Al-Fil
سُورہ ٴ فیل
یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵ آیات ہیں۔
سُورہٴ فیل کے مطالب اور اس کی فضیلت
یہ سُورہ ___ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے ایک مشہور تاریخی داستان کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے سال واقع ہوئی تھی اور خدا نے خانہ "کعبہ" کو کفار کے اس عظیم لشکر کے شر سے محفوظ رکھا تھا، جو سر زمین یمن سے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔ یہ سُورہ اس عجیب داستان کی یاد دلاتا ہے جو مکّہ کے بہت سے لوگوں کو یاد تھی، کیونکہ وہ ماضی قریب میں واقع ہوئی تھی۔ اِس داستان کی یاد آوری مغرور اور ہٹ دھرم کفّار کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ وہ خدا جس نے ہاتھیوں کے اس عظیم لشکر کو ان چھوٹے چھوٹے پرندوں، اور ان نیم بند کنکریوں (حِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ) سے ریزہ ریزہ کر دیا۔ وہ ان ہَٹ دھرم متکبرین کو سزا دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ نہ تو ان کی قدرت ہی "ابرھہ" کی قدرت سے زیادہ تھی اور نہ ہی ان کے لشکر کو اور افراد کی تعداد کبھی اس حد تک پہنچی تھی۔ یعنی تم لوگ جنہوں نے اس واقعہ کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے، غرور و تکبر کی سواری سے نیچے کیوں نہیں اترے؟! اِس سُورہ کی تلاوت کی فضیلت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے: "جو شخص سُورہ فیل کو نماز واجب میں پڑھے گا قیامت میں ہر پہاڑ اور ہموار زمین اور ہر ڈھیلہ اس کی گواہی دے گا وہ نماز گزاروں میں سے ہے اور ایک منادی ندا دے گا کہ تم نے میرے بندے کے بارے میں سچ کہا ہے۔ مَیں تمہاری گواہی کو اس کے نفع یا نقصان میں قبول کرتا ہوں میرے بندے کو حساب کے بغیر جنّت میں داخل کر دو، کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جسے میں دوست رکھتا ہوں اور اس کے عمل کو بھی دوست رکھتا ہوں۔ (بحوالہ: "مجمع البیان" جلد۱۰، ص ۵۳۹)۔ یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ یہ سب فضیلت و ثواب اور عظیم جزا اس شخص کے لیے ہے جو ان آیات کو پڑھ کے غرور و تکبر کی سواری سے نیچے اُتر آئے اور رضائے الٰہی کی راہ میں قدم رکھ دے۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
تفسیر
Tafsīr Nemūna · Vol. 15تفسیر آیت 5 کے تحت ملاحظہ کریں۔
شانِ نزول
Tafsīr Nemūna · Vol. 15ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے آیا ہے کہ: "ابو طالبؑ ہمیشہ اپنی تلوار کے ذریعے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرماتے ہیں: (ایک دن) ابو طالبؑ نے کہا: اے بھتیجے! کیا آپ سب لوگوں کے لیے مبعوث ہوئے ہیں یا صرف اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ہیں"؟ پیغمبرؐ نے فرمایا: "نہیں! میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں، وہ گورا ہو یا کالا، عربی ہو، یا عجمی۔ اسی ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمام انسانوں کو چاہے وہ گورے ہوں یا کالے اس دین کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اور ان تمام لوگوں کو جو پہاڑ کی چوٹی پر بستے ہیں یا دریاؤں میں رہتے ہیں اس دین کی طرف بلاتا ہوں، اور مَیں فارس و روم کی تمام زبانوں کو دعوت دیتا ہوں۔ جب یہ گفتگو قریش کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے تعجب کیا اور کہا، کیا آپ اپنے بھتیجے کی باتوں کو نہیں سنتے کہ وہ کیا کہتا ہے۔ خدا کی قسم اگر فارس و روم کے لوگ یہ بات سن لیں گے تو ہمیں ہماری سر زمین سے باہر نکال کھڑا کریں گے اور خانہ کعبہ کے پتھروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے الگ الگ کر دیں گے۔ اس موقع پر خدا نے آیہ شریفہ وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ: "اُنہوں نے کہا: اگر ہم تیرے ساتھ مل کر ہدایت کو قبول کر لیں تو ہمیں ہماری سر زمین سے باہر نکال دیں گے، کیا ہم نے انہیں امن کے اس حرم میں، جس کی طرف ہر طرح کے پھل لاتے ہیں، جگہ نہیں دی" (قصص۔۵۷) نازل ہوئی۔ اور ان کے اس قول کے بارے میں کہ وہ خانہ کعبہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے سُورہ فیل نازل کی۔ (اور انہیں گوش گزار کیا کہ کوئی شخص بھی اس قسم کے کام کی قدرت نہیں رکھتا)۔ (بحوالہ: "روضة الواعظین" (مطابق نقل "نورالثقلین" جلد ۵، ص۶۶۹، حدیث ۸)۔
اصحابِ فیل کی داستان
مفسّرین اور مؤرخین نے اس داستان کو مختلف صورتوں میں نقل کیا ہے، اور اس کے وقوع کے سال میں بھی اختلاف ہے لیکن اصل داستان ایسی مشہور ہے کہ یہ اخبار متواتر میں شمار ہوتی ہے، اور ہم اسے مشہور روایات کے مطابق "سیرة ابن ھشام" و "بلوغ الارب" و "بحار الانوار" و "مجمع البیان" سے خلاصہ کر کے نقل کرتے ہیں۔ یمن کے بادشاہ "ذونواس" نے نجران کے عیسائیوں کو جو اس سر زمین کے نزدیک بستے تھے، اِس لیے بہت تنگ کر رکھا تھا کہ وہ اپنا دین مسیحیت چھوڑ دیں۔ قرآن اس واقعہ کو سورئہ "بروج" میں اصحاب الاخدود کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ اور ہم نے اسے اسی سُورہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس عظیم جُرم کے بعد "دوس" نامی ایک شخص ان میں سے اپنی جان بچا کر نکل گیا اور وہ قیصر روم کے پاس، جو دینِ مسیحیت پر تھا، جا پہنچا، اور اس کے سامنے یہ سارا ماجرا بیان کیا۔ چونکہ "روم" اور "یمن" کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا لہٰذا اس نے حبشہ کے بادشاہ "نجاشی" کو خط لکھا کہ وہ "ذونواس" سے نصارائے نجران کا انتقام لے، اور اس خط کو اسی شخص کے ہاتھ "نجاشی" کے پاس روانہ کیا۔ "نجاشی" نے ایک بہت بڑا لشکر جو ستر ہزار افراد سے زیادہ پر مشتمل تھا "اریاط" نامی شخص کی کمان میں یمن کی طرف روانہ کیا۔ "ابرھہ" بھی اس لشکر کے افسروں میں سے ایک تھا۔ "ذونواس" کو شکست ہوئی، اور "اریاط " یمن کا حکمران ہو گیا۔ کُچھ مدّت کے بعد "ابرھہ" نے اریاط کے خلاف بغاوت کر دی، اور اس کا خاتمہ کرنے کے بعد اس کی جگہ پر بیٹھ گیا۔ اِس واقعہ کی نجاشی کو خبر پہنچی تو اس نے "ابرھہ" کی سرکوبی کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ابرھہ نے اپنی نجات کے لیے اپنے سر کے بال منڈوا کر یمن کی کچھ مٹی کے ساتھ مکمل تسلیم کے طور پر نجاشی کے پاس بھیج دیے، اور وفاداری کا اعلان کیا۔ نجاشی نے جب یہ دیکھا تو ابرھہ کو معاف کر دیا، اور اُسے اس کے منصب پر برقرار رکھا۔ اس موقع پر "ابرھہ" نے اپنے حُسنِ خدمت کو ثابت کرنے کے لیے ایک اہم اور بہت ہی خوبصورت گرجا گھر تعمیر کرایا، جس کی اس زمانہ میں کُرّہٴ زمین پر کوئی مثل و نظیر نہ تھی۔ اور اس کے بعد جزیرہ عرب کے لوگوں کو خانہ کعبہ کی بجائے اس گرجے کی طرف دعوت دینے کا مصمم ارادہ کر لیا، اور یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ اس جگہ کو عرب کے حج کا مرکز بنا کے مکہ کی اہم مرکزیت کو وہاں منتقل کر دے۔ اِس مقصد کے لیے اس نے ہر طرف عرب کے قبائل اور سرزمین ِ حجاز میں بہت سے مبلّغ بھیجے۔ عربوں نے، جو مکّہ اور کعبہ کے ساتھ شدید لگاؤ رکھتے تھے اور اسے ابراہیم خلیل کے آثار میں سے جانتے تھے، اس سے خطرہ محسوس کیا۔ بعض روایات کے مطابق ایک گروہ نے وہاں جا کر مخفی طور پر اس گرجے کو آگ لگا دی، اور دوسری روایت کے مطابق بعض نے اُسے مخفی طور پر گندہ اور ملّوث کر دیا۔ اور اس طرح سے انہوں نے اس عظیم دعوت کے مقابلہ میں شدید ردِّعمل کا مظاہرہ کیا، اور "ابرھہ" کے عبادت خانے کو بےاعتبار اور حقیر بنا دیا۔ ظاہر ہے اس پر "ابرھہ" کو بہت غصہ آیا اور اس نے خانہ کعبہ کو کلی طور ویران کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ اس کا خیال تھا اس طرح وہ انتقام بھی لے لے گا اور عربوں کو نئے معبد کی طرف متوجہ بھی کر دے گا۔ چنانچہ وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ، جن میں سے کچھ لوگ ہاتھیوں پر سوار تھے، مکہّ کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ مکّہ کے قریب پہنچا تو اس نے کچھ لوگوں کو مکّہ والوں کو اُونٹ اور دوسرے اموال لوٹنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے دو سو اُونٹ "عبدالمطلبؑ" کے بھی لُوٹ لیے گئے۔ "ابرھہ" نے کسی آدمی کو مکّہ کے اندر بھیجا اور اس سے کہا کہ رئیسِ مکہ کو تلاش کر کے اس سے کہنا کہ "ابرھہ" یمن کا بادشاہ کہتا ہے کہ: میں جنگ کرنے کے لیے نہیں آیا، مَیں تو صرف اس لیے آیا ہوں کہ اس خانہ کعبہ کو ویران کر دوں اگر تم جنگ نہ کرو تو مجھے تمہارا خون بہانے کی ضرورت نہیں ہے۔ "ابرھہ" کا قاصد مکّہ میں داخل ہوا اور رئیس و شریف مکہ کے بارے میں دریافت کیا۔ سب نے "عبد المطلبؑ" کی طرف راہنمائی کی۔ اس نے "عبد المطلبؑ" کے سامنے ماجرا بیان کیا۔ "عبد المطلبؑ" نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم میں تم سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے، رہا خانہ کعبہ تو خدا خود اس کی حفاظت کرے گا۔ "ابرھہ" کے قاصد نے عبد المطلبؑ سے کہا کہ تمہیں میرے ساتھ اس کے پاس چلنا پڑے گا۔ جب عبد المطلبؑ اس کے دربار میں داخل ہوئے تو وہ آپ کے بلند قد حسین چہرے اور حد سے زیادہ رُعب اور دبدبہ کو دیکھ کر سخت متاثر ہوا، یہاں تک کہ "ابرھہ" ان کے احترام میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور زمین پر بیٹھ گیا اور "عبد المطلبؑ" کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ اس کے بعد اس نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ ان کی کیا حاجت ہے؟ آپ نے مترجم سے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ میرے دو سو اُونٹ تیرے لشکری لُوٹ کر لے گئے ہیں، تو انہیں حکم دیں کہ وہ میرا مال واپس کر دیں۔ "ابرھہ" کو ان کے اس مطالبہ پر سخت تعجب ہوا اور اس نے اپنے مترجم سے کہا: ان سے کہو: جب میں نے تمہیں دیکھا، تو میرے دل میں تمہاری بہت زیادہ عظمت پیدا ہوئی تھی، لیکن تم نے یہ کہی تو میری نظر میں تمہاری توقیر گھٹ گئی۔ تم اپنے دو سو اُونٹوں کے بارے میں تو بات کرتے ہو لیکن "کعبہ" کے بارے میں جو تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا دین ہے، اور مَیں اُسے ویران کرنے کے لیے آیا ہوں، بالکل کوئی بات نہیں کرتے۔ "عبد المطلبؑ" نے کہا: "انا رب الابل، و ان للبیت ربا سیمنعہ"! "مَیں اُونٹوں کا مالک ہوں، اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔" (اس بات نے ابرھہ کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ سوچ میں پڑ گیا)۔ "عبد المطلب" مکّہ کی طرف آئے، اور لوگوں کو اطلاع دی کہ وہ پہاڑیوں میں پناہ گزیں ہو جائیں اور آپ خود ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آئے تاکہ دعا کریں اور مدد طلب کریں۔ آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے کی زنجیر میں ہاتھ ڈال کر اپنے یہ مشہور اشعار پڑھے: لاھُمّ ان المرء یمنع رحلہ فامنع رحالک لایغلبن صلیبھم و محالھم ابداً محالک جروا جمیع بلادھم و الفیل کی یسبوا عیالک لاھم ان المرء یمنع رحلہ فامنع عیالک وانصر علی اٰل الصلیب و عابدیہ الیوم اٰلک۔ (تشریحی نوٹ: مورخین و مفسّرین نے اُوپر والے اشعار کو مختلف طور پر نقل کیا ہے جو کچھ نقل کیا گیا ہے وہ مختلف نقلوں کا مرکب خلاصہ ہے)۔ "خدایا ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو اپنے گھر کی حفاظت فرما۔" "ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی کی تمام توانائیاں اور ہاتھی ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ تیرے حرم کے ساکنوں قیدی بنا لیں۔" "خدایا ہر شخص اپنے گھر والوں کا دفاع کرتا ہے تو بھی اپنے حرمِ امن کے رہنے والوں کا دفاع کر۔" "اور آج اس حرم کے رہنے والوں کی آلِ صلیب اور اس کی عبادت کرنے والوں کے برخلاف مدد فرما۔" اس کے بعد عبد المطلبؑ اطراف مکہ کے ایک درّہ کی طرف آئے، قریش کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں پناہ لی اور اپنے ایک بیٹے کو حکم دیا کہ وہ کوہ ابوقبیس کے اُوپر جا کر دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ کا بیٹا بڑی تیزی کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور کہا: بابا جان! سمندر (دریائے احمر) کی طرف سے ایک سیاہ بادل آتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ عبد المطلبؑ خوش ہو گئے اور پکار کر کہا: "یا معشر قریش! ادخلوا منازلکم فقد اٰتاکم اللہ بالنصر من عندہ" "اے جمیعت قریش اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاؤ کیونکہ خدا کی نصرت تمہاری مدد کے لیے آ رہی ہے۔ یہ تو اس طرف کی بات تھی۔" دوسری طرف سے ابرھہ اپنے مشہور ہاتھی پر سوار جس کا نام "محمود" تھا اپنے کثیر لشکر کے ساتھ کعبہ کو تباہ کرنے کے لیے اطراف کے پہاڑوں سے مکہ کی طرف اُترا، لیکن وہ اپنے ہاتھی پر جتنا دباؤ ڈالتا تھا وہ آگے نہ بڑھتا تھا، لیکن جب وہ اس کا رُخ یمن کی طرف کرتا تھا تو وہ فوراًچل پڑھتا تھا۔ ابرھہ اس واقعہ سے سخت متعجب ہوا اور حیرت میں ڈوب گیا۔ اِسی اثناء میں سمندر کی طرف سے غول کے غول اور جھنڈ کے جھنڈ پرندوں کے، آن پہنچے، جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک ایک چونچ میں اور دو دو پنجو ں میں، جو تقریباً چنے کے دانے کے برابر تھیں، انہوں نے یہ کنکریاں ابرھہ کے لشکر پر برسانی شروع کر دیں۔ یہ کنکریاں جس کسی کو لگتیں وہ ہلاک ہو جاتا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ کنکریاں ان کے بدن پر جہاں بھی لگتیں سُوراخ کر دیتی تھیں، اور دوسری طرف نکل جاتی تھیں۔ اس وقت ابرھہ کے لشکر پر ایک عجیب و غریب وحشت طاری ہو گئی۔ جو زندہ بچے وہ بھاگ کھڑے ہوئے، اور واپسی کے لیے یمن کی راہ پوچھتے تھے، لیکن مسلسل خزاں کے پتوں کی طرح سڑک کے بیچوں بیچ گر جاتے تھے۔ ایک پتھر خود "ابرھہ" کے آ کر لگا اور وہ زخمی ہو گیا۔ اس کو صعنا (یمن کے پائے تخت) کی طرف واپس لے گئے اور وہاں جا کر ہلاک ہو گیا۔ بعض نے کہا ہے کہ چیچک کی بیماری پہلی مرتبہ عرب میں اسی سال پھیلی تھی۔ ہاتھیوں کی تعداد جو ابرھہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، بعض نے وہی "محمود" ہاتھی، بعض نے آٹھ، بعض نے دس اور بعض نے بارہ لکھی ہے۔ مشہور قول کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ولادت اسی سال ہوئی اور عالم آپ کے نور کے وجود سے منور ہو گیا۔ لہٰذا بہت سے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان دونوں واقعات کے درمیان ایک رابطہ موجود تھا۔ بہرحال، اس عظیم حادثہ کی اس قدر اہمیت تھی کہ اس سال کا نام عام الفیل (ہاتھی کا سال) رکھا گیا اور یہ عربوں کا تاریخ کا مبداء قرار پایا۔ (بحوالہ: "سیرة ابن ہشام" جلد ۱، ص ۳۸ تا ۶۲ "بلوغ الارب"۔ جلد ۱، ص ۲۵۰ تا ۲۶۳ "بحار الانوار" جلد ۱۵، ص ۱۳۰ سے آگے "مجمع البیان" جلد ۱۰، ص ۵۴۲)۔
تفسیر "ابرھہ" سے کہہ دو کہ وہ آنے میں جلدی نہ کرے
اِس سُورہ کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا سلوک کیا"؟ (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ)۔ وہ اپنی پُوری قدرت و طاقت اور لشکر کے ساتھ آئے تاکہ خانہ خدا کو ویران و تباہ کر دیں اور خدا نے ایک ایسے لشکر کے ساتھ، جو بظاہر بہت ہی چھوٹا اور بےحیثیت تھا، انہیں درہم برہم کر دیا۔ ہاتھیوں کو چھوٹے سے پرندوں کے ساتھ، اور اس زمانہ کے ترقی یافتہ اسلحہ کو "سجیل" پتھریلی کنکریوں کے ساتھ بیکار کر دیا تاکہ اس مغرور سرکش انسان کی کمزوری و ناتوانائی کو قدرتِ الٰہی کے مقابلہ میں ظاہر و آشکار کرے۔ أَلَمْ تَرَ (کیا تُو نے نہیں دیکھا؟) کی تعبیر، حالانکہ یہ حادثہ ایسے زمانہ میں رونما ہوا تھا کہ پیغمبرؐ نے ابھی دنیا میں آنکھ نہیں کھولی تھی، یا یہ آپ کی پیدائش سے قریب تر تھا، اسی وجہ سے مذکورہ حادثہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کے بہت ہی نزدیک تھا، اس کے علاوہ یہ اتنا مشہور اور متواتر تھا کہ گویا پیغمبرؐ اپنے چشم مبارک سے اس کا مشاہدہ کیا ہوا تھا، اور پیغمبرؐ کے معاصرین میں سے ایک گروہ نے یقینی طور پر اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔ "اصحاب الفیل" کی تعبیر انہیں چند ہاتھیوں کی وجہ سے ہے جنہیں وہ اپنے ساتھ یمن سے لائے تھے تاکہ مخالفین کو مرعوب کریں، اور اُونٹ اور گھوڑے انہیں دیکھ کر بدک جائیں اور میدانِ جنگ میں نہ ٹھہر سکیں۔ (تشریحی نوٹ: "فیل" اگرچہ یہاں مفرد ہے، لیکن جنس و جمع کا معنی رکھتا ہے)۔ اس کے بعد مزید یہ کہتا ہے: "کیا خدا نے ان کے منصوبہ کو خاک میں نہیں ملا دیا" (أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ)۔ ان کا اِرادہ یہ تھا کہ خانہ کعبہ کو تباہ کر ڈالیں تاکہ یمن کے گرجے کو مرکزیت حاصل ہو اور قبائل عرب اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ لیکن وہ نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو بلکہ اس ماجرے نے--- جس کی شہرت تمام جزیرہ نمائے عرب میں پھیل گئی تھی۔۔۔ مکہ اور خانہ کعبہ کی عظمت کو اور چار چاند لگا دیے اور اس کے مشتاق دلوں کو پہلے سے بھی زیادہ اس کی طرف متوجہ کر دیا اور شہر کو اور بھی زیادہ پُر امن بنا دیا۔ "تضلیل" سے مراد، جو وہی گمراہ کرنا ہے، کہ وہ ہرگز اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ اس کے بعد اس ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "خدا نے گروہ در گروہ پرندے ان کے سروں پر بیج دیے۔" (وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ)۔ "ابابیل" لوگوں کی زبانوں پر جو کچھ مشہور ہے اس کے برخلاف یہ اس پرندے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ وصفی معنی رکھتا ہے۔ بعض نے اسے (متفرق گروہوں) کے معنی میں سمجھا ہے، اس معنی میں مذکورہ پرندے گروہ در گروہ ہر طرف ہاتھیوں کے لشکر کی طرف آئے تھے۔ یہ لفظ جمع کے معنی دیتا ہے، جس کا مفرد بعض نے "ابابلہ" یعنی پرندوں یا گھوڑوں یا اونٹوں کا گروہ سمجھا ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جمع ہے جس کی جنس کا مفرد نہیں ہے۔ بہرحال، "طیر" یہاں جمع کا معنی دیتا ہے، اور یہ دونوں الفاظ "طیر" و "ابابیل" مجموعی طور پر گروہ در گروہ پرندوں کے معنی میں ہے (ایسا نہیں ہے کہ ابابیل ان پرندوں کا نام ہو)۔ اس بارے میں کہ یہ پرندہ کون سا پرندہ تھا جیسا کہ ہم نے داستانوں کی تفصیل میں بیان کیا ہے مشہور یہ ہے کہ وہ پرندے کوّے یا چیل کی طرح کے پرندے تھے جو بحِر احمر کی راہ سے اُٹھے تھے اور ہاتھیوں کے لشکر کی طرف آئے تھے۔ بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے: "ان پرندوں نے اس لشکر کو سجیل (پتھریلی مٹی) کے چھوٹے چھوٹے کنکروں سے نشانہ بنایا تھا۔" (تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ)۔ (تشریحی نوٹ: "سجیل" فارسی کا لفظ ہے جو"سنگ" (پتھر) اور "گل" (مٹی) سے لیا گیا ہے، اسی بناء پر وہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو نہ پتھر کی طرح سخت ہو اور نہ مٹی کی طرح نرم)۔ اور جیسا کہ اس ماجرے کی تفصیل میں ہم نے تواریخ، تفاسیر اور روایات سے نقل کیا ہے، ان چھوٹے چھوٹے پرندوں میں سے ہر ایک نے چنے کے دانے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائی تھیں، ایک ایک کنکری چونچ میں اور دو دو اپنے پنجوں میں۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں جس پر بھی پڑتی تھیں، اسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھیں۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے: "انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دیا" (فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ)۔ "عصف" (بروزن حذف) اُن پتوں کو کہتے ہیں جو زراعت کی شاخ پر ہوتے ہیں اور پھر خشک ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ"گھاس" کے معنی میں ہے۔ اور بعض نے اس کی گندم کے اس چھلکے کے معنی میں تفسیر کی ہے، جب کہ وہ خوشہ میں ہوتا ہے۔ "ماٴکول" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گھاس جانوروں کے دانتوں کے نیچے آ کر دوبارہ پِس جاتا ہے اور مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، پھر جانور کے معدہ نے بھی اسے تیسری مرتبہ ریزہ ریزہ کیا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ سنگ ریزے جس کِسی کو بھی جا کر لگتے تھے، اس کو مکمل طور پر ریزہ ریزہ کر دیتے تھے۔ یہ تعبیر ان کے شِدّت کے ساتھ پارہ پارہ ہونے کی دلیل قرار پانے کے علاوہ اس کے سرکش و مغرور اور ظاہراً طاقت ور گروہ اور جمیعت کے بےقدر و قیمت ہونے اور اس کے ضعف و ناتوانی کی طرف اشارہ ہے۔
چند نکات ۱۔ ایک بےنظیر معجزہ (اس گھر کا ایک مالک ہے)
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس مفصل و طولانی داستان کو چند مختصر اور چبھنے والے انتہائی فصیح و بلیغ جملوں میں بیان کر دیا ہے۔ اور حقیقتاً ایسے نکات بیان کیے ہیں جو قرآنی اہداف، یعنی مغرور سرکشوں کو بیدار کرنے اور خدا کی عظیم قدرت کے مقابلہ میں انسان کی کمزوری دکھانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ماجرا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ معجزات و خوارق عادات، بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف، لازمی نہیں ہے کہ پیغمبر یا امام ہی کے ہاتھ پر ظاہر ہوں۔ بلکہ جن حالات میں خدا چاہے اور ضروری سمجھے انجام پا جاتے ہیں، مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا کی عظمت اور اس کے دین کی حقانیت سے آشنا ہو جائیں۔ یہ عجیب و غریب اعجاز آمیز عذاب دوسری سرکش اقوام کے عذاب کے ساتھ ایک واضح فرق رکھتا ہے کیونکہ طوفانِ نوح کا عذاب، اور قوم ِلوط کا زلزلہ اور سنگ باری، قومِ عاد کی تیز آندھی اور قومِ ثمود کا صاعقہ طبعی حوادث کا ایک سلسلہ تھے، کہ جن کا صرف ان خاص حالات میں وقوع معجزہ تھا۔ لیکن لشکرِ ابرھہ کی نابودی کی داستان ان سنگریزوں کے ذریعے جو چھوٹے چھوٹے پرندوں کی چونچ اور پنچوں سے گرتے تھے--- کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو طبعی حوادث سے مشابہ ہو۔ اِن چھوٹے چھوٹے پرندوں کا اُٹھنا، اسی خاص لشکر کی طرف آنا، اپنے ساتھ کنکریوں کا لانا، خاص طور سے انہیں کو نشانہ بنانا اور ان چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے ایک عظیم لشکر کے افراد کے اجسام کا ریزہ ریزہ ہو جانا، یہ سب کے سب خارقِ عادت امور ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ خدا کی قدرت کے سامنے بہت ہی معمولی چیز ہے۔ وہی خدا جس نے انہیں سنگ ریزوں کے اندر ایٹم کی قدرت پیدا کی ہے، کہ اگر وہ آزاد ہو جائے تو ایک عظیم تباہی پھیلا دے۔ اس کے لیے یہ بات آسان ہے کہ ان کے اندر ایسی خاصیت پیدا کر دے کہ ابرھہ کے لشکر کے جسموں کو "عصف ماٴکول" (کھائے ہوئے بھوسے کی مانند) بنا دے۔ ہمیں بعض مصری مفسرین کی طرف اس حادثہ کی توجیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان کنکریوں میں وبا یا چیچک کے جراثیم تھے۔ (بحوالہ: "تفسیر عبدہ" جزء عم، ص ۱۵۸ ملاحظہ ہو)۔ اور اگر بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ صدمہ زدہ لوگوں کے بدنوں سے چیچک میں مبتلا افراد کی طرح خون اور پیپ آتی تھی، تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حتمی طور پر چیچک میں مبتلا تھے۔ اِسی طرح سے ہمیں اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ سنگ ریزے پسے ہوئے ایٹم تھے جن کے درمیان کی فضا ختم ہو گئی تھی۔ اور وہ حد سے زیادہ سخت تھے، اس طرح سے کہ وہ جہاں بھی گرتے تھے سوراخ کر دیتے تھے۔ یہ سب کی سب ایسی توجیہات ہیں جو اس حادثہ کو طبیعی بنانے کے لیے ذکر ہوئی ہیں اور ہم اس کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان سنگ ریزوں میں ایسی عجیب و غریب خاصیت تھی جو جسموں کو ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔ اس سے زیادہ اور کوئی اطلاع ہمارے پاس نہیں ہے۔ بہرحال، خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کوئی کام بھی مشکل نہیں ہوتا۔ (تشریحی نوٹ: اگر بعض تواریخ میں یہ آیا ہے کہ عرب کے شہروں میں چیچک کا مرض پہلی مرتبہ اسی سال دیکھنے میں آیا ہے تو یہ بات اسی معنی پر دلیل نہیں بنتی)۔
۲۔ معمولی وسیلہ سے سخت ترین سزا
قابِل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے اس ماجرے میں مستکبرین اور سرکشوں کے مقابلہ میں اپنی قدرت اعلیٰ ترین صورت میں دکھا دی ہے۔ شاید دنیا میں ابرھہ کے لشکر کے عذاب سے بڑھ کر زیادہ سخت اور کوئی عذاب نہ ہو اور ان مغرور لوگوں کو اسی طرح سے تباہ و برباد کر دیا جائے کہ ریزہ ریزہ اور کھائے ہوئے بھوسے (عصف ماٴکول) کی طرح ہو جائیں۔ اتنی بڑی قدرت و شوکت رکھنے والی جمیعت کی نابودی کے لیے نرم قسم کے سنگ ریزوں اور کمزور اور چھوٹے چھوٹے پرندوں سے کام لیا جائے۔ وہی بات کہ یہ دنیا جہان کے تمام مستکبرین اور سرکشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے، تاکہ وہ جان لیں کہ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کس قدر ناتواں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدا اس قسم کے عظیم کام بہت ہی چھوٹے سے موجودات کے سپرد کر دیتا ہے۔ مثلاً ایسے جراثیم کو، جو ہرگز آنکھ سے دیکھے نہیں جا سکتے، مامور کر دیتا ہے کہ وہ ایک مختصر سی مدت میں سُرعت کے ساتھ اپنی پیدائش بڑھا کر طاقت ور قوموں کو ایک خطرناک سرایت کرنے والی بیماری، مثلاً: "وباء" و "طاعون" میں مبتلا کر دے۔ اور ایک مختصر سی مدت میں خزاں کے پتوں کی طرح زمین پر ڈھیر کر دے۔ یمن کا عظیم بند (سد ماٰرب)¬¬¬¬--- جیسا کہ ہم نے سُورہٴ سبا کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔۔۔ زیادہ آبادی اور ایک عظیم طاقت ور تمدّن کی پیدائش کا ذریعہ بنی۔ اور اس کے بعد اس قوم کی سرکشی بڑھ گئی، لیکن اس قوم کی نابودی کا فرمان جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے، ایک یا چند صحرائی چُوہوں کے سپرد ہوا تاکہ وہ اس عظیم بند کے اندر گُھس جائیں اور اس میں ایک سوراخ کر دیں۔ اس سوراخ میں پانی ہونے کی وجہ سے یہ سوراخ بڑے سے بڑا ہوتا چلا گیا اور آخرکار وہ عظیم بند ٹوٹ گیا اور پانی جو اس بند کے تھپیڑے مار رہا تھا، اس نے ان سب آبادیوں، گھروں اور محلوں کو ویران اور تباہ کر دیا۔ اور بڑی جمیعت یا تو نابود ہو گئی یا دوسرے علاقوں میں پراکندہ اور منتشر ہو گئی۔ یہ ہے خداوندِ بزرگ و برتر کی قدرت نمائی۔
۳۔ داستانِ "فیل" کے اہداف
آگے آنے والی سُورت (سورہٴ لایلاف) سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ سورہٴ فیل کا ایک ہدف قریش پر خدا کی عظیم نعمتوں کی یاد آوری ہے تاکہ انہیں یہ بتا دے کہ اگر پروردگار کا لطف نہ ہوتا تو نہ اس مقدس مرکز یعنی مکہ و کعبہ کے آثار ہوتے اور نہ ہی قریش ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ وُہ اِسی طرح کبر و غرور کی سواری سے نیچے اُتر آئیں اور پیغمبِر اکرمؐ کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔ دُوسری طرف یہ ماجرا، جو پیغمبِر اکرمؐ کے میلاد کے قریب قریب ساتھ واقع ہوا تھا، حقیقت میں اس عظیم ظہور کا پیش خیمہ تھا اور اس قیام کی عظمت کا پیام لانے والا تھا۔ اور یہ وہی چیز ہے جسے مفسرین نے "ارھاص" سے تعبیر کیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: "ارھاص" ان معجزات کے معنی جو پیغمبرؐ کے قیام سے قبل واقع ہوں اور اس کی دعوت کے لیے زمین ہموار کرنے والے ہوں۔ یہ لفظ اصل میں بنیاد گزاری اور پہلا سنگِ بنیاد رکھنے کے معنی میں ہے جسے دیوار کے نیچے رکھتے ہیں، اور آمادہ ہونے اور (کھڑے ہونے) کے معنی میں بھی آیا ہے)۔ اِس واقعہ کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ یہ ساری دنیا جہان کے سرکشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے، چاہے وہ قریش ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور ہوں، کہ وُہ جان لیں کہ وہ ہرگز پروردگار کی قدرت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ خیالِ خام کو اپنے سے نکال دیں، اس کا حُکم مانیں اور حق و عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔ چوتھا مقصد اس عظیم گھر کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے کہ جب "کعبہ" کے دشمنوں نے اس کو نابود کرنے کا منصوبہ بنایا، اور وہ اس ابراہیمی سر زمین کی مرکزیت کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے، تو خدا نے ان کی اس طرح سے گوشمالی کی کہ ساری دنیا کے لیے باعث عبرت بن گئی اور اس مقدس مرکز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ اور پانچواں مقصد یہ ہے کہ، وہ خدا جس نے اس سر زمینِ مقدس کی امنیت کی بارے میں ابراہیمؑ خلیل کی دعا کو قبول کیا تھا، اور اس کی ضمانت دی تھی، اس نے اس ماجرے میں اس بات کی نشان دہی کر دی ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ یہ توحید و عبادت کا مرکز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرکز امن رہے۔
۴۔ ایک مسلّم تاریخی روئیداد
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ "اصحاب فیل" کا ماجرا عربوں کے درمیان ایسا مسلّم تھا کہ یہ ان کے لیے تاریخ کا آغاز قرار پایا اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ، قرآن مجید نے ایک نہایت ہی عمدہ تعبیر "الم تر" (کیا تو نے نہیں دیکھا) کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے، وہ بھی پیغمبر اکرمؐ کو خطاب کرتے ہوئے جو نہ تو اس زمانہ میں موجود تھے اور نہ ہی اسے دیکھا تھا، جو اس ماجرے کے مسلم ہونے کی ایک اور نشانی ہے۔ اِن سب باتوں سے قطع نظر جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مشرکین مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔ اگر یہ مطلب مشکوک ہوتا تو کم از کم کوئی تو اعتراض کرتا اور ان کا اعتراض ان کے باقی اعتراضوں کی طرح ہی تاریخ میں ثبت ہو جاتا، خصوصاً جب کہ قرآن نے جملہ "الم تر" کے ساتھ اس مطلب کو ادا کیا تھا۔ خداوندا! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم اس توحید کے عظیم مرکز کی پاسداری کریں۔ پروردگارا! ان لوگوں کے ہاتھ، جو اس مقدس مرکز کی ظاہری حفاظت پر قناعت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کی حقیقت کے پیام کو نظر انداز کرتے ہیں، اس مرکز سے کاٹ دے۔ بارالٰہا! تمام اشتیاق رکھنے والوں کو مکمل آگاہی و عرفان کے ساتھ اس کی زیارت نصیب فرما۔ آمین یا ربّ العالیمن