Qaf
سورہ ق
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ٤۵ آیات ہیں
سُورہ "ق" کے مطالب و مضامین
اس سورہ کے مباحث کا محور مسئلہ "معاد" ہے، اور تقریباً اس کی تمام آیات اسی محور کے گرد گھومتی ہیں، اور اس میں دوسرے مسائل ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ معاد سے مربوط مسائل میں امور ذیل بیان کیے گئے ہیں۔ ١۔ کفار کا مسئلہ معاد سے انکار اور تعجب (معاد جسمانی سے)۔ ٢۔ مسئلہ معاد پر نظامِ آفرینش کی طرف توجہ دلانے کے طریقہ سے استدلال، خصوصاً مردہ زمینوں کا بارش کے نزول کے ذریعہ احیاء۔ ٣۔ مسئلہ معاد پر خلقت کی طرف توجہ دلانے کے طریقہ سے استدلال۔ ٤۔ "یوم الحساب" کے لیے ثبت اعمال کے مسئلہ کی طرف اشارہ اور اس کے لیے اقوال۔ ٥۔ موت سے مربوط مسائل، اور اس جہان سے دوسرے گھر کی طرف انتقال۔ ٦۔ روزِ قیامت کے حوادث کا ایک گوشہ، اور جنت و دوزخ کے اوصاف۔ ٧۔ اختتام جہان کے ہلا دینے والے حوادث کی طرف اشارہ، جو دوسرے جہان کے لیے ایک سر آغاز ہیں۔ اس کے ضمن میں گزشتہ اقوام کی وضع و کیفیت ان کی درد ناک اور شوم سرنوشت کی طرف مختصر اور مؤثر اشارے ہیں، (جیسے قومِ فرعون، عاد، لوط، شعیب، اور تبع کی سرنوشت) نیز خدا کی طرف توجہ اور اس کے ذکر کے سلسلہ میں پیغمبراسلامؐ کو کچھ احکام دیئے گئے ہیں، اور سُورہ کے آغاز اور اختتام پر عظمت قرآن کے بارے میں ایک مختصر سا اشارہ کیا گیا ہے۔
سورہ "ق" کی تلاوت کی فضیلت
روایات اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرمؐ اس سورہ کو بہت اہمیّت دیتے تھے، یہاں تک کہ ہر جمعہ کے دن نماز جمعہ کے خُطبہ میں اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (بحوالہ: "تفسیر قرطبی" جلد٩، صفحہ ٦١٧١)۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے، کہ آپؐ ہر عید اور ہر جمعہ کے دن اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، (بحوالہ: "تفسیر فی ظلال" جلد٧، صفحہ ٥٤٧)۔ یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ جمعہ اور عید کا دن، انسانوں کی بیداری اور آگاہی کا دن ہے، یہ پہلی فطرت کی طرف لوٹنے، اور خدا اور یوم الحساب کی طرف توجہ کرنے کا دن ہے، اور چونکہ اس سُورہ کی آیات، مسئلہ معاد، موت اور قیامت کے حوادث کو بہت ہی مؤثر طریقہ سے بیان کرتی ہیں، علاوہ ازیں، مسائل پر غور و فکر کرنا انسانوں کی بیداری اور تربیّت میں عمیق اور گہری تاثیر رکھتا ہے، لہٰذا آنحضرت اس پر خاص توجہ فرماتے تھے۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرمؐ سے اس طرح نقل ہوا ہے: من قرأ سورة" ق" هون الله عليهِ تارات الموت وَسُكرَاته" "جو شخص سُورہ "ق" کی تلاوت کرے گا، خداوند عالم اس پر موت کی مشکلات اور سکرات کو آسان کر دے گا۔ (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد ٩، صفحہ ٤٠ ١)۔ نیز ایک حدیث میں امام باقرؑ سے آیا ہے: (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد٩، صفحہ ١٤٠)۔ "مَن أَدمَن فى فرائضه وَنوافله سورة ق وَسَع الله فِى رزقِه، وَأعطاه كتابه بِيَمِينِه وَحَاسبه حسابًا يسيرًا۔" "جو شخص ہمیشہ واجب اور مستحب نمازوں میں سُورہ ق کی تلاوت کرتا رہے گا، خدا اس کی روزی میں وسعت پیدا کر دے گا، اور اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا، اور قیامت میں اس کا حساب کتاب آسان کر دے گا۔ : (بحوالہ: "تفسیر مجمع البیان" جلد٩، صفحہ ١٤٠)۔ یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے، کہ یہ سب افتخار و فضیلت صرف الفاظ کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ الفاظ کا پڑھنا تو افکار و نظریات کے بیدار ہونے کا وسیلہ ہے اور وہ عمل صالح اور سُورہ کے مطالب کے ساتھ ہم آہنگی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ہٹ دھرم منکرین اپنے کام میں سرگردان ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہاں پر ہمیں اس سُورہ کی ابتداء میں پھر بعض حروف مقطعہ کا سامنا ہے اور حرف "ق" ہے، اور... جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، حروف مقطعہ کی ایک قابل توجہ تفسیر یہ ہے ... کہ قرآن اپنی عظمت کے باوجود "الف"، "با" جیسے ایک عام مادہ سے بنا ہے، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ قرآن مجید کا ایجاد کرنے والا اور نازل کرنے والا بےانتہا علم و قدرت کا مالک ہے، جس نے ان عام اور سادہ آلات سے اس قسم کی اعلیٰ ترکیب تخلیق کی ہے۔ البتہ حروفِ مقطعات کے لیے اور دوسری تفسیر یں بھی ہیں، جن کا آپ سُورئہ "بقرہ"، "آل عمران"، "اعراف"، اور"حٰم" کے سوروں کی ابتداء میں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے "ق" کو خدا کے بعض اسماء کی طرف اشارہ سمجھا ہے (جیسے "قادر" و "قیّوم")۔ بہت سی تفسیروں میں یہ بھی بیان ہوا ہے، کہ "ق" ایک بہت بڑے پہاڑ کا نام ہے، جو پورے کرّہ ارض کو محیط ہے، اب یہ بات کہ یہ کون سا پہاڑ ہے جو کرّہ زمین یا سارے جہان کا احاطہ کیے ہُوئے ہے؟ اور اس سے کیا مراد ہے؟ یہاں اس پر بحث کا مقام نہیں ہے، اس جگہ ہم جس چیز کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ: یہاں "ق" کا "کوہ قاف" کی طرف اشارہ بہت بعید نظر آ تاہے۔ کیونکہ نہ صرف یہ کہ یہ بات اس سُورہ کے مباحث کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی، بلکہ یہاں حرف "ق" ان تمام دوسرے حروف مقطعہ کی طرح ہے جو قرآن کی سُورتوں کے ابتداء میں آئے ہیں، علاوہ ازیں، اگر اس سے مراد "کوہ قاف" ہوتا، تو اسے، "واؤ" قسم کے ساتھ ہونا چاہیے تھا " وَ الطُّورِ" وغیرہ کی طرح سے، اور ایک لفظ کو ذکر کرنا بغیر مبتداء و خبر کے یا واؤ قسم کے کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر تمام قرآنوں کا رسم الخط یہ ہے کہ "ق" مفرد صورت میں لکھا ہوا ہے، حالانکہ "کوہ قاف" کو "قاف" کی صُورت میں لکھتے ہیں۔ منجملہ ان امور کے، جو اس کی گواہی دیتے ہیں، کہ حروف مقطعات میں سے اس حرف کا ذکر، قرآن کی عظمت کے بیان کے لیے ہے، یہ ہے کہ اس کے بعد بلافاصلہ قرآن مجید کی قسم کھاتے ہُوئے فرماتا ہے۔ "قسم ہے قرآن مجید کی" (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ)۔ "مجید مجد" کے مادہ سے "وسیع شرافت" کے میں ہے، اور چونکہ قرآن بےانتہا عظمت و شرافت رکھتا ہے لہٰذا اس کے لیے لفظ مجید ہر لحاظ سے سزاوار ہے، اس کا ظاہر زیبا اور خوبُصورت ہے، اس کے مضامین و مطالب عظیم ہیں۔ اس کے احکام اعلیٰ ہیں اور اس کے پروگرام تربیتی اور حیات بخش ہیں۔ اس بارے میں کہ یہ قسم کس مقصد کے لیے ذکر ہوئی ہے اور اصطلاح کے مطابق "مقسم لہ" کیا ہے؟ مفسرین نے بہت سے احتمالات دیئے ہیں، لیکن بعد والی آیات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جوابِ قسم وہی پیغمبرؐ اسلام کی "نبوت" یا موت کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا اور معاد کا مسئلہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اور تقدیر میں اس طرح ہے: وَالقرآن المجيد إنّك رسول الله- يا- إنّ البعث حق)۔ اس کے بعد کفار و مشرکین عرب کے چند بےبنیاد اعتراضات کو بیان کرتے ہُوئے، ان میں سے دو اعتراضات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے: "بلکہ انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ایک ڈرانے والا پیغمبر خود انہیں میں سے آیا ہے، کافروں نے کہا: یہ تو ایک عجیب چیز ہے" (بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُمْ مُنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ)۔ یہ ایک ایسا اعتراض ہے کہ قرآن نے بارہا اس کی طرف اور اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اس کو بار بار دھرانا، اور اس کی تکرار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ یہ کفار کے اصل اور بنیادی اعتراضات میں سے تھا، جس کا وہ ہمیشہ تکرار کرتے تھے۔ نہ صرف پیغمبر اسلامؐ پر بلکہ تمام پیغمبروں پر ان کا یہی اعتراض تھا، کبھی کہتے،: (إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَآؤُنَا) "تم تو ہم ہی جیسے انسان ہو اور یہ چاہتے ہو کہ ہمیں اس چیز سے جس کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کیا کرتے تھے، باز رکھو۔" (ابراہیم۔١٠)۔ اور کبھی کہتے،: مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ: یہ تو تمہاری طر ح ہی ایک بشر ہے، جو تم کھاتے وہی یہ کھاتا ہے، اور جو تم ہو وہی یہ پیتا ہے۔، (مؤمنون۔٣٣)۔ اور کبھی اس بات کا اضافہ کرتے: لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا: اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل ہوا، تاکہ وہ اس کے ساتھ مل کر ڈراتا؟!(فرقان۔٧)۔ لیکن یہ سب حق کو تسلیم نہ کرنے کے لیے بہانے تھے۔ قرآن زیر بحث آیت میں اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیتا، کیونکہ وہ اس کا بارہا جواب دے چکا ہے، کہ اگر بالفرض ہم کسی فرشتے کو بھی بھیج دیتے تو اس کو بھی بشر کی صورت میں بھیجتے، یعنی انسان کا رہبر و رہنما صرف انسان ہی ہو سکتا ہے، تاکہ وہ اس کے تمام دردوں، حاجتوں، میلانوں، خواہشوں اور مسائل زندگی سے باخبر ہو اور دوسری طرف سے عملی پہلوؤں سے وہ ان کے لیے نمونہ بن سکے اور وہ یہ نہ کہنے پائیں کہ اگر وہ ہمارا ہم جنس ہوتا تو کبھی بھی پاک و پاکیزہ رہ سکتا، کیونکہ قاضى ار با ما نشيند برفشاند دست را محتسب گر مى خورد معذور دارد مست را! اگر قاضی ہمارے ساتھ بیٹھتا تو اپنے ہاتھوں کو جھاڑتا رہتا، محتسب اگر شراب پی لیتا تو مست کو معذور سمجھتا۔ لہٰذا اس کے پروگرام صرف اسی کے لیے مفید ہیں نہ کہ نوع بشر کے لیئے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اس اعتراض کے بعد اور یہ کہ وہ کس طرح نوح بشر سے ہے؟ انہیں ایک دوسرا اعتراض جو پیغمبرؐ کی دعوت کے مضمون پر تھا، وہ ایک ایسے مسئلہ پر تھا جوان کے لیے ہر لحاظ سے عجیب و غریب تھا، وہ کہتے تھے: "جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے تو کیا پھر زندہ ہو جائیں گے، جیسا کہ وہ کہتا ہے، یہ بازگشت تو ایک بعید بات ہے" (أَ إِذا مِتْنا وَكُنَّا تُراباً ذلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ)۔ (تشریحی نوٹ: "اذا" کا جواب محذوف ہے اور وہ بعد والے جُملے سے سمجھ میں آتا ہے، اور تقدیر میں اس طرح ہے، (أَ إِذا مِتْنا وَكُنَّا تُراباً نَرجع وَنَردّ حيًا ذلك رجعٌ بعيدٌ")۔ بہرحال، وہ دوبارہ زندہ ہو جانے کو عقل سے دور ایک مسئلہ خیال کرتے تھے، بلکہ بعض اوقات تو اسے محال سمجھتے تھے، اور اس کے ادعا کو کہنے والے کے جنون کی دلیل قرار دیتے تھے، جیسا کہ سورۂ سباکی آیت٧ و ٨ میں بیان ہوا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أَفْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ "کافروں نے کہا، آؤ ہم تمہیں ایک ایسا آدمی دکھائیں جو یہ کہتا ہے کہ جب ہم کامل طور سے منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے تو پھر دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہو کر لوٹ آئیں گے، کیا اس نے خدا پر بہتان باندھا ہے؟ یا اُسے جنون ہو گیا ہے؟! صرف یہی ایک مقام نہیں ہے کہ جہاں انہوں نے پیغمبر اسلامؐ پر یہ اعتراض کیا، بلکہ انہوں نے بارہا یہی کہا، اور بارہا اس کا جواب سُنا اور پھر ہٹ دھرمی کرتے ہُوئے اس کا تکرار کیا۔ بہرحال، قرآن مجید یہاں چند ایک طریق سے اس کا جواب دیتا ہے۔ سب سے پہلے خدا کے غیر متناہی علم کا طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان کے بدن میں سے کرے گی اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے، جس میں ہر چیز محفوظ ہے۔" (قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ)۔ اگر تمہارا اعتراض اس بناء پر ہے کہ انسان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی، اور اس کا گوشت مٹی ہو جائے گا، اور وہ زمین میں مل جائے گا اور اس کے ذرات، بخارات اور گیسوں میں تبدیل ہو کر، ہوا میں پھیل جائیں گے، تو انہیں کون اکٹھا کر سکتا ہے؟ اور اصلاً کون ایسا ہے جو ان سے باخبر ہو؟ تو اس کا جواب معلوم ہے، دہی خدا جس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہُو ئے ہے، وہ ان تمام ذرات کو پہچانتا ہے اور بوقت ضرورت وہ ان سب کو اسی طرح سے جمع کرے گا، جس طرح مٹی کے ایک ٹیلے کے درمیان سے مقناطیس کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ لوہے کے بکھرے ہُوئے ذرات کو جمع کیا جا سکتا ہے، ہر انسان کے پراگندہ ذرات کی جمع آوری خدا کے لیے اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ اور اگر ان کا اعتراض یہ ہے، کہ انسان کے اعمال کا حساب کتاب معاد و قیامت کے لیے کون محفوظ رکھے گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب لوح محفوظ میں ثبت ہیں اور اصولی طور پر کوئی چیز اس عالم میں گم نہیں ہوتی یہاں تک کہ تمہارے اعمال بھی باقی رہتے ہیں، اگرچہ ان کی شکل بدل جاتی ہے۔ " كِتابٌ حَفِيظٌ" اس کتاب کے معنی میں ہے جو تمام انسانوں اور ان کے غیر کے اعمال کی محافظ ہے، اور یہ لوحِ محفوظ کی طرف اشارہ ہے، جس کی تشریح و تفصیل ہم سورۂ رعد کی آیت ٣٩ کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں۔ (جلد٥، تفسیر نمونہ)۔ اس کے بعد دوسرے جواب کی طرف رُخ کرتا ہے، جو زیادہ تر نفسیاتی پہلو رکھتا ہے، کہتا ہے: لیکن جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی" (بَلْ کَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جاءَهُمْ)۔ یعنی وہ جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں، ورنہ حق کے چہرے پر کوئی گرد و غبار نہیں ہے، اور جیسا کہ بعد والی آیات میں آئے گا، وہ اسی دُنیا میں خود اپنی آنکھوں سے بار بار معاد کا منظر دیکھتے ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کرتے۔ لہٰذا آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: "چونکہ وہ جھٹلانے پر تلے ہُوئے ہیں، لہٰذا ہمیشہ الٹی سیدھی ہانکتے ہیں خود اپنے کام میں حیران ہیں اور اُلٹے پلٹے کاموں میں گرفتار ہیں" (فَهُمْ فِي أَمْرٍمَّرِيجٍ)۔ کبھی وہ پیغمبرؐ کو مجنون کہتے ہیں، کبھی کاہن اور کبھی شاعر۔ کبھی کہتے ہیں: اس کی باتیں "اساطیرُ الأوّلِین" گزشتہ لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ کبھی کہتے ہیں: کوئی بشر اُسے تعلیم دیتا ہے۔ کبھی اس کے کلمات کے نفوذ و اثر کو جادو کی ایک قسم کہتے ہیں اور کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بھی اس کے مانند آیات لاتے ہیں یہ اُلٹی سیدھی باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انہوں نے حق کو پہچان تو لیا ہے، لیکن بہانہ باز میں لگے ہُوئے ہیں اسی لیے ایک بات پر نہیں ٹکتے۔ "مریج"، "مرج" کے مادہ سے (جو حرج کے وزن پر ہے) "مختلط، مشوش اور مشتبہ" امر کے معنی میں ہے، اور اسی لیے اس زمین کو جس میں مختلف قسم کی بکثرت گھاس اُگی ہوئی ہو، "مرج" (چراگاہ) کہا جاتا ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 11 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر ایک لمحہ کے لیے آسمان کی طرف دیکھو
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات، اسی طرح سے معاد کے دلائل کو پیش کر رہی ہیں، کبھی حق تعالیٰ کی غیر منتاہی قدرت کے طریقہ سے اور کبھی اسی دنیا میں معاد کے مناظر کے وجود سے مدد لیتی ہیں۔ سب سے پہلے منکرین کو، آسمانوں کی خلقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہے: "کیا انہوں نے اپنے سر کے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے انہیں کس طرح سے بنایا ہے، جس میں کوئی ستون اور پائے نہیں ہیں، اور کس طرح سے ہم نے اُسے ستاروں کے ذریعہ سے سجایا ہے جبکہ اس میں کوئی شگاف اور غیر موزونیت نہیں ہے؟ (أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ)۔ یہاں دیکھنے سے مراد غور و فکر اور سوچ بچار کے ساتھ دیکھنا ہے جو انسان کو اس وسیع و عریض آسمان اور اس کے عجائبات کے خالق کی عظیم قدرت سے آشنا کرتا ہے، جو خیرہ کرنے والی عظمت بھی رکھتا ہے، اور بہت زیادہ زیبائیاں بھی اور استحکام و نظم و حساب بھی۔ وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ (اس میں کوئی شک نہیں ہے) کا جُملہ یا تو نقص و عیب اور غیر موزونیت کے نہ ہونے کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے یا خاص طور پر اس آسمان میں شگاف نہ ہونے کے معنی میں ہے. جو اطراف زمین کو احاطہ کیے ہُوئے ہے اور جسے فضا ئے زمین کہا جاتا ہے، اور قرآن کے قول کے مطابق وہ (ایک محفوظ چھت) ہے (انبیاء۔ ٣٢) جو اُن آسمانی پتھروں کو، جو مسلسل اور تیزی کے ساتھ، زمین کی طرف آتے ہیں، روکے ہُوئے ہے اور سطح زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں جلا کر خاکستر کر دیتی ہے، اور اسی طرح نقصان دہ کیہانی شعاعوں سے بھی بچاتی ہے۔ ورنہ ستاروں کی جگہ کے معنی میں آسمان ہے، وہ تو ایک خالی فضا ہے، جس میں یہ ستارے اور کُرّے تیر رہے ہیں۔ یہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والا جُملہ "ایتھر" کے نظریہ کی طرف اشارہ ہو، اس نظریہ کے مطابق تمام عالم ہستی اور ستاروں کا درمیانی فاصلہ ایک بےرنگ و بےوزن "ایتھر" نامی مادہ سے پُر ہے، جو نور و روشنی کی لہروں کو اٹھائے ہوئے ہے اور اُسے ایک جگہ سے دوسری گجہ منتقل کرتا ہے، اس نظریہ کے مطابق تمام عالم ہستی میں کوئی شگاف یا سوراخ نہیں ہے۔ اور ثوابت اور سیارے "ایتھر" کے اندر تیر رہے ہیں۔ البتہ یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتیں، اگرچہ تیسری تفسیر جس کا تکیہ "ایتھر" کے مفروضے پر ہے قابلِ اعتماد نہیں ہے، کیونکہ "ایتھر" کا موضوع ماہرین کی نظر میں ابھی تک قطعی و یقینی طور پر ثابت نہیں ہوا ہے۔ اس کے بعد زمین کی خلقت کی عظمت کو پیش کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے: "اورہم نے زمین کو پھیلایا، اور اس میں بڑے بڑے پہاڑ قائم کیے، اور اس میں طرح طرح اور قسم قسم کی ہری بھری لہلہاتی ہوئی گھاس اُگائی" (وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ)۔ ہاں زمین کی پیدائش ایک طرف، اس کا پھیلاؤ (پانی کے نیچے سے باہر آنا) دوسری طرف، پہاڑوں کا پیدا ہونا، جن کی جڑیں ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں، اور وہ زرہ کی طرح زمین کو اندرونی اور بیرونی دباؤ سے اور چاند اور سورج کی کشش سے پیدا ہونے والے مدّ و جزر سے محفوظ رکھتے ہیں، تیسری طرف انواع و اقسام کے گھاس ان تمام عجائب اور خوبصورتیوں کے ساتھ، چوتھی طرف، یہ سب کے سب اس کی بےپایاں قدرت کی دلیل ہیں۔ (تشریحی نوٹ: ہم پہاڑوں کی خلقت کے بارے میں، اسی طرح زمین کے پچھانے اور پھیلانے کے سلسلہ میں اور عالم گیاہ کی زوجیّت کے متعلق تفصیلی بحث سورۂ رعد کی آیت ٣ کے ذیل میں جلد ١٠، صفحہ... سے آگے بیان کر چکے ہیں)۔ "مِن كُلِّ زَوْجٍ" کی تعبیر عالم گیاہ و نباتات میں مسئلہ زوجیّت کی طرف اشارہ ہے، جو اُن آیات کے نزول کے موقع پر ہرگز ایک اصل کلی کے عنوان سے ظاہر نہیں ہوا تھا، اور علم و دانش بشر نے کئی صدیوں کے بعد اس کے رُخ سے پردہ اُٹھایا ہے، اور یا یہ گھاس اور نباتات کے مختلف اصناف و انواع کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ عالم گیاہ و نباتات میں زیادہ فوق العادہ اور حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے۔ بعد والی آیت میں نتیجہ نکالتے ہُوئے کہتا ہے: ہم نے ان سب کو ان کو ان بندوں کی بصیرت اور بیداری کے لیے خلق کیا ہے، جو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرف لوٹ آئیں اور حق کو پا لیں، (تَبْصِرَةً وَذِکْری لِکُلِّ عَبْدٍ مُنیبٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "تبصرة "، "مفعول لہ" بھی ہو سکتا ہے اور "مفعول مطلق" بھی لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے "ذکریٰ" بھی اسی پر عطف ہے اور وہی معنی دیتا ہے)۔ ہاں! وہ ذات، جو آسمانوں کو اتنا عظیم اور خوبصورت، اور زمین کو اتنا پر نعمت و جمال و نظم و حساب کے ساتھ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے، تو وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہ ہو گی، اور قیامت کیوں برپا نہ کر سکے گی؟ کیا یہ عظیم خیرہ کر دینے والی قدرت امکان معاد پر واضح نہیں ہے! بعد والی آیت میں ایک دوسرے استدلال کی بنیاد رکھتے ہُوئے کہتا ہے: اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل کیا ہے، اور اس کے ذریعہ باغات اور ان دانوں کو اگاتے ہیں، جنہیں کاٹا جاتا ہے" (وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ)۔ "جنات" یہاں پھل دار باغات کی طرف اشارہ ہے، اور "حَبَّ الْحَصِيدِ" (ایسے دانے جن کو کاٹ کر تیار کیا جاتا) ایسے دانوں کی طرف اشارہ ہے، جیسے جو، گندم، اور ان کے مانند دوسرے غلّے جن سے انسانوں کی غذا کے اصلی مواد کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "اور اسی طرح کھجور کے ایسے بلند قامت درخت جن کے پھل اوپر نیچے ملے ہُوئے ہوتے ہیں" (وَ النَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ)۔ "باسقات" جمع ہے "باسقه" کی جو مرتفع اور بلند کے معنی میں ہے، اور طلع کھجور کے درخت کے پھل پر جب وہ ظاہر ہونے لگتا ہے بولا جاتا ہے، اور "نضید" کا معنی متراکم اور ایک دوسرے سے جڑے ہُوئے ہوتے ہیں، خصوصاً کھجور کے درخت کے خوشے جس وقت غلاف کے اندر ہوتے ہیں تو پُورے طور پر ایک دوسرے پر سوار اور ایک دوسرے سے جُڑے ہُوئے ہوتے ہیں اور جس وقت غلاف سے باہر آتے ہیں تو بہت ہی تعجب خیز ہوتے ہیں۔ آخر میں کہتا ہے: ہم نے ان سب کو بندوں کو روزی دینے کے لیے خلق کیا ہے، اور بارش کے ان حیات بخش قطرات سے ہم نے مردہ زمینوں کو زندگی بخشی ہے، ہاں! مردوں کا زندہ ہونا اور ان کا قبروں سے باہر نکلنا بھی اسی طرح ہے۔" (رِزْقًا لِّلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ)۔ (تشریحی نوٹ: دوسری آیات میں بھی اس سلسلہ میں بحث ہو چکی ہے (اسی تفسیر کی جلد ١٠ سورۂ فاطر کی آیت ٩ کے ذیل میں اور اسی جلد میں سورہ یسن کی آخری آیات کے ذ یل میں رجوع فرمائیں)۔ اور اس طرح سے وہ بندوں پر اپنی عظیم نعمتوں کی یاد آوری کے ضمن میں اس کی شناخت کی راہ میں، ان کی شکر گزاری کی حس کو تحریک کرتے ہُوئے، انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم معاد کا نمونہ ہر سال اپنی آنکھوں کے سامنے اسی جہان میں دیکھتے ہو، کہ مردہ، خشک زمینیں جو ہر قسم کے آثار زندگی سے خالی ہوتی ہیں، بارش کے قطروں کے نزُول کے زیر اثر حرکت میں آ جاتی ہیں اور قیامت کا شور و غل برپا کر دیتی ہیں اور ہر گوشہ و کنار سے گھاس اُگنے لگتی ہے اور وَحدَہُ لَاشَرِیکَ لَهُ کہتی ہے۔ یہ عظیم جنبش اور عالم بناتات و گیاہ میں حیات و زندگی کی طرف حرکت اس واقعیت کو بیان کرتی ہے کہ آفرید گار عالم مردہ موجودات کو دوبارہ زندگی عطا کر سکتا ہے، کیونکہ کسی چیز کا واقع ہونا، اس کے امکان کی سب سے قوی دلیل ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 15 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر صرف تم ہی نہیں ہو جس کا دشمن سے مقابلہ ہے؟
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات اسی طرح معاد و قیامت سے مربُوط مباحث کو مختلف طریقوں سے بیان کر رہی ہیں۔ پہلے پیغمبرؐ کی دِل داری کے کے لیے فرماتا ہے: صرف تو ہی نہیں ہے کہ اس کافر گروہ نے تیری تکذیب کی ہے، اور تیری دعوت کے مطالب کو جھٹلایا ہے خصوصاً معاد کے بارے میں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس اور قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی" (كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُود)۔ "قوم ثمود" وہی خدا کے عظیم پیغمبر صالح کی قوم ہے، جو حجاز کے شمال میں "حجر" کی سر زمین میں رہتی تھی، اور "اصحاب الرس" کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بہت سوکا نظریہ، یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ تھا، جو سر زمین یمامہ میں رہتا ہے تھا، اور ان کے پیغمبر کا نام حنظلہ تھا، انہوں نے اس کی تکذیب کی اور آخر کار اُسے کنویں میں پھینک دیا (اس بات پر توجہ رہے کہ "رس" کا ایک معنی کنواں ہے) اور اس کا دوسرا معنی وہ مختصر اثر ہے جو کسی چیز کا باقی رہ جائے، کیونکہ اس قوم کے بہت کم اثرات تاریخ میں باقی رہ گئے ہیں)۔ "بعض دوسرے اُسے شعیب کی قوم سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے پانی کے بہت زیادہ کنویں تھے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ "اصحاب لاایکہ" جو بعد والی آیت میں آیا ہے وہ اس قوم شعیب کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا اس احتمال کی نفی ہو جاتی ہے۔ بعض انہیں قومِ ثمود کے بقایا میں سے جانتے ہیں، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ زیر بحث آیات میں "ثمود" جدا گانہ طور پر آیا ہے، لہٰذا یہ معنی بھی بعید نظر آتا ہے۔اس بناء پر مناسب وہی پہلی تفسیر ہے، جس کی مفسرین کے درمیان عام شہرت ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "طائفہ عاد، قوم فرعون اور لُوط کے بھائیوں نے بھی" (وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ)۔ لُوط کے بھائیوں سے مراد وہی قوم لُوط ہے، کیونکہ قرآن نے ان عظیم پیغمبروں کو بھائی کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ "اور اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی۔" (وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ)۔ "ایکہ" بہت زیادہ اور گھنے درختوں کے معنون میں ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں جنگل کے مشابہ ہے، اور اصحاب الایکہ قومِ شعیب کا ایک گروہ ہے، جو شہر مدین کے علاوہ کسی اور جگہ رہتا تھا، کسی ایسے شہر میں جس میں بہت زیادہ درخت تھے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لیے جلد ٦ اور جلد ٨ سورۂ حجر کی آیت ٧٨ اور سُورۂ شعراء کی آیت ١٧٦کی طرف رجوع کریں) ۔ اور "قوم تبع" سے مراد یمن کے لوگوں کا ایک گروہ ہے "تبع" یمن کے بادشاہوں کا لقب ہے، کیونکہ لوگ ان کی اتباع اور پیروی کیا کرتے تھے، اور یہاں پر قرآن کی ظاہری تعبیر اور ایک اور دوسری آیت میں ( ٣٧۔ دخان) یمن کا ایک خاص بادشاہ ہے جس کا نام بعض روایات میں "اسعد ابو کرب" ذکر ہوا ہے، اور ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ایک مومن آدمی تھا، اور لوگوں کو انبیاء کی دعوت پیروی کی طرف بلاتا تھا، اگرچہ لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ (بحوالہ: قوم تبع کے بارے میں مزید تشریح کیلئے، جلد ١٢ (سورۂ دخان کی آیت ٣٧ کے ذیل میں مطالعہ کریں )۔ اس کے بعد ان آٹھوں اقوام کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے ان میں سے ہر ایک نے خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کے بارے میں خدا کے عذاب کا وعدہ پورا ہوا کر رہا۔" (كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ) ۔ یہ جو کہتا ہے: انہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی، حالانکہ ہر ایک نے صرف اپنے پیغمبر کی تکذیب کی، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو فعل ان سے سرزد ہوا وہ مجموعی طور پر تمام انبیاء کی تکذیب تھی، اگرچہ ہر ایک نے ایک ایک پیغمبر کی تکذیب کی تھی۔ اور یا یہ اس وجہ سے ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب بقیہ تکذیب بھی شمار ہوتی ہے، کیونکہ سب کی دعوت کا مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے۔ بہرحال، ان اقوام نے اپنے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی اور مسئلہ توحید و معاد کی بھی، اور انجام کار درد ناک عذاب میں گرفتار ہوئے، بعض طوفان میں گرفتار ہوئے، بعض سیلاب میں بعض دوسرے صاعقہ اور آسمانی بجلی میں، بعض زلزلہ میں، ان کے علاوہ دوسری چیزوں میں، اور انجام کار انہوں نے تکذیب کا تلخ پھل چکھا۔ لہٰذا تم مطمٔن رہو اگر یہ کافر قوم بھی جو تمہارے مقابلہ میں کھڑی ہے اسی حالت میں رہی تو ان کی سرنوشت بھی ان سے بہتر نہیں ہو گی۔ اس کے بعد امکانِ قیامت کے دلائل میں سے ایک اور کو ذکر کرتے ہُوئے کہتا ہے: کیا ہم پہلی خلقت سے تھک بار کر عاجز آ گئے ہیں کہ اب دوسری خلقت اور قیامت پر قدرت حاصل نہ ہو۔" (أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ)۔ (بحوالہ: اوپر والے جملہ میں ایک محذوف ہے، اور تقدیر میں اس طرح ہے: أَ فَعَيِينا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ حتى نَعجزَ عَنِ الثّانِى: کیا ہم پہلی خلقت سے عاجز تھے کہ دوسری سے عاجز ہوں گے؟ اس کے بعد مزید کہتا ہے: انہوں نے پہلی پیدائش کے بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ وہ خدا کو ہی انسانوں کا خالق سمجھتے ہیں لیکن وہ ان واضح دلائل کے باوجود نئی پیدائش اور قیامت کے بارے میں شک میں پڑے ہُوئے ہیں" (بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ)۔ درحقیقت، وہ خواہشات نفسانی، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تناقض میں گرفتار ہیں، ایک طرف تو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے ہی انسانوں کو خلق کیا ہے اور انہیں سب کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف جب انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا ہے، لیکن دوسری طرف جب انسانوں کی مٹی سے جدید خلقت کے مسئلہ تک پہنچتے ہیں، تو اس کو عجیب و غریب اور باور نہ ہونے والا مسئلہ شمار کرتے ہیں، حالانکہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔" وَحُكم الأمثال فِى مَا يَجُوز وَفِى مَا لَا يَجُوز واحد: اس طرح سے ان آیات میں گزشتہ آیات میں چار مختلف طریقوں سے مسئلہ معاد پر استدلال کرتا ہے، علم خدا کے طریقہ سے اس کی قدرت کے طریقے سے، اُس کے بعد عام گیاہ میں معاد کے مناظر کی تکرار کے طریقہ سے اور انجام کار پہلی خلقت کی طرف توجہ کرنے کے طریقہ سے۔ اور جب ہم معاد کے سلسلہ میں قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہی دلائل دوسرے دلائل کے اضافہ کے ساتھ الگ الگ مختلف آیات میں آئے ہیں اور قرآن نے اپنی طاقتور منطق اور پُرکشش، سادہ، آسان اور قاطع تعبیروں کے ساتھ منکرین کے سامنے معاد جسمانی کے مسئلہ کو بہترین طریقہ پر ثابت کیا ہے، کہ اگر وہ اپنے آپ کو پہلے سے کیے ہُوئے فیصلوں نغصب، ہٹ دھرمی، اور اندھی تقلید سے بچا لیتے تو وہ بہت جلد اس واقعیت کو تسلیم کر لیتے، اور یہ جان لیتے کہ قیامت و معاد کی کوئی پیچیدہ چیز نہیں ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 18 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی وہ لکھتے ہیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات اسی طرح معاد و قیامت سے مربُوط مباحث کو مختلف طریقوں سے بیان کر رہی ہیں۔ پہلے پیغمبرؐ کی دِل داری کے کے لیے فرماتا ہے: صرف تو ہی نہیں ہے کہ اس کافر گروہ نے تیری تکذیب کی ہے، اور تیری دعوت کے مطالب کو جھٹلایا ہے خصوصاً معاد کے بارے میں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس اور قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی" (كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُود)۔ "قوم ثمود" وہی خدا کے عظیم پیغمبر صالح کی قوم ہے، جو حجاز کے شمال میں "حجر" کی سر زمین میں رہتی تھی، اور "اصحاب الرس" کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بہت سوکا نظریہ، یہ ہے کہ وہ ایک قبیلہ تھا، جو سر زمین یمامہ میں رہتا ہے تھا، اور ان کے پیغمبر کا نام حنظلہ تھا، انہوں نے اس کی تکذیب کی اور آخر کار اُسے کنویں میں پھینک دیا (اس بات پر توجہ رہے کہ "رس" کا ایک معنی کنواں ہے) اور اس کا دوسرا معنی وہ مختصر اثر ہے جو کسی چیز کا باقی رہ جائے، کیونکہ اس قوم کے بہت کم اثرات تاریخ میں باقی رہ گئے ہیں)۔ "بعض دوسرے اُسے شعیب کی قوم سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے پانی کے بہت زیادہ کنویں تھے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ "أَصْحَابُ الْأَيْكَة" جو بعد والی آیت میں آیا ہے وہ اس قوم شعیب کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا اس احتمال کی نفی ہو جاتی ہے۔ بعض انہیں قومِ ثمود کے بقایا میں سے جانتے ہیں، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ زیر بحث آیات میں "ثمود" جدا گانہ طور پر آیا ہے، لہٰذا یہ معنی بھی بعید نظر آتا ہے۔اس بناء پر مناسب وہی پہلی تفسیر ہے، جس کی مفسرین کے درمیان عام شہرت ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: "طائفہ عاد، قوم فرعون اور لُوط کے بھائیوں نے بھی" (وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ)۔ لُوط کے بھائیوں سے مراد وہی قوم لُوط ہے، کیونکہ قرآن نے ان عظیم پیغمبروں کو بھائی کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ "اور اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی۔" (وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ)۔ "ایکه" بہت زیادہ اور گھنے درختوں کے معنون میں ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں جنگل کے مشابہ ہے، اور اصحاب الایکہ قومِ شعیب کا ایک گروہ ہے، جو شہر مدین کے علاوہ کسی اور جگہ رہتا تھا، کسی ایسے شہر میں جس میں بہت زیادہ درخت تھے۔ (بحوالہ: مزید وضاحت کے لیے جلد ٦ اور جلد ٨ سورۂ حجر کی آیت ٧٨ اور سُورۂ شعراء کی آیت ١٧٦کی طرف رجوع کریں) ۔ اور "قوم تبع" سے مراد یمن کے لوگوں کا ایک گروہ ہے "تبع" یمن کے بادشاہوں کا لقب ہے، کیونکہ لوگ ان کی اتباع اور پیروی کیا کرتے تھے، اور یہاں پر قرآن کی ظاہری تعبیر اور ایک اور دوسری آیت میں ( ٣٧۔ دخان) یمن کا ایک خاص بادشاہ ہے جس کا نام بعض روایات میں "اسعد ابو کرب" ذکر ہوا ہے، اور ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ ایک مومن آدمی تھا، اور لوگوں کو انبیاء کی دعوت پیروی کی طرف بلاتا تھا، اگرچہ لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ (بحوالہ: قوم تبع کے بارے میں مزید تشریح کیلئے، جلد ١٢ (سورۂ دخان کی آیت ٣٧ کے ذیل میں) مطالعہ کریں )۔ اس کے بعد ان آٹھوں اقوام کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے ان میں سے ہر ایک نے خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کے بارے میں خدا کے عذاب کا وعدہ پورا ہوا کر رہا۔" (كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ) ۔ یہ جو کہتا ہے: انہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی، حالانکہ ہر ایک نے صرف اپنے پیغمبر کی تکذیب کی، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو فعل ان سے سرزد ہوا وہ مجموعی طور پر تمام انبیاء کی تکذیب تھی، اگرچہ ہر ایک نے ایک ایک پیغمبر کی تکذیب کی تھی۔ اور یا یہ اس وجہ سے ہے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب بقیہ تکذیب بھی شمار ہوتی ہے، کیونکہ سب کی دعوت کا مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے۔ بہرحال، ان اقوام نے اپنے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی اور مسئلہ توحید و معاد کی بھی، اور انجام کار درد ناک عذاب میں گرفتار ہوئے، بعض طوفان میں گرفتار ہوئے، بعض سیلاب میں بعض دوسرے صاعقہ اور آسمانی بجلی میں، بعض زلزلہ میں، ان کے علاوہ دوسری چیزوں میں، اور انجام کار انہوں نے تکذیب کا تلخ پھل چکھا۔ لہٰذا تم مطمٔن رہو اگر یہ کافر قوم بھی جو تمہارے مقابلہ میں کھڑی ہے اسی حالت میں رہی تو ان کی سرنوشت بھی ان سے بہتر نہیں ہو گی۔ اس کے بعد امکانِ قیامت کے دلائل میں سے ایک اور کو ذکر کرتے ہُوئے کہتا ہے: کیا ہم پہلی خلقت سے تھک بار کر عاجز آ گئے ہیں کہ اب دوسری خلقت اور قیامت پر قدرت حاصل نہ ہو۔" (أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ)۔ (بحوالہ: اوپر والے جملہ میں ایک محذوف ہے، اور تقدیر میں اس طرح ہے: أَفَعَيِينا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ حتى نَعجزَ عَنِ الثّانِى: کیا ہم پہلی خلقت سے عاجز تھے کہ دوسری سے عاجز ہوں گے؟ اس کے بعد مزید کہتا ہے: انہوں نے پہلی پیدائش کے بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ وہ خدا کو ہی انسانوں کا خالق سمجھتے ہیں لیکن وہ ان واضح دلائل کے باوجود نئی پیدائش اور قیامت کے بارے میں شک میں پڑے ہُوئے ہیں" (بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ)۔ درحقیقت، وہ خواہشات نفسانی، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تناقض میں گرفتار ہیں، ایک طرف تو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے ہی انسانوں کو خلق کیا ہے اور انہیں سب کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف جب انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا ہے، لیکن دوسری طرف جب انسانوں کی مٹی سے جدید خلقت کے مسئلہ تک پہنچتے ہیں، تو اس کو عجیب و غریب اور باور نہ ہونے والا مسئلہ شمار کرتے ہیں، حالانکہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔" وَحُكم الأمثال فِى مَا يَجُوز وَفِى مَا لَا يَجُوز واحد: اس طرح سے ان آیات میں گزشتہ آیات میں چار مختلف طریقوں سے مسئلہ معاد پر استدلال کرتا ہے، علم خدا کے طریقہ سے اس کی قدرت کے طریقے سے، اُس کے بعد عام گیاہ میں معاد کے مناظر کی تکرار کے طریقہ سے اور انجام کار پہلی خلقت کی طرف توجہ کرنے کے طریقہ سے۔ اور جب ہم معاد کے سلسلہ میں قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہی دلائل دوسرے دلائل کے اضافہ کے ساتھ الگ الگ مختلف آیات میں آئے ہیں اور قرآن نے اپنی طاقتور منطق اور پُرکشش، سادہ، آسان اور قاطع تعبیروں کے ساتھ منکرین کے سامنے معاد جسمانی کے مسئلہ کو بہترین طریقہ پر ثابت کیا ہے، کہ اگر وہ اپنے آپ کو پہلے سے کیے ہُوئے فیصلوں نغصب، ہٹ دھرمی، اور اندھی تقلید سے بچا لیتے تو وہ بہت جلد اس واقعیت کو تسلیم کر لیتے، اور یہ جان لیتے کہ قیامت و معاد کی کوئی پیچیدہ چیز نہیں ہے۔
ایک نکتہ دوست مجھ سے بھی زیادہ میرے نزدیک ہے
بعض فلاسفہ کہتے ہیں: "جس طرح شدّت بُعد پوشیدگی کا موجب ہے اسی طرح شدّت قرب بھی پوشیدگی کا موجب ہے۔ مثلاً اگر سُورج ہم سے بہت دور ہو جائے تو وہ دکھائی نہیں دے گا، اور اگر ہم اس سے بہت زیادہ نزدیک ہو جائیں، تو اس کی روشنی اتنی خیرہ کرنے والی ہے، کہ پھر بھی ہم اس کو دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔ اور درحقیقت، خدا کی ذات پاک بھی اسی طرح کی ہے " يا من هو إختفى لفرط نوره" اے وہ کہ جو شدت نورانیت کی وجہ سے ہماری نگاہ سے پوشیدہ ہوا ہے"! زیر بحث آیات میں بھی بندوں سے خدا کی حد سے زیادہ نزدیکی ایک عمدہ تشبیہ کے ضمن میں بیان ہوئی ہے، کہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی ہم سے زیادہ نزدیک ہے۔ یہ نزدیکی، ہماری اس سے زیادہ شدید وابستگی سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اس قسم کی تشبیہیں بھی: کہ تمام عالم جسم ہے اور وہ روح عالم ہے، تمام عالم شعاع کی مانند ہے اور وہ قرص آفتاب ہے۔ یہ سب اس قرب کے رابط کو بیان نہیں کر سکتیں، اور بہترین تعبیر وہی ہے، جو امیر المومنینؑ نے (نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں) بیان فرمائی ہے: "مع كل شىء لا بمقارنة وغير كل شىء لا بمزايلة" "وہ تمام موجودات کے ساتھ ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ ان کے قرین ہو، اور تمام موجودات سے جُدا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ ان سے الگ ہو۔" فلاسفہ کی ایک جماعت نے اس حد سے زیادہ قرب کے بیان کے لیے ایک اور تشبیہ بیان کی ہے، انہوں نے خدا کی ذات کو "اسم" کے معنی ہے اور باقی موجودات کو "حرف"کے معنی سے تشبیہ دی ہے۔ اس کی وضاحت: یہ کی ہے کہ جس وقت ہم یہ کہتے ہیں (کعبہ کی طرف رُخ کرو) "روبہ کعبہ کن تو لفظ بہ" کا اکیلے کوئی مفہوم نہیں ہے، جب تک اس کے ساتھ لفظ "کعبہ" کا اضافہ نہ ہو، وہ گونگا، مبہم اور ناقابلِ فہم ہے، اس بناء پر کسی حرف کا اکیلے کوئی معنی نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ کسی اسی معنی کے ہمراہ نہ ہو۔ تمام موجودات عالم کی ہستی بھی اسی طرح ہے، کہ اس کی ذات کے ساتھ وابستگی اور پیوند کے بغیر نہ اصلاً اس کا کوئی مفہوم ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی وجود بقاء ہے، اور یہ چیز خدا کے بندوں کے ساتھ انتہائی قرب اور بندوں کے خدا کے ساتھ انتہائی قرب کی نشاندہی کرتی ہے، اگرچہ بےخبر اس معنی سے غافل ہیں۔ دوست نزديكتر از من به من است وين عجبتر كه من از وى دورم! چہ كنم با كه توان گفت كه دوست در كنار من و من مهجورم! "میرا دوست مجھ سے خود مجھ سے بھی زیادہ نزدیک ہے، لیکن زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ میں پھر بھی اس سے دور ہوں، میں کیا کروں اور کس سے کہہ سکتا ہوں کہ دوست تو میرے پہلو میں ہے، لیکن میں پھر بھی ہجر و فراق میں ہوں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 22 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قیامت اور تیز بین آنکھیں
Tafsīr Nemūna · Vol. 8ان آیات میں معاد سے مربوط مسائل میں سے کُچھ اور دوسرے مناظر کو پیش کیا گیا ہے، "موت" کا منظر "نفخ صور" کا منظر اور محشر میں حاضر ہونے کا منظر۔ پہلے فرماتا ہے، "آخر کار سکرات موت حق کے ساتھ پہنچ جائے گی" (وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ)۔ "سَكْرَةُ الْمَوْتِ"، "مستی" سے مشابہ ایک حالت ہے جو موت کے مقدمات کے ظاہر ہونے کے اثر میں حد سے زیادہ ہیجان و انقلاب کی صُورت میں انسان کو عارض ہوتی ہے، اور بعض اوقات اس کی عقل پر بھی غالب آ جاتی ہے، اور اس کو اضطراب اور ایک شدید بےآرامی میں ڈبو دیتی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو، درحالیکہ موت ایک اہم انتقالی مرحلہ ہے، جس میں انسان کو، اس جہاں سے جس میں اس نے سالہا سال تک رہنے کی عادت ڈالی تھی، اپنے تمام رشتوں اور تعلقات کو چھوڑنا پڑے گا، اُسے اس عالم میں قدم رکھنا ہو گا، جو اس لیے کا ملاًنیا اور اسرار آمیز ہے، خاص طور پر یہ بات کہ انسان موت کے وقت ایک نیا ادراک اور نئی نگاہ پیدا کر لیتا ہے، اس جہاں کی بےثباتی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے، اور موت کے بعد کے حوادث کو بھی کم و بیش دیکھ رہا ہوتا ہے، یہ وہ منزل ہے کہ ایک عظیم وحشت اس کو سر سے پاؤں تک گھیر لیتی ہے، اور مستی کے مشابہ ایک حالت اس کو عارضی ہو جاتی ہے، لیکن وہ مست نہیں ہوتا۔ (تشریحی نوٹ: "سکر" (بروزن "مکر") اصل میں پانی کی راہ کو مسدُود کرنے کے معنی میں ہے اور سکر (بروزن فکر) مسدود مقام و محل کے معنی میں آیا ہے، اور چونکہ مستی کی حالت میں گویا انسان اور اس کی عقل کے درمیان ایک سد پیدا ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کو "سکر" (بروزن شکر) کہا جاتا ہے)۔ یہاں تک کہ انبیاء اور مردان خدا بھی موت کے وقت کامل اطمینان اور آرام کی حالت میں ہوتے ہیں، اس انتقالی لمحہ کی شدتوں اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، جیسا کہ پیغمبرؐ کے حالات میں آیا ہے کہ اپنی عمر مبارک کے آخری لمحات میں اپنا ہاتھ ایک پانی کے برتن میں ڈالتے تھے، اور اپنے مُنہ پر پھیرتے تھے، اور "لا له إلّا اللہ" کہتے تھے اور فرماتے تھے: "إنّ للمو ت سکرات": موت کے لیے سکرات ہے۔" (بحوالہ: "روح البیان" جلد ٩، صفحہ ١١٨)۔ علی موت کے لمحہ اور اس کی سکرات کی ایک بہت ہی عمدہ تصویر کھینچتے ہیں، فرماتے ہیں۔ إجتمعت عليهم سكرة الموت وَحسرة الفوت، ففترت لَها أطرافهم، وتغيرت لها ألوانهم، ثم ازداد الموت فيهم ولوجا، فحيل بين أحدهم وبين منطقه، وَإنّه لبين أهله، ينظر ببصره، وَيسمع بِإذنِه، على صِحَةٍ مِن عقله، وَبقاء من لبه، يفکر فيم أفنى عمره؟ وفيم أذهب دهره؟ وَيتذكر أموالًا جمعها، أغمض فى مطالبها، وَأخذها من مصرحاتها، وَمشتبهاتها قد لَزِمته تبعات جمعها، وَأشرف على فِراقِها، تبقى لمن وَرَائِه ينعمون فيها وَيتمتعون بِها!۔ سکرات موت۔اپنے پاس کی ہر چیز کو کھو دینے کی حسرت کے ساتھ، ان پر ہجوم کرتی ہے، ان کے بدن کے اعضاء سُست ہو جاتے ہیں، ان کے چہروں کا رنگ اڑ جاتا ہے، آہستہ آہستہ موت ان میں نفوذ کرنے لگتی ہے، ان کے اور ان کی زبان کے درمیان جدائی ڈال دیتی ہے، حالانکہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان ہے اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے کان سے سُن رہا ہوتا ہے، اور اس کی عقل و ہوش صیح و سالم ہوتے ہیں، لیکن وہ بات نہیں کر سکتا۔ اس حالت میں وہ سوچتا ہے کہ اس نے اپنی عمر کس راستے میں فنا کی؟ اور اپنا زمانہ کس راستے میں ختم کیا؟ اس دولت و ثروت کی یاد اُسے ستاتی ہے، جس کے جمع کرنے میں اس نے چشم پوشی سے کام لیا تھا، اور حلال و حرام اور مشکوت و مشتبہ اکٹھا کرتا رہا تھا، اور اس کے جمع کرنے کے نتائج اور ذمہ داری اپنے کندھے پر لے گا، حالانکہ اُن سے جدائی اور فراق کا وقت آن پہنچا ہے، اور وہ پسماندگان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا، وہ تو اس سے متنعم ہوں گے اور فائدہ اٹھائیں گے، لیکن اس کا حساب و کتاب اور اس کے لیے جوابدہی اس کے ذمہ ہو گی۔(بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ١٩)۔ اور دُنیائے انسانیت کا یہ عظیم معلم ایک دوسری جگہ خبردار کرتے ہُوئے فرماتا ہے۔ " إنّكم لو قد عاينتم ما قد عاين من مات منكم لجزعتم و وهلتم و سمعتم وَأطعتم وَلكن محجوب عنكم ما قد عاينوا وقريب ما يطرح الحجاب!" (بحوالہ: "نہج البلاغہ" خطبہ ٢٠)۔ اگر وہی چیز جس کا تمہارے مردوں نے مشاہدہ کیا ہے، تم بھی دیکھ لیتے، تو گھبرا جاتے، اور ڈر جاتے، حق کی باتوں کو سنتے اور اطاعت کرتے، لیکن انہوں نے جو کچھ دیکھا ہے وہ تم سے مستور ہے اور عنقریب پردے ہٹ جائیں گے اور تم بھی اس کا مشاہدہ کرو گے۔ (لیکن افسوس ...) اس کے بعد قرآن اس گفتگو کو جاری رکھتا ہے: "اس شخص کو جو سکرات موت کی حالت میں ہے، کہا جائے گا، یہ وہی چیز ہے جسے تو پسند نہیں کرتا تھا اور اس سے بھاگتا تھا" (ذلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ) (بحوالہ: "تحید"، حید بروزن صید کے مادہ سے)۔ ہاں! موت ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے اکثر لوگ بھاگتے ہیں، کیونکہ وہ اس کو "فنا" سمجھتے ہیں نہ کہ عالم "بقاء" کا ایک دریچہ یا ان شدید رشتوں اور تعلقات کی وجہ سے جو وہ دُنیا اور مادی نعمتوں کے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے دل نہیں ہٹا سکتے یا اپنے نامہ اعمال کے سیاہ ہونے کی وجہ سے! جو کچھ بھی ہے، وہ اس سے بھاگتے ہیں، لیکن کیا فائدہ، کیونکہ یہ ایک ایسی سرنوشت ہے جو سب کے انتظار میں ہے، اور ایک اونٹ ہے جو ہر گھر کے دروازے پر بیٹھا ہے، اور کسی میں اس سے زیادہ بھاگنے کی طاقت نہیں ہے، آخرکار سب کے سب موت کے منہ میں چلے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا، یہ وہی چیز ہے، جس سے تم بھاگتے تھے؟! اس بات کا کہنے والا ممکن ہے خدا ہو یا فرشتے یا وجدان بیدار یا سب کے سب۔ اس حقیقت کو قرآن دوسری آیات میں بھی دل نشیں کراتا ہے، سورۀ نساء کی آیت ٧٨ میں فرماتا ہے: أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ تم جہاں کہیں بھی ہوں گے موت تمہیں وہیں آئے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ بعض اوقات مغرور انسان ان تمام عینی حقائق اور واقعتوں کو آنکھ سے دیکھنے کے باوجود خود خواہی اور حب دنیا کی وجہ سے بالکل ہی بھلا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ قسم کھانے لگتا ہے کہ میں تو عمر جاودانی رکھتا ہوں، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَكُمْ مِنْ زَوالٍ": کیا تم ہی نہیں تھے، جو پہلے یہ قسم کھایا کرتے تھے، کہ تمہارے لیے ہرگز فنا و زوال نہیں ہے"؟(حجر۔ ٤٤)۔ لیکن چاہے وہ قسم کھائے یا نہ کھائے، وہ یقین کر لے یا نہ کرے، موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شخص کو دامن گیر ہو گی اور اس سے راہِ فرار نہیں ہے۔ اس کے بعد نفخِ صُور کے مسئلہ کو بیان کرتے ہُوئے فرماتا ہے،: "صور پھونکا جائے گا، اور وہ دن وحشت ناک وعدوں کے پورا ہونے کا دن ہے (وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ)۔ نفخ صور سے مراد وہی "دوسرا نفخ" ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، دو مربتہ "صور" پھونکا جائے گا، پہلا نفخہ جسے نفخۂ فزع یا صعق کہتے ہیں وہ نفخہ ہے جو اس عالم کے اختتام پر صُورت پذیر ہو گا، اور تمام انسان اس کے سننے سے مر جائیں گے اور عالم دُنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا، اور دوسرا نفخہ جو قیام و جمع و حضور کا نفخہ ہے، وہ نفخہ ہے جو قیامت کے آغاز میں انجام پائے گا، جس سے تمام انسان زندہ ہو جائیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر حساب و کتاب کے لیے عدل الہٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ "نفخ" اصل میں پھونکنے کے معنی میں ہے، اور نفخہ ایک بار پھونکنے کے معنی میں ہے، اور صور شیپور(بگل)کے معنی میں ہے، جس کے ذریعہ عام طور پر فوجیوں کو جمع ہونے، یا حاضر ہونے، یا آرام کرنے یا سونے کے لیے احکام دیتے ہیں، اور صور اسرافیل کے بارے میں اس کا استعمال ایک قسم کا کنایہ اور تشبیہ ہے، جس کی تفصیل جلد ١١ (سورہ زمر کی آ یہ ٦٨)کے ذیل میں آئی ہے۔ بہرحال، آیت کے ذیل میں (ذَلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ) "آج عذاب کے وعدہ کا دن ہے۔" کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہُوئے واضح ہو جاتا ہے کہ نفخۂ صور سے مراد یہاں وہی دوسرا نفخہ اور قیامت ہے۔ بعد والی آیت میں محشر میں ورود کے وقت انسانوں کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتاہے: اس دن ہر انسان، (خواہ نیک ہو یا بد) عرصہ محشر میں اس حال میں وارد ہو گا کہ اس کے ساتھ ایک تو ہنکانے والا ہو گا اور ایک گواہ ہو گا" (وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ)۔ "سائق" اُسے داد گاہ عدل الہٰی کی طرف ہانک کر لے جائے گا، اور "شھید" اس کے اعمال پر گواہی دے گا۔ ٹھیک اس جہان کی عدالتوں کی طرح کہ حکومت کا مامور شخص متہم کے ساتھ ہوتا ہے، اور اس کے اعمال کا شاہد گواہی دیتا ہے۔ بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ "سائق" وہ شخص ہے جو نیکوکاروں کو ہنکا کر جنت کی طرف لے جائے گا، اور بدکاروں کو جہنم کی طرف، لیکن لفظ شہید (شاہد گواہ) کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلا معنی یعنی عدل الہٰی کی داد گاہ و عدالت کی طرف ہنکانا زیادہ مناسب ہے۔ اس بارے میں کہ ہنکانے والا اور شاہد فرشتوں میں سے ہے یا ان کے علاوہ کوئی اور؟ طرح طرح کی تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ سائق نیکیاں لکھنے والا فرشتہ ہے، اور شہید سیئات (برائیاں) لکھنے والا فرشتہ ہے، اس طرح سے وہ ایسے فرشتے ہیں جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک روایت سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ سائق موت کا فرشتہ ہے اور "شہید" پیغمبر اسلامؐ ہیں، لیکن یہ روایت آیات کے لب و لہجہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضعیف نظر آتی ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ سائق وہ فرشتہ ہے، جو ہر انسان کو ہنکاتا ہے اور شہید انسان کا عمل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ "سائق" تو فرشتہ ہے اور "شہید" انسان کے بدن کے اعضاء ہیں، یا اس کا وہ نامۂ اعمال ہے جو اس کی گردن میں لٹکایا جائے گا۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے، کہ سائق اور شہید ایک ہی فرشتہ ہے اور ان دونوں کا ایک دوسرے پر عطف ان دو صفات کی مغائرت کی وجہ سے ہے، یعنی اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہے جو اس کو داد گاہ عدل الہٰی کی طرف ہنکاتا بھی ہے اور اس کے اعمال پر گواہ بھی ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر تفاسیر ظاہر آیت کے خلاف ہیں اور آیت کا ظاہر__ جیسا کہ اکثر مفسرین نے بھی یہی سمجھا ہے یہ ہے کہ دو فرشتے ہر انسان کے ساتھ آئیں گے، ایک اس کو چلائے گا اور دوسرا اس کے اعمال کی گواہی دیگا۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے،کہ بعض فرشتوں کی گواہی، قیامت کے، دوران ہیں دوسرے گواہوں کے موجود ہونے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی، مثلاً ایسے گواہ جیسے انبیاء اعضائے بدن، نامۂ اعمال، وہ زمان و مکان جن میں گناہ انجام پایا ہے۔ بہرحال، پہلا فرشتہ حقیقت میں "فرار" سے مانع ہے، اور دوسرا فرشتہ، انکار" سے مان ہے۔ اور اس طرح سے ہر انسان اس دن اپنے اعمال میں گرفتار ہو گا، اور ان کی جزا و سزا سے گریز کی کوئی راہ نہ ہو گی۔ یہاں مجرموں کو یا تمام انسانوں کو خطاب ہو گا کہ تو اس عظیم داد گاہ سے غافل تھا، اور اب ہم نے تیری آنکھ سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری آنکھ اور نظر تیز ہو گئی ہے" (لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ)۔ ہاں! مادی دُنیا کے پردے: امیدیں، آرزوئیں، دُنیا کے ساتھ عشق اور لگاؤ، بیوی اور اولاد، مال و مقام، سرکش ہو ہوس، بغض و حسد، تعصب، جہالت اور ہٹ دھرمی تجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ آج کے دن کے لیے اسی زمانہ سے دیکھتا، جبکہ معاد و قیامت کی نشانیاں واضح تھیں، اور اس کے دلائل روشن و آشکار! آج غفلت کا گرد و غبار بیٹھ گیا ہے، جہالت تعصّب اور ہٹ دھرمی کے پردے ہٹ گئے ہیں، خواہشات ، امیدوں اور آرزؤوں کے پردے چاک ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ جو پردہ غیب میں مستور تھا وہ سب ظاہر ہو گیا ہے، چونکہ آج کا دن "یوم البروز" ہے اور "یوم الشہود" اور "یوم تبلی السرائر" ہے۔ اسی بناء پر آج تیری نظر تیز ہو گئی ہے، اور تو حقائق کو اچھی طرح سے درک کر سکتا ہے۔ ہاں! حقیقت کا چہرہ پوشیدہ نہیں ہے، اور جمال یار پر پردہ نہیں ہے، لیکن راستہ کے غبار کو بٹھانا چاہیئے تاکہ اس کا دیدار کیا جا سکے۔ جمال يار ندارد حجاب و پرده ولى غبار ره بنشان تا نظر توانى كرد! لیکن طبعیت کے کنویں میں ڈوب جانا، اور انواع و اقسام کے حجابوں میں گرفتار ہونا انسان کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ حقائق کو اچھی طرح سے دیکھ سکے، لیکن وہ دن جس میں تمام تعلقات اور رشتے ختم ہو جائیں گے تو انسان طبعی طور پر ایک نیک ادراک اور نئی نگاہ پیدا کر لے گا، اور اصولی طور پر قیامت کا دن حقائق کے ظہور اور آشکار ہونے کا دن ہے۔ یہاں تک کہ اس جہان میں بھی ان لوگوں کے لیے جو ان حجابوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا سکتے ہیں، اور اپنے آپ کو شہوات کی قید کے پنجہ سے رہائی دلا سکتے ہیں، ایسا ادراک و نظر پیدا ہو جاتا ہے، جس سے دنیا والے محروم ہیں۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ "حدید" اصل میں "لوہے" کے معنی میں ہے اور تیز چاقو یا تیز تلوارکے معنی میں بھی ہے، اس کے بعد اس کا تیز بینی اور تیز فہمی پر اطلاق ہونے لگا، جیسا کہ برندہ (کاٹنے والی) تلوار اور چھُری کی صفت ہے، لیکن فارسی زبان میں زبانِ گویا اور نطقِ فصیح پر بھی برندہ کا اطلاق ہوتا ہے، اور یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ "بصر" سے مراد یہاں ظاہری آنکھ نہیں ہے، بلکہ وہی عقل اور دل کی آنکھ ہے۔ علی علیہ السلام روئے زمین میں خدا کی حجتوں کے بارے میں اس طرح فرماتے ہیں: " هجم بهم العلم على حقيقة البصيرة، وَباشروا روح اليقين، وَاستلانوا ما استعوره المترفون، وأنسوا بِمَا إستوحش منه الجاهلون، وصحبوا الدّنيا بابدان أرواحها معلقة بالمحل الأعلى، أولئك خلفاء الله فى أرضه و الدّعاة إلى دينه": "علم و دانش نے حقیقت بصیرت کے ساتھ ان کا رُخ کیا ہے اور روح یقین کو انہوں نے لمس کیا ہے، جس چیز کو دنیا پرست مشکل شمار کرتے ہیں، وہ ان کے لیے آسان ہے، اور جس چیز سے جاہل لوگ وحشت رکھتے ہیں اس سے اُن کو اُنس ہے، وہ اس دنیا میں ایسے بدنوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، جن کے ارواح عالم بالا سے پیوستہ ہیں، وہ زمین میں خدا کے خلفاء ہیں اور خدا کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔" (بحوالہ: "نہج البلاغہ"، "کلمات قصار" کلمۂ ١٤٧)۔
چند نکات ١۔ موت کی حقیقت
عام طور پر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ موت ایک عدمی امر ہے اور وہ فنا کے معنی میں ہے، لیکن یہ نتیجہ ہرگز اس معنی کے ساتھ موافق نہیں ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، اور جس کی طرف دلائل عقلی رہنمائی کرتے ہیں۔ "موت" قرآن کی نظر سے ایک امر وجودی ہے، ایک جہان سے دوسرے جہان کی طرف ایک انتقال اور عبور ہے اسی لیے قرآن کی بہت سی آیات میں "موت" کو "توفی" سے تعبیر کیا گیا ہے، جو واپس لینے اور فرشتوں کے ذریعہ رُوح کو بدن سے حاصل کرنے کے معنی میں ہے۔ اوپر والی آیات "وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ "، "موت کے شدائد حق کے ساتھ انسان کے پاس آتے ہیں۔" کی تعبیر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ "بالحق" میں "با" کے کیا معنی ہیں؟ مفسرین نے مختلف احتمال دیئےہیں، بعض نے اس کو "باء تعدیہ" لیا ہے اور حق کو موت کے معنی میں، جس سے اس جُملہ کا معنی یہ ہو گا۔ سکرات موت اس مطلب کو جو ایک حقیقت ہے۔ یعنی موت۔ کو ساتھ لاتے ہیں، اور کبھی اس کو"ملابست کے معنی میں" لیتے ہیں یعنی "سکرات موت حق کے ساتھ آ پہچنے ہیں")۔ بعض آیات میں موت کو صراحت کے ساتھ خدا کی مخلوق شمار کیا ہے: (الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ) (ملک۔٢)۔ اسلامی روایات میں موت کی حقیقت کے بارے میں مختلف تعبیریں آئی ہیں۔ ایک حدیث میں منقول ہوا ہے کہ علی ابن الحسین امام سجّاد علیہ السلام سے لوگوں نے سوال کیا "ما الموت؟" موت کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: " للمؤمن كنزع ثياب وسخة قملة، وفك قيود، وأغلال ثقيلة، وَالإستبدال بافخر الثياب، وَأطيبها روائح، وأوطى المراكب وانس المنازل۔ وَللكافر كخلع ثياب فاخرة، و النقل عن منازل انيسة، والإستبدال بأوسخ الثياب واخشنها، وَأوحش المنازل، وَأعظم العذاب!!: مومن کے لیے تو ایسا ہے جیسے میلا کچیلا جوؤں سے پر لباس اتار پھینکنا، اور بھاری طوق و زنجیر کھولنا، اور اس کو بہترین لباس، بہترین خوشبوؤں کے عطروں اور سُبک رفتار سواریوں اور بہترین منزلوں سے بدل لینا، اور کافر کے لیے ایسا ہے جیسے کہ فاخرہ لباس کو اتارنا اور مانوس منازل سے منتقل ہو کر میلے کچیلے اور سخت ترین لباس کو تبدیل کرنا، اور وحشت ناک ترین منازل اور بزرگ ترین عذاب میں منتقل ہو جانا۔" امام محمد بن علی علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " هو النّوم الذى ياتيكم كل ليلة إلّا إنّه طويل مدته، لا ينتبه منه إلّا يوم القيامة!۔" "موت وہی نیند ہے جو ہر رات تمہیں آتی ہے، مگر یہ کہ اس کی مُدّت طولانی ہے اور انسان اس سے قیامت کے دن تک بیدار نہیں ہوتا۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ٦، صفحہ ٥٥ (ظاہر اً امام محمد بن علی سے مراد نویں امام امام جواد (علیہ السلام) ہیں)۔ ہم نے برزخ سے مربوط مباحث میں بیان کیا ہے،کہ برزخ میں اشخاص کی حالت مختلف ہے، بعض جیسے سوئے ہوئے ہیں، اور بعض (شہدائے راہ خدا اور قوی الایمان مومنین کی مانند) طرح طرح کی نعمتوں میں غرق ہوں گے، جابر اور اشقیاء کی جماعت عذاب میں گرفتار ہو گی۔ امام حسین بن علی سید الشہداء علیہ السلام نے بھی کربلا میں عاشور کے دن اور جنگ کے شدت اختیار کرنے کے وقت موت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر اپنے اصحاب سے بیان فرمائی تھی: " صبرا بنى الكرام! فما الموت إلّا قنطرة تعبر بِكُم عَنِ البؤس وَالضّراء إلى الجنان الواسعة، وَالنّعيم الدّائمة، فايكم يكره أن ينتقل من سجن الى قصر، وَما هو لاعدائكم إلّا كمن ينتقل من قصر الى سجن وعذاب، إنّ ابى حدثنى عن رسول الله (ص) إنّ الدّنيا سجن المؤمن وَجنّة الكافر، وَالموت جسر هؤلاء الى جنانهم، وَجسر هؤلاء الى جحيمهم" "صبر کرو! اے کریم اور بزرگوار لوگوں کے بیٹو! موت تو صرف ایک پل ہے، جو تمہیں تکلیفوں اور ناراحتیوں اور رنج و الم سے بہشت کے وسیع باغات اور جاودانی نعمتوں کی طرف منتقل کر دیتی ہے، تم میں سے کون ایسا ہے، جو زندان سے قصر میں منتقل ہونے سے تکلیف میں ہو، لیکن تمہارے دشمنوں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جسے قصر سے زندان اور عذاب کی طرف منتقل کریں۔ میرے باپ نے رسُولؐ خدا سے نقل فرمایا کہ دنیا مومن کے لیے زندان ہے اور کافر کے لیے بہشت اور موت اُن کے لیے تو جنت کے باغات کے لیے ایک پل ہے اور اِن کے لیے جہنم کا پُل ہے۔ (بحوالہ: معانی الاخبار، صفحہ ٢٨٩ باب معنی الموت حدیث ٣)۔ ایک اور حدیث میں منقول ہوا ہے کہ: امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پاس گئے جو سکرات موت میں مبتلا تھا، اور کسی شخص کو جواب نہیں دیتا تھا، لوگوں نے عرض کیا، اے فرزندِ رسول اللہ (ص) ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ موت کی حقیقت کی ہمارے لیے تشریح فرمایئے اور ہمیں بتایئے کہ ہمارا بیمار اب کس حالت میں ہے؟ آپؑ نے فرمایا: "موت تصفیہ کا ایک ذریعہ ہے۔" جو مومنین کو گناہ سے پاک کرتی ہے، اور اس جہاں کی آخری تکلیف اور ناراحتی ہے اور ان کے گناہوں کا آخری کفارہ ہے، جب کہ کافروں کو ان کی نعمتوں سے جدا کرتی ہے، اور وہ آخری لذت ہے جو انہیں پہنچتی ہے اور ان کے اچھے کام کا جو کبھی کبھار انجام دیا کرتے تھے۔ آخری اجر ہے، باقی رہا تمہارا یہ شخص جو حالت احتضار میں ہے، تو وہ کلی طور پر گناہوں سے پاک ہو چکا ہے، اور معاصی سے خارج ہو چکا ہے، اور خالص ہو گیا ہے، جس طرح سے کہ میلا کچیلا لباس دھونے سے پاک صاف ہو جاتا ہے اور اس نے ابھی سے یہ شائستگی اور لیاقت پیدا کر لی ہے کہ وہ ہمیشہ کے گھر میں اہم ہل بیت کی معاشرت میں رہے" (بحوالہ: معانی الاخبار، صفحہ ٢٨٩، باب معنی الموت)۔
٢۔ سکرات موت
اوپر والی آیت میں سکرات موت کے بارے میں گفتگو تھی، اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ "سکرات"، "سکرة" کی جمع ہے، اور وہ اس حالت میں کے معنی میں ہے، جو شدّت حادثہ کے زیر اثر مستی کے مشابہ انسان کو عارضی ہوتی ہے، اور اس کو سخت مضطرب کر دیتی ہے لیکن وہ مستی نہیں ہوتی، یہ ٹھیک ہے کہ موت مومنین کے لیے ایک وسیع تر اور مواہب الہٰیہ سے پُرجہان کی طرف انتقال کا آغاز ہے۔ لیکن اس کے باوجود انتقال کی یہ حالت کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہے، کیونکہ رُوح سالہا سال سے اس بدن کے ساتھ خوگر رہی ہے اور اس کے ساتھ تعلق رکھا ہے۔ اسی لیے جب امام صادق علیہ السلام سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جب رُوح بدن سے خارج ہوتی ہے تو انسان تکلیف کیوں محسوس کرتا ہے، تو آپؑ نے فرمایا: لأنّه نمى عليها البدن: "اس بناء پر کہ بدن کی نشوونما اسی کے ساتھ ہوئی ہے۔ (بحوالہ: "بحار" جلد ٦، صفحہ ١٥٨)۔ یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ ایک فاسد دانت کو منہ سے نکال دیں تو یقیناً اس کے بعد سکون و آرام ہوتا ہے۔ لیکن جدائی کا لمحہ درد ناک ہوتا ہے۔ بعض اسلامی روایات میں آیا ہے کہ تین دن انسان کے لیے وحشتناک ہوتے ہیں: ایک وہ دن جس میں وہ پیدا ہوا اور اس ناآشنا عالم کو دیکھتا ہے، اور ایک وہ جس دن میں وہ مرتا ہے اور موت کے بعد والے عالم کا مشاہدہ کرتا ہے، اور ایک وہ دن جس میں وہ عرصہ محشر میں وارد ہو گا، اور ایسے احکام دیکھے گا جو دُنیا میں نہیں تھے، اسی لیے خداوند عالم یحیٰ بن زکریا کے بارے میں فرماتا ہے: "وَسَلام عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۔" اور عیسیٰ بن مریمؑ کی زبانی بھی اس کے مشابہ گفتگو کو نقل کرتا ہے، اور ان دو پیغمبروں کو ان تین دنوں میں اپنی عنایت کا مشمول قرار دیتا ہے، (تشریحی نوٹ: وہی مدرک (کچھ تلخیص کے ساتھ) یحیٰ (ع)کے بارے میں سُورۂ مریم کی آیہ ١٥ میں آیا: "وَسَلاَمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا" اور حضرت مسیح کے بارے میں اسی سُورہ کی آیت ٣٣ میں آیا ہے، "وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا" مجھ پر سلام ہو جس دن پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ ہو کر دوبارہ اُٹھایا جاؤں گا)۔
٣۔ موت حق ہے
نہ صرف زیر بحث آیت میں سکرات موت کا حق کے ساتھ تعارف ہوا ہے، بلکہ دوسری متعدد آیات میں موت کو حق کہا گیا ہے، سُورہ حجر کی آیہ ٩٩ میں آیا ہے: وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقینُ": اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ "یقین" (موت) تیرے پاس آ جائے، (سورۂ مدثر کی آیة ٤٧ میں بھی اس کے مشابہ تعبیر نظر آتی ہے)۔ یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ انسان ہر چیز کا تو انکار کر سکتا ہے، لیکن اس واقعیت کا انکار نہیں کر سکتا، کہ انجام کار موت ہم سب کے گھروں کا دروزاہ کھٹکھٹائے گی اور سب کو اپنے ساتھ لے جائے گی۔ موت کی حقانیت کی طرف توجہ، تمام انسانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر طریقہ پر غور و فکر اور سوچ بچار کریں، اور اس راستہ سے کہ جوان کے آگے ہے باخبر ہوں اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کریں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے: ایک شخص عمر کے پاس آیا اور کہا: میں فتنہ کو دوست رکھتا ہوں، اور حق سے بیزار ہوں، اور اس چیز کی گواہی دیتا ہوں، جسے کبھی نہیں دیکھا۔ عمر نے اس کو قید کر دیا، یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی آپ نے فرمایا: اے عمر! اس شخص کو قید کرنا ظلم ہے، اور تو ایک ستم کا مرتکب ہوا ہے، اس نے کہا کیوں؟ آپ نے فرمایا، کیونکہ وہ اپنے مال اور اولاد کو دوست رکھتا ہے، جنہیں خدا نے قرآن کی ایک آیت میں فتنہ سے تعبیر کیا ہے: "إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔" (بحوالہ: سورہ تغابن۔ ۱۵)۔ وہ موت سے بیزا رہے اور قرآن میں اسے "حق" سے تعبیر کیا گیا ہے "وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ"، (بحوالہ: سورہ ق۔۱۹)۔ وہ خدا کی یکتائی کی شہادت دیتا ہے جس کو اس نے کبھی نہیں دیکھا، اس مقام پر عمر نے کہا: لولا علی لھلک عمر: "اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ (بحوالہ: تفسیررُوح البیان، جلد ٩، صفحہ ١١٨)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 30 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر فرشتوں اور شیاطین میں سے انسان کے ہمنشین
Tafsīr Nemūna · Vol. 8ان آیات میں پھر معاد و قیامت کے ایک اور منظر کی تصویر کشی ہوئی ہے، ایک ایسا ہلا دینے والا منظر کہ انسان کا قرین رشتہ اس کے اعمال اور کرتوتوں کو کھول کر رکھ دے گا، اور اس کی سزا کے لیے خدا کا حکم صادر ہو جائے گا۔ پہلے فرماتا ہے: "اس کا قرین کہے گا یہ اس کا اعمال نامہ ہے، جو میرے پاس حاضر اور تیار ہے اور وہ اس کے تمام چھوٹے بڑے کاموں سے جو اس نے ساری عمر میں کیے ہیں پردہ اُٹھا دے گا، (وَقَالَ قَرِينُهُ هَذَا مَا لَدَيَّ عَتِيد)۔ اس سلسلے میں کہ یہاں "قرین" سے کون مراد ہے؟ مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ لیکن اکثر نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جو دُنیا میں انسان کے ہمراہ تھا، اور اس کے اعمال کو ضبط کرنے پر مامور تھا اور بارگاہ عدل الہٰی میں گواہی دے گا)۔ گزشتہ آیات جو یہ کہتی تھیں کہ جو شخص عرصئہ محشر میں وارد ہو گا، اس کے ساتھ ایک "سائق" اور "شہید" ہو گا۔ وہ بھی اس معنی پر گواہ ہے، علاوہ ازیں، اس آیت اور اس کی بعد والی آیت کا لب و لہجہ بھی اس معنی کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے،(غور کیجئے گا)۔ لیکن بعض نے کہا ہے کہ قرین سے مراد یہاں شیطان ہے کیونکہ قرآن کی بہت سی آیات میں یہ لفظ اس شیطان کے لیے جو مجرموں کا ہمنشین ہے اطلاق ہوا ہے، اس تفسیر کی بناء پر آیت کا معنی اس طرح ہو گا، "اس طرح ہمنشین شیطان کہے گا میں نے اس مجرم کو جہنم کے لیے آمادہ کیا ہے، اور انتہائی کوشش جو میں کر سکتا تھا، وہ میں نے اس کام میں صرف کی ہے۔" لیکن یہ معنی نہ صرف گزشتہ آیات میں سے، اور اس آیت سے جو اس آیت کے بعد بلافاصلہ آئی ہے، مناسب نہیں ہے بلکہ شیطان کا انسانوں کے گمراہ کرنے کے گناہ سے خود کو بری کہنا، جو بعد کی چند آیات میں آئے گا، اس کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے، کیونکہ اس تفسیر کے مطابق شیطان مجرموں کے اغوا کرنے میں اپنے ذمہ داری کا اعتراف کر رہا ہے، جبکہ آگے آنے والی آیات میں یہ آیا ہے،: "قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ" اس کا قرین کہے گا، میں نے اُسے سرکشی کے لیے نہیں اُبھارا تھا، لیکن وہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا اور یہ پورے طور پر اس کے ساتھ تضاد رکھتی ہے۔ یہاں ایک تیسری تفسیر بھی بیان ہوئی ہے جو سب سے زیادہ بعید نظر آتی ہے، اور کوئی بھی قرینہ اس پر گواہی نہیں دیتا اور وہ یہ ہے کہ قرین سے مراد انسان کے دوست و احباب اور ہمنشین ہیں۔ اس کے بعد خدا ثبت اعمال پر مامور دو فرشتوں کو مخاطب کرتے ہُوئے کہتا ہے: "جہنم میں ڈال دو ہر متکبر خود خواہ اور ہٹ دھرم کافر کو" (أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍعَنِيدٍ)۔ "عنید"، "عناد" کے مادہ سے تکبر، خود پسندی اور حق کو تسلیم نہ کرنے کے معنی میں ہے۔ اس بارے میں یہ دو افراد جو اس گفتگو کے مخاطب ہیں کون ہیں، پھر طرح طرح کی تفسیریں بیان کی گئی ہیں، ایک گروہ نے اوپر والی تفسیر کو انتخاب کیا ہے، جبکہ بعض نے خازنانِ جہنم (وہ دو نفر جو جہنم پر مامور ہیں) کو مخاطب سمجھا ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے مخاطب صرف ایک ہی شخص ہو، وہی شہید و گواہ جو مجرم کے ہمراہ عرصۂ محشر میں وارد ہو گا، اور جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے، اور فعل کو تاکید کے لیے تثنیہ لایا گیا ہے، گویا دو مرتبہ تکرار کرتا ہے: "الق"، "الق" یعنی: "پھینک دے"، "پھینک دے"... اور مخاطب واحد کے لیے تثنیہ کا استعمال عربی زبان میں موجود ہے، لیکن یہ تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے، اور پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ بعد والی آیت میں ان کفار عنید کی چند قبیح اور مذموم صفات کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتا ہے: "وہ شخص شدت کے ساتھ خیر سے مانع ہے، متجاوز ہے اور شک و تردید میں گرفتار رہے، بلکہ دوسروں کو بھی شک میں ڈالتا ہے (مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ)۔ "منّاع" چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے، لہٰذا اس شخص پر بولا جاتا ہے جو کسی چیز سے بہت زیادہ منع کرے، اس بناء پر " مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ" وہ شخص ہے جو ہر صورت میں ہر کارِ خیر کا مخالف ہو۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ آیت "ولید بن مغیرہ" کے بارے میں نازل ہوئی،کیونکہ وہ اپنے بھتیجوں سے کہتا تھا، جو شخص تم میں سے اسلام قبول کرے گا تو میں جب تک زندہ ہوں اور اس کی مدد نہیں کروں گا۔" (بحوالہ: "رُوح المعانی" جلد ٢٦، صفحہ ١٦٨)۔ "معتد" متجاوز کے معنی میں ہے، چاہے وہ دوسرے لوگوں کے حقوق میں متجاوز ہو، یا احکام الہٰی کی حدود سے تجاوز کرے۔ "مریب"، "ریب" کے مادہ سے اس شخص کے معنی میں ہے، جو شک میں پڑا ہوا ہو، ایسا شک ہو بدبینی کے ساتھ ہو، یا جو دوسروں کو انپی گفتار و عمل کے ساتھ شک میں ڈالتا ہے، اور ان کی گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ اس گروہ عنید کے اوصاف کو جاری رکھتے ہُوئے بعد والی آیت میں پھر مزید کہتا ہے: "وہی شخص جس نے خدا کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیا ہے، اور اس نے شرک اور دوگانگی کی راہ اختیار کر لی ہے" (الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ)۔ ہاں "اس قسم کے شخص کو عذاب شدید میں ڈال دو" (فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ)۔ ان چند آیات میں اس دوزخی گروہ کی چھ صفات بیان ہوئی ہیں، جن میں سے پانچ پہلی حقیقت میں ایک دوسرے کی علّت و معلول ہیں اور چھٹی ان تمام اوصاف کی اصل جڑ کی توضیح ہے، کیونکہ: "کَفّار" اس شخص کے معنی میں ہے جو کُفر میں بہت زیادہ اصرار کرتا ہے۔ اور یہ عناد پر منتہی ہوتا ہے۔ شخص معاند بھی منع خیرات پر اصرار کرتا ہے اور اس قسم کا آدمی طبعاً و فطرتاً دوسروں کے حقوق اور حدود الہٰی پر تجاوز کرتا ہے۔ افراد متجاوز یہ اصرار کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھی شک میں ڈال دیں اور اُن سے ایمان کو سلب کر لیں۔ اس طرح سے پانچوں صفتیں "کفار" و "عنید" و " مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ " و "معتد" اور "مریب" ایک دوسرے کے ساتھ نہ ٹوٹنے والا رشتہ رکھتی ہیں،گویا ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ (بحوالہ: "المیزان" جلد ٨، صفحہ ٣٨١)۔ چھٹی صفت یعنی "الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ" میں ان تمام انحرافات کی اصلی جڑ بنیاد جو شرک ہے بیان ہوئی ہے، کیونکہ وقت کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے کہ شرک ان تمام بدبختیوں کا عامل ہے۔ بعد والی آیت اس کافر ہٹ دھرم گروہ کی سرنوشت کے ایک دوسرے ماجرے سے پردہ اٹھاتی ہے، اور وہ قیامت میں ان کا شیطان کے ساتھ مخاصمہ، جھگڑا اور بحث ہے، وہ تو اپنے تمام گناہ اغوا کرنے والے شیطانوں کی گردن میں ڈالتے ہیں، لیکن اس کاقرین شیطان کہے گا: پروردگارا! میں نے اسے طغیان اور سرکشی کے لیے آمادہ نہیں کیا تھا، اور اسے جبراً اس راستہ پر نہیں لایا تھا، اس نے خود ہی اپنے میل وارادہ سے اس راستہ کو اختیار کیا ہے، اور وہی دُور دراز کی گمراہی میں تھا" (قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ)۔ یہ تعبیر اسی چیز کے مشابہ ہے جو سُورہ ابراہیم کی آیہ ٢٢ میں آئی ہے، کہ شیطان اپنی برأت کے لیے کہے گا: (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم): "میرا تم پر کسی قسم کا کوئی تسلط نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی تو تم نے اُسے قبول کر لیا، اس بناء پر مجھے سرزنش نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو سرزنش کرو۔" البتہ شیطان یہ نہیں چاہتا کہ انسان کے اغواء کرنے میں اپنے نقش و اثر کا کلی طور پر انکار کر دے، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس بات کو ثابت کرے کہ اس میں کوئی جبر و اکراہ نہیں تھا، اور انسان نے اپنے میل و رغبت سے اس کے وسوسوں کو قبول کیا ہے، اس بناء پر "لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ۔" میں ان تمام کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔" (ص۔٨٢) والی آیت کے ساتھ کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگرچہ ان آیات میں صرف شیطان کے دفاع کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور شیطان پر کفار کے اعتراض کے بارے میں کوئی گفتگو نظر نہیں آتی، لیکن قرآن کی باقی آیات اور بعد والی آیت کے قرینہ سے طرفین کی گفتگو اجمالی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ وہ قیامت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھینچا تانی اور بحث مباحثہ کریں گے، کیونکہ بعد والی آیت میں آیا ہے: "خدا فرماتا ہے: میرے پاس جدال و مخاصمت نہ کرو، میں نے پہلے سے تم پر اتمامِ حجت کر دیا ہے "اور تمہیں اس منحوس سرنوشت سے باخبر کر دیا ہے" (قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِ)۔ (تشریحی نوٹ: "لدیّ"، "يبدّل" سے متعلق ہے بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ قول سے متعلق ہونا چاہیے لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک طرف تو میں نے شیطان سے کہا ہے: اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا" "جا! ان میں سے جو کوئی بھی تیری اتباع کرے گا، تو تم سب کی وافر سزا جہنم ہے۔" (اسراء ۔ ٦٣)۔ اور دوسری طرف سے انسانوں کو بھی خبردار کر دیا ہے: لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ "یقیناً میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے پُر کر دوں گا۔ (ص۔٨٥)۔ یہ تہدیدیں اور وعیدیں قرآن کی دوسری آیات میں بھی آئی ہیں اور وہ سب اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں کہ خدا نے انسانوں پر بھی اور شیاطین پر بھی اتمامِ حجت کر دیا تھا، اور انہیں گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے سے ڈرایا تھا۔ اس کے بعد اور زیادہ تاکید کے لیے مزید کہتا ہے،: میری بات تغیر ناپذیر ہے، اور میرے کسی کلام میں تبدیلی نہیں ہوتی ، اور اس میں ہرگز اپنے بندوں پر ظلم نہیں کروں گا" (مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ)۔ یہاں قول سے مراد وہی تہدیدیں اور وعیدیںہیں، جن کی طرف خدا نے مختلف آیات میں اشارہ کیا ہے، اور ان کے کچھ نمونے ہم نے اُوپر پیش کیے ہیں۔ "ظلام" کی تعبیر صیغہ مبالغہ کی شکل میں (بہت ظلم کرنے والا) جبکہ خدا معمولی سے معمولی ظلم بھی نہیں کرتا، ممکن ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا کا مقام علم و قدرت و عدل اس قسم کا ہے کہ اگر وہ کوئی چھوٹا سا ظلم بھی کسی پر کرے تو وہ بہت بڑا اور زیادہ ہو گا، اور "ظلام" کا مصداق ہو گا، اسی بناء پر وہ ہر قسم کے ظلم سے دُور ہے۔ یا افراد و مصادیق کی طرف ناظر ہے، کیونکہ اگر وہ کسی بندے پر کوئی چھوٹا سا ظلم بھی کرے تو اس کے مشابہ افراد بہت ہیں اور مجموعی طور پر بہت سا ظلم ہو جائے گا۔ بہرحال، یہ تعبیر بندوں کے اختیار اور ارادے کی آ زادی کی دلیل ہے، نہ تو شیطان مجبُور ہے کہ شیطنت کرے اور نہ ہی کفّار مجبور ہیں کہ راہ کفر و عناد اور راہ شیطان کو اختیار کریں، اور نہ ہی کسی شخص کے لیے اس کے قصد و ارادہ سے باہر قطعی سرنوشت مقرر ہوئی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے، کہ وہ یہ کیسے فرماتا ہے: میر ی بات تغیر ناپذیر ہے، جبکہ بعض لوگ اس کے عفو و درگزر بخشش کے مشمول ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے، کہ عفو و بخشش بھی حساب شدہ پروگرام کے مطابق ہی ہوتی ہے، اور اس بات کی فرع ہے کہ انسان نے کوئی ایسا کام انجام دیا ہو، جس سے وہ مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ عفو و بخشش کی قابلیّت اور شائستگی بھی رکھتا ہو اور یہ بات خود خدا کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، کہ وہ لوگ جو عفو و بخشش کے لائق ہیں انہیں اپنی عفو کا مشمول قرار دے اور یہ بات بھی تغیر پذیر ہے۔ آخری زیر بحث آیت میں حوادث قیامت کے ایک مختصر اور ہلا دینے والے حِصّہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب ہم جہنم سے کہیں گے،: کیا تو پُر ہو گئی؟ اور وہ جواب میں کہے گی: کیا اس سے زیادہ بھی کچھ موجود ہے، (يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ)۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں کہ یہاں "یوم" کس سے متعلق ہے؟ تین نظریے پائے جاتے ہیں، پہلا یہ کہ "اذ کروا" محذوف سے متعلق ہے اس کا مخاطب تمام انسان ہیں، دوسرا یہ کہ "يبدل" سے متعلق ہے اور تیسرا یہ کہ "ظّلام" سے متعلق ہے جو اس سے پہلے والی آیت میں آیا ہے۔ لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے)۔ اس سلسلے میں کہ "هَلْ مِن مَّزِيدٍ " سے کیا مراد ہے؟ دو تفاسیر کی گئی ہیں، پہلی یہ کہ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی جہنم کہے گی: اس سے زیادہ کا امکان نہیں ہے، تو اس طرح سے یہ سُورہ سجدہ کی آیت ١٣ کے ساتھ جو یہ کہتی ہے: "لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ": میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے پُر کردوں گا۔" کامل طور سے ہم آہنگ ہے، اور اس معنی پر ایک تاکید ہے کہ اس دن تہدید الہٰی کامل طور سے پوری ہو جائے گی اور دوزخ کافروں اور مجرموں سے بھر جائے گی۔ دوسرا یہ کہ اس جملہ سے مراد اور زیادہ کی طلب ہے، یعنی کیا اور افراد بھی ایسے ہوں گے، جو دوزخ میں أئیں گے؟ اور اصولی طور پر ہر چیز کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی ہم جنس کی تلاش میں رہتی ہے اور کبھی سیر نہیں ہوتی، نہ بہشت نیکوکاروں سے اور نہ ہی دوزخ بدکاروں سے۔ لیکن یہ سوال باقی رہ جاتا ہے، کہ اس بات کا مفہوم تو یہ ہے کہ دوزخ ابھی تک پُر نہیں ہوئی اور یہ چیز اوپر والی آیت (سورہ سجدہ آ یہ ١٣) سے جو یہ کہتی ہے: ہم دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے پُر کر دیں گے سازگار نہیں ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ زیادتی کا مطالبہ پُر نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اوّلاً ممکن ہے، کوئی ظرف مثلاً غذا سے پُر ہو، پھر بھی کوئی تمنا کرے کہ اس کے اُوپر اور ڈالا جائے کہ وہ چھلکنے لگے، ثانیاً یہ تقاضا ممکن ہے دوزخیوں پرمکان کے تنگ ہونے اور زیادہ دردناک عذاب کے تقاضا کے معنی میں ہو، یا وسعت پانے اور اس کے بعد بہت سے افراد کو اپنے قبول کرنے کی تمنا مراد ہو۔ بہرحال، یہ آیت اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دوزخی بہت زیادہ ہیں اور دوزخ ایک ہولناک اور وحشتناک منظر رکھتی ہے اور خدا کی تہدید واقعی اور یقینی ہے، اور ایسی ہے کہ اس کے بارے میں غو و فکر کرنا ہر انسان کو لرزہ براندام کر دیتا ہے، اور اس کو خبردار کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن افراد میں سے ایک تو ہو، اور یہی فکر اُسے چھوٹے بڑے گناہوں سے کنڑول کر سکتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ دوزخ جس میں کچھ بھی شعور نہیں ہے، کیسے اس سے خطاب کیا جاتا ہے، اور وہ جواب دیتی ہے؟ اس سوال کے تین جواب ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ ایک قسم کی تشبیہ اور زبان حال کا بیان ہے، یعنی خدا تکوینی زبان میں جہنم سے سوال کرے گا، اور وہ بھی زبان حال سے جواب دے گی اور اس تعبیر کی نظیر مختلف زبانوں میں افراواں ہے۔ دوسرا یہ کہ آخرت کا گھر حیات و زندگی واقعی کا گھر ہے، یہاں تک کہ بہشت اور جہنم جیسی موجودات بھی ایک قسم کی حیات اور ادراک و شعور رکھتی ہوں گی، بہشت شدت سے مؤمنین کی مشتاق ہو گی اور دوزخ شدت کے ساتھ مجرموں کے انتظار میں ہو گی۔ وہ مقام جہاں انسان کے بدن کے اعضاء کلام اور گفتگو کرنے لگیں۔ اور شہادت اور گواہی دیں گے وہاں کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے کہ بہشت و دوزخ اس طرح ہوں۔ "بلکہ بعض کے نظریہ کے مطابق اس دُنیا کے تمام ذرات بھی ایک قسم کا ادراک و شعور رکھتے ہیں، اسی لیے وہ خدا کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور ان کی یہ تسبیح و حمد قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر نمونہ جلد ٦...(سورہ اسراء کی آیت ٤٤ کے ذیل میں رجوع کریں)۔ دوسرا یہ کہ مخاطب دوزخ پر مامور اور اس کے خازن ہیں اور وہی ہیں جو جواب دیں گے۔ یہ سب تفسیریں قابل قبول ہیں اگرچہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 37 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر اے مجرمو! فرار کی کوئی راہ نہیں ہے!
Tafsīr Nemūna · Vol. 8اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس سُورہ کے مباحث عام طور پر مسئلہ معاد اور اس سے مربوط امور کے محور کے گرد چکر لگاتے ہیں، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ گزشتہ آیات میں ہٹ دھرم کفار کے جہنم میں پھینکنے، اور ان کے شدّت عذاب کی کیفیت، اور ان صفات کے متعلق جو انہیں دوزخ کی طرف کھینچ لے گئے تھے، گفتگو تھی، زیر بحث آیات میں ایک اور منظر کی تصویر کشی کرتا ہے، کامل احترام کے ساتھ پرہیزگاروں کے جنّت میں داخل ہونے کا منظر اور بہشت کی انواع و اقسام کی نعمتوں اور ان صفات کی طرف اشارہ جو انسان کو بہشتیوں کی صف میں قرار دیتی ہیں، تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرنے سے حقائق زیادہ واضح اور روشن ہو جائیں۔ پہلے فرماتا ہے: اس دن بہشت پرہیزگاروں کے نزدیک ہو جائے گی اور ان سے اس کا کوئی فاصلہ نہیں ہو گا (وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ)۔ "ازلفت"، "زلفیٰ" (بروزن کُبریٰ) کے مادہ سے قرب و نزدیکی کے معنی میں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہتا کہ پرہیزگاروں کو جنّت کے قریب کریں گے، بلکہ یہ کہتا ہے کہ جنت کو ان کے قریب کریں گے! یہ ایک ایسا مطلب ہے، جو اس دُنیا کے حالات کو مدّنظر رکھتے ہُوئے قابلِ تصور نہیں ہے، لیکن اس بناء پر کہ دارِآخرت کے اصول کچھ ایسے ہیں جو اس دُنیا کے حالات سے بہت مختلف ہیں، اس لیے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ خدا پرہیزگار مومنین کے اتنہائی اکرام و احترام کی بناء پر بجائے اس کے کہ انہیں جنت کی طرف لے جائے، جنت کو ان کی طرف لے آئے گا،! سورہ شعراء کی آیت ٩٠ و ٩١ میں آیا ہے: وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ: اس دن جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گی، اور دوزخ کو گمراہوں کے لیے آشکار و ظاہر کریں گے۔ اور یہ خدا کا مومن بندوں پر انتہائی لطف و کرم ہے، جس سے بالاتر کا تصور نہیں ہو سکتا۔ "غیربعید" کی تعبیر بھی تاکید کے عنوان سے ہے۔ (تشریحی نوٹ: "غیر بعید" ممکن ہے کہ "ظرف" ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ "حال" ہو یا صفت ہو محذوف مصدر کی اور تقدیر میں "ازلافا غیر بعید" ہو)۔ بہرحال، آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مسئلہ قیامت میں واقع ہو گا، اگرچہ تعبیر فعل ماضی (از لفت) کے ساتھ ہوئی ہے، کیونکہ وہ یقینی حوادث جو مستقبل میں واقع ہوں، بہت سی تعبیروں میں فعل ماضی کی صورت میں بیان ہوتے ہیں، لیکن بعض نے اس کا واقعات ماضی کے ساتھ معنی کیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ جنت کا پرہیزگاروں کے نزدیک ہونا دُنیا میں حاصل ہو چکا ہے، کیونکہ جنّت کے اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے، اِدھر وہ دُنیا سے جائیں گے اور اُدھر جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن قبل و بعد کی آیات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے جو قیامت کے منظر کی گفتگو کر رہی ہیں، یہ معنی بعید نظر آتا ہے اور مناسب وہی پہلی تفسیر ہے۔ اس کے بعد بہشتیوں کے اوصاف کی تفصیل بتاتا ہے: یہ وہ جنّت ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اور یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو خدا کے حکم کی اطاعت کی طرف لوٹتے ہیں، اور اس عہد و پیمان اور احکام کی حفاظت کرتے ہیں (هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ)۔ یہاں ان کے اوصاف میں سے دو اوصاف کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ "اوّاب" اور "حفیظ" "أوّاب"، "أوب" (بروزن ذوب) کے مادہ سے بازگشت کے معنی میں ہے، جو ممکن ہے چھوٹے بڑے گناہوں سے توبہ کے معنی میں ہو یا اس کی اطاعت کی طرف بازگشت کے معنی میں ہو، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ "یہ مبالغہ کا صیغہ ہے۔" یہ نشاندہی کرتا ہے، کہ بہشتی ایسے پرہیزگار لوگ ہیں کہ جو عامل بھی انہیں خدا کی اطاعت سے دُور کرتا ہو، وہ اس کی طرف فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں اور اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آتے ہیں، اور اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں سے توبہ کرتے ہیں تاکہ نفس مطمئنہ کے مقام تک پہنچ جائیں۔ "حفیظ" محافظ اور نگران کے معنی میں ہے،کیا اس سے مراد خدا کے عہد و پیمان کی حفاظت ہے، جو اس نے انسانوں سے لیا ہے کہ اس کی اطاعت کریں اور شیطان کی عبادت نہ کریں (یس۔ ٦٠) یا خدا کے قوانین اور حدودِ الہٰی کی حفاظت؟ یا گناہوں کو چھوڑنا اور انہیں توبہ کے لیے یاد رکھنا اور ان کی تلافی کرنا؟ یا یہ سب امور؟۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ یہ حکم مطلق صُورت میں ذکر ہوا ہے، آخری تفسیر جو جامعیت رکھتی ہے زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ ان اوصاف کو جاری رکھتے ہُوئے۔ جو حقیقت میں گزشتہ اوصاف کی تفسیر و توضیح ہیں، بعد والی آیت میں ان کے دو اور اوصاف کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے: وہی شخص جو تنہائی میں خدائے رحمن سے ڈر سے اور توبہ کرنے والے دل کے ساتھ اس کے حضور میں حاضر ہو" (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ)۔ پوشیدہ طور پر خدا سے ڈرنے کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس کے باوجودکہ ہرگز خدا کو آنکھ سے نہیں دیکھتے، اس کے آثار میں غور کر کے اور استدلال کے طریقے سے اس پر ایمان لاتے ہیں، ایسا ایمان جو کامل مسؤلیت کے احساس سے توام ہے۔ یہ احتمال بھی موجود ہے، کہ لوگوں کی آنکھ سے پنہاں مراد ہو، وہ نہ صرف لوگوں کے سامنے بلکہ تنہائی اور خلوت میں بھی کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔ یہ خوف اور "خشیت" اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ ان کا دل منیت ہو، ہمیشہ کے لیے خدا کی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کی اطاعت میں آگے پڑھے، اور ہرلغزش و گناہ سے توبہ کرے، اور اس حالت کو آخر عمر تک برقرار رکھتے، اور اِسی حالت میں عرصئہ محشر میں وارد ہو۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے،: جن لوگوں میں یہ چار صفات پائی جاتی ہیں، جب بہشت ان کے نزدیک ہو جائے گی تو "خدا کے فرشتے احترام و اکرام کے عنوان سے ان سے کہیں گے، سلامتی کے ساتھ جنت میں وارد ہو جاؤ۔" (ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ)۔ ہر قسم کی بُرائی، دُکھ درد، آفت و بلا، سزا و عذاب سے مکمل جسمانی و روحانی سلامتی۔ اس کے بعد ان کے اطمینان قلب کے لیے مزید کہتا ہے: "آج جاودانی اور ہمیشگی کا دن ہے، نعمتوں کی ہمیشگی، اور بہشت کی اپنی تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشگی" (ذَلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ)۔ ان دو نعمتوں (سلامتی کی بشارت اور ہمیشہ ہمیشہ بہشت میں رہنے کی بشارت) کے بعد خداوندِ منان انہیں دو بشارتیں اور دیتا ہے، جو مجموعی طور پر چار بشارتیں ہو جاتی ہیں، ان چار اوصاف کی طرح جوان میں پائے جاتے تھے، فرماتا ہے،: "وہ جو کچھ بھی چاہیں گے بہشت میں ان کے لیے موجُود ہے" (لَهُم مَّا يَشَاؤُونَ فِيهَا)۔ اور اس کے علاوہ "دوسری نعمتیں بھی ہمارے پاس موجود ہیں جو کھبی ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ کہ وہ ان کی تمنا کریں۔" (وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ)۔ اس سے زیادہ بہتر، عمدہ تر، اور دل پسند تعبیر کا تصوّر بھی نہیں ہوتا، پہلے کہتا ہے،: بہشتی لوگ جو کچھ چاہیں (اس جُملہ کے معنی کی وسعت کے ساتھ) انواع و اقسام کی نعمتیں بغیر کسی استثنا کے ان کے اختیار میں ہوں گی، اور ان کے علاوہ بھی ایسی نعمتیں اور مواہب ہیں، جو ہرگز کسِی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی، لیکن خداوند رحمن و رحیم، جس نے بہشتی پرہیزگاروں کو، اپنے خاص الطاف سے نوازا ہے۔ انہیں ان نعمتوں سے بھی بہرہ ور کرے گا اور اس طرح سے جنّت کی نعمتیں اتنی حد سے زیادہ وسیع پہلو پیدا کر لیں گی، جن کی توصیف بیان سے باہر ہے۔ ضمنی طور پر اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے، کہ خدائی اجر و پاداش اور مومنین کے اعمال کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے کہیں زیادہ اور بہت ہی برتر و بالاتر ہے۔ اور اس مرحلہ میں ہم ہر جگہ اس کے فضل و کرم کے رو برو ہیں، کیا اس کی سزا میں اور کیا اس کے عدل کے سامنے۔ بہشت و دوزخ، اور بہشتیوں اور دوزخیوں کے صفات اور ان کے درجات و مراتب کے بارے میں گفتگو کو ختم کرنے کے بعد، اسی بحث سے کامل طور پر نتیجہ نکالنے کے لیے، مجرموں کی طرف توجہ کرتے ہُوئے فرماتا ہے: "کتنی بہت سی قومیں ایسی ہیں جن کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے، وہ قومیں جو ان سے زیادہ قوی اور طاقتور تھیں نے کئی مُلک فتح کے تھے، اور کئی شہروں پر مسلّط ہُوئے تھے، لیکن وہ کفر و ظلم و ستم اور گناہ کی وجہ سے نابود ہو گئیں" (وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَا)۔ کیا اس قسم کے افراد کے لیے موت اور عذاب الہٰی سے فرار کی کوئی راہ ہے؟ (هَلْ مِن مَّحِيصٍ)۔ "قرن" اور "اقتران" اصل میں دو چیزوں یا کئی چیزوں کے ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کے معنی میں ہے، اور اس جماعت کو جو ایک ہی زمانہ میں زندگی بسر کرتے ہیں قرن کہا جاتا ہے، اس کے بعد یہ لفظ زمانہ کے ایک حِصّہ پر بولا جانے لگا، جسے کبھی تو تیس سال اور کبھی سو سال کہا ہے۔ اس بناء پر کئی "قرنوں" کو ہلاک کرنے کا معنی کئی گزشتہ اقوام کو ہلاک کرنا ہے۔ "بطش" کسِی چیز کو قوت و قدرت کے ساتھ پکڑنے کے معنی میں ہے، اور کبھی جنگ و جدال کے معنی میں بھی آتا ہے۔ " نقبوا"، "نقب" کے مادہ سے اس سوراخ کے معنی میںہے جو دیوار یا چمڑے میں کرتے ہیں، لیکن "ثقب" صرف اس سوارخ کو کہتے ہیں جو لکڑی میں کرتے ہیں۔ یہ "لفظ" جب کسی فعل کی صُورت میں استعمال ہو، تو سیر و حرکت اور اصطلاح کے مطابق راستہ کھولنے اور پیش روی کرنے کے معنی میں آتا ہے، اور کشور کشائی اور مختلف علاقوں میں نفوذ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ "منقبت" بھی اسی مادہ سے ہے، اور یہ لفظ ان برجُستہ اشخاص کے افعال و صفات پر...اس نفوذ و تاثیر کی بناء پر جو وہ لوگوں میں رکھتے ہیں، یا راستے کو ترقی کے لیے کھولتے ہیں، بولا جاتا ہے۔ "نقیب" اس شخص کو کہتے ہیں، جو کسی جمعیت کے بارے میں بحث و تحقیق کرتا ہے اور ان کے اوضاع و احوال سے باخبر ہوتا ہے اور ان کے اندر نفوذ پیدا کرتا ہے۔ "محیص"، "حیص" (بر وزن حیف)کے مادہ سے کسی چیز سے انحراف اور عدول کرنے کے معنی میں ہے، اور اسی مناسبت سے مشکلات سے فرار کرنے اور میدانِ جنگ میں شکست کھا جانے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ بہرحال، یہ آیت پیغمبرؐ کے زمانے کے ہٹ دھرم کفار کو تنبیہ کر رہی ہے، کہ وہ گزشتہ لوگوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں، اور ان کے آثار کو تاریخ کے صفحات میں اور روئے زمین پر دیکھیں، غور کریں کہ خدا نے اس سے پہلے کی سرکش اقوام کے ساتھ کیا کیا؟ وہ قومیں جو ان سے زیادہ کثرت میں تھیں اور زیادہ طاقتور تھیں، اور پھر وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ یہ معنی بارہا قرآن مجید میں آیا ہے، منجملہ سورہ زخرف کی آیہ ٨ میں بیان ہوا ہے: "فَأَهْلَكْنا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشاً"، "ہم نے ان اقوام کو جو ان سے زیادہ طاقتور تھیں ہلاک کر دیا۔" بعض مفسرین زیر بحث آیت کو قومِ ثمود کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو حجاز کے شمار میں حجر کی کوہستانی سر زمین میں زندگی بسر کرتی تھی وہ پہاڑوں کو کاٹ کر ان میں پُرشکوہ گھر اور قصر و محلات بناتی تھی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اور انہیں بھی اور ان کے علاوہ دوسری اقوام کو بھی شامل ہے۔ " هَلْ مِن مَّحِيصٍ" (کیا بھاگنے کی کوئی راہ ہے؟) کا جُملہ ممکن ہے گزشتہ اقوام کی زبانی ہو، جو عذاب کے چنگل میں گرفتاری کے وقت اس مطلب کا ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے، یا پروردگار کی طرف سے پیغمبرؐ کے زمانے کے ہٹ دھرم کفّار کے بارے میں ہو، یعنی کیا اس دردناک سرنوشت سے جو گزشتہ سرکش اقوام کے سامنے آئی فرار کر سکتے ہیں؟ آخری زیر بحث آیت میں زیادہ تاکید کے لیے مزید کہتا ہے: "یقینا گزشتہ لوگوں کی سرنوشت میں، اس شخص کے لیے، جو عقل رکھتا ہے، یا کان لگا کر سُنتا ہے اور حاضر (دماغ) ہے تذکر اور ایک نصیحت ہے" (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ)۔ یہاں بھی اور قرآن کی دوسری آیات میں بھی جو درک مسائل کے بارے میں بحث کرتی ہیں "قلب" سے مراد وہی عقل (شعور ادراک ہے، لغت کی کتابوں میں بھی "قلب" کا ایک معنی "عقل" ہی بتایا گیا ہے، "راغب" نے "مفردات" میں زیر بحث آیت میں "قلب" کی علم و فہم سے تفسیر کی ہے، "لسان العرب" میں یہی بیان ہوا ہے، کہ بعض اوقات "قلب" عقل کی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: السان العرب مادۂ قلب)۔ ایک حدیث میں امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے بھی اسی آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ "قلب" سے مراد عقل ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی جلد١ کتاب العقل والجہل حدیث ١١)۔ اصل میں اس لفظ "قلب" کی جڑ بنیاد، بدلنے اور ایک حالت سے دوسری حالت میں آنے کے معنی میں ہے اور اصطلاح کے مطابق قلب و انقلاب ہے، اور چونکہ انسان کی فکر و عقل ہمیشہ دگرگونی کی حالت میں ہے، اس لیے اس کو "قلب" کہا گیا ہے، اور اسی بناء پر قرآنی آیات میں دل کے سکینہ و آرام یا اطمینان قلب پر تکیہ ہوا ہے: هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ: "وہ ہی ہے کہ جس نے مؤمنین کے دل میں سکینہ و آرام نازل کیا، (فتح۔٤) أَلاَ بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (رعد۔ ٢٧) ہاں!س بےقرار موجود کو صرف یادِ خدا سے قرار و سکون حاصل ہوتا ہے۔ " أَلْقَى السَّمْعَ" (کان کو ڈالے) کان دھرنے، اور انتہائی اہنماک اور توجہ سے سننے سے کنایہ ہے، اس تعبیر کے مشابہ جو ہم فارسی میں بولتے ہیں، "گوش مانزد تو است" (ہمارا کان تمہارے پاس ہے) یعنی ہم تیری باتوں کو اچھی طرح سے سُن رہے ہیں۔ "شہید" یہاں اس شخص کے معنی میں ہے جو حضور قلب رکھتا ہو، اور اصطلاح کے مطابق، اس کا دل مجلس میں ہے اور وہ وقت کے ساتھ مطالب کو سمجھتا ہے۔ اور اسی طرح سے آیت مجموعی طور پر اس طرح معنی دیتی ہے۔ دو گروہ ان مواعظ سے پند و نصیحت حاصل کر سکتے ہیں۔ پہلا گروہ وہ ہے جو عقل و ہوش رکھتا ہے، اور خود مستقل طور پر مسائل کا تحلیل و تجزیہ کر سکتا ہے، دوسرا گروہ وہ ہے جو اس حد میں تو نہیں ہیں، لیکن وہ عُلماء اور دانشمندوں کے لیے اچھے سامعین بن سکتے ہیں، اور حضور قلب کے ساتھ ان باتوں کو سنتے ہیں، اور حقائق کو ان کے ارشاد و رہنمائی کے طریق سے معلوم کرتے ہیں۔ اس گفتگو کی شبیہ سورہ ملک کی آیہ ١٠ میں بھی آئی ہے جس میں دوزخیوں کے قول کو اس طرح نقل کرتا ہے: لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ" اگر ہم سننے والے کان یا کافی عقل و ادراک رکھتے ہوتے تو ہرگز دوزخیوں کی صف میں قرار نہ پاتے کیونکہ وہ راہ حق کی نشانیاں واضح و آشکارہیں، لہٰذا وہ لوگ جو خود اہل تحقیق اس کو اچھی طرح حاصل کر لیتے ہیں اور جو اس قسم کے نہیں ہیں، وہ عادل اور ہمدرد عُلماء کی رہنمائی کے ذریعے اپنے راہ معلوم کر سکتے ہیں، اسی بناء پر ضروری ہے کہ یا تو انسان کے پاس کافی مقدار میں علم و عقل ہو، یا سننے والے کان رکھتا ہو۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھیں کہ دونوں آیات میں یہ دو مطالب "او" کے لفظ کے ساتھ ایک دوسرے پر عطف ہوے ہیں۔ یہ عطف نشاندہی کرتا ہے کہ کم از کم ان دونوں میں سے ایک ضروری ہے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 40 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8گزشتہ آیات کو بیان کرنے اور مختلف دلائل کے بعد جو قیامت کے بارے میں ان میں ہوئی ہیں، ان آیات میں امکان معاد کے دلائل میں سے ایک دلیل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کے بعد پیغمبرؐ کو صبر و شکیبائی اور پروردگار کی تسبیح و حمد کا حکم دیتا ہے، تاکہ مخالفین کی کارشکنیوں کو اس طریقہ سے انہیں برداشت کرتے ہوئے بےکار کر دے۔ پہلے فرماتا ہے: ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، ان کو چھ دن (چھ دوروں) میں پیدا کیا ہے، اور ان کے پیدا کرنے میں ہمیں کسی قسم کی تھکان اور کمزوری نہیں ہوئی (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُغُوبٍ)۔ "لغوب" تعب اور خستگی کے معنی میں ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جس کی قدرت محدُود ہو اگر وہ کسِی ایسے کام کو انجام دینا چاہے، جو اس کی توانائی سے زیادہ ہو تو وہ تھک کر چُور ہو جائے گا، لیکن اس ہستی کے بارے میں جس کی قدرت غیر محدُود اور اس کی توانائی غیر متناہی ہو یہ امور کوئی مفہوم نہیں رکھتے، اس بنا پر وہ ذات جو قادر ہے کہ کسی قسم کے تعب و رنج کے بغیر ان باعظمت آسمانوں اور زمین کو اور ان سب ستاروں، سیاروں کرّوں اور کہکشاؤں کو ایجاد کرے، وہ اس بات کی بھی قدرت رکھتا ہے، کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے، اور زندگی کا لباس اس کے بدن پر پہنا دے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک شان نزُول نقل کی ہے کہ: یہودی یہ خیال کرتے تھے،کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن (ہفتہ کے چھ دن) میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد ہفتہ کے دن اس نے آرام کیا، اور اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا، اور اسی بناء پر وہ اس طرح سے بیٹھنے کو غیر مطلوب شمار کرتے ہیں، اور اُسے خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں، تو اوپر والی آیت نازل ہوئی (بحوالہ: تفسیر "درالمنثور" جلد ٦، صفحہ ١١٠) اور اس قسم کی ہنسانے والی خرافات کو ختم کر دیا۔ لیکن یہ شانِ نزول اس بات سے مانع نہیں ہے، کہ آیت امکان معاد کے مسئلہ کا تعاقب کرے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پروردگار کی توحید علم اور قدرت پر بھی ایک دلیل ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو ان تمام عجائبات اور غرائب کے ساتھ اور لاکھوں کروڑوں زندہ موجودات، اور عجیب و غریب اسرار اور اس کے مخصوص نظاموں کو پیدا کیا ہے،کہ جن کے ایک ہی گوشہ میں غور و فکر کرنا، اس توانا پیدا کرنے والے کی طرف جس کے دست قدرت نے اس عظیم گردش کرنے والے کو حرکت دی ہے، اور ہر جگہ نور حیات و زندگی کو پھیلایا ہے، ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی چھ دن میں خلقت کا موضوع بارہا آیات قرآنی میں آیا ہے۔ (بحوالہ: مثلاً سورۂ اعراف، ٥٤، سورہ یونس ٣، سورہ ہود٧، سورہ سجدہ ٤، سورہ حدید ٤، سورہ فرقان ٥٩)۔ کلمہ "یوم" جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، عربی زبان میں اس کا متبادل روز فارسی زبان میں، یا باقی زبانوں میں بہت سے مواقع پر دوران کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ چوبیس گھنٹوں کے معنی میں یا بارہ گھنٹوں کے معنی میں، مثلاً ہم کہتے ہیں: ایک دن لوگ پیغمبر اسلامؐ کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے، اور دوسرے دن بنی اُمیّہ اور بنی عباس کے جبار بادشاہ ان پر مُسلط ہو گئے۔ واضح رہے کہ "روز" ان تعبیروں میں "دور" کے معنی میں ہے، چاہے وہ ایک سال ہو یا سو سال، یا ہزاروں لاکھوں سال مثلاً ہم کہتے ہیں ایک دن کُرّہ زمین آگ کا ایک ٹکڑا تھا، دوسرے دن وہ سرد ہوئی، اور زندگی کے لیے آمادہ، تو یہ تمام تعبیریں ادوار کی طرف اشارہ ہیں۔ اس بناء پر اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آسمانوں اور ان دونوں کی تمام موجودات کو چھ ادوار میں پیدا کیا۔ اس گفتگو کی تفصیل و تشریح ہم جلد ٤ص ١٢٩ سورہ اعراف کی آیہ ٥٤ کے ذیل میں کر چکے ہیں۔ اس بناء پر اس سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ سُورج اور کُرّہ زمین کی خلقت سے پہلے تو شب و روز تھے ہی نہیں تاکہ خدا نے عالم کو چھ دن میں پیدا کیا ہو۔ معاد کے مختلف دلائل اور قیامت کے مختلف مناظر کی تصویر کشی کرنے کے بعد، چونکہ ایک گروہ حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اور باطل پر اڑے ہوئے ہٹ دھرمی کرتا رہتا ہے لہٰذا پیغمبرؐ کو مخاطب کرتے ہُوئے ارشاد ہوا ہے: "جو کچھ وہ کہتے ہیں۔ اس پر صبر کرو اور شکیبائی سے کام لو" (فَاصْبِرْعَلَى مَا يَقُولُونَ)۔ کیونکہ صرف صبر و شکیبائی کی قوّت سے ہی ان مشکلات پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور دشمن کی سازشوں کو درہم و برہم کیا جا سکتا ہے، اور حق کی راہ میں ان کی ناروا نسبتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ صبر و استقامت مدد و نصرت کی محتاج ہے، اور بہترین مدد و نصرت، خدا کی یاد اور جہاں کو پیدا کرنے والے کے علم و قدرت کے مبدا سے ارتباط پیدا کرتا ہے، اس حکم کے بعد مزید کہتا ہے: "اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح و حمد بجا لا" (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ)۔ اسی طرح "رات کے ایک حصّہ میں اس کی تسبیح کر اور سجدوں کے بعد بھی" (وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ)۔ یہ دوادمی یا اور مسلسل تسبیح، بارش کے حیات بخش قطروں کی طرح تیرے دل و جان کی سرزمین پڑ پڑنی چاہیے یہ اُسے سیراب کرتی ہے، تجھے ہمیشہ نشاط و حیات بخشتی ہے اور ہٹ دھرم دشمنوں کے مقابلہ میں استقامت کی دعوت دیتی ہے۔ اس بارے میں کہ خدا کی ان چار مواقع پر(طلوع آفتاب سے پہلے، اس کے غروب سے پہلے، رات کے وقت اور سجدوں کے بعد) تسبیح کرنے سے کیا مراد ہے؟ مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہے۔ بعض کا نظریہ تو یہ ہے کہ یہ تعبیریں روزانہ کی پنچگانہ نمازوں کی طرف اشارہ ہے اور بعض کے نزدیک پُر فضیلت نوافل کی طرف اشارہ ہے اس طرح سے کہ قبل طلوع الشمس نماز صبح کی طرف اشار ہے،کیونکہ اس کا آخری وقت طلوعِ آفتاب ہے۔ اور قَبْلَ الْغُرُوب (غروب آفتاب سے پہلے) نماز ظہر و عصر کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان دونوں کا آخری وقت غروبِ آفتاب ہے۔ "ومِنَ اللّیل" (رات میں سے) نماز مغرب و عشاء کو بیان کرتا ہے "أَدْبَارَ السُّجُود" (سجدوں کے بعد) مغرب کے نوافل کی طرف اشارہ ہے، جو مغرب کے بعد بجا لائے جاتے ہیں۔ "ابن عباس" نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے، اس قید کے ساتھ کہ "أَدْبَارَ السُّجُود" کو تمام نوافل نمازوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے، جو فرائض کے بعد انجام دیئے جاتے ہیں، لیکن چونکہ روزانہ کی نوافل میں ہمارے نظریہ کے مطابق صرف مغرب و عشاء کے نوافل ہیں جو ان نمازوں کے بعد انجام پاتے ہیں، لہٰذا یہ تعمیم صحیح نہیں ہے۔ بعض دوسروں نے قبل طلوع الشمس کو نماز صبح کی طرف اور "قَبلَ الغروب" کو نمازِ عصر کی طرف اور اور مِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ کو مغرب و عشاء کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور اس طرح سے بغیر کسی واضح وجہ کے نمازِ ظہر کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ اور یہ چیز اس تفسیر سے ضعف کی دلیل ہے۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب آپ علیہ السلام سے آیہ "وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ" کے بارے میں لوگوں نے سوال کیا، تو آپؑ نے فرمایا: تقول حين تصبح وحين تمسي عشر مرات لَا إله إلاّ الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، يحيى ويميت، وهوعلى كل شىء قدير: "ہر صبح و شام دس مرتبہ یہ ذکر کہے لا إلهٰ إلاّ اللہ...(بحوالہ: "مجمع البیان" زیر بحث آیت کے ذیل میں)۔ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی، اور ممکن ہے کہ یہ دونوں ہی آیت کے معنی میں جمع ہوں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس معنی کی نظیر تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورئہ طٰہٰ کی آیت ١٣٠ میں بھی آئی ہے، جہاں فرماتا ہے: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى۔ "طلوع آفتاب سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے، اور اسی طرح رات کے دوران میں، اور ان کے اطراف میں پروردگار کی تسبیح کر، تاکہ تو راضی و خوش ہو جائے۔" لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ کا جُملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے، کہ یہ عبادات اور تسبیحات فکر و نظر کے سکون اور دل کی مسرت میں اہم اثر رکھتی ہیں اور اس کو سخت قسم کے حوادثات کے مقابلہ میں قوت و توانائی بخشتی ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ سورہ طور کی آیہ ٤٩ میں اس طرح آیا ہے وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ "رات کے کچھ حصّہ میں خدا کی تسبیح کر اور ستاروں کے پشت پھیرنے کے وقت۔ (تشریحی نوٹ: "توجہ کرنا چاہیے کہ یہاں "ادبار" (بروزن اقبال) پشت کرنے کے معنی میں ہے، اور زیر بحث آیات میں "ادبار" بروزن (ابزار) "دبر" کی جمع ہے جو پشت کے معنی میں ہے، اس بناء پر"أَدْبَارَ السُّجُود" کا معنی سجدوں کے بعد ہے اور "ادبار النّجوم" کا معنی ستاروں کا پشت پھرینے کا وقت ہے)۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: "أَدْبارَ السُّجُودِ" وہ دو رکعت نافلہ ہے جو تم مغرب کے بعد پڑھتے ہو (توجہ رہے کہ مغرب کہ نافلہ چار رکعت ہیں، جن میں سے یہاں دو رکعت کی طرف اشارہ ہوا ہے) اور "إِدْبَارَ النُّجُومِ" دو رکعت نافلہ صبح ہیں، جو نماز صبح سے پہلے اور ستاروں کے غروب ہونے کے وقت بجا لاتے ہیں۔ (بحوالہ: مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں)۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ "أَدْبارَ السُّجُودِ" سے وہی نماز وتر ہے جو آخرِ شب میں انجام دی جاتی ہے۔ ( بحوالہ: گزشتہ مدرک)۔ بہرحال، پہلی تفسیر سب سے مناسب نظر آتی ہے، اگرچہ مفہوم تسبیح کی وسعت اور کشادگی میں بہت سی دوسری تفسیریں جن کی طرف روایات میں اشارہ ہوا ہے، شامل ہو جاتی ہیں۔
نکتہ صبر و شکیبائی ہر کامیابی کا راز ہے:
یہ پہلا موقع نہیں ہے، جہاں قرآن مجید مشکلات اور ہٹ دھرم اور دشمن افراد کے مقابلہ میں صبر و شکیبائی کی تلقین کرتا ہے قرآن مجید عظیم پیغمبر اسلامؐ کو بھی اور عام مومنین کو بھی بار بار یہ اہم مسئلہ دل نشین کراتا ہے، اور بکثرت تجربات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غلبہ و کامیابی اُنہی افراد کے لیے ہے، جو صبر و استقامت کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے دوستوں میں سے ایک سے (جو شاید اس زمانہ کے سخت حالات میں بےتاب ہو جاتا تھا) فرمایا: عليك بالصّبر فِى جميعِ أمورك: "تجھ پر لازم ہے کہ تمام کاموں میں صبر و شکیبائی رکھے۔" اس کے بعد مزید فرمایا کہ خداوند تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان کو صبر و تحمل اور مدارات کا حکم دیا، اور انہوں نے صبر کیا یہاں تک کہ لوگوں نے ان کی طرف بہت سی ناروا نسبتیں بھی دیں، اور جب آپ کا سینہ تنگ ہو گیا تو خدا نے ان پر یہ آیت نازل کی: وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ: "ہم جانتے ہیں کہ تو ان کی باتوں سے بےچین ہو جاتا ہے، اور تیرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے، پس تو اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بجا لا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا۔" (حجر۔٩٧۔ ٩٨)۔ پھر بھی انہوں نے آپ کی تکذیب ہی کی اور ہر طرف سے تہمت کے تیر آپ کی طرف پھینکے، اور اس بناء پر آپ محزُون و مغموم ہُوئے، خدا نے ان کی دل داری اور تسلّی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔: قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللهيَ جْحَدُون وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا: "ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تجھے اندو ہگین کرتی ہیں۔ لیکن یہ لوگ (صرف) تیری تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ستمگر آیات خدا کی تکذیب کرتے ہیں، انہوں نے تجھ سے پہلے بھی خدا کے رسُولوں کے تکذیب کی تھی، اور انہوں نے تکذیبوں اور آزادوں کے مقابلہ میں صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری نصرت ان کی مدد کے لیے آن پہنچی۔ (انعام ۔ ٣٣۔٣٤)۔ اس کے بعد امام علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: پیغمبرؐ نے اپنے آپ کو صبر و شکیبائی کے لیے آمادہ و تیار کر لیا، لیکن اس موقع پر ان لوگوں نے معاملہ کو حد سے زیادہ کر دیا، اور انہوں نے خدا کا نام لے کر اس کی ساحت قدس کی نسبت تکذیب کی، تو پیغمبرؐنے فرمایا میں نے اپنے لیے اور اپنے گھر والوں اور اپنی حیثیت کے لیے ناملائم باتوں پر تو صبر کر لیا، لیکن میں اپنے پروردگار کو بُرا بھلا کہنے پر صبر نہیں کر سکتا، اس موقع پر خداوند عزّوجَلّ نے اس زیر بحث آیت کو نازل فرمایا: وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا... "ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچُھ ان کے درمیان ہے۔ چھ دوروں میں پیدا کیا ہے (اور عالم کی خلقت میں ہم نے جلدی اور عجلت سے کام نہیں لیا، اور ہمیں کوئی دُکھ اور رنج نہیں پہنچا، اس بناء پر تم بھی عجلت نہ کرو اور ان کی باتوں کے سامنے صبر کرو، یہ وہ مقام تھا کہ پیغمبرؐ نے صبر شکیبائی کو تمام حالات میں پیش نظر رکھّا، (یہاں تک کہ دشمنوں پر کامیاب ہُوئے)۔ (بحوالہ: "اصول کافی" بمطابق، نور الثقلین، جلد٥، صفحہ ١١٧)۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 8تفسیر آیت 45 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر قیامت کے صیحہ (چیخ) کے ساتھ ہی سب زندہ ہو جائیں گے
Tafsīr Nemūna · Vol. 8یہ آیات جو سُورہ "ق" کی آخری آیات ہیں اس سُورہ کی باقی آیات کی طرح مسئلہ معاد و قیامت کو ہی بیان کرتی ہیں، اور پھر اس کے ایک اور گوشہ کو پیش کرتی ہیں، اور وہ مسئلہ "نفخ صور" اور مردوں کے قبروں سے اٹھنے کا ہے۔ فرماتا ہے: "کان دھر کے سُن اور اس دن کا منتظر رہ جس دن ایک ندا کرنے والا نزدیک کے مکان سے ندا کرے گا" (وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ)۔ "وہ دن جس میں قیامت کے صیحہ (چیخ) کو حق کے ساتھ سنیں گے، وہ دن خروج کا دن ہے" (يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ)۔ "إستمع" (کان دھر کے سُن) میں مخاطب اگرچہ پیغمبرؐ کی ذات ہے، لیکن مسلمہ طور پر اس سے مراد تمام انسان ہیں۔ "کان دھرنے سے مراد، یا تو انتظار کرنا ہے،کیونکہ جو لوگ کسی حادثہ کا انتظار کرتے ہیں، جو ایک وحشتناک حادثہ سے شروع ہو گا وہ ہمیشہ کان کھڑے رکھتے ہیں، اور منتظر رہتے ہیں، یا خدا کی اس گفتگو پر کان دھرنا مراد ہے، اور معنی اس طرح ہو گا: "اس گفتگو کو سُن جو تیرا پروردگار قیامت کے صیحہ (چیخ) کے بارے میں کر رہا ہے۔ (تشریحی نوٹ: پہلی تفسیر کے مطابق "یوم"، "إستمع" کا مفعول ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق"استمع" کا مفعول محذوف ہے، اور تقدیر میں: "استمع حدیث ربّک" ہو گا۔ باقی رہا "یوم" کا منصوب ہونا اس صُورت میں اس فعل کی وجہ سے ہے جو يَوْمُ الْخُرُوجِ سے سمجھا جاتا ہے، اور معنی کے اعتبار سے اس طرح ہے۔ "يخرجون يوم يناد المناد")۔ لیکن یہ ندا دینے والا کون ہو گا؟ ممکن ہے کہ خدا کی ذات پاک ہو جو یہ ندا دے گی، لیکن زیادہ قوی احتمال ہی کے وہ اسرافیل ہو گا، جو صور پھونکے گا، اور قرآن کی آیات میں نام کے ساتھ تو نہیں، لیکن دوسری تعبیروں کے ساتھ اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ " مَكانٍ قَرِيبٍ" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ یہ صدا اس طرح فضا میں پھیل جائے گی، کہ گویا ہر ایک کے کان کی جڑ میں ہے اور سب کے سب اس کو قریب سے سنیں گے، موجودہ زمانہ میں ہم مختلف وسائل سے کہنے والوں کی باتوں کو جو دُنیا کے کہیں دُور دراز مقام پر کر رہا ہوتا ہے، قریب سے سُن سکتے ہیں، گویا وہ بالکل ہمارے قریب ہی بیٹھا ہوا ہے اور ہم سے بات کر رہا ہے، لیکن اس دن سب لوگ ان وسائل کی احتیاج کے بغیر، منادی حق کی آواز کو، قیامت کی صدا بلند کر رہا ہو گا اپنے قریب سے سنیں گے۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین کی ایک جماعت نے یہ احتمال دیا ہے کہ " مَكانٍ قَرِيبٍ" صخرہ بیت المقدس" ہے (وہی مخصوص پتھر جو بیت المقدس میں ہے، جس سے آسمان کی طرف پیغمبر کا معراج شروع ہوا تھا) منادی اس کے پاس کھڑا ہو جائے گا اور پکارے گا: (أَيَّتُهَا العِظَام البَالِيَه! وَالأوصال المنقطعة، وَاللّحوم المتمزقة، قومى لِفَصلِ القضاء، وَمَا أعد الله لَكُم مِنَ الجزاء!:۔ اے بوسیدہ ہڈیو! "اور اے کٹی ہوئی رگو! اور اے بکھرے ہوئے گوشت، فیصلہ اور جزاء کے لیے جو تمہارے لیے مقرر ہو چکی ہوئی ہے، اُٹھ کھڑے ہو، لیکن اس احتمال پر کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے)۔ بہرحال، یہ صیحہ، وہ پہلا صیحہ نہیں ہے جو اس جہاں کے ختم کرنے کے لیے ہو گا، بلکہ یہ دوسرا صیحہ ہے، یعنی وہی قیام و حشر کا صیحہ، اور حقیقت میں دوسری آیت پہلی آیت کی توضیح و تفسیر ہے: کہتا ہے: وہ دن جس میں صیحہ کو حق کے ساتھ سنیں گے، قبروں سے نکلنے اور زمین کی مٹی سے باہر آنے کا دن ہے۔ اور اس غرض سے کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اس عظیم داد گاہ اور عدالت میں حاکم کون ہے؟ مزید کہتا ہے: ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارنے ہیں، اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹ کر آئیں گے" (إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ)۔ احیاء سے مراد وہی دُنیا میں پہلی مرتبہ زندہ کرنا ہے، اور مارنے سے مراد عمر کے آخر میں مرنا ہے، اور "إِلَيْنَا الْمَصِيرُ" کا جُملہ قیامت میں زندہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ درحقیقت، آیت اس نکتہ کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جس طرح پہلی موت و حیات ہمارے ہاتھ میں ہے، اسی طرح پھر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹانا، اور قیام قیامت بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے، اور ہماری ہی طرف ہے۔ اس کے بعد مزید وضاحت کے لیے فرماتا ہے،: "ان کی بازگشت ہماری طرف اس دن ہو گی جب زمین ان کے اُوپر سے شگافتہ ہو جائے گی اور وہ زندہ ہو جائیں گے اور سرعت کے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے" (يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا)۔ (تشریحی نوٹ: "سراع" جمع ہے "سریع" کی، جیسا کہ " کرام" جمع ہے " کریم" کی اور یہاں حال ہے، بخر جون کے فاعل کا جو محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا "یخرجون سراعاً" بعض سراع کو مصدر سمجھتے ہیں جو حال کی جگہ واقع ہوا ہے)۔ آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے: قیامت میں لوگوں کا یہ حشر اور جمع کرنا ہمارے لیے سہل اور آسان ہے" (ذَلِكَ حَشْرٌعَلَيْنَا يَسِيرٌ)۔ "حشر" جمع کرنے اور ہر طرف سے اکھٹا کرنے کے معنی میں ہے۔ یہ واضح ہے کہ وہ خدا جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، پیدا کرنے والا ہے، اس کے لیے مردوں کا حشر و نشر تو ایک سادہ اور آسان کام ہے، اصولی طور پر مشکل و آسان تو اس کے لیے ہوتا ہے، جس کی قدرت محدُود ہو، وہ ذات جس کی قدرت غیر محدُود ہے، تمام چیزیں اس کے لیے یکساں اور آسان ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات میں یہ آیا ہے: پہلا شخص جو زندہ ہو گا، اور قبر سے باہر نکل کر میدانِ محشر میں وارد ہو گا وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں گے اور علی علیہ السلام ان کے ہمراہ ہوں گے۔ (بحوالہ: " کتاب خصال" مطابق نقل نور الثقلین، جلد٥، صفحہ١١٩)۔ آخری زیر بحث آیت میں جو اس سُورہ کی بھی آ خری آیت ہے، باری تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ان کے سخت اور ہٹ دھرم مخالفین کے مقابل میں ایک بار پھر تسلی اور دلداری دے رہا ہے اور فرماتا ہے: "جو کچھ وہ کہتے ہیں، ہم اس سے بخوبی آگاہ ہیں" (نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ)۔ "اور تم انہیں ایمان کے لیے مجبور کرنے پر مامور نہیں ہوئے ہو، جو تم قہر اور جبر کے ساتھ انہیں اسلام کی طرف کھینچو" (وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ)۔ تمہاری ذمہ داری تو صرف ابلاغِ رسالت، حق کی طرف دعوت اور بشارت و انذار ہے "جب ایسا ہے تو ان لوگوں کو جو میرے عذاب و عقاب سے ڈرتے ہیں، قرآن کے ذریعہ میری یاد دلاؤ اور پند و نصیحت کرو" (فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ)۔ (تشریحی نوٹ: توجہ رکھیں کہ "وعید" اصل میں "وعیدی" تھا "یاء" حذف ہو گئی ہے، اور کسرہ جو اس پر دلیل ہے باقی رہ گیا ہے. اور وہ "یخاف" کا مفعول ہے)۔ تفسیر قرطبی میں آیا ہے کہ "ابنِ عباس" کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کیا، اے رسُول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں انذارِ کیجئے اور ڈرایئے تو اوپر والی آیت نازل ہوئی۔ اور کہا: فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ۔ (بحوالہ: "قرطبی" جلد٩، صفحہ ٦١٩٨)۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مومن افراد کو خوف دلانے اور بیدار کرنے کے لیے کافی ہے، اس کا ہر صفحہ قیامت کی یاد دھانی کراتا ہے، اور اس کی مختلف آیات، گزشتہ لوگوں کی سرنوشت کو واضح کرتی ہے اور بہشت کی نعمتوں، دوزخ کے عذابوں کا بیان اور ان حوادث کی توصیفیں، جو قیامت کے قریب اور داد گاہ عدلِ الہٰی میں واقع ہوں گے، سب کے سب بہترین پند و نصیحت کی صُورت موجود ہیں۔ واقعاً اس منظر کی یاد آوری، کہ زمینیں پھٹ جائیں گی، اور مٹی میں جان پڑ جائے گی۔ مُردے لباس حیات پہن لیں گے اور حرکت میں آ جائیں گے۔ قبروں سے باہر نکل کھڑے ہوں گے، درحالیکہ وحشت و اضطراب سب کو سرتاپا گھیرے ہُوئے ہو گا اور انہیں درگاہ عدل الہٰی کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، یہ ایک لرزہ خیز منظر ہو گا۔ خصوصاً جبکہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ مختلف انسانوں کی قبریں ایک قبر بن چکی ہو گی، اور بہت سے افراد کو اس نے اپنے اندر جگہ دے رکھی ہو گی، جن میں سے بعض صالح اور بعض غیر صالح ہوں گے، اور بعض مومن اور بعض کافر ہوں گے، اور بقولِ شاعر: ربّ قبر قد صار قبرا مراراً ضاحك من تزاحم الاضداد! ودفين على بقايا دفين فى طويل الآجال والاماد! کتنی بہت سی قبریں ایسی ہیں جو بارہا قبریں بنی ہیں ایسی قبریں جو تزاحم اضداد سے ہنستی ہیں۔ اور کتنے بہت سے ایسے افراد ہیں جو دوسرے انسانوں کے بقیہ حِصّوں میں دفن ہوئے ہیں، طول زمان اور قرون و اعصار میں۔ پروردگارا! ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے جو تیری "وعید" سے ڈرتے ہیں، اور تیرے قرآن سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ خداوندا! اس دن جب وحشت و اضطراب نے سب کو گھیرا ہوا ہو گا، ہمیں اپنی رحمت سے سُکون عنایت فرما۔ بارالہٰا! زندگی کے دن تو جتنے بھی ہوں بڑی تیزی سے گزر جائیں گے، لیکن جو ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، وہ تیرا آخرت کا گھر ہے، ہمیں حسن عاقبت اور آخرت میں نجات مرحمت فرما۔ آمین یا ربّ العالمین