Sūra 32 · 30v
Chapter 3230 verses

As-Sajdah

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
السجدة
السجدہ

سوره الم سجده

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۳۰ آیات ہیں

اس سُورۃ کے نام

مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ مکہّ میں نازل ہوئی ہے۔ بعض مفسرین نے تو اس کی کسی آیت کا استثناء بھی نہیں کیا ہے۔ لیکن بعض نے آیہ ۱۸ تا ۲۰ کومدنی سمجھا ہے اور ان کا نظریہ ہے کہ یہ تین آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔ حالانکہ ان آیات میں ان کے مدنی ہونے کا کوئی قرینہ اور نشانی نظر نہیں آتی۔ اس سورہ کا نام بعض روایات میں اور مشہور مفسرین کی زبان میں "سورہ سجدہ" یا "الم سجدہ" ہے۔ اور کبھی اسے "حم سجدہ" سے جدا بیان کرنے کے لیے "سجدہ لقمان" کے نام سے پکارتے ہیں؛ کیونکہ یہ سورہ لقمان کے بعد قرار پایا ہے۔ بعض روایات میں اسے "الم تنزیل" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ "فخر رازی" اور "آلوسی" نے تو اس کے ناموں میں سورہ "مضاجع" کا نام ذکر کیا ہے (اس سورہ کی آیت نمبر۱۶ "تتجافیٰ جنوبھم عن المضاجع…" کی مناسبت سے)۔

سوره الم سجده کی فضیلت:

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله و آلہ وسلّم سے یوں مذکور ہے: "من قراٴ الم تنزیل و تبارک الّذی بیدہ الملک، فکانّما احیا لیلة القدر"۔ "جو شخص سورہ الم تنزیل اور "تبارک الّذی "“ کو پڑھے تو گویا اس نے شبّ قدر جاگ کر گزاری"۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج۸، ض۳۲۵)۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر بن محمد صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے: "من قرأ سورة السجدة فی کلّ لیلة جمعة اٴعطاہ الله کتابہ بیمینہ، ولم یحاسبہ بما کان منہ، وکان من رفقاء محمّد واٴہل بیتہ" "جو شخص سورہ سجدہ ہر شب جمعہ پڑھے خدا اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور محمد و اہلِ بیت محمد علیہم السلام کے دوستوں میں ہو گا۔ (بحوالہ: مجمع البیان، ج۸، ض۳۲۵)۔ چونکہ اس سُورہ میں مبدء و معاد اور قیامت کے دن مجرمین کے عذاب و سزا اور ہوشیار و بیدار کرنے والے دروس موٴمنین اور کافرین سے متعلق وسیع اور تفصیلی مباحث آئی ہیں، یقینا اس کی تلاوت انسان کی حد تک اصلاح کر سکتی ہیں کہ ان تمام فضائل اور اعزازات کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اور اس کا بیدار کرنے والا اگر شب قدر کی بیداری کے مانند ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اصحاب یمین کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے اور پیغمبر اور ان کی آل کی دوستی اور رفاقت کے اعزاز و افتخار کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن تلاوت ایسی جو سوچ و بچار کا سرچشمہ ہو اور سوچ و بچارایسی جو پختہ ارادے اور تحرک کا منبع ہو۔

سورہ سجدہ کے مندرجات:

یہ سورہ چونکہ "مکّی" سورتوں میں سے ہے۔ لہٰذا دوسری مکّی سورتوں کی طرح اپنے اصلی خطوط یعنی "مبدء و معاد" اور "بشارت و انداز" کے مباحث پر مشتمل اور بطور مجموعی اس چند مباحث توجہ طلب ہیں: ۱۔ سب سے پہلے عظمت قرآن کے بارے میں گفتگو ہے اور اس کا پروردگار عالمین کی طرف سے نازل ہونے اور دشمنی کے الزامات کی نفی ہے۔ ۲۔ اس کے بعد آسمان و زمین میں خدا کی نشانیوں اور اس کائنات کے چلانے کے سلسلہ میں بحث ہے۔ ۳۔ ایک اور بحث انسان کی "مٹی" اور "نطفہ کے پانی" اور "خدا کی رُوح" سے خلقت اور علم و دانش کو حاصل کرنے کے ذرائع یعنی آنکھ، کان اور عقل کا خدا کی طرف سے عطیہ ہونا ہے۔ ۴۔ اس کے بعد قیامت اور اس کے پہلے کے حوادث یعنی موت اور اس کے بعد یعنی سوال و جواب حساب کے بارے میں گفتگو ہے۔ ۵۔ موٴثر اور ہلا دینے والی بشارت و انداز کی مباحث ہیں۔ جن میں مومنین کو جنّة المادیٰ کی نوید دیتا ہے اور فاسقین کو جہنّم کی آگ سے ڈراتا ہے۔ ۷۔ اسی مناسبت سے بنی اسرائیل کی تریخ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت اور اسی امّت کی کامیابیوں کی طرف مختصر سا اشارہ بھی ہے۔ ۸۔ دوبارہ بشارت و انداز کی بحث کے پیش نظر گزشتہ اُمتوں میں سے ایک گروہ کے حالات اور اس کے درد ناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔ ۹ اور ۱۰۔ دوبارہ مسئلہ توحید اور عظمت خدا کی نشانیوں کی طرف لوٹتا ہے اور ”ضدی و ہٹ دھرم دشمنوں" کو متنبہ کرنے کے بعد سُورت اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ تو اس طرح سے اس سورہ کا اصل مقصد مبدء و معاد پر ایمان کی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور اس کے ذریعے تقویٰ کی طرف تحرک کی ایک قوی موج ایجاد کرنا ہے، جس سے لوگ طغیان اور سرکشی سے باز آ جائیں اور اپنے بلند انسانی مرتبہ کی قیمت کو پہچانیں۔ جس کی اسلام کی ابتدائی تحریک کے ایاّم میں سرزمین مکہّ کے ماحول کے لیے از حد ضرورت تھی۔

1
32:1
الٓمٓ
الم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
32:2
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
یہ وہ کتاب ہے جو عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس میں کسی طرح کا شک نہیں ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
32:3
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۚ بَلۡ هُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ
لیکن وہ کہتے ہیں (محمدنے) خدا پر جھوٹ باندھا ہے لیکن (انہیں جاننا چاہئے) کہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق بات ہے تاکہ تم ایسے گروہ کو ڈراؤ جس کی طرف تم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ شاید(وہ پندو نصیحت حاصل کرکے) ہدایت پا جائیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
32:4
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا شَفِيعٍۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
خدا وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا، پھر عرش(قدرت) پر قرار پایا۔ تمہارے لئے اس کے علاوہ اور کوئی ولی اور شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
32:5
يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥٓ أَلۡفَ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ
اس جہان کے امور کی آسمان سے زمین تک وہی تدبیر کرتا ہے پھر اس دن جس کی مقدار ہزار سال ہے،(ان سالوں کے حساب سے جو تم شمار کرتے ہو) اس کی طرف لوٹ جائے گا(اور دنیا ختم ہو جائے گی)۔

عظمت قرآن اور مبدء و معاد:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

اس سورہ میں ہم "حروف مقطعات" (الف- لام- میم) ں سے ایک بار پھر رُو برو ہو رہے ہیں اور یہ پندرھویں دفعہ ہے کہ ہم قرآنی سورتوں کے آغاز میں اس قسم کے حروف دیکھ رہے ہیں۔ سورہ بقرہ کے آغاز (اسی تفسیر کی جلد اوّل، اور آل عمران (جلد دوم ) اور اعراف (جلد ششم) میں ہم ان حروف کی مختلف تفسیروں سے تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں جو بحث قرآن کی اہمیت کے سلسلہ میں ان حروف کے فورًا بعد آئی ہے، ایک بار پھر اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ "الم" قرآن کی عظمت اور پروردگار عالم کی عظیم قدرت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قسم کی عظیم اور مطالب سے لبریز کتاب جو حضرت محمد مصطفٰےؐ کا جادوانی معجزہ ہے "الف باء" ایسے سادہ حروف سے وجود میں آئی ہے اور جن پر ہر ایک کی دسترس ہے۔ فرماتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جو عالمین کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ (تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "تنزيل الكتاب" مبتدائے محزوف "هذا" کی خبر ہے اور "لاریب فیہ" اس کی صفت اوّل اور "من رب العالمين" دوسری صفت ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا کہ بو سکتا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے خبريں ہوں۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال، تنزيل مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں آیا ہے اور کتاب کی طرف اس کی ضمانت صفت کی موصوف کی حرف اضافت کے قسموں سے ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید مصدر اپنے اصلی معنی میں آ کرمبالغہ کا معنی بتا رہا ہو")۔ واقع میں یہ آیت دو سوالوں کا جواب ہے، گویا پہلے اس آسمانی کتاب کے مضامین اور مندرجات کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو جواب میں کہتا ہے۔ اس کے مندرجات اور مضامین حق ہیں اور اس میں کم ترین شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ پھر اس کے وجود میں لانے والے کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو جواب میں کہتا ہے، یہ کتاب "رب العالمین" کی طرف سے ہے۔ یہ تفسیر بھی متحمل ہے کہ "من رب العالمین" کا جملہ "لاریب فیہ" کے لیے دلیل ہو، کیا کوئی سوال کرتا ہے کہ کس بناء پر یہ کتاب حق ہے، تو کہتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ عالمین کے اس پروردگار کی طرف سے ہے۔ جس کے وجود سے حق اور حقیقت جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ضمنًا خدا کے تمام اصاف میں سے "رب العالمین" کی صفت پر دار و مدار اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب عجائبات عالم کا مجموعہ اور عالم وجود کے حقائق کا نچوڑ ہے۔ کیونکہ عالمین کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ قرآن نہیں چاہتا کہ یہاں صرف دعوے پر قناعت کرے، بلکہ یہ بھی کہنا چاہتا ہے کہ "عیان را چہ بیان" کے مصداق خود اپنی کتاب کے مضامین میں اس کی حقانیت اور صداقت کے گواہ ہیں۔ پھر اس تہمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے جو بارہا مشرکین اور بےایمان منافقین اس عظیم آسمانی کتاب پر باندھتے تھے۔ "وہ کہتے ہیں محمدؐ نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے، حالانکہ یہ پروردگار عالمین کی طرف سے نہیں ہے" (أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ب)۔ (تشریحی نوٹ: "ام" یہاں "بل" کے معنی میں ہے۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ تقدیری طور پر جملہ یوں نہیں ہو سکتا ہے (ایعترفون به ام یقولون ا فتراه (تفسیر فخر رازی و ابوا لفتوح) لیکن یہ احتمال بعید نظر اتا ہے)۔ ان کے بےدلیل دعوے کے جواب میں کہتا ہے۔ "وہ افتراء نہیں ہے، بلکہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق بات ہے"۔ "بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ "۔ اور اس کی حقانیت کی دیل خود اسی میں آشکار و نمایاں ہے۔ پھر اس کے نزول کے ہدف اور مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ہدف اور مقصد یہ تھا کہ ایک گروه کو تو انذار کرے اور ڈرائے کہ جنہیں تجھ سے پہلے انذاز کرنے والا نہیں آیا ہے، شاید وہ پند و نصیحت اور ہدایت حاصل کریں"۔ (لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ)۔ اگرچہ پیغمبر اسلامؐ کی دعوت "بشارت" یعنی خوشخبری بھی ہے اور "انذار" بھی یعنی ڈرانا بھی۔ اور پیغمبر "بشیر" سے زیادہ "نذیر" ہے، لیکن گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کے مقابلہ میں "انذار" پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ "هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ" کا جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی حقانیت کی دلیل خود اسی میں مشہود ہے اور "لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ" کا جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن ہدایت کے لیے صرف سرزمین ہموار کرتا ہے لیکن مصمم ارادہ تو بہرحال، خود انسان ہی کرتا ہے۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں: ۱- اس قوم سے کون سی قوم مراد ہے جن کی طرف پیغمبر اسلامؐ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ ۲- علاوہ ازیں، کیا خو د قرآن نہیں کہتا: "وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيهَا نَذِيرٌ" "کوئی امت ایسی نہیں تھی کہ جس میں ڈرانے والا نہ آیا ہو۔" ( فاطر- ۲۴)۔ پہلے سوال کے جواب میں مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ مراد قبیلہ قریش ہے، جس میں پیغمبر اسلامؐ سے پہلے کوئی انذار کرنے اور ڈرانے والا نہیں تھا۔ لیکن دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ مراد دورِ فترت ہے (یعنی حضرت عیسٰیؑ کے قیام اور پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کا درمیانی زمانہ)۔ لیکن ان دونوں جوابوں میں سے کوئی بھی جواب صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ سوال کرنے والے کے نظریہ کے مطابق زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی اور ہر دور میں پیغمبر یا وصی پیغمبر اتمام حجت کے لئے انسانوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ اس بناء پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "نذیر" سے مراد کوئی عظیم پیغبر ہو جو اپنی دعوت کو آشکارا اور معجزات کے ساتھ اور وسیع و عریض ماحول میں ظاہر کرے اور ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کا انذار کرنے والا جزیرہ نمائے عرب اور قبائل "مکہ" کے درمیان ظاہر نہیں ہوا۔ اور دوسرے سوال کے جواب میں یوں کہنا چاہیے "وان من امة الا خلا فيها نذير" کے جُملہ کا مفہوم یہ ہے کہ ہر اٗمّت میں انذار کرنے والا موجود رہا ہے۔ لیکن یہ کہ وہ ہر جگہ ذاتی و شخصی طور بھی موجود ہو، یہ ضروری نہیں ہے ،یہی بات کہ خدائے عظیم کےپیغمبروں کی دعوت کی صدا ان کے اوصیاء کے ذریعے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچ جائے کافي ہے۔ یہ بات ٹھیک اسی طرح ہے کہ ہم کہیں کہ ہر امت میں اولو العزم پیغمبر بھی تھے اور آسمانی کتاب بھی، تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ تاریخی طور پر اس پیغمبر کی صدا اور اس کے اوصیاء کے ذریعے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچ جائے کافی ہے۔ یہ بات ٹھیک اس طرح ہے کہ ہم کہیں کہ ہر امت میؒں اولوالعزم پیغمبر بھی تھے اور آسمانی کتاب بھی۔ تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ تاریخی طور پر اس پیغمبر کی صدا اور اس کی آسمانی کتاب اس کے نمائندوں اور اوصیاء کے ذریعے سے اس ساری امت تک پنہچی ہے۔ عظمت قرآن اور رسالت پیغمبر اکرمؐ کے بعد اسلام کے ایک اور اہم ترین بنیادی عقیده یعنی توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کو بیان کرتے ہوئے اس طرح کہتا ہے۔ "خدا وہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیزیں کو چھ دنوں میں پیدا کیا جو ان دونوں کے درمیان سے": (اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ)۔ (تشریحی نوٹ: لفظ اللہ اس جُملہ میں مبتدا ہے اور "الذی" اس کی خبر ہے۔ اس جملہ کی ترکیب میں اور احتمال بھی دیئے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ "اللہ" خبر ہے مبتداء و محذوف کی۔ یا یہ کہ اللہ مبتداء ہے اور اس کی خبر "ما لكم من دونه من ولیّ" ہے لیکن یہ دونوں احتمالات چنداں مناسب نظر نہیں آتے)۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی آیات میں چھ دنوں سے مراد "چھ دور" ہیں۔ کیونکہ معلوم ہے کہ "دن" کے معانی میں سے کیا معنی روز مرہ کے استعال میں "دور" بھی ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں، ایک دن تھا کہ استبدادی ٹولہ حکومت کرتا تھا اور آج "شورائی" نظام ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں، استبدادی ٹوے ہزار ہا سال حکومت کرتے رہے ہیں، لیکن "ایک دن" سے تعبیر کرتے ہیں: اور دوسری طرف یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ آسمان و زمین مختلف دور گزرے ہیں: ایک دن نظام شمسی کے تمام کُرّات ایک پگھلے ہوئے تودے کی صورت میں تھے۔ تو دوسرے دن سیارے سورج سے الگ ہو گئے اور اس کے اطراف گردش کرنےلگے۔ ایک دن زمین آگ کا ایک ٹکڑا تھی۔ دوسرے دن ٹھنڈی اور سرد ہو کر نباتات اور حیوانات کی زندگی کے قابل بن گئی، پھرزنده موجودات مختلف مراحل میں وجود میں آئے۔ (ہم اس معنی کی تشریح اور اسی طرح کے چھ ادوار کی تفصیل چوتھی جلد کے صفحہ ۱٣۰ پر سورہ اعراف کی آیہ ٥۴ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں)۔ واضح ہے کہ پروردگار کی بے انتہاء قدرت اس سارے جہاں کی ایجاد کے لیے ایک مختصر سے لمحے بلکہ اس سے بھی کم تر کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ تدریجی نظام عظمت خدا اور اس کے علم اور تمام مراحل میں اس کی تدبیر کو بہتر طریقہ سے بیان کر سکتا ہے۔ مثلًا اگر "جنین" ایک ہی لمحہ میں اپنے تکامل و ارتقاء کے تمام ادوار کو طے کر کے متولد ہو جاتا ہے تو اس کے عجائبات انسان کی نظر سے دور رہ جاتے ہیں لیکن جس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان نو ماہ کے دوران میں ہر دن اور ہر ہفتہ نئے نئے عجائب و غرائب شکل اور حالات اپنے اندر لیتا ہے اور یکے بعد دیگرے عجیب و غریب اور مختلف مراحل سے گزرتا ہے تو آفرید گار کی عظمت سے ہم بہتر طور پر آشنا ہوتے ہیں۔ مسئلہ آفرنیش و خلقت کے بعد عالم ہستی پر"حاکمیت خدا" کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: "پھر خدا عرش پر مستقر ہوا اور سارے عالم ہستی پر حکومت کی": (ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ)- جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ لفظ "عرش" اصل میں بلند پایۂ تختوں کے معنی میں ہے اور عام طور پر کنایہ ہوتا ہے۔ قدرت اور طاقت سے جیسا کہ روز مرہ تعبیرات میں ہم کہتے ہیں۔ فلاں شخص کے تخت کے پائے گر گئے یعنی اس کی قدرت اور طاقت ختم ہو گئی ہے۔ اس بناء پر خدا کا عرش پر قرار یانا اس کے جسمانی معنی میں نہیں ہے کہ خدا بادشاہوں کی طرح کوئی تخت رکھتا ہو اور اس کے اوپر بیٹھا ہو۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ وہ جہان ہستی کا خالق بھی ہے اور سارے عالم پر اس کی حکومت بھی ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس بات کی مزید وضاحت تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۱٣۰ (سورہ اعراف آیہ ٥۴ کے ذیل میں مطالعہ کریں)۔ اور آیت کے آخر میں توحید "ولایت" و"شفاعت" کے مسئلہ کی طرف اشارہ کر کے مراحل توحید کو مکمل کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ "اس کے علاوہ، تمہارا کوئی ولی و شفیع نہیں ہے": (مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ)۔ اس واضح دلیل کے باوجود کہ جہاں کی خالقیت اس کی حاکمیت کی دلیل ہے اور حاکمیت ولی، شفیع اور معبود کی توحید پر دلالت کرتی ہے، تو پھر تم کیوں بے راہ روی اختیار کرتے ہو اور بتوں کے دامن کو پکڑتے ہو۔ "تم سوچتے سمجھتے کیوں نہیں": (أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ)۔ حقیقت میں توحید کے تین مراحل جو اوپر والی آیت میں بیان ہوئے ہیں، ہر ایک مرحلہ ایک دوسرے کی دلیل شمار ہوتا ہے۔ توحید خالقيت، توحید حاکمیت کی دلیل ہے اور توحید حاکمیت ولی و شفیع و معبود کی وحدانیت پر دلیل ہے۔ یہاں پر بعض مفسرین کے لیے ایک سوال پیش ہوتا ہے، جس کا جواب چنداں مشکل یا پیچیدہ نہیں ہے اور وہ یہ کہ آیت کا آخری جملہ کہتا ہے کہ خدا کے علاوہ، تمہارا کوئی سرپرست اور شفاعت کرنے والا نہیں ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمارا ولی و شفیع صرف خدا اور بس! تو کیا ممکن ہے کہ کوئی اپنے پاس سے کسی کی شفاعت کرے؟ (۱) اس بات کو مدِّنظر رکھتے بونے کہ تمام شفاعت کرنے والوں کو اس کی اجازت سے شفاعت کرنا چاہیئے۔ "مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ"۔ (بقره۔ ۲٥٥) اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ شفاعت اگرچہ ہوتی انبیاء اور اولیاء، الہی کی طرف سے ہے، لیکن لوٹتی ذات پاک کی طرف ہے۔ شفاعت چاہے گناہوں کی بخشش کے لیے ہو یا نعمات الٰہی تک پہنچنے کے لیے۔ اس بات کی شاہد و گواہ وہ آیت ہے کہ جو ٹھیک اسی آیت کے مضمون میں سورة یونس کی ابتدا میں آئی ہے، اور ہم وہاں پڑھتے ہیں: "يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ" (يونس۔ ٣)۔ "کوئی شفاعت کرنے والا اس وقت تک شفیع کہلائے گا۔ جب اس ذات کی اجازت ہو گی"۔ (۲) اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ ہم پروردگار کی بارگاہ میں توسل کے وقت اس کی صفات سے متوسل ہوتے ہیں اس کے رحمان، رحیم، غفار اور غفور ہونے اور اس کے فضل و کرم سے مدد چاہتے ہیں، گویا اس کے پاس خود ایسے ہی شفیع قرار دیئے ہیں۔ ہر چند کہ اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں، پھر بھی ان صفات کو اپنے اور اس کی پاک ذات کے درمیان واسطہ شمار کرتے ہیں۔ یہی چیز دعائے کمیل میں حضرت علیؑ کی پرمعنی عبارت میں آئی ہے: "واستشفع بلک الي نفسک" "میں تیرے ذریعہ تجھ سے شفاعت کا طلب گار ہوں"۔ (٣) "شفيع " سے مراد یہاں ناصر اور یار و یاور ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یار و یاور اور ناصر صرف خدا اور بعض ان لوگوں نے یہاں شفاعت کو آفرنیش و خلقت اور تکمیل نفوس کے معنی میں لیا ہے تو یہ حقیقت اسی معنی کی طرف لوٹتا ہے۔ زیر بحث آخری آیت میں پہلے توحید پروردگار کی طرف اور پھر مسئلہ معاد کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو گذشتہ آیات میں توحید کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں (توحید خالقیت، توحید مالکیت، اور توحید عبودیت) یہاں "توحید ربوبیت" کے ذکر سے وہ سلسلہ گفتگو مکمل ہو جاتا ہے، یعنی جہان بستی کا نظم و نسق صرف خدا ہی کے ذریعہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ فرماتا ہے "خدا اس جہان کے امور کو اپنے قرب کے مقام سے زمین کی طرف تدبیر کرتا ہے": (يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ)۔ دوسرے لفظوں میں خدا آسمان سے لے کر زمین کی تمام کائنات کو اپنے حیطہ و تدبیر اور نظم ونسق میں لیے ہوئے ہے اور اس کے علاوہ، اس جہان کا کوئی مدبر نہیں ہے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تعبیر کے مطابق "سباء" مقام قرب خدا کے معنی میں ہے اور دوسری تعبیر کے مطابق "سماء" اسی آسمان کے معنی میں ہے۔ (غور کیجئے گا))۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے۔ "پھر تدبیر امور کے لیے اس دن کہ جس کی مقدار ہزار سال ہے ان سالوں میں سے جنہیں تم شمار کرتے ہو، اس کی طرف لوٹے گا": (ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ)۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مفسرین نے اوپر والی آیت کی تفسیر میں بہت سے اقوال پیش کیے ہیں۔ اور کئی احتمال پیش کیے ہیں: ۱۔ بعض نے اسے اسی دنیا میں تدبیر عالم کے "قوس نزولی" اور "قوس صعودی" کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ ۲- بعض خدائی فرشتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ کو پانچ سو سال کی مدت میں طے کرتے اور اسی مدت میں واپس بھی آ جاتے ہیں اور اس جہان کی تدبیر میں حکم خدا سے مشغول ہیں۔ ٣- بعض اس عالم میں خدائی تدبیر کے دور کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ تدبیر کے مختلف ادوار ہیں اور پھر ایک دور کی مدت ایک ہزار سال سے اور خدا پر ہزار سال میں آسمان و زمین کے تدبیر امر کا اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے اور اس ہزار سالہ دور کے ختم ہونے پر دوسرے دور کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ تفسیريں علاوہ، اس کے کہ ناتمام اور مبہم مطالب کو پیش کرتی ہیں، کوئی قرینہ اور مخصوص شاہد بھی خود اس آیت یا دوسری آیات سے بھی پیش نہیں کرتیں۔ ہمارے نظریہ کے مطابق قرآن کی دوسری آیات کے قرینہ نیز ان روایات کی بناء پر جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں، اس آیت سے مراد کوئی اور چیز ہے اور یہ کہ خدا نے اس جہان کو خلق کیا ہے اور آسمان و زمین کو مخصوص تدبیر کے ساتھ نظم عطا کیا ہے اور انسانوں اور دوسرے زندہ موجودات کو لباس حیات پہنایا ہے۔ لیکن اس کائنات کے خاتمہ پر سب کچھ ختم کر دے گا- سورج تاریک اور ستارے بےنور ہو جائیں گے اور قرآن کے بقول آسمانوں کو کاغذ کی طرح لپیٹ دے گا، یہان تک کہ مذکورہ چیزیں اس جہان کے پھیلنے سے پہلے کی حالت میں آ جائیں گی: “يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ" "وہ دن کہ جب آسمان کو طومار کی طرح ہم لپیٹ دیں گے، پھر جس طرح ہم نے خلقت کا آغاز کیا تھا اسے واپس پلٹا دیں گے"۔ (بحوالہ: سورہ انبیاء آیہ۱۰۴)۔ اور اس جہاں کے لپیٹے جانے کے بعد ایک نئے نقشے اور زیادہ وسیع جہان کا اختراع ہو گا۔ یعنی اس دنیا کے اختتام پر ایک دوسرے جہان کا آغاز ہو گا۔ یہ معنی قرآن کی دوسری آیات میں بھی آیا ہے۔ منجملہ ان کے سورہ بقرہ کی آیہ ١٥٦ میں ہم پڑھتے ہیں: "إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" "ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف سے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے"۔ اور سورہ روم کی آیہ ۲۷ میں اس طرح آیا ہے: "وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ" “وہ وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور پھر اسے واپس پلٹا دیتا ہے اور یہ بات اس کے لیےنہایت آسان ہے"۔ اور سورۃ یونس کی آیہ ٣٤ میں ہم پڑھتے ہیں: "قُلِ اللّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ" "کہہ دو خدا آفرینش کا آغاز کرتا ہے۔ پھر اس کو لوٹاتا ہے، پھر تم کیوں حق سے روگرداں ہوتے ہو"؟ ان تعبیرات اور اس طرح کی دوسری تعبیرات کی طرف توبہ کرتے ہوئے جو کہتی ہیں کہ تمام امور آخرکار خدا کی طرف لوٹ جائیں گے: "وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ" (سورہ ہود آیۃ ۱۲۳)۔ واضح ہو جاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں کائنات کے آغاز و انجام اور روز قیامت کے بپا ہونے کے متعلق کفتگو ہو رہی ہے جسے کبھی قوس "نزولی" اور "صعودی" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا کہ "خدا اس جہاں کے امر کی تدبیر آسمان سے زمین تک کرتا ہے۔ (آسمان سے ابتداء اور زمین پر انتہا ہوتی ہے) پھر یہ سب قیامت کے دن اس کی طرف پلٹ جائیں گے"۔ تفسیر"علی بن ابراھیم" میں اسی آیت کے ذیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ تدبیر امور سے مراد یہ ہے کہ خدا ان کی تدبیر کرتا ہے اور اس طرح امر و نہی جو شریعت میں بیان ہوئے ہیں اور تمام بندوں کے اعمال یہ تمام چیزیں قیامت کے دن واضح ہوں گی اور اس دن کی طوالت اس دن کے سالوں کے حساب سے ہزار سال ہو گی۔ (بحوالہ: "تفسیرنورالثقلین" جلد ٤ ص ۲۲۱ اور "تفسیرصافی" ذیل آیت زیر بحث)۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ "سوره معارج" کی آیت ٤ میں روز قیامت کے طول کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں: "تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ" "فرشتے اور رُوح اس کی طرف عروج کریں گے، ایسے دن میں کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے"۔ تو کس طرح سے زیر آیت کو جو اس کی مدت صرف ہزار سال معین کرتی ہے اور سورہ معارج کی آیت کو آپس میں جمع کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اس حدیث میں موجود ہے جو "امالی شیخ طوسی" میں امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوئی ہے۔ امامؑ فرماتے ہیں: ان في القيامة خمسين موقفًا كل موقف مثل الف سنة ممّا تعذون، ثُمّ تلا ھذه الٰاية في يوم كان مقدارہ خمسين الف سنة"۔ "قیامت میں پچاس موقف (اعمال کی دیکھ بھال اور حساب کے لیے محل توقف) ہیں کہ جن میں سے ہر موقف ہزار سال کی مقدار ہے، ان سالوں میں جنھیں تم شمار کرتے ہو، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی، اس دن میں کہ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے"۔ البتہ ان تعبیروں کا اس مطلب سے کوئی تـضاد نہیں ہو گا، جب ہزار سال اور پچاس ہزار سال کا عدد یہاں گنتی کی صورت میں ہو۔ بلکہ ہر ایک میں کثرت اور زیادتی بیان کرنا مقصود ہو۔ یعنی قیامت میں پچاس موقف ہیں کہ جن میں سے ہر ایک پر انسان کو بہت زیادہ رکنا پڑے گا۔

چند ایک نکات: یدبّر الامر کی تفسیر

"يدبّر الامر" کی آیت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے کچھ خود ساختہ مسلک کے پیروکاروں نے اپنے مسلک کی توجیہ کے لیے اوپر والی آیت کو دستاویز قرار دیتے ہوئے عوام الناس کو فریب دینے اور مغالطہ میں ڈالنے کے لئے اس آیت کو اپنے مقصد منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان کے اکثر مبلغین سے جب انسان رو برو ہوتا ہے، منجملہ ان دلائل کے کہ جس کا فورًا ڈوبتے کی طرح تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی آیت ہے (يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ۔۔۔۔۔۔) وہ کہتے ہیں۔ "امر" سے مراد اس آیت میں "دین اور مذہب" ہے اور "تدبیر" دین کے بھیجنے کے معنی میں ہے اور "عروج" دین کو اٹھانے اور نسخ کرنے کے معنی میں ہے۔ اور اس حساب سے کوئی مذہب ایک ہزار سال سے زیادہ زنده نہیں رہ سکتا۔ لہذا ہزار سال کے بعد اسے اپنی جگہ دوسرے مذہب کو دے دینی چاہیے۔ اسی بناء پر وہ کہتے ہیں "ہم قران کو قبول کرتے ہیں" لیکن اسی قران کے مطابق ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرا مذہب آئے گا! اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک غیر جانب دار فرد کے عنوان سے مذکورہ آیت کا صحیح طریقے پر تجزیہ و تحلیل کریں اور دیکھیں کہ جس چیز کا یہ لوگ دعوٰے کرتے ہیں، آیا آیت کا بھی اس چیز کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ اس بات سے قطع نظر کہ یہ معنی آیت کے مفہوم سے اس قدر دور ہے کہ خالی الذہین پڑھنے والے کی فکر و ذہن میں آ بھی نہیں سکتا۔ خوب غور و خوض کے بعد تم دیکھتے ہیں کہ جس چیز پر وہ آیت کو مطابقت دینا چاہتے ہیں، نہ صرف یہ کہ آیت کے مفہوم کے ساتھ سازگار نہیں، بلکہ بہت سی جہات سے واضح اشکالات سے بھی دوچار ہے۔ (۱) لفظ "امر" کو دین و مذہب کے معنی میں لینا نہ صرف یہ کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن کی دوسری آیات بھی اس کی نفی کرتی ہیں۔ کیونکہ دوسری آیات میں "امر" فرمان، آفرنیش و خلقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے: "إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ"۔ (سورہ یٰسین آیت ٨۲)۔ "اس کا امر تو بس یہ ہے کہ جسں وقت کسی چیز کا ارادہ کرے تو کہتا ہے ہو جا، تو وہ فورًا ہو جاتی ہے"۔ اس آیت میں اور "سورہ قمر" کی آیت ٥٠ اور "سورہ مومنون" کی آیت ٢٧: "سوره اعراف" کی آیت ٥٤ : "سوره ابراھیم" کی آیت ٣٢ اور سوره نحل آیت ۱٢ "سوره روم" آیت ٢٥، اور "سوره جاثیہ آیت ۱٢ اور بہت سی دوسری آیات میں "امر" امر تکوینی کے معنی میں استعمال ہوا ہے، نہ کہ دین و مذہب کی تشریح کے معنی میں۔ بنیادی طور پر جہاں آسمان و زمین اور آفرینش و خلقت وغیرہ کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے، امر اس معنی میں آتا ہے، (غور کیجئے)۔ (٢) لفظ "تدبیر" بھی خلقت و آفرینش اور کائنات کی وضع و کیفیت کو سنوارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ مذہب نازل کرنے کے معنی میں، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی دوسری آیات میں (آیات ایک دوسرے کی تـفسیر کرتی ہیں دین و مذہب کے بارے میں بالکل لفظ تدبیر استعمال نہیں ہوا، بلکہ لفظ "تشریع" یا "تنزیل" یا "انزال" استعمال ہوا ہے: "شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا"۔ (شورٰی۔٣) شریعت کا آغاز اس چیز سے ہوا، جس کی نوح کو وصیت کی تھی"۔ "وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ"۔ "جو شخص خدا کے نازل کروہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ کافرہے"۔ (مائده ۔۴۴)۔ "نزل عليك الكتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ"۔ (آل عمران۔ ۳)۔ "بر حق قرآن کو تجھ پر نازل کیا ہے، جو پہلے کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے"۔ (۳) محل بحث کی آیت سے پہلے اور بعد کی آیت عالم کی خلقت و آفرنیش سے متعلق ہے، نہ کہ تشريع اویان سے۔ کیونکہ قبل والی آیت میں چھ دن (دوسرے لفظوں میں چھ دور) میں آسمان و زمین کی خلقت کے بارے میں گفتگو تھی اور بعد والی آیات میں خلقت انسان کا متعلق گفتگو تھی۔ کہے بغیر واضح ہے کہ آیات کی مناسبت تقاضا کرتی ہے کہ یہ آیت بھی جو آیآت "خلقت" کے درمیان واقع ہوئی ہے، مسئلہ خلقت اور آفرینش کے انتظامی امور سے مربوط ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب سینکڑوں سال پہلے کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیت میں گوناگوں احتمالات کے باوجود کسی نے یہ احتمال نہیں دیا کہ یہ آیت تشریع ادیان سے مربوط ہے۔ مثلًا تفسیر"مجمع البیان" میں جو مشہور ترین اسلامی تفسیر ہے اور جس کے مؤتف کا تعلق سنہ چھ ہجری سے ہے اوپر والی آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے باوجود کسی بھی مسلم دانشور کا یہ قول نقل نہیں کیا کہ اس آیت کا تعلق تشریع ادیان سے ہے۔ (۴) لفظ "عروج"، "صعود کرنے اور اوپر جانے" کے معنی میں ہے نہ کہ نسخ ادیان اور ان کے زائل ہونے کے معنی میں اور قرآن میں کسی جگہ بھی "عروج" نسخ کے معنی میں نظر نہیں آیا یہ لفظ قرآن کی پانچ آیات میں ذکر ہوا ہے، لیکن کہیں بھی اس کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ادیان کے بارے میں وہی لفظ "نسخ" یا "تبدیل" وغیرہ استعمال ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر ادیان اور کتب آسمانی کوئی ایسی چیز نہیں جو مثلًا ارواح لبشر کی طرح اختتام زندگی کے بعد فرشتوں کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کر جائیں، بلکہ نسخ شدہ دین اسی زمین پر موجود ہیں، ان کے صرف چند ایک مسائل منسوخ ہوئے ہیں، جبکہ ان کے اصول اپنی قوت کے ساتھ باقی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ لفظ "عروج" باوجودیکہ قرآن مجید میں کسی جگہ بھی نسخ ادیان کے معنی میں استعمال نہیں ہوا، اصولی طور پر نسخ ادیان کے مفہوم کے ساتھ سازگار بھی نہیں ہے، کیونکہ منسوخ ادیان آسمان کی طرف عروج نہیں کرتے۔ (٥) ان سب کے علاوہ، یہ معنی واقعیت عینی کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ گزشتہ ادیان کا ایک دوسرے سے فاصلہ کہیں پر بھی ایک ہزار سال نہیں تھا۔ مثلًا حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی کے ظہور کے درمیان کا فاصلہ ١٥٠٠ سال سے زیادہ تھا اور حضرت عیسٰی اور پیغمبر اسلام کے ظہور کا فاصلہ ۶٠٠ سو سال سے کم تھا۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں، ان لوگوں کے قول کے مطابق ان دونوں میں سے کوئی فاصلہ میں ہزار سال کا نہیں بلکہ زیادہ بھی ہے۔ ایک اولو العزم نبی اور مخصوص شریعت کے بانی حضرت "نوحؑ" کا اولوالعزم شریعت کے دوسرے بانی اور بت شکن ہیرو حضرت ابراہیمؑ کے درمیان ١۴٠٠ سال سے زیاده فاصلہ ہے اور اسی طرح حضرت "ابراہیم" اور حضرت "موسٰی" کے درمیان فاصلہ ٥٠٠ سال سے کم لکھا ہے۔ اس موضوع سے ہم پر نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ نمونہ کے طور پر بھی گزشتہ مذاہب و ادیان کا ایک دوسرے کے ساتھ کا فاصلہ ایک ہزار سال نہیں تھا۔ "تو خود حدیث مفصل بخوان ازیں مجمل"۔ (۶) ان سب باتوں سے قطع نظر سید علی محمد باب کے جس دعوٰے کے لیے یہ سب لوگ ناروا توجیہات کے متحمل بوئے ہیں، اس حساب سے بالکل سازگار نہیں ہے، کیونکہ خود انہی کے اعتراف کے مطابق اس کے دعوٰے کی ابتداء ١٢٦٠ هجری قمری میں تھی۔ اور اس بات کے پیش نظر کہ پیغمبر اسلامؐ کی دعوت کی ابتداء ہجرت سے ١۳ سال قبل تھی تو ان دونوں کے درمیان فاصلہ ١٢٧٣ سال بنتا ہے، یعنی ہزار سال سے ٣٧٣ سال زائد بنتے ہیں۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ ہم کس نقشے کے تحت ان ٢٧٣ سالوں کو ادھر اُدھر کریں؟ اور کس طرح اتنے بڑے عدد کو نظرانداز کر دیں؟ (٧) اور فرض کیجئے کہ ہم ان چھ اعتراضات کو بھی ایک طرف کیے دیتے ہیں اور اس قدر واضح اور روشن تجزیات کو بهی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور صرف عقل و خرد کو فیصلہ کے لیے بلاتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ قرآن کے بجائے چاہتے ہیں کہ نبوت کے نئے دعوے داورں کے سامنے آنے والے لوگوں کی ذمہ داری کو واضح کریں اور کہیں کہ "ہزار سال گزرنے کے بعد نئے پیغمبر کے انتظار میں رہو"۔ تو کیا اس کا یہی راستہ تھا، جیسا مذکورہ آیت میں ذکر ہوا ہے، مطلب کو بیان کریں اور بارہ تیرہ صدیوں تک کوئی عالم اور غیر عالم اس آیت کے معنی سے ذره برابر بھی مطلع نہ ہو سکے اور ١۳٧٣ سال گزرنے کے بعد صرف ایک گروہ "کشف جدید" کے عنوان جو صرف اور صرف اس کے نزدیک ہی قابل قبول ہے، اس سے پردہ اٹھائے۔ کیا زیادہ عقل مندی کی بات نہیں تھی کہ اس جملہ کی جگہ پر یوں کہا جاتا۔ "تمہیں میں بشارت دیتا ہوں کہ ایک ہزار سال کے بعد ایک پیغمبر اس نام کا ظہور کرے گا"۔ جیسا کہ حضرت عیسٰیؑ نے پیغمبر اسلامؐ کے متعلق کہا: "وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ" (سورۂ صف آیه ۔ ۶) بہرحال، شاید یہ اس حد تک جتنا ہم نے بحث کی ہے، بحث کا محتاج نہ ہوتا، لیکن مسلمانوں کی نوجوان نسل عالمی استعمار کے ہتھکنڈوں اور اسلام کے مورچوں کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے والے ساختہ مسالک کی چالوں سے خبردار کرنے کے لیے قدرے تفصیلی گفتگو کی تاکہ وہ ان کی اس منطق کے صرف ایک گوشہ سے باخبر ہو جائیں اور باقی کا وہ خود حساب کر لیں۔

6
32:6
ذَٰلِكَ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
وہ وہی خدا ہے کہ مخفی و آشکارسے باخبر ہے اور نا قبل شکست اور مہربان ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
32:7
ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥۖ وَبَدَأَ خَلۡقَ ٱلۡإِنسَٰنِ مِن طِينٖ
وہ وہی ہے جس نے جس چیز کو پیدا کیا، اچھا پیدا کیا اور خلقت انسان کی ابتداء مٹی سے قرار دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
32:8
ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ
پھر اس کی نسل کو نا چیز اور بے قدرو قیمت پانی کے نچوڑ سے خلق فرمایا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 9 کے تحت ملاحظہ کریں۔

9
32:9
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
پھر اس کے بدن کو موزوں بنایا، اور اپنی روح میں سے اس میں پھونکا، تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل قرار دیئے، لیکن تم بہت کم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہو۔

خلقت انسان کے حیران کن مراحل:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

زیر بحث آیات پہلے تو اشاره اور تاکید ہیں، ان توحیدی مباحث پر جو پہلے کی آیات میں گزر چکی ہیں جو چار مراحل میں خلاصہ ہوتی ہیں (توحید خالقیت، حاکمیت، ولایت اور ربوبیت) فرماتا ہے۔ "وہ جیسے کہ ان صفات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہی ہے خدا کہ جو مخفی و آشکار سے باخبرہے اور ناقابل شکست اور مہربان ہے": (ذَلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ)۔ ظاہر ہے جو چاہتا ہے کہ آسمان و زمین کے امور کی تدبیر کرے اور ان پر حاکم اور ولایت، شفاعت اور خلاقیت کے قیام کا ذمہ دار ہو، اسے تمام چیزوں کے پنہاں و آشکار سے آگاہ ہونا چاہیے، کیونکہ آگاہی اور وسیع علم کے بغیر ان امور میں سے کوئی بھی امکان پزیر نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی ذات کو "عزیز" (قدرت مند اور ناقابل شکست) ہونا چاہیے۔ تاکہ ان اہم کاموں کو انجام دے سکے۔ لیکن ایسی عزت و قدرت جو سنگدلی سے ملی ہوئی نہ ہو بلکہ رحمت اور لطف و کرم سے جڑواں ہو۔ بعد والی آیت بطور عموم آفریش کے نظام احسن کی طرف بطور خاص اور خلقت انسان کے آغاز اور اس کے ارتقائی مراحل کی طرف بطور عام اشارہ ہے اور فرماتا ہے"وہ وہی ہے جس نے جس چیز کو پیدا کیا بہت اچھا پیدا کیا": (الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ)- ہر چیز کو جس شے کی ضرورت تھی اس نے دی، دوسرے لفظوں میں خلقت عظیم محل کی بنیاد کو "نظام احسن" یعنی ایسے نظم و ضبط پر استوار کیا، جس سے زیاده کامل کا تصور نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام موجودات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی اور ہر ایک کو وہی کچھ عطا فرمایا جو وہ زبان حال سے چاہتا تھا۔ اگر انسان کے وجود پر نگاہ کریں اوراس کے بعد ان کے مختلف کار خانوں میں سے ہر ایک کو مدنظر رکھیں تو معلوم ہو گا، کہ وہ ساخت، حجم، سالموں کی وضح اور کیفیت ان کی طرزِ کار بالکل اسی طرح خلق کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ پر طریقہ پر انجام دے سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اعضاء کے درمیان اس طرح مربوط نظام اور ہم آہنگی عطا کی ہے کہ وہ سب بغیر استثناء کے یا تو ایک دوسرے پر موثر ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہی معنی بطور کلی تمام عالم پر حکم فرما ہے، باوجودیکہ اس کی مخلوقات خصوصًا زندہ موجودات کی دنیا میں تنوع پایا جاتا ہے اور بڑا فرق بھی۔

خلاصه

دھنده ای کہ بہ گُل نکہت و بہ گِل جان واد بہ ھر کہ آنچہ سزا دید حکمتش آن داد! وہ جس نے پھول کو خوشبو اور مٹی میں رُوح پھونکی جو جس کے لائق تھا، خالق حکمت نے اسے وہی کچھ دیا، جی ہاں وہی ہے جو پھولوں کو انواع و اقسام کی دل انگیز خوشبو میں عطا کرتا ہے اور وہی ہے جو خاک اور مٹی کو روح اور جان دیتا ہے اور اس سے ایک آزاد اور باہوش انسان کو پیدا کرتا ہے اور اسی سیاہ مٹی سے کبھی انواع و اقسام کے پھول کبھی انسان اور کبھی دوسرے موجودات کی انواع پیدا کرتا ہے، یہاں تک کہ خود کہ مٹی کو بھی اپنی حد تک جس چیز کا حامل ہونا چاہئے، اسی کی حامل ہے۔ اسی طرح کی گفتگو ہم سورہ طٰہٰ کی آیت ٥٠ میں حضرت موسٰی و ہارون کے قول سے پڑھتے ہیں: "رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى" ( سورة طه) "ہمارا پروردگار تو وہ ہے، جس نے ہر موجود کو جو کچھ اس کی آفرنیش کے لیے ضروری تھا عطا کیا اور پھر اس کی تمام مراحل وجود میں رہبری کی"۔ یہاں پر ایک سوال برائیوں کی خلقت اور "کائنات کے احسن نظام" کے ساتھ سازگاری کی کیفیت کے بارے میں سامنے آتا ہے، جسے ہم انشاءاللہ نکات کی بحث میں پوری تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔ اس کے بعد قرآن اس"آفاق" کی مقدمہ اور تمہید کو ذکر کرنے کے بعد "الفنس" کی بحث میں وارد ہوتا ہے۔ اور جس طرح آفاقی آیات کی بحث میں توحید کی مختلف اقسام کے بارے میں گفتگو کی تھی، یہاں انسان کے بارے میں چند عظیم نعمتوں کی بات کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے "خدا نے انسان کی خلقت کی ابتداء مٹی سے فرمائی ": (وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ)۔ تاکہ اس سے ایک طرف تو اپنی قدرت کی عظمت بھی بیان کرے کہ اس قسم کی برجستہ مخلوق کو اس طرح کے سادہ اور معمولی قمیت کے موجود سے خلق کیا ہے اور اس "دل آویز" نقش کو"پانی اور مٹی" سے خلق فرمایا ہے۔ اور اس انسان کو تنبیہ اور خبردار بھی کرے کہ تو کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا؟ واضح رہے کہ یہ آیت "آدم" کی خلقت کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے، نہ کے تمام انسانوں کے بارے میں کیونکہ ان کی نسل کو جاری رکھنا بعد والی آیت میں پیش کیا گیا ہے اور اس آیت کا ظہور واضح دلیل ہے، انسان کی مستقل خلقت اور (کم از کم نوع انسانی کے بارے میں) تحوال انواع کے مفروضہ کی نفی کے لیے یعنی نظریہ ارتقاء کی نفی کی ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس آیت کی اس طرح تفسیر کرنا چاہی ہے کہ وہ انواع کے ارتقاء کے ساتھ بھی سازگار ہو۔ کیونکہ انسان کی خلقت پست ترانواع کی طرف لوٹتی ہے اور پھر وہ پانی اور مٹی پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن آیت کی ظاہری تعبیر یہ ہے کہ "آدم" اور "مٹی" کے درمیان دوسری بےشمارانواع زنده موجودات کا فاصلہ نہیں تھا بلکہ انسان کی خلقت بغیر کسی واسطہ کے مٹی سے ہی صورت پزیر ہوئی ہے۔ البتہ قرآن نے دوسری جاندار انواع کے بارے میں گفتگو نہیں کی ہے۔ یہ یعنی سورہ آل عمران کی آیت ٥٩ کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ واضح بو جاتا ہے، جہاں وہ کہتا ہے: "إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ"۔ (آل عمران)۔ "عیسٰی کی باپ کے بغیر خلقت کوئی عجیب چیز نہیں ہے وہ آدم کی خلقت کی طرح ہے کہ مٹی سے پیدا کیا"۔ اور سورۂ حجر کی آیہ ٢۶ میں فرماتا ہے: "وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ" "ہم نے انسان کو خشک مٹی سے کہ جو بدبودا مٹی سے پیدا ہوئی تھی بنایا ہے"۔ ان تمام آیات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدم کی خلقت یا مستقل مخلوق کی صورت میں خشک اور گیلی مٹی سے وجود میں آئی ہے۔ اور سب کو معلوم ہے کہ تحول انواع کا مفروضہ ہرگز ایک قطعی و یقینی علمی مسئلہ کی صورت اختیار کیے ہوئے نہیں ہے تاکہ ہم اوپر والی آیات کے ساتھ اس کے تضاد کی وجہ سے ان کی کسی اور طرح سے تفسیر کریں، دوسرے لفظوں میں جب تک واضح قرینہ ظواہر آیات کے برخلاف موجود نہ ہو تو انھیں ان کے ظاہری معنی پر ہی تطبیق کرنا ہو گی اور آدم کی مستقل خلقت کا مطالعہ بھی بالکل یہی ہے۔ بعد والی آیت نسل انسانی کی خلقت اور اولاد آدم کی ولادت کے بعد کے مراحل کی کیفیت کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے۔" پھر خدا نے اس کی نسل کو ناچیز اور بےقدر پانی کے نچوڑنے سے قرار ديا": (ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ)۔ یہاں "جعل" دراصل خلقت کے معنی میں ہے۔ اور"نسل" اولاد اور تمام مراحل میں اولاد در اولاد کے معنی میں ہے۔ "سلاله" اصل میں ہر چیز کا خالص اور نچوڑ کے معنی میں ہے اور یہاں پر مراد آدمی کا نطفہ ہے۔ جو حقیقت میں اس کے کل وجود کا نچوڑ ہوتا ہے اور اولاد کی پیدائیش مبداء اور نسل کو جاری رکھنے کا منبع ہے۔ یہ پانی جو ظاہرًا بے قدر و قمیت اور اپنی ساخت اور اس میں تیرنے والے حیاتیاتی سالموں کے لحاظ سے اور اس طرح مخصوص مائع اور سیال ترکیب کے لحاظ سے کہ جس میں سالمے تیرتے رہتے ہیں، بہت ہی ظریف اور حد سے زیادہ پچیدہ ہے اور عظمت پروردگار اور اس کے علم و قدرت کی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اور لفظ "مہین" جو ضعیف، حقیر اور ناچیز کے معنی میں ہے، اس کي ظاہر وضع اور کیفیت کی طرف اشارہ ہے، ورنہ یوں تو مرموز ترین موجودات میں سے ہے۔ بعد والی آیت رحم کی دنیا میں انسانی ارتقاء کے پیچیدہ اور اسی طرح ان مراحل کی طرف اشارہ ہے، جو آدم نے مٹی سے خلقت کے وقت طے کیے تھے، فرماتا ہے:" پھر انسان کے بدن کو موزوں بنایا:" (ثم سوّاہ)۔ "اور اپنی روح میں سے اس میں پھونکا": (ونفخ فيہ من روحه)- "اور تمھارے لیے کان، آنکھیں اور دل قرار دیئے"۔ (وجعل لكم السمع والابصار و الافدۃ)- "لیکن بہت کم تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے بو:" (قليلًا ماتشكرون)۔ "سواہ" مادہ "تسوية" سے تکمیل کرنے کے معنی میں ہے اور یہ ان تمام مراحل کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں انسان نطفہ کی صورت سے لے کر اس مرحلہ تک جبکہ اس کے بدن کے تمام اعضاء ظاہر ہوتے ہیں طے کرتا ہے اور اسی طرح وہ مراحل کہ جو آدم نے مٹی سے خلق ہونے سے لے کر نفخ روح تک طے کیے تھے۔ (تشریحی نوٹ: قابل توجہ یہ ہے کہ بعض نے اس آیت کو صرف جنینی ارتقاء کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور بعض نے احتمال دیا ہے کہ ممکن ہے یہ آدم کے مٹی سے پیدا ہونے کے بعد جو مراحل طے کئے ہیں، صرف اس کی ناظر ہو (کیونکہ قران کی دوسری آیات میں بعینہ یہی تعبیرات خلقت آدم کے بارے میں آئی ہیں لیکن دونوں کی طرف لوٹے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ آدم کی مٹی سے خلقت بھی اور نطفہ کے پانی سے بھی اس کی نسل نے بھی ان مراحل کو طے کیا ہے اور طے کرتے رہتے ہیں)۔ "نفخ" (پھونکنے کی تعبیر روح کے آدمی کے بدن میں روح کے حلول سے کنایہ ہے، گویا اسے ہوا اور تنفس تشبیہ دی گئی ہے۔ اگرچہ نہ یہ معنی مراد ہے اورنہ وہ۔ اور اگر کہا جائے کہ انسان کا نطفہ تو ابتداء ہی سے، جب کہ وہ رحم میں قرار پاتا ہے اور اس سے پہلے بھی تو ایک زندہ موجود ہے، تو پھر اس بناء پر نفخ روح کا کیا معنی ہے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ابتداء میں جب نطفہ منعقد ہوتا ہے تو صرف ایک قسم کی حیات نباتی کا حامل ہوتا ہے، یعنی صرف غذا حاصل کرتا اور نشو و نما پاتا ہے، لیکن نہ تو اس میں حس و حرکت جو "حیات حیوانی" کی نشانی ہے اور نہ ہی قوت ادراک جو "حیات انسانی" کی نشانی ہے موجود ہوتی ہے۔ لیکن رحم میں نطفہ کا ارتقاء: اس مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ حرکت کرنے لگتا ہے اور تدریجًا دوسری انسانی طاقتیں اس میں زندہ ہو جاتی ہیں اور یہ وہی مرحلہ ہے، جسے قرآن نفخ روح سے تعبیر کرتا ہے۔ "روح" کی "خدا" کی طرف اضافت اصطلاح کے مطابق "اضافت تشریفی" ہے یعنی ایک زبردست قمیتی اور باشرافت روح جو اس قابل ہے کہ اسے رُوح خدا کا نام دیا جائے انسان میں پھونکی جاتی ہے اور یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان اگرچہ "مادی جہات" کے لحاظ سے "تاریکی مٹی" یا "بےقدر قیمت پانی" سے ہے۔ لیکن معنوی اور روحانی لحاظ سے "روح الٰہی" کو حامل ہے۔ ایک طرف تو اس کا وجود مٹی پر اور دوسری طرف عرش پروردگار پر جا کر ختم ہو جاتا ہے اور ایک حیران کن معجون ہے: "کز فرشتہ سرشتہ وزحیوان" (فرشتہ اور حیوان کا معجون مرکب ہے)۔ اور ان دو پہلوؤں کے حامل ہونے کی وجہ ہے اس میں قوس صعودي و نزولی اور تکامل و انحطاط حد سے زیادہ وسیع ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس سلسلہ میں تفسیر نمونہ کی جلد نمبر ۶ میں سورۂ حجر کی آیت ٢٩ کے ذیل میں بھی ہم بحث کر چکے ہیں)۔ قرآن کے آخری مرحلہ میں جو خلقت انسان کا پانچواں مرحلہ شمار ہوتا ہے، کان اور آنکھ اور دل ایسی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ البتہ یہاں مقصد ان اعضا کی خلقت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ خلقت تو نفخ روح سے پہلے صورت پذیر ہوتی ہے، بلکہ مراد سننے، دیکنھے اور درک و خرد کی حس ہے۔ یہ جو تمام "ظاہری" اور "باطنی" حواس میں سے صرف ان تین پر اکتفا کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اہم ترین ظاہری حواس جو انسان اور اس کی بیرونی دنیا کے درمیان طاقت ور رابطہ نمائی کرتے ہیں، وہ کان اور آنکھ ہیں۔ کان آوازوں کا ادراک کرتے ہیں ــــــ خاص کر تعلیم و تربیت ان کے ذریعے ہی انجام پاتے ہیں اور آنکھ بیرونی دنیا اور اس عالم کے مناظر کے دیکھنے کا ذریعہ ہے۔ اور عقل و خرد کی قوت انسان کے باطنی حواس میں سے اہم ترین حس ہے، جو دوسرے لفظوں میں وجود بشر پر حکمران ہے۔ جالب توجہ یہ کہ "افئدة"، "فؤاد" کی جمع ہے کہ جو قلب (دل) کے معنی میں ہے۔ لیکن اس سے زیادہ ظریف و عمدہ و معنی رکھتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے، جہاں بصیرت اور پختگی" ہو۔ اور اس طرح سے خدا نے اس آیت میں شناخت اور معرفت کے اہم ترین آلات جو انسان کے وجود کے "ظاہر" و "باطن" میں ہیں، بیان کیے ہیں کیونکہ علوم انسانی یا تو "تجربہ" کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں، اور اس کا ذریعہ آنکھ اور کان ہیں۔ اور عقلی تجزیہ و تحلیل اور استدلالات کے ذریعہ ہوتا ہے اور ان کا ذریعہ عقل و خرد ہے کہ قرآن میں وہ "افئده" سے تعبیر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ادراکات جو وحی، انشراق اور شہود کے طریقہ سے قلبِ انسان میں صورت پذیر ہوتے ہیں۔ وہ بھی انہی "افئدہ" کے وسیلہ سے ہو تے ہیں۔ اگر شناخت اور پہچان کے یہ ذرائع انسان سے چھین لیے جائیں تو اس کے وجود کی قدر و قیمت مٹھی بھر خاک اور سنگریزوں کی حد تک سقوط کر جائے گی۔ اسی بناء پر زیر بحث آیت کے آخر میں انسانوں کو ان عظیم نعمتوں کی شکر گزار ہی کے مسئلہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہے۔ بہت کم اس کا شکر بجا لاتے ہو، جو اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر بھی ان عظیم عظمتوں کا شکر بجا لاؤ بہ پھر بھی کم ہے۔

ایک نکتہ مٹی سے آدمؑ کی خلقت کی کیفیت:

اگرچہ قرآن کی مختلف آیات میں کبھی تو "مٹی" سے انسان کی خلقت کی گفتگو کی ہے (جیسے اوپر والی آیات میں) سورہ اسراء کی آیت ۶١ میں آدم و ابلیس کی داستان میں آیا ہے: " فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا" "تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے کہا، کیا میں اس کو سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا شدہ پے"؟ (سورۂ اسراء ۔ ۶١) اور کبھی پانی سے خلقت کی گفتگو کی ہے۔ مثلًا " وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ" (انبیاء ۔ ٣٠) لیکن واضح رہے کہ یہ سب چیزیں ایک ہی مطلب کی طرف لوٹتی ہیں، یہاں تک کہ وہ جگہ بھی کہ جہاں آدمؑ کی "تراب" (مٹی، سے خلقت کی گفتگو ہے۔ "إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ" (آل عمران-٥٩) کیونکہ مراد گیلی مٹی ہے۔ (یعنی گارا ہے)۔ یہاں پر دو نکتے واضح ہو جاتے ہیں: (١) جن لوگوں نے احتمال یہ دیا ہے کہ انسان کی مٹی سے خلقت سے مراد یہ ہے کہ افراد بشر نباتات سے براہ راست یا غیر مستقیم طور پر غذا حاصل کرتے ہیں اور نباتات میں سارے مٹی سے ہیں، ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کی آیات ایک دوسرے کا تفسیر کرتی ہیں اور زیر بحث آیات کے قرینہ سے "خود آدمؑ" کی خلقت کی طرف اشارہ ہیں جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ (٢) یہ تمام آیات "نظریہ ارتقاء" کی نفی پر دلیل ہیں (کم از کم انسان کے بارے میں) اور نوع بشر جو"آدمؑ" پر منتہی ہوتی ہے ایک مستقل خلقت کی حامل ہے۔ اور جن لوگوں نے یہ گمان کیا کہ مٹی سے خلقت والی آیات نوع انسانی کی طرف بیں جو ہزار ہا واسطوں سے اکیلے اور طاق سالمے والے موجودات کی طرف لوٹتی ہیں، اور وہ آخری مفروضات کی بناء پر سمندروں کے ساحلوں کی دلدل سے وجود میں ائے ہے۔ باقی رہے خود حضرت آدم وہ ایک فرد تھے کہ جھنیں نوع بشر کے درمیان سے منتخب کیا گیا۔ لیکن وہ کوئی مستقل خلقت نہیں رکھتے تھے، بلکہ ان کا امتیاز ان کے مخصوص صفات سے تھا، کسی طرح بھی آیات قرآنی کے ظاہر سے سازگار نہیں ہے۔ ہم ایک بار پھر تاکید کرتے ہیں کہ تحول انواع کا مسئلہ کوئی مسلم علمی قانون و کلیہ قاعدہ نہیں ہے، بلکہ صرف ایک مفروضہ ہے کیونکہ وہ چیز کہ جس کے ڈانڈے کئی لاکھ سال قبل قاعدہ تک جا ملتے ہیں، جو یقینًا قابل تجربہ اور مشاہدہ نہیں ہے اور نہ ثابث شدہ علمی قوانین کو صف میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بلکہ ایک ایسا مفروضہ ہے کہ جو مختلف انواع و اجناس کے ظہور کی توجیہ کے لیے وجود میں آیا ہے اور اس کی قدر و قیمت صرف اسی قدر ہے کہ وہ عالم میں ظہور پذیر ہونے والی چیزوں کی اندازا توجیہ کرتے ہیں۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ مفروضے ہمیشہ ایک حال پر باقی نہیں رہتے، بلکہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور نئے مفروضے ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ اسی بناء پر کبھی بھی ایسے مفروضوں پر فلسفی مسائل کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی، کیونکہ فلسفی مسائل کی بنیادیں ٹھوس اور محکم ہوتی ہیں۔ ہم ارتقاء انواع کے مفروضہ کی بنیادوں اور ان کے غیر مستحکم ہونے کے بارے میں جلد ٦ صفحہ ١٨٠ کے بعد کے صفحات "قرآن اور خلقت انسان" کے عنوان کے تحت سوره حجر کی آیت ٢٨ کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔ اس بحث کے آخر میں اس نکتہ کی یاد آوری ضروری سمجھتے ہیں کہ ارتقاء کے مفروضہ کا مسئلہ "توحید اور خدا شناسی" سے کسی قسم کا کونی ارتباط نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ ماوراء طبیعت عالم کی نفی پر دلیل شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اعتقاد توحیدی کہتا ہے کہ کائنات خدا کی طرف سے خلق ہوئی ہے اور خدا نے اسے موجودات کے تمام خواص عطا کیے ہیں اور خدا کی طرف تمام مراحل میں ان پر میں نازل ہوتا ہے۔ اس معنی کو "ثبوت انواع" کے نظریے کا مقصد بھی اسی طرح قبول کر سکتا ہے، جس طرح تحول انواع کے مفروضہ کا کوئی معتقد قبول کرتا ہے، صرف ایک مشکل جس سے تحول کا مفروضہ دوچار ہے، یہ کہ وہ اس تفصیل کے ساتھ میل نہیں کھاتا، اسے قرآن نے خلقت آدم کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس کی تخلیق مٹی اور گارے سے ہوئی ہے۔ اس بناء پر ہم ارتقاء کے نظریہ کی صرف اسی دلیل سے نفی کرتے ہیں نہ کہ مسئلہ توحید کی مخالفت کی بناء پر۔ یہ بات تو تھی تفسیری لحاظ سے۔ رہا علمی (سائنسی) اعتبار سے اس کی نفی کا تعلق، تو چونکہ اس کے ثبوت کے لیے قطعی دلائل موجود نہیں ہیں، لہذا ہم اس لحاظ سے بھی اس کی نفی کرتے ہیں۔

10
32:10
وَقَالُوٓاْ أَءِذَا ضَلَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدِۭۚ بَلۡ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كَٰفِرُونَ
انہوں نے کہا کیا جس وقت ہم مر جائیں گے اور زمین میں گم ہو جائیں گے تو نئی زندگی پا لیں گے ؟ لیکن وہ تو اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
32:11
۞قُلۡ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلۡمَوۡتِ ٱلَّذِي وُكِّلَ بِكُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ
کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مامور ہوا ہے،تمہاری (روح کو) قبض کر لے گا، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جاؤ گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
32:12
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلۡمُجۡرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ
اور اگر تم ان مجرموں کو دیکھو، جس وقت کہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سر نیچے کئے ہوئے کہیں گے،پروردگارا ! جو کچھ تو نے وعدہ کیا تھا ہم نے اسے دیکھا اور سناہے۔ ہمیں واپس پلٹا دے تاکہ ہم عمل صالح بجا لائیں۔ ہم قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
32:13
وَلَوۡ شِئۡنَا لَأٓتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدَىٰهَا وَلَٰكِنۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ مِنِّي لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
اوراگر ہم چاہتے تو ہر انسان کو(جبری طور پر اور) لازمی ہدایت دیتے لیکن ہم نے(انہیں آزاد چھوڑ رکھا ہے اور) مقرر کیا ہے کہ دوزخ کو(بے ایمان اور گناہگار)جن وانس کے تمام افراد سے بھر دیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 14 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
32:14
فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَآ إِنَّا نَسِينَٰكُمۡۖ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
(اور ان سے کہو کہ عذاب جہنم کو) چکھوٗ اس لئے کہ آج کی ملاقات کو تم نے فراموش کر دیا تھا۔ہم نے بھی تمہیں فراموش کیا ہے اور ہمیشہ کے عذاب کو ان اعمال کی وجہ سے چکھو جو تم نے انجام دیئے ہیں۔

تفسیر ندامت اور بازگشت کا تقاضا:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

یہ آیات معاد کے بارے میں ایک بولتی ہوئی ناطق بحث کے ساتھ شروع ہو رہی ہیں۔ اس کے دوسرے جہان میں "مجرمین" کی حالت کو بیان کرتا ہے اور مجموعی طور گزشتہ بحثوں کی تکمیل ہے جو "مبداء" کے بارے میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ "مبداء و معاد" کی بحث قران مجید میں عام طور پر ایک دوسرے سے ملی ہوئی بے۔ پہلے کہتا ہے "انہوں نے کہا کیا جس وقت ہم مر گئے اور مٹی ہو گئے اور زمین میں گم ہو گئے تو نئی پیدائش پائیں گے"۔ (وَقَالُوا ءَاذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ)۔ "زمین میں گم ہو جانے" کی تعبیر (ضللنافی الارض) اس طرف اشارہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد پانی مٹی طرح خاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہر ذرہ عوامل طبیعی اور غیر طبیعی کی بناء پر ایک گوشہ میں جا پہنچتا ہے اور پھر اس کی کوئی چیز بھی باقی نظر نہیں آتی تا کہ اسے قیامت میں دوبارہ پلٹانے کا یقین دلائے۔ لیکن حقیقت میں وہ اپنے اس کام سے قدرت خدا کے منکر نہیں ہیں ۔" بلکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں"۔ (بَلْ هُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ)۔ وہ چابتے ہیں کہ پروردگار کی ملاقات کے مرحلہ کا انکار کریں جو حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد عمل میں آزادی حاصل کریں تاکہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں انجام دیں۔ درحقیقت، یہ آیت سورہ قیامت کی پہلی آیات سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے جہاں قرآن نے کہا ہے: "أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ يَسْـئَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ" "کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اس کی پراگندہ اور بکھری ہوئی ہڈیوں کو ہم جمع نہیں کر سکیں گے؟ ہم تو یہاں تک قادر ہیں کہ تمھاری انگلیوں کے پوروں (کے خطوط) پہلے نظام کی طرف پلٹا دیں، لکین انسان کا بدف و مقصد یہ ہے کہ وہ دن جو اس میں اس کے سامنے ہے (انکارِ قیامت کر کے) فسق و فجور اور گناہ کے ساتھ گزار دے۔ اس لیے پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی"۔ (سورہ قیامت ۳ تا ٦) اس بناء پر وہ استدلال کے لحاظ سے لولہے لنگڑے نہیں بلکہ ان کی تن آسانی نے ان کے دل پر حجاب ڈال رکھا ہے اور ان کی بری نیتیں مسئلہ معاد کے قبول کرنے سے مانع ہیں۔ ورنہ وہی خدا جس نے مقناطیس کو بے اثر بخشا ہے کہ لوہے کے بہت ہی چھوٹے ذرات کو جو منوں مٹی کے اندر چھپے ہوتے ہیں، انہیں ایک گردش سے اپنی طرف جذب کر کے آسانی کے ساتھ انھیں جمع کر لیتا ہے، کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ انسان کے جسم کے ذرات کے درمیان بھی اس قسم کی کشش پیدا کر دے؟ کون شخص انکار کر سکتا ہے کہ ایک انسان کے جسم میں موجود مختلف پانی (اور جسم انسانی کا اکثر حصہ پانی پر ہی مشتمل ہے) اور اسی طرح اس کے غذائی مواد میں سے ہر ایک مثلًا ایک ہزار سال قبل ان کی ہر ہر جز اس عالم کے کسی گوشہ میں بکھری پڑی تھی۔ ہر قطرہ ایک سمندر میں اور ہر ذره ایک اقلیم اور براعظم میں، لیکن وہ بادل و بارش اور دوسرے قدرتی عوامل کے ذریعے جمع ہوئے اور آخرکار وجود انسان کو تشکیل دیا تو کونسا مقام تعجب ہے کہ پراگنده اور منتشر ہونے کے بعد دوبارہ پہلی حالت کو طرف پلٹ آئیں اور ایک دوسرے سے آ ملیں؟ بعد والی آیت ان کا جواب ایک دوسرے طریقے سے دیتی ہے۔ کہتی ہے۔ یہ ٓتصور نہ کرو کہ تمھاری شخصیت تمھارے شخصیت اسی جسمانی بدن کے ساتھ ہے بلکہ تمھاری شخصیت کی اساس و بنیاد کو تمہاری روح تشکیل دیتی ہے اور وہ محفوظ ہے "کہہ دے کہ موت کا فرشتہ جو تم سب پر مقرر کیا ہے تمہاری (روح) قبض کرتا ہے، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جاتے ہو": (قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ)۔ "يَتَوَفَّاكُم" کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو مادہ "توفی" بروزن تصدی" میں ہے واپس لینے کے معنی میں ہے۔ موت فنا اور نابودی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ فرشتے کے ایک طرح سے آدمی کی روح کو قبضے میں لے لینے کے معنی میں ہے وہ روح جو وجود انسان کے اہم اور بنیادی حصہ کو تشکیل دیتی۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن معاد جسمانی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور روح اور مادی جسم کی بازگشت کو قیامت میں قطعی اور یقینی سمجھتا ہے۔ لیکن اوپر والی آیت سے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسانی شخصیت کی اساس یہ مادی اجزاء نہیں ہیں جنہوں نے تمہاری تمام فکر کو اپنی مشغول کر رکھا ہے بلکہ وہ روحانی جوہر ہے، جو خدا کی طرف سے آیا ہے اور اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔ اور خلاصہ کے طور پر اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اوپر والی یہ آیت معاد اور قیامت کے منکرین کو اس طرح جواب دیتی ہے کہ اگر تمھاری مشکل جسمانی اجزاء کا منتشر اور پراگندہ ہونا ہے تو تم خود و قدرت خدا کو قبول کرتے ہو اور اس کے منکر نہیں ہوا اور اگر اس پراگندگی کی وجہ سے انسان کی شخصیت کے اضمحلال اور نابوی والی مشکل ہے تو وہ بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ انسانی شخصیت کی بنیاد روح پر استوار ہے۔ یہ اعتراض، مشہور شبۂ" أكل و مأكول" سے ملتا جلتا ہے اور اس کا جواب میں دو مقامات پر ایک دوسرے سے شباہت رکھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: شبه "اكل ومأ كول" کے سلسلہ میں مزید پر وضاحت اور اس کے تفصیلی جواب کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد ١ سوره بقرہ کی آیت ٢٦٠ ذیل میں ملاخطہ فرمائیں)۔ ضمنًا اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ چند ایک قرآنی آیات میں "توفی" اور "قبض ارواح" کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے: "اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا"۔ (زمر۔ ۴٢)۔ "خدا جانوں اور نفسوں کو موت کے وقت لے لیتا ہے"۔ اور بعض آیات میں فرشتوں کی ایک جماعت کی طرف نسبت: "الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ"۔ (نحل۔ ٢٨) وہ کہ فرشتے جن کی ارواح کو قبض کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ ظالم و ستمگر لوگ ہیں" ۔۔۔۔) اور زیر بحث آیات میں قبض ارواح کی نسبت "ملک الموت" (موت کے فرشتہ کی طرف دی گئی ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ان تعبیروں کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔ "ملک الموت" جنس کا معنی رکھتا ہے اور ان تمام فرشتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور یا پھر ان کے رئیس اور سب سے بڑے فرشتے کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ تمام فرشتے حکم خدا سے قبض روح کرتے ہیں، لہذا خدا کی طرف بھی نسبت دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد ان کافر مجرم اور معاد کے منکرین کی کیفیت جو قیامت میں اس کے مختلف مناظر کو مشاہدہ کرنے سے ہو گی۔ اپنے کیے پر سخت اور پشیمان ہوں گے۔ اس طرح جسم اور ان کی تصویر کشی کرتے بوئے کہتا ہے۔ اگر تو دیکھے مجرمین کو جس وقت کہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے سر نیچے کیے ہوۓ کہیں گے۔ پروردگار جو کچھ تو نے وعدہ کیا تھا، اس کو ہم نے دیکھا اور سنا ہے۔ ہم اپنے کیے پر نادم ہیں۔ ہمیں واپس پلٹا دے تاکہ ہم عمل صالح انجام دیں۔ ہم اس جہان قیامت پر یقین رکھتے ہیں"۔ (تو تم تعجب میں ڈوب جاؤ گے)۔ (وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیہ شریفہ "لو" شرطیہ ہے اور "ترٰی" کا جملہ اس کی شرط ہے اور اس جزا محذوف ہے اور تقدیری طور پر اس طرح ہے۔ وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ۔۔۔۔۔۔ لرأيت عجبا- رَبَّنَا أَبْصَرْنَا کے جملہ کا بھی ایک محزوف ہے اور وہ دراصل "یقولون رَبَّنَا أَبْصَرْنَا " ہے)۔ یقینًا آپ تعجب کریں گے کہ کیا یہ سر نیچے کئے ہوئے نادم اور پشیمان افراد وہی مغرور، سرکش اور منہ زور لوگ ہیں جو دنیا میں کسی حقیقت کے مقابلہ میں سر نہیں جھکاتے تھے؟ لیکن اب جبکہ قیامت کے مناظر کو دیکھیں گے اور مقام شہود پر پہنچ جائیں گے۔ تو کلی طور پر تغیر ہو کر بدل جائیں گے۔ لیکن بغیر اور بیداری جلدی گزر جانے والی ہے اور قران کی دوسری آیات کے مطابق اگر اس جہان کی طرف آئیں تو اپنی اسی روش و طریقہ کو جاری رکھیں گے۔ (انعام۔ ٢٨)۔ "ناكس"، "نكس" (بروزن عکس) کے مادہ سے کسی چیز کا اوندھے منہ ہونے کے معنی میں ہے۔ لیکن یہاں سر نیچے کرنے کے معنی میں ہے۔ "ابصرنا" (ہم نے دیکھا ہے) کو "سمعنا" (ہم نے سنا ہے) پر مقدم رکھنا اس بناء پر ہے کہ قیامت میں پہلے انسان اس کے مناظر سے رو برو ہو گا اور پھر اس کے بعد خدا اور اس کے فرشتوں کی باز پرس کو سنے گا۔ ضمناً جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "مجرمین" سے مراد یہاں کفار اور خصوصیت سے قیامت کے منکرین ہیں۔ بہرحال، یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم آیات قرآنی میں اس مسئلہ سے رو برو ہوتے ہیں کہ مجرمین نتائج اعمال کے اور عذاب الٰہی کے آثار کے مشاہدے سے سخت پریشان ہوں گے اور دنیا کی طرف بازگشت کا تقاضا کریں گے۔ حالانکہ سنت الٰہی کی لحاظ سے اس قسم کی بازگشت امکان نہیں رکھتی، جس طرح کہ نوزاد بچے کی بازگشت رحم مادر کی طرف اور درخت سے۔ جدا شدہ پھل کی بازگشت درخت کی طرف ممکن نہیں ہوتی۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مجرمین کا دنیا کی طرف بازگشت کا تقاضا صرف عمل صالح انجام دینے کے لیے ہے، اور اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ قیامت میں سرمایہ نجات صرف اعمال صالح ہی ہیں۔ ایسے اعمال جو پاک اور ایمان لبریز اور خالص نیت سے انجام پائیں۔ اور چونکہ ایمان کو قبول کرنے کے لئے آیت کا سارا اصرار اور زیادہ زور ممکن ہے، یہ تو ہم پیدا کرے کہ کیا خدا اس قدر قدرت و توانانی نہیں رکھتا کہ نور ایمان کا پر تو ان کے دل میں ڈال دے؟ تو بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے۔ "اگر ہم چاہتے تو ہر انسان کو(جبری طور پر) ضروری ہدایت دے دیتے": (وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا)- یقینًا ہم ایسی قدرت رکھتے ہیں لیکن ایسا ایمان جو ہمارے جبری طریقے سے وجود میں آئے تو ایسا ایمان کی چنداں قمیت نہیں ہے، لہذا میں نے ارادہ کر لیا کہ بنی نوع انسان کو یہ اعزاز اور افتخار بخشیش کہ وه "مختار" ہو اور ارتقائی مراحل اپنے قدموں سے طے کرے۔ لہذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے۔ "میں نے انھیں آزاد چھوڑ دیا، لیکن مقرر کر دیا کہ دوزخ کو بےایمان اور گناہگار جن و انس کے تمام افراد سے بھر دوں": (وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ)۔ جی ہاں انھوں نے اپنے غلط اختیار سے اس راہ کو طے کیا ہے لہذا وہ سزا اور عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ہم نے بھی قطعی ارادہ کر لیا ہے کہ دوزخ کو ان سے بھر دیں۔ اگر اس بات کو مدنظر رکھا جائے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے، اسی طرح قرآن مجید کی سینکڑوں آیات کو دیکھا جائے جو انسان کو مختار، صاحب اراده مکلف بتکالیف شرعیہ اپنے اعمال کا جواب ده، انبیاء، تہذیب نفس اور خود سازی کے ذریعہ قابل ہدایت و اصلاح سمجھتی ہیں تو اوپر والی آیت کے بارے میں ہر قسم کا تو ہم دور ہو جاتا ہے کہ یہ جبر کی دلیل ہے جیسا کہ فخر رازی وغیرہ نے خیال کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اوپر والا دو ٹوک فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کہیں یہ تصور نہ کرنا کہ خدا کی رحمانیت و رحیمیت گناہوں سے آلودہ اور ستم گر مجرموں کی سزا اور عذاب سے مانع ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ آیات رحمت سے مغرور ہو جاؤ اور اپنے آپ کو خدا کی سزا اور عذاب سے معاف تصور کرو۔ کیونکہ اس کی رحمت کا اپنا مقام ہے اور غضب کا اپنا مقام۔ "لاملئن" کے جملہ کے اول میں لام قسم اور اخر میں نون تاکید کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے اس وعدہ کو پورا کرے گا اور دوزخ کو ان دوزخیوں سے بھر دے گا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو حکمت کے خلاف ہے۔ اس لیے بعد کی آیت میں کہتا ہے، ہم ان دوزخیوں سے کہیں گے کہ جہنم کا عذاب اس بناء پر چکھو کہ آج کی ملاقات کو تم بھول گئے تھے۔ اور ہم نے بھی تمھیں فراموشی کے حوالے کر دیا"۔ (فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ)۔ "اور نیز ہمیشگی کے عذاب کو ان اعمال کی وجہ سے چکھو، جنہیں تم انجام دیتے تھے"۔ (وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ)- اس آیت سے ایک بار پھر معلوم ہوتا ہے، قیامت کی دادگاہ اور علامت کو بھول جانا ہی انسان کی بدابختی کا اصل سرچشمہ ہے اور یہی وہ صورت ہے کہ جس میں وہ اپنے آپ کو قانون شکنی اور مظالم کے سلسلہ میں آزاد سمجھتا ہے، نیز اس آیت سے یہ بات کا بھی اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ابدی اور ہمیشہ کی سزا و عذاب ان اعمال کی وجہ سے ہی ہے جنہیں انسان خود انجام دیتا ہے۔ نہ کوئی اور چیز! (تشریحی نوٹ: "خلود اور عذاب جاودانی کے فلسفہ" کے بارے میں جلد ٥ میں ۔۔۔۔۔۔۔ سورہ ہود آیت ١٠٧ کے ذیل میں ہم ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں)۔ ضمنًا: بندوں کے بارے میں پروردگار کی خاموشی سے مراد یہاں خدا کی بےاعتنائی، ترک حمایت اور فریاد رسی نہ کرنا ہے۔ ورنہ سارا جہان ہمیشہ پروردگار کے سامنے ہے اور اس کے بارے میں فراموشی ایک بےمعنی سی بات ہے۔

چند اہم نکات: ١- روح کا استقلال اور اس کی اصلیت:

اوپر والی آیات میں سے پہلی آیت جو موت کے فرشتہ کے ذریعے قبض ارواح پر دلالت کرتی ہے، انسان کی روح کے استقلال کی دلیل ہے۔ کیونکہ "توفي" سے تعبیر جو حاصل کرنا اور قبض کرنا کے معنی میں ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ بدن سے جدائی کے بعد روح نابود نہیں ہوتی بلکہ باقی رہ جاتی ہے اور اصولًا اوپر والی آیت میں انسان کو روح یا نفس سے تعبیر کرنا اس معنی پر ایک اور گواہ ہے کیونکہ مادہ پرستوں کے عقیدے کے مطابق روح سالموں کے "فزیکل اور کیمیکل" خواص کے علاوہ، کچھ نہیں جو بدن کے فنا ہوئے کے ساتھ نابود ہو جاتے ہیں جیسے گھڑی کے نابود ہونے کے ساتھ ہی اس کی سوئی کی حرکت بند ہو جاتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق روح کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو انسانی شخصیت کی محافظ ہو بلکہ اس کے جسم کے خواص کی ایک جزء ہے، جسم کے ختم ہو جانے سے ختم ہو جاتی ہے۔ رُوح کی اصلیت اور استقلال کے سلسلے میں ہمارے پاس متعدد فلسفی دلائل موجود ہیں۔ ان کا ایک گوشہ سورة و بنی اسرائیل کی آیت ٨٥ کے ذیل میں جلد ٦ میں اہم بیان کر چکے ہیں، یہاں پر مقصود صرف اس موضوع پر نقلی دلیل کو بیان کرنا تھا اور اوپر والی آیت کا شمار اس معنی پر دلالت کرنے والی آیات میں ہوتا ہے۔

٢- موت کا فرشتہ (ملک الموت):

قرآن مجید کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند عالم فرشتوں کے ایک گروہ کے ذریعہ اس جہان کے امور کی تدبیر کرتا ہے جیسا کہ سوره نازعات کی آیت ٥ میں فرماتا ہے (فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا) قسم ہے ان فرشتوں کی جو حکم خدا سے تدبیر پر امور کرتے ہیں"۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سنت الٰہی اس پر ہے کہ وہ اپنی مشیت کو اسباب کے ذریعے سے عملی شکل دیتا ہے، اور ان فرشتوں میں سے ایک گروه قبض ارواح کرنے والا ہے جن کی طرف سورہ نحل کی آیت ٢٨ اور ۳۳ میں قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے اور ان سب میں سرفہرست "ملک الموت" قرار پاتا ہے۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ ضروری نظر آتا ہے۔ ا- ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ منقول ہے۔ آپؐ نے فرمایا: الامراض والأوجاع كلها بريد الموت و رسل الموت! فاذا حان الأجل الی ملك الموت بنفسه فقال يا ايها العبد كم خبر بعد خبر؟ وكم رسول بعد رسول؟ وكم برید بعد برید؟ انا الخبر الذي ليس بعدی خبر" "بیماریاں اور درد و تکالیف سب موت کے قاصد اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں، جس وقت انسان کی زندگی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور موت کا فرشتہ آ جاتا ہے (تو وه) اس فرشتہ کو دیکھ کر وحشت کرتا ہے اور اسے کسی پیشگی اطلاع دیئے بغیر خیال کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے اے بندہ خدا کس قدر متواتر خبریں پے در پے قاصد اور مسلسل پیغام رساں تیری طرف بھیجے ہیں۔ اب میں آخری خبر ہوں اور میرے بعد کوئی خبر نہیں ہے"۔ پھر وہ کہتا ہے "اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کرتے۔ چاہے رضا و رغبت کے ساتھ یا جبر و اکراہ کے ساتھ"۔ اور جس وقت موت کا فرشتہ اس کی رُوح قبض کرتا ہے اور اس کے عزیز و اقارب ناله و شیون بلند کرتے ہیں تو وہ پکار کے کہتا ہے: وعلى من تبکون: فواللہ ما ظلت له اجلًا ولا اكلت له رزقًابل دعاہ ربہ"۔ کس پر تم چیخ پکار کر رہے ہو؟ اور کسی کے لیے آنسو بہا رہے ہو؟ خدا کی قسم اس کا وقت آن پہنچا ہے اور وہ ساری روزی نہیں کھا چکا ہے۔ اس کے پروردگار نے اس دعوت دی ہے، اور اس نے اس کی دعوت کو قبول کیا ہے"۔ " فلیبک الباکی على نفسه، وان لي فيكم عودات وعودات حتى لا ابقی فيكم احدًا۔ "اگر رونا چاہتے ہو تو اپنے آپ پر گریہ کرو، میں پھر بھی بارہا تمھارے پاس آؤں گا یہاں تک کہ تم میں سے ایک شخص کو بھی باقی نہیں چھوڑوں گا"۔ (بحوالہ: مجمع البیان ذیل آیت زیر بحث و تفسیر نور الثقلین، ج۴ ص٢٢٥) ٢۔ ایک اور حدیث میں امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ ایک انصاری شخص کی عبادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ موت کے فرشتے کو اس کے سرہانے دیکھ کر فرمایا میرے اس دوست سے نرمی کا سلوک کرو، کیونکہ یہ ایک باایمان شخص ہے۔ ملک الموت نے عرض کی آپ کو بشارت ہو کہ میں تمام مومنین کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ اور آپ جان لیجئے کہ جس وقت میں بعض اولاد آدم کی روح قبض کرتا ہوں تو اس کے گھر والے آہ و فریاد کرتے ہیں تو میں گھر کے پاس کھڑا ہو جاتا ہوں اور کہتا ہوں، اس میں میرا تو کوئی گناہ نہیں، بلکہ اس کی اپنی زندگی ختم ہو گئی ہے، بارہا تمہاری طرف لوٹ کر آؤں گا خبردار، ہوشیار؛ پھر کہتا ہے (ما خلق الله من اهل بیت مدر ولاشعر ولا وبر، فی برّ ولا بحر الّا و انا اتصفحھم فی كل یوم ولیلة خمس مرات حتی انى لاعرف بصغیرهم وكبیرهم منھم بانفسهم" خدا نے کسی بھی شہر و بیایان، گھر، اورخیمہ، خشکی اور دریا میں رہنے والے انسان کو پیدا نہیں کیا، مگر یہ کہ میں ہر شبانہ روز میں پانچ مرتبہ بڑے غور کے ساتھ ان کی طرف نگاہ کرتا ہوں، یہاں تک کہ میں ان کے تمام چھوٹے بڑوں کو خود ان سے بہتر پہنچاتا ہوں۔ (بحوالہ: تفسیر "در منثور"، بحوالہ المیزان جلد ١٦ ص ٦٧٨) اس مضمون کی دوسری روایات بھی مختلف اسلامی مآخذ میں موجود ہیں کہ جن کا مطالعہ تمام انسانوں کو تنبیہ اور خبردار کرتا ہے، تاکہ وہ جان لیں کہ ان کے اور موت کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ ایک مختصر سے لمحے میں تمام چیزیں ختم ہو جائیں۔ کیا ان حالات کے باوجود اس بات کا موقع ہے کہ انسان اس دنیا کی چمک دمک پر فریفیتہ اور طرح طرح کے ظلم و گناہ سے آلودہ ہو کر عاقبت کار سے غافل ہو جائے؟

15
32:15
إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩
صرف وہی لوگ ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں جنہیں جب بھی ان آیات کی یاددہانی کرائی جائے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں وہ اپنے پروردگار کی تسبیح و حمد بجا لاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
32:16
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
ان کے پہلو رات کو بستروں سے دور رہتے ہیں۔(وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور خدا کی بارگاہ کی طرف رخ کرتے ہیں) اپنے پروردگار کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

17
32:17
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
کوئی شخص نہیں جانتا کہ کیسی اہم جزائیں جو آنکھوں کی روشنی کا سبب بنتی ہیں ان کے لئے چھپی ہوئی ہیں۔ یہ ان اعمال کی جزاء ہے جنہیں وہ انجام دیتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
32:18
أَفَمَن كَانَ مُؤۡمِنٗا كَمَن كَانَ فَاسِقٗاۚ لَّا يَسۡتَوُۥنَ
کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہو اس شخص کی طرح ہے جو فاسق ہے ؟ نہیں ! یہ دونوں کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
32:19
أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡمَأۡوَىٰ نُزُلَۢا بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
لیکن وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے عمل صالح انجام دیئے، ان کے لئے دائمی بہشت کے باغات ہوں گے۔ یہ(خدا کی طرف سے) ان کی میزبانی کا وسیلہ (اور سامان ضیافت) ہے، ان اعمال کے مقابلہ میں جنہیں وہ انجام دیتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 20 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
32:20
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ فَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمۡ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
لیکن وہ لوگ جو فاسق ہو گئے ان کی ہمیشہ کی جگہ آگ ہے۔جس وقت اس سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں اس کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب چکھو جس کا تم انکار کرتے تھے۔

تفسیر عظیم جزائیں جنہیں کوئی نہیں جانتا!

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

ہم سب کو معلوم ہے کہ قرآن کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ بہت سے حقائق کو ایسے دلنشین انداز میں ایک دوسرے کے تقابل اور موازنہ کے ساتھ بیان کرتا ہے تاکہ وہ اچھی طرح ہر ایک کی سمجھ میں آ جائیں۔ گزشتہ آیات میں مجرمین اور کافرین کے بارے میں بیان شدہ تشریح کے بعد یہاں پر بھی برجستہ مومنین کی صفات اور ان کے اصول عقاید اور عملی پروگرام کو اختصار کے ساتھ دو آیات کے ضمن میں آٹھ صفات کے ذکر کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھنا چاہیے کہ یہ آبت قرآن مجید میں "واجب سجدہ" کی پہلی آیت ہے۔ چنانچہ جو شخص اس ساری آیت کو پڑھے۔ یا کسی دوسرے سے سنے تو واجب ہے کہ سجدہ کرے۔ البتہ اس میں وضو واجب نہیں ہے۔ لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ پیشانی ایسی چیز پر رکھے کہ جس پر سجدہ صحیح ہے)۔ پہلے فرماتا ہے۔ "صرف وہی اور بیماری آیات پر ایمان لے آتے ہیں کہ جنہیں جب میں بھی ان آیات کی یاد دہانی کرائی جائے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے"۔ (إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ)- "إِنَّمَا" کی تعبیر جو عام طور پر حصر کے لیے ہے، اس نکتہ کو بیان کرتی ہے کہ جب کوئی شخص ایمان کا دم بھرتا ہے لیکن ان خصوصیات کا حامل نہیں جو ان آیات میں آئی ہیں تو وہ سچے مومنین کی صف نہیں ہے بلکہ ایسا ضعیف الایمان شخص جو کسی کھاتے میں شمار کے قابل نہیں۔ اس آیت میں ان کی صفات کے چار حصے بیان ہوئے ہیں۔ ١- آیات الہی کے سنتے ہی سجدہ میں گر پڑتے ہیں "سجدوا" کے بجائے "خرّوا" کی تعبیر ایک لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بیدار دل مومنین کا گروہ آیات قرآن سننے کے وقت اس طرح شیفتہ اور پروردگار کے ارشادات و مجذوب ہے کہ بےاختیار سجدہ میں گر پڑتا ہے اور اس راہ میں دل و جان کو ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: راغب "مفردات" میں لکھتے ہیں "خروا" دراصل "خریر" کے مادہ سے ہے، جو پانی وغیرہ کی اس آواز کے معنی میں ہے جو بلندی سے نیچے کی صرف گر رہا ہو اور اس تعبیر کو سجدہ کو کرنے والوں کے بارے میں استعمال کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ جس لمحہ بھی سجدہ کے لیے زمین پر گرتے ہیں، اسی وقت ان کی تسبیح صدا بلند ہوتی ہے)۔ جی ہاں ان کی پہلی خصوصیت اپنے محبوب و معبود کے کلام و گفتگو سے ان کا عشق سوزاں اور لگاؤ ہے۔ "یہی خصوصیت قرآن کی دوسری آیات میں انبیاء کی ایک برجستہ ترین صفت کے عنوان سے ذکر ہوئی ہے، جیسا کہ خداوند عظیم انبیاء کے ایک ایک گروہ کے متعلق کہتا ہے: " إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا" (سوره مریم ٥٨)۔ "جس وقت خداوند رحمان کی آیات ان پر پڑھی جاتی تھیں تو وه خاک پر گر جاتے اور سجدہ کرتے اور گریۂ شوق کرتے تھے۔" اگرچہ لفظ "یہاں بطور مطلق ذکر ہوا ہے۔ لیکن واضح ہے کہ ان سے مراد زیادہ تر وه آیت ہیں، جن میں توحید کی دعوت ہے اور شرک سے نبردآزمائی کی ترغیب۔ ٢ و ۳- دوسری اور تیسری نشانی ان کی پروردگار کی "تسیبح" اور "حمد" ہے۔ ایک طرف جہاں وہ خدا کو نقائص سے پاک اور منزه شمار کرتے ہیں تو دوسری طرف اس کی صفات کمال و جمال کی بناء پر اس کی حمد ستائش کرتے ہیں۔ ۴- ان کی ایک اور صفت تواضع، فروتنی اور ہر قسم کے استکبار سے دوری ہے، کیونکہ کبر و غرور کفر و بےایمانی کے زینہ کی پہلی سیڑھی ہے اور حق و حقیقت کے سامنے جھک جانا ایمان کا پہلا قدم ہے۔ وہ لوگ جو تکبر اور خود پسندی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں، وہ نہ تو خدا کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی تسبیح و حمد بجا لاتے ہیں اور نہ ہی اس کے بندوں کا حق تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ اپنے سامنے ایک عظیم بت رکھتے ہیں اور بڑا بت خود ان کی اپنی ذات ہے۔ اس کے بعد ان کی دوسری صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ " ان کے پہلو رات کے وقت بستروں سے دور ہو جاتے ہیں"۔ وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور بارگاہ خدا کا رخ کر کے اس سے راز و نیاز کرتے ہیں: (تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ)۔ (تشریحی نوٹ: "تتجانی" اور "جفا" سے اصل میں اٹھائے اور دور کرنے کے معنی میں هے، "جنوب" جمع ہے، "جنب" کی جو "پہلو" کے معنی میں ہے اور مضاجع "جمع ہے "مضجع" کی بستر کے پہلو کا دور ہونا رات کے وقت بستر خواب سے اٹھنے اور پروردگار کی عبادت کرنے سے کنایہ ہے)۔ جی ہاں! جس وقت غافل لوگوں کی آنکھ سو رہی ہوتی ہے تو وہ رات کا ایک حصہ بیدار ہوتے اور اس وقت جبکہ زندگی کا کاروبار ٹھپ ہوتا ہے، فکری مشاغل کم سے کم حد کو پہنچ جاتے ہیں۔ اور آرام و سکون اور خاموشی نے ہر جگہ کو گھیر رکھا ہوتا ہے اور عبادات میں ریا کا شانبہ بہت ہی کم ہوتا اور خلاصہ یہ کہ اس وقت حضور قلب کے بہترین مواقع میسر ہوتے ہیں، یہ لوگ اپنے پورے وجود کے ساتھ بارگاہ معبود کا رخ کرتے ہیں اور اپنے معشوق و محبوب کے آستانے پر سر جھکا دیتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کے دل میں ہوتا ہے، اس کی بارگاہ میں پیش کر دیتے ہیں۔ یہ اس کی یاد میں زندہ ہیں اور اپنے دل کے پیمانے کو اس کی مہر و محبت سے لبریز اور سرشار رکھتے ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے" وہ اپنے پروردگار کو "خوف"، "و امید" کے ساتھ پکارتے ہیں": (يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا)۔ جی ہاں ان کی دو اور صفات "خوف" و"رجا" یا "ڈر" اور "امید" ہے، نہ تو اس کے غضب اور عذاب سے مامون رہتے ہیں اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔ اس خوف اور امید کا توازن جو خدا کی راہ میں ان کے تدریجی کمال و ارتقاء اور پیش رفت کا ضامن ہے، ہمیشہ ان کے وجود میں کار فرما ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امید پر خوف کا اور امید کا توازن جو خدا کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے، اور جاه اور طمع کا غلبہ اسے غرور و غفلت پر آمادہ کرتا ہے اور یہ دونوں خدا کی طرف انسان کے ارتقائی مراحل کے دشمن ہیں۔ آخری اور آٹھویں خصوصیت ان کی یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے انھیں رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں؛ (وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ)۔ نہ صرف یہ کہ اپنے مال ضرورت مندوں کو بخش دیتے ہیں، بلکہ اپنے علم و دانش، قوت اور قدرت صحیح رائے اور تجربہ اور فکری ذخیرہ کو ضرورت مند لوگوں پر خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ خیر و برکت کا مرکز ہیں اور نیکیوں کے آب زلال یعنی صاف ستھرے پانی کا لازوال چشمہ ہیں کہ تشنہ کاموں کو سیراب اور محتاجوں کو اپنی ہستی کے مطابق بےنیاز کر دیتے ہیں۔ جی ہاں! ان کے اوصاف محکم عقیدہ، قومی ایمان، خدا سے حقیقی عشق، عبادت و اطاعت کوشش و حرکت اور بندگان خدا کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کا مجموعہ ہیں۔ پھر بعد والی آیت میں سچے مومنین کے عظیم اور اہم اجر کو بیان کرتا ہے، جو پہلے کی دو آیات میں مذکورہ و نشانیوں کے حامل ہیں، ایک ایسی قابل توجہ تعبیر کے ساتھ جو ان کے اجر کی حد سے زیاده اہمیت کی ترجمانی کرتی ہے۔ فرماتا ہے، "کوئی شخص نہیں جانتا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک میں کیا اہم اجر و ثواب ان کے لیے چھپا رکھے گئے ہیں:" (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ)- یہ بڑا عظیم اور بلند تر اجر ہے جو ان کے اعمال کے بدلے میں دیا گیا۔ "کوئی شخص نہیں جانتا" کی تعبیر نیز "قرة عين" (آنکھوں کی روشنی اور ٹھنڈک کا باعث ہے ) کی تعبیر ان نعمتوں کی بےحساب عظمت کو بیان کرتی ہیں، خصوصًا جب لفظ "نفس" سياق نفی میں نکرہ کی شکل میں آیا ہے اور عموم کا معنی دے رہا ہے اور ملائکۂ مقرب اور اولیاء اللہ سمیت تمام نفوس کو شامل ہے۔ "نفس" کی طرف اضافت کے بغیر "قرۃ اعین" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ خدا کی نعمتیں جو آخرت کے گھر کے لیے سچے مومنین کے ثواب اور اجر کے طور پر مقرر کی گئی ہیں، اس طرح ہیں کہ ہر ایک کی آنکھوں کی روشنی اور ٹھنڈک کا سبب ہوں گی۔ "قرة " مادہ "قر" (بروزن "حر" سے ٹھنڈک اور خنکی کے معنی میں ہے اور چونکہ مشہور ہے محبت اور شوق کے آنسو ہمیشہ ٹھنڈک اور خنک اور غم و حسرت کے آنسو گرم اور سوزاں ہوتے ہیں "قرة اعین" کی تعبیر لغت عرب میں ایسی چیز کے معنی میں ہے جو انسان کی آنکھ کے ٹھنڈا ہونے کا سبب ہو۔ یعنی شوق اور محبت کے آنسو اپنی آنکھوں سے جاری کرتا ہے اور یہ انتہائی خوشحالی اور سرور کا لطیف کنایہ ہے۔ لیکن فارسی زبان میں اس قسم کی تعبیر موجود نہیں ہے بلکہ ہم کہتے ہیں، اس کی اس کی آنکھ کی روشنی کا سبب ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ موجودہ فارسی کی یہ تعبیر "یوسف و یعقوب" کی قرآنی داستان سے لی گئی ہو کہ قرآن کے بقول جس وقت بشارت دینے والا یعقوب کے پاس آیا اور یوسف کا پیراہن ان کے چہرے پر رکھا تو ان کی نابینا آنکھیں روشن ہو گئیں۔ (سوره یوسف آیت ٩٦)۔ اور یہ تعبیر زبردست سرور اور خوشی سے کنایہ ہے۔ پیغمبیر اکرمؐ کی ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں: "ان الله يقول اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر! "خدا فرماتا ہے میں نے ا پنے صالح بندوں کے لیے ایسی نعمتیں فراہم کر رکھی ہیں کہ جنھیں نہ تو کسی انکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کوئی فرو بشران کے متعلق سوچ سكتا ہے! (تشریحی نوٹ: اس حدیث کو طبرسی سمیت بہت سے مفسرین نے منجلہ ان کے "طبرسی" نے "مجمع البیان" میں "آلوسی" نے "روح المعانی میں "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، مشہور ترین "بخاری" اور "مسلم" نے بھی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے)۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے، جسے عظیم مفسر مرحوم طبرسی نے " مجمع البیان" میں بھی پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ آخر یہ عظیم ثواب و اجر کیوں مخفی رکھا گیا ہے؟ اس کے بعد موصوف اس سوال کے تین جواب دیتے ہیں: ١- اہم اور نہایت قیمتی امور اس طرح ہیں کہ لفظوں سے آسانی کے ساتھ ان کی حقیقت کا ادرک نہیں کیا جا سکتا لہذا بسا اوقات ان کا مخفی رکھنا زیادہ فرحت بخش اور فصاحت کی رُو سے زیادہ بلیغ ہے۔ ٢- اصولی طور پر جو چیز آنکھوں کی ٹھنڈک اور روشنی کا باعث ہو، اس کا دامن اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ انسان کا علم و دانش اس کے تمام خصوصیات نہیں پہنچ ہو سکتا۔ ۳- چونکہ یہ اجر نماز تہجد کے لیے قرار دیا گیا ہے جو مخفی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ اس عمل کی جزاء بھی عظیم اور مخفی ہو۔ توجہ رہے کہ گزشتہ آیت میں "تتجاني جنوبهم عن المضاجع" كا جملہ نماز شب کی طرف اشارہ ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "ما من حسنة الا ولها ثواب مبين في القران، الا صلوة الليل، فان الله عزّ اسمہ لم یبین ثوابها لعظم خطرها، قال: فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرة أعين"۔ "کوئی نیک عمل نہیں مگر یہ کہ اس کا واضح ثواب قران میں بیان ہوا ہے سوائے نماز تہجد کے۔ خدائے عظیم نے اس کے ثواب کو واضح طور پر بیان نہیں کیا۔ یہ اس کی اہمیت کی وجہ سے ہے، اس لیے فرماتا ہے کہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ کیسے عمدہ ثواب جو آنکھوں کی روشنی اور ٹھنڈک کا باعث ہیں، ان کے لیے پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: "مجمع البیان" محل بحث آیات سے ذیل میں)۔ لیکن ان تمام چیزوں سے قطع نظر جیسا کہ پہلے ہم نے اشارہ کیا ہے، عالم قیامت ایک ایسا جہان ہے، جو اس جہان کی نسبت حد سے زیادہ وسیع ہے۔ دنیاوی زندگی اس کے مقابلے میں ایسی ہے جس طرح دنیا کے مقابلے میں شکم مادر میں موجود بچے کی زندگی بلکہ وہ عالم اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ اور اصولی طور پر ہم جیسے دنیا کی چار دیواری میں مقید افراد کے لیے اس کے تمام اطراف و جہات قابل ورک نہیں ہیں۔ بلکہ کسی کے لیے ابھی قابل تصور بھی نہیں۔ ہم نے صرف اس کے بارے میں بات سنتے اور دور سے ایک سایہ کے مانند اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن جب تک اس و جہان والا ادراک اور نظر پیدا نہ کریں، اس کی اہمیت کا درک ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ بچہ کے لیے شکم مادر میں بالفرض کامل عقل و حوش رکھتا ہو تو اس دنیا کی نعمتوں کا ادراک ناممکن ہے۔ یہی تعبیر شہدائے راہ خدا کے بارے میں آئی ہے کہ جس وقت کوئی شہید زمین پر گرتا ہے تو زمین کہتی ہے۔ آفرین ہے اے پاکیزہ روح بدن سے پرواز کر رہی ہے، تیرے لیے بشارت اور خوشخبری ہو": ان لك ما لا عين رأت، ولا اذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر)۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان ذیل آیہ، ١٧١ آل عمران جلد ٢- تفسیر نمونہ جلد ۳ اسی آیت کے ذیل میں)۔ بعد والی آیت اس تقابل کو جو گزشتہ آیات میں تھا، زیادہ سراحت کے ساتھ واضح کرتے ہوئے کہتی ہے: "کیا وہ شخص جو مومن ہے مثل اس شخص کے ہے جو فاسق ہے؟ نہیں، یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہیں"۔ (أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا لَّا يَسْتَوُونَ)۔ یہ جملہ استفہام انکاری کے طور پر بیان ہوا ہے، وہ استفہام جس کا جواب ہر انسان کی عقل و فطرت سے پیدا ہوتا کہ یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے، اس کے باوجود پھر بھی تاکید کے لیے "لَّا يَسْتَوُونَ" کا جملہ ذکر کیا ہے جو ان کے برابر نہ ہونے کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس آیت میں "فاسق"، "مومن" کے مقابلے میں ذکر ہوا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فسق ایک وسیع مفہوم و رکھتا ہے کہ جو کفر کو بھی شامل ہے اور دوسرے گناہوں کو بھی، کیونکہ یہ لفظ اصل میں "فسقت الشعرة" (یعنی پھل اپنے چھلکے سے باہر نکلا یا جب کھجور کی گھٹلی اپنے گودے سے جدا ہو اور باہر جا گرے) سے یہ جملہ لیا گیا ہے، پھر خدا اور عقل کے حکم کی اطاعت سے خارج ہونے پر اطلاق ہوا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جو کفر اختیار کرتا ہے یا گناہوں کا مرتکب ہوتا تو وہ پروردگار اور عقل و خرد کے فرمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ پھل جب تک اپنے چھلکے اور خول کے اندر رہتا ہے، صحیح و سالم ہے اور جس وقت پوست و چھلکے سے خارج ہو جائے، خراب ہو جاتا ہے، تو اس بنا پر جونہی انسان فاسق ہوتا، فورًا خراب اور فاسد بھی ہو جاتا ہے۔ عظیم مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ ایک دن "ولید بن عقبہ" (بر وزن عقدہ) نے حضرت علیؑ سے عرض کیا۔ انا ابسط منک لسانًا و احدّ منک سناناً" میں آپ سے زیادہ وسیع و فصیح زبان اور زیادہ تیز نیزہ رکھتا ہوں"۔ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے خیال میں تقریر اور جنگ دونوں میں حضرت سے بڑھا ہوا ہے)۔ حضرت علیؑ نے اس کے جواب میں فرمایا "لیس کما تقول يا فاسق" ائے فاسق! جیسے تو کہتا ہے ویسا نہیں ہے"۔ (اس طرف اشارہ ہے کہ تو وہی شخص تو ہے۔ جس نے قبیلہ "بنی مصطلق" کی زکوۃ جمع کرنے کے وقت ان کے اسلام کے خلاف قیام کرنے کا الزام لگایا تھا اور خدا نے سوره حجرات کی آیت ٦ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا) ..... میں نے تیری تکذیب کی اور تجھے فاسق کہا۔ (تشریحی نوٹ: اس روایت کو مرحوم "طبرسی" ئن مجمع البیان میں اور "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں اور فاضل "برسوئی" نے روح البیان میں نقل کیا ہے۔ قابل توجہ یہ کہ کتاب "اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ" میں ہے کہ تفسیر قرآن سے آگاہ افراد کے درمیان اختلاف نہیں ہے کی آیہ ان جاء كم فاسق بنبا ولید بن عقبہ کے بارے میں قبیلہ بنی مطلق کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے)۔ بعض مفسرین سے یہاں اضافہ کیا ہے کہ آیہ "(أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا" اس گفتگو کے بعد نازل ہوئی ہے اور "ولید" و "بنی مصلطق" کا واقعہ مدینہ میں رونما ہوا یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کی مصداق پر تطبیق کے قبیل میں سے ہے۔ لیکن ان بعض مفسرین کے قول کے مطابق، جو اوپر والی آیت کو اور اس کے بعد والی دو آیات کو مدنی سمجھتے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہ جاتی اور کوئی مانع اور حرج نہیں ہے کہ یہ تین آیات اوپر والی گفتگو کے بعد نازل ہوئی ہوں۔ بہرحال، نہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کے عمیق ایمان میں کوئی بحث و اختلاف ہے اور نہ ہی "ولید" کے فسق میں جن دونوں کی طرف قرآنی آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ بعد والی آیت میں اس عدم مساوات اور برابر نہ ہونے کو زیادہ وسیع شکل میں بیان کرتے ہوئے آیا ہے باقی رہے وہ جو ایمان لے ائے اور عمل صالح انجام دیا، ان کے لیے بہشت جاوداں کے باغات ہوں گے، (أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى)۔ (تشریحی نوٹ: ماوی ماده "اویّ" (بروزن قوی) سے ایک چیز کے دوسرے چیز سے انضام دہل جانے کے معنی میں ہے اس کے بعد مکان و مسکن اور رہائش گاہ کے لیے بولا گیا ہے)۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ جنات مادی ان کے انجام شده اعمال کے بدلے میں (نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) خدا کی ان کے لیے مہمانی کا ذریعہ ہیں۔ "نزل" کی تعبیر جو ایسی عموما چیز کے لیے بولی جاتی ہے جو مہمان کی خاطر تواضع کے لیے آمادہ کرتے ہیں اور یہ اس بات کی ان کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ مومنین کی جنت میں ہمیشہ مہمانوں کی طرح خاطر تواضح کی جاتی رہے گی، جبکہ دوزخی جیسا کہ بعد والی آیت میں آئے گا قیدیوں کی طرح ہیں۔ جس وقت باہر نکلنے کی خواہش کریں گے تو انھیں پلٹا دیا جائے گا۔ اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ سورہ کہف کی آیہ ١٠٦ میں اسی طرح آیا ہے: إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلاً"ہم نے جہنم کو کافروں کی خاطر و تواضح کے لیے آمادہ کیا ہے"۔ حقیقت میں (فبشرھم بعذاب الیم) انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دے" کی قسم سے ہے جو کنایہ ہے اس بات سے کہ بجائے پذیرائی (خاطر تواضح) کے سزا و عذاب ملے گا اور بشارت کی کہہ کر انھیں تہدید کرتا ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ "نزل" وہ پہلی چیز ہے کہ جس سے نئے وارد ہونے والے مہمان کی خاطر تواضع کی جاتی ہے (ہمارے زمانے میں وہی چائے اور شربت اس بناء پر یہ امر اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جنات مادی اپنی تمام نمعات و برکات کے ساتھ ان خدائی مہانوں کی پذیرائی کا پہلا مرحلہ ہے۔ اور ان نعمات کے بعد ایسے برکات ہیں کہ جنہیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ "لهم جنات" کی تعبیر ہو سکتا ہے کہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ خدا جنت کے باغات عاریتہ انھیں نہیں دیتا، بلکہ ہمیشہ کے لیے ان کی ملکیت میں دے دے گا۔ اس طرح سے کہ کبھی بھی میں ان نعمتوں کا زوال ان کے فکری سکون کو منتشر نہیں کرے گا۔ اور بعد والی آیت میں ان کے نقطہ مقابل کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے "لیکن وہ لوگ جو فاسق ہو گئے ہیں اور اپنے پروردگار کی اطاعت سے نکل گئے ہیں، ان کے لیے ہمیشہ رہنے کی جگہ جہنم کی آگ ہے:" (وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ)- وہ ہمیشہ کے لیے اس وحشت ناک جگہ مقید اور محبوس ہیں۔ اس طرح سے کہ "جس وقت اس سے نکلنا چاہیں گے، انھیں واپس لوٹا دیا جائے گا"۔ (كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا)۔ اور"انھیں کہا جائے گا کہ چکھو تم اس کے عذاب کو جس کا ہمیشہ انکار کیا کرتے تھے": (وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ)۔ درباره ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ عذاب الٰہی "کفر و تکذیب" کے مقابلہ میں آیا ہے اور اس کا ثواب و جزا "عمل" کے مقابلہ ہے۔ جو اس طرف اشارہ ہے کہ تنہا "ایمان" ہی کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ عمل کے لیے سبب بھی بنے۔ لیکن کفر اکیلا عذاب کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ عمل نہ بھی ہو۔

ایک نکتہ عابد شب زندہ دار:

(تنجافي جنوبھم عن المضاجع) "رات کے وقت ان کے پہلو بستر سے دور ہوتے ہیں" کے جملہ کی تفسیر میں روایات اسلامی میں دو تفسیریں وارد ہوئی ہیں۔ ایک تفسیر نماز "عشاء" کی جو اس طرف اشارہ ہے کہ سچے مومنین نماز مغرب کے بعد اور عشا سے پہلے بستروں پر نہیں جاتے کہ کہیں انھیں نیند نہ آ جائے اور ان کی نماز عشاء ہإتھ سے نکل نہ جائے (کیونکہ اس زمانہ میں معمول تھا کہ رات کی ابتداء میں لوگ استراحت کرتے تھے اور پنج گانہ نمازوں کے درمیان استحبابی جدائی کے حکم کے مطابق نمازوں کو جدا گانہ پڑھتے اور ہر ایک کو اس کی فضیلت کے وقت میں بجا لاتے تھے) اور جس وقت نماز مغرب کے بعد اور وقت عشاء سے پہلے سو جاتے تو ممکن ہو تاکہ نماز عشاء کے لیے بیدار نہ ہوں۔ اس تفسیر کو "ابن عباس" نے "درمنثور" کے مطابق پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے اور "امالی" شیخ میں بھی "امام جعفر صادقؑ" سے منقول ہے۔ (بحوالہ: "درمنثور" اور "امالی شیخ" بحوالہ "تفسیر المیزان، جلد ١٦ ص٢٨۳)۔ لیکن زیادہ تر روایات اور مفسرین کے کلمات میں نماز شب اور تہجد کے لیے بستر سے) اٹھنے کی تفسیر آئی ہے۔ ایک روایت میں امام محمد باقرؑ سے اس طرح ہم پڑھتے ہیں کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا۔ "الا اخبرک بالاسلام اصلہ وفرعه و ذروۃ سنامہ" "کیا تجھے اسلام کی اصل و فرع اور بلند ترین چوٹی کا تعارف نہ کراؤں"؟ راوی نے عرض کیا قربان جاؤں ارشاد فرمایئے! تو فرمایا۔ "اما اصله الصلوة وفرعہ الزكوة و ذروة سنامه الجھاد"۔ "اس کی اصل نماز اس کی فرع زکات اور اس کی بلند چوٹی جہاد ہے"۔ پھر آپ نے مزید فرمایا اگر تم چاہو تو تمام ابواب خیر کا تم سے تعارف کراؤں ؟ راوی کہتا ہے میں آپ پر قربان جاؤں، ارشاد ! امام نے فرمایا: الصوم جنّة، والصدقة تذهب بالخطيئة، وقيام الرجل في جوف الليل بذكر اللہ، ثم قراء: "تتجافی جنوبهم عن المضاجع"۔ "روزہ جہنم کی آگ سے سپر اور ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے، اور انسان کو رات کی تاریکی میں اٹھنا اسے یاد خدا میں ڈالتا ہے، پھرآپ نے "تتجافٰی جنوبهم عن المضاجع" کی آیت تلاوت فرماني"۔ (تشریحی نوٹ: "اصول کافی" جلد ٢ باب" دعالم الاسلام، حدیث ١٥ ص ٢٠ سابقہ حوالہ)۔ تفسیر "مجمع البیان" میں "معاذ بن جبل" سے یوں نقل ہوا ہے کہ میں جنگ "تبوک" میں رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر تھا۔ گرمی نے سب کو پریشان کر رکھا تھا اور ہر شخص کسی نہ کسی کو نہ میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ پیغمبر سب سے زیادہ میرے قریب ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی الله علیہ و الہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم کی آگ سے دور رکھے۔ فرمایا تو نے بہت بڑا سوال کیا ہے۔ لیکن اس کا جواب ایسے شخص کے لیے مشکل نہیں، جس پر خدا نے آسان کیا ہو۔ پھر آپ نے مزید فرمایا: "تعبد الله ولا تشرک به شيئًا و تقيم الصلوة المكتوبة و تؤدي الزکوة المفروضة وتصوم شهررمضان"۔ "خدا کی پرستش کرو اور کسی چیز کو اس کے شریک قرار نہ دو واجب نمازوں کو بجا لاؤ، واجب زکوۃ جو محتاجوں کا حق ہے ادا کرو اور ماہ رمضان کے روزے رکھو"۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اگر چاہو تو خیرات کے دروازوں کی بھی تمھیں خبر دوں؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ضرور فرمایئے! فرمایا: "الصوم جنة من النار والصدقة تكفّر الخطيتة وقيام الرجل في جوف الليل يبتغى وجه الله ثم قرأ هذه الآية تتجافی جنو بھم عن المضاجع " روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال اور راہ خدا میں خرچ کرنا گناہوں کا کفارہ اور رات کی تاریکی میں انسان کا خدا کی خوشنودی کے لیے قیام۔ پھر آپ نے"تتجافی جنوبهم عن المضاجع" والی آیت کی تلاوت کی۔ (تشریحی نوٹ: مجمع البیان ذیل آیات زیر بحث و تفسیر نور الثقلین جلد۴ ص ٢۴٩) اگرچہ کوئی مانع نہیں کہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہو کہ نماز عشاء کے لیے رات کے ابتدائی حصے میں بیدار رہنے کو بھی شامل ہو اور وقت سحر نماز شب کے لے اٹھنے کو بھی، لیکن اگر "تتجانی" کے مفہوم پر زیادہ غور کیا جائے تو دوسرا معنی ذہن میں بہتر منعکس ہوتا ہے کیونکہ اس جملہ کا ظہور یہ ہے کہ پہلے ان کے پہلو بستر میں آرام و سکون میں ہوتے ہیں۔ پھر اس سے جدا ہو جاتے ہیں اور یہ رات کے آخر حصہ میں نماز شب کی ادائیگی کے لیے قیام کرنے کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ اس بنا پر پہلی روایات مفہوم کو وسعت دینے اور خصوصیت کو ختم کرنے کے قبیل سے ہے۔ اگرچہ اس بابرکت نماز کی اہمیت کے بارے میں وہی اوپر والی چند روایات ہی کافی نظر آتی ہیں۔ لیکن یہ نکته قابل ذکر ہے کہ اسلامی روایات میں جس قدر اس عبادت کو اہمیت دی گئی ہے، کسی اور عبادت کے بارے میں بہت بی کم گفتگو ہوئی ہے۔ حق تعالی کے سچے دوست راہ فضیلت کے راہی اس لیے بے ریا عبادت کو ہمیشہ ہی سے بہت زیادہ اہمیت دیتے رہتے ہیں جو دل کو نور اور جل بخشتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس بابرکت عبادت سے ہمیشہ فائدہ اٹھانے کی توفیق نہ رکھتے ہوں۔ لیکن کیا مانع ہے کہ بعض راتوں میں جب بھی یہ توفیق حاصل ہو، اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس وقت جب خاموشی بر جگہ حکم فرما ہو اور ہر قسم کے کاروبار ٹھپ ہوں، بچے عالم خواب میں ہوں اور ماحول حضور قلب اور خدا سے راز و نیاز کے لیے آمادہ ہو تو انھیں اور خانہ خدا کے دروازے پر جائیں اور دل کو دوست کے عشق کے نور سے روشن کریں۔ (تشریحی نوٹ: نماز شب کی اہمیت اور اس کے بجا لانے کا طریقه جلد ٦ میں سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ٧٩ کے ذیل میں ہم بیان کر چکے ہیں)۔

21
32:21
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
ہم انہیں (اس دنیا کا)نزدیکی عذاب(آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے چکھائیں گے شاید کہ وہ پلٹ آئیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔

22
32:22
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعۡرَضَ عَنۡهَآۚ إِنَّا مِنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
اس شخص سے بڑھ کر کون زیادہ ظالم ہے جسے اس کے پروردگار کی آیات کی یاد دہانی کرائی گئی ہو لیکن وہ اس سے اعراض اورروگردانی کرے۔ یقیناً ہم مجرمین سے انتقام لیں گے۔

تفسیر تربیتی اور اصلاحی سزائیں:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گناہگاروں اور ان کی دردناک سزاؤں کے بارے میں تو گزشتہ آیات میں بحث ہو چکی ہے۔ موجودہ آیات میں ان کے بارے میں خدا کے ایک مخفی لطف کی طرف اشارہ ہے، جو دنیا میں خفیف اور بیدار کرنے والی سزاؤں کی صورت میں ہے۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ خدا ہرگز نہیں چاہتا کہ بندہ عذاب جاودانی میں گرفتار ہو۔ لہذا بندے کی نجات کے لیے اسے بیدار کرنے واے ہر قسم کے وسائل کو بروئے کار لاتا ہے۔ خدا اپنے پیغمبر بھیجتا ہے، آسمانی کتابیں نازل کرتا ہے، نعمت دیتا ہے، مصیبت میں گرفتار کرتا ہے اور اگر ان میں سے کسی چیز سے فائده نہ اٹھائیں تو پھر اس قسم کے اشخاص کا سوائے جہنم کی آگ کے کوئی اور انجام نہیں ہے۔ فرماتا ہے: "ہم انہیں دنیا کا نزدیکی عذاب آخرت کے عذاب سے پہلے چکھائیں گے، شاید وہ بیدار ہو کر پلٹ آئیں"۔ (وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ)۔ يقینًا "عذاب اونی"ایک وسیع معنی رکھتا ہے تو زیادہ تر ان احتمالات کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے جنہیں مفسرین نے بطور جدا گانہ بیان کیا ہے۔ منجملہ ان کے اس سے مراد مصائب و درد اور رنج و غم ہیں۔ یا مکہ کا سات سالہ شدید قحط اور خشک سالی، جس میں مشرکین اس قدر گرفتار ہوئے کہ انھیں مجبورًا مردار لاشے کھانا پڑے یا وہ کاری ضربیں جو ان کے پیکر پر جنگ "بدر" میں وارد ہوئیں۔ اس قسم کے دوسرے امور۔ باقی رہا وہ جو بعض نے احتمال دیا ہے کہ مراد "عذاب قبر" یا "رجعت کا عذاب" ہے۔ وہ صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ وہ "لعلهم يرجعون" (شاید وہ اپنے اعمال سے پلٹ آئیں) کے جملہ کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ البتہ اس نکتہ طرف توجہ کرنا چائیے کہ اس دنیا میں بھی مختلف عذاب ہیں جن کے نزول کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ "عذاب استیصال" یعنی وہ عذاب جو سرکش اقوام کی نابودی کے لیے اس وقت نازل ہوتا ہے جب ان اصلاح کا کوئی وسیلہ کارگر ثابت نہیں ہوتا اور طبعًا اس قسم کا عذاب ہے بھی آیت کے موضوع بحث سے خارج ہے۔ باقی رہا "عذاب اکبر" جو قیامت کے دن کا عذاب ہے تو وہ ہر سزا اور عذاب سے بڑا اور زیادہ دردناک ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ کیوں "ادنٰی" (زیادہ نزدیک) "اکبر" ( زیادہ بڑے) کے مقابلہ میں قرار پایا ہے، حالانکہ یا تو "ادنٰی"، "ابعد" (زیادہ دور) کے مقابلہ میں ہو یا "اصغر"، "اکبر" کے مقابلے میں قرار پاتا؟ اس میں بھی ایک نکتہ مضر ہے، جس کی طرف بعض اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ دنیاوی عذاب دو اوصاف کا حامل ہوتا ہے"چھوٹا ہونا اور نزدیک ہونا" اور تہدید اور ننبیہ کے موقع پر مناسب نہیں ہوتا کہ اس کے چھوٹے پن کو مدنظر رکھا جائے بلکہ اس کے نزدیک ہونے کو دیکھا جائے گا۔ اور عذاب آخرت بھی دو اوصاف کا حامل ہوتا ہے "دور ہونا" اور "بڑا ہونا" اور اس کے بارے میں بھی مناسب یہی ہے کہ اس کے چھوٹے پن کو مدنظر رکھا جائے تاکہ "دور ہونے کو"۔ (خوب غور کیجئے)۔ "لعلهم يرجعون" کے جملہ میں "لعل" کی تعبیر جیسا کہ پہلے بھی ہم نے کہا ہے، اس بناء پر ہے کہ تنبیہ اور خبردار کرنے والے عذاب بیداری کے لیے علت نامہ نہیں ہیں بلکہ علت کی جز ہیں اور انھیں سازگار و آمادہ زمین کی ضرورت ہے جو اس شرط کے بغیر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے اور لفظ "لعل" اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ضمنًا سی آیت سے مصائب و آلام اور رنج و بلاؤں کا ایک اہم فلسفہ واضح ہو جاتا ہے جو توحید، خدا شناسی اور عدل پروردگار کی مباحث میں زیادہ سوال انگیز مسائل میں سے ہے۔ نہ صرف بلکہ قرآن کی دوسری آیات میں بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ موجود ہے منجملہ ان کے سورہ اطراف کی آیت ٩۴ میں ہم پڑھتے ہیں: "وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلاَّ أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ" "ہم نے کسی شہر اور دیار میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا۔ مگر یہ کہ وہاں کے لوگوں کو مشکلات اور نقص و زیاں میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ بیدار ہوں اور خدا کی بارگاہ کی طرف رجوع کریں"۔ اور چونکہ جس وقت پیدا کرنے والے وسائل میں سے کوئی بھی وسیلہ حتٰی که خدائی عذاب بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا، تو پھر اس گروہ کے ظالم ترین لوگوں سے پردروگار کے انتقام کے علاوہ، کوئی راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ بعد والی آیت میں اس طرح فرماتا ہے۔" کون سا شخض زیادہ ستم گر ہے اس شخص سے جسے اس کے پروردگار کی آیات یاد دلائی جائیں اور وہ ان سے اعراض اور روگرانی کرے" (وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا)۔ "یقینًا ہم ان بےایمان مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے:" (إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ)۔ حقیقت میں یہ ایسے لوگ ہیں جن پر خدائی نعمتیں موثر ہیں اور نہ اس کا عذاب اور خبردار کرنے والی بلائیں اور مصائب اسی بناء پر ان سے زیادہ ظالم کوئی شخص نہیں ہے۔ لہذا اگر ان سے انتقام نہ لیا جائے تو پھر کس سے لیا جائے؟ ظاہر ہے کہ گزشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے بیان "مجرمین" سے مراد مبدء یا معاد کے منکر اور بےایمان گناہگار ہیں۔ آیات قرآن میں بارہا ایک گردہ کا "اظلم" (سب سے بڑھ کر ظالم افراد) کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے اگرچہ اس کی مختلف تعبیریں ہیں۔ لیکن واقع میں سب کی سب ایک اس کی طرف لوٹتی ہیں، اور وہ بےکفر و شرک اور بےایمانی کی جڑ، اس بناء پر"ظالم ترین" کا مفہوم جو اصطلاع کے مطابق سب سے بڑھ کر بُری صفت ہے، وہ مخدوش نہیں ہوتی۔ اوپر والی آیت میں "ثم" کی تعبیر جو عام طور پر فاصلہ کو بیان کرنے کے لیے ہے، ہو سکتا ہے۔ اس طرف اشارہ ہو کہ اس قسم کے افراد کو سوچنے سمجھنے کے لیے کافي موقع اور مہلت دی جاتی ہے۔ کبھی بھی ابتدائی مخالفین انتقام الٰہی کا سبب نہیں بنتیں۔ لیکن ضروری فرصت اور مہلت کے ختم ہونے کے بعد خدا کے انتقام کے مستحق ہوں گے۔ ضمنًا توجہ کرنا چاہئے کہ "انتقام" کی تعبیر عربي لغت کے لحاظ سے "سزا دینے" کے معنی میں ہے۔ اگرچہ "ولی تشفی" (اندروني تپش کا بجھانا) اس لفظ کے مفہوم میں روز مرہ کے استعال کے لحاظ سے اس میں چھپا ہوا ہے لیکن اگر کسی کے اصلی اور لغوی معنی کو دیکھا جائے تو اس میں موجود نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں یہ تعبیر خداوند عالم کے بارے میں بارہا استعمال ہوئی ہے حالانکہ وہ اس قسم کے مفاہیم سے برتر اور بالاتر ہے وہ صرف حکمت و مصلحت کی بناء پر کام کرتا ہے۔

23
32:23
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب دی اور تجھے شک نہیں ہونا چاہئے کہ اس نے آیات الٰہی کو حاصل کر لیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کیلئے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
32:24
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ
اور ان میں سے ہم نے آئمہ (اور پیشوا) منتخب کئے جو ہمارے حکم سے (لوگوں کی) ہدایت کرتے تھے، اس بناء پر کہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 25 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
32:25
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
یقیناً تمہارا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دیگا جس چیز میں وہ اختلاف کرتے تھے (اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی سزا دے گا)۔

تفسیر امامت کا آہم ترین سرمایہ:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

زیر بحث آیات میں حضرت "موسٰی" اور "بنی اسرائیل" کی داستان کی طرف ایک مختصر سا اشارہ ہے تاکہ پیمغبر اسلامؐ اور مومنین کو تسلی ہو اور ان کی دلداری کی جائے اور مشرکین کی تکذیب، انکار اور روڑے اٹکانے کے مقابلہ میں جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے، صبر و شکیبائی اور استقامت اور پائیداری کی دعوت اور مومنین کے لیے بشارت بھی ہو کہ آخرکار وہ اس کافر اور ہٹ دھرم گروہ پر کامیابی حاصل کریں گے، جس طرح کہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں پر کامیاب ہوئے اور روئے زمین کے پیشوا اور امام و رہبر قرار پائے۔ اور چونکہ موسٰی ایک عظیم پیغمبر ہیں کہ جن پر یہودی بھی ایمان رکھتے ہیں اور عیسائی بھی تو اس لحاظ ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن و اسلام کی طرف اہل کتاب کی حرکت کا سبب بنیں۔ پہلے کہتا ہے "ہم نے موسٰی کو اب دی"۔ (وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ)۔ "اس بناء پر آپ اپنے دل میں کسی قسم کے شک و شبہ و تردید کو نہ آنے دیں کہ موسٰی نے آیات الٰہی کو حاصل کر لیا:" (فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ)- ہم نے موسٰی کی آسمانی کتاب تورات کو بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ قرار دیا": (وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ)"۔ "من لقائہ" کی ضمیر کس چیز کی طرف لوٹتی ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہے اور اس سلسلے میں سات یا اس سے زیادہ استمال دیئے گئے ہیں۔ لیکن جو احتمال سب سے زیادہ نزدیک کی نظر آتا ہے، یہ ہے کہ کتاب (یعنی تورات) کی طرف لوٹتی ہے اور مفعول پہلو رکھتی ہے اور اس کا فاعل موسٰیؑ ہے۔ اس بناء پر سارے جملہ کا معنی یوں ہو گا۔" تجھے شک نہیں ہوتا اس چاہیے کہ موسٰی علیہ السلام کتاب آسمانی کی لقاء کو پہنچا، اور جو چیز خدا کی بارگاہ سے ان پر القاء ہوئی تھی اسے حاصل کر لیا"۔ اس تفسیر کا ناطق گواہ یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں تین جملے وارد ہوئے ہیں۔ پہلا اور آخری جملہ یقینًا تورات کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔ اس بناء پر مناسب یہی ہے کہ درمیانی جملہ بھی اسی معنی کو بیان کرے نہ کہ قیامت یا قرآن مجید کی بات کرے کیونکہ اس صورت میں جملہ معترضہ ہو گا اور ہم جانتے ہیں کہ جملہ معترضہ خلاف ظاہر ہے اور جب تک اس کی ضرورت نہ ہو اس کی طرف تو نہیں جانا چاہیے۔ تنہا سوال جو اس تفسیر میں باقی رہ جاتا ہے وہ لفظ "القاء" کے آسمانی کتاب کے بارے میں استعمال کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ قرآن میں تمام طور پر یہ لفظ "اللہ" یا "رب" یا "آخرت" وغیرہ کی طرف اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جو قیامت کی طرف اشارہ ہے۔ اور اسی بناء پر بعض مفسرین اس احتمال کو ترجیح دیتے ہیں کہ اوپر والی آیت نے پہلے تو موسٰی پر تورات کے نزول کو بیان کیا ہے، پھر پیغمبر اسلام کو حکم دیا ہے کہ "لقاء اللہ" اور مسئلہ معاد میں شک و شبہ نہ کریں اور پھر از نو مسئلہ تورات کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن یقین جانیئے کہ اس صورت میں اس آیت کے جملوں کے درمیان مناسبت بالکل ختم ہو جائے گی اور ان کا باہمی رابطه اور تعلق بالکل ختم ہو جائے گا۔ البتہ توجہ رکھنا چاہیے کہ"لقاء" کا کلمہ اگرچہ قرآن میں کتب آسمانی کو حاصل کرنے کے معنی میں استعمال نہیں بوا لیکن "القاء" اور "تلقي" بارہا اس معنی میں استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ سورہ قمر کی آیت ٢٥ میں ہم پڑھتے ہیں "أُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا" کیا تم سب کے درمیان میں سے قرآن مجید پر القاء ہوا ہے"؟ اور سلیمانؑ اور ملکہ سبا کو ملا تو اس نے کہا: "إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ" "گرامی قدر خط مجھ پر القاء ہوا ہے"۔ (نمل۔ ٢٩)۔ اور اسی سورہ کی آیت ٦ میں قرآن مجید کے بارے میں ہے:۔ "وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ"۔ "تو قرآن کو خدائے حکیم و علیم سے تلقی کرتا ہے۔ (نمل۔ ٦) اس بناء پر فعل "القاء" و "تلقی" بارہا اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں تک کہ خود فعل "لقاء" انسان کے نامہ اعمال کے بارے میں قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ سوره اسراء کی آیت ١۳ میں ہے: "و نخرج له يوم القيامة كتابًا يلقاه منشورًا" (ا سراء۔ ١۳) "قیامت کے دن اس انسان کے لیے ہم کتاب باہر نکالیں گے جسے کھلا ہوا دیکھے گا"۔ مجموعی طور پر جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس سے اس تفسیر کی ترجیح اوپر والی آیت میں دیئے گئے باقی سارے احتمالات پر واضح ہو جاتی ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے "القائد" کی ضمیر کا مرجع موسٰی علیہ السلام کو سمجھا ہے۔ تو اس قول کی بناء پر آیت کا معنی یوں ہو گا"۔ اے محمدؐ تمہیں شک نہیں ہونا چاہیے کہ موسٰی سے ملاقات کرو گے"۔ اور اس کو انھوں نے شب معراج کی موسٰی سے ملاقات یا قیامت کے دن کی ملاقات کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ لیکن یہ معنی مفہوم جملہ کے ساتھ مناسب نظر نہیں آتا، بعض دوسروں سے کہا ہے کہ ضمیر کا مرجع "الكتاب" ہے اور اس سے مراد قرآن ہے۔ تو اس صورت میں آیت کا ترجمہ یوں ہو گا: "اے پیغمبر اس سلسلہ میں کہ قران وحی الٰہی ہےشک و شبہ کو اپنے اندر راہ نہ دو"۔ یہ معنی اگرچہ اس سورہ کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسب ہے لیکن دوسرے جملوں کے ساتھ جو خود اس آیت میں ہیں، چنداں مناسب نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، زیر بحث آیت میں "كتاب" تورات کے معنی میں ہے اور ضمیری سُوۓ قرآن بازگشت اس سے ہماہنگی نہیں رکھتی۔ اور اس معنی کی یہ توجیہ کہ اس سے مراد مطلق آسمانی کتاب ہے، پھر بھی اس کے خلاف ظاہر ہونے میں کمی نہیں کرتی۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ "لقائہ" کی ضمیر خدا کی طرف لوٹتی ہے اور یہ جملہ اسی طرف اشارہ ہے کہ معاد اور قیامت کے معاملہ میں کسی قسم کا شک شب نہ کرو۔ یہ معنی میں اگرچہ گزشتہ آیات کے نامناسب نہیں ہے لیکن خود زیر بحث آیت کے مضمون کے ساتھ تقریبًا کسی قسم کی مناسبت نہیں رکھتا۔ اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے۔ یہ جو تفاسیر نے آیت کو موسٰیؑ اور پیغمبر اسلامؐ کے پروگرام کے دو خطوط باہمی ملاپ کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ نیز ایک باذوق مطلب تو ہے۔ لیکن آیت کے الفاظ کے واقعی مفہوم کے ساتھ سازگار نہیں ہے، اس بناء پر واضح ترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے پیش کی ہے)۔ لیکن ہر صورت میں اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ پیغمبر اس قسم کے مسائل میں کس قسم کا شک و شبہ نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ اس قسم کی تعبیریں عمومًا مقصد کی تائید اور دوسروں کے لیے نمونہ ہوتی ہیں۔ بعد والی آیت میں ان اعزازات کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل کو استقامت و ایمان کے زیر سایہ نصیب ہوئے تاکہ دوسروں کے لیے درس ہو، فرماتا ہے"۔ اور ان میں سے ہم نے امام اور پیشوا قرار دیئے کہ جنہوں نے ہمارے فرمان اور حکم سے خلق خدا کی ہدایت کے امور کو اپنے ذمہ لیا کیونکہ انھوں نے صبر کا مظاہرہ کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے" (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ)۔ یہاں پر کامیابی کا راز اور پیشوائی اور امامت کی مشرط دو چیزوں کو بیان کرتا ہے۔ ایک آیات الٰہی پر ایمان و یقین اور دوسری صبر و استقامت۔ یہ چیزیں کی بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام امتوں اور ماضی حال مستقبل کے مسلمانوں کے لیے درس ہے کہ وہ اپنے یقین کی یادوں کو محکم کریں اور ان مشکلات سے خوف زدہ نہ ہوں جو خطِ توحید بار آور کرنے کے راستے میں پیش آتی ہیں۔ صبر و استقامت کو اختیار کریں تاکہ تاریخ عالم میں مخلوق کے امام اور امتوں کے رہبر اور رہنما قرار پائیں۔ "یهدون" (ہدایت کرتے ہیں) کی تعبیر فعل مضارع کی شکل میں اور اسی طرح "يوقنون" (یقین رکھتے ہیں) بھی فعل مضارع کی صورت میں ان کی تمام عمر ميں ان دو اوصاف کے دوام کی دلیل ہے، کیونکہ کہ رہبری کا مسئلہ ایک لحمہ کے لیے بھی مشکلات سے خالی نہیں ہے اور ہر ہر قدم پر رہبر اور لوگوں کے پیشوا کی ذات نت نئی مشکل سے دوچار ہوتی رہتی ہے۔ لہذا اسے چاہیے کہ یقین اور دائمی استقامت کی قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرے اور امر الٰہی کے خط ہدایت کو دوام عطا کرے۔ یہ بات میں قابل توجہ ہے کہ مسئلہ ہدایت کو "امر الٰہی" سے مقید کرتے ہوئے فرماتا ہے "يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا" اور امر ہدایت میں اہم یہ ہے کہ اس کا سرچمشہ خدا کا فرمان ہونا کہ لوگوں کا اور نہ ہی اپنی خواہش اور دلی تمنا اور نہ ہی ہرکہ دمہ کی تقلید ہو۔ امام جعفر صادقؑ اپنی ایک حدیث میں قران مجید کے مضامین سے استفادہ کرتے ہوئے"آئمہ اور پیشواؤں کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اور زمانے میں ایک وہ امام جو امر خدا سے نا کہ لوگوں کے حکم سے ہدایت اپنے ذمہ لیتے ہیں اور امر خدا کو اپنے امر پر مقدم شمار کرتے ہیں۔ اور اس کے حکم کو اپنے حکم سے برتر قرار دیتے ہیں۔ اور دوسرے وہ امام جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں، اپنے حکم کو فرمان حق پر مقدم کرتے ہیں اور اپنے فرمان کو حکم الٰہی سے پہلے قرار دیتے ہیں اور اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق اور کتاب اللہ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ان الائمة فی كتاب الله عزوحل امامان: قال الله تبارك وتعالٰى وجعلنا ائمة يهدون بامرناء لابامر الناس يقدّمون امر الله قبل امرهم وحكم اللہ قبل حكمهم قال وجعلناھم ائمة يدعون الى النار يقدّمون أمرهم قبل امر اللہ وحكمهم قبل حکم اللہ وياخذون باهوائهم خلاف ما فی كتاب الله عزوجل۔ (كافی جلد اول ص ١٦٨ باب ان الائمة في كتاب الله امامان))۔ یہاں امر سے مراد امر تشریعي (خدا کے شرعی احکام ہیں) یا امر تکوینی (عالم افرینش میں خدا کا حکم) ہے۔ ظاہر آیت میں تو وہی پہلا معنی ہے اور روایات و مفسرین کی تعبیریں بھی اسی معنی کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ لیکن بعض عظیم مفسراسے"امر تکوینی" کے معنی میں بھی سمجھتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ آیات اور روایات میں ہدایت دو معنی کے لیے آئی ہے۔ "ارائه طریق" (راستہ دکھانا) "وایصال الى المطلوب" (مقصد تک پہنچانا)- خدا کے مقرر کردہ پیشواؤں کی روایت بھی دو طریقوں سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ کبھی تو صرف امر و نہی پر قناعت کرتے ہیں اور کھبی لائق اور آماده والوں میں باطنی تاثیر کے ذریعہ انھیں تربیت کے مقاصد اور رُوحانی درجات تک پہنچاتے ہیں۔ لفظ "امر" بعض قرآنی آیات میں "امرتکوینی" کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلًا: "إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" (سورہ یٰس آیت۔ ٨٢) "جس وقت کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تواس کا فرمان صرف یہ ہوتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے"۔ زیر بحث آیت میں "يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا" کا جملہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی وہ ایسے امام اور پیشوا تھے جو پروردگار کی قدرت سے آمادہ نفوس میں اثر کرتے تھے اور انہیں تربیت کر کے انسانیت کے اعلٰی و ارفع مقاصد کی طرف لے جاتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیرالمیزان، جلد اوّل ص ٢٧٥)۔ يہ معني في نفسہ ایک قابل توجہ معنی ہے جو امور امامت اور فروغ ہدایت میں سے ایک ہے۔ لیکن "يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا" کے جملہ کو اسی معنی میں منحصر سمجھنا ظاہر آیت کے ساتھ موافق نہیں ہے۔ البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم لفظ "امر" کو اس جملہ میں اس لفظ کے وسیع معنی میں لیں جو "امر تکوینی اور امر تشریعی" دونوں کو شامل ہو اور ہدایت کے دونوں معنی آیت میں جمع ہو جائیں۔ یہ معنى بعض ان احادیث کے ساتھ ہم آنگ بھی ہے کہ جو آیت کی تفسیر میں ہم تک پہنچی ہیں۔ ہر حالت میں امام اور پیشوا کا اس مقام تک پہنچنا صرف یقین و استقامت کے پر تو میں ہی امکان پذیر ہے۔ البتہ جو بحث یہاں باقی رہ جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ آیا بنی اسرائیل میں ائمہ اور پیشواؤں سے مراد انبیاء کرام ہیں جو اس قوم میں موجود تھے یا وہ علم و دانش مند ہیں جو حکم الٰہی سے لوگوں کو نیکیوں کی ہدایت کرتے تھے؟ آیت اس بارے میں خاموش ہے، وہ صرف اس قدر کہتی ہے کہ ہم نے ان میں ایک جماعت کو امام اور ہادی قرار دیا ہے۔ لیکن "جعلنا" (ہم نے قرار دیا) کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ یہی نظر آتا ہے کہ مراد پیغمبر ہیں جو خدا کی طرف اس مقام کے لیے منصوب تھے۔ اور چونکہ بنی اسرائیل نے دوسری امتوں کی طرح ان کے ائمہ اور پیشواؤں کے بعد اختلاف شروع کر دیئے، مختلف رائے طے کیے اور لوگوں کے درمیان فرقہ بندی کو ہوا دی۔ لہذا آخری محل بحث آیت میں تہدید آمیز لہجہ میں کہتا ہے "تیرا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن ان اختلافات کے بارے میں جو ان کے درمیان تھے، فیصلہ کرے گا"۔ اور ہر شخص کو اس کے کیفر کردار تک پہنچائے گا۔ (إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ)- ہمیشہ حق کو "خواہشات نفسانی" کے ساتھ مخلوط کر دینے سے ہی اختلاف پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا قیامت کے دن تمام خواہشات اور ہوا اور ہوس کا فور ہو جائیں گی اور حق اپنی اصلی شکل و صورت میں ظہور پذیر ہو گا۔ یہ وہ مقام ہے، یہاں خدا اپنے فرمان کے ذریعہ تمام اختلافات کو ختم کر دے گا۔ یہ معاد و قیامت کا ایک اور فلسفہ ہے۔ (غور کیجئے گا)۔

ایک نکتہ: خدائی رہبروں کا صبر و استقامت:

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ زیر بحث آیات میں پیشواؤں اور ائمہ کے لیے دو شرائط ذکر ہوئی ہیں، پہلی صبر و استقامت اور دوسری آیات الٰہی پر ایمان و یقین۔ صبر و استقامت کی بہت زیادہ شاخیں ہیں۔ یہ کبھی تو ان مصائب کے مقابلہ میں ہوتا ہے جو خود انسان کو درپیش ہوتے ہیں۔ کبھی ان رنج و غم اور تکالیف کے مقابلہ میں ہوتا ہے جو انسان کے دوست اور احباب اس کو دیتے ہیں۔ اور کبھی اس کے مقدس مقامات کے بارے میں طعن و تشنیع کرنے کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ کبھی کج فکر اور کج اندیش لوگوں کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کبھی بدخواہوں کی طرف سے۔ کبھی جاہلوں اور نادانوں کی طرف سے۔ اور کبھی آگاہ اور سمجھدار بدخواہوں کی طرف سے! خلاصہ یہ کہ آگاہ اور دور اندیش رہبر کو ان تمام مشکلات وغیرہ کے مقابلہ میں استقامت اختیار کرنا چاہیے، کبھی بھی میدان حوادث سے نہ ہٹے، بےتابی اور جزع اور فزع نہ کرے، زمام اختیار ہاتھ سے نہ جانے دے، مایوس نہ ہوا، اصظراب اور پیشمانی کا مظاہرہ نہ کرے تاکہ وہ اپنے عظیم مقصد تک پہنچ جائے۔ اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ اسلام سے ایک جامع حدیث نقل ہوئی ہے جس کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا: "جو شخص صبر کرتا ہے تو اس کا یہ صبر تھوڑی سی مدت کے لیے ہوتا ہے (اس کے بعد کامیابی ہوتی ہے) اور ہر شخص بےتابی کرتا ہے، تو اس کی بےتابی بھی مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے (آخرکار شکست ہے)۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا، "تم پر لازم ہے کہ تمام امور میں صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کرو، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے حضرت محمدؐ کو مبعوث کیا اور انھیں صبر و مدارات کا حکم دیا"۔ اور فرمایا: "جو کچھ وہ کہتے ہیں اس کے مقابلہ میں صبر اختیا کرو اور ضرورت کی صورت میں ان سے الگ ہو جاؤ۔ لیکن اس حد تک بھی جدائی ٹھیک نہیں کہ وہ حق کی طرف دعوت دینے سے ہی روک دے"۔ "نیکیوں کا ہتھیار لے کر برائیوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ اس موقع پر جو لوگ تمہارے ساتھ عداوت اور دشمنی کہتے ہیں ضمیمی اور مخلص دوست کی مانند ہو جائیں اور اس مقام پر سوائے صابرین اور ان لوگوں کے اور کوئی نہیں پہنچ سکتا جن کے پاس ایمان کا ایک عظیم حصہ ہے۔ پھر فرمایا: پیغمبرؐ نے صبر و شکیبائی اختیار کی، یہاں تک کہ لوگوں نے ان پر انواع و اقسام کی تہمت کے تیر چلائے (انھیں مجواں اور ساحر کہا، شاعر کہہ کر پکارا اور انھیں دعوت نبوت میں جھٹلایا) ان کی باتیں سن کر پیغمبر تنگ آ گئے، خدا نے یہ ارشاد ان پر نازل کیا۔" ہم جانتے ہیں کہ تمھارا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہو جاتا ہے لیکن تم اپنے پروردگار کی تسبیح و حمد بجا لاؤ اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ"۔ (کیونکہ یہی عبادتیں تمھیں آرام و سکون بخشیں گی۔ دوبارہ انھوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو متہم کیا تو آنجنابؐ غمگین ہوئے تو خدا نے ان پر یہ ارشاد نازل کیا کہ ہم جانتے ہیں انسان کہ ان کی باتیں آپ کو غمگین کرتی ہیں، لیکن آپ جان لیں کہ ان کا مقصد آپ کو غمگین کرنا نہیں بلکہ یہ ظالم تو آیات خدا کی تکذیب کرتے ہیں۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے تھے وہ بھی ان کی تکذیب کی آماجگاہ تھے لیکن انھوں نے صبر کیا۔ انھیں آزار دیا گیا۔ مگر انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد و نصرت آ پہنچی۔ پیغمبر نے پھر بھی صبر کیا۔ یہاں تک کہ وہ حد سے گزر گئے اور خدا کا نام بھی برے الفاظ کے ساتھ زبان پر جاری کیا اور تکذیب کی۔ پیغمبر اکرمؐ نے عرض کیا، خداوندا میں نے اپنے بارے میں، اپنے خاندان اور عزت و آبرو کے بارے میں صبر اختیار کیا۔ لیکن تیرے مقام مقدس کے بارے میں بد دعا کی، جب پر صبر نہیں کر سکتا۔ پھر بھی خدا نے انھیں صبر کا حکم دیا اور فرمایا" وہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو"۔ پھر مزید کہتا ہے کہ اس کے بعد وہ پیغمبر تمام حالات میں اور تمام مشکلات کے مقابلہ میں صابر و شکیبا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انھیں بشارت دیتا ہے کہ تمھارے خاندان میں ائمہ اور پشوا پیدا ہوں گے اور ان آئمہ کو بھی صبر کی وصیت کی۔ اس موقع کے لیے پیغمبرؐ نے فرمایا: "الصبر من الایمان كالرأس من الجسد" "صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے اور آخر کار آپ کا یہی صبر استقلال مشرکین پر آپؐ کی کامیابی کا سبب بنا اور ان ستم گاروں سے انتقام لینے کا حکم صادر ہوا جو قابل ہدایت نہیں تھے۔ اور ان کی زندگی کا روز نامچہ پیغمبر اور ان کے رفقائے کار کے ہاتھوں لپیٹ دیا گیا۔ یہ تو دنیا میں ان کے صبر کی جزا تھی، لیکن آخرت کے لیے ذخیرہ کیا گیا ہے، وہ اس کے علاوہ، ہے۔ پھر امام صادقؑ فرماتے ہیں: "فمن صبر و احتسب لم يخرج من الدنيا حتٰی یقرّ اللہ له عینًا فی اعدانه مع ما يدّخر له في الآخرة" "جو شخص صبر کرے اور اس صبر کو خدا کے کھاتے میں ڈال دے وہ دنیا سے اس وقت تک خارج نہیں ہو گا جب تک خداوند عالم اس کی آنکھوں کو اس کے دشمنوں کی شکست کے ذریعہ ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ لیکن آخرت کا وہ اجر اس کے علاوہ، ہے جو اس کے لیے ذخیرہ کیا جا چکا ہے۔ (بحوالہ : "اصول کافی" جلد ٢ ص ٧۳ باب الصبر (خلاصہ کے ساتھ)۔

26
32:26
أَوَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍۚ أَفَلَا يَسۡمَعُونَ
کیا ان کی ہدایت کیلئے یہی کافی نہیں کہ ہم نے بہت سے افراد کو ہلاک کر دیا ہے جو ان سے صدیوں پہلے گزر چکے ہیں ؟ یہ ان کے(ویران شدہ) گھروں میں چلتے پھرتے ہیں۔اس میں خدا کی قدرت (اور اس کے درد ناک عذاب) کی نشانیاں ہیں۔ کیا وہ سنتے نہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
32:27
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَسُوقُ ٱلۡمَآءَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا تَأۡكُلُ مِنۡهُ أَنۡعَٰمُهُمۡ وَأَنفُسُهُمۡۚ أَفَلَا يُبۡصِرُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو خشک زمینوں کی طرف چلاتے ہیں اور اس کے ذریعہ زراعتیں اگاتے ہیں جن سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی۔ کیا وہ دیکھتے نہیں ؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
32:28
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡفَتۡحُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اور وہ کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ تمہاری کامیابی وفتح کب ہو گی؟

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
32:29
قُلۡ يَوۡمَ ٱلۡفَتۡحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِيمَٰنُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
کہہ دوکامیابی کے دن ایمان لانا کافروں کیلئے سود مند نہ ہو گا اور انہیں کسی قسم کی مہلت نہیں دیجائیگی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔

30
32:30
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَٱنتَظِرۡ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ
(ا ے پیغمبر) اب جب کہ ایسا ہی ہے تو ان سے منہ پھیر لے اور منتظر رہ وہ بھی منتظر رہیں۔ (تو رحمت خدا کا منتظر رہ اور وہ اس کے عذاب کے منتظر رہیں )۔

تفسیر ہماری کامیابی کا دن:

Tafsīr Nemūna · Vol. 5

گزشتہ آیات میں بےایمان مجرمین کی تنبیہ موجود تھی اور زیر بحث پہلی آیت بھی اس تنبیہ کی تشریح اور تکمیل کے طور پر ہے فرماتا ہے: "کیا یہی بات ان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے کہ لوگوں میں سے بہت سے افراد جو ان سے صدیوں پہلے زندگی بسر کرتے تھے، ہم نے انہیں ہلاک کیا اور انھیں ان کے اعمال کی سزا دی"۔ (أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْقُرُونِ)۔ (تشریحی نوٹ: "لم یهد" کا فاعل ایک مفہوم ہے جو "كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم" کے جملہ سے سمجھا جاتا ہے۔ تقدیری طور پر یوں ہے: "أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ کثرۃ من أَهْلَكْنَا")۔ "یہ ان کے ویران شدہ گھروں میں چلتے پھرتے ہیں۔" اور ان نفرین شده اقوام کے آثار اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں: (يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ)۔ (تشریحی نوٹ: اکثر مفسرین اس آیت کو اسی طرح بیان کرتے ہیں، جس طرح ہم اوپر کہہ چکے ہیں۔ لیکن بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ "یمشون" کا جملہ ہلاک ہونے والوں کی حالت بیان کر رہا ہے یعنی ان کی حالت یہ تھی کہ وہ عذاب الٰہی سے پوری طرح بےخبر تھے اور اپنے گھروں میں چل پھر رہتے تھے کہ اچانک عذاب الٰہی آ پہنچا اور انھیں ہلاک کر دیا لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے)۔ "عاد" و "ثمود" کی عذاب میں مبتلا سر زمین اور "قوم لوط" کے ویران شدہ شہر شام کی طرف جاتے ہوئے ان کے راستہ میں وجود ہے۔ جس وقت ان سر زمینوں سے گزرتے ہیں۔ جو ایک دن قدرت مند لیکن گمراه آلودۂ گناہ اقوام کے مرکز تھیں، جتنا پیغمبر و انبیاء انھیں خبردار کرتے، اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور ان کا عذاب الٰہی نے ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ تو گویا بیابان کا ایک ایک سنگریزہ اور ان کے ویران شدہ قصور و محلات زبان حال کے ساتھ پکار پکار کر ان کی کفر آلود زندگی کا انجام بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مکمل طور پر اپنے کان کھو بیٹھے ہیں جو سن نہیں پاتے۔ اس لیے آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے "اس موضوع میں قدرت خدا کی نشانیاں اور عبرت کے درس ہیں۔ کیا وہ سنتے نہیں ہیں؟ (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ)۔ بعد والی آیت میں ایک اہم ترین نعمت الٰہی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو تمام زمینوں کی آبادی کا سبب اور تمام زندہ موجودات کی حیات کا ذریعہ ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ جس طرح خدا شہکار لوگوں کی زمینوں کے ویران کرنے کی قدرت رکھتا ہے، اسی طرح ویران اور مردہ زمینوں کے آباد کرنے اور اپنے بندوں کو ہر قسم کی نمت و بخشش عطا کرنے پر بھی قادرہے۔ فرماتا ہے "کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ تم پانی کو خشک اور بےآب و گیاه زمینوں کی طرف چلاتے ہیں اور اس کے ذریعہ فصیلں اگاتے ہیں کہ جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی غذا حاصل کرتے ہیں۔ کیا وہ دیکھتے نہیں؟" (أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ)۔ "جرز" (بروزن "شتر") اس زمین کو کہتے ہیں جس سے ہر قسم کے سبزہ کی بیخ کنی کی جا چکی ہو یا بالفاظ دیگر جس میں کسی قسم کی گھاس پُھونس نہ اگ سکے اور یہ دراصل "جرز" (بر وزن "مرض") کے مادہ سے قطع کرنے یا کاٹ دینے کے معنی میں ہے۔ گویا ہر قسم کی گھاس اس سرزمین سے کاٹ دی گئی ہے یا خود زمین نے اس سبزے کو کاٹ دیا ہے۔ قابل توجہ یہ ہے کے یہاں "نَسُوقُ الْمَاءَ" (ہم پانی کو چلاتے ہیں) کی تعبیر بیان ہوئی ہے۔ جو اس طرف اشارہ ہے کہ پانی کی طبعیت اور اس کا مزاج اپنی سنگینی کی بناء پر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ زمین کے اوپر اور گڑھوں میں موجود ہو اور اس کے سیال ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اسے زمین کی گہرائیوں کے اندر ہونا چاہیے۔ لیکن جس وقت اسے ہمارا فرمان پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنی طبیعت کو چھوڑ کر ہلکے بخار میں تبدیل ہو کر ہوا کے چلنے سے ہر طرف حرکت کرتا رہتا ہے۔ جی ہاں یہی بادل جو آسمان کی بلندی میں ہیں درحقیقت، میٹھے پانی کے عظیم سمندر ہیں۔ جو حکم خدا کے مطابق ہواؤں کی مدد سے خشک زمینوں کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ سچ مچ اگر بارش نہ ہوتی تو بہت سی زمینیں پانی کا ایک قطرہ میں نہ دیکھ پاتیں۔ حتی کہ اگر بالفرض دریا اور ندی نالے پانی سے لبریز بھی ہوتے تو بھی پانی ان زمینوں پر مسلط نہ ہو سکتا۔ لیکن اب جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس رحمت الٰہی کی برکت سے بہت سے پہاڑوں کی بلندیاں ، دشوار گزار درے، اونچے اونچے ٹیلے اور اوپر کے بہت سے جنگل، فراواں درخت اور بہت سے سبزه جات سے سبزہ زار بنے ہوئے ہیں تو آبیاری کی یہ عجیب قدرت صرف بارش میں ہے۔ کسی اور چیز میں یہ طاقت نہیں تھی۔ "زرع" یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کی نباتات اور درختوں کو شامل ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار استعمال کے موقع پر صرف درخت کے مقابل قرار پاتا ہے۔ اس آیت میں "چوپاؤں" کو انسانوں" پر مقدم اس بناء پر کیا گیا ہے کہ چو پاؤں کی ساری غذا بناتات اور گھاس سے ہے جب کہ انسان کی غذا سبزہ بھی ہے اور چوپاؤں کا گوشت بھی۔ اور یا اس بناء پر کہ نباتات اُگتے ہی چوپاؤں کے لیے قابل استفادہ ہوتی ہیں جب کہ انسان کا نباتات سے استفاده عام طور بعد کے زمانہ متعلق ہوتا ہے۔ یعنی جس وقت وہ ا پنے وہ دانے اور پھل کا بار اٹھا لیتے ہیں۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ زیر بحث آیت کے آخر میں "افلايبصرون" (کیا وہ دیکھتے نہیں ہیں) کا جملہ آیا ہے جبکہ گزشتہ آیت کے ذیل میں جہاں گزشتہ قوموں کے ویران شده قصور و محلات اور گھروں کی بات ہے "افلا یسمعون (کیا وہ سنتے نہیں) کا جملہ آیا ہے۔ یہ فرق اس بناء پر ہے کہ بنجرزمینوں کے زندہ ہونے کا منظر بارش کے نزول کی وجہ سے سب لوگ آنکھ سے دیکھتے ہیں جبکہ گزشتہ قوموں سے متعلق مسائل عام طور پر خبروں کے طور پر سنتے ہیں۔ اوپر والی دونوں آیات کے مجموعہ سے جو نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ گویا خدا اس سرکش گروہ سے فرماتا ہے کہ اپنی آنکھ اور کان کھول کر حقائق کر سنو، دیکھو اور ان پر غور کرو کہ کس طرح ہم نے ایک دن ہواؤں کو حکم دیا کہ قوم عاد کے قصور اور محلات کو تباه و برباد کر دو۔ دوسرے دن انھیں ہواؤں کو حکم دیا کہ پانی سے بھرے بادلوں کو مردہ اور بنجر زمینوں کی طرف لے جاؤ اور انھیں آباد و سرسبز کرو۔ کیا ہماری اس ہماری قدرت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے ہو؟ چونکہ گزشتہ آیات مجرمین کو انتقام کی تہدید اور مومنین کو امامت، پیشوائی اور کامیابی کی بشارت دے رہی تھیں، یہاں پر کفار غرور و نخوت سے یہ سوال پیش کرتے ہیں کہ یہ وعدے اور وعید کب عملی صورت اختیار کریں گے؟ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے"۔ وہ کہتے ہیں، اگر تم سچ کہتے ہو تو تمہاری یہ فتح و کامرانی کب آئے گی؟" (وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ تو قرآن فورًا انھیں یہ جواب دیتا ہے اور پیغمبرؐ کو حکم دیتا ہے۔ "کہہ دے آخر کار کامیابی کے دن کے رہے گا۔ لیکن اس دن ایمان لانا کافروں کے لیے سودمند ہو گا اور کسی قسم کی انھیں مہلت بھی نہیں دی جائے گی؟" (قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيْمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ)- یعنی اگر تمھارا مقصد یہ ہے کہ خدائی وعدوں کی صداقت جو پیغمبر کی زبانی تم نے سنی ہے، اسے آنکھوں سے دیکھو اور پھر ایمان لے آؤ تو پھراس دن دیر ہو چکی ہو گی اور ایمان تمھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ "يوم الفتح" سے "عذاب استیصال" کے نزول کے دن ہے یعنی دو عذاب جو کفار کی بیخ کنی کر دے گا اور انہیں ایمان لانے کا موقع بھی نہیں دے گا۔ دوسرے لفظوں میں عذاب استیصال دنیاوی عذاب کی ایک قسم ہے نہ کہ عذاب آخرت کی اور نہ عام دنیا کے عذابوں کی جو مکمل طور پر اتمام حجت کے بعد گناہگار قوموں کی زندگی کو ختم کر دیتے ہیں۔ اس گفتگو کے شاہد چند امورہیں: الف:- اگر عذاب مراد عام عذاب بو یا جنگ بدر یا روز فتح مکہ جیسی مسلمانوں کی کامیابی مراد ہو، جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو"لاينفع الذين كفروا ایمانهم" (اس دن کفار کو ان کا ایمان نفع نہیں دے گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔ کیونکہ فتح بدر کے دن بھی اور فتح مکہ کے روز میں ایمان لانا مفید تھا اور توبہ کے دروازے کھلے ہوۓ تھے۔ ب :- اور اگر (یوم الفتح" سے مراد قیامت کا دن ہو، جیسا کہ بعض مفسرین نے اسے اپنایا ہے تو وہ "ولاهم ينظرون"، "انھیں مہلت نہیں دی جائے گی" کے جملہ کے سات سازگار نہیں ہے، کیونکہ مہلت دینا یا نہ دینا اس دنیا کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سے قطع نظر قرآن کے کسی مورد میں بھی "یوم الفتح" کے الفاظ اور قیامت کے معنی میں استعمال نہیں ہوئے۔ ج:- "فتح" کی تعبیر "عذاب استیصال" کے بارے میں قرآن مجید میں بار بار نظر آتی ہے۔ مثلًا سوره شعراء کی آیت ١١٨ کہ جہاں حضرت نوح کہتے ہیں: (فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ)۔ "پروردگارا ! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر اور اس ستم گر قوم کی بیخ کنی فرما اور مجھے ان تمام مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں، نجات دے" جو عذاب طوفان کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح سورہ مومنون کی آیت ٧٧ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ لیکن اگر مراد دنیا کا "عذاب اسیتصال" ہو تو جو کچھ ہم نے اوپر کہا ہے اس سے سازگار اور اوپر کے تمام قرائن سے ہم آہنگ ہے۔ اور واقع میں کفار و ظالمین کو تنبیہ ہے کہ اس قدر مومنین کی کامیابی اور کفار کے عذاب استیصال کے وعده کی درخواست نہ کرو۔ کیونکہ اگر اس درخواست کو عملی شکل دے دی گئی تو نہ تو پھر تمھیں موقع دیا جائے گا اور اگر موقع ملا بھی اور تم ایمان لے بھی آئے تو قابل قبول نہیں ہو گا۔ یہ معنی خصوصیت کے ساتھ ہیں گزشتہ آیات کے ساتھ ہیں جو سرکش قوموں کی ہلاکت کے بارے میں ہیں جو قرون گزشتہ میں زندگی بسر کرتی تھیں اور جو عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر نیست و نابود ہو گئیں۔ کیونکہ کفار کے طبعًا سرکشی اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اس قسم کے موضوع کی اپنے بارے میں درخواست کرتے تھے جو قبل کی دو آیات میں آئی ہے، لیکن قرآن انھیں تنبیہ کرتا ہے کہ وہ ہرگز اس قسم کا تقاضا نہ کریں۔ کیونکہ اگر عذاب نازل ہوا تو کوئی چیز تمارے لیے باقی نہیں رہے گی۔ آخرکار اس سورہ (سوره سجدہ) کی آخری آیت کے ساتھ ناطق اور معنی خیز تہدید کے ذریعہ سورہ کو ختم کرتے ہوئے کہتا ہے۔ اے پیغمبر! اب جبکہ ایسا ہے۔ ان سے منہ پھیر لو اور تم منتظر رہیں": (فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ)۔ اب جبکہ نہ تو بشارت انھیں اثر کرتی ہے اور نہ انذار (ڈرانا) اور نہ ہی وہ اہل منطق و استدلال ہیں تاکہ وسیع عالم خلقت میں آثار الٰہی کے مشاہدہ کرنے سے اسے پہنچائیں اور اس کے غیر کی پرستش ترک کر دیں۔ اور نہ ہی بیدار ضمیر رکھتے ہیں کہ اپنی جان کے اندر سے بلند ہونے والے نغمہ توحید پر کان دھريں۔ لہذا ان سے روگردانی کر کے منہ پھیر لیجئے اور اپنے خدا کی رحمت کے منتظر رہیئے اور وہ اس کے عذاب کے منتظر رہیں۔ کیونکہ وہ صرف عذاب کے لائق ہیں۔ پروردگار! ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے جو حق کی اولین نشانی کو دیکھ کر اس کے سامنے جھک جاتے اور ایمان لے آتے ہیں۔ بارالٰہا! تکبر، غرور، سرکشی اور ہٹ دھرمی کی رُوح ہم سب سے دور فرما۔ خدا وند! کفر و استکبار اور استعمار کے لشکروں پر لشکرِ اسلام کو مکمل کامیابی جلد سے جلد عطا فرما۔

end of chapter
As-Sajdah (32) — Tafseer e Namoona