاں سلطان سے مُراد سلط و حکومت نہیں ہے، کیونکہ وہ سب لوگ جو دوزخ میں وارد ہوں گے کسِی مُلک کے بادشاہ یا کچھ شہروں کے امیر تو نہیں تھے بلکہ اس سے مُراد انسان کا اپنے نفس اور اپنی زندگی پر تسلّط ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجّہ کرتے ہُوئے کہ بہت سے دوزخی اس جہان میں تسلّط و نفوذ رکھتے تھے یا وہ سردار اور امیر کبیر لوگ تھے، لہٰذا یہ صحیح نظر آتا ہے۔
ایک نکتہ چند عبرت انگیز داستانیں
یہاں بہت سے واقعات نقل ہُوئے ہیں جو سب کے سب اوپر والی آیات کے مضمون پر ایک تاکید، اور ان لوگوں کے لیے ایک درسِ عبرت ہیں جنہوں نے مال و مقام اور منصب پر تکیہ کیا اور سرتاپا غرور و غفلت اور گناہ میں آلودہ ہیں، منجملہ: ١: سفینة البحار میں کتاب نصائح سے اس طرح سے نقل ہوا ہے۔ "خراسان میں جب ہارون الرّشید کی بیماری شدید ہو گئی تو اس نے طوس سے کسِی طبیب کو بُلانے کا حکم دیا۔ پھر اس نے کہا کہ اس کا پیشاب دوسرے چند بیماروں اور کچھ صحیح و سالم افراد کے پیشاب کے ساتھ طبیب کے سامنے پیش کیا جائے۔ طبیب ان شیشیوں کو یکے بعد دیگرے دیکھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہارون الرشید کے پیشاب والی شیشی تک پہنچ گیا۔ چنانچہ یہ جانے بغیر کہ یہ شیشی کِس کی ہے اُس نے کہا: اس شیشی والے سے کہہ دیں کہ وہ اپنی وصیّت کر دے، کیونکہ اس کی طاقت و قوّت مضمحل ہو چکی ہیں اور اس کی بُنیادیں کھوکھلی ہو چُکی ہیں۔ ہارون الرشید طبیب کی اس بات کو سُن کر اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا، اور یہ اشعار پڑھنا شروع کر دیئے۔ ان الطبیب بطبہ و دوائہ لا یستطیع دفاع نحب قد أتی ماللطبیب یموت بالداء الذی قد کان یبرء مثلہ فیما مضی "طبیب اپنی طبابت اور دوائوں کے ذریعے اس موت کا دفاع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جو آ پہنچی ہے۔" اگر وہ یہ قدرت رکھتا ہوتا تو پھر وہ خود اُسی بیماری سے کیوں مرتا کہ جس کا وہ پہلے عِلاج کیا کرتا تھا۔ اسی اثناء میں اُسے خبر ملی کہ لوگوں نے اس کی موت کی خبر پھیلا دی ہے۔ اس شہرت کو ختم کرنے کے لیے اس نے ایک سواری لانے کا حکم دیا اور کہا کہ مجھے اِس پر سوار کر دو، لیکن اچانک اس جانور کا زانو کمزور ہو گیا۔ تب اس نے کہا: مجھے سواری سے اُتار دو کیونکہ اس خبر کو اُڑانے والے سچ کہتے ہیں اس کے بعد اس نے وصیّت کی کہ اس کے لیے کئی کفن لائے جائیں، ان میں سے اس نے ایک کو پسند کر کے رکھ لیا اور کہا میرے بستر کے قریب ہی میری قبر تیّار کرو۔ پھر اس نے قبر کی طرف دیکھا اور ان آیات کی تلاوت کی: مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ اور اسی دن دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، صفحہ ٥٢٣ مادہ رشد)۔ ٢: اسی کتاب میں عالمِ بزرگوار شیخ بہائی سے بھی اسی طرح نقل ہُوا ہے: ایک شخص جس کا نام توبہ تھا اور غالباً وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا تھا، ایک دن اس نے اپنی گزری ہوئی عمر کا حساب لگایا تو وہ ٢١٥٠٠ دن تھے۔ تب اس نے کہا: وائے ہو مجھ پر! اگر میں نے ہر دن کے مقابلہ میں صرف ایک ہی گناہ کیا ہو تو وہ بھی اکیس ہزار سے زیادہ بنتے ہیں۔ تو کیا میں خدا سے اکیس ہزار گناہوں کے ساتھ ملاقات کروں گا۔ اسی وقت اس نے ایک چیخ ماری، زمین پر گِر پڑا اور جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ (بحوالہ: سفینة البحار، جلد اول، صفحہ ٤٨٨، مادہ ذنب (اقتباس کے ساتھ) ٣: ثعالبی کی کتاب "یتیمہ" میں اِس طرح آیا ہے: "جب عضد الدولہ کی موت کا وقت آن پہنچا تو اس کی زبان سے سوائے اس آیت کی تلاوت کے کچھ نہ نکلتا تھا: "مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ۔"، "میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا اور میری سلطنت بھی برباد ہو گئی۔"
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے پکڑ کر زنجیروں میں جکڑ دو۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10گزشتہ آیات کو جاری رکھتے ہُوئے جو اصحابِ شمال کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں کہ ان کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، ان کے آہ و نالہ کی فریاد بلند ہو گی اور وہ موت کی آرزو کریں گے۔ زیر بحث آیات میں ان کے عذاب کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اس وقت خدا عذاب کے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا": "اسے پکڑ لو اور طوق و زنجیر میں جکڑ دو۔" (خُذُوهُ فَغُلُّوهُ)۔ غلّوہ، غل کے مادہ سے، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے، ایسی زنجیر کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بعض اوقات مجرموں کے ہاتھ پاؤں ان کی گردن کے ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں اور وہ بہت ہی تکلیف دِہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد کہا جائے گا: "اس کو جہنم کی آگ میں داخل کر دو۔" (ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ)۔ "پھر اسے اتنی لمبی زنجیر میں جکڑ دو جو ستّر ہاتھ ہے۔" (ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ)۔ "سلسلہ" زنجیر کے معنی میں ہے اور اصل میں تسلسل کے مادّہ سے لیا گیا ہے جو ہلنے اور لرزنے کے معنی میں ہے کیونکہ زنجیر کے حلقے اور کڑیاں لرزتی اور ہلتی رہتی ہیں۔ "ستر ہاتھ" کی تعبیر ممکن ہے "تکثیر" کے عنوان سے ہو، کیونکہ ستّر کا عدد ایسے اعداد میں سے ہے جو عام طور پر کثرت کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ ستر کا عدد ہی مُراد ہو، بہرحال اس قسم کی زنجیر کو مجرموں کے گرد اس طرح لپیٹ دیں گے کہ وہ انہیں سر سے لے کر پاؤں تک گھیر لے گی۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہ طولانی زنجیریں ایک ہی شخص کے لیے نہیں ہوں گی، بلکہ ہر گروہ کو ایک زنجیر میں باندھیں گے۔ گزشتہ آیات میں غل و زنجیر کے ذکر کے بعد اس سزا کا ذکر اسی معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ ذراع کہنی سے لے کر اُنگلیوں کی نوک تک کے فاصلہ کے معنی میں ہے (جو تقریباً آدھا میڑ ہوتا ہے) اور یہ عربوں کے نزدیک ایک ہی طول تھا جو ایک طبیعی پیمانہ ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ یہ عام ذراع سے مختلف ہے۔ اِس طرح کہ اس کی ایک ذراع بہت زیادہ فاصلوں کو گھیر لیتی ہے اور سارے کے سارے دوزخیوں کو اسی ایک زنجیر کے ساتھ باندھ دیں گے۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ قیامت سے مربُوط مسائل کو ہم دُنیا کے رہنے والوں کی زبان میں پُورے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جو کچھ آیات و روایات میں آیا ہے وہ صرف اس کی ایک شبح (سایہ یا ہیولےٰ) کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اِس آیت میں ثم کی تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد ستّر ذراع کی زنجیر میں جکڑے جائیں گے اور یہ ان کے لیے ایک نئی سزا ہو گی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تمام انفرادی اور اجتماعی زنجیریں جہنم میں وارد ہونے سے پہلے ہوں گی اور ثم اصطلاح کے مطابق ذکر میں تاخیر کے لیے ہے۔ بعد کی دو آیات میں اس سخت و شدید عذاب کی اصلی علّت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیونکہ وہ خدائے عظیم پر ایمان نہ لانے پر مصر تھا۔" (إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ)۔ انبیاء و اولیاء اور پروردگار کے رسول اسے جس قدر خدا کی طرف دعوت دیتے تھے وہ اسی قدر انکار کرتا اور قبول نہیں کرتا تھا۔ اس طرح اپنے خالق سے اس کا رشتہ کلّی طور پر منقطع ہو گیا تھا۔ "اور وہ لوگوں کو، مساکین کو کھانا کھلانے کی تشویق نہیں کرتا تھا۔" (وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ)۔ اِس طرح سے اس نے مخلوق سے بھی اپنا رشتہ توڑا ہُوا تھا۔ اِس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ عمدہ اطاعتوں، عبادتوں اور شرعی احکام کو انہیں دو اعمال میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔ نیز "اطعام مساکین" کا ایمان پر عطف، اِس عظیم انسانی عمل کی حد سے زیادہ اہمیّت کی طرف اشارہ ہے اور واقعاً ایسا ہی ہے، کیونکہ بعض کے قول کے مطابق بدترین عقیدہ کفر ہے اور رذائل اخلاقی میں سے بدترین بخل ہے۔ قابلِ توجّہ بات ہے کہ یہ نہیں کہتا: "وہ کھانا نہیں کھلاتا تھا بلکہ یہ کہتا ہے کہ دوسروں کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے: اوّلاً: صرف ایک شخص کا کھانا کھانا فقراء و مساکین کی مشکل کو حل نہیں کر سکتا، لہٰذا دوسروں کی بھی اس کارِ خیر کی دعوت دینا چاہیے تاکہ وہ عمومیّت کا پہلو اختیار کر لے۔ ثانیاً: ممکن ہے کہ انسان شخصی طور پر کھانا کھلانے کی توانائی اور قدرت نہ رکھتا ہو لیکن ہر شخص دوسروں کو ترغیب دلانے کی قدرت تو رکھتا ہے۔ ثالثاً: بخیل افراد اس قسم کے ہوتے ہیں جو نہ صرف خود عطا اور بخشش نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی عطاء اور بخشش بھی کوئی تعلّق نہیں رکھتے۔ بعض قدماء سے نقل ہُوا ہے جو اپنی بیوی کو یہ حکم دیا کرتے تھے کہ وہ کھانا زیادہ پکایا کرے تاکہ وہ فقراء و مساکین کو بھی دے سکیں۔ اِس کے بعد یہ کہا کرتے: "اس زنجیر کا آدھا حصّہ خدا پر ایمان لانے کی وجہ سے ہم نے باہر نکال دیا ہے اور اس کا دوسرا آدھا حصّہ کھانا کھلوا کر باہر نکالتے ہیں۔" (بحوالہ: رُوح المعانی، جلد ٢٩، صفحہ ٥١)۔ اِس کے بعد مزید کہتا ہے: "چونکہ اس کا کوئی عقیدہ و عمل ایسا تھا، لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی مہربان اور مددگار نہیں ہے۔" (فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ)۔ "اور نہ ہی پیپ اور خون کے علاوہ اس کے لیے یہاں کوئی اور کھانا ہے۔" (وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ)۔ قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ان کی جزا اور عمل کامل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ خالق سے رشتہ توڑنے کی وجہ سے وہاں ان کا کوئی گرم جوش اور گہرا دوست نہیں ہو گا۔ نیز فقراء اور مساکین کو کھانا نہ کھلوانے کی وجہ سے، پیپ اور خون کے سوا اور کوئی کھانے کی چیز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، کیونکہ وہ سالہا سال تک لذیذ ترین کھانے کھاتے رہے تھے جبکہ بےنوا اور بےکس لوگوں کے پاس خونِ دل کے سوا اور کوئی کھانا نہیں تھا۔ "راغب" مفردات میں کہتا ہے کہ "غسلین" اس پانی کے معنی میں ہے جو کفّار کے بدن کو دھونے سے جہنم میں گرے گا۔ لیکن مشہور یہ ہے کہ اس سے مُراد وہ پیپ اور خون ہے جو دوزخیوں کے بدن سے گرے گی، شاید راغب کی مراد بھی یہی ہو اور طعام کو تعبیر بھی اسی معنی کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ سورہ غاثیہ کی آیت ٦ میں آیا ہے: لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ: اور ان کا کھانا "ضریع کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا۔" اور ضریع کی تفسیر ایک قسم کے کانٹے سے کی ہے۔ سورہ دخان کی آیت ٤٣ ، ٤٤ میں آیا ہے: إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِo طَعَامُ الْأَثِيمِ: درخت زقوم گنہگاروں کا کھانا ہے اور "زقوم" کی ایک کڑوے بدبُو دار اور بد ذائقہ نبات کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے، جس کا نمونہ سرزمین تہامہ میں اگا کرتا تھا جو تلخ اور جلانے والا شیرہ رکھتا تھا۔ پس ان آیات اور زیر بحث آیت کو کیسے جمع کیا جا سکتا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں بعض نے تو یہ کہا ہے: یہ تینوں الفاظ 'ضریع' ، 'زقوم' ، 'غسلین' ایک ہی چیز کی طرف اشارہ ہیں۔ (اور وہ ایک سخت اور ناگوار نبات ہے جو اہل دوزخ کی غذا ہے)۔ بعض دوسروں نے یہ کہا ہے: دوزخیوں کے مختلف طبقات ہیں، ان تینوں چیزوں میں سے ایک ایک چیز ایک گروہ کی غذا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان کی غذا تو 'زقوم' و 'ضریع' ہے، پینے کے لیے غسلین ہے اور مشروب کے بارے میں 'طعام' کی تعبیر نئی نہیں ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں تاکید کے لیے مزید کہتا ہے: "اس غذا کو خطا کاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھائے گا۔" (لاَّ يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ)۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ خاطی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، لیکن "مخطی" عمداً خطا کرنے والے اور سہواً خطا کرنے والے کو بھی کہا جاتا ہے... اِس بناء پر دوزخ کی یہ غذا ان لوگوں کے لیے مخصُوص ہے جو جانتے بوجھتے عمداً طغیان و سرکش کے عنوان سے شرک و کفر اور بخل کی راہ پر چلتے ہیں۔
ایک نکتہ حروفِ قرآن پر اعراب لگانے کی ابتداء
ایک حدیث میں آیا ہے کہ صعصہ بن صوحان جو امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے کہتے ہیں: "ایک عرب امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور آیت "لاَّ يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ" کے بارے میں سوال کیا اور اس نے خاطؤن یعنی خطا کاروں کی بجائے "خاطون" (جو قدم اٹھانے والوں کے معنی میں ہے) پڑھا اور پوچھا کہ قدم تو سب ہی لوگ اُٹھاتے ہیں، تو کیا خدا ان سب ہی کو یہ غذا دے گا؟" امام نے تبسّم فرمایا: کہا: اے مرد عرب! اس آیت کے صحیح الفاظ لاَّ يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ ہیں۔ اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین علیہ السلام! آپ نے سچ فرمایا ہے، خدا کسِی بےخطا بندے کو عذاب کے سپُرد نہیں کرے گا۔ اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے' ابو الاسود' کی طرف جو ایک ادیب شخص تھا رُخ کیا اور فرمایا: اس وقت عربی زبان سے بیگانہ لوگ بھی مسلمان ہو گئے ہیں۔ ایسا کام کرو کہ وہ اپنی زبان کی اصلاح کر سکیں۔ اس حکم کے بعد ابو الاسود نے الفاظِ قرآن پر نصب اور کسر (زبر، زیر، پیش) کی علامت لگائی۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 43 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر یہ قرآن یقیناً خدا کا کلام ہے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10ان مباحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں قیامت اور مومنین و کُفّار کی سرنوشت کے بارے میں بیان ہُوئے تھے، ان آیات میں قرآن مجید اور نبوّت کے بارے میں ایک فصیح و بلیغ بحث کرتا ہے، تاکہ "نبوّة" اور "معاد" کی بحث ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔ پہلے فرماتا ہے: "قسم کھاتا ہوں میں اس کی جسے تم دیکھتے ہو۔" (فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ)۔ "اور اس کی جسے تم نہیں دیکھتے۔" (وَمَا لَا تُبْصِرُونَ)۔ مشہور یہ ہے کہ لفظ لا اس قسم کے موارد میں زائدہ اور تاکید کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بعض نے کہا ہے کہ لا یہاں بھی نفی کے معنی میں دیتا ہے۔ یعنی میں ان کی قسم نہیں کھاتا، کیونکہ اولاً تو اس قسم کی ضرورت نہیں اور ثانیاً، قسم خدا کے نام کی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مُناسب وہی پہلا معنی ہے، کیونکہ قرآن مجید میں خُدا کے نام اور غیر خدا کے نام کی قسمیں بہت زیادہ ہیں۔ مَا تُبْصِرُونَ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ کا جملہ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو ان تمام چیزوں کو جنہیں انسان دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے، گھیر لیتا ہے، دُوسرے لفظوں میں یہ سارے عالمِ "شہود" اور "غیب" کو شامل ہے۔ ان دو آیات کی تفسیر میں دیگر احتمال بھی دیئے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے: "مَا تُبْصِرُونَ" سے مراد عالمِ خلقت ہے اور وَمَا لَا تُبْصِرُونَ سے مُراد خالق ہے، یا یہ کہ اس سے مُراد ظاہری اور باطنی نعمتیں: یا انسان اور فرشتے، یا اجسام و ارواح: یا دُنیا و آخرت ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اشارہ ان دونوں تعبیروں کے مفہوم کی وسعت اس کے معنی کو محدود کرنے سے مانع ہے۔ اس بناء پر افقِ نگاہ میں جو کچھ آتا وہ سب اس سوگندو قسم میں داخل ہے لیکن اس کا شمول خدا کی نسبت بعید نظر آتا ہے، کیونکہ خالق کو مخلوق کے ساتھ قرار دینا مناسب نہیں ہے، خصوصاً "ما" کی تعبیر کے ساتھ جو عام طور پر غیر ذوی العقول کے لیے آتی ہے۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ جو کچھ انسان آنکھ سے نہیں دیکھتا وہ بہت کچھ ہے۔ موجودہ علم و دانش نے اس حقیقت کو ثابت کر دیا ہے کہ محسوسات، موجودات کے ایک محدود دائرے کو ہی شامل ہوتے ہیں اور جو کچھ افقِ حس میں نہیں آ تا، چاہے وہ رنگ ہوں یا آوازیں ذائقے ہوں یا امواج وغیرہ، وہ کئی درجے زیادہ ہیں۔ وہ ستارے جو کرّۂ ارض کے دونوں آدھے حصّوں کے مجموعہ میں آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں، ماہرین کے حساب کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ستارے ہیں جبکہ وہ ستارے جو آنکھ سے دیکھے نہیں جاتے وہ اربوں کھربوں سے بھی زیادہ ہیں۔ وہ صوتی امواج (آواز کی لہریں) جن کا ادراک کرنے پر انسان کے کان قُدرت رکھتے ہیں بہت ہی محدُود لہریں ہیں جبکہ ہزار ہا دوسری ایسی صوتی لہریں موجُود ہیں کہ جن کے سننے کی انسانی کان قدرت نہیں رکھتے۔ وہ رنگ جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں سات مشہور رنگ ہیں لیکن آج یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بنفسی اور قرمزی رنگوں کے علاوہ بےشمار دُوسرے ایسے رنگ ہیں کہ جن کے مشاہدے کی ہمارے آنکھ میں بالکل ہی قدرت نہیں ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے جانداروں کی تعداد جو آنکھ سے دیکھے نہیں جا سکتے اس قدر زیادہ ہے کہ اس نے تمام دُنیا کو پُر کر رکھا ہے، بعض اوقات وہ پانی کے ایک قطرے میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ اِس حال میں یہ بات کِتنی درد ناک ہے کہ ہم اپنے آپ کو محسوسات کے زندان میں قید کر لیں اور محسوسات کی دنیا کے باہر سے بےخبر ہو جائیں یا اس کا انکار کر دیں؟ عالمِ ارواح ایک ایسا علم ہے جو دلائلِ عقلی بلکہ تجرباتی دلائل سے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ وہ عالم ہمارے عالمِ جسم سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں محسوسات کی چار دیواری میں کس طرح قید رہا جا سکتا ہے؟ اِس کے بعد والی آیہ میں اس عظیم و بےنظیر سوگندو قسم کے نتیجہ اور جواب کو ذکر کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "یہ قرآن ایک بزرگوار رسُول کی گفت گُو ہے۔" (إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ)۔ "رسُول" سے مُراد یہاں بلاشک و شبہ اسلام کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں نہ کہ جبریل، کیونکہ بعد والی آیات وضاحت کے ساتھ اس معنی کی گواہی دیتی ہیں۔ اور یہ جو کہتا ہے کہ یہ ایک بزرگوار رسُول کی گفتگو ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کی تبلیغ کرنے والے ہیں، خصوصاً جبکہ ان کی رسالت کے وصف کا ذکر ہوا ہے جیسا کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ رسُول جو کچھ لاتا ہے وہ بھیجنے والے کی بات ہوتی ہے، اگرچہ وہ رسُول کی زبان سے جاری اور اس کے لب ہائے مُبارک سے سُنا جاتا ہے۔ اِس کے بعد مز ید کہتا ہے: "یہ کسِی شاعر کا قول نہیں ہے۔ لیکن تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔" (وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: قلیلاً اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ایک محذوف "مفعول مطلق" کی صفت ہے او "ما" زائد ہے تقدیر میں اس طرح ہے: (تُؤْمِنُونَ ایماناً قلیلاً))۔ "اور یہ کسی کاہن کا قول بھی ہے، اگرچہ تم بہُت ہی کم متندکر ہوتے۔" (وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ)۔ حقیقت میں یہ دونوں آیات ان ناروا نسبتوں کی نفی ہیں، جو مشرکین اور مخالفین ذاتِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف دیتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ وہ شاعر ہے اور یہ آیات اس کے اشعار ہیں، کبھی کہتے کہ وہ کاہن ہے اور یہ آیات اس کی کہانت ہیں کیونکہ کاہن ایسے لوگ ہوتے تھے جو بعض اوقات جنّ یا شیاطین سے ارتباط کی بناء پر غیب کے بعض اسرار بیان کیا کرتے۔ اور خصوصیت کے ساتھ اپنے الفاظ کی مسجّع اور موزوں جملہ بندی کے ساتھ پیش کرتے تھے، چونکہ قرآن میں غیب کے اخبار بھی ہیں اور مخصوص نظم و ترتیب بھی ہے، لہٰذا وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر یہ تہمت لگاتے تھے، حالانکہ کہانت اور قرآن کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بعض نے ان آیات کے شانِ نزُول میں نقل کیا ہے کہ جس شخص نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف شعر و شاعری کی نسبت دی وہ ابو جہل تھا اور کہانت کی نسبت دینے والا "عقبہ" یا "عتبہ" تھا اور دُوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہُوئے ان تہمتوں کی تکرار کرتے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن کے الفاظ میں ہم آہنگی اور ایسی خوبصورت موزونیّت ہے، جو کانوں کو بھلی لگتی ہے اور رُوح کو سکون بخشتی ہے۔ لیکن یہ چیز نہ تو شاعروں کے شعر سے کوئی ربط رکھتی ہے اور نہ ہی کاہنوں کے سجع و قوافی (قافیے)سے اس کا واسط ہے۔ "شعر" عام طور پر تخیلاt کی پیداوار اور برافروختہ احساسات و عاطفی ہیجانات کو بیان کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان میں نشیب و فراز اور اُٹھنے اور گرنے کا عمل زیادہ ہوتا ہے، جبکہ قرآن زیبائی اور جاذبیّت کے باوجُود، کامل طور پر استدلال، منطقی اور عضلاتی مضامین کا حامل ہے۔ اگر بعض اوقات یہ آئندہ کی پیش گوئیاں کرتا ہے تو یہ پیش گوئیاں قرآن کی اصلیّت نہیں ہیں، نیز یہ کاہنوں کی خبروں کے برخلاف سب کی سب سچّی ہوتی ہیں۔ "قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ" اور "قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ" کے جملے ایسے افراد کی توبیخ و سرزنش کے لیے ہیں جو اس آسمانی وحی کو واضح نشانیوں کے ساتھ دیکھتے ہیں، لیکن کبھی اسے شعر قرار دیتے ہیں اور کبھی کہانت اور بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ آخری زیر بحث آیت میں تاکید کے عنوان سے صراحت کے ساتھ کہتا ہے: "یہ قرآن عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہُوا ہے۔" (تَنْزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: تنزیل مصدر ہے، اسم مفعول کے معنی میں اور ایک محذوف مبتداء کی خبر ہے، تقدیر میں اس طرح ہے "ھو منزل من رب العالمین")۔ اِس بناء پر قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت، نہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ذہن کی پیداوار اور نہ ہی جبریل کا کلام ہے، بلکہ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا کلام ہے جو بیشک وحی کے ذریعہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاک دل پر نازل ہُوا ہے، یہی تعبیر تھوڑے سے فرق کے ساتھ قرآن مجید میں گیارہ مقامات پر آئی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 10تفسیر آیت 52 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اگر وہ ہم پر جھوٹ باندھتا تو ہم اسے مہلت نہ دیتے۔
Tafsīr Nemūna · Vol. 10قرآن سے مربُوط مُباحث کو جاری رکھتے ہُوئے ان آیات میں اس کی اصالت پر ایک واضح دلیل پیش کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "اگر وہ ہم پر جھوٹ باندھتا": (وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنا بَعْضَ الْأَقاویلِ)۔ "تو ہم پوری قدرت کے ساتھ اس کو پکڑ لیتے۔" (لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ)۔ "پھر ہم اس کے دل کی رگ کو کاٹ دیتے۔" (ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ)۔ "اور تم میں سے کوئی بھی اس کام میں مانع نہ ہوتا اور نہ ہی اِس کی حمایت کرتا۔" (فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "من احد" میں "من" زائدہ اور تاکید کے لیے ہے)۔ اقاویل جمع ہے اقوال کی اور اقوال اپنی نوبت میں جمع ہے قول کی، تو اس بناء پر اقاویل جمع ہے اور یہاں اس سے مراد جھوٹی باتیں ہیں۔ "تقَوَّل" تقوّل (بر وزن تکلّف) کے مادہ سے ان باتوں کے معنی میں ہے جنہیں انسان خود اپنی طرف سے گھڑے اور ان کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ لَأَخَذْنا مِنْہُ بِالْیَمین (ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور سزا دیتے۔ کیونکہ انسان بہت سے کاموں کو دائیں ہاتھ سے انجام دیتا ہے۔ اِس لیے کہ اس میں زیادہ قدرت ہوتی ہے، اس طرح یمین قدرت سے کنایہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اوپر والے جُملہ میں "من" زائدہ اور تاکید کے لیے ہے اور تقدیر میں اِس طرح ہے۔ "لَأَخَذْنَاه بِالْيَمِينِ")۔ بعض مفسّرین نے اس آیت کی تفسیر میں اور احتمالات بھی دیئے ہیں، چونکہ وہ غیر مانوس اور غیر موزوں تھے لہٰذا ہم نے ان سے صرف ِ نظر کیا ہے۔ "وتین"، "دل کی رگ" کے معنی میں ہے، یعنی شہ رگ جو تمام اعضاء میں خون پہنچاتی ہے۔ اگر وہ کٹ جائے تو انسان کو فورًا اور ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر موت آ جاتی ہے۔ یہ وہ سریع ترین سزا ہے جو کسِی شخص کے بارے میں آنجام پا سکتی ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر اس رنگ سے کی جس کے ساتھ دل آویزاں ہوتا ہے یا اس رگ سے جو جگر کو خون پُہنچاتی ہے، یا رگِ نخاعِ جو مہروں کے ستون کے وسط میں ہوتی ہے، لیکن پہلی تفسیر سب سے صحیح نظر آتی ہے۔ "حاجزین" حاجز کی جمع ہے جو مانع اور رکاوٹ کے معنی میں ہے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا پر جُھوٹ بولے اور خدا فوراً اس کو سزا دے اور اسے ہلاک کر دے تو پھر نبوّت کا جُھوٹا دعوٰی کرنے والوں کو تیزی کے ساتھ نابود ہو جانا چاہیے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اور ان میں بہت سے سالہا سال زندہ رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا باطل مذہب ان کے بعد بھی باقی رہا ہے۔ اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجّہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا ہے کہ "ہر مدعی" بلکہ یہ کہتا ہے کہ اگر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس طرح کا کام کرے، یعنی وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جسے خدا نے معجزہ دیا، اورحقانیّت کے دلائل نے اس کی تائید کی ہے، اگر وہ طریقِ حق سے منحرف ہو جائے تو ایک لمحہ کے لیے بھی اُسے مہلت نہیں دی جائے گی، کیونکہ یہ چیز لوگوں کی گمراہی اور ضلالت کا سبب بنے گی۔ (تشریحی نوٹ: یہ وہی چیز ہے جو علمِ کلام کی کتب میں جھوٹے کے ہاتھ میں معجزہ قرار دینے کے عنوان سے پیش ہوتی ہے اور اس کو قبیح قرار دیا جاتا ہے)۔ لیکن جو شخص باطل دعوٰی کرتا ہے اور کوئی معجزہ یا واضح دلیل اپنی حقانیّت پر نہیں رکھتا تو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ خدا اُسے فوراً ہلاک کرے۔ کیونکہ اس کی باتوں کا بطلان ہر اس شخص کے لیے جو حق کا طالب ہے واضح اور روشن ہے۔ مشکل وہاں آ پڑتی ہے جہاں نبوّت کا مدّعی دلائل و معجزات کے ہمراہ ہو اور وہ حق کی راہ سے منحرف ہو جائے۔ اِس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جو بعض گمراہ فرقے اپنے پیشواؤں کے دعوے کے اثبات کے لیے اس آیت سے تمسّک کرتے ہیں وہ بالکل غلط ہے، ورنہ مسیلمہ کذّاب جیسے افراد اور دوسرے جھُوٹے مدعی بھی اس آیت سے اپنی حقانیّت پر استدلال کر سکتے ہیں۔ بعد والی آیت میں تاکید اور یاد آوری کے لیے فرماتا ہے: "یہ قرآن یقینی طور پر پرہیزگاروں کے لیے ایک نصیحت ہے۔" (وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ)۔ ان کے لیے جو اپنے آپ کو گناہ سے پاک کرنے کے لیے تیّار ہوں، راہِ حق کو طے کرنے پر آمادہ ہوں، ان کے لیے جو جستجو میں لگے رہتے ہیں، حقیقت کے طالب ہیں، قرآن ان کے لیے ذکر اور نصیحت ہے، لیکن جو لوگ تقوٰی کی یہ حد نہیں رکھتے وہ یقیناً قرآنی تعلیمات سے فائدہ نہیں آٹھا سکتے۔ اِس لحاظ سے قرآن جو گہری عمیق اور حد سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے وہ اس کی حقانیت کی ایک اور دلیل ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے: "اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے ایک گروہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔" (وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ)۔ لیکن ہٹ دھرم جُھٹلانے والوں کا وجود ان کے حق پر نہ ہونے کی دلیل میں رُکاوٹ نہیں بن سکتا ہے، کیونکہ پرہیزگار اور حقیقت کے طالب ہی اس سے متذکرہوتے ہیں۔ وہ اس میں حق کی نشانیاں دیکھتے ہیں اور راہِ خدا میں قدم رکھ دیتے ہیں۔ اِس بناء پر جس طرح ایک روشن چراغ سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی آنکھ کو کھلا رکھے اسی طرح نورِ قرآن سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی دل کی آنکھ اس کے اوپر کُھلی رکھنی چاہیے۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "اور یہ قرآن کافروں کے لیے حسرت کا باعث ہے۔" (وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ)۔ آج یہ اس تکذیب کر رہے ہیں لیکن کل جو "یوم الظہور" اور "یوم البروز" ہونے کے ساتھ ساتھ "یوم الحسرت" بھی ہے وہ سمجھ لیں گے کہ انہوں نے ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے کتنی عظیم نعمت کو ہاتھ سے دے دیا ہے اور کیسے کیسے درد ناک عذاب اپنے لیے خرید لیے ہیں۔ وہ دن جس میں وہ مومنین کی بلندیاں اور پستیاں دیکھیں گے اور ان کا آپس میں موازنہ کریں گے تو حسرت کے ساتھ انگلی منہ میں داب لیں گے اور غصّہ کی شدّت سے اپنے ہاتھ دانتوں سے کاٹیں گے۔ "وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا"۔ "اس دن کو یاد کرو جب ظالم اپنے دونوں ہاتھوں کو شدّتِ حسرت سے کاٹے گا اور کہے گا اے کاش! میں رسُول کے راستے پر چلتا۔" ( فرقان ، ٢٧)۔ اِس بناء پر کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ مُنکرین کا شک و تردید یا تکذیب، قرآن کے مفاہیم کے ابہام کی وجہ سے ہے، لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "یہ قرآن یقینِ خالص اور حقِ یقین ہے۔" (وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ)۔ بعض مفسّرین کے قول کے مُطابق حق الیقین کی تعبیر کسِی چیز کی اپنی ذات کی طرف نسبت کی قبیل سے ہے کیونکہ 'حق' عین یقین ہے اور یقین عین حق ہے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں 'مسجد الجامع' اور "یوم الخمیس" اور یہ اضافت اصطلاح کے مطابق اضافتِ بیانیہ ہے۔ لیکن بہتر ہے یہ کہا جائے کہ یہ موصوف کی صفت کی طرف اضافت کے قبیل سے ہے، یعنی قرآن ایک خالص یقین ہے، یا دوسرے لفظوں میں یقین کے کئی مراحل ہوتے ہیں۔ کبھی وہ دلیلِ عقلی سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ ہم دھوئیں کو دور سے دیکھتے ہیں تو اس سے آگ کے وجُود کا یقین حاصل ہو جاتا ہے حالانکہ ہم نے آگ کو نہیں دیکھا، اس کو "علم الیقین" کہتے ہیں۔ بعض اوقات ہم اور نزدیک جا کر آگ کے شعلوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں۔ اِس سے یقین اور زیادہ محکم ہو جاتا ہے اور اس کو عین یقین کا نام دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم اس سے بھی زیادہ نزدیک چلے جاتے ہیں، آگ کے پاس یا آگ کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور اس کی سوزش کو اپنے ہاتھ سے لمس کرتے ہیں۔ یقیناً یہ یقین کا بالاتر مرحلہ ہے اور اس کو حق الیقین کہتے ہیں۔ اوپر والی آیت کہتی ہے کہ قرآن یقین کے اس قسم کے مرحلہ میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود دل کے اندھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ پھر آخری زیر بحث آیت جو سورۂ حاقہ کی آْخری آیت ہے، اس میں فرماتا ہے: "اب جبکہ ایسا ہے، تو اپنے عظیم پروردگار کی تسبیح کر اور اس کو ہر قسم کے عیب و نقص سے منزّہ شمار کر (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظیمِ)۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت اور اس سے پہلے والی آیت کا مضمون تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سورة واقعہ کے آخر میں بھی آیا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں گفتگو قرآن مجید کے بارے میں ہے اور اس کی توصیف حق الیقین کے ساتھ ہُوئی ہے، لیکن سورة واقعہ کے آخر میں قیامت میں نیکو کاروں کے مختلف گروہوں کے بارے میں گفتگو ہے۔
ایک نکتہ
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان آیات میں قرآن کی توصیف چار صفات کے ساتھ کی گئی ہے۔ پہلے کہتا ہے: یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے: یہ متقین کے لیے یاد آوری اور تذکرّ ہے۔ پھر کہتا ہے: کافروں کے لیے حسرت و ندامت کا باعث ہے۔ اور آخری مرحلہ میں مزید کہتا ہے: یہ "حق الیقین" ہے۔ ان میں سے پہلی صفت تمام لوگوں کے لیے ہے۔ دوسری صفت پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ تیسری صفت کفّار کے ساتھ مربُوط ہے۔ اور چوتھی صفت خاصانِ خدا اور مُقرّبین سے مربُوط ہے۔ خداوندا! تو خود جانتا ہے کہ کوئی چیز سرمایۂ یقین سے برتر نہیں ہے۔ ہمیں ایسا ایمان اور یقین مرحمت فرما جو حق الیقین کا مصداق ہو۔ پروردگارا! قیامت کا دن یوم الحسرت ہے، ہمیں کم از کم ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جنہیں طاعتوں کی کمی پر حسرت ہو، نہ کہ کثرتِ گناہ اور ترکِ طاعت پر حسرت و ندامت ہو۔ بارِالہٰا! ہمارا نامۂ اعمال ہمارے دائیں ہاتھ میں دینا اور ہمیں اپنی جنتِ عالیہ اور عیشۂ راضیہ (پسندیدہ زندگی) میں داخل فرمانا۔ آمین یا ربّ العالمین