Sūra 44 · 59v
Chapter 4459 verses

Ad-Dukhan

tafsīr · Ayatollah Makārim Shīrāzī
الدخان
الدخان

سوره دخّـــان

یہ سوره مکّہ میں نازل ہوئی اس میں ۵۹ آیات ہیں

سورہٴ دخان کے مضامین اور فضیلت

یہ "حوامیم" کی ساتھ سُورتوں میں سے پانچویں سُورت ہے، چونکہ یہ مکّہ سُورتوں میں سے ہے لہذا انہیں کے مضامین کی حامل بھی ہے، یعنی اس میں زیادہ گفتگو مبداء، معاد اور قرآن پاک کے بارے میں کی گئی ہے۔ اس بارے میں اس کی آیت یوں منظم کی گئی ہیں کہ سوئے ہُوئے اور غافل دلوں کو جھنجھوڑ کر بیدار کر رہی ہیں اور انہیں ایمان، تقویٰ، حق اور عدالت کی دعوات دے رہی ہیں۔ اس سُورت کو ساتھ حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۱۔سُورت کی ابتداء حروفِ مقطعات سے ہوتی ہے، پھر عظمتِ قرآن کا تذکرہ ہے اور اسی تذکرے میں پہلی بار بتایا گیا ہے کہ اِس کا نزُول شبِ قدر میں ہوا ہے۔ ۲۔ اس کے دوسرے حِصّے میں خدا کی توحید کا ذکر ہے اور کائنات میں اس کی عظمت کی کچھ نشانیوں کا بیان ہے۔ ۳۔اس کے اچھے خاصِے حصّے میں کفّار کا انجام اور انہیں ملنے والے طرح طرح کے درد ناک عذاب کا تذکرہ ہے۔ ۴۔اس کے ایک اور حِصّے میں ان غافلوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے فرعون اور فرعون کے ساتھیوں اور بنی اسرائیل کے مقابلے میں فرعونیوں کی زبردست شکست اور تباہی و بربادی کے تذکرے ہیں۔ ۵۔آیات کے ایک حصّے میں قیامت کے مسئلے کو بیان کیا گیا ہے اور اس دن جہنمیوں کے درد ناک عذاب اور پرہیز گاروں کے لیے رُوح پرور جزاء کو بیان کیا گیا ہے۔ ۶۔متعدد آیات میں تخلیق کائنات کا مقصد بیان کیا گیا ہے بتایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق بےفائدہ نہیں ہے۔ ۷۔جس طرح سُورت کا آغاز عظمت قرآن کے ذکر سے ہوا ہے، اسی طرح اس کا اختتام بھی قرآن کی عظمت کے تذکرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سُورت کیی دسویں آ یت میں "دخان مبین" کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے اس کا نام سُورہ "دخان"ہے۔

سُورہٴ "دخان" کی تلاوت کا ثواب

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی حدیث ہے: "من قرأ سورة الدّخان ليلة الجمعة ويوم الجمعة بنى اللہ لَه بيتا فى الجنّةِ" "جو شخص شب جمعہ اور جمعہ کے دن سُورہ دخان کی تلاوت کرے گا خدا اس کے بہشت میں گھر بنائے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، سُورہٴ دخان کا آغاز)۔ آ پ ہی سے روایت ہے۔ "من قرأ سورة الدّخان فى ليلة، اصبح يستغفر له سبعون الف ملك" "جو شخص سُورہٴ دخان کو پڑھے، ایسی حالت میں صبح کرے گا کہ ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے إستغفار کرتے ہوں گے۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، سُورہٴ دخان کا آغاز)۔ ایک اور حدیث میں ابو حمزہ ثمانی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں روایت کی ہے: " من قرأ سُورة الدّخان فى فرائضه ونوافله بعثه الله من الاٰمنين يوم القيامة، واظله تحت ظلّ عرشه، وحاسبه حسابا يسيرا، واعطى كتابه بيمينه " "جو شخص اپنی فرض و نفل نمازوں میں سُورہٴ دخان کی تلاوت کرے گا خدا اسے ان لوگوں کے ساتھ محشور کرے گا جو قیامت کے دن امن و امان میں ہوں گے، اسے اپنے عرش کے زیر سایہ رکھّے گا، ان کا حساب آسان طریقے سے لے گا اور اس کے نامہٴ اعمال کو اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا۔" (بحوالہ: مجمع البیان، جلد ۹، سُورہٴ دخان کا آغاز)۔

1
44:1
حمٓ
حمٰ

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

2
44:2
وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
اس واضح کتاب کی قسم

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

3
44:3
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
کہ جسے ہم نے مبارک رات میں نازل فر مایا ٗ ہم ہمیشہ سے ڈرانے والے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

4
44:4
فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ
وہ رات کہ جس میں ہر امر خدا کی حکمت کے مطابق مرتب ہوتا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

5
44:5
أَمۡرٗا مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ
ہماری طرف سے ایک حکم تھا۔ ہم ہی نے (محمد) کو بھیجا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

6
44:6
رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
یہ سب تمہارے پروردگا رکی رحمت کی وجہ سے ہے بیشک وہ سننے والااور جاننے والا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

7
44:7
رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے، اگر تم اہل یقین ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 8 کے تحت ملاحظہ کریں۔

8
44:8
لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اس کے سوا کوئی معبود نہیں،۔وہی جلاتااور مارتاہے ٗ وہ تمہارے پروردگار اور تمہارے باپ دادا کا بھی پروردگار ہے۔

تفسیر مبارک رات میں قرآن کا نزُول:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

اس سُورت کے آغاز میں بھی گزشتہ چار اور آئندہ دو سورتوں کی طرح، جو مجموعی طور پر سات سُورتیں بنتی ہیں ہم ایک بار پھر حروفِ مقطعات (حٰم ) کی زیارت کر رہے ہیں۔ حروفِ مقطعات کے بارے میں ہم پہلے ہی تفصیل کے ساتھ مکمل تفسیر بیان کر چکے ہیں۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل سُورہٴ بقرہ کے آغاز، تفسیر نمونہ جلد ۲، سُورہٴ آ لِ عمران کے آغاز اور جلد ۴ سُورہٴ اعراف کے آغاز کا مطالعہ فرمائیے)۔ خصوصی طور پر "حٰم" کے بارے میں "حوامیم" میں سے پہلے سُورت (مؤٴمن) اور پھر سُورت "حٰم سجدہ" کے آغاز میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس مقام پر بعض مفسرین نے "حٰم" کی قسم کے معنی سے تفسیر کی ہے۔ یعنی اس جگہ دو قسمیں بیان ہو رہی ہیں، ایک اسی "حٰم" کے ساتھ اور دوسری بعد کی آ یت میں "کتاب مبین" کے ساتھ۔ دونوں قسمیں پے در پے اور ایک دوسرے کے ساتھ مُناسبت رکھتی ہیں۔ ایک تو "حٰم" کے حرفوں کے ساتھ قسم اور دوسری اس مقدس کتاب کے ساتھ قسم جس نے ان جیسے حروف سے ہی کتاب کی شکل اختیار کی ہے۔ اس سُورت کی دوسری آیت میں، جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں، "قرآن مجید" کی قسم کھائی گئی ہے کہ "قسم ہے اس آشکار کتاب کی" (وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ)۔ ایسی کتاب جس کے مندرجات روشن، جس کے معارف آشکار، جس کی تعلیمات زندہ، جس کے احکام تعمیری اور جس کے پروگرام منظم اور جچے تلے ہیں۔ ایسی کتاب جو اپنی حقانیت کی آپ دلیل ہے، آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ (تشریحی نوٹ: قرآن مجید کی قسموں کے فلسفلے اور ان کے اہداف و مقاصد کے بارے میں إن شاءاللہ ہم آخر ی پارے کی تفسیر میں تفصیل سے بحث کریں گے جس کی بہت سی آیات میں قسموں کا ذکر ہے)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قسم کس لیے کھائی گئی ہے؟ بعد والی آ یت اس حقیقت کو واضح کرتے ہُوئے کہتی ہے یقیناً ہم نے قرآن مجید کو (جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی دلیل ہے) مبارک رات میں نازل کیا ہے (إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ)۔ "مبارک"، "برکت"کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے، سُود مند، نفع بخش اور دائمی۔ یہ کون سی رات ہے جو تمام اچھائیوں کا مبداء اور پائیدار خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ اکثر مفسرین نے اس سے شبِ قدر مراد لی ہے۔ یہ ایسی بابرکت رات ہے جس میں عالم بشریت اور دُنیائے انسانیّت کی تقدیر قرآن کے نزُول کی وجہ سے نیا رنگ اختیار کر گئی ہے۔ ایسی رات جس میں مخلُوق کا انجام اور اس کی تقدیر یکساں طور پر قلم بند کی جاتی ہے۔ جی ہاں! قرآن ایسی تقدیر ساز رات میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے پاک و پاکیزہ دل پر اُترا۔ یہ نکتہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آ یت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام قرآن شب قدر میں نازل ہوا۔ لیکن اس کے نزُول کا اصل مقصد کیا ہے؟ وہی جس کی طرف اسی آیت میں اشارہ ہوا ہے کہ "ہم ہمیشہ سے ڈرانے والے تھے۔" (إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ)۔ یہ ہمارا دیرینہ طریقہ کار ہے کہ ہم اپنے انبیاء اور رسُولوں کو ظالموں اور مشرکوں کے ڈرانے کے لیے مامُور کرتے آئے ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتاب دے کر بھیجنا بھی اسی سِلسلے کی آخری کڑی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انبیائے کرام إنذار" (ڈرانے) کے لیے آتے ہیں وہ "بشارت" (خوشخبری دینے) کے لئے بھی ہوتے ہیں، لیکن چونکہ ظالم اور مجرم لوگوں کے لیے اُن کی دعوت کی اصل بنیاد و زیادہ تر انذار اور ڈرانے پر ہی استوار ہوتی ہے لہٰذا انذار پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

قرآن دفعتاً نازل ہُوا ہے یا تدریجی طور پر؟

اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور غور طلب ہیں: ۱۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کے ۲۳ سالہ دور میں نازل ہوتا رہا ہے پھر یہ کہ قرآن مجید کے مضامین ایسے ہیں جن کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ۲۳ سالہ زندگی کے مختلف واقعات سے تعلق ہے۔ اگر ان واقعات سے تعلق ہے۔اگر ان واقعات کو قرآن مجید سے جدا لیا جائے تو وہ بےمعنی ہو جائیں۔ اس صراحت کے پیشِ نظر یہ معلوم کرنا ہے کہ قرآن مجید شبِ قدر میں مکمل طور پر کس طرح نازل ہوا؟ اس سوال کے جواب میں بعض مفسرین نے قرآن کا یہاں معنی آغازِ نُزول قرآن کیا ہے۔ لہذا یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس کا آغاز تو شبِ قدر میں ہوا اور ۲۳ سال تک اس کے نزُول کا سِلسلہ جاری رہا۔ لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں یہ تفسیر زیر نظر آیت اور دوسری آیات کے ظاہری معنی سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے اس بات کی طرف توجہ کرنا ہو گی کہ آیت میں ایک طرف تو یہ ہے کہ "قرآن مبارک رات میں نازل ہُوا ہے" جب کہ دوسری طرف سُورہ بقرہ کی ۱۸۵ ویں آ یت میں ہے: "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ" "مادہ رمضان میں روزے رکھّا کرو، یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اُترا ہے۔" جب کہ سُورہٴ قدر میں ہے: "إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ" "ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے۔" مجموعی طور پر ان آیات سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ وہ مبارک رات جو زیر تفسیر آیت میں ذکر ہوتی ہے شبِ قدر ہے جو ماہِ رمضان المبارک میں ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر اور بھی کئی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن کے تدریجی نزول سے پہلے اس سے آگاہ تھے، جیسا کہ سُورہٴ طٰہٰ کی ۱۱۴ویں آیت میں ہے: "وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ" "وحی کے نازل ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں جلدی نہ کیجیئے۔" اسی طرح سُورہٴ قیامت کے ۱۶ ویں آ یت میں ہے: "لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ" "اپنی زبان کو قرآن کے لیے جلدی جلدی حرکت نہ دیں۔" ان تمام آیات کو ملا کر جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کے نزول کے دو طریقے تھے۔ ایک "دفعتًا نزُول" کہ ایک ہی مرتبہ مجموعی صُورت میں خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک دِل پر ماہِ رمضان المبارک کی شب قدر میں نازل ہوا اور دوسرا "تدریجی نزُول" جو حالات، واقعات اور ضروریات پیشِ نظر ۲۳ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتا رہا۔ اس بات کا ایک اور گواہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات میں "انزال" اور بعض میں نزُول کا لفظ استعمال ہوا ہے بعض لغات سے معلوم ہوتا ہے کہ "تنزیل" کا اطلاق عام طور پر ایسے مواقع پر ہوتا ہے جہاں پر تدریجی طور پر نازل ہونا مقصود ہوتا ہے لیکن "انزال" کا مفہوم وسیع ہے جو تدریجی اور دفعتاً دونوں طرح کے نزول کا معنی دیتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادہ "نزل" کا مطالعہ فرمائیں)۔ اور یہ بات بھی بڑی لائق توجہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام آیات میں جہاں پر قرآن کے ماہ رمضان اور شبِ قدر میں نازل ہونے کا ذکر ہے وہاں پر "إنزال" کے کلمہ کا استعمال ہوا ہے جو "دفعتاً نزُول" کے معنی سے ہم آہنگ ہے اور جہاں پر "تدریجی نزُول کی بات ہوئی ہے وہاں پرصرف "تنزیل" کا کلمہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن قلبِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر "دفعتاً نزُول" کس صُورت میں ہوا؟ آیا اسی موجُودہ قرآن کی صُورت میں یا مختلف آیات اور سُورتوں کی صُورت میں؟ اس بارے میں بات پوری طرح واضح نہیں ہے۔ مندرجہ بالا قرینے سے صرف اسی قدر بات سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک مرتبہ تویہ قرآن پاک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس قلب پر ایک ہی رات میں نازل ہوا اور دوسری مرتبہ ۲۳ سال کی تدریجی مدّت میں۔ ۲۔ اس بات کاایک اور شاہد یہ بھی ہے کہ زیر بحث آیت میں قرآن کے لفظ سے مراد تمام قرآن مجید ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ قرآن کا لفظ "کل" اور "جزر" دونوں کے لیے بولا جا سکتا ہے، لیکن اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جب تک کہ اس لفظ کے ساتھ کوئی اور قرینہ موجُود نہ ہو اس وقت تک اس سے مراد تمام قرآن مجید ہے۔ بعض مفسرین نے زیر تفسیر آیت کا مفہوم "نزول قرآن کا آغاز" لیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیت ماہِ رمضان کی شب قدر میں نازل ہوئی۔ یہ تفسیر آیت کے ظاہری معنی کے بِالکل خلاف ہے۔ اور اس سے بھی کمزور تر ان لوگوں کا قول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ "چونکہ سُورہٴ حمد تمام قرآن کا نچوڑ اور خلاصہ ہے اور وہ شبِ قدر میں نازل ہوئی ہے، لہذا اسے "إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ" کہا گیا ہے۔ یہ سب کے سب احتمالات قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہیں کیونکہ آیات کے ظاہر سے معلُوم ہوتا ہے کہ تمام قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا ہے نہ کہ اس کا کچھُ حصّہ۔ یہاں پر ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ تفسیر علی بن ابراہیم میں حضرت امام محمد باقر امام جعفر صادق اور امام مُوسٰی کاظم علیہم السلام سے بہت سی روایات درج کی گئی ہیں جو انہوں نے " إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةٍ مُبارَكَةٍ " کی تفسیر میں ارشاد فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے: " هِى ليلةُ القدر، أنزل اللہ عزَّوَجَلَّ القرآن فيها الى البيت المعمور جملة واحدة، ثمّ نزل مِنَ البيت المعمور على رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلّم فى طول عشرين سنة " "اس مبارک رات سے مراد شبّ قدر ہے، جس میں خدائے بزرگ و برتر نے قرآن کو ایک ہی مرتبہ "بیت المعمور" کی طرف نازل کیا پھر بیس سال کے عرصے میں رسُول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تدریجی طور پر نازل فر ماتا رہا۔" یہاں پر یہ بات قابلِ وجہ ہے کہ اس روایت میں قرآن مجید کے دفعتاً نزُول کے بارے میں "أنزل" اور تدریجی نزُول کے بارے میں "نزل" کے کلمات استعمال ہُوئے ہیں ( ۴)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر نور الثقلین جلد۴، ص۶۲۰۔ اس حدیث میں قرآن تدریجی نزُول کی مدّت بیس سال تبائی گئی ہے، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ نبوّت کا دورانیہ کہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے ۲۳ سال ہے، ممکن ہے کہ یہ تعبیر یا تو راوی کی طرف سے غلط فہمی کی وجہ سے ہے یا پھر حدیث کے نسخوں میں غلطی واقع ہوئی ہے)۔ "بیت المعمور" کہاں واقع ہے؟ اس بارے میں متعدد روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ آسمانوں میں خانہ کعبہ کے مقابلے میں ایک گھر ہے جو فرشتوں کی عبادت گاہ ہے، اور روزانہ ستّر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں، جو قیامت تک اس کی طرف واپس نہیں پلٹیں گے۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ سورہٴ طُور کی آیت نمبر ۴ میں بیان ہو گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "بیت المعمور" کون سے آسمان میں واقع ہے؟ اس بارے میں مختلف روایات میں ہے کہ وہ چوتھے آسمان پر ہے اور بعض روایات میں ہے کہ آسمان اوّل (آسمان دنیا) میں ہے اور بعض دوسری روایات میں ساتویں آسمان سے متعلق بتایا گیا ہے۔ مرحوم طبرسیؒ نے تفسیر "مجمع البیان" میں سُورہ طُور کی تفسیر میں حضرت علی علیہ السلام سے بیت المعمُور کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے: "هو بيت فى السّماء الرابعة بحيال الكعبه معمرة الملائكة بِما يكون مِنها فيه من العبادة، ويدخله كلّ يوم سبعون الف ملك ثم لا يعودون إِليه ابدًا" "وہ خانہ کعبہ کے مقابلہ میں چوتھے آسمان میں واقع ہے، روزانہ ستر ہزار ایسے فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں کہ جو پھر تا ابد اس کی طرف نہیں آئیں گے۔" (۵)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان جلد۹، ص۱۶۳۔ مرحوم علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار جلد۵۸، ص۵۵ پر "بیت المعمور" سے متعلق روایات کو جمع کیا ہے)۔ صورتِ حال خواہ کچھ ہو، قرآن مجید کا شبِ قدر میں مکمل طور پر بیت المعمور کی طرف نازل ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ رسُولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے باخبر تھے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوحِ محفوظ جو خدا کا مخفی علم ہے کے سوا دوسرے تمام عالموں سے آگاہ ہیں۔ بالفاظ دیگر تمام مذکورہ آیات سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔ ایک مرتبہ "دفعتاً نزُول" کی صُورت میں اور دوسری مرتبہ "تدریجی نزُول" کی صُورت میں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوتا رہا، یہ بات مندرجہ بالا حدیث کے منافی بھی نہیں ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن پاک شب قدر میں بیت المعمُور پر نازل ہوا، کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب مبارک، "بیت المعمور" سے بھی تو آگاہ ہے۔ اس سوال کے جواب سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن مجید شبِ قدر میں نازل ہوا ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ بعثت سے کِس طرح مطابقت رکھتا ہے؟ جبکہ مشہور روایات کی بناء پر تاریخ بعثت ۲۷رجب ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کا دفعتاً نزُول تو ماہ رمضان المبارک میں ہوا ہے اور ۲۷ رجب المرجب میں اس کا تدریجی نزُول شروع ہوا ہے۔ لہذا اس صُورت میں کوئی مسئلہ غیر واضح نہیں رہتا۔ بعد کی آیت میں شب قدر کی توصیف اور توضیح ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: شب قدر وہ رات ہے جس میں ہر امر خدا کی حکمت کے مطابق تفصیل کے ساتھ مرتب ہوتا ہے (فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ)۔ " يُفْرَقُ“ کے لفظ کے ساتھ اس بات کی طرف ارشاد کیا گیا ہے کہ اس رات میں تمام تقدیر ساز امور اور مسائل مقدر میں لِکھ دیئے جاتے ہیں اور"حکیم" کا لفظ اسی خدائی تقدیر کے استحکام کے ناقابلِ تغیّر اور اس کے محکم ہونے کو بیان کر رہا ہے۔ البتہ قرآن مجید میں یہ صفت عام طور پر خداوند تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتی ہے اگر کسی اور چیز کو اس سے متصف کریں تو یہ اس کی تاکید کے لیے ہو گا۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "المیزان" میں اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ، اس کائنات کے امُور دو مراحل پر مشتمل ہیں۔ ایک اجمال اور ابہام کا مرحلہ جسے "حکیم" سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرا تفصیل اور کثرت کا مرحلہ جسے "یفرق" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (جلد ۱۸، ص۱۴۰)۔ یہ بیان اور بہت سی روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن میں کیا گیا ہے کہ شب قدر میں تمام لوگوں کی سال بھر کی تقدیر لکھ دی جاتی ہے اور رزق اور عمر وغیرہ بھی اسی رات کو معیّن کر دیئے جاتے ہیں۔ شب قدر سے متعلق تمام اُمور پر سُورہٴ قدر کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے گی اور بتایا جائے گا کہ انسان کا اپنا ارادہ خدا کی تقدیر اور مشیت سے متصادم نہیں ہوتا۔ بعد کی آ یت میں اس بات کی ایک بار پھر تاکید کی گئی ہے کہ قرآن مجید خدا کی جانب سے ہی ہے، چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: شب قدر میں قرآن کا نزُول ہماری طرف سے ایک حکم تھا اور ہم ہی نے پیغمبر اسلام کو مبعوث کیا اور بھیجا ہے (أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ) ( ۷)۔ (تشریحی نوٹ: " أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا..." کا جُملہ اعراب کے لحاظ سے کیا واقع ہو رہا ہے اور گذشتہ آیات کی کس بحث سے اِس کا تعلق ہے؟ اس بارے میں کئی احتمال ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے زیادہ مناسب یہی ہے کہ "أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا۔" "اِنّا أنزلناہ" میں موجود مفعول کی ضمیر کا حال واقع ہو رہا ہو، جس کا معنی یہ ہو گا کہ "ہم نے قرآن کو نازل کیا جب کہ یہ ہماری طرف سے ایک امر ہے" اور اس صورت میں إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ" کے جُملہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ بھی ہے جسم میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا تذکرہ ہے۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ یہ " كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ " کی وضاحت ہو اور اس کی نصب اور اختصاصی ہے اور ایسی صُورت میں اس کا معنی یہ ہو گا" أعنى بھٰذا الأمر أَمرًا حاصلًا من عندنا)۔" پھر نزول قرآن، ارسالِ پیغمبر اور شب قدر میں تمام چیزوں کی تقدیر کے اصل سبب کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ سب تمہارے پروردگار کی رحمت کی وجہ سے ہے (رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ)۔ (تشریحی نوٹ: "رَحْمَةً مِنْ رَبِّک" یا تو "إنّا أنزلناہ" کا مفعول لہ، ہے یا "یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکیم" کا مفعول لٰہ ہے یا دونوں کا مفعول لٰہ ہے)۔ جی ہاں! اس کی تاکید پیدا کنار رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ان کے حال پر نہ چھوڑ دے، بلکہ ان کے لیے کوئی پروگرام اور رہنما بھیے تاکہ وہ ان کی ہر ہر موڑ پر ارتقاء اور خدا کی جانب رہنمائی کرے، بنیادی طور پر کائنات کی ہر چیز اس کی بےانتہائی رحمت سے فیض یاب ہو رہی ہے، لیکن انسان باقی چیزوں سے زیادہ اس رحمت کا مشمول ہے۔ اسی آیت کے آخر میں اور بعد کی دوسری آیات میں خداوندِ عالم کی سات صفات کا تذکرہ ہے جو سب کی سب اس کے مقام وحدانیت کو بیان کرتی ہیں، ارشاد ہوتا ہے: و ہ بےشک بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)۔ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں اور درخواستوں کو سنتا ہے اور ان کے رازوں سے آگاہ ہے۔ پھر تیسری صفت بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسا خدا ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچُھ ان دونوں کے درمیان ہے، سب کا پروردگار ہے۔ اگر تم اہل یقین ہو (رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ) ( ۹) (۱۰)۔ (تشریحی نوٹ: اس آیت میں "رَبّ" کا کلمہ گذشتہ آیت میں مذکور "ربّ" کا بدل ہے)۔ (تشریحی نوٹ: إِنْ کُنْتُمْ مُوقِنینَ" جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزاء محذُوف ہے جو تقدیری طور پر یُوں ہے۔ إِن کنتم مِن أھل الیقین او فی طلب الیقین عَلِمتم إنَّ اللہ رَبِّ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَما بَیْنَهُما)۔ چونکہ بہت سے مشرکین کئی خداؤں اور کئی ارباب کے قائل تھے اور ہر نوح کے لیے علیٰحدہ رب کا عقیدہ رکھتے تھے اور ممکن تھا کہ گذشتہ آیت میں "رَبِّ السَّماواتِ وَ الْاَرْضِ وَما بَیْنَهُما " کہہ کر باقی تمام خداؤں پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا ہے اور واضح کر دیا گیا ہے کہ تمام موجوداتِ عالم ایک ہی ربّ ہے۔ "إِنْ کُنْتُمْ مُوقِنین" (اگرتم اہل یقین ہو) کا جُملہ جو جُملہٴ شرطیہ کی صُورت میں آیا ہے، یہ سوال ذہن میں پیدا کر رہا ہے کہ آیا پروردگار عالم کی ربوبیّت ایسی شرط سے مشروط ہے؟ لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جُملے کے ذکر سے مندرجہ ذیل امُور میں سے کوئی ایک یا ددونوں اُمور مقصُود ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر تم یقین کے طلب گار ہو تو اس کا واحد راستہ یہی ہے۔ واحد راستہ یہی ہے کہ تم پروردگار عالم کی ربوبیّت مطلقہ کے بارے میں غور و فکر سے کام لو۔ دوسرا یہ کہ "اگر تم اہل یقین ہو تو بہترین یقین پیدا کرنے کا مقام یہی ہے، اگر تم تمام کائنات میں خدا کی ربوبیّت کے آثار دیکھ رہے ہو اور ہر ذرّے کے دل کو شگافتہ کر کے اس میں اس کی ربوبیّت کے نشان پاتے ہو، پھر بھی اس کی ربوبیّت پر یقین نہیں رکھتے تو پھر کائنات کی کس چیز پر ایمان اور یقین پیدا کرو گے؟ چوتھی، پانچویں اور چھٹی صفت کو بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اس کے سوا کوئی معبُود نہیں وہی جلاتا اور مارتا ہے (لا إِلهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ) (۱۱)۔ (تشریحی نوٹ: "لا إِلهَ إِلّا" کا جُملہ ممکن ہے کہ جُملہ استینافیہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مبتداء محذوف کی خبر ہو جس کی تقدیر یہ ہو۔ " هُوَ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ" لیکن پہلا امکان زیادہ مناسب ہوتا ہے)۔ تمہاری زندگی اور موت اُسی کے ہاتھ میں ہے، تمہارا اور تمام کائنات کا پروردگار وہی ہے۔ اسی لیے اسی کے بغیر کوئی معبُود ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، آیا جس کے پاس نہ تو ربوبیت کا عہدہ ہے اور نہ ہی موت و حیات کا مالک ہے، وہ معبُود بن سکتا ہے؟ ساتویں اور آخری صفت بیان کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار اور تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی پروردگار ہے (رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ)۔ اگر بُت پرستی کے جواز کے لیے تمہاری دلیل یہ ہے کہ تمہارے باپ دادا ان کی پرستش کیا کرتے تھے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیئے، کہ ان کا پروردگار بھی خدائے وحدہٴ لا شریک ہے، لہٰذا تمہارا اپنے آباؤ اجداد سے یہ تعلق بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ خدائے واحد و یکتا کے علاوہ کسی کے آستان پر سر نہ جھکاؤ اور اگر ان کا بھی اس کے علاوہ کوئی اور راستہ تھا تو وہ بھی یقیناً غلطی پر تھے۔ واضح سی بات ہے کہ موت اور حیات کا تعلق بھی پروردگار عالم کی تدبیر سے ہے، اگر اس نے اسے خصوصی طور پر ذکر کیا ہے تو اس کی وجہ اسے خاص طور پر اہمیت دینا ہے اور حتمی طور پر معاد کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے موت و حیات کا مسئلہ بیان کیا ہے، بلکہ کئی مرتبہ اسے خداوندِ عالم کے مخصوص افعال میں سے ایک فعل کی صُورت میں بیان کیا جا چکا ہے کیونکہ یہ انسانی زندگی کا تقدیر ساز اور کائنات کا ایک پیچیدہ ترین مسئلہ ہے اور قدرت الہٰی کی ایک روشن ترین دلیل ہے۔

قرآن مجید کا شب قدر سے رابط

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں اشارے کے طور پر اور سُورہٴ قدر میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید شب قدر میں نازل ہوا ہے اور یہ بات کس قدر معنیٰ خیز ہے۔ یہ ایسی رات ہے جس میں بندوں کی تقدیر اور رزق و روزی مقدر کی جاتی ہے، اسی رات کو رسولِ پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے مقدس اور پاکیزہ قلب پر قرآن نازل ہوا۔ آیا اس کا یہ معنی تو نہیں کہ تم لوگوں کی تقدیر اور انجام اسی آ سمانی کتاب کے مندرجات ہی سے مربوط اور متعلق ہے اور ان کا آپس میں نزدیکی رابط ہے۔ آیا اس کلام کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صرف تمہاری معنوی زندگی کا ہی نہیں بلکہ مادی زندگی کا بھی اس سے اٹوٹ رابط ہے، دشمنوں پر تمہاری آزادی، سرفرازی اور استقلال اور تمہاری بستیوں اور شہروں کی آبادی اسی سے وابستہ ہے۔ جی ہاں! جس رات میں کائنات کی تقدیر متعین ہوتی ہے اسی رات میں یہ نازل ہوا ہے۔

9
44:9
بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ
لیکن یہ لوگ تو شک میں پڑے (حقائق کے ساتھ) کھیل رہے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

10
44:10
فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ
پس اس دن کا انتظار کر کہ جب آسمان سے ظاہر بظاہر دھواں نکلے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

11
44:11
يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٞ
وہ تمام لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

12
44:12
رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ
( وہ کہیں گے) پرودگار ا! ہم سے عذاب کو دور فرما دے کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

13
44:13
أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكۡرَىٰ وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مُّبِينٞ
وہ کس طرح سے اور کہاں نصیحت حاصل کریں گے جب کہ ان کے پاس آشکار رسول آچکا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

14
44:14
ثُمَّ تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٞ مَّجۡنُونٌ
تو پھر وہ اس کے رو گردان ہو کر کہنے لگے تو دیوانہ ہے جسے دوسرے لوگ سکھاتے پڑھاتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

15
44:15
إِنَّا كَاشِفُواْ ٱلۡعَذَابِ قَلِيلًاۚ إِنَّكُمۡ عَآئِدُونَ
ہم تھوڑے عرصہ کے لئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن تم اپنے کاموں کی طرف لوٹ جاتے ہو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 16 کے تحت ملاحظہ کریں۔

16
44:16
يَوۡمَ نَبۡطِشُ ٱلۡبَطۡشَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ
ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لیں گے جس دن سخت گرفت کریں گے ،یقیناً ہم ان سے بدلہ لے کر رہیں گے۔

تفسیر جب ہولناک دھواں آسمان پر چھا جائے گا

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں اس بات کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی کہ اگر وہ یقین کے خواہاں ہیں، تو یقین کے حصول کے اسباب بہت ہیں اور فراہم بھی ہیں۔ زیر تفسیر آیات میں سے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: وہ یقین اور حق کے طلب گار نہیں ہیں "بلکہ وہ تو شک میں پڑے (حقائق کے ساتھ) کھیل رہے ہیں۔" (بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ)۔ اگر وہ اس آسمانی کتاب اور آ پ کی نبوّت کی حقّانیت میں شک کرتے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ ہے، بلکہ اس لیے شک کرتے ہیں کہ اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے، بلکہ ہنسی مذاق میں بات کو ٹال دیتے ہیں کبھی تو اس کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کبھی از خود تجاہل عارفانہ کا اظہار کرتے ہیں اور نٹ نئے کھیل میں لگے رہتے ہیں۔ " يَلْعَبُونَ"، "تعاب"کے مادہ سے ہے جس کا معنی "مفرادت" میں "راغب"کے بقول وہ "لعاب دہن" (تھوک) ہے جو منہ سے ٹپکتا ہے، چونکہ کھیل اور مذاق کے موقع پر انسان کا اپنے کام سے کوئی خاص مقصد پیشِ نظر نہیں ہوتا، لہذا اسے ایسی تُھوک سے تشبیہ دی گئی ہے جو انسان کے مُنہ سے ٹپکتی ہے۔ بہرحال، یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل پر سنجیدگی سے غور و خوض کو حقائق کی شناخت میں بہت مدد دے سکتا ہے اور غیر سنجیدہ طریقہٴ کار حقائق کے چہرے پر پردے ڈال دیتا ہے۔ بعد کی آیت میں رسُولِ پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو مخاطب کرتے ہُوئے ان ہٹ دھرم اور سخت منکرین کو دھمکی دیتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اِس دن کا انتظار کرو کہ جس دن آسمان سے ظاہر دھواں نکلے گا (فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ)۔ ایسا دھواں جو تمام لوگوں کو ڈھانک لے گا (يَغْشَى النَّاسَ)۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ خدا کا درد ناک عذاب ہے۔ (هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔ وحشت اور اضطراب ان کے تمام وجُود کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، ان کی آنکھوں سے تمام پردے ہٹا دیئے جائیں گے، اور وہ اپنی عظیم غلطیوں سے واقف ہو جائیں گے، بارگاہ ایزادی کی طرف رجوع کر کے کہیں گے: پروردگارا! ہم سے عذاب دُور کر دے کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ (رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ)۔ لیکن ان نابکاروں کے اس دعوے کی تردید کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: وہ کس طرح سے اور کہاں نصیحت حاصل کریں گے جب کہ ان کے پاس روشن معجزات اور دلائل کے ساتھ رسُول آ چکا ہے (أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ)۔ ایسا پیغمبر جو خود بھی ظاہر اور آشکار تھا اور اس کی تعلیمات، پروگرام، دلائل اور معجزات بھی واضح تھے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے، خداوند واحد لاشریک کی ذات پر ایمان لے آتے اور اس کے احکام کو جان و دِل سے قبول کرتے،" اس سے روگردان ہو کر کہنے لگے یہ تو دیوانہ ہے جِسے دوسرے لوگ ایسی باتیں سکھاتے پڑھاتے ہیں" (ثُمَّ تَوَلَّوْاعَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ)۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ ایک "رُومی غلام" انبیاء کے قِصّے کہانیاں سُن کر انہیں بتاتا ہے اور یہ آیات انہی قصّوں کی بنیاد پر گھڑی گئی ہیں، خداوند عالم اس بارے میں فرماتا ہے: "وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ، إِنَّما يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَ هذا لِسانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ" "ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بشر اسے تعلیم دیتا ہے، حالانکہ جس شخص کی طرف یہ الحادی نسبت دیتے ہیں، اس کی زبان عجمی ہے اور اس کی زبان واضح اور کھُلم کھُلاّ عربی ہے۔" (نحل۔ ۱۰۳) کبھی کہتے تھے کہ ان کے حواس مختل ہیں اور اسی اختلال کے سبب ان سے یہ باتیں سرزد ہو رہی ہیں، یعنی وہ دماغی توازن کھو چکے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: ہم تھوڑے سے عرصے کے لیے تم سے عذاب کو ٹال دیتے ہیں، لیکن تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور پھر اپنے کاموں کی طرف لوٹ جاتے ہو إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ)۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کبھی وہ عذاب کے چنگل میں پھنس جاتے تو اپنے کئے پر اظہار ندامت کرتے اور اپنی کرتوتوں پر نظر ثانی کرنے کی ٹھان لیتے جو عارضی ہوتی تھی، لیکن جونہی طوفان حوادث تھم جاتا تو وہ اپنی سابقہ کرتوتوں میں لگ جاتے۔ زیر تفسیر آیت میں سے آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم ان سے پُورا بدلہ تو اس عظیم اور سخت سزا کے دن لیں گے، یقینا ہم بدلہ لے کر رہیں گے (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُونَ)۔ (تشریحی نوٹ: اس جُملے کی ترکیب میں بہت سے احتمال پیش کیے گئے ہیں، جس احتمال کو اکثر مفسرین نے قبول کیا ہے اور آیت کے انداز سے بھی مطابقت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ "یوم" کا کلمہ "ننتقم" فعل سے متعلق ہے جو "افا مُنتَقِمُون"کے جُملہ سے سمجھا جاتا ہے، بنابریں، اس کی تقدیر صُورت یہ ہو گی)۔ "نَنتَقِمُ مِنھُم يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنتَقِمُون" "بَطش" (بروزن "نقش") کا معنی کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہے، یہاں پر سخت سزا کے لیے گرفت میں لینے کے معنی میں ہے اور "بطشة" کو "کبرٰی" سے موصوف کرنا اس سزا کی شدت اور سنگینی کی طرف اشارہ ہے، جو ان لوگوں کے انتظار میں ہے۔ خلاصہ یہ کہ بالفرض اگر ان کی عارضی سزا میں کمی واقع ہو جائے یا عارضی طور پر ختم ہو جائے تو شدید اور سخت ترین سزا اِن کے انتظار میں ہے، جس سے راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔ " مُنتَقِمُونَ"، "انتقام" کے مادہ سے ہے، جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں اس کے معنی سزا دینا ہے، اگرچہ یہ کلمہ آج کل کے روز مرّہ کے استعمال میں ایک اور معنی اختیار کر چکا ہے اور وہ ہے غصّے کی آگ بجُھانے اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے سزا دینا، لیکن اس کے لغوی معنی میں یہ چیزیں نہیں پائی جائیں۔

"دخان مبین" سے کیا مراد ہے؟

ان آیات میں مذکور "دخان" (دھویں) سے کیا مراد ہے جو عذابِ الہٰی کی ایک علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ ان میں سے دو نظریے اہم ہیں: ۱۔ اس سزا کی طرف اشارہ ہے، جس میں کفار قریش پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مبتلا ہُوئے تھے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں نفرین اور بددُعا کی تھی اور کہا تھا: "اللّهم سنین کسنی یوسف" "خداوندا! انہیں یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی اور خشک سالی میں مبتلا فرما۔" اس کے بعد قحط سالی مکّہ کے اطراف میں ایسی حکم فرما ہوئی کہ مکّہ کے لوگ بھُوک اور پیاس کی شدت میں مبتلا ہو گئے اور اس ابتلا کے دور میں جب بھی وہ آسمان کی طرف نگاہ کرتے تو انہیں ہرطرف دھواں ہی دھواں دکھائی دیتا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ مردار اور مردہ جانوروں کی ہڈیاں تک کھانے پر مجبُور ہو گئے۔ وہ پیغمبر گرامی قدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے۔ "محمد" صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہی تو ہمیں صلہٴ رحمی کا حُکم دیتے ہیں، جب کہ آپ ہی کے رشتہ دار اس صورتِ حال کی وجہ سے فنا و برباد ہو رہے ہیں، (اگر یہ عذاب ہم سے برطرف ہو گیا تو ہم یقینا ایمان لے آئیں گے)۔ آنحضرت نے ان کے حق میں دُعا کی، نعمت کی فراوانی انہیں نصیب ہوئی اور عذاب ان سے دُور ہو گیا، لیکن انہوں نے اس ماجرے سے بھی عبرت حاصل نہیں کی اور اپنی اصلی حالت (کُفر) کی طرف پلٹ گئے۔ (بحوالہ: مجمع البیان جلد۹ ص۶۲ انہی آیات کے ذیل میں) اسی تفسیر کے مطابق حقیقت میں دھویں کا کوئی وجود نہیں تھا، بلکہ بُھوکے پیاسے لوگوں کی نگاہوں میں آسمان سیاہ اور تاریک ہو گیا تھا، اسی لیے اس مقام پر "دخان" مجازی حیثیت رکھتا ہے اور اس سخت اور وحشت ناک حالت کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ نبیادی طور پر عربی ادبیات میں "دخان" عمومی مصیبت اور بلا کے لیے کنایہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: فخر رازی کہتے ہیں "إنَّ العربَ يسمون الشّر الغالب بِالدّخانِ" (جلد ۲۷ ص ۲۴۲)۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ خشک سالی اور بارش کی کمی کی وجہ سے عام طور پر سیاہ اور و بیزگرد و غبار آسمان پر چھا جاتا ہے، جِسے "دخان" سے تعبیر کرتے ہیں، کیونکہ بارش ہی گردد و غبار کو فرد کر کے فضا کو صاف و شفاف بناتی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح المعانی، جلد ۲۵، ص ۱۰۷)۔ مذکورہ تمام اوصاف کے پیشِ نظر اس تفسیر کے مطابق "دخان" کے کلمہ کا معنی مجازی ہو گا۔ ۲۔"دخان مبین" سے مراد وہ گہرا دھواں ہے جو کائنات کے خاتمے اور قیامِ قیامت سے پہلے تمام آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور یہی چیز دُنیا کے اختتام اور ظالموں اور مفسدین کے لیے عذابِ الیم کے آغاز کی نشانی ہو گی۔ ایسے موقع پر ظالموں کا یہ ٹولہ خواب غفلت سے بیدار ہو گا اور عذاب دُور کرنے اور دُنیا کی معمُول کی زندگی کی طرف بازگشت کی درخواست کرے گا، جو قبول نہیں کی جائے گی۔ اس تفسیر کے مطابق "دخان" کا حقیقی معنی مراد ہے اور ان آیات کا مضمُون بھی وہی ہے جو دوسری قرآنی آیات کا ہے کہ قیامت کے قریب کے زمانے میں یا خود قیامت کے دن گناہگار اور کافر لوگ عذاب کے برطرف ہونے اور دُنیا میں لوٹ جانے کی درخواست کریں گے لیکن ان کی یہ درخواست مسترد کر دی جائے گی۔ (تشریحی نوٹ: اس بارے میں سورہٴ انعام کی آ یات ۲۷ تا ۳۰ کی طرف رجُوع فرمائیں)۔ اس تفسیر کے مطابق ایک مشکل باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ تفسیر "ٕإِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ" (ہم تھوڑا سا عذاب برطرف کریں گے، لیکن تم لوگ پھر اپنی کارستانیوں کی طرف لوٹ جاؤ گے) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ دُنیا کے خاتمے یا قیامت کے دن خدا کا عذاب کم نہیں ہو گا کہ وہ لوگ کُفر یا گناہ کی حالت کی طرف پلٹ جائیں۔ لیکن اگر اس جُملے کا ایک قضیہ شرطیہ کی صُورت میں معنی کریں، ہر چیز کہ تھوڑا سا ظاہر میں تو مخالفت ہو گا، لیکن یہ مشکل ضرور برطرف ہو جائے گی کیونکہ آیت کا مفہوم یوں ہو گا۔ "جب ہم ان سے تھوڑا سا عذاب برطرف کریں گے تو وہ اپنی پہلی راہ روش کو دوبارہ اختیار کر لیں گے" جو درحقیقت، سورہٴ انعام کی ۲۸ ویں آیت کے مانند ہو جائے گا، جس میں کہا گیا ہے۔ "وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ " "اگر وہ دُںیا کی طرف لوٹا بھی دیئے جائیں تو جن اعمال سے انہیں روکا گیا تھا، ان کا ارتکاب کریں گے۔" اس کے علاوہ "الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى" (سخت اور شدید سزا) کی جنگِ بدر کے واقعے سے تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے، جبکہ یہ تعبیر قیامت کی سزاؤں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ (تشریحی نوٹ: ۔ راغب اپنی کتاب "مفردات" میں کہتے ہیں۔ "ألبَطش ھو تناول الشّیء بصولة۔" بطش کا معنی کسی چیز کو پوری طاقت سے پکڑنا ہے۔ جو عام طور پر سزا دینے کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے)۔ دُوسر ی تفسیر کا ایک اور شاہد وہ روایات ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں اور جن میں "دخان" کی تفسیر اس دھویں سے کی گئی ہے جو قرب قیامت کے زمانہ میں تمام دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، مثلاً جناب حذیفہ یمانیؒ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: "چار چیزیں قربِ قیامت کی علامات ہیں، پہلی دجال کا ظاہر ہونا، دوسری عیسیٰ السلام کا نازل ہونا، تیسری سرزمین عدن کی گہرائیوں سے آگ اُٹھنا اور چوتھی دھواں۔ حذیفہ نے پوچھا یا رسُول اللہ! وہ "دخان" (دھواں) کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آ یت تلاوت فرمائی۔ "فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ" پھر فرمایا: " يَملأ ما بينَ المشرق وَالمغرب، يمكث أربعين يومًا وَليلة، أما المؤمن فيصيبه منه كهيئة الزكمة، وَأَما الكافر بمنزلة السكران يخرج من منخريه و أذنيه ودبره ۔" "وہ مشرق اور مغرب کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور چالیس شبانہ روز چھایا رہے گا، مُومن کی یہ حالت ہو گی جیسے کسی کو زکام ہوتا ہے، اور کافر کی حالت یہ ہو گی جیسے کوئی مدہوش ہوتا ہے۔ دھواں اس کی ناک کے نتھنوں، کانوں اور پیچھے سے باہر نکلتا ر ہے گا۔" (بحوالہ: تفسیر درمنثور جلد ۶، ص ۲۹)۔ ایک اور روایت میں ابو مالک اشعری رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: " إنّ ربّكم أنذركم ثلاثا: الدخان يَأخُذُ المؤمن مِنه كالزكمة، و يَأخُذ الكافر فينفخ حتّى يخرج من كلّ مسمع منه، والثّانية الدّابة، والثّالثة الدّجال ۔" "تمہارے پروردگار نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا ہے، ایک تو "دخان" (دھواں) ہے جس کی وجہ سے مومن کو زکام جیسی تکلیف ہو گی اور کافر کا تمام جسم پُھول جائے گا اور دھواں اس کے تمام مشامِ بدن سے باہر نکلے گا، دوسرے دابة الارض ہے اور تیسرے دجال ہے۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد ۶، ص ۲۹)۔ "دابة الارض" کے بارے میں سُورہٴ نمل کی آیت ۸۲ کے ذیل میں (تفسیر نمونہ جلد ۱۵ میں) تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ "دخان" کے بارے میں ابو سعید خدری(رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اسی کی ایک اور روایت بھی بیان کی ہے۔ (بحوالہ: تفسیر درمنثور، جلد ۶، ص ۲۹)۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعہ سے نقل ہونے والی روایات میں بھی اسی قسم کی تعبیر ملتی ہیں، بلکہ اس سے زیادہ مفصّل جن میں سے ایک وہ رایت بھی ہے جو امیر المومنین علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے بیان کی ہے آپ فرماتے ہیں: "عشر قبل الساعة لا بدّ منها: السفيانى، و الدجال، والدخان، والدّابة، وخروج القائم (ع)، وطلوع الشمس من مغربها، و نزُولُ عيسٰى، وخسف بالمشرق وخسف بجزيرة العرب، ونار تخرج من قعرعدن تسوق الناس الى المحشر ۔" "قیامت سے قبل دس نشانیاں ہر صُورت میں ظاہر ہو رہیں گی: سفیانی، دجال، دخان، (دھواں)، دابة الارض، قیامِ مہدی علیہم االسلام مغرب سے سُورج کا طُلوع، عیسیٰ کا نزول، مشرق زمین پر ایک زلزلہ جس سے زمین دھنس جائے گی، جزیرة العرب میں بھی اسی نوعیت کا زلزلہ اور سرزمینِ عدن کی گہرائیوں سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر عرصہ محشر میں لے آ ئے گے۔ (بحوالہ: بحار الانوار، جلد ۵۲، ص ۲۰۹)۔ مجموعی گفتگو سے نہ نتیجہ نکلا کہ دوسری تفسیر زیادہ مناسب ہے۔

17
44:17
۞وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی کہ ان کے پاس ایک پیغمبر بزرگوار آیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

18
44:18
أَنۡ أَدُّوٓاْ إِلَيَّ عِبَادَ ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
(اور اس نے کہا) اے خدا کے بندو! جس چیز کا حکم ملا ہے اسے بجا لاؤ اور میرے سامنے سر تسلیم خم کرو کہ میں تمہارے لئے رسول امین ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

19
44:19
وَأَن لَّا تَعۡلُواْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنِّيٓ ءَاتِيكُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
اور خدا کے سامنے تکبر نہ کرو، کیونکہ میں تمہارے پاس ایک واضح اور روشن دلیل لے کر آیا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

20
44:20
وَإِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمۡ أَن تَرۡجُمُونِ
نیز اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو، میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 21 کے تحت ملاحظہ کریں۔

21
44:21
وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم مجھ سے کنارہ کشی کر لو۔

تفسیر خود ایمان نہیں لاتے تو دوسروں کو تو نہ روکو

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں مشرکینِ عرب کی سرکشی اور حق کے آگے ان کے نہ جھکنے کا ذکر تھا ان آیات میں گزشتہ امتوں کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے کہ جنہوں نے اسی راستے کو اختیار کیا جس کے نتیجہ میں وہ دردناک عذاب کا شکار اور شکست فاش سے دوچار ہُوئے تاکہ جہاں پر یہ بات مومنین کے دل تسلّی کا باعث ہو وہاں پر ہٹ دھرم منکرین کے لیے تنبیہ اور تہدید بھی بن جائے۔ اور وہ ہے مُوسیٰ اور فرعون کی داستان، جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اور اُن سے پہلے ہم نے قومِ فرعون کی آزمائش کی (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ)۔ "فتنا" کا کلمہ "فتنہ" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے کندن بنانے کے لیے سُونے کوآگ کی بھٹی میں ڈالنا، بعد ازاں انسان کے خلوص کی ہر گونہ آزمائش و امتحان پر اس کا اطلاق ہونے لگا، ایسی آزمائش جو تمام انسانی زندگی اور انسانی معاشروں پر محیط ہے، باالفاظ دیگر انسان کی زندگی کا تمام دورانیہ انہی آزمائشوں اور امتحان میں گزرتا رہتا ہے، کیونکہ یہ دُنیا ہے ہی امتحان کا گھر۔ قومِ فرعون ایک طاقت ور حکومت، بے پناہ دولت اور بے اندازہ وسائل کا مالک ہونے کی وجہ سے نہایت شان و شوکت کی زندگی بسر کر رہی تھی، اسی شان و شوکت نے اسے مغرور بنا دیا اور وہ مختلف گناہوں اور ظلم و ستم کا ارتکاب کرنے لگی۔ "اسی اثنا میں ان کے پاس ایک بزرگوار رسُول آیا (وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ)۔ "اخلاق و اوصاف کے لحاظ سے "کریم" بارگاہِ حق میں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے "کریم" نسب کے لحاظ سے "کریم" اور یہ رسُول جناب موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ (تشریجی نوٹ: مفرداتِ راغب میں کے مطابق لفظ "کریم" جب خدا کی صفت کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا معنٰی ظاہر بظاہر انعام و احسان ہوتا ہے اور جب کسی انسان کی صفت کے لیے استعمال ہو تو اس کا معنی جسن اخلاق اور اعمال حسنہ ہوتا ہے، جوانسان سے ظاہر ہوتے ہیں، البتہ قرآن مجید میں یہ لفظ دوسری چیزوں کی صفت کے طور پر بھی آ یا ہے۔ جیسے کتاب کریم، کلّ زوج کریم،رزق کریم، مقام کریم، اورأجر کریم وغیرہ)۔ مُوسیٰ علیہ السلام نے نہایت سُلجھے ہُوئے انداز میں اور سنجیدہ لہجے میں، دِل پذیر اور محبت بھرے انداز سے انہیں مخاطب کرتے ہُوئے فرمایا: میرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ اے خدا کے بندو ! میرے سامنے سر تسلیم خم کرو اور جس چیز کا تمہیں حکم ملا ہے اسے ادا کرو کہ میں اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ (أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ)۔ (تشریحی نوٹ: "أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ" میں لفظ "أَنْ" اس فعل مقدر کی تفسیر ہے جو اس سے ماقبل کلام سے سمجھا جاتا ہے اور وہ تقدیر یُوں ہے "جئتکم أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ")۔ اس تفسیر کے مطابق "عباداللہ" مخاطب ہے اور اس سے مراد قومِ فرعون ہے، اگرچہ قرآنی آیات کی رُو سے یہ تعبیر خدا کے نیک بندوں کے بارے میں استعمال ہوئی ہے، لیکن بہت سے مقامات پر کفار اور گناہگاروں کی دل جوئی اور ان کی حق کی طرف تالیف قلب کے لیے بھی یہ کلمہ استعمال ہوا ہے ( ۳)۔ (تشریحی نوٹ: ۔جیسے سُورہٴ فرقان آ یت ۱۷، سُورہٴ سبا آیت ۱۳ اور سورہٴ فرقان آیت ۵۸ وغیرہ)۔ بنابریں، "أَدُّوا" (ادا کرو ) سے مراد فرمانِ الہٰی کی اطاعت اور اس کے احکام کی بجا آوری ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر کی ہے اور کہا ہے کہ "عباداللہ" سے مراد "بنی اسرائیل" میں اور"أَدُّوا" سے مراد انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سُپرد کرنا اور انہیں قید و بند سے آ زاد کرنا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے سُورہٴ شعرا کی ۱۷ ویں آیت میں مذکوُر ہے۔ "أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ" "میری تجویز یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔" (یہی بات سورہٴ اعراف کی ۱۰۵ ویں اور سُورہٴ طٰہٰ کی ۴۷ ویں آیت میں بھی بیان ہوئی ہے)۔ لیکن جو چیز اس تفسیر سے ہم آہنگ نہیں وہ لفظ " أَدُّوا" جو عام طور پر مال، امانتوں اور فرائض کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ افراد سپُرد کرنے کے لیے۔ اس کلمہ کے استعمال سے اس کا موضوع بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ بہرحال، آیت کے آخر میں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہُوئے فرماتے ہیں: "میں تمہارا ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔" (إِنِّی لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ)۔ یہ تعبیر درحقیقت، ان ناجائز االزامات کی پیش بندی کے طور پر ہے جو فرعونیوں نے ان پر لگائے تھے، مثلاً جادو گری، جاہ و منصب اور سرزمین مِصر میں اپنی حکومت کا قیام، نیز اس سرزمین کے اصل باشندوں کو باہر نکل دینے کا قصد وغیرہ، ان الزامات کے بارے میں مختلف آیاتِ قرآنی میں اشارہ ہوا ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام انہیں اطاعت خداوندی کی دعوت یا بنی اسرائیل کی رہائی کی پیش کش کے طور پر فرماتے ہیں: میں اس بات پر بھی مامور ہوں کہ تمہیں یہ بتاؤں کہ “خدا کے سامنے سرکشی اور تکبّر نہ کرو، اپنی حدود میں رہو، کیونکہ میں تمہارے لیے ایک واضح اور روشن دلیل لے کر آیا ہوں” (وَأَنْ لَّا تَعْلُوا عَلَى اللهِ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ)۔ واضح معجزات بھی اور کھلم کھُلا منطقی دلائل بھی۔ خدا کے سامنے "علو" نہ کرنے سے مراد ہر قسم کا وہ عمل ہے جو بندگی کے اصولوں کے منافی ہے۔ خواہ وہ خدا کی مخالفت اور نافرمانی ہو یا خدا کے رسُول کی ایذاء رسانی ہو یا خدائی کا دعویٰ ہو، سب اسی زمرے میں آ جاتے ہیں۔ چونکہ دُنیا پرست مستکبرین جب اپنے ناجائز مفادات پر زد پڑتی دیکھتے ہیں تو کسی قسم کی تہمت، الزام تراشی، ناروا باتوں، حتی کہ قتل اور موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی نہیں چوکتے، اسی لیے مُوسیٰ علیہ السلام نے حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی سے کہہ دیا کہ اس بات سے کہ تم مُجھے مہتّم یا سنگسار کرو میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں (وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ)۔ ممکن ہے یہ بات اس چیز کی طرف بھی اشارہ ہو کہ مجھے تمہاری دھمکیوں کی پرواہ نہیں ہے اور میں آخر دم تک اپنے موقف پرٖ ڈٹا ہوا ہوں، خدا میرا محافظ اور نگہبان ہے۔ اس قسم کی تعبیر خدائی رہبروں کے عزم اور حوصلے کو تقویت پہنچاتی، دشمنوں کے حوصلوں کو پست کرتی، اور دوستوں کے عزم و استقلال میں اضافے کا موجب بنتی ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا قائد اور رہبر آخری سانس تک اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا۔" "رجم" (سنگسار) کی بات شاید اس لیے کی گئی ہے کہ موسٰی علیہ السلام سے قبل بہت سے انبیاء کو "رجم" کی دھمکی دی گئی تھی۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بارے میں ہے: " قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ " "وہ کہنے لگے: اے نوح علیہ السلام!اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو تمہیں سنگسار کر دیا جائے گا۔" (شعراء، ۱۱۶)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آذر نے سنگسار کرنے کی دھمکی دیتے ہُوئے کہا: "لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ" "اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر دُوں گا۔" (مریم، ۴۶)۔ جناب شعیب علیہ السلام کو بُت پرستوں نے دھمکی دیتے ہُوئے کہا۔ "وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ" "اگر تیرے قبیلے کا پاس نہ ہوتا تو تجھے سنگسار کر دیتے۔" ( ھود، ۹۱)۔ موت کی تمام سزاؤں میں سنگساری کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ سزا ہوتی ہے۔ بعض ارباب لُغت کے بقول "رجم" کاکلمہ مطلقاً قتل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بہت سے مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ "رجم" کا معنی کسی کو مہتم کرنا، کسی پر الزام لگانا اور کسی کو گالی دینا ہے، کیونکہ یہ لفظ اسی معنی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں پر اس کا استعمال درحقیقت، ان الزامات کی پیش بندی ہے جو بعد میں مُوسیٰ پر لگائے گئے۔ اس کلمے کا استعمال وسیع صُورت میں دونوں معانی کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سِلسلے کی آخری آیت میں حرفِ آخر کے طور پر جناب موسیٰ علیہ السلام انہیں فرماتے ہیں: اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم مجھے چھوڑ دو، مجھ سے دُور ہو جاؤ اور دوسر ے لوگوں کو ایمان لانے سے نہ روکو (وَإِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ)۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پوری طرح مطمئن تھے کہ وہ اپنے واضح اور آشکار معجزات، پختہ دلائل اور خدا کے پکے وعدوں کی وجہ سے مختلف لوگوں میں اپنے مشن کو جاری رکھیں گے اور اپنے انقلاب کو ساحِل کامرانی سے ہم کنار کر دیں گے اسی لیے انہوں نے اپنے یقین کی بناء پر ان لوگوں سے کہا کہ میرے لیے سدّراہ نہ بنو اور میرے رستے میں روڑے نہ اٹکاؤ۔ لیکن کیا یہ بات ممکن ہے کہ مغرور اور سرکش ظالم اور جابر لوگ جو اپنی شیطانی طاقتوں اور ناجائز مفادات کو خطرے میں پڑتا دیکھتے ہیں وہ خاموشی سے بیٹھ جاتے ہیں اور اس قسم کی پیشکش کو فوراً قبول کر لیتے ہیں؟ آئیندہ آیات یہی ماجرا بیان کرتی ہیں۔

22
44:22
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ
(موسیٰ نے)اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

23
44:23
فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(موسیٰ کو خدا کا حکم ملا) تو میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جا،جبکہ وہ تیرے پیچھے آئیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

24
44:24
وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ
(جب تو دریا کوعبور کرلے تو) دریا کو کھلا اور ٹھہرا ہوا رہنے دے کہ وہ غرق ہونے والا لشکر ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

25
44:25
كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
وہ لوگ کتنے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

26
44:26
وَزُرُوعٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
کھیتیاں اور دلکش وگراں قیمت محلا ت۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

27
44:27
وَنَعۡمَةٖ كَانُواْ فِيهَا فَٰكِهِينَ
اور دوسری بہت سی نعمتیں جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

28
44:28
كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ
یہ تھا ان کا ما جرا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا دوسرے لوگوں کو وراث بنادیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 29 کے تحت ملاحظہ کریں۔

29
44:29
فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
نہ تو آسمان نے ان پرگر یہ کیا اور نہ ہی زمین نے اور نہ انہیں مہلت ہی دی گئی۔

تفسیر محلات، باغات اور خزانوں کو چھوڑ کر چلے گئے

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

حضرت موسیٰ علیہ السلام ان مجرموں کے تاریک دلوں میں اثر پیدا کرنے کے لیے ہدایت کے تمام وسائل بروئے کار لائے لیکن فرعونیوں میں ان کا ذرہ بھر بھی اثر نہ ہوا، ہر ایک کا در وازہ کھٹکھٹایا لیکن کہیں کچھ شنوائی نہ ہوئی۔ اسی لیے وہ ان سے مایُوس ہو گئے اوران پر نفرین کے علاوہ انہیں اور کوئی رستہ دکھائی نہ دیا، کیونکہ جس فاسد قوم کی ہدایت کی کوئی امید باقی نہ رہے، نظامِ آفرینش میں اسے جینے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس کے لیے صرف ایک ہی راہ ہوتی ہے کہ اس پر عذابِ الہٰی نازل ہو کہ جو اس کا ستیاناس کر کے اس کے ناپاک وجُود کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دے۔ اسی لیے زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: موسیٰ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یہ مجرم اور گناہگار لوگ ہیں (فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ)۔ کیسی عمدہ بد دعا ہے؟ مُوسیٰ علیہ السلام یہ نہیں کہتے کہ خدایا ان کے ساتھ یہ کر اوروہ کربلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ یہ مجرم لوگ ہیں ان کی ہدایت کی کوئی امید باقی نہیں رہ گئی۔ خدا نے بھی ان کی دُعا قبول فرمائی اور فرعونیوں پر عذاب کے نزُول اور بنی اسرائیل کی اس عذاب سے نجات کے مقدمے کے طور پر مُوسیٰ کو حُکم دیا: تو میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جا، کیونکہ فرعون اور اس کے لشکر والے تمہارے پیچھے آئیں گے (فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ)۔ لیکن گھبراؤ نہیں! ضروری ہے کہ تمہارا پیچھا کریں تاکہ اس انجام کو دیکھ لیں، جس کے وہ منتظر ہیں۔ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ راتوں رات خدا کے مومن بندوں یعنی بنی اسرائیل کو کہ جو ان پر ایمان لا چکے تھے اور کچھ دوسرے مصریوں کو جو ایمان لانے پر آمادہ تھے اور ان کی آ واز پر لبیک کہہ چکے تھے، اپنے ساتھ لے کر چل پڑیں اور نیل کے ساحل پر پہنچ جائیں اور معجزانہ طریقے پر دریائے نیل کو عبور کرکے اپنی موعود سرزمین یعنی فلسطین، پہنچ جائیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے رات کو یہ سفر اختیار کیا، لیکن یہ بھی مسلّم ہے کہ اتنی بڑی تعداد کا سفر اختیار کرنا زیادہ عرصے تک فرعونیوں کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا، شاید اس واقعے کو چند ہی گھنٹے گزرے ہوں گے فرعون کے جاسوسُوں نے اُسے اس عظیم واقعے یا باالفاظِ دیگر "غلاموں کے اجتماعی فرار" کی خبر پہنچا دی، فرعون نے حکم دیا کہ ایک عظیم لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا جائے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام مطالب اور یہ سب کچھ مندرجہ بالا آیت میں ایک نہایت ہی مختصر سے جُملے میں بیان کر دیا گیا ہے اور وہ ہے: " إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ۔" "تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔" جو کُچھ یہاں پر اختصار کے لیے حذف ہوا ہے وہ قرآن کی دوسری آیات میں مختصر عبارتوں کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جیسے کہ سُورہٴ طٰہٰ کی ۷۷ ویں آیت ہے۔ "وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَى" "ہم نے مُوسیٰ کو وحی کی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات باہر لے جا اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ کھول، نہ تو تجھے دشمن کے تعاقب کا خوف ہو گا اور نہ ہی غرق ہونے کا خدشہ۔" پھر زیرِ تفسیر آیات میں بیان فرمایا گیا ہے:جب تم سلامتی کے ساتھ دریا کو عبور کر لو تو دریا کو کھلا اور ٹھہرا ہوا رہنے دو (وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا)۔ ان آیات میں دریا سے مراد وہی عظیم دریائے نیل ہے۔ مفسرین کرام اور اربابِ لغت نے "رھو" بروزن "سہو")کے دو معانی ذکر کیے ہیں، ایک معنی ہے "ٹھہرا ہوا" اور دوسرا "کھُلا ہوا" اس مقام پر دونوں معانی کو جمع کر دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم کیوں دیا گیا؟ تو یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جناب مُوسیٰ اور بنی اسرائیل تو یہ چاہتے تھے کہ جب وہ اس دریا سے گزر جائیں تو فوراً دونوں طرف کا پانی آپس میں مِل جائے اور یہ خشکی کا راستہ فوراً بھر جائے، تاکہ وہ جلدی اور سلامتی کے ساتھ لشکرِ فرعون سے دُور ہو جائیں اور موعود سرزمین کی طرف چل پڑیں، لیکن انہیں حُکم ملتا ہے کہ دریا کہ عبور کرتے وقت جلد بازی سے کام نہ لیں اور دریا کو اسی حال پر رہنے دیں، تاکہ فرعون اور اس کی فوج کا آخری شخص تک اس میں داخل ہو جائے،کیونکہ نیل کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کو ان کی تباہی اور بربادی کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اسی لیے آ یت کے آخر میں ارشاد فر مایاگیاہے : وہ سب غرق شدہ لشکر ہیں (إِنَّهُمْ جُندٌ مُغْرَقُونَ)۔ خدا کا یہ حتمی فرمان ان مغرور اور سرکش لوگوں کے بارے میں ہے کہ انہیں نیل کے اس عظیم دریا میں غرق ہونا چایئے جو اُن کی ثروت اور طاقت کا سرچشمہ ہے اور جو ان کی زندگی اور حیات کا عامل ہے اسے ہی خدا کے ایک فرمان کے ذریعے موت اور تباہی و بربادی کا سبب بننا چاہیے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب فرعون اور اس کے لشکر والے نیل کے ساحل پر پہنچے تو اس وقت تک بنی اسرائیل و دوسرے کنارے سے دریا سے عبور کر چکے تھے، چونکہ اس قسم کے راستے کا نیل کے درمیان میں نمودار ہونا ہر ابجد خواں بچّے کو خدا کے ایک عظیم معجزہ ہونے کی جانب متوجہ کرنے کے لیے کافی تھا لیکن غرور اور تکبّر نے ان عقل کے اندھوں کو اس کھلّم کھلا حقیقت کو سمجھنے کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی غلطی کو محسُوس کرتے اور خدا کی بارگاہ میں سر سجود ہو جاتے، شاید انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ نیل میں اس قسم کی تبدیلی بھی فرعون کے حکم سے عمل میں آئی ہے، اور شاید فرعون یہی بات اپنے پیروکاروں سے کہہ کر اس دریائی راستے پر چل پڑا اور اس کے پیروکاروں کا آخری فرد بھی اس کے پیچھے آ گیا، وہ سب کے درمیانی حِصّے میں پہنچ گئے تو اچانک نیل کی ٹھاٹھیں مارتی موجیں بوسیدہ عمارت کی طرح یک دم ان پر آ گریں اور سب کو دریا میں غرق کر دیا۔ ایک نکتہ جو ان آیات میں انسان کی توجہ اپنی جانب مبذُول کرواتا ہے وہ ان آیات کا نہایت ہی اختصار ہے اور وہ اپنے اس اختصار کے باوجود جامع بھی ہیں، کیونکہ ان اضافی جُملوں کو حذف کر دیا گیا ہے جو یا تو قرائن کی وجہ سے یا پھر دوسرے جُملوں کی وجہ سے سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ ایک مفصّل داستان کو تین آیتوں یا تین مختصر جُملوں میں بیان کیا جا رہا ہے اوروہ تین جُملے صرف یہی کہہ رہے ہیں کہ: "مُوسیٰ نے اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کی یہ لوگ مجرم ہیں۔" "اسے کہا گیا کہ میرے بندوں کو راتوں رات یہاں سے نکال لے جا کہ تمہارا تعاقب ہو گا۔" "دریا کو کھُلا اور ٹھہرا ہوا چھوڑ دے کہ وہ غرق شدہ لشکر ہیں۔" باوجودیکہ وہ ابھی غرق نہیں ہُوئے تھے ان کے لیے "غرق شدہ" کی تعبیر خدا کے اس فرمان کے قطعی اور حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کے غرق ہونے کے بعد کون کون سے عبرت انگیز واقعات رُونما ہوئے۔ قرآن کریم نے بعد کی آیات میں ان کی اس عظیم دولت کو پانچ موضوعات کی صُورت میں بیان کیا ہے جو ان کی تمام زندگی کی فہرست بنتی ہے اور وہ بنی اسرائیل کو میراث کو صُورت میں ملے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کتنے باغات اور چشمے چھوڑ کر چلے گئے (كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ)۔ باغات اورچشمے اُن کے تمام اموال میں زیادہ قیمتی اور نہایت اہم سرمایہ تھے کیونکہ نیل ہی کی بدولت مِصر کی سرزمین زرخیز اور ثمر آور تھی، ان چشموں سے مراد ممکن ہے وہ چشمے ہوں جو بعض پہاڑوں سے پُھوٹ کر زمینوں کو سیراب کیا کرتے تھے یا پھر وہ چھوٹے بڑے ندی نالے ہوں جو دریائے نیل سے نکالے گئے تھے اور ان کے سرسبز و شاداب اور خرم و آباد باغوں سے گزرتے تھے اور ان ندی نالوں پر "عین" (چشمے) کا اطلاق بعید نہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے: اور کھیتیاں اور دل کش، خوبصُورت اور گراں قیمت محلّات (وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ)۔ یہ دونوں بھی ان کا اہم سرمایہ تھے، عظیم ترکھیتی باڑی جس کی نیل کے پانی سے آ بپاشی کی جاتی تھی اور پُورے مصر کا اس پر دار و مدار تھا۔ انواع و اقسام کی اجناس کی پیدا وار اور دوسری زرعی چیزیں جن سے خود بھی استفادہ کرتے تھے اور دوسرے مُلکوں کو بھی برآمد کیا کرتے تھے اور پُورے مُلک کا اقتصادی نظام اسی زراعت کا مرہونِ منّت تھا۔ یہی حال اونچے محلات اور آبادیوں کا ہے، کیونکہ انسانی زندگی میں انہیں بھی بہت اہمیّت حاصل ہے۔ البتہ ان محلّات کا "کریم" اور قیمتی ہونا ظاہری نقطئہ نظر سے ہے اور خود ان کے اپنے نظریے کا بیان ہے، وگرنہ قرآنی منطق کی رُو سے تو اس قسم کے طاغوتی تھاٹھ باٹھ اور یادِ خدا سے غافل کرنے والے مکانات اور محلّات کی قسم کی "کریمی" کے حاصِل نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "مقامِ کریم" سے مراد جشن و شادمانی کی محفلیں ہیں اور وہ منبر ہیں جن پر قصیدہ خواں اور شعراء لوگ بیٹھ کر فرعون کی قصیدہ خوانی کرتے تھے، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔ چونکہ ان کے پاس مذکورہ چار اہم امور کے علاوہ بڑی مقدار میں حصُولِ نعمت کے اور بھی بہت سے وسائل تھے، جن کی طرف ایک مختصر سے جُملے میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور دوسری بہت سی نعمتیں جن میں عیش و عشرت کیا کرتے تھے اور ناز و نعمت کے ساتھ زندگی بسر کیا کرتے تھے (وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ)۔ (تشریحی نوٹ1: "نَعْمَةٍ" (نون پر زبر کے ساتھ) کا معنی حصُولِ نعمت ہے، اور ان کی زیر کے ساتھ ہو تو معنی نعمت کا بھیجنا ہے، یہ تصریح بیشتر مفسرین اور اربابِ لُغت کی ہے، جب کہ دوسرے مفسرین کا نظریہ ہے کہ دونوں کا ایک ہی معنی ہے اور ہر قسم کا اہم فائدہ اس کے مفہوم میں شامل ہے)۔ (تشریحی نوٹ2: "فاکِهینَ" کا معنی کبھی تو "فواکه" یعنی پھلوں سے استفادہ کرنے کے معنی میں آتا ہے اور کبھی فکاہی اور دل لگی کی باتوں کے معنی میں اور کبھی کبھی ہر قسم کی لذّت اُٹھانے اور نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، البتہ آخری معنی دوسرے تمام معنوں سے زیادہ جامع ہے)۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: جی ہاں! ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا اور ہم نے فرعون والوں کی تمام دولت و سلطنت اور اموال کا وارث دوسرے لوگوں کو بنا دیا (كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: "کَذلِکَ" مقتدائے محذوف کی خبر ہے اور اس کی تقدیر یُوں ہے، الامر کذالک" اور اس طرح کے الفاظِ تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بعض مفسرین نے اس کی ترکیب کے متعلق اور بھی کئی احتمالات کا ذکر کیا ہے)۔ "قومًا اٰخرین" سے مراد بنی اسرائیل ہیں کیونکہ سُورہٴ شعراء کی آیت ۵۹ میں اس بارے میں تصریح ہو چکی ہے اور لفظ، "إرث" سے اس بات کی طرف اشارہ مِلتا ہے کہ وہ کسِی دکھ درد اور تکلیف اُٹھائے اور خونِ جگر دیئے بغیر ان تمام اموال اور ثروت کے مالک بن گئے، جس طرح انسان کو کسِی تکلیف بغیر وارثت ملتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی آیت سے اور اس جیسی سُورہٴ شعراء کی آ یت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فرعون اور فرعون کے ساتھیوں کے غرق ہو جانے کے بعد بنی اسرائیل سرزمین مِصر کی طرف لوٹ آئے اور فراعنہ کی میراث کے وارث بنے اور وہیں پر اپنی حکومت قائم کی اور حالات کا رُخ بھی یہی بتاتا ہے کہ مصر میں فرعونیوں کے اقتدار اور حکومت کے خاتمے کے بعد موسیٰ علیہ السلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے تھے وہ مُلک کسی قسم کے سیاسی خلفشار کا شکار ہو جائے۔ لیکن یہ بات قرآن مجید کی ان تصریحات کے منافی نہیں ہے جن میں بتایا گیا ہے، جن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل، فرعون والوں کے چنگل سے آزاد ہو جانے کے بعد فلسطین کی موعود سرزمین کی طرف چل دیئے، جس کے واقعات بھی قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ ان میں سے کچُھ لوگ جن کے قبضے میں مِصر کی زمین آ چکی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نمائندوں کی حیثیت سے وہیں پر رہ گئے ہوں اور دوسرے بہت سے لوگ راہی دیارِ فلسطین ہو گئے ہوں۔ (اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لیے سُورہٴ شعراء کی ۵۹ ویں آیت کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی ۸ ویں جِلد کا مطالعہ فرمائیں)۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: نہ تو آسمان نے ان پر گریہ کیا اور نہ ہی زمین نے اور نہ ہی انہیں بلاؤں کے نازل ہونے کے وقت کوئی مہلت دی گئی (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ)۔ ان پر آسمان و زمین کے گریہ نہ کرنے سے شاید ان کی حقارت، اور ان کے لیے کسی دوست اور ہمدرد کا نہ ہونا مراد ہے کیونکہ عربوں یہ معمُول ہے کہ جب کسی پر واقع ہونے والی مصیبت کے موقع پر اس کے مقام کی عظمت اور اہمیّت کو جتلا چاہیں تو کہتے ہیں "اس پر آسمان و زمین روئے اور اس کے فقدار پر سُورج اور چاند تاریک ہو گئے۔" یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مُراد "زمین و آسمان والوں کا گریہ ہے" کیونکہ وہ مومنین اور خدا کے مقربین کے لیے گریہ کرتے ہیں نہ کہ فرعونیوں جیسے جابروں کے لیے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آسمان و زمین کا گریہ حقیقی گریہ ہوتا ہے جو ایک قسم کی تبدیل اور مخصوص سُرخی کی صُورت میں ظاہر ہوتا ہے (طلوع و غروب کے موقع پر رونما ہونے والی سُرخ کے علاوہ ). جیسا کہ ایک روایت میں ہے: "لما قتل الحسين بن على بن ابى طالب (ع) بكتِ السّماء عليه وبكائها حمرة اطرافها" "جب حسین علیہ السلام بن علی بن ابی طالب کو شہید کر دیا گیا توآسمان نے آ پ پر گریہ کیا اور یہ رونا ایک خاص سُرخ کی صُورت میں تھا جو اس کے کناروں پر نمایاں ہوئی۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے۔ "بكت السّماء على يحيىٰ بن زكريا، وعلى الحسين بن على (عليهما السلام) اربعين صباحًا، ولم تبك الّا عليهما، قلت وما بكائها قالت كانت تطلع حمراء وتغيب حمراء۔" آسمان یحییٰ بن زکریا علیہ السلام (جو اپنے زمانے کے طاغوت کے ہاتھوں نہایت ہی دردناک صورتِ حال شہید کے گئے) اور حسین بن علی علیہما السلام پر چالیس دن روتا رہا اور ان دونوں کے علاوہ کسی اور پر نہیں رویا، راوی نے کہا: میں نے امام سے پوچھا کہ آسمان کا رونا کِس قسم کا تھا؟ تو امام نے فرمایا: طلُوع اور غروبِ آفتاب کے وقت ایک خاص سُرخی آسمان پر ظاہر ہو جایا کر تی تھی۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان جلد ۹، ص ۶۵ (اسی آیت کے ذیل میں)۔ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے منقُول ایک اور حدیث ہے: "ما من مؤمن إلّا وله باب يصعد منه عمله و باب ينزل منه رزقه فاذا مات بكيا عليه۔" "کوئی مومن ایسا نہیں ہے جس کے لیے آسمان میں ایک دروازہ نہ ہو کہ جس سے اس کے اعمال اوپر جاتے ہیں اور ایک دروازہ ایسا ہے جس سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے۔ جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں دروازے اس پر گِریہ کرتے ہیں۔ (بحوالہ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۹، ص ۶۸)۔ ان روایات میں کسی قسم کا باہمی تضاد نہیں ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام اور حضرت یحییٰ بن زکریا کی شہادت کے بارے میں مسئلے کی عمومی حیثیت ہے کہ تمام آسمانوں نے ان پر گریہ کیا، جب کہ آخری روایت ایک خاص اور محدُود پہلو کی نشاندہی کرتی ہے ( ۷)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر "درمنثور" میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے، جس میں ان روایات کو جمع کی صُورت میں پیش کیا گیا ہے۔ (منقول از تفسیر المیزان، جلد ۸ ۱، ص ۱۵۱)۔ بہرصُورت ان تفاسیر کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے اور سب آیت کے مفہوم میں جمع ہو سکتی ہیں۔ ہاں البتہ! یہ بات یقینی ہے کہ ظالموں اور تباہ کاروں کی موت پر نہ تو چَشمِ فلک کو رونا آیا اور نہ ہی سُورج پژ مردہ ہؤا، کیونکہ وہ ایسے خبیث افراد تھے گویا ان کا کائنات اور عالم بشریت کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ جب عالم سے یہ بیگانے دھتکار دیئے گئے تو کسی کو بھی ان کی جُدائی کا صدمہ نہ ہؤا، نہ تو رُوئے زمین پر اور نہ ہی افلاک کی بلندیوں پر اور نہ ہی انسانی دِلوں کی گہرائی میں، اسی لیے کسی نے بھی ان کی مَوت پر ایک آنسُو تک نہیں بہایا۔ ہم ان آیات کے بارے میں امیرالمومنین علیہ السلام کی ایک روایت نقل کر کے اپنی بات ختم کرتے ہیں، روایت میں ہے کہ جب امیر المومنین علیہ السلام مدائن سے گزر رہے تھے تو آپ کا گُزر کسریٰ (نوشیر واں اور ساسانی بادشاہوں کے) آثار سے ہوا، آپ نے ان آثار کا مشاہدہ فرمایا جو گرنے کے بالکل و قریب تھے، تو آپ کے ہم رکاب لوگوں میں سے ایک شخص نے عبرت کے عنوان سے یہ شعر پڑھا: جرت الرياح على رسوم ديارهم فكأنّهم كانوا على ميعاد! "ہوائیں ان کی سر زمین کے باقی ماندہ آثار چلنے لگیں (اور ان کے محلّات سے سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے اور کُچھ سُنائی نہ دیا) گویا ان سب کی ایک وعدہ گاہ تھی جس کی طرف وہ روانہ ہو چکے ہیں۔" حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا تم نے اس شعر کے بجائے یہ آیت کیوں نہیں تلاوت کی: "كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ… فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ۔(بحوالہ: سفینة البحار، جلد ۲، ص ۵۳۱ (مادہ مون)۔

30
44:30
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
اور ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات دلائی،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

31
44:31
مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
(یعنی)فرعون سے کہ وہ ایک متکبر شخص اور حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

32
44:32
وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور ہم نے اپنے علم کی بناپر انہیں عالمین میں سے منتخب کیا اور برتری دی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 33 کے تحت ملاحظہ کریں۔

33
44:33
وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَـٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ
اور ہم نے انہیں اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں دیں کہ جن میں ان کی صریح آزمائش تھی۔

تفسیر بنی اسرائیل کی آزمائش:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں فرعونیوں کے غرق اور ہلاک ہونے اور ان کی شان و شوکت اور اقتدار کے کاتمے اور اقتدار اور شان و شوکت کا دوسروں کو منتقل ہونے کا تذکرہ تھا، زیر تفسیر آیات میں اس کے دوسرے پہلو یعنی بنی اسرائیل کی نجات کی بات ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کُن عذاب سے نجات دلائی (وَلَقَدْ نَجَّیْنا بَنی إِسْرائیلَ مِنَ الْعَذابِ الْمُهِین)۔ سخت اور طاقت فرسا جسمانی اور رُوحانی اذیتوں سے کہ جو ان کے دِل کی گہرائیوں میں اتر چکی تھی، یعنی نومولُود لڑکیوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور خدمت اور ہوس بازی کے لیے لڑکیوں کو زندہ رکھا جاتا تھا، ان سے بےگار لی جاتی تھی اور کس قدر درد ناک ہے ایسی قوم کا مقدر جواس قسم کے خونخوار اور دیو سیرت دشمن کے چنگل میں پھنس جائے۔ جی ہاں! خداوندِ عالم نے موسیٰ علیہ السلام کے بحکم خدا قیام اور تحریک کی وجہ سے اس مظلُوم قوم کی تاریخ کے سفاک ظالموں کے چنگل سے نجات بخشی لہٰذا اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے: "فرعون کے چنگل سے" (مِن فِرْعَوْنَ)۔ کیونکہ وہ ایک متکبر شخص اور حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا (إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِينَ)۔ یہاں پر "عالی" سے مراد مقام و منزلت کی سربلندی نہیں بلکہ اس کی برتری کی خواہش اور تجاوز اور اسراف میں بلندی ہے، جیسے کہ سُورہٴ قصص کی چوتھی آیت میں بھی آ چکا ہے: "إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ" "فرعون نے زمین میں برتری چاہی (اور یہ برتری کی خواہش اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کر ڈالا اور خود کو ربِّ اعلیٰ کہلانے لگا)۔ "مسرف"، "اسراف" کے مادہ سے ہے جو حد سے ہر قسم کے تجاوز کو کہتے ہیں، خواہ وہ اعمال میں ہو یا گفتار میں، اسی لیے قرآن مجید کی مختلف آیات میں تباہ کاروں کے بارے میں "مسرف" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو ظلم و فساد میں حد سے بڑھ گئے ہیں نیز مطلقاً گناہوں کو بھی "اسراف" کہا گیا ہے، جیسا کہ سورہٴ زمر کی ۵۳ ویں آیت ہے۔ " قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَحْمَةِ اللهِ" "کہہ دے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے آپ سے زیادتی کی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔" بعد کی آیت میں بنی اسرائیل پر خدا کی ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: ہم نے انہیں اپنے علم کی بناء پر اس زمانے کے عالمین پر برتری دی اور انہیں برگزیدہ کیا (وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ)۔ لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی قدر نہیں جانی، بلکہ کفرانِ نعمت کیا اور اپنے کیے کی سزا پائی۔ اس طرح سے وہ "اپنے زمانے کی برگزیدہ اُمّت" تھے، کیونکہ "عالمین" اُس دور کے لوگ ہیں نہ کہ تمام زمانوں کے لوگ، کیونکہ قرآن نے صاف طور پر سُورہٴ آل عمران کی ایک سو دسویں آیت میں اُمّتِ اسلامیہ سے خطاب کرتے ہُوئے فرمایا ہے: "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔۔۔" "تم بہترین اُمّت تھے، جنہوں نے لوگوں کے مفاد کے لیے عرصہٴ وجُود میں قدم رکھا۔" جس طرح کہ ان سر زمینوں کے بارے میں ہے جن کے بنی اسرائیل وارث ہُوئے، چنانچہ سُورہٴ اعراف کی ۱۳۷ ویں آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ "وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا" ہم نے اس مستضعف قوم کو بابرکت زمین کے مشارق و مغارب کا وارث بنایا۔ ظاہر سی بات ہے کہ بنی اسرائیل اس زمانے میں تمام دُنیا کے وارث نہیں بنے تھے بلکہ اُن کے اپنے علاقہ کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ البتہ بعض مفسرین اس بات کی معتقد ہیں کہ بنی اسرائیل میں بعض خصوصیات پائی جاتی ہیں جو تاریخی طور پر صرف انہی کے ساتھ مخصوص ہیں جن میں سے ایک، انبیاء کی کثرت بھی ہے، کیونکہ کسِی قوم میں سے اس قدر انبیاء علیہما السلام مبعُوث نہیں ہُوئے۔ لیکن یہ بات علاوہ اس کے کہ ان کی مطلق خصوصیّت ثابت نہیں کرتی، ان کی کسی قسم کی خصوصیّت بھی نہیں بن سکتی کیونکہ مُمکن ہے ہم ان میں سے کثیر تعداد میں ابنیاء کے قیام کو ان کی نہایت سرکشی اور ڈھٹائی کی دلیل سمجھیں، جیسا کہ جناب مُوسیٰ علیہ السلام کے قیام کے بعد والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کے ساتھ کیا کیا کُچھ کیا؟ بہرحال، ہم نے جو کچھ مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے، وہ ایسی چیز ہے جسے بہت سے مفسرین نے بنی اسرائیل کی بالنسبة لیاقت کے طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن اس بات کی پیش نظر رکھتے ہُوئے کہ یہ ہٹ دھرم قوم بقول قرآن مجید ہمیشہ اپنے انبیاء کو ستاتی رہی، اور پوری ہٹ دھرمی اور خاص تعصب کی بنا پر احکام الہٰی کا مقابلہ کرتی رہی، حتی کہ جب وہ تازہ تازہ دریائے نیل سے نجات پا چُکی تھی موسٰی علیہ السلام کو بُت سازی کی تجویر پیش کر دی، مُمکن ہے یہ بات کہی جائے کہ مندرجہ بالاآیت ان کے کسِی خصوصی امتیاز کو بیان نہیں کر رہی بلکہ ایک اور حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہے، بلکہ ایک اور حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہے اور اس آیت کا معنی یُوں ہے۔ "باوجودیکہ ہم جانتے تھے وہ خدا کی نعمتوں سے ناجائز مفاد اٹھائیں گے، پھر بھی ہم نے انہیں سربلندی عطا کی تاکہ ہم اُنہیں آزمائیں۔" جیسا کہ بعد کی آ یت سے بھی یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اور بھی نعمتیں عطا کیں تاکہ انہیں آزمائے۔ تو اس طرح سے اللہ کا یہ انتخاب نہ فقط ان کسِی خصوصیّت کی دلیل نہیں بلکہ ضمنی طور پر ان کی مذمت کا حامل بھی ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت کا حق ادا نہیں کیا اور اس امتحان سے عہدہ برآ نہیں ہوئے۔ زیر تفسیر آیات کے سلسلے کی آخری میں ان بعض نعمتوں کا ذکر ہے، جو خدا نے انہیں عطا کی تھیں، چنانچہ ارشاد ہوتاہے : اور ہم نے انہیں اپنی عظمت اور قدرت کی ایسی نشانیاں دیں جن میں ان کی صریح آزمائش تھی (وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ)۔ کبھی تو سینا کے صحراؤں اور تیسہ کی وادیوں میں ان کے سروں پر بادلوں کا سایہ کیا، کبھی ان پر "من و سلویٰ" نازل کیا کبھی سخت پتھروں کے دل سے پانی کا چشمہ ان کے لیے جاری کیا اور کبھی دوسری مادی اور روحانی نعمتیں ان کے نصیب کیں۔ لیکن یہ سب کچھ امتحان اور آزمائش کے لیے تھا، کیونکہ خدا تعالیٰ کچھ لوگوں کو مصیبت کے ذریعے آزماتا ہے، اور کچھ کو نعمت کے ذریعے، جیسا کہ سُورہٴ اعراف کی ۱۶۸ ویں آیت میں ہے: " وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" "ہم نے بنی اسرائیل کو نعمتوں کے ذریعے آزمایا کہ شاید وہ غلط راستے سے باز آ جائیں۔" بنی اسرائیل کی یہ سرگزشت صدرِ اسلام کے مسلمانوں کے لیے بیان کرنے کا مقصد شاید یہ ہو کہ وہ دشمنوں کی کثرت اور ان کی طاقت سے نہ گھبرائیں اور مطمئن رہیں کہ جو خدا فرعونوں کی طاقت، اقتدار اور عظمت کو خاک میں ملا سکتا ہے اور بنی اسرائیل کو ان کے مُلک اور حکومت کا وارث بنا سکتا ہے وہ مستقبل قریب میں اس قسم کامیابی تمہارے نصیب بھی کر سکتا ہے، لیکن جیسا کہ نعمتوں کے ذریعے ان کی آزمائش ہوئی ہے، تمہیں بھی اسی طرح امتحان کی بھٹی میں ڈال جائے گا تاکہ معلوم ہو جائے کہ اقتدار اور طاقت کے حصُول کے بعد تم کیاکر و گے؟ اور یہ زبردست تنبیہ ہے تمام اقوام اور مِلتوں کے لیے کہ جب انہیں خدائی مہربانی، کامیابی اور نعمت نصیحت ہو جاتی ہے تو اس موقع پر سخت امتحان کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔

34
44:34
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ
یہ (مشرکین) کہتے ہیں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

35
44:35
إِنۡ هِيَ إِلَّا مَوۡتَتُنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُنشَرِينَ
کہ ہمیں تو صرف ایک بار مرنا ہے اور ہر گز زندہ نہیں ہوں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 36 کے تحت ملاحظہ کریں۔

36
44:36
فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
(مشرکین نے پیغمبر سے کہا) اگر تم سچ کہتے ہو تو ہمارے آباواجداد کو زندہ کرکے لے آؤ (تاکہ وہ گواہی دیں )۔

تفسیر یہی موت ہے اور بس

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں فرعون اور فرعونیوں کی زندگی کی تصویر کشی کی گئی تھی اور ان کے کُفر و انکار کے انجام کا تذکرہ تھا۔ اب ایک بار پھر مشرکین کی باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور معاد کے بارے میں ان کے شکوک کو جوکہ سُورت کے آغاز میں مذ کور ہو چکے ہیں ایک مرتبہ پھر دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا رہا ہے: یہ مشرکین یُوں کہتے ہیں (إِنَّ هَؤُلَاءِ لَيَقُولُونَ)۔ ہمیں تو صرف ایک بار مرنا ہے اور ہم ہرگز دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے (ٕإِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ)۔ (تشریحی نوٹ: ضمیر "ھی" کا مرجع کیا ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف نظریات ہیں، بعض مفسرین اسے "موتة" کی طرف پلٹاتے ہیں۔ کیونکہ کلام کے سیاق سے یہی معلوم ہوتا ہے، بنابریں، آیت کا معنی یہ ہو گا: "ما الموتة إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولىٰ" ملاحظہ ہو تفسیر تبیان، تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کشاف۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین ضمیر کا مرجع "عاقبة" اور "نھایة" کو جانتے ہیں، تو ایسی صُورت میں آیت کا معنی یوں ہو گا۔ "ماعاقبة أمرنا إلاّ الموتة الاُولیٰ" (دیکھiے تفسیر رُوح المعانی اور تفسیر المیزان)۔ البتہ نتیجے کے لحاظ سے ان میں چنداں فرق نہیں ہے)۔ معاد، حیات بعدالموت، جزا سزا اور جنّت و جہنم کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں ان میں سے کسی ایک کی بھی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ سرے سے حشر و نشر کا ہی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مشرکین صرف پہلی موت پر کیوں زیادہ زور دیتے ہیں؟ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس موت کے بعد دوسری موت نہیں ہے، جبکہ ان کی مراد حیات بعد الموت کی نفی ہونا ہے نہ کہ دوسری موت کا انکار دوسرے لفظوں میں انبیاء کرام علیہم السلام نے حیات بعد الموت کی خبر دی ہے نہ کہ دوسری موت کی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی مُراد بعد از مرگ دوسری حالت کے وجود کا انکار ہے، یعنی ہم فقط ایک بار مریں گے اور یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد نہ تو دوبارہ زندگی ہو گی اور نہ ہی دوبارہ موت، جو کچھ ہے صرف یہی ایک موت ہے (غور کیجئے گا) (۲)۔ (تشریحی نوٹ: مفسرین نے اس جُملے کی تفسیر میں کئی اور احتمالات کو بھی ذکر کیا ہے جو سارے کے سارے بعید معلوم ہوتے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے " موتة اولیٰ" کو "اس دُنیا میں موت قبل از حیات" کے معنی میں لیا ہے، تو اس قول کی بناء پر اس جُملے کا مفہوم یُوں ہو گا کہ وہ موت جو اس حیات کے بعد ہے فقط وہی موت ہے، جو ہم اختیار کر چکے ہیں اور ہم سب مٹی تھے لیکن ہماری دوسری موت کے بعد پھر زندگی کا وجود ہرگز نہیں ہے)۔ درحقیقت، اس آیت کا مفہوم سورہ انعام کی ۲۹ ویں آیت سے بہت زیادہ ملتا جُلتا ہے، جس میں کہا گیا ہے: "وَقَالُواْ إِنْ هِيَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ" "انہوں نے کہا: زندگی صرف یہی دُنیاوی زندگی ہے اور ہم ہرگز دوبارہ نہیں اُٹھائے جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی گفتار کو نقل کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بےبنیاد دعوے کے لیے پورے دلائل پیش کرتے ہُوئے کہتے ہیں: اگر تم سچ کہتے ہو تو ہمار ے باپ دادا کو زندہ کر کے ہمارے پاس لے آؤ تاکہ وہ تمہاری سچائی کی گواہی دیں (فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ)۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ باتیں کہنے والا ابوجہل تھا، جس نے رسُول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مُنہ کر کے کہا: "اگر تو سچ کہتا ہے تو اپنے جد "قصی بن کلاب" کو زندہ کر کیونکہ وہ ایک سچا انسان تھا اور ہم اس سے موت کے بعد کے حالات دریافت کریں گے۔" (تشریحی نوٹ: دیکھیئے تفسیر مجمع البیان جلد ۹، ص ۶۶ اور بعض دوسری تفسیریں)۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ان کے حیلے بہانے تھے، اگرچہ خداوند عالم کا طریقئہ کار یہ نہیں ہے کہ مردوں کو اس دُنیا میں زندہ کرے تاکہ وہ اُس جہان کی خبریں اِس میں لوگوں کو بتائیں، لیکن اگر باالفرض ایسا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انجام پابھی جاتا پھر یہ لوگ کوئی اور راگ اِلاپنا شروع کر دیتے اور اسے جادُو یا کسی اور چیز کا نام دے دیتے، جس طرح انہوں نے نے بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزے طلب کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ معجزے انہیں دکھائے بھی لیکن وہ ان کا انکار کر دیتے۔

معاد کے بارے میں مشرکین کا عقیدہ

مشرکین، خاص کر مشرکین عرب کا اعتقادی مسائل میں ایک رویہّ نہیں تھا، وہ عقیدہٴ شرک میں مشترک ہونے کے باوجُود اعتقادی خصوصیات میں ایک دوسرے سے زبردست اختلاف رکھتے تھے۔ کچھ لوگ تو وہ تھے جو نہ تو خدا کو مانتے تھے اور نہ ہی معاد کو، یہ وہ لوگ تھے جن کی باتوں کی قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: " وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ" "اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں، لوگ مر جاتے ہیں تو کچھ پیدا ہو جاتے ہیں، اور ہمیں تو صرف طبیعت ہی موت دیتی ہے۔ (جاثیہ۔۲۴)۔ کچُھ لوگ ایسے تھے جو خدا کو مانتے تھے اور بتُوں کو اس کی بارگاہ کے لیے شفیع سمجھتے تھے، لیکن معاد کے مُنکر تھے، یہ وہ لوگ تھے جو کہا کرتے تھے: "مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ" "ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون دوبارہ زندہ کرے گا" (یٰس۔ ۸۷)۔ یہ لوگ بُتوں کے لیے حج بھی بجا لاتے تھے اور قربانی بھی کیا کرتے تھے، حلال و حرام کے قائل بھی تھے، اور اکثر مشرکین عرب اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت سے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک طرح سے بقائے رُوح کے قائل بھی تھے، خواہ تناسخ اور تازہ ابدان میں ارواح کے انتقال کی صُورت میں یا کسِی اور طرح سے (۴)۔ خاص کر "ھامة" نامی ایک پرندے کے متعلق ان کا عقیدہ مشہور ہے۔ عربوں کی داستانوں میں مذکور ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا یہ عقیدہ تھا کہ انسانی رُوح ایک پرندہ ہے جو اس کے جسم میں پھیلا ہوا ہے جب انسان مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے تو وہ اس کے جسم سے باہر آ کر اس کے جسم کا وحشت ناک صُورت میں چکّر لگانا شروع کر دیتا ہے اور اس کی قبر کے اِرد گرد روتا پیٹتا رہتا ہے، ان کا عقیدہ تھا کہ یہ پرندہ پہلے پہل تو چھوٹا ہوتا ہے، لیکن بعد میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُلو جتنا ہو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ تنہائیوں میں رہتا ہے اور اس کا اکثر ٹھکانا پُرانے کھنڈرات، خالی گھر، قبریں اور قتل گاہیں ہوتی ہیں ۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ اگر کسی کو قتل کر دیا جاتا تو "ھامة" اس کی قبر پر بیٹھ کر یہ فریاد کرتا رہتا ہے: "اسقونی فإنّی صدیة۔" "مجھے پانی پلاؤ کیونکہ میں بہت پیاسا ہوں۔" (بحوالہ: بلوغ الارب، جلد۲، ص ۳۱۱)۔ اسلام نے ان تمام خرافاتی عقائد پر خط تنسیخ کھینچ دیا، لہٰذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مشہور حدیث منقول ہے: "لاھامة۔" "ہامہ کا عقیدہ جھُوٹ ہے۔" (بحوالہ: بلوغ الارب، جلد۲، ص ۳۱۱)۔ بہرحال، اگرچہ وہ معاد اور انسان کے بعد از موت زندگی کی طرف واپسی کے معتقد نہیں تھے، لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک طرح کے تناسخ اور بقائے رُوح کے قائل ضرور تھے۔ لیکن جسمانی معاد کے متعلق قرآن نے جو تصریحات پیش کی ہیں ان سب کے مُنکر تھے، مثلاً انسان کی مٹی دوبارہ اکھٹی کی جائے گی اور وہ نئی زندگی کا آغاز کرے گا اور رُوح اور جسم مشترکہ طور پر معاد کے حامل ہوں گے، وغیرہ، وہ ان عقائد کا انکار ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ ان سے خائف تھے، قرآن مجید نے مختلف بیانات کے ذریعے عقائد کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور ان کا ثبوت پیش کیا ہے۔

37
44:37
أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
کیاوہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا کیونکہ وہ مجرم لوگ تھے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

38
44:38
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ
ہم نے آسمانوں کو زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 39 کے تحت ملاحظہ کریں۔

39
44:39
مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
ہم نے ان دونوں کی صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

تفسیر آیا وہ بہتر ہیں یا قوم "تبع"؟

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

سرزمین یمن جزیرة العرب میں واقع ہے اور اس کا شمار دُنیا کی ایسی آباد اور بابرکت زمینوں میں ہوتا ہے، جو ماضی درخشندہ تمدن کی حامل تھیں، اس سر زمین پر ایسے بادشاہ حکومت کیا کرتے تھے، جن کا نام "تبع" (جس کی جمع "تبابعہ" ہے) تھا،.چونکہ لوگ ان کی "اتباع" کیا کرتے تھے، اس لیے ان کو"تبع" کہتے تھے یا پھر اس لیے کہ وہ کئی پشتوں تک یکے بعد دیگرے بر سراقتدار آتے رہے۔ بہرحال، تبع کی قوم ایسے افراد پر مشتمل تھی جن کے پاس بے پناہ طاقت تھی اور جو وسیع و عریض مملکت کی مالک تھی۔ مشرکین مکّہ اور ان کے معاد و قیامت کے انکار کے تذکرے کے بعد "قوم تبع" کی داستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ خدا کا عذاب قیامت ہی میں ان کا منتظر نہیں ہے بلکہ اس دُنیا میں بھی "قوم تبع" جیسی کافر اور گناہگار قوم جیسے انجام سے بھی دوچار ہوں گے۔ چنانچہ فرماتا ہے "آیا وہ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ وہ مجرم لوگ تھے (أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ أَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ)۔ ظاہر ہے کہ حجاز کے باشندے جو "قومِ تبع" کے پڑوس میں رہتے تھے کہ کم و بیش ان کی سرگذشت سے بھی آگاہ تھے اسی لیے آیت اس داستان کو تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا، بس اتنا کہا گیا کہ اس بات سے ڈرو کہ کہیں تمہارا انجام بھی تبع کی قوم یا اس جیسی دوسری قوموں کا سا نہ ہو جو تمہارے ارد گرد شام و مصر کے رستوں میں تمہارے نزدیک رہتی تھی۔ بالفرض اگر تم قیامت کے منکر ہو بھی جاؤ تو کیا اس عذاب کا انکار کر سکتے ہو جوان مجرم اور سرکش قوموں پرنازل ہوا؟ "الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ" سے مراد قوم نوح، عاد اور ثمود جیسی قومیں ہیں۔ اور "قوم تبع" کے بارے میں ان شاءاللہ تفصیلی گفتگو بعد میں آئے گی۔ گفتگو کا رُخ ایک بار پھر مسئلہ معاد کی جانب موڑ دیا گیا ہے، اور لطف پیرائے میں اس حقیقت کو استدلال کے ساتھ ثابت کرتے ہُوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، غرض سب کو بےفائدہ اور بےمقصد پیدا نہیں کیا (وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ) ۔ (تشریحی نوٹ: "لاعب"، "لعبا" کے مادہ سے ہے اور راغب کے بقول اس عمل کو کہتے ہیں جو کسی صحیح ارادہ کے بغیر انجام پائے اور ساتھ ہی یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ "مابینھما" میں تثنیہ کی ضمیر آسمان اور زمین کی وجہ سے ہے)۔ یقیناً اس عظیم اور وسیع تخلیق کا کوئی مقصد ضرور ہے، اگر تمہارے بقول موت، زندگی کے خاتمے کا نام ہے اور چند روز تک کھانے، پینے، سونے، لذتیں اٹھانے اور حیوانی خواہشات کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے بعد یہ دُنیا و زندگی فنا ہو جائے گی اور تمام چیزوں کا خاتمہ ہو جائے گا، پھر تو یہ آفرینش بےکار بیہودہ اور بےفائدہ ہو گی۔ لیکن یہ ماننے والی بات نہیں ہے کہ صاحب قدرت و حکمت خدا نے اس قدر عظیم کائنات کو صرف اس چند روزہ اور زور گزر زندگی کے لیے بےمقصد اور طرح طرح کے رنج و غم اور دُکھ درد کے ہمراہ تخلیق کیا ہو۔ یہ بات خدا کی حکمت کے چنداں شایانِ شان نہیں۔ بنابریں، اس کائنات کا وضعی مشاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کائنات ایک اور عظیم تر اور ابدی و دائمی کائنات کے لیے ایک دالان کی حیثیت رکھتی ہے۔ تم اس بارے میں غور و فکر سے کام کیوں نہیں لیتے۔ اس حقیقت کو قرآن مجید نے کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ مثلاً سُورہ ٴ انبیاء آیت ۱۶ میں فرمایا گیا ہے؟ "وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ" سورہٴ واقعہ کی آ یت ۶۲ میں ہے: "وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ" "تم اپنی پہلی نشاة کو دیکھ چکے ہو پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ "بہرحال، اس دُنیا کی تخلیق اس وقت بامقصد ہو گی جب ایک اور کائنات اسی کے بعد ہو، اس لیے تو اس الحاد مکتبِ فکر کے پیروکار اور معاد کے منکرین اس کائنات کی تخلیق کو بےمقصد اور بےفائدہ سمجھتے ہیں۔ پھر اس بات کی تاکید کے لیے فرمایا گیا ہے: ہم نے ان دونوں کو صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے (مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ)۔ اس کائنات کا برحق ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کا کوئی معقول ہدف اور مقصد اور یہ مقصد اس وقت پُورا ہوتا ہے جب ایک اور جہاں ایک اور جہاں کے وجُود کو تسلیم کیا جائے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ اس کا حق ہونا اس بات کا خواہاں ہے کہ نیک اور بدکار افراد یکساں نہ ہُوں۔ چونکہ ہم کو اس دُنیا میں بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ نیکوکاروں کو جزا اور بدکاروں کو سزا صحیح معنی میں ملتی ہو، اسی لیے حق کا تقاضا یہی ہے کہ ایک اور جہاں میں حساب و کتاب اور سزا و جزا ہو، تاکہ ہر شخص اپنے کیے کا پھل پا لے۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں "حق" ایک تو تخلیق کائنات کے بامقصد ہونے کی طرف اشارہ ہے، دوسرے انسانوں کی آذمائش کی طرف، تیسرے قانون ارتقاء کی طرف اور چوتھے اصول عدالت کے اجراء کی طرف۔ "لیکن ان میں سے اکثر لوگ ان حقائق کو نہیں جانتے (وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ)۔ کیونکہ وہ اپنی سُوجھ بُوجھ اور سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے، اگر وہ ایسا کرنے لگ جائیں تو مبداء و معاد کے دلائل واضح اور آشکار صُورت میں موجود ہیں۔

قوم تبّع کون تھی؟

قرآن مجید میں صرف دو مقات پُر "تبع" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک تو انہی آیات میں اور دوسرے سُورہٴ "ق" کی ۱۴ ویں آیت میں جہاں پر ارشاد ہوتا ہے: "وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ" "گھنے درختوں کی سرزمین والی قومِ شعیب اور قوم تبع، ہر ایک نے خدا کے رسُولوں کے جھٹلا یا تو خدا کی تہدید بھی ان کے بارے میں سچ ثابت ہو گئی۔" جیسا کہ پہلے ارشاد کیا جا چکا ہے کہ "تبّع" یمن کے بادشاہوں کا ایک عمومی لقب تھا، جس طرح ایران کے بادشاہوں کو کسریٰ سلاطین کو خاقان، مصر کے بادشاہوں کو فرعون، اور روم کے شہنشاہوں کو قیصر کہا جاتا تھا۔ یمن کے بادشاہوں کو "تبّع" یا تو اس لیے کہا جاتا تھا کہ یہ لوگوں کو اپنی پیروی کی دعوت دیا کرتے تھے، یا پھر اس کے لیے کہ وہ یکے بعد دیگرے سریر آرائے مملکت ہوا کرتے تھے۔ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے یمن کے تمام بادشاہوں کی بات نہیں کی، بلکہ کسِی خاص بادشاہ کا ذکر کیا ہے (جیسا کہ حضرت مُوسیٰ علیہ السلام کے معاصر خاص فرعون کی بات کی ہے)۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس کا نام "اسعد ابو کرب" تھا۔ بعض مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ وہ بذاتِ خود حق طلب اور صاحب ایمان شخص تھا، انہوں نے قرآن مجید کی دونوں آیات سے استدلال کیا ہے، کیونکہ قرآن پاک کی مذکورہ دونوں آیات میں اس کی ذات کی مذمّت نہیں کی گئی بلکہ اس کی قوم کی مذمت کی گئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی جانے والی روایت بھی اسی بات کی شاہد ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ "لَا تسبوا تُبّعا فإنّه قد أسلم۔" "تبّع" کو بُرا بھلا مت کہو کیونکہ وہ ایمان لا چکا تھا۔" (۲)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، جلد ۹، صفحہ ۶۶ (اسی آیت کے ذیل میں) اسی سے ملتا جُلتا مفہوم تفسیر درّمنثور نے بھی نقل کیا ہے۔ اسی طرح تفسیر رُوح المعانی، جلد۲۵، صفحہ ۱۱۶ میں بھی بیان ہوا ہے)۔ ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "إن تبعاً قال للأوس والخزرج كونوا هاهنا حتى يخرج ھٰذا النّبی، أما أنا لو أدركته لخدمته و خرجت معه۔" "تبع نے اوس اور خزرج سے کہا: تم یہیں پر رہ جاؤ! یہاں تک کہ اس پیغمبر کا ظہور ہو جائے، اگر مجھے ان کا زمانہ نصیب ہو جاتا تو میں ان کی پوری خدمت کرتا، اور ان کے ساتھ قیام کرتا۔ (۳)۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، انہی آیات کے ذیل میں)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب "تبع" اپنے کشور کشائی کے ایک سفر میں مدینہ کے قریب پہنچا تو وہاں کے ساکن یہودی علماء کو پیغام بھیجا کہ اس سرزمین کو ویران کرنا چاہتا ہوں تاکہ کوئی بھی یہودی اس جگہ نہ رہنے پائے، اورعرب قانون حکم فرما ہو۔ یہودیوں کا سب سے بڑا عالم شامُول تھا۔ اس نے کہا: اے بادشاہ! یہ وہ شہر ہے جو حضرت اسماعیل کی نسل سے پیدا ہونے والے ایک پیغمبر کی ہجرت گاہ بنے گا، پھر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند صفات گنوائیں، تبّع جس کے ذہن میں گویا اس بارے میں کچھ معلُوت تھیں نے کہا: تو پھر اس شہر کو ویران نہیں کروں گا۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح لمعانی، جلد ۲۵، ص ۱۱۸)۔ حتی کہ ایک اور روایت میں اسی داستان کے ذیل میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اس نے "اوس" اور"خزرج" کے بعض قبائل کو جو اس کے ہمراہ تھے، حکم دیا کہ وہ اسی شہر میں رہ جائیں اور جب پیغمبر موعود ظہور کریں تو وہ ان کی امداد کریں اور اپنی اولاد کو بھی وہ اسی بات کی وصیّت کرتا رہا، حتی کہ اس نے ایک خط بھی تحریر کر کے اس کے سپُرد کر دیا، جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا اظہار کیا گیا تھا۔ (بحوالہ: تفسیر رُوح لمعانی، جلد ۲۵، ص ۱۱۸)۔ صاحبِ اعلام قرآن رقمطراز ہیں: "تبع" یمن کے عالمگیر بادشاہوں میں سے ایک تھا کہ جس نے ہندوستان تک فوج کشی کی اور اس علاقے کی تمام حکُومتوں کو اپنے زیر نگین کر لیا، اپنی فوج کشی کی ایک مہم کے دوران میں وہ مکہ معظمہ پہنچا اور اس نے خانہٴ کعبہ کے منہدم کرنے کا ارادہ کر لیا، لیکن وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا کہ طبیب اس کے معالجے سے عاجز آ گئے۔ اس کے ہمر کابُوں میں کچھ اہل علم بھی موجُود تھے، جن کا سرپرست شامُول نامی ایک حکیم تھا، اس نے کہا: آپ کی بیماری کا اصل سبب خانہٴ کعبہ کے بارے میں بُری نیّت ہے۔ "تبع" اپنے مقصد سے باز آ گیا، اور نذر مانی کی وہ خانہ کعبہ کا احترام کرے گا اور صحت یاب ہونے کے بعد خانہ کعبہ پر یمانی چادر کا غلاف چڑھائے گا۔ دوسری تاریخوں میں بھی خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی داستان منقول ہے جو تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے، یہ فوج کشی اور کعبہ پر غلاف چڑھانے کا مسئلہ۵ عیسوی میں وقوع پذیر ہوا، اب بھی شہر مکہ میں ایک جگہ موجُود ہے جس کا نام "دار التبابعہ" ہے۔ (بحوالہ: اعلام القرآن، ص ۲۵۷، تا ص ۲۵۹ (تھوڑے سے اختصار کے ساتھ)۔ بہرحال، یمن کے باد شاہوں (تبابعہ یمن) کی داستان کا ایک بہت بڑا حِصّہ تاریخی لحاظ سے ابہام سے خالی نہیں ہے، کیونکہ ان کی تعداد اور ان کی حکومت کے عرصہ کے بارے میں زیادہ معلومات مہیا نہیں ہیں، اس بارے میں بعض متضاد روایتیں بھی ملتی ہیں، جو کچھ اسلامی روایات میں ہے وہ تفسیری مواد ہو یا تاریخی اور حدیثی، صرف اسی بادشاہ کے بارے میں ہے، جس کا قرآن میں دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔

40
44:40
إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ مِيقَٰتُهُمۡ أَجۡمَعِينَ
(باطل سے حق) کی جدائی کا دن ان سب کے لئے مقرر گھڑی ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

41
44:41
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي مَوۡلًى عَن مَّوۡلٗى شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
جس دن کوئی دوست اپنے دوست کی ذرہ بھر امداد نہیں کر سکے گا اور نہ کسی طرف سے انہیں کمک پہنچ سکے گی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 42 کے تحت ملاحظہ کریں۔

42
44:42
إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
مگر جن پر خدا پنی رحمت فرمائے کیونکہ وہی عزیز و رحیم ہے۔

تفسیر جدائی کا دن یا یوم الفصل

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

زیر نظر آیات درحقیقت، معاد کے بارے میں گزشتہ آیات کا نتیجہ ہیں کہ جن میں اس کائنات کی تخلیق کی حکمت کے حوالے سے قیامت کے وجُود پر استدلال کیا گیا تھا۔ سب سے پہلی آیت میں اس استدلال سے یہ نتیجہ حاصل کیا جا رہا ہے، کہ "یوم الفصل" یا جدائی کا دِن ان سب کے لیے مقرر گھڑی ہے (إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ)۔ قیامت کے دن کو "یوم الفصل" سے تعبیر کرنا کِس قدر دلچسپ ہے کہ جس روز حق کو باطل سے جُدا کر دیا جائے گا اور نیک لوگوں کی صفیں بدکاروں سے علیٰحدہ ہو جائیں گی، اور انسان اپنے نزدیک ترین دوستوں تک سے جُدا ہو جائے گا، جی ہاں وہی دِن تمام مجرمین کیلئے مقرر شدہ ہے۔ (تشریحی نوٹ: "مِيقَاتُهُمْ" کی ضمیر کا مرجع کیا ہے، اس بارے میں مفسرین کئی احتمال ذکر کیے ہیں، بعض مفسرین اسے تمام انسانوں کی طرف پلٹاتے ہیں۔ مفسرین بالخصوص ان اقوام کی طرف جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے۔ یعنی تبع کی قوم اور اس سے پہلے کی ظالم اقوام، لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے)۔ پھر اس جدائی کے دن کی کچھ تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس دن کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی فریاد کو نہیں پہنچے گا اور کوئی دوست اپنے دوست کی ذرہ بھر امداد نہیں کر سکے گا اور کہیں سے انہیں کمک نہیں پہنچے گی، (يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ)۔ یقیناً! وہی دن فصل اور جدائی کا دن ہو گا کہ جب انسان اپنے عمل کے سوا باقی تمام چیزوں سے جُدا ہو جائے گا۔ "مولیٰ" جس معنیٰ میں بھی ہو یعنی دوست ہو یا سرپرست، ولی نعمت ہو یا قرینی رشتہ دار، ہمسایہ ہو یا مددگار وغیرہ قیامت کی مشکلات میں ایک معمولی سی مشکل بھی حل کرنے سے عاجز ہو گا۔ "مولی"، "ولاء" کے مادہ سے ہے جس کا معنی دو چیزوں کا ایسا ہی باہمی رابط ہے جن کے درمیان کوئی اجنبی نہ ہو، اس معنی کے کئی مصداق ہیں، جو لغُت کی کتابوں میں اس لفظ کے مختلف معانی کے طور پر ذکر ہُوئے ہیں، کیونکہ ان سب کی بنیاد اور اصل معانی مشترک ہیں۔ (تشریحی نوٹ: لغت کی کتابوں میں "مولی" کے بہت سے معانی ذکر ہُوئے ہیں، حتی کہ بعض ارباب لغت نے اس کے ستائیس ۲۷ سے زیادہ معانی لکھے ہیں ۱۔ ربّ، ۲ ۔ چچا ، ۳۔ چچازاد بھائی، ۴، بیٹا، ۵۔ بھانجا، ۶۔ آزاد کرنے والا، ۷۔ آزاد ہونے والا، ۸۔ بندہ، ۹۔ مالک، ۱۰ ۔ تابع، ۱۱ ۔ جس کو نعمت مل چکی ہو، ۱۲ ۔ شریک، ۱۳۔ ہم پمیان، ۱۴ ۔ دوست، ۱۵۔ ہمسایہ، ۱۶۔ مہمان،۱۷۔ داماد، ۱۸۔ قریبی رشتہ دار، ۱۹۔ نعمت عطا کرنے والا، ۲۰۔ ضائع ہونے والا، ۲۱۔ سرپرست، ۲۲۔ زیادہ مناسب، ۲۳۔ آقا، ۲۴۔ دوست رکھنے والا، ۲۵۔ مددگار، ۲۶۔ اولی بالتصرف، ۲۷۔ متولی (الغدیر، جلد ۱، ص ۳۶۲) ۔ وہاں پر نہ صرف دوست ایک دوسرے کی فریاد کو نہیں پہنچ سکیں گے اور رشتہ دار ایک دوسرے کی گرہ کشائی نہیں کر سکیں گے بلکہ تمام منصوبے نقش برآپ ثابت ہوں گے، تمام تدبیریں الٹی ہو جائیں گی اور تمام تیر نشانے سے چوک جائیں گے جیسا کہ سورہٴ طور کی آ یت ۴۶ میں ہے۔ "يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ" "وہ دن ایسا ہو گا کہ جس میں ان کی تمام تدبیریں کسِی مشکل کو حل نہیں کر پائیں گی اور ان کی کسِی قسم کی مدد نہیں کی جا سکے گی۔" "لا یُغْنی" اور"لا هُمْ یُنْصَرُون" میں کیا فرق ہے؟ اس بارے میں بہترین قول یہ ہے کہ پہلا جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی شخص اکیلا اور بذات خود اس دن کسی کی کوئی مشکل حل نہیں کر سکے گا اور دوسرا جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب مل کر بھی ایک دوسرے کی مشکلات حل نہیں کر سکیں گے، کیونکہ نصرت کا اطلاق ایسے مقام پر ہوتا ہے جہاں کوئی شخص کسی دوسر ے کی امداد کو پہنچے اور اس کی مدد کرے تاکہ دونوں مل کر مشکلات پر قابو پا لیں۔ وہاں پر صرف ایک گرہ مستثنٰی ہو گا، جیسا کہ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے: مگر وہ کہ جس پر خدانے رحمت کی ہو، کیونکہ خدا صاحب غلبہ اور رحیم ہے (إِلَّا مَن رَّحِمَ اللهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ)۔ اس میں شک نہیں ہے کہ خدا کی یہ رحمت بلا شرط نہیں ہے، بلکہ صرف ان مومنین کے شاملِ حال ہو گی جو عملِ صالح انجام دے چکے ہیں اور اگر ان سے کوئی لغزش سرزد ہوئی بھی ہو گی تو بھی اس حد تک نہیں کہ ان کے خدا کے ساتھ رابطے کو منقطع کر دے، ایسے ہی لوگ لطفِ الہٰی کے دامان سے وابستہ ہوں گے، اس کے دریائے جو دو کرم سے بہرہ ور، اس کے چشمہٴ رحمت سے سیراب اور اس کے اولیاء کی شفاعت کی حق دار ہوں گے۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس دن ہر قسم کے دوست، ولی اور یارو کی نفی مسئلہ شفاعت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ شفاعت بھی اذن و فرمانِ ربّ العزت کے بغیر حاصل نہیں ہو گی۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے خدا کے "عزیز" اور"رحیم" ہونے کی صفات ایک دوسرے کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں جن میں سے پہلی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا بےانتہائی قدرت کا مالک اور ناقابلِ شکست ہے اور دوسری اس کی بےپایاں رحمت کی طرف اشارہ ہے، اور سب سے اہم باب یہ ہے کہ قدرت رکھنے کے باوجود رحمت کا مالک ہے۔ اہل بیت علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں ہے کہ "إِلاَّ مَنْ رَحِمَ" سے مراد وصی رسُول امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام اور ان کے پیروکار ہیں۔ (بحوالہ: ۔تفسیرنور الثقلین، جلد۴، صفحہ ۶۲۹)۔ ظاہر ہے کہ ایسی روایات کا مقصد آیت کا ایک واضح مصداق بیان کرنا ہے۔

43
44:43
إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ
بیشک تھوہر کا درخت

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

44
44:44
طَعَامُ ٱلۡأَثِيمِ
گناہگاروں کی سزا ہے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

45
44:45
كَٱلۡمُهۡلِ يَغۡلِي فِي ٱلۡبُطُونِ
جوپگھلی ہوئی دھات کی طرح پیٹ میں ابال کھائیگا

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

46
44:46
كَغَلۡيِ ٱلۡحَمِيمِ
جیسے کھولتا ہوا پانی۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

47
44:47
خُذُوهُ فَٱعۡتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ
(فرشتوں سے خطاب ہوگا) اس مجرم کافر کو پکڑو اور دوزخ میں پھینک دو،

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

48
44:48
ثُمَّ صُبُّواْ فَوۡقَ رَأۡسِهِۦ مِنۡ عَذَابِ ٱلۡحَمِيمِ
پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا عذاب (پانی) ڈالو۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

49
44:49
ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ
(لے عذاب کا)، مزا چکھ، کیونکہ تو زبردست طاقتور اور قابل احترام تھا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 50 کے تحت ملاحظہ کریں۔

50
44:50
إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمۡتَرُونَ
یقیناً یہ وہی چیز ہے جس میں تم لوگ ہمیشہ شک کیا کرتے تھے۔

تفسیر تھوہر کا درخت:

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

گزشتہ آیات میں "یوم الفصل" یا جدائی کے دن کی بابت بات ہو رہی تھی، لیکن ان آیات میں دوزخیوں کے وحشت ناک اور لر زا دینے والے عذاب کی ایک جھلک پیش کی جا رہی ہے جو درحقیقت، گذ شتہ آیات کا تتمہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: تھوہر کا درخت (إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ)۔ گناہگاروں کی سزا ہے (طَعامُ الْاَثیمِ)۔ یہی لوگ ہوں گے جو اس کڑوے بدمزہ بدبودار اور مہلک درخت کو کھائیں گے۔ جیسا کہ ہم سُورہٴ صافات کی آیت ۴۲ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ مفسرین اور اربابِ لغت کے بقول "زقوم" ایک ایسے پودے کا نام ہے جو کڑوا، بدمزہ اور بدبودار ہوتا ہے، جس کے پتے چھوٹے ہوتے ہیں اور جزیرة العرب کی سرزمین "تہامہ" میں پیدا ہوتا ہے اور جس سے مشرکین بھی آشنا تھے۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کا شیرہ کڑوا ہوتا ہے، اگر یہ شیرہ بدن کو لگ جائے تو بدن سُوج جاتا ہے۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مجمع البیان، تفسیر رُوح البیان، اور تفسیر رُوح المعانی)۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ "زقوم" کا اصلی معنی "نگنا" ہے۔ (تشریحی نوٹ: لسان العرب مادہ "زقم")۔ جبکہ بعض دوسرے لوگوں نے اسے جہنمیوں کی ہر قسم نفرت انگیز غذا کے معنی میں لیا ہے۔ (تشریحی نوٹ: مفردات راغب مادہ "زقم")۔ ایک روایت میں ہے کہ جب یہ لفظ قرآن مجید میں نازل ہوا تو کفّارِ قریش کہنے لگے، اس قسم کا پودا ہمارے مُلک میں پیدا نہیں ہوتا، تم میں سے کِس شخص کو"زقوم" کے معنی کا علم ہے؟ تو وہاں پر ایک افریقی شخص بھی موجود تھا، اس نے کہا ہماری زبان "زقوم" کا معنی "کھُجور اور مکھن ہے" (شاید اس کا مقصد بھی مذاق اڑانا تھا) جب ابوجہل نے یہ بات سُنی تو اس نے استہزاء کے طور پر اپنی کنیز کو بلا کر کہا "تھوڑا سا مکھّن اور خرمالے آؤ تاکہ اس سے "زقوم بنائیں۔" چنانچہ "زقوم" تیار کیا گیا اور وہ کھاتے بھی جاتے تھے اور مذاق بھی اڑاتے جاتے تھے اور کہتے تھے، "محمد ہمیں اسی چیز سے ڈراتا ہے۔" (تشریحی نوٹ: تفسیر قرطبی ، جلد ۸، ص ۵۵۲۹ (سُورہٴ صافات کی ۶۲ ویں آیت کے ذیل میں)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ لُغت عرب اور قرآنی استعمال میں "شجرہ" کا لفظ کہیں پر تو "درخت" کے معنی میں آیا ہے اور کہیں پر مطلق "پودے" کے معنی میں۔ "اثیم"، "اثم" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے "ایسا شخص جو ہمیشہ گناہوں میں غرق رہتا ہے" یہاں پر ہٹ دھرم، حد سے تجاوز کرنے والے اور گناہوں میں غرق کفار مراد ہیں۔ پھرفرمایا گیا ہے: پگھلی ہوئی دھات کی طرح وہ گناہگاروں کے پیٹ میں ابال کھائے گا (كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ)۔ جیسے کھولتا ہوا پانی (كَغَلْيِ الْحَمِيمِ) ۔ بہت سے مفسرین اور ارباب لغت کے بقُول "مھل" کے معنی پگھلی ہوئی دھات ہے اور مفردات میں راغب نے اور بعض دوسرے صاحبِ لغت نے اس کا معنی "گھی یا تیل کی تلچھٹ" بتایا ہے، جو نہایت ہی ناپسندیدہ چیز ہوتی ہے لیکن اس کا پہلا معنی زیادہ مناسب معلُوم ہوتا ہے۔ "حمیم" کے معنی "کھولتا ہوا گرم پانی" ہے اور کبھی اس کا اطلاق گہرے اور پکّے دوست پر بھی ہوتا ہے، لیکن یہاں پر پہلا معنی مراد ہے۔ بہرحال، جب تھوہر ان کے جسم میں پہنچے گا تو انتہائی زیادہ حرارت پیدا کر کے کھولتے ہُوئے پانی کے مانند پیٹ میں ابال پیدا کر دے گا، یہ غذا قوت اور طاقت کا ذریعہ بننے کے بجائے مصیبت،عذاب اور دُکھ درد کا سبب بن جائے گی۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ دوزخ پر مامُور فرشتوں کو خطاب ہو گا: گناہوں میں غرق ان مجرمُوں کو پکڑو اور انہیں جہنم میں پھینک دو (خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ)۔ "فعتلوہ"، "عتل" (بروزن "قتل") کے مادہ سے ہے، جس کا معنی پکڑنا، گھسیٹنا اور پھینکنا ہے، جیسا کہ برتاؤ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سرکش مجرمین کے ساتھ سرکاری کارندے کرتے ہیں۔ "سواء" کا معنی "درمیان" ہے، کیونکہ اس کا فاصلہ ہرطرف سے مساوی ہوتا ہے، ایسے افراد کو جہنم کے درمیان میں لے جانے کا مقصد یہ ہو گا کہ وہاں کی حرارت نسبتاً زیادہ شدید ہو گی اورآگ کے شعلے اسے ہر طرف سے گھیرے ہوں گے۔ پھر ان کی ایک اور المناک سزا کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: پھر دوزخ پر مامور فرشتوں کو حکم دیا جائے گا: اس کے سر پر کھولتا ہوا عذاب ڈالو (ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ)۔ (تشریحی نوٹ: "عَذابِ الْحَمیمِ"، "اضافت بیانیہ" ہے یعنی یہ کھولتا ہوا گرم پانی ایک عذاب ہے جو ان پر ڈالا جائے گا)۔ اس طرح سے ایک تو وہ اندر سے جلیں گے اور دوسرے باہر سے جہنم کی آگ ان کے تمام وجُود کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور آگ کے درمیان میں بھی ان پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ اسی سے ملی جلتی ایک اور آیت سُورہٴ حج میں بھی بیان ہوئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: "يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُؤُوسِهِمُ الْحَمِيمُ" (حج۔ ۱۹)۔ ان تمام درد ناک جسمانی عذابوں کے بعد انہیں جانکاہ روحانی سزاؤں سے بھی دوچار ہونا پڑے گا، ارشاد ہوتا ہے، کہ اس گناہگار سرکش اور بےایمان مجرم سے کہا جائے گا: مزہ چکھ! کیونکہ تو وہی شخص تو ہے جو بزعم خویش سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ قابلِ احترام تھا (ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ)۔ تو ہی تو تھا جس نے بینوا مظلوموں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اُن پر ظلم و ستم کیا کرتا تھا، اپنی ناقابلِ تسخیر طاقت کا لوہا منوانے کے درپے تھا اور لوگوں سے اپنا بہت زیادہ احترام کرواتا تھا۔ جی ہاں! یہ تُو ہی تھا کہ اس تمام غرور کے ساتھ ہر قسم کے جُرم کا ارتکاب کیا کرتا تھا، اب تو اپنے تمام اعمال کا مزہ چکھ کہ سب کچھ تیری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو چکا ہے، جس طرح تُو دُنیا میں لوگوں کے جسم و رُوح کو جلایا کرتا تھا اب تو خُود اندر اور باہر خدا کے قہر کی آگ اور کھولتے ہُوئے گرم پانی میں جل رہا ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک دن رسُول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑ کر کہا: "أولی لک فأولی" "ابوجہل انتظار کرو، انتظار۔" یہ سُن کر ابوجہل ناراض ہو گیا اور اپنا ہاتھ چھڑا کر کہنے لگا۔" "بِأَیِّ شَیءٍ تھددنی؟ ما تستطیع أنت وصاحبک أن تفعلا بی شیئاً! إِنِّی لِمَن أعَزَّهذا الوادى وأكرمه! ۔" "مجھے کِس بات کی دھمکی دے رہے ہو؟ نہ تو تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی تمہارا صاحب (خدا) میرا کچھ بگاڑ سکتا ہے، میں مکّہ کی تمام دھرتی میں سب سے زیادہ طاقت ور اور صاحب احترام شخصیّت ہوں۔" مندرجہ بالا آیت اسی چیز کو بیان کر رہی ہے، آیت کہتی ہے کہ جب اسے آتشِ جہنم میں ڈالا جائے گا تو اسے کہا جائے گا: اے طاقت ور سرزمین مکّہ کے معزز انسان! اس عذاب کا مزہ چکھ۔ (تشریحی نوٹ: تفسیر مراغی جلد، ۲۵، ص ۱۳۵ (اسی آیت کے ذیل، تفسیر رُوح المعانی اور تفسیر کبیر فخر الدین رازی)۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے: انہیں خطاب ہو گا: یہ وہی چیز ہے، جس کے بارے میں تم لوگ ہمیشہ شک و شبہ کیا کرتے تھے (إِنَّ هَذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ)۔ قرآن کی کس قدر آیات میں مختلف دلائل کے ذریعے اس دن کی حقانیت تمہارے گوش گزار کی کئی؟ آیا ہم نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم قیامت کا ثبوت عالم نباتات میں دیکھو کیونکہ "كَذَلِكَ الْخُرُوجُ" قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ کیے جاؤ گے ( ق۔ ۱۱)۔ کیا تمہیں نہیں بتایا گیا تھا کہ مُردوں کو زندہ کرنا خدا کے لیے بہت آسان ہے "كَذَلِكَ النُّشُورُ" (فاطر۔ ۹)۔ کیا تمہیں نہیں بتایا گیا کہ مُردوں کو زندہ کرنا خدا کے لیے بہت آسان ہے "وَذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ" (تغابن۔ ۷)۔ کیا تمہیں نہیں کہا گیا تھا کہ آیا پہلی تخلیق ہمارے لیے مُشکل تھی کہ تم قیامت کے بارے میں شک کر تے ہو؟ "أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ"(ق۔ ۱۵)۔ خلاصہ کلام مختلف طریقوں سے حقیقت تم سے بیان کر دی گئی تھی، لیکن افسوس کہ تمہارے پاس سننے والے کان نہیں تھے۔

جسمانی اور رُوحانی سزائیں

ہم جانتے ہیں کہ قرآن تصریحات کے مطابق معاد دو پہلوؤں کی حامل ہے، ایک جسمانی اور دوسر ے روحانی، یہ ایک فطری امر ہے کہ سزا اور جزا بھی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہو، لہذا آیات و روایات میں ان دونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ عوام الناس کی زیادہ توجہ جسمانی پہلو کی طرف ہوتی ہے لہذا زیادہ وضاحت اور تشریح بھی جسمانی سزا اور جزا کی کی گئی ہے، لیکن روحانی سزا اور جزا کی طرف بھی کم اشارات نہیں ہیں۔ اسی بات کا ایک واضح نمونہ ہم نے مندرجہ بالا آیات میں دیکھ لیا ہے کہ جن میں کچھ ددد ناک جسمانی سزاؤں کو بیان کرنے کے بعد مستکبر اور سرکش ظالموں کو رُوحانی سزاؤں کی طرف معنی خیز اشارے ملتے ہیں۔ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی رُوحانی جزاؤں کے بارے میں اشارے ملتے ہیں، سُورہٴ توبہ کی آ یت ۷۲ میں فرمایا گیا ہے: "وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ أَكْبَرُ" "خدا کی خوشنودی اور رضا مندی تمام جزاؤں سے برتر ہے۔" سورہٴ یٰس آیت ۵۸ میں فرمایا گیا ہے: " سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ۔" "ان کے لیے سلام و مبارک بادی ہے رحیم اور مہربان خدا کی جانب ہے۔" سورہٴ حجر کی ۴۷ ویں آیت میں: " وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ۔" "ہم ان کے دِلوں سے ہر قسم کا حسد، کینہ اور دشمنی نکال دیں گے، سب بھائی بھائی ہوں گے اور تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے براجمان ہوں گے۔" صاف ظاہر ہے کہ وہاں کی روحانی لذتیں بھی وسیع اور بےانتہا ہوں گی کہ جن کی تعریف و توصیف نہیں کی جا سکتی، اِسی لیے قرآنی آیات میں بھی عام طور پر صرف اشاروں اشاروں سے کام لیا گیا ہے لیکن روحانی سزاؤں کو حقارت ڈانٹ ڈانٹ، سرزنش، افسوس اور رنج و غم کی صُورت میں منعکس کیا گیا ہے کہ جن کا ایک نمونہ مندرجہ بالاآیات میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔

51
44:51
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٖ
یقیناپرہیزگار لوگ امن امان کی جگہ ہونگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

52
44:52
فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
باغوں اور چشموں میں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

53
44:53
يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
ریشم کی نازک وضخیم و دبیز پوشاکیں پہنیں گے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہونگے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

54
44:54
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
اسی طرح ہیں بہشت والے اور ہم ان کی حورالعین کے ساتھ تزویج فرمائیں گے۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

55
44:55
يَدۡعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ
وہ جس قسم کے پھل چاہیں گے انہیں دیئے جائیں گے۔ وہاں نہایت اطمینان سے رہیں گے۔

Tafseer

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

tafseer for this ayah is linked with ayah below.

56
44:56
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلۡمَوۡتَ إِلَّا ٱلۡمَوۡتَةَ ٱلۡأُولَىٰۖ وَوَقَىٰهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
وہاں پہلی دفعہ کی موت کے سوا ان کو موت کی تلخی نہیں چکھنی پڑے گی اور خدا انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 57 کے تحت ملاحظہ کریں۔

57
44:57
فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
یہ تمہارے پروردگار کا فضل اور اس کی بخشش ہے یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

تفسیر پرہیزگار لوگ اور بہشت کی گونا گوں نعمتیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

چونکہ گذ شتہ آیات میں جنمیوں کے درد ناک عذاب کا تذکرہ تھا، لہذا ان آیات میں اہلِ بہشت کی نعمتوں اور جزا کو شمار کر کے ان ہر دو کی اہمیّت کو زیادہ آشکار کیا گیا ہے۔ اہل بہشت کی جزاء کو سات قسموں میں خلاصہ کیا گیا ہے: پہلی یہ کہ "پرہیزگار لوگ امن و امان کی جگہ میں ہوں گے" (إِنَّ الْمُتَّقینَ فی مَقامٍ اَمینٍ) (۱)۔ (تشریحی نوٹ: یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ "امین" کو مقام اور جگہ کی صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، گویا بہشت والوں کا خود مقام امین ہو گا اور ان سے کسِی قسم کی خیانت کا اظہار نہیں کرے گا۔ اس قسم کی تعبیرات عام طور پر تاکید اور مبالغے کے لیے آتی ہیں)۔ اسی لیے انہیں کسی تکلیف اور بےچینی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ آ فات و بلیّات، رنج و غم اور شیطانوں اور طاغوتوں سے بالکل محفوظ ہوں گے۔ پھر دوسری نعمت کو بیان کرتے ہُوئے قرآن کہتا ہے: وہ باغوں اور چشموں میں رہیں گے اور ان کی قیام گاہوں کو ہر طرف سے چشموں اور باغوں نے اپنے گھرے میں لیا ہو گا۔ (فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ)۔ "جنّات" (گھنے باغات) کی تعبیر شاید باغوں کی مختلف تعداد کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ بہشت کے سب باغات یکساں نہیں ہیں، بلکہ بہشتوں کے مختلف درجات کی وجہ سے باغات بھی مختلف ہوں گے۔ تیسرے مرحلے پر ان کے زیبا اور خوبصورت لباس کی طرف اشارہ کر تے ہُوئے فرمایا گیا ہے: وہ نرم و نازک اور ضخیم و بیزریشمی زیب تن کریں گے اور تختیوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے (يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَقَابِلِينَ)۔ "سُندُس" ریشم کے نزم و نازک اور لطیف کپڑے کو کہتے ہیں۔ بعض نے اس کے ساتھ زربافت کی قید بھی لگائی ہے۔ یعنی زر بافت نرم و نازک ریشمی کپڑا۔ "إستبرق" ریشم کے ضخیم اور وبیز کپڑے کو کہتے ہیں، بعض اہل لغت اور مفسران اسے "إستبر" یا ستبر (بمعنی ضخیم) فارسی کلمہ کا معرّب سمجھتے ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اسے عربی کا کلمہ "برق" (چمک دمک) سے لیا گیا ہو بوجہ اس خاص چمک دمک کے جو اس قسم کے کپڑوں میں ہوتی ہے۔ البتہ بہشت میں نہ تو سخت سردی ہو گی اور نہ ہی سخت گرمی کہ جِسے اس قسم کے لباس کے ذریعے روکا جائے، بلکہ یہ بہشت والوں کے گونا گُوں اور طرح طرح لباسوں کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ہمارے الفاظ و کلمات جو دُنیا میں ہماری روز مرّہ کی حاجات پورا کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں اس عظیم اور مکمل جہان کے مسائل بیان کرنے پر قادر نہیں ہیں بلکہ صرف ان کی طرف ایک اشارہ ہو سکتے ہیں۔ بعض عُلماء نے لباس کے مختلف ہونے کو اہل بہشت کے مقامِ قرب کے تفاوت کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے بہشت والوں کا ایک دوسرے کے رُو بُرو بیٹھنا اور ان کے درمیان ہر قسم کے امتیاز اور برتری کی نفی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی باہمی نشتوں میں انس و محبت اور خوب اور بھائی چارے کی رُوح حکم فرما ہو گی اور اس فضا میں صدق و صفات اور روحانیت کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ چوتھے مرحلے میں ان کی ازواج کا ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جی ہاں! اسی طرح ہیں اہل بہشت اور ہم ان کی حوارلعین کے ساتھ تزویج کر دیں گے (كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍعِينٍ)۔ "حور" جمع ہے "حوراء" یا احور کی جس کا معنی ہے، اس کی آنکھوں کی سیاہی مکمل طور پر سیاہ اور سفیدی مکمل طور پر شفاف ہے۔ "عین" (بروزن "چین") "أعین" اور "عیناء" کی جمع ہے، جس کا معنی ہے موٹی آنکھ، چونکہ انسان کی خوبصورتی سب سے زیادہ اس کی آنکھوں میں ہوتی ہے، اسی لیے یہاں پر حورالعین کی خوبصُورت آنکھوں کی تعریف کی گئی ہے، البتہ قرآن کی دوسری آیات میں اس کی دوسری خوبصورتیوں کو بھی خوبصُورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اہل بہشت کی پانچویں نعمت کا ذکر کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: وہ جس قسم کے پھل چاہیں گے انہیں دیئے جائیں گے اور وہ وہاں پر نہایت اطمینان سے رہیں گے (يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ آمِنِينَ)۔ حتی کہ دُنیا میں پھلوں سے استفادہ کرنے کے لیے جو مشکلات درپیش ہوتی ہیں ان کے لیے وہ بھی نہیں ہون گی، تمام پھل ان کے نزدیک اور ان کی دسترس میں ہوں گے۔ لہذا اونچے اونچے درختوں سے پھل چننے کی زحمت بھی انہیں گوارا نہیں کرنا پڑے گی، کیونکہ "قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ" (حاقة ۔۲۳)۔ جو پھل وہ چاہیں گے ان کا انتخاب بھی خود کریں گے "وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ" (واقعہ۔۲۰)۔ وہ بیماری اور تکلیف جو بعض اوقات دُنیا میں پھل کھانے کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہے، وہاں پر نہیں ہو گی اور نہ ہی اِن میودں کے خراب ہونے، کمیاب ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہو گا، غرض ہر لحاظ سے وہ مطمئن ہوں گے۔ بہرحال، اگر جہنمیوں کی غذا "زقوم" ہو گی جو ان کے پیٹ میں کھولتے ہُوئے پانی کی طرح اُبال پیدا کر دے گی تو بہشتیوں کی غذا لذیذ پھل ہوں گے جو ہر قسم کی تکلیف سے مُبّراہوں گے۔ بہشت اور بہشتی نعمتوں کا دوام اور ہمیشگی، متقین کے لیے خدا کی چھٹی نعمت ہو گی کیونکہ "وصال" کے وقت جو چیز انسان کو بے چین کر دیتی ہے وہ "فراق" کا اندیشہ ہے، اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وہاں پہلی دفعہ کی موت کے سوا جس کی تلخی وہ دُنیا میں چکھ چکے ہوں گے انہیں موت کی تلخی نہیں چکھنی پڑے (لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولیٰ)۔ یہ بات بڑی دل چسپ ہے کہ قرآن مجید نے بہشت کی نعمتوں کے جاودانی ہونے کو مختلف تعبیرات کے ساتھ بیان کیا ہے، کہیں پر فرماتا ہے: "خَالدین فیھا۔" "وہ بہشت کے باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔" (تشریحی نوٹ: اس قسم کی تعبیرات قرآن مجید کی بہت سی آیات میں آئی ہے، منجملہ ان کے سُورہٴ آلِ عمران کی آیات، ۱۵ اور ۱۳۶، سُورہ نساء کی آیت ۱۳ اور ۱۲۲، سُورہٴ مائدہ کی آیت ۸۵ وغیرہ بھی ہیں)۔ کبھی فرماتا ہے: "عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ۔" "یہ ایسی عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی" (ہود۔ ۱۰۸)۔ یہاں پر"الْمَوْتَةُ الْأُولیٰ" (پہلی موت) کیوں کہا گیا ہے؟ اس بارے میں ایک تفصیلی گفتگو ہے، جو بعد میں بیان ہو گی۔ آخر میں اس سِلسلے کی ساتویں اور آخری نعمت کو یبان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور خدا انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا (وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ)۔ ان نعمتوں کی تکمیل اس بات سے ہو رہی ہے کہ عذاب کا احتمال اور سزا کا خوف بہشت والوں کو پریشان نہیں کرے گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر پرہیز گاروں میں کسی قسم کی لغزش بھی ہو گی تو خداوند عالم اپنے لطف و کرم سے انہیں معاف کر دے گا اور انہیں اطمینان دلائے گا کہ وہ اس لحاظ سے پریشان نہ ہوں۔ باالفاظ دیگر معصومین کے علاوہ سب لوگ کسی نہ کسِی لغزش کے مرتکب ضرور ہوتے ہیں، اگر خدا کی رحمت اور مغفرت ان کے شاملِ حال نہ ہو تو انہیں ہمیشہ یہ خطرہ لاحق رہتا لہذا یہ آیت انہیں اطمینان دلا رہی ہے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ بعض مومنین اپنے گناہوں کی وجہ سے ایک عرصے تک جہنم میں رہیں گے، پھر وہ پاک ہو کر داخل بہشت ہوں گے، تو کیا مندرجہ بالا آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو گا؟ جواباً گذارش ہے کہ مندرجہ بالا آیت بلند پایہ پرہیز گاروں کی بات کر رہی ہے جو ابتداء ہی میں بہشت میں داخل ہوں گے اور دوسرے افراد کے بارے میں یہ آیت خاموش ہے۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بھی بہشت میں داخل ہوں نے کے بعد جہنم کی طرف واپس جانے کے خوف سے بےنیاز ہو جائیں گے اور بالکل امن و سکُون سے زندگی بسر کریں گے۔ یعنی مذکورہ آیت ان کی بہشت میں داخل ہونے کے بعد کی تصویر کشی بھی کر رہی ہے۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں مذکورہ ساتوں صفات کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے نتیجہ کے طور پر فرمایا گیا ہے: یہ سب تمہارے پروردگار کا فضل اور اس کی بخشش ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے، جو پرہیز گاروں کے شاملِ حال ہے۔ (فَضْلًا مِّن رَّبِّكَ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)۔ (تشریحی نوٹ: "فضلاً" کے اعراب کے بارے میں کئی احتمال ہیں۔ ایک تو یہ کہ فعل محذوف "فضلھم فضلًا" کا مفعول مطلق ہے، دوسرے یہ کہ "مفعول لہ" واقع ہو رہا ہے اور تیسرے حال واقع ہو رہا ہے)۔ یہ ٹھیک ہے کہ پرہیزگاروں نے دُنیا میں بہت زیادہ نیکیاں اور کارِخیر انجام دیئے ہوں گے، لیکن ان ناچیز اعمال کی جزاء اس قدر بے انتہا اور جاودانی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ تو خدا کا فضل و کرم ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ عظیم نعمتیں میسّر آئیں گی۔ اس کے علاوہ اگر دُنیا میں خدا کا فضل و کرم ان کے شاملِ حال نہ ہوتا تو وہ اس حد تک نیک اعمال انجام نہ دے سکتے۔ خدا نے انہیں عقل و دانش عطاء کی، انبیاء اور آسمانی کتابیں بھیجیں اور ہدایت اور عمل کی توفیق ان کے شامل حال کی۔ جی ہاں! خداوندِ عالم کی اس قدر عظیم توفیقات سے بہرہ مند ہونا اور اس حد تک جزائے الہٰی تک پہنچنا ان تو فیقات کے پر تو میں ہی "فَوْزُ الْعَظِيمُ" اور بہت بڑی کامیابی ہے، جو اس کے لطف و کرم کے سایہ ہی میں حاصل ہوتی ہے۔

"پہلی موت" کیا ہے؟

ہم نے مندرجہ بالا آیات میں پڑھا ہے کہ بہشتی لوگ پہلی موت کے علاوہ کسی اور موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔ اس سلسلے میں تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ "موتہ اُولیٰ" یا پہلی موت سے کیا مُراد ہے؟ اگر اس سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے خاتمہ کا سبب بنتی ہے تو پھر یہ کیوں کہتا ہے کہ "اہل بہشت پہلی صورت میں موت کے علاوہ کسی اور موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے" جبکہ وہ تو اس سے پہلے یہ ذائقہ چکھ چکے ہیں (یہاں فعل ماضی استعمال ہونا چایئے تھا نہ کہ فعل مضارع)۔ تو اس سوال کے جواب میں بعض مفسرین نے "إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ" میں "إِلَّا" کو "بعد" کے معنی میں لا ہے۔ ان کے بقول آیت کا معنی یُوں ہو گا: "اس پہلی موت کے کسِی اور موت کا ذائقہ نہیں چھکیں گے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں پر ایک جُملہ مقدر ہے جو یہ ہے: "إِلاَّ الْمَوْتَةَ الْاُولیٰ الّتِی ذاقُوْھَا" "سوائے پہلی موت کے جو پہلے سے چکھ چکے ہیں۔" (تشریحی نوٹ: بنابریں، مندرجہ بالا استثنا بھی استثنائے منقطع ہے۔ کیونکہ ایسی موت کا ذائقہ بہشتی لوگ نہیں چکھیں گے بلکہ اس سے پہلے وہ چکھ چکے ہوں گے (غور کیجئے گا)۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں پر صرف پہلی موت کا تذکرہ کیوں ہوا ہے حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ انسان نے دو موتوں کا مزہ چکھنا ہوتا ہے، ایک موت دُنیاوی زندگی کے خاتمے پر اور دوسرے برزخ کی زندگی کے اختتام پر۔ اس سوال کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں، جن میں سے کوئی بھی قابلِ قبُول نہیں ہے، لہٰذا ہم بھی انہیں یہاں پر لکھنے کی ضرورت محسُوس نہیں کرتے، بہتر یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ برزخ کی زندگی اور موت معمُول کی زندگی اور موت سے کسی بھی طرح مشابہ نہیں ہے بلکہ معاد جسمانی کے بموجب قیامت کی زندگی دُنیاوی زندگی کے ساتھ کئی جہات سے مماثلت رکھتی ہے البتہ بلند اور بالا سطح پر۔ اسی لیے اہل بہشت سے کہا جائے گا کہ جو موت تم دنیا میں پا چکے ہو، وہی کافی ہے۔ اب تمہیں موت نہیں آئے گی اور چونکہ برزخ کی موت اور زندگی اس کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتی لہٰذا اس کا ذِکر ہی نہیں ہوٴا (۵)۔ (تشریحی نوٹ: برزخ کی موت و حیات کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلد۱۱ سُورہٴ موٴمن کی گیارہویں آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ قیامت میں موت کا نہ ہونا صرف بہشت والوں ہی کے ساتھ مخصوص ہے، بلکہ اہل دوزخ کو بھی تو موت نہیں آئے گی، تو پھر اس بارے میں خاص طور پر اہل بہشت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ مرحوم طبرسی نے "مجمع البیان" میں اس کا نہایت ہی خوبصُورت جواب دیا ہے۔ رہ گئے جہنمی تو چونکہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ موت ہو گا گویا وہ ہمیشہ مرتے اور زندہ ہوتے رہیں گے، لہٰذا انہیں ایسی بات یاد کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہرحال، یہاں پر"لَا یَذُوقون" (نہیں چکھیں گے) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل بہشت کے لیے موت کی کمترین علامت بھی ظاہر نہیں ہو گی۔ یہ بات قابل توجہ ہے کی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ: خدا بروز قیامت کچھ بہشتیوں کے بارے میں کہے گا۔ "وَعِزَّتِى وَجَلالى، وعلوى وإِرتفاع مكانى، لانحلن له اليوم خمسة اشياء ... إلّا إنَّهم شبابٌ لَايَهْرمون، واصحاء لايسقمون، واغنياء لايفتقرون، وفرحون لايحزنون، وأحياء لايموتون ثُمّ تلى ھٰذہ الاٰية: لايَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولىٰ۔" "مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم اور بلندی وعَلُوِ مقام کی قسم، میں انہیں پانچ چیزیں عطا کروں گا ... وہ ہمیشہ جوان رہیں گے، کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے، تندرست رہیں گے، بیمار نہیں ہوں گے تونگر رہیں گے غر یب نہیں ہوں گے، مسرور رہیں گے، غمگین نہیں ہوں گے، زندہ رہیں گے، مریں گے نہیں۔" پھر آپ علیہ السلام نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ "لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولیٰ۔" (۶)۔ (بحوالہ: تفسیر نور الثقلین جلد۴، ص ۶۳۴ بحوالہ اصولِ کافی)۔

58
44:58
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
ہم نے یہ قرآن تیری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

تفسیر آیت 59 کے تحت ملاحظہ کریں۔

59
44:59
فَٱرۡتَقِبۡ إِنَّهُم مُّرۡتَقِبُونَ
پس تو بھی منتظر رہ اور وہ بھی منتظرر ہیں۔

تفسیر آپ بھی منتظر رہیں اور وہ بھی منتظر ہیں

Tafsīr Nemūna · Vol. 7

ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ سُورہٴ دخان کا آغاز قرآنی آیات کی عظمت، گہرائی اور گیرائی کے ذکر کے ساتھ ہوا ہے اور یہ مندرجہ بالا آیات پر اختتام پذیر ہو رہی ہے جو قرآنی آیات کی گہری تاثیر بیان کر رہی ہیں تاکہ سُورت کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہو جائے اور اس ابتدا اور انتہاء کے درمیان کا حصّہ بھی قرآنی نصائح اور مواعظ کی تاکید کا مظہر ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں آسان کر دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں (فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ)۔ اس کے مندرجات نہایت عمیق اور گہرے ہیں، اس کے تمام پہلو بہت وسیع اور ہمہ گیر ہیں، اس کے مطالب ایسے سادہ اور روان ہیں کہ ہر شخص کے لیے قابلِ فہم اور ہر طبقے کے لیے قابلِ استفادہ ہیں، اس کی مثالیں زیبا ہیں، اس کی تشبیہیں فطری اور زودرس ہیں، اس کی داستانیں حقیقی اور سبق آموز ہیں، اس کے دلائل روشن اور پختہ، اس کا بیان سادہ، مختصر اور پُرمغز ہے، ساتھ ہی اس حد تک شیریں اور پرکشش ہے کہ انسان قلوب تک جا پہنچے، بے خبروں کو آگاہ اور آمادہ دلوں کو متوجہ کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے، جس کے مطابق اس سے یہ مراد ہے کہ باوجودیکہ تو نے کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تاہم آسانی اور سہولت کے ساتھ ان پُرمغز آیات کی تلاوت کر سکتا ہے جو خدا کے اعجاز اور وحی کی حامل ہیں۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، درحقیقت، یہ آیت سُورہٴ قمر کی اس آیت سے ملتی جُلتی ہے، جس کا بار بار تکرار کیا گیا ہے یعنی: " وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِر" (قمر۔ ۱۷)۔ "ہم نے قرآن کو نصیحت کے حصُول کے لیے آسان بنا دیا ہے، آیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔"؟ لیکن چونکہ ان اوصاف کے باوجُود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کلامِ حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے ہیں لہذا آخری آیت میں انہیں سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہُوئے فرمایا گیا ہے: اگر وہ اس کے باوجُود نصحیت قبول نہیں کرتے، تو تو بھی منتظر رہ اور وہ بھی منتظر رہیں (فَارْتَقِبْ إِنَّهُم مُّرْتَقِبُونَ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کفار پر کامیابی کے سِلسلے میں وعدہ الہٰی کی تکمیل کے منتظر رہیں اور وہ شکست کے، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، اس طالم اور ہٹ دھرم قوم کے بارے میں خدا کے درد ناک عذاب کے منتظر رہیں اور وہ جو زعم خویش کی شکست اور ناکامی کے منتظر ہیں، تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان دو میں سے کسی کا انتظار صحیح ہے۔ بنابریں، اس آیت سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ خداوندِ عالم اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دے رہا ہے کہ تبلیغ سے ہاتھ اُٹھالیں اور اپنی تمام سعی و کوشش کو متوقف کر کے صرف انتظار پر ہی اکتفا کر لیں، بلکہ یہ ایک قسم کی تہدید اور تنبیہ ہے جو ہٹ دھرم قوم کو بیدار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

چند اہم نکات

۱۔ "إرتقب" دراصل "رقبة" (بروزن طلبہ) کے مادہ سے لیا گیا ہے، جس کا معنی "گردن" ہے اور چونکہ انتظار کرنے والے لوگ ہمیشہ گردن اُٹھا اُٹھا کر اس کا انتظار کرتے ہیں، لہذا یہ کسِی چیز کے انتظار کے معنی میں آ تا ہے۔ ۲۔ مندرجہ آیات اس بات کی بخوبی نشاندہی کر رہی ہیں کہ قرآن مجید کا کسِی خاص طبقے یا گروہ سے تعلق نہیں ہے، بلکہ عمومی طور پر فہم و ادراک، متوجہ کرنے اور پند و نصیحت کے لیے ہے۔ لہذا جو لوگ قرآن مجید کو مبہم مفہوم اور نامعلوم مسائل کے پیچ و خم میں اُلجھا دیتے ہیں کہ اس کے ادراک کا تعلق صرف ایک طبقے اور گروہ سے مخصوص ہے اور وہ خاص گروہ یا طبقات بھی اس سے کچھ سمجھ نہیں پاتے، وہ درحقیقت، قرآن مجید کی اصل روح سے غافل ہیں۔ قرآن مجید کو ہر شعبہٴ زندگی میں موجُود ہونا چاہیے، خواہ شہر ہو یا دیہات، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، پرائمری اسکول ہو یا یونیورسٹی، مسجد ہو یا میدان جنگ، غرض ہر جگہ پر اس کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ خدا نے اسے سہل، سادہ، آسان اور روان بنا دیا ہے تاکہ سب لوگ اس کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اس آیت نے ان لوگوں کے افکار پر بھی خط تنسیخ کھینچ دیا ہے کہ جنہوں نے قرآن مجید کو تلاوت اور تجویدی قواعد کے پیچ و خم میں منحصر کر دیا ہے، جن کے پیشِ نظر صرف الفاظ کی مخارج سے ادائیگی اور وقف وصل کے اصولوں کو مدّنظر رکھنا ہوتا ہے۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ کتاب ساری کی ساری نصیحت پر مبنی ہے، ایسی نصیحت جو تحرک اور تعمیر کا عامل ہوتی ہے، ظاہری الفاظ کے اصولوں کو ملحوظ رکھنا اپنی جگہ پر بجا، لیکن اس کا منتہائے مقصود معانی ہیں، الفاظ نہیں۔ ۳۔ ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: " لَو لَا تيسيره لما قدر أحد من خلقه أن يتلفظ بحرف مِن القرآن، و إنّى لَهم ذلك وهو كلام من لم يزل وَلَا يزال۔" "اگر خدا نے قرآن کو زبانوں پرآسان کر دیا ہوتا تو کوئی شخص بھی اس کا ایک حرف زبان پر نہ لا سکتا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا تھا، کیونکہ یہ خداوندِ ازلی و ابدی کا کلام ہے (اور اس قسم کے کلام کی عظمت و شوکت اس قدر ہوتی ہے کہ اس کے فضل و کرم کے بغیر کوئی انسان اسے ادا نہیں کر سکتا۔" (بحوالہ: تفسیر رُوح البیان، جلد ۸، ص ۴۳۳)۔ خداوندا! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیرے اس عظیم و بےنظیر کلام یعنی قرآن پاک سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور تمام جہات میں اپنی زندگی کو اس کے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ خداوندا! جو سکون و اطمینان تو پرہیز گاروں کو غایب کرتا ہے اور طوفانِ حوادث میں ان کے دل کی ڈھارس بندھاتا ہے ہمیں بھی عنایت فرما۔ بارِ الہٰا! تیری نعمتیں بےشمار، تیرے رحمت بےحساب اور تیری سزا اور دردناک ہے، ہمارے اعمال ایسے نہیں ہیں جو ہمیں تیری رحمت سے ہم کنار اور سزا سے دُور کر سکیں، اپنا وہ فضل ہمارے شاملِ حال فرما، جس کا تو نے متقین سے وعدہ کیا ہے، وگرنہ ہم کسی قیمت پر بھی تیری جوودانی بہشت کی آغوش کے لائق نہیں۔

end of chapter
Ad-Dukhan (44) — Tafseer e Namoona